قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ جلد 5 · مولانا اللہ وسایا
Komi Asambli Qadiyani Mosadka Report · Vol. 5 · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

لا اله الا الله محمد رسول الله

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی

مَصَدَّقہ رپورٹ

تَحْقِیْق وَتَخْرِیْج

حَضْرَت مَوْلَانَا اللہ وَسَایَا مَدَّظِلُّہ

جلد پنجم

١٦، ١٧، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢١

عَالمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت ، مُلْتَان

PDF 2

قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی

مصدَّقہ رپورٹ

جلد پنجم

١٦، ١٧، ١٨، ١٩، ٢٠، ٢١

تحقیق وتخریج

حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

مبلغ

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نُبُوَّتْ ملتان

صفحہ ٢٢٣٥

عالمی مجلس تحفظ مجلس قیمت فی شمارہ-/10 روپے

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

فہرست ...... حصہ نمبر 16

ختم نبوت 2254 مسیلمہ کذاب 2254 چند اور نظائر 2255 خیر القرون کے بعد 2255 دلائل ختم نبوت 2256 ختم نبوت کے سلسلہ میں بنیادی آیت کریمہ 2257 آیت کا معنی 2258 قرآن کی تفسیر قرآن سے 2258 سرور عالم ﷺ کی تفسیر 2258 نبی کریم ﷺ کا دوسرا ارشاد 2259 حدیثی نکتہ 2260 مرزائی کفر پر کفر 2260 حضور ﷺ کا چوتھا ارشاد 2263 حضور ﷺ کا پانچواں ارشاد 2264 حضور کریم ﷺ کا چھٹا ارشاد 2264 جناب امام الانبیاء علیہ السلام کا ساتواں ارشاد 2265 آٹھواں ارشاد رسول ﷺ 2265 صحابہ کرام کی تفسیر 2266 امت کا اجماع 2266

2266 2268 2275 2276 2277 2284 2286 2287 2288 2289 2289 2291 2292 2292 2297 2298 2299 2299 2299 2300 2300 2300

صفحہ ٢٢٣٥

نقل اجماع 2266 ختم نبوت یا نبی تراشی 2268 ایک فریب اور اس کا جواب 2275 مسئلہ صاف ہو گیا 2276 دو مسئلے 2277 فتاویٰ کفر کی حیثیت 2284 اب مرزائیوں کا حال سنیں 2286 بعض دیگر الزامات 2287 مقام خاتم النبیین ص ٢٩ تا ص ٣٦ 2288 مرزا ناصر احمد کو چیلنج 2289 مرزا غلام احمد قادیانی 2289 پاکستان بننے کے بعد انگریزوں کا دخل 2291 موجودہ فساد اور اسمبلی 2292 عقائد فاسدہ کی بھرمار 2292 دعاوی مرزا 2297 مرزائیوں کے تمام فرقوں کو کھلا چیلنج 2298 مبلغ اسلام اور مصلح ہونے کا دعویٰ 2299 مجدد ہونے کا دعویٰ 2299 محدث ہونے کا دعویٰ 2299 امام زمان ہونے کا دعویٰ 2300 مہدی ہونے کا دعویٰ 2300 خلیفہ الٰہی اور خدا کا جانشین ہونے کا دعویٰ 2300

بسم اللہ الرحمن الرحیم فہرست ...... ختم نبوت مسیلمہ کذاب چند اور نظائر خیر القرون کے بعد دلائل ختم نبوت ختم نبوت کے سلسلہ میں بنیادی آیت کریمہ آیت کا معنی قرآن کی تفسیر قرآن سے سرور عالم ﷺ کی تفسیر نبی کریم ﷺ کا دوسرا ارشاد حدیثی نکتہ مرزا کی کفر پر کفر حضور ﷺ کا چوتھا ارشاد حضور ﷺ کا پانچواں ارشاد حضور کریم ﷺ کا چھٹا ارشاد جناب امام الانبیاء علیہ السلام کا ساتواں ارشاد آٹھواں ارشاد رسول ﷺ صحابہ کرام کی تفسیر امت کا اجماع

قیمت فی شمارہ 10/- روپے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٢٢٣٦

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

مجلس تحفظ ختم نبوت عالمگیر

حارث مددگار مہدی ہونے کا دعویٰ 2300 نبی امتی اور بروزی وظلی یا غیر تشریعی ہونے کا دعویٰ 2300 نبوت ورسالت اور وحی کا دعویٰ 2300 اپنی وحی کے بالکل قرآن کے برابر واجب الایمان ہونے کا دعویٰ 2301 سارے عالم کے لئے مدار نجات ہونے کا دعویٰ اور یہ کہ اپنی امت کے سوا 2301 امت محمدیہ کے چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر و جہنمی ہیں 2301 مستقل تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ اور یہ کہ وہ احادیث نبویہ پر حاکم ہے 2302 جس کو چاہے قبول کرے اور جس کو چاہے ردی کی طرح پھینک دے 2302 اپنے لئے دس لاکھ معجزات کا دعویٰ 2302 تمام انبیاء سابقین سے افضل ہونے کا دعویٰ اور سب کی توہین 2303 آدم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ 2303 ابراہیم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ 2303 یحییٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ ، اسماعیل علیہ السلام ہونے کا دعویٰ 2303 عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ 2304 عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ اور ان کو مغلظات بازاری گالیاں 2304 نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ اور ان کی توہین 2304 مریم علیہا السلام ہونے کا دعویٰ 2304 آنحضرت ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ 2305 ہمارے نبی ﷺ سے دعویٰ ، افضل ہونے کا 2305 میکائیل ہونے کا دعویٰ 2305 خدا کے مثل ہونے کا دعویٰ 2305 اپنے بیٹے کے خدا کا مثل ہونے کا دعویٰ 2306

2237

2306 2306 نا پیدا کرنا 2306 بچہ ہو جانا 2306 2307 2307 2307 2307 2307 2307 2308 2308 2308 2308 رآن پر بہتان 2309 2310 2310 یاں 2310 2311 2311 2311 2312

صفحہ ٢٢٣٧

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قیمت فی شمارہ-/10 روپے

خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ 2306 حارث مددگار مہدی ہونے کا دعویٰ اپنے اندر خدا کے اتر آنے کا دعویٰ 2306 نبی امتی اور بروزی وظلی یا غیر تشریعی ہونے خود خدا ہونا بحالت کشف اور زمین و آسمان پیدا کرنا 2306 نبوت ورسالت اور وحی کا دعویٰ مرزا جی میں حیض کا خون ہونا اور پھر اس کا بچہ ہو جانا 2306 اپنی وحی کے بالکل قرآن کے برابر واجب ا حاملہ ہونا 2307 سارے عالم کے لئے مدار نجات ہونے کا د حجر اسود ہونے کا دعویٰ 2307 امت محمدیہ کے چالیس کروڑ مسلمانوں کا فرا سلمانؓ ہونے کا دعویٰ 2307 مستقل تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ اور یہ کہ وہ کرشن ہونے کا دعویٰ 2307 جس کو چاہے قبول کرے اور جس کو چاہے ر آریوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ 2307 اپنے لئے دس لاکھ معجزات کا دعویٰ توہین انبیاء علیہم السلام 2307 تمام انبیاء سابقین سے افضل ہونے کا دعویٰ مرزاجی نبی نہیں تو پھر کوئی بھی نبی نہیں ہوا 2308 آدم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ انبیاء علیہم السلام کی سخت توہین 2308 ابراہیم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ مزید توہین انبیاء علیہم السلام 2308 یحییٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ ، اسماعیل علیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کلی 2308 عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صریح توہین اور قرآن پر بہتان 2309 عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ ا جناب نبی کریم علیہ السلام کی توہین 2310 نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ اور ان کی تو قرآن میں مرزا کا نام احمد ہے 2310 مریم علیہا السلام ہونے کا دعویٰ مرزاجی کی اخلاقی حالت مرصع اور مغلظ گالیاں 2310 آنحضرت ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ میرے مخالف جنگل کے سور ہیں 2311 ہمارے نبی ﷺ سے دعویٰ ، افضل ہونے ک مولوی سعد اللہ کی نسبت 2311 میکائیل ہونے کا دعویٰ میرے مخالف کنجریوں کی اولاد ہیں 2311 خدا کے مثل ہونے کا دعویٰ اے مردار خور مولویو اور گندی روحو 2312 اپنے بیٹے کے خدا کا مثل ہونے کا دعویٰ

صفحہ ٢٢٣٨

قیمت فی شمارہ-/10 روپے عالمی مجلس تحف مجلس

چور، قزاق، حرامی 2312 حرامی، بدکار 2312 مولوی سعد اللہ 2313 حضرت امام حسینؓ کی نسبت 2313 مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی نسبت 2313 پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کی نسبت 2313 شیعہ عالم، علی حائری کی نسبت 2314 مسلمانوں سے بائیکاٹ 2314 مرزا جی کی گالیاں بحساب حروف تہجی 2315 جہاد اور مرزا جی کے کفریہ خیالات 2335 میں جہاد کو ختم کرنے آیا ہوں 2336 میرا آنا دینی جنگوں کے خاتمہ کے لئے ہے 2336 جہاد منع اور حرام ہے 2337 جہاد کی شدت کم ہوتے ہوتے مرزا جی کے وقت قطعاً موقوف ہو گیا 2337 مرزائی وہم کا جواب 2339 دوسرا وہم 2340 ایک خاص دجل 2340 سرکار انگریز سے وفاداری 2341 عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ دام اقبالہا 2342 میری جماعت کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے 2342 اے ہماری ملکہ ! تجھ پر بے شمار برکتیں نازل ہوں 2342 ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا 2342

2239 2342 تھے 2342 مشغول رہوں 2343 2343 سجدہ کرتی ہیں 2343 2343 2343 2344 2344 2344 ثابت ہے 2344 2344 ا انتہائی عاجزانہ وفاداری 2344 ات کا خزانہ مل گیا 2345 تھے 2345 ہیں ، رسائل اور اشتہارات لکھے 2345 ا ہے 2345 2346 ا خیالات چھوڑ دیئے 2346 2346 2346 2346

صفحہ ٢٢٣٩

عالمی مجلس تحفظ مکمل سیٹ 8 جلدیں قیمت فی شمارہ -/10 روپے

اے قادر و کریم ہماری ملکہ کو خوش رکھ 2342 چور، قزاق، حرامی میرے والد انگریزی سرکار کے دل سے خیر خواہ تھے 2342 حرامی، بدکار خدا کا حکم ہے کہ اس گورنمنٹ کے لئے دعا میں مشغول رہوں 2343 مولوی سعد اللہ ملکہ کے لئے دل اور وجود کے ذرہ ذرہ سے دعا 2343 حضرت امام حسینؑ کی نسبت ملکہ معظمہ کی اقبال و سلامتی کے لئے ہماری روحیں سجدہ کرتی ہیں 2343 مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی نسبت ملکہ کا وجود ملک کے لئے خدا کا بڑا فضل ہے 2343 پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کی نسبت شکریہ کے لئے الفاظ نہ ملنے پر ہمیں شرمندگی ہے 2343 شیعہ عالم علی حائری کی نسبت خدا نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ 2344 مسلمانوں سے بائیکاٹ محسن گورنمنٹ برطانیہ کی سچی اطاعت کی جائے 2344 مرزا جی کی گالیاں بحساب حروف تہجی گورنمنٹ کی سچی اطاعت کے لئے تصانیف 2344 جہاد اور مرزا جی کے کفریہ خیالات گورنمنٹ برطانیہ کی نسبت خیال جہاد بھی ظلم اور بغاوت ہے 2344 میں جہاد کو ختم کرنے آیا ہوں ملکہ سے وفاداری پر عظیم الشان خوشی 2344 میرا آنا دینی جنگوں کے خاتمہ کے لئے ہے مرزا جی کی کلمہ شاہانہ کیلئے تڑپ اور دربار انگریزیہ میں انتہائی عاجزانہ وفاداری 2344 جہاد قبیح اور حرام ہے حکومت انگریزی کے قیام سے میرے والد کو جواہرات کا خزانہ مل گیا 2345 جہاد کی شدت کم ہوتے ہوتے مرزا جی کے وقت قطعاً مفقود میرے والد سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جانثار تھے 2345 مرزائی وہم کا جواب مرزا جی نے سرکار انگریزی کی خدمت کیلئے پچاس ہزار کے قریب کتابیں، رسائل اور اشتہارات لکھے 2345 دوسرا وہم گورنمنٹ برطانیہ کی سچی اطاعت ہر مسلمان کا فرض ہے 2345 ایک خاص دجل ممالک اسلامیہ میں انگریزی وفاداری کی اشاعت 2346 سرکار انگریز سے وفاداری میری کوشش سے لاکھوں مسلمانوں نے جہاد کے غلط خیالات چھوڑ دیئے 2346 عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ دام اقبالہا دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں 2346 میری جماعت کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی عالی شان جناب ملکہ معظمہ کی عالی خدمت میں 2346 اے ہماری ملکہ! تجھ پر بے شمار برکتیں نازل ہوں غیب سے، آسمان سے، روحانی انتظام 2346 ہماری قیصرۂ ہند دام اقبالہا

PDF 9

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

2241 2355 2355 2356 2356 2356 2357 2358 2361 2362 2362 2363 2363 2366 2367 2369 2372 2378 2378 2382 2383 2383 2384

2240 مرزا جی کے مسیح موعود بننے کا مقصد 2347 ملکہ کے نور کی کشش 2347 ہماری پیاری قیصرہ ہند 2347 مرزا جی کی بعثت ملکہ وکٹوریہ کی برکت سے ہوئی 2347 خدا کا ہاتھ ملکہ وکٹوریہ کی تائید کر رہا ہے 2347 تیری سلطنت کے ناقدر شریر اور بدذات ہیں 2348 مرزا جی کی ملکہ وکٹوریہ سے دلی محبت 2348 اے بابرکت قیصرہ ہند جس ملک پر تیری نگاہ اس پر خدا کی نگاہ 2348 خدا نے مرزا کو ملکہ کی پاک نیتوں کی تحریک سے بھیجا ہے 2348 ملکہ کی خدمت پورے طور سے اخلاص، اطاعت اور شکرگزاری کے جوش کو ادا نہیں کر سکے 2348 گورنمنٹ برطانیہ کے مخالف، چور، قزاق اور حرامی ہیں 2349 گورنمنٹ برطانیہ کی مخالفت حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے 2349 اسلام کے دو حصے ہیں دوسرا حصہ گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت 2349 میں نے ابتداء سے آج تک گورنمنٹ برطانیہ کی بے نظیر خدمت کی ہے 2349 گورنمنٹ برطانیہ کی مخالفت سخت بدذاتی ہے 2349 مرزا قادیانی اور ملکہ انگلستان 2350 حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام 2350 اسلامی عقائد اور موجودہ سائنس 2351 بحث حیات مسیح علیہ السلام کی حیثیت 2352 مسئلہ کے دو پہلو 2352 قرآن پاک کی تفسیر کے چند اصول، مسلمہ قادیانی 2352 تیرہ صدیوں کے مجددین کی مسلمہ فہرست 2354

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

صفحہ ٢٢٤١

عالمی مجلس کل ہند مجلس قیمت فی شمارہ -/10 روپے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں عقائد 2355 مرزا جی کے مسیح موعود بننے کا مقصد یہودیوں کا عقیدہ 2355 ملکہ کے نور کی کشش عیسائیوں کا عقیدہ 2356 ہماری پیاری قیصرہ ہند بعض عیسائی کہتے ہیں 2356 مرزا جی کی بعثت ملکہ وکٹوریہ کی برکت مسلمانوں کا عقیدہ 2356 خدا کا ہاتھ ملکہ وکٹوریہ کی تائید کر رہا مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ 2357 تیری سلطنت کے ناقدر شریر اور بدذ قرآنی آیات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت 2358 مرزا جی کی ملکہ وکٹوریہ سے دلی محبت مجدد صدی ہشتم حضرت حافظ ابن کثیرؒ کی تفسیر 2361 اے بابرکت قیصرہ ہند جس ملک پر ایک مجدد کی تفسیر 2362 خدا نے مرزا کو ملکہ کی پاک نیتوں کی دوسرے مجدد کی تفسیر 2362 ملکہ کی خدمت پورے طور سے اخلاص و ا لفظ توفی کی تحقیق 2363 گورنمنٹ برطانیہ کے مخالف، چور تیسرے مجدد کی تفسیر 2363 گورنمنٹ برطانیہ کی مخالفت حرامی قرآن پاک اور لفظ توفی 2366 اسلام کے دو حصے ہیں دوسرا حصہ گو ایک مرزائی ڈھکوسلہ اور اس کا جواب 2367 میں نے ابتداء سے آج تک گورنمن چند نکات اور سوالات 2369 گورنمنٹ برطانیہ کی مخالفت سخت مجددین امت کے بیانات 2372 مرزا قادیانی اور ملکہ انگلستان کف کا معنی 2378 حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن پاک کا اعجاز 2378 اسلامی عقائد اور موجودہ سائنس تصدیق از انجیل 2382 بحث حیات مسیح علیہ السلام کی حیثی مرزا جی کی تصدیق 2383 مسئلہ کے دو پہلو انجیل کا فیصلہ 2383 قرآن پاک کی تفسیر کے چند اصو عقل و دانش کا تقاضا 2384 تیرہ صدیوں کے مجددین کی مسل

صفحہ ٢٢٤٣

قیمت فی شمارہ 10/- روپے مکمل سیٹ مجلدیں عالمی مجلس تحف سرور عالم ﷺ کی تفسیر 2384 بڑی بات 2386 مرزائی خیانت 2387 مرزائی وہم 2388 حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد اور حضرت حسن بصری کی قسم 2393 نزول مسیح ابن مریم علیہ السلام کی نشانیاں 2394 اب اگر ایک احمق 2397 متفرقات...... خود کاشتہ پودا 2399 زبردست اور لاجواب چیلنج 2400 دوسرا چیلنج 2400 ایک اور ڈھونگ 2400 مرزاجی کی پریشانی 2400 تیسرا چیلنج 2401 چوتھا چیلنج 2401 پانچواں چیلنج 2401 تکفیر کو چھپانے کا نیا ڈھونگ 2403 چھٹا چیلنج 2403 ساتواں چیلنج 2404 آٹھواں چیلنج 2404 حضرت شیخ اکبر کا کلام 2405 دوسری عبارت کا اردو ترجمہ 2406 عبارات حضرت ملا علی قاری مجدد اسلام 2406

2407 2407 2408 2408 2408 2408 2409 2409 2409 2410 2410 2413 کات ندوی 2414 2424 2430 17 / پر خطاب 2438 مسئلہ پر خطاب 2439 مسئلہ پر خطاب 2443 پر خطاب 2453 پر خطاب 2459 2473

صفحہ ٢٢٤٣

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قیمت فی شمارہ -/10 روپے

نواں چیلنج 2407 مرزا صاحب کے خلاف عدالتی فیصلے 2407 ایک فیصلہ 2408 دوسرا فیصلہ 2408 تیسرا فیصلہ 2408 چوتھا فیصلہ 2408 مرزائیوں سے سوال 2409 فتاویٰ 2409 علامہ اقبالؒ مرحوم اور مرزائی 2409 حکومت کو مشورہ 2410 ضمیمہ نمبر : 1 ....... متن بل 2410 ضمیمہ نمبر : 2 ....... لاہوری مرزائیوں کے محضر نامہ کا جواب 2413 مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت اور مرزا ناصر احمد صاحب کی حرکات مذبوحی 2414 لاہوری مرزائی 2424 لاہوریوں سے اپیل 2430

فہرست ...... حصہ نمبر 17

جناب سردار مولا بخش سومرو کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2438 جناب شہزادہ سعید الرشید عباسی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2439 سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2443 جناب راؤ خورشید علی خان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2453 ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2459 قادیانیوں سے مباہلہ کا چیلنج 2473

سرور عالم ﷺ کی تفسیر بڑی بات مرزائی خیانت مرزائی وہم حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ارشاد اور حضرت حسنؓ نزول مسیح ابن مریم علیہ السلام کی نشانیاں اب اگر ایک احمق متفرقات ....... خود کاشتہ پودا زبردست اور لاجواب چیلنج دوسرا چیلنج ایک اور ڈھونگ مرزا جی کی پریشانی تیسرا چیلنج چوتھا چیلنج پانچواں چیلنج تکفیر کو چھپانے کا نیا ڈھونگ چھٹا چیلنج ساتواں چیلنج آٹھواں چیلنج حضرت شیخ اکبرؒ کا کلام دوسری عبارت کا اردو ترجمہ عبارات حضرت ملا علی قاریؒ مجدد اسلام

صفحہ ٢٢٤٥

جناب میاں محمد عطاء اللہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2476

محترمہ بیگم نسیم جہاں کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2480

قادیانیوں سے گالیاں پڑتی رہیں؟ 2483

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2488

سید عباس حسین گردیزی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2484

مسئلہ ختم نبوت اور شیعہ 2508

جناب عبدالعزیز بھٹی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2511

جناب محمد افضل رندھاوا کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2520

جناب چوہدری ممتاز احمد کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2523

جناب چوہدری غلام نبی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2529

جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2533

جناب مخدوم نور محمد کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2534

اسلام دشمن ٹولہ 2537

قادیانیت انسانی ذہنیت کا بیت الخلاء؟ 2538

ملک توڑنے کے ذمہ دار؟ 2538

جناب مجیب الرحمٰن اور قادیانی 2538

بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ؟ 2540

مگر مچھ، اژدھا! 2541

فہرست ...... حصہ نمبر 18

جناب کرم بخش اعوان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2546

جھوٹا گواہ؟ 2548

جناب مولانا غلام غوث ہزاروی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2549

مسئلہ پر خطاب 2559

2560

2561

ئلہ پر خطاب 2566

2567

نی مسئلہ پر خطاب 2568

2569

2570

2571

2572

2572

2573

2574

2576

2577

2579

2580

2582

دیانی مسئلہ پر خطاب 2587

2587

2593

2593

صفحہ ٢٢٤٥

قومی اسمبلی کی مکمل رپورٹ 22 جلدیں

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

جناب پروفیسر غفور احمد کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2559 لاہوری، قادیانی کوئی فرق نہیں 2560 قادیانیوں کی تعداد کا مسئلہ 2561 جناب ڈاکٹر محمد شفیع کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2566 ربوہ کی متوازی حکومت؟ 2567 جناب چوہدری جہانگیر علی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2568 صدارت، وزارت عظمیٰ اور ختم نبوت 2569 مرزا ناصر کا بیان تضادات کا مجموعہ 2570 ممبران کی لسٹ موجود نہیں؟ 2571 مرزا قادیانی کی فیملی؟ 2572 مرزا ناصر امیر المومنین؟ 2572 قادیانی جماعت کی تعداد؟ 2573 اسمبلی کے اختیارات کو چیلنج 2574 مرزا ناصر کا شرارتی جواب 2576 مرزا ناصر احمد کا چکر 2577 ٹال مٹول پر مبنی جوابات 2579 آنحضرت ﷺ کی اہانت، معاذ اللہ 2580 مسلمانوں سے ہر چیز الگ 2582 جناب مولانا ظفر احمد انصاری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2587 مرزا قادیانی کو اختیار ہے، مگر قومی اسمبلی کو نہیں؟ 2587 قادیانیت ایک متوازی کیمپ 2593 گلابی وعنابی 2593

جناب میاں محمد عطاء اللہ کا قومی اسمبل محترمہ بیگم نسیم جہاں کا قومی اسمبلی میں قادیانیوں سے گالیاں پڑتی رہیں؟ مولانا عبد المصطفیٰ الازہری کا قومی ا سید عباس حسین گردیزی کا قومی اسم مسئلہ ختم نبوت اور شیعہ جناب عبد العزیز بھٹی کا قومی اسمبلی جناب محمد افضل رندھاوا کا قومی اسم جناب چوہدری ممتاز احمد کا قومی اسم جناب چوہدری غلام نبی کا قومی اسم جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ کا قو جناب مخدوم نور محمد کا قومی اسمبلی میں اسلام دشمن ٹولہ قادیانیت انسانی ذہنیت کا بیت الخ ملک توڑنے کے ذمہ دار؟ جناب مجیب الرحمٰن اور قادیانی بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ؟ مگر مچھ، اژدھا!

فہرست

جناب کرم بخش اعوان کا قومی اسم جھوٹا گواہ؟ جناب مولانا غلام غوث ہزاروی ک

صفحہ ٢٢٤٦

عالمی مجلس تحف مکمل سیٹ 22 جلدیں

2247 ل 2667 2670 مسئلہ پر خطاب 2674 2676 2677 ادیانی مسئلہ پر خطاب 2680 پر خطاب 2682 کی درخواست 2717 2718 2720 2721 2721 2722 2728

حصہ نمبر 20

قادیانی مسئلہ پر خطاب 2747 2748 2749 مسئلہ پر خطاب 2751 2751 پر خطاب 2754

تبدیلی مذہب کا سوال نہیں 2594 قادیانیوں کی اجتماعی مسائل میں زیادتی 2595 مسئلہ جہاد پر قادیانی غلط بیانی 2596 مسئلہ جہاد اور مرزا صاحب 2598 مرزا قادیانی انگریزوں کا بڑا جاسوس 2600 مرزا قادیانی کو صاحب نہ کہیں 2601 قادیانیوں کی دروغ گوئی 2601 جناب خواجہ جمال محمد کوریجہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2618 جناب مولانا عبدالحق کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2621 جناب مولانا مفتی محمود کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2624

فہرست ...... حصہ نمبر 19

جناب محمد حنیف خان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2632 جناب ارشاد احمد خان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2641 جناب ملک محمد سلیمان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2642 مرزا کہاں مرا؟ 2642 احمدی نہیں قادیانی 2643 قادیانیوں کو خلاف قانون جماعت قرار دیا جائے 2648 جناب ملک محمد جعفر کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2653 مدعی نبوت ...... بد قسمت 2655 قادیانی انتہاء پسند 2656 اجماع 2657

قیمت فی شمارہ 10 روپے

صفحہ ٢٢٤٧

قادیانی قیادت کے ہاتھوں قادیانی عوام کا استحصال 2667 قادیانی تعلیمات اشتعال انگیز ہیں 2670 جناب ڈاکٹر غلام حسین کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2674 قادیانی سربراہ کا جھوٹ 2676 تعداد کے بارہ میں مرزا ناصر کا جھوٹ 2677 ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2680 جناب یحییٰ بختیار کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2682 قادیانیوں اور لاہوریوں کی اسمبلی میں پیش ہونے کی درخواست 2717 مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت 2718 مرزا غلام احمد قادیانی کے نامناسب رویے 2720 قادیانی انگریز کے جاسوس 2721 افغانستان میں دو قادیانیوں کا قتل 2721 مرزا قادیانی کی ذاتی اغراض 2722 مرزا خاتم النبیین؟ 2728

فہرست ...... حصہ نمبر 20

جناب چوہدری غلام رسول تارڑ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2747 مرزا غلام احمد انگریز کا ایجنٹ تھا 2748 علماء کرام کی خدمات 2749 جناب محمود اعظم فاروقی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2751 زبان سے نہیں بلکہ دل سے 2751 جناب مولانا محمد ذاکر کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2754

تبدیلی مذہب کا سوال نہیں قادیانیوں کی اجتماعی مسائل میں زیا مسئلہ جہاد پر قادیانی غلط بیانی مسئلہ جہاد اور مرزا صاحب مرزا قادیانی انگریزوں کا بڑا جاسوس مرزا قادیانی کو صاحب نہ کہیں قادیانیوں کی دروغ گوئی جناب خواجہ جمال محمد کوریجہ کا قومی اس جناب مولانا عبدالحق کا قومی اسمبلی می جناب مولانا مفتی محمود کا قومی اسمبلی م

فہرست

جناب محمد حنیف خان کا قومی اسمبلی می جناب ارشاد احمد خان کا قومی اسمبلی می جناب ملک محمد سلیمان کا قومی اسمبلی م مرزا کہاں مرا؟ احمدی نہیں قادیانی قادیانیوں کو خلاف قانون جماعت ق جناب ملک محمد جعفر کا قومی اسمبلی میں مدعی نبوت ...... بدقسمت قادیانی انتہاء پسند اجماع

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

عالمی مجلس تحف مجلس

PDF 17

2249 ئلہ پر خطاب 2794 2794 نی مسئلہ پر خطاب 2799 2800 سرے دن خطاب 2802 2867 2868 2870 2879 روک دیا 2881 2882 2884 2887 2888 2889 ے 2891 2894 2896 2898 2899 2900 2901

2248 قادیانی داخلی وخارجی فتنہ 2756 جناب مولانا سید محمد علی رضوی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2757 جناب راؤ ہاشم کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2760 قادیانی خود تشدد پیدا کریں گے 2763 قادیانی سیکولر 2764 جناب صاحبزادہ صفی اللہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2764 قادیانی اور اشتعال انگیزی 2765 قادیانی کرتوت 2765 قادیانی قیادت کی ستم رانیاں 2766 مرزا کا ناپسندیدہ نام 2767 جناب صاحبزادہ احمد رضا قصوری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2770 قادیانیت باطل نظریہ 2776 جناب چوہدری برکت اللہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2781 قادیانیوں کے اپنے مؤقف سے ثابت ہو کہ وہ علیحدہ ہیں 2781 قادیانیت انگریز کا خودکاشتہ پودا 2781 مرزا غلام احمد بالکل جھوٹا تھا 2783 جناب محمد خان چوہدری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2784 جناب ملک نعمت خان شنواری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2785 لاہوری وقادیانی دونوں گروہ خود کافر ثابت ہو گئے 2788 جناب مہر غلام حیدر بھروانہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2789 جناب مولانا نعمت اللہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2789 جناب ملک محمد صادق کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2791

عالمی مجلس تحف مجلس قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٢٤٩

مجلس تحفظ ختم نبوت عالمی مجلس تح قیمت فی شمارہ -/10 روپے

جناب مولانا صدر الشہید کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2794 اتحاد امت ...... شان محمد ﷺ کا ظہور 2794 چوہدری شفاعت خان چوہان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2799 مرزا قادیانی جھوٹا تھا 2800 جناب یحییٰ بختیار کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر دوسرے دن خطاب 2802 جناب یحییٰ بختیار کی تقریر کا اردو ترجمہ 2867 مرزا غلام احمد خاتم النبیین تھے؟ 2868 مرزا کی وحی قرآن کے برابر 2870 مرزا ناصر ناکام رہا 2879 ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر مرزا نے اپنی وحی کا اظہار روک دیا 2881 مرزا کی عیاری 2882 لفظ نبی سے انکار پھر اسی لفظ کا استعمال 2884 مرزا کی موت کے دن کیا ہوا؟ 2887 مرزا قادیانی مفسد تھا 2888 مرزا قادیانی کی بدزبانی 2889 انگریز کی مدد کے سہارے مرزا کے عقائد پروان چڑھے 2891 مرزا قادیانی کی کمینی خوشامد 2894 نبی کی درخواست؟ 2896 مرزا ناصر احمد 2898 مرزا ناصر کی بات ناقابل فہم 2899 سچے مسلمان صرف قادیانی؟ 2900 غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا 2901

قادیانی داخلی و خارجی فتنہ جناب مولانا سید محمد علی رضوی کا قومی اسمبلی میں جناب راؤ ہاشم کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئل قادیانی خود تشدد پیدا کریں گے قادیانی سیکولر جناب صاحبزادہ صفی اللہ کا قومی اسمبلی میں قاد قادیانی اور اشتعال انگیزی قادیانی کرتوت قادیانی قیادت کی ستم رانیاں مرزا کا ناپسندیدہ نام جناب صاحبزادہ احمد رضا قصوری کا قومی اسمب قادیانیت باطل نظریہ جناب چوہدری برکت اللہ کا قومی اسمبلی میں قا قادیانیوں کے اپنے موقف سے ثابت ہو قادیانیت انگریز کا خودکاشتہ پودا مرزا غلام احمد بالکل جھوٹا تھا جناب محمد خان چوہدری کا قومی اسمبلی میں قا جناب ملک نعمت خان شنواری کا قومی اسمبلی لاہوری و قادیانی دونوں گروہ خود کافر ثابت جناب مہر غلام حیدر بھروانہ کا قومی اسمبلی میں جناب مولانا نعمت اللہ کا قومی اسمبلی میں قاد جناب ملک محمد صادق کا قومی اسمبلی میں قاد

صفحہ ٢٢٥٠

2251 NATIONAL ASSEMBLY

No. 16

THE NATIONAL ASSEMBL

PROCEED OF THE SPECIAL COM WHOLE HOUSE HE TO CONSIDER THE

OFFICIAL

Saturday, the 31st

(No. 16, contains

CONTE

1 Qadiani Issue - General Discussion (Contin

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPO PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK

Price : Rs.

1

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

مجلس عمل تحفظ ختم نبوت

مرزا ناصر کا ٹال مٹول 2904 مسلمان یہود و نصاریٰ جیسے؟ 2905 قادیانیوں میں علیحدگی پسندی کا رجحان 2906 اسلام کی مقدس شخصیتوں کے بارہ میں قادیانی متوازی نظام 2908 مولانا ظفر احمد انصاری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2911 علماء کے فتوؤں پر اعتراض کی وضاحت 2912 کلمہ گو؟ 2913 خدا تعالیٰ کے بارہ میں قادیانی تصور 2914 قادیانی ہر امر میں مسلمانوں سے علیحدہ تصور رکھتے ہیں 2915 رسول قدمی 2916 رواداری یا بے حمیتی 2917 قادیانیوں کا الگ شمار 2919

فہرست ...... حصہ نمبر 21

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب 2946 جذباتی ردعمل کی وجہ اب سمجھ آئی 2947 متفقہ قرارداد چار اراکین کی جانب سے 2948 قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے قرارداد 2950 کارروائی کا خفیہ رکھنا 2951

صفحہ ٢٢٥١

2251 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 No. 16 400

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 31st August, 1974

(No. 16, contains Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

Price : Rs. 11.00

1

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

عالی مجلس تحف مکمل سیٹ دستیاب

مرزا ناصر کا ٹال مٹول مسلمان یہود و نصاریٰ کیسے؟ قادیانیوں میں علیحدگی پسندی کا رجحان اسلام کی مقدس شخصیتوں کے بارہ میں قادیانی مولانا ظفر احمد انصاری کا قومی اسمبلی میں قادیانی علماء کے فتوؤں پر اعتراض کی وضاحت کلمہ گو؟ خدا تعالیٰ کے بارہ میں قادیانی تصور قادیانی ہر امر میں مسلمانوں سے علیحدہ تصور رسول قادیانی رواداری یا بے حمیتی قادیانیوں کا الگ شمار

فہرست .....

جناب عبد الحفیظ پیرزادہ کا قومی اسمبلی میں قادی جذباتی ردعمل کی وجہ اب سمجھ آئی متفقہ قرارداد چھ اراکین کی جانب سے قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ کو غیر مسلم قرار کارروائی کا خفیہ رکھنا

صفحہ ٢٢٥٢

قیمت فی جلد -/10 روپے

تاریخی دستاویز مکمل سیٹ ٨ مجلدیں

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

400

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE OF THE WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 31st August, 1974

(No. 16, contains Nos. 1—21)

٢

2253 NATIONAL

2389 THE NATION

PR

THE SPECIA WHOLE HO TO CONSIDE کی کاروائی)

o

Saturda (

The Special C Camera in the Asse Islamabad, at nine Chairman (Sahibzad سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد کی زیر صدارت منعقد ہوا)

(Recita

PDF 22

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

SEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

400

THE

MBLY OF PAKISTAN

EEDINGS OF OMMITTEE OF THE HELD IN CAMERA THE QADIANI ISSUE

AL REPORT

31st August, 1974

ntains Nos. 1—21)

٢

2253 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2389

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

--------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی، بند کمرے کی کاروائی)

OFFICIAL REPORT

--------

Saturday, the 31st August. 1974. (٣١ اگست ١٩٧٤ء، بروز ہفتہ)

--------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at nine of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں صبح 9 بجے چیئرمین جناب (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

--------

(Recitation from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

--------

٣

صفحہ ٢٢٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 2390

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

جناب چیئرمین: مولانا عبدالحکیم !..... کچھ کم کروالی ہیں، گالیوں والا چیپٹر حذف کرالیا ہے۔ یعنی پڑھے نہیں جائیں گے۔ ویسے اس میں شامل ہیں۔

ختم نبوت

مولانا عبدالحکیم : بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

تیرہ سو سال سے دنیا بھر کے مسلمان اس بات پر متفق تھے کہ سرور عالم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے اور ہر زمانہ میں ایسے مدعیوں کو اتمام حجت کے بعد سزا دی گئی۔ اس مسئلہ میں مرزا قادیانی کے ادّعاء سے پہلے اہل علم اور عام اہل اسلام میں کوئی اختلاف نہ تھا۔

(١)...... مسیلمہ کذاب

اسلام میں سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ ختم نبوت پر ہوا۔ جب کہ تمام مسلمانوں نے مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کے مقابلے میں خلافت صدیقیہ میں جہاد بالسیف کیا۔ چونکہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے گرد ربیعہ قوم کی چالیس ہزار جماعت جمع کر دی تھی۔ تمام صحابہ کرامؓ انصار ومہاجرین نے اس سے جہاد کرنے پر اتفاق کیا اور ہزاروں صحابہؓ نے جام شہادت نوش کر کے مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کا قلعہ مسمار کر دیا۔ نیز مسیلمہ کذاب کے علاوہ دوسرے مدعیان نبوت کے ساتھ بھی جہاد کیا گیا اور ہمیشہ کے لئے اہل اسلام کو عملی طور سے یہ تعلیم دی گئی کہ اسلام کا منشاء ہی یہی ہے کہ ان کے حدود اقتدار میں کوئی شخص دعویٰ نبوت نہیں کر سکتا اور یہ دعویٰ کفر صریح اور موجب جہاد ہے۔ چنانچہ بعد کے کسی زمانے میں بھی جس کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے دعویٰ کو برداشت نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کو سخت سزا دی گئی۔ کسی وقت کسی حاکم اور کسی عالم نے 2391 مدعی نبوت سے یہ دریافت نہیں کیا کہ تمہارا دعویٰ کس قسم کی نبوت کا ہے۔ نبوت مستقلہ ہے یا غیر مستقلہ۔ تشریعی یا غیر تشریعی۔ مستقل نبی یا غیر مستقل، تابع نبی یا امتی نبی ہونے کا۔ بلکہ اس کا دعویٰ نبوت ہی اس کے مجرم ہونے کے لئے کافی تھا۔

اس وقت سے یہ تفریق کسی کے ذہن میں نہ تھی کہ بروزی نبی آسکتے ہیں یا تشریعی یا غیر مستقل یا تابع نبی یا امتی نبی۔ یہ سب الفاظ دعویٰ نبوت کو ہضم کرنے کے لئے ہیں۔ جس کو امت نے تیرہ سو سال تک ناقابل برداشت قرار دیا اور ہر دور کی اسلامی حکومت نے ان کو سزائے موت دی۔

٤

صفحہ ٢٢٥٥

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

عالمی مجلس تحف مجلس مکمل سیٹ

SSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

[- GENERAL DISCUSSION

جناب چیئرمین: مولانا عبدالحکیم !..... پکا کر لیا ہے۔ یعنی پڑھے نہیں جائیں گے۔ ویسے اس میں

ختم نبوت

مولانا عبدالحکیم : بسم اللہ الرحمن الرحیم

تیرہ سو سال سے دنیا بھر کے مسلمان اس بات نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے اور ہر زمانہ میں ایسے مدعیوں کو میں مرزا قادیانی کے ادّعاء سے پہلے اہل علم اور عام اہل ا

اسلام میں سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ ختم مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کے مقابلے میں خلافت صد نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے گرد ربیعہ قوم کی چالیس ہز انصار و مہاجرین نے اس سے جہاد کرنے پر اتفاق کیا ا کے مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کا قلعہ مسمار کر دیا۔ نیز نبوت کے ساتھ بھی جہاد کیا گیا اور ہمیشہ کے لئے اہل اس منشاء ہی یہی ہے کہ ان کے حدود اقتدار میں کوئی شخص د اور موجب جہاد ہے۔ چنانچہ بعد کے کسی زمانے میں بھی دعویٰ کو برداشت نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کو سخت سزا دی

2391 مدعی نبوت سے یہ دریافت نہیں کیا کہ تمہارا دعویٰ کیا غیر مستقلہ ۔ تشریعی یا غیر تشریعی ۔ مستقل نبی یا غیر مستقل دعویٰ نبوت ہی اس کے مجرم ہونے کے لئے کافی تھا۔

اس وقت سے یہ تفریق کسی کے ذہن میں غیر مستقل یا تابع نبی یا امتی نبی ۔ یہ سب الفاظ دعویٰ نبوت نے تیرہ سو سال تک ناقابل برداشت قرار دیا اور ہر دور کی

٤

2255 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)]

(اس موقع پر مسٹر چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی جسے مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)

مولانا عبدالحکیم :

چند اور نظائر

آپ ﷺ نے وحی کے ذریعہ سے خبر پا کر صحابہ کرامؓ کو اطلاع کر دی۔ لیکن جب قاصد خوشخبری لے کر مدینہ طیبہ پہنچا تو سرور عالم ﷺ وفات پا چکے تھے۔

(تاریخ طبری ج ٣ ص ٢٥٠ بیروت، ابن اثیر ج ٢ ص ٢٠١، ٢٠٢ بیروت، ابن خلدون ج ٢ ص ٣٩٥ بیروت)

مسیلمہ کذاب سے مل گئی۔ بعد ازاں مسلمانوں کے لشکر کے مقابلہ میں روپوش ہوگئی اور بالآخر مسلمان ہو کر فوت ہوگئی۔

(ابن اثیر ج ٢ ص ١٨٦ تا ٢١٣)

زبیرؓ کے حکم سے قتل ہوا۔

(تاریخ الخلفاء ص ١٨٥)

عبرت کے لئے سولی پر لٹکایا۔ (تاریخ ابن عساکر ج ٦ ص ١٥٣، حالات حارث سعید الکذاب نمبر ١٠١)

عبدالملک بن مروان دمشقی خود تابعی اور سینکڑوں صحابہؓ کو انہوں نے دیکھا اور ان سے حدیثیں روایت کی تھیں۔

عبدالملک کے زمانہ خلافت میں دعویٰ نبوت کیا۔ عراق میں ان کے امیر خالد بن عبداللہ قسری نے ان کو قتل کیا۔ (تاریخ کامل، طبری ج ٤ ص ١٧٤، ١١٦) ہشام بن عبدالملک کی خلافت کے وقت جلیل القدر تابعین اور اجلہ علماء موجود تھے۔

خیرالقرون کے بعد

خیرالقرون، صحابہؓ، تابعین اور تبع تابعین کے بعد دوسرے ادوار میں بھی مسلم حکمرانوں

٥

صفحہ ٢٢٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نے مدعیان نبوت کا یہی حشر کیا۔ ایران ..... میں بہاء اللہ کا انجام برا ہوا اور آج بھی وہاں بہائی فرقہ خلاف قانون ہے۔ کابل ..... میں تو مرزائے قادیان کی نبوت کی تصدیق کرنے والے مولوی عبداللطیف کو بھی قتل کر دیا گیا۔ سعودی عرب ..... میں قادیانیوں کے داخلے پر پابندی ہے۔ بہر حال تمام عالم اسلام نے شام، عراق، حرمین شریفین، کابل، ایران اور مصر تک کے علماء کرام اور سلاطین عظام نے مدعیان نبوت کے قتل کی حمایت و تصویب کی۔ اس ملک میں مرزا قادیانی صرف انگریز کی پشت پناہی سے بچا رہا۔

دلائل ختم نبوت

مسئلہ ختم نبوت کے لئے دلائل کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ یہ بدیہیات اور ضروریات دین میں سے ہے۔ سب جانتے تھے کہ سرور عالم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں 2393 بن سکتا اور جو دعویٰ کرے اس کی سزا موت ہے۔ انگریزی عملداری سے فائدہ اٹھا کر یا خود انگریزوں کے ایماء سے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ دعویٰ بھی اس نے بتدریج کیا۔ پہلے مبلغ اسلام بنا، پھر محدث بنا، پھر مثیل مسیح بنا اور بعد میں خود مستقل مسیح موعود بن بیٹھا اور مسیح موعود کی اصطلاح بھی خود اسی نے ایجاد کی ہے۔ پرانی کتابوں میں اس اصطلاح کا وجود ہی نہیں ہے۔ بعد ازاں نبی غیر تشریعی، نبی بروزی، نبی امتی ہونے کا دعویٰ کیا اور مجازی نبوت سے اصلی نبوت کی طرف ترقی کر لی۔ پھر صاحب شریعت نبی بن گیا۔ پھر خدا کا بیٹا ہونے کا الہام بھی اس کو ہوا اور آخر کار خواب میں خود خدا بن گیا اور زمین و آسمان پیدا کئے۔ یہ باتیں مرزا جی کی کتابوں میں پھیلی ہوئی اور عام شائع وذائع ہیں۔

جب مرزا جی کو آنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ خود مسیح موعود کی اصطلاح گھڑ کر خود مسیح موعود بننے کی ضرورت محسوس ہوئی تو بات یوں بنائی۔ آنے والے کا مثیل یہی ذات شریف ہے۔ مگر وہ تو نبی تھے۔ یہاں تو انگریزی وفاداری ہی تھی۔

ناچار نبی بننے کے لئے فناء فی الرسول ہونے کی آڑ لی اور خود عین محمد بن کر نبی کہلانے کی سعی کی۔ آخری سہارا جو مرزا جی نے لیا وہ امتی نبی کا ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ پہلے پیغمبروں کو براہ راست نبوت ملتی تھی مگر مجھے سرور عالم ﷺ کی اتباع سے ملی ہے۔ یعنی نبوت تو ملی ہے مگر

٦

صفحہ ٢٢٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حضور ﷺ کی برکت سے۔ علماء کرام نے مرزائی کی اس دلیل کے بھی پرخچے اڑا دیئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مسلمان سرور عالم ﷺ کے بعد کسی کا نبی بننا برداشت ہی نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جس پر ساری امت کا اجماع ہے۔

اس مسئلہ کے تفصیلی دلائل کے لئے آپ مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ سابق مفتی دارالعلوم دیوبند کی کتابیں...... ختم نبوت فی القرآن: ختم نبوت فی الحدیث اور ختم نبوت 2394 فی الاثار مطالعہ کریں۔ جن کی کاپی لف ہذا ہے۔ یا پھر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ کی تصانیف ختم نبوت اور حضرت علامہ انور شاہ صاحبؒ کی کتابیں تو اس سلسلے میں لاجواب پراز معلومات اور مرزائیوں پر حجت قاطع ہیں۔ ہم یہاں اسمبلی کی ضرورت کے تحت کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں......

ختم نبوت کے سلسلہ میں بنیادی آیت کریمہ

"ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب:٤٠)" ﴿حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تم میں سے کسی مرد بالغ کے باپ نہیں ہیں۔ ہاں وہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔﴾

آپ ﷺ کی صاحبزادیاں تھیں اور بیٹے بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ حضرت زید بن حارثہؓ آپ کے غلام تھے۔ جس کو آپ ﷺ نے آزاد کر کے متبنیٰ بنالیا تھا۔ چنانچہ لوگ ان کو زید بن محمد کہنے لگ گئے تھے۔ مگر قرآن پاک نے جو صرف اور صرف حقیقت پر لوگوں کو چلانا چاہتا ہے۔ ایسا کہنے سے روک دیا۔ اب لوگ ان کو زید بن حارثہؓ کہنے لگ گئے۔ حضور ﷺ نے ان کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ سے کرادی۔ لیکن خاوند بیوی میں اتفاق نہ ہوسکا۔ حضرت زیدؓ نے انہیں طلاق دے دی۔ اب ایک آزاد کردہ غلام سے ایک قریشی عورت کی شادی پھر طلاق۔ دو طرح سے حضرت زینبؓ پر اثر پڑا۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا۔ جس سے حضرت زینبؓ کی تمام کدورتیں دور ہوگئیں۔ مگر مخالفین نے بڑا پروپیگنڈا کیا کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے آپ ﷺ نے نکاح کرلیا۔ اس پر اس آیت نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا۔ فرمایا کہ حضور ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ یعنی زبان سے کہہ دینے سے حضرت زیدؓ کے حقیقی باپ نہیں 2395 بن سکتے کہ نکاح ناجائز ہوجائے۔ پھر پیغمبر کی شفقت بھی باپ سے زیادہ ہوتی ہے اور آپ ﷺ کی شفقت ساری امت کے لئے ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور یہ

٧

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نے مدعیان نبوت کا یہی حشر کیا۔

ایران...... میں بہاء اللہ کا انجام برا ہوا اور کابل...... میں تو مرزائے قادیان کی نبوت کو بھی قتل کر دیا گیا۔ سعودی عرب...... میں قادیانیوں کے داخلہ

بہر حال تمام عالم اسلام نے شام، عراق علماء کرام اور سلاطین عظام نے مدعیان نبوت کے مرزا قادیانی صرف انگریز کی پشت پناہی سے بچا رہا۔

دلائل ختم نبوت

مسئلہ ختم نبوت کے لئے دلائل کی ضرورت دین میں سے ہے۔ سب جانتے تھے کہ سرور عالم ﷺ کرے اس کی سزا موت ہے۔ انگریزی عملداری نے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ دعویٰ پھر محدث بنا، پھر مثیل مسیح بنا اور بعد میں خود مستقل نبی خود اسی نے ایجاد کی ہے۔ پرانی کتابوں میں اس غیر تشریعی، نبی بروزی، نبی امتی ہونے کا دعویٰ کیا اور لی۔ پھر صاحب شریعت نبی بن گیا۔ پھر خدا کا بیٹا ہوا خود خدا بن گیا اور زمین و آسمان پیدا کئے۔ یہ باتیں واضح ہیں۔

جب مرزا جی کو آنے والے حضرت عیسیٰؑ کر خود مسیح موعود بننے کی ضرورت محسوس ہوئی تو باہر شریف ہے۔ مگر وہ تو نبی تھے۔ یہاں تو انگریزی وفاداری ناچار نبی بننے کے لئے فناء فی الرسول ہونے کی سعی کی۔ آخری سہارا جو مرزاجی نے لیا وہ امتی نبی براہ راست نبوت ملتی تھی مگر مجھے سرور عالم ﷺ کی

١٦

صفحہ ٢٢٥٨

2258 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

شفقت کہیں ختم بھی نہ ہو گی۔ کیونکہ قیامت تک آپﷺ کے بعد کسی کو نبی بننا نہیں ہے۔ اس لئے آپﷺ قیامت تک کے لئے تمام امت کے روحانی باپ پیغمبر اور بہترین شفیق ہوئے اور یہ وہم کہ جب آپﷺ روحانی باپ ہوئے اور امت روحانی اولاد ہوئی تو روحانی وراثت یعنی نبوت بھی جاری رہ سکتی ہے۔ اس ارشاد سے وہ وہم بھی رفع ہو گیا۔ نیز اس فرمان سے کہ آپﷺ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ یہ وراثت بھی نہیں رہے گی اور اسی لئے حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نبی نہیں ہوئے۔

آیت کا معنی

آیت کا معنی اور مختصر مفہوم بیان ہو گیا۔ یہی آیت وہ مرکزی آیت ہے جس نے سرور عالمﷺ کے بعد نبی بننے کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں۔ اگر کسی نے ان تمام آیات کا استیعاب کرنا اور پورا دیکھنا ہو تو ہم نے ختم نبوت فی القرآن ساتھ منسلک کر دی ہے۔ اس میں سو آیتوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ آپﷺ نے نبیوں کی تعداد پوری کر دی ہے اور آپﷺ خاتم النبیین ہیں۔ ہم یہاں صرف مختصراً ایک آیت کریمہ پر بحث کریں گے۔

قرآن کی تفسیر قرآن سے

یہ قرآن کے معانی کے بیان کا مسلمہ اصول ہے کہ پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن کی اسی آیت کا معنی خود قرآن سے کیا معلوم ہوتا ہے تو اس اصول کے تحت اسی آیت "ولكن رسول الله وخاتم النبيين" کی دوسری قرأت جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت ہے اور تفاسیر میں درج ہے یہ ہے۔ "ولكن نبيا ختم النبيين" ﴿لیکن آپ ایسے نبی ہیں جنہوں نے تمام نبیوں کو ختم کر ڈالا۔﴾

2396 اس قرأت نے "ولكن رسول الله وخاتم النبيين" کا معنی بالکل واضح کر دیا کہ آپﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اس تفسیر سے ان تمام غلط تاویلوں کے راستے ہی بند ہو گئے کہ آپﷺ نبیوں کی مہر ہیں۔ آئندہ آپﷺ کی مہر سے نبی بنا کریں گے۔ کیونکہ اب معنی بالکل صاف ہو گیا کہ اس نبی نے تمام نبیوں کو ختم کر ڈالا۔ گویا خاتم کا معنی ختم کرنے والا ہو گیا۔

سرور عالمﷺ کی تفسیر

ظاہر ہے کہ جس ذات مبارک پر قرآن نازل ہوا ان سے بڑھ کر اس قرآن کا معنی کون

8

2259 NATIONAL حضورﷺ کی تفسیر سنئے۔ ترمذی شریف

ہم یزعم انه نبى وانا خاتم النبيين سوم الساعة حتى يخرج الكذابون) “ لئے) ظاہر ہوں گے ہر ایک کا زعم یہ ہوگا کہ کوئی نبی نہیں۔﴾ ں معلوم ہوئیں۔ بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ تا کہ وہ کہے گا کہ میں نبی ہوں اس کا یہ ہے۔ گے۔ اپنے کو امتی نبی کہیں گے۔ اگر ا بات پر کان دھرے۔ ان الفاظ سے

ری امت میں بعض جھوٹے نبی آئیں سب کے سب کافر نہ بن جانا۔ نہ نبی ہوں تو کذاب ودجال نہ کہنا۔ ب دجال ہوں گے۔ بعد والوں کو مان نے اور جہاد کو حرام کہہ کر ساری دنیا میں ل تک جھوٹی نبوت بند ہے۔ بعد میں کی اس پاک حدیث نے مخالفین ختم

رشاد بخاری اور مسلم دونوں میں ہے۔ مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر جبون من حسن بنيانه الا موضع

کتب خانہ مجلس عالمی مجلس تحفظ ملتان قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٢٥٩

قیمت فی شمارہ -/10 روپے مکمل سیٹ قومی اسمبلی مباحث

SSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 شفقت کہیں ختم بھی نہ ہوگی۔ کیونکہ قیامت تک آپ ﷺ آپ ﷺ قیامت تک کے لئے تمام امت کے روحانی باپ کہ جب آپ ﷺ روحانی باپ ہوئے اور امت روحانی بھی جاری رہ سکتی ہے۔ اس ارشاد سے وہ وہم بھی رفع نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ یہ وراثت کبھی نہیں رہے گی نہیں ہوئے۔

آیت کا معنی

آیت کا معنی اور مختصر مفہوم بیان ہو گیا۔ یہی آ عالم ﷺ کے بعد نبی بننے کے تمام دروازے بند کر دی استیعاب کرنا اور پورا دیکھنا ہو تو ہم نے ختم نبوت فی القر آیتوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے نبیوں کی النبیین ہیں۔ ہم یہاں صرف مختصرًا ایک آیت کریمہ پر بح

قرآن کی تفسیر قرآ

یہ قرآن کے معانی کے بیان کا مسلمہ اصول ہ اسی آیت کا معنی خود قرآن سے کیا معلوم ہوتا ہے تو اس ام الله وخاتم النبیین “ کی دوسری قرآت جو حضرت عبدا درج ہے یہ ہے۔ ”ولکن نبيا ختم النبیین“ ﴿لیکن ختم کر ڈالا ۔ ﴾

2396 اس قرآت نے ”ولکن رسول الله کہ آپ ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اس تفسیر ہوگئے کہ آپ ﷺ نبیوں کی مہر ہیں۔ آئندہ آپ ﷺ معنی بالکل صاف ہو گیا کہ اس نبی نے تمام نبیوں کو ختم کر د

سرور عالم ﷺ کا

ظاہر ہے کہ جس ذات مبارک پر قرآن نازل ٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 سمجھ سکتا ہے۔ یہ اصول بھی سب میں مسلم ہے۔ اب آپ حضور ﷺ کی تفسیر سنئے۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے جس کی صحت میں کلام نہیں ہے۔

”انه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ترمذى ج٢ ص ٤٥، باب ماجاء لا تقوم الساعة حتى يخرج الكذابون) “

﴿ تحقیق بات یہ ہے کہ میری امت میں تیس کذاب (جھوٹے) ظاہر ہوں گے ہر ایک کا زعم یہ ہوگا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾

اس مبارک، صحیح اور کفر شکن حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔

دعویٰ کرنا ہی اس کے جھوٹے اور دجال ہونے کے لئے کافی ہے۔

حضور ﷺ کی امت میں ہونے کا دعویٰ نہ کریں تو کون ان کی بات پر کان دھرے۔ ان الفاظ سے امتی نبی کے ڈھونگ کا پتہ بھی لگ گیا۔

2397 اس حدیث میں آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میری امت میں بعض جھوٹے نبی آئیں گے اور بعض سچے بھی ہوں گے۔ دیکھنا ان کا انکار کر کے سب کے سب کافر نہ بن جانا۔ نہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بروزی، ظلی، عکسی اور غیر تشریعی نبی ہوں تو کذاب و دجال نہ کہنا۔ نہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ تیرہ سو سال تک سب دجال ہوں گے۔ بعد والوں کو مان لینا اور اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کر کے انگریز کے خلاف لڑنے اور جہاد کو حرام کہہ کر ساری دنیا میں لٹریچر پہنچائے تو اس انگریزی نبی کو مان لینا اور یہ کہ تیرہ سو سال تک جھوٹی نبوت بند ہے۔ بعد میں آزادی ہے (معاذ اللہ) بہرحال جناب خاتم النبیین ﷺ کی اس پاک حدیث نے مخالفین ختم نبوت کے سارے وسوسے خاک میں ملا دیئے۔

نبی کریم ﷺ کا دوسرا ارشاد

آپ ﷺ کا دوسرا ارشاد بھی ملاحظہ فرمائیں کہ جو بخاری اور مسلم دونوں میں ہے۔

”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع

٩

صفحہ ٢٢٦١

2260 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة وختم بى الرسل وفى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين (مسلم ج٢ ص٢٤٨، باب ذكر كونه خاتم النبيين) ”حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری اور پیغمبروں کی مثال ایک ایسے محل کی ہے جو نہایت خوبصورت بنایا گیا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو۔ اس کو دیکھنے والے تعجب کرتے ہیں کہ کیسی اچھی تعمیر ہے۔ ہاں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے (کیوں چھوڑ دی گئی) تو میں نے اس اینٹ کی جگہ پُر کر دی اور میرے ذریعہ پیغمبر ختم کر دیئے گئے اور ایک روایت میں ہے کہ میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔“

2398 اس حدیث نے تو خاتم النبیین کا معنی حسی طور پر بیان فرما دیا کہ نبوت کا محل پورا تھا صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ وہ حضور ﷺ سے پوری ہو گئی۔ اب مرزا قادیانی اس محل میں گھسنا چاہتا ہے۔ مگر کون گھسنے دیتا ہے۔ مرزائیوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ بخاری اور مسلم کی حدیث میں کیڑے نکالتے اور کہتے ہیں کہ صاحب لولاک کی شان اور ایک چھوٹی سی اینٹ کو کیا نسبت؟ انا للہ وانا الیہ راجعون!

یہ مثال تو آپ ﷺ نے سارے جہان کی بیان نہیں کی۔ صرف قصر انبیاء کی بیان کی ہے۔ پھر ان مرزائیوں کو کیا معلوم ہے کہ اس ایک اینٹ کی کتنی جگہ ہے۔ وہ کتنی خوبصورت اینٹ ہے۔ وہ کتنی بڑی ہے۔ محل کا سارا حسن ایسی ایک اینٹ سے دوبالا کیوں نہیں ہو سکتا؟

حدیثی نکتہ

اس مبارک حدیث نے یہ وہم بھی دور کر دیا کہ آیت خاتم النبیین کا تعلق آنے والوں سے ہے۔ آپ ﷺ نے تمام آنے والے پیغمبروں کا ذکر کر کے صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی رہنے کی بات فرمائی اور اپنے کو آخری اینٹ فرما کر خاتم النبیین فرما دیا۔ مطلب صاف ہو گیا کہ خاتم کا تعلق سابقین سے ہے۔ لاحقین اور آنے والوں سے نہیں ہے کہ آپ ﷺ کی مہر اور قدسی قوت نبی تراشتی رہے گی اور آپ ﷺ کی مہر سے لوگ نبی بنا کریں گے اور امتی نبی کہلائیں گے۔

مرزائی کفر پر کفر

مرزائی ابوالعطاء جالندھری نے اس حدیث کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو محل میں تو جگہ خالی نہ ہو گی وہ کہاں ہوں گے۔ 2399 افسوس ہے کہ مرزائی گندی باتوں سے اور خاص کر پیغمبروں کے بارے میں غلط

١٠

2261 NATIONAL ASSEMBL

ہی اس کا جواب سن لیں۔ جب مرزا جی آئیں گے س لگنے کی کوشش کریں گے؟ یہ ایسی ہی بات ہوئی و سب باری باری خدا کے سامنے سے گزر جائیں ہو گا کہ تمہارا تو نام فہرست میں نہیں۔ تم کدھر سے ہو جائے گا کہ یا الٰہی آپ نے کم و بیش ایک لاکھ چکا تھا۔ اس کو تو داخل کر لو۔

مذاق سے خفاء نہ ہوں۔ اب تحقیقی جواب سن لو۔ یہ سمجھانے کے لئے۔ اس سے پیغمبر اینٹ کی طرح نہ نبوت کا محل حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت تعداد پوری ہو چکی ہے۔ اب آخری نبی کی عزت پیغمبر آخر الزمان کی عزت افزائی کے لئے ان کو ئے۔ وہ صاحب اختیار ہے۔ مرزائی کون ہوتے مسئلہ حیات عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام میں مفصل ﷺ يا ايها الناس انه لم يبق من النبوة الا اب التعبير) ”حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ت یہ ہے کہ نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ

ﷺ سے پوچھا گیا مبشرات کیا ہیں ۔ آپ نے فرمایا: (اس کے لئے دیکھئے) ت کا چھیاسواں حصہ ہیں۔ بہرحال نبوت کے م کلامی، اسرار الہیہ تقدیر اور اسباب، مخلوق اور ث......

ہیں۔ ان سب کو راز میں رکھا گیا دو اجزاء ظاہر نی امور کے بارے میں خواب کی اطلاعات کی ہے۔ نہ رب العزت جل وعلا کی ذات ہمارے ر مکالمہ الہیہ، آخر یہ مکالمہ کس طرح ہوتا ہے۔

صفحہ ٢٢٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 بیانیوں سے باز نہیں آتے۔ پہلے تو آپ ویسے ہی اس کا جواب سن لیں۔ جب مرزاجی آئیں گے اور کسی اینٹ کی جگہ خالی نہ ہوگی۔ یہ مرزاجی کہاں لگنے کی کوشش کریں گے؟ یہ ایسی ہی بات ہوئی جیسے ایک میراثی نے بات بنائی تھی کہ جب انبیاء سب باری باری خدا کے سامنے سے گزر جائیں اور مرزاجی کی باری آئے گی تو اس پر اعتراض ہوگا کہ تمہارا تو نام فہرست میں نہیں۔ تم کدھر سے نبیوں میں رہے تو فوراً شیطان ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جائے گا کہ یا الٰہی آپ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ میں نے صرف یہ ایک بھیجا تھا۔ اس کو تو داخل کر لو۔

مرزائیو! پیغمبروں کا مذاق اڑا کر پھر مذاق سے خفا نہ ہوں۔ اب تحقیقی جواب سن لو۔ یہ صرف مثال ختم نبوت کے محل کی ہے اور امت کو سمجھانے کے لئے۔ اس سے پیغمبر اینٹ کی طرح بے حس و حرکت اور بے جان ثابت نہیں ہوتے۔ نبوت کا محل حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت سرور عالم ﷺ کے ذریعے مکمل ہو چکا ہے۔ وہ تعداد پوری ہو چکی ہے۔ اب آخری نبی کی عزت نوازی کے لئے جس پرانے پیغمبر کو لے آئے۔ پیغمبر آخر الزمان کی عزت افزائی کے لئے ان کو زندہ رکھ کر پھر آپ ﷺ کی امت کی امداد کرائے۔ وہ صاحب اختیار ہے۔ مرزائی کون ہوتے ہیں جو اس میں دخل دیں۔ اس کی بحث علیحدہ مسئلہ حیات عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام میں مفصل دیکھئے: ”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ يا ايها الناس انه لم يبق من النبوة الا المبشرات (رواه البخاري ج ٢ ص ١٠٣٥ ، كتاب التعبير) “حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا۔ اے لوگو! (سن لو) بات یہ ہے کہ نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ ﴾

2400 ایک روایت میں ہے کہ سرور عالم ﷺ سے پوچھا گیا مبشرات کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا: (اچھے خواب جو مسلمان دیکھے یا دوسرا اس کے لئے دیکھے)

ایک روایت میں ہے کہ مبشرات نبوت کا چھیا لیسواں حصہ ہیں۔ بہر حال نبوت کے اجزاء کو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ نبوت، شرف ہم کلامی، اسرار الٰہیہ، تقدیر اور اسباب، مخلوق اور خالق کا تعلق، نبوت کا واسطہ یہ اور اس قسم کے مباحث.......

ہماری عقول اور افہام سے بہت بلند ہیں۔ ان سب کو راز میں رکھا گیا دو اجزاء ظاہر کئے گئے۔ اچھی اور سچی خوابیں۔ کون ہے جو ان غیبی امور کے بارے میں خواب کی اطلاعات کی حقیقت بیان کر سکے؟ دوسرا جز مکالمات الٰہیہ ہے۔ نہ رب العزت جل وعلا کی ذات ہمارے احاطہ علم میں ہے اور نہ اس کی صفات اور خاص کر مکالمہ الٰہیہ، آخر یہ مکالمہ کس طرح ہوتا ہے۔ ||

OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبـ النبیین (مسلم ج ٢ ص ٢٤٨، باب ذکر کوـ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری اور خوبصورت بنایا گیا ہو۔ مگر ایک اینٹ کی جگہ کیسی اچھی تعمیر ہے۔ ہاں ایک اینٹ کی جگہ کی جگہ پر کر دی اور میرے ذریعہ پیغمبر ختم کر ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ﴾ 2398 اس حدیث نے تو خاتم النبییـ صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ وہ حضور گھسنا چاہتا ہے۔ مگر کون گھسنے دیتا ہے۔ مرزا کی حدیث میں کیڑے نکالتے اور کہتے ہیں کہ نسبت؟ انا لله وانا اليه راجعون! یہ مثال تو آپ ﷺ نے سارے ہے۔ پھر ان مرزائیوں کو کیا معلوم ہے کہ اس ہے۔ وہ کتنی بڑی ہے۔ محل کا سارا حسن ایسی

اس مبارک حدیث نے یہ وہم سے ہے۔ آپ ﷺ نے تمام آنے والے رہنے کی بات فرمائی اور اپنے کو آخری اینٹ خاتم کا تعلق سابقین سے ہے۔ لاحقین اور قوت نبی تراشتی رہے گی اور آپ ﷺ کی

مرزاجی ابوالعطاء جالندھری سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو 2399 افسوس ہے کہ مرزائی گندا

صفحہ ٢٢٦٢

قیمت فی شمارہ-/10 روپے عالی جناب چیئر مجلس

2262 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

بالمشافہ رب العزت جل وعلا سے، ملائکہ کے توسط سے۔ دل میں القاء سے۔ پردے کے پیچھے سے، یا غیب کی آوازیں سنائی دینے سے، پھر ہر ایک کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ مقام قرب اور مقام معیت کی باتیں ہیں۔ بہر حال یہ اجزاء نبوت ہیں۔ جزئیات نبوت نہیں ہیں۔ نبی جس قسم کا ہو، چاہے صاحب کتاب وصاحب شریعت ہو۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام وغیرہ۔ چاہے بغیر شریعت و کتاب ہو جیسے ہارون علیہ السلام اور سارے انبیاء بنی اسرائیل ۔ یہ اصلاح خلق کے لئے مامور ہوتے ہیں۔ ان سے مکالمہ ہوتا ہے۔ ان کو مبعوث کیا جاتا ہے اور نبوت کا منصب عطاء ہوتا ہے۔ ان پر وہ وحی آتی ہے جو فرشتہ پیغمبروں پر لاتا ہے۔ یہ شریعت کے اجراء کے لئے مامور ہوتے ہیں۔ ان کی وحی میں شریعت کی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عہدۂ نبوت پر فائز ہوتے ہیں۔ ان دونوں نبوتوں کو اولیاء کرام تشریعی نبوت کہہ دیتے ہیں اور دونوں کو بند اور ختم بتاتے ہیں۔

عام اہل علم کلام ، علم شریعت والے پہلی کو نبوت تشریعی اور دوسری کو نبوت غیر تشریعی کہتے ہیں، اور ”ولکن رسول الله وخاتم النبین“ کے بعد دونوں کو ختم بتاتے ہیں۔ اولیائے کرام میں سے بعض کو شرف مکالمہ نصیب ہوتا ہے۔ لیکن نبی اور نبوت کے 2401 نام کو غیر نبی کے لئے استعمال کرنے کو وہ کفر سمجھتے ہیں۔ وہ بھی صرف مکالمات کو نبوت غیر تشریعی کہہ دیتے ہیں۔ جس سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس ذات مبارک کو نبی کا نام دیتا ہے اور منصب نبوت سے سرفراز کر کے اصلاح خلق کے لئے پرانے یا نئے احکام وحی کر کے بھیجتا ہے۔ یہ وہ نبوت نہیں ہے۔ اس سے دھوکہ دیا جاتا ہے کہ شیخ اکبر وغیرہ تشریعی نبوت کی بقاء اور اجراء کے قائل ہیں۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ارباب علم و کلام و شریعت جن دو نبوتوں کو علیحدہ ذکر کر کے ختم بتاتے ہیں تو بعض اولیاء ان دونوں کو نبوت تشریعی کہہ کر ختم بتا دیتے ہیں۔ مقصد دونوں کا ایک ہی ہو جاتا ہے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ انسان کے کسی جزو مثلاً پاؤں کو انسان نہیں کہتے ۔ مجموعہ اجزاء کو انسان کہتے ہیں۔ مگر حیوان کے جزئیات کو حیوان کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً گھوڑا، گدھا، بلی وغیرہ سب کو حیوان کہہ سکتے ہیں۔ یہ جزئیات ہیں لیکن گھوڑے کے سر کو گھوڑا نہیں کہہ سکتا، مجموعہ اعضاء کو کہیں گے۔ اب انبیاء علیہم السلام کی نبوت کے چھیالیس اجزاء جمع ہوں تو کوئی نبی بنتا ہے۔ مگر ان اجزاء کا جمع ہونا اور منصب نبوت ملنا محض موہبت اور فضل خداوندی ہے۔ حدیث بہرحال بخاری کی ہے اور ختم نبوت کی صاف دلیل ہے۔ یہی تفسیر ہو گئی اس پہلی آیت کی۔ مرزا غلام احمد کے ایک پیرو مرزائی ابو العطاء نے لکھا ہے کہ دیکھو پانی کا ایک قطرہ دریا کا جزو ہے۔ لیکن دونوں کو پانی کہتے ہیں۔ یہ

١٢

2263 NATIONAL ASSEMB

نے کا نتیجہ ہے۔ قطرہ بھی پانی ہے اور دریا بھی۔ ق کے اجزاء ہائیڈروجن اور آکسیجن ہیں۔ کیا کوئی تا ہے؟ جیسے چھوٹا گدھا اور بڑا گدھا دونوں حیوان ۔ مگر گدھے کے کسی جزو کو گدھا نہیں کہہ سکتے۔ مغالطہ کرتا ہے۔

کا چوتھا ارشاد

ہے : ”2402 الا ترضى ان تكون منى بمنزلة ری ج ٢ ص ٦٣٣ ، باب غزوہ تبوک ”کیا تم ہ جاؤ۔ جیسے ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ ہوئی نہیں۔

ہوئے حضرت علیؓ کو اہل خانہ وغیرہ کی نگرانی کے ساتھ پیچھے رہنے کو محسوس کیا۔ جس پر آپ ﷺ موسیٰ علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے اور حضرت نب شریعت نہ تھے۔ نہ صاحب کتاب تھے۔ وگرانی کے لئے چھوڑ گئے۔ یہی بات آپ ﷺ چونکہ حضرت ہارون علیہ السلام پیغمبر تھے۔ یہ غلط پیغمبر نہیں ہوسکتا۔‘‘ گویا تابع غیرمستقل نبی اور سکتا۔ آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ نبوت ایک عظیم بخشش سے ملتا ہے۔ اس میں کسی کے اتباع بی کی خود ساختہ اصطلاح گھڑ کر لوگوں کو کافر بنایا یہ منصب دے دیں۔ وہ نبی ہے۔ لیکن اب یہ ماتحتیت کی کھڑکی کھولتے ہیں۔ کبھی فنا فی الرسول یہ سب دجل و فریب اور دھوکہ ہے۔ امتی نبی کی دین میں نہیں بتا سکتا۔

صفحہ ٢٢٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

سراسر دھوکہ ہے اور جزو اور جزئی میں امتیاز نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ قطرہ بھی پانی ہے اور دریا بھی۔

قطرات پانی کے اجزاء نہیں ہیں۔ پانی کے اجزاء ہائیڈروجن اور آکسیجن ہیں۔ کیا کوئی شخص ان دو اجزاء میں سے کسی ایک کو پانی کہہ سکتا ہے؟ جیسے چھوٹا گدھا اور بڑا گدھا دونوں حیوان کے جزئیات ہیں۔ دونوں کو حیوان کہہ سکتے ہیں۔ مگر گدھے کے کسی جزو کو گدھا نہیں کہہ سکتے۔ ابوالعطاء مرزائی باتیں بنا کر قرآن اور حدیث کا مقابلہ کرتا ہے۔

حضور ﷺ کا چوتھا ارشاد

بخاری غزوہ تبوک میں یہ حدیث درج ہے: 2402[الا ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى (بخاری ج٢ ص٦٣٣، باب غزوہ تبوک) ] ”کیا تم اس پر خوش نہیں ہوتے کہ تم مجھ سے اس طرح ہو جاؤ۔ جیسے ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھے۔ مگر بات یہ ہے کہ میرے بعد نبی کوئی نہیں ۔“

جب آپ نے غزوہ تبوک کو جاتے ہوئے حضرت علیؓ کو اہل خانہ وغیرہ کی نگرانی کے لئے چھوڑا تو حضرت علیؓ نے بچوں اور عورتوں کے ساتھ پیچھے رہنے کو محسوس کیا۔ جس پر آپ ﷺ نے ان کو یہ فرما کر تسلی دے دی۔

حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑے بھائی تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی تھے۔ مستقل صاحب شریعت نہ تھے۔ نہ صاحب کتاب تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر جاتے وقت ان کو نگرانی کے لئے چھوڑ گئے۔ یہی بات آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرما کر ان کو تسلی کرا دی۔ لیکن چونکہ حضرت ہارون علیہ السلام پیغمبر تھے۔ یہ غلط فہمی اس ارشاد سے دور فرمادی کہ ”میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہو سکتا۔“ گویا تابع غیرمستقل نبی اور بغیر شریعت کے بھی آپ ﷺ کے بعد کوئی نہیں بن سکتا۔ آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ نبوت ایک عظیم منصب اور بھاری انعام ہے اور محض موہبت اور بخشش سے ملتا ہے۔ اس میں کسی کے اتباع واطاعت کا دخل نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی نے امتی نبی کی خودساختہ اصطلاح گھڑ کر لوگوں کو کافر بنایا ہے۔ امت میں سے جو چاہا ہر جس کو اللہ تعالیٰ چاہے یہ منصب دے دیں۔ وہ نبی ہے۔ لیکن اب یہ دروازہ بند ہو چکا ہے۔ مرزاجی اسی لئے تو کبھی صدیقیت کی کھڑکی کھولتے ہیں۔ کبھی فنا فی الرسول اور آپ ﷺ کے اتباع کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ یہ سب دجل وفریب اور دھوکہ ہے۔ امتی نبی کی اصطلاح یا مسیح موعود کی اصطلاح کوئی مرزائی پرانے دین میں نہیں بتا سکتا۔

١٣

صفحہ ٢٢٦٤

2264 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حضور ﷺ کا پانچواں ارشاد

2403 ”عن ابي هريرة ؓ عن النبى ﷺ قال كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبي خلفه نبي وانه لا نبي بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا فماذا تامرنا يا رسول الله قال فوا ببيعة الاوّل فالاوّل اعطوهم حقهم فان الله سائلهم عما استرعاهم (بخاری ج ١ ص ٤٩١، کتاب الانبیاء، مسلم ج ٢ ص ١٢٦، کتاب الامارة)“

﴿حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں۔ سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست اور انتظام ان کے پیغمبر کرتے تھے۔ جب ایک چل بستا تو اس کی جگہ دوسرا آ جاتا اور تحقیقی بات یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں (البتہ) خلفاء (وامراء) ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا حکم ہم کو کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پہلے جس سے بیعت کی ہے اس کا حق پورا کرو۔ (اسی طرح درجہ بدرجہ ) ان کا حق ان کو دو (اگر تمہارا حق ادا نہ کریں) تو اللہ تعالیٰ خود ان سے رعیت کے متعلق پوچھ لیں گے۔﴾

ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی نبوتیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع تھیں۔ مستقل اور تشریعی نبوتیں نہ تھیں۔ مگر سرور عالم ﷺ نے اپنی امت میں سے ان کی بندش اور ختم نبوت کا بھی اعلان کر دیا۔ وہاں سارا کام نبی کرتے تھے۔ یہاں حضور ﷺ کے بعد خلفاء، امراء، علماء، اولیاء کریں گے۔

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

(اس موقع پر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت چھوڑ دی اور مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے اجلاس کی صدارت شروع کر دی)

حضور کریم ﷺ کا چھٹا ارشاد

مولانا عبدالحکیم: ”لو كان بعدى نبي لكان عمرؓ (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩، باب مناقب ابی حفص عمرؓ بن الخطاب) “ ﴿اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔﴾

2404 حضرت عمرؓ کے محدث ہونے کی تصریح بھی آپ ﷺ فرما چکے ہیں کہ ان سے

١٤

صفحہ ٢٢٦٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مکالمات ہوتے تھے۔ مگر پھر بھی فرمایا کہ وہ نبی نہیں اور وجہ صرف یہ بتائی کہ میرے بعد نبی نہیں ہوسکتا۔ واقعی جو ہستی مکارم اخلاق، کمالات نبوت اور تمام اعلیٰ صفات نبوت کی جامع ہو اور تمام انبیاء ومرسلین سے افضل اور سب کی سرتاج اور امام ہو۔ ایسی ہی پاک ہستی کو لائق ہے تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد آنا اور منصب نبوت کا خاتم ہونا۔

معلوم ہوا کہ محدث بھی نبی نہ ہوسکتا نہ کہلا سکتا ہے اور اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ اس کو حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ مکالمات کی دولت نصیب ہوئی ہے تو اپنے دماغ کا علاج کرائے۔

جناب امام الانبیاء علیہ السلام کا ساتواں ارشاد

”عن ابی هریرةؓ ان رسول الله ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الكلم، ونصرت بالرعب، واحلت لی الغنائم، وجعلت لی الارض مسجداً وطهوراً وارسلت الی الخلق كافة وختم بی النبیون (مسلم ج ١ ص ١٩٩، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰة) “ ﴿ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمام انبیاء علیہم السلام پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ غنیمت کا مال میرے لئے حلال کر دیا گیا ہے۔ (جب کہ پہلی امتوں میں مال غنیمت کے ڈھیر کو آسمان کی آگ جلا دیتی تھی اور یہی اس کی قبولیت کی نشانی تھی ) اور ساری زمین میرے لئے مسجد اور طہور بنا دی گئی۔ (نماز زمین پر ہر جگہ پڑھ سکتے ہیں اور بوقت ضرورت تیمم بھی کر سکتے ہیں ) اور میں تمام مخلوق کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں اور میرے ساتھ تمام پیغمبروں کو ختم کر دیا گیا ہے (یعنی یہ سلسلہ بند ہو گیا اور تعداد متعین پوری ہوگئی ) ﴾

2405 اس مبارک ارشاد میں آخری جملہ صاف اور صریح ہے۔ جس میں کسی مرزائی کی تاویل یا وسوسہ کی گنجائش نہیں۔ صاف صاف فرمان ہے کہ میرے آنے سے سارے نبی ختم کر دیئے گئے ہیں۔ یہاں مہر وغیرہ کا معنی نہیں چل سکتا۔

آٹھواں ارشاد رسول ﷺ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فانی آخر الانبیاء ومسجدی آخر المساجد (مسلم ج ١ ص ٤٤٦، باب فضل الصلوٰة بمسجد مكة والمدينة ونسائی شریف)“

اس حدیث شریف کے پہلے حصے نے تو سرور عالم ﷺ کے آخری نبی ہونے کی تصریح

١٥

F PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حضور ﷺ

2403 عن ابی هریرة عن ال كلما هلك نبی خلفه نبی وانه لا تامرنا یا رسول الله قال فوابیعة ال استرعاهم (بخاری ج ١ ص ٤٩١،

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں۔ سرور عا ان کے پیغمبر کرتے تھے۔ جب ایک چل میرے بعد کوئی نبی نہیں (البتہ ) خلفاء ( کیا کہ آپ ﷺ کا حکم ہم کو کیا ہے۔ آپ کرو۔ (اسی طرح درجہ بدرجہ ) ان کا حق سے رعیت کے متعلق پوچھ لیں گے۔ ﴾

ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی تشریعی نبوتیں نہ تھیں۔ مگر سرور عالم ﷺ اعلان کر دیا۔ وہاں سارا کام نبی کرتے کریں گے۔

hraf Khatoon Abbasi pied by Mr. Chairman

(اس موقع پر مسز اشرف (صاحبزادہ فاروق علی) نے اجلاس کی

حضور مولا نا عبد الحکیم: ”لو مناقب ابی حفص عمرؓ بن الخطاب) 2404 حضرت عمرؓ کے محدم

عکسِ رسید مبلغیں

قیمت فی کاپی -/10 روپے

صفحہ ٢٢٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

فرما دی ہے۔ لیکن مرزائی بڑے خوش ہیں کہ ان کو احادیث کا معنی بدلنے کا موقعہ اس حدیث کے دوسرے جزو سے ہاتھ آ گیا وہ کہتے ہیں کہ جیسے حضور ﷺ کی مسجد کے بعد ہزاروں مسجدیں بنی ہیں اسی طرح آپ ﷺ کے بعد اور نبی آسکتے ہیں۔ مگر قدرت کو یہی منظور ہے کہ یہ ہر ہر جگہ لاجواب اور رسوا ہوں۔ چنانچہ اسی حدیث کو امام دیلمی، ابن نجار اور امام بزازؒ نے نقل فرمایا اور اس میں یہ الفاظ ہیں ”ومسجدی آخر مساجد الانبیاء“ کہ میری مسجد پیغمبروں کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے (کنز العمال) لیجئے! حدیث کی تشریح خود دوسری حدیث نے کر دی اور مرزائیوں کی خوشی خاک میں ملا دی۔

صحابہ کرامؓ کی تفسیر

ان روایات سے آپ کو صحابہ کرامؓ کی تفسیر کا بھی علم ہو گیا۔ کسی صحابیؓ نے کسی ایک حدیث کے مطلب کا انکار نہیں کیا اور کر کیسے سکتے تھے۔ وہ تو حضور اکرم ﷺ کے اشاروں پر جان قربان کرنے والے تھے۔

2406 امت کا اجماع

تیرہ سو سال تک انہی معانی پر اور سرور کائنات ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر تمام علماء کرام، محدثین، مجددین اور مجتہدین بلکہ عام اہل اسلام کا اتفاق رہا اور مدعی نبوت سے کبھی نہیں پوچھا گیا کہ تو کس قسم کی نبوت کا مدعی ہے۔ بلکہ اس کو سخت ترین سزا دی گئی۔

نقل اجماع

روایات کے بعد کسی اجماع کے نقل کی ضرورت نہیں ہے۔ جب کہ کسی صحابیؓ نے اس معروف ومشہور تفسیر کا انکار بھی نہیں کیا۔ جب کہ اس کا تعلق کفر و ایمان سے تھا تو یہ بات بجائے خود تمام اسلاف کا اجماع ہو گیا کہ سرور عالم ﷺ کی تشریف آوری اور بعثت سے انبیاء علیہم السلام کی تعداد پوری ہو چکی ہے اور خاتم النبیین کے بعد کسی قسم کا پیغمبر کسی نام سے نہیں بن سکتا اور اگر یہ مان لیا جائے کہ خاتم النبیین اور لا نبی بعدی اور خاتم الانبیاء کا معنی تیرہ سو سال تک صحابہؓ اور تابعین اور کاملین اسلام پر باوجود پوری کوشش و کاوش کے کھل نہ سکا تو قرآن پاک ہدایت کی کتاب کیسی ہوئی۔ العیاذ باللہ! چیستان ہو گئی اور پھر آج کے نئے معنوں کا کیا اعتبار رہ سکتا ہے؟

١٦

صفحہ ٢٢٦٧

قاری غلام حسین تبسم

ختم نبوت

ختم نبوت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

وصدقت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلافه ويقتل ان اصر (روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٩، زیر آیت خاتم النبیین)2407“ اور آنحضرت ﷺ کا آخر النبیین ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن نے تصریح کی اور جن کو احادیث نے صاف صاف بیان کیا اور جن پر امت نے اجماع کیا۔ اس لئے اس کے خلاف دعویٰ کرنے والے کو کافر سمجھا جائے گا اور توبہ نہ کرے بلکہ اپنی بات پر اصرار کرے تو قتل کر دیا جائے گا۔﴾

التکفیر من الفرق) میں اس مسئلہ کو یوں بیان فرمایا ہے کہ جس نے اس کی تاویل کی وہ بکواس ہے۔ امت کا اجماع ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آسکتا۔ اس میں کسی قسم کی تاویل وتخصیص نہیں ہے۔

اس مسئلہ پر ہم اتنے ہی پر اکتفاء کرتے اور ساتھ ہی حضرت مولانا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب کراچی کی کتاب منسلک کرتے ہیں جس میں سو آیات سے اور دوسو حدیثوں سے اور سینکڑوں اقوال سلف صالحین سے مسئلہ ختم نبوت ثابت کیا گیا اور مخالفین کے تمام اوہام اور وساوس کا تار پود بکھیر کے رکھ دیا ہے۔ جو تفصیل دیکھنا چاہے یہ کتاب دیکھے۔

البته مرزائیوں کا منہ بند کرنے کے لئے خود مرزا جی کے تین قول نقل کر دیتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) پر لکھا ہے۔

رسول الله وخاتم النبيين الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمّى نبينا ﷺ خاتم الانبياء بغير استثناء وفسرّه نبينا في قوله لا نبي بعدى ببيان واضح للطالبين....... وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين“

”اس لئے کہ یہ خدا تعالیٰ کے اس قول کے مخالف ہے ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ کیا تو نہیں جانتا کہ خدائے مہربان نے ہمارے نبی کا نام بغیر استثناء کے خاتم الانبیاء رکھا اور ہمارے نبی نے اس کی تفسیر لا نبی بعدی میں واضح بیان سے صاحب طلب لوگوں کے لئے کر دی (دوسرے لفظوں میں) اور وحی منقطع ہو چکی ہے۔ آپ کی وفات کے بعد اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ نبیوں کو ختم کر ڈالا ہے۔“ مرزا غلام احمد کے اس

١٧

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

فرمادی ہے۔ لیکن مرزائی بڑے خوش ہیں کہ ان کو دوسرے جزو سے ہاتھ آ گیا وہ کہتے ہیں کہ جیسے حض اسی طرح آپ ﷺ کے بعد اور نبی آسکتے ہیں۔ مح اور رسوا ہوں۔ چنانچہ اسی حدیث کو امام دیلمی، اب الفاظ ہیں ”ومسجدی آخر مساجد الانبی آخری مسجد ہے (کنز العمال) لیجئے! حدیث کی تش کی خوشی خاک میں ملا دی۔

صحابہ کرام

ان روایات سے آپ کو صحابہ کرام ؓ ک حدیث کے مطلب کا انکار نہیں کیا اور کر کیسے سکتے قربان کرنے والے تھے۔

2406 امت

تیرہ سو سال تک انہی معانی پر اور سرور کرام، محدثین، مجددین اور مجتہدین بلکہ عام اہل پوچھا گیا کہ تو کس قسم کی نبوت کا مدعی ہے۔ بلکہ اس

نقل ا

روایات کے بعد کسی اجماع کے نقل کی ضرورت ومشہور تفسیر کا انکار کبھی نہیں کیا۔ جب کہ اس کا تع اسلاف کا اجماع ہو گیا کہ سرور عالم ﷺ کی تشریح پوری ہو چکی ہے اور خاتم النبیین کے بعد کسی قسم ک جائے کہ خاتم النبیین اور لا نبی بعدی اور خاتم الا کاملین اسلام پر باوجود پوری کوشش و کاوش کے ہوئی۔ العیاذ باللہ! چیستان ہوگئی اور پھر آج کے ۔

صفحہ ٢٢٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

قول سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ سرور عالم ﷺ کی وفات شریف کے بعد وحی بند ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی استثناء کے آپ ﷺ کو خاتم الانبیاء قرار دیا دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد کہ لا نبی بعدی قرآن پاک کی واضح تفسیر ہے۔

”وما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین“

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

”اور میرے لئے یہ جائز نہیں کہ نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔“ یعنی دعویٰ نبوت کرنا کافر ہونا ہے۔

”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہیں اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

اب مرزائیوں کو خاتم النبیین کے معنوں میں بحث نہیں کرنی چاہئے۔

ختم نبوت یا نبی تراشی

مرزا قادیانی کے ہاں بھی یہ غلط ہے۔ کیونکہ اس نے لکھا ہے کہ نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔ دوسرے اس کے مستحق نہ تھے۔ حتیٰ کہ صحابہؓ سے لے کر آج تک کوئی بھی مرزا کی طرح نہ تھا۔ چنانچہ اسی مضمون کو اس نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں درج کر کے یہ بھی لکھ دیا کہ وہ ایک ہی ہوگا۔ تو دین دین ساز کہاں رہا؟ یہ تو صرف مرزا جی کی اپنے نفس کی پیروی اور تسویل ہے۔

اور نبوت ختم کرنا خدا تعالیٰ کی رحمت و برکت کو روکنا اور ختم کرنا ہے۔ قطعاً درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا فرمایا ہے اس کو ختم کرنا ہے۔ اگر ایک رسی کا ایک سرا ہے تو دوسرا سرا بھی ہوتا ہے۔ اگر ایک دریا کا ایک کنارہ ہے تو دوسرے کنارے پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر دن صبح کو شروع ہوتا ہے تو مغرب کو ختم ہوتا ہے۔ اگر دنیا کی ابتداء ہوئی ہے تو اس کی انتہاء

١٨

صفحہ ٢٢٦٩

عالمی مجلس ختم نبوت

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

TIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

قول سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ سرور عالم ﷺ کی وفات شریف کے اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی استثناء کے آپ ﷺ کو خاتم الانبیاء قرار دیا و حضور ﷺ کا یہ ارشاد کہ لا نبی بعدی قرآن پاک کی واضح تفسیر ہے۔

”وما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام“

”اور میرے لئے یہ جائز نہیں کہ نبوت کا دعویٰ کر کے اسلا

(حمامۃ البشریٰ

کافروں سے جاملوں۔“

یعنی دعویٰ نبوت کرنا کافر ہونا ہے۔

”یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں ۔ کرنے والا نبیوں کا۔“

(ازالۃ الاوہام

اب مرزائیوں کو خاتم النبیین کے معنوں میں بحث نہیں کر...

ختم نبوت یا نبی تراشی

مرزا قادیانی کے ہاں بھی یہ غلط ہے۔ کیونکہ اس نے لکھا ہے کہ نبی ا... مخصوص کیا گیا ہوں۔ دوسرے اس کے مستحق نہ تھے۔ حتیٰ کہ صحابہ سے کی طرح نہ تھا۔ چنانچہ اسی مضمون کو اس نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی... میں درج کر کے یہ بھی لکھ دیا کہ وہ ایک ہی ہوگا۔ تو دین دین ساز کہا اپنے نفس کی پیروی اور تسویل ہے۔

اور نبوت ختم کرنا خدا تعالیٰ کی رحمت و برکت کو روکنا اور ختم کرنا ہے لئے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا فرمایا ہے اس کو ختم کر... ہے تو دوسرا سرا بھی ہوتا ہے۔ اگر ایک دریا کا ایک کنارہ ہے تو دوسرا ہے۔ اگر دن صبح کو شروع ہوتا ہے تو مغرب کو ختم ہوتا ہے۔ اگر دنیا کی

١٨

2269 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

بھی ہوگی۔ اگر نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کی ہے تو اس کو بڑھا بڑھا کر خاتم کمالات نبوت حضرت خاتم النبیین (ﷺ) 2410 پر پورا کامل کر کے ختم کرنا ہے۔ یہاں ہر چیز کی حد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ”کل شئ عندہ بمقدار (رعد:٨)“ اس کے ہاں ہر چیز کی مقدار معین ہے ۔ اگر چہ بارش رحمت ہے۔ لیکن یہ ضرورت کی حد تک رحمت ہے۔ اگر چند دن مسلسل بارش ہو تو سب روکنے کے لئے دعائیں کریں گے۔

کرتے آخری کمال پر پہنچا کر ختم کرنا کمال ہے۔ ناقص نبی بنا کر ختم کرنا کمال نہیں ہے۔

کے بعد کسی ایک مدعی نبوت پر ایمان نہ لانے سے کروڑوں کی تعداد میں امت کافر ہو جائے۔ جس مدعی کا کوئی ذکر نہ کیا گیا ہو اور نہ حضرت رحمۃ للعالمین نے تمام آنے والی نسلوں کو کفر سے بچانے کے لئے کچھ ارشاد فرمایا ہو۔ جب کہ آپ نے اور بیسیوں امور کی خبریں دیں۔ بلکہ آپ نے لا نبی بعدی کہہ کر گویا اپنی امت کو آمادہ کیا کہ کسی نبی کا بھی اقرار نہ کرو۔ اگر کوئی نبی آنے والا تھا جس کا انکار کفر تھا تو کیا حضور ﷺ نے العیاذ باللہ مجرمانہ خاموشی اختیار نہیں کی؟ بلکہ اپنی امت کے کافر بننے کا سامان کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

بہتر ہے کہ تمام امت کا تعلق اپنے نبی سے بلا واسطہ قائم رہے۔

نہ ”لاحقین“ اور آئندہ والوں سے، مرزا جی اور اس کے چیلوں نے کہا کہ خاتم النبیین کا معنی ہے کہ سارے نبیوں کی مہر ہیں۔ آپ ﷺ نبی 2411 تراش ہیں اور آپ ﷺ کی قوت قدسیہ سے نبی بنتے ہیں۔ دراصل دائرہ نبوت کا مرکزی نقطہ آپ ﷺ کی ذات ہے۔ آپ ﷺ نے تمام کمالات نبوت خود طے فرما کر کمال تک پہنچا دیئے اور ختم کر دیئے۔ آپ ﷺ اسی لئے آخر میں آئے۔ جیسے صدر جلسہ تمام انتظامات کے بعد آتے ہیں۔ جن کے لئے جلسہ منعقد کیا گیا ہو۔ اسی وجہ سے آدم علیہ السلام بھی تمام انتظامات کے بعد لائے گئے کہ وہ انتظامات آپ کے لئے تھے۔ جیسے زمین و آسمان اور سورج و چاند وغیرہ کی پیدائش۔ پھر جب نبوت کو ختم کرنا تھا تو کامل کر کے ایک کامل کے ذریعے ختم کرنا زیادہ مناسب تھا۔ اسی لئے بیت المقدس میں تمام پیغمبر امامت کے لئے آپ کا انتظار کرتے رہے اور اسی لئے آپ نے ارشاد فرمایا: ”نحن الآخرون والسابقون

(منتخب

١٩

صفحہ ٢٢٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کنز العمال علی ھامش مسند احمد ج٤ ص٣٠٦) ”ہم آخری اور پہلے کے ہیں۔“

اور دوسری حدیث جس کو ابن ابی شیبہ اور ابن سعد وغیرہ نے روایت کیا ہے: ”کنت اول النبیین فی الخلق وآخرہم فی البعث (منتخب کنز العمال علی ھامش مسند احمد ج٤ ص٣٠١)“ ”میں پیدائش میں سب سے پہلا نبی تھا اور مبعوث ہونے میں سب سے آخری۔“

اور اسی لئے قیامت میں بھی ”لواء حمد“ آپ ﷺ کو ملے گا اور تمام انبیاء علیہم السلام شفاعت کبریٰ کا معاملہ آپ ﷺ کے سپرد فرمائیں گے۔

اور ایک حدیث نے اس کی تصریح کی ہے جو شرح السنہ اور مسند امام احمدؒ میں ہے۔

”انی عند الله مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینتہ (مشکوۃ ص٥١٣، باب فضائل سید المرسلین)“ ”میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت خاتم النبیین تھا۔ جب کہ آدم علیہ السلام ابھی گارے میں تھے۔“ 2412

یہاں صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ پہلے سے یہ جانتے تھے اور تقدیر ہی یہ تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر پیغمبر اور اس کے وقت کو جانتے تھے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ایک طرح یہ خصوصیت اور خلعتِ ختمِ نبوت کا شرف عطاء ہو چکا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبوت وہبی نعمت ہے یہ کسبی نہیں ہے۔

٧....... یہ نبوت کا آپ ﷺ پر خاتمہ دین کا نقصان نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ساری امتوں کو ایک طرف اور اس ساری امت کو دوسری طرف رکھا ہے۔ چنانچہ چند آیتیں حسب ذیل ہیں:

”کنتم خیر امة اخرجت للناس (آل عمران: ١١٠)“ ”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی خاطر پیدا کی گئی ہو۔“

”وکذالك جعلناکم امة وسطاً لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیداً (بقرہ: ١٤٣) فکیف اذا جئنا من کل امة بشھید وجئنابك علیٰ ھؤلاء شھیداً (نساء: ٤١)“ ”اور ایسے ہی ہم نے تم کو درمیانی (اور بہترین) امت بنایا تاکہ تم باقی لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہی دے۔ وہ کیسا وقت ہوگا کہ جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور آپ کو ان (سب) پر گواہ بنائیں گے۔“ ایسی بہت سی آیات ہیں۔

بہر حال اگر کثرت کا کوئی انضباط نہ ہو تو وہ بھیڑ ہو جاتی ہے۔ اگر اس میں نظم وضبط ہو تو وہ ایک طاقت ہوتی ہے۔ کثرت اگر کسی وحدت پر ختم ہو تو وہ مربوط اور قوی طاقت ہوتی ہے۔ تمام

احمدیہ حصہ پنجم ص ١٤٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

٢٠

صفحہ ٢٢٧١

2271 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

انبیاء علیہم السلام، سرور عالم ﷺ کے ماتحت ہیں اور اس وحدت کا مظاہرہ معراج کی رات مسجد اقصیٰ میں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ساری امتوں کو ایک طرف اور آپ ﷺ کی امت کو دوسری طرف رکھا۔ اس لئے کہ آپ ﷺ آخری نبی اور آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے۔

تکمیل دین و شریعت کا کام پورا ہو چکا ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (مائدہ:٣)“ آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی مہربانی تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کر لیا۔

بقاء و تحفظ شریعت کی ذمہ داری بھی خود خدا نے لے رکھی ہے۔ ”انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون (الحجر:٩)“ ہم نے ہاں ہم ہی نے یہ قرآن اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔

سیاست اور ملکی انتظام کا کام خلفاء کے سپرد ہو چکا ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔ ”کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی ولکن لا نبی بعدی وسیکون الخلفاء فیکثرون (او کماقال) (بخاری ج ١ ص ٤٩١، کتاب الانبیاء، مسلم ج٢ ص ١٢٦، کتاب الامارۃ) “ بنی اسرائیل کا انتظام پیغمبر کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی جاتا دوسرا آجاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے اور تم پہلے خلیفہ سے وفاداری کرتے رہنا۔

اور مبشرات سچے خوابوں کی طرح نبوت کا جز ہے۔ بعینہ نبوت نہیں نہ جز کو کل کا نام دیا جاتا ہے۔ آدمی کی ٹانگ کو آدمی نہیں کہا جا سکتا۔ نہ اس کی ایک آنکھ کا نام انسان ہوتا ہے۔ یہ اجزاء انسانی ہیں۔ ہاں انسان کی تمام جزئیات کو انسان کہا جائے گا۔ جیسے مرد، عورت، کالا، گورا۔ بہر حال اجزاء 2414 اور جزئیات کا فرق ہر پڑھا لکھا جانتا ہے یا حیوان ہر گھوڑے، گدھے اور بلی کو کہہ سکتے ہیں۔ لیکن کسی پاؤں یا سر کو حیوان نہیں کہہ سکتے۔ اب کسی نئے نبی یا نئی شریعت کی اس امت کو ضرورت نہیں ہے اور سرور عالم ﷺ نے صاف اور واضح اعلان فرما کر ہر طرح کی نبوت کا دروازہ بند کر دیا۔ مرزائیوں کو سرور عالم ﷺ کی مخالفت میں مزہ آتا ہے۔ مبشرات کا معنی خود حدیث میں سرور عالم ﷺ نے سچے خواب بتایا ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

٢١

EMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کنز العمال علیٰ هامش مسند احمد ج ٤ ص ٣٠٦)“ اور دوسری حدیث جس کو ابن ابی شیبہ اور ا اول النبیین فی الخلق و آخرہم فی البعث (منتخ ص ٣٠١) “ میں پیدائش میں سب سے پہلا نبی تھا او اور اسی لئے قیامت میں بھی ”لواء حمد“ آ شفاعت کبریٰ کا معاملہ آپ ﷺ کے سپرد فرمائیں گے اور ایک حدیث نے اس کی تشریح کی ہے ”انی عند الله مکتوب خاتم النبی ص ٥١٣، باب فضائل سید المرسلین) “ میں جب کہ آدم علیہ السلام ابھی گارے میں تھے۔

2412 یہاں صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر پیغمبر اور اس کے وقت کو جانت طرح یہ خصوصیت اور خلعت ختم نبوت کا شرف عطا ہ وہی نعمت ہے یہ کسی نہیں ہے۔

بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ساری امتو طرف رکھا ہے۔ چنانچہ چند آیتیں حسب ذیل ہیں:

”کنتم خیر امة اخرجت للناس لوگوں کی خاطر پیدا کی گئی ہو۔

”وکذالک جعلناکم امة وسـ الرسول علیکم شہیداً (بقرہ:١٤٣) فکیف ا ہؤلاء شہیداً (نساء:٤١)“ اور ایسے ہی ہم ن باقی لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہی دے۔ وہ لائیں گے اور آپ کو ان (سب) پر گواہ بنائیں گے

بہر حال اگر کثرت کا کوئی انضباط نہ ہو ت وہ ایک طاقت ہوتی ہے۔ کثرت اگر کسی وحدت پ

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٢٢٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جیسے کہ مرزا قادیانی اور اس کے چیلے چانٹے کہتے ہیں۔ بالکل غلط ہے۔ یہ بات تو پہلی امتیں بھی کہہ سکتی تھیں پھر تمہاری کون سی تخصیص ہے؟ پہلی امتوں نے اپنے اپنے پیغمبر کی اطاعت کر کے نبوت کے سوا باقی مراتب قرب حاصل کئے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے چاہا نبوت عطاء کی۔ وہ دین نبی ساز نہ تھا۔ بلکہ نبیوں کی تعداد باقی تھی۔ اس کو پورا کرنا تھا۔ ان امتوں کی اپنے نبی سے تعلق ونسبت بھی قائم رہی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ یہ آخری امت اپنی نسبت قیامت تک اپنے نبی الزمان سے رکھتے ہوئے مراتب قرب حاصل کرتی رہے۔ کسی دوسرے کا واسطہ درمیان میں نہ ہو۔ یہ بات تو شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہی تھی کہ ذاتی طور سے میں آدم سے بہتر ہوں۔ آپ کے انتخاب اور اجتباء پر دارومدار کیوں ہو کہ آپ آدم کو سجدہ کراتے ہیں؟ اسی لئے شیطان ملعون ومردود ہوا، اور آدم علیہ السلام نے عبودیت اور اطاعت اختیار کی وہ مقبول ہو گئے۔ یہاں بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ ”نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص ہوں۔ دوسرے کوئی اس کے مستحق نہیں۔“ گویا یہ بھی شیطان کی وراثت تھامے ہوئے اپنا استحقاق اور شدت 2415 اتباع ثابت کرتا ہے اور اب اس کے گم کردہ راہ چیلے چانٹے اس سے وابستہ رہ کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔

یہاں سے مرزا قادیانی کی یہ جہالت بھی ظاہر ہو گئی ہے کہ پہلے پیغمبر براہ راست پیغمبر ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام یا کسی دوسرے پیغمبر کے اتباع کا اس میں دخل نہ تھا۔ مگر یہاں مجھے حضور ﷺ کی اتباع اور غایت اطاعت سے نبوت کا مقام ملا ہے۔ (حقیقت الوحی) اس لئے کہ پہلے کے پیغمبر بھی کسی نہ کسی پیغمبر کے دین کا اتباع کرتے تھے اور ہم بھی کرتے ہیں۔ نبوت تو موہبت اور بخشش ہے۔ جہاں ظرف اس کے مناسب دیکھا وہاں عطاء فرمادی اور ظرف بھی خود مہربانی کر کے عنایت کرتے تھے۔

”اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ (انعام:١٢٤)“ ”خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کہاں اپنی نبوت دے۔“

مگر اب تو سلسلہ نبوت کی تکمیل کر کے اس کو بند فرما دیا۔ جتنے نبی آنے تھے وہ آگئے اور دائرۂ نبوت کی ساری مسافت آپ ﷺ نے طے کر لی اور تکمیل شریعت فرما گئے۔ اب آپ ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے اگر کوئی اور بھی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی احمق الذی دوپہر کے وقت پوری روشنی میں اپنا چراغ جلا کر بھینس ڈھونڈتا پھرے۔ اس احمق الذی کی عقل کو بھینس ہی کی عقل کہہ سکتے ہیں۔

٢٢

صفحہ ٢٢٧٣

...L ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 جیسے کہ مرزا قادیانی اور اس کے چیلے چانٹے کہتے امتیں بھی کہہ سکتی تھیں پھر تمہاری کون سی تخصیص ہے؟ پہلی امتوں کر کے نبوت کے سوا باقی مراتب قرب حاصل کئے اور جس کو دین نبی ساز نہ تھا۔ بلکہ نبیوں کی تعداد باقی تھی۔ اس کو پورا تعلق ونسبت بھی قائم رہی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے تک اپنے نبی الزمان سے رکھتے ہوئے مراتب قرب حاصل درمیان میں نہ ہو۔ یہ بات تو شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہی ہوں ۔ آپ کے انتخاب اور اجتباء پر دارو مدار کیوں ہو کہ آ شیطان ملعون ومردود ہوا، اور آدم علیہ السلام نے عبودیت او یہاں بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ ”نبی کا نام پا دوسرے کوئی اس کے مستحق نہیں ۔“ گویا یہ بھی شیطان کی ا شدت 2415 اتباع ثابت کرتا ہے اور اب اس کے کم کردہ را عاقبت خراب کر رہے ہیں ۔

یہاں سے مرزا قادیانی کی یہ جہالت بھی ظاہر ہ ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام یا کسی دوسرے پیغمبر کے اتباع حضور ﷺ کی اتباع اور غایت اطاعت سے نبوت کا مقام پہلے کے پیغمبر بھی کسی نہ کسی پیغمبر کے دین کا اتباع کر موہبت اور بخشش ہے۔ جہاں ظرف اس کے مناسب دی مہربانی کر کے عنایت کرتے تھے۔

”اللہ اعلم حيث يجعل رسالته (انعام: ١٢٤)“

اپنی نبوت دے۔ مگر اب تو سلسلہ نبوت کی تکمیل کر کے اس کو اور دائرۂ نبوت کی ساری مسافت آپ ﷺ نے طے آپ ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے اگر کوئی اور بھی نبی ہو احمق الذی دو پہر کے وقت پوری روشنی میں اپنا چراغ ج الذی کی عقل کو بھینس ہی کی عقل کہہ سکتے ہیں ۔ ٢٢

2273 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

.......١٠ پھر یہ مدعی (مرزا) توہین محمد کی توہین کرتا ہے کہ سرور عالم ﷺ کی پیروی سے صرف مرزا قادیانی ہی نبی بن سکا اور وہ بھی ایسا جو انگریزوں کی اطاعت فرض قرار دے اور غیر محرم عورتوں سے مٹھیاں بھروائے اور اپنے نہ ماننے والے کروڑوں افراد امت کو کافر قرار دے اور جو پورا وحی کا 2416 ڈراوے کا اور لالچ کا اور تقدیر مبرم کا واویلا کر کے محمدی بیگم کو حاصل نہ کر سکا۔ بلکہ مسلسل بیس سال تک اس کی شادی کے زبانی مزے بھی لیتا رہا اور عقل کے اندھے مگر گانٹھ کے پکے مریدوں کو بتلاتا اور پھسلاتا رہا اور اپنے ساتھ سرور عالم ﷺ کو بھی شریک کر کے جھوٹا کرنے کی ناپاک کوشش کی اور یہ وحی بھی ایسی تھی بلکہ اس کو مرزا جی نے اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دے کر دنیا کو چیلنج کیا تھا۔

کیا اسی بل بوتے پر ہم اس کی بات یا گپ کو سچ مان لیں کہ میری وحی قرآن کی طرح ہے۔ پھر ایسا شخص کہ جو اپنے نہ ماننے والوں کو کنجریوں کی اولاد کہے۔ اپنے مخالفین کو جنگل کے سور لکھے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ شریفؒ کو ملعون کہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کو اندھا شیطان لکھے ۔ مولوی سعد اللہ کو نسل بدکاراں قرار دے۔ تمام علماء کو بذاتِ فرقہ مولویوں سے تعبیر کرے اور حضرت حسینؓ کے مبارک ذکر کو گوہ کے ڈھیر سے تشبیہ دے۔ اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل کہے۔ بلکہ تمام پیغمبروں کی صفات وکمالات کا اپنے کو جامع قرار دے۔ (یہ منہ اور مسور کی دال ) اسی طرح اس نے پیش گوئی کی کہ عبداللہ آتھم پندرہ ماہ میں مر جائے گا۔ جب وہ نہ مرا تو جھوٹا اعلان شائع کر دیا کہ اس نے رجوع الی الحق کر دیا تھا اور جب ٢٢ ماہ بعد وہ اپنی موت مرا تو اعلان کر دیا کہ میری پیش گوئی یہ تھی کہ جھوٹا سچے کے سامنے مرے گا۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین!

اللہ تعالیٰ ناصر احمد اور سارے قادیانیوں کو سمجھ دے۔ بہت سے نیک آدمیوں کے باپ دادا گمراہ گزرے ہیں ۔ اگر یہ بھی توبہ کر کے سچے مسلمان ہو جائیں اور مرزا قادیانی کو خدا کے حوالے کریں۔ پیسے تو اب 2417 بہت ہو گئے ہیں ۔ عزت بھی مل گئی اور اگر یہ خیال ہو جیسے کہ آپ کی ڈیگوں سے بو آتی ہے کہ کوئی آپ کا سر پرست آپ کو بچا لے گا تو ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ آپ کو خدا کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ وہ وقت گیا جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ آپ نے عام مسلمانوں کو بدنام اور ذلیل کرنے کی اپنے بیان میں کوشش کی ہے۔ اس لئے ہم نے یہ چند سطریں لکھ دی ہیں ۔

......١١ خاتم النبیین میں خاتم کی اضافت صیغین کی طرف ہے۔ یہاں پرانے نبی پیش نظر ہیں ۔ آپ ﷺ نے سابقین کی تعداد ختم کر دی جو آئے تھے آگئے ۔ اب کسی کو آپ ﷺ کے بعد نبوت نہیں مل سکتی ۔ خاتم النبیین کا معنی خاتم الاخیین نہیں ہے کہ آنے والے آپ ﷺ کی مہر سے ٢٣

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٢٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

آیا کریں گے۔ یہ تو اللہ پر جھوٹ بولا گیا۔ کیونکہ آپ ﷺ کی مہر سے کون کون آئے کیا مرزا جی یا اس کا پوتا ناصر احمد صاحب بتا سکتے ہیں؟ کیا مرزا جی کے بغیر تیرہ سو سال میں آپ ﷺ کی قوت قدسیہ نامکمل رہی۔ خاتم النبیین میں پرانے پیغمبروں کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی تعداد کو ختم کر دیا اور قصر نبوت کی تکمیل فرمادی۔ اب کوئی شخص نبوت نہ پاسکے گا۔ یہ اضافت اشخاص کی طرف ہے۔ باقی نبوت ورسالت کے خاتمہ کے لئے وہ مبارک الفاظ زیادہ موزوں ہیں جو امام ترمذیؒ نے روایت کئے ہیں وہ حدیث یہ ہے: ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (قال) فشق ذالك على الناس فقال لكن المبشرات فقال رؤيا المسلم وهى جزء من اجزاء النبوة (ترمذی ج ٢ ص ٣، باب ذهبت النبوۃ وبقيت المبشرات)“ ﴿رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی ہے تو اب میرے بعد نہ کوئی رسول بنے گا نہ نبی (راوی کہتا ہے) یہ بات لوگوں کو مشکل نظر آئی تو آپ ﷺ 2418 نے فرمایا۔ لیکن مبشرات باقی ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ مبشرات کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ مسلمان کا خواب اور وہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔﴾

اس حدیث نے تمام مرتدوں کی کمر توڑ دی ہے۔ جس سے صاف صاف معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کسی کو رسول بنایا جاسکتا ہے کہ جس کے پاس کتاب یا شریعت ہو۔ نہ کسی کو نبی بنایا جاسکتا ہے چاہے وہ دوسرے نبی کا تابع ہو اور کوئی نئی شریعت یا نئے احکام اس کو نہ دیئے گئے ہوں۔ جیسے لفظ خاتم النبیین نے اگلے پیغمبروں کی تعداد ختم کر دی۔ اس حدیث کے مبارک الفاظ نے بعد میں دعویٰ کرنے والوں کی حقیقت بھی کھول دی۔ اب نہ کسی کے پاس وحی نبوت آسکتی ہے نہ وحی رسالت۔ اب یہ کہنا کہ مستقل نبی ختم ہو گئے۔ غیرمستقل باقی ہیں یا یہ کہ صاحب شریعت نہ آئیں گے مگر تابع اور غیر تشریعی نبی آسکتے ہیں۔ یہ سب بکواس ہے کفر ہے اور دین سے استہزاء ہے۔ اللہ تعالیٰ بچائے۔ آمین! مرزا جی کبھی بروزی اور ظلی نبوت کی آڑ لیتا ہے۔ کبھی فنا فی الرسول ہو کر نبی بننے لگتا ہے۔ کبھی مسیح موعود بننے کے لئے تنکوں کا سہارا لیتا ہے کبھی مریم بنتا ہے۔ پھر مرزا جی کو حیض آتا ہے۔ پھر مریم سے عیسیٰ بن جاتا ہے۔ کبھی آسمان میں اپنا نام محمد واحمد ظاہر کرتا ہے۔ کبھی اپنا نام ہی ابن مریم رکھ لیتا ہے۔ کبھی محدث ومجدد کا روپ اختیار کرتا ہے اور کبھی مہدی کی حدیثوں کو اپنے اوپر چسپاں کرتا ہے۔ کبھی کرشن کا اوتار بنتا ہے اور کبھی جے سنگھ بہادر، کبھی عین محمد بنتا ہے، کبھی مثیل مسیح کہلاتا ہے تو کبھی ان سے افضل۔ کبھی انسان کی بجائے عورت بنتا ہے۔ کبھی انگریزی عدالت میں توبہ نامہ داخل کرتا ہے اور کبھی 2419 اپنے معجزات حضور ﷺ سے بڑھ کر ظاہر

٢٤

صفحہ ٢٢٧٥

عالمی مجلس تحف مجلس تحفظ قیمت فی شمارہ -/10 روپے

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کرتا ہے۔ غرضیکہ مرزا غلام احمد صاحب عجیب چیز اور ایک چیستان تھے۔ ہم اس کو صرف انگریز کا کمال تصور کرتے ہیں۔ یہ کمال مرزا ناصر احمد صاحب کو مبارک ہو۔ اگر ایسا نہیں تو پھر شیطان نے جو تلعب اس سے کیا ہے۔ بہت کم ہی کسی اور سے کیا ہوگا۔

ایک فریب اور اس کا جواب

مرزائی لوگ شیخ اکبر کی بعض عبارتیں پیش کر کے ثابت کرتے ہیں کہ وہ بھی غیر تشریعی نبوت کو باقی سمجھتے ہیں۔ یہ صریح دھوکہ ہے اور علمی جہالت ہے۔ دراصل بعض اولیاء یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ و مخاطبہ ہو سکتا ہے۔ جس کو لغت میں نبوت بھی کہتے ہیں۔ لیکن وہ ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ نہ کوئی نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے نہ نبی کہلا سکتا ہے۔ نہ اس کی اجازت ہے۔ یہ جو مکالمہ ہوتا ہے اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ بیان شریعت کے لئے مامور ہو کر خدا تعالیٰ کے ہاں منصب نبوت پالیتا ہے۔ وہ صرف اس مکالمے کو غیر تشریعی نبوت کہتے ہیں۔ تشریعی نبوت وہ ہر اس وحی نبوت کو کہتے ہیں جس میں شریعت کے لئے احکام ہوں۔ نئے یا پرانے اور یہ صرف نبی کے لئے ہوسکتا ہے۔ گویا لغوی طور پر وہ مکالمہ الہیہ کا نام غیر تشریعی رکھتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ شرعی وحی اور نبی کی وحی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ نبی اور رسول ایک عہدہ ہے جو اب ختم ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ گویا ان اولیاء کے ہاں تشریعی نبوت میں دونوں نبوتیں شامل ہیں جو ختم ہو چکی ہیں۔ نئی شریعت والی اور پرانی شریعت والی یعنی وہ غیر تشریعی کا اطلاق بھی کبھی ولایت پر کر دیتے ہیں۔ لیکن کسی نے آج تک ان میں سے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نہ نبی ہونے کے اعلان کی اجازت دی۔ اگر مرزائیوں میں سکت ہے تو کسی ولی کا دعویٰ نبوت ثابت کریں۔

یہاں مرزاجی کا ایک قول اولیاء کی اطلاق واصطلاح کے 2420 بارے میں سن لیجئے۔ مرزاجی اپنی کتاب (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں لکھتے ہیں: ”لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ بعض اوقات خدا تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے۔ سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کر لے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کے رو سے ہے جو صوفیائے کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔“

اس عبارت میں مرزاجی نے بہت دجل کئے ہیں۔ مثلاً عبارت مذکورہ میں صحیح مسلم کے

٢٥

PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

آیا کریں گے۔ یہ تو اللہ پر جھوٹ بولا گیا اس کا پوتا ناصر احمد صاحب بتا سکتے ہیں؟ قدسیہ نامکمل رہی۔ خاتم النبیین میں پرام کر دیا اور قصر نبوت کی تکمیل فرمادی۔ اس ہے۔ باقی نبوت و رسالت کے خاتمہ کے نے روایت کئے ہیں وہ حدیث یہ ہے: ولا نبی (قال) فشق ذالك علی الف جزء من اجزاء النبوة (ترمذی ج ٢ ص 2418 اور نبوت منقطع ہو چکی ہے تو اب میرے لوگوں کو مشکل نظر آئی تو آپ ﷺ کہ مبشرات کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ سے ایک جزو ہے۔ ﴿

اس حدیث نے تمام مرتدوں کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کسی کو رسول بنایا نبی بنایا جاسکتا ہے چاہے وہ دوسرے نم گئے ہوں۔ جیسے لفظ خاتم النبیین نے ا الفاظ نے بعد میں دعویٰ کرنے والوں آسکتی ہے نہ وحی رسالت ۔ اب یہ کہنا ک شریعت نہ آئیں گے مگر تابع اور غیر تشریع استہزاء ہے۔ اللہ تعالیٰ بچائے۔ آمین ! الرسول ہو کر نبی بننے لگتا ہے۔ کبھی مسیح م پھر مرزا جی کو حیض آتا ہے۔ پھر مریم سے ہے۔ کبھی اپنا نام ہی ابن مریم رکھ لیتا ہ کی حدیثوں کو اپنے اوپر چسپاں کرتا ہے محمد بنتا ہے، کبھی مثیل مسیح کہلاتا ہے تو کب انگریزی عدالت میں تو بہ نامہ داخل کرت

صفحہ ٢٢٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حوالے سے لکھا کہ ”آنے والے مسیح موعود کا نام“ حالانکہ صحیح مسلم میں مسیح موعود کا لفظ نہیں ہے۔ یہ اصطلاح خود مرزا جی نے گھڑی ہے۔ مگر یہاں ہم کو صرف یہ بتانا ہے کہ شیخ اکبر وغیرہ کے الفاظ جو نبوت غیر تشریعی کے آئے ہیں۔ وہ صرف مکالمات الہیہ کی وجہ سے آپ کی اصطلاح ہے۔ ورنہ نبوت کا عہدہ اور نبی کے نام کا اطلاق وہ بھی ناجائز سمجھتے ہیں۔ جیسے یہاں مرزا جی نے تصریح کر دی ہے۔ بہرحال قرآن پاک نے خاتم النبیین فرما کر نبیوں کا بننا بند کر دیا اور جو تعداد اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر تھی اس کے پورا ہونے کا اعلان فرما دیا۔ مگر مرزا جی نے خاتم النبیین کا مطلب نبی تراش قرار دیا۔ یعنی آپ ﷺ کی پیروی سے نبی بنتا ہے۔ یہ صریح طور پر خدا تعالیٰ کا ایسا مقابلہ ہے جو شیطان نے کیا تھا کہ اے اللہ آپ کیوں آدم کو سجدہ کرواتے ہیں۔ میں اس سے اچھا ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت اور رضاء اور ارادے پر راضی نہ ہوا۔ بلکہ اپنا حق جتایا۔ اس صریح عدول حکمی اور حجت بازی سے کافر و مردود ہو گیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جو دروازہ خاتم النبیین کہہ کر بند فرمانا چاہتے ہیں مرزا جی اس کا مطلب نبی تراش بتا کر اس کو کھلا 2421 رکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ہر گاما، گھسیٹا فنا فی الرسول بن کر نبی بن جایا کرے۔

ایں کار از تو آید و مرداں چناں کنند

بنا اور تمام مسلمانوں میں ہلچل پڑ گئی۔ یہ ستر کروڑ مسلمانوں کو کافر کہتے اور وہ سب ان کو کافر سمجھتے ہیں۔ اگر سرور عالم ﷺ ان جھوٹے نبیوں کا سلسلہ بند اور ان سے بچنے کی تاکید نہ فرماتے تو اب تک امت محمدیہ میں کتنے ہی فرقے اور کتنی ہی امتیں ہوتیں۔ جو ایک دوسری کو کافر کہتیں۔ اس لئے مسئلہ ختم نبوت رحمت الہیہ ہے۔ چنانچہ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٢) میں ہے: ”وهذه اكبر نعم الله على هذه الامة حيث اكمل تعالى لهم دينهم فلا يحتا جون الى دين غيره ولا الى نبی غیر نبيهم صلوة الله وسلامه عليه ولهذا جعله خاتم الانبياء وبعثه الى الانس والجن“ ”اور یہ اللہ تعالیٰ کی اس امت پر بہت بڑی نعمت ہے اور مہربانی ہے کہ اس خدائے برتر نے ان کا دین مکمل کر دیا۔ اب وہ کسی اور دین کے محتاج ہیں نہ اپنے نبی کے بغیر کسی اور نبی کے اور اس لئے ان کو خاتم الانبیاء بنا کر جن و انس کی طرف بھیجا۔ ﴾

مسئلہ صاف ہو گیا

یہاں تک لکھا گیا تھا کہ آٹھ اگست ١٩٧٤ء کو مرزا ناصر احمد صاحب امام جماعت

٢٦

صفحہ ٢٢٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

احمدیہ ربوہ نے خصوصی کمیٹی کے سامنے بیان دے دیا کہ سرور عالم ﷺ کے بعد تیرہ سو برس تک کوئی نبی نہیں آیا نہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد کوئی نبی آئے گا۔ 2422چاہے امتی نبی ہی کیوں نہ ہو۔ جب محترم اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ ابو العطاء صاحب جالندھری نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کی خاتمیت نے وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کے لئے آپ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہ لوگوں کو ملتے رہے ہیں تو کیا حضور ﷺ کے اس فیضان سے پہلے تیرہ سو برس میں کوئی نبی یا امتی نبی آیا ہے یا مرزا غلام احمد کے بعد آئے گا؟ اس کا جواب مرزا ناصر احمد صاحب نے قطعا انکار میں دیا اور ابو العطاء صاحب کی بات کو صرف امکان عقلی پر محمول کیا۔ یعنی ہو تو سکتا ہے لیکن ہوگا نہیں اور اس سلسلہ میں مرزا ناصر احمد صاحب نے مولانا اسماعیل شہیدؒ کا قول نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ ایک آن میں کروڑوں فرشتے جبرائیل اور محمد جیسے پیغمبر پیدا کر دے۔ حالانکہ ان کا ایمان تھا کہ ایسا کبھی نہ ہوگا۔ کوئی بھی محمد رسول اللہ کی طرح پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں صرف خدا کی قدرت کا بیان ہے۔

مرزا ناصر احمد صاحب کے اس بیان کے بعد سارا مسئلہ صاف ہو گیا۔ بقاء نبوت اور اجراء نبوت کی ساری بحثیں فضول ہیں۔ حضور ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی ہے۔ نہ تیرہ سو برس میں پہلے کوئی نبی آیا، نہ مرزا غلام احمد کے بعد آئے گا۔ بقول مرزا ناصر احمد کے ایک ہی مرزا غلام احمد امتی نبی بنایا گیا۔ کیونکہ مسلم شریف میں چار جگہ آنے والے کو نبی کہا گیا۔ حالانکہ مسلم شریف اور سینکڑوں احادیث میں ایک مسیح کے نزول کی خبر ہے جو آسمان سے نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔ چالیس سال دنیا میں رہیں گے۔ ساری دنیا مسلمان ہو جائے گی۔ پھر وفات ہوگی۔ دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کا ابتدا ہی سے یہی عقیدہ رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں اور قرب قیامت کو وہی دوبارہ نازل ہوں گے اور مرزا جی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں اور آنے والا مسیح میں ہوں۔

2423 دو مسئلے

یہاں دو مسئلے ہیں۔

آخری زمانہ میں دوبارہ نازل ہوں گے۔

٢٧

LY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حوالے سے لکھا کہ ”آنے والے مسیح موعود کا نام“ اصطلاح خود مرزا جی نے گھڑی ہے۔ مگر یہاں ہم نبوت غیر تشریعی کے آئے ہیں۔ وہ صرف مکالمہ نبوت کا عہدہ اور نبی کے نام کا اطلاق وہ بھی نام دی ہے۔ بہرحال قرآن پاک نے خاتم النبیین کے علم میں مقرر تھی اس کے پورا ہونے کا اعلان تراش قرار دیا۔ یعنی آپ ﷺ کی پیروی سے آ ہے جو شیطان نے کیا تھا کہ اے اللہ آپ کیوں آ یعنی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت اور رضاء اور ارا عدول حکمی اور حجت بازی سے کافر و مردود ہو گیا بند فرمانا چاہتے ہیں مرزا جی اس کا مطلب نبی تر گا،ا، گھسیٹا فانی الرسول بن کر نبی بن جایا کرے

ایں کار از تو آید

بنا اور تمام مسلمانوں میں ہلچل پڑ گئی۔ یہ ستر کر ہیں۔ اگر سرور عالم ﷺ ان جھوٹے نبیوں کا س تک امت محمدیہ میں کتنے ہی فرقے اور کتنی غ لئے مسئلہ ختم نبوت رحمت الہیہ ہے۔ چنانچہ (تفو الله على هذه الامة حيث اكمل تعالى له نبی غير نبيهم صلوة الله وسلامه عل والجن “ ﴿اور یہ اللہ تعالیٰ کی اس امت پر با نے ان کا دین مکمل کردیا۔ اب وہ کسی اور دین اس لئے ان کو خاتم الانبیاء بنا کر جن و انس کی ط

مسلم یہاں تک لکھا گیا تھا کہ آٹھ آ

قیمت فی شمارہ-/10 روپے مکمل سیٹ ٥/ جلدیں مجلد

صفحہ ٢٢٧٨

2278 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

آنے والا مسیح ابن مریم ہو سکتا ہے؟ جس کی خبر سینکڑوں حدیثوں میں موجود ہے۔

ہم یہاں دوسرے مسئلہ پر پہلے بحث کریں گے۔ فرض کیجئے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی آنے والا مسیح ہو سکتا ہے؟

مرزا غلام احمد قادیانی کا ہمارے خیال میں یہ دعویٰ جھوٹ، افتراء اور قرآن وحدیث سے مذاق واستہزاء کے مترادف ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح ابن مریم تو کیا مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ مندرجہ ذیل امور ملاحظہ فرمائیں:

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٠، روایت ٨٧٠)

(سیرت المہدی ج ٣ ص ٢١٣، روایت ٨٧٦)

محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے اس کی شادی دوسری جگہ کرادی۔ مرزا جی نے اپنے بیٹے فضل احمد سے اس کی بیوی کو طلاق دلوائی جو احمد بیگ والد محمدی بیگم کی بھانجی تھی۔“

(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٩، روایت ٣٧)

سے قطع تعلق نہ کیا تو مرزا جی نے اس کو طلاق دے دی۔“ (سیرت المہدی ج ١ ص ٣٤، روایت ٤١)

2424

کر دیا۔ کیونکہ یہ بھی مخالفانہ کوشش کرتے رہے۔ (سیرت المہدی ج ١ ص ٣٤، روایت ٤١)

کہ امام ربانی نے مکتوبات میں لکھا ہے کہ جب مکالمات الہیہ کی کثرت ہو تو پھر وہ نبی کہلاتا ہے۔ حالانکہ اس مکتوب میں نبی کا لفظ نہیں بلکہ محدث کا لفظ ہے اور خود مرزا جی نے اس سے پہلے جب تک کہ ان کو نبی بننے کا شوق نہیں چرایا تھا۔ (ازالہ اوہام ص ٩١٥، خزائن ج ٣ ص ٦٠١) میں محدث کا لفظ لکھا۔ اب شوق نبوت میں امام ربانی پر جھوٹ بولا اور اسی لئے مکتوبات کا حوالہ بھی درج نہیں کیا۔

خلیفوں کی نسبت آسمان سے آواز آئے گی۔ ’ھذا خلیفۃ اللہ المہدی‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ کی ہے جو ایسی کتاب میں ہے جو اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے۔“ (شہادة القرآن ص ٤١،

٢٨

2279 NATIONAL AS

میں مبتلا ہو سکتا ہے؟

آپ کے حکم سے ایک دن میں دس ہزار (١٩١) اس سلسلہ میں بعض مرزائی یہ عذر جانب سے ایک صفر کا اضافہ ہو گیا۔ یہ غلط ص ١١١، خزائن ج ٢٢ ص ١١٤) پر لکھا ہے کہ ثبوت ہے اور خواہ مخواہ سرور عالم ﷺ کو اللہ نے ہتھیار ڈالے تو خود انہوں نے کہا کے مطابق فیصلہ دیا جس کے تحت چار سو یا ہم کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام ہو جاتے۔

عبد اللہ آتھم کے لئے پیش گوئی کی کہ ے۔“ مگر آتھم ١٥ ماہ میں نہ مرا۔

(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

١١ بار) دیں جو علیحدہ لکھی گئی ہیں۔ ایک ہزار بار لکھی اور ہر دفعہ ساتھ ساتھ ج ص ١١٨ تا ١٢٢، خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢)

حاملہ ختم کر دیتی تھی۔ اب کوئی مرزائی ہے؟

خود مسیح موعود بننا اور جب دیکھا کہ کچھ اور بناوٹی سکیم کی غمازی کرتی ہے۔

(ملاحظہ ہو ضمیمہ دعویٰ مرزا)

کا ذکر کسی کتاب میں تھا یا وہ آنے والا

(سیرت المہدی حصہ اوّل)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قیمت فی شمارہ-/10 روپے

صفحہ ٢٢٧٩

Y OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

آنے والا مسیح ابن مریم ہو سکتا ہے؟ جس کی خبر سید ہم یہاں دوسرے مسئلہ پر پہلے بحث فوت ہو چکے ہیں تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی آ مرزا غلام احمد قادیانی کا ہمارے خیا سے مذاق و استہزاء کے مترادف ہے۔ مرزا غلا ہو سکتا۔ مندرجہ ذیل امور ملاحظہ فرمائیں:

محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے اس بیٹے فضل احمد سے اس کی بیوی کو طلاق دلوائی جو ا

سے قطع تعلق نہ کیا تو مرزاجی نے اس کو طلاق دل

2424

کر دیا۔ کیونکہ یہ بھی مخالفانہ کوشش کرتے رہے ہ

کہ امام ربانی نے مکتوبات میں لکھا ہے کہ جب حالانکہ اس مکتوب میں نبی کا لفظ نہیں بلکہ محدث تک کہ ان کو نبی بننے کا شوق نہیں چرایا تھا۔ (ازا لکھا۔ اب شوق نبوت میں امام ربانی پر جھوٹ بو

خلیفوں کی نسبت آسمان سے آواز آئے گی۔”خ کس پایہ کی ہے جو ایسی کتاب میں ہے جو اصح ا

2279 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

خزائن ج ٢ ص ٣٣٧) کیا کوئی مرزائی یہ حدیث بخاری شریف میں بتلا سکتا ہے؟

یہودی قتل کئے گئے۔ (حقیقت الوحی ص ١٥٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٦١) اس سلسلہ میں بعض مرزائی یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں۔ دس ہزار کے ہندسوں میں دراصل کاتب سے ایک صفر کا اضافہ ہو گیا۔ یہ غلط بیانی ہے اس لئے کہ مرزا جی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ١١١، خزائن ج ٢٢ ص ١١٤) پر لکھا ہے کہ ”کئی ہزار یہودی ایک دن میں قتل کئے گئے ۔“ یہ سب جھوٹ ہے اور خواہ مخواہ سرور عالم ﷺ کو بدنام کرنا ہے۔ ورنہ غزوہ 2425 خندق کے بعد جب بنو قریظہ نے ہتھیار ڈالے تو خود انہوں نے کہا تھا کہ ہمارا فیصلہ سعد بن معاذؓ کریں۔ انہوں نے تورات کے مطابق فیصلہ دیا جس کے تحت چار سو یا چھ سو آدمیوں کو قتل کیا گیا۔ یہ وہ یہودی تھے جو ہمیشہ اسلام کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں اگر یہ کامیاب ہو جاتے تو ہزاروں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام ہو جاتا ہے اور جزیرۃ العرب کے سارے مسلمان شہید کر دیئے جاتے۔

”پندرہ ماہ میں مرجائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ مگر آتھم ١٥ماہ میں نہ مرا۔

(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

ہندسہ لکھتے گئے۔

(نورالحق ص ١١٨ تا ١٢٢، خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢)

حالانکہ لکھنؤ کی بھٹیاری ”لکھ لعنت“ کہہ کر ہی معاملہ ختم کر دیتی تھی۔ اب کوئی مرزائی ہو جو لعنت لعنت کے ان چار صفحات کو پڑھ پڑھ کر ثواب کمائے؟

آدمی پھنس گئے ہیں نبی بن بیٹھا۔ حالانکہ یہ تدریج خود غرضی اور بناوٹی سکیم کی غمازی کرتی ہے۔

(ملاحظہ ہو ضمیمہ دعوائے مرزا)

ہے۔ چنانچہ کرشن کا مثیل بنا۔

(سیرت المہدی حصہ اوّل)

2426

٢٩

صفحہ ٢٢٨٠

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کئے حوالہ کے لئے ضمیمہ دعاوی مرزا ملاحظہ ہو۔

(براہین احمد یہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٢)

نے مجھ سے زوجتکہا فرمایا ہے۔ (کہ ہم نے اس لڑکی سے تمہارا نکاح کر دیا ہے )

(تذکرہ ص ٤١،٤٧١ طبع سوم)

نہیں ہے۔ (دافع الوساوس ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) جب کہ اس کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوگئی اور بیس برس تک اس کو مایوس رکھ کر آخر کار جھوٹا ثابت کر دیا۔

کو روک سکے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٣)

اس عورت کو واپس لاؤں گا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥، دافع الوساوس ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

خیال آیا تو قدرت نے تسلی دی کہ اس میں شک نہ کرو۔ یہ ہو کر 2427 رہے گا۔ تب میں سمجھا کہ جب پیغمبر مایوس ہونے لگتے ہیں تو اس طرح خدا ان کو تسلی دیتا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)

لوٹا کر میرے پاس لائے گا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

٣٠

2281 NATIONAL A

ریدوں کی تازہ بتازہ الہاموں سے طفل ہنسا۔

نے میرے ساتھ اس محمدی بیگم کا نکاح پھر نکاح پر نکاح کا مقدمہ نہ مرزا جی نے

عدالتی مرزا جی کے ساتھ کیسے نکاح پڑھا؟ ے سے شادی کیسے ہونے دی؟ معلوم ہوا

نہ آئی اور یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو یا۔ کیا بد سے بدتر کی تعبیر سخت سے سخت

مقرر کئے ہوئے معیار کے مطابق جھوٹا صادق یا 2428 کاذب ہونے کی دلیل علیہ السلام یا محمد رسول اللہ ﷺ کی

(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

یہ فتویٰ ساری دنیا میں پہنچایا۔

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

ردیا۔ کا آخری اشتہار ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

دنیا میں مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی

صرہ ص ٥،٤، خزائن ج ١٢ ص ٢٨٨، ٢٨٩) ہا۔ ٢٧١، نور الحق ص ٤٣، خزائن ج ٨ ص ٤٥) ت بھنا ہوا مرغ وغیرہ۔ مہدی حصہ اول ص ١٨١، روایت نمبر ١٦٧)

صفحہ ٣١

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کے حوالے کے لئے ضمیمہ دعویٰ مرزا ملاحظہ ہو۔

نے مجھ سے زوجنکہا فرمایا ہے۔ (کہ ہم نے اس ل

نہیں ہے۔ (دافع الوساوس ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص اور بیس برس تک اس کو مایوس رکھ کر آخر کار جھوٹا ب

کو روک سکے۔

اس عورت کو واپس لاؤں گا۔

(ازالۃ الاوہام ص ٣٩٦، خزائن ج

خیال آیا تو قدرت نے تسلی دی کہ اس میں شک پیغمبر مایوس ہونے لگتے ہیں تو اس طرح خدا ان

لوٹا کر میرے پاس لائے گا۔

2281 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تسلی کرتا اور عوام کو الو بناتا رہا۔ مگر آخر کار بے نیل مرام چل بسا۔

کر دیا۔ اگر خدا نے نکاح کیا ہوتا تو کوئی اس کو کیسے بیاہتا۔ پھر نکاح پر نکاح کا مقدمہ نہ مرزا جی نے کیا اور نہ ہی ان کے مریدوں نے۔

کہ آسمانی نکاح کی وحی اللہ تعالیٰ پر افتراء تھا جو صریح کفر ہے۔

میں بد سے بدتر ہوں گا۔ کیا اس طرح وہ بد سے بدتر نہ ہو گیا۔ کیا بد سے بدتر کی تعبیر سخت سے سخت نہیں ہو سکتی؟ اور کیا اس کو کافر مفتری علی اللہ نہیں کہہ سکتے؟

ثابت نہ ہو گیا؟ جب کہ اس پیش گوئی کو مرزا جی نے اپنے صادق یا 2428کاذب ہونے کی دلیل ٹھہرایا تھا اور اتنا بڑا جھوٹ بولنے والا آدمی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا محمد رسول اللہ ﷺ کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے؟

(انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(ستارہ قیصریہ ص٣، خزائن ج١٥ ص١١٤)

(شہادۃ القرآن کا آخری اشتہار ص٣، خزائن ج٦ ص٣٨٠)

کوشش کرتا تھا۔

(ملاحظہ ہو ستارہ قیصریہ ص١ تا ١٢، خزائن ج١٥ ص ١١١ تا ١٢٥، تحفہ قیصریہ ص٢، ٥، خزائن ج١٢ ص ٢٨٨، ٢٨٩)

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٣٧١، نور الحق ص ٣٣، خزائن ج ٨ ص ٤٥)

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ١٨١، روایت نمبر ١٦٧)

صفحہ ٢٢٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

(ازالہ اوہام ص ٤٧١، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)

نبی بھی نہ گھڑا گیا صرف خود ہی نبی بن بیٹھا۔

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٧٥، روایت نمبر ٢٨٦)

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٨٩، روایت نمبر ٩٣١)

جانشین بنایا ہے۔

کروں گا گویا یہ توبہ نامہ لکھا۔

لئے انگریزوں کی سندیں اور چٹھیاں شائع کیں۔

(شہادۃ القرآن ص ٧ تا ١٠، خزائن ج ٦ ص ٣٨٥ تا ٣٨٧)

پیش کر کے فخر کیا اور اپنے خاندان کو انگریزوں کا وفادار ثابت کیا۔

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٣)

ڈاکوؤں سے تشبیہ دی۔

مولوی ثناء اللہ کے سامنے مر گیا اور اسی طرح اس کے جھوٹے ہونے کا قرآنی فیصلہ ہو گیا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)

کل شاید ان کی قیمت بیس ہزار روپے ہو داخل کئے) یہ عین محمدؐ ہیں؟ جن کے دولت خانہ میں

٣٢

صفحہ ٢٢٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

بسا اوقات آگ نہیں جلتی تھی۔

کلام مجھ پر اس قدر نازل ہوا ہے کہ وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧)

2430 بھلا بیس جزو کلام الٰہی کا کیا مطلب ہے اور مرزا جی نے کیوں چھپایا جب کہ باقی شائع کر دیا؟

دعاوی سے آپ کو معلوم ہوگا۔

وحی کو قرآن پاک کی طرح قطعی سمجھا جا سکتا ہے اور کیا کوئی نبی وحی کا معنی سمجھنے میں بیس سال یا موت تک قاصر رہ سکتا ہے؟ ہم مرزائیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ کیا کسی قطعی امر کے انکار کرنے والے آدمی کو یہ کہہ کر معاف کیا جائے کہ یہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے۔ خود مرزائی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ پچھلی صدیوں میں علماء کے فتوؤں سے فلاں فلاں کو سزا دی گئی۔ اگر وہ نہیں ثابت کر سکتے اور قطعی ثابت نہیں کریں گے۔ پھر معلوم ہوا کہ ”کافر اور اسلام سے خارج کر کے ملت اسلامیہ میں باقی رہنے کی بات ایجاد بندہ ہے۔“ اور مرزائیوں نے صرف اپنے بچاؤ کے لئے ڈھونگ بنایا ہے۔

اتباع اور مکمل طور پر فنا فی الرسول ہونے سے ملی۔ کیونکہ محدثیت (خدا تعالیٰ سے ہم کلامی) ہو یا نبوت یہ محض خدا تعالیٰ کی بخشش سے ملتی ہے۔ اس میں عمل اور کسب کو قطعاً دخل نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (حمامۃ البشریٰ ص ٨٢، خزائن ج ٧ ص ٣٠١) پر یہ تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے: 2431 "ولا شك ان التحديث موهبة مجردة لاتنال بكسب البتة كما هو شان النبوة"

”اور اس میں شک و شبہ نہیں کہ محدث ہونا محض اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے۔ یہ کسی طرح کی (محنت و عمل اور) کسب سے نہیں مل سکتی۔“ جیسے نبوت کی شان ہے۔ یعنی جس طرح نبوت کسی عمل یا اکتساب کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اسی طرح محدث ہونا بھی۔

مرزا قادیانی نے کما ہو شان النبوۃ کہہ کر اس حقیقت کو اور بھی زیادہ واضح کر دیا کہ محدث اور نبی کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں بن سکتا۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ اگر مرزا جی کو نبوت ملی

٣٣

صفحہ ٢٢٨٤

2284 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہے جیسے کہ مرزا ناصر احمد اور سارے مرزائی بلکہ خود مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں تو وہ محض خدائی بخشش اور موہبت الہیہ ہے جس طرح پہلے نبیوں کو ملا کرتی تھی اور اس نبوت میں یا محدث ہونے میں حضور کے اتباع اور فنافی الرسول ہونے کا کوئی دخل نہ تھا اور یہ کفر صریح ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی بننے لگے یا کسی کو نبی مانا جائے۔ عین محمد کی گپ اور کامل اتباع کے دعوے سے مرزا جی نبی نہیں ہو سکتے اور نہ ہی عیسیٰ ابن مریم نام رکھنے سے حضرت عیسیٰ ہو سکتے ہیں۔

عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرِے چند

مرزا ناصر احمد صاحب ناراض نہ ہوں۔ آپ نے بحیثیت امام جماعت احمدیہ جو محضر نامہ قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے سنایا۔ اس کے ص٩١ سطر ٨ پر جو لکھا کہ ”اس طرح ممتنع نہیں کہ وہ چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو ...... بوجہ اکتساب انوار محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔“ یہ قطعاً غلط اور اپنے دادا مرزا جی قادیانی کی عبارت مذکورہ اور متفقہ عقیدہ کے قطعاً خلاف اور جھوٹی نبوت کے لئے ایک ڈھونگ ہے۔

2432 فتاویٰ کفر کی حیثیت

یہ عنوان مرزا ناصر احمد نے اپنے محضر نامے کے ص٢٢ میں قائم کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سواد اعظم والے ارشاد سے مرزا ناصر احمد پر کپکپی پڑی ہوئی ہے۔ مرزا موصوف نے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے فتوے ایک دوسرے کے خلاف نقل کر کے گویا ایک طرح دنیائے کفر کو مسلمانوں پر ہنسنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ ورنہ دنیائے کفر اس گئی گزری ہوئی حالت میں بھی مسلمانوں سے لرزاں ہیں اور وہ ان کے اتفاق سے خائف اور نفاق ڈالنے کے لئے کوشاں ہے۔ مرزا ناصر احمد کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کا سواد اعظم (عظیم اکثریت) ان کو کافر سمجھتی ہے تو انہوں نے محضر نامے کے ص٢٣ سطر نمبر ٩ پر لکھ دیا ”کہ کسی ایک فرقہ کو خاص طور پر مدنظر رکھا جائے تو اس کے مقابل پر دیگر تمام فرقے سواد اعظم کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور اس طرح باری باری ہر ایک فرقے کے خلاف بقیہ سواد اعظم کا فتویٰ کفر ثابت ہوتا چلا جائے گا۔“

اس عبارت میں جو دھوکا اور فریب ہے وہ ظاہر ہے۔ مرزا ناصر احمد صاحب کو معلوم ہونا چاہئے :

نہیں دیا۔ یہ بعض افراد ہیں اور ایسے افراد ہر ہر فرقہ میں ہو سکتے ہیں۔

٣٤

صفحہ ٣٤

عالمی مجلس تحفظ

مجلس تحفظ

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

EMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہے جیسے کہ مرزا ناصر احمد اور سارے مرزائی بلکہ خود مرزا اور موہبت الٰہیہ ہے جس طرح پہلے نبیوں کو ملا کرتی ت حضور کے اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کا کوئی دخل نہ کوئی نبی بننے لگے یا کسی کو نبی مانا جائے۔ عین محمد کی گستا نہیں ہو سکتے اور نہ ہی عیسیٰ ابن مریم نام رکھنے سے حضر

عیسیٰ نتواں گشت بتصد

مرزا ناصر احمد صاحب ناراض نہ ہوں۔ محضر نامہ قومی اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے سنایا۔ اس کے م کہ وہ چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو۔ بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔‘‘ یہ قطعاً غلط اور اپنے دادا مرزا کے قطعاً خلاف اور جھوٹی نبوت کے لئے ایک ڈھونگ

2432 فتاویٰ کفر کی

یہ عنوان مرزا ناصر احمد نے اپنے محضر نامے ہوتا ہے کہ سوادِ اعظم والے ارشاد سے مرزا ناصر احم مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے فتوے ایک دو دنیائے کفر کو مسلمانوں پر ہنسنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ م بھی مسلمانوں سے لرزاں ہیں اور وہ ان کے اتفاق ہے۔ مرزا ناصر احمد کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کا سواد انہوں نے محضر نامے کے ص ٢٣ سطر نمبر ٩ پر لکھ دیا ’’س تو اس کے مقابل پر دیگر تمام فرقے سواد اعظم کی جما باری ہر ایک فرقے کے خلاف بقیہ سوادِ اعظم کا فتویٰ ک اس عبارت میں جو دھوکا اور فریب ہے

ہونا چاہئے:

نہیں دیا۔ یہ بعض افراد ہیں اور ایسے افراد ہر ہر فرقہ م

٣٤

2285 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جھوٹ بولتا ہے۔ حالانکہ یہ بات سب کے ہاں کفر صریح ہے۔

دراصل بات صرف اتنی ہے جو خود مرزا ناصر احمد صاحب نے تسلیم کر لی ہے کہ شاہ اسماعیل شہیدؒ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک آن میں کروڑوں فرشتے 2433 جبرائیل کی طرح اور کروڑوں پیغمبر حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی طرح پیدا کر سکتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد نے اقرار کیا کہ شاہ اسماعیل شہیدؒ حضور کو خاتم النبیین سمجھتے اور یقین کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ بن سکے گا مگر صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت بیان کر دی گئی ہے۔

اسی طرح خود احقر (مولانا غلام غوث) ہزاروی نے بعض علماء بریلوی سے گفتگو کی۔ انہوں نے حضور ﷺ کے بشر ہونے سے بالکل اختلاف نہ کیا اور کر کیسے سکتے تھے؟ جب کہ قرآن میں ایسا کہا گیا اور دنیا کا کوئی فرد سرور عالم ﷺ کے اولادِ آدم میں سے ہونے کا انکار نہیں کر سکتا۔ رہا آپ ﷺ کا درجہ اور مرتبہ تو یہ ہماری سمجھ، عقل اور وہم سے بھی بالاتر ہے۔

اسی طرح احقر ہزاروی نے بریلوی حضرات سے رسول اللہ ﷺ کے حاضر و ناظر پر گفتگو کی تو انہوں نے اس کا خلاصہ وہی علم غیب بتایا۔

علم غیب میں بالواسطہ اور بلاواسطہ کی بحث بھی ہے۔ پھر خدا تعالیٰ کے برابر علم ہونے یا نہ ہونے کی بھی بحث ہے۔ بہرحال خود حضرت مولانا اشرف علی تھانوی دیوبندیؒ نے بریلویوں کی تکفیر سے انکار کیا۔

شیعہ حضرات ہیں ان کی کتابوں میں تحریف قرآن کا قول موجود ہے۔ مگر آج کوئی شیعہ دوست قرآن کی تحریف کا اقرار نہیں کرتا۔ باقی شان صحابہؓ کے بارہ میں ان کا رویہ تو مولانا مظہر علی اظہر (احرار لیڈر) جو تحریک مدح صحابہؓ کے سلسلہ میں لکھنو گئے اور انہوں نے تقریر کی کہ جب حضرت علیؓ بیس سال کے قریب ان صحابہؓ کے پیچھے نمازیں پڑھیں تو ہم کیوں ان کی اقتداء نہ کریں؟ بہرحال شیعہ فرقہ پر بحیثیت فرقہ یا اس نے بحیثیت فرقہ کوئی فتویٰ نہیں لگایا۔

یہی حال اہل حدیث حضرات کا ہے۔

کے دارالحکومت قسطنطنیہ میں اتاریں تو خلیفہ ترکی سے اپنے حق میں فتویٰ دلا دیا۔ انگریزوں کی دسیسہ کاریوں کا علم ہونا آسان نہ تھا اور نہ اب ہے۔

٣٥

صفحہ ٢٢٨٦

2286 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہوں۔ پھر بھی ہندو ہوں۔ سناتنی دھرمی بت پرستی کریں اور آریہ بت پرستی کے خلاف ہوں پھر بھی رشتے ناتے جاری ہوں۔ دین اسلام کی حدود ہیں۔ ان حدود کو پھلانگنے والا ظاہر ہے ان حدود سے باہر سمجھا جائے گا۔ مگر اسلامی وحدت، اسلامی حکومت اور خلافت کا شیرازہ منتشر ہونے کے بعد مختلف طبقات میں افراتفری پیدا ہوئی اور اسی لئے اسلامی عہد کے بہت ہی کم واقعات مرزا ناصر بیان کر سکا ہے۔ ان میں بھی کسی جگہ نیک نیتی اور کہیں بدنیتی کا دخل ہے۔

مرزا ناصر احمد صاحب! جب کوئی فرقہ بحیثیت فرقہ دوسرے کو کافر نہیں کہتا تو سب مل کر کسی ایک کو کیسے کافر کہہ سکتے ہیں؟ اور یہ حقیقت ہے کہ صحابہ کو ماننے والے سواد اعظم کے مصداق کبھی ایسا نہیں کر سکتے۔ نہ آج تک کیا ہے۔ نہ آئندہ کریں گے۔

ہے کہ دوسرا انبیاء علیہم السلام کی توہین کرتا ہے۔ مگر دوسرا فریق اس الزام کے ماننے سے منکر ہے۔ بلکہ وہ اصول میں متفق ہے کہ توہین انبیاء علیہم السلام کفر ہے۔ آیا اس عبارت سے توہین ہوتی ہے یا نہیں؟ صرف اس میں بحث ہے۔

مسائل ہیں۔

اب مرزائیوں کا حال سنیں

عیسیٰ علیہ السلام سے افضل کہتے ہیں۔

کر غلط تاویلوں سے اس کو چھپاتے ہیں۔

مرزائیوں کو کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ خود مرزا ناصر احمد نے سب کے فتاویٰ اپنے خلاف نقل کئے ہیں اور یہ بات حق ہونے کی کھلی دلیل ہے کہ آپس میں مختلف ہو کر بھی وہ سب کے سب مرزائیوں کو قطعی کافر اور غیر مسلم اقلیت سمجھتے ہیں۔

٣٦

صفحہ ٢٢٨٧

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نہیں۔ پھر بھی ہندو ہوں۔ سناتنی دھرمی بت پرستی رشتے ناتے جاری ہوں۔ دین اسلام کی حدود یا سے باہر سمجھا جائے گا۔ مگر اسلامی وحدت، اسلا بعد مختلف طبقات میں افراتفری پیدا ہوئی اور ا مرزا ناصر بیان کر سکا ہے۔ ان میں بھی کسی جگہ نی مرزا ناصر احمد صاحب! جب کوئی فرق کسی ایک کو کیسے کافر کہہ سکتے ہیں؟ اور یہ حقیقت کبھی ایسا نہیں کر سکتے۔ نہ آج تک کیا ہے۔ نہ آ

ہے کہ دوسرا انبیاء علیہم السلام کی توہین کرتا ہے۔ بلکہ وہ اصول میں متفق ہے کہ توہین انبیاء علیہم السلا نہیں؟ صرف اس میں بحث ہے۔

مسائل ہیں۔

اب مرزائیو

عیسیٰ علیہ السلام سے افضل کہتے ہیں۔

کر غلط تاویلوں سے اس کو چھپاتے ہیں۔

مرزائیوں کو کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ خود مرزا ناص اور یہ بات حق ہونے کی کھلی دلیل ہے کہ آپکا قطعی کافر اور غیر مسلم اقلیت سمجھتے ہیں۔

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہیں۔ (یہ جرات اس کو انگریزی سر پرستی سے ہوئی ورنہ وہ کبھی ایسا کہنے کی جرات نہ کرتا)

اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔

اور رشتے ناتے اور نمازیں علیحدہ کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اب یہ 2436 کس طرح ایک قوم رہ سکتے ہیں؟ یہ کیوں مسلمان کے نام سے مسلم حقوق اور منصوبوں پر قبضہ کرتے ہیں اور کیوں اپنی حقیقت کو چھپاتے ہیں؟

سارے فرقے مل کر کبھی ایک فرقہ کے خلاف ہو کر سواد اعظم نہیں بنے نہ بنیں گے نہ بن سکتے ہیں۔

بھی حقیقت واضح ہو گئی اور مرزائیوں کا ان اختلافات کو ہوا دینا اسلام دشمنی سے کم نہیں ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو ذلیل کرنے کے مترادف ہے۔

بعض دیگر الزامات

اسی طرح لگے ہاتھوں ہم مرزا ناصر احمد کے محضر نامے ص ١٤٩ کا بھی جواب دیتے ہیں جو انہوں نے (بعض دیگر الزامات) کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ اس میں انہوں نے مرزائیوں کا مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ اس موضوع میں مرزا ناصر احمد صاحب کا برا حال رہا ہے۔ انہوں نے جان چھڑانے کے لئے ص ١٥٤ سطر ١٣ سے لے کر ص ١٦٢ تک فتاویٰ نقل کر کے یہ لکھا ہے کہ ہم ان میں سے کس کے پیچھے نماز پڑھیں جن کو فلاں نے کافر کہا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکا۔ پڑھیں تو فتویٰ دینے والے کے ہاں کافر ہوتے ہیں، نہ پڑھیں تو غیر مسلم اقلیت۔ مرزا ناصر احمد صاحب اس سوال میں بری طرح پھنسے ہیں وہ صاف نہیں کہتے کہ مسلمانوں کے پیچھے نماز ہم کس طرح پڑھیں کہ وہ ایک نبی کے منکر اور کافر ہیں؟ جب کہ مرزا قادیانی نے خدا تعالیٰ کے حکم سے شک کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ گویا مرزا جی کی نبوت کا انکار اور اس کو مفتری سمجھنا ہی نماز نہ پڑھنے کی وجہ ہے باقی لفاظی ہے، مرزا ناصر احمد

٣٧

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

مکمل سیٹ مجلدی عالیٰ مجلدی

صفحہ ٢٢٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2437 صاحب نے باتیں بنائی ہیں۔ باقی طبقات کا کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا حکم دینا دعویٰ نبوت کے انکار کی وجہ سے نہیں ہے۔ اسی لئے وہ باہم اختلاف رکھنے کے باوجود مرزائیوں کے سلسلہ میں ایک ہیں۔

ان تین عنوانات میں سے پہلے دو عنوانوں کا تو کسی مسلمان کو انکار نہیں تیسرے عنوان کا جواب لکھ دیا گیا ہے اور دراصل یہ ساری بحث مسلمان قوم کو الجھانے کے لئے ہے ورنہ بحث کسی نبی کے آنے میں نہیں ہے۔ صرف مرزا قادیانی کی ذات میں ہے۔ باقی دو عنوان سے جو لکھا گیا ہے۔ اگرچہ عنوان مسلم ہے مگر ان عبارات اور مرزاجی کے اقوال نقل کرنے کا اصلی مقصد مرزا قادیانی کی شخصیت بنانا اور اس کو محدث نبی اور مسیح موعود جتلانا ہے اور کوئی مقصد نہیں ہے۔ چنانچہ ص٤٢ سطر نمبر١١، ص٤٣ سطر١٢، ص٤٤ سطر نمبر٥ اور سطر نمبر١٥، ص٤٨ سطر نمبر٢، ص٥٧ سطر نمبر٣، ص٥٨ سطر نمبر٨، ص٦١ سطر نمبر٤، ص٦٥ سطر نمبر١٨، ص٧٠ سطر نمبر٣ سے ظاہر ہے۔ یہ صرف اپنے لئے مرزا جی نے راستہ صاف کرنے کی سعی کی ہے۔

مقام خاتم النبیین ص٢٩ تا ص٣٦

اس عنوان کے تحت مرزائیوں نے خواہ مخواہ خاتم النبیین کا معنی بدل کر اور بزرگان دین کے اقوال سے غیر تشریعی نبوت کا بقاء واجراء ثابت کرتے ہوئے مغز پاشی کی ہے۔ جب آپ نے مان لیا کہ سوائے قادیانی کے نہ پہلے کوئی نبی بن سکا ہے نہ بعد میں آئے گا۔ تو اب خاتم النبیین کے معنی میں بحث فضول ہے۔ بحث صرف اتنی ہے کہ آنے والے 2438 مسیح واقعی وہی مسیح ابن مریم عیسیٰ رسول اللہ ہیں جو آسمان پر زندہ ہیں اور نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے اور چالیس سال زندہ رہ کر وفات پائیں گے اور حضور ﷺ کے مقبرہ میں دفن ہوں گے یا وہ مرچکے ہیں اور آنے والے مسیح (بزعم خود) مرزا غلام احمد قادیانی ہیں؟ مرزا ناصر احمد نے خاتم النبیین کا معنی بیان کرتے ہوئے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، شیخ اکبرؒ، ملا علی قاریؒ وغیرہ وغیرہ حضرات کے نام لئے ہیں کہ یہ غیر تشریعی نبوت کو باقی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ان حضرات کی مراد صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے وہ ہماری شریعت کو چلائیں گے اور کوئی شریعت نہیں لائیں گے نہ

٣٨

صفحہ ٢٢٨٩

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 2437 صاحب نے باتیں بنائی ہیں۔ باقی طبقات کا کے انکار کی وجہ سے نہیں ہے۔ اسی لئے وہ باہم اخت ایک ہیں۔

ان تین عنوانات میں سے پہلے دو عنوا جواب لکھ دیا گیا ہے اور دراصل یہ ساری بحث مسل نبی کے آنے میں نہیں ہے۔ صرف مرزا قادیانی ک ہے۔ اگرچہ عنوان مسلم ہے مگر ان عبارات او مرزا قادیانی کی شخصیت بتانا اور اس کو محدث نبی ا چنانچہ ص ٢٢ سطر نمبر ١١، ص ٢٣ سطر ١٢، ص ٢٤ سطر نمب نمبر ٣، ص ٥٨ سطر نمبر ٨، ص ٦١ سطر نمبر ٤، ص ٦٥ صرف اپنے لئے مرزا جی نے راستہ صاف کرنے ک

مقام خاتم النبیین

اس عنوان کے تحت مرزائیوں نے خوا کے اقوال سے غیر تشریعی نبوت کا بقاء و اجراء ثابت مان لیا کہ سوائے قادیانی کے نہ پہلے کوئی نبی بن سکا معنی میں بحث فضول ہے۔ بحث صرف اتنی ہے ک عیسیٰ رسول اللہ ہیں جو آسمان پر زندہ ہیں اور نازل رہ کر وفات پائیں گے اور حضور ﷺ کے مقبرہ میں مسیح (بزعم خود) مرزا غلام احمد قادیانی ہیں؟ مر ہوئے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، شیخ اکبرؒ، ملا علی قا غیر تشریعی نبوت کو باقی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ان حض السلام جب نازل ہوں گے وہ ہماری شریعت کو ٨

2289 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 چلائیں گے۔ اس کی خاطر انہوں نے بعض الفاظ لکھے ہیں۔

مرزا ناصر احمد کو چیلنج

اگر یہ بات نہیں، تو ہم مرزا ناصر احمد صاحب کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ کسی ولی یا عالم کی کتاب سے دکھائیں کہ فلاں آدمی حضور ﷺ کے بعد سچا نبی بنا ہے۔

خود مرزا صاحب مذکور نے اقرار کیا ہے کہ کوئی سچا نبی مرزا قادیانی سے پہلے نہیں آیا تو بحث ختم ہوگئی۔ آپ خاتم النبیین کے معنوں میں کیوں مسلمانوں کو الجھاتے اور تیرہ صدیوں کے متفقہ معانی کی تردید کرتے ہیں؟

مرزا جی نے اور خود مرزا ناصر احمد صاحب نے تو یہ بھی اقرار کیا کہ مرزا قادیانی کے بعد بھی قیامت تک کوئی نبی نہ آئے گا تو ساری بحث اس پر کرو کہ سینکڑوں حدیثوں میں مسیح ابن مریم کے نزول اور ساری دنیا پر حکومت کرنے اور چالیس سال کے بعد وفات پا جانے کی حدیثیں غلط ہیں یا صحیح؟

ہم خود شیخ اکبرؒ اور ملا علی قاریؒ وغیرہ کے ارشادات سے ثابت کریں گے کہ حضرت مسیح ابن مریم آسمان میں ہیں اور وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ جب یہ 2439 حضرات خود کسی اور کو نبی نہیں مانتے اور انہی مسیح ابن مریم کو آسمان سے نازل ہونے والا بتاتے ہیں تو مرزا قادیانی تو ان کے ہاں بھی جھوٹا ثابت ہو گیا۔ اس لئے ہم اس عنوان کے تحت زیادہ بحث نہیں کریں گے۔

البتہ ختم نبوت کے عنوان سے جو باب لکھا گیا وہ مرزا ناصر احمد صاحب کے مندرجہ بالا اقرار سے پہلے لکھا گیا۔ ناظرین اس کو بھی دیکھ لیں۔

آئندہ صفحات میں ہم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی، ان کے دعاوی، توہین انبیاء علیہم السلام، ان کی اخلاقی حالت، جہاد کے بارے میں ان کے کفریہ خیالات، انگریزی دربار میں ان کے عجز و انکسار اور وفاداری کے مشت نمونہ از خروار حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی

یہ ضلع گورداسپور قصبہ قادیان میں مغل خاندان کا بقول خود گمنام آدمی تھا۔ روزگار کے سلسلہ میں ملازم ہوا۔ مگر ضرورت کے تحت مختاری کے امتحان میں شریک ہوا۔ جس میں فیل ہو گیا۔ اس زمانے کے مطابق اردو، عربی، فارسی جانتا تھا۔ جب یہ مختاری کے امتحان میں فیل ہوا تو اس نے ایک اور طریقہ اختیار کیا۔ عیسائیوں اور آریوں سے مباحثات شروع کر دیئے اور بعض کتابوں ٣٩

صفحہ ٢٢٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کو چھاپنے کے اشتہار شائع کر کے عوام سے خوب پیسے بٹورے۔ مبلغ اسلام بنا پھر مجدد مامور بنا۔ اس کے بعد مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور مسیح موعود ہونے کی سختی سے تردید کی۔

(ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

مگر چند ہی دنوں کے بعد مسیح موعود بن بیٹھا۔ یہ اس کی اپنی گھڑی ہوئی اصطلاح ہے۔ کتابوں میں صرف مسیح یا عیسیٰ ابن مریم کا ذکر آتا ہے۔ پہلے پہل اس نے دعویٰ نبوت کا انکار کیا۔ بلکہ اس کو کفر ٹھہرایا۔

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

مگر جب خاصے چیلے چانٹے مل گئے تو نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا۔ اپنے معجزات سرور عالم ﷺ سے بھی زیادہ بتائے اور دس لاکھ تک کی گپ لگادی۔ اس کو علم تھا کہ مسلمان قوم میں نبی ہونا مشکل ہے تو اس نے اپنا شوق پورا کرنے کے لئے نزول مسیح ابن مریم والی 2440 حدیث کی آڑ لی مگر چونکہ تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ چلا آ رہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہو کر دجال کو قتل کر کے دین اسلام کی خدمت کریں گے۔ اس لئے اس کو حضرت مسیح علیہ السلام کو قرآن وحدیث سے وفات شدہ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور پوچ دلائل سے چند فرنگی زدہ افراد کو اپنا پیرو بنایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنے اور خود مسیح بننے کے لئے اس کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔ اس نے انگریزوں کے لئے دعائیں کیں اور اشتہارات چھاپ چھاپ کر اور ممانعت جہاد کے مضامین لکھ لکھ کر تمام مسلم ممالک میں پھیلائے۔ اب اس کو روپوں کی کیا کمی ہوسکتی تھی۔

مگر اس کو علمائے حق کے مقابلے سے بڑی ذلت اٹھانی پڑی۔ اتنے میں اس کو ایک نابالغ بچی مسماۃ محمدی بیگم سے نکاح کا شوق چرایا اور حضور ﷺ کی نقل اتارتے ہوئے اپنی اس وحی کا اعلان کر دیا۔ زوجنکہا ہم نے (عرش پر یا آسمان پر) تمہارا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا۔ شاید اسی نقل اتارنے کی اس کو سزا ملی اور محمدی بیگم کے رشتہ داروں نے اس کی شادی سلطان محمد نامی شخص سے کر دی۔ اس کے بعد مرزا جی پر بڑے بڑے خود ساختہ الہامات ہوتے رہے کہ باکرہ ہو یا ثیبہ اس کو تمہاری طرف لوٹاؤں گا۔ مگر اس کی بست سالہ جدوجہد اور وحی کی شکل میں ساری پیش گوئیاں غلط ہوئیں۔ اگر چہ مرزاجی نے اعلان کیا کہ اس کے ساتھ میرا نکاح تقدیر مبرم اور اٹل ہے اور اس کے پورے نہ ہونے کی شکل میں میں بد سے بدتر اور جھوٹا ہوں گا۔ مگر آخر کار ١٩٠٨ء میں یہ نامراد چل بسا۔ اس پیش گوئی نے اس کی لٹیا ڈبودی اور جھوٹی مسیحیت کا بھانڈا پھوڑ کے رکھ دیا۔

یہ انگریز کا خاص وفادار آدمی تھا۔ جہاں جہاں انگریز گیا اس کی تحریک بھی گئی۔ ترکی،

٤٠

صفحہ ٢٢٩١

2291 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 افغانستان اور حجاز میں نہ جاسکی۔ مصر و شام وغیرہ میں جب تک فرنگی اثرات تھے یہ 2441 دندناتے رہے۔ جب انقلاب آیا ان ممالک نے ان کو خلاف قانون کر ڈالا اور ان کے دفاتر ضبط کرلئے۔ یہودی فلسطین حیفہ میں اب تک ان کا دفتر موجود ہے۔

حال ہی میں عالم اسلام کے نمائندوں نے حجاز مقدس میں مرزائیوں کے دعویٰ اسلام کی قلعی کھول دی۔ وائسرائے ہند نے چوہدری ظفر اللہ خان مرزائی کو اپنی ایگزیکٹو کونسل کا ممبر بنایا۔ اب مرزائیوں کو مسلمانوں کے پھنسانے کا خوب موقع ملا۔ پاکستان بنا تو چوہدری ظفر اللہ خان وزارت خارجہ کا قلمدان تھامے ہوئے تھے۔ مختلف آسامیوں پر مرزائیوں کا قبضہ کرایا گیا۔ انگریز گیا تو امریکی حکومت کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ پاکستان میں مذہب کے علمبردار مرزائی ہیں۔ خواجہ ناظم الدین مرحوم نے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں یہ بیان دیا تھا کہ اگر میں ظفر اللہ خان کو نکال دوں گا تو امریکہ گندم نہیں دے گا۔

(منیر تحقیقاتی رپورٹ ص ٣١٩)

چوہدری صاحب مذکور نے بیرونی دنیا میں سفارتخانوں کے ذریعے مرزائی بھر دیئے۔ خدا خدا کر کے یہ ملک سے باہر گیا تو بعض دوسرے مرزائیوں نے گل کھلائے۔ آخر کار سیاسی حرکات کی وجہ سے ائیر مارشل ظفر چوہدری کو محترم ذوالفقار علی بھٹو صاحب وزیر اعظم پاکستان نے علیحدہ کر کے کروڑوں مسلمانوں کو مطمئن کیا۔

پاکستان بننے کے بعد انگریزوں کا دخل

ہماری قسمت میں یہی لکھا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد صوبہ سرحد کا گورنر کننگھم انگریز ہو۔ ساری پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف مسٹر گریسی انگریز ہو۔ جب کہ ہندوستان کا گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن تھا۔ مسٹر گریسی کے زمانہ میں مرزائیوں کی ایک فوج بنائی گئی جس کا نام فرقان بٹالین تھا۔ جس کو بعد میں مسلمانوں کے شدید مطالبہ پر مسٹر گریسی نے توڑا۔ مگر بے انتہاء تعریف کے ساتھ، کشمیر کی لڑائی میں میجر جنرل نذیر احمد پیش پیش رہا۔ چوہدری ظفر اللہ خان کا ہم زلف تھا اور آخر کار شہید ملت لیاقت علی خان کے سازش 2442 کیس میں گرفتار ہو کر ملازمت سے علیحدہ ہوا۔ تعجب ہے کہ کچھ عرصہ بعد اس مجرم کو لاہور کارپوریشن کا ”میئر“ بنادیا گیا۔ جس کے خلاف غلام غوث ہزاروی نے مغربی پاکستان اسمبلی ١٩٦٢ء میں آواز اٹھائی۔

اب اس بیان کی ضرورت نہیں کہ کس طرح مرزائی فرقہ آہستہ آہستہ ہزاروں آسامیوں پر فائز ہو کر مسلمانوں کے لئے مار آستین بنا۔ ہمارے بچوں کے حقوق تباہ ہوئے۔ ٤١

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 کو چھاپنے کے اشتہار شائع کر کے عوام سے خوب پیسہ اس کے بعد مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور مسیح موعود ہو

مگر چند ہی دنوں کے بعد مسیح موعود بن بیٹھے کتابوں میں صرف مسیح یا عیسیٰ ابن مریم کا ذکر آتا ہے بلکہ اس کو کفر ٹھہرایا۔

مگر جب خاصے چیلے چانٹے مل گئے سرور عالم ﷺ سے بھی زیادہ بتائے اور دس لاکھ تک نبی ہونا مشکل ہے تو اس نے اپنا شوق پورا کرنے کے آئی مگر چونکہ تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ آسمان پر موجود ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہو کر گے۔ اس لئے اس کو حضرت مسیح علیہ السلام کو قرآنی ضرورت محسوس ہوئی اور پوچ دلائل سے چند فرنگی زرد کی موت ثابت کرنے اور خود مسیح بننے کے لئے اس کے لئے دعائیں کیں اور اشتہارات چھاپ چھاپ مسلم ممالک میں پھیلائے۔ اب اس کو روپوں کی کیا

مگر اس کو علمائے حق کے مقابلے سے ہم نابالغ بچی مسماۃ محمدی بیگم سے نکاح کا شوق چرایا اور وحی کا اعلان کر دیا۔ زوجتکہا ہم نے (عرش پر یا آسمان اس نقل اتارنے کی اس کو سزا ملی اور محمدی بیگم کے رشتہ سے کر دی۔ اس کے بعد مرزا جی پر بڑے بڑے خودس اس کو تمہاری طرف لوٹاؤں گا۔ مگر اس کی ہشت سالہ م غلط ہوئیں۔ اگر چہ مرزاجی نے اعلان کیا کہ اس کے کے پورے نہ ہونے کی شکل میں میں بد سے بدتر اور چل بسا۔ اس پیش گوئی نے اس کی لٹیا ڈبودی اور جھوٹ یہ انگریز کا خاص وفادار آدمی تھا۔ جہاں ٤٠

صفحہ ٢٢٩٢

قیمت فی شمارہ-/10 روپے عالی جناب سپیکر مجلس

2292 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عقائد کی جنگ شروع ہوئی۔ جس سے مذہب کو عظیم نقصان پہنچا۔ ایک بات سے اس پر تھوڑی روشنی پڑتی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں منیر کمیشن کے سامنے کہا کہ جب لیاقت علی خان صاحب مرحوم باہر جاتے تو وزارت عظمیٰ کا قلمدان میرے سپرد کرتے۔ فرنگی نے متحدہ ہندوستان سے جاتے جاتے مرزائی وفاداری کا حق یوں ادا کیا کہ پنجاب کے انگریز گورنر سرموڈی نے ان کو چنیوٹ کے پاس بہت بڑی زمین کوڑیوں کے مول دے دی۔ جو انجمن احمدیہ کے نام وقف ہے۔ مگر مرزا بشیر الدین محمود نے اس زمین کے ساتھ ذاتی جائیداد کا سا معاملہ بنا ڈالا۔ یہیں بہشتی مقبرہ بنایا اور یہیں نبوت کا کاروبار چلایا۔

موجودہ فساد اور اسمبلی

اب جب کہ مرزائیوں نے ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ربوہ سٹیشن پر کالج کے طلبہ پر حملہ کر کے ان کو زدوکوب کیا تو ملک میں جو پہلے ہی سے لاوا پک رہا تھا۔ جس کی نشاندہی مسٹر منیر صاحب جج انکوائری کورٹ پہلے سے کر چکے تھے۔ خطرناک ہلچل شروع ہوگئی اور ان کے خلاف دریا امڈ آیا۔ ہم نے قومی اسمبلی میں، پھر لاہور ٹربیونل کے سامنے یہ کہا کہ ہو سکتا ہے کہ مرزائیوں نے ربوہ اسٹیشن کی حرکت پاکستان دشمنوں کی سازش سے کی ہو، تا کہ ملک میں فسادات ہوں اور دشمن اپنا الو سیدھا کرے۔ اس کا ایک قرینہ ہے جب کہ مرزائیوں نے مسلمانوں کے پرامن جلوسوں پر گولیاں چلائیں۔ عوامی حکومت نے عوامی مطالبہ کے پیش نظر اسمبلی سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں مرزائیوں کی مذہبی پوزیشن کا تعین کرے۔ پہلے بطور تمہید کے چند باتیں عرض کی جاتی ہیں۔ پھر مسئلہ ختم نبوت پر بحث کی جائے گی۔

عقائد فاسدہ کی بھرمار

موت ثابت کرنے کے لئے سینکڑوں آیتوں، حدیثوں اور روایات اسلامیہ کا انکار یا ان کی مضحکہ خیز تاویلات کرنی پڑیں۔

اس لئے اس نے سرور عالم ﷺ کے اتباع کی آڑ لی اور آپ کا تابع نبی بنا۔ اسی طرح غیر مستقل اور غیر تشریعی نبوت بھی اس کو ثابت کرنی پڑی اور ختم نبوت کی سینکڑوں آیتوں، حدیثوں اور امت کے اجماعی فیصلے کے خلاف رکیک باتیں بنانی پڑ گئیں۔

٤٢

2293 NATIONAL A

کے متفقہ عقیدے کے مطابق آسمان پر ثابت کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی

چند سیکنڈ سو کر آسمان پر اٹھائے گئے اور اسی طرح قرآن پاک حضرت عیسیٰ علیہ بتا ہے تو مرزا جی کو ان آیتوں کا بھی انکا و زندہ کرنے کا ذکر ہے اور ایسی آیتیں

ور یہ بیچارہ خالی خولی تھا۔ اس لئے اس انکار کر دیا۔ اس نے باقی انبیاء علیہم السلام اور خود حی اور الہام کا معنی نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ لط ثابت ہوئی۔

(ازالہ اوہام ص ١٦٩، خزائن ج ٣ ص ٣٣٩)

لئے پڑے۔ کبھی مریم بنا، پھر مریم سے انگت ثابت کر کے مسیح بنا۔ کبھی ابجد کا نہ ہیں وہ اب کہاں رہا۔ وہ اب بچہ بن ہ میں داخل ہونے کی سبیل نکالی۔ کبھی ں روایات کے معانی اپنی طرف سے

اور ساری امت مسیح ابن مریم حضرت ا نے سرور عالم ﷺ کی اتباع کی آڑ سول ہونے اور حضرت سرور عالم ﷺ

اور کبھی مکالمات الہیہ اور تحدیث کے

صفحہ ٢٢٩٣

2293 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

زندہ لے جائے گئے۔ تو مرزا جی نے آسمان پر جانے کو محال ثابت کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی معراج جسمانی سے بھی انکار کر دیا۔

عیسائیوں نے لکھا پھر زندہ ہو کر آسمان پر لے جائے گئے۔ اسی طرح قرآن پاک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزہ احیاء موتی یعنی مردے زندہ کرنے کا ذکر کرتا ہے تو مرزا جی کو ان آیتوں کا بھی انکار کرنا پڑا۔ جن سے دنیا میں حسب فرمان و بیان قرآن مردہ زندہ کرنے کا ذکر ہے اور ایسی آیتیں قرآن میں بہت ہیں۔

نے سرے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کا بھی انکار کر دیا۔

سرور عالم ﷺ کو بھی ملوث کرنا چاہا کہ وہ بھی کبھی کبھی اپنی وحی اور الہام کا معنی نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ یہاں تک تہمت لگا دی کہ ایک بار چار سو نبیوں کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩ خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

عیسیٰ پیدا ہو کر خود عیسیٰ ابن مریم بنا۔ کبھی روحانی و اخلاقی مماثلت ثابت کر کے مسیح بنا۔ کبھی ابجد کا حساب لڑا کر مسیح بنا۔ کبھی کہا کہ مخالف میرا حیض دیکھنا چاہتے ہیں وہ اب کہاں رہا۔ وہ اب بچہ بن گیا ہے۔ اس طرح مرزا جی نے مریم مرتبہ سے عیسوی مرتبہ میں داخل ہونے کی سبیل نکالی۔ کبھی بروز وحلول کا سہارا لے کر مسیح بنا۔ پھر مسیح کے نزول کی سینکڑوں روایات کے معانی اپنی طرف سے گھڑنے پڑے۔

عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی کو ماننے کے لئے تیار نہ تھی تو اس نے سرور عالم ﷺ کی اتباع کی آڑ لی۔ اسی لئے آپ کی تمام صفات کا بروز بنا بلکہ اس کو فنا فی الرسول ہونے اور حضرت سرور عالم ﷺ سے متحد الذات ہونے کی پینگیں لگانی پڑیں۔

بہانے محدث اور ناقص نبی بنا۔

٤٣

LY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عقائد کی جنگ شروع ہوئی۔ جس سے مذہب روشنی پڑتی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے ٥٣ کہ جب لیاقت علی خان صاحب مرحوم باہر جا فرنگی نے متحدہ ہندوستان سے جا پنجاب کے انگریز گورنر سر موڈی نے ان کو چنیو دے دی۔ جو انجمن احمدیہ کے نام وقف ہے۔ مگ جائیداد کا سا معاملہ بنا ڈالا۔ یہیں بہشتی مقبرہ بنایا

موجودہ فس

اب جب کہ مرزائیوں نے ٢٩ مئی ان کو زدوکوب کیا تو ملک میں جو پہلے ہی سے الـ جج انکوائری کورٹ پہلے سے کر چکے تھے۔ خطر آیا۔ ہم نے قومی اسمبلی میں، پھر لاہور ٹربیونل، اسٹیشن کی حرکت پاکستان دشمنوں کی سازش اپنا الو سیدھا کرے۔ اس کا ایک قرینہ ہے جب گولیاں چلائیں۔ عوامی حکومت نے عوامی مطا مرزائیوں کی مذہبی پوزیشن کا تعین کرے۔ پـ مسئلہ ختم نبوت پر بحث کی جائے گی۔

عقائد فاس

موت ثابت کرنے کے لئے سینکڑوں آیتوں، خیز تاویلات کرنی پڑیں۔

اس لئے اس نے سرور عالم ﷺ کے اتباع کی اور غیر تشریعی نبوت بھی اس کو ثابت کرنی پڑی کے اجماعی فیصلے کے خلاف رکیک باتیں بنانی پا

مکمل سیٹ دستیاب ہے عالمی مجلس تحفـ

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

صفحہ ٢٢٩٤

2294 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ان کی وفات ثابت کرنے کے لئے تمام کتابوں میں رطب و یابس جمع کیں۔

چنانچہ مرزا جی ہندوؤں کو ساتھ ملانے کے لئے کرشن کا اوتار بنے۔ اسی طرح رودر گوپال بھی بنا اور سکھوں کے لئے جے سنگھ بہادر بھی۔ اس نے مہدی، مسیح بلکہ تمام پیغمبروں کے نام اپنے اوپر چسپاں کئے۔

اوپر اتروائی۔ ”آواہن‘ جس کا معنی بھی خود مرزا جی نے کیا کہ ”خدا تمہارے اندر اتر آیا ہے“ معاذ اللہ ! وہ کون سا کفر ہے کہ جو مرزا جی نے اختیار نہ کیا ہو۔

کہہ دیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں۔ پھر میں نے زمین و آسمان پیدا کئے۔ (ظاہر ہے کہ پیغمبر کا خواب وحی ہوتا ہے تو اب اس 2446 وحی کو آپ خود دیکھیں شیطانی ہے یا رحمانی) (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤، کتاب البریہ ص ٨٧ ، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) دعویٰ یہ ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔ مگر پیغمبر دین کا محافظ ہوتا ہے۔ کسی پیغمبر نے ایسا خواب یا کشف بیان نہیں کیا۔

مرزا جی انگریزوں کے دعا گو تھے۔ اس لئے فتح سے روحانی اور مباحثے کی فتح مراد لی اور اس کے مریدوں نے روحانی فتح کو خوب ہوادی۔ مگر اس میں بھی چاروں شانے چت رہا۔ علمائے حق نے اس کا ناطقہ بند کر دیا۔

اور باوجود سرکاری سرپرستی کے مرزائی کسی جگہ کامیاب مقابلہ و مناظرہ نہ کر سکے۔ بھاگ بھاگ کر روحانی فتح کا نقارہ بجاتے رہے۔ جیسے پہلے جنگ عظیم میں کسی نے کہا تھا کہ فتح انگلش کی ہوتی ہے۔ قدم جرمن کا بڑھتا ہے۔

لئے قرآن وحدیث ہی تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے حیات مسیح کے سلسلہ میں حدیث کا قصہ یوں ختم کیا۔ اس نے لکھا ”میں حکم بن کر آیا ہوں۔ مجھے اختیار ہے۔ حدیثوں کے جس ڈھیر کو چاہوں خدا

٤٤

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

صفحہ ٢٢٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 سے وحی پا کر ردی کر دوں۔" چاہے ایک ہزار حدیث ہوں۔

(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص١٠، خزائن ج١٧ ص٥١، اعجاز احمدی ص٣٠، خزائن ج١٩ ص١٤٠)

اب حدیث سے بھی اس کو نہیں پرکھا جاسکتا۔ بس آنکھیں بند کر کے اس پر ایمان لانا ہوگا۔ ورنہ ستر کروڑ مسلمان مرزا جی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہو 2447 جائیں گے۔ قرآن وحدیث سے کسی الہام یا انسان کو پرکھنے کا راستہ تو اس نے بند کر دیا۔ اب جو چاہے کرے۔ دینی بحث سرور عالم ﷺ اور آپ کے مبارک صحابہؓ سے منقول روایات کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ دین ہے ہی وہ جو پیچھے سے نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ مگر مرزا جی نے اپنی کتاب (اربعین نمبر٤ ص١٩، خزائن ج١٧ ص٤٥٤) پر لکھ دیا ہے کہ مجھے خدا نے مسیح کر کے بھیجا اور بتا دیا ہے کہ فلاں حدیث سچی اور فلاں جھوٹی ہے اور قرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے تو پھر میں کس بات میں اور کس غرض کے لئے ان لوگوں سے منقولی بحث کروں۔ جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ایمان ہے جیسے کہ توریت، انجیل اور قرآن پر۔

حدود کے اندر رہنا کافی نہ سمجھا۔ بلکہ اس نے اپنی تحریرات میں وہ طریقہ اختیار کیا جو کسی طرح دائرہ تہذیب میں نہیں آ سکتا۔ حالانکہ اس کا دعویٰ نبوت اور مسیحیت کا تھا اور وہ سرور عالم ﷺ کی تمام صفات واخلاق اپنے اندر جذب ہونے کا بھی مدعی تھا۔ اس نے ظاہری طور پر سہی مگر اپنے جھوٹے دعوؤں کی لاج نہ رکھی۔ (چنانچہ اس کی گالیاں بطور ضمیمہ علیحدہ آپ ملاحظہ کریں)

کا ازالہ ص٦، خزائن ج١٨ ص٢١٦) میں لکھتے ہیں کہ میں عین محمد ہوں۔ اس طرح مہر نبوت نہ ٹوٹی اور محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہی۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون! کیا زبردست چور ہے کہ مہر بھی نہ ٹوٹی اور مال بھی چرا لے گئے) ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ جو کہا ہے کہ میں عین محمد ہوں واقعی وہ دو شخص 2448 نہیں ایک ہی ہیں، تو یہ صاف غلط اور مشاہدے کے خلاف ہے اور اگر دو ہیں تو مہر نبوت ٹوٹ گئی اور یہ کہنا غلط ہوا کہ محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہی اور اگر حضرت ﷺ کی روح پاک مرزا جی میں آئے گی تو یہ ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ ہے جو قطعاً باطل ہے اور اگر مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی آپ ﷺ کے اخلاق وصفات کے مظہر ہیں تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی غلط بیانی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جس پیغمبر کے اخلاق وعادات کے سامنے بڑے بڑے مخالفین نے

٤٥

PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ان کی وفات ثابت کرنے کے لئے تمام کتا

چنانچہ مرزا جی ہندوؤں کو ساتھ ملانے کے سکھوں کے لئے جے سنگھ بہادر بھی۔ اس چسپاں کئے۔

اوپر اتروائی۔ "آواہن" جس کا معنی بھی خو اللہ! وہ کون سا کفر ہے کہ جو مرزا جی نے اخت

کہہ دیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ (ظاہر ہے کہ پیغمبر کا خواب وحی ہوتا ہے تو ا

(آئینہ کمالات اسلام ص٥٦٤،

دعویٰ یہ ہے کہ میں پیغمبر ہوں ۔ یا کشف بیان نہیں کیا۔

مرزا جی انگریزوں کے دعا گو تھے۔ اس ل مریدوں نے روحانی فتح کو خوب ہوا دی اس کا ناطقہ بند کر دیا۔ اور باوجود سرکاری سرپرستی ک بھاگ بھاگ کر روحانی فتح کا نقارہ بجائے انگلش کی ہوتی ہے۔ قدم جرمن کا بڑھتا ہے

لئے قرآن وحدیث ہی تھے۔ مگر مرزا قاد کیا۔ اس نے لکھا "میں حکم بن کر آیا ہوں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قیمت فی شمارہ-/10 روپے

صفحہ ٢٢٩٦

2296 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہتھیار ڈال دیئے۔ اس کی ہمسری کا دعویٰ مندرجہ بالا حوالہ جات و واقعات والا شخص کرے؟ یہ قطعاً صحیح نہیں۔

وہ تمام صفات نہیں آ سکتی اور اگر کوئی شخص بعض صفات کی وجہ سے عین محمد بنے تو ہم پوچھتے ہیں کہ مرزا جی نے (اربعین نمبر ٣ ص ١٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧) یقیناً سمجھو کہ خدا کی اصلی اخلاقی صفات چار ہیں۔

والا اور خدمت قبول کرنے والا اور ضائع نہ کرنے والا۔

سو احمد وہی ہے جو ان چاروں صفتوں کو ظلی طور پر اپنے اندر جمع کرے، تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی یا رسول اللہ ﷺ ظلی طور پر خدا اور عین خدا ہو گئے؟ یہ سب غلط اور ہذیان صرف نبی بننے کے شوق کو پورا کرنا ہے۔

پاس رہی اور مہر نبوت نہیں ٹوٹی تو وہ اس بات کے معترف ہو گئے کہ 2449 نبوت تو ختم ہے اور کوئی جدا شخص نبی نہیں بن سکتا۔ رہ گیا میں تو میں عین محمد ہوں۔ مجھ میں اور سرور عالم ﷺ میں کوئی دوئی نہیں ہے۔ میں بالکل وہی ہوں۔ (یہ منہ اور مسور کی دال)

جناب چیئرمین: اب ہم چائے کے لئے وقفہ کرتے ہیں اور پھر گیارہ بج کر بیس منٹ پر دوبارہ شروع کریں گے۔

مولانا عبدالحکیم: جی، جناب؟

جناب چیئرمین: ہم چائے کے لئے وقفہ کرتے ہیں اور پھر گیارہ بج کر بیس منٹ پر شروع کریں۔

مولانا عبدالحکیم: بہت اچھا! جیسا آپ حکم فرمائیں۔

--------

[The Special Committee adjourned for tea break to meet at 11:20 am.]

٤٦

صفحہ ٤٧

2297 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے لئے صبح گیارہ بج کر بیس منٹ تک ملتوی کر دیا گیا)

[The Special Committee re-assembled at 11:20 am, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مسٹر چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی کی زیر صدارت صبح گیارہ بج کر بیس منٹ پر دوبارہ شروع ہوا)

جناب چیئرمین: مولانا عبدالحکیم ! مولانا صاحب ! کم از کم ڈیڑھ بجے تک ہم بیٹھیں گے۔ اگر آپ تھک جائیں تو بتا دیں۔ تو ہم ایک بجے دس منٹ کا بریک کر لیں گے۔ ممبر صاحبان کھسکنا شروع نہ ہو جائیں۔

مولانا عبدالحکیم:

دعاوی مرزا

ماخوذ از کتاب دعاوی مرزا

تصنیف: مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ

2450 یوں تو مہدی بھی ہو عیسیٰ بھی ہو سلمان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

دنیا میں بہت سے گمراہ فرقے پیدا ہوئے اور آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن مرزائی فرقہ ایک عجیب چیستان ہے۔ اس کے دعوے اور عقیدہ کا پتہ آج تک خود مرزائیوں کو بھی نہیں لگا۔ جس کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ اس فرقہ کے بانی مرزا قادیانی نے خود اپنے وجود کو دنیا کے سامنے لانیحل معمے کی شکل میں پیش کیا ہے اور ایسے متناقض اور متضاد دعوے کئے کہ خود ان کی امت بھی مصیبت میں ہے کہ ہم اپنے گرو کو کیا کہیں۔ کوئی تو ان کو مستقل صاحب شریعت نبی کہتا ہے کوئی غیر تشریعی نبی مانتا ہے اور کسی نے ان کی خاطر ایک نئی قسم کا نبی لغوی تراشا ہے اور ان کو مسیح موعود، مہدی اور لغوی یا مجازی نبی کہا ہے۔

اور یہ حقیقت ہے کہ مرزا صاحب کا وجود ایک ایسی چیستان ہے جس کا حل نہیں۔ انہوں

Y OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہتھیار ڈال دیئے۔ اس کی ہمسری کا دعویٰ منہ قطعا صحیح نہیں۔

وہ تمام صفات نہیں آ سکتی اور اگر کوئی شخص بعض مرزا جی نے (اربعین نمبر ٣ ص ١٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٧

والا اور خدمت قبول کرنے والا اور ضائع نہ کر

سوا محمد وہی ہے جو ان چاروں صفتو احمد قادیانی یا رسول اللہ ﷺ ظلی طور پر خدا ا بننے کے شوق کو پورا کرنا ہے۔

پاس رہی اور مہر نبوت نہیں ٹوٹی تو وہ اس بات جدا شخص نبی نہیں بن سکتا۔ رہ گیا میں تو میں عی نہیں ہے۔ میں بالکل وہی ہوں ۔ (یہ منہ اور

جناب چیئرمین: اب ہم چا منٹ پر دوبارہ شروع کریں گے۔

مولانا عبدالحکیم: جی ، جناب چ

جناب چیئرمین: ہم چائے ۔ شروع کریں۔

مولانا عبدالحکیم: بہت اچھا ! چ

adjourned for tea break to

قیمت فی فارم -/10 روپے

مکمل سیٹ ٢٤ جلدیں قومی اسمبلی پاک...

صفحہ ٢٢٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نے اپنی تصانیف میں جو کچھ اپنے متعلق لکھا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ متعین کرنا بھی دشوار ہے کہ مرزا صاحب انسان ہیں یا اینٹ پتھر ، مرد ہیں یا عورت ، مسلمان ہیں یا ہندو ، مہدی ہیں یا حارث ، ولی ہیں یا نبی، فرشتے ہیں یا دیوتا۔

2451 مرزائیوں کے تمام فرقوں کو کھلا چیلنج

اس لئے دعویٰ کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مرزائی امت کے تینوں فرقے مل کر قیامت تک یہ بھی متعین نہیں کر سکتے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ کیا ہے اور وہ کون ہیں اور کیا ہیں۔ دنیا سے اپنے آپ کو کیا کہلوانا چاہتے ہیں۔ لیکن جب ہم مرزا صاحب کی تحریرات کو بغور پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ میں اختلاط و اختلاف بھی ان کی ایک گہری چال ہے۔ وہ اصل میں خدائی کا دعویٰ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن سمجھے کہ قوم اس کو تسلیم نہیں کرے گی۔ اس لئے تدریج سے کام لیا۔ پہلے خادم اسلام مبلغ بنے۔ پھر مجدد ہوئے۔ پھر مہدی ہو گئے اور جب دیکھا کہ قوم میں ایسے بے وقوفوں کی کمی نہیں جو ان کے ہر دعویٰ کو مان لیں تو پھر کھلے بندوں، نبی، رسول، خاتم الانبیاء وغیرہ سبھی کچھ ہو گئے اور ہونہار مرد نے اپنے آخری دعویٰ (خدائی) کی بھی تمہید ڈال دی تھی۔ جس کی تصدیق عبارات مذکورہ نمبر ٢٦ لغایت نمبر ٣٠ سے بخوبی ہوتی ہے۔ لیکن قسمت سے عمر نے وفا نہ کی ورنہ مرزائی دنیا کا خدا بھی نئی روشنی اور نئے فیشن کا بن گیا ہوتا۔ خود مرزا صاحب کی عبارات ذیل اس تدریجی ترقی اور اس کے سبب ہمارے دعویٰ کی گواہ ہیں۔

(نصرۃ الحق المعروف براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٦٨) پر فرماتے ہیں۔

”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت ایک وحی الہی ایک مسیح موعود کا دعویٰ تھا ۔“ (اور پھر فرماتے ہیں) ”علاوہ اس کے اور مشکلات یہ معلوم ہوئیں کہ بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کرسکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی ہے۔“

2452 نیز حقیقت الوحی کی عبارت ذیل بھی خود اس تدریجی ترقی کی شاہد ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مرزا صاحب ختم نبوت کے قائل تھے اور اپنے کو نبی نہیں کہتے تھے۔ بعد میں ارزانی غلہ نے نبی بنا دیا۔

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

لے ”اگر کوئی مرزائی یہ ثابت کر دے کہ یہ عبارت مرزا صاحب کی نہیں ہے تو فی عبارت دس (١٠) روپے انعام۔“

٤٨

صفحہ ٢٢٩٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے، اور اگر کوئی امر میری فضیلت کے متعلق ظاہر ہوتا تھا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Prof. Ghafoor Ahmad)]

(اس موقع پر مسٹر چیئرمین نے صدارت چھوڑ دی اور پروفیسر غفور احمد نے صدارت سنبھال لی)

مولانا عبدالکریم : اس کے بعد ہم مرزا صاحب کے دعاوئ خود ان کی تصانیف سے معہ حوالہ صفحات نقل کرتے ہیں جو دعوے متعدد کتابوں اور مختلف مقامات میں موجود ہیں۔ بغرض اختصار عبارت تو ان میں سے ایک ہی نقل کر دی گئی ہے۔ باقی حوالہ صفحات درج کر دیئے گئے ہیں۔

مبلغ اسلام اور مصلح ہونے کا دعویٰ

”یہ عاجز مؤلف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جل شانہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ بنی اسرائیل مسیح کے طرز پر کمال مسکینی وفروتنی وغربت وتذلل وتواضع سے اصلاح خلق کے لئے کوشش کرے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٠)

2453 مجدد ہونے کا دعویٰ

”اب بتلاویں کہ یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھر وہ کون آیا جس نے اس چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے کیا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥٣، خزائن ج ٣ ص ١٧٩)

محدث ہونے کا دعویٰ

”اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر

٤٩

KISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نے اپنی تصانیف میں جو کچھ اپنے متعل مرزا صاحب انسان ہیں یا اینٹ پتھر ولی ہیں یا نبی ،فرشتے ہیں یا دیو‘۔

2451 مرزا

اس لئے دعویٰ کے ساتھ تک یہ بھی متعین نہیں کر سکتے کہ مرزا اپنے آپ کو کیا کہلانا چاہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ میں اختلاط کا دعویٰ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن سمجھے ک پہلے خادم اسلام،مبلغ بنے۔ پھر مجدد ہو وقوفوں کی کمی نہیں جو ان کے ہر دعویٰ سبھی کچھ ہو گئے اور ہونہار مرد نے ا تصدیق عبارات مذکورہ نمبر ٢٦ لغایت ورنہ مرزائی دنیا کا خدا بھی نئی روشنی ال اس تدریجی ترقی اور اس کے سبب ہما

(لجۃ الحق المعروف براہین

”میری دعوت کی مشکلات میں سے پھر فرماتے ہیں) ”علاوہ اس کے اور کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول ک کر سکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشر

2452 نیز حقیقت الوحی کی

صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مرزا ص بعد میں ارزانی غلہ نے نبی بنا دیا۔

١؎ ”اگر کوئی مرزائی یہ ثا دیں (١٠)روپے انعام۔“

صفحہ ٢٣٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠، ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

امام زمان ہونے کا دعویٰ

”میں لوگوں کے لئے تجھے امام بناؤں گا تو ان کا رہبر ہوگا۔“ (حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢، ضرورۃ الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥، کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٦)

مہدی ہونے کا دعویٰ

”اشتہار معیار الاخیار در ریویو آف ریلیجنز نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء ص ٢٧٠ وغیرہ۔ یہ دعویٰ مرزا صاحب کی اکثر تصانیف کے ٹائٹل پر بکثرت موجود ہے۔ اس لئے نقل عبارت کی حاجت نہیں۔“

2454 خلیفہ الٰہی اور خدا کا جانشین ہونے کا دعویٰ

”میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا۔“

(کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)

حارث مددگار مہدی ہونے کا دعویٰ

”واضح ہو کہ یہ پیشین گوئی جو ابو داؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حارث ماوراء النہر سے یعنی سمرقند کی طرف سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا۔ جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مؤمن پر واجب ہوگی۔ الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشین گوئی اور مسیح کے آنے کی پیشین گوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا۔ دراصل ان دونوں کا مصداق یہ یہی عاجز ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ١٤١)

نبی امتی اور بروزی وظلی یا غیر تشریعی ہونے کا دعویٰ

”اور چونکہ وہ محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس سے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٥، چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

نبوت و رسالت اور وحی کا دعویٰ

”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

٥٠

صفحہ ٢٣٠١

2301 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

"حق یہ ہے کہ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل 2455 اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ۔"

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

نیز یہی مضمون (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٧٧، حقیقت الوحی ص ١٠٢، ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥، ١١٠، انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ٦٢، حقیقت النبوت ص ١، حصہ ص ٢٠٩، ٢١٣) وغیرہ وغیرہ کتابوں میں بکثرت موجود ہے۔

اپنی وحی کے بالکل قرآن کے برابر واجب الایمان ہونے کا دعویٰ

"میں خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔"

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، ١٥١، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ٢٢٠)

سارے عالم کے لئے مدار نجات ہونے کا دعویٰ اور یہ کہ اپنی امت کے سوا

امت محمدیہ کے چالیس کروڑ مسلمانوں کا فرد جہنمی ہیں

"کفر دو قسم پر ہے ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام سے انکار کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کے باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارہ میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتاب میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ 2456 دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔"

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

"اور اس بات کو قریباً نو برس کا عرصہ گزر گیا۔ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیر مقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی۔"

(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)

اور فرماتے ہیں: "اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔"

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

یہی دعویٰ سیرت الابدال ص ٤١، انجام آتھم وغیرہ وغیرہ میں بھی مذکور ہے۔

٥١

صفحہ ٢٣٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مستقل تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ اور یہ کہ وہ احادیث نبویہ پر حاکم ہے

جس کو چاہے قبول کرے اور جس کو چاہے ردی کی طرح پھینک دے

”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ“

(اعجاز احمدی ص ١٧، خزائن ج ١٩ص ١١٣)

اس عبارت میں نبوت تشریعیہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہمارے رسول ﷺ اس آیت کے مصداق نہیں جو صریح کفر ہے (اور فرماتے ہیں) ”اگر یہ کہو کہ صاحب شریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعے چند امرونہی بیان کئے۔ وہ صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمؤمنین یغضوا من ابصار ھم ویحفظوا فروجھم 2457 ذالک ازکی لھم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر ٢٣ برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)

پھر فرماتے ہیں: ”چونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید بھی۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ٣٦) میں بھی یہ دعویٰ موجود ہے۔

”اور ہم اس کے جواب میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوے کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٥، خزائن ج ١٩ص ١٤٠)

اپنے لئے دس لاکھ معجزات کا دعویٰ

”اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ص ٥٠٣)

٥٢

صفحہ ٢٣٠٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اور (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) میں دس لاکھ معجزات شمار کئے ہیں۔

تمام انبیاء سابقین سے افضل ہونے کا دعویٰ اور سب کی توہین

”بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت 2458 کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔ اب چاہے کوئی قبول کرے چاہے نہ کرے۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

آدم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے ان کو اس کلام میں آدم علیہ السلام قرار دیا ہے۔ یٰا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ“

(براہین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ٧ ص ٣٠، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

ابراہیم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

”آیت واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیروکار ہوگا۔“

(براہین نمبر ٣ ص ٢٤، خزائن ج ٧ ص ٤٢١)

نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ، یعقوب علیہ السلام ہونے کا دعویٰ، موسیٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ، داؤد علیہ السلام ہونے کا دعویٰ، شیث علیہ السلام ہونے کا دعویٰ، یوسف علیہ السلام ہونے کا دعویٰ، اسحق علیہ السلام ہونے کا دعویٰ۔

”میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں۔ 2459 یعنی ظلی طور پر میں محمد اور احمد ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ٧٣، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦، ازالہ اوہام ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

یحییٰ علیہ السلام ہونے کا دعویٰ، اسماعیل علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

٥٣

صفحہ ٢٣٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

”اس خدا کی تعریف جس نے مجھے مسیح بن مریم بنایا۔“

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

یہ دعویٰ تو تقریباً سب ہی کتابوں میں موجود ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ اور ان کو مغلظات بازاری گالیاں

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)

”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشگوئی کیوں نام رکھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ حاشیہ)

”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ اور ان کی توہین

”اور خدائے تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

مریم علیہا السلام ہونے کا دعویٰ

”پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اس کے ظاہر کیا کہ اس مریم میں خدا کی طرف

٥٤

صفحہ ٢٣٠٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہو

”اس خدا کی تعریف جس نے مجھے مسیح بن مریم

(حقیق

یہ دعویٰ تو تقریباً سب ہی کتابوں میں موجود ہے

عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ اور

”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود

(ضمیم

”پس اس نادان 2460 اسرائیلی نے ان معمولی

(ضمی

”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے

نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ

”اور خدائے تعالیٰ میرے لئے اس کثرت زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہو

مریم علیہا السلام ہو

”پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اس

٥٤

2305 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

سے روح پھونکی گئی اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریمی مرتبہ عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہو گیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔“

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)

آنحضرت ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ

”یعنی محمد مصطفےٰ ﷺ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس نام محمد واحمد سے مسمیٰ ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

”بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت واخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢، بقیہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

2461 میں اکثر ان اوصاف کو اپنے لئے ثابت کیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے لئے مخصوص ہیں۔

ہمارے نبی ﷺ سے دعویٰ، افضل ہونے کا

”ہمارے رسول اکرم ﷺ کے معجزات کی تعداد صرف تین ہزار لکھی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

اور اپنے معجزات کی تعداد (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) پر دس لاکھ بتلائی ہے۔ ”لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان اتنکر“ اس کے لئے یعنی آنحضرت ﷺ کے لئے ایک چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔ (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) اس میں آپ ﷺ پر فضیلت کے دعوے کے ساتھ معجزہ شق القمر کا انکار اور توہین بھی ہے۔

میکائیل ہونے کا دعویٰ

”اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

خدا کے مثل ہونے کا دعویٰ

”اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کے مانند۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

٥٥

صفحہ ٢٣٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2462 اپنے بیٹے کے خدا کا مثل ہونے کا دعویٰ

”انا نبشرك بغلام مظهر الحق والعلٰى كان الله نزل من السماء“

(استفتاء ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٧٢)

خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ

”انت منى بمنزلة اولادى“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

اپنے اندر خدا کے اتر آنے کا دعویٰ

آپ کو الہام ہوا ”آواہن“ جس کی تفسیر (کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢) پر خود ہی یہ کرتے ہیں کہ ”خدا تیرے اندر اتر آیا۔“

خود خدا ہونا بحالت کشف اور زمین و آسمان پیدا کرنا

”اور میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہ ہی ہوں (پھر فرماتے ہیں) اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ (پھر فرماتے ہیں) اور اس حالت میں یوں کہہ رہا ہوں کہ ہم ایک نیا نظام اور نئی زمین چاہتے ہیں تو میں نے پہلے تو آسمان وزمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت 2463 کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔ ”اردت ان استخلفک فخلقت آدم...... انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم“ یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر ہوئے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً، کتاب البریہ ص ٧٩، خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)

مرزا جی میں حیض کا خون ہونا اور پھر اس کا بچہ ہو جانا

”منشی الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہوا۔ یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی ناپاکی اور پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اپنی متواتر نعمتیں جو تیرے پر ہیں دکھلاوے، اور خون حیض سے تجھے کیونکر مشابہت ہو اور وہ کہاں تجھ میں باقی ہے۔

٥٦

صفحہ ٢٣٠٧

قیمت فی شمارہ-/10 روپے مجلس تحفظ ختم نبوت ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2462 اپنے بیٹے کے خدا کا مثل ہ

”انا نبشرك بغلام مظهر الحق والعلى كان

خدا کا بیٹا ہونے کا دع

”انت منى بمنزلة اولادى“ (حاشی

اپنے اندر خدا کے اتر آن

آپ کو الہام ہوا ”آواہن“ جس کی تفسیر (کتا ہی یہ کرتے ہیں کہ ”خدا تیرے اندر اتر آیا۔“

خود خدا ہونا بحالت کشف اور زمی

”اور میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا ک ہوں (پھر فرماتے ہیں) اور اس کی الوہیت مجھ میں موج حالت میں یوں کہہ رہا ہوں کہ ہم ایک نیا نظام اور نئی زمی وزمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتی کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ می آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زينا السماء الدنيا بمصا کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت 2463 اور میری زبان پر جاری ہوا۔ ”اردت ان استخلفك فخل احسن تقويم“ یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف س (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایض

مرزا جی میں حیض کا خون ہونا اور ب

”منشی الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہو ہیں۔ یعنی ناپاکی اور پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہی جو تیرے پر ہیں دِکھلا دے، اور خونِ حیض سے تجھے کیونکر م

٥٦

2307 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 پاک تغیرات نے اس خون کو خوبصورت لڑکا بنا دیا اور وہ لڑکا جو اس خون سے بنا میرے ہاتھ سے پیدا ہوا۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤، ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

حاملہ ہونا

عبارت مذکورہ

(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥، کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

حجر اسود ہونے کا دعویٰ

الہام یہ ہے۔ ”یکے پائے من مے بوسید و من گفتم کہ حجر اسود منم۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

سلمانؓ ہونے کا دعویٰ

الہام ہوا۔ ”انت سلمان منی یا ذالبرکات۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ٥ نمبر ٤ بابت اپریل ١٩٠٦ء، تذکرہ ص ٦٠٣ بطبع سوم)

2464 کرشن ہونے کا دعویٰ

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١) ”آریہ قوم کہ لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں انتظار کرتے ہیں۔ وہ کرشن میں ہی ہوں۔“

آریوں کا بادشاہ ہونے کا دعویٰ

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢) ”اور یہ دعوے صرف میری طرف سے ہی نہیں بلکہ خدا نے بار بار مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“ چونکہ آریوں کا بادشاہ بننا ظاہری طور سے بھی آسان نہ تھا۔ اس لئے اس کے بعد الہام کی تفسیر یوں فرماتے ہیں ”اور بادشاہت سے مراد صرف آسمانی بادشاہت ہے۔“ یہ ہے اس عیار کی زنبیل جس کے چوالیس مظاہر آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین! (محمد شفیع دیوبندی)

توہین انبیاء علیہم السلام

یوں تو دعاوی مرزا کے زیر عنوان بعض حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن مشت نمونہ

٥٧

صفحہ ٢٣٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

از خروار چند اور حوالے بھی ملاحظہ کئے جائیں۔

مرزا جی نبی نہیں تو پھر کوئی بھی نبی نہیں ہوا

سے بڑھ کر دلائل اور صاف الفاظ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق موجود ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے اگر مسیح موعود نبی نہیں تو دنیا میں کوئی نبی ہوا ہی نہیں۔"

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ٢٠٠)

(مرزا جی) آیت "فلا یظھر علی غیبہ احداً الا من ارتضی من رسول " کا مصداق ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص ٢٠٢)

2465 انبیاء علیہم السلام کی سخت توہین

ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔"

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

مزید توہین انبیاء علیہم السلام

اور پیش گوئیاں ہیں تو اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت نہیں۔"

(بحوالہ تتمہ حقیقت النبوۃ مصنفہ مرزا محمود ص ٢٩٢)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت کلی

افضل اس لئے نہیں قرار دیا کہ آپ کو معلوم ہو گیا کہ غیر نبی، نبی سے افضل ہوتا ہے۔ بلکہ اس لئے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی وحی نے صریح طور پر نبی کا خطاب دیا اور وہ بارش کی طرح آپ پر نازل ہوئی اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ نے تریاق القلوب والے عقیدہ کو بدل دیا۔ کیونکہ آپ نے تریاق القلوب میں لکھا تھا کہ مسیح سے میں صرف جزوی فضیلت رکھتا ہوں اور بعد میں فرمایا کہ میں تمام شان میں اس سے بڑھ کر ہوں۔"

(حقیقت النبوۃ ص ١٧ حصہ اوّل)

٥٨

صفحہ ٢٣٠٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

از خروار چند اور حوالے بھی ملاحظہ کئے جائیں۔

مرزا جی نبی نہیں تو پھر کوئی بھی

سے بڑھ کر دلائل اور صاف الفاظ حضرت مسیح موعود کی نبوت ہوئے اگر مسیح موعود نبی نہیں تو دنیا میں کوئی نبی ہوا ہی نہیں ۔ (مرزا جی) آیت ”فلا یظھر علیٰ غیبہ مصداق ہے۔

2465 انبیاء علیہم السلام کی ت

ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر ہزار نبی پر بھی تق ثابت ہو سکتی ہے۔“

)

مزید توہین انبیاء علیہم

اور پیش گوئیاں ہیں تو اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت ہیں۔ بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور ن سے کچھ نسبت نہیں ۔“

)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

افضل اس لئے نہیں قرار دیا کہ آپ کو معلوم ہو گیا کہ غیر کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی وحی نے صریح طور پر نبی کا خطا ہوئی اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ نے تریاق القلوب تریاق القلوب میں لکھا تھا کہ مسیح سے میں صرف جزوی تمام شان میں اس سے بڑھ کر ہوں۔“

٥٨

2309 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

[At this stage Prof. Ghafoor Ahmad vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

(اس موقع پر پروفیسر غفور احمد نے صدارت چھوڑ دی جسے مسٹر چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

-------

2466 مولانا عبدالحکیم: حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے میری افضلیت پر اعتراض شیطانی وسوسہ ہے۔

آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے حضرت مسیح سے افضل ہونے پر اعتراض کرنا شیطانی وسوسہ ہے اور یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود نبی نہیں کہلا سکتے۔ خدا تعالیٰ سے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢١)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صریح توہین اور قرآن پر بہتان

نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٥ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ)

اس حوالے سے چند باتیں ثابت ہوئیں۔

ہے۔ وہ مرزا نے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی توہین کی ہے۔

الزامات کی تصدیق خود خدا تعالیٰ نے بھی کر دی ہے۔ ورنہ کسی پیغمبر پر غلط الزام کی تو خدا تعالیٰ صفائی کیا کرتے ہیں۔

٥٩

صفحہ ٢٣١٠

2310 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2467 جناب نبی کریم علیہ السلام کی توہین

گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولدلہ! یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ اس سے مراد وہ خاص ”تزوج“ ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

مرزا غلام احمد قادیانی کو محمدی بیگم کی محبت نے اندھا بہرا کر دیا تھا۔ اس نے سرور عالم ﷺ کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی کہ گویا حضور ﷺ نے بھی محمدی بیگم کے نکاح کی طرف اشارہ کیا تھا۔ کیا حضور ﷺ یہ اشارہ کر رہے تھے کہ محمدی بیگم مرزا صاحب کے نکاح میں آئے گی؟ اور یہ نہ جانتے تھے کہ وہ کبھی نہ آئے گی۔ (معاذ اللہ)

قرآن میں مرزا کا نام احمد ہے

جو آیت ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد “ سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٨)

یلحقوا بھم“ کی آیت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ کے بعث بتائے گئے۔ پس ضروری ہے کہ دوسرا بعث بھی رسالت کے ساتھ ہو۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٩)

----------

2468 مرزا جی کی اخلاقی حالت

صریح اور مغلظ گالیاں

٦٠

صفحہ ٢٣١١

2311 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑ دو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا، وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

میرے مخالف جنگل کے سور ہیں

جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ کر ہیں۔“ (نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

مولوی سعد اللہ کی نسبت

ارٰی رجیلا فاسقا غولا لعینا نطفۃ السفھاء“ اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے۔ سفیہوں کا نطفہ۔

”شخص خبیث مفسد ومزور نحس يسمی السعد فی الجھلاء“ بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا منحوس ہے۔ جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔

”اذیتنی خبیثا فلست بصادق ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاء“ تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دکھ پہنچایا ہے۔ پس میں سچا نہیں ہوں گا۔ اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو۔ اے نسل بدکاراں۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥، ٤٣٦)

2470 میرے مخالف کنجریوں کی اولاد ہیں

ويقبلنی ويصدق دعوتی الا ذرية البغايا“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ

٦١

EMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2467 جناب نبی کریم علیہ

گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولدلہ! یعنی وہ مسیح موعود اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقص ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلک نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے۔ جس گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ا فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

مرزا غلام احمد قادیانی کو محمدی بیگم کی محبت عالم ﷺ کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی کہ گویا حضو اشارہ کیا تھا۔ کیا حضور ﷺ یہ اشارہ کر رہے تھے کہ محم اور یہ نہ جانتے تھے کہ وہ کبھی نہ آئے گی۔ (معاذ اللہ)

قرآن میں مرزا کا

جو آیت ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے۔“

بلحقوا بھم“ کی آیت ہے۔ جس میں آنحضرت کہ دوسرا بعث بھی رسالت کے ساتھ ہو۔“

2468 مرزا جی کی اخ

مرصع اور مغلظ

٦٠

صفحہ ٢٣١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ سوائے کنجریوں کی اولاد کے۔“

اے مردار خور مولویو اور گندی روحو

”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں....... دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو! اور گندی روحو! تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو....... سو تم جھوٹ مت بولو اور وہ نجاست نہ کھاؤ جو عیسائیوں نے کھائی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

چور، قزاق، حرامی

”ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانے کے مولویوں کے فتوؤں پر نظر ڈالتے ہیں۔ جنہوں نے عام طور پر مہریں لگادی تھیں۔ جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہتے تھے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے جن میں نہ رحم تھا نہ عقل، نہ اخلاقانہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا۔ اس کا نام جہاد رکھا۔“

(حاشیہ ازالۃ الاوہام ص ٢٣، خزائن ج ٣ ص٤٩٠)

2471 حرامی، بدکار

”اس گورنمنٹ...... اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یادرہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا یہ مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہ ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت (یعنی گورنمنٹ برطانیہ) کی جس نے امن قائم کیا ہو۔“

(شہادۃ القرآن ص ١، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠، گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٣)

٦٢

2313 NATIONAL ASSEM

عداللہ مردان جنگ کی طرح پھٹکی دکھائے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)

ن کی نسبت

سیر ہر آنم
ست در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

اور تمہارا اور صرف حسینؓ ہے۔ کیا تو انکار کرتا شبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤)

فرق ہے مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور اب تک تم روتے ہو پس یاد کرلو۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

یٰ کی نسبت

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

نا احمد علی سہارنپوری، مولانا عبدالحق دہلویؒ، روئی کی نسبت

نجی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح ت تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی۔ پس کے ساتھ بات کی ہے۔“ میں نے جھوٹ بنایا ہے۔ پس جان کہ میرا

قیمت فی شمارہ -/10 روپے قومی اسمبلی مباحث

صفحہ ٢٣١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مولوی سعد اللہ

”اے عورتوں کے عار، ثناء اللہ کب تک مردان جنگ کی طرح پھٹکی دکھائے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٣، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

حضرت امام حسینؓ کی نسبت

کربلا ایست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا درد صرف حسینؓ ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٢)

”اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے مگر حسین۔ پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک تم روتے ہو پس یاد کرلو۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی نسبت

”اندھا شیطان اور گمراہ دیو۔“

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

²⁴⁷² (اسی کے ساتھ مولوی نذیر حسینؒ، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ، مولانا عبدالحق دہلویؒ، محمد حسن امروہویؒ پر بھی مذکور کتاب میں تبرا کیا ہے)

پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کی نسبت

نیش زن۔ پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔“

٦٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا

اے مردار خور مولویو اور گند

”بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر ا جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپا روحو! تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کے کیڑو...... سو تم جھوٹ مت بولو اور وہ نجاست نہ کھاؤ جو جی

چور، قزاق، حرا

”ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس ڈالتے ہیں۔ جنہوں نے عام طور پر مہریں لگادی تھیں۔ ج بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ کیسے مولوی تھے اور ک عقل، نہ اخلاقا نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا۔ اس کا نام جہاد رکھا۔“ (ح

²⁴⁷¹ حرامی، بدک

”اس گورنمنٹ...... اس گورنمنٹ سے جہا سوال ان کا نہایت حماقت ہے۔ کیونکہ جس کے احسانا اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخ ہے۔ سو میرا یہ مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں ی خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت (یعنی

(شہادۃ القرآن ص ١، خزائن

٦٢

صفحہ ٢٣١٤

2314 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

دامن جھوٹ سے پاک ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٧٥، ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨، ١٨٩)

شیعہ عالم، علی حائری کی نسبت

”میں تمہیں حیض والی عورت کی طرح دیکھتا ہوں۔ نہ اس عورت کی طرح جو حیض سے پاک ہوتی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ١٨٠)

2473 مسلمانوں سے بائیکاٹ

”حضرت مسیح موعود کا حکم ہے اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔“

(برکات خلافت ص ٧٥)

”ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کی طرح غیر احمدی بچوں کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے ٢؎“

(انوار خلافت ص ٩٣، ملائکۃ اللہ ص ٤٦)

نوٹ! یہ محضر نامہ جو مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی طرف سے مولانا عبدالحکیم صاحب نے ٣١؍ اگست ١٩٧٤ء کو قومی اسمبلی میں پڑھا۔ ”مرزا کی گالیاں بحروف تہجی“ اس محضر نامہ کا حصہ تھا۔ مگر یہ اسمبلی میں پڑھی نہ گئیں۔ البتہ کتاب میں موجود تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومت پاکستان نے جو پہلا ایڈیشن اس کاروائی کا شائع کیا ہے۔ سرکاری مطبوعہ کاروائی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی ٣١؍ اگست کی کاروائی صفحہ ٢٢٧٤ سے ٢٣٧٩ پر اس کتاب میں شائع شدہ ہیں۔ ابجد کے حساب سے مرزا کی گالیاں تو نقل کیں، مگر حوالہ جات درج نہ تھے۔ جہاں سے مولانا نے اپنی کتاب میں گالیوں کے چیپٹر کو لیا، انہوں نے مختصر لیا۔ ہم نے مکمل لے کر آگے حوالہ جات لگا دیئے، تاکہ جناب مرزا صاحب کے ”حسن کلام“ کا مکمل نمونہ ریکارڈ پر آجائے۔ مرتب!

٦٤

2315 NATIONAL AS

لیاں

ہجی

(ایام الصلح ص ٨٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٠)

(ایام الصلح ص ٨٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٢)

(ایام الصلح ص ١٠٢، خزائن ج ١٤ ص ٣٤١)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٣، خزائن ج ١١ ص ٣٤٧)

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

(انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٥٩)

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

صفحہ ٢٣١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2474مرزا جی کی گالیاں

2475بحساب حروف تہجی

الف

”اے زورنج۔“

(ایام الصلح ص ٨٤، خزائن ج ١٤ص ٣٢٦)

”اے حاسد۔“

(ایام الصلح ص ٨٦، خزائن ج ١٤ص ٣٢٢)

”اے بدقسمت، بدگمانو۔“

(ایام الصلح ص ١٠٣، خزائن ج ١٤ص ٣٤١)

”اے مردار خور مولویو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”اندھیرے کے کیڑو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”اندھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦)

”اے اندھو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)

”اے بدذات۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)

”اے خبیث۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)

”اے پلید دجال۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”ان احمقوں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”اے نادانو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”آنکھوں کے اندھو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”اسلام کے عار۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

”احمق۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)

”اس نابکار۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

”او میرے مخالف۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٣، خزائن ج ١١ ص ٣٤٧)

”اے بدذات فرقہ۔“

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

”اعداء الاعداء۔“

(انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٥٩)

”امام المستکبرین۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

٦٥

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

دامن جھوٹ سے پاک ہے۔

بے قرار تھا۔

دلیری کرتا ہے۔

تو ہین کرتے اور گالیاں دیتے اور کافر کہتے ہیں۔“

شیعہ عالم، علی حا

”میں تمہیں حیض والی عورت کی طر پاک ہوتی ہے۔“

2473مسلمانو!

”حضرت مسیح موعود کا حکم ہے اور ذ دے۔ اس کی تعمیل بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے ”ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچو چاہیئے۔“

١؎ نوٹ ! یہ محضر نامہ جو مولانا غلام غو ٣١؍ اگست ١٩٧٤ء کو قومی اسمبلی میں پڑھا۔ ”م یہ اسمبلی میں پڑھی نہ گئیں۔ البتہ کتاب میں مو پہلا ایڈیشن اس کاروائی کا شائع کیا ہے ٣١؍ اگست کی کاروائی صفحہ ٢٢٧٤ سے ٢٣٧٩ پ مرزا کی گالیاں تو نقل کیں۔ مگر حوالہ جات در کے چیپٹر کو لیا، انہوں نے مختصر لیا۔ ہم نے مرزا صاحب کے ”حسن کلام“ کا مکمل نمونہ د

صفحہ ٢٣١٦

2316 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 ”اعمیٰ۔“

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

”اغویٰ۔“

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

”الانعام۔“

(انجام آتھم ص ٢٦٥، خزائن ج ١١ ص ٢٦٥)

”استخوان فروش۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨، خزائن ج ٥ ص ٣٠٨)

”اے بدبخت قوم۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٤٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

”اے سست ایمانو۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٤٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

”اُلّو۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٦٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢)

”ایہا الغویٰ۔“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣٨، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩)

”ایمان و دیانت سے عاری۔“

(نور الحق ج ١ ص ٣، خزائن ج ٨ ص ٥)

”اس فرومایہ۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

”اے دیو۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٩)

”ان شریروں۔“

(الہدیٰ والتبصرہ ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٠)

”آگ کے لا دو شوؤ۔“

(الہدیٰ والتبصرہ ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٦١)

”اے دروغ گو۔“

(نور الحق ج ١ ص ٨٩، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

”اِبلہ۔“

(چشمہ معرفت ج ١ ص ٣، خزائن ج ٢٣ ص ١١)

”اے مردار۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”اے احمق۔“

(اشتہار انعامی ص ١٣، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨)

”اسلام کے دشنمو۔“

(اشتہار انعامی ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

”ابولہب۔“

(ضیاء الحق ص ٣٣، خزائن ج ٩ ص ٢٩٢)

”اسلام کے عار۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٤، خزائن ج ٨ ص ٣٠٤)

”امام الفتن۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٤، خزائن ج ٨ ص ٣٠٣)

”اوّل درجہ کا متکبر۔“

(ست بچن ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ١٢١)

”انسانوں سے بدتر پلید تر۔“

(ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٤)

”اسلام کے دشمن۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”اسلام کے بدنام کرنے والے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

”اے بدبخت مفتریو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

٦٦

2317 NATIONAL ASSEM

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

(انجام آتھم ص ٢٤٤، خزائن ج ١١ ص ٢٤٤)

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦، خزائن ج ٥ ص ٣٠٦)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠١، خزائن ج ٥ ص ٦٠١)

(آئینہ کمالات اسلام ص دال، خزائن ج ٥ ص ٦٠١)

(آئینہ کمالات اسلام ص دال، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨)

(ازالہ اوہام ج ١ ص ٥، خزائن ج ٣ ص ١٠٥)

(ازالہ اوہام ص ٤٩، خزائن ج ٣ ص ١٥٧)

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣ ، ٢٧، خزائن ج ٢١ ص ١٦٦)

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٣)

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٦٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢)

(مواہب الرحمٰن ص ١٣١، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢)

(مواہب الرحمٰن ص ١٣٨، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩)

ہتہ ۔“

(نور الحق ج ٢ ص ٣، خزائن ج ٨ ص ٧)

(اعجاز احمدی ص ٥٧، خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)

(الہدیٰ والتبصرہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٣)

(انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

(ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٤)

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

(ایام الصلح ص ٨٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٠)

قیمت فی شمارہ-/10 روپے مجلس تحفظ ختم نبوت غالی عقائد کی

صفحہ ٢٣١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”اے ظالم۔“

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

”ایھا المکذبون الضالون“

(انجام آتھم ص ٢٢٤، خزائن ج ١١ ص ٢٢٤)

”اے شیخ احمقاں۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”ایھا الشیخ الضال“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”اے بدقسمت انسان۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦، خزائن ج ٥ ص ٣٠٦)

”اوّل درجہ کے کاذب۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠١، خزائن ج ٥ ص ٦٠١)

”اے اس زمانہ کے ننگ اسلام۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص دال، خزائن ج ٥ ص ٦٠١)

”اے کوتاہ نظر۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص دال، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨)

”اے نفسانی۔“

(ازالۃ الاوہام ج ١ ص ٥، خزائن ج ٣ ص ١٠٥)

”اے خنک۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٤٩، خزائن ج ٣ ص ١٥٧)

”اے اندھے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣، ٢٧، خزائن ج ٢١ ص ١٦٦)

”اے دیوانہ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٤)

”اے دروغ آراستہ کرنے والے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٦٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢)

”اے غبی۔“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣١، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢)

”اے مسکین۔“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣٨، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩)

”انسانیت کے پیرایہ سے بے بہرہ اور برہنہ۔“

(نور الحق ج ١ ص ٣، خزائن ج ٨ ص ٤)

”اغوا کرنے والے محمد حسین۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)

”اکثر ہار۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٣)

”اے بے ایمانوں۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

”اندھے پادریوں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

ب، پ

”پلید ملاؤں۔“

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

”پلید جاہلوں۔“

(ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٤)

”پلید طبع مولوی۔“

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

”بد اخلاقی اور بدظنی میں غرق ہونے والو۔“

(ایام الصلح ص ٨٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٤٠)

٦٧

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”احمق۔“

(انجا

”اغویٰ۔“

(انجا

”الانعام۔“

(انجا

”استخوان فروش۔“

(آئینہ کمالات

”اے بدبخت قوم۔“

(براہین احمدیہ

”اے سست ایمانو۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ

”اُلو۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ

”ایھا الغویٰ۔“

(مواہب

”ایمان و دیانت سے عاری۔“ ”اس فرومایہ۔“

(اعجا

”اے دیو۔“

”ان شریروں۔“

(الہدیٰ

”آگ کے لاڈلو۔“

(الہدیٰ

”اے دروغ گو۔“

(

”ابلہ۔“

(چشمہ

”اے مردار۔“

(ضمیمہ

”اے احمق۔“

(اشتہار انعا

”اسلام کے دشمنو۔“

(اشتہار انعا

”ابولہب۔“ ”اسلام کے عار۔“ ”امام الفتن۔“ ”اوّل درجہ کا متکبر۔“ ”انسانوں سے بدتر پلیدتر۔“

”اسلام کے دشمن۔“

(ضمیمہ انجا

”اسلام کے بدنام کرنے والے۔“

(ضمیمہ

”اے بدبخت مفتریو۔“

(ضمیمہ

٦٦

صفحہ ٢٣١٨

عالمی مجلس تحفظ

قیمت فی کارڈ 10/- روپے

2318 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 2319 NATIONAL ASSEMB

(حقیقت الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٢)

(حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥)

(شہادۃ القرآن ص ١٠، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

(نور الحق ج ا ص ٣، خزائن ج ٨ ص ٥)

(اعجاز احمدی ص ٢٩، خزائن ج ١٩ ص ١٥٠)

(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٤)

(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

(کرامات الصادقین ص ١٣، خزائن ج ٧ ص ٤٥)

(کرامات الصادقین ص ١٣، خزائن ج ٧ ص ٤٥)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

(انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ١٨)

(انجام آتھم ص ٣٦، خزائن ج ١١ ص ٣٦)

(انجام آتھم ص ٢٠٤، خزائن ج ١١ ص ٢٠٤)

(ضیاء الحق ص ٣٨، خزائن ج ٩ ص ٣٠٠)

(نور الحق ج ا ص ٦٢، خزائن ج ٨ ص ٨٨)

(انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

(رسالۃ جج ص ٨٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥)

(ضیاء الحق ص ٣٨، خزائن ج ٩ ص ٣٠٠)

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٣٢)

(اتمام الحجۃ ص ٢٦، خزائن ج ٨ ص ٣٠٦)

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

(حقیقت الوحی ص ٢٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠١)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٤)

”بدقسمت بدگمانو۔“ (ایام الصلح ص ١٠٣، خزائن ج ١٤ ص ٣٤١)

”بدتر۔“ (ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

”پلیدتر۔“ (ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

”پلید ملاؤں۔“ (ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

”پلید دل۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

”بے ایمانی بددیانتی۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ١٠، خزائن ج ١١ ص ٢٩٤)

”بدبخت۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ١١، خزائن ج ١١ ص ٢٩٥)

”بے وقوف اندھے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦ حاشیہ)

”بے ایمان اور اندھے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦ حاشیہ)

”بدذات۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)

”پلید دجال۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”بے نصیب۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)

”بے بہرہ۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)

”بدگوہر۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”بے وقوفوں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”بندروں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”باطل پرست بطالوی۔“ (انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٥٩ حاشیہ)

”بطال۔“ (انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”بدذات۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

”بیہودہ۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١، خزائن ج ٥ ص ٣٠١)

”پلید آدمی۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨، خزائن ج ٥ ص ٣٠٨)

”بے چارہ۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠، خزائن ج ٥ ص ٦٠٠)

”بدقسمت ایڈیٹر۔“ (نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠)

”بے حیا۔“ (نزول المسیح ص ٦٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٠)

”پاگل۔“ (نزول المسیح ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢)

”پربدعت زاہدو۔“ (ازالۃ اوہام ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٥٧)

٦٨

صفحہ ٢٣١٩

2319 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”بدمعاش، بدذاتی، بے ایمانی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٢)

”بدگو۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥)

”بدکار آدمی۔“

(شہادۃ القرآن ص ١٠، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

”بدہند۔“

(نورالحق ج ١ ص ٣، خزائن ج ٨ ص ٥)

”بھیڑیے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٩، خزائن ج ١٩ ص ١٥٠)

”پلنگ۔“

(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٤)

”بچھو۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

”بے حیاء۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

”بالکل جاہل۔“

(کرامات الصادقین ص ٣، خزائن ج ٧ ص ٤٥)

”بالکل بے بہرہ۔“

(کرامات الصادقین ص ٣، خزائن ج ٧ ص ٤٥)

”پلیدوں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

”بے باک اور بے شرم۔“

(انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ١٨)

”پلید فطرت۔“

(انجام آتھم ص ٣٦، خزائن ج ١١ ص ٣٦)

”بد اطوار۔“

(انجام آتھم ص ٢٠٤، خزائن ج ١١ ص ٢٠٤)

”بخیل۔“

(ضیاء الحق ص ٢٨، خزائن ج ٩ ص ٣٠٠)

”بد خلق۔“

(نور الحق ج ١ ص ٦٤، خزائن ج ٨ ص ٨٨)

”بے ایمانوں“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

”بے عزتوں۔“

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥)

”بخیل طبع۔“

(ضیاء الحق ص ٢٨، خزائن ج ٩ ص ٣٠٠)

”بدبخت۔“

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

”بڑا خبیث۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٣٣)

”بخیلوں۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٦، خزائن ج ٨ ص ٣٠٦)

”بدبخت جھوٹوں۔“

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

”بے راہ۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠١)

”بے خوف۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٢)

٦٩

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”بدقسمت بدگمانو۔“

”بدتر۔“

”پلیدتر۔“

”پلید ملاؤں۔“

”پلید دل۔“

”بے ایمانی بددیانتی۔“

”بدبخت۔“

”بے وقوف اندھے۔“

(ضمیمہ انجا

”بے ایمان اور اندھے۔“

(ضمیمہ انجا

”بدذات۔“

(نجم

”پلید دجال۔“

(نجم

”بے نصیب۔“

(نجم

”بے بہرہ۔“

(نجم

”بد گوہر۔“

(نجم

”بے وقوفوں۔“

(نجم

”بندروں۔“

(نجم

”باطل پرست بطالوی۔“

(نجم

”بطال۔“

”بدذات۔“

”بیہودہ۔“

(آئینہ

”پلید آدمی۔“

(آئینہ

”بے چارہ۔“

(آئینہ

”بدقسمت ایڈیٹر۔“

”بے حیا۔“

”پاگل۔“

”پربدعت زاہدو۔“

٦٨

صفحہ ٢٣٢٠

قیمت فی فارم -/10 روپے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ت

”تفقہ سے سخت بے بہرہ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨، خزائن ج ٥ ص ٣٠٨)

”تجھ سے زیادہ بد بخت کون۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٧٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٥)

”تو صبح کو الو کی طرح اندھا ہو جاتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٦٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢)

”تو ملعون۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

”تجھ پر ویل۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

”تکبر کا کیڑا۔“

(کرامات الصادقین ص ٢١، خزائن ج ٧ ص ٦٣)

”تمہاری ایسی تیسی ہے۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٠)

”تکفیر کا بانی۔“

(دافع البلاء ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨)

”تقویٰ و دیانت سے دور۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٧)

”تزویر و تلبیس۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

ث 2476

”ثناء اللہ کو علم اور ہدایت سے ذرہ مس نہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٥)

”ثناء اللہ تجھے جھوٹ کا دودھ پلایا گیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٥١، خزائن ج ١٩ ص ١٦٣)

ج ، چ

”جاہل۔“

(ایام الصلح ص ١١٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٤)

”چارپائے ہیں نہ آدمی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٠، خزائن ج ١١ ص ٢٩٤)

”جاہل سجادہ نشین۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦)

”جہلاء۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦)

”جھوٹے۔“

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

”جنگل کے وحشی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)

”جھوٹا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

”جارغوی۔“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ٢٣١)

٧٠

2321 NATIONAL ASSEM

(انجام آتھم ص ٢٥٤، خزائن ج ١١ ص ٢٥٤)

(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

(نور الحق ج ١ ص ٤٨، خزائن ج ٨ ص ٦٦)

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

(کرامات الصادقین ص ٢٢، خزائن ج ٧ ص ٦٥)

(آسمانی فیصلہ ص ٣١، خزائن ج ٤ ص ٣٤١)

(نور الحق ص ٨٩، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

(آریہ دھرم ص ١٢، خزائن ج ١٠ ص ١٦)

(ضیاء الحق ص ٣٥، خزائن ج ٩ ص ٢٩٦)

(اتمام الحجۃ ص ٢٦، خزائن ج ٨ ص ٣٠٦)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٠٢، خزائن ج ٥ ص ٢٠٢)

(نزول المسیح ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٧)

صفحہ ٢٣٢١

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قیمت فی شمارہ -/10 روپے

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ت

”تجھ سے سخت بے بہرہ۔“ ”تجھ سے زیادہ بد بخت کون۔“

(ضمیمہ

”تو صبح کو الو کی طرح اندھا ہو جاتا ہے۔“

(ضمیمہ

”تو ملعون۔“ ”تجھ پر ویل۔“ ”تکبر کا کیڑا۔“ ”تمہاری ایسی تیسی ہے۔“

(اشتہا

”تکفیر کا بانی۔“ ”تقویٰ و دیانت سے دور۔“ ”تزویر و تلبیس۔“

2476

”ثناء اللہ کو علم اور ہدایت سے ذرہ مس نہیں“ ”ثناء اللہ تجھے جھوٹ کا دودھ پلایا گیا“

ج،

”جاہل۔“ ”چارپائے ہیں نہ آدمی۔“ ”جاہل سجادہ نشین۔“ ”جہلاء۔“ ”جھوٹے۔“ ”جنگل کے وحشی۔“ ”جھوٹا۔“ ”خارجی۔“

”جاہلین“

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

”جانور“

(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

”جاہل مخالف“

(نور الحق ج ١ ص ٤٨، خزائن ج ٨ ص ٦٦)

”جنگلوں کے غول“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

”جال باز“

(کرامات الصادقین ص ٢٢، خزائن ج ٧ ص ٦٥)

”جلد باز مولویوں“

(آسمانی فیصلہ ص ٣١، خزائن ج ٤ ص ٣٤١)

”جنگ جو“

(نور الحق ص ٨٩، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

”چوروں“

(آریہ دھرم ص ١٢، خزائن ج ١٠ ص ١٢)

”جاہل اخبار نویس“

(ضیاء الحق ص ٣٥، خزائن ج ٩ ص ٢٩٦)

”چالاک حاسدوں“

(اتمام الحجۃ ص ٢٦، خزائن ج ٨ ص ٣٠٦)

”جھوٹ کا گوہ کھایا“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)

”جاہلوں“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٠٢، خزائن ج ٥ ص ٢٠٢)

”جھوٹ بولنے کا سرغنہ“

(نزول المسیح ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٧)

ح

”حاسد“

(ایام الصلح ص ٨٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٢)

”حرامی“

(شہادۃ القرآن ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

”حرام زادہ“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣٦)

”حرامی لڑکے“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٦)

”حق پوش“

(شہادۃ القرآن ص ٦، خزائن ج ٦ ص ٣٨٣)

”حیوانات“

(اعجاز احمدی ص ٢٢، خزائن ج ١٩ ص ١٣١)

”حاسدوں“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٣)

”حریص“

(نور الحق ج ١ ص ٦٤، خزائن ج ٨ ص ٨٨)

”حرص کے جنگل کے شیطان“

(نور الحق ج ١ ص ٨٩، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

”حرص کی وجہ سے مکار“

(نور الحق ج ١ ص ٩٢، خزائن ج ٨ ص ١٢٣)

”حلال زادہ نہیں“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

٧١

صفحہ ٢٣٢٢

2322 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”حاطب اللیل ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠، خزائن ج ٥ ص ٦٠٠)

”حق کے مخالف ۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٥، خزائن ج ٨ ص ٣٠٤)

خ

”خبیث طبع ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ حاشیہ)

”خنزیر سے زیادہ پلید ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”خبیث طبع ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”خالی گدھے ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)

”خشک زاہد ۔“

(ازالہ اوہام ج ١ ص ٥، خزائن ج ٣ ص ١٠٥)

”خشک ملاؤں ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٢٤، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٠)

”خبیث نفس ۔“

(شہادۃ القرآن ص ٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢ حاشیہ)

”خون پسند ۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

”خیانت پیشہ ۔“

(آریہ دھرم ص ١٢، خزائن ج ١٠ ص ١٢)

”خبیث طینت ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)

”خبیث فرقہ ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

”خناسوں ۔“

(انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ١٧)

”خسیس ابن خسیس“

(نور الحق ج ١ ص ٦٤، خزائن ج ٨ ص ٨٧)

”خراب عورتوں اور دجال کی نسل ۔“

(نور الحق ص ١٢٤، خزائن ج ٨ ص ١٦٣)

”خبیث النفس ۔“

(ضیاء الحق ص ٩، خزائن ج ٩ ص ٢٥٩)

”خودغرض مولویوں ۔“

(ضیاء الحق ص ٢٢، خزائن ج ٩ ص ٢٧٨)

”خبیث القلب ۔“

(انوار الاسلام ص ٢١، خزائن ج ٩ ص ٢٣)

”خشک دماغ ۔“

(ست بچن ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ١٢١)

”خدا کا ان مولویوں پر غضب ہوگا ۔“

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

”خسر الدنیا والآخرۃ ۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٥، خزائن ج ٨ ص ٣٠٤)

”خبیث فطرت ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٥)

”خشک معلم ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢، خزائن ج ٥ ص ٦١١)

٧٢

2323 NATIONAL

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

جام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

میمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

ر انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

مہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

(انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ١٩٨)

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

ئینہ کمالات اسلام ص ٥، خزائن ج ٥ ص ٦١٠)

(نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠)

(نزول المسیح ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢)

حمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٣، خزائن ج ٢١ ص ٣١١)

حمدیہ حصہ پنجم ص ١٤٢، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

شہادۃ القرآن ص ٧، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢)

(شہادۃ القرآن ص ٨، خزائن ج ٦ ص ٣٨٣)

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٩)

البشریٰ ص ٨٦ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ٣٠٨)

م کلاس ج ٢ ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)

نور الدھر ص ٩٦، خزائن ج ١٨ ص ٣٧٦)

(استفتاء اردو ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

فتاء اردو ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ١٣٥)

یام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

(انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٤٧)

(نور الحق ج ١ ص ٨٨، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

صفحہ ٢٣٢٣

قیمت فی شمارہ -/10 روپے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”حاطب اللیل۔“

”حق کے مخالف۔“

خ :

”خبیث طبع۔“

”خنزیر سے زیادہ پلید۔“

”خبیث طبع۔“

”خالی گدھے۔“

”خشک زاہد۔“

”خشک ملاؤں۔“

”خبیث نفس۔“

”خون پسند۔“

”خیانت پیشہ۔“

”خبیث طینت۔“

”خبیث فرقہ۔“

”خناسوں۔“

”خسیس ابن خسیس“

”خراب عورتوں اور دجال کی نسل۔“

”خبیث النفس۔“

”خود غرض مولویوں۔“

”خبیث القلب۔“

”خشک دماغ۔“

”خدا کا ان مولویوں پر غضب ہوگا۔“

”خسر الدنیا والآخرۃ۔“

”خبیث فطرت۔“

”خشک معلم۔“

٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

د، ذ

”ذلیل۔“

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

”دل کے مجذوم۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”دشمن۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”دجال۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”دشمن اللہ و رسول۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

”ذلت کے سیاہ داغ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”دیانت و دین سے دور۔“

(انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ١٩٨)

”دشمن عقل و دانش۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”دشمن انصار دین۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ١٠، خزائن ج ٥ ص ٦١٠)

”دروغ گو۔“

(نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠)

”دیوانہ۔“

(نزول المسیح ص ٧٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٢)

”دنیا کے کیڑے ۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١١)

”دلوں کے اندھو۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٤٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

”دروغ گو مخبر۔“

(شہادۃ القرآن ص ١٠، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢)

”دورنگی اختیار کرنے والا۔“

(شہادۃ القرآن ص ١٠، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢)

”دیو۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٩)

”دابۃ الارض علماء السوء۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٨٦ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ٣٠٨)

”دابۃ الارض۔“

(ازالۃ اوہام کلاں ج ٢ ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)

”ذناب۔“

(الہدیٰ والتبصرہ ص ٩٦، خزائن ج ١٨ ص ٣٤٦)

”دنیا کے کتے۔“

(استفتاء اردو ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

”دشمن حق۔“

(استفتاء اردو ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ١٣٥)

”ذریت شیطان۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

”دجال اکبر۔“

(انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٤٧)

”دشنام دہ۔“

(نور الحق ج ١ ص ٨٨، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

٧٣

صفحہ ٢٣٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”دل کے اندھے۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ حاشیہ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨)

”دجال کے ہمرائیو۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ حاشیہ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

”دیوثوں۔“

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥)

”دنیا پرست۔“

(ضیاء الحق ص ٢٧، خزائن ج ٩ ص ٢٨٥)

”دین فروش۔“

(ضیاء الحق ص ٢٧، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)

”دیوانہ درندوں۔“

(ضیاء الحق ص ٣٥، خزائن ج ٩ ص ٢٩٦)

”ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

”درندہ طبع۔“

(الہدیٰ والتبصرہ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٥)

”دجال فریب۔“

(انجام آتھم ص ٢٠٤، خزائن ج ١١ ص ٢٠٤)

”دروغ آراستہ کرنے والے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٦٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢)

”دل کے اندھے۔“

(اشتہار انعام تین ہزار ص ٥ حاشیہ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨)

”دجال کینہ۔“

(انجام آتھم ص ٢٠٦، خزائن ج ١١ ص ٢٠٦)

ر، ز

”زاغ و زغن۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣)

”زیادہ پلید۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”رئیس الدجالین۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”رئیس المعتدین۔“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ٢٣١)

”رأس الغاوین۔“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ٢٣١)

”رئیس المصلفین۔“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”رنڈیوں کی اولاد۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨)

”رئیس المتکبرین۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ٥٩٩)

”زود رنج۔“

(ایام الصلح ص ٨٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٠)

”زمانہ کے ظالم۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”زمانہ کے بدذات۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١٦، خزائن ج ٥ ص ٢١٦ حاشیہ)

”رسول اللہ کے دشمن۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ١١١، خزائن ج ٥ ص ١١١)

٧٤

صفحہ ٢٣٢٥

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

عالمی مجلس

OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”دل کے اندھے۔“

(اشتہـ

”دجال کے ہمرائیو۔“

(اشتہـ

”دیوثوں۔“

”دنیا پرست۔“

”دین فروش۔“

”دیوانہ درندوں۔“

”ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق“

”درندہ طبع۔“

”دجال فریب۔“

”دروغ آراستہ کرنے والے۔“

”دل کے اندھے۔“

(اشـ

”دجال کمینہ۔“

”ژاژ خاء۔“

”زیادہ پلید۔“

”رئیس الدجالین۔“

”رئیس المعتدین۔“

”رأس الغاوین۔“

”رئیس المصلفین۔“

”رنڈیوں کی اولاد۔“

”رئیس المتکبرین۔“

”زودرنج۔“

”زمانہ کے ظالم۔“

”زمانہ کے بدذات۔“

”رسول اللہ کے دشمن۔“

2325 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”زمانہ کے ننگ اسلام۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨)

”زیادہ بدبخت۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٧٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٥)

”روحانیت سے بے بہرہ۔“

(ضمیمہ استفتاء اردو ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ١٠٨)

س، ش

”شیطان۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

”شتر مرغ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

”شیاطین الانس۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

”سوروں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”سیاہ داغ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”شریر۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

”سیاہ دل۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

”شیخ نجدی۔“

(انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ١٩٨)

”سگان قبیلہ۔“

(انجام آتھم ص ٢٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٢٩)

”شیخ احمقاں۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”شیخ الضال“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”سلطان المتکبرین۔“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”شقی۔“

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

”سفہاء۔“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”سفال۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٩٥، خزائن ج ٥ ص ٢٩٥)

”شیطنت کی بدبو۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١، خزائن ج ٥ ص ٣٠١)

”سفلہ پن۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٤، خزائن ج ٥ ص ٣٠٤)

”شیخ نامہ سیاہ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦، خزائن ج ٥ ص ٣٠٦)

”سفیہوں کا نطفہ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥)

”شریر۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

”سخت دل ظالم۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

٧٥

صفحہ ٢٣٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”سانپوں۔“

(نورالحق ج ١ ص ٢٣، خزائن ج ٨ ص ٣٦)

”سادہ لوح۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)

”سخت جاہل۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

”سخت نادان۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

”سخت نالائق۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

”شیخ مضل۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٦٩)

”شیخ مزور۔“

(کرامات الصادقین ص ١٠، خزائن ج ٧ ص ١٥٢)

”شیخی باز۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٥)

”سفلہ دشمن۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٨)

”شریروں۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٠)

”سفلہ دشمنوں۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٢)

”شریر بھیڑیے۔“

(انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٩)

”سفیہ۔“

(نورالحق ج ١ ص ٧٢، خزائن ج ٨ ص ٩٦)

”شرابیوں۔“

(نورالحق ج ١ ص ٩٩، خزائن ج ٨ ص ١٣٢)

”سخت دل مولویو مفتریو۔“

(انوارالاسلام ص ٢٥، خزائن ج ٩ ص ٢٦)

”شیخ چلی کے بڑے بھائی۔“

(انوارالاسلام ص ٣٩، خزائن ج ٩ ص ٤٠)

”شریر مولویو۔“

(ضیاء الحق ص ٣٢، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)

”سخت ذلیل۔“

(انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٤)

”شیخ ضال بٹالوی۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”سخت دروغ گو۔“

(نزول المسیح ص ٦٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤)

”سست ایمانو۔“

(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ١٤٢، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

”شیخ الضلالتہ۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

”شیخ چال باز۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٢، خزائن ج ٧ ص ٦٥)

”سواد الوجہہ الدارین (دنیا آخرت میں روسیاہ)“

(اتمام الحجۃ ص ٢٥، خزائن ج ٨ ص ٣٠٤)

٧٦

صفحہ ٢٣٢٥

قیمت فی حصہ -/10 روپے

کمل سیٹ مجلد

باقی مجلد

P PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2325 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”زمانہ کے ننگ اسلام۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨)

”زیادہ بد بخت۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٧٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٥)

”روحانیت سے بے بہرہ۔“

(ضمیمہ استفسار اردوص ٢، خزائن ج ١٢ ص ١٠٨)

س ، ش

”شیطان۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

”شتر مرغ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

”شیاطین الانس۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

”سوروں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”سیاہ داغ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”شریر۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

”سیاہ دل۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

”شیخ نجدی۔“

(انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ١٩٨)

”سگان قبیلہ۔“

(انجام آتھم ص ٢٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٢٩)

”شیخ احمقاں۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”شیخ الضال“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”سلطان المتکبرین۔“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”شقی۔“

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

”سفہاء۔“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”شغال۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٩٥، خزائن ج ٥ ص ٢٩٥)

”شیطنت کی بدبو۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١، خزائن ج ٥ ص ٣٠١)

”سفلہ پن۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٤، خزائن ج ٥ ص ٣٠٤)

”شیخ نامہ سیاہ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦، خزائن ج ٥ ص ٣٠٦)

”سفیہوں کا نطفہ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥)

”شریر۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥)

”سخت دل ظالم۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

”دل کے اندھے۔“

”دجال کے ہمراہی۔“

”دیوثوں۔“

”دنیا پرست۔“

(

”دین فروش۔“

(

”دیوانہ درندوں۔“

”ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق

”درندہ طبع۔“

”دجال فریب۔“

”دروغ آراستہ کرنے والے

(

”دل کے اندھے۔“

(

”دجال کمینہ۔“

(

”ژاژ خاء۔“

”زیادہ پلید۔“

”رئیس الدجالین۔“

”رئیس المعتدین۔“

”رأس الغاوین۔“

”رئیس المصلفین۔“

”رنڈیوں کی اولاد۔“

”رئیس المتکبرین۔“

”زود رنج۔“

”زمانہ کے ظالم۔“

”زمانہ کے بدذات۔“

”رسول اللہ کے دشمن۔“

(

٧٥

صفحہ ٢٣٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”دل کے اندھے۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٧٨)

”دجال کے ہمرائیو۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٦٩)

”دیوثوں۔“

(تبلیغ رسالت ج١ ص٨٤، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٢٥)

”دنیا پرست۔“

(ضیاء الحق ص٢٧، خزائن ج٩ ص٢٨٥)

”دین فروش۔“

(ضیاء الحق ص٢، خزائن ج٩ ص٢٩١)

”دیوانہ درندوں۔“

(ضیاء الحق ص٣٥، خزائن ج٩ ص٢٩٦)

”ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٩، خزائن ج١١ ص٣٤٣)

”درندہ طبع۔“

(الہدیٰ والتبصرہ ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٥٥)

”دجال فریب۔“

(انجام آتھم ص٢٠٤، خزائن ج١١ ص٢٠٤)

”دروغ آراستہ کرنے والے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج٥ ص١٦٥، خزائن ج٢١ ص٣٣٢)

”دل کے اندھے۔“

(اشتہار انعام تین ہزار ص ٥ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٧٨)

”دجال کینہ۔“

(انجام آتھم ص٢٠٦، خزائن ج١١ ص٢٠٦)

ر، ز

”ژاژ خاہ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣)

”زیادہ پلید۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”رئیس الدجالین۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”رئیس المعتدین۔“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ٢٣١)

”رأس الغاوین۔“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ٢٣١)

”رئیس المصلفین۔“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”رنڈیوں کی اولاد۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨)

”رئیس المتکبرین۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ٥٩٩)

”زود رنج۔“

(ایام الصلح ص ٨٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٠)

”زمانہ کے ظالم۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”زمانہ کے بدذات۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١٦، خزائن ج ٥ ص ٢١٦ حاشیہ)

”رسول اللہ کے دشمن۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ١١١، خزائن ج ٥ ص ١١١)

٧٤

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٣٢٣

PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 2323 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”حاطب اللیل۔“

د ، ذ

”حق کے مخالف۔“ ”ذلیل۔“ ”دل کے مجذوم۔“

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٤)

”خبیث طبع۔“ ”دشمن۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”خنزیر سے زیادہ پلید۔“ ”دجال۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”خبیث طبع۔“ ”دشمن اللہ و رسول۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”خالی گدھے۔“ ”ذلت کے سیاہ داغ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

”خشک زاہد۔“ ”دیانت و دین سے دور۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”خشک ملاؤں۔“ ”دشمن عقل و دانش۔“

(انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ١٩٨)

”خبیث نفس۔“ ”دشمن انصار دین۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”خون پسند۔“ ”دروغ گو۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ١٠، خزائن ج ٥ ص ٦١٠)

”خیانت پیشہ۔“ ”دیوانہ۔“

(نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠)

”خبیث طینت۔“ ”دنیا کے کیڑے ۔“

(نزول المسیح ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢)

”خبیث فرقہ۔“ ”دلوں کے اندھو ۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٤٣، خزائن ج ٢١ ص ٣١١)

”خناسوں۔“ ”دروغ گو مخبر۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٤٣، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

”خسیس ابن خسیس“ ”دورنگی اختیار کرنے والا ۔“

(شہادۃ القرآن ص ٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢)

”خراب عورتوں اور دجال کی“ ”دیو۔“

(شہادۃ القرآن ص ٦، خزائن ج ٦ ص ٣٨٣)

”خبیث النفس۔“ ”دابۃ الارض علماء السوء“

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٩)

”خود غرض مولویوں۔“ ”دابۃ الارض۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ٨٦ حاشیہ، خزائن ج ٧ ص ٣٠٨)

”خبیث القلب۔“ ”ذناب۔“

(ازالہ اوہام کلاں ج ٢ ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٤)

”خشک دماغ۔“ ”دنیا کے کتے۔“

(الہدیٰ والتبصرہ ص ٩٦، خزائن ج ١٨ ص ٣٤٦)

”خدا کا ان مولویوں پر غضب“ ”دشمن حق۔“

(استفتاء اردو ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

”خسر الدنیا والآخرۃ۔“ ”ذریت شیطان۔“

(استفتاء اردو ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ١٣٥)

”خبیث فطرت۔“ ”دجال اکبر۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

”دشنام دہ۔“

(انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٤٧)

(نور الحق ج ١ ص ٨٨، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

”خشک معلم۔“ ٧٣

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

کمل سیٹ مجلس عالی عباسیہ

صفحہ ٢٣٢٤

قیمت فی شمارہ -/10 روپے تاریخی دستاویز مکمل بحث مجلس

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”دل کے اندھے۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨)

”دجال کے ہمراہیوں۔“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

”دیوثوں۔“

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥)

”دنیا پرست۔“

(ضیاء الحق ص ٢٧، خزائن ج ٩ ص ٢٨٥)

”دین فروش۔“

(ضیاء الحق ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)

”دیوانہ درندوں۔“

(ضیاء الحق ص ٣٥، خزائن ج ٩ ص ٢٩٦)

”ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

”درندہ طبع۔“

(الہدیٰ والتبصرہ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٥)

”دجال فربہ۔“

(انجام آتھم ص ٢٠٢، خزائن ج ١١ ص ٢٠٢)

”دروغ آراستہ کرنے والے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٦٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢)

”دل کے اندھے۔“

(اشتہار انعام تین ہزار ص ٥ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨)

”دجال کمینہ۔“

(انجام آتھم ص ٢٠٦، خزائن ج ١١ ص ٢٠٦)

ر، ز

”ژاژ خا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٤)

”زیادہ پلید۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”رئیس الدجالین۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”رئیس المعتدین۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”رأس الغاوین۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”رئیس المصلفین۔“

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

”رنڈیوں کی اولاد۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٨)

”رئیس المتکبرین۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ٥٩٩)

”زود رنج۔“

(ایام الصلح ص ٨٤، خزائن ج ١٣ ص ٣٢٠)

”زمانہ کے ظالم۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”زمانہ کے بدذات۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١٦، خزائن ج ٥ ص ٢١٦ حاشیہ)

”رسول اللہ کے دشمن۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ١١١، خزائن ج ٥ ص ١١١)

٧٤

2325 NATION

ت اسلام ص ٩، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨)

ج ٥ ص ١٧٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٤٥)

استفتاء اردو ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ١٠٨)

انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

تھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

تھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

م آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

م آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

م آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

م آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

م آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ١٩٨)

ص ٢٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٢٩)

ام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

ام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

ام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

ام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

سلام ص ٢٩٥، خزائن ج ٥ ص ٢٩٥)

اسلام ص ٣٠١، خزائن ج ٥ ص ٣٠١)

سلام ص ٣٠٤، خزائن ج ٥ ص ٣٠٤)

سلام ص ٣٠٦، خزائن ج ٥ ص ٣٠٦)

ی الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥)

١٤٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥)

ن ج ٥ ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

صفحہ ٢٣٢٥

2325 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 ”زمانہ کے ننگ اسلام“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨) ”زیادہ بدبخت“ (براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٧٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٥) ”روحانیت سے بے بہرہ“ (ضمیمہ استفسار اردو ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ١٠٨)

س ، ش

”شیطان“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨) ”شتر مرغ“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢) ”شیاطین الانس“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢) ”سوروں“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) ”سیاہ داغ“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) ”شریر“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١) ”سیاہ دل“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢) ”شیخ نجدی“ (انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ١٩٨) ”سگان قبیلہ“ (انجام آتھم ص ٢٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٢٩) ”شیخ احمقان“ (انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١) ”شیخ الضال“ (انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١) ”سلطان المتکبرین“ (انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١) ”شقی“ (انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢) ”سفہاء“ (انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١) ”شغال“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٩٥، خزائن ج ٥ ص ٢٩٥) ”شیطنت کی بدبو“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١، خزائن ج ٥ ص ٣٠١) ”سفلہ پن“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٤، خزائن ج ٥ ص ٣٠٤) ”شیخ نامہ سیاہ“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦، خزائن ج ٥ ص ٣٠٦) ”سفیہوں کا نطفہ“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥) ”شریر“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥) ”سخت دل ظالم“ (ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ١٧٥) ٧٥

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 ”دل کے اندھے“ (اشتہار انعام ”دجال کے ہمرا تیو۔“ (اشتہار انعام ”دیوثوں“ (تتمہ ”دنیا پرست“ ”دین فروش“ ”دیوانہ درندوں“ ”ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق“ ”درندہ طبع“ ”دجال فربہ“ ”دروغ آراستہ کرنے والے“ (ن ”دل کے اندھے“ (اشتہار انعام ”دجال کمینہ“ ”ژاژخاء“ ”زیادہ پلید“ ”رئیس الدجالین“ ”رئیس المعتدین“ ”رأس الغاوین“ ”رئیس المصلفین“ ”رنڈیوں کی اولاد“ ”رئیس المتکبرین“ ”زود رنج“ ”زمانہ کے ظالم“ ”زمانہ کے بدذات“ ”رسول اللہ کے دشمن“

صفحہ ٢٣٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 ”سانپوں۔“

(نور الحق ج ١ ص ٢٢، خزائن ج ٨ ص ٣٢)

”سادہ لوح۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣)

”سخت جاہل۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)

”سخت نادان۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)

”سخت نالائق۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)

”شیخ مضل۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٦٩)

”شیخ مزور۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٨، خزائن ج ٧ ص ١٥٢)

”شیخی باز۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٥)

”سفلہ دشمن۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٨)

”شریروں۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٠)

”سفلہ دشمنوں۔“

(الہدیٰ والتبصرۃ ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٢)

”شریر بھیڑیے۔“

(انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٩)

”سفیہ۔“

(نور الحق ج ١ ص ٧٢، خزائن ج ٨ ص ٩٦)

”شرابیوں۔“

(نور الحق ج ١ ص ٩٩، خزائن ج ٨ ص ١٣٢)

”سخت دل مولویو مفتریو۔“

(انوار الاسلام ص ٢٥، خزائن ج ٩ ص ٢٦)

”شیخ چلی کے بڑے بھائی۔“

(انوار الاسلام ص ٣٩، خزائن ج ٩ ص ٤٠)

”شریر مولویو۔“

(ضیاء الحق ص ٣٢، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)

”سخت ذلیل۔“

(انجام آتھم ص ٤٢ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٤٢)

”شیخ ضال بطالوی۔“

(انجام آتھم ص ٢٤١، خزائن ج ١١ ص ٢٤١)

”سخت دروغ گو۔“

(نزول المسیح ص ٦٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤)

”سست ایمانو۔“

(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ١٤٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢)

”شیخ الضلالہ۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

”شیخ چال باز۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٦٥)

”سواد الوجہ الدارین (دنیا آخرت میں روسیاہ)“

(اتمام الحجہ ص ٢٥، خزائن ج ٨ ص ٣٠٤)

٧٦

صفحہ ٢٣٢٧

NAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”سانپوں۔“

(نو

”سادہ لوح۔“

(ضمیمہ انجا

”سخت جاہل۔“

(ازالہ اوہام

”سخت نادان۔“

(ازالہ اوہام

”سخت نالائق۔“

(ازالہ اوہام

”شیخ مضل۔“

(کرامات

”شیخ مزور۔“

(کرامات

”شیخی باز۔“

(الہدیٰ وال

”سفلہ دشمن۔“

(الہدیٰ وال

”شریروں۔“

(الہدیٰ وال

”سفلہ دشمنوں۔“

(الہدیٰ وال

”شریر بھیڑیے۔“

”سفیہ۔“

(نو

”شرابیوں۔“

(نو

”سخت دل مولویو بمفتیو۔“

”شیخ چلی کے بڑے بھائی۔“

”شریر مولویو۔“

”سخت ذلیل۔“

(انجا

”شیخ ضال بطالوی۔“

”سخت دروغ گو۔“

(نزو

”سست ایمانو۔“

(ضمیمہ براہین

”شیخ الضلالتہ۔“

(انجا

”شیخ چال باز۔“

(کرامات

”سواد الوجہ الدارین (دنیا آخرت میں روسیاہ)“

٧٦

2327 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No.16

”سڑے گلے مردہ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٣٤٦)

”سخت بدذات۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٩)

”سخت بے باک۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ١٨)

”سودائی۔“

(انوار الاسلام ص ١٠، خزائن ج ٩ ص ١٠)

”شیاطین۔“

(نزول المسیح ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٩)

”سخت دل قوم۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٤)

”شریرالنفس۔“

(آریہ دھرم ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ٣١)

”شریر پنڈت۔“

(آریہ دھرم ص ٢٩، خزائن ج ١٠ ص ٣٢)

ص، ض

2477 ”ضال بطالوی۔“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ٢٣١)

”ضال۔“

(نور الحق ج ١ ص ١٧٢، خزائن ج ٨ ص ٩٦)

”ضلالت پیشہ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٤)

”صرع بے ایمانی۔“

(ایام الصلح ص ٨٩ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٦)

ط، ظ

”ظالم طبع۔“

(دافع البلاء ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨)

”ظالم۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

”ظالم مولویو۔“

(انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢١)

”ظالم معترض۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣، خزائن ج ٢١ ص ١٨٢)

”ظالموں۔“

(استفتاء اردو ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

”طوائف۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٧)

”ظالم طبع مخالفوں۔“

(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

ع، غ

”علیہم نعال لعن الله الف الف مرۃ“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”عبدالشیطان۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

٧٧

صفحہ ٢٣٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”غالیون“

(انجام آتھم ص٢٤٢، خزائن ج١١ ص٢٤٢)

”غوی فی البطالتہ“

(انجام آتھم ص٢٣٠، خزائن ج١١ ص٢٣٠)

”غاوین“

(انجام آتھم ص٢٥٢، خزائن ج١١ ص٢٥٢)

”غول“

(انجام آتھم ص٢٥٢، خزائن ج١١ ص٢٥٢)

”غبی“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٣٣، خزائن ج١١ ص٣١٧)

”عجب نادان“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص١١٥، خزائن ج٢٢ ص٥٥١)

”عجیب بے حیاء“

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٩ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص٥٨٧)

”غدار زمانہ“

(اعجاز احمدی ص٧٧، خزائن ج١٩ ص١٩٠)

”عورتوں کے عار“

(اعجاز احمدی ص٨٣، خزائن ج١٩ ص١٩٦)

”غول البراری“

(کرامات الصادقین ص٧٠، خزائن ج٧ ص١٥٢)

”عدواللہ“

(اشتہار انعامی تین ہزار ص١٢، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٧٩)

”غزنی کے ناپاک سکھو“

(ضیاء الحق ص٣٢، خزائن ج٩ ص٢٩١)

”عبدالحق کا منہ کالا“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٨، خزائن ج١١ ص٣٣٢)

”غزنویوں کی جماعت پر لعنت“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٨، خزائن ج١١ ص٣٣٢)

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٠٨، خزائن ج٥ ص٣٠٨)

ف، ق

”فقیری اور مولویت کے شتر مرغ“

(ضمیمہ انجام آتھم ص١٨، خزائن ج١١ ص٣٠٢)

”فرعون“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٦، خزائن ج١١ ص٣٤٠)

”فمُت یا عبدالشّیطان“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٨، خزائن ج١١ ص٣٣٢)

”فاسق آدمی“

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص١٤، خزائن ج٢٢ ص٤٤٥)

”فریبی“

(اعجاز احمدی ص٤٨، خزائن ج١٩ ص١٦٠)

”فرومایہ“

(اعجاز احمدی ص٧٦، خزائن ج١٩ ص١٨٨)

”قوم کے خناسوں“

(انجام آتھم ص٧ حاشیہ، خزائن ج١١ ص١٧)

”فتنہ انگیز“

(اتمام الحجۃ ص٢٣، خزائن ج٨ ص٣٠٣)

٧٨

صفحہ ٢٣٢٩

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

مکمل سیٹ

عالمی مجلس تحفظ

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”غالون“

”غوی فی البطالہ“

”غاوین“

”غول“

”غبی“

(ضمیمہ

”عجب نادان“

(تتمہ

”عجیب بے حیاء“

(تتمہ حقیقت ال

”غدار زمانہ“

”عورتوں کے عار“

”غول البراری“

(کر

”عدو اللہ“

(اشتہار انعامی تین

”غزنی کے ناپاک سکھو“

”عبدالحق کا منہ کالا“

(ضمیمہ

”غزنویوں کی جماعت پر لعنت“

(ضمیمہ

”علم اور درایت اور تفقہ سے سخت بے بہرہ“

(آئینہ کما

ف، ق

”فقیری اور مولویت کے شتر مرغ“

(ضم

”فرعون“

(ضم

”فحش یا عبد الشیطان“

(ضمیمہ

”فاسق آدمی“

(تتمہ

”فریبی“

”فرومایہ“

”قوم کے خناسوں“

”فتنہ انگیز“

٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ک، گ

”کوتاہ اندیش علماء“

(ایام الصلح ص ٨٠، خزائن ج ١٤ ص ٣١٦)

”گندے اخبار نویس“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

”گندی روحو“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”کیڑو“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”کتے“

(استفتاء اردو ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

”گدھے“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)

”کاذب“

(انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٥٢)

”کج طبع“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١، خزائن ج ٥ ص ٣٠١)

”گرفتار عجب پندار“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠، خزائن ج ٥ ص ٦٠٠)

”کور نظر مولوی“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٧، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨)

”کوڑھ مغزی“

(نزول المسیح ص ٦٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤)

”گمراہ“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٥١)

”کذاب“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥)

”گدھوں“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٥٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٠)

”کیڑا“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٦٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢)

”کینہ ور“

(چشمہ معرفت ج ٢ ص ١٣١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٦)

”گندہ زبان“

(چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦)

”گرگ“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٥٢)

”کمینگی“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ٢٥٢)

”کم سمجھ“

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٦)

”کرگس“

(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٥)

”گندہ پانی“

(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)

”کجدل“

(کرامات الصادقین ص ٦، خزائن ج ٧ ص ٤٨)

”کمینوں“

(الہدیٰ والتبصرہ ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٢)

٧٩

صفحہ ٢٣٣١

2330 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

”کمینہ۔“

(انجام آتھم ص ٢٠٦، خزائن ج ١١ ص ٢٠٦)

”گمراہی اور حرص جنگل کے شیطان۔“

(نور الحق ج ١ ص ٨٩، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

”کمینہ طبع۔“

(آریہ دھرم ص ٤٢، خزائن ج ١٠ ص ٤٧)

”کتوں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

”کالانعام۔“

(انجام آتھم ص ٢٦٥، خزائن ج ١١ ص ٢٦٥)

”کاذب۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠١، خزائن ج ٥ ص ٦٠١)

”گمراہ۔“

(حقیقت الوحی ص ٣١٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٣)

ل، م

”مغرور فقراء۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٢، خزائن ج ١١ ص ٢٩٦)

”مردار خور۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”مولوی جاہل۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)

”مولویت کے بدنام کرنے والے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”منحوس چہروں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٢، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”مفتریو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

”منافق مولوی۔“

(انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٤٩)

”مولویان خشک۔“

(انجام آتھم ص ٦٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٦٩)

”متکبرین۔“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ٢٣١)

”معتدین۔“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ٢٣١)

”ملعونین۔“

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

”مخنثوں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٢، خزائن ج ٥ ص ٤٠٢)

”معلم الملکوت۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٨، خزائن ج ٥ ص ٥٩٨)

”مفتری۔“

(نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠)

”مردار۔“

(نزول المسیح ص ٢٤٤، خزائن ج ١٨ ص ٦٠٢)

”ملحدوں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، ١٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥)

”ملعون۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، ١٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥)

٨٠

2331 NATION

١٤، ١٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥)

حمدیہ ج ٥ ص ٢٧، خزائن ج ٢١ ص ١٨٢)

یہ ج ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

یہ ج ٥ ص ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣١٧)

گولڑویہ ص ١١٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٥)

الرحمٰن ص ١٣٨، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩)

الحق ج ١ ص ٢٣، خزائن ج ٨ ص ٣٦)

الحق ج ١ ص ٥٣، خزائن ج ٨ ص ٧٤)

ز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٥)

ز احمدی ص ٥٧، خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)

لصادقین ص ٦ تا ٦، خزائن ج ٧ ص ٤٨)

ادقین ص ٢٤، ٢٥، خزائن ج ٧ ص ٦٧)

الصادقین ص ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٦٩)

ت الصادقین ص ٦، خزائن ج ٧ ص ٧٦)

سمانی فیصلہ ص ١٩، خزائن ج ٤ ص ٣٤٢)

التبصرہ ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٦١)

ستفتاء اردو ص ٢٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٨)

آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

الحق ج ١ ص ٩٢، خزائن ج ٨ ص ١٢٤)

الحق ج ١ ص ١٠١، خزائن ج ٨ ص ١٣٤)

الصادقین ص ٣، خزائن ج ٧ ص ٤٥)

ست بچن ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠)

ست بچن ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ١٢١)

”پلید تر۔“

لصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

صفحہ ٢٣٣١

قیمت فی شمارہ-/10 روپے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”کمینہ“

(انجام...

”گمراہی اور حرص جنگل کے شیطان“

(نور ا...

”کمینہ طبع“

(آئ...

”کتوں“

(ضمیمہ انجام آتھ...

”کالانعام“

(انجام آ...

”کاذب“

(آئینہ کمالات ا...

”گمراہ“

(حقیقت الوحی ص...

ل، م

”مغرور فقراء“

(ضمیمہ انجا...

”مردار خور“

(ضمیمہ انجام آتھم...

”مولوی جاہل“

(ضمیمہ انجام...

”مولویت کے بدنام کرنے والے“

(ضمیمہ انجام...

”منحوس چہروں“

(ضمیمہ انجام...

”مفتریو“

(ضمیمہ انجام...

”منافق مولوی“

(انجا...

”مولویان خشک“

(انجام آ...

”متکبرین“

(انجا...

”معتدین“

(انجا...

”ملعونین“

(انجام...

”مخنثوں“

(آئینہ کمالات...

”معلم الملکوت“

(آئینہ کمالات اسلا...

”مفتری“

(نزو...

”مردار“

(نزول...

”لئیموں“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢...

”ملعون“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢...

٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”مفسد“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، ١٥ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥)

”متعصب نادان“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٧، خزائن ج ٢١ ص ١٨٢)

”مفتری نابکار“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

”لاف و گزاف کے بیٹے“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٤٩، خزائن ج ٢١ ص ٣١٧)

”متعفن“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٥)

”مسکین“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣٨، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩)

”مار سیرت“

(نور الحق ج ١ ص ٢٣، خزائن ج ٨ ص ٣٢)

”مضل جماعت“

(نور الحق ج ١ ص ٥٣، خزائن ج ٨ ص ٧٣)

”مچھر“

(اعجاز احمدی ص ٣٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٥)

”مٹی سیاہ“

(اعجاز احمدی ص ٥٧، خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)

”متعصب“

(کرامات الصادقین ص ٢ تا ٦، خزائن ج ٧ ص ٤٨)

”متکبر مولویوں“

(کرامات الصادقین ص ٢٤، ٢٥، خزائن ج ٧ ص ٦٧)

”مضل“

(کرامات الصادقین ص ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٦٩)

”مزور“

(کرامات الصادقین ص و، خزائن ج ٧ ص ٧٢)

”مگس طینت مولویوں“

(آسمانی فیصلہ ص ١٩، خزائن ج ٤ ص ٣٢٢)

”لادو ٹٹوؤں“

(الہدیٰ والتبصرہ ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٦١)

”مخبط الحواس“

(استفتاء اردو ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

”مردہ پرست“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

”مردار“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

”مکار“

(نور الحق ج ١ ص ٩٢، خزائن ج ٨ ص ١٢٢)

”معذول“

(نور الحق ج ١ ص ١٠١، خزائن ج ٨ ص ١٣٢)

”ناقص الفہم“

(کرامات الصادقین ص ٣، خزائن ج ٧ ص ٤٥)

”ناحق شناس“

(ست بچن ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠)

”موٹی سمجھ“

(ست بچن ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ١٢١)

”مولوی تمام روئے زمین کے انسانوں سے بدتر اور پلید تر“

(ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣)

٨١

صفحہ ٢٣٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”مخالفوں کی ذلت۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١٢)

”مولویوں کی ذلت۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١٢)

”مولوی سخت ذلیل۔“

(انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٤)

”مکذبوں۔“

(انجام آتھم ص ٢٢٤، خزائن ج ١١ ص ٢٢٤)

”منحوس۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥)

”مغرور۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٥١)

”معمولی انسان۔“

(ازالہ اوہام ج ٢ ص ٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)

”مجنون درندہ۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٢٢)

”محجوب مولوی۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٩، خزائن ج ٤ ص ٣٣١)

ن

”نادان علماء۔“

(ایام الصلح ص ١١٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٥)

”ناپاک طبع۔“

(ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٤)

”نااہل۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

”ناسمجھ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٣، خزائن ج ١١ ص ٣١٧)

”ناکار۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

”نادان۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

”نابینا علماء۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦١، خزائن ج ١١ ص ٣٤٥)

”نادان بطالوی۔“

(انجام آتھم ص ٢٠ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٠)

”نالائق۔“

(انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٤)

”نفاق زدہ۔“

(انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٤)

”نالائق نذیر حسین۔“

(انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٢٥)

”نیم ملا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠، خزائن ج ٥ ص ٦٠٠)

”ننگ اسلام۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨)

”نجاست خور۔“

(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦)

٨٢

صفحہ ٢٣٣٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”نفسانی مولویو۔“ (ازالہ اوہام ج ١ ص ٥، خزائن ج ٣ ص ١٠٥) ”مخالفوں کی ذلت۔“

”ناواقف۔“ (مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٥) ”مولویوں کی ذلت۔“

”نادانو۔“ (مقدمہ چشمہ مسیحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٩) ”مولوی سخت ذلیل۔“

”نابکاروں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨) ”مکذبوں۔“

”نیم عیسائیو۔“ (اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩) ”منحوس۔“

”ناخدا ترس۔“ (تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥) ”مغرور۔“

”نادان ہندو زادہ۔“ (انوار اسلام ص ٢٦ حاشیہ، خزائن ج ٩ ص ٢٧) ”معمولی انسان۔“

”نہایت پلید طبع۔“ (ضیاء الحق ص ٢٦، خزائن ج ٩ ص ٢٩٨) ”مجنون درندہ۔“

”ناسعادت مند شاگرد محمد حسین۔“ (انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٤٥) ”محجوب مولوی۔“

”نابینا۔“ (ست بچن ص ١٩، خزائن ج ١٠ ص ١٣١)

”نذیر حسین خشک معلم۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ز، خزائن ج ٥ ص ٢١١) ”نادان علماء۔“

”نادان صحابی۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥) ”ناپاک طبع۔“

”نادان قوم۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٤٥، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢) ”نااہل۔“

”ناقص العقل چیلوں۔“ (انوار الاسلام ص ٤٨، خزائن ج ٩ ص ٥٠) ”ناسمجھ۔“

”نالائق چیلوں،“ (ضیاء الحق ص ٢٧، خزائن ج ٩ ص ٢٨٥) ”ناکار۔“

”نادان غبی۔“ (اتمام الحجہ ص ٢٢، خزائن ج ٨ ص ٣٠١) ”نادان۔“

”ناپاک فرقہ۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٧) ”نابینا علماء۔“

”نادان پادریوں۔“ (انجام آتھم ص ٢، خزائن ج ١١ ص ٢) ”نادان بٹالوی۔“

”نالائق متعصب۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٤٣، خزائن ج ٥ ص ٤٣) ”نالائق۔“

٥٧٩ ”نفاق زدہ۔“

”وہ گندے اخبار نویس۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩) ”نالائق نذیر حسین۔“

”وہ گدھا ہے نہ انسان۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١) ”نیم ملا۔“

”2478 وحشی۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٣٣٣) ”ننگ اسلام۔“

”وہ بدذات۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤) ”نجاست خور۔“

٨٣

صفحہ ٢٣٣٤

2335 NATIONAL ASSEMB

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

’’پلید قومیں ۔‘‘

(چشمہ معرفت ج ١ ص ٧٨، خزائن ج ٢٣ ص ٨٦)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٣١)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

(انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٤٩)

(کرامات الصادقین ص و (٣)، خزائن ج ٧ ص ١٥٢)

کے کفریہ خیالات

ام ہے

ا اے دوستو خیال
اب جنگ اور قتال‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

نگ ختم ہے
دیں کا امام ہے
اب اختتام ہے‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

2334 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

’’ہامان ۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠)

’’ہندو زادہ ۔‘‘

(انجام آتھم ص ٥٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٥٩)

’’ہوا و ہوس کا بیٹا ۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٥٤)

’’واشی ۔‘‘

(نور الحق ج ١ ص ٧٢، خزائن ج ٨ ص ٩٦)

’’والغبی المذلول ۔‘‘

(نور الحق ج ١ ص ١٠١، خزائن ج ٨ ص ١٣٢)

’’ولد الحرام ۔‘‘

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

’’ہزار لعنت کا رسہ ۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٧)

’’ولد الحلال نہیں ۔‘‘

(انوار الاسلام ص ٢٩، خزائن ج ٩ ص ٣١)

’’واہ رے شیخ چلی کے بڑے بھائی ۔‘‘

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٤٠)

’’ہٹ دھرم ۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٦)

’’نالائق متعصب ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٣، خزائن ج ٥ ص ٤٣)

’’والدجال البطال ۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٥١، خزائن ج ١١ ص ٢٥١)

’’آنکھوں کے اندھے ۔‘‘

(اشتہار انعامی چار ہزار ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٦)

’’ہمچو گرگ ۔‘‘

(مواہب الرحمٰن ص ١٣١، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢)

’’ہمچو خنزیر ۔‘‘

(مواہب الرحمٰن ص ١٢٨، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩)

ی، ے

’’یہودی صفت ۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧)

’’یادہ گوہ ۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣)

’’یہودی سیرت ۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٢ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٢)

’’یہ شخص منافق ۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص و، خزائن ج ٦ ص ٣٨٣)

’’یہ نادان خون پسند ۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص و، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

’’یہ لوگ حیوانات ۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٢٢، خزائن ج ١٩ ص ١٣١)

’’یہودی ۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)

’’یا شیخ الضلالۃ ۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٧٢، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

٨٤

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٢٣٣٥

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”ہامان ۔“

(ضم

”ہندوزادہ۔“

(انجا

”ہوا و ہوس کا بیٹا۔“ ”واشی۔“ ”واقعی المعزول۔“ ”ولد الحرام۔“ ”ہزار لعنت کا رسہ۔“

(اشتہار انعامی تین

”ولد الحلال نہیں۔“ ”واہ رے شیخ چلی کے بڑے بھائی۔“ ”ہٹ دھرم۔“

(اشتہار انعامی تین

”نالائق متعصب۔“

(آئینہ

”والد جاہل البطال۔“ ”آنکھوں کے اندھے۔“

(اشتہار انعامی جو

”ہمچو گرگ۔“

”ہمچو جنین۔“

(مط

ی، ے

”یہودی صفت۔“

”یاوہ گوہ۔“

(ضمیمہ ا

”یہودی سیرت۔“

”یہ شخص منافق۔“ ”یہ نادان خون پسند۔“ ”یہ لوگ حیوانات ۔“ ”یہودی ۔“

”یا شیخ الضلالۃ۔“

٨٤

2335 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”یک چشم۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ ،خزائن ج ١١ص ٣٠٨)

”یاجوج ماجوج اور دجال ہونے کی یورپین قومیں ۔“

(چشمہ معرفت ج ١ ص ٨٧ حاشیہ ،خزائن ج ٢٣ص ٨٦)

”یہ جہلاء۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ ،خزائن ج ١١ص ٣٠٢)

”یہودیت کا خمیر۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ ،خزائن ج ١١ص ٣٠٥)

”یہ دل کے مجذوم۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ ،خزائن ج ١١ص ٣٠٥)

”یہ سب مولوی جاہل۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦ ،خزائن ج ١١ص ٣١٠)

”یہ شریر۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧ ،خزائن ج ١١ص ٣٣١)

”یہ سیاہ دل۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ ،خزائن ج ١١ص ٣٣٢)

”یہ جاہل۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ ،خزائن ج ١١ص ٣٣٢)

”یہ منافق۔“

(انجام آتھم ص ٤٩ ،خزائن ج ١١ص ٤٩)

”یا غول البراری۔“

(کرامات الصادقین ص و (٤) ،خزائن ج ٧ص ١٥٢)

2479 جہاد اور مرزا جی کے کفریہ خیالات

2480 جہاد حرام ہے

......١

”اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

......٢

”اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

٨٥

صفحہ ٢٣٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جہاد کا فتویٰ فضول ہے

اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

جہاد کرنے والا خدا کا دشمن ہے

دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٨)

تلوار کا جہاد سراسر غلط اور نہایت خطرناک ہے

کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں۔“

(ستارہ قیصر ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)

قرآن میں جہاد کی ممانعت ہے

(ستارہ قیصر ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)

2481 میں جہاد کو ختم کرنے آیا ہوں

کا خاتمہ ہے۔ مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔“

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ١٥)

میرا آنا دینی جنگوں کے خاتمہ کے لئے ہے

٨٦

صفحہ ٢٣٣٧

2337 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

الحرب یعنی جب مسیح آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔‘‘

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ١٥)

جہاد قبیح اور حرام ہے

’’لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے
اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٨٠)

جہاد کی شدت کم ہوتے ہوتے مرزا جی کے وقت قطعاً موقوف ہو گیا

موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔‘‘

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

2482 اُن عبارات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا جی نے قرآن وحدیث کا ایک حکم منسوخ کیا۔ جب کہ حدیث میں ہے۔ الجہاد ماض الیٰ یوم القیامۃ! جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔

مرزا جی نے بخاری سے بھی استدلال کیا ہے۔ جہاں آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت کے لئے فرمایا۔ یضع الحرب بعض میں یضع الجزیۃ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کفار مغلوب ہو جائیں گے اور جو باقی ہوں گے وہ بھی مسلمان ہو جائیں گے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے تو جزیہ کافر رعایا سے لیا جاتا ہے۔ اب جب سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے تو جزیہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح جب اہل عالم مسلمان ہو جائیں گے تو لڑائی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ مرزا جی نے شریعت کا حکم منسوخ کر دینے کا معنی سمجھا۔ یا جان بوجھ کر دھوکہ دیا۔

مرزا جی کو خبر نہیں کہ آخری زمانہ میں دمشق میں زبردست جنگیں ہوں گی۔ جس کی تیاری مہدی علیہ السلام کر رہے ہوں گے۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں

٨٧

OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جہاد کا فتـ

اب آسماں سے
اب جنگ اور

جہاد کرنے

دشمن ہے وہ خدا
منکر نبی کا ہے

تلوار کا جہاد سراسر ا

کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں

قرآن میں

2481 میں جہا

کا خاتمہ ہے۔ مگر اپنے نفسوں کے پاک کر

میرا آنا دینی جنگو

صفحہ ٢٣٣٨

2338 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

گے ۔ ہر درخت آواز دے گا کہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ۔ جب تمام مخالف ایمان لے آئیں گے تو لڑائی بند ہو جائے گی اور جزیہ بھی نہ رہے گا۔

جہاد پہلے سے شائع نہ تھا ۔ کیا خود مرزا جی نے حوالہ نمبر ٧ میں نہیں کہا کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے ۔ گویا پہلے تھا ۔ اب یہ پیغام لے کر مرزا جی منسوخ کرنے آئے ہیں ۔

2483 اور حوالہ نمبر ١ کے مطابق ”نزول مسیح کا وقت ہے ۔ اب جنگوں کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ گویا پہلے سے جنگیں جاری تھیں ۔ اب مسیح نے آکر بند کرا دیں ۔“ ان حوالوں میں ایک طرح اقرار ہے کہ جہاد پہلے صحیح اور جاری تھا ۔ مگر افسوس کہ جا بجا مرزا جی نے لکھا ہے کہ ”دین کے لئے تلوار اٹھانا غلط ہے ۔ اسلام کو پھیلانے کے لئے جہاد کرنا خطا ہے اور سرحدی و کوہستانی علاقوں میں علماء جہالت سے لوگوں کو ان غلط کاموں میں لگاتے ہیں ۔ یہ کوئی جہاد نہیں ہے اور حضور ﷺ نے جو تلوار اٹھائی تھی وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں اٹھائی تھی ۔ جنہوں نے پہلے مسلمانوں پر بڑا ظلم روا رکھا تھا ۔ ورنہ اسلام میں تلوار کا جہاد نہیں ہے ۔“

حالانکہ یہ صدیوں پہلے کے مسلمانوں کے دین و فہم پر بڑا حملہ ہے اور تاریخی لحاظ سے بھی غلط ہے ۔ قریش نے ہمیشہ پہل کی اور اسلام اور مسلمانوں کے استحصال کے در پے رہے ۔ پھر روم و ایران نے مسلمانوں کو پریشان کیا ۔ سلطنت عثمانیہ (ترکی) کے وقت یورپ ترکی کے خلاف نبرد آزما تھا اور ترکی کی حکومت کو وہ مرد بیمار کہتے رہے ۔ یہاں تک کہ طرابلس اور بلقان کی ریاستیں مسلمانوں سے چھین لیں ۔

آخر میں انگریز نے ہندوستان کی مسلم حکومت کو دجل وفریب اور خاص چالبازیوں سے تباہ کیا ۔ حتیٰ کہ قبائلی علاقوں تک جا پہنچا ۔ قبائل اور پہاڑی علاقے کے لوگ کیا کرتے وہ جانتے تھے کہ نرمی اختیار کرنے سے انگریز سب کو ہڑپ کر جائے گا ۔ وہ بھی جنگ کے لئے مجبور تھے ۔ مرزا جی کو معلوم ہے کہ مدافعانہ جنگ کیا ہوتی ہے؟

تیغ کر دیں ۔ اس وقت بھی ان کی قوت کو توڑنا اور ان کو پہل کر کے کمزور کرنا دفاعی جنگ ہے ۔

فریق جنگ میں ہیں ۔

٨٨

صفحہ ٢٣٣٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 گے۔ ہر درخت آواز دے گا کہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہے آئیں گے تو لڑائی بند ہو جائے گی اور جزیہ بھی نہ رہے گا۔

جہاد پہلے سے شائع نہ تھا۔ کیا خود مرزا جی نے حوالہ نمبر ٧ میں خاتمہ ہے۔ گویا پہلے تھا۔ اب یہ پیغام لے کر مرزا جی منسوخ 2483 اور حوالہ نمبر ١ کے مطابق "نزول مسیح کا وقت گویا پہلے سے جنگیں جاری تھیں۔ اب مسیح نے آکر بند کر اقرار ہے کہ جہاد پہلے صحیح اور جاری تھا۔ مگر افسوس کہ جا بجا تلوار اٹھانا غلط ہے۔ اسلام کو پھیلانے کے لئے جہاد کرنا خط علماء جہالت سے لوگوں کو ان غلط کاموں میں لگاتے ہیں۔ جو تلوار اٹھائی تھی وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں اٹھائی تھی۔ جو رکھا تھا۔ ورنہ اسلام میں تلوار کا جہاد نہیں ہے۔"

حالانکہ یہ صدیوں پہلے کے مسلمانوں کے دین بھی غلط ہے۔ قریش نے ہمیشہ پہل کی اور اسلام اور مسلمانو روم و ایران نے مسلمانوں کو پریشان کیا۔ سلطنت عثمانیہ (تر نبرد آزما تھا اور ترکی کی حکومت کو وہ مرد بیمار کہتے رہے۔ یہان مسلمانوں سے چھین لیں۔

آخر میں انگریز نے ہندوستان کی مسلم حکومت سے تباہ کیا۔ حتیٰ کہ قبائلی علاقوں تک جا پہنچا۔ قبائل اور جانتے تھے کہ نرمی اختیار کرنے سے انگریز سب کو ہڑپ کر تھے۔ مرزا جی کو معلوم ہے کہ مدافعانہ جنگ کیا ہوتی ہے؟

تیار کر دیں۔ اس وقت بھی ان کی قوت کو توڑنا اور ان کو پہل کر

فریق جنگ میں ہیں۔ ٨٨

2339 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہیں تو معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ اس دشمن کو معاہدہ کی منسوخی کی اطلاع کر دینی چاہئے۔ پھر دونوں حکومتیں ہوشیار رہیں گی۔ اگر مسلمان اپنی بقاء اور اسلامی تبلیغ کی حریت و آزادی کے لئے ضروری تصور کریں تو بے شک اعلان جنگ کر دیں۔ مگر پہلے فسخ کا معاہدہ کرنا ہوگا۔ یہ تمام باتیں دراصل اپنا دفاع ہیں اور کافر، اسلام کی قدرتی کشش اور روز افزوں پھیلاؤ دیکھ کر حسد یا ڈر سے مسلمانوں کی بیخ کنی کے درپے ہوتے تھے۔ مگر مدینہ منورہ کا کرنٹ جب تک باقی تھا اور مسلمان اپنی جانیں محض خدا کے لئے قربان کرتے تھے۔ اس وقت تک اسلام آگے ہی کو جاتا رہا۔ مگر جب معاملہ برعکس ہوا۔ دوسری طرف ملک کی توسیع ہوئی تو قدرتاً مخالفین نے حملے شروع کئے۔ تمام صلیبی لڑائیاں اسی طرح ہوئیں ربع مسکون کا بڑا حصہ جو مسلمانوں کے زیر نگین تھا۔ اسی طرح دشمنوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ خدا خدا کر کے اب دوبارہ انفرادی طور سے سہی مگر پھر بھی مسلمانوں نے کروٹ لی ہے۔ اور تقریباً سارے ملک آزاد ہو گئے ہیں۔ خدا کرے اگر ایک خلافت قائم نہیں ہوتی تو نہ سہی، مگر سب کا آپس میں معاہدہ اور تعاون رہے تو پھر بھی غنیمت ہوگا۔

2485 یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کی تبلیغ کے لئے تلوار اٹھائی یا کسی کو جبراً مسلمان کیا۔ لیکن ضروری دفاع اور اپنی بقاء کے لئے اللہ تعالیٰ نے کسی حیوان کو پنجے دیئے، تو کسی کو سینگ، کسی کو ڈاڑھیں، کسی کو لاتیں بھی دے دیئے ہیں۔ اگر مرزائی یہ چاہیں کہ مسلمان خرگوش بن کر بھاگتے ہی رہیں تو یہ مذہب ان کو مبارک ہو۔ ہم جہاد اور جہادی قوۃ کو اسلام اور مسلمانوں کی بقاء کے لئے ضروری سمجھتے ہیں اور یہی اسلام کا حکم ہے۔

مرزائی وہم کا جواب

اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ دراصل جہاد کی ضرورت نہ تھی اس لئے مرزا جی نے اس کو حرام کیا۔ تو یہ قطعاً غلط ہے۔ مرزا جی نے انگریز کی اس قدر تعریفیں اور خوشامدیں کیں کہ اس سے بڑھ کر کوئی ٹوڈی نہیں کر سکتا۔ مگر یہ سب تعریف و توصیف اور وفاداری محض اس لئے تھی کہ انگریزوں کی سرپرستی اور پہرے میں مرزا جی اپنی کفریات خوب پھیلاتے اور روپیہ کماتے رہے۔ ورنہ کیا انگریز کے زمانہ میں کسی کو یہ طاقت تھی کہ زنا یا چوری کی شرعی سزا جاری کرتا اور کیا انگریزی حکومت باقی دنیا کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ نہیں توڑ رہی تھی؟ اور کیا فارورڈ پالیسی کے تحت سرحد کی مسجدیں اور عورتوں، بچوں کو شہید نہیں کر رہی تھی؟ کیا جب تم پر انگریز نے احسان کیا تو اس کو ٨٩

صفحہ ٢٣٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اجازت ہونی چاہئے کہ وہ قسطنطنیہ میں داخل ہو کر عراق پر قبضہ کرے؟ وہ پارس کے حلیف مسلمان بچوں اور عورتوں کو قتل کرے اور اس کے حلیف یونانی سمرنا میں مسلمان عورتوں کی چھاتیاں کاٹیں اور عسکی شہر پر قبضہ کر کے انقرہ پر چڑھائی کی تیاریاں کریں تاکہ ترکوں کو بالکل ختم کر دیا جائے؟ کیا انگریزوں کو مرزا جی پر احسان کرنے کے عوض ہم اجازت دیں کہ وہ دنیا بھر سے یہود کو جمع کر کے فلسطین میں بسائے اور عربوں کے سینے پر مونگ دلے؟ کیا غدر 1857ء کی جنگ آزادی ظلم تھا؟ کیا نہر سویز کو واپس لینا ظلم تھا؟ کیا موپلہ قوم کو انگریزوں نے زمانہ خلافت میں سارے ہندوستان کی جیلوں میں تقسیم کر کے پھانسیاں دے کر ظلم نہیں کیا؟

دوسرا وہم

مرزائی دوسرا وہم یہ پیش کرتے ہیں کہ بعض دوسروں نے بھی جہاد کے بارے میں یا انگریز سے جنگ نہ کرنے کے بارے میں یوں کہا......

نے یہ فیصلہ نہیں کیا۔

کے لئے کیا ہے تو اس کی حیثیت اور ہے اور مرزا جی نے بحوالہ عبارت نمبر ١٠ صاف صاف یہی لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جہاد میں بڑی شدت تھی۔ سرور عالم ﷺ نے اس میں بہت سی نرمی کی، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے قتل سے روک دیا اور مسیح (یعنی مرزا جی) کے وقت بالکل ہی موقوف ہو گیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا جی انگریز کے لئے اسلام کا مسئلہ جہاد بالکل ختم کرنا چاہتے تھے۔ جو فرض ہے کبھی تو فرض عین اور کبھی فرض کفایہ۔

کے نام سے مسلمانوں کو دھوکہ دینے والے کو دوسروں پر قیاس کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟

مثال مرزا قادیانی اور چوہدری ظفر اللہ ہیں۔

حرام یا موقوف نہیں کیا۔ (ان میں بڑا فرق ہے)

٩٠

صفحہ ٢٣٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2487 ایک خاص دجل

مرزائیوں اور ان کے نمائندوں نے مسئلہ جہاد اور اسلام بالجبر کو ملا کر غلط طور پر خلط مبحث کیا ہے۔ کیا آج یہود اور شام کی جنگ جہاد نہیں؟ کیا اس میں مسلمان ظلم کر رہے ہیں۔ کیا خدا نخواستہ اگر دمشق میں عظیم نقصان ہو جائے اور مسلمانوں کی باگ ڈور کوئی اللہ والا سنبھال کر تمام مشرق وسطیٰ کو دوبارہ منظم کر دے۔ پھر یہودی کوئی بڑی طاقت مقابلہ کے لئے آ جائے تو یہ غلط ہوگا کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہا السلام ہمارے اجماعی عقیدے کے مطابق نازل ہو کر اس یہودی طاقت کو تہس نہس کر دیں؟

کیا حالیہ عرب اسرائیل جنگ میں عرب لیڈروں کو خونی لیڈر کہہ سکتے ہیں کیا یہ جنگ عرب اس لئے لڑ رہے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کو جبراً مسلمان کر دیں۔ اگر یہ جنگ جائز ہے تو اس کی امداد بھی جائز ہے اور کمزوری کی صورت میں فرض ہے۔ کیا مرزائی ابھی تک نہیں سمجھے کہ مشرق وسطیٰ میں یہود نے مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں پر کتنے انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں۔

----------

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi.]

(اس موقع پر مسٹر چیئرمین نے صدارت چھوڑ دی اور ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لی)

----------

2488 مولانا عبدالحکیم :

2489 سرکار انگریز سے وفاداری

عنوان بالا کے تحت مرزا صاحب کی بارگاہ ملکہ وسرکار انگریز میں عاجزی وانکساری کے چند حوالے ملاحظہ کئے جائیں۔ کیا یہ شان نبوت ہے؟

٩١

Y OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اجازت ہونی چاہئے کہ وہ قسطنطنیہ میں داخل ہو بچوں اور عورتوں کو قتل کرے اور اس کے حلیف اور اسکی شہر پر قبضہ کر کے انقرہ پر چڑھائی ک کیا انگریزوں کو مرزاجی پر احسان کرنے کے عو کے فلسطین میں بسائے اور عربوں کے سینے پر مو تھا؟ کیا نہر سویز کو واپس لینا ظلم تھا؟ کیا منوپل ہندوستان کی جیلوں میں تقسیم کر کے پھانسیاں د

دوم

مرزائی دوسرا وہم یہ پیش کرتے ہی انگریز سے جنگ نہ کرنے کے بارے میں بول

نے یہ فیصلہ نہیں کیا۔

کے لئے کیا ہے تو اس کی حیثیت اور ہے اور مر کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جہاد میں بڑ نرمی کی، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کے قتل سے موقوف ہو گیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے ختم کرنا چاہتے تھے۔ جو فرض ہے کبھی تو فرض

کے نام سے مسلمانوں کو دھوکہ دینے والے کو ود

مثال مرزا قادیانی اور چوہدری ظفر اللہ ہیں۔

حرام یا موقوف نہیں کیا۔ (ان میں بڑا فرق ہے

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٣٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ دام اقبالہا

”اور یہ نوشتہ ایک ہدیہ شکر گزاری ہے کہ جو عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ والی انگلستان ہند دام اقبالہا بالقابہا کے حضور میں بتقریب جلسہ جوبلی شصت سالہ بطور مبارکباد پیش کیا گیا۔ مبارک، مبارک، مبارک۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٣)

میری جماعت کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے

”بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے۔ ایسی سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١١، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٤)

اے ہماری ملکہ! تجھ پر بے شمار برکتیں نازل ہوں

”اے ہماری ملکہ معظمہ! تیرے پر بے شمار برکتیں نازل ہوں۔ خدا تیرے وہ تمام فکر دور کرے جو دل میں ہیں۔ جس طرح ہو سکے اس سفارت کو قبول کر۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٧)

2490 ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا

”ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو سے دل چاہتا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح ......“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٩)

اے قادر و کریم ہماری ملکہ کو خوش رکھ

”اے قادر و کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری ملکہ معظمہ کو خوش رکھ۔ جیسا کہ ہم اس کے سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیں۔“

(ستارہ قیصرہ ص ٤٢، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٤)

میرے والد انگریزی سرکار کے دل سے خیر خواہ تھے

”اور میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ١٨٥٧ء (یعنی جہاد آزادی) میں

٩٢

صفحہ ٩٢-٩٣

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

عالی جناب قیص مکمل سیٹ ٥ جلدیں

SSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عالی جناب قیصرہ ہند ملکہ معظمہ

”اور یہ نوشتہ ایک ہدیہ شکر گزاری ہے کہ انگلستان ہند دام اقبالہا بالقابہا کے حضور میں بتقریب ج کیا گیا۔ مبارک، مبارک، مبارک۔“

میری جماعت کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطا

”بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق ر اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“

اے ہماری ملکہ! تجھ پر بے شمار

”اے ہماری ملکہ معظمہ! تیرے پر بے شمار دور کرے جو دل میں ہیں۔ جس طرح ہو سکے اس سفارت

2490 ہماری قیصرہ ہند و

”ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح.....“

اے قادر و کریم ہماری ملکہ

”اے قادر و کریم اپنے فضل و کرم سے ہماری سایہ عاطفت کے نیچے خوش ہیں۔“

میرے والد انگریزی سرکار کے

”اور میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب سرکار انگریزی کے ایسے خیر خواہ اور دل کے بہادر تھے کہ

٩٢

2343 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگ جو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٨، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٠)

خدا کا حکم ہے کہ اس گورنمنٹ کے لئے دعا میں مشغول رہوں

”بلکہ خدا سے مامور ہوں کہ جس گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے میں امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں۔ اس کے لئے دعا میں مشغول رہوں اور اس کے احسانات کا شکر کروں اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھوں ۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦)

2491 ملکہ کے لئے دل اور وجود کے ذرہ ذرہ سے دعا

”اس موقعہ جوبلی پر جناب ملکہ معظمہ کے ان متواتر احسانات کو یاد کر کے جو ہماری جان و مال اور آبرو کے شامل حال ہیں ہدیہ شکر گزاری پیش کرتا ہوں اور وہ ہدیہ دعائے سلامتی و اقبال ملکہ ممدوحہ ہے جو دل سے اور وجود کے ذرہ ذرہ سے نکلتی ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦)

ملکہ معظمہ کی اقبال و سلامتی کے لئے ہماری روحیں سجدہ کرتی ہیں

”ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے لئے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦)

ملکہ کا وجود ملک کے لئے خدا کا بڑا فضل ہے

”خدا تجھے ان نیکیوں کی بہت بہت جزا دے جو تجھ سے اور تیری بابرکت سلطنت سے اور تیرے امن پسند حکام سے ہمیں پہنچی ہے۔ ہم تیرے وجود کو اس ملک کے لئے خدا کا بڑا فضل سمجھتے ہیں ۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦)

شکریہ کے لئے الفاظ نہ ملنے پر ہمیں شرمندگی ہے

”اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے۔ ہر ایک دعا جو ایک سچا شکر گزار تیرے لئے کر سکتا ہے۔ ہماری طرف سے تیرے حق میں قبول ہو۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦)

٩٣

صفحہ ٢٣٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2492 خدا نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ

محسن گورنمنٹ برطانیہ کی سچی اطاعت کی جائے

”سو خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١١، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٣)

گورنمنٹ کی سچی اطاعت کے لئے تصانیف

”سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عملدرآمد کرانے کے لئے بہت سی کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں تالیف کیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١١، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٣)

گورنمنٹ برطانیہ کی نسبت خیال جہاد بھی ظلم اور بغاوت ہے

”پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٤)

ملکہ سے وفاداری پر عظیم الشان خوشی

”اس خدا کا شکر ہے جس نے آج ہمیں یہ عظیم الشان خوشی کا دن دکھلایا کہ ہم نے اپنی ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی شصت سالہ جوبلی کو دیکھا۔ جس قدر اس دن کے آنے سے مسرت ہوئی ۔کون اس کا اندازہ کر سکتا ہے؟ ہماری محسنہ قیصرہ مبارکہ کو ہماری 2493 طرف سے خوشی اور شکر سے بھری ہوئی مبارکباد پہنچے۔ خدا ملکہ معظمہ کو ہمیشہ خوشی سے رکھے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٤)

مرزا جی! کی کلمہ شاہانہ کے لئے تڑپ اور

دربار انگریزیہ میں انتہائی عاجزانہ وفاداری

”مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانسنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش

٩٤

صفحہ ٢٣٤٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناً کوئی اور باعث ہے۔ جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں۔ لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کر رہا ہوں۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٥ ص ١١٢)

حکومت انگریزی کے قیام سے میرے والد کو جواہرات کا خزانہ مل گیا

"اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہو گیا تو وہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٣)

2494 میرے والد سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جانثار تھے

"اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جانثار تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ایام غدر ١٨٥٧ء (یعنی جہاد آزادی) میں پچاس گھوڑے معہ سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے اور وہ بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لئے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت انکی مدد کی ضرورت ہو تو بیدل و جان اس گورنمنٹ (برطانیہ) کو مدد دیں۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٣)

مرزا جی! نے سرکار انگریزی کی خدمت کے لئے پچاس ہزار کے قریب کتابیں،

رسائل اور اشتہارات لکھے

"اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)

گورنمنٹ برطانیہ کی سچی اطاعت ہر مسلمان کا فرض ہے

"لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ (برطانیہ) کی سچی اطاعت

٩٥

صفحہ ٢٣٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے۔“

(ستارہ قیصریہ ص٣، خزائن ج١٥ص١١٤)

ممالک اسلامیہ میں انگریزی وفاداری کی اشاعت

”اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔“

(ستارہ قیصریہ ص٣، خزائن ج١٥ص١١٤)

2495 میری کوشش سے لاکھوں مسلمانوں نے جہاد کے غلط خیالات چھوڑ دیئے

”جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم مُلاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہ سکا۔“

(ستارہ قیصریہ ص٤، خزائن ج١٥ص١١٤)

دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں

”میں معہ اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔“

(ستارہ قیصریہ ص٤، خزائن ج١٥ص١١٤)

عالی شان جناب ملکہ معظمہ کی عالی خدمت میں

”اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں اس خوشخبری کو پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے تا کہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے۔“

(ستارہ قیصریہ ص٤، خزائن ج١٥ص١١٥)

غیب سے، آسمان سے، روحانی انتظام

”اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہنشاہ مبارکہ قیصرہ ہند کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے جو عدل اور امن اور آسودگی عامہ خلائق اور رفع فساد اور تہذیب اخلاق 2496 اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے۔ اس کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور غیب سے اور

٩٦

صفحہ ٢٣٤٧

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو

ممالک اسلامیہ میں انگریز "اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔"

2495 میری کوشش سے لاکھوں مسلمانوں "جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نا فہم ملاؤں کی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پہ فخر اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہ سکا۔"

دونوں ہاتھ اٹھا کر "میں معہ اپنے تمام عزیزوں کے دونوں قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیر گاہ تک ہمارے سروں پر اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے

عالی شان جناب ملکہ معظمہ "اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند میں قائم کیا ہے تا کہ زمین کو عدل اور امن سے بھر

غیب سے، آسمان "اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے پورا کرنے کے لئے جو عدل اور امن اور آسودگی 2496 اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے۔ اس کے عہد

٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

آسمان سے کوئی ایسا روحانی انتظام قائم کرے جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی اغراض کو مدد دے اور جس امن اور عافیت اور صلح کاری کے باغ کو آپ لگانا چاہتی ہیں۔ آسمانی آبپاشی سے اس میں امداد فرماوے۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ١١٥، ١١٦)

مرزا جی کے مسیح موعود بننے کا مقصد

"سو اس نے اپنے قدیم وعدہ کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا۔ آسمان سے مجھے بھیجا ہے۔ تا میں اس مرد خدا کے رنگ میں ہو کر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا، اور ناصرہ میں پرورش پائی۔ حضور ملکہ معظمہ کے نیک اور بابرکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں۔ اس نے مجھے بے انتہاء برکتوں کے ساتھ چھوا اور اپنا مسیح بنایا۔ وہ ملکہ معظمہ کے پاک اغراض کو خدا آسمان سے مدد دے۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ١١٦)

ملکہ کے نور کی کشش

"سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے۔ اے مبارک اور با اقبال ملکہ زمان جن کتابوں میں مسیح موعود کا آنا لکھا ہے ان کتابوں میں صریح تیرے پر امن عہد کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٧)

ہماری پیاری قیصرہ ہند

"سو اے ہماری پیاری قیصرہ ہند خدا تجھے دیرگاہ تک سلامت رکھے۔ تیری نیک نیتی اور رعایا کی سچی ہمدردی قیصر روم سے کم نہیں۔ ملکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ ہے۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)

2497 مرزا جی کی بعثت ملکہ وکٹوریہ کی برکت سے ہوئی "سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا نتیجہ ہے۔"

(ستارہ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)

خدا کا ہاتھ ملکہ وکٹوریہ کی تائید کر رہا ہے

"تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر

٩٧

صفحہ ٢٣٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔“

(ستارۂ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)

تیری سلطنت کے ناقدر شریر اور بدذات ہیں

”تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشک بہار بنا دیں۔ شریر ہیں وہ انسان جو تیری عہد سلطنت کی قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں۔“

(ستارۂ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)

مرزا جی کی ملکہ وکٹوریہ سے دلی محبت

”چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے۔ اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لئے آب رواں کی طرح جاری ہیں۔“

(ستارۂ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ١١٩)

اے بابرکت قیصرۂ ہند جس ملک پر تیری نگاہ اس پر خدا کی نگاہ

”اے بابرکت قیصرۂ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔“

(ستارۂ قیصرۂ ہند ص ٧، ٨، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)

2498 خدا نے مرزا کو ملکہ کی پاک نیتوں کی تحریک سے بھیجا ہے

”تیری ہی (ملکہ ہند) پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے تاکہ پرہیز گاری اور نیک اخلاقی اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔“

(ستارۂ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١٢٠)

ملکہ کی خدمت پورے طور سے اخلاص،

اطاعت اور شکر گزاری کے جوش کو ادا نہیں کر سکے

”اب میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس عریضہ نیاز کو طول دوں۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس

٩٨

صفحہ ٩٩

2349 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

قدر میرے دل میں یہ جوش تھا کہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکر گزاری کو حضور قیصرۂ ہند دام ملکہا میں عرض کروں۔ پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کرسکا۔ بلکہ ناچار دعا سے ختم کرتا ہوں...... وہ (اللہ تعالیٰ) آسمان پر سے اس محسنہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو ہماری طرف سے نیک جزاء دے۔“

(ستارۂ قیصرہ ص ١٢، خزائن ج ١٥ ص ١٢٥)

گورنمنٹ برطانیہ کے مخالف، چور، قزاق اور حرامی ہیں

”ان لوگوں نے چوروں، قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“

(ازالۃ اوہام حصہ اوّل ص ٤٢، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)

گورنمنٹ برطانیہ کی مخالفت حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے

”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن (گورنمنٹ برطانیہ) کی بدخواہی کرنا حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔“

(شہادۃ القرآن، گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٣، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

2499 اسلام کے دو حصے ہیں دوسرا حصہ گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت

”میں جو بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“

(گورنمنٹ کی توجہ کے لائق ص ٣، ملحقہ شہادۃ القرآن، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

میں نے ابتداء سے آج تک گورنمنٹ برطانیہ کی بے نظیر خدمت کی ہے

”میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتداء سے آج تک وہ کام کیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی۔“

(انجام آتھم ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ٦٨)

گورنمنٹ برطانیہ کی مخالفت سخت بدذاتی ہے

”اور میں نے ہزارہا روپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کر کے ان میں جابجا اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی چاہئے اور رعایا ہو کر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بدذاتی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ٦٨)

PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیت

تیری سلطنت

”تیرے عدل کے لطیف بہار بنادیں۔ شریر ہیں وہ انسان جو ت تیرے احسانوں کا شکر گزارنہیں۔“

مرزا جی کی

”چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے ا میرے دل میں خاص طور پر آپ کی م لئے آب رواں کی طرح جاری ہیں۔“

اے بابرکت قیصرہ ہند

”اے بابرکت قیصرہ ہند اس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہے۔“

2498 خدا نے مرزا کو ملک

”تیری ہی (ملکہ ہند) گاری اور نیک اخلاقی اور صلح کاری کی

ملکہ کی خد

اطاعت اور شکر ”اب میں مناسب نہیں

قیمت فی شمارہ-/10 روپے عالمگیر مجلس تحفظ

صفحہ ٢٣٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مرزا قادیانی اور ملکہ انگلستان

آپ حوالہ جات مذکورہ کو بار بار پڑھیں اور انصاف سے کہیں کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی پوری روحانیت مجھ میں اتر آئی ہے اور کبھی کہتا ہے میں عین محمد (ﷺ) ہوں، میں نبی اور رسول ہوں۔ پھر یہ کافر حکومت کی تعریف میں 2500 زمین آسمان کے قلابے ملائے اور بار بار ملکہ لنڈن کے لئے دعائیں کرے اور دام اقبالہا کہہ کہہ کر اس کی زبان خشک ہو جائے اور آرزو کرے کہ ایک لفظ شاہانہ ہی ملکہ اس کو لکھ کر بھیج دے۔ اپنے نور کے نزول کو ملکہ کے نورانی عہد کی کشش قرار دے انگریز کی حکومت کو خدا کی رحمت کہے اور تمام ملکوں میں اس کی خیر خواہی کے لئے اشتہارات بھیجے۔ کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے۔ ایسے آدمی کو عام لوگ انگریز کا ٹوڈی کہتے ہیں۔ کاش کہ یہ اپنے کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو ذلیل و رسوا نہ کرتا۔ ناظرین ان عبارتوں کو پڑھ کر خود سوچیں اور عبرت حاصل کریں۔ کیا خدا کے پیغمبر ایسے ہی ہوا کرتے ہیں؟

مولانا عبدالحکیم: جناب والا! مجھے بلڈ پریشر کی تکلیف ہورہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کچھ وقفہ کریں تاکہ میں کچھ دوائی کھالوں۔

جناب قائمقام چیئرمین: آپ پانچ منٹ یہاں بیٹھے رہیں۔

مولانا عبدالحکیم: بیٹھ کر پڑھ لوں؟

جناب قائمقام چیئرمین: ہاؤس کی اجازت سے آپ بیٹھ کر پڑھ لیں۔

آوازیں: بیٹھ کر پڑھ لیں۔

(اس مرحلے پر مولانا عبدالحکیم بیٹھ گئے اور پڑھنا شروع کیا)

2501 مولانا عبدالحکیم: پہلا مسئلہ!

حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام

2502 ناظرین کرام جیسا کہ ہم نے ”دو مسئلے“ کے زیر عنوان لکھا تھا کہ مرزا ناصر احمد صاحب کے بیان کے بعد اب ساری بحث ان دو مسئلوں پر ہوگی۔

زمانہ میں دوبارہ نازل ہوں گے۔

١٠٠

صفحہ ٢٣٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

......٢ اگر بالفرض وہ فوت ہو چکے ہیں تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی وہی آنے والا مسیح ابن مریم ہوسکتا ہے۔ جس کی خبر سینکڑوں حدیثوں میں موجود ہے؟ چنانچہ مسئلہ نمبر٢ پر کافی بحث کر دی گئی۔ جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی قطعا آنے والا مسیح ہی نہیں بلکہ وہ مسلمان بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ اب ہم مسئلہ نمبر ا یعنی حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بحث کرتے ہیں۔

اسلامی عقائد اور موجودہ سائنس

پہلے پہل جو سائنس کا چرچا ہوا اور انگریزوں کی غلامی کا طوق بھی گردنوں میں تھا اور ہر ایرے غیرے کو سائنس کے نام سے اسلامی عقائد پر اعتراض کر کے اپنے کو روشن خیال ثابت کرنے کا شوق تھا۔ اس وقت قیامت کے دن ہاتھ پاؤں کی گواہی بھی قابل اعتراض سمجھی جاتی تھی۔ دور سے سننا بھی سمجھ نہ آتا تھا۔ وزن اعمال پر بھی بحث تھی۔ جسم کے ساتھ معراج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی سے انکار تھا اور ان کے معجزات، مردوں کو زندہ اور بیماروں کو اچھا کرنے پر بھی اعتراض تھا۔ حتی کہ آسمانوں اور فرشتوں کا وجود بھی محل نظر سمجھا جاتا تھا۔ مگر جوں جوں جدید فلسفے نے ترقی کی تمام شبہات خود بخود دور ہوتے چلے گئے۔

گراموفون کی سوئی اور پلیٹ نے جو انسانی دماغ کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ہاتھ پاؤں کی گواہی کو سمجھا دیا جس کا لوہے کی سوئی سے زیادہ انسانی دماغ سے تعلق ہے۔ ریڈیو کی ایجاد نے بھی بہت سے مسائل حل کر دئیے۔ فلموں نے تمام انسانی اعمال کے 2503 محفوظ ہونے کا مسئلہ بھی سمجھا دیا۔ ڈاکٹروں نے مردہ مینڈک کو زندہ کر کے بھی اپنا کمال دکھایا۔ چاند پر جانے اور مریخ کو راکٹ پہنچانے نے، اوپر جانے کی بات بھی سمجھا دی۔

ایسے ایسے اجرام (جسموں) کے ثبوت نے جو ہم سے اربوں کھربوں میل سے بھی زیادہ دور ہیں اور تمام کے تمام باقاعدہ حرکت کرتے اور مقررہ راستوں پر چلتے اور باہم ٹکراتے بھی نہیں، نے تمام ان باتوں کو معقول ثابت کر دیا جو غیر معقول معلوم ہو رہی تھیں اور ذرہ بے مقدار کے تجربے سے روشنی، کڑک اور حرارت کی زبردست پیدائش نے تو طاقت کا معیار ہی بدل دیا۔ ہوائی جہاز کی اڑان نے تخت سلیمانی علیہ السلام کا مسئلہ بھی حل کر دیا۔ اس دریافت نے کہ درخت ہوا میں سے صرف آکسیجن جدا کر کے اپنی غذا بناتے ہیں۔ ہواؤں اور عناصر کے جدا کرنے اور ملانے کا فلسفہ بلکہ تجربہ بھی بتا دیا۔ غرضیکہ ایک ناچیز انسان کی مادی توجہات سے وہ کام دیکھے گئے جن کو سو سال پہلے کوئی نہ مانتا۔ حالانکہ یہ تمام امور مادیات سے تعلق رکھتے ہیں اور مادیات سے

١٠١

صفحہ ١٠٢

2352 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تعلق رکھنے والی بجلی کا یہ عالم ہے کہ لوہے کی بیس ہزار میل موٹی چادر سے وہ آن کی آن میں گزر سکتی ہے اور روشنی جو اجسام سے تعلق رکھتی ہے وہ منٹوں میں کروڑوں میل کی رفتار سے چلتی ہے۔ اب آپ اس خدائے برتر کی طاقت کا کیا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جس نے ان سب میں یہ یہ قوتیں رکھی ہیں۔ پھر ان قوتوں کو صرف دریافت کیا گیا ہے۔ ان کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں ہو سکتی۔ پھر جو رسول اسی خدائے برتر سے سن کر اور معلوم کر کے فرماتے ہیں ان کی بات میں شبہ کرنا کسی صحیح الفطرۃ آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔

دراصل پہلے کسی کام کا امکان دیکھا جائے آیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ اگر ممکن ہے تو پھر پاک اور سچے پیغمبروں کی اطلاع پر یقین کیوں نہ کیا جائے جو لاکھ سے زیادہ ہو کر بھی سب متفق ہیں؟

2504 بحث حیات مسیح علیہ السلام کی حیثیت

لہٰذا اب بحث صرف اس بات پر کرنی ہے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ نے اس بارے میں کیا فرمایا۔ اس میں تو بحث نہیں رہی کہ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں اور ہم کو بحیثیت مسلمان ہونے کے اس بات کو دیکھنا ہے کہ آیا قرآن وحدیث نے یہ بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی سولی دے رہے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا کر آسمان پر لے جا کر بچا لیا اور قرب قیامت کو پھر نازل کر کے یہود ونصاریٰ کو راہ راست پر لائیں گے اور اسلام کو ساری دنیا میں پھیلائیں گے۔ اگر قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہو جائے تو پھر بحیثیت مسلمان کے ہم کو انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر یہ بات ثابت ہو جائے تو وہ جھوٹے لوگ جو مسیح کے نام سے آتے ہیں یا آئے ہیں۔ سب کذاب اور جھوٹے ثابت ہو جائیں گے۔

مسئلہ کے دو پہلو

اس مسئلہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت مسیح بن مریم آسمان کو اٹھائے گئے، دوسرا یہ کہ وہ نازل ہونے والے ہیں۔ نزول، رفع جسمانی کی فرع ہے اگر نزول ثابت ہو جائے تو یہ بات خود بخود ثابت ہو جائے گی کہ وہ جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور رفع ثابت ہو جائے تو نزول وصعود بالمقابل زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔

قرآن پاک کی تفسیر کے چند اصول، مسلمہ قادیانی

صفحہ ٢٣٥٣

مکمل سیٹ مجلد عالی تجلید ١٠٠/= قیمت فی جلد =/10 روپے

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تائید قرآن شریف ہی (گویا شواہد قرآنی) میں دوسری آیات سے ہوتی ہے۔“

(برکات الدعاء ص١٧،١٨، خزائن ج٦ ص١٨،١٧)

قرآن پاک آپ ﷺ پر نازل ہوا اور آپ ﷺ ہی اس کے معانی بہتر جانتے ہیں۔ مرزا جی نے بھی (برکات الدعاء ص١٨، خزائن ج٦ ص١٨) میں اس کو تسلیم کیا ہے۔

اس کو بھی مرزا جی نے (برکات الدعاء ص١٨، خزائن ج٦ ص١٨) میں تسلیم کیا ہے۔

ہے۔“

(برکات الدعاء ص١٨، خزائن ج٦ ص١٨)

تجدید کرے گا۔“

(فتح الاسلام ص٨، خزائن ج٣ ص٦)

کرتے ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص٤٨، خزائن ج٦ ص٣٤٢)

اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ نصوص کو ظاہر پر حمل کیا جائے۔ اس کو مرزا جی نے ازالہ اوہام حصہ اوّل میں تسلیم کیا ہے۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص٥٤١، خزائن ج٣ ص٣٩٠)

البشریٰ ص١٤، خزائن ج٧ ص١٩٢) میں لکھتے ہیں:۔ ”والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر لاتاویل فيه ولااستثناء والا فای فائدۃ فی القسم 2506“ اور قسم کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث کے ظاہری معنی ہی قابل قبول ہیں۔ کوئی تاویل اور استثناء نہیں ہوتی ورنہ قسم کھانے میں کیا فائدہ تھا۔

(ازالہ حصہ اوّل ص٣٢٨، خزائن ج٣ ص٢٦٧)

یہ حدیث شریف کا مضمون ہے کہ جس نے قرآن پاک میں اپنی رائے کو دخل دیا تو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے اور بعض روایات میں ہے کہ اس نے صحیح بھی کیا تو بھی غلطی کی۔ (اوکما قال) بہر حال قرآن پاک کی تفسیر وہی معتبر ہوگی جو خود قرآن کی کسی دوسری آیت سے ہو

١٠٣

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تعلق رکھنے والی بجلی کا یہ عالم ہے کہ لوہے کی میں گزر سکتی ہے اور روشنی جو اجسام سے تعلق رکھتی ہے ہے۔ اب آپ اس خدائے برتر کی طاقت کا کیا اند قوتیں رکھی ہیں۔ پھر ان قوتوں کو صرف دریافت ہوسکتی۔ پھر جو رسول اسی خدائے برتر سے سن کر اور کسی صحیح الفطرۃ آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔ دراصل پہلے کسی کام کا امکان دیکھا جا اور سچے پیغمبروں کی اطلاع پر یقین کیوں نہ کیا جا

2504 بحث حیات مسیح عل

لہٰذا اب بحث صرف اس بات پر کر بارے میں کیا فرمایا۔ اس میں تو بحث نہیں رہی ک ہونے کے اس بات کو دیکھنا ہے کہ آیا قرآن وحد یہودی سولی دے رہے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ف قیامت کو پھر نازل کر کے یہود ونصاریٰ کو راہِ ر پھیلائیں گے۔ اگر قرآن وحدیث سے یہ بات انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر یہ بات سے آتے ہیں یا آئے ہیں۔ سب کذاب اور جھوٹ

مسئلہ ن

اس مسئلہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ یہ کہ وہ نازل ہونے والے ہیں۔ نزول، رفع ک بات خود بخود ثابت ہو جائے گی کہ وہ جسم سمیت تو نزول وصعود بالمقابل زیادہ واضح ہو جاتے ہیں

قرآن پاک کی تفسیر کے

صفحہ ٢٣٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

پھر وہ تفسیر قابل اعتماد ہو گی ۔ جو خود سرور کائنات ﷺ نے بیان فرمائی ہو ۔ تیسرا نمبر صحابہؓ کا ہے جنہوں نے اپنے علوم سرور عالم ﷺ سے حاصل کئے ہیں۔ اس کے بعد ان حضرات کی تفسیر کا نمبر ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کے تازہ کرنے کے لئے ، ہر صدی میں پیدا کیا ہے ۔ ان چار باتوں کے سوا جو تفسیر اپنی رائے سے کی جائے گی ۔ یہ قطعاً جائز نہیں نہ مؤمن کا کام ہے۔ اور اگر کسی آیت یا حدیث میں قسم کے لفظ ہوں تو ان کو تاویل واستثناء کے بغیر ظاہری معنوں پر حمل کیا جائے گا۔

(سرمہ چشم آریہ ص ٢٤٠ ، خزائن ج ٢ ص ٢٨٨)

ان اصولوں کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔ ان کو مرزا جی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ جس کے حوالے ہم نے بتا دیئے ہیں ۔

تیرہ صدیوں کے مجددین کی مسلمہ فہرست

ایک کتاب ہے "عسل مصفّی" جس کو خدا بخش صاحب (مرزائی) نے لکھا ہے۔ یہ کتاب مرزاجی کو سنائی گئی ۔ اس پر مرزائیوں کے خلیفہ دوم اور مولوی محمد علی کی تصدیق و تقریظ 2507 درج ہے۔ اس نے تیرہ صدیوں کے مجددین شمار کئے ہیں۔ جو تقریباً اسی (٨٠) ہیں۔ ہم ان میں سے مشہور تیس حضرات کے نام لکھتے ہیں:

١٠٤

صفحہ ٢٣٥٥

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مجلس تحفظ ختم نبوت قیمت فی شمارہ -/10 روپے

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

پھر وہ تفسیر قابل اعتماد ہو گی۔ جو خود سرور کائناتﷺ جنہوں نے اپنے علوم سرور عالمﷺ سے حاصل کئے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کے تازہ کرنے کے لئے کے سوا جو تفسیر اپنی رائے سے کی جائے گی۔ یہ قطعاً جا اور اگر کسی آیت یا حدیث میں قسم کے لفظ معنوں پر حمل کیا جائے گا۔

ان اصولوں کو اچھی طرح ذہن نشین کرلی کے حوالے ہم نے بتا دیئے ہیں۔

تیرہ صدیوں کے مجددین

ایک کتاب ہے "عسل مصفیٰ" جس کو خلیفہ نے مرزا جی کو سنائی تھی۔ اس پر مرزائیوں کے خلیفہ نے 2507 تصدیق کی ہے۔ اس نے تیرہ صدیوں کے مجددین میں سے مشہور تیس حضرات کے نام لکھے ہیں:

١٠٤

2355 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

(عسل مصفیٰ ج١ص١٦٢ تا ١٦٥)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں عقائد

یہودیوں کا عقیدہ

یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ہم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی دے کر قتل کر دیا ہے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی۔ پھر بادشاہ سے کہہ کر ان کے خلاف حکم جاری کرایا اور پولیس کے ذریعے ان کو اپنے خیال کے مطابق سولی پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ قرآن پاک نے اس کی سختی سے تردید کی۔ بلکہ ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ ان پر لعنت کی اور ظاہر ہے کہ یہود کا دعویٰ یہی تھا کہ ہم نے سولی کے ذریعے ان کو قتل کر دیا ہے۔

١٠٥

صفحہ ٢٣٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2509عیسائیوں کا عقیدہ

عیسائیوں نے خود تو دیکھا نہ تھا۔ حواریین موقعہ پر موجود نہ تھے۔ یہودیوں کے کہنے سے انہوں نے بھی یہ مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے قتل کر ڈالا۔ پھر کفارے کا عقیدہ گھڑ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ساری امت اور مخلوق کی نجات کے لئے اپنی قربانی دے دی۔ سب کی طرف سے وہی کفارہ ہو گئے۔

بعض عیسائی کہتے ہیں

البتہ بعض عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر زندہ ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے۔

مسلمانوں کا عقیدہ

اس سلسلہ میں مسلمانوں کا عقیدہ وہی ہے جو قرآن پاک نے بیان کیا ہے۔ قرآن پاک اپنے پاک پیغمبروں کے بارہ میں تہمتوں اور غلط بیانیوں کی اصلاح فرماتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا تعالیٰ کا بیٹا ہونے کی تردید اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے خدا ہونے کی تردید فرمادی۔ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث (تین خدا مل کر ایک خدا ہونے) کی تردید بھی کر دی اور حضرت مریم علیہا السلام کو صدیقہ کہہ کر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا قصہ بیان کر کے کہ یہ فرشتے کی پھونک مارنے سے، بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کی صفائی بھی بیان کی ہے۔ قرآن جو صحیح فیصلے کرنے اور اختلافات میں حق کا اعلان کرنے آیا تھا۔ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہود و نصاریٰ کے عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے قتل اور سولی کی نفی کر دی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لینے کا اعلان فرما دیا اور یہ بھی اعلان کر دیا کہ تمام یہودیوں اور نصرانیوں کو 2510حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لانا ہوگا اور یہ بھی اعلان کر دیا کہ یہود نے بھی ایک تدبیر کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے کر قتل کرا دیں اور ہم نے بھی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب مدبروں سے بڑھ کر بہترین تدبیر کرنے والے ہیں۔ یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ ساڑھے تیرہ سو برس سے مسلمان یہی کہتے، لکھتے اور مانتے چلے آئے ہیں کہ یہود نے سولی دینی چاہی۔ مگر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرشتوں کے ذریعے آسمان پر اٹھا لے گئے اور حضرت عیسیٰ کی

١٠٦

صفحہ ٢٣٥٧

قیمت فی شمارہ -/10 روپے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

EMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2509 عیسائیوں کا

عیسائیوں نے خود تو دیکھا نہ تھا۔ حواری سے انہوں نے بھی یہ مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلا عقیدہ گھڑ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ساری ان دے دی۔ سب کی طرف سے وہی کفارہ ہو گئے۔

بعض عیسائی ک

البتہ بعض عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ح تشریف لے گئے۔

مسلمانوں کا

اس سلسلہ میں مسلمانوں کا عقیدہ وہی ہے پاک اپنے پاک پیغمبروں کے بارہ میں تہمتوں اور ذ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خداتعالیٰ کا اور حضرت مریم علیہا السلام کے خدا ہونے کی تردید فرم مل کر ایک خدا ہونے) کی تردید بھی کر دی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا قصہ بیان کر کے کہ یہ ف پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کی صفائی بھی اختلافات میں حق کا اعلان کرنے آیا تھا۔ اس نے ی کے عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے قتل اور سولی کی نفی کر د اٹھا لینے کا اعلان فرما دیا اور یہ بھی اعلان کر دیا کہ تما علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لانا ہوگا تدبیر کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے کر ق سب مدبروں سے بڑھ کر بہترین تدبیر کرنے والے تیرہ سو برس سے مسلمان یہی کہتے، لکھتے اور مانتے چ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرشتوں کے ذری

١٠٦

2357 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

شکل پر یعنی باتوں اور صورت میں ایک ایسے شخص کو کر ڈالا جس نے حواری ہو کر غداری کی اور اپنی طرف سے پولیس کو لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑوانا چاہا۔ جب پولیس آئی تو اس شخص کو گرفتار کر کے سولی دے دی۔ جس کی شکل وصورت اور باتیں ہو بہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہو چکی تھیں۔ اس طرح یہودیوں کی تدبیر دھری کی دھری رہ گئی۔ غدار کو بھی سزا مل گئی اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب آئی۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے درمیان سے اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔ یہی فیصلہ قرآن پاک نے دیا اور اسی پر مسلمانوں کا ایمان ہے اور سینکڑوں حدیثوں میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم دوبارہ زمین پر آسمان سے نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور اسی وجہ سے لڑائی ختم ہو جائے گی اور اسی وجہ سے کسی سے جزیہ (غیر مسلموں کا ٹیکس) نہ لیا جائے گا۔ ٤٠ برس تک وہ رہیں گے۔ حج کریں گے۔ شادی کریں گے۔ پھر وفات ہوگی اور حضور ﷺ کے روضہ پاک میں دفن ہوں گے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ

مرزا قادیانی نے نہ مسلمانوں کے عقیدے کو صحیح قرار دیا نہ یہود و نصاریٰ کی بات کو درست مانا۔ بلکہ اس نے چونکہ خود آنے والا مسیح ابن مریم بننا تھا۔ اس لئے پہلے تو یہ کہا کہ اصل عیسیٰ بن مریم فوت ہو چکے ہیں اور فوت شدہ کوئی آدمی دنیا میں دوبارہ نہیں 2511 آسکتا۔ اس لئے آنے والا مسیح بن مریم میں ہوں اور اپنی طرف سے مسیح موعود کی اصطلاح گھڑلی۔ حالانکہ تمام پرانی کتابوں میں مسیح ابن مریم علیہما السلام یا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام مذکور ہے۔ مسیح موعود کا لفظ کہیں نہیں ہے۔

مرزا جی کہتے ہیں کہ یہودی قتل تو نہیں کر سکے مگر سولی پر عیسیٰ علیہ السلام کو ضرور چڑھایا۔ ان کو گرفتار کیا۔ ان کے منہ پر تھوکا، ان کے منہ پر طمانچے مارے، ان کا مذاق اڑایا اور سولی پر چڑھایا۔ ان کے جسم میں میخیں ٹھونکیں اور ان کو مار کر اپنی طرف سے مرا ہوا سمجھ کر سولی سے اتار لیا۔ مگر دراصل اس میں ابھی رمق باقی تھی۔ مرہم لگائے گئے۔ خفیہ علاج کیا گیا اور اچھا ہو کر وہ وہاں سے چپکے سے نکل گئے اور ماں سمیت کہیں چلے گئے۔ جاتے جاتے وہ افغانستان پہنچے۔ وہاں سے پنجاب آئے۔ پھر کشمیر چلے گئے اور سری نگر میں دن گزارے۔ وہیں مر گئے۔ ان کی قبر بھی وہیں ہے۔

اور آنے والا مسیح ابن مریم میں ہوں اور آ گیا ہوں۔ مجھ پر ایمان لے آؤ۔ میں کہتا ہوں انگریز سے جہاد حرام ہے۔ اس کی اطاعت آدھا اسلام ہے۔ ١٨٥٧ء کا جہاد غنڈوں کا کام تھا۔ میرے سارے خاندان نے انگریزی خدمات بجالائیں۔ میں فقیر تھا اور کچھ نہ ہوا تو ممانعت

١٠٧

صفحہ ٢٣٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جہاد کی کتابیں لکھ لکھ کر سارے مسلمان ملکوں تک پہنچا دیں۔ خدا قیصرۂ لنڈن کا اقبال ہمیشہ قائم رکھے۔ اس کی سلطنت میں ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ آنے والے مسیح تو پہلے زمانے میں نبی تھے اور اب بھی ان کی شان نبوت اسی طرح رہے گی۔ وہ امت محمدیہ کی خدمت اسی شریعت کی رو سے کر کے اس کو غالب بنائیں گے۔ تو مرزا جی نے کہا میں بھی نبی ہوں اور بے شک نبوت ختم ہو گئی ہے۔ مگر میں فنافی الرسول ہو کر نبی بنا ہوں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت پیران پیرؒ، حضرت خواجہ اجمیرؒ، امام ربانیؒ اور شیخ اکبرؒ کوئی بھی میرے برابر درجہ حاصل نہیں کر سکا۔ نبوت کا نام صرف مجھے ملا ہے۔ قیامت 2512 تک اور بھی امت میں سے کوئی نبی نہ ہوگا۔ میری شان اس پرانے عیسیٰ بن مریم سے ہر طرح بلند ہے۔ بلکہ میرے معجزات اتنے ہیں کہ ایک ہزار پیغمبروں کی پیغمبری ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی اور یہ ہے اس کا عقیدہ۔ اب ہم قرآن وحدیث سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ تمہید میں بیان کئے ہوئے اصول کو پھر پڑھیں اور پیش نظر رکھیں۔ نیز مجددوں کی تفسیر کی اہمیت بھی سمجھ رکھیں۔

قرآنی آیات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

پہلی آیت: ”اذ قالت الملٰئکۃ یٰمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیھا فی الدنیا و الآخرۃ (آل عمران:٤٥)“ ﴿اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم بے شک اللہ تعالیٰ تم کو خوشخبری سناتا ہے۔ اپنے ایک کلمہ کی (یعنی بچے کی) اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے جو دنیا میں بھی صاحب عزت و وجاہت ہے اور آخرت میں بھی۔﴾

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیوی وجاہت کا ذکر ہی نہیں کیا۔ بلکہ اس کی خوشخبری دی۔ اب یہ وجاہت وہ وجاہت وعزت تو ہے نہیں جو دنیا داروں کو عام طور پر حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ اس کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ خاص کر ذکر انعام واکرام کے موقعہ پر؟

روحانی وجاہت بھی مراد نہیں ہے۔ وہ تو حضرت مریم علیہا السلام کو لفظ کلمہ سے اور اُخروی وجاہت سے معلوم ہوسکتا تھا۔ وجیھاً فی الدنیا کے بیان کا کیا مقصد ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عزت و وجاہت معمولی عزت و وجاہت بھی نہیں ہو سکتی جو خاص طور پر بطور نعمت و بشارت کے ہو۔

١٠٨

صفحہ ٢٣٥٩

قیمت فی شمارہ -/10 روپے عالیجناب سید یقین محکم عمل پیہم

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جہاد کی کتابیں لکھ لکھ کر سارے مسلمان ملکوں تک پہنچا دیں گے۔ رکھے۔ اس کی سلطنت میں ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ کسی نے میں نبی تھے اور اب بھی ان کی شان نبوت اسی طرح رہے شریعت کی رو سے کر کے اس کو غالب بنائیں گے۔ تو مرزا جی نبوت ختم ہو گئی ہے۔ مگر میں فانی الرسول ہو کر نبی بنا ہوں فاروق، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین اجمیر کی، امام ربانی اور شیخ اکبر کوئی بھی میرے برابر درجہ حاصل ملا ہے۔ قیامت 2512 تک اور بھی امت میں سے کوئی نبی نہ مریم سے ہر طرح بلند ہے۔ بلکہ میرے معجزات اتنے ہیں کہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی اور یہ ہے اس کا عقیدہ مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ تمہید میں بیان کئے ہوئے اس نیز مجددوں کی تفسیر کی اہمیت بھی سمجھ رکھیں۔

قرآنی آیات سے حیات عیسیٰ علیہ

پہلی آیت: ”واذ قالت الملائكة يٰمريم المسيح عيسى ابن مريم وجيها في الدنيا والآخرة (آل نے اے مریم بے شک اللہ تعالیٰ تم کو خوشخبری سناتا ہے۔ اپنے مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے جو دنیا میں بھی صاحب عزت و وجاہت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیا۔ بلکہ اس کی خوشخبری دی۔ اب یہ وجاہت وہ وجاہت ہے طور پر حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ اس کے ذکر کرنے کی کیا ضرورت کے موقعہ پر؟

روحانی وجاہت بھی مراد نہیں ہے۔ وہ تو حضرت اُخروی وجاہت سے معلوم ہو سکتا تھا۔ وجیہاً فی الدنیا کے بیان ہوئی عزت و وجاہت معمولی عزت و وجاہت بھی نہیں ہو سکتی کے ہو۔ ١٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2513 اب ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہلی عمر میں دنیوی وجاہت تو حاصل نہیں ہوئی۔ بلکہ یہود کی مخالفت نے جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ لازماً اس سے وہی وجاہت مراد ہے جو نزول کے بعد ہوگی۔ اس وقت تمام اہل کتاب بھی آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ ساری دنیا مسلمان ہو جائے گی۔ وہ چالیس سال تک دنیا بھر میں شریعت محمدیہ کی روشنی میں دین کی خدمت کریں گے۔ بیوی اور اولاد بھی ہوگی۔ اس سے بڑھ کر دنیوی وجاہت کیا ہو سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں مرزائی حوالہ جات بھی ملاحظہ ہوں۔

”دنیا میں مسیح علیہ السلام کو اس زندگی میں وجاہت ، عزت، مرتبہ، عظمت و بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی، اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرودیس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی۔ بلکہ غایت درجہ تحقیر کی گئی۔“

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود بیت المقدس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔“

(تفسیر بیان القرآن جلد نمبر ١ ص ٢١١)

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) میں لکھا: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دین الحق ليظهره علی الدین کله یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے دوبارہ آنے سے ظہور میں آئے گا۔“

پس مسلمانوں کے اس معنی کو مانے بغیر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آ کر دنیوی جاہ وجلال کے مالک ہوں گے چارہ ہی نہیں ہے۔ اس کے سوا سری نگر میں کسی 2514 وجاہت کی بات کسی مفسر یا مجدد کے قول سے مرزائی ثابت نہیں کر سکتے۔

دوسری آیت: ”فلما احس عيسى منهم الكفر قال من انصارى الى الله قال الحواريون نحن انصار الله آمنا بالله واشهد بانا مسلمون ربنا امنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين (آل عمران: ٥٢ تا ٥٤) ”پھر جب عیسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کی طرف سے انکار محسوس کیا فرمایا کون کون اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہوں گے۔ حواریین نے کہا ہم اللہ کے دین کی مدد کریں

١٠٩

صفحہ ٢٣٦٠

2360 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

گے۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو آپ نے نازل کیا اور پیغمبر کی ہم نے اطاعت کی تو ہم کو گواہوں میں لکھ دے اور انہوں (یہودیوں) نے تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ (تمام مدبروں سے بڑھ کر)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہودیوں نے تدبیر کی اور ہم نے بھی تدبیر کی اور ہماری تدبیر سے کس کی تدبیر بہتر ہوسکتی ہے؟

یہودیوں کی تدبیر یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرا کر سولی پر چڑھا دیں کہ بقول مرزا جی تورات کی تعلیم کے مطابق (معاذ اللہ) وہ لعنتی ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو فرشتے کے ذریعے آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی شکل وصورت کے مشابہ ایک اور آدمی کو کر دیا کہ جس نے جاسوسی کر کے آپ کو پکڑوا کر سولی دلائی تھی۔

چنانچہ وہی (جاسوس) سولی پر چڑھایا گیا۔ اس کا سارا واویلا فضول گیا۔ سب نے اس کو مسیح ابن مریم ہی سمجھا۔ وہ لوگوں کو پاگل سمجھ رہا تھا کہ مجھ بے گناہ کو کیوں قتل کر 2515 رہے ہیں اور لوگ اس کو پاگل سمجھتے اور کہتے تھے کہ اب موت سے بچنے کے لئے یہ پاگل بنتا ہے۔ اب آپ مرزا جی کی قابلیت کی داد دیں کہ تورات کی تعلیم یہ تھی کہ جو سولی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ کیا کوئی بے گناہ سولی پر لٹکائے جانے سے خدا کے ہاں لعنتی ہوسکتا ہے؟ تورات میں بھی گنہگار اور مجرم آدمی کا ذکر ہے۔ بے گناہ تو کتنے پیغمبر خود قرآن کے ارشادات کے مطابق قتل کئے گئے جو شہید ہوئے۔

-----------------------

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali)]

(اس موقع پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے صدارت چھوڑ دی۔ جسے مسٹر چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

مولانا عبدالحکیم : مرزا جی کی دوسری قابلیت کی بھی داد دیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گرفتار ہوئے۔ ان کے منہ پر (معاذ اللہ) تھوکا گیا۔ طمانچے مارے گئے۔ سولی پر چڑھائے

١١٠

صفحہ ٢٣٦١

2361 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

گے۔ میخیں ٹھوکی گئیں۔ خوب مذاق اڑایا گیا اور وہ چیخ چیخ کر خدا کو پکارتے رہے اور آخر کار ان کو مقتول سمجھ کر اتار دیا گیا۔ بھلا یہ خدا کی تدبیر تھی ! جو بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اس طرح تو یہود کی تدبیر کامیاب ہوئی اور بقول مرزا جی کے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہر طرح ذلیل کیا گیا اور جو یہودی چاہتے تھے وہ کر گزرے۔ حتیٰ کہ نصرانیوں کو بھی یقین دلا دیا کہ ہم نے یسوع مسیح کو قتل کر دیا۔ مرزا جی کہتے ہیں کہ خدا کی تدبیر یہ ہوئی کہ جان نہیں نکلنے دی۔ کیا یہی وہ تدبیر تھی کہ جس کو قیامت میں اللہ تعالیٰ بطور احسان کے جتلائیں گے؟ پس معلوم ہوا کہ جو مسلمان سمجھے ہیں وہ حق ہے۔

اس آیت کریمہ کے ضمن میں مجددینؒ نے کیا لکھا ہے وہ سن لیجئے۔

عمران: ٥٤) میں لکھا ہے کہ یہود کی تدبیر تو قتل کی تیاری تھی اور خدا کی تدبیر یہ تھی کہ جبرائیل علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روزن سے آسمان کو اٹھا لے گئے اور ایک اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل پر کر دیا۔ جس کو یہودیوں نے سولی پر چڑھا دیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہود کا شر ان تک نہ پہنچنے دیا۔

مجدد صدی ششم حضرت حافظ ابن کثیرؒ کی تفسیر

کو آسمان پر لے جایا گیا اور ان کی جگہ اس غدار شخص کو سولی دی گئی۔ جس کی شکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح کر دی گئی تھی۔

کے قتل کے لئے انتظام کیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر کی کہ ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک اور آدمی کو ان کی شکل پر کر دیا۔ جس کو سولی دے دی گئی۔

(جلالین ص٥٢، آل عمران: ٥٤)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے آسمان کی طرف اٹھا لیا اور دوسرے آدمی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کر دیا گیا۔ اب ان مجددین کی تفسیر کو صحیح نہ ماننے والا کیسے مسلمان ہوگا؟

آیت نمبر٣: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کی تفصیل بتا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اطمینان دلایا۔

١١١

SSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

گے۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مس لائے اس پر جو آپ نے نازل کیا اور پیغمبر کی ہم نے اط انہوں (یہود یوں) نے تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی ا (تمام مدبروں سے بڑھ کر)﴾ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہود یوں ہماری تدبیر سے کس کی تدبیر بہتر ہو سکتی ہے؟ یہودیوں کی تدبیر یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ ا بقول مرزا جی تورات کی تعلیم کے مطابق (معاذ اللہ) وہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو فرشت وصورت کے مشابہ ایک اور آدمی کو کر دیا کہ جس نے جاسوسی چنانچہ وہی (جاسوس) سولی پر چڑھایا گیا۔ کو مسیح ابن مریم ہی سمجھا۔ وہ لوگوں کو پاگل سمجھ رہا تھا کہ لوگ اس کو پاگل سمجھتے اور کہتے تھے کہ اب موت سے مرزا جی کی قابلیت کی داد دیں کہ تورات کی تعلیم یہ تھی کہ کوئی بے گناہ سولی پر لٹکائے جانے سے خدا کے ہاں مجرم آدمی کا ذکر ہے۔ بے گناہ تو کتنے پیغمبر خود قرآن شہید ہوئے۔

chair was vacated by Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi was occupied by Mr. Chairman

(اس موقع پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عبا صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

مولانا عبدالحکیم: مرزا جی کی دوسری السلام گرفتار ہوئے۔ ان کے منہ پر (معاذ اللہ) تھوکا

١١٠

صفحہ ٢٣٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

"واذ قال الله يا عيسى اني متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ثم الى مرجعكم فاحكم بينكم فيما كنتم فيه تختلفون (آل عمران:٥٥) "﴿جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ علیہ السلام میں تم کو پوری طرح اپنی طرف اٹھاؤں گا اور کافروں سے پاک کر دوں گا اور تمہارے متبعین کو کافروں پر (قرب) یومِ قیامت تک 2517 غالب رکھوں گا۔ پھر میرے پاس آؤ گے اور میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا۔﴾

یہاں بھی مرزا قادیانی کی جہالت آپ پر خوب واضح ہو جائے گی۔ کیونکہ مرزا جی نے متوفیک کا معنی کیا ہے۔ "میں تجھے موت دوں گا۔"

بھلا یہ بھی کوئی تسلی ہے کہ یہودی تو کہیں ہم اس کو قتل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہیں کہ میں موت دوں گا۔ یوں تو اور ڈرانا اور پریشان کرنا ہے۔ متوفیک کے معنی میں ان مجددین کے اقوال ملاحظہ فرمائیں کہ جو مرزائیوں کے ہاں بھی مسلمہ مجدد ہیں۔

ایک مجدد کی تفسیر

اس آیت کا معنی اور مطلب مجدد صدی ششم امام رازیؒ (تفسیر کبیر ج٤ ص٧٢،٧١، آل عمران:٥٥) میں وہی لکھتے ہیں جو ہم نے یہاں بیان کیا۔ فرماتے ہیں توفی کے معنی ہیں "اخذ الشئ وافياً" یعنی کسی چیز کو ہر لحاظ سے اپنے قابو میں کر لینا۔ اے عیسیٰ میں تیری عمر پوری کروں گا اور پھر تجھے وفات دوں گا میں ان یہود کو تیرے قتل کے لئے نہیں چھوڑوں گا۔ بلکہ تجھے آسمان کی طرف اٹھالوں گا اور تجھ کو ان کے قابو میں آنے سے بچالوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض لوگ خیال کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم نہیں بلکہ روح اٹھائی گئی تھی۔ اس لئے متوفیک فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ روح اور جسد دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ اگر کہا جائے کہ جب توفی کے معنی پوری طرح قابو کر لینا ہے تو پھر اس کے بعد رافعک کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پوری طرح قابو کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک توفی موت کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایک بمعہ جسم آسمان کی طرف اٹھا لینے سے، ورافعک نے دوسرے معنی کو متعین کر دیا۔ (یہ سارا بیان حضرت امام رازیؒ کا تھا)

2518 "دوسرے مجدد کی تفسیر"

امام جلال الدین سیوطیؒ "جو قادیانی، لاہوری دونوں کے ہاں مجدد صدی نہم ہیں اور ان

١١٢

صفحہ ٢٣٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کو اس وجہ کا آدمی سمجھتے ہیں کہ وہ متنازعہ فیہ مسائل میں آنحضرت ﷺ سے بالشافہ پوچھ لیتے تھے۔ (ازالۃ اوہام ص ١٥١، خزائن ج ٣ ص ١٧٧) وہ فرماتے ہیں: ”یا عیسیٰ انی متوفیک (قابضك) ورافعك الیٰ (من الدنیا من غیر موت) (تفسیر جلالین ص ٥٦، آل عمران ٥٥) “

ہم نے قرآن پاک کے وہ معانی کئے جن کی تائید دوسری آیات بھی کرتی ہیں۔ پھر حضور ﷺ قسم کھا کر نزول عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ذکر کرتے ہیں جو بلحاظ اصول مذکورہ ظاہر پر محمول ہے۔ پھر صحابہؓ نے یہی فرمایا اور دو مجددوں کی تفسیر بھی آپ کے سامنے ہے۔ مگر مرزائی ایک ہی رٹ لگاتے چلے جاتے ہیں اور اس مقولے پر عمل کئے ہوئے ہیں کہ جھوٹ اتنا بولو کہ اس کے سچ ہونے کا گمان ہونے لگے۔ مرزائی ہلدی کی گرہ لے کر پنساری بننے کی کوشش کرتے ہیں اور خاص کر ابن عباسؓ کے معنی کو لے کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ توفی کے معنی اور حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر پر ذرا تفصیلی روشنی ڈالیں۔

لفظ توفی کی تحقیق

توفی کا لغوی معنی اخذ الشیئ وافیاً۔ یعنی کسی چیز کو پورا پورا قابو کر لینا یا پورا پورا لے لینا۔ یہ وفاء سے ہے فوت سے نہیں۔ اس کا اصلی معنی وہی ہے جو دو مجددین نے بیان کر دیا۔ اب ان مجددین کے مقابلہ میں ہم انگریز کے خاص وفادار مرزا قادیانی کی بات کیسے مان سکتے ہیں؟

2519 تیسرے مجدد کی تفسیر

امام ابن تیمیہؒ مجدد صدی ہفتم اپنی کتاب (الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح جلد نمبر ٢ ص ٢٨٠) پر لکھتے ہیں: ”لفظ التوفی فی لغة العرب معناه الاستیفاء والقبض وذالك ثلثة انواع احدھا توفی النوم والثانی توفی الموت والثالث توفی الروح والبدن جمیعاً فانه بذالك عرج عن حال اهل الارض“ ”توفی کا معنی لغت عرب میں استیفاء اور قبض (یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا اور اس کو اپنے قابو میں کر لینا ہے) اس کی پھر تین قسمیں ہیں۔ ایک نیند کی توفی ایک موت کی توفی اور ایک جسم اور روح دونوں کی توفی اور عیسیٰ علیہ السلام اسی تیسرے طریقہ سے اہل زمین سے جدا ہو گئے ہیں۔﴾

١١٣

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

”واذ قال الله یا عیسیٰ انی مـ وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کـ بینکم فیما کنتم فیه تختلفون (آل عمرا تم کو پوری طرح اپنی طرف اٹھاؤں گا اور کافر پر (قرب) یوم قیامت تک 2517 غالب رکھوں فیصلہ کروں گا۔

یہاں بھی مرزا قادیانی کی جہالت متوفیک کا معنی کیا ہے۔ ”میں تجھے موت دوں بھلا یہ بھی کوئی تسلی ہے کہ یہودی ہیں کہ میں موت دوں گا۔ یوں تو اور ڈرانا او کے اقوال ملاحظہ فرمائیں کہ جو مرزائیوں کے

ایک

اس آیت کا معنی اور مطلب مجد آل عمران:٥٥) میں وہی لکھتے ہیں جو ہم نے الشیئ وافیاً “ یعنی کسی چیز کو ہر لحاظ سے اسـ اور پھر تجھے وفات دوں گا میں ان یہود کو تیر طرف اٹھالوں گا اور تجھ کو ان کے قابو میں آ خیال کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تاکہ معلوم ہو کہ روح اور جسد دونوں آسمان معنی پوری طرح قابو کر لینا ہے تو پھر اس کے ہے کہ پوری طرح قابو کرنے کی دو صورتیں بمعہ جسم آسمان کی طرف اٹھا لینے سے، وہا حضرت امام رازیؒ کا تھا)

دوسر 2518

امام جلال الدین سیوطیؒ ”جو قا

صفحہ ٢٣٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جناب چیئرمین: مولانا صاحب! دومنٹ کے لئے ریسٹ کر لیں۔ باقی تقریباً ٨٠ صفحے رہتے ہیں۔ دو گھنٹے میں ختم ہو جائیں گے۔ (وقفہ)

مولانا عبدالحکیم: جناب اجازت ہے؟

جناب چیئرمین: پھر دو بجے تک جاری رکھیں۔ شام کو ایک گھنٹہ میں ختم ہو جائے گا۔

مولانا عبدالحکیم: جناب اجازت ہے؟

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ۔ پھر ہم ڈیڑھ بجے تک جاری رکھتے ہیں، پھر شام کو ساڑھے پانچ بجے دوبارہ شروع کریں گے اور نماز مغرب تک ختم کر دیں گے۔

2520 میاں محمد عطا اللہ: جناب والا! میری رائے میں جو میٹریل اب باقی رہ گیا ہے وہ ایک گھنٹہ میں آسانی سے مولانا صاحب پڑھ سکتے ہیں۔

جناب چیئرمین: نہیں، آدھ گھنٹہ ٹھیک ہے۔ پھر اس کے بعد ریویو کریں گے۔

مولانا عبدالحکیم: جناب اجازت ہے؟

ترجمہ: اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی دلیل یہ آیت ہے۔ ”وان من اهل الکتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى حين ينزل....... اور حق یہ ہے کہ وہ جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس بات پر ایمان لانا واجب ہے۔“

جلد دوم ص ٢٨١) میں فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”الا ليؤمنن بہ میں ایمان نافع مراد ہے جو قبل از موت ہے۔ موت کے وقت غرغرے اور نزع کے وقت کا ایمان نہیں ہے جس سے کوئی فائدہ نہیں اور تمام کافروں کے لئے ہے اور تمام باتوں کے مان لینے کے لئے ہے۔ جس سے بھی انکار کرتے تھے۔ اس میں حضرت مسیح کو کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ ليؤمنن مستقبل ہی میں مستعمل ہوتا ہے اور سب اہل کتاب حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔“

کریمہ پڑھی اور بتایا کہ اس آیت کریمہ میں اسی مسیح علیہ السلام کی زندگی کا ذکر کیا ہے جن کے نزول کی خبر سرور عالم ﷺ نے دی ہے۔ ہزاروں صحابہؓ میں سے کسی نے انکار نہیں کیا اور اس طرح اس مسئلہ پر اجماع صحابہؓ منعقد ہو گیا۔

١١٤

صفحہ ١١٥

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

2365 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2521 جناب چیئرمین: ڈیڑھ بج گیا ہے۔ آپ کا کتنا Stamina (قوت برداشت) ہے؟

مولانا عبدالحکیم: بیجان ہو گیا ہوں بالکل۔

جناب چیئرمین: کیا رائے ہے آپ کی؟

(ممبران: بروز پیر) Members: Monday.

جناب چیئرمین: منڈے نہیں۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کل صبح نہیں، آج شام کو ایک گھنٹہ لگے گا۔ ساڑھے پانچ بجے۔ اس کے بعد اگر کوئی ممبر صاحبان مختصر بحث کرنا چاہیں تو بیشک شام تک کرلیں۔ اس کے بعد جب کتاب ختم ہو جائے گی تو پھر جنرل ڈیبیٹ منڈے مارننگ سے شروع ہوگی۔

The Committee of the whole House is adjourned to meet at 5:30 pm. today.

(کل ارکان پارلیمنٹ پرمشتمل کمیٹی کا اجلاس شام ساڑھے پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا)

---------

The Special Committee adjourned for lunch break to re-assemble at 5:30 pm.

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھانے کے وقفہ کے لئے شام ساڑھے پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا)

---------

The Special Committee re-assemble after lunch break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھانے کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) صدارت کر رہے ہیں)

---------

Mr. Chairman: Yes, Maulana Abdul Hakim.

(جناب چیئرمین: ہاں جی! مولانا عبدالحکیم صاحب)

جناب چیئرمین: ہاں جی! شروع کریں۔

LY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جناب چیئرمین: مولانا صاحب ٨٠ صفحے رہتے ہیں۔ دو گھنٹے میں ختم ہو جائیں گے

مولانا عبدالحکیم: جناب! اجازت

جناب چیئرمین: پھر دو بجے تک

مولانا عبدالحکیم: جناب اجازت،

جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ۔ مجھ ساڑھے پانچ بجے دوبارہ شروع کریں گے اور نما

2520 میاں محمد عطاء اللہ: جناب وا وہ ایک گھنٹہ میں آسانی سے مولانا صاحب پڑھ

جناب چیئرمین: نہیں، آدھ گھنٹہ

مولانا عبدالحکیم: جناب اجازت

ترجمہ: اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ک الکتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى حين ن طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس بات پر ایمان لا

جلد دوم ص ٢٨١) میں فرماتے ہیں:

ترجمہ: ”الا لیؤمنن بہ میں ا وقت غرغرے اور نزع کے وقت کا ایمان نہیں ہ ہے اور تمام باتوں کے مان لینے کے لئے ہے۔ کو کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ لیؤمنن مستقبل مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے ایمان لے آ

کریمہ پڑھی اور بتایا کہ اس آیت کریمہ میں نزول کی خبر سرور عالم ﷺ نے دی ہے۔ ہزارہ اس مسئلہ پر اجماع صحابہؓ منعقد ہو گیا۔

صفحہ ٢٣٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

-----------------

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was accupied by Dr. Mrs Ashraf Khatoon Abbasi.]

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے اجلاس کی صدارت چھوڑ دی جسے ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)

-----------------

2522 قرآن پاک اور لفظ توفی

مولانا عبدالحکیم: قرآن پاک میں لفظ توفی بائیس مقامات پر آیا ہے۔ اگر توفی کا حقیقی معنی بقول مرزا جی کے موت دینے کے مانے جائیں تو بعض مقامات پر معنی ہی نہیں بنتا۔

قضی علیها الموت ویرسل الاخری الی اجل مسمی (الزمر:٤٢)“ ﴿اللہ تعالیٰ قابو کر لیتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت جو مری نہیں ان کو قابو کر لیتا ہے نیند میں، پھر جن کا فیصلہ موت کا کیا اس کو روک دیتے ہیں اور دوسری روحوں کو واپس کر دیتے ہیں متعین میعاد تک۔﴾ اگر موت دینا مراد لیں تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ روحوں کو موت دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ بلکہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ روحوں کو قابو کر لیتے ہیں موت کے وقت بھی اور نیند کے وقت بھی۔

وہ ہے جو تم کو رات کے وقت قابو کر لیتا ہے اور جو تم دن کو کرتے ہو اس کو جانتا ہے۔﴾

یہاں بھی توفی سے مراد نیند ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ رات کو سارے لوگ مر جایا کریں۔

لیتے ہیں۔﴾

جب قرأت زبر کے ساتھ ہو تو پھر یہاں موت دینے کے معنی بن ہی نہیں سکتے ورنہ معنی یہ ہوگا جو لوگ اپنے کو موت دیتے ہیں۔

2523 توفی کا اصلی اور لغوی معنی تو یہ ہوا اور چونکہ موت میں بھی روح قابو (قبض) کی جاتی ہے۔ اس لئے اس کو توفی کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح نیند میں بھی روح کو ایک طرح قبض کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس کو بھی توفی کہہ دیا جاتا ہے۔ مگر اصلی معنی کے سوا باقی معانی کے لئے قرینے

١١٦

صفحہ ١١٧

قیمت فی حصہ 10/- روپے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

2367 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اور دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے قرآن پاک کی بعض دوسری آیات میں قرینے موجود ہیں۔ جن کی وجہ سے وہاں موت کا معنی ہوتا ہے۔

ایک مسئلہ

باقی رہا یہ مسئلہ کہ کسی لفظ کا استعمال زیادہ تر اس کے اصل معنی کی بجائے شرعی معنی یا عرفی معنی میں ہونے لگے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب اصلی معنی میں یہ لفظ کبھی استعمال نہ ہوگا۔ یہ قطعاً غلط ہے۔

پہلی مثال

مثلاً صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں۔ مگر شرعی اصطلاح میں صلوٰۃ ایک خاص عبادت ہے جس میں رکوع اور سجدے وغیرہ ہوتے ہیں اور قرآن پاک میں اس اصطلاحی معنی میں سینکڑوں جگہ صلوٰۃ کا استعمال ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً قرآن پاک میں ہے۔ "وصل عليهم ان صلوتك سكن لهم (التوبہ: ١٠٣)" ﴿اور آپ ان کے لئے دعا کریں۔ اس لئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے باعث سکون ہے۔﴾

دوسری مثال

اسی طرح زکوٰۃ کا لفظ ایک خاص معنی میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی مالی عبادت کا ایک مخصوص طریقہ۔ مگر اصلی معنی میں بھی بلا روک ٹوک استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً: "وحناناً من لدناوزکوة و كان تقياً (مریم: ١٣)" ﴿اور یحییٰ علیہ السلام کو ہم نے اپنی طرف سے شوق دیا اور ستھرائی اور تقا پرہیز گار۔﴾

یہاں زکوٰۃ اپنے اصلی معنی پاکی میں مستعمل ہوا۔ یعنی ستھرائی اور پاکیزگی۔ اسی 2524 طرح توفی کا لفظ ہے۔ زیادہ تر اس کا استعمال روح کو قبض کرنے میں ہوتا ہے۔ چاہے نیند کی صورت میں ہو یا موت کی صورت میں۔ لیکن کبھی اس کا استعمال روح اور جسم دونوں کے قبض کرنے میں بھی ہوتا ہے اور یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ یعنی: "اخذ الشئ وافيا" ﴿کسی چیز کو پوری طرح تو قابو کر لینا۔﴾ جیسے کہ اہل لغت اور مجددین نے کہا ہے۔

ایک مرزائی ڈھکوسلہ اور اس کا جواب

مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کہہ دیا کرتے ہیں کہ توفی کا فاعل خدا ہو اور مفعول کوئی ذی

OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

irman vacated the Chair Ashraf Khatoon Abbasi.]

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے خاتون عباسی نے سنبھال لیا)

2522 قرآن

مولانا عبدالحکیم : قرآن پاک حقیقی معنی بقول مرزا جی کے موت دینے کے

قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الـ ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت جو مرتی نہیـ کیا اس کو روک دیتے ہیں اور دوسری روحوں دینا مراد لیں تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ روحوں ہے کہ اللہ تعالیٰ روحوں کو قابو کر لیتے ہیں موت

وہ ہے جو تم کو رات کے وقت قابو کر لیتا ہے اور یہاں بھی توفی سے مراد نیند ہے۔ تـ

لیتے ہیں۔﴾ جب قرأت زبر کے ساتھ ہو تو پـ یہ ہوگا جو لوگ اپنے کو موت دیتے ہیں۔

2523 توفی کا اصلی اور لغوی معنی قـ جاتی ہے۔ اس لئے اس کو توفی کہہ دیتے ہیـ جاتا ہے۔ اس لئے اس کو بھی توفی کہہ دیا جا

صفحہ ٢٣٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

روح ہو تو اس کا معنی قبض روح اور موت ہی کے ہوتے ہیں۔ یہ ایک دھوکہ یا ڈھکوسلہ ہے۔ ہم کہتے ہیں توفی کا فاعل خدا ہو مفعول ذی روح ہو اور اس کے بعد رفع کا ذکر ہو تو توفی کا معنی جسم وروح دونوں کا اٹھایا جانا مراد ہوتا ہے۔

ایک اور دھوکہ

مرزائیوں بلکہ خود مرزا جی نے حضرت ابن عباسؓ کے اس قول سے مسلمانوں کو بڑا دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے بخاری میں ”متوفيك“ کا معنی ”مميتك“ کیا ہے کہ میں تجھے موت دینے والا ہوں...... گویا وہ وفات مسیح کے قائل ہیں۔ یہ قطعاً دھوکہ اور غلط ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ”متوفيك“ کا معنی ”مميتك“ کیا ہے۔ یہ تو تسلی اور وعدہ ہے کہ میں تجھے توفی کر کے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اب یہ بات کہ یہ وعدہ کب خدا نے پورا کیا ہم کہتے ہیں کہ جب وہ سولی پر چڑھانے کا ارادہ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کے مطابق ان کو پوری طرح قبض کر کے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ مرزائی کہتے ہیں کہ پوری پوری تکلیف اور ایذاؤں کے بعد سال گزار کر موت دی۔ موت تو ہر شخص کو دی جاتی ہے یہ کیا وعدہ تھا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے شایان شان یہی تھا؟

2525 ”مگر اماتت کا معنی صرف موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بے ہوش کرنا بھی ہے۔“

(دیکھو مرزا جی کی کتاب ازالۃ اوہام حصہ دوم ص ٩٤٣، خزائن ج ٣ ص ٦١١)

تو معنی یہ ہوا کہ اے عیسیٰ میں تجھے سلا کر یا بے ہوش کر کے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ تو اب تمام آیات اور تفسیریں ایک طرح ہو گئیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر ”مميتك“ کا معنی وہی موت دینے کے لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے موت دوں گا یہ معنی دے سکتے، اور فی الحال آسمان کی طرف اٹھاتا ہوں اور ان لوگوں سے تم کو پاک کرتا ہوں۔ گویا آیت میں وہ تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں کہ موت میں دوں گا۔ لیکن بعد میں، اور فی الحال تم کو اٹھاتا ہوں۔

یہ معنی ہم اپنی طرف سے، مرزائیوں کی طرح نہیں کرتے۔ بلکہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نے خود حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ تابعی ضحاکؒ حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مراد اس جگہ یہ ہے کہ میں تجھے اٹھاؤں گا اور پھر آخری زمانہ میں فوت کروں گا۔

(درمنثور)

١١٨

صفحہ ٢٣٦٩

EMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

روح ہو تو اس کا معنی قبض روح اور موت ہی کے ہوتے کہتے ہیں توفی کا فاعل خدا ہو مفعول ذی روح ہو اور ا و روح دونوں کا اٹھایا جانا مراد ہوتا ہے۔

ایک اور دھوکا

مرزائیوں بلکہ خود مرزا جی نے حضرت اب دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے بخاری میں ” میں تجھے موت دینے والا ہوں....... گویا وہ وفات مسیح حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ”متوفيك“ کا معنی ”م میں تجھے توفی کر کے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اب یہ بات کہ جب وہ سولی پر چڑھانے کا ارادہ کرنے لگے۔ اللہ قبض کر کے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ مرزائی کہتے ہیں سال گزار کر موت دی۔ موت تو ہر شخص کو دی جانی ہے یہی تھا؟

2525 ”ممیتک“ کا معنی صرف موت دینا

(دیکھو مرزا جی کی کتاب

تو معنی یہ ہوا کہ اے عیسیٰ میں تجھے سلا کر یا ہوں۔ تو اب تمام آیات اور تفسیریں ایک طرح ہو گئیں

دوسری بات یہ ہے کہ اگر ”مميتك“ کا مطلب یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے موت دوں گا یہ اٹھاتا ہوں اور ان لوگوں سے تم کو پاک کرتا ہوں۔ گو موت میں دوں گا۔ لیکن بعد میں، اور فی الحال تم کو اٹھا

یہ معنی ہم اپنی طرف سے، مرزائیوں کی ط الدین سیوطیؒ نے خود حضرت ابن عباسؓ سے روایت سے روایت نقل کرتے ہیں کہ مراد اس جگہ یہ ہے کہ میں کروں گا۔

١١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اسی طرح مجددصدی دہم حضرت علامہ محمد طاہر گجراتی مصنف مجمع البحار نے فرمایا کہ: ”انی متوفيك ورافعك الىّ على التقديم والتاخير ويجيء فى اخر الزمان لتواتر خبر النزول “ یہ متوفیک اور رافعك الىّ تقدیم و تاخیر کے ساتھ ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آئیں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی خبر متواتر ہے۔ ﴾

امام رازیؒ نے ”تفسیر کبیر جلد دوم سورۃ آل عمران“ میں لکھا ہے کہ یہاں واؤ سے ترتیب ثابت نہیں ہوتی کہ پہلے وفات ہو پھر رفع۔ بلکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ 2526 یہ کام کریں گے۔ باقی کب کریں گے؟ کس طرح کریں گے؟ تو یہ بات دلیل پر موقوف ہے اور دلیل سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور حضورﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ نازل ہو کر دجال کو قتل کریں گے۔ پھر ان کو اللہ تعالیٰ اس کے بعد وفات دیں گے اور یہ تقدیم و تاخیر قرآن میں بہت ہے۔ مثلاً:

رب کی عبادت کر اور سجدہ اور رکوع کر۔ ﴿ تو یہاں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رکوع سے سجدہ پہلے کرے۔ کیونکہ سجدے کا ذکر پہلے آگیا ہے۔

وعيسى وايوب ويونس وهارون وآتينا داؤد زبورا (نساء:١٦٣)“ اس آیت میں بھی واؤ سے ترتیب ثابت نہیں ہوتی کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مذکور باقی انبیاء علیہم السلام سے بعد میں آئے ہیں۔ مگر آیت میں ان کا ذکر پہلے ہے۔

آیا پھر بکر اور آخر میں خالد آیا۔ واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سب حضرات آئے۔ باقی کس طرح اور کس ترتیب سے آئے اس کا ذکر نہیں ہے۔

مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابن عباسؓ کے لفظوں کا معنی موت دینا ہی لے لیں تو بھی وہ حیات مسیح کے قائل ہیں اور آیت میں تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔

چند نکات اور سوالات

گے۔ ایسی کوئی مثال (اس کے خلاف) نہیں ہے۔

١١٩

PDF 145

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No: 16

تدبیر فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی طرح کون بہتر تدبیر کر سکتا ہے۔ اب آپ فرمائیں کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی تفسیر مان لیں اور متوفیک کا مفہوم ہم تیرہ سو برسوں کے مجددین ومحدثین کے مطابق نہ لیں تو پھر کس کی تدبیر غالب آئی۔ یہود کی یا خدا تعالیٰ کی۔ بقول مرزا جی کے یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑوایا، مذاق اڑایا، منہ پر تھوکا، منہ پر طمانچے مارے، سولی پر چڑھایا، ان کے اعضاء میں میخیں ٹھونکیں اور جو کچھ کر سکتے تھے کیا۔ آخر کار مرا ہوا سمجھ کر سولی سے اتارا۔ حالانکہ ان میں ابھی جان تھی۔ خفیہ علاج کیا گیا وہ بچ گئے اور زخم اچھے ہونے کے بعد ماں سمیت وہاں سے چلے گئے اور دو ہزار میل پہلے کے جنگلوں، صحراؤں، دریاؤں، بیابانوں کو طے کرتے کرتے افغانستان پہنچے۔ خدا جانے کس طرح پھر پنجاب آئے۔ کسی نہ کسی طرح سری نگر جا پہنچے وہاں ساری عمر گمنامی میں گزاری اور مر گئے۔ یہودیوں نے اپنی طرف سے قتل کر کے ان کو لعنتی قرار دے دیا، عیسائیوں کو جو موقع پر موجود نہ تھے یقین دلا دیا۔ جنہوں نے کفارہ کا عقیدہ گھڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ اتنا ہی کر سکے کہ سولی پر جان نہ نکلنے دی۔

کیا یہ خدا تعالیٰ کی بہترین تدبیر تھی۔ پھر اسی تدبیر کا قیامت کے دن احسان جتائیں گے کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روکے رکھا کیا یہی روکنا تھا؟

کون سی تخصیص ہے؟

لفظ زائد اور بے سود ہو جاتا ہے۔ جس سے قرآن کی بلاغت 2528 قائم نہیں رہتی۔ جس کی شان سب سے اعلیٰ وارفع ہے۔ اور نہ عربی میں ایسا ہوتا ہے۔

متوفیک فرمایا گیا۔ مرزا جی کے مطابق یہ رفع روحانی اس وقت ہوا اور موت اس وقت واقع ہوئی جب کہ تمام طرح کی تکالیف گزر چکی تھیں۔ اچھی تسلی دی گئی؟

آیت نمبر ٤: ”وبکفرهم وقولهم علی مریم بهتانا عظيماً وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (نساء:١٥٧، ١٥٨)“ (اور ہم نے ان یہود پر لعنت کی) ان

١٢٠

NATIO

ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل نہ سولی پر چڑھایا۔ البتہ ان کے لے (خود) شک کے اندر ہیں۔ پیروی ہے اور انہوں نے اس اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑے

نہ تو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ اپنی طرف اٹھا لیا۔ 2529 مرزا جی بھلا آپ خود غور کریں۔ ہے جس کے قتل کا یہودی دعویٰ پر قتل کا فعل واقع ہونا تھا۔ اس سولی پر چڑھانا چاہتے تھے اور ا۔ ؛ جب تمام ضمیریں حضرت عیسیٰ ، راجع نہیں؟ ہے جس وقت وہ قتل کرنا چاہتے حانی کہتے ہیں۔ ، کنند رسولی کے ذریعے قتل کے قائل امعنی یہ ہوا کہ ان یہودیوں نے ہے کہ نہ ان کو قتل کیا نہ سولی پر قل

قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے دلیل سے پہلے والی بات کی ضد ہا۔ یا یوں کہیں زید مسلمان نہیں ف ہے۔

عالمی مجلس تحفظ قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٣٧١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کے کفر اور مریم پر بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے اور کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کر ڈالا ہے جو اللہ کے رسول ہیں۔ حالانکہ انہوں نے ان کو نہ قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا۔ البتہ ان کے لئے (ایک آدمی) مشابہ کر دیا گیا اور اس میں اختلاف کرنے والے (خود) شک کے اندر ہیں۔ ان کو اس واقعہ کا کوئی قطعی علم نہیں ہے۔ صرف ظن (تخمین) کی پیروی ہے اور انہوں نے اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں۔﴾

اس آیت کریمہ نے اصل مسئلے کا بالکل فیصلہ کر دیا کہ نہ تو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ ہی سولی چڑھایا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ 2529 مرزا جی کبھی کہتے ہیں کہ روح کو اٹھایا کبھی کہتے ہیں اٹھانا بمعنی عزت دی۔ بھلا آپ خود غور کریں۔

کرتے تھے تو کیا وہ روح کو قتل کرتے تھے۔ یا جسم اور روح دونوں پر قتل کا فعل واقع ہونا تھا۔ اس سے صاف و صریح معلوم ہوا کہ رفع اس کا ہوا جس کو وہ قتل کرنا یا سولی پر چڑھانا چاہتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم اور روح دونوں تھے۔ صرف روح نہ تھی۔

علیہ السلام کی طرف راجع ہیں تو پھر رفعہ اللہ کی ضمیر کیوں ان کی طرف راجع نہیں؟

تھے۔ مرزا جی روح کا رفع مراد لے کر ٨٧ سال بعد کشمیر میں رفع روحانی کہتے ہیں۔

ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند

تھے تو جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’وما قتلوه وما صلبوه‘‘ تو اس کا معنی یہ ہوا کہ ان یہودیوں نے ان کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا۔ مرزا جی کا ترجمہ یوں ہے کہ نہ ان کو قتل کیا نہ سولی پر قتل کیا۔ (کتنا بھونڈا ترجمہ ہے)

ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ ہر عقلمند جانتا ہے کہ بل کے بعد والی بات، بل سے پہلے والی بات کی ضد ہوتی ہے۔ جیسے کہا جائے کہ زید لاہور نہیں گیا، 2530 بلکہ سیالکوٹ گیا۔ یا یوں کہیں زید مسلمان نہیں بلکہ مرزائی ہے تو اس کا یہی معنی ہے کہ دوسری بات پہلی بات کے خلاف ہے۔

١٢١

صفحہ ٢٣٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ان کو قتل نہیں کیا گیا۔ بلکہ میں نے اپنی طرف اٹھا لیا تو یہ تب ہی صحیح ہو سکتا ہے کہ رفع جسمانی مراد ہو۔ ورنہ مرزا جی کا معنیٰ یہ ہوگا کہ انہوں نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دے دی تو قتل اور موت میں کوئی تضاد نہیں۔ کیونکہ قتل میں بھی موت ہوتی ہے۔

اس ”بل“ نے بھی مرزائیوں کا بل نکال دیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ قتل میں بھی موت خدا ہی دیا کرتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ انہوں نے قتل نہیں کیا۔ بلکہ خدا نے موت دے دی۔ (معاذ اللہ)

اٹھا کر بچا لیا اور مرزا جی کہتے ہیں کہ اس واقعہ سے ٨٧ سال بعد سری نگر میں گمنامی کی موت مرے۔ (معاذ اللہ)

مجددین امت کے بیانات

قتل کر سکے یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور نہ پھانسی پر ہی لٹکا سکے۔ بلکہ بات یوں ہوئی کہ یہود کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام کی شبیہ بنا دی گئی اور وہی قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا۔“

(تفسیر جلالین ص ٩١، زیر آیت کریمہ)

ہیں کہ: ”نہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا۔“

(ترجمہ شاہ عبد القادرؒ)

قدرت اور کمال علم حاصل ہے تو اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا سے آسمانوں کی طرف اٹھانا اگرچہ آدمیوں کے لئے تعذر رکھتا ہے۔ مگر میری قدرت و حکمت کے لحاظ سے اس میں کوئی تعذر نہیں ہے۔ یہ تفسیر حضرت امام رازی صاحبؒ مجدد صدی ششم نے بیان فرمائی ہے۔

پہلی بات

یہاں پانچ باتیں ہیں۔ اگر صلیب کا معنیٰ سولی پر قتل کرنا ہے تو سولی پر چڑھانے کے لئے عرب میں کون سا لفظ ہے؟

١٢٢

صفحہ ١٢٢

2373 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

دوسری بات

یہ ہے کہ اگر سولی پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چڑھایا تھا تو بجائے اس کے کہ لعنت کی وجہ ان کے قتل کا قول بناتے۔ یوں فرماتے ”وبصلبہم“ یعنی ان پر لعنت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کی وجہ سے ہوئی۔

تیسری بات

یہ ہے کہ یہودی تو قائل ہی اس بات کے تھے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے کر قتل کیا ہے۔ تو پھر وہ ماقتلوہ کافی تھا۔ ماصلبوہ کی کیا ضرورت تھی؟ معلوم ہوا کہ صرف سولی پر چڑھانے کو صلیب کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ مکمل طور پر حقیقت آشکار کرنا چاہتے تھے۔

چوتھی بات

یہ ہے کہ واقعہ صلیب کا ضرور ہوا تھا۔ لاکھوں لوگوں کو علم تھا۔ ایک آدمی کو سولی دی گئی تھی اور مشہور کیا گیا تھا کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام تھے 2532 تو سوال پیدا ہوتا تھا کہ سولی دی گئی تھی۔ اگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ تھے تو پھر کون تھا؟ اس کا جواب قرآن پاک نے دیا ”بل شبہ لہم“ کہ ایک شخص پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈال دی گئی (یہی غدار یہودا تھا) اس کو سولی پر لٹکا کر کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا۔

پانچویں بات

یہ ہے کہ پھر مسیح علیہ السلام کدھر گئے۔ اس کا جواب دیا گیا کہ ”بل رفعه الله اليه (النساء: ١٥٨) ”کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ آخر میں ”عزیزاً حکیما“ فرما کر مسلمانوں کے عقیدے کو مضبوط سے مضبوط فرما دیا۔ --------- [At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).] (اس موقع پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے اجلاس کی صدارت چھوڑ دی جسے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے سنبھال لیا)

SEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ان کو قتل نہیں کیا تب ہی صحیح ہو سکتا ہے کہ رفع جسمانی مراد ہو۔ ورنہ مر کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دے دی تو قتل اور بھی موت ہوتی ہے۔

اس ”بل“ نے بھی مرزائیوں کا بل نکال دیا خدا ہی دیا کرتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہوا کہ انہوں دی۔ (معاذ اللہ)

اٹھا کر بچا لیا اور مرزا جی کہتے ہیں کہ اس واقعہ سے مرے۔ (معاذ اللہ)

مجددین امت کے

قتل کر سکے یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور نہ پھانسی کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام کی شبیہ بنادی گئی اور وہی

ہیں کہ: ”نہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا ا

قدرت اور کمال علم حاصل ہے تو اللہ تعالیٰ نے متنبہ فر طرف اٹھانا اگرچہ آدمیوں کے لئے تعذر رکھتا ہے۔ مگر ا کوئی تعذر نہیں ہے۔ یہ تفسیر حضرت امام رازی صاحب ا

پہلی بات

یہاں پانچ باتیں ہیں۔ اگر صلیب کا معنی لئے عرب میں کون سا لفظ ہے؟

صفحہ ١٢٤

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قیمت فی شمارہ -/10 روپے

2374 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 ---------

مولانا عبد الحکیم :

آیت نمبر ٥ : ” وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شھیدا (النساء:١٥٩) “ ﴿جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ علیہ السلام پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔﴾

مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سارے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ اس آیت کریمہ نے تو بہت ہی صفائی سے اعلان کر دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ ان کے مرنے سے پہلے یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے۔ گویا وہ بیسیوں حدیثیں اس آیت کی 2533شرح ہیں۔ جن میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عادل، حاکم (فیصلے کرنے والے) ہو کر نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ اس وقت اسلام تمام اکناف عالم میں پھیل جائے گا اور جو یہود و نصاریٰ بچیں گے سب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ایسے معجزات اور فتوحات دیکھنے کے بعد جو اسلامی روایات کے عین مطابق ظہور پذیر ہوں گے کیوں ایمان نہ لائیں گے۔ اب آپ ذرا چوتھی اور پانچویں آیت کا ترجمہ ملا کر پھر پڑھیں۔

یہود و نصاریٰ تو قیامت تک باقی رہیں گے۔ حالانکہ صور پھونکنے (بگل بجانے) کے بعد کون زندہ رہے گا۔ ایسی تمام آیتوں میں مراد قرب قیامت ہوتی ہے۔ ورنہ عام محاورہ ہے۔ مثلاً یہ کہیں کہ مرزائی قیامت تک مرزا غلام احمد کو مسلمان ثابت نہیں کر سکتے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا مناظرہ قیامت تک جاری رہے گا۔

آتے ہیں۔ کیونکہ موت کے وقت ان کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ ان باتوں سے مرزا جی اپنے مریدوں کو قابو رکھنے اور سادہ لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ورنہ سب سمجھ سکتے ہیں کہ آیت کریمہ میں ”لیؤمنن“ کے صیغے نے اس بات کو مستقبل کے ساتھ خاص کر لیا ہے کہ آئندہ ایسا ہو گا کہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ مگر مرزا جی اس کا معنی لیؤمن کرتے ہیں کہ تمام اہل کتاب ایمان لے آتے ہیں۔ حالانکہ یہ گرائمر (صرف نحو کے) قواعد کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔

2375 NATIONAL ASSEN

یمان کرتے ہیں جو آخری وقت (غرغرہ اور سے فرعون کا ایمان ڈوبتے وقت کا نامنظور تھا۔ یمان یا اس کے مشتقات تقریباً پچاس جگہ ذکر کی دوسری سینکڑوں جگہوں پر ایمان سے مراد

کہ دینا چاہتے ہیں تو لکھ مارتے ہیں کہ یہ لفظ ہاں سینکڑوں مقامات پر ایمان کے معنی ایمان

ہی مراد ہوتا ہے تو پھر لیؤمنن بہ قبل موتہ نہ کہا ر ہے۔ وہاں موت کے وقت یعنی غرغرے کا چاہئے تھا کہ ان اہل کتاب کو موت کے وقت صحیح و بلیغ کتاب عندموتہ نہیں فرماتی بلکہ قبل

ہر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع نہیں ہے اور ا جگہ قبل موتہم آیا ہے۔ حالانکہ پہلے تو قرأت جب کہ وہ کمزور ہے؟ پھر اگر مان لیا جائے تو ی متواترہ کے مطابق ہوں۔ اس طرح معنی ارہ آئیں گے تو اس وقت کے بچے ہوئے علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور یہ معنی سٰی علیہ السلام کے زمانے میں ساری دنیا میں

مر پڑھیں۔ یہاں ذکر ہی حضرت عیسیٰ علیہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان پر ہوگا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں ۔ انہیں کا ذکر ہے۔ اس کے سوا کوئی اور معنی ۔ قرآن پاک کا فیصلہ بالکل صاف ہے۔

صفحہ ٢٣٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نزع کے وقت) کا ایمان ہے جو ایمان مقبول نہیں جیسے فرعون کا ایمان ڈوبتے وقت کا نامنظور تھا۔ حالانکہ قرآن پاک میں صرف ایک سورۃ بقرہ میں ایمان یا اس کے مشتقات تقریباً پچاس جگہ ذکر ہوئے ہیں۔ ان سب مقامات پر بلکہ قرآن پاک کی دوسری سینکڑوں جگہوں پر ایمان سے مراد ایمان مقبول ہے۔

جب مرزا جی کسی آیت کے معنی میں دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو لکھ مارتے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں اتنی جگہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے مگر یہاں سینکڑوں مقامات پر ایمان کے معنی ایمان مقبول سے گریز کر کے دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔

جاتا۔ کیونکہ مرنے سے پہلے کا ایمان تو مقبول ومنظور ہے۔ وہاں موت کے وقت یعنی غرغرے کا ایمان مقبول نہیں ہوتا تو قبل موتہ کی جگہ عند موتہ ہونا چاہئے تھا کہ ان اہل کتاب کو موت کے وقت حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے۔ حالانکہ قرآن پاک جیسی فصیح وبلیغ کتاب عند موتہ نہیں فرماتی بلکہ قبل موتہ فرماتی ہے۔

ایک شاذ قرأت کا سہارا لیتے ہیں۔ جس میں قبل موتہ کی جگہ قبل موتہم آیا ہے۔ حالانکہ پہلے تو قرأت متواترہ کے مقابلہ میں قرأت شاذہ کا کیا اعتبار ہے۔ جب کہ وہ کمزور ہے؟ پھر اگر مان لیا جائے تو اس صورت میں معنی اس طرح کریں گے جو قرأت متواترہ کے مطابق ہوں۔ اس طرح معنی 2535 یوں ہوں گے کہ جب (عیسیٰ علیہ السلام) دوبارہ آئیں گے تو اس وقت کے بچے ہوئے سارے اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور یہ معنی ان بیسیوں حدیثوں کے عین مطابق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔

السلام کا ہے۔ ان کو قتل نہیں کیا۔ ان کو سولی نہیں دی۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان پر ان کے مرنے سے پہلے تمام اہل کتاب کو ایمان لانا ہوگا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ تمام ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ انہیں کا ذکر ہے۔ اس کے سوا کوئی اور معنی کرنا قرآن پاک سے مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن پاک کا فیصلہ بالکل صاف ہے۔

١٢٥

صفحہ ٢٣٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ص٣٧٢، خزائن ج٣ ص٢٩١) میں یوں لکھتے ہیں: ”کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کئے ہیں۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لاوے۔ جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔“

پہلے تو مرزا جی کے اس ترجمے کا مطلب ہی کوئی نہ سمجھے گا اگر سمجھ بھی جائے تو مرزا ناصر احمد اور سارے مرزائی بتائیں کہ یہ الفاظ جو مرزاجی نے ترجمہ میں گھسیٹے ہیں۔ قرآن پاک کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے؟ ورنہ پھر حدیث رسول ﷺ کے مطابق جہنم کے لئے تیار رہیں۔ خود مرزا جی نے لکھا ہے کہ 2536 ”مومن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص٣٢٨، خزائن ج٣ ص٢٦٧)

اگر ایمان ہے تو تیرہ سو سال کے مجددین یا کسی حدیث سے یہ معنی ثابت کریں۔ اس آیت کریمہ کا مطلب بالکل صاف ہے۔ مگر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مزید وضاحت یا تائید کے لئے بعض بزرگان سلف کے ارشادات بیان کر دیئے جائیں۔

(امام شعرانی الیواقیت والجواہر جلد٢ ص١٤٦) میں لکھتے ہیں: ”الدلیل علی نزوله قوله تعالى وان من اهل الکتاب الا ليؤمنن به قبل موته اے حين ينزل...... والحق انه رفع بجسده الى السماء والایمان به واجب“

ایک چیلنج

مولانا عبدالحکیم: مسلمانوں کے معنی کے لحاظ سے لکھیں تو معنی ظاہر ہیں مگر مرزائی بتائیں کہ ”یوم القیامة يكون عليهم شهيدا“ کا کیا معنی ہے وہ کس بات کے گواہ ہوں گے؟ حق و ناحق کو تو تمام کافر موت کے وقت پہچان لیں گے۔ تو وہ کس پر گواہی دیں گے اور کس بات کی دیں گے؟

دوسرا چیلنج

کیا کسی ایک محدث، مفسر اور مجدد کا نام لیا جا سکتا ہے جس نے اس آیت کا وہ معنی کیا ہو جو مرزا جی نے کیا ہے۔ اگر یہ من گھڑت معنی ہے تو مرزاجی کے اس قول کو یاد رکھیں کہ ”ایک نیا معنی اپنی طرف سے گھڑنا الحاد و زندقہ ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٤٢٥، خزائن ج٣ ص٥٠١)

آیت نمبر ٦: ”اذ قال الله يا عيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى

١٢٦

2377 NATIONAL ASSE

الناس في المهد وكهلا واذ علمتك اذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذني كمه والابرص باذني واذ تخرج الموتى هم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ان کہے گا اللہ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے میری مہربانی سا نے تمہاری مدد روح القدس سے کی۔ تم گود جب میں نے تمہیں کتاب وحکمت اور تورات کی طرح شکل میرے حکم سے بنا کر اس میں ور جب میں نے بنی اسرائیل کو روکے رکھا تم ں نے ان میں سے کہا یہ تو بس صاف صاف

ت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ حضرت ئے علاوہ اور احسانات کے یہ بھی فرمائیں گے زی اور ہاتھوں کو روکنا تو درکنار ہم نے ان کو نت کا ذکر ہے اور اسی صورت میں یہ اللہ تعالیٰ ں نے بیان کیا۔ وہ ایک مذاق ہی ہے۔

وعدہ عصمت کے بعد رسول اللہ ﷺ کو جنگ ہے کہ عصمت اور بچانا اور چیز ہے اور کف بمعنی ہ اور ٧ھ کے درمیان نازل ہوئی۔ مولوی محمد القرآن مطبوعہ ١٣٢٠ھ ص٥٨٨) میں اس بات عصمك من الناس“ دوران سفر ذات الرقاع وا۔ یہ بات مرزائیوں کے مسلمہ مجدد صدی نہم ھی ہے۔ پس (نزول المسیح ص١٥١، خزائن ج١٨ ت کے بعد حضور کو جنگ احد میں تکلیف پہنچی کی رائے ملاحظہ ہوں۔

صفحہ ٢٣٧٧

SSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ے۔ ...... اب آپ مرزا قادیانی کا ترجمہ دیکھ کر ذرا لط ص ٢٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩١) میں یوں لکھتے ہیں: ”کوئی اہل یہاں مذکورہ پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لاوے۔ جو مسیح پہلے تو مرزا جی کے اس ترجمے کا مطلب ہی کو احمد اور سارے مرزا کی بتائیں کہ یہ الفاظ جو مرزا جی نے تر الفاظ کا ترجمہ ہے؟ ورنہ پھر حدیث رسول ﷺ کے مطابق لکھا ہے کہ 2536 ”مومن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کر

(ازالہ

اگر ایمان ہے تو تیرہ سو سال کے مجددین یا ک آیت کریمہ کا مطلب بالکل صاف ہے۔ مگر مناسب معل لئے بعض بزرگان سلف کے ارشادات بیان کر دیئے جا (امام شعرانی الیواقیت والجواہر جلد نمبر ٢ ص ١٤٦) میں تعالى وان من اهل الكتب الا ليومنن به قبل م بجسده الى السماء والايمان به واجب “

ایک چیلنج

مولانا عبدالحکیم: مسلمانوں کے معنی کے بتائیں کہ ”يوم القيامة يكون عليهم شهيدا “ کا حق و ناحق کو تو تمام کافر موت کے وقت پہچان لیں گے دیں گے؟

دوسرا چیلنج

کیا کسی ایک محدث ، مفسر اور مجدد کا نام لیا جا جو مرزا جی نے کیا ہے۔ اگر یہ من گھڑت معنی ہے تو مرزا اپنی طرف سے گھڑا الحاد و زندقہ ہے۔“ آیت نمبر ٦: ”اذ قال الله يا عيسى ١٢٦

2377 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس في المهد و كهلا واذ علمتك 2537 الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيراً باذنى وتبرئى الاكمه والابرص باذنى واذ تخرج الموتى باذنى واذ كففت بنى اسرائيل عنك اذ جئتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم ان هذا الا سحر مبين (مائدہ: ١١٠) ”اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے میری مہربانی یاد کر جو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کی۔ جب میں نے تمہاری مدد روح القدس سے کی۔ تم گود میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے باتیں کرتے تھے اور جب میں نے تمہیں کتاب وحکمت اور تورات وانجیل کی تعلیم دی اور جب تم گارے سے پرندے کی طرح شکل میرے حکم سے بنا کر اس میں پھونک دیتے تھے تو وہ پرندہ ہو جاتا میرے حکم سے اور جب میں نے بنی اسرائیل کو روکے رکھا تم سے۔ جب تم ان کے پاس کھلے دلائل لائے تو کافروں نے ان میں سے کہا یہ تو بس صاف صاف جادو ہے۔“

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے علاوہ اور احسانات کے یہ بھی فرمائیں گے کہ میں نے ان کو تم سے روکے رکھا۔ یعنی دست درازی اور ہاتھوں کو روکنا تو درکنار ہم نے ان کو آپ تک پہنچنے بھی نہ دیا۔ اس میں کمال حفاظت کی نعمت کا ذکر ہے اور اسی صورت میں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور احسان ہے۔ ورنہ جس طرح مرزا قادیانی نے بیان کیا ۔ وہ ایک مذاق ہی ہے۔

یہاں مرزائیوں نے اعتراض کیا ہے کہ وعدۂ عصمت کے بعد رسول اللہ ﷺ کو جنگ احد میں تکلیف پہنچی۔ 2538 پہلے تو اس کا جواب یہ ہے کہ عصمت اور بچانا اور چیز ہے اور کف بمعنی روکے رکھنا اور چیز ہے۔

پھر یہ آیت کریمہ سورہ مائدہ کی ہے جو ٥ھ اور ٧ھ کے درمیان نازل ہوئی۔ مولوی محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور نے اپنی تفسیر (بیان القرآن مطبوعہ ١٣٤٠ھ ص ٥٨٨) میں اس بات کا اقرار کیا ہے اور خاص کر یہ آیت کریمہ ”والله يعصمك من الناس “ دوران سفر ذات الرقاع غزوۂ انمار میں نازل ہوئی تھی۔ جو ٥ھ میں واقع ہوا۔ یہ بات مرزائیوں کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام سیوطیؒ نے (تفسیر اتقان جزو اول ص ٣٢) میں لکھی ہے۔ پس (نزول المسیح ص ١٥١، خزائن ج ١٨ ص ٥٢٩) میں مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ ”وعدہ عصمت کے بعد حضور کو جنگ احد میں تکلیف پہنچی تھی۔“ بالکل جھوٹ ثابت ہو جاتا ہے۔ اب مجددین کی رائے ملاحظہ ہوں۔ ١٢٧

صفحہ ٢٣٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات میں صفائی سے یہ بیان کیا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم سے روکے رکھا۔ جب کہ مرزاجی کے ہاں تو خدا تعالیٰ نے ان یہود کو اس طرح روکے رکھا کہ وہ پکڑ کر لے گئے۔ منہ پر تھوکا، طمانچے مارے۔ مذاق اڑایا۔ سولی پر چڑھا یا اعضاء میں میخیں ٹھونکیں۔ وہ چیختا رہا کہ اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ پھر یہودیوں نے اس کو مردہ سمجھ کر اتار دیا۔ خفیہ علاج ہوا۔ مرہم رکھتے رہے آخر اچھا ہو کر وہ وہاں سے بھاگے اور پہاڑوں، دریاؤں، بیابانوں کو طے کرتے ہوئے سرحد پنجاب پہنچے۔ پھر کسی طرح کشمیر پہنچ گئے اور سری نگر میں (توبہ کر کے) خاموش زندگی گزاری اور وہیں مر گئے۔ مرزائیوں کے ہاں یہ اللہ تعالیٰ کی کامیاب تدبیر تھی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہود کو عیسیٰ علیہ السلام تک نہیں پہنچنے دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

کف کا معنی

کف کا معنی عربی میں روکے رکھنے کے ہیں قرآن پاک میں ہے۔ 2539

”یکفوا ایدیہم (نساء:٩١)“
”فکف ایدیہم عنکم (نساء:١١)“
”کفوا ایدیہم (نساء:٧٧)“
”وکف ایدی الناس عنکم (فتح:٢٠)“
”الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم (فتح:٢٤)“

ان تمام مقامات میں قرآن پاک نے اسی کف کو روکے رکھنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔

قرآن پاک کا اعجاز

چونکہ ان جگہوں میں ایک دوسرے کا سامنا ہوا یا مقابلہ کی شکل بنی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ایک کے ہاتھ دوسرے تک پہنچنے سے روکے رکھے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں یہود اور پولیس سے مقابلے اور آمنے سامنے ہونے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ اس لئے ایدی نہیں فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو آپ سے روکے رکھا۔ نہ تو وہ آپ تک پہنچنے پائے اور نہ ہی مقابلے کی صورت پیدا ہوئی۔ ایک صورت اعجاز کی یہ بھی ہے۔ اب آپ مجددین کی رائے ملاحظہ فرمائیں:

1...... مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطی تفسیر جلالین زیر بحث آیت میں فرماتے ہیں۔ ”و كهلاً يفيد نزوله قبل الساعة لانه، رفع قبل الكهولة كما سبق فی (آل

١٢٨

صفحہ ٢٣٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عمران) ”وکہلا سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے اس لئے کہ وہ کہولت سے پہلے ہی اٹھالئے گئے تھے۔ ﴾

”نقل ان عمر عیسیٰ علیہ السلام الى ان رفع كان ثلاثاً وثلاثين سنة وستة اشهر وعلى هذا التقدير فهو مابلغ الكهولة والجواب من وجهين...... والثاني قول الحسين بن الفضل ان المراد بقوله وكهلاً ان يكون كهلا بعد ان ينزل من السماء فى آخر الزمان ويكلم الناس ويقتل الدجال قال الحسين بن الفضل وفى هذه الاية نص على انه عليه السلام سينزل الى الارض“ ﴿نقل ہے جب عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے ان کی عمر ساڑھے تینتیس برس تھی۔ (گویا انہوں نے ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں نہیں کیں) حضرت حسین بن الفضل فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ نزول کے بعد کہولت کے زمانہ میں وہ باتیں کریں گے۔ ہزار ہا سال کے بعد بوڑھا نہ ہونا پھر ادھیڑ ہو کر باتیں کرنا یہ وہ نعمت ہے جس کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جتائیں گے۔ حضرت حسین بن فضل فرماتے ہیں کہ آیت میں تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عنقریب زمین پر اتریں گے۔ ﴾

باقی دوسرا احسان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پنگھوڑے میں باتیں کرنا یہ کیا مشکل ہے۔ جب جبرائیل علیہ السلام کے پاؤں کے نیچے کی مٹی سے سامری کا بچھڑا جو دھات سے بنا تھا بول اٹھا، تو جو بزرگ پیدا ہی جبرائیل علیہ السلام کی پھونک سے ہوئے تھے۔ ان کا بچپن میں باتیں کرنا کیوں تعجب خیز ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی نے تو لکھا ہے کہ ”میرے اس لڑکے نے دوبارہ ماں کے پیٹ میں باتیں کیں۔“ خدا جانے کہاں کان رکھ کر یہ باتیں سنی گئیں؟ بہر حال یہ اس سے زیادہ مشکل ہے۔

آیت نمبر ٧: ”واذ قال الله يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله قال سبحنك ما يكون لى ان اقول ما ليس لى بحق، ان كنت قلته فقد علمته تعلم ما فى نفسى ولا اعلم مافى نفسك انك انت علام الغيوب ما قلت لهم الا ما 2541امرتنى به ان اعبدوا الله ربى وربكم، وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئ شهيد ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزيز الحكيم (مائده: ١١٥ تا ١١٨)“ ﴿اور جب کہیں گے اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ بن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا تعالیٰ کے سوا معبود

١٢٩

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات جتا کو تم سے روکے رکھا۔ جب کہ مرزا جی کے ہاں تو خدا پکڑ کر لے گئے۔ منہ پر تھوکا، طمانچے مارے۔ مذاق ا وہ چیختا رہا کہ اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ پچھ علاج ہوا۔ مرہم رکھتے رہے آخر اچھا ہو کر وہ وہاں طے کرتے ہوئے سرحد پنجاب پہنچے۔ پھر کسی طریقہ خاموش زندگی گزاری اور وہیں مر گئے۔ مرزائیوں ب طرح اللہ تعالیٰ نے یہود کو عیسیٰ علیہ السلام تک نہیں پہنچ

کف کا

کف کا معنی عربی میں روکے رکھنے کے 2539 ”یکفوا ایدیهم (نساء: ٩١)“ ”فکف ایدیهم عنكم (نساء: ١١)“ ”كفوا ایدیهم (نساء: ٧٧)“ ”و كف ايدى الناس عنكم (فتح: ”الذى كف ايديهم عنكم وايديكم ان تمام مقامات میں قرآن پاک نے اسی

قرآن پاک

چونکہ ان جگہوں میں ایک دوسرے کا سا کہ ہم نے ایک کے ہاتھ دوسرے تک پہنچنے سے رو میں یہود اور پولیس سے مقابلے اور آمنے سامنے ہو فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو آپ سے روکے رکھا کی صورت پیدا ہوئی۔ ایک صورت اعجاز کی یہ بھی فرمائیں:

”وكهلاً يفيد نزوله قبل الساعة

٢٨

صفحہ ٢٣٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

بنا لو۔ وہ عرض کریں گے کہ اے اللہ آپ برتر (اور شرک سے) پاک ہیں۔ یہ میرے لئے کیسے ممکن ہے کہ وہ بات کہوں جس کا کسی طرح مجھے حق نہیں۔ اگر میں نے کہا تھا تو آپ اس کو جانتے ہیں۔ آپ میرے دل کی بات جانتے ہیں۔ میں آپ کی بات نہیں جانتا۔ آپ بے شک غیب کی باتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے ان کو وہی بات کہی ہے جس کا آپ نے حکم دیا کہ میرے اور اپنے مالک کی عبادت کرو اور میں ان کا نگہبان (یا گواہ) تھا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا۔ آپ خود ہی نگہبان (یا گواہ) تھے اور آپ ہر بات کے گواہ (اور واقف) ہیں اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں۔ (آپ کو حق حاصل ہے) اور اگر آپ ان کو بخش دیں تو آپ (پوری طرح) غالب اور حکمتوں والے ہیں (سب کچھ) کر سکتے ہیں۔﴾

یہاں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ جانتے نہیں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ملزم ہیں۔ بلکہ اہل کتاب کو ذلیل و رسوا اور لاجواب کرنے کے لئے پوچھا جائے گا۔ کیونکہ عیسائی ان کو خدا اسی لئے بناتے تھے کہ 2542 ان کا خیال تھا یا جان بوجھ کر جھوٹ گھڑ لیا تھا کہ یہ تعلیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے۔ اس سوال کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہی کچھ کہیں گے جو ایک پیغمبر کی شایان شان ہے۔ آخر میں فرمائیں گے جب تک میں ان میں رہا ان کا نگران تھا۔ مگر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا پھر آپ خود ہی نگران اور گواہ تھے۔ مرزا جی نے یہاں بھی ”توفیتنی“ کا معنی غلط کیا ہے کہ ”جب آپ نے مجھے وفات دی۔“ مگر صریحاً غلط ہے کیونکہ مرزا جی تو ستاسی سال واقعہ صلیب کے بعد سری نگر میں ان کو مارتے ہیں اور اس وقت تک بقول ان کے وہ زندہ تھے اور عیسائی ان سے پہلے ہی بگڑ چکے تھے۔

چنانچہ (چشمہ معرفت ص ٢٥٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦٦) پر لکھتے ہیں: ”انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ خدا کی جگہ عاجز انسان کی پرستش نے لے لی۔“

اس طرح بقول مرزا جی کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے اسی نوے سال پہلے عیسائی بگڑ چکے تھے تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرنے سے پہلے میں گواہ تھا۔ وہ تو دروں، پہاڑوں، دریاؤں اور بیابانوں میں پریشان پھرتے پھراتے سری نگر پہنچے جب کہ اس زمانہ میں وہاں بغیر لشکر کے پہنچنا اور اپنی قوم کے حالات سے واقف ہونا مشکل تھا۔ نیز آیت کریمہ سے مرزائی ترجمہ کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علیحدگی ان لوگوں سے موت کے ذریعے ہوئی تھی۔ حالانکہ بقول مرزا جی علیحدگی عرصہ دراز پہلے ہوئی اور موت بعد میں۔

اب آپ آیت کریمہ کا اعجاز ملاحظہ کریں کہ ”مادمت فیھم“ فرمایا ہے۔ ”مادمت

١٣٠

صفحہ ٢٣٨١

2381 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حیا“ نہیں فرمایا کہ جب تک میں زندہ رہا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ جب تک میں ان میں رہا۔ مطلب صاف ہے کہ جب آپ آسمان کی طرف لے جائے گئے تو آپ کی ذمہ داری یا نگرانی کیسے باقی رہی؟

2543 مرزا جی لوگوں کو احمق بنانے کے لئے کہتے ہیں کہ جب ان کو دوبارہ آنا ہے تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مجھے کوئی علم نہیں۔

کے بارے میں مرزا جی کا کیا خیال ہے جب ان سے قیامت میں پوچھا جائے گا۔ ”ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا“ ﴿تمہیں کیا جواب دیا گیا وہ عرض کریں گے ہمیں کوئی علم نہیں۔﴾

مرزا جی! جو جواب یہاں دیں وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔

کی بے راہ روی کا علم ہوا تو انہوں نے زمین پر اپنا مثیل اور صفاتی رنگ میں اپنا بروز چاہا۔ جب مرزا جی کو بروزی مسیح بننے کی ضرورت ہوئی تو یہاں تک مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان میں ان کی امت کی برائیوں کا علم ہوا اور جب مسلمانوں کو دھوکا دینا ہو تو یوں گویا ہوتے ہیں کہ لاعلمی ظاہر کریں گے؟ حالانکہ آنے سے پہلے ہی ان کو اللہ تعالیٰ نے سب باتوں کا علم دے دیا ہوتا ہے اور غیاب کے زمانہ کی کوئی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی نہ وہ نگران ہوتے ہیں۔ باقی انہوں نے علم سے انکار نہیں کیا ہے۔

”کنت انت الرقیب علیہم“ میں شہید کے مقابلہ میں رقیب استعمال کر کے صاف بتا دیا کہ یہاں علم کا سوال ہی نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں نے ان غلط باتوں کا نہیں کہا اور جب تک میں ان میں رہا میں نگران تھا۔ میرے اٹھائے جانے کے بعد آپ خود ہی نگران تھے۔

2544 آیت نمبر ٨: ”وانہ لعلم للساعة فلا تمترن بھا واتبعون ھذا صراط مستقیم (الزخرف:٦١)“ ﴿اور یقیناً وہ (عیسیٰ علیہ السلام) یقینی نشانی ہیں قیامت کی، سو شک نہ کرو اس میں، اور میری تابعداری کرو۔ یہ سیدھی راہ ہے۔﴾

اس آیت میں صاف صاف بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور دوبارہ تشریف لانا قیامت کی دلیل ہے۔ جس کا ذکر ہم عنقریب کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

عیسیٰ علیہ السلام یا ان کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔

١٤١

Y OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

بنالو۔ وہ عرض کریں گے کہ اے اللہ آپ برتر (ا ہے کہ وہ بات کہوں جس کا کسی طرح مجھے حق نہیں آپ میرے دل کی بات جانتے ہیں۔ میں آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے ان کو وہی بات مالک کی عبادت کرو اور میں ان کا نگہبان (یا گواہ اٹھا لیا۔ آپ خود ہی نگہبان (یا گواہ) تھے اور آپ عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں۔ (آپ آپ (پوری طرح) غالب اور حکمتوں والے ہیں

یہاں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا ذ نہیں یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ملزم ہیں کے لئے پوچھا جائے گا۔ کیونکہ عیسائی ان کو خدا بوجھ کر جھوٹ گھڑ لیا تھا کہ یہ تعلیم حضرت عیسیٰ ع حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہی کچھ کہیں گے جو ایک جب تک میں ان میں رہا ان کا نگران تھا۔ مگر ج گواہ تھے۔ مرزا جی نے یہاں بھی ”توفیتنی دی۔“ مگر صریحاً غلط ہے کیونکہ مرزا جی تو ستاون ہیں اور اس وقت تک بقول ان کے وہ زندہ تھے

چنانچہ (چشمہ معرفت ص ٢٥٤، خزائن بھی نہیں گزرے تھے کہ خدا کی جگہ عاجز انسان

اس طرح بقول مرزا جی کی حضر عیسائی بگڑ چکے تھے تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ م دریاؤں اور بیابانوں میں پریشان پھرتے بلک لشکر کے پہنچنا اور اپنی قوم کے حالات سے واق کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ ہوئی تھی۔ حالانکہ بقول مرزا جی علیحدگی عرصہ د

اب آپ آیت کریمہ کا اعجاز ملاحظ

صفحہ ٢٣٨٣

قیمت فی شمارہ -/10 روپے 2382 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ایک اور روایت درج کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ”جس رات حضور ﷺ کو معراج ہوئی اس رات سرور عالم ﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی۔ قیامت کا تذکرہ چلا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی انکار کر دیا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نمبر آیا انہوں نے فرمایا کہ وقوع قیامت کا علم تو سوائے خدا کے کسی کو نہیں اور جو عہد میرے ساتھ ہے وہ اتنا ہے کہ قرب قیامت میں دجال خارج ہوگا۔ میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا۔“

(ابن ماجہ، مسند احمد، حاکم، ابن جریر اور بیہقی بحوالہ درمنثور)

علیہ السلام کا قیامت سے پہلے تشریف لانا مراد لیتے ہیں۔

صدی ششم نے (تفسیر کبیر جلد نمبر ١٢ جزء ٢١ ص ٢٢٢) میں اس آیت کریمہ کے تحت انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی اور ان کے نزول کو قرب قیامت کی نشانی قرار دیا۔

تصدیق از انجیل

انجیل متی باب نمبر ٢٤، انجیل مرقس باب نمبر ١٣ اور انجیل لوقا میں ہے کہ: ”میرے نام سے بہتیرے آئیں گے یقین نہ کرنا۔ یسوع سے پوچھا گیا کہ دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے اور یہ باتیں کب ہوں گی۔ جب کہ وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا۔ اس نے کہا جھوٹے نبی اور جھوٹے مسیح تم کو گمراہ نہ کریں کسی کی بات نہ ماننا، جیسے بجلی کوند کر پورب سے پچھم کو جاتی ہے۔ اسی طرح ابن مریم آئے گا قدرت اور جلال کے ساتھ۔“

اس سے یہ نتائج برآمد ہوئے ۔

یہی مضمون قرآن وحدیث میں بھی موجود ہے ...... مرزائیوں کو چاہئے کہ اس پر ایمان لا کر مسلمان ہو جائیں۔

١٣٢

2383 NATIONAL ASSE...

ہد و کہلا (آل عمران: ٤٦) “ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے۔ اس طور پر زمانہ ”کہولت“ (ادھیڑ عمر) میں اپنے احسانات میں بھی زمانہ کہولت میں

عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خاص نہیں ہے کہ ہے۔ بات یہی ہے کہ چونکہ بڑی عمر میں گئے تھے۔ اس لئے جب دوبارہ آئیں گے ں اور معجزانہ انداز کی باتیں ہوں گے۔

یق

السلام جب دوبارہ آئیں گے تو چونکہ پہلے ں گے۔ اس ضمن میں مرزا جی لکھتے ہیں: زوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

اپنے نکاح کے بارہ میں سرور عالم ﷺ کو نے تیرہ سو برس پہلے فرمایا تھا کہ محمدی بیگم یف تک آپ ﷺ پر نہ کھلا تو آپ ﷺ

کون سا کمال ہے کہ پیدائش کے ذکر میں سان جتلائیں گے۔ معلوم ہوا کہ یہ کہولت

ں ملاحظہ کریں۔

(مہ چشم آریہ ص ٢٤٠، خزائن ج ٢ ص ٢٨٨)

طرح فصل ص ٢٢٢ تا ٢٣٢ میں حضرت

صفحہ ٢٣٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

آیت نمبر ٩: ”ويكلم الناس في المهد وكهلا (آل عمران:٤٦)“ یہ دراصل وہی پہلی آیت ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے۔ یہاں اس طرف توجہ دلانی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر زمانہ ”کہولت“ (ادھیڑ عمر) میں باتیں کرنے کا ذکر فرماتے ہیں۔ پھر قیامت کے دن اپنے احسانات میں بھی زمانہ کہولت میں باتیں کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔

2546 حالانکہ بڑی عمر میں باتیں کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خاص نہیں ہے کہ ان پر احسان جتایا جائے۔ یہ تو سب انسانوں کو حاصل ہے۔ بات یہی ہے کہ چونکہ بڑی عمر میں باتیں کرنے کا موقع نہیں ملا۔ کیونکہ وہ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے۔ اس لئے جب دوبارہ آئیں گے تو وہ زمانہ کہولت میں لوگوں سے باتیں کریں گے۔ یہ خاص اور معجزانہ انداز کی باتیں ہوں گے۔

مرزا جی کی تصدیق

ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ آئیں گے تو چونکہ پہلے ان کی شادی نہ ہوئی تھی۔ اس لئے وہ شادی بھی کریں گے۔ اس ضمن میں مرزاجی لکھتے ہیں: ”شادی تو ہر شخص کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

اس مقام پر مرزا جی نے محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کے بارہ میں سرور عالم ﷺ کو بھی ملوث کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ اگر حضور ﷺ نے تیرہ سو برس پہلے فرمایا تھا کہ محمدی بیگم سے مرزا جی کی شادی ہوگی اور اس ارشاد کا معنی وفات شریف تک آپ ﷺ پر نہ کھلا تو آپ ﷺ پیغمبر کیسے ہوئے۔ العیاذ باللہ!

اس طرح جو کہتے ہیں ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا کون سا کمال ہے کہ پیدائش کے ذکر میں بھی اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہیں اور قیامت میں بھی احسان جتائیں گے۔ معلوم ہوا کہ یہ کہولت معجزانہ کہولت ہے جو ہزار ہا سال گزرنے کے بعد کی ہے۔

2547 انجیل کا فیصلہ

قرآن کریم کے فیصلے کے ساتھ انجیل کا فیصلہ بھی ملاحظہ کریں۔ انجیل برنباس جس کو مرزا جی نے اپنی کتاب (سرمہ چشم آریہ ص ٢٣٠، خزائن ج ٢ ص ٢٨٨) میں نہایت معتبر قرار دیا ہے کے فصل نمبر ٢١٤ تا ٢١٧۔ اسی طرح فصل ص ٢٢٢ تا ٢٣٢ میں حضرت

١٣٣٣

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ایک اور روایت درج کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ حضور ﷺ کو معراج ہوئی اس رات سرور عالم حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام نے اس کے علم سے انکار کر دیا۔ کر دیا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نمبر آیا انہو کے کسی کو نہیں اور جو عہد میرے ساتھ ہے وہ اتنا نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا۔“

علیہ السلام کا قیامت سے پہلے تشریف لانا مراد لیتے

صدی ششم نے (تفسیر کبیر جلد نمبر ١٤ جز ١٧ ص ٢٢٢) عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی اور ان کے نزول

تصدیق

انجیل متی باب نمبر ٢٤، انجیل مرقس با سے بہتیرے آئیں گے یقین نہ کرنا۔ یسوع نے اور یہ باتیں کب ہوں گی۔ جب کہ وہ زیتون جھوٹے مسیح تم کو گمراہ نہ کریں کسی کی بات نہ ماننا طرح ابن مریم آئے گا قدرت اور جلال کے ساتھ اس سے یہ نتائج برآمد ہوئے۔

یہی مضمون قرآن وحدیث میں بھی لاکر مسلمان ہو جائیں۔

صفحہ ١٣٤

قسط نمبر 10، پیج

2384 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عیسیٰ علیہ السلام کے حواری برنباس نے تفصیل سے لکھا ہے کہ جب یہود نے حضرت یسوع مسیح کو پکڑ کر سولی کے ذریعے قتل کرنا چاہا اور جاسوسی کا کام یہودا اسخریوطی سے لیا تو اللہ نے یہودا کی شکل وصورت اور آواز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بنا ڈالی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرشتے کے ذریعے چھت کے روزن سے آسمان پر (زندہ جسم سمیت) اٹھا لیا۔ یہودا ہر چند چیخا چلایا مگر سب نے اس کو مسیح ابن مریم ہی سمجھا اور بڑی ذلت سے لے جا کر اس کو سولی پر چڑھایا۔ میخیں ٹھونکیں اور قتل کے بعد لاش کو اتار دیا۔ برنباس کہتا ہے کہ میں اور حضرت یسوع مسیح کی ماں سب یہودا کو اس کی آواز اور صورت وشکل کی وجہ سے مسیح ہی سمجھ رہے تھے۔ اس وقت ہم سولی کے قریب تک گئے وہ تکلیف اور غم بیان سے باہر ہے۔ بعد میں اصل حقیقت کھلی۔ مگر یہودیوں نے مشہور کر دیا کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا۔ حواری بھاگ گئے تھے اور کوئی موجود نہ تھا۔ بعض عیسائیوں نے تین دن کے بعد آسمان پر زندہ کر کے اٹھانے کا عقیدہ گھڑا حق چھپ گیا اور باطل نے اس کو دبا لیا۔ انجیل برنباس کا یہ بیان قرآن پاک کے بالکل مطابق ہے۔

عقل ودانش کا تقاضا

جب قرآن پاک اصلاح کے لئے نازل ہوا ہے اور اس نے یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط عقیدوں کی تردید کر دی ہے تو پھر جب عیسائیوں کی اکثریت ان کے آسمان پر 2548زندہ ہونے کا عقیدہ رکھتی تھی تو قرآن پاک نے ”رافعك“ اور ”بل رفعہ اللہ الیہ“ فرما کر کیوں ان کے غلط عقیدے پر مہر تصدیق ثبت کی؟ قرآن کریم نے تو اس کو اس طرح صاف وصریح بیان کیا کہ تمام صحابہؓ اور تیرہ سو سال کے مجددین ومحدثین نے یہی سمجھا کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں۔ اگر واقعی وہ زندہ جسم سمیت آسمان پر نہ اٹھائے گئے ہوتے تو پہلے تو قرآن پاک واضح طور سے ان کی تردید کرتا۔ ورنہ ایسے الفاظ تو قطعاً استعمال نہ کرتا کہ جس سے ان کی تائید ہو سکتی۔

سرور عالم ﷺ کی تفسیر

قرآن کے معانی حضور ﷺ سے بڑھ کر کون سمجھ سکتا ہے۔ اب ہم آپ کو حضور ﷺ کے بیان کردہ معانی بتاتے ہیں۔ حدیث نمبر 1: ”عن ابي هريرةؓ قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا

2385 NATIONAL ASSEM

ان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته سلام، مسلم ج ١ ص ٧٨، باب نزول عیسیٰ علیہ ر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی ت ضرور آئیں گے تم میں ابن مریم حاکم وعادل گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔ ان کے زمانہ میں مال یک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہوگا۔ اگر تم چاہو تو الا ليؤمنن به قبل موته “ م کھا کر بیان فرمایا ہے اور مرزا جی کے کہنے کے تاویل یا استثناء نہیں ہے۔ ورنہ قسم بے فائدہ

ہے۔ (نہ کہ چراغ بی بی کے) گے۔ (مرزا جی تو انگریزی عدالتوں میں دھکے

ی بیگم کے غصہ میں خود اپنی بیوی کو طلاق دے محروم کر دیا تھا اور دوسرے سے بیوی طلاق

صلیب توڑ اور نہ ہی صلیب پرستی میں کمی آئی) س سے نفرت ہو جائے) لمان ہو جائے گی پھر جزیہ کس سے لیں گے) نے والے نہ ہوگا۔ (مرزا جی تو کبھی کتابوں، کرتے کرتے تھک گئے تھے) ۔ (مرزا جی کے آنے کے بعد تو نمازوں اور رت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں اگر چاہو تو یہ آیت قبل موتہ “ اور کوئی اہل کتاب نہیں رہے پر ایمان لائے گا۔ ﴿

صفحہ ٢٣٨٥

2385 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

وما فيها ثم يقول ابوهريرة فاقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته

(بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسٰی علیہ السلام، مسلم ج ١ ص ٧٨، باب نزول عیسٰی علیہ

السلام)

”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق ضرور آئیں گے تم میں ابن مریم حاکم وعادل ہوکر، پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔ ان کے زمانہ میں مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ اگر تم چاہو تو (قرآن کی یہ آیت) پڑھو ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“

2549 اس ارشاد میں سرور عالم ﷺ نے قسم کھا کر بیان فرمایا ہے اور مرزاجی کے کہنے کے مطابق قسم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کلام میں کوئی تاویل یا استثناء نہیں ہے۔ ورنہ قسم بے فائدہ ہوجاتا ہے۔ پس یقینی ثابت ہوگیا کہ:

کھاتے رہے)

دی تھی اور اپنے ایک لڑکے کو عاق اور وراثت سے محروم کر دیا تھا اور دوسرے سے بیوی طلاق کروائی تھی)

مہمانوں اور کبھی مینارۃ المسیح کے لئے چندے کی اپیلیں کرتے کرتے تھک گئے تھے)

سجدوں میں نمایاں کمی آگئی۔ پھر جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو) 2550 ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ اور کوئی اہل کتاب نہیں رہے گا مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ان پر ایمان لائے گا۔

١٣٥

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عیسیٰ علیہ السلام کے حواری برنباس نے تفصیل سے لک پکڑ کر سولی کے ذریعے قتل کرنا چاہا اور جاسوسی کا کام وصورت اور آواز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بن ذریعے چھت کے روزن سے آسمان پر (زندہ جسم س نے اس کو مسیح ابن مریم ہی سمجھا اور بڑی ذلت سے ۔ قتل کے بعد لاش کو اتار دیا۔ برنباس کہتا ہے کہ میں ا کی آواز اور صورت وشکل کی وجہ سے مسیح ہی سمجھ رہ وہ تکلیف اور غم بیان سے باہر ہے۔ بعد میں اصل ح نے ان کو قتل کر ڈالا۔ حواری بھاگ گئے تھے اور کوئی بعد آسمان پر زندہ کر کے اٹھانے کا عقیدہ گھڑا تھ برنباس کا یہ بیان قرآن پاک کے بالکل مطابق ہے

عقل ودانش

جب قرآن پاک اصلاح کے لئے ناز کے غلط عقیدوں کی تردید کر دی ہے تو پھر جب عیس ہونے کا عقیدہ رکھتی تھی تو قرآن پاک نے ”رافعک کے غلط عقیدے پر مہر تصدیق ثبت کی؟ قرآن کری کہ تمام صحابہؓ اور تیرہ سو سال کے مجددین ومحدثین ہیں۔ اگر واقعی وہ زندہ جسم سمیت آسمان پر نہ اٹھا سے ان کی تردید کرتا۔ ورنہ ایسے الفاظ تو قطعاً استعم

سرور عالم ﷺ

قرآن کے معانی حضور ﷺ سے بڑ کے بیان کردہ معانی بتاتے ہیں۔

حدیث نمبر 1: ”عن ابی ھریرۃ قا لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً الجزية ويفيض المال حتیٰ لا یقبلہ احد ۔

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٣٨٧

2386 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 قیمت فی شمارہ 10/- روپے

آنے والے کو قرآن کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرار دیتے اور ان کی زندگی کا اعلان کرتے ہیں۔ باقی ہزاروں کی تعداد میں صحابہؓ موجود تھے۔ ان میں سے کسی نے بھی تردید نہیں کی اور حدیث ہے بھی بخاری اور مسلم شریف کی۔ ان الفاظ نے تو آیت کا معنی متعین کر کے معاملہ ہی صاف کر دیا۔

بڑی بات

یہ ہے کہ حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے قسم کھائی ہے اور مرزاجی کے مسلم اصول کے تحت اس میں کوئی تاویل واستثناء نہیں ہو سکتی۔ ورنہ قسم میں فائدہ ہی کیا ہے۔ اب آپ خود اندازہ فرمائیں کہ اس حدیث شریف سے مریم علیہا السلام کے بیٹے کا نزول مراد ہے یا چراغ بی بی کے بیٹے کا اور حدیث میں بیان کی گئیں باقی باتیں بھی مرزاغلام احمد قادیانی پر منطبق ہوتی ہیں؟

حدیث نمبر ٢: ”عن ابي هريرة عن النبى ﷺ قال الانبياء اخوة لعلات امهاتهم شتى ودينهم واحد وانى اولى الناس بعيسى ابن مريم لانه لم يكن بينى وبينه نبي وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران رأسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعو الناس الى الاسلام فتهلك فى زمانه الملل كلها الا الاسلام وترتع الا 2551 سود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم وتلعب الصبيان بالحيات فلا تضرهم فيمكث اربعين سنة ثم يتوفى ويصلى عليه المسلمون (رواه ابوداؤد ج٢ ص ١٣٥، مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦) “ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا انبیاء علیہم السلام پدری بھائی ہیں۔ ان کی مائیں جدا جدا ہیں اور دین ایک ہے اور میں عیسیٰ ابن مریم کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں۔ اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہ نازل ہوگا۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لو وہ درمیانہ قامت ، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔ گو سر پر پانی نہ ڈالا ہو وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ ترک کر دے گا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا۔ اس کے زمانے میں سارے مذاہب ہلاک ہو جائیں گے سوائے اسلام کے، اور شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے۔ پس عیسیٰ ابن مریم

١٣٧٦

2387 NATIONAL ASSEM...

یں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں د کی کتاب (حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٩٢) سے سلم ہے۔ اس میں حضور ﷺ کا ارشاد صاف ں سے زیادہ قریب ہوں۔ ان کے اور میرے

انت

مود نے یہ کیا کہ اس کے اور میرے درمیان نبی ۔ یہ ماضی کا بیان ہے جس کو خلیفہ محمود 2552 نے یم نازل ہوں گے تو معلوم ہوا کہ انہی کا رفع بقول مرزا جی ”نزول فرع ہے صعود کی ۔“ ں حدیث پاک نے بھی مرزا کی تاویلات کی

نت

ی کہ ابو داؤد شریف میں مذکور حدیث کے کھا گئے۔ کیونکہ مرزا جی نے مقاتلہ نہ کبھی کیا ئے دعائیں کرنا جانتے تھے۔ رو ابن العاص قال قال رسول الله ﷺ ولد له ويمكث خمسا وأربعين سنة ثم سٰى ابن مريم فى قبر واحد بين ابي بكر وایت کیا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ عیسیٰ گے۔ ان کی اولاد بھی ہوگی اور زمین میں حجرہ میں دفن ہوں گے۔ ﴾ لمصطفیٰ ، مشکوۃ ص ٤٨٠ ، باب نزول عیسیٰ ابن مریم) فيتزوج ويولد له “ کے حصہ سے محمدی بیگم

صفحہ ٢٣٨٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

چالیس سال تک رہیں گے اور پھر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (ہم نے اس روایت کو مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب (حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٩٢) سے انہی کے ترجمہ کے ساتھ نقل کیا ہے)

اس حدیث کی صحت تو فریقین کے ہاں مسلم ہے۔ اس میں حضور ﷺ کا ارشاد صاف وصریح ہے کہ میں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔

مرزائی خیانت

”لم یکن بینی وبینہ“ کا معنی مرزا محمود نے یہ کیا کہ اس کے اور میرے درمیان نبی نہیں۔ حالانکہ لفظ لم یکن کا معنی ہے کوئی نبی نہیں ہوا۔ یہ ماضی کا بیان ہے جس کو خلیفہ محمود 2552 نے چھپایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہی عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو معلوم ہوا کہ انہی کا رفع ہوا ہے اور وہ زندہ آسمان میں موجود ہیں۔ کیونکہ بقول مرزا جی ”نزول فرع ہے صعود کی“ ملاحظہ ہو (انجام آتھم ص ١٦٨، خزائن ج ١١ ص ١٦٨) اس حدیث پاک نے بھی مرزائی تاویلات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔

دوسری خیانت

مرزا محمود صاحب نے دوسری خیانت یہ کی کہ ابوداؤد شریف میں مذکور حدیث کے الفاظ ”ویقاتل الناس علی الاسلام“ کو سرے سے کھا گئے۔ کیونکہ مرزا جی نے مقاتلہ نہ کبھی کیا نہ اس کے حق میں تھے۔ وہ تو صرف انگریزوں کے لئے دعائیں کرنا جانتے تھے۔

حدیث نمبر ٣: ”عن عبداللہ بن عمرو ابن العاصؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل عیسٰی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا وأربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسٰی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر“ ﴿حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ نے روایت کیا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے۔ یہاں شادی کریں گے۔ ان کی اولاد بھی ہوگی اور زمین میں ٤٥ سال رہ کر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ گنبد خضریٰ میں دفن ہوں گے۔﴾

(رواہ ابن جوزی فی الوفا باحوال المصطفیٰ، مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ ابن مریم)

اس روایت کو مرزا قادیانی نے نقل کر کے ”فیتزوج ویولد لہ“ کے حصہ سے محمدی بیگم

١٣٧

صفحہ ٢٣٨٨

2388 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کے اپنے نکاح میں آنے کی خوشخبری پر محمول کیا ہے اور ”یدفن معی فی قبری“ سے اپنا قرب الرسول ہونا ثابت کیا ہے۔ بہر حال حدیث کو صحیح تسلیم کیا گیا ہے۔

یہ حدیث امام ابن جوزیؒ نے نقل فرمائی ہے جو مرزائیوں کے مسلم مجدد صدی ششم ہیں۔ گویا صحت حدیث سے انکار ہی نہیں ہو سکتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ:

2553

طرف نازل ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ زمین پر پہلے سے (یعنی اس وقت) نہیں ہیں۔

کرنے کا ذکر بھی کر دیا۔

وعمرؓ کے درمیان بمعہ عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوں گے۔

مرزائی وہم

یہاں مرزائی یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضورﷺ کی قبر میں کیسے دفن ہوں گے۔ مگر مرزا جی نے خود (نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٥) پر لکھا ہے کہ ”ان (یعنی حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ) کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرتﷺ سے ایسے ملحق دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔“ یہی مطلب مرقاۃ میں مرزائیوں کے مسلم مجدد حضرت ملا علی قاریؒ نے بیان فرمایا ہے۔

اجازت چاہی کہ میں آپﷺ کے پہلو میں دفن ہو جاؤں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا وہاں تو جگہ نہیں ہے۔ صرف ایک قبر کی جگہ ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔ ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ اس روایت نے بھی مرزائیوں کی تمام تاویلی خرافات کو ختم کر کے رکھ دیا۔

حدیث نمبر ٤: ”ان روح اللہ عیسیٰ نازل فیکم فاذا رأیتموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبياض ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون (رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃؓ فی المستدرک ص ٤٩٠)

2554

یہ حدیث مرزائیوں کے امام اور مجدد صدی چہارم نے روایت کی ہے۔ اس لئے اس کی صحت میں تو شک ہو ہی نہیں سکتا۔ اس حدیث میں حضورﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے قرآنی لقب ”یعنی روح اللہ“ سے یاد فرمایا۔ تمام باتوں کا ذکر کر کے فرمایا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ فوت ہوں گے اور مسلمان ان کا نماز جنازہ پڑھیں گے۔

١٣٨

قیمت فی شمارہ 10/-

صفحہ ١٣٩

2389 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حدیث نمبر ٥: "عن ابی ھریرةؓ انه قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذنزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم (کتاب الاسماء والصفات البیہقی ص ٤٢٤)" حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا اس وقت (مارے خوشی کے) تمہارا کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے تم میں آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام (نماز کا) تمہیں میں سے ہوگا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نماز پڑھانے کے لئے تیار ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔ وہ ان سے نماز پڑھانے کا کہیں گے وہ انکار کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ اس نماز کی اقامت آپ کے لئے کی گئی ہے۔ (آپ ہی پڑھائیں گے)

اور بعض روایات میں ہے کہ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے۔ بہرحال وہ نماز خود حضرت مہدی علیہ السلام ہی پڑھائیں گے۔ اس حدیث میں من السماء کا صاف لفظ موجود ہے اور اس کو مرزائیوں کے مسلم مجدد صدی چہارم امام بیہقیؒ نے روایت کیا ہے۔ اس لئے اور زیادہ معتبر ہے۔

2555 حدیث نمبر ٦: "عن ابن عباسؓ (فی حدیث طویل) قال رسول اللہ ﷺ فعند ذالك ينزل اخي عيسى بن مريم من السماء على جبل افيق اماماً هادياً حكماً عادلاً (کنزالعمال ج ١٢ ص ٦١٩، حدیث نمبر ٣٩٧٢٦)"

کر دیا ہے۔

(کوئی چراغ بی بی کا بیٹا حضور ﷺ کا مصنوعی بھائی نہیں ہے)

اس حدیث کو مرزا جی نے (حمامة البشریٰ ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ١٩٧) میں نقل کیا۔ مگر خیانت کر کے "من السماء" کا لفظ کھا گیا۔

حدیث نمبر ٧: "عن عبدالله بن عمروؓ (فی حدیث طویل) قال قال رسول اللہ ﷺ فیبعث اللہ عیسی ابن مریم کانه عروة بن مسعود فیطلبه فیهلکه (رواہ مسلم بحوالہ مشکوٰۃ باب لا تقوم الساعة ص ٤٨١)"

سرور عالم ﷺ نے جیسے کہ مشکوٰۃ شریف میں ہے معراج کے ذکر میں آسمان پر حضرت

Y OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کے اپنے نکاح میں آنے کی خوشخبری پر محمول کیا۔ الرسول ہونا ثابت کیا ہے۔ بہرحال حدیث کو صحیح یہ حدیث امام ابن جوزیؒ نے نقل ہیں۔ گویا صحت حدیث سے انکار ہی نہیں ہو سکتا

طرف نازل ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ زمین پر پہ

کرنے کا ذکر بھی کر دیا۔

وعمر کے درمیان بعد عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوا

مرز

یہاں مرزائی یہ کہہ دیتے ہیں کہ حض نے خود (نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٤٢٥) کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرت ﷺ سے ایسے ملحق مرقاۃ میں مرزائیوں کے مسلم مجدد حضرت ملا علی

اجازت چاہی کہ میں آپ ﷺ کے پہلو میں دف نہیں ہے۔ صرف ایک قبر کی جگہ ہے جہاں عی اس روایت نے بھی مرزائیوں کی تمام تاویلی خر

حدیث نمبر ٤: "ان روح الله، رجل مربوع الى الحمرة والبياض ثم یت ابى هريرة في المستدرك ص ٤٩٠)"

2554 یہ حدیث مرزائیوں کے امام اس کی صحت میں تو شک ہو ہی نہیں سکتا۔ اس ان کے قرآنی لقب "یعنی روح اللہ" سے یاد کے بعد وہ فوت ہوں گے اور مسلمان ان کا نما

صفحہ ٢٣٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے ذکر میں فرمایا کہ: ”فاذا اقرب من رأيت به شبیهاً عروة بن مسعود (مشکوۃ ص ٥٠٨، باب بدء الخلق) ”حضرت عیسیٰ کی مشابہت زیادہ تر عروۃ بن مسعودؓ سے تھی۔“

اب آپ خود ہی فرمائیں جس عروۃ بن مسعودؓ کے مشابہ ہستی کو آسمان میں دیکھا۔ حدیث نمبر ٧ میں انہی کے نزول کا ذکر فرماتے اور پھر حضرت عروۃ بن مسعودؓ سے تشبیہ 2556 دے کر ارشاد کرتے ہیں کہ یہ دجال کا پیچھا کر کے اس کو ہلاک کریں گے۔ اس حدیث میں آپ ﷺ نے خردماغ انسانوں کو بھی بتا دیا کہ نازل ہونے والے وہی عیسیٰ ابن مریم ہیں جو حضرت عروہ بن مسعودؓ کے مشابہ ہیں۔ جن کو آسمان میں دیکھا تھا۔

حدیث نمبر ٨: ”عن نواس بن سمعانؓ قال قال رسول الله ﷺ فبینما هو کذالك اذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرزتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ رأسه قطر و اذا رفعه تحدر منه جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه الامات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله (مسلم ج ٢ ص ٤٠١)“

مرزا نے (ازالۃ الاوہام ص ٢٠٢ تا ٢٠٦ و خزائن ج ٣ ص ١٩٩ تا ٢٠١) پر یہ حدیث نقل کی ہے۔ مسلم شریف کی اس حدیث نے بھی مرزا غلام احمد کی نیند حرام کر رکھی۔ کبھی کہتا ہے یہ خواب یا کشف تھا۔ حالانکہ اس طویل حدیث کے الفاظ میں ہے۔ ”ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجة لكم“ اگر وہ خروج کر لے جب کہ میں تم میں ہوں تو میں اس سے جھگڑلوں گا۔ کوئی بھی عقل مند اس کو خواب یا کشف نہیں کہہ سکتا۔ کبھی کہتا ہے امام بخاریؒ نے اس کو ضعیف سمجھ کر روایت نہیں کیا۔ حالانکہ امام بخاریؒ کا کسی حدیث کو نقل نہ کرنا ضعف کی دلیل نہیں۔ ورنہ حدیث مجدد، کسوف و خسوف کی حدیث ان لمہدینا آیتین اور حدیث ابن ماجہ لامہدی الا عیسیٰ بخاری میں نہیں ہیں۔ جن پر مرزا نے اپنی (فرضی) مسیحیت کی (فرضی) بنیاد رکھی ہے۔ اس حدیث اور تمام احادیث نزول مسیح سے مراد نزول من السماء ہے۔ خود اسی حدیث کو نواس بن سمعان کے بارے میں (ازالۃ الاوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢) پر لکھا ہے:

”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود 2557 ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ (جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے)

١٤٠

صفحہ ٢٣٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حدیث نمبر ٩: حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”والذی نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجاً او معتمراً اوليثنينهما (رواه مسلم في صحیحہ ج ١ ص ٤٠٨) ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ ’ابن مریم فج روحاء‘ میں حج کے لئے لبیک کہیں گے یا عمرے کے لئے یا دونوں کی نیت کر کے۔

اس حدیث میں بھی سرور عالم ﷺ نے قسم کھائی ہے۔ اس لئے تمام الفاظ حدیث کو ظاہر پر ہی محمول کرنا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود حج کریں گے۔ (کوئی اور ان کی طرف سے نہیں کرے گا) اور فج روحاء سے مراد وہی روحاء کی گھاٹی ہوگی۔ نزول سے مراد نیچے اترنا ہی ہوگا۔

حدیث نمبر ١٠: حضرت ربیع ؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نصاریٰ حضور ﷺ کے پاس آئے اور جھگڑنے لگے عیسیٰ ابن مریم کے بارہ میں ”وقالوا له من ابوه وقالوا على الله الكذب والبهتان فقال لهم النبى ﷺ الستم تعلمون انه لا يكون ولد الا وهو يشبهه اباه قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا حى لا يموت وان عيسى يأتى عليه الفناء فقالوا بلیٰ (درمنثور ج ٢ ص ٣) ”ربیعؓ کہتے ہیں کہ نجران کے عیسائی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے 2558 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ کہنے لگے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کون ہے۔ (مطلب یہ تھا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیٹے میں باپ کی مشابہت ہوتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تمہارا رب زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام پر یقیناً موت آئے گی تو انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے تھے تو یہاں پر بہت آسان تھا کہ آپ ﷺ الوہیت مسیح کے ابطال کے لئے فرما دیتے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو مرگئے وہ کیسے خدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بات ابطال الوہیت اور ابنیت پر زیادہ صاف دلیل ہو جاتی یا یوں ہی فرما دیتے کہ تمہارے خیال میں تو وہ مرگئے ہیں تو پھر خدایا خدا کے بیٹے کس طرح ہو سکتے ہیں۔ پھر بھی بہترین دلیل تھی۔ مگر ممکن تھا کہ کوئی مرزائی چودھویں صدی میں اپنی کور چشمی سے اس سے موت مسیح ثابت کر دیتا۔ سرور عالم ﷺ نے نہایت صفائی سے حق اور صرف حق فرمایا کہ خدا تعالیٰ حی ہیں جو کبھی نہیں مرتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی۔ یعنی بجائے ماضی کے مستقبل کا صیغہ استعمال فرمایا۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہوتے تو یقیناً اس بحث میں یہی بہتر تھا کہ ان ”عیسیٰ قداتی علیہ الفناء“ فرما دیتے۔

١٤١

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے ذکر میں فرمایا کہ: ” مسعود (مشکوٰۃ ص ٥٠٨، باب بدالخلق) ” سے تھی۔“

اب آپ خود ہی فرمائیں جس عروہ ؓ حدیث نمبر ٧ میں انہی کے نزول کا ذکر فرماتے اور ارشاد کرتے ہیں کہ یہ دجال کا پیچھا کر کے اس کو ہلا خر دماغ انسانوں کو بھی بتا دیا کہ نازل ہونے وا مسعودؓ کے مشابہ ہیں۔ جن کو آسمان میں دیکھا تھا۔

حدیث نمبر ٨: ”عن نواس بن كذالك اذبعث الله المسيح ابن مريم فیت مهروزتين واضعاً كفيه على اجنحة ملکا جمان كاللولؤ فلايحل لكافر يجد ریح طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله (مس

مرزا نے (ازالۃ الاوہام ص٢٠٢، ٢٠٦ خزائ مسلم شریف کی اس حدیث نے بھی مرزا غلام احمد ق تھا۔ حالانکہ اس طویل حدیث کے الفاظ میں ہے س اگر وہ خروج کرلے جب کہ میں تم میں ہوں تو می خواب یا کشف نہیں کہہ سکتا۔ کبھی کہتا ہے امام ب حالانکہ امام بخاریؒ کا کسی حدیث کو نقل نہ کرنا ض وخسوف کی حدیث ان لمہدینا آیتین اور حدی جن پر مرزا نے اپنی (فرضی) مسیحیت کی (فرض نزول مسیح سے مراد نزول من السماء ہے۔ خود اسی ح الاوہام ص٨١، خزائن ج ٣ ص١٤٢) پر لکھا ہے: ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“ (جادو

٢٠

صفحہ ٢٣٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حدیث نمبر ١١: ”عن الحسنؓ قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسىٰ لم یمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (درمنثور جلد دوم ص٣٦)“ یہ راوی حضرت حسن بصریؒ ہیں جو سرتاج اولیاء ہیں اور جو تابعی ہو کر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ گویا یقیناً انہوں نے حدیث کسی صحابی سے حاصل فرمائی۔ یوں بھی مرسل حدیث کو جو کسی صحابیؓ کے توسط کے بغیر حضور ﷺ کی طرف منسوب ہو گئی ۔ حضرت ملا علی قاریؒ نے فرمایا کہ حجت ہے (شرح نخبہ) حضرت ملا علی قاریؒ صدی دہم کے مسلم مجدد تھے۔ ان کا قول کون رد 2559 کر سکتا ہے۔ بہر حال اس حدیث نے تصریح کر دی کہ ”ان عیسیٰ لم یمت“ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ لوٹ کر دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ لفظ لم یمت بھی ہے اور راجع بھی۔

حدیث نمبر ١٢: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں روایت ہے کہ: ”لما كانت ليلة اسرى برسول الله ﷺ لقى ابراهيم عليه السلام وموسىٰ عليه السلام وعيسىٰ عليه السلام فتذاكرو الساعة فبدؤ ابا ابراهيم فسئلوه عنها فلم يكن عنده منها علم ثم سألوا موسىٰ فلم يكن عنده علم فرد الحديث الىٰ عيسى بن مريم فقال قد عهد الىّ فيما دون وجبتها فاما وجبتها فلا يعلمها الا الله فذكر خروج الدجال قال فانزل فاقتله (ابن ماجہ باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ ابن مریم ص ٢٩٩)“ ﴿حضرت عبداللہ بن مسعودؓ صحابی فرماتے ہیں کہ معراج کی رات رسول کریم ﷺ نے ملاقات کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے۔ پس انہوں نے قیامت کا ذکر چھیڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی جواب دیا۔ آخر الامر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میرے ساتھ قرب قیامت کا ایک وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کا ٹھیک وقت سوائے خدا عزوجل کسی کو معلوم نہیں۔ پس انہوں نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ پھر میں اتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔ (آخر تک)﴾

یہ حدیث امام احمد نے مرفوعاً بیان فرمائی ہے کہ یہ تمام الفاظ گویا خود حضور ﷺ کے ہیں۔ امام احمد صدی دوم کے مسلم مجدد ہیں۔ اس لئے حدیث کی صحت میں بحث ہی 2560 نہیں ہو سکتی۔ جیسے کہ اصول تفسیر میں لکھا جا چکا ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہو گیا کہ دجال کا ایک شخص کا

١٤٢

صفحہ ٢٣٩٣

2393 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نام ہے۔ پادریوں کے گروہ کا نام نہیں جیسے مرزا نے کہا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جو عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں وہی اتر کر دجال کو قتل کریں گے۔ قتل دجال نے بھی ”دلائل“ وغیرہ سے قتل کی نفی کر دی۔ جیسے کہ مرزائی ہرزہ سرائی ہے۔ کیا معراج کی رات میں مرزا قادیانی نے اپنے نزول کا ذکر کیا تھا؟ کیا یہی مرزا قادیانی اس آسمان سے اترے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی دجال کو قتل کیا ہے؟

حدیث نمبر ١٣: ”عن جابرؓ قال رسول الله ﷺ...... فينزل عيسىٰ ابن مريم فيقول اميرهم تعال صلّ لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة (مشكوة ص ٤٨٠، باب نزول عيسىٰ عليه السلام)“

مرزائی ”و امامكم منكم“ سے ثابت کرتے ہیں کہ نماز بھی یہی پڑھائیں گے۔ یہ امت محمدیہ میں سے ہوں گے۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے۔ ”وامامكم منكم“ کا معنی اگر مرزاجی کے بیان کے مطابق لیں تو یہ عطف بیان ہوگا۔ جس کے لئے واؤ نہیں لائی جاتی جو یہاں موجود ہے۔ یہ تو عربی قواعد کو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ حدیث مذکور نے صاف کر دیا ہے کہ امیر قوم (یعنی مہدی علیہ السلام) کہیں گے آؤ آگے ہو کر نماز پڑھاؤ۔ وہ انکار کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ اللہ نے اس امت کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اب مرزائی اگر ایمان چاہتے ہیں تو ان کو مرزا کے معنوں کی بجائے سرور عالم ﷺ کے بیان کردہ معنوں کو قبول کر لینا چاہئے۔

2561حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ارشاد اور حضرت حسن بصریؒ کی قسم

(فتح الباری ج٦ ص٤٩٣، مطبوعہ دہلی) میں ہے کہ امام ابن جریرؒ نے اسناد صحیح کے ساتھ سعید بن جبیرؒ سے حضرت ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے اس پر جزم فرمایا ہے کہ لیومنن بہ قبل موتہ میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور اسی کتاب میں اسی صفحہ پر حضرت حسن بصریؒ سے جو اولیاء کے سرتاج ہیں نقل کیا ہے کہ انہوں نے بھی قبل موتہ کا معنی قبل موت عیسیٰ کیا پھر قسم کھائی اور کہا:

”والله انه الآن لحي ولكن اذا انزل آمنوا به اجمعین“ ﴿خدا کی قسم کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ موجود ہیں۔ جب نازل ہوں گے وہ سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔﴾ یہاں تک آپ کو احادیث سے تفسیر کا علم ہوا جس کا انکار ایک صحابی نے بھی نہیں کیا۔

١٤٦٣

BLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

حدیث نمبر ١١: ”عن الحسن قال یمت و انه راجع اليكم قبل يوم القيامة (درمنثور یہ راوی حضرت حسن بصریؒ ہیں جو سـ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ گویا یقیناً انہوں نے حد حدیث کو جو کسی صحابیؓ کے توسط کے بغیر حضور ﷺ فرمایا کہ حجت ہے (شرح نخبہ) حضرت ملا علی قار رو 2559 کر سکتا ہے۔ بہر حال اس حدیث نے تصـ علیہ السلام مرے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ لوٹ کر دوبارہ لفظ لم یمت بھی ہے اور راجع بھی۔

حدیث نمبر ١٢: حضرت عبداللہ بن ہے کہ: ”لما كانت ليلة اسرى برسول الله ﷺ السلام وعيسىٰ عليه السلام فتذاكروا السـ عنده منها علم ثم سألوا موسىٰ فلم يكن فقال قد عهد الى فيما دون اوجبتها فـ الدجال قال فانزل فاقتله (ابن ماجہ باب فـ ﴿ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ صحابی فرماتے ہیں کہ مـ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلا قیامت کا ذکر چھیڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ظاہر کی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نـ السلام نے جواب دیا کہ میرے ساتھ قرب قیا سوائے خدا عزوجل کسی کو معلوم نہیں۔ پس انہوں اور دجال کو قتل کروں گا۔ (آخر تک)﴾

یہ حدیث امام احمدؒ نے مرفوعاً بیان ہیں۔ امام احمد صدی دوم کے مسلم مجدد ہیں۔ ا ہو سکتی۔ جیسے کہ اصول تفسیر میں لکھا جا چکا ہے۔ ا

صفحہ ٢٣٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نزول مسیح ابن مریم علیہ السلام کی نشانیاں

پیغمبر اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام بے ضرورت بات نہیں فرماتے تھے۔ جو بات فرماتے تو وہ مختصراً مگر جامع اور تمام امور کو صاف کرنے والی ہوتی تھی۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے سلسلے میں آپ ﷺ نے نشانات کا اتنا اہتمام فرمایا کہ اس سے بڑھ کر مشکل ہے تا کہ کوئی نادان مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کر کے امت کو گمراہ نہ کرے۔ 2562 آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ہے۔ جب نزول تواتر سے ثابت ہو گیا تو صعود و عروج خود ہی ثابت ہو گیا)

استعمال فرمایا۔ راجع الیکم کہ وہ تمہارے پاس دوبارہ آئیں گے۔

ہوں گے۔

گے اور زمین کی طرف وہی آتا ہے جو پہلے زمین پر نہ ہو۔

ہوگا جو بن باپ پیدا ہوا اور قرآن نے ان کو ماں ہی کے نام سے پکارا۔

تھے۔ نفخ جبرائیل سے پیدا ہوئے تھے۔ ان کو زبردست معجزات دیئے گئے تھے۔ بنی اسرائیل نے پھر بھی نہ مانا تو وہ آ کر بنی اسرائیل اور ان کے دجال سے جنگ کریں گے۔ 2563 دجال کو قتل کریں گے اور تمام اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے۔ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے گا اور ان کے شایان شان تمام باتیں ہو جائیں گی جو پہلے نہ ہوئی تھیں۔

١٤٤

صفحہ ٢٣٩٥

EMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نزول مسیح ابن مریم علیہ ال

پیغمبر اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام بے ضرورت وہ مختصر مگر جامع اور تمام امور کو صاف کرنے والی ہوتی سلسلے میں آپ ﷺ نے نشانات کا اتنا اہتمام فرمایا کہ مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کر کے امت کو گمراہ نہ کرے۔ 562

ہے۔ جب نزول تواتر سے ثابت ہو گیا تو صعود و عروج

استعمال فرمایا۔ راجع الیکم کہ وہ تمہارے پاس دوبارہ آ

ہوں گے۔

گے اور زمین کی طرف وہی آتا ہے جو پہلے زمین پر نہ

ہو گا جو بن باپ پیدا ہوا اور قرآن نے ان کو ماں ہی

تھے۔ نفخ جبرائیل سے پیدا ہوئے تھے۔ ان کو زبردس پھر بھی نہ مانا تو وہ آکر بنی اسرائیل اور ان کے دجال گے اور تمام اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے۔ سا شایان شان تمام باتیں ہو جائیں گی جو پہلے نہ ہوئی تھ

١٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہجرت ساری زمین سے تھی۔ اس لئے وہ واپس زمین میں آ کر ساری زمین میں عادلانہ نظام قائم فرمائیں گے۔

تاکہ اس کو قتل کر دیا جائے۔

نہ رہیں گے۔ دوسرے مال کی سخت بہتات ہو گی۔

تھیں اور انہوں نے کہا تھا کہ میں اتر کر دجال کو قتل کر دوں گا۔

١٤٥

صفحہ ٢٣٩٦

2396 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

والسلام) پر عمل کریں گے اور کرائیں گے۔

حضورﷺ کے درمیان کوئی پیغمبر نہ تھا۔

کے نام کی طرح ہوگا۔

پتہ لگے گا۔

پہرے ہوں گے ان دو شہروں میں داخل نہ ہو سکے گا۔

آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے لئے بددعا فرمائیں گے اور لڑ بھڑ کر مر جائیں گے۔

حضورﷺ نے کیف انتم سے اشارہ فرمایا ہے۔

١٤٦

2397 NATIONAL ASSEM

یں گے۔ حضورﷺ ان کا جواب دیں گے۔

عیسیٰ ابن مریم کے نزول کی خبر دی۔

گی۔

مسعودؓ کی طرح ہوں گے۔

ہوگا۔

تھتی یا جو پجاریوں کی نشانی تھی۔

ہے اور عیسائی اس کو شیر مادر سمجھ کر کھاتے ہیں۔

بھی یہ فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو لوگ جمع

ی لشکر ہوگا۔

رنے سے بدبو ہوگی۔ پہلے حضرت عیسیٰ علیہ

دعا فرمائیں گے۔ بارش ہوگی وہ بدبو دور کر دی

ر بات کے لئے بھی اتنا اہتمام فرمایا ہے۔ اس

کا دعویٰ نہ کر بیٹھے۔

احمق

ہے۔

یاں ہیں۔

صفحہ ٢٣٩٧

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

والسلام) پر عمل کریں گے اور کرائیں گے۔

حضور ﷺ کے درمیان کوئی پیغمبر نہ تھا۔

کے نام کی طرح ہوگا۔

پتہ لگے گا۔

پہرے ہوں گے ان دو شہروں میں داخل نہ ہو سکے گا۔

آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے لئے بددعا فرمائیں گے اور

حضور ﷺ نے کیف انتم سے اشارہ فرمایا ہے۔

١٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

نفرت دلانے کے لئے ایسا کیا جائے گا۔ آج کل بھی یہ فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں تو لوگ جمع ہو کر ان کے قتل کا انتظام کرتے ہیں۔

السلام مسلمانوں کو لے کر پہاڑ پر چڑھیں گے۔ پھر دعا فرمائیں گے۔ بارش ہوگی وہ بدبو دور کر دی جائے گی۔ (او کما قال)

کیا سرور عالم ﷺ جیسی ہستی نے کسی اور بات کے لئے بھی اتنا اہتمام فرمایا ہے۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ کوئی اور دجال مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہ کر بیٹھے۔

اب اگر ایک احمق

کہے کہ عیسیٰ سے مراد ...... غلام احمد ہے۔ مریم سے مراد ...... 2567 چراغ بی بی ہے۔ دمشق سے مراد ...... قادیان ہے۔ باب لد سے مراد ...... لدھیانہ ہے۔ قتل سے مراد ...... مباحثہ میں غالب آنا ہے۔ مسیح سے مراد ...... مثیل مسیح ہے۔ زرد چادروں سے مراد ...... میری دو بیماریاں ہیں۔

١٤٧

صفحہ ٢٣٩٨

2398 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

قیمت فی شمارہ-/10رو

دجال سے مراد ...... پادری ہیں۔

خر دجال سے مراد...... ریل ہے۔ جس پر وہ خود بھی سوار ہوا ہے۔

مہدی سے مراد...... بھی غلام احمد ہے۔

حارث سے مراد...... بھی غلام احمد ہے۔

رجل فارس سے مراد...... بھی غلام احمد ہے۔

منارۃ سے مراد...... قادیان کا منارہ ہے جو بعد میں مرزا جی نے بنایا۔

نزول سے مراد...... سفر کر کے کہیں اترنا ہے۔

آسمان سے مراد ...... آسمانی ہدایتیں ہیں۔

عیسیٰ بن مریم سے مراد...... غلام احمد قادیانی ہے۔

غلام احمد عیسیٰ علیہ السلام سے متحد ہے۔

غلام احمد عین محمد ہے۔

غلام احمد آنے والا کرشن اوتار ہے۔

غلام احمد ، حضور ﷺ ہی کی بعثت ثانیہ ہے۔

غلام احمد کے زمانہ میں وہ عالمگیر غلبہ اسلام ہوا۔ جو حضور ﷺ کے زمانہ میں نہ ہو سکا۔

نماز میں جو دعا مانگی گئی ہے۔ (غیر المغضوب علیہم) اس میں مرزا قادیانی کو دکھ دینے والوں سے علیحدگی کی دعا ہے۔

2568 میری وحی قرآن کے برابر ہے۔

مجھ میں تمام پیغمبروں کے کمالات جمع ہیں۔

میں حضرت حسینؓ سے واقعی افضل ہوں۔ وہ کیا ہیں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوں۔ ان کا بروز اور مثیل ہو کر بھی ان سے آگے نکل گیا ہوں۔

بلکہ تمام انبیاء سے میرے معجزے زیادہ ہیں اور میں معرفت میں کسی پیغمبر سے کم نہیں ہوں۔ پھر وہ اپنے بیٹے کو کہے یہ گویا خدا آسمان سے اتر آیا ہے اور وہ بیٹا کہنے لگے۔ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔

اور اس کے چیلے اکمل کے اشعار ذیل کے مطابق حضور ﷺ سے افضل ہے۔ (معاذ اللہ )

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

١٤٨

2399 NATIONAL AS

نے اکمل

قادیان میں

جزاک اللہ کہیں۔

کو مسلمان جاننے والے کیسے مسلمان رہ

اوا

ناصر احمد صاحب نے خود کاشتہ پودے صاحب نے (ان کے مرید قادیانی) ا ہے۔ گویا مرزاجی اس فرقہ کو خود کاشتہ

خود کاشتہ پودا ہوا تو مرزاجی اسی انگریزی اس طرح پاک ہو سکتی ہیں؟

کافر کہنے سے گریز کر کے چھوٹا کافر قرار ہوئی۔ کیونکہ مرزا ناصر احمد صاحب کے مان جائے کہ بات تو سچی ہے پھر انکار ی سمجھتے ہیں۔ ان پر ان کے ہاں اتمام دے کافر نہیں ہیں۔

۔ پہلے (ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ مجھے مسیح موعود خیال کر کے بیٹھے ہیں ۔“ حسب دیکھا کہ علماء کرام کے سامنے دال ڈالا۔

صفحہ ١٤٩

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

دجال سے مراد....... پادری ہیں۔ خر دجال سے مراد....... ریل ہے۔ جس پر مہدی سے مراد....... بھی غلام احمد ہے۔ حارث سے مراد....... بھی غلام احمد ہے۔ رجل فارس سے مراد....... بھی غلام احمد منارۃ سے مراد....... قادیان کا منارہ ہے نزول سے مراد....... سفر کر کے کہیں اترنا۔ آسمان سے مراد....... آسمانی ہدایتیں ہیں عیسیٰ بن مریم سے مراد....... غلام احمد قاد غلام احمد عیسیٰ علیہ السلام سے متحد ہے۔ غلام احمد عین محمد ہے۔ غلام احمد آنے والا کرشن اوتار ہے۔ غلام احمد، حضور ﷺ کی بعثت ثانیہ۔ غلام احمد کے زمانہ میں وہ عالمگیر غلبہ اس نماز میں جو دعا مانگی گئی ہے۔ (غیر المغ والوں سے علیحدگی کی دعا ہے۔

2568 میری وحی قرآن کے برابر ہے۔

مجھ میں تمام پیغمبروں کے کمالات جمع ہی میں حضرت حسینؓ سے واقعی افضل ہو افضل ہوں۔ ان کا بروز اور مثیل ہو کر بھی ان سے آ بلکہ تمام انبیاء سے میرے معجزے زیا ہوں۔ پھر وہ اپنے بیٹے کو کہے یہ گویا خدا آسمان سے سکتا ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ سکتا ہے اور اس کے چیلے اکمل کے اشعار ذیل ۔

محمد پھر اتر آ
اور آگے سے ہیں ب

2399 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

پھر ان شعروں کو مرزا جی سن کر تحسین کریں اور جزاک اللہ کہیں۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ شخص اور اس کو مسلمان جاننے والے کیسے مسلمان رہ سکتے ہیں؟

-------------

2569 متفرقات

2570 خودکاشتہ پودا

مرزائی نمائندہ (امام جماعت مرزائیہ ) مرزا ناصر احمد صاحب نے خود کاشت پودے کے بارے میں کہا کہ خاندان کو کہا گیا ہے۔ مگر اٹارنی جنرل صاحب نے (ان کے مرید قادیانی) ممبروں کی لکھی ہوئی فہرست بتائی جو مرزا جی نے وہیں لکھی ہے۔ گویا مرزا جی اس فرقہ کو خودکاشتہ پودا کہہ رہے ہیں۔

ہم کہتے ہیں چلو مرزاجی کا خاندان ہی انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوا تو مرزا جی اسی انگریزی پودے کی شاخ ہوئے۔ اگر وہ پودا پلید ہے تو پودے کی شاخیں کس طرح پاک ہو سکتی ہیں؟

اتمام حجت

مرزا ناصر احمد صاحب نے عام مسلمانوں کو بڑا کافر کہنے سے گریز کر کے چھوٹا کافر قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ان پر اتمام حجت نہیں ہوئی۔ کیونکہ مرزا ناصر احمد صاحب کے ہاں اتمام حجت کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے کا دل یہ مان جائے کہ بات تو سچی ہے پھر انکار کرے تو دنیا کے ستر کروڑ مسلمان تو مرزا جی کو کاذب و مفتری سمجھتے ہیں۔ ان پر ان کے ہاں اتمام حجت نہیں ہوئی۔ اس لئے یہ ملت اسلامیہ سے خارج یعنی بڑے کافر نہیں ہیں۔

لیکن خودکاشتہ پودا نے بڑی احتیاط سیکھی تھی۔ پہلے (ازالۃ الاوہام ص١٩٠، خزائن ج٣ ص١٩٢) پر لکھ دیا کہ: ”میں مثیل مسیح موعود ہوں۔ کم فہم لوگ مجھے مسیح موعود خیال کر کے بیٹھے ہیں۔“ پھر بعد میں بڑے زور شور سے خود ہی مسیح موعود بن گئے اور جب دیکھا کہ علماء کرام کے سامنے دال نہیں گلتی تو فنا فی الرسول کی آڑ لی اور عین محمد ہونے کا دعویٰ کر ڈالا۔

صفحہ ٢٤٠٠

2400 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2571 زبردست اور لاجواب چیلنج

ہم تمام امت مرزائی کو چیلنج کرتے ہیں کہ تیرہ سو سال کے کسی مجدد، محدث، صحابیؓ اور ولی کے کلام سے یہ ثابت کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔ مسیح ابن مریم یا عیسیٰ ابن مریم سے مراد کوئی ان کا مثیل مراد ہے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے۔ یا ان سے مراد غلام احمد بن چراغ بی بی ہے۔ اگر تم سچے ہو تو تیرہ سو سال کے کسی محدث یا مجدد کا قول پیش کرو۔

دوسرا چیلنج

تیرہ سو سال کے اندر کسی زمانہ کے بارہ میں یہ ثابت کرو کہ کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو اور مسلمانوں نے اس کو طاقت ہوتے ہوئے برداشت کیا ہو۔ یا کسی نے کسی مدعی نبوت سے یہ دریافت کیا ہے کہ تمہارا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے یا غیر تشریعی کا، بروزی اور ظلی کا یا مستقل کا، تو اس طرح آپ ڈبل کافر ہو جاتے ہیں۔

ایک اور ڈھونگ

مرزا اور مرزائیوں نے دنیا بھر میں یہ ڈھونگ رچایا ہے کہ نبوت بند ہوگئی یا نبی آسکتے ہیں؟ حالانکہ خود ان کے ہاں نہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی نبی آیا نہ بعد میں قیامت تک آئے گا۔ تو یہ ساری بحث صرف امت کو الجھانے کے لئے ہے۔ بات یہ کرو کہ مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام بن سکتے ہیں یا آنے والا وہی ہے جس کو تیرہ سو سال کے تمام محدثین، صحابہ کرامؓ اور مجددین نے مسیح ابن مریم قرار دیا ہے کہ وہی آئیں گے۔

مرزاجی کی پریشانی

اس سلسلہ میں مرزاجی کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ مسیح کے آنے کی پیش گوئی کو مشہور ومعروف اور متواتر بھی قرار دیا اور (ازالۃ الاوہام ص٥٥٧، خزائن ج٣ ص٤٠٠) پر صاف لکھ دیا کہ: ”یہ اوّل درجہ کی 2572 پیش گوئی ہے۔ اس کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہے۔“

مگر یہ لکھ مارا کہ ”خدا نے قرآن کے معنے لوگوں سے چھپا دیئے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٤٢٦، خزائن ج٥ ص ایضاً)

حتیٰ کہ مرزاجی کو مامور ومجدد بنا کر ان پر دس سال تک نہ کھولے اور یہ بھی لکھ مارا کہ ”حیات مسیح کا عقیدہ شرک عظیم ہے۔“

١٥٠

صفحہ ٢٤٠١

قیمت فی شمارہ-/10 رو

LY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2571 زبردست ا

ہم تمام امت مرزائیہ کو چیلنج کرتے ہ ولی کے کلام سے یہ ثابت کر دو کہ عیسیٰ علیہ السلام مراد کوئی ان کا مثیل مراد ہے۔ خود حضرت عیسیٰ علی بن چراغ بی بی ہے۔ اگر تم سچے ہو تو تیرہ سو سال

دوسر

تیرہ سو سال کے اندر کسی زمانہ کے با اور مسلمانوں نے اس کو طاقت ہوتے ہوئے ب دریافت کیا ہے کہ تمہارا دعویٰ تشریعی نبوت کا ہے طرح آپ ڈبل کافر ہو جاتے ہیں۔

ایک اور

مرزا اور مرزائیوں نے دنیا بھر میں ا ہیں؟ حالانکہ خود ان کے ہاں نہ مرزا قادیانی سے یہ ساری بحث صرف امت کو الجھانے کے لئے ۔ سکتے ہیں یا آنے والا وہی ہے جس کو تیرہ سو سال ابن مریم قرار دیا ہے کہ وہی آئیں گے۔

مرزا جی ک

اس سلسلہ میں مرزا جی کی پریشانی ک ومعروف اور متواتر بھی قرار دیا اور (ازالۃ الاوہام ص اوّل درجہ کی 2572 پیش گوئی ہے۔ اس کو تواتر کا لفظ مگر یہ لکھ مارا کہ ”خدا نے قرآن کے

حتیٰ کہ مرزا جی کو مامور ومجدد بنا کر ”حیات مسیح کا عقیدہ شرک عظیم ہے۔“

2401 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اور بچنے کے لئے پرانے اولیاء صلحاء اور صحابہؓ کو معذور قرار دے دیا کہ ان سے اجتہادی غلطی ہوئی۔ پھر کبھی یہ کہا کہ پہلا اجماع وفات مسیح پر ہوا تو پھر مسئلہ مسلمانوں سے کیسے چھپا رہا؟ کبھی شرک عظیم کہہ کر خود بھی مشرک بنے رہے اور کبھی اپنی ضرورت کے لئے تیرہ سو سال بعد قرآن دانی کا دعویٰ کر کے خود مسیح ابن مریم بن بیٹھے۔ بھلا جو چیز شرک عظیم ہے جس کے ماننے سے آدمی مشرک اعظم بنتا ہے۔ خدا ایسے قرآنی مسئلے کو لوگوں سے چھپا سکتا ہے۔ پھر قرآن کے نزول کا فائدہ کیا ہوا۔

تیسرا چیلنج

کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن کے بعض معانی قرون اولیٰ سے چھپا دیں اور صدیوں کے مجددین، اولیاء کرام اور علماء کرام مشرکانہ معنی پڑھتے رہیں۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی مجدد و مامور ہو کر بھی دس سال تک عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے رہے اور کیا شرک عظیم کو اجتہاد کی وجہ سے برداشت کیا جا سکتا ہے؟

کیا خود قرآن پاک نے ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ نہیں فرمایا کہ ہم ہی نے قرآن (ذکر) اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ کیا حفاظت کا یہ مطلب ہے کہ اس کے معانی کو صدیوں تک بہترین حضرات کی آنکھوں سے خود خدا اوجھل کر دے۔ حالانکہ خود مرزا نے بھی کہا کہ ”قرآن پاک ذکر ہے اور ذکر قیامت تک رہیں گے۔ اس کا مفہوم دلوں میں رہے گا۔ اس کے مقاصد و مطالب کی حفاظت اصل کام ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٥٤، ٥٥، خزائن ج ٦ ص ٣٥١)

2573 چوتھا چیلنج

کیا کسی نبی نے کافر حکومت کی اتنی خوشامد کی ہے اور اتنی دعائیں دی ہیں اور اتنی خدمت کی ہے جو مرزا جی نے انگریزی حکومت کی کی ہے؟

پانچواں چیلنج

اگر کوئی ایسا نبی آنا تھا جس کا انکار کر کے ساری امت کافر ہو جاتی تو کیا سرور عالم ﷺ نے جہاں اور خبریں مستقبل کی دیں۔ وہاں یہ ضروری نہ تھا کہ ستر کروڑ آدمیوں کی امت کو کفر سے بچانے کے لئے کچھ فرما دیتے؟

١٥١

صفحہ ٢٤٠٢

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

2402 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کیا لا نبی بعدی فرما کر اور عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا ذکر کر کے اور مریم کے بیٹے کے نازل ہونے اور دوبارہ آنے کی متواتر خبریں دے کر خود آپ ﷺ نے امت کے لئے سامان کفر العیاذ باللہ تجویز نہیں کیا؟

مرزا ناصر صاحب نے اتمام حجت کے ساتھ دل سے صحیح مان لینے کی دم لگا کر ایجاد بندہ کا کام کیا ہے۔ خود مرزا کا قول ہے۔ ”اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔ اب چاہے کہ کوئی قبول کرے چاہے نہ کرے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

دیکھئے اس عبارت میں مرزا جی نے بھی اتمام حجت کے ساتھ دل سے سچا سمجھ کر انکار کرنے کی دم نہیں لگائی۔

اس سے ظاہر ہے کہ اگلا مانے یا نہ مانے سمجھے یا نہ سمجھے جب اس کے سامنے دلیل سے بات ہو گئی۔ دعوت حق پہنچ گئی اب اس پر اتمام حجت ہو گیا چاہے مانے چاہے نہ مانے۔

2574 اگر اس طرح نہ کیا جائے تو دنیا کے زیادہ تر کافر جو حضور ﷺ کو نبی نہیں سمجھتے ان کے انکار سے وہ کیوں بڑے کافر ہوئے؟

مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ مرزا قادیانی کے انکار سے خدا آخرت میں سزا دے گا۔ دنیا میں یہ مسلمانوں ہی میں شمار ہیں اور ان سے ملکی و سیاسی سلوک مسلمانوں کی طرح ہوگا۔ اس طرح وہ اپنی تکفیر پر پردہ ڈالتے ہیں۔ مگر ان کو معلوم ہو کہ دل کی بات خدا جانتا ہے۔ یہاں قاضی اور عدالت بھی ظاہر پر فیصلہ کریں گے۔ اگر مرزا نبی ہے تو اس کا انکار کفر ہے۔ پھر کوئی آدمی جو مرزا جی کو نہ مانے مسلمان نہیں رہ سکتا اور اگر نبوت ختم ہے تو مرزا جی اور اس کے ماننے والے سب قطعی کافر ہیں۔

دوسری طرح سنئے قرآن پاک میں ہے۔ ”ما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً“ ﴿کہ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے۔﴾

یہاں صرف رسول کے بھیجنے کا ذکر ہے۔ اس کو دل سے سچا سمجھ کر انکار کا ذکر نہیں ہے اور رسول بھیجنے کے بعد منکر رسول کو صرف عذاب اخروی نہیں دیا جاتا۔ بلکہ وہ مسلمان بھی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر قرآن نے صرف یہ بتایا ہے کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ”ما جاء نا من نذیر“ کہ ہمارے پاس کوئی نذیر نہیں آیا۔ اس میں سمجھنے نہ سمجھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ صرف ایجاد مرزا ہے۔ ہاں بعض کافر ایسے بھی ہیں جو دل سے سچا سمجھنے کے باوجود انکار کرتے ہیں۔ مگر بعض دوسرے بھی ہیں۔

١٥٢

صفحہ ٢٤٠٣

2403 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تکفیر کو چھپانے کا نیا ڈھونگ

مرزائی اور اس کے متبعین نے عام مسلمانوں کو کافر کہا۔ لیکن اپنی اس تکفیر کو عجیب طریقہ سے چھپایا کہ چونکہ دوسروں نے مجھے کافر کہا اور مسلمان کو کافر کہنے سے وہ خود ہی کافر ہوگئے۔ یا انہوں نے قرآن وحدیث کے بیان کردہ مسیح موعود کا انکار کیا اس لئے وہ خود ہی کافر ہوگئے۔

2575 "واہ جی مرزا صاحب واہ جی! آپ اگر خدا بن بیٹھیں تو آپ کو لوگ گلے لگائیں گے یا کافر مطلق کہیں گے؟ پھر آپ کہیں گے کیا کروں یہ لوگ مجھے کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہو گئے؟ آپ نبی بنیں، پیغمبروں کی توہین کریں، مسلمان مجبوراً آپ کو کافر کہیں گے۔ پس آپ کے لئے یہ بہانہ کافی ہے کہ یہ لوگ مجھے کافر کہنے سے کافر ہوگئے۔

اور سچ پوچھیں تو آپ ڈبل کافر ہو جاتے ہیں۔ ایک غلط دعوؤں کی وجہ سے اور دوسرے مسلمانوں کو اپنی منطق کے لحاظ سے کافر بن جانے کا سبب بننے سے۔"

چھٹا چیلنج

کیا قتل کا واقعہ شام میں ہو اور گواہ لدھیانہ کا کہے! وہ گواہ مردود نہ ہوگا؟

کیا دعویٰ زید بن عمر پر ہو تو اس کی جگہ خالد بن سلیم کو پکڑا جاسکتا ہے؟

کیا واقعہ لاہور کا ہو اور ہم لاہور کا معنی تاویلیں کر کے راولپنڈی کریں تو اس طرح دنیا کے کام چل سکتے ہیں؟

کیا نکاح احمد خان ساکن ہری پور کا ہو اور عورت کے پاس غلام احمد ساکن کراچی آدھمکے اور کہے کہ احمد خان سے مراد غلام احمد خان ہی ہے اور ہری پور سے کراچی ہی مراد ہے؟

کیا اس قسم کی باتیں مان لی جائیں تو نظام عالم درہم برہم نہ ہو جائے گا؟

کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور مرزائیوں کے خلیفہ دوم مرزا محمود نے (حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ١٨٨) پر یہ نہیں لکھا کہ: "قرآن میں 'ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد' میں مرزا قادیانی ہی کو رسول کہا گیا ہے۔"

اور کیا اس طرح وہ احمد کا بھی مصداق نہ ہو جائے گا؟

کیا یہ قرآن پاک سے تلعب اور مذاق نہیں ہے؟

١٥٣

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

کیا لا نبی بعدی فرما کر اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور دوبارہ آنے کی متواتر خبریں دے کر خود آ العیاذ باللہ تجویز نہیں کیا؟

مرزا ناصر صاحب نے اتمام حجت کے ساتھ د کا کام کیا ہے۔ خود مرزا کا قول ہے۔ ”اور خدا نے اپنی حج

(تتمہ

قبول کرے چاہے نہ کرے۔“

دیکھئے اس عبارت میں مرزائی نے بھی اتمام کرنے کی دم نہیں لگائی۔

اس سے ظاہر ہے کہ اگلا مانے یا نہ مانے مجھے بات ہوگئی۔ دعوت حق پہنچ گئی اب اس پر اتمام حجت ہو گیا

2574 اگر اس طرح نہ کیا جائے تو دنیا کے زیادہ کے انکار سے وہ کیوں بڑے کافر ہوئے؟

مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ مرزا قادیانی کے دنیا میں یہ مسلمانوں ہی میں شمار ہیں اور ان سے ملکی وسیا طرح وہ اپنی تکفیر پر پردہ ڈالتے ہیں۔ مگر ان کو معلوم ہو کہ اور عدالت بھی ظاہر پر فیصلہ کریں گے۔ اگر مرزائی سچے مرزاجی کو نہ مانے مسلمان نہیں رہ سکتا اور اگر نبوت ختم ہے قطعی کافر ہیں۔

دوسری طرح سنئے قرآن پاک میں ہے۔ ”وم

﴿کہ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے۔﴾

یہاں صرف رسول کے بھیجنے کا ذکر ہے۔ اس رسول بھیجنے کے بعد منکر رسول کو صرف عذاب اخروی نہیں پھر قرآن نے صرف یہ بتایا ہے کہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ 'م نذیر نہیں آیا۔ اس میں سمجھنے نہ سمجھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ب بھی ہیں جو دل سے سچا سمجھنے کے باوجود انکار کرتے ہیں ب

١٥٢

صفحہ ٢٤٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2576 ساتواں چیلنج

کیا مرزا قادیانی کے سامنے یہ اشعار نہیں پڑھے گئے اور اس نے تحسین نہیں کی تھی۔

(اخبار البدر قادیان مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٠٦ء، الفضل قادیان مورخہ ٢٢؍اگست ١٩٣٢ء)

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

جناب چیئرمین: یہ تین دفعہ پڑھ چکے ہیں۔ دوبارہ نہ پڑھیں۔ مولانا عبدالحکیم: میں سمجھا نہیں۔ جناب چیئرمین: آپ تین دفعہ یہ اشعار پڑھ چکے ہیں۔ مولانا عبدالحکیم: کتاب میں چھپا ہوا ہے وہ تو پڑھنا ہی ہے۔ مرزا ناصر احمد نے اس کے جواب میں کہا کہ ان کے بعد والا شعر اس کا جواب ہے۔ شعر یہ ہے۔

غلام احمد مختار ہو کر
یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں

خوب، غلام، غلام کہہ کر عیسیٰ علیہ السلام سے افضل بنو، حضور ﷺ سے اپنی شان بڑھا لو، غلام بن کر حضور ﷺ کی ٧٠ کروڑ امت کو کافر کر ڈالو، نسخہ اچھا ہے۔ مرزا ناصر احمد صاحب یہ شعر سن کر پہلے تو بڑے پریشان ہوئے اور پھر اس کے بعد (جب اخبارات پیش ہوئے) یہ جواب گھڑ لیا۔ کیا مرزا ناصر صاحب اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کی دو بعثتیں مانی ہیں اور دوسری بعثت کو پہلی سے اکمل بتایا ہے۔

2577 آٹھواں چیلنج

مرزائی فرقہ کے لوگوں اور مرزا ناصر احمد صاحب نے کوشش کی ہے کہ شیخ اکبر کے نام

١؎ (قادیانی کرم فرما توجہ کریں کہ قادیانی کفریات جو بھی سنتا ہے وہ سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ اے کاش قادیانی بھی اس سے عبرت حاصل کریں۔

١٥٤

صفحہ ٢٤٠٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

سے مسلمانوں کو دھوکہ دیا جائے کہ وہ غیر تشریعی نبوت کو باقی سمجھتے تھے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ شیخ اکبرؒ اور بعض دوسرے اولیاء نے جو کہا ہے کہ غیر تشریعی نبوت باقی ہے وہ صرف مکالمات ومبشرات (سچی خوابیں) اور ولایت ہے۔ نبی تشریعی مستقل صاحب کتاب جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام انبیاء غیر تشریعی جیسے دوسرے انبیاء بنی اسرائیل اس سے ان کے کلام کا تعلق ہی نہیں ان دونوں کو وہ شرعی نبوت کہتے ہیں جس میں کسی کو نبی کہا جائے یا نبوت کا دعویٰ کیا جائے وہ جانتے ہیں کہ منصب نبوت، ولایت، قابلیت اور روحانی ارتقاء سے نہیں ملتا۔ یہ خدا کی دین ہے۔ ورنہ تیرہ سو سال میں کوئی صحابیؓ، مجدد، محدث اور ولی بھی دعویٰ نبوت نہ کرتا یا نبی نہ کہلاتا؟

دوسرے ان کے پیش نظر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا تھا کہ ان کی حیات اور آمد ثانی سے انکار کر کے کوئی کافر نہ ہوجائے۔ اس لئے وہ لکھتے رہے کہ وہ جب آئیں گے تو نہ اپنی پرانی شریعت پر عمل کریں گے نہ کوئی نئی شریعت لائیں گے۔ بلکہ شریعت محمدیہ پر ہی عمل کریں گے۔ کرائیں گے، یہی مقصد شیخ اکبر کا اور یہی مقصد ملا علی قاریؒ اور دوسرے حضرات کا ہے۔

حضرت شیخ اکبرؒ کا کلام

ترجمہ: ”جب سرور عالم ﷺ دوسرے آسمان میں داخل ہوئے۔ وہاں عیسیٰ علیہ السلام بعینہ جسم وجسد کے ساتھ موجود تھے۔ اس لئے کہ وہ ابھی تک 2578 فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس آسمان تک اٹھا کر وہاں سکونت بخشی۔“

(فتوحات مکیہ ج٣ ص٣٤١)

مولانا عبدالحکیم: نماز پڑھ لیں۔ جناب چیئرمین: میں عرض کروں آپ پڑھتے جائیں۔ تھوڑا سا رہ گیا ہے۔ چند چیزیں ہیں وہ رہ سکتی ہیں۔ عدالتوں کے حوالے ہیں وہ رہ سکتے ہیں۔ مولانا عبدالحکیم: ابھی کافی صفحے رہتے ہیں۔ جناب چیئرمین: پانچ منٹ کی بات ہے، ختم کردیں۔ مولانا نے پڑھنا شروع کیا اور پھر اسی دوران۔ مولانا عبدالحکیم: صاحب نماز پڑھ لیں۔ جناب چیئرمین: آگے عدالتوں کے حوالے ہیں، وہ آگے آچکے ہیں۔ ان کے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

١٥٥

EMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2576 ساتواں کیا مرزا قادیانی کے سامنے یہ اشعار نہیں پـ (اخبار البدر قادیان مورخہ ٢٥ اکتو

محمد پھر اتر آئے
اور آگے سے ہیں بڑھ کـ
محمد دیکھتے ہوں جس
غلام احمد کو دیکھے

جناب چیئرمین: یہ تین دفعہ پڑھ چکے ہـ مولانا عبدالحکیم: میں سمجھا نہیں۔ جناب چیئرمین: آپ تین دفعہ یہ اشعا مولانا عبدالحکیم: کتاب میں چھپا ہوا ہـ مرزا ناصر احمد نے اس کے جواب میں کہا شعر یہ ہے۔

غلام احمد مختار
یہ رتبہ تو نے پایا -

خوب، غلام، غلام کہہ کر عیسیٰ علیہ السلام بڑھالو، غلام بن کر حضور ﷺ کی ٧٠ کروڑ امت کو کافر یہ شعر سن کر پہلے تو بڑے پریشان ہوئے اور پھر اس جواب گھڑلیا۔ کیا مرزا ناصر صاحب اس حقیقت سے دوبعثتیں مانی ہیں اور دوسری بعثت کو پہلی سے اکمل بتایا

2577 آٹھواں مرزائی فرقہ کے لوگوں اور مرزا ناصر احمد صـ اے (قادیانی کرم فرما توجہ کریں کہ قادیانی جاتا ہے۔ اے کاش قادیانی بھی اس سے عبرت حاصل

١٥٤

صفحہ ٢٤٠٦

2406 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مولانا عبدالحکیم: صاحب! آپ چائے پی لیں، ہم نماز پڑھ لیں گے اور پھر یہ ہے کہ وہ پروپیگنڈا کریں گے۔

جناب چیئرمین: مولانا صاحب! میں التماس کرتا ہوں آپ اسے ختم کریں۔

مولانا عبدالحکیم:

دوسری عبارت کا اردو ترجمہ

میرے بعد کوئی نبی آئے گا نہ رسول جو میری شریعت کے خلاف شریعت جاری کرے۔ 2579 (اس کے بعد لکھا ہے ) اس لئے کہ اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (یہ اجماعی عقیدہ ہے ) کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول ہیں اور یہ بھی امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ وہ آخر زمانے میں نازل ہوں گے۔ بڑے عدل وانصاف سے ہماری شریعت محمدی پر عمل کریں گے اور کرائیں گے۔ کسی دوسری شریعت اور اپنی سابق شریعت پر بھی عمل نہ کریں گے۔

(فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٣)

کے بارے میں لکھا ہے پھر ان کی عبارت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”مسیح موعود کے قیامت کے دن دو حشر ہوں گے۔ ایک رسولوں کے ساتھ بحیثیت رسولوں کے اور ایک ہمارے ساتھ بحیثیت ولی کے جو تابع ہو گا محمد ﷺ کے۔“ اس طویل عبارت میں شیخ اکبرؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ اور پھر قیامت میں ان کے علیحدہ جھنڈے اور رسول اللہ ﷺ کے عام جھنڈے جس کے نیچے سارے پیغمبر ہوں گے۔ پھر حضور ﷺ کے خاص جھنڈے جس کے نیچے امت اور امت کے اولیاء ہوں گے۔ اب فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے اس جھنڈے کے نیچے بھی ان کا حشر ہوگا۔ جس میں وہ تمام اولیاء امت کے سردار ہوں گے اور اپنا علیحدہ جھنڈا بھی ہوگا۔ جس کے نیچے ان کے امتی ہوں گے۔ یہاں مرزے کا کون سا ذکر ہے؟ مگر مرزا محمود نے مسیح موعود کا لفظ ترجمہ میں بڑھا کر خیانت کی ہے۔

عبارات حضرت ملا علی قاریؒ مجدد اسلام

مرفوعا ینزل عیسیٰ ابن مریم علی المنارۃ البیضاء شرقی دمشق“ حضرت انسؓ نے

١٥٦

صفحہ ١٥٧

2407 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مرفوع روایت کی ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرقی منارہ پر نازل ہوں گے۔ ﴾

منارة مسجد دمشق ثم یأتی القدس“ ﴿ پھر عیسیٰ علیہ السلام مریم کے بیٹے آسمان سے دمشق کی مسجد کے مینار پر اتریں گے۔ پھر قدس تشریف لے جائیں گے۔﴾

فرماتے ہیں۔ علامہ طیبیؒ نے ارشاد فرمایا کہ آیت کریمہ : ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موتہ“ سے آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر استدلال فرمایا ہے۔

اور بھی بہت سی عبارات ہیں جن کو اختصار کے خیال سے ترک کرتے ہیں۔

کیا مرزائی بتائیں گے کہ ان میں سے کسی بزرگ نے نبوت یا وحی نبوت کے دعویٰ کی اجازت دی ہے یا کسی مدعی کو مانا ہے۔ بلکہ ان کے سامنے صرف حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام تھے۔

نواں چیلنج

کیا کوئی مرزائی کسی ولی، شیخ اکبرؒ، امام ربانی مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ دہلویؒ، امام رازیؒ یا کسی مجدد و محدث کا قول پیش کر سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں اور آخری زمانہ 2581 میں آنے والے وہ نہ ہوں گے؟ بلکہ کوئی مثیل یا دوسری قسم کا مدعی بن کر آئے گا اور شریعت میں مستعمل ہونے والے تمام الفاظ کے معانی بدل کے رکھے گا۔ اگر کوئی مرزائی صداقت کی رتی رکھتا ہے تو تیرہ صدیوں کے مجددین میں سے کسی ایک مجدد کا عقیدہ یا قول بتا دے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں اور اب ان کی جگہ کوئی اور آئے گا۔ اگر نہیں ہے تو توبہ کرو۔ جہنم سے بچو۔ تم اور تمہارا مرزا قادیانی تیرہ صدیوں کے مجددین، محدثین، علماء و صلحاء اور اولیاء کرام سے زیادہ علم نہیں رکھتے۔ نہ زیادہ شریعت کو جانتے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ ہے تو یہ دعویٰ شیطان کر کے تباہ ہوا ہے۔ جس نے کہا ”انا خیر منه“ میں آدم علیہ السلام سے بہتر ہوں۔

مرزا صاحب کے خلاف عدالتی فیصلے

آج کل عدالتوں پر اعتماد کیا جاتا ہے اور بڑی حد تک وہ تحقیق بھی کرتے ہیں۔ مرزائی تو بہت ہی جلد ان عدالتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اب آپ ان عدالتوں کے فیصلے ہی سن لیں۔

OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مولانا عبد الحکیم: صاحب! آ... کہ وہ پروپیگنڈا کریں گے۔

جناب چیئرمین: مولانا صاح...

مولانا عبد الحکیم:

دوسری عبا...

میرے بعد کوئی نبی آئے گا نہ رسول جو میری ا... کے بعد لکھا ہے) اس لئے کہ اس مسئلہ میں کوئی... علیہ السلام نبی اور رسول ہیں اور یہ بھی امت ا... گے۔ بڑے عدل و انصاف سے ہماری شریع... شریعت اور اپنی سابق شریعت پر بھی عمل نہ کرا...

کے بارے میں لکھا ہے پھر ان کی عبارت نقل... ”مسیح موعود کے قیامت کے دن... رسولوں کے اور ایک ہمارے ساتھ بحیثیت م... میں شیخ اکبرؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ ا... اللہ ﷺ کے عام جھنڈے جس کے نیچے سار... جس کے نیچے امت اور امت کے اولیاء و... جھنڈے کے نیچے بھی ان کا حشر ہوگا۔ جس... علیحدہ جھنڈا بھی ہوگا۔ جس کے نیچے ان کے... یہاں مرزے کا کون سا ذکر ہے... خیانت کی ہے۔

عبارات حضر...

مرفوعا ینزل عیسی ابن مریم علی...

صفحہ ٢٤٠٨

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ایک فیصلہ

ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر (بہاولپور) کا فیصلہ ہے جس میں مسلمانوں اور مرزائیوں کے بڑوں نے پورا پورا زور صرف کر دیا تھا۔ عدالت نے جو فیصلہ لکھا وہ تاریخی ہے اور ریاست بہاولپور کا بڑا کارنامہ ہے۔ اگر کوئی منصف مزاج ہے تو اسی فیصلے سے اس کو عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ اس فیصلے میں فاضل جج نے صرف مرزاجی کا دعویٰ نبوت ہی ذکر نہیں کیا۔ اس کا دعویٰ وحی جو قرآن کے برابر ہے اس کی توہین انبیاء علیہم السلام وغیرہ سب 2582 کفریات لکھے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہترین تحقیق کی ہے اور اس میں حضرت علامہ محمد انور شاہ صاحبؒ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند جیسی شخصیتوں کی شہادتیں ہیں اور قادیانیوں کے چوٹی کے ملازم مولوی بھی شریک تھے۔ یہ مقدمہ ٧؍ فروری ١٩٣٥ء بمطابق ٣؍ ذی القعد ١٣٥٣ھ کو ہوا۔

دوسرا فیصلہ

دوسرا فیصلہ ڈسٹرکٹ جج ضلع کیمبل پور (اٹک) شیخ محمد اکبر صاحب کا ہے۔ جو ٣؍ جون ١٩٥٥ء کو بمقام راولپنڈی ہوا۔ اس میں تمام امت مرزائیہ کے کفر کی تصدیق کی گئی۔

تیسرا فیصلہ

شیخ محمد رفیق صاحب سب جج سول اور فیملی کورٹ جیمس آباد (سندھ) کا ہے۔ اس میں بھی مسلمان عورت کا نکاح مرزائی سے ناجائز اور مرزائی کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔

چوتھا فیصلہ

مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کے خلاف کیس کے بارہ میں ہوا اور عدالت نے حضرت شاہ صاحبؒ کو تا برخاست عدالت سزا دے دی تھی۔ اس تقریر میں حضرت شاہ صاحبؒ نے مرزائیوں کو ”دم کٹے سگان برطانیہ“ کہا تھا اور بھی بہت سی باتیں تھیں۔ اس فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی لاہور کی پلومر کی دکان سے ٹانک وائن (شراب) منگاتا تھا اور مرزاجی کے بیٹے مرزا محمود نے تسلیم کیا کہ مرزاجی نے ایک بار کسی مرض کی وجہ سے شراب پی تھی۔

بہر حال اس مقدمہ میں مرزاجی کی خوراک کی تفصیل بھی پیش کی گئی تھی۔ جس میں یا قوتیاں وغیرہ مقویات اور قیمتی غذائیں درج ہیں۔

١٥٨

صفحہ ١٥٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ایک فیصلہ

ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر (بہاولپور) کا فیصلہ ہے ج بڑوں نے پورا زور صرف کر دیا تھا۔ عدالت نے جو فیصلہ کا بڑا کارنامہ ہے۔ اگر کوئی منصف مزاج ہے تو اسی فیصلے ک اس فیصلے میں فاضل جج نے صرف مرزاجی کا دعویٰ نبوت ہی ن کے برابر ہے اس کی توہین انبیاء علیہم السلام وغیرہ سب 2582 کہ بہترین تحقیق کی ہے اور اس میں حضرت علامہ محمد انور ش دیوبند جیسی شخصیتوں کی شہادتیں ہیں اور قادیانیوں کے چوٹی ک مقدمہ ٧؍فروری ١٩٣٥ء بمطابق ٣؍ذی القعد ١٣٥٣ھ کو ہو

دوسرا فیصلہ

دوسرا فیصلہ ڈسٹرکٹ جج ضلع کیمل پور (اٹک) ک ١٩٥٥ء کو بمقام راولپنڈی ہوا۔ اس میں تمام امت مرزائیہ ک

تیسرا فیصلہ

شیخ محمد رفیق صاحب گورنمنٹ سول اور فیملی کور میں بھی مسلمان عورت کا نکاح مرزائی سے ناجائز اور مرزائی ک

چوتھا فیصلہ

مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ جو حضرت امیر شریعت سید عط کیس کے بارہ میں ہوا اور عدالت نے حضرت شاہ صاحب تھی۔ اس تقریر میں حضرت شاہ صاحب نے مرزائیوں کو ٹ بہت سی باتیں تھیں۔ اس فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ دکان سے ٹانک وائن (شراب) منگا تا تھا اور مرزاجی کے ب ایک بار کسی مرض کی وجہ سے شراب پی تھی۔ بہر حال اس مقدمہ میں مرزاجی کی خوراک کی یاقوتیاں وغیرہ مقویات اور قیمتی غذائیں درج ہیں۔

١٥٨

2409 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2583 مرزائیوں سے سوال

لیکن مرزائیوں نے پہلے کے مقدمات کی اپیل کیوں نہیں کی۔ کیوں سکوت کر کے اپنے اوپر کفر کی مہر کی تصدیق کر دی؟ وہ جانتے تھے کہ اگر ہائیکورٹ نے بھی ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کر دی تو یہ قانون بن جائے گا۔ پھر مفر کی راہ ہی بند ہو جائے گی۔

فتاویٰ

مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے خلاف تمام فرقوں اور علماء کرام کے فتاویٰ بیان کئے ہیں۔ ہم ان کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ کلکتہ سے دیوبند تک کے علماء کرام نے اور عرب ممالک نے بھی مرزائیوں پر کفر کے فتوے دیئے اور یہ آج کے فتوے نہیں ہیں۔ یہ انگریز کے زمانہ کے فتوے ہیں اور پرانے ہیں۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد کو نبی یا مجدد یا مسلمان سمجھنے والے اس کی کفریات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس لئے قطعی کافر ہیں۔ یہی فیصلہ ماضی قریب میں مکہ معظمہ کے اور تمام عالم اسلام کے نمائندوں نے جمع ہو کر کیا۔

علامہ اقبال مرحوم اور مرزائی

مرزائیوں نے اپنے حق میں بہت سے مشہور حضرات کے نام بھی پیش کئے ہیں اور نہایت ڈھٹائی سے علامہ اقبال مرحوم کا نام نامی بھی لیا ہے۔ مگر مسلمان قوم اب کسی نام سے دھوکہ نہیں کھاتی۔ جب تک کسی کو مرزاجی کے عقائد، مرزائی خیالات معلوم نہ تھے۔ اس وقت ان کی تحریرات کو پیش کرنا دجل وفریب ہے۔ کیا دنیا کو معلوم نہیں ہے کہ علامہ محمد اقبال مرحوم نے مرزائیوں کو انجمن حمایت الاسلام لاہور سے خارج کر دیا تھا۔ کیا ان کو علامہ مرحوم کے مندرجہ ذیل خیالات کا علم نہیں ہے:

١٥٩

صفحہ ٢٤١٠

2410 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

شریعت میں ختم نبوت کے بعد مدعی نبوت کاذب اور واجب القتل ہے۔ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوت...... بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک (مرزائیت) کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘

حکومت کو مشورہ

علامہ محمد اقبال مرحوم نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔ (یہ تمام حوالہ جات حرفِ اقبال کے مجموعہ مؤلف لطیف اکبر صاحب شیروانی ایم اے سے لئے گئے ہیں)

(اب آپ خود مرزا ناصر احمد صاحب کے دعوؤں کا اندازہ لگائیں) بعض دوسرے حضرات کا بھی یہی حال ہے اور جب مرزا قادیانی کے جھوٹ ثابت ہیں تو ہم کیوں اس کی امت کو جھوٹ کی طرف منسوب نہ کریں؟

2585 انہوں نے مختلف اکابر امت کی طرف غلط بات منسوب کی کہ وہ بھی غیر تشریعی نبوت کے بقاء کے حق میں تھے۔ جن میں سے شیخ اکبرؒ اور علامہ ملا علی قاریؒ کی عبارتیں ہم نے پیش کر کے جھوٹ کی قلعی کھول کر ان کے اصلی مطلب کو واضح کر دیا ہے۔

آخر میں ہم محترم ممبران قومی اسمبلی کی توجہ اپنے اس بل کی طرف مبذول کراتے ہیں جو ہم نے رہبر کمیٹی قومی اسمبلی پاکستان کے سامنے پیش کیا ہے۔

ضمیمہ نمبر : 1 ...... متن بل

ہر گاہ کہ:

’’سرور عالم ﷺ کے اتباع سے یہ مقام پایا ہے اور وحی نے مجھے صریح نبی کا لقب دیا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

ہے۔ جب کہ براہین احمدیہ لکھنے تک اس کا عقیدہ یہ تھا کہ : ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ

١٦٠

صفحہ ٢٤١١

SSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

شریعت میں ختم نبوت کے بعد مدعی نبوت کا ذ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیز کی نبوت سے اعلیٰ تر نبوت کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانو بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک (مرزا آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہے سنا۔ ”انا للہ

حکومت کو مشور

علامہ محمد اقبال مرحوم نے حکومت کو مشورہ دیا کرلے۔ (یہ تمام حوالہ جات حرف اقبال کے مجموعہ مکاتی سے لئے گئے ہیں)

(اب آپ خود مرزا ناصر احمد صاحب کے حضرات کا بھی یہی حال ہے اور جب مرزا قادیانی کے جم جھوٹ کی طرف منسوب نہ کریں؟ 2585 انہوں نے مختلف اکابر امت کی طرف نبوت کے بقاء کے حق میں تھے۔ جن میں سے شیخ اکبر او کر کے جھوٹ کی قلعی کھول کر ان کے اصلی مطلب کو واضح آخر میں ہم محترم ممبران قومی اسمبلی کی توجہ ا جو ہم نے رہبر کمیٹی قومی اسمبلی پاکستان کے سامنے پیش کیا

ضمیمہ نمبر: ١ ......

ہرگاہ کہ:

”سرور عالم ﷺ کے اتباع سے یہ مقام پایا ہے۔“

ہے۔ جب کہ براہین احمدیہ لکھنے تک اس کا عقیدہ یہ تھا ک

١٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

موجود ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

2586 اب چھوڑ دو اے دوستو جہاد کا خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

اور اس سلسلہ میں امام ربانی مجدد الف ثانیؒ پر جھوٹ بولا اور بہتان باندھا ہے کہ: ”جب مکالمات الہیہ کی کثرت ہو جائے تو اس آدمی کو نبی کہتے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

حالانکہ انہوں نے محدث لکھا ہے نبی قطعاً نہیں لکھا۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

ایک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تابنہد پای منبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

١٦١

قیمت فی شمارہ-/10 روپے۔

صفحہ ٢٤١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

(کشتی نوح ص ٦٦ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

اور پیغمبروں کی بھی توہین کی ہے۔ اس کے اشعار یہ ہیں۔

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آنچہ دادست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

2587

نکلنے کا قول کیا ہے جو قرآن پاک کی نصوص کے قطعاً خلاف ہے اور ہر گاہ کہ یہ تمام امور کفریہ ہیں۔ ان کے کہنے اور ماننے سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

ہے۔ جیسے قرآن اور حدیث کا انکار کرنے والوں کو۔

غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے اور اس مسئلہ میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو چاہے اس کو نبی مانیں یا مجدد اور یا مسیح موعود اسلام سے خارج ہیں۔

اور ہر گاہ کہ پاکستان کی عوام تمام مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ بنابریں پاکستان قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں ہم یہ بل پیش کرتے ہیں :

چاہے وہ قادیانی کہلائیں یا لاہوری یا احمدی۔ سب کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔

متعین نہ کیا جائے۔

١٦٢

صفحہ ٢٤١٣

2413 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2588 یہ بل پاس ہوتے ہی سارے پاکستان میں نافذ ہوگا اور اس بل کا نام "غیر مسلم اقلیت بل" ہوگا۔

دستخط: غلام غوث ہزاروی (ایم.این.اے) دستخط: عبدالحکیم (ایم.این.اے) دستخط: عبدالحق (بلوچستان) (ایم.این.اے)

2589 ضمیمہ نمبر : ٢

لاہوری مرزائیوں کے محضر نامہ کا جواب

لاہوری اور قادیانی مرزائی دونوں ایک ہی ہیں

برائے مطالعہ : خصوصی کمیٹی قومی اسمبلی پاکستان

منجانب: غلام غوث ہزاروی (ایم.این.اے) مرکزی سربراہ کل پاکستان جمعیت علماء اسلام ہزاروی گروپ۔ مولانا عبدالحق بلوچستانی (ایم.این.اے) مولانا عبدالحکیم (ایم.این.اے)

2590 تمہید

ہم نے جماعت مرزائیہ ربوہ کے "محضرنامے" کا جواب لکھ کر قومی اسمبلی کی کمیٹی میں پیش کر دیا ہے۔ یہ محضر نامہ مرزائیوں کے امام مرزا ناصر احمد نے پڑھ کر سنایا تھا۔ ہم نے اس کے جواب میں مسئلہ حیات مسیح ابن مریم علیہ السلام کو قرآن پاک، ارشاد رسول ﷺ ، تشریح صحابہ کرامؓ ، تیرہ سو سال کے مجددین کی تفسیروں اور اجماع امت سے ثابت کر دیا ہے۔ اگر لاہوری مرزائی اس کتاب کو بنظر انصاف دیکھیں گے تو مرزا کو کذاب دجال کہنے لگ جائیں گے۔ اس کتاب میں ہم نے خود مرزا غلام احمد قادیانی کا کچا چٹھا بھی کھول دیا ہے اور اس کا انگریزوں کا ٹوڈی ہونا، ملکہ قیصرہ ہند کی انتہائی خوشامد کرنا اور مسئلہ جہاد کو بھی واضح کر دیا ہے۔ کیا ایسا شخص عین محمد ہونے کا

١٦٣

AKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اور پیغمبروں کی بھی توہین کی

انبیاء
من
آنچہ
داد
آں

نکلنے کا قول کیا ہے جو قرآن پاک کی نص ان کے کہنے اور ماننے سے آدمی اسلام

ہے۔ جیسے قرآن اور حدیث کا انکار کر

غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے اور اس مسئل پیرو چاہے اس کو نبی مانیں یا مجدد اور یا ا اور ہرگاہ کہ پاکستان کی ع آسامیوں سے ہٹانے اور ربوہ کو کھلا ش بنابریں پاکستان قومی اسم

چاہے وہ قادیانی کہلائیں یا لاہوری یا ا

متعین نہ کیا جائے۔

قیمت فی مجلد -/10 روپے

صفحہ ٢٤١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

دعویٰ کر سکتا ہے؟ اب اس مختصر رسالے میں لاہوری مرزائیوں سے خطاب کر کے بقیہ باتیں عرض کی جاتی ہیں۔

2591 مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت اور مرزا ناصر احمد صاحب کی حرکات مذبوحی

لاہوری مرزائیوں کی قابل رحم حالت

(ازالۃ الاوہام حصہ اوّل ص١٩٠، خزائن ج٣ ص١٩٢)

پھر مسیح موعود بنے پھر نبی بھی بن گئے اور آخر کار میں محمد بنے۔ مرزا ناصر احمد صاحب ان کو نبی ورسول بھی کہتے ہیں۔ مگر سوال جواب میں پریشان ہو کر کہہ دیتے ہیں وہ تو غلام ہیں۔ وہ ہیں ہی نہیں۔ جو کچھ ہے خود حضرت محمد ﷺ ہیں۔ لاہوری بیچارے نبی کہنے سے بھی گھبراتے ہیں۔ لغوی، بروز وعکس، فنافی الرسول اور ظل کے الفاظ میں چھپ کر مرزا جی کی نبوت کا انکار بھی نہیں کر سکتے۔ دراصل مرزا جی نے دونوں طرح کی باتیں لکھی ہیں تا کہ عندالضرورت کام دے سکیں۔ جب اونٹوں کو بیگار میں پکڑا جانے لگا تو شتر مرغ نے کہہ دیا کہ میں تو مرغ ہوں، جب پرندوں کی باری آئی کہہ دیا کہ میں اونٹ ہوں۔

اسی طرح مرزا جی کی پٹاری میں دعویٰ نبوت اور انکار نبوت دونوں آپ کو ملیں گے اور یہ اس نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ ورنہ حضور ﷺ کیوں یوں فرماتے کہ میری امت میں سے تیس بڑے جھوٹے اور فریبی آئیں گے۔ اب ہم اختصار سے مرزا جی کا دعویٰ نبوت ذکر کرتے ہیں:

تورات انجیل اور قرآن پر اور انہی کتابوں کی طرح سمجھا۔ جیسے کہ آپ پڑھ چکے ہیں۔

کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔

پڑھ چکے ہیں۔

ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ”ھو الذی ارسل رسوله بالھدیٰ ودین الحق

١٦٤

صفحہ ٢٤١٥

EMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 دعویٰ کر سکتا ہے؟ اب اس مختصر رسالے میں لاہوری مر کی جاتی ہیں۔

2591 مرزا غلام احمد کا دعوٰی نبوت اور مرزائی

لاہوری مرزائیوں کی غ

) پھر مسیح موعود بنے پھر نبی بھی بن گئے اور ان کو نبی و رسول بھی کہتے ہیں۔ مگر سوال جواب میں چ ہیں ہی نہیں۔ جو کچھ ہے خود حضرت محمد ﷺ ہیں۔ ہیں۔ لغوی، بروز و عکس، فنا فی الرسول اور ظل کے الفا نہیں کر سکتے۔ دراصل مرزا جی نے دونوں طرح کی سکیں۔ جب اونٹوں کو بیگار میں پکڑا جانے لگا تو شتر پرندوں کی باری آئی کہہ دیا کہ میں اونٹ ہوں۔ اسی طرح مرزا جی کی پٹاری میں دعویٰ نبو یہ اس نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ ورنہ حضور ﷺ کی بڑے جھوٹے اور فریبی آئیں گے۔ اب ہم اختصار

تورات انجیل اور قرآن پر اور انہی کتابوں کی طرح س

کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔

پڑھ چکے ہیں۔

ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔" هو الذی ١٦٤

2415 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 لیظهره على الدین کلہ" ترجمہ: "خدا وہ ہے جس نے اپنا رسول بھیجا۔ ہدایت اور دین الحق دے کر۔ تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔" یہ قرآن کی آیت ہے اور مرزا کہتا ہے کہ اس کا مصداق میں ہوں۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

ہے اور خدا کے بزرگ مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی....."

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢ تا ١٥٤)

وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام خدا2593 کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں..... اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے میں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں..... خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں۔ میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔ میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں..... میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا..... پس خدا دکھاتا ہے کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔"

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤، ١٥٥)

خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضۂ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی اور میری نبوت آنحضرت ﷺ کی ظل ہے۔ نہ اصلی نبوت، اسی وجہ سے حدیث اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا۔ ایسا ہی میرا نام ١٦٥

صفحہ ٢٤١٦

2417 NATIONAL ASSEMB کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے یں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار سول و نیاوردہ ام کتاب‘‘ اس کے معنی صرف یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں۔ بلکہ اضہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمد ﷺ۔ اس نام محمد اور احمد سے مسمیٰ ہو کر میں رسول بھی ہوں ریں پانے والا بھی اور اس طور سے خاتم النبیین ور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ ا نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی ے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔‘‘ اتم النبیین کی پیش گوئی کی مہر ٹوٹی۔ نہ امت کے ‘‘ کے مطابق ہے محروم رہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ٢١١)

رت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات عکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

اس موعود (مہدی) کو حسنؓ کی اولاد کبھی حسینؓ کی کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس نیّت کا وارث ہوگا۔...... پس جیسا کہ ظلی طور پر اس ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی ملے گا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢١٤)

والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتاؤ کس نام سے اس کو ں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب ں کے ذریعے سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔‘‘ عہدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے کے وہ نبوتیں اور پیشین گوئیاں ہیں جن کے رو

2416 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 امتی بھی رکھا ہے۔ تاکہ معلوم ہو کہ 2594ہر کمال مجھ کو آنحضرت ﷺ کے اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

اس کو بخشا ہے اور یہ تو تمام برکت محمد ﷺ سے ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

وجد و رآی‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦، عربی حصہ الہامات)

ترجمہ: ’’میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔ (حاشیہ پر ہے) اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔‘‘

میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں اور یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ کس قدر جہالت، کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔ اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے مقابل میں کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ 2595صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے مخاطبہ حاصل ہے سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں۔ میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ ’’ولکل ان یصطلح!‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدیٰ سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید

١٦٦

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٤١٧

OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

امتی بھی رکھا ہے۔ تاکہ معلوم ہو کہ 2594 ہر کما سے ملا ہے۔“

اس کو بخشتا ہے اور یہ تو تمام برکت محمدﷺ سے

وحدو رأی“ (تذکر

ترجمہ: ”میرے پاس آئل آیا اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا۔ پس مبارک و آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔ ا

میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے ا دعویٰ کیا ہے۔ کس قدر جہالت، کس قدر حماق مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔2595 الٰہیہ ہے جو آنحضرتﷺ کی اتباع سے مجھ ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آ اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رک

مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشا

کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے وا معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدی پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے

2417 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

شریعت کے اس طور پر نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں 2596 کرتا اور میرا یہ قول کہ ’من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب‘ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں ...... یہ تمام فیوض بلاواسطہ میرے پر نہیں ہیں۔ بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے۔ جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمدﷺ ۔ اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں سے ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی۔ کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی محض اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کر کیوں خدا نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے۔ کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔“

(حاشیہ)...... ”اس طریق سے نہ تو خاتم النبیین کی پیش گوئی کی مہر ٹوٹی۔ نہ امت کے کل افراد مفہوم نبوت سے جو ’لا يظهر على غیبه‘ کے مطابق ہے محروم رہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج١٨ ص٢١١،٢١٠)

محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ طبعیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ ص٢١٢)

اولاد اور کبھی عباسؓ کی اولاد بنایا۔ مگر آنحضرتﷺ کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کا وارث ہوگا۔ اس کے نام کا، خلق کا، علم کا اور روحانیت کا وارث ہوگا ...... پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا۔ اس کا خلق لے گا۔ اس کا علم لے گا۔ ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٥، خزائن ج١٨ ص٢١٢)

پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے ...... یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعے سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔“

(حاشیہ)...... ”اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے۔ پس من جملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشین گوئیاں ہیں جن کے رو

١٦٧

صفحہ ٢٤١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔ لیکن قرآن شریف بجز نبی ، بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے۔ جیسے کہ آیت ” فلا یظھر علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسول “ سے ظاہر ہے۔ پس مصفیٰ غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفیٰ غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفیٰ 2598 غیب حسب منطوق آیت نبوت ورسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

ہے۔ ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

اور ہم نے آپ کو عالمین پر رحمت کے لئے بھیجا۔

(حقیقۃ الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

(حقیقۃ الوحی ص ٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٩٤)

نہ ڈرو میرے ہاں رسول نہیں ڈرا کرتے۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

ہم نے آپ کی طرف پیغمبر بھیجا جو تم پر گواہ ہے۔ جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦)

میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔ خطا بھی کروں گا اور صواب بھی۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)

میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا۔

نبیوں کا چاند آئے گا۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٩)

١٦٨

صفحہ ٢٤١٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔ لیکن قرآن شریف پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے۔ جیسے کہ آیت ”فلا یظہر رسول“ سے ظاہر ہے۔ پس مصطفیٰ غیب پانے کے لئے گواہی دیتی ہے کہ اس مصطفیٰ غیب سے یہ امت محروم نہیں نبوت و رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے کے لئے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے

(ایک

کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔“

ہے۔ ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول

اور ہم نے آپ کو عالمین پر رحمت کے لئے بھیج

نہ ڈرو میرے ہاں رسول نہیں ڈرا کرتے۔

ہم نے آپ کی طرف پیغمبر بھیجا جو تم پر گواہ ہ بھیجا تھا۔

میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔ خطاء

میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ افطار

١٦٨

2419 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج٢٢ ص١٠٩)

﴿وہ خدا جس نے اپنا رسول دین حق اور ہدایت دے کر بھیجا تا کہ اس کو ہر دین پر غالب کر دے۔﴾

اور ان پر پڑھ جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج٢٢ ص٨٣)

جو لوگ تیرے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔

کے زمانہ میں اور چراغ دین جموں والا عبدالحکیم خان ہمارے اس زمانہ میں مرتد ہوئے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٩، خزائن ج٢٢ ص١٦٣)

سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو“

کے موافق نبی ہوں۔“

(اخبار عام مورخہ ٢٤ مئی ١٩٠٨ء)

(تبلیغ رسالت ج٩ ص ٣٩، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٢٨٨ حاشیہ)

لاہوریوں کو دھوکہ اور ان کی قابلیت

ودجال فرمائیں یہ سادہ تبلیغ تبلیغ کا شور مچانے والے ان پر اس کو کہاں تک پرکھ سکتے ہیں۔

ان کی علمی قابلیت کے لئے دو ہی باتوں کا بیان ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ جب لاہوری مرزائی اپنا مطبوعہ بیان خصوصی کمیٹی (قومی اسمبلی) کے سامنے پڑھ چکے تو میں نے توجہ دلائی کہ فلاں صفحہ کی سطر فلاں میں کوئی غلطی تو نہیں۔ انہوں نے کہا نہیں۔ میں نے کہا پھر اچھی طرح دیکھو، انہوں نے خوب دیکھا اور بتایا کہ بالکل ٹھیک ہے۔ اس سے ان کی عربی قابلیت کا پتہ لگ گیا۔

١٦٩

صفحہ ٢٤٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اس سطر میں حدیث کی یہ عبارت نقل کی گئی تھی ۔ ” لم یبق من النبوۃ الا المبشرات “ (کہ نبوت کے اجزاء میں سے صرف خوابیں باقی رہ گئی ہیں ) اس میں لفظ لم آیا ہے۔ جس کی وجہ سے یبقی کا حرف علت (آخر کا الف ) گر جاتا ہے۔ مگر ان مبلغوں نے یبقیٰ الف کے ساتھ لکھا اور توجہ دلانے پر بھی اس کو صحیح کہا۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب ان حضرات کو جرح کے لئے بلایا گیا تو یہی بیان پڑھنے والے بار بار کہتے تھے واللہ العظیم ! (خدا عظیم کی قسم ) ہا کی پیش کے ساتھ جس سے 2601 ہم کو کوفت ہوئی اور احقر ہزاروی نے کھڑے ہو کر صدر کمیٹی کو متوجہ کیا کہ ان حضرات سے فرمائیں کم از کم عبارت تو صحیح پڑھیں۔ واو حرف جار ہے جو مدخول کو جر دیتا ہے۔ دراصل لفظ یوں ہے واللہ العظیم ہاء کے زیر کے ساتھ مگر یہ لائق مبلغ واللہ العظیم پڑھتے رہے۔ اس سے ان کی قابلیت کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹ گیا۔

نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

اس طرح ان کی اس بات سے مسلمانوں کو دھوکہ ہو سکتا ہے کہ پھر ان کو کیوں کافر کہا جائے۔ یہ تو مرزاجی کو نبی نہیں مانتے نہ بقاء کے قائل ہیں۔ یہ بھی سراسر دھوکہ ہے۔

لیکن قطعیات دین میں کوئی تاویل مسموع اور قابل قبول نہیں ہو سکتی ۔ مثلاً توحید کا انکار کر کے کہے کہ توحید کا معنی قوم کا اتحاد ہے۔ وحدت قومی کے بغیر توحید کا دعویٰ غلط ہے۔ شرک کا معنی اختلاف ہے۔ اگر قوم میں اتحاد ہے تو ظاہری طور پر بتوں کو سجدہ کرنے سے آدمی مشرک نہیں ہوتا۔ نماز کی فرضیت سے انکار کرتے ہوئے کہے کہ صلوٰۃ کا معنی دعا ہے۔ یہ مشہور نماز مراد نہیں۔ یہ سب تاویلیں اس شخص کو کفر سے نہیں بچاسکتیں۔ اسی طرح دعویٰ نبوت کا کر کے بروز ظلیت انعکاس اور فنا فی الرسول کے الفاظ سے اس کی تاویل کرنے سے آدمی بچ نہیں سکتا۔ نہ مرزاجی بچ سکتے ہیں نہ لاہوری مرزائی۔

باتیں لکھی جاتی ہیں۔

١٧٠

قیمت فی پارہ -/10 روپے

صفحہ ١٧١

2421 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تک۔ تمام اولیاء امت، اہل بیت، علماء، صلحاء، مجددین، محدثین، مجتہدین اور ائمہ کرام اس نام کے مستحق نہ تھے)

گردش دی اور وعدہ آجانے کا اعلان کیا۔

نہیں کہہ سکتے۔

زمانہ میں مسیلمہ کذاب مرتد کہلایا اور عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یہودا اسکریوطی مرتد تھا۔

اس مضمون سے ثابت ہے کہ مرزا جی اپنے نہ ماننے والوں کو مسیلمہ کذاب اور یہودا اسکریوطی کی طرح کافر مرتد سمجھتے تھے۔ حالانکہ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ مرزا جی کے دعوؤں میں ان کی تصدیق نہیں کرتے تھے۔

پھر مرزا جی نے قرآن پاک کے وہ تمام کلمات اپنے اوپر اتارے جو صرف حضورﷺ کے لئے تھے اور ان میں نبوت کی بات تھی۔

امتیازی شان ہے کہ حق ہمیشہ ایک ہی مسلک پر قائم رہتا ہے اور باطل اپنا پینترا بدلتا رہتا ہے۔“

اسی طرح لاہوریوں نے مرزا جی کے نہ بدلنے پر شہادت بھی پیش کی ہے۔ 2603 مگر اب آپ خود غور کر لیں اور ہمارے دو نمبر پڑھیں۔ نمبر ٥ اور نمبر ٦ کہ مرزا جی پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی کلی فضیلت نہیں مانتے تھے۔ اس لئے کہ وہ پیغمبر تھے۔ مگر وحی بارش کی طرح برسی اور آخر کار وہ بدل گئے اور پھر اس بدلنے کی ذمہ داری خدا پر ڈالتے ہیں۔ جس نے اس کو صریح نبی کا نام دیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ لکھنے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان میں مانا۔ پھر بدل گئے اور خود ہی عیسیٰ بن بیٹھے۔ اسی طرح پہلے مسلمان کو کافر نہیں کہتے تھے۔ اب کہنے لگ گئے۔

Y OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اس سطر میں حدیث کی یہ عبارت نقل (کہ نبوت کے اجزاء میں سے صرف خوابیں با سے یبقیٰ کا حرف علت (آخر کا الف) گر جاتا ہ توجہ دلانے پر بھی اس کو صحیح کہا۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب ان ح والے بار بار کہتے تھے واللہ العظیم! (خدا عظیم ک ہوئی اور احقر ہزاروی نے کھڑے ہو کر صدر عبارت تو صحیح پڑھیں۔ واو حرف جار ہے جو مذ ہاء کے زیر کے ساتھ مگر یہ لائق مبلغ واللہ العظ چوراہے میں پھوٹ گیا۔

نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

اس طرح ان کی اس بات سے م جائے۔ یہ تو مرزا جی کو نبی نہیں مانتے نہ بقاء کے

لیکن قطعیات دین میں کوئی تاویل مسموع او کہ توحید کا معنی قوم کا اتحاد ہے۔ وحدت قومی ہے۔ اگر قوم میں اتحاد ہے تو ظاہری طور پر فرضیت سے انکار کرتے ہوئے کہے کہ صلوٰ تاویلیں اس شخص کو کفر سے نہیں بچا سکتیں۔ ا فنا فی الرسول کے الفاظ سے اس کی تاویل کر لاہوری مرزائی۔

باتیں لکھی جاتی ہیں۔

صفحہ ٢٤٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

بعدی اسمه احمد“ (جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی قرآن میں درج ہے) کا مصداق اپنے کو قرار دیا۔

اسی طرح ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ کا مصداق اپنے کو قرار دیا۔

پھر ”فلا یظہر علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسول “ سے اپنا رسول ہونا ثابت کیا۔

کیا یہ کرتوتیں ایسے شخص کی ہو سکتی ہیں جو دل سے نبی کہلانے کا شوق نہ رکھتا ہو۔

پڑھیں۔ اس نے کھینچ تان کر تین واسطوں سے اپنی نبوت ثابت کی۔ ایک جملہ یہ ہے (میں نے اپنے رسول مقتدیٰ سے باطنی فیوض حاصل کر کے) دوسرا جملہ یہ ہے (اور اپنے لئے اس کا نام پاکر) تیسرا جملہ یہ ہے 2604 (اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے) رسول اور نبی ہوں۔ دیکھئے کس مصیبت سے نبی بننا پڑا۔ اسی لئے لوگ اس کو ”کھچواں نبی“ کہتے ہیں۔

میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں) دیکھا آپ نے نبوت محمدیہ بھی مرزا جی کے آئینے میں آ گئی ہے۔ حالانکہ آئینے میں صرف سامنے کی ایک صورت آتی ہے۔ اندر کی چیزیں اور خصائل و اخلاق نہیں آیا کرتے۔ لیکن اگر مرزا جی کا دعویٰ مان لیا جائے کہ نبوت محمدیہ کا عکس بھی آ گیا تو حضور ﷺ کی نبوت تو مستقل نبوت اور باشریعت تھی تو آپ مرزا جی کو بروزی طور پر مستقل صاحب شریعت نبی کیوں نہیں کہتے؟

بروز محمد ہونے کا معنی سمجھائے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دونوں مل کر ایک ہی آدمی بن گئے۔ یہ تو بکواس اور ظاہر کے خلاف ہے۔ دو ہوں تو ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی۔ اگر حضور کی روح مرزا جی میں آئی تو یہ ہندوؤں کا مسئلہ تناسخ ہے۔ جو قطعاً غلط اور باطل ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ مرزا جی کا اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا، کھانا، پینا، عادات و عبادات، اخلاق، اعتقادات، چال چلن، معاشرہ، تمدن، سیاست، حقوق اللہ، حقوق العباد، معاملات، انسانی مساوات، شفقت اور درد

١٧٢

صفحہ ١٧٣

2423 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

تبلیغ، تواضع و انکسار، زہد و تقویٰ، کمزوری کے وقت قوت کا اظہار اور قوت میں تواضع کا اظہار۔ اسلامی اخوت اور کفر سے مخالفت اور کافر بادشاہوں سے خطاب۔ غرض یہ کہ ہر بات میں مرزا جی سرور عالم ﷺ ہی کی طرح تھے۔ یہ دعویٰ دنیا میں صحابہؓ سے لے کر آج تک کوئی نہیں کر سکا۔ نہ اس طرح ہو سکتا ہے تو مرزا 2605 جی جن کے حالات ہم نے ربوہ پارٹی کے محضر نامہ کے جواب میں لکھے ہیں۔ کس طرح عین محمد ہو سکتے ہیں؟ (انا للہ وانا الیہ راجعون) آپ بروز، ظل، عکس وغیرہ الفاظ سے لوگوں کو دھوکہ ہی دھوکہ دیتے ہیں۔

س....... جب نبوت ختم ہے اور آپ بھی مانتے ہیں تو ہیر پھیر کر کے کیوں مرزا جی کو مسلمان ثابت کرتے ہیں۔ مرزا جی نے صرف آنے والے عیسیٰ ابن مریم بن کر اپنا کاروبار چلانے کی کوشش کی ہے۔

مگر آپ ربوہ جماعت کے محضر نامہ کے جواب میں ہماری کتاب دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آنے والے مسیح ابن مریم وہی اصلی عیسیٰ ابن مریم ہیں کوئی بناوٹی مسیح نہیں ہے۔ دلائل سے بھی اور نشانیوں سے بھی اور مرزا جی کے حالات سے بھی۔

ع....... آپ ہمارا نمبر ١٥ کا حاشیہ پڑھیں۔ کس مصیبت سے مرزا جی نے اپنے لئے اطلاع علی الغیب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ قادیانیوں نے بلکہ خود مرزا جی نے آیت پوری نقل نہ کر کے دھوکہ دیا ہے۔ پوری آیت یوں ہے۔ ”عالم الغیب فلا یظہر علیٰ غیبہ احداً الا من ارتضیٰ من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ و من خلفہ رصداً“

ترجمہ: ”خدا عالم الغیب ہے وہ اپنے بھید (غیب اور وحی) پر کسی کو (پوری طرح) مطلع نہیں کرتا۔ مگر جس کو رسول چن لے۔ پھر یقیناً اس کے آگے پیچھے وہ پہرہ لگا دیتے ہیں۔“

یہ اس وحی، بھید اور غیب کا ذکر ہے جس کو لے کر فرشتے پیغمبر کے پاس پہروں کے اندر آتے ہیں۔ اس غیب اور وحی میں اسی لئے کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ یہ وحی پیغمبروں کے پاس آتی ہے۔ اس میں مرزا جی شریک ہو کر پیغمبر بنتے ہیں۔ کہتے ہیں کیا کروں۔ ایسا مصفی غیب بغیر پیغمبر بنے ملتا نہیں۔ چار و ناچار حضور کا بروز بن کر ہی کچھ بننا پڑتا ہے۔

ف....... 2606 مرزا جی نے آخری مضمون جو زندگی کے آخری دن میں اخبار عام کو دیا اس میں بھی اپنی نبوت کا ڈھنڈورا پیٹا تو لاہوریو! بتاؤ! اگر اس نے نبی کے لفظ سے روکا تھا یا انکار کیا تھا تو پھر کیا ضرورت تھی کہ مرتے مرتے بھی اپنے کو نبی کہہ کر اپنی اولاد کو تباہ و برباد کر ڈالا اور آپ جیسے

Y OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ک...... مرزا جی نے اپنے کو سینکڑوں بار نبی بعدی اسمہ احمد“ (جو حضرت عیسیٰ علیہ الـ اپنے کو قرار دیا۔ اسی طرح ”ھو الذی ارسل رسـ کلہ“ کا مصداق اپنے کو قرار دیا۔ پھر ”فلا یظہر علیٰ غیبہ احد ثابت کیا۔ کیا یہ کرتوتیں ایسے شخص کی ہو سکتی ہـ

ل...... پھر مرزا جی کو اپنی نبوت ثابت کر پڑھیں ۔ اس نے کھینچ تان کر تین واسطوں سـ اپنے رسول مقتدیٰ سے باطنی فیوض حاصل کر پاکر) تیسرا جملہ یہ ہے 2604 (اس کے واسطـ ہوں۔ دیکھئے کس مصیبت سے نبی بننا پڑا۔ اسی

م...... ہماری عبارت نمبر ١٣ پڑھیں۔ (یہ میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں) دیکھا آمـ ہے۔ حالانکہ آئینے میں صرف سامنے کی ایک مـ نہیں آیا کرتے۔ لیکن اگر مرزا جی کا دعویٰ مان لـ کی نبوت تو مستقل نبوت اور باشریعت تھی تو آ نبی کیوں نہیں کہتے؟

ن...... پھر آپ نے یہ بروز کا مسئلہ کہاں بروز محمد ہونے کا معنیٰ سمجھائے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا اور ظاہر کے خلاف ہے۔ دو ہوں تو ختم نبوت کـ یہ ہندوؤں کا مسئلہ تناسخ ہے۔ جو قطعاً غلط اور بـ ہیں کہ مرزا جی کا اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا، کھانـ چلن، معاشرہ، تمدن، سیاست، حقوق اللہ، حقو

صفحہ ٢٤٢٤

قیمت فی شمارہ -/10 رو 2424 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

سادہ لوح آدمیوں کو بھی۔ (یہ مضمون جو مرزاجی نے اخبار عام کو بھیجا یہ (تبلیغ رسالت حصہ دہم ص ١٣٣، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧) پر درج ہے)

لاہوری مرزائی

اٹارنی جنرل کے سوال پر کہ مرزاجی نے اپنے نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے۔ آئیں بائیں شائیں کی ہے۔ ”کفر دون کفر“ کی آڑ لی ہے اور مرزاناصر احمد صاحب کی تقلید ہی میں چمتکارا سمجھا ہے۔ حالانکہ ایک زکوٰۃ کے انکار سے انصار ومہاجرین نے حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں ان سے جہاد کیا۔ ان کو یہ کہہ کر کہ یہ ملت سے خارج نہیں ہیں۔ معاف نہیں کیا اور ”کفر دون کفر“ کا فائدہ دے کر ان کو زندہ نہیں رہنے دیا گیا۔ یہ ڈھکوسلہ ہے۔ آپ کسی کافرانہ اور خلاف شریعت فعل و عمل کو کافرانہ فعل نہیں کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ خدا کے حکم کی تعمیل نہ کرنا دراصل انکار ہی کا تقاضا ہے۔ مگر آپ کسی مسلمان کو ایسی عملی کمزوری سے اس کو اسلام سے خارج مرتد اور کافر قرار نہیں دے سکتے۔ اس طرح کی بات والے کو ”کفر دون کفر“ کا مصداق بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن مدعی نبوت، مدعی وحی قطعی، انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے والے۔ معراج جسمانی کے منکر، حیات مسیح اور نزول مسیح ابن مریم کے منکر اور قطعیات اسلام کے منکر اور قرآن وحدیث کے معانی بدلنے والے کو نہ آپ کسی درجے کا مسلمان کہہ سکتے ہیں نہ اس کو ”کفر دون کفر“ کا مصداق بنا سکتے ہیں۔ نہ کسی بزرگ، صحابی، محدث، فقیہ یا مجدد نے ایسا کیا ہے۔

مرزاجی اپنے انکار کو خدا اور رسول کا انکار قرار دیتے ہیں۔ بھلا خدا اور رسول کے انکار سے کوئی کسی درجے میں بھی مسلمان رہ سکتا ہے۔

2607 لاہوری مرزائیو! اب ہم آپ کے سامنے مرزاغلام احمد قادیانی کی چند باتیں نقل کرتے ہیں۔ کیا اس قسم کا جھوٹا آدمی مجدد، محدث یا مسیح بن سکتا ہے؟

اور یہ باتیں اس لئے نقل کرتے ہیں کہ لاہوری مرزائی تبلیغ شوق میں اس غلط کار آدمی کی پیروی کر کے خواہ مخواہ گندے نہ ہوں اور سیدھے سادے مسلمان بن کر تبلیغ کریں اور دونوں جہاں کی سرخروئی حاصل کریں۔

ص ٦٠٠) میں لکھ دیا کہ: ”حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد صاحب سرہندیؒ نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ جس شخص سے مکالمات الٰہیہ زیادہ ہو جائیں وہ محدث کہلاتا ہے۔“

١٧٤

صفحہ ٢٤٢٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

قیمت فی شمارہ 10/ روپ

سادہ لوح آدمیوں کو بھی۔ (یہ مضمون جو مرزا جی نے اخبار مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩٧) پر درج ہے)

لاہوری مرزا

اٹارنی جنرل کے سوال پر کہ مرزا جی نے اپ بائیں شائیں کی ہے۔ ”کفر دون کفر“ کی آڑ لی ہے ا چھٹکارا سمجھا ہے۔ حالانکہ ایک زکوٰۃ کے انکار سے انصار و م ان سے جہاد کیا۔ ان کو یہ کہہ کر کہ یہ ملت سے خارج نہی کا فائدہ دے کر ان کو زندہ نہیں رہنے دیا گیا۔ یہ ڈھکوسل فعل و عمل کو کافرانہ فعل نہیں کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ خدا کے ہے، مگر آپ کسی مسلمان کو ایسی عملی کمزوری سے اس کو اسلا سکتے۔ اس طرح کی بات والے کو ”کفر دون کفر“ کا مصد وحی قطعی، انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنے والے۔ معرا ابن مریم کے منکر اور قطعیات اسلام کے منکر اور قرآن و کسی درجے کا مسلمان کہہ سکتے ہیں نہ اس کو ”کفر دون کف صحابی، محدث، فقیہ یا مجدد نے ایسا کیا ہے۔ مرزا جی اپنے انکار کو خدا اور رسول کا انکار قرار د کوئی کسی درجے میں بھی مسلمان رہ سکتا ہے۔

2607 لاہوری مرزائیو! اب ہم آپ کے س نقل کرتے ہیں۔ کیا اس قسم کا جھوٹا آدمی مجدد، محدث یا ن اور یہ باتیں اس لئے نقل کرتے ہیں کہ لاہو کی پیروی کر کے خواہ مخواہ گندے نہ ہوں اور سیدھے س جہاں کی سرخروئی حاصل کریں۔

ص٦٠٠) میں لکھ دیا کہ: ”حضرت امام ربانی مجدد الف مکتوب میں لکھا ہے کہ جس شخص سے مکالمات الہیہ زیاد

١٧٤

2425 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

لیکن جب خوشامدی مریدوں کی مہربانی سے نبوت کا شوق چرایا تو اسی مکتوب کے حوالے سے لکھ دیا کہ: ”ایسے شخص کو نبی کہا جا سکتا ہے“۔

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦)

اور چالاکی کر کے یہاں مکتوب کا نمبر نہیں دیا تاکہ راز فاش نہ ہو۔

ج٣ ص١٩٢) میں لکھ دیا کہ ”میرا دعوٰی مثیل مسیح کا ہے۔ کم فہم لوگ اس کو مسیح موعود سمجھ بیٹھے ہیں“۔ گویا مسیح موعود کہنے والے کو کم فہم کا لقب دیا اور اپنے کو صرف مثیل کہا۔ مگر جب دیکھا کہ چیلے چانٹے مانتے ہی چلے جاتے ہیں تو اسی کتاب میں اور پھر تمام تحریروں میں کھلم کھلا اپنے کو مسیح موعود لکھنا شروع کر دیا۔

کے بعد سب کتابوں سے زیادہ صحیح ہے یہ حدیث موجود ہے کہ مہدی کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ یہ خدا کا خلیفہ ہے۔ اس حدیث کو دیکھو کہ کس پائے کی ہے اور کتنی معتبر کتاب میں درج ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج٦ ص٣٣٧)

(حالانکہ یہ حدیث بخاری شریف میں قطعاً نہیں ہے)

کرائے۔“

(حقیقت الوحی ص١٥٧، خزائن ج٢٢ ص١٦١)

پھر اسی کتاب کے (ص١١١، خزائن ج٢٢ ص١١٤) پر لکھ دیا ”کئی ہزار یہودی قتل کرائے“ یہ قطعاً جھوٹ ہے۔ صرف بنوقریظہ کا ایک واقعہ ہے جس میں چار سے چھ سو تک یہودی قتل کئے گئے تھے۔ لیکن وہ ان کے اپنے تجویز کردہ ثالث کے فیصلے سے قتل ہوئے اور تورات کے عین مطابق ہوئے اور یہ بھی وہ یہودی تھے۔ جنہوں نے غزوہ خندق کے نازک موقع پر ٢٤ ہزار لشکر کفار سے مل کر مسلمانان مدینہ کے قتل عام کا انتظام کر دیا تھا۔ بلکہ نفس اسلام کے استیصال پر کمر باندھ رکھی تھی۔

حوادث عیسیٰ پرستی کی وجہ سے ظاہر ہوں گے“۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص٦٤، خزائن ج٢٢ ص٤٩٩)

مرزا جیو! قرآن پاک میں کہاں لکھا ہے؟

”بخاری شریف مسلم شریف اور انجیل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں جہاں میرا ذکر ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے۔“

١٧٥

صفحہ ٢٤٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مرزائیو! مسلم شریف میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے نزول کے ذکر میں ان کو نبی کہا گیا ہے۔ مگر یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ آنے والے وہی ابن مریم پیغمبر ہوں گے۔ کوئی بناوٹی مسیح نہ ہوں گے۔ مگر ہم بحث مختصر کرنے کے لئے پوچھتے ہیں کہ بخاری شریف اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں کہاں مرزا جی کو نبی کہا گیا ہے؟ ذرا اپنے مرشد کو سچا تو ثابت کریں۔ پھر کہتے ہیں کہ ان سب کتابوں میں میرا ذکر ہے۔ کیا پدی کیا پدی کا شوربا۔

”ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی پیش گوئیاں پوری ہوتیں۔ جن میں لکھا تھا کہ 2609 مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا اور وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔“

(مرزائیو! مل کر قرآن شریف میں سے کوئی آیت ایسی نکالو جس میں یہ لکھا ہو ورنہ چھوڑو اس جھوٹے کو) پھر قرآن اور حدیث میں سے کسی کتاب میں مسیح موعود کا لفظ بتا دو اور انعام حاصل کرو۔

ادھیڑ تھے تو اپنے اوپر وحی اتاری کہ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا ہے (زوّجناکھا) کہ ہم نے اس محمدی بیگم کا نکاح تم سے کر دیا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ پر صریح جھوٹ تھا۔ اگر خدا نے نکاح کیا تھا تو پھر وہ دلا کیوں نہ سکا اور اگر رکاوٹیں بہت تھیں جن کو خدا دور نہ کر سکتا تھا تو نکاح کیوں کر ڈالا؟ اور مرزا جی کا خدا اتنا بھی نہ سمجھا کہ بیس سال کی مسلسل کوشش کے بعد یہ لڑکی نہ مل سکے گی۔ خواہ مخواہ نکاح کر ڈالا۔

(مرزا جی کی اس پیش گوئی کو آپ اس کی بہت ساری کتابوں میں پائیں گے)

مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے۔“

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٠)

پھر بانو نام کی عورت سے مٹھیاں بھروائیں۔

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٠، روایت نمبر ٧٨٠)

اور اندھیری راتوں میں اپنے پہرہ پر مائی بھجو ٹہلاتی اور مائی رسول بی بی مقرر کی۔ ایک جوان لڑکی زینب تمام رات خدمت کرتی پنکھا ہلاتی۔ صبح تک خوشی اور سرور حاصل ہوتا۔

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٣، روایت نمبر ٧٨٦)

آپ بتائیں کہ فتویٰ صحیح ہے یا ان غیر محرم عورتوں کی یہ کارروائی؟

١٧٦

صفحہ ٢٤٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

لکھا۔ (کہ اے بے وقوفو! یہ ہو کر رہے گا۔ حضور ﷺ نے بھی اشارہ فرمایا ہے) حالانکہ یہ محض جھوٹ تھا۔ صرف عشق محمدی بیگم نے مرزا جی کو اندھا، بہرا کر رکھا تھا۔ جسے بھوکے نے دو تے دو چار کا معنی چار روٹیاں بتایا تھا۔ بھلا رسول اللہ ﷺ کو مرزا جی اور محمدی بیگم کی شادی کی غلط اطلاع ہو سکتی تھی تو صحیح اطلاع کیوں نہ ہو سکتی تھی کہ یہ شادی نہ ہوگی اور مرزا قادیانی کی ناک کٹ جائے گی۔

الاقصیٰ میں مسجد اقصیٰ سے مراد میری یہی مسجد قادیان ہے۔ اسی کو برکت دی گئی ہے۔“

(تبلیغ رسالت حصہ نہم ص ٣٧، ٣٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)

اور لکھا ہے کہ ”مسجد اقصیٰ سے مراد یروشلم کی مسجد نہیں ہے۔ بلکہ مسیح موعود کی مسجد ہے۔“

(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٣٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٩)

(خیال کریں کہ کس طرح لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی سعی کی ہے) پھر کہا کہ ”قادیان کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔“

(تبلیغ رسالت حصہ نہم ص ٣٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)

مرزا فضل احمد مرزا جی پر ایمان نہ لایا اور وہ مر گیا تو مرزا جی نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی تو کیا وہ بھی کنجری کا بیٹا ہو گیا؟ اور اگر اس کی والدہ مرزا جی کی بیوی ایسی تھی تو پھر جس پاک گھر میں ایسی عورتیں اور لڑکے ہوں وہ کتنا پاک گھر ہوا؟ (یہ سب اس بکواس کی سزا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں مرزا جی نے کی ہے) اور اس عورت کے خاوند کا کیا حال ہوا۔

ہوں گے، اپنے قادیانی منارے کے متعلق بتایا اور کہا کہ وہ منارہ یہی ہے۔

(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٣٧ تا ٣٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٦ تا ٢٨٨)

گویا منارہ سے مراد منارہ ہی ہے۔ لیکن دمشق سے مراد قادیان ہے۔ (ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند) مرزا جی ذرا سوچا تو ہوتا کہ مسیح علیہ السلام اس منارے کے پاس نازل ہوں گے۔ گویا منارہ پہلے سے موجود ہوگا۔ مگر آپ نے چندہ کر کے اپنی ولادت شریفہ یا نزول کے بعد یہ منارہ بنایا۔ یہاں اگر ایک افیونی کا قصہ ذکر کر دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ وہ جب پاخانے

١٧٧

SEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

مرزائیو! مسلم شریف میں حضرت عیسیٰ ابن کو نبی کہا گیا ہے۔ مگر یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ آ بناوٹی مسیح نہ ہوں گے۔ مگر ہم بحث مختصر کرنے کے لیے نبیوں کی کتابوں میں کہاں مرزا جی کو نبی کہا گیا ہے؟ ذ ہیں کہ ان سب کتابوں میں میرا ذکر ہے۔ کیا بدی کیا پا

”ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی پیش گوئیاں موعود جب ظاہر ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھا (مرزائیو! مل کر قرآن شریف میں سے آ چھوڑو اس جھوٹے کو) پھر قرآن اور حدیث میں سے حاصل کرو۔

ادھیڑ تھے تو اپنے اوپر وحی اتار دی کہ اللہ تعالیٰ نے کہہ د کا نکاح تم سے کر دیا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ پر صریح جھوٹ نہ سکا اور اگر رکاوٹیں بہت تھیں جن کو خدا دور نہ کر سکتا بھی نہ سمجھا کہ بیس سال کی مسلسل کوشش کے بعد یہ لڑکی (مرزا جی کی اس پیش گوئی کو آپ اس کی

مردوں سے پردہ کرنا ضروری ہے۔“ پھر بانو نام کی عورت سے مٹھیاں بھروا اور اندھیری راتوں میں اپنے پہرہ پر ما جوان لڑکی زینب تمام رات خدمت کرتی پنکھا ہلاتی ہ آپ بتائیں کہ فتویٰ صحیح ہے یا ان غیر مح

٧٦

صفحہ ٢٤٢٨

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

جاتا تو پانی کا لوٹا بھر لے جاتا۔ مگر افیونی تھا۔ اس کو قبض رہتی تھی اور لوٹے میں سوراخ تھا جب تک وہ فارغ ہوتا پانی لوٹے سے ختم ہو جاتا۔ ایک دن اس کو غصہ آیا اور پاخانے میں جاتے ہی پہلے استنجا کر ڈالا بعد میں پاخانہ کرنے لگا اور کہا کہ سسرے اب دیکھوں کیسے تو ختم ہوتا ہے؟

(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٧٢)

پھر لکھ مارا کہ ”قرآن اس کی بن باپ کی پیدائش کو رد کرتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣)

(دیکھو یہ ہے مرزا جی کی قرآن دانی) اب دو باتوں میں سے ایک تو ضرور جھوٹی ہو گی جو مرزا جی کو کذاب ثابت کر کے حدیث کی تصدیق کرے گی۔

اتباع اور فنافی الرسول ہونے کی وجہ سے عین محمد بنے اور اس طرح نبی کہلائے۔

2612 دیکھئے! اور یقین کر لیجئے! کہ نبوت محض موہبت اور خدا تعالیٰ کی بخشش ہے۔ یہ کسی عمل یا کسب یا اتباع سے نہیں ملتی۔ بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ چاہیں نبوت دے دیں۔ اس نے پہلے سے ان کا ظرف ہی ایسا بنایا ہوتا ہے اور وہی بہتر سمجھتے ہیں کہ کس کو پیغمبر بنائیں۔ ”اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ“ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اپنی پیغمبری کس کو دیں۔ خود مرزا جی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب (حمامۃ البشریٰ ص ٨٢، خزائن ج ٧ ص ٣٠١) میں لکھتے ہیں: ”لاشك ان التحديث موهبة مجردة لا تنال بكسب البتة كما هو شان النبوة “ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ محدث ہونا محض خدا کی بخشش ہے۔ یہ کسی کسب اور عمل سے نہیں ملتی جیسے نبوت کا حال ہے۔

پس فنافی الرسول ہونا۔ کثرت اتباع سے امتی نبی ہونا یہ سب ڈھونگ ہے۔ ورنہ حضور ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا کہ میری امت میں سے کذاب ودجال پیدا ہوں گے۔ ہر ایک کہے گا میں نبی ہوں۔

اس ارشاد میں اس کی نشانی یہ بتائی گئی کہ وہ امت میں سے ہو گا اور اس کے دجل وفریب کا ذکر کر کے مرزا قسم کے ان تمام لوگوں کے دھوکوں اور دجل وفریب کی طرف اشارہ کیا گیا۔ جو مرزا جی کے حالات میں ہم نے ربوہ پارٹی کے محضر نامے کے جواب میں بیان کئے۔

١٧٨

صفحہ ٢٤٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

2613 لاہوری مرزائی

١٧٩

صفحہ ٢٤٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اور پرانے پیغمبروں کی نفی کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا انکار کرتے ہیں جو متواتر ہے اور جس کا انکار کفر ہے۔

کے اصلی معانی جن میں عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ذکر تھا۔ قرون اولیٰ سے چھپا رکھے تھے۔ حتیٰ کہ خود مجدد بننے تک مرزا جی بھی نہ سمجھے۔

وحدیث سے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ مگر قرآن پاک کو خود خدا تعالیٰ نظروں سے اوجھل کر دے اور حدیثوں کے جس ڈھیر کو مرزاجی اپنی وحی کے خلاف سمجھیں رد کر دیں تو ہمارے ہاتھ میں کون سی کسوٹی رہ گئی؟

مرزا جی (براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩) میں لکھا کہ:

”پہلے پچاس حصے 2615 ( براہین احمدیہ کے) لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

مرزائیو! سچ کہو پچاس ہزار قرضہ ہو تو پانچ ہزار دے کر تم جان چھڑا سکتے ہو؟ یا پانچ لاکھ کا مال منگایا۔ کیا تم پچاس ہزار دے کر عہدہ برآ ہو سکتے ہو؟ اگر مرزاجی کی یہ منطق مان لی جائے تو دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔

کیوں اس عجیب وغریب آدمی کی پیروی کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہو؟

لاہوریوں سے اپیل

ہم آخر میں لاہوری مرزائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ قادیانیوں نے تو باپ دادا کی گدی بنا ڈالی۔ کروڑوں روپے کما لئے۔ ان پر عصبیت غالب ہو سکتی ہے۔ مگر آپ اب اس غلطی سے باہر آ کر سچی توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی ساری کی ساری قدرتوں اور پرانے دین کو مان کر مسلمانوں میں مل جائیں تا کہ آپ کی دین و دنیا بہتر ہو جائے۔ آپ تبلیغ کریں مسلمان آپ پر فدا

١٨٠

صفحہ ٢٤٣١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

ہوں گے۔ ورنہ مرزا جی کا اتباع ستر کروڑ مسلمانوں کے عقیدے میں غلط اور قرآن وحدیث اور اجماع امت کے خلاف ہے۔

ان سطور کے بعد ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں جو ہم نے پیش کیا ہے۔ جس میں مرزائیوں کی دونوں پارٹیوں قادیانی اور لاہوریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے اور مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے محروم کرنے کا ذکر ہے۔

غلام غوث ہزاروی (ایم.این.اے) عبدالحکیم (ایم.این.اے) عبدالحق بلوچستانی (ایم.این.اے)

2616 جناب چیئرمین: بس جی! اس سے آگے کا چھوڑ دیں۔ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ یہ بل ہمارے پاس ہے۔

مولانا عبدالحکیم: جب مطلب کی چیز آئی ہے تو اس کو چھوڑ دیں۔

جناب چیئرمین: یہ سرکولیٹ ہو چکا ہے۔ یہ قراردادیں ان کی طرف سے بھی نہیں پڑھی گئی ہیں اور نہ آپ پڑھیں۔ کیونکہ یہ سرکولیٹ ہو چکی ہیں۔ یہ کاپی ہمارے پاس ہے۔

مولانا عبدالحکیم: یہ بل؟

جناب چیئرمین: یہ بل ممبروں کے پاس ہے۔

مولانا عبدالحکیم: اچھا! باقی پرسوں کرلیں گے۔

جناب چیئرمین: انا للہ وانا الیہ راجعون! آٹھ گھنٹے آپ نے لئے ہیں۔ کوئی صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔ ان ممبران کا کیا قصور ہے جو دو مہینوں سے بیٹھے سن رہے ہیں؟ ان بے چاروں کا کیا قصور ہے؟

میاں محمد عطاء اللہ: مولوی مفتی محمود صاحب جب پڑھ رہے تھے اس وقت اعتراض نہیں کیا گیا۔

جناب چیئرمین: آپ چھوڑیں اس بات کو۔ ان دونوں سے درخواست کی تھی۔ ان کی کتاب کے ٢٦٠ صفحے ہیں اور ان کی کتاب کے ٢٠٠ صفحے تھے۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: آپ کو نہیں پتہ، یہ شرارتیں کرتے رہے ہیں میاں اسلم اور میاں عطاء اللہ آپ کی ساری تقریر میں ہنستے رہے ہیں۔

١٨١

MBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اور پرانے پیغمبروں کی نفی کر کے حضرت عیسیٰ علیہ الـ متواتر ہے اور جس کا انکار کفر ہے۔

کے اصلی معانی جن میں عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ذکـ خود مجدد بننے تک مرزا جی بھی نہ سمجھے۔

وحدیث سے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ مگر قرآن پاک کو حدیثوں کے جس ڈھیر کو مرزا جی اپنی وحی کے خلاف کسوٹی رہ گئی؟

مرزا جی (براہین احمدیہ حصہ پنجم دیباچہ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ”پہلے پچاس حصے 2615 (براہین احمدیہ اکتفاء کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

مرزائیو! سچ کہو پچاس ہزار قرضہ ہو تو پانـ مال منگایا۔ کیا تم پچاس ہزار دے کر عہدہ برآ ہو سکتے کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔

کیوں اس عجیب و غریب آدمی کی پیرو

لاہوریوں

ہم آخر میں لاہوری مرزائیوں سے اپـ گدی بنا ڈالی۔ کروڑوں روپے کما لئے۔ ان پر عصـ سے باہر آ کر سچی توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی ساری مسلمانوں میں مل جائیں تا کہ آپ کی دین ودنیا کا

١٨٠

صفحہ ٢٤٣٢

قیمت فی شمارہ-/10 رو

2432 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16

اچھا! کوئی ممبر نماز کے بعد تقریر کرنا چاہتا ہے؟ آوازیں: کوئی بھی نہیں۔ کورم پورا نہیں ہوگا؟

2617مولانا عبدالحکیم: پرسوں اجلاس ہوگا تو پھر کریں گے۔

جناب چیئرمین: آپ کی نصف تقریر کے حوالے مفتی شفیع صاحب کی کتاب سے لئے گئے ہیں۔ انہوں نے مجھے صرف دو کتابیں دی ہیں۔ اگر مجھے ٥٠، ٦٠ کتابیں دی جاتیں تو میں ممبروں کو تقسیم کر دیتا۔

مولانا عبدالحکیم: ہم نے کوئی ختم نبوت کا چندہ اکٹھا نہیں کیا کہ مفت کتابیں دے دیں۔

جناب چیئرمین: کوئی اور صاحب تقریر کریں گے؟ اچھا! پھر سوموار کو اجلاس رکھتے ہیں۔

ایک رکن: سوموار کو شب برأت ہے، چھٹی ہونی چاہئے۔

جناب چیئرمین: یہ پرائمری سکول نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے جب چاہیں چھٹی کر لیں۔ پرسوں دس بجے اجلاس رکھتے ہیں اور سوموار کو دو اجلاس ہوں گے۔ دو اور تین تاریخ تک ڈیٹیل سے بحث کر لیں گے۔ چار تاریخ کو اٹارنی جنرل تقریر کریں گے۔ پانچ تاریخ کو شام کو جوائنٹ سٹنگ ہے۔

----------

Now the House is adjourned to meet on Monday, the 2nd at 10am. Thank you very much. I very much appreciate the patience of the honourable members.

(اب ہاؤس کو ٢؍ تاریخ بروز پیر صبح دس بجے تک کے لئے برخاست کیا جاتا ہے۔ بہت بہت شکریہ! میں معزز ممبران کے حوصلہ کی داد دیتا ہوں)

----------

[The Special Committee of the whole House adjourned to meet at ten of the clock, in the morning, on Monday, the 2nd September, 1974.]

(کل ارکان پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس ٢؍ ستمبر ١٩٧٤ء بروز پیر صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا)

----------

١٨٢

2433 NATIONAL A

No. 1817

NATIONAL ASS

PRO

THE SPECIAL

WHOLE HOU

TO CONSIDER

OFF

Monday,

(C

PRINTED BY THE MANAGER, PRI PUBLISHED BY THE

صفحہ ١٨٢

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

SEMBLY OF PAKISTAN 31st Aug, 1974 No:16 2433 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اچھا! کوئی ممبر نماز کے بعد تقریر کرنا چاہتا ہے؟ 2617مولانا عبدالحکیم : پرسوں اجلاس ہوگا؟ جناب چیئرمین : آپ کی نصف تقریر ہو چکی ہے۔ یہ کتابیں جو آپ لئے گئے ہیں۔ انہوں نے مجھے صرف دو کتابیں دی ہیں، میں نے ان میں سے چند ممبروں کو تقسیم کر دیا۔ مولانا عبدالحکیم : ہم نے کوئی ختم نبوت کا چندہ تو نہیں کھایا۔ جناب چیئرمین : کوئی اور صاحب تقریر کرنا چاہتے ہیں؟ ایک رکن : سوموار کو شب برأت ہے، چھٹی ہونی چاہئے۔ جناب چیئرمین : یہ پرائمری سکول نہیں ہے۔ ہم نے کام ختم کرنا ہے۔ پرسوں دس بجے اجلاس رکھتے ہیں اور سوموار کو ڈیٹیل سے بحث کرلیں گے۔ چار تاریخ کو اٹارنی جنرل آئیں گے تو جوائنٹ سٹنگ ہے۔

djourned to meet on Monday, the ery much. I very much appreciate ble members.

(اب ہاؤس کو ٤ تاریخ بروز پیر صبح دس بجے بہت شکریہ! میں معزز ممبران کے حوصلہ کی داد دیتا ہوں

mmittee of the whole House f the clock, in the morning, on , 1974.]

(کل ارکان پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس ٢ ستمبر ملتوی کر دیا گیا)

No. 18 17

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Monday, the 2nd September, 1974

(Contains No. 1—21)

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

صفحہ ٢٤٣٤

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

2434 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

No. 18

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Monday, the 2nd September, 1974

(Contains No. 1 21)

2435 NATION

2699 THE NATION

PR

THE SPECIA

WHOLE HO

TO CONSIDE

O

Monday, کارروائی) (

The Special C Camera in the Assem Islamabad, at ten Chairman (Sahibzada (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد ) کی زیرصدارت منعقد ہوا)

(Recitio

PDF 210

2435 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

2699 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN (قومی اسمبلی پاکستان)

---------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

OFFICIAL REPORT

Monday, the 2nd September. 1974. (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی) (٢؍ ستمبر ١٩٧٤ء، بروز سوموار)

---------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں صبح دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

---------

(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

---------

٣

صفحہ ٢٤٣٦

قیمت فی شمارہ -/10 روپے 2436 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

Mr. Chairman: I would like to know as to who would like to speak. You wanted some time. (جناب چیئرمین: میں جاننا چاہتا ہوں کہ اب کون بات کرے گا۔ آپ کچھ وقت چاہتے تھے) آپ کی طرف سے آ چکا ہے۔ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو مختصر طور پر کہہ لیں۔ کیونکہ مفتی محمود اور پروفیسر غفور احمد نے ٣٧ ممبروں کے نام لکھ کر دے دیئے ہیں۔ Sardar Moula Bakhsh Soomro: I wanted to say a few words. (سردار مولا بخش سومرو: میں مختصر سی بات کرنا چاہتا ہوں) Mr. Chairman: Yes, Mr. Soomro. (جناب چیئرمین: جی! مسٹر سومرو)

2700 Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, every point in connection with Ahmediat has been fully expressed in its entirety and I only associate myself with sanctity and piety of the proposal and I would only express a few words.

Sir, it is now crystal clear that this was a plot and the plot with all its ramifications has been discussed here and after that there can be no two opinions that according to Muslim conception they are nothing but "Kafir". That being quite clear, then the conclusion or the step that would be taken after clarification is to have them declared not only as non- Muslims but even their publications and literature should be banned if it is meant that hereafter such religious flare ups should be ended for ever.

Sir, their expressions are clear; their only target is the 'Shaan' of Hazrat Muhammad (peace be upon him) and ٤

2437 NATIO they want that 'Sha be achieved. So, Si Sir, sometimes he sp the slave, a humle s says that he is Muh and speaks so dispa himself sometimes p and sometimes he p past. About the sta and Hussain (peace himself and call th (peace be upon hi these things really, during the discuss House, one had to self to see them bein humiliating manner be "qurban". There banned if it is me religious feuds in th

According prayers of Janaza, mind said that "he their way of faith. termination of this p should be declared

صفحہ ٢٤٣٧

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

RAL DISCUSSION

I like to know as to who me time. (جناب چیئرمین: میں م چاہتے تھے) آپ کی طرف سے آ چکا ہے مفتی محمود اور پروفیسر غفور احمد نے ٢٧ ممبر oomro: I wanted to say (سردار مولا بخش سومرو: Soomro. (جناب چیئرمین: جی! ٢ sh Soomro: Sir, every has been fully expressed myself with sanctity and nly express a few words. hat this was a plot and the been discussed here and inions that according to hing but "Kafir". That on or the step that would e them declared not only blications and literature t hereafter such religious

lear; their only target is (peace be upon him) and

2437 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

they want that 'Shaan' and they feel this the only object to be achieved. So, Sir, their publications should be banned. Sir, sometimes he speaks that "I am Ghulam-i-Ahmad, I am the slave, a humle slave" and in the same breath he again says that he is Muhammad (peace be upon him) personified and speaks so disparagingly even of As'hab Sidikah, calling himself sometimes personified Hazrat (peace be upon him), and sometimes he puts himself even above all Nabis in the past. About the status of As'hab Sidikah and the Panjtan and Hussain (peace be upon him) he calls them as below himself and call them non- entities. He calls Hazrat Ali (peace be upon him) "murda, mara howa tera Ali". All these things really, Sir, agitate the minds of Muslims. Even during the discussion that went on there in this August House, one had to control and exercise restraint over one- self to see them being spoken so disparagingly and in such a humiliating manner, over whom, our families, our children be "qurban". Therefore, in future such literature should be banned if it is meant really that hereafter there be no religious feuds in this country.

According to their own faith they did not offer prayers of Janaza, even of Quaid-i-Azam, and with open mind said that "he is 'Kafir' or we are 'Kafir', according to their way of faith. Therefore, Sir, just to have the end and termination of this propaganda, the only thing lies that they should be drclared as non- Muslim. Government should

٥

صفحہ ٢٤٣٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

now declare their Rabwa to be an open city 2701 and their propaganda should be banned hereafter. Not only that. Sir, but as per information recieved, land surrounding Rabwa in their name should not be given to Ahmadias. I think restriction should be imposed hereafter. Any land surrounding Rabwa should not be given to Ahmadis; it should also be banned. If such steps are taken, I feel that as provided in the Constitution that the religion of this country is Islam, then it will be a proof and they will believe that Islam is the religion of this country.

With these few words I just expressed, I thank you very much.

(جناب سردار مولا بخش سومرو کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

(سردار مولا بخش سومرو : جناب عالی! احمدیت سے متعلقہ ہر نقطہ مکمل طور سے بیان کر دیا گیا ہے اور میں صرف اس تجویز کے احترام اور تقدس کے پیش نظر اس میں حصہ لے رہا ہوں اور میں صرف چند الفاظ میں اظہار خیال کروں گا۔

جناب عالی! اب یہ بات مکمل طور پر واضح ہو چکی ہے کہ یہ ایک سازش تھی اور یہ سازش اپنی تمام منفی نتائج کے ساتھ یہاں زیر بحث آچکی ہے۔ بعد ازاں اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ مسلمانوں کے تصورات کے مطابق وہ یقیناً کافر ہیں۔ یہ بات بہت واضح ہو چکی ہے۔ اب نتیجہ یا اگلا قدم یہ ہونا چاہئے۔ اس وضاحت کے بعد انہیں صرف غیر مسلم قرار نہ دیا جائے ۔ بلکہ ان کی مطبوعات اور کتابوں پر بھی پابندی لگا دی جائے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کے بعد اس قسم کے مذہبی تصادم ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے چاہئیں۔

جناب عالی! ان کے خیالات واضح ہیں اور ان کا ہدف صرف حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس ہے اور یہ شان وہ خود حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے خیال میں وہ اس شان اور مقام کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا جناب عالی! ان کی مطبوعات پر پابندی لگا دینی چاہئے۔ جناب عالی! کبھی وہ کہتا ہے کہ میں غلام احمد ہوں۔ میں تو غلام ہوں۔ ایک عاجز غلام اور اسی سانس میں وہ

٦

صفحہ ٢٤٣٩

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

} an open city 2701 and their ereafter. Not only that. Sir, land surrounding Rabwa in en to Ahmadias. I think ed hereafter. Any land t be given to Ahmadis; it teps are taken, I feel that as the religion of this country r and they will believe that try. just expressed, I thank you

(جناب سردار مولا بخش سومرو کا

(سردار مولا بخش سومرو: جنا کر دیا گیا ہے اور میں صرف اس تجویز کے ا اور میں صرف چند الفاظ میں اظہار خیال کروں جناب عالی! اب یہ بات مکمل طو اپنی تمام منفی نتائج کے ساتھ یہاں زیر بحث نہیں ہیں کہ مسلمانوں کے تصورات کے مطا اب نتیجہ یا اگلا قدم یہ ہونا چاہئے۔ اس دفعہ بلکہ ان کی مطبوعات اور کتابوں پر بھی پابند اس قسم کے مذہبی تصادم ہمیشہ کے لئے ختم ک جناب عالی! ان کے خیالات اقدس ہے اور یہ شان وہ خود حاصل کرنا چا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا جناب عالی! ا کبھی وہ کہتا ہے کہ میں غلام احمد ہوں۔ م

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

دوبارہ کہتا ہے کہ وہ محمد ہے۔ یعنی ان کا عکس ہے اور صحابہ کرام کے بارے میں مضحکہ خیز باتیں کرتا ہے۔ کبھی وہ اپنے آپ کو حضور ﷺ کا ظل قرار دیتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو گزشتہ تمام پیغمبروں سے افضل قرار دیتا ہے۔ صحابہ کرام، پنجتن پاک کو وہ اپنے آپ سے کمتر قرار دیتا ہے۔ وہ حضرت علیؓ کو مردہ ”مرا ہوا تیرا علیؓ “ سے خطاب کرتا ہے۔ جناب والا! یہ سب چیزیں مسلمانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرتی ہیں۔ اس معزز ایوان میں بحث کے دوران سب کو اپنے آپ کو قابو میں رکھنا پڑا۔ جب ہم نے ان ہستیوں کے بارے میں ان کی توہین آمیز گفتگو سنی۔ جن پر ہمارے خاندان اور اولاد قربان ہو۔ لہٰذا مستقبل میں ایسے لٹریچر پر پابندی لگائی جائے اور مستقبل میں اس قسم کی مذہبی عداوتوں کی اس ملک میں گنجائش نہیں ہونی چاہئیں۔

اپنے عقیدہ کے مطابق وہ مسلمانوں کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے۔ حتیٰ کہ قائد اعظم کا جنازہ بھی نہیں پڑھا اور واضح طور کہا کہ یا وہ کافر ہیں یا ہم کافر ہیں۔ لہٰذا جناب والا، ان کے پروپیگنڈا کو ختم کرنے کے لئے یہی قدم اٹھانا چاہئے کہ انہیں غیر مسلم قرار دیا جائے۔ حکومت ربوہ شہر کو کھلا شہر قرار دے اور آئندہ ان کے پروپیگنڈے پر پابندی لگائی جائے۔ جناب والا! صرف اس قدر ہی نہیں بلکہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ربوہ کے نواحی علاقوں میں ان کو موجود اراضی بھی انہیں نہ دی جائے۔ میرا خیال ہے کہ آئندہ پابندی لگا دی جائے اور ربوہ کے گرد و نواح کی کوئی زمین احمدیوں کو نہ دی جائے۔ اس پر پابندی ہونی چاہئے۔ اگر ایسے اقدامات اٹھا لئے جائیں اور جیسا کہ آئین میں درج ہے کہ اس ملک کا مذہب اسلام ہے تو یہ اس کا ایک ثبوت ہوگا اور یہ لوگ بھی مان لیں گے کہ اس ملک کا مذہب اسلام ہے۔ انہی مختصر الفاظ کے ساتھ میں نے اپنا مدعا بیان کر دیا ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!

جناب چیئرمین: شہزادہ سعید الرشید عباسی!

(جناب شہزادہ سعید الرشید عباسی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

شہزادہ سعید الرشید عباسی: جناب والا! میں اس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ جسے پاکستان بننے سے پہلے اور ون یونٹ کے وقت ”ریاست بہاولپور“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ریاست بہاولپور پنجاب کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تھی۔ یہاں اسلام کا بول بالا تھا اور اسلامی قانون نافذ تھے۔ چنانچہ اس سرزمین پر نواب الحاج صادق محمد خان عباسی کے دور میں ایک بڑا اہم واقعہ پیش آیا۔ یہ ایک مقدمہ تھا۔ جو 1926ء میں دائر ہوا اور جو بعد میں ”فیصلہ بہاولپور“ کے نام سے مشہور ہوا۔ مفتی محمود صاحب نے اس فیصلے کا ایک کتابچہ سب ممبر صاحبان کو دیا ہے۔ میں

٧

صفحہ ٢٤٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

امید رکھتا ہوں کہ سب صاحبان نے اس کو دیکھ لیا ہوگا۔ جناب والا! فیصلہ بڑا اہم تھا اور یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ انگریزوں کی حکومت تھی اور اس وقت یہ فیصلہ ایک مسلمان ریاست میں ہوا اور یہ مقدمہ کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ آخر سات فروری ١٩٣٥ء کو منشی اکبر خان نے جو اس وقت ڈسٹرکٹ جج تھے، اس کا فیصلہ سنایا۔ فیصلہ کیونکہ بڑا طویل ہے میں اس میں جانا نہیں چاہتا۔ میں صرف یہ گزارش کروں گا کہ ون یونٹ بننے کے بعد ریاست بہاولپور ختم ہو گئی اور ہمارے ساتھ نا انصافی محض اس لئے ہوئی کیونکہ ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ بہاولپور کے عوام نے یہ فیصلہ کیا تھا اور اس دن سے 2702 ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ وہاں ترقی بند ہو گئی۔ ہم پر ظلم ڈھائے گئے۔ جن صاحبان نے یہ سب کچھ کیا میں ان کے نام یہاں لینا مناسب نہیں سمجھتا۔ بہر حال بہاولپور کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا۔ جب یحییٰ خان کی حکومت تھی تو یہ افسران جو اس وقت یہاں موجود تھے انہوں نے فرید گیٹ کے پر امن جلوس کے اوپر گولی چلائی۔ وہ صاحبان بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا مقصد کیا تھا؟ یہ فیصلہ بہاولپور کے مسلمانوں نے قادیانیوں کے خلاف کیا اور اس کی سزا آج تک ہمیں مل رہی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ حکومت اس بات کو مد نظر رکھے گی۔ ہمارے ساتھ جو کچھ زیادتیاں ہوئیں اور اس فیصلے کے بعد جو سلوک ہوا اور ہمیں جو سزا ملی اور اب میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے ساتھ بہتر سلوک ہوگا۔ ہماری سزا ختم ہو گی۔ پاکستان بننے کے ٢٧ سال بعد آج اس ہاؤس میں یہ فیصلہ ہو رہا ہے اور جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے اور جہاں تک بہاولپور کے عوام کا تعلق ہے۔ ہمارے لئے یہ فیصلہ آج سے ٤٠ سال پہلے ہو چکا ہے اور میرا ایمان ہے کہ جو فیصلہ ہوا ہے وہ صحیح ہوا ہے اور میں آج بھی اس پر قائم ہوں اور میں اس کی پوری حمایت کرتا ہوں۔ اس کی پوری تائید کرتا ہوں اور حضور ﷺ کا ایک ادنیٰ خادم ہوتے ہوئے آج تک اس پر قائم ہوں اور تادم مرگ قائم رہوں گا۔

جناب چیئرمین: عباسی صاحب! ایک گزارش کر دوں، اس دن بھی عرض کیا تھا کہ ہم Close door (بند کمرے میں) سیشن کر رہے ہیں اس میں ایک چیز لازمی ہے کہ ہر چیز کا Solution (حل) بتائیے کہ اقلیت قرار دینے سے کیا فائدہ ہوگا، کیا نقصان ہوگا۔ اگر نہ دیں تو کیا نقصان ہوگا، کیا فائدہ ہوگا، کیونکہ ہم یہاں With realistic approach (حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر) سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے آپ نے دونوں سائیڈ پر کہ کون سا ریزولیوشن Adopt (اختیار) کریں جو کہ کافی ہو، ملک جعفر کا کریں یا کوئی اور یا کوئی نئی Proposal (تجویز) دیں۔

٨

صفحہ ٢٤٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

2703 Now the discussion should be in the form of some proposals, suggestions and solutions---- We have heard much about everything---- in order to lessen the burden on the Steering Committee, which will meet on 4th or 5th to finalise the recommendations in the light of the debate that has taken place. So, I will request the honourable members to come forward with concrete proposals, and they must look towards all the aspects that in case they are declared as a minority, what would be the consequences, and in case they are not declared as a minority, what would be the result and consequences. This should be kept in view.

(اب ہماری اس بحث کو تجاویز مشوروں اور حل کی شکل اختیار کرنی چاہئے۔ ہم نے ہر چیز کے متعلق تفصیل سے سنا ہے۔ لہٰذا سٹیئرنگ کمیٹی کے ٤ یا ٥ ستمبر کو ہونے والے اجلاس کے دوران اس کے اوپر بوجھ کم کرنے کی غرض سے یہاں ہونے والی بحث کی روشنی میں، میں معزز ممبران سے گزارش کروں گا کہ وہ ذرا آگے کی طرف قدم بڑھائیں اور انہیں (احمدیوں) کو اقلیت قرار دینے سے متعلق تمام پہلوؤں پر نظر رکھیں کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے اور انہیں اقلیت قرار نہ دینے کی صورت میں کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اب اس معاملے پر نظر رکھنی چاہئے)

Sardar Moula Bakhsh Soomro: Point of information. As you just said that those who speak should suggest remedial measures or consequential result after such steps, if this is the object which I have been able to understand, in that case you will allow me a few minutes more to express my views on that line. I will just, in my humble way, suggest a few things as desired by you, Sir.

(سردار مولا بخش سومرو: پوائنٹ آف انفارمیشن! جیسا کہ آپ نے کہا ہے کہ جو لوگ گفتگو کرنا چاہتے ہیں وہ اصلاحی اقدامات یا ان اقدامات کے مسلسل نتائج پر بھی گفتگو کریں اگر

٩

صفحہ ٢٤٤٢

2442 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

آپ کا یہی مقصد ہے تو میں اس ضمن میں اظہار خیال کرنے کے لئے کچھ وقت چاہتا ہوں اور آپ کی خواہش کے مطابق چند عاجزانہ مشورے دینا چاہوں گا)

Mr. Chairman: Sahibzada Safiullah.

(جناب چیئرمین: صاحبزادہ صفی اللہ!)

Dr. S. Mahmood Abbas Bokhari: Point of information. (ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: پوائنٹ آف انفارمیشن)

Mr. Chairman: Just a minute, I have given the floor to Sahibzada Safiullah.

(جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ، میں نے فلور صاحبزادہ صفی اللہ کو دے دیا ہے)

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بڑا اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اگر اس پر ممبران صاحبان تحریری طور پر تجاویز دیں تو یہ زیادہ موزوں ہوگا۔ کیونکہ زبانی طور پر کئی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو کہ انسان کے ذہن سے نکل جاتی ہیں۔

جناب چیئرمین: لازماً تحریری طور پر ..... کیونکہ یہ ایک نیشنل پرابلم ہے۔ لیکن ایسی باتیں جو کہ ان کتابوں کا حصہ نہ ہوں ان کو یہاں زبانی طور پر پیش کیا جاسکتا ہے اور اگر ممبر صاحبان لکھ کر دینا چاہیں تو وہ لکھ کر بھی دے سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: جناب سپیکر ! میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کتاب وسنت کی رو سے بعض چیزیں رہ گئی ہیں جو کہ بحث میں شامل نہ ہوسکیں، بالخصوص 2704 مقام نبوت ہے کہ نبی کی Qualification (قابلیت) کیا ہوتی ہے۔ کتاب الہدیٰ میں نبی کا مقام کیا ہے؟ آیا کوئی آدمی اس مقام کو پاسکتا ہے یا نہیں پاسکتا؟ یہ ایک بنیادی نکتہ ہے جو اس بحث میں نہیں آیا۔ جناب والا! کیا میں اس موضوع پر چند ایک باتیں عرض کر سکتا ہوں؟

جناب چیئرمین: کس نے آپ کو روکا ہے؟ اڑھائی مہینے سے ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام لوگوں کو پوری آزادی ہوگی، وہ اپنی رائے کا اظہار تحریری طور پر یا زبانی طور پر کسی بھی طریقے سے کر سکتے ہیں۔ میں نے تو صرف Suggestion (تجویز) پیش کی ہے۔

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: شکریہ۔

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: صدر گرامی! میں آپ کا بڑا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے اس اہم مسئلہ پر بولنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ باوجود اس کے کہ میری طبیعت ٹھیک

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

صفحہ ٢٤٤٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

نہیں ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس ضمن میں میں اپنے خیالات جو اتنی لمبی کارروائی سننے کے بعد میں نے جمع کئے ہیں، میں انہیں ظاہر نہ کروں ...... جناب والا! مناسب تو یہ تھا کہ میں اس ضمن میں ایک طویل کتاب...... جناب چیئرمین: اس گھڑی کا کچھ کریں۔ اسے Table (میز) سے اٹھالیں۔ It always creats disturbance in the House. (یہ ہمیشہ ایوان میں خلل ڈالتی ہے)

(سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: ...... آپ کے سامنے پڑھ کر اس ہاؤس میں پیش کرتا۔ لیکن جناب والا! میں وہی معروضات پیش کروں گا جو کہ میں نے اس ہاؤس کی طویل کارروائی سننے کے بعد اپنی رائے قائم کی ہے۔ حالانکہ جناب مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب جو کہ ختم نبوت کے سلسلے میں بڑے پرانے مجاہد ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں تحریری اور زبانی طور پر جو خدمات انجام دی ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ ان کے ارشادات اس ضمن میں، میں آخری اور کافی سمجھتا ہوں۔ لیکن میں اپنے طور پر یہ محسوس کرتا ہوں کہ جناب والا! اب یہ کوئی جھگڑا ہی نہیں رہا کہ احمدی نبی کریم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں یا 2705 نہیں؟ کیونکہ ان کے ان طویل بیانات میں جو فاضل جرح اٹارنی جنرل صاحب نے ان پر فرمائی ہے۔ ان کے جوابات میں انہوں نے کسی جگہ بھی یہ نہیں کہا کہ مرزا صاحب نبی نہیں ہیں۔ ایک عجیب بات ہے کہ لاہوری جماعت جو ان کا ایک حصاری فرقہ ہے۔ جن کے متعلق میرا اپنا ذاتی خیال تھا کہ وہ مرزا صاحب کو آخری نبی نہیں مانتے بلکہ مجدد مانتے ہیں۔ یا جو کچھ سمجھ لیجئے یا نبی سے کم درجہ والے۔ لیکن جرح کے دوران میں حیران ہوا کہ کیسی صفائی اور کیسے عجیب و غریب انداز سے انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ مرزا صاحب یقیناً (معاذ اللہ) نبی ہیں۔

دراصل ان دونوں کا آپس میں جھگڑا یا مخالفت کہ لاہوری اور ربوہ گروپ یا فرقہ، ان کا آپس میں جھگڑا نہیں ہے کہ مرزا صاحب نبی یا محدث ہیں۔ مولانا محمد علی صاحب (لاہوری) جو کہ مرزا صاحب کے بڑے قریبی دوست اور ساتھی تھے اور وہ صرف اپنے آپ کو ہی صحیح جانشین سمجھتے تھے۔ جب جانشین کا سوال پیدا ہوا تو بشیر الدین صاحب کہ جو اس وقت سولہ، سترہ یا اٹھارہ برس کے تھے۔ انہیں صرف اس بناء پر کہ وہ مرزا صاحب کے لڑکے ہیں۔ جانشین کر دیا تو مولانا محمد علی

١١

OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

آپ کا یہی مقصد ہے تو میں اس ضمن میں اظہا کی خواہش کے مطابق چند عاجزانہ مشورے د zada Safiullah. (جناب چیئرمین: صاحبزادہ ص bbas Bokhari: Point of (ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری a minute, I have given the

(جناب چیئرمین: صرف ایک صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا مسئلہ ہے۔ اگر اس پر ممبران صاحبان تحریری ط طور پر کئی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو کہ انسان کے جناب چیئرمین: لازماً تحریری باتیں جو کہ ان کتابوں کا حصہ نہ ہوں ان کو یہا لکھ کر دینا چاہیں تو وہ لکھ کر بھی دے سکتے ہیں، ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری کتاب و سنت کی رو سے بعض چیزیں رہ گئی ہیں نبوت ہے کہ نبی کی Qualification (آ کیا ہے؟ آیا کوئی آدمی اس مقام کو پاسکتا ہے نہیں آیا۔ جناب والا! کیا میں اس موضوع پر جناب چیئرمین: کس نے آ کہ تمام لوگوں کو پوری آزادی ہوگی، وہ اپنی طریقے سے کر سکتے ہیں۔ میں نے تو صرف م ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: سردار عنایت الرحمٰن خان عبا نے مجھے اس اہم مسئلہ پر بولنے کا موقع فرما

صفحہ ٢٤٤٤

2444 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

صاحب (لاہوری) نے اپنے ہم خیال لوگوں کو علیحدہ کر دیا کیونکہ یہ ان کی طبیعت کے خلاف تھا۔

جناب! مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی۔ قرآن کہتا ہے، خدا کہتا ہے اور خود نبی کریم ﷺ کا اپنا ارشاد ہے کہ وہ ہر طریقے سے آخری نبی ہیں۔ جناب والا! کسی کا باپ ہوتا ہے۔ یہ عجوبہ بات ہے کہ باپ کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک دوسرا باپ اور ایک تیسری قسم کا باپ؟ اور اگر نبی کے متعلق یہ تاویل لی جاسکتی ہے کہ نبوت کی کئی قسمیں ہیں اور کئی درجے ہیں (معاذ اللہ ) خدا کے بھی کئی روپ ہوں۔ ان کے عقیدہ کے مطابق ، تو پھر ہم کس طرح اس بات کو تسلیم کریں کہ خدا وحدہ لا شریک ہے۔ اس کی کوئی قسم تو نہیں ہوسکتی۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ وہ کون سی نبوت کی قسمیں ہیں۔ مجازی نبی ، حقیقی نبی ، شرعی نبی اور غیر شرعی نبی۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہ کسی جانور کو کھانا چاہیں 2706 تو اس کے لئے ایک تاویل پیدا کر کے اسے حلال کر کے کھا جائیں۔ تو جناب والا! میں اپنے طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں کوئی جھگڑا نہیں ہے کہ وہ سچا تھا یا جھوٹا تھا (ان کے عقائد کے مطابق) جو کچھ میں سمجھتا ہوں وہ تو روز روشن کی طرح واضح ہے اور اس بات میں کوئی تضاد ہے ہی نہیں۔ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ وہ خدا جاکے فیصلہ کرے گا کہ وہ نبوت صحیح تھی۔ معیار کے مطابق تھی یا نہیں تھی۔ لیکن ہم اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کو کسی بھی صورت اور کسی بھی طریقہ سے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ کہے کہ میں نبی ہوں۔ وحی ان پر نازل ہوتی ہے، عجیب بات ہے۔ کتاب میں وہ ترمیم کرتے ہیں بلکہ ایک قرآن کریم کی آیت جس میں ارشاد ہے ...... غالباً حدیث شریف یا قرآن کریم کی آیت تھی جو دوران جرح واضح کی گئی تھی۔ جس میں ”میرے پہلے اور میرے بعد“ کے الفاظ ہیں۔ مجھے پتہ نہیں ہے کہ یہ الفاظ حدیث شریف کے ہیں یا قرآن مجید کی آیت ہے۔ جس میں یہ کہا گیا ہے ”نہ میرے پہلے اور نہ میرے بعد۔ نبوت کا جو سلسلہ ہے وہ ختم ہے ۔“ بعد والی چیز حذف کر دی گئی ہے۔ وہ کتاب میں ذکر کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح جناب والا! ایک اور طریقہ بھی دیکھیں۔ ایک مسجد ان لوگوں نے تعمیر کی ہے اور اس پر لکھ دیا ہے لا الہ الا الله احمد رسول اللہ ۔ ہم خوش تھے کہ ہم نے ان کی کمزوری پکڑ لی۔ جب ان پر جرح کی گئی تو غالباً وہ فرمانے لگے کہ یہ کوفی رسم الخط ہے۔ میں حیران ہوں جب تمام دنیا میں کلمے کا ایک ہی رسم الخط جاری ہے اور وہ یہ ہے لا الہ الا الله محمد رسول الله تو کیوں خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ایک کوفی رسم الخط استعمال کیا؟ تو یہ تمام باتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان نیت میں فتور یقیناً موجود ہے۔ آپ بتائیں اگر وہی مسجد قائم رہے اور جو

١٢

صفحہ ٢٤٤٥

LY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

صاحب (لاہوری) نے اپنے ہم خیال لوگوں کو علیحـ جناب! مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں کریم ﷺ کا اپنا ارشاد ہے کہ وہ ہر طریقے سے آ یہ عجوبہ بات ہے کہ باپ کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک کے متعلق یہ تاویل لی جاسکتی ہے کہ نبوت کی کئی قسـ بھی کئی روپ ہوں۔ ان کے عقیدہ کے مطابق وحدہ لاشریک ہے۔ اس کی کوئی قسم تو نہیں ہو سکتـ نبوت کی قسمیں ہیں۔ مجازی نبی، حقیقی نبی، شرعی کسی جانور کو کھانا چاہیں 2706 تو اس کے لئے ایک جناب والا! میں اپنے طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اس (ان کے عقائد کے مطابق) جو کچھ میں سمجھتا ہو میں کوئی تضاد ہے ہی نہیں۔ مرزا صاحب نے نبـ نبوت صحیح تھی۔ معیار کے مطابق تھی یا نہیں تھی۔ لیکـ بعد کسی بھی شخص کو کسی بھی صورت اور کسی بھی طر ہوں۔ وحی ان پر نازل ہوتی ہے، عجیب بات ہے کریم کی آیت جس میں ارشاد ہے۔۔۔۔۔ غالباً جـ جرح واضح کی گئی تھی۔ جس میں ”میرے پہلے او یہ الفاظ حدیث شریف کے ہیں یا قرآن مجید کی اور نہ میرے بعد۔ نبوت کا جو سلسلہ ہے وہ ختم ہـ میں ذکر کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح جناب والا! ایک اور طر اور اس پر لکھ دیا ہے لا الہ الا اللہ احمد رسـ لی۔ جب ان پر جرح کی گئی تو غالباً وہ فرمانے تمام دنیا میں کلمے کا ایک ہی رسم الخط جاری ہے کیوں خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ایک کو بـ نشاندہی کرتی ہیں کہ ان نیت میں فتور یقیناً موجـ

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

دین میں آج کل ترقی ہو رہی ہے۔ وہ آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔ لوگ خدا سے مذاق کرتے ہیں۔ لوگ 2707 رسول سے مذاق کرتے ہیں۔ لوگ اپنے طریقہ عبادت میں اس دور میں بھی میں سمجھتا ہوں اتنے مکمل اور کامل نہیں ہیں جتنا انہیں ہونا چاہئے۔ پچاس ساٹھ سال کے بعد وہی ایک مسجد ایک عظیم فتنے کی بنیاد بن جائے گی۔

اسی طریقے سے جناب والا! مجھے اس امر کا کامل یقین ہے۔ میں اس خطرے سے بھی اس معزز ہاؤس کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس آنریبل کمیٹی کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ اسرائیلیوں کی طرح احمدیت بھی ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ جس وقت انگریز نے اس فتنہ کی ابتداء کی۔ ہم نہیں کہتے کہ مرزا صاحب یا ناصر صاحب کی علمیت کسی طریقے سے کم ہے۔ عالم لوگ ہی پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ جن لوگوں کو کتاب کا علم اور عبور ہوتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہی اس قسم کی ہیرا پھیری کر سکتے ہیں۔ مرزا صاحب نے یہ جو طریقہ کار جس کی ابتداء جس وقت جن ذہنوں کی کاوش کے نتیجہ کے طور پر ہوئی۔ ان کا اس میں بنیادی مقصد صرف ایک تھا کہ مسلمانوں میں ایک فتنہ پیدا کیا جائے۔ ایک فتنہ کھڑا کیا جائے۔ انہوں نے جو آج اسرائیل کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں، یہ یاد رکھیں، یہ غور طلب بات ہے اور سوچنے کا مقام ہے۔ آج آپ اسرائیل کو تاریخ سے نہیں مٹا سکتے۔ تمام عالم اسلام ایک طرف ہے۔ آپ دیکھئے تمام عرب ایک طرف ہے۔ اسرائیل کے خلاف صف آراء ہیں۔ لیکن آج وہ اسرائیل کو نہیں مٹا سکتے۔ جب اسرائیل کا فتنہ کھڑا ہوا تھا۔ اس وقت بھی یہی نوعیت تھی۔ اس کا بھی یہ یہی مقام تھا۔ ان کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی۔ یہی حیثیت آج ربوہ اختیار کر چکا ہے۔ آپ جگہ دیکھیں کہ کسی وقت اسرائیلیوں نے اپنی ریاست کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی ابتدائی شکل، ابتداء کی صورت صرف یہی تھی اور صرف یہی تھی۔

وہ اس فتنہ کو ختم کرنے کے لئے بڑے طویل بیانات اور بڑی طویل جرح کر چکے ہیں۔ میں اس میں اور اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن میں آپ کی وساطت سے اتنی گزارش ضرور کروں گا کہ ان کو علیحدہ کرنے کے لئے، ان کو نمایاں کرنے کے لئے، ہمارے پاس 2708 صرف ایک طریقہ کار ہے کہ ہم آئین میں ترمیم کریں۔ ترمیم صرف اور صرف ان الفاظ میں کریں کہ احمدی فرقہ کے متعلق جتنے بھی لوگ ہیں یا وہ لوگ جو مرزا غلام احمد کو نبی کسی بھی رنگ میں مانتے ہیں۔ کسی بھی رنگ میں وہ لوگ مرزا کو نبی کی حیثیت دیتے ہیں۔ وہ غیر مسلم ہیں۔ وہ مسلمان نہیں۔ ان کو مسلمانوں کا مقام دینا نہیں چاہئے۔

جناب والا! میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح آپ نے ارشاد فرمایا، اس میں شک نہیں

١٣

صفحہ ١٤

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

2446 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ہے اس کے مضر اثرات بھی ہوں گے۔ ایک اتنا بڑا منظم آرگنائزڈ فرقہ جس کو ہم علیحدہ کر کے ایک ٹولے کا رنگ دیں گے۔ وہ کھلم کھلا ہمارے ملک کے خلاف کام کریں گے۔ یہ ٹھیک بات ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آپ اس بات پر غور کریں کہ کس تیزی سے یہ مسلمانوں کو مرتد کر رہے ہیں۔ دنیا میں جا کر دیکھیں جتنے بھی اسلام کے نام پر مشن موجود ہیں۔ آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں جا کر دیکھیں۔ اسلام کے نام پر جتنے بھی مشن موجود ہیں۔ وہ احمدیوں اور مرزائیوں کے ہیں۔ یہ لوگ وہاں پر کام کر رہے ہیں۔ ملک کے اندر، ملک کے باہر، آپ اگر یہی رفتار ان کی جاری رہی (خداوند عالم اس بات کو جھوٹ کرے) تو مجھے یہ خدشہ ہے کہ بہت ہی قریب مستقبل میں میری قوم کے ضعیف الاعتقاد مسلمان جو اپنے دین سے پوری طرح باخبر اور واقف نہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کے دین سے ہٹنے سے ایک وقت ایسا آئے اور آج جتنی بڑی اکثریت ہماری ہے۔ اس سے دو چند، سہ چند اکثریت ان لوگوں کی ہو جائے تو جناب والا! اس فتنے کو ختم کرنے کے لئے آئین میں اس قسم کی ترمیم انتہائی ضروری ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔

ایک اور بات بھی آپ کی خدمت میں عرض کر دوں۔ میں یہ چاہتا تھا کہ مولانا مفتی محمود صاحب یہاں پر تشریف رکھتے تو میں ان کے سامنے یہ گزارش کرتا اور ان 2709 سے پوچھتا۔ خدا کے لئے مرزائیوں کا مسئلہ جو ہے، وہ بالکل واضح طور پر سامنے ہے۔ اس کے لئے خود اس امر کا اعتراف کرنے کے بعد ان سے بحث کرنا یا یہ کہنا کہ اب اس کی گنجائش ہے یا نہیں، اس کو چھوڑیے۔ لیکن جو مواد انہوں نے اس ہاؤس کے سامنے رکھا۔ ہمارے علماء پر بہت بڑا دھبہ ہے۔ ایک اتنا بڑا چارج ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں اس چارج سے اس دھبہ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے انہیں اپنے عوام کے سامنے آنا چاہئے۔ آپ کے یعنی مفتی صاحب کے جوابات میں نے پڑھے۔ طویل ڈکشنری جس میں انہوں نے ایک اپنے تمام علم کا ذخیرہ اکٹھا کر دیا تھا، سب میں نے دیکھا، میں نے پڑھا۔ لیکن کہیں ایک جھلک ان چارجز کی، ان کے حقائق کی، جو انہوں نے یہاں پیش کئے۔ خدا جانے وہ سچے ہیں یا جھوٹے ہیں؟ اگر وہ جھوٹے بھی ہوں تو عقلی طور پر میں تسلیم کرتا ہوں۔ اب آپ نے اس کی تردید نہیں کی۔ تو میرے پاس کیا جواب ہے۔ میں یہ کہوں کہ ان کے جو دلائل ہیں، غلط ہیں۔ جو کہ آپ کے اندرونی فرقوں کے متعلق ہیں۔

١؎ کاش! سردار عنایت الرحمن عباسی آج قادیانیت کی زبوں حالی دیکھتے کہ دنیا میں منہ چھپانے کے لئے انہیں جگہ نہیں مل رہی۔

2447 NATIONAL ASSEM

جو دیوبندیوں کے متعلق مرزائیوں نے یہ اپنے کے برگزیدہ امتی جن میں حضرت عبدالقادر از رحمۃ اللہ علیہ، جن میں حضرت جنید بغدادی

ڈر۔ جناب والا! میں یہ عرض کروں کہ اس کی سامنے وہ قرار دادیں ہیں اور مرزا ناصر احمد کا کی طرف سے جو بیان مولانا مفتی محمود صاحب نا بیانات کا مقصد فوت ہو جائے گا اور یہ سلسلہ

ں: نہیں، نہیں۔ دھراتا نہیں۔ میں اپنے دی ہے، مجھے کہنے دیں۔ یہ ریکارڈ پر آئے۔

نہیں ہے، نہ یہ موضوع زیر بحث ہے۔ یہ بیان میں یہ خامی ہے، وہ خامی ہے۔ یہ غیر

ا میں بہت فائدہ ہے۔ رہ نہیں شروع ہو جاتا۔ یہ کہ ان کا جواب وہ یہ دیں گے۔

Our discussion shou before us, not that one is St not talk against any sect. Th

تک محدود رہنی چاہئے۔ اس پر نہیں کہ فلاں سنی ں کرنی چاہئے۔ یہ متعلقہ گفتگو نہیں ہے )

قادیانی محضر نامہ میں ان باہمی فتویٰ جات کی صاحب کے پیش کردہ جواب محضر نامہ میں

صفحہ ٢٤٤٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کتنی بڑی بات ہے کہ ٢٦٠ علماء کرام، جو دیوبندیوں کے متعلق مرزائیوں نے یہ اپنے بیانات اور جرح میں کہا ہے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے برگزیدہ امتی جن میں حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، جن میں حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ، جن میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، نبوت کے بعد اگر اس ملک میں .....

صاحبزادہ صفی اللہ: پوائنٹ آف آرڈر۔ جناب والا! میں یہ عرض کروں کہ اس کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ ایسی باتیں کریں۔ کمیٹی کے سامنے وہ قراردادیں ہیں اور مرزا ناصر احمد کا محضر نامہ یہ ہے۔ گفتگو اسی پر ہونی چاہئے نہ کہ ہماری طرف سے جو بیان مولانا مفتی محمود صاحب نے پڑھا ہے، اس پر گفتگو شروع ہو۔ اگر ایسا ہوا تو ان بیانات کا مقصد فوت ہو جائے گا اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔

2710 سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: نہیں، نہیں۔ دھراتا نہیں۔ میں اپنے فرائض کی ادائیگی کر رہا ہوں۔ اصل بات میں نے کہہ دی ہے، مجھے کہنے دیں۔ یہ ریکارڈ پر آئے۔ میں یہ سمجھتا ہوں .....

صاحبزادہ صفی اللہ: اس میں فائدہ نہیں ہے، نہ یہ موضوع زیر بحث ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ ایک ممبر اٹھ کھڑا ہو کہ تمہارے بیان میں یہ خامی ہے، وہ خامی ہے۔ یہ غیر متعلقہ بحث ہے۔

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: اس میں بہت فائدہ ہے۔

جناب چیئرمین: یہاں آپ کا مناظرہ نہیں شروع ہو جاتا۔ یہ کہ ان کا جواب وہ دیں گے۔ ان کا جواب آپ دیں گے۔ ان کا جواب یہ دیں گے۔

Our discussion should be confined to the Resolution before us, not that one is Sunni and one as Shia. We should not talk against any sect. That is not relevant.

(ہماری بحث ہمارے سامنے موجود قرارداد تک محدود رہنی چاہئے۔ اس پر نہیں کہ فلاں سنی ہے اور فلاں شیعہ۔ ہمیں کسی فرقے کے خلاف بات نہیں کرنی چاہئے۔ یہ متعلقہ گفتگو نہیں ہے)

ا؎ عنایت الرحمٰن عباسی سردار صاحب نے قادیانی محضر نامہ میں ان باہمی فتویٰ جات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جس کا جواب مولانا مفتی محمود صاحب کے پیش کردہ جواب محضر نامہ میں موجود ہے جو ج ١٥، ١٦ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

١٥

قیمت فی شمارہ 10/- روپے

LY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ہے اس کے مضر اثرات بھی ہوں گے۔ ایک اتنا بڑا ٹولے کا رنگ دیں گے۔ وہ کھلم کھلا ہمارے ملک لیکن اس کے ساتھ ہی آپ اس بات پر غور کریں ہیں۔ دنیا میں جا کر دیکھیں جتنے بھی اسلام کے نا میں جا کر دیکھیں۔ اسلام کے نام پر جتنے بھی مشن یہ لوگ وہاں پر کام کر رہے ہیں۔ ملک کے اندر، مل (خداوند عالم اس بات کو جھوٹ کرے) تو مجھے یہ کے ضعیف الاعتقاد مسلمان جو اپنے دین سے پور دین سے ہٹنے سے ایک وقت ایسا آئے اور آہ چند، سہ چند اکثریت ان لوگوں کی ہو جائے تو جنا اس قسم کی ترمیم انتہائی ضروری ہے۔ میں یہ سمجھتا ہ

ایک اور بات بھی آپ کی خدمت میں محمود صاحب یہاں پر تشریف رکھتے تو میں ان ک خدا کے لئے مرزائیوں کا مسئلہ جو ہے، وہ بالکل وا اعتراف کرنے کے بعد ان سے بحث کرنا یا ی چھوڑیئے۔ لیکن جو مواد انہوں نے اس ہاؤس کے ایک اتنا بڑا چارج ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں اس چا لئے انہیں اپنے عوام کے سامنے آنا چاہئے۔ آ پڑھے۔ طویل ڈکشنری جس میں انہوں نے ایک نے دیکھا، میں نے پڑھا۔ لیکن کہیں ایک جھلک یہاں پیش کئے۔ خدا جانے وہ سچے ہیں یا جھو تسلیم کرتا ہوں۔ اب آپ نے اس کی تردید نہیں کہ ان کے جو دلائل ہیں، غلط ہیں۔ جو کہ آپ ک

ا؎ کاش! سردار عنایت الرحمٰن عباسی آ چھپانے کے لئے انہیں جگہ نہیں مل رہی۔

صفحہ ١٦

2449 NATIONAL AS

صاحب کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔ جس یا اس وقت انہوں نے اس قسم کا پوائنٹ

میں کہتا ہوں۔ ہوتے تھے کہ اس قسم کا میٹریل ریکارڈ پر کر یہاں بیٹھے رہے اور مرزا ناصر احمد اور ہے کہ خدانخواستہ اس ہاؤس میں اس قسم کی کہ ممبران گواہان کے بیانات کا اپنی تقریر پابندی نہیں لگنی چاہئے۔

Mr.Chairman: ان میں نہیں ہوں) چلو، رولنگ ہے، سپیکر صاحب کی ہے۔ چاہتا ہوں۔ ہم جو مسلمان ہیں۔ ہم دین سامنے ہمارے علماء ایک پمفلٹ کی شکل

میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت جو ہیں۔ وہ اب تمام کی تمام کتابوں کی شکل ئدہ ہوگا اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں ہے گا اور اس کو تاریخ اور دنیا کی کوئی چیز مٹا حب اور دوسرے کئی دوستوں نے یہاں رام جو یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ مولانا اس بات کو Admit (تسلیم) کرنے کیا۔ یا دوسری صورت میں پوائنٹ آف ٹ کیا تھا کہ انہوں نے یہاں فرمایا تھا کہ عربی میں زیر، زبر، پیش سے کیا مطلب کے لئے اتنا بڑا چیلنج تھا۔ لیکن ان میں سے

2448 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

چوہدری جہانگیر علی: جناب والا! اس کا مطلب ہے کہ مسلمان صف آراء ہوں....... جناب چیئرمین: آپ تشریف رکھیں۔ میں نے یہی بات کی ہے۔ I am sorry This is not relevant. (میں معذرت خواہ ہوں۔ یہ متعلقہ بات نہیں ہے) سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: مسٹر چیئرمین! جناب والا! میری بات تو سن لیں۔ جناب چیئرمین: میں بات نہیں سنتا۔ We are not here to throw mud at each other. the only thing to debate is to declare them a minority. (ہم یہاں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے لئے نہیں بیٹھے ہیں۔ صرف انہیں اقلیت قرار دینے کے لئے گفتگو کرنا چاہتے ہیں) Ch.Jahangir Ali: Sir, this is not throwing mud. (چوہدری جہانگیر علی: یہ کوئی کیچڑ نہیں اچھال رہا) Mr. Chirman: This is not relevant. (مسٹر چیئرمین: یہ متعلقہ بات نہیں ہے) سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: یہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ Mr. Chirman: I cannot agree....... (مسٹر چیئرمین: میں اتفاق نہیں کر سکتا) 2711 سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: میں یہ چھوڑ دیتا ہوں۔ Mr. Chirman: I cannot agree to this principle. (مسٹر چیئرمین: میں اس اصول سے اتفاق نہیں کر سکتا) چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین! اس کمیٹی کے سامنے جو کچھ شہادت پیش ہوئی ہے۔ دراصل بحث کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس شہادت پر جو اس ہاؤس کے سامنے آئی ہے۔ زیر بحث قراردادوں کی روشنی میں ممبر صاحبان اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ لیکن جو چیز ریکارڈ پر آ چکی ہے۔ اگر کوئی فاضل ممبر اس پر اظہار خیال کرنا چاہے تو میرے خیال میں دوسرے ممبر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اس پر اعتراض کرے۔ Mr.Chairman: I cannot agree to this principle. (مسٹر چیئرمین: میں اس اصول سے اتفاق نہیں کر سکتا)

١٦

قیمت فی فارم -/10 روپے

صفحہ ٢٤٤٩

2449 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

چوہدری جہانگیر علی: صاحبزادہ صفی اللہ صاحب کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔ جس وقت اسی قسم کے الزامات مرزا ناصر احمد لگا رہے تھے۔ کیا اس وقت انہوں نے اس قسم کا پوائنٹ آف آرڈر اٹھایا تھا؟

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: میں نہیں کہتا ہوں۔

چوہدری جہانگیر علی: جناب! ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس قسم کا میٹریل ریکارڈ پر آئے۔ ہم بہت صبر کے ساتھ اور جذبات کے ساتھ قابو پا کر یہاں بیٹھے رہے اور مرزا ناصر احمد اور عبدالمنان عمر کی یہ باتیں سنتے رہے۔ ہمارا یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ اس ہاؤس میں اس قسم کی بات ہو جو انتشار کا موجب بنے۔ بہرحال اگر کوئی فاضل ممبران گواہان کے بیانات کا اپنی تقریر کے اندر حوالہ دینا چاہیں تو میرا خیال ہے اس پر اس قسم کی پابندی نہیں لگنی چاہئے۔

Mr.Chairman: I am not in position to agree.

(مسٹر چیئرمین: میں اتفاق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں)

2712 سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: چلو، رولنگ ہے، سپیکر صاحب کی ہے۔ میں صرف اس ضمن میں کہوں گا۔ تفصیل میں جانا نہیں چاہتا ہوں۔ ہم جو مسلمان ہیں۔ ہم دین سے واقف ہیں۔ جو مناسب جواب ہے۔ اس ہاؤس کے سامنے ہمارے علماء ایک پمفلٹ کی شکل میں لائیں اور ہماری رہنمائی فرمائیں۔

کرنل حبیب احمد: پوائنٹ آف آرڈر۔ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت جو تقریریں ہوئی ہیں اور جو حضرات اپنا موقف بیان کر رہے ہیں۔ وہ اب تمام کی تمام کتابوں کی شکل میں باہر آ جائیں گی اور اس کا زبردست تمام دنیا میں پراپیگنڈہ ہوگا اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں اس کو پڑھیں گی۔ یہ ایک مثبت ریکارڈ ہے اور تاقیامت رہے گا اور اس کو تاریخ اور دنیا کی کوئی چیز مٹا نہیں سکے گی اور ہم بھی یہ توقع کر رہے تھے کہ چوہدری صاحب اور دوسرے کئی دوستوں نے یہاں پوائنٹ آؤٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ہمارے علماء کرام جو یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ مولانا صاحبان جو ہم سے بہت زیادہ اسلامی تعلیم رکھتے ہیں۔ ہم اس بات کو Admit (تسلیم) کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن کسی نے یہاں کوئی پوائنٹ آف آرڈر نہیں کیا۔ یا دوسری صورت میں پوائنٹ آف آؤٹ نہیں کیا۔ میں نے اپنی کم عقلی کے باوجود پوائنٹ آؤٹ کیا تھا کہ انہوں نے یہاں فرمایا تھا کہ اگر یہاں کوئی عالم بیٹھا ہے جو عربی جانتا ہے۔ وہ یہ سمجھے گا کہ عربی میں زیر، زبر، پیش سے کیا مطلب ہوتا ہے اور کیسے مفہوم تبدیل ہو سکتا ہے؟ ہمارے یہ علماء کے لئے اتنا بڑا چیلنج تھا۔ لیکن ان میں سے

١٧

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

چوہدری جہانگیر علی: جناب والا! اس ک

جناب چیئرمین: آپ تشریف رکھیں۔

ot relevant.

(میں معذرت خواہ ہوں۔ یہ متعلقہ بات ن

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: مسٹر

جناب چیئرمین: میں بات نہیں سنتا

ly thing to debate is of declare them a minority. (ہم یہاں ایک دوسر۔ صرف انہیں اقلیت قرار دینے کے لئے گفتگو کرنا چاہت

Sir, this is not throwing to mud.

(چوہدری جہانگیر علی: یہ کوئی کیچڑ نہیں

is not relevant.

(مسٹر چیئرمین: یہ متعلقہ بات نہیں ۔

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: یہ

nnot agree.......

(مسٹر چیئرمین: میں اتفاق نہیں کر سکت

2711 سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی

nnot agree to this principle.

(مسٹر چیئرمین: میں اس اصول سے

چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین ہے۔ دراصل بحث کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس شبہا بحث قراردادوں کی روشنی میں ممبر صاحبان اپنے خیال ہے۔ اگر کوئی فاضل ممبر اس پر اظہار خیال کرنا چاہے دیتا کہ اس پر اعتراض کرے۔

nnot agree to this principle.

(مسٹر چیئرمین: میں اس اصول سے

١٦

صفحہ ٢٤٥٠

قیمت فی شمارہ -/10 روپے NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کوئی بھی نہیں اٹھا۔ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان کے جواب میں ...... جناب چیئرمین: پوائنٹ آف آرڈر پیش کر لیا ہے۔ تشریف رکھیں۔ کرنل حبیب احمد: عباسی صاحب جو تقریر فرما رہے ہیں۔ وہ نہایت مدلل اور Convincing (معقول) ہے۔ اب میں یہ کہتا ہوں کہ وہ ریکارڈ پر بھی آئے گی۔ یہ تاریخ ہے اور 2713 ایک اسلامی تاریخ ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ انہوں نے جو جواب یہاں دیئے۔ ان دلائل کو زیر بحث نہ لایا گیا۔ ان کے مؤقف کو جو نہایت خطرناک تھا۔ ان کے جوابات کتاب کی شکل میں کیوں نہیں آئے۔ چونکہ میرا بیٹا اور اس کا بیٹا، ہماری نسلوں کی نسلیں بھی ان کو پڑھیں گی۔ ہمارے علماء کے بیانات پڑھیں گے۔ تو وہ اپنے ذہن میں کیا تصور پیش کریں گے۔ مثلاً میں یہ کہتا ہوں کہ جو عباسی صاحب نے فرمایا وہ درست فرمایا ہے۔ ہمارے کئی دوست اس طرف بیٹھے ہیں۔ اس وقت یہ پوائنٹ آؤٹ کیا۔ لیکن کوئی بات نہیں بنی اور ہمارے ایڈووکیٹ جنرل صاحب نے ایک ایسی معیاری ایڈووکیسی کی کہ جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ میرے نزدیک وہ بھی مجھ سے زیادہ عالم ہوں گے۔ لیکن میں یہ چاہتا تھا کہ ہمارے علماء میں اس قسم کا کوئی مذاکرہ ہوتا تا کہ ہم کو بھی پتہ ہوتا۔ میں سنی ہوں۔ لیکن خدا گواہ ہے اگر ہم سنی ہیں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم سنی ہیں۔ یہ میری اپنی بات ہے۔

جناب چیئرمین: کرنل صاحب! ذرا مجھے عرض کرنے دیں۔ میری بات بھی سن لیں۔ یہ بات اس وقت ریلیونٹ ہوگی کہ مولانا مفتی محمود صاحب اور کسی اور آنریبل ممبر کے دو عقائد ہوں۔ ایک ان کا سیاسی عقیدہ ہے اور ایک ان کا مذہبی عقیدہ ہے۔ جب مذہبی عقائد کے متعلق ریزرویشن لائیں گے کہ مولانا مفتی محمود کے مذہبی عقائد ٹھیک نہیں ہیں۔ تب یہ ٹھیک تھا اور اس وقت یہ بحث ریلیونٹ ہوگی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپس میں یہ لڑتے ہیں کہ شیعہ نے سنی کے متعلق یہ لکھا اور سنی نے شیعہ کے متعلق یہ لکھا۔

It appears that discussion is not relevant. They should not try to prove Shia and Sunni. They just want to prove their case.That is the evidence which they adduce in

2713 یہ تمام بحث جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ شیعہ، سنی تناظر میں کی گئی جو مرزا ناصر احمد کا عین مدعا تھا۔ تاہم بالغ نظری سے سپیکر نے اس کو ختم کرا دیا۔ تفصیل محضر نامے پیش کردہ مولانا مفتی محمود میں پڑھ لیں جو گزر چکا۔

١٨

صفحہ ٢٤٥١

2451 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

respect of their claim. All the sects are unanimous so far as the Qadianies are concerned. This is on record. All the schools of thought are unanimous. We are sitting here to determine the status of Qadianies, not to talk either against the Shia or any other sect..

(یہ بحث غیر متعلق دکھائی دیتی ہے۔ انہیں شیعہ اور سنی ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ وہ صرف اپنا مدعا ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے دعوے کے ثبوت میں وہ یہ شہادت پیش کر رہے ہیں۔ قادیانیوں سے متعلق تمام فرقے متفق ہیں۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ تمام مکاتب فکر متفق ہیں۔ ہم یہاں قادیانیوں کی حیثیت کا تعین کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔ شیعہ ، سنی یا کسی اور فرقہ کے خلاف گفتگو کرنے کے لئے نہیں)

2714 صاحبزادہ صفی اللہ : میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بات کرنل صاحب نے جو فرمائی کہ اس کا کسی نے جواب نہیں دیا۔ اصل میں کرنل صاحب کو شاید یاد نہیں ہے کہ چیئرمین صاحب نے فیصلہ سنایا تھا کہ گواہوں پر جرح کے دوران سوائے اٹارنی جنرل صاحب کے، کوئی جواب یا تقریر نہ کرے۔

جناب چیئرمین: میں جواب دے رہا ہوں کہ وہ ختم ہوگئی۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب والا ! میں عرض کروں گا کہ .....

جناب چیئرمین: وہ ختم ہوگئی۔ عباسی صاحب! شروع کریں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب والا! یہ ریکارڈ میں آئے گا کہ علماء نے ناصر احمد کا جواب نہیں دیا۔ ناصر احمد نے قطعیات کا انکار کیا۔ ناصر احمد نے ہر بات کو ٹالا اور یہاں یہ طے شدہ تھا کہ صرف سوالات اے جی صاحب کریں گے اور یہ بھی طے شدہ تھا کہ اے جی صاحب کے سوا کوئی سوالات نہیں کرے گا۔ لیکن ناصر نے جو کچھ کہا، وہ سب غلط کہا ہے۔

جناب چیئرمین: آپ کی تردید ٢٦٠ صفحات کی آ گئی ہے۔ عباسی صاحب! آپ تقریر کریں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: آپ نے تو خود علماء کو پابند کیا۔ سب ممبران کو پابند کیا ہے کہ اے جی صاحب کے سوا کوئی سوال نہیں پوچھے گا۔ (مداخلت)

اب یہ کہتے ہیں کہ ساری دنیا میں ریکارڈ جائے گا اور وہاں یہ ہوگا کہ علماء جواب نہیں

١٩

صفحہ ٢٤٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

دے سکے۔ ناصر احمد سب غلط ہے اور ناصر احمد نے سب باتوں سے انکار کیا ہے۔

جناب چیئرمین: مولانا صاحب! تشریف رکھیں۔

Maulana Sahib, I do not want to make it a controversy. We are sitting here as a special Committee. Nobody will be allowed to make political profit out of it. We بہتر فرماتے ہیں وہ .This is not relevant کچھ تو آپ سوچیں۔ are not here.

2715

To debate Brelvi and Wahabi. We should not take the debate on that side that Maulana Mufti being hit or Dr. Bokhari. Certain members do not like it.

(مولانا صاحب! میں اس معاملہ کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتا۔ ہم یہاں سپیشل کمیٹی کی حیثیت سے بیٹھے ہیں۔ کسی کو اس معاملہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ غیر متعلقہ بات ہے۔ ہم یہاں بریلوی اور وہابی پر بحث کرنے کے لئے بیٹھے؟ ہمیں مفتی صاحب یا بخاری صاحب کو ہٹ کرنے کے لئے اس پر گفتگو نہیں کرنی چاہئے۔ کچھ ارکان ممبر اسے پسند نہیں کرتا)

سردار عنایت الرحمن خان عباسی: وہ ختم ہو گیا ہے اور آپ نے رولنگ دے دی ہے۔ رولنگ میں اب بات ختم ہوگئی ہے۔ بار بار نہ دھرائیں۔

Mr.Chairman: This is not relevnt. Please continue.

(مسٹر چیئرمین: یہ متعلقہ گفتگو نہیں ہے۔ برائے مہربانی جاری رکھیں)

سردار عنایت الرحمن خان عباسی: جناب والا! یہ بات اب ختم ہو گئی ۔ میں گزارش کر رہا تھا کہ میں یہ بات زیر بحث لانا چاہتا ہوں کہ دونوں فرقے ذاتی طور پر اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں اور ان کے تسلیم کرنے کے بعد میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس فتنہ کے لئے ریزولیشن ڈرافٹ کرنا چاہئے جس میں احمدیوں کو چاہے وہ کسی فرقہ میں ہو۔ جو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی صورت میں نبی آسکتا ہے۔ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیں۔ شکریہ!

جناب چیئرمین: راؤ خورشید علی خان صاحب! راؤ صاحب کے بھی دستخط ٣٧ ممبران میں ہیں۔ میں چیک نہیں کر رہا ہوں۔ اب وقت کم ملے گا۔

٢٠

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

صفحہ ٢٤٥٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

راؤ خورشید علی خان: جناب چیئرمین صاحب! میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے باوجود ٢٧ ممبران کی طرف سے جو جواب دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔

Miangul Aurangzeb: On a point of order Sir. The honourable member has the ear-phones on. He cannot hear. He should take it off.

(میاں گل اورنگزیب: جناب عالی! پوائنٹ آف آرڈر۔ معزز ممبر نے اپنا ایئرفون آن کر دیا ہے۔ وہ نہیں سن سکتے۔ انہیں ایئرفون بند کر دینا چاہئے)

Rao Khurshid Ali Khan: All right.

(راؤ خورشید علی خان: بہت اچھا)

Mr.Chairman: The point of order is upheld. It is a valid Point of Order. You may take it off.

(مسٹر چیئرمین: پوائنٹ آف آرڈر درست ہے۔ آپ کو اسے بند کر دینا چاہئے)

(راؤ خورشید: ٹھیک ہے) Rao Khurshid: Yes.

دوسروں کی نہ سنوں۔

جناب چیئرمین: ان کا یہ پوائنٹ ٹھیک ہے۔ آپ اپنی تقریر سن نہیں سکتے۔

(جناب راؤ خورشید علی خان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

راؤ خورشید علی خان: آپ جو حکم دیں گے وہ مجھے سنائی نہیں دے گا۔ بہرحال حکم حاکم مرگ مفاجات۔ بہرحال میں عرض کر رہا تھا اس مسئلہ پر جو قادیانی حضرات نے اور لاہوری پارٹی نے اور اس کے علاوہ ہمارے محترم علماء حضرات کی طرف سے مولانا ہزاروی کی طرف سے مولوی مفتی محمود کی طرف سے پیش کیا گیا۔ اس کو پورے غور سے سنا ہے۔ جو باتیں ہوئی ہیں ہم نے بڑے غور سے سنی ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ میں ہر روز بالکل وقت پر آتا رہا ہوں۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ میں نے مکمل ناغہ کوئی نہیں کیا۔ بعض دن تاخیر سے آتا رہا ہوں۔ لیکن میں نے ہر روز بلا ناغہ ایک ایک بات کو سنا اور پہلے سے جو معلومات ہیں۔ ان کی روشنی میں جو کچھ عرض کروں گا۔ وہ بھی اس میں شامل ہوں گی۔

٢١

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

دے سکے۔ ناصر احمد سب غلط ہے اور ناصر احمد نے س جناب چیئرمین: مولانا صاحب! تش

I do not want to make it a here as a special Committee. ake political profit out of it. We بہتر فرقے ہیں وہ This is not relevant. ahabi. We should not take the aulana Mufti being hit or Dr. o not like it.

(مولانا صاحب! میں اس معاملہ کو متنازعہ سے بیٹھے ہیں۔ کسی کو اس معاملہ سے سیاسی فائدہ ا بات ہے۔ ہم یہاں بریلوی اور وہابی پر بحث کر صاحب کو ہٹ کرنے کے لئے اس پر گفتگو نہیں کرنی

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: ہے۔ رولنگ میں اب بات ختم ہوگئی ہے۔ بار بار عن This is not relevnt. Please

(مسٹر چیئرمین: یہ متعلقہ گفتگو نہیں

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی گزارش کر رہا تھا کہ میں یہ بات زیر بحث لانا چا تسلیم کر چکے ہیں اور ان کے تسلیم کرنے کے ب ریزولیوشن ڈرافٹ کرنا چاہئے جس میں احمدیوں کو رکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی صورت میں دیں۔ شکریہ!

جناب چیئرمین: راؤ خورشید علی ممبران میں ہیں۔ میں چیک نہیں کر رہا ہوں۔ اس

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٢

قیمت فی شمارہ 10/-

2454 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

یہ مسئلہ بہت ہی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ نہ صرف اس لئے کہ اس کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔ ہمارے ملک کی سلامتی سے ہے۔ بلکہ میں اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ اس ملک کی بقاء سے بھی اس کا تعلق ہے۔ اس کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ اگر ہم نے اس معاملے میں اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کی۔ تو نہ صرف یہ کہ اللہ میاں ہمیں معاف نہیں کریں گے۔ بلکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں بڑی سوجھ بوجھ کا ثبوت دینا چاہئے۔ پورے غورو خوض کے ساتھ، کسی ڈر اور لالچ کے بغیر، خدا کو حاضر ناظر جان کر خالصتاً اسلامی نقطہ نظر سے اور ملک کی سلامتی اور بقاء کے نقطہ نظر سے اس پر غور کرنا چاہئے۔ ورنہ مجھے ڈر ہے جناب چیئرمین! کہ آخرت کی بات 2717 میں تو شاید کچھ عرصہ لگے۔ گو اس کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ اگلے لمحے ہمارے ساتھ خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آجائے۔ ابھی میں پچھلے دنوں اپنے حلقہ نیابت کا مختصر سا دورہ لگا کر آیا ہوں۔ میری ان معروضات میں وہ اطلاع بھی شامل ہے۔ جو میں نے براہ راست اپنے حلقے میں ایک چھوٹا سا دورہ لگا کر حاصل کی ہے۔

جناب والا! اس سلسلے میں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان قادیانی حضرات اور لاہوری پارٹی نے ختم نبوت کے سلسلے میں جو رویہ اختیار کیا ہے اور ایک جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے امت کے اندر اتنی بڑی خلیج اور اتنا بڑا انتشار پیدا کر دیا ہے کہ اگر اس قسم کا انتشار پیدا نہ کیا جاتا تو بہت ممکن ہے کہ امت میں آج جو جو ایک انتشار نظر آتا ہے۔ اس میں بہت حد تک کمی ہوتی اور ساری دنیا کا مقابلہ ہم احسن طریقے پر کر سکتے تھے اور اس ملک کی جہاں تک بات ہے۔ یہ تو اب بحرانوں کی سرزمین بن کر رہ گیا ہے۔ پہلے ہی بحرانوں سے دوچار تھا۔ اب مزید یہ بحران پیدا کیا گیا ہے اور اس وقت Immediate cause (فوری محرک) جو ہے۔ وہ بھی ان فتنہ گروں کا پیدا کیا ہوا ہے۔ غضب خدا کا، ایک اتنی قلیل اقلیت اور اس کو یہ حوصلہ ہوا کہ اس نے ہمارے طلباء کے اوپر حملہ کیا۔ ظاہر بات ہے کہ اتنی قلیل اقلیت کو از خود یہ حوصلہ اور ہمت نہیں ہوسکتی۔ یہ کسی کی شہ پر کیا گیا ہے۔ یہ ملک کے خلاف سازش ہے اور جناب بھٹو نے میرے خیال میں یہ بات صحیح کہی کہ یہ بین الاقوامی سازش کا کوئی حصہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی بڑی اہمیت ہے اور ہمیں پورے غور و خوض کے ساتھ اس کا جائزہ لینا چاہئے۔

جناب والا! اس سلسلے میں اس کا تھوڑا سا پس منظر میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جس سے مجھے پورا یقین آیا اور باتوں کے علاوہ کہ یہ کیوں غلط کار لوگ ہیں اور ان کا نبوت کا دعویٰ کیوں جھوٹا

2455 NATIONAL ASSEM

، یہ کیوں غلط ہے؟ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں جب مغلوں کی وں نے قبضہ کیا تو اس وقت یہ جو ایک مرحلہ تھا۔ اس بات کا جائزہ لیا کہ مسلمانوں کی حکومت ختم تی ہے۔ اسلام چونکہ مکمل دین اور ہر چیز کا اس ر دیا گیا ہے کہ اگر ہم اس کو مضبوطی سے تھامے

تھے۔ سید احمد شہید بریلویؒ اور دیگر حضرات، تحریک کو اس قدر منظم کیا کہ بنگال سے لے کر ایا اور بنگال کے اور پٹنہ اور بہار کے لوگ جا کر ا، اور دوسرے علاقوں میں اور اس طریقے سے ور اس بات پر تھا کہ مسلمان محکوم نہیں ہوسکتا۔ دوچار ہو تو اسے جذبہ جہاد کے تحت تن، من، آزادمنش آدمی کی سی زندگی بسر کرنی چاہئے۔ مسلمان، مسلمان نہیں رہتا اور وہ اسلام کے

یک بڑا معمہ بن گیا۔ انگریز اپنی حکومت کو مستحکم میں کہوں گا، نہتے لوگ، جن کے پاس کوئی کے۔ بلکہ جو متمول لوگ تھے۔ وہ تاریخ میں مفاد پرست قسم کے علماء سے لے کر، مدینے تک ے علماء سوء سے انہوں نے فتوے لے لئے جہاد ت کے دوران امن قائم ہوگیا۔ اس 2719 کی جو تحریک چلانے والے لوگ ان فتوؤں سے کے پھندے میں آگئے اور انہوں نے ایک حد تک لے نچلے قسم کے لوگ جذبہ جہاد سے سرشار تھے۔ کی اور اس کو روپیہ فراہم کیا اور اس کو ٹوٹے

صفحہ ٢٤٥٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

دے سکے۔ ناصر احمد سب غلط ہے اور ناصر احمد نے سب پا جناب چیئرمین: مولانا صاحب! تشریف b, I do not want to make it a ting here as a special Committee. o make political profit out of it. We This is not relevant. بہتر فرقے ہیں وہ l Wahabi. We should not take the t Maulana Mufti being hit or Dr. rs do not like it.

(مولانا صاحب! میں اس معاملہ کو متنازعہ نہیں سے بیٹھے ہیں۔ کسی کو اس معاملہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے بات ہے۔ ہم یہاں بریلوی اور وہابی پر بحث کرنے کے صاحب کو ہٹ کرنے کے لئے اس پر گفتگو نہیں کرنی چاہئے

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: وہ ختم ہے۔ رولنگ میں اب بات ختم ہو گئی ہے۔ بار بار نہ دھرائی : This is not relevnt. Please

(مسٹر چیئرمین: یہ متعلقہ گفتگو نہیں ہے۔

سردار عنایت الرحمٰن خان عباسی: ج گزارش کر رہا تھا کہ میں یہ بات زیر بحث لانا چاہتا ہوں تسلیم کر چکے ہیں اور ان کے تسلیم کرنے کے بعد میں ریزولیوشن ڈرافٹ کرنا چاہئے جس میں احمدیوں کو چاہے رکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی صورت میں نبی آ دیں۔ شکریہ!

جناب چیئرمین: راؤ خورشید علی خان ممبران میں ہیں۔ میں چیک نہیں کر رہا ہوں۔ اب وقت

٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

راؤ خورشید علی خان: جناب چیئرمین صاحب! میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے باوجود کہ ٢ ممبران کی طرف سے جو جواب دیا گیا ہے......

Miangul Aurangzeb: On a point of order Sir. The honourable member has the ear-phones on. He cannot hear. He should take it off.

(میاں گل اورنگزیب: جناب عالی! پوائنٹ آف آرڈر۔ معزز ممبر نے اپنا ایئر فون آن کر دیا ہے۔ وہ نہیں سن سکتے۔ انہیں ایئر فون بند کر دینا چاہئے)

Rao Khurshid Ali Khan: All right.

(راؤ خورشید علی خان: بہت اچھا)

Mr.Chairman: The point of order is upheld. It is a valid Point of Order. You may take it off.

(مسٹر چیئرمین: پوائنٹ آف آرڈر درست ہے۔ آپ کو اسے بند کر دینا چاہئے)

Rao Khurshid: Yes. (راؤ خورشید: ٹھیک ہے)

2716 راؤ خورشید علی خان: بات یہ ہے کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ میں اپنی کہتا رہوں اور دوسروں کی نہ سنوں۔

جناب چیئرمین: ان کا یہ پوائنٹ ٹھیک ہے۔ آپ اپنی تقریر سن نہیں سکتے۔

(جناب راؤ خورشید علی خان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

راؤ خورشید علی خان: آپ جو حکم دیں گے وہ مجھے سنائی نہیں دے گا۔ بہر حال حکم حاکم مرگ مفاجات۔ بہر حال میں عرض کر رہا تھا اس مسئلہ پر جو قادیانی حضرات نے اور لاہوری پارٹی نے اور اس کے علاوہ ہمارے محترم علماء حضرات کی طرف سے مولانا ہزاروی کی طرف سے مولوی مفتی محمود کی طرف سے پیش کیا گیا۔ اس کو پورے غور سے سنا ہے۔ جو باتیں ہوئی ہیں ہم نے بڑے غور سے سنی ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ میں ہر روز بالکل وقت پر آتا رہا ہوں۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ میں نے مکمل ناغہ کوئی نہیں کیا۔ بعض دن تاخیر سے آتا رہا ہوں۔ لیکن میں نے ہر روز بلا ناغہ ایک ایک بات کو سنا اور پہلے سے جو معلومات ہیں۔ ان کی روشنی میں جو کچھ عرض کروں گا۔ وہ بھی اس میں شامل ہوں گی۔

٢١

صفحہ ٢٤٥٤

قیمت فی شمارہ 10/- روپے 2454 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17 یہ مسئلہ بہت ہی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ نہ صرف اس لئے کہ اس کا تعلق ہمارے دین سے ہے۔ ہمارے ملک کی سلامتی سے ہے۔ بلکہ میں اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ اس ملک کی بقاء سے بھی اس کا تعلق ہے۔ اس کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ اگر ہم نے اس معاملے میں اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کی۔ تو نہ صرف یہ کہ اللہ میاں ہمیں معاف نہیں کریں گے۔ بلکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں بڑی سوجھ بوجھ کا ثبوت دینا چاہئے۔ پورے غور و خوض کے ساتھ، کسی ڈر اور لالچ کے بغیر، خدا کو حاضر ناظر جان کر خالصتاً اسلامی نقطہ نظر سے اور ملک کی سلامتی اور بقاء کے نقطہ نظر سے اس پر غور کرنا چاہئے۔ ورنہ مجھے ڈر ہے جناب چیئرمین! کہ آخرت کی بات 2717 میں تو شاید کچھ عرصہ لگے۔ گو اس کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ اگلے لمحے ہمارے ساتھ خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آجائے۔ ابھی میں پچھلے دنوں اپنے حلقہ نیابت کا مختصر سا دورہ لگا کر آیا ہوں۔ میری ان معروضات میں وہ اطلاع بھی شامل ہے۔ جو میں نے براہ راست اپنے حلقے میں ایک چھوٹا سا دورہ لگا کر حاصل کی ہے۔

جناب والا! اس سلسلے میں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان قادیانی حضرات اور لاہوری پارٹی نے ختم نبوت کے سلسلے میں جو رویہ اختیار کیا ہے اور ایک جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے امت کے اندر اتنی بڑی خلیج اور اتنا بڑا انتشار پیدا کردیا ہے کہ اگر اس قسم کا انتشار پیدا نہ کیا جاتا تو بہت ممکن ہے کہ امت میں آج جو جو ایک انتشار نظر آتا ہے۔ اس میں بہت حد تک کمی ہوتی اور ساری دنیا کا مقابلہ ہم احسن طریقے پر کر سکتے تھے اور اس ملک کی جہاں تک بات ہے۔ یہ تو اب بحرانوں کی سرزمین بن کر رہ گیا ہے۔ پہلے ہی بحرانوں سے دوچار تھا۔ اب مزید یہ بحران پیدا کیا گیا ہے اور اس وقت Immediate cause (فوری مسئلہ) جو ہے۔ وہ بھی ان فتنہ گروں کا پیدا کیا ہوا ہے۔ غضب خدا کا، ایک اتنی قلیل اقلیت اور اس کو یہ حوصلہ ہوا کہ اس نے ہمارے طلباء کے اوپر حملہ کیا۔ ظاہر بات ہے کہ اتنی قلیل اقلیت کو از خود یہ حوصلہ اور ہمت نہیں ہوسکتی۔ یہ کسی کی شہ پر کیا گیا ہے۔ یہ ملک کے خلاف سازش ہے اور جناب بھٹو نے میرے خیال میں یہ بات صحیح کہی کہ یہ بین الاقوامی سازش کا کوئی حصہ معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی بڑی اہمیت ہے اور ہمیں پورے غور وخوض کے ساتھ اس کا جائزہ لینا چاہئے۔

جناب والا! اس سلسلے میں اس کا تھوڑا سا پس منظر میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جس سے مجھے پورا یقین آیا اور باتوں کے علاوہ کہ یہ کیوں غلط کارلوگ ہیں اور ان کا نبوت کا دعویٰ کیوں جھوٹا

٢٢

2455 NATIONAL ASS یوں غلط ہے؟ برصغیر پاک و ہند میں جب مغلوں کی نے قبضہ کیا تو اس وقت یہ جو ایک مرحلہ تھا۔ بات کا جائزہ لیا کہ مسلمانوں کی حکومت ختم ہے۔ اسلام چونکہ مکمل دین اور ہر چیز کا اس گیا ہے کہ اگر ہم اس کو مضبوطی سے تھامے

سید احمد شہید بریلویؒ اور دیگر حضرات، یک کو اس قدر منظم کیا کہ بنگال سے لے کر ر بنگال کے اور پٹنہ اور بہار کے لوگ جاکر ردوسرے علاقوں میں اور اس طریقے سے ں بات پر تھا کہ مسلمان محکوم نہیں ہو سکتا۔ یار ہو تو اسے جذبہ جہاد کے تحت تن، من، عش آدمی کی سی زندگی بسر کرنی چاہئے۔ مان، مسلمان نہیں رہتا اور وہ اسلام کے

واقعہ بن گیا۔ انگریز اپنی حکومت کو مستحکم کہوں گا، نہتے لوگ، جن کے پاس کوئی ۔ بلکہ جو متمول لوگ تھے۔ وہ تاریخ میں پرست قسم کے علماء سے مکے، مدینے تک سوئے سے انہوں نے فتوے لے لئے جہاد کے دوران امن قائم ہو گیا۔ اس 2719 کی ریک چلانے والے لوگ ان فتوؤں سے رے میں آگئے اور انہوں نے ایک حد تک تم کے لوگ جذبہ جہاد سے سرشار تھے۔ اور اس کو روپیہ فراہم کیا اور اس کو ٹوٹے

صفحہ ٢٤٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ہے اور ختم نبوت کے انہوں نے جو معنی پہنائے ہیں، یہ کیوں غلط ہے؟ 2718 جناب چیئرمین! آپ کو معلوم ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں جب مغلوں کی حکومت ختم ہوئی۔ اس میں جب زوال آیا۔ انگریزوں نے قبضہ کیا تو اس وقت یہ جو ایک مرحلہ تھا۔ یہ ایک نازک مرحلہ تھا۔ جو علماء حق ہیں۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی ہے۔ ایک کافروں کی حکومت برسر اقتدار آ گئی ہے۔ اسلام چونکہ مکمل دین اور ہر چیز کا اس میں انتظام ہے اور اس میں جذبہ جہاد پر اتنا بڑا زور دیا گیا ہے کہ اگر ہم اس کو مضبوطی سے تھامے رکھیں تو مسلمان غلام نہیں ہو سکتا۔

اس وقت اس تحریک کے جو بانی مبانی تھے۔ سید احمد شہید بریلویؒ اور دیگر حضرات، جنہوں نے اس تحریک کی رہنمائی کی۔ انہوں نے اس تحریک کو اس قدر منظم کیا کہ بنگال سے لے کر سرحد تک اور باقی قبائلی علاقے تک اس تحریک کو چلایا اور بنگال کے اور پٹنہ اور بہار کے لوگ جا کر وہاں لڑے ہیں۔ یہاں سکھوں کے ساتھ پشاور میں، اور دوسرے علاقوں میں اور اس طریقے سے انہوں نے اس تحریک کی آبیاری کی ہے۔ تمام تر زور اس بات پر تھا کہ مسلمان محکوم نہیں ہو سکتا۔ مسلمان غلام نہیں ہو سکتا، اور اگر مسلمان غلامی سے دوچار ہو تو اسے جذبہ جہاد کے تحت تن، من، دھن سب کچھ قربان کر دینا چاہئے اور اس کو ایک آزاد منش آدمی کی سی زندگی بسر کرنی چاہئے۔ غلامی اس کے لئے لعنت ہے۔ غلام کی حیثیت میں مسلمان، مسلمان نہیں رہتا اور وہ اسلام کے فرائض کو پورا نہیں کر سکتا۔

یہ اتنا بڑا مسئلہ تھا کہ انگریز کے لئے یہ ایک بڑا معمہ بن گیا۔ انگریز اپنی حکومت کو مستحکم کرنا چاہتا تھا۔ لیکن دوسری طرف اس قسم کے، میں کہوں گا، نہتے لوگ، جن کے پاس کوئی جائیدادیں نہ تھیں۔ کوئی ذرائع نہ تھے، مخصوص قسم کے۔ بلکہ جو متمول لوگ تھے۔ وہ تاریخ میں آیا ہے کہ ان کے لئے باطل پرست، خود پرست، مفاد پرست قسم کے علماء سے مکے، مدینے تک سے فتوے منگوائے گئے۔ یہاں سے بھی غلط قسم کے علماء سوء سے انہوں نے فتوے لے لئے جہاد کے خلاف، اور اس بات کے حق میں کہ اس حکومت کے دوران امن قائم ہو گیا۔ اس 2719 کی اطاعت میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود تحریک چلانے والے لوگ ان فتوؤں سے متاثر نہ ہوئے۔ لیکن کچھ متمول لوگ ان غلط فتاویٰ کے نرغے میں آ گئے اور انہوں نے ایک حد تک انگریزی حکومت کو قبول کر لیا۔ لیکن عام لوگ، بھوکے ننگے قسم کے لوگ جذبہ جہاد سے سرشار تھے۔ انہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر اس تحریک کی آبیاری کی اور اس کو روپیہ فراہم کیا اور اس کو ٹوٹنے

٢٣

PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

یہ مسئلہ بہت ہی بڑی اہمیت سے ہے۔ ہمارے ملک کی سلامتی سے ۔ سے بھی اس کا تعلق ہے۔ اس کی بہت ب ادائیگی میں کوتاہی کی۔ تو نہ صرف یہ کہ اللہ نسلیں بھی ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ خوض کے ساتھ، کسی ڈر اور لالچ کے بغی ملک کی سلامتی اور بقاء کے نقطہ نظر سے اس آخرت کی بات 2717 میں تو شاید کچھ عر ساتھ خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آ جائے کر آیا ہوں۔ میری ان معروضات میں حلقے میں ایک چھوٹا سا دورہ لگا کر حاصل

جناب والا! اس سلسلے میں لاہوری پارٹی نے ختم نبوت کے سلسلے ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کو معاف اتنا بڑا انتشار پیدا کر دیا ہے کہ اگر اس ف جو جو ایک انتشار نظر آتا ہے۔ اس میں طریقے پر کر سکتے تھے اور اس ملک کی با گیا ہے۔ پہلے ہی بحرانوں سے دو چ Immediate cause (فوری م خدا کا، ایک اتنی قلیل اقلیت اور اس کو ا بات ہے کہ اتنی قلیل اقلیت کو از خود یہ ج کے خلاف سازش ہے اور جناب بھٹ سازش کا کوئی حصہ معلوم ہوتی ہے۔ اس ساتھ اس کا جائزہ لینا چاہئے۔

جناب والا! اس سلسلے میں مجھے پورا یقین آیا اور باتوں کے علاوہ آ

قیمت فی صد -/10 روپے

صفحہ ٢٤٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

قیمت فی شمارہ -/10 رو

چھوٹے ہتھیار فراہم کئے اور اس طریقے سے انگریز کا ناطقہ بند کر دیا۔

میں مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مرحلہ وہ تھا کہ جس وقت انگریز کو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ کوئی ایسا شخص ہاتھ لگے کہ جو یہ جہاد والی بات کو منسوخ قرار دے دے۔ کیونکہ اس نے ہمارا ناطقہ بند کر دیا ہے اور یہ ہماری حکومت کے اندر استحکام پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اس وقت ایسی شخصیت کی ضرورت پڑی کہ جو اس جہاد کو حرام قرار دے دے اور جہاد جب حرام قرار دے دے تو بس، مسلمان پھر عیاشی کے اندر پڑ جائے گا۔ وہ نہ اسلام کے لئے لڑے گا اور نہ ملک وملت کے لئے قربانی دے گا۔ پھر کوئی کافر، بے دین جو بھی چاہے اگر اس پر حکمرانی کرے۔ جائیدادیں دے۔ بس وہ حکمرانی کرتا رہے۔ تو گویا یہ شکل جب پیدا ہوئی تو اس وقت پھر مرزا قادیان پر ان کی نظر پڑی۔

ہنٹر بڑی مشہور شخصیت سول سروس کی ہے۔ سب حضرات کو علم ہے اس نے ایک کتاب لکھی ہے ”انڈین مسلمان“ اس کے اندر ان تمام چیزوں کی تفاصیل آئی ہیں۔ اس نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہوئی تو ہنٹر صاحب نے خود اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ جو ہم نے علماء سے فیصلے لئے تھے، یہ سب ناکام ہو گئے۔ شاہ ولی اللہ صاحب یا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، جنہوں نے اس جہاد میں حصہ لیا اور اس طرح سے تحریک کو آگے بڑھایا، تو ان کو ہنٹر صاحب نے خود ”نبی“ کے لفظ سے یاد کیا 2720 ہے تاکہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے کہ بڑا قسم کا عالم جو ہے وہ نبی بھی بن سکتا ہے۔ اس طریقے سے مرزا قادیان نے رفتہ رفتہ جس کی تمام تفاصیل آپ کے سامنے آچکی ہے۔ اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے چھوٹی اسٹیج سے آخر نبوت کا اس نے دعویٰ کر دیا اور سب سے بڑی دو باتیں اس نے کیں۔ ایک جہاد کی منسوخی اور ایک یہ آیت کہ ”اولی الامر منکم“ اس کی غلط تعبیر کہ اطاعت کرو خدا کی اور رسول ﷺ کی اور ”اولی الامر منکم“ کی، جو تم میں سے ہو۔ تو یہ قادیانی لوگ جو تحریف کے استاد ہیں۔ (جیسا کہ مولانا ہزاروی صاحب نے بھی اس کا ثبوت بہم پہنچایا ہے) تو وہ ”منکم“ کو تو ہڑپ کر گئے اور اس آیت کے غلط معنی کئے کہ بس جو بھی حاکم ہو، چاہے کافر ہو، اس کی اطاعت کرو۔

ان دو چیزوں پر انہوں نے سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ اب اس معاملے کے اندر ظاہر بات ہے کہ مسلمان کے پاس ایک ایسی کتاب ہے قرآن کریم کی شکل میں کہ اس میں کوئی تحریف نہیں کر سکتا۔ جو تحریف کرتا ہے وہ پکڑا جاتا ہے۔ مارا جاتا ہے اور قرآن کریم قیامت تک

٢٤

صفحہ ٢٤٥٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کے لئے محفوظ ہے اور اللہ میاں نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ اس کی موجودگی میں اور احادیث صحیحہ کی موجودگی میں مسلمانوں کو اس بات کا قائل نہیں کیا جا سکتا کہ جہاد منسوخ ہو سکتا ہے یا وہ ”اولی الامر منکم“ میں سے ”منکم“ کو نکال کر ہر کافر اور بے دین حکومت کے وہ غلام رہ سکتے ہیں۔

اس کے بعد جناب والا! اب آخری بات یہ کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے جو معروضات پیش کی ہیں۔ ان سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ سامراج کی خدمت کے لئے سامراج نے یہ پودا خود کاشت کیا تا کہ امت مسلمہ میں تفریق پیدا کی جائے اور امت مسلمہ کے اتحاد اور اتفاق کو ختم کیا جائے۔ اسلام کی یکجہتی کو ضرب کاری لگائی جائے۔

اب آخر میں جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے کوئی تجویز پیش کرنی چاہئے تو تجویز جناب! یہ ہے کہ جب تک ان قادیانیوں کے دونوں گروہ، 2721 ربوہ والے اور لاہور والے، ان کو غیر مسلم اقلیت اگر قرار نہ دیا گیا تو مسئلہ حل نہ ہوگا۔ بلکہ خدانخواستہ، خدا نخواستہ، خدانخواستہ اس ملک کے اندر ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے کہ اس کو قابو میں لانا بڑا مشکل ہو جائے گا۔ ہم پہلے ہی بہت سے بحرانوں سے دوچار ہیں اور اب ہمیں کسی نئے بحران کو دعوت نہیں دینی چاہئے ورنہ ہم خود پھر اپنے ساتھ دشمنی کریں گے۔ اس میں مذہبی طور پر تو جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ جو امت کا اتحاد ہے۔ وہ قائم رہے گا ۔ تفریق و انتشار ختم ہو جائے گا اور سیاسی طور پر ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے اب یہ قادیانی مسلمانوں کے نام پر جو کلیدی اسامیوں پر قابض ہیں اور جو قبضہ جمائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان سے ان کو ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ ان سے یہ محروم ہوں گے اور اب یہ جو اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہے ہیں اور اس ملک کی سلامتی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ان کو خدانخواستہ توڑنا چاہتے ہیں۔ تو پھر وہاں قادیان کو لوٹنا چاہتے ہیں تو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے یہ دونوں مقاصد حل ہو سکتے ہیں اور یہی میری تجویز ہے اور میں یہ التجا کرتا ہوں تمام ہاؤس سے جناب چیئرمین! آپ کے ذریعے کہ ان کو ضرور غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اسی میں ملک وملت کا فائدہ ہے۔ پاکستان کا فائدہ ہے۔ تمام امت مسلمہ کا فائدہ ہے اور ہم ایک مزید بحران سے بچ جائیں گے۔

جناب چیئرمین: ڈاکٹر محمود عباس بخاری۔

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونستعینہ وصلی اللہ علی اشرف الانبیاء و خاتم النبیین

٢٥

PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

چھوٹے ہتھیار فراہم کئے اور اس طریقے میں مزید تفصیل میں نہیں جا کہ جس وقت انگریز کو اس بات کی ضرو بات کو منسوخ قرار دے دے۔ کیونکہ ا استحکام پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اس وقت دے دے اور جہاد جب حرام قرار دے اسلام کے لئے لڑے گا اور نہ ملک وط چاہے اگر اس پر حکمرانی کرے۔ جائید پیدا ہوئی تو اس وقت پھر مرزا قادیان م ہنٹر بڑی مشہور شخصیت ر کتاب لکھی ہے ”انڈین مسلمان“ ا اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جہ کیا کہ یہ جو ہم نے علماء سے فیصلے ا عبدالعزیز محدث دہلوی، جنہوں ن بڑھایا، تو ان کو ہنٹر صاحب نے خود ” کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے سے مرزا قادیان نے رفتہ رفتہ جس کی ضرورت نہیں ہے چھوٹی اسٹیج سے آت اس نے کہیں۔ ایک جہاد کی منسوخی اور اطاعت کرو خدا کی اور رسول ﷺ کی قادیانی لوگ جو تحریف کے استاد ہیں پہنچایا ہے ) تو وہ ”منکم“ کو تو ہڑپ ک چاہے کافر ہو، اس کی اطاعت کرو۔

ان دو چیزوں پر انہوں ظاہر بات ہے کہ مسلمان کے پاس ا تحریف نہیں کر سکتا۔ جو تحریف کرتا ہ

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

صفحہ ٢٤٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ابوالقاسم محمد وآلہ الطاہرین و اصحابہ المخلصین۔ جناب سپیکر! آج کا عنوان بڑا ہی نازک عنوان ہے اور میں پوری کوشش کروں گا کہ کہیں پر بھی اپنی حدود سے تجاوز نہ کروں۔ لیکن دل خون ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ضرب کاری لگانے والوں نے اور جنون کا تیشہ چلانے والوں نے جو گل چنا ہے، جس درخت پر یہ......

2722 Mr.Chairman: I would request the honourable speaker that, instead of words it should be matter, because we are concerned with the matter, the substance.

(جناب چیئرمین: میری معزز مقرر سے گزارش ہے کہ الفاظ کے بجائے مواد پیش کریں۔ اس لئے کہ ہمیں مواد کو مدنظر رکھنا ہے) یہ جو الفاظ ہیں ناں خوبصورت الفاظ، یہ کل بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ پرسوں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ Today it should be matter آج صرف مواد ہونا چاہئے۔

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: سر! میں آ رہا ہوں۔ گندے الفاظ کہاں سے لاؤں؟ میرے الفاظ تو شاید آپ کو پسند نہیں۔ لیکن کیا کروں زبان کی خامی سمجھ لیجئے میری۔

Mr.Chairman: Everybody can understand. (جناب چیئرمین: ہر شخص سمجھ سکتا ہے)

Dr. S. Mahmood Abbas Bokhari: May I be permitted to continue? (ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: میں اپنی بات جاری رکھ سکتا ہوں؟)

Mr.Chairman: You are permitted to continue. Come with proposals. (جناب چیئرمین: آپ کو اپنی بات جاری رکھنے کی اجازت ہے۔ تجاویز پیش کریں)

[At this stage Mr.Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf khatoon Abbasi)]

(اس مرحلہ پر جناب چیئرمین نے کرسی چھوڑ دی۔ جسے ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے سنبھال لیا)

Dr. S. Mahmood Abbas Bokhari: Madam

٢٦

صفحہ ٢٤٥٩

قیمت فی شمارہ -/10 روپے

[ OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ابوالقاسم محمد و آلہ الطاہرین و اصح جناب سپیکر! آج کا عنوان بڑا ہی کہیں پر بھی اپنی حدود سے تجاوز نہ کروں۔ ت کاری لگانے والوں نے اور جنون کا تیشہ چلا۔

ould request the honourable t should be matter, because r, the substance.

(جناب چیئرمین: میری معزز کریں۔ اس لئے کہ ہمیں مواد کو مد نظر رکھنا ۔ استعمال ہو سکتے ہیں۔ پرسوں بھی استعمال matter آج صرف مواد ہونا چاہئے۔

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: لاؤں؟ میرے الفاظ تو شاید آپ کو پسند نہیں۔

ody can understand.

(جناب چیئرمین: ہر شخص سمجھ

bas Bokhari: May I be

(ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری:

are permitted to continue.

(جناب چیئرمین: آپ کو اپنی

an vacated the Chair which f khatoo Abbasi)]

(اس مرحلہ پر جناب چیئرمین ۔ نے سنبھال لیا)

s Bokhari: Madam

2459 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

Deputy Speaker, with your permission.

(ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: محترمہ ڈپٹی سپیکر صاحبہ! آپ کی اجازت سے)

Madam Acting Chairman: Yes, you can continue.

(محترمہ قائم مقام چیئرمین صاحبہ: ہاں، آپ جاری رکھ سکتے ہیں)

(ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: تو میں عرض یہ کر رہا تھا کہ تیشہ چلانے والوں نے، کلہاڑی چلانے والوں نے جس چیز پر کلہاڑی چلائی، جس چیز پر اپنی منافقت کا تیشہ چلایا۔ وہ بذات خود ذات رسول ﷺ تھا۔ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اے میرے محبوب! اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو یہ کائنات پیدا نہ کرتا۔“ جس دریدہ دہنی سے اور جس ڈھٹائی سے ناموس رسالت ﷺ پر حملے کئے گئے ہیں۔ میڈم سپیکر! میں تھوڑی سی 2723 اجمالاً اس پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے شاید میرا نقطہ نظر غلط ہو۔ جس پہلو سے آئینہ قرآنی اور معرفت ربانی میں جس پہلو سے اس کو نمایاں کرنا چاہئے تھا، شاید ابھی تک اسمبلی کی بحث میں مقام رسالت ﷺ کو اور ناموس رسالت ﷺ کو نمایاں نہیں کیا گیا۔ جب تک یہ بتایا نہ جائے کہ مقام ختم المرسلین ﷺ کیا ہے۔ مقام نبوت کیا ہے۔ مقام رسالت کیا ہے۔ جناب سپیکر! یہ ناممکن ہے کہ تعین کیا جاسکے کہ جھوٹا نبی کیا ہے اور اس کا مقام کیا ہے؟

مولانا غلام غوث ہزاروی: پوائنٹ آف آرڈر۔ جناب والا! یہ محترم عباسی صاحب بڑی اچھی تقریر فرما رہے ہیں۔ لیکن اس ایک جملے میں انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں ہے کہ ”اے پیغمبر! تم کو میں پیدا نہ کرتا تو میں یہ ساری کائنات پیدا نہ کرتا۔“ یہ قرآن میں نہیں۔ ”لولاك لما خلقت الافلاك“ روایت میں بھی ضعیف ہے۔ لیکن مفہوم صحیح ہے۔ قرآن میں نہیں ہے۔ یہ میں نے اس لئے عرض کر دی کہ کوئی اعتراض نہ کرے۔

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری:

قلندر جز دو حرف لا الہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہ شہر قارون ہے لغت ہائے حجازی کا
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گوہر سے

٢٧

صفحہ ٢٤٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جناب سپیکر! میں آگے بڑھتا ہوں۔ اس پوائنٹ آف آرڈر کی دلدل سے نکل کر۔

محترمہ قائم مقام چیئرمین: لیکن انہوں نے تو آپ کی تصحیح کی ہے۔ وہ تو آپ مان لیں ناں۔

ڈاکٹر ایس محمود عباسی بخاری: اچھا جی، میں آگے بڑھتا ہوں۔ تو بات مقام رسالت ﷺ کی میں کر رہا تھا۔ میرا یہ مقام نہیں کہ میں مقام رسالت ﷺ کا تعین کروں۔ نہ میرے پاس اتنا علم ہے۔

نہ میں عارف، نہ مجدد، نہ محدث، نہ فقیہ ہوں
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام

2724 لیکن اپنی ادنیٰ سمجھ سے جو آیات قرآنی کے آئینے میں جناب سپیکر! میں نے مقام رسالت ﷺ دیکھا ہے۔ میں اس ایوان میں وہ پیش کروں گا۔ ضمناً یہ عرض کردوں کہ انگریز کا یہ خود کاشتہ پودا مسلمانوں کی میراث پر ضرب کاری لگانا چاہتا تھا، دو جہت سے۔ ایک جہت تھی جہاد، جسے قرآن میں قتال کا نام دیا گیا ہے اور جس سے انگریز بہادر ہمیشہ خائف رہا اور دوسری جہت تھی حب رسول ﷺ۔ انگریز جانتا تھا کہ حب رسول ﷺ ایک ایسا پیمانہ ہے، ایک ایسا مرکز ہے، ایک ایسا مرکز ثقل ہے کہ اگر یہ مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے تو مسلمان ہمیشہ ایک مضبوط اور قائم امت کی صورت میں اس صفحہ ہستی پر برقرار رہیں گے۔ اس نے چاہا کہ اپنی اس مملکت کی حفاظت کے لئے جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ مشرق سے مغرب تک تھی۔ انگریز کا یہ ارادہ ہوا۔ اس نے یہ پالیسی بنائی اور اس وقت کی جو Condition (صورت حال) تھی، جو حالات تھے۔ اس وقت جو سیاسی حالات تھے۔ ان کے مطابق انگریز نے اپنی سوچ میں صحیح سوچا۔

اس کے علاوہ جناب سپیکر! ایک اور بات آئی۔ مہدی سوڈانی، حضور مقبول ﷺ کا نام لے کر اٹھے اور انہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کیا۔ اسی صدی میں چودھویں صدی کے آخر میں انگریز کو خدشہ لاحق ہو گیا کہ سواد اعظم کا عقیدہ یہ ہے کہ مہدی موعود آئیں گے۔ لہٰذا شاید اصلی مہدی بھی آجائے۔ اس نے پیش گوئی کے طور پر اپنا ایک نقلی مہدی تیار کیا۔ جیسا کہ میں ابھی اپنی بحث سے ثابت کروں گا کہ یہ مہدی کیونکر نقلی تھا۔ جس طریقے سے شان رسالت مآب ﷺ پر ان لوگوں نے حملے کئے ہیں۔ وہ ناقابل برداشت ہیں۔ کوئی بھی مسلمان جس میں حمیت ہے۔ جس میں غیرت ہے۔ جس میں اخلاص ہے۔ جس کے لہو کا ایک بھی جائز قطرہ باقی ہے۔ وہ ان کے اس لاف و گزاف کو برداشت نہیں کر سکتا۔

٢٨

قیمت فی شمارہ-/10 روپے

صفحہ ٢٤٦١

2461 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

2725خیال زاغ کو بلبل سے برتری کا ہے
غلام زادے کو دعویٰ پیمبری کا ہے
بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

ان جعلی نبیوں نے کیا فرمایا ہے؟ اور یہ فرمانے سے پہلے یہ اپنے مقام کو بھی جانتے تھے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ ہمارا سیاق و سباق کیا ہے۔ لہٰذا فلسفہ یہ تراشا گیا کہ شان رسالت کو گھٹایا جائے تاکہ جعلی نبوت کی شان جو ہے وہ بڑھ جائے۔ حتیٰ کہ یہ برابر آ جائے، معجزات سے ارتقاء کریں۔ شان عیسیٰ علیہ السلام کو کم کیا گیا۔ یہاں تک کہ افتراء پردازوں نے ان پر افتراء پردازی کی۔ نعوذ باللہ زبان اس کی اجازت نہیں دیتی کہ ان کی نانیاں اور دادیاں ایسی تھیں اور ایسا بھی یہ کیوں کیا گیا؟ جناب عیسیٰ علیہ السلام کو کیوں مجہول النسب ثابت کرنے کی کوشش کی گئی؟

جناب سپیکر! قرآن کریم اللہ کا ایک قانون ہے جو یونیورسل لاء ہے۔ جو کہ آفاقی اور ابدی قانون ہے۔ ازلی قانون ہے۔ جس کو کبھی موت نہیں آ سکتی۔ وہ قانون ہے کہ نبی کبھی مجہول النسب نہیں ہوتا۔ نبی کا جو سلسلہ نسب ہے وہ ہمیشہ واضح ہوتا ہے اور دنیا میں جو بھی نسلیں انسان کی بستی ہیں۔ نبی ان میں ارفع ترین خون، ارفع ترین روایت، پاکیزہ ترین خون، پاکیزہ ترین خاندان کا فرد ہوتا ہے تو اسے یہ انعام ملتا ہے۔ اسے اس قابل سمجھا جاتا ہے۔ سلسلہ نسب کی بلندی۔ جناب سپیکر! یہ بھی دلیل ہے اور یہ بھی ایک انعام ہے۔ مجہول النسب لوگوں پر یہ انعام آ ہی نہیں سکتا۔

جیسا کہ میں ابھی قرآن کریم کی آیت سے ثابت کروں گا۔ ان لوگوں نے اپنے جعلی نبی کو سہارا دینے کے لئے تیشہ چلایا۔ وہ نسب پر چلا۔ اس لئے کہ ان کے پاس اپنا نسب نہیں تھا۔ دیکھئے براہین احمدیہ (کتاب البریہ حاشیہ ص ١٤٥، خزائن ج ١٣ ص ١٦٣، اربعین نمبر ٢ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٥) میں لکھتے ہیں: ”مجھے الہام ہوا ہے کہ میں پارسی الحسب ہوں ۔“ یعنی ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ پارسی الحسب ہیں یا نہیں؟ حتیٰ کہ پارسی سے اپنے 2726خون کا رشتہ جوڑنے کے لئے انہوں نے الہام کا سہارا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ چنگیز نسل تھی۔ یہ تاتار کی نسل تھی۔ یہ صحرائے گوبی کے لوٹ مار کرنے والوں کی نسل تھی۔ یہ آوارہ ترکوں کی نسل تھی۔ یہ بالکل نہ پارسی النسب تھے، نہ یہ عربی النسل تھے۔ یہ جانتے تھے کہ میں خاندان سادات میں سے نہیں ہوں۔ میں خون بنو فاطمہ نہیں ہوں۔ اس لئے انہوں نے بڑے الہامات کا سہارا لیا۔

٢٩

Y OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جناب سپیکر ! میں آگے بڑھتا ہوں :

محترمہ قائم مقام چیئرمین: لیکن لیں ناں۔

ڈاکٹر ایس محمود عباسی بخاری: رسالت ﷺ کی میں کر رہا تھا۔ میرا یہ مقام نہ میرے پاس اتنا علم ہے۔

نہ میں عارف، نہ مجھ
مجھ کو معلوم نہیں آ

2724لیکن اپنی ادنیٰ سمجھ سے جو آیا س رسالت ﷺ دیکھا ہے۔ میں اس ایوان میں وہ کاشتہ پودا مسلمانوں کی میراث پر ضرب کاری جسے قرآن میں قتال کا نام دیا گیا ہے اور جس نے حب رسول ﷺ ۔ انگریز جانتا تھا کہ حب رسول ایسا مرکز ثقل ہے کہ اگر یہ مسلمانوں کے ہاتھ میں کی صورت میں اس صفحہ ہستی پر برقرار رہیں گے لئے جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ مشرق نے یہ پالیسی بنائی اور اس وقت کی جو lition اس وقت جو سیاسی حالات تھے۔ ان کے مطابق آ اس کے علاوہ جناب سپیکر ! ایک اور نے کر اٹھے اور انہوں نے انگریز کے خلاف جہاد انگریز کو خدشہ لاحق ہو گیا کہ سواد اعظم کا عقیدہ مہدی بھی آ جائے۔ اس نے پیش گوئی کے طور پر بحث سے ثابت کروں گا کہ یہ مہدی کیونکر نقلی تھا لوگوں نے حملے کئے ہیں۔ وہ ناقابل برداشت میں غیرت ہے۔ جس میں اخلاص کے ایک لہو کا وگزاف کو برداشت نہیں کر سکتا۔

صفحہ ٢٤٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اب ذرا ان کے خرافات سنئے جن پر میں اپنی تمام بحث کا دارومدار کر رہا ہوں۔ فرماتے ہیں کہ ”حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ کیونکہ اس زمانے میں بہت ترقی ہوئی اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر تھی۔“ اس کے بعد فرماتے ہیں ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ حضور پاک ﷺ سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔“ یہ ہے (ڈائری خلیفہ قادیان، الفضل ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء) اور اس کے بعد فرماتے ہیں ”ظلی نبوت کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑا کیا۔“ بلکہ بعض حسنات میں اور بھی آگے بڑھا دیا۔

(کلمۃ الفصل ص ١١٣، مصنف بشیر احمد ایم ۔ اے)

جناب سپیکر ! میں اس بحث میں نہیں پڑوں گا کہ بروزی نبی کیا ہے اور ظلی نبی کیا ہے اور اس کا سایہ کیا چیز ہے؟ میں تو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے اپنی نبوت کا دارومدار تمام تر اس بات پر رکھا کہ ہر انسان ، ہر خاطی اور ہر ناقص اور ہر مجہول العقل انسان جب چاہے، جس وقت چاہے، اپنے زہد، اپنے علم، جو کہ بڑا محدود ہے، اس کی بناء پر ترقی کر سکتا ہے۔ ترقی کرتا کرتا مجدد بن سکتا ہے۔ محدث بن سکتا ہے۔ مولوی تو خیر ہر کوئی بن سکتا ہے۔ وہ محدث جو حدیث نہیں بلکہ کلمات الہیہ سے سرفراز ہوتا ہے، وہ بھی بن سکتا ہے۔ قطب بن سکتا ہے، غوث بن سکتا ہے، ابدال بن سکتا ہے۔ یہ خود ان کی اپنی 2727 کوشش تھی۔ ٹھیک۔

جناب ! اس کے بعد فرماتے ہیں ”بڑھتے بڑھتے ترقی کرتے کرتے وہ انبیاء علیہم السلام میں قدم بھی رکھ سکتا ہے۔ مسیح موعود بھی بن سکتا ہے اور اس کے بعد آگے بڑھ کر وہ انبیاء سے آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ شان رسالت ﷺ خاتم النبیین سے دو چار، دس قدم بہت آگے جا سکتا ہے۔ حضور والا! قرآن کی رو سے یہ ایک فاتر العقل انسان کا عقیدہ ہے۔ قرآن اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس لئے قرآن کریم میں ایک آیت ہے جس کا میں ترجمہ کروں گا اور مولانا ہزاروی صاحب مجھے معافی دیں گے اگر کہیں میں لغزش کر جاؤں۔ میں مفہوم بتاتا ہوں کہ ہم نے میثاق ازل لیا انبیاء کی ارواح سے اور اے پیغمبر ﷺ ! ہم نے آپ ﷺ کو ان پر شاہد مقرر کیا، ان پر گواہ مقرر کیا۔ اس کے لئے جو قرآن میں الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وہ میثاق غلیظ ہے۔ ہم نے بڑا زبردست عہد لیا۔

حضور مرزا صاحب! آپ کی روح پرفتن سے پوری معافی مانگتے ہوئے یہ کہوں گا کہ آپ اس میثاق میں شریک تھے۔ کیا خداوند کریم کے عہد ایسے ہوتے ہیں کہ مجہول ہو جاتا ہے؟

٣٠

صفحہ ٢٤٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

وعدہ لیا خداوند کریم نے وعدہ لینے والا ۔ جناب اسپیکر! خداوند کریم کو وعدہ دینے والی ارواح مقدسہ سے پیمان ازل ہوا جب مخلوقات کی بھی پیدائش نہ ہوئی۔ ابھی آدم آب وطین کی کیفیت میں ہے۔ مٹی اور پانی کی کیفیت میں ہے۔ اس وقت وعدہ لیا جارہا ہے۔ کون لے رہا ہے قسام ازل، معیشت کو پیدا کرنے والا پروردگار، سبوح وقدوس، خدائے حمید و لایزال، معیشت کو پیدا کرنے والا، وہ دینے والا، روحیں گواہ حضور رسالت مآب ﷺ۔ یہ مجہول کہاں سے ٹپک پڑے؟ کہ جن کو چالیس، پینتالیس اور پچاس برس تک یہ بھی خبر نہیں کہ ان کا مقام کیا ہے۔ یہ مقام انسانیت میں بھی ہیں یا نہیں۔ ان کو یہ بھی خبر نہیں تھی۔ کہاں تھے یہ میثاق کے وقت یا کہہ دیجئے کہ قرآن غلط؟ کہہ دیجئے یہ لوگ مفتری۔ ہم آگے بڑھتے ہیں کہ انبیاء کے تعین میں اور انبیاء کی بعثت میں اللہ کریم کا طریقہ کیا ہے اور بالکل یہ بھی قرآن کا فرمان ہے کہ اللہ کریم اپنی سنت کو تبدیل نہیں 2728 کرتا۔ جناب سپیکر! اللہ کریم کی سنت میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس لئے ”ان الله لا يخلف المیعاد “ اللہ اپنے وعدوں کی کبھی مخالفت نہیں کرتا۔ خلاف وعدہ کبھی نہیں کرتے۔ آئیے ! ہم کتاب ربانی اور اس کے آئینہ کمالات میں اسی کا جائزہ لیں۔ سورہ مریم میں ہم دیکھیں کیسے پیغمبر آتے ہیں۔ پیغمبروں کا ذہن کیا ہوتا ہے۔ پیغمبروں کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ پیغمبر دعا کیسے مانگتے ہیں۔ پیغمبروں کے وعدے کیسے ہوتے ہیں۔ پیغمبر مبعوث کیسے ہوتے ہیں۔ کیوں نہیں ہم قرآن کو دیکھتے ہیں۔ کتاب موجود ہے۔ سنئے سورہ مریم۔ میں صرف ترجمہ پڑھوں گا۔ ” جناب زکریا نے دعا مانگی کہ پروردگار! مجھے اپنے پاس سے وارث دے جو میرا بھی وارث بنے اور اولاد یعقوب کا وارث بنے۔“ جناب محترم! یہ ہے پیغمبر مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں۔ آنے والی نسلوں پر ان کی نظر ہوتی ہے اور وہ واضح ہوتے ہیں نہ وہ مجہول العقل ہوتے ہیں۔ نہ مبہم ہوتے ہیں۔ نہ ان کا ذہن دھندلایا ہوا ہوتا ہے۔ وہ تو خداوند کریم کے نور سے روشن ہوتا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل، یہ کیفیات پیغمبروں کے سامنے ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہیں اور اس طرح جس طرح درہم ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اللہ کریم فرماتے ہیں اے زکریا! ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں ایک لڑکے کی، جس کا نام یحییٰ ہوگا اور ہم نے اس سے قبل کسی کو اس کا ہم نام نہیں بنایا۔

ذرا التزام نبوت دیکھئے۔ نام حافظہ آدم سے، آدمی کی نسل سے نام کو قدرت نے چھپا لیا کہ ایک اپنے نبی کو میں نے یہ نام دینا ہے۔ یہ قرآن فرما رہا ہے۔ اے پروردگار! جناب زکریا فرماتے ہیں کہ میرے لڑکا کیسے ہوگا درآں حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہاء

٣١

OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اب ذرا ان کے خرافات سنئے جن ہیں کہ ” حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضور ترقی ہوئی اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضر فرماتے ہیں ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص کہ حضور پاک ﷺ سے بھی آگے بڑھ سکتا ١٩٢٢ء ) اور اس کے بعد فرماتے ہیں ”ظلی نبو کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو کھڑا کیا۔“ بلکہ بعض

جناب سپیکر! میں اس بحث میں ن اس کا سایہ کیا چیز ہے؟ میں تو ایک بات بتا اس بات پر رکھا کہ ہر انسان، ہر خاطی اور ہر چاہے، اپنے زہد، اپنے علم، جو کہ بڑا محدود بن سکتا ہے۔ محدث بن سکتا ہے۔ مولوی تو کلمات الہیہ سے سرفراز ہوتا ہے، وہ بھی بن بن سکتا ہے۔ یہ خود ان کی اپنی 2727 کوشش تم

جناب! اس کے بعد فرماتے السلام میں قدم بھی رکھ سکتا ہے۔ مسیح موعود آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔ حتی کہ شان رسالت سکتا ہے۔ حضور والا! قرآن کی رو سے یہ نہیں کرتا۔ اس لئے قرآن کریم میں ایک صاحب مجھے معافی دیں گے اگر کہیں میں ازل لیا انبیاء کی ارواح سے اور اے پیغمبر مقرر کیا۔ اس کے لئے جو قرآن میں الفا زبردست عہد لیا۔

حضور مرزا صاحب! آپ کی آپ اس میثاق میں شریک تھے۔ کیا خدا

صفحہ ٢٤٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

پر ہوں۔ فرمایا اس طرح کہ تمہارے پروردگار کے لئے یہ آسان ہے۔ اے یحییٰ! کتاب کو مضبوط پکڑو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں ہی سمجھ دے رکھی تھی۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر بچپن میں ہی سمجھ لے کر آتا ہے۔ پچاس برس تک مجہول نہیں رہتا۔ پچاس برس تک اپنے مقام سے غافل نہیں رہتا اور خاص آگے فرماتے ہیں 2729 کتاب خدا خاص اپنے پاس سے رقت قلب اور پاکیزگی عطاء کی اور جناب یحییٰ بڑے پرہیز گار تھے اور نیکی کرنے والے تھے اپنے والدین کے ساتھ ، اور سرکش اور نافرمان نہ تھے۔

آگے سنئے، جناب سپیکر ! قرآن کی زبان میں پیغمبر کا کیا مقام ہے۔ ابھی یحییٰ پیدا نہیں ہوئے اور کلام ربانی کیا آ رہا ہے۔ انہیں سلام پہنچے جس دن کہ وہ پیدا ہوں اور جس دن کہ وہ وفات پائیں گے اور جس دن کہ وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔ کائنات ، خلق کائنات بعثت پیغمبر کو سلام دیتی ہے۔ اس کے مولود پر بھی اور اس کے دنیا سے رخصت ہونے پر بھی۔ اب ذرا جناب اسپیکر ! اندازہ کیجئے کہ جناب زکریا علیہ السلام مانگ کر بڑھاپے میں بچہ لیتے ہیں۔ ایک خارق عادت طریقے سے بچہ آتا ہے۔ کیوں آتا ہے خارق عادت طریقہ سے؟ کیا دنیا میں کوئی اور نہیں تھا جو پہلے مولوی بنتا ، محدث بنتا ، مجدد بنتا ، فقیہہ بنتا، ترقی کرتا، نبوت پاتا۔ کیا کوئی دعا مانگنے والا روئے ارض پر باقی نہ تھا؟ جناب سپیکر! میری اس بحث کو تقویت پہنچتی ہے۔ فطرت نسب کی حفاظت کرتی ہے۔ پیغمبر بغیر نسب کے التزام کے آہی نہیں سکتا۔

اب ذرا التزام قدرت ملاحظہ فرمائیے۔ جناب مریم کے تقدس کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ قرآن حکیم میں سورۂ مریم میں ارشاد ہے کہ فرشتہ مریم مقدس کے سامنے ظاہر ہوا اور کہا میں پروردگار کا ایلچی ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں ۔ وہ بولی میرے لڑکا کیسے ہوگا درآں حالیکہ مجھے کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں بدچلن ہوں۔ فرشتہ کہتا ہے جناب اسپیکر! کہا یونہی ہوگا، تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشان بنادیں اور اپنی طرف سے سبب رحمت، اور یہ ایک طے شدہ بات ہے۔

جناب سپیکر ! آگے کتاب خدا تعالیٰ ارشاد فرماتی ہے، یہ قرآن کریم کا ترجمہ مولانا عبدالماجد دریا آبادی کا ہے ”اور پھر وہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں اور وہ لوگ بولے 2730 اے مریم ! تو نے بڑے غضب کی حرکت کی ۔اے ہارون کی بہن ! نہ تمہارے والد ہی برے آدمی تھے اور نہ تمہاری ماں ہی بدکار تھی۔ اس پر مریم نے اس بچہ کی طرف اشارہ کیا ۔“ جناب سپیکر ! اب وہ بچہ بولتا ہے۔ میں اپنی بحث کو اس نکتہ کی طرف لانا چاہتا تھا کہ ماں

٣٢

صفحہ ٢٤٦٥

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

پر ہوں۔ فرمایا اس طرح کہ تمہارے پروردگار کے۔ پکڑو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں ہی سمجھ دے رکھی تھی آتا ہے۔ پچاس برس تک مجہول نہیں رہتا۔ پچاس خاص آگے فرماتے ہیں 2729 کتاب خدا خاص اپنے اور جناب یحییٰ بڑے پرہیز گار تھے اور نیکی کرنے وا اور نافرمان نہ تھے۔

آگے سنئے، جناب سپیکر! قرآن کی زبان ہوئے اور کلام ربانی کیا آ رہا ہے۔ انہیں سلام پہنچے وفات پائیں گے اور جس دن کہ وہ زندہ اٹھائے جا سلام دیتی ہے۔ اس کے مولود پر بھی اور اس کے وف اسپیکر! اندازہ کیجئے کہ جناب زکریا علیہ السلام مانگ عادت طریقے سے بچہ آتا ہے۔ کیوں آتا ہے خارق تھا جو پہلے مولوی بنتا، محدث بنتا، مجدد بنتا، فقیہہ بنتا روئے ارض پر باقی نہ تھا؟ جناب سپیکر! میری اس حفاظت کرتی ہے۔ پیغمبر بغیر نسب کے احترام کے آتا

اب ذرا اہتمام قدرت ملاحظہ فرمائیے کرنا چاہتا ہوں۔ قرآن حکیم میں سورۃ مریم میں اب اور کہا میں پروردگار کا ایلچی ہوں تاکہ تمہیں ایک ب درآں حالیکہ مجھے کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں یونہی ہوگا، تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ یہ میرے نشان بنا دیں اور اپنی طرف سے سبب رحمت، اور یہ

جناب سپیکر! آگے کتاب خدا تعالیٰ ف عبدالماجد دریا آبادی کا ہے ”اور پھر وہ جناب عیسیٰ آئیں اور وہ لوگ بولے 2730 اے مریم! تو نے بڑ تمہارے والد ہی برے آدمی تھے اور نہ تمہاری ماں اشارہ کیا ۔“ جناب سپیکر! اب وہ بچہ بولتا ہے۔ ماں

٢

2465 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کی گود یا پنگھوڑے میں بچہ کیسے بولتا ہے۔ بچہ کی طرف اشارہ کیا۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام بولے اپنے پنگھوڑے سے۔ نہیں، پہلے وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم اس بچے سے کیسے بات چیت کریں جو ابھی گہوارہ میں پڑا ہوا نو مولود بچہ ہے۔ اس پر جناب عیسیٰ علیہ السلام بولے میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی اور اس نے مجھے نبی بنایا اور اس نے مجھے بابرکت بنایا جہاں کہیں بھی ہوں، اور اسی نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا۔ جب تک میں زندہ رہوں، مجھے سرکش و بد بخت نہیں بنایا اور میرے اوپر سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز میں مروں گا اور جس روز میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔

جناب سپیکر! یہ آیات غور و فکر کے لئے ہیں۔ قرآن کریم دعوت فکر دیتا ہے۔ دعوت تفکر دیتا ہے قرآن کریم ہر قدم پر بتائیے کہ قدرت کو کیا ضرورت تھی خالق فطرت کو کہ پنگھوڑے میں بچے کی گفتگو کا انتظام کرے؟ ماں جواب نہ دے اور بچہ جواب دے۔ حضور والا! ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے، فرما رہے ہیں کہ کتاب لے کر آیا ہوں۔ رسالت لے کر آیا ہوں۔ معلوم ہوا نبی جب پیدا ہوتا ہے رسالت سے سرفراز ہوتا ہے۔ وہ جہالت کی ٹھوکریں کھانے کے لئے نہیں ہوتا۔ قسام ازل، تقدیر ازلی، قاضی تقدیر اس کو ماں کے پیٹ سے بلکہ روز ازل سے اس کو نبوت سے سرفراز کر کے بھیجتے ہیں۔ یہ روحیں ہی اور ہیں، یہ اجناس ہی اور ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں جو سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں جو مدرسوں سے تعلیم پاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں جو پندرہ روپے کی کلرکی سے ڈسمس ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں جو وائسرائے ہند کو لکھتے ہیں ”اے میرے جان و مال کی مالک“۔ یہ وہ لوگ نہیں جو غیروں کے وظیفوں پر پلتے ہیں۔ پیغمبر کو پالنے والا خداوند کریم ہے۔ اس کی حفاظت مشیت خود کرتی ہے۔

2731 متعدد اراکین: بہت اچھے، بہت اچھے۔

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: جناب سپیکر! اس ضمن میں میں آگے عرض کروں گا کہ یہ سنت الٰہی ہے کہ نبی کتاب لے کر آتا ہے۔ نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے۔ یہاں ایک سوال پوچھتا ہوں ان دوستوں سے جو کہتے ہیں، نعوذ باللہ، جو کہتے ہیں رسالت مآب ﷺ چالیس برس تک، نعوذ باللہ، نعوذ باللہ، نبی نہیں تھے۔ حالانکہ حدیث شریف میں انا اول العابدین میں سب سے پہلا عبادت گزار ہوں۔ یہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا۔ کیسے عبادت گزار ہوں۔ جناب اسپیکر! قرآن کی طرف آئیے۔ پہاڑ عبادت کرتے ہیں۔ درخت عبادت کرتے ہیں۔ کائنات عبادت کرتی ہے تو اول العابدین کا مطلب یہ ہوا کہ رسالت مآب نے اس وقت بھی عبادت کی جب

٣٣

صفحہ ٢٤٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کوئی موجودات، موجود نہ تھی۔ نبی اس وقت نبی ہوتا ہے جب موجودات نہیں ہوتی۔ ایک قدم آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔

[At this stage Dr.Mrs.Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr.Chairman(Sahibzada Farooq Ali).]

(اس مرحلہ پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت چھوڑ دی۔ جسے جناب چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: اجازت ہے جناب!

جناب اسپیکر! جناب ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں ارشاد خداوندی سنئے: ”تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیا اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا اور ان سب کو اپنی رحمت عطاء کی۔“ جناب موسیٰ علیہ السلام سے ایک ہی قانون قدرت چلا آرہا ہے۔ قانون خداوندی ایک ہے۔ جناب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے: ”اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی کی حیثیت عطا کی۔ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام عطا کئے اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا اور لوط علیہ السلام کو ہم نے علم اور حکمت دی اور ہم نے داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑوں کو تابع کر دیا اور پرندے ان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے۔ اسماعیل علیہ السلام، ادریس علیہ السلام اور ذوالکفل کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کر لیا تھا۔ بیشک وہ بڑے صالح لوگوں میں سے تھے۔“

2732 جناب اسپیکر! اسی طرح سورۃ احزاب میں یہ بات نوشتہ الٰہی میں لکھی جا چکی تھی: ” اور وہ وقت بھی قابلِ ذکر ہے جب ہم نے تمام پیغمبروں یعنی نبیوں سے عہد لیا اور آپ سے بھی، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا۔ میثاقاً غلیظاً (پختہ) لیا تاکہ ان سچوں سے ان کے سچ کی بابت سوال کیا جائے۔ جناب اسپیکر! قرآن کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی روزِ ازل سے پیدا ہوتے ہیں۔ نبی روزِ ازل بنائے جاتے ہیں۔ نبی عالمِ ارواح میں بنائے جاتے ہیں۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: پوائنٹ آف آرڈر، جناب! یہ بار بار ”جناب اسپیکر، جناب اسپیکر!، جناب اسپیکر!“ فرما رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس وقت ”جناب چیئرمین زیادہ مناسب ہوگا۔

٣٤

صفحہ ٢٤٦٧

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کوئی موجودات، موجود نہ تھی۔ نبی اس وقت نبی ہو آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔

Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi which was occupied by rooq Ali).]

(اس مرحلہ پر ڈاکٹر مسز اشرف خاتون ع چیئر مین صاحبزادہ فاروق علی نے سنبھال لیا)

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: اجاز جناب اسپیکر ! جناب ابراہیم علیہ السلام انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیا اور ہم نے ہر ایک جناب موسیٰ علیہ السلام سے ایک ہی قانون قدر جناب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد خداون بھائی ہارون کو نبی کی حیثیت عطا کی۔ ہم نے ابراہیم السلام عطا کئے اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا اور لو نے داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑوں کو تابع کر دیا اسماعیل علیہ السلام، اور یسع علیہ السلام اور ذوالکفل وہ بڑے صالح لوگوں میں سے تھے۔“

2732 جناب اسپیکر! اسی طرح سورۂ احزا اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے تمام پیغ نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلا پختہ عہد لیا۔ میثاق غلیظ (پختہ) لیا تاکہ ان سچوں م سپیکر ! قرآن کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی روز جاتے ہیں۔ نبی عالم ارواح میں بنائے جاتے ہیں

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: پا اسپیکر، جناب اسپیکر!، جناب اسپیکر!“ فرما رہے چیئرمین زیادہ مناسب ہوگا۔

2467 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

متعدد اراکین: سنا نہیں گیا۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: میں کہہ رہا ہوں کہ بار بار، ہمارے بخاری صاحب ”جناب اسپیکر ، جناب اسپیکر“ فرما رہے ہیں۔ ان کو یہ فرمانا چاہئے کہ ”جناب چیئرمین ۔“ یہ مناسب ہے۔ ویسے یہ اسپیکر ہیں لیکن اس وقت ”چیئرمین“ ہیں اور ویسے بھی ”جناب چیئرمین“ کہنا مناسب ہے۔

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: مہربانی۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ سورۂ شوریٰ میں ارشاد خداوندی ہے : ” اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا ، اور جس کو ہم نے آپ کے پاس وحی کیا ہے۔ جس کا ہم نے ابراہیم علیہ السلام ، موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام کو بھی حکم دیا تھا۔ یعنی کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔“ اور اس کے بعد سورۂ آل عمران میں ہے: ”ہم نے فضیلت دی آل ابراہیم اور آل عمران کو جہانوں پر۔“

حضور والا! یہ قاعدہ ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے، یہ سنت الٰہی ہے۔ خاندان کبھی مجہول نہیں ہوتا پیغمبر کا۔ نسب کبھی پیغمبر کا مجہول نہیں ہوتا۔ جن مجہول النسب لوگوں نے اس 2733 کے بعد جھوٹی نبوت کے دعوے کئے۔ یہ دلیل ہے ان کے جھوٹے ہونے کی۔ میں ایک بات یہاں عرض کرنا چاہتا ہوں، جناب! اگر ہم یہ تسلیم کریں ایک لمحہ کے لئے بھی، جہالت کسی لمحے پر وارد ہوتی ہے، تو جناب! جہالت ظلم ہے، اور کوئی نبی ظلم کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ میرا عہد ظالمین کو نہیں پہنچا۔ بالکل نہیں پہنچ سکتا۔ یہ تو دو انعام ہیں۔ عہد اور انعام ایک ہی چیز ہے۔ انعام کا عہد ہے۔ یہ ظالمین کو پہنچ نہیں سکتا۔ نبی نہ جھوٹ بول سکتا ہے، نہ ہی مجہول ہو سکتا ہے، نہ نبی فاتر العقل ہو سکتا ہے۔ نہ نبی اپنے مقام سے گم کردہ راہ ہو سکتا ہے۔ نہ نبی کوئی گناہ کر سکتا بڑا یا چھوٹا۔ اس لئے جناب! کیونکہ اگر نبی یہ کرے گا تو کسی کو ہدایت کیوں کر دے گا۔

خضر کیوں کر بتائے راہ اگر
ماہی کہے دریا کہاں ہے

اگر نبی کے ہدایت کہاں ہے۔ فلاں وقت ہدایت کے بغیر تھا۔ فلاں وقت میری ہدایت سمیت ہے۔ یہ بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔

چمک سورج میں کیا باقی رہے گی
اگر بیزار ہو اپنی کرن سے

٣٥

صفحہ ٢٤٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

نبی کبھی اپنی کرن سے بیزار نہیں ہوتا۔ وہ نور خداوندی کا امین ہوتا ہے۔ وہ آئینہ کمالات خداوندی ہوتا ہے۔ حضور والا! اب ہم بات کرتے ہیں اپنے آقائے کائنات جناب سرور رسالت مآب ﷺ کی۔

حسن یوسف، دم عیسیٰ، ید بیضا داری
آنچه خوبان ہمہ دارند تو تنہا داری

جناب والا! نبوت کسبی شے نہیں ہے، یہ وہبی چیز ہے۔ یہ عنایت ہوتی ہے۔ یہ میدان گھوڑ دوڑ کی دوڑ میں جیتی نہیں جاتی۔ خدانخواستہ، نعوذ باللہ، خاکم بدہن، یہ ریس کا کپ نہیں ہے جسے مرزا قادیانی کی طرح جیت لیں۔ یہ جیتی نہیں جاسکتی، یہ عطا ہوتی ہے۔

2734 جناب والا! اسی ضمن میں ایک میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا واضح کیا گیا۔ مہدی کا جھگڑا ہے۔ میں اپنی بات کو اجمالاً ختم کرنا چاہتا ہوں۔ بحث بڑی طویل ہو جائے گی۔ اتنا کچھ آثار مہدی میں اور کتابوں میں، جو کتابیں آج بھی ہمیں روشنی دے رہی ہیں۔ سواد اعظم کی متفقہ کتابیں، ان میں حضور والا! بالکل واضح طور پر مہدی کے خواص لکھے ہیں اور ان میں، ان کی صرف ایک خاصیت بیان کرنا چاہتا ہوں اور اس پر میں اپنی بحث کا انجام کرنا چاہتا ہوں۔ ابوداؤد، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ مہدی اولاد فاطمہ سے ہوگا اور حضور پاک ﷺ کی عترت میں سے ہوگا۔ ایک بڑی مستند کتاب جس کا میں نے نام لیا ہے، عبداللہ ابن مسعودؓ، دریائے علم۔ ترمذی میں اور ابوداؤد میں روایت ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ فرماتے ہیں کہ مہدی میرا ہم نام ہوگا اور تحقیق وہ میری عترت میں سے ہوگا۔ وہ میری آل میں سے ہوگا۔ جب وہ آئے گا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ اس کے بعد پھر ابی اسحاق کی روایت ہے: ”تحقیق مہدی اولاد فاطمہ میں سے ہوگا اور اخلاق و عادات اور صورت میں حضور پاک ﷺ کے مشابہ ہوگا۔“

جناب والا! اس قسم کے بے شمار حوالے موجود ہیں۔ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کبھی مجہول النسب نہیں ہوگا۔ چہ جائیکہ ایک آدمی آج تک اپنا خاندان نہیں ثابت کرسکا کہ وہ فارسی ہے، ایرانی ہے، ترک ہے یا منگول ہے۔ کہاں سے ٹپکے، کہاں سے آئے۔ کس سیارے سے ان کو کس راکٹ میں بٹھا کر یہاں پر لے آئے۔ ان کو اپنا علم نہیں ہے۔ دوسروں کو ان کا علم کیا بتائیں گے؟

جناب والا! یہاں پر میں ایک حدیث پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جو تمام جھگڑوں کو بڑی واضح کر دیتی ہے۔ میں اس حدیث کے حوالہ جات بھی لے آیا ہوں۔ اگر علماء کرام ان حوالہ جات

٣٦

ردوں گا۔ حوالے بڑے

لو تقریباً چار سو صحابہؓ نے ں حدیث کا ذکر ہے۔ یہ ت کم نظروں سے گزری ، تین، چار سن ہجری سے

کتاب اللہ اور اپنی آل۔ راہ نہیں ہوگے۔ بیشک یہ ، حضور والا! جیسا کہ میں ۔ یہ حدیث ثقلین عترت

ں۔ اس کے بعد میں یہ مرزا صاحب) نہیں تھے؟

Mr. Ch for tea. We will ر۔ ہم سوا بارہ بجے دوبارہ

The sp break to reass ہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا)

The spec Mr.Chairman (S روع ہوا۔ جناب چیئرمین

صفحہ ٢٤٦٩

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

نبی کبھی اپنی ک کمالات خداوندی ہوتا ہے۔ حضور والا! اب ہم بات ک رسالت مآب ﷺ کی ۔

حسن یوسف، دم عیس
آنچہ خوباں ہمہ دارن

جناب والا! نبوت کسبی شے نہیں ہے، یہ گھوڑ دوڑ کی دوڑ میں جیتی نہیں جاتی۔ خدانخواستہ، نع جسے مرزا قادیانی کی طرح جیت لیں۔ یہ جیتی نہیں جا

2734 جناب والا! اسی ضمن میں ایک میں ع کا جھگڑا ہے۔ میں اپنی بات کو اجمالاً ختم کرنا چاہتا ہو آثار مہدی میں اور کتابوں میں، جو کتابیں آج بھی کتابیں، ان میں حضور والا! بالکل واضح طور پر مہدی ایک خاصیت بیان کرنا چاہتا ہوں اور اس پر میں اپنی رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ مہدی اولاد فاطمہؓ سے ہوگا۔ ایک بڑی مستند کتاب جس کا میں نے نام لیا ہے اور ابوداؤد میں روایت ہے کہ جناب رسالت مآب تحقیق وہ میری عترت میں سے ہوگا۔ وہ میری آل ع انصاف سے بھر دے گا۔ اس کے بعد پھر ابی اسحاق کی سے ہوگا اور اخلاق و عادات اور صورت میں حضور پا جناب والا! اس قسم کے بے شمار حوالے مہدی کبھی مجہول النسب نہیں ہوگا۔ چہ جائیکہ ایک آ وہ فارسی ہے، ایرانی ہے، ترک ہے یا منگول ہے سیارے سے ان کو کس راکٹ میں بٹھا کر یہاں پر ان کا علم کیا بتائیں گے؟

جناب والا! یہاں پر میں ایک حدیث پ واضح کر دیتی ہے۔ میں اس حدیث کے حوالہ جات ب

٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کو دیکھنا چاہتے ہیں تو میں انشاء اللہ ان کو بھی دے دوں گا۔ اسمبلی کو پیش کر دوں گا۔ حوالے بڑے لمبے ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ میں ان سب کو یہاں دہرا سکوں۔

2735 حدیث ثقلین یہ ہے، اس کے بے شمار راوی ہیں۔ اس کو تقریباً چار سو صحابہؓ نے روایت کیا ہے۔ سواد اعظم کی تقریباً ساڑھے سات سو ایسی کتابوں میں اس حدیث کا ذکر ہے۔ یہ تواتر کے دور سے بھی نکل چکی ہے۔ غالباً اتنی مستند اور اتنی ثقہ حدیث بہت کم نظروں سے گزری ہوگی۔ ان تمام لوگوں نے جنہوں نے اس کو مروی کیا ہے۔ جناب علیؓ، دو، تین، چار سن ہجری سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں حدیث کا ترجمہ کرتا ہوں:

”میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ یعنی کتاب اللہ اور اپنی آل۔ عترت اور اپنے اہل بیت۔ اگر ان سے تمسک کرو گے تو قیامت تک گمراہ نہیں ہوگے۔ بیشک یہ دونوں اکٹھے رہیں گے۔ حتیٰ کہ حوض کوثر پر میرے پاس اکٹھے وارد ہوں۔“ حضور والا! جیسا کہ میں نے پہلے حوالوں سے پڑھا ہے کہ مہدی عترت رسول میں سے ہوگا۔ یہ حدیث ثقلین عترت رسول ﷺ کو واضح کرتی ہے۔

میں بات مختصر کرتے ہوئے دو چار حوالے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد میں یہ عرض کروں گا اور یہ سوال پوچھوں گا کہ اگر عترت رسول ﷺ میں سے (مرزا صاحب) نہیں تھے؟ اگر مجہول النسب تھے؟ تو ان کی نبوت کی وہ بنیاد ہی ......

Mr. Chairman: Short Break for fifteen minutes for tea. We will reassemble at 12:15 p.m.

(مسٹر چیئرمین: چائے کے لئے پندرہ منٹ کا مختصر وقفہ۔ ہم سوا بارہ بجے دوبارہ اجلاس شروع کریں گے)

The special Committee adjourned for tea break to reassemble at 12:15 p.m.

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے لئے دوپہر سوا بارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا)

The special Committee reassembled after tea break. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ جناب چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں)

٣٧

صفحہ ٢٤٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جناب چیئرمین: ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری! ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری:2736 جناب چیئرمین! میں حدیث ثقلین کی بات کر رہا تھا۔ جس میں میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا کہ کوئی نبی یا مہدی نہیں آسکتا جب تک کہ وہ عترت رسول ﷺ نہ ہو اور حدیث ثقلین اس پر وارد نہ ہوتی ہو۔ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ بہت سے حوالہ جات بھی لایا تاکہ میں اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کر سکوں اور جناب والا! میں قدرے فخر سے یہ حوالہ جات پیش کروں گا کہ غالباً اتنے حوالہ جات کسی ایک حدیث کے لئے بہت کم اکٹھے ہوئے ہوں گے۔ چار، پانچ حوالے پڑھنے کے بعد یہ حوالہ جات کا دفتر میں آپ کی خدمت میں جمع کرا دوں گا تاکہ یہ بھی یہاں پر ریکارڈ رہے اور وہ دوست جو حدیث ثقلین کی سند دیکھنا چاہیں۔ وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں اور میری بات پایۂ ثبوت تک پہنچ سکے۔

مخرجین حدیث ثقلین۔ سید بن مسروق السمی سن وفات ١٢٦ھ۔ جو راوی صحابی ہیں۔ وہ زید بن ارقم ہیں۔ حوالہ جات صحیح مسلم، رکن بن ربیع بن العمیلہ، سن وفات ١٣١ھ، صحابی زید بن ثابت۔ حوالہ مسلم، احمد، حنبل، ابو حیان یحییٰ بن سعید بن حیان۔ سن وفات ١٤٥ھ۔ حوالہ مسلم، احمد حنبل۔ صحیح مسلم عبد الملک بن ابی سلیمان سن ١٤٥ھ، صحابی راوی ابو سعید الخدری، مسلم، احمد، حنبل۔ محمد بن اسحاق بن یسار المدنی۔ اسرائیل بن یونس ابو یوسف الکوفی۔ عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود الکوفی۔ محمد بن طلحہ بن مصرف الیامی الکوفی۔ ابو عوانہ وضاح بن عبد اللہ الیشکری۔ شریک بن عبد اللہ والقاضی۔ علیٰ ھذا القیاس!

جناب چیئرمین! بے شمار حوالہ جات ہیں۔ اس میں کم سے کم چار سو صحابہ کرام کے نام درج ہیں۔ پانچ سو، چھ سو کتابوں کے حوالہ جات ہیں۔ جناب والا! اس سے میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنی تمام بحث کو سمیٹتا ہوں، Conclude کرتا ہوں۔ بحوالہ آیات قرآنی ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں جناب والا! کہ:

٣٨

صفحہ ٢٤٧١

ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17 جناب چیئرمین: ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری 2736 ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: جناب چیئرمین! رہا تھا۔ جس میں میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا کہ کوئی نبی یا رسول ﷺ نہ ہو اور حدیث ثقلین اس پر وارد نہ ہوتی ہو۔ میں بہت سے حوالہ جات بھی لایا تا کہ میں اپنے دعوے کے ثبوت قدرے فخر سے یہ حوالہ جات پیش کروں گا کہ غالباً اتنے حوالے کم اکٹھے ہوئے ہوں گے۔ چار، پانچ حوالے پڑھنے کے خدمت میں جمع کرا دوں گا تا کہ یہ بھی یہاں پر ریکارڈ رہیں دیکھنا چاہیں۔ وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں اور میری بات مخرجین حدیث ثقلین۔ سید بن مسروق اسلمی، وہ زید بن ارقم ہیں۔ حوالہ جات صحیح مسلم، کنز العمال، ثابت۔ حوالہ مسلم، احمد حنبل، ابو حیان یحییٰ بن سعید بن حیان حنبل۔ صحیح مسلم عبدالملک بن ابی سلیمان سن ١٣٥ھ، صحابی محمد بن اسحاق بن یسار المدنی۔ اسرائیل بن یونس ابو یوسف مسعود الکوفی ۔ محمد بن طلحہ بن مصرف الیمامی الکوفی ۔ ابو غسان بن عبداللہ والقاض۔ علی ھذا القیاس!

جناب چیئرمین! بے شمار حوالہ جات ہیں۔ اس درج ہیں۔ پانچ سو، چھ سو کتابوں کے حوالہ جات ہیں۔ جو یہ ہے کہ میں اپنی تمام بحث کو سمیٹتا ہوں، Conclude نتیجے پر پہنچتے ہیں جناب والا! کہ:

٣٨

2471 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

"وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى" نہیں بولتے نبی کریم اپنی خواہش سے، سوائے وحی الٰہی کے۔ ؎

حضور ! نطق اور کلام میں فرق ہے۔ کلام وہ چیز ہوتی ہے جس میں زبان الفاظ کو کسی مفہوم یا کسی تواتر کے ساتھ ادا کرتی ہے۔ لیکن حضور والا! نطق اسے کہتے ہیں جو بے معنی بھی ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں کہ روٹی ووٹی، پانی وانی، جانا وانا، تو اس میں جو مہملات ہیں۔ وہ بھی نطق میں شامل ہیں۔ حتیٰ کہ علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ جناب والا! سوتے ہوئے خراٹے لینا بھی نطق ہے۔ نبی کا بروئے قرآن نطق بھی جو ہے حضور والا! قرآن حکیم نے اس کو وحی الٰہی قرار دیا ہے۔ اس سیاق و سباق کو اگر ہم اس نبی کے سیاق و سباق سے لگائیں جس نے اس دور میں آ کر مسلمانوں میں انتشار و افتراق پیدا کیا اور جھوٹے الہامات اور رویائے کاذبہ کو رویائے صادقہ کے روپ میں پیش کر کے جو مس گائیڈنس یا گمراہی پھیلائی۔ اسی پیمانے سے ہم اس کو ماپ سکتے ہیں۔ تو حضور والا! پتہ چلتا ہے کہ حق کہاں ہے اور باطل کہاں ہے۔ یعنی حق آ گیا اور باطل چلا گیا۔ یقیناً باطل ہے بھی جانے والی شے۔

اس کے بعد جناب والا! آٹھویں نشانی نبوت کی یہ ہے کہ نبی مجہول و مبہم کبھی نہیں ہوتے۔ نویں نشانی اس کی یہ ہے کہ پیدائش اور موت نبی کریم کی، یا کوئی بھی نبی ہو، 2738 ہمیشہ مسعود و مبارک ہوتی ہے۔ دسویں! اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کا سلسلہ نسب عارفین و انعام یافتگان سے ہوتا ہے۔ اگر باپ نبی ہے، یا دادا نبی ہے، یا نانا نبی ہے، یا ماں صدیقہ ہے، یا دادی صدیقہ ہے، یعنی طاہرین کا، معصومین کا اور انعام یافتگان کا ایک سلسلہ ہوتا ہے حضور والا! جو کہ چلتا ہے۔ اس کے بنا نبی نہیں آتا۔ یہ قانون قرآن کے خلاف ہے، یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ ایک اور دلچسپ بات میں عرض کرتا جاؤں ضمناً وہ بھی نبی کی پہچان ہے کہ اگر کسی بھی نبی کے جسم کی ہڈی آسمان کے نیچے ننگی ہو جائے تو اس وقت بادل آجاتے ہیں، بارش برستی ہے۔ اس کے لئے بھی میں ٣،٢ سو حوالے پیش کروں گا۔ جب کسی نبی کی ہڈی ننگی ہوئی اور ہڈی اس کی باہر برآمد ہوگئی۔ بارش آئی، طوفان آیا، حتیٰ کہ وہ ہڈی پھر کور ہوگئی۔ قدرت کاملہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے پاک وجود کی ہڈی کی بے حرمتی ہو۔ اس کو ہمیشہ باران رحمت چھپا لیتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کسی کا ذب نبی کی ہڈی نکالی جائے اور باران رحمت کا تماشہ دیکھا جائے۔ لیکن میں ثبوت میں پیش کر سکتا ہوں۔

٣٩

صفحہ ٢٤٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اس کے بعد نبوت کے سلسلے میں، میں عرض کروں گا کہ یہ بھی قرآنی تصریح ہے کہ نبی کی بشارت بہت پہلے مل جاتی ہے۔ حتیٰ کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کے وقت میں ہزاروں برس پہلے جناب ناموس موسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی گئی۔ جناب عیسیٰ عمران کی بشارت دی گئی اور حضور رسالت مآب ﷺ کی بشارت دی گئی۔

جناب والا! ایک اور بات جو از روئے قرآن ہمیشہ ثابت ہوتی ہے کہ نبی کو اس کی موت کے بعد کاذب نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یا نبی کو اس کی اتمام حجت کے بعد کاذب نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اگر کاذب ٹھہرائیں گے اور وہ فی الحقیقت نبی ہے تو عذاب آ کر رہے گا۔ جیسے حضرت نوح علیہ السلام کا آیا۔ حضرت یونس علیہ السلام کا آیا۔ حضرت لوط علیہ السلام کا آیا۔ حضرت ہود علیہ السلام کا آیا۔ یا اسے ماننا پڑے گا یا عذاب آئے گا۔ اگر یہ سچے 2739 نبی تھے۔ جو کہتے تھے کسی زمانے میں کہ ”چھوڑو، مردہ علی کی بات نہ کرو، چھوڑو، مردہ حسین کی بات نہ کرو۔“ کیا ہم یہ تصریح نہ لائیں، یہ دلیل نہ لائیں کہ ”چھوڑو، مردہ مرزا صاحب کی بات نہ کرو۔ وہ بھی پرانے مردے ہو گئے۔ ان کا کیا ذکر کرنا۔“ نہ عذاب آیا، نہ ہدایت آئی، یہ کیسے نبی ہیں؟

جناب والا! بہر حال یہاں پر ایک اور بات قرآنی لحاظ سے عرض کرنا چاہتا ہوں اور بات ضمناً عرض کر دوں کہ مشکوٰۃ شریف اور ابو داؤد اور ترمذی کا ایک اور حوالہ میرے ہاتھ آیا ہے کہ تحقیق رسالت مآب علیہ السلام نے فرمایا کہ مہدی ہر حال میں آل رسول اور بنو فاطمہ میں سے ہوں گے اور اس کے بعد اگلی روایت ہے، حدیث سے کہ عیسیٰ بہ نصرت مہدی آئیں گے۔ مہدی سات برس حکمرانی، عالمی حکمرانی کریں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔ کوئی حاجت مند اور مظلوم نہیں رہے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس برس رہیں گے۔

میں پوچھنا چاہتا ہوں نبوت کے ان دعویداروں سے کہ زمین پر کوئی حاجت مند نہیں رہا؟ کیا انسانی مسائل ختم ہوئے ہیں؟ کیا عدل ہو رہا ہے؟ کیا لڑائیاں نہیں ہو رہی ہیں؟ کیا ان کی بعثت کے وقت کے بعد سے عالمی جنگیں نہیں لڑی گئیں؟ یہ کہتے تھے کہ جہاد بند کر دو۔ مجھے بتائیں کہ کیا فلسطین نہیں لٹا؟ کیا بیت المقدس نہیں برباد ہوا؟ کیا کیا کچھ نہیں ہوا ہے۔ عالم اسلام پر کیا کیا چرکے نہ لگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد ضروری نہیں ہے تو جہاد کب کریں گے؟ کیا قبروں میں جانے کے بعد کریں گے؟ عدل کہاں آیا ہے؟ عالمی حکمرانی کہاں آئی ہے؟ کہاں زمین انصاف سے بھر گئی ہے؟ حضور والا! یہ بات پوری نہیں ہوئی ہے۔ اس چیز سے بھی ثابت ہوا ہے حدیث کی رو سے بھی کہ یہ نبی جو تھے چاہے بروزی اور ظلی تھے، جو بھی چیز تھے۔ کاذب نبی تھے۔

٤٠

صفحہ ٢٤٧٣

2473 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

2740 اس کے بعد حضور والا! علامہ محمود الصارم، مصر کا ایک حوالہ عرض کرتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ بروزی اور ظلی نبوت کوئی شے نہیں۔ نہ کبھی کوئی بروزی نبی آیا ہے اور نہ کبھی کوئی بروزی نبی آئے گا۔ نہ جناب ابراہیم علیہ السلام کا کوئی بروز آیا اور نہ آل ابراہیم کا کوئی بروز آیا۔ نہ کوئی بروز علی کا آیا نہ کوئی بروز حسین کا آیا۔ نہ کوئی بروز جناب صدیق کا پیدا ہوا اور نہ کوئی بروز جناب عمر فاروق کا پیدا ہوا اور بروز کون سا آئے گا۔ یہ زرتشتی کا عقیدہ ہے، یہ ہندوآنہ طریقہ ہے۔ آواگون کا یہ مسئلہ ہے، تناسخ کا مسئلہ ہے، اور یہ وہی آدمی پیش کر سکتا ہے جو مجہول الذہن ہو، مجہول الفہم ہو۔

اور ایک بات عرض کروں گا یہاں پر جس کو ابھی تک بحث میں نہیں لیا گیا۔ اس نبی، اس بیسویں صدی کے نبی نے فرمایا کہ مہدی اور عیسیٰ دونوں اس (کی) شخصیت میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ حالانکہ حضور! تواتر سے ثابت ہے۔ متواترات سے ثابت ہے کہ مہدی کی اور شخصیت ہے، جناب عیسیٰ علیہ السلام کی اور شخصیت ہے۔ یہ دو الگ شخصیتیں ہوں گی۔ ان کے نشانات علیحدہ علیحدہ ہوں گے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو آسمان سے نازل ہوں گے۔ دمشق میں اتریں گے۔ فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ ہوں گے۔ دو زرد چادریں اوڑھے ہوئے ہوں گے۔ سرخ و سفید رنگ کے ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ نماز صبح کی اقامت کریں گے۔ یہودیوں کو شکست دیں گے۔ جزیہ بند کریں گے۔ حج کریں گے۔ آدمی کی گھاٹی سے لبیک کہیں گے۔ شادی کریں گے۔ مسلمان ان کے جنازہ میں شرکت کریں گے۔ روضہ نبی ﷺ میں مدفون ہوں گے۔ عیسیٰ ابن مریم روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ کیا خنزیر قتل ہو گیا؟ کیا صلیب ٹوٹ گئی ہے ۔ کیا یہ کلمتہ اللہ تھے؟ کیا یہ روضہ نبی ﷺ میں مدفون ہو گئے؟

حضور والا! یہ بگڑی ہوئی نفسیات ہے۔ یہ ایک ایسی نفسیات ہے جس نفسیات کو اللہ ہی سنبھالے۔ یہ ایک بہت بڑا انتشار تھا۔ یہ ایک بہت بڑی عالم اسلام کے ساتھ سازش تھی۔ ناموس پیغمبر کے ساتھ یہ 2741 بہت بڑا گھناؤنا کھیل تھا۔

(قادیانیوں سے مباہلہ کا چیلنج)

میں یقین سے کہتا ہوں، انشاء اللہ، میں اس ایوان میں کہتا ہوں کہ میں اس ایوان میں مباہلے کے لئے بھی تیار ہوں۔ تمام مرزائیوں سے کہ آؤ، ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں۔ لے آؤ تم اپنے بیٹوں کو، لے آتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو۔ لے آؤ تم اپنے نفسوں کو، لے آتے ہیں ہم

٤١

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اس کے بعد نبوت کے سلسلے میں، میں عرض کروں گا بشارت بہت پہلے مل جاتی ہے۔ حتیٰ کہ جناب ابراہیم علیہ السلام جناب ناموس موسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی گئی۔ جناب عیسیٰ رسالت مآب ﷺ کی بشارت دی گئی۔

جناب والا! ایک اور بات جو از روئے قرآن ہم پ موت کے بعد کاذب نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یا نبی کو اس کی اتمام سکتا۔ اگر کاذب ٹھہرائیں گے اور وہ فی الحقیقت نبی ہے تو عذا علیہ السلام کا آیا۔ حضرت یونس علیہ السلام کا آیا۔ حضرت لوط السلام کا آیا۔ یا اسے ماننا پڑے گا یا عذاب آئے گا۔ اگر یہ زمانے میں کہ ”چھوڑو، مردہ علی کی بات نہ کرو، چھوڑو، مردہ حسین نہ لائیں، یہ دلیل نہ لائیں کہ ”چھوڑو، مردہ مرزا صاحب کی بات گئے ۔ ان کا کیا ذکر کرنا ۔“ نہ عذاب آیا ، نہ ہدایت آئی، یہ کیسے ن

جناب والا ! بہرحال یہاں پر ایک اور بات قرآنی بات ضمناً عرض کر دوں کہ مشکوٰۃ شریف اور ابو داؤد اور ترمذی کا تحقیق رسالت مآب علیہ السلام نے فرمایا کہ مہدی ہر حال میں ہوں گے اور اس کے بعد اگلی روایت ہے، حدیث سے کہ عیسیٰ سات برس حکمرانی، عالمی حکمرانی کریں گے اور زمین کو عدل حاجت مند اور مظلوم نہیں رہے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالی

میں پوچھنا چاہتا ہوں نبوت کے ان دعویداروں ۔ رہا؟ کیا انسانی مسائل ختم ہوئے ہیں؟ کیا عدل ہو رہا ہے؟ کیا بعثت کے وقت کے بعد سے عالمی جنگیں نہیں لڑی گئیں؟ یہ کہنے کہ کیا فلسطین نہیں لٹا؟ کیا بیت المقدس نہیں برباد ہوا؟ کیا کیا چرکے نہ چل گئے۔ انہوں نے کہا کہ جہاد ضروری نہیں ہے تو جانے کے بعد کریں گے؟ عدل کہاں آیا ہے؟ عالمی حکمرانی ک سے بھر گئی ہے؟ حضور والا! یہ بات بھی نہیں ہوئی ہے۔ اس چیز سے بھی کہ یہ نبی جو تھے چاہے بروزی اور ظلی تھے، جو بھی چیز تھے

٤٠

صفحہ ٢٤٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اپنے نفسوں کو۔ لے آؤ تم اپنی عورتوں کو، لے آتے ہیں ہم اپنی عورتوں کو اور ایک دوسرے پر لعنت کریں۔ میں اس مباہلے کے لئے تیار ہوں۔ (ڈیسک بجائے گئے)

Mr. Chairman: This is not within the jurisdiction of the Assembly.

(جناب چیئرمین: یہ اسمبلی کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے) ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: حضور والا! میں اپنی بات کو کنکلوڈ کرتے ہوئے ......

Mr. Chairman: The honourable members may clap their desks, but this is not right to have Mubahala.

(جناب چیئرمین: معزز ممبران اپنے ڈیسک بجا سکتے ہیں۔ لیکن مباہلہ کرنا ٹھیک نہیں ہے) ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: میں ایک حدیث کا حوالہ دوں گا۔

Mr. Chairman: I think, now you should conclude.

(جناب چیئرمین: میرا خیال ہے، آپ کو اپنی بات مکمل کر دینی چاہئے) ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: ختم نبوت کامل میں سے......

Mr.Chairman: You need not go into this because the Assembly is unanimous that the Holy Prophet was last of the Prophets, because almost House has given its verdict on that. We are here to determine the status of Qadianis. That is all. What ever you have said, there was no need of saying that.

(جناب چیئرمین: آپ کو اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ حضرت محمد ﷺ آخری پیغمبر تھے۔ اسمبلی اس معاملہ پر اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ ہم قادیانیوں کی حیثیت کا تعین کرنے کے لئے موجود ہیں۔ جو کچھ آپ نے کہا اس کی کوئی ضرورت نہ تھی) ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: جناب چیئرمین! میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ آخر

٤٢

2475

NATION

حضور! آپ کو ایک فرضی نبی کا قصہ

س نبی اللہ ہوں۔ مجھ پر ایمان لاؤ۔ زہ کون سا ہے؟ کہنے لگا ابھی بتاتا آتش نمرود میں ڈالتے ہیں۔ آگ انہوں نے کہا کہ حضور! وہ پرانے اتا ہو گیا ہے۔ کوئی تازہ معجزہ طلب یہ بیضا لاؤ۔ انہوں نے کہا جناب! ۔ انہوں نے کہا کہ چلو، جناب عیسیٰ اعظم کی گردن اتارتا ہوں اور ابھی پر بغیر گردن اتروائے ایمان لے

ن لوگوں کی نبوت یہ ہے۔ ان کی سننے آئے ہیں......

Mr. Chairm

ہیں۔ میاں محمد عطاء اللہ! آپ بھی

یک تجویز پیش کرنا چاہتا تھا۔ اپنی

! میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ ان نا کی ہیں۔ میں یہ تجویز پیش کرتا پر ضبط کیا جائے۔ ان کی تبلیغ جو کہ نت کے منافی ہے۔ ہر طرح سے ب ﷺ کی دعائیں لی جائیں۔

صفحہ ٢٤٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں شاید میرا موضوع تلخ ہو گیا ہے۔ اس تلخی کو کم کرنے کے لئے حضور! آپ کو ایک فرضی نبی کا قصہ سناتا جاؤں۔

2742 بابر کے دربار میں ایک نبی آیا۔ انہوں نے کہا میں نبی اللہ ہوں۔ مجھ پر ایمان لاؤ۔ بابر نے کہا کہ اچھا بھائی! ایمان لے آتے ہیں۔ بتاؤ تمہارا معجزہ کون سا ہے؟ کہنے لگا ابھی بتاتا ہوں۔ بابر نے کہا کہ ابراہیم خلیل اللہ والا معجزہ دکھاؤ۔ تمہیں ہم آتش نمرود میں ڈالتے ہیں۔ آگ کے تنور میں ڈالتے ہیں۔ بچ گئے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حضور! وہ پرانے وقتوں کے نبی تھے۔ کیا آپ دقیانوسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ معجزہ پرانا ہو گیا ہے۔ کوئی تازہ معجزہ طلب کیجئے۔ بابر نے کہا اچھا بھائی! ٹھیک ہے۔ عصائے موسوی لاؤ۔ ید بیضا لاؤ۔ انہوں نے کہا جناب! یہ باتیں بڑی پرانی ہو گئی ہیں۔ چھوڑیئے، کوئی نیا معجزہ طلب کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ چلو، جناب عیسیٰ علیہ السلام والا معجزہ دکھاتا ہوں۔ جی ابھی دکھاتا ہوں۔ ابھی وزیر اعظم کی گردن اتارتا ہوں اور ابھی جوڑ دیتا ہوں۔ وزیر اعظم بابر سے بولے کہ حضور! میں اس نبی پر بغیر گردن اتروائے ایمان لے آیا۔‘‘

جناب والا! یہ نبوت بڑی آسان ہے۔ حضور والا! ان لوگوں کی نبوت یہ ہے۔ ان کی منطق یہ ہے کہ شان رسالت مآب ﷺ گھٹا دو۔ وہ ایک لطیفہ سننے آئے ہیں......

Mr. Chairman: That is all.

(جناب چیئرمین: یہ بہت ہے آپ بس کریں)

ہم لطیفوں کے لئے نہیں بیٹھے ہیں۔ آپ چسکے لیتے ہیں۔ میاں محمد عطاء اللہ ! آپ بھی تقریر کرنا چاہتے ہیں؟

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری: جناب والا! میں ایک تجویز پیش کرنا چاہتا تھا۔ اپنی تجویز پیش کر کے ختم کرتا ہوں۔

جناب چیئرمین: کہیں، کہیں۔ جو کچھ کہنا ہے۔

جناب ایس محمود عباس بخاری: جناب چیئرمین! میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ ان تمام دلائل و براہین کے پیش نظر، اگرچہ میں نے یہ باتیں اجمالاً کی ہیں۔ میں یہ تجویز پیش کرتا 2743 ہوں کہ اس فرقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ان کا لٹریچر ضبط کیا جائے۔ ان کی تبلیغ جو کہ انتشار و ضلالت پھیلا رہی ہے، اس کو بند کیا جائے۔ جو قرآن وسنت کے منافی ہے۔ ہر طرح سے اس فرقے کے گمراہ کن افتراق و انتشار کو روکا جائے اور رسالت مآب ﷺ کی دعائیں لی جائیں۔

٤٣

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اپنے نفسوں کو۔ لے آؤ تم اپنی عورتوں کو، لے آتے ہیں کریں ۔ میں اس مباہلے کے لئے تیار ہوں۔ (ڈیسک

This is not within the jurisdiction

(جناب چیئرمین : یہ اسمبلی کے دائرہ

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری : حضور و

The honourable members may ot right to have Mubahala.

(جناب چیئرمین : معزز ممبران! ا ٹھیک نہیں ہے)

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری : میں آپ

I think, now you should

(جناب چیئرمین : میرا خیال ہے، آپ

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری : ختم نہی

u need not go into this because t that the Holy Prophet was last ugust House has given its verdict termine the status of Qadianis. have said, there was no need of

(جناب چیئرمین: آپ کو اس بحث م بات پر سب متفق ہیں کہ حضرت محمد ﷺ آخری پیغمبر ہ ہے۔ ہم قادیانیوں کی حیثیت کا تعین کرنے کے لئے ضرورت نہ تھی)

ڈاکٹر ایس محمود عباس بخاری : جناب

٤٤

صفحہ ٢٤٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی است

جناب! بہت بولہبی ہو جائے گی۔ اگر ہم نے ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت نہ کی۔ شکریہ!

جناب چیئرمین: میاں محمد عطاء اللہ۔

میاں محمد عطاء اللہ: جناب چیئرمین صاحب۔

Mr. Chairman: Correct, proposals, that will be appreciated.

(جناب چیئرمین: بالکل درست، تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا)

(جناب میاں محمد عطاء اللہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

میاں محمد عطاء اللہ: اس وقت جو مسئلہ اسپیشل کمیٹی کے سامنے زیر بحث ہے۔ وہ تقریباً دو ماہ سے زیر غور ہے۔ مختلف proposals اور تحریکیں بھی پیش کی گئی ہیں کہ ربوہ کا قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ مرزا غلام احمد کو چاہے وہ نبی کی حیثیت سے مانے یا مسیح موعود کی حیثیت سے مانے یا محدث کی حیثیت سے مانے، اس سلسلے میں ان پر تفصیلی جرح بھی ہوئی۔ انہوں نے اسپیشل کمیٹی کے سامنے محضر نامے پڑھ کر سنائے اور ممبران صاحبان نے تقریباً تین چار سو سے زائد سوال ان سے پوچھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں تک ان کے عقائد کا سوال ہے اور جہاں تک ان کے دوسرے مسلمانوں کے متعلق عقیدے کا سوال ہے۔ جہاں تک ان کے سیاسی عزائم کا سوال ہے اور جہاں تک مرزا غلام احمد کے اس دعویٰ کا سوال ہے کہ انہوں نے یہ دعویٰ کیوں کیا۔ میں سمجھتا ہوں 2744 کہ تمام ممبر صاحبان کو واضح طور پر اب تک معلوم ہو جانا چاہئے اور معلوم ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگ اور تمام مسلمان متفقہ طور پر اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ جماعت جو ہم سب کو یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے اور جس جماعت کا یہ مؤقف ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی پر نبی کی حیثیت سے یا مسیح موعود کی حیثیت سے یا محدث کی حیثیت سے اس پر ایمان نہیں لاتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا منکر ہے۔ وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اب پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس جماعت کو کافر قرار دیا جائے۔ ان کو دائرہ

٤٤

صفحہ ٢٤٧٧

2477 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اسلام سے خارج تصور کیا جائے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ ایک ابتدائی چیز ہے اور تمام پیچیدگیوں کو چھوڑتے ہوئے آپ کسی پیچیدگی میں نہ جائیں۔ صرف ایک چیز، ایک دلیل ان کو کافر قرار دینے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہمیں کافر سمجھتے ہیں اور وہ ٧٠ کروڑ مسلمانوں کو جو امت رسول اللہ ﷺ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چاہے وہ کسی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ خواہ دیوبندی ہوں، بریلوی ہوں، اہل حدیث ہوں، شیعہ ہوں یا کسی اور فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، وہ متفقہ طور پر ان کو دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ طے شدہ ہے۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ یہ ممبران کمیٹی بھی جانتے ہیں کہ ایک جماعت انہیں کافر قرار دیتی ہے اور یہ اپنی اپنی سوچ پر منحصر ہے۔ اپنا اپنا فیصلہ کرنے کا علیحدہ طریقہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا موجودہ صورت میں کیا حل ہے اور موجودہ صورت سے کس طرح نکالا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اس جماعت کے سیاسی عزائم کا سوال ہے۔ تمام ممبران کو واضح طور پر معلوم ہے کہ یہ جماعت انگریزوں نے بنائی اور اس واسطے بنائی کہ انگریزوں نے یہاں آنے کے بعد یہ دیکھا کہ جب تک مسلمانوں کے اندر سے 2745 جذبہ جہاد نہیں نکلتا، انگریز یہاں چین سے حکومت نہیں کر سکتے۔ اس واسطے انہوں نے مسلمانوں کو اس مسئلے سے نکالنے کا ایک طریقہ سوچا کہ ایک جھوٹا نبی بنایا جائے جو اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کو یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم آیا ہے کہ آپ جہاد بند کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک واضح حکم حدیث میں اور قرآن کریم میں واضح طور پر موجود تھا اور نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی خود مختاری پر کوئی حملہ کرے تو جہاد واجب اور فرض ہے اور چونکہ انگریزوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی خود مختاری پر حملہ کیا تھا اور وہ یہاں پر قابض ہوئے۔ اس واسطے تمام علماء کا، تمام مسلمانان ہند کا یہ متفقہ طور پر یہ فیصلہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کیا جائے اور انہیں ہندوستان سے نکالا جائے۔ تو اس مسئلے کو ختم کرنے کے لئے ایک سیاسی طرز کی جماعت بنائی جسے دینی رنگ دیا۔

اس کے بعد پاکستان بننے کا سوال آیا تو وہ عقائد تمام ممبران کے سامنے پیش ہوچکے ہیں کہ ہم اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں۔ اگر پاکستان بنا بھی تو عارضی ہوگا اور ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ہم پاکستان کو دوبارہ ہندوستان میں ملائیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ جس جماعت کو ہندوستان کی مضبوط Base مل جائے تو اسے دنیا میں قابض ہونے کے لئے کوئی چیز نہیں روک سکتی اور پھر ان کے دوسرے جو عقائد ہیں۔ مجھے اس وقت علم نہیں تھا کہ مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا جائے

٤٥

صفحہ ٢٤٧٦

2476 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی است

جناب! بہت بولہبی ہو جائے گی۔ اگر ہم نے ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت نہ کی۔ شکریہ!

جناب چیئرمین: میاں محمد عطاء اللہ۔

میاں محمد عطاء اللہ: جناب چیئرمین صاحب۔

Mr. Chairman: Correct, proposals, that will be appreciated.

(جناب چیئرمین: بالکل درست، تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا)

(جناب میاں محمد عطاء اللہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

میاں محمد عطاء اللہ: اس وقت جو مسئلہ اسپیشل کمیٹی کے سامنے زیر بحث ہے۔ وہ تقریباً دو ماہ سے زیر غور ہے۔ مختلف proposals اور تحریکیں بھی پیش کی گئی ہیں کہ ربوہ کا قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ مرزا غلام احمد کو چاہے وہ نبی کی حیثیت سے مانے یا مسیح موعود کی حیثیت سے مانے یا محدث کی حیثیت سے مانے، اس سلسلے میں ان پر تفصیلی جرح بھی ہوئی۔ انہوں نے اسپیشل کمیٹی کے سامنے محضر نامے پڑھ کر سنائے اور ممبران صاحبان نے تقریباً تین چار سو سے زائد سوال ان سے پوچھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جہاں تک ان کے عقائد کا سوال ہے اور جہاں تک ان کے دوسرے مسلمانوں کے متعلق عقیدے کا سوال ہے۔ جہاں تک ان کے سیاسی عزائم کا سوال ہے اور جہاں تک مرزا غلام احمد کے اس دعویٰ کا سوال ہے کہ انہوں نے یہ دعویٰ کیوں کیا۔ میں سمجھتا ہوں 2744 کہ تمام ممبر صاحبان کو واضح طور پر اب تک معلوم ہو جانا چاہئے اور معلوم ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگ اور تمام مسلمان متفقہ طور پر اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ جماعت جو ہم سب کو یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے اور جس جماعت کا یہ مؤقف ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی پر نبی کی حیثیت سے یا مسیح موعود کی حیثیت سے یا مجدد کی حیثیت سے یا محدث کی حیثیت سے اس پر ایمان نہیں لاتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا منکر ہے۔ وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اب پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس جماعت کو کافر قرار دیا جائے۔ ان کو دائرہ

٤٤

صفحہ ٢٤٧٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اسلام سے خارج تصور کیا جائے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ ایک ابتدائی چیز ہے اور تمام پیچیدگیوں کو چھوڑتے ہوئے آپ کسی پیچیدگی میں نہ جائیں۔ صرف ایک چیز، ایک دلیل ان کو کافر قرار دینے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہمیں کافر سمجھتے ہیں اور وہ ٧٠ کروڑ مسلمانوں کو جو امت رسول اللہ ﷺ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چاہے وہ کسی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خواہ دیوبندی ہوں، بریلوی ہوں، اہل حدیث ہوں، شیعہ ہوں یا کسی اور فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، وہ متفقہ طور پر ان کو دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ طے شدہ ہے۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ یہ ممبران کمیٹی بھی جانتے ہیں کہ ایک جماعت انہیں کافر قرار دیتی ہے اور یہ اپنی اپنی سوچ پر منحصر ہے۔ اپنا اپنا فیصلہ کرنے کا علیحدہ طریقہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا موجودہ صورت میں کیا حل ہے اور موجودہ صورت سے کس طرح نکلا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اس جماعت کے سیاسی عزائم کا سوال ہے۔ تمام ممبران کو واضح طور پر معلوم ہے کہ یہ جماعت انگریزوں نے بنائی اور اس واسطے بنائی کہ انگریزوں نے یہاں آنے کے بعد یہ دیکھا کہ جب تک مسلمانوں کے اندر سے 2745 جذبہ جہاد نہیں نکلتا، انگریز یہاں چین سے حکومت نہیں کر سکتے۔ اس واسطے انہوں نے مسلمانوں کو اس مسئلے سے نکالنے کا ایک طریقہ سوچا کہ ایک جھوٹا نبی بنایا جائے جو اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کو یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ حکم آیا ہے کہ آپ جہاد بند کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک واضح حکم حدیث میں اور قرآن کریم میں واضح طور پر موجود تھا اور نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی خود مختاری پر کوئی حملہ کرے تو جہاد واجب اور فرض ہے اور چونکہ انگریزوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کی خود مختاری پر حملہ کیا تھا اور وہ یہاں پر قابض ہوئے۔ اس واسطے تمام علماء کا، تمام مسلمانان ہند کا یہ متفقہ طور پر یہ فیصلہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کیا جائے اور انہیں ہندوستان سے نکالا جائے۔ تو اس مسئلے کو ختم کرنے کے لئے ایک سیاسی طرز کی جماعت بنائی جسے دینی رنگ دیا۔

اس کے بعد پاکستان بننے کا سوال آیا تو وہ عقائد تمام ممبران کے سامنے پیش ہو چکے ہیں کہ ہم اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں۔ اگر پاکستان بنا بھی تو عارضی ہو گا اور ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ہم پاکستان کو دوبارہ ہندوستان میں ملائیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ جس جماعت کو ہندوستان کی مضبوط Base مل جائے تو اسے دنیا میں قابض ہونے کے لئے کوئی چیز نہیں روک سکتی اور پھر ان کے دوسرے جو عقائد ہیں۔ مجھے اس وقت علم نہیں تھا کہ مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا جائے

٤٥

صفحہ ٢٤٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

گا۔ ورنہ میں وہ کتابیں لے کر آتا اور آپ کے سامنے پیش کر دیتا۔

جناب چیئرمین: میں نے آپ کو اس وقت ٹائم دیا ہے جب آپ تجاویز پیش کریں، تقریر نہ کریں۔

میاں محمد عطاء اللہ: میں تجویزیں پیش کر دیتا ہوں۔ ان عقائد سے واضح ہے کہ مرزا محمود احمد نے یہ کہا کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی یا ہمارے پاس حکومت ہوتی تو ہم ہٹلر اور 2746 مسولینی سے زیادہ سختی کر کے تمام لوگوں کو اپنے عقائد پر لے آتے۔ یہ واضح طور پر انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہوا ہے اور وہ اس پر کاربند ہیں۔ اب آپ یہ سوچ لیں کہ ہم نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں یہ کہا ہے کہ کوئی مسلمان ہو یا کافر ہو، ہندو ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو یا کسی مذہب سے بھی تعلق رکھتا ہو، اس پر جبر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی قرآن وسنت ہمیں جبر کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تبلیغ کی اجازت ہے کہ تبلیغ کرو اور لوگوں کو سمجھاؤ۔ اگر وہ ان عقائد پر آجائیں تو صحیح ہے۔ مگر اس جماعت کا جس کا ایمان اس چیز پر ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو لوگوں کو جبراً اپنے عقائد پر لائیں گے۔ وہ اسمبلی میں آتے ہیں اور اس کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ ہم سیاسی جماعت نہیں، ہم تو ایک دینی فرقہ ہیں۔ ہمارا تو مذہب سے تعلق ہے۔ سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورت میں اس فتنے کو روکنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اس جماعت کو سیاسی جماعت قرار دیا جائے۔ اس کو بین کیا جائے اور اس کا لٹریچر ضبط کیا جائے۔ کیونکہ ایک سیاسی جماعت جو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے دین کو استعمال کر رہی ہے اور دین میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کر رہی ہے اور مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ ان کو خالی کافر قرار دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ پھر اسی طرح اپنے مقاصد حاصل کرنے کی پوری کوششیں کرتے رہیں گے۔

ایک چیز جو میں سمجھتا ہوں وہ واضح طور پر ہماری اسپیشل کمیٹی کے سامنے آئی ہے کہ اس وقت وہ باہر جا کر بڑا غلط قسم کا پراپیگنڈہ کر رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ چیئرمین صاحب جن چیزوں کا فیصلہ کریں وہ فوری طور پر فیصلہ کرنے کے بعد پبلش کی جائیں تاکہ انہوں نے یہاں جو جواب دیئے ہیں اور جن چیزوں میں وہ واضح طور پر جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ وہ ساری قوم کے سامنے آئیں اور ساری دنیا کو ان چیزوں کا علم ہو۔ ان کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔

2747 آخر میں صرف اتنی عرض کروں گا کہ میری رائے میں ہماری کمیٹی کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ جو شخص نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی نہ مانے وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور

٤٦

صفحہ ٢٤٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں سمجھتا ہوں کہ اس شخص کا نام لے کر کہنا چاہئے کہ جس شخص نے ہندوستان میں ١٨٩١ء سے لے کر ١٩٠٨ء تک نبوت کا دعویٰ کیا۔ وہ کافر ہے اور اس کو کسی لحاظ سے ماننے والے کافر ہیں اور جو جماعت اس نے بنائی ہے۔ اس جماعت کو سیاسی جماعت Declare (قرار دینا) کیا جائے۔ ان کا لٹریچر ضبط کیا جائے۔ انہوں نے جو جائیدادیں یہاں بنائی ہیں۔ اس کو اوقاف کا محکمہ لے اور وہ حکومت کی تحویل میں جانی چاہئیں۔

جناب چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی۔

Ch. Jahangir Ali: Mr. Chiarman, Sir, I will like to speak tomorrow.

(چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین! جناب عالی! میں آئندہ کل بات کرنا چاہوں گا)

جناب چیئرمین: In the evening یہ تو آپ شب برأت سے زیادہ خدمت کر رہے ہیں۔ اگر دو تین گھنٹے شام کو دے دیں تو میں آپ کا مشکور ہوں گا۔ کیونکہ ایک دن ہم شاید Meet (مکمل) نہ کر سکیں۔ 4th (چار تاریخ) کو گیارہ بجے سیلون کی پرائم منسٹر آ رہی ہیں۔ اس لئے شام کو ممبر صاحبان انہیں Recieve (استقبال) کرنے کے لئے ایئر پورٹ جائیں گے۔ پھر پانچ تاریخ کو وہ جوائنٹ سیشن میں ایڈریس کر رہی ہیں۔ کل شام کو پریذیڈنٹ صاحب کے لڑکے کا ولیمہ ہے۔ وہاں بھی کافی ممبر صاحبان نے جانا ہے۔ چار کو پھر اسٹیئرنگ کمیٹی ہے۔

Attorney- General will address on the 5th morning. Every thing should be completed. That is why I have made a request.

(اٹارنی جنرل پانچ تاریخ کی صبح خطاب کریں گے۔ سب کچھ مکمل ہونا چاہئے۔ اس لئے میں نے درخواست کی ہے)

چوہدری جہانگیر علی: سر! میں بہت مختصر سا وقت لوں گا۔

Mr. Chairman: I request for the evening.

(جناب چیئرمین: میں شام کے لئے گذارش کرتا ہوں)

مجھے دو تین اور صاحبان نے بھی کہا ہے۔

Mr.Abbas Hussain Gardezi will be addressing in the

٤٧

صفحہ ٢٤٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(جناب عباس حسین گردیزی شام کو خطاب کر رہے ہیں) evening.

2748 چوہدری جہانگیر علی: سر! میں کل تقریر کرلوں گا۔

Mr. Chairman: Dr. Muhammad Shafi, Mr. Ali Ahmed Talpur, nothing to add?

(مسٹر چیئرمین: ڈاکٹر محمد شفیع ، جناب علی احمد تالپور ، مزید کوئی بات نہیں؟)

آپ نے دستخط کر دیئے ہیں۔ رندھاوا صاحب شام کو، چوہدری برکت اللہ صاحب!

ملک سلیمان صاحب! شام کو ٹھیک ہے۔ غلام فاروق،

Nothing. Sardar Aleem is the which, he will speak (کچھ نہیں، سردار علیم سب سے آخر میں گفتگو کریں گے) last of all.

Yes, Begum Nasim jahan.

جی، بیگم نسیم جہاں ۔ جناب والا ! میرے صبر کی داد دیں۔

Mr. Chairman: Dr. Bokhari wanted to prove that Masih, when he will come, will be a Syed. You should try to prove that he will be a woman.

(مسٹر چیئرمین: ڈاکٹر بخاری نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو وہ سید ہوں گے۔ آپ کو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) عورت ہوں گے)

Begum Nasim jahan: Yes i know.

(محترمہ بیگم نسیم جہاں کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

بیگم نسیم جہاں: آپ میرے صبر کی داد دیں۔ ریکارڈ میں خواتین کو اس قدر گالیاں دی گئیں۔ ان کی بابت اس قدر بری باتیں کہی گئیں۔ لیکن چونکہ میجارٹی نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک لفظ نہ بولیں۔ اٹارنی جنرل کے Through (ذریعہ) بولیں۔ میں چپ کر کے بیٹھی رہی، کھڑی نہیں ہوئی۔ میں نے جو سوالات اٹارنی جنرل صاحب کو دیئے۔ وہ سوالات بھی کمیٹی نے نامنظور کئے۔ اس کے بعد جناب والا! آپ جانتے ہیں کہ میں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ کوئسچن کمیٹی (سوالات کمیٹی) میں کوئی خواتین ممبر نہیں ہیں تو وہ بھی ماننا ٹھیک نہ سمجھا گیا۔ عورتوں کو اس

٤٨

صفحہ ٢٤٨١

EMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(جناب عباس حسین گردیزی شام کو خطاب

2748 چوہدری جہانگیر علی: سر! میں کل تقریر

Dr. Muhammad Shafi, Mr. Ali

nd.

(مسٹر چیئرمین : ڈاکٹر محمد شفیع، جناب علی آپ نے دستخط کر دیئے ہیں۔ رندھاوا ص ملک سلیمان صاحب! شام کو ٹھیک ہے۔ غلام فاروق خا

eem is third, he will speak

(کچھ نہیں، سردار علیم سب سے آخر میں آ

jahan.

جی، بیگم نسیم جہاں ۔ جناب والا ! میرے م

Dr. Bokhari wanted to prove that will be a Syed. You should try to in.

(مسٹر چیئرمین : ڈاکٹر بخاری نے یہ علیہ السلام جب آئیں گے تو وہ سیّد ہوں گے۔ آپ ک السلام) عورت ہوں گے)

an: Yes i know.

(محترمہ بیگم نسیم جہاں کا قومی اسمبلی م

بیگم نسیم جہاں: آپ میرے صبر کی د دی گئیں۔ ان کی بابت اس قدر بری باتیں کہی گئیں ک لفظ نہ بولیں ۔ اٹارنی جنرل کے Through کھڑی نہیں ہوئی۔ میں نے جو سوالات اٹارنی جنر نامنظور کئے۔ اس کے بعد جناب والا ! آپ جانتے ہ (سوالات کمیٹی) میں کوئی خواتین ممبر نہیں ہیں تو ا

٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

قدر گالیاں پڑی ہیں۔

جناب چیئرمین: بیگم شیریں وہاب ممبر تھیں۔

بیگم نسیم جہاں: نہیں، جناب! بیگم شیریں وہاب اسٹیئرنگ کمیٹی کی ممبر تھیں۔ وہ کوئسچن کمیٹی کی ممبر نہیں تھیں۔

2749 جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔

میاں محمد عطاء اللہ: پوائنٹ آف آرڈر۔ جناب والا ! میں بیگم صاحبہ کو یقین دلاتا ہوں ۔ چونکہ میں بھی اتفاق سے کوئسچن کمیٹی کا ممبر ہوں ۔ وہاں دوسرے ممبر صاحبان بھی موجود تھے۔ وہ بھی اس بات کی گواہی دیں گے کہ خواتین کی بالکل کوئی بے عزتی نہیں کی گئی۔ کوئی گالی نہیں دی گئی۔ قطعاً کوئی نازیبا لفظ عورتوں کی نسبت استعمال نہیں کیا گیا۔

بیگم نسیم جہاں: مجھے تو اپنی بات ختم کرنے دیں۔ جناب والا ! میں نے چار، پانچ سوالات عورتوں کی بابت کئے۔ وہ بھی کوئسچن کمیٹی نے مناسب نہ سمجھے اور رد کر دیئے گئے۔ میں اب اپنا یہ اعتراض ریکارڈ میں لانا چاہتی ہوں کہ یہ سوالات کوئسچن کمیٹی نے رد کرنے تھے اور وہ سوالات کمیٹی کو کسی صورت میں پسند نہ تھے۔ عورتیں آپ کی بہنیں ہیں۔ بھابیاں ہیں، مائیں ہیں، دادیاں ہیں، نانیاں ہیں۔ جناب سپیکر صاحب! آپ میرے صبر کی داد دیں۔ میں نے اپنے منہ سے ایک لفظ نہ بولا، اور اب بھی آپ نے بلایا ہے اس لئے کھڑی ہوئی ہوں۔ میں اپنے اس اعتراض کو بالکل جائز سمجھتے ہوئے کہتی ہوں کہ عورتوں کی جو بے عزتی ہوئی ہے۔ اگر اس کا ریکارڈ کبھی باہر نکلا تو کوئی عورت بھی اسے برداشت نہیں کرے گی۔ اس اعتراض کے ساتھ میں بیٹھ جاتی ہوں۔

Mr. Chairman: Thank you very much.

(جناب چیئرمین: بہت بہت شکریہ)

پروفیسر غفور احمد: جناب والا ! میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن ممبران کے سوالات شامل نہیں کئے گئے تھے۔ ان کو رہبر کمیٹی میں Invite (مدعو) کیا گیا تھا تاکہ وہ اپنا اطمینان کر لیں۔ اگر محترمہ بیگم نسیم جہاں صاحبہ کو عورتوں کے ساتھ اتنی ہی ہمدردی تھی تو پھر کمیٹی میں حاضر کیوں نہ ہوئیں؟ میں کمیٹی میں موجود تھا۔ چیئرمین راہبر کمیٹی نے کئی مرتبہ ان کا نام پکارا۔ لیکن وہ وہاں موجود نہ تھیں۔ اس لئے اب ان کی شکایت جائز نہیں۔

2750 دوسری بات جناب والا ! یہ ہے کہ کوئسچن کمیٹی راہبر کمیٹی نے ہی الیکٹ کی، جس میں خواتین کی نمائندگی تھی۔

٤٩

صفحہ ٢٤٨٢

2482 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

تیسری بات یہ ہے کہ میں یہاں کمیٹی میں موجود رہا ہوں۔ یہاں خواتین کی کوئی بے عزتی نہیں کی گئی۔ بلکہ ان کی عزت کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہیں جس نے بتایا ہے غلط بتایا ہے اور بیگم صاحبہ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ممبران کمیٹی نے ہر موقع پر خواتین کی عزت کو ملحوظ رکھا ہے۔

بیگم نسیم جہاں: جناب والا!

جناب چیئرمین: ایک منٹ ٹھہریں۔

پروفیسر غفور احمد: آپ اتنی پریشان کیوں ہیں؟ راہبر کمیٹی میں عورتوں کی نمائندگی تھی۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم عورتوں کی عزت کریں۔ عورتیں ہماری بہنیں ہیں، مائیں ہیں۔ (محترمہ نے اپنے زور کلام میں بیویاں بھی کہہ دیا)

بیگم نسیم جہاں: جناب والا! مجھے بھی کچھ کہنا ہے۔ مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ کوئچن کمیٹی اور راہبر کمیٹی میں کوئی فرق ہے۔ میرا خیال تھا کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں۔ اس لئے میں نے یہ سمجھا کہ وہاں راہبر کمیٹی میں بیگم شیریں وہاب موجود ہیں، وہ نمائندگی کر رہی ہیں۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جناب چیئرمین! میرا ریکارڈ شاہد ہے کہ میں نے پورے ہاؤس میں یہ احتجاج کیا کہ کوئچن کمیٹی میں ہمارے سوالات کو رد کر دیا گیا ہے۔ اس بات کا ریکارڈ شاہد ہے کہ میں نے روزانہ اس اسپیشل کمیٹی میں شرکت کی اور پوری توجہ سے ایک ایک بات کو سنتی رہی۔ آج بھی میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے بخار ہے۔ ڈاکٹر نے مجھے ریسٹ کرنے کو کہا ہے۔ لیکن میں اپنے بھائیوں کی باتیں سننے کے لئے آئی ہوں۔ پروفیسر غفور احمد صاحب میرے آئینی کمیٹی میں پرانے کولیگ تھے۔ اب اسمبلی میں بھی اکٹھے ہیں۔ مجھے ان کا بڑا احترام ہے۔ میں نے وہ چار سوالات دیئے تھے 2751 مگر رد کر دیئے گئے۔ کمیٹی میں جو گواہ (قادیانی ولاہوری) آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے عورتوں کے متعلق جو بھی بری باتیں کی تھیں۔ یہ تو اٹارنی جنرل صاحب کو چاہئے تھا کہ انہیں روک دیتے۔ میں تو ان سے پروٹسٹ نہیں کر سکتی تھی۔ یہ تو آپ لوگوں نے یعنی میجارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم چپ رہیں۔ میں کوئی نکتہ اعتراض نہیں اٹھا سکتی تھی۔ لیکن جو میرے بھائی کوئچن کمیٹی کے ممبر تھے۔ ان کا فرض تھا کہ اگر وہ عورتوں کی بے عزتی نہیں چاہتے تھے تو وہ اعتراض کرتے۔ ایک دفعہ پھر میں یہ کہتی ہوں کہ عورتیں آپ کی بیٹیاں بھی ہیں۔ آپ کی مائیں بھی ہیں۔ آپ کی بیویاں بھی ہیں اور عورت کا جو رتبہ ماں کی حیثیت سے ہے۔ وہ مردوں سے بھی اونچا رتبہ ہے۔ کیونکہ ان کے پاؤں تلے جنت ہے۔ اس لئے ان ممبروں کا فرض تھا جو کہ ہمارے محترم نمائندے تھے۔ جو کہ کوئچن کمیٹی کے ممبر تھے کہ یہ کوئچن باہر نکال دیتے لیکن پھر بھی میں جناب

٥٠

صفحہ ٢٤٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

سپیکر ! چپ کر کے رات کے دس بجے تک بیٹھی رہی ہوں۔ بالکل منہ بند کئے ہوئے۔ اٹھی بھی نہیں۔ لیکن میرے بھائیوں نے کئی دفعہ اعتراض کیا ہے۔ محترم پروفیسر غفور احمد نے بھی ایک اعتراض اٹھایا ہے اور محترم بھائیوں نے بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ لیکن میں نے نہیں اٹھایا۔ میں وقت پر بات کرتی ہوں۔ آج آپ نے مجھے بلایا تو میں نے بات کی۔ لیکن اب بھی کہتی ہوں کہ میں اپنا نکتہ اعتراض ریکارڈ پر لانا چاہتی ہوں اور انشاء اللہ آپ کی وساطت سے ریکارڈ پر آ گیا ہے۔

(قادیانیوں سے گالیاں پڑتی رہیں؟)

جناب چیئرمین: بیگم صاحبہ ! تشریف رکھیں۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں کہ عورتوں کو Representation (نمائندگی) نہیں مل سکی۔ لیکن بات یہ ہے کہ کوئچن کمیٹی کے صرف پانچ ممبر تھے Out of twenty (بیس میں سے) اسٹیئرنگ کمیٹی میں عورتوں کی نمائندگی تھی اور وہ نمائندگی بیگم شیریں وہاب کر رہی تھیں۔ تو باقی جو سوال گالیوں کا رہ گیا وہ تو سب نے کھائیں۔ عورتیں ہماری عزت ہیں، ہماری بیٹیاں، بہنیں ہیں۔ لیکن گالیاں تو یہاں سب کھاتے رہے۔ If you separate yourself from the general body of 2752 Muslims (اگر آپ اپنے آپ کو عام مسلمانوں سے الگ سمجھتی ہیں تو پھر آپ کی Complaint شکایت جائز ہے) لیکن جب سب کو بے نقط گالیاں پڑتی رہی ہیں تو you are not separate from us. If you are part and parcel of us, you should also have the patience of hearng the abuses. (آپ ہم سے الگ نہیں ہیں۔ اگر آپ ہمارا حصہ ہیں تو آپ کو گالیاں سنتے وقت حوصلہ رکھنا چاہئے) دیکھئے میری بات سنئے......

بیگم نسیم جہاں: جناب والا! ہم بھی ملت اسلامیہ کا حصہ ہیں۔

Mr. Chairman: If you want to be separate from the general body of Muslims you complaint is justified.

(جناب چیئرمین: اگر آپ مسلمانوں سے اپنے آپ کو الگ سمجھتی ہیں تو آپ کی شکایت جائز ہے)

بیگم نسیم جہاں: جناب سپیکر ! میں آپ کا احترام کرتی ہوں۔ خدانخواستہ میری زبان

٥١

BLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

تیسری بات یہ ہے کہ میں یہاں کمیٹی عزتی نہیں کی گئی۔ بلکہ ان کی عزت کو بحال کرنے کی ہے اور بیگم صاحبہ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ممبران کمیٹی نے

بیگم نسیم جہاں: جناب والا!

جناب چیئرمین: ایک منٹ ٹھہریں

پروفیسر غفور احمد: آپ اتنی پریشان تھی۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم عورتوں کی عزت کریں

(محترمہ نے اپنے زور کلام میں بیویاں

بیگم نسیم جہاں: جناب والا! مجھے بھی اور راہبر کمیٹی میں کوئی فرق ہے۔ میرا خیال تھا کہ ر کہ وہاں راہبر کمیٹی میں بیگم شیریں وہاب موجود ہیں ہو جائے گا۔ جناب چیئرمین ! میرا ریکارڈ شاہد ہے کوئچن کمیٹی میں ہمارے سوالات کو رد کر دیا گیا روزانہ اس اسپیشل کمیٹی میں شرکت کی اور پوری توجہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے بخار ہے۔ ڈاکٹر نے بھائیوں کی باتیں سننے کے لئے آئی ہوں۔ پروفیسر کولیگ تھے۔ اب اسمبلی میں بھی اکٹھے ہیں۔ مجھے دیئے تھے 2751 مگر رد کر دیئے گئے۔ کمیٹی میں جو انہوں نے عورتوں کے متعلق جو بھی بری باتیں کی انہیں روک دیتے۔ میں تو ان سے پروٹسٹ نہیں کہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم چپ رہیں۔ میں کوئی نکتہ اعتراض کمیٹی کے ممبر تھے۔ ان کا فرض تھا کہ اگر وہ عورتوں کرتے۔ ایک دفعہ پھر میں یہ کہتی ہوں کہ عورتیں آ آپ کی بیویاں بھی ہیں اور عورت کا جو رتبہ ماں کی ہے۔ کیونکہ ان کے پاؤں تلے جنت ہے۔ اس نمائندے تھے۔ جو کہ کوئچن کمیٹی کے ممبر تھے کہ

صفحہ ٢٤٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

سے کبھی ناشائستہ الفاظ نکلیں۔ میں وہ دن نہیں دیکھنا چاہتی۔ میں آپ کو کہتی ہوں کہ ہم نے تو اپنے آپ کو علیحدہ نہیں سمجھا۔ عورتوں کی بابت علیحدہ سوالات کئے بھی گئے ہیں اور سنے بھی گئے ہیں۔ میں یہ سوالات آپ کو بتا بھی سکتی ہوں اور جواب بھی بتا سکتی ہوں۔ محضر نامہ بھی دکھا سکتی ہوں کہ کس جگہ حوالے سے ہمارا ذکر آیا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اتنے ریفرنس پیش کر سکتی ہوں جہاں عورتوں کو علیحدہ کیا گیا ہے اور ان کو گالیاں دی گئی ہیں۔

Mr. Chairman: No, no, The ladies are part and (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، عورتیں بھی ہمارا ہی حصہ ہیں) parcel of us.

بیگم نسیم جہاں: ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہم part and parcel (لازمی حصہ) ہیں۔ ہم ملت اسلامیہ کا حصہ ہیں۔ لیکن آپ ہم کو ان سوالوں کی بناء پر علیحدہ کر رہے ہیں۔

Mr. Chairman: No, They are part and parcel. (جناب چیئرمین: نہیں وہ بھی ہم میں شامل ہیں)

شہزادہ سعید الرشید عباسی: جناب والا! میں یہ عرض کروں گا کہ آپ نے یہاں فیصلہ کیا تھا ......

2753 Mr. Chairman: That is all. I am sorry for anything. (جناب چیئرمین: یہ مکمل ہوا۔ میں کسی بھی چیز کے لئے معذرت خواہ ہوں)

Sardar Moula Bakhsh Soomro: Sir, It should be decided which section has abused the lady. If those people who came here as witnesses, they have abused our mothers also, that this was not Qadiani, this was no Ahmedi, so and so.

(سردار مولا بخش سومرو: جناب والا! اس کا فیصلہ ہونا چاہئے کہ کس گروہ نے عورت کو گالی دی ہے۔ اگر وہ لوگ جو یہاں بطور گواہ کے آئے تھے تو انہوں نے ہماری ماؤں کو بھی گالیاں دی ہیں۔ کیونکہ وہ قادیانی اور احمدی نہیں ہیں)

Mr. Chairman: We are all part and parcel of the (جناب چیئرمین: ہم سب جسد واحد کا حصہ ہیں) same body.

٥٢

صفحہ ٢٤٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

Sardar Moula Bakhsh Soomro: But I want to know from Begum Sahiba to whom she refers.

(سردار مولا بخش سومرو: لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ بیگم صاحبہ کن کا حوالہ دے رہی ہیں)

Mr. Chairman: She is just raising her resentment. That is all.

(مسٹر چیئرمین: وہ صرف اپنی آزردگی کا اظہار کر رہی ہیں۔ بس!)

Mian Muhammad Ataullah: I want to bring one thing on record that as a member it is my duty......

(میاں محمد عطاء اللہ: میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ بطور ممبر میرا فرض ہے کہ......)

جناب چیئرمین: کوئی ضرورت نہیں ریکارڈ پر لانے کی۔

Mian Muhammad Ataullah: ......To infrom Begum Sahiba, through you, that we disallowed all question concerning Muhammadi Begum and the Attorney-General did not put that question. only in the Mahzar Nama of Maulana Abdul Hakim he brought out this matter and he dealt with it at lenght.

(میاں محمد عطاء اللہ: میں آپ کی وساطت سے بیگم صاحبہ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ ہم محمدی بیگم سے متعلق سوالات کی اجازت نہیں دی اور اٹارنی جنرل نے یہ سوالات نہیں کئے۔ صرف مولانا عبدالحکیم نے اپنے محضر نامہ میں یہ مواد پیش کیا اور اس پر تفصیلی بات کی)

Begum Nasim Jahan: Mr. Chairman, Sir, my question did not concern Muhammadi Begum, Now I am forced that my revered collegue does not know what question I asked.

(بیگم نسیم جہاں: جناب چیئرمین! میرا سوال محمدی بیگم سے متعلق نہیں ہے اور

٥٣

صفحہ ٢٤٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میرے محترم ساتھی کو یہ تک پتہ نہیں کہ میں نے کیا سوال کیا)

Mr.Chairman: I am sorry, I appologise.

(مسٹر چیئرمین: میں معذرت خواہ ہوں۔ میں معافی چاہتا ہوں)

Begum Nasim Jahan: Sir, let us clarify this point. My question concern did not Muhammadi Begum. I will now tell you what my question was. Sir,before you, I raised the question that the witness......and this answers our friend on the other side......raised the important point.

(بیگم نسیم جہاں: جناب والا! ہمیں اس نکتہ کی وضاحت کر لینی چاہئے۔ میرے سوال کا محمدی بیگم سے کوئی تعلق نہیں۔ میں بتاتی ہوں کہ میرا سوال کیا تھا۔ جناب والا! میں نے یہ سوال کیا تھا کہ گواہ اور دوسری طرف میرے دوست کے جواب سے ایک اہم نکتہ پیدا ہوا تھا)

میں اردو بولتی ہوں۔ Witness (گواہ) کا مؤقف یہ تھا کہ چونکہ آنحضرت ﷺ کی مرد اولاد نہیں تھی اور عورت اولاد تھی۔ روحانی طور پر عورت اولاد ان کا 2754 پیغام بقاء کے لئے نہیں بن سکتی۔ اس لئے ہمیں ایک مرد روحانی پیغمبر کی ضرورت تھی۔ اس پر میں نے چار پانچ سوالات کئے تھے۔ پانچ سوالات کئے تھے کہ کیا آپ کے فرقے کے ممبر مولانا محمد علی تھے۔ انہوں نے یہ نہیں مانا کہ عورت پر بھی وحی آتی تھی۔ میں نے آیات قرآن کریم پیش کی تھیں اس سلسلے میں ۔ میں نے یہ کوئسچن کئے تھے۔ چونکہ ان کی بنیاد یہی ہے اور وہ شروع سے عورتوں کو ان کا مقام نہیں دیتے اور U.N. Human right (اقوام متحدہ کے انسانی حقوق) کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں کہتے اس میں عورتوں کو مساوی حقوق دیئے گئے ہیں۔ خدانخواستہ، خدانخواستہ (نعوذ باللہ من ذالک) رسول ﷺ کی چونکہ عورت اولاد تھی۔ اس لئے روحانی مقام نہیں حاصل کر سکی۔ اسی Base (بنیاد) پر میں نے کوئسچن کئے تھے۔ ان سوالوں میں محمدی بیگم کا ذکر نہیں تھا۔ میں ایسی انسان نہیں ہوں کہ ان چیزوں میں پڑ جاؤں کیونکہ مجھے Basic (بنیادی) چیز سے اختلاف ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم کی رو سے مرد اور عورت مساوی حقوق رکھتے ہیں۔

جناب چیئرمین: میاں عطاء اللہ صاحب اور کچھ کہنا ہے تو کہہ لیں۔

Yes, if there is any other point, any other clarification, you can say it.

٥٢

صفحہ ٢٤٨٧

F PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17 میرے محترم ساتھی کو یہ تک پتہ نہیں کہ میں ... ry, I appologise. (مسٹر چیئرمین: میں معذر... : Sir, let us clarify this ot Muhammadi Begum. I on was. Sir,before you, I ss ......and this answers our ne important point. (بیگم نسیم جہاں: جناب ... سوال کا محمدی بیگم سے کوئی تعلق نہیں۔ میں ... سوال کیا تھا کہ گواہ اور دوسری طرف میر... ness میں اردو بولتی ہوں۔ کی مرد اولاد نہیں تھی اور عورت اولاد تھی... نہیں بن سکتی۔ اس لئے ہمیں ایک مرد ... سوالات کئے تھے۔ پانچ سوالات کئے تھے ... نے یہ نہیں مانا کہ عورت پر بھی وحی آتی تھ... میں ۔ میں نے یہ کوئسچن کئے تھے۔ چونکہ ا... ... N. Human right نہیں دیتے اور ہیں۔ لیکن یہ نہیں کہتے اس میں عورتوں ک... (نعوذ باللہ من ذالک) رسول ﷺ کی کر سکی۔ اسی Base (بنیاد) پر میں ... تھا۔ میں ایسی انسان نہیں ہوں کہ ان چیز... سے اختلاف ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم کی جناب چیئرمین: میاں عط... ther point, any other

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17 (ہاں، اگر کوئی اور نکتہ ہے یا کوئی وضاحت ہے تو آپ بات کر سکتے ہیں) Mian Muhammad Attaullah: One word will make half an hour speech, Sir. (میاں محمد عطاء اللہ: ایک لفظ آدھ گھنٹہ کی تقریر بن جائے گا) Mr. Chairman: You can clarify your position. (مسٹر چیئرمین: آپ اپنی پوزیشن واضح کر سکتے ہیں) خواجہ غلام سلیمان تونسوی صاحب! آپ نے اس موضوع پر کہنا ہے؟ خواجہ غلام سلیمان: جناب والا! میں لکھ کر دوں گا۔ کافی سارا لکھا ہوا ہے۔ اس پر وقت ضائع ہوگا۔ جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ کل تک دے دیں۔ So nobody is prepared now, So, we will meet at 5:30 in the evening. Thank you very much. (اس وقت کوئی تیار نہیں ہے۔ لہٰذا شام ساڑھے پانچ بجے ملیں گے۔ بہت بہت شکریہ!) 2755 [The Special Committee adjourned for lunch break to meet at 5:30 p.m.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھانے کے وقفہ کے لئے شام ساڑھے پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا) [The Special Committee met after lunc break. Mr.Chairman (SaHibzada Farooq Ali)in the Chair.] (دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد خصوصی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا۔ جناب چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں) Mr. Chairman: Should we start? (جناب چیئرمین: ہم شروع کریں؟) مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری! آپ کی وہ ٣٧ دستخطوں والی کتاب ہے میرے پاس۔ جن کے دستخط ہیں ناں جی، وہ ممبران صرف پانچ دس منٹ تقریر فرمائیں گے۔ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: بہت اچھا جی۔ ٥٥

صفحہ ٢٤٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جناب چیئرمین: یہ ممبران جنہوں نے دستخط کئے ہیں۔ یہ پابند ہیں دو Choices (اختیار) تھے۔ یا تو لکھ کر دے دیں یا زبانی۔ جو زبانی کہیں گے ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اچھا جی، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری صاحب! I will request the honourable members to be attentive. (میں معزز ممبران سے گزارش کروں گا کہ وہ متوجہ ہو جائیں)

(مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: محترم چیئرمین صاحب! یہ بحث جس سلسلہ میں چل رہی ہے۔ آج تک اللہ کے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین بمعنی آخری نبی میں کوئی اشتباہ کبھی نہیں رہا اور امت مسلمہ اس مسئلہ کو یقینی طور سے ہمیشہ ہمیشہ سے جانتی ہے۔ لیکن یہاں چند دنوں تک مرزائیوں نے جو اپنے محضرات اور اپنے مضامین پیش کئے۔ ان میں اور جرح کے دوران بار بار یہ بات آئی کہ مرزا صاحب پر وحی ہوتی تھی اور پھر اس کے بعد یہ بھی کہتے تھے کہ وہ نبی تھے۔ رسول بھی تھے۔ لیکن امتی نبی تھے۔ اس قسم کی باتیں آتی رہیں۔ اس سلسلہ میں تین چار موضوعات پر گفتگو کروں گا۔

2756 پہلی بات یہ ہے کہ وحی کا لفظ قرآن کریم میں کئی معنوں میں مستعمل ہے۔ وحی کے اصل معنی عربی زبان میں خفیہ اشارہ کے ہوتے ہیں۔ پوشیدہ اشارہ کے ہوتے ہیں اور اس اعتبار سے یہ لفظ عربی زبان کے اعتبار سے قرآن مجید میں اس معنی میں مستعمل ہے۔ اشارے کے معنی میں، جیسا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ انہوں نے باہر نکل کر اپنی قوم سے یہ کہا۔ ”فخرج علیٰ قومہ من المحراب فاوحیٰ الیہم ان سبحوا بکرۃ وعشیا (مریم: ١١)“ کہ تم صبح شام تسبیح الٰہی کرو۔ یہ اشارہ کیا انہوں نے۔ اس طریقے سے سورۂ مریم میں ہے۔ ”فاوحیٰ الیہم ان سبحوا بکرۃ وعشیا (مریم: ١١)“ کہ انہوں نے اشارہ کیا۔ کبھی کبھی وحی کا لفظ بمعنی دل میں القاء کے بھی آتا ہے۔ جیسے کہ ”واوحینا الیٰ ام موسیٰ (قصص: ٧)“ کہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی طرف ہم نے وحی کی۔ حالانکہ خود قرآن حکیم میں یہ بتا چکے ہیں کہ کوئی عورت جو ہے، وہ نبی نہیں ہو سکتی۔ یہ قرآن مجید ہی نے بتایا۔ باوجود اس کے اس کا تذکرہ کیا۔ اسی طریقے سے وحی کے معنی کسی چیز کے دل میں کسی چیز کو ڈال دینا ہے۔ جیسا

٥٦

صفحہ ٢٤٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No: 17

کہ ”واوحى ربك الى النحل (نحل:٦٨) “ شہد کی مکھی کو اللہ نے وحی کی۔ بلکہ آسمان وزمین کے اوپر بھی وحی الٰہی کا تذکرہ ہے۔ لیکن تمام چیزیں لغوی معنوں کے اعتبار سے وحی کہلاتی ہیں۔

جناب چیئرمین: آپ نے بھی لغت شروع کردی! یہاں سے بڑی مشکل سے جان چھڑائی ہے۔ ایک سوال ان سے پوچھا تھا۔ اب لغت کو جانے دیں۔ ایک مسلمان کے جو عام تاثرات ہیں وہ بتائیں۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: یہ علمی بات ہے۔

جناب چیئرمین: یہ علمی بات اس میں آنی چاہئے تھی۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: اس انداز میں سن لیں۔

2757 جناب چیئرمین: نہیں جی، میں اسی انداز میں سنوں گا جو کتاب ہے۔ جو دستخط کی ہوئی کتاب ہے۔ ورنہ آپ کے دستخط کاٹ دیئے جائیں گے۔ جو وضاحت ہے اس میں کر دی ہے۔ اب آپ ان ریزولیوشن کے متعلق بات کریں۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: جناب چیئرمین! میں عرض کرتا ہوں کہ جہاں تک وحی نبوت اور رسالت کا تعلق ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کو اس کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ ”اللہ اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام: ١٢٤) “ اللہ ہی جانتا ہے وہ کس کو رسول بناتا ہے اور اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی جیسے کہ نوح علیہ السلام اور ان نبیوں کی طرف وحی بھیجی جو ان کے بعد ہیں۔ اسی طریقے سے قرآن کریم میں فرمایا گیا مسلمانوں کے لئے: ”یومنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك (البقره) “ . کہ مسلمان وہ ہیں جو ایمان ایک بار لاتے ہیں۔ جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا اور اس پر جو پہلے نازل کیا گیا۔ معلوم یہ ہوا کہ اللہ کے حبیب محمد ﷺ کے بعد اب وحی کے نزول کا کوئی سلسلہ نہیں اور اس چیز کو قرآن کریم کی بے شمار آیات نے بتایا ہے۔ جیسے کہ پہلے کتاب میں لکھ کر دیا جا چکا ہے۔ بہت سی آیتیں ہیں جو اس موضوع کو بیان کرتی ہیں۔ تو اس لئے وحی نبوت ہے گویا وہ صرف نبی کو آ سکتی ہے۔ غیر نبی کو نہیں آ سکتی۔ البتہ علماء کرام نے یہ بتایا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے تو وہ چونکہ پہلے نبی ہو چکے ہیں۔ سارے مسلمان اس بات کو جانتے ہیں۔ کہ نبوت کبھی منسوخ نہیں ہوتی۔ وہ دنیا میں جب تشریف لائیں گے، آسمان سے

٥٧

OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جناب چیئرمین: یہ ممبران Choices (اختیار) تھے۔ یا تو لکھ کر دے نہیں ہے۔ اچھا جی، مولانا عبد المصطفیٰ الاز ble members to be attentive. گا کہ وہ متوجہ ہو جائیں) (مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری کا قو مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: چل رہی ہے۔ آج تک اللہ کے حبیب محمد رسو اشتباہ کبھی نہیں رہا اور امت مسلمہ اس مسئلہ کو چند دنوں تک مرزائیوں نے جو اپنے محضرنامے دوران بار بار یہ بات آئی کہ مرزا صاحب پر نبی تھے۔ رسول بھی تھے۔ لیکن امتی نبی تھے۔ موضوعات پر گفتگو کروں گا۔

2756 پہلی بات یہ ہے کہ وحی کا لفظ اصل معنی عربی زبان میں خفیہ اشارہ کے ہو سے یہ لفظ عربی زبان کے اعتبار سے قرآن میں ، جیسا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے با کہا۔ ”فخرج على قومه من المحراب فاو کہ تم صبح شام تسبیح الہی کرو۔ یہ ا ہے۔ ”فاوحى اليهم ان سبحوا بكرة وع کہ انہوں نے اشارہ کیا۔ کبھی کہ کہ ”واوحينا الى ام موسى (قصص:٧) “ کہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی طر چکے ہیں کہ کوئی عورت جو ہے، وہ نبی نہیں ہو تذکرہ کیا۔ اسی طریقے سے وحی کے معنی

صفحہ ٢٤٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جب اتریں گے تو ان کی نبوت منسوخ نہیں ہو گی۔ لیکن حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں آنے کے وقت وہ نبی غیر تشریعی ہوں گے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جو عمل 2758 کریں گے۔ وہ شریعت محمد ﷺ پر عمل کریں گے۔ جیسے کہ دوسری حدیث میں فرمایا: ”اگر موسیٰ زندہ ہوتے “ ”لو کان موسیٰ حیا لما وسعه الا اتباعی (الحدیث)“ ان کو سوا میرا اتباع کرنے کے کوئی چارہ نہیں تھا۔ تو یہ معنی علماء لیتے ہیں غیر تشریعی نبی کا۔ تو یہ نہیں کہ کوئی شخص کھڑا ہو کر دعویٰ کرے کہ میں نبی ہوں غیر تشریعی۔ یہ مرزا صاحب اور مرزا صاحب کو نبی ماننے والوں کا ایک دھوکہ ہے۔ اب بھی مسلمان اس بات کے قائل نہیں ہو سکے اور نہ ہو سکتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کسی کو دی جائے۔

جناب چیئرمین: باقی انشاء اللہ آئندہ نشست میں۔

مولانا عبد المصطفیٰ الازہری: میری عرض سنیں۔ آپ گھبرا کیوں گئے ہیں؟ آخر سارا دن پڑا ہوا ہے۔ کل بھی کرنا ہے۔

جناب چیئرمین: نہیں نہیں ، آپ لکھ کر بھی دے چکے ہیں۔ آپ میں اور دوسروں میں فرق ہے۔ آپ تو سارے دلائل لکھ کر دے چکے ہیں۔

مولانا عبد المصطفیٰ الازہری: وہ تو لکھ کر دیئے۔

جناب چیئرمین: وہ، یہ کی بات نہیں ہے۔

مولانا عبد المصطفیٰ الازہری: ایک مثال یہ تھی کہ کسی مسلمان کو کافر نہیں کہنا چاہئے۔

جناب چیئرمین: مثالوں کا جواب دیں گے تو دس دن لگیں گے۔ دس دن میں نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔ اس ریزولیوشن کے متعلق بات کریں۔

مولانا عبد المصطفیٰ الازہری: اسی ریزولیوشن کے متعلق ہی عرض کروں گا۔ ہم نے ریزولیوشن میں یہ کہا ہے کہ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں وہ کافر ہیں۔ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اسی سلسلے میں کئی دفعہ یہاں پر ناصر نے بھی اور اس کے بعد آنے والوں نے بھی یہ بتایا کہ 2759 نہیں ، ہم مسلمان ہیں۔ ہم کسی صورت میں کافر نہیں ہو سکتے۔ اس لئے کہ جب ایک شخص مسلمان ہو گیا تو اس پر اب کفر نہیں آسکتا۔ اس کے بعد انہوں نے قرآن مجید کی بعض آیات اور احادیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ قرآن کریم کی یہ آیت ہے کہ اگر کوئی شخص تمہیں مل جائے اور تمہیں السلام علیکم کہے تو اسے کافر نہیں کہنا چاہئے۔ اصل میں ناصر نے یہاں دھوکہ دیا ہے۔ اصل آیت یہ نہیں ہے جو انہوں نے پیش کی ہے۔ بلکہ اصل آیت پیش کرتا ہوں تاکہ یہ مسئلہ بالکل واضح ہو

٥٨

2491 NATIONA

ے ایمان والو! جب تم اللہ تعالیٰ کے تم مومن نہیں ہو۔ تمہارا مقصد ان کہ پہلے تم اس قسم کے لوگ تھے کہ نے کے بعد یہ جائز نہیں ”فتبينوا“ ہاتھا۔ اس کے پاس بکریاں تھیں۔ مانوں نے سمجھا کہ یہ کافر ہے، خواہ بکریاں چھین کر لے آئے۔ اس پر کے تو اسے کافر مت سمجھو۔ بلکہ اس ایک آدمی کو کافر کہہ کر قتل کر دو۔ وہ مومن ہے۔ بلکہ فرمایا گیا کہ اس ی السلام علیکم کہے، وہ مومن ہو جاتا مرزائیوں کے حالات پر تمام پوری مدعی نبوت کے قائل ہیں۔ اس لئے ہے جو مرزا ناصر احمد نے غلط پیش کی سی کو کافر کہا وہ کافر ہے۔ وہ خود کافر اور اس کا مفہوم یہ ہے: (عربی) سے ایک کافر ہو جاتا ہے۔ “ اسی مسلم قعی کافر ہے تو پھر ٹھیک ہے ۔ ورنہ وہ بلکہ قرآن کریم نے یہ بات فرمائی فر ہو گئے۔ اس قسم کی بے شمار آیتیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ

صفحہ ٢٤٩١

2491 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جائے۔ میں اس کا ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ آیت یہ ہے: ”اے ایمان والو! جب تم اللہ تعالیٰ کے راستے میں سفر کرو تو غور کرو اور نہ کہو ان کو جو تمہیں سلام کہے کہ تم مومن نہیں ہو۔ تمہارا مقصد ان سے دنیاوی مال لینا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ آخر میں فرمایا کہ پہلے تم اس قسم کے لوگ تھے کہ لوگوں کو مال لوٹنے کے لئے لوگوں کو قتل کر دیتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد یہ جائز نہیں ”فتبينوا“ اس آیت میں دو جگہ یہ فرمایا گیا۔ یہ ہوا تھا کہ ایک بدو چلا جا رہا تھا۔ اس کے پاس بکریاں تھیں۔ مسلمانوں کے سامنے سے گزرا تو اس نے کہا السلام علیکم۔ مسلمانوں نے سمجھا کہ یہ کافر ہے، خواہ مخواہ سلام کر کے اپنی بکریاں بچانا چاہتا ہے۔ اس کو قتل کر کے بکریاں چھین کر لے آئے۔ اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ راستے میں اگر کوئی سلام کہے تو اسے کافر مت سمجھو۔ بلکہ اس پر اچھی طرح غور و خوض کر لو اور ایسا نہ ہو کہ مال کے لالچ میں ایک آدمی کو کافر کہہ کر قتل کر دو۔ حالانکہ وہ مومن ہو۔ یہاں پر یہ نہیں کہا کہ جو السلام علیکم کہے وہ مومن ہے۔ بلکہ فرمایا گیا کہ اس معاملے میں غور و خوض کر لو اور سوچو۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ محض یہ بات نہیں کہ جو آدمی السلام علیکم کہے، وہ مومن ہو جاتا ہے۔ بلکہ اس کے بارے میں حالات پر غور کرنا پڑے گا اور مرزائیوں کے حالات پر تمام پوری کتابوں پر غور کرنے کے بعد یہ پتہ چلا کہ وہ حضور ﷺ کے بعد نئی نبوت کے قائل ہیں۔ اس لئے وہ مسلمان نہیں ہو سکتے۔

2760 دوسری بات انہوں نے ایک حدیث پیش کی ہے جو مرزا ناصر احمد نے غلط پیش کی ہے۔ آپ ان کے الفاظ دیکھ لیں۔ اس میں یہ ہے کہ کسی نے کسی کو کافر کہا وہ کافر ہے۔ وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ حدیث یوں نہیں ہے۔ بلکہ مسلم شریف کے الفاظ اور اس کا مفہوم یہ ہے: (عربی) ”جس نے کسی دوسرے کو کافر کہا ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے۔“ اسی مسلم شریف کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ: (عربی) ”اگر وہ شخص جس نے دوسرے کو کافر کہا، اگر وہ واقعی کافر ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ ورنہ وہ کفر اس کی طرف لوٹ کر آئے گا۔ یہ یقینی ہے۔“

اس لئے علماء بھی صلحاء بھی انبیاء اور خود سید الانبیاء بلکہ قرآن کریم نے یہ بات فرمائی ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں جو پہلے مسلمان ہوئے، پھر کافر ہو گئے۔ اس قسم کی بے شمار آیتیں ہیں۔ یہاں پر میں نے صرف گیارہ آیتیں لکھی ہیں۔ (عربی) ”بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم یوم آخرت اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ

٥٩

صفحہ ٢٤٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

فرماتا ہے کہ وہ مومن نہیں۔ محض کسی کا کہہ دینا کہ میں مومن ہوں، اس سے وہ مومن نہیں ہو جاتا۔‘‘ بلکہ یہاں فرمایا گیا: (عربی) ’’پہلے وہ مسلمان تھے، پھر انہوں نے کفر کیا۔‘‘ (عربی) ’’اگر پھر کفر بڑھتا ہی رہے تو ان کی توبہ قبول نہیں ہے۔‘‘ اس قسم کی بے شمار آیتیں ہیں۔ جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی پہلے مسلمان ہوتا ہے، پھر کافر ہو جاتا ہے۔ (عربی) 2761 ان لوگوں نے زبان سے کلمہ کفر بکا۔ پہلے مومن تھے پھر کافر ہو گئے۔ جو آدمی اپنی زبان سے کلمہ کفر ادا کرتا ہے۔ اگر وہ اس سے توبہ نہ کرے تو یقیناً کافر ہو جاتا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان اس کے قائل ہیں۔ حتیٰ کہ خود مرزائیوں نے کہا، اگرچہ وہ غلط بات کہی تھی۔ لیکن یہ کہا کہ اگر کسی پر حجت تمام ہو جائے اور پھر وہ نہ مانے تو کافر ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ہم سب مسلمان تھے۔ ظاہر ہے یہ بات انہوں نے نہیں کہی۔ اتمام حجت کا مطلب انہوں نے کیا لیا ہے؟

Sardar Moula Bakhsh Soomro: It was said here by the delegation that if anybody recites 99 times "Kufr" and there is only one ingredient of Islam, he is not a "Kafir", if he has said anything which is Un-Islamic. But it was said here if 99 times he does anything contrary to Islam, But one ingredient indicated that he is Muslim, "Kufr" does not in any way come on him. I will request this also be explained for me.

(سردار مولا بخش سومرو: یہاں ان کے (احمدیوں) کے نمائندگان کی جانب سے کہا جارہا تھا کہ اگر کوئی شخص ننانوے مرتبہ کفریہ بات کہتا ہے اور اس میں اسلام کا صرف ایک حصہ ہے۔ تو وہ کافر نہیں ہے۔ اگر اس نے کوئی غیر اسلامی بات کہی ہے۔ لیکن یہاں کہا جارہا تھا کہ اگر کوئی ننانوے مرتبہ اسلام مخالف بات کرتا ہے۔ صرف ایک بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ تو پھر اس پر کفر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ میری درخواست ہوگی کہ اس کی وضاحت کر دی جائے)

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: بہت اچھا۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ جس پر اتمام حجت ہو جائے، مفہوم جو بھی لیا ہے انہوں نے ، وہ ہے، پھر انکار کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔

٦٠

صفحہ ٢٤٩٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

فرماتا ہے کہ وہ مومن نہیں۔ محض کسی کا کہہ دینا کہ میں مومن بلکہ یہاں فرمایا گیا : (عربی) ”پہلے وہ مسلمان تھے، پھر انہوں نے کفر کیا۔“ ( ”اگر پھر کفر بڑھتا ہی رہے تو ان کی توبہ قبول ن ہیں۔ جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی پہلے مسلمان ہوتا ہ 2761 ان لوگوں نے زبان سے کلمہ کفر بکا۔ پہلے م زبان سے کلمہ کفر ادا کرتا ہے۔ اگر وہ اس سے توبہ نہ کرے تو مسلمان اس کے قائل ہیں۔ حتیٰ کہ خود مرزائیوں نے کہا، اگ اگر کسی پر حجت تمام ہو جائے اور پھر وہ نہ مانے تو کافر ہو جا ظاہر ہے یہ بات انہوں نے نہیں کہی۔ اتمام حجت کا مطلب

Ma Bakhsh Soomro: It was said n that if anybody recites 99 times y one ingredient of Islam. he is not a anything which is Un-Islamic. But it s he does anything contrary to Islam, cated that he is Muslim, "Kufr" does on him. I will request this also be

(سردار مولا بخش سومرو: یہاں ان کے (ام کہا جا رہا تھا کہ اگر کوئی شخص ننانوے مرتبہ کفریہ بات کہتا ہے ہے۔ تو وہ کافر نہیں ہے۔ اگر اس نے کوئی غیر اسلامی بات کوئی ننانوے مرتبہ اسلام مخالف بات کرتا ہے۔ صرف ایک ہے۔ تو پھر اس پر کفر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ میری درخواست ہو

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: بہت اچھا، بات کہی ہے کہ جس پر اتمام حجت ہو جائے، مفہوم جو بھی لیا ج تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔

٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جناب چیئرمین: مولانا ! باقی تقریر لال مسجد میں ۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: سومرو صاحب نے ایک بات کہی وہ میں نے بتا دی۔

جناب چیئرمین: یہ سلسلہ تو پھر ختم ہی نہیں ہوگا۔ بھٹی صاحب اعتراض کریں گے۔ پھر حاجی صاحب کوئی اور بات پوچھ لیں گے۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: ایک آدمی کی اگر ٩٩ وجوہ کفر کی ہوں اور ایک وجہ ایمان کی ہو، وہ مسلمان ہو، یہ فقہاء نے نہیں لکھا۔ یہ کہیں بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ قول کہ کسی شخص نے ایک بات کہی۔ اس بات میں ٩٩ وجوہ کفر کی نکلی ہیں۔ ایک وجہ اسلام کی نکلتی2762 ہے، ایک گفتگو ہے۔ اگر اس کے بعد ٩٩ تفاسیر کی جائیں تو وہ سب کفر ہوں گی۔ ایک کفر ایسا ہے جس میں اسلام ہو۔ اس قول کو کافر نہیں کہا جائے گا۔ یہ مفہوم ہے۔ گفتگو میں یہ نہیں کہ کوئی آدمی ایک دفعہ مسلمان ہو گیا تو وہ لوہے اور پہاڑ سے زیادہ مضبوط ہو گیا۔ کتنا ہی کفر کیوں نہ کرے، اللہ اور رسول ﷺ کو گالیاں دیتا رہے۔ یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہی رہے گا۔ چونکہ صدر صاحب میری تقریر سے زیادہ محظوظ نہیں ہو رہے ۔ اس لئے میں تقریر ختم کرتا ہوں۔

جناب چیئرمین: میں نے اسی واسطے عرض کیا ہے کہ باقی لال مسجد میں۔ وہاں سب جاسکتے ہیں۔ یہاں میں ان سے پہلے سنوں گا جو لال مسجد نہیں جاسکتے ۔ سید حیدر عباس گردیزی۔ We are not entering into these intricacies. (ہم ان پیچیدگیوں میں نہیں پڑنا چاہتے)

شہزادہ سعید الرشید عباسی: جناب والا! صبح انہوں نے پوائنٹ آف آرڈر اٹھایا تھا کہ آپ کو چیئرمین ایڈریس نہیں کیا جاتا۔ اب خود صدر کہہ رہے ہیں۔

Mr. Chairman: There are certain admitted facts. (مسٹر چیئرمین: کچھ مسلمہ حقائق ہیں)

جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب چیئرمین!

جناب چیئرمین: بھٹی صاحب! ان کے بعد۔

سید عباس حسین گردیزی: جناب والا! میری تقریر دس صفحوں کی ہے۔ اس لئے اگر مجھے ٹوکا نہ جائے تو تسلسل قائم رہے گا۔

جناب چیئرمین: آپ شروع کریں انشاء اللہ دس کے دو صفحے ہی رہ جائیں گے۔ اب ایک صفحہ پڑھ دیں۔ باقی انسرٹ کرالیں گے۔

صفحہ ٢٤٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(سید عباس حسین گردیزی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

2763سید عباس حسین گردیزی:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ط

”الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاء والمرسلین سیدنا و نبینا ورسولنا المطلق وهادينا الى طريق الحق وشفيعنا يوم القيامة ابى القاسم محمدن المصطفٰی و الہ الطيبين الطاهرين واصحابه الاخيار المكرمين۔ اما بعد۔ فقد قال الله تبارك وتعالیٰ وقوله الحق۔ یاایھاالذین امنو اتقواللہ حق تقته ولا تموتن الا وانتم مسلمون (آل عمران: ١٠٢)“

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں تمام اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ ایمان لانے کے بعد پوری طرح تقویٰ اختیار کرو اور مرنے سے پہلے یقین کر لو کہ تم مسلمان ہو؟ حکم باری کا لفظی ترجمہ یہ ہے ”اے لوگو! جو ایمان لاچکے ہو اللہ سے تقویٰ اختیار کرو جو حق ہے تقویٰ الٰہی کا اور ہرگز نہ مرنا تم مگر مسلمان“...... یہ پیغام ہم سب کے لئے ہے۔ جو قرآن مجید کو آخری آسمانی کتاب مانتے ہیں۔ اس پیغام کا لانے والا وہ صادق وامین رسول (ﷺ) جس کا نام نامی خدا تعالیٰ نے یوں لیا۔ ”وما محمد الا رسول“ اور محمد ﷺ نہیں ہیں مگر رسول، اور دوسری جگہ ارشاد ہوا:

2764”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين و كان الله بكل شيء عليما (الاحزاب: ٤٠)“

﴿اور نہیں تھے محمد ﷺ باپ تمہارے مردوں میں سے کسی کے لیکن وہ تو اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں اور اللہ ہر چیز کا پہلے ہی سے اچھی طرح علم رکھنے والا ہے۔﴾

پہلی آیت میں آنحضرت ﷺ کی حیثیت متعین کی گئی ہے اور معجز نما طریقے سے کہا گیا ہے کہ ”محمد مصطفیٰ ﷺ تو صرف رسول ہیں۔“ اور دوسری آیت میں اس بات کو پھر دہرایا اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت ختم ہے۔ آپ رسول اللہ اور خاتم النبیین ہیں۔...... اسی کے ساتھ ارشاد ہوا اور اللہ ہمیشہ سے ہر نکتے ہر بات، ہر مسئلے کا علیم ہے......

اسے انسان کے ماضی اور حال اور مستقبل کے تمام معاملات ومسائل کا علم تھا اور اب بھی ہے۔ اس نے یہ فیصلہ انسان کی فلاح و بہبود کے لئے کیا۔ اس نے اپنے رسول کو وحی کے ذریعے ”قرآن مجید“ عطاء کر کے آخری کتاب نازل کی۔ جس میں ہر خشک وتر کا علم ہے اور ہم سے کہا کہ میرا نبی اپنے ارادہ وخواہش سے کچھ نہیں بولتا۔ جب وہ بولتا ہے تو میری وحی اور میرے

٦٢

صفحہ ٢٤٩٥

2495 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اشارے سے بولتا ہے۔ ”والنجم اذا هوى ما ضل صاحبكم وما غوى“ ﴿قسم ہے ستارے کی، جب وہ جھکا تمہارا آقا، تمہارا رفیق نہ گمراہ ہوا نہ بہکا۔﴾ ”ما ينطق عن الهوى“ ﴿اور وہ اپنی خواہش نفسانی سے کچھ بولتا ہی نہیں۔﴾ ”ان هو الا وحى يوحى“ ﴿وہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو انہیں کی گئی ہے۔﴾ اس معصوم اور بلند مرتبہ رسول پاک ﷺ نے اللہ کے تمام احکام بلا کم و کاست انسانوں تک پہنچائے اور تمام اوامر پر کامل ومکمل عمل کیا۔ ایسا عمل جس کی سند میں قرآن مجید نے فرمایا: ”ولكم في رسول الله اسوة حسنة“ ﴿رسول اللہ کی سیرت اسوۂ حسنہ ہے﴾ اور آنحضرت کامل ومکمل نظام زندگی لا چکے اور 2765انسان کے فلاح وبہبود کا قانون پہنچا چکے تو آیت اتری:

”اليوم اكملت لكم دينكم واتمت عليكم نعمتى ورضيت لكم الاسلام دينا“ ﴿میں نے آج تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمتوں کو تمام کردیا اور تمہارے لئے اسلام کو پسند کرلیا۔﴾

قرآن مجید کی ان آیات سے ثابت ہوا۔

اور اسلام بحیثیت دین کے اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔

مصطفیٰ ﷺ ہے۔

اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے سوا کسی غیر کو مقتدا مانتا ہے اور اس کے طریقہ کو اسوۂ حسنہ پیغمبر سے بہتر جانتا ہے تو وہ مذکورہ بالا حقائق کا منکر ہے۔ اس کے نزدیک نہ محمد مصطفیٰ ﷺ آخری رسول ہیں، نہ قرآن مجید آخری کتاب۔ نہ محمد مصطفیٰ ﷺ کا دین اسلام کامل ومکمل دین ہے، نہ وہ اس دین پر مرنا چاہتا ہے۔ اس شخص کو مسلمان کہنا اسلام کی توہین، قرآن مجید کی توہین اور رسول پاک ﷺ، خاتم النبیین، خاتم المرسلین کی توہین ہے۔ اس بناء پر علماء اسلام نے ایسے شخص کو کافر کہا ہے اور ہمارے نزدیک جو بھی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو نبی مانے اور کسی کتاب کو کتاب وحی خدا جانے۔ وہ اس طرح کا فرد نجس ہے۔ جس طرح دوسرے مشرک اور کافر نجس ہیں۔ نہ اس کے ہاتھ پاک، نہ ان سے رشتہ جائز، نہ ان سے معاشرت درست ہے۔ ہمارے مجتہدین کا اس پر اتفاق

٦٣

BLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(سید عباس حسین گردیزی کا قومی ا

2763سید عباس حسین گردیزی:

بِسْمِ اللهِ الرَّ

”الحمد لله رب العالمين والص سیدنا و نبینا ورسولنا المطلق وهادین القاسم محمد المصطفىٰ و اله الطيبين الط

بعد۔ فقد قال الله تبارک و تعالیٰ وقوله ال تموتن الا وانتم مسلمون (آل عمران: ١٠٢) ا

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ا بعد پوری طرح تقویٰ اختیار کرو اور مرنے سے ا

ترجمہ یہ ہے ”اے لوگو! جو ایمان لاچکے ہو اللہ س نہ مرنا تم مگر مسلمان“۔۔۔۔۔۔ یہ پیغام ہم سب کے مانتے ہیں۔ اس پیغام کا لانے والا وہ صادق وا یوں لیا۔ ”وما محمد الا رسول“ اور محمد ﷺ

2764 ”وما كان محمد ابا احد من كان الله بكل شىء عليما (الاحزاب: ٤٠)“

﴿اور نہیں تھے محمد ﷺ باپ تمہارے ا اور نبیوں کے خاتم ہیں اور اللہ ہر چیز کا پہلے ہی ج

پہلی آیت میں آنحضرت ﷺ کی گیا ہے کہ ”محمد مصطفیٰ ﷺ تو صرف رسول ہیں اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت اسی کے ساتھ ارشاد ہوا اور اللہ ہمیشہ سے ہر شے

اے انسان کے ماضی اور حال اور بھی ہے۔ اس نے یہ فیصلہ انسان کی فلاح و ا ذریعے ”قرآن مجید“ عطاء کرکے آخری کتاب سے کہا کہ میرا نبی اپنے ارادہ و خواہش سے کچھ

صفحہ ٢٤٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ہے۔ حضرت شہید ثالث قاضی نور اللہ شوستری نے ”احقاق الحق“ عقیدہ نبوت کا آغاز ہی ان لفظوں میں کیا ہے: 2766 ”الاول فی نبوۃ محمد ﷺ اعلم ان ھذا اصل عظیم فی الدین و بہ یقع الفرق بین المسلم والکافر“

(احقاق الحق جلد دوم ص ١٩٠ طبع ١٣٨٨ھ)

مسئلہ نبوت کے مباحث میں پہلی بحث نبوت حضرت محمد ﷺ پر گفتگو ہے۔ یاد رہے کہ دین کی یہ اصل عظیم ہے۔ اسی بنیاد پر مسلم اور کافر میں فرق قائم ہوتا ہے۔

محمد مصطفیٰ ﷺ کو نبی ورسول ماننے کا مطلب یہ ہے کہ بالفاظ قرآن کریم: ”ما اتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا“ ”جو تمہیں رسول حکم دیں اسے قبول کرو اور جس سے رسول روک دیں اس سے باز آجاؤ۔“

اسی بناء پر مسلمان کا اعلان اور اس کا پہلا کلمہ ہے: ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہم اس میں مزید کسی دعوے دار نبی ورسول کے لئے راستہ بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”علی ولی اللہ ووصی رسول اللہ“

جناب چیئرمین: میں عرض کرتا ہوں کہ باقی سائیکلو سٹائل کرا کے ہم تقسیم کرادیں گے۔

سید عباس حسین گردیزی: میرے خیال میں جناب! مجھے پڑھنے دیں۔

جناب چیئرمین: ابھی ایک صفحہ پڑھا گیا ہے۔

سید عباس حسین گردیزی: تھوڑا سا رہ گیا ہے۔ میں کتنا جلدی پڑھ رہا ہوں۔

جناب چیئرمین: ہمارا ایمان بہت مضبوط ہے۔ یہ کمزور ایمان والوں کے لئے ہے۔

سید عباس حسین گردیزی: آگے بڑی اہم چیزیں ہیں۔ مجھے پڑھنے دیں۔ میں نے بڑی محنت کی ہے اور دیکھئے اس نے ہمارے فرقے پر جتنے Attack (حملے) کئے ہیں۔ ان کا جواب لازمی ہے۔

2767 ہم رسول اور نبی کو معصوم مانتے اور عصمت کو شرط نبوت مانتے ہیں۔ ہمارے علماء نے بالتفصیل لکھا ہے کہ نبی ہو یا رسول وہ آغاز عمر سے آخر زندگانی تک کوئی گناہ صغیرہ یا کبیرہ نہیں کرتا۔ سہو ونسیان، بھول چوک، غفلت اور جھوٹ، بلکہ کوئی اخلاقی یا کردار کی گراوٹ بھی اس کی ذات اس کے عمل اس کی ضمیر اس کی نیت اور ارادے سے دور رہتی ہے۔ (دیکھئے سید مرتضیٰ علم الہدیٰ کی کتاب تنزیہ الانبیاء کا مقدمہ ص ١) وہ ہر اعتبار سے سچا وہ ہر پہلو سے صادق ہوتا ہے اور ہر قسم کے جھوٹے سے مباہلہ کے لئے یہ کہہ سکتا ہے کہ: ”فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ یعنی دعوت ودین، عقیدہ وعمل جو بھی جھوٹا ہو اس پر ہم اللہ کی لعنت کی دعا کریں۔

٦٤

صفحہ ٢٤٩٧

2497 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

واقعہ مباہلہ سے ثابت ہے کہ رسول مقبول ﷺ ہر لحاظ سے طیب و طاہر، پاک و پاکیزہ اور معصوم تھے۔ اگر نبی معصوم نہ ہو، اگر وہ کفار کا حلیف ہو، اگر وہ دشمنان دین کا معاون ہو۔ اگر نبی و رسول اسلام کے مخالفوں سے مفاہمت کر لے، اگر اس کا کردار داغی ہو تو اس کی وحی پر بھروسہ اور اس کے قول پر اعتماد نہ رہے گا اور اس کا پیغام غلط و مشتبہ ہو جائے گا۔ تاریخی شواہد اور دوست دشمن اور معاصر گواہوں نے بلکہ مکے کے پورے معاشرے نے گواہی دی کہ محمد مصطفیٰ ﷺ صادق وامین تھے۔ میں ان گواہوں میں سے سب سے پہلے حضرت ابو طالب کا نام لیتا ہوں کہ وہ خاتم المرسلین ﷺ کے پہلے محافظ اور آنحضرت ﷺ کے مربی تھے۔ حضرت ابو طالب کا شعر ہے:

لقد علموا ان ابننا لا مکذب
لدیہم، ولا یعنی بقول الا باطل

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abassi.]

(اس مرحلہ پر جناب چیئرمین کی جگہ ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی نے اجلاس کی صدارت سنبھال لی)

2768سید عباس حسین گردیزی: ان سب لوگوں کو معلوم ہے کہ ہمارا فرزند (محمد ﷺ) جھوٹا نہیں ہے، نہ غلط باتوں کی طرف توجہ کرتا ہے۔

(دیوان شیخ الابطح ص ١١)

اور حضرت علیؓ نے فرمایا ہے: ”اللہ نے پیغمبروں کو بہترین سونپے جانے کی بہترین جگہوں میں رکھا اور بہترین ٹھکانوں میں ٹھہرایا۔ وہ بلند مرتبہ صلبوں سے پاکیزہ شکموں کی طرف منتقل ہوتے رہے۔ جب ان میں سے کوئی گزرنے والا چلا گیا تو دین خدا کو دوسرا لے کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ یہ اللہ کا اعزاز محمد ﷺ تک پہنچا جنہیں پھلنے پھولنے کے اعتبار سے بہترین معدن اور نشو و نما کے لحاظ سے بہت باوقار اصولوں سے پیدا کیا۔ اسی شجرہ سے جس سے سب نبی پیدا کئے اور انہی میں سے اپنے امین منتخب فرمائے۔ آپ ﷺ کی عترت سب سے بہتر عترت اور قبیلہ اور شجرہ بہترین شجرہ، جو سرزمین حرم میں ابھرا۔ بزرگی کے سایے میں بڑھا، جس کی شاخیں لمبی اور پھل لوگوں کی دسترس سے باہر۔ آپ ﷺ متقی لوگوں کے امام اور ہدایت حاصل کرنے والے کے لئے بصیرت۔ وہ چراغ جس کی لو ضوفشاں اور ایسا ستارہ جس کی روشنی چھائی ہوئی ہے۔ ایسی چقماق جس کا شعلہ لپکتا ہوا۔ آپ کا کردار معتدل، آپ کا راستہ ہدایت۔“

(نہج البلاغہ خطبہ ٩٣ حاشیہ محمد عبدہ طبع مصر ص ٢٠١)

٦٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ہے۔ حضرت شہید ثالث قاضی نور اللہ شوسرتی نے ”احقا لفظوں میں کیا ہے: 2766 ”الاول فی نبوۃ محمد ﷺ وبہ یقع الفرق بین المسلم والکافر“

مسئلہ نبوت کے مباحث میں پہلی بحث نبوت م دین کی یہ اصل عظیم ہے۔ اسی بنیاد پر مسلم اور کافر میں فرق

محمد مصطفیٰ ﷺ کو نبی و رسول ماننے کا مطلب ی الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا“ ﴿جو تم سے رسول روک دیں اس سے باز آجاؤ۔﴾

اسی بناء پر مسلمان کا اعلان اور اس کا پہلا کلمہ ۔ اللہ“ ہم اس میں مزید کسی دعوے دار نبی و رسول کے لئے کہتے ہیں۔ ”علی ولی اللہ ووصی رسول اللہ“

جناب چیئرمین: میں عرض کرتا ہوں کہ باقی م

سید عباس حسین گردیزی: میرے خیال م

جناب چیئرمین: ابھی ایک صفحہ پڑھا گیا ہ

سید عباس حسین گردیزی: تھوڑا سا رہ گیا

جناب چیئرمین: ہمارا ایمان بہت مضبوط ہ

سید عباس حسین گردیزی: آگے بڑی ا نے بڑی محنت کی ہے اور دیکھتے اس نے ہمارے فرقے پر کا جواب لازمی ہے۔

2767ہم رسول اور نبی کو معصوم مانتے اور عصم نے بالتفصیل لکھا ہے کہ نبی ہو یا رسول وہ آغاز عمر سے آخ کرتا۔ سہو و نسیان، بھول چوک، غفلت اور جھوٹ، بلکہ ذات اس کے عمل اس کی ضمیر اس کی نیت اور ارادے پ الھدیٰ کی کتاب تنزیہہ الانبیاء کا مقدمہ ص (١) وہ ہر احتیاج ہر قسم کے جھوٹے سے مباہلہ کے لئے یہ کہہ سکتا ہے کہ: ”بج دعوت و دین، عقیدہ و عمل جو بھی جھوٹا ہو اس پر ہم اللہ کی لعن

٦٤

صفحہ ٢٤٩٨

2498 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

حضرت علی علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے لئے اصل لفظیں یہ فرمائی تھیں ”سیرتہ القصد“ قصد کے معنی ہیں افراط تفریط سے بچا ہوا راستہ۔ اس سے مراد ”عصمت“ ہے کہ اس میں نہ گناہ اور نہ لغزش کی افراط ہے، نہ بے عملی اور کاہلی کی تفریط۔ اسی اخلاق معتدل اور عصمت حقیقی کو قرآن مجید نے ”خلق عظیم“ سے یاد کیا ہے۔ ”وانك لعلى خلق عظيم“ اور بیشک آپ عظیم اخلاقی قدروں کے 2769 مالک ہیں۔ آئمہ اہل بیت علیہم السلام نے اسی عظمت کردار کو ”عصمت“ سے یاد کیا ہے اور علماء حدیث وعقائد نے نبی کے لئے عصمت کو شرط مانا ہے۔ مولانا دلدار علی لکھنوی کی ”عماد الاسلام“ جلد سوم میں اس مسئلے پر سب سے زیادہ تفصیل سے بحث ہے اور سید مرتضیٰ علم الہدیٰ نے ”تنزیہ الانبیاء“ اسی مسئلہ پر لکھی ہے۔ علم کلام کی سینکڑوں کتابوں میں ہمارے علماء نے اس پر بحث کی ہے اور انبیاء کی عصمت ثابت کر کے مضبوط عقیدے کی بنیاد استوار کی ہے۔ اس لئے ایک شخص کو نبی ماننا جو غلطی در غلطی کرتا ہو۔ اصول اسلام سے انحراف اور سنت اللہ کی تردید ہے۔

ہمارے نبی کریم ﷺ پر نبوت ورسالت اس لئے ختم ہے کہ آپ ﷺ کی لائی ہوئی کتاب ”قرآن مجید“ کی تعلیم میں کوئی اضافہ ممکن نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ کی شریعت سے زیادہ جامع شریعت پیش نہ ہوسکی۔ آپ کی تعلیم میں کسی بات کو دلیل سے باطل نہ کیا جا سکا۔ بلا دلیل معقول اور نا فہمی سے کسی بات کا انکار دراصل ضد اور ”ما اتاکم الرسول فخذوہ“ کی مخالفت ہے اور اسی غلط مخالفت کا نام کفر ہے۔ مثلاً کوئی نماز کی فرضیت کا انکار کر دے، کفر ہے۔ کوئی روزے کے وجود کو نہ مانے کفر ہے اور کوئی جہاد کو فرض و واجب ماننے سے سرتابی کرے، کفر کا مرتکب ہوگا۔

قرآن مجید، رسول اللہ ﷺ کا زندہ معجزہ اور آپ ﷺ کے خاتم النبیین ﷺ ہونے کی دلیل محکم ہے۔ یہ مقدس کتاب وحی کا معیار معین کرتی ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت اس کا علمی مرتبہ، اس کی دعوت کا اسلوب لاجواب ہے اور اس کی وحی کے بعد وحی کا دعویٰ، قرآن مجید کا تمسخر ہے۔ لطف یہ ہے کہ قرآن مجید نے انبیاء کے لئے ایک اصول بتایا ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“ اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول کو مگر اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا۔

سورہ ابراہیم کی اس آیت میں ”بلسان قومہ“ کہہ کر ہمیں ایک ضابطہ دے دیا گیا ہے۔ اگر 2770 اب سے تقریباً سو برس پہلے پنجاب میں مرزا غلام احمد نے جو وحی کا دعویٰ کیا اور بقول اس کے یکے بعد دیگرے کتابیں آئیں تو انہیں پنجابی میں آنا چاہئے تھا۔ یہ بات کیا ہے کہ وہ

٦٦

صفحہ ٢٤٩٩

2499 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کتابیں اردو میں آتی ہیں۔ عربی و فارسی میں آتی ہیں اور کبھی انگریزی میں اللہ سے ہمکلام ہوتا ہے اور ایک ہندو لڑکے سے سمجھنے کے لئے مدد لیتا ہے اور اگر اس کی قومی زبان اس وقت بھی اردو تھی تو پھر وحی کا معیار کم از کم میر امن کی ”باغ و بہار“ یا رجب علی بیگ کے ”فسانہ عجائب“ اور مرزا غالب کے خطوط کی زبان سے تو کمتر نہ ہوتا ......

کتنی عجیب بات ہے کہ قوم کی زبان نبی کی زبان سے بہتر ہے اور نبی صاحب کی زبان کا کوئی معیار ہی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مدعی نے اردو میں اپنے خیالات لکھ کر خود اپنے دعوے کا بھرم کھو دیا اور عقل مندوں کے لئے خدا کی حجت تمام ہو گئی کہ جو شخص بات کا سلیقہ اور ادب کا رشتہ نہ رکھتا ہو اس کی بات کا اعتبار کیا اور جس کی بات بے وقار ہو اس کا دعویٰ جھوٹ کے سوا کیا ہوگا اور جو اتنا بڑا جھوٹ بولے، جو اللہ اور رسول ﷺ پر زندگی بھر افتراء کرتا رہے۔ جو اپنی کڑھت کو خدا کی طرف منسوب کرے۔ اس کی سزا کم از کم یہ ہے کہ اللہ کے ماننے والوں کے زمرے میں اس کا شمار جرم قرار دیا جائے۔

میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ نبوت ایک الٰہی منصب ہے۔ جسے خدا ہر ایک کے حوالے نہیں کرتا۔ قرآن مجید نے صاف صاف کہا ہے اور قیامت تک کے لئے اعلان فرما دیا ہے کہ: ”لا ينال عهدی الظالمين “ میرا عہد ظالموں کے ہاتھ نہیں آسکتا اور ظالم کون ہے، قرآن مجید نے فرمایا ہے: ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا اوقال اوحى الى ولم يوح اليه شى ومن قال سانزل مثل ما انزل الله، ولو ترى اذالظالمون في غمرات الموت والملائكة باسطوا ايديهم اخرجوا انفسكم اليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن اياته تستكبرون (الانعام:٩٣)“

2771”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا، جو خدا پر جھوٹ موٹ افتراء کرے یا کہے مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ حالانکہ اس پر وحی ذرا سی بھی نہ آئی ہو اور وہ جو کہے تجھ پر ویسی ہی کتاب نازل کئے دیتے ہیں جیسے اللہ نازل کر چکا ہے۔ کاش تم دیکھتے یہ ظالم موت کی سختیوں میں پڑے ہیں اور فرشتے ان کی طرف جان نکالنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور نکالو، اپنی جانیں، آج تم کو ذلیل کن عذاب کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کہتے تھے اللہ پر خلافِ حق اور تم اس کی آیتوں سے اکڑا کرتے تھے۔“

غور کیجئے مرزا جی اپنے آپ کو کبھی مریم کہتا ہے۔ پھر وہی اپنے آپ کو ابن مریم کہتا ہے اور وہی ”اسے شراب خور بتاتا ہے۔“ (کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ) انصاف کیجئے

٦٧

LY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

حضرت علی علیہ السلام نے رسول اللہ تھیں ”سیرتہ القصد “ قصد کے معنی ہیں افراط ہے کہ اس میں نہ گناہ اور نہ لغزش کی افراط ہے، نہ عصمت حقیقی کو قرآن مجید نے ”خلقِ عظیم“ سے یا اور بیشک آپ عظیم اخلاقی قدروں کے 2769مالک کردار کو ”عصمت“ سے یاد کیا ہے اور علماء حدیث مولانا دلدار علی لکھنوی کی ”عماد الاسلام“ جلد سوم ہے اور سید مرتضیٰ علم الہدیٰ نے ”تنزیہہ الانبیاء“ میں ہمارے علماء نے اس پر بحث کی ہے اور انبیاء استوار کی ہے۔ اس لئے ایک شخص کو نبی ماننا جو ظل سنت اللہ کی تردید ہے۔

ہمارے نبی کریم ﷺ پر نبوت و رسال کتاب ”قرآن مجید“ کی تعلیم میں کوئی اضافہ ممک جامع شریعت پیش نہ ہو سکی۔ آپ کی تعلیم میں ک معقول اور نا فہمی سے کسی بات کا انکار دراصل ضد ا ہے اور اسی غلط مخالفت کا نام کفر ہے۔ مثلاً کوئی روزے کے وجود کو نہ مانے کفر ہے اور کوئی جہا مرتکب ہوگا۔

قرآن مجید، رسول اللہ ﷺ کا زندہ کی دلیل محکم ہے۔ یہ مقدس کتاب وحی کا معیار علمی مرتبہ، اس کی دعوت کا اسلوب لاجواب ہے تمسخر ہے۔ لطف یہ ہے کہ قرآن مجید نے انبیاء رسول الا بلسان قومہ “ اور ہم نے نہیں بھیجا

سورہ ابراہیم کی اس آیت میں ”بلس ہے۔ اگر 2770اب سے تقریباً سو برس پہلے پنجاب اس کے یکے بعد دیگرے کتابیں آئیں تو انگی

صفحہ ٢٥٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کہ ایسے افتراء پرداز اور اللہ جیسی عظیم واکبر ذات پر اس قدر بہتان باندھنے والے کی سزا کتنی سخت ہونا چاہئے۔ شریعت کی اصطلاح میں اسی کو ارتداد کہتے ہیں اور مرتد کو قتل کرنے کا حکم ہے۔

جناب عالی! اسی ماہ شعبان یعنی اگست ١٩٧٤ء کے ”کویتی ماہ نامہ الداعی الاسلامی“ میں ص ١٠٦ پر، وزارت اوقاف و شئون اسلامیہ کویت کے ترجمان نے مرزا غلام احمد کے دعویٰ ”مسیح منتظر“....... ”روح مسیح اس میں اتر آئی ہے“....... ”اس پر وحی ہوتی ہے۔“ ان جیسے چند نکتوں کو پیش نظر رکھ کر ”نفی جہاد“ اور ”انگریزوں کی غیر مشروط حمایت“ کے پس منظر میں اس شخص اور اس کی جماعت کو اسلام کے خلاف منظم سازش اور اسلام کی جگہ ایک دین جدید بتایا گیا ہے اور یقیناً ہر صاحب عقل و ہوش اس سازش کا قلع قمع کرنا چاہتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایوان، علماء اسلام کے اس متفق علیہ فیصلے کو نافذ العمل قرار دے گا کہ قادیانیوں اور لاہوریوں کے دونوں گروہ جو مرزا غلام احمد کو صاحب وحی مانتے ہیں، اپنے اس عقیدے میں باطل پر ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے اس عقیدے کو صحیح مانتے ہیں۔ تو بقول علامہ یہ سب کافر ہیں اور ایک ایسے دین کے پرستار ہیں جن کا اسلام سے کوئی رشتہ نہیں...... یہ ایک اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے اور اقلیتیں ہمارے ملک میں رہتی ہیں یہ بھی ایک اقلیت ہے اور ملک میں رہتی ہے۔

نبی اور رسول ہونے کا یہ دعویٰ دار اور اس کی جماعت واضح طور پر اپنے ملفوظات، اپنے عقائد، اپنے اعمال، اپنے خود ساختہ نظام میں خود ہی ہم سے الگ ہے اور ہمیں کافر سمجھتی ہے اور حقیقی مسلمان نہیں جانتی۔ یہ لوگ سبھی رسولوں کی توہین کرتے ہیں۔ سبھی بزرگان دین کو سبک کرتے ہیں۔ ان کی مسلسل یہی کوشش ہے کہ کسی طرح مسلمان ذلیل ہو جائیں۔ مسلمان مشتعل ہو کر یا ان سے دست و گریبان ہوں یا آپس میں کٹ مریں۔ شیعہ سنی اختلاف ہو، شیعہ ہوں یا دیوبندی اور بریلوی، اہل حدیث ہوں یا حنفی۔ ایک گھر کے افراد، ایک سماج کے رکن، ایک دین کے پرستار ہیں۔ یہ فرزندان اسلام ناموس توحید و رسالت پر جان نثار کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ سب توحید و رسالت و قرآن پر یکساں عقیدہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے قرآن کے مقابلے میں کبھی کسی کتاب کو رکھنے کی جسارت نہیں کی۔ انہوں نے نبی کے برابر کسی کو نہیں مانا۔ ان کا ملجاؤ ماویٰ ایک، ان کا مرنا جینا ایک، ان کا دستور ایک، یہ دونوں اسلام کی قدیم ترین متحرک قسمیں ہیں۔ یہ دونوں دین اسلام کے دفتر کے دو صفحے ہیں۔ ان دونوں نے ہمیشہ دین پر جان قربان کی ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ مرے ہیں۔ انہوں نے اپنی موت گوارہ کی ہے۔ مگر ایک دوسرے کو موت سے بچایا ہے۔

٦٨

صفحہ ٢٥٠١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام، رسول پاک ﷺ کے بھائی ہیں اور پروردہ آغوش بھی، داماد بھی ہیں اور جاں نثار بھی۔ ان کے والد بزرگوار نے سب سے پہلے اللہ کے آخری رسول ﷺ اور ان کے منصب کی حفاظت میں غیر معمولی جان فروشی اور بے مثال قربانی دے کر مسلمانوں کو سبق دیا ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی جان اور آبرو، پیغام اور حقانیت پر آنچ نہ آنے دینا۔ مکے میں 2773 جب تک ابو طالب زندہ رہے، آنحضرت ﷺ پر آنچ نہ آنے پائی۔ جب دیکھا کہ قریش نہیں مانتے تو اللہ کے آخری نبی ﷺ کو اپنے قلعے میں لے کر چلے گئے اور ”شعب“ میں اتنی سختیاں اٹھائیں کہ جب محاصرہ ختم ہوا اور اس کے دروازے کھلے تو ابو طالب فاقوں کی زیادتی اور غموں کی فراوانی سے اتنے کمزور و ناتواں ، ضعیف و نیم جاں ہو چکے تھے کہ زیادہ دن دنیا میں نہ رہ سکے اور چند دنوں میں سفر آخرت فرما گئے۔

علیؓ اس عظیم باپ کے فرزند تھے۔ آپ نے شب ہجرت سے لے کر احد و بدر و حنین، خیبر و خندق بلکہ مباہلے تک ہر معرکے میں حق خدمت کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اسی بناء پر رسول اللہ ﷺ نے دعوت ذوالعشیرہ سے حجۃ الوداع تک ہر موقع پر اپنا بھائی اور امت کا مولا کہا۔ حد یہ ہے کہ خود سرورِ عالم خاتم النبیین ﷺ نے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی تشبیہہ حضرت ہارون نبی سے یوں دی ”انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ“ ﴿تم مجھ سے وہی نسبت رشتہ اور وہی درجہ رکھتے ہو، تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہارون تھے۔﴾ میں قربان ہوں حکمت و نگاہ نبوت پر۔ حضور نبی کریم ﷺ نے جملہ اس پر تمام نہیں کیا بلکہ فرمایا: ”الا انہ لا نبی بعدی“ ﴿مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾ اس لئے کہ کوئی علیؓ کو نبی نہ مان لے۔

رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق ہم مسلمان کسی ایسے شخص کو مسلمان نہیں مانتے جو علیؓ کو نعوذ باللہ من ذالک، اللہ یا اللہ کے برابر مانتا ہو۔ یا جو شخص بھی حضرت علی علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کا حریف یا ہم منصب و ہم رتبہ سمجھتا ہو۔ وہ لوگ مشرک و کافر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے مقابلہ، معاذ اللہ! ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ اب تک نہج البلاغہ یعنی حضرت کے خطبوں کا مجموعہ بڑے بڑے عربوں کو حیران کئے ہوئے ہے اور صدیاں گزر گئی ہیں۔ مگر وہ خطبے ادب و فکر و فلسفہ اسلام میں اپنا جواب رکھنے سے محروم ہیں۔ صدیوں سے پڑھنے والے پڑھتے اور شرحیں لکھتے چلے آئے ہیں۔ 2774 مگر کسی نے کہیں نہ سنا نہ پڑھا کہ امیر المومنین یا ان کے ماننے والے اثنا عشری آپ کو صاحب وحی مانتے ہوں۔

محترمہ قائم مقام چیئرمین: گردیزی صاحب کتنے Pages (صفحات) اور ہیں؟

٦٩

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کہ ایسے افتراء پرداز اور اللہ جیسی عظیم واکبر ذات پر اس قدر بہتان ہونا چاہئے۔ شریعت کی اصطلاح میں اس کو ارتداد کہتے ہیں اور مر

جناب عالی! اسی ماہ شعبان یعنی اگست ١٩٧٤ء کے میں ص ١٠٦ پر، وزارت اوقاف وشئون اسلامیہ کویت کے ترجما ”مسیح منتظر“...... روح مسیح اس میں اتر آئی ہے۔“...... ”اس پرا کو پیش نظر رکھ کر ”نفی جہاد“ اور ”انگریزوں کی غیر مشروط حمایت“ کی جماعت کو اسلام کے خلاف منظم سازش اور اسلام کی جگہ ایک صاحب عقل و ہوش اس سازش کا قلع قمع کرنا چاہتا ہے اور میں کے اس متفق علیہ فیصلے کو نافذ العمل قرار دے گا کہ قادیانیوں اور غلام احمد کو صاحب وحی مانتے ہیں، اپنے اس عقیدے میں بالک تعلق نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے اس عقیدے کو صحیح مانتے ہیں۔ تو ایسے دین کے پرستار ہیں جن کا اسلام سے کوئی رشتہ نہیں...... جیسے اور اقلیتیں ہمارے ملک میں رہتی ہیں یہ بھی ایک اقلیت ہے

نبی اور رسول ہونے کا یہ دعویٰ دار اور اس کی جماعت عقائد، اپنے اعمال، اپنے خود ساختہ نظام میں خود ہی ہم سے حقیقی مسلمان نہیں جانتی۔ یہ لوگ کبھی رسولوں کی توہین کر۔ کرتے ہیں۔ ان کی مسلسل یہی کوشش ہے کہ کسی طرح مسلمانا ہو کر یا ان سے دست و گریبان ہوں یا آپس میں کٹ مریں دیوبندی اور بریلوی، اہل حدیث ہوں یا حنفی۔ ایک گھر کے ان کے پرستار ہیں۔ یہ فرزندان اسلام ناموس توحید و رسالت پر ہیں۔ وہ سب توحید و رسالت وقرآن پر یکساں عقیدہ رکھتے ہ میں کبھی کسی کتاب کو رکھنے کی جسارت نہیں کی۔ انہوں نے تو ماویٰ ایک، ان کا مرنا جینا ایک، ان کا دستور ایک، یہ دونوں اسلا دونوں دین اسلام کے دفتر کے دو صفحے ہیں۔ ان دونوں نے دونوں ایک ساتھ مرے ہیں۔ انہوں نے اپنی موت گوارہ کی بچایا ہے۔

٦٨

صفحہ ٢٥٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

سید عباس حسن گردیزی: بس جناب تین Pages (صفحات) اور ہیں۔

محترمہ قائم مقام چیئرمین: تو پھر آپ نماز کے بعد پڑھنا۔ نماز کا ٹائم ہورہا ہے۔

We break for Maghrib Prayers and then we will meet at 7:20 p.m. again.

(ہم نماز مغرب کے لئے وقفہ کرتے ہیں۔ سات بج کر بیس منٹ پر دوبارہ ملیں گے)

[The Special Committee adjourned for Maghrib prayers to meet at 7:20 p.m.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس نماز مغرب کے لئے سات بج کر بیس منٹ تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا)

[The Special Committee re-assembled after Maghrib Prayers, Mr.Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس نماز مغرب کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ مسٹر چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی صدارت کر رہے ہیں)

جناب چیئرمین: کتنے صفحے باقی رہ گئے ہیں؟

سید عباس حسین گردیزی: جناب کوئی چار صفحے باقی ہیں۔

جناب چیئرمین: چار صفحے باقی ہیں، یعنی آدھا گھنٹہ لگے گا۔

Sayed Abbas Hussain Gardezi: It is a matter of little more than ten minutes.

(سید عباس حسین گردیزی: یہ دس منٹ سے کم کا مواد ہے)

Dr. Muhammad Shafi: We all agree that he should be given time.

(ڈاکٹر محمد شفیع: ہم سب متفق ہیں کہ انہیں وقت ملنا چاہئے)

Mr. Chairman: I will agree to what you agree.

(جناب چیئرمین: جس پر آپ متفق ہیں۔ میں بھی اس سے اتفاق کروں گا) میں نے یہ پوچھا ہے کہ کتنے صفحے باقی رہ گئے ہیں۔

٧٠

صفحہ ٢٥٠٣

2503 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

Dr. Muhammad Shafi: Thank you very much.

(ڈاکٹر محمد شفیع: بہت بہت شکریہ!)

2775 مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: جناب والا! ہم سب لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ یہ باقاعدہ پورا پڑھیں۔

جناب چیئرمین: اچھا، آپ کو ایک موقع اور ملے گا۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: ضرور دیں۔

جناب چیئرمین: لازماً، آپ تو موجود نہیں تھے جب میری اور ان کی......

مولانا شاہ احمد نورانی: جناب والا! دیکھئے، بات یہ ہے کہ آپ ہمارے حقوق کے کسٹوڈین ہیں۔ ہمارے ساتھ اس ملک میں بڑی زیادتیاں ہوتی ہیں۔ بخدا میں نماز پڑھ کر آرہا ہوں اور صحیح عرض کرتا ہوں کہ ہم نے رات دو گھنٹے تک پی آئی اے آفس میں مسلسل کوشش کی کہ صبح ساڑھے آٹھ بجے والی فلائٹ پر ہمیں سیٹ مل جائے۔

جناب چیئرمین: آپ نے مجھ سے کیوں نہیں بات کی۔ آپ ٹیلی فون کرتے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ ایسا ہوتا۔

مولانا شاہ احمد نورانی: مولانا ظفر احمد انصاری کو اور مجھ کو دونوں کو انہوں نے آج صبح کی سیٹ نہیں دی اور ہم نے کہا کہ صاحب ہمیں ایم این اے کے کوٹہ میں سے سیٹ دے دیں تو انہوں نے کوٹہ سے سیٹ نہ دی۔ بارہ بجے کی فلائٹ پر انہوں نے سیٹ دی۔ اگر سیشن جاری ہو تو تمام سیٹیں کینسل کر کے ایم این اے کو پہلے سیٹ دینی چاہئے۔ مولانا انصاری صاحب کو بھی سیٹ نہیں دی آٹھ بج کر بیس منٹ کے plane (جہاز) پر اور مجھ کو بھی نہیں دی اور سوا بارہ بجے سیٹ دی۔

جناب چیئرمین: میری بات سنیں کہ کوٹے کے علاوہ M.N.A.'s should be given preference. (ممبران قومی اسمبلی کو ترجیح دینی چاہئے)

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: صبح کی 8:20 کے Plane (طیارہ) کی سیٹیں خالی تھیں۔ لیکن ہمیں سیٹ نہیں دی گئی۔

2776 جناب چیئرمین: آپ مجھے لکھ کر دیں۔ میں باقاعدہ شکایت کرتا ہوں۔

You should have contacted me.

دوسری بات یہ ہے کہ رول یہ ہے کہ M.N.A's should be given

٧١

ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

سید عباس حسن گردیزی: بس جناب تین !

محترمہ قائم مقام چیئرمین: تو پھر آپ نماز

ghrib Prayers and then we will meet

(ہم نماز مغرب کے لئے وقفہ کرتے ہیں۔ سام

mmittee adjourned for Maghrib

.m.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس نماز مغرب کے لئے سا کر دیا گیا)

mmittee re-assembled after Maghrib

(Sahibzada Farooq Ali) in the

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس نماز مغرب کے بعد دو فاروق علی صدارت کر رہے ہیں)

جناب چیئرمین: کتنے صفحے باقی رہ گئے ہیں

سید عباس حسن گردیزی: جناب کوئی چا

جناب چیئرمین: چار صفحے باقی ہیں، یعنی آ

Hussain Gardezi: It is a matter of tes.

(سید عباس حسن گردیزی: یہ دس منٹ ہ

nd Shafi: We all agree that he

(ڈاکٹر محمد شفیع: ہم سب متفق ہیں کہ انہیں و

I will agree to what you agree.

(جناب چیئرمین: جس پر آپ متفق ہیں نے یہ پوچھا ہے کہ کتنے صفحے باقی رہ گئے ہیں۔

٧٠

صفحہ ٢٥٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

preference while going to attend the session (دوران اجلاس ممبران قومی اسمبلی کو ترجیح دینی چاہئے)

Maulana Shah Ahmad Noorani Sdiddiqi: Yes, during the session.

(مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ہاں، دوران اجلاس)

Mr. Chairman: That I will do.

(جناب چیئرمین: یہ میں کروں گا)

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جناب والا! میں ابھی لکھ کر دیتا ہوں۔ اس لئے تاخیر ہو گئی کہ .......

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ I am sorry (میں معذرت خواہ ہوں) مولانا سے میں نے یہی عرض کیا تھا۔ یہ تقریر کر رہے تھے تو میں نے کہا کہ آپ نے یہ سب کچھ لکھ کر دیا ہوا ہے۔ یہ کہیں اور جنہوں نے لکھ کر نہیں دیا ان کو زیادہ موقع ملنا چاہئے۔ یہ ایک اصولی بات ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: دو چار باتیں جو اس نے بعد میں اٹھائیں۔...... یہ ذرا پہلے تیار ہو گیا تھا....... اس کی وضاحت علامہ صاحب فرمانا چاہتے تھے۔ ویسے یہ بیان متفقہ ہے۔

جناب چیئرمین: باقی میں نے کہا کہ کچھ فرما دیں۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: دو تین وضاحتیں رہ گئی تھیں، جو مرزا ناصر احمد نے جرح میں کیں۔ وہ باتیں اس میں آ نہ سکیں۔ کیونکہ یہ ذرا پہلے تیار ہو گیا تھا۔

جناب چیئرمین: میں نے عرض کیا تھا کہ کچھ یہ بیان فرما دیں۔ باقی لال مسجد میں ہم سن لیں گے۔ یہی بات میں نے کی تھی۔ سید عباس حسین گردیزی!

سید عباس حسین گردیزی: جناب والا! مجھے ہدایت ہوئی ہے ممبر صاحبان کی طرف سے کہ میں ذرا آہستہ آہستہ پڑھوں۔

2777 جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ یہ ہدایت بالکل غلط ہے۔ آپ تیزی سے پڑھیں۔

سید عباس حسین گردیزی: اصول دین و عقائد امامیہ کا طویل و ضخیم دفتر اس عقیدے سے خالی اور تمام شیعہ اس عقیدے سے بری ہیں۔ دراصل یہ الزامی جواب اور ڈوبتے میں تنکے کا سہارا ان لوگوں کی طرف سے ہے۔ جن کے دینی رہنماء نے اپنی تالیف (آئینہ کمالات

٧٢

صفحہ ٢٥٠٥

2505 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤) پر لکھا ہے: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں، میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔“ (حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨) پر لکھا ہے: ”هل ینظرون الا ان یاتیہم الله فی ظلل من الغمام“ یعنی ”اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔“ یعنی انسانی مظہر (مرزا) کے ذریعے اپنا جلال ظاہر کرے گا۔ اور (حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) کی یہ بات : ”انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فیکون “ یعنی ”اے مرزا، تیری یہ شان ہے کہ تو جس چیز کو ”کن“ کہہ دے وہ فوراً ہو جاتی ہے۔“

حضرت علی علیہ السلام کے خطبات کا مجموعہ ”نھج البلاغۃ“ امام زین العابدین کی دعاؤں کا مجموعہ ”صحیفہ کاملہ“ امام علی رضا علیہ السلام کی ”فقہ الرضا“ اور بعض آئمہ کی طرف سے منسوب کتابیں موجود ہیں۔ ان کے مطالعے سے اسلامی عقائد اور مسلمہ مسائل دین کے علاوہ، اللہ کی عظمت، توحید کی جلالت اور حقیقت عبدیت و کمال بندگی کے سوا کوئی بات ثابت نہیں کی جا سکتی۔ یہ کتابیں تعلیمات رسول ﷺ کی ترجمان اور آنحضرت ﷺ کے دین حق کا اثبات ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کی عظمت یہ ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور آپ کی ان قربانیوں پر قائم ہے جس پر طنز کرنے والا اسلام کا مذاق اڑاتا ہے۔

(ملفوظات احمدیہ ج ٢ ص ١٤٢ طبع ربوہ ١٩٦٠ء) کا یہ جملہ کس قدر 2778 مجرمانہ ہے: ” اب نئی خلافت لو، ایک زندہ علی (مرزا) تم میں موجود ہے، اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“ یہ دریدہ دہنی اس علی علیہ السلام کے بارے میں ہے جس کے لئے رسول ﷺ نے فرمایا ”من کنت مولاہ، فھذا علی مولاہ“ جس کا مولا میں ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔

مرزا ناصر احمد نے اپنے محضر نامے میں جن غیر مستند اور بعض غیر شیعہ اثناء عشری کتابوں کے حوالے دے کر شیعہ سنی اختلاف کو ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ وہ دراصل اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہے۔ ان کے حوالے ناقص و غلط ہیں۔ ”تذکرۃ الائمہ“ نامی بے شمار کتابیں ہیں۔ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے محضر نامے کے صفحہ ١٨٣ پر حوالہ در حوالہ جن کتابوں کو استعمال کیا ہے۔ نہ ان کے مؤلف کا نام ہے۔ نہ کتابوں کے صحیح نام۔ نیز ان میں سے کوئی کتاب نہ وحی ہے، نہ الہام، نہ شیعوں پر ان کتابوں پر ایمان لانا واجب ہے، نہ ان کی مندرجات کو صحاح کا درجہ اور نعوذ باللہ قرآن مجید کا مقابل تصور کیا گیا ہے۔ امام کی ذات وصفات کی شرطیں سخت اور بالکل واضح ہیں۔

٧٣

IBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

hile going to attend the session. (قومی اسمبلی کو ترجیح دینی چاہئے) mad Noorani Sdiddiqi: Yes, (مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: با at I will do. (جناب چیئرمین: یہ میں کروں گا) مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: تاخیر ہو گئی کہ....... جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ مولانا سے میں نے یہی عرض کیا تھا۔ یہ تقریر کر... کر دیا ہوا ہے۔ ٣٧ کہیں اور جنہوں نے لکھ کر نہیں بات ہے۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: دو پہلے تیار ہو گیا تھا..... اس کی وضاحت علامہ صاحب جناب چیئرمین: باقی میں نے کہا مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: و جرح میں کیں۔ وہ باتیں اس میں آ نہ سکیں۔ کیونکہ جناب چیئرمین: میں نے عرض کیا ہم سن لیں گے۔ یہی بات میں نے کی تھی۔ سید عبا سید عباس حسین گردیزی: جنا طرف سے کہ میں ذرا آہستہ آہستہ پڑھوں۔ 2777 جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ سید عباس حسین گردیزی: اس عقیدے سے خالی اور تمام شیعہ اس عقیدے سے میں تنکے کا سہارا ان لوگوں کی طرف سے ہے۔ ج... ٢

صفحہ ٢٥٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

علم و عصمت کی شرط پر نبوت کے دعوے یا اس کی مماثلت کا شبہ کرنا ہی بے معنی ہے۔ حسن مجتبیٰ جنہوں نے حکومت پر اس لئے ٹھوکر ماری کہ نانا کا دین ان کی جنگ و جہاد سے کمزور نہ ہو جائے۔ جن کا فیصلہ تھا کہ میں رہوں یا نہ رہوں، رسول ﷺ کا نام تو رہ جائے۔ جانشینی رسول ﷺ کا تقاضا ہی یہ تھا کہ حضرت امام حسنؓ ذاتی مسئلہ کو نظر انداز کر کے اسلام اور رسول اسلام کے مفادات کو وسیع تر معیار سے دیکھتے۔ امام حسن علیہ السلام کے بعد امام حسین علیہ السلام امام ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی جانشینی کا تاج امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک پر ضوفگن ہوا۔

”آں امام عاشقان پور بتول سرو آزادے ز بستان رسول
اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر معنی ذبح عظیم آمد پسر
زندہ حق از قوت شبیری است باطل آخر داغ حسرت میری ست
بہر حق در خاک و خون غلطیدہ ست پس بنائے لا الہ گردیدہ است
خون او تفسیر ایں اسرار کرد ملت خوابیدہ را بیدار کرد
تیغ لا چوں از میاں بیرون کشید از رگ ارباب باطل خوں چکید
نقش الا اللہ بر صحرا نوشت سطر عنوان نجات ما نوشت
رمز قرآن از حسین آموختیم زآتش او شعلہ ہا اندوختیم
تار ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز تازہ از تکبیر او ایمان ہنوز

سید سرداران جنت، سید الشہداء علیہ السلام جن کے احسان سے مسلمانوں کی گردنیں جھکی ہوئی ہیں اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کہہ رہے ہیں:

شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین

اس عظیم امام کے لئے یہ مصرع کس قدر توہین خیز ہے کہ:

کربلائیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

رسول آخرالزمان ﷺ تو فرمائیں ”حسین منی وانا من الحسین“ ﴿حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ ﴾

”احب اللہ من احب حسینا وابغض اللہ من ابغض حسینا“ ﴿اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے اور اس سے نفرت کرتا ہے جو حسین سے بغض رکھے۔ ﴾

٧٢

صفحہ ٢٥٠٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اس کے بعد مرزا غلام احمد کی جسارت دیکھئے۔ دراصل ان کو اپنا منہ دیکھنے کے لئے گریبان کا رخ کرنا چاہئے۔

2780 بات بچپن تک آ پہنچی ہے تو مرزا غلام احمد نے گل سرسبد، چمن رسالت، نور چشم ختمی مرتبت حضرت سیدہ کبریٰ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں جو ہرزہ سرائی کی ہے۔ وہ ہر مسلمان کے لئے دل آزار ہے اور اسی گستاخی کی وجہ سے خدا نے مرزا جی کو بدترین موت دی۔ محترم حضرات! قادیانی اور لاہوری حضرات نے اپنے بیانات میں اقرار کیا ہے۔ دونوں کا اظہار ہے کہ غلام احمد پر وحی ہوتی تھی۔ ان کی بہت سی کتابیں آسمانی مانی جاتی ہیں۔ اس سے صاف صاف عیاں ہے کہ قادیانی اور لاہوری صاحبان براہ راست ایک ایسے شخص کی امت میں ہیں جو صاحب وحی ہے اور صاحب رسالت کبریٰ۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مجبوری کے طور پر یا ضمنی حیثیت سے جو بھی مانتے ہیں، وہ مانتے ہیں۔ ورنہ مرزا صاحب تو بقول خود نعوذ باللہ مسیح زماں، کلیم خدا اور نقل کفر کفر نباشد۔ محمد و احمد تک بن بیٹھے ہیں۔ شاید موصوف کو ہندوؤں کا فلسفہ تناسخ یا آواگون کا یقین ہو گیا تھا۔ جبھی تو کہا ہے:

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبے باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)

اور تو اور مرزا غلام احمد تو اپنے جھوٹ پر یہاں تک دلیری کر چکا ہے کہ (دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) میں کہہ دیا ہے: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

شاید ایسے ہی موقع کے لئے یہ محاورہ ہے ’ایاز قدر خود بشناس‘ میں اب زیادہ وقت نہیں لینا چاہتا۔ صرف دو باتوں کی طرف ایوان کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

رسی سے وابستہ ہو جائیے اور انتشار سے بچئے﴾ دشمنان اسلام مسلمانوں کو خانہ جنگی، اندرونی اختلاف اور فکری پریشانیوں میں الجھا کر ہم سے ایمان کی دولت چھیننا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے ہمارا رشتہ توڑنے کی فکر میں ہیں۔ ہماری قوت کا سرچشمہ توحید و نبوت ہے۔ ہمار ا مرکز اتحاد قرآن ہے۔ ہمارا معاشرہ اسلام پر مبنی ہے۔ ہم نے ان مرزائیوں کی ریشہ دوانیاں بچشم خود دیکھ لی ہیں۔ جو قادیان سے کشمیر اور انڈونیشیا سے افریقہ تک اپنا نظام فکر و عمل پھیلا چکے ہیں۔ جو ہندوستان اور فلسطین میں منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ ہم ان سے محتاط رہیں اور اسلام کے قلعے

٧٥

صفحہ ٢٥٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں کوئی رخنہ واقع نہ ہونے دیں۔ کافر کو کافر کہتے نہ ڈریں اور برطانوی استعمار کے سیاسی ہتھکنڈوں سے اپنا پیچھا چھڑائیں۔ آپس کی لڑائیوں کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا۔ ”دشمن را نتواں حقیر و بے چارہ شمرد۔“

شیعہ سنی اپنے گھر میں لڑے، باہر والوں نے دونوں کی باتوں کو ریکارڈ کر کے ہماری تاریخ ، ہمارے روابط ، ہمارے معاملات سمجھے بغیر ہم دونوں کو غیر مسلم کہہ کر اسلام کے نام پر دعویٰ کر دیا۔ اگر اس دعوے کے فیصلے میں ذرا بھی غلطی ہوئی۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش سے کام نہ لیا۔ اگر خدانخواستہ پیر لڑکھڑا گئے تو کل تاریخ کہے گی:

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

آپ کے لئے مسئلہ صاف ہے۔ آپ نے دودھ میں پانی کی آمیزش دیکھ لی۔ آپ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ”برعکس نہند نام زنگی کافور۔“

آپ نے تمام دنیا کے بڑے بڑے علماء کے فتوے پڑھ لئے۔ تمام مسلمانوں کے عقائد سمجھ لئے۔ آپ نے مرزا غلام احمد اور اب مرزا ناصر احمد اور ان کے ساتھیوں کے دعوے اور دلیل کا وزن پرکھ لیا۔ آپ نے ملک کے عوام کا مطالبہ سن لیا۔ اب دیر نہ کیجئے۔ مسلمانوں کو ان کے عقیدے اور ان کے دین سے محروم کرنے یا اس میں دخل دینے کے 2782 بجائے، قادیانی یا بقول غلام احمد ”احمدی“ جماعت یا جماعتوں کو خارج از اسلام ماننے کا اعلان کردیں۔

دینا ہماری خارجہ سیاست کی اساس ہے۔ ہماری حکومت کسی پاکستانی شہری کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کرتی۔ نہ ہمارے عوام کسی پاکستانی شہری کو دکھ پہنچانے یا پریشان کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ان حالات میں اگر قادیانی جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تو آئین پاکستان اور نظریہ پاکستان کے عین مطابق ہوگا اور ہمارا ایوان اپنے ایک فرض کو پورا کرنے کی سعادت حاصل کرے گا۔ اس سلسلے میں شیعہ علماء و فقہاء کے فتوے حاضر ہیں:

مسئلہ ختم نبوت اور شیعہ

حضور ﷺ کا آخری نبی ہونا قرآن اور سنت اجماع و عقل سے ثابت ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور ﷺ کو خاتم النبیین یعنی آخری نبی فرمایا ہے۔ خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد تیس دجال آئیں گے۔ وہ دجال اس لئے ہوں گے کہ ان میں

٧٦

صفحہ ٢٥٠٩

2509 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

سے ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

(حدیث متفق علیہ)

حضور ﷺ کا انتقال ہو گیا۔ مولائے کائنات حیدر کرار علیہ السلام پرنم آنکھوں سے آپ کو غسل دے رہے ہیں اور فرماتے جاتے ہیں، یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ کی وفات سے کچھ ایسی چیزیں منقطع ہو گئی ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کی وفات سے منقطع نہیں ہوئی تھیں۔ یعنی نبوت، احکام الہی اور اخبار آسمانی۔"

(نہج البلاغت)

2783"حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اب اللہ تعالیٰ نے نہ قرآن پاک کے بعد کوئی کتاب بھیجی کیونکہ اس نے قرآن پاک کو آخری کتاب قرار دیا اور نہ ہی کوئی نبی۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی فرمایا۔

(اصول کافی)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک شاگرد کو شیعی عقائد تعلیم فرمائے۔ نبوت کی وضاحت کرتے ہوئے کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔

(صفات الشیعہ صدوق)

ہر دور میں شیعہ علماء کا اس بات پر اجماع رہا کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں اور یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے ہے۔ اس کا منکر مرتد ہے۔ اگر اسلامی حکومت ہو تو واجب القتل۔ چنانچہ حضرت مولانا شیخ محمد حسین نجفی مرحوم جو اس صدی کے شیعہ علماء میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ اپنی کتاب اصل و اصول شیعہ جس کا ترجمہ علامہ ابن حسن صاحب نجفی نے کیا ہے۔ رضا کار بکڈپو لاہور سے شائع کیا ہے۔ صفحہ ٧٢ پر نبوت کے بیان میں فرماتے ہیں: ”شیعہ امامیہ کا یہ عقیدہ راسخہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت یا نزول وحی کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے اور واجب القتل۔“

ادارہ تبلیغ شیعہ راولپنڈی اور اسلام آباد نے ١٩٧٠ء کے انتخابات کے فوراً بعد مختلف شیعہ علماء سے ان لوگوں کے بارے میں جو رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبی مانیں کے بارے استفسار کیا۔ ان میں سے بعض کے بیانات درج ذیل ہیں:

حضرت مولانا سید محمد لحسن کراروی (پشاور) جو اسلامی مشاورتی کونسل کے ممبر ہیں اور اس کونسل میں شیعوں کے نمائندے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں:

2784"نبوت اصول دین کا جز ہے۔ ختم نبوت ضروریات دین میں داخل ہے۔ ضروریات دین کا منکر مرتد یا کافر ہے۔ جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو وہ کافر ہے اور کافر کی نجاست مسلم ہے۔ اسی طرح جو لوگ کسی شخص کو نبی مانتے ہیں حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد وہ ہمارے نزدیک کافر ہیں۔ اس

٧٧

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں کوئی رخنہ واقع نہ ہونے دیں۔ کافر کو کافر کہیں ہتھکنڈوں سے اپنا پیچھا چھڑائیں۔ آپس کی لڑائیوں بے جا رسوم..."

شیعہ سنی اپنے گھر میں لڑے، باہر والوں تاریخ، ہمارے روابط، ہمارے معاملات سمجھے بغیر ہم کر دیا۔ اگر اس دعوے کے فیصلے میں ذرا بھی غلطی ہو اگر خدانخواستہ پیر اکھڑ گئے تو کل تاریخ کہے گی:

اس گھر کو آگ لگ گئی آ

آپ کے لئے مسئلہ صاف ہے۔ آپ ب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ”برعکس نہند نام زنگی کا فور“

آپ نے تمام دنیا کے بڑے بڑے علا عقائد سمجھ لئے۔ آپ نے مرزا غلام احمد اور اب مرزا دلیل کا وزن پرکھ لیا۔ آپ نے ملک کے عوام کا مطالع عقیدے اور ان کے دین سے محروم کرنے یا اس میں غلام احمد احمدی" جماعت یا جماعتوں کو خارج از اسلا

دینا ہماری خارجہ سیاست کی اساس ہے۔ ہماری حکو محروم نہیں کرتی۔ نہ ہمارے عوام کسی پاکستانی شہری کو ہیں۔ ان حالات میں اگر قادیانی جماعت کو غیر مسلم اور نظریہ پاکستان کے عین مطابق ہوگا اور ہمارا ایوا حاصل کرے گا۔ اس سلسلے میں شیعہ علماء و فقہاء کے فتو

مسئلہ ختم نبوت

حضور ﷺ کا آخری نبی ہونا قرآن او پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور ﷺ کو خاتم الن مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد تیس دجال آئیں

٧٦

صفحہ ٢٥١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

زمرہ میں مدعی نبوت بھی ہے۔“

نوٹ از ادارہ...... سابق مجتہد اعظم حضرت آقائے محسن الحکیم توضیح المسائل مفید صفحہ ٤٣ میں تحریر فرماتے ہیں: ”وہ مسلمان جو اللہ یا پیغمبر خاتم النبیین کا انکار کر دے یا ایسے حکم کا جس کو تمام مسلمان دین کا جز سمجھتے ہوں۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ حکم ضروری نہیں ہے، انکار کر دے تو وہ مرتد ہو جائے گا۔“

حضرت مولانا شیخ محمد حسین صاحب فاضل عراق (سرگودھا) جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”جو شخص ضروریات دین میں سے کسی امر کا انکار کرے وہ بالاتفاق دائرہ دین سے خارج متصور ہوتا ہے۔ ضروریات دین سے مراد وہ امور ہیں جن پر اس دین کے پیروؤں کا باوجود اپنے کئی ایک داخلی اختلافات کے اتفاق و اجماع ہو اور منجملہ ان ضروریات کے ایک یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ لہٰذا جو شخص ان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے یا جو شخص ایسے مدعی کی تصدیق کرے اس کے لئے دین اسلام کے دائرہ میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔“

حضرت مولانا حسین بخش صاحب قبلہ فاضل عراق پرنسپل دارالعلوم محمدیہ سرگودھا تحریر فرماتے ہیں: ”حضور نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر ہے اور کاذب نبی کو نبی ماننا بھی کفر ہے۔“

2785 حضرت مولانا ملک اعجاز حسین صاحب قبلہ فاضل عراق پرنسپل دارالعلوم جعفریہ خوشاب تحریر فرماتے ہیں: ”بالاتفاق مسلمین کاذب دعویٰ نبوت کرنے والا اور اس کو برحق نبی ماننے والا کافر ہے۔ کیونکہ معیار کفر فقط اللہ اور اس کے رسول کا انکار ہی نہیں بلکہ ضروریات دین کا انکار بھی کفر ہے۔ اسی طرح چونکہ ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے۔ یعنی اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ لہٰذا اس کا منکر اور حضور ختمی مرتبت ﷺ کے بعد کسی کو نبی ماننے والا کافر ہے۔ مذکورہ حکم پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔“

حضرت مولانا محمد جعفر صاحب خطیب مسجد شیعہ اور مولانا سید مرتضیٰ حسین صاحب صدر الافاضل لاہور تحریر فرماتے ہیں: ”چونکہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار از روئے قرآن و حدیث ضروریات دین اور ارکان اسلام میں سے ہے۔ لہٰذا آنحضور ﷺ کی ختم نبوت کا منکر اپنی نبوت کا مدعی نہ بھی ہو، کافر و نجس العین ہے۔ چہ جائیکہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے انکار کے ساتھ کوئی اپنی نبوت کا مدعی ہو۔ شیطان نے محض انکار نبوت کیا تھا۔ قدرت نے اس کو

٧٨

صفحہ ٢٥١١

2511 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ملعون و کافر قرار دیا۔ حالانکہ اس نے انکار نبوت کے ساتھ اپنے نبی ہونے کا دعویٰ نہ کیا تھا۔ یہ ظاہر بلکہ اظہر ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے جب آنحضرت ﷺ پر ختم نبوت کا صریحی اعلان کر دیا تو ختم نبوت کا انکار حقیقتاً آنحضور ﷺ کی نبوت اور صداقت کا انکار ہے۔“

حضرت مولانا مرزا یوسف حسین صاحب (میانوالی) تحریر فرماتے ہیں: ”جمہور مسلمین کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ جو شخص اصول دین یا ضروریات دین میں سے کسی جز کا منکر ہو وہ اسلام سے خارج ہے۔ آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا اور آخری پیغمبر ہونا متفق علیہ ہے اور ضروریات دین سے ہے۔ اس لئے 2786 جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے کسی کاذب مدعی نبوت کو مدعی تسلیم کرے وہ اسلام سے خارج ہے۔“

حضرت مولانا سید گلاب حسین شاہ صاحب نقوی، پرنسپل مدرسہ مخزن العلوم الجعفریہ ملتان تحریر فرماتے ہیں: ”نزد علمائے شیعہ امامیہ جھوٹا نبی کافر ہے اور اس کی نبوت پر ایمان رکھنے والا بھی یہی حکم رکھتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“

مولانا محمد بشیر صاحب انصاری فرماتے ہیں: ”بعد حضرت ختمی مرتبت کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ جو دعویٰ کرے وہ کافر ہے اور اس کے ماننے والے بھی کافر ہیں۔“

جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد انصاری صاحب کل صبح ۔ عبدالعزیز بھٹی ۔

(جناب عبدالعزیز بھٹی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب عبدالعزیز بھٹی: جناب چیئرمین! اس معزز ایوان کی اسپیشل کمیٹی کے سامنے جو قراردادیں زیرغور ہیں۔ ان میں جو خاص بات زیرغور ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان میں پاکستان کے شہری ہیں اور وہ حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر یقین نہیں رکھتے، ان کا اسلام میں کیا مقام ہے۔ یہ مسئلہ زیرغور ہے۔ اس ضمن میں جو شہادت یہاں مرزا ناصر احمد صاحب نے دی اور اس کے بعد لاہوری جماعت کے صدر مولانا صدرالدین صاحب نے دی اور ان پر جرح ہوئی۔ بہت سے ایسے مقامات پر انہیں ہر طرح کا موقع دیا گیا کہ وہ اپنا پوائنٹ آف ویو پیش کریں۔ اس تمام جرح اور ان کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کچھ گزارشات کروں گا۔

میں لمبی چوڑی تقریر نہیں کرنا چاہتا۔ پہلی بات جو انہوں نے اعتراض کیا ہے وہ یہ تھا کہ اس اسمبلی کو ان قراردادوں پر غور کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس ضمن میں، میں ایک دو باتیں آئین کے حوالے سے عرض کروں گا۔ وہ یہ ہیں کہ جہاں تک پاکستان کے آئین کا تعلق ہے، اس میں

٧٩

BLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

زمرہ میں مدعی نبوت بھی ہے۔“

نوٹ از ادارہ...... سابق مجتہد اعظم حضرت تحریر فرماتے ہیں: ”وہ مسلمان جو اللہ یا پیغمبر خاتم مسلمان دین کا جز سمجھتے ہوں۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ جائے گا۔“

حضرت مولانا شیخ محمد حسین صاحب ہیں: ”جو شخص ضروریات دین میں سے کسی امر متصور ہوتا ہے۔ ضروریات دین سے مراد وہ امو کئی ایک داخلی اختلافات کے اتفاق واجماع ہ آنحضرت ﷺ پر ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہ کرے یا جو شخص ایسے مدعی کی تصدیق کرے ا نہیں ہے۔“

حضرت مولانا حسین بخش صاحب ق فرماتے ہیں: ”حضور نبی کریم ﷺ کے بعد نبو ماننا بھی کفر ہے۔“

2785 حضرت مولانا ملک اعجاز حسین خوشاب تحریر فرماتے ہیں: ”بالاتفاق مسلمین کا ذ والا کافر ہے۔ کیونکہ معیار کفر فقط اللہ اور اس ک بھی کفر ہے۔ اسی طرح چونکہ ختم نبوت ضروریا اتفاق ہے۔ لہٰذا اس کا منکر اور حضور ختمی مرتبت حکم پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔“

حضرت مولانا محمد جعفر صاحب مغ صدر الافاضل لاہور تحریر فرماتے ہیں: ”چونکہ خ قرآن وحدیث ضروریات دین اور ارکان اسل منکر اپنی نبوت کا مدعی نہ بھی ہو، کافر و نجس العی انکار کے ساتھ کوئی اپنی نبوت کا مدعی ہو۔ شیط

صفحہ ٢٥١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

آرٹیکل ٢ اس طرح کا ہے:

2787

"Islam shall be the state relegion of Pakistan."

(اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا)

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی اسٹیٹ ہے۔ جو مذہبی نظریات پر مبنی ہے۔ نہ کہ یہ کوئی غیر مذہبی سٹیٹ ہے۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اس حکومت کی یہ ذمہ داری ہے اور یہ فرض بنتا ہے فیڈرل گورنمنٹ کا کہ وہ اسلام کے بارے میں ، اسلام کی protection (حفاظت) کے لئے ، اسلام کی ان متعین حدود کے لئے ، اسلام کی بھلائی کے لئے ، اسلام کو برقرار رکھنے کے لئے وہ ہر طرح کا قانون بنائے اور اس کی نگہبانی کرے اور اس ضمن میں اگر کوئی فرقہ کوئی جماعت، کوئی مذہب پاکستان کے اندر یا پاکستان کے باہر مذہب اسلام کے خلاف کسی قسم کی کوئی بات کرے، تو میں سمجھتا ہوں اس کا چیلنج اسے قبول کرنا چاہئے اور اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں یہ ایک ذمہ داری بنتی ہے پاکستان کی حکومت پر۔

نمبر دو اس میں آرٹیکل ہے ٢٠۔ اس میں ہے:

"Subject to law, public order and morality,

(اگر قانون ، امن عامہ اور اخلاقیات اجازت دیں)

and propagate his religion, and

shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions.

انتظام کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

جہاں تک اس آرٹیکل کا تعلق ہے یہ بات بالکل واضح ہے کہ حکومت کو اور حکومت کی اتھارٹی جیسا کہ یہ ہاؤس ہے۔ لیجسلیٹو باڈی کو یہ مکمل طور پر اختیار ہے کہ وہ کچھ کسی حد تک قانون یہ بنائے کہ جس میں Public order and morality (امن عامہ اور اخلاقیات) جو ہے۔ وہ قائم ہو سکے اور اس ضمن میں یہ اسمبلی اگر کوئی قانون بنانا چاہے تو اسے پورا اختیار ہو۔

٨٠

صفحہ ٢٥١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا پاکستان کے لوگوں کو جو مسلمان ہیں وہ اگر یہ محسوس کرتے ہیں 2788 کہ ان کے مذہب پر، ان کے Faith (عقیدہ) پر، ان کے ایمان پر ایک ایسا فرقہ یا کچھ لوگ اس ملک کے اندر اس طرح سازشیں کر رہے ہیں جس سے ان کے مذہب کو، ان کے بنیادی حقوق کو، ان کے اپنے Faith (عقیدہ) کو، ان کے ایمان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تو کیا اس اسمبلی کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اس طرح کا کوئی قانون بنائے کہ ان کے حقوق پر، ان کے Faith (عقیدہ) ایمان پر کوئی آنچ نہ آئے؟ ان کے Faith (عقیدہ) ایمان کا کوئی نقصان نہ ہو۔ یہ بات درست ہے کہ Fundamental rights (بنیادی حقوق) میں ہر کسی کو یہ حق ہے کہ اس کے معاملات ذاتی جو ہیں۔ اس طرح کے اس میں کوئی دخل نہ دے۔ لیکن یہ حق دوسروں کو بھی پہنچتا ہے اور یہ حق دوسرے کو بھی دینا چاہئے کہ انہیں کوئی حق نہیں۔

میں اس میں یہ وضاحت کرتا ہوں کہ اگر مرزائیت کے لوگ مرزائی جو ہیں یا قادیانی جو ہیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اپنے اس طرح کے Faith (عقیدہ) میں کوئی دخل اندازی نہ کرے تو انہیں بھی یہ حق دینا چاہئے ہم لوگوں کو یا دوسرے لوگوں کو، مسلمانوں کو، کہ ان کا جو حق ہے، ان کی جو سوچ ہے، ان کا جو faith (عقیدہ) ہے، وہ ان میں دخل اندازی نہ کریں۔ اسے خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اسے غلط ملط کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مذہب اسلام مرزا صاحب کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ مذہب اسلام کی جو حدود ہیں۔ یہ جو کچھ اس کے اصول ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے متعین کئے ہیں۔ قرآن مجید میں ان کا تعین کیا گیا ہے۔ اس میں اگر کوئی تبدیلی کرے گا تو یہاں جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اسے چیلنج کریں کہ یہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہو اور یہ ذمہ داری ہے اس حکومت کی، اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ ان کا یہ اعتراض جو ہے وہ قابل قبول نہیں اور اس اسمبلی کو یہ اختیار ہے کہ وہ اسے چیلنج کرے۔

پھر ایک آرٹیکل ٣١ جس میں یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ:

Pakistan, individually and collectively, to order their lives in accordance with the fundamental principles and basic concepts of Islam and to provide facilities whereby they may be enabled to understand the meaning of life according to

٨١

F PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

آرٹیکل ٢ اس طرح کا ہے: relegion of Pakistan." (اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہے۔ نہ کہ یہ کوئی غیر مذہبی سٹیٹ ہے۔ ا ہے اور یہ فرض بنتا ہے فیڈرل گورنمنٹ کا (حفاظت) کے لئے، اسلام کی ان متعین رکھنے کے لئے وہ ہر طرح کا قانون بنائے کوئی جماعت، کوئی مذہب پاکستان کے ان کوئی بات کرے، تو میں سمجھتا ہوں اس کا اس ضمن میں یہ ایک ذمہ داری بنتی ہے پاکس نمبر دو اس میں آرٹیکل ہے ٢٠ er and morality, (اگر قانون، امن عامہ اور اخلا e right to profess, practise

on and every sect thereof maintain and manage its

انتظام کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ جہاں تک اس آرٹیکل کا تعلق اتھارٹی جیسا کہ یہ ہاؤس ہے۔ لیجسلیٹیو با یہ بنائے کہ جس میں d morality ہے۔ وہ قائم ہو سکے اور اس ضمن میں یہ

صفحہ ٢٥١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

the Holy Quran and Sunnah." (ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے کہ پاکستانی مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے بنیادی تصورات اور بنیادی اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں اور انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی زندگی کے معنی سمجھ سکیں)

اس سے بھی مطلب بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ یہاں کے لوگوں کو جو مسلمان ہیں، انہیں اس طرح کی Facilities provide (سہولیات فراہم) کی جائیں، خواہ وہ قانون بنانے سے ہوں، خواہ کسی اور طریقے سے ہوں کہ وہ اس طرح کے حالات پیدا کریں کہ لوگ صحیح اسلام کو اپنائیں اور صحیح اسلامی زندگی جو ہے، اسے اپنا کر اپنی منزل تک پہنچیں۔ نہ کہ اس طرح کے لوگوں کو اجازت دیں کہ جو مرضی ہے وہ چاہے اسلام کو بگاڑیں۔ طرح طرح کی تاویلیں کریں، طرح طرح کے معانی اور طرح طرح کی قرآن مجید کی وہ تاویلیں کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں۔ تو اس لحاظ سے بھی میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی اس طرح کی بات کرنے کی کوشش کرے تو یہ اسمبلی دخل اندازی کر سکتی ہے، قانون بنا سکتی ہے۔ انہیں منع کرنا چاہئے۔ جو کچھ بھی Merit (میرٹ) پر فیصلہ ہوگا، وہ انہیں اپنانا چاہئے۔

ایک اور بات، انہوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ فیڈرل گورنمنٹ کی جو فیڈرل لسٹ ہے۔ یہاں کانسٹی ٹیوشن نے دی ہے اس میں یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ کوئی قانون بنائے یا اگر یہ کوئی سبجیکٹ تھا تو یا تو یہ اس صورت میں Residuary powers (باقی ماندہ اختیارات) میں آنا چاہئے اور وہ صوبائی حکومتوں کا ہے۔ میں اس ضمن میں یہ عرض کروں گا کہ فیڈرل لسٹ میں سیریل نمبر ٥٨ پر یہ فیڈرل گورنمنٹ کو اختیار ہے کہ وہ ایسی کوئی چیز جو فیڈرل گورنمنٹ سے متعلقہ ہو، اس ضمن میں قانون بنائے۔ میں یہ اس لئے ریفر کر رہا ہوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس دستور کو Amend (ترمیم) کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر (معیارات) Merits 2790 پر کوئی فیصلہ ہو تو اس میں دستور کو Amend (ترمیم) کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک Simple (سادہ) یہ نیشنل اسمبلی یا پارلیمنٹ جوائنٹ سیشن میں یہ کسی طریقے سے قانون بن سکتا ہے اور وہ یہ ہے:

Serial No.58 of the Federal legislative list. (وفاقی قانون سازی فہرست کا سیریل نمبر ٥٨) "Matters which under the Consitution are within the

٨٢

صفحہ ٢٥١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

legislative competence of Parliament or relate to the Federation.

(ایسے معاملات جو آئین کے تحت پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اختیار یا وفاق سے متعلق ہوں)

تو آرٹیکل ١٢ اور ٢٠ اور ٣١ کے تحت یہ مسئلہ جو ہے، یہ فیڈرل گورنمنٹ سے متعلقہ ہے۔ اس لحاظ سے اس فیڈرل لسٹ کے اس سیکشن ٥٨ کے تحت یہ قانون بنایا جا سکتا ہے۔ اور آخری بات کہ آیا یہ اسمبلی مجاز ہے یا نہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے قانون کے مطابق چونکہ انہوں نے خود نیشنل اسمبلی کو، سپیکر نیشنل اسمبلی کو یہ لکھا کہ ہمیں بلایا جائے، ہمیں سنا جائے۔ انہوں نے By conduct surrender (عملی طور پر تسلیم کرنا) کیا ہے۔ یہاں آ کر انہوں نے سٹیٹمنٹ دی ہے اور انہوں نے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ یہ اسمبلی مجاز ہے تو اب وہ اس بات کا انکار نہیں کر سکتے کہ اس اسمبلی کو اختیار نہیں۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک ان کے اس اعتراض کا تعلق تھا یہ رد ہوتا ہے۔

اب رہا مسئلہ Merit (معیار) پر کہ آیا وہ لوگ عقیدے کے لحاظ سے مسلمان ہیں یا نہیں ہیں، ان کا مذہب کیا ہے۔ ان کا ایمان کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں بے شمار اس پر تقریریں بھی ہوئیں، شہادت بھی لی گئی ہے۔ جرح بھی ہوئی ہے اور معزز ایوان کے بے شمار ممبران نے طرح طرح کے حوالے بھی یہاں ہاؤس میں پیش کئے ہیں۔ تو ایک بات میں بڑے واضح الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس کا وہ بھی انکار نہیں کرتے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔ کس طرح کا نبی مانتے ہیں یہ ایک تاویل کی بات ہے۔ یہ ایک ان کے اپنے مطلب کی بات ہے۔ کبھی ظلی کہتے ہیں، کبھی بروزی 2791 کہتے ہیں۔ کبھی چھوٹا کہتے ہیں، کبھی بڑا کہتے ہیں۔ بہر حال یہ بات طے شدہ ہے اور جب خود انہوں نے مانا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاؤس کے ممبران کو اس طرح کے حوالے پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ نبی مانتے ہیں یا نہیں مانتے۔ یہ انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنی جرح کے دوران یہ بات کہی ہے کہ ہم انہیں نبی مانتے ہیں۔ لیکن کیا کہتے ہیں کہ وہ چھوٹے قسم کے، کبھی کہتے ہیں ظلی ہیں، کبھی کہتے ہیں بروزی ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ہمارے آئین کے تحت آرٹیکل ٤(٢) اور ٩١(٤) کے تحت ایک بات یہ مکمل طور پر اس ملک کا بڑا ادارہ پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہے کہ اس ملک کے لوگوں کا،

٨٣

F PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(ایسے اقدامات اٹھائے جائیں اسلام کے بنیادی تصورات اور بنیادی اصو قابل بنایا جائے کہ وہ قرآن وسنت کی روش اس سے بھی مطلب بالکل واض کے لوگوں کو جو مسلمان ہیں، انہیں اس طر کی جائیں، خواہ وہ قانون بنانے سے ہو حالات پیدا کریں کہ لوگ صحیح اسلام کو اپنا تک پہنچیں۔ نہ کہ اس طرح کے لوگوں کو ا طرح طرح کی تاویلیں کریں، طرح طر کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کری کی بات کرنے کی کوشش کرے تو یہ اسمبل کرنا چاہئے۔ جو کچھ بھی Merit (میر

ایک اور بات، انہوں نے ا ہے۔ یہاں کانسٹی ٹیوشن نے دی ہے ا قانون بنائے یا اگر یہ کوئی سبجیکٹ تھا تو یا ماندہ اختیارات) میں آنا چاہئے اور وہ م کہ فیڈرل لسٹ میں سیریل نمبر ٥٨ پر با گورنمنٹ سے متعلقہ ہو، اس ضمن میں آ ہوں کہ اس دستور کو Amend ( Merits 2790 پر کوئی فیصلہ ہو تو اس می ہے۔ ایک Simple (سادہ) یہ مع قانون بن سکتا ہے اور وہ یہ ہے: egislative list. (وفاقی قانون سازی فہرس nstitution are within the

صفحہ ٢٥١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ کسی قسم کا کوئی نبی اور نہیں آئے گا۔ آخری نبی ہمارے رسول مقبول ﷺ ہیں۔ اگر یہ بات فیصلہ شدہ ہے۔ ہم اس طرح کی بات کر چکے ہیں۔ تو اس پر میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بالکل وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آیا اور کوئی نبی آ سکتا ہے یا نہیں۔ یہ صحیح بات ہے، یقینی بات ہے۔ ہمارا یہ ایمان ہے۔ کم از کم اس ملک کے لوگوں کا یقیناً ایمان ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہوا ہے تو اس پر مزید دیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نبی مانتے ہیں تو اس بارے میں کیا ہمیں کرنا چاہئے۔ اگر وہ نبی کہتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے اپنے بیان میں یہ کہا کہ مانتے ہیں، تو آیا کسی اور کو نبی کہنے سے ان کا Status (مقام) کیا رہتا ہے۔ سیدھی بات جو ہے وہ یہ ہے، اس پر ہم نے فیصلہ کرنا ہے۔ یقیناً یہ بات درست ہے کہ بعض مسلمان ..... شاید اس میں میں بھی شامل ہوں ..... کہ کئی ہم سے گناہ سرزد ہوتے ہیں، گناہ گار ہیں۔ اسلام کی ساری چیزیں تو شاید ہم سے پوری نہیں ہو سکتیں۔ لیکن بعض Fundamentals (بنیادی باتیں) ایسے ہیں۔ بعض چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی خلاف ورزی، جن سے انکار کرنا جو ہے وہ اتنا بڑا کفر ہے کہ وہ آدمی دائرہ اسلام اور ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے۔ جو انہوں نے 2792 تاویلیں کی ہیں۔ یہ ساری کی ساری جو ان کی غلط نیت ہے، میں سمجھتا ہوں اس کو چھپانے کی وہ کوشش کر رہے تھے۔ لیکن موٹی بات یہ ہے کہ Fundamental principles (بنیادی اصول) کچھ ایسے ہیں جنہیں نہ مانا جائے تو یقیناً جو مسلمان ہیں وہ مسلمان نہیں رہتے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو Fundamentals (بنیادی امور) میں شامل ہے۔ جس طرح کہ مولانا ہزاروی صاحب نے اور مولانا مفتی محمود صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ اگر اس بات کی اجازت دی جائے کہ چھوٹے پیغمبر بھی آ سکتے ہیں تو پھر وہ اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ چھوٹے خدا بھی آ سکتے ہیں۔ اگر اس طرح کی تعبیروں کی اجازت دی جائے تو یقیناً میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کا جو شیرازہ ہے، وہ بکھر جائے گا اور ہم لوگ بڑے قصور وار ہوں گے۔

میں تو سمجھتا ہوں کہ اس ملک کی اس اسمبلی کو میں مبارک باد دیتا ہوں کہ ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ اتنے بڑے مسئلے کو جس کو نوے سال پہلے کوئی حل نہیں کر سکا۔ اس کو ہم حل کرنے کے لئے بیٹھے ہیں اور یقیناً ہم اس کو حل کر کے اٹھیں گے (انشاء اللہ)۔ تو جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان کا یہ Faith (عقیدہ) ہے کہ وہ چھوٹا نبی یا جس طرح کا وہ کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں ان کا یہ ایک رسول پاک ﷺ کے اس Status (مقام) کا کہ وہ آخری نبی ہیں، اس

٨٤

صفحہ ٢٥١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17 کا منکر ہونا، اس کے خلاف جانا اس بات کی دلیل ہے۔ یہ واضح بات ہے کہ وہ دائرہ اسلام میں نہیں رہے۔ ملت اسلامیہ بھی اسے کہیں یا دائرہ اسلام دونوں سے یقیناً خارج ہیں۔

تو میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں اور ایک بات اور ہے۔ اس ضمن میں بے شمار Quotations (اقتباسات) ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات اتنی نہیں ہے کہ وہ انہوں نے ظلی، بروزی کی باتیں کیں۔ بے شمار ایسی چیزیں جو میرا خیال ہے کہ عام آدمی تک نہیں پہنچتیں۔ میں یہ بھی وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس فرقے سے منسلک ہیں۔ وہ حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔ صرف وہ باتیں پیش کی جاتی ہیں۔ جو سچی باتیں نہیں ہوتی 2793 ہیں۔ کیونکہ آج صحیح طریقہ سے ان لوگوں کو باہر کسی نے Expose (واضح) نہیں کیا تھا۔ ایک دو اور Quotations (اقتباسات) ہیں۔ اگر اجازت ہو تو میں عرض کر دوں گا۔

وہ یہ ہے کہ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ یقیناً وہ مرزا غلام احمد کے لئے۔ اب رہا سوال کہ نہیں، مطلب یہ تھا، اس کا مطلب وہ تھا۔ خدا کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہاں تو بڑے سیدھے سادھے مسلمان ہیں۔ ان کے ایمان سے کھیلنا لفظوں کی ہیرا پھیری سے یہ ایک ان کا طریقہ کار ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیونکہ ہم نے یہاں آ کر طرح طرح کی ان کی تاویلیں دیکھیں۔ کفر کا، کبھی منکر کا، کبھی چھوٹا کفر، کبھی بڑا کفر، دائرہ اسلام میں، کبھی ملت اسلام میں، اس طرح کی باتیں تھیں۔ یہ کیا بات ہے۔ میں تو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ساری باتیں مسلمانوں کے ایمان کو خراب کرنے کی تھیں اور یہ محض انگریزوں کے اشارے پر، انگریزوں کے کہنے پر یہ سب کچھ شروع کیا گیا۔ وہ چاہتے تھے کہ کوئی مسلمان کے جذبے کو صرف وہی ختم کر سکتا ہے۔ جو ان کے سامنے ایک پیغمبر کی صورت میں آئے۔ کیونکہ یہ پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں اور اسی کے لئے واضح ثبوت ہیں جو کہ انہیں پیش کئے گئے تھے۔ مرزا ناصر احمد کو Confront کیا گیا۔ وہ اس کا جواب نہیں دے سکے۔ Throughout (مسلسل) انہوں نے کوشش کی جہاں بھی انہیں جواب نہیں ملتا تھا تو انہوں نے پس و پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کنڈکٹ اپنا، ان کا طریقہ کار اپنا۔ ان کا جواب کو ٹالنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کا اپنا جو کیس ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس لئے ایک بات تو یہ آ جاتی ہے کہ Fundamentals Important ہیں، وہ اس کے منکر ہیں۔ اس لحاظ سے ہم نے جو فیصلہ کیا وہ پہلے ہی اس آئین کے تحت جو رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہیں رکھتے ہم انہیں مسلمان نہیں مانتے۔ یہ فیصلہ شدہ بات ہے۔ چونکہ وہ نہیں مانتے، میں سمجھتا ہوں کہ انہیں دائرہ اسلام میں اس لحاظ سے تصور نہیں کرنا چاہئے۔

٨٥

EMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17 مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ کسی قسم کا کوئی نبی اور نہیں آ ہیں۔ اگر یہ بات فیصلہ شدہ ہے۔ ہم اس طرح کی با ہمیں بالکل وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہے، یقینی بات ہے۔ ہمارا یہ ایمان ہے۔ کم از کم اس فیصلہ کیا ہوا ہے تو اس پر مزید دیر کرنے کی ضرورت نہیں

اب رہا یہ سوال کہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ کرنا چاہئے۔ اگر وہ نبی کہتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں ۔ کسی اور کو نبی کہنے سے ان کا Status (مقام) کیا پر ہم نے فیصلہ کرنا ہے۔ یقیناً یہ بات درست ہے کہ بع ہوں...... کہ کئی ہم سے گناہ سرزد ہوتے ہیں، گناہ گار پوری نہیں ہو سکتیں۔ لیکن بعض Fundamentals ایسی ہیں کہ جن کی خلاف ورزی، جن سے انکار کرنا جو اور ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے۔ جو انہوں نے ان کی غلط نیت ہے، میں سمجھتا ہوں اس کو چھپانے کی کہ Fundamental principles (بنیاد یقیناً جو مسلمان ہیں وہ مسلمان نہیں رہتے۔ یہ ایک (بنیادی امور) میں شامل ہے۔ جس طرح کہ مولا صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ اگر اس بات کی اجازت دی وہ اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ چھوٹے خدا بھی آسکتے دی جائے تو یقیناً میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کا جو شیرازہ ہوں گے۔

میں تو سمجھتا ہوں کہ اس ملک کی اس اسمبل ہے کہ اتنے بڑے مسئلے کو جس کو نوے سال پہلے کوئی بیٹھے ہیں اور یقیناً ہم اس کو حل کر کے اٹھیں گے (الخ ان کا یہ Faith (عقیدہ) ہے کہ وہ چھوٹا نبی یا جس ہوں ان کا یہ ایک رسول پاک ﷺ کے اس Sta

٨٤

صفحہ ٢٥١٨

2518 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17.

2794 جو دوسری بات ایک تحریک تھی مفتی صاحب اور باقی چند ممبران کی طرف سے اور کچھ اس طرف سے شاید اس میں شامل تھے۔ جنہوں نے پیش کی تھی۔ اس میں چند اور باتیں بھی تھیں۔ ایک یہ کہ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جو خاص خاص posts (عہدوں) پر ہیں۔ ان سے ہٹایا جائے۔ اس ضمن میں میں یہ گزارش کروں گا کہ پاکستانی ہیں، وہ کہتے ہیں پاکستانی، پاکستان میں وہ رہ رہے ہیں۔ اس لئے اگر یہ اسمبلی فیصلہ کرے کہ اس طرح انہیں یہ حق نہیں دینا چاہئے تو اس صورت میں ہمیں دستور میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ جو میں سمجھتا ہوں ممکن ہے کچھ دوست مجھ سے اس بات پر ناراض ہوں۔ لیکن یہ قانونی ایک بات ایسی ہے کہ جس میں ہمیں دشواری ضرور ہو گی۔ جہاں تک اس دوسری بات کا تعلق ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اس میں وہ بیشک ساری دنیا میں جا کر کچھ بھی کہیں، اس میں ہمارا کیس اتنا سٹرانگ ہے، مسلمانوں کا کیس اتنا سٹرانگ ہے کہ ہم پورے طریقے سے Defend (دفاع) کر سکتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ غلط بات کہتے ہیں۔

لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انہیں posts (عہدے) نہ دیئے جائیں۔ وہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی پالیسی کا مسئلہ ہے۔ وہ بعد کی باتیں ہیں۔ اگر حکومت کے ذمہ دار لوگ چاہیں تو وہ کسی مقام پر کسی کو رکھ سکتے ہیں۔ کسی مقام پر نہ چاہیں تو نہ رکھیں۔ لیکن اس ضمن میں میں سمجھتا ہوں کہ اس میں پاکستان کی بدنامی ہے۔ اس ضمن میں میں اپنے معزز ممبران اسپیشل کمیٹی سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ یہ باتیں اپنے ذہن میں ضرور رکھیں۔

تیسری بات ایک اور بھی ہے کہ اگر انہیں مائنارٹی Declare (اقلیت قرار دینا) کیا جائے۔ غیر مسلم Declare (قرار دینا) کیا جائے۔ تو یقیناً پاکستان کے لئے خطرات بھی ہیں۔ یہاں جو دوست اور معزز ممبران بیٹھے ہیں، سارے کے سارے، میرا ایمان ہے کہ وہ پاکستان کو قائم اور دائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان برقرار رہے اور پاکستان کی آزادی پر کوئی آنچ نہ آئے اور جو خطرات انہیں مائنارٹی Declare (قرار دینا) کرنے میں ہمیں درپیش ہوں گے۔ انہیں بھی 2795 مد نظر رکھنا چاہئے۔ اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ ان کے نظریات کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اگر صرف یہ بات ہو کہ ہم مائنارٹی Declare (اقلیت قرار دینا) کر دیں، قانون بنا دیں اور اس کے بعد اپنی سیاسی مصلحتیں سامنے رکھ کر جو بھٹو صاحب کی پارٹی کے مخالف ہیں۔ وہ نعرہ بازی کریں کہ ٹھیک ہے ملک اب داؤ پر لگا ہوا ہے۔ حالات خراب ہیں۔ ہم تو تماشائی بن کر بیٹھیں یا جو اپنے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر کچھ اس

٨٦

2519 NATIONAL AS

کہ پاکستان کو اتنا بڑا نقصان ہو گا اور جس ئے۔ شاید وہ حقیقی مسلمان جس کے لئے کر رہے ہیں شاید ان کی وہ بات بھی نہ بن ساتھ ساتھ یہ بھی اگر تصور کر لیں کہ جتنے سکتے۔ یہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ بات غلط کہ انہیں صحیح طریقے سے علم نہیں تھا، انہیں ہیں۔

بتاتا ہوں۔ ایک گاؤں کے سارے کے قادیانی تھے۔ لیکن سوائے ایک گھر باقی مانتے ہیں اور وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اسٹیج اس طرح Adopt (اختیار) کیا جائے۔ کسی ایسی پس آنا چاہتے ہیں، انہیں بھی موقع ملنا دروازے بند ہو جائیں۔ کیونکہ مجھے یقین کی بدولت یا کسی ذاتی لالچ کی بدولت ان جائیں۔

کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ آئین بھی آف پاکستان، لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ اسلام کو کامیاب کرنے کے لئے، اسلامی وں میں ایک یک جہتی پیدا نہ ہوسکی۔ کوئی بھی اور قسم کے، اور کچھ لوگ محض جو اس قسم نقصان کو، اپنے ذاتی کسی وقار کو سامنے کہ جس طرف کی بھی ہوا کو دیکھتے ہیں، نقصان پہنچا تو کوئی تو بن جاتا ہے بابائے کہ جب تک اس قوم میں رہیں گی، تو میں

صفحہ ٢٥١٩

2519 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

طرح کے طریق کار کو اختیار کریں تو یقینا میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اتنا بڑا نقصان ہوگا اور جس مقصد کو ہم یہاں لے کر بیٹھے ہیں، شاید وہ بھی ضائع ہو جائے۔ شاید وہ حقیقی مسلمان جس کے لئے آج آپ جن کے حقوق کی خاطر یہاں بیٹھ کر سوچ بچار کر رہے ہیں شاید ان کی وہ بات بھی نہ بن سکے۔ اس لئے اس بات کو بھی ہمیں مدنظر رکھنا ہوگا اور ساتھ ساتھ یہ بھی اگر تصور کر لینا کہ جتنے احمدی ہیں سارے کے سارے وہ اچھے پاکستانی نہیں ہو سکتے۔ یہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ بات غلط ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ، جس طرح میں نے پہلے کہا ہے کہ انہیں صحیح طریقے سے علم نہیں تھا، انہیں حالات سے صحیح واقفیت نہیں تھی، ان کے لئے مجبوریاں تھیں۔

میں اپنے حلقہ انتخاب کا ایک واقعہ آپ کو بتاتا ہوں۔ ایک گاؤں کے سارے کے سارے لوگ قادیانی تھے۔ سوائے ایک گھر کے باقی قادیانی تھے۔ لیکن سوائے ایک گھر باقی سارے کے سارے مسجدوں میں جاکر جمعہ کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ غلطی ہوئی ہے۔ یہ ان سے گناہ ہوا ہے، بھول ہوئی ہے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اسٹیج اس طرح کی آ سکتی ہے کہ ان لوگوں سے بھی کوئی طریقہ کار ایسا Adopt (اختیار) کیا جائے۔ کسی ایسی تجویز کو عملی جامہ پہنایا جائے جس سے ان لوگوں کو جو واپس آنا چاہتے ہیں، انہیں بھی موقع ملنا چاہئے۔ تو ایسا کوئی قانون نہیں ہونا چاہئے جس سے یہ دروازے بند ہو جائیں۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگ جو بھول سے یا کسی غلط 2796 فہمی کی بدولت یا کسی ذاتی لالچ کی بدولت ان سے اس طرح کا گناہ ہو گیا ہے۔ وہ ممکن ہے کہ وہ واپس آجائیں۔

اور آخری بات جو میں آپ کے سامنے عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ آئین بھی ہم نے بنا دیا۔ وہاں بھی ہم نے لکھ دیا اسلامک ریپبلک آف پاکستان، لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ اسلام کو Defend (دفاع) کرنے کے لئے، اسلام کو کامیاب کرنے کے لئے، اسلامی نظریات کو بڑھانے کے لئے آج تک اس ملک کے لوگوں میں ایک یک جہتی پیدا نہ ہو سکی۔ کوئی تو نعرے لگاتے ہیں اسلام کے، کوئی نعرے لگاتے ہیں کسی اور قسم کے، اور کچھ لوگ محض تو اس قسم کے نعرے لگاتے ہیں کہ اپنے ذاتی مفادات کو اپنے ذاتی نقصان کو، اپنے ذاتی کسی وقار کو سامنے رکھ کر جب یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں نقصان ہو رہا ہے، تو یہ جس طرف کی بھی ہوا کو دیکھتے ہیں، اس طرح کے نعرے لگاتے ہیں۔ جیسا کہ میری ذات کو نقصان پہنچا تو کوئی تو بن جاتا ہے بابائے سوشلزم اور کوئی بن جاتا ہے کسی اور قسم کا بابا۔ تو ایسی باتیں جب تک اس قوم میں رہیں گی، تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان .......

٨٧

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

2794 جو دوسری بات ایک تحریک تھی مفتی کچھ اس طرف سے شاید اس میں شامل تھے۔ جنہوں تھیں۔ ایک یہ کہ اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگو ہیں۔ ان سے ہٹایا جائے۔ اس ضمن میں میں یہ گزا پاکستانی، پاکستان میں وہ رہ رہے ہیں۔ اس لئے اگو نہیں دینا چاہئے تو اس صورت میں ہمیں دستور میں ہے کچھ دوست مجھ سے اس بات پر ناراض ہوں ۔ ہمیں دشواری ضرور ہوگی۔ جہاں تک اس دوسری بات وہ بیشک ساری دنیا میں جاکر کچھ بھی کہیں، اس میں ا اتنا سٹرانگ ہے کہ ہم پورے طریقے سے Defend یہ غلط بات کہتے ہیں۔

لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی پالیسی کا مسئلہ ہے، لوگ چاہیں تو وہ کسی مقام پر کسی کو رکھ سکتے ہیں۔ کسی میں سمجھتا ہوں کہ اس میں پاکستان کی بدنامی ہے۔ ا سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ یہ باتیں اپنے ذہن نیو ساتھ بات ایک اور بھی ہے کہ اگر انہیں جائے۔ غیر مسلم Declare (قرار دینا) کیا ہیں۔ یہاں جو دوست اور معزز ممبران بیٹھے ہیں پاکستان، کو قائم اور دائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چا۔ آزادی پر کوئی آنچ نہ آئے اور جو خطرات انہیں ہمیں در پیش ہوں گے۔ انہیں بھی 2795 مد نظر رکھنا کے نظریات کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اگر ا (اقلیت قرار دینا) کردیں، قانون بنادیں گے اور بھٹو صاحب کی پارٹی کے مخالف ہیں۔ وہ نعرہ بایا حالات خراب ہیں۔ ہم تو تماشائی بن کر بیٹھیں

٦

صفحہ ٢٥٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

Mr. Chairman: This is not relevant.

(مسٹر چیئرمین: یہ مکمل طور پر غیر متعلقہ باتیں ہیں)

جناب عبدالعزیز بھٹی: ..... اور اسلام کو نقصان پہنچا رہے گا۔ اس لئے میں گزارش کرتا ہوں کہ ایک راستہ تعین کر دیا جائے تاکہ ہم صحیح منزل کی طرف چل سکیں۔

Mr. Chairman: This is totally irrelevant.

(جناب چیئرمین: یہ غیر متعلقہ باتیں ہیں)

یہ تو لازم ہے کہ تقریر کا اختتام Personal basis (ذاتی بنیادوں) پر ہوتا ہے۔ جب پہلی دفعہ Clapping (تالیاں بجانا) ہوئی تھیں تو آپ کو بیٹھ جانا چاہئے تھا۔

چوہدری غلام رسول تارڑ: یہ پرسنل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسے آدمی نہیں ہونے چاہئیں۔

2797 جناب عبدالعزیز بھٹی: جو نیک نیت ہیں، ان پر کوئی شبہ نہیں کرتا۔ لیکن کوئی آدمی ایسا جو بد نیت ہے.....

جناب چیئرمین: سات تاریخ کو پھر Open (کھلا) ہو رہا ہے۔ اس کے بعد چوہدری ممتاز صاحب! آپ پہلے تقریر کریں گے یا رندھاوا صاحب؟ رندھاوا صاحب! اگر آپ چوہدری ممتاز صاحب کے خیال سے مستفید ہوں تو اچھا ہے۔ اس کے بعد آپ اچھی تقریر کریں گے۔ اچھا، چلئے، محمد افضل رندھاوا صاحب تقریر فرمائیے۔

(جناب محمد افضل رندھاوا کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب محمد افضل رندھاوا: جناب چیئرمین! یہ فتنہ قادیان کے مسئلہ پر گزشتہ دنوں جو بیان اور Cross examination (جرح) اور جو تقاریر ہوئیں۔ وہ جناب والا! ہمارے سامنے ہیں اور جناب! میں تو ایک سیدھا سادہ سا مسلمان ہوں۔ جو شاید صرف اس لئے مسلمان ہے کہ مسلمان کی اولاد ہے۔ میں تو زیادہ آئینی یا مذہبی تاویلیں نہیں جانتا۔

متعدد اراکین: آواز نہیں آرہی۔ (مداخلت)

جناب محمد افضل رندھاوا: تو جناب والا! اس سلسلہ میں دو چار موٹی موٹی گزارشات کرنا چاہتا ہوں۔ جہاں تک آئینی موشگافیوں کا ذکر اور واسطہ ہے۔ جناب! اس ملک میں کہ جسے اسلام کے نام پر لیا گیا اور جب یہ ملک لیا گیا تو اس کے لئے جو سب سے بڑا سلوگن تھا

٨٨

صفحہ ٢٥٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

وہ یہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ تو جناب ! ایک ایسے ملک میں کہ جسے اسلام کے نام پر لیا گیا ہے۔ اس طرح کا فتنہ اور تمام عالم اسلام کے ساتھ گذشتہ اسی (٨٠) یا نوے (٩٠) سال سے ایک حادثہ ایک سانحہ ہوا ہے اور جس کو مضبوط سے مضبوط تر ایک گروپ کر رہا ہے۔ اس فتنہ کے لئے کم سے کم مجھے کسی آئینی موشگافیوں میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اسلام کا بنیادی آئین وہ ہے جو آج سے تیرہ سو سال پہلے آیا جس پر ہمارا ایمان ہے اور اسی میں سب کچھ ہے اور جناب والا! اس ضمن میں موجودہ ملکی آئین کو نہ پچھلے آئینوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جناب والا ! جو کچھ ہے سامنے ہے اور یہ دیوار پر لکھا ہوا ہے۔

2798 تو جناب والا! اس مسئلے کے جو دو پہلو میری سمجھ میں آتے ہیں، سیاسی اور مذہبی۔ سیاسی طور پر یہ عالم اسلام کو کمزور کرنے کی سامراجی سازش تھی۔ جس کی طرف راؤ خورشید علی خان نے ارشاد فرمایا۔ جناب والا! اس کی شہادت ہمیں اس سے بھی ملتی ہے۔ خلیفہ سوم جناب مرزا ناصر احمد مسلمانوں کی اس براعظم میں سب سے پہلی جنگ آزادی یعنی جنگ آزادی ١٨٥٧ء کو ”غدر“ کہتے ہیں۔ تو جناب فتنہ قادیان ایک سازش تھی جو مسلمانوں کے شعور کو سیاسی طور پر ختم کرنے کے لئے کی گئی۔ جناب والا! انگریزوں نے اس وقت اس بوٹے کو لگایا اور اس کو سینچا اور پھر ایک ایسا خنجر جیسا کہ انگریزوں نے عرب عالم کے سینے میں اسرائیل کی ریاست کی صورت میں گھونپا ہوا تھا۔ اس طرح کا ایک خنجر براعظم کے مسلمانوں کی چھاتی میں قادیانیوں کے نام پر ٹھونک دیا گیا۔

جناب والا! مذہبی طور پر تاویلیں لکھی ہیں۔ ایک مصرع ہے:

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے

[At this stage Mr.Chairman vacated the Chair which was occupied by prof.Ghafoor Ahmad.]

(اس مرحلہ پر مسٹر چیئر مین کی جگہ پروفیسر غفور احمد نے اجلاس کی صدارت سنبھال لی) جناب محمد افضل رندھاوا : جناب ! میری اس سے پہلے تو خوش قسمتی رہی کہ میں نے نہ قادیانیوں کی کوئی کتاب پڑھی، نہ میرے حلقہ احباب میں اس طرح کا کوئی بزرگ تھا جس سے واقفیت حاصل ہوتی۔ لیکن یہاں جو کچھ عقل نے دیکھا، عقل شرمسار ہے، عقل شرمندہ ہے۔ کس طرح ایک غلط بات کی تاویلیں، پھر تاویلیں اور تاویلوں میں سے ایک تاویل۔ کس طرح ایک جھوٹ چھپانے کے لئے ہزارہا جھوٹ بولے جارہے ہیں۔ جناب والا! جب گواہ (مرزا ناصر

٨٩

صفحہ ٢٥٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اور لاہوری گروپ) پر Cross examination (جرح) کیا جاتا ہے تو صرف یہ نہیں 2799 دیکھا جاتا کہ اس نے جواب میں کیا کہا ہے۔

لیکن جناب والا! یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اور یہ انتہائی اہم ہوتا ہے کہ گواہ کس طرح سے جواب دے رہا ہے۔ کیا وہ اس طرح کی گواہی دے رہا ہے۔ جیسے ایک سچا آدمی دیتا ہے، یا وہ اس طرح کی گواہی دیتا ہے جس طرح ایک جھوٹا آدمی گواہی دیتا ہے۔ جناب! ہم سب لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں۔ میں تمام فاضل ممبران کو اپنے آپ سے زیادہ افضل علم میں اور رتبہ میں بڑا سمجھتا ہوں۔ جناب! میری ناقص سمجھ میں تو یہ بات آئی ہے کہ یہ جھوٹ ایک فراڈ ہے جس کو یہ مرزائی ادھر ادھر سے سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ایسی بات ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس پر تمام عالم اسلام نہ صرف یہ کہ عالم دین حضرات بلکہ لچے لفنگے، چور، اٹھائی گیرے حتیٰ کہ دنیا میں سب سے برے مسلمان بھی نام رسول ﷺ اور نام رسالت پر قربان ہونا سب سے بڑا فخر سمجھتے ہیں، اور وہ ہمیں اس بارے میں تاویلیں سنا رہے ہیں۔

میں لمبی باتوں میں نہیں جاؤں گا۔ میرا تو سیدھا سادہ سا یہ مطلب ہے کہ ایک بات ہے جس میں میں جناب عبدالعزیز بھٹی صاحب سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہم گناہ گاروں کو یہ عظیم سعادت ملی ہے کہ ہم ناموس رسول ﷺ کی حفاظت کریں اور یہ ہمارے ہاتھ سے مسئلہ حل ہو جائے اور میرا بالکل پختہ ایمان ہے کہ دنیاوی دولت، دنیاوی حشمت یا عہدے یا رتبے یا ممبریاں، یہ حضور پاک خاتم الانبیاء جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے خادموں کے خادموں کے پاؤں کی جوتی ہے۔ یہ اس سے بھی کم رتبہ ہیں۔ اس کے لئے ممبریاں جائیں، عہدے چلے جائیں، بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ بھی قربان ہوں، ہم خود بھی رسالت پر قربان ہوں۔ ہمارے بچے بھی قربان ہوں، ہم اس سے بڑا اور کوئی فخر نہیں سمجھتے۔

تو جناب! بڑی سیدھی بات ہے۔ سیاسی محاذ پر تو یہ ایک سیاسی جماعت ہے۔ فوری طور پر اس پر ایک سخت قسم کی پابندی لگائی جائے اور ان کا محاسبہ کیا جائے اور 2800 دوسری بات یہ ہے کہ ان کے جتنے فنڈز ہیں۔ مختلف ذرائع سے خواہ وہ اسرائیل سے ملے یا وہ یہاں سے ملے۔ ان کا حساب کیا جائے اور ضبط کریں اور تیسرے جناب والا! شہر ربوہ ہے۔ جس کو وہ شہر ظلی کہتے ہیں۔ اس کو Open city (کھلا شہر) قرار دیا جائے۔ جہاں لوگ آ جاسکیں۔ ان کی ریشہ دوانیاں عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔

کلیدی اسامیوں سے نکالنے کے بارے میں میں اپنے فاضل دوست جناب

٩٠

صفحہ ٢٥٢٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

عبدالعزیز بھٹی صاحب سے اختلاف کروں گا۔ جناب والا! اگر اس ملک کا آئین اور ملت اسلامیہ انہیں اقلیت قرار دیتی ہے اور یہ اسلام کا حکم ہے جس سے روگردانی کسی طور پر ممکن نہیں۔ ایسے لوگوں کو کلیدی اسامیوں سے نکال دینے میں کیا حرج ہے؟ اور پھر یہ منطق میری سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ ”اچھے مسلمان نہ سہی اچھے پاکستانی ہو سکتے ہیں۔“ جس طرح کہ جناب والا! وہ اچھے مسلمان نہیں، تو اچھے پاکستانی کیسے ہو سکتے ہیں؟

ملک کی بدنامی سے زیادہ ہمیں ملک کی سلامتی کی ضرورت ہے۔ بدنامی تو ایسی چیز ہے جس کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ ہم جس کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ بدنامی کے داغوں کو صاف کر سکتے ہیں۔ لیکن جناب والا! یہاں تو ملک کی سلامتی کا سوال ہے۔ ہم کسی طرح ملک کو اس قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں دینے کے بالکل قائل نہیں ہیں۔ اگر ان کو اقلیت قرار دیا جاتا ہے تو یقینی طور پر ان کو کلیدی نوکریوں سے بھی نکالا جا سکتا ہے۔ اگر ایک آدمی اچھا مسلمان نہیں ہے تو میرے نقطہ نظر سے وہ کبھی اچھا پاکستانی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس ملک کا بنیادی فلسفہ جس کے تحت اس ملک کو ہم نے حاصل کیا ہے، وہ اسلام ہے۔

دوسرا پہلو جناب والا! مذہبی پہلو ہے اور اس سلسلے میں میں یہ مطالبہ کروں گا۔ جیسا کہ میرے دوست فاضل ممبران مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان کو آپ کافر کہیں، ان کو اقلیت قرار دیں، ان کو مرتد کہیں، ان کو جھوٹا کہیں، جتنے الفاظ ڈکشنری میں ہوں، جن کے بارے میں وہ حضرت خلیفہ صاحب فرماتے رہے ہیں کہ ہر لفظ کے پندرہ معانی نکلتے ہیں۔ اگر 2801 ایک لفظ کے دو سو معانی نکلتے ہیں تو میں تمام کے تمام ایسے معانی ان کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ انہیں اقلیت قرار دیا جائے۔ شکریہ۔

جناب قائم مقام چیئرمین (پروفیسر غفور احمد): چوہدری ممتاز احمد!

(جناب چوہدری ممتاز احمد کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

چوہدری ممتاز احمد: جناب چیئرمین! قادیانیوں کا یہ پرانا مسئلہ ہے اس ہاؤس کے سامنے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے۔ جب مسلمانوں کے منتخب نمائندے جو اس اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ ان کو موقع ملا ہے کہ وہ اسلام کو Purify (خالص) کریں اور وہ، جو مذہب کے نام پر، میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک میں فراڈ بنے ہوئے ہیں اور جنہوں نے بزنس کے اڈے بنائے ہوئے ہیں، ان کو ختم کیا جائے۔ میں کچھ عرض کرنے سے پہلے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ

٩١

صفحہ ٢٥٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں بالکل سیدھا سادہ مسلمان ہوں اور غیر مذہبی آدمی ہوں۔ میرا صرف دین اسلام پر ایمان ہے۔ میں اپنے دوستوں سے عرض کروں گا کہ اگر میں بات کرتے ہوئے، چونکہ میں غیر مذہبی آدمی ہوں، کوئی ایسی بات کہہ دوں تو میں اپنی گستاخی کی معافی چاہوں گا۔

جناب چیئرمین: غیر مذہبی تو نہ کہیں۔

چوہدری ممتاز احمد: یہ میرا اپنا خیال ہے۔ میں دین اور اسلام پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایک خدا، ایک رسول ﷺ یہ میرا ایمان ہے۔ بہرحال ہمیں یہ کہا گیا کہ آپ پہلے سب نبیوں پر ایمان لائیں، کتابوں پر ایمان لائیں، فرشتوں پر ایمان لائیں اور جتنی بھی باتیں ہیں۔ نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، ان سب کا مقصد یہ تھا کہ دنیا میں اسلام بڑھے اور لوگوں اور انسانیت کی بھلائی ہو اور یہی وجہ تھی کہ علامہ اقبال نے یہ فرمایا تھا کہ اسلام کی جتنی بھی تعلیم و تبلیغ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ نیک ہوں۔ ایک دوسرے کی مدد کریں اور پھر جو معاشرہ پیدا ہو وہ:

2802

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

اور پھر اسلامی تعلیم پر عمل کرنے سے ایسا معاشرہ بنا جس میں اسلام چمکتا رہا اور بڑھتا رہا اور آج بھی میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا تمام دوسرے مذاہب کے لوگوں سے زیادہ ہے اور جتنے بھی ہیں وہ اپنے مسلک پر قائم ہیں۔ لیکن پھر جب اسلامی گرفت کمزور ہونے لگی۔ لوگوں کے عقائد کمزور پڑ گئے اور مادیت کا دور آ گیا۔ جب بادشاہت کا دور آ گیا۔ لوگوں نے بیچ میں اپنے اپنے قصے کھڑے کرنے شروع کر دیئے۔ جعلی پیغمبر بھی بنے۔ اس کے علاوہ علماء حق کو چھوڑ کر صحیح تعلیم و تبلیغ کرنے والے لوگوں نے تعلیم و تبلیغ چھوڑ کر پیسہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں کو انہوں نے اسلام سے دور کیا۔ اسی طرح بنتے بنتے میری رائے کے مطابق ٧٢ فرقے اسلام میں بن گئے۔ پھر ان کے آپس میں مباحثے اور مناظرے ہونے لگے اور وہ بھی فروعی باتوں پر۔ اصل چیز اسلام کو دنیا میں صحیح شکل میں قائم رکھنا تھا۔ وہ اس کو بھول گئے اور اس طرح مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچا۔ مسلمانوں کا زوال شروع ہوا۔ جب سائنس نے ترقی کی اور دوسری قومیں اٹھیں تو انہوں نے اپنے مذہب کو بھی مدنظر رکھا اور اسلام پر ہر طرح کے حملے کئے۔ یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں نے۔ جیسے جیسے مسلمانوں میں نفاق بڑھتا گیا ویسے ویسے فرقے بنتے گئے۔ اس طرح اسلام کمزور ہوتا گیا۔

اب چونکہ قادیانی ہندوستان میں سے تھے۔ اس لئے اب میں اس طرف آ رہا ہوں۔

٩٢

صفحہ ٢٥٢٥

2525 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

یہاں بھی چونکہ غیر ملکی حکومت تھی اور پھر مسلمانوں کی حکومت رہی تھی۔ چنانچہ ان کو خطرہ تھا۔ انہوں نے سوچا کہ مسلمانوں میں نفاق ڈالو۔ مسلمان خطرناک ہیں۔ چونکہ ان کے پاس جہاد کا جذبہ ہے۔ انہوں نے مسلمانوں میں فسادات اور فرقہ بندی کرانا شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا شوشہ چھوڑا جائے جس سے ملت اسلامیہ کمزور ہو جائے۔ 2803 لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انگریز نے ایک آدمی کو جو کہ میرے علم کے مطابق، کیونکہ میں بھی ضلع امرتسر کا رہنے والا ہوں، مرزا صاحب کا دین وہاں سے چلا۔ وہ پٹی کے رہنے والے تھے۔ مرزا صاحب کا دین وہاں سے نکلا۔ یہ پٹی کے رہنے والے تھے۔ پٹی ایک قصبہ ہے اور یہ وہاں کے مغل تھے۔ چونکہ مغل تھے اس لئے حکومت کرنے کا جذبہ تھا۔ میری ان سے ذاتی واقفیت بھی ہے۔ یہ Intelligent (ذہین) آدمی تھے۔

دین کے معاملے میں انہوں نے عیسائیوں سے مباحثے کئے اور سنا ہے کہ عیسائیوں کو کافی شکست ہوئی۔ انگریز نے سوچا کہ کسی طرح سے ان کو قابو کرو۔ تو ہم نے سنا ہے کہ ان کو قابو کیا گیا اور انہوں نے رضا مندی ظاہر کر دی اور ان کے جو پہلے خلیفہ تھے نور الدین، ان کے ساتھ مل کر یہ داغ بیل ڈالی کہ چلو، ایک نیا فرقہ بناتے ہیں۔ پھر اس فرقے کے بنتے بنتے انہوں نے کہا کہ پہلے ٧٢ فرقے ہیں، ٧٣ سہی۔ پھر انہوں نے دعویٰ نبوت کر دیا۔ یہ سب انوکھی چیزیں ہیں۔ جب سے اسلام آیا کسی نے اس کے بعد دعویٰ نبوت نہیں کیا تھا۔ انہوں نے آہستہ آہستہ تبلیغ شروع کر دی۔ ہم تو اس زمانے میں پیدا ہوئے ہیں۔ جب وہ فوت ہو گئے ہیں۔

اب جو کچھ Cross examination (جرح) ہوا ہے۔ دونوں فرقوں کے جواب آئے ہیں۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے اس بات کو صاف طور پر مانا ہے کہ مرزا صاحب پیغمبر تھے۔ جب ان سے کہا گیا کہ کیا ثبوت ہے کہ وہ پیغمبر تھے۔ تو یہ کہا گیا کہ خدا سے پوچھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹھیک ہے۔ فیصلہ تو واقعی قیامت کے دن خدا نے ہی کرنا ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ دنیا میں شاید یہ فیصلہ نہ ہو سکے۔ لیکن چونکہ استحصال کی تمام شکلیں ختم کرنے کا نعرہ تھا۔ جیسا کہ ١٩٧٠ء کے الیکشن میں فیصلہ ہوا۔ اسی طرح مذہب میں بھی استحصال کی شکلیں ہیں۔ ان کو Purify ہونا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٧٢ فرقے بنے ہوئے تھے۔ ان کو حوصلہ ہوا کہ ایک نئی دکان کھولیں۔

انہوں نے پھر 2804 اضافہ یہ کیا کہ پیغمبری کا دعویٰ کر دیا۔ تو اب انہوں نے کہا کہ خدا سے پوچھیں۔ خدا کا فیصلہ تو قیامت کے روز ہوگا۔ لوگ آج چاہتے ہیں کہ فیصلہ ہو۔ میری

OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں بالکل سیدھا سادہ مسلمان ہوں اور غی ہے۔ میں اپنے دوستوں سے عرض کروں گ آدمی ہوں، کوئی ایسی بات کہہ دوں تو میں اپ جناب چیئرمین: غیر مذہبی تو چوہدری ممتاز احمد: یہ میرا ا ایک خدا، ایک رسول ﷺ، یہ میرا ایمان ایمان لائیں، کتابوں پر ایمان لائیں، فرشت کریں، زکوٰۃ دیں، ان سب کا مقصد یہ تھا ہو اور یہی وجہ تھی کہ علامہ اقبال نے یہ فرمایا ہے کہ لوگ نیک ہوں۔ ایک دوسرے کی م

2802

درد دل
ورنہ طاعت کے

اور پھر اسلامی تعلیم پر عمل کر رہا اور آج بھی میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں سے زیادہ ہے اور جتنے بھی ہیں وہ اپنے ہونے لگی۔ لوگوں کے عقائد کمزور پڑ گئے لوگوں نے بیچ میں اپنے اپنے قصے گھڑ علاوہ، علماء حق کو چھوڑ کر صحیح تعلیم و تبلیغ کر کر دیا۔ لوگوں کو انہوں نے اسلام سے فرقے اسلام میں بن گئے۔ پھر ان کے فروعی باتوں پر۔ اصل چیز اسلام کو دنیا طرح مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچا۔ مسل دوسری قومیں اٹھیں تو انہوں نے اپنے فا یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں نے۔ ا بننے گئے۔ اس طرح اسلام کمزور ہوتا گیا

اب چونکہ قادیانی ہندوستاں

صفحہ ٢٥٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

ایمانداری سے رائے ہے کہ پاکستان کے عوام یہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا فیصلہ ہونا چاہئے۔ عوام یہ چاہتے ہیں کہ دین Purify (خالص) ہو۔ ایسے ہر آدمی کو جو صرف اپنے آپ کو بڑھانے کے لئے اسلام کا نام لیتا ہے یا اس سے فرقہ بنایا ہوا ہے یا اس نے جماعت بنائی ہوئی ہے۔ پیسے اکٹھے کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، یا باہر سے Aid (امداد) لیتا ہے۔ یا پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کو صحیح معنوں میں Purify (خالص) کیا جانا چاہئے۔ میری رائے کے مطابق جتنی بھی دکانداریاں اور جتنے بھی فراڈ ذاتی ناموں سے اور فرقوں کے ناموں سے بنے ہوئے ہیں۔ ان سب کو ختم کرنے سے پہلے جو جعلی نبی کا فراڈ ہے۔ اس کو ختم کرنا ضروری ہے۔

جناب والا! میں اس بارے میں زیادہ عرض نہیں کرنا چاہتا۔ چونکہ میرے دوستوں نے کافی کچھ کہا ہے۔ ہم نے قرآن پاک کو جو پڑھا ہے اور انبیاء کی زندگیوں کا مطالعہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ انہوں نے کس طرح دین کو پھیلایا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب کوئی ریفارمر آیا۔ جس علاقے میں بھی وہ پیدا ہوا۔ اس نے عوام میں جا کر اس کی تبلیغ کی۔ یہ پیغمبری شان ہوتی ہے۔ انہوں نے بڑوں بڑوں کو نہیں دیکھا۔ لیکن یہاں میں دیکھتا ہوں کہ جو بھی جماعت بنی ہے اور جو بھی فرقہ بنا ہے وہ صرف بڑوں بڑوں کو تبلیغ کرتا ہے۔ بڑوں پر جال ڈالتا ہے۔ بڑے افسروں، فوجیوں، صنعت کاروں، تاجروں اور لیڈروں کو اپنے فرقے میں شامل کرتا ہے۔ عوام کی طرف کوئی نہیں جاتا۔ بڑوں بڑوں پر جال ڈالتے ہیں۔ موجودہ دور کے جو فرقے ہم نے دیکھے ہیں۔ شاید وہ دین کی خدمت کرنے میں سچے نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر دین کی خدمت کرنے میں سچے ہوں تو ہمارے نبی کریم ﷺ جن پر ہمارا ایمان ہے کہ وہ آخری پیغمبر ہیں۔ ان کے بعد کوئی اور کسی قسم کا سوال ہی پیدا نہیں 2805 ہوتا آنے کا۔ انہوں نے تو عوام میں جا کر تبلیغ کی اور تبلیغ کے صلے میں پتھر بھی کھائے۔

تو اب اس دور میں جس کسی نے پیغمبری کا دعویٰ کیا یا کوئی دعویٰ کر کے بیٹھا ہے اور وہ اپنے آپ مجدد بنا بیٹھا ہے۔ حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ پیغمبری تو صرف خدا کی طرف سے ملتی ہے اور پیغمبر اعلان کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔ دوسرا کوئی اعلان نہیں کرتا۔ لوگ اس کو خطاب دیتے ہیں کہ یہ ولی ہیں، یہ مجدد ہیں، یہ نیک آدمی ہیں، یہ عالم ہیں، یہ پیر ہیں، اور کوئی اپنے آپ نہیں بنتا۔ لیکن یہاں تو ہم نے اپنے آپ ہی بنتے دیکھے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو اپنے آپ بنتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ جس کو مخلوق خدا کہتی ہے، جس کو خدا بھی کہتا ہے یہ ہے، وہ سچا ہے۔

NATIONAL ASS

والی بات ہے یہ غلط ہے۔ ہم اس کو نہیں ں کہ پھر یہ ایسی بات نہیں۔ انہوں نے خود مرزا صاحب کو اتمام حجت کے باوجود نبی ں نے خود کر دیا ہے۔ اب تو فیصلہ اسمبلی کو لیکن چند ایک باتیں ضرور عرض کروں گا۔ نیال کے مطابق وہ سچے نبی نہیں ہیں اور ر دیا ہے کہ وہ نہیں مانتے ہیں وہ کافر ہیں۔ کے پاس جائیں گے۔ اگر سارے دوزخ ہوں گے تو تھوڑے سے رہ جائیں گے وہ نہیں بننا چاہتے کسی صورت میں۔

ے۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسمبلی کے معزز ں عالم بھی ہیں، فاضل بھی 2806 ہیں، پیر و گیا ہے۔ جیسے مرزا صاحب کا کراس محضرنامے پڑھے ہیں۔

ں۔ تھوڑا بہت تو سب کو پتہ ہوتا ہے کہ دوستوں کی ہوگی۔ میری بھی وہی ہوگی۔ ب پاکستان کی سیاست عوام کے ہاتھ میں و گردانی نہیں کرے گا اور میں اس بارے ذوالفقار علی بھٹو بھی عوام کی رائے پر یقین دوست مل کر فیصلہ کریں گے۔

یا کرنا چاہتا ہوں کہ ضرورت اس بات کی م اس ملک میں لانا ہے تو کس طرح کی رکسی قسم کی فرقہ بندی کا جھگڑا نہیں رہنا ھگڑا کس بات کا ہے۔ مجھے یہ بتایا جائے روں گا اور عام مسلمانوں کو بھی یہ کہوں گا وقع ہاتھ آیا ہے دین اسلام کو purify

صفحہ ٢٥٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

تو اب ساری مخلوق کہہ رہی ہے کہ یہ جو نبی والی بات ہے یہ غلط ہے۔ ہم اس کو نہیں مانتے۔ کیونکہ یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پھر یہ ایسی بات نہیں۔ انہوں نے خود بھی کراس ایگزامینیشن میں صاف صاف کہا ہے کہ جو مرزا صاحب کو اتمام حجت کے باوجود نبی نہیں مانتا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ فیصلہ تو انہوں نے خود کر دیا ہے۔ اب تو فیصلہ اسمبلی کو کرنا ہے اور میں اپنی طرف سے کوئی رائے نہیں دوں گا۔ لیکن چند ایک باتیں ضرور عرض کروں گا۔ انہوں نے عوام میں تبلیغ نہیں کی۔ اس لئے میرے خیال کے مطابق وہ سچے نبی نہیں ہیں اور دوسرے یہ کہ خدا فیصلہ کرے گا کہ انہوں نے تو یہاں کہہ دیا ہے کہ وہ نہیں مانتے ہیں وہ کافر ہیں۔ اب وہ دوزخ میں جائیں گے۔ ٹھیک ہے پھر جب خدا کے پاس جائیں گے۔ اگر سارے دوزخ میں جائیں گے تو ہم بھی چلے جائیں گے۔ اگر وہ سچے ہوں گے تو تھوڑے سے رہ جائیں گے جنت میں۔ اس پر ہمیں کوئی گلے والی بات نہیں ہے۔ ہم وہ نہیں بننا چاہتے کسی صورت میں۔

جناب والا ! اب یہ ہے کہ ان کو کیا قرار دیا جائے۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اسمبلی کے معزز ممبران جو بیٹھے ہیں، وہ عوام کے نمائندے ہیں۔ ان میں عالم بھی ہیں، فاضل بھی 2806 ہیں، پیر حضرات بھی ہیں اور انہیں اب مذہب پر کافی عبور ہو گیا ہے۔ جیسے مرزا صاحب کا کراس ایگزامینیشن ہوا۔ دوسرے صاحبان نے بھی اپنے اپنے محضرنامے پڑھے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ بنیادی طور پر مسلمان ہیں۔ تھوڑا بہت تو سب کو پتہ ہوتا ہے کہ اسلام کے بنیادی اصول کیا ہیں۔ تو اس پر جو رائے سب دوستوں کی ہوگی۔ میری بھی وہی ہوگی۔ جو پبلک کی رائے ہوگی اس پر ہمیں چلنا پڑے گا۔ کیونکہ اب پاکستان کی سیاست عوام کے ہاتھ میں ہے اور جو فیصلہ عوام چاہیں گے، وہی ہوگا۔ کوئی اس سے روگردانی نہیں کرے گا اور میں اس بارے میں پورا پرامید ہوں کہ ہمارے ملک کے سربراہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو بھی عوام کی رائے پر یقین رکھیں گے۔ عوام کی رائے کے مطابق اس کے متعلق سب دوست مل کر فیصلہ کریں گے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی آخری طور پر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بہتر اسلام کی خدمت، اگر ہم نے صحیح اسلامی نظام اس ملک میں لانا ہے تو کس طرح کی جائے۔ جناب ! میں یہ صاف کہوں گا کہ پھر اس کے بعد کسی قسم کی فرقہ بندی کا جھگڑا نہیں رہنا چاہئے۔ جو بنیادی چیز ہے۔ اس پر سب متفق ہیں تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے۔ مجھے یہ بتایا جائے کہ اس کے بعد میں اپنے علماء کرام کی خدمت میں عرض کروں گا اور عام مسلمانوں کو بھی یہ کہوں گا کہ پھر اس کے بعد ہم فروعی جھگڑوں میں رہے تو پھر جو یہ موقع ہاتھ آیا ہے دین اسلام کو purify

٩٥

صفحہ ٢٥٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(خالص) کرنے کا، اس کو ترقی اور عروج پر لے جانے کا، وہ جاتا رہے گا اور قیامت کے دن پھر جو غریب مسلمان ہیں، وہ آپ کو پکڑیں گے اور یہاں بھی پکڑیں گے۔ میں یہ بھی کہوں گا کیونکہ اسلام میں ہر پہلو ہے۔ اسلام میں ترقی پسند پہلو بھی ہے۔ سوشلزم کا لفظ اس دور میں بنا ہے اور کہتے ہیں کہ اسلام نے ١٤٠٠ سال پہلے لوگوں کو Socialise (اشتراکیت کا تصور دیا) شروع کر دیا تھا اور اگر ہم اس پر صحیح عمل کریں تو کوئی شخص بھوکا نہیں رہ سکتا، کوئی شخص ننگا نہیں رہ سکتا، کوئی شخص بے عزت نہیں ہو سکتا اور 2807 انصاف ملے گا اور جو محنت کرے گا، اسے اس کا معاوضہ ملے گا اور اسلام نے تو بنیاد قرار دیا ہے محنت کی کمائی کو کہ رزق حلال صرف محنت کی کمائی ہے۔ صرف محنت کی کمائی ہے۔ لیکن اب ایسے حضرات بھی ہیں جو اسلام کا دعویٰ تو کرتے ہیں۔ لیکن کہتے ہیں کیپٹلسٹ سسٹم ٹھیک ہے کیونکہ اس میں سود خوری ہے۔

جناب قائم مقام چیئرمین: ممتاز صاحب! یہ بات زیر بحث نہیں ہے۔

چوہدری ممتاز احمد: میں نے تھوڑا سا ضمناً ذکر کیا ہے۔

تو جناب! آخر میں میں صرف یہ عرض کروں گا کہ اب جو مسجدوں کی ویرانی ہے۔ اب جو اسلام سے نوجوان نسل دور ہے۔ اب جو اسلام پر عمل کم ہو رہا ہے۔ اگرچہ انکار نہیں کرتے ہیں، لیکن عمل کم ہو رہا ہے۔ اگر اس کو آپ نے صحیح رکھنا ہے تو اس میں زیادہ ذمہ داری ہمارے دینی سربراہوں کی ہے اور میں یہ کہوں گا، مجھے شک ہے، مجھے شبہ ہے کہ پھر آپس میں جھگڑے ہوں گے۔ رات بادشاہی مسجد میں، میں ذکر تو نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن سنا ہے وہاں مخالفانہ شخصیتوں پر نعرے لگے۔ اسلام کسی شخص کی جاگیر نہیں ہے۔ اسلام کسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے۔ اسلام کسی فرقے کی جاگیر نہیں ہے۔ اسلام، اسلام اور صرف اسلام جاگیر ہے تو صرف خدا کی ہے۔ خدا کے رسول ﷺ کی ہے۔ قرآن کی ہے اور سب مسلمین کی۔ خدارا ان دکانداریوں کو چھوڑ دو۔ ان ذاتی بتوں کو ڈھا دو۔ اگر ایک خدا کو ماننا ہے، ایک رسول ﷺ کو ماننا ہے تو پھر سب جعلی دکانداریاں ختم کرو۔ جعلی نبوتاں بھی ختم کرو اور یہ جو جعلی مجدد بنے بیٹھے ہیں ان سب کو ختم کر کے صرف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر یقین رکھ کر اور قرآن پر یقین رکھ کر اور قیامت پر ایمان لا کر نیک کام کرو۔ غریبوں کی خدمت کرو، ملک کی ترقی کرو، اسلام کی ترقی کرو تو انشاء اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی سرخرو ہوں گے اور دنیا میں بھی سرخرو ہوں گے۔

2808 جناب قائم مقام چیئرمین: جناب غلام نبی چوہدری! صبح 9 بجے شروع کریں گے اور اس کے بعد بھی کوئی صاحب اور بولنا چاہیں گے؟ اس لئے کہ کل شاید شام میں کوئی سیشن نہ ہوں۔

٩٦

صفحہ ٢٥٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

No reply (کوئی جواب نہیں)

(جناب چوہدری غلام نبی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب غلام نبی چوہدری: جناب چیئرمین! آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے ختم نبوت کے مسئلہ کے متعلق جو تحریک اس خصوصی کمیٹی میں پیش ہوئی ہے۔ ان پر مجھے اپنے افکار اور اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے افکار کو پیش کرنے کا موقع بہم پہنچایا ہے۔ جناب والا! میں ایک سیدھا سادہ سا مسلمان ہوں۔ کوئی مذہبی رہنما نہیں ہوں۔ لہٰذا میں اس مسئلے کے عام پہلوؤں تک اپنی بات محدود کرنے کی کوشش کروں گا۔

جناب والا! قادیانی تحریک نہایت منظم تحریک تھی اور اس کو آگے بڑھانے والے لوگ بہت بااثر رہے ہیں۔ اس وقت انگریز حکومت نے اس کی بہت پذیرائی کی اور اس پودے کو اس ملک کی سر زمین میں، بالخصوص پنجاب میں بڑھنے اور پھولنے کے مواقع انگریز حکومت نے بہم پہنچائے۔

جناب والا! قادیان کے مقام سے میرا آبائی گاؤں بہت نزدیک فاصلہ پر ہے۔ لہٰذا مجھے اس تحریک کو ١٨٨٥ء سے پھلتے پھولنے اور بڑھنے کا جس انداز سے دیکھنے کا اور مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس تحریک سے جہاں عالم اسلام کو بیشتر نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہاں پنجاب کی سر زمین کو اور پنجاب کے عوام کو جنہیں آزادی کے متوالے ہونے کا فخر حاصل ہے۔ ان کو اس تحریک سے سب سے زیادہ نقصانات پہنچے ہیں۔ اس تحریک سے پنجاب کے گھر گھر میں دشمنیاں، رشتہ داروں میں بغاوت، عزیزوں میں دشمنیاں، فسادات اور ایک صدی سے بیشتر مرتبہ معصوم جانیں فسادات کی نذر ہوتی رہی ہیں اور ایک صدی سے پنجاب اس تباہ کن تحریک کی آگ میں جل رہا ہے۔

جناب والا! 2809 گورداس پور ضلع کی تقسیم کا مسئلہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ ان لوگوں نے جیسے اس ایوان میں اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے اپنی اقلیت ہونے کے متعلق برٹش گورنمنٹ کو لکھا ہے جس انداز میں ہم ایک پارسی کے مقابلے میں دو احمدی پیش کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے گورداس پور کا وہ ضلع جس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ ان (قادیانیوں) کے نکل جانے کی وجہ سے وہ اقلیت میں تبدیل ہو گئے اور ضلع گورداس پور کی تقسیم ہوئی۔ جس کے نتیجے میں برصغیر کو مسئلہ کشمیر ملا۔ اس مسئلے کے نتیجے میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تقسیم ہوئی اور ہندوستان کے ساتھ برابر جنگیں ہوئیں۔ جس سے اتنے خون اور اتنے نقصانات معاشی طور پر

BLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(خالص) کرنے کا، اس کو ترقی اور عروج پر لے جا غریب مسلمان ہیں، وہ آپ کو پکڑیں گے اور یہ اسلام میں ہر پہلو ہے۔ اسلام میں ترقی پسند پہلو کہتے ہیں کہ اسلام نے ١٤٠٠ سال پہلے لوگوں کو کر دیا تھا اور اگر ہم اس پر صحیح عمل کریں تو کوئی شخص شخص بے عزت نہیں ہو سکتا اور 2807 انصاف ملے اور اسلام نے تو بنیاد قرار دیا ہے محنت کی کمائی کو کہ کی کمائی ہے۔ لیکن اب ایسے حضرات بھی ہیں کیپٹلسٹ سسٹم ٹھیک ہے کیونکہ اس میں سود خوری

جناب قائم مقام چیئرمین: ممتاز!

چوہدری ممتاز احمد: میں نے تھوڑا تو جناب! آخر میں میں صرف یہ عرض

جو اسلام سے نوجوان نسل دور ہے۔ اب جو اسلام لیکن عمل کم ہو رہا ہے۔ اگر اس کو آپ نے صحیح سربراہوں کی ہے اور میں یہ کہوں گا، مجھے شک گے۔ رات بادشاہی مسجد میں، میں ذکر تو نہیں نعرے لگے۔ اسلام کسی شخص کی جاگیر نہیں ہے فرقے کی جاگیر نہیں ہے۔ اسلام، اسلام اور صر رسول ﷺ کی ہے۔ قرآن کی ہے اور سب مسلما بتوں کو ڈھا دو۔ اگر ایک خدا کو ماننا ہے، ایک ر کرو۔ جعلی نبی والیاں بھی ختم کرو اور یہ جو جعلی ا الا اللہ محمد رسول اللہ پر یقین رکھ کر اور قرآن پر غریبوں کی خدمت کرو، ملک کی ترقی کرو، اسلا سرخرو ہوں گے اور دنیا میں بھی سرخرو ہوں گے

2808 جناب قائم مقام چیئرمین: اور اس کے بعد بھی کوئی صاحب اور بولنا چاہیں تا

صفحہ ٢٥٣٠

2530 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

دونوں ملکوں کو برداشت کرنے پڑے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کی ڈائریکٹ ذمہ داری جو ہے، وہ اس تحریک (قادیانیوں) پر عائد ہوتی ہے۔ جس نے ضلع گورداس پور کی تقسیم کے مواقع بہم پہنچائے اور ٥٢ فیصد مسلمانوں کو ٤٩ یا ٤٨ فیصد میں تبدیل کر دیا۔ جس سے ریڈ کلف کمیشن کو گورداس پور کے ضلع کو تقسیم کرنے اور ہندوستان کے لئے گیٹ وے مہیا کرنے کا موقع ملا۔ تو یہ خدمات ہیں اس تحریک (قادیانی) کی برصغیر کے لئے اور بالخصوص اس ملک کے لئے، پاکستان کے لئے کہ کس انداز میں اس تحریک نے اگر ایک جانب جہاں اس کی روح کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا تو دوسری جانب اس ملک کے لئے بار بار جنگ کی آگ کو آگے بھڑکانے کی ذمہ دار یہ تحریک ہے۔

جناب والا! پھر دنیائے اسلام کو اس تحریک سے جو نقصانات ہوئے، جب کبھی بیت المقدس کا Fall (سقوط) ہوا۔ قسطنطنیہ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچا۔ بغداد میں کوئی Fall (سقوط) ہوا تو اس تحریک کے دعوے داروں نے چراغاں کیا۔ خوشیاں کیں کہ عالم اسلام جو ہے وہ کمزور ہو رہا ہے اور عالم اسلام کو نقصان پہنچ رہا ہے اور مسلمانان عالم کو شکست ہو رہی ہے۔ یہ اس انداز میں اس تحریک کے حامل لوگوں کا جو کردار ہے۔ ان کی جو اسلام دشمنی ہے، وہ کھل کر سامنے آ چکی ہے اور اس امر کا پورے طور پر اندازہ ہو چکا ہے کہ ان لوگوں کو 2810 اسلام سے کتنی محبت ہے یا کس حد تک وہ پورے عالم اسلام اور ملت اسلامیہ سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔

جناب والا! پاکستان میں انہوں نے جس انداز میں کلیدی اسامیوں پر قبضہ کیا۔ معیشت کو نقصان پہنچایا۔ State within a state (ریاست کے اندر ریاست) کے تصور کو جس انداز میں ہوا دی اور ربوہ کے شہر کو جس انداز میں پاکستان کے دوسرے لوگوں پر بند کر کے پاکستان میں ایک اسٹیٹ قائم کی، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور یہ باتیں اس ایوان میں کھل کر تسلیم کی جاچکی ہیں۔ پھر خویش پروری اور کنبہ پروری کی بدترین مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ اس سے آپ کو یہ انداز ہو گا کہ پاکستان کی ایڈمنسٹریشن کو اس تحریک سے کس حد تک نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ سابقہ حکومتیں اس طاقت کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ کر سکیں اور یہ شرف اور یہ سعادت عوامی حکومت اور اس قومی اسمبلی کو میسر آئی کہ انہوں نے اتنا جرات مندانہ اقدام اٹھا کر جب یہ آئین کی تیاری کر رہے تھے تو مسئلہ ختم نبوت کی جانب صدر اور وزیر اعظم کے لئے جو عہد تھا۔ اس میں اس بات کی ضمانت مہیا کر دی کہ جو لوگ ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ نہ اس ملک کے صدر بن سکتے ہیں اور نہ اس ملک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں اور جب تک یہ دنیا قائم رہے گی

٩٨

صفحہ ٢٥٣١

ماہنامہ تاجدار ختم نبوت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

اس اسمبلی کے ممبروں کو اور بالخصوص عوامی حکومت کو اس بات کا شرف اور اس بات کی سعادت جو ہے، وہ ان کے لئے برقرار رہے گی کہ انہوں نے پہلی مرتبہ اس ملک کی تاریخ میں جرات مندانہ اقدام کیا کہ جو لوگ ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، ان لوگوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔

جناب والا! میری دانست کے مطابق اور میرے حلقہ انتخاب کے لوگوں کی نصائح کے مطابق جو انہوں نے مجھے بلا کر ذہن نشین کرائیں، میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے، اگر اس ملک کی فوج کو نت نئی سازشوں سے بچانا ہے، اگر اس ملک میں ایک غیر جانبدار ایڈمنسٹریشن قائم کرنی ہے، کنبہ پروری سے بچانا ہے اور اس ملک کے 2811 دفاتر میں اور اس ملک کی فیکٹریوں میں پرسکون ماحول قائم کرنا ہے۔ اس ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا ہے اور جائیدادوں کو، مکانوں کو، دکانوں کو، محلوں کو، بازاروں کو اگر آگ کے شعلوں سے بچانا ہے اور پنجاب کے سادہ لوح مسلمانوں کو اگر خون کی ہولی سے بچانا ہے۔ جنرل اعظم کے زمانے کی ١٩٥٣ء کی تاریخ کو دہرانے سے اجتناب کرنا ہے تو ہمیں اس مسئلے کا صحیح اور مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس میں عالم اسلام کی بہتری ہے۔ اس میں پاکستان کی بہتری ہے۔

[At this stage Prof. Ghafoor Ahmad vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

(اس مرحلہ پر پروفیسر غفور احمد کی جگہ جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے اجلاس کی صدارت سنبھال لی)

جناب غلام نبی چوہدری: اس میں پاکستان کی بہتری ہے اور بالخصوص اس مسئلے کے مستقل حل میں پنجاب جو ہے، اس کی بہتری ہے۔ اس کو امن کا مسئلہ درپیش ہے۔

جناب والا! یہ سعادت خدائے عزوجل کی جانب سے اس خصوصی کمیٹی کو اور اس ملک کی قومی اسمبلی کے ممبروں کو میسر آئی ہے کہ وہ جرات کے ساتھ، سچائی کے ساتھ اور ایک مومن کی فراست کے ساتھ اس مسئلے کا یک بارگی حل تلاش کریں۔ اس ملک میں جو فضا اس وقت اس نازک مسئلے کے متعلق پائی جاتی ہے، وہ نہ حکومت سے ڈھکی چھپی ہے اور نہ اس ایوان کے ممبروں سے وہ مسئلہ اور وہ بات ڈھکی چھپی ہے۔ اس ملک کے عوام یہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو یک بارگی

OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

دونوں ملکوں کو برداشت کرنے پڑے۔ میں اس تحریک (قادیانیوں) پر عائد ہوتی ہے پہنچائے اور ٥٢ فیصد مسلمانوں کو ٤٩ یا ٤٨ گورداس پور کے ضلع کو تقسیم کرنے اور ہندو خدمات ہیں اس تحریک (قادیانی) کی برصغی کے لئے کہ کس انداز میں اس تحریک نے اگری اپنا کردار ادا کیا تو دوسری جانب اس ملک ۔ دار یہ تحریک ہے۔

جناب والا! پھر دنیائے اسلام کو المقدس کا Fall (سقوط) ہوا۔ قسطنطنیہ (سقوط) ہوا تو اس تحریک کے دعوے داروں کمزور ہو رہا ہے اور عالم اسلام کو نقصان پہنچ انداز میں اس تحریک کے حامل لوگوں کا جو کر چکی ہے اور اس امر کا پورے طور پر اندازہ ہو کس حد تک وہ پورے عالم اسلام اور ملت اس

جناب والا! پاکستان میں انہو معیشت کو نقصان پہنچایا۔ thin a state کو جس انداز میں ہوا دی اور ربوہ کے شہر کو جم پاکستان میں ایک اسٹیٹ قائم کی، یہ کوئی ڈھ کر تسلیم کی جاچکی ہیں۔ پھر خویش پروری اور اس سے آپ کو یہ انداز ہو گا کہ پاکستان کو اٹھانے پڑے ہیں۔ سابقہ حکومتیں اس طاقت سعادت عوامی حکومت اور اس قومی اسمبلی کو جب یہ آئین کی تیاری کر رہے تھے تو مسلہ تھا۔ اس میں اس بات کی ضمانت مہیا کر دی کے صدر بن سکتے ہیں اور نہ اس ملک کے دف

صفحہ ٢٥٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

حل کر دیا جائے۔ جس مسئلے کی وجہ سے بار بار اس ملک میں فسادات، جنگیں، آگ، گولیاں، چھُرے اور سب کچھ چلتا ہے۔ اس مسئلے کو یہ اسمبلی، یہ خصوصی کمیٹی جو ہے وہ یک بارگی حل کرے۔ آپ کے توسط سے اس کمیٹی کے معزز ممبران سے میری استدعا ہے کہ جس بات کو سو سال اور پوری صدی سے برصغیر کے مسلمان اور علماء اپنی تمام آٹھ، آٹھ، بارہ بارہ گھنٹوں 2812 کی تقریروں کے بعد حل نہ کر سکے۔ اس کو حل کرنے کی سعادت آپ کے حصے میں آئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس انداز میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کس انداز میں اس ملک کے عوام اور عالم اسلام پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم اس بات کے اہل ہیں کہ اس نازک مسئلے کو جو کہ عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کو گھن کی طرح لگا ہوا ہے۔ اس مسئلے کو کس بہتر انداز میں حل کرتے ہیں جس سے صرف اس ملک کے لوگوں کو ہی Pacify (نرم) نہ کیا جاسکے۔ بلکہ گلوب پر بسنے والے دوسرے ممالک جو ہیں، وہ بھی یہ محسوس نہ کریں کہ اس ملک میں کوئی تنگ نظری ہے اور اس ملک میں کوئی ایسے لوگ ہیں جو مسائل کو بہت تنگ نظری کے ساتھ حل کرتے ہیں۔

جناب والا! میری یہ استدعا ہے کہ ہمیں اس بات کا فیصلہ، ایک مسلمان کی Definition (تعریف) کا فیصلہ جو ہمارے ذمہ ہوا ہے۔ اس کو ہم انشاء اللہ نہایت بہتر اور اس انداز میں اس کمیٹی سے اس ایوان سے کر کے اٹھیں گے جس انداز میں ہم نے اس ملک کے کروڑوں عوام کو مشترکہ طور پر، متحدہ طور پر ایک کانسٹی ٹیوشن دیا ہے۔ اسی سپرٹ کے ساتھ اس ختم نبوت کے مسئلے کو بھی حل کرنے میں انشاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔ میری یہ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ جل شانہٗ ہمیں طاقت بخشے اور ہماری روحوں کو مضبوط کرے۔ ہمارے دلوں کو مضبوط کرے۔ ہماری فراست جو ہے، ہمیں وہ فراست دے جس سے ہم آئندہ آنے والے ٢،٣ روز میں اس مسئلے کو بہتر انداز میں حل کرسکیں۔

Mr. Chairman: Thank you very much. Malik Karam Bakhsh Awan.

(جناب چیئرمین: بہت بہت شکریہ، ملک کرم بخش اعوان)

ملک کرم بخش اعوان: جناب! مجھے صبح ٹائم دیا جائے۔

جناب چیئرمین: ابھی تقریر کر لیتے تو ٹھیک تھا۔ ویسے آپ دستخطی ممبر ہیں۔ آپ کو تھوڑا ٹائم ملے گا۔ آپ کے دستخط ہیں اس پر۔

2813 جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ: ہم سب کو ٹائم ملنا چاہئے۔

صفحہ ٢٥٣٣

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

F PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

حل کر دیا جائے۔ جس مسئلے کی وجہ سے چہرے اور سب کچھ چلتا ہے۔ اس مسئلے کو آپ کے توسط سے اس کمیٹی سال اور پوری صدی سے برصغیر کے مسلما تقریروں کے بعد حل نہ کر سکے۔ اس کو حل دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس انداز میں اپنا کردار ا اسلام پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم اس با بالخصوص پاکستان کو گھن کی طرح لگا ہوا ہے صرف اس ملک کے لوگوں کو ہی Pacify ممالک جو ہیں، وہ بھی یہ محسوس نہ کریں ک ایسے لوگ ہیں جو مسائل کو بہت تنگ نظری جناب والا! میری یہ استد Definition (تعریف) کا فیصلہ جو اس انداز میں اس کمیٹی سے اس ایوان کروڑوں عوام کو مشترکہ طور پر، متحدہ طور نبوت کے مسئلے کو بھی حل کرنے میں انشا جل شانہ ہمیں طاقت بخشے اور ہماری ب ہماری فراست جو ہے، ہمیں وہ فراست مسئلے کو بہتر انداز میں حل کر سکیں۔ you very much. Malik

(جناب چیئرمین: بہت ملک کرم بخش اعوان: ج جناب چیئرمین: ابھی تو تھوڑا ٹائم ملے گا۔ آپ کے دستخط ہیں ما 2813 جناب غلام حسن خا

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جناب چیئرمین: آپ تقریر کرلیں۔ آپ بھی دستخطی ممبر ہیں۔ جو دستخطی ممبر ہیں، ان کو پانچ پانچ منٹ ٹائم ملے گا۔ جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ: جناب والا! پانچ منٹ تو بہت کم ہیں۔ جناب چیئرمین: یہاں پر آپ کا نام ڈھانڈلہ غلط پرنٹ کر دیا ہے۔ جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ: جناب اب تو اسے درست کر دیا جائے۔ جناب چیئرمین: میں نے نہیں لکھا، مولانا شاہ احمد نورانی نے لکھا ہے۔

(جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب غلام حسن خان ڈھانڈلہ: جناب چیئرمین! اس ایوان میں بہت تقریریں کی جا چکی ہیں۔ کتابوں کے حوالے بھی بہت دیئے جاچکے ہیں۔ حدیثوں کے حوالے بھی بہت پیش کئے جاچکے ہیں۔ قرآن کی آیتیں بھی بہت پیش کی جاچکی ہیں۔ ہم اپنی طرف سے تحریری بیان بھی داخل کرچکے ہیں جس پر میرے دستخط موجود ہیں۔ اس بیان کے بعد تقریر کی کوئی خاص ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ ہم نے اپنی رائے تحریری بیان میں درج کردی ہے۔ بہر حال میں اپنے تحریری بیان کی تائید میں عرض کروں گا کہ مرزائیوں کے دونوں گروہوں، لاہوری اور ربوہ والوں کے بیانات سے ثابت ہو گیا ہے کہ مرزاغلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور جو شخص محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، ہم مسلمانوں کے نزدیک وہ کافر ہے۔ جناب والا! اس لحاظ سے میری رائے ہے کہ مرزائیوں کے دونوں گروہوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور آئین میں اس کی ترمیم کی جائے۔ آئین میں اس کی وضاحت ہونی چاہئے کہ مرزائی دونوں قسم کے جو ہیں وہ غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جائیں۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ مرزائیوں کو کلیدی اسامیوں سے ہٹایا جائے۔ یہ میری رائے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں تقریریں نہیں کرنی چاہئیں۔ تقریریں بہت سن بھی چکے ہیں اور کر بھی چکے ہیں۔ یہ میری اپنی رائے ہے کہ مرزائی کافر ہیں ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

2814 جناب چیئرمین: بس، مخدوم نور محمد صاحب! کاش ڈھانڈلہ صاحب! آپ نے پہلے تقریر کی ہوتی۔ شاید جیسا کہ ڈاکٹر بخاری صاحب اور دوسرے ممبروں نے لمبی لمبی تقریریں کی ہیں، آپ سے بھی کوئی سبق سیکھ سکتے۔

١٠١

صفحہ ٢٥٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(جناب مخدوم نور محمد کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب مخدوم نور محمد: جناب والا! میں عرض کرتا ہوں کہ قادیانی اور مرزائی گروہ کے اعتقادات کا تعین کرنے کے لئے اس معزز ایوان کو، قومی اسمبلی کو ایک کمیٹی میں تشکیل کیا گیا ہے۔ واقعات اور اسباب جو ابھی ہمارے سامنے آئے ہیں، وہ ہم پر واضح ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے اعتقادات کا پیدائشی طور پر علم ہوتا ہے۔ اسلام دین اور دنیا آخرت کا نظام خداوندی ہے۔ اس میں تحریف اور تبدیلی اسلام کے بنیادی ارشادات کے صریحاً منافی ہے۔ یہ باتیں سب جانتے ہیں۔ مسلمان اپنے اعتقادات سے محض اس لئے بھٹک سکتے تھے۔ اس قسم کے فتنے جو سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے، سامراجی سرمائے پر ایک مصدقہ اور مسلمہ دین میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے، امت اسلامیہ میں افتراق پیدا کرنے کے لئے ایک تنظیم چلائی جاتی ہے۔ جو کہ سامراجیت اور حکومتوں کا ایک بڑا پرانا فعل ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں ایک انتہائی اہم ترین مسئلہ سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ جس کے بارے میں ہمیں یہ فیصلہ دینا ہو گا کہ اس تحریک کا مقصد، اس جماعت کا مقصد زیر زمین سازش ہے۔ اس کی وجہ جواز کیا ہے۔ جناب والا! میرے ناقص ذہن کی روشنی میں یا انتہائی قلیل مطالعہ کے مطابق تاج برطانیہ کا محکمہ جاسوسی، صیہونی لابی، اس صیہونی گروپ کی ایک تخلیق شدہ جماعت ہے۔ جس کے بارے میں جناب! آپ بخوبی آگاہ ہیں۔ برٹش ایمپائر کا سب سے بڑا فلسفہ کیا ہوتا ہے ”ڈیوائڈ اینڈ رول۔“ اس کے بعد اس کے آگے ایک خوفناک حربہ تھا۔ وہ:

"How to sow dragon's teeth."

(اژدھے کے دانتوں کو کیسے بویا جائے)

2815 وہ اپنے استحکام کے لئے، اپنی تجارت کے لئے، اپنی ثقافت کے لئے غریب اقوام پر چیزیں ٹھونستے ہیں۔ ان پر مسلط کرنے کے لئے باقی حربے بھی ہوا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ نہایت تاریخی اور ایسی مصدقہ بات ہے کہ اس حقیقت سے انکار کیونکر کیا جائے؟ تاج برطانیہ کے محکمہ جاسوسی نے ان دونوں فرقوں کو تخلیق کیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو گمراہ کیا ہے۔ ہندوؤں کو آریہ سماج کی تحریک کی شکل میں جنم دیا ہے۔ میں آپ کو مختصر سمجھاؤں۔ اسلام وہ پاک مذہب ہے، وہ آخری مذہب ہے، جس میں نبی کریم ﷺ خاتم المرسلین ہیں۔ یہ خداوند کریم کا آخری فیصلہ ہے۔ حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ قرآن پاک کی ہر چیز مصدقہ، پاکیزہ ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ختم

١٠٢

صفحہ ٢٥٣٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

نبوت ہے۔ یہ ایک برحق جزو اعظم اسلام کا ہے۔

جناب! آپ جانتے ہیں جیسے اصنام پرستی ہے۔ وہ ایک ہزاروں برس سے دنیا کا سب سے پرانا مذہب ہے اہل ہنود کا۔ ہزاروں برس سے اصنام پرستی ان کے رگ و پے میں داخل ہے۔ آریہ سماج کا نعرہ یہ تھا کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ بھگوان اکیلا ہے، مورتی پوجا حرام ہے۔ گویا ان کے مذہب میں بھی مداخلت کی، جیسے ہم مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے انہوں نے ایک ڈھونگ رچایا۔ ان دونوں جماعتوں کا پاکستانی قوم سے فقط ان کا رول، ان کا فقط کردار، عالم اسلام میں افتراق پیدا کرنا ہے۔ عالم اسلام کی بڑھتی ہوئی آبادی، بڑھتی ہوئی تجارت، بڑھتی ہوئی دولت کے پیش نظر، کہ کہیں یہ ملک مقبول نہ بن جائیں۔ اسلام کے قلعے میں شگاف ڈالنے کی سب سے بڑی زیر زمین سازش ہے جو کہ خاص طور پر سامراجیت، صیہونیت، چاہے وہ دنیا کے کسی خطے میں کیوں نہ ہو۔

جناب! آپ جانتے ہیں، میں اس حقیقی منطق سے آپ کو روشناس کراتا ہوں کہ اس مضبوط و مربوط، اس پرانے فتنے کو انتہائی معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے پڑھا ہے ”ٹائم میگزین“ میں۔ ہو سکتا ہے سات برس پیشتر کی مجھے تاریخ 2816 صحیح یاد نہ ہو۔ تو اس میں جناب والا! امریکہ میں اہل ہنود کا ادارہ ہے۔ ”ٹائم میگزین“ میں امریکہ اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ امریکی عنصر لکھتے ہیں کہ امریکہ American CIA is the illegitimate child of British Home Department. (امریکی سی آئی اے، برطانوی وزارت داخلہ کا ناجائز بچہ ہے۔) تو جناب! میں عرض کرتا ہوں کہ برطانیہ نے اپنی حکومت چلانے کے لئے، اپنی حکمرانی پھیلانے کے لئے، کس طرح ایک وسیع و عریض قوت کو ایک تنظیم کا سہارا لینا پڑا۔

جناب والا! آپ اندازہ فرما سکتے ہیں کہ جس وقت برطانیہ کا اقتدار ختم ہوا۔ جب برطانیہ رو بہ تنزل ہوا، جب برطانیہ کی قوت جو تھی، وہ اپنی کالونی سے، اپنے مقبوضہ جات سے نکل کر صرف جزائر برطانیہ میں آنا شروع ہوئی۔ تو اس وقت ان میں یہ قوت باقی نہیں رہی تھی کہ دنیا کا وہ نظام ہوم ڈیپارٹمنٹ جس نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے تھے۔ اس کو قائم رکھتے اور اس کو چلاتے۔ بالآخر وہ نظام امریکہ کی سی آئی اے کو منتقل ہوا۔ دنیا کا جو انصرام تھا، سیاسی مغربیت اور مغربی یورپ کی اور مغربی ممالک کی اور Westren Hemisphere (مغربی نصف کرہ ارض) کی بالا دستی کو کنٹرول کرنے کے لئے وہ طاقتیں جو تھیں، وہ از خود برطانیہ سے

١٠٣

BLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

(جناب مخدوم نور محمد کا قومی اسمبلی

جناب مخدوم نور محمد: جناب والا! کے اعتقادات کا تعین کرنے کے لئے اس معزز ایوا ہے۔ واقعات اور اسباب جو ابھی ہمارے سامنے اپنے اعتقادات کا پیدائشی طور پر علم ہوتا ہے۔ اسلا اس میں تحریف اور تبدیلی اسلام کے بنیادی ارشا جانتے ہیں۔ مسلمان اپنے اعتقادات سے محض ا سیاسی اغراض و مقاصد کے لئے، سامراجی سرمائے کرنے کے لئے، امت اسلامیہ میں افتراق پیدا کہ سامراجیت اور حکومتوں کا ایک بڑا پرانا فعل ۔ مسئلہ سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ جس کے بارے مقصد، اس جماعت کا مقصد زیر زمین سازش ہے۔ ناقص ذہن کی روشنی میں یا انتہائی قلیل مطالعہ کے م اس صہیونی گروپ کی ایک تخلیق شدہ جماعت ہے آگاہ ہیں۔ برٹش ایمپائر کا سب سے بڑا فلسفہ کیا ہ کے آگے ایک خوفناک حربہ تھا۔ وہ:

teeth."

(اژدھے کے دانتوں کو کیسے بویا جائے

2813

وہ اپنے استحکام کے لئے، اپنی تو اقوام پر جبری ٹھونستے ہیں۔ ان پر مسلط کرنے کے نہایت تاریخی اور ایسی مصدقہ بات ہے کہ اس حقیق محکمہ جاسوسی نے ان دونوں فرقوں کو تخلیق کیا ہے۔ ا آریہ سماج کی تحریک کی شکل میں جنم دیا ہے۔ میں آ وہ آخری مذہب ہے، جس میں نبی کریم ﷺ خاتم الن حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ قرآن پاک کی ہر

١٠٢

صفحہ ٢٥٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

امریکن سی آئی اے کو منتقل ہو گئیں۔

جناب! اب آپ انداز فرما سکتے ہیں کہ تاج برطانیہ کا لگایا ہوا پودا جو ہے۔ اس کی آبیاری بھی اسی طرح سی آئی اے کو منتقل ہو چکی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ سے زیادہ قابل لوگ بھی پاکستان میں موجود تھے۔

جناب والا! میں منطق کی بات کہوں گا۔ دین کے مسئلے میں علماء کرام نے تشریحاً اپنے معتقدات، اپنے تجربات اور اپنی بصیرت سے تشریح فرمادی ہے۔ میں فقط یہ عرض کروں گا کہ چوہدری ظفر اللہ اور ایم ایم احمد یا ان کے باقی جو گروپ ہیں۔ یہ اوسط ذہن سے کم لوگ تھے۔ انہیں اوپر اٹھایا گیا۔ ان کے مقام کو دانستہ اجاگر کیا گیا۔ جناب والا! بین الاقوامی عدالت کا جج بننے کے لئے سید حسین شہید سہروردی اور اے۔ کے بروہی کی 2817 شخصیت کیا کچھ کم تھی؟ مگر وہ سامراج کے ایجنٹ نہیں تھے۔ لہٰذا ان کی تعیناتی جو تھی، وہ مغربی طاقتوں کے ارادوں میں حائل تھی اور ان عظیم شخصیتوں کو لینا انہوں نے قبول نہ کیا۔ بعینہ اسی طرح جناب والا! اگر آپ دیکھیں، ایم ایم احمد جو پاکستان کو توڑنے کے بعد عالمی بینک میں بیٹھا ہوا ہے، وہ سازشیں اور مکاریاں کرتا رہا ہے۔

یہ پہلے اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ جس نے تقسیم کے وقت جب ہندوؤں کا اخلاء سیالکوٹ سے ہوا اور تارکین کی جو جائیداد ہاتھ آئی، انہوں نے فوراً اٹھا کر گورداس پور کے قادیانیوں میں شامل کر دی۔ جناب والا! ان کی محبت بھی پاکستان سے کسی تلخ حقائق کی وجہ سے وہ ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے مسلم پنجاب کے علاقے جو تھے، انہوں نے ریڈ کلف ایوارڈ سے مل کر اور ماؤنٹ بیٹن سے مل کر، کانگریس سے مل کر، بقول جناب چوہدری غلام نبی صاحب، انہوں نے ہمارے علاقے کٹوائے اور بھارت میں شامل کرائے۔ معزز ممبران اس سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار فرمائیں گے۔ اس کے بعد جب مغربی پاکستان سے، مغربی پنجاب سے سکھ بھاگے، انہوں نے انہیں دھکے دے کر وہاں سے باہر نکال دیا اور پنڈت نہرو کے جو وعدے تھے وہ ہوا میں معلق رہے اور انہوں نے آکر ہمیں تاراج کر کے ہمارے مسلم پنجاب کے علاقے کٹا کر، ہمارے لوگوں کو مہاجر بنا کر انہوں نے اپنا مقام یہاں آکر ربوہ میں حاصل کیا۔ جس کو وہ اب ایک خود مختار چھوٹی سی اسٹیٹ بنا کر بیٹھے ہیں۔ وہ میونسپلٹی ہے، جو کچھ بھی ہے، وہ تو ان کے عزائم کی تشریح ہو چکی ہے۔

جناب والا! یہ ماسوائے اس کے ہرگز ہرگز ان کی کوئی تشریح نہیں ہے کہ یہ عالم اسلام

١٠٤

صفحہ ٢٥٣٧

2537 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

کی یکجہتی کے خلاف سامراج کا ایک گڑھ ہے۔ یہ کوئی دین نہیں ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک، یہ کوئی فرقہ نہیں ہے۔ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ زیر زمین چھپے ہوئے ہیں اور یہ چھپی ہوئی سازشیں ہیں۔ یہ ایک سیاسی تحریک ہے جو عالم اسلام کو خاکم بدہن تاراج کرنے پر مامور ہے۔

2818 جناب والا! اب میں ایک نہایت ہی اپنی ناقص عقل کا یہاں اظہار کروں گا جو کہ ایک انسان کی حیثیت سے ہر انسان کے ذہن میں گردش کرتی ہے۔ یہ بات کہ وہ مسیح موعود تھے۔ انہوں نے آخری دور میں آنا تھا اور انہوں نے معاشرے کی اصلاح کرنی تھی، جزاک اللہ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر منطقی طور پر دیکھا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ ماؤزے تنگ نے ٧٠ سے ٧٥ کروڑ انسانوں کو مارکسزم کا فلسفہ دیا۔ لینن تھا، اس کی بھی اپنی ایک فکر تھی۔ جناب والا! سب سے پہلے میں اپنی اس مقدس سرزمین کی اس حقیقت کی طرف آپ کی توجہ دلاتا ہوں۔ ہمارے قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے۔ انہوں نے مسلم لیگ اور برصغیر کے مسلمانوں کو ایک فلسفہ دیا اور ہم نے وطن حاصل کیا۔ قائد اعظم نے وطن حاصل کیا، پاکستان حاصل کیا۔ ظاہر ہے کہ ایک فلسفہ تھا، ایک فکر تھی، جس کے نتیجے میں ہمیں پاکستان ملا۔ چلئے، ہمارے دشمن ہی سہی، گاندھی جی مہاراج جو مسلمانوں کو کہتے تھے:

"A band of converts cannot be a nation."

(مذہب بدلنے والوں کا ایک گروہ ایک قوم نہیں بن سکتا)

چھوڑیئے مگر تلخ حقائق ہی سہی۔ انہوں نے تحریک آزادی لڑی۔ تحریک خلافت بھی رہی ہے۔ انہوں نے بھارت کو آزادی دی۔ گاندھی جی اپنی قوم کے لئے ایک بہت بڑی چیز تھے اور دنیا کے نامور لیڈروں میں سے تھے۔ جناب والا! جمال عبدالناصر تھے، انہوں نے عرب دنیا کو اتحاد کا درس دیا تھا۔ ایک بہت بڑی بات ہے۔ افریقہ میں کئی ایسی شخصیات آئی ہیں۔ لہٰذا اس دور میں اگر اس جماعت کا تجزیہ کریں تو اس نے نہ تو اسلام کی اور نہ سیاسی خدمات انجام دی ہیں۔ اگر دوسری طرف ان کا فکر دیکھئے کہ آپ نے مذہب کے لئے کیا کیا ہے؟ وہ کتابیں ”انجام آتھم“ اور ”کشتی نوح“ اور اس کے علاوہ پتہ نہیں کیا کیا تھا اور جو نام خاص طور پر مجھے ذہنی فکر کا سب سے اوپر نظر آیا وہ 2819 ”دُستِ بچن“ ہے۔ اس نام کو بتا سکتے ہیں کہ یہ جو نام ہے یہ کیا فکر رسا سے معمور نام ہے؟

(اسلام دشمن ٹولہ)

جناب والا! بحیثیت ایک مسلمان کے مجھ پر واجب ہے کہ میں اپنے دین کے معاملے

١٠٥

BLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

امریکن سی آئی اے کو منتقل ہو گئیں۔

جناب! اب آپ اندازہ فرما سکتے ہیں آبیاری بھی اسی طرح سی آئی اے کو منتقل ہو چکی پاکستان میں موجود تھے۔

جناب والا! میں منطق کی بات کہو اپنے معتقدات، اپنے تجربات اور اپنی بصیرت کہ چوہدری ظفر اللہ اور ایم ایم احمد یا ان کے تھے۔ انہیں اوپر اٹھایا گیا۔ ان کے مقام کو عدالت کا جج بننے کے لئے سید حسین شہید سہرور کم تھی؟ مگر وہ سامراج کے ایجنٹ نہیں تھے۔ ارادوں میں حائل تھی اور ان عظیم شخصیتوں کو لینا اگر آپ دیکھیں، ایم ایم احمد جو پاکستان کو توڑ ۔ اور مکاریاں کرتا رہا ہے۔

یہ پہلے اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ جس ۔ سے ہوا اور تارکین کی جو جائیداد ہاتھ آئی، انہو شامل کر دی۔ جناب والا! ان کی محبت بھی پاک ہیں۔ انہوں نے ہمارے مسلم پنجاب کے علا ۔ ماؤنٹ بیٹن سے مل کر، کانگریس سے مل کر، ہمارے علاقے کٹوائے اور بھارت میں شام اظہار فرمائیں گے۔ اس کے بعد جب مغربی نے انہیں دھکے دے کر وہاں سے باہر نکال د رہے اور انہوں نے آکر ہمیں تاراج کر ۔ لوگوں کو مہاجر بنا کر انہوں نے اپنا مقام یہاں چھوٹی سی اسٹیٹ بنا کر بیٹھے ہیں۔ وہ میونسپل چکی ہے۔

جناب والا! یہ ماسوائے اس کے

صفحہ ٢٥٣٨

2538 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں عصبیت رکھوں۔ ایک شخص، ایک گروہ جو سرمایے کے زور پر عالم اسلام کو تاراج کر رہا ہے، ہمیں حق پہنچتا ہے کہ اس کی صحیح کیفیت جو ہے اس کو بے نقاب کریں۔ جناب والا! ہم نے ان تلخ حقائق کا جائزہ لیا ہے کہ حیفہ اور تل ابیب کے فنڈ پر پلنے والا یہ ٹولہ اسلام دشمن ہی نہیں ہے، یہ پاکستان دشمن پہلے ہے اور عالم اسلام کا سب سے بدترین ٹولہ ہے۔ کیونکہ اہل یہود کھلے ہیں، اہل ہنود کھلے ہیں۔ باقی جتنی سوشلسٹ قوتیں ہیں، جو آپ کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی خواہاں ہیں، اور آپ کے سامنے آپ کا اگر کوئی زیر زمین دشمن ہے تو وہ فقط یہی ٹولہ ہے جس کی پہچان میں ہر بار ہر وقت آپ کو تکلیف ہوئی ہے۔

(قادیانیت انسانی ذہنیت کا بیت الخلاء؟)

جناب! آپ خود جانتے ہیں کہ ہم نے کیا تاثر لیا ہے جو دین پر انہوں نے حملے کئے ہیں۔ آپ مسلمان ہیں، معزز ایوان مسلمان ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انہوں نے دین پر کس قسم کے بے رحمانہ حملے کئے۔ یہ انسانیت سے معذور ہیں۔ جو لوگ انسانی ذہنیت سے معذور ہوں، جناب والا! میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسلام دشمن پلندہ تھا۔ کیا یہ پیغمبرانہ صفات ہیں۔ نعوذ باللہ، خاکم بدہن، میں تو کہتا ہوں کہ یہ انسانی ذہن کا بیت الخلاء تھا۔ انہوں نے جس طریقے سے عالم اسلام کی دل آزاری کی ہے۔

(ملک توڑنے کے ذمہ دار؟)

جناب والا! ہم نے ان کے خزاں رسیدہ جذبات اور اجل رسیدہ افکار کا جائزہ لیا ہے۔ جناب والا! ہم نے ان کی تمام مکاریوں کو تولا ہے۔ ہم نے اسے سیاسی ترازو میں نہیں تولنا ہے۔ یہ ہمارے دین کا معاملہ ہے۔ میرے تمام بھائیوں کے دین کا معاملہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے ملک میں اس مسئلے پر طوفان کھڑا ہوا ہے۔ ہماری زندگی اتنی قیمتی نہیں ہے۔ ہمارا ملک قیمتی ہے۔ ہماری قوم قیمتی ہے اور پھر وہ ملک اور قوم محض اسی فلسفے کی مرہون منت ہے جس کی حفاظت کے لئے قدرت نے اسے مامور کیا ہے۔ آپ کو یہ جائزہ لینا ہے کہ آپ کا ملک کیسے ٹوٹا۔ کس نے توڑا اور اس میں سب سے بدترین سازش انہی کی تھی۔ اگر آپ مجھے اجازت فرمائیں تو میں شیخ مجیب الرحمن کے وہ جملے جو پہلے پہلے سنے تھے، وہ اس معزز ایوان تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

(جناب مجیب الرحمن اور قادیانی)

"This syndicate of Qadyani Generals and the ruling

١٠٦

صفحہ ٢٥٣٩

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں عصبیت رکھوں۔ ایک شخص، ایک گروہ جو سرمای ہمیں حق پہنچتا ہے کہ اس کی صحیح کیفیت جو ہے اس کو حقائق کا جائزہ لیا ہے کہ حیلہ اور تل ابیب کے فنڈ پر پاکستان دشمن پہلے ہے اور عالم اسلام کا سب سے بڑا ہیں، اہل ہنود کھلے ہیں۔ باقی جتنی سوشلسٹ قوتیں خواہاں ہیں، اور آپ کے سامنے آپ کا اگر کوئی زبر پہچان میں ہر بار ہر وقت آپ کو تکلیف ہوئی ہے۔

(قادیانیت انسانی ذہنیت

جناب! آپ خود جانتے ہیں کہ ہم نے ہیں۔ آپ مسلمان ہیں، معزز ایوان مسلمان ہے۔ ہ کے بے رحمانہ حملے کئے۔ یہ انسانیت سے معذور ہ

جناب والا! میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسلام دشمن پلندہ تھ بد ذہن، میں تو کہتا ہوں کہ یہ انسانی ذہن کا بیت الخلا کی دل آزاری کی ہے۔

(ملک توڑنے ک

جناب والا ! ہم نے ان کے خزاں رسیدہ جناب والا! ہم نے ان کی تمام مکاریوں کو توڑا ہے۔ ا ہمارے دین کا معاملہ ہے۔ میرے تمام بھائیوں کے کے ملک میں اس مسئلے پر طوفان کھڑا ہوا ہے۔ ہماری ہماری قوم جیتی ہے اور پھر وہ ملک اور قوم محض اسی فلسف قدرت نے اسے مامور کیا ہے۔ آپ کو یہ جائزہ لین اس میں سب سے بدترین سازش انہی کی تھی۔ اگر آ کے وہ جملے جو پہلے پہلے سنے تھے، وہ اس معزز ایوان ا

(جناب مجیب الرحم

adyani Generals and the ruling

١٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

bureaucratic clique......this clique of pythons...... is not going to transfer this power to me. They want to put me behind the bar. They would like to fight the aimless battle and ultimately they will surrender before the enemy and not before their majority."

(قادیانی جنرلوں اور افسر شاہی کا گروہ جو کہ درحقیقت زہریلے سانپوں کا ایک جتھا ہے۔ مجھے اختیار منتقل نہیں کر رہا۔ یہ مجھے سلاخوں کے پیچھے بھیجنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک بے مقصد جنگ لڑیں گے اور آخر کار دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔ لیکن اپنے ملک کی اکثریتی عوام کے سامنے نہیں جھکیں گے)

تو جناب والا! یہ آخر کیا سازش تھی؟ اس سے ہمارے مشرقی پاکستان کے بھائی مکمل طور پر آگاہ تھے۔ مگر ہم بد نصیب اس خطے کے لوگ سمجھ نہیں آئی کہ ہم اپنے تنخواہ خوار ملازموں سے اتنی تذلیل اٹھانے والے ہیں۔ ہم نے اس کا جائزہ تک نہیں لیا کہ جن لوگوں کو آپ تنخواہ دیتے ہیں۔ ایک قوم کی حیثیت سے خزانہ آپ کا ہے۔ مملکت آپ کی ہے ۔ کماتے آپ ہیں۔ خزانہ بھی اپنا آپ بھرتے ہیں۔ اس سے زیادہ تذلیل ہماری کیا ہوگی؟ ہم بد نصیب لوگوں کی، کہ ہمارے تنخواہ خوار ملازمین ہماری تذلیل کر کے، ہمیں دھکے دے کر ہمیں ملک بدر کر دیں کہ ہمیں انڈیا کا سیٹلائٹ بنا دیں۔

جناب والا! میں آپ سے مزید گزارش کروں گا اس سلسلے میں کہ اس وقت جو سازش زیر غور ہے اس میں بھارت جیسا منافق دشمن سب سے آگے شریک ہے۔ خدانخواستہ یہ مغربی پاکستان کو بھی تاراج کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی پالیسی یہ ہے کہ وہ عرب ممالک اور ایران کے سر پر پہنچ جائیں تاکہ وہ عرب ممالک کو کہیں کہ بابا! یہ ڈالر اٹھا کے اب انڈیا کے بنکوں میں رکھو، اب ایشیاء اور افریقہ کے لیڈر ہم ہیں۔ بڑی نیوی بھی2821 ہم بنائیں گے، بڑی افواج بھی ہم بنائیں گے۔ آپ کا تحفظ اب ایک بہت بڑی سیکولر پاور کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ جناب والا! یہی عالم اسلام میں وہ قلعہ ہے جو ان کے عزائم میں سدراہ ہے۔ یہی وہ پاکستان تھا جو مشرق و مغرب سے بھارت کی فسطائیت کے پنجے کو بلاد اسلام تک پہنچنے سے روکے رہا۔ یہی وہ پاکستان ہے جس میں آپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہی وہ بچا کھچا پاکستان ہے جو ان بدکرداروں کے نتیجہ میں یہی بچا کھچا پاکستان رہ گیا ہے۔

جناب والا! اسرائیل کے پرائم منسٹر کی تقریر آپ سن چکے ہوں گے کہ "مغربی پاکستان"

١٠٧

صفحہ ٢٥٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔ یہ پیرس کے قرب میں کوئی شہر تھا، ١٩٦٧ء کی تقریر ہے ڈیوڈ بن گورین کی۔ وہ کم بخت مر گیا۔ یہ اس کی تقریر ہے۔ اس نے یہ اظہار خیال کیا کہ بھارت جیسا سیکولر ملک جو پاکستان جیسے مذہبی اور جنونی کا بدترین مخالف ہو، وہ ہمارے لئے اس قدر زرخیز زمین ہے کہ ہم پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے سب سے پہلا جو اسٹینڈ ہے، ہمارے اڈے وہیں قائم ہوں گے۔

(بھارت، اسرائیل نچوڑ؟)

جناب والا! بھارت اسرائیل کا نچوڑ قادیان اور ربوہ ہے۔ حیفہ اور تل ابیب کا مظہر۔ یہ جس ذہانت کا اور جس علم و عرفان کا تذکرہ کر چکے ہیں، ہم نے دیکھا ہے۔ بڑی آسانی سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ مصدقہ جہالت کا مظہر اور مستند حماقت کا مجسمہ تھے۔ ہم نے غور و فکر کیا ہے۔ ان کا علم اور ذہانت کچھ نہیں ہے۔ یہ بھارت اور اسرائیل کا نچوڑ ہے اور وہیں سے انہیں پیسے ملتے ہیں اور یہیں سے ان کا یہ سارا کاروبار چلتا ہے۔ ان کا نظام حیات کہیے یا نظام کار کہیے، ان کا سارا انحصار غیر ملکی سرمائے پر ہے۔

اب میں جناب سے یہ مختصر گزارش کروں گا...... میں معذرت خواہ ہوں، اگر میری معروضات میں طوالت ہوگئی ہے...... تو جناب والا! اب اس وقت آپ اپنے ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کا جائزہ لیں۔ ہم نے ان کے واقعات سنے، ہم نے ان کو بحیثیت مذہب کے بھی دیکھا اور بحیثیت دشمن کے بھی دیکھا۔ جناب والا! اس میں کوئی 2822 کلام نہیں کہ ہم پہلے اپنے دستخط شدہ ان کے محضر نامے کا جواب دے چکے ہیں۔ میرے اس طرف کے بھائیوں نے بھی دلائل دیئے ہیں اور معزز اراکین بھی تقاریر فرمائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ میں اپنی معروضات کا اظہار پوری طرح نہ کر سکا ہوں اور اتفاق سے کافی باتوں کا اظہار نہیں کر سکا جو کہ ذہن سے سلپ ہو گئی ہیں۔ تو میں اتنی گزارش کروں گا کہ نوے (٩٠) برس سے چلنے والی اس سازش کو میں گورنمنٹ پارٹی کو نہایت ہی انکساری سے اپیل کروں گا کہ یہ میرا کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہم سب کی میراث ہے، مشترکہ میراث ہے۔

اسلام کا وارث ہر مسلمان ہے۔ یہ ہم سب کی وراثت ہے۔ یہ فرقہ جو اعلانیہ فرقہ ہے۔ یہ فرقہ جس کی کارکردگی بھی اعلانیہ ہے۔ اگر زیر زمین تھی تو سامنے آگئی ہے۔ میں اتنی گزارش کروں گا کہ اس کا فیصلہ دیتے وقت اس معزز ایوان کو فیصلہ مبہم نہیں دینا چاہئے۔ وہ دھندلا

١٠٨

صفحہ ٢٥٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

فیصلہ ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ باہر ہمارے مضطرب بھائیوں کی تکلیف اور بڑھ جائے گی۔ ہمارے ملک کا امن عامہ درہم برہم ہو جائے گا۔ ہمارے ملک میں کشت و خون ناگزیر ہو جائے گا۔ ان تمام چیزوں کو سمجھنے کے لئے ، ان تمام نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ، ہمیں ان مثبت نتائج کی طرف جانا چاہئے کہ ہمارا فیصلہ مثبت ہو، مدلل فیصلہ ہو۔ اس میں ان کا نام آنا چاہئے۔ اس میں عقائد آنے چاہئیں۔ اس میں تحریک کی تشریح آنی چاہئے اور پھر عقائد کی تشریح ہونی چاہئے تاکہ وہ مبہم فیصلہ عوام میں کسی بدگمانی کو جنم نہ دے سکے۔ لہٰذا میں اس معزز ایوان سے گزارش کروں گا کہ یہ چیزیں آپ سماعت کر چکے ہیں۔ ہم نے بہت تلخی سے اور اپنے ڈیکورم کے تابع اور اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ کے نام پر کسی اقلیت کو بھی انصاف دیا جائے۔ اس کی بھی سماعت کر لیں۔ اس کے بھی نظریات سن لیں۔ تو ہم نے جناب والا! طوعا و کرہا، بادل نخواستہ وہ تمام چیزیں برداشت کیں اور واقعات آپ کے سامنے ہیں۔

(مگر مچھ، اژدھا!)

اب گزارش یہ ہے کہ اس انتہائی پیچیدہ مسئلے کو، جو بظاہر پیچیدہ ہے، مگر جس وقت آپ نے 2823 انشاء اللہ اس کو حل کر دیا تو آپ دیکھیں گے کہ عالم اسلام میں جہاں جہاں ان کے بورڈ لگے ہوئے ہیں یا کینیڈا اور امریکہ تک آپ کے مدلل فیصلہ جات گئے تو آپ کی آواز سن کر وہ اندازہ کریں گے کہ آپ نے ایک بہت بڑے مگر مچھ ، ایک بہت بڑے اژدھے کو مارا ہے۔ تو وہ اس قسم کا فیصلہ ہونا چاہئے کہ بیرون پاکستان اسلامی ممالک میں بھی اور باقی دنیا میں بھی ہماری اس صحیح حقیقت کو کہ کس بات کے پیش نظر اور کن واقعات کے پیش نظر ہم نے ایک دشمن کو کچلا ہے، ہم کوئی اقلیتوں کے قاتل نہیں ہیں، نعوذ باللہ۔ اسلام میں تو حکم ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کرو۔ اگر وہ جزیہ دیتے ہیں تو ان کی جان و مال اور عزت کا تحفظ کرو۔ آپ ان کا تحفظ ضرور کیجئے، مگر یہ غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد۔ ہماری وزارت خارجہ کے جو ہمارے سفارتخانے ہیں۔ یہ ان کا بھی کام ہوگا کہ وہ وہاں کی پریس سے ان تمام واقعات کی نشر واشاعت ایک صحیح صورت میں دیں تاکہ دنیا ہمیں یہ نہ کہے کہ ہم کوئی قاتل ہیں یا ہم نے کوئی انسانی حقوق سلب کئے ہیں یا ہم نے کوئی یونائیٹڈ نیشنز کے یا بین الاقوامی نظام کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس کے پیش نظر جو کہ آپ حضرات دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے خلاف مختلف خطوط مختلف سمت سے آ رہے ہیں۔ یہ انہی کی تنظیم بھجوا رہی ہے۔ انہی کے ہر جگہ دفاتر ہیں اور تنظیمیں ہیں۔ تو

١٠٩

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

میں راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ یہ پیرس کے قرب میں گورین کی۔ وہ کم بخت مر گیا۔ یہ اس کی تقریر ہے۔ اس ملک جو پاکستان جیسے مذہبی اور جنونی کا بدترین مخالف کہ ہم پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے سب۔ قائم ہوں گے۔

(بھارت، اسرائ

جناب والا! بھارت اسرائیل کا نچوڑ قادیا جس ذہانت کا اور جس علم و عرفان کا تذکرہ کر چکے ہیں سکتے ہیں کہ مصدقہ جہالت کا مظہر اور مستند حماقت کا مجس ذہانت کچھ نہیں ہے۔ یہ بھارت اور اسرائیل کا نچوڑ ، سے ان کا یہ سارا کاروبار چلتا ہے۔ ان کا نظام حیات سرمائے پر ہے۔

اب میں جناب سے یہ مختصر گزارش کر معروضات میں طوالت ہو گئی ہے۔ تو جناب والا بیرونی حالات کا جائزہ لیں۔ ہم نے ان کے واقعہ دیکھا اور بحیثیت دشمن کے بھی دیکھا۔ جناب والا دستخط شدہ ان کے محضر نامے کا جواب دے چکے ہیں دلائل دیئے ہیں اور معزز اراکین بھی تقاریر فرما چکے اظہار پوری طرح نہ کر سکا ہوں اور اتفاق سے کافی گئی ہیں۔ تو میں اتنی گزارش کروں گا کہ نوے (٩٠ پارٹی کو نہایت ہی انکساری سے اپیل کروں گا کہ میراث ہے ، مشترکہ میراث ہے۔

اسلام کا وارث ہر مسلمان ہے۔ یہ ہے۔ یہ فرقہ جس کی کارکردگی بھی اعلانیہ ہے۔ گزارش کروں گا کہ اس کا فیصلہ دیتے وقت اس مو

٨

صفحہ ٢٥٤٢

2542 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جب بلاد اسلامیہ میں بھی ان کے متعلق بتایا جائے گا کہ یہ تو وہ ٹولہ ہے کہ جس نے اسرائیل میں بیٹھ کر عرب دنیا کے راز اسرائیل کو دیے۔ انڈونیشیا کو سبوتاژ کیا۔ پاکستان کو سبوتاژ کیا۔ ہر جگہ بیٹھ کر عالم اسلام کے خلاف اپنے معاندانہ، مکارانہ اور عیارانہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ اس وقت ہماری صورت حال خاصی میلی ہو چکی ہے۔ باہر چونکہ کسی کو علم نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم یکطرفہ کارروائی کر کے ظلم کر رہے ہیں۔ تو لہٰذا جناب والا! ہمارا فیصلہ ایک مثبت اور مضبوط فیصلہ ہو کہ ہماری قوم خوش ہو جائے۔ اس کے بعد بیرون ملک ہماری قوم کا وقار بلند ہو۔ وہ کہیں کسی غیر ملکی پراپیگنڈے یا ان کے پراپیگنڈے سے گرنے نہ پائے۔ میں ان معروضات کے ساتھ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

2824 جناب چیئرمین: ملک کرم بخش اعوان! جناب کرم بخش اعوان: جناب! میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں کل کروں گا۔ جناب چیئرمین: آپ شروع تو کریں۔ جناب کرم بخش اعوان: نہیں، جناب! آپ مہربانی فرمائیں، میں کل بول لوں گا۔ جناب چیئرمین: کل پھر ٹائم تھوڑا ہوگا۔

Any honourable member who would like to say something? None, So we shall meet tomorrow at 9:00 a.m. and shall continue up to 1:30 p.m.

(کوئی معزز ممبر کچھ کہنا چاہے گا؟ کوئی نہیں؟ تو پھر کل صبح 9 بجے ملیں گے اور ڈیڑھ بجے تک جاری رکھیں گے)

[The Special committee of the whole House adjourned to meet at nine of the clock, in the morning, on Tuesday, the 3rd September 1974.]

(کل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٣؍ ستمبر ١٩٧٤ء بروز منگل صبح ٩ بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا)

-----------------------

صفحہ ٢٥٤٣

2543 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Tuesday, the 3rd September, 1974

Contain Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

MBLY OF PAKISTAN 2nd Sept, 1974 No:17

جب بلاد اسلامیہ میں بھی ان کے متعلق بتایا جائے گا بیٹھ کر عرب دنیا کے راز اسرائیل کو دیئے۔ انڈونیشیا کو کر عالم اسلام کے خلاف اپنے معاندانہ، مکارانہ او ہماری صورت حال خاصی میلی ہو چکی ہے۔ باہر چونک کارروائی کر کے ظلم کر رہے ہیں۔ تو لہٰذا جناب والا ہماری قوم خوش ہو جائے۔ اس کے بعد بیرون ملک پراپیگنڈے یا ان کے پراپیگنڈے سے گرنے نہ شکریہ ادا کرتا ہوں۔

2824 جناب چیئرمین : ملک کرم بخش ا جناب کرم بخش اعوان : جناب ! میر جناب چیئرمین : آپ شروع تو کریں جناب کرم بخش اعوان : نہیں، جناب جناب چیئرمین : کل پھر ٹائم تھوڑا ہو

ember who would like to say all meet tomorrow at 9:00 a.m. 0 p.m.

(کوئی معزز ممبر کچھ کہنا چاہے گا؟ کوئی نی تک جاری رکھیں گے)

mitte of the whole House f the clock, in the morning, on 1974.]

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٣ س ملتوی کر دیا گیا)

١١٠

صفحہ ٢٥٤٥

3 احتساب قادیانیت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

2827 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

-------------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

-------------

OFFICIAL REPORT

Tuesday, the 3rd September. 1974.

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)

(٣/ ستمبر ١٩٧٤ء، بروز منگل)

-------------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at nine of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں صبح نو بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

-------------

(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

-------------

٣

صفحہ ٢٥٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

(قادیانی مسئلہ......عمومی بحث)

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے سامنے جو ڈیبیٹ اور رپورٹ آئی ہے اس کی رپورٹنگ میں غلطیاں ہوگئی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر اس کی ایک کاپی اٹارنی جنرل صاحب خود تصحیح کر کے واپس کر دیں تو وہ چھپائی کے لئے سند رہے گی اور بہت اچھا ہوگا۔

جناب چیئرمین: وہ پانچ کاپیاں تیار کر رہے ہیں۔ جو آپ کو کاپیاں دی گئی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں پانچ کاپیاں تیار کر رہے ہیں۔ ان کی بھی اٹارنی جنرل سے درستی ہو جائے گی۔

صاحبزادہ صفی اللہ: اٹارنی جنرل صاحب اگر خود کریں تو اچھا ہے۔

جناب چیئرمین: میں نے تو بڑی کوشش کی کہ ممبران وقت پر آئیں۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔

جناب کرم بخش اعوان: میں آپ کی مہربانی کا بے حد ممنون ہوں۔ میں اپنے وعدے کے مطابق سویرے آ گیا تھا۔ اس بات کے گواہ ڈاکٹر محمد شفیع صاحب ہیں۔

2828 جناب چیئرمین: مجھے پتہ ہے۔ نو بجے تھے۔ میں انتظار کر رہا تھا کہ کم سے کم بیس ممبر ہو جائیں۔ یہ ممبران بیٹھے ہوئے ہیں یہ تو بیچارے تب بھی آجاتے اگر آپ تقریر نہ بھی کرتے۔ (مداخلت)

چوہدری غلام رسول تارڑ: جناب چیئرمین! میں تو سمجھتا ہوں کہ وقت ہی ضائع ہو رہا ہے۔ ریزولیوشن آپ ممبران سے پاس کروا کر بھیج دیتے تو فیصلہ ہو جاتا۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ ہر ممبر کو حق ہے کہ اپنی رائے دے۔ ہم بالکل بند نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے ایک مہینہ ان کی بات سنی اور دو کتابیں لکھی ہوئی پڑھ دیں۔ ملک کرم بخش اعوان!

(جناب کرم بخش اعوان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب کرم بخش اعوان: نحمده ونصلی علیٰ رسوله الكريم! جناب والا! مرزا ناصر احمد امام مرزائی امت ربوہ کی طرف سے دیئے گئے محضر نامہ کو میں نے غور سے پڑھا ہے اور انہوں نے دس دن کی جرح کے دوران جو لغوی معنے اور جو تاویلیں کی ہیں وہ بھی بڑے غور سے

٤

صفحہ ٢٥٤٧

MBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

GENERAL DISCUSSION

(قادیانی مسئلہ......)

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! ایک جو ڈیبیٹ اور رپورٹ آئی ہے اس کی رپورٹنگ میں غل ایک کاپی اٹارنی جنرل صاحب خود تصحیح کر کے واپس ک بہت اچھا ہوگا۔

جناب چیئرمین: وہ پانچ کاپیاں تیار ک درست نہیں ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں پانچ کاپیاں سے درستی ہو جائے گی۔

صاحبزادہ صفی اللہ: اٹارنی جنرل صاح

جناب چیئرمین: میں نے تو بڑی کوش

جناب کرم بخش اعوان: میں آپ ک وعدے کے مطابق سویرے آ گیا تھا۔ اس بات کے گو

جناب چیئرمین: 2828 مجھے پتہ ہے۔ ل میں ممبر ہو جائیں۔ یہ ممبران بیٹھے ہوئے ہیں یہ تو بج کرتے۔ (مداخلت)

چوہدری غلام رسول تارڑ: جناب چئ ہو رہا ہے۔ ریزولیوشن آپ ممبران سے پاس کروا کر بھ

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ ہر ممبر ک نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے ایک مہی دیں۔ ملک کرم بخش اعوان!

(جناب کرم بخش اعوان کا قومی اسمبلی

جناب کرم بخش اعوان: نحمده و ن مرزا ناصر احمد امام مرزائی امت ربوہ کی طرف سے دسی اور انہوں نے دس دن کی جرح کے دوران جو لغوی معن

٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

سنی ہیں۔ اسی طرح لاہوری پارٹی کا وضاحتی بیان بھی پڑھا اور ان کے بھی لغوی معنی اور تاویلیں اچھی طرح سے سنی ہیں۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں ان کا مقصد یہ ہے کہ مرزائیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھا جائے اور جس طرح وہ نوے (٩٠) سال سے مسلمان قوم کا شکار کر رہے ہیں اسی طرح اسلام کے نام پر اپیلیں کرتے رہیں اور قرآن وحدیث کا اسلحہ استعمال کر کے مسلمانوں کو تہ تیغ کرتے رہیں۔ یہ ایک سیاسی تنظیم ہے اور انگریزوں کی پیداوار ہے۔ انگریزوں کو یہ پودا لگانے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی؟ یہ ولیم ہنٹر کی کتاب ”دی انڈین مسلمان“ پڑھی جائے تو اس سے سمجھ پڑتی ہے کہ انگریز کو یہ پودا لگانے کی کیوں ضرورت پیش آئی اور اس وقت کیا تکلیف تھی۔ یہ کتاب ١٨٧١ء میں لکھی گئی تھی۔

حضرت سید احمد بریلویؒ نے جنہوں نے مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد تحریک چلا رکھی تھی، وہ تحریک تو کمزور ہو گئی تھی۔ لیکن اب تک اس کے آثار باقی تھے۔ ان مجاہدین نے انگریزوں کے 1829 ساتھ ١٨٦٣ء میں اور ١٨٦٨ء میں جنگیں لڑیں۔ جن میں ہزاروں انگریز مارے گئے اور ١٨٥٧ء کے غدر کا بھی مسلمانوں کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ یہ کتاب دراصل ایک رپورٹ تھی جس میں مسلمانوں کے خلاف کی گئی بغاوت کے مقدمات اور مسلمانوں کے جہاد کی جنگوں کا تذکرہ اس میں درج ہے۔ ہنٹر کو یہ فکر تھی کہ گو یہ تحریک دب گئی ہے۔ لیکن آزادی کے مجاہدین کسی وقت بھی جہاد کا نعرہ لگا کر پھر جنگ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ہندوستان کو دارالحرب سمجھا ہوا ہے۔ جب تک اس کا کوئی تدارک نہ کیا جائے کہ مسلمانوں کو جہاد سے ہٹا دیا جائے۔ تب تک ہمیں آرام نصیب نہیں ہو سکتا۔ مسلمان قوم کو قرآن یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ کسی کی غلام نہیں رہ سکتی۔ اس لئے کوئی ایسا تدارک ضرور ہو جائے کہ مسلمانوں کو جہاد سے ہٹا دیا جائے۔ انہیں ایام میں مرزا غلام احمد نے دو باتوں کا اعلان کر دیا۔

اس میں ”منکم“ کی شرط ہٹا دی۔ لیکن قرآن کریم میں جو حکم ہے وہ ہے۔

”قاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله فان نتهوا فلا عدوان الّا على الظلمين (البقرة:١٩٣) “ ﴿تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں۔﴾

٥

صفحہ ٢٥٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

دوسری آیت سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ”ان الله اشترى من المؤمنین انفسهم واموالهم بان لهم الجنة يقاتلون في سبيل الله فيقتلون ويقتلون وعدا عليه حقاً فى التوراة والانجيل والقرآن ومن اوفى بعهده من الله فاستبشروا ببيعكم الذى بايعتم به وذلك هو الفوز العظيم (التوبه) 2830“ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے نفس اور مال خرید لئے ہیں۔ (یعنی سودا کر لیا ہے) بعوض جنت کے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، مارتے ہیں اور مرتے ہیں۔ یہ اللہ کا عہد ایک پختہ عہد ہے۔ تورات میں، انجیل میں، قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر عہد کا پورا کرنے والا ہے۔ خوشیاں مناؤ اس سودے پر جو آپ نے اللہ سے چکا لیا ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ﴾

یعنی قرآن کریم کی رو سے جس طرح ہم پر نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ فرض ہے اسی طرح جہاد بھی فرض ہے اور جہاد کے متعلق منسوخی کا حکم لگا کر انہوں نے گمراہی کا ارتکاب کیا ہے۔

”يايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول و اولى الامر منكم . فان تنازعتم فى شئ فردوه الى الله والرسول ان كنتم تومنون بالله واليوم الاخر . ذالك خير واحسن تاويلا“ ﴿اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ۔ ﴾

”منكم“ کی شرط ہے۔ ان کا اتباع کرو جو تم میں سے ہیں۔ یعنی جو مسلمان ہیں ان کا اتباع کرو۔ یہ نہیں کہ کوئی سکھ ہو یا کوئی انگریز ہو یا کوئی یہودی ہو یا کوئی بھی ہو تو اس کا اتباع کرو۔ یہ اس میں حکم نہیں ہے۔ اس میں یہ ہے کہ ان کا اتباع کرو جو تم میں سے ہیں تو اس طرح قرآن کریم میں اور بھی کئی جگہ مرزا غلام احمد نے تنسیخ اور ترمیم کی ہے اور ترجمہ کرتے ہوئے تحریف کی گئی ہے جو یہاں جرح میں ان سے پوچھا گیا۔

(جھوٹا گواہ؟)

تو جناب والا! میں آپ کی توجہ صرف اس امر کی طرف دلاتا ہوں کہ چونکہ یہ ہم نے رپورٹ پیش کرنی ہے۔ ان گواہوں کا جو طریقہ اور جو طرز تھا وہ اراکین اسمبلی نے اچھی طرح سے ملاحظہ کیا ہے کہ وہ جھوٹے گواہ کی طرح کس طرح سے تاویلیں کیا کرتے تھے۔ لہٰذا میں نے پہلے

٦

صفحہ ٢٥٤٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

بھی جو 2831 بیان دیا ہے اس کے اوپر میرے دستخط ہیں۔ اس لئے میں اپنی تقریر کو زیادہ لمبا نہیں کرنا چاہتا۔ یہ دو تین حوالے اس کی سپورٹ میں میں نے پیش کر دیئے ہیں۔

استعمال نہ کرنے دیا جائے۔ شکریہ!

جناب چیئرمین: مولانا غلام غوث ہزاروی!

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب! میں نے بھی پانچ منٹ تقریر کرنی ہے۔

جناب چیئرمین: پروفیسر غفور صاحب آجائیں، میری ان سے بات ہوئی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پانچ منٹ لینے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ میرے بعد میری پارٹی سے اور کوئی نہیں بولے گا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی!

(جناب مولانا غلام غوث ہزاروی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب صدر صاحب! مرزائیوں کے سلسلہ میں بہت سی تقاریر ہو گئی ہیں، کافی ہو گئی ہیں اور کوئی معزز ممبر ایسا معلوم نہیں ہوتا جس کی رائے مرزائیوں کے حق میں ہو۔ بہر شکل ہم نے ایک بل پیش کیا ہے۔ جس بل میں ہم نے تحریک کی ہے کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور ان کو کلیدی آسامیوں سے دور کیا جائے۔ اس بل کی اہمیت میں ہم نے ایک کتاب پیش کی ہے۔ اس کتاب کے پڑھنے سے مرزائیت کا کچا چٹھہ سب کو معلوم ہو جاتا ہے۔ اس کتاب میں یہ ہے کہ:

میرے نزدیک دنیا میں اتنا برا کوئی شخص بھی نہیں ہو سکتا جتنا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ جو ملکہ قیصرائے ہند کو خط لکھتا ہے اور اس نے التجا کی کہ آپ مجھے ایک لفظ شاہانہ لکھ دیں۔ دعویٰ نبوت، دعویٰ مسیح موعود، دعویٰ مجدد اور سارے دعوے، 2832 میں کہتا ہوں کہ ایسا کوئی شخص نہیں جس کے آنے کی خبر کسی کتاب میں ہو اور مرزا غلام احمد قادیانی نے وہ شخص بننے کی کوشش نہ کی ہو۔ مہدی کے بارے میں روایات ہیں اور صحیح روایات متواترات ہیں۔ ہمارے عقائد کتابوں میں لکھے ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ میں ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں، میں نے قرآن کی نو آیات پیش کی ہیں۔ قرآن کی تفسیر قرآن سے کی ہے۔ حضور ﷺ اور صحابہؓ نے ان کی وہی تفسیر

٧

SEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

دوسری آیت سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے انفسهم واموالهم بان لهم الجنة يقاتلون فى سـ حقاً فى التوراة والانجيل والقرآن ومن اوفى بـ بايعتم به وذلك هو الفوز العظيم (التوبه)111 خرید لئے ہیں۔ (یعنی سودا کرلیا ہے) بعوض جنت کے اور مرتے ہیں۔ یہ اللہ کا عہد ایک پختہ عہد ہے۔ تورات اللہ سے بڑھ کر عہد کا پورا کرنے والا ہے۔ خوشیاں منا ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔﴾

یعنی قرآن کریم کی رو سے جس طرح ہم جہاد بھی فرض ہے اور جہاد کے متعلق منسوخی کا حکم لگا کر ا

"يايها الذين امنوا اطيعوا الله وا تنازعتم فى شئ فردوه الى الله والرسول ان " خير و احسن تاويلا" ﴿اے لوگو! جو ایمان لاؤ لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر اگر تمہارا اسے اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ او ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر۔﴾

"منکم" کی شرط ہے۔ ان کا اتباع کر اتباع کرو۔ یہ نہیں کہ کوئی سکھ ہو یا کوئی انگریز ہو یا کو یہ اس میں حکم نہیں ہے۔ اس میں یہ ہے کہ ان کا اتب کریم میں اور بھی کئی جگہ مرزا غلام احمد نے تنسیخ اور ت ہے جو یہاں جرح میں ان سے پوچھا گیا۔

(جھوٹا گ

تو جناب والا! میں آپ کی توجہ صرف رپورٹ پیش کرنی ہے۔ ان گواہوں کا جو طریقہ او ملاحظہ کیا ہے کہ وہ جھوٹے گواہ کی طرح کس طرح

٦

صفحہ ٢٥٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

فرمائی ہے۔ بارہ سو سال کے مجددین نے ان کے وہی معنی فرمائے۔ وہ ان کا جواب دیں۔ میں ان کو چیلنج کرتا ہوں۔ کرشن کی خبر تھی۔ حارث پیدا ہوگا۔ اس نے کہا کہ میں ہوں۔ براہمن وہ بھی میں ہوں۔ جس شخص کا کسی کتاب میں ذکر تھا۔ اس نے کہا کہ وہ میں ہوں۔ لوگوں کی جہالت سے اس نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ بہر شکل اس نے انگریز کی خوشامد کی۔ ملکہ قیصرہ ہند کو جو خط لکھا اس کو کوئی خوددار شریف انسان نہیں لکھ سکتا۔ چہ جائیکہ ایک مسلمان ہو۔

ایک بادشاہ کا ذکر آتا ہے کہ ایک بہروپیے نے ایک بادشاہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ لیکن کامیاب نہ ہوا۔ اس نے دو تین میل کے فاصلے پر فقیری شروع کر دی۔ اسکو مرید بھی مل گئے۔ لاہور میں ایک شخص نے خدائی کا دعویٰ کر دیا تھا۔ وہ رب لاہور بن گیا تھا۔ اس کی بیوی ربنی بن گئی تھی۔ لوگوں نے اسے مان لیا تھا۔ اس ملک میں کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے اس کو کچھ نہ کچھ آدمی مان ہی لیتے ہیں۔ یہ صرف جہالت کا نتیجہ ہے۔ یہ صرف نادانی کا نتیجہ ہے۔ بہر شکل وہ شخص فقیر بن گیا۔ ہوتے ہوتے اسے شہرت مل گئی، بادشاہ کو خبر ہوئی۔ یہ بادشاہ لوگ دعاؤں کے بڑے پیاسے ہوتے ہیں کہ اقتدار قائم رہے۔ بادشاہ اس کے پاس گیا۔ اس نے اشرفیوں کی تھیلی پیش کی۔ فقیر نے انکار کر دیا۔ بادشاہ واپس آ گیا۔ وہ اپنا جامہ بدل کر بادشاہ کے پاس آ گیا اور اسے کہا کہ دیکھ لو جس نے تمہیں دھوکہ دے دیا ہے۔ چنانچہ اس نے انعام مانگا۔ بادشاہ نے کہا کہ میں خود اشرفیوں کی تھیلی لے کر تمہارے پاس پہنچا تھا لیکن تم نے نہ لی۔ اب انعام کیا دوں گا۔ اس نے کہا کہ میں جس جامہ میں تھا اس بھیس میں یہ تھیلی سجتی نہیں تھی۔

2833 اب یہ جھوٹا دعویٰ اس نے کیا ہے۔ اس کے سارے دعوے جھوٹے تھے۔ لیکن اس جھوٹے لباس کو بھی اس نے نہیں نبھایا۔

اس کے بعد جہاد کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے اور یہ سب تاویلیں جو ناصر احمد اور دوسروں نے کی ہیں وہ سب غلط ہیں۔ اس نے کہا کہ موسیٰ کے زمانے میں جہاد سخت تھا۔ حضور ﷺ کے زمانے میں جہاد میں سختی نہ رہی اور کچھ نرمی ہو گئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں بالکل موقوف ہو گیا۔ دراصل وہ اپنے تک پہنچ کر اس کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ یہ جو بہت خوشامدی تھا اس نے ملکہ قیصرہ ہند کو لکھا۔ اس سے بڑھ کر میں نے آج تک کوئی ٹوڈیانہ خط نہ دیکھا، نہ پڑھا۔ میں ایک پیغمبرانہ خط آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ حضرت سلیمان نے بلقیس کو ایک خط لکھا۔ اس میں لکھا۔ قرآن میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔ ”اَلَّا تَعلُوا عَلَیَّ وَاتُونِی مُسلِمِینَ“ یہ پیغمبرانہ خط ہے۔ ”میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور طائع ہو کر آ جاؤ۔“

٨

صفحہ ٢٥٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

پہلے صرف یہ کہ: ”انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“

اس کے بعد صرف اتنا لکھا کہ: ”الّا تعلوا علیّ واتونی مسلمین“

یہ (مرزا صاحب) ٢٦ صفحوں کا خط لکھتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل، صاحب بہادر، دام اقبالہ، اسی ”دام اقبالہ“ نے اس کی نبوت کی لٹیا ڈبودی۔ کوئی بیس تیس دفعہ اس نے یہ لکھا ہے یہاں تک لکھا کہ: ”آپ ایک دفعہ ایک شاہانہ لفظ میرے لئے لکھ دیں۔“

استدعا کی ہے۔ یہ ایک صہیونی فرقہ ہے۔ مسلمانوں کے لئے زہریلا ہے۔ یہودیوں سے بڑھ کر ہے۔ یہ تو مار آستین ہے۔ یہودی تو صاف کافر ہیں۔ ہمارے دشمن ہیں۔ لیکن یہ چھپے ہوئے ہیں۔ سانپ ہیں۔ انگریزوں کے زمانے میں 2834 انہوں نے عراق، بغداد جانے کے بعد چراغاں کیا۔ مسلمان ملکوں کے خلاف اظہار خیال کیا اور جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی انہوں نے نقصان پہنچایا۔ کمیشن میں مرزا ناصر احمد نے کہا کہ مسلم لیگ کی درخواست پر میں شریک ہوا۔ میں کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے وقت میں سے تم (نے ان قادیانیوں) کو وقت کیوں دیا۔ اس میں خود ظفر اللہ تھا۔ منیر کمیشن میں اس نے کہا کہ جب لیاقت علی دورہ پر جاتا تھا تو وزارت عظمیٰ میرے پاس ہوتی تھی۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں۔ تو بہر حال یہ تو مدعی ہے اور چھوٹے چھوٹے کاموں تک پہنچتا تھا۔ مجھے علم ہے کہ ایک آدمی قتل ہوا مانسہرہ میں، میں اور ماسٹر تاج الدین صاحب گورنر سرحد شہاب الدین کے پاس پشاور گئے جو نظام الدین کا بھائی تھا۔ ہم نے اس قاتل کے بارے میں کچھ نرمی اختیار کرنے کی بات کی۔ مقتول اصل میں مرزائی تھے۔ اس نے ظفر اللہ خان کی تعریفیں شروع کر دیں۔ ہمارے سامنے گورنر سرحد اور تعریفیں ظفر اللہ خان کی۔ ظفر اللہ خان چھایا ہوا تھا۔ اس کے خلاف کوئی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ ظفر اللہ خان کی مہربانی ہے کہ باؤنڈری کمیشن میں یہ گئے تو جو کچھ کردار انہوں نے ادا کیا اس سے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے جو فرمایا ہے کہ میرے بعد میری امت میں، یہ جو امتی نبی کہتے ہیں وہ یہی حضور ﷺ نے پہلے فرما دیا میری امت میں سے ہو کر نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ یہ امتی نبی کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ کذاب دجال ہوں گے۔ تو یہ وہاں گئے۔ انہوں نے جو بیان دیا وہ اس کی تصدیق ہے کہ حضور ﷺ نے کتنا سچ فرمایا اور کتنے صحیح صادق و مصدوق پیغمبر تھے۔ کذاب تو اس لئے ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمان کافر ہیں۔ ہم اور یہ بالکل علیحدہ ہیں۔ یہ دعویٰ دیا گرداسپور ضلع میں کہ عام مسلمان ہم سے علیحدہ ہیں۔ ہم اور یہ ایک قوم نہیں، اس پر زور دیا اور دجل و فریب کیا۔ دجال ہونے کا مظاہرہ کیسے کیا اور آخر میں لکھ دیا۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق

٩

صفحہ ٢٥٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ہو۔ یہ آخر میں دجل کیلئے لکھا، فریب کے لئے لکھا۔ کمیشن کو یہ دے 2835 دیا کہ ہم علیحدہ ہیں اور مسلمانوں کی تعداد اس ضلع میں کم ہے۔ یہ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے ڈھنگ دیا۔ پاکستان بناتے وقت انہوں نے یہ ڈھنگ دیا اور یہ نتیجہ ہے کشمیر کی تمام جنگوں کا، بھارت سے مستقل مقابلہ کا یہی سبب تھا۔ حقیقتاً یہ ایجنٹ ہیں۔

میں ایک بات عرض کروں گا، شاید وہ بعضوں کو معلوم نہ ہو۔ ٣١٣ درویش کے نام سے قادیان میں مرزائی جاتے ہیں۔ مرزے کی قبر کی حفاظت کے لئے، اور اس کے مقابلہ میں ٣١٣ سکھ آتے ہیں گوردوارے کی حفاظت کے لئے جو ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں ہے۔ ٣١٣ مرزائی رہتے ہیں مرزے کی قبر کی حفاظت کے لئے۔ نہ مسلمان رہتے ہیں وہاں، نہ اجمیر کے لئے جاتے ہیں، نہ کسی اور مقدس مقام کے لئے جاتے ہیں تو مرزے کی قبر اور ہڈیوں کی حفاظت کے لئے جاتے ہیں۔ یہ کیا چیز ہے۔ ہمارے یہاں کہتے ہیں زیارت لگتی ہے۔ بعض اولیاء کے مزاروں پر لوگ جاتے ہیں اور ان کی حاجت پوری ہوتی رہتی ہے تو اس کو کہتے ہیں ان کی زیارت لگتی ہے تو ان مرزائیوں کی زیارت لگتی ہے۔ مرزا کی ہڈیوں کی حفاظت کے لئے ٣١٣ سکھ یہاں آئیں اور ان کا تبادلہ ہوا کرتا ہے باقاعدہ۔ یہ بات اگر نہیں معلوم تو میں کہنا چاہتا ہوں اور اگر اب تک ہے تو اس کو ختم کرنا چاہئے۔ یہ تو ایجنٹ ہیں اور جو لوگ ٣١٣ آئیں جائیں، آئیں جائیں تو آپ کے ملک کی کون سی بات خفیہ رہ سکتی ہے؟ یہ تو جاسوس ہیں سارے کے سارے۔ وہاں جانے والے روز تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ جاسوس ہیں۔ وہاں کے آنے والے جاسوس ہیں۔ یہاں کے جانے والے جاسوس ہیں۔ تو انہوں نے کسی وقت بھی مسلمانوں کی بھلائی نہیں کی۔ یہ مسلمان کے نام سے مسلمانوں کے اندر ایک خطرناک فرقہ ہے۔ اس پر کوئی مسلمان بھروسہ کرے گا؟ اس پر کوئی قوم بھروسہ کرے گی؟ اس پر کوئی فرد بھروسہ کرے گا؟ حکومت بھروسہ کرے گی تو منہ کی کھائے گی۔ یہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں اور سب کے سامنے کہنے کو تیار ہوں۔

2836 اس وقت ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچے ہیں کہ دنیا کی نگاہیں ہماری طرف، مسلم ممالک کی نگاہیں ہماری طرف، تمام مسلمان حکومتیں، عرب حکومتیں ہم کو دیکھ رہی ہیں اور ہمارے فیصلے کی انتظار میں ہیں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ ہماری قوم سمجھدار ہے۔ وہ اس طریقے سے کوئی بات نہیں کرے گی کہ جس سے ملک کو نقصان پہنچے لیکن باوجود اس کے ساری کی ساری قوم یہ چاہتی ہے کہ اس آستین کے سانپ کا سر کچلا جائے اور کیسے نہ کچلا جائے۔ ہم یہ بات حکومت کے حوالے کرتے ہیں۔ لیکن یہ ساتھ کہتا ہوں کہ جب وہ ہم کو کافر کہتے ہیں اور ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور یہ

١٠

صفحہ ٢٥٥٣

2553 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

بات مرزا غلام احمد نے لکھی ہے کہ : ”دنیا کی مسلمان بادشاہتوں میں سے، حکومتوں میں سے کوئی حکومت نہیں ہے جو ہم کو کافر نہ کہے۔“

یہ مرزا نے لکھا اور یہ ١٩٠٨ء سے پہلے کا لکھا ہوا ہے۔ مرزا نے یہ کہا ہے کہ : ”تمام مسلمان حکومتیں ہمارے خون کی پیاسی ہیں۔ ہم کسی جگہ تبلیغ نہیں کر سکتے۔ اپنا عقیدہ پیش نہیں کر سکتے۔ وہ ہم کو کافر سمجھتے ہیں۔“

یہ مرزا نے خود لکھا اور جو ناصر احمد نے اپنے خلاف باتیں پیش کیں کہ مسلمانوں نے ہم پر کیا کیا فتوے لگائے کفر کے۔ اس موقع پر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کا ایک ڈھونگ آپ کو بتادوں۔ انہوں نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر کہا اور پھر چھپایا اس طرح کہ انہوں نے پہلے کافر کہا تو جو مسلمان کو کافر کہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ عجیب ڈھونگ اپنا بنایا۔ آپ خدائی کا دعویٰ کریں۔ آپ کو ہر شخص کافر کہے گا۔ جب آپ کو کافر کہیں تو آپ کہیں جی ہم نے تو ان کو کافر نہیں کہا نہ، ہم کو کافر کہنے سے خود ہی کافر ہو گئے۔ یہ آپ نے عجیب ڈھونگ اور ڈھنگ نکالا ہے مسلمانوں کو کافر بنانے کا۔ آپ کافر اس لئے بنائیں کہ وہ آپ کی رسالت کو نہیں مانتے۔ آپ کی پیغمبری کو نہیں مانتے۔ آپ کو مسیح موعود نہیں مانتے۔ آپ کو کذاب و دجال سمجھتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ چونکہ مجھے کافر کہا اس لئے وہ خود کافر ہو گیا۔ تم خدائی کا دعویٰ کرو، پیغمبری کا دعویٰ کرو، ساری دنیا سے بہتر بنو، تم مسلمانوں کو دھوکہ دو، پھر لوگ تمہیں کافر نہ کہیں؟ اگر کوئی کہے تو کہو کہ انہوں نے مجھے کافر کہا ہے۔ اس لئے کافر ہو گیا۔ تو تمہیں کوئی کافر نہ کہے گا؟

2837 میرا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے جو باتیں یہاں پیش کی ہیں، جھوٹ بولنے کے حیلے پیش کئے، بات کو چھپایا۔ اب ساری دنیا کو معلوم ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے زمانے والوں کو قطعی کافر کہا تو جب کافر کہا اور یہ لکھا کہ میرا نہ ماننا قرآن وحدیث کا نہ ماننا ہے۔ میرا انکار قرآن وحدیث کا انکار ہے۔ میرا انکار خدا اور رسول ﷺ کا انکار ہے، تو اب میں ناصر احمد سے پوچھتا ہوں کہ جو خدا کا انکار کرے وہ کس کھاتے میں ہے؟ آپ کے اس چھوٹے کفر میں ہے یا بڑے کفر میں ہے؟ اب ناصر احمد نے تاویل کی ہے کہ ہم مسلمانوں کو تو کافر کہتے ہیں۔ لیکن چھوٹا کافر کہتے ہیں۔ بڑا کافر نہیں کہتے اور دجل و فریب یہ کیا ہے۔ آج تک جو معنیٰ سمجھتے تھے کہ فلاں شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے اس کے معنی یہ تھے کہ اسلام ایک دائرہ ہے۔ اس کی حدود ہیں۔ جو ان حدود کو پھلانگے گا وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ بات صاف تھی۔ اس نے کہہ دیا کہ ایک چھوٹا حلقہ ہے۔ اس سے خارج ہو گیا۔ یہ اس نے تاویل کی اور نیا معنیٰ گھڑا۔ نیا معنیٰ گھڑنے میں

11

OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ہو۔ یہ آخر میں دجل کیلئے لکھا، فریب کے۔ مسلمانوں کی تعداد اس ضلع میں کم ہے۔ یہ بناتے وقت انہوں نے یہ ڈھنگ دیا اور یہ نتیجہ یہی سبب تھا۔ حقیقتاً یہ ایجنٹ ہیں۔

میں ایک بات عرض کروں گا، شـ قادیان میں مرزائی جاتے ہیں۔ مرزے کی سکھ آتے ہیں گوردوارے کی حفاظت کے مرزائی رہتے ہیں مرزے کی قبر کی حفاظت ۔ جاتے ہیں، نہ کسی اور مقدس مقام کے لئے لئے جاتے ہیں۔ یہ کیا چیز ہے۔ ہمارے یہا پر لوگ جاتے ہیں اور ان کی حاجت پوری ہ ان مرزائیوں کی زیارت لگتی ہے۔ مرزا کی ان کا تبادلہ ہوا کرتا ہے باقاعدہ۔ یہ بات آ اس کو ختم کرنا چاہئے۔ یہ تو ایجنٹ ہیں اور ا ملک کی کون سی بات خفیہ رہ سکتی ہے؟ یہ تو روز تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ جاسوس ہیں۔ والے جاسوس ہیں۔ تو انہوں نے کسی وقت سے مسلمانوں کے اندر ایک خطرناک فرقہ قوم بھروسہ کرے گی؟ اس پر کوئی فرد بھروسہ یہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں اور سب کے سامـ

2836 اس وقت ہم ایک ایسے مـ ممالک کی نگاہیں ہماری طرف، تمام مسلما فیصلے کی انتظار میں ہیں۔ میں یہ مانتا ہوں نہیں کرے گی کہ جس سے ملک کو نقصان ہے کہ اس آستین کے سانپ کا سر کچلا جائـ کرتے ہیں۔ لیکن یہ ساتھ کہتا ہوں کہ جـ

صفحہ ٢٥٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ان کو کمال حاصل تھا۔ اس نے جو ”اتمام حجت“ کا معنی کیا ہے بالکل غلط کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد نے اتمام حجت کا جو معنی کیا ہے وہ یہ ہے کہ دلائل سے اپنی بات پیش کرو۔ دعوت دو۔ توحید رسالت کی یا حق کی دعوت دو اور دلائل دو۔ اس کا دل مان لے کہ تم حق پر ہو۔ تم کو سچا سمجھ کر پھر انکار کرے تو یہ ملت سے خارج ہے۔ یہ اتمام حجت تھا۔ حالانکہ قرآن مجید نے اتمام حجت کا یہ معنی نہیں کیا۔ قرآن مجید نے کہا ہم نے پیغمبر اس لئے بھیجے کہ یہ کوئی نہ کہہ سکے ۔ ” ماجاءنا من نذیر“

کہ ہمارے پاس ڈرانے والا نہیں آیا۔ ڈرانے والا کافی ہے اتمام حجت کے لئے۔

پیغمبر کا آنا اور دعوت دے دینا کافی ہے اتمام حجت کے لئے۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا۔ ” لئلا

يكون للناس على الله حجة بعد الرسل“

کہ ہم نے پیغمبر بھیجے۔ پیغمبروں کے نام پہلی آیت میں آئے ہیں۔ ڈرانے والا، ڈر سنانے والا، خوشخبری دینے والا، تاکہ اتمام حجت ہو جائے لوگوں پر۔ لوگوں پر خدا کی حجت قائم ہو جائے۔ 2838 اس لئے بھیجا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پیغمبر کو سچا سمجھ کر انکار کرے۔ ہاں ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو سچا بھی سمجھیں پھر بھی نہ مانیں، تعصب سے نہ مانیں، ہٹ دھرمی سے نہ مانیں، ضد سے نہ مانیں۔ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں۔ لیکن اتمام حجت کے معنی میں یہ چیز داخل نہیں ہے۔ یہ ناصر احمد نے قوم کو دھوکہ دیا ہے۔

تو بہر شکل میں اسے مانتا ہوں کہ تم عربی پڑھے ہوئے ہو۔ اس کو مانتا ہوں کہ تم انگریزی پڑھے ہوئے ہو۔ لیکن تم دین کو چھپاتے ہو اور تم اپنے دادا کی بات کو نبھاتے ہو۔ اتنے کروڑوں روپے کما لئے۔ ربوہ کی زمین انجمن احمدیہ کے نام وقف ہے۔ وہ تم ذاتی طور پر استعمال کر رہے ہو اور اس کی رجسٹریاں نہیں کرتے اور لوگوں سے روپیہ لے کر وہ زمینیں ہی بیچتے ہو؟ بہشتی مقبرے بھی بنا لئے، پیغمبرانہ کاروبار شروع کر دیا اور تم کروڑ پتی بن گئے۔ میں کہتا ہوں کہ سودا تمہارے نفع کا نہیں ہے۔ تم نے اپنی ساری نسل کو قیامت تک تباہ و برباد کر دیا ہے۔ چند کوڑیوں کے عوض تو بہر شکل میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ میں اس کو مانتا ہوں کہ تم پڑھے لکھے ہو۔

یہ جو بیچارے لاہوری آئے، یہ تو بالکل کورے تھے۔ علم سے اس وقت انہوں نے اپنے اس بیان میں لکھا بھی شقا اور پڑھا بھی شقا زبر کے ساتھ۔ حالانکہ یہ لفظ ہے عربی میں شقاق، جیسے قتال ہوتا ہے جیسے جدال ہوتا ہے، جیسے مخاصمہ ہوتا ہے۔ جیسے مقابلہ اور مقاتلہ ہوتا ہے۔ اسی شقاق اور مشاقہ کا لفظ ہے۔ انہوں نے شقا لکھا بھی اور شقا پڑھا بھی۔ اس ہاؤس کے سامنے میں نے ان کی توجہ دلائی کہ فلاں سطر میں آپ نے جو لکھا ہے یا فلاں صفحے میں جو آپ نے

١٢

صفحہ ٢٥٥٥

2555 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

لکھا ہے تیرھویں میں، اس کو پھر پڑھیں۔ کیا یہ ٹھیک ہے۔ جگہ کا نام میں نے نہیں لیا اور نہ لفظ میں نے بتایا۔ اسی سطر کو انہوں نے نکالا، پھر پڑھا اور کہا کہ ٹھیک ہے۔ میں نے کہا کہ اچھی طرح پڑھیں تیرھویں صفحے میں فلاں سطر ہے۔ آیا یہ ٹھیک لکھی ہوئی ہے یا کوئی غلطی ہے۔ اس میں قطعاً غلطی تھی۔ (عربی)

2839 کہ نبوت کا چالیسواں حصہ یعنی صرف نیک خواب ہیں۔ باقی نبوت کیا چیز ہے؟ نبوت بہت اونچا مقام ہے۔ خالق ومخلوق کا تعلق وہاں عیاں ہوتا ہے۔ تقدیر کا مسئلہ کھلتا ہے۔ وہاں معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے۔ عرفان کے مدارج طے ہوتے ہیں۔ وہ نبوت عوام کو خدا کی طرف بلانے والی چیز ہوتی ہے۔ وہ مکالمہ کیا چیز ہے؟ وہ خدا سے باتیں کسی طرح ہوتی ہیں؟ وہ نبوت بہت اعلیٰ مقام ہے جو ہماری فہم وادراک سے بہت اونچا ہے تو اس کا چھیا لیسواں حصہ رویائے صالحہ، خواب صالحہ ہوتے ہیں۔ اب جب حضورﷺ سے پوچھا گیا کہ مبشرات کے کیا معنی ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک اچھا خواب جو مسلمان دیکھے یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے یہ حضورﷺ کا ترجمہ ہے جو ترجمہ ابوالعطاء نے کیا مبشرات کا مبشرین جو جنت کی خوشخبری سنائی تھی۔ یعنی ترجمہ وہ کیا جو رسول اللہ ﷺ کے ترجمے کے خلاف ہے۔ یہ ابوالعطاء جو یہاں آیا کرتا تھا وفد کے ساتھ اور اس کی ایک کتاب انہوں نے ختم نبوت کے جواب میں ضمیمے کے طور پر پیش کی۔ اس میں بھی بہت سی باتیں غلط ہیں وہ سلطان الاغلاط ہے۔

بہرشکل میں عرض یہ کرنا چاہتا تھا کہ انہوں نے یہاں پر بارہا پڑھا۔ واللہ العظیم! یہ لاہوری پارٹی نے پڑھا۔ حالانکہ یہ لفظ واللہ العظیم! ہے۔ ’و‘ حرف جار ہے، قسم کے لئے آتا ہے یہ معمول کو مجرور کر دیتا ہے۔ جیسے واللہ، باللہ، تاللہ، زیر پڑھی جاتی ہے۔ اس نے واللہ العظیم پڑھا۔ آخر میں نے اٹھ کر جناب صدر سے عرض کیا کہ ہمارے سر میں درد ہوتا ہے۔ خواہ مخواہ یہ غلط پڑھتے ہیں۔ ان کو آپ صحیح پڑھنے کی ہدایت کریں کہ ظفر اللہ کے زمانے میں ظفر اللہ ہی کی حکومت تھی۔ اسی طرح بیرونی طاقتوں نے ان سے بات کی۔ اس وقت ہماری خارجہ سیاست یہ نہ تھی جو اس وقت ہے۔ ناظم الدین کے یہ الفاظ ہیں کہ اگر ظفر اللہ کو نکال دوں تو امریکہ 2840 پاکستانیوں کو گیہوں دینا بند کردے گا۔ گویا گیہوں ظفر اللہ کو ملتے تھے اور پاکستان کو نہیں۔ لہٰذا میں ظفر اللہ کو کیسے برخواست کردوں۔ لاہور اور چنیوٹ کے درمیان جو جنکشن ہے اس وقت مجھے اس کا نام یاد نہیں آرہا۔ وہاں چار مسلمان قتل ہوئے۔ ظفر اللہ نے آخر مرزائیوں کو رہا کرایا۔ مسلمانوں کے قاتلوں کو رہائی دی۔ یہ اتنا بڑا ابلیس ہے لیکن ان کا قصور نہیں تھا، ان کا علم ہی اتنا تھا اور یہ بنے ہوئے تھے

١٣

MBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ان کو کمال حاصل تھا۔ اس نے جو ”اتمام حجت“ کا معنی اتمام حجت کا جو معنی کیا ہے وہ یہ ہے کہ دلائل سے اپنی حق کی دعوت دو اور دلائل دو۔ اس کا دل مان لے کہ تو ملت سے خارج ہے۔ یہ اتمام حجت تھا۔ حالانکہ قرآ قرآن مجید نے کہا ہم نے پیغمبر اس لئے بھیجے کہ یہ کوئی کہ ہمارے پاس ڈرانے والا نہیں آیا۔ پیغمبر کا آنا اور دعوت دے دینا کافی ہے اتمام حجت کے يكون للناس على الله حجة بعد الرسل“ کہ ہم نے پیغمبر بھیجے۔ پیغمبروں کے نام سنانے والا، خوشخبری دینے والا، تا کہ اتمام حجت ہو جا جائے ۔ 2838 اس لئے بھیجا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ حق ہو سکتے ہیں جو سچا بھی سمجھیں پھر بھی نہ مانیں، تعصب سے نہ مانیں۔ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں۔ لیکن اتمام حجت احمد نے قوم کو دھوکہ دیا ہے۔

تو بہر شکل میں اسے مانتا ہوں کہ تم عربی انگریزی پڑھے ہوئے ہو۔ لیکن تم دین کو چھپاتے ہو کروڑوں روپے کما لئے۔ ربوہ کی زمین انجمن احمدیہ کر رہے ہو اور اس کی رجسٹریاں نہیں کرتے اور لوگوں مقبرے بھی بنا لئے، پیغمبرانہ کاروبار شروع کر دیا اور تمہارے نفع کا نہیں ہے۔ تم نے اپنی ساری نسل کو قیا کے عوض تو بہر شکل میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ میں اس کو مانتا یہ جو بیچارے لاہوری آئے، یہ تو بالکل آ اپنے اس بیان میں لکھا بھی شفا اور پڑھا بھی شفا زبر۔ جیسے قتال ہوتا ہے جیسے کبال ہوتا ہے، جیسے مواجبات ہے۔ اسی شفا اور مشافعہ کا لفظ ہے۔ انہوں نے شفا آ سامنے میں نے ان کی توجہ دلائی کہ فلاں سطر میں آپ

١٢

صفحہ ٢٥٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

مبلغ ۔ یہ تبلیغ کرتے ہیں یورپ میں، اسلام کی، اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ ہم تبلیغ کرتے ہیں، ختم نبوت کا ذکر کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ حضور ﷺ کی تعلیم کا دراصل معنی یہ ہے کہ کوئی نیا پرانا نبی نہیں آسکتا۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام مر گئے۔ ان کی جگہ آنے والا مرزا غلام احمد ۔ یہ ہے ساری تبلیغ ۔ یہ ساٹھ سال تک تبلیغ کرتے رہے، کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

جناب چیئرمین: مولانا! آپ ختم کرنے کی کوشش کریں، اس واسطے کہ ہم نے ٢٦٠ صفحے کی کتاب بھی پہلے سن لی ہے۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: میں مختصر کر دوں گا۔

جناب چیئرمین: جو کتابوں والے ہیں ان کو تھوڑا ٹائم دیا گیا ہے۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: نہیں میری ایک کتاب باقی ہے جو لاہوری پارٹی کے جواب میں ہے۔ وہ پریس میں دی ہوئی ہے۔ آج شاید چھپ جائے۔ اس کے بارے میں میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کردی، ورنہ اس کتاب ......

جناب چیئرمین: وہ اگلی اسمبلی کے لئے۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: بہر حال میں مختصر کر دیتا ہوں۔ جیسے آپ فرمائیں تو میرا مطلب یہ ہے۔......

2841 جناب چیئرمین: وہ کتاب چھ سو صفحے کی ہے؟

مولانا غلام غوث ہزاروی: نہیں، وہ مختصر ہے۔ (قہقہے) وہ میں پڑھ سکتا ہوں۔ وہ میرے خیال میں چھ، سات صفحے کی ہوگی۔ تھوڑی ہے۔ وہ اتنی ہے جتنی ان کی کم ہے۔ بہر حال میں اس میں بھی ذکر کروں گا۔

لاہوری مرزائیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم مرزے کو نبی نہیں مانتے۔ مرزے نے اپنے کو نبی نہیں کہا۔ یہ میں مختصر عرض کر دیتا ہوں۔ یہ سب کے لئے ضروری چیز ہے کہ مرزے نے کہا کہ میں نبی ہوں۔ مرزے نے کہا میں رسول ہوں۔ مرزے نے کہا خدا نے قادیان میں پیغمبر بھیجا۔ خدا نے میرا یہ نام رکھا نبی۔ مرزے نے کہا مجھے خدا نے لقب دیا۔ مرزے نے کہا مجھے یہ منصب عطاء ہوا۔ مرزے نے کہا خدا نبی اور رسول کہہ کر مجھے ٢٣ سال تک پکارتا رہا۔ مرزے نے کہا میرے پاس جبرائیل آیا۔

”جاءنی ائیل“ یہ حقیقت الوحی کی عبارت ہے۔ میرے پاس جبرائیل آیا۔ اس نے اشارہ کیا، اس نے بات کی۔ پھر مجھے منصب نبوت دیا گیا۔ مجھے لقب نبوت دیا گیا۔ مجھے خطاب

١٤

صفحہ ٢٥٥٧

2557 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

نبوت دیا گیا۔ میرا یہ نام نبی خدا نے رکھا۔ میں نبی ہوں۔ میں رسول ہوں۔ آپ فرمائیے کہ کسی بڑے پیغمبر کو ہم نبی اور رسول کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ رسالت ونبوت کا دعویٰ کن الفاظ میں کرے گا؟ جو الفاظ مرزے نے ذکر کئے ہیں۔ سوائے ان کے اور کوئی لفظ نہیں ہے جن سے کوئی پیغمبر دعویٰ نبوت کا کرے، حقیقتاً نبوت کا دعویٰ کرے اور میں اس میں راز بتا دیتا ہوں۔ یہ دونوں ایک ہیں۔ یہ دونوں مرزے کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ عیسیٰ مر گئے۔ میں عیسیٰ، میں فرض کرتا ہوں ایک سیکنڈ کے لئے۔ پہلی ہم نے جو کتاب پیش کی ہے اس کو پڑھ لیجئے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ مرزائیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ اس میں ٢٩ آیتیں پیش کی ہیں اور تیرہ، چودہ حدیثیں پیش کی ہیں کہ حضور ﷺ 2842 نے کیا معنی کئے۔ قرآن کی آیتوں کی کیا تفسیر کی۔ صحابہؓ نے کیا معنی کئے۔ بارہ صدیوں کے مجددین نے کیا معنی کئے۔ آج کل آپ عدالت کے فیصلے کو دلیل میں نہیں پیش کرتے۔ لیکن ہائیکورٹ کا فیصلہ باقاعدہ قانون بن جاتا ہے۔ لیکن تیرہ صدیوں کے مجددین، تیرھویں صدی، چودھویں صدی کا مجدد بنا ہے۔ مرزا تیرہ صدیوں کے مجدد جو ان کے مانے ہوئے مجدد ہیں جن کی فہرست انہوں نے اپنی کتاب میں لکھ کر دی۔ ہم نے کتاب میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔ ان مجددین کا حوالہ دیا ہے۔ ہم نے کہا کہ انہوں نے کیا معنی کئے ان آیتوں کے تو ہائیکورٹ معنوں کے بعد قانون کی تشریح ختم ہو جاتی ہے۔ قانون کی کوئی اور تشریح نہیں ہوسکتی۔ لیکن میں ایک منٹ کے لئے مانتا ہوں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام مرگئے، نبوت فرض کیجئے کہ جاری ہے۔ ہر ایرا غیرا، نتھو خیرا، گاما گھسیٹا، اٹھ کر کہے کہ میں پھر نبی ہوں۔ میں مسیح ہوں۔ بھلا آپ خیال تو کریں۔ جو ہم نے لکھا ہے مرزا جی کی صرف ٹوڈیانہ حرکات کو دیکھ لیجئے۔ ایک خط میں نے پڑھا حضرت سلیمان علیہ السلام کا۔ ایک خط میں آپ کو حضور اکرم ﷺ کا پڑھ کر سنا دوں جو بخاری میں ہے۔ کیا ستم ہے۔ ہرقل شاہ روم کو آپ ﷺ نے لکھا (عربی) یہ عنوان ہے۔

آگے خط میں لکھا ہے: ”اسلم، تسلم“

مسلمان ہو جاؤ، بچ جاؤ گے۔ ورنہ تم پر تمہارا بھی وبال ہوگا اور تمہارے پیچھے چلنے والوں کا بھی یہ ہے جلالی خط۔ یہ ہے پیغمبرانہ خط۔ شیطان کی آنت کے برابر دام اقبال، دام اقبال، دام اقبالہا، دام اقبالہا۔ خط لکھا۔ میرے ابا جان نے ٥٠ گھوڑی دی ہے۔ میرے بھائی جان نے غدر، مفسدہ سکھ کے زمانے میں بڑی امداد کی ہے۔ میں فقیر تھا۔ میں غریب تھا۔ مجھ سے اور کوئی خدمت نہ ہوسکی۔ میں نے ٥٠ الماریاں کتابوں کی لکھی اور تمام اسلامی ممالک میں بھیج دیں۔ انگریزوں سے لڑنا حرام ہے، جہاد حرام ہے۔ میں یہی خدمت کرسکا اور میں دعوے سے کہتا

١٥

صفحہ ٢٥٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر اور میرے خاندان سے بڑھ کر خیر خواہ اس گورنمنٹ کا نہیں۔ یہ ایک ہی سچی بات مرزے نے لکھی ہے کہ اس سے بڑھ کر انگریز کا وفادار کوئی نہیں ہو سکتا۔ 2843 تو میرا مطلب یہ ہے۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام مانتے ہیں، مسیح موعود مانتے ہیں۔ لاہوری بھی اور قادیانی بھی اور پھر یہ جسمانی معراج کے منکر ہیں۔ لاہوری بھی جس طرح قادیانی منکر ہیں۔ جس طرح مرزا منکر ہے۔ مرزے نے لکھا ہے مسجد اقصیٰ یہ میری مسجد ہے قادیان کی۔ جو قرآن میں ہے۔ ”سبحان الذی اسریٰ بعبده لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ“

مرزے نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ مسجد اقصیٰ میری ہے۔ یہ تبلیغ رسالت جلد نہم میں درج ہے۔ مرزے کا یہ قول اور اس میں اس نے لکھا ہے کہ یہ مسجد اقصیٰ یہی میری مسجد ہے اور وہ جو منارہ ہے جس کے پاس عیسیٰ علیہ السلام، وہ یہی منارہ ہے۔ منارۃ المسیح ہے جو میں نے بنایا ہے۔

یہاں آپ مجھے ذرا سی اجازت دیجئے۔ ایک افیمی تھا وہ استنجا کرنے جاتا تھا۔ بیت الخلاء میں تو وہ پانی کا لوٹا لے جاتا تھا۔ افیمی کو اکثر قبض رہتا ہے۔ لوٹے میں سوراخ تھا تو جب تک وہ فارغ ہوتا لوٹے سے پانی ٹپک ٹپک کر ختم ہو جاتا۔ افیمی کو بڑا غصہ آتا تو اس نے ایک دن لوٹا پانی کا بھرا، اندر گیا۔ پہلے استنجا کر کے اس کے بعد ہگنے لگا۔ کہا کہ سسرا کہیں کا اب ٹپک تو دیکھوں گا میں (قہقہے) تو پہلے استنجا کر گیا اور بیت الخلاء میں بعد میں انتظام کرنے لگا۔ یہ مرزا پہلے نازل ہوا چراغ بی بی سے یا قادیان میں......

جناب چیئرمین: میرے خیال میں کافی ہو گیا ہے، آپ بیت الخلاء تک تو پہنچ گئے ہیں۔

مولانا غلام غوث ہزاروی: تو منارہ بعد میں بنایا۔ منارے کے لفظ کا کوئی معنی نہیں۔ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ منارے سے مراد منارۃ المسیح ہے۔ باب لد سے مراد لدھیانہ ہے اور عیسیٰ علیہ السلام سے مراد غلام احمد ہے مریم سے مراد......

جناب چیئرمین: اس میں لکھا ہوا ہے، اس کے اندر ہے۔

2844 مولانا غلام غوث ہزاروی: ہاں! اس کے اندر لکھا ہوا ہے۔ میں اس بات کی تائید کرتا ہوں اور ختم کرتا ہوں اور تحریک پیش کرتا ہوں۔ اپنے بل کے حق میں کہ لاہوری مرزائیوں اور قادیانیوں دونوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ کوئی کمزور نتیجہ نہ آئے۔ میں آپ کو سچائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ تمام عالم اسلام آپ کے اس فیصلے کا منتظر ہے۔ تمام رعایا آپ کے اس فیصلے کا انتظار کرتی ہے۔ تمام ممالک پر اس کا اثر پڑے گا۔ میں عرض کر دوں، میں نے ایک بڑی

صفحہ ٢٥٥٩

قادیانیت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

شخصیت سے عرض کیا ہے کہ ان کا پروپیگنڈہ باہر اسلام کے نام سے ہے۔ آج اگر ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تو ان کا پروپیگنڈہ دو فیصد بھی نہیں رہے گا۔ یہ سارا ختم ہو جائے گا۔ ان کا پروپیگنڈہ اسلام کے نام سے ہے۔ پھر مسلمان ممالک سمجھتے ہیں۔ بلکہ مسلمان ہی نہیں کہ آپ کے خلاف کیا پروپیگنڈہ ہوگا۔ روس اور امریکہ کی جو پالیسی ہو گی وہ ان کی پرانی پالیسی ہو گی۔ چین کی جو پالیسی ہوگی وہ ان کی پرانی پالیسی ہوگی۔ یہ آج اپنے آدمیوں کو تاریں دلواتے ہیں۔ ان کا دجل ہے۔ یہ تو آپ کو متاثر کرتے ہیں۔ آپ کو قوت کے ساتھ، بہادری کے ساتھ، نڈر ہو کر اسمبلی نے آپ کو یہی حکم دیا ہے کہ آپ خدا کے امین ہیں، آپ قوم کے امین ہیں۔ آپ کو باقاعدہ طور پر حکومت نے، بلکہ پرائم منسٹر نے یہ بات آپ کے حوالے کی کہ اسمبلی کیا فیصلہ کرتی ہے۔ آپ اسلام کی روشنی میں فیصلہ کریں۔ آپ کی قوم چاہتی ہے۔ جس قوم کے آپ نمائندے ہیں۔ یہ قوم چاہتی ہے، عالم اسلام چاہتا ہے، تمام دنیا دیکھتی ہے۔ آپ اس بارے میں کوئی نرمی نہ کریں۔ یہ نرمی آپ کو مہنگی پڑے گی۔ میں آخر میں اس بل کی حمایت وتائید کرتا ہوں۔ (عربی)

جناب چیئرمین: شکریہ! پروفیسر غفور احمد! بالکل، آپ ہی فرمائیں گے جنہوں نے اڑھائی سو صفحے کی کتابیں لکھی ہیں انہوں نے ایک ایک گھنٹہ تقریریں کی ہیں۔

(جناب پروفیسر غفور احمد کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

2845 پروفیسر غفور احمد: جناب چیئرمین ! اس اسمبلی کی تقریباً ٣٠ ماہ کی مدت میں یہ دوسرا زبردست چیلنج ہے جو آج ہمیں درپیش ہے۔ اس معزز ایوان کے سامنے پہلا چیلنج ملک کے لئے ایک مستقل دستور کی تدوین تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک چوتھائی صدی گزرنے کے باوجود ہمارا ملک دستور سے محروم تھا۔ یہ کام اس اسمبلی کے سپرد ہوا کہ اس ملک کے لئے مستقل دستور بنایا جائے۔ آپ کو جناب چیئرمین ! یاد ہوگا کہ اس زمانے میں حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بعض بنیادی اصولوں پر شدید اختلافات تھے۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے اپنے فضل سے اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ ہم اپنے اختلافات کو ختم کر کے ملک کے لئے ایک مستقل دستور مدون کرنے اور مکمل اتحاد کے ساتھ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس طریقے سے ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اس کے بعد اس کام پر پورے اترے۔ مجھے توقع ہے کہ انشاء اللہ! یہ دستور جو ہم نے پاس کیا ہے۔ عملاً اپنی سپرٹ کے لحاظ سے ایک دن ضرور اس ملک میں نافذ ہوگا۔

١٧

LY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر اور میرے خاندان سے بڑ بات مرزے نے لکھی ہے کہ اس سے بڑھ کر انگریز 2843 تو میرا مطلب یہ ہے۔ یہ عیسیٰ لاہوری بھی اور قادیانی بھی اور پھر یہ جسمانی معراج منکر ہیں۔ جس طرح مرزا منکر ہے۔ مرزے نے جو قرآن میں ہے۔ ”سبحان الذی اسری ب الاقصیٰ“

مرزے نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے درج ہے۔ مرزے کا یہ قول اور اس میں اس نے لکھا منارہ ہے جس کے پاس عیسیٰ علیہ السلام، وہ یہی م

یہاں آپ مجھے ذرا سی اجازت دیں الخلاء میں تو وہ پانی کا لوٹا لے جاتا تھا۔ انہی کو اکثر وہ فارغ ہوتا لوٹے سے پانی ٹپک ٹپک کر ختم ہو ج پانی کا بھرا، اندر گیا۔ پہلے استنجا کر کے اس کے بعد میں (قہقہے) تو پہلے استنجا کر گیا اور بیت الخلاء میں چراغ بی بی سے یا قادیان میں .....

جناب چیئرمین: میرے خیال میں 2844 مولانا غلام غوث ہزاروی: تو م نہیں ۔ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ منارے س ہے اور عیسیٰ علیہ السلام سے مراد غلام احمد ہے مریم

جناب چیئرمین: اس میں لکھا ہوا ہ مولانا غلام غوث ہزاروی: تائید کرتا ہوں اور ختم کرتا ہوں اور تحریک پیش مرزائیوں اور قادیانیوں دونوں کو غیر مسلم اقلیت قر سچائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ تمام عالم اسلام آپ س فیصلے کا انتظار کرتی ہے۔ تمام ممالک پر اس کا اثر

صفحہ ٢٥٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب والا! دوسرا چیلنج آج ہمارے لئے ختم نبوت کا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ کوئی نیا کام نہیں ہے۔ دراصل یہ دستور سازی کے کام ہی کی ایک اہم کڑی ہے جس کی تکمیل باقی ہے۔ دستور کے کام میں اور اس کام میں ایک خوش آئند فرق یہ ہے کہ آج ایوان کی پوری کمیٹی یک جان اور پوری یکجہتی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ آج یہاں جماعتیں نہیں، آج یہاں اپوزیشن اور حکمران جماعتیں نہیں بیٹھی ہیں۔ بلکہ ایک کمیٹی کے تمام ممبران مکمل اتحاد اور اتفاق کے ساتھ اس کام کو کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ بات میں کہوں تو شاید لوگوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کروں گا کہ جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہے کسی ممبر کو اس مسئلے میں اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ حکمران پارٹی کے لوگ کسی طرح بھی کسی دوسرے ممبر سے کم سرگرم عمل نہیں ہیں۔

2846 اس تین مہینے کی پچھلی مدت میں اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر، خواہ وہ مذہبی ہوں، اقتصادی ہوں، معاشی ہوں، ان پر بھر پور روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ ہم نے گواہان کے بھی بیانات سنے ہیں۔ ہم نے ان کے جوابات کو بھی دیکھا ہے۔ اس کے بعد جناب چیئرمین! میں سمجھتا ہوں کہ کمیٹی کو چار سوالات کے حل تلاش کرنا ہیں۔ اوّلاً! یہ کہ کیا ربوہ اور لاہوری جماعت میں عقیدے کے لحاظ سے کوئی فرق ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ ثانیاً! یہ کہ دستور میں ایسی کیا ترامیم کی جائیں۔ جس سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے بہتر طریقے پر حل ہو جائے۔ ثالثاً! یہ کہ دستور میں ترمیم کی روشنی میں کیا کوئی قانون سازی ضروری ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ رابعاً! یہ کہ معاملات کو درست نہج پر ڈالنے کے لئے ایسے کون سے انتظامی اقدامات ہیں جو ہمیں فوراً یا تدریج کے ساتھ کرنے چاہئیں۔

(لاہوری، قادیانی کوئی فرق نہیں)

جہاں تک پہلے معاملے کا تعلق ہے۔ یعنی ربوہ اور لاہوری جماعت کا فرق۔ ان دونوں فریقوں کے فراہم کئے ہوئے لٹریچر سے، ان کے جوابات سے یہ بات بالکل ثابت ہو گئی ہے۔ بغیر کسی شک و شبہ کے کہ عقیدے کے معاملے میں ان دونوں میں کوئی فرق مطلقاً موجود نہیں ہے۔ دونوں مرزا کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ دونوں مرزا کو نبی مانتے ہیں۔ خواہ کسی معنی میں مانتے ہوں۔ دونوں یہ بات کہتے ہیں کہ جو لوگ مرزا صاحب پر ایمان نہیں لاتے وہ کافر ہیں۔ خواہ کسی درجے کے کافر ہوں۔ دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایسے کافر حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتے۔ اس لئے میں یہ سمجھنے میں بالکل حق بجانب ہوں گا کہ معاملہ عقیدے کے اختلاف کا نہیں بلکہ معاملہ گدی کے حصول کا ہے۔ دنیاوی مفادات کو حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور بات نظر نہیں آتی۔

١٨

صفحہ ٢٥٦١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

لاہوری جماعت گو تعداد میں بہت تھوڑی ہے۔ لیکن جناب چیئرمین! میں سمجھتا ہوں کہ جس طریقے سے وہ زیادہ دھوکہ دیتے ہیں جس طریقے سے وہ مسلمان کے ساتھ زیادہ گھل مل رہتے ہیں، وہ ربوہ کی جماعت کے مقابلے میں مسلمانوں کے لئے خطرناک تر ہیں۔ ظاہر میں وہ اپنے 2847 عقیدے کو چھپا کر، شکر میں لپیٹ کر قوم کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے میرا خیال یہ ہے کہ کمیٹی بھی مجھ سے اتفاق کرے گی کہ عقیدے کا معاملہ دونوں کا بالکل یکساں ہے۔ Promised Masiah (مسیح موعود) کا تصور دونوں جماعتیں پیش کرتی ہیں۔ اسلامی لٹریچر میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں ملتی۔ یہ تصور بھی انہوں نے نصرانیت سے مستعار لیا ہے اور نصرانیت نے، جس نے اس پودے کو لگایا تھا۔ تناور درخت تک اس کی آبیاری کی ہے۔

(قادیانیوں کی تعداد کا مسئلہ)

دوسرا معاملہ جناب! پھر ترامیم کا آتا ہے۔ تقریباً تین ماہ اس کام کو کرنے کے بعد، ختمِ نبوت کی مضحکہ خیز تاویلات سننے کے بعد، اب اس ملک کا کوئی آدمی اس بات سے مطمئن نہیں ہو سکتا کہ دستور میں ختمِ نبوت کے عقیدے کو مزید توضیح کے ساتھ بیان کر دیا جائے۔ میرے خیال میں یہ بات ہرگز ہرگز کافی نہیں ہو سکتی۔ تین مہینے کی اس تمام انتھک جدوجہد کے بعد قوم کا یہ خیال ہے کہ یہ بات بالکل ناگزیر ہے کہ دستور میں ایک ترمیم کے ذریعہ صراحت کے ساتھ یہ درج کیا جائے کہ مرزا کو ماننے والے خواہ وہ اسے کسی صورت میں مانتے ہوں۔ یعنی چاہے اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہوں، مسیح موعود مانتے ہوں، مجدد مانتے ہوں، محدث مانتے ہوں یا کچھ بھی مانتے ہوں۔ ایسے لوگ غیر مسلم ہیں اور وہ مسلمان نہیں۔ اس لئے کہ مرزا پر ایمان نہ لانے کے باعث وہ ہمیں خود کافر کہتے ہیں۔ اس بناء پر میرا خیال یہ ہے کہ نام لئے بغیر اگر محض تعریف کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایسے ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں تو شاید معاملہ مزید پیچیدہ اور سنگین بن جائے گا اور نہ اس سے قوم مطمئن ہو گی۔ تیسرے یہ کہ ملک کے دستور میں ترمیم کے بعد ضروری قانون سازی کی جائے اور دیکھا جائے کہ کس کس قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ کیونکہ اسمبلی کی رہبر کمیٹی بھی اس معاملہ میں رہنمائی کرے گی۔ لیکن میں اتنا ضرور عرض کروں گا کہ اس کے بعد متعدد قوانین میں ترمیم کی ضرورت پیش آئے گی اور دستور میں ترمیم 2848 کے بعد اس بات کا فوری بندوبست کرنا لازمی ہے کہ ان کی مردم شماری کی جائے اور بلا تاخیر کی جائے۔ کیونکہ لاہوری جماعت اور ربوہ والے دونوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں اپنے

19

MBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب والا! دوسرا چیلنج آج ہمارے لئے نہیں ہے۔ دراصل یہ دستور سازی کے کام ہی کی ایک کے کام میں اور اس کام میں ایک خوش آئند فرق یہ پوری یکجہتی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ آج یہاں ن جماعتیں نہیں بیٹھی ہیں۔ بلکہ ایک کمیٹی کے تمام ممبرا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ بات میں کہوں ت گا کہ جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہے کسی ممبر کو اس م کے لوگ کسی طرح بھی کسی دوسرے ممبر سے کم سرگرما 2846 اس تین مہینے کی پچھلی مدت میں اِ اقتصادی ہوں، معاشی ہوں، ان پر بھر پور روشنی ڈالی ہیں۔ ہم نے ان کے جوابات کو بھی دیکھا ہے۔ اس کو چار سوالات کے حل تلاش کرنا ہیں۔ اوّلاً! یہ کہ کیا سے کوئی فرق ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ ثانیاً! یہ کہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے بہتر طریقے پر حل ہو جائے۔ قانون سازی ضروری ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ راب ایسے کون سے انتظامی اقدامات ہیں جو ہمیں فوراً یا تا

(لاہوری، قادیانی

جہاں تک پہلے معاملے کا تعلق ہے۔ بہ فریقوں کے فراہم کئے ہوئے لٹریچر سے، ان کے بغیر کسی شک و شبہ کے کہ عقیدے کے معاملے میں دونوں مرزا کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ دونوں مرزا ک دونوں یہ بات کہتے ہیں کہ جو لوگ مرزا صاحب کے کافر ہوں۔ دونوں اس بات کی تصدیق کرتے لئے میں یہ سمجھنے میں بالکل حق بجانب ہوں گا کہ کے حصول کا ہے۔ دنیاوی مفادات کو حاصل کرنا

صفحہ ٢٥٦٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

پیروکاروں کی تعداد کا صحیح علم نہیں۔ گو یہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی منظم جماعت کو معلوم نہیں ہے کہ ان کے پیروکار کتنے ہیں۔ گو ان کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق ان کی تعداد پاکستان میں پینتیس یا چالیس لاکھ ہے اور پوری دنیا میں ایک کروڑ کے لگ بھگ۔ جناب والا! اگر وہ یہ بات کہتے ہیں کہ ہم پاکستان میں تیس چالیس لاکھ ہیں اور دنیا میں ایک کروڑ ہیں تو دنیا سے تو ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن ہم یہ بات ضرور جاننا چاہیں گے کہ پاکستان میں ان کی صحیح تعداد کیا ہے؟ اس مقصد کے لئے ان کی مردم شماری کی جائے اور یہ بغیر کسی تاخیر کے کی جائے۔ یہ بنیادی چیز ہے جو بغیر کسی پس و پیش کے ہونی چاہئے۔

جناب والا! چوتھا مرحلہ انتظامی معاملات کا ہے جو حکومت کو حل کرنا ہوگا۔ میں یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہوں کہ ہمارا مقصد ہرگز ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم مرزا کے ماننے والوں کے جائز حقوق چھیننا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ وہ آج پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ بلین آف ڈالرز کی وہ جائیدادیں جو پاکستان میں انہوں نے کمائی ہیں۔ وہ پاکستان کے مسلمان ان سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ ان کو غصب کرنا چاہتے ہیں۔ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کا کوئی مسلمان یہ نہیں چاہتا کہ وہ ان کی املاک بغیر کسی حق کے چھینے۔ پاکستان کے دستور کا مطالعہ دنیا کا ہر انسان کر سکتا ہے اور میں یہ بات بلا خوف تردید کہتا ہوں کہ دستور پاکستان نے اقلیتوں کی حفاظت کے لئے ان کو قانون کے سامنے یکساں قرار دیا ہے۔ ان کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت کے لئے ہم نے جو آرٹیکل اور جو پروویژن دستور میں رکھے ہیں اس میں دنیا کی متمدن ترین ملک کا دستور بھی ہمارے دستور کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور پھر جناب والا! میں دوسری بات یہ کہنا چاہتا ہوں2849 کہ دستور میں کسی چیز کے لکھنے ہی کا معاملہ نہیں ہے۔ جہاں تک عمل کا تعلق ہے تمام غیر مسلم اقلیتیں اس بات کی شہادت دینے پر مجبور ہوں گی کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ صرف منصفانہ ہی نہیں بلکہ فیاضانہ سلوک کیا جا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا۔ اس لئے کہ ہمارا دین ہمیں یہی بات سکھاتا ہے کہ ہم اقلیتوں کی حفاظت کریں اور ان کے ساتھ فیاضانہ سلوک کریں۔

اصل میں ہم جو بات کہنا چاہتے ہیں وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ مرزا کے ماننے والوں نے ماضی میں اپنے حقوق سے بڑھ کر جو چیزیں حاصل کی ہیں اور جس طریقے سے انہوں نے مستحقین کے حقوق کو پامال کیا ہے اس کی پورے طریقے سے چھان بین کی جائے اور جو چیزیں ان کے پاس بغیر کسی حق کے موجود ہیں مکمل تحقیقات کرنے کے بعد حکومت ان سے ایسی چیزوں کو واپس لے لے۔ اس لئے کہ ان کا ان پر کوئی حق نہیں بنتا۔ اصل میں یہ گروہ یہ چاہتا تھا کہ وہ بادشاہ

٢٠

صفحہ ٢٥٦٣

تحریک ختم نبوت

EMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 پیروکاروں کی تعداد کا صحیح علم نہیں۔ گو یہ میری سمجھ میں نہیں کہ ان کے پیروکار کتنے ہیں۔ گو ان کا کہنا ہے کہ ان کے میں پینتیس یا چالیس لاکھ ہے اور پوری دنیا میں ایک بات کہتے ہیں کہ ہم پاکستان میں تیس چالیس لاکھ ہیں ا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن ہم یہ بات ضرور جاننا چاہت ہے؟ اس مقصد کے لئے ان کی مردم شماری کی جائے ا چیز ہے جو بغیر کسی پس و پیش کے ہونی چاہئے۔

جناب والا! چوتھا مرحلہ انتظامی معاملات کا بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہوں کہ ہمارا مقصد والوں کے جائز حقوق چھیننا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ وہ آ بلین آف ڈالرز کی وہ جائیدادیں جو پاکستان میں انہو ان سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ ان کو غصب کرنا چاہتے کوئی مسلمان یہ نہیں چاہتا کہ وہ ان کی املاک بغیر کسی دنیا کا ہر انسان کر سکتا ہے اور میں یہ بات بلا خوف تردی حفاظت کے لئے ان کو قانون کے سامنے یکساں قرا حفاظت کے لئے ہم نے جو آرٹیکل اور جو پروویژن دی ترین ملک کا دستور بھی ہمارے دستور کا مقابلہ نہیں کر سک چاہتا ہوں 2849 کہ دستور میں کسی چیز کے لکھنے ہی کا معام غیر مسلم اقلیتیں اس بات کی شہادت دینے پر مجبور ہوں منصفانہ ہی نہیں بلکہ فیاضانہ سلوک کیا جارہا ہے اور کیا جا بات سکھاتا ہے کہ ہم اقلیتوں کی حفاظت کریں اور ان ک اصل میں ہم جو بات کہنا چاہتے ہیں وہ صر نے ماضی میں اپنے حقوق سے بڑھ کر جو چیزیں حاص مستحقین کے حقوق کو پامال کیا ہے اس کی پورے طری ان کے پاس بغیر کسی حق کے موجود ہیں مکمل تحقیقات کر واپس لے لے۔ اس لئے کہ ان کا ان پر کوئی حق نہیں بنتا ٢٠

2563 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 مگر بچ جائے اور ان کی خواہش یہ تھی کہ ان کے اوپر قانون لاگو نہ ہو۔ جناب والا! ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے کہ زرعی اصلاحات کا قانون پاس ہونے کے بعد چونکہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا تھا۔ لہٰذا پاکستان پیپلز پارٹی سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی اصلاحات کا قانون ان کی زمینوں کے اوپر جاری نہ کیا جائے اور اسی طرح کا ایک اور مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کو جس طریقے سے قومیا یا گیا ہے اور ان میں اصلاحات کی گئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے مدارس کو سکولوں کو، کالجوں کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور وہ یہ چاہتے تھے کہ ربوہ کے اندر ان کی ریاست در ریاست موجود رہے۔ بلکہ پاکستان میں جس جگہ بھی مرزا کے ماننے والے موجود ہوں ان کو اچھی پوزیشن حاصل ہو اور ملک کے جو عام قوانین ہیں ان کے اوپر جاری نہ ہوں۔ جناب والا! اس لئے ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو ان کو استحقاقی پوزیشن حاصل ہے یہ غلط طریقے سے حاصل ہے۔ اس کو ختم کیا جائے۔ اس پوزیشن کو ختم کرنے کے لئے ہم یہ بات کہتے ہیں کہ ان کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ ملازمتوں میں ان کو اتنا حصہ دیا جائے جتنی ان کی آبادی کا تناسب تقاضا کرتا ہے۔

2850 آخر میں میں یہ عرض کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بصیرت دے اور اس بات کی ہمت دے کہ اس معاملے کو اس طریقے سے پورا کر سکیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی سرخرو ہو سکیں اور قوم بھی مطمئن ہو جائے۔ شکریہ!

Mr. Chairman: Thank you very much. (جناب چیئرمین: آپ کا بے حد شکریہ!) ڈاکٹر محمد شفیع: مولانا! آپ کی باری بھی آجائے گی۔ آپ نے کتاب سے پڑھنا ہے اور یہ بغیر کتاب کے ہیں اور بغیر کتاب کے جو ہیں ان کو زیادہ ٹائم ملے گا۔ چوہدری جہانگیر علی صاحب! آپ بھی آج بولیں گے کارڈر کی بنیاد پر یا ویسے ہی؟ چوہدری جہانگیر علی: جناب! کارڈر کی بنیاد پر۔ Mr. Chairman: Thank you very much. Dr. Mohammad Shafi. (جناب چیئرمین: آپ کا بے حد شکریہ! ڈاکٹر محمد شفیع ) Dr. Mohammad Shafi: Mr. Chairman, Sir, the issue started as "Khatm-i-Nabuwwat" but during our ٢١

صفحہ ٢٥٦٤

قادیانیت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

deliberations I think we have surveyed whole of the Mirzaiyat vis-a-vis Islam, and I being by nature inclined towards religion, have attended these meetings regularly and I have listened to them very attentively and I have drawn my own conclusions which may not be acceptable to other members. I do not know. In my opinion, they do not believe that Muhammad (Peace be upon him) is the last and the greatest Prophet. Both the groups believe Ghulam Ahmad as the last and the greatest prophet. This is my own reading. And, therefore, they do not take the life of Muhammad (Peace be upon him) as the model for them; they take the life of Ghulam Ahmad as the model for them. That means that they have got their own Sunnah which has nothing to do with our Sunnah. The story does not end there. They have got their own "Kalima", their own "Darood", their own Masjid-i-Aqsa and therefore their own "Qibla", and they have got their own site for Haj, and everything is different from us. They do not join us in the prayers; they do not join us even in "Janaza" prayers; they do not like to offer their daughters for marriage to us, although very cleverly they accept our daughters for their marriage.

2851 Now what is the end result of that: That clearly means that they have themselves dissociated from the Muslims since the last 75years, and it is a reality which already exists and we only have to recognize it. And you know, Sir, we all are very fond of recognizing the realities and let us

٢٢

2565 NATIONAL AS

recognize this reality also.

Now, this is one as they do not stop there. Th running in Rabwa which They have got their own think "Nazirs" or som -i-Kharja and -Nazir-i- things. They call themsel helped by thier hidden er most cases. They are help our Departments. All th provided by them to that e

[At this stage Mr was occupied by Madam Khatoon Abbasi).]

Dr. Mohamma they are serving Islam that they have given for in Israel when the Israe may be so that they se question arises: who s somebody must have sa them, even they must ha those motives are to be ju

صفحہ ٢٣

مجلس تحفظ ختم نبوت

OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ve surveyed whole of the I being by nature inclined hese meetings regularly and tively and I have drawn my not be acceptable to other opinion, they do not believe n him) is the last and the s believe Ghulam Ahmad as t. This is my own reading. ke the life of Muhammad del for them; they take the odel for them. That means nnah which has nothing to does not end there. They heir own "Darood", their e their own "Qibla", and r Haj, and everything is o us in the prayers; they do ayers; they do not like to age to us, although very ters for their marriage.

[ that: That clearly means ciated from the Muslims eality which already exists And you know, Sir, we all the realities and let us

2565 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

recognize this reality also.

Now, this is one aspect of the issue. The other is that they do not stop there. They have got a parallel Government running in Rabwa which in my opinion is virtually Vatican. They have got their own Ministries under the name of I think "Nazirs" or some such thing -Nazir-i-Umoor -i-Kharja and -Nazir-i-Umoor -i-Dakhila and such like things. They call themselve Nazirs. Now this thing is being helped by thier hidden employees which we do not know in most cases. They are helped by the Qadiyanis who serve in our Departments. All the statistics and all the data are provided by them to that Government.

----------

[At this stage Mr. Speaker vacated the Chair which was occupied by Madam Deputy Speaker (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi).]

----------

Dr. Mohammad Shafi: They have boasted that they are serving Islam in foreign countries. One example that they have given for that is that they saved the Muslims in Israel when the Israelis captured that territory. Well that may be so that they saved the Muslims there. But the question arises: who saved the Qadiyanis there? Well, somebody must have saved them. If the Jews have saved them, even they must have done so with certain motives, and those motives are to be judged by us.

صفحہ ٢٥٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

Having drawn these conclusions, what is the solution for that? The solution is, in which the whole House is unanimous, that we recognize the reality which is already existing they have dissociated themselves from us, and we only have to declare it to be so. But, In this case, I would leave it to the Government to take the national and international factors into consideration and then take the appopriate steps. Thank you.

(جناب ڈاکٹر محمد شفیع کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

(ترجمہ)

(ڈاکٹر محمد شفیع: جناب چیئرمین صاحب! مسئلہ ختم نبوت کے عنوان سے شروع ہوا تھا۔ تاہم بحث مباحثے کے دوران ہم نے پوری مرزائیت بمقابلہ اسلام کا مطالعہ کرلیا ہے اور میں نے طبعی طور پر مذہبی ہونے کی وجہ سے ان اجلاسات میں بڑی باقاعدگی سے شرکت کی ہے۔ بہت غور سے تمام بحث کو سنا ہے اور میں نے اپنے کچھ نتائج بھی مرتب کئے ہیں جو میں نہیں جانتا باقی ارکان کے لئے قابل قبول ہوں یا نہ ہوں۔ میری رائے میں وہ (قادیانی) حضرت محمد ﷺ کو آخری اور عظیم ترین پیغمبر تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے دونوں گروہ (قادیانی اور لاہوری) مرزا غلام احمد کو آخری اور عظیم ترین پیغمبر مانتے ہیں۔ یہ نتیجہ میں نے خود اخذ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کی زندگی کو اپنے لئے بطور نمونہ نہیں لیتے۔ بلکہ مرزا غلام احمد کی زندگی میں اپنے لئے نمونہ تلاش کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی اپنی ایک سنت ہے۔ جس کا ہماری سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کا اپنا ایک الگ ”کلمہ“ ہے۔ ایک الگ ”درود“ ہے۔ ایک الگ ”مسجد اقصیٰ“ ہے اور اس طرح اپنا ایک ”قبلہ“ ہے۔ ان کی حج کی اپنی الگ جگہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ان کی ہر شے ہم سے علیحدہ ہے۔ وہ ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔ ہمارے جنازوں میں شریک نہیں ہوتے۔ شادی بیاہ کے رشتوں میں وہ اپنی بیٹیاں ہمیں دینا پسند نہیں کرتے۔ اگرچہ بڑی چالاکی کے ساتھ ہماری بیٹیاں لے لیتے ہیں۔ اس ساری بات سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ گزشتہ ٧٥ سالوں میں انہوں نے خود اپنے

٢٤

صفحہ ٢٥٦٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

آپ کو مسلمانوں سے الگ کر لیا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ ہمیں صرف اس کا اعتراف کرنا ہے۔ جناب والا! آپ جانتے ہیں کہ ہم حقائق کو تسلیم کرنے سے کبھی جی نہیں چراتے تو آئیے اس حقیقت کو بھی تسلیم کرلیں۔

(ربوہ کی متوازی حکومت؟)

یہ معاملے کا صرف ایک رخ ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اسی پر بس نہیں کرتے۔ وہ ربوہ میں ایک متوازی حکومت چلا رہے ہیں جو میری رائے میں ویٹی کن کی مانند ہے۔ وہاں ان کی اپنی وزارتیں ہیں جنہیں وہ ”ناظر“ کا نام دیتے ہیں۔ جیسے ”ناظر امور خارجہ“، ”ناظر امور داخلہ“ وغیرہ۔ وہ اپنے آپ کو ناظر کہتے ہیں۔ یہ معاملہ ان کے خفیہ اہلکاروں کی مدد سے چل رہا ہے اور ہم اس کے متعلق زیادہ نہیں جانتے۔ ہمارے محکموں میں کام کرنے والے قادیانی بھی ان کی مدد کرتے ہیں اور وہ اپنی حکومت کو تمام معلومات اور اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں)

-----------------------

(یہاں جناب اسپیکر نے اپنی کرسی کو چھوڑا۔ ان کی جگہ محترمہ ڈپٹی اسپیکر صاحبہ (ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی) نے کرسی صدارت سنبھالی)

(ڈاکٹر محمد شفیع: وہ (قادیانی) بڑے فخریہ انداز میں اس کا تذکرہ کرتے ہیں کہ وہ بیرونی ممالک میں اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل میں مسلمانوں کو اس وقت بچایا جب اسرائیل علاقے پر قبضہ کر رہا تھا۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ انہوں نے وہاں مسلمانوں کو بچایا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہاں قادیانیوں کی حفاظت کس نے کی ہے؟ یقیناً کسی نے وہاں ان کی حفاظت کی ہے۔ اگر یہودیوں نے ان کی حفاظت کی ہے تو ایسا کرنے میں ان کے کچھ محرکات ہوں گے اور ہمیں ان محرکات کا جائزہ لینا ہے۔ ان نتائج کو اخذ کرنے کے بعد سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ حل یہ ہے اور اس پر پورا ایوان متفق ہے کہ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے جو پہلے سے موجود ہے۔ وہ ہم سے پہلے ہی تعلق توڑ چکے ہیں۔ ہمیں اس امر کا صرف اعلان کرنا ہے۔ تاہم اس معاملے کو میں حکومت پر چھوڑتا ہوں کہ وہ قومی اور بین الاقوامی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اقدام کرے۔ آپ کا شکریہ!)

٢٥

صفحہ ٢٥٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

2852 محترمہ قائمقام چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی! آپ بولیں گے؟

چوہدری جہانگیر علی: جی ہاں! میں بولوں گا۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: بولیں۔

( جناب چوہدری جہانگیر علی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب )

چوہدری جہانگیر علی: جناب ڈپٹی چیئرمین صاحبہ! موجودہ مسئلہ جو اس خصوصی کمیٹی کے سامنے درپیش ہے۔ یہ مذہبی اہمیت کا بھی حامل ہے اور سیاسی نتائج بھی اس سے منسلک ہیں۔ اس مسئلے نے ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے بعد اس ملک میں جو صورتحال پیدا کی اس کے متعلق ١٣ جون ١٩٧٤ء کو جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب وزیر اعظم اپنے نقطہ نظر کا اظہار فرما چکے ہیں اور انہوں نے ملک وقوم کے مفاد کے پیش نظر اس مسئلے کو اس ملک کے سب سے بڑے ادارے قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا اور قومی اسمبلی نے خود فیصلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک سپیشل کمیٹی میں تبدیل کیا اور تقریباً دو ماہ ہوئے کہ اس مسئلہ کے اوپر اس ہاؤس کے اندر شہادتیں بھی پیش ہوئیں۔ بیان بھی ہوئے اور جرح بھی ہوئی۔ میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا کہ جو شہادت ریکارڈ پر آئی ہے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ کیا فریقین اپنے اپنے کیس کو ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں؟ کیا احمدی جماعت کے لیڈر اپنے کیس اس ایوان کے سامنے ثابت کر چکے ہیں؟ انہوں نے حزب اختلاف یعنی غیر احمدی مسلمانوں کا کیس ناکام کر دیا ہے؟ یا غیر احمدی مسلمانوں کے دعوے کو وہ رد نہیں کر سکے؟ اور اپنے دعوے کی بھی صحیح طرح پر تصدیق نہیں کر سکے؟

جناب ڈپٹی چیئرمین! مجھے ١٩٧٠ء کا وہ ماحول یاد ہے جب جناب ذوالفقار علی شہر شہر اور قریہ قریہ اپنی پارٹی کا منشور بیان کرنے کے لئے، اور غریب عوام کو سیاست سے روشناس کرانے کے لئے، ان میں سیاسی تدبر پیدا کرنے کے لئے دورے کیا کرتے تھے۔ میں نے اکثر مقامات پر دیکھا کہ جناب بھٹو سے مذہب کے متعلق اکثر سوال کئے جاتے تھے اور ختم نبوت کے متعلق آپ 2853 سے استفسار کیا جاتا تھا۔ خود میرے شہر سرگودھا میں لوگوں نے جناب بھٹو کے سر پر قرآن رکھ کر یہ پوچھا تھا کہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے تو انہوں نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ جو آدمی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا میں اسے مسلمان نہیں سمجھتا اور میں خود ایسا مسلمان ہوں جس کا ختم نبوت کے اوپر اعتقاد ہے۔

٢٦

صفحہ ٢٥٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

(صدارت، وزارت عظمیٰ اور ختم نبوت)

جناب ڈپٹی چیئرمین! جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو معلوم تھا کہ اس ملک کے اندر آئینی بحران ہے اور سالہا سال سے ملک بغیر کسی آئین کے چل رہا ہے۔ جناب بھٹو نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ نہ صرف ان کو عوامی دستور دیں گے بلکہ ان کو اسلامی دستور دیں گے۔ ان کو یہ بھی یقین تھا کہ اسلامی دستور بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ممبران قومی اسمبلی اگر مسلمان ہوں اور صحیح عقیدے کے مسلمان ہوں تو پھر ہم اتفاق رائے سے غیر متنازعہ قسم کا اسلامی دستور اس ملک کو دے سکیں گے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! شاید یہی وجہ تھی کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے لئے اپنی پارٹی کا ٹکٹ کسی احمدی یا قادیانی کو نہیں دیا اور آج ہم یہ بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اس ہاؤس کے سو فیصد ممبران کا عقیدہ ختم نبوت پر ہے اور وہ اس کے اوپر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اتفاق رائے سے اس ملک کو ایک عوامی اور اسلامی دستور دے چکے ہیں اور اس اسلامی دستور میں ہم نے نظریہ ختم نبوت کو بھی تحفظ دیا ہے اور اگر میں آپ کے سامنے دستور کے تھرڈ شیڈول کی عبارت پڑھ کر سناؤں تو معلوم ہو جائے گا کہ اس کے اندر واشگاف الفاظ میں ختم نبوت کو تحفظ دیا گیا ہے اور جو آدمی ختم نبوت کے اوپر ایمان کا اور اعتقاد کا حلف نہیں اٹھاتا وہ اپنے آپ کو نہ مسلمان کہلوا سکتا ہے نہ کسی صدارت پر بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر متمکن ہو سکتا ہے۔

جناب ڈپٹی چیئرمین! جہاں تک مذہبی عقیدے کا تعلق ہے اس پر بہت سارا لٹریچر اس کارروائی کے دوران مختلف اسلامی اور احمدی عقیدہ رکھنے والوں کی جانب سے ممبران قومی اسمبلی

2854

کے پاس آیا اور ہم نے ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ فاضل ممبران قومی اسمبلی مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب اور مولانا عبدالحکیم صاحب نے جو اسلامی عقیدے کا بیان اس کمیٹی کے سامنے پڑھ کر سنایا ہے۔ عقیدے کے لحاظ سے میں ان دونوں کے بیانات سے سو فیصد متفق ہوں۔ لیکن اگر ہم نے صرف اپنے علمائے کرام کے بیانات پر اور ان کے وعظ ونصیحت پر ہی فیصلہ کرنا تھا تو پھر اسمبلی کے سامنے لاہوری جماعت اور ربوہ جماعت کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی اجازت دینے کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ وعظ ونصیحت سن کر ہی ہم اسی وقت فیصلہ دے سکتے تھے کہ یہ لوگ مسلمان ہیں یا غیر مسلم ہیں؟ مگر چونکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دینے سے پہلے آپ اس کو ضرور سماعت کر لیں اور اس کے عذرات سن لیں۔ یہی نیچرل جسٹس اور Good Conscience (روشن ضمیری)

٢٧

SSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

2852

محترمہ قائمقام چیئرمین: چوہدری ج چوہدری جہانگیر علی: جی ہاں! میں بولوں گا محترمہ قائمقام چیئرمین: بولیں۔

(جناب چوہدری جہانگیر علی کا قومی اسمبلی چوہدری جہانگیر علی: جناب ڈپٹی چیئرم کے سامنے درپیش ہے۔ یہ مذہبی اہمیت کا بھی حامل ہے اس مسئلے نے ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے بعد اس ملک میں جو ١٩٧٤ء کو جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب وزیراعظم ا نے ملک وقوم کے مفاد کے پیش نظر اس مسئلے کو اس ملک کے سامنے پیش کیا اور قومی اسمبلی نے خود فیصلہ کرتے ہو کیا اور تقریباً دو ماہ ہوئے کہ اس مسئلہ کے اوپر اس ہاؤ بھی ہوئے اور جرح بھی ہوئی۔ میں واضح کرنے کی کوش اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ کیا فریقین اپنے اپنے کیسز احمدی جماعت کے لیڈر اپنے کیس اس ایوان کے سا اختلاف یعنی غیر احمدی مسلمانوں کا کیس ناکام کر دیا۔ نہیں کرسکے؟ اور اپنے دعوے کی بھی صحیح طرح پر تصدیق

جناب ڈپٹی چیئرمین! مجھے ١٩٧٠ء کا وہ ما اور قریہ قریہ اپنی پارٹی کا منشور بیان کرنے کے لئے ، او کے لئے ، ان میں سیاسی تدبر پیدا کرنے کے لئے دو پر دیکھا کہ جناب بھٹو سے مذہب کے متعلق اکثر سوالا

2853

سے استفسار کیا جاتا تھا۔ خود میرے شہر سرگودھا می کہ یہ پوچھا تھا کہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق آپ کا ک فرمایا تھا کہ جو آدمی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا میں ا ہوں جس کا ختم نبوت کے اوپر اعتقاد ہے۔

٢٦

صفحہ ٢٥٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

2852 محترمہ قائمقام چیئرمین: چوہدری جہانگیر علی! آپ بولیں گے؟

چوہدری جہانگیر علی: جی ہاں! میں بولوں گا۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: بولیں۔

(جناب چوہدری جہانگیر علی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

چوہدری جہانگیر علی: جناب ڈپٹی چیئرمین صاحبہ! موجودہ مسئلہ جو اس خصوصی کمیٹی کے سامنے درپیش ہے۔ یہ مذہبی اہمیت کا بھی حامل ہے اور سیاسی نتائج بھی اس سے منسلک ہیں۔ اس مسئلے نے ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے بعد اس ملک میں جو صورتحال پیدا کی اس کے متعلق ١٣؍ جون ١٩٧٤ء کو جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب وزیر اعظم اپنے نقطہ نظر کا اظہار فرما چکے ہیں اور انہوں نے ملک وقوم کے مفاد کے پیش نظر اس مسئلے کو اس ملک کے سب سے بڑے ادارے قومی اسمبلی کے سامنے پیش کیا اور قومی اسمبلی نے خود فیصلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک سپیشل کمیٹی میں تبدیل کیا اور تقریباً دو ماہ ہوئے کہ اس مسئلہ کے اوپر اس ہاؤس کے اندر شہادتیں بھی پیش ہوئیں۔ بیان بھی ہوئے اور جرح بھی ہوئی۔ میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا کہ جو شہادت ریکارڈ پر آئی ہے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ کیا فریقین اپنے اپنے کیس کو ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں؟ کیا احمدی جماعت کے لیڈر اپنے کیس اس ایوان کے سامنے ثابت کر چکے ہیں؟ انہوں نے حزب اختلاف یعنی غیر احمدی مسلمانوں کا کیس ناکام کر دیا ہے؟ یا غیر احمدی مسلمانوں کے دعوے کو وہ رد نہیں کر سکے؟ اور اپنے دعوے کی بھی صحیح طرح پر تصدیق نہیں کرسکے؟

جناب ڈپٹی چیئرمین! مجھے ١٩٧٠ء کا وہ ماحول یاد ہے جب جناب ذوالفقار علی بھٹو شہر شہر اور قریہ قریہ اپنی پارٹی کا منشور بیان کرنے کے لئے، اور غریب عوام کو سیاست سے روشناس کرانے کے لئے، ان میں سیاسی تدبر پیدا کرنے کے لئے دورے کیا کرتے تھے۔ میں نے اکثر مقامات پر دیکھا کہ جناب بھٹو سے مذہب کے متعلق اکثر سوال کئے جاتے تھے اور ختم نبوت کے متعلق آپ سے 2853 استفسار کیا جاتا تھا۔ خود میرے شہر سرگودھا میں لوگوں نے جناب بھٹو کے سر پر قرآن رکھ کر یہ پوچھا تھا کہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے تو انہوں نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ جو آدمی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا میں اسے مسلمان نہیں سمجھتا اور میں خود ایسا مسلمان ہوں جس کا ختم نبوت کے اوپر اعتقاد ہے۔

٢٦

صفحہ ٢٥٦٩

2569 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

(صدارت، وزارت عظمیٰ اور ختم نبوت)

جناب ڈپٹی چیئرمین! جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو معلوم تھا کہ اس ملک کے اندر آئینی بحران ہے اور سالہا سال سے ملک بغیر کسی آئین کے چل رہا ہے۔ جناب بھٹو نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ نہ صرف ان کو عوامی دستور دیں گے بلکہ ان کو اسلامی دستور دیں گے۔ ان کو یہ بھی یقین تھا کہ اسلامی دستور بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ممبران قومی اسمبلی اگر مسلمان ہوں اور صحیح عقیدے کے مسلمان ہوں تو پھر ہم اتفاق رائے سے غیر متنازعہ قسم کا اسلامی دستور اس ملک کو دے سکیں گے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! شاید یہی وجہ تھی کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے لئے اپنی پارٹی کا ٹکٹ کسی احمدی یا قادیانی کو نہیں دیا اور آج ہم یہ بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اس ہاؤس کے سو فیصد ممبران کا عقیدہ ختم نبوت پر ہے اور وہ اس کے اوپر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اتفاق رائے سے اس ملک کو ایک عوامی اور اسلامی دستور دے چکے ہیں اور اس اسلامی دستور میں ہم نے نظریہ ختم نبوت کو بھی تحفظ دیا ہے اور اگر میں آپ کے سامنے دستور کے تھرڈ شیڈول کی عبارت پڑھ کر سناؤں تو معلوم ہو جائے گا کہ اس کے اندر واشگاف الفاظ میں ختم نبوت کو تحفظ دیا گیا ہے اور جو آدمی ختم نبوت کے اوپر ایمان کا اور اعتقاد کا حلف نہیں اٹھاتا وہ اپنے آپ کو نہ مسلمان کہلوا سکتا ہے نہ کرسی صدارت پر بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر متمکن ہو سکتا ہے۔

جناب ڈپٹی چیئرمین! جہاں تک مذہبی عقیدے کا تعلق ہے اس پر بہت سارا لٹریچر اس کارروائی کے دوران مختلف اسلامی اور احمدی عقیدہ رکھنے والوں کی جانب سے ممبران قومی اسمبلی 2854 کے پاس آیا اور ہم نے ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ فاضل ممبران قومی اسمبلی مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب اور مولانا عبدالحکیم صاحب نے جو اسلامی عقیدے کا بیان اس کمیٹی کے سامنے پڑھ کر سنایا ہے۔ عقیدے کے لحاظ سے میں ان دونوں کے بیانات سے سو فیصد متفق ہوں۔ لیکن اگر ہم نے صرف اپنے علمائے کرام کے بیانات پر اور ان کے وعظ و نصیحت پر ہی فیصلہ کرنا تھا تو پھر اسمبلی کے سامنے لاہوری جماعت اور ربوہ جماعت کو اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کی اجازت دینے کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ وعظ و نصیحت سن کر ہی ہم اسی وقت فیصلہ دے سکتے تھے کہ یہ لوگ مسلمان ہیں یا غیر مسلم ہیں؟ مگر چونکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دینے سے پہلے آپ اس کو ضرور سماعت کر لیں اور اس کے عذرات سن لیں۔ یہی نیچرل جسٹس اور Good Conscience (روشن ضمیری)

٢٧

BLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

2852 محترمہ قائمقام چیئرمین: چوہد چوہدری جہانگیر علی: جی ہاں! میں بول محترمہ قائمقام چیئرمین: بولیں۔ (جناب چوہدری جہانگیر علی کا قومی آ چوہدری جہانگیر علی: جناب ڈپٹی چیئ کے سامنے درپیش ہے۔ یہ مذہبی اہمیت کا بھی حامل اس مسئلے نے ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے بعد اس ملک می ١٩٧٤ء کو جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب وزیر اع نے ملک وقوم کے مفاد کے پیش نظر اس مسئلے کو اس ایوا کے سامنے پیش کیا اور قومی اسمبلی نے خود فیصلہ کر کیا اور تقریباً دو ماہ ہوئے کہ اس مسئلہ کے اوپر اس ا بھی ہوئے اور جرح بھی ہوئی۔ میں واضح کرنے ک اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ کیا فریقین اپنے اپنے احمدی جماعت کے لیڈر اپنے کیس اس ایوان ک اختلاف یعنی غیر احمدی مسلمانوں کا کیس ناکام ک نہیں کر سکے؟ اور اپنے دعوے کی بھی صحیح طرح پر تر جناب ڈپٹی چیئرمین! مجھے ١٩٧٠ء کا اور قریہ قریہ اپنی پارٹی کا منشور بیان کرنے کے ل کے لئے ، ان میں سیاسی تدبر پیدا کرنے کے ل پر دیکھا کہ جناب بھٹو سے مذہب کے متعلق اکث 2853 سے استفسار کیا جاتا تھا۔ خود میرے شہر سرگو کہ یہ پوچھا تھا کہ مسئلہ ختم نبوت کے متعلق آ فرمایا تھا کہ جو آدمی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھت ہوں جس کا ختم نبوت کے اوپر اعتقاد ہے۔

صفحہ ٢٥٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

کا تقاضا ہے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! یہی وجہ ہے کہ قادیانی لیڈروں کو اپنا نقطۂ نظر اس اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ بلکہ انہوں نے خود اس کا مطالبہ کیا تھا کہ فیصلہ دینے سے پہلے ہمیں اسمبلی کے سامنے پیش ہو کر اپنی پوزیشن اور اپنا عقیدہ واضح کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کے بیانات پر جرح کے دوران میں نے کوشش کی کہ میں زیادہ سے زیادہ عرصہ کارروائی کے دوران حاضر رہوں اور میں نے یہ کوشش بھی کی کہ اگر وہ کوئی اس قسم کے دلائل پیش کر سکیں یا ثبوت دے سکیں کہ ان کا عقیدہ سچا ہے اور وہ مجھے قائل کر سکیں تو شاید میں ان کے عقیدے پر ایمان لے آؤں۔ اسی نظریہ سے میں نے ان کے تمام دلائل سنے۔ وہ شہادت جو اس اسمبلی کے ریکارڈ پر آئی ہے اگر میں اس کا آپ کے سامنے اور فاضل ممبران اسمبلی کے سامنے جائزہ لوں تو ہم یہ دیکھ لیں گے کہ کیا ان کا نظریہ اس قابل ہے کہ میں اس پر ایمان لے آتا، یا ان کا نظریہ اس قسم کا ہے کہ میں اس کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتا؟

(مرزا ناصر کا بیان تضادات کا مجموعہ)

2855 جناب ڈپٹی چیئرمین! ان تحریری بیانات کا جو انہوں نے داخل کئے ہیں اور اس مؤقف کا جو جرح میں ان سے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ملاحظہ کرنے کے بعد ہمیں ایک صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ نکات زیر غور لانے ہوں گے کہ گواہ کا Status (منصب) کیا ہے۔ آپ نے دیکھا ہے کہ وہ فارسی دان ہے۔ وہ عربی میں مولوی فاضل ہے۔ اس نے آکسفورڈ سے گریجوایشن کی اور وہیں سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان اور ہندوستان میں 1940ء سے لے کر 1965ء تک ایک کالج کا پرنسپل رہا۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! یہی نہیں بلکہ جس شخص کو یہ کہتے ہیں کہ وہ امتی یا تشریعی یا آخری نبی ہے۔ اس کا یہ پوتا ہے اور خلیفہ ثانی کا لڑکا ہے۔ یہ اس گواہ کا Status (منصب) ہے۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا اس گواہ نے اپنے Status (منصب) کے مطابق صحیح بیان دیا یا ہیرا پھیری کی ہے؟ اس نے جھوٹ بولا ہے یا اس نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے؟ اس نے سوالات سے کترانے کی کوشش کی ہے، اس کا رویہ اس ہاؤس میں Hostile (جارحانہ) رہا ہے یا نہیں؟ اس نے عدم تعاون کا ثبوت تو نہیں دیا یا حقائق کو چھپانے کی کوشش تو نہیں کی؟ کیا وہ اپنے کیس کو ثابت کرنے کے لئے اپنے مخالف دلائل کو رد کر سکا ہے؟ یا وہ اپنے کیس کو ثابت کرنے کے لئے دوسرے کے کیس کو جھوٹا ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے؟

٢٨

صفحہ ٢٥٧١

2571 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب ڈپٹی چیئرمین! میں چند نکات لے کر بیانات کی روشنی میں ان نکات پر اس گواہ کے کردار اور اس کے کریکٹر اور اس کے عقیدے کا آپ کے سامنے تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے میں یہ پوائنٹ لوں گا کہ اس نے اپنے خلیفہ ثالث منتخب ہونے کے متعلق اس ہاؤس میں کیا کہا؟ کیا یہ ایسے دلائل ہیں جن سے ہم تسلیم کر لیں کہ جس شخص کا (نبی کا) یہ تیسرا خلیفہ ہے وہ بھی برحق تھا اور یہ اس کا تیسرا خلیفہ بھی برحق ہے یا نہیں؟

جناب ڈپٹی چیئرمین! اگر ہم کسی غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دیں تو اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اسوۂ حسنہ، آپ ﷺ کی تعلیمات اس کے سامنے بیان کریں اور ان کو سپورٹ 2856 کرنے کے لئے آپ ﷺ کے خلفاء راشدین کے کردار کا، ان کی قربانیوں کا، ان کی راست بازی کا بھی ہم جائزہ لیں۔ جس شخص کے خلیفہ کا کردار شک وشبہ سے بالا تر ہو گا یقیناً اس کی نبوت بھی سچی اور واجب القبول ہوگی۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ خلفاء راشدین کے کردار نے آنحضرت ﷺ کی سیرت کو، آپ کی نبوت کو اور آپ کے کردار کو اپنے عمل سے، اپنے قول وفعل سے کس حد تک برحق اور سچا ثابت کرنے کی کوشش کی، کس حد تک بلند رکھا، کس حد تک سپورٹ کیا۔ اسی طرح ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس تیسرے خلیفہ نے اپنے نبی کے کردار کو کس حد تک سپورٹ کیا ہے۔ کیا اس کا کردار ایسا ہے جس سے ثابت ہو کہ یہ واقعی ایک نبی کا تیسرا خلیفہ ہے۔ اگر اس کا کردار ایک خلیفہ کے کردار کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ نبی بھی اس قابل نہیں ہے کہ ہم اس کو نبی تسلیم کریں؟

(ممبران کی لسٹ موجود نہیں؟)

اپنے انتخاب کے متعلق اس نے کہا ہے کہ مجھے جماعت احمدیہ نے انتخاب کے ذریعے اپنا امام بنایا ہے۔ مجھے الیکٹورل کالج کے ذریعے منتخب کیا گیا۔ اس کالج کے ممبران کی تعداد تقریباً پانچ سو ہے۔ اس میں تبلیغی مشن کے کچھ لوگ جماعت کے اندرونی مبلغین، ذمہ دار عہدیداران وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ ممبروں کو ضلع کی تنظیم نے نامزد کیا ہے اور جب ہم نے اس سے یہ پوچھا کہ کیا آپ کے الیکٹورل کالج کے ممبران کی کوئی آخری لسٹ آپ کے پاس ہے؟ تو اس نے کہا ہمارے پاس کوئی آخری لسٹ موجود نہیں ہے۔ اس نے کہا انتخاب بلا مقابلہ ہوتا ہے۔ اسے Contest نہیں کیا جاتا۔ کوئی دیگر شخص اپنا نام پیش نہیں کر سکتا۔ الیکشن کے قواعد ہمارے پاس نہیں ہیں۔ صرف روایات ہیں۔ خلیفہ کو سبکدوش کرنے کا کوئی طریقہ کار یا قاعدہ نہیں ہے۔ اسے

٢٩

LY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

کا تقاضا ہے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! یہی وجہ پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ بلکہ انہوں نے خو اسمبلی کے سامنے پیش ہو کر اپنی پوزیشن اور اپنا عق بیانات پر جرح کے دوران میں نے کوشش کی ک حاضر رہوں اور میں نے یہ کوشش بھی کی کہ اگر وہ سکیں کہ ان کا عقیدہ سچا ہے اور وہ مجھے قائل کر آؤں۔ اسی نظریہ سے میں نے ان کے تمام دلائل ہے اگر میں اس کا آپ کے سامنے اور فاضل ممبر گے کہ کیا ان کا نظریہ اس قابل ہے کہ میں اس پر اس کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتا؟

(مرزا ناصر کا بیان)

جناب ڈپٹی چیئرمین! ان تحریر 2855 موقف کا جو جرح میں ان سے حاصل کرنے کی کو صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ نکات زیر غور لانے ہو آپ نے دیکھا ہے کہ وہ فارسی دان ہے۔ وہ عرب گریجوایشن کی اور وہیں سے ایم اے کی ڈگری سے لے کر ١٩٦٥ء تک ایک کالج کا پرنسپل رہا۔ کہتے ہیں کہ وہ امتی یا ظلی نبی یا آخری نبی ہے۔ گواہ کا Status (منصب) ہے۔ اب ہم ی (منصب) کے مطابق صحیح بیان دیا یا ہیر پھیر کی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے؟ اس نے سوالات ہاؤس میں Hostile (جارحانہ) رہا ہے یا حقائق کو چھپانے کی کوشش تو نہیں کی؟ کیا وہ اپنے کو رد کر سکا ہے؟ یا وہ اپنے کیس کو ثابت کرنے می کامیاب رہا ہے؟

صفحہ ٢٥٧٢

2572 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ الیکٹورل کالج کے ممبران کے ذہن پر اللہ تعالیٰ کا اثر ہے۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کبھی ان کا خلیفہ بھی چاہے تو وہ بھی نبوت کا دعویٰ کر سکتا 2857 ہے) خلیفہ کو کوئی ذہنی یا جسمانی مرض لاحق نہیں ہو سکتا۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اب آپ دیکھ لیں کہ یہ عقیدہ کس حد تک صحیح ہے۔ ”کل نفس ذائقۃ الموت“ یہ ہمارا ایمان ہے اور ان کا خلیفہ ایسا ہے کہ شاید موت کا ذائقہ بھی ان کے عقیدہ کے مطابق نہ چکھتا ہو، تاوقتیکہ وہ خود ہی مرنا نہ چاہے۔ خلیفہ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ ایسی کوئی باڈی نہیں جو خلیفہ کے فیصلے کو Over-rule (رد) کر سکے۔ خلیفہ مجلس شوریٰ کے فیصلے میں ردو بدل نہیں کرتا۔ خلافت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔ اس سے استعفاء نہیں لیا جا سکتا۔ مرزا ناصر احمد کے اس بیان میں تضاد ہے۔ ایک طرف وہ کہتا ہے کہ خلافت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔ دوسری طرف وہ کہتا ہے کہ الیکٹورل کالج خلیفہ کو منتخب کرتا ہے۔ جس کی کوئی حتمی فہرست یا کوئی ریکارڈ ان کے پاس نہیں ہے۔

(مرزا قادیانی کی فیملی؟)

جناب ڈپٹی چیئرمین! ان کے نبی کی یعنی مرزا غلام احمد صاحب کی فیملی کے متعلق جب اس سے پوچھتے ہیں کہ مرزا صاحب کی فیملی کن اصحاب پر مشتمل ہے تو دیکھئے کہ وہ سچ کہتا ہے یا جھوٹ۔ اس کا استدلال قدرتی ہے یا بناوٹی ہے یا اس میں کسی دجل سے کام لیا جا رہا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب کی فیملی سے مراد ان کے صرف تین بیٹے ہیں۔ ان کی دیگر اولاد فیملی میں شامل نہیں۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! عام عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخص کے نطفے سے جتنے بھی افراد ہوں گے وہ اس کے افراد کنبہ ہوں گے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ کیا اس کی اولاد میں سے صرف تین ہی افراد ان کے نطفے سے تھے؟

(مرزا ناصر امیر المومنین؟)

اس کے بعد مرزا ناصر احمد گواہ، امیر المومنین ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور امیر المومنین کا جو وہ مطلب بیان کرتا ہے اب آپ یہ دیکھئے کہ کیا وہ ہمارا بھی امیر ہو سکتا ہے۔ کیا اس کی نظر میں کیا اس کے عقیدے کے لحاظ سے ہم بھی مومنین کہلانے کے مستحق ہیں یا نہیں؟ وہ کہتا ہے کہ ان لوگوں کا امیر جو ہمارے نظریئے سے متفق ہوں امیر المومنین کہلاتا ہے۔ اسکا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ ان 2858 کے نظریئے سے متفق نہیں ہیں وہ مومنین نہیں ہیں۔ مومن صرف وہ لوگ ہیں جو ان کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ گواہ نے وضاحت کی کہ میں تمام مسلمانوں کا امیر یا خلیفہ نہیں ہوں۔ اگر وہ اپنے آپ

٣٧٠

صفحہ ٢٥٧٣

2573 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

کو تمام مسلمانوں کا خلیفہ ثابت کرنا تو یقیناً ہم اس کو مان لیتے۔ بشرطیکہ اس کا ثبوت ناقابل تردید معیار کا ہوتا۔

اس نے مزید کہا ہے کہ ہماری جماعت کے اغراض و مقاصد حقیقی اسلام قائم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ سیاسی مفادات حاصل کرنا، سیاست میں حصہ لینا، سیاست سے فائدہ اٹھانا ہمارا نقطۂ نظر نہیں ہے۔ سیاست ہمارے اغراض و مقاصد میں شامل ہی نہیں ہے۔ آگے چل کر جناب ڈپٹی چیئرمین! میں آپ کو یہ بتاؤں گا کہ جب یہ مسلمان اور غیر مسلمان کی تعریف کرتے ہیں وہاں بھی سیاسی مسلمان اور غیر سیاسی مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ جب یہ کافر کی تعبیر کرتے ہیں تو اس میں بھی سیاسی کافر اور غیر سیاسی کافر کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

(قادیانی جماعت کی تعداد؟)

جماعت احمدیہ کی نفری یا تعداد کے متعلق جب ان سے پوچھا گیا تو آپ دیکھئے کہ ان کا کیا سٹینڈ ہے اور انہوں نے اپنا مؤقف کیا اختیار کیا ہوا ہے؟ جواب میں مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ اس کا کوئی ریکارڈ ان کے پاس نہیں ہے کہ پاکستان میں گزشتہ بیس سال سے کتنے احمدی Convert (تبدیل) ہوئے ہیں یا جماعت میں کتنے لوگ شامل ہوئے ہیں؟ ہم کوئی ایسا ریکارڈ نہیں رکھتے۔ جب پوچھا گیا کہ بیعت کے رجسٹر کی گنتی کی جاتی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس کا مجھے علم نہیں ہے۔ یہ گواہ امیر جماعت احمدیہ ہے۔ خلیفہ (ثالث) ہے اور امیر المؤمنین ہے اور اس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی جماعت کی کل نفری کتنی ہے۔ نہ اس نے ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ نہ اس کو یہ معلوم ہے کہ اس کا ریکارڈ موجود ہے یا نہیں ہے؟ پھر آگے چل کر پلٹتا ہے اور کہتا ہے 2859 کہ میرے اندازے کے مطابق پاکستان میں پینتیس، چالیس لاکھ احمدی ہیں۔ دنیا میں ایک کروڑ ہیں۔ مرزا غلام احمد صاحب کی وفات کے وقت چار لاکھ احمدی تھے۔ ١٩٥٤ء کی مردم شماری میں اگر تعداد چند ہزار درج ہے تو وہ غلط ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کبھی درست نہیں ہوتے۔ مجھے علم نہیں کہ منیر کمیشن کے سامنے جماعت احمدیہ میں سے کس نے جماعت کی تعداد دو لاکھ بتائی تھی؟ یہ تعداد غلط ہے۔ ”انسائیکلو پیڈیا آف اسلام“ میں بھی ہماری تعداد غلط تحریر ہے۔ اگر آپ کہیں کہ احمدیوں کی تعداد دو لاکھ ہے تو میں کسی دستاویز سے اس کی تردید نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر آپ کسی ریکارڈ یا سرکاری دستاویز سے ثابت کر دیں تو میں تردید نہیں کروں گا۔ کوئی حتمی مردم شماری نہیں کی گئی۔ اس لئے تعداد اندازے سے بتائی گئی ہے۔ اب تعداد پینتیس، چالیس لاکھ ہے۔ بوقت تقسیم ملک چار لاکھ تھی۔ اس وقت تیس پینتیس ہزار ہندوستان میں رہ گئے تھے۔

صفحہ ٢٥٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

(اسمبلی کے اختیارات کو چیلنج)

اس کے بعد گواہ اسمبلی کے اختیارات کو چیلنج کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اسمبلی کو کسی کو کافر قرار دینے کا اختیار نہیں ہے۔ میں اس کے بیان سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کروں گا کہ اس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس اسمبلی کو یہ تعین کرنے کا حق حاصل ہے کہ یہ اسمبلی جس نے اس ملک کا سرکاری مذہب اسلام قرار دیا ہے کسی فرقے کے متعلق یہ بھی فیصلہ دے سکتی ہے اور قانون اور دستور میں یہ ترمیم کر سکتی ہے کہ کون صحیح عقیدے کا مسلمان ہے اور کون نہیں ہے۔ اس نے اسمبلی کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی جرح میں کہا ہے کہ مذہبی آزادی ہر شخص کو ہونی چاہئے۔ میرا کہنا ہے کہ کوئی بے وقوف ہی اس کی تردید کرے گا۔ میں نے دستور کی دفعہ آٹھ اور بیس کے تحت اسمبلی کے اختیار کو چیلنج کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسمبلی جو کہ سپریم باڈی ہے ان دفعات کی ترمیم کر سکتی ہے۔ میں نے اپنے تحریری بیان یعنی محضر نامے میں یہ بات کہی ہے کہ صرف مسٹر بھٹو، مفتی محمود اور مولانا مودودی کو ہی نہیں بلکہ دستور ہر پاکستانی کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔ جب 2860 کوئی اپنے مذہب کا اعلان یا اقرار کرے تو کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس میں اعتراض یا مخالفت کرے۔ اگر کوئی دنیاوی فائدے اور لالچ کے لئے مذہب کا اعلان کرے تو قرآن پاک کہتا ہے کہ اس میں مداخلت نہ کی جائے۔ البتہ اگر کوئی دھوکہ دہی کے لئے مذہب کی آڑ لے تو میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ جو مسلمان نہیں، اسے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس لئے ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ چونکہ یہ غیر مسلم ہیں اس لئے ان کو مسلمانی کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ جب آپ ایک غیر احمدی کو کافر کہتے ہیں، اگر اسمبلی یہ قرار داد پاس کر دے کہ آپ دائرہ اسلام سے خارج ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟ اس کا وہ جواب دیتے ہیں کہ پھر جملہ غیر احمدی فرقوں کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اس اسمبلی کو یہ تو اختیار ہے کہ جملہ غیر احمدی فرقوں کو غیر مسلم قرار دے دے مگر اس اسمبلی کو یہ اختیار نہیں کہ ایک احمدی فرقے کو غیر مسلم قرار دے سکے۔ آگے چل کر پھر اس سوال کے جواب میں کہ مسلمان کون ہیں۔ اس نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے جسے مسلمان کہا ہے وہ مسلمان ہے اور اس میں وہ چار حدیثوں کا حوالہ دیتا ہے جو اس نے اپنے محضر نامے میں بیان کی ہیں۔ اس پر مفتی محمود صاحب کافی روشنی ڈال چکے ہیں۔

اب ان کو اقلیت قرار دیئے جانے یا نہ دیئے جانے کے موضوع پر اس کے بیانات کا آپ کے سامنے جائزہ لیتا ہوں۔ گواہ مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ اپنے فرقے کو اقلیت قرار دینے

صفحہ ٢٥٧٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

سے ہم مرزا صاحب کو روحانی پیشوا تصور کرنے میں اس طور پر پابندی محسوس کریں گے کہ اس سے ان لوگوں کی عزت نفس پر ہاتھ ڈالا جائے گا جو ہماری جماعت میں شامل ہوں گے، اگر آپ یہ کہیں کہ اقلیت قرار دینے سے مداخلت نہیں بلکہ ہمارا تحفظ ہوگا تو ہمیں ایسے تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔

2861 جناب ڈپٹی چیئرمین! ان کے خیالات ملاحظہ فرمائیں۔ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد ان کو غیر مسلم کہے تو ان کے حقوق میں مداخلت نہیں ہوتی۔ البتہ اگر حکومت ان کو غیر مسلم کہے تو مداخلت ہوتی ہے۔ گواہ کا مؤقف یہ ہے کہ ان تین احادیث کی رو سے جو محضرنامے میں درج ہیں کسی حکومت کو حق نہیں کہ کسی کو غیر مسلم قرار دے۔ اس نے کہا یہ درست ہے کہ جب میں یہ کہوں کہ مفتی محمود کو کوئی حق نہیں کہ ہمیں غیر مسلم کہے تو ہمیں بھی حق نہیں کہ ہم کہیں کہ مفتی محمود مسلمان نہیں ہیں۔

جناب ڈپٹی چیئرمین! امتی نبی کے متعلق مختصر سا جائزہ لیتے ہوئے اس گواہ کے خیالات اور بیانات کے میں آپ کے سامنے مختصر حوالے پیش کرتا ہوں۔ اپنے اس اعتقاد پر کہ مرزا صاحب امتی نبی ہیں۔ ان کی ربوہ والی جماعت کا اور نہ لاہوری جماعت کا موقف غیر متزلزل نہیں ہے۔ ان کے قدم ڈگمگاتے ہیں۔ کبھی ایک پوزیشن اختیار کرتے ہیں کبھی دوسری اور کبھی تیسری پوزیشن اختیار کرتے ہیں۔ بیانات اور جرح کے دوران ان کا سارا استدلال یہ رہا کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں۔ اگر آپ اس پر اعتراض کرتے ہیں، چلئے ہم ان کو مسیح موعود مان لیتے ہیں۔ اگر آپ مسیح موعود بھی نہیں مانتے تو ہم ان کو مہدی موعود مان لیتے ہیں اور اگر آپ ان کو مہدی موعود بھی نہیں تسلیم کرتے تو چلئے ان کو آنحضرت ﷺ کا ظل، ان کا سایہ کہہ لیں اور اس طرح وہ امتی نبی ہیں، بروزی نبی ہیں۔ ان کا یہ مؤقف بھی ان کے اپنے بیان سے منتشر ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امتی نبی وہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کے عشق اور محبت میں اپنی زندگی گزارے اور تسلیم کیا کہ یہ درست ہے کہ دوسرے فرقوں کے لوگ مرزا صاحب کو امتی نبی نہیں سمجھتے۔ ایک جگہ جا کر وہ یہ بھی تسلیم کر گئے ہیں، درست ہے کہ ان کی کتاب ”حقیقت النبوۃ“ (ص ١٨٣) میں درج ہے کہ مرزا صاحب امتی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔

2862 جناب ڈپٹی چیئرمین! آپ دیکھئے اگر وہ شخص آنحضرت ﷺ کے بعد حقیقی نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کے خلیفہ اس بات کا پرچار کریں تو یہ یقیناً اسلام کو نہ صرف مسخ کرنے والی بات ہے بلکہ وہ لوگ اس ملک کے اندر ایک نیا اسلام، ایک نیا نبی اور ایک نئی امت قائم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

٣٣

صفحہ ٢٥٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب ڈپٹی چیئرمین! سب سے بڑا پوائنٹ جو اس ہاؤس میں زیر بحث آیا۔ جس پر اٹارنی جنرل صاحب نے ان پر بہت زیادہ سوالات کئے۔ یہی ہے کہ کیا مرزا صاحب کو نبی نہ ماننے والا کافر ہے اور کیا غیر احمدی مسلمان ہے یا نہیں؟ اپنے بیانات میں مرزا ناصر احمد گواہ نے جو باتیں کہی ہیں وہ یہ ہیں: ”کفر کے لغوی معنی انکار کرنے والے کے ہیں۔ جو لوگ بانی سلسلہ احمدیہ کے منکر ہیں وہ کافر ہیں۔ لغوی معنوں میں اور اصلی معنوں میں کیا فرق ہے، وہ آپ یہاں دیکھیں کہ انہوں نے کیا حیرت انگیز فرق ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ منکر خدا تعالیٰ کے سامنے قابل مواخذہ ہے۔ کفر کے دو معنی ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔ دوسرے سیاسی کافر ہیں۔ ویسے یہ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ دیوبندی، اہل حدیث، بریلوی یہ سب کے سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ مسلمان نہیں، بلکہ سیاسی مسلمان ہیں۔ پھر ان سے سوال کیا گیا کافر کے معنی تمام لوگوں میں.....“

Madam Acting Chairman: May I request the honourable members to keep their tone low please. Thank you.

(قائمقام چیئرمین صاحبہ: میں معزز اراکین سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنی آواز کو مدھم رکھیں۔ شکریہ!)

(مرزا ناصر کا شرارتی جواب)

چوہدری جہانگیر علی: جناب ڈپٹی چیئرمین! جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا کافر کے معنی عام لوگوں کے نزدیک یہ نہیں کہ وہ غیر مسلم ہے تو آپ اندازہ لگائیں کہ وہ کس قسم کا کترانے والا اور کس قسم کا شرارتی جواب دیتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہ تو عام آدمی ہی بتا سکتا ہے کہ عام آدمی 2863 کے نزدیک اس کے کیا معنی ہیں۔ میں اس کے متعلق کیا جواب دے سکتا ہوں۔ گواہ نے مزید کہا کہ جسے ہم کافر کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے سامنے قابل مواخذہ ہے۔ ایک Sense میں وہ مسلمان ہے ایک Sense میں وہ کافر ہے جو قرآن کے مطابق تمام نبیوں پر ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان نہیں اور میرے نزدیک اس حد تک خارج از دائرہ اسلام ہے کہ آخرت میں قابل مواخذہ ہے جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ گنہگار اور کافر ہے۔ کلمہ طیبہ سے انکار ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ مرزا صاحب سے انکار ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔ دائرہ اسلام سے

٣٤

صفحہ ٢٥٧٧

2577 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

خارج کر دیتا ہے۔ جسٹس منیر نے ہماری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ کیونکہ وہ ہمارا موقف تسلیم کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ کسی عدالت یا کسی ٹربیونل کے فیصلے سے بچ نکلنے کا اور کترا جانے کا انہوں نے عجیب بہانہ تراشا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلاں اتھارٹی، فلاں جج، فلاں عدالت چونکہ ہمارا موقف تسلیم کرنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ اس لئے اس نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مرزا بشیر صاحب نے کہا ہے جو موسیٰ علیہ السلام کو مانے اور عیسیٰ علیہ السلام کو نہ مانے یا جو عیسیٰ علیہ السلام کو مانے، نبی کریم ﷺ کو نہ مانے وہ کافر، پکا کافر ہے تو اس کا جواب دیا کہ وہ سیاسی طور پر ایمان سے خارج ہے۔ وہ شخص جو عدم علم کی بناء پر مرزا صاحب کو نبی تسلیم نہ کرے ملت اسلامیہ سے خارج نہیں، گو دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اگر ان کے نبی ہونے کا علم رکھتا ہو اور پھر نہ مانے، وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہے۔ گواہ نے کہا کہ ہم ان دونوں قسم کے لوگوں کو رشتہ نہیں دیتے۔ قرآن پاک میں دائرہ اسلام کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ ملت اسلامیہ کا ذکر ہے۔ ہر وہ شخص جو ملت اسلامیہ کا فرد ہے وہ دائرہ اسلامیہ میں بھی ہے جو دائرہ اسلام میں نہیں ہے وہ ملت اسلامیہ کا بھی فرد نہیں ہے اس نے مزید بیان کیا کہ میرے نزدیک مرتد وہ ہے جو کہے کہ اسلام سے میرا تعلق نہیں رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اگر کوئی احمدی احمدیت ترک کردے تو وہ لغوی معنوں میں مرتد ہو گیا۔ قرآنی معنوں میں نہیں۔

2864 محترمہ قائمقام چیئر مین: آپ کتنا وقت لیں گے؟

چوہدری جہانگیر علی: جتنا وقت لے چکا ہوں اتنا اور لوں گا۔ میں ان کے بیانات کا جائزہ لے رہا ہوں اور یہ ایسی بات ہے جو اس سے پہلے اس ہاؤس میں زیر بحث نہیں آئی۔

اس نے یہ کہا کہ اگر کوئی مسلمان نیک نیتی سے غور کرے اور پھر مرزا صاحب کو نبی نہ مانے تو وہ گنہگار بمنزلہ کافر ہے۔ ”جو شخص مرزا صاحب کے دعویٰ کو اتمام حجت کے بعد بھی نبی نہیں مانتا آپ کے خیال میں وہ کس قسم کا کافر ہے؟“ اٹارنی جنرل صاحب کے اس سوال کا اس نے جواب دیا کہ ایسا شخص بالکل کافر ہے اور جب اٹارنی جنرل صاحب نے یہ پوچھا کہ یہ تمام اسمبلی ان کے تمام دعاوی کو آپ کی تمام دلیلوں کے سننے کے باوجود اگر یہ کہے کہ وہ نبی نہیں ہے تو ان ممبران اسمبلی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہوگا؟ تو اس کا جواب دینے سے وہ کترا گیا۔

(مرزا ناصر احمد کا چکر)

غیر احمدیوں کو رشتہ نہ دینے کے متعلق آپ اس کے استدلال سنیں۔ اس نے کہا

٣٥

BLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب ڈپٹی چیئر مین ! سب سے بڑا پر اٹارنی جنرل صاحب نے ان پر بہت زیادہ سوال ماننے والا کافر ہے اور کیا غیر احمدی مسلمان ہے یا نہی باتیں کہی ہیں وہ یہ ہیں: ”کفر کے لغوی معنی انکار کر کے منکر ہیں وہ کافر ہیں۔ لغوی معنوں میں اور اصلی کہ انہوں نے کیا حیرت انگیز فرق ڈالنے کی کوشش ہے۔ کفر کے دو معنی ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کے نزدیک ویسے یہ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت کا سیاست سے یہ سب کے سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ مگ ہیں۔ پھر ان سے سوال کیا گیا کافر کے معنی تمام لوگ airman: May I request the their tone low please. Thank

(قائمقام چیئر مین صاحبہ: میں م آواز کو مدہم رکھیں۔ شکریہ!)

(مرزا ناصر کا ش

چوہدری جہانگیر علی: جناب ڈپٹی چ کے معنی عام لوگوں کے نزدیک یہ نہیں کہ وہ غیر مسلم والا اور کس قسم کا شرارتی جواب دیتے ہیں۔ جواب 2863 کے نزدیک اس کے کیا معنی ہیں۔ میں اس کے کہ جسے ہم کافر کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے Sense میں وہ مسلمان ہے ایک Sense ایمان نہیں لاتا وہ مسلمان نہیں اور میرے نزدیک ا قابل مواخذہ ہے جو مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ گن سے خارج کر دیتا ہے۔ مرزا صاحب سے انکار مل

صفحہ ٢٥٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

مسلمان ایک وہ ہیں جو ملت اسلامیہ سے خارج ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ہم دونوں قسم کے مسلمانوں کو اپنی لڑکیوں کا رشتہ نہیں دیتے۔ اب آپ نے دیکھ لیا کہ عقیدے اور دین میں اور اپنے دعاوی کو ثابت کرنے میں اور ہمارے دعاوی کی تردید کرنے میں اس نے چکر ڈالنے کی کوشش کی۔ کہیں ایک چکر ڈالا، کہیں دوسرا چکر ڈالا، کہیں سیاسی چکر ڈالا، کہیں مومن کا چکر ڈالا ہے۔ کہیں مذہبی چکر ڈالا ہے، کہیں کافر کا چکر ڈالا ہے۔ وہ کہتا ہے ہم دونوں قسم کے مسلمانوں کو اپنی لڑکیوں کا رشتہ نہیں دیتے۔ پھر اس کی وجہ جواز دیکھئے! ایک مذہبی پیشوا ہے اور اپنے آپ کو ایک نبی کا تیسرا خلیفہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ یہ شرعی فتویٰ تو نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہمیں توقع نہیں ہے کہ غیر احمدی مسلمان احمدی بیوی کے حقوق پورے کرے گا۔ احمدی سے اگر غیر احمدی لڑکی کی شادی ہو تو ہمیں امید ہے کہ احمدی نوجوان 2865 ہماری توقع کے مطابق اپنی بیوی کے حقوق پورا کرے گا۔ یہ کتنی بودی دلیل ہے اور کتنا کمزور استدلال ہے۔ گواہ نے مزید کہا کہ مرزا بشیر الدین صاحب نے مسلمانوں سے رشتے ناطے کرنے کو اسی لئے ناجائز اور حرام کیا ہے کہ جو چیز فساد پیدا کرتی ہو وہ ناجائز اور حرام ہے۔ اس لئے وہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ہم غیر احمدیوں میں اپنی لڑکیوں کا رشتہ نہیں کرتے۔ یہاں بالکل جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لینے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ غیر احمدی کو کافر تصور کرتے ہیں۔ اس لئے اپنی لڑکیوں کے رشتے نہیں دیتے اور غیر احمدیوں کی لڑکیوں کے رشتے وہ اس لئے لے لیتے ہیں تاکہ اپنے عقیدہ کے مطابق انہیں اپنے فرقے میں شامل کر سکیں۔

غیر احمدیوں کی نماز جنازہ یہ لوگ کیوں نہیں پڑھتے؟ ان کی کتابوں میں جو کچھ تحریر ہے اس گواہ نے اس ہاؤس میں پیش ہو کر اس کا جواب پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ہم لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ تمام عالم اسلام کو اور ان بیانات کو اور اس شہادت کو پڑھنے والوں کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم غیر احمدیوں کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔ آپ دیکھئے اگر ایک عام فہم وفراست کا آدمی بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو ان کا یہ دعویٰ بالکل غلط اور جھوٹا ہے۔ اس نے کہا کہ تمام غیر احمدی فرقوں نے ہم کو کافر کہا ہے۔ اس لئے ہم غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ ہم نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ گو انہوں نے ہماری تکفیر نہیں کی تھی۔ مگر وہ شیعہ تھے اور شیعہ حضرات کے ہمارے خلاف کفر کے فتوے سن چکے تھے۔ مگر اپنی زندگی میں ان فتوؤں کو رد نہیں کیا تھا۔ ہم غیر احمدی بچوں کا جنازہ بھی اس لئے نہیں پڑھتے کہ ان کے والدین نے ہمارے خلاف کفر کے فتوے دیئے یا سنے اور انہیں رد نہیں کیا۔ البتہ وہ بچہ جو جوان ہو کر اپنے والدین

٣٦

صفحہ ٢٥٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 کے مذہب کو رد کردے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب سے منحرف ہو کر مرتد ہو جائے۔ پھر اس کا جنازہ پڑھ لیں گے۔ ویسے جنازہ نہ پڑھنا کوئی سزا نہیں ہے۔ یہ تو فرض کفایہ ہے۔ اگر 2866ملت میں سے بیس افراد یہ فرض ادا کردیں تو سب کی جانب سے یہ فرض ادا ہو جاتا ہے۔

(ٹال مٹول پر مبنی جوابات)

جناب ڈپٹی چیئرمین! اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر غیر احمدی مسلمان مرجائے تو فرض کفایہ صرف غیر احمدی مسلمان ہی ادا کریں گے تو اگر کوئی احمدی مرجائے تو اس کا یہ فرض کفایہ احمدی ادا کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا مذہب الگ ہے ہمارا مذہب الگ ہے۔ ان کا دین اور ہے ہمارا دین اور ہے۔ گواہ نے مزید کہا کہ لاہوری احمدیوں کی ہم نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ہمارے خلاف کفر کے فتوے نہیں دیئے تھے۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ مرزا بشیرالدین نے کیوں غیر احمدیوں کا جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے تو انہوں نے اس کا جواب دیا کہ میں مرزا بشیر الدین کے فتوے کی نہ تصدیق کرتا ہوں نہ تائید کرتا ہوں۔ جب تک مجھے اصل عبارت نہ دکھائی جائے۔ یہ شخص اپنے مذہب کا سب سے بڑا سکالر ہے اور اپنی کتابیں اسے ازبر یاد ہیں۔ آپ دیکھ لیں کہ وہ کس نیک نیتی سے جواب دے رہا ہے؟

کیا اس نے Evasive replies (ٹال مٹول پر مبنی جوابات) دیئے۔ کیا اس نے جان بوجھ کر ان سوالوں کا جواب دینے سے کترانے کی کوشش کی جو کہ اس کے کیس کے جڑوں میں بیٹھتے تھے، یا اس کے موقف کی بیخ کنی کرتے تھے۔ اس کے متعلق جو اس نے کہا ہے وہ ذرا ملاحظہ فرمائیے۔ اس نے کہا ہے کہ غیر احمدی بچے کے جنازے کے متعلق مرزا بشیر الدین نے جو کہا ہے میں نہ اس کی تصدیق کرتا ہوں نہ اس کی تائید کرتا ہوں۔ دوسری جگہ اس نے کہا کہ مجھے علم نہیں کہ تمام دنیا میں احمدیوں نے کسی غیر احمدی کی نماز جنازہ یا غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہو۔

پھر کہتا ہے کہ اگر کوئی احمدی احمدیت ترک کردے تو لغوی معنوں سے مرتد ہو گیا۔ قرآنی معنوں سے نہیں مرتد ہوا۔ پھر کہا کہ نہج المصلیٰ گو ہماری جماعت کی کتاب ہے۔ مگر ہمارے لئے اتھارٹی نہیں ہے۔ پھر کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہمارا کلمہ اور ہے اور غیر احمدیوں کا کلمہ اور ہے تو 2867ہمارا لا الہ اور ہے اور غیر احمدیوں کا لا الہ اور۔ اسی طرح ہمارا محمد رسول اللہ اور ہے دوسرے فرقوں کا محمد رسول اللہ اور ہے اور یہ اختلاف معنوی لحاظ سے ہے۔ (جب ہمارے اور ان کے کلمے میں معنوی لحاظ سے بھی اختلاف ہوا تو پھر جناب ڈپٹی چیئرمین! وہ کیسے ہمارے اسلام کا جزو ہو

BLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 مسلمان ایک وہ ہیں جو ملت اسلامیہ سے خارج ہیں ہیں۔ ہم دونوں قسم کے مسلمانوں کو اپنی لڑکیوں کا عقیدے اور دین میں اور اپنے دعاوی کو ثابت کر اس نے چکر ڈالنے کی کوشش کی۔ کہیں ایک چکر ڈال مومن کا چکر ڈالا ہے۔ کہیں مذہبی چکر ڈالا ہے، کہی کے مسلمانوں کو اپنی لڑکیوں کا رشتہ نہیں دیتے۔ پھر اپنے آپ کو ایک نبی کا تیسرا خلیفہ ہونے کا دعویٰ کر کہ یہ شرعی فتویٰ تو نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہمیں توقع حقوق پورے کرے گا۔ احمدی سے اگر غیر احمدی نوجوان 2865ہماری توقع کے مطابق اپنی بیوی کے کمزور استدلال ہے۔ گواہ نے مزید کہا کہ مرزا بشیر کرنے کو اسی لئے ناجائز اور حرام کیا ہے کہ جو چ لئے وہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ہم غیر احمدیوں میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لینے کی کوشش کی ہے ہیں۔ اس لئے اپنی لڑکیوں کے رشتے نہیں دیتے لے لیتے ہیں تاکہ اپنے عقیدہ کے مطابق انہیں ا

غیر احمدیوں کی نماز جنازہ یہ لوگ کیوں اس گواہ نے اس ہاؤس میں پیش ہو کر اس کا جواب کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ تمام عالم اسلام کو کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم غیر احمدیوں ایک عام فہم وفراست کا آدمی بھی اس بات کو تسلیم اور جھوٹا ہے۔ اس نے کہا کہ تمام غیر احمدی فرقوں جنازہ نہیں پڑھتے۔ ہم نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں وہ شیعہ تھے اور شیعہ حضرات کے ہمارے خلاف فتوؤں کو رد نہیں کیا تھا۔ ہم غیر احمدی بچوں کا جناز ہمارے خلاف کفر کے فتوے دیئے یا سنے اور انہیں

صفحہ ٢٥٨٠

2580 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

سکتے ہیں؟ وہ کیسے ہمارا عقیدہ رکھ سکتے ہیں؟) پھر اس نے کہا کہ اسی طرح دیگر ارکان اسلام میں بھی معنوی فرق ہے۔ دیگر ارکان اسلام میں کلمہ بھی ہے، نماز بھی ہے، زکوٰۃ بھی ہے۔ حج بھی ہے اور روزہ بھی۔ جب ان کے روزے کے معنی اور ہیں اور ہمارے روزے کے اور، جب ان کی زکوٰۃ کے معنی اور ہیں اور ہماری زکوٰۃ اور۔ جب ان کے حج کے معنی اور ہیں اور ہمارے حج کے اور، تو پھر یا وہ مسلمان نہیں ہیں، یا ہم نہیں، پھر دونوں فرقوں کا عقیدہ ایک نہیں ہوسکتا۔

مرزا غلام احمد نے کہا کہ: ”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

جب گواہ سے اس کا مطلب پوچھا تو اس نے کہا کہ: ”اس کا مطلب ہے کہ قرآن پاک کی امر و نہی کی اشاعت کی جائے، یعنی اس کی تجدید کی جائے۔“

تجدید اس کی ہوتی ہے جو اپنی اصل حقیقت، اپنی اصل حیثیت اور اپنا اصل اثر زائل کر دے۔ اگر ہمارا اسلام پرانا ہوگیا ہے، اگر ہمارا قرآن بوسیدہ ہوگیا ہے، اگر ہماری نبوت ہی بے اثر ہوگئی ہے تو جبھی تو ان کو اس کی تجدید کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اگر وہ ہمارے عقیدے کے مطابق ہمارے ایمان کو بھی برحق سمجھیں، ہمارے قرآن کو بھی برحق سمجھیں، ہمارے نبی کو بھی برحق سمجھیں تو جناب ڈپٹی چیئرمین! پھر اس ایمان کی یا اس قرآن کی یا اس اسلام کی تجدید کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔

(آنحضرت ﷺ کی اہانت) (معاذ اللہ)

اس کے بعد اور جگہ بھی اس نے ہیرا پھیری سے کام لیا ہے۔ وہ سنئے! اکمل کی نظم ۔

”غلام احمد کو دیکھئے قادیان میں“

اس کے متعلق جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ١٩٣٤ء میں اس کی تردید آ گئی تھی۔ ویسے اکمل ہمارے لئے اتھارٹی نہیں ہے اور جب یہ پوچھا گیا کہ کیا 2868 تردید آئی تھی؟ تو اس کا جواب دیا کہ وضاحتاً تردید میں کہا گیا ہے کہ اگر مرزا غلام احمد رتبے میں بڑے ہیں تو پھر تو غلط ہے اور اگر یہ خیال لیا جائے کہ اشاعت اسلام مرزا غلام احمد کے زمانے میں زیادہ ہوئی تو پھر معنوی لحاظ سے یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد (نعوذ باللہ، نعوذ باللہ) نبی اکرم ﷺ سے بہت بڑے تھے۔ نزول مسیح میں تحریر ہے کہ: ”اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام بھی عیسائی، یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

اس نے کہا کہ یہ بات تسلیم ہے ہم نے کہا کہ یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ مرزا صاحب نے تو نام نہیں رکھا۔ بلکہ رکھنے والے نے نام رکھا۔ جو حوالہ ”انوار اللغات“ ڈکشنری

٣٨

صفحہ ٢٥٨١

2581 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

سے پڑھ کر اس کو سنایا گیا تو اس نے کہا کہ میں اسے تسلیم نہیں کرتا۔ یہ معیاری لغت نہیں ہے اور دوسری جگہ وہ کہتے ہیں کہ: ”کل مسلمانوں نے مجھے تسلیم کر لیا ہے۔ مگر انہوں نے نہیں کیا جو کنجریوں کی اولاد ہیں۔“

مرزا ناصر احمد نے جواب دیا کہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ کل مسلمان مجھے تسلیم کرلیں گے۔ سوائے ان کے جو باغیوں، شرپسندوں کی اولاد ہیں۔ یہ فعل حال نہیں فعل مضارع ہے۔ اب اس نے اس چکر میں ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ یہ حال کے معنی دے گا یا ماضی کے یا مستقبل کے معنی دے گا۔ مرزا بشیر احمد کی تحریر کہ: ”کہیں کہیں میری تحریروں میں مسلمان کا لفظ بھی آیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں۔“

اس کو مرزا ناصر احمد نے تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ لفظی معنی تسلیم ہیں۔ مگر معنوی لحاظ سے اس کا یہ مطلب نہیں۔

”ولد الزنا“، ”ذریۃ البغایا“ کا ترجمہ اس نے کیا ہے کہ ولد الزنا نہیں بلکہ اس کا مطلب کچھ اور ہے۔ یعنی باغیوں کی اولاد ہے۔ الفضل مورخہ ٢٢ اگست ١٩٤٤ء میں جب اکمل کا قصیدہ دوبارہ چھپا جس کے متعلق انہوں نے کہا تھا کہ ١٩٣٤ء میں اس کی تردید ہو گئی اور تفصیل از قلم اکمل اور اس کی اصل نظم انصاری صاحب نے اس ہاؤس میں پڑھ کر سنائی تو مرزا ناصر کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! اگر گواہ سے یہ پوچھا جاتا کہ آپ کے ہاتھوں کے 2869 طوطے واقعی اڑ گئے تو وہ کہتا کہ میرے ہاتھوں میں تو طوطے نہیں تھے اور اس ایوان کی چھت میں لے اڑ کر وہ کہیں جاہی نہیں سکتے تھے۔ اس لئے ظاہر ہے کہ تو طوطے ہی نہیں تھے۔ یہ اس قسم کا استدلال ہے جو بالکل بودا اور بے معنی ہے۔

جب ہم نے یہ پوچھا کہ اگر آپ اپنا عقیدہ رکھنے کے باوجود بھی ملت اسلامیہ کے فرد رہ سکتے ہیں تو پھر آپ نے علیحدگی علیحدگی کی رٹ کیوں لگا رکھی ہے تو اس نے کہا کہ گونج اٹھتی میں کہا گیا ہے کہ غیر احمدیوں سے دینی امور میں الگ رہو۔ تاہم یہ کتاب ہماری جماعت کے لئے اتھارٹی نہیں ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب آپ اپنے آپ کو علیحدہ قوم جتلاتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے تو اس نے کہا کہ ہم علیحدہ قوم بھی ہیں۔ دوسروں میں رشتے ناتے نہیں کرتے۔ تاہم ہم دوسروں کا ذبیحہ کھاتے ہیں۔ وہ دوسروں کا ذبیحہ کھانے سے اگر ملت اسلامیہ میں اپنے آپ کو رکھ کر ہمارے مذہب میں بھی اپنی مداخلت جاری رکھنا چاہیں تو یہ بالکل غلط بات ہے۔ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم اہل کتاب کا ذبیحہ کھا لیتے ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب

٣٩

LY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

سکتے ہیں؟ وہ کیسے ہمارا عقیدہ رکھ سکتے ہیں؟) پچھ بھی معنوی فرق ہے۔ دیگر ارکان اسلام میں کلمہ پـ اور روزہ بھی۔ جب ان کے روزے کے معنی اور کے معنے اور ہیں اور ہماری زکوٰۃ اور ۔ جب ان پھر یا وہ مسلمان نہیں ہیں، یا ہم نہیں، پھر دونوں فر

مرزا غلام احمد نے کہا کہ: ”میری وحی

جب گواہ سے اس کا مطلب پوچھا پاک کی امر و نہی کی اشاعت کی جائے، یعنی اس

تجدید اس کی ہوتی ہے جو اپنی اصل دے۔ اگر ہمارا اسلام پرانا ہو گیا ہے، اگر ہمارا قہ ہوگئی ہے تو جبھی تو ان کو اس کی تجدید کرنے کی مطابق ہمارے ایمان کو بھی برحق سمجھیں، ہمار۔ سمجھیں تو جناب ڈپٹی چیئرمین! پھر اس ایماں ضرورت نہیں ہے۔

(آنحضرت ﷺ کـ

اس کے بعد اور جگہ بھی اس نے ہیرا

”غلام احمد کو ا

اس کے متعلق جب اس سے پوچھا تھی۔ ویسے اکمل ہمارے لئے اتھارٹی نہیں ہے کا جواب دیا کہ وضاحتاً تردید میں کہا گیا ہے کہ ا اور اگر یہ خیال لیا جائے کہ اشاعت اسلام مرزا سے یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد (نعوذ باللہ ثمر مسیح میں تحریر ہے کہ: ”اور جو میرے مخالف تھے ا

اس نے کہا کہ یہ بات تسلیم ہے ہم مرزا صاحب نے تو نام نہیں رکھا۔ بلکہ رکھنے وا

صفحہ ٢٥٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

نہیں کہ ہمارا ایمان بھی وہی ہے جو غیر مسلم اہل کتاب کا ایمان ہے۔ محترمہ قائمقام چیئرمین : چوہدری صاحب! پونہ گھنٹہ ہو گیا ہے۔ چوہدری جہانگیر علی : میں جلدی ختم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں بعض حوالے چھوڑ دوں گا۔

جب یہ سوال کیا گیا کہ مرزا بشیر الدین احمد نے کیوں کہا کہ جب مسیح ناصری نے اپنے پیروکاروں کو الگ کر دیا تھا۔ سو اگر مرزا صاحب نے بھی کر دیا تو کیا حرج ہے؟ جواب اس نے یہ دیا کہ اس سے مطلب یہ ہے کہ احمدیوں کو غیر احمدیوں کے اثر سے بچایا جائے اس لئے احمدیوں کو غیر احمدیوں کے اثر سے بچانے کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ ان کو غیر مسلم اقلیتی فرقہ قرار دے دیا جائے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یہ درست ہے کہ حقیقت النبوۃ میں مرزا صاحب کو امتی نبی 2870 نہیں بلکہ حقیقی نبی کہا گیا ہے۔ اس کے بعد علمائے کرام اور انبیاء علیہم السلام کی انہوں نے جو تکفیر کی ہے اور مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ بننے کی کوشش کی ہے اور جو دشنام طرازی کی ہے اس کے اوپر کافی بحث ہو چکی ہے اور اس میں مزید جانے کی ضرورت نہیں۔

(مسلمانوں سے ہر چیز الگ)

جناب ڈپٹی چیئرمین! میں یہ گزارش کروں گا کہ جب ان لوگوں نے مذہب کے علاوہ معاشرت میں بھی، سوسائٹی میں بھی اپنا ایک الگ خول بنالیا، جب وہ ہمارے معاشرے میں مل جل کر نہیں رہنا چاہتے، جب رشتے ناطے ہمارے ساتھ نہیں کرتے، جب وہ ہماری عبادت میں شریک نہیں ہوتے تو پھر ان کا ہمارے مذہب کے ساتھ منسلک رہنے کا کیا مطلب ہے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! جب انہوں نے اپنا عدالتی نظام الگ کر لیا، جب انہوں نے اپنی مسجد اقصیٰ الگ بنالی، جب انہوں نے اپنی جنت البقیع الگ بنالی، جب انہوں نے اپنا قصر خلافت الگ تعمیر کر لیا، تو پھر وہ کہاں کے مسلمان ہیں۔ ان کے فرقے کا پھر ہمارے فرقے سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! انہوں نے ایک متوازی گورنمنٹ بھی ربوہ کے اندر قائم کی ہوئی ہے۔ ربوہ شہر کو انہوں نے Closed City (بند شہر) بنایا ہوا ہے۔ دوسرے مسلمانوں کو وہاں کاروبار کرنے کی اجازت نہیں، نہ ملازمت کرنے کی اور نہ جائیداد حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ ان لوگوں نے اپنے طرز عمل، اپنے عقیدے اور اپنے سیاسی نظریات سے اپنے آپ کو خود ہم سے الگ ایک اقلیت قرار دے لیا ہے۔ اگر ان دونوں فرقوں کے اس اقدام کو ہم ایک آئینی اور قانونی شکل دے دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی ......

٤٠

صفحہ ٢٥٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

Madam Deputy Chairman: Try to conclude.

(محترمہ ڈپٹی چیئرمین: ختم کرنے کی کوشش کریں)

چوہدری جہانگیر علی: ...... اور قومی اسمبلی اپنے اختیارات سے قطعاً تجاوز نہیں کرے گی۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! کل چیئرمین صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ اپنی تقریر کے علاوہ فاضل 2871 ممبران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ یہ تجویز پیش کریں کہ اس کا حل ان کی نظر میں کیا ہے۔ مختلف قراردادیں اس ہاؤس میں پیش ہوئی ہیں۔ کسی قرارداد سے میرا اختلاف نہیں ہے۔ بنیادی اور اصولی طور پر تمام قراردادوں کی روح صرف ایک ہے۔ صرف ان کے فروعات میں یا تفاصیل میں جا کر کچھ تھوڑا سا فرق پڑ جاتا ہے۔ تو میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس قسم کا راستہ اختیار کرنا چاہئے جس سے نبی سازی کی بدعت کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع ہو جائے۔ چاہے کوئی قادیانی ہو، چاہے کوئی مرزائی ہو، چاہے کوئی لاہوری ہو، چاہے کوئی ربوی ہو اور چاہے کوئی آنے والا ایسا فریق ہو جو خدانخواستہ آنے والے کل کو اپنی ایک الگ نبوت کا اعلان کر دے۔ تو ان سب باتوں کا اس ایک فیصلے سے سد باب اور علاج کر دینا چاہئے۔ اگر آج ہم مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیتی فرقہ قرار دے دیتے ہیں تو اگر کل کو مرزا ناصر احمد نے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پھر ملک میں خون خرابہ ہوگا، پھر یہاں پر بحرانی صورت پیدا ہوگی۔ پھر یہ اسمبلی بیٹھے گی، مہینوں لاکھوں روپیہ اس بات پر صرف کر دے گی اور ازسرنو اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا آنے والا نبی اور اس کے پیروکار بھی مسلمان ہیں یا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اتمام حجت کر دینا چاہئے اور اس قسم کی گنجائش نہیں چھوڑنی چاہئے کہ آئندہ آنے والا کوئی فرضی جعلی نبی پھر اس قسم کا شوشہ دین اسلام میں چھوڑے۔ جناب ڈپٹی چیئرمین! قادیانی لاہوری اور ربوی فرقوں کے لوگ جس قسم کی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اس قسم کی نبوت کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے امت میں آنے والے سالوں میں اور صدیوں میں کم از کم تیس کذاب جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوں گے۔

آوازیں: تیس، تیس۔

چوہدری جہانگیر علی: تیس، میں تیس ہی کہہ رہا ہوں۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: یہ تو ہو گیا ہے۔

2872 چوہدری جہانگیر علی: میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ اگر ہم جائزہ لیں تو ابھی تک تو

٤١

صفحہ ٢٥٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

پندرہ بھی پیدا نہیں ہوئے اور اگر آنے والے زمانے میں پندرہ اور کذاب پیدا ہوں تو ہمیں آج ہی ان کا حتمی فیصلہ کر دینا چاہئے۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: جی شکریہ!

چوہدری جہانگیر علی: اس لئے میں گزارش کروں گا کہ میں یہ تجویز کرتا ہوں، جیسا کہ کل چیئرمین صاحب نے حکم دیا تھا۔ میں چھ منٹ اور لوں گا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: ایک گھنٹہ تو ہو گیا ہے۔

چوہدری جہانگیر علی: میں دستور میں ترمیم کی مندرجہ ذیل تجویز پیش کرتا ہوں:

"In order to determine the status of Quadianis, Ahmadis and those who are non- believers in the faith of Khatam-i-Nabuwwat, the Constitution be amended in the following manner, namely:

para 1, the words "of any kind" be added at the end of fifth line after the word Prophet."

(قادیانیوں، احمدیوں اور دوسرے لوگوں جو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، کی حیثیت کو متعین کرنے کے لئے آئین میں درج ذیل طریقے سے ترمیم کی جائے، یعنی:

کے آخر پر لفظ ”نبی“ کے بعد اضافہ کر دیا جائے)

اور میری اس ترمیم کے بعد اس کا مطلب یہ ہو جائے گا۔

"I.... do solemnly swear that I am a Muslim and believe in the Unity and Oneness of Almighty Allah, the Books of Allah, the Holy Quran being the last of them, the Prophethood of Muhammad (peace be upon him) as the last of the Prophets and that there can be no Prophet of any kind after him, the day of Judgement, and all the requirements

٤٢

صفحہ ٢٥٨٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

and teachings of the Holy Quran and Sunnah."

(میں....... سچے دل سے قسم اٹھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتا ہوں اور اللہ کی کتابوں پر، قرآن پاک کے آخری کتاب ہونے پر، حضرت محمد ﷺ کی نبوت پر، آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے پر اور اس پر کہ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قیامت کے دن پر، اور قرآن پاک اور سنت کی تمام تعلیمات اور ضروریات پر ایمان رکھتا ہوں)

اور اس کے بعد میری دوسری گزارش یہ ہے کہ :

existing clause may be numbered as clause (1) and the following be added as clause (2):

(٢...... دستور پاکستان کے آرٹیکل نمبر ٢ میں موجودہ شق کو شق نمبر ١ شمار کیا جائے اور مندرجہ ذیل کا شق نمبر ٢ کے طور پر اضافہ کیا جائے)

کلاز نمبر ١ یہ ہے :

"Islam shall be the State religion of Pakistan."

(اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہوگا)

اس کے بعد پھر یہ کہا جائے :

"A person who has a faith different from that laid down in the Third Schedule of this Constitution made for the oath of the President and the Prime Minister of Pakistan shall be, considered a non- Mulslim, and the rights and obligations of the non-Muslims shall be determined by law."

(ایک شخص جو دستور کے تیسرے شیڈول، جو پاکستان کے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے حلف کے لئے تشکیل دیا گیا ہے، میں درج عقیدے سے مختلف عقیدہ رکھتا ہے، غیر مسلم سمجھا جائے گا اور غیر مسلموں کے حقوق و فرائض قانون سے متعین ہوں گے)

اور تیسری بات یہ ہوگی کہ :

٤٣

صفحہ ٢٥٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

Islamic Republic of Pakistan, in the Sixth line, the word "and" be substituted by a comma, and the following be added between the words "Parsi" and "communities", "and other minorities."

”اور“ کی جگہ سکتہ (،) ڈال دیا جائے اور الفاظ ”پارسی“ اور ”گروہوں“ کے درمیان میں الفاظ ”اور دیگر گروہ“ کا اضافہ کر دیا جائے) ان خیالات کے ساتھ.......

----------

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

(اس موقع پر ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت کو چھوڑا اور چیئرمین (جناب صاحبزادہ فاروق علی) نے ان کی جگہ لی)

چوہدری جہانگیر علی : جناب سپیکر ! میں جناب چیئرمین صاحب کا جنہوں نے کمیٹی کی کارروائی کے دوران اس ہاؤس کے ڈیکورم کو بہت اچھی طرح سے نبھانے کی کوشش کی، اور

2874

جناب اٹارنی جنرل کا جنہوں نے اتنی اچھی طرح سے گواہوں کو اپنی گرفت میں رکھا کہ جو بات وہ بتانا نہیں چاہتے تھے وہ بھی ان سے اگلوا کر چھوڑی، مبارک باد پیش کرتا ہوں اور میں آخر میں پھر اپنے اس دعوے کو دھراتا ہوں کہ یہ فرقہ احمدیت قطعاً مسلمان نہیں ہے۔ اس کی دونوں جماعتوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے اور جیسا کہ میں نے دستور میں ترمیم کے متعلق ایک ریزولیوشن پیش کیا ہے۔ اس کو منظور فرمایا جائے اور غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کو، ان کے Rights and Obligations (حقوق و فرائض) کو متعین کرنے کے لئے ایک الگ مرکزی قانون بنایا جائے۔

جناب چیئرمین : شکریہ! مولانا ظفر احمد انصاری۔

٤٤

صفحہ ٢٥٨٧

2587 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

(جناب مولانا ظفر احمد انصاری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب والا! مجھے افسوس ہے کہ میرے بہت سے کاغذات کسی اور صاحب کے پاس رہ گئے اور میں جس طرح اس کو پیش کرنا چاہتا تھا۔ اس میں تھوڑی دشواری ہوگی۔ تاہم چونکہ سابقہ بیانات اور تقریروں میں بہت سی باتیں کافی حد تک واضح ہو گئی ہیں۔ خصوصاً جو مشترکہ بیان ہے۔ بہت سے آدمیوں کے دستخط سے، اس میں دینی پہلو اس مسئلے کا میرے نزدیک پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔ اگرچہ مجھے مصروفیت اور طبیعت کی خرابی کے باعث ایک ایک لفظ پڑھنے کا موقع یا اس کے حوالہ جات کو چیک کرنے کا موقع نہیں ملا تاہم یہ دینی حصہ میں نے دیکھا ہے، میرے خیال میں یہ کافی ہے۔ اب میں اس مسئلے کی نوعیت کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

(مرزا قادیانی کو اختیار ہے، مگر قومی اسمبلی کو نہیں؟)

محضر نامے میں دونوں طرف سے اس طرح کے سوال کئے گئے ہیں کہ کیا پاکستان کی نیشنل اسمبلی کو یہ اختیار ہے یا نہیں ہے۔ یہ نہایت اہانت آمیز اور اشتعال انگیز سوال ہے، خصوصاً ایسے لوگوں کی طرف سے کہ جن کے نزدیک ...... میں یہ الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا...... لیکن انگریزوں کا ایک خودکاشتہ پودا جو خود اقبالی طور پر انگریزوں کی مخبری کرتا رہا۔ ایک کچہری کا اہلمد، 2875 اس کو تو یہ اختیار ہے کہ وہ ٧٥ کروڑ آدمیوں کو کافر قرار دے دے، اس کے بیٹے کو یہ اختیار ہے کہ وہ دنیا کے ٧٥ کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دے دے، اور یہ چھ کروڑ مسلمانان پاکستان کی نمائندہ اسمبلی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اپنے رائے دہندگان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے قانونی شکل دے دے۔ میرے پاس، شاید اور ممبران کے پاس بھی بہت سے خطوط ایسے آئے ہوں گے۔ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ آپ اسمبلی کو دینی معاملات میں فیصلہ کرنے کا حق دیتے ہیں کہ کون مسلمان ہے، کون مسلمان نہیں ہے؟ کل وہ کہیں گے سود جائز ہے، نہیں ہے جائز۔ حالانکہ میرے نزدیک مسئلے کی نوعیت یہ نہیں ہے۔ میں بھی اسمبلی کو دارالافتاء کی حیثیت دینے کے لئے تیار نہیں ہوں اور نہ یہ اسمبلی ایسے ارکان پر مشتمل ہے کہ جنہیں فتویٰ دینے کا مجاز ٹھہرایا جائے۔ لیکن یہاں فتویٰ دینے کی بات نہیں ہے۔ ہمارے فتویٰ دینے نہ دینے سے اس مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اگر آج ہم کہہ دیں ہم آج کہہ رہے ہیں کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آج تک وہ غیر مسلم نہیں تھے، مسلمان تھے۔ پاکستان

٤٥

BLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

le 106 of the Constitution of the n, in the Sixth line, the word comma, and the following be arsi" and "communities", "and

(٣ ...... اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے "اور" کی جگہ سکتہ (،) ڈال دیا جائے اور الفاظ " "اور دیگر گروہ" کا اضافہ کر دیا جائے) ان خیالات کے ساتھ ......

----------

Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi s occupied by Mr. Chairman

----------

(اس موقع پر ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی کی جگہ چیئرمین (جناب صاحبزادہ فاروق علی) نے لے لی)

----------

چوہدری جہانگیر علی: جناب سپیکر! کی کارروائی کے دوران اس ہاؤس کے ڈیکورم کو 2874 جناب اٹارنی جنرل کا جنہوں نے اتنی اچھی بات وہ بتانا نہیں چاہتے تھے وہ بھی ان سے اگلوا میں پھر اپنے اس دعوے کو دھراتا ہوں کہ یہ فرقہ جماعتوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے اور جیسا کہ میں پیش کیا ہے۔ اس کو منظور فرمایا جائے اور غیر مسلم کے Rights and Obligations (حق متعین کر کے قانون بنایا جائے۔ جناب چیئرمین: شکریہ! مولانا ظ

صفحہ ٢٥٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

کے سارے مسلمان انہیں غیر مسلم سمجھتے رہے۔ وہ ہم کو غیر مسلم سمجھتے رہے اور عالم اسلام جیسے جیسے باخبر ہوتا جا رہا ہے وہ ان کو غیر مسلم سمجھ رہا ہے، اور یہ تو پہلے ہی دن سے سب کو غیر مسلم سمجھ رہے تھے۔ بات صرف اتنی ہے کہ عوام جس چیز کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے تھے۔ حالات نے اس کو اتنی اہمیت دے دی کہ وہ اپنے نمائندوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کو دستوری اور قانونی شکل دے دی جائے۔ صرف اتنی بات ہے۔ اپنے دستور میں، قرارداد مقاصد میں ہم نے یہ کہا کہ دنیا کی حاکمیت صرف اللہ وحدہ، کے لئے ہے تو ایسا نہیں ہے کہ ہم نے وہ حاکمیت دی ہے۔ نعوذ باللہ! وہ تو تھی ہی، لیکن ہم نے ایک نظریاتی مملکت کی حیثیت سے اسے مناسب سمجھا، ضروری سمجھا کہ ہم اس کو اپنے دستور میں بہت ہی نمایاں طور پر جگہ دیں۔ تو ہم یہاں کوئی فتویٰ 2876 دے رہے ہیں۔ بلکہ ایک مسلمہ اور ثابت شدہ حیثیت جو مسلمانان پاکستان اور مسلمانان عالم کے نزدیک بالکل معین ہے، قطعی ہے اور اس کا اس لئے قانونی اور دستوری طور پر اعتراف کرنا ہے اور وہ حالات نے اس لئے ناگزیر کر دیا ہے کہ رفتہ رفتہ پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ خود ملک کی سالمیت کو اور اس کے مفادات کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

اس مسئلے کا جو حل عام طور پر اس ہاؤس میں تمام لوگوں نے اور اس ریزولیوشن میں جس پر میرے بھی دستخط ہیں۔ ہم نے تجویز کیا ہے وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے..... جیسے یہ مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تاریخ میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں اس طرح کا مسئلہ اس ماحول میں کبھی عالم اسلام میں پیش نہیں آیا۔ یہ نہیں ہے کہ کذاب نہیں اٹھے۔ وہ تو شروع ہی سے آتے رہے ہیں۔ لیکن ہوا یہ کہ جیسے ہی اس طرح کا کوئی فتنہ نمودار ہوا اسے پنپنے نہیں دیا گیا۔ یہاں یہ صورت ہوئی کہ مسلمانوں کی عین بیچارگی اور محکومی کے زمانے میں انگریزوں نے یہ خودکاشتہ پودا لگایا۔ مسلمان اس پر قادر نہیں تھے کہ اس فتنے کو اسی وقت ختم کر سکتے۔ وہ اس کی آبیاری کرتے رہے اور یہ پودا بڑھتا رہا۔ پھلتا رہا، پھولتا رہا۔ پاکستان بننے کے بعد اس کی مسلسل کوشش رہیں، لیکن چونکہ انگریزوں کے زمانے میں وہ اس حد تک قابو یافتہ ہو چکے تھے اور پاکستان بننے کے بعد اس مملکت کو شاید ایک دن بھی چین سے رہنا نصیب نہیں ہوا۔ مسائل پہ مسائل آتے رہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں نے متعدد بار اس کی کوشش کی۔ اب یہ فتنہ اس طرح نمایاں ہو کر ابھرا ہے کہ بہرحال حل کرنا ہے۔ اس کا منفرد ہونا اس اعتبار سے کہ ویسے تو مسیلمہ کذاب کے وقت سے لے کر اور بڑے بڑے کذابین جو تھے ان میں پچھلے دور میں بھی پچھلی صدی میں انہی کے تقریباً ہم عصروں میں علی محمد باب اور بہاء اللہ بھی ابھرے۔ لیکن تھوڑے دنوں کے بعد انہوں نے اتنی

٤٦

صفحہ ٢٥٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 دیانتداری کا ثبوت دیا کہ وہ اپنے سارے خدائی کے، پیغمبری کے، سارے دعوے کرنے کے بعد انہوں نے یہ کہہ دیا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں۔ ان سے ایک طرح کا جھگڑا ختم ہو گیا۔ 2877 ہمارے یہاں یہ مصیبت ہے کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے قلعے میں نقب زنی کی کوشش کی جارہی ہے اور وہ مسلسل ہوتی جارہی ہے۔

تو اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور اس مسئلہ کا حل بھی جو ہم نے تجویز کیا ہے اور ہاؤس کا سنس (Sense) بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ وہ بھی اپنے اندر ایک انفرادیت رکھتا ہے۔ اگر اس میں کوئی غلطی ہے تو وہ فیاضی کی جانب غلطی ہے، رواداری کی جانب غلطی ہو سکتی ہے۔ کوئی ملت، کوئی قوم، کوئی امت اس کو برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کے نبی کا، اس کے پیشوا کا اس طرح استخفاف کیا جائے اور اس طرح کی تذلیل کی جائے، نعوذ باللہ! توہین کی جائے اور ایک ایسی مملکت جو کروڑوں انسانوں کی قربانی کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ اس میں وہ سرنگ لگاتے رہے، اس کو نیست و نابود کرنے کی فکر کرتے رہے اور ہم صرف یہ تجویز کریں کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ جس کا مطالبہ یہ خود کرتے رہے اور اپنے طرز عمل سے، جیسے ابھی میرے پہلے فاضل مقرر نے فرمایا ہے۔ وہ خود اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرتے رہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی چیز مشترک نہیں ہے۔ لیکن پھر کیوں یہ سیاسی حیثیت سے ایک یونٹ ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک توجیہہ علامہ اقبال نے اپنے معرکۃ الاراء مضمون میں یہ کی تھی کہ ابھی ان کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ یہ اپنے عزائم کو پورا کر سکیں۔ یہ ١٩٣٣ء کی بات ہے۔ ابھی ان کی اتنی تعداد نہیں کہ یہ اسمبلی میں ایک سیٹ حاصل کر سکیں۔ اس لئے یہ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں اور اس دوران میں رفتہ رفتہ..... انگریز کا مفاد تو تھا ہی کہ عالم اسلام کو پارہ پارہ کیا جائے۔ جیسے جیسے ہندوستان کی آزادی کی تحریک آگے بڑھتی گئی اور ہندوؤں اور مسلمانوں کی آویزش سامنے آتی گئی، ہندوں کا مفاد بھی اسی سے وابستہ ہو گیا کہ مسلمانوں کا ذہن اس مرکزیت کی طرف سے ہٹا دیا جائے اور یہاں جو ایک نیا کعبہ بن رہا ہے۔ نیا مکہ مدینہ بن رہا ہے۔ اس پر مرکوز کر دی جائے مسلمانوں کی نظر، تا کہ عرب سے، عالم اسلام سے، مکہ مدینہ سے، پوری 2878 برادری سے ان کا سلسلہ منقطع ہو جائے۔ چنانچہ جیسا کہ اس متفقہ جواب میں ڈاکٹر شنکر داس کا مضمون شائع ہوا ہے اور اس کو میں دھرانا نہیں چاہتا۔ لیکن اس کا ماحصل یہ ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کے دور میں وہ لکھا گیا تھا کہ یہاں مسلمانوں کو ٹھیک کرنے کی ایک ہی شکل ہے، اور وہ ٤٧

صفحہ ٢٥٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

یہ ہے کہ مرزائیت کو فروغ دیا جائے۔ جیسے جیسے اسے فروغ حاصل ہوگا، مسلمانوں کے اندر وہ بین الاسلامی اور بین الملی ذہنیت ختم ہوتی جائے گی اور وہ یہ تصور کرنے لگیں گے کہ ہمارا مکہ مدینہ، ہمارا کعبہ سب کچھ یہیں ہے، اور اسی رخ پر کام ہوتا رہا۔

اب صورتحال یہ ہے اور اس کا انہوں نے خود اعتراف کیا ہے، مرزا غلام احمد صاحب نے، اور یہ اقتباسات چونکہ آگئے ہیں اس لئے میں ان کو دہرانا نہیں چاہتا کہ: ”ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان“ اور غیر احمدیوں سے مراد غیر مسلم ہوتے ہیں ان کے ہاں، کوئی فروعی اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ ہمارا خدا، ہمارا رسول، ہمارا قرآن، ہماری نماز، ہمارا حج، ہر چیز جدا ہے۔ شادی، غمی، کسی چیز میں ہمیں شرکت نہیں کرنی ہے۔ یہ اقتباسات چونکہ بہت سے دوستوں کی تقریروں اور بیانات میں بھی آگئے ہیں اور سوال و جواب کے دوران میں بھی آگئے ہیں۔ اس لئے میں ان اقتباسات کو نہیں پڑھتا۔ تو یہ صورت چل رہی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کے بارے میں اللہ کا تصور تو بہر حال ہمارے ہاں جو ہے اس کے ہوتے ہوئے نہ کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں عین خدا ہو گیا اور میں نے قضا و قدر کے احکام پر دستخط کر دیئے۔ یا یہ کہ خدا مجھ سے ہے۔ میں خدا سے ہوں، میں خدا کا بیٹا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ بہت سی چیزیں ہیں۔ رسول کا جہاں تک تعلق ہے یہ اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر سلسلہ نبوت ختم ہوا۔ وحی منقطع ہو گئی۔ جبرائیل کا آنا ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔ لیکن انکے نزدیک جو رسول کا تصور ہے وہ ان تمام سوال و جواب کے دوران آچکا ہے اور اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسلمانوں کے تصور نبی اور تصور رسول سے۔ جہاں تک خدا کا تصور ہے سارے مذاہب اس میں مشترک ہیں۔ لیکن امت کی تشکیل ہوتی ہے نبی2879 کے گرد۔ جتنے نبی ہیں اتنی امتیں ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کی الگ امت ہے۔ مرزا غلام احمد کی ایک الگ امت ہے اور ایک عرصہ تک وہ اسے چھپاتے رہے۔ لیکن پھر انہوں نے اس کا اپنی تحریروں میں اظہار بھی شروع کر دیا کہ جو شخص اپنی امت کو کچھ قوانین دے، اوامر ونواہی دے، تو کئی اقتباسات ایسے ہیں جو اس میں شامل ہوچکے ہیں۔ جس میں انہوں نے اپنے آپ کو ایک الگ امت قرار دیا۔

اس طرح مسلک اور مکتب فکر کا اختلاف تو مسلمان امت میں ہے۔ لیکن جہاں تک دین کا تعلق ہے دین سب کے نزدیک ایک ہے اور وہ اسلام ہے اور قرآن کریم کی آیت کی رو سے ”ان الدین عند اللہ الاسلام“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین جو ہے وہ اسلام ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد صاحب کا دعویٰ ہے کہ جو وہ دین لے کر آئے ہیں۔ ”دین“ کا لفظ استعمال کیا...... جو

٤٨

صفحہ ٢٥٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 دین وہ لے کر آئے ہیں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اس کو فروغ دے گا۔ اس طرح قرآن کریم کے متعلق، دین کے متعلق، ان کا اقتباس یہ ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانے میں نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو فارسی النسل ہیں اس اہم کام کے لئے منتخب فرمایا۔ میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ زور آور حملہ آوروں سے تیری تائید کراؤں گا اور جو دین تو لے کر آیا ہے اسے تمام دیگر ادیان پر بذریعہ دلائل غالب کروں گا اور اس کا غلبہ دنیا کے آخر تک قائم رکھوں گا۔“ یہ تو دین ہے۔ پھر آگے فرماتے ہیں ۔ ”پہلا مسیح صرف مسیح تھا۔ اس لئے اس کی امت گمراہ ہو گئی اور موسوی سلسلے کا خاتمہ ہوا۔ اگر میں بھی صرف مسیح ہوتا تو ایسا ہی ہوتا۔ لیکن میں مہدی اور محمد ﷺ کا بروز بھی ہوں۔ اس لئے میری امت کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے وہ تباہ ہو جائیں گے اور دوسرے وہ جو مہدوی رنگ اختیار کریں گے۔“ تو گویا اس طرح کئی جگہ اپنے آپ کو ایک الگ امت قرار دیا ہے۔ ایک الگ دین، 2880 ایک الگ امت، خدا کا الگ تصور، رسول کا الگ تصور۔ قرآن کے بارے میں ان کے صاحبزادے جانشین میاں بشیر محمود صاحب فرماتے ہیں کہ ”نبی شرعی ہو یا غیر شرعی ایک ہی مقام پر ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو غیر شرعی کہتے ہیں تو اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ کوئی نیا حکم نہیں لایا۔ ورنہ کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا جو شریعت نہ لائے۔ ہاں بعض نئی شریعت لاتے ہیں اور بعض پہلی شریعت کو ہی دوبارہ لاتے ہیں اور شرعی نبی کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے کلام لائے اور رسول اللہ ﷺ تشریعی نبی ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ قرآن پہلے لائے اور حضرت مسیح موعود غیر تشریعی نبی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے..... اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ پہلے قرآن نہیں لائے۔ ورنہ قرآن تو آپ بھی لائے۔ اگر نہ لائے تھے تو خدا تعالیٰ نے کیوں کہا کہ اسے قرآن دے کر کھڑا کیا۔“

اس کے بعد ان پر جو وحی آتی تھی اسے ان کے پیروؤں نے ”کتاب المبین“ کے نام سے مدون کیا۔ جیسے کہ قرآنی آیات جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتی تھی اس کے مجموعے کا نام قرآن ہوا، اسی طرح سے جو آیات مرزا غلام احمد صاحب کے اوپر نازل ہوتی تھی ان کے مجموعے کا نام کتاب المبین ہوا۔ اب قرآن کے بعد حدیث کا درجہ ہے۔ حدیث کا درجہ ہمارے تمام

١؎ قادیانیوں نے اپنے خانہ زاد نبی مرزا قادیانی کی وحی کے مجموعہ کو ”تذکرہ“ کے نام سے شائع کیا اور اب بھی اسی نام سے متواتر شائع کر رہے ہیں۔ ٤٩

SEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 یہ ہے کہ مرزائیت کو فروغ دیا جائے۔ جیسے جیسے اسے فروغ الاسلامی اور بین الملی ذہنیت ختم ہوتی جائے گی اور وہ یہ ق کعبہ سب کچھ یہیں ہے، اور اسی رخ پر کام ہوتا رہا۔

اب صورتحال یہ ہے اور اس کا انہوں نے خود نے، اور یہ اقتباسات چونکہ آ گئے ہیں اس لئے میں غیر احمدیوں کے درمیان“ اور غیر احمدیوں سے مراد غیر اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ ہمارا خدا، ہمارا رسول، ہمارا قرآن شادی، غمی، کسی چیز میں ہمیں شرکت نہیں کرنی ہے۔ تقریروں اور بیانات میں بھی آ گئے ہیں اور سوال و جواب میں ان اقتباسات کو نہیں پڑھتا۔ تو یہ صورت چل رہی میں اللہ کا تصور تو بہرحال ہمارے ہاں جو ہے اس کے ہو خدا ہو گیا اور میں نے قضا و قدر کے احکام پر دستخط کرد ہوں، میں خدا کا بیٹا ہوں وغیرہ وغیرہ۔ بہت سی چیزیں متفقہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر سلسلہ نبوت ختم ہوا لئے بند ہو گیا۔ لیکن انکے نزدیک جو رسول کا تصور ہے وہ اور اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسلمانوں کے تصور نبی اور سارے مذاہب اس میں مشترک ہیں۔ لیکن امت کی تع امتی امتیں ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کی الگ امت ہے۔ م عرصہ تک وہ اسے چھپاتے رہے۔ لیکن پھر انہوں نے کہ جو شخص اپنی امت کو کچھ قوانین دے، اوامر و نواہی شامل ہو چکے ہیں۔ جس میں انہوں نے اپنے آپ کو ا

اس طرح مسلک اور مکتب فکر کا اختلاف دین کا تعلق ہے دین سب کے نزدیک ایک ہے اور سے ”ان الدین عند اللہ الاسلام“ اللہ تعالیٰ مرزا غلام احمد صاحب کا دعویٰ ہے کہ جو وہ دین لے کر ٤٨

صفحہ ٢٥٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

مسلمانوں کے نزدیک یہ ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سب سے زیادہ قوی حجت، سب سے زیادہ معتبر چیز حدیث ہے۔ مرزا غلام احمد کے نزدیک حدیث کا تصور یہ ہے۔ ”جو حدیث ان کی وحی سے نہ ٹکراتی ہو اس کو چاہیں تو وہ لے لیں اور اس کو صحیح قرار دے دیں اور جو ان کو نہ پسند ہو تو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔“ یہ ان کے الفاظ ہیں۔ یہ اقتباس میرے خیال میں آ چکا ہے۔ اس لئے میں اسے طوالت نہیں دینا چاہتا۔ وحی کے متعلق یہ صورت ہے دونوں جماعتیں قادیانیوں کی برابر مرزا صاحب پر جو کچھ بھی نازل ہوتا رہا اسے وحی کہتی رہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے 2881 کہ وحی رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی ہے۔ وحی ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ جس کے انگریزی ڈکشنریوں میں بھی معنی مل جاتے ہیں، عربی میں بھی مل جاتے ہیں اور وہ یہی ہے کہ اللہ کا وہ کلام جو وہ اپنے نبیوں پر نازل کرتا ہے تو وحی کا تصور بھی ہمارا اور ان کا مختلف ہے۔ صحابہؓ کی تعریف ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جن لوگوں نے حالت ایمان میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ان کے نزدیک یہ ہے کہ وہ لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے مرزا غلام احمد کو دیکھا۔ ہم ام المؤمنین صرف آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کو کہتے ہیں۔ وہ مرزا غلام احمد کی بیویوں کو بھی ام المؤمنین کہتے ہیں۔ جو ایک دل آزار قسم کی اہانت ہے مسلمانوں کے لئے جس کو برداشت کرنا مشکل ہے۔ اس کے بعد ہمارے عام مسلمانوں میں مسیح کا تصور اور ہے، مہدی کا تصور اور ہے۔ یہ دونوں الگ شخصیتیں ہیں۔ حضرت مسیح کے نزول کے وقت امام مہدی جو امت محمدی میں سے ہوں گے وہ پہلے نماز کی امامت کریں گے۔ لیکن یہاں انہوں نے دونوں حیثیتوں کو یکجا کر لیا ہے اور یہ ان کے ڈانڈے بابیوں سے مل جاتے ہیں۔ علی محمد باب نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ مجھ سے پہلے آنحضرت ﷺ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الگ شخصیتیں تھیں۔ میں ان دونوں کا جامع ہوں، تو اسی طرح سے یہ ہے۔ خیر، یہ تو سارے پیغمبروں کی حیثیات کا جامع ہیں اور رفتہ رفتہ پھر خود رسول اللہ ﷺ کے بروز بن کر کے اٹھے اس طرح اصحاب صفہ ہمارے ہاں مستقل اصطلاح ہے اور رسول اللہ ﷺ کے وہ جان نثار ساتھی جو شب و روز دین کی تبلیغ کے لئے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اور بھوکے پیاسے رہ کر دین کی خدمت کے لئے آپ کے پاس حاضر رہتے تھے۔ ان کے ہاں اصحاب صفہ وہ ہیں جو اس وقت قادیان میں مقیم ہیں۔ حج کے متعلق کافی کچھ آ چکا ہے کہ اب اللہ تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔ وہاں ظلی حج ہوتا رہے گا۔ درود کے متعلق سوال جواب کے دوران میں نے رسالے کی فوٹوسٹیٹ کاپی شامل کی۔ اس پر انہوں نے انکار کیا۔

٥٠

صفحہ ٢٥٩٣

2593 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

بہر حال یہ وہی درود 2882 نہیں ہے۔ بلکہ ابھی مرزا غلام احمد کی ”البشریٰ“ کے نام سے جو شائع ہوئی ہے اس میں بھی اور دوسرے بیانوں میں بھی وہ درود اس طرح ہے: ”اللہم محمد واحمد......“ بہر حال یہ انکار درود ہے۔

(قادیانیت ایک متوازی کیمپ)

پنچتن کے متعلق جو مسلمانوں کا تصور ہے وہ اس روز آچکا ہے۔ یہ بھی نہایت دل آزار اور اہانت آمیز تصور ہے جو انہوں نے تصور قائم کیا ہے۔ پنچتن کا تصور جو مسلمانوں میں ہے وہ حضور اکرم ﷺ اور ان کے اہل بیت پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے یہاں مرزا غلام احمد اور ان کے خاندان والوں کو مشتمل کیا ہے۔ اس طرح ایک ایک چیز میں اپنے آپ کو چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی ...... ہمارے نزدیک مسجد اقصیٰ وہ ہے جو دمشق میں ہے۔ ان کے نزدیک مسجد اقصیٰ یہاں آگئی ہے۔ ہمارے نزدیک وہ مقام کہ جہاں آدمی داخل ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن کا وعدہ ہے وہ مکہ مکرمہ میں ہے۔ ان کے نزدیک وہ چوبارہ ہے جہاں مرزا غلام احمد بیٹھ کر کے فکر کیا کرتے تھے اور تحریر کیا کرتے تھے۔ یعنی کہیں ان کے اور ہمارے ڈانڈے کسی تصور میں نہیں ملتے، نہ معاشرت میں، نہ معیشت میں، نہ عقائد میں، نہ دین کے تصور میں۔ یہ سب انہیں کی طرف سے ہوتا رہا۔ مختصر یہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں نبوت کا ایک متوازی کیمپ قائم کیا ہے، کیمپ کی حفاظت اور اس کے فروغ کی ذمہ داری انگریزوں نے لی اور وہ اس طرح کرتے رہے۔ ہمارے ہاں بہت سے لوگوں کے اندر بغیر مسئلے کو سوچے ہوئے ، اس کا مطالعہ کئے بغیر، بغیر متعلقہ مواد کے پڑھے ہوئے ایک تصور ذہن پر یہ غالب رہا کہ یہ فرقہ وارانہ بات ہے۔ یہ بات فرقہ وارانہ نہیں ہے۔ یہ دو الگ الگ مذہب، دو الگ الگ دین، دو الگ الگ امتیں، دو الگ الگ تمدن ہیں جن میں کہیں کوئی مماثلت سوائے اس کے نہیں پائی جاتی کہ اسلام 2883 کا لبادہ انہوں نے اوڑھ لیا ہے۔ اگر یہ نہ اوڑھتے تو لوگوں کو دھوکہ نہ دے سکتے تھے۔

(گلابی وعنابی)

اس ضمن میں میں یہ عرض بھی کردوں کہ وہ دوسری شاخ جو ان کی پھوٹی، وہ ظاہر ہے کہ گدی نشینی کے جھگڑے پر پھوٹی۔ جیسے علامہ اقبال نے کہا ہے کہ خواہ مصلحتاً یا جس بنا پر کیا ہو، انہوں نے ذرا اس کا رنگ ہلکا کر دیا اور گہرا عنابی کی بجائے ذرا گلابی رنگ کر دیا۔ تاکہ مسلمانوں کو دھوکہ ٥١

SEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

مسلمانوں کے نزدیک یہ ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں سے زیادہ معتبر چیز حدیث ہے۔ مرزا غلام احمد کے نزدیک کی وحی سے نہ ٹکراتی ہو اس کو چاہیں تو وہ لے لیں اور اس اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔“ یہ ان کے الفاظ ہے۔ اس لئے میں اسے طوالت نہیں دینا چاہتا۔ وحی قادیانیوں کی برابر مرزا صاحب پر جو کچھ بھی نازل ہوتا متفقہ عقیدہ ہے 2881 کہ وحی رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی انگریزی ڈکشنریوں میں بھی معنی مل جاتے ہیں، عربی میں وہ کلام جو وہ اپنے نبیوں پر نازل کرتا ہے تو وحی کا تصور بھی ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جن لوگوں نے حالت ایمان میں یہ ہے کہ وہ لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے مرزا غلام آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کو کہتے ہیں۔ وہ مرزا ہیں۔ جو ایک دل آزار قسم کی اہانت ہے مسلمانوں کے کے بعد ہمارے عام مسلمانوں میں مسیح کا تصور اور مہدی شخصیتیں ہیں۔ حضرت مسیح کے نزول کے وقت امام مہدی نماز کی امامت کریں گے۔ لیکن یہاں انہوں نے دو ڈانڈے بابیوں سے مل جاتے ہیں۔ علی محمد باب آنحضرت ﷺ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الگ شخصیتیں طرح سے یہ ہے۔ خیر، یہ تو سارے پیغمبروں کی حیثیت اللہ ﷺ کے بروز بن کر آئے اس طرح اصحاب رسول اللہ ﷺ کے وہ جان نثار ساتھی جو شب و روز دین اور بھوکے پیاسے رہ کر دین کی خدمت کے لئے آپ اصحاب صفہ وہ ہیں جو اس وقت قادیان میں مقیم ہیں اللہ تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے سوال جواب کے دوران میں نے رسالے کی فوٹوسٹیٹ ٥٠

صفحہ ٢٥٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

دینے میں آسانی ہو۔ ایک شخص کو مسلمانوں ایک شخص کے نام، اس کے کارنامے کو کسی نہ کسی درجے میں مقبول کرایا جائے۔ اس کے بعد پھر فضا تیار ہوتی رہی۔ اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں میں مرزا غلام احمد کی ساری تحریریں، حکیم نورالدین کی ساری تحریریں اس بات کے لئے ایک کھلا ہوا ثبوت ہیں۔ یعنی دنیا میں کوئی فاتر العقل ہوگا جو اس سے انکار کرے گا کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ مگر اتنی تحریریں ہیں کہ کسی تاویل اور کسی تشویش سے بھی اس سے مفر نہیں ہے۔ بعض وقت مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے انہوں نے یہ لکھا...... شاید یہ چیز Quote بھی کی ہے۔ محضر نامہ میں بھی اور اپنے جواب میں بھی...... مرزا صاحب نے یہ لکھ کر دیا تھا۔ اگر لوگوں کو نبی کے لفظ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جہاں جہاں میں نے نبی لکھا ہے اس کو کاٹ کر محدث بنادیا جائے۔ یہ تحریر ہے ان کی۔ اس کے تھوڑے دن کے بعد ایک اور تحریر ملتی ہے اور وہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت کفار مکہ نے کہا کہ ہم تو رسول اللہ ﷺ کو رسول نہیں مانتے۔ حضور ﷺ کے یہ جو نام کے ساتھ رسول اللہ ہے یہ کاٹ دیا جائے۔ خیر ! اس پر صحابہؓ کو غصہ آیا۔ لیکن حضور ﷺ نے فرمایا کوئی بات نہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا۔ تو یہاں سے مثال یہ لی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے اگر اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ آپ کی رسالت ختم ہو گئی۔ وہ حقیقت اپنی جگہ ہے۔ یعنی اگر کوئی محدث ہو اور نبی کا لفظ کاٹ دے، ان کے کہنے کے مطابق، تو بھی ان کی نبوت باقی رہے گی۔

(تبدیلی مذہب کا سوال نہیں)

2884 تو یہ دجل وفریب کا ایک ایسا جال ہے کہ جس سے ایک ایسا غیر طبعی مادہ ملت کے جسم کے اندر اسی (٨٠) ، نوے (٩٠) سال سے پرورش پا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اس ملت کو چین نصیب نہیں ہوا اور اب اس کے پنجے باہر بھی بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی حکومت کو، کسی اسمبلی کو، یہ حق نہیں ہے کہ وہ زبردستی کسی کا مذہب تبدیل کرائے۔ یہ باہر کے لئے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے نہایت مکروہ اور گھناؤنا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ یعنی کہیں یہ بات نہیں آئی کہ جبراً ان کا مذہب بدل دیا جائے۔ ان کے عقائد بدل دیئے جائیں۔ اس سے زیادہ فیاضی اور روادارانہ بات کیا ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تمہارے جو معتقدات ہیں تم ان کی رو سے مسلمان نہیں ہو۔ اگر تم مسلمان ہو تو ہم مسلمان نہیں ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو دستور میں یہ لکھ دیں کہ ہم سب کافر ہیں یا پھر ان کے لئے لکھنا ہوگا۔ اس میں تبدیلی مذہب کا سوال ہی نہیں ہے۔

٥٢

صفحہ ٢٥٩٥

2595 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

بلکہ دو الگ الگ امتیں ہیں، ان کا تعین کرنا ہے۔ یہ صرف پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے دنیا میں پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ قرآن کی آیت پیش کی جاتی ہے۔ ”لا اکراہ فی الدین“ کون جبر کر رہا ہے؟ اس سے زیادہ فضول قسم کا عقیدہ بھی کوئی رکھتا ہے؟

باقی مملکت پاکستان کا معاملہ ہے۔ ہر مملکت کو اپنی جغرافیائی حدود کے تحفظ کا پورا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ ہماری مملکت ایک نظریاتی مملکت ہے۔ ہمارا یہ حق ہی نہیں بلکہ فرض ہو جاتا ہے کہ اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کریں۔ اگر اس فرض میں کوئی کوتاہی کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملک کے ساتھ غداری کرتا ہے۔ لہٰذا اسلام کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اس کا نہ صرف اختیار ہے بلکہ یہ بنیادی فرائض میں ہے۔ اگر کوتاہی کرے تو وہ اپنے فرائض سے غداری برت رہا ہے۔

(قادیانیوں کی اجتماعی مسائل میں زیادتی)

اب ان کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے سلسلے میں مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کی 2885 انہوں نے بڑی لمبی چوڑی فہرست دی۔ میں نے نوٹ کی تھی۔ ١٨٩٣ء سے لے کر قیام پاکستان تک اور اس کے بعد تک مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کے لئے نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ شریک رہے۔ بلکہ دوسرے مسلمانوں کو اس پر ابھارتے رہے۔ یہ بنیادی طور پر بڑی غلط بیانی ہے۔ شاید اسی طرح کی غلط بیانی انہوں نے اپنی آبادی کے متعلق کی ہے، جو سوال و جواب میں پوری طرح واضح ہو چکی ہے۔

ان کا دور، ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء کی پیدائش ہے۔ غدر کے زمانے میں یہ تقریباً جوان ہوں گے یا جنگ آزادی کے ہنگاموں کے زمانوں میں جوان ہوں گے۔ اس کے بعد کے جو کارنامے ہیں وہ خود ان کی کتابوں سے روشن ہیں۔ اس کے بعد جب انہوں نے ہوش سنبھالا تو کچہری میں ملازمت کرلی۔ پھر کوئی اعلیٰ خدمت سپرد ہوئی۔ وہاں سے استعفیٰ دے کر آگئے اور عیسائیوں اور ہندوؤں کے خلاف مناظرے شروع ہو گئے۔ یہ انہوں نے کیوں کیا؟ اس سلسلے میں ان کی کتابوں سے اقتباس سوال و جواب میں آچکے۔ اور وہ میں نہیں دھراؤں گا۔ چونکہ جہاد کو حرام کرنا ہے۔ اس لئے ایسی کتابیں لکھی جائیں کہ مسلمانوں کا اشتعال ختم ہو اور ان کا ہمنوا بن کر اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں اور ان کے دل سے جہاد کا مسئلہ نکالا جائے۔

٥٣

BLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

دینے میں آسانی ہو۔ ایک شخص کو مسلمانوں میں ایک مجد میں مقبول کرایا جائے۔ اس کے بعد پھر فضا تیار ہو میں مرزا غلام احمد کی ساری تحریریں، حکیم نورالدین ثبوت ہیں۔ یعنی دنیا میں کوئی فاتر العقل ہوگا جو اس دعویٰ نہیں کیا۔ مگر اتنی تحریریں ہیں کہ کسی تاویل اور وقت مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے انہوں نے محضر نامہ میں بھی اور اپنے جواب میں بھی...... مرزا لفظ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو جہاں جہاں میں یہ تحریر ہے ان کی۔ اسی کے تھوڑے دن کے بعد آ وقت کفار مکہ نے کہا کہ ہم تو رسول اللہ ﷺ کو ساتھ رسول اللہ ہے یہ کاٹ دیا جائے۔ خیر! اس بات نہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کاٹ د نے اگر اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا ہے تو اس کا یہ مط حقیقت اپنی جگہ ہے۔ یعنی اگر کوئی محدث ہو اور بھی ان کی نبوت باقی رہے گی۔

(تبدیلی مذہب)

2884 تو یہ دجل و فریب کا ایک ایسا جا جسم کے اندر اسی (٨٠)، نوے (٩٠) سال ۔ چین نصیب نہیں ہوا اور اب اس کے بچے باہر آ ہے کہ کسی حکومت کو، کسی اسمبلی کو، یہ حق نہیں ہے کے لئے پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے نہای یہ بات نہیں آئی کہ جبرًا ان کا مذہب بدل دیا جا زیادہ فیاضی اور روادارانہ بات کیا ہو سکتی ہے۔ آ سے مسلمان نہیں ہو۔ اگر تم مسلمان ہو تو ہم مسلما دیں کہ ہم سب کافر ہیں یا پھر ان کے لئے لکھنا

صفحہ ٢٥٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

(مسئلہ جہاد پر قادیانی غلط بیانی)

پھر انہوں نے اس جسارت سے کام لیا کہ سوال و جواب کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ وہ زمانہ تھا کہ نہ مسلمان علماء نے جہاد کا فتویٰ دیا، نہ کسی مسلمان عالم نے جہاد کیا۔ یہ ایک ایسی غلط بیانی ہے جس پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک فتوے کا تعلق ہے، انگریزوں کے تسلط کے بعد سے اسی طرح کے فتوے بار بار علماء کی طرف سے آتے رہے۔ یہ صحیح ہے کہ یہ مسائل بعض بعض دفعہ نزاعی رہے ہیں کہ اب حالات و شرائط جہاد ہیں یا نہیں ہیں۔ اس میں رائیوں کا اختلاف ہوا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ نہیں شرائط پوری نہیں ہوئیں۔ بعض نے کہا کہ لڑائی کا وقت ہے۔ بعض نے کہا کہ وقت لڑائی کا نہیں ہے۔ 2886 ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم تھی۔ ان (مرزا) کی پیدائش کے زمانے میں جوانی کے زمانے میں بھی، ان کی وفات تک مسلسل جہاد ہوتا رہا۔ ان کی وفات کے بعد بھی جہاد جاری رہا۔ ان علماء کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے جہاد کیا اور جن کو کالا پانی بھیج دیا گیا۔ میں آپ کی اجازت سے چند نام پیش کرنا چاہتا ہوں۔

Mr. Chairman: Short break for ten minutes: we will meet at 12:15 pm.

(جناب چیئرمین: ١٠ منٹ کے لئے مختصر وقفہ۔ ہم بارہ بج کر پندرہ منٹ پر دوبارہ ملیں گے)

----------

[The Special Committee adjourned for ten minutes to re-assemble at 12:15 pm.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس ١٠ منٹ کے لئے ملتوی کر دیا گیا تا کہ دوپہر بارہ بج کر پندرہ منٹ پر دوبارہ شروع کیا جا سکے)

----------

[The Special Committee re-assembled after short break Mr. Speaker (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

(مختصر وقفے کے بعد خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔ جناب اسپیکر (صاحبزادہ فاروق علی صاحب) نے کرسی صدارت سنبھالی)

٥٤

صفحہ ٢٥٩٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 -------

جناب چیئرمین: مولانا محمد ظفر احمد انصاری!

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب والا! قبل اس کے کہ میں اپنی گزارشات شروع کروں، آپ سے ایک درخواست یہ ہے کہ مجھے یہ ڈر معلوم ہورہا ہے کہ میری بات بالکل ہی نامکمل رہے گی۔ میں بہت مختصر کر رہا ہوں کہ آپ گھنٹی بجادیں گے اور قصہ ختم ہوجائے گا۔

جناب چیئرمین: میں نے ابھی تک گھنٹی تو نہیں بجائی۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اگر آپ کوئی ایسی صورت کرسکیں کہ مجھے جس دن اٹارنی جنرل صاحب تقریر کریں گے اس روز کوئی آدھ گھنٹہ آپ دے دیں۔ ورنہ بات بالکل نامکمل رہ جائے گی۔ اس وقت بھی زیادہ ربط تو نہیں ہوسکتا۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے اٹارنی جنرل صاحب نے پرسوں اپنے Arguments Sum up (دلائل مکمل) کرنے ہیں۔ اس کے بعد اگر آپ مناسب سمجھیں کہ کوئی چیز رہ گئی ہے تو It is open for the members, they can again speak (اراکین اگر چاہیں تو دوبارہ بات کر سکتے ہیں) 2887 تو ٹھیک ہے، اٹارنی جنرل صاحب کے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ان سے گفتگو کرلیں۔ اگر وہ تھوڑا سا وقت پہلے دے دیں تو ٹھیک ہے۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، آج اٹارنی جنرل صاحب آجائیں گے۔ آپ ان سے کل Consult کرلیں تو پانچ تاریخ کو سہی۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں یہ عرض کر رہا تھا کہ کتنا غلط دعویٰ کیا گیا ہے۔

جناب چیئرمین: آپ آج اندازاً کتنی دیر لیں گے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ایک گھنٹہ تو دے دیجئے۔

جناب چیئرمین: ایک گھنٹہ۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: مطلب یہ ہے کہ یا تو پھر یہ اجازت ہو کہ میں تحریری طور پر اسے......

جناب چیئرمین: تحریری طور پر بھی آپ دے دیں۔ وہ اگر آپ کل دے دیں گے تو وہ ہم سائیکلو سٹائل کراکے ممبروں میں سرکولیٹ کرادیں گے۔

٥٥

PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 -------

(مسئلہ جہا

پھر انہوں نے اس جسارت

یہ وہ زمانہ تھا کہ نہ مسلمان علماء نے جہاد کا ا بیانی ہے جس پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ : سے اسی طرح کے فتوے بار بار علماء کی طر دفعہ نزاعی رہے ہیں کہ اب حالات و شرائ بعض لوگوں نے کہا کہ نہیں شرائط پوری نہی 2886 کہا کہ وقت لڑائی کا نہیں ہے۔ اپنے زمانے میں جوانی کے زمانے میں بھی ، ا بعد بھی جہاد جاری رہا۔ ان علماء کی ایک ط دیا گیا۔ میں آپ کی اجازت سے چند نا

reak for ten minutes: we

(جناب چیئرمین: ١٠: دوبارہ ملیں گے)

journed for ten minutes

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس ١٠: منٹ پر دوبارہ شروع کیا جاسکے)

-assembled after short oq Ali) in the Chair.]

(مختصر وقفے کے بعد خص (صاحبزادہ فاروق علی صاحب) نے کر

صفحہ ٢٥٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب محمد حنیف خان: اگر یہ تحریری طور پر دے دیں تو ان کی وہ تحریر ایک تو علم پر مبنی ہوگی۔ دوسرے ہم بھی جن کا علم کوتاہ ہے۔ کم ہے، دو، چار جملے کہنے کے قابل ہو جائیں گے۔

Mr. Chairman: He was almost neck deep in it; he knows this subject much more than any body else.

(وہ پوری گہرائی کے ساتھ اس مسئلے میں تھے۔ وہ اس موضوع کو کسی اور کی نسبت بہت زیادہ جانتے ہیں)

جناب محمد حنیف خان: میں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ جس طرح آپ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ تحریری طور پر دے دیں تو وہ لوگ جن کا علم اس مسئلے میں کم ہے۔ وہ بھی وہ 2888 پڑھ کر اپنے کچھ Views اس کی تائید میں کہہ دیں گے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو اس میں تو کچھ وقت لگے گا۔

جناب چیئرمین: پانچ تاریخ تک دے دیں۔ اگر آپ ہمیں کل دے دیں تو ہم پرسوں سائیکلو سٹائل کرا کے ممبروں میں جمعہ کی صبح کو تقسیم کرادیں گے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جتنا میں کہہ سکوں گا کہہ دوں گا اور اس کے بعد جو رہ جائے گا وہ تحریری طور پر دے دوں گا۔

Mr. Chairman: Prince (Mian Gul Aurangzeb), I would like to have your views also after Maulana has finished.

(جناب چیئرمین: پرنس (میاں گل اورنگزیب) میں چاہوں گا کہ مولانا کی بات ختم ہونے پر آپ بھی اپنے خیالات پیش کریں)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو اس کی معذرت کرتے ہوئے کہ شاید اب میری تقریر میں بہت ربط نہیں رہے گا۔ کوشش کروں گا کہ جو زیادہ اہم چیزیں ہیں وہ آجائیں۔

(مسئلہ جہاد اور مرزا صاحب)

تو علماء کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ یہ وہ دور تھا کہ علماء نہ جہاد کا فتویٰ دیتے تھے اور نہ علماء جہاد کرتے تھے اور یہی روش انہوں نے اختیار کی۔ میں اس میں صرف چند مثالیں دوں گا۔ آپ کو ١٨٥٧ء میں مسلمانوں پر جو افتاد پڑی اور جس طرح مسلمانوں کی سیاسی قوت پارہ پارہ

٥٦

صفحہ ٥٧

2599 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ہوئی اور اس سے جو یاس اور محرومی کی کیفیت پیدا ہوئی، اس کے باوجود ایسے جاندار لوگ موجود تھے جنہوں نے جہاد کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا، فتوے دیتے رہے اور بنگال سے لے کر آسام سے لے کر صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کی آخری حدوں تک کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں یہ کام نہ ہو رہا ہو، اور انہوں نے نہایت ہوشیاری سے اس کام کو کیا۔ اس زمانے میں انگریزوں نے نیل کے کارخانے قائم کئے تھے۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ جہاد کا قصہ ہی ختم ہو گیا تھا۔ اس زمانے میں مسلمانوں نے نہایت ہوشیاری سے انگریزوں کو یہ یقین دلایا کہ جہاد جو ہے وہ اسی طرح ہمارا ایک 2889 فریضہ ہے جس طرح روزہ، نماز، جمعہ پڑھنا وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا جہاد کے لئے ہمیں سرکاری طور پر چھٹی دی جایا کرے۔ تو نیل کے کارخانوں سے انہیں چھٹی ملتی تھی اور وہ اس وقت سکھوں سے جہاد کر رہے تھے۔ پیش نظر یہ تھا کہ ایک علاقہ قبضے میں آ جائے اور اب تمام تحریریں شائع ہو گئی ہیں۔ وہ خطوط اس زمانے کے شائع ہو گئے ہیں۔ جس سے پوری طرح یہ بات ثابت ہے کہ حضرت سید احمد شہید، اور دوسرے علماء، ان کا پروگرام یہ تھا کہ پہلے اس علاقے کو جو مسلم اکثریت کا علاقہ تھا۔ اس میں مسلم حکومت قائم کر لیں۔ تو پھر انگریزوں سے نمٹیں گے۔ تو انگریز انہیں نیل کے کارخانوں سے چھٹی دیا کرتے تھے۔ گویا جہاد کے قصے کو عوام تک پہنچا دیا تھا نہ کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ اس زمانے میں جہاد کا نام نہیں لیا جا رہا تھا۔ اس میں ہر مکتب خیال کے علماء تھے۔ جس زمانے میں مرزا غلام احمد، بقول اپنے مخبری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ زمانہ تھا کہ حضرت سید احمد صاحب شہید کے ماننے والے پیروکار منتشر ہو گئے تھے۔ انہوں نے پٹنہ میں پھر اپنا مرکز بنایا تھا۔ مسلسل مقدمات چلتے رہے۔ ایذائیں دی جاتی رہیں۔ یہاں تک کہ آخر میں صادق پور کا پورے کا پورا محلہ جو کہ ان کی حویلی میں تھا۔ اسے گرا کر وہاں ہل چلوائے گئے۔ تاکہ بہت سے زمانوں تک یہاں کسی بستی کا نام و نشان نہ رہے۔ جو لوگ تھے ان کو یا تو پھانسیاں دی گئیں یا کالے پانی بھیج دیا گیا۔ ان کے خاندان اور افراد کے نام برٹش گورنمنٹ کے ریکارڈ میں قیام پاکستان تک لکھے جاتے تھے۔ ان کی اولاد در اولاد کے نام۔ اس طرح وہی زمانہ تھا جب مولانا فضل حق خیر آبادی صاحب، مفتی صدر الدین صاحب، مولانا عنایت احمد صاحب رام پوری، ان تمام کے فتاویٰ شائع شدہ موجود ہیں۔ سرحد میں مولانا عبدالغفور اخوند، انہوں نے جہاد کا اعلان کیا۔ اس کے بعد مولانا عبداللہ ان کی جگہ آئے۔ ان کا ١٩٠٢ء میں انتقال ہوا۔ پھر مولانا عبدالکریم ١٩١٥ء تک وہ رہے ہیں۔ اس کے بعد مولانا عبدالرحیم، استھانہ اور چمرکنڈ 2890 وغیرہ میں ان کے مراکز قائم رہے اور بار بار انگریزوں سے نبرد آزما ہوتے رہے۔ بنگالی حاجی شریعت اللہ تتومیر، یہ

LY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب محمد حنیف خان: اگر یہ تحریری ہوگی۔ دوسرے ہم بھی جن کا علم کوتاہ ہے۔ کم ہے was almost neck deep in it; he than any body else. (وہ پوری گہرائی کے ساتھ اس مسئلے زیادہ جانتے ہیں) جناب محمد حنیف خان: میں نے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ تحریری طور پر دے وہ بھی وہ 2888 پڑھ کر اپنے کچھ Views اس کی مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو اس جناب چیئرمین: پانچ تاریخ تک پرسوں سائیکلو سٹائل کرا کے ممبروں میں چھ کی صبح کو مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جتنا جائے گا وہ تحریری طور پر دے دوں گا۔ nce (Mian Gul Aurangzeb), I ws also after Maulana has

(جناب چیئرمین: پرنس (میاں ہونے پر آپ بھی اپنے خیالات پیش کریں) مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو تقریر میں بہت ربط نہیں رہے گا۔ کوشش کروں گا (مسئلہ جہاد او تو علماء کے متعلق انہوں نے لکھا ہے نہ علماء جہاد کرتے تھے اور یہی روش انہوں نے ا آپ کو ١٨٥٧ء میں مسلمانوں پر جو افتاد پڑی

صفحہ ٢٦٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

نام اب تک وہاں کے بچوں کی زبان پر جاری ہیں۔ ریشمی رومال کا قصہ، ترکوں سے مل کر ہندوستان کو انگریزوں کی لعنت سے پاک کرنے کا قصہ، وہ مولانا عبیداللہ سندھی صاحب، شیخ الہند محمود الحسن صاحب، سب لوگ اس فہرست میں آتے ہیں۔ یعنی پورا دور ایسا ہے کہ کسی میں جہاد نہ کرنے کی کمی نہیں ہے اور مرزا صاحب یہ کہتے تھے۔ انہوں نے مخبری میں ایک پہچان بنائی تھی کہ جو لوگ یہاں دارالحرب یعنی انگریزوں کے خلاف لڑائی کرنا چاہتے ہیں جہاد کرنا چاہتے ہیں وہ جمعہ اور عیدین کی نماز کو جائز نہیں سمجھتے۔ لیکن پتہ لگاتے تھے کہ کون کون سے علماء ہیں، کون کون سے لوگ ہیں جو جمعہ دارالحرب ہونے کی وجہ سے نہیں پڑھتے۔ اس طرح وہ ان کی مخبری کا کام کرتے تھے۔ چونکہ وہاں پر پہلے نہیں آیا، میں اس کا اقتباس پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا۔ یعنی کسی معاشرے میں یہ تصور نہیں کیا جاتا کہ اس معاشرے میں کوئی شریف انسان اس حالت میں جب کہ قوم غیروں کے پنجہ استعمار میں گرفتار ہو تو کوئی شخص مخبری کرے اور قوم میں اس کا کوئی وقار ہو۔ نہ کہ مجدد، مصلح، پیغمبر، خدا جانے کیا کیا کہا گیا۔

(مرزا قادیانی انگریزوں کا بڑا جاسوس)

اب یہ (تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧) سے ایک اقتباس سناتا ہوں۔ یہ مرزا غلام احمد کا بیان ہے: ”چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریز کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں...... لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا۔ تا اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں۔ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے...... مسلمانوں میں ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں جن کے نہایت مخفی ارادے 2891 گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں۔ (یعنی ان کے نام ریکارڈ کئے جائیں) جو اپنے عقائد سے مفسدانہ حالتوں کو ثابت کرتے ہیں...... لیکن ہم گورنمنٹ کو باادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے۔ جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرلے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ، حکیم مزاج کی طرح ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔“

گویا چیف انفارمر کے فرائض جو انجام دے رہے تھے یہ انکا کارنامہ تھا اور یہ اس وقت جب مسلمانوں کی بڑی تعداد کالے پانی جا رہی تھی یا پھانسیوں کے تختوں پر جھول رہے تھے۔

٥٨

صفحہ ٢٦٠١

2601 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

انہوں نے یہ بھی لمبی فہرست دی ہے کہ ١٨٩٣ء سے لے کر قیام پاکستان تک وہ مسلمانوں کے ہر درد و دکھ میں نہ صرف شریک رہے بلکہ پیش پیش رہے۔ ١٨٩٣ء میں مرزا صاحب کی عمر کافی ہو گئی تھی۔ لیکن اس کے متعلق جو کچھ کام رہا وہاں اس میں ان کی شرکت کی بات یہ ہے کہ جو مصیبتیں اس ملک میں مسلمانوں پر آئیں، یعنی جہاد کے سلسلے میں وہ اپنی جگہ ہیں یہ خود سوال ہی نہیں تھا۔ تاہم ان کا اس میں کام صرف مخبری کرنا تھا۔ یا انگریزوں کو سپاہی مہیا کرنا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ جو تعمیری کام ہوا، مثلاً علی گڑھ قائم ہوا۔ دوسرے مدارس قائم ہوئے۔ انجمن حمایت اسلام لاہور قائم ہوئی۔ اس کے متعلق مجھے مجبوراً اقتباس سے گریز کرنا پڑے گا۔ اس میں انہوں نے کہا کہ سرسید نے بڑی جان توڑ کوشش کی اور کہا کہ ایک روپیہ دے دو چندہ۔ انہوں نے کہا کہ نہ، یہ نہیں ہو سکتا۔ مرزا بشیر الدین نے لکھا ہے کہ آپ کیوں ...... یعنی اس میں انہوں نے لکھا، اپنی جماعت کے لوگوں کو کہا کہ آپ دوسروں میں کیوں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مرزا صاحب کا ہمیشہ یہی 2892 معمول رہا ہے کہ وہ لوگ کسی نام سے آئیں، نہ کسی دوسری انجمن کے ممبر بنیں۔

(مرزا قادیانی کو صاحب نہ کہیں)

خواجہ جمال محمد کوریجہ: جناب چیئرمین! انصاری صاحب بار بار مرزا کو مرزا صاحب کے نام سے پکار رہے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ ان کو مرزا صاحب کے نام سے نہ پکارا جائے۔

جناب چیئرمین: جب آپ کی باری آئے تو آپ جیسے چاہیں پکاریں۔

خواجہ جمال محمد کوریجہ: جناب! اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ وہ ولد الحرام ہے اس کو اس نام سے پکارا جائے۔

جناب چیئرمین: کسی کی تقریر میں آپ کوئی رائے نہیں دے سکتے۔ یس، انصاری صاحب!

(قادیانیوں کی دروغ گوئی)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: چنانچہ انہوں نے کسی انجمن میں جو تعمیری کام کر رہی تھی یا انگریزوں کے خلاف لڑنے، یا جہاد، یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو مسلمانوں کے اجتماعی مسائل سے متعلقہ ہیں، انہوں نے اس میں دلچسپی نہ لی۔

٥٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

نام اب تک وہاں کے بچوں کی زبان پر جاری ہیں۔ ر ہندوستان کو انگریزوں کی لعنت سے پاک کرنے کا قصہ، وہ محمود الحسن صاحب، سب لوگ اس فہرست میں آتے ہیں۔ کرنے کی کمی نہیں ہے اور مرزا صاحب یہ کہتے تھے۔ انہوں لوگ یہاں دارالحرب یعنی انگریزوں کے خلاف لڑائی کرنا، اور عیدین کی نماز کو جائز نہیں سمجھتے۔ لیکن پتہ لگاتے تھے کہ لوگ ہیں جو جمعہ کو حرب ہونے کی وجہ سے نہیں پڑھتے۔ ا تھے۔ چونکہ وہاں پر پہلے نہیں آیا، میں اس کا اقتباس پیش معاشرے میں یہ تصور نہیں کیا جاتا کہ اس معاشرے میں کوئی کہ قوم غیروں کے پنجہ استعمار میں گرفتار ہو تو کوئی شخص مجرد نہ کہ مجدد، مصلح، پیغمبر، خدا جانے کیا کیا کہا گیا۔

(مرزا قادیانی انگریزوں کا ا

اب یہ (تبلیغ رسالت ج٥ ص١١، مجموعہ اشتہارات ہوں۔ یہ مرزا غلام احمد کا بیان ہے: ”چونکہ قرین مصلحت ۔ ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے و انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں ...... لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں۔ جو ایسے باغیانہ سرش خوش قسمتی سے ...... مسلمانوں میں ایسے لوگ معلوم ہوں 2891 گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے محسن سے اس مبارک تقریب پر چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شری ان کے نام ریکارڈ کئے جائیں) جو اپنے عقائد سے مفسدان ہم گورنمنٹ کو باادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے پولیس پاس محفوظ رہیں گے۔ جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب آ گورنمنٹ، حکیم مزاج کی طرح ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح ا گویا چیف انفارمر کے فرائض جو صاحب دے وقت جب مسلمانوں کی بڑی تعداد کالے پانی جا رہی تھی یا پھ

٥٨

صفحہ ٢٦٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جس زمانے میں مسلمانوں پر مصیبتیں آئیں ان میں نمایاں مصیبتیں بیسیویں صدی کے شروع میں آئی تھیں۔ جنگ طرابلس شروع ہوئی۔ جنگ بلقان شروع ہوئی۔ اس کے بعد ترکوں کے خلاف انگریزوں نے جنگ شروع کی۔ اس عرصے میں مقامی مسجد کان پور میں ایک واقعہ ہوا جس سے پورے ہندوستان میں اشتعال پیدا ہوا اور بہت سے مسلمان اس میں شہید ہوئے۔ پھر خلافت کی جنگ شروع ہوئی۔ پھر جلیانوالہ باغ کا قصہ شروع ہوا۔ جس میں مسلمان اور ہندو بھی شریک تھے۔ ترکوں کی سلطنت کو ختم کیا گیا۔ اس پر قادیان میں چراغاں ہوا اور یہ انتہائی جسارت کے ساتھ غلط بیانی کی گئی کہ سارے مسلمان چراغاں کر رہے تھے۔ ہم نے بھی چند دیئے 2893 روشن کر دیئے۔ یہ ایک ایسی دروغ بیانی ہے میں اسے کیا کہوں۔ میں اس زمانے میں طالب علم تھا۔ مگر یہ منظر پوری طرح یاد ہے۔ میں سکول میں پڑھتا تھا۔ یہ میں جانتا ہوں کہ پوری ہڑتال ہوئی۔ جگہ جگہ اتنی گرفتاریاں ہوئیں اس روز، صرف اس بات پر کہ چراغاں کرو، شیرینی تقسیم کرو۔ بہر حال شہر میں ایسے لوگ تھے جو خوشامدی تھے اور ان کی اغراض وابستہ تھیں۔ جگہ جگہ ایسا ہوا بھی ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اس روز ہڑتال ہی کی اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔

پھر ١٩٢٢ء میں ترکوں کو، یونانیوں کے مقابلے میں سمرنہ میں فتح ہوئی تو مسلمانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے انہی کے مریدوں نے کہا کہ ہم بھی چراغاں کریں۔ تو انہوں نے کہا کہ اس موقعہ پر چراغاں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے بعد دو چیزیں ایسی ہیں جن میں انہوں نے شرکت کی۔ ایک شدھی اور سنگھٹن تحریک جو کہ اس شخص نے شروع کی تھی جس نے آزادی کی جنگ میں بڑا نمایاں مقام حاصل کیا ہے اور مسلمان اس کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ بعد میں وہ جیل میں گیا اور جیل میں جانے کے بعد حکومت نے اس سے کچھ معاملہ طے کیا اور جیل سے نکلنے کے بعد اس نے شدھی کی تحریک (دیانند) شروع کی۔ اس میں یہ ضرور گئے۔ لیکن وہاں کیا تھا؟ وہ ایک بڑی اچھی شکار گاہ تھی جہاں پر یہ اپنی جماعت کے لئے آدمی لے سکتے تھے۔ اس میں یہ بے شک گئے۔

دوسرا بڑا کارنامہ جو وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی میں شرکت کی اور کشمیر کمیٹی میں ان کی شرکت کا جو حال ہے وہ یہ ہے۔ اس میں علامہ اقبال بھی شامل تھے اور بھی بہت سے اکابرین تھے۔ اس کے بارے میں ”مسئلہ کشمیر“ مصنفہ ممتاز احمد کا ایک اقتباس آپ کی اجازت سے پیش کرتا ہوں۔

٦٠

صفحہ ٢٦٠٣

2603 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

”١٩٣١ء میں جب ریاست میں تحریک حریت کا آغاز ہوا اور ریاستی مسلمانوں نے سیاسی آزادی کے حصول کے لئے جب باقاعدہ طور پر جدوجہد کا آغاز کیا تھا...... یہ الفضل کا Quotation (اقتباس) 2894 ہے تو حضرت امام جماعت احمدیہ (عربی) جو پہلے ہی مناسب موقعہ کی انتظار میں تھے، یکا یک میدانِ عمل میں آگئے۔ اس کے بعد کیا ہوا۔ ٢٥؍ جولائی کو شملہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ علامہ اقبال بھی اس میں شامل تھے۔ لیکن صدارت مرزا بشیر الدین محمود کے سپرد کی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کشمیر کمیٹی کا منصوبہ بنانے والے بھی دراصل مرزا بشیر محمود صاحب ہی تھے اور جو افراد شملہ میں جمع ہوئے تھے ان میں اکثریت احمدیوں ہی کی تھی۔ کمیٹی کے پیش نظر جسے ابتداء میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ریاستی مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دلانا اور قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے مسلمانوں کو قانونی امداد مہیا کرنا تھا۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے تمام کشمیری لیڈروں سے براہ راست روابط قائم کئے گئے۔ قادیانی زعماء کو بڑی تعداد میں ریاست میں بھیجا گیا۔ جہاں انہوں نے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور مسلمانوں کی مالی امداد کر کے اپنا ممنونِ احسان بنانے کی کوشش کی گئی اور اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں مبلغین بھی بھیجے گئے جو ریاست کے چپے چپے کا دورہ کر کے قادیانی عقائد کی تبلیغ کرنے لگے۔ اس ریاست میں تحریک آزادی کے مظلومین کی امداد کے لئے اکثر رقوم شیخ محمد عبداللہ کی معرفت دی گئیں۔

چوہدری عباس کے مقابلے میں قادیانیوں کی تمام ہمدردیاں شیخ عبداللہ کے ساتھ تھیں اور شیخ صاحب کے جماعت سے تعلقات انتہائی قریب ہو رہے تھے اور لاہور میں اس افسوس ناک افواہ نے کافی تقویت پکڑ لی کہ شیرِ کشمیر شیخ عبداللہ مرزائی ہیں۔ پھر شیخ صاحب نے خود لاہور آ کر ایک جلسہ میں اس کی تردید کی، کشمیر کمیٹی اسی طرح کام کرتی رہی۔ لیکن ابھی اس کا دستور نہیں بنا تھا اور اس کے سیاسی مقاصد لوگوں کے سامنے واضح ہونے لگے تو انہوں نے یہ کوشش کی کہ اس کا دستور بن جائے۔ لیکن یہ بات مرزا بشیر الدین کو ناگوار تھی۔ کیونکہ وہ اس میں ڈکٹیٹر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور جب دستور بنانے کے لئے اصرار کیا گیا تو مرزا بشیر الدین محمود نے بطور احتجاج کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور پھر علامہ اقبال کمیٹی کے نئے صدر منتخب ہو گئے۔ 2895 لیکن ان کا (مرزا بشیر الدین) کا استعفیٰ دینا تھا کہ تمام قادیانی حضرات نے کمیٹی کے کاموں میں دلچسپی لینا بند کر دی اور عملاً کمیٹی کا بائیکاٹ کر دیا۔ حتیٰ کہ قادیانی وکلاء جو ریاست میں مسلمانوں کے مقدمات لڑ رہے تھے وہ مقدمات ادھورے چھوڑ کر واپس آگئے اور جب کمیٹی کے کاموں میں تعطل پیدا ہوا تو علامہ اقبال بھی قادیانیوں کے رویہ سے بددل ہو کر صدارت سے مستعفی ہو گئے اور خود اس پر علامہ

٦١

صفحہ ٢٦٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

اقبال کے جو ریمارکس ہیں وہ چند جملے بیان کر دیتا ہوں:

"Unfortunately there are members in the Committee who recognise no loyalty except to the head of their particular religious sect. This was made clear by a public statement recently made by one of the Ahmadi pleaders who had been conducting the Mirpur cases. He plainly admitted that he recognises no Kashmir Committee, and admits that whatever he and his colleagues did was done in obedience to the commands of their religious leader. I confess that I interpreted this statement as a general indication of the Ahmadi's attitude of mind and felt doubts about the Kashmir Committee. I do not mean to stigmatise anybody. A man is free to develop any attitude intellectually and spiritually to suit his mind best. Indeed I have every sympathy for a man who needs a spiritual probe and finds one in the shrine of by-gone saint or any living priest. As far as I am aware, there are no differences of opinion among members of the Kashmir Committee regarding the General Committee's policy to the formation of a party on the ground of differences in policy. Nobody can object, but according to my view of the situation the differences in the Kashmir Committee are based on considerations which I believe are utterly irrelevant. I do not believe that a smooth working is possible and feel that in the best interests of all concerned the present Kashmir Committee should cease to exist."

(بدقسمتی سے اس کمیٹی میں ایسے ارکان بھی ہیں جو اپنے مخصوص مذہبی فرقے کے قائد

٦٢

صفحہ ٢٦٠٥

2605 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 سے وفاداری کے سوا کسی اور وفاداری کو نہیں جانتے۔ اس بات کا واضح اعلان ان احمدی وکلاء میں سے ایک وکیل نے حال ہی میں کیا ہے جو میر پور مقدمات کی پیروی کر رہے تھے۔ اس نے صاف صاف اعتراف کیا کہ وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں جانتا اور اس نے اور اس کے رفقاء نے جو کچھ کیا ہے وہ اپنے مذہبی امام کے احکامات کی اطاعت میں کیا ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے اس بیان سے احمدیوں کے کشمیر کمیٹی سے متعلق شکوک و شبہات اور ان کے ذہنی رویے کے ایک عمومی مفہوم کو اخذ کیا ہے۔ میں کسی شخص کو بدنام نہیں کرنا چاہتا۔ ہر شخص آزاد ہے کہ اپنی طبع کے مطابق کوئی بھی ذہنی اور روحانی رویہ اپنائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے ایسے شخص سے بھر پور ہمدردی ہے جسے روحانی علاج کی ضرورت ہے اور وہ اسے کسی گذشتہ بزرگ کے مزار یا کسی زندہ مذہبی پیشوا سے حاصل کر لیتا ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں کشمیر کمیٹی کے ارکان میں پالیسی میں اختلافات کی بنیاد پر ایک پارٹی کی تشکیل میں عمومی کمیٹی کی پالیسی کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کوئی شخص اختلاف نہیں کر سکتا۔ لیکن موجودہ صورتحال سے متعلق میرا تجزیہ ہے کہ کشمیر کمیٹی میں اختلافات کا تعلق ایسے عوامل سے ہے جو میرے خیال میں بالکل غیر متعلق ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہموار طریقے سے کام کرنا ممکن ہے اور تمام متعلقہ لوگوں کے بہترین مفادات میں محسوس کرتا ہوں کہ موجودہ کشمیر کمیٹی کو کالعدم ہو جانا چاہئے)

بہر حال انہوں نے یہ حالت پیدا کر دی کہ اگر کشمیر کمیٹی کو قادیانیت کی تبلیغ کے لئے استعمال نہیں کرنے دیا جاتا تو پھر اس سے علیحدہ ہو جاؤ۔ یہ کشمیر کمیٹی کا حال تھا۔ 2896 قیام پاکستان کے سلسلے میں انہوں نے جس احسان کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں یہ صورت ہے کہ علامہ اقبال کے اس مضمون کے بعد جب ان کا بھید لوگوں پر کھلنے لگا اور پنجاب میں کیونکہ یہ زیادہ تھے اس لئے پنجاب مسلم لیگ نے یہ ریزولیشن پاس کیا کہ کوئی قادیانی مسلم لیگ کا ممبر نہیں ہو سکتا اور یہ ریزولیشن ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی بار پیش ہوا۔ میں ان کی اس وقت کی ذہنیت کے سلسلے میں چند جملے آپ کو سناتا ہوں۔ یہ ١٩١٦ء کا اخبار ”الفضل“ ہے: ”ہمیں یاد رہے کہ مسلمانوں کے مصلح دنیا کے ہادی، حضرت مسیح موعود، مہدی آخر الزمان علیہ السلام (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کے حضور جب مسلم لیگ کا ذکر آیا تو حضور مرزا نے اس کے متعلق ناپسندیدگی ظاہر فرمائی تھی۔ تو کیا ایسا کام جسے خدا کا برگزیدہ مامور ناپسند فرمائے وہ مسلمانوں کے حق میں سازگار یا برکت ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ آپ لوگوں کو روکتے رہیں کہ سیاست میں کسی طرح شریک نہ ہوں اور جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے۔“ ٦٣

BLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18 اقبال کے جو ریمارکس ہیں وہ چند جملے بیان کر دیتا ہوں are members in the Committee except to the head of their s was made clear by a public ne of the Ahmadi pleaders who our cases. He plainly admitted was done in obedience to gious leader. I confess that I is a general indication of the I felt doubts about the Kashmir o stigmatise anybody. A man is intellectually and spiritually to have every sympathy for a man and finds one in the shrine of priest. As far as I am aware, pinion among members of the ing the General Committee's of a party on the ground of can object, but according to differences in the Kashmir tions which I believe are that a smooth working is best interests of all concerned he should cease to exist." (بدقسمتی سے اس کمیٹی میں ایسے ارکان

صفحہ ٢٦٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

یہ پیغام صلح ١٩٣٠ء کا Quotation (اقتباس) ہے: ”اب تو مسلم لیگ نے بھی جس کے ممبر آزاد خیال اور روادار سمجھے جاتے ہیں اور ہندوستان کی ذہنی روح تصور کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک حلف نامہ تیار کیا ہے کہ ان کی طرف سے اسمبلی کے لئے جو امیدوار کھڑا ہوگا وہ یہ حلف اٹھائے گا کہ اسمبلی میں جا کر احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت منظور کرانے کی کوشش کرے گا۔“

یہ ١٠؍ستمبر ١٩٣٦ء کا الفضل ہے۔ اب یہ ١٩٣٧ء کا ہے: ”اس کے بعد حضور میاں محمود احمد خلیفہ قادیان ملکی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور اس سوال پر روشنی ڈالی ہے کہ جماعت احمدیہ کو کانگریس میں شرکت کرنی چاہئے یا مسلم لیگ میں۔“

یہ ١٩٣٧ء کی بات ہے: ”حضور نے فرمایا کہ ابھی تک اس بارے میں ہم نے کوئی رائے قائم نہیں کی اور نہ ابھی کوئی دوست رائے قائم کرے۔ بلکہ کانگریس جب علی الاعلان بغیر کسی ہیچ کے اور بغیر کسی شک وشبہ کے یہ اعلان نہیں کرتی کہ تبلیغ مذہب اور تبدیلی مذہب پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں 2897 ہوگی۔ اس وقت تک ہم کانگریس میں نہیں مل سکتے اور اس طرح مسلم لیگ یہ کہہ چکی ہے کہ کوئی احمدی اس کا ممبر نہیں ہو سکتا۔ پھر کون بے غیرت احمدی ہے جو اس میں شامل ہو، جب تک کہ لیگ صاف طور پر یہ اعلان نہ کر دے کہ احمدی مسلم لیگ کے ممبر ہو سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے حلقوں سے امیدوار کھڑے کر سکتے ہیں۔“

اسی طرح بہت سی Quotations ہیں۔ لیکن میں اتنے پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔

البتہ اس روز انہوں نے ایک فوٹوسٹیٹ کاپی ١٩٤٤ء کے ریزولیوشن کی پیش کی ہے۔ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت مولانا عبدالحامد بدایونی مرحوم مغفور نے ایک قرارداد پیش کی تھی کہ احمدیوں کو، مرزائیوں کو، جنہیں تمام امت نے متفقہ طور پر کافر قرار دیا ہے۔ ان کو مسلم لیگ کا ممبر نہیں بننا چاہئے اور انہیں مسلم لیگ میں داخل نہ ہونے دیا جائے اور قائد اعظم نے ان سے کہہ کر واپس کروادی۔ یہ کونسل کا وہ اجلاس ہے جس میں شریک ہونے والے بہت سے لوگ ابھی ہوں گے اور میں اس وقت اس کا اسٹیٹ سیکرٹری تھا۔ محمڈن برکت علی ہال میں جو جلسہ ہوا تھا وہ ریزولیوشن مولانا صاحب میرے پاس لائے تھے اور مجھ سے مشورہ کیا۔ میں نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور ریزولیوشن ایجنڈا میں شامل ہوا۔ جب اس کا وقت آیا تو قائد اعظم نے یہ کہا کہ کون احمدی ہے۔ پنجاب میں کچھ لوگ ہوں گے وہ تو پہلے ہی پاس کر چکے ہیں تو غیر متعلق مسئلہ آپ کیوں لاتے ہیں۔ صرف اتنی بات تھی اور یہ ان کا مزاج تھا کہ وہ جدوجہد کے دوران چاہتے تھے کہ کوئی

٦٤

صفحہ ٢٦٠٧

2607 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

Irrelevant (غیر متعلق) چیز سامنے نہ آئے۔ صرف اتنی بات انہوں نے کہی اور مولانا نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ یہ فیصلہ تو پہلے ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی یہ فیصلہ موجود ہے اور کون احمدی ہے جو آتا ہے۔ لہٰذا وہ ریزولیوشن اس طرح ڈراپ ہوا ہے جس کو کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم نے ریزولیوشن کو مسترد کر دیا۔ یہ گویا دروغ گوئی کی انتہاء ہے۔ مسلم لیگ نے اور پوری ملت اسلامیہ نے اسے جسم ملت کے لئے ایک ناسور سمجھا۔ ایک بدگوش سمجھا، سیاسی اور شرعی دونوں حیثیتوں سے، مسلمان ان لوگوں میں سکون محسوس نہیں کرتے تھے۔ البتہ ١٩٣٦ء میں یہ ہوا کہ جواہر لال نہرو لاہور تشریف 2898 لائے۔ ٢٩ مئی کو تو جیسے ظلی حج ہوتا ہے، ظلی نبی ہوتا ہے اور ظلی قرآن ہے، تو وہاں ایک جلسے میں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو وہاں ایک انڈین نیشنل لیگ بنائی گئی قادیان میں، اور جب جواہر لال نہرو تشریف لائے تو قادیان میں ٥٠٠ والنٹیر آئے اور ان کے بڑے مانے ہوئے وکیل چوہدری نصر اللہ صاحب کو قائد اعظم کا خطاب دیا گیا تو ایک ظلی قائد اعظم بھی بن گیا اور انہوں نے سلامی لی۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے بڑے بڑے بینر ز لگے ۔ پلے کارڈز لگے۔ اس کے بعد لوگوں نے اعتراض کیا وہ جواب پھر میں وقت کی تنگی کی وجہ سے اس اقتباس کو چھوڑتا ہوں۔ مرزا بشیر محمود کا بیان ہے کہ لوگوں کو کیوں اعتراض ہے۔ جواہر لال نہرو نے علامہ اقبال کی مخالفت میں میری حمایت کی تھی۔ جو علامہ اقبال کی قرارداد تھی کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دو تو انہوں نے ہماری حمایت کی وہ آئے ہیں تو ایک سیاسی انجمن کی طرف سے ان کا استقبال کیا گیا۔ ان کا خیر مقدم کیا گیا۔ ان کو سپاسنامہ پیش کیا گیا۔ تو اس میں حمایت کی کیا بات ہے۔ اب وہاں سیاسی انجمن بھی بنائی گئی۔ وہ تو یہ مختصرًا مسلمانوں کے کاموں میں شرکت کا حال ہے اور ٥؍اپریل کو یعنی جب پاکستان بننے کا زمانہ قریب آنے لگا، ان کے تعلقات دونوں طرف تھے۔ یہ کوشش کر رہے تھے کہ ١٩٣٦ء میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے لئے پنڈت جواہر لال نہرو نے چوہدری ظفر اللہ صاحب کا نام Recommend (تجویز) کیا جو ان کی کتاب تحدیث نعمت میں موجود ہے اور یہ ١٩٣٦ء کا وہ زمانہ تھا جب کانگریس اور مسلم لیگ یا ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان Feelings بہت شدت پر تھیں۔ اس وقت ان کے یہ تعلقات تھے کہ پورے ہندوستان میں جتنے بڑے وکیل تھے وہاں سے جواہر لال نہرو نے ان کے نام Recommend (تجویز) کئے۔ اس وقت یہ کامیاب نہ ہوئے۔

وہاں الیکشن میں یہ الگ بات ہے کہ ١٥؍اپریل ١٩٣٧ء کو انہوں نے بیان دیا جو یہاں

٦٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

یہ پیغام صلح ١٩٣٨ء کا Quotation (اقتباس کے ممبر آزاد خیال اور روادار سمجھے جاتے ہیں اور ہندوستان کے نے ایک حلف نامہ تیار کیا ہے کہ ان کی طرف سے اسمبلی اٹھائے گا کہ اسمبلی میں جا کر احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ

یہ ١٠؍ستمبر ١٩٣٦ء کا الفضل ہے۔ اب یہ ٣٧

احمد خلیفہ قادیان ملکی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے فرما جماعت احمدیہ کو کانگریس میں شرکت کرنی چاہئے یا مسلم لیگ

یہ ١٩٣٧ء کی بات ہے: ’’حضور نے فرمایا رائے قائم نہیں کی اور نہ ابھی کوئی دوست رائے قائم کرے بچ کے اور بغیر کسی شک و شبہ کے یہ اعلان نہیں کرتی کہ پابندی عائد نہیں 2897 ہوگی۔ اس وقت تک ہم کانگریس میں کہہ چکی ہے کہ کوئی احمدی اس کا ممبر نہیں ہو سکتا۔ پھر کون جب تک کہ لیگ صاف طور پر یہ اعلان نہ کر دے کہ مسلمانوں کے حلقوں سے امیدوار کھڑے کر سکتے ہیں ۔

اسی طرح بہت سی Quotations ہیں

البتہ اس روز انہوں نے ایک فوٹوسٹیٹ کاپی ١٩٢٣ء کے گیا ہے کہ حضرت مولانا عبد الماجد بدایونی مرحوم مغفور مرزائیوں کو، جنہیں تمام امت نے متفقہ طور پر کافر قرار چاہئے اور انہیں مسلم لیگ میں داخل نہ ہونے دیا جائے کروادی۔ یہ کونسل کا وہ اجلاس ہے جس میں شریک ہو اور میں اس وقت اس کا اسٹیٹ سیکرٹری تھا، محمد علی برک مولانا صاحب میرے پاس لائے تھے اور مجھ سے مشورہ اور ریزولیوشن ایجنڈا میں شامل ہوا۔ جب اس کا وقت ہے۔ پنجاب میں کچھ لوگ ہوں گے وہ تو پہلے ہی پاس لاتے ہیں۔ صرف اتنی بات تھی اور یہ ان کا مزاج تھا

٦٤

صفحہ ٢٦٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

قائل بھی ہو چکا ہے کہ ہم بہر حال اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہیں اور ہماری کوششوں اور خواہشوں کے علی الرغم اگر پاکستان بن گیا تو پھر ہماری کوشش یہ جاری رہے گی کہ کسی نہ کسی طرح اکھنڈ 2899 بھارت بن جائے۔ یہ بہت مشہور ان کا وہ ہے اور اس کا وہ اقتباس بلکہ فوٹو سٹیٹ یہاں داخل کیا جا چکا ہے۔ ٥؍ اپریل کو یہ بات انہوں نے کہی اور ١٢؍ اپریل کو ایک سوال کے جواب میں یہ فرمایا۔ سوال کسی نامہ نگار کا تھا کہ کیا پاکستان عملاً ممکن ہے؟ یہ سوال جواب (ریویو آف ریلیجنز ج١٨ نمبر٢) میں شائع ہوا۔

سوال تھا کہ کیا پاکستان عملاً ممکن ہے؟

جواب: سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان ممکن ہے۔ لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ملک کے حصے بخرے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج دنیا کی کامیابی کا راز اتحاد میں مضمر ہے۔ دوسرے ذرائع مواصلات بھی ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں ضرورتاً ایک دوسرے کے قریب سے قریب تر ہونا چاہئے اور اتحاد کی کوشش کرنی چاہئے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس موقع پر ہندوستان دو علیحدہ علیحدہ حصوں میں بٹ جائے اور ہندوستان کی بڑی قومیں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ یہ ١٢؍ اپریل کا تھا۔ پھر اسی طرح ١٣؍ جون کا اسی مضمون کا ایک بیان ہے۔ پھر ١٧؍ جون کا ہے۔ اس کے بعد ١٨؍ اگست ١٩٤٧ء کا ایک بیان ہے۔ یعنی پاکستان بننے کے بعد اور ایک ٢٨؍ دسمبر کا ہے تو تقسیم کے موقع پر امام جماعت احمدیہ کو یہ الہام ہوا کہ (عربی)......

’’یعنی تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تمہیں ایک جگہ اکٹھا کر دے گا۔ اس الہام میں تبشیر کا پہلو بھی ہے اور انذار کا بھی توقع تو پہلے ایک رنگ میں ہو چکی ہے۔ یعنی ہماری کچھ جماعتیں پاکستان کی طرف چلی گئی ہیں اور کچھ ہندوستان کی طرف۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اکٹھا کرنے کی کوئی صورت پیدا کر دے۔‘‘ یہ اکٹھا ہونا دونوں کا، یہ بہر حال مسلسل چل رہا ہے۔ ١٣؍ دسمبر کے ’’حالات کی وجہ سے لوگ گھبرا کر قادیان کی خرید کردہ زمینوں کو ضائع شدہ خیال کرنے لگے ہیں اور اپنی ادا کردہ قیمت کو امانت قرار دے کر اس کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے نوٹس میں بتایا تھا کہ ایسا مطالبہ نہ صرف کاروباری اصول کے مطابق غلط اور ناجائز ہے۔ بلکہ دینی لحاظ سے بھی 2900 ایمانی کمزوری کی علامت ہے۔ کیونکہ دراصل اس مطالبے میں یہ شبہ مخفی ہے کہ ایسے لوگوں کے نزدیک قادیان کی (واپسی) مشکوک ہے۔ حالانکہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہمیں قادیان انشاء اللہ! ضرور واپس ملے گا وغیرہ، وغیرہ۔‘‘ اب یہ کیسے ملے گا؟ اس کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو ہم قادیان فتح کرلیں یا خدانخواستہ وہ اکھنڈ بھارت کا ان کا جو منصوبہ ہے وہ مکمل ہو

٦٦

صفحہ ٢٦٠٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جائے۔ تو قادیان کو فتح کرنے کا جہاں تک سوال ہے پاکستان کی حکومت نے ہی اس کا فیصلہ کرنا ہے اور آج ٢٧ سال میں پاکستان حکومت کی طرف سے ہمیشہ یہ اعلان ہوتا رہا ہے کہ ہمیں کسی دوسرے ملک کی سرحدات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہم کسی کے خلاف جارحیت نہیں کریں گے۔ یہ کس نسخے سے اس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا کوئی ایسا چکر دے کر کہ پاکستان اور ہندوستان کی لڑائی کرا کر اس کی صورت پیدا کرنا چاہتے ہیں یا بہرحال کیا ہے، میں نہیں جانتا۔

اب اس کے بعد ٢٨؍دسمبر کی بات ہے۔ ”مومن وہ ہے جو محض سُن کر خدا پر ایمان نہیں لاتا۔ بلکہ جس کا ایمان پورے یقین اور وثوق پر مبنی ہے وہ جانتا ہے اور خوب جانتا ہے کہ یہ تقسیم ایک عارضی تقسیم ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ قادیان ہماری چیز ہے۔ وہ ہمارا ہی ہے کیونکہ خدا نے وہ مجھے دی ہے۔ گو آج ہم قادیان نہیں جاسکتے۔ مگر آج ہم محروم کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن ہمارا ایمان اور یقین ہمیں بار بار کہتا ہے کہ قادیان ہمارا ہے۔ وہ احمدیت کا مرکز ہے۔ ہمیشہ احمدیت کا مرکز رہے گا۔ وہ انشاء اللہ! حکومت خواہ بڑی ہو یا چھوٹی، بلکہ حکومتوں کا کوئی مجموعہ بھی ہمیں مستقل طور پر قادیان سے محروم نہیں کر سکتی۔ اگر یہ زمین ہمیں قادیان لے کر نہیں دے گی تو ہمارے خدا کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور ہمیں قادیان لے کر دیں گے۔ اس راہ میں جو بھی طاقت حائل ہوگی وہ پارہ پارہ کر دی جائے گی۔ وہ نیست و نابود کر دی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔“ یہ گویا ان کے عزائم ہیں۔

2901 اس کے ساتھ ان کے ہاں جانبازوں کا نظام ہے جن سے یہ عہد نامہ لیا جاتا ہے کہ ”ہم خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کو احمدیہ جماعت کا مرکز فرمایا ہے۔ میں اس حکم کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش اور جدوجہد کرتا رہوں گا اور اس مقصد کو کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گا اور اپنے نفس کو، اپنے بیوی بچوں کو اور اگر خدا کی مشیت یہی ہو تو اولاد کی اولاد کو ہمیشہ اس بات کے لئے تیار کرتا رہوں گا کہ وہ قادیان کے حصول پر ہر چھوٹی اور بڑی قربانی کے لئے تیار رہے۔ اے خدا مجھے اس عہد پر قائم رہنے اور اس کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما۔“

اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ قادیان کا قصہ جو کچھ ہوگا تو جیسا پہلے میں نے عرض کیا اس کا فیصلہ قادیان ہو یا اور ہو، بہرحال ہمارے بس میں ہو تو ہم چاہیں گے کہ سارا پاکستان ہی بن جائے۔ لیکن یہ کہ یہ فیصلہ مرزائیوں کو کرنا ہے یا پاکستان گورنمنٹ کو کرنا ہے۔ پاکستان کی گورنمنٹ کو کرنا ہے۔ اس کا کھلا ہوا اعلان ہے کہ ہمیں کسی کے علاقے میں جارحیت نہیں کرنی

SEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

قائل بھی ہو چکا ہے کہ ہم بہرحال اکھنڈ بھارت بنانا چاہت کے علی الرغم اگر پاکستان بن گیا تو پھر ہماری کوشش یہ 2899 بھارت بن جائے۔ یہ بہت مشہور ان کا وہ ہے اور اس کیا جا چکا ہے۔ ٥؍اپریل کو یہ بات انہوں نے کہی اور ٢ فرمایا۔ سوال کسی نامہ نگار کا تھا کہ کیا پاکستان عملاً ممکن ہے نمبر٢) میں شائع ہوا۔

سوال تھا کہ کیا پاکستان عملاً ممکن ہے؟ جواب: سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے دیکھا خیال یہ ہے کہ ملک کے حصے بخرے کرنے کی کوئی ضرور میں مضمر ہے۔ دوسرے ذرائع مواصلات بھی ہمیں بتات قریب سے قریب تر ہونا چاہئے اور اتحاد کی کوشش کرنی ہندوستان دو علیحدہ علیحدہ حصوں میں بٹ جائے اور ہند جدا ہو جائیں۔ یہ ١٢؍اپریل کا تھا۔ پھر اسی طرح ١٣؍ا ١٧؍جون کا ہے۔ اس کے بعد ١٨؍اگست ١٩٤٧ء کا ایک ایک ٢٨؍دسمبر کا ہے تو تقسیم کے موقع پر امام جماعت احمد ”یعنی تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تمہیں ایک ج پہلو بھی ہے اور انداز کا بھی توقع تو پہلے ایک رنگ می پاکستان کی طرف چلی گئی ہیں اور کچھ ہندوستان کی طرف کی کوئی صورت پیدا کر دے۔“ یہ اکٹھا ہونا دونوں کا، یہ ”حالات کی وجہ سے لوگ گھبرا کر قادیان کی خرید کردہ ز اور اپنی ادا کردہ قیمت کو امانت قرار دے کر اس کی واپسی ک میں بتایا تھا کہ ایسا مطالبہ نہ صرف کاروباری اصول کے سے بھی 2900 ایمانی کمزوری کی علامت ہے۔ کیونکہ درا لوگوں کے نزدیک قادیان کی (واپسی) مشکوک ہے قادیان انشاء اللہ! ضرور واپس ملے گا وغیرہ، وغیرہ۔“ ی ہیں یا تو ہم قادیان فتح کر لیں یا خدانخواستہ وہ اکھنڈ

٦٦

صفحہ ٢٦١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ہے ۔ اب پاکستان بن جانے کے بعد ان کے جو عزائم ہیں وہ بار بار ان تحریروں میں آئے ہیں کہ ہمیں اسے اکھنڈ بھارت بنانا ہے، اکٹھا کرنا ہے۔ اس کے بعد ایک دیرینہ ان کی حسرت یہ رہی کہ افسوس ہمارے پاس کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں سوائے احمدیوں کے کوئی نہ ہو۔ اب اس کی کوئی ضرورت تھی کہ وہاں احمدی کے علاوہ کوئی نہیں رہے۔ بہر حال وہ حسرت انہوں نے یہاں پوری کر لی۔ پہلے قادیان کو تقریباً ایسے ہی بنایا تھا۔ وہاں تو جو مسلمان رہتے تھے ان کی زندگی اجیرن کر دی تھی انہوں نے، یہاں تک کہ ان دکانداروں سے ایک طرح کا ٹیکس لیا جاتا تھا۔ جیسے یہ جماعتوں میں غیر مسلموں سے جزیہ کے عنوان سے لیتے تھے۔ ان غریب دکانداروں سے ٹیکس لیا جاتا تھا اور ان سے معاہدہ ہوتا تھا کہ جو

2902

ہمارے مخالف ہیں ان سے کسی طرح کا تعلق نہیں رکھیں گے اور کسی کو پایا گیا تو اسے ایسی سزا دی جاتی کہ پھر وہ ربوہ نہیں رہ سکتا تھا۔ قتل و غارت بھی ہوتی تھی، مکانات بھی جلائے جاتے تھے۔ سبھی کچھ ہوتا تھا۔

اب اس کے بعد یہ منصوبہ بنا کہ پہلے بلوچستان پر قبضہ ہونا چاہئے اور وہ اقتباس، چونکہ میرے خیال میں پہلے موجود ہے، دس لاکھ، بارہ لاکھ کی آبادی ہے۔ اگر ہم پوری کوشش کریں، پورا پاکستان نہ سہی ایک صوبہ تو ہمارا اپنا ہو سکتا ہے۔ وہ آرزو پوری نہیں ہوئی اور مرزا صاحب کے آخری الہاموں میں ایک الہام یہ بھی تھا۔ ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“ پوری نہیں ہوئی۔ لیکن ان کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔ پاکستان میں حکومت پر قبضہ کرنے کے لئے ان کا وہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ ہمارے ملک میں پہلی بار فوجی انقلاب کے ذریعے حکومت کو بدلنے کی کوشش ہوئی۔ اس میں جو لوگ شامل تھے وہ نام کوئی چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ اس کے بعد سے مسلسل یہ کوشش ہوتی رہی، یہاں تک کہ ایک آخری دور میں....... یہ بیچ کی چیزیں میں نظر انداز کرتے ہوئے آتا ہوں۔ مشرقی پاکستان کا حصہ گیا۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس کی کوشش کرنے لگیں۔ کسی نے کہا کہ مجیب الرحمٰن سے کوئی سیاسی مفاہمت ہو جائے تاکہ پاکستان دو ٹکڑوں میں نہ بٹے۔ یہ حالات جب بہت بگڑ گئے پھر بھی یہ کوشش ہوتی رہی۔ یہاں سے مختلف پارٹیوں کے لوگ وہاں گئے، مذاکرات کئے، ظفر اللہ خان قادیانی کا خط عین اس زمانے میں سر ظفر اللہ نے آٹھ مارچ کو اسلام آباد میں اپنے کسی دوست (ایم ایم احمد) کو خط لکھا۔ اس دوست کا نام ظاہر نہیں کیا۔ لیکن یہ کہا کہ وہ ایسے دوست ہیں کہ وہ مشرقی پاکستان کے سیاسی لیڈروں سے بہت قریب ہیں اور گویا بہت با اثر ہیں۔ یہ خط انہوں نے اردو میں بھیجا۔ By Process of elimination

٦٨

صفحہ ٢٦١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

آدمی اندازہ کر سکتا ہے کہ جو لوگ اس وقت Count کرتے تھے۔ ان میں یہ خط کس کے نام ہوگا۔ زبان بھی اس کی 2903 بڑی مذہبی ہے جو ایک خاص طبقے کے اندر زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ اس میں لکھتے ہیں، میں وہ خط سنا دیتا ہوں۔ ماحصل اس کا یہ ہے اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ ”مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے ایک رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ بات دل سے بھلا دو۔ اب یہ ہے کہ فوج کشی نہ کرو اور صلح صفائی کے ساتھ الگ کر دو۔“

یہ گویا لوگوں کے ذہن پر اپنے سارے عمر بھر کے بین الاقوامی تجربے اور اس کا زور ڈال کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے کسی بہت بااثر دوست کو لکھا ہے اور لوگ اپنی جگہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس زمانے میں یحییٰ صاحب کے قریب ان کے بااثر دوستوں میں کون ہوگا۔ خط یہ ہے کہ: ”ان آثار و قرائن کی بناء پر جن کا ذکر جرائد میں آتا ہے۔ ’والله اعلم بالصواب‘ خاکہ سار کے ذہن میں جو افکار چکر لگاتے ہیں وہ گزارش خدمت ہیں۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو باہم جکڑنے والی زنجیر ’مخلصین لہ الدین‘ ہی ہو سکتی تھی۔ ورنہ آب و ہوا، زبان، خوراک، رنگ روپ، خدوخال، لباس، حتیٰ کہ عبادت کو چھوڑ کر معاشرے کا خاکہ اور ذہنی افکار سب مختلف ہیں۔ اب اعتماد مفقود اور دین کی نسبت جذبات پر قومیت کا غلبہ ہے۔ ادھر سارے عالم میں حق خود ارادیت کی پرستش ۔ مشرق و مغرب میں آبادی کی نسبت سات اور چھ اور رقبے کی نسبت نو اور اکیاون ہے۔ مشرق عملاً علیحدگی پر مصر ہے۔ مغرب کے پاس کوئی قاطع برہان اس کے خلاف نہیں۔ ہو بھی تو مشرق سننے اور غور کرنے پر آمادہ نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جبر نہ ہی حرف لاحاصل ہے۔ بلکہ خود کشی کے مترادف ہے۔ اگر خون کی خلیج خدانخواستہ حائل ہو گئی تو پاٹی نہ جاسکے گی اور نقصان مایہ کی تلافی کی صورت ہو سکتی ہے۔ نقصان جان تلافی نہیں ہو سکتی اور شماتت ہمسایہ کی تلخی تو بہر صورت لازم ہے۔ پھر جبر سے اگر کچھ دن برا بھلا گزارہ ہو بھی تو باہمی ربط بڑھنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس لئے خواستہ یا نخواستہ صراحتاً حیلہ ہی کا طریقہ کام آ سکتا ہے۔ اس کے رستے میں بہت سی مشکلات ہیں۔ آج تو شاید 2904 باہمی مفاہمت سے نپٹ سکیں۔ چند دن بعد شاید یہ امکان بھی جاتا رہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ موجودہ صورت میں امساک بالمعروف ممکن نہیں اور تسریح بالاحسان کا ہی رستہ کھلا ہے۔ (یہ گویا میاں بیوی میں اگر کوئی نزاع ہو جائے تو قرآن کریم کی رو سے دو راستے ہیں یا تو خوش دلی سے اس نزاع کو ختم کر کے اچھے طریقے پر رہو۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر خوش دلی کے ساتھ اچھے انداز میں قطع تعلق کر لو۔ تو یہ کہتے ہیں کہ ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ قطع تعلق کرو) دونوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں تو

٦٩

Y OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

ہے۔ اب پاکستان بن جانے کے بعد ان کے ہمیں اسے اکھنڈ بھارت بنانا ہے، اکٹھا کرنا ہے اس کے بعد ایک دیرینہ ان کی حس نہیں ہے کہ جہاں سوائے احمدیوں کے کوئی نہ علاوہ کوئی نہیں رہے۔ بہر حال وہ حسرت انہو ہی بنایا تھا۔ وہاں تو جو مسلمان رہتے تھے ان کی دکانداروں سے ایک طرح کا ٹیکس لیا جاتا تھا عنوان سے کہتے تھے۔ ان غریب دکانداروں 2902 ہمارے مخالف ہیں ان سے کسی طرح کا سزادی جاتی کہ پھر وہ ربوہ نہیں جاسکتا تھا۔ قب تھے۔ سبھی کچھ ہوتا تھا۔

اب اس کے بعد یہ منصوبہ بنا کہ پا میرے خیال میں پہلے موجود ہے، دس لاکھ، با پاکستان نہ سہی ایک صوبہ تو ہمارا اپنا ہو سکتا ۔ آخری الہاموں میں ایک الہام یہ بھی تھا۔ ”ا ان کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔ پاکستان میں جاری ہے۔ ہمارے ملک میں پہلی بار فوجی انق اس میں جو لوگ شامل تھے وہ نام کوئی چھپے ہو رہی، یہاں تک کہ ایک آخری دور میں ..... ی مشرقی پاکستان کا حصہ گیا۔ حالات اتنے خراب لگیں۔ کسی نے کہا کہ مجیب الرحمن سے کوئی سیا ہٹے۔ یہ حالات جب بہت بگڑ گئے پھر بھی یہ ک وہاں گئے ، مذاکرات کئے ، ظفر اللہ خان قاد مارچ کو اسلام آباد میں اپنے کسی دوست (ایم لیکن یہ کہا کہ وہ ایسے دوست ہیں کہ وہ مغربی گویا بہت بااثر ہیں۔ یہ خط انہوں نے اردو می

صفحہ ٢٦١٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

”يغنى هما بفضله“ پر قادر ہے۔ اگر اس وقت کدورت نہ بڑھائی جائے تو شاید کل کو اپنے اپنے گھر کا جائزہ لینے کے بعد کوئی طریق سے دوستانہ تعاون برادرانہ امداد پیدا ہوتی ہے۔ موجودہ صورت بہت سے خطرات کا موجب ہے اور جگ ہنسائی اور شماتت کا سامنا ہے۔“

یہ ہے خط جس میں اپنے بااثر دوست کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ احسان بالمعروف یعنی دونوں بازوؤں کا ایک جگہ ایک ملک کی صورت میں رہنا یہ ناممکن ہے اور اس کے لئے کوئی کوشش اب نہیں کرنی چاہئے۔ ایک راستہ گویا علیحدگی کا صراحتاً حیلہ نکالنا چاہئے۔ یہ ہے پاکستان کی وحدت و سالمیت کے تحفظ کے سلسلے میں اس جماعت کا Contribution (کردار) اب اس کے علاوہ جو آگے عزائم اور تیاریاں ہیں میں ان کی بعض ہلکی سی جھلک اقتباسات کے ذریعے آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں تو آج جس کام کے لئے مصروف ہیں اس کے متعلق کشمیر کمیٹی کا ایک فیصلہ پچھلے سال ہوا تھا۔ اس پر تبصرہ ہوا، وہ بہت معنی خیز ہے۔ ایک جملہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ ”ہاں! اس سے پہلے ٢٦ تا ٢٨ کے سالانہ جلسہ ١٩٣٧ء کا اس میں خطبہ جمعہ میں مرزا بشیر الدین صاحب کا اعلان یہ ہے۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اصل جلسہ تو وہی سمجھا جائے گا جو قادیان میں مقیم احمدی وہاں منعقد کرتے ہیں۔ لاہور کا جلسہ اس کا ظل ہے۔ یعنی یہ ظلی جلسہ ہے اور اس کی تائید میں سمجھا جائے گا اور اس امر کے 2905 خلاف بطور احتجاج منعقد کیا جائے گا کہ اس جماعت کو اس کے مقدس مذہبی مرکز سے محروم کر دیا گیا جو ہمیشہ حکومت وقت کی وفادار اور پرامن رہی ہے۔“ پہلے کشمیر میں اس طرح کا ریزولیوشن پاس ہوا تھا۔ اس پر ان کے موجودہ خلیفہ کا تبصرہ ہوا ہے: ”پس نو یا بارہ آدمیوں نے اس قسم کی قرارداد پاس کر دی تو خدا کی قائم کردہ جماعت پر اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہو سکتیں ہیں وہ یہ نہیں کہ جماعت احمدیہ غیر مسلم بن جائے گی۔ جس جماعت کو اللہ تعالیٰ مسلمان کہے اس کو کوئی ناسمجھ انسان غیر مسلم قرار دے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس کی فکر نہیں۔ ہمیں فکر ہے تو اس بات کی کہ اگر یہ خرابی خدانخواستہ انتہاء تک پہنچ گئی تو اس قسم کے فتنہ فساد کے نتیجہ میں پاکستان قائم نہیں رہے گا۔“ گویا یہ وارننگ ہے جو انہوں نے اس وقت دی تھی۔ پاکستان قائم نہ رہنے کے لئے کیا انتظامات ہیں وہ تو زیادہ تفصیل سے میں اس وقت نہیں بتا سکتا۔

”لیکن یہ خدام الاحمدیہ بڑی ذمہ داریوں کا حامل ہے۔ ہماری ایک مجلس ہے، ہماری نوجوان نسل جس نے اس رنگ میں تربیت حاصل کر لی ہے جو بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں اور بڑھتے ہوئے بوجھ کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔ انسانی جسم پر بنیادی طور پر دو قسم کے بوجھ ٧٠

صفحہ ٢٦١٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

پڑتے ہیں۔ ایک وہ بوجھ جو براہ راست اس کے جسمانی اور ذہنی قواء پر پڑتا ہے۔ ایک وہ بوجھ ہے جو بالواسطہ اس کے جسمانی اور ذہنی قواء پر پڑتا ہے۔ اس کے لئے جو تربیت یہ جماعت اپنے پیارے بچوں کو دینا چاہتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی جسمانی قوتوں کو نشو و نما اس رنگ میں پہنچائیں کہ دوہری ذمہ داریاں نبھانے کے بوجھ کو برداشت کر سکیں۔ ان میں سے ایک طریق جو ماضی قریب میں جاری کیا گیا وہ سائیکل کا استعمال ہے۔ جب اخبار میں یہ تحریک کی تو مختصر اشارہ کیا تھا کہ اپنی صحتوں کو برقرار رکھنے کے لئے سائیکل کی طرف متوجہ ہوں۔ اس وقت جو تعداد میرے علم میں آئی ہے وہ ٦٦٢ ہے۔ لیکن اس میں جنہوں نے نام ابھی تک رجسٹر نہیں کرائے توقع ہے کہ کچھ آج 2906 پہنچ جائیں گے۔ ان میں سے وہ ہیں جو کراچی سے سائیکل پر تقریباً نوے اور سو میل روزانہ طے کر کے تھر پار کر سندھ وغیرہ سے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ کہا ہے۔ میں نے بتایا تھا آج دہراتا ہوں۔ مجھے بڑی جلدی ایک لاکھ احمدی سائیکل چاہیں، احمدی سائیکل وہ ہیں جو احمدی چلاتے ہیں اور ایک لاکھ ایسے احمدی چاہتے ہیں جنہیں روزانہ سو میل چلنے کی عادت ہو۔ سو میل روزانہ چلنے ایک دن میں ہمارا احمدی ایک کروڑ میل کا سفر کر رہا ہوگا۔ یہ بڑی حرکت ہے اور حرکت میں برکت ہے۔ ہم نے تجربہ کیا تو ہر شخص نے الا ماشاء اللہ اس کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ ایک لاکھ سائیکل سوار چاہیں کیوں۔ میں آپ لوگوں کے سامنے ایک بڑا منصوبہ پیش کرنے والا ہوں۔ اس کے لئے بھی تیاری کر رہا ہوں۔ آپ کے ذہنوں کو بھی اس کے لئے تیار کر رہا ہوں۔ پس یہ جسمانی قوت کو مضبوط کرنے کے لئے ایک پروگرام ہے۔ ہلاکو خان، چنگیز خان جو دنیا فتح کرنے کے لئے اپنے ملک سے نکلے تھے اور دنیا کو فتح کیا تھا ان کے پاس ایسے گھوڑے تھے جن کو سات آٹھ سو میل تک گھوڑے سے اترنے کی اجازت نہیں تھی۔”ہلاکو خان، چنگیز خان موٹی سرخیوں سے لکھا ہوا ہے۔ ذہن ادھر مائل کیا جا رہا ہے۔ اب وہ اس کے ساتھ دس ہزار گھوڑوں کی فرمائش کہ دس ہزار گھوڑے تیار ہوں اور وہ دس ہزار گھوڑے احمدیوں کے ہوں اور ان سواروں کو نیزہ بازی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ اب میں اقتباس پڑھ رہا ہوں ۔ ”اس کے ساتھ خدام الاحمدیہ کے کہا گیا ہے۔ خادم کی علامت کے طور پر ایک رومال تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ وقت کم تھا یہ صرف پانچ سو کے قریب تیار ہو سکے۔ کچھ نے خرید بھی لئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ساری دنیا میں خادم اسلام کے پاس یہ رومال ہونا چاہئے۔ اس رومال میں ایک چھلہ پڑتا ہے۔۔۔۔۔ یہودی بڑی ہوشیار قوم ہے۔ وہ دنیا میں ہر محاذ پر اپنی بڑائی پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ مجھے اس رومال اور چھلے کا خیال آیا تو میں نے سوچا کہ ہمیں اپنے لئے رنگ

٧١

Y OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

”یغنی ھما بفضلہ“ پر قادر ہے۔ اگر اس وقت گھر کا جائزہ لینے کے بعد کوئی طریق سے دہ صورت بہت سے خطرات کا موجب ہے اور جگ یہ ہے خط جس میں اپنے بااثر دوست بالمعروف یعنی دونوں بازوؤں کا ایک جگہ ایک ک لئے کوئی کوشش اب نہیں کرنی چاہئے۔ ایک راس پاکستان کی وحدت و سالمیت کے تحفظ کے س (کردار) اب اس کے علاوہ جو آگے عزائم ا اقتباسات کے ذریعے آپ کی خدمت میں پیش ہیں اس کے متعلق کشمیر کمیٹی کا ایک فیصلہ پچھلے سا ایک جملہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ ١٩٢٧ء کا اس میں خطبہ جمعہ میں مرزا بشیر الدین فرمایا اصل جلسہ تو وہی سمجھا جائے گا جو قادیان می اس کا ظل ہے۔ یعنی یہ ظلی جلسہ ہے اور اس کی بطور احتجاج منعقد کیا جائے گا کہ اس جماعت ک ہمیشہ حکومت وقت کی وفادار اور پر امن رہی ہے تھا۔ اس پر ان کے موجودہ خلیفہ کا تبصرہ ہوا ہے: کر دی تو خدا کی قائم کردہ جماعت پر اس کا کیا ہو سکتیں ہیں وہ یہ نہیں کہ جماعت احمدیہ غیر مسلم کہے اس کو کوئی ناسمجھ انسان غیر مسلم قرار دے تو ک ہمیں فکر ہے تو اس بات کی کہ اگر یہ خرابی خدانخو میں پاکستان قائم نہیں رہے گا۔“ گویا یہ وارننگ نہ رہنے کے لئے کیا انتظامات ہیں وہ تو زیادہ تفصی ”لیکن یہ خدام الاحمدیہ بڑی ذمہ دار نوجوان نسل جس نے اس رنگ میں تربیت حاص ہوئے بوجھ کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہ

صفحہ ٢٦١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

(Ring) خود تجویز کرنے 2907 چاہیں الحمرا کی دیواروں پر مجھے چار فقرے نظر آئے: ١...... لا غالب الا اﷲ۔ ٢...... القدرت ﷲ۔ ٣...... الحکم ﷲ۔ ٤...... العزت ﷲ۔

ان سے فائدہ اٹھا کر یہ تجویز کی ہے۔ عام اطفال اور خدام یعنی ہر رکن کے لئے القدرت ﷲ کا چھلہ اور جو عہدیدار ہیں ان کے لئے العزت ﷲ کا یہی لجنہ اماء اﷲ کا نشان ہے۔ البتہ ان کے رومال کا رنگ مختلف ہے۔ ویسے جھنڈوں کے لئے عام طور پر سبز رنگ ہوتا ہے۔ صرف جھنڈے کا ذکر ہے۔ اب اس کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ اگر رومال ایک گز سے چھوٹا رہ جائے تو اس کے ذریعے جو دوسرے فوائد ہمارے مدنظر ہیں۔“

وہ رومال کے متعلق بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ بہرحال سکاؤٹس میں بھی چھلہ اور رومال ہوتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی بھید ہے بڑے کام کے لئے ہے اور اس کو پڑھنے کے بعد مجھے ڈلہوزی کے زمانے کا چھلہ اور رومال جو ٹھگ استعمال کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس رومال ہوتا تھا اور ایک چھلہ ہوتا تھا اور اس کے ذریعے وہ آدمیوں کی گردن پھنسا کر فوری طور پر ختم کر دیتے تھے۔ اب یہ ایک لاکھ سائیکل سوار، دس ہزار گھوڑے اور نیزہ باز، یہ سب کس کی تیاری ہے؟ کیا قادیان واپس لینے کی تیاری ہے یا یہ جس طرح بہت دفعہ انہوں نے کہا، ہمیں اپنی حکومت قائم کرنی ہے۔ اس کی تیاری کرنی ہے۔ بہرحال یہ وہ چیزیں ہیں جن سے ہم صرف نظر نہیں کر سکتے۔ یہ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں پوری تیاری سے اس مسئلہ کو نپٹانا چاہئے۔ ایک چیز اور عرض کروں گا جس وقت یہ باؤنڈری کمیشن کا واقعہ آیا ہے اور آپ نے دیکھا ٥؍اپریل سے اگست ١٩٤٧ء بلکہ دسمبر ١٩٤٧ء کے اقتباسات میں نے آپ کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ جس میں ہر جگہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کے قیام سے یہ اپنا ذہن ہم آہنگ نہیں کر سکے۔ لیکن جب باؤنڈری کمیشن کا وقت آیا ہے تو خود چوہدری ظفر اﷲ صاحب لکھتے ہیں۔ یہ بہت دلچسپ اقتباس ہے۔ اس لئے کہ کہاں تو مرزا بشیر محمود صاحب ایک طرف یہ لکھ 2908 رہے ہیں کہ ہمیں اکھنڈ بھارت بنانا ہے اور ہمیں کوشش جاری رکھنی ہے۔ لیکن باؤنڈری کمیشن کا تقرر ہوتے ہی ان کو مسلم لیگ کے کیس سے اتنی دلچسپی ہوئی کہ اتنی مسلم لیگ کے لیڈروں کو بھی نہ تھی۔ مجھے وہ انگریزی کی مثل یاد آتی ہے:

"A woman that loves a child more than its mother does, must be a witch."

(ایسی عورت جو کسی بچے کو اس کی ماں سے زیادہ پیار کرتی ہے۔ یقیناً ڈائن ہے)

٧٢

صفحہ ٢٦١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

تو یہ مختصر سا اقتباس ہے۔ ”تحدیث نعمت“ مصنفہ چوہدری ظفر اللہ صاحب، ص ٥٦٦

”حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ان دنوں لاہور ہی میں تشریف فرما تھے۔ بدھ کی سہ پہر کو مولانا عبدالرحیم درد صاحب تشریف لائے اور فرمایا کہ حضرت صاحب نے یہ دریافت کرنے کے لئے مجھے بھیجا ہے کہ حضور کسی وقت تشریف لا کر تمہیں تقسیم کے متعلق بعض پہلوؤں کے متعلق معلومات بہم پہنچا دیں۔ خاکسار نے (یعنی ظفر اللہ نے) گزارش کی کہ جس وقت حضور کا ارشاد ہو، خاکسار، حضور کی خدمت میں حاضر ہو جائے گا۔ درد صاحب نے فرمایا حضور کا ارشاد ہے کہ تم نہایت اہم قومی فرض کی سرانجام دہی میں مصروف ہو، تمہارا وقت بہت قیمتی ہے۔ تم اپنے کام میں لگے رہو۔ ہم وہیں تشریف لائیں گے۔ موجودہ حالات میں یہ مناسب ہے۔ چنانچہ حضور تشریف لائے اور بٹوارے کے اصولوں کے متعلق بعض نہایت مفید حوالوں کی نقول خاکسار کو عطا کیں، اور فرمایا کہ اصل کتب کے منگوانے کے لئے ہم نے انگلستان فرمائش بھیجی ہوئی ہے۔ اگر وہ کتب بروقت پہنچ گئیں تو وہ بھی تمہیں بھیج دی جائیں گی۔ نیز ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنے خرچ کے دفاع کے ہر ماہر پروفیسر کی خدمات حاصل کی ہیں۔ وہ لاہور پہنچ چکے ہیں اور نقشہ جات وغیرہ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ تم تحریری بیان تیار کر لینے کے بعد ان کے ساتھ مشورے کے لئے وقت 2909 نکال لینا۔ وہ یہاں آ کر تمہیں یہ پہلو سمجھا دیں گے۔ چنانچہ متعلقہ کتب انگلستان سے قادیان پہنچیں اور وہاں سے ایک موٹر سائیکل سوار انہیں سائیڈ کار میں رکھ کر لاہور لے آیا اور دوران بحث وہ ہمیں میسر آ گئیں۔ ان سے ہمیں بہت مدد ملی۔“

جو پروفیسر آئے تھے ان کا نام تھا پروفیسر سپیٹ۔ پروفیسر سپیٹ نے مجھے دفاعی پہلو خوب سمجھا دیا۔ وغیرہ وغیرہ! اب دفاعی پہلو کیا سمجھایا؟ میں نے آپ کے توسط سے انہیں خط لکھا تھا کہ پروفیسر سپیٹ کی Observations, Recommendations جو ہوں، ان کی ایک کتاب ہمیں نہ بھیج دیں۔ وہ انہوں نے نہ بھیجیں کہ دفاعی پہلو اسے کیا سمجھایا گیا کہ پاکستان کس طرح بنایا جائے اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ دلچسپی مرزا صاحب کو تھی۔ وہ چیز تو ہمارے پاس نہیں ہے۔ لیکن جو پہلے کے عزائم سامنے آ رہے ہیں اور اس کے بعد جو نقشہ بن رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کیا کچھ ہوگا۔

Mr. Chairman: Sir, how long will you take? (جناب چیئرمین: جناب آپ ابھی کتنا وقت لیں گے؟) مولانا محمد ظفر احمد انصاری: آپ جس وقت کہیں گے۔

٧٣

صفحہ ٢٦١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب چیئرمین: میں بالکل نہیں کہوں گا۔ You have already taken One and half hour. (آپ پہلے ہی ایک سے دو گھنٹے لے چکے ہیں)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اچھا جی! (مداخلت)

جناب چیئرمین: میں روک نہیں رہا، میں نے ویسے پوچھا تھا۔ Why do you feel ill when I ask how long you will take? I am sorry. (آپ کیوں ناراض ہوتے ہیں جب میں پوچھتا ہوں کہ آپ کتنا وقت لیں گے؟ میں معذرت خواہ ہوں)

2910 میں نے صرف اس لئے پوچھا تھا کہ میں صرف ایڈجسٹ کر سکوں۔ Members are becoming restive (اراکین بے چین ہو رہے ہیں) کچھ لیڈی حضرات جا چکی ہیں اور باقی سارے گھڑیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کوئی مجھے کہہ رہے ہیں کہ روٹی کھانی ہے۔ اس لئے میں نے پوچھا تھا تا کہ میں ایڈجسٹ کر سکوں۔ I am not saying that he is not saying useful word. You think that you believe that these are useful words and I do not believe that these are useful words? (میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ کوئی مفید گفتگو نہیں کر رہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ صرف آپ ہی ان الفاظ کو مفید سمجھتے ہیں اور میں انہیں مفید نہیں سمجھتا؟)

میں غلطی کر بیٹھا ہوں کہ آپ کو کہہ بیٹھا ہوں کہ تیزی سے نہ پڑھیں۔ I am sorry for that. I apologize before the whole House. (میں پورے ایوان کے سامنے معذرت خواہ ہوں) صرف اس واسطے میں نے کہا کہ سائیکلو سٹائل کروا کے دے دیں۔ That will be useful; and give oral arguments, that would be better. How long will you take? (یہ فائدہ مند ہوگا، اور زبانی دلائل دیں تو وہ بہتر ہے۔ آپ کتنا وقت لیں گے؟)

میں نے صرف ایڈجسٹ کرنا ہے۔ That is all.

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میرے خیال میں میں نے جو گزارش کی تھی اگر وہ آپ منظور کرتے ہیں.......

٧٤

PDF 397

2617 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب چیئرمین: وہ میں نے کب انکار کیا ہے؟ اس وقت حنیف خان صاحب نے کہا تھا کہ تحریری طور پر دے دیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میری گزارش یہ ہے کہ میں بھی یہ محسوس کر رہا ہوں کہ ممبر صاحبان کافی تھک گئے ہوں گے۔

Mr. Chairman: From their expressions; that is why I cut it short. (جناب چیئرمین: ان کے چہروں سے یہ واضح ہے، اسی لئے میں مختصر کرنے کو کہہ رہا تھا)

2911 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں اس کو یہاں ختم کرتا ہوں۔ اگر آپ مجھے آدھ گھنٹہ اس روز دے دیں تو میں کوشش کروں گا......

جناب چیئرمین: اگر آپ مناسب سمجھیں تو اٹارنی جنرل صاحب کے بعد جیسے بھی......

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں! اتنا وقت تو کوئی ایسا نہیں ہوگا۔

جناب چیئرمین: اگر ضرورت سمجھیں۔ یہ میں نے اس واسطے کہا کہ ڈیڑھ بج گیا ہے اور آپ نے فرمایا تھا کہ ایک گھنٹہ لیں گے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں نے ڈیڑھ گھنٹہ کہا تھا۔

جناب چیئرمین: آدھ گھنٹہ پہلے ہو گیا ہے۔ بریک سے پہلے ساڑھے گیارہ بجے آپ نے سٹارٹ کیا۔ بارہ بجے بریک ہوئی۔ 12:25 پر پھر ہم نے سٹارٹ کیا تھا۔ 1:35 ہو گیا ہے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے۔ پھر اس روز کے لئے رکھیں۔ اگر وہ تیار ہو گئے تو آدھ گھنٹہ شروع کا مجھے دے دیں۔ یعنی آنے میں بھی تو کچھ دیر ہوتی ہے۔ میں اس وقت کر لوں گا۔

جناب چیئرمین: بالکل ٹھیک ہے جی۔ Thank you.

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اگر میں کچھ لکھ سکا، جس کی زیادہ امید نہیں ہے تو پھر وہ بھی کر لوں گا۔ بہت بہت شکریہ۔

جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ Thank you very much. مسٹر جمال کوریجہ! آپ اندازاً کتنا وقت لیں گے؟

خواجہ جمال محمد کوریجہ: دو منٹ، جناب۔ ٧٥

BLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب چیئرمین: میں بالکل نہیں کہ (آپ پہلے ہی ایک One and half hour.

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اچھا جی

جناب چیئرمین: میں روک نہیں رہا when I ask how long you will (آپ کیوں ناراض ہوتے ہیں جب معذرت خواہ ہوں) 2910 میں نے صرف اس لئے پو Members are becoming restive حضرات جاچکی ہیں اور باقی سارے گھڑیوں کی ط روٹی کھانی ہے۔ اس لئے میں نے پوچھا تھا تا کہ می he is not saying useful word. at these are useful words and I seful words? (میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ کوئی مفید گفتا ان الفاظ کو مفید سمجھتے ہیں اور میں انہیں مفید نہیں سمجھت میں غلطی کر بیٹھا ہوں کہ آپ کو کہ logize before the whole House. ایوان کے سامنے معذرت خواہ ہوں) صرف اس واسط and give oral arguments, that l you take? (یہ فائدہ مند ہوگا، اور زبانی دلائل دیں میں نے صرف ایڈجسٹ کرنا ہے۔ ب

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میر آپ منظور کرتے ہیں...... ٤

صفحہ ٢٦١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

(جناب خواجہ جمال محمد کوریجہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب والا! کوئی ڈیڑھ مہینے سے مرزائیت کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ بحث صرف اس مسئلے پر کی جارہی ہے کہ مرزا غلام احمد نبی ہے یا نہیں۔ افسوس سے مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان دنیا کی 2912 عظیم اسلامی مملکت شمار ہوتا تھا۔ دنیا کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا اسلامی ملک کہا جاتا تھا۔ لیکن آج تمام ملکوں کے اندر ہم بدنام ہوچکے ہیں۔ ایک مسئلہ جو متنازع مسئلہ نہیں ہے۔ اس مسئلے کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے حل فرمادیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا، نہ آسکتا ہے۔ میں نے دین کو ان کے اوپر مکمل کردیا ہے۔ جو اب اس کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہے، وہ مرتد ہے، وہ واجب القتل ہے۔ پھر مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ انگریز نے اس کی پرورش کی جس طریقے سے اس کی پرورش ہوتی رہی۔ پھر مسلمان کا دور آیا۔ ستائیس سال گزر گئے ہیں۔ ہماری حکومتوں نے پھر اس کو انگریز کی سرپرستی سے بھی زیادہ سرپرستی دی۔ تو ہم لوگ آج کسی اسلامی ملک کے سامنے یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان تو ان لوگوں کا تھا جنہوں نے دعویدار کو چند لمحے بھی اس دنیا میں رہنے کی اجازت یا مہلت نہ دی اور ان کے خلاف جہاد کیا اور ان کو فی النار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمادیا کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ حضورﷺ نے فرمادیا کہ اگر میرے بعد نبی آتا تو وہ عمرؓ ہوتے۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کو ثابت کردیا کہ واقعی حضور کا فرمان صحیح ہے، اللہ کا فرمان صحیح ہے۔ مسیلمہ کذاب نے دعویٰ کیا۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کے خلاف جہاد کر کے اس کو ختم کردیا۔ اسی طرح کے بیس بائیس اور بھی گزرے ہیں۔ جنہوں نے (نبوت کے) دعوے کئے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی یہی حشر ہوا۔ لیکن یہ واحد ایک مملکت آئی ہے جو ڈیڑھ مہینے سے ایک ولد الحرام فرقے کو یہاں بٹھا کر ان سے یہ دلائل پوچھے جارہے ہیں کہ تم اپنی نبوت کے دلائل پیش کرو کہ تم صحیح ہو یا غلط ہو۔ کون سی گنجائش ہے کہ حضورﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں؟ کون اس کے اوپر تھوڑی سی گنجائش کرتا ہے کہ حضورﷺ خاتم النبیین نہ تھے؟ اگر کوئی آدمی تھوڑا سا خیال بھی کرلیتا ہے۔ تھوڑا سا وہم بھی اس کے اندر آجاتا ہے تو وہ کافر ہے۔ اس کا ایمان نہیں رہتا۔ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ نبوت کا ایک 2913 دعویٰ کرتا ہے تو ہم اس کے ساتھ کیسے پیش آئیں گے تو حضور نے کہا اس کے خلاف جہاد کرو۔ اگر تم نے اس سے صرف یہ پوچھ لیا کہ تم معجزہ دکھاؤ تو تم بھی اسی طریقے سے مجرم ہو جاؤ گے۔ جیسے کہ وہ مجرم ہے۔ یعنی معجزہ طلب کرنا بھی شرک ہے اور ہم ڈیڑھ مہینے سے یہ بحث

٧٦

صفحہ ٢٦١٩

2619 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

تجویز کر رہے ہیں کہ آیا یہ کافر ہیں یا نہیں۔ یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

جناب چیئرمین: معاف کریں، یہ ہم بحث نہیں کر رہے ۔

خواجہ جمال محمد کوریجہ: بالکل یہی کر رہے ہیں۔

جناب چیئرمین: نہیں، سوری۔

خواجہ جمال محمد کوریجہ: بالکل یہی بحث ہو رہی ہے۔

جناب چیئرمین: نہ، نہ آپ نے ریزولیوشن پڑھے ہیں نہ آپ نے بحث سنی ہے۔

خواجہ جمال محمد کوریجہ: مجھے بتائیں کہ وہ یہاں کس لئے آئے؟ مرزا ناصر کیوں آیا؟

جناب چیئرمین: میں آپ سے بحث میں نہیں الجھنا چاہتا۔ یہ تھا کہ ایک ریزولیوشن آیا تھا۔ To Detrmine the status of the Ahmedis. (کہ احمدیوں کی حیثیت کا تعین کیا جائے)

خواجہ جمال محمد کوریجہ: (اپنی بولی میں، اپنی زبان میں)

جناب چیئرمین: کہ یہ واضح کیا جائے گا کہ قادیانیوں کا، احمدیوں کا کیا مقام ہے۔ ایک ریزولیوشن آپ کی طرف سے آیا تھا کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔ باقی دو تین ریزولیوشن اور آئے ہیں اور ان میں کسی ایک نے بھی ایسا کوئی ریزولیوشن پیش نہیں کیا کہ وہ مسلمان ہیں یا کافر ہیں۔ اس واسطے یہ بحث بالکل نہیں رہی وہ ایک Clarification (وضاحت) تھی جس کے واسطے ان کو بلایا گیا تھا۔ جس کے واسطے ان پر جرح کی گئی تھی اور سوال پوچھے گئے تھے اور یہ سوال بھی ممبران نے دیئے تھے کوئی باہر سے نہیں آئے تھے۔

2914 خواجہ جمال محمد کوریجہ: تو جناب والا! ان کو اقلیت قرار دینے سے اور کیا ثابت ہو رہا ہے؟

جناب چیئرمین: آپ اس طرح ممبر صاحبان کی توہین نہ کریں۔ یہ سب انہوں نے خود سوال مرتب کئے تھے۔

خواجہ جمال محمد کوریجہ: کسی ممبر کی میں توہین نہیں کر رہا۔ میں اپنا ایمان اور میرا جو عقیدہ ہے وہ بیان کر رہا ہوں کہ یہ لوگ ......

جناب چیئرمین: نہ، آپ کیوں اسمبلی کی ایسی تیسی کر رہے ہیں؟

خواجہ جمال محمد کوریجہ: میں تو جناب! دو منٹ میں ختم کر دیتا ہوں، آپ نے خواہ مخواہ اتنا ٹائم لے لیا ہے۔

٧٧

EMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

(جناب خواجہ جمال محمد کوریجہ کا قومی اسمبل

جناب والا! کوئی ڈیڑھ مہینے سے مرزائیت ک پر کی جا رہی ہے کہ مرزا غلام احمد نبی ہے یا نہیں۔ افسوس 2912 عظیم اسلامی مملکت شمار ہوتا تھا۔ دنیا کی نظر میں یہا آج تمام ملکوں کے اندر ہم بدنام ہو چکے ہیں۔ ایک ط اللہ تبارک و تعالیٰ نے حل فرما دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعال نہیں ہو سکتا، نہ آ سکتا ہے۔ میں نے دین کو ان کے اوپ وہ کافر ہے، وہ مرتد ہے، وہ واجب القتل ہے۔ پھر مرز اس کی پرورش کی جس طریقے سے اس کی پرورش ہوئی گزر گئے ہیں۔ ہماری حکومتوں نے پھر اس کو انگریز ک لوگ آج کسی اسلامی ملک کے سامنے یہ نہیں کہہ سکتے ک تھا جنہوں نے دعویدار کو چند لمحے بھی اس دنیا میں رہ خلاف جہاد کیا اور ان کو فی النار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فیص آ سکتا۔ حضور ﷺ نے فرما دیا کہ اگر میرے بعد نبی آ اس کو ثابت کر دیا کہ واقعی حضور کا فرمان صحیح ہے، اللہ کا ف حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کے خلاف جہاد کر کے اس بھی گزرے ہیں۔ جنہوں نے (نبوت کے) دعوے لیکن یہ واحد ایک مملکت آئی ہے جو ڈیڑھ مہینے سے ایک یہ دلائل پوچھتے جا رہے ہیں کہ تم اپنی نبوت کے دلائل پ ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین نہیں ہیں؟ کون اس کے خاتم النبیین نہ تھے؟ اگر کوئی آدمی نعوذ باللہ ایسا خیال بھی کر ہے تو وہ کافر ہے۔ اس کا ایمان نہیں رہتا۔ حضرت امام کہ نبوت کا ایک 2913 دعویٰ کرتا ہے تو ہم اس کے ساتھ خلاف جہاد کرو۔ اگر تم نے اس سے صرف یہ پوچھ لیا ک ہو جاؤ گے۔ جیسے کہ وہ مجرم ہے۔ یعنی معجزہ طلب کرنا

٧٨

صفحہ ٢٦٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب چیئرمین: نہیں، یہ آپ نے غلط کہا ہے۔ خواجہ جمال محمد کوریجہ: میں بحث نہیں کر سکتا ہوں؟ جناب چیئرمین: اسمبلی کے ممبران کا ایمان مضبوط ہے۔ خواجہ جمال محمد کوریجہ: لیکن میرا ایمان مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں اس کے اوپر بحث کروں۔ جیسے لوگوں نے بڑے بڑے دلائل دیئے ہیں کہ وہ اس لئے خراب تھا کہ وہ انگریز کا وفادار تھا۔ وہ اس لئے خراب تھا کہ اس نے ساری زندگی انگریزوں کے ساتھ مل کر گزاری، اس نے ان کی وفاداری کی، اس کا وظیفہ خوار تھا۔ اگر ایک آدمی ان تمام عیوب سے پاک ہو اور وہ نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر ہمیں اسے تسلیم کر لینا چاہئے؟ یہ کوئی بات نہیں ہے کہ وہ وفادار تھا یا نہیں تھا میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا بڑا جرم جو ہے وہ یہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا وہ واجب القتل ہے۔ وہ مرتد اور ہمارے مسلم معاشرے کے اندر اس کا رہنا، اس کا رہن سہن جو ہے وہ اسلام کے خلاف ہے۔ میں گورنمنٹ کی خدمت میں استدعا کروں گا کہ مرزا غلام احمد جو ولد الحرام ہے جو ولد الحرام تھا اس کی جماعت جو ہے وہ بھی ولد الحرام ہے۔ مرتد ہے، مشرک ہے جو ان کو پناہ دیتے ہیں وہ بھی کافر اور مرتد ہیں۔ جو ان کے ساتھ لین دین رکھتے ہیں وہ بھی مشرک ہیں۔ لہٰذا ان کو فوراً اس پاک سرزمین سے نکال کر اس ملک کو پاک کیا جائے۔ جناب چیئرمین: شکریہ! مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک) آپ کتنا ٹائم لیں گے؟ مولانا عبدالحق: جتنا آپ فرمائیں۔ جناب چیئرمین: آپ ویسے مستثنیٰ ہیں، ان کو ٹائم تھوڑا مل رہا ہے۔ جنہوں نے دستخط کئے ہیں اور دوسو صفحے کی کتاب لکھی ہے، انہیں کم ٹائم دیا جا رہا ہے۔ مولوی مفتی محمود: اس میں پانچ منٹ میں بھی لوں گا۔ کچھ تجاویز ہیں میری۔ جناب چیئرمین: پھر آپ پرسوں صبح لے لیں۔ مولوی مفتی محمود: جیسے آپ مناسب سمجھیں۔ جناب چیئرمین: جی ہاں! مولانا عبدالحق صاحب! کتنا ٹائم آپ لیں گے؟ مولانا عبدالحق: پانچ دس منٹ۔ جناب چیئرمین: پانچ منٹ میں ختم کر دیں۔ مولانا عبدالحق: اچھا جی۔ جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، شروع کر دیں...... وہ تقریر کر کے جا رہے ہیں۔ بس

٧٨

2621 N

پھر پرسوں کے لئے ملتوی

ہے ہیں۔ ی کو گالی نکالی، کسی نے کسی

صاحب نے لینے ہیں۔ Then we will ad ں گے) تین باتیں عرض کرتا ہوں۔ چکا ہے اس تحریر میں۔ ہے ختم نبوت کا کہ حضور حمد کو ماننے والے غیر مسلم عین کو ہم نے پاس کیا اور

اں ہوئی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ان کی دستوری اور قانونی

مران کی قانونی حیثیت کیا

ئلہ پر خطاب) ت کا مسئلہ جو ہے یہ مسئلہ تو یہ ہو کہ حضرت محمد ﷺ ں وقت صورتحال یہ ہے زا غلام احمد کے متعلق ہے

صفحہ ٢٦٢١

2621 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

یہی ہے کہ اپنا جوش نکالا، تقریر کی اور گئے۔ پانچ منٹ آپ نے لیں، پھر پرسوں کے لئے ملتوی کرتے ہیں۔

چوہدری ممتاز احمد : جناب والا! کوریجہ صاحب اب جارہے ہیں۔

2916 جناب چیئرمین : بالکل! اپنا جوش ٹھنڈا کیا، کسی نے کسی کو گالی نکالی، کسی نے کسی کو، اس کے بعد باہر۔

ایک رکن : ڈیڑھ بج گیا ہے۔

جناب چیئرمین : پانچ منٹ انہوں نے لینے ہیں، پھر مفتی صاحب نے لینے ہیں۔

Then we will adjourn the House. Then all the members are satisfied. (پھر ہم اجلاس ملتوی کریں گے اور پھر تمام ارکان مطمئن ہوں گے)

مولانا عبدالحق : جناب چیئرمین! پانچ منٹ ہیں۔ اس لئے دو تین باتیں عرض کرتا ہوں۔

جناب چیئرمین : ہاں! بس تجاویز دیں۔ باقی تو سب کچھ آ چکا ہے اس تحریر میں۔

مولانا عبدالحق : اصل میں دو مسئلے ہیں۔ ایک مسئلہ تو ہے ختم نبوت کا کہ حضور اقدس ﷺ خاتم النبیین اور آخری نبی ہیں اور ایک مسئلہ ہے کہ مرزا غلام احمد کو ماننے والے غیر مسلم ہیں یا مسلمان۔ تو اس کے متعلق گزارش ہے کہ گزشتہ سال جیسے کہ آئین کو ہم نے پاس کیا اور منظور کیا......

مولانا محمد ظفر احمد انصاری : شاید مولانا صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔ یہ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان کی دستوری اور قانونی حیثیت کو کس طریقے سے واضح کریں۔

جناب چیئرمین : یہی تو میں نے کوریجہ صاحب کو کہا تھا کہ ان کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا کچھ ہم کر سکتے ہیں، کیا ہمیں سفارش کرنی چاہئے۔

(جناب مولانا عبدالحق کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

مولانا عبدالحق : اچھا جی! تو گزارش میری یہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ جو ہے یہ مسئلہ تو ہمارے آئین میں طے شدہ ہے کہ مسلمان وہ ہو سکتا ہے جس کا عقیدہ یہ ہو کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور اس کے بعد کوئی بروزی یا ظلی نبی نہیں آ سکتا تو اس وقت صورتحال یہ ہے 2917 کہ یہ مسئلہ تو آئین کے لحاظ سے طے شدہ ہے۔ اب یہ دوسرا مسئلہ مرزا غلام احمد کے متعلق ہے

٧٩

LY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب چیئرمین : نہیں، یہ آپ ۔

خواجہ جمال محمد کوریجہ : میں بحث نـ

جناب چیئرمین : اسمبلی کے ممبران

خواجہ جمال محمد کوریجہ : لیکن میرا بحث کروں۔ جیسے لوگوں نے بڑے بڑے دلائل وفادار تھا۔ وہ اس لئے خراب تھا کہ اس نے سا نے ان کی وفاداری کی، اس کا وظیفہ خوار تھا۔ اُ نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر ہمیں اسے تسلیم کر لینا چـ تھا میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا بڑا جرم جو ہے وہ یہ ہے۔ وہ مرتد اور ہمارے مسلم معاشرے کے اند خلاف ہے۔ میں گورنمنٹ کی خدمت میں استد جو ولد الحرام تھا اس کی جماعت جو ہے وہ بھی وا دیتے ہیں وہ بھی کافر اور مرتد ہیں۔ جو ان کے سـ ان کو فوراً اس پاک سرزمین سے نکال کر اس ملک کـ

جناب چیئرمین : شکریہ! مولانا عـ

مولانا عبدالحق : جتنا آپ فرمائیں

جناب چیئرمین : آپ ویسے دو دستخط کئے ہیں اور دو سو صفحے کی کتاب لکھی ہے، اُسـ

مولوی مفتی محمود : اس میں پانچ منـ

جناب چیئرمین : پھر آپ پر سولا

مولوی مفتی محمود : جیسے آپ مناسـ

جناب چیئرمین : جی ہاں! مولانا

مولانا عبدالحق : پانچ دس منٹ ۔

جناب چیئرمین : پانچ منٹ میں ا

مولانا عبدالحق : اچھا جی۔

جناب چیئرمین : ٹھیک ہے، شـ

صفحہ ٢٦٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

تو اس کے متعلق یہاں پر کتابوں اور حوالوں سے اور مرزا ناصر اور صدر الدین کی تسلیم سے یہ چیز انہوں نے مان لی ہے کہ مرزا غلام احمد نبوت کا دعویٰ کر چکے ہیں اور اس کی جتنی تاویلیں انہوں نے کیں ان تمام تاویلوں کے بعد انہوں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ مرزا غلام احمد کو ہم نبی جانتے ہیں اور اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ لاہوری پارٹی نے بھی یہی کہا کہ ہم اس کو مجدد یا ملہم یا مکلم کہتے ہیں۔ لیکن اٹارنی جنرل صاحب کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہاں، انہیں نبی بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ۔ ”ینزل نبی اللہ عیسیٰ بن مریم“ تو ہمارے اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا۔ انہیں۔ (لاہوری پارٹی سے) کہ جب حضور اکرم ﷺ کی حدیث سے تم نبوت کا اطلاق کرنا چاہتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اس کو نبی مانتے ہو۔ تو دونوں جماعتوں نے اس کو نبی تسلیم کر لیا۔

اب یہ ہے کہ آئین کے مطابق جو رسول کریم ﷺ کو خاتم النبیین نہیں جانتا وہ آئین کے مطابق مسلمان نہیں ہے۔ وہ غیر مسلم ہے تو اس صورت میں ان کے غیر مسلم ہونے کا (جیسا کہ نفس الامر میں ہے اور شریعت میں ہے اسی طریقے سے ) آئین کی بناء پر بھی وہ غیر مسلم ہی ہوئے۔

اب رہی دوسری بات کہ وہ ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تم ہمیں غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہو، تو ہماری جانب سے یہ کہا گیا کہ تم غیر احمدی کو یعنی مسلمانوں کو مسلمان کہتے ہو یا دائرہ اسلام سے خارج؟ تو دونوں جماعتوں نے یہ تسلیم کر لیا، لاہوریوں نے کہا کہ غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہے اور ربوہ والوں نے کہا کہ دائرہ اسلام سے غیر احمدی خارج ہیں اور کافر ہیں اور پکے کافر ہیں۔ یہ بات انہوں نے تسلیم کر لی۔ اب یہاں پر جب کہ وہ لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں، پکے 2918 کافر کہتے ہیں۔ دائرہ اسلام سے خارج کہتے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان حقیقت میں الحمد للہ امتیاز ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔ لیکن اگر ان کی نظر میں ہم غیر مسلم اکثریت ہیں۔ تم چاہے اپنے آپ کو مسلمان کہو یا جو بھی کہو، لیکن انہیں یہ ماننا پڑے گا کہ جمہور مسلمین کے یعنی غیر مرزائی مسلمان جو ہیں ان کے مقابلے میں وہ یقیناً الگ فرقہ ہیں۔ اس کو تسلیم کرنا ہوگا یا ہمیں یہ کہہ دو کہ چلو بھئی تم غیر مسلم اکثریت ہو اور اپنے آپ کو یہ مان لو کہ ہم مسلمان اقلیت ہیں، یا یہ کہ ہم مسلمان اکثریت ہیں۔ (الحمد للہ) تو تم اس کے مقابلے میں غیر مسلم اقلیت ہو۔ جیسا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں تھے، ہندو اکثریت میں تھے۔ ہمارے نزدیک ہندو کافر تھے، اب بھی کافر، پہلے بھی کافر، تو ہم نے کسی وقت یہ مطالبہ نہیں کیا کہ چونکہ ہم اقلیت میں ہیں۔ اس لئے ہمیں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے نعوذ باللہ (کسی مسلمان کے دماغ

٨٠

صفحہ ٢٦٢٣

2623 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

میں نہیں آیا) ہندوؤں میں شامل ہو جائیں۔ حقیقت میں مرزائی یہ چاہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کا استعمال کریں۔

جناب چیئرمین: آپ اپنے آپ کو غیر احمدی اکثریت Declare (ڈیکلیئر) کروالیں۔ اگر ویسے مسئلہ حل نہیں ہوتا، ایسے ہی ہوجائے۔

مولانا عبدالحق: بات یہ ہے......

جناب چیئرمین: اچھا جی! مولانا مفتی محمود! مولانا! ان چیزوں پر تقریباً بحث ہوچکی ہے۔ میں یہ عرض کروں کہ...... (مداخلت)

جناب چیئرمین: ممتاز صاحب! چھوڑیں۔ ان چیزوں پر بحث ہوچکی ہے۔

مولانا عبدالحق: اچھا!

2919 جناب چیئرمین: بالکل! ایمان سب کا مضبوط ہے اور تقریباً ہاؤس کی رائے بھی یہی ہے۔

مولانا عبدالحق: ایک تیسری بات میں عرض کرتا ہوں۔

جناب چیئرمین: اب مولانا مفتی محمود صاحب نے تقریر کرنی ہے۔ یہ تجاویز کا وقت ہے۔ اکثر لوگ ......

مولانا عبدالحق: بہت بہتر! یعنی مرزائی جو ہیں ان کے ساتھ ہم مسلمانوں کی منافرت یا عداوت اب کھلی ہے۔ اس سے پہلے وہ زمین دوز طریقے پر کس قدر مسلمانوں کی تباہی کرچکے ہیں۔ اب بات یہ ہے کہ چونکہ ہمارے اور ان کے درمیان پوری منافرت ظاہر ہوچکی ہے۔ اب اگر وہ ہماری کلیدی آسامیوں پر فائز رہیں تو میں یہ عرض کرتا ہوں کیا وہ پاکستان اور مسلمانوں کے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں؟ جب کہ ہم اس وقت یہ فیصلہ کردیں اور خدا ہمیں یعنی اس مجموعی اسمبلی کو توفیق دے کہ یہ ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دے۔ اس کے بعد وہ اگر کلیدی آسامیوں پر فائز رہیں تو یقیناً وہ ہمیں اور تباہ کریں گے۔ مسلمانوں کے بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر کمیٹی فیصلہ دے کہ انہیں کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر ایسے لوگوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے تو ملک کا انتظام کس طریقے سے چلے گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ نظام اللہ چلائے گا۔ اس سے پہلے ہمارے وزیراعظم صاحب نے بڑی بہادری کی کہ تیرہ سو ناپسندیدہ افسروں کو نکال دیا۔ اس وقت بھی تو اللہ نے نظام چلایا۔ اس لئے میں یہ گزارش کروں گا کہ ان کو کلیدی آسامیوں پر سے ضرور ہٹایا جائے۔ ورنہ صرف غیرمسلم اقلیت قرار دینے سے وہ

٨١

MBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

تو اس کے متعلق یہاں پر کتابوں اور حوالوں سے او انہوں نے مان لی ہے کہ مرزا غلام احمد نبوت کا دعویٰ ک کیں ان تمام تاویلوں کے بعد انہوں نے یہ بات ہیں اور اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ لاہوری پارٹی کہتے ہیں۔ لیکن اٹارنی جنرل صاحب کے سوال کے بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے فرما ہمارے اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا۔ انہیں ۔(1 کی حدیث سے تم نبوت کا اطلاق کرنا چاہتے ہو تو 2 دونوں جماعتوں نے اس کو نبی تسلیم کرلیا۔

اب یہ ہے کہ آئین کے مطابق جو رسول کے مطابق مسلمان نہیں ہے۔ وہ غیرمسلم ہے تو اس م نفس الامر میں ہے اور شریعت میں ہے اسی طریقے ۔

اب رہی دوسری بات کہ وہ ہم پر یہ اعتر دیتے ہو، تو ہماری جانب سے یہ کہا گیا کہ تم غیر احم اسلام سے خارج؟ تو دونوں جماعتوں نے یہ تسلیم مسلمان نہیں ہے اور ربوہ والوں نے کہا کہ دائرہ اس پکے کافر ہیں۔ یہ بات انہوں نے تسلیم کرلی۔ اس پکے 2918 کافر کہتے ہیں۔ دائرہ اسلام سے خارج ک درمیان حقیقت میں الحمدللہ امتیاز ہے۔ ہم مسلما اکثریت ہیں۔ تم چاہے اپنے آپ کو مسلمان کہو یا مسلمین کے یعنی غیرمرزائی مسلمان جو ہیں ان کے کرنا ہوگا یا ہمیں یہ کہہ دو کہ چلو بھئی تم غیرمسلم اکث اقلیت ہیں، یا یہ کہ ہم مسلمان اکثریت ہیں۔ (الحم ہو۔ جیسا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہندو کافر تھے، اب بھی کافر، پہلے بھی کافر، تو ہم ۔ میں ہیں۔ اس لئے ہمیں سیاسی مقاصد حاصل کر

٨٠

صفحہ ٢٦٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

مقصد حاصل نہیں ہوگا۔

جناب چیئرمین: شکریہ! مولانا مفتی صاحب! آپ فرمائیں۔

(جناب مولانا مفتی محمود کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

2920 مولوی مفتی محمود: جناب چیئرمین! جہاں تک مرزائیوں کے غیر مسلم ہونے کا تعلق تھا اس پر تفصیل کے ساتھ بحث آچکی ہے۔ اس میں مزید اضافے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے گزارش تو یہ ہے کہ یہاں پر ہمیں اس ہاؤس میں سیاسی جماعتوں کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے سوچنا ہوگا۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو کسی سیاسی جماعت کی برتری کے لئے، کریڈٹ حاصل کرنے کے لئے قطعاً استعمال نہ کیا جائے اور اس کو خالص دینی اور مذہبی حدود میں رہ کر حل کیا جائے۔ تاکہ کوئی بھی شخص کل اس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کرے۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: آپ ان کے پاس آ کر بیٹھیں، پھر ان کی باتیں سنیں۔ جب یہ تقریر ختم کرلیں گے تو پھر بات کرنا۔

He is an honourable member of the House; he is making the proposals.

(وہ ایوان کے ایک معزز رکن ہیں۔ وہ تجاویز دے رہے ہیں)

ہر روز تو یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

Ch. Mumtaz Ahmad: I am sorry.

(چوہدری ممتاز احمد: میں معذرت خواہ ہوں)

مولوی مفتی محمود: جناب والا! یہاں پر ہمیں اس مسئلہ کو دستوری......

Mr. Chairman: Do you like to be interrupted when you are speaking? Do you like anybody else to hoot you?

(جناب چیئرمین: کیا آپ پسند کریں گے کہ کوئی آپ کی گفتگو کے دوران قطع کلامی کرے؟ کیا آپ چاہیں گے کہ کوئی آپ پر آوازیں کسے؟)

چوہدری ممتاز احمد: سنتے نہیں۔

٨٢

صفحہ ٢٦٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

جناب چیئرمین: انہوں نے کہا ہے، آپ بھی کرلیں۔ 2921 When the time arises. When you are speaking in the Committee with good spirit, independent of any political consideration, the House Committee will decide this matter in the best interest of the nation. If you are making a political theatre, then go ahead with it. Yes, Molvi Mufti Mehmood. (جب اس کا وقت آئے گا جب آپ سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر نیک نیتی سے بات کریں گے تو ایوان کی یہ کمیٹی قوم کے بہترین مفاد میں مسئلے کا تصفیہ کرے گی) مولانا مفتی محمود: اس مسئلہ کو ہم نے دستوری حیثیت سے حل کرنا ہوگا اور دستور میں ہمیں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ خواہ دستور میں کسی دفعہ کا اضافہ کیا جائے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دفعہ ١٠٦ میں جہاں پر صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلم اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے وہاں پر عیسائیوں کا ذکر ہے، یہودیوں کا ذکر ہے۔ اس میں سکھوں کا، ہندوؤں کا، بدھ مت کا، جین کا بھی ذکر ہے۔ وہاں پر ان تمام جماعتوں کے ساتھ مرزائیوں کا بھی اضافہ کردیا جائے اور اس کے بعد اس کی تعریف کی جائے۔ تعریف میں بالکل واضح بات ہے کہ مرزائیوں کی بالکل کھلی واضح تعریف ہے کہ جو شخص بھی مذہبی حیثیت سے مرزا غلام احمد کو جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اس کو پیشوا تسلیم کرے، خواہ مجدد کی حیثیت سے، مسیح موعود کی حیثیت سے، مہدی موعود کی حیثیت سے، نبی کی حیثیت سے، تشریعی نبی کی حیثیت سے، یا غیر تشریعی نبی کی حیثیت سے، امتی نبی کی حیثیت سے، ظلی یا بروزی یا مجازی یا لغوی نبی کی حیثیت سے، کسی بھی حیثیت سے اسے مذہبی پیشوا تسلیم کیا جائے۔ وہ لوگ مرزائی کہلائیں گے۔ تعریف بالکل یہاں پر واضح ہے۔

بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ دستور میں کسی شخص کا نام نہیں لینا چاہئے۔ مثلاً ہم یہ کہیں کہ مرزا غلام احمد کو مذہبی پیشوا ماننے والے مرزائی ہیں۔ ان کا نام نہیں لینا چاہئے تو میں سمجھتا ہوں یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ آخر اسی دستور میں ہم نے جہاں پر صدر اور وزیراعظم کے حلف کے الفاظ دیئے ہیں۔ وہاں جناب نبی کریمﷺ خاتم النبیین ﷺ کا اسم گرامی بھی ہے۔ ایک مسلمان کی تشخیص کے لئے وہاں اسکا ذکر کیا ہے۔ اس لئے اگر مرزا جو دعویٰ نبوت کرچکے ہیں، ان کے معتقدین کی تعریف کے سلسلے میں بھی ان کا نام لے لیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

٨٣

صفحہ ٢٦٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

2922 اس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ صرف مرزائیوں کی تعریف نہ کی جائے۔ بلکہ عیسائیوں کی تعریف کر دی جائے۔ یہودی کی تعریف کی جائے۔ اس میں ہندو کی تعریف کر دی جائے۔ وہاں مرزائی کی تعریف بھی ہو جائے تو یہ سب کی تعریف کے ضمن میں یہ ایک بات آجائے گی۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی برا محسوس نہیں کرے گا کہ بین الصوبائی سطح پر اس کا ذکر ہو تو معترض نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں، جیسا کہ بعض چیزیں ہمارے سامنے آئی ہیں کہ دستور میں مسلمان کی تعریف کی جائے، تعریف جامع اور بامعنی ہو جائے گی تو وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح مرزائی مسلمان کی تعریف میں جب شامل نہیں ہوگا تو خود بخود غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے گا۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ غیر مسلم کی تعریف کی جائے اور غیر مسلم کی تعریف میں اس کی تعریف ایسی نہیں بلکہ اس میں یہ فرقہ بھی آجائے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج مسلمانوں کا مطالبہ جو ہے اور یہ پورے ملک کا مطالبہ ہے۔ وہ مسلمان کی تعریف کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک شخص اور معین گروہ جو اس ملک میں موجود ہے اور جس کے مذہبی عقائد بھی ہمارے سامنے ہیں، ان کے سیاسی عزائم اور مقاصد بھی ہمارے سامنے ہیں، اس فرقے کے متعلق دستور میں فیصلہ کرنے کا لوگوں کا مطالبہ ہے۔ صرف تعریف سے میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کا مطالبہ جو ہے وہ پورا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد پھر ہمیں لازماً کورٹ میں جانا ہوگا اور کورٹ سے فیصلہ کرانا ہوگا۔ اس لئے ہم ہر اس تجویز پر متفق ہو سکتے ہیں کہ جس چیز کے ذریعے سے ہمارے قانون دان حضرات یا جو لوگ دستور کے ماہر ہیں وہ یہ کہہ دیں کہ اب اس صورتحال میں اس ترمیم کے بعد یہ فرقہ جو ملک میں موجود ہے۔ غیر مسلم قرار دے دیا گیا تو ہم مطمئن ہو جائیں گے۔

جناب والا! ہمیں ایک قانون بھی بنانا ہوگا۔ جس میں ہم اس فرقے کے حقوق یا غیر مسلم فرقوں کے حقوق اور آبادی کے تناسب سے اس فرقے کو ملازمتیں وغیرہ دینا، اس کے بارے 2923 میں ہمیں ایک قانون بھی بنانا ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس طریقے سے انتظامیہ کی اصلاح بھی ہو سکے گی۔ اس قانون کے ذریعہ سے۔ اُس قانون میں تعریف بھی مکمل آسکتی ہے۔ وہ دستور کا حصہ تو نہیں ہوگی۔ وہ قانون ہوگا۔ قانون میں میں سمجھتا ہوں ان کی تعریف آنا ضروری ہے۔ بہر حال اس مسئلے کو ہم اس طرح حل کریں کہ تمام مسلمان مطمئن ہو جائیں۔ جمہوریت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ ہمیں اس وقت اس انداز سے فیصلہ کرنا ہوگا کہ سیاسی گروہ بندی نہ ہو۔ یہی گزارشات تھیں جو میں عرض کرنا چاہتا تھا۔

٨٤

2627 NATIONAL Mr. Chairman special Committee of th tomorrow on 5th at 9:0 is no convenient time. T to come tomorrow at a the morning; but we ca asked me to fix it on 5t members will have exp left out, he can speak o meet at 9:00 am, and arguments. Yes, Ch. Jahang

مل ایوان کی اس خصوصی کمیٹی کا اجلاس کل کوئی مناسب وقت نہیں ہے۔ کل کے وقت ملنا مشکل ہوگا۔ اٹارنی جنرل س سے پہلے پہلے ہم سنیں تمام ارکان یں تو وہ پانچ یا چھ تاریخ کو گفتگو کر سکتے جنرل اپنے دلائل مکمل کریں گے۔

نے گزارش کرنی تھی کہ جس وقت میں کہ اس فرقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا دونوں مراد ہیں۔ کیونکہ لاہوری فرقہ ابت ہو چکا ہے۔ ب نیشنل اسمبلی نے ایک لیٹر بھیجا ہے جوائنٹ سیٹنگ پونے چھ بجے شروع جائیں۔

صفحہ ٢٦٢٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

Mr. Chairman: Thank you very much. Now the special Committee of the Whole House will meet day after tomorrow on 5th at 9:00 am, not tomorrow. Tomorrow there is no convenient time. The Prime Minister of Sri Lanka has to come tomorrow at about 11:00 am. If we could meet in the morning; but we cannot. The Attorney- General has also asked me to fix it on 5th. Before that, I think, almost all the members will have expressed their views. If any member is left out, he can speak on the 5th or 6th. So, on 5th, we will meet at 9:00 am, and Attorney- General will sum up his arguments.

Yes, Ch. Jahangir Ali, what do you want?

(جناب چیئرمین: آپ کا بہت شکریہ! اب مکمل ایوان کی اس خصوصی کمیٹی کا اجلاس پرسوں پانچ تاریخ (٥ ستمبر) کو صبح نو بجے ہوگا۔ کل نہیں ہوگا۔ کل کوئی مناسب وقت نہیں ہے۔ کل ١١ بجے کے قریب سری لنکا کے وزیراعظم آ رہے ہیں۔ صبح کے وقت ملنا مشکل ہوگا۔ اٹارنی جنرل نے بھی مجھے پانچ تاریخ مقرر کرنے کا کہا ہے۔ میرا خیال اس سے پہلے پہلے کم وبیش تمام ارکان اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہوں گے۔ اگر کوئی رکن رہ جائیں تو وہ پانچ یا چھ تاریخ کو گفتگو کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اب ہم پانچ تاریخ کو صبح نو بجے ملیں گے اور اٹارنی جنرل اپنے دلائل مکمل کریں گے۔ جی! چوہدری جہانگیر علی! آپ کیا چاہتے ہیں؟)

چوہدری جہانگیر علی: جناب چیئرمین! میں نے گزارش کرنی تھی کہ جس وقت میں نے اپنی تقریر کو Conclude کیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ اس فرقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس سے میرا مطلب لاہوری فرقہ اور ربوہ والا فرقہ دونوں مراد ہیں۔ کیونکہ لاہوری فرقہ بھی مرزا غلام احمد کو نبی ہی مانتا ہے۔ یہ ان کے بیانات سے ثابت ہو چکا ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: سیکرٹری صاحب نیشنل اسمبلی نے ایک لیٹر بھیجا ہے ممبران کے نام۔ اس میں انہوں نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جوائنٹ سیٹنگ پونے چھ بجے شروع ہوگی۔ ممبران سے فرمایا گیا ہے کہ سوا پانچ بجے یہاں حاضر ہو جائیں۔

٨٥

صفحہ ٢٦٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

2924 جناب چیئرمین: ایک لیٹر آج میں نے لکھوایا ہے۔ وہ آج شام تک آپ کو پہنچ جائے گا۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: لیٹر ایشو ہو گیا ہے۔

جناب چیئرمین: میں نے اپنے نام سے ایک خط لکھوایا ہے آج، وہ آج شام تک پہنچ جائے گا۔

مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: میں تو یہ عرض کرنا چاہتا تھا کہ لکھا ہے کہ سوا پانچ بجے ممبران حاضر ہوں۔

جناب چیئرمین: دوسرا لیٹر ہے۔ جس میں یہ لکھا گیا ہے کہ دس پندرہ منٹ پہلے آپ یہاں آجائیں۔ آپ میری بات تو سن لیں وہ لیٹر Under my own signatures (میرے دستخط سے) ایشو ہوا ہے۔ جس میں ساری کی ساری Instructions (ہدایات) ہیں، وہ آج شام تک پہنچ جائے گا اور باقی تفصیلات طے ہو رہی ہیں۔ وہ طے کرنے کے بعد میں ہاؤس میں اناؤنس کر دوں گا۔

The Prime Minister of Sri Lanka will address the joint Session at 5:15 pm. the members may come ten minutes earlier.

Thank you very much.

(سری لنکا کے وزیراعظم شام سوا پانچ بجے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اراکین ١٠ منٹ پہلے ہی تشریف لے آئیں۔ آپ کا بہت شکریہ)

The Special Committee of the Whole House adjourned to meet at nine of the clock, in the morning, on Thursday, the 5th September, 1974.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٥؍ستمبر ١٩٧٤ء بروز جمعرات صبح ٩ بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا)

----------

٨٦

صفحہ ٢٦٢٩

OF PAKISTAN 3rd Sept, 1974 No:18

2924 جناب چیئرمین: ایک لی پہنچ جائے گا۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی جناب چیئرمین: میں نے اس پہنچ جائے گا۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی بجے ممبران حاضر ہوں۔ جناب چیئرمین: دوسرا لیٹر۔ آپ یہاں آ جائیں۔ آپ میری بات تو signatures (میرے دستخط Instructions (ہدایات) ہیں، وہ آ ہیں۔ وہ طے کرنے کے بعد میں ہاؤس میں ا Sri Lanka will address the members may come ten

(سری لنکا کے وزیر اعظم شام اراکین ١٠ منٹ پہلے ہی تشریف لے آئیں آپ کا بہت شکریہ)

e of the Whole House clock, in the morning, on

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا لئے ملتوی کر دیا گیا)

2629 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Thursday, the 5th September, 1974

(Contains No. 1--21)

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

1

PDF 410

آخری عمر میں (خود نوشت سوانح) لکھنا عام طور پر سچے آدمیوں کا کام ہوتا ہے۔ انہیں اپنی ڈائری لکھنے کی عادت ہوتی ہے، اس ڈائری کی مدد سے ان کی سوانح عمری لکھنے میں پیش رفت اور واقعات کی سچائی پر سوچ بچار میں مدد ملتی ہے۔ گاندھی، نہرو اور ابوالکلام جیسے لیڈروں کی آپ بیتیاں، سوانح عمریاں، اور جیلوں، تنہائیوں اور اندھیروں کے اندر خلوت اور فراغت میں لکھے گئے روزنامچے، مقالے اور خطوط پڑھ کر جب ان کے الفاظ اور تحریروں کا غائر مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ بات بے ساختہ اور بے اختیار زبان پر آ جاتی ہے کہ الفاظ اور تحریروں کے پردے میں چھپے ہوئے حقائق سامنے آ جاتے ہیں اور امر محال ہے کہ مصنف اپنی سچی سوچ بچار اور اصلیت کو چھپا سکے۔ بعض اوقات وہ سچائی جو اس کے دل کے اندر چھپی ہوتی ہے ان الفاظ میں جھلک جاتی ہے اور سچ یہ ہے کہ

”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“

2630 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

No. 19

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE OF THE WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Thursday, the 5th September, 1974

(Contains No. 1 - 21)

٢

2631 NATIONAL 2621 THE NATIONA ( PRO THE SPECIAL WHOLE HOU TO CONSIDE OF Thursday, (کارروائی ت) The Special Co Camera in the Assem Islamabad, at nine Chairman (Sahibzada (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد ) کی زیر صدارت منعقد ہوا) (Recitior

PDF 411

آخری پیراگراف (جو نوشتہ سوال کا) عام طور پر ہے کہ اس میں گالیوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ انہیں اپنی ڈائری لکھنے کی عادت ہوتی ہے، اس ڈائری کی مدد سے وہ سب کچھ بتاسکتے ہیں، کمالات، پیشینگوئیاں اور ان کے سچے ہونے کی باتیں یہ سب وہیں سے لائے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے پاس وہ ڈائریاں تک موجود نہیں ہیں۔ اور پھر، گالیوں اور اچھے مصنفین کے چبھتے الفاظ کو پیش کیا جاتا ہے کہ سب مجھے گالیاں دیں، تو وہ الفاظ جو وہ پیش کریں گے، بلکہ اغلاط و خرافات، واہیات سب بے شمار ہیں، ان کے سیکرٹری کھڑے ہوئے ہیں اور مائیک پر بول رہے ہیں اور اندھیری رات کا سماں ہے، جبکہ سامعین چپکے بیٹھے ہیں اور میرا حال یہ ہے کہ میرا لحاظ مانع ہے اور وہ بے لگام ہیں، پڑھتے جاتے ہیں اور ہم کھسکتے جاتے ہیں اور بعض اوقات تو دن کے دو بج جاتے ہیں۔ سوچنا پڑا اور سوچتے رہے کہ کیا کریں؟ یہ کہ ”صاحب“ چپک تو نہیں جائیں گے؟

BLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

HE BLY OF PAKISTAN

EDINGS OF OMMITTEE OF THE IELD IN CAMERA HE QADIANI ISSUE

----------------------

L REPORT

h September, 1974

----------------------

s No. 1-21)

2631 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

2621

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

----------------------

OFFICIAL REPORT

Thursday, the 5th September. 1974. (کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی) (٥ ستمبر ١٩٧٤ء، بروز جمعرات)

----------------------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at nine of the clock, in the morning. Mr. Cpairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں صبح نو بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)

----------------------

(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

صفحہ ٢٦٣٢

2632 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

(قادیانی مسئلہ......عمومی بحث)

جناب چیئرمین: جناب محمد حنیف خان!

(جناب محمد حنیف خان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب محمد حنیف خان: جناب سپیکر! اس معزز اسمبلی کے سامنے جو مسئلہ پیش ہے اس مسئلے کو اس تمام ایوان کی کمیٹی کے سامنے اس لئے پیش کیا گیا ہے کہ کمیٹی ہر دو لاہوری اور قادیانی مکتب فکر سے اپنے آپ کو آگاہ کرنے اور ان کے مؤقف کے مطابق ایسا فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکے کہ آیا جو محرکات ہمارے اس ملک میں ربوہ کے واقعہ سے پیش ہوئے ہیں یہ معزز اسمبلی اور نیشنل اسمبلی کے معزز ممبران اس کے متعلق اپنا کچھ نظریہ یا موقف بیان کرنے کے قابل ہو سکیں۔

جناب سپیکر! میں زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ میرے معزز اراکین اسمبلی نے اس مسئلے پر سیر حاصل تقریریں بھی یہاں کی ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب بھی اس شہادت کی روشنی میں جو اس کمیٹی کے سامنے گزر چکی ہے اپنے اس تمام 2622 مقدمے کا ماحصل اس کمیٹی کے سامنے ابھی تھوڑی دیر کے بعد پیش کریں گے۔ لیکن میں اپنی بات کو ضرور ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اس کے متعلق ایک انفرادی حیثیت سے انفرادی ممبر اور اپنے متعلق میں یہ کہوں گا کہ میرے کیا تاثرات ہیں۔

جناب سپیکر! میں اس بات میں بھی نہیں جاؤں گا کہ یہ بانی سلسلہ کس دور سے تعلق رکھتے تھے، کب پیدا ہوئے اور وہ وقت مسلمانوں کی تاریخ میں کیا تھا۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس وقت خلافت عثمانی جو تھی اپنے آخری دور میں تھی اور خلافت عثمانی کے خلاف تمام یورپ، روس اور یورپ کی تمام وہ طاقتیں جو مسلمانوں کو ختم کرنے کے درپے تھیں اور اسلام کا شیرازہ بکھیرنا انہوں نے اپنا مقصد سمجھ لیا تھا اور ان کا منتہائے مقصود تھا، انہوں نے بین الاقوامی طور پر کیا سازشیں کیں اور میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اس وقت یہ عین موزوں اور مناسب تھا کہ ان طاقتوں کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار کسی طرف سے آجائے کہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو وہ مفقود یا سراسر سرد کر سکیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ انہوں نے وہ مقصد کس طرح پیدا کیا۔ یہ ان کی شہادت سے بھی عیاں ہے اور یہاں ہمارے معزز اراکین اسمبلی بھی بیان کر چکے ہیں کہ انہوں نے کتنی کتب جہاد کے فلسفہ کو تبدیل کرنے کے لئے یا ان کے قول یا عقیدے کے مطابق مسیح موعود کی آمد پر اس جہاد کی تاویل کو تبدیل کرنے میں کتنا مؤثر کردار ادا کیا۔

٤

صفحہ ٢٦٣٣

آخر وہ کیا طریقہ (تضاد و تناقض مزاج) عام طور پر بروئے کار لاتے ہیں اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے انہیں اپنی پوزیشن کی اندازہ کشی کی عادت ہوتی ہے۔ اس اندازے کی حد درجہ تصدیق ہو جائے گی۔ غرضیکہ یہ کاغذ کے مندرجات سے یوں شدومد کے ساتھ ان کی پوزیشن پیش کی جائے گی۔ کہ انہوں نے مجلس احرار اور دیگر مصنفین کے متعلق تو کچھ کہا ہوگا۔ مگر جب ان کے لکھے ہوئے حوالہ جات سامنے آئیں گے تو الفاظ تو تبدیل نہیں ہو سکیں گے بلکہ مفہوم تبدیل ہو کر رہے گا اور عبارات سے یہ تظاہر ہوگا کہ ان کے مضمرات کو بروئے کار لاتے ہوئے ان میں مزید احتیاط برتنے کا مظاہرہ کیا جائے اور اس امر کا احتمال ہے کہ یہ الفاظ دماغ میں موجود نہ رہے ہوں گے۔ موقع پا کر ادھر اُدھر کھسک جاتے ہیں اور بعض اوقات گڑبڑ کر کے بیچ نکلنے میں کامیاب یہ امر کہ ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“

OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

GENERAL DISCUSSION

( قادیانی مسئلہ )

جناب چیئرمین: جناب محمد حنیف خان!

( جناب محمد حنیف خان کا قومی اسمبلی میں خطاب )

جناب محمد حنیف خان: جناب سپیکر! میں اس اہم اور نازک مسئلے کو اس تمام ایوان کی کمیٹی کے سامنے اس مکتب نظر سے اپنے آپ کو آگاہ کرنے اور ا ہو سکے کہ آیا جو محرکات ہمارے اس ملک میں نیشنل اسمبلی کے معزز ممبران اس کے متعلق اپنا جناب سپیکر! میں زیادہ وقت نہیں سیر حاصل تقریریں بھی یہاں کی ہیں اور اٹارنی کمیٹی کے سامنے گزر چکی ہے اپنے اس تمام دیر کے بعد پیش کریں گے۔ لیکن میں اپنی بات انفرادی حیثیت سے انفرادی ممبر اور اپنے متعلق جناب سپیکر! میں اس بات میں آ رکھتے تھے، کب پیدا ہوئے اور وہ وقت مسلما وقت خلافت عثمانی جو تھی اپنے آخری دور میں یورپ کی تمام وہ طاقتیں جو مسلمانوں کو ختم کر نے اپنا مقصد سمجھ لیا تھا اور ان کا منتہائے مقصو اور میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اس وقت یہ مسل ایک ایسا ہتھیار کسی طرف سے آ جائے کہ مسل میں یہ نہیں کہوں گا کہ انہوں نے وہ مقصد کس اور یہاں ہمارے معزز اراکین اسمبلی بھی بیاں تبدیل کرنے کے لئے یا ان کے قول یا عقیدہ تبدیل کرنے میں کتنا مؤثر کردار ادا کیا۔

2633 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 جناب والا! مذہبی لوگ اور علماء یہاں بیٹھے ہیں۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ کسی قرآن کی آیت کا ترجمہ جو ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں اور ہمارے آباؤ اجداد اور اسلاف جو ہیں ہمیں جس کی تلقین کرتے آئے، ان کے نزدیک ایک نئی صورت میں ایک نئے ترجمے میں اب پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ تو میں نہیں کہوں گا کہ یہ ان کا ترجمہ درست ہے یا غلط ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک تو ضرور درست ہے۔ لیکن باقی عامتہ المسلمین کے لئے 2623 نہ پہلے درست رہا ہے اور نہ اب وہ اسے درست سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ حضرت مسیح یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ان کے عقیدے سے بالکل مختلف ہے۔ ہم حضرت مریم کو پاک معصوم اور ہر گناہ سے مبرا قرآن کی بشارت سے سمجھتے آئے ہیں اور انشاء اللہ ! سمجھتے رہیں گے۔ ہمیں نعوذ باللہ! قطعاََ یہ کبھی شک پیدا نہیں ہو سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پاک روح نہیں تھے۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ پاک روح تھے اور اسی پاکیزگی کی بدولت انہیں صلیب نہیں دیا گیا۔ انہیں آسمان پر اٹھایا گیا اور ہمارے عقیدے کے مطابق وہ دنیا میں اس وقت آئیں گے جب کہ کفر کا غلبہ ہوگا۔

میں یہاں ایک یہ بات واضح کردوں، میں موجود نہیں تھا، شاید علماء صاحبان نے یہ واضح کیا ہے یا نہیں، ان کی یہ دلیل ہے کہ حضرت مسیح موعود اگر زندہ ہیں تو محمد رسول اللہ ﷺ آخری پیغمبر نہیں قرار دیئے جا سکتے۔ کیونکہ ایک زندہ پیغمبر اگر موجود ہو، ایک زندہ نبی موجود ہو اور وہ آخری پیغمبر جس پر ہمارا عقیدہ ہے اس کے بعد اگر اس دنیا میں آئے گا تو اس کی تکمیل، اس کا ختم ہونا یا خاتم ہونا رد ہو جائے گا، اور بعد میں آنے والا خاتم سمجھا جائے گا۔ لیکن ہمارے عقیدے کے مطابق یہ ہے کہ وہ اگر آئے گا تو وہ نبی کی حیثیت سے عیسائیت کی رو میں نہیں آئے گا بلکہ مسلمانوں کے امام مہدی کے آگے وہ بحیثیت امتی ہو کر آئے گا اور اس کے لئے یہ فخر ہوگا کہ وہ ہمارے محمد مصطفیٰ ﷺ کے دین پر قائم ہونے کا اقرار اور اعلان کرے گا اور اس پر وہ فخر محسوس کرے گا۔

دوسری بات جو میں معزز اراکین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ باتیں بہت سی کی جاچکی ہیں۔ جس طرح کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ جہاد کے جذبے کو سرد کیا جائے تو معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ ان کی شہادت سے، ان کی کتب ہائے سے، یہ تاثر ملتا ہے کہ اس وقت جہاد کے لئے ایک مکتبہ فکر کو آگے کیا گیا اور 2624 اس کے بعد جس وقت یہ دیکھا گیا کہ لوگ اس کو کلی طور پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس میں ایک دوسرا فرقہ سامنے آیا جو اپنے آپ کو لاہوری ظاہر کرتا تھا۔ لاہوری فرقہ میں بھی سوائے اس کے میں کوئی فرق نہیں سمجھتا، جس طرح اس دن میں نے لاہوری فرقہ کے موجودہ عقائد کی شہادت سے اور اٹارنی جنرل کی ان

٥

صفحہ ٢٦٣٥

آخری بات یہ کہ غیروں کی فروگزاشت اور کوتاہیوں کا ہم طعنہ دے رہے ہیں آج دنیا میں کام ہو رہا ہے آپس کی لڑائی، بیماری، کمزوری کی حالت میں بھی سہارا خدا کی مدد سے اور اس کے نام پر ملتا ہے۔ کبھی دکھ، غمی اور درد ہو یا کوئی مسرت و خوشی ہم کلمہ کے سائے میں ہیں۔ کہ اس کلمہ کے سائے میں دونوں چیزیں پروان چڑھتی ہیں۔ اگر ہمیں کوئی کہتا ہے یا کوئی بات ہو کہ یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے احکام کے خلاف ہے تو فوراً ہم وہ الفاظ واپس لے لیتے ہیں کہ یہ الفاظ جو میں نے کہے ہیں اور بات جو میں نے کہی ہے ان کے حضور سرنڈر کرتے ہیں اور نہایت معذرت کے ساتھ کہتے ہیں بجائے اس کے کہ ہم یہ کہیں کہ میں نے جو بات کہی ہے اور جو الفاظ میں نے کہے ہیں وہ ٹھیک ہیں یہ میری سوچ ہے کہ میں اپنا سر جھکا دیتا ہوں اور اس کا دفاع نہیں کرتا۔ بعض اوقات کوئی بات ایسی ہو گئی یہ کہ میں صاف کر دینا چاہتا ہوں

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

پر جرح ہونے سے یہ اندازہ لگایا کہ وہ ”کفر دون کفر“ کا جو وہ مقصد بیان کرتے ہیں وہ اپنے لئے لگاتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں نے ”کفر دون کفر“ کا یہ مقصد قطعاً کسی وقت بھی نہیں لیا اور نہ یہ معنی کیا گیا ہے کہ ایک نبی کی نبوت کو کوئی اگر چیلنج کرے اور مذہبی نبوت جو ہے اس کو وہ اگر نبی نہ مانے اور اس کو مجدد مانے یا برگزیدہ مانے یا کسی صورت سے بھی اسلام کے ساتھ متعلقہ مانے تو وہ دون کفر نہیں ہے۔ بلکہ وہ کفر کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ مکمل کافر ہوتا ہے۔

میں نے ایک سوال میں پوچھا تھا اور آپ کو یاد ہوگا اور وہ سوال یہ تھا کہ کفر کی اصطلاح قرآن پاک میں کس معنی میں استعمال کی گئی ہے اور کس معنی میں لی گئی ہے۔ تو ناصر محمود صاحب (مرزا ناصر احمد) خلیفہ ثالث نے بڑی جرات سے یہ کہا تھا کہ قرآن میں کفر کی اصطلاح جو ہے وہ صرف ملت اسلامیہ کی اور کفر کی تکمیل کے لئے استعمال کی گئی ہے اور دوسری اصطلاح جو انہوں نے یہاں ہمیں سنائی ہے اور رائج کی کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو تو ملت اسلامیہ میں بھی رہ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ فرمایا کہ کفر یا کافر کا لفظ جو اسلام میں، جو قرآن میں مذہبی سلسلہ میں مذہبی واسطہ سے استعمال ہوا ہے وہ دائرہ اسلام اور ملت اسلام دونوں کی تکمیل کرتا ہے اور وہ لفظ جس وقت استعمال ہوگا قرآن میں اس سے یہ مقصد لیا جائے گا کہ وہ دونوں سے خارج ہو گیا۔

جناب والا ! سمجھ میں نہیں آتا، میں ایک بات عرض کروں کہ میں اپنے علماء صاحبان سے بھی نہایت ادب سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ بھی اس بات کو سامنے ضرور رکھیں۔ ہمارے سامنے مسئلہ اکثریت اور اقلیت کا 2625 ہے۔ میں اس پر زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتا اور جو باتیں میں نے کہیں وہ اس لئے کہیں۔ کیونکہ اٹارنی جنرل صاحب تشریف نہیں لائے تھے۔ اب وہ تشریف لا چکے ہیں اور وہ زیادہ تفصیل سے باتیں کریں گے۔

آخر میں ایک بات کہوں گا کہ ہمارے سامنے ایک سوال ہے اور اس سوال کا میں اپنی دانست اور بساط کے مطابق ایک جواب دینا چاہتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اقلیت کون ہے۔ آیا وہ اقلیت ہیں یا نہیں۔ آیا وہ غیر مسلم اقلیت ہیں یا مسلم اقلیت ہیں۔

جناب والا ! وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ہم لوگوں کو یا جو مرزا صاحب کو مسیح موعود نہ مانے یا وہ جیسا عقیدہ ان کا ہے وہ نہ مانے تو وہ اس کو کہتے ہیں کہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ جناب والا ! اگر ہم لوگ ان کے دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں تو جزاک اللہ ! یہاں اس پاکستان میں وہ لوگ ٩٩٫٩ فیصد اکثریت رکھتے ہیں جو ان کے دائرہ سے خارج ہیں اور اگر انہی کی بات کو لیا جائے اور انہی کی بات پر بھروسہ کیا جائے تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گا کہ

٦

NATIO

۔ کیونکہ ان کے قول کے مطابق ہے، ان کی شادی ان سے الگ الگ ہے، ان کا پیغمبر ان سے الگ قرآن کی آیات سے علیحدہ ہے۔ ہم نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ہے، ہمارا مذہب الگ ہے، ہمارا کی پوجا کرتے ہیں تو اس صورت قابلیت اور اہلیت سے اس بات کو اس وقت باؤنڈری کمیشن ریڈ کلف

م داڑھی منڈے یا جن کو غیر متشرع متعلق ہو، جو قرآن کے متعلق ہو، نہایت ادب سے کہوں گا کہ دو میں اپنے آپ کو سمجھتے ہیں، ایک ہیں جس طرح کوئی بات نہیں میں ایک عالم کو کم از کم نہایت عالم ہے، وہ اس معزز رکن سے بات نہیں ہے۔

تھا اس وقت ہم نے ایک موقف یت اور اکثریت کی بات کرتا ہوں دہ قوم ہیں۔ ہماری عبادت الگ ہے، ہم دفن کرتے ہیں۔ زمین ردہ اس پر ڈھول اور ساز بجاتے ہمارے لئے تو حرام ضرور ہے۔ نہیں کھا سکتا۔ ہماری مجلسی زندگی، وہ مذہب، علیحدہ قوم 2627 قرار دیا

صفحہ ٢٦٣٥

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 پر جرح ہائے سے یہ اندازہ لگایا کہ وہ ”کفر دون کفر“ کا جو دہ لگاتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں نے ”کفر دون کفر“ کا یہ مقصد قط گیا ہے کہ ایک نبی کی نبوت کو کوئی اگر چیلنج کرے اور مذہبی نبو اس کو مجدد مانے یا برگزیدہ مانے یا کسی صورت سے بھی اسلا نہیں ہے۔ بلکہ وہ کفر کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ مکمل کافر ہوتا ہ

میں نے ایک سوال میں پوچھا تھا اور آپ کو یاد ہ قرآن پاک میں کس معنی میں استعمال کی گئی ہے اور کس معنی (مرزا ناصر احمد) خلیفہ ثالث نے بڑی جرات سے یہ کہا تھا ک صرف ملت اسلامیہ کی اور کفر کی تکمیل کے لئے استعمال کی نے یہاں ہمیں سنائی ہے اور رائج کی کہ وہ دائرہ اسلام سے خ ہے۔ انہوں نے یہ فرمایا کہ کفر یا کافر کا لفظ جو اسلام میں ا واسطہ سے استعمال ہوا ہے وہ دائرہ اسلام اور ملت اسلام و وقت استعمال ہوگا قرآن میں اس سے یہ مقصد لیا جائے گا کہ

جناب والا ! سمجھ میں نہیں آتا ، میں ایک بات ع سے بھی نہایت ادب سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ بھی اس سامنے مسئلہ اکثریت اور اقلیت کا2625 ہے۔ میں اس پر زیاد نے کہیں وہ اس لئے کہیں۔ کیونکہ اٹارنی جنرل صاحب تقر لاچکے ہیں اور وہ زیادہ تفصیل سے باتیں کریں گے۔

آخر میں ایک بات کہوں گا کہ ہمارے سامنے ق دانست اور بساط کے مطابق ایک جواب دینا چاہتا ہوں۔ اقلیت ہیں یا نہیں۔ آیا وہ غیر مسلم اقلیت ہیں یا مسلم اقلیت ہ

جناب والا ! وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں موعود نہ مانے یا وہ جیسا عقیدہ ان کا ہے وہ نہ مانے تو وہ جو ہ

جناب والا! اگر ہم لوگ ان کے دائرہ اسلام سے خارج ہ پاکستان میں وہ لوگ ٩٩٫٩ فیصد اکثریت سے ملتے ہیں یا انہی کی بات کو لیا جائے اور انہی کی بات پر بھروسہ کیا جائے

2635 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 وہ اپنی اس بات سے ہی اپنے آپ کو اقلیت ثابت کر چکے ہیں۔ کیونکہ ان کے قول کے مطابق ٩٩٫٩ فیصد جو ہیں، وہ اکثریت جو ہے وہ ان کے دائرہ سے الگ ہے، ان کی شادی ان سے الگ ہے، ان کی عبادت ان سے الگ ہے، ان کا رہنا سہنا ان سے الگ ہے، ان کا پیغمبر ان سے الگ ہے، ان کا عقیدہ ان سے الگ ہے، ان کی آیات کا ترجمہ ان کے قرآن کی آیات سے علیحدہ ہے۔ تو اس لئے جناب والا! جس وقت پاکستان بنایا گیا تھا اس وقت ہم نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ہم مسلمان ہیں، ہماری تہذیب الگ ہے، ہماری عبادت الگ ہے، ہمارا مذہب الگ ہے، ہمارا خدا الگ ہے، ہمارا ان بتوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ہندو جن کی پوجا کرتے ہیں تو اس صورت میں ہمیں ایک علیحدہ وطن ملا تھا اور اٹارنی جنرل نے نہایت2626 قابلیت اور اہلیت سے اس بات کو ان کے منہ سے کہلوایا اور ثابت کیا۔ اس ہاؤس کے سامنے کہ جس وقت باؤنڈری کمیشن ریڈ کلف ایوارڈ دے رہا تھا یا پاکستان کا فیصلہ کر رہا تھا...... (مداخلت)

جناب سپیکر ! مجھے ایسا احتجاج اس بات پر ہے کہ اگر ہم داڑھی منڈے یا جن کو غیر متشرع سمجھا جاتا ہے، ایسی تقریر میں جو دین کے متعلق ہو، جو اسلام کے متعلق ہو، جو قرآن کے متعلق ہو، وہ کی جائے تو حکم نہیں ہے کہ اس طرح سے چلا پھرا جائے۔ میں نہایت ادب سے کہوں گا کہ دو عالم جو اپنے آپ کو عالم بھی سمجھتے ہیں اور دین کے نہایت ماہر بھی اپنے آپ کو سمجھتے ہیں، ایک شریف معزز رکن تقریر کر رہا ہے اور یہ اس طرح آتے جاتے ہیں جس طرح کوئی بات نہیں ہورہی۔ تو یہ بات نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کوئی سنجیدہ بات ہو تو اس میں ایک عالم کو کم از کم نہایت سنجیدہ ہونا چاہئے اور کسی تقریر میں اس طرح کا تاثر پیدا نہ ہو۔ وہ عالم ہے، وہ اس معزز رکن سے زیادہ سمجھتا ہے اور جو باتیں معزز رکن کر رہا ہے، وہ کوئی ایسی خاص بات نہیں ہے۔

تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ جس وقت پاکستان بن رہا تھا اس وقت ہم نے ایک مؤقف اختیار کیا تھا کہ ہم ہندوؤں سے کیوں علیحدہ ہیں۔ میں اس لئے اقلیت اور اکثریت کی بات کرتا ہوں کہ اس وقت مسلمانوں نے خود کہا کہ ہم اقلیت ہیں اس لئے ہم علیحدہ قوم ہیں۔ ہماری عبادت الگ ہے، ہماری عام عبادت کا قاعدہ الگ ہے، ہمارا جنازہ جو ہے وہ الگ ہے، ہم دفن کرتے ہیں۔ زمین میں اور نماز جنازہ کرتے ہیں اور ہندو جو ہیں وہ اس کو جلاتے ہیں اور وہ اس پر ڈھول اور ساز بجاتے ہیں۔ ہم نے یہ کہا تھا کہ ہم ان کے ساتھ کھا نا نہیں کھا سکتے۔ کیونکہ ہمارے لئے تو حرام ضرور ہے۔ لیکن ہندو بھی یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان جو ہے اس کے ساتھ وہ کھا نا نہیں کھا سکتا۔ ہماری مجلسی زندگی، ہماری مذہبی زندگی ہندوؤں سے چونکہ الگ تھی۔ اس لئے ہمیں علیحدہ مذہب، علیحدہ قوم2627 قرار دیا ٧

صفحہ ٢٦٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

گیا۔ تو ہم نے یہ دیکھا اس ایوان میں، جناب! آپ نے بھی اس ایوان میں دیکھا، شاید میں پہلا آدمی ہوتا اگر وہ یہاں اس ایوان میں اتنا بھی کہہ دیتے کہ ہم تو مسلمان ہیں۔ لیکن مرزا صاحب کو جو نہیں مانتا اور مسلمان خدا اور رسول کو اور کتاب وسنت کو مانتا ہے۔ ہم اسے غیر مسلم نہیں کہتے۔ تو پھر بھی کچھ گنجائش نکل آتی۔ لیکن کتنی ستم ظریفی ہو گی کہ اگر ایک گواہ یہاں پیش ہو کر مجھے یہ کہے کہ آپ کو میں کافر سمجھتا ہوں، آپ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور مجھے یہ بھی کہنے کی اجازت نہ ہو یا میں اتنی بھی جرات نہ کر سکوں یا میں یہ بھی نہ کہہ سکوں کہ بھائی! آپ کے دائرہ اسلام سے اگر ہم خارج ہیں تو ہم آپ کو اپنے دائرہ اسلام سے بھی خارج سمجھتے ہیں۔

جناب عالی! یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ انہوں نے کہا ہے۔ انہوں نے چونکہ ہمیں خارج کیا۔ ”امنا و صدقنا“ ہم نے ان کا یہ کہنا قبول کیا۔ میرا خیال ہے تمام معزز ممبران ان کے اس کہنے پر تائید کریں گے کہ ان کے دائرے سے، ماشاء اللہ! خدا تعالیٰ نے ہم پر اپنی رحمت اور عنایت کی کہ ہم خارج ہوئے۔ لہٰذا ان کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ اگر ہم یہ نہ کہیں کہ وہ ہمارے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

جناب عالی! میں نہایت معذرت کے ساتھ عرض کروں کہ آخر میں طریق کار کی بات رہ جاتی ہے۔ ہم نے ان کو کوئی قرار نہیں دیا، ہم نے ان کو اقلیت قرار نہیں دیا ہے اب تک۔ نہ ہم نے ان کے مذہب کو علیحدہ کیا ہے اب تک اپنے ساتھ سے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم آپ سے علیحدہ ہیں، آپ ہمارے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جو میں نے نکتے ان سے لئے۔ ہم آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے، ہم آپ کے ساتھ شادی نہیں کرتے، ہم آپ کے جنازے میں شریک نہیں ہوتے، ہماری مسجد اقصیٰ الگ، ہماری مسجد اقصیٰ کا مینار الگ، اگر کسی کو حج کی توفیق نہ ہو تو وہ چھوٹا حج یہاں (قادیان میں) ادا کرنے کے قابل ہو 2628 تو اس کا حج قبول۔ اگر وہ فرضی حج کرتا ہو اس کے بعد وہاں مسجد اقصیٰ میں اگر جاتا ہو تو اس کا چھوٹا حج قبول۔ تو یہ چونکہ انہوں نے خود کہا ہے، جزاک اللہ! ہم کہتے ہیں کہ ان کو یہ خیالات مبارک ہوں، خدا ہمارے خیالات ہم کو مبارک کرے۔

لیکن آخر میں میں یہ کہوں گا کہ ہمیں اس مسئلے کو اچھی طرح حل کرنا چاہئے۔ ہمیں اس مسئلے کو نہ کوئی سیاسی رنگ دینا چاہئے اور نہ انفرادی اہمیت سے کوئی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ جس آدمی نے بھی ختم نبوت کے مسئلہ کو اپنے سیاسی عروج کا ذریعہ بنایا تو وہ حضرت محمد ﷺ کی برکت سے اس دنیا میں ذلیل ہوا ہے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو میرا پکا ایمان اور پکا یقین ہے اور عقیدہ ہے کہ پھر بھی وہ ذلیل ہوگا۔ میں نہایت ادب سے معزز

٨

صفحہ ٢٦٣٧

2637 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ممبران سے یہ استدعا کروں گا کہ بڑے اچھے طریقے سے اور خوش اسلوبی سے اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔ تاکہ ملک انتشار سے بچ جائے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں یا ہم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا نام لیوا کہتے ہیں تو میں آپ کی خدمت میں عرض کر دوں کہ ہمارے پیغمبر ﷺ کو خدا کی طرف سے یہ حکم نہیں ہے کہ وہ تبلیغ کرتے وقت اگر ان کی تبلیغ پر کوئی ”امنا وصدقنا“ نہ کرے تو اس پر نہ ہی ان کو غصہ کرنے کی اجازت خدا نے دی ہے، نہ اس پر ان کو کوئی ایسی بات کرنے کی اجازت دی ہے کہ خدانخواستہ یہ ظاہر ہو سکے کہ کسی قسم کا جبر یا استبداد استعمال کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے بحیثیت مسلمان کے کہ ہر اس آدمی کی جو اس وقت ہمارے وطن عزیز میں رہتا ہے۔ خواہ وہ غیر مسلم پارسی ہے، سکھ ہے، عیسائی ہے، مرزائی قادیانی ہے یا لاہوری ہے، ان کی جان و مال کی حفاظت، عزت و آبرو، عبادت اور عبادت گاہ، ہم تمام کے اوپر ان کی حفاظت لازم آتی ہے۔ ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان کی حفاظت کریں۔ میں نہایت ادب سے یہ کہوں گا کہ ہمارے بائیں 2629 ہاتھ کی طرف دو تین آدمی بہت بڑے عالم بیٹھے ہیں جن کی تقریر کا شاید ایک فقرہ پڑھایا دو فقرے پڑھے۔ مجھے پہلے بھی اعتراض رہا ہے۔ ان کو میں نے پہلے کہا بھی ہے۔ نام نہیں لیتا۔ میں ان سے بھی کہوں گا کہ اشتعال انگیز تقریر نہ ملک کے مفاد میں ہے، نہ ہی مذہب کے مفاد میں ہے اور نہ ہی سیاست اس کی اجازت دیتی ہے اور نہ مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔

جناب والا! میں آپ کا نہایت مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے موقع دیا۔

Mr. Chairman: Thank you. Before I give floor to Malik Jafar,....

(جناب چیئرمین: شکریہ! اس سے پہلے کہ میں ملک جعفر صاحب کو دعوت دوں ......)

(مداخلت) (Interruption)

جناب چیئرمین: سب سے پہلے میں مولانا عبدالحکیم صاحب کا بہت ہی مشکور ہوں ہاؤس کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے یہ حکم کیا کہ یہ جو کتاب انہوں نے ابھی بھجوائی ہے یہ تقسیم کر دی جائے، یعنی پڑھی نہ جائے اور تقسیم کر دی جائے۔ ممبر صاحبان خود پڑھ لیں گے۔ This may be distributed at once. Before I give floor to Malik Mohammad Jafar, (اس کتاب کو فوری طور پر تقسیم کر دیا جائے۔ اس سے پہلے کہ میں ملک محمد جعفر کو دعوت دوں) میں دو امور کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں ایک سیکورٹی

٩

سرگزشت

EMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

گیا۔ تو ہم نے یہ دیکھا اس ایوان میں، جناب! آپ آدمی ہوتا اگر وہ یہاں اس ایوان میں اتنا بھی کہہ دیتے نہیں مانتا اور مسلمان خدا اور رسول کو اور کتاب وسنت کو بھی کچھ گنجائش نکل آتی۔ لیکن کتنی ستم ظریفی ہو گی کہ اگر کو میں کافر سمجھتا ہوں، آپ کو دائرہ اسلام سے خارج یا میں اتنی بھی جرات نہ کر سکوں یا میں یہ بھی نہ کہہ سکوں خارج ہیں تو ہم آپ کو اپنے دائرہ اسلام سے بھی خارج

جناب عالی! یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ انہوں کیا۔ ”امنا وصدقنا“ ہم نے ان کا یہ کہنا قبول کیا کہنے پر تائید کریں گے کہ ان کے دائرے سے، ماشاء عنایت کی کہ ہم خارج ہوئے۔ لہٰذا ان کے ساتھ ناطہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

جناب عالی! میں نہایت معذرت کے ساتھ رہ جاتی ہے۔ ہم نے ان کو کوئی قرار نہیں دیا، ہم نے ا نے ان کے مذہب کو علیحدہ کیا ہے اب تک اپنے ساتھ ہیں، آپ ہمارے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جو ساتھ نماز نہیں پڑھتے، ہم آپ کے ساتھ شادی نہیں کر ہوتے، ہماری مسجد اقصیٰ الگ، ہماری مسجد اقصیٰ کا مینار حج یہاں (قادیان میں) ادا کرنے کے قابل ہو 2628 کے بعد وہاں مسجد اقصیٰ میں اگر جاتا ہو تو اس کا چھوٹا جزاک اللہ! ہم کہتے ہیں کہ ان کو یہ خیالات مبارک ہوں

لیکن آخر میں میں یہ کہوں گا کہ ہمیں اس مسئلے کو نہ کوئی سیاسی رنگ دینا چاہئے اور نہ انفرادی لا کرنی چاہئے۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ جس آدمی نے ہم ذریعہ بنایا تو وہ حضرت محمد ﷺ کی برکت سے اس دفعہ میرا پکا ایمان اور پکا یقین ہے اور عقیدہ ہے کہ پھر بھی

٨

صفحہ ٢٦٣٨

سرگزشت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

Arrangements (انتظامات) کے متعلق میں آپ کے ساتھ کچھ بات کرنا چاہتا ہوں تاکہ ہم In future (مستقبل میں) سیکورٹی Arrangements (انتظامات) کچھ اس طرح سے کریں کیونکہ صرف میری ہی ذمہ داری نہیں ہے، یہ ہم سب کی Collective (اجتماعی) ذمہ داری ہے تو اس لئے ,Before I give the floor to Malik Jafar I would like to state that in future security arrangements are our responsibility. We find so many unwanted people who come in the canteen and other areas of the Assembly premises. Some of them bring with them cameras. People are bringing their friends. These things must come to an end. I am going to totally stop such things. (اس سے پہلے کہ میں ملک جعفر کو دعوت دوں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں سیکورٹی کے انتظامات ہماری ذمہ داری ہیں۔ بہت سے غیر متعلقہ لوگ کینٹین اور اسمبلی کے گرد و نواح میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنے ساتھ کیمرہ لئے پھرتے ہیں۔ لوگ اپنے دوستوں کو ساتھ لے آتے ہیں۔ اس صورتحال کا خاتمہ ضروری ہے۔ میں ان سب چیزوں کو ختم کرنے لگا ہوں)

2630 A Member: What about galleries?

جناب چیئرمین: گیلری والے کارڈ تو علیحدہ ہوتے ہیں۔ اسمبلی Premises (کی عمارت) میں داخل ہونے کے لئے کارڈ جو ہیں۔ اس لئے کہ پتہ نہیں کیا ہو جائے۔ You know what is happening (آپ کو پتا ہے کیا ہو رہا ہے) اب تو ضروری ہو گیا ہے۔ اس کے لئے I need your cooperation (مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے) پہلے اڑھائی مہینے میں میں آپ کا مشکور ہوں۔ یہ صرف آپ کی بقاء نہیں ہے، یہ ملک کی بقاء کا بھی سوال ہے۔ اس میں مجھے یاد ہے کہ کیمرہ والے ساتھ تھے۔ اس لئے اندر آگئے۔ People are bringing their friends (لوگ اپنے دوستوں کو ساتھ لا رہے ہیں) ہینڈ بیگ اور اس طرح کی جو چیزیں ہوں گی I am going to totally stop them. I am going to stop unwanted people coming through gate nos.3 and 4 (میں ان چیزوں کو مکمل طور پر روکنے لگا ہوں۔ میں گیٹ نمبر ٣ اور ٤ سے غیر متعلقہ لوگوں کا داخلہ بند کرنے لگا ہوں)

١٠

صفحہ ٢٦٣٩

2639 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 A Member: What about members? (ایک رکن: اراکین سے متعلق کیا ہے؟) Mr. Chairman: We trust our honourable members. People are bringing their friends. (جناب چیئرمین: ہم اپنے معزز اراکین پر اعتماد کرتے ہیں۔ لوگ اپنے دوستوں کو لا رہے ہیں) ممبر صاحبان چاہے بستر بند لے آئیں، جو چاہیں لے آئیں اس میں ناراضگی کی بات نہیں ہے۔ یہ سب کچھ آپ کی Cooperation (کے تعاون) سے ہوگا۔ I want (مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے) your cooperation. میر دریا خان کھوسو: کاروں کے ڈرائیوروں کے لئے آپ گنجائش رکھیں گے؟ Mr. Chairman: Of course, drivers will come. We have to come to certain decisions which are going to affect certain persons. I want your cooperation. After open 7th of September, we are going to open it. We have even to fill these galleries. As for sitting in the cafetaria, we have to ایک دوسری چیز جس کے متعلق میں عرض کرنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ شام کو جوائنٹ سیشن ہے۔ regulate it. The Prime Minister of Sri Lanka is addressing the Joint 2631 Session today. Before her arrival, I request that all the honourable members be seated in their seats by 5:55 pm. I will first welcome the Prime Minister of Sri Lanka. It will not take more than an hour. The House Committee will continue tomorrow. (جناب چیئرمین: ظاہر ہے، ڈرائیور تو آئیں گے۔ ہمیں بہر حال کچھ فیصلے کرنا ہوں گے جو چند لوگوں پر اثر انداز ہوں گے۔ جب اوپن کریں گے تو اس وقت یہ ہوگا۔ مجھے آپ کا تعاون چاہئے۔ ٧؍ ستمبر کے بعد ہم اسے اوپن کر دیں گے۔ ہمیں یہ گیلریاں بھی بھرنا ہوں گی۔ کیفے میں بیٹھنے والوں کو بھی ہمیں کنٹرول کرنا ہوگا۔ ایک دوسری چیز جس کے متعلق میں عرض کرنا ١١

NAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 Arrangements (انتظامات) کے متعلق میں آپ کے سا ہم In future (مستقبل میں) سیکورٹی gements طرح سے کریں کیونکہ صرف میری ہی ذمہ داری نہیں ہے، (اجتماعی) ذمہ داری ہے تو اس لئے r to Malik Jafar, hat in future security arrangements are e find so many unwanted people who n and other areas of the Assembly hem bring with them cameras. People riends. These things must come to an d. I am going to totally stop such things. جعفر کو دعوت دوں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مستقبل میں سیکور ہیں۔ بہت سے غیر متعلقہ لوگ کینٹین اور اسمبلی کے گردونواح میں کچھ اپنے ساتھ کیمرہ لئے پھرتے ہیں۔ لوگ اپنے دوستوں کو سا کا خاتمہ ضروری ہے۔ میں ان سب چیزوں کو ختم کرنے لگا ہوں r: What about galleries? جناب چیئرمین: گیلری والے کارڈ تو علیحدہ و (کی عمارت) میں داخل ہونے کے لئے کارڈ جو ہیں۔ اس لئے (آپ کو پتا ہے کیا ہورہا know what is happening اس کے لئے I need your cooperation (مجھے آ پہلے اڑھائی مہینے میں میں آپ کا مشکور ہوں۔ یہ صرف آپ کی سوال ہے۔ اس میں مجھے یاد ہے کہ کیمرہ والے ساتھ تھے۔ (لوگ اپنے دوستو are bringing their friends اس طرح کی جو چیزیں ہوں گی stop them. I am ed people coming through gate nos.3 (میں ان چیزوں کو مکمل طور پر روکنے لگا ہوں۔ and 4 لوگوں کا داخلہ بند کرنے لگا ہوں) ١٠

صفحہ ٢٦٤٠

ی ی

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ شام کو جوائنٹ سیشن ہے۔ سری لنکا کے وزیراعظم آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ان کی آمد سے پہلے، میں تمام معزز اراکین سے درخواست کروں گا کہ شام ٥ بج کر ٥٥ منٹ تک اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ میں پہلے سری لنکا کی وزیراعظم کو خوش آمدید کہوں گا۔ اس میں تقریباً ایک گھنٹہ لگے گا۔ ہاؤس کمیٹی کا یہ اجلاس کل جاری رہے گا)

وہ پہلا سوا پانچ والا لیٹر غلط تھا۔ ہم نے گیلری والوں کو ساڑھے پانچ کا ٹائم دیا ہے۔ لیکن ممبر صاحبان پونے چھ بجے تک ہوں۔ پانچ بج کر پچپن منٹ پر انہوں نے آنا ہے تو کم از کم دس منٹ پہلے ممبر صاحبان کو آ جانا چاہئے۔ نماز مغرب سے پہلے ہم ختم کر دیں گے۔ اس ہاؤس کمیٹی کا جو سیشن ہے یہ کل Continue (جاری) کرے گا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس ایک گھنٹہ چلے گا، ایک ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھیں گے، جیسے بھی آپ مناسب سمجھیں۔

پروفیسر غفور احمد : کل پانچ بجے ہے؟

جناب چیئرمین : پیرزادہ صاحب آ رہے ہیں۔

Mr. Pirzada has come; and I met him in the morning. I think, I am sure much positive result will come and unanimous decision will be taken. And with these words, I am thankful to honourable members. I give the floor to Malik Jafar, and for five minutes I would speak with AG. I am leaving the House and the Deputy Speaker will take the chair.

(جناب چیئرمین : پیرزادہ صاحب آ چکے ہیں اور میں انہیں صبح ملا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ کافی مثبت نتیجہ نکلے گا اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا۔ ان الفاظ کے ساتھ میں معزز اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ملک جعفر کو دعوت دیتا ہوں اور پانچ منٹ کے لئے میں اٹارنی جنرل سے بات کروں گا۔ میں ایوان چھوڑ رہا ہوں اور ڈپٹی سپیکر کرسی صدارت سنبھالیں گے)

خان ارشاد احمد خان : جناب چیئرمین صاحب! میں اجازت چاہتا ہوں۔

جناب چیئرمین : آپ کو بھی اجازت مل جائے گی۔ آپ کہاں رہے ہیں؟

ملک محمد جعفر : جناب چیئرمین! یہ پانچ منٹ کی بات ہے۔ میں اس بات کا بڑا خواہشمند تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب موجود ہوتے اور میری گزارشات کو سنتے۔

١٢

صفحہ ٢٦٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

جناب چیئرمین: صرف پانچ منٹ۔ ارشاد احمد خان صاحب کو پانچ منٹ دے دیتے ہیں۔ Then we will come back within 5 minutes (پھر ہم پانچ منٹ میں واپس آ جائیں گے)

2632 مولانا عبدالحکیم: جناب چیئرمین صاحب!

جناب چیئرمین: جی نہیں پڑھ سکتے آپ۔

مولانا عبدالحکیم: کتاب تو نہیں پڑھوں گا لیکن دو چار لفظ تو کہہ دوں۔

جناب چیئرمین: نہیں، On behalf of the House (ہاؤس کی طرف سے) ہاؤس Agree (اتفاق) کرتا ہے نا؟

مولانا عبدالحکیم: پرسوں آپ نے خود فرمایا تھا کہ آپ بولنا چاہیں تو بول سکتے ہیں۔

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi).]

(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی جو (ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی) نے سنبھالی)

-------------

محترمہ قائمقام چیئرمین: مسٹر ارشاد احمد خان!

(جناب ارشاد احمد خان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب ارشاد احمد خان: جناب چیئرمین! میں یہ عرض کروں گا کہ یہ مذہبی معاملہ ایوان کے سامنے ہے۔ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ یعنی جو لوگ اور جو فرقے رسول پاک ﷺ کو مانتے ہیں وہ کسی دوسرے رسول کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ قادیانی ایسا فرقہ ہے جنہوں نے اپنا نیا نبی تیار کر لیا ہے۔ لہٰذا ہم اس نبی کو تسلیم کرنے کے واسطے بالکل تیار نہیں ہیں۔ ہم اپنے رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ ہم مسلمان ہیں اور جو ہمارے رسول پاک ﷺ کو تسلیم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ وہ اقلیت میں رہیں گے۔ جیسا کہ اور فرقے ہریجن، عیسائی اور دوسرے فرقے ہیں۔ اسی طرح سے قادیانی بھی رہ سکتے ہیں اور ان کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔ لیکن وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں

١٣

-ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ شام کو جوائنٹ سیشن ہے۔ سری لنکا کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ان کی آمد سے پہلے، میں تمام کہ شام ٥ بج کر ٥٥ منٹ تک اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ آمدید کہوں گا۔ اس میں تقریباً ایک گھنٹہ لگے گا۔ ہاؤس کمیٹی ک وہ پہلا سوا پانچ والا لیٹر غلط تھا۔ ہم نے فیکٹری و لیکن ممبر صاحبان پونے چھ بجے تک ہوں۔ پانچ بج کر پچپن دس منٹ پہلے ممبر صاحبان کو آ جانا چاہئے۔ نماز مغرب ت کمیٹی کا جو سیشن ہے یہ کل Continue (جاری) رہے گا، ایک ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھیں گے، جیسے بھی آپ مناسب سمجھیں

پروفیسر غفور احمد: کل پانچ بجے ہے؟

جناب چیئرمین: پیرزادہ صاحب آ رہے ہیں

as come; and I met him in the sure much positive result will come ion will be taken. And with these to honourable members. I give the d for five minutes I would speak with House and the Deputy Speaker will

(جناب چیئرمین: پیرزادہ صاحب آچکے ہے کہ کافی مثبت نتیجہ نکلے گا اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا۔ شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ملک جعفر کو دعوت دیتا ہوں اور پان بات کروں گا۔ میں ایوان چھوڑ رہا ہوں اور ڈپٹی سپیکر کرسی ہ

خان ارشاد احمد خان: جناب چیئرمین صاح

جناب چیئرمین: آپ کو بھی اجازت مل جا۔

ملک محمد جعفر: جناب چیئرمین! یہ پانچ من خواشمند تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب موجود ہوتے اور میری

١٢

صفحہ ٢٦٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

کہ جو شخص غلام احمد کو نبی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا ہم بھی اس کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے، اور ان کے نبی کو نبی تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارا نبی وہ ہے جس کے واسطے اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ “ ہم اس 2633 نبی کے پیروکار ہیں۔ وہ نبی ہمارا نجات دہندہ ہے۔ ہم اس کی امت ہیں۔ آئندہ کبھی بھی کوئی نبی نہیں آسکتا۔ ہم اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میں ایوان سے بھی استدعا کروں گا کہ ان لوگوں کو اقلیت قرار دینے کے واسطے ووٹ دیں۔ ان الفاظ کے ساتھ میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔

محترمہ قائمقام چیئرمین : ملک محمد سلیمان!

(جناب ملک محمد سلیمان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

ملک محمد سلیمان : جناب چیئرمین ! جہاں تک اس مسئلے کا تعلق ہے۔ یہ ایک ٩٠ سالہ پرانا مسئلہ ہے۔ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے بعد جب انگریزوں نے یہ دیکھا کہ ہر قسم کی تفریق کے باوجود جب نعرہ تکبیر بلند کیا جاتا ہے تو تمام مسلمان اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہ جذبہ جہاد ہے جو انہیں اکٹھا کرتا ہے۔ چنانچہ انگریزوں نے ایک منصوبہ بنایا کہ کسی طریقہ سے مسلمانوں کے دل و دماغ سے جہاد کا جذبہ خارج کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے گورداسپور کی زرخیز زمین کو چنا۔ وہاں سے سیالکوٹ کے ایک مراقی اہلمد اور عرضی نویس کو محدث، مجدد، مسیح الموعود اور بالآخر نبی تسلیم کرانے کی کوشش کی۔ یہ ان کا منصوبہ تھا۔ وہ مسلمانوں کے دل و دماغ سے جذبہ جہاد نکالنا چاہتے تھے۔ یہ انگریزوں کی کوئی خفیہ کوشش نہ تھی۔ یہ کوشش ہوتی رہی کہ مسلمانوں کا زور جہاد ختم کیا جائے اور انگریز مستقل طور پر اس ملک پر قابض رہیں۔ چنانچہ انہوں نے نئی نبوت اور نئی امت بنائی۔ نئی امت کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ انگریز کو اپنا حاکم تصور کریں گے۔

(مرزا کہاں مرا؟)

جناب والا ! چونکہ وقت تھوڑا ہے۔ لہٰذا میں مختصرًا عرض کروں گا۔ جہاں تک مرزا غلام احمد کی نبوت کا تعلق ہے انہوں نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا تو انہوں نے بہت سی باتیں کہیں وہ نبی بھی ہیں، مجدد بھی، مسیح الموعود بھی، اپنے آپ کو انہوں نے محدث بھی کہا، خدا کہا، مریم کہا، ابن مریم کہا، عیسیٰ اور موسیٰ کہا، خدا اور محمد کہا، خدا جانے کیا کچھ نہیں کہا۔ اپنی سچائی میں انہوں نے کہا کہ میرا نکاح محمدی بیگم، ایک معصوم بچی سے عرشِ معلّٰی پر ہوا 2634 تھا۔ لیکن مٹی میں مرتے دم تک ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوسکی۔ اسی طرح یہ نبی جو انگریز کے نبی تھے، جو انگریزی نبی تھے، اس کے

١٤

صفحہ ٢٦٤٣

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 کہ جو شخص غلام احمد کو نبی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا ا اور ان کے نبی کو نبی تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارا نبی وہ ہے جس کے الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘ ہم اس 2633 نبی کے پیروکار ہم اس کی امت ہیں۔ آئندہ کبھی بھی کوئی نبی نہیں آسکتا۔ ہما ہیں۔ میں عوام سے بھی استدعا کروں گا کہ ان لوگوں کو اقلیت ان الفاظ کے ساتھ میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: ملک محمد سلیمان!

(جناب ملک محمد سلیمان کا قومی اسمبلی میں

ملک محمد سلیمان: جناب چیئرمین! جہاں تک پرانا مسئلہ ہے۔ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے بعد جب انگریز باوجود جب نعرہ تکبیر بلند کیا جاتا ہے تو تمام مسلمان اکٹھے ہو ج اکٹھا کرتا ہے۔ چنانچہ انگریزوں نے ایک منصوبہ بنایا کہ کسی سے جہاد کا جذبہ خارج کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے گورداس سیالکوٹ کے ایک مراقی ابولہب اور عرضی نویس کو محدث، مجدد، کوشش کی۔ یہ ان کا منصوبہ تھا۔ وہ مسلمانوں کے دل و دماغ انگریزوں کی یکطرفہ کوشش نہ تھی۔ یہ کوشش ہوتی رہی کہ مسلما مستقل طور پر اس ملک پر قابض رہیں۔ چنانچہ انہوں نے فو عقیدہ یہ تھا کہ وہ انگریز کو اپنا حاکم تصور کریں گے۔

(مرزا کہاں مرا؟)

جناب والا! چونکہ وقت تھوڑا ہے۔ لہٰذا میں مختصراً احمد کی نبوت کا تعلق ہے انہوں نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا تو ا بھی ہیں، مجدد بھی، مسیح الموعود بھی، اپنے آپ کو انہوں نے مح کہا، عیسیٰ اور موسیٰ کہا، خدا اور محمد کہا، خدا جانے کیا کچھ نہیں میرا نکاح محمدی بیگم، ایک معصوم بچی سے عرش معلیٰ پر ہوا 2634 یہ آرزو پوری نہ ہوسکی۔ اسی طرح یہ نبی جو انگریز کے نبی ١٤

2643 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 پیروکاروں) نے، جب قسطنطنیہ اور بغداد پر قبضہ ہوا تو، یہاں قادیان میں چراغاں کرایا۔ یہ وہ طریقہ تھا جس سے انگریز ہندوستان پر قابض رہنا چاہتے تھے۔

اس کے علاوہ بھی ہندوستان میں انگریزوں نے اور بھی کارنامے کئے۔ چنانچہ جب تقسیم ملک کا وقت آیا تو اس وقت بھی انگریز نے بہت سے حربے استعمال کئے۔ ہمارے بعض مولویوں کو جو اپنے آپ کو اسلام کا دعویدار کہتے ہیں، ان کو خریدا گیا اور جب پاکستان کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا، جو کہ ایک عظیم جہاد تھا۔ جس میں برصغیر کے مسلمانوں نے قربانیاں دیں۔ انہوں نے جہاد کیا تھا کہ ہم ایک علیحدہ معاشرہ رکھتے ہیں اور اسلام اور قرآن کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کرنے کے لئے وطن چاہتے ہیں۔ اس وقت جو لوگ اس جہاد سے منکر ہوئے انہوں نے بھی انگریز کا ساتھ دیا۔ آج بھی ان میں سے بعض ہمارے سامنے بیٹھے ہیں۔ انگریز کے نبی کی یہ اس وقت تائید کرتے رہے۔ لیکن افسوس کہ وہ وقت جب پاکستان بنا تو ان لوگوں کو بھی پاکستان آنا پڑا اور گورداسپور کے دوسرے خطوں مثلاً تحصیل، پٹھانکوٹ میں بھی انگریز نے بہت کچھ کیا۔ وہاں بھی نرم زبان کا جہاد اور جہاد بالقلم تھا، جہاد بالسیف نہیں تھا۔ عدم تشدد اور گاندھی کی پیروکاری کا سلسلہ چلتا رہا۔

(احمدی نہیں قادیانی)

یہ سب باتیں تفصیل کے ساتھ بیان کی جا چکی ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اس مسئلہ میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ جناب والا! ہمارے دوستوں نے مرزائیوں یعنی قادیانیوں کے لئے ’’احمدی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مفتی محمود صاحب نے بھی بار بار ان کو احمدی کہا ہے۔ ہمیں اس پر سخت اعتراض ہے۔ وہ احمدی نہیں ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمیں 2635 احمد مصطفیٰ ﷺ سے نفرت سکھائی جاتی ہے۔ میں نے بار بار یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ احمدی ایشو نہیں ہے، یہ قادیانی ایشو ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ ہم غلبہ کے بعد پھر قادیان جائیں گے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہ صحیح پاکستانی بھی نہیں ہوئے۔ ان کا مقصد ایسا ہی ہے جیسا اسرائیل کا مقصد ہے۔ اسرائیل بھی ایسا ہی کرتے تھے اور یہ دوبارہ کوئی نیا ملک بنانا چاہتے ہیں۔

جہاں تک ان کی آبادی کا تعلق ہے وہ اپنے قیاس کے مطابق کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہماری آبادی چالیس لاکھ ہے اور پاکستان کے باہر ایک کروڑ کے قریب آبادی ہے۔ اگر ان کی فکر کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے۔ جب ان کو کوئی ایسا خطہ زمین مل جائے گا جہاں وہ اپنی حکومت قائم کر سکیں اور جس طرح اسرائیل نے ١٥

صفحہ ٢٦٤٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

صہیونی نظام کو چلانے کے لئے تحریک شروع کی ہے۔ اس طرح یہ جو اپنے آپ کو نیا فرقہ، نئی جماعت اور نئے مذہب کے نام سے پکارتے ہیں، تو یہ شروع کریں۔ تو اس کے لئے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا قرآن حکیم اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اسلام کے بعد کسی نئے مذہب کو تسلیم کریں۔ ہم اسے سرے سے کوئی مذہب تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ نہ ہمیں اس کی اجازت ہے کہ ہم اس کو نیا مذہب تسلیم کریں، یہ کوئی مذہب نہیں ہے، اگر ان کی ساری تنظیم کو دیکھا جائے تو تنظیم ہی جو خطرناک ہے، مذہب تو ان کا تعبیری ہے۔ کوئی مذہب نہیں ہے۔ تو تنظیم اس طرح کی ہے جس طرح صہیونیوں کی تنظیم ہے تو یہ تنظیم جو ہے یہ خطرناک ہے۔ چنانچہ انگریزوں نے پاکستان بننے سے پہلے ان کو مختلف محکموں میں بے پناہ اعلیٰ قسم کے عہدے دیئے اور آج بھی اس پاکستان گورنمنٹ میں تمام فنانس ڈیپارٹمنٹ، ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ بینک اور فنانس کے دوسرے جتنے بھی ڈیپارٹمنٹس ہیں اور ہمارا فارن آفس اور فوج یہ تمام ان کی 2636 اکثریت سے بھرے پڑے ہیں اور وہ اس قدر متعصب ہیں کہ وہ کسی کو پھٹکنے نہیں دیتے، جو بھی جگہ نکلتی ہے اپنے ہی لوگوں کو رکھ لیتے ہیں تو اس لئے جہاں یہ کہا جارہا ہے کہ اس مذہب کو تسلیم کرو تو کیا یہ وہی بات نہیں ہے جس طرح عربوں کو کہا جائے کہ اسرائیل کو تسلیم کرو۔ تو ہمیں احتیاط کرنی چاہئے اور ہمیں کسی طرح سے بھی ان کا مذہب تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔ یہ ایک سیاسی جماعت ہے جو اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ "تحریک جدید" ان کی ایک کتاب ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک Separate (علیحدہ) جماعت ہیں۔ یہ ان کا عقیدہ ہے وہ لکھتے ہیں:

"You may ask why then we have organised ourselves into a separate Jamaat."

(آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ہم نے ایک علیحدہ جماعت کے طور پر اپنے آپ کو کیوں منظم کیا ہے؟)

یہ "تحریک جدید" A Tabshir publication under the guidance of Mirza Mubarak Ahmad. It has nothing to do with Islam. (مرزا مبارک کی راہنمائی میں تبشیر پبلیکیشنز نے چھاپی ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں)

جو انہوں نے بیعت نامہ اس میں صفحہ ٧٩ پر شائع کیا ہے۔ آپ اس کو پڑھیں۔ اس میں بھی ہیرا پھیری ہے۔ اس میں کہیں مرزا صاحب کا نام درج نہیں ہے، نہ کسی اور کا درج ہے۔

١٦

صفحہ ٢٦٤٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

اس میں دس شرائط ہیں، دسویں یہ ہے:

"Tenthly, that he will establish a brother- hood with me, i.e. the promised massiah, on the condition of obeying me in everything good and keep it up to the day of his death and this relationship will be of such a high order that its example will not be found in any worldly relationship either of blood relations or of servant and master."

(اور نمبر دس یہ کہ وہ میرے ساتھ یعنی مسیح موعود کے ساتھ ایک برادرانہ تعلق قائم کرے گا اور اس تعلق کی شرط یہ ہوگی کہ وہ ہر اچھی چیز میں میری اطاعت کرے گا اور مرتے دم تک اس رشتے کو نبھائے گا اور یہ تعلق اتنا اعلیٰ و ارفع ہوگا کہ اس کی مثال دنیوی رشتوں میں بھی نہیں ملے گی۔ خواہ وہ خونی رشتے ہوں یا مالک اور خادم کے تعلقات ہوں)

تو یہ وہ دھوکہ ہے جو بیرونی دنیا کو بھی یہ دیتے ہیں۔ کسی کو کوئی نام نہیں بتاتے، صرف اسلام کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں تو جناب والا! یہ وہ بات ہے کہ جس سے یہ اسلام کے نام پر دنیا کو دھوکہ دے رہے ہیں اور جیسا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ آئین 2637 میں ان کو ایک اقلیتی فرقے کی حیثیت سے شامل کیا جائے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ انتہائی ظلم ہوگا۔ اسلام کے ساتھ اور اس پاکستان کے ساتھ، کیونکہ اقلیت کا مطلب اگر آپ آئین کو پڑھیں تو اس میں آرٹیکل ١٠٦ سب کلاز (٣) ہے:

"In addition to the seats in the Provincial Assemblies for the Provinces of Balochistan, the Punjab, the North- West Frontier and Sindh specified in clause (1), there shall be in those Assemblies the number of additional seats here in after specified reserved for persons belonging to the Christian, Hindu, Sikh, Budhist and Parsi communities or the scheduled castes:

Balochistan ..... 1

The North West Frontier Province ..... 1

١٧

OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

صیہونی نظام کو چلانے کے لئے تحریک شروع جماعت اور نئے مذہب کے نام سے پکارتے ہے کہ کیا قرآن حکیم اس بات کی اجازت د کریں۔ ہم اسے سرے سے کوئی مذہب ن اجازت ہے کہ ہم اس کو نیا مذہب تسلیم کری دیکھا جائے تو تنظیم ہی جو خطرناک ہے، مذہب اس طرح کی ہے جس طرح صیہونیوں کی انگریزوں نے پاکستان بننے سے پہلے ان کو آج بھی اس پاکستان گورنمنٹ میں تمام کلیدی کے دوسرے جتنے بھی ڈیپارٹمنٹس ہیں اور ہر بھرے پڑے ہیں اور وہ اس قدر متعصب ہیں ہی لوگوں کو رکھ لیتے ہیں تو اس لئے جہاں پر نہیں ہے جس طرح عربوں کو کہا جائے کہ اس کسی طرح سے بھی ان کا مذہب تسلیم نہیں کری پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ تحریک جدی ایک Separate (علیحدہ) جماعت ہیں e have organised ourselves

(آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ہم ۔۔ کیا ہے؟)

یہ ”تحریک جدید“ the ad. It has nothing to do with Islam. (مرزا مبارک کی رائے سے کوئی تعلق نہیں)

جو انہوں نے بیعت نامہ اس میں بھی ہیرا پھیری ہے۔ اس میں کہیں مر

صفحہ ٢٦٤٦

2646 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

The Punjab ..... 3 Sindh ..... 2"

(بلوچستان، پنجاب، شمالی مغربی سرحدی صوبہ اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں، شق نمبر ١ میں بیان کردہ نشستوں کے علاوہ، ان اسمبلیوں میں اضافی نشستیں ہوں گی۔ جن کی تعداد حسب ذیل میں بیان کی گئی ہے اور یہ نشستیں ان لوگوں کے لئے مختص ہوں گی جن کا تعلق عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ اور پارسی یا شیڈولڈ کاسٹ سے ہے:

بلوچستان ...... ١ شمالی مغربی سرحدی صوبہ ...... ١ پنجاب ...... ٣ سندھ ...... ٢)

تو یہ اسمبلیز میں مینارٹیز کو نمائندگی دی گئی ہے۔ تعداد اس طرح مینارٹی رائٹس محفوظ کئے گئے ہیں۔ آرٹیکل ٣٦ میں ہے:

"The State shall safeguard the legitimate rights and interests of minorities, including their due representation in the Federal and Provincial services."

(ریاست اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات، بشمول وفاقی اور صوبائی سروسز میں ان کی مناسب نمائندگی کا تحفظ کرے گی)

---------

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman.]

(اس موقع پر ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت کو چھوڑا جس پر جناب چیئرمین متمکن ہوئے)

---------

2638 ملک محمد سلیمان: اس کے بعد آرٹیکل ٢٠ میں یہ درج ہے کہ:

"Subject to law, public order and morality:

(a) every citizen shall have the right to profess, practise

١٨

2647 NATIONAL

and propagate his religi

اشاعت کرنے کا حق حاصل ہوگا: اور)

(b) every religious shall have the right to religious institutions."

بنانے، چلانے اور ان کے معاملات

رائٹ ہے کہ وہ اپنا مذہب اپنائے، Prop کرے، اگر آپ ان کا ایک ت ہے، وہ ہر آپ کی بڑی مسجد کے گے کہ یہ ہمارا نبی ہے اور یہ جو سامنے ہے کہ سب مسلمان کافر ہیں۔ صرف کے ٧٥ کروڑ مسلمان کافر ہیں تو اس کا الگ) Separate entity کو قل تحفظ دیں گے۔ جس سے وہ اپنے ہوا ہے:

"Islam shall be

ہے۔ تو آپ اس میں انٹی اسلامک ں کے بعد آئین کے آرٹیکل ٥ ہے،

2639

"(1) Loyalty to t citizen.

(2) Obedience to t obligation of every citi

صفحہ ٢٦٤٧

EMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

..... 3 ..... 2"

(بلوچستان، پنجاب، شمالی مغربی سرحدی صوبہ نمبر ١ میں بیان کردہ نشستوں کے علاوہ، ان اسمبلیوں میں حسب ذیل میں بیان کی گئی ہے اور یہ نشستیں ان لوگوں کے ہندو، سکھ، بدھ اور پارسی یا شیڈولڈ کاسٹ سے ہے:

تو یہ اسمبلیز میں مائنارٹیز کو نمائندگی دی گئی کئے گئے ہیں۔ آرٹیکل ٣٦ میں ہے:

afeguard the legitimate rights and cluding their due representation in l services."

(ریاست اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کی مناسب نمائندگی کا تحفظ کرے گی)

. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi as occupied by Mr. Chairman.]

(اس موقع پر ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی چیئر میں متمکن ہوئے)

2638 ملک محمد سلیمان: اس کے بعد آرٹیکل

blic order and morality: have the right to profess, practise

١٨

2647 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

and propagate his religion; and

(بشرط قانون، امن عامہ اور اخلاقیات:

shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions."

سنبھالنے کا حق حاصل ہوگا)

اب اس آرٹیکل کے تحت جہاں ہر شہری کو یہ رائٹ ہے کہ وہ اپنا مذہب اپنائے، Profess کرے اور پریکٹس کرے اور اس کو Propagate کرے، اگر آپ ان کا ایک مذہب تسلیم کرتے ہیں تو پھر ان کے پاس سرمایہ ہے، دولت ہے، وہ پھر آپ کی بڑی مسجد کے سامنے بڑی مسجد بنائیں گے اور وہاں یہ پروپیگنڈہ کریں گے کہ یہ ہمارا نبی ہے اور یہ جو سامنے والے نہیں مانتے یہ سب کافر ہیں۔ کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ سب مسلمان کافر ہیں۔ صرف پاکستان کے مسلمان ہی کافر نہیں۔ بلکہ سارے عالم اسلام کے ٧٥ کروڑ مسلمان کافر ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ ان کا مذہب تسلیم کرتے ہیں اور ان کو Separate entity (الگ وجود) یا کوئی اور نام دیتے ہیں تو اس سے آپ ان کو کانسٹیٹیوشنل تحفظ دیں گے۔ جس سے وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکیں گے۔ لیکن یہ آرٹیکل ٢ ہے، اس میں لکھا ہوا ہے:

"Islam shall be the state religion of Pakistan."

(اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا)

تو ہمارے پاکستان کا سٹیٹ ریلیجن اسلام ہے۔ تو آپ اس میں انٹی اسلامک پروپیگنڈے یا تبلیغ کی کیسے اجازت دے سکتے ہیں؟ اب اس کے بعد آئین کے آرٹیکل ٥ ہے، اس میں لکھا ہوا ہے:

citizen.

obligation of every citizen wherever he may be and of every

١٩

صفحہ ٢٦٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

other person for the time being within Pakistan."

الوقت پاکستان میں ہو بنیادی ذمہ داری ہے۔“)

(قادیانیوں کو خلاف قانون جماعت قرار دیا جائے)

تو ہر پاکستانی شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ سٹیٹ کا Loyal ہو۔ تو سٹیٹ کی تعریف آئین کے آرٹیکل ٧ میں کی گئی ہے۔ جس میں فیڈرل گورنمنٹ، پراونشل گورنمنٹ، اسمبلیز وغیرہ موجود ہیں۔ تو کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ کسی قادیانی کو اگر کوئی گورنمنٹ یعنی اسٹیٹ کا فرد جو بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہو حکم دے اور دوسری طرف سے ان کا اپنا ہیڈ اس کو کوئی حکم دے تو کس کے حکم کی تابعداری وہ کرتا ہے؟ یقیناً وہ اپنے ہیڈ کی بموجب شق ١٠ بیعت نامہ، تابعداری کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس لئے ان کو ایک خلاف آئین جماعت قرار دیا جائے اور آئین کی خلاف ورزی کے لئے آپ نے ایک شق نمبر ٦ رکھی ہے کہ وہ High Treason (ریاست سے غداری) کا مرتکب ہوتا ہے اور جب آرٹیکل ٦ کے تحت وہ High Treason (ریاست سے غداری) کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے لئے آپ نے فیصلہ کیا تھا کہ اس کی سزا Death (موت) ہوگی۔ تو اس لئے جناب! یہ مسئلہ جو ہے......

Mr. Chairman: Just to interrupt the honourable speaker, another information I would like to give to the honourable members.

(جناب چیئرمین: معزز مقرر کی بات میں مداخلت کرتے ہوئے، میں معزز اراکین کو ایک بات بتانا چاہوں گا)

ایک منٹ، ملک صاحب! جن ممبر صاحبان نے پاس بنوانے کے لئے کہا تھا آج شام تک کے جائنٹ سیشن کے لئے، وہ ڈیڑھ بجے اسسٹنٹ سیکرٹری سے Collect (اکٹھا) کر سکتے ہیں۔

It is a privilege which should go to the M.N.A's close relatives and family members. My gallery will be occupied

٢٠

صفحہ ٢٦٤٩

BLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

g within Pakistan."

(”١...... ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیاد ٢...... آئین اور قانون کی اطاعت ہر شہری الوقت پاکستان میں ہو بنیادی ذمہ داری ہے۔“)

(قادیانیوں کو خلاف قانون

تو ہر پاکستانی شہری کا یہ فرض ہے کہ آئین کے آرٹیکل ٥ میں کی گئی ہے۔ جس میں فیص موجود ہیں ۔ تو کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ کسی ق بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہو حکم دے اور دو کس کے حکم کی تابعداری وہ کرتا ہے؟ یقیناً وہ ا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین کی خلا آئین جماعت قرار دیا جائے اور آئین کی خلاف کہ وہ High Treason (ریاست سے غد تحت وہ High Treason (ریاست سے نے فیصلہ کیا تھا کہ اس کی سزا Death (موت

t to interrupt the honourable a I would like to give to the

(جناب چیئرمین: معزز مقرر اراکین کو ایک بات بتانا چاہوں گا )

ایک منٹ، ملک صاحب! جن ممبر تک کے جائنٹ سیشن کے لئے ، وہ ڈیڑھ بجے سکتے ہیں ۔

hould go to the M.N.A's close My gallery will be occupied

2649 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

by the entourage. We are having 45 diplomatic cards; then there is the 2640 Press. This part of DVG is reserved for M.N.A's family members and their close relatives; and if we issue one card for one, that means about 200 cards; but we have got only 78 seats.

(یہ ایک مراعت ہے جو ایم۔این۔اے ز کے قریبی رشتہ داروں اور گھر کے افراد کو ملنی چاہئے ۔ میری گیلری میں عملے کے افراد ہوں گے ۔ ہمارے پاس ٤٥ ڈپلومیٹک کارڈ ہیں اور پھر پریس بھی ہے ۔ DVG کا یہ حصہ ایم۔این۔اے ز کے گھر کے افراد اور ان کے قریبی رشتہ دار کے لئے مختص ہوگا اور اگر ہم ایک شخص کے لئے ایک کارڈ جاری کریں تو اس کا مطلب ہوگا تقریباً ٢٠٠ کارڈ ۔لیکن ہمارے پاس صرف ٧٨ نشستیں ہیں )

تو اس کے لئے یہ ہے کہ باقی پھر ذرا پیچھے بیٹھیں گے ۔ مثلاً اگر ہمارے پاس چالیس Requisitions (ریکوزیشنز ) آتی ہیں تو جو ہمارے پاس سیٹیں بچ جائیں گی وہ دو بھی ہو سکیں گی، تین بھی ہو سکیں گی۔ لیکن سب سے پہلے Preference (ترجیح) ہو گی ایک کارڈ Per Honourable member (ہر معزز رکن کے لئے ) میں جا کر کارڈوں پر Tick Mark (ٹک مارک ) کردوں گا۔ Between 12:00 and 1:00, the cards can be collected (١٢اور ١ بجے کے درمیان کارڈ لئے جاسکتے ہیں ) چاہے مجھ سے لے لیں ، میرے آفس سے لے لیں، اسسٹنٹ سیکرٹری کو میں وہاں بٹھا دوں گا۔ چاہے وہاں سے آپ کارڈ لے لیں۔

جناب عبدالحمید جتوئی: جناب والا ! ایک تجویز ہے کہ یہ جو اس مسئلے پر ہمارے ممبر صاحبان کی تقاریر ہوئی ہیں، اگر آپ کی عنایت ہو تو ان کی نقلیں ہمیں مل جائیں تاکہ ......

جناب چیئرمین: یہ سب ملیں گی ۔

جناب عبدالحمید جتوئی: ...... بوقت ضرورت جیب میں لے کر پھریں تو بہتر ہو گا۔

جناب چیئرمین: نہ جی نہ ! اور یہ اخباروں میں آئیں گی۔ یہ تو ریکارڈ ہم نے پبلش کرنا ہے۔

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: جناب والا! گزارش ہے کہ کمیٹی میں کوئی قید نہیں ہے؟

جناب چیئرمین: جتنا کمیٹی میں جہاں مرضی ہے۔

٢١

صفحہ ٢٦٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: تو ٹھیک ہے۔ کل میں نے کارڈ بنوا کے منگوا لئے تھے۔ تو ان کو دوبارہ واپس کرنا پڑے گا؟

جناب چیئرمین: آپ نے غلط کیا ہے۔

2641 جناب عبدالمصطفیٰ الازہری: کیوں؟

جناب چیئرمین: کیونکہ سب کے لئے ایک ہی اصول ہونا چاہئے۔ میں نے پوچھا، انہوں نے کہا دو تین حضرات مجھ سے کارڈ لے گئے ہیں۔ ٹھیک ہے، وہ Valid (صحیح) ہے۔ اگر یہ سارے Collectively (اجتماعی طور پر) کریں گے۔ جی، ملک محمد سلیمان! آپ کتنا وقت لیں گے؟

ملک محمد سلیمان: جتنا ٹائم کہیں۔

جناب چیئرمین: جتنا ٹائم آپ مناسب سمجھیں۔

ملک محمد سلیمان: بس تھوڑا ہی، تو جہاں ہر شہری کو آرٹیکل ٢٠ کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کو Profess (کا اعلان کرے) کرے، Propagate (اشاعت) کرے، وہاں آرٹیکل ١٩ ہے۔ جس میں یہ درج ہے کہ:

"Every citizen shall have the right of freedom of speech and expression and there shall be freedom of the press subject to any reasonable restrictions imposed by law in the interest of the glory of Islam."

(”ہر شہری کو آزادی تقریر و اظہار کا حق حاصل ہوگا اور پریس اس شرط کے ساتھ آزاد ہوگا کہ قانون، اسلام کی عظمت کے مفاد میں اس پر مناسب پابندیاں عائد کر سکے۔“)

تو جہاں یہ Freedom of speech اور Expression (آزادی تقریر واظہار) دی گئی ہے وہاں جب Glory of Islam (اسلام کی عظمت) کے خلاف کوئی بات کی جائے گی تو اس پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہے۔ تو جناب والا! جب خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی آدمی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے اور اس لٹریچر کا وہ پراپیگنڈہ کرتا ہے، اس Religion (مذہب) کو Profess (اعلان) کرتا ہے، تو اس پر پابندی لگانا یہ ہمارے دائرہ اختیار میں ہے، ہم لگا سکتے ہیں۔ یہ آئینی حق اس ملک کے لوگوں کو حاصل ہے، اور ان لوگوں پر یہ دعویٰ کرتے ہیں پابندی لگادی جائے۔ تو آئندہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جتنا لٹریچر جو اس وقت تک

٢٢

صفحہ ٢٦٥١

2651 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

موجود ہے وہ چونکہ Glory of Islam (عظمت اسلام) کے خلاف ہے، وہ اسلام کی روح کے خلاف ہے، اس کو ضبط کیا جاسکتا ہے اور ٢٦٤٢ ضبط کرنا چاہئے اور آئندہ اس قسم کا کوئی لٹریچر شائع نہیں ہوسکتا۔ پاکستان میں چونکہ ہمارا مذہب (اسٹیٹ کا) اسلام ہے تو اس طریقے سے ہم ان کا تمام ایسا لٹریچر ضبط کرسکتے ہیں اور انہوں نے جو جائیداد پیدا کی ہے اور اسی پاکستان میں ہے اور وہ پاکستان میں اسلام کے نام کو Exploit (کا استحصال) کر کے پیدا کی ہے، اسلام کے نام پر حاصل کی ہے۔ جب ہر مسجد کی جائیداد وقف کو چلی گئی ہے تو یہ کیوں نہیں جاسکتی۔ یہ محکمہ اوقاف کو کیوں نہیں جاسکتی۔ تو تمام جائیداد جو ہے یہ محکمہ اوقاف کو منتقل کر دی جائے۔ جہاں تک بیعت کا تعلق ہے، بیعت جو ہے یہ نہیں ہوسکتی۔ یہ خلاف شرع اور آئین ہے تو یہ بیعت منسوخ فرما دی جائے اور اس قسم کی بیعت کا اس ملک میں کسی شخص کو بھی یہ حق حاصل نہ ہو کہ کسی موہوم مسیح الموعود کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر کے بیعت حاصل کرے۔ کیونکہ اس میں جو بیعت کا فارم ہمارے سامنے پیش ہوا ہے وہ موہوم ہے۔ اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ ایک جھوٹ ہے، ایک فراڈ ہے۔

تو جناب عالی! اب ایسی باتیں جن کے متعلق میں اظہار کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ واقعہ ربوہ جو ہے یہ ٢٩؍ مئی ١٩٧٤ء کو ہوا۔ میری اطلاع کے مطابق بیشتر متمول قادیانیوں نے اپنی بڑی بڑی جائیدادوں کے ٢٩ سے پہلے بیعے کرائے۔ میں آپ کی وساطت سے یہ اپنی گورنمنٹ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ بات کس حد تک درست ہے؟ اس کی چھان بین کی جائے اور اس کی رپورٹ اس معزز ایوان کے سامنے لائی جائے۔

جناب چیئرمین: اس کمیٹی میں گورنمنٹ کوئی نہیں ہے۔ یہ نیشنل اسمبلی میں پوچھیں۔ ملک محمد سلیمان: تو اس کے بعد دوسری بات یہ ہے میری اطلاع یہ بھی ہے اور میرے علم میں لایا گیا ہے کہ یہ ١٩٧١ء کی جنگ میں جتنے ہمارے فوجی P.O.W (جنگی قیدی) ہوئے، ٢٦٤٣ یہ بتایا جائے کہ کتنے قادیانی P.O.W (جنگی قیدی) ہوئے۔ کیونکہ یہ ہمارے علم میں لایا گیا ہے...... ہوسکتا ہے سچ ہو یا غلط ہو، اس کی تصحیح چاہتا ہوں...... کہ کوئی قادیانی P.O.W (جنگی قیدی) نہیں ہوا تو یہ راز بھی فاش کیا جائے تاکہ جو ہمارے ساتھ ہوا ہے یا آئندہ یہ منصوبے بنائیں تو اس کے متعلق ہمیں علم ہو جائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ تو جناب عالی!......

جناب چیئرمین: بس جی۔ ملک محمد سلیمان: نہیں جناب! جناب چیئرمین: آج ٹائم تھوڑا ہے۔

٢٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: تو ٹھیک ہے تھے۔ تو ان کو دوبارہ واپس کرنا پڑے گا؟ جناب چیئرمین: آپ نے غلط کیا ہے۔ ٢٦٤١ جناب عبدالمصطفیٰ الازہری: کیوں؟ جناب چیئرمین: کیونکہ سب کے لئے ا پوچھا، انہوں نے کہا دو تین حضرات مجھ سے کارڈ لے گئے ہے۔ اگر یہ سارے Collectively (اجتماعی طور پ آپ کتنا وقت لیں گے؟ ملک محمد سلیمان: جتنا ٹائم کہیں۔ جناب چیئرمین: جتنا ٹائم آپ مناسب سمجھیں ملک محمد سلیمان: بس تھوڑا ہی، تو جہاں ہر ش ہے کہ وہ اپنے مذہب کو Profess (کا اعلان کرے) کرے، وہاں آرٹیکل ١٩ ہے۔ جس میں یہ درج ہے کہ:

shall have the right of freedom of and there shall be freedom of the sonable restrictions imposed by law y of Islam."

("ہر شہری کو آزادی تقریر و اظہار کا حق حاصل ہوگا کہ قانون، اسلام کی عظمت کے مفاد میں اس پر مناسب تو جہاں یہ Freedom of speech واظہار) دی گئی ہے وہاں جب Glory of Islam کی جائے گی تو اس پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہے کے بعد کوئی آدمی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے اور Religion (مذہب) کو Profess (اعلان) کرتا اختیار میں ہے، ہم لگا سکتے ہیں۔ یہ آئینی حق اس ملک کے دعویٰ کرتے ہیں پابندی لگادی جائے۔ تو آئندہ میں یہ آ

٢٢

صفحہ ٢٦٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ملک محمد سلیمان: یہ ہمارا شیڈول نمبر ٣ آئین کا ہے۔ جس میں ہم نے یہ وضاحت کر دی ہے کہ بڑے بڑے عہدے مثلاً پریذیڈنٹ اور پرائم منسٹر کے، وہ مسلمان کے حصہ میں آئیں گے۔ تو اس میں کچھ اضافہ کرنا چاہئے۔ اس میں تمام فیڈرل منسٹرز جو ہیں، اسٹیٹ منسٹرز جو ہیں ان کا اوتھ بھی وہی ہو جو پرائم منسٹر اور پریذیڈنٹ کا ہے۔ اس میں صوبے کے وزراء کے حلف کی ضرورت نہیں۔ صوبے میں مینارٹی کو Representation (نمائندگی) ملے گی تو اس میں ضرورت نہیں۔ Speaker of the National Assembly and the Deputy Speaker of the National Assembly.... (قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر ......)

Mr. Chairman: .... and all the members of the National Assembly.

(جناب چیئرمین: ...... اور قومی اسمبلی کے تمام اراکین)

ملک محمد سلیمان: جناب عالی! ممبران کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا وہی حلف ہونا چاہئے جو ایک مسلمان کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ اس میں گورنر، یہ چاروں سارے صوبوں کے گورنرز جو ہیں، چیف منسٹر...... میں پراونشل منسٹروں کی بات نہیں کر رہا، صرف چیف منسٹروں کی بات کروں گا...... گورنر، چیف منسٹر، Chief Justices of 2644 Supreme Court and the High Courts. I am not talking of the other Justices. (ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، میں دوسرے جسٹسوں کی بات نہیں کر رہا) چیف الیکشن کمشنر کا وہی حلف ہو جو ایک مسلمان کا ہوتا ہے۔ Chief of the Armed Froces (چیف آف آرمڈ فورسز ) ، (اپوزیشن کی طرف سے نعرہ ہائے تحسین) اس میں آرمی، ائیر فورس اور نیوی کے چیف آف سٹاف شامل ہوں گے۔ ان کا حلف وہی ہوگا جو ایک مسلمان کا ہوتا ہے تو میں ان گزارشات کے ساتھ آپ کی وساطت سے تمام ہاؤس سے اپیل کرتا ہوں کہ ان گزارشات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں اور صحیح فیصلہ صادر فرمائیں۔ (اپوزیشن کی طرف سے نعرہ ہائے تحسین) (مداخلت)

Mr. Chairman: (To Malik Mohammad Jafar), How long will you take?

٢٤

صفحہ ٢٦٥٣

سرگزشت

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ملک محمد سلیمان: یہ ہمارا شیڈول نمبر ٣ آئین کا کر دی ہے کہ بڑے بڑے عہدے مثلاً پریذیڈنٹ اور پرائ آئیں گے۔ تو اس میں کچھ اضافہ کرنا چاہئے۔ اس میں تمام فو ہیں ان کا عہدہ بھی وہی ہو جو پرائم منسٹر اور پریذیڈنٹ کا ہے۔ کی ضرورت نہیں۔ صوبے میں مینارٹی کو presentation l Assembly and the Deputy Speaker of the National Assembly.... سپیکر ......)

an: .... and all the members of the

(جناب چیئرمین: ....... اور قومی اسمبلی کے تمام

ملک محمد سلیمان: جناب عالی! ممبران کی ضرور وہی حلف ہونا چاہئے جو ایک مسلمان کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ صوبوں کے گورنر جو ہیں، چیف منسٹر ...... میں پراونشل منسٹر منسٹروں کی بات کروں گا ...... گورنر، چیف منسٹر، preme ourts. I am not talking of the other (ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز Justices. رہا) چیف الیکشن کمشنر کا وہی حلف ہو جو ایک مسلمان کا ہوتا ہ Forces (چیف آف آرمڈ فورسز)، (اپوزیشن کی ط آرمی، ائیر فورس اور نیوی کے چیف آف سٹاف شامل ہو مسلمان کا ہوتا ہے تو میں ان گزارشات کے ساتھ آپ کی ہوں کہ ان گزارشات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں اور طرف سے نعرہ ہائے تحسین) (مداخلت)

n: (To Malik Mohammad Jafar),

٢٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

(جناب چیئرمین: (ملک محمد جعفر سے) آپ کتنا وقت لیں گے؟)

ملک محمد جعفر: تھوڑا سا۔

جناب چیئرمین: اندازاً کتنا؟

ملک محمد جعفر: نہیں، میں کوئی غیر ضروری بات نہیں کروں گا۔

جناب چیئرمین: میں نے کب کہا ہے۔

ملک محمد جعفر: میں عرض کرتا ہوں یہ نہیں کہہ سکتا، لیکن ہو سکتا ہے میں تیس منٹ لگ جائیں۔ میرا خیال ہے کہ آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

(جناب ملک محمد جعفر کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب عالی! اس وقت جب کہ آج پانچ تاریخ ہو گئی ہے اور اس مہینے کی سات تاریخ کو ہماری طرف سے عوام کے سامنے عہد ہے Commitment (کمٹمنٹ) ہے کہ اس مسئلے کا فیصلہ اس تاریخ تک ہو جائے گا، میں نہایت ادب سے گزارش اپنے معزز اراکین سے کرتا ہوں کہ مجھے تو بہت احساس ہے۔ لیکن جس طریقے پر جو ممبر صاحب تقریر کر رہے تھے، ہم 2645 اس کو سن رہے تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت کو وہ احساس نہیں ہے کہ عوام اس ہاؤس کے باہر کس بے چینی اور اضطراب سے آپ کے اس فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں اور آپ اس مرحلے پر پہنچے ہوئے ہیں کہ آپ نے ایک دو دن میں فیصلہ کرنا ہے۔ اس حالت میں یہ طریقہ کم از کم نہیں ہونا چاہیے کہ اتنا سنجیدہ مسئلہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کئی پہلوؤں سے شاید یہ آئین سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔ ہمارے سامنے ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔ کیونکہ آئین میں تو ردو بدل ہو سکتا تھا لیکن اس وقت پاکستان میں میرے نزدیک سب سے اہم مسئلہ جس کا آپ نے فیصلہ کرنا ہے اور جو آپ نے دو دن کے اندر فیصلہ کرنا ہے۔ اس ذمہ داری کو سامنے رکھتے ہوئے گزارش کروں گا کہ آپ کے سامنے جو قراردادیں ہیں ان پر نہایت سنجیدگی سے غور کیجئے۔ ہمیں جو انفارمیشن، شہادت جرح میں پیش ہوئی ہے، حاصل ہوئی ہے، اس پر غور کریں اور جو مسائل اس مسئلے سے متعلق ہیں اور اس سے پیدا ہو سکتے ہیں ان پر غور کیجئے۔ میں چند معروضات کروں گا اس خیال سے شاید اس سے فیصلہ کرنے میں امداد ہو جائے۔ مجھ سے بہت بڑے بڑے عالم اس دینی مسئلے کے متعلق زیادہ جانتے ہیں۔ لیکن اس میں سیاسی اور قانونی پہلو بھی ہیں۔ اس لئے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

سب سے پہلے تمہید کے طور پر میں یہ گزارش کروں گا کہ جب یہاں بحث چل رہی تھی،

٢٥

صفحہ ٢٦٥٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 بیان ہو رہے تھے، جرح ہو رہی تھی، تو ہم ممبر صاحبان میں بھی اور باہر بھی بڑا پروپیگنڈہ ہو رہا تھا اور مختلف پروپیگنڈے کے طریقے ہیں۔ میں اپنے دوستوں سے اور وکلاء سے لاہور میں ملتا رہا ہوں۔ اس کے متعلق میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اس نوعیت کے پروپیگنڈے سے آئین کو اور پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے متعلق بہت سے خطوط باہر سے آئے ہیں جن میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔

2646 سب سے پہلے ایک سوال اٹھایا گیا اور بیان میں بھی یہ بات آئی ہے، دوسرا پروپیگنڈہ بھی ہو رہا ہے۔ کسی ملک کی پارلیمنٹ دینی مسئلہ کے متعلق پہلے تو یہ کہا گیا کہ قانونی طور پر ہم مجاز نہیں کہ فیصلہ کریں۔ اٹارنی جنرل صاحب کے سوال سے صاف واضح تھا کہ قانون ہم بنا سکتے ہیں۔ جس آرٹیکل پر ہم انحصار کرتے ہیں اس میں لکھا ہے آزادی مذہب اور مذہب کے پھیلانے کے لئے مذہبی ادارے بنانے کی، وہ قانون کے تابع ہیں۔ قانون پارلیمنٹ بنا سکتی ہے۔ یہ محدود قانونی پہلو ہے۔ لیکن جس بات پر زور دیا جا رہا ہے وہ یہ ہے اور اخلاقی لحاظ سے اور جو مسلمہ اخلاقی اقدار مہذب دنیا میں ہیں، ان کی موجودگی میں کیا ایک قومی اسمبلی کو جو منتخب ہوئی ہے ملک کا کاروبار چلانے کے لئے، تمام قانون بنانے کے لئے یہ حق اخلاقاً پہنچتا ہے کہ مذہبی معاملات کا فیصلہ کرے؟ اس کے ساتھ اس بات پر بھی بڑا زور دیا جا رہا ہے کہ ایسا نہ کیجئے۔ آپ ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے آپ مہذب دنیا میں بدنام ہو جائیں اور باقی اقوام کیا کہیں گی، لوگ کیا کہیں گے۔ یہ کتنے Reactionary (رجعت پسند) ہیں اور کتنی صدیاں پہلے کے سوچ والے یہ پاکستانی عوام ہیں، یہ کیا کر رہے ہیں، یہ لوگوں کے مذہب کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کے پروپیگنڈے کا مقصد یہ ہے کہ ممبران کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے سے باز رہیں۔ یا فیصلہ اگر کریں تو وہ اس طرح کا ہو جس پر ہمارے عوام تو مطمئن نہیں ہوتے۔ لیکن شاید باہر کی دنیا کے لوگ مطمئن ہو جائیں۔ اس لئے ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس پروپیگنڈے کی میرے نزدیک اس لئے قطعاً کوئی وقعت نہیں ہے۔ کیونکہ ہر ملک کے اپنے حالات ہوتے ہیں۔ ہماری اپنی ایک تاریخ ہے۔ اس میں بہت سے عوامل ہیں۔ اس لئے ہمیں بہت سے ایسے کام کرنا پڑتے ہیں۔ ہمارا آئین اور قانون درست ہے۔ لیکن مغربی ممالک کے لوگوں کی سمجھ میں شاید نہ آئیں۔ اگر یہ بات 2647 اب تک مغربی ممالک کے لوگوں اور مفکروں کی سمجھ میں نہیں آئی کہ کس طرح ملک کی اساس مذہب ہو سکتی ہے۔ لیکن کیا ہم ان کے اس موقف کے باعث یا ان کو خوش کرنے کے لئے اپنا مہذب ہونا ان کے سامنے ثابت کرنے کے

٢٦

صفحہ ٢٦٥٥

2655 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

لئے یہ بات چھوڑ دیں کہ ہمارے ملک کی بنیاد، ہماری ریاست کی بنیاد مذہب ہے۔ وہ تو ہم نے اپنے آئین میں لکھا ہوا ہے اور پھر یہ کہ ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ تو ہم پہلے کر چکے ہیں۔ ہم نے آئین میں پہلے تو یہ فیصلہ کم از کم دو عہدوں کے متعلق ایک اصول قائم کیا ہے۔ ان میں سے ایک کم از کم ایک پہلو سے، دوسرا دوسرے پہلو سے بہت اہم ہیں۔ صدر کا تو اس لئے ہم نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک مملکت کا سمبل ہے۔ کیونکہ اسلامی مملکت ہے۔ اس لئے صدر کو مسلمان ہونا چاہئے اور وزیر اعظم کا میرے خیال میں اتنا بااختیار عہدہ ہے، پاکستان میں تو کوئی نہیں، اور ممالک کی جمہوریت سے بہت زیادہ بااختیار عہدہ وزیر اعظم کا ہوتا ہے اور ان کو اتنے اختیارات دیئے ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ بھی مسلمان ہونا چاہئے۔

-------- [At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi).] (اس مرحلے پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت کو چھوڑا جسے ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی نے سنبھالا) --------

(مدعی نبوت ...... بدقسمت)

ملک محمد جعفر: تو میں جناب والا! عرض کر رہا تھا کہ دو عہدوں کے متعلق ہم نے آئین میں فیصلہ کر لیا ہے کہ اس کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ ان کی اہمیت کے پیش نظر۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ تھی ہم نے یہ کافی آئین میں نہیں سمجھا کہ صدر اور وزیر اعظم لازماً مسلمان ہوں گے۔ مسلمان تو ایک معروف لفظ ہے۔ یہ ہر کوئی جانتا ہے۔ لیکن آئین سازی کے وقت ہمیں یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ ان کے لئے خاص حلف مقرر کریں، پاکستان کے اپنے حالات کے پیش نظر، اور اس میں واضح طور پر ختم نبوت کا تصور لائے اور ختم نبوت پر ایمان ہو، تو پھر یہ بھی کافی نہیں سمجھا گیا۔ اس 2648 کی مزید وضاحت کے لئے ساتھ یہ الفاظ بھی شامل کئے گئے ہیں کہ وہ شخص حلف اٹھائے کہ میں ختم نبوت پر یقین رکھتا ہوں۔ Finality of Prophethood پر، اور یہ کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور اب ہم فرانس اور انگلینڈ کے لوگوں کو یہ سمجھانے جائیں کہ وہ مسلمان کیوں رکھا ہے، ختم نبوت کو کیوں لائے ہیں کہ

٢٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

بیان ہو رہے تھے، جرح ہو رہی تھی، تو ہم ممبر صاحبان میں بھی مختلف پروپیگنڈے کے طریقے ہیں۔ میں اپنے دوستوں ہوں۔ اس کے متعلق میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین سے آئین کو اور پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے متعـ جن میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔

سب سے پہلے ایک سوال اٹھایا گیا اور 2646 پروپیگنڈہ بھی ہو رہا ہے۔ کسی ملک کی پارلیمنٹ دینی مسئلہ ہم مجاز نہیں کہ فیصلہ کریں۔ اٹارنی جنرل صاحب کے سـ بنا سکتے ہیں۔ جس آرٹیکل پر ہم انحصار کرتے ہیں اس میں پھیلانے کے لئے مذہبی ادارے بنانے کی، وہ قانون ہے۔ یہ محدود قانونی پہلو ہے۔ لیکن جس بات پر زور دیا جـ جو مسلمہ اخلاقی اقدار مہذب دنیا میں ہیں، ان کی موجودگـ ہے ملک کا کاروبار چلانے کے لئے، تمام قانون بنانے معاملات کا فیصلہ کرے؟ اس کے ساتھ اس بات پر بھی ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے آپ مہذب دنیا میں بدنام ہو کہیں گے۔ یہ کتنے Reactionary (رجعت پـ والے یہ پاکستانی عوام ہیں، یہ کیا کر رہے ہیں، یہ لوگوں نزدیک اس قسم کے پروپیگنڈے کا مقصد یہ ہے کہ ممبرا معاملے کا فیصلہ کرنے سے باز رہیں۔ یا فیصلہ اگر کریں مطمئن نہیں ہوتے۔ لیکن شاید باہر کی دنیا کے لوگ مطمـ ہونا چاہئے۔ اس پروپیگنڈے کی میرے نزدیک اس ملک کے اپنے حالات ہوتے ہیں۔ ہماری اپنی ایک تـ اس لئے ہمیں بہت سے ایسے کام کرنا پڑتے ہیں۔ ہمار ممالک کے لوگوں کی سمجھ میں شاید نہ آئیں۔ اگر یہ بات مفکروں کی سمجھ میں نہیں آئی کہ کس طرح ملک کی اساس موقف کے باعث یا ان کو خوش کرنے کے لئے اپنا مـ

٢٦

صفحہ ٢٦٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ان کے بعد نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے کہ بدقسمتی سے وہ مدعی نبوت ہمارے پاکستان کے ایک حصہ میں پیدا ہوا۔ اس کی جماعت یہاں موجود ہے۔ نہ یہ فرانس میں ہے اور نہ انگلینڈ میں، نہ ان لوگوں کے مسائل ہیں۔ تو میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں قطعاً اس بات سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے ہمارے فیصلے ۔ بیرونی رائے عامہ کا احترام کرتا ہوں، وہ ضروری ہے، لیکن وہ اس مسئلے کو نہیں سمجھ سکتے۔ ان کے مسائل یہ نہیں۔ ہمارا اپنا مسئلہ ہے۔ ہمیں اس بات سے قطعاً خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ پہلی بات تو یہ ہے۔

(قادیانی انتہاء پسند)

دوسری گزارش یہ ہے کہ ایک اور پروپیگنڈہ یہ ہے کہ اگر احمدیوں کے خلاف ...... میں یہاں وضاحت کر دوں میں ان کو ”احمدی“ کہوں گا۔ یہاں اعتراض کیا گیا کہ مفتی صاحب نے ”احمدی“ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ جو کسی جماعت یا کسی کا نام ہو، وہ ضروری نہیں کہ ہم ان کا وہ مقام سمجھیں۔ مثلاً یہود جو ہیں صحیح یہود نہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم پر نہیں۔ وہ چونکہ اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں، میں ان کو ”احمدی“ کہوں گا ...... ایک یہ خطرہ پیش کیا جا رہا ہے کہ اگر ہم نے کوئی ایسی کارروائی احمدیہ جماعت کے خلاف کی، ایک فرقے کے خلاف یا دونوں کے خلاف، تو یہ بہت طاقتور ہیں۔ ایک تو ملک میں تخریبی کارروائی ہوگی۔ کیونکہ وہ Organised (منظم) ہیں۔ ان کے پاس پیسہ ہے، ان کی بڑی تنظیم ہے اور Fanaticism (شدت پسندی) میں کسی سے ملک کے اندر کم نہیں۔ ملک کے اندر خطرات ہیں، تخریب کاری ہے۔ اب یہ سمجھیں گے کہ ہمارا اس ملک میں کوئی مقام نہیں، ہمیں تو انہوں نے غیر مسلم قرار دے دیا ہے اور پھر باہر کے ممالک میں 2649 جہاں ان کی جماعتیں ہیں وہاں ہمارے خلاف خطرناک قسم کا ردّعمل ہوگا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ جو پہلے تحریک ہے۔ اس سے ہمیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ جو دوسری بات بیان کی جا رہی ہے کہ یہ میرے نزدیک ایسی ہے کہ جس کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ لیکن اسی ضمن میں، میں اب جب ذکر کروں گا اپنی قرارداد کا تو پھر میں گزارش یہ کروں گا کہ میں نے اپنی قرارداد میں جو بنیادی بات بیان کی ہے اور جس کا اب یہاں ایک ممبر صاحب نے بھی ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ آپ ان کی تنظیم کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ تمام خطرات جو ہیں، وہ اس بات پر مبنی ہیں کہ منظم جماعت ہے اور اس کی خلافت ہے اور اس کے حکم کے وہ پابند ہیں، اس کے اشارے پر وہ چلتے ہیں۔ اس کے متعلق غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے چل رہے ہیں۔ وہ

٢٨

صفحہ ٢٦٥٧

2657 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

قیادت اس کی جائیداد پر ہے تو اس کے متعلق میں عرض کروں گا کہ اگر آپ میری وہ تجویز منظور کریں، یا کچھ تبدیلی کے ساتھ، تو پھر یہ جو دوسرا خدشہ بیان کیا جا رہا ہے، میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ یہ ختم ہو جاتا ہے، لیکن کم سے کم رہ جائے گا۔ یہ جناب! میں نے تمہیداً عرض کیا تھا۔ میں نے گزارش یہ کی ہے کہ نہایت سنجیدگی سے ان امور پر غور کریں اور دوسرا یہ ہے کہ اس پروپیگنڈہ سے قطعاً متاثر نہ ہوں۔ کیونکہ ہم اگر فیصلہ کرنے والے ہیں تو اس کا باہر کی دنیا میں کیا اثر ہوگا۔ وہ ہمیں مہذب سمجھیں گے یا نہیں۔ میں نے جیسا کہ عرض کیا وہ تو ہمیں اس لئے بھی مہذب نہیں سمجھتے کہ ہم نے مذہب کی بنیاد پر ملک بنایا ہے۔ ان باتوں کو ذہن سے نکال کر آئیے۔

(اجماع)

اب میں قراردادوں پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بات پر تو اب اجماع (Consensus) ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو آدمی کسی نبوت پر ایمان رکھتا ہو، کسی آدمی کو نبی مانتا ہو، وہ مسلمان نہیں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے یہ اب 2650 اجماع نہیں ہوا، بلکہ یہ آئین میں ہی ہو چکا تھا۔ کیونکہ آئین میں صرف دو عہدوں کے لئے ہم نے کہا ہے کہ ان کے لئے مسلمان ہونا لازمی ہے، اور ان دونوں عہدوں کے لئے حلف وہ تجویز کیا ہے جس میں یہ وضاحت ہو گئی ہے۔ وہ حلف اٹھا کر کہے کہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ گویا براہ راست نہیں تو بالواسطہ (Indirectly) ہم نے مسلمان کی تعریف پہلے ہی آئین میں دی ہوئی ہے۔ اب صرف یہ ہے کہ جو فیصلہ ہم آئین میں کر چکے ہیں اس کی مزید وضاحت کر دی جائے، جب کہ ابھی وہ دو عہدوں کے متعلق ہے، اس کو عمومی شکل دے دی جائے کہ جہاں کہیں ”مسلمان“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور آئین میں تو خیر کسی عہدے کے لئے ضروری نہیں ہے۔ لیکن اور عام قوانین میں، مثلاً مسلم فیملی لاز آرڈیننس ہے، وراثت کا عام قانون ہے، بلکہ اگر فقہ کو توسیع دینی ہے، تو اس میں شفعہ کا قانون بھی آئے گا، یہ سارے آئیں گے۔ کیونکہ اسلامی قانون میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق میں ایک امتیاز رکھا گیا ہے۔ ان کے باہمی تنازعات میں خاص قواعد مقرر ہیں۔ اگر ان کو جب نافذ کرنا ہوگا تو پہلے یہ فیصلہ کیا جائے کہ کوئی شخص مسلمان ہے یا نہیں۔ اب یہ کہ ایک شخص مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو کیوں اس کو مسلمان نہ سمجھا جائے۔ بظاہر یہ بات بھی ہمارے تعلیم یافتہ بعض آدمیوں کو بڑی اپیل کرتی ہے کہ ٹھیک ہے صاحب! گزارش اس میں یہ ہے کہ ہماری کوئی تعریف ایسی نہیں کہ کوئی آدمی کہتا

٢٩

EMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ان کے بعد نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے کہ بدقسمتی سے و میں پیدا ہوا۔ اس کی جماعت یہاں موجود ہے۔ نہ یہ فر کے مسائل ہیں۔ تو میرا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ فیصلہ کر نہیں ہونا چاہئے ہمارے فیصلے ۔ بیرونی رائے عامہ کا ائ مسئلے کو نہیں سمجھ سکتے۔ ان کے مسائل یہ نہیں۔ ہمارا اپنا نہیں ہونا چاہئے۔ پہلی بات تو یہ ہے۔

(قادیانی انتہاء

دوسری گزارش یہ ہے کہ ایک اور پروپیگنڈ یہاں وضاحت کردوں میں ان کو ”احمدی“ کہوں گا۔ ”احمدی“ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ جو کسی جماعت یا کسی سمجھیں۔ مثلاً یہود جو ہیں صحیح یہود نہیں۔ عیسائی حضر اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں، میں ان کو ”احمدی“ آ اگر ہم نے کوئی ایسی کارروائی احمدیہ جماعت کے خلا خلاف، تو یہ بہت طاقتور ہیں۔ ایک تو ملک میں تخریبی (منظم) ہیں۔ ان کے پاس پیسہ ہے، ان کی بڑی پسندی) میں کسی سے ملک کے اندر کم نہیں۔ ملک کے سمجھیں گے کہ ہمارا اس ملک میں کوئی مقام نہیں، ہمی پھر باہر کے ممالک میں 2649 جہاں ان کی جماعتیں ہی ہوگا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ جو پہلے تحریک ہے۔ اس لیکن یہ جو دوسری بات بیان کی جارہی ہے کہ یہ میر چاہئے۔ لیکن اسی ضمن میں، میں اب جب ذکر کروں کہ میں نے اپنی قرارداد میں جو بنیادی بات بیان کی ہ بھی ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ آپ ان کی تنظیم کو ختم کر اس بات پر مبنی ہیں کہ منظم جماعت ہے اور اس کی خلا کے اشارے پر وہ چلتے ہیں۔ اس کے متعلق غور کرنے

٢٨

صفحہ ٢٦٥٨

سرگزشت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہے کہ میں مسلمان ہوں تو ہم اس کو اس بات سے روکیں کہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ میں مسلمان ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک شخص مثلاً زید کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ اس کا بکر کے ساتھ ایک تنازعہ ہے، مثلاً وراثت کا تنازعہ ہے۔ بکر انکار کرتا ہے۔ زید کا یہ دعویٰ غلط ہے۔ یہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی کو مانتا ہے۔ اس لئے مسلمان نہیں ہے۔ اب یہ زید کا تنہا ذاتی معاملہ نہیں، یہ 2651 دوسرے کے ساتھ تنازعہ کا معاملہ ہے۔ وراثت کا معاملہ ہے۔ شفعہ کا معاملہ ہے اور قوانین کے متعلق معاملہ ہے۔ اس میں پھر اس آدمی کا فیصلہ قطعی نہیں ہوتا۔ معاملہ عام طور پر عدالتوں میں جاتا تھا۔ لیکن ہم عدالتوں میں لے جانے کی بجائے قانون میں یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔ عدالتیں تو قانون کی تعبیر کرتی ہیں۔ اس لئے قرارداد میں ایک تجویز، جو میں پڑھ کر سناتا ہوں، یہ ہے کہ آئین میں جس اصول کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ اس کی وضاحت کر دی جائے اور اس کو وسعت دے دی جائے، اپنے اطلاق کے لحاظ سے، اور وہ تمام قوانین پر حاوی ہو کہ جہاں کہیں ”مسلمان“ کا لفظ، اب استعمال ہوا ہے یا آئندہ جو قوانین ہم بنائیں گے، کیونکہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ فقہ کے اثر کی توسیع کرنی ہے، زیادہ سے زیادہ معاملات پر حاوی کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ زیادہ قوانین میں مسلمان کی وہ شرط آئے گی۔ تو ہر جگہ یہ سمجھا جائے کہ جو آدمی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں ہے۔ لیکن یہاں جناب اب ایک اور معاملہ پیش آ گیا ہے۔ پھر یہ پیچیدگی حاصل کر گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم نے کہا حلف، اور تجویز اب یہ ہے کہ حلف کے مطابق ہی عام Definition (تعریف) کر دی جائے۔ لیکن حلف میں یہ لکھا ہے کہ وہ شخص جو ختم نبوت پر یقین رکھتا ہو اور یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ تو یہاں ایک تو آپ کے سامنے شہادت آئی ہے، بیان آئے ہیں۔ اس سے یہ بات نکلی کہ کم از کم لاہوری جماعت والے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے۔ بلکہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ بلکہ اس حد تک کہا ہے کہ جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ لعنتی ہے۔ تو اس حلف کے مطابق بھی لاہوری جماعت والے تو پھر دائرہ اسلام سے خارج متصور نہیں ہوتے، وہ مسلمان ہی سمجھے جائیں گے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی نہیں مانتے اور خود ربوہ والوں کا معاملہ بھی اب پیچیدہ صورت میں ہے۔ کیونکہ اگر الفاظ یہ ہیں کہ ختم نبوت 2652 میں ایمان رکھتا ہوں اور یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہیں آئے گا۔ اب ذہنی تحفظ کے ساتھ، Mental reservation (ذہنی تحفظ) جو ہوتی ہے، وہ ہو سکتا ہے کہ ربوہ والا احمدی بھی حلف اٹھا لے، یا عدالت میں معاملہ جائے تو وہ کہے

٣٠

صفحہ 2659

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 کہ جناب! یہاں لکھا ہے کہ نبی نہیں آ سکتا، تو اس سے تو مراد، جو حوالے سارے پیش ہوئے ہیں، نبی سے مراد تو ہمیشہ نیا نبی ہوتا ہے۔ جدید شریعت والا نبی ہوتا ہے۔ جو مستقل نبی ہو وہ ہوتا ہے۔ تو پھر بھی معاملہ تشریح طلب رہ جاتا ہے تو میں نے دیکھا ہے کہ گو میری اپنی قرارداد میں یہ بات نہیں تھی۔ لیکن یہاں جو بیان ہوا ہے اور جرح ہوئی ہے، اس سے میں نے یہ تاثر لیا ہے کہ غالباً جو اپوزیشن کے بعض ممبروں کی طرف سے قرارداد میں یہ بات آئی ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے متعلق واضح طور پر یہ کہہ دیا جائے کہ ان کے ماننے والے مسلمان نہیں ہیں۔ ویسے یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ ہم ایک شخص کا نام لکھیں۔ لیکن پھر کیا کریں۔ ہمارا مسئلہ ہی ایسا ہے کہ یہاں ایک شخص نے دعویٰ کیا، کچھ دعویٰ کیا اور صورت یہ پیدا ہوئی کہ اس دعویٰ کے بعد پچاس ساٹھ سال گزرنے کے باوجود اس کے ماننے والے اب تک یہ طے نہیں کر سکے کہ ان کا دعویٰ کیا تھا۔ بلکہ اس ضمن میں علامہ اقبال کا ردعمل بڑا مناسب ہوگا۔ انہوں نے پہلی دفعہ کہا تھا، یہاں بیان بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے مرزا غلام احمد کی تعریف کی تھی۔ وہ ٹھیک ہے۔ ۱۹۱۱ء میں انہوں نے کہا تھا۔ بعد میں شدید مخالف ہو گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ پنڈت نہرو سے ان کا ایک مناظرہ چل نکلا۔ انہوں نے دو تین مضامین لکھے۔ پھر کسی نے سوال کیا کہ آپ نے پہلے تو ان کی اتنی تعریف کی تھی اور اب آپ ان کے مخالف ہو گئے ہیں۔ ویسے انہوں نے بہت مفصل جواب دیا ہے۔ لیکن اس ضمن میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کے لئے انہوں نے یہ جواب دیا تھا کہ بھائی دیکھو! میں انسان ہوں۔ میں اپنی 2653 رائے تبدیل کر سکتا ہوں، اور اس تحریک کے جو نتائج ہونے تھے اور اس کے بانی کے جو دعاوی تھے، اس وقت اس کے متعلق میرا پورا علم نہ تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ دیکھو! میں ایک Outsider (جماعت احمدیہ سے باہر ایک فرد) ہوں۔ تو مجھے کیسے پتا چل سکتا تھا۔ جب کہ خود ان کے ماننے والے آج تک جھگڑ رہے ہیں کہ انہوں نے (کیا) دعویٰ کیا تھا۔ لیکن اب ہمارے سامنے بہت میٹریل آچکا ہے اور اس میٹریل کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں، یعنی اس کا فیصلہ کرنے کے قابل ہیں کہ خواہ یہ کچھ دعویٰ کرتے رہیں، لاہوری جماعت والے اور ربوہ والے، لیکن اتنی بات واضح ہے کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ ضرور کیا ہے اور اب اس کی کوئی تاویل کر دی جائے، خواہ نبوت کسی تاویل کے ساتھ ہو، خواہ کسی رنگ میں ہو، خواہ وہ ظلی ہو، بروزی ہو، غیر مستقل ہو، غیر تشریعی ہو، جس طرح بھی ہو، امتی ہو، اس کو عقیدۂ ختم نبوت کے منافی سمجھتے ہیں اور ہم ہیں عوام کے نمائندے۔ پاکستان کے عوام اس بات ۳۱

صفحہ 2660

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔ وہ اس بات کو سوچنے کے لئے تیار نہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب محدث تھے اور محدث ہیں تو جائز ہیں یا مجدد تھے۔ کیونکہ آپ کے سامنے تو سارا میٹریل آچکا ہے۔ اصل بات یہ ہے، میں نے تو کچھ مطالعہ بھی کیا ہوا ہے، وہ ٹھیک ہے، انکار بھی کرتے رہے ہیں نبوت سے اور پھر دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں۔ مقاصد ان کے سامنے دو تھے اور وہ ایک دوسرے کی ضد تھے۔ ایک طرف وہ چاہتے تھے کہ مستقل بنیاد پر اپنی ایک جماعت قائم کر لیں، اور جس مشن کو مرزا محمود احمد نے بہت آگے بڑھایا، علیحدہ جماعت قائم کر دیں۔ جس کا تعلق ان کے مریدوں کا ان کے ساتھ ایسا ہو کہ جو نبی کے ساتھ ان کے پیروؤں کا ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ یہ چاہتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا، بار بار کیا۔ لیکن پھر ساتھ ہی عوام میں مخالفت بڑھ گئی۔ علماء سارے ان کے خلاف ہو گئے۔ کہیں جا نہیں سکتے تھے۔ سفر نہیں کر سکتے تھے تو پھر لوگوں سے ڈر 2654 کر انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے اسے محدث سمجھ لیں۔ یہ نہیں کہ اس کو کاٹ کر وہ کر دیں۔ اس کو کٹا ہوا سمجھیں۔ یعنی رہے وہی کتاب میں، نبی رہے، لیکن سمجھا جائے کہ محدث ہے۔ لیکن اس کے بعد پھر نبی کا دعویٰ کیا، پھر نبی اپنے متعلق لکھا۔ تو دو مقاصد تھے اور ویسے عجیب بات ہے مسلمانوں کی اس کم علمی کی کہ وہ ان دونوں مقاصد میں ایک حد تک کامیاب ہو گئے اور اس ضمن میں بڑی دلچسپ بات میرے خیال میں وہ میاں عبد المنان صاحب نے کہی کہ وہ بعض لوگوں کو غلط فہمی لگتی تھی، بعض کو نہیں لگتی تھی۔ تو انہوں نے دونوں کو تسلی دینے کے لئے جن کو غلط فہمی ہوتی تھی ان کو کہا کہ ان کو سمجھا جائے کہ وہ نبی نہیں ہیں، جن کو نہیں ہوتی وہ نبی سمجھتے رہیں۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں یہ تو ایک مناظرہ ہے ان کے درمیان۔ ہمارے پاس میں سمجھتا ہوں جتنا مواد آچکا ہے اور بات اتنی واضح ہو گئی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان کے عام مسلمان ان میں کوئی تفریق نہیں کرتے، لاہوری جماعت اور ربوہ والی جماعت میں، تو اس مواد کی بنیاد پر جو ہمارے سامنے پیش ہوا ہے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے عام مسلمان درست کہتے ہیں۔ لیکن اب اس کو ہم کیسے کہیں کہ لاہوری جماعت سے تعلق ہے تو اس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں یہ چیز آرہی ہے ان قراردادوں میں کہ میں کسی نبی کو نہیں مانتا تو ایک مرزا غلام احمد صاحب کا نام بھی لکھا جا سکتا ہے۔ اب بات اس میں بڑی اصل میں سنگین ہو جاتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک کوئی ولی اللہ یا پیر ہونے کا مدعی ہو تو ٹھیک ہے، کوئی اس کو مان لیتا ہے، کوئی اس کو نہیں مانتا۔ لیکن جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ ایک بہت سنگین، شدید معاملہ ہے۔

۳۲

صفحہ ٢٦٦١

SSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔ وہ اس بات کو سوچنے کے لئے تھے اور محدث ہیں تو جائز ہیں یا مجدد تھے۔ کیونکہ آپ کے بات یہ ہے، میں نے تو کچھ مطالعہ بھی کیا ہوا ہے، وہ ٹھیک سے اور پھر دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں۔ مقاصد ان کے تھے۔ ایک طرف وہ چاہتے تھے کہ مستقل بنیاد پر اپنی ایک مرزا محمود احمد نے بہت آگے بڑھایا، علیحدہ جماعت قائم ان کے ساتھ ایسا ہو کہ جو نبی کے ساتھ ان کے پیروؤں کا اس لئے انہوں نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا، بات بڑھ گئی۔ علماء سارے ان کے خلاف ہو گئے۔ کہیں جا کر لوگوں سے ڈر 2654 کر انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں یہ لفظ اس کو کاٹ کر وہ کر دیں۔ اس کو کٹا ہوا سمجھیں۔ یعنی بن جائے کہ محدث ہے۔ لیکن اس کے بعد پھر نبی کا دعویٰ کیا اور ویسے عجیب بات ہے مسلمانوں کی اس کم علمی کی آڑ کامیاب ہو گئے اور اس ضمن میں بڑی دلچسپ بات میر نے کہی کہ وہ بعض لوگوں کو غلط فہمی آگئی تھی، بعض کو نہیں آئی لئے جن کو غلط فہمی ہوئی تھی ان کو کہا کہ ان کو سمجھا جائے سمجھتے رہیں۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں یہ تو ایک مناظرہ ہے ہوں جتنا مواد آچکا ہے اور بات اتنی واضح ہو گئی ہے مسلمان ان میں کوئی تفریق نہیں کرتے، لاہوری جماعت بنیاد پر جو ہمارے سامنے پیش ہوا ہے میں سمجھتا ہوں ہیں۔ لیکن اب اس کو ہم کیسے کہیں کہ لاہوری جماعت ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں یہ چیز آرہی ہے ان قرار مرزا غلام احمد صاحب کا نام بھی لکھا جاسکتا ہے۔ اب ہے۔ کیونکہ یہ ایک کوئی ولی اللہ یا پیر ہونے کا مدعی ہو تو نہیں مانتا۔ لیکن جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ ایک بہت

٣٢

2661 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

اس ضمن میں جناب ! میں ایک اور بات عرض کروں گا۔ وہ میرے ذہن میں تھی ابتداء میں کہنے کی، لیکن پھر بھول گیا ہوں کہ ایک پروپیگنڈہ یہ بھی ہو رہا ہے کہ اگر اس 2655 طریقے پر آپ مذہبی امور کے فیصلے کرنے شروع کر دیں گے تو ایک فتنے کے بہت سے دروازے کھول دیں گے۔ مثلاً کہا جارہا ہے کہ اگر احمدیوں کے خلاف یہ کارروائی کی گئی تو پھر مثلاً شیعہ جو ہیں، یہاں اقلیت میں ہیں۔ پھر ان کے خلاف ہوگا۔ اہل حدیث کے خلاف ہوگا۔ یہاں کچھ اہل قرآن بھی ہیں اور احمدیہ جماعت کی طرح سے خاص طور پر اسماعیلی فرقے والے ہیں۔ ان کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے بہت ہی دل آزار قسم کا ...... میرا دل تو بہت ہی دکھا ہے کہ انہوں نے وہ حوالے پیش کئے ہیں کہ جناب فلاں شیعہ عالم نے سنیوں کے متعلق یہ لکھا ہے، سنیوں نے شیعوں کے متعلق یہ لکھا ہے۔ اہل حدیث نے دوسروں کے متعلق یہ لکھا ہے۔ وہ یہاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ یہاں مختلف مکتب فکر کے لوگ موجود ہیں۔ لیکن ان کا پوائنٹ یہ تھا کہ ایک تو یہ کہ یہ اختلافات تو موجود ہیں۔ پہلے تو، ہمارا بھی ایک اختلاف ہے اور دوسرا ایک اور خوف پیدا کرنا چاہتے تھے ملک میں، کہ اگر ایک دفعہ احمدیوں کے خلاف یہ کارروائی ہوئی تو پھر کسی کو اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھنا چاہئے۔ پھر دوسرے ہر فرقے کے خلاف ہوگا تو اس ضمن میں جناب ! یہ گزارش کروں گا کہ یہ بات بھی غلط ہے۔ آخر دیکھنے کہ کیا وجہ ہے کہ کہتے ہیں ٧٢ فرقے ہیں۔ میں نہیں جانتا ٧٢ ہیں۔ شاید کم ہوں یا زیادہ ہوں۔ لیکن یہ اختلاف کی صورت جو احمدی جماعت کے متعلق پاکستان میں مسلمانوں کی باہمی ایک ایسی صورت ہے کہ جس میں Co - Exist (وہ اکٹھے نہیں رہ سکتے) نہیں کر سکتے۔ پولیٹیکلی اور مذہبی یا اور لوگوں کے درمیان کیوں پیدا نہیں ہوئی، شیعوں کی اور سنیوں کی کیوں پیدا نہیں ہوئی باوجود بہت بڑے اختلاف کے اور یہاں جناب ! میں یہ عرض کروں گا کہ اگر ظاہری چیز کو دیکھا جائے تو اس میں اب جناب! احمدی ہیں۔ یہ حنفی فقہ کو اپناتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ہم حنفی فقہ کو مانتے ہیں۔ نماز حنفی طریقے سے پڑھتے ہیں، 2656 روزہ بھی اسی طریقے پر، زکوٰۃ کے اسی طریقے پر قائل ہیں، حج بھی کرتے ہیں بعض، چلئے ٹھیک ہے۔ تو شیعوں کے بہت اختلافات ہیں۔ نماز کے طریقے میں۔ بلکہ مجھے تجربہ ہوا کہ روزہ بھی وہ کچھ درمیان میں وقت کا فرق ہے، بعد میں افطار کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ بہت اختلاف ہیں خلافت کے متعلق۔ تو یہ کیا وجہ ہے۔ جناب! اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ختم نبوت کے اختلاف کو سارے عرصے میں ١٤ سو سال میں ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں دوسرے اختلافات سے، اس لئے کہ نبی اور نبوت یہ مذہبی اصطلاح کا لفظ ہے، یہاں لغت کا معنی نہیں ہے

٣٣

صفحہ 2662

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

جیسے کہ یہاں کہا گیا۔ جناب! کہ مولانا روم نے یہ کہا کہ اس کے لغوی معنی یہ ہیں۔ وہ نہیں ہے۔ یہ ٹیکنیکل، اصطلاحی چیز ہے۔ مذہبی اصطلاح میں، اور اہل کتاب جو ہیں ان کا جہاں نبوت کا ذکر ہے نبوت سے ہمیشہ یہ مراد لی گئی کہ کوئی آدمی جب ایک دعویٰ کرتا ہے وحی کا، لیکن وہ تنہا وحی کا دعویٰ نہیں، اس وحی کے دعوے کی بنیاد پر اس کی علیحدہ جماعت قائم ہو جاتی ہے۔ اس کو ہمیشہ نبی کی امت کہا گیا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے جتنے اختلافات ہیں وہ اور نوعیت کے ہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں جناب! کہ اس میں بالکل ڈرنا نہیں چاہئے۔ یہ خوف بھی نہیں ہونا چاہئے کہ یہ ایک فتنے کا دروازہ کھل جائے گا۔ نبوت کا مسئلہ ہی اور ہے، اور وہ اختلافات جو ہیں وہ بالکل علیحدہ ہیں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سوسائٹی بڑی لبرل سوسائٹی ہے۔ مسلمان بہت لبرل ہیں۔ انہوں نے یہ تمام اختلافات دیکھے۔ ۱۴ سو سال میں کون کون سا فرقہ پیدا نہیں ہوا۔ اب ان کے جو اختلافات ہیں ان میں میں نہیں جاتا۔ لیکن اتنے شدید اختلافات ہوئے اور فرقے پیدا ہوئے۔ لیکن کہیں یہ تحریک نہیں چلی کسی سوسائٹی میں کہ فلاں جو ہیں ان کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ ان کو کیوں غیر مسلم قرار دے دیں؟ وہی نبوت کا معاملہ ہے۔ اگر 2657 نبوت کا دعویٰ نہ ہوتا مرزا غلام احمد صاحب کا اور وہ مذہبی رہنما ہوتے اور بہت اختلافات ان کے پیدا ہو جاتے، نماز، روزے میں بھی ہوتے۔ سب چیزوں میں بھی ہوتے، پھر یہ صورت پیدا نہ ہوتی۔ مثلاً جناب! میں یہ عرض کروں گا کہ یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی Reactionary (رجعت پسند) بات ہے۔ عیسائیوں کی مثال آپ دیکھیں، عیسائیوں کا بھی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ نے دوبارہ آنا ہے۔ یہ مشترکہ ہے مسلمانوں کا اور عیسائیوں کا کہ انہوں نے دوبارہ آنا ہے۔ فرض کیجئے اور اختلافات عیسائیوں میں بھی ہیں۔ بہت فرقے ہیں۔ بڑے جو مشہور ہیں رومن کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ کو تو آپ لوگ جانتے ہیں اور بھی بہت سے ہیں۔ لیکن کوئی یہ نہیں کہتا دوسرے فرقے کے متعلق کہ یہ عیسائی نہیں ہیں۔ لیکن فرض کیجئے کہ ایک شخص اٹھتا ہے، پیدا ہوتا ہے عیسائیوں میں اور عیسائیوں کا جو عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ نے دوبارہ آنا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں آ گیا ہوں، میں وہی عیسیٰ ہوں اور عیسائیوں میں ایک آدمی اس کو مان لیتا ہے اور مجھے یقین ہے جناب! کہ وہ بڑے لبرل ہونے کے باوجود تمام دنیا کے عیسائی اس بات پر متحد ہو جائیں گے کہ جو لوگ اس کو مانتے ہیں حضرت عیسیٰ۔ وہ عیسائی نہیں ہیں اور ظاہر ہے کہ جو اس کو ماننے والے ہوں گے اس حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد پر ایمان رکھتے ہوں گے اور سمجھتے ہیں کہ وہ وہی عیسیٰ ہے وہ دوسرے عیسائیوں کو عیسائی نہیں سمجھیں گے۔ یعنی جو یہاں کہا گیا ہے جناب! کہ احمدی ہمیں کافر سمجھتے ہیں تو اس میں تو میں سمجھتا ہوں بالکل انصاف کی بات

۳۴

صفحہ ٢٦٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہے، معقولیت کی بات ہے، کہ اگر واقعی نبی آ گیا ہے، مسیح موعود آ گئے ہیں، مہدی جو ہیں ان کا ظہور ہو گیا ہے، اور وہ مرزا غلام احمد کی ذات میں ہے تو جو لوگ ان کو مانتے ہیں تو پھر وہی مسلمان ہو سکتے ہیں ۔ باقی کیسے مسلمان ہوں گے؟ ایک نبی آ گیا ہے، پہلے سے اس کی بشارت موجود ہے، قرآن و حدیث اس کی تائید کرتے ہیں، مسلمانوں کا 2658 اجماع ہے اور پھر جو نبی کو نہیں مانتے وہ تو ظاہر ہے مسلمان نہیں ہوں گے تو یہ اختلاف جو ہے میں نے عرض یہ کیا ہے کہ اختلاف جو ہے یہ اپنی نوعیت کا ہے اور اس کا مقابلہ دوسرے اختلاف سے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ جناب ! اگر ہم اس کا فیصلہ کریں گے، احمدیوں کا فیصلہ کریں گے، تو باقی فرقوں کے متعلق بھی ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی مطالبہ پاکستان میں کسی فرقے کے خلاف پیدا نہیں ہوگا۔

تو اب جناب ! میں چند الفاظ عرض کرتا ہوں۔ ایک یہ پہلا ریزولیوشن، قرارداد ہے جناب ! جس پر ١٣٧ اراکین کے دستخط ہیں۔ تو تمہید میں تو خیر مرزا غلام احمد کے متعلق وہ ساری بات ٹھیک ہے۔ "....Where as this is established" (”اب جب کہ یہ بات طے ہو چکی ہے.......“) لیکن آخر میں جو تجویز ہے معین وہ یہ ہے کہ: "Now this Assembly do proceed to that the followers of Mirza Ghulam Ahmad by whatever name they are called are not Muslims and that an official Bill be moved in the National Assembly to make ".necessary amendmentl (”اب اسی اسمبلی کے مطابق مرزا غلام احمد کے پیروکار خواہ وہ کسی بھی نام سے پکارے جاتے ہوں مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں باضابطہ طور پر ایک بل پیش کیا جائے تاکہ ضروری ترمیم کی جاسکے۔“)

تو مطلب یہ جناب! کہ یہ کہتے ہیں کہ اس میں یہ وضاحت چاہتے ہیں۔ یعنی ایک وضاحت تو ہوتی ہے اصولی لحاظ سے، بلکہ آج ہی میں ایک دوست سے بات کر رہا تھا تو وہ کہتا تھا کہ اس میں نام کیوں لیتے ہیں اور نبی بھی پیدا ہوں گے۔ میں نے کہا کہ اس کا خطرہ نہ کرو۔ ایک ممبر صاحب ہی کہہ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ چودہ سو سال میں کتنے نبی پیدا ہوئے ہیں۔ نبوت کے مدعی؟ ہم نے تو ایک ان کا نام سنا ہے اور ایک ذکر کیا تھا مسیلمہ کذاب کا، انہوں نے کہا تھا تو میں نے کہا کہ یہ کوئی خطرہ نہیں ہے۔ میرے خیال میں اب بہر حال مرزا غلام احمد صاحب کی تاریخ سے جو نتائج پیدا ہوئے ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے نبوت کا دعویٰ کوئی نہیں کرے گا۔ بہر حال یہ

٣٥

OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

جیسے کہ یہاں کہا گیا۔ جناب! کہ مولانا روم ٹیکنیکل ، اصطلاحی چیز ہے۔ مذہبی اصطلاح می نبوت سے ہمیشہ یہ مراد لی گئی کہ کوئی آدمی جس اس وحی کے دعوے کی بنیاد پر اس کی علیحدہ جماع ہے اور اس کے علاوہ دوسرے جتنے اختلافات جناب! کہ اس میں بالکل ڈرنا نہیں چاہئے ک کھل جائے گا۔ نبوت کا مسئلہ ہی اور ہے، اور ا میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی ت ہیں۔ انہوں نے یہ تمام اختلافات دیکھے۔ ٢ کے جو اختلافات ہیں ان میں میں نہیں جان ہوئے۔ لیکن کہیں یہ تحریک نہیں چلی کسی سوسائ کو کیوں غیر مسلم قرار دے دیں؟ وہی نبوت ا احمد صاحب کا اور وہ مذہبی راہنما ہوتے اور ب بھی ہوتے۔ سب چیزوں میں بھی ہوتے م کروں گا کہ یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی nary مثال آپ دیکھیں ، عیسائیوں کا بھی عقیدہ مسلمانوں کا اور عیسائیوں کا کہ انہوں نے ا بھی ہیں۔ بہت فرقے ہیں۔ بڑے جو مش جانتے ہیں اور بھی بہت سے ہیں۔ لیکن کوئ ہیں۔ لیکن فرض کیجئے کہ ایک شخص اٹھتا ہے ا کہ حضرت عیسیٰ نے دوبارہ آنا ہے، وہ کہتا ہ میں ایک آدمی اس کو مان لیتا ہے اور مجھے یقی دنیا کے عیسائی اس بات پر متحد ہو جائیں گ ہیں اور ظاہر ہے کہ جو اس کو ماننے والے ہوں گے اور سمجھتے ہیں کہ وہ وہی عیسیٰ ہے وہ دوس کہا گیا ہے جناب! کہ احمدی ہمیں کافر کہ

صفحہ ٢٦٦٤

2664 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

تو ڈرافٹنگ کا 2659 معاملہ علیحدہ ہے۔ کس چیز میں کیا جائے۔ آئین میں آئے، کسی قانون میں آئے ، وہ اور معاملے ہیں۔ وہ ٹیکنیکل باتیں ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اصولاً اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں ہمیں یہ بات واضح طور پر کرنی چاہئے اور معاملہ ادھورا نہیں چھوڑنا چاہئے اور وہ واضح طور پر اس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ وضاحت قانون کے ذریعہ کر دی جائے کہ بہر حال جو نبی کو مانتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے، کسی دوسرے نبی کو۔ لیکن مرزا غلام احمد نے بہر حال نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اس کے دعوے کو غلط سمجھ کر یا غلط اس کی تاویل کر کے دانستہ یا نادانستہ کوئی ان کو مانتا ہے کسی منصب پر تو وہ بھی مسلمان نہیں ہے۔

اس کے بعد جناب! یہ سردار شوکت حیات صاحب کا ایک تھا۔ اس میں یہ ہے کہ یہ Intepreation (تعبیر) شامل کی جائے کانسٹیٹیوشن میں:

"Any person or sect that does not subscribe to and believe in the Unity and Oneness of Almighty, the Books of Allah, the Holy Quran being the last of them, Prophethood of Mohammad (peace be upon him) as the last of the Prophets and that there can be no Prophet after him, the Day of Judgement, and the requirements and teachings of the Holy Quran and Sunnah, shall be considered to fall outside the pale of Islam and shall be considered to be a member of a minority community."

(”ہر وہ شخص یا گروہ جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید بطور آخری الہامی کتاب، حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا، قیامت کے دن قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ کی تعلیمات اور ضروریات پر ایمان نہیں رکھتے۔ دائرہ اسلام سے خارج اور اقلیتی کمیونٹی کا فرد سمجھا جائے گا۔“)

تو دائرہ اسلام سے خارج ہے تو اس کے متعلق میں وہی عرض کروں گا کہ اصولی طور پر بات وہی ہے جو حلف میں آئی ہے۔ لیکن پھر جھگڑا رہ جاتا ہے اس میں۔ ایک تو میں نے لاہوری جماعت والا ذکر کیا ہے۔ وہ تو بہر حال اس میں نہیں آتے، اور ربوہ والے بھی۔ پھر اس میں مقدمہ

٣٦

صفحہ ۳۷

2665 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

بازی ہوگی اور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک جائیں گے کہ جناب! یہ جو Definition (تعریف) کی ہے۔ ہم بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیسے ایمان رکھتے ہو اور وہ جو نو (9) دن اٹارنی جنرل صاحب کے سوالوں کے جواب آئے ہیں، پتہ نہیں دو مہینے 2660 ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن میں وہ جرح ہوتی رہے گی۔ تمام کتابیں ”براہین احمدیہ“ سے لے کر ”انجام آتھم“ تک پھر وہ وہاں پڑھی جائیں گی عدالتوں میں۔ جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے سامنے سب چیز ہے تو اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے۔ دیکھئے! اب جب بات سامنے آگئی اور یہ واضح ہو گیا کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، اب جو ان کو مانتے ہیں۔ ٹھیک ہے، وہ مسلمان نہیں ہیں خواہ وہ ان کو مجدد مانیں۔ یہ تو سردار شوکت حیات صاحب کے متعلق صرف یہ عرض ہے کہ اس میں صرف وہ چیز نہیں آئی جس کا یہ خدشہ ہے کہ بعد میں جھگڑا پیدا ہوگا۔ وہ میں عرض کر چکا ہوں۔

اس کے بعد جناب! میں تھوڑا سا وقت لوں گا۔ کیونکہ چند باتوں کا ذکر کرنا ہے جو میرے ریزولیوشن میں ہے۔ اس میں پہلے تو یہی ہے کہ جناب! امینڈمنٹ آف کانسٹیٹیوشن اس میں میں نے لکھا ہے کہ امینڈمنٹ آف دی کانسٹیٹیوشن۔ یہ آرٹیکل نمبر ۲ ہے جناب! سٹیٹ ریلیجن:

After Article:2, the following explanation should be added:

"Explanation: 'Islam' in this Article and where ever this word is used in the Constitution means the religion which comprises the following essential ingredients and article of belief, namely, Unity and Oneness of Almighty Allah, the Books of Allah, Holy Quran being the last of them, the Prophethood of Mohammad (peace be upon him) as the last of the Prophets, and that there can be no Prophet after him, the Day of Judgement, and the requirements and teachings of the Holy Quran and Sunnah."

(آرٹیکل نمبر ۲ کے بعد حسب ذیل وضاحت کا اضافہ کر دیا جائے: ”وضاحت: اس آرٹیکل میں اور آئین میں جہاں کہیں بھی لفظ ’اسلام‘ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ مذہب

LY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

تو ڈرافٹنگ کا 2659 معاملہ علیحدہ ہے۔ کس چیز آئے، وہ اور معاملے ہیں۔ وہ ٹیکنیکل باتیں ہیں کرنے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں ہمیں یہ بات چھوڑنا چاہئے اور وہ واضح طور پر اس طرح ہو سکتا کہ بہرحال جو نبی کو مانتا ہے وہ مسلمان نہیں۔ بہرحال نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اس کے دعوے نادانستہ کوئی ان کو مانتا ہے کسی منصب پر تو وہ بھی مسلمان

اس کے بعد جناب! یہ سردار شوکت Intrepreation (تعبیر) شامل کی جائے

at does not subscribe to and ess of Almighty, the Books of he last of them, Prophethood pon him) as the last of the be no Prophet after him, the quirements and teachings of . shall be considered to fall shall be considered to be a ity."

(”ہر وہ شخص یا گروہ جو اللہ تعالیٰ آخری الہامی کتاب، حضرت محمد ﷺ کی نبوت نبی نہیں آ سکتا، قیامت کے دن قرآن مجید ا ایمان نہیں رکھتے۔ دائرہ اسلام سے خارج اور آ تو دائرہ اسلام سے خارج ہے تو ا

بات وہی ہے جو حلف میں آئی ہے۔ لیکن پھر ک جماعت والا ذکر کیا ہے۔ وہ تو بہرحال اس میں

صفحہ 2666

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہے جو مندرجہ ذیل لازمی اجزاء اور عقائد پر مشتمل ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور توحید، اللہ کی کتابوں پر ایمان، قرآن پاک پر بطور آخری الہامی کتاب کے ایمان، حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور ان کے آخری نبی ہونے پر ایمان اور اس پر ایمان کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ قیامت کے دن پر ایمان اور قرآن پاک اور سنت کی تعلیمات و ضروریات پر ایمان۔‘‘)

یہ دوسرا اس کا حصہ ہے:

"Definition of the word 'Muslim' should be included in Article 260. This definition should be in terms contained in the relevant part of the oath of office in respect of the President and the Prime Minister."

(’’آرٹیکل ۲۶۰ میں لفظ ’مسلمان‘ کی تعریف شامل کی جانی چاہئے۔ یہ تعریف صدر اور وزیراعظم کے عہدوں کے حلف کے متعلقہ حصوں کے مطابق ہونی چاہئے۔‘‘)

2661 آرٹیکل نمبر ۲۶۰ ہے، اس میں عام Definitions (تعریفات) ہیں۔ یہ میں نے اس میں لکھا ہے۔ لیکن میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ میں سوچتا رہا ہوں۔ اس میں وہ ذکر نہیں ہے جو میں کہہ چکا ہوں۔ لیکن یہ آخر ساری کارروائی ہوتی رہی۔ اس سے بھی ہم نے استفادہ کرنا تھا تو اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ ناکافی ہے اور وہ چیز لازماً اس میں نہیں آتی تو کسی اور قانون میں کسی اور شکل میں، لیکن وہ آجانی چاہئے لازماً۔ تاکہ معاملہ کی وضاحت ہو جائے جو میں نے تجویز کیا ہے۔ اس سے وضاحت نہیں ہوتی۔ اس طرح دوسری چیز ہے امینڈمنٹ آف جنرل کلاز ایکٹ تو اس میں بھی یہ ہے کہ لفظ ’اسلام‘ اور ’مسلم‘ کے متعلق جنرل کلاز ایکٹ میں لکھ دیا جائے کہ:

In the General Clauses Act, wherever these words are used, they should have the meaning as written in this Article of the Constitution.

(جنرل کلاز ایکٹ میں، جب یہ الفاظ استعمال کئے جائیں تو ان کا مفہوم وہ ہوگا جو آئین کے اس آرٹیکل میں تحریر ہے)

’’مسلمان‘‘ کا لفظ بھی آیا ہے۔ اس وقت میرے ذہن میں یہ بات نہیں۔ میرے خیال میں Muslim Waqf Validating Act (مسلم وقف ویلیڈیٹنگ ایکٹ) میں ۔ اس طرح کے بہر حال الفاظ ہیں۔ اب میں آتا ہوں میرے نزدیک جس کو بنیادی حیثیت

۳۸

صفحہ ۳۹

سرگزشت

2667 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

حاصل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ تجویز آپ منظور کر لیں تو شاید بہت سی اور تجویزیں غیر ضروری ہو جائیں۔ بہرحال ان کی اہمیت بہت کم رہ جائے اور وہ ہے، میں پڑھ کر سنا دیتا ہوں، وہ تیسری تجویز ہے:

"The Property and assets of these organizations, that is, the Rabwa and the Lahori group- the two sects- should be taken over by the Auqaf Department. If it is necessary for this purpose, the enactment dealing with the subject can be amended or new legislative measure can be taken. It is further proposed that this trust should be managed by a serving or a retired judge of the Supreme Court, who should be assisted by the Advisory Committee in which both the groups of the 2662 Ahmedia community should be given representation."

(”اوقاف کو ان تنظیموں یعنی ربوہ اور لاہوری گروپ، دونوں گروہوں کی جائیداد اور اثاثہ جات کو اپنی تحویل میں لے لینا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ قانون میں ترمیم کی جائے یا نئے قانونی اقدامات کئے جائیں۔ مزید برآں یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ اس ٹرسٹ کا انتظام سپریم کورٹ کے ایک حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج چلائیں اور ایک مشاورتی کمیٹی جس میں احمدیہ کمیونٹی کے دونوں گروہوں کی نمائندگی ہو، اس جج کی معاونت کرے۔“)

(قادیانی قیادت کے ہاتھوں قادیانی عوام کا استحصال)

تو اس میں جناب! ایسی بات ہے، میں عرض کرتا ہوں کہ اگر ان کا موقف مانا جائے، احمدیوں کا موقف، کیا کہتے ہیں کہ مقصد کیا ہے۔ مقصد کہتے ہیں اسلام کی تبلیغ، اب ہماری یہ اسلامی مملکت ہے۔ یعنی ان کا موقف اگر مان بھی لیا جائے، اسلامی مملکت ہے، تبلیغ کا جو فریضہ ہے یہ بھی مملکت اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔ بہت سے مذہبی امور مملکت نے اپنے اختیار میں لے لئے ہیں۔ بہت بڑا ادارہ ہے۔ کئی بڑے بڑے وقف جو پراپرٹی کے ہیں۔ وہ گورنمنٹ نے اپنی تحویل میں لے لئے ہیں۔ تو یہ کیوں کیا ہے اور ان سے یہ بہت تھوڑے مقاصد حاصل ہوئے ہیں مقابلتاً۔ یہ ایک بہت بڑا مقصد جو اس وقت پیش نظر ہے وہ تو یہ ہے کہ چلئے، اس کا انتظام پہلے

BLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہے جو مندرجہ ذیل لازمی اجزاء اور عقائد پر مشتمل کتابوں پر ایمان، قرآن پاک پر بطور آخری الہا اور ان کے آخری نبی ہونے پر ایمان اور اس پر ایما کے دن پر ایمان اور قرآن پاک اور سنت کی تعلیما یہ دوسرا اس کا حصہ ہے:

rd 'Muslim' should be included should be in terms contained ath of office in respect of the ster."

(”آرٹیکل ۲۶۰ میں لفظ ’مسلمان‘ کو ش اور وزیر اعظم کے عہدوں کے حلف کے متعلقہ حصہ 2661 آرٹیکل نمبر ۲۶۰ ہے، اس میں و میں نے اس میں لکھا ہے۔ لیکن میں یہ گزارش کر ہے جو میں کہہ چکا ہوں۔ لیکن یہ آخر ساری کارر تھا تو اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ ناکافی ہے اور وہ چیز اور شکل میں، لیکن وہ آجانی چاہئے لازماً۔ تاکہ ا ہے۔ اس سے وضاحت نہیں ہوتی۔ اس طرح ک اس میں بھی یہ ہے کہ لفظ ’اسلام‘ اور ’مسلم‘ کے م

es Act, wherever these words e meaning as written in this

(جنرل کلاز ایکٹ میں، جب یہ ال آئین کے اس آرٹیکل میں تحریر ہے) ”مسلمان“ کا لفظ بھی آیا ہے۔ ا خیال میں Waqf Validating Act ہیں۔ اس طرح کے بہرحال الفاظ ہیں۔ اب

صفحہ 2668

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

سے بہت ہو گیا وقف کا۔ لیکن یہاں جو ٹرسٹ ہیں ان ٹرسٹوں کی بنیاد پر تو ایک ایسی تنظیم قائم ہے جس کے متعلق پاکستان کے عوام کا خیال یہ ہے کہ ان لوگوں کا ہے اور اس میں اس کے شواہد بھی ہیں اس کی تائید میں کہ وہ خطرناک تنظیم ہے۔ یہاں کسی کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا رہا ہے۔ یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ کوئی شخص احمدی نہ ہو سکے یا احمدی نہ کہلوائے یا مرزا غلام احمد کو جو چاہتا ہے مان لے لیکن ہم ذکر کر رہے ہیں ایک تنظیم کا، اور اس تنظیم کے اثاثے ہیں، اس کی پراپرٹی ہے۔ اس کی قیادت قائم ہے اور جناب میں یہ عرض کروں کہ آپ کو ہمیشہ ملحوظ رکھنی چاہئے یہ بات، عام احمدی کا معاملہ، اور جس کو کہتے ہیں وہ خاندان نبوت، اور اس کی قیادت، وہ معاملہ اور ہے۔ وہ استعمال کر رہے ہیں۔ جس کو کہتے ہیں عام احمدی، عوام کا، ان کو گمراہ کر کے اپنی تنظیم کے شکنجے میں پھنسا کر اور سارا پیسہ جو ہے وہ بیشتر جو ہے وہ اپنے پر خرچ کر رہے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ انہیں باہر ملکوں پر خرچ کرنا ہوتا ہے تا کہ وہ رپورٹ وغیرہ پیش کر سکیں۔ لوگوں کے سامنے اور چندہ لیں۔ تو تجویز اس میں ہے۔ اس میں کسی کے ساتھ ظلم نہیں، کیونکہ یہ امور وقف کے متعلق بھی ہو چکی 2663 ہے ۔ ہم اس پر عمل کر چکے ہیں۔ مسلمانوں کے وقف بھی اور غیر مسلم بھی اور بالفرض اگر کوئی قانون موجود نہیں ہے تو قانون تو بن سکتا ہے۔ خاص اس کے لئے بن سکتا ہے۔ ایک ایک نہر کے لئے اور اس کے لئے قانون بنے۔ ایک ایک ادارے کے لئے انگلینڈ میں بھی ایسے قانون بنے ہیں جو ایک خاص ادارے کے لئے ہیں اور یہاں بہت بڑا ملک کا مفاد جو ہے اس سے وابستہ ہے۔ لیکن یہ عرض کرتا ہوں، اگر آپ یہ کر دیں تو پھر بہت سے اور آپ کو خدشات ہیں کہ وفاداری اعلیٰ ملازمین کی جو ہیں وہ مخدوش ہے۔ وہ کیوں مخدوش ہے۔ اس لئے وہ مخدوش ہے کہ وہ اعلیٰ افسر ایک طرف تو اسٹیٹ کے ساتھ اس کی وفاداری ہے اور جو عہدہ اس کے سپرد ہے اس کے ساتھ وفاداری ہے۔ اس کے فرائض ہیں اور دوسری طرف خلیفہ سے اس کو ایسی عقیدت اور وہ تعلق ہے کہ مملکت کا کوئی راز بھی جو ہے وہ اس سے خفیہ نہیں رہ سکتا۔ اس بنیاد پر وہ دوسرے کی ناجائز رعایت کرتا ہے، اپنے فرقے کے لوگوں کی، یا اپنے مذہب کے ماننے والے لوگوں کی۔ جو مخالف ہیں ان سے ناجائز سلوک کرتا ہے۔ ساری چیز کی بنیاد جو ہے وہ وہاں کی قیادت ہے۔ قیادت کیونکر چل رہی ہے۔ لوگوں کے چندے پر جس سے جائیداد بنی ہے۔ جائیداد کو ختم کیجئے تو قیادت ختم ہو جائے گی۔ اس میں کوئی خطرہ نہ کریں کہ لوگ باہر کے کیا کہیں گے، کیونکہ یہ تو ہم پہلے ہی کر چکے ہیں۔ باہر ملکوں میں ٹرسٹ گورنمنٹ Manage (سنبھالتی ہے) کرتی ہے۔ کئی ملک کر رہے ہیں، ہم خود کر رہے ہیں۔ میں اس کے متعلق عرض کروں گا کہ اس پر نہایت سنجیدگی سے غور کیا

۴۰

صفحہ ٢٦٦٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

جائے اور اگر اس پر عمل کیا جائے تو بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔

دوسری تجویز Foreign Influence (غیر ملکی دباؤ) کے متعلق ہے۔ Foreign Influence: "Appropriate legislative and executive measures should be taken so that the danger of foreign 2664 influence adversely affecting the interest of the State of Pakistan, arising out of the organization and membership of Ahmadia Missions in foreign countries, would be effectively safeguarded against."

(غیر ملکی دباؤ: ”بیرونی ممالک میں احمدیہ مشنز کی تنظیم اور ممبر شپ سے پیدا ہونے والی غیر ملکی مداخلت سے جو پاکستان کی ریاست کے مفادات پر منفی انداز میں اثر انداز ہو رہی ہے، مؤثر طریق پر نمٹنے کے لئے مناسب قانونی اور انتظامی اقدامات کئے جائیں۔“)

اس میں آسان ہو جائے گا۔ آپ نے ایک Recommendation (تجویز دینی ہے) کرنی ہے۔ اقدام کیا کئے جائیں، وہ پھر سوچا جاتا ہے۔ مثلاً ایک واضح بات ہے کہ ذکر آیا ہے اسرائیل کے متعلق۔ تو وہ ممنوع ہونا چاہئے جو وہاں پر پیسہ ہے وہ بالواسطہ طور پر ان ممالک میں نہیں پہنچنا چاہئے جو ہمارے خلاف ہے۔ ہندوستان میں جیسے قادیان میں جماعت ہے اور یہ ربوہ والی جماعت ہے۔ ان کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ اس میں پابندی ہونی چاہئے اور چھان بین کرنی چاہئے کہ کس کس جگہ روپیہ اکٹھا ہوتا ہے۔ پھر کہاں پہنچتا ہے۔ پھر کن کن ذرائع سے دوسرے ملکوں میں پہنچتا ہے، اور کن چیزوں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ میں نے ایک تجویز پیش کی ہے۔ اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔

دوسری ہے:

Provacative Literature: "Literature of the Ahmadia Movement which is of a provocative nature, or which is calculated to injure the basic religious beliefs and sentiments of Muslims or Christians should be proscribed the possession of such literature, its bringing into Pakistan and its circulation, whether it is an original writing or is

٤١

صفحہ ٢٦٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

quoted in any other published matter, should be made an offence.

To avoid chances of any unjust or unreasonable action, it is proposed that an appeal to the Supreme Court should be provided against any order of the Government made in this behalf."

(اشتعال انگیز لٹریچر: ”احمدیہ تحریک کا ایسا لٹریچر ممنوع قرار دیا جائے جو اشتعال انگیز یا جو مسلمانوں یا عیسائیوں کے بنیادی مذہبی عقائد اور جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہو۔ ایسے لٹریچر کو رکھنا، اسے پاکستان لانا اور اسے پھیلانا خواہ یہ اصل تحریر میں ہو یا کسی اور شائع کردہ مواد میں اسے شامل کرنا، ان سب کو ایک جرم قرار دیا جائے۔

ناانصافی یا کسی غیر مناسب اقدام کے امکانات سے بچنے کے لئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ حکومت کے اس سلسلے میں کسی بھی حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق فراہم کیا جائے۔“)

(قادیانی تعلیمات اشتعال انگیز ہیں)

اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب! کے سامنے ممبران نے سن لیا ہے۔ کس قسم کی چیزیں ہیں وہاں۔ یعنی مخالفین کے متعلق ولد الحرام اور کنجریوں کی اولاد وغیرہ۔ پھر یہاں یہ بات بھی دلچسپی کی ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا۔ انہوں نے جواب میں 2665 وضاحت کی کہ یہ عیسائیوں کے متعلق ہے۔ یہ بڑا اچھا وصف ہے مدعی نبوت کے لئے کہ وہ گالیاں دیں عیسائیوں کو۔ لیکن ہمارے ہاں مصیبت یہ ہے کہ بہت سے مسلمان خوش ہوجاتے تھے کہ عیسائیوں کو مرزا صاحب گالیاں دے رہے ہیں۔ وہ گالیاں بہت دیتے تھے عیسائیوں کو بھی۔ یہ مسلمانوں کی بات ہے۔ اس طرح کا لٹریچر جو ہے تو خیر تجویز یہ ہے۔

اور دوسری چیز جناب ہے کہ بعض الفاظ ایسے ہیں جن کو مسلمان پسند نہیں کرتے کہ وہ دوسرے لوگوں کے متعلق استعمال کئے جائیں۔ مثلاً صحابہ، وہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری صحابہ سے کیا مراد ہے۔ ام المومنین، امہات المومنین، امیر المومنین۔ یہ الفاظ ہیں۔ یہ بہت دل آزاری کے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایسے کہتے ہیں اور بڑے بڑے نام ہو سکتے ہیں۔ لیکن کیوں ضروری ہے کہ اصطلاحی نام استعمال کئے جائیں جو تمام مسلمان اپنے بزرگوں کے لئے مخصوص سمجھتے ہیں۔ ہاں!

٤٢

صفحہ ٢٦٧١

سرگزشت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

اسی طرح امام حسین کے متعلق جو ہے میں نے اس میں سارا کچھ تجویز کیا ہے۔ یہی بات نہیں کہ یک طرفہ بات کی جائے۔ اس لئے میں نے تجویز کیا ہے۔ اگر کوئی اس اقدام کے خلاف ہو تو وہ اپیل کر سکتا ہے۔ اس میں دل آزاری کی بات نہیں ہے۔ کیوں کیا ہے زبردستی۔

میری چھٹی تجویز ہے جی سپیشل اوتھ۔ اس کا مفہوم یہ تھا کہ یہ جو ایک Loyality (وفاداری) میں آ سکتا ہے۔ Conflict (تضاد) جس کا میں نے ذکر کیا ہے، خاص خاص عہدوں کے متعلق ایسا حلف مقرر کیا جائے جو کہ آدمی لے کہ جس حد تک میرے عہدے کی ذمہ داری ہے۔ اس کے متعلق میرا کسی فرقے سے تعلق ہے، کسی Cast (ذات) سے، تو میں وہ نظر انداز کروں گا۔

Special Oath: "I do solemnly swear that I will bear true faith and allegiance to Pakistan and that, in the discharge of my duties as a public servant, I will keep the interest...."

(خصوصی حلف: ”میں سچے دل سے قسم اٹھاتا ہوں کہ میں پاکستان سے مخلص اور وفادار ہوں گا اور ایک پبلک سرونٹ کے طور پر اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے میں...“)

2666 جناب عبد العزیز بھٹی: پوائنٹ آف آرڈر، جناب! میری گزارش یہ تھی کہ سپیشل کمیٹی کی پروسیڈنگز سیکرٹ ہیں۔ سپیچز (Speaches) جو ہیں ان کے لئے یہ تھا کہ یہ باہر اناؤنس نہیں ہوں گی۔ لیکن باہر ہاؤس میں ساری سپیچز (Speaches) سنی جا رہی ہیں۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: وہ سینٹ کی سنی جا رہی ہیں، یہاں کی نہیں ہو رہی ہیں، وہ سینٹ کی ہیں۔

ملک محمد جعفر: میں نے یہ کہا تھا کہ یہ اوتھ جو ہے ہر کسی کے لئے ضروری نہیں ہے۔

Special Oath for public Servants: "The Federal Government and the Provincial Governments should be given authority, within their respective jurisdictions, to prescribe a special oath for persons in the service of Pakistan holding specified posts, which are considered by the Government concerned to be of a very high national

٤٣

SSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

lished matter, should be made an

es of any unjust or unreasonable t an appeal to the Supreme Court nst any order of the Government

(اشتعال انگیز لٹریچر: ”احمدیہ تحریک کا ایسا لٹریچر جو مسلمانوں یا عیسائیوں کے بنیادی مذہبی عقائد اور جذبات اسے پاکستان لانا اور اسے پھیلانا خواہ یہ اصل تحریر میں ہو کرنا، ان سب کو ایک جرم قرار دیا جائے۔ نا انصافی یا کسی غیر مناسب اقدام کے امکانات کہ حکومت کے اس سلسلے میں کسی بھی حکم کے خلاف سپریم کـ

( قادیانی تعلیمات اشتعـ

اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب! یہ چیزیں ہیں وہاں۔ یعنی مخالفین کے متعلق ولد الحرام اور بھی دلچسپی کی ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے سوال کیا کہ یہ عیسائیوں کے متعلق ہے۔ یہ بڑا اچھا وصف بـ عیسائیوں کو۔ لیکن ہمارے ہاں مصیبت یہ ہے کہ بہت ـ کو مرزا صاحب گالیاں دے رہے ہیں۔ وہ گالیاں ہم کی بات ہے۔ اس طرح کا لٹریچر جو ہے تو خیر تجویز یہ ہـ اور دوسری چیز جناب ہے کہ بعض الفاظ اـ دوسرے لوگوں کے متعلق استعمال کئے جائیں۔ مثلاً ام مراد ہے۔ ام المومنین، امہات المومنین، امیر المومنین ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایسے کہتے ہیں اور بڑے بڑے اصطلاحی نام استعمال کئے جائیں جو تمام مسلمان اپنـ

٤٢

صفحہ ٢٦٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

importance."

(پبلک سرونٹس کے لئے خصوصی حلف: ”وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ان لوگوں کے لئے ایک خصوصی حلف وضع کر سکیں جو پاکستان کی سروس میں ایسے خاص عہدوں پر فائز ہیں جو حکومت کے نزدیک بہت زیادہ قومی اہمیت کے حامل ہوں۔“)

تو یہ اوتھ میں نے اس میں لکھی تھی:

"I do solemnly swear that I will bear true faith and allegiance to Pakistan and that, in the discharge of my duties as a public servant, I will keep the interest of the State of Pakistan above all considerations arising out of, or connected with, my being a member of any communal, sectarian or spiritual group, organization or cult whatsoever."

(”میں سچے دل سے قسم اٹھاتا ہوں کہ میں پاکستان سے مخلص اور وفادار رہوں گا اور ایک پبلک سرونٹ کے طور پر اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے میں پاکستان کی ریاست کے مفاد کو ان تمام مفادات پر مقدم رکھوں گا جو میرے کسی مذہبی، فرقہ وارانہ یا روحانی گروہ، تنظیم یا مسلک وغیرہ میں شمولیت کا نتیجہ ہوں یا اس سے منسلک ہوں۔“)

میرا خیال ہے اس میں تو کسی پبلک سرونٹ کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے، اس طرح کا حلف کرنے کے لئے۔

میری آخری تجویز تبلیغ کے متعلق ہے۔ میں سمجھتا ہوں جناب! کہ یہ بہت بڑی کوتاہی ہے ہمارے علماء کی۔ ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے اور اس کمزوری کو ماننا چاہئے۔ یعنی جس کو ہم کہتے ہیں ختم نبوت، یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے عقیدۂ اسلام میں۔ تو یہ کیونکر ہوا۔ ایک اسلامی معاشرہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور دعویٰ میں اتنا تضاد، اور اپنے باقی کاروبار بھی، عورتوں کے متعلق بھی، سب چیزوں میں اتنی خرابیاں اور الہام جو ہیں بالکل بے معنی اور بے ربط ہیں۔ ان ساری چیزوں کے باوجود اسلامی معاشرے میں پڑھے لکھے لوگ، عالم، سیدوں کے خاندان کے، مولوی نور الدین جیسے لوگ، اور مولوی محمد علی، یہ لوگ کیوں اس جماعت

٤٤

صفحہ ٢٦٧٣

MBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

(پبلک سرونٹس کے لئے خصوصی حلف: اپنے دائرہ کار میں یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ان لوگوں پاکستان کی سروس میں ایسے خاص عہدوں پر فائز ہیں، کے حامل ہیں۔“)

تو یہ اوتھ میں نے اس میں لکھی تھی:

ar that I will bear true faith and d that, in the discharge of my will keep the interest of the State siderations arising out of, or a member of any communal, roup, organization or cult

(”میں سچے دل سے قسم اٹھاتا ہوں کہ م ایک پبلک سرونٹ کے طور پر اپنے فرائض ادا کرتے تمام مفادات پر مقدم رکھوں گا جو میرے کسی مذہبی، فر میں شمولیت کا نتیجہ ہوں یا اس سے منسلک ہوں۔“)

میرا خیال ہے اس میں تو کسی پبلک سرو حلف کرنے کے لئے۔

میری آخری تجویز تبلیغ کے متعلق ہے۔ ہے ہمارے علماء کی۔ ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کر جس کو ہم کہتے ہیں ختم نبوت، یہ ایک بنیادی حیثیت ایک اسلامی معاشرہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کاروبار بھی ، عورتوں کے متعلق بھی ، سب چیزوں میں اور بے ربط ہیں۔ ان ساری چیزوں کے باوجود اس سیدوں کے خاندان کے ، مولوی نور الدین جیسے لوگ

٤٤

2673 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

میں شامل ہو گئے۔ اگر ہمارے علماء جن کے متعلق قرآن کریم میں یہ حکم ہے مسلمانوں کو، کہ تم میں سے اگر گروہ ایسا ہونا چاہئے ”ولتكن منكم امة يدعون الى الخير “ یہ علماء کے متعلق ہے۔ ..... جو لوگوں کو ہدایت کی راہ دکھائے پھر علماء کے متعلق حدیث یہاں بیان ہوئی ہے ۔”علماء امتی كانبیاء بنی اسرائیل“

میری امت کے علماء جو ہیں بنی اسرائیل کے انبیاء کے برابر ان کا مقام ہے۔ اتنا بڑا مقام ۔ ایک غلط مدعی نبوت اسلامی معاشرہ میں پیدا ہوا اور اس کی جماعت ترقی کرتی جائے اور اس حد تک ترقی کر جائے۔ یہ تبلیغ کا فریضہ ہمارے علماء اور باقی لوگوں کو بھی ادا کرنا چاہئے۔ لیکن ہم نے ادا نہیں کیا۔ ہم نے جب دیکھا کہ وہ بہت بڑے منظم ہو گئے ہیں، طاقتور ہو گئے ہیں، خاصی جمعیت ہو گئی ہے تو یہ شروع ہو گئی تحریک ۔ لیکن ساتھ تبلیغ ہونی چاہئے۔ کیونکہ یہ ہمارے معاشرے میں سے گمراہ ہو گئے۔ یہ خود بھی نہیں ہوئے بیچارے۔ بیشتر ایسے ہیں، میرے خیال میں ایک فیصد بھی نہ رہے ہیں۔ جو اس وقت شامل ہوئے تھے۔ اب ان کے بیٹے پوتے وغیرہ ہیں۔ ان کو تو پتہ بھی نہیں ہے۔ ہم اگر تبلیغ کا کام کریں صحیح طریقے پر تو کوئی وجہ نہیں، کیونکہ ہمارے پاس حق ہے اور اس طرف باطل ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ حق باطل پر غالب نہ آجائے۔

Tabligh: "Government should set up an organization whose duty it should be to propagate the basic articles of the faith of Islam, particularly the concept of Finality of Prophethood."

(تبلیغ : ”حکومت کو چاہئے کہ ایک ایسا ادارہ قائم کرے جس کے ذمہ اسلام کے بنیادی عقائد اور خصوصاً عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ واشاعت ہو۔“)

2668 آخر میں پڑھ دیتا ہوں ۔ اس کا جناب! میں نے یہ لکھا ہے۔ اب میں صرف پیرا گراف پڑھ دیتا ہوں ۔ کیونکہ میں نے اس ضمن میں وضاحت کی ہے:

"Recommendation No.7 is based on a hope that if the propagation of the basic principles of Islamic creed particularly the concept of Finality of Prophethood is taken seriously in hand by those competent to do so, the heresy involved in the Ahmadia Movement, whether it be of the

٤٥

صفحہ ٢٦٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

Rabwah or Lahori pattern, whould be abandoned by a fairly large number of Ahmadis, provided the mission is carried on in a rational and scientific manner and with sympathy and compassion rather that ill- will."

(” تجویز نمبر ٧ اس امید کی بنا پر دی جارہی ہے کہ اگر اسلام کے بنیادی عقائد اور خصوصاً عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ کے کام کو وہ لوگ سنجیدگی سے لیں۔ جن میں اس کام کو کرنے کی اہلیت ہے تو احمدی حضرات کی کثیر تعداد تحریک احمدیہ خواہ وہ ربوہ گروپ سے ہوں یا لاہوری گروپ سے، کفریہ عقائد کو چھوڑ دیں گے۔ بشرطیکہ تبلیغ کا یہ کام معقول اور سائنسی انداز سے کیا جائے اور بغض کی جگہ ہمدردی اور رحمدلی ہو ۔“)

تو میں جناب! سمجھتا ہوں کہ بہت بڑا موقعہ ہے آپ کے لئے ۔ یہ پراپرٹی کی میں نے تجویز کی ہے۔ تبلیغ کی بھی۔ یہ سب کچھ میں نے کیا ہے۔ وہ لوگ اس وقت ایک غلامی میں ہیں، ذہنی اور روحانی غلامی میں، جو مرید ہیں ان دونوں جماعتوں کے سب، تو آپ ایک بہت بڑا کام کریں گے تاریخ میں۔ یہ ایک تحریک چلی ہے تو یہ علیحدہ بات ہے۔ اگر آپ ان لوگوں کو نجات دلائیں گے اس استحصالی نظام سے، جو روحانیت اور مذہب کی بنیاد پر استحصالی نظام قائم کیا ہوا ہے ربوہ والوں نے ، اور ان سے پھر بھی کچھ کم، لیکن ہے پھر بھی استحصالی، لاہوری والوں نے۔ جناب! شکریہ، یہ میری معروضات ہیں۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: ڈاکٹر غلام حسین !

(جناب ڈاکٹر غلام حسین کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

ڈاکٹر غلام حسین: جناب چیئرمین صاحبہ! قادیانی مسئلے کے متعلق بہت کچھ کہا جا چکا ہے اور ہمارے سامنے بیشمار حقائق اور مواد ہے جس کی روشنی میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حقیقت حال کیا ہے۔ جناب والا ! ہم مسلمانوں کو جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کا ورثہ اور اسلام کی دولت ملی ہے وہ رسول پاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعہ ملی ہے 2669 اور قرآن پاک نے خود فرمایا ہے کہ وہ نبی آخر الزمان ﷺ ہیں۔ ان پر دین مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد نبی کا لفظ تاویلوں میں بات کو الجھا کر ایک سیاسی جماعت نے، ایک تخریبی جماعت نے، انگریزوں کی ایک ایجنٹ جماعت نے اس کو کئی کئی معنی پہنائے ہیں۔ نبی کا مطلب جو پاکستان میں ہم سمجھتے ہیں اور

٤٦

صفحہ ٢٦٧٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

n, whould be abandoned by a fairly is, provided the mission is carried entific manner and with sympathy hat ill- will."

("تجویز نمبر ٧ اس امید کی بنا پر دی جا رہی خصوصاً عقیدہ ختم نبوت کی تبلیغ کے کام کو وہ لوگ سنجیدگی اہلیت ہے تو احمدی حضرات کی کثیر تعداد تحریک احمدیہ ک گروپ سے، کفریہ عقائد کو چھوڑ دیں گے۔ بشرط کہ تبلیغ جائے اور بغض کی جگہ ہمدردی اور رحمدلی ہو۔")

تو میں جناب! سمجھتا ہوں کہ بہت بڑا موقعہ تجویز کی ہے۔ تبلیغ کی بھی۔ یہ سب کچھ میں نے کیا ہے ذہنی اور روحانی غلامی میں، جو مرید ہیں ان دونوں جماع کریں گے تاریخ میں۔ یہ ایک تحریک چلی ہے تو یہ علیحد دلائیں گے اس استحصالی نظام سے، جو روحانیت اور مذہ ربوہ والوں نے، اور ان سے پھر بھی کچھ کم، لیکن ہے پھر شکریہ، یہ میری معروضات ہیں۔

محترمہ قائمقام چیئرمین: ڈاکٹر غلام حسین

(جناب ڈاکٹر غلام حسین کا قومی اسمبلی

ڈاکٹر غلام حسین: جناب چیئرمین صاحبہ ہے اور ہمارے سامنے بیشمار حقائق اور مواد ہے جس کی کیا ہے۔ جناب والا! ہم مسلمانوں کو جو کچھ اللہ تعالیٰ دولت ملی ہے وہ رسول پاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے فرمایا ہے کہ وہ نبی آخر الزمان ﷺ ہیں۔ ان پر دین تاویلوں میں بات کو الجھا کر ایک سیاسی جماعت نے، ا ایجنٹ جماعت نے اس کو کئی کئی معنی پہنائے ہیں۔ نبی

٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہماری نسلیں سمجھتی آئی ہیں وہ پیغمبر اور رسول خدا کے معنی ہیں۔ جس طرح ہم نماز کو عربی کے لفظ صلوٰۃ کے معنوں میں لیتے ہیں۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم مسجد میں صلوٰۃ کے لئے جارہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھنے کے لئے جارہے ہیں۔ نماز کا لفظی مطلب پرستش ہے۔ پرستش آگ کی بھی ہوتی ہے۔ ہم آگ کی پرستش کرنے نہیں جاتے۔ جو رائج الوقت اصطلاح ہے اس کے معنی عام لوگ تسلیم کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد ایک جگہ نہیں ہزاروں جگہ لکھتے ہیں۔ ان کے معتقدین جو یہاں تشریف لائے تھے انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ اپنے آپ کو نبی کہتے تھے۔ یہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ نبی تھے۔ ایک Parallel (متوازی) نبوت یا Parallel Prophethood (متوازی نبوت) جو نبی اس کا تسلیم کر لینا ہے ہمارے لئے کافی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ دوسری بات یہ ہے کہ وہ ذات جس نے پاکستان بنایا وہ قائد اعظم کی ذات گرامی تھی۔ قائد اعظم کو بھی مسلمان نہ سمجھنا اور باقی اکثریت کو بھی مسلمان نہ سمجھنا اور انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا، ڈھٹائی سے اپنے غلام احمد کو نبی ماننا اور قائد اعظم کے جنازہ میں نہ شرکت کرنا، یہاں تک کہ غائبانہ نماز جنازہ تک بھی نہ پڑھنا اور جہاد کو حرام قرار دینا، اس سے بڑی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ وہ نہ پاکستان کے حامی ہیں اور نہ اسلام کے حامی ہیں۔

2670 اس کے علاوہ، آپ جانتی ہیں کہ ڈاکٹر اقبالؒ نے ہمیں پاکستان کا تصور دیا تھا۔ انہوں نے شروع شروع میں تو ان کی باتوں میں آکر ان کی کچھ تعریف کی۔ لیکن جب حقیقت حال ان کو پتہ چلی تو انہوں نے واضح طور پر ان کی مخالفت کی اور Declare (اعلان) کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ یہی مطالبہ کیا جو آج یہاں دہرایا جارہا ہے۔ اس اسمبلی کے باہر ساری قوم یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ ان کو اقلیت قرار دیا جائے۔ ایک تو ان کی جھوٹی نبوت اور دوسرے ہماری اس قوم کے باپ کے خلاف ان کی باتیں اور اس شخص کے بارے میں یہ باتیں جس نے پاکستان کا تصور دیا، ایک گائیڈ لائن دی، یہ قابل افسوس اور سخت مذمت کے قابل ہیں۔ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کافر و مرتد ہے اور اسلام کے دائرہ سے خارج ہے۔

اس کے علاوہ مکہ مکرمہ کو لیجئے! وہ چودہ سو سال سے ہمارا مرکز اور سنٹر ہے۔ وہاں کے بادشاہ شاہ فیصل نے سعودی عرب شریف میں ان کی Entry (داخلہ) بالکل Ban (بند) کردی ہے۔ عالم اسلام نے اپنے Forum (فورم) سے ان کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔ جب انہوں نے Declare (اعلان) کر دیا ہے تو پھر ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ مرزا غلام احمد کا رول وہی

٤٧

صفحہ ٤٨

2676 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہے ”جو لارنس آف عریبیہ“ کا رول تھا۔ اس نے وہاں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر انگریزوں کی ایجنٹی کی تھی اور اب وہی رول یہ ادا کر رہے ہیں۔

باقی جہاں تک ان کے منظم ہونے کا سوال ہے تو یہ سیاسی اور کاروباری لوگ بڑے منظم ہوا کرتے ہیں۔ اسرائیل کو بھی ایک منظم قوم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور جتنی غیر مسلم اقوام ہیں ان میں سے بیشتر منظم ہیں۔ حالانکہ ان کی اپروچ مذہب کے متعلق غلط ہے۔ جیسا کہ ملک جعفر صاحب نے فرمایا ہے کہ تنظیم کی کمی اور علماء کرام میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے سائنٹفک اپروچ اور Objective Conditions (معروضی حالات) کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اور آپس کے جھگڑوں اور لڑائیوں کی وجہ سے عالم اسلام کا اتحاد کمزور پڑ گیا ہے۔ اس سے ہمیں بہت نقصان ہوا ہے۔

(قادیانی سربراہ کا جھوٹ)

2671 جناب والا! یہاں مرزا ناصر احمد تشریف لائے۔ میں دینی معاملات کا ماہر نہیں، میں سیدھا سادہ مسلمان ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک شخص ہمارے سامنے، ان ممبر صاحبان کے سامنے جو ساری قوم سے ایلیکٹ ہو کر یہاں آئے ہیں، ان کا حافظہ اتنا کمزور نہیں کہ تین، چار سال پہلے کی بات بھول جائیں۔ ان سے جب سوال ہوا تھا کہ کیا آپ سیاست میں حصہ لیتے ہیں، کیا آپ سیاسی جماعت ہیں، تو انہوں نے بڑے Confidence (اعتماد) سے فرمایا تھا کہ نہ ہم نے کبھی پہلے سیاست میں حصہ لیا نہ اب لے رہے ہیں اور کبھی نہیں لیں گے۔ میں خود کہہ سکتا ہوں اور میرے بھائی اس بات کو تسلیم کریں گے کہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو پوری طرح سپورٹ کیا ہے۔ ان کے افراد نے ہر طریقہ سے ان کی پوری مدد کی۔ ان کے ہیڈ کوارٹر اور ان کے خلیفہ کی طرف سے ہدایات تھیں کہ ان کی بھر پور حمایت کی جائے۔ واضح طور پر انہوں نے ہمارا ساتھ دیا تھا۔

--------------------

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

(اس موقع پر ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت کو چھوڑا جو جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے سنبھال لی)

--------------------

صفحہ ٢٦٧٧

2677 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ڈاکٹر غلام حسین: ان کا سیاسی مکتبہ فکر کچھ بھی سہی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔ انہوں نے یہاں ممبر صاحبان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔

(تعداد کے بارہ میں مرزا ناصر کا جھوٹ)

ان کی تعداد کے بارے میں بار بار سوال کیا گیا کہ آپ کی پاکستان میں کتنی ہے تو انہوں نے بائیں بائیں شائیں میں جواب دینے کی کوشش کی۔ کبھی کہتے ہیں کہ ٣٠ لاکھ، کبھی کہتے ہیں ٣٥ لاکھ، کبھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ریکارڈ نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ان کے پاس ایک ایک فرد کا ریکارڈ موجود ہے۔ جو کوئی نیا شخص ان کے فرقے میں داخل ہوتا ہے وہ ابتدائی فارم کے ذریعہ اپنا شجرہ نسب اور تمام تفصیلات دیتا ہے۔ آپ یہ 2672 بھی جانتے ہیں کہ وہ ایک منظم جماعت ہے۔ ان کا ہر شخص اپنی آمدنی کا دس فیصد بیت المال ان کا جو So-Called (نام نہاد) بیت المال ہے، جو انہوں نے بزنس کا ذریعہ بنا رکھا ہے، جیسے مالیہ وصول کرتے ہیں اسی طرح یہ مالیہ وصول کرتے ہیں۔ ان کے پاس ریکارڈ کیسے نہ ہو۔ پھر یہ کیوں جھوٹ بولتے ہیں۔ تعداد بتانے میں حرج ہی کیا ہے؟

تیسری بات انہوں نے جو کہی ہے وہ میں ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے بتاؤں گا کہ بیماری اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسکتی ہے اور کسی شخص کو کوئی بیماری لگ سکتی ہے۔ اس میں بے عزتی کیا ہے؟ لیکن یہ کہنا کہ مرزا صاحب کو ہیضہ نہیں ہوا تھا اور یہ کہ ان کو Gastro- entritis ہوئی تھی۔ Acute Gastro- entritis ہیضے کا انگریزی ترجمہ ہے۔ ہیضے کا انگریزی ترجمہ کر کے جھوٹ بولنے کی کوئی تک نہیں ہے۔ جب ایک شخص ایک جھوٹ بول سکتا ہے تو اس کے ساتھ ہزاروں جھوٹ بھی بولے جاسکتے ہیں۔ چاولوں کی دیگ سے چند دانے ٹٹولے جاتے ہیں نہ کہ تمام دیگ۔ لہٰذا یہ لوگ نہایت خوبصورتی سے جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹے ہیں۔

Mr. Chairman: Thank you very much.

(ڈاکٹر غلام حسین: صرف ایک منٹ جناب والا!)

Mr. Chairman: Sir, we have been sitting for ten days and most of the....

ڈاکٹر غلام حسین: جناب والا! صرف ایک منٹ کے بعد ختم کردوں گا۔

٤٩

MBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہے ”جو لارنس آف عریبیہ“ کا رول تھا۔ اس نے وہاں کی تھی اور اب وہی رول یہ ادا کر رہے ہیں۔

باقی جہاں تک ان کے منظم ہونے کا سوال ہوا کرتے ہیں۔ اسرائیل کو بھی ایک منظم قوم سمجھا جاتا ان میں سے بیشتر منظم ہیں۔ حالانکہ ان کی اپروچ مذ صاحب نے فرمایا ہے کہ تنظیم کی کمی اور علماء کرام میں ا

Objective Conditions (معروضی حالات) لڑائیوں کی وجہ سے عالم اسلام کا اتحاد کمزور پڑ گیا ہے۔

(قادیانی سربراہ

2671 جناب والا! یہاں مرزا ناصر احمد تشری سیدھا سادہ مسلمان ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک شخص جو ساری قوم سے بائیکاٹ ہو کر یہاں آئے ہیں، ان ک بات بھول جائیں۔ ان سے جب سوال ہوا تھا کہ آ سیاسی جماعت ہیں، تو انہوں نے بڑے fidence پہلے سیاست میں حصہ لیا نہ اب لے رہے ہیں اور کبھی بھائی اس بات کو تسلیم کریں گے کہ انہوں نے پاکستا کے افراد نے ہر طریقہ سے ان کی پوری مدد کی۔ الی ہدایات تھیں کہ ان کی بھر پور حمایت کی جائے۔ واضح ہ

------------- Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi as occupied by Mr. Chairman

(اس موقع پر ڈاکٹر بیگم اشرف خاتو چیئر مین (صاحبزادہ فاروق علی) نے سنبھال لی) ------------- ٤٨

صفحہ ٢٦٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

جناب چیئرمین: میری بات تو سن لیں۔

I am not stopping you. We have been sitting for open debate for the last ten days and most of the honourable members present today were absent; and I have been requesting them that today we have got full opportunity, a member can speak for two hours or three hours. And 5th was fixed for Attorney- General. The time schedule has been announced also, and if today everybody wants to consume the maximum time, it cannot be allowed. I am sorry. You may speak and try to wind up.

(میں آپ کو روک نہیں رہا۔ ہم گزشتہ دس دنوں سے کھلی بحث کے لئے بیٹھتے رہے ہیں اور بہت سے معزز اراکین جو آج موجود ہیں گزشتہ دنوں میں غیر حاضر رہے ہیں اور میں ان سے گزارش کرتا رہا ہوں کہ آج ہمارے پاس پورا موقع ہے۔ آپ دو گھنٹے یا تین گھنٹے بھی بات کر سکتے ہیں اور پانچ تاریخ اٹارنی جنرل کے لئے متعین تھی۔ ٹائم شیڈول کا پہلے سے اعلان کیا جا چکا ہے اور اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ آج ہر شخص زیادہ ٹائم لینا چاہے۔ میں معذرت خواہ ہوں آپ بات کیجئے اور اسے جلد مکمل کرنے کی کوشش کیجئے)

2673 ڈاکٹر غلام حسین: میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے بولنے کے لئے وقت دیا۔ میری آخری گزارش یہ ہے کہ یہ دینی مسئلہ ہے۔ اگر اس کو صحیح معنوں میں حل کرنا ہے اور Once for all (ہمیشہ کے لئے) حل کرنا ہے تو جیسے ہماری تجویزیں آئی ہیں، ریزولیوشنز آئے ہیں، پہلے جس طرح سمٹ کانفرنس بلائی گئی تھی اسی طریقے سے ہمیں ساری دنیا کے علماء کرام کی ایک سمٹ کانفرنس بلانی چاہئے اور ان میں سے Fundamental Truths (بنیادی سچائیاں) نکال کر ایک واحد پلیٹ فارم بنا کر پھر آگے چلنا چاہئے اور جہاں تک ہو سکے آپس کے اختلافات ختم کرنے چاہیں اور یہ ہمارے اسلام کی اور اسلامی برادری کے اتحاد کی علامت اور ضمانت ہو گی۔

آخر میں میرا مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو نہ صرف غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ بلکہ بیرونی ملکوں میں ان کے پروپیگنڈے کو Counter (رد) کرنے کے لئے حکومتی سطح پر مشن

٥٠

صفحہ ٢٦٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

قائم کئے جائیں جو ”احمدیت“ کی بجائے صحیح اسلام کو متعارف کراسکیں۔ شکریہ!

Mr. Chairman: Dr. Mrs. Abbasi. Two minutes by watch. (جناب چیئرمین: ڈاکٹر بیگم عباسی، گھڑی دیکھ کر دو منٹ)

Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi: Mr. Chairman, Sir, I want to associate myself, on behalf of the lady members of this House, with this important issue under discussion in this Special Committee. The importance of the issue is evident because it is being discussed in this august Committee of the whole House. We just cannot overlook the complications of this issue because this has stood unsolved for ninety long years. But, Sir, after hearing the discussions and the speeches of the honourable members and the 'Mahzarnamas' that have been produced in this august Special Committee, and the cross- examination of two leaders of Ahmadi Jamaat, has crystalised and there is no doubt that these Ahmadis and Quadianis or whatever you call them are not amongst us. They are not one with us, the Muslims as we are, I want to emphasise that the women population of Pakistan are as much concerned about this issue as the male population of Pakisatan.

2674 We know, Sir, that the issue has crystalised and we are going to pass certain laws to solve this issue once for all. After this issue is solved, we will have to combat after- effects of the solution. Sir, I want to bring to the notice of the honourable members that when they solve this issue, they must also go in the public and let them understand the

٥١

Y OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

جناب چیئرمین: میری بات تو س

We have been sitting for open and most of the honourable e absent; and I have been have got full opportunity, a urs or three hours. And 5th d. The time schedule has been everybody wants to consume be allowed. I am sorry. You

(میں آپ کو روک نہیں رہا۔ ہم گز اور بہت سے معزز اراکین جو آج موجود ہیں ک گزارش کرتا رہا ہوں کہ آج ہمارے پاس پورا ہیں اور پانچ تاریخ اٹارنی جنرل کے لئے متعین اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ آج ہ آپ بات کیجئے اور اسے جلد مکمل کرنے کی کوش

2673 ڈاکٹر غلام حسین: میں آ وقت دیا۔ میری آخری گزارش یہ ہے کہ یہ دین Once for all (ہمیشہ کے لئے) حل کر آئے ہیں، پہلے جس طرح سمٹ کانفرنس بلائی کی ایک سمٹ کانفرنس بلائی چاہئے اور ان میں سچائیاں) نکال کر ایک واحد پلیٹ فارم بنا کر اختلافات ختم کرنے چاہیں اور یہ ہمارے ام ضمانت ہوگی۔

آخر میں میرا مطالبہ ہے کہ قادیا بیرونی ملکوں میں ان کے پروپیگنڈے کو c

صفحہ ٢٦٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

complications and what should be the solution of these complications because, after all, when you speak face to face and when you tell the people how they have to behave, they understand promptly. The modesty of the women is not molested. The other things, i.e. the international and national implications will be solved, Insha Allah, if we put our shoulder to it.

Thank you very much.

(ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

(ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی: جناب چیئرمین! میں اس ایوان کی خواتین ارکان کی طرف سے خصوصی کمیٹی میں زیر بحث اس مسئلے میں شرکت کرنا چاہوں گی۔ مسئلے کی اہمیت اس بات سے واضح ہے کہ یہ پورے ایوان کی اس معزز کمیٹی میں زیر بحث ہے۔ ہم اس مسئلے کی پیچیدگیوں کو صرف اس لئے نظر انداز نہیں کر سکتے کہ انہیں پچھلے ٩٠ سالوں سے حل نہیں کیا گیا۔ لیکن جناب معزز ارکان کی تقریروں اور بحثوں کو سننے اور اس معزز خصوصی کمیٹی میں پیش کردہ 'محضر ناموں' کو پڑھ کر اور احمدی جماعت کے دو لیڈروں پر بحث کو سن کر اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ یہ احمدی اور قادیانی یا آپ انہیں کچھ بھی کہیں، ہم میں سے نہیں ہیں۔ وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہیں۔ میں یہ بات زور دے کر کہنا چاہتی ہوں کہ پاکستان کی خواتین بھی اس مسئلے میں اسی طرح شریک ہیں جیسے پاکستان کے مرد۔

جناب والا! ہم جانتے ہیں کہ بات واضح ہو چکی ہے اور ہم ہمیشہ کے لئے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے چند قوانین منظور کرنے والے ہیں۔ جب یہ مسئلہ حل ہو جائے گا تو ہمیں اس حل کے نتیجے میں پیش آنے والی مشکلات سے بھی نمٹنا ہو گا۔ جناب! میں معزز اراکین کو توجہ دلانا چاہوں گی کہ اس مسئلے کے حل کے بعد وہ عوام کے پاس جائیں اور انہیں مسئلے کی پیچیدگیوں اور ان کے حل کے متعلق انہیں بتائیں۔ کیونکہ بہر حال جب آپ لوگوں کے سامنے بیٹھ کر ان سے بات کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ انہیں کیسا رویہ اختیار کرنا چاہئے تو وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں۔ لوگوں کے اس رویے میں خواتین کی شرافت کا لحاظ ہمیشہ رکھا جائے۔ دوسری باتیں مسائل جیسے

٥٢

صفحہ ٢٦٨١

2681 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

اس فیصلے کے قومی اور بین الاقوامی نتائج، انشاء اللہ تعالیٰ! جلد حل ہو جائیں گے۔ اگر ہم سب شانہ بشانہ چلیں۔ آپ کا بہت شکریہ!)

(چوہدری غلام رسول تارڑ کھڑے ہوئے)

جناب چیئرمین: آپ تقریر کل کرلیں۔ یہ کوئی بات نہیں ہے۔ ہم ١٥ دن آپ کا انتظار کرتے رہے۔

چوہدری غلام رسول تارڑ: میں نے اٹھ کر بھی کہا تھا، آپ کو یاد ہوگا۔ (پنجابی)

جناب چیئرمین: ڈیڑھ بجے ہم نے Wind up (ختم) کرنا ہے۔ The Attorney-General must speak today for one hour. Mr. (اٹارنی جنرل نے آج ایک گھنٹے کے لئے ضروری Ahmad Raza Khan Qasuri. بات کرنی ہے۔ جناب احمد رضا خان قصوری) جنہوں نے دستخط کئے ہیں ان کو تھوڑا ٹائم ملے گا۔

جناب احمد رضا خان قصوری: جناب چیئرمین !......

جناب چیئرمین: آپ کل نہیں بولیں گے؟ Mr. Randhawa is a (رندھاوا صاحب اس کے گواہ ہیں۔ احمد رضا خان صاحب میں witness to it, Mr. Ahmad Raza Khan, I requested you to نے ٢٠ مرتبہ آپ سے بولنے کی درخواست کی) رضا صاحب! آپ بھی کل بول لیں۔ speak twenty times.

جناب احمد رضا خان قصوری: میں جلدی ختم کر دوں گا۔

جناب چیئرمین: نہیں، آپ کل ہی بول لیں۔

2675 جناب احمد رضا خان قصوری: جیسے آپ مناسب سمجھیں۔

Mr. Chairman: Mr. Attorney-General.

(جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل صاحب!)

Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney-General of Pakistan): Do you want me to address now or after the break?

(جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل آف پاکستان): کیا آپ حضرات مجھے خطاب کے لئے ابھی یا وقفہ کے بعد کا آپ فرمائیں گے)

Mr. Chairman: We can break for ten minutes.

٥٣

صفحہ ٢٦٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

And those honourable members who want to speak tomorrow, they can get so many points from the speech of the Attorney- General, and if certain points are covered by the Attorney- General, those points need not be repeated. So, we will meet at 12:15 p.m sharp.

(جناب چیئرمین: ہم دس منٹ کا وقفہ کر سکتے ہیں اور وہ قابل احترام ممبر جو کل گفتگو کرنا پسند کریں گے ان کو اٹارنی جنرل صاحب کی گفتگو سے بہت سارے نکات مل جائیں گے اور جن طے شدہ نکات پر اٹارنی جنرل گفتگو مکمل کر لیں گے ان کو دہرانے کی ضرورت نہ ہوگی۔ چنانچہ ١٢ بج کر ١٥ منٹ شام کو ملیں گے)

----------

(The Special Committee adjourned for tea break to re-assemble at 12:15 pm.)

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے لئے ملتوی ہوا۔ سوا بارہ بجے دوبارہ ہوگا)

----------

[The Special Committee re-assembled after tea break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)

----------

Mr. Chairman: Yes Mr. Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی! جناب اٹارنی جنرل صاحب)

(جناب یحییٰ بختیار کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

Mr. Yahya Bakhtiar: Mr. Chairman, Sir, in the first place, I express my apology for absence from the House for about a week and, therefore, I was not in a position to

٥٤

صفحہ ٢٦٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

hear some of the speeches delivered by the honourable members. I understand that some very valid points were made and cogent reasons were given and many interesting points were brought out. I really do not know whether I would be repeating some of the speeches already delivered, but it was a call of duty which compelled me to go to Karachi.

Another thing, Sir, which I want to clarify and, I hope, the honourable members will appreciate, is my position as 2676 Attorney- General. I have limitations and short comings which, I hope, the honourable members will appreciate. First of all, in this subject, my shortcomings were obvious as for the language was concerned or the languages were concerned and the subject matter itself. But I did my best according to the instructions of this House and I am grateful to the honourable members for the confidence that they have reposed in me and for the cooperation that they have extended.

Sir, I did my best, to the best of my ability. I did my duty in accordance with the wishes of the honourable members, and I think that the questions which were supplied to me were properly formulated by me.

Secondly, Sir, as far as the evidence is concerned, it will be my duty to bring it to the attention of the House as to what has come on record and to sum it up. But, as Attorney- General, I am not a member of the House and I cannot give

٥٥

سرگزشت

BLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

embers who want to speak any points from the speech of f certain points are covered by points need not be repeated. So, rp.

(جناب چیئرمین: ہم دس منٹ کا وق کرنا پسند کریں گے ان کو اٹارنی جنرل صاحب کی تق جن طے شدہ نکات پر اٹارنی جنرل گفتگو مکمل کر لیں ١٢ بج کر ١٥ منٹ شام کو ملیں گے)

tee adjourned for tea break to

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ

ittee re-assembled after tea ada Farooq Ali) in the Chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وق (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)

Mr. Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی! جناب اٹارنی (جناب یحییٰ بختیار کا قومی اسمبلی

r: Mr. Chairman, Sir, in the gy for absence from the House ore, I was not in a position to

٤

صفحہ ٥٦

2684 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

findings as the Judges do, and I cannot express any opinion also. I feel, it is my duty to assist the honourable House in an impartial manner. We must realise and we must see that I am not here just to plead the cause of one party against another, but it will be my duty, as you are the Judges, to bring to your notice both the points of view so that nobody should feel and nobody should say that this was a one- sided show or that the Attorney- General, taking advantage of his position or abusing his position, tried to influence the decision one way or the other. So, I hope, that, with these limitations of mine in mind, the honourable members will appreciate if I also put forward the other point of view, or, in other words, both points of view.

As far as the decision is concerned, Sir, that is for the members to take, and I am sure, and I am hopeful that this is going to be a fair decision, a just decision, in accordance with the sentiments and feelings of the people of this country. We should have in mind the interests of Islam and the interests of the country, and I have not the slightest doubt that the patriotic sentiments and sentiments of love for Islam and for the love of the country are there and, therefore, I have no doubt that the members will take the right decision.

2677 I had the honour and privilege of discussing this matter with the Prime Minister, who is also very anxious and is worried man, because this is going to be a very

2685

important deci thinks, and he Muslim but he he has got the r his rights and and reputation law so, Sir, I h House have pu come to a decis decision. You w examination a Ahmadiya Jam harm anybody just and fair d submission an which brought

Sir, be motion. The honourable th

"I her Procedure a Assembly, 19 motion.

That comprising th the right to sp

صفحہ ٥٧

MBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

nd I cannot express any opinion assist the honourable House in ust realise and we must see that the cause of one party against duty, as you are the Judges, to e points of view so that nobody ld say that this was a one- sided General, taking advantage of his osition, tried to influence the er. So, I hope, that, with these , the honourable members will rd the other point of view, or, in ew.

n is concerned, Sir, that is for am sure, and I am hopeful that decision, a just decision, in ts and feelings of the people of i in mind the interests of Islam ry, and I have not the slightest iments and sentiments of love of the country are there and, hat the members will take the

nd privilege of discussing this ter, who is also very anxious se this is going to be a very

2685 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

important decision. He thinks just as any other Muslim thinks, and he has the sentiments like those of any other Muslim but he is also the Prime Minister of the country, and he has got the responsibility to see that nobody is deprived of his rights and nobody is deprived of his life, liberty, honour and reputation in any manner except in accordance with law so, Sir, I hope and I understand that the leaders in this House have put thier heads together and they are trying to come to a decision which would be a fair decision and a just decision. You will recall, Sir, that in the course of the cross- examination also I tried to impress upon the leader of the Ahmadiya Jamaat, Rabwah, that this House do not want to harm anybody or hurt anybody; this House wanted to give a just and fair decision. Keeping that in mind, I will make my submission and recapitulate the circumastances very briefly which brought us to this day, to these proceedings.

Sir, before the House, there is a resolution and a motion. There is a motion, which was moved by the honourable the law Minister, which is as follows:

"I hereby give notice, under rule 205 of the Rules of Procedure and Conduct of Business in the National Assembly, 1973, of my intention to make the following motion.

That this House do appoint a Special Committee comprising the whole House, including persons who have the right to speak and otherwise take part in the proceedings

صفحہ ٢٦٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

of the House, with the Speaker as its Chairman, performing the following functions:

persons who do not believe in the finality of Prophethood of Muhammad (peace be upon him).

resolutions, etc. from its members within a period to be specified by the Committee.

the above issue as a result of its deliberations,

2678

examination of witnesses and perusal of documents, if any.

The quorum of the Committee shall be forty, out of which ten will be from the parties opposed to the Government in the National Assembly."

Then Sir, there is also a resolution, which was moved by thirty- seven honourable members of this House.

-------------------------

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi).]

-------------------------

Mr. Yahya Bakhtiar: This reads, Sir, as follows:

"We beg to move the following:

Whereas it is a fully established fact that Mirza Ghulam Ahmed of Qadian clamied to be a prophet after the last Prophet MUHAMMAD (peace be upon him);

٥٨

صفحہ ٥٨

گوشہ تجلی

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

e Speaker as its Chairman, performing ns:

he question of the status in Islam of elieve in the finality of Prophethood of e upon him).

nd consider proposals, suggestions, m its members within a period to be mittee.

mmendations for the determination of s a result of its deliberations, itnesses and perusal of documents, if

f the Committee shall be forty, out of from the parties opposed to the tional Assembly."

re is also a resolution, which was honourable members of this House.

--------- [Mr. Chairman vacated the Chair (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi).] ---------

akhtiar: This reads, Sir, as follows: ve the following: a fully established fact that Mirza dian clamied to be a prophet after the MAD (peace be upon him);

٥٨

2687 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

And whereas his false declaration to be a prophet, his attempts to falsify numerous Quranic texts and to abolish Jihad were treacherous to the main issues of Islam;

And whereas he was a creation of imperialism for the sole purpose of destroying Muslim solidarity and falsifying Islam;

And whereas there is a consensus of the entire Muslim Ummah that Mirza Ghulam Ahmed's followers, whether they believe in the prophethood of the said Mirza Ghulam Ahmed or consider him as their reformer or religious leader in any from whatsoever, are outside the pale of Islam;

2679 And whereas his followers, by whatever name they are called, are indulging in subversive activities internally and externally by mixing with Muslims and pretending to be a sect of Islam;

And whereas in the Conference of the World Muslim Organization held in the holy city of Mecca- Al- Mukarrama between the 6th and 10th April, 1974, under the auspices of Al- Rabita Al- Alam- Al- Islami wherein delegations from one hundred and forty Muslim Organizations and institutions from all parts of the world participated, it has been unanimously held that Qadianism is a subversive movement against Islam and Muslim World which falsely and deceitfully claims to be an Islamic sect.

Now this assembly do proceed to declare that the

٥٩

صفحہ ٦٠

2688 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

followers of Mirza Ghulam Ahmed, by whatever name they are called, are not Muslims and that an official Bill be moved in the National Assembly to make adequate and necessary amendments in the Constitution to give effect to such declaration and to provide for the safeguard for their legitimate rights and interests as a non- Muslim minority of the Islamic Republic of Pakistan."

Sir, these are the two motions; a resolution and a motion. Apart from that, some other resolutions are also pending before the House, but they mostly deal with proposals for amending the Constitution, and I will respectfully submit that I will not say anything about them for two reasons. Firstly, only these two documents, were published in the press and on the basis of these two documents the communities affected or likely to be affected filed their written statements or memorials. On the basis of these documents they were examined. Therefore, it will not be fair to say anything with regard to the other resolutions. The Committee is authorised and competent to deal with them at any stage, but I will confine myself to these two documents and I shall make brief comments before I go into the procedure adopted for considering these documents. I hope I am not misunderstood if I am very frank in my comments on these two documents.

2680 To begin with, first the motion by the honourable Law Minister, Now, Sir, here it says "to discuss the question

2689 NATION

of the status in Isla finality of Prophet him)". Let us take t of the status in Isl people who do not b of Hazrat Muham Muslims, then they nothing to do with terms. If it were sai in Islam or in relat but to say "the stat Muslims. I think, i importance but it w House. You canno relation to Islam",

Again, Sir, thirty- seven mem contradictory. I honourable membe in one place that creation of imperi Muslim solidarit "Whereas there i these followers of pale of Islam." T whatever name th

صفحہ ٢٦٨٩

LY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

hmed, by whatever name they , and that an official Bill be mbly to make adequate and Constitution to give effect to de for the safeguard for their as a non- Muslim minority of an."

motions; a resolution and a e other resolutions are also but they mostly deal with e Constitution, and I will not say anything about them these two documents, were on the basis of these two fected or likely to be affected r memorials. On the basis of mined. Therefore, it will not gard to the other resolutions. and competent to deal with confine myself to these two ef comments before I go into sidering these documents. I d if I am very frank in my nts.

e motion by the honourable says "to discuss the question

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

of the status in Islam of persons who do not believe in the finality of Prophethood of Muhammad (peace be upon him)". Let us take the expression "To discuss the question of the status in Islam". If the House is of the view that people who do not believe in the finality of the Prophethood of Hazrat Muhammad (peace be upon him) are not Muslims, then they have no status in Islam. They have nothing to do with Islam. The motion is a contradiction in terms. If it were said: "to discuss the question of the status in Islam or in relation to Islam", I could understand that; but to say "the status in Islam" is presuming that they are Muslims. I think, it is a contradiction which may not be of importance but it was my duty to bring it to the notice of the House. You cannot say what is their status in Islam, "in relation to Islam", yes.

Again, Sir, with all respect, the resolution moved by thirty- seven members is, in my opinion, in some parts contradictory. I will not go in great details, but the honourable members will take notice of the fact that it says in one place that whereas Mirza Ghulam Ahmad "was the creation of imperialism for the sole purpose of destroying Muslim solidarity and falsifying Islam", then it says "Whereas there is consensus of the Muslim Umma that these followers of Mirza Ghulam Ahmad are outside the pale of Islam." Then it further said that the followers by whatever name they are called, are indulging in subversive

٦١

صفحہ ٦٢

گزشتہ سے پیوستہ

2690 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 activities internally and externally by mixing with Muslims and pretending to be a sect of Islam. This is all very well. Then later they say: declare them as a minority, a non- Muslim religious community and amend the Constitution, provide for the safeguards subversion: Do you want to perpetuate the things which you condemn in the preamble of this resolution: This is the contradiction to which I wanted to draw your attention. On the one hand you say: declare them a minority, declare them a separate entity; and once you declare them as such, then you have to protect their rights. There is no alternative; and this is a very good part of this resolution. I appreciate it, I commend it, when they say that their legitimate rights and interests should be protected, but what are those rights? On the one hand they say they are a subversive movement, they indulge in subversion inside and outside. What is 2681 that subversion: Propagating their religion, practising their religion, whatever they may be? You want to safeguard their rights and at the same time condemn them. You cannot have both. This is something which is obvious. I am not criticising. I have no right to criticise, but it is my duty do draw the attention of the honourable members of the House that if you declare a section of population as a separate religious community, then not only the Constitution but even your religion enjoins upon you to respect their right to profess and paractise their religion and to propagate it. I don't want to say anything

2691 N. more because I very limited time

Now, in well as the re determine certa read these out:

to be a prophet?

Islam or in re Islam" and "in

Nabuwwat; wh it mean?

that followers consider him a outside the pal

consider Musl promised Mas

religious com started a new

would be its

صفحہ ٢٦٩١

MBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ternally by mixing with Muslims et of Islam. This is all very well. are them as a minority, a non- ty and amend the Constitution, ds subversion: Do you want to you condemn in the preamble of contradiction to which I wanted the one hand you say: declare em a separate entity; and once then you have to protect their e; and this is a very good part of it, I commend it, when they say nd interests should be protected, n the one hand they say they are y indulge in subversion inside subversion: Propagating their ligion, whatever they may be? r rights and at the same time have both. This is something criticising. I have no right to do draw the attention of the House that if you declare a eparate religious community, but even your religion enjoins t to profess and paractise their I don't want to say anything

٢

2691 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

more because I am fully conscious of the fact that there is very limited time at my disposal.

Now, in view of these two documents, the motion as well as the resolution, the honourable House has to determine certain points or issues. I shall formulate and read these out:

to be a prophet?

Islam or in relation to Islam? I had to mention both "in Islam" and "in relation to Islam".

Nabuwwat; when we say "Khatim-un- Nabieen" what does it mean?

that followers of Mirza Ghulam Ahmad of Qadiyan, who consider him as a prophet or promised Massiha, or both, are outside the pale of Islam?

consider Muslims who deny his claim to be a prophet or the promised Massiha as Kafirs and outside the pale of Islam?

religious community outside the pale of Islam or he merely started a new sect within its fold?

would be its status in relation to Islam and what rights it

٦٣

صفحہ ٢٦٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

will have under the Constitution of Pakistan?

2682

Next, I will very briefly recapitulate some of the circumstances from the day the motion and the resolution were moved. These were moved on the 30th June, 1974. After they were published, two memorials were filed by the two Groups who follow Mirza Ghulam Ahmed. Then represntatives of both the Groups were invited to read, on oath, their statements and memorials, and I understand that they expressed a desire to be heard, so that they might further clarify and elaborate their points of view. In these documents which they filed, they refuted all the allegations made against them in the resolution.

It was decided by the House Committee to appoint a Steering Committee to receive questions and to examine them. For that prupose the Committee directed that I should be here in Islamabad with efect from 25th july, 1974. I compliance with that direction I was here on 21st july. The Steering Committee took about a week to scrutinise these questions which came in hundreds.

The delegation of Ahmadiya Community of Rabwa headed by their Imam or leader, Mirza Nasir Ahmad, was examined from 5th to 10th August and then there was a break of ten days. He was again examined from 20th August to 24th August. In all, the examination lasted for 11 days. Thereafter the other section of this Community, headed by Maulana Sadruddin, who spoke through Mian Abdul

٦٣

صفحہ ٢٦٩٣

سرگزشت

EMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

tution of Pakistan? briefly recapitulate some of the y the motion and the resolution moved on the 30th June, 1974. two memorials were filed by the Mirza Ghulam Ahmed. Then Groups were invited to read, on memorials, and I understand that o be heard, so that they might te their points of view. In these l, they refuted all the allegations esolution.

e House Committee to appoint a eive questions and to examine Committee directed that I should effect from 25th july, 1974. I on I was here on 21st july. The bout a week to scrutinise these ndreds.

hmadiya Community of Rabwa ader, Mirza Nasir Ahmad, was August and then there was a ain examined from 20th August xamination lasted for 11 days.

of this Community, headed by spoke through Mian Abdul

٦٤

2693 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

Mannan Omar because he is an old man and cannot hear properly, was examined. They were examined for two days. The reason was not that the House was discriminating between the two or attached more importance to one and not to the other, but for the simple reason that most of the facts about, and documents and writings of, Mirza Ghulam Ahmad had come on the record through the first Group and there was no need to go further into these details as far as the second Group was concerned.

As for the first issue whether Mirza Ghulam Ahmad claimed to be a prophet, I think it will be appropriate to say somthing briefly about his life and works and the Ahmadyia Movement. While dealing with this, I will be, in a way, dealing with the first issue itself. Mirza Nasir Ahmad has filed a brief biodata of Mirza Ghulam Ahmad. It is as follows:

2683”آپ ١٣؍ فروری ١٨٣٥ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔ ١؎ آپ کے والد صاحب کا نام مرزا غلام مرتضیٰ صاحب تھا۔

آپ کی ابتدائی تعلیم چند استادوں کے ذریعے سے گھر پر ہی ہوئی۔ آپ کے اساتذہ کے نام فضل الٰہی، فضل احمد اور گل محمد تھے۔ جن سے آپ نے فارسی، عربی اور دینیات کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور علم طب اپنے والد صاحب سے پڑھا۔ آپ شروع سے ہی اسلام کا درد رکھتے تھے اور دنیا سے کنارہ کش تھے۔ آپ کا ایک شعر ہے؎

١؎ یہاں قادیانیوں کی مہیا کردہ مرزا کی تاریخ پیدائش بیان ہوئی جو غلط اور دجل ہے۔ خود مرزا قادیانی نے کتاب البریہ اور دیگر کتابوں میں بیسیوں جگہ لکھا ہے کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء میں ہوئی۔

٦٥

صفحہ ٢٦٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

دگر استاد را نامے ندانم
کہ خواندم در دبستان محمدؐ

آپ نے عیسائیوں اور آریوں کے ساتھ ١٨٧٦ء کے قریب اسلام کی طرف سے مناظرے اور مباحثے بھی کئے اور ١٨٨٤ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب ”براہین احمدیہ“ کی اشاعت کی جو قرآن کریم، آنحضرت ﷺ اور اسلام کی تائید میں ایک بے نظیر کتاب مانی گئی ہے۔ ١٨٨٩ء میں آپ نے باذن الٰہی سلسلہ بیعت کا آغاز کیا اور ١٨٩١ء میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔

آپ کی تمام عمر اسلام کی خدمت میں گزری اور آپ نے ٨٠ کے قریب کتابیں تصنیف فرمائیں جو عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں ہیں اور ان تینوں زبانوں میں آپ کا منظوم کلام بھی ملتا ہے۔

2684 آپ کا اور آپ کی جماعت کا واحد مقصد دنیا میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ تھا اور ہے۔ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو آپ کی وفات ہوئی اور ملک کے اخباروں رسالوں نے آپ کی اسلامی خدمات کا پر زور الفاظ میں اعتراف کیا۔

آپ کی وفات کے وقت آپ کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور اس وقت آپ کے خاندان کے افراد کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔“

Now, Madam, I have some more details of Mirza's life wich I could collect from the material placed at my disposal. I shall relate these details.

He belonged to an important and respectful Mughal family of the Punjab which had migrated from Samerkand to India at the time of Mughal Emperor Baber. The first ancestor of Mirza Ghulam Ahmad to come to India was Mirza Hadi Beg. Lepel Griffin, in his book "The Punjab Chiefs" says as follows, and I quote:

"Mirza Hadi Beg was appointed Qazi or Magistrate over seventy villages in the neighbourhood of Qadian, which

٦٦

PDF 475

ردّ قادیانیت

SSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

دگر استاد را
کہ خواندم در

آپ نے عیسائیوں اور آریوں کے ساتھ م مناظرے اور مباحثے بھی کئے اور ١٨٨٣ء میں اپنی شہرہ آ کی جو قرآن کریم، آنحضرت ﷺ اور اسلام کی تائید ١٨٨٩ء میں آپ نے باذن الہی سلسلہ بیعت کا آغاز کیا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ آپ کی تمام عمر اسلام کی خدمت میں گزر تصنیف فرمائیں جو عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں م منظوم کلام بھی ملتا ہے۔ 2684 آپ کا اور آپ کی جماعت کا واحد مقص ہے۔ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو آپ کی وفات ہوئی اور ملک ک خدمات کا پر زور الفاظ میں اعتراف کیا۔ آپ کی وفات کے وقت آپ کے چار بیٹے خاندان کے افراد کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔"

ave some more details of Mirza's from the material placed at my e details. important and respectful Mughal h had migrated from Samerkand Mughal Emperor Baber. The first m Ahmad to come to India was Griffin, in his book "The Punjab d I quote: vas appointed Qazi or Magistrate neighbourhood of Qadian, which

٦٦

2695 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

town he is said to have founded and named it 'Islampuwr Qazi- Qazi', from which Qadian by natural change has arisen. For several generations the family hold offices under the Imperial Government and it was only when the Sikhs became powerful that it fell into poverty."

Thereafter, I will read a portion from the Enquiry Committee- Court of Enquiry- presided over by Mr. Justice Mohammad Munir in 1953-54. About Mirza Ghulam Ahmad the Court says, and I quote:

The grand son Mirza Ghulam Murtaza, who was a General in the Sikh Durbar; he learnt Persian and Arabic languages at home but does not appear to have received any Western education. IN 1864 he got some employment in the District Court, Sialkot, where he served for four years. On his father's death he devoted himself whole- heartedly to study religious literature and between 1880-84 wrote his famous 'Baraheen-i-Ahmadiya' in four volumes and later 2685 wrote some more books. Acute religious countroversies were going on in those days. There were repeated attacks on Islam, not only by Christian missionaries but also preachers of Arya Samaj a liberal Hindu movement, which was becoming very popular.

Here I believe Mr. Justice Munir is not correct in describing Mirza Sahib as grandson of Mirza Ghulam Murtaza because Mirza Nasir Ahmad in his paper says that, that was his father's name.

٦٧

صفحہ ٢٦٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

According to the statement of Mirza Nasir Ahmad before the House, between the years 1860-1880, the British brought with them, what he called, an army of Padris- about 70 in number, as he mentioned and fierce religious controversies started, as these Padris, according to him, had declared that they would convert Muslims in India to Christianity. And Mirza Nasir Ahmad said with regard to these padris and their attack on Islam and on Holy Prophet Mohammad (peace be upon him) that- حکومت کے بل بوتے پہ انہوں نے یہ کیا اور کر رہے تھے۔

At that stage, according to Mirza Nasir Ahmad, some Ulema and other leaders of Muslims religious thought came forward to reply to these Christian attacks and to repulse these attacks, and these included Nawab Sadiq Hasan Khan, Maulvi Aley Hasan, Maulvi Rahmatullah Mohajir Delhvi, Ahmad Raza Sahib and Mirza Ghulam Ahmad, and he said- I do not know about all of them- but I believe about all of them and not just Mirza Ghulam Ahmad: ”اللہ نے فراست دی تھی اور اسلام کا پیار دیا تھا۔“

And that was the reason why they came forward to repulse these attaks on Islam and the Holy Prophet (peace be upon him). These controversies, these Munazeras, naturally made all those Muslims, including Mirza Ghulam Ahmad, very popular amongst Muslims. They became their heroes and it seems that Mirza Ghulam Ahmad was leading them in popularity among Muslims for repulsing these ٦٨

2697 NA

attacks on Islam, the record, that may be by othe desirable and we Christ was attac today but even Even at that tim with explanation that detail. Beca Muslims who th Mirza Ghulam should accept th those who respe as their religi Baraheen-i-Ah received some with Allah; th December 188 Ahmadiya Jam this movement movement does Massih-e- Mau oath of descipl that at that st which we hav forceful pen, v

صفحہ ٢٦٩٧

LY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ment of Mirza Nasir Ahmad years 1860-1880, the British led, an army of Padris- about oned and fierce religious Padris, according to him, had nvert Muslims in India to Ahmad said with regard to t Islam and on Holy Prophet m) that- حکومت کے بل بوتے پہ انہوں نے ng to Mirza Nasir Ahmad, of Muslims religious thought e Christian attacks and to ese included Nawab Sadiq san, Maulvi Rahmatullah Sahib and Mirza Ghulam now about all of them- but I d not just Mirza Ghulam ”اللہ نے فراست دی تھی اور اسلام“ why they came forward to nd the Holy Prophet (peace ersies, these Munazeras, s, including Mirza Ghulam Muslims. They became their hulam Ahmad was leading slims for repulsing these

2697 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

attacks on Islam, although, as it has become apparent from the record, that some of the methods adopted by him and may be by others in repulsing these attacks, were not desirable and were rather 2686 objectionable- the way Jesus Christ was attacked or insulted, is not only objectionable today but even at that time Muslims had objected to that. Even at that time Mirza Ghulam Ahmad had to come out with explanation after explanation. But I will not go into that detail. Because of this popularity and because they were Muslims who treated him as hero, in 1889 we find that Mirza Ghulam Ahmed decided at the age of 54 that he should accept the oath of discipleship from his followers or those who respected him or who were willing to accept him as their religious leader. Now here we find that in Baraheen-i-Ahmadiya he had already mentioned that he received some divine messages or was in communication with Allah; that was known; but in 1889, actually in December 1889, according to his son, Second Khalifa of Ahmadiya Jamaat, Rabwah or Qadian, he actually founded this movement in March 1889, and the foundation of the movement does not refer to his claim to prophethood or of Massih-e- Mauood but to the effect that he started receiving oath of descipleship from his followers. There is no doubt that at that stage he got followers because the writings which we have seen leave no doubt that he had a very forceful pen, very eloquent pen, and he was undoubtedly a

٦٩

صفحہ ٢٦٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

very capable person. He wrote eloquently in Arabic, Persian and Urdu. But one fact must be kept in Mind that, in 1889, and there is some confusion on the point- in one place I read that in December 1889, he received a message that he was Messih-e- Mauood, but he did not announce it and did not proclaim it. He only went to Ludhiana from Qadian to receive the oath of discipleship. Why? Why he did not announce it there in Qadian is for you to judge. But I find from the book of Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad, the book called "Ahmadiyat or True Islam", that he went to Ludhiana to receive it, this oath of discipleship, and his other book, a small biography. In some other literature I read that according to Muslim religious literature, the Messiah was to come in a place, not come in a place but announce and proclaim his being Messiah in a place called 'Lud'. Probably keeping this in view he thought it appropriate to go to Ludhiana for the purpose or to receive oath of discipleship. He did not begin it in Qadian. This is what I want to point out. I shall go in greater detail about these controversies with Christians at a later stage.

Here it is also my duty to bring to the notice of the House that it was seriously alleged that his prophethood and Ahmadi movement were inspired and nurtured by the British Imperialism. This is not only mentioned in the resolution but also in a lot of 2687 other literature that it was done at a time when the call for Jehad was raised against

٧٠

صفحہ ٢٦٩٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

e wrote eloquently in Arabic, Persian must be kept in Mind that, in 1889, fusion on the point- in one place I 1889, he received a message that he but he did not announce it and did y went to Ludhiana from Qadian to scipleship. Why? Why he did not dian is for you to judge. But I find Bashiruddin Mahmood Ahmad, the at or True Islam", that he went to , this oath of discipleship, and his ography. In some other literature I o Muslim religious literature, the in a place, not come in a place but his being Messiah in a place called ping this in view he thought it dhiana for the purpose or to receive e did not begin it in Qadian. This is ut. I shall go in greater detail about Christians at a later stage. my duty to bring to the notice of the usly alleged that his prophethood and ere inspired and nurtured by the This is not only mentioned in the lot of 2687 other literature that it was e call for Jehad was raised against

٧٠

2699 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

these foreign imparialists, from Sudan to Samatra. It was felt, they say by the British, to stop this call for Jehad, and for that purpose they utilised Mirza Sahib's services. This is an aspect also to which I draw your attention. It is also alleged that the followers of Mirza Ghulam Ahmad, because of the oath of discipleship, which contained a caluse, or that was part of his faith, should be loyal to the British Government, or that loyalty to the British Government was made an article of faith- a very servious factor- which was very much resented by the Muslims who wanted to get rid of the foreign imperialists who had usurped their Government and their authority in this sub- continent. In this way, it is alleged that because of that faith or part of that faith- loyalty to the British Government. The Ahmadi's or the followers of Mirza Ghulam Ahmad provided very good and excellent spies to the British Government. We find a reference that in 1925 there was one Mulla Abdul Hakim and another Mulla Noor Ali; two Ahmadis who in Afghanistan were declared 'Murtad' and Killed, not because they were Murtad, not only for that reason, but according to the statements of those days, and I understand 'Al-Fazil' of 3rd March, 1925 also, confirmed this fact that they were found in possession of some documents indication that they were agents of the British Government and that they wanted to overthrow the Government. I have to bring it to the notice of the House that these are the facts which have been mentioned. I do not

٧١

صفحہ ٢٧٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

say they are correct.

As regards Mirza Sahib's interpretation of, or his approach to, the Holy Quran, as far as I understand, his approach was similar to that of Sir Syed Ahmad Khan, except for a few Ayyats which according to him concern Messiah or his own Prophethood. He had a rationalistic interpretation of the Holy Quran. The most spectacular weapon that he used to overcome and over- awe Muslims and others was his prophesies, I should say his reckless predictions about the persons who opposed him that they would come to sad end within a limited period or suffer miserably.

Madam, in 1891, Mirza Sahib claimed to be the Promised Messiah and later on he also claimed to be a prophet. I will deal with as to what kind of prophet he claimed he was, later on. According to his son, Mirza Bashir -ud-Din Mahmud Ahmad, and I quote from his book "Ahmadiyyat or the True Islam".

2688 "His task was to sift all errors and mis interpretations which may have crept into an existing religious system owing to laps of time; but he had a much higher mission to perform. He had to discover in it new and limitless treasures or eternal truths and hidden powers.

By pointing out this miracle of the Holy Quran, the Promised Messiah has effected a revolution in spiritual matters. The Muslims certainly believed that the Holy

٧٢

صفحہ ٧٣

BLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

hib's interpretation of, or his n, as far as I understand, his at of Sir Syed Ahmad Khan, ch according to him concern thood. He had a rationalistic Quran. The most spectacular come and over- awe Muslims les, I should say his reckless s who opposed him that they in a limited period or suffer

rza Sahib claimed to be the on he also claimed to be a to what kind of prophet he rding to his son, Mirza Bashir and I quote from his book n".

o sift all errors and mis have crept into an existing of time; but he had a much had to discover in it new and uths and hidden powers. iracle of the Holy Quran, the ted a revolution in spiritual inly believed that the Holy

2701 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

Quran was perfect, but during the last thirteen hundred yerars nobody had imagined that not only was it perfect but that it was an inexhaustible store house in which the needs of all future ages had been provided for, and that on investigation and research it would yield far richer treasures of spiritual knowledge than the material treasures which nature is capable of yielding. The Holy Founder of the Ahmadiyya Movement has, by presenting to the world this miraculous aspect of the Holy Quran, thrown open the door to a far wider field of discovery and research in spiritual matters, than any scientific discovery has ever done in the realm of physical science. He not only purified Islam of all extraneous errors and presented it to the world but also presented the Holy Quran to the world in a light which served at once to satisfy all the intellectual needs of mankind which the rapidly changing conditions of the world had brought into existence and to furnish a key to the solution of all future difficulties."

Now, Madam, I shall briefly say one or two things on this point, namely, that he discovered hidden treasures in the Holy Quran which for thirteen hundred years no other Muslim had been able to discover. Nobody doubts that the Holy Quran has a wealth or treasure that mankind will discover; nobody can deny that, it is full of wisdom. As man progresses, as we go deep into it, we find new meanings and new discoveries. But when I pointedly asked Mirza Nasir

صفحہ ٢٧٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

Ahmad as to what the discoveries were which except Mirza Sahib no Muslim knew before, apart from his interpretation of 'Khatim-un- Nabiyyeen', or about the life of Hazrat Essa whether he is alive or not, he pointed out that there was his commentary on "Surah Fateha" in which 70 percent of his interpretation and commentary was new. That is for the learned Ulama of the House to judge and comment on. I have nothing to 2689 say; but I know of only Allama Iqbal's opinion about his discoveries in the Holy Quran, namely:

عصر من پیغمبرے ہم آفرید
آں کہ در قرآں بجز از خود ندید

(Our age has also produced a porphet, who in the Quran could see nothing but himself.)

And I think it is a very fair assessment. As far as we could understand, Mirza Sahib interpreted or re- interpreted those provisions which interested him.

Now, Madam, while dealing with his life and religious career, I will draw the attention of the House to three defferent stages in his life, and in this career, as already mentioned, the first stage was when he was a religious leader like other Muslim religious leaders having the same faith, the same views, the same notions, and he crossed swords with Christians and Arya Samajes. To indicate his view at this stage, say from 1875-76 to 1888-1889, I will first read a quotation. It is a translation from Arabic from 'Roohani Khazain', volume:7, page:220,

٧٤

صفحہ ٢٧٠٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

discoveries were which except Mirza before, apart from his interpretation en', or about the life of Hazrat Essa ot, he pointed out that there was his Fateha" in which 70 percent of his mentary was new. That is for the House to judge and comment on. I but I know of only Allama Iqbal's ries in the Holy Quran, namely:

غیر از پیغمبرے
آن کہ در قرآں بجز

o produced a porphet, who in the but himself.)

very fair assessment. As far as we Sahib interpreted or re- interpreted erested him.

hile dealing with his life and aw the attention of the House to his life, and in this career, as first stage was when he was a Muslim religious leaders having views, the same notions, and he ristians and Arya Samajes. To s stage, say from 1875-76 to d a quotation. It is a translation ni Khazain', volume:7, page:220,

٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

by Mirza Ghulam Ahmad Quadiani, Here he says: ”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم وصاحب فضل نے ہمارے نبیﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر اپنے قول لانبی بعدی میں واضح طور پر فرمادی اور اگر ہم اپنے نبی کے بغیر کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں۔ جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسول اللہﷺ کے بعد نبی کیونکر آسکتا ہے۔ درآں حالیکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔“

This was in clear terms. He expressed his views on the subject of "Khatim-un- Nabiyyeen". Then he further said:

”دوم آنحضرتﷺ نے بار بار فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ”لانبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت پر کلام نہ تھا اور قرآن شریف کا ہر لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیات ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ ہمارے نبیﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

This was from 'Kitabul Bariya', volume:13, Roohani Khazain, Hashia:217-218.

”روحانی Again he says his ”ازالہ اوہام“ appearing in خزائن“ volume:3, page:412, I quote:

”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ کیا گیا ہے جو جو حدیثوں میں بہ تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی کے بعد ہر گز نہیں آسکتا۔“

Then there is quotation from an اشتہار of Mirza Sahib published on the 20th of Shaban in Tabligh of Mirza Sahib Resalat. Here he says and I quote:

”ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل

٧٥

صفحہ ٢٧٠٥

2704 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“

This was the first stage of his religious carreer.

The second stage starts somewhere 1888 when the oath of discipleship was taken from his followers. I will read about the oath of discipleship from the book of Mirza Bashiruddin Mahmud Ahmad, page:30. It says:

2691"In short the effect of the book began (he is talking of "براہین احمدیہ") gradually to spread and many a people wrote to the promised Messiah praying that he might accept from them the oath of discipleship. But he always declined and replied that all his actions depended upon Divine guidance till the month of December, 1888, when the revelation came to him that he should accept from people the oath of descipleship. Accordingly, the first oath took place in the year 1889 at Lodhiana (as I have already mentioned) in the house of one sincere followers named Mian Ahmad Jan and the first to take the oath was Maulana Moulvi Nooruddin (May God be pleased with him). The same day altogether 40 persons took the oath."

As already mentioned by him, at this stage he had not proclaimed that he was a promised Messiah or prophet. He had only mentioned that he was receiving divine revelation and was in communication with God.

Then, Madam, we go to the second stage of his career and how he starts the beginning. I may be wrong, but as far as I could understand, he moved very cautiously, very

٧٦

2705 NA

carefully, to char

The lecture in S these places, he m He does not clai quote:

سکتے ہو۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ وقتاً آتے رہیں جن سے تم ن کو توڑ دو گے ۔“

Then the

read from his '

Then 'Tajaliat- Khazin', volue 20

ت والا نبی کوئی نہیں آسکتا پر میں امتی بھی ہوں اور نبی

So now h

a sub-ordinate n says he belongs and through his that status. An 'Tajilliat-i- Ila 'Roohani Khazai

اور قطعی بکثرت نازل ہو جو

The next

'Haqiaqt-ul- W

صفحہ ٢٧٠٥

تحریک ختم نبوت

MBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ختم نبوت پر ایما ge of his religious carreer.

arts somewhere 1888 when the n from his followers. I will read ship from the book of Mirza d, page:30. It says:

fect of the book began (he is dually to spread and many a l Messiah praying that he might of discipleship. But he always ll his actions depended upon h of December, 1888, when the he should accept from people ccordingly, the first oath took Lodhiana (as I have already 'one sincere followers named e first to take the oath was n (May God be pleased with r 40 persons took the oath."

l by him, at this stage he had promised Messiah or prophet. hat he was receiving divine nication with God.

o to the second stage of his beginning. I may be wrong, but he moved very cautiously, very

٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

carefully, to change the position which he had taken before. The lecture in Sialkot, and 'Mubahsa' in Rawalpindi, at these places, he made some utterances which are interesting. He does not claim that he is a prophet. But he says, and I quote:

”تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعے وہ نعمتیں کیوں کر پا سکتے ہو۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور ان کے قدیم قانون کو توڑ دو گے ۔“

Then the next step we find is this which I have just read from his 'Roohani Khazain', volume:20, page:327. Then 'Tajaliat-i-Ilahia'. Again, I quote from 'Roohani Khazin', volue 20,page 412, here he says:

2692 ”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا اور بغیر شریعت نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

So now he has claimed to be a prophet or a 'Nabi' of a sub-ordinate nature. He is not a full- fledged prophet. He says he belongs to the 'Umat' of the holy Prophet of Islam and through his benedication and blessing he has acquired that status. And when he is asked to define, then in 'Tajilliat-i- Ilahia', 'Mubahasa Rawalpindi' again in 'Roohani Khazain', volume:20, page:412, he says:

”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی بکثرت نازل ہو جو غائب پر مشتمل ہو۔ اس لئے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے ۔“

The next step or argument advanced by him is in 'Haqiaqt-ul- Wahi', published in 'Roohani Khazin',

٧٧

صفحہ 2706

سرگزشت سرگزشت قاری غلام حسین شبیر

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

volume:22, page:99-100. Here he says and clearly says:

”خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی ہے۔“

Then he says in 'Nazool Masih', 'Hashia Az Mubahsa Rawalpindi', in 'Roohani Khazain', volume:18, page:381:

”میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“

I will not take more of the honourable House's time but I will read at this stage only one or two small quotations. He says in "Haqiqat-ul- Wahi' again from 'Roohani Khazain', volume:22, page:100:

”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرایا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی ہے۔“

2693

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

Mr. Yahya Bakhtiar: After that we reach the third stage of his carrer, but before I come to that, Sir, there are one or two references to which I will draw your attention. They are about their interpretation of ”خاتم النبیین“ and why there was need for a Prophet according to the

۷۸

2707 NAT

Qadianis or Mi followers. This i published in the March and Apr pathetic, and I d and the reasons v as Massih-e-Mou read some portio

وج کی فوجیں ہر ایک اونچی کی حالت میں پڑا تھا اور پر بھی مسلمانوں کے کانوں جب محمد ﷺ کی روح اپنی کیا کہ اے بادشاہوں کے ان میں گھر گئی ہے۔ میری گرفتار ہے تو خود میری مدد پر سے ظلمت کا پردہ پھٹا اور تا کہ دنیا کو اس طوفان عظیم

Then fur

سے دنیا کی مصیبت کے کو ہلاک کرنے کے لئے ہ پر لگائے۔ وہ جو خیر الامم وں پر دیکھ کر اس کے طلسم کے سامنے اکیلا سینہ سپر بن کر زمین پر آیا وہ جو دنیا جس کے زمانہ پر رسولوں

صفحہ ٢٧٠٧

کفریات

کفریات

کفریات

مرزا غلام احمد قادیانی

BLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

he says and clearly says:

"خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت ﷺ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی ہے

Nazool Masih', 'Hashia Az Roohani Khazain', volume:18,

"میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔"

f the honourable House's time ly one or two small quotations. Vahi' again from 'Roohani 0:

"اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو وہ مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ سے نبی بنتے ہیں۔"

Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi occupied by Mr. Chairman

r: After that we reach the fore I come to that, Sir, there to which I will draw your interpretation of "خاتم النبیین" a Prophet according to the

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

Qadianis or Mirza Ghulam Ahmad himself or his followers. This reason is given in "کلمۃ الفصل" which is published in the Review of Religions, volume:XIV, No.3, March and April 1915 issue. I find it interesting and pathetic, and I do not have to say why, but the background and the reasons why Mirza Sahib had to claim or was sent as Massih-e-Mouood is given here on page:101. I will just read some portions of it. It is written- narration- he says:

"دجال نے پورے زور کے ساتھ خروج کیا تھا یاجوج ماجوج کی فوجیں ہر ایک اونچی جگہ سے امڈی چلی آتی تھیں۔ اسلام عیسائیت کے پاؤں پر جان کنی کی حالت میں پڑا تھا اور دہریت اپنے آپ کو ایک خوبصورت شکل میں پیش کر رہی تھی۔ مگر اس پر بھی مسلمانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی اور وہ خواب غفلت میں سویا کیے حتیٰ کہ وقت آیا جب محمد ﷺ کی روح اپنی امت کی حالت زار کو دیکھ کر تڑپتی ہوئی آستانہ الٰہی پر گری اور عرض کیا کہ اے بادشاہوں کے بادشاہ! اے غریبوں کی مدد کرنے والے! میری کشتی ایک خطرناک طوفان میں گھر گئی ہے۔ میری بھیڑوں پر بھیڑیے ٹوٹ پڑے ہیں۔ میری امت شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے تو خود میری مدد فرما اور میری بھیڑوں کے لئے کسی چرواہے کو بھیج۔ تب یکا یک آسمان پر سے ظلمت کا پردہ پھٹا اور خدا کا ایک نبی فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے زمین پر اترا، تاکہ دنیا کو اس طوفان عظیم سے بچائے اور امت محمدیہ کی گرتی ہوئی عمارت کو سنبھال لے۔"

Then further he says:

2694”وہ جو دنیا کا آخری نجات دینے والا بن کر آسمان پر سے دنیا کی مصیبت کے وقت زمین پر اترا وہ جو امت محمدیہ کی بھیڑوں پر حملہ کرنے والے بھیڑیوں کو ہلاک کرنے کے لئے آیا وہ جو اسلام کی کشتی کو طوفان میں گھرے ہوئے دیکھ کر اٹھاتا اسے کنارہ پر لگائے۔ وہ جو خیرالامم کو شیطان کے پنجہ میں گرفتار پا کر شیطان پر حملہ آور ہوا وہ جو دجال کو زوروں پر دیکھ کر اس کے طلسم کو پاش پاش کرنے کے لئے آگے بڑھا۔ وہ جو یاجوج ماجوج کی فوجوں کے سامنے اکیلا سینہ سپر ہوا وہ جو مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کو دور کرنے کے لئے امن کا شہزادہ بن کر زمین پر آیا وہ جو دنیا پر اندھیرا چھایا ہوا پا کر آسمان پر سے نور کو لایا ہاں وہ محمد ﷺ کا اکلوتا بیٹا جس کے زمانہ پر رسولوں

٧٩

صفحہ ٢٧٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

نے ناز کیا تھا۔ جب وہ زمین پر اترا تو امت محمدیہ کی بھیڑیں اس کے لئے بھیڑیے بن گئیں۔ اس پر پتھر برسائے گئے۔ اس کو مقدمات میں گھسیٹا گیا۔ اس کے قتل کے منصوبے کئے گئے۔ اس پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔ اس کو اسلام کا دشمن قرار دیا۔ اس کے پاس جانے سے لوگوں کو روکا گیا اس کے متبعین کو طرح طرح سے تکلیفیں دی گئی......"

I do not have to comment on this, Sir. On the one hand it has been eloquently said on behalf of Ahmedis or Qadianis that Messiah will not come from heaven above as the other Muslims believe. Here they depict that picture showing him descending physically and that is being emphasised. Then the pathetic part is that on the one hand it is said that how much this man was needed and how much he did and what was his cause, what was his aim, what was his purpose to help Muslamans, to save them, and yet as he says:

"بھیڑیں بھیڑیے بن گئیں۔"

Why? Why this reaction? Why this sharp, violent, hostile reaction against a person who is a hero, who is a friend, who has been helping them? This we have to consider and this is simple because he had struck at the roots of one of the cardinal principles of our 2695 faith, the faith of Musalmans, the concept of خاتم النبیین, There was not other reason why Muslims sould attack a person and be so hostile to him as his own son describes.

Again, Sir, the reason why Mirza Sahib came into this world as a Nabi or Messiah and what was the need for it and the interpretation of his followers and Mirza Sahib himself about the concept of ختم نبوت is given in Mirza

٨٠

PDF 489

چوہدری غلام حسین بھاٹیا

ختم نبوت ختم نبوت ختم نبوت

2709 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

Bashiruddin Mahmood Ahmed's book 'Ahmadiyyat or True Islam', page:10 and 11. I will read from there. It is 1937 edition. I quote:

"We hold the belief that this succession of Prophets will continue in the future as it has existed in the past, for reason repudiates any permanent cessation of this system. If this world is to continue to pass through ages of spiritual darkness, aged in which men will wander away from their Maker; if from time to time men are to be liable to go astray from the right path and to grope in the thick darkness of doubt and despair in their efforts to regain it; if they are to continue their search after the light in all such ages and times, it is impossible to believe that Divine Torch- bearers and Guides should cease to appear; for it is inconsistent with رحمانیت (Rahmaniyyat), the Mercy of God, that he should permit the ill but should not provide the remedy, that he should create the yearning but should abolish the means of satisfying it. To imagine so would be to offer an insult to the Fountain- head of mercy and compassion, and to betray one's spiritual blindness... If the world was ever in need of a Prophet, it is much more in need of one today, when religion has become hollow and Truth is, as it were, dead."

Now, Sir, this is a rationalistic approach. They say that, well, after all, the world is a new place; different people will come and from time to time, as Allah sent his Prophets before, he will continue to send his Prophets. This sounds

٨١

SEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

نے ناز کیا تھا۔ جب وہ زمین پر اترا تو امت محمدیہ کی چھت پر پتھر برسائے گئے۔ اس کو مقدمات میں گھسیٹا گیا۔ اس کے فتوے لگائے گئے۔ اس کو اسلام کا دشمن قرار دیا۔ اس کے متبعین کو طرح طرح سے تکلیفیں دی گئیں......“

comment on this, Sir. On the one tly said on behalf of Ahmedis or l not come from heaven above as e. Here they depict that picture g physically and that is being etic part is that on the one hand it man was needed and how much use, what was his aim, what was mans, to save them, and yet as he

”بھیڑیں بھیڑیے بن گئیں۔“

ction? Why this sharp, violent, person who is a hero, who is a lping them? This we have to e because he had struck at the l principles of our 2695 faith, the cept of خاتم النبیین, There was not hould attack a person and be so e describes.

on why Mirza Sahib came into iah and what was the need for it his followers and Mirza Sahib of ختم نبوت is given in Mirza

٨٠

صفحہ ٨٢

چوہدری غلام حسین بھاٹیہ

سرگزشت

2711 NATI گے جو معزز ممبران کل تقریر کرنا حاصل ہو سکیں گے۔ اسی طرح نے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

لئے ملتوی ہوا)

سے پہلے میں ایوان سے اپنی ٹ میں چند ایک معزز اراکین ں اور معقول دلائل دیئے گئے کہ میں انہی دلائل یا نکات کا پڑا۔ اور جس کا پورا احساس معزز - میری کچھ قیود اور مجبوریاں ب سے پہلے تو موضوع کے ی کی ہدایات کے مطابق حتیٰ ئے معزز اراکین نے مجھ پر جو بھی جو مجھے معزز اراکین کی

ماننے کی پوری کوشش کی اور ش کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو

- میری کوشش ہوگی جو کچھ

2710 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

reasonable, it seems sensible. He says that this process should not stop. Mankind will need revelation from Allah or somebody to come and interpret the revelation which has already come. This is their rational approach. They have published the book in England for English people. When I asked Mirza Nasir Ahmed whether any prophet had come 2696 after the Holy Prophet Muhammad (Peace be upon him) and before Mirza Ghulam Ahmad, he said, 'No'; when I asked whether any prophet has come or is likely to come after him, he said 'No'. So, all this reasoning and rationalism disappeared in fog and mist; and what does it actually mean: It simply means that he is خاتم النبیین, Mirza Ghulam Ahmad is the last of all prophets. They come to that conclusion.

Mr. Chairman: I think, the rest we will take up tomorrow. So, tomorrow, we meet at 9:30 am. as the Committee of the whole House.

Thank you very much.

---------

(The Special Committee of the whole House adjourned to meet at half past nine of the colck, in the morning, on Friday, the 6th September, 1974)

---------

(جناب چیئرمین: مسٹر اٹارنی جنرل) (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسی وقت اپنے دلائل پیش کروں یا کچھ وقت کے بعد)

PDF 491

چودھری غلام حسین ٹائپسٹ

سرگزشت سرگزشت سرگزشت

2711 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

(جناب چیئرمین: ہم دس منٹ کے لئے وقفہ کریں گے جو معزز ممبران کل تقریر کرنا چاہتے ہوں۔ انہیں اٹارنی جنرل کے خطاب سے بہت سے نکات حاصل ہو سکیں گے۔ اسی طرح جو نکات اٹارنی جنرل کے خطاب میں حل ہو جائیں۔ انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ چنانچہ ہم سوا بارہ بجے اجلاس کریں گے)

------------

(کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے لئے پندرہ منٹ کے لئے ملتوی ہوا)

------------

(کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا)

------------

(جناب چیئرمین: جی! اٹارنی جنرل صاحب) (جناب یحییٰ بختیار: جناب چیئرمین صاحب! سب سے پہلے میں ایوان سے اپنی ایک ہفتے کی غیر حاضری کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ جس کے باعث میں چند ایک معزز اراکین کی تقاریر نہ سن سکا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تقاریر کے دوران بہت قوی اور معقول دلائل دیئے گئے اور بہت سارے دلچسپ نکات سامنے لائے گئے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں انہی دلائل یا نکات کا اعادہ کروں گا یا نہیں۔ لیکن مجھے ادائیگی فرض کے سلسلے میں کراچی جانا پڑا۔

دوسری بات جو جناب والا! میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں اور جس کا پورا احساس معزز اراکین کریں گے وہ میری سرکاری حیثیت بطور اٹارنی جنرل کے لئے۔ میری کچھ قیود اور مجبوریاں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ معزز اراکین ان کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ سب سے پہلے تو موضوع کے حوالے سے میری زبان دانی کی مجبوری تھی۔ تاہم میں نے ہاؤس کی ہدایات کے مطابق حتیٰ المقدور بہترین طریقے سے فرض کو نبھانے کی کوشش کی اور اس کے لئے معزز اراکین نے مجھ پر جو اعتماد کیا اس کے لئے میں بہت شکر گزار ہوں اور اس تعاون کے لئے بھی جو مجھے معزز اراکین کی طرف سے دیا گیا۔

جناب والا! میں نے اپنی اہلیت کے مطابق اپنا فرض نبھانے کی پوری کوشش کی اور ادائیگی فرض کو معزز اراکین کی خواہشات کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو سوالات مجھے دیئے گئے تھے ان کو میں نے مناسب انداز میں پیش کیا۔

دوسری بات جناب والا! جہاں تک شہادت کا تعلق ہے۔ میری کوشش ہوگی جو کچھ

٨٣

EMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

sible. He says that this process will need revelation from Allah or terpret the revelation which has r rational approach. They have land for English people. When I whether any prophet had come Muhammad (Peace be upon him) Ahmad, he said, 'No'; when I t has come or is likely to come l. So, all this reasoning and fog and mist; and what does it eans that he is خاتم النبیین, Mirza of all prophets. They come to that

I think, the rest we will take up , we meet at 9:30 am. as the use. ch.

------------

mmittee of the whole House [ past nine of the colck, in the | September, 1974)

------------

(جناب چیئرمین: مسٹر اٹارنی جنرل] (جناب یحییٰ بختیار: کیا آپ چاہت یا کچھ وقت کے بعد)

٨٢

صفحہ ٢٧١٢

خفیہ سرگزشت NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ریکارڈ پر شہادت موجود ہے۔ اسے مختصر طور پر پیش کروں۔ لیکن بحیثیت اٹارنی جنرل میں ایوان کا رکن نہیں ہوں۔ اس لئے نہ تو میں کوئی فیصلہ جج کی طرح دے سکتا ہوں اور نہ ہی اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میں غیر جانبدارانہ طور پر اس ایوان کی امداد کروں۔ ہم سب کو احساس ہوگا کہ میں یہاں پر صرف ایک فریق کی نمائندگی یا دوسرے فریق کی مخالفت نہیں کرتا۔ آپ اس معاملہ میں بحیثیت منصف کے ہیں۔ اس لئے میرا فرض منصبی ہے کہ میں معاملہ کے دونوں پہلو آپ کے سامنے پیش کروں تا کہ نہ تو کوئی یہ محسوس کرے اور نہ ہی کہہ سکے کہ یہ یکطرفہ کاروائی تھی اور اٹارنی جنرل نے اپنی حیثیت کا جائز یا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فیصلہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ چنانچہ مجھے امید ہے کہ میری ان مجبوریوں کے مد نظر اگر میں دونوں فریقوں کے نقطہ نظر یا دوسرے فریق کے نقطہ نظر کو بھی پیش کروں تو اسے صحیح انداز میں ہی سمجھا جائے گا۔

جناب والا ! جہاں تک فیصلہ کا تعلق ہے وہ تو معزز اراکین نے ہی کرنا ہے اور مجھے یقین واثق ہے کہ یہ ایک بہت ہی منصفانہ فیصلہ ہوگا۔ صحیح فیصلہ ہوگا۔ جو کہ ملک کے عوام کی خواہشات اور احساسات کے مطابق ہوگا۔ ہمیں اسلام اور ملک کے مفادات کو ذہن نشین رکھنا چاہئے اور مجھے ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ حب الوطنی اور اسلام کے ساتھ محبت کے احساسات ہر لمحہ موجود ہیں اور اس لئے مجھے اس بارے میں بھی قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ معزز اراکین بالکل درست فیصلہ کریں گے۔

مجھے اس موضوع پر وزیر اعظم کے ساتھ بحث مباحثہ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وزیر اعظم صاحب اس معاملے کے متعلق بہت بیتاب ہیں۔ کیونکہ اس کا فیصلہ بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر اعظم کی سوچ ایک عام مسلمان کی سوچ کی مانند ہے اور ان کے جذبات ایک عام مسلمان کے جذبات ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ وزیر اعظم بھی ہیں۔ اس لئے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ کوئی شخص اپنے حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کو بلا قانونی جواز اپنی زندگی ، آزادی عزت اور شہرت سے محروم کیا جائے۔ جناب والا ! میں امید کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس ایوان کے اندر جو رہنما موجود ہیں انہوں نے کافی سوچ بچار کیا ہے اور ان کی انتہائی کوشش ہے کہ اس معاملہ کا ایک نہایت ہی مناسب اور منصفانہ فیصلہ ہو۔ جناب والا ! آپ کو یاد ہوگا کہ جرح کے دوران میں نے امیر جماعت احمدیہ ربوہ پر واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ایوان نہ تو کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی کی دل آزاری کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایوان ایک منصفانہ فیصلہ کرنا

٨٤

صفحہ ٨٥

تحریک ختم نبوت

مفتی غلام حسن بھاٹوی

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ریکارڈ پر شہادت موجود ہے۔ اسے مختصر طور پر پیش کروں۔ لیک رکن نہیں ہوں۔ اس لئے نہ تو میں کوئی فیصلہ جج کی طرح دے س کر سکتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میں غیر جا کروں۔ ہم سب کو احساس ہوگا کہ میں یہاں پر صرف ایک فر مخالفت نہیں کرتا۔ آپ اس معاملہ میں بحیثیت منصف کے بی میں معاملہ کے دونوں پہلو آپ کے سامنے پیش کروں تاکہ م سکے کہ یہ یکطرفہ کاروائی تھی اور اٹارنی جنرل نے اپنی حیثیت کا فیصلہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ چنانچہ مجھے امید ہے کہ دونوں فریقوں کے نقطہ نظر یا دوسرے فریق کے نقطہ نظر کو بھی سمجھا جائے گا۔

جناب والا! جہاں تک فیصلہ کا تعلق ہے وہ تو م یقین واثق ہے کہ یہ ایک بہت ہی منصفانہ فیصلہ ہوگا۔ ک خواہشات اور احساسات کے مطابق ہوگا۔ ہمیں اسلام او چاہئے اور مجھے ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ حب الوطنی اور اسلا موجود ہیں اور اس لئے مجھے اس بارے میں بھی قطعاً کوئی ا فیصلہ کریں گے۔

مجھے اس موضوع پر وزیر اعظم کے ساتھ بحث وزیر اعظم صاحب اس معاملے کے متعلق بہت بیتاب ہیں۔ حامل ہے۔ وزیر اعظم کی سوچ ایک عام مسلمان کی سوچ کی مسلمان کے جذبات ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ وزیر اعظ ہے کہ کوئی شخص اپنے حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور نہ ہی ک عزت اور شہرت سے محروم کیا جائے۔ جناب والا! میں ا ایوان کے اندر جو رہنما موجود ہیں انہوں نے کافی سوچ بچا اس معاملہ کا ایک نہایت ہی مناسب اور منصفانہ فیصلہ ہو۔ دوران میں نے امیر جماعت احمدیہ ربوہ پر واضح کرنے کی نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی کی دل آزاری کرنا چا

٨٤

2713 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

چاہتا ہے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اپنی گزارشات کروں گا اور تمام حقائق اور واقعات کو اختصار کے ساتھ پیش کروں گا)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! ایوان کے سامنے ایک ریزولیوشن اور ایک تحریک ہے۔ تحریک جو کہ معزز وزیر قانون نے پیش کی تھی کا متن حسب ذیل ہے: ”رولز آف بزنس کے قاعدہ نمبر ٢٠٥ کے تحت میں مندرجہ ذیل تحریک پیش کرنے کا نوٹس دیتا ہوں۔ یہ کہ یہ ایوان ایک ایسی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کرے جو کہ پورے ایوان پر مشتمل ہو، اس کمیٹی میں وہ تمام اشخاص شامل ہوں جو ایوان کو خطاب کرنے کا حق رکھتے ہوں۔ نیز ایوان کی کاروائی میں حصہ لینے کا استحقاق رکھتے ہوں۔ سپیکر صاحب! اس خصوصی کمیٹی کے چیئرمین ہوں اور یہ کمیٹی مندرجہ ذیل امور سرانجام دے:

آخری نبی ﷺ ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔

ریزولیوشن وصول کرنا اور ان پر غور کرنا۔

پر غور کرنے کے بعد سفارشات پیش کرنا۔

کمیٹی کی کاروائی کے لئے ”کورم“ چالیس اشخاص کا ہوگا۔ جن میں سے دس کا تعلق ان پارٹیوں سے ہوگا جو کہ قومی اسمبلی کے اندر حکومت کی مخالف ہیں یعنی حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں۔“

جناب والا! ایک دوسرا ریزولیوشن ہے۔ جو کہ اس ایوان کے سینتیس (٣٧) معزز اراکین نے پیش کیا تھا)

------------

(اس مرحلہ پر ڈپٹی سپیکر نے کرسی صدارت سنبھالی اور چیئرمین صاحب نے کرسی صدارت چھوڑ دی)

------------

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! اس ریزولیوشن کا متن یہ ہے: ہم مندرجہ ذیل ریزولیوشن پیش کرنے کی التماس کرتے ہیں۔ ہرگاہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور ہرگاہ مرزا غلام احمد کا جھوٹا دعویٰ نبوت کئی ایک قرآنی آیات کی غلط تاویل کرنے کی

٨٥

صفحہ ٨٦

دھری غلام حسین بھاٹیا

نشست سرگزشت

2715 NA

ن دستاویزات پر غور کرنے گزارشات پیش کروں تو اس نے پیش کی تھی ۔ جناب والا! وقت پر بحث کرنا جو حضرت حیثیت یا حقیقت پر بحث ت پر ایمان نہیں رکھتے وہ ایسے لوگوں کا اسلام سے کوئی یہ کہا جاتا کہ ”اسلام میں یا کہنا کہ اسلام میں حیثیت یا ایک تضاد ہے جو زیادہ اہم سا کہہ سکتے کہ اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے ۔ جناب ادب سے گزارش کروں گا تاہم معزز اراکین اس بات کا پیدا کردہ تھا جس کا واحد ہے کہ مرزا غلام احمد کے ماننے ا۔ اسلام کے دائرے سے کسی نام سے پکارے جاتے ئے ملک کے اندر اور ملک کے غیر مسلم اقلیت قرار دو ۔ یعنی حقوق کا تحفظ کرو ۔ کیا آپ

2714 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

کوشش اور جہاد کو منسوخ کرنے کی کوشش ۔ یہ سب باتیں اسلام کے بنیادی اصولوں کے ساتھ دغا اور فریب ہیں ۔

اور ہر گاہ وہ (مرزا غلام احمد قادیانی) سراسر سامراج کا پیدا کردہ تھا ۔ جس کا واحد مقصد اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا تھا ۔

اور ہر گاہ تمام ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، خواہ وہ اسے نبی مانتے ہوں یا اسے کسی شکل میں بھی مذہبی رہنما یا مصلح متصور کرتے ہوں ۔ تمام کے تمام دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔

اور ہر گاہ اس کے پیروکار خواہ وہ کسی بھی نام سے جانے جاتے ہوں ۔ سب کے سب اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہوئے ملک کے اندر اور ملک سے باہر تخریب کاری میں ملوث ہو رہے ہیں ۔

اور ہر گاہ ٦؍ اپریل تا ١٠؍ اپریل ١٩٧٤ء کو مکہ المکرمہ میں ورلڈ مسلم آرگنائزیشن کی کانفرنس جو کہ رابطہ عالم اسلامی کے تحت منعقد ہوئی اور جس میں تمام دنیا کی ١٤٠ تنظیموں نے حصہ لیا ۔ اس کانفرنس نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ قادیانیت ، اسلام اور تمام عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو کہ محض جھوٹ اور فریب سے اپنے کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتی ہے ۔

چنانچہ یہ اسمبلی یہ اعلان کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار ، خواہ وہ کسی نام سے بھی پکارے جاتے ہوں ۔ مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ اسمبلی میں ایک مسودہ قانون پیش کیا جائے ۔ تاکہ اس اعلان کو قانونی طور پر نافذ کرنے کے لئے آئین میں ضروری ترمیم کی جاسکیں اور ان کے جائز قانونی حقوق کو بطور غیر مسلم اقلیت کے تحفظ دیا جاسکے ۔

جناب والا ! یہ دو تحریکیں ہیں ۔ ایک ریزولیوشن ہے اور ایک تحریک ، ان کے علاوہ کچھ اور ریزولیوشن بھی ہیں جو کہ اس ایوان کے زیرغور ہیں ۔ لیکن ان کا زیادہ تر تعلق آئینی ترامیم کی تجاویز کے بارے میں ہے ۔ دو وجوہات کے باعث میں ان کے متعلق کچھ گذارش پیش کروں گا ۔ نمبر ایک صرف یہی دو دستاویزات اخباروں میں شائع ہوئی تھیں اور ان دستاویزات کی بنیاد پر متعلقہ جماعت (احمدیہ) نے اپنے اپنے جوابات اور عرض داشتیں پیش کی تھیں ۔ ان کے بیانات بھی ان ہی دستاویزات کی بنیاد پر لئے گئے تھے ۔ اس لئے دوسرے ریزولیوشن کے بارے میں کچھ کہنا قرین انصاف نہ ہوگا ۔ کمیٹی کو ان کے بارے میں کاروائی کرنے کا پورا اختیار ہے ۔ جسے کسی مرحلہ پر استعمال کرنے کی مجاز ہے ۔ تاہم میں اپنی گذارشات کو ان دو دستاویزات تک محدود رکھوں

صفحہ ٢٧١٥

سرگزشت ختم نبوت

چوہدری غلام حسین بھٹی

MBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

کوشش اور جہاد کو منسوخ کرنے کی کوشش۔ یہ سب با اور فریب ہیں۔

اور ہرگاہ وہ (مرزا غلام احمد قادیانی) سرا اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اسلام کو بد نام کرنا تھا۔

اور ہر گاہ تمام ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ نبی مانتے ہوں یا اسے کسی شکل میں بھی مذہبی رہنما یا اسلام سے خارج ہیں۔

اور ہر گاہ اس کے پیروکار خواہ وہ کسی بھی اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہوئے ملکہ ملوث ہورہے ہیں۔

اور ہرگاہ ٦؍ اپریل تا ١٠؍ اپریل ١٩٧٤ء کانفرنس جو کہ رابطہ عالم اسلامی کے تحت منعقد ہوئی ا لیا۔ اس کانفرنس نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ قادیانیہ تخریبی تحریک ہے جو کہ محض جھوٹ اور فریب سے است

چنانچہ یہ اسمبلی یہ اعلان کرتی ہے کہ مرزا ا پکارے جاتے ہوں۔ مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ اسمبلی اس اعلان کو قانونی طور پر نافذ کرنے کے لئے آئین قانونی حقوق کو بطور غیر مسلم اقلیت کے تحفظ دیا جاسکے

جناب والا! یہ دو تحاریک ہیں۔ ایک ریز اور ریزولیوشن بھی ہیں جو کہ اس ایوان کے زیرغور ہیں تجاویز کے بارے میں ہے۔ دو وجوہات کے باعث نمبر ایک صرف یہی دو دستاویزات اخباروں میں شا متعلقہ جماعت (احمدیہ) نے اپنے اپنے جوابات او بھی ان ہی دستاویزات کی بنیاد پر لئے گئے تھے۔ ا کچھ کہنا قرین انصاف نہ ہوگا۔ کمیٹی کو ان کے بارے مرحلہ پر استعمال کرنے کی مجاز ہے۔ تاہم میں اپنی گذ

٨٦

2715 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

گا اور مختصر تبصرہ کروں گا۔ پیشتر ازیں کہ اس ضابطہ پر بات کروں جو کہ ان دستاویزات پر غور کرنے کے لئے اختیار کیا گیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ اگر میں بے باکی سے اپنی گذارشات پیش کروں تو اس کا غلط مطلب نہیں لیا جائے گا۔

آغاز میں پہلے وہ تحریک جو کہ عزت مآب وزیر قانون نے پیش کی تھی۔ جناب والا! تحریک کے الفاظ ہیں: ”دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔“

آئیے! پہلے اس جملہ یا ترکیب کو لیں۔ ”اسلام کے اندر حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا۔“ اگر ایوان کی یہ رائے ہو کہ جو لوگ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے وہ مسلمان نہیں ہیں۔ تو پھر ایسے لوگوں کا اسلام میں کوئی مقام نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ تحریک بذات خود اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔ اگر یہ کہا جاتا کہ ”اسلام میں یا اسلام کے حوالہ سے بحث کرنا“ تو پھر بات سمجھ میں آسکتی تھی۔ لیکن یہ کہنا کہ اسلام میں حیثیت یا مقام اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک تضاد ہے جو زیادہ اہم نہ بھی ہو۔ لیکن یہ تضاد ایوان کے نوٹس میں لانا میرا فرض تھا۔ یہ آپ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے۔ ہاں! یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے حوالے سے ان کی حیثیت کیا ہے۔ جناب والا! جو ریزولیوشن سینتیس (٣٧) اراکین نے پیش کی ہے میں نہایت ادب سے گزارش کروں گا کہ اس میں بھی کچھ تضاد ہے۔ میں زیادہ تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا۔ تاہم معزز اراکین اس بات کو نوٹ کریں کہ ایک جگہ کہا گیا ہے کہ: ”ہرگاہ مرزا غلام احمد سامراج کا پیدا کردہ تھا جس کا واحد مقصد اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا تھا۔“

پھر آگے چل کر کہا گیا: ”ہرگاہ ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے ماننے والے خواہ وہ اسے نبی مانتے ہوں یا مذہبی رہنما یا مصلح تصور کرتے ہوں۔ اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔“

پھر آگے چل کر: ”(مرزا غلام احمد کے) پیروکار خواہ وہ کسی نام سے پکارے جاتے ہوں۔ سب کے سب اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہوئے ملک کے اندر اور ملک کے باہر تخریب کاری میں ملوث ہورہے ہیں۔“

یہ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے بعد مطالبہ ہے کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دو۔ یعنی غیر مسلم مذہبی اقلیت اور آئین میں ترمیم کرو اور ان کے جائز قانونی حقوق کا تحفظ کرو۔ کیا آپ

٨٧

صفحہ ٢٧١٦

2716 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

تخریب کاری کو دوام دینا چاہتے ہیں۔ کیا آپ ان چیزوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں جن کا ذکر دیباچہ میں کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا تھا۔ ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ انہیں ایک اقلیت قرار دو۔ ایک الگ اکائی بناؤ اور جب آپ ایسے کرتے ہیں تو آپ کو ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر چارہ کار نہیں اور یہ ریزولیوشن کا ایک بہت ہی عمدہ جزو ہے۔ میں اس کی قدر کرتا ہوں۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے جائز حقوق کا قانونی تحفظ کیا جائے تو اس کی تعریف کرتا ہوں۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ ( جماعت احمدیہ ) ایک تخریبی تحریک ہے۔ وہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر تخریب کاری میں ملوث ہیں۔ وہ تخریب کاری کیا ہے۔ ان کے اپنے مذہب (یا عقیدے) کا پرچار۔ ان کے (اپنے عقیدے کے مطابق ) مذہب پر عمل درآمد، آپ ان کے حقوق کا تحفظ بھی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی مذمت بھی کرتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں یک جا نہیں ہو سکتیں۔ یہ تو بالکل صاف بات ہے۔ میں کوئی تنقید نہیں کر رہا۔ مجھے تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن میرا فرض ہے کہ میں معزز اراکین کی توجہ اس امر کی طرف دلاؤں کہ اگر آپ شہری آبادی کے کسی حصے کو ایک الگ مذہبی جماعت قرار دیتے ہیں تو پھر نہ صرف ملک کا آئین بلکہ آپ کا مذہب تقاضا کرتا ہے کہ آپ ان کے حقوق کی حفاظت کریں۔ ان کو اپنے مذہب کے پرچار اور عمل کا حق دیں۔ اس سے زیادہ میں کچھ اور نہیں کہنا چاہتا۔ کیونکہ مجھے پورا احساس ہے کہ میرے پاس وقت بہت ہی محدود ہے۔

چنانچہ ان دو دستاویزات کی روشنی میں (تحریک اور ریزولیوشن ) اس معزز ایوان نے کچھ متنازعہ امور کا فیصلہ کرنا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ۔

میں اور اسلام کے حوالے سے دونوں کا ذکر کیا ہے۔

ہوتا ہے۔

موعود مانتے ہیں یا دونوں حیثیتوں سے مانتے ہیں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

نہیں مانتے۔ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں۔

٨٨

صفحہ ٢٧١٧

قومی اسمبلی میں

ختم نبوت

MBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

تخریب کاری کو دوام دینا چاہتے ہیں۔ کیا آپ ان دیباچہ میں کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس کی ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ انہیں ایک اقلیت قرار کرتے ہیں تو آپ کو ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا ایک بہت ہی عمدہ جزو ہے۔ میں اس کی قدر کرتا ہوں قانونی تحفظ کیا جائے تو اس کی تعریف کرتا ہوں۔ ایک تخریبی تحریک ہے۔ وہ ملک کے اندر اور ملک کے ظاہر کیا ہے۔ ان کے اپنے مذہب (یا عقیدے مطابق) مذہب پر عمل درآمد، آپ ان کے حقوق کا مذمت بھی کرتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں ایک جائز کوئی تنقید نہیں کر رہا۔ مجھے تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں توجہ اس امر کی طرف دلاؤں کہ اگر آپ شہری آبادی دیتے ہیں تو پھر نہ صرف ملک کا آئین بلکہ آپ کا اپنا حفاظت کریں۔ ان کو اپنے مذہب کے پرچار اور عمل چاہتا۔ کیونکہ مجھے پورا احساس ہے کہ میرے پاس وقت

چنانچہ ان دو دستاویزات کی روشنی میں ( کچھ متنازعہ امور کا فیصلہ کرنا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں

میں اور اسلام کے حوالے سے دونوں کا ذکر کیا ہے۔

ہوتا ہے۔

موعود مانتے ہیں یا دونوں حیثیتوں سے مانتے ہیں، دائرہ

نہیں مانتے۔ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتے

٨٨

2717 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہے ۔ یا کہ اس نے اسلام کے اندر ہی نئے فرقے کا آغاز کیا۔

کیا مقام یا حیثیت ہوگی اور آئین کے مطابق اس جماعت کے حقوق کیا ہوں گے۔

(قادیانیوں اور لاہوریوں کی اسمبلی میں پیش ہونے کی درخواست)

اب میں مختصر طور پر ان واقعات کا ذکر کروں گا جو ریزولیوشن اور تحریک کے پیش ہونے کے دن سے رونما ہوئے۔ یہ (ریزولیوشن اور تحریک ) ٣٠/ جون ١٩٧٤ء کو پیش کئے گئے تھے۔ ان کے شائع ہونے کے بعد مرزا غلام احمد کے ماننے والے دوگروپوں کی طرف سے دو یادداشتیں داخل کی گئی تھیں۔ اس کے بعد دونوں گروپوں کے نمائندوں کو بلایا گیا تھا کہ وہ حلف لینے کے بعد اپنے بیانات اور یادداشتوں کو پڑھ کر سنائیں۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے زبانی بیان دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاکہ وہ اپنا نقطہ نظر زیادہ طور پر واضح کر سکیں۔ جو دستاویزات انہوں نے داخل کیں۔ ان میں ریزولیوشن میں عائد کردہ تمام الزامات سے انکار کیا گیا۔ ایوان کی کمیٹی نے ایک سٹیئرنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ سوالات کو وصول کرے اور ان کا تجزیہ کرے۔ اس مقصد کے لئے کمیٹی نے مجھے ہدایت کی تھی۔ ٢٥/جولائی ١٩٧٤ء سے اسلام آباد میں موجود رہوں۔ اسی ہدایت کے مطابق میں ٢١/جولائی کو اسلام آباد آ گیا تھا۔ سٹیئرنگ کمیٹی نے سوالات کی جانچ پڑتال ایک ہفتہ میں کر لی۔ حالانکہ سوالات سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔ مرزا ناصر احمد کی سربراہی میں احمدیہ جماعت ربوہ کا بیان ٥/اگست تا ١٠/اگست کو ہوا۔ اس کے بعد دس یوم کا وقفہ رہا۔ مرزا ناصر احمد کا مزید بیان ٢٠/اگست تا ٢٤/اگست ہوا۔ کل گیارہ روز تک بیان ہوتا رہا۔ اس کے بعد احمدیہ جماعت کے دوسرے گروہ کا بیان ہوا۔ جس کے سربراہ مولانا صدرالدین تھے۔ چونکہ مولانا صدرالدین کافی بوڑھے ہیں اور اچھی طرح بات سننے کی قوت نہیں رکھتے۔ اس لئے ان کا بیان میاں عبدالمنان عمر کے وسیلہ سے ہوا۔ ان کا بیان دو دن میں ہوا۔ یہ اس وجہ سے نہیں ہوا کہ ایوان کسی قسم کا امتیاز برت رہا تھا۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ بہت سے حقائق، دستاویزات اور مرزا غلام احمد کی تحریریں پہلے گروپ کے بیانات میں ریکارڈ پر آ چکے تھے اور جہاں تک دوسرے گروہ کا تعلق ہے۔ مزید تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہ تھی۔

٨٩

صفحہ ٢٧١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

(مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت)

جہاں تک پہلے متنازعہ امر کا تعلق ہے۔ یعنی کیا مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا یا نہیں ۔ اس سلسلے میں مرزا غلام احمد کی زندگی، تصانیف اور احمدیہ تحریک کے بارے میں اختصار کے ساتھ ذکر کرنا سود مند ہوگا۔ اس طرح حقیقت میں میں دراصل پہلے متنازعہ امر کا احاطہ ہی کروں گا۔ مرزا ناصر احمد نے مرزا غلام احمد کے زندگی کے مختصراً حالات اس طرح بیان کئے: ”آپ ١٣؍ فروری ١٨٣٥ء کو قادیان میں پیدا ہوئے لے ۔ آپ کے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ صاحب تھا۔ آپ کی ابتدائی تعلیم چند استادوں کے ذریعے سے گھر پر ہی ہوئی۔ آپ کے اساتذہ کے نام فضل الٰہی، فضل احمد اور گل محمد تھے۔ جن سے آپ نے فارسی، عربی اور دینیات کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور علم طب اپنے والد صاحب سے پڑھا۔

آپ شروع سے ہی اسلام کا درد رکھتے تھے اور دنیا سے کنارہ کش تھے۔ آپ کا ایک شعر ہے۔

دگر استاد را نامے ندانم
کہ خواندم در دبستان محمدؐ

آپ نے عیسائیوں اور آریوں کے ساتھ ١٨٧٦ء کے قریب اسلام کی طرف سے مناظرے اور مباحثے بھی کئے اور ١٨٨٤ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب ’براہین احمدیہ‘ کی اشاعت کی۔ جو قرآن کریم آنحضرت ﷺ اور اسلام کی تائید میں ایک بے نظیر کتاب مانی گئی ہے۔ ١٨٨٩ء میں آپ نے باذن الٰہی سلسلہ بیعت کا آغاز کیا اور ١٨٩١ء میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ کیا۔

آپ کی تمام عمر اسلام کی خدمت میں گزری اور آپ نے ٨٠ کے قریب کتابیں تصنیف فرمائیں جو عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں ہیں اور ان تینوں زبانوں میں آپ کا منظوم کلام بھی ملتا ہے۔ آپ کا اور آپ کی جماعت کا واحد مقصد دنیا میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ تھا اور ہے۔ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو آپ کی وفات ہوئی اور ملک کے اخباروں، رسالوں نے آپ کی اسلامی خدمات کا پرزور الفاظ میں اعتراف کیا۔

لے مرزا ناصر احمد کا کذب محض اور خالص دجل ہے۔ مرزا قادیانی ١٩٣٥ء میں نہیں بلکہ ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات اس پر گواہ ہیں۔ تفصیل گزر چکی ہے۔

٩٠

صفحہ ٢٧١٩

سرگزشت قادیانیت چودھری غلام حسین بھاٹیہ

BLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

(مرزا قادیانی ک

جہاں تک پہلے متنازعہ امر کا تعلق ہے نہیں۔ اس سلسلے میں مرزا غلام احمد کی زندگی ، تصا ساتھ ذکر کرنا سود مند ہوگا۔ اس طرح حقیقتِ ع گا۔ مرزا ناصر احمد نے مرزا غلام احمد کے زندگی ١٣ فروری ١٨٣٥ء کو قادیان میں پیدا ہوئے ۔ آ تھا۔ آپ کی ابتدائی تعلیم چند استادوں کے ذری فضل الٰہی ، فضل احمد اور گل محمد تھے۔ جن سے آ حاصل کی اور علم طب اپنے والد صاحب سے پڑھا آپ شروع سے ہی اسلام کا درد رکا شعر ہے؎

دگر استاد را
کہ خواندم و

آپ نے عیسائیوں اور آریوں کے مناظرے اور مباحثے بھی کئے اور ١٨٨٤ء میں اپ کی۔ جو قرآن کریم آنحضرت ﷺ اور اسلام ١٨٨٩ء میں آپ نے باذنِ الٰہی سلسلہ بیعت کا ”مسیح موعود“ ہونے کا دعویٰ کیا۔ آپ کی تمام عمر اسلام کی خدمت ا تصنیف فرمائیں جو عربی ، فارسی اور اردو تینوں ز منظوم کلام بھی ملتا ہے۔ آپ کا اور آپ کی جماع اور ہے۔ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو آپ کی وفات ہو اسلامی خدمات کا پر زور الفاظ میں اعتراف کیا۔

١؎ مرزا ناصر احمد کا کذب محض اور خالص ١٨٤٠ء میں پیدا ہوا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی اپنی تحری

2719 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

آپ کی وفات کے وقت آپ کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور اس وقت آپ کے خاندان کے افراد کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔‘‘

محترم! مرزا غلام احمد کی زندگی کے بارے میں میں کچھ مزید تفصیلات بیان کروں گا جو کہ مجھے ان دستاویزات سے حاصل ہوئی ہیں جو مجھے دیکھنے کا موقع ملا۔

مرزا غلام احمد کا تعلق پنجاب کے معروف اور معزز ”مغل خاندان“ سے تھا جو کہ مغل بادشاہ بابر کے زمانے میں سمرقند سے ہندوستان نقل مکانی کر کے آیا تھا۔ مرزا غلام احمد کے اجداد میں سے ہندوستان آنے والے پہلے شخص کا نام مرزا ہادی بیگ تھا۔ Lepel Griffin ”لیکل گرفن“ نے اپنی کتاب ”پنجاب چیف“ میں لکھا ہے کہ: ”مرزا ہادی بیگ کو قادیان کے گرد و پیش ستر (٧٠) دیہاتوں پر قاضی یا مجسٹریٹ تعینات کیا گیا تھا۔ قادیان جسے مرزا ہادی بیگ نے آباد کیا، کا پہلا نام ”اسلام پور قاضی“ تھا۔ جو بعد میں بدلتے بدلتے قادیان بن گیا۔ کئی نسلوں تک یہ خاندان سرکاری عہدوں پر فائز رہا۔ جب سکھ اقتدار میں آئے تو یہ خاندان کسمپرسی اور غربت کا شکار ہو گیا۔“

اس کے بعد میں جسٹس منیر احمد (مرحوم) کی انکوائری کمیٹی ٥٤-١٩٥٣ء کی رپورٹ سے اقتباس عرض کروں گا۔ مرزا غلام احمد کے متعلق کورٹ آف انکوائری رپورٹ میں درج ذیل ہے: ”مرزا غلام مرتضیٰ جو کہ سکھ دربار کا جرنیل تھا، کا پوتا۔ اس نے فارسی اور عربی زبان کی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ مگر کوئی مغربی تعلیم حاصل نہ کی۔ ١٨٦٤ء میں اس نے ضلع کچہری سیالکوٹ میں کوئی ملازمت حاصل کی اور چار سال ملازمت میں گزارے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ دل و جان سے مذہبی ادب کی طرف متوجہ ہوا اور ٨٤-١٨٨٠ء کے درمیان مشہور زمانہ کتاب ”براہین احمدیہ“ چار جلدوں میں تصنیف کی۔ اس کے بعد اور کتابیں تصنیف کیں۔ اس زمانے میں شدید مذہبی تکرار اور مناظرے ہو رہے تھے۔ اسلام پر نہ صرف عیسائیوں بلکہ آریہ سماج کی طرف سے بار بار حملے ہو رہے تھے۔ آریہ سماج ایک ہندو تحریک تھی جو کہ ان دنوں ہر دلعزیز بنتی جا رہی تھی۔“

میرے خیال میں جسٹس منیر احمد کا یہ کہنا درست نہیں کہ مرزا غلام احمد، مرزا غلام مرتضیٰ کا پوتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ، مرزا غلام احمد کے والد کا نام ہے۔ (نہ کہ دادا کا) ایوان میں مرزا ناصر احمد کے بیان کے مطابق ٨٠-١٨٦٠ء کے درمیان انگریز اپنے ساتھ پادریوں کی ایک فوج ظفر موج لائے تھے۔ جن کی تعداد کوئی ستر کے لگ بھگ تھی۔ جس کے باعث شدید قسم کے مذہبی مناظرے شروع ہو گئے۔ ان پادریوں نے اعلان کر دیا تھا کہ وہ

٩١

صفحہ ٢٧٢٠

ہفت روزہ چٹان چودھری غلام حسین ٹاہلیہ 2720 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19 ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنادیں گے۔ ان پادریوں کے اسلام اور حضرت محمد ﷺ پر حملوں کے بارے میں مرزا ناصر احمد نے کہا: ”حکومت کے بل بوتے پر انہوں نے یہ کیا اور کر رہے تھے۔“

مرزا ناصر احمد کے مطابق چند علماء اور اسلام کا درد رکھنے والے رہنما عیسائیوں کے حملوں کو روکنے کے لئے آگے بڑھے ایسے لوگوں میں نواب صادق (صدیق) حسن خان، مولوی آل حسن، مولوی رحمت اللہ مہاجر دہلوی، احمد رضا صاحب اور مرزا غلام احمد شامل تھے۔ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ میں ان سب کو تو نہیں جانتا تاہم میرا ایمان صرف مرزا غلام احمد پر ہی نہیں ان سب پر ہے۔ ”اللہ نے فراست دی تھی، اسلام کا پیار دیا تھا۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی کے نامناسب رویے)

اور یہی وجہ تھی جس کی وجہ سے وہ عیسائیوں کے اسلام اور حضرت محمد ﷺ پر حملوں کو پسپا کرنے کے لئے میدان میں آئے۔ یہی مباحثے اور مناظرے مرزا غلام احمد سمیت ان تمام مسلمانوں کی ہردلعزیزی کا باعث بنے۔ وہ مسلمانوں کے ہیرو بن گئے اور ایسا معلوم ہوتا ہے۔ اسلام کے خلاف حملوں کی پسپائی میں مرزا غلام احمد ہردلعزیزی میں سرفہرست تھا۔ گویہ بات شہادت سے بالکل عیاں ہوتی ہے کہ ان حملوں کی پسپائی کے لئے جو طریقے اختیار کئے گئے۔ ان میں سے چند ایک نامناسب بلکہ قابل اعتراض تھے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جس طرح توہین کی گئی۔ یہ نہ صرف آج بھی قابل اعتراض ہے۔ بلکہ اس دور میں مسلمانوں نے اس پر اعتراضات کئے تھے۔ اس دور میں بھی مرزا غلام احمد کو بار بار وضاحتیں کرنا پڑتی تھیں۔ میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ یہ غالباً اس ہردلعزیزی کا ہی نتیجہ تھا کہ ١٨٨٩ء میں مرزاغلام احمد نے ٥٤ سال کی عمر میں اپنے پیروکاروں اور معتقدین سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا۔ پتہ چلتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے ”براہین احمدیہ“ میں پہلے ہی ذکر کر دیا ہوا تھا کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے رابطہ قائم ہے اور اسے الہامی پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ یہ سب کو معلوم تھا۔ دسمبر ١٨٨٩ء میں مرزا غلام احمد کے بیٹے یعنی خلیفہ دوئم جماعت احمدیہ ربوہ یا قادیان کے مطابق۔ مرزا غلام احمد نے اس تحریک کی بنیاد رکھی۔ مارچ ١٨٨٩ء میں حقیقتاً اس تحریک کی بنیاد رکھی گئی۔ تحریک کی ابتداء میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے نبی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ تاہم یہ ذکر ملتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے پیروکاروں سے بیعت لینا شروع کر دیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کو پیروکار ملتے رہے۔ وجہ یہ تھی کہ مرزا غلام احمد ایک قابل انسان تھا۔ جس کی تحریروں میں بلا کی روانی اور طاقت تھی۔ وہ روانی کے ساتھ عربی، فارسی اور اردو میں لکھتا تھا۔ ہاں! ایک حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ ١٨٨٩ء میں

٩٢

2721 NATIO زاغلام احمد کو الہام ہوا کہ وہ مسیح دیان سے لدھیانہ گیا اور اپنے دیان میں کیوں نہ کر دیا۔ اس کا ور سچا اسلام‘ (ص ١٠) سے مجھے ی ادب میں میں نے پڑھا ہے ے گا۔ غالباً اس کے پیش نظر نا بیعت لینا چاہئے۔ اس نے ر پر گذارش کرنا چاہتا ہوں۔ میں عرض کروں گا۔

کہ ایک سنگین اعتراض یہ عائد اور مشورے کی مرہون منت ت سے علمی ادب پاروں میں شہ اس وقت پیدا کیا گیا جب اد ہوا۔ یہ سب انگریزوں نے ۔ یہ بھی ایک پہلو ہے جس کی احمد کے پیروکاروں کے لئے ے وقت کرتے ہیں۔ یہ ایک مسلمان بہت مخالفت کرتے تیارات کو غصب کر رکھا تھا، ہونے کی وجہ سے احمدی یا کے جاسوس مل گئے تھے۔ ( مرزائیوں/ احمدیوں کو قتل کر یسی دستاویزات برآمد ہوئی

صفحہ ٢٧٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

اس بارے میں کچھ شبہ ہے۔ ایک جگہ دسمبر ١٨٨٩ء کا ذکر ہے۔ مرزا غلام احمد کو الہام ہوا کہ وہ مسیح موعود ہے۔ کہیں اس نے اس کا اظہار یا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ وہ قادیان سے لدھیانہ گیا اور اپنے پیروکاروں سے بیعت لی۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس نے اس کا اعلان قادیان میں کیوں نہ کر دیا۔ اس کا فیصلہ آپ پر منحصر ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد کی کتاب ”احمدیت اور سچا اسلام“ (ص١٠) سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ وہاں بیعت لینے گیا تھا۔ دوسری جگہ کسی اور اسلامی ادب میں میں نے پڑھا ہے کہ مسیح موعود اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان ”لد“ نامی جگہ پر کرے گا۔ غالباً اس کے پیش نظر مرزا غلام احمد نے ”لدھیانہ“ جانا مناسب خیال کیا کہ وہاں جاکر ہی بیعت لینا چاہئے۔ اس نے اس کا آغاز قادیان سے نہیں کیا۔ یہ بات میں آپ کو خصوصی طور پر گذارش کرنا چاہتا ہوں۔ عیسائیوں کے ساتھ مناظروں کے بارے میں میں مزید تفصیلات بعد میں عرض کروں گا۔

(قادیانی انگریز کے جاسوس)

ایوان کے نوٹس میں یہ بات لانا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ ایک سنگین اعتراض یہ عائد کیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد کی نبوت اور احمدیہ تحریک انگریز کی ایماء اور مشورے کی مرہون منت ہے۔ اس بات کا ذکر صرف ریزولیوشن میں ہی نہیں کیا گیا۔ بلکہ بہت سے علمی ادب پاروں میں بھی ذکر ملتا ہے کہ (مرزا غلام احمد کی نبوت اور احمدیہ تحریک) کا شوشہ اس وقت پیدا کیا گیا جب سوڈان سے لے کر سماٹرا تک بیرونی سامراجیت کے خلاف اعلان جہاد ہوا۔ یہ سب انگریزوں نے جہاد کو روکنے کے لئے کیا اور مرزا غلام احمد کی خدمات سے فائدہ اٹھایا۔ یہ بھی ایک پہلو ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کے لئے انگریزوں سے مکمل وفاداری جزو ایمان ہے۔ اس کا عہد وہ بیعت کے وقت کرتے ہیں۔ یہ ایک نہایت ہی اہم بات ہے۔ کیونکہ انگریزوں سے وفاداری کی شرط کی مسلمان بہت مخالفت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ بیرونی سامراجیت جس نے ان کی حکومت اور اختیارات کو غصب کر رکھا تھا، سے نجات حاصل کی جائے۔ انگریزوں سے وفاداری کی شرط ایمان ہونے کی وجہ سے احمدی یا مرزا غلام احمد کے پیروکاروں کی شکل میں انگریزوں کو بہت ہی اعلیٰ قسم کے جاسوس مل گئے تھے۔

(افغانستان میں دو قادیانیوں کا قتل)

ہمیں اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ ١٩٢٥ء میں افغانستان میں دو مرزائیوں / احمدیوں کو قتل کر دیا گیا نہ محض اس وجہ سے کہ وہ مرتد ہو گئے تھے۔ بلکہ ان کے قبضہ سے ایسی دستاویزات برآمد ہوئی

٩٣

چوہدری غلام حسین بھٹہ

قادیانیت

اسلام کے

کٹہرے میں

SEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنا دیں گے۔ ان پادریوں کے بارے میں مرزا ناصر احمد نے کہا: ”حکومت کے بل بوتے پر مرزا ناصر احمد کے مطابق چند علماء اور اسلامی حملوں کو روکنے کے لئے آگے بڑھے ایسے لوگوں میں نو آل حسن، مولوی رحمت اللہ مہاجر دہلوی، احمد رضا صاحب احمد نے کہا کہ میں ان سب کو تو نہیں جانتا تاہم میرا ایمان پر ہے۔ ”اللہ نے فراست دی تھی، اسلام کا پیار دیا تھا ۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے)

اور یہی وجہ تھی جس کی وجہ سے وہ عیسائیوں کے کرنے کے لئے میدان میں آئے۔ یہی مباحثے اور مسلمانوں کی ہر دلعزیزی کا باعث بنے۔ وہ مسلمانوں اسلام کے خلاف حملوں کی پسپائی میں مرزا غلام احمد شہادت سے بالکل عیاں ہوتی ہے کہ ان حملوں کی پسپائی میں سے چند ایک نامناسب بلکہ قابل اعتراض تھے۔ توہین کی گئی۔ یہ نہ صرف آج بھی قابل اعتراض ہے اعتراضات کئے تھے۔ اس دور میں بھی مرزا غلام احمد کو تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ یہ غالباً اس ہر دلعزیزی کا ٥٤ سال کی عمر میں اپنے پیروکاروں اور معتقدین سے مرزا غلام احمد نے ”براہین احمدیہ“ میں پہلے ہی ذکر کر دیا اور اسے الہامی پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ یہ سب ک کے بیٹے یعنی خلیفہ دوئم جماعت احمدیہ ربوہ یا قادیان بنیاد رکھی۔ مارچ ١٨٨٩ء میں حقیقتاً اس تحریک کی بنیاد ہوتا کہ اس نے نبی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ تا پیروکاروں سے بیعت لینا شروع کر دیا تھا۔ اس میں کوئی یہ تھی کہ مرزا غلام احمد ایک قابل انسان تھا۔ جس کی تحریر کے ساتھ عربی، فارسی اور اردو میں لکھتا تھا۔ ہاں! ایک

٩٢

صفحہ ٢٧٢٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

تھیں جن سے پتہ چلا کہ وہ انگریز حکومت کے جاسوس تھے اور وہ افغان حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ ایوان کے نوٹس میں میں یہ حقائق لانا چاہتا ہوں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ درست یا سچ ہیں۔

جہاں تک مرزا صاحب کی قرآن کے فہم یا سوچ کا تعلق ہے۔ میں سمجھتا ہوں وہ کم وبیش سرسید احمد خان جیسی ہی ہے۔ ماسوائے چند آیات کے جن کا تعلق حضرت مسیح علیہ السلام سے ہے یا جن کا تعلق مرزا صاحب کی اپنی نبوت کے بارے میں ہے۔ وہ قرآن کے فہم کا ادراک رکھتا تھا۔ اپنے مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے اس کا نمایاں ہتھیار اس کی وہ پیش گوئیاں تھیں جن کے ذریعہ وہ محدود مدت کے اندر اندر مخالفین کی موت یا تذلیل کا دعویٰ کیا کرتا تھا۔

محترم! ١٨٩١ء میں مرزا صاحب نے پہلے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور بعد میں نبی ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے کس قسم کی نبوت کا اعلان کیا۔ اس کا ذکر میں بعد میں کروں گا۔

مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد اپنی کتاب ”احمدی یا سچا اسلام“ میں لکھتے ہیں: ”اس کا کام ان غلطیوں اور غلط توجیہات کا ازالہ کرنا تھا جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دین کے اندر سرایت کر گئی تھیں۔ بلکہ اس کو اس سے بھی اعلیٰ مقصد کی تکمیل کرنا تھی۔ اس ضمن میں اس کو لامحدود خزانے، اٹل سچائیاں اور پوشیدہ قوتیں تلاش کرنا تھیں۔ قرآن کے اس معجزے کا اعلان کرتے ہوئے مسیح موعود نے ایک روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ مسلمانوں کا یہ تو پختہ ایمان تھا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے۔ لیکن گذشتہ پندرہ سو سالوں میں کسی نے یہ خیال نہیں کیا تھا کہ قرآن کریم نہ صرف مکمل کتاب ہے۔ بلکہ اس میں مستقبل کی ضروریات کے لئے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا ذخیرہ موجود ہے جس کی تفتیش اور تحقیق سے روحانیت کے انمول خزانے رونما ہوں گے۔ دنیا کے سامنے قرآن کے اس اعجاز کو نمایاں کر کے بانی سلسلہ احمدیہ نے روحانیت کی تفتیش اور تحقیق کے راستے کھول دیئے۔ یہ دنیاوی سائنس کے مقابلہ میں بہت ہی اعلیٰ اقدام ہے۔ مرزا غلام احمد نے نہ صرف اسلام کو تمام غلطیوں سے پاک کر دیا۔ بلکہ قرآن کریم پر ایسی روشنی ڈالی جس سے دنیا اور انسانیت کے سامنے عقل و دانش کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا۔ گویا مستقبل کی تمام مشکلات کو حل کرنے کی کلید پیش کر دی۔“

(مرزا قادیانی کی ذاتی اغراض)

محترم! اس بارے میں صرف ایک دو باتیں کروں گا۔ یعنی یہ کہ مرزا غلام احمد نے ان پوشیدہ خزانوں کا پتہ لگا لیا۔ جن تک گذشتہ تیرہ سو سالوں میں کوئی مسلمان نہیں پہنچ سکا تھا۔ اس میں کسی شک و شبہ یا تردید کی گنجائش نہیں کہ قرآن کریم خزائن کا مجموعہ ہے۔ یہ عقل وحکمت کا منبع

٩٤

صفحہ ٢٧٢٣

مسئلہ ختم نبوت

SEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

تھیں جن سے پتہ چلا کہ وہ انگریز حکومت کے جاسوس تھے۔ ایوان کے نوٹس میں میں یہ حقائق لانا چاہتا ہوں۔

جہاں تک مرزا صاحب کی قرآن کے فہم یا و بیش سرسید احمد خان جیسی ہی ہے۔ ماسوائے چند آیات طے یا جن کا تعلق مرزا صاحب کی اپنی نبوت کے بارے تھا۔ اپنے مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے اس کا نما کے ذریعہ وہ محدود مدت کے اندر اندر مخالفین کی موت یا

محترم! ١٨٩١ء میں مرزا صاحب نے پہلے ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے کس قسم کی نبوت کا اعلا مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد اپنی کتاب کا کام ان غلطیوں اور غلط تو جیہات کا ازالہ کرنا تھا جو کہ سرایت کر گئی تھیں۔ بلکہ اس کو اس سے بھی اعلیٰ مقصد کی خزانے، اٹل سچائیاں اور پوشیدہ قوتیں تلاش کرنا تھی ہوئے مسیح موعود نے ایک روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ ایک مکمل کتاب ہے۔ لیکن گذشتہ پندرہ سو سالوں میں صرف مکمل کتاب ہے۔ بلکہ اس میں مستقبل کی ضروریا موجود ہے جس کی تفتیش اور تحقیق سے روحانیت کے اتم قرآن کے اس اعجاز کو نمایاں کر کے بانی سلسلہ احمدیہ کھول دیئے۔ یہ دنیاوی سائنس کے مقابلہ میں بہت صرف اسلام کو تمام غلطیوں سے پاک کر دیا۔ بلکہ قرا انسانیت کے سامنے عقل و دانش کی تسکین کا سامان بہ کرنے کی کلید پیش کر دی۔“

(مرزا قادیانی کی ذا

محترم! اس بارے میں صرف ایک دو باتیں پوشیدہ خزانوں کا پتہ لگا لیا۔ جن تک گذشتہ تیرہ سو سالوں کسی شک وشبہ یا تردید کی گنجائش نہیں کہ قرآن کریم

٩٤

2723 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

ہے۔ جوں جوں انسان ترقی کرے گا اور قرآن کے اندر گہرا تدبر کرے گا۔ عقل ودانش کے اسرار ورموز اس پر عیاں ہوتے چلے جائیں گے۔ میں نے مرزا ناصر احمد سے خصوصی طور پر سوال کیا کہ وہ کون سے انکشافات تھے جو مرزا غلام احمد سے قبل کسی اور مسلمان پر ظاہر نہ ہوئے۔ ماسوائے ختم نبوت کے مطلب کے بارے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں کہ آیا وہ زندہ ہے یا نہیں۔ میرے اس سوال کے جواب میں مرزا ناصر احمد نے کہا کہ مرزا غلام احمد کی سورۃ فاتحہ کی تفسیر اس تفسیر کا ستر فیصد حصہ نیا ہے۔ اس بارے میں فیصلہ کرنا یا کوئی رائے دینا اس ایوان کے فاضل علماء کا کام ہے۔ مجھے اور کچھ نہیں کہنا۔ مجھے تو صرف علامہ اقبال کا وہ قول یاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ؎

عصر من پیغمبرے ہم آفرید
آن کہ در قرآن بجز از خود ندید

یعنی ہمارے دور میں ایک ایسا نبی پیدا ہوا جس کی قرآن میں اپنے سوا کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔ میرا خیال ہے یہ ایک نہایت ہی مناسب تبصرہ ہے۔ جہاں تک ہم سمجھ سکتے ہیں۔ مرزا صاحب نے قرآن مجید کی صرف انہی حصوں کی تفسیر کی جس میں ان کو ذاتی دلچسپی تھی۔

محترم! اب میں مرزا غلام احمد کی زندگی اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے تین مراحل کا ذکر کروں گا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے۔ شروع میں مرزا غلام احمد بھی عام مسلمانوں کی طرح ایک دینی رہنما تھا اور انہی جیسے عقائد رکھتا تھا۔ اس نے عیسائیوں اور آریہ سماجیوں کا مقابلہ کیا۔ یہ ٧٦۔١٨٧٥ء تا ٨٩۔١٨٨٨ء کا دور تھا۔ مرزا غلام احمد کے اس دور کے عقائد کا ذکر کرتے ہوئے میں اس کی اپنی کتاب ”حمامۃ البشریٰ روحانی خزائن“ جلد ٧ ص ٢٠٠ کا ترجمہ پیش کروں گا۔

”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم و صاحب فضل نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر اپنے قول لا نبی بعدی میں واضح طور پر فرمادی اور اگر ہم اپنے نبی کے بغیر کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں۔ جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی کیونکر آ سکتا ہے۔ درآں حالیکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔“

یہ بالکل واضح بات تھی۔ اس (مرزا غلام احمد) نے خاتم النبیین کے بارے میں اپنے

٩٥

چوہدری غلام حسین بھاٹیہ

صفحہ ٢٧٢٤

سرگزشت

مرزائیت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

عقیدے کا اظہار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا: ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ”لا نبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت پر کلام نہ تھا اور قرآن شریف کا ہر لفظ قطعی ہے۔ اسی آیت ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

یہ اقتباس ”کتاب البریہ“ جلد: ١٣، ”روحانی خزائن“ حاشیہ ص ٢١٧، ٢١٨ سے تھا۔ پھر وہ اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ جو کہ ”روحانی خزائن“ جلد ٣ ص ٣١٤ میں شائع ہوئی۔ کہتا ہے: ”ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ کیا گیا ہے جو جو حدیثوں میں بہ تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“

اس کے بعد یہ مرزا صاحب کے ایک اشتہار کی عبارت کا حوالہ ہے۔ جو ٢٠؍ شعبان کو رسالہ ”تبلیغ“ میں شائع ہوا: ”ہم مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لا اله الا الله محمد رسول الله کے قائل ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“

یہ اس کی (مرزا غلام احمد کی) ذہنی زندگی کا پہلا دور تھا۔ دوسرے دور کا آغاز ١٨٨٨ء کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ جب اس نے اپنے پیروکاروں سے بیعت لینا شروع کی۔ میں حلف بیعت کے متعلق مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب کے ص ٤٠ کو پڑھتا ہوں: ”المختصر کتاب کا اثر (براہین احمدیہ کا ذکر کرتے ہوئے) آہستہ آہستہ پھیلنا شروع ہوا اور مسیح موعود کو کئی لوگوں نے تحریری خطوط لکھے کہ وہ ان سے بیعت لیں۔ لیکن مرزا غلام احمد نے نہ مانا اور جواب دیا کہ اس کے تمام اعمال الہامی ہدایت کے تابع ہیں۔ دسمبر ١٨٨٨ء میں مرزا غلام احمد کو الہام ہوا کہ وہ اپنے پیروکاروں سے بیعت لیں۔ سب سے پہلی بیعت لدھیانہ میں ١٨٨٩ء میں لی گئی (جس کا ذکر میں نے پہلے کیا) یہ بیعت میاں احمد جان کے گھر میں لی گئی اور سب سے اوّل بیعت کرنے والا مولوی نور دین تھا۔ اس روز کل چالیس آدمیوں نے بیعت کی۔ اس وقت تک اس نے مسیح موعود یا نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اس وقت تک وہ یہی کہتا تھا کہ اس کا خدا سے رابطہ ہے اور اسے الہامی پیغامات وصول ہوتے ہیں۔“

محترم! اب ہم اس کی زندگی کے دوسرے دور کی طرف جاتے ہیں کہ اس کا آغاز اس نے کیسے کیا۔ میں غلطی کر سکتا ہوں۔ مگر جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ مرزا غلام احمد نے پہلے جو

٩٦

صفحہ ٢٧٢٥

چودھری غلام حسین تہاڑیہ

سرگزشت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

پوزیشن اختیار کی تھی اس کو تبدیل کرتے ہوئے اس نے بڑی احتیاط سے کام لیا۔ سیالکوٹ کے لیکچر اور راولپنڈی کے مباحثے میں مرزا غلام احمد نے چند ایک دلچسپ انکشافات کئے۔ اس نے نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ اس نے کہا: ”تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعے وہ نعمتیں کیوں کر پاسکتے ہو۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور ان کے قدیم قانون کو توڑ دو گے۔“

یہ اگلا قدم ہے جو کہ میں نے ”روحانی خزائن“ جلد ٢٠ ص ٢٢٧ سے پڑھا ہے۔ پھر ”تجلیات الٰہیہ“، ”روحانی خزائن“ جلد ٢٠ ص ٤١٢ پر مرزا غلام احمد کہتا ہے: ”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

چنانچہ اب اس نے نبی یا ایک ذیلی نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ وہ مکمل نبی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا وہ کہتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی امت میں سے ہے اور ان (ﷺ) کے وسیلہ سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ”تجلیات الٰہیہ“ ص ٢٠، ”مباحثہ راولپنڈی“ اور ”روحانی خزائن“ جلد ٢٠ ص ٤١٢ پر رقمطراز ہے: ”میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی اور قطعی بکثرت نازل ہو جو غائب پر مشتمل ہو۔ اس لئے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔“

اگلا قدم یا دلیل مرزا غلام احمد نے ”حقیقت الوحی“ جو کہ ”روحانی خزائن“ کی جلد ٢٢ کے صفحہ ٩٩، ١٠٠ پر شائع ہوئی ہے۔ جس میں وہ کہتا ہے: ”خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ پر پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی ہے۔“

پھر وہ ”نزول مسیح“ حاشیہ از ”مباحثہ راولپنڈی“، ”روحانی خزائن“ جلد ١٨ ص ٣٨١ پر کہتا ہے: ”میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“

میں معزز ایوان کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ صرف ایک یا دو اقتباسات پڑھوں گا۔ ”حقیقت الوحی“ روحانی خزائن جلد ٢٢ ص ١٠٠ پر کہتا ہے: ”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضۂ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس

MBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

عقیدے کا اظہار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ’لا نبی بعدی‘ اور قرآن شریف کا ہر لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیات ’ولٰکن کی تصدیق کرتا تھا کہ ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو یہ اقتباس ”کتاب البریہ“ جلد ١٣، ”روح وہ اپنی کتاب ”ازالۃ اوہام“ جو کہ ”روحانی خزائن“ جلد دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور حدیثوں میں یہ تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں ر ہمارے نبی کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔“

اس کے بعد یہ مرزا صاحب کے ایک رسالہ ”تبلیغ“ میں شائع ہوا: ”ہم مدعی نبوت پر لعنت اللہ کے قائل ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ۔ یہ اس کی (مرزا غلام احمد کی) ذہنی زن کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ جب اس نے اپنے بیعت کے متعلق مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب (براہین احمدیہ کا ذکر کرتے ہوئے) آہستہ آہستہ تحریری خطوط لکھے کہ وہ ان سے بیعت لیں۔ لیکن تمام اعمال الہامی ہدایت کے تابع ہیں۔ دسمبر پیروکاروں سے بیعت لیں۔ سب سے پہلی بیعت نے پہلے کیا) یہ بیعت میاں احمد جان کے گھر میں نور دین تھا۔ اس روز کل چالیس آدمیوں نے ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اس وقت تک وہ یہی پیغامات وصول ہوتے ہیں۔“

محترم! اب ہم اس کی زندگی کے د نے کیسے کیا۔ میں غلطی کر سکتا ہوں۔ مگر جہان

٩٧

صفحہ ٢٧٢٦

سرگزشت

سرگزشت

سرگزشت

چوہدری غلام حسین بھاٹلہ

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرایا۔ یعنی آپ کی پیروی ”کمالات نبوت“ بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی ”نبی تراش“ ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی ہے۔“

----------

(اس مرحلہ پر مسٹر چیئرمین کرسی صدارت پر تشریف لائے)

----------

(جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد ہم اس (مرزاغلام احمد) کی زندگی کے تیسرے دور کی طرف آتے ہیں۔ لیکن اس کا ذکر کرنے سے پیشتر میں ایوان کی توجہ ایک دو حوالہ جات کی طرف مبذول کراؤں گا۔ یہ ان کے مطابق لفظ ”خاتم النبیین“ کے معنی کے بارے میں ہیں۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ قادیانیوں یا مرزاغلام احمد یا اس کے پیروکاروں کے عقیدے کی رو سے نبی کی ضرورت کیوں تھی۔ اس دلیل کا ذکر ”کلمتہ الفصل“ جو ریویو آف ریلیجن (Review of Religin) کی جلد ١٤ کے شمارے نمبر ٣، ٤، مارچ، اپریل ١٩١٥ء میں ملتا ہے۔ یہ دلچسپ ہونے کے ساتھ جگر سوز بھی ہے۔ ایسا کیوں ہے میں نہیں جانتا۔ مگر مرزاغلام احمد کے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے کا پس منظر ص ١٠١ پر اس طرح درج ہے: ”دجال نے پورے زور کے ساتھ خروج کیا تھا یا جوج ماجوج کی فوجیں ہر ایک اونچی جگہ سے امڈی چلی آتی تھیں۔ اسلام عیسائیت کے پاؤں پر جان کنی کی حالت میں پڑا تھا اور دہریت اپنے آپ کو ایک خوبصورت شکل میں پیش کر رہی تھی۔ مگر اس پر بھی مسلمانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور وہ خواب غفلت میں سویا کیے۔ حتیٰ کہ وقت آیا جب محمد ﷺ کی روح اپنی امت کی حالت زار کو دیکھ کر تڑپتی ہوئی آستانہ الٰہی پر گری اور عرض کیا کہ اے بادشاہوں کے بادشاہ! اے غریبوں کی مدد کرنے والے! میری کشتی ایک خطرناک طوفان میں گھر گئی ہے۔ میری بھیڑوں پر بھیڑیے ٹوٹ پڑے ہیں۔ میری امت شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے تو خود میری مدد فرما اور میری بھیڑوں کے لئے کسی چرواہے کو بھیج۔ تب یکا یک آسمان پر سے ظلمت کا پردہ پھٹا اور خدا کا ایک نبی فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے زمین پر اترا تاکہ دنیا کو اس طوفان عظیم سے بچائے اور امت محمدیہ کی گرتی ہوئی عمارت کو سنبھال لے۔“

مزید وہ کہتا ہے: ”وہ جو دنیا کا آخری نجات دینے والا بن کر آسمان پر سے دنیا کی مصیبت کے وقت زمین پر اترا وہ جو امت محمدیہ کی بھیڑوں پر حملہ کرنے والے بھیڑیوں کو ہلاک کرنے کے لئے آیا وہ جو اسلام کی کشتی کو طوفان میں گھرے ہوئے دیکھ کر اٹھاتا اسے کنارے پر لگائے۔ وہ جو خیرالامم کو شیطان کے پنجہ میں گرفتار پا کر شیطان پر حملہ آور ہوا وہ جو دجال کو زوروں

٩٨

2727 NATION

وہ جو یاجوج ماجوج کی فوجوں کے کرنے کے لئے امن کا شہزادہ بن کر آیا ہاں وہ محمد ﷺ کا اکلوتا بیٹا جس مت محمدیہ کی بھیڑیں اس کے لئے میں گھسیٹا گیا۔ اس کے قتل کے سلام کا دشمن قرار دیا۔ اس کے پاس ں دی گئی......“

ایک طرف تو احمدیوں یا قادیانیوں لیہ السلام کا نزول آسمان سے نہیں م آسمان سے نزول فرمائیں گے) ۔ گویا وہ جسمانی طور پر آسمان سے ت بتایا جا رہا ہے کہ اس (مرزاغلام انجام دینا تھے اور مسلمانوں کی مدد ریں بھیڑیے بن گئیں۔“

ایک دوست تھا۔ ہیرو تھا۔ امداد کر رہا اور اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ ۔ میرا مطلب مسلمانوں کے ”خاتم ں کہ مسلمان اس کی اس قدر شدید

اس کی ضرورت کیا تھی۔ مرزاغلام مورات ہیں۔ ان سب سوالوں کا م“ ١٩٢٧ء ایڈیشن ص ١٠، ١١ پر ملتا ح مستقبل میں بھی بنیاد کی چاشنی کا ف ہونے کو تسلیم نہیں کرتی۔ جب ک انسان اپنے خالق سے دور ہوتا

صفحہ ٢٧٢٧

تحریک ختم نبوت محمد غلام حسین بٹالوی NAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرایا۔ یعنی آپ کی پیروی ”کمالا توجہ روحانی“ ”نبی تراش“ ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔

-------------------

(اس مرحلہ پر مسٹر چیئرمین کرسی صدارت پر تشریف لا

-------------------

(جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد ہم اس (مرزاغ دور کی طرف آتے ہیں۔ لیکن اس کا ذکر کرنے سے بیشتر میں ایہ طرف مبذول کراؤں گا۔ یہ ان کے مطابق لفظ ”خاتم النبیین“ تاکہ معلوم ہوسکے کہ قادیانیوں یا مرزاغلام احمد یا اس کے پیروکارا ضرورت کیوں تھی۔ اس دلیل کا ذکر ”کلمۃ الفصل“ جو ریوی Religin) کی جلد ١٤ کے شمارے نمبر ٣، ٢، مارچ، اپریل ١٩١٥ کے ساتھ جگر سوز بھی ہے۔ ایسا کیوں ہے میں نہیں جانتا۔ مگر مرا دعویٰ کرنے کا پس منظر ص ١٠١ پر اس طرح درج ہے: ”دجال۔ تھا یا جوج ماجوج کی فوجیں ہر ایک اونچی جگہ سے امڈی چلی آتی پر جان کنی کی حالت میں پڑا تھا اور دہریت اپنے آپ کو ایک خوب مگر اس پر بھی مسلمانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور وہ خ وقت آیا جب محمد ﷺ کی روح اپنی امت کی حالت زار کو دیکھ کر عرض کیا کہ اے بادشاہوں کے بادشاہ! اے غریبوں کی مدد کر۔ طوفان میں گھر گئی ہے۔ میری بھیڑوں پر بھیڑیے ٹوٹ پڑے ہ میں گرفتار ہے تو خود میری مدد فرما اور میری بھیڑوں کے لئے کسی پر سے ظلمت کا پردہ ہٹا اور خدا کا ایک نبی فرشتوں کے کاندھو تاکہ دنیا کو اس طوفان عظیم سے بچائے اور امت محمدیہ کی گرتی ہو

مزید وہ کہتا ہے: ”وہ جو دنیا کا آخری نجات دی مصیبت کے وقت زمین پر اترا وہ جو امت محمدیہ کی بھیڑوں پر کرنے کے لئے آیا وہ جو اسلام کی کشتی کو طوفان میں گھرے لگائے۔ وہ جو خیر الامم کو شیطان کے پنجہ میں گرفتار پا کر شیطان

٩٨

2727 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

پر دیکھ کر اس کے طلسم کو پاش پاش کرنے کے لئے آگے بڑھا۔ وہ جو یاجوج ماجوج کی فوجوں کے سامنے اکیلا سینہ سپر ہوا وہ جو مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کو دور کرنے کے لئے امن کا شہزادہ بن کر زمین پر آیا وہ جو دنیا پر اندھیرا چھایا ہوا پا کر آسمان پر سے نور کو لایا ہاں وہ محمد ﷺ کا اکلوتا بیٹا جس کے زمانہ پر رسولوں نے ناز کیا تھا۔ جب وہ زمین پر اترا تو امت محمدیہ کی بھیڑیں اس کے لئے بھیڑیے بن گئیں۔ اس پر پتھر برسائے گئے۔ اس کو مقدمات میں گھسیٹا گیا۔ اس کے قتل کے منصوبے کئے گئے۔ اس پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔ اس کو اسلام کا دشمن قرار دیا۔ اس کے پاس جانے سے لوگوں کو روکا گیا اس کے متبعین کو طرح طرح سے تکلیفیں دی گئی.....“

جناب والا! مجھے اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک طرف تو احمدیوں یا قادیانیوں کی طرف سے بڑے طمطراق سے کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آسمان سے نہیں ہوگا۔ (جب کہ دوسرے مسلمانوں کا ایمان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے) لیکن اس اقتباس میں پرزور طریقے سے ایسی تصویر پیش کی گئی ہے۔ گویا وہ جسمانی طور پر آسمان سے اتر رہے ہیں۔ اس سارے قصہ کا جگر سوز پہلو یہ ہے کہ ایک طرف بتایا جارہا ہے کہ اس (مرزاغلام احمد) کی کس قدر شدید ضرورت تھی۔ اس نے کیا کیا۔ کارنامے انجام دینا تھے اور مسلمانوں کی مدد کے لئے اس کے کیا کیا مقاصد تھے۔ لیکن پھر وہ کہتا ہے کہ: ”بھیڑیں بھیڑیے بن گئیں۔“

یہ ردعمل کیوں ہوا۔ ایک اپنے آدمی کے خلاف جو ایک دوست تھا۔ ہیرو تھا۔ امداد کر رہا تھا۔ اس قدر شدید مخالفت کیوں ہوئی۔ اس پر ہمیں غور کرنا ہے اور اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ وہ یہ کہ اس نے مسلمانوں کے بنیادی عقیدہ ایمان پر حملہ کیا تھا۔ میرا مطلب مسلمانوں کے ”خاتم النبیین“ کے ایمانی تصور سے ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اس کی اس قدر شدید مخالفت کرتے۔

جناب والا! مرزا غلام احمد نبی اور مسیح موعود کیوں بنا۔ اس کی ضرورت کیا تھی۔ مرزا غلام احمد کے اور اس کے پیروکاروں کے ختم نبوت کے متعلق کیا تصورات ہیں۔ ان سب سوالوں کا جواب مرزا بشیر الدین محمود احمد کی کتاب ”احمدیت یا سچا اسلام“ ١٩٣٧ء ایڈیشن ص ١٠، ١١ پر ملتا ہے۔ جسے میں پیش کرتا ہوں: ”ہمارا ایمان ہے کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی انبیاء کی جانشینی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ کیونکہ عقل اس سلسلہ کے دائمی طور پر موقوف ہونے کو تسلیم نہیں کرتی۔ جب تک دنیا میں نفسیاتی تاریکیوں کے دور آتے رہیں گے جب تک انسان اپنے خالق سے دور ہوتا

٩٩

صفحہ ٢٧٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

رہے گا۔ جب تک لوگ صراط مستقیم سے بھٹکتے رہیں گے اور یاس و نا امیدی کے اندھیروں میں گم ہوتے رہیں گے۔ ......اور جب تک حق کے متلاشی سچائی کی تلاش کے لئے کوشاں رہیں گے تو پھر یہ ناممکن ہے کہ حق کا راستہ دکھانے والے نورانی رہبروں کا ظہور موقوف ہو جائے۔ کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی صفت ”رحمانیت“ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ علاج کی اجازت تو دے مگر اس کا علاج پیدا نہ کرے۔ وہ دلوں میں حق کی جستجو کی خواہش تو پیدا کرے مگر اس خواہش کی تکمیل کرنے والوں کی آمد کا سلسلہ بند کر دے۔ ایسا خیال کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ”رحمانیت“ کی توہین ہے اور ایسا خیال روحانی اندھا پن ہے۔ اگر دنیا میں کبھی بھی کسی نبی کی ضرورت تھی تو آج یہ ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ کیونکہ مذہب اور سچائی کھوکھلے ہو چکے ہیں۔“

(مرزا خاتم النبیین؟)

جناب والا! یہ ایک مدلل بات معلوم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ دنیا کا سلسلہ ہے کہ اس میں ہر قسم کے لوگ پیدا ہوں گے اور جس طرح اللہ تعالیٰ پہلے انبیاء بھیجتا رہا ہے۔ آئندہ بھی نبی آتے رہیں گے۔ بظاہر یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ سلسلہ بند نہیں ہونا چاہئے۔ انسانیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی ضرورت رہے گی اور اسی طرح کسی ایسی ہستی کی بھی جو ”وحی“ کی ترجمانی کر سکے۔ یہ ان کی طرف سے ایک عقلی سی بات ہے۔ انہوں نے یہ کتاب انگلینڈ میں انگریزوں کے لئے شائع کی ہے۔ جب میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ کیا حضرت محمد ﷺ کے بعد اور مرزا غلام احمد سے پہلے کوئی نبی آیا۔ تو مرزا ناصر احمد نے نفی میں جواب دیا۔ پھر میں نے پوچھا کیا مرزا غلام احمد کے بعد کوئی نبی آیا یا کسی اور نبی کے آنے کا امکان ہے۔ تو پھر بھی مرزا ناصر احمد نے نفی میں جواب دیا۔ چنانچہ یہ تمام دلائل دھند اور دھوئیں کی طرح مٹ گئے تو اس کا پھر آخر مطلب کیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نعوذ باللہ خاتم النبیین مانتے ہیں۔ یہی ان کا مقصد ہے۔

(جناب چیئرمین: میرا خیال ہے کہ باقی کل کرلیں گے۔ کل ساڑھے نو بجے صبح اجلاس ہوگا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!)

(پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس ٦ ستمبر ١٩٧٤ء صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی ہوا)

١٠٠

صفحہ ١٠٠

چودھری غلام حسین ٹاہلیہ

2729 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

No. 20

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Friday, the 6th September, 1974

(Contain Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD

بحث سمیٹتے ہوئے

ONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 5th Sept, 1974 No:19

رہے گا۔ جب تک لوگ صراط مستقیم سے بھٹکتے رہیں گے اور یاس ہوتے رہیں گے۔ ...... اور جب تک حسن کے متلاشی سچائی کی تلاش یہ ناممکن ہے کہ حق کا راستہ دکھانے والے نورانی رہبروں کا ظہور نہ اللہ تعالیٰ کی صفت ”رحمانیت“ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کیسے اجازت تو دے مگر اس کا علاج پیدا نہ کرے۔ وہ دلوں میں حق کی جستجو خواہش کی تکمیل کرنے والوں کی آمد کا سلسلہ بند کردے۔ ایسا عقا ”رحمانیت“ کی توہین ہے اور ایسا خیال روحانی اندھا پن ہے۔ ضرورت تھی تو آج یہ ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ کیونکہ مذہب

(مرزا خاتم النبیین؟)

جناب والا! یہ ایک مدلل بات معلوم ہوتی ہے۔ ان کے اس میں ہر قسم کے لوگ پیدا ہوں گے اور جس طرح اللہ تعالیٰ پہلے ا آتے رہیں گے۔ بظاہر یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے۔ ان کا چاہیئے۔ انسانیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی ضرورت رہے بھی جو ”وحی“ کی ترجمانی کر سکے۔ یہ ان کی طرف سے ایک عقلی سی انگلینڈ میں انگریزوں کے لئے شائع کی ہے۔ جب میں نے مر حضرت محمد ﷺ کے بعد اور مرزا غلام احمد سے پہلے کوئی نبی آیا۔ تو دیا۔ پھر میں نے پوچھا کیا مرزا غلام احمد کے بعد کوئی نبی آیا یا کسی ا پھر بھی مرزا ناصر احمد نے نفی میں جواب دیا۔ چنانچہ یہ تمام دلائل و تو اس کا پھر آخر مطلب کیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ مرزا غلام ا ہیں۔ یہی ان کا مقصد ہے۔

(جناب چیئرمین: میرا خیال ہے کہ باقی کل کرلی اجلاس ہوگا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!)

(پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس ٦ ستمبر ١٩٧٤ء صب

صفحہ ٢٧٣٠

سرگزشت سرگزشت چودھری غلام حسین تبسم

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

No. 20

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF THE SPECIAL COMMITTEE OF THE WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Friday, the 6th September, 1974

(Contain Nos. 1—21)

٢

2731

2927 THE NAT

THE SPE WHOLE TO CONS

The Sp Camera in the Islamabad, at Mr. Chairman

بلڈنگ) اسلام آباد بند زیر صدارت منعقد ہوا)

صفحہ ٢٧٣١

چوہدری غلام حسین بھاٹیہ

سرگزشت سرگزشت سرگزشت

BLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

HE

MBLY OF PAKISTAN

--------

EEDINGS OF OMMITTEE OF THE HELD IN CAMERA HE QADIANI ISSUE

--------

L REPORT

--------

September, 1974

--------

Nos. 1—21)

--------

٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

2927

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

--------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

--------

OFFICIAL REPORT

Friday, the 6th September. 1974.

(کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)

(٦ / ستمبر ١٩٧٤ء، بروز جمعہ)

--------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at half past nine of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں صبح ساڑھے نو بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

--------

(Recition from the Holy Quran)

(تلاوت قرآن شریف)

--------

٣

صفحہ ٢٧٣٢

نشست

سرگزشت

2732 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

جناب چیئرمین: کل میرے نوٹس میں آیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ممبر صاحبان اور سینیٹرز کو باہر روک دیا گیا تھا اور ان کی گاڑیوں کو اسمبلی کے اندر نہیں آنے دیا گیا تھا۔ اس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ یہ بالکل غلط کیا گیا ہے۔ کسی اتھارٹی کو کوئی اختیار نہیں کہ اسمبلی Permises کے اندر کسی M.N.A کی گاڑی کو روکے۔ کیونکہ یہ اسمبلی M.N.A's اور سینیٹرز کی ہے۔ اس کے لئے میں معافی کا خواستگار ہوں۔ سوا پانچ بجے میرے نوٹس میں لایا گیا۔

I took action. In future, this shall not be repeated; and I am very sorry. Again I will repeat that if it had been brought to my notice, I would have regulated it. M.N.A's have a right to come to the Assembly. For that, I think, the honourable members will take necessary....

(......1 میں نے ایکشن لیا۔ آئندہ یہ دوبارہ نہیں ہوگا اور میں معذرت خواہ ہوں۔ میں دوبارہ کہوں گا کہ اگر یہ میرے نوٹس میں آ جاتا تو میں اس مسئلے کو حل کر لیتا۔ M.N.A's کو اسمبلی میں آنے کا حق حاصل ہے۔ اس مقصد کے لئے میرا خیال ہے۔ معزز اراکین ضروری ......)

2928 میاں مسعود احمد: جناب والا! اس سلسلے میں گزارش کروں گا کہ یہ سب کچھ اس واسطے ہوتا ہے کہ روز یہاں نئے آدمی ڈیوٹی تبدیل کر کے لگائے جاتے ہیں۔ میں گزارش کروں گا کہ یہاں ایک مستقل اسٹاف ہو جس کو پتہ ہو کہ یہ M.N.A ہیں اور شاید وہ غلط فہمی کی بناء پر بھی کر دیتے ہیں۔

جناب چیئرمین: میاں صاحب! کیا کریں، ہم یہ بات سوچ رہے ہیں، لیکن کیا کریں، ہمیں اسمبلی کی پروسیڈنگ سے ہی فرصت نہیں ملتی ورنہ ہم یہ سوچ رہے ہیں۔

to have our own everything, our own police, our own everything. Maulana Mufti Mahmood.

(کہ ہر چیز ہماری ہو، ہماری اپنی پولیس ہو اور ہر چیز ہماری ہو۔ مولانا مفتی محمود!)

مولانا مفتی محمود: جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کا یا ہمارے سیکرٹری صاحب کا، ان لوگوں کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے آپ کی جو معذرت ہے وہ تو ہماری ہی معذرت ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسا

٤

صفحہ ٢٧٣٣

ختم نبوت

چوہدری غلام حسن بھٹہ

2733 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کیا ہے، غلام فاروق صاحب نے خود بتایا تھا کہ ان کو روک دیا گیا تھا......

جناب چیئرمین: وہی میرے نوٹس میں لائے ہیں۔

مولوی مفتی محمود: وہ جانتے تھے کہ یہ M.N.A ہیں، اس کے باوجود روکتے تھے۔ M.N.A کو یہاں پر ہاؤس سے روکنا، یہ اتنا بڑا جرم ہے آپ ان سے جواب طلبی کریں، ان کا مواخذہ کریں۔

جناب چیئرمین: یہ مولانا! ان کو لیٹر لکھ رہے ہیں۔ جتنی اتھارٹیز، ایجنسیز ہیں کہ اسمبلی permises کے اندر کوئی وہ ریگولیٹ نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ اسمبلی اسپیکر کے ساتھ، سیکرٹری کے ساتھ مشورہ نہ کریں۔ گیٹ نمبر ٤،٣ کے اندر کسی قسم کا کسی کا اختیار نہیں چل سکتا، سوائے قومی اسمبلی کے سیکرٹری کے۔

2929 میاں محمد عطاء اللہ: صاحب! وہ ہمیں روک رہے ہیں۔ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس طرف سے صرف فلیگ کاریں آئیں گی، M.N.A's کی کاریں نہیں آئیں گی۔

جناب چیئرمین: سوا پانچ بجے غلام فاروق صاحب میرے نوٹس میں لائے ہیں۔

For that, I am very sorry. No authority has a right to regulate anything within the Assembly premises. This is the Assembly, it will exercise its powers through the Speaker or through it self; and for that I am sorry.

(اس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ کسی اتھارٹی کے پاس یہ حق نہیں ہے کہ وہ اسمبلی کے حدود اربعہ میں کوئی چیز کنٹرول کرے۔ یہ اسمبلی ہے۔ یہ اپنے اختیارات کو سپیکر کے ذریعے یا اپنے ہی ذریعے استعمال کرے گی، اور اس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں)

اس میں ساتھ یہ بھی عرض کروں گا کہ M.N.A's صاحب بھی اپنے اوپر پابندی لگائیں، کیونکہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ Unwanted (غیر ضروری) آدمی، وہ بھی نہ لے کر آئیں۔ یہ ریکوئسٹ ہے۔

چوہدری جہانگیر علی: ویسے جناب چیئرمین! ہمیں جب گیٹ کے اوپر روکا گیا اور ہم نے Identity disclose کی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سپیکر صاحب کا حکم ہے کہ کسی M.N.A کی گاڑی بھی اندر نہیں جائے گی۔ وہ آپ کی اتھارٹی کا حوالہ دے رہے تھے، جناب والا!

٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

E- GENERAL DISCUSSION

جناب چیئرمین: کل میرے نوٹس میں آیا سینیٹرز کو باہر روک دیا گیا تھا اور ان کی گاڑیوں کو اسمبلی کے ا میں معذرت خواہ ہوں۔ یہ بالکل غلط کیا گیا ہے۔ کس Permises کے اندر کسی M.N.A کی گاڑی کو رو سینیٹرز کی ہے۔ اس کے لئے میں معافی کا خواستگار ہوں۔ س future, this shall not be repeated; ain I will repeat that if it had been I would have regulated it. M.N.A's the Assembly. For that, I think, the ll take necessary....

(1)....... میں نے ایکشن لیا۔ آئندہ یہ دوبارہ نہیں ہوگا کہوں گا کہ اگر یہ میرے نوٹس میں آجاتا تو میں اس مسئلے میں آنے کا حق حاصل ہے۔ اس مقصد کے لئے میرا خیال

2928 میاں مسعود احمد: جناب والا! اس سلسلے واسطے ہوتا ہے کہ روز یہاں نئے آدمی ڈیوٹی تبدیل کر کے کہ یہاں ایک مستقل اسٹاف ہو جس کو پتہ ہو کہ یہ N.A کر دیتے ہیں۔

جناب چیئرمین: میاں صاحب! کیا کریں کریں، ہمیں اسمبلی کی پروسیڈنگ سے ہی فرصت نہیں ملتی everything, our own police, our own fti Mahmood.

(کہ ہر چیز ہماری ہو، ہماری اپنی پولیس ہو اور

مولانا مفتی محمود: جہاں تک آپ کی ذات ہمارے سیکرٹری صاحب کا، ان لوگوں کا اس میں کوئی دخل ہے وہ تو ہماری ہی معذرت ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں

٤

صفحہ ٢٧٣٤

سرگزشت سرگزشت چوہدری غلام حسین ٹپائریہ

2734 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Mr. Chairman: They have wrongly quoted, for that Mr. Ghulam Faruq is a witness. Yes, that is wrong, because they cannot say that SP has stopped or DIG stopped or anybody else has stopped.

(جناب چیئرمین: انہوں نے غلط حوالہ دیا اور اس کے لئے جناب غلام فاروق گواہ ہیں ۔ یقیناً یہ غلط ہے۔ کیونکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں SP نے روکا ہے یا DIG نے روکا ہے یا کسی اور نے روکا ہے)

چوہدری جہانگیر علی: میں نے ایک دوسری گزارش عرض کرنی تھی، جناب!

جناب چیئرمین: یہ غلطی انہوں نے کی۔

چوہدری جہانگیر علی: میرے پاس کلاسیکی آرٹس کا ایک نمونہ سرگودھا سے آیا تھا۔ وہ جناب کی خدمت میں پیش ہوا تھا۔ وہ واپس مجھے نہیں ملا۔

جناب چیئرمین: وہ میں بات کرتا ہوں۔ اٹارنی جنرل صاحب! اٹارنی جنرل صاحب دس منٹ بولیں گے، اس کے بعد چلے جائیں گے۔

2930 Mr. Ghulam Faruq: Sir, firstly, I apologize to you for all the trouble that I caused you. I think, I came to you in a bit of temper because I had a little argument at the gate and I tried to explain to them that I was sure that the Speaker had not issued this order to the military Police. I do not want to pursue it further. I also feel thankful for the very propmt action that you took and I am a witness to what you did, and I may also tell the honourable members of the House that you were not aware a bit until I brought the matter to your notice.

(جناب غلام فاروق: جناب والا! پہلی بات تو یہ ہے کہ میں معذرت طلب کرتا ہوں۔ اس لئے کہ میری وجہ سے آپ کو پریشانی اٹھانا پڑی۔ میرا خیال ہے کہ میں نے ذرا غصے میں آپ سے بات کی۔ کیونکہ گیٹ پر میرا چھوٹا سا جھگڑا ہو گیا تھا اور میں انہیں واضح کرنے کی کوشش

٦

2735 N

لیا ہے۔ میں اس پر مزید ایکشن کے لئے جو آپ ہی کہنا چاہوں گا کہ جب

Mr. Ch a very strong n that in future th

چھی طرح نوٹ کر لی ہے گا کہ مستقبل میں ایسے

Mr. Gh

Col. H earlier said tha unwanted peop will be all righ do not bring because this is is ours. But, at thing more for we go into the cafeteria, we M.P.A, we rec living for 2-1/2 the same time, that we see th

صفحہ ٢٧٣٥

سرگزشت

سرگزشت

چوہدری غلام حسین بھاٹیہ

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

n: They have wrongly quoted, for iq is a witness. Yes, that is wrong, that SP has stopped or DIG stopped ped.

(جناب چیئرمین: انہوں نے غلط حوالہ دیا ہیں۔ یقینا یہ غلط ہے۔ کیونکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں ہے یا کسی اور نے روکا ہے

چوہدری جہانگیر علی: میں نے ایک دوسری گ جناب چیئرمین: یہ غلطی انہوں نے کی۔ چوہدری جہانگیر علی: میرے پاس کلاسیکی آ جناب کی خدمت میں پیش ہوا تھا۔ وہ واپس مجھے نہیں ملا۔ جناب چیئرمین: وہ میں بات کرتا ہوں صاحب دس منٹ بولیں گے، اس کے بعد چلے جائیں گے

) Faruq: Sir, firstly, I apologize to hat I caused you. I think, I came to cause I had a little argument at the in to them that I was sure that the his order to the military Police. I do her. I also feel thankful for the very ook and I am a witness to what you l the honourable members of the ot aware a bit until I brought the

(جناب غلام فاروق: جناب والا! پہلی ہوں۔ اس لئے کہ میری وجہ سے آپ کو پریشانی اٹھانا پڑی آپ سے بات کی۔ کیونکہ گیٹ پر میرا چھوٹا سا جھگڑا ہو گی

٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کر رہا تھا کہ سپیکر صاحب نے یقینی طور پر ملٹری پولیس کو یہ حکم جاری نہیں کیا ہے۔ میں اس پر مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔ میں آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اس فوری ایکشن کے لئے جو آپ نے لیا اور میں گواہ ہوں جو آپ نے کیا اور میں معزز اراکین ایوان کو یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ جب تک میں نے آپ کو بتا نہیں دیا یہ معاملہ ذرا بھی آپ کے علم میں نہیں تھا)

Mr. Chairman: Mr. Ghulam Faruq, I have taken a very strong note of it and I will pursue this matter and see that in future these things are not repeated. Thank you.

(جناب چیئرمین: جناب غلام فاروق ! میں نے یہ بات اچھی طرح نوٹ کر لی ہے اور میں معاملے کی پوری چھان بین کروں گا اور اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ آپ کا شکریہ!)

Mr. Ghulam Faruq: Thank you very much.

(جناب غلام فاروق: آپ کا بہت بہت شکریہ!)

Col. Habib Ahmad: Mr. Chairman, Sir, you have earlier said that the members should be careful not to bring unwanted people in the premises of the Assembly. Well, that will be all right and I think we will take care of that, that we do not bring in undesirable or unwanted people inside, because this is a very big responsibility; just as it is yours, it is ours. But, at the same time, I would like to point out one thing more for your consideration. It is this, that whenever we go into the lobbies or whenever we go into the canteen cafeteria, we recognize every M.N.A, we recognize every M.P.A, we recognize every Senator, because we have been living for 2-1/2 years together, we know each other; but at the same time, my worthy friends will support me when I say that we see there quite a number of people who are not

٧

صفحہ ٢٧٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

known to us. They are not familiar; their faces are not familiar. What they are doing there, I do not know myself, whether they should be there or they should not be, but if they have to be there from your point of view or from the point of view of others, then I would like them to have some identity card or something in their possession so that we should know that they are authorised to sit down there; otherwise we always feel that we are being harassed and we feel...

(کرنل حبیب احمد: جناب چیئرمین! آپ نے پہلے کہا تھا کہ اراکین کو اسمبلی کے حدود اربعہ میں غیر ضروری لوگوں کو نہیں لانا چاہیے۔ یہ بالکل صحیح بات ہے اور میرا خیال ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ناپسندیدہ یا غیر ضروری افراد اندر نہ آئیں۔ کیونکہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور جیسے یہ آپ کی ذمہ داری ہے ویسے ہی ہماری ذمہ داری ہے۔ لیکن ساتھ ہی میں ایک اور چیز پر آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا اور وہ یہ کہ ہم جب بھی لابی میں کینٹین کیفے ٹیریا میں جاتے ہیں ہم ہر ایم این اے کو پہچانتے ہیں۔ ہم ہر ایم پی اے کو پہچانتے ہیں۔ ہم ہر سینیٹر کو پہچانتے ہیں۔ کیونکہ ہم اڑھائی سال سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی، میرے معزز دوست میری تائید کریں گے کہ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم ان جگہوں پر بہت سے ایسے لوگ دیکھتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ وہ اور ان کے چہرے ہمارے لئے اجنبی ہوتے ہیں وہ وہاں کیا کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نہیں جانتا۔ انہیں وہاں ہونا چاہئے یا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن اگر انہیں آپ کے یا دوسروں کے نکتہ نظر سے ہونا چاہئے تو میں چاہوں گا کہ ان کے پاس کوئی شناختی کارڈ ہو یا کوئی ایسی چیز ہو جس سے ہم یہ جان سکیں کہ انہیں وہاں بیٹھنے کی اجازت ہے۔ ورنہ ہمیں ہمیشہ یہ لگے گا کہ ہمیں پریشان کیا جارہا ہے اور ہم محسوس کرتے ہیں)

Mr. Chairman: Col. sahib, I think, day before yesterday, I told the House that I was thinking of introducing two types of cards- one for the gallery and one for entry into the premises; and if it is left to myself, if I

٨

صفحہ ٢٧٣٧

شت سرگزشت سرگزشت سرگزشت چودھری غلام حسین ٹہائر

Y OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

miliar; their faces are not there, I do not know myself, or they should not be, but if ur point of view or from the would like them to have some their possession so that we uthorised to sit down there; we are being harassed and we

(کرنل حبیب احمد: جناب چیئرمین حدود اربعہ میں غیر ضروری لوگوں کو نہیں لانا چاہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ناپسندیدہ یا غیر ضر داری ہے اور جیسے یہ آپ کی ذمہ داری ہے ویسے اور چیز پر آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا اور وہ یہ کہ ہ ہم ہر ایم این اے کو پہچانتے ہیں۔ ہم ہر ایم این کیونکہ ہم اڑھائی سال سے اکٹھے رہ رہے ہیں میرے معزز دوست میری تائید کریں گے کہ ج ایسے لوگ دیکھتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ وہ وہ وہاں کیا کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نہیں جانتا اگر انہیں آپ کے یا دوسروں کے نکتہ نظر سے شناختی کارڈ ہو یا کوئی ایسی چیز ہو جس سے ہم یہ جا ہمیں ہمیشہ یہ لگے گا کہ ہمیں پریشان کیا جا رہا ہے

I. sahib, I think, day before e that I was thinking of one for the gallery and one nd if it is left to myself, if I

2737 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

have to regulate something, I would like to 2931 have this cafeteria only for M.N.A's and for Senators, so that they can relax, they can talk, they can freely move; only if it is left to myself. But if an M.N.A is accompanied by four of his friends, then we cannot stop it. You have to impose restrictions on yourselves: if you impose, the rest will be from us.

(جناب چیئرمین: کرنل صاحب! میرا خیال ہے پرسوں میں نے ایوان کو بتایا تھا کہ میں دو قسم کے کارڈ جاری کرنے کا سوچ رہا ہوں۔ ایک گیلری کے لئے اور دوسرا اسمبلی کے حدود اربعہ میں داخلے کے لئے اور اگر یہ مجھ پر چھوڑ دیا جائے اور اگر مجھے اس کا بندوبست کرنا ہو تو میں چاہوں گا کہ کیفے ٹیریا صرف ایم این اے اور سینیٹر حضرات کے لئے مخصوص ہوتا کہ وہ آرام کر سکیں، بات چیت کر سکیں اور آزادانہ چل پھر سکیں۔ لیکن اگر ایک ایم این اے کے ساتھ چار دوست ہوں تو ہم اسے نہیں روک سکتے۔ آپ کو اپنے اوپر پابندیاں عائد کرنا ہوں گی۔ اگر آپ یہ پابندیاں عائد کر لیں تو باقی ذمہ داری ہماری ہے)

Dr. Mohammad Shafi: Sir, why not have two types of cafeteria_ one for the M.N.A's and one for the guests?

(ڈاکٹر محمد شفیع: جناب والا! کیوں نہ دو طرح کے کیفے ٹیریا بنائے جائیں۔ ایک ایم این اے کے لئے اور ایک مہمانوں کے لئے؟)

Mr. Chairman: We cannot have it, we have lack of space, already it is divided, in one portion the Senate is accommodated.

(جناب چیئرمین: جگہ کی کمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔ پہلے ہی یہ دو حصوں میں ہے۔ ایک حصہ سینیٹ کو دیا گیا ہے)

Dr. Mohammad Shafi: All right, let us expect that you will have it in the near future.

٩

صفحہ ٢٧٣٨

ہشت بہشت حکیم غلام حسن بھاٹیا

2738 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(ڈاکٹر محمد شفیع: ٹھیک ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں آپ یہ بندوبست کرلیں گے)

Mr. Chairman: Insha- Allah. Now we proceed on.

(جناب چیئرمین: انشاء اللہ! اب ہم آغاز کرتے ہیں)

FATEHA KHAWANI FOR

MARTYRS OF 1965 WAR

(١٩٦٥ء کی جنگ کے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی)

Malik Muhammad Akhtar: Mr. Chairman, Sir, before you permit the conducting of the proceedings, this is the 6th of September, the great day in the history of Pakistan when our valiant warriors fought and laid down their lives, so I would request you and through you the House that we should offer Fateha for those Shaheeds, and then we can proceed on.

(ملک محمد اختر: جناب چیئرمین! اس سے قبل کہ آپ کارروائی کے آغاز کی اجازت دیں، آج ٦؍ستمبر ہے، تاریخ پاکستان کا وہ عظیم دن جب ہمارے بہادر فوجی لڑے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ لہٰذا میں آپ سے اور آپ کے ذریعے ایوان سے یہ درخواست کروں گا کہ ہمیں ان شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کرنی چاہئے اور پھر کارروائی شروع کرنی چاہئے)

Mr. Chairman: Yes. this will be released to the Press that the House Committee offered Fateha.

(جناب چیئرمین: بالکل! اور پریس ریلیز جاری کیا جائے کہ ہاؤس کمیٹی نے فاتحہ خوانی کی)

---------

(Fateha Khawani was held)

(فاتحہ خوانی کی گئی)

١٠

2739 NAT

QADIANI IS

Mr. Chai

Mr. Yah Pakistan): Mr. message that the hope I will be pe could come back

: جناب چیئرمین! مجھے ابھی خیال ہے مجھے امید ہے کہ لیے واپس آسکا لیکن مجھے نہیں

2932 Mr. C close by 12:30. نے ساڑھے بارہ بجے تک

Mr. Yah members will con the evening... جاری رکھیں۔ مجھے لمبی بات

Mr. Cha leave? (؟

Mr. Yah

صفحہ ٢٧٣٩

فہرست

گزشتہ صفحہ

علی غلام حسن تبسم

2739 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

(قادیانی مسئلہ، عمومی بحث)

Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.

(جناب چیئرمین: جی، جناب اٹارنی جنرل!)

Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney- Genral of Pakistan): Mr. Chairman, Sir, I have just received a message that the Prime Minister wants me now. I think, I hope I will be permitted to continue this evening, or if I could come back earlier, but I don't think it will be possible.

(جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل آف پاکستان): جناب چیئرمین! مجھے ابھی پیغام موصول ہوا ہے کہ وزیراعظم مجھے ابھی طلب کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے مجھے امید ہے کہ مجھے اس شام بات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی یا اگر میں پہلے واپس آسکا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ ممکن ہوگا)

2932 Mr. Chairman: No, it is Friday, we have to close by 12:30.

(جناب چیئرمین: نہیں، آج جمعہ ہے اور ہم نے ساڑھے بارہ بجے تک اجلاس ختم کرنا ہے)

Mr. Yahya Bakhtiar: In the meantime other members will continue. I have to cover a lot of ground, so in the evening...

(جناب یحییٰ بختیار: اس دوران دیگر ارکان اپنی بات جاری رکھیں۔ مجھے لمبی بات کرنی ہے لہٰذا شام کو......)

Mr. Chairman: Yes, at what time you have to leave?

(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے آپ کو کس وقت جانا ہے؟)

Mr. Yahya Bakhtiar: Just now.

(جناب یحییٰ بختیار: ابھی)

١١

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(ڈاکٹر محمد شفیع: ٹھیک ہے ہم امید رکھتے ہیں..... بندوبست کرلیں گے)

: Insha- Allah. Now we proceed on.

(جناب چیئرمین: انشاء اللہ! اب ہم آغاز کرتے ہیں)

IA KHAWANI FOR

YRS OF 1965 WAR

(١٩٦٥ء کی جنگ کے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی)

mad Akhtar: Mr. Chairman, Sir,

onducting of the proceedings, this is

e great day in the history of Pakistan

ors fought and laid down their lives,

and through you the House that we

r those Shaheeds, and then we can

(ملک محمد اختر: جناب چیئرمین! اس سے قبل کہ ہم..... دیں، آج ٦ ستمبر ہے، تاریخ پاکستان کا وہ عظیم دن جب ہمارے..... نذرانہ پیش کیا۔ لہٰذا میں آپ سے اور آپ کے ذریعے ایوان سے..... ان شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کرنی چاہئے اور پھر کارروائی شروع.....)

): Yes. this will be released to the

mmittee offered Fateha.

(جناب چیئرمین: بالکل! اور پریس ریلیز..... فاتحہ خوانی کی)

--------

Khawani was held)

(فاتحہ خوانی کی گئی)

١٠

صفحہ ٢٧٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Mr. Chairman: Then we will make an exception, and you are permitted to leave and resume your summing up of the arguments. And, in the meantime, I will request the honourable members who wanted to participate in the debate. Moulvi Niamatullah.

(جناب چیئرمین: ایسی صورت میں آپ کو جانے کی اجازت ہے۔ آپ واپس آ کر تمام دلائل کا خلاصہ اور حاصل بیان کریں گے اور اس دوران میں معزز اراکین سے بحث میں شمولیت کی درخواست کروں گا۔ مولوی نعمت اللہ!)

مولوی نعمت اللہ: جناب والا! میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ اچھا ہوا کہ کوٹ پتلون والوں کو بھی آج سپاہیوں نے روک لیا اور وہ بھی ہمارے برابر ہو گئے۔ ہم تو روزانہ شکایت کرتے تھے کہ وہ ہمیں روکتے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ لیکن اب یہ اچھا ہوا کہ کوٹ پتلون والوں کو بھی روک لیا گیا اور آپ کی توجہ ان کی طرف ہوئی کہ کوٹ پتلون والے کیوں روک لئے گئے۔

جناب چیئرمین: عزت سب کی برابر ہے۔ شلوار قمیص والوں کی زیادہ ہے۔ کیونکہ یہ ہمارا قومی لباس ہے۔

مولوی نعمت اللہ: جناب! حقیقت یہ ہے کہ میں اگر پاکستان کا نام لوں تو بجا نہ ہوگا۔ یہاں پر یعنی اسمبلی کے ممبران کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ سرحد کے سیکرٹریٹ کو ہم نہیں جاسکتے۔ کیونکہ وہاں سپاہی کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم کارڈ نکال کر ان کو دکھاتے ہیں۔ ہمارے پاس کارڈ ہے۔ میں ممبر ہوں۔ کہتے ہیں کہ نہیں کارڈ پھینکو۔ کارڈ کو یہ نہیں جانتے۔ یہاں پر اجازت نہیں ہے۔ تو میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ کم از کم یہ کسی کو کوئی قانونی یا کوئی طریقہ ظاہر کرلیں کہ بھائی یہ نیشنل اسمبلی کا ممبر ہے، یہ تمام پاکستان کے زبردست ایوان کا ممبر ہے۔ اس کے ممبران کی کچھ تو حیثیت 2933 ہونی چاہئے تاکہ یہ بات معلوم ہو جائے کہ یہ ممبر ہے۔ لیکن ایک سپاہی کو ہم جواب نہیں دے سکتے۔ ایک تھانیدار کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈی سی کے پاس ایک سرمایہ دار شخص جو بی ڈی ممبر نہیں ہوتا تھا وہ براہ راست جاسکتا ہے۔ لیکن ممبر نیشنل اسمبلی ڈی سی کے پاس نہیں جاسکتا۔

جناب چیئرمین: آپ میں اور سپاہی میں بڑا فرق ہے۔ سپاہی کے پاس اختیار ہے اور آپ کے پاس خدمت ہے۔ آپ خدمت کرنے کے لئے آتے ہیں اور وہ اختیار استعمال

١٢

صفحہ ٢٧٤١

ملک غلام حسین تبسم

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کرنے کے لئے۔ آپ اپنے میں اور اس میں فرق جانیں۔ ملک کرم بخش اعوان !

جناب کرم بخش اعوان : جناب والا ! میں آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ یہ جو کاروں کے ساتھ ایم این اے کے بورڈ لگے ہوئے ہیں ان کی کیا ضرورت ہے۔ یعنی کسی پل پر سے گزریں تو رک کر ضرور اس کی Payment (ادائیگی) کر کے پل کے پار جانا پڑتا ہے۔

جناب چیئرمین : اس کے متعلق میں نے لیٹرز پراونشل گورنمنٹ کو لکھے ہیں۔ میں نے خود لکھے ہیں، سیکرٹریٹ سے لکھوائے ہیں۔ میں دستی پروانے دے دیتا ہوں۔

جناب کرم بخش اعوان : جناب والا ! میں ٣١ جولائی کو مری گیا تھا تو وہاں پر جو چیک پوسٹ ہے اس پر مجھے روک لیا گیا، حالانکہ کار کے ساتھ ایم این اے کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ تو سپاہی کو یہ تو پتا نہیں کہ ایم این اے، وی آئی پی ہوتے ہیں۔ اس نے کہا یہاں سے ولی خان اور مفتی صاحب جیسے آدمی تو جاسکتے ہیں۔ لیکن آپ کے لئے نہیں، کیونکہ اسے کسی کو پوچھنا پڑتا ہے۔

جناب چیئرمین : وہ پارٹی لیڈر ہیں۔

جناب کرم بخش اعوان : تو ان کو یہ پتا نہیں ہے کہ ایم این اے بھی وی آئی پی ہوتے ہیں۔

جناب چیئرمین : آپ دونوں بورڈ لگا لیں یعنی دو ایم این اے کے۔

2934 جناب کرم بخش اعوان : نہیں، اگر ہمیں یہ بھی اجازت نہیں ہے کہ ہم کہیں آگے جاسکتے ہیں کسی جگہ جہاں وی آئی پی جاسکتے ہیں تو پھر کسی بورڈ کی ضرورت کیا ہے۔

جناب چیئرمین : نہیں، انشاء اللہ ! اس کے متعلق ضرور کچھ کریں گے۔ چوہدری غلام رسول تارڑ صاحب ! آپ نے تقریر کرنی ہے۔

چوہدری جہانگیر علی : جناب والا ! ملک کرم بخش اعوان صاحب نے جو پوائنٹ اٹھایا ہے اس کے متعلق میں نے آج سے سات آٹھ مہینے پہلے اپ کو چٹھی لکھی تھی اور وہ یہ تھی کہ ہر پل پر اور ہر ٹول ٹیکس، بیریر پر ممبران کو روکتے ہیں اور انہیں مجبور کرتے ہیں کہ وہ ٹول ٹیکس دیں۔ جناب ! یہ ایک دو روپے کی بات نہیں ہے۔ It is a question of the prestige and the privelege of the members of the National Assembly (یہ قومی اسمبلی کے ممبران کے وقار اور عزت کا معاملہ ہے ) جب آپ یہ فرماتے ہیں کہ یہ سب سے بڑا ہاؤس ہے اور جناب کی کرسی سب سے بڑی کرسی ہے تو جس وقت ہمارے حقوق کا سوال پیدا ہوتا ہے تو جناب فرما دیتے ہیں کہ آپ کے پاس اختیارات نہیں ہیں، آپ کے پاس صرف خدمت ہے۔

١٣

قادیانی سرگزشت

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

an: Then we will make an exception, ed to leave and resume your summing And, in the meantime, I will request bers who wanted to participate in the tullah.

(جناب چیئرمین: ایسی صورت میں آپ کو چا آ کر تمام دلائل کا خلاصہ اور حاصل بیان کریں گے اور اس دورا شمولیت کی درخواست کروں گا۔ مولوی نعمت اللہ !)

مولوی نعمت اللہ : جناب والا ! میں یہ عرض کرتا والوں کو بھی آج سپاہیوں نے روک لیا اور وہ بھی ہمارے برا بر تھے کہ وہ ہمیں روکتے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ لیکن اس بھی روک لیا گیا اور آپ کی توجہ ان کی طرف ہوئی کہ کوٹ پتلون

جناب چیئرمین : عزت سب کی برابر ہے۔ شلو یہ ہمارا قومی لباس ہے۔

مولوی نعمت اللہ : جناب ! حقیقت یہ ہے کہ م ہوگا۔ یہاں پر یعنی اسمبلی کے ممبران کی کوئی وقعت نہیں ہے سیکرٹریٹ کو ہم نہیں جاسکتے۔ کیونکہ وہاں سپاہی کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس کارڈ ہے۔ میں ممبر ہوں۔ کہتے ہیں کہ نہیں یہاں پر اجازت نہیں ہے۔ تو میں آپ سے یہ درخواست کرتا کوئی طریقہ ظاہر کرلیں کہ بھائی یہ نیشنل اسمبلی کا ممبر ہے، یہ تمام ہے۔ اس کے ممبران کی کچھ تو حیثیت 2933 ہونی چاہئے تا کہ یہ لیکن ایک سپاہی کو ہم جواب نہیں دے سکتے۔ ایک تھانیدار کو ہ پاس ایک سرمایہ دار شخص جو بی۔ڈی ممبر نہیں ہوتا تھا وہ براہ راس ڈی سی کے پاس نہیں جاسکتا۔

جناب چیئرمین : آپ میں اور سپاہی میں بڑا فر اور آپ کے پاس خدمت ہے۔ آپ خدمت کرنے کے ۔

١٢

صفحہ ٢٧٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

تو میں یہ گزارش کروں گا کہ میری چٹھی کا جناب نے یہ جواب دیا تھا ”کہ آپ کا خط موصول ہوا۔ آپ بے فکر رہیں۔ انصاف کیا جائے گا۔“ یعنی میرا خط کیا تھا اور آپ کا جواب کیا تھا اور آج اس ہاؤس میں مختلف اطراف سے وہی آواز سنی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں تو کم از کم آپ کے پاس تو اختیارات ہیں، اور آپ کے ہی اختیارات کو ہم اپنے اختیارات سمجھتے ہیں۔

جناب چیئرمین: میرے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔

2935 چوہدری جہانگیر علی: جناب والا! آپ ایگزیکٹو اتھارٹی نہیں ہیں۔ مگر ہمارے حقوق کے کسٹوڈین تو ہیں، ہمارے پریولج کے کسٹوڈین ہیں۔ Justice delayed is Justice denied (انصاف میں تاخیر انصاف کا انکار ہے) جناب والا! آپ نے فرمایا انصاف کیا جائے گا، مگر ہمارے ساتھ اس سلسلے میں انصاف نہیں ہوا۔

جناب چیئرمین: نہیں، سب کو لیٹرز لکھے ہوئے ہیں۔

کرنل حبیب احمد: جناب! میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ میں چوہدری جہانگیر علی صاحب سے اتفاق کرتا ہوں، نہ صرف ان سے بلکہ جتنے بھی ہمارے معزز اراکین یہاں تشریف رکھتے ہیں ان سے اتفاق کرتا ہوں۔ کس بات پر؟ اس بات پر کہ جو لوگ ہم سے پہلے ایم این اے یا ایم ایل اے یا پرانے پارلیمنٹیرین ہیں، جب ان کے پاس ہم نئے لوگ بیٹھتے ہیں تو وہ اپنے زمانے کی باتیں کرتے ہیں۔ اس زمانے کی باتوں سے ایک چیز بڑی عیاں ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جو اس وقت اسمبلی میں منتخب ہو کر آتے تھے ان کی بڑی عزت ہوتی تھی۔ ہر جگہ ان کی عزت ہوتی تھی، ہر دفتر میں ان کی عزت ہوتی تھی، ہر محکمہ میں ان کی عزت ہوتی تھی۔ لیکن آج کل کسی جگہ عزت نہیں ہوتی، پٹواری کے دفتر سے لے کر کمشنر کے دفتر تک۔

Mr. Chairman: That is provincial subject.

(جناب چیئرمین: وہ صوبائی معاملہ ہے)

کرنل حبیب احمد: مجھے معلوم ہے، لیکن آپ میری بات سن لیں۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آپ کے پاس ایگزیکٹو پاور نہیں۔ لیکن آپ اتنا ضرور کریں کہ ہمیں سن لیں۔ آپ جس سیکرٹریٹ میں تشریف رکھتے ہیں، یہی سیکرٹری ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ایم این اے سے جونیئر ہیں۔ یہ ہم کو بتایا گیا۔ اگر وہ نہ بتاتے تو ہم یہ سمجھتے کہ ہم چپڑاسی سے بھی کم ہیں اور یہ ہمارے لئے اعزاز ہے۔ لیکن ہمیں یہ بتایا گیا ہے۔ وہ اپنی کاروں پر جھنڈے 2936 لگاتے ہیں اور ہمیں اتنی

١٤

صفحہ ٢٧٤٣

2743 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

عزت کیوں نہیں ملتی۔ جس کا ہمیں حق ہے۔ عوامی نمائندے ہونے کی حیثیت سے۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ میرے تمام دوست جو یہاں بیٹھے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہوں گے کہ ہماری وہ عزت جو تصور ہمارے دماغوں میں تھا وہ نہیں ہے۔ نہ پولیس کے محکمے میں، نہ انتظامیہ کے محکمے میں، نہ سینٹر کے، نہ صوبے کے، نہ کسی انتظامیہ میں، ہماری عزت ہے اور ہمارے تحفظ کے لئے کیا اتھارٹی ہے؟

سردار شیر باز خان مزاری: جناب والا!

Mr. Chairman: You want to speak?

(جناب چیئرمین: کیا آپ بات کرنا چاہتے ہیں؟)

سردار شیر باز خان مزاری: جی، میں نے ایک عرض کرنا تھی۔

Mr. Chairman: In this connection or in connection with the issue?

سردار شیر باز خان مزاری: آپ نے جناب والا کہا ہے کہ ہم خدمت گار ہیں۔ وہ ٹھیک ہے۔ مگر جب سپاہی اور کمشنر کی بات کرتے ہیں تو وہ ہمارے Tax payee ہیں۔ وہ اس قوم کے نوکر ہیں۔

I feel, Sir, that because of your unassuming manner and modesty, you happen to think that you have no importance. I am sorry, I do not agree, with due respect, with your views about yourself. You are here to protect the interests and rights of the House. Surely you can protect the interests of this House. They are paid to do this job. We happen to represent at least the masses. Day in and day out, we are told that masses are sovereign. If we represent the sovereign people of Pakistan, our status is no less than anyone else in the executive post. I appeal to you that whatever problems have been placed before you, they are genuine, and there is no party basis for this. It is not a

١٥

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

تو میں یہ گزارش کروں گا کہ میری چٹھی کا جناب نے یہ آپ بے فکر رہیں۔ انصاف کیا جائے گا۔“ یعنی میرا خط ہاؤس میں مختلف اطراف سے وہی آواز سنی گئی ہے۔ میں ہیں تو کم از کم آپ کے پاس تو اختیارات ہیں، اور آپ سمجھتے ہیں۔

جناب چیئرمین: میرے پاس کوئی اختیا

2935

چوہدری جہانگیر علی: جناب والا! آ حقوق کے کسٹوڈین تو ہیں، ہمارے پریولج کے کسٹو انصاف میں تاخیر انصاف) Justice denied انصاف کیا جائے گا، مگر ہمارے ساتھ اس سلسلے میں انصا

جناب چیئرمین: نہیں، سب کو لیٹرز لکھے

کرنل حبیب احمد: جناب! میں یہ گزار صاحب سے اتفاق کرتا ہوں، نہ صرف ان سے بلکہ ج رکھتے ہیں ان سے اتفاق کرتا ہوں۔ کس بات پر؟ اس یا ایم.ایل.اے یا پرانے پارلیمنٹیرین ہیں، جب ان زمانے کی باتیں کرتے ہیں۔ اس زمانے کی باتوں س جو اس وقت اسمبلی میں منتخب ہو کر آتے تھے ان کی بڑ تھی، ہر دفتر میں ان کی عزت ہوتی تھی، ہر محکمہ میں ال عزت نہیں ہوتی، پٹواری کے دفتر سے لے کر کمشنر کے

That is provincial subject.

(جناب چیئرمین: وہ صوبائی معاملہ ہے

کرنل حبیب احمد: مجھے معلوم ہے، لیکن کہ آپ کے پاس ایگزیکٹو پاور نہیں ۔ لیکن آپ ا سیکرٹریٹ میں تشریف رکھتے ہیں، یہی سیکرٹری ہمی ہیں۔ یہ ہم کو بتایا گیا۔ اگر وہ نہ بتاتے تو ہم یہ سمجھتے ک اعزاز ہے۔ لیکن ہمیں یہ بتایا گیا ہے۔ وہ اپنی کارو

١٤

صفحہ ١٦

چودھری غلام حسین تارڑ

نوشتہ سرگزشت

2744 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 question of privileges; they are to pay due honour and respect to the masses of Pakistan whom we represent. ایک یا دو روپے کے ٹول ٹیکس کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔

2937

It is a question of dignity of this sovereign body which is supposed to be the highest body in the country. آپ آپ چپڑاسی کی بات کرتے ہیں۔ With due respect, I submit that this matter may be taken up with those who are at the helm of affairs, those who hold responsible position in Government, to ensure that the dignity and privilege of the representatives of the people of Pakistan are maintained. Thank you.

(جناب والا! میرا خیال ہے کہ اپنی سادگی اور عاجزی کی وجہ سے آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ معذرت کے ساتھ اور احترام کے ساتھ میں آپ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتا۔ آپ کا کام ایوان کے مفادات اور حقوق کا تحفظ ہے اور یقیناً آپ اس ایوان کے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ جب کہ ان لوگوں کو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے۔ ہم کم از کم عوام کی نمائندگی تو کر رہے ہیں۔ دن رات ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہے۔ اگر ہم پاکستان کے مقتدر عوام کی نمائندگی کرتے ہیں تو ہمارا منصب انتظامی عہدے پر فائز کسی شخص سے کم نہیں۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ جو مسائل آپ کے سامنے پیش ہوئے ہیں وہ بالکل درست ہیں اور ان کی بنیاد پارٹی بازی پر نہیں ہے۔ یہ مراعات کا معاملہ نہیں ہے۔ لیکن انہیں پاکستان کے عوام کو جن کی ہم نمائندگی کرتے ہیں وہ عزت و احترام دینا چاہئے جس کے وہ مستحق ہیں۔ یہ اس مقتدر ادارے کے وقار کا سوال ہے جو اس ملک کا بلند ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ بجا احترام کے ساتھ میں گزارش کرتا ہوں کہ اس معاملے کو حکومت کے انتظامی معاملات کے سربراہوں کے سامنے اٹھایا جائے تاکہ پاکستان کے عوام کے نمائندوں کے وقار کو یقینی بنایا جاسکے۔ آپ کا شکریہ!)

ڈاکٹر محمد شفیع: جناب والا ایک بات کرنا ہے۔ جناب چیئرمین: کل پرسوں بات کر لیں گے۔ I agree with the sentiments of the honourable

2745 NATIONAL members. Honourable are entitled to the high the placing in the Wa other matters. They are this country, who hav reposed their confide These things, whenever my notice, I am alway write, I always take a available to me, and taken action. It is my House and I shall ma the House. I will see National Assembly are Ch. Ghulam Rasul Tar

۔ قومی اسمبلی کے معزز اراکین سب ع نظر کہ وارنٹ آف پریسی ڈنس ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ملک کے عوام ۔ لہٰذا اس قسم کے واقعات جب بھی لیتا ہوں۔ میں تحریر اور تمام موجود ت مجھے ملی ہیں میں نے ان سب پر ور میں ایوان کے اندر ایوان کا وقار معزز اراکین کو باہر تحفظ حاصل ہو۔

ں اپنی تقریر کرنے سے پہلے گزارش

صفحہ ٢٧٤٥

قومی اسمبلی میں

چوہدری غلام رسول تارڑ

NAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ges; they are to pay due honour and of pakistan whom we represent.

ایک یا دو روپے کے ٹول ٹیکس کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔

estion of dignity of this sovereign body be the highest body in the country. آپ With due respect, I submit that this up with those who are at the helm of ld responsible position in Government, nity and privilege of the representatives stan are maintained. Thank you.

(جناب والا! میرا خیال ہے کہ اپنی سادگی اور عاجزی آپ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ معذرت کے ساتھ اور احترام کے اتفاق نہیں کرتا۔ آپ کا کام ایوان کے مفادات اور حقوق کا تحفظ مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ جب کہ ان لوگوں کو اس کام کی نمائندگی تو کر رہے ہیں۔ دن رات ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اقتدار پاکستان کے مقتدر عوام کی نمائندگی کرتے ہیں تو ہمارا منصب انتظا نہیں ۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ جو مسائل آپ کے درست ہیں اور ان کی بنیاد پارٹی بازی پر نہیں ہے۔ یہ مراعا پاکستان کے عوام کو جن کی ہم نمائندگی کرتے ہیں وہ عزت واحتر ہیں۔ یہ اس مقتدر ادارے کے وقار کا سوال ہے جو اس ملک کا احترام کے ساتھ میں گزارش کرتا ہوں کہ اس معاملے کو حکو سربراہوں کے سامنے اٹھایا جائے تاکہ پاکستان کے عوام جاسکے۔ آپ کا شکریہ!)

ڈاکٹر مبشر حسن : جناب والا ایک بات کرنا ہے۔

جناب چیئرمین : کل پرسوں بات کرلیں گے۔

the sentiments of the honourable

١٦

2745 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

members. Honourable members of the National Assembly are entitled to the highest respect and regard, leaving aside the placing in the Warrant of Precedence, leaving aside other matters. They are the persons in whom, the people of this country, who have a right to rule this country, have reposed their confidence; they are entitled to it as such. These things, whenever they happen, whenever they come to my notice, I am always prompted to take action. I always write, I always take action through whatever channels are available to me, and on all the complaints I have always taken action. It is my duty to maintain the dignity of the House and I shall maintain the dignity of the House inside the House. I will see that all honourable members of the National Assembly are safeguarded outsid. That is my duty.

Ch. Ghulam Rasul Tarar.

(میں معزز اراکین کے احساسات سے متفق ہوں۔ قومی اسمبلی کے معزز اراکین سب سے زیادہ عزت و احترام کے مستحق ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ وارنٹ آف پریسی ڈنس (Warrant of Precedence) میں وہ کہاں پر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ملک کے عوام نے، جو حکومت کرنے کے اصل حق دار ہیں، اعتماد کا اظہار کیا۔ لہٰذا اس قسم کے واقعات جب بھی ہوں اور جب بھی میرے نوٹس میں آئیں تو میں فوری ایکشن لیتا ہوں۔ میں تحریر اور تمام موجود چینلز کے ذریعے کارروائی کرتا ہوں اور اب تک جتنی بھی شکایات مجھے ملی ہیں میں نے ان سب پر کارروائی کی ہے۔ ایوان کے وقار کو تحفظ دینا میرا فرض ہے اور میں ایوان کے اندر ایوان کا وقار برقرار رکھوں گا۔ میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ قومی اسمبلی کے معزز اراکین کو باہر تحفظ حاصل ہو۔ یہ میرا فرض ہے۔ چوہدری غلام رسول تارڑ!)

چوہدری غلام رسول تارڑ: جناب چیئرمین! میں اپنی تقریر کرنے سے پہلے گزارش کروں گا کہ ہمارے اٹارنی جنرل صاحب.......

١٧

صفحہ ١٨

چوہدری غلام حسین بھاٹیا

نوشتۂ سرگزشت

2746 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Mr. Chairman: Just a minute. The Attorney- General had to come today. He could not resume his address. He will not be able to come back by 12:30, so, up to 12:30, I request that honourable members, whosoever wants to speak can speak. After they have finished, I have reserved time for the Attorney- General, who will take about two to three hours. Attorney- General's summing up of evidence is a must; that must come on record. He is just conversant with the evidence. If at all they want to speak, I will request the honourable members to be brief so that we may finish by 12:30. Tomorrow is the last date. Tomorrow, we have to finalize the recommendations by 7th.

(جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ، اٹارنی جنرل نے آج آنا تھا۔ وہ اپنا خطاب شروع نہ کر سکے، وہ ساڑھے بارہ بجے تک واپس نہ آسکیں گے۔ لہٰذا میں معزز اراکین سے گزارش کروں گا کہ ساڑھے بارہ بجے تک جو بھی بات کرنا چاہے وہ بات کر سکتا ہے۔ اس کے بعد کا وقت میں نے اٹارنی جنرل کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ جو تقریباً دو تین گھنٹے لیں گے۔ اٹارنی جنرل کی طرف سے شہادت کا خلاصہ بیان کرنا نہایت ضروری ہے اور یہ ریکارڈ کا حصہ ضرور بننا چاہئے۔ وہ شہادت سے خوب واقف ہیں۔ جو معزز اراکین بات کرنا چاہیں میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنے بیانات کو مختصر رکھیں تاکہ ہم ساڑھے بارہ بجے تک ختم کر سکیں۔ کل آخری تاریخ ہے۔ کل ہمیں سات بجے تک اپنی تجاویز کو حتمی شکل دینی ہے)

2938 شہزادہ سعید الرشید عباسی: میں یہ گزارش کروں گا کہ آپ پوچھ لیں کہ کتنے بولنے والے ہیں اس کے حساب سے وقت دیا جائے۔

Mr. Chairman: Yes, I will request the honourable members who want to speak on this issue may please rise in their seats.

(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، میں معزز اراکین سے درخواست کرتا ہوں کہ جو اس

2747 NATIONA

ہو جائیں)

کے بعد آپ بولیں گے۔

تقریر کر چکے ہیں۔

سید احمد رضا قصوری اور مولوی ذاکر

چوہدری غلام رسول تارڑ!

(قادیانی مسئلہ پر خطاب)

رنی جنرل صاحب نے بلکہ ساری سامنے رکھ دیا ہے۔ ساتھ ہی میں وہ آپ کی اس کمیٹی کے سامنے اپنا تھے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اور جیسے دیوبندی، بریلوی وغیرہ۔ اتنا ہوا ہے۔ بلکہ انہوں نے ہمارے صاحب کی اپنی تحریروں میں یہ لکھا ہ، کنجریوں کی اولاد ہوں گے تو میں مسلمانوں میں تو میں بھی ہوں۔ یہ تو نے صاف یہ کہہ دیا کہ ہم آپ کو پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد اس لئے حیران ہوں کہ ان کا نبی کہ وہ اپنے آپ کو یہ کہتے ہیں کہ حقیقت پر اس کی مرضی کے مطابق ام یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی ، کوئی ولی یا محدث کسی بادشاہ کے مدد کے لئے استدعا کی ہو، بلکہ روئیں لے کر ان کے قدموں میں میں لے کر وہاں حاضر ہوا کرتے

PDF 527

چند گزارشات

چودھری غلام رسول تارڑ

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

: Just a minute. The Attorney- Today. He could not resume his ble to come back by 12:30, so, up to ourable members, whosoever wants they have finished, I have reserved eneral, who will take about two to eneral's summing up of evidence is on record. He is just conversant ll they want to speak, I will request to be brief so that we may finish by -last date. Tomorrow, we have to ions by 7th.

(جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ، اٹارنی شروع نہ کرسکے، وہ ساڑھے بارہ بجے تک واپس نہ آسکیں کروں گا کہ ساڑھے بارہ بجے تک جو بھی بات کرنا چاہے میں نے اٹارنی جنرل کے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ جو تقر طرف سے شہادت کا خلاصہ بیان کرنا نہایت ضروری ہے شہادت سے خوب واقف ہیں۔ جو معزز اراکین بات کر اپنے بیانات کو مختصر رکھیں تاکہ ہم ساڑھے بارہ بجے تک ختم سات بجے تک اپنی تجاویز کو حتمی شکل دینی ہے)

2938 شہزادہ سعید الرشید عباسی: میں یہ بولنے والے ہیں اس کے حساب سے وقت دیا جائے ۔

Yes, I will request the honourable ak on this issue may please rise in

(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، میں معزز

١٨

2747 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں وہ براہ کرم اپنی نشستوں پر کھڑے ہو جائیں) جو بول چکے ہیں وہ نہیں بولیں گے۔ ان کے بولنے کے بعد آپ بولیں گے۔ چوہدری جہانگیر علی: مولانا عبدالحکیم صاحب کافی تقریر کر چکے ہیں۔ جناب چیئرمین: غلام رسول تارڑ صاحب کے بعد احمد رضا قصوری اور مولوی ذاکر صاحب بولیں گے۔ دس (١٠) سے پندرہ منٹ تک بہت ہیں۔ چوہدری غلام رسول تارڑ!

(جناب چوہدری غلام رسول تارڑ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

چوہدری غلام رسول تارڑ: جناب چیئرمین! اٹارنی جنرل صاحب نے بلکہ ساری خصوصی کمیٹی نے اس نوے سالہ مسئلہ کو صاف کر کے کمیٹی کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ساتھ ہی میں مرزا ناصر کا بھی مشکور ہوں کہ جنہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ وہ آپ کی اس کمیٹی کے سامنے اپنا موقف بیان کریں۔ جب ساری باتیں ہوئی تھیں وہ کہتے تھے کہ ہم بھی مسلمان ہیں اور مرزا صاحب کو پیغمبر نہیں سمجھتے اور ہماری ایسی جماعت ہے جیسے دیوبندی، بریلوی وغیرہ۔ اتنا ہمارے دل میں خیال نہیں تھا جو ان کے موقف سے یہاں ظاہر ہوا ہے۔ بلکہ انہوں نے ہمارے بھائی بننے کا جو بتایا ہے آپ کی توجہ اس طرف دلاتا ہوں۔ مرزا صاحب کی اپنی تحریروں میں یہ لکھا ہے کہ سب مسلمان ہو جائیں گے جو نہیں ہوں گے وہ ولد الحرام، کنجریوں کی اولاد ہوں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کا اشارہ، اپنے آپ کو کہنا نہیں چاہتے، سب مسلمانوں میں تو میں بھی ہوں۔ یہ تو ہمارے ساتھ بھائی بندی کا تعلق رکھنا چاہتے تھے؟ لیکن انہوں نے صاف یہ کہہ دیا کہ ہم آپ کو 2939 یہ سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ بھائی بندی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد کو انہوں نے پیغمبر تسلیم کیا اور کہا کہ مرزا غلام احمد نبی تھے۔ میں اس لئے حیران ہوں کہ ان کا نبی ہونا یا نبی ماننا اور لوگ اس کو کس طرح نبی مان رہے ہیں۔ جب کہ وہ اپنے آپ کو یہ کہتے ہیں کہ میں انگریز کا وفادار ہوں، میرا خاندان انگریز کا وفادار ہے اور ہر قیمت پر اس کی مرضی کے مطابق چلیں گے۔ اس کے بعد آج تک کوئی بتائے، میرے علمائے کرام یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی یہ بتا سکتے ہیں کہ کسی بھی تاریخ میں یہ موجود نہیں ہے کہ پیغمبر تو پیغمبر، کوئی ولی یا محدث کسی بادشاہ کے پاس چل کر گیا ہو یا وقت کے حکمران کے پاس گیا ہو یا کسی سے مدد کے لئے استدعا کی ہو، بلکہ مثالیں موجود ہیں کہ کافر بادشاہ مسلمان ولیوں کے پاس اپنی آرزوئیں لے کر ان کے قدموں میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ مسلمان تو مسلمان، کافر بھی اپنی آرزوئیں لے کر وہاں حاضر ہوا کرتے

١٩

صفحہ ٢٧٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

تھے۔ یہ شخص جو اپنے آپ کو پیغمبر کہلاتا ہے، کس سے مانگتا ہے؟ ایک غیر مسلم حکومت سے مدد مانگتا ہے جو مسلمان بھی نہیں ہے۔

(مرزا غلام احمد انگریز کا ایجنٹ تھا)

ان کے موقف سے مجھے یہی ثابت ہوا ہے کہ مرزا غلام احمد انگریز کا ایجنٹ تھا اور جو مثالیں مرزا غلام احمد نے یہاں دی ہیں کہ انہوں نے پادریوں کے ساتھ مباحثے کئے اور رسول اکرم ﷺ کی شان کے خلاف جو لکھا گیا، انہوں نے اس کا جواب دیا، وہ ان کا جواب نہ تھا۔ وہ صرف اس لئے تھا کہ انگریز کے ساتھ اس نے بات کی تھی کہ میں مسلمانوں کی ہمدردی اس طرح ہی حاصل کر سکتا ہوں کہ میں مباحثوں میں حصہ لوں۔ جیسا کہ جاسوس لوگ آتے ہیں۔ سکھ ہوتے ہیں تو مسجد میں بیٹھ کر وہ لوگوں پر یہ ثابت کرنے کے لئے نمازیں پڑھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ لیکن اصل میں وہ اس حکومت کے جاسوس ہوتے ہیں۔ اس طرح مرزا غلام احمد اس حکومت کا جاسوس اور ایجنٹ تھا۔

[At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi.]

(اس مرحلے پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت کو چھوڑا جسے ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی نے سنبھالا)

2940 چوہدری غلام رسول تارڑ: چونکہ عیسائیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ انہیں مسلمان سے خطرہ تھا۔ ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ ہم مجاہد بنتے ہیں۔ تب بھی جہاد سے، اور شہید بنتے ہیں تب بھی جہاد سے۔ ہمارے اس جہاد کے ایمان کو زائل کرنے کے لئے مرزا غلام احمد کو مقرر کیا گیا اور اس کی مالی امداد اس طرح کی گئی کہ جتنا روپیہ وہ باہر محاذوں پر خرچ کرنا چاہے، اتنا خرچ کرے تاکہ مسلمان اپنے ایمان کو اس طرح سمجھیں کہ جہاد کرنا جائز نہیں۔

اس کے بعد انہوں نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا۔ ہم مسلمان ہیں اور قرآن پر ہمارا ایمان ہے۔ قرآن اور حدیث کے مطابق رسول اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی، ظلی، شرعی یا غیر شرعی، آ ہی نہیں سکتا۔ جب کہ اس نے اپنے آپ کو نبی کہا تھا۔ آج ہمارے سامنے انہوں نے اس کو تسلیم

٢٠

صفحہ ٢٧٤٩

چودھری غلام حسن تارڑ

نوشتہ سرنوشت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کیا ہے۔ ان کی کتب سے یہ تسلیم ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کو نبی کہتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو نبی کہلائے، وہ اور اس کو نبی ماننے والے، سب مرتد ہیں۔

جناب چیئرمین صاحب! میں آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جب کہ کل ایک نئی بات نکلی ہے کہ حضور ﷺ نے خداوند تعالیٰ کی جناب میں یہ استدعا کی تھی کہ میری امت جو ہے، وہ بھیڑوں کو بھیڑیے کھا رہے ہیں، تو مرزا غلام احمد کو وہاں بھیجا جائے کہ انہیں بچائے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جب رسول اکرم ﷺ نے ذات باری تعالیٰ کی خدمت میں یہ استدعا کی تھی کہ مرزا غلام احمد کو بھیجا جائے تاکہ میری امت کو بچائے، تو بجائے اس شخص سے بچایا جائے تو وہ ویسے بھی خداوند کریم کو طاقت ہے ہر چیز بچانے کی، وہ بچا سکتا ہے۔ یہ مرزا غلام احمد ہی ہمارے بچانے کے لئے یہاں آیا تھا! ان حالات میں یہ اقلیت تو نہیں۔

(علماء کرام کی خدمات)

دائرہ اسلام کے ساتھ ایک دوسرا لفظ انہوں نے استعمال کیا، میں نے تو آج تک وہ سنا نہیں تھا، جو دائرہ اسلام سے خارج ہو میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی مسلمان نہیں۔ دوسرا 2941 لفظ بھی ساتھ ملاتا ہوں، ملت اسلامیہ سے بھی انہیں خارج کرنا چاہئے۔ تاکہ مسلمان قوم اور عظیم اسلامی دنیا کو بچایا جائے جس کو تباہ کرنے کے وہ درپے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ شاید یہ سخت کلمہ ہوگا۔ میں بھی ان میں سے ایک داڑھی والا ہی ہوں۔ لیکن آج تک تو یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کیا کرے گی؟ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ صرف انگریز کی پیدائش نہیں، سابقہ حکومتوں کی چشم پوشی کی وجہ سے بھی انہوں نے اتنی ترقی کی ہے۔ ورنہ اگر سر ظفر اللہ نہ ہوتا تو میرے خیال میں باہر کی دنیا میں ایک احمدی بھی نہ ہوتا۔ یہ سارے مشن ان کی چشم پوشی کا نتیجہ تھے۔ مولویوں نے بے شک کوشش کی ہے۔ مولوی ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ مسلمان نہیں ہیں، یہ مسلمان نہیں ہیں۔ لیکن مولویوں کے پاس کیا تھا؟ حکومت ان کے ساتھ تھی۔ جس کے ساتھ حکومت ہو ان کے مقابلے میں کون کچھ کر سکتا ہے؟ اس لئے میں تو اتفاق نہیں کرتا کہ مولویوں نے کچھ نہیں کیا۔ مولویوں نے بڑا کچھ کیا ہے۔ مولویوں نے یہاں تک کیا ہے کہ اس مسئلے کو کھڑا کئے رکھا ہے۔ اگر مولوی یہ محنت نہ کرتے تو آج تک یہ مسئلہ ختم ہو چکا ہوتا۔ مولویوں کا کام یہ تھا کہ وہ مسجدوں میں بیٹھ کر اپنی روٹی کے لئے کوشش کرتے ہیں، وہ کیا کر سکتے ہیں؟ وہ باہر مشن کا مقابلہ کیا کر سکتے تھے؟ ان کے تو مشن ہیں، جیسے عیسائیوں کے مشن آ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، ان کو گمراہ کرنے کے لئے پیسے دیئے جاتے

٢١

SSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

تھے۔ یہ شخص جو اپنے آپ کو پیغمبر کہلاتا ہے، کس سے مانگتا ہے جو مسلمان بھی نہیں ہے۔

(مرزا غلام احمد انگریز کا

ان کے موقف سے مجھے یہی ثابت ہوا ہے کہ مثالیں مرزا غلام احمد نے یہاں دی ہیں کہ انہوں نے پا اکرم ﷺ کی شان کے خلاف جو لکھا گیا، انہوں نے اس صرف اس لئے تھا کہ انگریز کے ساتھ اس نے بات کی تھی ہی حاصل کر سکتا ہوں کہ میں مباحثوں میں حصہ لوں۔ جیس ہیں تو مسجد میں بیٹھ کر وہ لوگوں پر یہ ثابت کرنے کے لئے لیکن اصل میں وہ اس حکومت کے جاسوس ہوتے ہیں ج جاسوس اور ایجنٹ تھا۔

[Mr. Chairman vacated the Chair r. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi.]

(اس مرحلے پر جناب چیئرمین نے کرسی خ خاتون عباسی نے سنبھالا)

2940 چوہدری غلام رسول تارڑ: چونکہ عیسا سے خطرہ تھا۔ ہمارا مذہب یہ کہتا ہے کہ ہم مجاہد بنتے ہیں، ا بھی جہاد ہے۔ ہمارے اس جہاد کے ایمان کو زائل کرنے اس کی مالی امداد اس طرح کی گئی کہ جتنا روپیہ وہ باہر مشن تا کہ مسلمان اپنے ایمان کو اس طرح سمجھیں کہ جہاد کرنا جا اس کے بعد انہوں نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ ایمان ہے۔ قرآن اور حدیث کے مطابق رسول اکرم ﷺ آ ہی نہیں سکتا۔ جب کہ اس نے اپنے آپ کو نبی کہا تھا۔

٢٠

صفحہ ٢٢

نوشتہ سرگزشت

چودھری غلام حسن بھٹڑیہ

2750 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

تھے، حکومت کی مدد دی جاتی تھی، ان کو عہدے دیئے جاتے تھے۔ بلکہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں مولوی اور فلاں عالم اس مذہب میں آ گیا ہے۔ محمد علی آ گیا ہے۔ کمال الدین آ گیا ہے۔ فلاں آ گیا ہے اور یہ ہو گیا ہے اور وہ ہو گیا ہے، وہ سب لوگ عہدوں کے لالچ میں اس مذہب میں آئے، ورنہ یہ کوئی مذہب نہیں ہے اور نہ ہی دنیا میں اس مذہب کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے۔

اس کے بعد میں یہ گزارش کروں گا کہ میرے معزز دوست ملک جعفر صاحب نے کل فرمایا تھا، اس سے مجھے تھوڑا سا اتفاق نہیں، انہوں نے کہا تھا کہ مولویوں نے کچھ 2942 نہیں کیا۔ وہ تو میں نے بتایا ہے کہ مولویوں نے جو کچھ کرنا تھا، وہ کرتے رہے۔ اب میں عرض کروں جیسے اللہ کے فضل سے پیپلز پارٹی کو ان کافروں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے اور مرتد قرار دینے کا شرف حاصل ہوگا، اس کے ساتھ اس ریزولیوشن کے متعلق میں بھی آپ کی اجازت سے ایک اضافہ کرانا چاہتا ہوں۔ جب ان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا جائے تو اس کے بعد سونے کا مقام نہیں ہے، کیونکہ دنیا میں جو نئی ریاستیں آزاد ہوئی تھیں، ان میں سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے مشنوں نے یہ کہہ کر کہ ہم خاتم النبیین پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر ہمارا ایمان ہے، اس کے بعد ان کو پتہ نہ تھا، ان کو غلط فہمی میں ڈال کر انہوں نے مرزا غلام احمد کو مجدد یا جو کچھ بنانے کے لئے کہا ہے، اور انہیں گمراہ کیا ہے۔ میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ پیپلز پارٹی بلکہ جو بھی اسلامی حکومت ہو اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اسلام میں ایسے مرتد اور ناسور جو لوگ ہیں انہوں نے باہر مشنوں میں جو کام کیا ہے، ان لوگوں کی اصلاح کے لئے مشن بھیجے جائیں۔ گورنمنٹ اگر حج کا اور باہر وفدوں کا انتظام کر سکتی ہے، اور لوگوں کو باہر بھیج سکتی ہے تو علماء دین کے وفدوں کو ان ریاستوں میں بھیجیں اور وہ ان لوگوں کو صحیح راستے پر لائیں۔ ان کا کوئی قصور نہیں، وہ صحیح مسلمان ہیں۔ وہ سادہ لوح تھے۔ انہیں پوری واقفیت نہ تھی۔ چونکہ ان لوگوں کو موقع ملا اور انہوں نے جا کر اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ان کو گمراہ کیا۔ ان کے لئے گورنمنٹ وفد بنا کر باہر بھیجے تاکہ یہ ناسور ختم ہو جائے اور اسلام اسی طرح ہو جیسے رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کے وقت اسلام نے ترقی کی۔ مٹھی بھر مسلمانوں کو کوئی ختم نہیں کر سکتا تھا۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عیسائیوں کی پانچ پانچ لاکھ فوجوں نے چالیس ہزار مسلمانوں کا مقابلہ کیا ہے......

محترمہ قائم مقام چیئرمین: ذرا ختم کرنے کی کوشش کریں۔ دس پندرہ منٹ ہیں۔

2943 چوہدری غلام رسول تارڑ: بالکل ٹھیک ہے۔ ایسے مشن کو بھی بھیجا جائے۔ ان کے لئے پیپلز گورنمنٹ جیسا کہ ان کو ڈیکلیئر کرنے کی امید ہے کہ اللہ کے فضل سے کر دے گی،

2751 NA

جو ہم سے دس فیصد لے کر دس روپے کی آمدنی ہو، وہ انہی مشنوں پر خرچ کرنی کی خدمت ہے اور ایسا کرنا

نٹ ہیں۔

مسئلہ پر خطاب)

یہ مسئلہ کہ مرزا غلام احمد کو نبی ں ایوان میں اس پر اتنی سیر نے کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن ں ذکر کر دوں۔

نوجوانوں کا بڑا مشکور ہوں کے انبار میں دفن ہو گیا تھا، ر اتنی منظم ہو کر سامنے آئی ئے اور میں اس بات پر بھی ب یک جہتی کی فضا پیدا کر کہ یہ اسمبلی معرض وجود میں لوگ زبانی نہیں دل سے تیں پیش نظر تھیں، کبھی کوئی ف کے بیٹھنے والے ساتھی ، اور اس اتفاق کا جو اظہار اء اللہ! یہ اسمبلی اس مسئلے کا قابل قبول ہوگا۔ اپنے بائیں طرف بیٹھنے

صفحہ ٢٧٥١

چودھری غلام حسین بہاڑہ

قومی اسمبلی میں

2751 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 اس کے بعد ان کے جو بیت المال وغیرہ ہیں، ان کی جو جائیدادیں ہیں، جو ہم سے دس فیصد لے کر بنائی گئی ہیں، ہمارے بھائیوں سے، وہ میرے ہی بھائی ہیں، جن کی دس روپے کی آمدنی ہو، وہ روپیہ ضرور دیں گے، چاہے خود بھوکے رہیں۔ وہ سب ضبط کر کے انہی مشنوں پر خرچ کرنی چاہئے۔ اوقاف کی رقم بھی انہیں مشنوں پر خرچ کرنی چاہئے۔ یہ اسلام کی خدمت ہے اور ایسا کرنا ہمارا فرض ہے۔ ان الفاظ کے ساتھ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

محترمہ قائم مقام چیئرمین: مسٹر محمود اعظم فاروقی! دس منٹ ہیں۔

(جناب محمود اعظم فاروقی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب محمود اعظم فاروقی: بہت ہیں دس منٹ۔ محترمہ! یہ مسئلہ کہ مرزا غلام احمد کو نبی ماننے والے مسلمان ہیں یا نہیں، ہماری ملت کا اتنا قدیم مسئلہ ہے اور اس ایوان میں اس پر اتنی سیر حاصل گفتگو پچھلے ایک مہینے سے ہوتی رہی ہے کہ اس میں کسی مزید اضافے کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود میں اس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ دو ایک باتوں کا چند منٹ میں ذکر کر دوں۔

(زبان سے نہیں بلکہ دل سے)

سب سے پہلے تو میں مرزا غلام احمد کو ماننے والی اس نسل کے نوجوانوں کا بڑا مشکور ہوں کہ انہوں نے ربوہ میں ہمارے طلبہ پر حملہ کر کے اس مسئلے کو جو مسائل کے انبار میں دفن ہو گیا تھا، ایک بار پھر زندہ کر کے قوم کے سامنے پیش کر دیا ہے، اور قوم اس مسئلے پر اتنی منظم ہو کر سامنے آئی کہ یہ ایوان بھی اس بات پر مجبور ہوا کہ اس پر صحیح سمت میں کوئی قدم اٹھائے اور میں اس بات پر بھی ان کا مشکور ہوں کہ اس مسئلے کو زندہ کر کے انہوں نے اس ایوان میں ایک یک جہتی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے ڈھائی سال کے عرصے میں جب سے کہ یہ اسمبلی معرض وجود میں آئی ہے۔ یہ پہلا مسئلہ ہے جس میں 2944 ایوان کے دونوں طرف کے لوگ زبانی نہیں دل سے متفق ہوئے۔ ہم پہلے بھی کئی باتوں پر اتفاق کر چکے ہیں۔ لیکن کبھی مصلحتیں پیش نظر تھیں، کبھی کوئی دوسری چیزیں پیش نظر تھیں۔ لیکن یہ وہ مسئلہ ہے جس میں کہ ہم دونوں طرف کے بیٹھنے والے ساتھی شرح صدر کے ساتھ زبان سے بھی اور دل سے بھی اس مسئلے پر متفق ہیں، اور اس اتفاق کا جو اظہار پچھلے دنوں میں ہوتا رہا ہے، میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں انشاء اللہ! یہ اسمبلی اس مسئلے کا ایسا فیصلہ کرے گی جو خدا کے نزدیک بھی مقبول ہو اور عوام کے نزدیک بھی قابل قبول ہو گا۔

جناب والا! میں ایک بہت اہم بات آپ کے توسط سے اپنے بائیں طرف بیٹھنے

٢٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 تھے، حکومت کی مدد دی جاتی تھی، ان کو عہدے دیئے جاتے مولوی اور فلاں عالم اس مذہب میں آ گیا ہے۔ محمد علی آ گیا آ گیا ہے اور یہ ہو گیا ہے اور وہ ہو گیا ہے، وہ سب لوگ عو آئے، ورنہ یہ کوئی مذہب نہیں ہے اور نہ ہی دنیا میں اس مذہب اس کے بعد میں یہ گزارش کروں گا کہ میرے محت فرمایا تھا، اس سے مجھے تھوڑا سا اتفاق نہیں، انہوں نے کہا تھا تو میں نے بتایا ہے کہ مولویوں نے جو کچھ کرنا تھا، وہ کرتے کے فضل سے پیپلز پارٹی کو ان کافروں کو دائرہ اسلام سے خار حاصل ہوگا، اس کے ساتھ اس ریزولیوشن کے متعلق میں بھی چاہتا ہوں۔ جب ان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا جائے کیونکہ دنیا میں جو نئی ریاستیں آزاد ہوئی ہیں، ان میں سادہ لو کہہ کر کہ ہم خاتم النبیین پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر ا نہ تھا، ان کو غلط فہمی میں ڈال کر انہوں نے مرزا غلام احمد کو مجد انہیں گمراہ کیا ہے۔ میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ پیپلز پارٹی بلکہ جو ہوتا ہے کہ اسلام میں ایسے مرتد اور ناسور جو لوگ ہیں انہوں لوگوں کی اصلاح کے لئے مشن بھیجے جائیں۔ گورنمنٹ اگر ہے، اور لوگوں کو باہر بھیج سکتی ہے تو علماء دین کے وفدوں کو ال کو صحیح راستے پر لائیں۔ ان کا کوئی قصور نہیں، وہ صحیح مسلمان واقفیت نہ تھی۔ چونکہ ان لوگوں کو موقع ملا اور انہوں نے جا کیا۔ ان کے لئے گورنمنٹ وفد بنا کر باہر بھیجے تاکہ یہ ناسور خ رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کے وقت اسلام نے نہیں کر سکتا تھا۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عیسائیوں کی پا مسلمانوں کا مقابلہ کیا ہے۔۔۔۔۔

محترمہ قائم مقام چیئرمین: ذرا ختم کرنے کی

2943 چوہدری غلام رسول تارڑ: بالکل ٹھیک

کے لئے پیپلز گورنمنٹ جیسا کہ ان کو ڈیکلیئر کرنے کی امی

٢٢

PDF 532

چودھری غلام حسن بھاٹیہ نوشتہ سرگزشت

2752 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 2753 NATIO

والے ساتھیوں کی اور بالخصوص حکومت کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا اور وہ یہ ہے کہ اس مسئلے کے دو پہلو ہیں۔ ایک قانونی پہلو ہے دوسرا انتظامی پہلو۔ قانونی پہلو یہ کہ اسمبلی دستور میں ترمیم کر کے یا قوانین نئے لا کر رسول کریم ﷺ کی نبوت کو آخری نبوت نہ ماننے والوں کو غیر مسلم قرار دے دے اور اس کے نتیجے میں غلام احمد کے متبعین غیر مسلم قرار پا جائیں۔ یہ ایک قانونی حیثیت ہے اس کی۔ لیکن اس سے ایک بڑا مسئلہ اس کی انتظامی حیثیت ہے۔ جیسا کہ تارڑ صاحب نے صحیح فرمایا کہ گذشتہ حکومتوں کی چشم پوشی کے نتیجے میں پچھلے ٢٥ سال میں یہ لوگ مختلف محکموں میں داخل ہوئے، مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر، مسلمانوں کے نام سے، اور اپنے فرقے کے دوسرے افراد کے تعاون سے اور اپنے بڑے بڑے افسران کی مدد سے یہ کلیدی مناصب پر پہنچتے رہے۔ آپ اچھی طرح جانتی ہیں اس بات کو، کہ اس وقت فوج میں اور سول سروسز میں بہت اہم مناصب پر یہ لوگ پہنچ چکے ہیں۔ جب یہ بات طے ہوگئی کہ یہ نہ مسلمان ہیں اور نہ محبّ وطن تو ان کو کلیدی مناصب پر رکھنا صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والی بات ہی نہیں ہے بلکہ خود اس ملک کی سلامتی کے منافی ہے، اور میں یہ کہوں گا کہ پیپلز پارٹی کی 2945 حکومت کے حق میں بھی یہ بات ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کو ان مناصب سے ہٹائے۔ ان مناصب سے ہٹانے کا مسئلہ خالصتاً انتظامی مسئلہ ہے، ایوان اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اس لئے میں غالباً ایوان کے جذبات کی نمائندگی کروں گا اگر میں حکومت سے یہ مطالبہ کروں کہ وہ ان کو ان انتظامی مناصب سے، کلیدی مناصب سے ہٹانے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ میں یہ بات جانتا ہوں اور یہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس سارے لوگوں کو سارے کلیدی مناصب سے بیک وقت نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اس سے انتظامی خلا بھی پیدا ہو سکتا ہے اور ملک کے دوسرے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر حکومت کے سامنے یہ مسئلہ موجود ہو کہ ان کو ہٹانا ہے تو وہ ہٹائے جاسکتے ہیں۔

اسی سلسلے میں ایک اور بات ہے بلکہ ایک مشکل یہ سامنے آنے کا امکان ہے کہ اس انتظامیہ کے بہت سے وہ لوگ اور بہت سے وہ افراد جو کہ کلیدی مناصب پر ہیں اور وہ جو غلام احمد کے متبعین میں سے بھی ہیں، وہ شاید یہ کہنا شروع کر دیں کہ ہم تو مسلمان ہیں اور ہم ختم نبوت کے عقیدے کو مانتے ہیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ حکومت کے پاس انٹیلی جنس اور دوسری بھی ایسی مشینری موجود ہے کہ جو ان کو یہ صحیح اطلاع دے سکتی ہے کہ کون سے وہ لوگ ہیں جو اس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک و ملت کے لئے جن کا طرز عمل منافی ہو سکتا ہے، ان کو ہٹایا جانا چاہئے۔ اس لئے اس مشینری کو عمل میں لائے۔ اس کو حرکت میں لائے اور ایسے لوگوں کا پتہ لگائے اور ان کو ٢٤

اگر ہم نے یہ فیصلہ اسمبلی میں کر پوری شدت سے محسوس کرتا ہوں گے، یعنی وہ جو کہ غلام احمد کے ہو 2946 اور لوگ یہ سمجھیں کہ مسلمان نہیں ہیں ان کے ساتھ بات کی تیاریاں ہو رہی ہیں کہ کہیں اور ایسی حرکت کر کے ت پیدا ہو سکے۔ میں جانتا ہوں کر رہی ہے کہ ایسی صورت پیدا جو کہ اپوزیشن میں ہیں یا حزب پیدا ہو تو ہمیں خود میدان میں تو ہم خود جدوجہد کریں، کیونکہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ را ملک میں ہماری یہ ذمہ داری کرنے کے لئے جدوجہد کریں۔ ب نے اپنی کل کی تقریر میں اس ب اختلاف کے ممبران نے جو کی طرف اشارہ کیا تھا جو میں ہے۔ تاکہ اس کمیٹی کا ریکارڈ گئی ہیں۔ یعنی ایک طرف اس میں ملوث ہیں اور دوسری طرف کاروائیوں میں ملوث ہیں تو ان یقین دہانی دے دیں کہ وہ ملک دشمن قرارداد پیش کی تو ہم نے ان اس بناء پر یہ جانتے ہیں کہ غلام

صفحہ ٢٧٥٣

نوشتہ سرگزشت

چوہدری غلام حسین بھاڑیہ

2753 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 LY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

مناسب طور پر ان کی تعداد کے لحاظ سے صحیح مقام پر رکھے۔

پھر دوسری بات میں اس سلسلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم نے یہ فیصلہ اسمبلی میں کر دیا، انشاء اللہ! عوام کے مطالبے کے مطابق، تو اس کا امکان میں پوری شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ ملک میں خود یہ حضرات کوئی گڑ بڑ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، یعنی وہ جو کہ غلام احمد کے ماننے والے لوگ ہیں، تاکہ پاکستان دنیا کی نظروں میں بدنام ہو 2946 اور لوگ یہ سمجھیں کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ایک فرقے کے لوگوں کو یا جو مسلمان نہیں ہیں ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا۔ دلیل کی بنیاد پر یہ بات جانتا ہوں کہ اس بات کی تیاریاں ہو رہی ہیں کہ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے کہیں اکے دکے حملے کر کے، کہیں اور ایسی حرکت کر کے مسلمانوں کو مشتعل کیا جائے تا کہ کوئی اس قسم کے فسادات کی صورت پیدا ہو سکے۔ میں جانتا ہوں کہ حکومت اس سلسلے میں بے شک چوکس ہے اور وہ ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ ایسی صورت پیدا نہ ہو، لیکن اس ایوان کے لوگوں کی زیادہ ذمہ داری ہے۔ ہم سب کی جو کہ اپوزیشن میں ہیں یا حزب اقتدار میں ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسی صورت پیدا ہو تو ہمیں خود میدان میں آنا چاہئے اور غلام احمد کے متبعین کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ہم خود جدوجہد کریں، کیونکہ ایک دفعہ ان کو اقلیت قرار دے دینے کے بعد یہ مسلمان حکومت اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے جان و مال کا تحفظ کریں اور یہ فیصلہ ہو جائے گا۔ انشاء اللہ! ملک میں ہماری یہ ذمہ داری ہوگی کہ ہم کسی فساد کو یا کسی ناخوشگوار صورتحال کو پیدا ہونے سے روکنے کے لئے جدوجہد کریں۔

آخری بات میں یہ عرض کروں گا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی کل کی تقریر میں اس قرارداد پر ایک تبصرہ کیا تھا جو ہم نے تجویز کی تھی۔ یہاں ٣٧ حزب اختلاف کے ممبران نے جو قرارداد پیش کی تھی اس پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے ایک بات کی طرف اشارہ کیا تھا جو میں سمجھتا ہوں کہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس کی وضاحت ہو جانی چاہئے۔ تاکہ اس کمیٹی کا ریکارڈ صاف رہے۔ انہوں نے یہ کہا تھا کہ اس قرارداد میں متضاد باتیں کی گئی ہیں۔ یعنی ایک طرف اس قرارداد میں یہ کہا گیا ہے قادیانیوں کو کہ وہ ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں اور دوسری طرف یہ کہا گیا ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ تو اگر وہ ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں تو ان کے حقوق کے تحفظ کے 2947 معنی انہوں نے یہ لئے کہ ہم ان کو کھلی چھٹی دے دیں کہ وہ ملک دشمن کارروائیوں کو جاری رکھیں۔ میں یہ بتانا چاہوں گا کہ ہم نے جب یہ قرارداد پیش کی تو ہم نے ان دونوں حقائق کو سامنے رکھا تھا۔ ایک حقیقت یہ ہے اور ہم اپنے علم کی بناء پر یہ جانتے ہیں کہ غلام

والے ساتھیوں کی اور بالخصوص حکومت کی خدمت کے دو پہلو ہیں۔ ایک قانونی پہلو ہے دوسرا انتظا کے یا قوانین نئے لا کر رسول کریم ﷺ کی نبوت ک دے اور اس کے نتیجے میں غلام احمد کے متبعین خی اس کی۔ لیکن اس سے ایک بڑا مسئلہ اس کی انتظ فرمایا کہ گذشتہ حکومتوں کی چشم پوشی کے نتیجے میں ہ ہوئے، مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر، مسلمانوں کے تعاون سے اور اپنے بڑے بڑے افسران کی مدد طرح جانتی ہیں اس بات کو، کہ اس وقت فوج می پہنچ چکے ہیں۔ جب یہ بات طے ہو گئی کہ یہ نہ مس رکھنا صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر سلامتی کے منافی ہے، اور میں یہ کہوں گا کہ منتظ ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کو ان مناصب سے انتظامی مسئلہ ہے، ایوان اس سلسلے میں کچھ بھی نہی نمائندگی کروں گا اگر میں حکومت سے یہ مطالبہ مناصب سے ہٹانے کے لئے فوری اقدامات کر ہوں کہ اس سارے لوگوں کو سارے کلیدی منا انتظامی خلا بھی پیدا ہو سکتا ہے اور ملک کے دوسر کے سامنے یہ مسئلہ موجود ہو کہ ان کو ہٹانا ہے تو وہ

اسی سلسلے میں ایک اور بات ہے بک انتظامیہ کے بہت سے وہ لوگ اور بہت سے وہ کے متبعین میں سے بھی ہیں، وہ شاید یہ کہنا شرو عقیدے کو مانتے ہیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ مشینری موجود ہے کہ جو ان کو یہ صحیح اطلاع دے تعلق رکھتے ہیں اور ملک وملت کے لئے جن کا اس لئے اس مشینری کو عمل میں لائے۔ اس کو حر

٢٥

صفحہ ٢٧٥٤

چودھری غلام حسین بھاٹیہ

نوشتہ سرگزشت

2754 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

احمد قادیانی کو ماننے والے لوگ اس ملک و ملت اسلامیہ کے خلاف تگ و دو کر رہے ہیں اور وہ اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک مجرم کو بھی یہ حق ہے کہ وہ زندہ رہے۔ اس کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے۔ اس لئے میں یہ کہتا ہوں کہ انہیں ان کارروائیوں کو جاری رکھنے کی اجازت تو نہیں دی جائے گی، مسلمان تو نہیں سمجھا جائے گا، لیکن ان کو اس ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے جو جان و مال کے تحفظ کا حق ہے، وہ حق ان کو دینا قانون کے ذریعے سے بھی اور انتظامیہ کے ذریعے سے بھی ہماری ذمہ داری ہے تو اس لئے اس قرارداد میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بالکل ایک حقیقت کو بیان کر کے یہ کہا گیا ہے کہ ان کو ان کارروائیوں سے روک کر ان کے جائز حقوق کا ہمیں تحفظ کرنا چاہئے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے تو یہ چند باتیں تھیں جو میں آپ کے توسط سے عرض کرنا چاہتا تھا۔

محترمہ قائم مقام چیئرمین: مولانا محمد علی! مولانا سید محمد علی رضوی: پہلے مولانا محمد ذاکر صاحب کو موقع دے دیجئے۔ محترمہ قائم مقام چیئرمین: اچھا، مولانا محمد ذاکر!

(جناب مولانا محمد ذاکر کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

مولانا محمد ذاکر: جناب والا! ایوان کا کافی وقت اس پر صرف ہو چکا ہے، اس میں مزید وضاحت کی حاجت نہیں۔ لیکن مجھے تعجب ہے کہ اس مسئلے کو اس رنگ میں کیسے زیر بحث لایا گیا، حالانکہ یہ مسئلہ اتنا واضح ہے، اتنی مسلمہ حقیقت ہے کہ اس پر کسی اظہار خیال کی حاجت نہیں تھی۔ اس میں مخالفین کو موقع دیا گیا اور اس کا جواب الجواب شائع کیا گیا۔ 2948 اور اس پر بحثیں ہوئیں اور اٹارنی جنرل کو تکلیف دی گئی۔ یہ سب باتیں ہوئیں۔ لیکن ایک اسلامی مملکت میں اس مسئلے کو اس وقت زیر بحث لانے کی حاجت ہی کیا تھی؟ یہ اتنی واضح چیز ہے جیسے دن چڑھا ہوا ہو، جیسے اظہر من الشمس کہتے ہیں۔ اس پر بحث ہوئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس میں مزید بولنا، مزید وضاحت کرنا، میں تو اس کو سوء ادب سمجھتا ہوں، یہ بے ادبی ہے۔ کوئی یہ ایسی غیر اسلامی حکومت نہ تھی کہ جس میں اس وضاحت کی ضرورت ہوتی۔ جب یہ ہمارا دعویٰ ہے اور ہمارا اعلان ہے کہ یہ اسلامی حکومت ہے، پھر اسلامی حکومت میں ایک ایسے مسئلے کو جو مسلمہ حقیقت ہے، اس کو اس طرح زیر بحث لانا ایک تعجب کی بات ہے۔ کیونکر تعجب ہوا کہ اس کو زیر بحث لایا گیا۔ میں سمجھتا ہوں اس کو زیر بحث لانا نہایت بے ادبی ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی شان باعظمت میں گستاخی ہے۔ ہم کون ٢٦

2755 NATIONA...

لق کائنات نے اس کا فیصلہ فرما دیا۔ اب کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تھی معاملہ ہے جو ایک حد تک ٹھیک ہے، نی چاہئے۔ دنیا کی نظریں لگی ہوئی پ کا انتظار کر رہا ہے، اور بیرونی ت، ایمانی غیرت کیا ہے۔ اس لئے ث کے دوران کافی کارروائی ہوچکی کے سوا اور کوئی صورت کار نہیں۔ اگر کا باعث ہوگا۔ وں۔ میں پھر توجہ دلاؤں گا کہ اس ایان شان ہمارا ایک انداز فکر ہونا

بطانوی سامراج کی یادگار ہے اور ورنہ کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ پھر کسی پاکستان بنا، اس کے بننے کے بعد اور جن لوگوں نے اس مسئلہ کو اٹھایا ے پھرتے ہیں۔ میرے دوست کی خوش قسمتی ہوگی کہ اگر اس میں ت کے ساتھ عوام کے ترجمان کی ا پڑے رہنا چاہئے۔ مزید انتظار لکل اٹل چیز ہے۔ اسلام کا فیصلہ گر حکومت نے ذرا سستی کی، ذرا ی اختیار نہیں کر سکے گی تو اس کے ذہن نہایت بے تابی کے ساتھ ر پر یہ کام قومی اسمبلی کے ذمے ندہ جماعت ہے۔ میرے خیال

صفحہ ٢٧٥٥

نوشتہ سرگزشت

چوہدری غلام حسن بھٹڑ

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

احمد قادیانی کو ماننے والے لوگ اس ملک وملت اسلامیہ قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے۔ اس لئے میں یہ رکھنے کی اجازت تو نہیں دی جائے گی، مسلمان تو نہیں کہا ہونے کی حیثیت سے جو جان و مال کے تحفظ کا حق ہے وہ اور انتظامیہ کے ذریعے سے بھی ہماری ذمہ داری ہے ہے۔ بالکل ایک حقیقت کو بیان کرکے یہ کہا گیا ہے کہ جائز حقوق کا ہمیں تحفظ کرنا چاہئے۔ یہ ہماری ذمہ داری توسط سے عرض کرنا چاہتا تھا۔

محترمہ قائم مقام چیئرمین: مولانا محمد مولانا سید محمد علی رضوی: پہلے مولانا محمد محترمہ قائمقام چیئرمین: اچھا، مولانا

(جناب مولانا محمد ذاکر کا قومی اسمبلی

مولانا محمد ذاکر: جناب والا! ایوان کا مزید وضاحت کی حاجت نہیں۔ لیکن مجھے تعجب ہے کہ گیا، حالانکہ یہ مسئلہ اتنا واضح ہے، اتنی مسلمہ حقیقت تھی۔ اس میں مخالفین کو موقع دیا گیا اور اس کا جواب ہوئیں اور اٹارنی جنرل کو تکلیف دی گئی۔ یہ سب باتیں مسئلے کو اس وقت زیر بحث لانے کی حاجت ہی کیا تھی جیسے اظہر من الشمس کہتے ہیں۔ اس پر بحث ہوئی۔ وضاحت کرنا، میں تو اس کو سوء ادب سمجھتا ہوں، یہ بات تھی کہ جس میں اس وضاحت کی ضرورت ہوتی۔ جب اسلامی حکومت ہے، پھر اسلامی حکومت میں ایک ایسے زیر بحث لانا ایک تعجب کی بات ہے۔ کیونکر تعجب ہوا کہ زیر بحث لانا نہایت بے ادبی ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ

٢٦

2755 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہیں، ہماری کیا حقیقت ہے کہ ہم اس پر بحث کریں۔ جب خالق کائنات نے اس کا فیصلہ فرما دیا۔ اس بارے میں واضح احکامات پہلے سے موجود ہیں۔ اس میں اب کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تھی کہ پھر ہم اس کو از سر نو زیر بحث لائیں۔ یہ ایک بڑا تعجب خیز معاملہ ہے جو ایک حد تک ٹھیک ہے، ہو گیا۔ لیکن مزید اس میں کسی قسم کے انتظار کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے اندرون سواد اعظم نہایت بے تابی سے آپ کا انتظار کر رہا ہے، اور بیرونی ممالک میں بھی دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی غیرت، ملی غیرت، ایمانی غیرت کیا ہے۔ اس لئے اس مسئلے میں مزید بحث کی حاجت نہیں پھر اٹارنی جنرل کی بحث کے دوران کافی کارروائی ہوچکی ہے اور اب اس میں دو ٹوک فیصلہ ہونا چاہئے۔ دو ٹوک فیصلہ کے سوا اور کوئی صورت کار نہیں۔ اگر ہمارا صاحب اقتدار مزید شک و شبہ میں پڑا رہے تو یہ مزید نقصان کا باعث ہوگا۔

2949 میں، اس مسئلے میں مزید کچھ کہنا سوء ادبی سمجھتا ہوں۔ میں پھر توجہ دلاؤں گا کہ اس کی اہمیت کے مطابق، اس کی حیثیت کے مطابق، اس کی شایان شان ہمارا ایک انداز فکر ہونا چاہئے اور اسی میں ہماری نجات ہے۔

آپ کو یہ علم ہی ہے اور سب پر واضح ہے کہ یہ فتنہ برطانوی سامراج کی یادگار ہے اور برطانوی سامراج نے اس کو پروان چڑھنے کے مواقع دیئے، ورنہ کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ پھر کسی اسلامی ملک میں ایسی کوئی چیز برداشت نہیں ہوتی۔ جب سے یہ پاکستان بنا، اس کے بننے کے بعد کافی وقت ضائع ہوا، کئی تحریکیں اٹھیں جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں اور جن لوگوں نے اس مسئلہ کو اٹھایا اور لاپروائی سے کام لیا وہ پٹک گئے اور وہ آج تک مارے مارے پھرتے ہیں۔ میرے دوست چوہدری غلام رسول تارڑ صاحب نے خوب کہا کہ موجودہ حکومت کی خوش قسمتی ہوگی کہ اگر اس میں واضح طور پر اپنی جرات ایمانی سے کام لیں۔ میں قومی توقعات کے ساتھ عوام کے ترجمان کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ اس فیصلہ کے لئے مزید شک و شبہ میں نہیں پڑے رہنا چاہئے۔ مزید انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ اس میں کسی بحث کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک بالکل اٹل چیز ہے۔ اسلام کا فیصلہ کن معاملہ ہے۔ اس میں جرات ایمانی سے کام لینا چاہئے۔ اگر حکومت نے ذرا سستی کی، ذرا لاپرواہی کی اور کسی سیاسی مسئلے میں گرفتار ہو کر اس میں واضح پالیسی اختیار نہیں کرسکے گی تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔ وہ نتائج ظاہر ہیں۔ تمام کے ذہن نہایت بے تابی کے ساتھ تڑپ تڑپ کر پوچھ رہے ہیں، دریافت کر رہے ہیں۔ خاص طور پر یہ کام قومی اسمبلی کے ذمے کیا گیا۔ قومی اسمبلی کی بڑی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ یہ ملک کی نمائندہ جماعت ہے۔ میرے خیال

٢٧

صفحہ ٢٧٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

میں جہاں تک میں اس وقت پہنچا ہوں، مجھے یاد نہیں کہ شاید ہی کسی ممبر نے اس کے خلاف تقریر کی ہو تقریباً سبھی نے تائید کی ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ مسئلہ سواد اعظم کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہو۔ کیونکہ 2950 قومی اسمبلی تقریباً اپنا صحیح فرض ادا کر چکی ہے۔ اس میں اب حکومت کی جرأت کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اگر اندرونی اور بیرونی حمایت کا صحیح جائزہ لیتے ہوئے، صحیح جرأت ایمانی سے کام لے لیا تو یقیناً کامیابی ہوگی۔

( قادیانی داخلی و خارجی فتنہ )

صرف یہ نہ سمجھئے کہ یہ فتنہ صرف داخلی ہے، بلکہ یہ فتنہ بیرونی ممالک میں بھی ہے۔ یہ بھارت کے وفادار ہیں۔ قادیان میں اس قسم کے آدمی بیٹھے ہیں، ٣١٣ آدمیوں کی یعنی کافروں کو وہاں بٹھایا ہوا ہے۔ وہ دو کشتیوں پر پاؤں لٹکائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں بھی نظریہ پاکستان کے خلاف کام شروع کر رکھا ہے اور بھارت میں بھی۔ اس کے علاوہ اسلامی ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک کو انہوں نے بڑا پریشان کر رکھا ہے۔ اسرائیل سے ان کی ساز باز ہے۔ اسرائیل اور ان کا پروپیگنڈا ایک ہے۔ ایک ہی پروگرام ہے اسرائیل کا اور ان کا۔ یہودیوں کے نظریات اور ان کے نظریات بالکل ملتے جلتے ہیں۔ ایک ہی ان کا پروگرام ہے۔ بہرحال پاکستان کے اندر اور پاکستان سے باہر اسلام کے پردے میں اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، اور ان سب سازشوں سے بچنا چاہئے۔ ہم پہلے بڑا وقت انتظار کر چکے ہیں۔ پھر ہماری خارجہ پالیسی کمزور رہی ہے۔ صرف چوہدری ظفر اللہ کی وجہ سے خارجہ پالیسی کو اتنا بڑا نقصان پہنچا جو ناقابل تلافی نقصان ہے۔ جہاں بھی یہ لوگ رہے۔ انہوں نے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

جیسا کہ فاروقی صاحب نے کہا ہے کہ ان کی تشخیص کے لئے ایک بورڈ قائم ہونا چاہئے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ قادیانی ہے اور یہ غیر قادیانی ہے۔ جب تک ہم اس قسم کی تشخیص نہیں کر سکیں گے یہ طبقہ نقصان پہنچاتا رہے گا۔ فوج میں جہاں کہیں یہ بڑے عہدوں پر ہیں یا چھوٹی ملازمتوں میں ہیں، ان کی تشخیص کے لئے کمیٹی ہونی چاہئے اور خاص طور پر مردم شماری میں ان کی وضاحت ہونی چاہئے۔ ہمیں اس میں کوئی اعتراض 2951 نہیں۔ ان کے غیر مسلم اقلیت ہونے کی پاکستان پر ذمہ داری آ جاتی ہے کہ ان کے مال و جان کی حفاظت کی جائے۔ یہ درست ہے۔ اسلام میں تنگ نظری نہیں ہے۔ اسلام میں بڑی فراخ دلی ہے۔ اسلام نے صرف رواداری کو فروغ دیا ہے۔ مگر

٢٨

صفحہ ٢٧٥٧

دشت سرگزشت

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

میں جہاں تک میں اس وقت پہنچا ہوں، مجھے یاد نہیں کہ ہو تقریباً سبھی نے تائید کی ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ حل نہ ہو۔ کیونکہ 2950 قومی اسمبلی تقریباً اپنا صحیح فرض جرأت کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اگر اندرونی اور جرأت ایمانی سے کام لے لیا تو یقیناً کامیابی ہوگی۔

(قادیانی داخلی خطرہ)

صرف یہ نہ سمجھئے کہ یہ فتنہ صرف داخلی ہے بھارت کے وفادار ہیں۔ قادیان میں اس قسم کے آڈا وہاں بٹھایا ہوا ہے۔ وہ دو کشتیوں پر پاؤں لٹکائے ہو پاکستان کے خلاف کام شروع کر رکھا ہے اور بھارت خاص طور پر عرب ممالک کو انہوں نے بڑا پریشان کر اسرائیل اور ان کا پروپیگنڈا ایک ہے۔ ایک ہی پروگ نظریات اور ان کے نظریات بالکل ملتے جلتے ہیں۔ ا کے اندر اور پاکستان سے باہر اسلام کے پردے میں ان سب سازشوں سے بچنا چاہئے۔ ہم پہلے بڑا وقت کمزور رہی ہے۔ صرف چوہدری ظفر اللہ کی وجہ سے تلافی نقصان ہے۔ جہاں بھی یہ لوگ رہے۔ انہوں کی ہے۔ ان سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

جیسا کہ فاروقی صاحب نے کہا ہے کہ ا تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ قادیانی ہے اور یہ غیر قادیانی گے یہ طبقہ نقصان پہنچاتا رہے گا۔ فوج میں جہاں ک میں ہیں، ان کی تشخیص کے لئے کمیٹی ہونی چاہئے او ہونی چاہئے۔ ہمیں اس میں کوئی اعتراض 2951 نہیں ذمہ داری آجاتی ہے کہ ان کے مال و جان کی حفاظت نظری نہیں ہے۔ اسلام میں بڑی فراخ دلی ہے۔

٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

یہ رواداری ایسی نہیں ہے جو برداشت کی جاسکتی ہو کہ وہ اپنی سازشیں بحال رکھیں اور اسلام کو نقصان پہنچائیں۔ اس لئے مردم شماری میں بھی ان کی خاص طور پر وضاحت ہونی چاہئے اور تمام ملازمتوں میں، تجارت میں، ہر معاملہ میں اپنے تناسب آبادی سے بڑی خوشی سے ان کو حقوق دئے جائیں۔ لیکن یہ دھوکہ نہیں دیا جاسکتا، یہ برداشت نہیں ہوسکتا کہ یہ اسلام کے پردے میں پاکستان کے اندر رہ کر یہ عرب ممالک میں، نائیجیریا میں، امریکہ میں، مختلف ممالک میں رہ کر پاکستان کو نقصان پہنچائیں۔ اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

میں دوبارہ یہ عرض کروں گا کہ اس کارروائی کو مزید طول دینے کی قطعاً حاجت نہیں۔ یہ واضح مسئلہ ہے بلکہ یہ ایک اظہر من الشمس چیز ہے۔ اس میں صرف جرأت ایمانی کی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے اس نازک موقع پر صحیح طریقہ اختیار کیا تو یقیناً نجات ہوگی۔ شکریہ!

محترمہ قائمقام چیئرمین: مولانا محمد علی رضوی! آپ نے دس منٹ تک تقریر کرنی ہے۔

(جناب مولانا سید محمد علی رضوی کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

مولانا سید محمد علی رضوی: نحمده ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! آج ہمارے ہاں اس ایوان میں تین مہینے سے جس مسئلہ پر گفتگو ہورہی ہے، ویسے تو یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں کسی کو کوئی اختلاف ہو، البتہ معلومات کی کمی ضرور تھی، علم کی کمی ضرور تھی۔ بہت سے لوگ تھے جنہیں یہ پتہ نہیں کہ مرزائیت کیا چیز ہے، قادیانیت کیا چیز ہے، ان کے عزائم کیا ہیں، ان کے ارادے کیا ہیں، یہ چاہتے کیا ہیں۔ یہ مذہبی فرقہ ہے یا کوئی سیاسی فرقہ ہے۔ اب ہر اعتبار سے ہمارے سامنے اس جماعت کو واضح کردیا گیا کہ ان کے عزائم کیا ہیں۔ یہ کوئی مذہبی فرقہ نہیں ہے، یہ تو اسلام دشمنوں کا آلہ کار فرقہ ہے۔

2952 دراصل اٹھارویں صدی جہاں سے مسلمانوں کا انحطاط شروع ہوتا ہے، اس وقت ہندوستان میں بھی انگریز آئے اور ایشیاء میں دوسرے مقامات پر بھی انگریز کا تسلط ہوا۔ اس وقت یہ تین شخص ہیں۔ ایک تو مہدی سوڈانی، دوسرے شیخ سیناسی اور تیسرے فضل حق خیر آبادی اور مولوی عنایت احمد کاکوروی، مفتی صدر الدین صاحب! ان حضرات نے جہاد کا فتویٰ دیا۔ انگریزوں کے خلاف، اور جگہ جگہ مقابلے میں ہوئے۔ چنانچہ فضل خیر آبادیؒ اور مولانا عنایت احمد کاکوروی کو، ان کے ساتھ بھی پانچ سو علماء کے قریب تھے، جنہیں تمام کو دریائے شور کی سزادی گئی، کالے پانی بھیجا گیا اور ان حضرات کا انتقال بھی وہیں ہوا۔

٢٩

چودھری غلام حسین پٹیالوی

صفحہ ٢٧٥٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

اس جہاد کے فتوے کے اثر کو ختم کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو آلہ کار بنایا گیا۔ اس نے شروع میں تو مسلمانوں کے دلوں میں جگہ کرنے کا ایک طریقہ اختیار کیا۔ وہ مناظر بن گیا اسلام کا۔ عیسائیوں سے مناظرہ کرتا ہے، کہیں آریوں سے مناظرہ کرتا ہے۔ جب اس نے مسلمانوں میں اپنی جگہ اور اپنا مقام حاصل کر لیا، اس کے بعد اس نے دعویٰ نبوت کیا۔ ہمیں اب یہ چیز تو پوری طرح واضح ہو گئی ہے۔ لیکن علمائے کرام شروع ہی سے اس کے خلاف تھے۔ علماء حق نے شروع ہی سے اس کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ لیکن چونکہ مسلمانوں کے پاس یا علماء کے پاس نہ تو اختیار تھا نہ اقتدار نہ کسی طاقت کی سرپرستی تھی۔ اس کے ساتھ تو جناب! پوری حکومت تھی قادیان میں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد بھی اور اس کے زمانے میں بھی، جو بھی اس کے خلاف ہوتا تھا وہیں اس کو قتل بھی کیا گیا۔ چنانچہ ایک مشہور واقعہ ہے محمد حسین کو قتل کیا گیا۔ سلطان احمد ملتانی ١؎ کو قتل کیا گیا، عبدالرحمٰن مصری کے ساتھ انہوں نے جو کچھ کیا اس کا مکان جلایا گیا، اس کو قادیان سے باہر نکلوایا۔ لیکن چونکہ حکومت کی سرپرستی، انگریزوں کی سرپرستی تھی، برطانیہ کی حمایت حاصل تھی، اس لئے مقدمے بھی چلے تو کچھ نہیں ہوا۔ قادیان میں تو کسی کو ان کے خلاف 2953 آواز اٹھانے کی ہمت ہی نہیں تھی۔ ذرا بھی اگر کوئی شخص بولتا تھا تو اس کے ساتھ وہ زیادتیاں کی جاتی تھیں کہ کتابیں بھری پڑی ہیں اس کی زیادتیوں کی۔

اس کے بعد پاکستان بن گیا۔ پاکستان میں آپ دیکھتے ہیں انہوں نے ربوہ (اب چناب نگر) میں زمین حاصل کر کے پاکستان کے قلب میں اپنی ایک متوازی حکومت قائم کی اور وہاں بھی وہ اپنے مقدمات، چاہے وہ دیوانی کے ہوں، فوجداری کے ہوں، خود ہی طے کرتے تھے اور یہاں ہم کہتے تھے کہ یہ مرزائی کسی وقت اس ملک کو ختم کرانے والے ہوں گے۔ ہم نے دیکھا کہ اس مرزائی نے جس کو آپ نے وزیر خارجہ بنایا، اس نے ہمارے ملک کی دوستی، ہماری دوستی ہر ایک سے کرائی، لیکن ایک ملک ایسا تھا جس سے نہ کروائی۔ لیکن کیا وہ کافر تھا؟ کیا وہ بے دین تھا؟ کیا اختلاف تھا؟ کیونکہ شروع سے بنیاد ہی ایسی رکھی گئی تھی اس لئے افغانستان سے جس سے ہمارے عقائد میں اتحاد، ہمارے معاشرے میں بھی اتحاد، ہمارے دین میں بھی اتحاد تھا۔ وہاں اس نے دوستی نہ ہونے دی۔ کیونکہ یہ وزیر خارجہ قادیانی تھا۔ افغانستان میں جو بھی قادیانی گیا ہے وہاں مارا گیا ہے، قتل کیا گیا ہے۔

١؎ یہ سلطان احمد ملتانی نہ تھے بلکہ فخر الدین ملتانی تھے۔ قادیانی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ اختلاف رائے کی بنیاد پر مرزا محمود نے ان کو قادیان میں قتل کرادیا۔ مرتب!

٣٠

صفحہ ٢٧٥٩

چودھری غلام حسین بھٹی

وقت سرکنے

2759 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ان کے عزائم اب آپ کے سامنے آچکے ہیں۔ ان کے پاس فوجی قوت بھی ہے۔ کہیں الفرقان فورس ہے، کہیں احمدی فورس ہے۔ آخر کوئی ایسی مذہبی جماعت ہمارے ہاں پاکستان میں نہیں جس کے پاس فورسز ہوں، جس کے پاس طاقت ہو جس کے پاس لڑنے والے رضاکار ہوں۔ یہ ایسی جماعت ہے جس کے پاس لڑنے والے، جنگ کرنے والے رضاکار بھی موجود ہیں۔ یہ جماعت مذہبی نہیں ہے۔ مگر یہ جماعت تو چاہتی ہے کہ جب بھی موقع ملے اس پورے ملک پر قبضہ کیا جائے اور پھر ان کے عزائم کتابوں سے واضح ہو گئے کہ وہ غیر احمدی کو دیکھنا نہیں چاہتے، غیر احمدی کو زندہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہ انہیں قطعاً اس ملک میں ایک لمحہ کے لئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ مگر بیوقوفی ان سے ہو گئی ربوہ اسٹیشن پر۔ اللہ تعالیٰ کو منظور یہ تھا ابھی ہی فرقے کو ختم کر دیا جائے جو 2954 اس کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے ڈاکو ہوں۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے، تیرہ سو برسوں سے یہ چیز ہے، مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حضور ﷺ کے بعد اور کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری جو ہے وہ نبوت کی حیثیت سے نہیں ہے۔ وہ آکر ہم سے یہ نہیں کہیں گے کہ میں نبی ہوں، مجھ پر ایمان لاؤ۔ وہ وقت تھا جو ان کا گیا۔ وہ آئے، انہوں نے اعلان کیا میں نبی ہوں۔ ایمان لائے لوگ۔ اب وہ آئیں گے تو صرف مبشرات کی صورت میں آئیں گے، بشارت کو پورا کرنے کے لئے آئیں گے۔ اسی بشارت کو مٹانے کے لئے مرزا غلام احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں بنائی۔ چونکہ انگریزوں کی سرپرستی تھی اس لئے انہیں کوئی روکنے والا نہیں تھا۔

لہٰذا میں عرض کروں گا کہ ان کی ہر چیز پر پابندی لگنی چاہئے۔ ان کو تبلیغ کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور اس جماعت کو مذہبی جماعت نہیں بلکہ سیاسی جماعت قرار دیا جائے تاکہ اس کے حساب و کتاب پر بھی پوری طرح سے نظر رکھ سکیں اور محدود طریقے سے وہ رہیں۔ ان کے حقوق جو ذمیوں کے اسلام میں ہیں ان سے انکار نہیں۔ ہم ان کے جان و مال کی حفاظت کریں گے اس وقت جب کہ وہ قانون کے دائرے میں آجائیں۔ قانون کے دائرے میں آنے سے پہلے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر اقلیت ان کو قرار دے دیا گیا جس طرح سے عوام کا مطالبہ ہے اور اگر اس میں ذرا بھی کسی قسم کی ہچر مچر کی گئی، ذرا بھی کوئی کمزوری یا لچک رکھی گئی تو اس وقت جو عوام میں جوش پھیلا ہوا ہے اس جوش کو فرو کرنے کی، اس جوش و خروش کو دور کرنے کی کسی میں طاقت نہیں ہے۔

لہٰذا میں پھر عرض کرتا ہوں کہ اس جماعت کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے ان کے لئے ان

٣١

LY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

اس جہاد کے فتوے کے اثر کو ختم کر گیا۔ اس نے شروع میں تو مسلمانوں کے دلوں میں بن گیا اسلام کا۔ عیسائیوں سے مناظرہ کرتا ہے، مسلمانوں میں اپنی جگہ اور اپنا مقام حاصل کر لیا، چیز تو پوری طرح واضح ہو گئی ہے۔ لیکن علمائے کر نے شروع ہی سے اس کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ لیک اختیار تھا نہ اقتدار نہ کسی طاقت کی سرپرستی تھی۔ ا میں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد بھی اور اس ۔ وہیں اس کو قتل بھی کیا گیا۔ چنانچہ ایک مشہور واقعہ کیا گیا، عبدالرحمن مصری کے ساتھ انہوں نے ج باہر نکلوایا۔ لیکن چونکہ حکومت کی سرپرستی، انگریز اس لئے مقدمے بھی چلے تو کچھ نہیں ہوا۔ قادیان ہمت ہی نہیں تھی۔ ذرا بھی اگر کوئی شخص بولتا تھا تو بھری پڑی ہیں اس کی زیادتیوں کی۔

اس کے بعد پاکستان بن گیا۔ پاکستا چناب نگر ) میں زمین حاصل کر کے پاکستان ۔ وہاں بھی وہ اپنے مقدمات، چاہے وہ دیوانی کے اور یہاں ہم کہتے تھے کہ یہ مرزائی کسی وقت اس کہ اس مرزائی نے جس کو آپ نے وزیر خارجہ ب ایک سے کرائی، لیکن ایک ملک ایسا تھا جس سے کیا اختلاف تھا؟ کیونکہ شروع سے بنیاد ہی ام ہمارے عقائد میں اتحاد، ہمارے معاشرے میں اس نے دوستی نہ ہونے دی۔ کیونکہ یہ وزیر خارج وہاں مارا گیا ہے۔ قتل کیا گیا ہے۔

ا۔ یہ سلطان احمد ملتانی نہ تھے بلکہ فخر تھے۔ اختلاف رائے کی بنیاد پر مرزا محمود نے ان

صفحہ ٢٧٦٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کو تبلیغ کی آزادی، آمد و رفت کی آزادی، ہر چیز پر پوری پوری نظر کی جائے اور اس کے بعد مسلمان قطعا مطمئن ہوں گے۔

2955 محترمہ قائمقام چیئرمین : راؤ ہاشم خان ! صرف دس منٹ۔

(جناب راؤ ہاشم کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب ایم ہاشم خان: جناب والا! جس مسئلہ سے یہ اسپیشل کمیٹی گذشتہ تین ماہ سے دوچار ہے، یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اس ملک کے مسلمانوں کو یہ مسئلہ گذشتہ تقریباً ایک صدی سے درپیش ہے۔ مختلف موقعوں پر اسلامیان ہند نے یہ کوشش کی کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ١٩٤٧ء تک تو وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں ایک بہت بڑی عظیم طاقت کی سرپرستی حاصل رہی اور ١٩٤٧ء کے بعد پہلی مرتبہ ١٩٥٣ء میں جب یہ جدوجہد شروع ہوئی کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے، اس وقت تو میں یہ کہوں گا کہ ہر تحریک جو تشدد اختیار کر جائے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ١٩٥٣ء میں چونکہ تشدد شروع ہو گیا اور تشدد کا ہمیشہ جواب تشدد سے دیا جاتا ہے اور جب تشدد ناکام ہو جائے تو پھر وہ تحریک بھی ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال ١٩٥٣ء میں ہوئی۔ اس وقت کے جو زعماء لیڈران اس تحریک کے تھے انہوں نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا ١؎، عدم تشدد کا راستہ چھوڑ دیا اس لئے سارے ملک کے سامنے اور ساری قوم کے دیکھتے دیکھتے ایک ایسا مسئلہ جو تھا یہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا، اب یہ کبھی سر نہ اٹھا سکے گا۔ تو اب بھی وہی بات تھی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک قسم کی تائید غیبی تھی کہ ١٩٥٣ء کے بعد اس مسئلہ پر کبھی کسی نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا کہ کس طریقے سے اس جماعت کے لوگ منظم ہوتے جارہے ہیں اور کس طریقے سے وہ اپنے آپ کو اس ملک میں اہم عہدوں پر فائز کر کے ہر چیز پر قابض ہو گئے ہیں جن کا سیاست میں اور دنیاوی کاموں میں کافی اثر ہوتا ہے۔

جناب والا! آپ یہ دیکھیں گے کہ اس فرقہ کے لوگوں نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ Open Competition (آزاد مقابلہ) میں تو چونکہ بہت ساری چیزیں آ جاتی ہیں،

١؎ تحریک کے زعماء نے پر امن تحریک چلائی۔ حکومت نے ان کو گرفتار کر لیا۔ ایجنسیوں نے تشدد کے راستہ پر تحریک کو ڈال دیا۔ حکومت نے بدترین تشدد سے تحریک کو کچل دیا۔ اس میں زعماء تحریک کا کوئی قصور نہیں۔

٣٢

صفحہ ٢٧٦١

TIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کو تبلیغ کی آزادی، آمد و رفت کی آزادی، ہر چیز پر پوری پوری نظر رکھی جا قطعا مطمئن ہوں گے۔

2955 محترمہ قائمقام چیئرمین: راؤ ہاشم خان ! صرف ذ

(جناب راؤ ہاشم کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسل)

جناب ایم ہاشم خان: جناب والا! جس مسئلہ سے یہ ا دوچار ہے، یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اس ملک کے مسلمانوں کو یہ مسل درپیش ہے۔ مختلف موقعوں پر اسلامیان ہند نے یہ کوشش کی کہ ان کو غی ١٩٣٧ء تک تو وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے، اس کی وجہ ی عظیم طاقت کی سرپرستی حاصل رہی اور ١٩٤٧ء کے بعد پہلی مرتبہ ٣ شروع ہوئی کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے، اس وقت تو میں ی اختیار کر جائے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ ١٩٥٣ء میں چونکہ ہمیشہ جواب تشدد سے دیا جاتا ہے اور جب تشدد نا کام ہو جائے تو پھر جاتی ہے۔ یہی صورتحال ١٩٥٣ء میں ہوئی۔ اس وقت کے جو زعماء انہوں نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ عدم تشدد کا رستہ چھوڑ دیا اس لئے ساری قوم کے دیکھتے دیکھتے ایک ایسا مسئلہ جو تھا یہ ایسا معلوم ہوتا تھا اب یہ کبھی سر نہ اٹھا سکے گا۔ تو اب بھی وہی بات تھی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ١٩٥٣ء کے بعد اس مسئلہ پر کبھی کسی نے سنجیدگی سے غور نہیں کیا کہ کے لوگ منظم ہوتے جا رہے ہیں اور کس طریقے سے وہ اپنے آپ ک فائز کر کے ہر چیز پر قابض ہو گئے ہیں جن کا سیاست میں اور دنیاوی ا جناب والا! آپ یہ دیکھیں گے کہ اس فرقہ کے لوگوں ن کہ Open Competition (آزاد مقابلہ) میں تو چونکہ ہمار

١؎ تحریک کے زعماء نے پر امن تحریک چلائی۔ حکومت نے تشدد کے راستہ پر تحریک کو ڈال دیا۔ حکومت نے بدترین تشدد زعماء تحریک کا کوئی قصور نہیں۔

٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہمارے ہاں سی۔ ایس۔ پی، پی۔ سی۔ ایس کے امتحانات ہوتے تھے۔ اس میں Open Competition (آزاد مقابلہ) ہوتے 2956 تھے، وہاں پر زیادہ کارگر نہیں ہو سکے۔ وہاں تو یہ تھا کہ سو (١٠٠) میں سے ایک آدمی آگیا تو Open Competition (آزاد مقابلہ) میں تو چلے گئے۔ ان لوگوں کے جو سینئر آفیسر تھے انہوں نے اس ملک میں کارپوریشنوں پر قبضہ کرنے کی سب سے زیادہ کوشش کی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس ملک میں جتنی بھی کارپوریشنیں موجود ہیں ان میں اہم ترین عہدے ان کے پاس ہیں۔ اس کا طریقہ کار یہ رہا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو پی۔ آئی۔ ڈی۔ سی کا چیئرمین مقرر کرا دیا۔ فرض کیجئے مجھے انہوں نے چیئرمین بنوا دیا۔ اب میں چونکہ چیئرمین ہو گیا ہوں، میں ایک بڑے افسر کا ممنون احسان ہو گیا۔ وہ افسر احمدی تھا۔ انہوں نے دو چار دن کے بعد مجھے کہا کہ میں نے آپ کو چیئرمین مقرر کرایا ہے، آپ پرسنل آفیسر فلاں آدمی کو لگا دیں۔ میں اس احسان تلے دبا ہوا تھا، لہذا میں نے ان کی مرضی کے مطابق ایک ایسے آدمی کو آفیسر بھرتی کرا دیا۔ جس کا کام یہ تھا کہ وہ بھرتی کرے۔ لہذا اس آدمی نے اس ادارے میں ٩٩ فیصد احمدیوں کو ملازمت دی۔ پی۔ آئی۔ ڈی۔ سی بینک اور انشورنس کمپنیاں، جہاں بھی یہ لوگ گئے ان کی اکثریت رہی۔ اس طریقہ سے یہ ہماری اقتصادیات پر حاوی ہوتے چلے گئے۔ جس کے پاس پیسہ ہو آواز بھی اس کی ہوتی ہے۔ آج یہ لوگ منظم اس لئے ہیں کہ ان کے پاس پیسے اور وسائل ہیں۔ یہ ایک دو فیصد ہوتے ہوئے بھی اس لئے ہمارا مقابلہ بڑی سختی کے ساتھ کرتے ہیں۔

---------

[At this stage Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]

(اس مرحلے پر ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت کو چھوڑا جسے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے سنبھالا)

جناب ایم ہاشم خان: تو میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ ١٩٥٣ء کے بعد پہلی مرتبہ انہوں نے اس مسئلے کو جگادیا۔ اگر ربوہ کا واقعہ نہ ہوتا تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ یہ قوم اس طرف دھیان دینے کے لئے تیار نہیں تھی۔

2957 جناب والا! میں ایک بات ضرور عرض کروں گا کہ اس موجودہ حکومت کو بہت سے

٣٣

صفحہ ٢٧٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

مسائل درپیش ہیں۔ اس قسم کے مسائل ہیں کہ آج تک اس قوم کو اس قسم کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ٢٥ سال سے آج تک ہم ایسے وسائل سے دوچار نہیں ہوئے۔ سب سے بڑا مسئلہ جو آج تک حل نہیں ہوسکا وہ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اس چیز کو جو کہ گزشتہ سو (١٠٠) سو سال سے حل نہیں کی جاسکی اس کو ہم نے بڑی خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

جناب والا! یہاں پر ناصر احمد نے یہ کہا کہ یہ ہمارا اختیار نہیں ہے۔ اس اسمبلی کو انہوں نے چیلنج کیا ہے کہ اسمبلی کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اس پر فیصلہ (Adjudicate) دے سکے اور کسی کو غیرمسلم قرار دے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایوان اس ملک میں ایک بااختیار ایوان ہے۔ اس سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہے۔ اگر یہ ایوان کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں دے سکتا تو پھر وہ کون سا ایوان ہے جو یہ فیصلہ کرسکتا ہے؟ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ایوان کو اس الجھن میں نہ ڈالا جائے۔ بہرحال یہ کہنا کہ اس ایوان کو اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار نہیں ہے یہ غلط ہے۔ اس ایوان کو کلی طور پر اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی جماعت اور کسی فرقے کے بارے میں یہ کہہ سکے کہ یہ صحیح ہے یا غلط۔ ہم یہاں ہر قسم کی قانون سازی کرسکتے ہیں۔ ہمارے اوپر ایک حق ضرور عائد ہوتا ہے کہ ہم کوئی ایسا کام نہیں کرسکتے جو اسلام کی روح کے خلاف ہو، جو آئین کے خلاف ہو اور ہم اس قسم کی قانون سازی کے مجاز نہیں ہیں۔ دنیا کی بہت سی پارلیمنٹس ہیں جن میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کرسکتی ہیں لیکن اس ملک میں پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حلال اور جائز کو ناجائز قرار دے۔ اس کے علاوہ تمام قسم کی دنیاوی قانون سازی کرسکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مذہب ایک ذاتی مسئلہ ہے، اس پر ہم Finding (فیصلہ) نہیں دے سکتے ہیں۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب صرف اس وقت تک ذاتی 2958 مسئلہ رہتا ہے۔ جب تک وہ کسی شخص کی ذات تک محدود رہے۔ اگر میں دل میں کوئی خیال رکھتا ہوں اور اپنی عبادت میں مشغول رہتا ہوں تو یہ ذاتی مسئلہ ہوگا۔ لیکن جب باہر آکر علی الاعلان ہم ایسی باتیں کریں جن سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوں، ان کے جذبات مجروح ہوں، تو پھر یہ ذاتی مسئلہ نہیں رہتا۔ اس ملک کے اندر جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے۔ یہاں یہ کہنا کہ نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ کے بعد بھی نبی آسکتا ہے تو یہ ہمارے جذبات کے ساتھ بہت زیادتی ہوگی۔

ایک بات دیکھنے میں آئی ہے اور مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ کالج سے لے کر اب تک جو احمدی بھی میرے ساتھ رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ جرح کرتے تھے اور بڑے سخت الفاظ استعمال

٣٤

NATIONAL

کے بعد پہلی بار انہوں نے تشدد شروع میں آیا۔ اس میں اقلیت کو تشدد کی نا چاہئے۔ ان کو یہ جرات کیسے ہوئی گوں پر زیادتی کی جو کل آبادی کا

پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں یا انہیں غیر مسلم قرار دے۔ انہوں سمجھے۔ جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں ہیں کرتی۔

گے )

بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس پر بڑا پریشر عوام کا مفاد اور بھلائی بھی اسی میں کو 2959 غیر مسلم سمجھتے ہیں اور میرا اپنا ض کروں گا کہ اگر یہ تحریک تشدد کی میں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ تشدد ہمیشہ کھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر اس کی ہنچے گا۔ وہ کوشش کریں گے کہ کہیں نہ ئے۔ یہ ہمارا سب کا فرض ہے کہ چاہئے، اور پھر اس کے بعد ان کی شدد کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہندوستان اگر اپنی اقلیت کی حفاظت نہ کریں بعد ان کا تحفظ کرنا ہمارا فرض ہے۔ علاج تشدد سے نہیں کرنا چاہئے۔

Mr. Chairma

صفحہ ٢٧٦٣

2763 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کر جاتے تھے، لیکن وہ ہنس کر ٹال دیتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلی بار انہوں نے تشدد شروع کر دیا جو ملک خداداد اور رسول اللہ ﷺ کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ اس میں اقلیت کو تشدد کی جرأت کیسے ہوئی؟ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو اس سے باخبر رہنا چاہئے۔ ان کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ انہوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور مسلمانوں پر تشدد کیا، ان لوگوں پر زیادتی کی جو کل آبادی کا ٩٩ فیصد ہیں۔

جناب والا! میں یہ عرض کروں گا کہ اس اسمبلی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ وہ یا ہمیں یعنی اکثریت کو (خدا نخواستہ) غیر مسلم قرار دے یا انہیں غیر مسلم قرار دے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں آپ کے سامنے کہا کہ وہ ان کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے۔ اس ملک کی ٩٩ فیصد آبادی ہرگز مرزا غلام احمد کو نبی تسلیم نہیں کرتی۔

(قادیانی خود تشدد پیدا کریں گے)

جناب والا! یہ ضروری ہے اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس پر بڑا پریشر ہے ۔ یہ بین الاقوامی معاملہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا مفاد اور عوام کا مفاد اور بھلائی بھی اسی میں ہے کہ عوام کے نمائندے اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ عوام ان کو 2959 غیر مسلم سمجھتے ہیں اور میرا اپنا ایمان بھی یہی ہے۔ انہیں غیر مسلم قرار دینے کے بعد میں یہ عرض کروں گا کہ اگر یہ تحریک تشدد کی طرف گئی، اگر آپ نے ان کے اوپر اور کچھ کرنے کی کوشش کی تو میں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ تشدد ہمیشہ ناکام رہے گا۔ اس تحریک کو آج تک جس طریقہ سے پر امن رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر اس کی بجائے تشدد آ گیا تو اس سے ہمیں نقصان ہوگا اور ان کو فائدہ پہنچے گا۔ وہ کوشش کریں گے کہ کہیں نہ کہیں تشدد پیدا کر کے اس تحریک کو تشدد کی طرف لے جایا جائے ۔ یہ ہمارا سب کا فرض ہے کہ اسمبلی ان کے بارے میں فیصلہ کرے۔ ان کو غیر مسلم قرار دینا چاہئے، اور پھر اس کے بعد ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہمارا اولین فرض ہوگا۔ ان کے ساتھ تشدد کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ تشدد ہوتا ہے اور ہم چیخ پڑتے ہیں۔ ہم اگر اپنی اقلیت کی حفاظت نہ کریں گے تو دوسروں سے کیا امید رکھیں گے۔ اس لئے کسی فیصلہ کے بعد ان کا تحفظ کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہمارے نوجوانوں، بچوں اور بوڑھوں، سب کو اس مسئلے کا حل اور علاج تشدد سے نہیں کرنا چاہئے۔

Mr. Chairman: Thank you.

(جناب چیئرمین: شکریہ!)

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

مسائل درپیش ہیں۔ اس قسم کے مسائل ہیں کہ آج تک اس کرنا پڑا۔ ٢٥ سال سے آج تک ہم ایسے مسائل سے دوچار نہیں تک حل نہیں ہو سکا وہ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ سو سال سے حل نہیں کی جا سکی اس کو ہم نے بڑی خوش اسلوبی ۔

جناب والا! یہاں پر ناصر احمد نے یہ کہا کہ یہ ہما نے چیلنج کیا ہے کہ اسمبلی کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اس فیصلہ کسی کو غیر مسلم قرار دے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایوان اس ملک سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہے۔ اگر یہ ایوان کسی کے بارے سا ایوان ہے جو یہ فیصلہ کر سکتا ہے؟ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ا بہر حال یہ کہنا کہ اس ایوان کو اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار نہیں پر اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی جماعت اور کسی فرقے کے بار ہم یہاں ہر قسم کی قانون سازی کر سکتے ہیں۔ ہمارے اوپر ایک کام نہیں کر سکتے جو اسلام کی روح کے خلاف ہو، جو آئین سازی کے مجاز نہیں ہیں۔ دنیا کی بہت سی پارلیمنٹس ہیں جن ہیں لیکن اس ملک میں پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حلال علاوہ تمام قسم کی دنیاوی قانون سازی کر سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مذہب ایک ذاتی مسئلہ ہے، اس دے سکتے ہیں۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں 2958 مسئلہ رہتا ہے۔ جب تک وہ کسی شخص کی ذات تک محد رکھتا ہوں اور اپنی عبادت میں مشغول رہتا ہوں تو یہ ذاتی مسئلہ ہم ایسی باتیں کریں جن سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوں ۔ ذاتی مسئلہ نہیں رہتا۔ اس ملک کے اندر جو اسلام کے نام پر باللہ رسول کریم ﷺ کے بعد بھی نبی آ سکتا ہے تو یہ ہمارے جـ

ایک بات دیکھنے میں آئی ہے اور مجھے ذاتی تجر احمدی بھی میرے ساتھ رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ جرح کر

صفحہ ٢٧٦٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(قادیانی سیکولر)

جناب ایم ہاشم خان : ایک منٹ! میں یہ عرض کروں گا کہ مجھے بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا۔ بازار میں ایک احمدی نمائندہ مجھے ملا اور مجھے ایک پمفلٹ دیا اور کہنے لگا کہ یہاں مجیب نے اس ملک کو سیکولر اسٹیٹ قرار دیا ہے۔ آپ بھی ویسا ہی کردیں۔ یہ لوگ سیکولر ازم کے حامی ہیں۔ اگر یہ مسلمان ہوتے تو ایسی باتیں نہ کرتے۔ میں آخر میں یہ عرض کروں گا کہ ہمیں انہیں غیر مسلم قرار دینا چاہئے اور اس تحریک کے کامیاب ہونے کے بعد یہ ہمارا فرض ہوگا کہ اس مسئلے کو کامیابی کے ساتھ حل کریں۔

2960 جناب چیئرمین: صاحبزادہ صفی اللہ ! بعد میں دوسروں کی باری آئے گی۔ ایک منٹ کے لئے اٹھتے ہیں اور پھر پندرہ منٹ لگاتے ہیں۔ لیکن جب کہتے ہیں کہ پندرہ منٹ تو دس منٹ ہی میں ختم کر دیتے ہیں۔

( جناب صاحبزادہ صفی اللہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب )

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! جو قراردادیں اس وقت اسپیشل کمیٹی کے سامنے ہیں ان کے حق میں ہماری طرف سے ایک مفصل بیان ’’ملت اسلامیہ‘‘ کے نام سے آچکا ہے۔ جس کو مولانا مفتی محمود صاحب نے ہم سب کی طرف سے پڑھا ہے اور اس کے بعد اور بھی معزز اراکین نے اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس میں اب کوئی گوشہ ایسا نہیں رہا جو تشنہ گفتگو ہو۔ جناب والا! ہم نے مرزا ناصر احمد کو اور لاہوری جماعت کے سربراہ کو یہ موقع دیا تھا کہ وہ اسپیشل کمیٹی کے سامنے اپنے موقف کو پیش کریں۔ اس میں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ ہم اپنا اطمینان کرنا چاہتے تھے یا یہ کوئی متنازعہ فیہ مسئلہ تھا۔ جس کا تصفیہ نہیں ہوا تھا اور ہم اب تصفیہ کرنے بیٹھے تھے۔ اس کا فیصلہ چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور احادیث صحیحہ اور اجماع امت کے علاوہ قرآن کریم کی بے شمار آیات اس سلسلہ میں وارد ہیں اور ان میں سے ایک جو اس بارے میں اجماع امت ہے اس پر کہ وہ ختم نبوت کے بارے میں قطعی ہے وہ سورۃ احزاب کے پانچویں رکوع کی آیت ہے اور اس کو میں پڑھتا ہوں: ’’اعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم . بسم الله الرحمن الرحیم . ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین . و كان الله بكل شئ عليما‘‘

یعنی اے لوگو! محمد ﷺ آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ مگر وہ اللہ کے

٣٦

صفحہ ٢٧٦٥

Y OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(قادیا

جناب ایم ہاشم خان: ایک مبع اتفاق ہوا۔ بازار میں ایک احمدی نمائندہ مجھے ملا نے اس ملک کو سیکولر اسٹیٹ قرار دیا ہے۔ آپ ہیں۔ اگر یہ مسلمان ہوتے تو ایسی باتیں نہ کر غیر مسلم قرار دینا چاہئے اور اس تحریک کے کامیا کامیابی کے ساتھ حل کریں۔

جناب چیئرمین: صاحبزادہ 2960 منٹ کے لئے اٹھتے ہیں اور پھر پندرہ منٹ لگا منٹ ہی میں ختم کر دیتے ہیں۔

(جناب صاحبزادہ صفی اللہ کا قومی

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! ان کے حق میں ہماری طرف سے ایک مفصل بیا مولانا مفتی محمود صاحب نے ہم سب کی طرف نے اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس جناب والا! ہم نے مرزا ناصر احمد کو اور لاہوری ج کے سامنے اپنے موقف کو پیش کریں۔ اس میں چاہتے تھے یا یہ کوئی متنازعہ فیہ مسئلہ تھا۔ جس کا ت اس کا فیصلہ چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے کیا قرآن کریم کی بے شمار آیات اس سلسلہ میں و اجماع امت ہے اس پر کہ وہ ختم نبوت کے بار کی آیت ہے اور اس کو میں پڑھتا ہوں: ” اعوذ الرحمن الرحیم، ما كان محمد اب النبيين. وكان الله بكل شئ عليما“ یعنی اے لوگو! محمد ﷺ آپ مردوں

1

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ان سب چیزوں کا علم ہے کہ اس کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجنا ہے اور یہ آخری نبی ہیں اور اس پر امت کا فیصلہ ہے، امت کا 2961 اجماع ہے کہ یہ اس بارے میں قطعی ہے۔ یعنی ہم یہاں اس لئے نہیں بیٹھتے تھے کہ ہم یہ فیصلہ کریں یا اس کے لئے کوئی اور دلیل طلب کریں۔ اپنے اطمینان کے لئے، بلکہ انہوں نے درخواست کی تھی کہ ہم اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے ان کو موقع دیا۔

(قادیانی اور اشتعال انگیزی)

جناب والا! آپ کی ہدایت تھی کہ ہم بڑے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں اور ہم نے جس صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، یہ تو اللہ شاہد ہے کہ ان کی ان دل آزار باتوں سے اور ان کی کفریات سے ہم کو کتنا صدمہ پہنچا تھا۔ لیکن ہم نے باوجود اس کے نظم و ضبط کو بحال رکھا اور ان سب باتوں کو سنا اور اس جرح کے دوران میں اٹارنی جنرل صاحب نے ان خفیہ باتوں کو ان کے دلوں سے نکلوایا جو کہ وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے بیانات سے یہ بات روز روشن کی طرح اب عیاں ہے اور ہاؤس کا ہر ایک معزز رکن اپنے اطمینان کے ساتھ اب انشاء اللہ فیصلہ دے گا اور ان سب پر عیاں ہو چکا ہے کہ مرزا غلام احمد نے کتنی ڈھٹائی کے ساتھ اپنی جعلی نبوت کا کیس دنیا کے سامنے پیش کیا۔

جناب والا! یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ انگریزوں نے اپنے اس خودکاشتہ پودے کو کس طرح پھلنے پھولنے کا موقع دیا اور تنا آور کیا۔ لیکن ہمیں انگریزوں سے شکایت نہیں ہے، وہ تو ملت اسلامیہ کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ہمیشہ یہی حربے استعمال کرتے رہتے تھے۔ ہمیں جو شکایت ہے تو اپنے حکمرانوں سے ہے۔ جناب والا! پاکستان بن جانے کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ ان کو بلاتے، سمجھاتے کہ بھائی! اب یہ جعلی نبوت نہیں چلے گی، اب اس قصے کو چھوڑ دو، اور اگر نہیں چھوڑتے ہو تو پاکستان کی سرزمین میں ایک غیر مسلم اقلیت بن کر رہو۔ لیکن ہوا کیا کہ انگریزوں سے زیادہ ہمارے حکمرانوں نے ان کو موقع دیا اور مسلمانوں کے سروں پر سوار کیا اور اب پاکستان میں زندگی کے کسی شعبے میں اگر آپ تلاش کریں تو وہاں ایک قادیانی آفیسر بن کر بیٹھا ہو گا اور پاکستانی حکومت کا کوئی راز ان سے اب چھپا ہوا نہیں ہے۔

(قادیانی کرتوت)

2962 جناب والا! اس میں کوئی شک نہیں ہے اور یہ بات اب عیاں ہے کہ ان لوگوں کی وجہ سے سارے عالم اسلام کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہو گئے ہیں، سارے برادر ملکوں سے

٣٧

صفحہ ٢٧٦٦

2766 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہمارے تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔ افغانستان سے تعلقات خراب کرنے میں ان ہی لوگوں کا ہاتھ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ١٩٥٦ء میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران ہماری حکومت کے ایک قادیانی آفیسر نے ایک بیان دیا عربوں کے خلاف، اور اس کا ردعمل یہ ہوا کہ سارا عالم عرب ابھی تک پاکستان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا ہے اور جس وقت کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں پیش ہوا تو بہت سے عرب ممالک نے صرف اس ایک بیان کی وجہ سے ہمارے حق میں رائے نہیں دی۔ بلکہ ہندوستان کے موقف کی حمایت کی۔ یہ ان لوگوں کے کرتوتوں کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔

(قادیانی قیادت کی ستم رانیاں)

جناب والا! اس قصے کو اب میں مختصر کرتا ہوں اور کیونکہ جو وقت مجھے دیا گیا ہے وہ بہت کم ہے۔ ایک بات کی طرف میں آپ کی وساطت سے اس معزز ایوان کے معزز اراکین کی توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ بڑی حیران کن بات ہے کہ پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان کے اندر جتنی بھی ریاستیں تھیں ان کو حکومت پاکستان نے ختم کر دیا۔ مثلاً ریاست بہاولپور جو ایک علم دوست ریاست تھی اور سب سے پہلے وہاں سے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ سنایا گیا تھا۔ لیکن بہاولپور کو ختم کیا جاتا ہے۔ دیر، سوات اور چترال کو ختم کیا جاتا ہے، اور ربوہ جو ریاست کے اندر ایک ریاست ہے اور جس کا ہیڈ مرزا ناصر ہے وہ ابھی تک قائم ہے اور اب ہمیں معلوم ہوا ہے اور ہمارے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ مرزا ناصر جو خودساختہ خلیفہ ہے، اس کے خاندان کے لوگوں سے قادیانیوں کی خواتین کی عصمتیں محفوظ نہیں ہیں اور ان کی فریاد کی شنوائی نہیں ہوتی ہے اور وہ بے چارے مجبور ہیں۔ وہ جو وہاں کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ تو اس سلسلہ میں میں عرض کروں گا کہ ربوہ کو بالکل ختم کرنا چاہئے ، اس کی ریاست اندر ریاست کی حیثیت کو ختم2963 کرنا چاہئے اور اس کو ایک کھلا شہر قرار دینا چاہئے اور وہاں سرکاری عمارات کی تعمیر ہونی چاہئے۔ مثلاً تحصیل، تھانہ وغیرہ۔

دوسری بات جناب! یہ ہے کہ دستور کی دفعہ ٢٥٦ کے تحت ان کی جو فوجی تنظیمیں ہیں ان کو ختم کرنا چاہئے اور ان پر پابندی لگانی چاہئے، ورنہ یہ خطرہ ہمیشہ کے لئے رہے گا اور پاکستان کی سلامتی اور بقاء کی کوئی مؤثر ضمانت بغیر ان کو ختم کئے نہیں ہوگی۔

جناب والا! یہ بات بہت عجیب ہے کہ اس ملک کے اندر ایک آدمی پولیس کی وردی کا استعمال نہیں کر سکتا، ڈی۔ایس۔پی کی وردی کا استعمال نہیں کر سکتا۔ اس ملک میں ایک آدمی کے متعلق اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ کرنسی نوٹ چھاپتا ہے اور اس کا کاروبار کرتا ہے تو اس کو حکومت

٣٨

صفحہ ٢٧٦٧

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہمارے تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ افغانستان سے تعل ہاتھ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ١٩٥٦ء میں عرب اسرائیل جـ قادیانی آفیسر نے ایک بیان دیا عربوں کے خلاف، اور تک پاکستان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا ہے اور جس وقـ بہت سے عرب ممالک نے صرف اس ایک بیان کی وجہ ہندوستان کے موقف کی حمایت کی۔ یہ ان لوگوں کے کرتـ

(قادیانی قیادت کی سـ

جناب والا! اس قصے کو اب میں مختصر کرتا ہوں کم ہے۔ ایک بات کی طرف میں آپ کی وساطت سے دلانا چاہتا ہوں اور وہ بڑی حیران کن بات ہے کہ پاکـ جتنی بھی ریاستیں تھیں ان کو حکومت پاکستان نے ختم دوست ریاست تھی اور سب سے پہلے وہاں سے قادیا بہاولپور کو ختم کیا جاتا ہے۔ دیر، سوات اور چترال کو ختم ایک ریاست ہے اور جس کا ہیڈ مرزا ناصر ہے وہ ابھی تک ہمارے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ مرزا ناصر جو خود سا سے قادیانیوں کی خواتین کی عصمتیں محفوظ نہیں ہیں اور ا بے چارے مجبور ہیں۔ وہ جو وہاں کرنا چاہیں کر سکتے ہیـ ربوہ کو بالکل ختم کرنا چاہئے، اس کی ریاست اندر ریاست ایک کھلا شہر قرار دینا چاہئے اور وہاں سرکاری عمارات کی تعـ

دوسری بات جناب! یہ ہے کہ دستور کی دفعہ کو ختم کرنا چاہئے اور ان پر پابندی لگانی چاہئے، ورنہ یہ سلامتی اور بقاء کی کوئی مؤثر ضمانت بغیر ان کو ختم کئے نہیں

جناب والا! یہ بات بہت عجیب ہے کہ اس استعمال نہیں کر سکتا، ڈی۔ایس۔پی کی وردی کا استعمال متعلق اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ کرنسی نوٹ چھاپتا ہے

٣٨

2767 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

پکڑتی ہے اور سزا دیتی ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس ملک کے اندر ٢٧ سال سے اب تک جعلی نبوت کا کاروبار ہوتا رہتا ہے اور ان کو کھلی چھٹی ہے کہ جس طرح چاہیں وہ کریں اور اس پر ان کو کوئی سزا نہیں ہے۔ یہ بڑی حیران کن بات ہے اور یہ اسلامیان پاکستان کی غیرت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور اگر اس موقع کو بھی ضائع کیا گیا تو پھر مسلمانان پاکستان کو اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

جناب والا! آپ مجھے بار بار دیکھتے ہیں۔ میں نے تو ابھی پانچ منٹ لئے ہیں۔

جناب چیئرمین: دس منٹ ہوگئے ہیں۔

صاحبزادہ صفی اللہ: میں تو صرف پوائنٹس تک اپنی تقریر محدود رکھنا چاہتا ہوں۔

جناب چیئرمین: پانچ منٹ اور لے لیں۔ آپ نے 11:20 پر تقریر شروع کی ہے۔

صاحبزادہ صفی اللہ: دو، چار منٹ اور۔

جناب چیئرمین: یہ سارا ہاؤس گواہ ہے میں نے اپنی زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔

2964 صاحبزادہ صفی اللہ: دو، چار منٹ اور۔

جناب چیئرمین: آپ پانچ منٹ لے لیں۔

صاحبزادہ صفی اللہ: اچھا جی، جناب والا!

جناب چیئرمین: ریکارڈ کے مطابق 11:17 ہے، میرے خیال کے مطابق 11:20 ہے۔ باقی رہ جائیں گے بیچارے۔

صاحبزادہ صفی اللہ: میں عرض کر رہا تھا کہ اس ملک میں جب جعلی نبوت کا کاروبار ہوتا ہے تو ہم کس طرح دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں اور ہمیں آزادی ملی ہے اور ہم اس آزادی پر کس طرح فخر کر سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے رسول اللہ ﷺ کے ناموس کی حفاظت کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں تو ہم کس طرح دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں اور ہمیں ایک آزاد ملک ملا ہے۔

(مرزا کا ناپسندیدہ نام)

جناب والا! میں نے بہت سے پوائنٹ چھوڑ دیئے ہیں۔ میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ اس وقت ملک کی جو حالت ہے وہ یہ ہے کہ عوام کی نگاہیں اس کمیٹی پر مرکوز ہیں۔ ڈھائی مہینہ ہم نے مسلسل کام کیا ہے اور اب لوگ دیکھتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ لیکن ہماری ساری تگ و دو اور جدوجہد کا ثمرہ ہمیں اس وقت مل سکتا ہے جب کہ ہم دستور میں ایسی ترامیم لانے میں کامیاب ہو

٣٩

صفحہ ٢٧٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جائیں، جو اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ اور امت مسلمہ کے لئے قابل قبول ہوں۔ ہم ڈرتے کیوں ہیں، یعنی ہم کیوں اس طرح احساس کمتری کا شکار ہیں۔ میں نے بہت سے دانشور صاحبان سے سنا ہے کہ یہ مرزا غلام احمد کا ناپسندیدہ نام ہمارے دستور میں نہ آئے۔ جناب والا! ٹھیک ہے، لیکن میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے دستور سے جو مقدس کتاب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، لیکن ضرورت کے مطابق جہاں یہ باتیں ناگزیر تھیں تو اس میں بھی ہامان اور قارون اور ابی لہب کے نام لئے گئے ہیں اور ابلیس کا نام لیا گیا ہے۔ تو اگر ہمارے 2965 دستور میں مرزا غلام احمد کا نام آیا تو اس میں کیا قباحت ہے؟ یعنی ہم جب اپنے مسائل کو دوسروں کے زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس پر پرکھتے ہیں اور اس سے اندازہ لگاتے ہیں تو یہ اچھی بات نہیں۔ یہ تو ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیا کریں، ہم اس سے دوچار ہیں، ہم اس میں پھنس گئے ہیں۔ اب اگر دستور میں اس کا یعنی مرزا غلام احمد کا نام، ناپاک نام نہ لیں تو ہم مجبور ہیں۔

جناب چیئرمین: نہیں نہیں، ہم نہیں پھنسے۔ ہم انشاء اللہ! نکلیں گے اس سے۔

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! میں نے بہت سی باتیں چھوڑ دی ہیں۔ میری عرض یہ ہے کہ ہمارے دستور میں جو کچھ ......

جناب چیئرمین: آپ فرمائیں، میں ”مودودی شاہ پارے“ تلاش کر رہا ہوں۔

صاحبزادہ صفی اللہ: انہوں نے اللہ تعالیٰ جل شانہ کے کلام سے اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث مقدسہ کے ساتھ اور اس کے بعد ابن عربی اور امام غزالی اور حضرت عبدالقادر جیلانیؒ اور سب کے کلام کے ساتھ جو کچھ کیا ہے تو اگر مولانا مودودی کے کلام کے ساتھ کریں تو پھر کیا حیرانی ہے۔ خدا تعالیٰ جل شانہ کے کلام کے ساتھ انہوں نے کیا ہے۔ جناب والا! میں عرض کر رہا تھا کہ اگر دستور ......

جناب چیئرمین: ”چڑیا گھر، جو موجودہ مسلمانوں کی نام نہاد سوسائٹی جس میں چیل، گدھ، شیر، خنزیر اور ہزاروں قسم کے جانور جمع ہیں۔“ سیاسی کشمکش، حصہ سوم۔

صاحبزادہ صفی اللہ: میں نے تو پہلے عرض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے کلام کے ساتھ انہوں نے کیا ہے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ اگر دستور کی دفعہ ١٠٦ جہاں وہ دوسری اقلیتیں ہیں، ان میں مرزا غلام احمد اور اس کے متبعین اور پیروکار جو ہیں ان کا نام ہم شامل کریں اور ان کو ایک غیر مسلم اقلیت شمار کریں تو اس میں کیا قباحت ہے؟ اور اس 2966 کے بعد جو قانون سازی ہوگی تو اور بھی اس پر علماء کرام کے مشوروں سے اضافہ ہو جائے گا۔

٤٠

صفحہ ٢٧٦٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جائیں، جو اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسول ﷺ اور امت ڈرتے کیوں ہیں، یعنی ہم کیوں اس طرح احساس کمتری کا صاحبان سے سنا ہے کہ یہ مرزا غلام احمد کا ناپسندیدہ نام ہما ٹھیک ہے، لیکن میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، لیکن ضرورت کے مطابق جہاں یہ اور قارون اور ابی لہب کے نام لئے گئے ہیں اور ابلیس کا نام میں مرزا غلام احمد کا نام آیا تو اس میں کیا قباحت ہے؟ یعنی زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس پر پرکھتے ہیں اور اس سے ا یہ تو ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیا کریں، ہم گئے ہیں۔ اب اگر دستور میں اس کا یعنی مرزا غلام احمد کا نام

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، ہم نہیں پھنسے۔

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! میں نے پہ یہ ہے کہ ہمارے دستور میں جو کچھ......

جناب چیئرمین: آپ فرمائیں، میں، میں م

صاحبزادہ صفی اللہ: انہوں نے اللہ تعالیٰ جل کی احادیث مقدسہ کے ساتھ اور اس کے بعد ان عربی اور اور سب کے کلام کے ساتھ جو کچھ کیا ہے تو اگر مولانا مودودی کی عبارتیں ۔ خدا تعالیٰ جل شانہ کے کلام کے ساتھ انہوں نے تھا کہ اگر دستور......

جناب چیئرمین: ”چڑیا گھر، جو موجودہ چیل، گدھ، بٹیر، تیتر اور ہزاروں قسم کے جانور جمع ہیں۔“ سیاق

صاحبزادہ صفی اللہ: میں نے تو پہلے عرض کیا ساتھ انہوں نے کیا ہے۔ میں عرض کر رہا تھا کہ اگر دستور کی ان میں مرزا غلام احمد اور اس کے متبعین اور پیروکار جو ہیں غیر مسلم اقلیت شمار کریں تو اس میں کیا قباحت ہے؟ اور اس بھی اس پر علماء کرام کے مشوروں سے اضافہ ہو جائے گا۔

٤٠

2769 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

دوسری بات جو ہے وہ کلیدی اسامیوں کی بات ہے۔ میں اس میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہمیں علم ہے یہ تو اس وقت کی بات ہوگی، یہ قانونی بات ہو گی کہ اسلام دارالسلطنت میں غیر مسلم اقلیتیں جو ہیں، ذمی وغیرہ، وہ کن کن عہدوں پر فائز رہ سکتے ہیں اور کن پر نہیں رہ سکتے۔ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ اسلامی قانون کی رو سے یہ دفاع کا محکمہ جو ہے فوجوں وغیرہ کا، تو غیر مسلموں کو فوجی خدمات سے اسلام نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ یعنی وہ کسی ایسے عہدے پر نہیں رہ سکتے جس سے ملکی دفاع مقصود ہو اور یہ ٹھیک بھی ہے۔ جناب والا! کہ ایک اصولی ریاست ہے۔ جس اصول پر وہ ریاست قائم ہے تو اس ریاست کی حفاظت، اس ملک کی حفاظت اور اسے دشمنوں سے بچانے کے طریقے اور اس کے لئے لڑنا اور مرنا ان لوگوں کے ذمہ ہے جو اس اصول پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن وہ افراد کس طرح لڑیں گے جن کے دماغ پر ہمیشہ اپنے نبی کی وحی سوار ہو کہ:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر ہے نبی کا جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧)

تو وہ ملک کی حفاظت کس طرح کر سکیں گے؟ اور ہم نے دیکھ نہیں لیا کہ ١٩٧١ء میں کیا ہوا ہمارے ساتھ۔

جناب چیئرمین: چھوڑیں جی!

صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! آخر میں معزز ممبران کی خدمت میں آپ کی وساطت سے گزارش کروں گا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر ایک بہت بڑی 2967 آزمائش ہے اور ہم اس وقت صرف اپنے حلقۂ انتخاب کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں، نہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، بلکہ اس وقت ہم پورے عالم اسلام اور امت مسلمہ کی نمائندگی کرنے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی ہم سے کوتاہی ہوئی اس سے عالم اسلام اور امت مسلمہ کو نقصان پہنچائیں گے اور اگر ہم نے صحیح فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسول محمد ﷺ کے لئے قابل قبول ہوا تو ہم سرخرو ہو کر اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حضور بھی اپنے گناہوں کی معافی چاہیں گے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی اپنی شفاعت کی امید رکھ سکیں گے۔ شکریہ!

٤١

صفحہ ٢٧٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جناب چیئرمین: اس کا جواب انہوں نے ابھی نہیں دیا۔ اس کا جواب محمود اعظم فاروقی صاحب دیں گے۔ یہ ”انتخابی مہم میں شکاری کتوں کی دوڑ ۔ جمہوری اسمبلیاں، ان کی رکنیت بھی حرام، ان کو ووٹ دینا بھی حرام۔“

جناب محمود اعظم فاروقی: میں اور بھی بہت سے جواب دے سکتا ہوں، آپ سننے کے لئے تیار ہو جائیں۔

جناب چیئرمین: نہیں نہیں، اس کا۔

جناب محمود اعظم فاروقی: آپ اس کا جواب سننے کے لئے تیار ہو جائیں۔

جناب چیئرمین: صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری۔

(صاحبزادہ احمد رضا قصوری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب سپیکر! گرامی قدر! رسول عربی محمد مصطفےٰ ﷺ کی محبت اور عقیدت کا اندازہ آپ حضرت علامہ اقبال کے اس شعر سے لگا سکتے ہیں۔

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

2968 جناب سپیکر! رسول عربی حضرت محمد ﷺ کی محبت ایک مسلمان کے لئے اس کے ایمان کا ایک دریا ہے، اس کی عقیدت کا دریا ہے، اس کی محبت کا دریا ہے، اور ایک مسلمان اس دریا کا ایک حقیر قطرہ ہے اور اسی لئے کہا جاتا ہے ؎

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

ایک مسلمان کے لئے رسول عربی ﷺ کی محبت میں فنا ہو جانا، رسول عربی ﷺ کی محبت میں اپنے آپ کو ختم کر دینا اس کی عشرت کی انتہاء ہے، اس کے لئے اس کی عقیدت کی ایک معراج ہے، اس کے لئے محبت کا ایک بہترین جذبہ ہے۔ میں آپ سے عرض کروں گا کہ اس اسمبلی نے پاکستان کے مسلمانوں کی عقیدت کے مطابق اور عاشقان رسول ﷺ کی محبت کے مطابق اس کا فیصلہ نہ کیا تو میں یہاں رجسٹر کرانا چاہتا ہوں یہ الفاظ کہ پاکستان کے مسلمان رسول عربی ﷺ کی محبت میں پروانوں کی طرح مرجائیں گے۔ شاید جو آپ فیصلہ کریں گے وہ فیصلہ شاید قلم اور سیاہی سے لکھا جائے۔ اگر آپ نے قلم اور سیاہی سے فیصلہ پاکستان کے عوام کی خواہشات، جذبات، ان کی عاشقانہ محبت رسول کے ساتھ نہ کیا تو پھر پاکستان کے مسلمان تلوار اور

- ٤٢ -

2771 NATIONAL

کے اندر ڈوبا ہوا ہوگا۔ لیکن میں آپ سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان کے عوام کو کا ختم کر سکتے ہیں تو یہ بالکل جھوٹ

Mr. Chairman: decision is as you are a We have kept the atmo Government Benches this speech come wha members for their coo you will please not spea

اگر ایسا فیصلہ ہو چکا ہے جو آپ کہہ حکومت اور حزب اختلاف کے مابین پر اس طرح کی تقریر کی اجازت نہیں ار ہوں۔ جب تک فیصلہ نہ ہو جائے

یہ الفاظ کہ کمیٹی کے ممبروں کو دھمکا کر

کہا ہے۔ آپ بالکل بے فکر رہیں۔

I have taken speaker.

میں عرض کرتا ہوں....... کا تقریر ہے۔ یہ تقریر تو سارے ملک میں چلے گی۔ کے لئے ایک دن تو ہمیں دے دیں۔ ہماری سیاست کا منبع مسجدیں ہیں۔

صفحہ ٢٧٧١

اسپیکر

2771 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

خون سے فیصلہ لکھیں گے۔ یہ فیصلہ رسول عربی ﷺ کی محبت کے اندر ڈوبا ہوا ہوگا۔ لیکن میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں آپ نے ایسا فیصلہ کرنا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان کے عوام کو غلط فیصلہ کر کے فیڈرل سیکورٹی فورس یا فوج سے ڈرایا دھمکا کر ختم کر سکتے ہیں تو یہ بالکل جھوٹ ہے۔ لوگوں نے رسول عربی ﷺ کی محبت کے لئے......

Mr. Chairman: Decision has not yet come. If the decision is as you are arguing, then you can argue like this. We have kept the atmosphere calm for 2-1/2 months in the Government Benches and the opposition. I will not allow this speech come what may. I am grateful to honourable members for their cooperation. Till the decision is taken, you will please not speak in this way.

(جناب چیئرمین: ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اگر ایسا فیصلہ ہو چکا ہے جو آپ کہہ رہے ہیں تو پھر آپ اس طرح کی باتیں کر سکتے ہیں۔ ہم نے حکومت اور حزب اختلاف کے مابین ماحول اڑھائی ماہ سے پرامن بنا رکھا ہے۔ میں کسی بھی قیمت پر اس طرح کی تقریر کی اجازت نہیں دے سکتا۔ میں معزز اراکین کا ان کے تعاون کے لئے شکر گزار ہوں۔ جب تک فیصلہ نہ ہو جائے آپ براہ کرم اس انداز میں بات نہ کیجئے)

2969 چوہدری جہانگیر علی: جناب والا! ان کے یہ الفاظ کہ کمیٹی کے ممبروں کو دھمکا کر فیصلہ اسٹارٹ کیا جائے ، کیا مطلب ہے ایسی تقریر کا؟

جناب چیئرمین: نہیں، یہ غلط ہے۔ میں نے کہا ہے۔ آپ بالکل بے فکر رہیں۔

I have taken note of it and I have warned the speaker.

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب والا! میں عرض کرتا ہوں......

جناب چیئرمین: لال مسجد کے لئے یہ بڑی اچھی تقریر ہے۔

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب والا! یہ تقریر تو سارے ملک میں چلے گی۔

جناب چیئرمین: نہیں جی چلے گی۔ لیکن خدا کے لئے ایک دن تو ہمیں دے دیں۔

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب والا! ہماری سیاست کا منبع مسجدیں ہیں۔

٤٣

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جناب چیئرمین: اس کا جواب انہوں فاروقی صاحب دیں گے۔ یہ ”انتخابی مہم میں شکاری رکنیّت بھی حرام، ان کو ووٹ دینا بھی حرام۔“

جناب محمود اعظم فاروقی: میں اور بھی کے لئے تیار ہو جائیں۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، اس کا

جناب محمود اعظم فاروقی: آپ اس کا جو

جناب چیئرمین: صاحبزادہ احمد رضا خاں

(صاحبزادہ احمد رضا قصوری کا قومی اسمبلی

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: مصطفےٰ ﷺ کی محبت اور عقیدت کا اندازہ آپ حضرت

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و

2968 جناب سپیکر! رسول عربی حضرت محمد ﷺ ایمان کا ایک دریا ہے، اس کی عقیدت کا دریا ہے، اس کا ایک حقیر قطرہ ہے اور اسی لئے کہا جاتا ہے۔

عشرت قطرہ ہے دریا

ایک مسلمان کے لئے رسول عربی ﷺ کی محبت میں اپنے آپ کو ختم کر دینا اس کی عشرت کی انتہا معراج ہے، اس کے لئے محبت کا ایک بہترین جذبہ اسمبلی نے پاکستان کے مسلمانوں کی عقیدت کے مطا مطابق اس کا فیصلہ نہ کیا تو میں یہاں رجسٹر کرانا چاہتا عربی ﷺ کی محبت میں پروانوں کی طرح مر جائیں شاید قلم اور سیاہی سے لکھا جائے۔ اگر آپ نے قلم خواہشات، جذبات، ان کی عاشقانہ محبت رسول کے

٤٤

صفحہ ٢٧٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(قہقہے) رسول عربی ﷺ کی سیاست مسجد سے تھی۔ حضرت عمرؓ نے اپنی تمام جنگیں مسجدوں میں لڑی ہیں۔ آپ نے مسجد کی بے حرمتی کی ہے۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔

You do not know the context as you have come after 20 days or a month; all the Maulanas in this House can understand very well.

(چونکہ آپ بیس روز یا ایک ماہ کے بعد آئے ہیں اس لئے آپ کو سیاق و سباق کا اندازہ نہیں ہے۔ اس ایوان میں تمام مولانا حضرات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں) ان سے پوچھ لیں۔

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب! آپ کے مذاق کا مجھے پتہ نہیں تھا۔ میں معذرت چاہتا ہوں۔

جناب چیئرمین: نہیں، ہم تو روز کرتے ہیں۔

If you come after a month and make a firex public speech, we cannot be a party. The entire House is not a party to it.

(اگر آپ ایک مہینے کے بعد آئیں اور ایک پرجوش عوامی خطاب فرمائیں تو ہم اس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ یہ ایوان اس میں شریک نہیں ہو سکتا)

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: اس لئے میں عرض کرتا ہوں میں اس مسئلے پر آرہا ہوں۔ اب جناب والا! میں عرض کروں گا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حقیقتاً اس مسئلے کو اسمبلی میں نہیں آنا چاہئے تھا۔ کیونکہ جب ہم کسی چیز کو کہتے ہیں مسئلہ تو مسئلے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر دو رائیں ہوں۔ آپ کسی چیز کو عدالت میں لے کر جاتے ہیں جب دو رائیں ہوں۔ 2970 آپ کسی چیز کو اسمبلی میں لے کر آتے ہیں جب دو رائیں ہوں۔ یہ تو مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہ تو ایمان ہے۔ یہ ہماری عقیدت ہے۔ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے آج سے ١٤ سو سال پہلے طے کر دیا تھا، جس کو قرآن مجید، فرقان حمید نے اپنی آیات کے ساتھ ١٤ سو سال پہلے ختم کر دیا، ہم اس کو مسئلے کا رنگ دے ہی نہیں سکتے، اور ہم کس افلاطون کی اولاد ہیں جو آج ١٤ سو سال بعد آج اس زمانے میں بیٹھیں اور فیصلہ کریں کہ آیا رسول عربی ﷺ آخری نبی تھے۔

جناب چیئرمین: یہ بھی فیصلہ اسمبلی کے پاس نہیں ہے۔ یہ بھی نہیں ہے۔

٤٤

صفحہ ٢٧٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: تو جناب والا...... جناب چیئرمین: یہ بھی نہیں ہے۔ صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: اس مسئلے کو...... جناب چیئرمین: اس پر اسمبلی کا ایمان آپ سے زیادہ مضبوط ہے۔ (قہقہے) اس پر فیصلہ ہو چکا ہے۔ وہ ریلیونٹ نہیں ہے۔ اس پر کسی کو گنجائش ہی نہیں بات کرنے کی۔ آپ یہاں تک بات کرتے ہیں۔ یہاں تک بھی کسی ممبر کو گنجائش نہیں ہے۔ صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جی۔ جناب چیئرمین: بات یہاں یہ ہے کہ ان لوگوں کا اسٹیٹس ڈیٹرمن کیا جائے۔ (چوہدری ممتاز احمد کی طرف سے مداخلت) جناب چیئرمین: آپ خواہ مخواہ ایسی بات کر دیتے ہیں۔ صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: میں جناب! اس کا جواب دوں؟ جناب چیئرمین: نہیں، کوئی ضرورت نہیں۔ آپ تقریر میں کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں؟ صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: یا اسے حذف کرا دیں یا میرا جواب آنے والا ہے۔ 2971 جناب چیئرمین: آپ ایسی بات کیوں کرتے ہیں؟ You are provoking the entire House. (آپ پورے ایوان کو اشتعال دلا رہے ہیں؟) صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: یہ جناب! اپنے لیڈر کی بے عزتی کرانا چاہتے ہیں مجھ سے۔ میں دو، چار جملے کہہ دوں گا۔ جناب والا! انگریزوں نے ہندوستان میں دو فرقے انٹروڈیوس کئے۔ کیونکہ انگریزوں کی پالیسی ہندوستان میں ”تقسیم کرو، راج کرو“ کی تھی۔ ہندوؤں کے اندر انگریزوں نے آریہ سماج کا فرقہ انٹروڈیوس کیا اور مسلمانوں کے اندر قادیانیت کا فرقہ۔ آپ دیکھئے! ان کا کتنا خوبصورت انداز فکر تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ ہندو بہت سارے خداؤں پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے اندر ایک ایسا فرقہ انٹروڈیوس کیا گیا جو کہ وحدت پر یقین رکھتا تھا...... آریہ سماج اور مسلمان جن کا یہ ایمان تھا کہ رسول عربی ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے اندر ایک ایسا فرقہ انٹروڈیوس کیا گیا جو کہتے ہیں کہ نبی آئے گا اور یہ انگریزوں کی چالاکی اور شاطرانہ پالیسی تھی۔ ہندوستان میں کمیونٹیز جو کہ متحد ہو کر جدوجہد کر رہے تھے آزادی کے لئے، انگریزوں ٤٥

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 (قہقہے) رسول عربی ﷺ کی سیاست مسجد سے تھی۔ لڑی ہیں۔ آپ نے مسجد کی بے حرمتی کی ہے۔ جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔ e context as you have come after he Maulanas in this House can (چونکہ آپ بیس روز یا ایک ماہ کے بعد آ نہیں ہے۔ اس ایوان میں تمام مولانا حضرات اچھی طرح صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب معذرت چاہتا ہوں۔ جناب چیئرمین: نہیں، ہم تو روز کرت month and make a firex public y. The entire House is not a party (اگر آپ ایک مہینے کے بعد آئیں اور میں شریک نہیں ہو سکتے۔ یہ ایوان اس میں شریک نہیں صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: آ رہا ہوں۔ اب جناب والا! میں عرض کروں گا کہ میں آنا چاہئے تھا۔ کیونکہ جب ہم کسی چیز کو کہتے ہیں مسل ہوں۔ آپ کسی چیز کو عدالت میں لے کر جاتے ہیں اسمبلی میں لے کر آتے ہیں جب دو رائیں ہوں۔ یہ عقیدت ہے۔ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے آج سے ١٤ فرقان حمید نے اپنی آیات کے ساتھ ١٤ سو سال پہلے اور ہم کس افلاطون کی اولاد ہیں جو آج ١٤ سو سال ب کہ آیا رسول عربی ﷺ آخری نبی تھے۔ جناب چیئرمین: یہ بھی فیصلہ اسمبلی کر ٤٤

صفحہ ٢٧٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کو نکالنے کے لئے، ان کے اندر تفرقہ پیدا کرنے کے لئے ہندوؤں میں آریہ سماج اور مسلمانوں کے اندر قادیانیوں کا فرقہ انٹروڈیوس کیا گیا۔

Mr. Chairman: This has been thoroughly discussed in this House.

(جناب چیئرمین: اس پر ایوان میں تفصیل سے بات ہو چکی ہے)

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: مجھے آپ سے شکایت ہے، مجھے آپ سے یہ اعتراض ہے کہ مجھ سے آپ کو یا تو بغض ہے......

جناب چیئرمین: آپ اسٹارٹ ہی غلط لیتے ہیں۔

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: بغض معاویہؓ تو نہیں مجھ سے؟

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں۔

2972 صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: حب علیؓ بھی رکھا کریں۔

جناب چیئرمین: دیکھئے ناں! یہ پوائنٹ دس دفعہ آیا ہے ہاؤس میں، اور بیشتر ممبران نے.......

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: نئے پوائنٹ تو کسی نے بھی نہیں کہے۔ محراب و منبر پر ساری باتیں ہو چکی ہیں۔ نوے برسوں سے یہی باتیں ہو رہی ہیں۔ نئی باتیں تو کسی نے بھی نہیں کیں۔ یہ مجھ پر اتنی قدغن لگا دی ہے۔ کچھ تو رحم کیجئے۔

جناب چیئرمین: میں ہاؤس سے پوچھ رہا ہوں۔

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: آپ نے دوسروں کے بارے میں ہاؤس سے پوچھا نہیں۔

جناب چیئرمین: ہاؤس سے اگر میں پوچھوں تو میں آپ کو ایک بات نہ کرنے دوں۔

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: دیکھئے ناں! آپ نے کہا کہ یہ غلط بات ہے، میں نے کہا کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔

جناب چیئرمین: اب ٹائم Proposals (تجاویز) کے متعلق ہے، Suggestions (تجاویز) کے متعلق ہے۔ These Points have been sufficiently dealt with for two months. (ان نکات پر دو ماہ میں اچھی طرح بات ہو چکی ہے)

٤٦

صفحہ ٢٧٧٥

2775 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : میں تجویز پیش کرتا ہوں اگر مجھے بولنے دیں۔

جناب چیئرمین : بولیں، تجویز پیش کریں۔

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : میں ایک Thesis (تھیسس) لارہا ہوں علیحدہ قسم کا۔ میں بحث کر رہا ہوں بالکل تاریخی محرکات پر۔ میں سمجھتا ہوں اس مسئلے کو محراب و منبر سے چھیڑا ہوا ہے۔ میں افلاطون یا کوئی مفتی نہیں ہوں، میں اس مسئلے کا سیاسی رخ دے رہا ہوں۔

2973 جناب چیئرمین : Just a minute صرف دو آدمیوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ اس اسمبلی کو اختیار نہیں ہے۔ ایک مرزا ناصر احمد اور ایک آپ کر رہے ہیں۔

Only two persons. No body else has objected. And I can tell with all the authority that this Assembly is not only competent but the only forum to determine the status of Ahmedis. Now the Assembly is getting into it.

(صرف دو آدمیوں نے۔ کسی اور نے یہ اعتراض نہیں کیا اور میں پوری ذمہ داری سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ اسمبلی نہ صرف یہ کہ مسئلے کے حل کی اتھارٹی رکھتی ہے بلکہ یہ احمدیوں کی حیثیت کے تعین کا واحد فورم ہے۔ اب یہ معاملہ اسمبلی میں ہے)

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : مرزا صاحب کی جان بچ رہی ہے۔ آپ اس کی جان نہ بچائیں۔ میں نے یہ اعتراض کیا ہے۔ جناب والا! میں عرض کر رہا تھا کہ پاکستان بن گیا۔ جناب والا! پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد لسانی قومیت نہیں، جغرافیائی قومیت نہیں اور نہ اس کی بنیاد ثقافتی قومیت ہے۔ اس کی بنیاد لسانی، جغرافیائی یا ثقافتی ہوتی تو پھر پنجاب اور بنگال تقسیم نہ ہوتے۔ لیکن پاکستانی تاریخ میں پنجاب تقسیم ہوا، بنگال تقسیم ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی کچھ اور بنیاد ہے۔ پاکستان کی بنیاد مسلم قومیت ہے۔ جب پاکستان بن رہا تھا اس میں ہمارے لیڈران کرام تمام ہندوستان میں گلی گلی، قریہ قریہ، گاؤں گاؤں گئے اور بتایا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ! جب ہمارا ملک لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمہ سے ہے تو اس ملک کو صرف قرآن وحدیث کے مطابق ہی مضبوط کیا جاسکتا ہے، اس ملک کی عمارت کو مضبوط اور خوبصورت کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کیا ہے؟ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ نظریاتی ملک کو جناب! توپوں اور ٹینکوں سے نہیں توڑا جاسکتا۔ توپوں اور ٹینکوں سے اس کی جغرافیائی حدوں کو توڑ سکتے ہیں۔ آپ کسی ملک کی ملوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ آپ کسی ملک کی آبادی کو تباہ کر سکتے

٤٧

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کو نکالنے کے لئے، ان کے اندر تفرقہ پیدا کرنے کے اندر قادیانیوں کا فرقہ انٹروڈیوس کیا گیا۔

This has been thoroughly

(جناب چیئرمین : اس پر ایوان میں بـ

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : اعتراض ہے کہ مجھ سے آپ کو یا تو بغض ہے......

جناب چیئرمین : آپ اسٹارٹ ہی غـ

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : جناب چیئرمین : نہیں، نہیں۔

2972 صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : جناب چیئرمین : دیکھئے ناں! یہ بـ ممبران نے......

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : نمبر پر ساری باتیں ہو چکی ہیں۔ نوے برسوں سے نہیں کیں۔ یہ مجھ پر اتنی قدغن لگا دی ہے۔ کچھ تو رحم

جناب چیئرمین : میں ہاؤس سے پو

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : سے پوچھا نہیں۔

جناب چیئرمین : ہاؤس سے اگر میں

صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری : میں نے کہا کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔

جناب چیئرمین : اب ٹائم Is Suggestions (تجاویز) کے متعلق ہے۔ ently dealt with for two months. بات ہو چکی ہے)

٢٦

صفحہ ٢٧٧٦

2921 NAT

مسعود احمد صاحب اور محمد اسلم ف لے آئیں۔ یہ کوئی بات جئے ۔ آپ فرمائیں جی! شہزادہ ک دیں۔ چلیں جی، انصاری

ہے، بڑی معقول وجہ ہے۔

اب خدا کی طرف سے دنیا کا

رف بیگم شیریں وہاب صاحبہ۔ سے تیار رہنا چاہئے‘‘ کہ دنیا کو

کے ایک جیسے حقوق ہیں، پھر

دیں ان کو۔ There is

تفصیل اس وقت نہیں رہی۔ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ھ وابستہ ہیں اور جب تک ہم بند کرنے کی کوشش نہ کریں ہم

ل کے باوجود۔ اب آگے لکھتے یدا کرے۔ ایک ایسی تبدیلی جو

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہیں۔ لیکن اس نظریے کو تباہ نہیں کر سکتے جو ان کے ذہنوں میں بھرا ہوا ہے۔ ہمارے ملک کا نظریہ مسلمانوں کے ذہنوں میں بھرا ہوا ہے۔ اس کی عمارت، اس کی بنیاد ہمارے ذہنوں میں ہے۔ ہمارے ایمان میں ہے، ہماری عقیدت میں ہے اور یہ ملک عاشقان رسول نے بنایا ہے۔ یہ ملک 2974 رسول عربی ﷺ کی محبت میں بنایا گیا ہے۔ وہ ملک جو رسول اللہ ﷺ کی محبت سے بنایا گیا ہو اس کے اندر ایک باطل نظریہ پیدا کیا جائے، کیونکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا ایک نظریاتی ملک کو آپ باطل نظریے سے تباہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ باطل نظریہ جب اندر ذہنوں میں جا کر خلل پیدا کرتا ہے، انتشار پیدا کرتا ہے، اس انتشار سے بڑے بڑے حوادث پیدا ہوتے ہیں۔

(قادیانیت باطل نظریہ)

میرے محترم صدر! میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس ملک کو آپ نہیں برباد کر سکتے ، لیکن انتشار سے برباد کر سکتے ہیں، اور اس انتشار کے لئے ایک باطل نظریہ پیدا کیا گیا، اور وہ قادیانیت کا نظریہ تھا اور میرے صدر محترم! بات یہ ہے کہ ہم کو جیسے مکہ معظمہ اور مدینہ شریف سے محبت ہے، مدینہ منورہ سے ہمیں عقیدت ہے، اسی طرح نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ! قادیانیوں کا مکہ معظمہ اور مدینہ تو قادیان ہے، اور قادیان میں زیارت کے لئے اس وقت تک نہیں جا سکتے۔ جب تک پاکستان ہے اور پاکستان کی ہندوستان کے ساتھ جو Confrontation (تصادم) ہے، جو تصادم ہے نظریات کا، حقائق کا، وہ جب تک Resolve (حل) نہیں ہوتا وہ اپنے، نعوذ باللہ ! مکہ یعنی قادیان میں نہیں جا سکتے ۔ لہٰذا ان کی تمام تھیوری یہ ہے کہ پاکستان کو ختم کر دیا جائے۔ اگر آپ ان کی کتابوں میں دیکھیں تو وہ اس چیز کی بشارت کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ! ایک زمانہ آئے گا جب پاکستان ختم ہو جائے گا۔ تو پھر ہم قادیان جائیں گے۔ تو جناب عالی! مشرقی پاکستان کو توڑنا بھی اسی سازش کا ایک حصہ تھا کہ پاکستان کو Brick by Brick (کی ہر ایک اینٹ کو) توڑا جائے، ایک ایک اینٹ اس کی بنیاد سے نکالی جائے۔ اس کی نظریاتی بنیادوں سے نظریاتی اینٹیں نکالی جائیں اور اس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور اس میں صرف وہی نہیں لگے ہوئے ، سپیکر محترم! بلکہ باہر کی دنیا بھی ہے۔ میرے پاس بن گورین کا وہ خطبہ ہے جو اس نے 1967ء میں سوربان یونیورسٹی میں انٹرنیشنل جیوری کو ایڈریس کرتے ہوئے دیا۔ اس نے کہا کہ دنیا میں دو نظریاتی ملک 2975 ہیں۔ ایک اسرائیل اور دوسرا پاکستان اور اگر کسی وقت اسرائیل کو خطرہ ہوا، بین الاقوامی دنیا میں اگر کسی ملک نے شدت سے اسرائیل کی مخالفت کی تو وہ پاکستان ہوگا۔ لہٰذا

٤٨

PDF 557

2921 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

3061 جناب چیئرمین: چوہدری ممتاز صاحب، میاں مسعود احمد صاحب اور محمد اسلم صاحب واپس تشریف لے آئیں۔ شہزادہ صاحب! آپ بھی تشریف لے آئیں۔ یہ کوئی بات نہیں ہے کہ کتابیں ہاتھ میں اٹھائیں اور دروازوں کی طرف چل دیئے۔ آپ فرمائیں جی! شہزادہ صاحب آپ بھی تشریف رکھیں۔ دروازے بند کردیں، باہر سے لاک کردیں۔ چلیں جی، انصاری صاحب! فرمائیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ کہتا ہے کہ ......

ملک محمد اختر: سر! میں جاسکتا ہوں؟

جناب چیئرمین: ہاں! آپ جائیں وجہ معقول ہے، بڑی معقول وجہ ہے۔ دروازے بند کردیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا (چارج) سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے۔“

جناب چیئرمین: بیگم شیریں وہاب صاحبہ جاسکتی ہیں۔ صرف بیگم شیریں وہاب صاحبہ۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے“ کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔

میاں محمد عطاء اللہ: پوائنٹ آف آرڈر، سر! عورتوں کے ایک جیسے حقوق ہیں، پھر عورتیں بھی نہیں جاسکتیں۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، آپ تقریر کرنے دیں ان کو۔ There is reason for that.

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ مارچ ١٩٢٢ء کا ہے۔ تفصیل اس وقت نہیں رہی۔ اس کے بعد ١٩٣٥ء کا ہے: 3062 ”اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو سیاسیات، اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں اور جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ و تعلیم کے ذریعے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں ہم اسلام کی ساری تعلیم جاری نہیں کرسکتے۔“

یعنی حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش سیاست سے علیحدگی کے باوجود۔ اب آگے لکھتے ہیں کہ: ”ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرے۔ ایک ایسی تبدیلی جو

١٩٣

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہیں۔ لیکن اس نظریے کو تباہ نہیں کرسکتے جو ان کے ذہنوں مسلمانوں کے ذہنوں میں بھرا ہوا ہے۔ اس کی عمارت ہمارے ایمان میں ہے، ہماری عقیدت میں ہے اور یہ رسول عربی ﷺ کی محبت میں بنایا گیا ہے۔ وہ ملک 2974 اس کے اندر ایک باطل نظریہ پیدا کیا جائے، کیونکہ جیسا کہ باطل نظریے سے تباہ کرسکتے ہیں۔ کیونکہ باطل نظریہ ہے، انتشار پیدا کرتا ہے، اس انتشار سے بڑے بڑے حوا

(قادیانیت باطل

میرے محترم صدر! میں آپ سے یہ عرض کر کرسکتے، لیکن انتشار سے برباد کرسکتے ہیں، اور اس انت اور وہ قادیانیت کا نظریہ تھا اور میرے صدر محترم! بات سے محبت ہے، مدینہ منورہ سے ہمیں عقیدت ہے، اسی معظمہ اور مدینہ تو قادیان ہے، اور قادیان میں زیارت تک پاکستان ہے اور پاکستان کی ہندوستان کے ساتھ ج جو تصادم ہے نظریات کا، حقائق کا، وہ جب تک ve باللہ! مکہ یعنی قادیان میں نہیں جاسکتے۔ لہٰذا ان کی تمام تر اگر آپ ان کی کتابوں میں دیکھیں تو وہ اس چیز کی بشار گا جب پاکستان ختم ہو جائے گا۔ تو پھر ہم قادیان جا توڑنا بھی اسی سازش کا ایک ہاتھ تھا کہ پاکستان کو ck توڑا جائے، ایک ایک اینٹ اس کی بنیاد سے نکالی جا اینٹیں نکالی جائیں اور اس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور محترم! بلکہ باہر کی دنیا بھی ہے۔ میرے پاس بان گوی سوربان یونیورسٹی میں انٹرنیشنل جیوری کو ایڈریس کر نظریاتی ملک 2975 ہیں۔ ایک اسرائیل اور دوسرا پاکستا الاقوامی دنیا میں اگر کسی ملک نے شدت سے اسرائی

٤٨

صفحہ ١٩٤

الرشید

2922 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ایک قلیل ترین عرصے میں اسے دوسری قوتوں پر غالب کر دے۔“

یہ ١٩٣٩ء کا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد اب یہاں کون سی قوتیں ہیں جن پر وہ غلبہ چاہتے ہیں، یہ ایوان کے معزز ممبران خود اندازہ کر سکتے ہیں۔ پھر آگے ہدایت ہے کہ: ”پاکستان میں اگر ایک لاکھ احمدی سمجھ لیے جائیں تو نو ہزار (٩٠٠٠) احمدیوں کو فوج میں جانا چاہئے۔ فوجی تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی فنون نہیں سیکھیں گے کام کس طرح کریں گے۔“

یہ آپ لوگوں کے علم میں ہوگا کہ فرقان بٹالین جس کو لیاقت علی خان مرحوم نے Disband کیا تھا، اس کے متعلق بڑا پروپیگنڈا کیا گیا کہ اس نے بڑا کام کیا ہے۔ تو اس کے لئے جو تمغے تقسیم ہوئے وہ ربوہ کے سیکرٹریٹ کے اندر ہوئے۔

آگے موجودہ خلیفہ جو ہیں ان کا ارشاد ہے: ”میں تمام جماعت کو جو یہاں موجود ہے اور پوری دنیا کو کامل یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آئندہ پچیس (٢٥) تیس (٣٠) سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہونے والا ہے۔ وہ دن قریب ہے جب دنیا کے بہت سے ممالک کی اکثریت اسلام (یعنی قادیانیت) قبول کر چکی ہوگی۔ دنیا کی سب طاقتیں مل کر اس انقلاب 3063 کو نہیں روک سکیں گی۔“

بہر حال یہ بے شمار ہیں۔ آگے ظفر اللہ صاحب کی تقریر ہے۔۔۔۔

جناب چیئرمین: آپ نے جو لکھ کر دینا تھا وہ نہیں دیا آپ نے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، جناب! اس کا کوئی وقت نہیں ہے۔ اب ظفر اللہ صاحب کی تقریر کہ: ”اگر احمدیہ جماعت برسر اقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں گے، دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے گا، سود پر پابندی لگا دی جائے گی اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے گی۔“

یہ بہر حال حکومت کا قصہ ہے۔ پھر یہ لکھتے ہیں کہ: ”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا میسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔“

یہ تو بہر حال ہے۔ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ جماعت احمدیہ کے ہاتھ جب حکومت آئے گی تو جو لوگ احمدیت سے باہر ہوں گے ان کی حیثیت چوہڑوں اور چماروں کی ہو

2923 NATION

لئے تیاری کرنا، جیسا کہ میں نے ر نیزہ باز اور اتنی عورتیں‘ یہ ہماری

شمانہ سلوک ہو سکتا ہے اس راستے کو نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے اور موعود علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے باقی ہم رہ جائیں گے۔ ہر ایک کو کیونکہ ہمارے متعلق کہا گیا ہے کہ ۔ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے ی جائے گی۔ حکمران ڈر رہے ہیں ھ میں دی جائے گی۔ (مداخلت)

صرف ریکارڈ پر لانا پیش نظر تھا۔ مجھے ں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ

Mr. Chairm honourable member w Member: No. Mr. Chairma wants to speak?

دوبارہ کوئی Add کرنا ہے؟ ہتا ہوں۔ کریں گے تو پھر یہ ڈسکشن ہوگی اس پر،

احب! ایک گزارش مجھے کرنی ہے کہ یہ ائی ہاؤس کمیٹی کے ریکارڈ میں آئے گی۔

صفحہ ٢٩٢٣

اسپیشل

IBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ایک قلیل ترین عرصے میں اسے دوسری قوتوں پر غالب یہ ١٩٣٩ء کا ہے۔ پاکستان بننے کے ہو چاہتے ہیں، یہ ایوان کے معزز ممبران خود اندازہ کر میں اگر ایک لاکھ احمدی سمجھ لیے جائیں تو نو ہزار ( تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی طو یہ آپ لوگوں کے علم میں ہوگا کہ فرقہ Disband کیا تھا، اس کے متعلق بڑا پروپیگنڈا لئے جو تمغے تقسیم ہوئے وہ ربوہ کے سیکرٹریٹ کے اند آگے موجودہ خلیفہ جو ہیں ان کا ارشاد اور پوری دنیا کو کامل یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آ دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہونے والا ہے۔ وہ کی اکثریت اسلام (یعنی قادیانیت ) قبول کر چکی 3063 کو نہیں روک سکیں گی ۔“

بہر حال یہ بے شمار ہیں۔ آگے ظفر اللہ ص جناب چیئرمین: آپ نے جو لکھ کر د مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، اللہ صاحب کی تقریر کہ: ”اگر احمدیہ جماعت بر سر اق گے، دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے گا، سود پر پابندی اُ جائے گی۔“

یہ بہر حال حکومت کا قصہ ہے۔ پھر یہ لکھ جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا می نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری بات عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو یہ تو بہرحال ہے۔ میں مختصراً یہ بتانا چاہ حکومت آئے گی تو جو لوگ احمدیت سے باہر ہوں ۔

١٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

گی۔ بہر حال یہ حکومت آنا اور حکومت کی کوشش کرنا اور اس کے لئے تیاری کرنا ، جیسا کہ میں نے اس روز کہا تھا کہ ایک لاکھ سائیکل سوار اور دس لاکھ گھوڑ سوار اور نیزہ باز اور اتنی عورتیں یہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔

اس سب کے باوجود جو دنیا میں زیادہ سے زیادہ فیاضانہ سلوک ہو سکتا ہے اس راستے کو سوچ رہے ہیں ہم۔ لیکن اس کے ساتھ یہ لازمی ہے کہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے اور جب جو تجویزیں وہاں ہیں: 3064 ”وہ لوگ جو واقعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے وہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے ۔صرف باقی ہم رہ جائیں گے۔ ہر ایک کو موت نظر آرہی ہے اور صرف ہم کو زندگی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے متعلق کہا گیا ہے کہ آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی ۔ مگر ہمیں امید ہے کہ بادشاہت ہمیں دی جائے گی۔ حکمران ڈر رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی رہے گی ۔ مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں دی جائے گی۔“ ( مداخلت )

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو بہر حال! اس کو صرف ریکارڈ پر لانا پیش نظر تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ معزز ممبران کا بہت سا وقت میں نے لیا ہے۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے دوبارہ ان چیزوں کو پیش کرنے کا موقع دیا۔ شکریہ!

Mr. Chairman: Thank you very much. Any honourable member who would like to speak?

Member: No.

Mr. Chairman: Any honourable member who wants to speak?

اگر کسی نے اپنے کسی بیان میں کوئی تصحیح کرنی ہے یا دوبارہ کوئی Add کرنا ہے؟

جناب محمود اعظم فاروقی: میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

جناب چیئرمین: آپ رہنے دیں۔ اگر آپ کریں گے تو پھر یہ ڈسکشن ہوگی اس پر، آپ رہنے دیں۔ میں ان سے پوچھ رہا ہوں۔

3065 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب سپیکر صاحب! ایک گزارش مجھے کرنی ہے کہ یہ ساری چیز ریکارڈ میں آرہی ہے۔ میرے خیال میں یہ پوری کارروائی ہاؤس کمیٹی کے ریکارڈ میں آئے گی۔

١٩٥

صفحہ ١٩٦

2924 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جناب چیئرمین: ہم جب ریکارڈ Complete کریں گے تو یہ باتیں Omitt کر دیں گے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہی میں کہہ رہا تھا کہ جو چیزیں اس سے متعلق ہیں ......

جناب چیئرمین: نہیں، صرف وہ کریں گے، باقی جو یہ ہمارے ریمارکس ہیں آپ کے، یا اپنی ڈسکشن جو کراس ایگزامینیشن سے پہلے ہوئی تھی یا بعد میں ہوئی تھی، That we یہ ریکارڈ ہم نے پبلش کرنا ہے، اس کو shall not make part of the record. اناؤنس کرنا ہے۔ That will take some time until and unless we کیونکہ یہ جو باتیں ہیں یہ پبلک میں نہیں جائیں گی۔ correct it, Sir.

ایک رکن: نہیں جائیں گی؟

جناب چیئرمین: اسی واسطے انہوں نے اعتراض کیا ہے کہ شاید یہ ریکارڈ پر نہ آجائیں۔

جناب محمود اعظم فاروقی: جناب! مجھے ایک گھنٹہ بولنے کی اجازت دیں۔

Mr. Chairman: Is the House prepared to grant him leave to speak for one hour?

Members: No, no.

Dr. S. Mahmood Abbas Bokhari: Sir, he can speak in the lobby, if he likes it.

Mr. Chairman: Before we rise for tomorrow, I want to place it again on the...

3066 مولانا عبدالحق: فرمائیں جی! فرمائیں۔

ایک رکن: جناب! بیٹھنے دیں ان کو، بیٹھ جائیں گے۔

جناب چیئرمین: تو کل کے لئے میں عرض کروں، میں سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ ہماری Almost last meeting ہے اور آپ تمام دوستوں نے ،حضرات نے، ممبران نے اس کو نہ صرف ایک ڈیوٹی سمجھ کے بلکہ اس کو اپنا ایک جزو ایمان سمجھ کے یہ فرض سرانجام دیا ہے۔ اس کے لئے میں آپ کا نہ صرف مشکور ہوں۔ بلکہ آپ کو مبارکباد

2925 NATIONAL A

ت کی بقاء کے لئے اڑھائی مہینے بیٹھ کر کیونکہ Recommendations بلکہ مجھے پہلے دن سے یہی امید تھی کہ Un متفقہ طور پر کوئی نہ کوئی چیز ہاؤس سطے کہ کسی ڈیبیٹ کی ضرورت نہیں۔ ہو چکے ہیں۔ نیشنل اسمبلی کو ئے ان کا Explanation سن لیا، تمام Formalities پوری ہو چکی سیشن ہوگا۔ ممکن ہے اسٹینڈنگ کمیٹی کا رت میں آئے گا۔ ہم نے ریکارڈ بھی ہوگا۔

For legislation to be done. The Specia hour or two hours fo then, at 4:30, recomm National Assembly wh National Assembly m because of the 3067 gravi political condition in t admission not only to t Assembly even. Passe members of the M.N.A will be only for tomorr the admission in the

صفحہ ٢٩٢٥

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 جناب چیئرمین: ہم جب ریکارڈ e Omitt کر دیں گے۔ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہی میں کہہ ر جناب چیئرمین: نہیں، صرف وہ کریں کے، یا اپنی ڈسکشن جو کراس ایگزامینیشن سے پہلے ہو shall not make part of the record. اناؤنس کرنا ہے۔ until and unless we کیونکہ یہ جو باتیں ہیں یہ پبلک م correct it, Sir. ایک رکن: نہیں جائیں گی؟ جناب چیئرمین: اسی واسطے انہوں نے اعت جناب محمود اعظم فاروقی: جناب! مجھے ا Is the House prepared to grant hour? d Abbas Bokhari: Sir, he can es it. Before we rise for tomorrow, I me... 3066 مولانا عبدالحق: فرمائیں جی! فرما ایک رکن: جناب! بیٹھنے دیں ان کو، بیٹھ جناب چیئرمین: تو کل کے لئے میں شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ ہماری st meeting نے، حضرات نے، ممبران نے اس کو نہ صرف ایک ڈیو کے یہ فرض سرانجام دیا ہے۔ اس کے لئے میں آپ ک ١٩٦

2925 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 پیش کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے ملک کے نام اور جمہوریت کی بقاء کے لئے اڑھائی مہینے بیٹھ کر خدمت کی ہے اور میں اس سے زیادہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ Recommendations آپ کے سامنے آنی ہیں اور مجھے انشاء اللہ تعالیٰ امید ہے بلکہ مجھے پہلے دن سے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم اس میں Unanimously متفقہ طور پر کوئی نہ کوئی چیز ہاؤس کے سامنے لائیں گے۔ تو کل صبح سیشن نہیں ہوگا۔ اس واسطے کہ کسی ڈیبیٹ کی ضرورت نہیں۔ ڈیبیٹ ختم ہوچکا ہے۔ تمام ضروری مراحل طے ہو چکے ہیں۔ نیشنل اسمبلی کو Recommendations پیش ہو جائیں گی۔ آپ نے ان کا Explanation سن لیا، اٹارنی جنرل کی تقریر بھی سن لی، کتابوں کے حوالہ جات اور تمام Formalities پوری ہو چکی ہیں۔ اب کل قومی اسمبلی میں بل پیش ہوگا۔ کل ڈھائی بجے سیشن ہوگا۔ ممکن ہے اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس بھی ہو۔ ابھی ڈسکشن جاری ہیں۔ بل لیجسلیشن کی صورت میں آئے گا۔ ہم نے ریکارڈ بھی Prepare کرنا ہے۔ کل ڈھائی بجے اسپیشل کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔

For legislation or whatever positive or negative has to be done. The Special Committee will last for about one hour or two hours for finalising recommendations; and then, at 4:30, recommendations shall be presented to the National Assembly which will hold an open session. The National Assembly meets always in open session. But because of the 3067 gravity of the situation and the prevailing political condition in the country, we would be strict in the admission not only to the galleries but to the premises of the Assembly even. Passes will be issued only to the family members of the M.N.A's or their relatives. This restriction will be only for tomorrow. This restriction will apply even to the admission in the cafeteria or inside Gate No.3 and 4.

١٩٧

صفحہ ٢٩٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Definitely there will be restrictions, and I am sorry for the inconvenience to the honourable members. They will be allowed to come in without any bag in hand. Such things will be avoided under all circumstances. It is for the information of the honourable members. Cards will be issued to them. I am again thankful and grateful to you. Thank you very much.

(قانون سازی کے لئے یا جو کچھ بھی اس میں تبدیل کرنا پڑے۔ خصوصی کمیٹی ایک گھنٹے یا دو گھنٹوں تک برقرار رہے گی تاکہ تجاویز کو حتمی شکل دی جاسکے اور پھر ساڑھے چار بجے ان تجاویز کو قومی اسمبلی کے اوپن سیشن میں پیش کیا جائے گا۔ اس میں تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ہمیشہ اوپن سیشن ہوتا ہے۔ لیکن صورتحال کی نزاکت اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر ہم نہ صرف گیلریوں میں بلکہ اسمبلی کے حدود اربعہ میں بھی داخلے پر سختی کریں گے۔ پاس صرف ایم این ایز کے اہل خانہ اور ان کے رشتہ داروں کو جاری کئے جائیں گے۔ یہ پابندی صرف کل کے لئے ہو گی۔ اس پابندی کا اطلاق کیفے ٹیریا میں اور گیٹ نمبر ٣، ٤ میں داخلے پر بھی ہوگا۔ یقیناً ان پابندیوں سے معزز اراکین کو پریشانی ہو گی۔ جس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ انہیں ہاتھ میں کسی بیگ وغیرہ کے بغیر آنا ہو گا۔ ایسی چیزوں سے ہر صورت میں اجتناب کیا جائے گا۔ یہ معزز اراکین کی معلومات کے لئے میں نے بتایا۔ انہیں کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کا بے حد شکریہ!)

The Special Committee of the whole House adjourned to meet at half past two of the clock, in the afternoon, on Saturday, the 7th September, 1974.

(قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٧ ستمبر ١٩٧٤ء ہفتہ اڑھائی بجے شام تک کے لئے ملتوی ہوا)

١٩٨

صفحہ ٢٩٢٧

BLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ctions, and I am sorry for the erable members. They will be any bag in hand. Such things circumstances. It is for the ble members. Cards will be thankful and grateful to you.

(قانون سازی کے لئے یا جو کچھ بھـ گھنٹے یا دو گھنٹوں تک برقرار رہے گی تاکہ تجاویـ تجاویز کو قومی اسمبلی کے اوپن سیشن میں پیش کیا جـ قومی اسمبلی کا اجلاس ہمیشہ اوپن سیشن ہوتا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر ہم نہ صرف گیلریوں میں بـ گے۔ پاس صرف ایم این ایز کے اہل خانہ اور پابندی صرف کل کے لئے ہوگی۔ اس پابندی کـ پر بھی ہوگا۔ یقیناً ان پابندیوں سے معزز اراکیـ ہوں۔ انہیں ہاتھ میں کسی بیگ وغیرہ کے بغیر آ جائے گا۔ یہ معزز اراکین کی معلومات کے لئے میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آ

tee of the whole House st two of the clock, in the September, 1974.

(قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصـ شام تک کے لئے ملتوی ہوا)

2927 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

No. 21 400

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 7th September, 1974

(Contain Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

(Adopted unanimously). . . . . . . . . . . . . 3077-3081

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD

صفحہ ٢٩٢٨

2928 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

No. 21

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 7th September, 1974

(Contain Nos. 1—21)

٢

2929 NAT

3071 THE NATIO

THE SPECI

WHOLE H

TO CONSID

Saturd انی)

The Specia Camera in the Ass Islamabad, at half Mr. Chairman (Sa بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں ) کی زیرصدارت منعقد ہوا)

(Rec

صفحہ ٢٩٢٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

3071

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

----------

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

----------

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 7th September. 1974. (کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی) (٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء، بروز ہفتہ)

----------

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at half past two of the clock, in the afternoon. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.

(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں اڑھائی بجے دوپہر جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

----------

(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

----------

٣

صفحہ ٢٩٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

3072

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

Mr. Chairman: It is very pleasant to find the House full after two and a half months. It was full on the 30th of June and credit to all those honourable members who have remained sitting here for two and a half months. There might be slight inconvenience to those persons to whom cards have been issued because we will open the gates of the Assembly when we conclude this at 4:30. So they will have to wait outside, those persons to whom the cards have been issued, and I think we must have a tea break for about fifteen minutes. Then we will meet at about 3:20 pm.

----------

[The Special Committee adjourned for tea break to meet at 3:20 pm.]

----------

[The Special Committee re-assembled at 3:40 pm., Sahibzada Farooq Ali in the Chair.]

----------

Mr. Chairman: Yes, Mr. Law Minister. I would request the honourable members to be attentive. One hundred and seventeen members are present.

Mr. Abdul Hafeez Pirzada (Minister for Law and Parliamentary Affairs): Mr. Chairman, three months of an ordeal before the Special Committee of the National Assembly and 90 years of history, full of agony, of the Muslims of the Sub- continent is about to come to an

٤

2931 NATI

end.

When this q no one could even body would be bur highly complicate sentiments of milli all over the world. and the democrati traditions. That i comes to an end. T in the Sub-Contin have been confron killings. There ha situations, and democratic Gover imposed in the co of the same issue.

Sir, this is We have sat here in my duty if I di august House. Ne democracy in Sou like the Parliame such an experien the newly crea parliamentary

صفحہ ٢٩٣١

SEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

- GENERAL DISCUSSION

It is very pleasant to find the a half months. It was full on the o all those honourable members here for two and a half months. nvience to those persons to whom ause we will open the gates of the de this at 4:30. So they will have ns to whom the cards have been ust have a tea break for about ill meet at about 3:20 pm.

mittee adjourned for tea break to

mittee re-assembled at 3:40 pm., e Chair.]

Yes, Mr. Law Minister. I would members to be attentive. One mbers are present. z Pirzada (Minister for Law fairs): Mr. Chairman, three e the Special Committee of the ears of history, full of agony, of ntinent is about to come to an

٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

end.

When this question arose soon after the 29th of May, no one could even have remotely imagined that this august body would be burdened with the onerous task of resolving a highly complicated and intricate issue involving religious sentiments of millions of Muslims in the Sub-continent and all over the world. Today, it is the victory of the democracy and the democratic institutions and democratic norms and traditions. That is why I say that an agonising chapter comes to an end. The issue with greater vengeance did arise in the Sub-Continent on previous occasions 3073 also. There have been confrontations and 'munazras'. There have been killings. There have been serious riots and law and order situations, and at least on one occasion in the past democratic Governments were toppled and Martial Law was imposed in the country because of disturbances arising out of the same issue.

Sir, this is not the occasion to make a long speech. We have sat here day in and day out, but I would be failing in my duty if I did not pay a tribute to the members of this august House. Never before in the history of parliamentary democracy in South-East Asia has a democratic institution like the Parliament or the National Assembly undergone such an experience. We have parliamentary democracy in the newly created State of Bangla Desh. We have parliamentary democracy in Sri Lanka. We have

٥

صفحہ ٢٩٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

parliamentary democracy in India. These, Sir, are countries in South-East Asia which have had parliamentary democracy in one from or other; even Bangla Desh when it was with us; but you shall not find a precedent of this nature in the parliamentary history of any of these countries. Under heavy odds, very provocative and offensive conditions, my colleagues, you the members of this august House, sat here patiently and objectively to arrive at a national decision, and the issue was referred to you so that you could arrive at a decision, not of an individual but a decision of the nation of Pakistan, whose representatives you are and whose mandate you hold, by virtue of which you call yourself the National Assemebly or the Special Committee of the National Assembly of Pakistan.

We have heard this matter for the last three months. I must confess my own ignorance from the point of view that I did not know about this issue as deeply as some other members. Having heard it at length, we can feel why a muslim had such a deep and emotional reaction to this issue. One thing that emerged as a result of our deliberations and sittings and discussions is that our concept as popularly understood by Muslims of the finality of Prophethood of Mohammad (peace be upon him) is a fundamental article of faith of all Muslims, and no matter what happens, this fundamental article of faith of the finality of Prophethood cannot be compromised by Muslims

4

2933 NAT

in any sense. The issue of the Gov Opposition; we h nation could ill a and therefore, Government lead all our friends w search for a con divided on such a Assembly should

It is my p party and my fri a Resolution to s consensus and t minutes, the m before them a p behalf of my sel Ahmad Noora Ghulam Faruq, Soomro. In th recommendatio contains the re along with the Mr. Ch Mr. A circulated sepa

صفحہ ٢٩٣٣

BLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

India. These, Sir, are countries h have had parliamentary her; even Bangla Desh when it find a precedent of this nature f any of these countries. Under and offensive conditions, my of this august House, sat here rive at a national decision, and so that you could arrive at a but a decision of the nation of es you are and whose mandate you call yourself the National Committee of the National

tter for the last three months. rance from the point of view issue as deeply as some other t length, we can feel why a l emotional reaction to this erged as a result of our iscussions is that our concept Muslims of the finality of (peace be upon him) is a f all Muslims, and no matter ntal article of faith of the be compromised by Muslims

2933 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

in any sense. That is why I said, Sir, that this was not an issue of the Government, this was not an issue of the Opposition; we had to treat it as a national issue, and the nation could ill afford to divide itself on such a vital issue and therefore, 3074 the effort of the Government, through the Government leader, the Prime Minister of Pakistan, as also all our friends who sit across the floor, was to look and search for a consensus so that the nation should not be divided on such a vital issue and the decision of the National Assembly should come unanimously and by consensus.

It is my proud privilege on behalf of the majority party and my friends there who have authorised me to move a Resolution to state before this august Committee that such consensus and unanimity has been arrived at. Sir, in a few minutes, the members of this august House shall have before them a proposed resolution that I intend to move on behalf of my self, Maulana Mufti Mahmood, Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqi, Prof. Ghafoor Ahmad, Mr. Ghulam Faruq, Ch. Zahur Ilahi and Sardar Moula Bakhsh Soomro. In this resolution, we have given the draft of recommendations that we would like to make. Now, Sir, this contains the recommendations. This has to be distributed along with the copy of the Consitution Amendment Bill.

Mr. Chairman: That too is bieng circulated.

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: This should not be circulated separately. Sir, now I have got the original copy. I

٧

صفحہ ٢٩٣٤

پشت

2934 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

would like to place it for the purpose of record. Sir, what we propose for the consideration of the Committee and adoption by it, in the form of recommendation, is a resolution which contemplates constitutional measures, which contemplates legislative, administrative and procedural measures, and which also contains a reiteration of assurance of safety, security and safeguard of life, liberty, property, honour and fundamental rights of all citizens of Pakistan irrespective of the community that they belong to. Constitutional amendments I will explain and so also legislative and procedural amendments that we recommend. Before that, I would like to say that as soon as these recommendations are approved by this august House, which I am confident will be unanimous as would appear from the moving of this resolution, we will convert ourselves immediately thereafter into the National Assembly and I will take before the National Assembly the recommendations of the Committee, which, on approval, would entitle the moving of the Constitution Amendment Bill. We hope that in today's sitting we would pass the Constitution Amendment Bill and today it would be 3075 transmitted to the Senate and we hope that the Senate would also pass it today so that the Chapter should stand closed today.

Now, Sir, the constitutional amendments that I recommend on behalf of myself and my friends are two-fold, that the Constitution of Pakistan be amended to include a

^

2935 N

definition of a p should come by are two clauses article deals wit (3) to this Artic under:

"(3) and unqualifie (peace be upon a prophet, in whatsoever, a recognizes su reformer, is Constitution o

Sir, th Constitution i with reserva communities been prescri clause (3) of after the wor "Con the Lahori G

This Sir, our Constit

صفحہ ٢٩٣٥

BLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

purpose of record. Sir, what we tion of the Committee and n of recommendation, is a tes constitutional measures, lative, administrative and ch also contains a reiteration and safeguard of life, liberty, ental rights of all citizens of mmunity that they belong to.

I will explain and so also ndments that we recommend. say that as soon as these by this august House, which us as would appear from the ve will convert ourselves National Assembly and I will bly the recommendations of proval, would entitle the endment Bill. We hope that l pass the Constitution uld be 3075 transmitted to the ate would also pass it today closed today.

ional amendments that I nd my friends are two-fold, be amended to include a

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

definition of a person who is not a Muslim. This definition should come by an addition of a clause to Article 260. There are two clauses in Article 260 of the Constitution. This article deals with definition and we would like to add clause (3) to this Article to give the definition of a non-Muslim as under:

"(3) A person who does not believe in the absolute and unqualifed finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him) the last of the Prophets, or claims to be a prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after Muhammad (peace be upon him), or recognizes such a claimant as a prophet or a religious reformer, is not a Muslim for the purposes of the Constitution or law."

Sir, the second amendment that we propose in the Constitution is related to Article 106, clause (3), which deals with reservation of seats in Provincial Assemblies for communities, over and above the general seats that have been prescribed, and the amendment that I propose in clause (3) of Article 106 is that at the end of the word or after the word 'communities', the following words be added:

"Communities and persons of the Qadiani Group or the Lahori Group who call themsleves Ahmadis."

This is second amendment.

Sir, let me make it absolutely clear that Article 20 of our Constitution gives fundamental right of freedom to

٩

PDF 572

2793 NATIO ول، تو میری دو تین آراء ہیں۔ زائیت اور قادیانیت رکھا جائے ن یہ جان سکیں کہ یہ ایک علیحدہ میں اداروں کو قومی تحویل میں لیا ئے۔ انکو مذہب کے خانے میں ں کے تمام لٹریچر کی چھان بین کو حذف کرے اور آئندہ ایسی

ض کرنا چاہتا ہوں۔ جس وقت بارے میں کچھ ترامیمات آئی کے بارے میں کہا تھا کہ: "Muhamm Prophet" سین درج کیا جائے ، مگر اس Vers (ترجمہ )دیکھنے سے ہے تو اس پر بھی غور فرمایا جائے ن سے رہنے دیا جائے۔

کریں گے۔ 2995 We will who have accepte may go, if they lik like, because today it. Under no circu

الرشید

2936 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21 profess, propagate and practice one's own religion and every community shall be at liberty to do so, to profess, propagate and parctice their own religion, but, as I said, Muslims' Finality of Prophethood, as would be defined in article 260 of the Constitution, is an article which is fundamental in faith. Therefore, we propose to 3076 recommend that the Pakistan penal Code should be amended in section 295 (a) by the addition of an Explanation. There is already a clause in the Pakistan Penal Code which prohibits people from propagating religion in a manner so as to be offensive to other religious beliefs. Therefore, all Muslims because we cannot stop others from practising or professing or propagating their own religion- but if a person is a Muslim, then we have to see that all Muslims who profess, practise or propagate against the concept of Finality of Prophethood Muhammad (peace be upon him) as set out in clause (3) of Article 260 shall be punishable under the section.

Sir, naturally, with these amendments, there will be consequential procedural amendments or changes in law or rules or forms or parctices, such as the National Registration act and the Electoral Rules, and it would also be a recommendation for consideration that such consequential amendments may be made by the Government at relevant time because there might be some laws where entries might have to be changed, giving entries of people etc, and of persons and so on and so forth.

١٠

صفحہ ٢٧٩٣

2793 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

2994 ملک محمد صادق: جناب! اگر میں مختصر عرض کروں ، تو میری دو تین آراء ہیں ۔ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ، ان کے مذہب کا نام مرزائیت اور قادیانیت رکھا جائے تاکہ امت اسلامیہ سے ان کا کوئی تعلق نہ رہے اور دنیا کے مسلمان یہ جان سکیں کہ یہ ایک علیحدہ مذہب رکھتے ہیں ۔ تیسرے ، جماعت احمدیہ کے زیر اہتمام تمام تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا جائے ۔ چوتھے ، مرزائیوں کے پاس کارڈوں ، میں ترمیم کی جائے ۔ انکو مذہب کے خانے میں مرزائی یا قادیانی لکھا جائے ۔ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان کے تمام لٹریچر کی چھان بین کرے ۔ جہاں بھی اسلام کے مخالف عقیدے پائے جاتے ہیں ان کو حذف کرے اور آئندہ ایسی غیر اسلامی اشاعت کو ممنوع قرار دے ۔

جناب والا! میں مختصراً کچھ آئین کے بارے میں بھی عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ جس وقت آئین بن رہا تھا تو اس وقت پریذیڈنٹ اور پرائم منسٹر کی اوتھ کے بارے میں کچھ ترامیمات آئی تھیں ۔ اس وقت کچھ حضرات نے پریذیڈنٹ اور پرائم منسٹر کی اوتھ کے بارے میں کہا تھا کہ:

"Muhammad (Peace be upon him) is the last Prophet"

(حضرت محمد ﷺ آخری پیغمبر ہیں) کے بعد خاتم النبیین درج کیا جائے، مگر اس ایوان نے اس ترمیم کو Reject (رد) کر دیا تھا۔ مگر اردو کا Version (ترجمہ) دیکھنے سے پتا چلا ہے کہ وہ ترمیم صحیح موجود ہے اور آئین میں خاتم النبیین درج ہے تو اس پر بھی غور فرمایا جائے تاکہ مسلمانوں کا یہ مذہبی مسئلہ حل کیا جائے اور مسلمانوں کو چین اور امن سے رہنے دیا جائے ۔

جناب والا! میں ان الفاظ کے ساتھ ختم کرتا ہوں ۔

جناب چیئرمین: مولانا صدر الشہید!

ایک رکن: اور کتنا بیٹھیں گے؟

جناب چیئرمین: دس منٹ اور بیٹھیں گے، باقی شام کو کریں گے۔

2995 We will take it up in the evening. Those members who have accepted some invitation for going somewhere may go, if they like, and they can come to the House, if they like, because today is the last evening and we have to finalize it. Under no circumstances can I say that.

٦٥

MBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

ce one's own religion and every g to do so, to profess, propagate gion, but, as I said, Muslims' would be defined in article 260 rticle which is fundamental in se to 3076 recommend that the be amended in section 295 (a) ation. There is already a clause which prohibits people from anner so as to be offensive to efore, all Muslims because we practising or professing or n- but if a person is a Muslim, Muslims who profess, practise of pt of Finality of Prophethood him) as set out in clause (3) of e under the section. ese amendments, there will be ndments or changes in law or es, such as the National oral Rules, and it would also r consideration that such y be made by the Government e might be some laws where ged, giving entries of people nd so forth.

صفحہ ٢٧٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(ہم اس پر شام کو بات کریں گے۔ جو اراکین کہیں مدعو ہیں، اگر وہ چاہیں تو جاسکتے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ایوان آسکتے ہیں۔ کیونکہ آج آخری شام ہے اور ہم نے اسے حتمی شکل دینی ہے۔ کسی بھی صورتحال میں میں یہ نہیں کہہ سکتا)

جناب! ہم شام کو سیشن نہیں کریں گے، اور چند ممبر صاحبان کہیں کہ ہمیں بولنے کی اجازت نہیں ملی نیز شام کو اٹارنی جنرل بولیں گے۔

I am grateful to you. This the last night and the last (میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج آخری رات ہے اور آخری دن ہے) day.

میاں محمد عطاء اللہ: پانچ بجے سیشن کریں۔

جناب چیئرمین: آپ کہیں تو چار بجے کرلیتے ہیں۔ آپ کہیں تو جمعہ یہیں اسمبلی میں پڑھا جائے گا، آپ Lead (امامت) کریں۔ مولانا صدر الشہید!

ملک محمد اختر: Last Night (آخری رات) کردیں، Last Dinner (آخری کھانا) نہ کریں۔ (قہقہے)

(جناب مولانا صدر الشہید کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

مولانا صدر الشہید: جناب چیئرمین! یہ مسئلہ جو کہ ایوان کے سامنے ہے اس کے اوپر تقریباً ڈیڑھ مہینہ گزر چکا ہے اور یہ مسئلہ ہر پہلو سے، سیاسی پہلو سے بھی اور مذہبی لحاظ سے بھی، بالکل واضح اور صاف ہوگیا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ کچھ ایسے واقعات ایوان کے سامنے آپ کی وساطت سے پیش کر سکوں کہ وہ میرے خیال میں غالباً نئے ہوں گے اور رب العالمین ایوان کو بھی یہ توفیق دے کہ وہ ذرا غور سے سن لے۔ میں کوشش کروں گا کہ مختصر وقت میں بہت سی معلومات لے آؤں۔

(اتحاد امت...... شان محمد ﷺ کا ظہور)

میں یہ عرض کر رہا تھا کہ یہ مسئلہ ہر پہلو سے، سیاسی لحاظ سے بھی اور مذہبی لحاظ سے بھی صاف اور واضح ہوگیا ہے، اور کیونکر نہ ہو، جس مسئلے کے اوپر ڈیڑھ مہینے سے ہم نے یہاں بیانات اور جرح اور ہر قسم کے دلائل قائم کرنے اور سننے کی کوشش کی ہے۔ میں ایک چیز سے متحیر ہوں اور اس تحیر کو آپ کے سامنے ظاہر کر رہا ہوں اور اس تحیر کا جو 2996 کچھ جواب میں نے اپنے ذہن سے تجویز کیا ہے وہ بھی پیش کر رہا ہوں۔ تحیر مجھے یہ ہو رہا ہے کہ ہم یہاں پر ایوان میں ڈیڑھ سال سے

٦٦

صفحہ ٢٧٩٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس ایوان میں مذہبی مسائل بھی آئے۔ سیاسی مسائل بھی، ملکی مسائل بھی، قوم کے اتحاد کے مسائل بھی اور ملک کی ترقی کے مسائل بھی آئے۔ لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، کسی مسئلے پر ایوان کے تمام ممبران کا، دونوں اطراف کے، دائیں اور بائیں کا اتفاق نہیں ہے، سوائے اس ایک مسئلے کے جو کہ اب حاضر ہے۔ اس اتفاق نے مجھے حیرت میں ڈالا ہے کہ اس طریقے سے اس مسئلے پر اس ایوان میں کیوں اتفاق ہوا؟ کسی نے بھی اس مسئلے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ یہ عوام کا مسئلہ ہے اور عوامی خواہشات کے خلاف کسی نے یہاں پر آواز اٹھائی ہو، یہ کسی نے نہیں کیا۔ یہ چیز میرے لئے تحیر کا باعث بن گئی ہے اور اس نے مجھے تحیر میں ڈالا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں اس کا جواب بھی سمجھ چکا ہوں کہ یہ کیا وجہ ہے کہ کسی مسئلے کے اوپر ہم متفق نہیں ہوئے اور اس مسئلے کے اوپر تمام متفق ہیں۔ میں اس اتفاق کو صرف یہی سمجھتا ہوں کہ یہ شان محمد ﷺ ہے اور دین اسلام کا ایک معجزہ ہے جو تمام علوم میں وہ چکر لگا رہا ہے۔ حدیث میں بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا (عربی)۔ تمام بندوں کے قلوب، دل اللہ رب العالمین و رحمٰن کی دو انگلیوں میں ہیں۔ وہ لوٹاتا ہے جس طرح وہ چاہتا ہے۔ اللہ رب العالمین کا فضل و کرم ہے۔ ہم بہت گنہگار ہیں۔ یہاں پر جو بیٹھے ہوئے ہیں، بہت بدکار، سیاہ کار ہیں، سب گنہگار ہیں۔ ہم مانتے ہیں، اقرار کرتے ہیں۔ لیکن اللہ رب العالمین نے صرف ایک کلمے کی برکت سے جو ہم پڑھتے ہیں اور مانتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ! باوجودیکہ ہم کتنے گنہگار یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن اللہ رب العالمین نے صرف ایک کلمے کی برکت سے جو ہم کبھی کبھی پڑھتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ! اور اس کے مطابق ہمارا عقیدہ ہے 2997 اور ایمان ہے، اللہ رب العالمین کے فضل و کرم نے جوش میں آ کر ہم میں اس ایک کلمے کی برکت شان محمد ﷺ کے متعلق، ناموس محمد ﷺ کے متعلق، ہم تمام کو ایک جگہ کے اور ایک پلیٹ فارم کے اوپر جمع کر دیا ہے۔ میں جہاں تک سمجھا ہوں اس اتفاق کی وجہ یہی ہے اور میں اس ایوان کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ لوگوں میں، میرا جہاں تک علم ہے، آپ لوگوں میں ایمان ہے۔ باوجود یہ کہ ہم گنہگار، سیاہ کار ہیں۔ لیکن انشاء اللہ ! ہمارا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ اللہ رب العالمین ہمیں اس مسئلے کے اتحاد کی وجہ سے، میں یہ سمجھ چکا ہوں کہ ہم میں کچھ ایمان باقی ہے، ہم بے ایمان نہیں ہیں۔ الحمدللہ ! اللہ اس ایمان کو محفوظ رکھے۔

اس کے ساتھ ساتھ میں تمام ایوان سے آپ کے توسط سے التجا ء کرتا ہوں اور التماس کرتا ہوں کہ خدا کے لئے یہ اتفاق اپنے لئے اور بھی مسائل کے لئے کوئی ایک نظیر بنا لیجئے۔ اس

٦٧

PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(ہم اس پر شام کو بات کریں ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ایوان آسکتے ہیں۔ ہے۔ کسی بھی صورتحال میں میں یہ نہیں کہہ جناب! ہم شام کو سیشن نہیں اجازت نہیں ملی نیز شام کو اٹارنی جنرل بولی the last night and the last (میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہو میاں محمد عطاء اللہ: پانچ ۔ جناب چیئرمین: آپ کہـ میں پڑھا جائے گا، آپ Lead (امام ملک محمد اختر: 'Night' (آخری کھانا) نہ کریں۔ (قہقہے)

(جناب مولانا صدرالشہید کا مولانا صدرالشہید: جناب اور تقریباً ڈیڑھ مہینہ گزر چکا ہے اور یہ مسـ بالکل واضح اور صاف ہو گیا ہے۔ میں کوشـ کی وساطت سے پیش کر سکوں کہ وہ میرـ بھی یہ توفیق دے کہ وہ ذرا غور سے سنـ معلومات لے آؤں۔

(اتحاد امت۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ یہ مسـ صاف اور واضح ہو گیا ہے، اور کیونکہ نہ ہـ اور جرح اور ہر قسم کے دلائل قائم کرنے ا اس نتیجہ کو آپ کے سامنے ظاہر کر رہا ہوں تجویز کیا ہے وہ بھی پیش کر رہا ہوں۔ تجیـ

صفحہ ٢٧٩٦

2796 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

طرف سے بھی اپیل کرتا ہوں اور اس طرح سے بھی کہ قومی مسائل، ملک کے اتحاد، سالمیت اور ملک کی ترقی اور ملکی مسائل میں کم سے کم ہم کو اتفاق کے اسی طریقے سے مظاہرہ کرنا چاہئے جیسے ہم نے اس مسئلے میں کیا ہے۔

ایک مسئلے میں کچھ ایک شبہے کا میں جواب دینا چاہتا ہوں۔ ہم تمام ممبران کی خدمت میں میرے خیال میں کچھ رسائل آئے ہوئے ہیں، کچھ کتابچے پہلے آئے ہوئے ہیں۔ ایک کتاب میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے ایک فتویٰ لگایا ہے اور وہ فتویٰ یہ لگایا ہے امام ابو حنیفہؒ نے کہ کسی آدمی نے اگر جناب محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تو اگر کوئی دوسرا آدمی اس سے معجزہ طلب کرلے، دلائل طلب کرلے کہ اپنی نبوت کے بارے میں مجھے کوئی معجزہ دکھاؤ، تو یہ طالب جو ہے، طلب کرنے والا ، یہ بھی گنہگار یا کافر بنتا ہے۔ خیر! یہ ایک مثال ہے، بالکل صحیح ہے۔ کتابوں میں یہاں پر آپ لوگوں نے پڑھا ہوگا۔ یہاں پر بھی بعض حضرات نے، بعض صاحبان نے اس سے 2998 کچھ تاثر لے کر، جیسا کہ میں نے سنا ہے، اس طرف سے بھی اور اس طرف سے بھی یہ مسئلہ یہاں پر آیا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کہ ہم اس کو حاضر کرتے اور اس سے سوال پوچھتے، اس کا بیان لیتے، اس کے اوپر جرح کرتے، یہاں ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ میں اپنے خیال سے اور اپنے علم کے مطابق جواب دے رہا ہوں کہ ہم نے ان سے دلائل نہیں پوچھے کہ آپ کی نبوت کے کیا دلائل ہیں۔ ہمارے سامنے تو نبی نہیں بیٹھا تھا۔ یہاں پر تو کسی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ ہم تو اس مرے ہوئے جو خدا جانے بیت الخلاء میں سنا گیا ہے مرا ہے، اس کے متعلق ہم نے ان کے عقائد معلوم کرنے تھے کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ اس کے بارے میں ان کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا عقیدہ کیا ہے۔ ہم نے ان کے دعوے اور عقیدے کے سچ ہونے کے لئے دلائل اور معجزات طلب نہیں کئے یہاں پر۔ لہٰذا ہم اس مسئلے میں نہیں آتے۔ یہ لوگوں کی غلطی ہے۔ ہم نے ان سے یہ پوچھا تھا کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کا کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے تسلیم کیا کہ کیا تھا۔ اس کے بعد یہ پوچھا ان لوگوں سے کہ آپ کا ان کے متعلق عقیدہ ہے۔ بعض نے یہ کہا صاف الفاظ میں کہ ہم اس کو نبی مانتے ہیں، امتی ہو یا بروزی ہو یا ظلی ہو۔ یہ تو تاویلات ہیں۔ ہر آدمی جب مجبور ہو جاتا ہے کسی حالت میں تو وہ تاویلات کرتا ہے۔ لیکن تمام ایوان ان سے یہ اثر لے چکا ہے۔ میرے خیال میں کہ یہ غلط بول رہا ہے، وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

اس کے بعد جب یہ ظاہر ہوا کہ انہوں نے خود تسلیم کیا، دونوں نے قریب قریب تسلیم کیا کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کیا ہے، اور یہ ان لوگوں کے اپنے عقیدے کا اظہار ہو چکا ہے۔ یہاں پر

٦٨

2797 NATIONAL ASS

وت کا عقیدہ ہے، بروزی ہو یا لغوی ہو یا متعلق۔ تو ایوان کے سامنے یہ مسئلہ بالکل تھا اور یہ ان کو نبی مانتے ہیں تو اس سے معلوم دلیل پیش نہیں کرتے کہ اس کو دلیل کر لیں ہم تو ان کے عقیدے کے متعلق ان سے

یہاں پر یہ بھی بعض حضرات سے سنا گیا کہ

کا مقصد یہ ہے...... ہے۔

۔ بہرحال، لیکن میں تو یہ دعوے سے کہہ رہا ن کی مساعی اور ان کی کوشش ہے کہ بغیر کسی

مان نہیں ہے! (قہقہے)

ں کے ساتھ جواب دے رہا ہوں، یہ نہیں کہ نت کا یہ نتیجہ انشاء اللہ ! نکلا ہے اور نکلے گا۔ قت میں نے کچھ میرے خیال میں کافی لیا رہ وہ یہ ہے کہ اگر اس مسئلے کو ہم اب بھی گول مارے لئے بھی اور اسلام کے لئے بھی اور حلہ جب ایوان میں، آپ کے بڑے ایوان لکل صاف اور واضح نہ ہوا...... وگا۔ ملک کے لئے بھی اور اسلام کے لئے بھی

میری یہ تجویز ہے اور میں ایوان سے پوچھ رہا

صفحہ ٢٧٩٧

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

طرف سے بھی اپیل کرتا ہوں اور اس طرح سے بھی کہ ملک کی ترقی اور ملکی مسائل میں کم سے کم ہم کو اتفاق کر نے اس مسئلے میں کیا ہے۔

ایک مسئلے میں کچھ ایک شبہے کا میں جواب د میں میرے خیال میں کچھ رسائل آئے ہوئے ہیں، کچھ آ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے ایک فتویٰ لگایا کہ کسی آدمی نے اگر جناب محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعـ طلب کر لے، دلائل طلب کرلے کہ اپنی نبوت کے بار ہے، طلب کرنے والا، یہ بھی گنہگار یا کافر بنتا ہے۔ خیر میں یہاں پر آپ لوگوں نے پڑھا ہوگا۔ یہاں پر بھی بـ سے 2998 کچھ تاثر لے کر، جیسا کہ میں نے سنا ہے، اسـ مسئلہ یہاں پر آیا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کہ ہم اسـ اس کا بیان لیتے ، اس کے اوپر جرح کرتے، یہاں ایسا اور اپنے علم کے مطابق جواب دے رہا ہوں کہ ہم نے کے کیا دلائل ہیں۔ ہمارے سامنے تو نبی نہیں بیٹھا تھا۔ ہم تو اس مرے ہوئے جو خدا جانے بیت الخلاء میں ان کے عقائد معلوم کرنے تھے کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ ان کا عقیدہ کیا ہے۔ ہم نے ان کے دعوے اور عقید طلب نہیں کئے یہاں پر۔ لہٰذا ہم اس مسئلے میں نہیں آ یہ پوچھنا تھا کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کا کیا تھا۔ اس وا بعد یہ پوچھنا ان لوگوں سے کہ آپ کا ان کے متعلق عقید ہم اس کو نبی مانتے ہیں، امتی ہو یا بروزی ہو یا ظلی ہو یا جاتا ہے کسی حالت میں تو وہ تاویلات کرتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں کہ یہ غلط بول رہا ہے، وہ جھوٹ بول ر اس کے بعد جب یہ ظاہر ہوا کہ انہوں نے کہ انہوں نے دعویٰ نبوت کیا ہے، اور یہ ان لوگوں کے

٦٨

2797 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ایوان میں کہ ان کے متعلق یعنی نبوت کا دعویٰ ہے، نبوت کا عقیدہ ہے، بروزی ہو یا لغوی ہو یا مجازی ہو یا امتی ہو، بہر حال عقیدہ نبوت کا ہے ان کے متعلق۔ تو ایوان کے سامنے یہ مسئلہ بالکل صاف ظاہر ہو گیا کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ 2999 کیا تھا اور یہ ان کو نبی مانتے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ مسئلہ تو صاف ظاہر ہے تو دنیا کو ہم اس کے بعد کوئی دلیل پیش نہیں کرتے کہ اس کو دلیل کر لیں کہ وہ کافر ہیں یا نہیں اور وہ تو مسئلہ بالکل صاف ہے۔ ہم تو ان کے عقیدے کے متعلق ان سے پوچھنا چاہتے تھے۔

دوسری بات میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں پر یہ بھی بعض حضرات سے سنا گیا کہ علماء نے بہت سستی کی ہے، کچھ کام نہیں کیا ہے۔

جناب چیئرمین: یہ چھوڑیں۔

مولانا صدر الشہید: نہیں، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے.....

جناب چیئرمین: بالکل سستی نہیں ہوئی ہے۔

مولانا صدر الشہید: سستی تو ہوئی ہے۔ بہر حال، لیکن میں تو یہ دعوے سے کہہ رہا ہوں کہ یہ علماء کی برکت ہے، یہ علماء کی برکت ہے، ان کی مساعی اور ان کی کوشش ہے کہ بغیر کسی پیسے کے، بغیر حکومت کے تعاون کے......

جناب چیئرمین: ورنہ ان میں رتی بھر ایمان نہیں ہے!(قہقہے)

مولانا صدر الشہید: نہیں، میں تو برادری کے ساتھ جواب دے رہا ہوں، یہ نہیں کہ کسی کو طعنہ دے رہا ہوں۔ انہوں نے محنت کی ہے اور محنت کا یہ نتیجہ انشاء اللہ! نکلا ہے اور نکلے گا۔

اب اس کے بعد آخر میں..... آپ کا وقت میں نے کچھ میرے خیال میں کافی لیا ہے..... آخر میں میں ایک تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر اس مسئلے کو ہم اب بھی گول مول کر کے فیصلہ کر لیں تو میرے خیال میں یہ مسئلہ ہمارے لئے بھی اور اسلام کے لئے بھی اور ہماری نسل کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوگا۔ اب مسئلہ جب ایوان میں، آپ کے بڑے ایوان میں اس عدالت میں پیش ہوا ہے، اب بھی اگر یہ مسئلہ بالکل صاف اور واضح نہ ہوا......

3000 جناب چیئرمین: انشاء اللہ! فیصلہ ہوگا۔

مولانا صدر الشہید: ...... تو یہ ہمارے ملک کے لئے بھی اور اسلام کے لئے بھی خطرناک ہوگا۔

اب میں ایک تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں کہ میری یہ تجویز ہے اور میں ایوان سے پوچھ رہا

٦٩

صفحہ ٢٧٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہوں کہ آئین میں ١٠٦ جو دفعہ ہے، اس میں یہ ذکر ہے شق نمبر (٣) میں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لئے صوبائی اسمبلیوں کے لئے جو نشستیں دی گئی ہیں، ایک صوبہ سرحد کے لئے، ایک بلوچستان کے لئے، تین پنجاب کے لئے، دو سندھ کے لئے، اس میں وہاں اقلیتوں کا ذکر ہے۔ ہندو ہے، سکھ ہے، پارسی ہے، بدھ ہے، فلاں فلاں! تو میری یہ تجویز ہے کہ اس اقلیت میں اس کا نام رکھا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی یا لاہوری پارٹی والے جو ہیں، یہ میں آپ کی وساطت سے تمام ایوان سے اس تجویز کے متعلق یہ ایک مسئلہ صاف ہو جائے گا، ان کی فہرست میں یہ بھی آ جائیں گے تو میں یہ تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں اور ہاؤس سے منظوری لینا چاہتا ہوں کہ آپ کو میرے ساتھ اس میں اتفاق ہے یا نہیں ہے؟

آوازیں: ہاں!

مولانا صدرالشہید: اتفاق ہے، منظور ہے آپ کو؟

آوازیں: ہاں!

مولانا صدرالشہید: جزاک اللہ، جزاک اللہ!

جناب چیئرمین: یہ ووٹنگ کا طریقہ ہے جو ہے ناں، یہ نہیں ہے لکھا ہوا۔ (قہقہہ)

مولانا صدرالشہید: ہمیں تو اجر مل جائے گا۔

جناب چیئرمین: ووٹنگ بذریعہ سپیکر ہوتی ہے۔ (قہقہہ) خود نہیں مجمع لگایا جاسکتا۔

3001 مولانا صدرالشہید: شکریہ جی، شکریہ!

جناب چیئرمین: اچھا جی! ابھی تک لسٹ کے مطابق مسٹر محمود اعظم فاروقی اور مسٹر محمد سردار خان رہتے ہیں۔

ایک رکن: فاروقی صاحب بول چکے ہیں۔

جناب محمود اعظم فاروقی: اور بھی بولنا ہے، اگر آپ کہیں تو۔

جناب چیئرمین: اچھا، فاروقی صاحب بول چکے ہیں۔ باقی حکیم محمد سردار خان صاحب ہیں۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: میر صاحب! نہیں، اس مسئلے پر تو ظاہر ہے اور تو کوئی نہیں میرے خیال میں رہتا۔ شام کو اٹارنی جنرل صاحب کم از کم دو گھنٹے بولیں گے اور پھر مولانا ظفر احمد انصاری صاحب بولیں گے اور پھر وزیر قانون صاحب بھی شام کو اس مسئلے پر بولیں گے تو ہم اب شام کو

٧٠

صفحہ ٢٧٩٩

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہوں کہ آئین میں ١٠٦ جو دفعہ ہے، اس میں یہ ذکر.. کے لئے صوبائی اسمبلیوں کے لئے جو نشستیں دی گئی ہی کے لئے، تین پنجاب کے لئے، دو سندھ کے لئے، ٦ سکھ ہے، پارسی ہے، بدھ ہے، فلاں فلاں! تو میری جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی یا لاہوری پارٹی والے ایوان سے اس تجویز کے متعلق یہ ایک مسئلہ صاف ہو گے تو میں یہ تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں اور ہاؤس سے م اس میں اتفاق ہے یا نہیں ہے؟

آوازیں: ہاں!

مولانا صدر الشہید: اتفاق ہے، منظور..

آوازیں: ہاں!

مولانا صدر الشہید: جزاک اللہ، جزاک

جناب چیئرمین: یہ ووٹنگ کا طریقہ ہ

مولانا صدر الشہید: ہمیں تو اجر مل جا..

جناب چیئرمین: ووٹنگ بذریعہ سپیکر ہو خود نہیں مجمع لگایا جاسکتا۔

3001 مولانا صدر الشہید: شکریہ جی، شکر

جناب چیئرمین: اچھا جی! ابھی تک لے محمد سردار خان رہتے ہیں۔

ایک رکن: فاروقی صاحب بول چکے ہی

جناب محمود اعظم فاروقی: اور بھی بولنا..

جناب چیئرمین: اچھا، فاروقی صاح صاحب ہیں۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: میر صاحب! نہیں، ال خیال میں رہنا۔ شام کو اٹارنی جنرل صاحب کم از کم دو صاحب بولیں گے اور پھر وزیر قانون صاحب بھی ش

٧٠

2799 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ساڑھے پانچ بجے دوبارہ ملیں گے اور نو دس گیارہ بارہ بجے تک کام کریں گے تاکہ بحث بھی مکمل ہوسکے اور جو سفارشات ہیں وہ بھی مرتب ہو سکیں۔ اس لئے آپ روٹی ساتھ لے کر آئیے گا!

[The Special Committee adjourned for lunch break to be re-assembled at 5:30 pm.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس لنچ بریک کے لئے ملتوی ہوا۔ دوبارہ اجلاس ساڑھے پانچ بجے شام کو ہوگا)

-------

[The Special Committee re-assembled after lunch break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]

(خصوصی کمیٹی کا اجلاس لنچ بریک کے بعد جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کے زیر صدارت دوبارہ شروع ہوا)

-------

جناب چیئرمین: چوہدری شفاعت خان چوہان!

(چوہدری شفاعت خان چوہان کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

چوہدری شفاعت خان چوہان: جناب چیئرمین! یہ مرزائیت کا مسئلہ ایک صدی پرانا مسئلہ ہے۔

3002 جناب چیئرمین: آپ کو آج پتہ چلا ہے کہ ایک صدی پرانا مسئلہ ہے۔

چوہدری شفاعت خان چوہان: نہیں، مجھے بھی تقریباً پچاس سال سے اس کا پتہ ہے۔

پاکستان کا قیام اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا، عمل میں آیا تھا۔ مسلمانان ہند نے ووٹ دیئے تو پاکستان قائم ہوا، حالانکہ مسلم لیگی حکومت جس نے پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیا تھا، وہ بھی اس مسئلہ کو حل کرنے سے قاصر رہی تھی۔ اس کے بعد مختلف جماعتیں اس ملک پر حکمرانی کرتی رہیں۔ ١٩٥٨ء تک، لیکن وہ بھی اس مسئلہ کو حل کرنے سے قاصر رہی ہیں، حالانکہ تمام کے تمام ایسے ہی مسلمان تھے جیسے اب پاکستان میں بستے ہیں۔ اس کے بعد جس وقت آمریت کا دور آیا تو ان کے پاس زیادہ اختیارات بھی تھے۔ باوجود اس کے مارشل لاء دور میں بھی اس مسئلہ کو حل نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ١٩٧١ء میں جس وقت قائد عوام کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی حکومت اس

٧١

صفحہ ٢٨٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ملک میں آئی تو بہت سے مسائل سامنے آئے جو ورثے میں ملے تھے۔ ان میں سے جو سب سے پہلا کام قائد عوام نے اپنی اکثریتی پارٹی کے تعاون اور باقی ملک کے تعاون کے ساتھ کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانان عالم کے کھوئے ہوئے اس وقار کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اسلامی ممالک میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے Summit بلائی جو ایک بہت بڑا کارنامہ اسلامی اتحاد کے سلسلہ میں ہے۔ اس کے بعد یہ ایک صدی پرانا مسئلہ بھی قائد عوام، اس کی اکثریتی پارٹی، دوسری معاون پارٹیوں اور اس کے بعد عوام کے تعاون کے ساتھ اس مسئلہ کو بھی آج حل کیا جارہا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے عوام کی خواہشات اور مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق حل ہوگا۔

(مرزا قادیانی جھوٹا تھا)

اس سلسلہ میں میں ایک عرض کرنا یہاں ضروری سمجھتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا جھوٹا نبی تھا اور اس ایوان میں یہ ثابت ہوگیا ہے۔ اس کے ماننے والوں کو بھی اقلیت قرار دینے کے لئے میرا خیال ہے کہ ہم فیصلہ کر سکیں گے۔ لیکن میں اس سلسلہ میں ایک بات عرض کروں گا کہ وہ چند بلکہ ١١٣ نام نہاد فتوے جاری کرنے والے علماء جنہوں نے پیپلز پارٹی اور اس کے قائد کو ١٩٧٠ء میں کافر قرار دیا تھا......

Mr. Chairman: Not allowed. (جناب چیئرمین : اس کی اجازت نہیں ہے) چوہدری شفاعت خان چوہان : وہ بھی جھوٹے ہیں۔ بالکل نہیں ۔ Mr. Chairman: Not allowed, not allowed. (جناب چیئرمین : اس کی اجازت نہیں ہے) چوہدری شفاعت خان چوہان : کم سے کم ایک بات میں عرض کروں گا۔ جناب چیئرمین : کم سے کم ایوان کا ضرور خیال رکھیں۔ یہ سیاست چلتی رہے گی۔ چوہدری شفاعت خان چوہان : اس کے ساتھ ساتھ میں یہ عرض کروں گا کہ مسلمانوں میں جو آج اتحاد قائم ہے، کم سے کم فتوؤں کے سلسلے میں بھی آئین میں یہ پابندی لگا دی جائے کہ کوئی مسلمان کسی فرقے کو کافر قرار نہ دے۔ جناب چیئرمین : اگر ایسی تقریریں ہوئیں تو پھر اتحاد نہیں رہے گا۔ چوہدری شفاعت خان چوہان : جہاں تک اس موجودہ مسئلے کا تعلق ہے......

٧٢

صفحہ ٢٨٠١

2801 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(مداخلت)

جناب چیئرمین: بہت بہت شکریہ! That's all (یہ مکمل ہوا) حکیم محمد سردار خان!

Not Present (موجود نہیں ہیں)

میاں محمد عطاء اللہ: سر! اٹارنی جنرل......

جناب چیئرمین: جی ابھی آ رہے ہیں۔ Attorney-General will complete his arguments (اٹارنی جنرل اپنے دلائل مکمل کریں گے)

ایک رکن: کل کا پروگرام کیا ہے؟

3004

جناب چیئرمین: کل کا پروگرام بھی بتاتے ہیں۔ آپ نے ریڈیو پر سنا ہے لیکن یہ ہے کہ جس وقت ہم نے ہاؤس ایڈجرن کیا، The parleys are going on between the Prime Minister and the others. The meeting is going on in the chamber even now (وزیراعظم اور دوسرے لوگوں میں مذاکرات جاری ہیں۔ اس وقت بھی چیمبر میں میٹنگ جاری ہے)

ایک رکن: ریڈیو پر کیا تھا؟

جناب چیئرمین: ریڈیو پر یہ تھا کہ کل شام ٥، اڑھائی بجے اسپیشل کمیٹی Meet کرے گی، ساڑھے چار بجے اسمبلی ہوگی اور پھر سینٹ Meet کرے گی۔ But we have to finalize it and then we will announce it in the House. Now I will request the Attorney-General to resume the arguments which were left over yesterday (لیکن پہلے ہم نے اسے حتمی شکل دینی ہے اور پھر ہم ایوان میں اس کا اعلان کریں گے۔ اب میں اٹارنی جنرل سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنے دلائل شروع کریں جو وہ کل رہ گئے تھے) باقی تمام ممبر صاحبان بول چکے ہیں، صرف حکیم محمد سردار صاحب بولنا چاہتے تھے، وہ نہیں ہیں۔ I will request the honourable members to be attentive now. I request those members who want to talk, they can go to the lobby (میں معزز اراکین سے گزارش کروں گا کہ اب متوجہ ہو جائیں۔ جو ممبران بات کرنا چاہتے ہیں میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ لابی میں چلے جائیں)

LY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ملک میں آئی تو بہت سے مسائل سامنے آئے جو پہلا کام قائد عوام نے اپنی اکثریتی پارٹی کے تعاو کہ مسلمانان عالم کے کھوئے ہوئے اس وقار کو و میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے Summit بلا میں ہے۔ اس کے بعد یہ ایک صدی پرانا مسئلہ بھ پارٹیوں اور اس کے بعد عوام کے تعاون کے ساتھ ہے کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے عوام کی خواہشات اور

(مرزا قادیا

اس سلسلہ میں میں ایک عرض کرنا چاہ مرزا جھوٹا نبی تھا اور اس ایوان میں یہ ثابت ہو گ دینے کے لئے میرا خیال ہے کہ ہم فیصلہ کر سکیں کروں گا کہ وہ چند بلکہ ١١٣ نام نہاد فتوے جاری کے قائد کو ١٩٧٠ء میں کافر قرار دیا تھا......

allowed.

(جناب چیئرمین: اس کی اجازت

چوہدری شفاعت خان چوہان:

allowed, not allowed.

(جناب چیئرمین: اس کی اجازت

چوہدری شفاعت خان چوہان:

جناب چیئرمین: کم سے کم ایک

چوہدری شفاعت خان چوہان:

مسلمانوں میں جو آج اتحاد قائم ہے، کم سے کم فتو جائے کہ کوئی مسلمان کسی فرقے کو کافر قرار نہ دے

جناب چیئرمین: اگر ایسی تقریریں

چوہدری شفاعت خان چوہان:

صفحہ ٢٨٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(جناب یحییٰ بختیار کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر دوسرے دن خطاب)

Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney- General of Pakistan): Mr. Chairman, Sir, when I was making submissions yesterday on the evidence that has come before the Special Committee, I submitted, while discussing the career of Mirza Ghulam Ahmad, that there were three stages in his religious career. The first stage was when he was like all other Muslim leaders, a propagandist of Islam. His views on the concept of 'Khatm-e-Nabuwwat' were similar to those held by others. Then comes the next stage when he changed his views and founded an organisation and started receiving oath of discipleship and so on.

It was in 1889 that the second stage comes. After that I was submitting that in the course of this stage what his views were, and why those views were expressed and a new interpretation of the concept of 'Khatm-e-Nabuwwat' was given, according to which many prophets will come from time to time as the world needs prophets to re-interpret the message of Allah given to Prophet Muhammad.

----------

3005

(At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)

----------

Mr. Yahya Bakhtiar: Madam, at this stage, I submitted that the second Caliph of Ahmadis or Qadianis

٧٤

صفحہ ٢٨٠٣

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(جناب یحییٰ بختیار قومی اسمبلی میں قادیانی

khtiar (Attorney- General of rman, Sir, when I was making the evidence that has come before I submitted, while discussing the n Ahmad, that there were three reer. The first stage was when he leaders, a propagandist of Islam. pt of 'Khatm-e-Nubuwwat' were thers. Then comes the next stage ws and founded an organisation of discipleship and so on. at the second stage comes. After t in the course of this stage what those views were expressed and a concept of 'Khatm-e-Nubuwwat' which many prophets will come orld needs prophets to re-interpret to Prophet Muhammad.

----------------------

Mr. Chairman vacated the Chair Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi)

htiar: Madam, at this stage, I Caliph of Ahmadis or Qadianis

٧٤

2803 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

had given reasons for which this series of Prophets will not stop, and I have also submitted that although they ostensibly and apparently gave a very rational reason for this, but still when we ask them whether there was any other prophet before Mirza Ghulam Ahmad, they say 'No'; when questioned as to whether any other prophet is going to come after him, they say 'No'; and ultimately it comes to this that 'Khatimun Nabiyeen', according to them, is Mirza Ghulam Ahmad.

I will now go further and submit before the Committee as to what was the proof that Mirza Ghulam Ahmad was 'Masih-e-Mauood' according to the Ahmadis. They say that he was to appear in a period of history when the means of communications would change and there would be earthquakes, there would be wars, and so forth, the donkey and the camel would be replaced by more efficient means of communication, and they say all these signs which were mentioned in the old books, apply to the age of Mirza Ghulam Ahmad, and further they say, and I will read out from the book called "Ahmadiyyat or the True Islam" in support of their contention, that Mirza Ghulam Ahmad was that Promised Messiah. I quoted from this book, page:20

"Similarly, it was foretold that the Promised One would suffer from two maladies, one in the upper part of his body and the other in the lower, that the hair of his head would be straight, that he would be wheat coloured, that he

٧٥

صفحہ ٢٨٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

would slightly stammer in his speech, that he would belong to a family of farmers, that, while talking, he would occasionally strike his hand against his thigh, that he would appear in a village named Kada, and that he would combine in himself the offices of the Messiah and the Mahdi. And so it has turned out be. Ahmad, the Promised Messiah, suffered from vertigo and diabetes; he had straight hair, was wheat-coloured, and occasionally faltered in his speech. He had the habit of striking his hand against his thigh while giving a discourse, 3006 and belonged to a family of landowners. He was a native of Kadian or Kade as Qadian is popularly called. In short, when we consider all these prophecies collectively, we find that they apply to no age but to the present, and to no person but to person but to Ahmad (on whom be peace); and it appears that the present age is clearly the age of the advent of the Promised One whose apperance was foretold by the former prophets, and that Ahmad alone is the Promised One whose advent had been eagerly awaited for centuries."

This is the proof or the argument in support of his being a Messiah. I do not want to comment on this. The Committee can judge for itself whether, it applies only to him or could have applied to hundreds and thousands of people living in this age.

Now I come to the third stage of his religious career. Here he claims to be a full-fledged prophet, not a prophet of

٧٦

صفحہ ٢٨٠٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

r in his speech, that he would belong ers, that, while talking, he would hand against his thigh, that he would ned Kada, and that he would combine f the Messiah and the Mahdi. And so . Ahmad, the Promised Messiah, nd diabetes; he had straight hair, was ccasionally faltered in his speech. He ng his hand against his thigh while

3006 and belonged to a family of ative of Kadian or Kade as Qadian is hort, when we consider all these we find that they apply to no age but o person but to person but to Ahmad nd it appears that the present age is advent of the Promised One whose d by the former prophets, and that romised One whose advent had been ries."

f or the argument in support of his not want to comment on this. The or itself whether, it applies only to lied to hundreds and thousands of

' e third stage of his religious career. ll-fledged prophet, not a prophet of

٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

a subordinate or a temporary kind. Then we find gradually in this period that from a full fledged prophet, although he goes on saying that he is an 'Umati' prophet, he claims superiority first over Hazrat Essa then over all other prophets and then he claims epuality with the Holy Prophet of Islam, (Peace be upon him) and ulimately he claims, nauzubillah, superiority over the Holy prophet of Islam as well. This is in short his religious career. I will now just very briefly draw the attention of the Committee to some of those citations in support of what I hav said just now.

I have already cited yesterday when he said: "without prophets you cannot do; you have to have a prophet." "بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ تم نعمتیں کیوں کر پاسکتے ہو۔"

And then he says, and here also I think the basis for his claim to be there only Prophet after Prophet Mohammad (peace be upon him) is found:

"جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال، اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔"

3007 So, this applies to past and future and this is again form "Haqiqatul Wahi" published in 'Roohani Khazain', volume:22, page:406 and 407. During this stage he also says:

"میں رسول اور نبی ہوں یعنی بہ اعتبار فضیلت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔"

And then he says:

٧٧

صفحہ ٢٨٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

”اللہ جل شانہ نے حضرت محمد ﷺ کو صاحب خاتم النبیین بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس وجہ سے آپ ﷺ کا نام خاتم النبیین ٹھہرایا گیا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

This is also the stage when he, as I have already submitted said: ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

Now, the interesting stage comes when he claims to have the attributes of all the prophets in him and here he says, and this I quote again from 'Brahin Panjum', 'Roohani Khazain', volume:21, page:117-118:

”اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں تو وہ میں ہوں۔ اس طرح اس زمانے میں بدوں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔ فرعون ہوں یا یہود ہوں ۔ جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا۔ ابو جہل ہوں ، سب کی مثالیں اس وقت موجود ہیں۔“

So, here he says that the best and the finest attributes of all the Prophets of Allah were combined and God wanted that they should be shown through one person and that he was that person. This is also the stage when he says:

”میں خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رد کر سکتا ہوں ۔ میں اسی کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

3008 Again, Sir, this is from 'Roohani Khazain', 'Haqiqatul Wahi' volume:22, page:154, again he says:

”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا تعالیٰ جل شانہ کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔“

Now, Sir, this is a very big claim that he puts

٧٨

صفحہ ٢٨٠٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

”اللہ جل شانہ نے حضرت محمد ﷺ کو صاحب کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اس ٹھہرایا گیا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

stage when he, as I have already

”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول

ting stage comes when he claims to ll the prophets in him and here he e again from 'Brahin Panjum', me:21, page:117-118:

”اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے زمانے میں بدون کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔ فرعون ہوں صلیب پر چڑھایا۔ ابو جہل ہوں، سب کی مثالیں اس وقت

that the best and the finest attributes lah were combined and God wanted wn through one person and that he also the stage when he says:

”میں خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رد کر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا

this is from 'Roohani Khazain', e:22, page:154, again he says:

”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہ کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طر پر خدا تعالیٰ جل شانہ کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو

is a very big claim that he puts

٧٨

2807 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

forward at this stage. He says the revelation that he receives from Allah is of the same quality and purity as that which came to the Prophet of Islam. Whatever his revelations, they are similar in nature and character to those of the Holy Prophet of Islam. So whatever he has said is just as good, according to him, as has come in the Holy Quran. This is his claim. He starts claiming equality with the Prophet of Islam and at this stage he has composed those laudable verses in Persian in which he said:

”انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بہ عرفان نہ کم ترم زکسے“

(I am better and Superior to all the prophets who

have come:)

”آنچہ داداست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام“

(He who gave the cup to every Nabi gave me the

same cup to the fullest measure, brimful.)

Again he says he was better and superior to all the prophets that have come. But at the same time he does not claim superiority, till this stage over the Holy Prophet of Islam but only says that his Wahi and his status is similar because Vahi is similarly pure.

I pointed our, it was my duty to point it out to Mirza Nasir Ahmad, as to what this meant and he did not deny it. The Committee will remember when he said that they were equal in status because of the source. The source is Allah.

٧٩

صفحہ ٢٨٠٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

They considered 3009 them to be equal. Then, Sir, throughout this period, that we have covered so far, he says. "I am an 'Umati' Nabi; I am 'Ghair Sharai Nabi', but here he thought he has attained equality with the Prophet of Islam except that he was an 'Umati'. By this he naturally gets a subordinate position because he does not get revelation which brings new law. He said he has not got a law of his own, but here we find- now he further promotes himself and says, and I am again quoting from 'Roohani Khazain' volume:17, pages: 435 and 436.

”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

Here he says that, well, "in my وحی there is also the law the do's and donts which Moses law contained." Sir, these are the three stages, very briefly, because I have to cover some more grounds and I will not go in any further details, but here I would submit that it is now for this Committee to judge whether he claimed to be a Prophet; Prophet of what nature and character and kind. Now, Sir, after he claimed this, the question arises as to what is the effect of this claim? Why this agitation? Why were there sharp reactions against this claim? And that will take us to the concept of خاتم النبیین; as to what it means, Why there was sharp reaction throughout the Muslim society, why those who considered him as, a hero, for after all Musalmans are

٨٠

صفحہ ٢٨٠٩

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

be equal. Then, Sir, throughout overed so far, he says. "I am an air Sharai Nabi', but here he quality with the Prophet of Islam mati'. By this he naturally gets a ause he does not get revelation said he has not got a law of his y he further promotes himself and oting from 'Roohani Khazain' 436.

”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چی اور نبی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مق اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ

well, "in my وحی there is also the hich Moses law contained." Sir, , very briefly, because I have to and I will not go in any further submit that it is now for this her he claimed to be a Prophet; nd character and kind. Now, Sir, question arises as to what is the this agitation? Why were there is claim? And that will take us to s to what it means, Why there was t the Muslim society, why those hero, for after all Musalmans are

٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

not ungrateful people, they respect their leaders, their ulema, and challenge a person as I submitted yesterday, who was their hero, and is attacked by them, as his own son says:

”کہ اس کی بھیڑیں بھیڑیے بن گئیں۔“

Why? To show that, Sir, I will seek leave to submit very humbly as to what is the meaning of the concept of ختم نبوت and I hope that the learned friends here and he the Ulema will correct me if I make any mistake in explaining this concept according to my own dim light.

3010 Now, Sir, literally خاتم النبیین means the Seal of the Prophets. By the Seal of the Prophets, the Muslims generaly, throughout 1400 years, have meant that the Prophet of Islam was the last of the Prophets, the Message of Allah was delivered, finalised compeletely, finalized, seald and delivered, and therefore the Message was complete and he was the last prophet, and the wisdom that appeared is that as mankind had matured, as mankind has matured mentally as well as physically, Allah thought that the final Message should be given to them, the code of conduct should be given to them, which should be applicable to all ages because the basic human needs, problems, difficulties are the same although conditions change and their character changes. Allah delivered his final Message through His final Prophet. He said nobody can ever add anything to it or detract anything from it or modify it or change it now. This was the concept of خاتم النبیین or ختم نبوت. It simply meant that, the doors

صفحہ ٨٢

2810 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

of revelation are closed for future. Now, Sir, what is the philosophy, what is the wisdom of the concept, because we know what is meant when we say, خاتم النبیین Muslims interpret it, but the authoritative interpretation for Muslims could only come from the Holy Prophet himself, he interpreted it by saying لا نبی بعدی (after me there shall be no Prophet) and that interpretation is binding on every Musalman, and no school of thought has disputed the authenticity of this Hadis that he was the last Prophet as he said himself. But, Sir, when you look at the wisdom, this becomes clearer when we find that during his last illness, the Holy Prophet told his followers that while he was with them, they should listen to him and obey him. After he was gone from this world, then they should, in his words, "Hold on fast to the Quran and whatever is forbidden there should be considered forbidden and whatever is permissible therein should be considered permissible for you". Sir, we have not appreciated the beauty and the wisdom of this lesson. As I submitted, mankind had matured, mentally man was mature, the Message was complete. Now, when the Holy Prophet uttered these words, what were the conditions in this world, what were the circumstances? Fourteen hundred years ago, we find rulers, kings, tribal chiefs, and that was the stage of society that whatever they said was law, the word of ruler was law, the word of king was law; there was no other law known to mankind. Here in this small Message,

2811 NATIO

for the first time, rule of law and the to obey anybody. Allah and his 3011 Pro forbidden therein permissible therein the beauty that the first time. This is, proclamation for governed by kings a You will be governe carefully study the the moment Prophe is his inaugural ad message, he says, "O Prophet. If I revolt not obliged to obey r of rule of law was t society agitated wher in future "I would messages and this revelations". That w agitated.

Another aspe this was emancipati think for themselve

٨٢

صفحہ ٢٨١١

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

or future. Now, Sir, what is the sdom of the concept, because we hen we say, خاتم النبیین Muslims itative interpretation for Muslims the Holy Prophet himself, he لا نبی بعدی (after me there shall be no pretation is binding on every ol of thought has disputed the hat he was the last Prophet as he en you look at the wisdom, this find that during his last illness, followers that while he was with him and obey him. After he was they should, in his words, "Hold hatever is forbidden there should nd whatever is permissible therein issible for you". Sir, we have not d the wisdom of this lesson. As I d matured, mentally man was complete. Now, when the Holy rds, what were the conditions in ircumstances? Fourteen hundred kings, tribal chiefs, and that was atever they said was law, the word d of king was law; there was no ind. Here in this small Message,

٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

for the first time, mankind has been given the concept of rule of law and the Prophet said; after him you do not have to obey anybody. You only obey Allah and his Message, Allah and his 3011 Prophet. Hold on fast to Quran, whatever is forbidden therein that is forbidden for you, whatever is permissible therein that is permissible for you; and there lies the beauty that the concept of rule of law appeared for the first time. This is, in my humble opinion, emancipation proclamation for mankind that you will no longer be governed by knigs and their word, or by dictators or rulers. You will be governed by law, here is the law, and if you will carefully study the history, what do we find? We find that the moment Prophet passes away, حضرت ابوبکر is elected. What is his inaugural address? What does he say? Here is the message, he says, "Obey me so long as I obey Allah and his Prophet. If I revolt against Allah and his Prophet, you are not obliged to obey me." This is the rule of law; the concept of rule of law was there. That is why, I think, the Muslim society agitated when another person appeared and said that in future "I would give you rulings, I will receive divine messages and this shall be binding on you, my divine revelations". That was the main reason why Muslim society agitated.

Another aspect, I hope, I am correct in explaining it, this was emancipation of thought. Muslims were free to think for themselves and interpret the Holy Quran for

٨٣

صفحہ ٢٨١٢

2812 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

themselves. Nobody can give them a binding ruling on any provision and say this is binding on you. As Allama Iqbal said, "After the Holy Prophet there shall be no surrender in spiritual matter to any other individual". So, this was meant to be a charter of freedom to think for your-self. There is no doubt, Sir, that we got the freedom of interpretation, of course, that freedom of interpretation was limited within the frontiers of the cardinal Principles of Islam. For instance, the first principle was of توحید that is, Unity and Oneness Allah. So, the interpretation cannot challenge that.

The second principle was the principle of finality of Prophet Muhammad (Peace be upon him). That could not be challenged; and so the other cardinal principles but within those forntiers you were free to interpret the way you like, the way you thought was correct. There was no doubt that because of this freedom of interpretation we go divided in many sects, in many 'Firqas' but that also leads to the synthetic character of Islam and that also shows the democratic process. In this regard I will respectfully draw your attention to what Allama Iqbal says about these 'Firqas' 3012 and their calling each other 'Kafir'. Sir, I read; this comes from the controversy which was raised at the time when pandit Jawahcrlal Nahru, who said something about Ahmadis and Allama Iqbal got into this controversy. So, I will read some passage from Allama Iqbal's reply and what he wrote to "The Statesman" paper. Here he says:

2813 NA

"The ide that the ultimate emotion by reas desirable. The in create an indep experience by ge claiming a super history of mank force which inh function of the i in the domain of

Then, a Ahmad, Allama

"The ope the psychologic character will al to this category a as this spiritual among all nation ideal of life to m face of human modern man he mystic experien among other thi life, denial of w end."

صفحہ ٢٨١٣

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ve them a binding ruling on any inding on you. As Allama Iqbal net there shall be no surrender in r individual". So, this was meant to think for your-self. There is no e freedom of interpretation, of erpretation was limited within the rinciples of Islam. For instance, توحید that is, Unity and Oneness n cannot challenge that. le was the principle of finality of ce be upon him). That could not e other cardinal principles but were free to interpret the way you was correct. There was no doubt m of interpretation we go divided Firqas' but that also leads to the Islam and that also shows the is regard I will respectfully draw Allama Iqbal says about these ng each other 'Kafir'. Sir, I read; troversy which was raised at the arlal Nahru, who said something ma Iqbal got into this controversy. age from Allama Iqbal's reply and tesman" paper. Here he says:

2813 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

"The idea of finality should not be taken to suggest that the ultimate fate of life is complete displacement of emotion by reason. Such a thing is neither possible nor desirable. The intellectual value of the idea is that it tends to create an independent critical attitude towards mystic experience by generating the belief that personal authority claiming a super- natural origin, has come to an end in the history of mankind. This kind of belief is a psychological force which inhibits the growth of such authority. The function of the idea is to open up fresh vistas of knowledge in the domain of man's inner experience."

Then, again, with reference to Mirza Ghulam Ahmad, Allama Iqbal continues to say:

"The opening sentence clearly shows that a saint in the psycholigical sense of the word or men of saintly character will always appear; whether Mirza Sahib belonged to this category or not is a separate question. Indeed as long as this spiritual capacity of mankind endures, they will rise among all nations and countries in order to show better the ideal of life to man. To hold otherwise would be to fly in the face of human experience. The only difference is that the modern man has a right to critical examination of their mystic experiences. The finality of prophethood means among other things that all personal authority in religious life, denial of which involves damnation, has come to an end."

٨٥

صفحہ ٢٨١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

So, in future, Sir, no one individual will come and say, "I have received divine revelation and this is the message of God and naturally binding on you." The only thing binding is what has already come in the Holy Quran. Then he further says, I quote Allama Iqbal:

3013"The simple Faith of Muhammad (Peace be upon him) is based on two propositions that God is one and Muhammad is the last of the line of those holy men who have appeared from time to time in all countries and in all ages to guide mankind to the right ways of living. If, as some Christian writer thinks, a dogma must be defined as an ultra rational proposition which, for the purpose of securing religious solidarity must be assented to without any understanding of the meta- physical import, then these two simple propositions of Islam cannot be described even as dogmas; for both of them are supported by the experience of mankind and are fairly amenable to rational argument."

Then Sir, as I submitted with regard to the allegations of 'Kufr' or heresy of different 'Firqas' against each other. He says: "The question of heresy which needs the verdict whether the author of it is within or without the fold, can arise in the case of religious society founded on such simple proposition, only when the heretic rejects both or either of these propositions."

One becomes a 'Kafir', according to Allama Iqbal, if he rejects either of these cardinal principles i.e. Tauheed or

٨٦

صفحہ ٨٧

SSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

r, no one individual will come and divine revelation and this is the turally binding on you." The only s already come in the Holy Quran. uote Allama Iqbal: ith of Muhammad (Peace be upon propositions that God is one and of the line of those holy men who to time in all countries and in all to the right ways of living. If, as nks, a dogma must be defined as sition which, for the purpose of ty must be assented to without any a- physical import, then these two lam cannot be described even as are supported by the experience of enable to rational argument." submitted with regard to the eresy of different 'Firqas' against e question of heresy which needs thor of it is within or without the t of religious society founded on nly when the heretic rejects both ns." fir', according to Allama Iqbal, if ardinal principles i.e. Tauheed or

2815 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

the concept of Khatm-i-Nabuwwat and "Since the phenomenon of the kind of heresy which affects the boundaries on Islam has been rare in the history of Islam, the feelings of every Muslim are naturally intense when revolt of this kind arises. This is why the feelings of Muslims in Iran were so intense against the 'Bahais'. That is why the feelings of Indian Muslims are so intense against the Qadianis." I was just explaining why there was sharp reaction against Mirza Sahib's claim. Now, Sir, I will cite one more quotation from Allama Iqbal on this point and then I will proceed with my submissions. On the question of heresy, on the question of calling each other 'Kafir',.....

A Member: It is time for Maghrib prayers.

Mr. Yahya BAkhtiar: I will just read this:

"It is true that mutual accusations of heresy for differences in minor points of law of theology among Muslim religious sects 3014 have been rather common. In this indiscriminate use of the word 'Kufr' both for minor theological points of differences as well as for the extreme cases of heresy which involve ex-communication of the heretic, some present- day educated Muslims who possess practically no Knowledge of the history of Muslim theological dispute see a sign of social and political disintegration of the Muslim community. This, however, is entirely wrong notion. The history of Muslim theology shows that mutual accusation of heresy on minor points of

صفحہ ٢٨١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

differences has, far from working as a disruptive force, actually given impetus to synthetic theological thought."

Then he quotes some European professor Hurgrounje and he says and I quote:

"When we read the history of development of Muhammadan law, we find that, on the one hand the doctors of every age, on the slightest stimulus, condemn one another to the point of mutual accusations of heresy and, on the other hand, the very same people with greater and greater unity of purpose try to reconcile similar quarrels of their predecessors."

The Allama continues: "The student of Muslim theology Knows that among Muslim legalists this kind of heresy is technically known as 'heresy below heresy', i.e. the kind of heresy which does not involve ex-communication of the culprit."

While on this point, Sir, if I am not taxing the Committee too much, I think it will be relevant to read yet another passage of Iqbal because it was stated by Mirza Nasir Ahmad that if you start any action against the Qadianis or Ahmadis, then next you will take action against Shias or the Agha Khanis and other sects. Pandit Jawaharlal Nehru had raised a similar issue. He said, "If you condemn Qadianis that they are not Muslims then you will have to condemn the Agha Khanis also." No better reply can be given by me but to quote Allama Iqbal. On this

٨٨

point also, Sir, says: 3015 "One What has led Khan, it is dif that the Qadia He is obvious interpretation basic principle perpetual Ima the recipient o of law. It is onl March 12, 193 followers as j Mohammad is Allah, Ka'aba should live 'Assalam-o-Al pray with Mu regularly, sole of 'Nikah'. Tre

Then A decide whethe Islam or not."

Sir, I understand the Mada

صفحہ ٢٨١٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

om working as a disruptive force, o synthetic theological thought."

tes some European professor and I quote: d the history of development of e find that, on the one hand the the slightest stimulus, condemn one utual accusations of heresy and, on ry same people with greater and t try to reconcile similar quarrels of

ntinues: "The student of Muslim mong Muslim legalists this kind of wn as 'heresy below heresy', i.e. the es not involve ex-communication of

oint, Sir, if I am not taxing the think it will be relevant to read yet al because it was stated by Mirza you start any action against the en next you will take action against Khanis and other sects. Pandit raised a similar issue. He said, "If that they are not Muslims then you he Agha Khanis also." No better but to quote Allama Iqbal. On this

٨٨

2817 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

point also, Sir, if you permit me I will read what he said. He says: 3015 "One word about His Highness the Agha Khan. What has led Pandit Jawaharlal Nahru to attack the Agha Khan, it is difficult for me to discover. Perhaps he thinks that the Qadianis and Ismailis fall under the same category. He is obviously not aware that however the theological interpretation of the Ismailis may err, they believe in the basic principles of Islam. It is true that they believe in a perpetual Imamate, but the Imam according to them is not the recipient of divine revelation. He is only the expounder of law. It is only the other day (vide the "Star" of Allahabad, March 12, 1934) His Highness the Agha Khan addressed his followers as follows: "Bear witness that Allah is One, Mohammad is the Prophet of Allah, Quran is the Book of Allah, Ka'aba is the Qibla of all. You are Muslims, and should live with Muslims, Greet Muslims with 'Assalam-o-Alaikum', Give your children Islamic names, pray with Muslim congregations in mosques, keep fast regularly, solemnize your marriages under the Islamic rule of 'Nikah'. Treat all Muslims as your brothers."

Then Allama adds: "It is for Pandit Nehru now to decide whether the Aga Khan represents the solidarity of Islam or not."

Sir, I will conclude this part now because I understand that they want to say.... Madam Acting Chairman: Yes, it is time for

٨٩

صفحہ ٢٨١٨

الرشید

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Maghrib prayers.

Mr. Yahya Bakhtiar: So I will resume after that.

Madam Acting Chairman: So we will meet at 7:15 pm. The House Committee stands adjourned for Maghrib prayers.

--------

(The Special Committee adjourned for Maghrib prayers to meat at 7:15 pm.)

3016

(The Special Committee re-assembled after Maghrib Prayers. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.)

--------

Mr. Chairman: Just two minutes; let the members come. If we are able to conclude this debate, Attorney- Generals arguments plus any honourable Member who wants to speak, then we will finish this night, otherwise we will meet tomorrow morning. If something is left over this night then we will meet at 2:30 pm, as Committee of the Whole House, and then at 4:30 pm, we will meet as National Assembly. That has been agreed, and that tomorrow we will decide. Just wait for less than 24 hours. Tomorrow we will assemble at 4:30 pm. as National Assembly.

The passes shall be issued only to the family members of the MNA's because of the position. I hope the Members will not take it ill, and inside the Assembly

٩٠

2819 NATIO

premises the entry w and everywhere els be allowed to enter be issued only to t tomorrow at 4:30.

Mr. Chair

has a right to regu premises. It was br The members will measures we have t

Yes Mr. Att

Mr. Yahya

Mr. Chai

there. I wanted to k have closed my cha

Mr. Yahya

submission about N the meaning of Kh that Mirza Ghula prophet first of the claimed to be a pro that he said th commandments, th that he said it. E Mahmood Ahmad True Islam' that M

صفحہ ٢٨١٩

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

khtiar: So I will resume after that. g Chairman: So we will meet at Committee stands adjourned for

ommittee adjourned for Maghrib pm.)

l Committee re-assembled after Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in

an: Just two minutes; let the are able to conclude this debate, ments plus any honourable Member n we will finish this night, otherwise morning. If something is left over meet at 2:30 pm, as Committee of the at 4:30 pm, we will meet as National t agreed, and that tomorrow we will s than 24 hours. Tomorrow we will National Assembly.

all be issued only to the family because of the position. I hope the e it ill, and inside the Assembly

٩٠

2819 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

premises the entry will be regulated strictly, even in cafeteria and everywhere else. Inside Gates No.3 and 4, nobody will be allowed to enter unless he holds a valid pass which will be issued only to the family members and nobody else for tomorrow at 4:30. (Pause)

Mr. Chairman: I am sorry for that. No authority has a right to regulate the entry of the members inside the premises. It was brought to my notice. I am sorry for that. The members will be allowed. Because of the precautionary measures we have to do it.

Yes Mr. Attorney- General. Now we should start.

Mr. Yahya Bakhtiar: Mr. Chairman Sir, ....

Mr. Chairman: I am sorry, I have been going there. I wanted to hear your arguments. For the first time I have closed my chamber also.

Mr. Yahya Bakhtiar: Well, Sir, I was making a submission about Muslim concept of Khatm-e-Nabuwwat or the meaning of Khatimun Nabiyean. And I was submitting that Mirza Ghulam Ahmad had claimed that he was a prophet first of the subordinate 3017 kind, i.e. Ummati, then he claimed to be a prophet with his own law, and I submitted that he said that in his revelations there were commandments, there was "Amar-o-Nahi". It is not only that he said it. But even his son Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad also said in his book 'Ahmadiyyat or True Islam' that Mirza Sahib had left a complete code of

٩١

صفحہ ٢٨٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

instructions for his followers. He says, I may read from page:26 of the book: "As I shall presently show he has left us such a complete code of instructions and rules of conduct, that all sensible persons will be bound to admit that by acting on them the objects of his advent, as above stated, can be easily and fully achieved."

Now, Sir, this was the thing. Every Musalman thought that complete code of conduct for life was the Holy Quran for them. Here is another prophet who comes, who appears and claims to be an Ummati Nabi without his own laws and then he leaves the code of conduct for his followers. As I submitted, Sir, then he goes on to claim superiority. I do not want to go into detail. The honourable members heard the evidence. I want just to refer to one or two things from the record. He said that at the time of the Holy Prophet, during that period, the condition of Islam was like moon of the first day; but in the period of Masih-e- Mauood I would be Badr-e- Kamil (full moon). I gave full opportunity, I should say on behalf of the House, to the witness, Mirza Nasir Ahmad, to explain this and, in my humble opinion, he could not. First he said that during the life time of the Holy Prophet, during his period, Islam was confined to Arabia only. Then he changed the posotion. He said, "every period is his period. It will last throughout the history." Then he said that during the life- time of Mirza Ghulam Ahmad Islam had sperad to various countries in

٩٢

2821 NATI

Europe. But I said should spread all non- Muslims lef period was meant will last for two to of the Holy Proph time and to Arabi But such claims w

There are heard them. But mention was the 30 read in praise of M following couplet:

میں “ئل”

This was, presence of Mirza said it was not r disapproved of it this poem from th that, in the Qadia had appeared and Ahmad did not r none of his follo him. Mirza Nasir poems of Akmal

صفحہ ٩٢

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

owers. He says, I may read from I shall presently show he has left de of instructions and rules of persons will be bound to admit that ects of his advent, as above stated, hieved." was the thing. Every Musalman le of conduct for life was the Holy another prophet who comes, who an Ummati Nabi without his own es the code of conduct for his d, Sir, then he goes on to claim to go into detail. The honourable nce. I want just to refer to one or rd. He said that at the time of the period, the condition of Islam was ay; but in the period of Masih-e- r-e- Kamil (full moon). I gave full y on behalf of the House, to the amad, to explain this and, in my l not. First he said that during the phet, during his period, Islam was Then he changed the posotion. He period. It will last throughout the hat during the life- time of Mirza ad sperad to various countries in

2821 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Europe. But I said that in the time of Masih-e- Mauood it should spread all over the world and there should be no non- Muslims left and that is what Masih-e- Mauood's period was meant to be. On this, he said, "No, that preiod will last for two to three hundred years. As far as the period of the Holy Prophet is concerned, that is confined to life- time and to Arabia only." These were the contradictions. But such claims were made.

There are other references also. The members have heard them. But one part of the evidence which requires mention was the 3018 incident when that 'Qasida' or poem was read in praise of Mirza Ghulam Ahmad, which included the following couplet:

"محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بھی بڑھ کر اپنی شان میں"

This was, according to the author, read in the presence of Mirza Ghulam Ahmad. Mirza Nasir Ahmad first said it was not read. If he had heard it, he would have disapproved of it and he would have expelled the author of this poem from the Jamaat. Then it was pointed out to him that, in the Qadiani newspaper "Badar" of 1906, this poem had appeared and nobody would be live that Mirza Ghulam Ahmad did not read it. That was his own paper, and the none of his followers of close associates pointed it out to him. Mirza Nasir Ahmad said that in the book containing poems of Akmal, who wrote this, the said couplet was

صفحہ ٢٨٢٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

deleted when this book was published in 1910. The Committee may take that into consideration. But we were concerned with the period of Mirza Ghulam Ahmad. In that period, we have no evidence to the effect that he disapproved of it. On the contrary, it was pointed out to him, although he said that, that was contradicted in 1934 in "Al-Fazal" .... that, in 1944, the author himself said that he had recited this in the presence of Mirza Ghulam Ahmad, that he had approved of it, and that he took it with him inside his house. I do not want to say anything more on this, but it shows, although he has tried to explain in a different way that there is another couplet in the poem also wherein he does not claim superiority but I don't want to say any thing more. These were the conditions, Sir, under which he claimed the prophethood and how he gradually and slowly promoted himself from one stage to another.

Now, Sir, I will briefly submit as to what Mirza Ghulam Ahmad's or the Qadianis concept of Khatm-e- Nabuwwat and the interpretation of 'Khatimun Nabiyyen' was. Generaly, Muslims thought that no more prophets would come after the holy Prophet of Islam but the Qadiani's concept is that Khatimun Nabiyyen means that no more prophets will come in any religion whatsoever except in Islam and the person who would be the prophet will be an 'Umati' and his authority of prophethood will bear the seal of the holy prophet of Islam. This is what they mean by "the

٩٤

NATION

seal of prophets." He stage, it 3019 seems, th prophets would co confused, because Ahmad, when he sp read it out to Mirza Religion, page:110: " اور مجھے کہا جائے کہ تم کہو کہ گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔

This is "An again he says: حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت کا

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)

Then, agai کہ یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو نہ ہوں گے۔“

On this, v Ahmad, he said th Allah can do an Nabis would com Another aspect w here is Mirza G boldly says: اور مجھے کہا جائے کہ تم کہو کہ جھوٹے ہو، کذاب ہو۔ اس

صفحہ ٢٨٢٣

SSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ok was published in 1910. The ut into consideration. But we were d of Mirza Ghulam Ahmad. In that nce to the effect that he disapproved was pointed out to him, although he radicted in 1934 in "Al-Fazal" .... himself said that he had recited this za Ghulam Ahmad, that he had e took it with him inside his house. thing more on this, but it shows, xplain in a different way that there poem also wherein he does not on't want to say any thing more. , Sir, under which he claimed the gradually and slowly promoted another.

riefly submit as to what Mirza Qadianis concept of Khatm-e- retation of 'Khatimun Nabiyyen' thought that no more prophets oly Prophet of Islam but the hatimun Nabiyyen means that no any religion whatsoever except o would be the prophet will be an of prophethood will bear the seal . This is what they mean by "the ٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

seal of prophets." He will not bring his own law. But, at this stage, it 3019 seems, they thought that not only one but many prophets would come and this is how the position is confused, because even Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad, when he speaks on this point, says, and I quote- I read it out to Mirza Nasir Ahmad- this is from the Review of Religion, page:110:

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں ضرور آ سکتے ہیں۔“

This is "Anwar-i-Khilafat', pages:62 to 65. Then again he says:

”یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)

Then, again, he says in Anwar-i-Khilafat:

”انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا، میں کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔“

On this, when it was pointed out to Mirza Nasir Ahmad, he said that this "is in the sense of possibilities that Allah can do anything." They did not mean that many Nabis would come, but only one Mirza Ghulam Ahmad. Another aspect which may not be directly relevant is that here is Mirza Ghulam Ahmad's son who says this and boldly says:

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تم جھوٹے ہو، کذاب ہو۔ اس ٩٥

صفحہ ٢٨٢٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔"

(At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Mr. Mohammad Haneef Khan)

3020 Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, This is a very bold statement, a very courageous statement, by the son of a person who claimed to be a prophet. But when you compare it with the conduct of the prophet himself, one is amazed. In the District court of Gurdaspur, a complaint was filed against him i.e. Mirza Ghulam Ahmad. He had porphesied or predicted something against somebody who told the court that this man should be stopped from making such predictions, and he gave it in writing to the court that in future he would not make predictions, or disclose such revelations that he might receive. Now here is the prophet of God! He stopped the relevation under the orders of the District Magistrate, and his son says this.

Now, Sir, we found the same thing in the annexure which was filed on behalf of Rabwa Jamaat, namely, that more prophets will come. And this is a book written by Maulvi Abu Ata Jalandhari, and I had read out page:8 from this end pointed out to Mirza Nasir Ahmad in which he said:

"خاتمیت محمدیہ یا آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین ماننے والوں کے دو نظریے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضان محمدی کا

٩٧

ں وہ تمام انعامات ممکن آنحضرت ﷺ کے بعد ی ان تمام اعلیٰ انعامات

I poin had thing do the book was one hand this and they try sensible idea Ghulam Ahm Sir, a Mirza Ghula 302 relation to naturally the any person w of Islam is natural unde and religio revolted aga most cardina that princip reaction.

Now will point o claimed th

صفحہ ٢٨٢٥

Y OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“

___ airman vacated the Chair hammad Haneef Khan) ___

ar: Sir, This is a very bold statement, by the son of a phet. But when you compare et himself, one is amazed. In our, a complaint was filed Ahmad. He had porphesied omebody who told the court pped from making such writing to the court that in dictions, or disclose such . Now here is the prophet of n under the orders of the ays this.

ame thing in the annexure abwa Jamaat, namely, that this is a book written by I had read out page:8 from Nasir Ahmad in which he

”خاتمیت محمدیہ یا آنحضرت ﷺ پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتم

2825 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کو آپ ﷺ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہم کو ملتے رہے ہیں۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد خاتمیت فیضان محمدی کے بند ہونے کے مترادف ہے۔ آپ ﷺ کی امت ان تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہو گئی جو بنی اسرائیل اور پہلی امتوں کو ملتے رہے ہیں۔“

I pointed out this writing to him and he said that it had thing do with the prophets or their coming, although the book was written on the subject. But, in any case, on the one hand this stand is taken that more prophets will come, and they try to rationalise this by saying that this is a sensible idea, but on the other hand they say that Mirza Ghulam Ahmad was the only prophet who would come.

Sir, as I submitted, the second issue was the effect of Mirza Ghulam Ahmad's claim as a prophet in Islam or in relation to 3021 Muslims. After he made this claim, there were naturally the Muslim's feelings; the Muslims thought that any person who claims to be Prophet after the Holy Prophet of Islam is an impostor. That was a natural reaction, the natural understanding, that he wanted to subvert their social and religious system. According to the Muslims, he had revolted against the cardinal principles of Islam, one of the most cardinal principles, that of He had struck at the root of that principle and there was ختم نبوت naturally a very sharp reaction.

Now, Sir, before I go into the details of the effect, I will point out very briefly as to what happened when he claimed this and how he could go round and address

٩٧

صفحہ ٩٨

2826 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

meetings. This will also show, Sir, another aspect of Mirza Sahib's claim about Prophethood, because there is some confusion. I said there were three stages, one stage, second stage, third stage, but sometimes we find that a statement appeared in the third stage which is similar to that which should have been in the first stage when he denies completely that he never made such a claim and that he meant this and not that. The reason, I believe, was that wherever the opposition was very strong and hostile, whenever he found himself to be in a tight corner, he changed the position. Later on, again he tried to rectify it in a very diplomatic and tactful way of proclaiming his religion and the Prophethood. So, Sir, in 1891, he goes to Delhi after he claimed to be a Prophet, and here I read from his son's (Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad's) book "Ahmad or the Messenger of the Later Days", pages:32,33 and 34. I just want to show, Sir, I will try to be as brief as possible, but it is important to show what happened to explain what I would be submitting later on:

"The Juma Mosque was fixed as the place of discussion. But all these arrangements were settled by the opponents themselves, and no information was given to Ahmad. When the time fixed for the discussion arrived, Hakim Abdul Mejid Khan of Delhi came with a carriage and requested the Promised Messiah to proceed to the mosque where the discussion was to be held. The Latter

2827 NATIC

answered that in th there was likelihoo therefore he could made, and that mo consulted regarding be observed by the previously settled. I the public exciteme the effect that if M an oath publicly in (peace be upon him Quran, was still ali within one year o should overtake hi liar and should bur the oath- taking. T were much perturb obstacles in its way harm was there, the hear the propositi same was false. A Mosque. People ad the Mosque as the nevertheless he wen his disciples. (Je disciples. The con

صفحہ ٢٨٢٧

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ow, Sir, another aspect of Mirza hethood, because there is some e three stages, one stage, second etimes we find that a statement e which is similar to that which e first stage when he denies made such a claim and that he The reason, I believe, was that was very strong and hostile, elf to be in a tight corner, he on, again he tried to rectify it in l way of proclaiming his religion ir, in 1891, he goes to Delhi after , and here I read from his son's ood Ahmad's) book "Ahmad or Days", pages:32,33 and 34. I just to be as brief as possible, but it is ppened to explain what I would

ue was fixed as the place of rrangements were settled by the d no information was given to xed for the discussion arrived, of Delhi came with a carriage sed Messiah to proceed to the ion was to be held. The Latter ٩٨

2827 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

answered that in the prevailing state of Public excitement there was likelihood of a breach of the peace, and that therefore he could not go unless police arrangements were made, and that more over he should have been previously consulted regarding the discussion, and 3022 the conditions to be observed by the parties in the debate should have been previously settled. His non- appearance served to increase the public excitement. He, therefore, issued a declaration to the effect that if Moulvi Nazir Hussain of Delhi would take an oath publicly in the Juma Mosque stating that Jesus (peace be upon him), according to the version of the Holy Quran, was still alive and had not met with his death, and if within one year of taking the oath Divine punishment should overtake him, then the claimant should be proved a liar and should burn all his books. He also fixed a date for the oath- taking. The disciples of Moulvi Nazir Hussain were much perturbed at the proposal and began to set up obstacles in its way. But the populace were insistent. What harm was there, they asked, if Moulvi Nazir Hussain should hear the proposition of the claimant and swear that the same was false. A great crowd assembled in the Juma Mosque. People advised the Promised Messiah not to go to the Mosque as there was likelihood of a serious riot. But nevertheless he went there and with him there went twelve of his disciples. (Jesus of Nazareth had also His twelve disciples. The conincidence of number was itself a sign.) ٩٩

صفحہ ٢٨٢٨

2828 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(Now mark, Sir, in the brackets, he says). The spacious edifice of the Juma Mosque was full of men both inside and out, and even the stairs were crowded. Through this sea of men who were mad with rage and looked at him with bloody eyes, the Promised Messiah and his little band made their way to the Mehrab and took their seats. For the order there had come the Superintendent of Police with other police Officers and nearly one hundred constables. Many of the crowd had stones concealed in their skirts and were prepared at the slightest hint to cast them at Ahmad and his party. Thus would the Second Messiah have been a prey to the wickedness of the Pharisees and Scribes the like unto his prototype of Nazareth. Instead of crucifixion the people were bent upon stoning the Second Messiah. They failed to carry their point in the verbal discussion which followed. They did not agree to discuss the question of the death of Jesus. None of them were prepared to take the proposed oath nor would they allow Moulvi Nazir Hussain to do so. At this stage Khawaja Mohammad Yousuff, a Pleader of Aligarh, got from the Promised Messiah a written statement of the articles of his faith, and prepared to read out 3023 the same. But since the Moulvis had given out to the public that the claimant did neither believe in the Holy Quran nor in the angels, nor in the Holy Prophet, they apprehended that the recital of the articles would expose their deceit. They therefore incited the people. Immediately a great row was set

١٠٠

صفحہ ٢٨٢٩

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

he brackets, he says). The spacious osque was full of men both inside and s were crowded. Through this sea of th rage and looked at him with bloody essiah and his little band made their d took their seats. For the order there intendent of Police with other police ne hundred constables. Many of the oncealed in their skirts and were st hint to cast them at Ahmad and his Second Messiah have been a prey to Pharisees and Scribes the like unto his instead of crucifixion the people were Second Messiah. They failed to carry l discussion which followed. They did question of the death of Jesus. None to take the proposed oath nor would zir Hussain to do so. At this stage Yousuff, a Pleader of Aligarh, got Messiah a written statement of the d prepared to read out 3023 the same. had given out to the public that the elieve in the Holy Quran nor in the Prophet, they apprehended that the would expose their deceit. They ople. Immediately a great row was set

١٠٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

up and Khawaja Yusuff was prevented from reading the statement. The officers of police, when they saw the gravity of the situation, ordered the constables to disperse the crowd, and announced that no discussion would be held. The gathering thereupon dispersed. The police made a ring round the Promised Messiah and led him out of the Mosque."

Now, Sir, my object in reading this in detail is two- fold, and I will be reading some more citations. First of all, what he said, what he gave in writing at that time when he was faced with the hostile crowd is in the following words. It is on October 23, 1891. I quote:

”ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت والجماعت کا ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا جامعہ مسجد دہلی میں کرتا ہوں اور میں خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

Now, Sir, the other aspect was that he could only preach or explain his stand as a Prophet under a heavy police guard and not otherwise. Again, Sir, I have been asking these questions. At one stage when with one abdul Hakim of Kalanor he discussed the matter about his claim and when he found that the Muslims were very much annoyed with him, he after that announced that he had through his simplicity (سادگی) written the word "Nabi" about himself. That actually he meant “محدث” and the Muslims, wherever they found this word in his writings, should amend

١٠١

صفحہ ١٠٢

2830 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

it, cancel it and substitute the word "محدث" for "نبی" and yet we find that after that he again went on writing the word 'Nabi' for himself, and no plausible explanation was given. I asked certain questions on this point from the Lahori Group because that was more relevant in their case. In that context, first of all, it was said that because people misunderstood, he did not mean to be a Nabi, he did not say that he was a Nabi in the real sense, he was a "Mohdis", as the Lahori group says, therefore, he issued this order that the word 'Nabi' 3024 about him should be deemed to have been cancelled. And when I asked as to why did he again write 'Nabi' for himself and why did he use this word, the spokesman of the group said, some people were confused and for their sake he amended this but some had no doubt and for their sake he continued to write the word. Again I asked him that when he himself says that he is a Nabi, in whatever sense it is, why don't you call him Nabi in that particular sense, in which you mean that "Nabi" means a "Ghair Nabi", as the Rabwah Jamaat was calling Nabi in some sense? I was really shocked to hear that the Lahori Group did not use the word 'Nabi' for him because the people got annoyed. So, it was expediency more than anything else. Why did they not use the word "Nabi", the Lahori Group, the reason is given. So, Sir, I was just saying that sometimes within these three stages, he is changing statements depending on circumstances.

2831 NATIO

Now, I will c meetings that he ad was held in Lahore book, which I quote "During the an uproar. From m outside the house in up his quarters, Fre and abuse him and spirits even attmep and had to be forci at Lahore a public printed and was r Karim, while the Pr nine to ten thousan the audience pray address them a few once and addressed been known by exp every religion and him, specially th authorities had, a arrangements for h European soldiers stationed sword in the knowledge of

صفحہ ٢٨٣١

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

the word "محدث" for "نبی" and yet again went on writing the word lausible explanation was given. I his point from the Lahori Group ant in their case. In that context, ecause people misunderstood, he he did not say that he was a Nabi "Mohdis", as the Lahori group this order that the word 'Nabi' med to have been cancelled. And he again write 'Nabi' for himself rd, the spokesman of the group onfused and for their sake he no doubt and for their sake he Again I asked him that when he bi, in whatever sense it is, why that particular sense, in which eans a "Chair Nabi", as the ng Nabi in some sense? I was he Lahori Group did not use the e the people got annoyed. So, it nything else. Why did they not hori Group, the reason is given. at sometimes within these three statements depending on

٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Now, I will come to one or two other instances of the meetings that he addressed. One meeting addressed by him was held in Lahore and, again, I am reading from his son's book, which I quoted just now. He says:

"During the days of his stay the, whole city was in an uproar. From morning till evening a great crowd waited outside the house in which the Promised Messiah had taken up his quarters, From time to time opponents used to come and abuse him and set up a row. Some of the more turbulent spirits even attmepted to force into the private apartments and had to be forcibly ejected. At the instance of the friends at Lahore a public lecture was arranged. The speech was printed and was read in a large Hall by Moulvi Abdul Karim, while the Promised Messiah sat by. There were from nine to ten thousand listeners. When the reading was over, the audience prayed that the Promised Messiah might address them a few words orally. In response he stood up at once and addressed the people for half an hour. Since it had been known by experience that wherever he went, people of every religion and sect displayed a keen animosity towards him, specially the so-called Mussalmans, the police authorities had, on the occasion, made very admirable arrangements for his safety. In addition to the Indian police, European soldiers had been put in requistion who were stationed sword in hand at short 3025 intervals. It had come to the knowledge of the police authorities that some of the

١٠٣

صفحہ ٢٨٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ignorant mob had resolved to create a disturbance outside the lecture hall. They had, therefore, taken special precautions to ensure the safety of the Promised Messiah on his return, journey from the lecture hall. First rode a number of mounted police. Then came the carriage bearing the Promised Messiah. This was followed by a number of policemen on foot. After them there rode again a number of mounted men, and thereafter walked another party of policemen. Thus was the Promised Messiah escorted back to his residence with the greatest possible care, and the mischief- makers were baulked of their designs. From Lahore the Promised Messiah returned to Qadian."

Then, a meeting at Amritsar, from the same book, page:70,71: "But the people, when once excited, could not be made to show restraint. The tumult went on increasing and inspite of the efforts of the police it could not be suppressed. At last it was thought advisable that the Promised Messiah should resume his seat and another man was called to give a political recitation. This quieted the audience. Then the Promised Messiah stood up to resume his lecture, but the Moulvis renewed their outcry. And when the Promised Messiah tried to continue with his speech, the Moulvis created a row and proceeded to attack the dais. The police tried to restrain the people, but thousands could not be checked by a few policemen. The mob rushed on like a sea wave and gradually gained ground. When the police saw

١٠٤

صفحہ ٢٨٣٣

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

lved to create a disturbance outside y had, therefore, taken special e safety of the Promised Messiah on om the lecture hall. First rode a ice. Then came the carriage bearing This was followed by a number of them there rode again a number of ereafter walked another party of e Promised Messiah escorted back to greatest possible care, and the e baulked of their designs. From essiah returned to Qadian."

at Amritsar, from the same book,

eople, when once excited, could not int. The tumult went on increasing rts of the police it could not be was thought advisable that the d resume his seat and another man litical recitation. This quieted the mised Messiah stood up to resume vis renewed their outcry. And when ied to continue with his speech, the nd proceeded to attack the dais. The he people, but thousands could not icemen. The mob rushed on like a gained ground. When the police saw

١٠٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

the futility of their efforts, they informed the Promised Messiah that they could do no more. (It was my opinion considering the then circumstances that the police had failed to fully discharge their duty. There was no European officer among them. All the officers present were Indians who being the fellow countrymen of the rioters and themselves possessed of religious animosity towards the Promised Messiah, were willing to see the lecture come to a close). Upon this the Promised Messiah discontinued his lecture. But this did not suffice to allay the excitement. The People persisted in their attmept to force themselves upon the dais and to commit assault. Thereupon the Inspector of Police requested 3026 the Promised Messiah to retire into an inner apartment, and sent a constable to fetch a carriage. Meanwhile the police restrained the people from entering, the apartments. The carriage was brought up to a side door of the apartment. The Promised Messiah started to occupy the same. Through the Grace of God none of us were injured. Only one stone passed through the window and then struck passed through the window and struck the hand of my younger brother Mirza Bashir Ahmad. Several of them struck the policemen who were surrounding the carriage. Upon this they struck at the mob and dispersed them from the neighbourhood. They palced themselves both before and behind the carriage, and some of them took their seat on the roof, and in this way they the drove the carriage

١٠٥

صفحہ ٢٨٣٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

quickly to the residence of the Promised Messiah. The people were so excited that in spite of the beating they received from the police, they pursued the carriage to a long distence. The following day the Promised Messiah left for Quadian."

Then, Sir, lastly, I will read a passage of what happened on the day of his death, when the news reached the people, from the same book, page:81: "Within half an hour of his death a gathering of the Lahore public assembled in front of the house where there still reposed his only remains and began to sing songs of triumph- thus giving evidence of the utter blackness of their hearts. Others indulged in fantastic masquerading and thus bore testimony to the baseness of their nature."

Sir, I am sorry, I have taken so much time in relating all this about the meetings that he addressed but of all the meeting that he addressed all this addressed except when he went to address a meeting on "Manazara" with the Christians, where he still continued to defend Islam, there was no hostile crowd, but whenever he wanted to preach his cause, his claim, there was hostile crowd and he could not address a single meeting anywhere without big police force to protect him, and mainly it consisted of European soldiers and policemen and officers; and when I submitted about songs of triumph on his death, I wanted to draw the attention of the honourable members to that prediction and

١٠٦

2835

prayer which h thought that, w

3027

Now, and why we fi went after him revolted agains after that, we f and he used ve into details. Th that he is "Na because, accor accept a true Muslim must the Holy Qu mentioned in his stand was "Kafirs" and an imposter a "Kazzaab" controversy, a he claims to b he claims to started saying ہوگا اور تمہارا مخالف

And th

صفحہ ٢٨٣٥

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ce of the Promised Messiah. The l that in spite of the beating they , they pursued the carriage to a long - day the Promised Messiah left for

y, I will read a passage of what f his death, when the news reached me book, page:81: "Within half an gathering of the Lahore public e house where there still reposed his n to sing songs of triumph- thus ter blackness of their hearts. Others squerading and thus bore testimony ature."

, I have taken so much time in e meetings that he addressed but of addressed all this addressed except a meeting on "Manazara" with the l continued to defend Islam, there whenever he wanted to preach his as hostile crowd and he could not anywhere without big police force y it consisted of European soldiers ers; and when I submitted about is death, I wanted to draw the le members to that prediction and

١٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

prayer which he had made about Moulvi Sanaullah; people thought that, well, that prayer had its effect on him.

3027 Now, Sir, what was the reaction, I have explained, and why we find that wherever he went, this hostile crowd went after him, and the reasons are obvious. The man had revolted against one of the basic concepts of Islam. Than, after that, we find that Mirza Sahib also becomes aggressive, and he used very offensive language, but I do not want to go into details. There are two aspects. First, when he proclaims that he is "Nabi", then naturally came the question of faith, because, according to the Muslim faith, if a person does not accept a true Prophet of God, he becomes a "Kafir". Every Muslim must accept all the prophets who are mentioned in the Holy Quran, and since he claims that he is also mentioned in the Holy- Quran, he is a prophet. Therefore, his stand was that those who do not accept him as such are "Kafirs" and the "Muslims" stand was that because he was an imposter and had put forward, this false claim, he was "Kazzaab" and "Dajjaal". Here starts the fierce controversy, attacks, counter- attacks, by Christians because he claims to be the Promised Messiah, by Muslims because he claims to be "Nabi" and Promised Messiah, so, he, Sir started saying:

"جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تمہارا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے۔"

And then he said:

١٠٧

صفحہ ٢٨٣٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی۔ مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

This is from "Roohani Khazain", volume:5, page:547,548. Here I must say in fairness to Mirza Nasir Ahmad, who tried to explain that this is a translation from Arabic and he did not mean these words, but "baghay" meant one who revolts- a "baghi", and therefore, you can say اولاد of باغی not of بدکار women بدکاروں کی اولاد he says, this is not what he meant. Our Ulema here, they did not agree. They said that this word was used again and again by Mirza Sahib himself with reference to prostitutes and women of bad character. So I do not want to say anything more on this, but this is what he said. The next point which he did not deny was, when he said: ”جو شخص میرا مخالف ہے......“

Now, Sir, I am reading another quotation from "Roohani Khazain", page:53, volume:14:

3028”بلاشبہ ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بھی بڑھ گئیں۔“

Here he tried to explain that this was not with reference to Muslims, but with reference to Christians. Now, is this, with all the respect, the language which a prophet uses with regard to Christians or Hindus or anybody? I do not want to say anything more. This is no excuse, there is no justification for it whatsoever: Similarly, he says:

”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے۔“

This is again from "Roohani Khazain", volume:9,

١٠٨

NATIO

page:31. This is m offensive, provocativ his opponents wheth whoever it was, pa claims to be عین محمد a attributes of prophe and this is the exhib anything more on th

Then, Sir, it or his angers or his Christ, Hazrat Issa Hazrat Issa and he s

چھوڑو ہے“

The justifica that he said that Ahmad's" (slave of taught that all prop equal in this respec this man says that this on the ground than Issa. This is r no excuse or justifi says:

اُسے اپنی تمام شان میں بہت

صفحہ ٢٨٣٧

ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

"کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری د بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔"

"Roohani Khazain", volume:5, ust say in fairness to Mirza Nasir plain that this is a translation from mean these words, but "baghay" a "baghi", and therefore, you can weomen بدکاروں کی اولاد he says, this is r Ulema here, they did not agree. was used again and again by Mirza rence to prostitutes and women of not want to say anything more on said. The next point which he did id: "جو شخص میرا مخالف ہے......" reading another quotation from e:53, volume:14:

"......بلاشبہ ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیروں3028 بھی بڑھ گئے ہیں۔"

o explain that this was not with t with reference to Christians. Now, ect, the language which a prophet stians or Hindus or anybody? I do more. This is no excuse, there is no ever: Similarly, he says:

"جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جا

m "Roohani Khazain", volume:9, ١٠٨

2837 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

page:31. This is really something which was highly offensive, provocative, inflammatory, to say with regard to his opponents whether they were Muslims or Christians or whoever it was, particularly coming from a person who claims to be عین محمد and better than Christ; all the wonderful attributes of prophets were shown through him by Allah, and this is the exhibition of those attributes! I need not say anything more on this.

Then, Sir, it was through this period, his annoyance or his angers or his complexes, that he started abusing the Christ, Hazrat Issa. First he claimed to be superior to Hazrat Issa and he says:

"ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے"

The justification given by Mirza Nasir Ahmad was that he said that not about himself, but "Ghulam-e- Ahmad's" (slave of the Holy Prophet of Islam). Now, we are taught that all prophets have to be respected and they are equal in this respect, they are prophets of Allah, and here this man says that he was better then Issa and he justifies this on the ground that any slave of Muhammad was better than Issa. This is not the Muslim faith and there could be no excuse or justification for it. But he goes on further and says:

"خدا نے اس امت میں مسیح بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔"

١٠٩

صفحہ ٢٨٣٨

2838 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

3029 This is from Religious Review, page:438, and "Roohani Khazain", Volume:22, Page:153, where he says again:

"مجھے قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ میں ظاہر ہورہے ہیں ہرگز نہ دکھلاسکتا۔"

Well, if he claims superiority, it is bad enough, but he also composes a very laudable couplet- I should say, I hope I am not commiting a mistake- but in beautiful words, no doubt he is a very good poet, a very eloquent poet, he says:

"اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا ست تا بنہد پا بمنبرم"

Now, this man ascends to those heights that he is superior to Issa, and Issa is not worthy of stepping on his Pulpit. This is the position; but after that he goes further and criticises and attacks the grand mothers of Hazrat Issa, I do not know why. The justification given was that because those people, those Christians in those days attacked the Holy Prophet of Islam and Islam, this was a reply given by Mirza Ghulam Ahmad and other Muslim learned men of that period. But this is no justification; he was criticised for this even at that time. He says:

"آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔"

And then further he says that because his (Christ's)

١١٠

صفحہ ٢٨٣٩

2839 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

grandmothers, maternal or paternal, were prostitutes, that is why, because of that association, he liked the company of prostitutes. Sir, this is how he said, and when I asked him (Mirza Nasir Ahmed) as to how could he be excused for these statements, he said this is not with reference to Hazrat Issa who appears in the Holy Quran, but is a reference to Yusu Massih (یسوع مسیح) who has claimed to be son of God, I asked him after all they are not two different persons but the same man, the same prophet, and asked whether the grand mothers of Yusu Massih were different from those of Hazrat Issa? He said that Holy Quran does not mention his grandmothers at all, nothing more than this.

3030 Then after that he (Mirza Ghulam Ahmad) also says:

"اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے کچھ نہیں تھا۔ ہاں گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی اور یہ بھی یادرہے کہ کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔"

So these are statements which naturally offended not only the Musalmans, but also Chirstians. Muslims consider Jesus Christ as a true Prophet of Allah. They did not like the criticism and these remarks.

I asked him (Mirza Nasir Ahmad) it was all very well to say that Jesus Christ was one person and Hazrat Issa was a different person, one was mentioned in the Bible and the other was mentioned in, the Holy Quran, but how could he justify his criticism of Shias. And he tells them that "You forget about the dead Hazrat Ali, here the living Ali is

111

صفحہ ٢٨٤٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

present amongst you." Again what he said about Hazrat Imam Hussain. How could he justify that he is perfumed and, Naooz-o-Billa, Hussain was a heap of turd: He (Mirza Nasir Ahmad) said here also it meant, Ali of Shia conception and Hussain of Shia conception. Not, I don't think there is any difference between Muslims as far as conception of Ali or Hussain is concerned. In respect of admiration all Muslims hold the same opinion of them. But these were the things which, as I submitted, inflamed Muslims throughout this period and for this reason Mirza Ghulam Ahmad could not address meetings without police protections.

This brings me to another small aspect before I go to the next issue. All this, which I submitted before the House, was to show that he needed the British help to propagate his religion, for the security of his person, and the British provided that in abundance, and it was under these circumstances that some Mullahs, according to him, and some Ulema, according to us, had made life miserable for him and he writes to the Lt. Governor Punjab and I will now just briefly read from that letter. He writes, Sir:

”میں اس بات کا اقراری ہوں کہ جب بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریریں نہایت سخت ہو گئیں اور حد اعتدال سے بڑھ گئیں اور بالخصوص پرچہ 3031 نورالاسلام میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں تو مجھے ان اخباروں اور کتابوں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں پر جو کہ جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات سے کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے کہا ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے

١١٢

صفحہ ٢٨٤١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

لئے حکمت عملی یہ ہے کہ ان تحریروں کا اسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تا کہ صریح الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی ایسی کتابیں لکھیں جن میں سختی تھی۔ کیونکہ میرے Conscience نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو وحشیانہ جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں ان کے غیض وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریقہ کافی ہوگا۔ تو مجھ سے پادریوں کے بالمقابل جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں۔‘‘

I had asked him (Mirza Nasir Ahmad) as to why he attacked the Christians, why he repulsed their attacks against Islam? Was it because of his zeal for Islam, love for Islam, or was it for some other reason, because he got angry and he said, no, it was just like Jehad, it was zeal for love of Islam and the Holy Prophet of Islam that he attacked them. Now here he says himself, a miserable conception, that just to serve the cause of British Government and not of Islam, he was writing all those things, attacking the Christians or those Christian Priests. Then we go to another part of his letter. He says:

’’ان تمام تقریروں سے جن کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بہ دل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ کی اور ہمدردی 3032 بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہی وہ اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ شرائط بیعت میں ہمیشہ تعلیم کیا جاتا ہے۔ صفحہ چہارم میں ان باتوں کی تشریح ہے۔‘‘

Now, as I find it, he says that this speech of mine is supported by those I have delivered during the seventeen years. What I mean to say is that I am devoted to the British

١١٣

صفحہ ٢٨٤٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Government with all my heart, obedience to the Government and sympathy towards God's creatures, that is my principle and that is just the principle of the perscribed form, the religion makes that amply clear.

Again, he says, Sir, in a different place:

"میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح موعود مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرتا ہے۔"

"I believe", he said, "that the increase of my followers will reduce the number of believers in Jehad and to believe in me is to repudiate the doctrine of Jehad."

Then, Sir, again he says:

"میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں، اشتہارات طبع کئے ہیں اور اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام عرب ممالک مصر وشام، کابل وروم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں میں سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔ مہدی خونی، مسیح خونی کی بھی اصل روایتیں اور جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔"

In translation: it means: "By far the greater part of my life has been spent in preaching loyalty to the British Government. I have written so many books to denounce Jehad and preaching loyalty to the Government and I have published so many hand bills that they would fill fifty almirahs if put together."

3033 [At this stage Mr. Muhammad Haneef Khan vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman

صفحہ ٢٨٤٣

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

y heart, obedience to the Government f God's creatures, that is my principle rinciple of the perscribed form, the ply clear.

Sir, in a different place:

"میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھ معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح موعود مان لینا ہی مسئلہ

he said, "that the increase of my the number of believers in Jehad and epudiate the doctrine of Jehad."

In he says:

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تا نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس ق کئے ہیں اور اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس ا نے ایسی کتابوں کو تمام عرب ممالک مصر و شام، کابل وروم تک رہی ہے کہ مسلمانوں میں سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔ روایتیں اور جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

t it means: "By far the greater part of t in preaching loyalty to the British written so many books to denounce loyalty to the Government and I have hand bills that they would fill fifty er."

age Mr. Muhammad Haneef Khan hich was occupied by Mr. Chairman

2843 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(Sahibzada Farooq Ali).]

--------------------

Sir, before I read the next passage, please remember that author who wrote this beautiful Persian couplet:

”ایک منم کہ حسب اشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابہ نہد پایہ منبرم“

From that height, he goes down to this depth of degradation. Can you find anywhere sycophancy of this nature? This servility in a Prophet! Can this be the composition of a prophet? And I will say that if to deny the Prophethood of the author of this letter is KUFR, then I am the greatest Kafir:

گر کفر این بود بخدا سخت کافرم

Now, look at this man and look at this writing. Even an ordinary man, an ordinary human being, who has even the slightest regard for his own person, who has a little faith in God, who had a little confidence in himself will not say a thing like this. He claims to be a Prophet. We have that portrait of Quaid-i-Azam. (pointing to Quaid-i-Azam's portrait in the National Assembly Hall). He was an ordinary human being. What happened on the 2nd June 1947? You all know- it is mentioned in Campbell Johnson's book. He (the Quaid) reported on behalf of Muslim League whether they accept the well known Third June plan or not, whether the Muslim League accepted this sort of Pakistan which they were giving to the Muslims or not? Campbell Johnson

١١٥

صفحہ ٢٨٤٥

2844 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

writes that the whole day the Viceroy was waiting for Mr. Jinnah and he arrived just a minute before midnight. The Viceroy asked, "What is your answer, Mr. Jinnah?" The reply by Mr. Jinnah was: "I do not agree with it but I accept it." "What is the difference?" said the Viceroy. The reply from Mr. Jinnah was very simple: "I do not like it therefore I do not agrees, but I have no other alternative- you divide my Punjab, you divide my bengal. How can I be happy? I have no alternative. That is why I accept it. I am only the head of the Party. This thing must be decided by the Muslim League Council and that will take two weeks and so on behalf of the Council I cannot guarantee, whether they will agree or not but I will advise them to 3034 accept it because we have no alternative." Lord Mountbatten was furious. He said, "I cannot accept it. Tomorrow was to be announced. Congrees has agreed, on behalf or their Council or Committee. How can you not agree?" Mr. Jinnah replied, "Mine is a political organization based on democratic principles. I must go before my people and get their sanction." Lord Mount batten said, "Then look here Mr. Jinnah, if you on behalf of Muslim League do not give me an assurance that you accept this, then you will lose your Pakistan and for good." What was the reply of Mr. Jinnah? Here is a man who had spent his life- time in political wilderness; an old man of 70. He was to be the head of the promised home land. He was to be its master. But he did not

١١٦

2845 NATION

cringe or crawl. He said- "What must be the reply of a man w in God. The Viceroy to come back. He s Muslim League I wil that they will accept that they will accept you have accepted that", and that is ho have lost Pakistan. H a country, let me ag no, that man had fa person with this m writes this letter an fashion. This disapp sentimental. What Iq

نامیدی یا ہے

This is exactl

Sir, then I go

کے پچاس برس کے متواتر تجربے سے نہایت ضروری احتیاط اور تحقیق وہ بھی اس 3035 خاندان کی ثابت میں عنایت کی نظر سے دیکھیں۔“

He respectfu

صفحہ ٢٨٤٥

SSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

y the Viceroy was waiting for Mr. ust a minute before midnight. The s your answer, Mr. Jinnah?" The "I do not agree with it but I accept ence?" said the Viceroy. The reply ry simple: "I do not like it therefore ave no other alternative- you divide ny bengal. How can I be happy? I t is why I accept it. I am only the hing must be decided by the Muslim at will take two weeks and so on annot guarantee, whether they will vise them to 3034 accept it because we ord Mountbatten was furious. He . Tomorrow was to be announced. on behalf or their Council or u not agree?" Mr. Jinnah replied, rganization based on democratic before my people and get their batten said, "Then look here Mr. f Muslim League do not give me ccept this, then you will lose your What was the reply of Mr. Jinnah? d spent his life- time in political f 70. He was to be the head of the was to be its master. But he did not

١١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

cringe or crawl. He had faith in the Almighty Allah and he said- "What must be, must be", and walked away. This was the reply of a man who had faith, and a man who believed in God. The Viceroy had to rush after him and request him to come back. He said, "Mr. Jinnah, on behalf of the Muslim League I will give an assurance tomorrow morning that they will accept it- they will accept it because I know that they will accept your advice. You please only say that you have accepted it." Mr. Jinnah said: "Yes, I will say that", and that is how Pakistan was established. He could have lost Pakistan. He could have thought: here I am losing a country, let me agree on behalf of the whole nation. But, no, that man had fiath. We should not be comparing that person with this man who claimed to be a Prophet and writes this letter and cringes before earthly power in this fashion. This disappointed me. I should not have become sentimental. What Iqbal said:

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے ناامیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

This is exactly what it means.

Sir, then I go to the next passage. He says:

”سرکار دولت مدار کو ایسے خاندان کی نسبت جس کے پچاس برس کے متواتر تجربے سے وفادار اور جانثار ثابت کر چکی ہے ....... اس خودکاشتہ پودے سے نہایت ضروری احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت افسران کو ارشاد فرمائیں کہ وہ بھی اس 3035 خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور خدمات کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔“

He respectfully submits to the Lt. Governor that this

١١٧

صفحہ ٢٨٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

family has been constantly tried during the last 50 years and found unflinchingly loyal, and pray that the Government be pleased to regard this sapling of their own planting with jealous care and unfailing interest and instruct its subordinate officers to protect, to accord him and his followers (Jamaat) preferential treatment in view of the loyalty of his family which had pledged or the cause of the Government.

Sir, I do not want to say anything more. Again I say: is this a prophet writing to the Let. Governor? What does he say: Please instruct your subordinate officers to accord him preferential treatment. The prophet does not come even to the level of Lt. Governor, asking, requestiong him, begging and praying: Please instruct your subordianate officers to treat me like this. And this man, I am sorry to say, I should have not said so much really, says that he is better than all other prophets:

"آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آن جام را مرا بہ تمام"
"عیسیٰ کجا است تابہ نہد پایمبرم"

The author of the said couplet asking Lt. Governor "to treat me very nicely through the subordinates and look after this sapling of their planting" What was that:

"آپ کا خود کاشتہ پودا ۔"

I asked him (Mirza Nasir Ahmad) a lot to explain this. I do not want to be unfair to him. He said it was only meant for his family. Now a prophet begging the

١١٨

صفحہ ٢٨٤٧

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ried during the last 50 years and nd pray that the Government be ling of their own planting with ing interest and instruct its rotect, to accord him and his ential treatment in view of the had pledged or the cause of the

say anything more. Again I say: he Let. Governor? What does he bordinate officers to accord him prophet does not come even to sking, questiong him, begging t your subordianate officers to man, I am sorry to say, I should y, says that he is better than all

”آنچہ داد است ہر نبی راجام
”عیسیٰ کجا است“

id couplet asking Lt. Governor ough the subordinates and look nting" What was that:

”آپ کا خودکاشتہ پودا“

Nasir Ahmad) a lot to explain air to him. He said it was only ow a prophet begging the

١١٨

2847 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Government to look after his family- the faith of an ordinary man can move heaven and earth- and here a prophet seeks protection and help from the earthly power and, cringes before it: 'protect my family, protect my Jamaat'. And then we are told, Sir, that "if you do not accept his Prophethood, you are Kafir and pucca Kafir". No wonder why Muslims revolted against his claim, if for nothing else, as I submitted, this is enough to put off any self- respecting man because he claims to be 'Ain-i-Mohammad' and we know what 3036 Mohammad (peace be upon him) is for us- the perfect, most perfect human being that has ever walked on this earth, in kindness, in dignity and self respect and from every point of view. You look at his life when he goes to Makkah and vanquishes his enemies, he is kind, he is generous, and before the worst enemy and the greatest tyrants never stopped to say La- Ilaha- il- Allah. He did not give an application that in future "I will not disclose my revelations." I am sorry, I should not say because I have promised that I will try to plead their point of view also. I will make an attempt. But this is the thing you know, which we have to tell to show the other side. And in this country from that time this friction goes on. Now I will not comment more on this aspect because I do not have much time and I have plenty of ground to cover.

Sir, I will now go to the next subject which was rather important because issues Nos. 4 and 5 I wi"

119

صفحہ ٢٨٤٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

together which are: The Effect of not accepting Mirza Sahib's claim as prophet- its effect and the reaction of Muslims. Before I go into that- because here I had a very difficult time in dealing with Mirza Nasir Ahmad and it is also I think appropriate that I should, in passing, refer to one or two other facts. Sir, after Mirza Ghulam Ahmad's death, Hakim Nooruddin was the first caliph of Mirza Ghula Ahmad. Hakim Nooruddin became the first caliph. Nothing more has come on the record about him. He seems to have been a very quiet man and hardly anything was said about him. But then after his death a split took place in the party or the Jamaat when they go into two groups, one Lahori group and the other Qadiani group or Rabwah school of thought. After Bashiruddin Mahmood Ahmad died, the next caliph, Mirza Nasir Ahmad took over. He appeared before the Committee. I asked a question about his own life. He related those things which are on the record. And apart from that what I have gathered something from the Qadiani literature, I will respectfully narrate this also. Mirza Nasir Ahmad succeeded his father, Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad, as third Caliph- Imam of Ahmadeya Jamaat in 1965 and as the present Head of the movement, Qadiani Rabwa section. He was born in 1909. He is highly educated and cultured man with very impressive personality. He is a Hafiz-i-Qur'an, M.A. (Oxford), a great scholar of Arabic, Persian and Urdu

١٢٠

صفحہ ٢٨٤٩

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 Effect of not accepting Mirza - its effect and the reaction of that- because here I had a very th Mirza Nasir Ahmad and it is at I should, in passing, refer to r, after Mirza Ghulam Ahmad's was the first caliph of Mirza ruddin became the first caliph. the record about him. He seems an and hardly anything was said is death a split took place in the they go into two groups, one er Qadiani group or Rabwah ashiruddin Mahmood Ahmad a Nasir Ahmad took over. He ee. I asked a question about his ings which are on the record. have gathered something from respectfully narrate this also. cceeded his father, Mirza ad, as third Caliph- Imam of nd as the present Head of the ection. He was born in 1909. d cultured man with very is a Hafiz-i-Qur'an, M.A. f Arabic, Persian and Urdu

2849 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20 religious literature. According to the literature of his Party- and I refer to 'Africa Speaks', a magazine brought out by them, he was Head of Youth Organization of Ahmadis called 3037 Khuddamul Ahmadia. He is the "promised grandson of the promised Messiah and Mehdi." His election as Caliph fulfils the prophecy whcih mentioned that "the throne of the Messiah, descending to his Grandson" They say it is given in the Bible that the Messiah, when he comes again, his grandson will sit on his throne, and then it says- elected for life, he is Voice- Articulate of the age, and in direct communication with God. Before his election as Head of the Qadiani Ahmadiya Community, he was also Principal of Talimul Islam College from 1944- 1965, an educational institution run by this Jamaat. He is also addressed as Amirul Momineen by his followers. According to his evidence, the Khalifa of Mirza Ghulam Ahmad is elected by an electoral college which at the time of his election was of about 500 representatives of various groups. He did not contest election as a candidate nor were the nominations or proposals filed at the time of election. Two names his and of another person belonging to Mirza Ghulam Ahmad's family, were suggested and he was elected unanimously. It is their belief that the Khalifa is elected through divine intervention and blessing. The question of his removal on grounds of mental or physical incapacity does not, therefore, arise. He is guided by Allah. He may fall ill or physically get

١٢١

صفحہ ٢٨٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

paralysed but mentally he can never get paralysed. The Jamaat has its branches all over the world and everywhere where the Ahmadis live. He says it is purely a religious organization. He is head of religious empire like the Pope. He has an advisory body whom he consults. The decisions are taken by him mostly with their consent and are generally unanimous but he has the final authority to overrule the body. In short, the belief of his followers is that he can do no wrong because of the divine guidance and blessing.

Now, Sir, when this august person appeared before the Committee, the question came- and I will not go into details of the citations- as to what Mirza Sahib said about those who do not accept his claim of prophethood- He said they were Kafirs- what is meant by that? He said 'Kafir' did not mean the person who is apostate, a person who is renegade in the sense that he has to be ex-communicated form Islam but it means a sort of 'Gunahgar', a sinner, a Kafir of a second category, because he believes in the Holy Prophet of Islam. Therefore, according to Mirza Nasir Ahmad, he remains within the Millat-i-Mohammadia but he is outside the Dairah of Islam or Circle of Islam. This was 3038 all lost on me. I made a big effort to understand that a person when he becomes Kafir:

”دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر ملت محمدیہ سے باہر نہیں۔“

What does it mean? We had very difficult time for many days. Ultimately, Sir, when he was confronted with the

١٢٢

PDF 631

L ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

lly he can never get paralysed. The hes all over the world and everywhere live. He says it is purely a religious ead of religious empire like the Pope. ody whom he consults. The decisions ly with their consent and are generally as the final authority to overrule the ief of his followers is that he can do no divine guidance and blessing. n this august person appeared before uestion came- and I will not go into - as to what Mirza Sahib said about pt his claim of prophethood- He said is meant by that? He said 'Kafir' did who is apostate, a person who is that he has to be ex-communicated ns a sort of 'Gunahgar', a sinner, a gory, because he believes in the Holy erefore, according to Mirza Nasir thin the Millat-i-Mohammadia but he of Islam or Circle of Islam. This was ade a big effort to understand that a es Kafir:

”دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر ملت محمدیہ سے با“

ean? We had very difficult time for Sir, when he was confronted with the

١٢٢

2851 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

citation from Kalama-tul-Fasal, I read from page:126. I read it to him and when I read it out, I asked him as to what it meant? Here is:

”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا ہے کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکا نہ کھائیں۔ اس لئے کہیں کہیں بطور ازالہ غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔“ جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو، اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان۔“

Here I asked him as to what 'Haqiqi Musalman' meant. He has gone into great detail in Mehzarnama also to explain as to what is a true Muslim and he said, "there are many of them." I said, "Do they exist today? Because it is a very difficult definition." In the definition, there is no mention of accepting Mirza Ghulam Ahmad as prophet or not, and I said it is a very difficult definition. Do such people exist who are true Muslims in this sense? He said, "Yes, hundreds of them, thousands of them, Lakhs of them." I was amazed as to where those people were. Then, when I asked him he was avoiding this- direct answer. I said, "Can there be or is there a single 'Haqiqi Musalman' a true Musalman among non- Ahmadis?" He said, 'No'. That finished the matter; that concluded the controversy, because, according to them, Musalman is only a Musalman who is true Musalman; the others are only political Muslims, Muslims in name only or bogus Muslims, false Muslims; but true Muslim, good Muslim is only an Ahmadi or from among the Ahmadis and now here else. So, Sir, this is the

١٢٣

صفحہ ٢٨٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

position that has to be considered. And then in the same book, Sir, Mirza Ghulam Ahmad's son Mirza Bashir Ahmad, says:

”ہر ایک شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا، محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا کافر اور پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

3039 Now, in spite of this clear language, he said that when he says that anybody who does not accept Mirza Ghulam Ahmad as Prophet is outside the pale of Islam. He says, "No, no, this is not what we mean by دائرہ اسلام سے خارج ہے But it means that he still remained in the Ummat of Holy Prophet or Islam." Sir, this is something which most of the time we were discussing with him and we tried to find a way so that they could accept the general Muslim body as Musalmans because it was not our effort and it is not our effort to save the situation. Of course, it is far from this Committee to decide what ultimately should be done. But I thought that if he said that we are Muslims and we will say that they are Muslims and ignore these Fatwas which have been going on for a long time, but he bluntly said that there was no حقیقی مسلمان among Non-Ahmadis. It was impossible for a non-Ahmadi to be a حقیقی Muslim.

Now, Sir, he said many things also about prayers and marriage, but I will go to the next issue and shall try to deal with that part of his statement when I make submission on the next issue whether he founded an Ummat of his own or he only created a new sect in Islam, that is, their

١٢٤

صفحہ ٢٨٥٣

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

considered. And then in the same am Ahmad's son Mirza Bashir

"ہر ایک شخص جو موسیٰؑ کو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا، محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا کافر اور پکا

f this clear language, he said that body who does not accept Mirza et is outside the pale of Islam. He what we mean by دائرہ اسلام سے خارج ہے remained in the Ummat of Holy is is something which most of the ith him and we tried to find a way ot the general Muslim body as s not our effort and it is not our n. Of course, it is far from this ultimately should be done. But I we are Muslims and we will say ignore these Fatwas which have me, but he bluntly said that there Non-Ahmadis. It was impossible a Muslim. many things also about prayers to the next issue and shall try to tement when I make submission e founded an Ummat of his own sect in Islam, that is, their

١٢٤

2853 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

separatist tendency about which a lot was said. I have little time, Sir, I am conscious of that. I do want that this thing should be brought on the record because this is ultimately going to be something which the members will have to take into consideration when they give a decision or make a recommendation. Here, Sir, I will take back the members to what I stated before about the claim of Mirza Ghulam Ahmad.

جناب محمود اعظم فاروقی: اگر اتنی دیر تک بیٹھنا ہے تو میں برف ہو جاؤں گا۔ مجھے ٹمپریچر بھی ہے۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: آپ کی رضائی کا بندوبست کرنا ہے۔

میاں محمد عطاء اللہ: فاروقی صاحب ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ (مداخلت)

Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, as I said before that this is a very important aspect and it requires special considerations. After all, if a decision is adverse, it will affect that community. I understand 3040 that he claimed to be Massih-e-Maoud and then he said that Prophets are of two kinds, and I read from Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad's book "Ahmadiyat or the True Islam", page:28. He says I quote: "In short Prophets are of two kinds, those who are law- bearers like Moses (on whom be peace) and those who only restore and re-establish the Law after mankind forsaken it; as, for instance, Elijah, Issaiah, Ezekiel. Deniel and Jesus (on all whom be peace). The Promised Messiah (on whom be peace) also claimed to be a Prophet like the latter, and asserted that as Jesus was the last Khalifa

١٢٥

صفحہ ٢٨٥٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(Successor) of the Mosaic dispensation, he was the last Khalifa of the Islamic dispensation. The Ahmadiyya Movement, therefore, occupies, with respect to the other sects of Islam, the same position which Christianity occupied with respect to the other sects of Judaism."

Here, Sir, you will find a parallel. He says that Jesus Christ was a Prophet without his own law. He belonged to the Jweish sects which followed the Law of Moses. Then he says that Mirza Ghulam Ahmad holds the same position with regard to the Prophet of Islam which Jesus Christ holds with regard to Moses. Now, Sir, in every religious society and a religious system, the followers of the disciples of a Prophet revolve round the personality of their Prophet. That is how the system works. In Judaism, we have Moses; in Christianity, we have Christ; and in Islam, we have the Holy Prophet of Islam Muhammad (peace be upon him) Now, when Jesus Christ appeared in Jewish society, although he claimed and said, "Think not that I have come to destroy the law or the Prophets; I have not come to destroy but to fulfill." See the significance: "I have not come to destroy the law or the Prophets. I have come to fulfil." Mirza Ghulam Ahmad says: "I have not come to change even a dot of the Holy Quran. I want to re-establish it", the same parallel; and when Hazrat Issa started re-interpreting the Moses laws, he changed their shape, "an eye for an eye and a tooth for a tooth, changed into

١٤٦

NA

"offering the oth asserted that the itself, in the teac Mirza Ghulam A Holy Quran whi expression خاتم النبیین So, Sir, this was what happened Christ appeared, the same society any religious so already and ano added, and som conflicts and fr must get upset, company and st the case of Chri

My own wanted to follo enough streng declare, "I have think, be follow for that, the Co we brought a lo from that book, conduct for h

صفحہ ٢٨٥٥

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

mic dispensation, he was the last dispensation. The Ahmadiyya ccupies, with respect to the other he position which Christianity he other sects of Judaism." ' find a parallel. He says that Jesus hout his own law. He belonged to llowed the Law of Moses. Then he Ahmad holds the same position het of Islam which Jesus Christ ses. Now, Sir, in every religious stem, the followers of the disciples d the personality or their Prophet. orks. In Judaism, we have Moses; Christ; and in Islam, we have the Muhammad (peace be upon him) st appeared in Jewish society, said, "Think not that I have come e Prophets; I have not come to ee the significance: "I have not or the Prophets. I have come to hmad says: "I have not come to Holy Quran. I want to re-establish and when Hazrat Issa started laws, he changed their shape, "an ooth for a tooth, changed into

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

"offering the other cheek", but the followers of Jesus Christ asserted that the basis for all this could be found in to Torah itself, in the teaching of Moses itself, exactly the same thing Mirza Ghulam Ahmad started, re-interpreted parts of the Holy Quran which got altogether new 3041 meanings like the expression خاتم النبیین or about the life or death of Hazrat Issa. So, Sir, this was the parallel which you will kindly see as to what happened in the case of Jewish society when Jesus Christ appeared. He changed the law. Some people within the same society, started revolving around him. Now if in any religious society, in a religious system, there is a pivot already and another pivot is added, another personality is added, and some people start revolving aroung him also, conflicts and frictions take place. Either the whole thing must get upset, get destroyed, or that one group must part company and start a religion of their own, as happened in the case of Christianity Vis-a-Vis Judaism.

My own impression is that Mirza Ghulam Ahmad wanted to follow the line of Jesus Christ. After he got enough strength and support, he would announce and declare, "I have a seperate 'Umat' of my own." This line, I think, be followed and this is what he was aiming at. Now, for that, the Committee's members are well aware because we brought a lot of evidence on record and I have just, cited from that book, that Mirza Ghulam Ahmad left a code of conduct for his followers. Then, Sir, he issued the

صفحہ ٢٨٥٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

injunctions to his followers with regard to marriage, I have quoted from the book 'Ahmad' before, and I quote again the injunctions to Ahmadis regarding marriage, page:54:

"The same year with a view to strengthen the bonds of community and preserve a distinctive feature he promulgated rules regarding marriage and social relations and forbade Ahmadis to give their daughters in marriage to non-Ahmadis."

Now, if you belong to the same 'Ummat' and are brothers, can you issue such an injunction and yet say I am an 'Ummati' and belong to the same faith? Then, Sir, he issued injunctions about prayers including Janaza prayers. I have a lot of citations but I will not take your time. The Committee heard this. There was a stand taken very firmly by Mirza Nasir Ahmad. He said, "We do not say prayers for the simple reason that all the sects of Muslims had given Fatwas against us. They called us Kafirs. The Fatwas boomeranged and made them Kafirs, and because of this position in Shariat. We cannot join them in the prayers." He insisted on that position and several days were actually wasted because I wanted him to be frank. If you have a certain faith, be frank about it, why evade 3042 questions. But he evaded, I am sorry, to say, he evaded again and again and insisted on this point that because of these Fatwas they do not pray with us.

About the Qaid-i-Azam's Janaza he said because

١٢٨

صفحہ ٢٨٥٧

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

s with regard to marriage, I have ad' before, and I quote again the arding marriage, page:54: h a view to strengthen the bonds erve a distinctive feature he ng marriage and social relations ve their daughters in marriage to

g to the same 'Ummat' and are h an injunction and yet say I am o the same faith? Then, Sir, he ayers including Janaza prayers. I

I will not take your time. The re was a stand taken very firmly said, "We do not say prayers for the sects of Muslims had given called us Kafirs. The Fatwas em Kafirs, and because of this ot join them in the prayers." He nd several days were actually him to be frank. If you have a t it, why evade 3042 questions. But ay, he evaded again and again at because of these Fatwas they

zam's Janaza he said because ١٢٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Maulana Shabbir Ahmad Usmani had given a Fatwa, therefore, Sir Zafrullah could not join that Janaza. Well, I asked him, why did not you offer 'Ghaibana Janaza' prayers anywhere behind your own 'Imam'? He said he had no idea whether anybody offered that or not. He evaded the question. I am sorry, this thing went on for quite a few days and the Committee is well aware what ultimately came out. They thought they would carry the day on that firm ground of Fatwa; nobody could dispute those and they cited so many Fatwas. But ultimately the real fact came out when I asked him that Mirza Ghulam Ahmad had a son, I believe, Fazal Ahmad, who had not become an Ahmadi. I asked him about him. He said: "Yes." I asked, "Did he die in his life time?" He said: "Yes." I said: "Did Mirza Sahib offer his Janaza prayers?" He said: "No." I said: "Did he offer or give any Fatwa against Mirza Sahib?" He said: "No." And then I said: "Was he annoyed with him?" Because Mirza Sahib said: "بڑا فرمانبردار بیٹا تھا۔ اس نے کبھی شرارت نہیں کی" and that "Once I was ill and when I opened my eyes", Mirza Ghulam Ahmad said: "This boy was standing and weeping", and still in spite of that he refused to say Janaza prayer for the simple reason that Mirza Sahib did not consider him to be a Muslim. Mirza Sahib considered him to be a Kafir. So all the stories about Fatwas were meaningless.

Same is the position with regard to marriage, Sir. He said that they did not do it "because the Muslim- by Muslim ١٢٩

صفحہ ٢٨٥٨

2858 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

I mean non- Ahmadi- do not look after the Qadianis girls well. They would not be able to perform their duties and obligations according to the injunctions of Islam." What an arrogant statement to make and how to insult the people on their face! The best and the finest human beings who know how to treat their wives are only amongst Ahmadis! But on the other hand he says, "Yes, a Muslim girl can marry an Ahmadi; but an Ahmadi girl cannot marry a Muslim. An Ahmadi girl will be unhappy with a Muslim and the Muslim girl will be happy with an Ahmadi." So, Sir, on this ground also his claim about happiness and unhappiness, I am sorry to say, is not correct because their own book, again I come to this second little book, I do not know how many times I have read it. This is 3043 "Kalam-tul Fasal". Here is the explanation, Sir. This is by Mirza Bashir Ahmad, page:169. He says:

”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔“

That is the reason, Sir, that they considered us in the same position as the Christians consider Jews. They consider us in the same position as the Holy Prophet considered the Jews and the Christians with regard to the

١٣٠

صفحہ ٢٨٥٩

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ot look after the Qadianis girls ble to perform their duties and e injunctions of Islam." What an and how to insult the people on r finest human beings who know only amongst Ahmadis! But on es, a Muslim girl can marry an irl cannot marry a Muslim. An y with a Muslim and the Muslim Ahmadi." So, Sir, on this ground ess and unhappiness, I am sorry se their own book, again I come do not know how many times I Kalam-tul Fasal". Here is the Mirza Bashir Ahmad, page:169.

”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ ک ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرا عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذ حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں ہـ لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔“

ir, that they considered us in the ristians consider Jews. They position as the Holy Prophet e Christians with regard to the

١٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Muslims. Ahmadis consider Muslims just like the Prophet of Islam considered Jews and the Christians as separate ummats and separate people. But their girls are allowed to Marry muslim males. Muslim girls are not allowed to marry them. The same policy has beed adopted.

Further, I asked him this, again and again, to explain about the separatist tendencies. The reason was that I wanted him to have the full opportunity to explain that there was no such tendency among the Ahmadis or Qadianis. But what we find is that there is a similar parallel as between the Christianity and Islam. There is a parallel between Ahmadiat and Islam. It goes on. On the same line Mirza Sahib is trying to find a separate Ummat of his own. There is another instance from the census report of 1901 when he directed his followers to register themselves as a separate sect, of course calling themselves as Ahmadi Muslim. Then, Sir, Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad said, and it was cited before him (Mirza Nasir Ahmad), that "Our Allah, our Prophet, our Quran, our Nimaz, our Haj, our Roza, our Zakat, everything is different from the rest of the Muslims." I do not know what does that mean. He said this means "The way we interpreted them." He gave many explanations about their separatist tendencies and the Committee 3044 should take into consideration the fact that from time to time they have been supporting the Muslims and the Muslims cause in political field. He gave a long

١٣١

صفحہ ٢٨٦٠

2860 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

history. He related the services of Sir Zafrullah. He related the services of his own father, Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad, in the Kashmir committee. Of course, Dr. Iqbal ressigned from the Committee for the simple reason that the Qadianis were exploiting it for their own ends. But that apart, his point of view was that they always served the cause of Muslims and they joined hands with them. There is no doubt that in the newspaper of the 13th Novermber, 1946, Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad says in his 'Khutba', which is reported there, that if the British Government took any action against the Muslim League, that would be considered an attack against the Muslim nation and they (Qadianis) will support the Muslim nation. There he definitely sides with the Muslims. But in the same issue we find that while he says this, he sent a messenger to the Viceroy and he tells him that just like the Christians and parsis got their representation and their interests were protected, "Protect our interests also", and the Btritish Viceory or some High-up tells him or his representative, "You are Muslim sect and these are minorities, religious minorities." He replied that the Ahmadi's interests should also be respected in the same manner and protected in the same way: "If they can produce one Parsi, I can produce two Ahmadis for each parsi." That is the line he has taken himself. On this point, Sir, I will again quote from Dr. Iqbal. He says:

١٣٢

2861

"Cons which they he matters ever community o the intensity o rather the du cognizance of Qadianis an representation I was encou attitude in the was not adm unit, but whic representation High Court's 3045 So, Qadianis ther treated as a s an answer to or power or ju High Court in decision that Parliament a Parliament ca the Committe Again

صفحہ ١٣٣

SSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ervices of Sir Zafrullah. He related ather, Mirza Bashiruddin Mahmood r committee. Of course, Dr. Iqbal mittee for the simple reason that the ng it for their own ends. But that was that they always served the cause ined hands with them. There is no aper of the 13th Novermber, 1946, amood Ahmad says in his 'Khutba', that if the British Government took e Muslim League, that would be gainst the Muslim nation and they rt the Muslim nation. There he Muslims. But in the same issue we s this, he sent a messenger to the m that just like the Christians and entation and their interests were r interests also", and the British up tells him or his representative, and these are minorities, religious that the Ahmadi's interests should same manner and protected in the produce one Parsi, I can produce arsi." That is the line he has taken Sir, I will again quote from Dr.

١٣٢

2861 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

"Considering the separatist policy of the Qadianis, which they have consistently pursued in religious and social matters ever since the birth of the idea of building a new community on the foundation of a rival prophethood and the intensity of the Muslim feeling against this move, it was rather the duty of the Government to take administrative cognizance of such a fundamental difference between the Qadianis and the Muslims without waiting for a formal representation on behalf of the Muslim community of India. I was encouraged in this feeling by the Government's attitude in the matter of the sikh community which till 1919 was not administratively regarded as a separate political unit, but which was later treated as such without any formal representation on the part of the Sikhs, in spite of the Lahore High Court's finding that the Sikhs were Hindus."

3045

So, Sir, Allama Iqbal was of the view that Qadianis themselves have been insisting and wanting to be treaded as a separate religious community and here is also an answer to the objesction that the House has no authority or power or jurisdiction to declare them as such because the High Court in Lahore and the Privy Council had given the decision that Sikhs were part of Hindu community and the Parliament declared them to be a separate community. Parliament can do that. That is also the thing to be noted by the Committee.

Again, Sir, about the Qadianis, Allama Iqbal says

١٣٣

صفحہ ٢٨٦٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

and I quote: "According to our belief, Islam as a religion was revealed by God, but the existance of Islam as a society or nation depends entirely on the personality of the Holy Prophet. In my opinion, only two courses are open to the Qadianis, either frankly to follow the Bahais or to eschew their interpretations of the Idea of finality in Islam and to accept the Idea with all its implications. Their diplomatic interpretations are dictated merely by a desire to remain within the fold of Islam for obvious political advantages."

Again, Sir, Allama says: "Secondly, we must not froget the Qadiani's own policy and their attitude towards the world of Islam. The founder of the movement described the parent community as "Rotten Milk" and his own followers as "Fresh Milk", warning the latter against mixing with the former. Further, their denial of fundamentals, their giving themselves a new name (Ahmadis) as a community, their non-participation in the congregational prayers of Islam, their social boycott of Muslims in the matter of Matrimony, etc, and above all their declaration that the entire world of Islam is Kafir- all these things consitute an unmistakable declaration of separation by the Qadianis themselves. Indeed the facts mentioned above clearly show that they are far more distant from Islam than Sikhs from Hinduism, for the Sikhs at least intermarry with the Hindus, even though they do not worship in the Hindu temples."

١٣٤٢

N

So, Sir, 3046 What here is that the respectfully to England by the described thems "Condemned" They referred t in which they h

Then, S personalities to highest regard المؤمنین and thes parallel systen happy, they ar happy. This is unhappy when War, and they State, with the one man that and feel in t psychological we are Baluch this reason we That is also a consideration

صفحہ ٢٨٦٣

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ding to our belief, Islam as a religion but the existance of Islam as a society ntirely on the personality of the Holy on, only two courses are open to the kly to follow the Bahais or to eschew of the Idea of finality in Islam and to all its implications. Their diplomatic ictated merely by a desire to remain m for obvious political advantages."

llama says: "Secondly, we must not own policy and their attitude towards he founder of the movement described ity as "Rotten Milk" and his own Milk", warning the latter against ormer. Further, their denial of r giving themselves a new name munity, their non-participation in the ers of Islam, their social boycott of of Matrimony, etc, and above all their ntire world of Islam is Kafir- all these nmistakable declaration of separation selves. Indeed the facts mentioned t they are far more distant from Islam uism, for the Sikhs at least intermarry though they do not worship in the

١٣٤

2863 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

So, Sir, these are the views of Allama Iqbal.

3046 What I was submitting and what we have seen here is that they do not consider us Muslims. I pointed out respectfully to Mirza Sahib that a resolution was passed in England by the Ahmadis after Rabwah incident, where they described themselves as "We, The Ahmadi Musalmans" and "Condemned" the "Non-Ahmadi Musalmans of Pakistan". They referred to them as Pakistanis. So, this is the position in which they have landed themselves.

Then, Sir, we find that they have a parallel system of personalities to be respected in Islam: صحابہ، اہل بیت Kept in highest regard. They started a parallel class: امیر المومنین، ام المومنین and these differences created friction in the society a parallel system created by them. Then, Sir, when we are happy, they are not happy; when we are unhappy, they are happy. This is what the evidence has shown. Muslims were unhappy when the British conquered Iraq during the first War, and they had a چراغاں in Qadian. We cerated a separate State, with the help of God, because we thought and felt like one man that we shall remain together because we think and feel in the same manner; there is a subjective psychological feeling of belonging to one another, whether we are Baluchis or Pathans or Sindihis or Punjabis, and for this reason we feel and think very differently from them. That is also a factor which the Committee will take into consideration although, as I submitted, they have said

١٣٥

صفحہ ٢٨٦٤

2864 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

things which could also be kept in mind that they will support the Muslims.

Now, Sir, I come to the last part. I have taken too much time and I am trying to rush through this constitutional position about Ahmadis. Whatever may be the decision, whatever stand the members of the Committee may take, please remember that they are Pakistanis and they are entitled to equal rights of citizenship, and there is no question of 'Zimmis' or of second class citizen in Pakistan. It is not possible. I will tell you why it is not possible. Please remember that Pakistan was not created through conquest, it was created through compromise and an agreement. It was signed on behalf of the Muslim nation and the agreement was based on Two-Nation Theory. We were a Muslim nation in India or in the Indian sub- continent and other nation was the Hindu nation and the rest were small sub-national group. Now, the creation of Pakistan divided the Pakistani nation and part of it was left in India and we 3047 could not let them down because they made sacrifices for the creation of this promised land. So, the agreement was that they will have equal rights- political and civil rights- with other Hindus in India and we will give the Hindus and other minorities equal rights political and civil in Pakistan. This is what you will find the interpretation given in the book "Emergence of Pakistan" by Ch. Muhammad Ali. The Pakistani Constituent Assembly met for the first time on the

2865 NAT

11th August, 19

Those were very v their lives, sacrifi Hindus in spite o reaction and rea Quaid-i-Azam m Pakistan for tole commitment. He government to l There he said, "Y free to go to your of time: "Hindu shall cease to be the political sen speech was misin gave up the Two was the commitm about. He talked Chaudhri Mohan book. But the ide as a nation, to t see that they ha which include th discrimination, n the equal protect propagate their

١٤٦

صفحہ ٢٨٦٥

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

o be kept in mind that they will

to the last part. I have taken too , trying to rush through this out Ahmadis. Whatever may be the he members of the Committee may at they are Pakistanis and they are of citizenship, and there is no f second class citizen in Pakistan. d you why it is not possible. Please was not created through conquest, ompromise and an agreement. It of the Muslim nation and the Two-Nation Theory. We were a r in the Indian sub- continent and du nation and the rest were small the creation of Pakistan divided part of it was left in india and we a because they made sacrifices for ised land. So, the agreement was rights- political and civil rights- s and we will give the Hindus and hts political and civil in Pakistan. d the interpretation given in the stan" by Ch. Muhammad Ali. The embly met for the first time on the

١٣٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

11th August, 1947, and the Quaid-i-Azam addressed it. Those were very very difficult days a lot of Muslims had lost their lives, sacrifices were made, people were butchered by Hindus in spite of this agreement and naturally there was reaction and retaliation in parts of Pakistan, and the Quaid-i-Azam made a passionate plea to the Muslims in Pakistan for toleration. He was reminding them of our commitment. He was reminding them of the duty of the government to look after the interests of the minorities. There he said, "You are free to go to your temples, you are free to go to your mosques", and then he said, in the course of time: "Hindus shall cease to be Hindus and Muslims shall cease to be Muslims, not in the religious sense, but in the political sense, i.e, political equality." Although this speech was misinterpreted and certain people said that he gave up the Two- Nation Theory, but this was not so. This was the commitment and the agreement that he was talking about. He talked of the Two- Nation theory after that and Chaudhri Mohammad Ali has explained this in detail in his book. But the idea was to remember that we are committed, as a nation, to treat all the minorities with equality and to see that they have all the rights under the Constitution, which include the right not only to enter services without discrimination, not only of equality before law and to have the equal protection of law, but also to preach, practise and propagate their religion, to manage and maintain their

١٣٧

صفحہ ٢٨٦٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

religious institutions. This thing the Committee will kindly keep in mind. They have a right, whether you declare them a separate community or not, this is their right and this is guranted in the Constitution, and the honourable members of this House have taken oath to preserve and protect the Constitution and uphold its dignity.

Sir, there will be many complications if such a decision is taken, and I say this from the Qadiani's or Ahmadi's point of view. What does he say? The letters you have received, the letters I received, those should also be kept in mind. He says that look, you 3048 will call me a non-Muslim, but in the outside world, I will be considered as a Muslims:

”زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں

He says: "Look at the anamoly. I will be saying prayers, I will go on fast, I will be following all the rituals of Islam, and still you will call me "Kafir", and the Kafirs will think that I am a Muslim", and this will create complications and anamolies. But this is something which they say, and it is my duty to point out to the Committee their point of view.

Finally, Sir, I want to express my gratitude to you to begin with, and then to all the members who helped me in understanding this subject, particularly, I should not really single out anyone, but I am very much indebted to Maulana

١٤٨

صفحہ ١٣٩

LY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ing the Committee will kindly ht, whether you declare them a this is their right and this is and the honourable members th to preserve and protect the ignity.

any complications if such a y this from the Qadiani's or t does he say? The letters you eceived, those should also be look, you 3048 will call me a de world, I will be considered

"زاہد تنگ نظر نے
اور کافر یہ سمجھتا ہے

he anamoly. I will be saying ll be following all the rituals of ne "Kafir", and the Kafirs will im", and this will create But this is something which o point out to the Committee

express my gratitude to you to e members who helped me in rticularly, I should not really ery much indebted to Maulana

٨

2867 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Zafar Ahmad Ansari who helped me very much, and then Mr. Aziz Bhatti, M.N.A. Both of them were very helpful; but I am very grateful to every member. They really helped me to understand and to make my submissions; whatever I have said, I hope they will be of some help.

Thank you very much.

Mr. Chairman: Thank you very much, Mr. Attorney- General. On my personal behalf and on behalf of the members of the House Committee, let it be placed on record the labour you have put in for these months, the pains you have taken, and really whatever you have done, you have done not only for the House but for the country for which we are grateful to you. Thank you very much.

Now, I will request the honourable members if anyone of them would like to speak.

(جناب یحییٰ بختیار کی تقریر کا اردو ترجمہ)

(جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل آف پاکستان): جناب والا! مرزا غلام احمد کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کل میں نے ایوان میں گزارش کیا تھا کہ اس کی مذہبی زندگی تین ادوار پر مشتمل تھی۔ اس کا پہلا دور عام مسلمانوں کی طرح ایک مبلغ جیسا تھا۔ ختم نبوت کے متعلق اس کا عقیدہ بھی عام مسلمانوں جیسا تھا۔ اس کے بعد دوسرا دور شروع ہوا۔ جب مرزا غلام احمد نے اپنے نظریات تبدیل کرلئے۔ اپنی تنظیم کی بنیاد رکھی اور بیعت لینا شروع کیا۔

دوسرے دور کا آغاز ١٨٨٩ء سے ہوا۔ اس دور میں مرزا غلام احمد نے ”ختم نبوت“ کو نیا تصور دیا اور نئے معنی پہنائے۔ جس کے مطابق اللہ نے جو پیغام حضرت محمد ﷺ کو دیا تھا اس کی وضاحت کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً نئے نبی آتے رہیں گے)

صفحہ ٢٨٦٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(مسٹر چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی اور محترمہ ڈپٹی سپیکر نے کرسی صدارت سنبھالی)

-------------

(مرزا غلام احمد خاتم النبیین تھے؟)

(جناب یحییٰ بختیار: محترمہ! میں نے گزارش کیا تھا کہ احمدیوں اور قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ نے انبیاء کا سلسلہ منقطع نہ ہونے کے بظاہر معقول دلائل دیئے تھے۔ لیکن جب ہم نے سوال کیا کہ کیا مرزا غلام احمد سے پہلے یا مرزا غلام احمد سے بعد کوئی نبی ہوا یا ہوگا تو انہوں نے جواب نفی میں دیا۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔

اب میں مزید آگے چلتا ہوں اور کمیٹی کی خدمت میں احمدیوں کے وہ ثبوت پیش کروں گا جس کے مطابق وہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ (مسیح موعود) تاریخ کے اس دور میں ظاہر ہوگا۔ جب رسل ورسائل کے ذرائع تبدیل ہو جائیں گے۔ زلزلے آئیں گے۔ جنگیں ہوں گی وغیرہ وغیرہ۔ گدھے اور اونٹ کی جگہ زیادہ مفید اور کارآمد ذرائع پیدا ہو جائیں گے۔ یہ تمام نشانیاں جن کا قدیم کتابوں میں ذکر ہے۔ مرزا غلام احمد کے زمانے پر صادق آتی ہیں اور مزید کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد ہی مسیح موعود تھا۔ اس سلسلہ میں میں ”احمدیت اور سچا اسلام“ کے ص ٢٠ کا اقتباس پیش کرتا ہوں: ”اسی طرح یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ مسیح موعود دو عارضوں میں مبتلا ہوگا۔ جن میں سے ایک جسم کے اوپر والے حصہ میں اور دوسرا نیچے والے حصہ میں ہوگا۔ اس کے سر کے بال کھڑے ہوں گے۔ رنگ گندمی ہوگا اور زبان میں قدرے لکنت ہوگی۔ اس کا تعلق زمیندار گھرانے سے ہوگا اور بات کرتے ہوئے وہ کبھی کبھی اپنا ہاتھ ران پر مارا کرے گا۔ اس کا ظہور ”قادی“ نامی گاؤں میں ہوگا اور اس کی ذات مسیح موعود اور مہدی دونوں پر مشتمل ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ احمد مسیح موعود کو ایک تو چکروں کا عارضہ تھا اور دوسرا ذیابیطس کا۔ اس کے بال کھڑے تھے۔ گندمی رنگ تھا اور گفتگو میں لکنت تھی۔ بات چیت کرتے ہوئے اپنا ہاتھ ران پر مارنے کی عادت تھی۔ زمیندار خاندان سے تعلق تھا۔ قادیان یا قادی جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے، کا رہنے والا تھا۔ قصہ مختصر جب ہم ان سب پیش گوئیوں کو اجتماعی شکل میں دیکھتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ ان تمام کا تعلق اسی زمانے سے ہے اور مرزا غلام احمد کی ذات سے، یہی زمانہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے۔ جس کا ذکر گزشتہ انبیاء نے کیا تھا اور مرزا غلام احمد ہی وہ مسیح موعود ہے جس کا صدیوں سے انتظار تھا۔“

مرزا غلام احمد کے مسیح موعود ہونے کا یہی ثبوت اور دلیل ہے۔ میں اس پر تبصرہ نہیں

- ١٤٠ -

صفحہ ٢٨٦٩

2869 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کروں گا۔ کمیٹی فیصلہ کر سکتی ہے۔ آیا یہ ثبوت اور دلیل صرف مرزا غلام احمد پر ہی صادق آتی ہیں، یا اس زمانے کے سینکڑوں ہزاروں لوگوں پر۔

اب میں اس کے تیسرے مذہبی دور پر آتا ہوں۔ یہاں وہ مکمل نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ کسی ذیلی نبی یا عارضی نبی کا نہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو امتی نبی کہتے ہوئے پورے طور پر نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کا دعویٰ کیا پھر تمام انبیاء پر برتری کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد حضرت محمد ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ کیا اور آخرکار نبی آخر زمان ﷺ پر بھی (معاذ اللہ) برتری کا دعویٰ کیا۔ مجمل طور پر یہ اس کی مذہبی زندگی کا خاکہ ہے۔ اب میں مختصر طور پر آپ کی توجہ ان حوالہ جات کی طرف دلاؤں گا جن سے میری گزارشات کی تائید ہوتی ہے: کل میں نے حوالہ دیا تھا جس میں وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے: ”بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ تم نعمتیں کیوں کر پاسکتے ہو۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٥، خزائن ج ٢٠ ص ٤٢٧)

پھر کہتا ہے: اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس کے دعویٰ کی بنیاد ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد صرف وہی (مرزا غلام احمد) نبی ہے: ”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال، اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

یہ ماضی اور مستقبل پر یکساں لاگو ہے۔ یہ اقتباس ”روحانی خزائن“ میں شائع شدہ ”حقیقت الوحی“ جلد ٢٢، ص ٤٠٦، ٤٠٧ سے ہے۔ اس زمانے میں وہ مزید کہتا ہے: ”میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی بہ اعتبار ظلیت کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)

اور پھر کہتا ہے: ”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

یہی وہ زمانہ ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے گزارش کی وہ کہتا ہے: ”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

پھر دلچسپ دور آتا ہے۔ جس میں وہ (مرزا غلام احمد) اپنے اندر تمام انبیاء کی صفات کا

١٤١

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(مسٹر چیئرمین نے کرسی صدارت چھوڑ دی

(مرزا غلام احمد خاتم

(جناب یحییٰ بختیار: محترمہ! میں نے دوسرے خلیفہ نے انبیاء کا سلسلہ منقطع نہ ہونے کے نے سوال کیا کہ کیا مرزا غلام احمد سے پہلے یا مرزا غلا جواب نفی میں دیا۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ ا

اب میں مزید آگے چلتا ہوں اور کمیٹی کی گا جس کے مطابق وہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے کے اس دور میں ظاہر ہوگا۔ جب ریل و رسائل کے گے۔ جنگیں ہوں گی وغیرہ وغیرہ۔ گدھے اور اونٹ جائیں گے۔ یہ تمام نشانیاں جن کا قدیم کتابوں میں آتی ہیں اور مزید کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد ہی مسیح اسلام“ کے ص ٢٠ کا اقتباس پیش کرتا ہوں: ”اس عارضوں میں مبتلا ہوگا۔ جن میں سے ایک جسم کے او ہوگا۔ اس کے سر کے بال کھڑے ہوں گے۔ رنگ اس کا تعلق زمیندار گھرانے سے ہوگا اور بات کرت گا۔ اس کا ظہور ”کدعہ“ نامی گاؤں میں ہوگا اور اس ہوگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ احمد مسیح موعود کو ایک تو چکر بال کھڑے تھے۔ گندمی رنگ تھا اور گفتگو میں لکنت مارنے کی عادت تھی۔ زمیندار خاندان سے تعلق تھا رہنے والا تھا۔ قصہ مختصر جب ہم ان سب پیش گوئیوں کہ ان تمام کا تعلق اسی زمانے سے ہے اور مرزا غلام کا زمانہ ہے۔ جس کا ذکر گذشتہ انبیاء نے کیا تھا صدیوں سے انتظار تھا۔“

مرزا غلام احمد کے مسیح موعود ہونے کا د

صفحہ ٢٨٧٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے لئے میں ”روحانی خزائن، براہین احمدیہ پنجم“ جلد ٢١، ص ١١٧، ١١٨ کا حوالہ پیش کرتا ہوں: ”اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز اور مقدس نبی گزر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں تو وہ میں ہوں۔ اس طرح اس زمانے میں بدوں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔ فرعون ہوں یہود ہوں۔ جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا۔ ابو جہل ہوں، سب کی مثالیں اس وقت موجود ہیں۔“

چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اللہ اپنے تمام نبیوں کی عمدہ اور بہترین صفات کو ایک شخص میں یکجا کرنا چاہتا تھا اور وہ واحد شخص میں ہوں۔ یہ وہی دور ہے جب وہ کہتا ہے: ”میں خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

جناب والا! یہ اقتباس بھی ”روحانی خزائن، حقیقت الوحی“ جلد ٢٢، ص ٢٢٠ سے ہے۔ وہ کہتا ہے: ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا تعالیٰ جل شانہ کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔“

(مرزا کی وحی قرآن کے برابر)

جناب والا! یہ ایک بہت ہی بڑا دعویٰ ہے جو کہ اس (مرزا غلام احمد) نے اس دور میں کیا۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو وحی اس کو آتی ہے وہ مرتبے اور تقدس میں پیغمبر اسلام ﷺ کی وحی کے برابر ہے۔ جیسی وحی اس پر آئی وہ پیغمبر اسلام کی وحی کے برابر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ مرزا غلام احمد نے کہا وہ (نعوذ باللہ) قرآن کریم کے برابر ہے۔ یہ اس کا دعویٰ ہے۔ وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ کرتا ہے اور اس زمانے میں اس نے مشہور زمانہ فارسی کے مشہور شعر کہے۔ جن میں کہتا ہے کہ:

”انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بہ عرفان نہ کم ترم ز کسے“

(اگرچہ بے شمار نبی آئے ہیں۔ مگر میں کسی سے کم تر نہیں ہوں)

آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

١٤٢

صفحہ ١٤٤٣

2871 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(اس (خدا) نے ہر نبی کو جام دیا ہے۔ مگر وہی جام مجھے لبالب بھر کر دیا ہے) یہاں وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے کہ وہ تمام نبیوں سے اعلیٰ اور افضل ہے۔ لیکن اس زمانے تک اس نے حضرت محمد ﷺ پر برتری کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور صرف یہ دعویٰ تھا کہ اس کی (مرزا غلام احمد کی) وحی اور جو وحی محمد ﷺ پر آتی تھی دونوں برابر ہیں۔ کیونکہ دونوں ہی مقدس ہیں۔

میں نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے مرزا ناصر احمد کو (وحی کی برابری کے دعویٰ کی) نشاندہی کی اور اس نے انکار نہیں کیا۔ کمیٹی کو یاد ہوگا جب مرزا ناصر احمد نے جواب دیا تھا کہ چونکہ دونوں وحیوں کا ماخذ ایک ہے۔ اس لئے دونوں کا مرتبہ برابر ہے۔ ماخذ اللہ ہے۔ وہ دونوں کو برابر مانتے ہیں۔ جناب والا! اس تمام عرصے میں جس کا ذکر میں کر چکا ہوں مرزا غلام احمد کہتا ہے کہ ”میں ایک امتی نبی ہوں۔ غیر شرعی نبی۔“ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ سمجھتا تھا کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کی برابری حاصل کر لی ہے۔ ماسوائے اس بات کہ وہ امتی ہے۔ اس طرح اس نے ایک ذیلی حیثیت حاصل کر لی۔ کیونکہ اس کے پاس نئی شریعت نہیں تھی۔ اس نے کہا کہ اس کی اپنی کوئی شریعت نہیں۔ لیکن اپنا مرتبہ مزید بلند بھی کرتا ہے اور کہتا ہے۔ میں ایک بار پھر ”روحانی خزائن“ جلد ١٧، ص ٤٣٥، ٤٣٦ کا حوالہ دیتا ہوں: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

یہاں وہ یہ کہتا ہے کہ اس کی وحی میں بھی احکام موجود ہیں۔ ”یہ کرو یہ نہ کرو۔“ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قانون میں تھا۔ جناب والا! یہ تین دور ہیں۔ جن کا میں نے مختصر ذکر کیا ہے۔ چونکہ میں نے ابھی اور بہت سی باتوں کا ذکر کرنا ہے۔ اس لئے مزید تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ تاہم اتنا ضرور عرض کروں گا کہ اب یہ کمیٹی فیصلہ کرے کہ کیا مرزا غلام احمد نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور کسی قسم کے نبی ہونے کا۔

جناب والا! جب اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دعوے کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ یہ بے چینی اور اضطراب کیوں پیدا ہوا۔ اس دعوے کے خلاف اتنا شدید ردعمل کیوں ہوا۔ یہ سب حالات ہمیں ”خاتم النبیین“ کے تصور کی طرف لے جاتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ تمام عالم اسلام میں یہ شدید ردعمل کیوں؟ مسلمان احسان فراموش نہیں

BLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

دعویٰ کرتا ہے۔ جس کے لئے میں ’روحانی خزائن‘ پیش کرتا ہوں: ”اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے زمانے میں بدوں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔ فرع صلیب پر چڑھایا۔ ابو جہل ہوں، سب کی مثالیں ا چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اللہ اپنے تمام نبیوں کرنا چاہتا تھا اور وہ واحد شخص میں ہوں۔ یہ وہی دو متواتر وحی کو کیسے رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکیں

جناب والا! یہ اقتباس بھی ’روحانی خز وہ کہتا ہے: ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ا قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور ج خدا تعالیٰ جل شانہ کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس

(مرزا کی وحی قرآ

جناب والا! یہ ایک بہت ہی بڑا دعویٰ کیا۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو وحی اس کو کی وحی کے برابر ہے۔ جیسی وحی اس پر آئی وہ پیغم کہ جو کچھ مرزا غلام احمد نے کہا وہ (نعوذ باللہ) قر پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ برابری کا دعویٰ کرتا کے مشہور شعر کہے۔ جن میں کہتا ہے کہ:

”انبیاء گرچہ
من بہ عرفان

(اگرچہ بے شمار نبی آئے ہیں۔ مگر میں

آنچہ داد است
داد آن جام

١٤

صفحہ ٢٨٧٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہوتے۔ وہ اپنے لیڈروں اور علماء کی عزت کرتے ہیں۔ آخر وہ ایک شخص کے خلاف کیوں ہوگئے۔ جسے وہ اپنا ہیرو مانتے تھے۔ مرزا غلام احمد کا اپنا بیٹا کہتا ہے کہ: ”کہ اس کی بھیڑیں بھیڑیے بن گئے۔“

ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب دینے کے لئے اپنے محدود علم کے مطابق ایوان کی اجازت سے میں ”ختم نبوت“ کے تصور کا مطلب پیش کروں گا۔ مجھے امید ہے کہ اگر میں کہیں غلطی کروں تو ایوان کے اندر موجود میرے فاضل دوست اور علماء میری تصحیح فرمائیں گے۔

جناب والا! ”خاتم النبیین“ کا لفظی معنی ”مہر نبوت“ ہے۔ گذشتہ چودہ سو سال میں عام طور پر مسلمانوں کے نزدیک مہر نبوت کا مطلب آخری نبی ﷺ ہیں۔ جن پر اللہ کا پیغام (وحی) نازل ہوا۔ بدرجہ اتم مکمل ہوا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ وہی آخری نبی ہیں اور جیسے جیسے انسانیت نے ارتقاء کی منزلیں طے کیں یا ذہنی اور جسمانی طور پر طے کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ سے اپنا آخری پیغام انسانیت کے لئے اتارا جو تاقیامت نافذ العمل ہے۔ کیونکہ ہر دور میں بنیادی انسانی ضروریات، مسائل، دشواریاں اور تکالیف ایک جیسی ہوتی ہیں۔ البتہ حالات کے تحت ان کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ اللہ کریم نے اپنا آخری پیغام اپنے آخری نبی ﷺ کے توسط سے نازل فرمایا اور حکم فرمایا کہ قیامت تک اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی اس میں کسی قسم کا ردو بدل کر سکتا ہے۔ یہی ”خاتم النبیین“ یا ”ختم نبوت“ کا تصور ہے۔ عام الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ”وحی“ کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔

جناب والا! اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تصور کی حکمت کیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جب مسلمان ”خاتم النبیین“ کہتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ لیکن اس کی سب سے زیادہ محکم اور مستند تعبیر خود نبی کریم ﷺ نے فرمادی ہے۔ انہوں نے فرمایا ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا) اس کا ماننا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس حدیث کی سند کو مسلمانوں کے کسی فرقہ نے کبھی بھی متنازعہ نہیں سمجھا۔ جناب والا! جب آپ اس حدیث میں پوشیدہ حکمت پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی آخری علالت کے دوران اپنے صحابہ سے فرمایا کہ جب تک وہ ان کے درمیان موجود ہیں وہ ان کی باتیں سنیں اور ان پر عمل کریں جب وہ اس دنیا سے پردہ پوشی فرما لیں تو پھر وہ نبی کریم ﷺ کے الفاظ کے مطابق ”قرآن کو مضبوطی سے پکڑیں اور جس چیز سے قرآن نے منع کیا ہے اس سے باز رہیں اور جس چیز کی قرآن نے اجازت دی ہے اس کو جائز سمجھیں۔

١٤٤

صفحہ ٢٨٧٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جناب والا! ہم نے اس عالی شان سبق کی حکمت اور رعنائی کی قدر نہیں کی۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں۔ انسانیت کی تکمیل ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام مکمل ہو چکا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔ اس وقت دنیا کے کیا حالات تھے۔ آج سے چودہ سو سال پہلے کے معاشرہ کا خیال کریں جب راجے، مہاراجے، بادشاہوں اور قبائلی سرداروں کا زمانہ تھا۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ معاشرہ کسی اور قانون سے واقف ہی نہ تھا۔ دنیا میں پہلی بار نبی کریم ﷺ کی مندرجہ بالا سادہ سی حدیث مقدس میں قانون کی بالادستی کا تصور پیش کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ ان کے بعد تم پر کسی کی اطاعت واجب نہیں۔ صرف اللہ اور اس کے پیغام (قرآن کریم) اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔ قرآن پر سختی سے عمل پیرا رہو۔ جو وہ حکم دے، کرو۔ جس سے منع کرے رک جاؤ۔ یہی اس حدیث مقدس کا حسن ہے کہ پہلی بار دنیا کو قانون کی بالادستی کا تصور دیا گیا۔ میری ناقص رائے میں پوری انسانیت کے لئے یہ اعلان آزادی تھا کہ آج کے بعد کوئی کسی بادشاہ، حاکم یا ڈکٹیٹر کا غلام نہیں۔ صرف قانون کی حکمرانی ہوگی اور وہ قانون (قرآن کریم) موجود ہے۔ تاریخ کے مطالعہ سے ہمیں کیا معلوم ہوتا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جونہی نبی کریم ﷺ کا وصال شریف ہوتا ہے حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلا خطبہ کیا دیا۔ وہ کیا فرماتے ہیں۔ ان کا پیغام ہے: ”جب تک میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں تم میری اطاعت کرو۔ اگر میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں۔“

یہ ہے قانون کی بالادستی اور اس کا صحیح تصور۔ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ مجھے الہام ہوتا ہے وحی آتی ہے۔ میں حکم دوں گا جس کا ماننا تم پر فرض ہوگا تو عالم اسلام میں ہیجان پیدا ہو گیا۔ عالم اسلام میں بے چینی کی سب سے بڑی یہی وجہ تھی۔

ایک اور پہلو جس کی میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ آزادی فکر کا پہلو ہے۔ تمام مسلمان قرآن میں تدبر کرنے اور معنی سمجھنے میں مکمل آزاد ہیں۔ کوئی کسی دوسرے پر اپنی تفسیر مسلط نہیں کر سکتا۔ علامہ اقبال نے کہا ہے کہ ”نبی کریم ﷺ کے سوائے کسی دوسرے کی بات حرف آخر نہیں ہو سکتی۔“ چنانچہ یہ ایک طرح کا اعلان آزادی ہے کہ آپ کی سوچ پر کوئی قدغن نہیں۔ جناب والا! اس میں شک نہیں کہ یہ آزادی فکر اسلام کے بنیادی اصولوں کے دائرہ تک محدود ہے۔ مثال کے طور پر توحید اور اللہ کی واحدانیت کا اصول۔ کوئی کسی قسم کی آزادی فکر اس اصول کو چیلنج نہیں کر سکتی۔ دوسرا بنیادی اصول حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین یا ختم نبوت کا ہے۔ اس اصول کو

١٤٥

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہوتے۔ وہ اپنے لیڈروں اور علماء کی عزت کر ہوگئے۔ جسے وہ اپنا ہیرو مانتے تھے۔ مرزاغلام ا بھیڑئیے بن گئے ۔“

ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب دینے اجازت سے میں ”ختم نبوت“ کے تصور کا مطلب و کروں تو ایوان کے اندر موجود میرے فاضل دوست

جناب والا! ”خاتم النبیین“ کا لفظی م عام طور پر مسلمانوں کے نزدیک مہر نبوت کا مطلب نازل ہوا۔ بدرجہ اتم مکمل ہوا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ارتقاء کی منزلیں طے کیں یا ذہنی اور جسمانی طور پ اپنا آخری پیغام انسانیت کے لئے اتارا جو تاقیا انسانی ضروریات، مسائل، دشواریاں اور تکالیف کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ اللہ کریم نے اپنا آخری فرمایا اور حکم فرمایا کہ قیامت تک اس میں کوئی کمی ردو بدل کر سکتا ہے۔ یہی ”خاتم النبیین“ یا ”خ مطلب یہ ہے کہ ”وحی“ کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے

جناب والا! اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جب مسلمان ”خاتم النبیین“ کہتے ہیں تو اس کا محکم اور مستند تعبیر خود نبی کریم ﷺ نے فرمادی ہے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا) اس کا ماننا تمام مسلمانو کسی فرقہ نے کبھی بھی متنازعہ نہیں سمجھا۔ جناب غور کریں تو معلوم ہوگا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تک وہ ان کے درمیان موجود ہیں اس دنیا سے پردہ پوشی فرمالیں تو پھر وہ نبی کریم پکڑیں اور جس چیز سے قرآن نے منع کیا ہے اس دی ہے اس کو جائز سمجھیں۔

صفحہ ٢٨٧٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ دیگر امور میں ان بنیادی اصولوں کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے آپ اپنی تعبیر کر سکتے ہیں اور جو راستہ آپ صحیح سمجھتے ہیں اختیار کر سکتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس آزادی فکر کی وجہ سے ہم بہت سے فرقوں میں بٹ چکے ہیں ۔ گو یہ فرقہ بندی اسلام کا ایک طرہ امتیاز ہے اور جمہوریت نوازی کا مظہر ہے۔ اب میں بڑے ادب کے ساتھ آپ کی توجہ اس بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ مختلف فرقوں اور ان کے آپس میں کفر کے فتوؤں کے متعلق علامہ اقبال کیا کہتے ہیں۔ یہ اقتباس اس مباحثہ سے ماخوذ ہے۔ جب پنڈت جواہر لعل نہرو نے احمدیوں کے بارے میں کچھ کہا تو علامہ اقبال بھی اس مباحثہ میں شامل ہو گئے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں: ”ختمیت کے نظریہ سے یہ مطلب نہ اخذ کیا جائے کہ زندگی کے نوشتہ تقدیر کا انجام استدلال کے ہاتھوں جذباتیت کا مکمل اخلاء ہے۔ ایسا وقوع پذیر ہونا نہ تو ممکن ہی ہے اور نہ پسندیدہ ہے۔ کسی بھی نظریہ کی ذہنی قدرومنزلت اس میں ہے کہ کہاں تک وہ نظریہ عارفانہ واردات کے لئے ایک خود مختارانہ اور ناقدانہ نوعیت کے تحقیقی نقطۂ نگاہ کو جنم دینے میں معاون ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اندر اس اعتقاد کی تخلیق بھی کرے کہ اگر کوئی مقتدر شخص ان واردات کی وجوہ پر اپنے اندر کوئی مافوق الفطرت بنیاد کا داعیہ پاتا ہے تو وہ سمجھ لے کہ اس نوعیت کا داعیہ تاریخ انسانی کے لئے اب ختم ہو چکا ہے۔ اس طرح ہر یہ اعتقاد ایک نفسیاتی طاقت بن جاتا ہے جو مقتدر شخص کے اختیاری دعویٰ کو نشو و نما پانے سے روکتا ہے۔ ساتھ ہی اس تصور کا فعل یہ ہے کہ انسان کے لئے اس کے واردات قلبیہ کے میدان میں اس کے لئے علم کے نئے مناظر کھول دے۔“

پھر مرزا غلام احمد کے حوالے سے علامہ اقبال فرماتے ہیں: ”افتتاحیہ جملے سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ولی اور اولیاء حضرات نفسانی طریق پر دنیا میں ہمیشہ ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔ اب اس زمرہ میں مرزا صاحب شامل ہیں یا نہیں۔ یہ علیحدہ سوال ہے۔ مگر بات اصل یہی ہے کہ بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت قائم ہے ایسے حضرات مثالی زندگی پیش کر کے لوگوں کی رہنمائی کے لئے تمام اقوام اور تمام ممالک میں پیدا ہوتے رہیں گے۔ اگر کوئی شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ اس نے بشری وقوعات سے روگردانی کی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آدمی کو ہر زمانہ میں یہ حق ہے کہ ان حضرات کے واردات قلبیہ کا ناقدانہ طور پر تجزیہ کرے۔ ختمیت انبیاء کا مطلب یہ ہے جہاں اور بھی کئی باتیں ہیں کہ دینی زندگی میں جس کا انکار عذاب اخروی کا ابتلاء ہے۔ اس زندگی میں ذاتی نوعیت کا تحکم واقتدار اب معدوم ہو چکا ہے۔ اس لئے جناب والا! آئندہ کوئی فرد یہ کہنے نہیں آئے گا کہ مجھے وحی الٰہی ہوتی ہے اور

١٤٦

صفحہ ٢٨٧٥

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ دیگر امور میں ا رہتے ہوئے آپ اپنی تعبیر کر سکتے ہیں اور جو راستہ آپ بھی کوئی شک نہیں کہ اس آزادی فکر کی وجہ سے ہم بہت بندی اسلام کا ایک طرہ امتیاز ہے اور جمہوریت نوازی کا م آپ کی توجہ اس بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ مختلف ف کے متعلق علامہ اقبال کیا کہتے ہیں۔ یہ اقتباس اس مباحثہ نہرو نے احمدیوں کے بارے میں کچھ کہا تو علامہ اقبال اقبال فرماتے ہیں : ”ختمیت کے نظریہ سے یہ مطلب ن انجام استدلال کے ہاتھوں جذباتیت کا مکمل اخلاء ہے۔ ا پسندیدہ ہے۔ کسی بھی نظریہ کی ذہنی قدر و منزلت اس میں کے لئے ایک خود مختارانہ اور ناقدانہ نوعیت کے تحقیقی نقطہ ہی ساتھ اپنے اندر اس اعتقاد کی تخلیق بھی کرے کہ اگر کوئی اندر کوئی مافوق الفطرت بنیاد کا داعیہ پاتا ہے تو وہ سمجھ ل لئے اب ختم ہو چکا ہے۔ اس طرح ہر یہ اعتقاد ایک نفسیاتی اختیاری دعویٰ کو نشو ونما پانے سے روکتا ہے۔ ساتھ ہی اس کے واردات قلبیہ کے میدان میں اس کے لئے علم کے ن

پھر مرزا غلام احمد کے حوالے سے علامہ اقبال بالکل عیاں ہے کہ ولی اور اولیاء حضرات نفسانی طریق گے۔ اب اس زمرہ میں مرزا صاحب شامل ہیں یا نہیں ہے کہ بنی نوع انسان میں جب تک روحانیت کی صلاحیت کر کے لوگوں کی رہنمائی کے لئے تمام اقوام اور تمام مما شخص اس کے خلاف رائے رکھتا ہے تو اس کے یہ معنی روگردانی کی۔ فرق صرف یہ ہے کہ آدمی کوئی زمانہ یہ خو ناقدانہ طور پر تجزیہ کرے۔ ختمیت انبیاء کا مطلب یہ ہے میں جس کا انکار عذاب اخروی کا ابتلاء ہے۔ اس زندگی م ہو چکا ہے۔ اس لئے جناب والا! آئندہ کوئی فرد یہ کہنے

١٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

یہ اللہ کا پیغام ہے۔ جس کو ماننا تم پر لازم ہے۔ لازم صرف وہی ہے جو قرآن پاک میں پہلے سے آچکا ہے۔“ آگے علامہ اقبال کہتے ہیں: ”محمد رسول اللہ ﷺ کا سیدھا سادا ایمان دو اصولوں پر مبنی ہے کہ خدا ایک ہے اور دوئم کہ محمد ﷺ ان مقدس حضرات کے سلسلہ کی آخری ہستی ہیں جو تمام ممالک میں وقتاً فوقتاً بنی نوع انسان کو معاشرتی زندگی کا صحیح طریقہ گزارنے کی راہ بتلانے آتے رہے ہیں۔ کسی عیسائی مصنف نے عقیدے کی یہ تعریف کی ہے کہ عقیدہ ایک مسئلہ ہے جو عقلیت سے ماوراء ہے اور جس کے مابعد الطبیعاتی مفہوم کو سمجھے بوجھے بغیر ماننا مذہبی یک جہتی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اگر یہ بات ہے تو اسلام کی ان دو سادہ سی تجاویز کو عقیدے کے نام نامی سے موسوم ہی نہیں کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ ان دونوں کی واقعیت کی دلیل واردات باطنیہ بشریہ پر مؤید ہے اور بوقت بحث معقولیت کی صلاحیت کافی حد تک رکھتی ہے۔“

جناب والا! جیسے میں نے کفر کے بارے میں گزارشات کیں اور مختلف فرقوں کے ایک دوسرے پر کفر کی الزام تراشی کا ذکر کیا تو اس سلسلے میں محترم علامہ اقبال کہتے ہیں: ”کفر کے مسئلہ پر فیصلہ صادر کرنا کہ فلاں مخترع شخص دائرہ کے اندر ہے یا باہر اور وہ بھی ایسے مذہبی معاشرے کے اندر جو اتنے سادہ مسائل پر مبنی ہو جب ہی ممکن ہے جب کہ منکر ان دونوں سے یا ان میں سے ایک سے انکار کر دے۔“

محترم جناب علامہ اقبال کے نقطۂ نظر سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ اگر وہ ان دو اہم اصولوں میں سے کسی ایک کو بھی مسترد کرتا ہے۔ یعنی توحید اور ختم نبوت اور کفر کی قسم کا یہ مظہر چونکہ اسلام کی حدود پر خصوصیت سے اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام کی تاریخ میں ایسا وقوعہ شاذ و نادر ہی ہوا ہے۔ یہ اس وجہ پر مسلمان کے جذبات قدرتی طور پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ اگر اس نوعیت کی بغاوت رونما ہو جائے۔ یہی وجہ تھی کہ ایران کے اندر ”بہائیوں“ کے خلاف مسلمانوں کے احساسات شدید ہو گئے اور یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں کے جذبات اتنے زیادہ شدید ہوئے۔

ہاں! تو میں اس بات کی وضاحت کر رہا تھا کہ کس وجہ سے مرزا صاحب کے دعوے کے خلاف شدید ردّعمل ہوا۔ اب میں اس نکتہ پر محترم علامہ اقبال کے ایک اور قول کے اقتباس کا حوالہ دوں گا اور اس کے بعد اپنی معروضات کو جاری رکھوں گا۔ کفر کے سوال پر ایک دوسرے کو کافر.......)

(ایک ممبر : مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ہے)

(جناب یحییٰ بختیار : بس میں صرف یہی پڑھ لوں گا۔ محترم علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں :

١٤٧

صفحہ ٢٨٧٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

”یہ بات درست ہے کہ مسلمان فرقوں کے مابین معمولی اختلافی نکات کی وجہ سے ایک دوسرے پر کفر کی الزام تراشی خاصی کچھ عام سی رہی ہے۔ لفظ کفر کے اس قدر بے شعوری استعمال پر خواہ وہ کوئی چھوٹا موٹا دینیاتی اختلافی مسئلہ ہو یا کوئی حد درجہ کا کفریہ معاملہ جو اس شخص کو حدود اسلام سے خارج کر دے۔ بہرحال اس صورتحال پر ہمارے کچھ تعلیم یافتہ مسلمان جنہیں اسلامی فقہی اختلاف کی سرگزشت سے قطعاً کوئی واقفیت نہیں وہ اس مابین اختلاف میں امت مسلمہ کی سماجی اور سیاسی تار و پود کی ریخت کے آثار دیکھتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ خیال سراسر غلط ہے۔ مسلم فقہ کی تاریخ شاہد ہے کہ چھوٹے اختلافی نکات کی بناء پر کفر کا الزام دینا کسی انتشاری نہیں بلکہ اتحادی قوت کا سبب بنی ہے۔ دینی ادراک کو واقعتاً محرک بنا کر زود رفتاری فراہم کر رہی ہے۔“

پھر علامہ اقبال کسی یورپین پروفیسر ”ہرگراونجی“ کا قول ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں کہ: ”محمدی قانون کی ترقی میں جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہر دوسرے فقہا انتہائی معمولی سی تحریک پر پرجوش ہو کر ایک دوسرے کو اتنا برا بھلا کہتے ہیں کہ کفر کے فتوے تک لگاتے ہیں۔ مگر دوسری طرف یہی لوگ اپنے مقاصد کے زیادہ سے زیادہ اتحاد کے لئے اپنے پیشرووں کے باہمی تنازعات میں ہم آہنگی کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔“

اس سے آگے علامہ اقبال فرماتے ہیں: ”فقہ کا طالب علم جانتا ہے کہ آئمہ فقہ اس قسم کے کفر کو فنی اصطلاح میں کفر کمتر از کفر سے موسوم کرتے ہیں۔ کبھی اس طرح کا کفر مجرم کو دائرہ (اسلام) سے خارج نہیں کرتا۔“

جناب والا! اگر میں کمیٹی کو زیادہ زیر بار نہیں کر رہا تو اس مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے میں علامہ محمد اقبال کا ایک اور حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ کیونکہ مرزا ناصر احمد نے کہا تھا کہ اگر آپ احمدیوں یا قادیانیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو پھر اس کے بعد بیشتر حضرات، آغا خانیوں اور دیگر فرقے کے لوگوں کے خلاف بھی کاروائی کرنا پڑے گی۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی ایسا ہی سوال اٹھایا تھا۔ اس نے کہا تھا: ”اگر آپ قادیانیوں کی مذمت کرتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں تو پھر آپ کو ایسی ہی مذمت آغا خانیوں کی کرنا ہوگی۔“

محترم ڈاکٹر علامہ اقبال کا حوالہ دینے کے علاوہ اس سوال کا میرے پاس بہتر جواب نہیں ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں جو کچھ ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا وہ پڑھتا ہوں: ”ہز ہائی نس آغا خان کے متعلق ایک آدھ لفظ میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے آغا خان پر جو حملہ کیا ہے اس کو سمجھنا میرے لئے مشکل ہے۔ شاید ان کا خیال ہے کہ قادیانی اور اسماعیلی دونوں ایک ہی زمرہ میں

١٤٨

صفحہ ١٤٩

SSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

”یہ بات درست ہے کہ مسلمان فرقوں کے مابین معمولی ا کفر کی الزام تراشی خاصی کچھ عام سی رہی ہے۔ لفظ کفر کوئی چھوٹا موٹا دینیاتی اختلافی مسئلہ ہو یا کوئی حد درجہ کا کفر خارج کردے۔ بہرحال اس صورتحال پر ہمارے کچھ تعلیم ی کی سرگذشت سے قطعاً کوئی واقفیت نہیں وہ اس مابین اختلا تار و پود کی ریخت کے آثار دیکھتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ خیا ہے کہ چھوٹے اختلافی نکات کی بناء پر کفر کا الزام دینا ک بنی ہے۔ دینی ادراک کو واقعتاً مرکب بنا کر زور رفتاری فرا

پھر علامہ اقبال کسی یورپین پروفیسر ”مرگراوتھ“ ک ”محمدی قانون کی ترقی ہے جب ہم تاریخ کا مطالعہ کر فقہا انتہائی معمولی سی تحریک پر پرجوش ہو کر ایک دوسرے پ لگاتے ہیں۔ مگر دوسری طرف یہی لوگ اپنے مقاصد ک پیشروؤں کے باہمی تنازعات میں ہم آہنگی کی کوشش میں ل

اس سے آگے علامہ اقبال فرماتے ہیں: ”فق کفر کو فنی اصطلاح میں کفر کمتر از کفر سے موسوم کرتے ہ (اسلام) سے خارج نہیں کرتا۔“

جناب والا! اگر میں کمیٹی کو زیادہ زیر بار نہیں ک علامہ محمد اقبال کا ایک اور حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ ی احمدیوں یا قادیانیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو پ اور دیگر فرقے کے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کرنا پڑ ہی سوال اٹھایا تھا۔ اس نے کہا تھا: ”اگر آپ قادیانیو ہیں تو پھر آپ کو ایسی ہی مذمت آغا خانیوں کی کرنا ہوگی

محترم ڈاکٹر علامہ اقبال کا حوالہ دینے کے ب نہیں ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں جو کچھ ڈاکٹر پ نس آغا خان کے متعلق ایک آدھ لفظ میں پنڈت جواہر ن سمجھنا میرے لئے مشکل ہے۔ شاید ان کا خیال ہے کہ و

١٤٨

2877 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

آتے ہیں۔ شاید وہ نہیں جانتے کہ اسماعیلی دینی مسائل کی خواہ کچھ بھی تعبیر کریں اسلام کے بنیادی اصولوں پر انکا ایمان ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ عقیدہ ”حاضر امام“ کے ماننے والے ہیں۔ لیکن ان کے امام پر وحی کا نزول نہیں ہوتا۔ وہ صرف اسلامی قانون کی شرح کرنے والا ہوتا ہے۔ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے۔ (حوالہ الہ آباد سے شائع ہونے والا ”سٹار“ مورخہ ١٢ مارچ ١٩٣٩ء) کہ ہر ہائی نس آغا خان نے اپنے پیروکاروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ”گواہ رہو کہ اللہ ایک ہے۔ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ کعبہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ آپ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہیں۔ مسلمانوں کو السلام علیکم کہہ کر خوش آمدید کہیں۔ اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھیں۔ مسلمانوں کے ساتھ مسجدوں میں باجماعت نماز ادا کریں۔ روزے باقاعدگی سے رکھیں۔ اپنی شادی نکاح اسلامی قانون کے مطابق کریں۔ تمام مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھیں۔“

پھر علامہ اقبال فرماتے ہیں: ”اب یہ پنڈت نہرو فیصلہ کریں کہ آغا خان اسلامی یک جہتی کی نمائندگی کرتے ہیں یا نہیں۔“

جناب والا! اب اس قصہ بحث کو ختم کرتا ہوں۔ کیونکہ وہ (مغرب کی نماز) پڑھنا چاہتے ہیں)

(محترمہ قائمقام چیئرمین: جی ہاں! اب مغرب کی نماز کا وقت ہے)

(جناب یحییٰ بختیار: میں مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ شروع کروں گا)

(محترمہ قائمقام چیئرمین: اجلاس سوا سات بجے شام ہوگا۔ ہاؤس کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے)

(کمیٹی کا اجلاس سوا سات بجے شام تک ملتوی ہوا)

----------------------------------------

(کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوا)

(جناب چیئرمین: صرف دو منٹ! اراکین کو آ لینے دیں۔ اگر اٹارنی جنرل صاحب کی بحث اور دیگر کوئی ممبر جو خطاب کرنا چاہے آج ختم ہو جائے تو پھر آج رات کو ہم کارروائی مکمل کرلیں گے۔ ورنہ کل صبح اجلاس ہوگا۔ اگر آج رات کوئی کام باقی رہ گیا تب ہم بطور

١٤٩

صفحہ ٢٨٧٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

خصوصی کمیٹی اڑھائی بجے دن اجلاس کریں گے اور ساڑھے چار بجے بعد دوپہر بطور نیشنل اسمبلی اجلاس کریں گے۔ اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہ کل فیصلہ کریں گے۔ بس صرف چوبیس گھنٹے انتظار کر لیں۔ کل ساڑھے چار بجے بعد دوپہر ہم بطور نیشنل اسمبلی اجلاس کریں گے۔

حالات کے مدنظر ایم۔این۔اے حضرات کے خاندان کے افراد ہی کو صرف پاس جاری کئے جائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ممبران کو ناگوار نہ ہوگا اور اسمبلی کے اندر داخلہ کے بارے میں قواعد پر سختی سے عمل ہوگا نہ صرف اسمبلی کے اندر بلکہ کیفے ٹیریا میں اور دوسری جگہوں پر بھی (ایسا ہی ہوگا) کل ساڑھے چار بجے بعد دوپہر گیٹ نمبر ٣ اور ٤ سے کسی شخص کو جب تک کہ اس کے ساتھ پاس نہ ہو داخلہ کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔ (وقفہ)

(جناب چیئرمین: مجھے افسوس ہے کسی شخص کو بھی ممبران کے داخلے کے بارے میں قدغن لگانے کا اختیار نہیں۔ ممبران کو اجازت ہوگی یہ بات میرے نوٹس میں لائی گئی ہے۔ مجھے افسوس ہے (کہ میں نے پہلے کچھ اور کہا) ممبران کو اجازت ہوگی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر ہمیں کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اٹارنی جنرل صاحب ہمیں اب کاروائی شروع کرنا چاہئے)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا!)

(جناب چیئرمین: مجھے افسوس ہے۔ مجھے وہاں جانا پڑا۔ میں تو آپ کے دلائل سننا چاہتا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے اپنا چیمبر بھی بند کرنا پڑا)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں مسلمانوں کے ”ختم نبوت“ یا ”خاتم النبیین“ کے تصور کے بارے میں معروضات پیش کر رہا تھا۔ مرزا غلام احمد نے پہلے امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا پھر اس نے دعویٰ کیا کہ وہ ایسا نبی ہے جس کا اپنا قانون (شریعت) ہے۔ ایک وحی کا ذکر کرتے ہوئے اس نے کہا اس کے پاس خدائی احکامات ہیں۔ جن میں امر و نہی شامل ہیں۔ یہ بات صرف مرزا غلام احمد نے ہی نہیں کہی۔ بلکہ اس کا بیٹا بشیر الدین محمود احمد اپنی کتاب ”احمدیت یا سچا اسلام“ میں لکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنے ماننے والوں کے لئے ضابطہ حیات کا مکمل ذخیرہ چھوڑا ہے۔ کتاب کے ص ٥٦ سے اقتباس میں پڑھتا ہوں: ”میں ابھی ابھی بتاؤں گا کہ اس (مرزا غلام احمد) نے ہمارے لئے اخلاقیات اور ضابطہ حیات کا مکمل ذخیرہ چھوڑا ہے۔ تمام ذی عقل انسانوں کو یہ ماننا پڑے گا کہ ان پر عمل کرنے سے ہی مسیح موعود کی آمد کے مقاصد کی تکمیل ہو سکتی ہے۔“

تو جناب والا! بات یہ تھی۔ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ صرف قرآن ہی مکمل ضابطہ

١٥٠

صفحہ ٢٨٧٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

حیات ہے۔ مگر ایک اور نبی آجاتا ہے۔ جو کہ بغیر شریعت امتی نبی ہونے کا دعویدار ہے اور اپنے پیروکاروں کے لئے مکمل ضابطہ حیات چھوڑ جاتا ہے۔

(مرزا ناصر ناکام رہا)

جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں۔ پھر وہ (مرزاغلام احمد) مزید بلندی اور بہتر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ معزز اراکین شہادت سماعت فرما چکے ہیں۔ بس میں ریکارڈ سے صرف ایک یا دو باتوں کا ذکر کروں گا۔ اس (مرزاغلام احمد) نے کہا نبی کریم ﷺ کے دور میں اسلام کی مثال پہلی کے، چاند کی مانند تھی۔ مگر مسیح موعود کے دور میں اس کی مثال بدر کامل جیسی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایوان کی جانب سے میں نے مرزا ناصر احمد کو اس بات کی وضاحت کرنے کا پورا پورا موقع دیا۔ لیکن میری ناقص رائے میں وہ بالکل ناکام رہا۔ شروع میں اس نے جواب دیا کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں اسلام صرف عرب تک محدود تھا۔ پھر اس نے پینترا بدلا اور کہا ہر دور نبی کریم ﷺ کا ہی دور ہے اور ابدالآباد تک رہے گا۔ اس کے بعد کہا کہ مرزا غلام احمد کے دور میں اسلام یورپ کے کئی ممالک تک پھیل گیا تھا۔ جب میں نے کہا کہ مسیح موعود کے زمانے میں تو اسلام کو تمام دنیا میں پھیلنا چاہئے تھا اور اس زمانے میں کوئی غیر مسلم نہیں ہونا چاہئے تھا۔ مسیح موعود کے زمانے کا تو یہ مطلب ہے۔ اس پر مرزا ناصر احمد نے کہا کہ نہیں، یہ زمانہ دو تین سو سال تک حاوی ہے۔ جہاں تک حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے کا تعلق ہے۔ وہ ان کی حیات طیبہ تک اور عرب تک محدود ہے۔ یہ واضح تضادات ہیں۔ لیکن اس قسم کے دعوے کئے گئے اور بھی حوالے ہیں۔ جن کو ممبران سماعت فرما چکے ہیں۔ مگر وہ قصیدہ یا نظم جو مرزا غلام احمد کی مدح یا تعریف میں پڑھی گئی۔ ضرور قابل ذکر ہے۔ اس قصیدہ یا نظم کا ایک شعر ہے:

”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بھی بڑھ کر ہیں اپنی شان میں“

یہ قصیدہ مصنف کے مطابق مرزا غلام احمد کی موجودگی میں پڑھا گیا۔ مرزا ناصر احمد نے پہلے کہا کہ یہ (مرزاغلام احمد کی موجودگی میں) نہیں پڑھا گیا۔ اگر وہ (مرزاغلام احمد) یہ سن لیتا تو وہ اس قصیدے کو ناپسند کرتا اور اس کے مصنف کو جماعت سے خارج کردیتا۔ پھر مرزا ناصر احمد کو میں نے بتایا کہ ١٩٠٦ء کے ”بدر“ نامی قادیانی اخبار میں یہ نظم شائع ہوئی تھی اور یہ بات ناقابل یقین ہے کہ مرزا غلام احمد نے اسے نہ پڑھا ہو۔ یہ اس کا اپنا اخبار تھا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ مرزا غلام احمد

١٥١

صفحہ ٢٨٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کے پیروکاروں نے اسے اس نظم کے بارے میں نہ بتایا ہو۔ اس پر مرزا ناصر احمد نے کہا کہ اکمل نے یہ نظم لکھی۔ اس کی نظموں کا مجموعہ کتاب کی شکل ١٩١٠ء میں شائع ہوا۔ تو مندرجہ بالا شعر اس سے حذف کر دیا گیا تھا۔ کمیٹی اس بات پر غور کر سکتی ہے۔ لیکن ہمارا تعلق مرزا غلام احمد کے وقت سے ہے۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد نے اس وقت اس شعر کو ناپسند یا نامنظور کیا ہو۔ بلکہ اس کے برعکس ١٩٣٤ء میں مصنف نے بذات خود کہا تھا کہ اس نے یہ نظم اور شعر مرزا غلام احمد کی موجودگی میں پڑھی تھی اور مرزا غلام احمد نے اسے پسند کیا تھا اور وہ (مرزا غلام احمد ) اس نظم کو اپنے ساتھ گھر لے گیا تھا۔ تاہم مرزا ناصر احمد نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ اس کی تردید ١٩٥٤ء اخبار الفضل میں کر دی گئی تھی۔ اس موضوع پر میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ گو مرزا ناصر احمد نے اس بات کو ایک دوسرے طریقے سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ اسی نظم میں ایک اور شعر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد برتری کا دعویٰ نہیں کرتا۔ لیکن میں کچھ اور گزارش نہیں کرنا چاہتا۔ جناب والا! یہ حالات تھے جن کے تحت مرزا غلام احمد نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر مرحلہ وار اپنے مرتبے خود ہی بلند کرتا چلا گیا۔ جناب والا! اب میں اختصار کے ساتھ مرزا غلام احمد یا قادیانیوں کے ”ختم نبوت“ اور ”خاتم النبیین“ کے تصور کے بارے میں معروضات کروں گا۔ عام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ مگر قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ”خاتم النبیین“ کا مطلب یہ ہے کہ سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نبی نہیں آئے گا اور جو نبی ہو گا وہ امتی نبی ہوگا اور اس کی نبوت پر حضرت نبی کریم ﷺ کی مہر ہوگی۔ مہر نبوت سے قادیانی یہی مطلب لیتے ہیں۔ نیا نبی اپنی شریعت لے کر نہیں آئے گا۔ اس وقت تک ان کا عقیدہ تھا کہ نہ صرف ایک بلکہ کئی نبی آئیں گے اور اس طرح بات کو خلط ملط کرتے رہے ۔ اس موضوع پر مرزا بشیر احمد اپنی کتاب ”ریویو آف ریلیجن“ ص ١١٠ پر لکھتا ہے۔ (یہ میں نے مرزا ناصر احمد کو بھی پڑھ کر سنایا تھا): ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں ضرور آ سکتے ہیں ۔“

(انوار خلافت ص ٦٥)

١؎ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود کا حوالہ نیچے ہے۔ ”اگر میری گردن“ سے شروع ہو رہا ہے۔ ریویو ریلیجنز کا حوالہ درج نہیں۔ جب کہ ریویو مرزا محمود کا نہیں بلکہ بشیر ایم اے کا ہے۔

١٥٢

صفحہ ٢٨٨١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

پھر ”انوار خلافت“ ص ٦٢ تا ٦٥ پر لکھتا ہے: ”یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٨)

پھر ”انوار خلافت“ میں لکھتا ہے: ”انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا، میں کہتا ہوں کہ ہزاروں نبی ہوں گے۔“

یہ تحریر جب مرزا ناصر احمد کو بتائی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ امکانی صورت کے طور پر ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے۔ ان کا یہ مطلب نہیں کہ کئی نبی آئیں گے۔ ماسوائے مرزا غلام احمد کے ایک اور پہلو جو غالباً براہ راست متعلق نہیں ہے۔ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کا بیٹا دیدہ دلیری سے کہتا ہے: ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تم جھوٹے ہو، کذاب ہو۔ اس کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔“)

----------

(اس موقعہ پر جناب محمد حنیف خان صاحب نے کرسی صدارت سنبھالی)

----------

(ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر مرزا نے اپنی وحی کا اظہار روک دیا)

(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا ! یہ ایک بہت ہی بے باکی کی بات ہے۔ ایک ایسے شخص کے بیٹے کی طرف سے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ لیکن جب آپ اس کا موازنہ اس نبی کے اپنے ذاتی کردار کے ساتھ کریں تو انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد کے خلاف گورداسپور کی ضلع کچہری میں ایک استغاثہ دائر ہوا تھا۔ مرزا غلام احمد نے مستغیث کے خلاف کوئی پیش گوئی کی تھی۔ جس پر مستغیث نے دعویٰ دائر کر کے عدالت سے درخواست کی کہ مرزا غلام احمد کو اس قسم کی پیش گوئیاں کرنے سے باز رکھا جائے۔ اس پر مرزا غلام احمد نے تحریری طور پر عدالت میں اقرار کیا کہ وہ آئندہ کسی کے خلاف اس کی موت یا تباہی کی پیش گوئی نہیں کیا کرے گا اور نہ ہی اس بارے میں موصول ہونے والی وحیوں کا اظہار کرے گا۔ اب آپ ہی اندازہ لگائیں۔ یہ ہے خدا کا نبی جو ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کے تحت خدا تعالیٰ سے موصول ہونے والی ”وحی“ کے ظاہر کرنے سے رک جاتا ہے اور اس کا بیٹا کیا کہتا ہے۔

١٥٣

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کے پیروکاروں نے اسے اس نظم کے بارے میں نہ بتا نے یہ نظم لکھی۔ اس کی نظموں کا مجموعہ کتاب کی شکل ١٩١٠ حذف کر دیا گیا تھا۔ کمیٹی اس بات پر غور کر سکتی ہے۔ ج ہے۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مر نا منظور کیا ہو۔ بلکہ اس کے برعکس ١٩٣٢ء میں مصنف ۔ مرزا غلام احمد کی موجودگی میں پڑھی گئی اور مرزا غلام ا احمد ) اس نظم کو اپنے ساتھ گھر لے گیا تھا۔ تاہم مرزا ناص اس کی تردید ١٩٥٤ء اخبار الفضل میں کر دی گئی تھی۔ اس مرزا ناصر احمد نے اس بات کو ایک دوسرے طریقے سے اسی نظم میں ایک اور شعر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ م میں کچھ اور گزارش نہیں کرنا چاہتا۔ جناب والا! یہ حالا نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر مرحلہ وار اپنے مرتبے خود ہی بل کے ساتھ مرزا غلام احمد یا قادیانیوں کے ”ختم نبوت“ ا معروضات کروں گا۔ عام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ا آئے گا۔ مگر قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ”خاتم النبیین“ مذہب میں نبی نہیں آئے گا اور جو نبی ہوگا وہ امتی نبی ہ کی مہر ہوگی۔ مہر نبوت سے قادیانی یہی مطلب کہتے ہی اس وقت تک ان کا عقیدہ تھا کہ نہ صرف ایک بلکہ کئی کرتے رہے۔ اس موضوع پر مرزا بشیر احمد اپنی کتاب ( میں نے مرزا ناصر احمد کو بھی پڑھ کر سنایا تھا):

”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اس آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں ضرور آسکتے ہیں ۔“

__________

١؎ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مرزا گردن “ سے شروع ہو رہا ہے۔ ریویو ریلجنز کا حوالہ دو بشیر ایم اے کا ہے۔

١٥٢

صفحہ ٢٨٨٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جناب والا! یہی بات کہ کئی نبی آئیں گے۔ اس جدول میں بھی ملتی ہے جو جماعت احمدیہ ربوہ کی طرف سے داخل کیا گیا ہے۔ مولوی ابوالعطاء جالندھری کی کتاب کے ص ٨ (جس کا حوالہ مرزا ناصر احمد کو بھی دیا گیا تھا) پر لکھا ہے: ”خاتمیت محمدیہ یا آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین ماننے والوں کے دو نظریے ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نے دیگر انبیاء کے فیوض کو بند کر کے فیضان محمدی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کو آپ ﷺ کی پیروی کے طفیل وہ تمام انعامات ممکن الحصول ہیں جو پہلے منعم علیہم کو ملتے رہے ہیں۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد خاتمیت فیضان محمدی کے بند ہونے کے مترادف ہے۔ آپ ﷺ کی امت ان تمام اعلیٰ انعامات سے محروم ہو گئی جو بنی اسرائیل اور پہلی امتوں کو ملتے رہے ہیں۔“

یہ تحریر میں نے مرزا ناصر احمد کو بتائی تو اس نے جواب دیا کہ اس کا تعلق نبیوں یا ان کی آمد سے نہیں ہے۔ گو کہ کتاب کا موضوع یہی ہے تاہم کچھ بھی ہو۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ اور نبی آئیں گے اور اسی نظریہ یا عقیدہ کو نقشبندی سمجھتے ہیں۔ مگر دوسری طرف کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد ہی وہ نبی ہے جس نے آنا تھا۔

جناب والا! جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کا اسلام پر یا مسلمانوں کے حوالے سے کیا اثرات ہوئے۔ جب اس نے یہ دعویٰ کیا تو قدرتی طور پر مسلمانوں میں احساس اور خیال پیدا ہوا کہ جو شخص نبی کریم ﷺ پیغمبر اسلام کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ جھوٹا ہے۔ یہ ایک قدرتی رد عمل تھا کہ ایسا شخص مسلمانوں کے مذہبی اور معاشرتی نظام کو تہ و بالا کرنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اس شخص نے اسلام کے بنیادی تصور کے خلاف بغاوت کی تھی اور اسلام کی جڑ کاٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس لئے فطری طور پر اس کا شدید رد عمل ہوا۔

(مرزا کی عیاری)

جناب والا! پیشتر ازیں کہ میں اس دعوے کے اثرات کی تفصیل میں جاؤں میں مختصراً یہ عرض کروں گا کہ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد کن حالات میں جلسوں وغیرہ کو خطاب کیا۔ جناب والا! اس سے مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت کا ایک اور پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اس کی زندگی تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا، دوسرا، تیسرا! ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد کی زندگی کے تیسرے مرحلے میں بھی ایک ایسا بیان ملتا ہے جس کی مثل پہلے مرحلہ میں

١٥٤

صفحہ ٢٨٨٣

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

بھی موجود ہے۔ جس میں وہ نبوت کے دعوے کا انکاری ہے اور کہتا ہے کہ اس کا مطلب یہ تھا اور یہ نہیں تھا۔ وغیرہ، وغیرہ! میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی مرزا غلام احمد کی مخالفت شدت اختیار کر جاتی تھی یا جب بھی وہ اپنے آپ کو لاجواب پاتا تھا تو وہ اپنی بات تبدیل کر لیتا تھا۔ لیکن بعد میں پھر نہایت ہوشیاری اور مکاری سے (بات کو بدل کر) اپنی نبوت کا اعلان کر دیتا تھا۔

جناب والا! نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد ١٨٩١ء میں وہ دہلی جاتا ہے۔ یہاں میں مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب ”احمدیہ یا آخری دنوں کا پیغام“ کے ص ٣٢ تا ٣٤ کا حوالہ دوں گا۔ ممکن حد تک میں اختصار سے کام لوں گا۔ تاہم عرض کرنا ضروری ہے کہ ایسے جلسوں میں کیا ہوتا رہا۔ جس کی وضاحت میں بعد میں کروں گا: ”بحث مباحثہ کے لئے جامع مسجد بطور جائے مناظرہ مقرر کی گئی تھی۔ یہ تمام امور مخالفین نے خود طے کئے تھے اور احمد کو اس کی اطلاع نہیں دی گئی۔ جب بحث مباحثہ کا وقت آیا، دہلی کا حکیم عبدالمجید خان گاڑی لے کر آیا اور مسیح موعود کو جامع مسجد جانے کی درخواست کی۔ مگر مسیح موعود نے جواب دیا کہ لوگوں کے جوش اور ولولہ کے مدنظر نقص امن کا خطرہ ہے۔ اس لئے جب تک پولیس انتظامات نہ کر لے وہ (مسیح موعود) وہاں نہیں جائے گا۔ مزید کہا کہ بحث مباحثہ کے متعلق اس سے پہلے مشورہ کیا جانا چاہئے تھا اور بحث مباحثہ کی شرائط پہلے طے ہونا فریقین کے مابین ضروری تھیں۔ مرزا غلام احمد کی جامع مسجد سے غیر حاضری کے باعث عوام کا جوش وخروش اور زیادہ ہو گیا۔ اس لئے مرزا غلام احمد نے اعلان کیا کہ اگر دہلی کے مولوی نذیر حسین جامع مسجد کے اندر قرآن پر حلف لے کر کہیں کہ قرآن مجید کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وفات نہیں ہوئی اور ایسی قسم لینے کے ایک سال کے اندر اندر مولوی نذیر حسین پر عذاب الٰہی نازل نہ ہوا۔ تب مرزا غلام احمد جھوٹا قرار پائے گا اور وہ اپنی تمام کتابیں جلا دے گا۔ اس نے حلف لینے کی تاریخ بھی مقرر کر دی۔ مولوی نذیر حسین کے حمایتی اس تجویز سے بہت پریشان ہو گئے اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ لیکن عوام بضد تھے۔ عوام کا کہنا تھا کہ مولوی نذیر حسین، مرزا غلام احمد کی تجویز سن لیں اور قسم لے لیں کہ وہ جھوٹا ہے۔ جامع مسجد میں ایک جم غفیر جمع تھا۔ لوگوں نے مسیح موعود کو مشورہ دیا کہ وہ مسجد میں نہ جائیں۔ کیونکہ شدید ہنگاموں کا خطرہ موجود تھا۔ تاہم وہ اپنے بارہ ”حواریوں“ کے ہمراہ وہاں گیا۔ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھی بارہ حواری تھے۔ یہ بارہ کی تعداد بذات خود ایک اشارہ تھا۔ جناب والا! اس کا نوٹس لیا جائے) جامع مسجد کی بہت بڑی عمارت اندر اور باہر سے آدمیوں سے بھری پڑی تھی۔ حتیٰ کہ سیڑھیوں پر بھی عوام کا ہجوم تھا۔ انسانوں کے اس سمندر سے جن کی آنکھوں میں غم وغصہ کے سبب

١٥٥

صفحہ ٢٨٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

خون اترا ہوا تھا۔ مسیح موعود اور اس کی مختصر سی جماعت گذر کر محراب تک پہنچے اور اپنی جگہ سنبھال لی۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور دیگر افسران بمعہ تقریباً ایک سو سپاہیوں کے امن قائم کرنے کی خاطر وہاں آئے ہوئے تھے۔ ہجوم کے اندر بہت سے لوگوں نے اپنی قمیصوں کے اندر پتھر چھپا رکھے تھے اور ذرا سے اشارہ پر یہ پتھر وہ احمد اور اس کے ساتھیوں کو مارنے کے لئے بالکل تیار بیٹھے تھے۔ اس طرح مسیح ثانی کو مکاری سے شکار کرنا مقصود تھا۔ وہ مسیح ثانی کو سولی پر لٹکانے کی بجائے سنگسار کرنا چاہتے تھے۔ زبانی بحث مباحثہ میں جو اس کے بعد ہوا وہ ناکام رہے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے مسئلے پر بحث کرنے پر رضامند نہ ہوئے۔ ان میں سے کوئی بھی مجوزہ حلف لینے کو تیار نہ تھا اور نہ ہی مولوی نذیر حسین کو حلف لینے کی اجازت دے رہے تھے۔ اس مرحلہ پر خواجہ محمد یوسف پلیڈر علیگڑھ نے مسیح موعود سے اس کے ایمانی عقائد کے بارے میں ایک تحریری بیان لیا اور (عوام کے سامنے) پڑھنے کے لئے تیار ہوا۔ لیکن چونکہ مولویوں نے عوام سے کہہ رکھا تھا کہ مسیح موعود نہ قرآن نہ فرشتوں اور نہ ہی نبی کریمﷺ کو مانتا ہے۔ اس لئے ان کو خطرہ تھا کہ مذکورہ بالا تحریری بیان پڑھنے سے ان کا فریب ظاہر ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے عوام کو اکسایا۔ فوراً ہی ایک قطار بنادی گئی اور اس طرح خواجہ یوسف کو بیان پڑھنے سے روک دیا گیا۔ افسران پولیس نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سپاہیوں کو ہجوم منتشر کرنے کا حکم دے دیا اور اعلان کر دیا کہ کوئی بحث مباحثہ نہیں ہوگا۔ اس پر ہجوم منتشر ہو گیا۔ پولیس نے مسیح موعود کے گرد گھیرا ڈال دیا اور (حفاظت سے) اسے مسجد سے باہر نکالا۔‘‘

جناب والا! یہ اقتباس تفصیل کے ساتھ پڑھنے کے میرے دو مقاصد ہیں۔ ابھی میں کچھ اور حوالہ جات بھی پڑھوں گا۔ سب سے پہلے یہ کہ اس (مسیح موعود) نے کیا کہا اور کیا لکھ کر دیا تھا۔ جب کہ اسے مخالف عوام کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء کا ذکر ہے۔ الفاظ یہ ہیں: ’’ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت والجماعت کا ہے۔۔۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا جامعہ مسجد دہلی میں کرتا ہوں اور میں خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٥٥)

(لفظ نبی سے انکار پھر اسی لفظ کا استعمال)

جناب والا! دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ (مرزا غلام احمد) اپنی نبوت کا پرچار اور وضاحت

١٥٦

صفحہ ٢٨٨٥

2885 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

پولیس کی بھاری جمعیت کے بیچ ہی کر سکتا تھا۔ جناب والا ! میں یہ سوالات پوچھتا رہا ہوں۔ ایک مرتبہ جب وہ عبدالحکیم کلانور والے کے ساتھ مناظرہ کر رہا تھا اور جب دیکھا کہ مسلمان اس کی نبوت کے دعوے کے خلاف سخت غصہ میں ہیں تو اس (مرزا غلام احمد) نے اعلان کر دیا کہ اس نے سادگی میں اپنے بارے میں نبی کا لفظ لکھ دیا ہے۔ جب کہ اس کا مدعا محدث سے ہے۔ اس لئے اس کی تحریروں میں مسلمانوں کو جہاں جہاں نبی کا لفظ ہے۔ وہ اس کو محدث سے تبدیل کرلیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد بھی مرزا غلام احمد نے اپنے بارے میں نبی کا لفظ لکھنا شروع کر دیا اور اس کی کوئی معقول وضاحت بھی نہ کی۔ اس کے متعلق میں نے لاہوری گروپ والوں سے متعدد سوالات کئے۔ کیونکہ اس نقطہ سے ان کا زیادہ تعلق تھا۔ اس ضمن میں سب سے پہلے یہ جواب دیا گیا کہ چونکہ عوام کو غلط فہمی ہو جاتی تھی۔ اس لئے وہ (مرزا غلام احمد) نبی کہلوانا اس کا عندیہ نہیں تھا۔ وہ یہ نہیں کہتا تھا کہ حقیقی معنی میں وہ نبی ہے۔ وہ ایک محدث تھا۔ جیسا کہ لاہوری گروپ والے لکھتے ہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد نے حکم دیا کہ اس کے بارے میں نبی کا لفظ منسوخ تصور کیا جائے۔ جب میں نے سوال کیا کہ مرزا غلام احمد نے پھر نبی کا لفظ استعمال کرنا کیوں شروع کر دیا۔ تو لاہوری گروپ نے جواب دیا کہ کچھ لوگوں کو غلط فہمی تھی۔ اس لئے ان کے لئے اس نے ترمیم کر دی۔ اوروں کو، کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ اس لئے اس نے (نبی) کے لفظ کا استعمال جاری رکھا۔ پھر میں نے اس (لاہوری گروپ) سے پوچھا کہ جب مرزا غلام احمد خود اپنے کو نبی کہتا تھا۔ خواہ کسی معنی میں سہی۔ تو آپ اسے اسی مخصوص معنی میں نبی کیوں نہیں مانتے۔ جس کے تحت آپ کہتے ہیں کہ نبی کا مطلب غیر نبی ہوتا ہے۔ کیونکہ ربوہ والے مرزا غلام احمد کو کسی نہ کسی معنی میں نبی کہتے ہیں۔ مجھے یہ سن کر افسوس ہوا کہ لاہوری گروپ والے مرزا غلام احمد کو نبی محض اس وجہ سے نہیں کہتے کہ یہ کہنے سے لوگ طیش میں آ جاتے ہیں۔ تو یہ کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ مصلحت کے تحت تھا۔ لاہوری گروپ والے نبی کا لفظ کیوں استعمال نہیں کرتے؟ وجہ ظاہر ہے۔ جناب والا ! ان تین ادوار میں مرزا غلام احمد حالات کے تحت بیان تبدیل کر دیا کرتا تھا۔

اب میں ایک یا دو دیگر جلسوں کا ذکر کروں گا جن کو مرزا غلام احمد نے خطاب کیا۔ ان میں سے ایک جلسہ لاہور میں ہوا۔ ایک مرتبہ پھر میں اس کے بیٹے کی کتاب کا حوالہ دوں گا۔ وہ کہتا ہے: ”اس کے قیام کے دوران سارے شہر میں شور و غوغا تھا۔ صبح سے شام تک لوگوں کا ہجوم اس مکان کے باہر جس میں مسیح موعود قیام پذیر تھا۔ منتظر رہتا تھا۔ وقفہ وقفہ سے مخالفین آتے اور اسے گالیاں دیتے۔ ان میں جو زیادہ سرکش ہوتے وہ مرزا غلام احمد کے ذاتی کمرے کی طرف زبردستی جانے کی

١٥٧

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

خون اترا ہوا تھا۔ مسیح موعود اور اس کی مختصر سی جماعت کو سپرنٹنڈنٹ پولیس اور دیگر افسران بمعہ تقریباً ایک سو آئے ہوئے تھے۔ ہجوم کے اندر بہت سے لوگوں نے ذرا سے اشارہ پر یہ پتھر وہ احمد اور اس کے ساتھیوں کو طرح مسیح ثانی کو مکاری سے شکار کرنا مقصود تھا۔ وہ مسیح چاہتے تھے۔ زبانی بحث مباحثہ میں جو اس کے بعد ہوا موت کے مسئلے پر بحث کرنے پر رضامند نہ ہوئے۔ ا تھا اور نہ ہی مولوی نذیر حسین کو حلف لینے کی اجازت پلیڈر علیگڑھ نے مسیح موعود سے اس کے ایمانی عقائد کے سامنے پڑھنے کے لئے تیار ہوا۔ لیکن چونکہ مولو قرآن نہ فرشتوں اور نہ ہی نبی کریم ﷺ کو مانتا ہے بیان پڑھنے سے ان کا فریب ظاہر ہو جائے گا۔ چنا بنا دی گئی اور اس طرح خواجہ یوسف کو بیان پڑھنے نزاکت کو دیکھتے ہوئے سپاہیوں کو ہجوم منتشر کرنے مباحثہ نہیں ہوگا۔ اس پر ہجوم منتشر ہو گیا۔ پولیس نے سے ) اسے مسجد سے باہر نکالا۔“

جناب والا ! یہ اقتباس تفصیل کے ساتھ کچھ اور حوالہ جات بھی پڑھوں گا۔ سب سے پہلے یہ تھا۔ جب کہ اسے مخالف عوام کا سامنا کرنا پڑا۔ ”ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہـ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقر میں خاتم الانبیاء کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(لفظ نبی سے انکار پھر

جناب والا ! دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ (مـ

٥٦

صفحہ ٢٨٨٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کوشش کرتے۔ جنہیں طاقت کے استعمال سے باہر نکالنا پڑتا۔ دوستوں کے مشورہ پر لاہور میں ایک عوامی لیکچر کا انتظام کیا گیا۔ یہ ایک لکھی ہوئی تقریر تھی جسے ایک بڑے ہال میں مولوی عبدالکریم نے پڑھا۔ مسیح موعود اس وقت پاس ہی موجود تھا۔ کوئی تو دس ہزار کے قریب سامعین تھے۔ جب تو یہ پڑھی جا چکی تو سامعین نے درخواست کی کہ اب مسیح موعود خود الفاظ زبانی بھی کہے۔ اس پر وہ یکدم کھڑا ہو گیا اور تقریباً آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ چونکہ یہ بات تجربہ میں آچکی تھی کہ مسیح موعود جہاں بھی جاتا تھا تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگ اس کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ خاص طور پر نام نہاد مسلمان۔ اس لئے پولیس نے مسیح موعود کی حفاظت کے لئے بہت عمدہ انتظامات کر رکھے تھے۔ ہندوستانی پولیس کے علاوہ یورپین سپاہی بھی تلواریں لئے موجود تھے۔ جو تھوڑے ہی فاصلے پر تھے۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ جاہل لوگ لیکچر ہال کے باہر گڑ بڑ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے مسیح موعود کی لیکچر ہال سے واپسی کے لئے خصوصی انتظامات کئے ہوئے تھے۔ سب سے آگے گھوڑ سوار پولیس کا دستہ تھا۔ اس کے پیچھے مسیح موعود کی بگھی تھی۔ بگھی کے پیچھے بہت سے پیادہ پولیس والے تھے۔ ان کے پیچھے پھر گھوڑ سوار پولیس کا دستہ تھا اور اس کے پیچھے پیادہ پولیس والوں کا ایک اور دستہ تھا۔ اس طرح مسیح موعود کو پوری حفاظت کے ساتھ گھر واپس پہنچایا گیا اور شرپسندوں کے عزائم خاک میں ملا دیئے گئے۔ لاہور سے مسیح موعود قادیان واپس چلا گیا۔

اسی کتاب کے ص ٧٠، ٧١ کے حوالہ سے امرتسر کے جلسے کا حال اس طرح لکھا ہے: ’’لیکن جب ایک دفعہ عوام کو اکسا دیا گیا تو پھر ان کو روکا نہیں جا سکتا تھا۔ ہیجان بڑھتا ہی چلا گیا اور پولیس کی کوشش کے باوجود اسے دبایا نہ جاسکا۔ آخر کار یہی مناسب سمجھا گیا کہ مسیح موعود اپنی جگہ پر بیٹھ جائے۔ ایک دوسرے شخص کو نظم پڑھنے کے لئے بلایا گیا۔ اس پر سامعین خاموش ہو گئے۔ پھر مسیح موعود اپنی تقریر جاری رکھنے کے لئے دوبارہ کھڑا ہوا۔ لیکن مولویوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ جب مسیح موعود نے تقریر شروع کرنے کی کوشش کی تو مولویوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور ڈائس کی جانب حملہ آور ہوئے۔ پولیس نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی۔ مگر ہزاروں کو روکنا چند پولیس والوں کے بس کی بات نہ تھی۔ عوام کے ہجوم نے جلسہ گاہ پر قبضہ کر لیا۔ جب پولیس کو اپنی بے بسی کا اندازہ ہو گیا تو انہوں نے مسیح موعود کو مطلع کر دیا کہ وہ اب اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی۔ یہ میری رائے ہے کہ پولیس والے اپنا فرض منصبی ادا کرنے سے قاصر رہے۔ ان میں کوئی یورپین پولیس والا نہیں تھا۔ تمام پولیس والے انڈین (ہندوستانی) تھے۔ یہ سب کے سب ۔ بلوائیوں کے ساتھی تھے۔ مسیح موعود کے خلاف مذہبی نفرت رکھتے تھے اور اس کی تقریر کے خاتمہ کے خواہشمند

١٥٨

صفحہ ٢٨٨٧

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کوشش کرتے۔ جنہیں طاقت کے استعمال سے باہر ایک عوامی لیکچر کا انتظام کیا گیا۔ یہ ایک لکھی ہوئی تقریر نے پڑھا۔ مسیح موعود اس وقت پاس ہی موجود تھا۔ کوئی یہ پڑھی جا چکی تو سامعین نے درخواست کی کہ اب آ یکدم کھڑا ہو گیا اور تقریباً آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ چونکہ یہ ب جاتا تھا تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگ اس کے خلاف نہاد مسلمان۔ اس لئے پولیس نے مسیح موعود کی حفاظت ہندوستانی پولیس کے علاوہ یورپین سپاہی بھی تلواریں تھے۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ جاہل لوگ لیکچر ہا انہوں نے مسیح موعود کی لیکچر ہال سے واپسی کے لئے خ آگے گھوڑ سوار پولیس کا دستہ تھا۔ اس کے پیچھے مسیح موع پولیس والے تھے۔ ان کے پیچھے پھر گھوڑ سوار پولیس کا کا ایک اور دستہ تھا۔ اس طرح مسیح موعود کو پوری ح شرپسندوں کے عزائم خاک میں ملا دیئے گئے۔ لاہور

اسی کتاب کے ص ٧٠، ٧١ کے حوالہ سے

”لیکن جب ایک دفعہ عوام کو اکسا دیا گیا تو پھر ان کو رو پولیس کی کوشش کے باوجود اسے دبایا نہ جا سکا۔ آخر کا بیٹھ جائے۔ ایک دوسرے شخص کو نظم پڑھنے کے لئے ب مسیح موعود اپنی تقریر جاری رکھنے کے لئے دوبارہ آ کر دیا۔ جب مسیح موعود نے تقریر شروع کرنے کی کو ڈائس کی جانب حملہ آور ہوئے۔ پولیس نے لوگوں کو پولیس والوں کے بس کی بات نہ تھی۔ عوام کے ہجوم نے بے بسی کا اندازہ ہو گیا تو انہوں نے مسیح موعود کو مطلع کر دیا میری رائے ہے کہ پولیس والے اپنا فرض منصبی ادا آ پولیس والا نہیں تھا۔ تمام پولیس والے انڈین (ہندو، م ساتھ تھے۔ مسیح موعود کے خلاف مذہبی نفرت رکھتے

١٥٨

2887 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

تھے۔ اس پر مسیح موعود نے تقریر کو ادھورا چھوڑ دیا۔ لیکن اس سے بھی لوگوں کا شور و غوغا کم نہ ہوا۔ لوگ بدستور جلسہ گاہ کے ڈائس کی طرف مسلسل بڑھتے رہے اور نقصان پہنچانے کی کوشش میں تھے۔ اس پر انسپکٹر پولیس نے مسیح موعود سے درخواست کی کہ وہ پچھلے کمرہ میں چلا جائے اور ایک سپاہی کو بگھی لانے کے لئے بھیجا۔ اس دوران پولیس والے لوگوں کو ان کمروں کی طرف جانے سے روکتے رہے۔ بگھی کو کمرہ کے دروازے کے قریب لایا گیا اور مسیح موعود اس میں بیٹھا۔ خدا کی مہربانی سے ہم میں سے کوئی بھی زخمی نہ ہوا۔ صرف ایک پتھر کھڑکی سے ہوتا ہوا میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد کے ہاتھ پر لگا۔ بہت سے پتھر ان پولیس والوں کو لگے جو بگھی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ پھر پولیس والوں نے ہجوم کی پٹائی کی اور انہیں منتشر کر دیا۔ پولیس والے بگھی کے آگے اور پیچھے ہو گئے۔ کچھ چھت پر چڑھ گئے اور اس طرح تیزی میں بگھی کو مسیح موعود کی قیام گاہ تک پہنچایا۔ لوگ اس قدر بپھرے ہوئے تھے کہ پولیس کی مار کٹائی کے باوجود وہ کافی دور تک بگھی کے تعاقب میں گئے۔ دوسرے روز مسیح موعود قادیان روانہ ہو گیا۔“

اب جناب والا! آخر میں میں اسی کتاب کے ص ٦١ سے ایک پیراگراف پڑھوں گا کہ مرزا غلام احمد کی موت کے دن کیا واقعہ پیش آیا:

(مرزا کی موت کے دن کیا ہوا؟)

”انتقال کے نصف گھنٹہ کے اندر لاہوری عوام کا ہجوم اس مکان کے سامنے جمع ہو گیا۔ جس میں اس کی میت رکھی ہوئی تھی اور خوشی کے ترانے گانے شروع کر دیئے۔ اس طرح اپنے دلوں کی تاریکی کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگوں نے بھونڈے طور پر ناچنا شروع کر دیا۔ جس سے ان کی فطری کمینگی ظاہر ہوتی ہے۔“

جناب والا! مجھے افسوس ہے کہ میں نے ان جلسوں کا جسے مرزا غلام احمد نے خطاب کیا۔ ذکر کرنے میں کافی وقت لیا ہے۔ سوائے ایک حد کے جس میں اس نے اسلام کے تحفظ کے لئے عیسائیوں سے مناظرہ کیا۔ مرزا غلام احمد نے جب کبھی بھی اپنے دعویٰ نبوت کا پرچار کرنا چاہا یا کوشش کی تو اسے شدید مخالف قسم کے عوام کا سامنا کرنا پڑا اور وہ پولیس حفاظت کے بغیر ایک جلسہ کو بھی خطاب نہ کر سکا اور پولیس بھی وہ جو کہ یورپین افسروں اور جوانوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ جب میں نے مرزا غلام احمد کی موت کے موقع پر خوشی کے ترانوں کا ذکر کیا تو میرا مقصد معزز اراکین کی توجہ اس پیش گوئی کی طرف دلانا تھا۔ جو مرزا غلام احمد نے مولوی ثناء اللہ کے متعلق کی تھی۔ لوگوں نے جان لیا کہ مرزا غلام احمد کی بددعا کا اثر اس کی اپنی ذات پر ہی ہوا۔

١٥٩

صفحہ ٢٨٨٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(مرزا قادیانی مفسد تھا)

جناب والا! ردّعمل کیا ہوا؟ یہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں۔ ایسا کیوں ہوتا تھا کہ جہاں کہیں بھی وہ (مرزا غلام احمد) جاتا تھا۔ مخالف لوگوں کا ہجوم اس کا تعاقب کرتا تھا۔ وجوہات بالکل عیاں ہیں۔ اس شخص نے مسلمانوں کے بنیادی عقیدے کے خلاف بغاوت کی تھی۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد مرزا غلام احمد خود بھی فسادی بن گیا۔ وہ گالی گلوچ اور لعن طعن سے بھرپور زبان استعمال کرتا رہا۔ لیکن میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ جب اس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو قدرتی طور پر اعتقاد اور ایمان کا سوال پیدا ہوا۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق اگر کوئی شخص خدا کے سچے نبی کو نہ مانے تو وہ کافر قرار پاتا ہے۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ان تمام نبیوں پر ایمان لائے جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ مرزاغلام احمد کا دعویٰ ہے کہ چونکہ اس کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے کہ وہ نبی ہے۔ اس لئے اس کا کہنا تھا کہ جو اس کو نبی نہیں مانتے وہ کافر ہیں۔ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ چونکہ مرزاغلام احمد خود ساختہ جھوٹا نبی ہے۔ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ وہ کذاب اور دجال ہے۔ یہ ہے وہ بات جس سے شدید قسم کی تکرار، حملے اور عیسائیوں کے جوابی حملے شروع ہوئے۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا تھا اور مسلمانوں کی طرف سے اس لئے کہ وہ نبی ہونے اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ تو جناب والا! اس نے کہنا شروع کر دیا: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور وہ تمہارا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی مخالفت کرنے والا جہنمی ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٥)

اور مزید کہا: ”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی۔ مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔“

یہ اقتباس ”روحانی خزائن“ ج٥ ص٥٤٧، ٥٤٨ سے ہے۔ یہاں پر میں مرزا ناصر احمد کے ساتھ پورا پورا انصاف کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے لفظ بغیہ کی وضاحت کرتے ہوئے بتلایا کہ اس کا مطلب باغی ہے نہ کہ بدکار عورت، اس طرح اس کا ترجمہ باغی کی اولاد ہوگا نہ کہ بدکارہ کی اولاد اور مرزا ناصر احمد کے مطابق مرزاغلام احمد کا یہی مدعا تھا۔ لیکن ہمارے علماء اس وضاحت کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس لفظ کو مرزاغلام احمد نے فاحشہ اور بدکار عورتوں کے حوالے سے بار بار خود استعمال کیا ہے۔ میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہوں گا۔ دوسری بات جس

١٦٠

صفحہ ٢٨٨٩

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

سے اس نے انکار نہیں کیا وہ یہ ہے۔ جب اس نے کہا: ”جو شخص میرا مخالف ہے۔۔۔۔“ جناب والا! اب میں ”روحانی خزائن“ ج ١٦ ص ٥٣ سے ایک اور حوالہ پڑھ رہا ہوں: ”بلا شبہ تمہارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیاؤں سے بھی بڑھ گئیں۔“

(مرزا قادیانی کی بد زبانی)

یہاں اس (مرزا ناصر احمد) نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ یہ مسلمانوں کے بارے میں نہیں کہا گیا۔ بلکہ عیسائیوں کے متعلق ہے۔ میں پورے احترام کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ایک نبی کی زبان ہو سکتی ہے؟ خواہ وہ عیسائیوں یا ہندوؤں یا کسی اور کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ میں مزید کچھ اور عرض نہیں کرنا چاہتا۔ ایسی زبان استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ بالکل نہیں۔ اسی طرح وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے: ”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔“

یہ حوالہ بھی ”روحانی خزائن“ ج ٩ ص ٣١ سے ہے۔ درحقیقت یہی زیادہ نازیبا، اشتعال انگیز اور فتنہ اٹھانے والی بات تھی کہ ایک ایسا شخص جو اپنے آپ کو عین محمد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہتر ہونے کا دعویدار ہو۔ وہ اپنے مخالفین خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی کے لئے ایسی زبان استعمال کرے۔ (مرزا غلام احمد کے دعوے کے مطابق) اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے تمام کمالات کا مظہر اس کی ذات کو بنایا تھا اور یہ ہیں وہ کمالات جن کا مظاہرہ مرزا غلام احمد نے کیا۔ مجھے اس موضوع پر مزید کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں۔

جناب والا! یہی دور تھا کہ مرزا غلام احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کھلم کھلا توہین شروع کردی۔ پہلے اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

مرزا ناصر احمد نے اس کے جواز میں یہ وضاحت کی کہ یہ بات مرزا غلام احمد نے اپنے بارے میں نہیں کی۔ بلکہ غلام احمد (یعنی حضرت محمد ﷺ کے غلام) کے بارے میں کی تھی۔ ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تمام انبیاء واجب الاحترام ہیں۔ اس ضمن میں تمام انبیاء برابر ہیں۔ کیونکہ وہ سب ہی اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن ایک یہ شخص مرزا غلام احمد ہے۔ جو کہتا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ)

١٦١

صفحہ ٢٨٩٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہتر ہے اور جواز یہ دیتا ہے کہ حضرت محمدﷺ کا ہر غلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہتر ہے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسے عقیدے کا کوئی جواز ہو سکتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے:

”خدا نے اس امت میں مسیح بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

یہ حوالہ (ریویو آف ریلیجنز) ص ٤٧٨، نیز حقیقت الوحی ص ١٥٢ اور اب ”روحانی خزائن“ ج ٢٢ ص ١٥٣ سے ہے۔ جہاں پر وہ کہتا ہے: ”مجھے قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ میں ظاہر ہو رہے ہیں ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“

چلیے! وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کا دعویدار ہے۔ یہ بھی بہت بری بات ہے۔ لیکن اس نے (ادبی لحاظ سے) ایک عمدہ شوخی کی ہے۔ مجھے امید ہے میں غلط نہیں کہہ رہا۔

”اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابنہد پابمنبرم“

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

اب یہ شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری کی ان بلندیوں کو پہنچا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) اس کے ممبر کے پائے تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔ حالت یہ ہے کہ اس کے بعد وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں پر تنقید کرتا ہے۔ مجھے تو اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔ اس کا جواز یہ دیا گیا کہ اس زمانے میں چونکہ عیسائی حضرت محمدﷺ پر حملے کرتے تھے تو اس کے مقابلے یہ جواب مرزا غلام احمد اور اس وقت کے دیگر مسلم علماء نے دیا۔ لیکن یہ کوئی جواز نہیں ہے۔ اس زمانے میں بھی ایسی باتیں کرنے پر مرزا غلام احمد پر تنقید کی گئی تھی۔ مرزا غلام احمد کہتا ہے:

”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

وہ مزید کہتا ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نانیاں اور دادیاں کنجریاں تھیں۔ اس لئے جدی مناسبت ہے۔ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) فاحشہ عورتوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے۔ (نعوذ باللہ من ذالک) جناب والا! یہ ہے وہ کچھ جو کہ مرزا غلام احمد کہتا ہے۔ جب میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ وہ اس تحریر کو کس طرح درگزر کر سکتے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ

١٦٢

صفحہ ٢٨٩١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

یہ تحریر اس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں جس کا قرآن میں ذکر ہے۔ بلکہ یہ تحریر اس یسوع مسیح کے بارے میں ہے جو اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہتا ہے۔ جب سب نے مرزا ناصر احمد سے کہا کہ یہ دو الگ الگ ہستیاں نہیں ہیں۔ بلکہ ایک ہی ہستی ہے جو نبی ہے اور اس سے پوچھا کہ کیا یسوع مسیح کی دادیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں سے مختلف تھیں۔ تو اس نے جواب دیا کہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں نانیوں کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مرزا ناصر احمد نے اس سوال کا کوئی اور جواب نہیں دیا۔

پھر مرزا غلام احمد کہتا ہے: ”اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے کچھ نہیں تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

”ہاں گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی...... اور یہ بھی یاد رہے کہ کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

قدرتی طور پر یہ بیانات نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کے لئے بھی تکلیف کا باعث تھے۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے پیغمبر تھے۔ انہیں مرزا غلام احمد کی تنقید بالکل ناپسند تھی۔ میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ یہ کہنا شاید آسان ہے کہ یسوع مسیح اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو مختلف ہستیاں تھیں۔ ایک کا ذکر بائبل میں ہے اور دوسری کا قرآن میں۔ لیکن آپ کے پاس شیعوں پر تنقید کا کیا جواز ہے؟ مرزا غلام احمد کہتا ہے: ”مردہ علی کو چھوڑو۔ یہاں تمہارے درمیان زندہ علی موجود ہے۔“

(ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)

پھر حضرت امام حسینؓ کے متعلق وہ (مرزا غلام احمد ) کیا کہتا ہے۔ مرزا غلام احمد کے پاس یہ کہنے کا کیا جواز تھا کہ توحید معطر ہے اور (نعوذ باللہ ) ذکر امام حسینؓ گندگی کا ڈھیر۔ (اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٤) اس (مرزا ناصر احمد ) نے جواباً کہا کہ مرزا غلام احمد کا مطلب شیعہ تصور کے علی اور شیعہ تصور کے حسین سے تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ مسلمانوں میں حضرت علیؓ اور امام حسینؓ کے تصور کے متعلق کوئی اختلاف ہے۔ سب مسلمان ان کے لئے محبت اور احترام کے جذبات رکھتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے یہی خیالات تھے۔ جن کی وجہ سے تمام مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو چکا تھا۔ یہی جذبات تھے جن کے باعث مرزا غلام احمد پولیس حفاظت کے بغیر کسی جلسہ کو کبھی خطاب نہیں کر سکتا تھا۔

(انگریز کی مدد کے سہارے مرزا کے عقائد پروان چڑھے)

کسی دوسری بات کا ذکر کرنے سے پیشتر مجھے ایک اور پہلو کو اجاگر کرنا ہے۔ ایوان کے

١٦٣

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہتر ہے اور جواز یہ دیتا علیہ السلام سے بہتر ہے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ نہیں ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے: ”خدا نے اس امت میں مسیح بھیجا جو اس پہل

یہ حوالہ (ریویو آف ریلیجنز ) ص ٤٧٨

خزائن“ ج ٢٢ ص ١٥٣ سے ہے۔ جہاں پر اور کہتا ہ میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں سکتا اور وہ نشان جو مجھ میں ظاہر ہو رہے ہیں ہرگز نہ دِ چلئے! وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری لیکن اس نے (ادبی لحاظ سے ) ایک عمدہ شوخی کیا ہ

”ایک منم کہ حسی
عیسیٰ کجاست

اب یہ شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہ علیہ السلام (نعوذ باللہ ) اس کے منبر کے پائے تک نہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دادیوں پر تنقید کرتا ہے یہ دیا گیا کہ اس زمانے میں چونکہ عیسائی حضرت مح جواب مرزا غلام احمد اور اس وقت کے دیگر مسلم عا زمانے میں بھی ایسی باتیں کرنے پر مرزا غلام احمد پر ت ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک ا زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ

وہ مزید کہتا ہے کہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ لئے جدی مناسبت ہے۔ وہ (حضرت عیسیٰ علیہ ال تھے۔ (نعوذ باللہ من ذالک ) جناب والا! یہ ہے وہ مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ وہ اس تحریر کو کس طرح

١٦٤

صفحہ ٢٨٩٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

سامنے میری معروضات سے یہ بتانا مقصود تھا کہ اپنے عقائد کا پرچار کرنے کے لئے مرزا غلام احمد کو انگریزوں کی امداد کی ضرورت تھی اور یہ امداد انگریزوں نے بھر پور طریقہ سے مہیا کی۔ یہ تھے وہ حالات جن کے تحت بقول مرزا غلام احمد ملاؤں نے اور ہمارے (مسلمانوں) کے مطابق علماء حق نے اس کی زندگی حرام کر دی تھی۔ چنانچہ مرزا غلام احمد لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو لکھتا ہے۔ (میں اس کے خط سے مختصر طور پر پڑھتا ہوں) وہ (مرزا غلام احمد) لکھتا ہے: ”میں اس بات کا اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئیں اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں ...... تو مجھے ایسی اخباروں اور کتابوں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو کہ جوش رکھنے والی قوم ہے ان کلمات سے کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریروں کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تا کہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے Conscience نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو وحشیانہ جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں ان کے غیض وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریقہ کافی ہوگا ...... سو مجھ سے پادریوں کے بالمقابل جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں اوّل درجے کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریز کا ہوں۔“

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ ص ب، روحانی خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠، ٤٩١)

میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ وہ (مرزا غلام احمد) عیسائیوں پر کیوں حملے کرتا تھا اور کیوں اسلام کے خلاف ان کے حملوں کا جواب دیا کرتا تھا۔ کیا اسلام سے محبت اور اسلام کے لئے جوش و خروش کی وجہ سے تھا یا اس کی کوئی وجوہات تھیں۔ میرا یہ سوال مرزا ناصر احمد کو ناگوار گزرا اور جواب دیا کہ نہیں۔ یہ (مرزا غلام احمد) کا جہاد تھا۔ یہ اسلام اور نبی کریم ﷺ سے محبت کے باعث تھا کہ مرزا غلام احمد نے عیسائیوں پر حملے کئے۔ لیکن مرزا غلام احمد خود اپنا مافی الضمیر بیان کرتا ہے کہ وہ ایسا اسلام کے لئے نہیں بلکہ انگریزوں کے مفاد میں کر رہا تھا اور اسی مقصد کے تحت عیسائی پادریوں پر تنقید کر رہا تھا۔ اب ہم مرزا غلام احمد کے خط کے ایک دوسرے حصہ کو لیتے ہیں۔ وہ لکھتا

١٦٤

صفحہ ٢٨٩٣

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

سامنے میری معروضات سے یہ بتانا مقصود تھا کہ اپنے عقائد کا پرچار انگریزوں کی امداد کی ضرورت تھی اور یہ امداد انگریزوں نے بھر حالات جن کے تحت بقول مرزا غلام احمد ملاؤں نے اور ہمارے نے اس کی زندگی حرام کر دی تھی۔ چنانچہ مرزا غلام احمد لیفٹیننٹ گو کے خط سے مختصر طور پر پڑھتا ہوں ) وہ (مرزا غلام احمد) لکھتا ہے کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخ گئیں اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لد تحریریں شائع ہوئیں...... تو مجھے ایسی اخباروں اور کتابوں کے ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو کہ جوش رکھنے والی قوم ہے دینے والا اثر پیدا ہو۔ تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لئے حکمت عملی سختی سے جواب دیا جائے تاکہ صریح الغضب انسانوں کے جوش بدامنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے جن میں چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو وحشیانہ جوش رکھنے وال وغضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریقہ کافی ہوگا...... سو مجھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خ ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں اوّل درجے کا خیر خواہ گورنمنٹ انگر

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ ص

میں نے مرزا ناصر احمد سے سوال کیا کہ وہ (مرزا غلام تھا اور کیوں اسلام کے خلاف ان کے حملوں کا جواب دیا کرتا تھا لئے جوش وخروش کی وجہ سے تھا یا اس کی کوئی وجوہات تھیں۔ میرا اور جواب دیا کہ نہیں۔ یہ (مرزا غلام احمد) کا جہاد تھا۔ یہ اسلا باعث تھا کہ مرزا غلام احمد نے عیسائیوں پر حملے کئے۔ لیکن مرزا غل ہے کہ وہ ایسا اسلام کے لئے نہیں بلکہ انگریزوں کے مفاد میں کر پادریوں پر تنقید کر رہا تھا۔ اب ہم مرزا غلام احمد کے خط کے ایک

١٦٤

2893 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہے: ”ان تمام تقریروں سے جن کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بہ دل و جان خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ کی اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہی وہ اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ شرائط بیعت میں ہمیشہ تعلیم کیا جاتا ہے۔ صفحہ چہارم میں ان باتوں کی تشریح ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٣٦٥)

جیسا کہ میں اس کا مطلب سمجھتا ہوں۔ وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے میری یہ تقریر پچھلے سترہ سالوں کی تقریروں کی تائید کرتی ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں دل و جان سے برٹش گورنمنٹ کا وفادار ہوں۔ گورنمنٹ سے وفاداری اور لوگوں سے ہمدردی میری زندگی کا اصول ہے اور یہی اصول میرے مذہب کے مجوزہ فارم (بیعت نامہ) سے بھی پوری طرح مترشح ہوتا ہے۔

پھر جناب والا ! ایک دوسری جگہ وہ (مرزا غلام احمد) کہتا ہے: ”میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح موعود مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“

(اشتہار ملحقہ کتاب البریہ مندرجہ روحانی خزائن ج ١٣ ص ٣٣٧)

میں سمجھتا ہوں اس نے یہ کہا ہے۔ میرے پیروکاروں کی تعداد کے بڑھنے سے جہاد پر ایمان رکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی اور مجھ پر ایمان لانا گویا جہاد سے انکار کرنا ہے۔

جناب والا ! وہ مزید کہتا ہے: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں، اشتہارات طبع کئے ہیں اور اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام عرب ممالک مصر و شام، کابل و روم تک پہنچایا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں میں سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں۔ مہدی خونی، مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٦،١٥٥)

انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ میری زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ برٹش گورنمنٹ کی وفاداری کا پرچار کرتے ہوئے گزرا ہے۔ جہاد کی مذمت میں اور گورنمنٹ کی وفاداری کے لئے میں نے اتنی کتابیں لکھی ہیں اور اس قدر اشتہارات چھپوائے ہیں کہ اگر ان

١٦٥

صفحہ ٢٨٩٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

سب کو یکجا کیا جائے تو ان سے پچاس الماریاں بھر جائیں گی۔

(اس مرحلہ پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت سنبھالی)

جناب والا! پیشتر ازیں کہ میں دوسرا پیراگراف پڑھوں۔ آپ اس شخص کو ذہن میں رکھیں جس نے یہ خوبصورت شعر کہا ہے۔

”اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابنہ بنہد پا بمنبرم“

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

(مرزا قادیانی کی کمینی خوشامد)

اتنی بلندی سے وہ (مرزا غلام احمد ) اس قدر ذلت کی گہرائی میں چلا جاتا ہے۔ کیا آپ کو کہیں بھی اس قسم کی (گھٹیا) خوشامد مل سکتی ہے؟ ایک نام نہاد نبی کا یہ کمینہ پن! کیا کوئی نبی ایسی فطرت کا مالک ہو سکتا ہے؟ میں کہوں گا کہ اس قسم کے خط لکھنے والے نبی کی نبوت کا انکار اگر کفر ہے تو پھر میں خود سب سے بڑا کافر ہوں۔

گر کفر این بود بخدا سخت کافرم

اب اس خط کو دیکھیں اور اس خط کے لکھنے والے کو دیکھیں۔ کوئی انسان ایک عام آدمی جسے اپنی عزت نفس کا ذرہ بھر بھی احساس ہے۔ جس کا اللہ پر تھوڑا سا بھی یقین ہے، جس کو اپنے آپ پر تھوڑا سا بھی اعتماد ہے۔ کبھی اس قسم کی بات نہیں کرے گا۔ وہ نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہاں قائد اعظم کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ (اسمبلی ہال کے اندر لگی ہوئی قائد اعظم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) ٢؍ جون ١٩٤٧ء کو کیا ہوا؟ آپ سب کو معلوم ہے۔ اس کا ذکر کیمبل جانسن کی کتاب میں موجود ہے۔ مسلم لیگ کی طرف سے قائد اعظم نے اس بات کی رپورٹ کرنا تھی کہ انہیں ٣؍ جون والا پلان قابل قبول ہے یا نہیں۔ کیا مسلم لیگ کو وہ پاکستان منظور تھا جسے وہ (برٹش گورنمنٹ) مسلمانوں کو دے رہے تھے۔ کیمبل جانسن لکھتا ہے کہ وائسرائے مسٹر جناح کے لئے سارا دن انتظار کرتا رہا۔ مسٹر جناح آدھی رات سے صرف ایک منٹ پہلے وہاں پہنچے، وائسرائے نے پوچھا۔ مسٹر جناح آپ کا ایک جواب ہے۔ مسٹر جناح کا جواب تھا ”میں اس کو مانتا تو نہیں۔ مگر قبول

١٦٦

صفحہ ٢٨٩٥

AL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

سب کو یکجا کیا جائے تو ان سے پچاس الماریاں بھر جائیں گی۔

---------- (اس مرحلہ پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت سـ ----------

جناب والا! پیشتر ازیں کہ میں دوسرا پیراگراف پـ رکھیں جس نے یہ خوبصورت شعر کہا ہے۔

”ایک منعم کہ حسب بشارا،
عیسیٰ کجاست تابہ بنہد
!)

(مرزا قادیانی کی کمینی خوـ

اتنی بلندی سے وہ (مرزا غلام احمد) اس قدر ذلت کو کہیں بھی اس قسم کی (گھٹیا) خوشامد مل سکتی ہے؟ ایک نام نہا فطرت کا مالک ہو سکتا ہے؟ میں کہوں گا کہ اس قسم کے خط لکھنے تو پھر میں خود سب سے بڑا کافر ہوں۔

گر کفر ایں بود بخدا سخـ

اب اس خط کو دیکھیں اور اس خط کے لکھنے والے کـ جسے اپنی عزت نفس کا ذرہ بھر بھی احساس ہے۔ جس کا اللہ پر تھوـ پر تھوڑا سا بھی اعتماد ہے۔ کبھی اس قسم کی بات نہیں کرے گا۔ و قائد اعظم کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ (اسمبلی ہال کے اندر لگی ہوئـ کرتے ہوئے) ٣؍ جون ١٩٤٧ء کو کیا ہوا؟ آپ سب کو معلو کتاب میں موجود ہے۔ مسلم لیگ کی طرف سے قائد اعظم ـ ٣؍ جون والا پلان قابل قبول ہے یا نہیں۔ کیا مسلم لیگ کـ گورنمنٹ) مسلمانوں کو دے رہے تھے۔ کیمبل جانسن لکھتا سارا دن انتظار کرتا رہا۔ مسٹر جناح آدھی رات سے صرف ایک پوچھا۔ مسٹر جناح آپ کا ایک جواب ہے۔ مسٹر جناح کا جواب

١٦٦

2895 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

کرتا ہوں۔“ (ان دونوں میں) فرق کیا ہے۔ وائسرائے نے کہا۔ مسٹر جناح کا جواب بالکل سیدھا سادہ تھا۔ ”میں اس پلان کو پسند نہیں کرتا۔ اس لئے میں اس کو نہیں مانتا۔ مگر انہیں کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ آپ نے میرا پنجاب تقسیم کر دیا ہے۔ آپ نے میرا بنگال تقسیم کر دیا ہے۔ تو پھر میں خوش کیسے ہو سکتا ہوں۔ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسے قبول کر رہا ہوں۔ میں پارٹی کا صرف سربراہ ہوں۔ اس بات کا فیصلہ مسلم لیگ کونسل نے کرنا ہے۔ جس میں دو ہفتے لگیں گے۔ اس لئے میں مسلم لیگ کونسل کی طرف سے کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔ معلوم نہیں کونسل منظور کرے گی یا نہیں۔ تاہم میں انہیں منظور کرنے کا مشورہ دوں گا۔ کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بڑے غصہ میں تھا۔ اس نے کہا میں یہ بات نہیں مان سکتا۔ کل اس کا اعلان ہونا ہے۔ کانگریس اپنی کونسل یا کمیٹی کی طرف سے پلان منظور کر چکی ہے۔ تو پھر آپ کیسے منظور نہیں کر سکتے۔“ مسٹر جناح نے جواب دیا۔ ”میری جماعت ایک سیاسی جماعت ہے۔ جس کی بنیاد سیاسی اصولوں پر قائم ہے۔ اپنے عوام کی منظوری حاصل کرنے کے لئے مجھے ان کے پاس جانا ہوگا۔“ اس پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا۔ ”تو پھر مسٹر جناح اگر آپ مسلم لیگ کی طرف سے مجھے یقین دہانی نہیں کرا سکتے تو آپ کو پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہاتھ دھونا ہوں گے۔“ مسٹر جناح کا کیا جواب تھا؟ یہ ستر سال کی عمر کا وہ بوڑھا شخص تھا جس نے اپنی زندگی دشت سیاست میں گزاری تھی۔ وہ مجوزہ ملک (پاکستان) کا سربراہ بننے والا تھا۔ وہ اس ملک کا مالک یا حاکم بننے والا تھا۔ اس کا اللہ پر بھروسہ اور ایمان تھا۔ اس نے کوئی کمزوری نہ دکھائی اور (باوقار طریقہ سے) جواباً کہا۔ ”جو ہو، سو ہو، کچھ بھی ہو۔“ اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ یہ ایک ایسے شخص کا جواب تھا۔ جس میں ایمان موجود تھا۔ جو اللہ پر یقین رکھتا تھا وائسرائے کو اس کے پیچھے بھاگنا پڑا تاکہ اس سے واپس آجانے کی درخواست کرے۔ وائسرائے نے کہا۔ ”مسٹر جناح مسلم لیگ کی طرف سے میں کل صبح یقین دہانی کرادوں گا کہ وہ (پلان کو) منظور کرلے گی۔ میں جانتا ہوں کہ وہ آپ کا مشورہ ضرور مان لے گی۔ آپ صرف اتنا کہہ دیں کہ آپ نے اس کو منظور کرلیا ہے۔“ مسٹر جناح نے کہا۔ ”ہاں! ٹھیک ہے۔ میں یہ کہہ دوں گا۔“ اور اس طرح پاکستان معرض وجود میں آیا۔ قائد اعظم پاکستان گنوا سکتے تھے۔ انہیں یہ سوچ آسکتی تھی کہ ملک جارہا ہے۔ میں قوم کی طرف سے منظوری کا اظہار کروں۔ لیکن ایسا نہیں تھا وہ شخص یقین کامل کا مالک تھا۔ ہمیں اس شخص (قائداعظم) کا موازنہ اس شخص (مرزا غلام احمد) سے نہیں کرنا چاہئے۔ جو نبی ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر اس قسم کے خط لکھ کر دنیاوی

١٦٧

صفحہ ٢٨٩٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

قوت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ مرزاغلام احمد کے رویہ کی وجہ سے مجھے مایوسی ہوئی۔ مجھے جذبات کی رو میں نہیں بہہ جانا چاہئے تھا۔ علامہ اقبال نے کہا۔

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

اس کا بالکل یہی مطلب ہے۔

جناب والا! اب میں دوسرے پیراگراف کی طرف آتا ہوں۔ وہ (مرزاغلام احمد ) کہتا ہے:

’’سرکار دولت مدار کو ایسے خاندان کی نسبت جس کے پچاس برس کے متواتر تجربے سے وفادار اور جانثار ثابت کرچکی ہے۔۔۔۔۔اس خودکاشتہ پودے سے نہایت ضروری احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت افسران کو ارشاد فرمائیں کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور خدمات کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔‘‘

(درخواست بحضور برٹش گورنمنٹ ملحقہ کتاب البریہ مندرجہ خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠)

وہ (مرزا غلام احمد ) بڑے ادب کے ساتھ لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو التجا کرتا ہے کہ اس کا خاندان پچاس سالوں سے آزمایا جاتا رہا ہے اور بلا کم و کاست گورنمنٹ کا پورا پورا وفادار ثابت ہو چکا ہے۔ اس لئے گورنمنٹ اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے پودے کی آبیاری کرے۔ لیفٹیننٹ گورنر بہادر اس پر اور اس کے پیروکاروں (جماعت) پر مزید کرم نوازی کرے۔ انہیں پورا تحفظ دے اور اس کے خاندان کی وفاداری کے پیش نظر جو کہ گورنمنٹ کے مفاد کی خاطر کی جاتی رہی ہے۔ اس کے ساتھ اور اس کی جماعت کے ساتھ ترجیحانہ سلوک کرے۔

(نبی کی درخواست؟)

جناب والا! میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ صرف یہ عرض کروں گا کہ یہ ایک نبی کی درخواست ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر بہادر کے نام نبی کیا درخواست کرتا ہے۔ حضور والا! اپنے ماتحت افسروں کو میرے ساتھ ترجیحانہ سلوک کرنے کا حکم دیں۔ یہ نبی تو لیفٹیننٹ گورنر کی سطح کے برابر بھی نہیں جو اس کی منتیں سماجتیں کر رہا ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسروں کو ایسا ویسا سلوک کرنے کی ہدایات دے۔ شاید مجھے کہنا نہیں چاہئے۔ یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ وہ تمام نبیوں سے (نعوذ باللہ ) بہتر ہے۔

آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

١٦٨

صفحہ ٢٨٩٧

SSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

قوت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ مرزاغلام احمد کے رویہ کی کی رو میں نہیں بہہ جانا چاہئے تھا۔ علامہ اقبال نے کہا۔

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا
مجھے بتا تو سہی اور کافر

اس کا بالکل یہی مطلب ہے۔

جناب والا! اب میں دوسرے پیراگراف کی طرف ”سرکار دولت مدار کو ایسے خاندان کی نسبت جس کے بچاؤ جانثار ثابت کر چکی ہے...... اس خودکاشتہ پودے سے نہای کام لے اور اپنے ماتحت افسران کو ارشاد فرمائیں کہ وہ بھی خدمات کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو خاص عنایت

(درخواست بحضور برٹش گورنمنٹ ملحقہ

وہ (مرزاغلام احمد) بڑے ادب کے ساتھ لیفٹ خاندان پچاس سالوں سے آزمایا جاتا رہا ہے اور بلا کم و ہو چکا ہے۔ اس لئے گورنمنٹ اپنے ہاتھ سے لگائے ہو گورنر بہادر اس پر اور اس کے پیروکاروں (جماعت) پر دے اور اس کے خاندان کی وفاداری کے پیش نظر جو کہ ہے۔ اس کے ساتھ اور اس کی جماعت کے ساتھ ترجیحانہ

(نبی کی درخواست

جناب والا! میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ م درخواست ہے۔ لیفٹینٹ گورنر بہادر کے نام نبی کیا درخ افسروں کو میرے ساتھ ترجیحانہ سلوک کرنے کا حکم دیں۔ یہ جو اس کی منتیں سماجتیں کر رہا ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسروں شاید مجھے کہنا نہیں چاہئے۔ یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ وہ تما

آنچہ داد است ہر
داد آں جام را م

١٦٨

2897 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

عیسیٰ کجا است تا بہ نہد پای منبرم

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

ایسے شعروں کو تخلیق کرنے والا لیفٹینٹ گورنر سے التماس کر رہا ہے وہ مجھ سے اچھا برتاؤ کریں۔ اس خودکاشتہ پودے کی حفاظت کے لئے اپنے ماتحت افسران کو ہدایات دیں۔ یہ کہا تھا:

”آپ کا خودکاشتہ پودا“

اس کی وضاحت کے لئے میں نے مرزا ناصر احمد سے بہت سوالات کئے۔ میں اس کے ساتھ نامناسب نہیں ہونا چاہتا۔ مرزا ناصر احمد نے جواب دیا۔ اس سے صرف مرزاغلام احمد کا خاندان مقصود تھا۔ ملاحظہ فرمائیں۔ ایک نبی گورنمنٹ سے اپنے خاندان کے لئے منتیں کر رہا ہے۔ جب کہ ایک عام انسان کا انسان زمین و آسمان ہلا کر رکھ سکتا ہے اور یہ ایک نبی ہے کہ اپنے تحفظ اور امداد کے لئے دنیاوی قوت کے آگے گھٹنے ٹیک رہا ہے۔ منتیں کر رہا ہے۔ ”میرے خاندان کو تحفظ دیں۔ میری جماعت کو تحفظ دیں“ دوسری طرف اس میں کہا جاتا ہے۔ ”اگر آپ اس (مرزاغلام احمد) کی نبوت پر ایمان نہیں لاتے تو آپ کافر ہیں۔ پکے کافر۔“ اگر مسلمانوں نے اس کے اس دعوے کے خلاف بغاوت کی تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں اور کوئی وجہ نہ بھی ہو تو صرف یہی ایک بات کہ وہ (مرزاغلام احمد) خود کو (نعوذ باللہ) عین محمد کہنے کا مدعی تھا۔ ہر ذی وقار آدمی کے لئے اس کے خلاف بغاوت کے لئے کافی تھی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ ہمارے لئے کیا فضیلت رکھتے ہیں۔ وہ انسان کامل رحیم و کریم معظم و مکرم جو کہ ہر لحاظ سے اعلیٰ ترین ہستی ہیں کہ جس نے اس دنیا فانی پر کبھی بھی قدم رکھا۔ آپ ان کی مبارک زندگی پر ایک نظر ڈالیں۔ جب وہ (ﷺ) فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوتے ہیں تو سراپا رحیم ہیں۔ اپنے بدترین دشمنوں پر بھی حد درجہ مہربان ہیں اور بڑے سے بڑے ظالم کے سامنے لا الہ الا اللہ کہنے سے نہیں رکتے۔ انہوں نے کبھی یہ درخواست نہیں دی کہ ”آئندہ میں کبھی وحی کا اظہار نہیں کروں گا۔“ مجھے افسوس ہے مجھے یہ نہیں کہنا چاہئے۔ کیونکہ میں نے وعدہ کر رکھا ہے کہ میں ان کا نقطۂ نظر بھی بیان کروں گا۔ میں اس کی پوری کوشش کروں گا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کے لئے یہ کہنا پڑتا ہے۔ اس وقت سے اس ملک میں ناچاقی چلی آ رہی ہے۔ چونکہ میرے پاس وقت زیادہ نہیں اور ابھی میں نے بہت سی باتوں کا ذکر کرنا ہے۔ اس لئے میں اور اس بارے میں تبصرہ نہیں کروں گا۔

جناب والا! اب میں دوسرے موضوع کی طرف آتا ہوں جو زیادہ اہم ہے۔ میں

١٦٩

صفحہ ٢٨٩٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

نکات نمبر ٤، ٥ کو اکٹھا لوں گا۔ یہ نکات یہ ہیں: ”مرزا صاحب کے نبوت کے دعوے کو نہ ماننے کے اثرات اور اس دعویٰ کے مسلمانوں پر اثرات اور ان کا ردعمل۔“

(مرزا ناصر احمد)

اس موضوع پر معروضات پیش کرنے سے قبل میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مرزا ناصر احمد کے ساتھ مجھے خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں پر ایک دو واقعات کا میں سرسری طور پر ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں۔ جناب والا! مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد حکیم نورالدین پہلا خلیفہ مقرر ہوا۔ سوائے اس بات کے وہ خلیفہ اول تھا اور کوئی چیز اس کے بارے میں ریکارڈ پر نہیں آئی۔ وہ ایک خاموش طبع آدمی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا گیا۔ مگر حکیم نورالدین کی موت کے بعد جماعت کے اندر اختلاف پیدا ہو گیا اور دو گروپ لاہوری اور قادیانی یا ربوہ گروپ وجود میں آ گئے۔ جب بشیر الدین محمود احمد کا انتقال ہوا تو اس کے بعد مرزا ناصر احمد نے بطور خلیفہ عہدہ سنبھال لیا۔ وہ کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ میں نے ان کی اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں ایک سوال کیا۔ جواب میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ مجھے جو کچھ قادیانی لٹریچر سے مل سکا ہے۔ وہ بھی میں پورے احترام کے ساتھ بیان کرتا ہوں۔ مرزا ناصر احمد نے اپنے والد بشیر الدین محمود احمد کی جگہ بطور خلیفہ سوئم جماعت احمدیہ ١٩٦٥ء میں عہدہ سنبھالا اور وہ قادیانی (ربوہ) گروپ کے سربراہ ہیں۔ وہ ١٩٠٩ء میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ موثر شخصیت کے مالک ہیں۔ قرآن مجید کے حافظ ہیں۔ ایم اے (آکسفورڈ) عربی، فارسی اور اردو کے بہت بڑے عالم ہیں۔ دینی معاملات پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے رسالہ ”افریقہ بولتا ہے“ وہ احمدیوں کے نوجوانوں کی تنظیم ”خدام احمدیہ“ کے سربراہ رہے ہیں۔ وہ مسیح موعود کے موعود پوتا ہیں۔ ان کے خلیفہ سوئم کے تقرر سے اس پیش گوئی کی تکمیل ہوئی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ مسیح موعود کے تخت کا وارث اس کا پوتا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ بائبل میں یہ لکھا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ ظہور ہوگا تو اس کا پوتا اس کے تخت (حکومت) کا وارث بنے گا۔ مرزا ناصر احمد تاحیات خلیفہ منتخب ہوئے ہیں۔ ان کی دعوت احمدیہ تمام دنیا کے لئے ہے۔ وہ براہ راست خدا تعالیٰ سے رابطہ رکھتے ہیں۔ خلیفہ منتخب ہونے سے پہلے مرزا ناصر احمد ١٩٤٤ء تا ١٩٦٥ء تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل رہے ہیں۔ یہ کالج جماعت احمدیہ

١٧٠

صفحہ ١٧١

2899 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

چلاتی ہے۔ ان کے پیروکار انہیں امیر المومنین کہہ کر پکارتے ہیں۔ مرزا ناصر احمد کے بیان کے مطابق مرزا غلام احمد کے خلیفہ کا انتخاب ایک انتخابی ادارہ کرتا ہے جو کہ مختلف گروپوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مرزا ناصر احمد کے بطور خلیفہ انتخاب کے وقت یہ انتخابی ادارہ پانچ سو نفوس پر مشتمل تھا۔ انہوں نے کوئی الیکشن نہیں لڑا اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کوئی کاغذات نامزدگی داخل کئے گئے تھے۔ (خلیفہ سوئم کے انتخاب کے وقت) دو نام ایک مرزا ناصر احمد کا اور ایک مرزا غلام احمد کے خاندان میں سے تجویز ہوئے تھے۔ تاہم مرزا ناصر احمد کا انتخاب متفقہ طور پر ہوا تھا۔ ان کا عقیدہ ہے کہ خلیفہ کا انتخاب خدا کی قدرت اور مہربانی سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس (خلیفہ) کو کسی ذہنی یا جسمانی معذوری کے سبب ہٹائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسے (خلیفہ) کو اللہ کی طرف سے رہنمائی ملتی ہے۔ وہ جسمانی طور پر مفلوج یا بیمار ہو سکتا ہے۔ مگر کبھی بھی ذہنی طور پر مفلوج نہیں ہو سکتا۔ تمام دنیا میں جہاں جہاں احمدی آباد ہیں وہاں جماعت احمدیہ کی شاخیں موجود ہیں۔ مرزا ناصر احمد نے کہا ہے کہ ان کی جماعت خالصتاً مذہبی تنظیم ہے۔ وہ (عیسائیوں کے) پوپ کی طرح اپنی مذہبی سلطنت کے سربراہ ہیں۔ ان کی ایک مشاورتی کونسل ہے۔ جس سے وہ مشورہ کرتا ہے۔ تمام فیصلے مشاورتی کونسل سے مشورہ کے بعد کئے جاتے ہیں اور عام طور پر متفقہ ہوتے ہیں۔ تاہم وہ (خلیفہ) حرف آخر ہوتا ہے اور اسے اپنا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ وہ مشاورتی کونسل کے فیصلہ کو رد کر کے اپنا فیصلہ دے سکتا ہے۔ مختصراً اس کے پیروکاروں کا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اور مہربانی حاصل ہوتی ہے۔

(مرزا ناصر کی بات ناقابل فہم)

جناب والا! جب یہ مقدس ہستی کمیٹی کے روبرو پیش ہوئی تو سوال پیدا ہوا۔ بہر حال میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ جو مرزا صاحب کی نبوت کو نہیں مانتے۔ ان کے بارے میں انہوں نے کیا کہا ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ ایسے لوگ کافر ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس (مرزا ناصر احمد) نے جواب دیا ”کافر“ سے مراد ایسا شخص نہیں جسے منحرف یا مرتد قرار دیا جائے۔ یا ایسا تارک الدین شخص جسے اسلام کے دائرے سے خارج کرنا پڑے۔ بلکہ ایسے کافر سے مراد ایک قسم کا گنہگار ہے یا ثانوی درجے کا کافر۔ کیونکہ وہ پیغمبر اسلام ﷺ پر تو ایمان رکھتا ہے۔ اس لئے مرزا ناصر احمد کے بقول ایسا شخص (جو مرزا غلام احمد کی نبوت کا انکار کرتا ہے) ملت محمدیہ کے اندر تو رہے گا مگر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بالکل نہیں

OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

نکات نمبر ٤، ٥ کو اکٹھا لوں گا۔ یہ نکات یہ ہیں اثرات اور اس دعوٰی کے مسلمانوں پر اثرات

(مرز

اس موضوع پر معروضات پیش ک کے ساتھ مجھے خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑ کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں۔ جناب والا! مر مقرر ہوا۔ سوائے اس بات کے وہ خلیفہ ا آئی۔ وہ ایک خاموش طبع آدمی معلوم ہوت نورالدین کی موت کے بعد جماعت کے اند ربوہ گروپ وجود میں آگئے۔ جب بشیر الدی بطور خلیفہ عہدہ سنبھال لیا۔ وہ کمیٹی کے روب بارے میں ایک سوال کیا۔ جواب میں انہو مجھے جو کچھ قادیانی لٹریچر سے مل سکا ہے۔ و مرزا ناصر احمد نے اپنے والد بشیر الدین محمو عہدہ سنبھالا اور وہ قادیانی (ربوہ) گروپ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ ہیں۔ ایم اے (آکسفورڈ) عربی، فارسی ا گہری دسترس رکھتے ہیں۔

جماعت احمدیہ کے رسالہ 'الفر احمدیہ' کے سربراہ رہے ہیں۔ وہ مسیح موعود پیش گوئی کی تکمیل ہوئی۔ جس میں کہا گیا ۔ کہنا ہے کہ بائبل میں یہ لکھا ہے کہ جب حض کے تخت (حکومت) کا وارث بنے گا۔ مرز احمد یہ تمام دنیا کے لئے ہے۔ وہ براہ راست پہلے مرزا ناصر احمد ١٩٤٤ء تا ١٩٦٥ء تعلیم الاس

صفحہ ١٧٢

2900 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

سمجھ سکا۔ میں نے یہ بات سمجھنے کی انتہائی کوشش کی۔ جب ایک شخص کافر ہو جاتا ہے تو وہ کیسے: ”دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر ملت محمدیہ سے باہر نہیں ۔“ آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کئی روز تک ہم اس مشکل میں مبتلا رہے۔ جناب والا! آخر کار جب میں نے مرزا ناصر احمد کو کلمۃ الفصل سے ص ١٤٦ کا حوالہ پڑھ کر سنایا اور مندرجہ ذیل اقتباس کا مطلب دریافت کیا۔

”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا ہے کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکا نہ کھا جائیں۔ اس لئے کہیں کہیں بطور ازالہ غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ ”وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں ۔“ جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو، اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان ۔“

(سچے مسلمان صرف قادیانی؟)

اس موقع پر میں نے مرزا ناصر احمد سے پوچھا کہ حقیقی مسلمان سے کیا مراد ہے۔ اس نے اپنے محضر نامے میں بھی سچے مسلمان کی تعریف میں کافی زیادہ تفصیلات بیان کی ہیں۔ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ حقیقی مسلمان کئی ایک ہیں۔ میں نے پوچھا کیا آج بھی ایسے (حقیقی مسلمان) موجود ہیں۔ کیونکہ یہ ایک بہت ہی مشکل تعریف ہے۔ مسلمان کی تعریف میں مرزا غلام احمد کو نبی ماننے یا نہ ماننے کا کوئی ذکر نہیں۔ اس لئے یہ خاص مشکل تعریف ہے۔ تو اس تعریف کے پیش نظر سچے مسلمانوں کا وجود اس زمانے میں ہے؟ مرزا ناصر احمد نے جواب دیا۔ ہاں ! سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ میں خود حیران تھا کہ ایسے سچے مسلمان کہاں پر ہیں۔ جب میں نے سوال کیا تو وہ (مرزا ناصر احمد ) سیدھا اور براہ راست جواب دینے سے ٹال مٹول کرنے لگا تو پھر میں نے پوچھا کہ: ”کیا غیر احمدیوں میں کوئی ایک بھی حقیقی مسلمان یا سچا مسلمان ہے۔“ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ تو اس جواب پر بات ختم ہو گئی اور بحث اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ کیونکہ ان (احمدیوں) کے مطابق صرف وہی سچے مسلمان ہیں۔ باقی سب سیاسی مسلمان ہیں۔ بلکہ نام کے مسلمان، جعلی مسلمان، جھوٹے مسلمان۔ جب کہ سچا مسلمان ۔ ایک اچھا مسلمان صرف ایک احمدی ہی ہو سکتا ہے یا احمدیوں میں سے ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تو جناب والا! یہ ہے معاملہ جس پر غور ہونا ہے۔ پھر اسی کتاب میں مرزا غلام احمد کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

صفحہ ٢٩٠١

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

سمجھ سکا۔ میں نے یہ بات سمجھنے کی انتہائی کوشش کی ”دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر ملت محمدیہ سے باہر نہیں آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کئی روز تک آخر کار جب میں نے مرزا ناصر احمد کو کلمۃ الفصل سے اقتباس کا مطلب دریافت کیا۔

”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ کہیں بطور ازالہ غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لک ہیں۔“ جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو، اس سے مدعی ا

(سچے مسلمان صرف

اس موقع پر میں نے مرزا ناصر احمد سے نے اپنے محضر نامے میں بھی سچے مسلمان کی تعری مرزا ناصر احمد نے کہا کہ حقیقی مسلمان کئی ایک ہیں مسلمان) موجود ہیں۔ کیونکہ یہ ایک بحث ہی مشکل ت احمد کو نبی ماننے یا نہ ماننے کا کوئی ذکر نہیں۔ اس لئے م پیش نظر سچے مسلمانوں کا وجود اس زمانے میں ہے؟ م ہزاروں ، لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ میں خود حیران ۔ میں نے سوال کیا تو وہ (مرزا ناصر احمد) سیدھا اور ب لگا تو پھر میں نے پوچھا کہ: ”کیا غیر احمدیوں میں کوئی اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ تو اس جواب پر بات ختم (احمدیوں) کے مطابق صرف وہی سچے مسلمان ہیں مسلمان ، جعلی مسلمان، جھوٹے مسلمان۔ جب کہ احمدی ہی ہو سکتا ہے یا احمدیوں میں سے ہی ہو سکتا ہ ہے معاملہ جس پر غور ہونا ہے۔ پھر اسی کتاب میں مرا

١٧٢

2901 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

”ہر ایک شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد ﷺ کو نہیں مانتا، محمد ﷺ کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ١١٠)

(غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا)

ان غیر مبہم الفاظ کے باوجود جن میں کہا گیا ہے کہ جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مرزا ناصر احمد کہتے ہیں ۔ ”نہیں، نہیں۔“ جب وہ (مرزا بشیر احمد) کہتا ہے کہ ”دائرہ اسلام“ سے خارج ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ (مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والا ) پیغمبر اسلام ﷺ کی امت میں رہتا ہے۔ یہ ایسا لفظ ہے جو ہم کافی وقت تک مرزا ناصر احمد سے سمجھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاکہ کوئی ایسی صورت نکل سکے کہ وہ تمام مسلمانوں کو مسلمان کے زمرہ میں شمار کریں۔ بالآخر کیا ہونا چاہئے۔ اس بات کا فیصلہ تو کمیٹی کو کرنا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ اگر وہ یہ کہہ دیں کہ ہم (غیر احمدی) مسلمان ہیں اور ہم کہیں کہ وہ (احمدی) مسلمان ہیں تو ایک دوسرے کو کافر کہنے کی فتویٰ بازی سے صرف نظر ہو سکے گا۔ لیکن مرزا ناصر احمد نے بڑے اکھڑ پن سے کہا کہ غیر احمدیوں میں کوئی حقیقی مسلمان موجود نہیں۔ کوئی غیر احمدی شخص حقیقی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔

جناب والا! مرزا ناصر احمد نے نماز اور شادی بیاہ کے متعلق بھی بہت سی باتیں کیں۔ مگر اس وقت میں ایک دوسرے موضوع پر معروضات پیش کروں گا اور اس نقطہ (نماز، شادی بیاہ وغیرہ) پر اس وقت گزارشات پیش کروں گا۔ جب میں اس موضوع پر آؤں گا کہ کیا مرزا غلام احمد نے اپنی الگ امت بنائی تھی یا اسلام کے اندر ہی ایک نئے فرقہ کا اضافہ کیا تھا۔ میرا مطلب ان کی علیحدگی پسندی کی ذہنیت سے ہے۔ جس کے متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے۔ جناب والا! مجھے وقت کی کمی کا احساس ہے۔ میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ آخر کار اسی مسئلہ پر اراکین نے غور کرنے کے بعد فیصلہ دینا ہے اور سفارشات پیش کرنا ہیں۔ جناب والا! میں اراکین کو اسی بات کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جس کا میں پہلے ذکر کر رہا تھا۔ یعنی مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت)

جناب محمود اعظم فاروقی: اگر اتنی دیر تک بیٹھنا ہے تو میں برف ہو جاؤں گا۔ مجھے ٹمپریچر بھی ہے۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: آپ کی رضائی کا بندوبست کرنا ہے۔

١٧٣

صفحہ ٢٩٠٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

میاں محمد عطاء اللہ: فاروقی صاحب ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ (مداخلت) (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں یہ ایک بہت ہی اہم پہلو ہے جو خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر فیصلہ خلاف ہوتا ہے تو یہ اس جماعت پر اثر انداز ہوگا۔ مرزا غلام احمد نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر کہا کہ نبی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ میں مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب ”احمدیت اور سچا اسلام“ ص ٢٨ کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔ ”مختصراً، نبی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو صاحب شریعت ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے وہ جو بنی نوع انسان کے گمراہ ہو جانے کے بعد اللہ کا قانون دوبارہ نافذ کرتے ہیں۔ جیسا کہ ایلیجا، یسعیا، حزقی ایل، دانیال اور یسوع علیہم السلام۔ مسیح موعود نے بھی آخرالذکر نبیوں جیسا نبوت کا دعویٰ کیا اور وثوق کے ساتھ کہا کہ جس طرح یسوع علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے آخری خلیفہ تھے۔ اسی طرح مسیح موعود اسلامی شریعت کے آخری خلیفہ ہیں۔ تحریک احمدیہ کی اسلام کے دیگر فرقوں کے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو عیسائیت کی یہودیت کے مقابلہ میں ہے۔“

جناب والا! یہاں پر ایک موازنہ کیا گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر شریعت کے نبی تھا۔ اس کا تعلق یہودی نسل سے تھا۔ جو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر کاربند تھا۔ آگے کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد کی پیغمبر اسلام ﷺ کے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں تھی۔ جناب والا! ہر مذہبی معاشرہ اور مذہبی نظام کے مطابق کسی بھی نبی کے پیروکار اپنے نبی کی ذات کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ معاشرہ اسی طرح چلتا ہے۔ یہودی مذہب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات ہے۔ عیسائی مذہب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور اسلام میں حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودی معاشرہ میں تشریف لائے تو فرمایا: ”یہ خیال مت کرو کہ میں (سابقہ) قانون شریعت یا نبیوں کو رد کرنے کے لئے آیا ہوں۔ میں ان کی تردید نہیں بلکہ تکمیل کرنے آیا ہوں۔“

اس فرمان کی اہمیت پر غور کریں۔ ”میں (سابقہ) قانون شریعت یا نبیوں کو رد کرنے نہیں آیا۔ میں ان کی تردید نہیں بلکہ تکمیل کرنے آیا ہوں ۔“ مرزا غلام احمد کہتا ہے: ”میں کسی تبدیلی کے لئے نہیں آیا۔ قرآن کا ایک نقطہ تک بھی تبدیل کرنے نہیں آیا۔ میں تو اس کا احیاء کرنا چاہتا ہوں۔“

١٧٧

صفحہ ٢٩٠٣

سرگزشت

2903 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

یہ بالکل اسی طرح ہے جیسا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے موسوی شریعت کی تعبیر کی اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کو، اپنا دوسرا رخسار پیش کرنے کا بدل بنا دیا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے کہا کہ یہ سب کچھ تو تورات میں پہلے سے موجود ہے۔ یہی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم ہے۔ بالکل یہی کچھ مرزا غلام احمد نے شروع کیا۔ قرآن کریم کی تعبیر کرتے ہوئے الفاظ کو نئے معانی پہنائے۔ جیسا کہ خاتم النبیین اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور وفات سے متعلقہ آیات کے معانی اور مطالب۔

جناب والا! یہ ہے موازنہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا غلام احمد کی تعلیمات کا) آپ غور فرمائیں کہ جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوا تو یہودی معاشرے کا کیا بنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سابقہ شریعت کو بدل دیا۔ ان کے معاشرہ میں سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گرد جمع ہو گئے۔ کسی بھی مذہبی معاشرے یا مذہبی نظام میں ایک محور ہوتا ہے۔ اس میں جب ایک اور محور کا اضافہ ہوگا کوئی اور ہستی آئے گی تو لازماً جھگڑے اور ناچاقیاں پیدا ہوں گی یا تو سارا نظام ہی تہ و بالا اور برباد ہو جائے گا۔ یا اس کا کچھ حصہ الگ ہو کر دنیا الگ مذہب بنا لیں گے۔ جیسا کہ عیسائیت اور یہودیت کے مابین ہوا۔

میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ مرزا غلام احمد، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روش اختیار کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ جب وہ کافی طاقت اور حمایت حاصل کرے تو اعلان کرے: ”میری اپنی الگ امت ہے۔“ یہ روش اس نے اختیار کی اور میں سمجھتا ہوں یہی اس کا مقصد تھا۔ کمیٹی کے اراکین کو اچھی طرح علم ہے۔ اس بارے میں کافی شہادت ریکارڈ پر موجود ہے اور میں نے کتاب میں سے حوالہ دیا ہے۔ (جس میں لکھا ہے) کہ مرزا غلام احمد نے اپنے پیروکاروں کے لئے مکمل ضابطہ حیات چھوڑا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے پیروکاروں کو شادی بیاہ کے متعلق احکام جاری کئے۔ میں نے احمد نامی کتاب سے حوالہ دیا ہے۔ جس کے ص ٥٢ پر مندرجہ شادی بیاہ سے متعلقہ احکامات کا میں اعادہ کرتا ہوں۔

”اسی سال جماعت کے سماجی رشتوں کی استواری اور جماعت کے مخصوص خدوخال کی نگہداشت کی خاطر اس نے شادی بیاہ اور سماجی تعلقات کے لئے احکامات جاری کئے اور احمدیوں کو اپنی بیٹیوں کی شادیاں غیر احمدیوں کے ساتھ کرنے کی ممانعت کر دی۔“

اگر آپ ایک ہی امت سے ہیں۔ بھائی بھائی ہیں تو پھر ایسے احکام دیے جاسکتے تھے؟

١٧٥

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

میاں محمد عطاء اللہ: فاروقی صاحب (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! ج ہی اہم پہلو ہے جو خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر فیص ہوگا۔ مرزا غلام احمد نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب ”احمدیت اور سچا اسلام“

”مختصراً ، نبی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے وہ جو بنی نوع ا دوبارہ نافذ کرتے ہیں۔ جیسا کہ یحییٰ، عیسیٰ، نیز اسمٰعیل بھی آخر الذکر نبیوں جیسا نبوت کا دعویٰ کیا اور وثوق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے آخری خلیفہ آخری خلیفہ ہیں۔ تحریک احمدیہ کی اسلام کے دیگ عیسائیت کی یہودیت کے مقابلہ میں ہے۔“

جناب والا! یہاں پر ایک موازنہ کیا گیا شریعت کے نبی تھا۔ اس کا تعلق یہودی نسل سے تھا کار بند تھا۔ آگے کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد کی پیغمبر ا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اور مذہبی نظام کے مطابق کسی بھی نبی کے پیروکار معاشرہ اسی طرح چلتا ہے۔ یہودی مذہب میں حض مذہب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودی معاشرہ میں تشریف (سابقہ) قانون شریعت یا نبیوں کو رد کرنے کے ل کرنے آیا ہوں۔“

اس فرمان کی اہمیت پر غور کریں۔ ”میں (ت آیا۔ میں ان کی تردید نہیں بلکہ تکمیل کرنے آیا ہوں۔“ نہیں آیا۔ قرآن کا ایک نقطہ تک بھی تبدیل کرنے نہیں

١٧٤

صفحہ ٢٩٠٤

سرگزشت

2904 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

اور یہ بھی کہتے ہیں: ”میں امتی ہوں ۔“ اور وہی عقیدہ رکھتا ہوں ۔ جناب والا! اس (مرزا غلام احمد ) نے نماز اور نماز جنازہ کے متعلق بھی احکام جاری کئے ۔ میرے پاس کئی ایک حوالہ جات ہیں ۔ مگر میں آپ کا وقت ضائع نہیں کروں گا ۔ کمیٹی یہ حوالہ جات سماعت کر چکی ہے ۔ مرزا ناصر احمد نے بڑی شدت سے یہ اصرار کیا کہ: ”ہم غیر احمدیوں کی نماز جنازہ اس لئے نہیں پڑھتے کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں نے ہمارے خلاف فتوے دیئے تھے ۔ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں ۔ کفر کے ان فتوؤں کی گھن گرج میں ہم ان (مسلمانوں) کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکتے ۔“

(مرزا ناصر کا ٹال مٹول)

وہ کئی روز تک اسی بات پر مصر رہے اور اس طرح کئی دن ضائع ہوگئے۔ درحقیقت میں چاہتا تھا کہ مرزا ناصر احمد صاف گوئی سے کام لیں ۔ اگر آپ کا کوئی عقیدہ ہے تو صاف گوئی سے کہیں۔ ٹال مٹول کیوں ہو ۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا اور بار بار یہی اصرار کیا کہ وہ ان فتوؤں کی وجہ سے ہمارے (مسلمانوں) کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ۔

قائد اعظم کی نماز جنازہ کے متعلق مرزا ناصر احمد نے کہا کہ چونکہ مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی نے ہمارے خلاف فتویٰ دے رکھا تھا۔ اس لئے سر ظفر اللہ نماز جنازہ میں شریک نہ ہوا۔ میں نے سوال کیا کہ چلیں ایسا ہی سہی۔ یہ بتائیں کہ آپ نے اپنے امام کے پیچھے کسی اور جگہ پر غائبانہ نماز جنازہ کیوں ادا نہ کی تو مرزا ناصر احمد نے جواب دیا اسے معلوم نہیں کہ (احمدیوں میں سے) کسی نے (نماز جنازہ) پڑھی تھی یا نہیں۔ اس نے جواب کو ٹال دیا۔ مجھے افسوس ہے ۔ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا اور کمیٹی کو معلوم ہے کہ آخر کار کیا نتیجہ نکلا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ فتوؤں کے بہانے میدان مارلیں گے ۔ کیوں ایسے بے شمار فتوؤں سے مفر ہیں۔ لیکن آخرکار میرے ایک سوال پر حقائق سامنے آ ہی گئے۔ میں نے سوال کیا کہ کیا مرزا غلام احمد کا ایک بیٹا فضل احمد نام کا تھا، جو احمدی نہیں ہوا تھا۔ مرزا ناصر احمد نے کہا کہ یہ بات درست ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ فضل احمد مرزا صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا۔ جواب دیا کہ یہ بھی درست ہے۔ میں نے سوال کیا کہ کیا مرزا صاحب نے اپنے بیٹے فضل احمد کی نماز جنازہ پڑھی۔ مرزا ناصر احمد نے جواب دیا۔ نہیں۔ میں نے سوال کیا۔ فضل احمد نے مرزا صاحب کے خلاف کوئی فتویٰ دیا تھا۔ مرزا ناصر احمد نے جواب دیا۔ نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کیا فضل احمد سے مرزا صاحب ناراض تو نہیں تھے۔ کیونکہ مرزا صاحب نے خود کہا تھا: ”کہ بڑا فرمانبردار بیٹا تھا اس نے کبھی شرارت

١٧٦

2905 NATIONAL ASSEMBLY O

یا۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو یہ بچہ (فضل احمد) غلام احمد نے فضل احمد کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر م احمد اس کو کافر سمجھتا تھا۔ چنانچہ فتوؤں کی تمام کہانیاں

حال ہے۔ اس (مرزا ناصر احمد ) نے کہا وہ ایسا اس لئے احمدی ہیں) قادیانی لڑکیوں سے اچھا سلوک روا نہیں سلام کے احکامات کے مطابق ادا نہیں کرسکتیں۔ یہ کس نہ اعتقادات کو سب سے بہتر طور پر سمجھنے والے انسان احمد کہتے ہیں۔ ہاں! مسلمان لڑکی کی شادی ایک احمدی احمدی سے نہیں ہو سکتی۔ احمدی لڑکی مسلمان خاوند کے ندی خاوند کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے۔

(دو نصاریٰ جیسے؟)

وشی اور ناخوشی کا دعویٰ بھی غلط ہے۔ کیونکہ ان کی اپنی ئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں کہ ص ١٦٩ پر کتاب کے مصنف ہے: ”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ نازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔ ہوتا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ا اجازت ہے۔“

ں (مسلمانوں) کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ حیثیت دیتے ہیں جو نبی کریم ﷺ مسلمانوں کے احمدی، مسلمانوں کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ امت اور الگ قوم سمجھتے تھے۔ لیکن ان کی لڑکیوں کو

١٧٧

صفحہ ٢٩٠٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

نہیں کی۔‘‘ اور کہ: ’’ایک دفعہ میں بیمار پڑ گیا۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو یہ بچہ (فضل احمد) کھڑا تھا اور رو رہا تھا۔‘‘

ان سب باتوں کے باوجود مرزا غلام احمد نے فضل احمد کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا کہ وہ اس کو مسلمان نہیں سمجھتا تھا۔ مرزا غلام احمد اس کو کافر سمجھتا تھا۔ چنانچہ فتوؤں کی تمام کہانیاں بے معنی ہو کر رہ گئیں۔

جناب والا! شادی بیاہ کا بھی یہی حال ہے۔ اس (مرزا ناصر احمد ) نے کہا وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کہ مسلمان (مسلمان سے مراد غیر احمدی ہیں) قادیانی لڑکیوں سے اچھا سلوک روا نہیں رکھتے اور وہ یعنی احمدی لڑکیاں دینی فرائض اسلام کے احکامات کے مطابق ادا نہیں کر سکتیں۔ یہ کس قدر گستاخانہ اور توہین آمیز جواب ہے۔ اپنے اعتقادات کو سب سے بہتر طور پر سمجھنے والے انسان صرف احمدی ہی ہیں۔ دوسری جانب مرزا ناصر احمد کہتے ہیں ۔ ہاں! مسلمان لڑکی کی شادی ایک احمدی سے ہو سکتی ہے۔ مگر احمدی لڑکی کی شادی کسی غیر احمدی سے نہیں ہو سکتی۔ احمدی لڑکی مسلمان خاوند کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔ جب کہ مسلمان لڑکی احمدی خاوند کے ساتھ خوش رہ سکتی ہے۔

(مسلمان یہود و نصاریٰ جیسے؟)

جناب والا! ان کی طرف سے یہ خوشی اور ناخوشی کا دعویٰ بھی غلط ہے۔ کیونکہ ان کی اپنی چھوٹی سی کتاب کلمۃ الفصل جسے نامعلوم میں کئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں کہ ص ١٦٩ پر کتاب کے مصنف مرزا بشیر احمد نے ان الفاظ میں وضاحت کی ہے: ’’غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے ۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔‘‘

جناب والا! یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیں (مسلمانوں) کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ عیسائی یہودیوں کو سمجھتے ہیں۔ وہ ہمیں وہی حیثیت دیتے ہیں جو نبی کریم ﷺ مسلمانوں کے بارے میں یہودیوں اور نصاریٰ کو دیتے تھے۔ احمدی، مسلمانوں کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام ﷺ، یہودیوں اور عیسائیوں کو الگ امت اور الگ قوم سمجھتے تھے۔ لیکن ان کی لڑکیوں کو

١٧٧

SEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

اور یہ بھی کہتے ہیں: ’’میں امتی ہوں۔‘‘ اور وہی عقیدہ احمد) نے نماز اور نماز جنازہ کے متعلق بھی احکام جاری ہیں۔ مگر میں آپ کا وقت ضائع نہیں کروں گا۔ کمیٹی یہ حوالہ نے بڑی شدت سے یہ اصرار کیا کہ: ’’ہم غیر احمدیوں مسلمانوں کے تمام فرقوں نے ہمارے خلاف فتوے دیئے فتوؤں کی گھن گرج میں ہم ان (مسلمانوں) کے جنازے

(مرزا ناصر کا ٹال مٹول)

وہ کئی روز تک اسی بات پر مصر رہے اور اس طرح چاہتا تھا کہ مرزا ناصر احمد صاف گوئی سے کام لیں۔ اگر آپ ٹال مٹول کیوں ہو۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے بار بار یہی اصرار کیا کہ وہ ان فتوؤں کی وجہ سے ہمارے (مسلم

قائد اعظم کی نماز جنازہ کے متعلق مرزا ناصر ا عثمانی نے ہمارے خلاف فتویٰ دے رکھا تھا۔ اس لئے سرظ نے سوال کیا کہ چلیں ایسا ہی سہی۔ یہ بتائیں کہ آپ نے نماز جنازہ کیوں ادا نہ کی تو مرزا ناصر احمد نے جواب دیا کسی نے (نماز جنازہ) پڑھی تھی یا نہیں۔ اس نے جواب کہ یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا اور کمیٹی کو معلوم ہے کہ ا فتوؤں کے بہانے میدان مار لیں گے۔ کیوں ایسے بے

میرے ایک سوال پر حقائق سامنے آ ہی گئے۔ میں نے سوا احمد نام کا تھا، جو احمدی نہیں ہوا تھا۔ مرزا ناصر احمد نے کہ پوچھا کہ فضل احمد مرزا صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گ میں نے سوال کیا کہ کیا مرزا صاحب نے اپنے بیٹے فضل نے جواب دیا نہیں۔ میں نے سوال کیا۔ فضل احمد نے مر مرزا ناصر احمد نے جواب دیا۔ نہیں۔ پھر میں نے پوچھا ک نہیں تھے۔ کیونکہ مرزا صاحب نے خود کہا تھا: ’’کہ بڑا ف

١٧٦

صفحہ ٢٩٠٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

مسلمان مردوں سے شادی کرنے کی اجازت ہے۔ مسلمان لڑکیوں کو ان (یہودیوں اور عیسائی مردوں) سے شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بالکل یہی پالیسی احمدیوں نے مسلمانوں کے لئے اختیار کی ہوئی ہے۔

(قادیانیوں میں علیحدگی پسندی کا رجحان)

مزید یہ کہ میں نے مرزا ناصر احمد سے علیحدگی پسندی کا رجحان رکھنے کے متعلق بار بار سوال کیا۔ وجہ یہ تھی کہ میں اسے پورا پورا موقع دینا چاہتا تھا کہ وہ واضح کر سکے کہ احمدیوں یا قادیانیوں میں اس قسم کا کوئی رجحان نہیں ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ احمدیوں کے ہاں ایک متوازی نظام موجود ہے۔ بعینہ اسی طرح جیسا کہ عیسائیت اور اسلام میں ہے۔ احمدیت کا اسلام کے مقابلے میں متوازی نظام موجود ہے اور یہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ مرزا صاحب اپنی ایک الگ امت بنا رہے تھے۔ اس کی ایک اور مثال ہے۔ ١٩٠١ء میں مرزا صاحب نے اپنے پیروکاروں کو مردم شماری میں ایک الگ فرقہ کے طور پر رجسٹر کروانے کا حکم دیا جو کہ اپنے آپ کو ”احمدی مسلم“ کہتے تھے۔ جناب والا! مرزا بشیر الدین محمود احمد نے کہا تھا اور یہ بات میں نے مرزا ناصر احمد کو بطور حوالہ پیش کی تھی کہ: ”ہمارا اللہ ! ہمارا نبی، ہمارا قرآن، ہماری نماز، ہمارا حج ، ہمارا روزہ، ہماری زکوٰۃ، غرض ہماری ہر چیز دوسرے مسلمانوں سے مختلف ہے۔“

میں نہیں سمجھتا اس کا مطلب کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد نے کہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ ہم ان (اللہ، نبی، قرآن، نماز، حج، روزہ، زکوٰۃ) کی خود تعبیر کرتے ہیں۔ اس نے (جماعت احمدیہ کی) علیحدگی پسندی کے رجحانات کے متعلق بہت سی وضاحتیں کیں۔ یہ امر واقعہ ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً سیاسی میدان میں مسلمانوں کے نقطہ نظر کی حمایت کرتے رہے ہیں اور یہ بات کمیٹی کے زیر غور آنا چاہئے۔ اس (مرزا ناصر احمد) نے ایک طویل تاریخ بیان کی۔ سر ظفر اللہ کی خدمات کا تذکرہ کیا۔ اپنے والد مرزا بشیر الدین محمود احمد کی کشمیر کمیٹی میں خدمات کا ذکر کیا۔ یہ بات یاد رہے کہ ڈاکٹر اقبالؒ نے اس کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کیونکہ قادیانی اس کمیٹی کو اپنے مفاد کی خاطر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ تاہم اس کو نظر انداز کرتے ہوئے مرزا ناصر احمد کا زور اس بات پر تھا کہ انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے مفاد کی خاطر کام کیا ہے اور مسلمانوں کا ساتھ دیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ایک خطبہ میں جو کہ ١٣؍نومبر ١٩٣٦ء کے اخبار میں شائع ہوا تھا۔ کہا تھا کہ اگر برٹش گورنمنٹ نے مسلم لیگ کے خلاف کوئی کارروائی کی تو اسے مسلم قوم کے

١٧٨

PDF 687

سرگزشت

2907 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور وہ ( قادیانی ) مسلم قوم کی حمایت کریں گے۔ یہ یقیناً مسلمانوں کی حمایت کے مترادف ہے۔ مگر اخبار کے اسی شمارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب وہ یہ کہتا ہے تو اسی وقت اپنا ایک ایلچی وائسرائے کے پاس بھجوا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جس طرح عیسائیوں اور پارسیوں کو نمائندگی دی گئی ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ”ہمارے حقوق کا بھی تحفظ کیا جائے ۔“ اور برطانوی وائسرائے یا کوئی دوسرا اعلیٰ عہدیدار اس کو یا اس کے نمائندہ کو جواب دیتا ہے۔ ”آپ ایک مسلم فرقہ ہیں جو کہ اقلیت میں ہے۔ مذہبی اقلیت ۔“ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جواب دیا کہ احمدیوں کے مفادات کا بھی اسی طرح تحفظ کیا جائے۔ ”اگر وہ ایک پارسی پیش کریں گے تو میں ہر ایک پارسی کے مقابلہ میں دو احمدی پیش کر سکتا ہوں۔“ یہ استدلال انہوں نے خود اختیار کیا ہے۔ جناب والا! اس نقطہ پر میں پھر ڈاکٹر محمد اقبال کا حوالہ دوں گا۔ وہ فرماتے ہیں: ”قادیانیوں کی علیحدگی پسندی کے اس رجحان کے مدنظر جو کہ انہوں نے مذہبی اور سماجی معاملات میں تواتر کے ساتھ اس وقت سے اختیار کر رکھا ہے۔ جب سے ( مرزا غلام احمد ) کی نبوت کو ایک نئی جماعت کے جنم کی بنیاد بنایا ہے اور اس رجحان کے خلاف مسلمانوں کے شدید ردعمل کے پیش نظر یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ از خود قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین اس بنیادی اختلاف کا نوٹس لے اور مسلمان قوم کی جانب سے کسی رسمی احتجاج کا انتظار نہ کرے۔ مجھے اس بارے میں حکومت کے سکھ قوم کے بارے میں کی گئی کارروائی سے حوصلہ ملا ہے۔ ١٩١٩ء تک سکھ قوم کو ایک الگ سیاسی اکائی نہیں مانا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں سکھ قوم کی طرف سے کسی رسمی احتجاج کے بغیر ہی انہیں یہ درجہ دے دیا گیا تھا۔ باوجود اس امر کے کہ لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ سکھ، ہندو ہیں۔“

جناب والا! علامہ محمد اقبال کی رائے میں قادیانی خود ہی اپنے کو ایک علیحدہ مذہبی جماعت قرار دیئے جانے پر اصرار کرتے رہے ہیں اور اس پر اس اعتراض کا بھی جواب ہے کہ ایوان کو انہیں علیحدہ مذہبی جماعت قرار دینے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اس لئے کہ لاہور ہائی کورٹ اور پریوی کونسل نے فیصلہ دیا تھا کہ سکھ قوم ہندو قوم کا حصہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے سکھوں کو الگ قوم قرار دے دیا تھا۔ پارلیمنٹ ایسا کرنے کی مجاز ہے۔ یہ بات بھی کمیٹی کے ذہن نشین رہنی چاہئے۔ جناب والا! قادیانیوں کے بارے میں علامہ محمد اقبال مزید فرماتے ہیں: ”ہمارے عقیدے کے مطابق اسلام اللہ کا بھیجا ہوا دین ہے۔ لیکن اسلام کا وجود بطور ایک قوم اور

١٧٩

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

مسلمان مردوں سے شادی کرنے کی اجازت ہے۔ مردوں ) سے شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ با لئے اختیار کی ہوئی ہے۔

( قادیانیوں میں علیحدگی

مزید یہ کہ میں نے مرزا ناصر احمد سے علیحد سوال کیا۔ وجہ یہ تھی کہ میں اسے پورا پورا موقع دی قادیانیوں میں اس قسم کا کوئی رجحان نہیں ہے۔ لیکن متوازی نظام موجود ہے۔ بعینہ اسی طرح جیسا کہ یہ کے مقابلے میں متوازی نظام موجود ہے اور یہ ساتھ امت بنا رہے تھے۔ اس کی ایک اور مثال ہے۔ ١٩٠١ مردم شماری میں ایک الگ فرقہ کے طور پر رجسٹر کروا کہتے تھے۔ جناب والا! مرزا بشیر الدین محمود احمد نے آ حوالہ پیش کی تھی کہ: ”ہمارا اللہ ! ہمارا نبی، ہمارا قرآن زکوٰۃ ، غرض ہماری ہر چیز دوسرے مسلمانوں سے مختلف میں نہیں سمجھتا اس کا مطلب کیا ہے۔ مر جیسا کہ ہم ان (اللہ، نبی، قرآن، نماز، حج، روزہ (جماعت احمدیہ کی) علیحدگی پسندی کے رجحانات ۔ ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً سیاسی میدان میں مسلمانوں کے نظ کمیٹی کے زیر غور آنا چاہئے۔ اس (مرزا ناصر احمد) خدمات کا تذکرہ کیا۔ اپنے والد مرزا بشیر الدین محمود ا یاد رہے کہ ڈاکٹر اقبال نے اس کمیٹی سے استعفیٰ دے خاطر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ تاہم اس کو نظر انداز کر کہ انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے مفاد کی خاطر کام ک شک نہیں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ایک خطبہ ت ہوا تھا۔ کہا تھا کہ اگر برٹش گورنمنٹ نے مسلم لیگ کے

١٧٨

صفحہ ١٨٠

سرگزشت

2908 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

معاشرہ تمام تر نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کا مرہون منت ہے۔ میرے خیال میں قادیانیوں کے لئے دو ہی راستے ہیں یا تو وہ صاف صاف مسلمانوں کا طریقہ اختیار کریں یا اسلام کی نبوت کی ختمیت کے نظریے کو ترک کر دیں اور اس سے پیدا ہونے والی الجھنوں کا مقابلہ کریں۔ ان (قادیانیوں) کی طرف سے شاطرانہ تعبیریں محض اس خواہش کے باعث کی جارہی ہیں کہ وہ اسلام کی گود میں بیٹھ کر سیاسی فوائد حاصل کریں۔“

جناب والا! علامہ محمد اقبالؒ آگے فرماتے ہیں: ”دوسری بات جسے ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ قادیانیوں کی اپنی پالیسی اور عالم اسلام کے بارے میں ان کا رویہ ہے۔ تحریک احمدیہ کے بانی نے مسلمان قوم کو ”سڑا ہوا دودھ“ اور اپنے پیروکاروں کو ”تازہ دودھ“ کے نام سے پکارا اور موخرالذکر کو اوّل الذکر کے ساتھ میل جول رکھنے سے منع کیا۔ اس کے علاوہ ان کا بنیادی عقائد سے انکار۔ ان کا اپنے آپ کو نیا نام (احمدی) بطور جماعت دینا۔ ان کا عام مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شرکت نہ کرنا۔ مسلمانوں سے شادی بیاہ کے معاملات میں بائیکاٹ وغیرہ، وغیرہ! اور سب سے بڑھ کر ان کا اعلان کہ تمام عالم اسلام کافر ہے۔ یہ تمام باتیں بلاشبہ قادیانیوں کی (بطور قوم) اپنی علیحدگی کا اعلان ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مندرجہ بالا حقائق سے صاف ظاہر ہے کہ وہ (قادیانی) اسلام سے کہیں زیادہ دور ہیں۔ بہ نسبت سکھوں کے ہندوؤں سے دوری کے۔ سکھ کم از کم ہندوؤں سے شادی بیاہ تو کرتے ہیں۔ گو وہ ہندوؤں کے مندروں میں عبادت نہیں کرتے۔“

جناب والا! تو علامہ اقبال کے یہ نظریات ہیں۔ میں یہ معروضات کر رہا ہوں کہ وہ ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے۔ میں نے پورے احترام کے ساتھ مرزا ناصر احمد کو اس ریزولیوشن کی طرف نشاندہی کی تھی جو انگلینڈ میں ربوہ کے واقعہ کے بعد احمدیوں نے پاس کیا تھا۔ جس میں انہوں نے اپنے آپ کو ”احمدی مسلمان“ کہا اور ”پاکستان کے غیر احمدی مسلمانوں“ کی مذمت کی۔ انہوں نے ان کا ذکر بطور پاکستانی کے کیا تو یہ ہیں وہ حالات جس میں انہوں نے خود کو مقید کر رکھا ہے۔

(اسلام کی مقدس شخصیتوں کے بارہ میں قادیانی متوازی نظام)

جناب والا! علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام میں مقدس ہستیوں کے مقابلے میں انہوں نے ایک متوازی نظام قائم کر رکھا ہے۔ صحابہ اور اہل بیت انتہائی واجب الاحترام ہستیاں ہیں۔ مثلاً امیرالمومنین، ام المومنین۔ اس متوازی نظام سے انتشار پیدا ہوا۔ پھر جب ہم (مسلمان) خوش ہوتے ہیں۔ وہ (قادیانی) خوش نہیں ہوتے۔ جب ہم ناخوش ہوتے ہیں وہ

2909 NATIONAL ASSEMBLY

انگریزوں نے عراق کو فتح کر لیا تو مسلمان ناخوش گیا۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ایک الگ ملک حاصل کی مانند تھی۔ ہم خواہ سندھی ہوں، بلوچ ہوں، پٹھان رے سے پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا فہم اور ٹی کے ذہن نشین رہنا چاہئے۔ گو کہ جیسا میں کہہ چکا ا پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ

آتا ہوں۔ میں نے کافی وقت لیا ہے۔ اب میں ے میں گذارشات کروں گا۔ فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو۔ میں رہنی چاہئے کہ وہ پاکستانی ہیں اور وہ شہریت کا بے کے شہری ہونے کا پاکستان میں سوال ہی پیدا نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہ مصالحت اور رضامندی سے دو قومی نظریہ پر تھی۔ ہندوستان میں ایک مسلمان ہوئے چھوٹے ذیلی قومی گروہ تھے۔ پاکستان کی کا ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا۔ ہم ان کو بے کو معرض وجود میں لانے کے لئے قربانیاں دی قوق ہندوؤں کے حقوق کے برابر ہوں گے۔ اسی کو مساوی شہری اور سیاسی حقوق دیں گے۔ اس کتاب "Emergence of Pakistan" ی کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ١١ اگست ا۔ وہ ایک نہایت مشکل دور تھا۔ بے شمار مسلمان رہ کے باوجود ہندو مسلمان کو ذبح کر رہے تھے۔ اعظم نے مسلمانوں سے پر امن رہنے کی پرسوز رہے تھے۔ وہ حکومت پاکستان کو اقلیتوں کے سا نے فرمایا تھا: ”آپ اپنے مندروں کو جانے “

صفحہ ٢٩٠٩

SSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

معاشرہ تمام تر نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کا مرہون منت کے لئے دو ہی راستے ہیں یا تو وہ صاف صاف بھائیوں کے ختمیت کے نظریے کو ترک کر دیں اور اس سے پیدا ہ (قادیانیوں) کی طرف سے شاطرانہ تعبیریں محض اس ل اسلام کی گود میں بیٹھ کر سیاسی فوائد حاصل کریں۔“

جناب والا! علامہ محمد اقبالؒ آگے فرماتے ہیں کرنا چاہئے ۔ قادیانیوں کی اپنی پالیسی اور عالم اسلام . احمدیہ کے بانی نے مسلمان قوم کو ’سڑا ہوا دودھ‘ اور اپنے پکارا اور موخر الذکر کو اوّل الذکر کے ساتھ میل جول رکھنے عقائد سے انکار ۔ ان کا اپنے آپ کو نیا نام (احمدی) بطو ساتھ نماز میں شرکت نہ کرنا ۔ مسلمانوں سے شادی بیاہ اور سب سے بڑھ کر ان کا اعلان کہ تمام عالم اسلام کاف (بطور قوم) اپنی علیحدگی کا اعلان ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ من (قادیانی) اسلام سے کہیں زیادہ دور ہیں۔ بہ نسبت سکھ از کم ہندوؤں سے شادی بیاہ تو کرتے ہیں۔ گو وہ ہندوؤں

جناب والا! تو علامہ اقبال کے یہ نظریات ج ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے ۔ میں نے پورے احترام کے سات نشاندہی کی تھی جو انگلینڈ میں ربوہ کے واقعہ کے بعد احمد ی اپنے آپ کو ”احمدی مسلمان“ کہا اور ”پاکستان کے غیر نے ان کا ذکر بطور پاکستانی کے کیا تو یہ ہیں وہ حالات جس

(اسلام کی مقدس شخصیتوں کے بارہ می

جناب والا! علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ اس انہوں نے ایک متوازی نظام قائم کر رکھا ہے۔ صحابہ اور ہیں۔ مثلاً امیر المومنین، ام المومنین۔ اس متوازی ن (مسلمان) خوش ہوتے ہیں۔ وہ (قادیانی) خوش نہیں

١٨٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

خوش ہوتے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں جب انگریزوں نے عراق کو فتح کر لیا تو مسلمان ناخوش ہوئے۔ لیکن انہوں نے قادیان میں چراغاں کیا۔ ہم نے اللہ کے فضل سے ایک الگ ملک حاصل کیا۔ کیونکہ ہماری سوچ ایک فردِ واحد کی سوچ کی مانند تھی۔ ہم خواہ سندھی ہوں، بلوچ ہوں، پٹھان ہوں، پنجابی ہوں، نفسیاتی طور پر ہم ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا فہم اور ادراک ان سے بہت مختلف ہے۔ یہ نکتہ بھی کمیٹی کے ذہن نشین رہنا چاہئے۔ گو کہ جیسا میں کہہ چکا ہوں۔ ان کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے۔ اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں کی حمایت کریں گے۔

جناب والا! اب میں اختتام کی طرف آتا ہوں۔ میں نے کافی وقت لیا ہے۔ اب میں دستور کے مطابق احمدیوں کی حیثیت کے بارے میں گذارشات کروں گا۔ فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو۔ اراکین جو بھی راستہ اختیار کریں۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ وہ پاکستانی ہیں اور وہ شہریت کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ ”ذمی“ یا دوسرے درجے کے شہری ہونے کا پاکستان میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یاد رکھئے کہ پاکستان لڑ کر حاصل نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہ مصالحت اور رضامندی سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ایک معاہدہ تھا جس کی بنیاد دو قومی نظریہ پر تھی۔ ہندوستان میں ایک مسلمان قوم تھی اور دوسرے ہندو قوم۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ذیلی قومی گروہ تھے۔ پاکستان کی تخلیق کے ساتھ مسلمان قوم بھی تقسیم ہو گئی اور اس کا ایک حصہ ہندوستان میں رہ گیا۔ ہم ان کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ کیونکہ پاکستان کو معرض وجود میں لانے کے لئے قربانیاں دی تھیں۔ چنانچہ یہ قرار پایا ان کے شہری اور سیاسی حقوق ہندوؤں کے حقوق کے برابر ہوں گے۔ اسی طرح ہم پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کو مساوی شہری اور سیاسی حقوق دیں گے۔ اس بات کا ذکر آپ کو چوہدری محمد علی کی لکھی ہوئی کتاب ”Emergence of Pakistan“ (ایمرجنس آف پاکستان) میں ملے گا۔ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ١١؍ اگست ١٩٤٧ء کو ہوا تھا۔ جسے قائد اعظم نے خطاب کیا تھا۔ وہ ایک نہایت مشکل دور تھا۔ بے شمار مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ قربانیاں دی گئی تھیں۔ اس معاہدہ کے باوجود ہندو مسلمان کو ذبح کر رہے تھے۔ جس کا قدرتی طور پر پاکستان میں ردِعمل ہوا۔ قائد اعظم نے مسلمانوں سے پرامن رہنے کی پر سوز اپیل کی۔ وہ ہمیں اپنے وعدے کا احساس دلا رہے تھے۔ وہ حکومت پاکستان کو اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی یاد دہانی کرا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا: ”آپ اپنے مندروں کو جانے میں آزاد ہیں۔ اپنی مسجدوں میں جانے کو آزاد ہیں۔“

١٨١

صفحہ ٢٩١٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

اور مزید فرمایا: ”وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا۔ مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر یعنی یہ کہ سب کے لئے سیاسی آزادی برابر ہو گی۔“ گو اس تقریر کو غلط معنی پہنائے گئے اور کہا گیا کہ قائد اعظم نے دو قومی نظریہ کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ وہ ایک وعدے اور معاہدے کی بات کہہ رہے تھے۔ اس کے بعد بھی قائد اعظم نے دو قومی نظریہ کی وکالت کی۔ جس کی وضاحت چوہدری محمد علی نے اپنی کتاب میں کی ہے۔ نظریہ یہ تھا کہ ہم بحیثیت قوم اقلیتوں کے ساتھ مساوی سلوک کے قول کو یاد رکھیں اور دستور میں دیئے گئے حقوق کو یقینی بنائیں۔ جن میں نہ صرف بلا تخصیص ملازمت حاصل کرنے کے حقوق مساوی، قانونی حقوق، قانونی تحفظ کے حقوق شامل ہیں۔ بلکہ اپنے مذہب کے پرچار اور عمل کرنے کے حقوق اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے حقوق بھی شامل ہیں۔ یہ بات کمیٹی از راہ کرم اپنے ذہن میں رکھے گی۔ یہ ان کے حقوق ہیں۔ خواہ آپ انہیں الگ جماعت قرار دیں یا نہ دیں۔ یہ ان کے حقوق ہیں اور آئین ان حقوق کا تحفظ مہیا کرتا ہے اور آئین کے تحفظ اور سربلندی کا حلف معزز اراکین نے لے رکھا ہے۔

جناب والا! اگر اس قسم کا فیصلہ ہوا تو کئی الجھنیں پیدا ہوں گی۔ یہ بات میں قادیانیوں کے نقطۂ نظر سے کر رہا ہوں۔ وہ کیا کہتا ہے خطوط جو آپ کو ملے ہیں۔ خطوط جو مجھے ملے ہیں۔ ان کو ذہن میں رکھئے۔ وہ کہتا ہے خبردار! آپ مجھے غیر مسلم کہہ دیں گے۔ لیکن بیرونی دنیا میں مجھے مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔

زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں

وہ کہتا ہے اس گنجلک پر غور کریں۔ میں نمازیں پڑھوں گا۔ روزے رکھوں گا۔ میں اسلام کے تمام شعائر پر عمل کروں گا۔ پھر بھی آپ مجھے کافر کہیں گے اور کافر یہ سمجھیں گے کہ میں مسلمان ہوں اور اس سے مشکلات اور الجھنیں پیدا ہوں گی۔ یہ سب کچھ وہ ہے جو وہ (قادیانی) کہتے ہیں اور ان کا نقطۂ نظر پیش کرنا میرا فرض ہے۔

آخر میں جناب والا! میں اپنی طرف سے تشکر کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے آپ (چیئرمین صاحب) کا اور پھر تمام اراکین کا، جنہوں نے میرا نقطۂ نظر سمجھنے میں میری امداد فرمائی۔ مجھے بالخصوص تو کسی کا ذکر نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم پھر بھی میں مولانا ظفر احمد انصاری

١٨٢

صفحہ ٢٩١١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

صاحب کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے میری بہت امداد فرمائی اور جناب عزیز احمد بھٹی صاحب کا بھی۔ دونوں احباب نے میری بہت اعانت فرمائی۔ درحقیقت میں ہر رکن کا ہی شکر گزار ہوں۔ سب ہی میری معروضات سمجھنے میں میری امداد فرمائی۔ مجھے امید ہے کہ جو گزارشات میں نے پیش کی ہیں وہ کسی قدر کارآمد ہوں گی۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!)

(جناب چیئرمین: جناب اٹارنی جنرل ! میں اپنی طرف سے اور ایوان کمیٹی کے اراکین کی طرف سے آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ بات ریکارڈ پر رہے کہ آپ نے کس قدر محنت اور کاوش ان مہینوں میں کی ہے جو کہ نہ صرف کمیٹی کے لئے بلکہ پورے ملک کی خاطر تھی۔ ہم سب اس کے لئے شکر گزار ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ! اب میں معززین اراکین سے گزارش کرتا ہوں۔ اگر ان میں سے کوئی صاحب پوچھنا چاہیں)

مولانا عبدالحق صاحب! آپ تو تقریر کر چکے ہیں۔

مولانا عبدالحق: اٹارنی جنرل صاحب نے جس فہم وفراست سے اس مسئلے کی توضیح فرمائی ہے، اس کا اجر عظیم اللہ ان کو عطاء فرمائے۔ اس دینی خدمت کے لئے غیبی نصرت 3049 تھی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہماری ترجمانی یعنی کمیٹی کی ترجمانی کے لئے انہی کو منتخب فرمایا اور انہوں نے اپنے فریضے کو بہت ہی احسن طریقے سے انجام دیا ہے۔

Mr. Chairman: He has been true to his duties.

میں نے سب ممبران کی طرف سے شکریہ ادا کر دیا ہے۔ مولانا ظفر احمد انصاری صاحب!

(مولانا ظفر احمد انصاری کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب والا! مجھے اس کا احساس ہے کہ میں پہلے خاصا وقت لے چکا ہوں اور اب دیر بھی ہو گئی ہے۔ ابھی میرے پاس بہت سی چیزیں تھیں جو جلد سے جلد میں کہنا چاہتا تھا۔ لیکن اٹارنی جنرل صاحب نے بہت سی چیزوں کی وضاحت کر دی ہے، اس لئے میں بہت مختصراً اس پر آؤں گا۔

مرزائیوں کے دونوں گروپوں کے نمائندوں نے، جو آئے تھے، بہت سے مغالطے پیدا کئے۔ بعض کو میں نے اس روز رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ چند ایک اور ہیں جن کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جہاد کے متعلق انہوں نے بہت سے اقتباسات مختلف علماء کے پیش کئے۔ لیکن اس میں بنیادی فرق، جو میں نے اس روز بتایا اور نام لے لے کر بتایا، وہ یہ ہے کہ کئی علماء نے

١٨٣

EMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

اور مزید فرمایا: ”وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہیں رہے گا۔ مذہبی طور پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر یعنی یہ کہ گو اس تقریر کو غلط معنی پہنائے گئے اور کہا گـ دیا تھا۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ وہ ایک وعدے اور معاہدہ قائد اعظم نے دو قومی نظریہ کی وکالت کی۔ جس کی وضـ ہے۔ نظریہ یہ تھا کہ ہم بحیثیت قوم اقلیتوں کے ساتھ میں دیئے گئے حقوق کو یقینی بنائیں۔ جن میں نہ صرف مساوی، قانونی حقوق، قانونی تحفظ کے حقوق شامل کرنے کے حقوق اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے حقـ اپنے ذہن میں رکھے گی۔ یہ ان کے حقوق ہیں۔ خواہ آ یہ ان کے حقوق ہیں اور آئین ان حقوق کا تحفظ مہیا کر معزز اراکین نے لے رکھا ہے۔

جناب والا! اگر اس قسم کا فیصلہ ہوا تو کئی ا کے نقطہ نظر سے کر رہا ہوں۔ وہ کیا کہتا ہے خطوط جو ا کو ذہن میں رکھئے۔ وہ کہتا ہے خبردار! آپ مجھے غیـ مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔

زاہد تنگ نظر نے
اور کافر یہ سمجھتا ہے م

وہ کہتا ہے اس جھلک پر غور کریں۔ میں اسلام کے تمام شعائر پر عمل کروں گا۔ پھر بھی آپ ـ مسلمان ہوں اور اس سے مشکلات اور الجھنیں پیدا کہتے ہیں اور ان کا نقطہ نظر پیش کرنا میرا فرض ہے۔

آخر میں جناب والا! میں اپنی طرف سے آپ (چیئرمین صاحب) کا اور پھر تمام اراکین کا فرمائی۔ مجھے بالخصوص تو کسی کا ذکر نہیں کرنا چاہـ

٨٢

صفحہ ٢٩١٣

2912 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جہاد کا فتویٰ دیا اور جہاد کیا۔ دوسرے فاضل مقررین نے بھی بتایا۔ یقیناً ایسے علماء بھی تھے جن کا یہ مؤقف تھا کہ اس وقت جہاد کی شرائط نہیں ہیں، حالات سازگار نہیں ہیں، کامیابی کے امکانات نہیں ہیں۔ یہ تو وہ چیز ہے جو ہمیشہ زیر غور آتی ہے۔ لیکن کسی کو یہ جرأت نہیں ہوسکی اور کبھی کسی مسلمان کو بھی جرأت نہیں ہوسکی کہ وہ یہ کہے کہ جہاد ہمیشہ کے لئے منسوخ ہوگیا ہے۔ ایک فتویٰ بھی ایسا نہیں دکھایا جاسکتا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ جہاد حرام اور قطعاً حرام ہے اور جہاد کا حکم موقوف قرار دیا گیا ہے۔ آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم سے بند کیا گیا۔ دین کے لئے آج سے زمینی جہاد کا خاتمہ ہوگیا۔ یہ اس طرح کی چیزیں، جب کہ قرآن اور حدیث 3050 میں واضح احکام موجود ہیں اور بہت معروف حدیث ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ مغالطہ کہ کسی خاص وقت میں جہاد کے لئے شرائط پائی جاتی ہیں، حالات سازگار ہیں یا نہیں ہیں، یہ بالکل ایک چیز ہے اور یہ کہنا کہ جہاد منسوخ ہوگیا ہے، قطعاً بند ہوگیا ہے، یہ وہ چیز ہے جو اسلام کے بنیادی احکام کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔

(علماء کے فتوؤں پر اعتراض کی وضاحت)

علماء کے فتوے کے سلسلے میں مشترکہ بیان میں کچھ وضاحت آگئی ہے۔ لیکن ایک بنیادی فرق کی طرف میں آپ کے توسط سے ایوان کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ علمائے کرام جو فتوے دیتے ہیں، وہ اپنے علم کی بنیاد پر دیتے ہیں، دلائل شرعی کی بنیاد پر دیتے ہیں، اور اکثر فتوے جو ممتاز مفتی صاحبان دیتے ہیں، اس میں دلیل رکھ دیتے ہیں کہ قرآن کی فلاں آیت یا فلاں حدیث یا فلاں امام کا حکم ہے۔ اسی طرح سے وہ دیتے ہیں۔ یعنی وہ ان کے علم پر مبنی ہوتا ہے، جس قدر کسی کا علم ہو۔ اس میں کوئی الہامی کیفیت نہیں ہوتی۔ یعنی اس میں یہ دعویٰ نہیں ہوتا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں ہے۔ بہت سی مثالیں ایسی ہوتی ہیں کہ ایک عالم فتویٰ دیتا ہے۔ کچھ دن کے بعد اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں کوئی بات رہ گئی تھی یا کسی حدیث پر اس کی نظر نہیں پڑی تھی، تو وہ خود اس فتوے کو واپس لیتا ہے۔ اس دور کے ایک بہت معروف عالم مولانا اشرف علی تھانوی کی کوئی پونے دو سو صفحے کی کتاب ہے۔ پوری کتاب جس میں انہوں نے ان تمام فتوؤں کو جمع کیا ہے۔ جس میں انہوں نے ترمیم کی یا جن کو واپس لیا ہے۔ یہ کوئی اس طرح کا دعویٰ نہیں ہوتا۔ کہ یہ کوئی خطاؤں سے پاک ہے۔ پھر ایک مفتی نے فتویٰ دیا، اسی ملک کے دوسرے لوگ اس سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں۔ اس لئے علماء کا فتویٰ اور مرزا صاحب یا ان کے صاحبزادے نے

١٨٤

2913 NATIONAL ASS

بت اختلاف ہے۔ جناب اٹارنی جنرل صاحب نے فرمادی بہر حال ایک دو چیزیں ہیں جن کی طرف چکا ہے کہ ترکوں سے نہ رہا ہمارا کوئی تعلق ل جس وقت ان پر حملہ ہوا۔ جنگ ہو رہی لوگوں کی یاد میں اتنا زیادہ جوش وخروش پیدا ہوا۔ اس کے بعد فلسطین کا قصہ ہے، نہیں ہوتا تھا، ہم بڑی دشواریوں سے گزر ہاں فلسطین کے لئے ہم نے ریزولیوشن حکومت بن جانے کے بعد بھی، اس سے عربوں کے حامی رہے ہیں اور آج بھی

ل نے یہ لکھا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ یعنی ہمیشہ کے لئے ان کا استحقاق ہی ختم ایک نئے نبی کے منکر ہیں تو جیسے حضرت لہ چھین لی گئی تو اب جو ایک نیا نبی آیا ہے کے مالک ہونے کے، اس کے حکمران رہے ہیں ویسے بھی اور اب اس اسلامی عی زندگی میں ان تمام چیزوں کا لحاظ رکھنا سے بلکہ اور حیثیتوں سے ہمارے ساتھ ہے وہ میں نے واضح کیا ہے۔

شش کی ہے اور بہت عرصے سے یہ کہہ ہے اور پھر یہ جو ہے کہ عربی، کہ جو کوئی یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اس معیار کا سبق وہ

صفحہ ٢٩١٣

سرگزشت

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جہاد کا فتویٰ دیا اور جہاد کیا۔ دوسرے فاضل مقررین نے موقف تھا کہ اس وقت جہاد کی شرائط نہیں ہیں، حالانکہ نہیں ہیں۔ یہ تو وہ چیز ہے جو ہمیشہ زیر غور آتی ہے۔ مسلمان کو بھی جرأت نہیں ہو سکتی کہ وہ یہ کہے کہ جہاد بھی ایسا نہیں دکھایا جا سکتا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ جہاد قرار دیا گیا ہے۔ آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جا لئے آج سے زمینی جہاد کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ اس طرح کی واضح احکام موجود ہیں اور بہت معروف حدیث ہے کہ کہ کسی خاص وقت میں جہاد کے لئے شرائط پائی جاتی بالکل ایک چیز ہے اور یہ کہنا کہ جہاد منسوخ ہو گیا ہے، ق بنیادی احکام کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔

(علماء کے فتوؤں پر اعتراض)

علماء کے فتوے کے سلسلے میں مشترکہ بیان بنیادی فرق کی طرف میں آپ کے توسط سے ایوان کی علمائے کرام جو فتوے دیتے ہیں، وہ اپنے علم کی بنیاد پر اور اکثر فتوے جو ممتاز مفتی صاحبان دیتے ہیں، اس میں یا فلاں حدیث یا فلاں امام کا حکم ہے۔ اسی طرح سے وہ جس قدر کسی کا علم ہو۔ اس میں کوئی الہامی کیفیت نہیں کی طرف سے ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں ہے۔ بہر دیتا ہے۔ کچھ دن کے بعد اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس نظر نہیں پڑی تھی، تو وہ خود اس فتوے کو واپس لیتا ہے۔ اشرف علی تھانوی کی کوئی پونے دو سو صفحے کی کتاب ہے فتوؤں کو جمع کیا ہے۔ جس میں انہوں نے ترمیم کی یا جن نہیں ہوتا۔ کہ یہ کوئی خطاؤں سے پاک ہے۔ پھر ایک مف اس سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں۔ اس لئے علماء کا فتویٰ

١٨٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جو فتویٰ دیا ہے یا اب جو دے رہے ہیں، ان دونوں میں بہت اختلاف ہے۔

3051 عالم اسلام کے سلسلے میں بہت سی چیزیں جناب اٹارنی جنرل صاحب نے فرمادی ہیں، اس لئے ان پر مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بہر حال ایک دو چیزیں ہیں جن کی طرف میں خاص طور پر آپ کی توجہ دلاؤں گا۔ پہلے وہ اقتباس آچکا ہے کہ ترکوں سے نہ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پورے مسلمانان ہند نے ترکوں کی حمایت میں جس وقت ان پر حملہ ہوا۔ جنگ ہورہی تھی، ان کو مٹایا جارہا تھا تو شاید کم سے کم میری عمر کے لوگوں کی یاد میں اتنا زیادہ جوش و خروش مسلمانوں میں کبھی پیدا نہیں ہوا جتنا خلافت کی تحریک میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد فلسطین کا قصہ ہے، اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مسلم لیگ کا کوئی اجلاس ایسا نہیں ہوتا تھا، ہم بڑی دشواریوں سے گزر رہے تھے، لیکن کوئی اجلاس ایسا نہ ہوتا تھا کونسل کا، کہ جہاں فلسطین کے لئے ہم نے ریزولیوشن پاس نہ کئے ہوں اور اس وقت سے لے کر اب تک یعنی حکومت بن جانے کے بعد بھی، اس سے پہلے بھی، فلسطین کے مسئلے میں ہم سو فیصدی پوری طرح عربوں کے حامی رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ لیکن ان کا قول میں آپ کو سناتا ہوں جس میں انہوں نے یہ لکھا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ’’عرب فلسطین کے حکمران ہونے کے مستحق نہیں ہیں‘‘ یعنی ہمیشہ کے لئے ان کا استحقاق ہی ختم کر دیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ چونکہ وہاں کے مسلمان ایک نئے نبی کے منکر ہیں تو جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نبی ہونے کے بعد یہودیوں سے وہ جگہ چھین لی گئی تو اب جو ایک نیا نبی آیا ہے اس کے چونکہ منکر ہیں اس لئے یہ اس کی تولیت کے، اس کے مالک ہونے کے، اس کے حکمران ہونے کے مستحق ہی نہیں ہیں۔ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں ویسے بھی اور اب اس اسلامی کانفرنس کے انعقاد کے بعد بہر حال ہمیں اپنی قومی اور اجتماعی زندگی میں ان تمام چیزوں کا لحاظ رکھنا پڑے گا کہ دنیا کے کون سے ممالک نہ صرف مذہبی حیثیت سے بلکہ اور حیثیتوں سے ہمارے ساتھ ہیں تو اس سلسلے میں بھی ان کا مؤقف ہم سے کس قدر مختلف ہے وہ میں نے واضح کیا ہے۔

(کلمہ گو؟)

3052 اب انہوں نے بار بار یہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے اور بہت عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ صاحب! ہم کلمہ گو ہیں، ہمیں کافر کیسے کہا جاتا ہے اور پھر یہ جو ہے کہ عربی، کہ جو کوئی تمہیں سلام کرے اسے کافر نہ کہو، اسے مومن سمجھو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اس معیار کا سبق وہ

١٨٥

صفحہ ٢٩١٤

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہمیں دے رہے ہیں یا خود بھی اس پر عمل پیرا ہیں؟ کیا ٧٥ کروڑ مسلمان دنیا کے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل نہیں ہیں؟ کیا ان کے ہاں اسلام رائج نہیں ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ ان چیزوں کے معنے یہ نہیں لیتے۔ خود کو مسلمان کیوں توقع کرتے ہیں؟ جب وہ کسی کو احمدی بناتے ہیں تو کیا وہ صرف کلمہ پڑھا کر بناتے ہیں؟ وقت نہیں ہے ورنہ میں وہ سناتا۔ بہر حال وہ بیعت سب نے دیکھی ہوگی۔ جس میں ایک بیعت یہ ہے کہ ہم مرزا غلام احمد کے تمام دعوؤں کو سچ جانتے ہیں اور خلیفہ وقت کی معروف میں پوری طرح اطاعت کریں گے۔ اس کے بغیر احمدی نہیں ہو سکتے اور جب احمدی نہ ہوا تو وہ مسلمان نہ ہوا۔ تو ان کے نزدیک تو مسلمان ہونے کا معیار یہ ہے، اور ہم سے وہ یہ کہتے ہیں کہ بس جو کوئی تم سے راہ چلتے سلام کر لے اس کو مسلمان سمجھو، تو معیار تو ایک ہی ہونا چاہئے اور مسلمانوں سے بیزاری کا عالم یہ ہے کہ یہ بھی فتویٰ ہے کہ غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ کوئی مسلمان مرجائے تو اس کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت ہے۔ اس لئے ہم سب کا کفر جو ہے یہ بینات سے ثابت ہے ان کے نزدیک۔

(خدا تعالیٰ کے بارہ میں قادیانی تصور)

اب اس روز میں نے کچھ عرض کیا تھا کہ جیسا کہ انہوں نے کہا کہ ہماری ہر چیز علیحدہ، ہمارا خدا الگ، ہمارا رسول الگ اور سب چیزیں۔ کچھ چیزوں کی تفصیل اور دوستوں نے بیان کی تھی۔ بہرحال خدا کا جو تصور ان کا ہے ہمارا وہ تصور نہیں ہو سکتا۔ کبھی ہم خدا کے لئے یہ تصور نہیں کر سکتے کہ کوئی مسل لے جائے گا آدمی، اور اس کے اوپر وہ دستخط کرے گا، روشنائی چھڑکے گا اور اس کو چار پائی پر بٹھائے گا اور بیٹا کہے گا اور اس 3053 کے بعد نہایت ہی بیہودہ قسم کے تصورات بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرد بن گیا اور کیا قصہ ہے ان کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد نے بتایا کہ وہ عورت بن گئے اور وہ بہت خوبصورت عورت تھی اور پھر یہ کہ اب جنت میں تم میرے ساتھ رہو۔ تو بہر حال اس طرح کے بیہودہ تصور ہمارے ہاں نہیں ہیں۔

رسول کا تصور بھی ہمارا مختلف ہے۔ قرآن کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ ان کے ہاں! ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہے کہ جیسا کہ قرآن مجید، تورات اور انجیل کا ہے، اور بہرحال حدیث پر مقدم ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے اقوال پر مرزا غلام احمد کا الہام جو ہے وہ مقدم ہے۔ یہ اقتباس آچکا تھا، پہلے یہ۔

(منکرین خلافت کا انجام، ص ١٩)

١٨٦

صفحہ ٢٩١٥

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

(قادیانی ہر امر میں مسلمانوں سے علیحدہ تصور رکھتے ہیں)

اب آپ دیکھئے کہ ہماری دینی اصطلاح میں خدا، رسول، قرآن، حدیث، وحی اور الہام کی بھی یہ ہے کہ وحی ہمارے نزدیک منقطع ہو چکی ہے اور تمام دینی لغتوں میں اس کی تعریف جو انگریزی لغتوں میں بھی، انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجنز میں بھی، اور وہ بھی یہ ہے کہ وحی وہ چیز ہے جو رسولوں پر، انبیاء پر جو کلام نازل ہوتا ہے۔ وحی اور الہام کا تصور ہمارے نزدیک مختلف ہے، اور عظمت انبیاء کا تصور بھی ہمارے نزدیک مختلف ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی نبی کا تعین کیا جائے تو انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ عظمت اہل بیت میں بھی یہی ہے اور ان کی جو رائے ہے۔ وہ اقتباسات میں آچکا ہے۔ حج کے متعلق بھی دیکھا جائے کہ اب قادیان کو اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے منتخب کیا ہے۔ جہاد کے بارے میں عرض کر چکا ہوں۔ درود کے متعلق میں نے بتایا تھا اور اس روز فوٹو اسٹیٹ بھی دیا تھا۔ اس کو انہوں نے قبول نہیں کیا۔ لیکن ایک دوسرا درود انہیں میں نے بتایا تھا ان کی کتابوں میں، جس کا فوٹو اسٹیٹ اب بھی موجود ہے اور چھپا ہوا کتاب میں بھی ہے۔ (عربی)

یہ درود ہے ان کا۔ صحابہ کے متعلق بھی ان کا تصور اور ہے 3054 اور ہمارا تصور اور ہے، بلکہ بالکل مختلف ہے۔ آئمہ کے متعلق جو تصور ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ امہات المومنین کے متعلق بھی جو تصور ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ مسجد اقصیٰ کا تصور مختلف ہے۔ اصحاب صفہ کا تصور مختلف ہے۔ مکہ اور بیت اللہ کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہ چوبارہ جہاں بیٹھ کر وہ (مرزا قادیانی) ذکر کیا کرتے تھے۔ اس کے لئے اللہ نے کہا ”من دخلہ کان آمنا “ کہ جو اس میں داخل ہوا وہ امن پا گیا۔ حالانکہ یہ آیت جو ہے وہ حرم شریف کے متعلق ہے۔ قادیان کے لئے انہوں نے لکھا ہے کہ ہم تو قادیان کو مکہ اور مدینہ دونوں سمجھتے ہیں۔ مگر لاہوری قادیان کو مکہ سمجھتے ہیں اور لاہور کو مدینہ سمجھتے ہیں۔ یہ گویا فرق ہے دونوں میں۔ یہ ہمارے ہاں طریقہ رائج ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم وفات پا جاتا ہے تو اسے مرحوم نہیں کہتے۔ ہم اس کو آنجہانی لکھتے ہیں۔ سرسید مرحوم کو جہاں ذکر کیا ہے انہوں نے ہر جگہ آنجہانی لکھا ہے، جیسے ہم ہندوؤں کے متعلق لکھتے ہیں یا عیسائیوں کے متعلق لکھتے ہیں۔ پرسوں میں نے یہ اقتباس بھی پیش کیا تھا کہ مسلک اور مکتبہ فکر کا اختلاف تو مسلمانوں میں ہوتا ہے۔ لیکن دین کے متعلق کسی نے نہیں کہا کہ ہمارا دین مختلف ہے۔ اس روز میں نے اقتباس سنایا

١٨٧

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ہمیں دے رہے ہیں یا خود بھی اس پر عمل پیرا ہیں؟ کیا ا کہ ہم محمد رسول اللہ کے قائل نہیں ہیں؟ کیا ان ان چیزوں کے معنے یہ نہیں لیتے۔ خود کو مسلمان کیوں ہیں تو کیا وہ صرف کلمہ پڑھا کر بناتے ہیں؟ وقت نہیں نے دیکھی ہوگی۔ جس میں ایک بیعت یہ ہے کہ ہم مرزا خلیفہ وقت کی معروف میں پوری طرح اطاعت کریں۔ احمدی نہ ہوا تو وہ مسلمان نہ ہوا۔ تو ان کے نزدیک تو مس کہتے ہیں کہ بس جو کوئی تم سے راہ چلتے سلام کرلے اس اور مسلمانوں سے بیزاری کا عالم یہ ہے کہ یہ بھی فتویٰ اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ کوئی مسلم ممانعت ہے۔ اس لئے ہم سب کا کفر جو ہے یہ بیّنات

(خدا تعالیٰ کے بارہ می

اب اس روز میں نے کچھ عرض کیا تھا کہ ہمارا خدا الگ، ہمارا رسول الگ اور سب چیزیں۔ تھی۔ بہر حال خدا کا جو تصور ان کا ہے ہمارا وہ تصور نہ سکتے کہ کوئی مسل لے جائے گا آدمی، اور اس کے اوپ چارپائی پر بٹھائے گا اور بیٹا کہے گا اور اس 3053 کے بو اللہ تعالیٰ مرد بن گیا اور کیا قصہ ہے ان کے صاحبز عورت بن گئے اور وہ بہت خوبصورت عورت تھی اور بہر حال اس طرح کے بیہودہ تصور ہمارے ہاں نہیں رسول کا تصور بھی ہمارا مختلف ہے۔ قرآ ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود اپنے الہامات کو کا الہی ہونے کے ایسا ہے کہ جیسا کہ قرآن مجید، تورا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے اقوال پر مرزا غلام احمد کا پہلے یہ۔

٨٦

صفحہ ٢٩١٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

تھا کہ انہوں نے کہا کہ جس دین کو مرزا صاحب لے کر آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ اللہ اس کا غلبہ کرے گا۔ امت کے متعلق اقتباس آچکا ہے، تو وہ ایک الگ امت ہیں۔

اب میں بہت مختصر آپ کو ایک ایسے الفاظ سناتا ہوں، مسلمانوں کے عقیدے کے اعتبار سے اور جذباتی اعتبار سے، رسول کریم ﷺ سے جو تعلق ہے، اتنے عرصے تک ان کی ہر طرح کی اہانت آمیز باتیں برداشت کی ہیں۔ پوری مسلمان قوم کے لئے، صلحاء کے لئے، انبیاء کے لئے، خود رسول ﷺ کے متعلق اور ہمارے ہاں نعتیں رائج ہیں۔ جس سے انسان کے اندر ایک جذبہ ابھرتا ہے اور اس کی ایک تسکین ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی عظمت میں نعت اور صلوٰۃ وسلام انہوں نے 3055 اپنے لئے الگ بنایا ہے۔ میں اس کے چند شعر سناتا ہوں۔ صلوٰۃ وسلام جگہ جگہ ہوتے ہیں۔ اب ان کے ہاں جو ہوتا ہے صلوٰۃ وسلام وہ یہ ہے:

”اے امام الوریٰ سلام علیک
مہ بدر الدجیٰ سلام علیک
مہدی و عیسیٰ موعود احمد مجتبے سلام علیک
مطلع قادیان پہ تو چمکا ہو کے شمس الہدیٰ سلام علیک
تیرے آنے سے سب نبی آئے مظہر الانبیاء سلام علیک
پیک وحی محبت جبریل سدرۃ المنتہیٰ سلام علیک
مانتے ہیں تیری رسالت کو اے رسول خدا سلام علیک“

یہ الفضل میں یکم جولائی ١٩٢٠ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اس سے زیادہ ایک اور دل آزار نظم ہے اور ہر جگہ گویا توازن قائم ہے ایک رسول ﷺ کے مقابلے میں، ہم رسول مدنی ﷺ کہتے ہیں اور اس پر ہماری بے شمار فارسی میں، اردو میں نعتیں ہیں۔ اب رسول مدنی ﷺ کے وزن پر انہوں نے قدنی بنایا ہے، وہ بھی اشعار ہیں:

(رسول قدنی)

”اے میرے پیارے ارے میری جان رسول قدنی
تیرے صدقے تیرے قربان رسول قدنی
انت منی و انا منک خدا فرمائے
میں بتاؤں تیری کیا شان رسول قدنی

١٨٨

صفحہ ٢٩١٧

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

عرش اعظم پہ حمد تیری خدا کرتا ہے
ہم ناچیز ہیں کیا شان رسول قدنی
دستخط قادر مطلق تیری مسلوں پہ کرے
اللہ اللہ تیری شان رسول قدنی
3056 پہلی بعثت میں تو محمد ہے اب احمد ہے
اس پر یہ اترا ہے قرآن رسول قدنی“

اب آگے ملاحظہ ہو:

”سرمہ چشم تیری خاک قدم بنوا لے
روز عاصم شہ جیلانی رسول قدنی“

(رواداری یا بے حمیتی)

اب یہ اشتعال انگیزی اور ایذا رسانی کی انتہاء ہو گئی۔ لیکن اتنا زمانہ مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑا۔ یہ غلط تصور رواداری کا تھا، اور رواداری تو اسے نہیں کہہ سکتے۔ بے حمیتی کہہ سکتے ہیں یا جہالت کہہ سکتے ہیں۔ بہر حال ہم سب اس میں گرفتار رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے نجات دے۔

اب اس کے لئے ہم جو حل پیش کرنا چاہتے ہیں جو پورے ایوان کا میلان معلوم ہوتا ہے، وہ حل کیا ہے؟ ہم اس مسئلہ کا وہ حل نہیں پیش کرنا چاہتے جو مذہبی اختلاف کی بناء پر جس طرح عیسائیوں نے یہودیوں کے مسئلے کو حل کیا۔ جس طرح فرانس میں، انگلستان میں، پرتگال میں، اسپین میں، اٹلی میں، جرمنی میں اور روس میں اس مذہبی اختلاف کی بناء پر جو کچھ کیا گیا ہم وہ حل نہیں پیش کرتے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ انکے سامنے یہ دو چیزیں ہیں، یا تو اپنے مذہب سے تائب ہو یا تم جلاوطن کئے جاؤ گے یا قتل کئے جاؤ گے۔ ہم یہ نہیں کہتے۔ حالانکہ ہماری دل آزاری انہوں نے اس سے زیادہ کی ہے۔ ہم وہ اس وقت نہیں کہتے۔ ہم اس قسم کا بھی کوئی حل پیش نہیں کرنا چاہتے جو دوسری نظریاتی مملکتیں کرتی ہیں۔ عذاب دینا، ایذا دینا، اس سے بھی نیچے اتر کر نسلی بنیادوں پر جہاں امتیازات ہیں، وہاں کے دستور میں جو چیزیں ہیں ہم وہ بھی نہیں کہتے۔ آسٹریلیا کے دستور میں مثلاً یہ چیز ہے کہ انتخابات کے موقع پر:

"Aboriginial natives shall not be counted. No-

١٨٩

صفحہ ٢٩١٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

election law shall disqualify any person other than a native."

3057 یا جنوبی افریقہ کی حکومت تھی اور جناب! امریکہ کے دستور میں ہے کہ:

"Excluding Indians, not taxed."

یعنی سب کو حق ہے، ان کو حق نہیں ہے۔ ہمارے سامنے اس طرح کا کوئی حل نہیں ہے۔ ہم جو حل پیش کرنا چاہتے ہیں اس کی حیثیت یہ ہے کہ ہم ان کی اس درخواست کو جو انہوں نے ٢٨ سال پہلے انگریزوں کے سامنے پیش کی تھی، جو ١٣ نومبر ١٩٤٦ء کو شائع ہوئی ہے، ہم ان کی اس درخواست کو منظور کرتے ہیں۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں بھی عیسائیوں اور پارسیوں کی طرح حقوق دیئے جائیں۔ ہم ان کے لئے وہی کرنا چاہتے ہیں، عین ان کی منشاء کے مطابق کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ان کے دل میں فساد نہیں ہے تو انہیں خوش ہونا چاہئے کہ ان کی درخواست ٢٨ سال پہلے ان کے آقا منظور نہیں کر سکے تھے۔ آج ہم اس درخواست کو منظور کرتے ہیں تو اگر فساد کی نیت نہ ہو تو انہیں یہ سمجھنا چاہئے اور ہمارے اور ان کے درمیان صورت اب یہ ہو گئی ہے کہ:

ہم بھی خوش نہیں وفا کر کے
تم نے اچھا کیا نبھا نہ کی

ایک زمانہ گزرا ہر طرح کی چیزوں کو ہم برداشت کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اپنی پالیسی کے مطابق ربوہ میں جو واقعہ کیا اس کے بعد ظاہر ہے کہ پوری قوم مشتعل ہوئی۔ انہوں نے یہ سمجھ کر نہیں کیا، اتنے نادان نہیں ہیں کہ وہ سمجھتے ہوں کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد قوم سوتی رہے گی۔ ان کا منشاء یہ تھا کہ اس طاقت کا مظاہرہ کر کے دیکھیں کہ کتنا ہمارا رعب پڑتا ہے۔ یہ ان کی تحریروں میں موجود ہے کہ فلاں وقت تک تم اتنی طاقت فراہم کر لو کہ دشمن تمہارے رعب سے مرعوب ہو جائے۔ بہر حال یہ اس انگریز نے بھی منظور نہیں کیا تھا جس کے یہ خود کاشتہ پودے تھے اور جس کے متعلق ایک جملہ ان کا سناتا ہوں، اس وقت نہیں آیا تھا کہ ”غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ ہے۔“ تو انہوں نے بھی اس درخواست کو نہیں مانا تھا۔ ہم 3058 از راہ فیاضی اور از راہ فراخ دلی اس درخواست کو مانتے ہیں، اور ان کی جان و مال کی حفاظت کا وعدہ کرتے ہیں، اس شرط کے ساتھ کہ اگر پاکستان کے ساتھ غداری اور اس کے ساتھ بے وفائی کا مظاہرہ نہ کیا گیا۔ یہ سب کچھ ہے اور اس سارے اعلان کے بعد

١٩٠

صفحہ ٢٩١٩

2919 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

بہر حال ان کی نگرانی کرنی پڑے گی، دیکھنا پڑے گا کہ ان کی نقل و حرکت کیا ہے، ان کے جو عزائم ہیں اس کے متعلق یہ کیا کرتے ہیں۔

عالم اسلام کے سلسلے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے دوسری جگہوں پر کہ جہاں انہوں نے مراکز قائم کئے ہیں، بہت سے لوگوں کو مسلمان بنایا ہے، تو وہاں اس کے برے اثرات ہوں گے۔ ایک جگہ کا میں صرف آپ سے مثال کے طور پر ذکر کرتا ہوں کہ نائیجیریا میں ابھی وسط اپریل میں ایک کانفرنس ہوئی اور اس میں تمام مسلم مکاتب فکر اور مسلم تنظیموں کے لوگ بلائے گئے۔ ان کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔ اس بناء پر نہیں دی گئی تھی کہ یہ مسلمان نہیں سمجھے جاتے۔ بہر حال جو لوگ ان کے دام فریب میں آچکے تھے جب ان کو یہ پتہ چلا انہوں نے کہا کہ ہمیں کیوں نہیں بلاتے؟ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ کیونکہ آپ ایک دوسرے نبی کی امت ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ہم کو غلط فہمی رہی۔ بہت بڑی تعداد وہاں سے تائب ہوگئی اور تائب ہونے کے بعد اس قدر بے زاری لوگوں میں پیدا ہوئی کہ انہوں نے اپنا مشن بند کیا۔ لیکن اب ایک دوسرے نام سے ”تحریک انوار اسلام“ سے وہاں کام کر رہے ہیں۔

شام میں ١٩٥٧ء میں وہاں کے مفتی اور ایک بہت عظیم شخصیت کے خاندان سے ابوالیسر عابدین کے فتویٰ پر ١٩٥٧ء میں وہاں کی انٹیرئیر گورنمنٹ نے ان کے خلاف تحقیقات کیں اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ جاسوسی کرتے ہیں، اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں۔ چنانچہ وہاں ان کو بین (Ban) کیا گیا۔ ان کے آفس اور پراپرٹی کو سیل کیا گیا۔ اسی طرح مصر میں جب معلوم ہوا کہ یہ اسرائیل کے لئے جاسوسی کرتے ہیں، ان کا داخلہ ممنوع ہوا۔ سعودی عرب کا آپ لوگ جانتے ہیں۔

(قادیانیوں کا الگ شمار)

3059 تو ایک درخواست آپ لوگوں نے ان کی منظور کر لی اور شاید کل اس پر پوری منظوری آجائے۔ ایک دوسری چیز یہ ہے کہ انہوں نے، مرزا غلام احمد نے ١٩٠١ء میں حکومت سے درخواست کی تھی کہ ہمارے ماننے والوں کو مردم شماری میں الگ لکھا جائے۔ وہ درخواست بہر حال انگریزوں نے منظور کر لی۔ لیکن ١٩٣١ء تک اس پر عمل درآمد ہوا، ١٩٤١ء میں نہیں ہوا۔ ایک میری گزارش ہے کہ اس درخواست پر ہم دوبارہ عملدرآمد شروع کریں اور ان کی مردم شماری الگ سے ہو۔

ایک مغالطہ انہوں نے...... یعنی اتنی صریح بہت سی غلط بیانیاں کی ہیں۔ لیکن بالکل واضح طور پر اٹارنی جنرل صاحب کے سوال کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ ہم سیاسی جماعت

١٩١

F PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ny person other than a

3057 یا جنوبی افریقہ کی حکومت تسلی xed."

یعنی سب کو حق ہے، ان کو حق ہے۔ ہم جو حل پیش کرنا چاہتے ہیں اس کی نے ٢٨ سال پہلے انگریزوں کے سامنے پیش اس درخواست کو منظور کرتے ہیں۔ جس میں کی طرح حقوق دیئے جائیں۔ ہم ان کے کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ان کے دل میں فساد ٢٨ سال پہلے ان کے آقا منظور نہیں کرتے فساد کی نیت نہ ہو تو انہیں یہ سمجھنا چاہئے اور

ہم بھی خوش
تم نے اب

ایک زمانہ گزرا ہر طرح کی چھ پالیسی کے مطابق ربوہ میں جو واقعہ کیا اس یہ سمجھ کر نہیں کیا، اتنے نادان نہیں ہیں کہ ا گی۔ ان کا منشاء یہ تھا کہ اس طاقت کا مظا تحریروں میں موجود ہے کہ فلاں وقت تک مرعوب ہو جائے۔ بہر حال یہ اس انگریزی اور جس کے متعلق ایک جملہ ان کا سناتا ہوں ہے جو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ اور درخواست کو نہیں مانا تھا۔ ہم 3058 از راہ فیا ان کی جان و مال کی حفاظت کا وعدہ کرتے اور اس کے ساتھ بے وفائی کا مظاہرہ نہ

صفحہ ٢٩٢٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

نہیں ہیں۔ اب میں اس سلسلے میں صرف چند اقتباسات آپ کو سنا دیتا ہوں۔ (مداخلت)

جناب چیئرمین: میں نے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ میں کسی معزز ممبر کو بند نہیں کروں گا، بالکل، جتنی مرضی ہے تقریر کریں جی، اب کوئی خیال نہیں ختم نبوت کا۔ نو بجتے ہیں تو گھڑیاں دیکھنی شروع ہو جاتی ہیں۔ نہیں جی! بالکل آج ساری رات بیٹھیں گے۔ اب دین کے ساتھ محبت کہاں گئی ہے؟ مولانا صاحب! آپ تقریر کریں۔ ٹھیک ہے جی! بیٹھیں گے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں مختصراً اس چیز کو ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ یہ سیاسی جماعت نہیں ہیں، یہ انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا۔ یہ خالص سیاسی جماعت ہیں، اور ایسی سیاسی جماعت جو تشدد کے ذریعے، خون خرابے کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلہ میں میں چاہتا ہوں کہ چند اقتباسات پیش کروں۔ کہتے ہیں: 3060”پس جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں، وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں۔ جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہوتی ہے وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں اور اصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔ پس اس سیاست کے مسئلے کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا ہے۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔“

(الفضل، ١٣ اگست ١٩٢٦ء)

پھر لکھتے ہیں، دوسرا قول ہے: ”غرض سیاست میں کوئی غیر دینی فعل نہیں۔ بلکہ یہ دینی مقاصد میں شامل ہے۔ اب پھر سیاسی بات آتی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک احمدی یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصے کے اندر ہی خواہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں یا نہ رہیں۔ لیکن بہر حال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا، ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہو گی بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ ان سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت عجز و انکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔“

(الفضل مورخہ ٢؍اکتوبر ١٩٣٩ء)

اس کے بعد ہے کہ: ”میرا خیال ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں عدم تعاون سے نہیں۔“ یہ ١٩٣٥ء کا ہے، جب انگریزوں سے تعاون کی بات چل رہی تھی۔

١٩٢

صفحہ ٢٩٢١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

3061 جناب چیئرمین: چوہدری ممتاز صاحب، میاں مسعود احمد صاحب اور محمد اسلم صاحب واپس تشریف لے آئیں۔ شہزادہ صاحب! آپ بھی تشریف لے آئیں۔ یہ کوئی بات نہیں ہے کہ کتابیں ہاتھ میں اٹھائیں اور دروازوں کی طرف چل دیئے۔ آپ فرمائیں جی! شہزادہ صاحب آپ بھی تشریف رکھیں۔ دروازے بند کر دیں، باہر سے لاک کر دیں۔ چلیں جی، انصاری صاحب! فرمائیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ کہتا ہے کہ......

ملک محمد اختر: سر! میں جا سکتا ہوں؟

جناب چیئرمین: ہاں! آپ جائیں وجہ معقول ہے، بڑی معقول وجہ ہے۔ دروازے بند کر دیں۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا (چارج) سپرد کیا جانا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے۔“

جناب چیئرمین: بیگم شیریں وہاب صاحبہ جاسکتی ہیں۔ صرف بیگم شیریں وہاب صاحبہ۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے“ کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔

میاں محمد عطاء اللہ: پوائنٹ آف آرڈر، سر! عورتوں کے ایک جیسے حقوق ہیں، پھر عورتیں بھی نہیں جا سکتیں۔

جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، آپ تقریر کرنے دیں ان کو۔ There is reason for that.

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ مارچ ١٩٤٢ء کا ہے۔ تفصیل اس وقت نہیں رہی۔ اس کے بعد ١٩٣٥ء کا ہے: 3062”اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو سیاسیات، اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں اور جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ و تعلیم کے ذریعے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں ہم اسلام کی ساری تعلیم جاری نہیں کر سکتے۔“

یعنی حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش سیاست سے علیحدگی کے باوجود۔ اب آگے لکھتے ہیں کہ: ”ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرے۔ ایک ایسی تبدیلی جو

١٩٣

Y OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

نہیں ہیں۔ اب میں اس سلسلے میں صرف چند اق

جناب چیئرمین: میں نے آ کروں گا، بالکل، جتنی مرضی ہے تقریر کریں۔ گھڑیاں دیکھنی شروع ہو جاتی ہیں۔ نہیں جی! ساتھ محبت کہاں گئی ہے؟ مولانا صاحب! آپ

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں جماعت نہیں ہیں، یہ انہوں نے غلط بیانی سے کا جماعت جو تشدد کے ذریعے، خون خرابے کے میں میں چاہتا ہوں کہ چند اقتباسات پیش کرو میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں، وہ سیاست کو سیاست ہوتی ہے وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا۔ کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھ نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئیے نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔“

پھر لکھتے ہیں، دوسرا قول ہے: ”غر مقاصد میں شامل ہے۔ اب پھر سیاسی بات آئی کہ تھوڑے عرصے کے اندر ہی خواہ ہم اس وقت غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا، ہمیں تمام دنیا پر برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ جب ہمارے س کے ساتھ ان سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ ن ہوں گے۔“

اس کے بعد ہے کہ: ”میرا خیال ۔ حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں عدم تعاون سے نہی کی بات چل رہی تھی۔

صفحہ ١٩٤

2922 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ایک قلیل ترین عرصے میں اسے دوسری قوتوں پر غالب کردے۔“

یہ ١٩٤٩ء کا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد اب یہاں کون سی قوتیں ہیں جن پر وہ غلبہ چاہتے ہیں، یہ ایوان کے معزز ممبران خود اندازہ کر سکتے ہیں۔ پھر آگے ہدایت ہے کہ: ”پاکستان میں اگر ایک لاکھ احمدی سمجھ لیے جائیں تو نو ہزار (٩٠٠٠) احمدیوں کو فوج میں جانا چاہئے۔ فوجی تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی فنون نہیں سیکھیں گے کام کس طرح کریں گے۔“

یہ آپ لوگوں کے علم میں ہوگا کہ فرقان بٹالین جس کو لیاقت علی خان مرحوم نے Disband کیا تھا، اس کے متعلق بڑا پروپیگنڈا کیا گیا کہ اس نے بڑا کام کیا ہے۔ تو اس کے لئے جو تمغے تقسیم ہوئے وہ ربوہ کے سیکرٹریٹ کے اندر ہوئے۔

آگے موجودہ خلیفہ جو ہیں ان کا ارشاد ہے: ”میں تمام جماعت کو جو یہاں موجود ہے اور پوری دنیا کو کامل یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آئندہ پچیس (٢٥) تیس (٣٠) سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہونے والا ہے۔ وہ دن قریب ہے جب دنیا کے بہت سے ممالک کی اکثریت اسلام (یعنی قادیانیت) قبول کر چکی ہوگی۔ دنیا کی سب طاقتیں مل کر اس انقلاب 3063 کو نہیں روک سکیں گی۔“

بہر حال یہ بے شمار ہیں۔ آگے ظفر اللہ صاحب کی تقریر ہے۔......

جناب چیئرمین: آپ نے جو لکھ کر دینا تھا وہ نہیں دیا آپ نے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، جناب! اس کا کوئی وقت نہیں ہے۔ اب ظفر اللہ صاحب کی تقریر کہ: ”اگر احمدیہ جماعت برسر اقتدار آ جائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں گے، دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے گا، سود پر پابندی لگا دی جائے گی اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے گی۔“

یہ بہر حال حکومت کا قصہ ہے۔ پھر یہ لکھتے ہیں کہ: ”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا میسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہو اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔“

یہ تو بہر حال ہے۔ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ جماعت احمدیہ کے ہاتھ جب حکومت آئے گی تو جو لوگ احمدیت سے باہر ہوں گے ان کی حیثیت چوہڑوں اور چماروں کی ہو

صفحہ ٢٩٢٣

2923 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

گی۔ بہرحال یہ حکومت آنا اور حکومت کی کوشش کرنا اور اس کے لئے تیاری کرنا ، جیسا کہ میں نے اس روز کہا تھا کہ ”ایک لاکھ سائیکل سوار اور دس لاکھ گھوڑ سوار اور نیزہ باز اور اتنی عورتیں“ یہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے ۔

اس سب کے باوجود جو دنیا میں زیادہ سے زیادہ فیاضانہ سلوک ہو سکتا ہے اس راستے کو سوچ رہے ہیں ہم۔ لیکن اس کے ساتھ یہ لازمی ہے کہ ان کی نقل وحرکت پر نظر رکھی جائے اور جب جو تجویزیں وہاں ہیں:3064 ”وہ لوگ جو واقعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے وہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے۔ صرف باقی ہم رہ جائیں گے۔ ہر ایک کو موت نظر آ رہی ہے اور صرف ہم کو زندگی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے متعلق کہا گیا ہے کہ آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی ۔ مگر ہمیں امید ہے کہ بادشاہت ہمیں دی جائے گی۔ حکمران ڈر رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی رہے گی۔ مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں دی جائے گی ۔“ (مداخلت)

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو بہرحال! اس کو صرف ریکارڈ پر لانا پیش نظر تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ معزز ممبران کا بہت سا وقت میں نے لیا ہے۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے دوبارہ ان چیزوں کو پیش کرنے کا موقع دیا۔ شکریہ!

Mr. Chairman: Thank you very much. Any honourable member who would like to speak?

Member: No.

Mr. Chairman: Any honourable member who wants to speak?

اگر کسی نے اپنے کسی بیان میں کوئی تصحیح کرنی ہے یا دوبارہ کوئی Add کرنا ہے؟

جناب محمود اعظم فاروقی: میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔

جناب چیئرمین: آپ رہنے دیں۔ اگر آپ کریں گے تو پھر یہ ڈسکشن ہو گی اس پر ، آپ رہنے دیں۔ میں ان سے پوچھ رہا ہوں۔

3065مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب سپیکر صاحب! ایک گزارش مجھے کرنی ہے کہ یہ ساری چیز ریکارڈ میں آ رہی ہے۔ میرے خیال میں یہ پوری کارروائی ہاؤس کمیٹی کے ریکارڈ میں آئے گی۔

١٩٥

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

ایک قلیل ترین عرصے میں اسے دوسری قوتوں پر غالب یہ ١٩٤٩ء کا ہے۔ پاکستان بننے کے بع چاہتے ہیں، یہ ایوان کے معزز ممبران خود اندازہ کر ی میں اگر ایک لاکھ احمدی سمجھ لیے جائیں تو نو ہزار ( تیاری نہایت اہم چیز ہے۔ جب تک آپ جنگی فنون یہ آپ لوگوں کے علم میں ہوگا کہ فرقہ Disband کیا تھا، اس کے متعلق بڑا پروپیگنڈا ک لئے جو تمغے تقسیم ہوئے وہ ربوہ کے سیکرٹریٹ کے اند آگے موجودہ خلیفہ جو ہیں ان کا ارشاد ۔ اور پوری دنیا کو کامل یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آئن دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہونے والا ہے۔ وہ کی اکثریت اسلام (یعنی قادیانیت) قبول کر چکی ہ 3063 کو نہیں روک سکیں گی ۔“

بہرحال یہ بے شمار ہیں۔ آگے ظفر اللہ ص

جناب چیئرمین: آپ نے جو لکھ کر د

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں،

اللہ صاحب کی تقریر کہ: ”اگر احمدیہ جماعت برسراقت گے، دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے گا، سود پر پابندی جائے گی ۔“

یہ بہرحال حکومت کا قصہ ہے۔ پھر یہ لک جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور بطر یا میر نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری بات عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوئی تو یہ تو بہر حال ہے۔ میں مختصراً یہ بتانا چا حکومت آئے گی تو جو لوگ احمدیت سے باہر ہوں ۔

١٩٤

صفحہ ٢٩٢٤

2924 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جناب چیئرمین: ہم جب ریکارڈ Complete کریں گے تو یہ باتیں Omitt کردیں گے۔

مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہی میں کہہ رہا تھا کہ جو چیزیں اس سے متعلق ہیں ......

جناب چیئرمین: نہیں، صرف وہ کریں گے، باقی جو یہ ہمارے ریمارکس ہیں آپ کے، یا اپنی ڈسکشن جو کراس ایگزامینیشن سے پہلے ہوئی تھی یا بعد میں ہوئی تھی، That we shall not make part of the record. یہ ریکارڈ ہم نے پبلش کرنا ہے، اس کو اناؤنس کرنا ہے۔ That will take some time until and unless we correct it, Sir. کیونکہ یہ جو باتیں ہیں یہ پبلک میں نہیں جائیں گی۔

ایک رکن: نہیں جائیں گی؟

جناب چیئرمین: اسی واسطے انہوں نے اعتراض کیا ہے کہ شاید یہ ریکارڈ پر نہ آجائیں۔

جناب محمود اعظم فاروقی: جناب! مجھے ایک گھنٹہ بولنے کی اجازت دیں۔

Mr. Chairman: Is the House prepared to grant him leave to speak for one hour?

Members: No, no.

Dr. S. Mahmood Abbas Bokhari: Sir, he can speak in the lobby, if he likes it.

Mr. Chairman: Before we rise for tomorrow, I want to place it again on the...

3066 مولانا عبدالحق: فرمائیں جی! فرمائیں۔

ایک رکن: جناب! بیٹھنے دیں ان کو، بیٹھ جائیں گے۔

جناب چیئرمین: تو کل کے لئے میں عرض کروں، میں سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ ہماری Almost last meeting ہے اور آپ تمام دوستوں نے، حضرات نے، ممبران نے اس کو نہ صرف ایک ڈیوٹی سمجھ کے بلکہ اس کو اپنا ایک جزو ایمان سمجھ کے یہ فرض سرانجام دیا ہے۔ اس کے لئے میں آپ کا نہ صرف مشکور ہوں۔ بلکہ آپ کو مبارکباد

١٩٦

صفحہ ٢٩٢٥

قومی اسمبلی کی کارروائی NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

MBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

جناب چیئرمین: ہم جب ریکارڈ Omitt کردیں گے۔ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہی میں ک جناب چیئرمین: نہیں، صرف وہ کر کے، یا اپنی ڈسکشن جو کراس ایگزامینیشن سے پہلے all not make part of the record. اناؤنس کرنا ہے۔ til and unless we correct it, Sir. کیونکہ یہ جو باتیں ہیں یہ پبلک ایک رکن: نہیں جائیں گی؟ جناب چیئرمین: اسی واسطے انہوں نے جناب محمود اعظم فاروقی: جناب! ا s the House prepared to grant ur?

Abbas Bokhari: Sir, he can it. efore we rise for tomorrow, I

3066 مولانا عبدالحق: فرمائیں جی ایک رکن: جناب! بیٹھنے دیں ان ک جناب چیئرمین: تو کل کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ ہماری eeting نے، حضرات نے، ممبران نے اس کو نہ صرف ایک کے یہ فرض سر انجام دیا ہے۔ اس کے لئے میں 1

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

پیش کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے ملک کے نام اور جمہوریت کی بقاء کے لئے اڑھائی مہینے بیٹھ کر خدمت کی ہے اور میں اس سے زیادہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ Recommendations آپ کے سامنے آنی ہیں اور مجھے انشاء اللہ تعالیٰ امید ہے بلکہ مجھے پہلے دن سے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم اس میں Unanimously متفقہ طور پر کوئی نہ کوئی چیز ہاؤس کے سامنے لائیں گے۔ تو کل صبح سیشن نہیں ہوگا۔ اس واسطے کہ کسی ڈیبیٹ کی ضرورت نہیں۔ ڈیبیٹ ختم ہوچکا ہے۔ تمام ضروری مراحل طے ہو چکے ہیں۔ نیشنل اسمبلی کو Recommendations پیش ہو جائیں گی۔ آپ نے ان کا Explanation سن لیا، اٹارنی جنرل کی تقریر بھی سن لی، کتابوں کے حوالہ جات اور تمام Formalities پوری ہوچکی ہیں۔ اب کل قومی اسمبلی میں بل پیش ہوگا۔ کل ڈھائی بجے سیشن ہوگا۔ ممکن ہے اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس بھی ہو۔ ابھی ڈسکشن جاری ہیں۔ بل پمفلٹ کی صورت میں آئے گا۔ ہم نے ریکارڈ بھی Prepare کرنا ہے۔ کل ڈھائی بجے اسپیشل کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔

For legislation or whatever positive or negative has to be done. The Special Committee will last for about one hour or two hours for finalising recommendations; and then, at 4:30, recommendations shall be presented to the National Assembly which will hold an open session. The National Assembly meets always in open session. But because of the 3067 gravity of the situation and the prevailing political condition in the country, we would be strict in the admission not only to the galleries but to the premises of the Assembly even. Passes will be issued only to the family members of the M.N.A's or their relatives. This restriction will be only for tomorrow. This restriction will apply even to the admission in the cafeteria or inside Gate No.3 and 4.

١٩٧

صفحہ ٢٩٢٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

Definitely there will be restrictions, and I am sorry for the inconvenience to the honourable members. They will be allowed to come in without any bag in hand. Such things will be avoided under all circumstances. It is for the information of the honourable members. Cards will be issued to them. I am again thankful and grateful to you. Thank you very much.

(قانون سازی کے لئے یا جو کچھ بھی اس میں تبدیل کرنا پڑے۔ خصوصی کمیٹی ایک گھنٹے یا دو گھنٹوں تک برقرار رہے گی تاکہ تجاویز کو حتمی شکل دی جاسکے اور پھر ساڑھے چار بجے ان تجاویز کو قومی اسمبلی کے اوپن سیشن میں پیش کیا جائے گا۔ اس میں تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ہمیشہ اوپن سیشن ہوتا ہے۔ لیکن صورتحال کی نزاکت اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر ہم نہ صرف گیلریوں میں بلکہ اسمبلی کے حدود اربعہ میں بھی داخلے پر سختی کریں گے۔ پاس صرف ایم این ایز کے اہل خانہ اور ان کے رشتہ داروں کو جاری کئے جائیں گے۔ یہ پابندی صرف کل کے لئے ہوگی۔ اس پابندی کا اطلاق کیفے ٹیریا میں اور گیٹ نمبر ٤،٣ میں داخلے پر بھی ہوگا۔ یقیناً ان پابندیوں سے معزز اراکین کو پریشانی ہوگی۔ جس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ انہیں ہاتھ میں کسی بیگ وغیرہ کے بغیر آنا ہوگا۔ ایسی چیزوں سے ہر صورت میں اجتناب کیا جائے گا۔ یہ معزز اراکین کی معلومات کے لئے میں نے بتایا۔ انہیں کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کا بے حد شکریہ!)

The Special Committee of the whole House adjourned to meet at half past two of the clock, in the afternoon, on Saturday, the 7th September, 1974.

(قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ٧ ستمبر ١٩٧٤ء ہفتہ اڑھائی بجے شام تک کے لئے ملتوی ہوا)

١٩٨

صفحہ ٢٩٢٧

حسنین شجاعیہ

سرگزشت

Y OF PAKISTAN 6th Sept, 1974 No:20

tions, and I am sorry for the able members. They will be y bag in hand. Such things rcumstances. It is for the le members. Cards will be ankful and grateful to you.

(قانون سازی کے لئے یا جو کچھ گھنٹے یا دو گھنٹوں تک برقرار رہے گی تاکہ تجاویز تجاویز کو قومی اسمبلی کے اوپن سیشن میں پیش کی قومی اسمبلی کا اجلاس ہمیشہ اوپن سیشن ہوتا ہے صورتحال کے پیش نظر ہم نہ صرف گیلریوں میں گے۔ پاس صرف ایم این ایز کے اہل خانہ پابندی صرف کل کے لئے ہوگی۔ اس پابندی پر بھی ہوگا۔ یقینا ان پابندیوں سے معزز اراکین ہوں۔ انہیں ہاتھ میں کسی بیگ وغیرہ کے بغیر جائے گا۔ یہ معزز اراکین کی معلومات کے میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آ

ee of the whole House two of the clock, in the eptember, 1974.

(قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی شام تک کے لئے ملتوی ہوا)

2927 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

No. 21 400

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 7th September, 1974

(Contain Nos. 1—21)

CONTENTS

Pages

1 Qadiani Issue General Discussion-(Concluded) . . . . . . . . . 3072-3076 2 Resolution to Declare the Qadiani Group and the Lahori Group as Non Muslims - (Adopted unanimously). . . . . . . . . . 3077-3081 3 Secrecy of the Proceedings . . . . . . . . . 3081-3083

PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD

PDF 708

سرگزشت

2928 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

No. 21

THE

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 7th September, 1974

(Contain Nos. 1—21)

٢

2929 NATIO

3071 THE NATIO

P

THE SPECI

WHOLE HO

TO CONSID

Saturd روائی)

The Special Camera in the Ass Islamabad, at half Mr. Chairman (Sah ٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد میں علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)

(Reci

صفحہ ٢٩٢٩

2929 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

3071

THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

(قومی اسمبلی پاکستان)

PROCEEDINGS

OF

THE SPECIAL COMMITTEE OF THE

WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA

TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.

OFFICIAL REPORT

Saturday, the 7th September. 1974. (کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی) (٧ ستمبر ١٩٧٤ء، بروز ہفتہ)

The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at half past two of the clock, in the afternoon. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair. (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد بند کمرے میں اڑھائی بجے دوپہر جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)

(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)

٣

صفحہ ٢٩٣٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

3072

QADIANI ISSUE- GENERAL DISCUSSION

Mr. Chairman: It is very pleasant to find the House full after two and a half months. It was full on the 30th of June and credit to all those honourable members who have remained sitting here for two and a half months. There might be slight inconveience to those persons to whom cards have been issued because we will open the gates of the Assembly when we conclude this at 4:30. So they will have to wait outside, those persons to whom the cards have been issued, and I think we must have a tea break for about fifteen minutes. Then we will meet at about 3:20 pm.

[The Special Committee adjourned for tea break to meet at 3:20 pm.]

[The Special Committee re-assembled at 3:40 pm., Sahibzada Farooq Ali in the Chair.]

Mr. Chairman: Yes, Mr. Law Minister. I would request the honourable members to be attentive. One hundred and seventeen members are present.

Mr. Abdul Hafeez Pirzada (Minister for Law and Parliamentary Affairs): Mr. Chairman, three months of an ordeal before the Special, Committee of the National Assembly and 90 years of history, full of agony, of the Muslims of the Sub- continent is about to come to an

٤

صفحہ ٢٩٣١

قومی اسمبلی

تحسین رضا

OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

ERAL DISCUSSION

very pleasant to find the months. It was full on the those honourable members for two and a half months. e to those persons to whom ve will open the gates of the at 4:30. So they will have whom the cards have been ave a tea break for about t at about 3:20 pm.

- adjourned for tea break to

- re-assembled at 3:40 pm., r.]

- Mr. Law Minister. I would ers to be attentive. One are present. zada (Minister for Law ): Mr. Chairman, three Special Committee of the of history, full of agony, of nt is about to come to an

2931 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

end.

When this question arose soon after the 29th of May, no one could even have remotely imagined that this august body would be burdened with the onerous task of resolving a highly complicated and intricate issue involving religious sentiments of millions of Muslims in the Sub-continent and all over the world. Today, it is the victory of the democracy and the democratic institutions and democratic norms and traditions. That is why I say that an agonising chapter comes to an end. The issue with greater vengeance did arise in the Sub-Continent on previous occasions 3073 also. There have been confrontations and 'munazras'. There have been killings. There have been serious riots and law and order situations, and at least on one occasion in the past democratic Governments were toppled and Martial Law was imposed in the country because of disturbances arising out of the same issue.

Sir, this is not the occasion to make a long speech. We have sat here day in and day out, but I would be failing in my duty if I did not pay a tribute to the members of this august House. Never before in the history of parliamentary democracy in South-East Asia has a democratic institution like the Parliament or the National Assembly undergone such an experience. We have parliamentary democracy in the newly created State of Bangla Desh. We have parliamentary democracy in Sri Lanka. We have

٥

صفحہ ٢٩٣٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

parliamentary democracy in India. These, Sir, are countries in South-East Asia which have had parliamentary democracy in one from or other; even Bangla Desh when it was with us; but you shall not find a precedent of this nature in the parliamentary history of any of these countries. Under heavy odds, very provocative and offensive conditions, my colleagues, you the members of this august House, sat here patiently and objectively to arrive at a national decision, and the issue was referred to you so that you could arrive at a decision, not of an individual but a decision of the nation of Pakistan, whose representatives you are and whose mandate you hold, by virtue of which you call yourself the National Assmebly or the Special Committee of the National Assembly of Pakistan.

We have heard this matter for the last three months. I must confess my own ignorance from the point of view that I did not know about this issue as deeply as some other members. Having heard it at length, we can feel why a muslim had such a deep and emotional reaction to this issue. One thing that emerged as a result of our deliberations and sittings and discussions is that our concept as popularly understood by Muslims of the finality of Prophethood of Mohammad (peace be upon him) is a fundamental article of faith of all Muslims, and no matter what happens, this fundamental article of faith of the finality of Prophethood cannot be compromised by Muslims

Y

PDF 713

تحریک ختم نبوت

مرتبہ : غلام حسین شاہد

STAN 7th Sept, 1974 No:21

ese, Sir, are countries had parliamentary Bangla Desh when it ecedent of this nature hese countries. Under nsive conditions, my gust House, sat here ational decision, and ou could arrive at a ision of the nation of and whose mandate ourself the National ee of the National

he last three months. om the point of view deeply as some other we can feel why a nal reaction to this s a result of our s is that our concept s of the finality of be upon him) is a lims, and no matter icle of faith of the romised by Muslims

2933 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

in any sense. That is why I said, Sir, that this was not an issue of the Government, this was not an issue of the Opposition; we had to treat it as a national issue, and the nation could ill afford to divide itself on such a vital issue and therefore, 3074 the effort of the Government, through the Government leader, the Prime Minister of Pakistan, as also all our friends who sit across the floor, was to look and search for a consensus so that the nation should not be divided on such a vital issue and the decision of the National Assembly should come unanimously and by consensus.

It is my proud privilege on behalf of the majority party and my friends there who have authorised me to move a Resolution to state before this august Committee that such consensus and unanimity has been arrived at. Sir, in a few minutes, the members of this august House shall have before them a proposed resolution that I intend to move on behalf of my self, Maulana Mufti Mahmood, Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqi, Prof. Ghafoor Ahmad, Mr. Ghulam Faruq, Ch. Zahur Ilahi and Sardar Moula Bakhsh Soomro. In this resolution, we have given the draft of recommendations that we would like to make. Now, Sir, this contains the recommendations. This has to be distributed along with the copy of the Consitution Amendment Bill.

Mr. Chairman: That too is bieng circulated.

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: This should not be circulated separately. Sir, now I have got the original copy. I

٧

صفحہ ٢٩٣٤

تلخ سرگزشت

ملک غلام حسین بھٹی

2934 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

would like to place it for the purpose of record. Sir, what we propose for the consideration of the Committee and adoption by it, in the form of recommendation, is a resolution which contemplates constitutional measures, which contemplates legislative, administrative and procedural measures, and which also contains a reiteration of assurance of safety, security and safeguard of life, liberty, property, honour and fundamental rights of all citizens of Pakistan irrespective of the community that they belong to. Constitutional amendments I will explain and so also legislative and procedural amendments that we recommend. Before that, I would like to say that as soon as these recommendations are approved by this august House, which I am confident will be unanimous as would appear from the moving of this resolution, we will convert ourselves immediately thereafter into the National Assembly and I will take before the National Assembly the recommendations of the Committee, which, on approval, would entitle the moving of the Constitution Amendment Bill. We hope that in today's sitting we would pass the Constitution Amendment Bill and today it would be 3075 transmitted to the Senate and we hope that the Senate would also pass it today so that the Chapter should stand closed today.

Now, Sir, the constitutional amendments that I recommend on behalf of myself and my friends are two-fold, that the Constitution of Pakistan be amended to include a

٨

2935 N

definition of a p should come by are two clause article deals wit (3) to this Artic under:

"(3) A and unqualifed (peace be upon a prophet, in a whatsoever, a recognizes su reformer, is Constitution or

Sir, the Constitution is with reservat communities, been prescrib clause (3) of after the word

"Comm the Lahori Gr

This is

Sir, let our Constitut

صفحہ ٢٩٣٥

ملک غلام حسین بھاٹیہ تحریک ختم نبوت

MBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

purpose of record. Sir, what we ation of the Committee and rm of recommendation, is a lates constitutional measures, islative, administrative and which also contains a reiteration ity and safeguard of life, liberty, amental rights of all citizens of community that they belong to. ts I will explain and so also mendments that we recommend. to say that as soon as these ved by this august House, which mous as would appear from the , we will convert ourselves he National Assembly and I will sembly the recommendations of approval, would entitle the Amendment Bill. We hope that ould pass the Constitution would be 3075 transmitted to the Senate would also pass it today and closed today. itutional amendments that I elf and my friends are two-fold, istan be amended to include a

٨

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

definition of a person who is not a Muslim. This definition should come by an addition of a clause to Article 260. There are two clauses in Article 260 of the Constitution. This article deals with definition and we would like to add clause (3) to this Article to give the definition of a non-Muslim as under:

"(3) A person who does not believe in the absolute and unqualifed finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him) the last of the Prophets, or claims to be a prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after Muhammad (peace be upon him), or recognizes such a claimant as a prophet or a religious reformer, is not a Muslim for the purposes of the Constitution or law."

Sir, the second amendment that we propose in the Constitution is related to Article 106, clause (3), which deals with reservation of seats in Provincial Assemblies for communities, over and above the general seats that have been prescribed, and the amendment that I propose in clause (3) of Article 106 is that at the end of the word or after the word 'communities', the following words be added:

"Communities and persons of the Qadiani Group or the Lahori Group who call themsleves Ahmadis."

This is second amendment.

Sir, let me make it absolutely clear that Article 20 of our Constitution gives fundamental right of freedom to

٩

صفحہ ١٠

قاری غلام حسن نیازی سرگزشت

2936 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

profess, propagate and practice one's own religion and every community shall be at liberty to do so, to profess, propagate and parctice their own religion, but, as I said, Muslims' Finality of Prophethood, as would be defined in article 260 of the Constitution, is an article which is fundamental in faith. Therefore, we propose to 3076 recommend that the Pakistan penal Code should be amended in section 295 (a) by the addition of an Explanation. There is already a clause in the Pakistan Penal Code which prohibits people from propagating religion in a manner so as to be offensive to other religious beliefs. Therefore, all Muslims because we cannot stop others from practising or professing or propagating their own religion- but if a person is a Muslim, then we have to see that all Muslims who profess, practise of propagate against the concept of Finality of Prophethood Muhammad (peace be upon him) as set out in clause (3) of Article 260 shall be punishable under the section.

Sir, naturally, with these amendments, there will be consequential procedural amendments or changes in law or rules or forms or parctices, such as the National Registration act and the Electoral Rules, and it would also be a recommendation for consideration that such consequential amendments may be made by the Government at relevant time because there might be some laws where entries might have to be changed, giving entries of people etc, and of persons and so on and so forth.

2937 NATI

Lastly, Sir, given the Constituti have not only give we have also gu responsibility of t combined, the Sta rights, whether th honour or whether the Constitution, creed or communi this also goes with to an end, the nigh shall all recomm manner so as to s rights guaranteed total of our recom Thank you Mr. Chai House appoves the All Memb

3077 RESOLUTIO GROUP A

Mr. Abd formally move it. S

PDF 717

ڈاکٹر غلام حسین بھٹی

قومی اسمبلی

LY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

e one's own religion and every to do so, to profess, propagate ion, but, as I said, Muslims' ould be defined in article 260 icle which is fundamental in 3076 e to recommend that the e amended in section 295 (a) ion. There is already a clause which prohibits people from nner so as to be offensive to ore, all Muslims because we ractising or professing or - but if a person is a Muslim, slims who profess, practise of t of Finality of Prophethood m) as set out in clause (3) of under the section. se amendments, there will be dments or changes in law or es, such as the National oral Rules, and it would also consideration that such y be made by the Government e might be some laws where ged, giving entries of people nd so forth.

2937 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

Lastly, Sir, I would like to say that we have ourselves given the Constitution by consensus. In this Constitution, we have not only given fundamental rights to the citizens but we have also guaranteed these rights, and it is the responsibility of the nation as well as of the State, both combined, the State and the nation, to see to it that all rights, whether they relate to property, liberty, life and honour or whether they be fundamental rights, as given by the Constitution, are fully protected, irrespective of cast, creed or community that a person belongs to and, therefore, this also goes without saying that the controversy has come to an end, the nightmare is coming to an end. Therefore, we shall all recommend and also practise ourselves in a manner so as to safeguard, secure and fully protect those rights guaranteed to each and every citiszen. This is the sum total of our recommendation.

Thank you very much.

Mr. Chairman: The Committee of the Whole House appoves the resolution and the recommendations?

All Members: Yes.

3077

RESOLUTION TO DECLARE THE QADIANI

GROUP AND THE LAHORI GROUP AS

NON-MUSLIMS

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Sir, I will now formally move it. Sir, I beg to move:

11

صفحہ ٢٩٣٨

حاجی غلام حسین بھاٹیہ

ہشت بہشت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

Sir, I beg to move:

"That the Special Committee of the whole House approves and passes unanimously the following resolution:

"The Special Committee of the whole House of the National Assembly unanimously resolves that the following recomendations be sent to the National Assembly for consideration and adoption.

The Special Committee of the Whole House, assisted by its Steering Committee and Sub-Committee, having considered the resolutions before it or referred to it by the National Assembly and after perusal of the documents and examination of the witnesses, including the heads of Sadar Anjuman-i-Ahmadia, Rabwah, and Anjuman-i-Ahmadia Ishaat-i-Islam, Lahore, respectively unanimously makes the following recommendations to the National Assembly:

follows:

to persons of the Qadiani Group and the Lahori Group (who call themselves 'Ahmadis');

clause in Article 260.

To give effect to the above recommendations, a draft Bill unanimously agreed upon by the Special Committee is appended.

١٢

2939 NAT

295-A of the Paki 3078 "Expla or propagates ag Prophethood of M in clause (3) of punishable under

amendments may National Registr 1974.

fundamental righ the communitie protected and saf

Sd/- A M M P M C S

Mr. Cha

"That th approves and pa

"The Sp National Assemb

صفحہ ٢٩٣٩

قاری غلام حسین بھاٹیہ

سرگزشت سرگزشت سرگزشت

MBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

Committee of the whole House ously the following resolution:

ittee of the whole House of the usly resolves that the following o the National Assembly for

ee of the Whole House, assisted and Sub-Committee, having efore it or referred to it by the r perusal of the documents and s, including the heads of Sadar wah, and Anjuman-i-Ahmadia ectively unanimously makes the to the National Assembly: on of Pakistan be amended as

e 106 (3) a reference be inserted oup and the Lahori Group (who

Muslim may be defined in a new

bove recommendations, a draft on by the Special Committee is

xplanation be added to section

١٢

2939 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

295-A of the Pakistan Penal Code: 3078"Explanation. A Muslim who professes, practises or propagates against the concept of the finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him) as set out in clause (3) of Article 260 of the Constitution shall be punishable under this section."

(C) That consequential legislative and procedural amendments may be made in the relevant laws, such as the National Registration Act, 1973, and the Electoral Rules, 1974.

(D) That the life, liberty, property, honour and fundamental rights of all citizens of Pakistan, irrespective of the communities to which they belong, shall be fully protected and safeguarded."

Sd/- Abdul Hafeez Pirzada, Maulvi Mufti Mahmood, Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqi, Prof. Ghafoor Ahmad, Mr. Ghulam Faruq, Ch. Zahur Elahi, Sardar Moula Bukhsh Soomro."."

Mr. Chairman: The motion moved is: "That the Special Committee of the whole House approves and passes unanimously the following resolution:

"The Special Committee of the Whole House of the National Assmebly unanimously resolves that the following

١٣

صفحہ ١٤

غلام حسین تبسم

سرگزشت سرگزشت سرگزشت

2940 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

recomendations be sent to the National Assembly for consideration and adoption.

The Special Committee of the Whole House, assisted by its Steering Committee and Sub-Committee, having considered the resolutions before it or referred to it by the National Assembly and after perusal of the documents and examination of the witnesses, including the heads of Sadar Anjuman-i-Ahmadia, Rabwah, and Anjunam-i-Ahmadia Ishaat-i-Islam, Lahore, respectively unanimously makes the following recommendations to the National Assembly:

3079

follows:

to persons of the Qadiani Group and the Lahori Group (who call themselves 'Ahmadis');

clause in Article 260.

To give effect to the above recommendations, a draft Bill unanimously agreed upon by the Special Committee is appended.

295-A of the Pakistan Penal Code:

"Explanation. A Muslim who professes, practises or propagates against the concept of the finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him) as set out in clause (3) of Article 260 of the Constitution shall be

2941 NA

punishable under

amendments may National Registr 1974.

fundamental righ the communiti protected and sa

Sd/- A M M F M G S

3080 Mr. C

"That t approves and p

"The Sp National Assme recomendatio consideration a

The Spe by. its Steering considered the

PDF 721

قاری غلام حسین بھاٹیہ

تحریک

ختم

نبوت

2941 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

punishable under this section."

amendments may be made in the relevant laws, such as the National Registration Act, 1973, and the Electoral Rules, 1974.

fundamental rights of all citizen of Pakistan, irrespective of the communities ot which they belong, shall be fully protected and safeguarded."

Sd/- Abdul Hafeez Pirzada, Maulvi Mufti Mahmood, Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqi, Prof. Ghafoor Ahmad, Mr. Ghulam Faruq, Ch. Zahur Elahi, Sardar Moula Bukhsh Soomro."."

3080 Mr. Chairman: The question is:

"That the Special Committee of the whole House approves and passes unanimously the following resolution:

"The Special Committee of the Whole House of the National Assmebly unanimously resolves that the following recomendations be sent to the National Assembly for consideration and adoption.

The Special Committee of the Whole House, assisted by its Steering Committee and Sub-Committee, having considered the resolutions before it or referred to it by the

LY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

the National Assembly for

of the Whole House, assisted nd Sub-Committee, having ore it or referred to it by the perusel of the documents and including the heads of Sadar h, and Anjuman-i-Ahmadia ively unanimously makes the the National Assembly:

n of Pakistan be amended as 06 (3) a reference be inserted o and the Lahori Group (who slim may be defined in a new

ve recommendations, a draft by the Special Committee is

anation be added to section le:

n who professes, practises or ept of the finality of the ace be upon him) as set out f the Constitution shall be

صفحہ ٢٩٤٢

سیّد غلام حسنین تھانوی ختم نبوت ختم نبوت ختم نبوت

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

National Assembly and after perusal of the documents and examination of the witnesses, including the heads of Sadar Anjuman-i-Ahmadia, Rabwah, and Anjunam-i-Ahmadia Ishaat-i-Islam, Lahore, respectively unanimously makes the following recommendations to the National Assembly:

follows:

to persons of the Qadiani Group and the Lahori Group (who call themselves 'Ahmadis');

clause in Article 260.

To give effect to the above recommendations, a draft Bill unanimously agreed upon by the Special Committee is appended.

295-A of the Pakistan Penal Code:

"Explanation. A Muslim who professes, practises or propagates against the concept of the finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him) as set 3081 out in clause (3) of Article 260 of the Constitution shall be punishable under this section."

amendments may be made in the relevant laws, such as the National Registration Act, 1973, and the Electoral Rules, 1974.

١٦

2943 NATIONAL ASS

(D) That the life, l fundamental rights of all the Communities to wh protected and safeguarde

Sd/- Abdul Haf Maulvi Mu Maulana S Prof. Ghaf Mr. Ghula Ch. Zahur Sardar M

The motion was c

SECRECY OF

The Chairma

Committee and convert just want to remind the in possession of the do House Committee. All secret papers and shall leaked out or shall not and until the Assembly record as it deems fit.

In the end I honourable members in to.

PDF 723

ی نظام میں تاخیر

مشتری ہوشیار باش

Y OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

erusal of the documents and including the heads of Sadar h, and Anjunam-i-Ahmadia tively unanimously makes the the National Assembly: of Pakistan be amended as

106 (3) a reference be inserted p and the Lahori Group (who

slim may be defined in a new

ove recommendations, a draft by the Special Committee is

planation be added to section de:

n who professes, practises or cept of the finality of the (peace be upon him) as set 260 of the Constitution shall m."

egislative and procedural he relevant laws, such as the 73, and the Electoral Rules,

2943 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

fundamental rights of all citizen of Pakistan, irrespective of the Communities to which they belong, shall be fully protected and safeguarded."

Sd/- Abdul Hafeez Pirzada, Maulvi Mufti Mahmood, Maulana Shah Ahmad Noorani Siddiqi, Prof. Ghafoor Ahmad, Mr. Ghulam Faruq, Ch. Zahur Elahi, Sardar Moula Bukhsh Soomro."."

The motion was adopted unanimously.

SECRECY OF THE PROCEEDINGS

The Chairman: Before I adjourn the Special Committee and convert itself into the National Assembly, I just want to remind the honourable members that they are in possession of the documents and the proceedings of the House Committee. All these papers are confidential and secret papers and shall not be published and shall not be leaked out or shall not be told about to any person unless and until the Assembly authorises the publication of such record as it deems fit.

In the end I would also like to thank all the honourable members irrespective of which party they belong to.

١٧

صفحہ ٢٩٤٤

2944 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

مولانا غلام غوث ہزاروی: جناب والا! میں عرض کرتا ہوں کہ اب کیا ضرورت ہے اشاعت پر پابندی کی؟

3082 جناب چیئرمین: جب چیئرمین بول رہا ہو تو نہیں بولنا چاہئے کسی معزز ممبر کو۔

جناب عبد الحفیظ پیرزادہ: مولانا صاحب! میں آپ کو سمجھاؤں گا کہ ہم نے اس ہاؤس کمیٹی کی طرف سے رپورٹ پیش کرنی ہے تجاویز کے لئے جو ہم نے کارکردگی کی ہے۔

جناب چیئرمین: مولانا صاحب! اس کے علاوہ کئی باتیں ہیں۔ مثلاً میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ آپ بیت الخلاء کی باتیں کرتے رہے ہیں 1؎۔ Corrections کریں گے تو پھر اس کے بعد کریں گے۔

Dr. Mubashir Hasan (Minister for Finance, Planning and Development): Sir, why should secret session proceedings be published unless the Assembly decides otherwise?

Mr. Chairman: Yes, I may quote a precedent. These proceedings are just like the proceedings of the Constitution Committee, which have not been published and which have not been authorised to be published.

So before we adjourn this Committee sine die and it becomes functus officio I would like to place on record my thanks to all the honourable members irrespective of which side they belong to, and my special thanks to the Attorney- General, the Law Minsister and all those persons.

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Sir, we are all thankful to the Attorney- General for the labour that he put in. I would like it to be placed on record unanimously.

1؎ سمجھنے میں غلطی لگی ورنہ مولانا غلام غوث ہزاروی نے بیت الخلاء میں بھنگی کے طرز عمل سے مرزا قادیانی کے طرز عمل کا موازنہ کر کے مرزا قادیانی کے چہرے پر اس کے کذب کو خوب واضح کیا تھا۔

صفحہ ١٩

قاضی غلام حسین بہاولپوری

مسئلہ

ختم نبوت

2945 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

Mr. Chairman: I would like to place it on record that I share the sentiments expressed by the Law Minister. Also, thanks are due to those members who have been regularly attending the Special Committee meetings. I want to specially place on record my thanks specially to those faces which I see today. I also thank them. We will meet at 4:30.

Mr. Abdul Hafeez Pirzada: One thing more, Sir. I would now request the honourable members to be here punctually at 3083 4:30 p.m. Because we are meeting as National Assembly, whereafter presentation of these recommendations which have been unanimously approved by the House Committee, I would be introducing straightaway the Constitution Amendment Bill and, therefore, every member will be needed for the passage of this Bill.

Mr. Chairman: At 4:30 we meet as National Assembly. Thank you very much.

[The Special Committee of the Whole House adjourned sine die.]

(قادیانی مسئلہ پر عمومی بحث)

جناب چیئرمین: یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ اڑھائی ماہ بعد بھی ایوان بھرا ہوا ہے۔ ایوان ٣٠ جون ١٩٧٤ء کو بھرا ہوا تھا اور اس کا سہرا معزز اراکین کو جاتا ہے جو اڑھائی ماہ سے مسلسل ان اجلاسات میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ ان افراد کو تھوڑی دقت ضرور ہوئی ہوگی۔ جنہیں کارڈ

OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

مولانا غلام غوث ہزاروی: ہے اشاعت پر پابندی کی؟

جناب چیئرمین: جب 3082

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: مو ہاؤس کمیٹی کی طرف سے رپورٹ پیش کرنی ہے

جناب چیئرمین: مولانا صاح دلاتا ہوں کہ آپ بیت الخلاء کی باتیں کرتے اس کے بعد کریں گے۔

(Minister for Finance, t): Sir, why should secret shed unless the Assembly

I may quote a precedent. ke the proceedings of the ave not been published and to be published.

s Committee sine die and it like to place on record my mbers irrespective of which cial thanks to the Attorney- ll those persons.

Pirzada: Sir, we are all d for the labour that he put record unanimously.

مجھے سمجھنے میں غلطی لگی ورنہ مولانا غلا مرزا قادیانی کے طرزعمل کا موازنہ کر کے مرزا قاد

صفحہ ٢٩٤٦

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

جاری کئے گئے ہیں، کیونکہ ہم اسمبلی کے گیٹ اسی وقت کھولیں گے جب ہم ساڑھے چار بجے اس اجلاس کو ختم کریں گے۔ لہٰذا جن لوگوں کو کارڈ جاری کئے گئے ہیں انہیں باہر انتظار کرنا ہو گا اور میرا خیال ہے کہ اب ہم تقریباً پندرہ منٹ کے لئے چائے کا وقفہ کرتے ہیں۔ پھر ہم سہ پہر تین بج کر بیس منٹ پر دوبارہ ملیں گے۔

------

چائے کا وقفہ، خصوصی کمیٹی دوبارہ تین بج کر بیس منٹ پر ملے گی۔

------

خصوصی کمیٹی کا اجلاس تین بج کر چالیس منٹ پر صاحبزادہ فاروق علی کی زیر صدارت شروع ہوا۔

جناب چیئرمین: جی، جناب وزیر قانون! میں معزز اراکین سے درخواست کروں گا کہ وہ متوجہ ہو جائیں۔ ایک سو سترہ اراکین موجود ہیں۔

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ کا قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر خطاب)

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ (وزیر برائے قانون و پارلیمانی امور): جناب چیئرمین! قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی تین ماہ سے جاری آزمائش اور برصغیر کے مسلمانوں کی ٩٠ سالہ تاریخ کا دور ابتلاء ختم ہونے کو ہے۔

جب ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے کچھ ہی عرصہ بعد یہ مسئلہ شروع ہوا اس وقت کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس عظیم ادارے پر ایک ایسے نہایت پیچیدہ اور گنجلک مسئلے کے حل کی ذمہ داری ڈال دی جائے گی۔ جس کا تعلق برصغیر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے ہے۔ آج جمہوریت، جمہوری اداروں اور جمہوری اقدار و روایات کی فتح کا دن ہے۔ اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ تاریخ کے ایک المناک باب کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ برصغیر میں یہ مسئلہ پہلے بھی کئی موقعوں پر انتقامی جذبات کی پوری شدت کے ساتھ ابھرا ہے۔ بہت سے تصادم اور مناظرے ہو چکے ہیں۔ بہت سے لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ کئی ہنگامے اور بلوے ہو چکے ہیں اور ایک مرتبہ تو اسی مسئلے سے پیدا شدہ امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا دیا گیا اور مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔

جناب والا! یہ موقع نہیں ہے کہ کوئی طویل تقریر کی جائے۔ ہم یہاں دن رات بیٹھتے

٢٠

صفحہ ٢٩٤٧

قاری غلام حسین بھاٹیہ سرگزشت سرگزشت

2947 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

رہے اور یہ میری کوتاہی ہوگی اگر میں اس معزز ایوان کے اراکین کو خراج تحسین پیش نہ کروں۔ جنوبی مشرق ایشیاء کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں کبھی پارلیمنٹ یا قومی اسمبلی جیسا کوئی جمہوری ادارہ اس طرح کے تجربے سے نہیں گزرا۔ بنگلہ دیش کی نوزائیدہ ریاست میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے۔ سری لنکا میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ انڈیا میں بھی پارلیمانی جمہوریت ہے۔ جناب والا! یہ جنوبی ایشیاء کے وہ ممالک ہیں جہاں پارلیمانی جمہوریت کسی نہ کسی صورت میں قائم ہے۔ حتیٰ کہ بنگلہ دیش میں بھی جو کبھی ہمارا حصہ تھا۔ لیکن آپ ان ممالک کی پارلیمانی تاریخ میں اسی طرح کی کوئی نظیر نہیں پائیں گے۔ بہت کٹھن حالات اور بہت اشتعال انگیز اور جارحانہ صورتحال میں میرے رفقائے کار اور اس معزز ایوان کے اراکین، آپ لوگ بہت تحمل اور غیر جانبداری سے بیٹھے تا کہ ایک قومی فیصلے تک پہنچا جاسکے۔ یہ مسئلہ آپ کو تفویض کیا گیا تا کہ آپ ایک فیصلہ کر سکیں۔ ایسا فیصلہ جو کسی فرد کا نہیں بلکہ پاکستانی قوم کا فیصلہ ہو جن کے نمائندے آپ ہیں اور جنہوں نے آپ کو اختیارات سونپے ہیں اور اسی وجہ سے آپ کا ادارہ ”قومی اسمبلی“ یا ”قومی اسمبلی پاکستان کی خصوصی کمیٹی“ کہلاتا ہے۔

(جذباتی ردعمل کی وجہ اب سمجھ آئی)

ہم گزشتہ تین ماہ سے اس موضوع پر بات کر رہے ہیں۔ مجھے اس نقطہ نظر سے اپنے عدم علم کا اعتراف کرنا ہے کہ میں اس مسئلے کو اتنا گہرائی سے نہیں جانتا جتنا کچھ دوسرے ارکان جانتے ہیں۔ پوری تفصیل سے اس مسئلے کو سننے کے بعد اب ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ ایک مسلمان اس مسئلے سے متعلق اتنا گہرا اور جذباتی ردعمل کیوں ظاہر کرتا ہے۔ ہماری ان نشستوں، مباحث اور غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ ختم نبوت جیسا کہ جمہور مسلمانوں کا بھی عقیدہ ہے۔ تمام مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی جز ہے اور خواہ کچھ بھی ہو جائے مسلمان کسی بھی حوالے سے ختم نبوت کے اس بنیادی عقیدے کے معاملے میں لچک کے روادار نہیں ہو سکتے۔ جناب والا! اس لئے میں نے کہا کہ یہ حکومت یا حزب مخالف کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ ہمیں اسے ایک قومی مسئلے کے طور پر لینا چاہیے۔ قوم اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ اتنے سنگین مسئلے پر تقسیم ہو جائے اور اس لئے قائد حکومت جناب وزیراعظم پاکستان کے ذریعے حکومت اور اس ایوان میں براجمان تمام رفقاء کی یہی کوشش رہی کہ اتفاق رائے تک پہنچا جائے۔ اتنے اہم مسئلے پر قوم تقسیم نہ ہو اور قومی اسمبلی کا ایک متفقہ فیصلہ سامنے آئے۔

یہ میرے لئے ایک اعزاز ہے کہ میں اکثریتی پارٹی اور اپنے دوستوں جنہوں نے مجھے

٢١

TAN 7th Sept, 1974 No:21

جاری کئے گئے ہیں، کیونکہ ہم اُس اجلاس کو ختم کریں گے۔ لہٰذا جن خیال ہے کہ اب ہم تقریباً پندرہ م بیس منٹ پر دوبارہ ملیں گے۔

چائے کا وقفہ، خصوصی

خصوصی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا۔

جناب چیئرمین: گا کہ وہ متوجہ ہو جائیں۔ ایک سوس (جناب عبدالحفیظ پیرز جناب عبدالحفیظ پیر چیئرمین ! قومی اسمبلی کی خصوصی ٩٠ سالہ تاریخ کا دور ابتلاء ختم ہو۔ جب ٢٩ مئی ١٩٧٤ء نہیں کر سکتا تھا کہ اس عظیم ادار ۔ ڈال دی جائے گی۔ جس کا تعلق جذبات سے ہے۔ آج جمہوریت ہے۔ اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ مسئلہ پہلے بھی کئی موقعوں پر اٹھایا اور مناظرے ہوچکے ہیں۔ بہت ہیں اور ایک مرتبہ تو اس مسئلے ۔ حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور مارشل جناب والا ! یہ موقع مجھ

صفحہ ٢٩٤٨

سرگزشت سرگزشت ی غلام حسین بھاٹیہ

2948 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

یہ ذمہ داری سونپی ہے، کی جانب سے اس معزز کمیٹی کے سامنے یہ قرارداد پیش کروں کہ ہم اتفاق رائے تک پہنچ چکے ہیں۔ جناب والا! مجوزہ قرارداد جو میں پیش کرنا چاہتا ہوں، ابھی چند ہی منٹوں میں اس معزز ایوان کے ارکان کے سامنے ہوگی۔

(متفقہ قرارداد چھ اراکین کی جانب سے)

یہ قرارداد میں اپنی طرف سے اور مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، جناب غلام فاروق، چوہدری ظہور الٰہی اور سردار مولا بخش سومرو کی جانب سے پیش کرتا ہوں۔ اس قرارداد میں ہماری تجاویز کا مسودہ موجود ہے۔ اب اس میں تجاویز موجود ہیں۔ اسے آئین میں ترمیمی بل کے ساتھ تقسیم کر دیا جائے۔

جناب چیئرمین: اسے بھی تقسیم کیا جارہا ہے۔

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: اسے علیحدہ طور پر تقسیم نہ کیا جائے۔ جناب! اب میرے پاس اصل نسخہ موجود ہے۔ میں اسے ریکارڈ کے مقصد کے لئے رکھنا چاہوں گا۔ جناب والا! ہم کمیٹی کے غور اور منظوری کے لئے سفارشات کی شکل میں ایک قرارداد پیش کر رہے ہیں۔ جس میں آئینی، قانونی، انتظامی اور ضابطہ جاتی امور شامل ہیں اور اس میں پاکستان کے تمام شہریوں، قطع نظر اس بات سے کہ ان کا تعلق کس گروہ سے ہے، ان کی زندگی، آزادی، جائیداد، عزت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی یاد دہانی موجود ہے۔ دستوری ترامیم کی میں وضاحت کروں گا اور ان کے ساتھ ساتھ قانونی اور ضابطہ جاتی ترامیم کی بھی جو ہم تجویز کر رہے ہیں۔ اس کارروائی سے قبل میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جیسے ہی یہ معزز ایوان ان تجاویز کو منظور کرتا ہے اور میں پر اعتماد ہوں کہ یہ منظوری اتفاق رائے سے ہوگی۔ جیسا کہ قرارداد پیش کرتے وقت ابھی ظاہر ہو جائے گا۔ ہم کمیٹی کی حیثیت کو قومی اسمبلی کی حیثیت سے بدل دیں گے اور میں کمیٹی کی سفارشات کو قومی اسمبلی کے سامنے پیش کروں گا۔ ان سفارشات کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہم دستور میں ترمیم کا بل لاسکیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آج کی نشست میں دستور میں ترمیم کا بل منظور کر لیں گے اور اسے سینٹ بھیج دیا جائے گا اور ہمیں توقع ہے کہ سینٹ بھی اسے آج ہی منظور کر لے گا اور اس طرح آج یہ باب بند ہو جائے گا۔

اب جناب میں اپنی اور اپنے دوستوں کی جانب سے جن دستوری ترامیم کی سفارش کرتا ہوں، وہ دو ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ دستوری ترمیم کے ذریعے اس شخص کی تعریف متعین کر دی جائے۔ جو مسلمان نہیں ہے یہ تعریف آرٹیکل ٢٦٠ میں ایک شق کے اضافے کی صورت میں ہوگی۔ آئین

2949 NATI

ور ہم اس آرٹیکل میں شق نمبر ٣ یں گے۔ حتمی اور غیر مشروط ختم نبوت کو کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا نا کے مقاصد کے لحاظ سے وہ

آرٹیکل ١٠٦ کی شق نمبر ٣ میں گروہوں کی مخصوص نشستوں ظ گروہ کے بعد یا اس کے آخر پ کے افراد یا لاہوری گروپ

رے دستور کا آرٹیکل ٢٠ اپنے حق دیتا ہے اور ہر مذہبی گروہ کو ور اس پر عمل کرے۔ لیکن جیسا ئین کے آرٹیکل ٢٠ میں متعین کہ تعزیرات پاکستان میں اس اضافہ کیا جائے۔ تعزیرات تبلیغ کی ممانعت کرتی ہے جو کہ ہم دوسروں کو ان کے اپنے تے۔ لیکن اگر کوئی شخص مسلمان جیسا کہ آرٹیکل ٢٦٠ شق نمبر ٣ کرتے ہیں تو وہ اس دفعہ کے

نہ ضابطوں، قوانین اور قانونی رولز وغیرہ اور ہم غور کے لئے نی تبدیلیاں حکومت مناسب

صفحہ ٢٩٤٩

قاری غلام حسن بہاولپوری

تحریک ختم نبوت

2949 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

کے آرٹیکل ٢٦٠ کی دو شقیں ہیں۔ یہ آرٹیکل تعریف سے متعلق ہے اور ہم اس آرٹیکل میں شق نمبر ٣ کے اضافے کے ذریعے ”غیر مسلم“ کی حسب ذیل تعریف کا اضافہ کریں گے: ”(٣) ایسا شخص جو خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی حتمی اور غیر مشروط ختم نبوت کو نہیں مانتا، یا لفظ کے کسی بھی مفہوم اور وضاحت میں حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا ایسے دعویدار کو نبی یا مذہبی مصلح مانتا ہے، اس آئین یا قانون کے مقاصد کے لحاظ سے وہ مسلمان نہیں ہے۔“

جناب والا! ہماری تجویز کردہ دوسری ترمیم آئین کے آرٹیکل ١٠٦ کی شق نمبر ٣ میں ہے۔ اس کا تعلق صوبائی اسمبلیوں میں عمومی نشستوں کے علاوہ مختلف گروہوں کی مخصوص نشستوں سے ہے اور آرٹیکل ١٠٦ کی شق نمبر ٣ میں تجویز کردہ ترمیم یہ ہے کہ لفظ گروہ کے بعد یا اس کے آخر میں حسب ذیل الفاظ کا اضافہ کر دیا جائے: ”گروہ اور قادیانی گروپ کے افراد یا لاہوری گروپ جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔“ یہ دوسری ترمیم ہے۔

جناب والا! مجھے یہاں بالکل واضح کر دینا چاہئے کہ ہمارے دستور کا آرٹیکل ٢٠ اپنے مذہب کا اعلان کرنے، تبلیغ کرنے اور عمل کرنے کی آزادی کا بنیادی حق دیتا ہے اور ہر مذہبی گروہ کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کا اعلان کرے، تبلیغ کرے اور اس پر عمل کرے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا مسلمانوں کا ختم نبوت کا عقیدہ، جس کی تعریف آئین کے آرٹیکل ٢٦٠ میں متعین ہوگی۔ بنیادی نوعیت کا عقیدہ ہے۔ لہٰذا ہم تجویز پیش کرتے ہیں کہ تعزیرات پاکستان میں اس طرح ترمیم کی جائے کہ دفعہ ٢٩٥ (الف) میں ایک وضاحت کا اضافہ کیا جائے۔ تعزیرات پاکستان میں پہلے سے ایک شق موجود ہے جو مذہب کی اس انداز میں تبلیغ کی ممانعت کرتی ہے جو دوسروں کے مذہبی عقائد پر حملہ ہو۔ اس لئے تمام مسلمان....... کیونکہ ہم دوسروں کو ان کے اپنے مذہب کا اعلان کرنے، عمل کرنے اور تبلیغ کرنے سے نہیں روک سکتے۔ لیکن اگر کوئی شخص مسلمان ہے تو ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ تمام ایسے مسلمان، جو عقیدہ ختم نبوت، جیسا کہ آرٹیکل ٢٦٠ شق نمبر ٣ میں اس کی وضاحت کر دی گئی ہے، کے خلاف اعلان، عمل یا تبلیغ کرتے ہیں تو وہ اس دفعہ کے تحت واجب التعزیر ہوں گے۔

جناب والا! ان ترامیم کے نتیجے میں فطری طور پر متعلقہ ضابطوں، قوانین اور قانونی رواج میں تبدیلی کرنا ہوگی۔ مثلاً نیشنل رجسٹریشن ایکٹ اور الیکٹرول رولز وغیرہ اور ہم غور کے لئے تجویز کرتے ہیں کہ دستوری ترمیم کے نتیجے میں ہونے والی یہ قانونی تبدیلیاں حکومت مناسب

٢٣

LY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

یہ ذمہ داری سونپی ہے، کی جانب سے اس معزز رائے تک پہنچ چکے ہیں۔ جناب والا! مجوزہ قرا میں اس معزز ایوان کے ارکان کے سامنے ہوگی (متفقہ قرارداد چھاپ یہ قرارداد میں اپنی طرف سے اور پروفیسر غفور احمد، جناب غلام فاروق، چوہدری ظہ کرتا ہوں۔ اس قرارداد میں ہماری تجاویز کا مس اسے آئین میں ترمیمی بل کے ساتھ تقسیم کر دیا ج جناب چیئرمین: اسے بھی تقسیم ک جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: اس پاس اصل نسخہ موجود ہے۔ میں اسے ریکارڈ کے کے غور اور منظوری کے لئے سفارشات کی شک آئینی، قانونی، انتظامی اور ضابطہ جاتی امور شا نظر اس بات سے کہ ان کا تعلق کس گروہ سے بنیادی حقوق کے تحفظ کی یاد دہانی موجود ہے۔ ہ ساتھ ساتھ قانونی اور ضابطہ جاتی ترامیم کی بھی یہ کہنا چاہوں گا کہ جیسے ہی یہ معزز ایوان ان تجاو اتفاق رائے سے ہوگی۔ جیسا کہ قرارداد پیش کر کو فوراً قومی اسمبلی کی حیثیت سے بدل دیں گے پیش کروں گا۔ ان سفارشات کی قومی اسمبلی گے۔ ہمیں امید ہے کہ آج کی نشست میں دس بھیج دیا جائے گا اور ہمیں توقع ہے کہ سینٹ بھ باب بند ہو جائے گا۔

اب جناب میں اپنی اور اپنے دوست ہوں، وہ دو ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ دستوری تریم جو مسلمان نہیں ہے یہ تعریف آرٹیکل ٢٦٠ میں

صفحہ ٢٩٥٠

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

وقت پر کرتی رہے۔ کیونکہ ایسے قوانین بھی ہو سکتے ہیں۔ جن میں لوگوں کی طرف سے اندراج کی تبدیلی ہونا ہو اور آخر میں جناب میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ آئین ہمارے اتفاق رائے سے بنا ہے۔ اس آئین میں ہم نے شہریوں کو نہ صرف بنیادی حقوق دیئے ہیں بلکہ ہم نے ان حقوق کی گارنٹی دی ہے اور یہ قوم اور ریاست دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی شخص کی ذات، مذہب اور عقیدے سے قطع نظر اس کی جائیداد، آزادی، زندگی اور آبرو اور دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ لامحالہ اس تنازعے کا اختتام ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی بھیا نک خواب بھی ختم ہو رہا ہے۔ اس لئے ہم سب شہریوں کو حاصل شدہ ان حقوق کے مکمل تحفظ کی تلقین بھی کریں اور ہمارا عمل بھی ان حقوق کی کامل پاسداری کرے گا۔ یہ تھی ہماری کل تجویز۔

آپ کا بہت شکریہ!

جناب چیئر مین: کیا مکمل ایوان کی یہ کمیٹی قرارداد اور سفارشات کو منظور کرتی ہے؟ تمام ارکان : جی ہاں!

(قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے قرارداد)

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ : جناب ! اب میں باضابطہ طور پر قرارداد پیش کروں گا۔ جناب عالی! میں قرارداد پیش کرنے کے لئے درخواست گزار ہوں: ”کہ مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی حسب ذیل قرارداد منظور کرتی ہے اور اتفاق رائے سے قبول کرتی ہے۔

قومی اسمبلی کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی اتفاق رائے سے منظور کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات کو غور وفکر اور منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں بھیج دیا جائے۔

مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی ، سٹیئرنگ کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی اعانت کے ساتھ، پیش کردہ یا قومی اسمبلی کی طرف سے سپرد کردہ قراردادوں پر غور وخوض اور دستاویزات کے مطالعے اور گواہان، جن میں انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام، لاہور شامل ہیں، کو سننے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کے سامنے حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے:

”احمدی“ کہتے ہیں) کے اشخاص کا حوالہ شامل کیا جائے۔

٢٤

صفحہ ٢٩٥١

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

ان سفارشات کو رو بہ عمل میں لانے کے لئے، خصوصی کمیٹی کا متفقہ طور پر منظور شدہ ایک ڈرافٹ بل لف کر دیا گیا ہے۔

جائے: ”وضاحت: ایک مسلمان جو عقیدۂ ختم نبوت جیسا کہ اس کی وضاحت آئین کے آرٹیکل ٢٦٠ کی شق (٣) میں کر دی گئی ہے، کے منافی کوئی اعلان کرتا ہے یا عمل کرتا ہے یا تبلیغ کرتا ہے، اس دفعہ کے تحت قابل تعزیر ہو گا۔“

قوانین جیسے نیشنل رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور الیکٹورل رولز ١٩٧٤ء میں کی جاسکتی ہیں۔

بھر پور حفاظت بلا لحاظ اس کے کہ وہ کسی خاص گروہ بندی سے تعلق رکھتے ہیں، کی جائے گی۔

دستخط شد: عبدالحفیظ پیرزادہ، مولوی مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، جناب غلام فاروق، چوہدری ظہور الٰہی، سردار مولا بخش سومرو۔“

تحریک اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔

(کارروائی کا خفیہ رکھنا)

جناب چیئرمین: اس سے پہلے کہ میں خصوصی کمیٹی کو ملتوی کروں اور اسے قومی اسمبلی میں تبدیل کروں، میں معزز اراکین کو یہ یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ ان کے پاس ایوان کی اس کمیٹی کی کارروائی اور دستاویزات موجود ہیں۔ یہ تمام کاغذات بصیغہ راز اور خفیہ ہیں اور انہیں شائع نہیں کیا جائے گا، نہ ہی لیک آؤٹ کیا جائے گا اور نہ ہی کسی شخص کو ان کے متعلق بتایا جائے گا، جب تک اسمبلی اس ریکارڈ میں سے جتنا وہ مناسب سمجھے، شائع کرنے کی اجازت نہ دے دے۔

٢٥

PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

وقت پر کرتی رہے۔ کیونکہ ایسے قوانین بھی تبدیلی ہونا ہو اور آخر میں جناب میں یہ ہے۔ اس آئین میں ہم نے شہریوں کو گارنٹی دی ہے اور یہ قوم اور ریاست دونو عقیدے سے قطع نظر اس کی جائیداد، آ حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ لامحالہ اس خواب بھی ختم ہو رہا ہے۔ اس لئے ہم س بھی کریں اور ہمارا عمل بھی ان حقوق کی کا آپ کا بہت شکریہ!

جناب چیئرمین: کیا مکمل تمام ارکان: جی ہاں!

(قادیانی گروہ اور لاہوری گر

(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ

جناب عالی! میں قرارداد پیش خصوصی کمیٹی حسب ذیل قرارداد منظور کرت قومی اسمبلی کے مکمل ایوان ک ذیل سفارشات کو غور و فکر اور منظوری کے مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی یا قومی اسمبلی کی طرف سے سپرد کردہ ق گواہان، جن میں انجمن احمدیہ ربوہ اور ا بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کے سامنے حس

”احمدی“ کہتے ہیں) کے اشخاص کا حوالہ

صفحہ ٢٩٥٢

NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 7th Sept, 1974 No:21

آخر میں، میں تمام معزز اراکین کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، قطع نظر اس کے کہ وہ کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر مبشر حسن (منسٹر فار فائیننس، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ): جناب والا! جب تک اسمبلی خود فیصلہ نہ کرے خفیہ اجلاس کی کارروائی کیوں شائع کی جائے؟

(جناب چیئرمین: جی ہاں! میں ایک نظیر پیش کرتا ہوں۔ یہ کارروائی بالکل دستور ساز کمیٹی کی کارروائی کی طرح ہے، جسے شائع نہیں کیا گیا ہے اور جسے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم اس کمیٹی کو بلا تعین تاریخ ملتوی کریں اور یہ اپنا کردار ادا کرنے کے بعد از خود تحلیل ہو جائے، میں تمام معزز اراکین قطع نظر اس کے کہ ان کا تعلق کس سے ہے، کا شکریہ ریکارڈ پر لانا چاہوں گا۔

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب ہم سب اٹارنی جنرل کے شکرگزار ہیں اس محنت کے لئے جو اس سلسلے میں انہوں نے کی۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ ہم سب کی طرف سے ریکارڈ پر آ جائے۔

جناب چیئرمین: میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ میں بھی اس سلسلے میں وہی جذبات رکھتا ہوں جن کا اظہار وزیر قانون نے کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان اراکین کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے جو خصوصی کمیٹی کے اجلاسات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے۔ میں خاص طور پر ان لوگوں کا شکریہ بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں جن کے چہرے میں نے آج ہی دیکھے ہیں، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم ساڑھے چار پر ملیں گے۔

جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: ایک بات اور، میں تمام معزز ممبران سے گزارش کروں گا کہ وہ ٹھیک ساڑھے چار یہاں پہنچ جائیں۔ کیونکہ ہم قومی اسمبلی کے طور پر مل رہے ہیں۔ اس کے بعد ایوان کی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور شدہ سفارشات کو اس اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ میں سیدھا آئین میں ترمیمی بل پیش کروں گا۔ لہٰذا اس بل کی منظوری کے لئے ہر ممبر کی ضرورت ہوگی۔

جناب چیئرمین: ہم ساڑھے چار بجے قومی اسمبلی کے طور پر ملیں گے۔ آپ کا بہت شکریہ!

------------------------- (مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس بلا تعین تاریخ ملتوی ہوتا ہے) -------------------------

٢٦