تحریک ختم نبوت
1986ء تا 1991ء
۵
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت
1986ء تا 1991ء
۵
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
(۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء)
(۵)
ترتیب و تحقیق:
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء) (جلد پنجم)
ترتیب و تحقیق : مولانا اللہ وسایا
صفحات : ۶۲۴
قیمت : ۳۰۰ روپے
اشاعت اوّل : جنوری ۲۰۲۰ء
مطبع : شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتدائے ۱۹۷۴ء جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
Ph: 061-4783486
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۸۶ء کے حالات و واقعات ۲۳
کراچی روٹری کلب اور قادیانی ۲۴ مارشل لاء کے خاتمہ پر قادیانی شرارتیں ۲۴ بھارت کے قادیانی سربراہ کا دورہ ناکام ۲۴ کلمہ طیبہ کا بیج لگانے پر قادیانی کو سزا ۲۴ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی عدالت سے قادیانیوں کے خلاف عدالتی فیصلے کا متن ۲۵ شیر گڑھ (ڈیرہ غازی خان) کا واقعہ ۲۶ محکمہ سوئی گیس فیصل آباد قادیانیوں کے نرغے میں ۲۷ کنری میں قادیانیوں کی سازش ۲۸ رحیم یار خان دفتر ختم نبوت ۲۹ کلمہ طیبہ کے بیج لگانے پر قادیانیوں پر مقدمہ ۳۰ چناب نگر (ربوہ) کے قادیانی کو سزا ۳۰ ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا کے عدالتی فیصلہ کا متن ۳۱ پاکستان میں عظیم تر پنجاب تحریک اور قادیانی ٹولہ ۳۲ وزیر مذہبی امور کی ہدایت، قادیانی اور کلمہ طیبہ ۳۳ دنیا پور میں قادیانی گردی ۳۳ نو مسلم خاتون کی وزیر اعظم پاکستان سے درد بھری فریاد ۳۴ وزیر اعظم کے نام مرکزی مجلس عمل کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی کا خط ۳۵ ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے نام کھلا خط ۳۶ بدو ملہی میں قادیانی اشتعال انگیزی ۳۶ ژوب تحریک ختم نبوت ایک نظر میں ۳۷ فورٹ سنڈیمن میں کام کی ابتداء ۳۷ ہمیشہ کے لئے ژوب سے مرزائیوں کو نکال دیا گیا ۳۸
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ژوب میں دوسرا معرکہ ۳۸ کوئٹہ کے قادیانیوں کی آئینی خلاف ورزی ۴۱ ننکانہ میں قادیانیوں کی آئین کی خلاف ورزی ۴۷ جناب متین خالد پر قاتلانہ حملہ ۴۸ ۱۹؍ قادیانیوں کی رات کے اندھیرے میں ضمانت پر رہائی ۴۸ مردان میں قادیانی اشتعال انگیزی پر ردعمل ۴۹ مردان کے واقعہ پر روزنامہ جہاد پشاور کا اداریہ ...... قادیانیوں کا تازہ مسئلہ ۵۲ کلمہ طیبہ کی توہین کرنے پر مردان کے غیر مسلم قادیانیوں کو سزا ۵۳ حضرت امیر مرکزیہ کا دورۂ مردان ۵۴ مردان کی عدالت سے قادیانیوں کو سزا کا فیصلہ ۵۴ آٹو موبائل کارپوریشن کراچی کا دیوالیہ پن ۵۷ ۱۹۸۶ء میں قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں کی رپورٹ ۵۹ قادیانیوں کے بہت بڑے مبلغ کا قبول اسلام ۵۹ شاہ کوٹ میں تین قادیانی گھرانوں کا قبول اسلام ۵۹ ننکانہ صاحب میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۵۹ کنری محمود آباد کی دو لڑکیوں کا قبول اسلام ۵۹ واہ کینٹ میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۶۰ مردان میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۶۰ بنی سروڈ سندھ میں قادیانی کا قبول اسلام ۶۰ گوجرانوالہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۶۰ چناب نگر (ربوہ) کے قادیانی کا قبول اسلام ۶۰ ۱۹۸۶ء میں منعقدہ کانفرنس ہائے ختم نبوت اور تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ۶۰ ختم نبوت کنونشن لور پکھل مانسہرہ ۶۰ مولانا نذیر احمد تونسوی ۶۱ مولانا قاضی اللہ یار، تھر پارکر کا دورہ ۶۱ سیالکوٹ میں احتجاجی کانفرنس ۶۱ ٹنڈو غلام علی ضلع بدین میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۶۳
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالانہ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۶۳ مورو میں ختم نبوت کانفرنس ۶۷ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور جامع مسجد الصادق ۶۷ تحفظ ختم نبوت کانفرنس علی پور ۶۸ ختم نبوت کانفرنس مانسہرہ ۶۸ لوئر پکھل میں جلسہ ہائے سیرت مصطفےٰ ﷺ ۶۸ ختم نبوت کانفرنس پھگلہ ۶۸ اسٹیل ٹاؤن میں عظیم الشان جلسہ ختم نبوت ۶۹ اسٹیل ٹاؤن کراچی میں تین قادیانی گرفتار ۷۱ رئیس المبلغین کی کراچی میں تشریف آوری ۷۲ کوئٹہ میں عظیم الشان مظاہرہ ۷۲ ختم نبوت کانفرنس نواں جنڈانوالہ ۷۲ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۷۲ دوسری ختم نبوت کانفرنس باٹلے برطانیہ ۷۳ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس لندن ۷۳ دوسری بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس لندن میں حضرت مولانا سید ارشد مدنی کا خطاب ۷۶ فاتح ربوہ مولانا اللہ وسایا کی لندن میں باطل شکن تقریر ۷۷ ٹورنٹو (کینیڈا) میں ختم نبوت کانفرنس ۸۰ ایڈمنٹن کینیڈا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۸۰ ڈنمارک میں عظیم الشان پہلی تاریخی ختم نبوت کانفرنس ۸۱ مکتوب برطانیہ ختم نبوت کانفرنس اور وفد کے شب و روز ۸۲ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کا ایڈیٹر لولاک کے نام خط ۸۵ دورہ سے واپسی پر مولانا اللہ وسایا کے تاثرات ۸۸ ختم نبوت کانفرنس اوچ شریف ۸۹ ننکانہ صاحب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۹۰ پانچویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۹۱ پانچویں سالانہ دو روزہ ختم نبوت کانفرنس (ربوہ) چناب نگر کی جھلکیاں ۹۶
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تربت مکران میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۹۸
رپورٹ عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند انڈیا منعقدہ ۲۹، ۳۰، ۳۱/اکتوبر ۱۹۸۶ء ۹۹
کھرڑیانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس ۱۰۳
چوتھا کل پاکستان گولڈ میڈل انعامی تحریری مقابلہ اور سالانہ ختم نبوت کانفرنس ننکانہ ۱۰۵
ختم نبوت کانفرنس قصور و ڈیرہ مراد جمالی ۱۰۷
مولانا اللہ وسایا حفظہ اللہ کا سہ روزہ دورہ ڈیرہ غازی خان ۱۰۸
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۸۷ء کے حالات و واقعات ۱۰۹
پاکستان کی مسلح افواج میں ۳۲۸ قادیانی افسر ہیں، صاحبزادہ یعقوب ۱۱۰
پاکستان اسٹیل مل میں ہنگامے کا خطرہ ۱۱۰
عبدالغفار کے بیٹے کو قادیانیوں نے اغواء کرلیا ۱۱۰
قادیانی ایکسین کا نولاکھ روپے کا گھپلا ڈپٹی کمشنر ٹوبہ کے نام مولانا محمد عبداللہ کی درخواست ۱۱۱
کیپ ٹاؤن کا قادیانی اور مسجد کے نمازی ۱۱۲
قادیانیوں کے عالمی اجتماع لندن میں تین مسلمان صحافی کیسے داخل ہوئے ۱۱۲
فورٹ عباس میں مسلمانوں کی کامیابی ۱۱۵
علی پور میں قادیانی مردہ کا مسئلہ ۱۱۵
مانسہرہ کے علماء کا اعلان کہ قادیانی مسلمانوں کا جنازہ نہیں پڑھ سکتے ۱۱۵
ظالم کون؟ ۱۱۶
قادیانی ایمپائر مقرر کرنے پر احتجاج ۱۱۷
قادیانی جماعت کے امیر کی گرفتاری ۱۱۷
عالمی مجلس کا وفد جنوبی افریقہ کے دورے پر روانہ ہوگیا ۱۱۸
کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اہم مطالبات ۱۱۸
پاکستان نیوی پر قادیانی تسلط ۱۲۰
بہاول نگر میں کلمہ طیبہ بچاؤ مہم ۱۲۰
بم دھماکہ علامہ احسان الہی ظہیر کی شہادت ۱۲۱
مسلمانان مقبوضہ کشمیر نے قادیانی مردہ مسلم قبرستان میں دبانے سے انکار کردیا ۱۲۱
کوٹری میں دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا سنگ بنیاد ۱۲۱
قادیانیوں کی شاخ دیندار انجمن کے لیڈر کی لاش مسلم قبرستان سے نکالی جائے ۱۲۲
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انجمن دیندار کے عقائد ۱۲۳
محکمہ ٹیلیفون اور قادیانی ۱۲۴
اٹک میں ایک چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھ دیا گیا ۱۲۴
سعودی حکومت نے شیزان کے بارے میں وضاحت طلب کر لی ۱۲۵
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش سلہٹ کا قیام ۱۲۵
لاہور ہائیکورٹ کا قادیانیوں کے خلاف فیصلہ ۱۲۶
لاہور ہائیکورٹ لاہور ۱۲۷
قادیانیوں کے متعلق مس بے نظیر کا تازہ موقف ۱۲۹
بنن میں عیسائی حکومت کا قادیانیوں کے خلاف اقدام ۱۳۱
حضرت امیر مرکزیہ کا پیغام اہل اسلام کے نام ۱۳۲
واقعہ شادن لنڈ ۱۳۲
اسلامیات کا مضمون اور قادیانی اساتذہ ۱۳۴
بنگلہ دیش کے ضلع سنام گنج سے ایک رپورٹ ۱۳۴
لائبیریا میں قادیانی گروہ کی سرکوبی جاری ہے ۱۳۵
دو مسلمان نوجوانوں کو قادیانی مبشر احمد طاہر نے چھریوں کے وار کر کے شہید کر دیا، سیالکوٹ میں مکمل ہڑتال ۱۳۵
مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی سیالکوٹ آمد ۱۳۷
مولانا عزیز الرحمن کا پریس نوٹ ۱۳۷
سیالکوٹ کا المناک واقعہ ۱۳۷
وکلاء کے اعزاز میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے عصرانہ سے مولانا انوار الحق اور دیگر مقررین کا خطاب ۱۳۸
عدالت نے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے والے قادیانیوں کی سزاؤں کے خلاف اپیل مسترد کر دی اور سزا پر عملدرآمد کا حکم ۱۳۹
اذان دینے پر قادیانی کو ۳ سال قید ۱۴۰
ٹنڈو غلام علی میں قادیانی کی شراب فروشی ۱۴۰
صدر پاکستان، سفیر پاکستان اور وزارت خارجہ کے نام جناب عبدالرحمن یعقوب باوا کا مکتوب ۱۴۰
برطانیہ کی لیبر پارٹی کے ایم. پی نے قادیانی جلسے کی صدارت سے انکار کر دیا ۱۴۱
ہائیکورٹ کوئٹہ کا فیصلہ ۱۴۲
ہائیکورٹ آف بلوچستان، کوئٹہ کا متن ۱۴۵
فیصلہ ۱۴۶
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۸۷ء میں قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں کی رپورٹ ۱۶۱ لاہور کی ایک قادیانی لڑکی راشدہ خانم نے اسلام قبول کر لیا ۱۶۱ قادیانیوں کے قبول اسلام پر مبارک باد ۱۶۱ محمود آباد نزد کنری سندھ کی دو قادیانی لڑکیوں کا قبول اسلام ۱۶۱ شاہ کوٹ میں تین قادیانی گھرانوں نے اسلام قبول کر لیا ۱۶۱ ننکانہ میں ایک قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۱۶۱ سورینام میں ایک ہزار سے زائد لاہوری قادیانی اسلام قبول کر چکے ہیں ۱۶۲ بھابڑہ ضلع سرگودھا کے قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۱۶۲ ننکانہ میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۱۶۲ فیصل آباد کے ایک گاؤں میں چالیس افراد کی قادیانیت سے توبہ ۱۶۲ قادیانیوں کا قبرستان کے نام پر ناجائز قبضہ ...... ۴۰ قادیانی مسلمان ہو گئے ۱۶۳ فقیروالی ...... تین قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۶۴ بنگلہ دیش میں چھ قادیانی مراکز، مزید ۷۷ قادیانی مسلمان ہو گئے ۱۶۵ اسٹیل ٹاؤن میں ایک اور قادیانی کا قبول اسلام ۱۶۵ فیصل آباد میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۱۶۶ منڈی یزمان میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۱۶۶ سینیٹر مولانا سمیع الحق کے ہاتھ پر ایک قادیانی کا قبول اسلام ۱۶۶ کوٹری میں عالمی مجلس کے راہنما کے ہاتھ پر آٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۶۶ سنجر چانگ میں ۹ افراد نے اسلام قبول کر لیا ۱۶۷ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کا مینارہ الٹ گیا، مزید قادیانی قلعے فتح کر لئے ۱۶۷ کنری میں ایک اہم قادیانی کمانڈو کی قادیانیت سے توبہ ۱۶۸ بھارت میں عالمی مجلس کے مبلغ مولانا محمد عمر فتح پوری کی کامیابی ، تین خاندانوں کی قادیانیت سے توبہ ۱۷۰ ۱۹۸۷ء میں ختم نبوت کانفرنسوں و سرگرمیوں کی رپورٹ ۱۷۰ قصبہ روہڑتھل میں یک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۷۰ ختم نبوت کانفرنس لالہ رخ واہ کینٹ ۱۷۱ خانپور میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس ۱۷۱ شاہ کوٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۷۲
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سنام گنج بنگلہ دیش میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۷۳
لوئر پکھل میں اجلاس ۱۷۳
بہاول نگر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۷۳
لاہور میں مرکزی ختم نبوت کنونشن ۱۷۴
مرکزی مجلس عمل کے لاہور کنونشن میں عالمی مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ کا بیان ۱۷۵
تونسہ میں ایک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۷۶
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سندھ کے زیر اہتمام ۸ روزہ ختم نبوت کانفرنسیں ۱۷۷
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام صوبہ سندھ میں ختم نبوت کانفرنسیں ۱۷۷
رحیم یار خان میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس اور دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا افتتاح ۱۷۹
ختم نبوت کنونشن سرگودھا ۱۸۰
بلیدہ تربت میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۸۰
مدرسہ دارالعلوم حنفیہ مانسہرہ کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۸۰
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مانسہرہ ۱۸۱
حضرت اقدس کی صدارت میں خصوصی اجلاس ۱۸۱
جامع مسجد ختم نبوت پھگلہ میں خطاب ۱۸۱
دھنوٹ میں ختم نبوت کانفرنس ۱۸۱
ختم نبوت کانفرنس سبی ۱۸۱
ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ مراد جمالی ۱۸۲
کوٹ سادھورام میں جلسہ ختم نبوت ۱۸۲
ننکانہ صاحب کی مرکزی جامع مسجد مدینہ میں جلسہ ختم نبوت ۱۸۲
کوئٹہ میں دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۸۳
مردان میں ختم نبوت کانفرنس ۱۸۴
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جابہ ۱۸۵
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۱۸۵
لندن میں عالمی مجلس ختم نبوت کانفرنس ...... دس ہزار مندوبین شریک ہوئے ۱۸۵
تیسری ختم نبوت کانفرنس لندن کی جھلکیاں ۱۸۶
چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۱۸۶
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۱۸۸ فیصل آباد کے نواحی گاؤں صریح ۹۶ میں شاندار ختم نبوت کانفرنس ۱۹۳ بہاول نگر میں عظیم الشان خاتم الانبیاء کانفرنس ۱۹۳ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کا دورہ سندھ ۱۹۴ ختم نبوت کانفرنس اباڑو ۱۹۴ درگاہ ہالیجی شریف میں حاضری ۱۹۴ ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل ۱۹۵ امروٹ شریف جنازہ میں شرکت ۱۹۵ ختم نبوت کانفرنس شکار پور ۱۹۶ پیر طریقت مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف سے ملاقات ۱۹۶ ختم نبوت کانفرنس ٹھل ۱۹۷ نواب شاہ میں ختم نبوت کانفرنس ۱۹۷ کنڈیارو میں ختم نبوت کانفرنس ۱۹۷ ٹنڈو آدم میں ختم نبوت کانفرنس ۱۹۸ اسلام آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۹۸ خاتم الانبیاء کانفرنس ہارون آباد ۲۰۰ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۸۸ء کے حالات و واقعات ۲۰۱ فیصل آباد میں قادیانی مردہ کی تدفین کا مسئلہ ۲۰۲ قادیانیوں نے اپنا مردہ خود ہی نکلوا دیا ۲۰۲ پاکستان کی آبادی ۲۰۲ سپریم کورٹ کی وفاقی شرعی عدالت کے اپیل بنچ میں قادیانیوں کی اپیل خارج کر دی گئی ۲۰۳ فیصلہ ...... محمد افضل ظلہ، چیف جسٹس ۲۰۵ ٹیلیفون کی ایک کال نے اس کی جان بچالی (ایک مظلوم کی داستان عبرت) ۲۱۳ کعبۃ المکرمہ پر قبضہ کر لینے کا قادیانی منصوبہ ۲۱۵ قادیانی تخریب کاری ملکی اخبارات کے آئینے میں ۲۱۷ ملک بھر میں تخریب کاروں کی تلاش جاری ہے ۲۱۹ اسلام آباد میں مزید تخریب کار گرفتار ۲۱۹
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۵۱ء میں قادیانیوں کی ملک کے خلاف سازش ۲۲۰ تخریب کاری کی تربیت دینے والا قادیانی ۲۲۱ کراچی میں ایک مفرور سزا یافتہ قادیانی جعلساز کی گرفتاری ۲۲۱ الگ قادیانی مرگھٹ کے لئے حکومت کی ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت ۲۲۲ قادیانی عبادت گاہ مری روڈ سے کلمہ طیبہ محفوظ کر دیا گیا ۲۲۳ دو سگے بھائیوں کے قاتل مبشر طاہر قادیانی کو سزائے موت سنادی گئی ۲۲۳ قادیانیوں کو نوازنے کے لئے سرکاری قوانین معطل ۲۲۴ امریکی نائب قونصلر کا پراسرار دورۂ ربوہ ۲۲۹ شادی کارڈ پر بسم اللہ لکھنے پر ایک قادیانی کو چھ ماہ قید ۲۳۰ پاکپتن میں مہدی ہونے کا دعویدار ۲۳۱ ضلع ڈیرہ غازی خان کے ایک سو قادیانیوں کی بیرون ملک جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ۲۳۲ مرزا طاہر کا مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج اور قادیانیوں کی ریکارڈ رسوائی ۲۳۳ مرزا غلام احمد قادیانی کا مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ ۲۳۳ خدائی عدالت کا فیصلہ ۲۳۴ مباہلہ کا چیلنج نہیں، صدر ضیاء کے لئے خطرے کی گھنٹی ۲۳۵ قادیانیوں کو ان کے مجوزہ مباہلہ کا جواب دینے کے لئے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حتمی پروگرام کا اعلان ۲۳۶ مباہلہ کا جواب ۲۳۷ پشاور میں مباہلہ کا اجتماع ۲۳۷ اسلام آباد میں مباہلہ کا اجتماع ۲۳۸ قادیانی سازش ۲۳۹ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ۲۳۹ مرزا طاہر احمد نے شکست تسلیم کر لی ہے، قادیانی توبہ کرلیں ۲۴۰ مرزا طاہر کی دعوت مباہلہ کا جواب ۲۴۱ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط ۲۴۹ بمبئی سے قادیانی فتنے کے سربراہ مرزا طاہر کے نام خط ۲۵۳ مباہلہ کا چیلنج منظور ہے۔۔۔۔۔۔ مرزا طاہر کے نام کھلا خط ۲۵۶ سی۔ آئی۔ اے اسٹاف اور قادیانی ڈی۔ ایس۔ پی کو تبدیل کیا جائے ۲۶۸
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی پولیس افسران کی فیصل آباد میں اندھیر نگری ...... حکومت حالات کا سنجیدگی سے نوٹس لے ۲۶۹ اسلم قریشی کا اغواء اور برآمدگی ۲۷۰ غیر قانونی طور پر لٹریچر تقسیم کرنے پر ایک قادیانی گرفتار ۲۷۶ قادیانیوں کو مسلمان ظاہر کر کے بیرون ملک بھجوانے کا ملزم گرفتار ۲۷۶ دو رکنی وفد ختم نبوت کا دورہ امریکہ ۲۷۷ نارتھ امریکہ کی ڈائری ۲۷۹ ربوہ میں مسلمانوں کے جلوس سے خنجر بردار مرزائی کی گرفتاری ۲۸۵ مرزا طاہر کے منہ پر جنرل حمزہ کا زناٹے دار تھپڑ ۲۸۶ صدر مملکت کو حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ کا تار ۲۸۸ دوڑ سندھ میں قادیانی مبلغ کے بیٹے نے مسلمان کو قتل کر دیا ۲۸۸ ۱۹۸۸ء میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۸۸ لاہور میں ایک خاتون کا قبول اسلام ۲۸۸ مردان میں مشہور قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۲۸۹ بنگلہ دیش میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۲۸۹ چک نمبر ۲۰ ملوال میں تیس افراد کا قادیانیت سے تائب ہو کر قبول اسلام ۲۸۹ باغ و بہار تحصیل خان پور میں ایک خاندان کا قبول اسلام ۲۹۰ آٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۹۰ باغ و بہار میں ایک طالب علم مسلمان ہو گیا ۲۹۱ سورینام میں ایک ڈاکٹر مع اپنے ایک سو ایک ساتھیوں کے مسلمان ہو گیا ۲۹۱ ہسپانوی کا قبول اسلام ۲۹۲ چالیس افراد کا قبول اسلام ۲۹۲ اٹک میں چار قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا ۲۹۲ ضلع بدین میں سات قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۹۳ روڈہ خوشاب میں دو قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۹۳ ٹاہلی، تھر پارکر میں قبول اسلام ۲۹۳ ۱۹۸۸ء میں ختم نبوت کانفرنسوں اور دیگر سرگرمیوں کی رپورٹ ۲۹۳ مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں پندرہ روزہ دورہ ”رد قادیانیت“ کورس ۲۹۳
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مانسہرہ میں ردقادیانیت کورس کی تقریب ۲۹۴ نتیجہ امتحان پندرہ روزہ کورس ”ردقادیانیت“ منعقدہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۸۷ء تا ۹؍ جنوری ۱۹۸۸ء مانسہرہ ہزارہ ۲۹۵ ہارون آباد میں سیرۃ خاتم الانبیاء کانفرنس ۲۹۸ کہروڑ پکا میں ختم نبوت کانفرنس ۲۹۸ ہری پور میں یک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۹۹ ختم نبوت کانفرنس نیو مراد پور ۲۹۹ چک ۹۱ جنوبی سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۹۹ ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ کی قراردادیں اور مطالبات ۳۰۰ کھرڑیانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس ۳۰۰ کہروڑ پکا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۰۲ ڈیرہ مراد جمالی میں ختم نبوت کانفرنس ۳۰۲ ڈیرہ اسماعیل خان میں ختم نبوت کانفرنس ۳۰۵ ٹنڈوغلام علی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۰۵ مرزائیوں کو دعوت اسلام، ختم نبوت کانفرنس مروٹ ۳۰۶ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کا چار روزہ دورہ صوبہ سرحد ۳۰۶ ختم نبوت کانفرنس ہری پور ہزارہ ۳۰۷ ختم نبوت کانفرنس لودھراں ۳۰۸ بہاول پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۰۸ تاجدار ختم نبوت کانفرنس سید والا ۳۰۸ چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس اٹک ۳۰۹ ختم نبوت کانفرنس ہری پور ہزارہ ۳۰۹ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس دوڑ ۳۱۰ چوتھی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن کی تفصیلات ۳۱۰ ختم نبوت کانفرنس لندن کی جھلکیاں ۳۱۳ گجرات میں ختم نبوت کانفرنس ۳۱۵ علامہ طاہر القادری اور ختم نبوت کانفرنس مینار پاکستان لاہور ۳۱۶ ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر، منعقدہ ۱۳، ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء ۳۱۶
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمومی کا پہلا اجلاس چناب نگر میں ۳۱۶
نارتھ امریکہ کی ڈائری ۳۲۳
سلانوالی میں ختم نبوت کانفرنس ۳۲۶
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں عالمی مجلس کے رہنماؤں کا دورہ ۳۲۶
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت واہ کینٹ کا اجلاس ۳۲۸
چناب نگر (ربوہ) میں سیرت کانفرنس ۳۲۹
جھنگ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۲۹
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۸۹ء کے حالات و واقعات ۳۳۱
حافظ آباد میں ایک مرزائی کو منافقت اور دھوکہ دینے کے لئے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے پر ایک سال قید با مشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا ۳۳۲
اسلام آباد میں سات نوجوانوں کی ناموس رسالت کے لئے قربانی ۳۳۲
قادیانی جنرل پاکستان کا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنتے بنتے رہ گیا ۳۳۳
ماریشس کے مسلمانوں کی جرأت مندی اور مرزا طاہر کا مایوس کن فرار ۳۳۴
وفاقی اور صوبائی محکموں میں براجمان گریڈ ۱۸ سے اوپر کے قادیانی افسران کی ایک جھلک ۳۳۶
مرزا محمود کا ”الہامی فرمان“ قادیانی افسران کی فہرست ۳۳۸
مانسہرہ کے قادیانی کو ایک سال قید کی سزا ۳۴۰
قادیانی صد سالہ جشن ...... کفر ہار گیا اور مسلمان جیت گئے ۳۴۰
قادیانیوں کے سوسالہ جشن پر پابندی ۳۴۴
شاہ تاج شوگر ملز کے قادیانی جنرل منیجر پی۔آر۔او، اور کین منیجر گرفتار ۳۴۵
قادیانیوں کی تازہ اشتعال انگیزی ۳۴۶
جڑانوالہ کے نواحی گاؤں میں قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید کی بے حرمتی کے خلاف شدید احتجاج ۳۴۷
مولانا منظور احمد الحسینی کی واپسی ۳۴۸
جڑانوالہ میں جلوس ۳۴۸
حیدر آباد میں قادیانی نے مسجد میں آگ لگا دی، ۱۵؍ قرآن پاک شہید ۳۴۹
مرزا طاہر پاکستان آیا تو قادیانیوں کے خلاف تحریک چلائی جائے گی ۳۴۹
قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے چونڈہ کے قادیانی ملزمان کو گرفتار کیا جائے ۳۴۹
قادیانیوں کی تازہ جارحیت ۳۴۹
فیصل آباد کے نواحی گاؤں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں پر قادیانی غنڈوں کا حملہ ۳۵۱
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چک کانا گجرات میں قادیانیوں کی کھلی اور ننگی جارحیت.......مسلمان احمد خان کا قتل ۳۵۲ چک سکندر کے امیر محمد خان ۳۵۴ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا دورۂ فیصل آباد ۳۵۵ کیرالہ بھارت میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان آمنے سامنے مباہلہ ۳۵۶ صرف نواز شریف پڑھیں ۳۵۸ انڈونیشیاء کے پاکستانی سفارت خانے میں قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیاں ۳۶۰ بھارت میں قادیانیت کا تعاقب ۳۶۴ ۱۹۸۹ء میں قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں کی رپورٹ ۳۶۹ اٹک میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۳۶۹ موضع سکندر چک نمبر ۳۰ میں قادیانیوں کی ننگی جارحیت.......۲۶/ قادیانیوں کا قبول اسلام ۳۶۹ بھیرہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۳۷۱ قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد کے رفیق خاص حسن محمود عودہ کا قبول اسلام ۳۷۱ ۱۹۸۹ء میں کانفرنس ہائے ختم نبوت و دیگر سرگرمیوں کی رپورٹ ۳۷۳ تحفظ ختم نبوت کا سال منانے کے لئے مبلغین نے دورہ شروع کر دیا ۳۷۳ ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۷۳ بنگلہ دیش کی ڈائری ۳۷۴ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۳۷۴ اجتماعات سلسلہ سال ختم نبوت بہاول پور ۳۷۵ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس عباس نگر ۳۷۵ معراج خاتم الانبیاء کانفرنس نور پور نورنگا ۳۷۵ ختم نبوت کانفرنس احمد پور شرقیہ ۳۷۵ ڈیرہ اسماعیل خان میں سالانہ ختم نبوت و معراج النبی ﷺ کانفرنس ۳۷۶ ختم نبوت کانفرنس ملتان ۳۷۶ ڈیرہ مراد جمالی میں ختم نبوت کانفرنس ۳۷۷ راولپنڈی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۷۷ ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۳۷۸ مانسہرہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۷۸
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آٹھویں ترمیم کی آڑ میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کو نہ چھیڑا جائے، احمد پور شرقیہ کے عوام کا مطالبہ ۳۷۹ قادیانیوں کے صد سالہ جشن منانے پر کنری میں ہڑتال ۳۷۹ میر پور آزاد کشمیر میں عظیم الشان جلسہ ختم نبوت ۳۷۹ کنری میں ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے زیر اہتمام ہونے والے جلسہ سیرت النبی ﷺ کی روداد ۳۸۰ چھٹی کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ننکانہ صاحب ۳۸۱ سید والا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۸۳ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس خانیوال ۳۸۳ چک ۴۶/شمالی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۸۴ مروٹ ضلع بہاول نگر میں جلسہ ختم نبوت ۳۸۴ پشین، ژوب اور لورالائی میں ختم نبوت کانفرنس ۳۸۴ ختم نبوت کانفرنس خضدار (بلوچستان) ۳۸۵ بہاول پور میں عظیم الشان استحکام پاکستان و تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۳۸۶ ہری پور میں عظیم الشان امیر شریعت کانفرنس ۳۸۷ شاد باغ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس ۳۸۸ عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن سے پہلے حضرت امیر مرکزیہ کی لندن میں اہم پریس کانفرنس ۳۸۸ لندن برطانیہ میں عظیم الشان پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۳۸۹ ختم نبوت کے جلسہ پر ذکریوں کی فائرنگ، عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۳۹۳ شکاگو میں پہلی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۹۳ ربوہ میں آٹھویں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۹۸ ختم نبوت کانفرنس کی قراردادیں اور مطالبات ۴۰۴ ختم نبوت کانفرنس صدیق آباد...... قادیانی لیڈر کے پیٹ میں مروڑ ۴۰۶ بلوچ آباد میں عظیم الشان سیرت کانفرنس ۴۰۷ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۰ء کے حالات و واقعات ۴۰۹ امریکہ میں مدعی نبوت ارشاد خلیفہ قتل کر دیا گیا ۴۱۰ امریکی کونسلر کی ربوہ میں قادیانیوں سے ملاقات ۴۱۰ فیصل آباد میں دارالمطالعہ ختم نبوت کا قیام ۴۱۲ کراچی میں ربوہ سے آمدہ دو قادیانی مسلح دہشت گردوں کی گرفتاری ۴۱۳
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جھنگ میں دو ہندو اور ایک قادیانی دہشت گرد گرفتار ۴۱۶ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن تباہی کے دہانے پر ۴۱۶ دبئی میں چاول کی بجائے ہیروئن کی برآمدگی ۴۱۷ آل پاکستان ذکری انجمن کا بیان حقائق کو مسخ کرنے کی ایک کوشش ہے ۴۱۹ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور پر قادیانیت کا تسلط ۴۲۱ پیغام بنام وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف ۴۲۵ تربت کے حالیہ واقعات پر مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کا وضاحتی پریس ریلیز ۴۲۵ اسٹیٹ لائف میں ارباب اختیار ( قادیانیوں) کی رنگ رلیاں ۴۲۸ کوئٹہ......ذکریوں کے بارہ میں پریس کانفرنس ۴۲۹ مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور ۴۳۰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا دورہ فیصل آباد ۴۳۱ جڑانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ۴۳۱ دس مرزائیوں کو قید اور جرمانہ کی سزا ۴۳۱ اورنگی ٹاؤن میں ایک مسلمان نوجوان پر قادیانی غنڈوں کا حملہ ۴۳۲ سالانہ عالمی میلے میں شرکت کرنے والے قادیانیوں پر پی. آئی. اے کی مہربانیاں ۴۳۲ پیپلز ورکس پروگرام کے ضلعی ایڈمنسٹریٹر قادیانی کو برطرف کر دیا گیا ۴۳۳ مرزا طاہر کا پاکستان کو پاگل خانہ قرار دینا ۴۳۴ کمپنی باغ جھنگ میں قادیانیوں کی نماز عید پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی ۴۳۵ حضرت الامیر خواجہ خان محمد صاحب کی حج سے واپسی، ملتان ہوائی اڈے پر شاندار استقبال ۴۳۷ مسلم کالونی ربوہ میں ایک مسلمان پر قادیانی غنڈوں کا حملہ ۴۳۷ قادیانی ملزم کو ایک سال سزا قید اور ہزار روپیہ جرمانہ ۴۳۸ قادیانیوں اور دہر یہ تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جامعہ الازہر کے ریکٹر کی مسلمانوں سے اپیل ۴۳۹ ڈی سی، ایس. پی جھنگ کے نام مولانا اللہ وسایا کا خط ۴۴۰ قادیانیوں کا گھناؤنا کاروبار ۴۴۰ چک سکندر ، کھاریاں میں مسلمانوں پر بے جا تشدد ۴۴۱ قادیانی جماعت کا اشتہار صدر فوری نوٹس لیں ۴۴۲ راولپنڈی میں اہل اسلام کی زبردست فتح ۴۴۳
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جعلی کھاد، جعلی نبی ۴۴۴ ملتان میں قادیانی مذہب کا پرچار کرنے والوں کو قید بامشقت کی سزا ۴۴۴ نجی احمدیہ کالج ربوہ میں فوجی ٹریننگ دینے کی تحقیقات کرائی جائے ۴۴۵ کراچی میں قادیانی جلسہ کی خفیہ رپورٹ اندوہناک انجام ۴۴۶ ۱۹۹۰ء میں قادیانیوں کے قبول اسلام کی رپورٹ ۴۴۸ کراچی کے قادیانی مربی اشرف ناصر کے نام ایک نوجوان کا کھلا خط ۴۴۸ ایک قادیانی کا قبول اسلام ۴۴۹ ایک قادیانی خاندان نے مرزائیت سے توبہ کر لی ۴۵۰ مغربی افریقہ کے ایک اسلامی ملک جمہوریہ مالی میں تیس ہزار قادیانیوں کا دوبارہ قبول اسلام ۴۵۰ مرزائیت سے بریت کا اعلان ۴۵۳ شادن لنڈ میں ایک قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۴۵۴ اردن میں بارہ قادیانیوں کا قبول اسلام ۴۵۴ اردن میں قادیانی گروہ کے سربراہ طہٰ فرق کی قادیانیت سے توبہ کی تفصیلات ۴۵۴ کیرالہ میں مباہلہ کے بعد بہت سے قادیانی مسلمان ہو چکے ہیں ۴۵۸ مرزائیت سے برأت کا اعلان ۴۵۹ رحیم یار خان میں چار افراد کی مرزائیت سے توبہ ۴۵۹ جواں سال عبدالوحید قادیانی کا قبول اسلام ۴۵۹ تصدیق نامہ ۴۶۰ ۱۹۹۰ء میں کانفرنس ہائے ختم نبوت و دیگر سرگرمیاں ۴۶۰ سنام گنج (بنگلہ دیش) میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۴۶۰ برہمن باریہ بنگلہ دیش میں دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے مطالبات ۴۶۰ سیرالون میں مسلمان ختم نبوت کانفرنس ۴۶۱ تحفظ ختم نبوت کانفرنس مکران ڈویژن ۴۶۱ ننکانہ صاحب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۴۶۲ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۴۶۳ ڈھاکہ بنگلہ دیش میں تحفظ ختم نبوت اندولن کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی ختم نبوت سیمینار ۴۶۴ تحفظ ختم نبوت اندولن کا نو نکاتی پروگرام ۴۶۶
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چاٹگام میں ختم نبوت کانفرنس ۴۶۷
رحیم یار خان میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۴۶۹
قصبہ پیلو وینس میں جلسہ ختم نبوت ۴۷۰
بریڈفورڈ میں چھٹی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس ۴۷۲
بہاول پور میں استحکام و تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۴۷۴
راولپنڈی میں عظیم الشان احتجاجی کانفرنس ۴۷۵
جنڈانوالہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۴۷۵
پنوں عاقل میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۴۷۶
سالانہ ختم نبوت کانفرنس کنری ۴۷۶
سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس اور اس کے مطالبات ۴۷۷
۹ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا انتظامی اجلاس ۴۷۸
نویں کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس خلاصہ تقاریر ۴۷۹
آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے لئے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کا پیغام ۴۸۴
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۱ء کے حالات و واقعات ۴۸۵
ربوہ میں ایک قادیانی گرفتار ۴۸۶
ذکریوں کے عمرہ و حج کوہ مراد پر پابندی لگادی گئی ۴۸۶
قادیانی کے خلاف مقدمہ ۴۸۶
ڈیرہ غازی خان میں قادیانیت کی صورتحال ۴۸۶
قومی اسمبلی میں قادیانی افسران کی ناتمام فہرست ۴۸۷
قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کا جزوی ٹھیکہ قادیانی کمپنی کو دے دیا گیا ۴۸۸
سینٹ کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ مرتدوں کو سرکاری عہدے نہ دیئے جائیں ۴۸۹
پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کا قادیانی سفیر کی برطرفی کا مطالبہ ۴۹۰
مغل پورہ میں ختم نبوت فری ڈسپنسری کا قیام ۴۹۱
مکتوب فیصل آباد ۴۹۱
ربوہ قادیانی ٹورنامنٹوں کو روکا جائے ۴۹۲
کنور ادریس قادیانی کی تنزلی اور دوبارہ ترقی ۴۹۳
بھکر کے قادیانی سول جج کی کار سے کلمہ طیبہ محفوظ کر لیا گیا ۴۹۴
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھکر میں قادیانیوں کے تبلیغی مرکز ختم ۴۹۴
شمع ختم نبوت کے پروانوں پر گولیوں کی بارش ۴۹۴
چھ ہزار قادیانیوں کو جعلی پاسپورٹ پر جرمنی بھجوانے کا اعتراف ۴۹۷
امریکی سفیر مسٹر رچرڈ مرفی کا دورۂ ربوہ ۴۹۸
رچرڈ مرفی کا دورۂ ربوہ ملک میں شیعہ سنی فساد کرنے کی ایک کڑی تھا ۴۹۹
امریکی قونصل کا پراسرار دورۂ ربوہ پر مرزا طاہر سے لندن میں رابطہ ۵۰۰
امریکہ کے سفیر رچرڈ مرفی کے دورۂ پاکستان پر احتجاج ۵۰۰
قادیانی عورت کی لاش کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے نہیں دیا گیا ۵۰۱
بھکر کا مشہور قادیانی مقدمہ سیشن جج نے خارج کردیا ۵۰۱
دو قادیانیوں کی تبدیلی کا خیر مقدم ۵۰۱
قادیانی قاتل کو سزائے موت پندرہ ہزار روپے جرمانہ کی سزا ۵۰۲
مجلس تحفظ ختم نبوت مدراس ہند کا ایک اہم اجلاس ۵۰۲
حکمرانوں کے نام امیر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ کا مکتوب گرامی ۵۰۲
انڈین اور پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے قادیانی کی گرفتاری ۵۰۴
ربوہ سے گور داسپور کا بشارت قادیانی بھارتی جاسوس گرفتار ۵۰۴
پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ناپاک اقدام کی مذمت ۵۰۴
پاکستان میں اصل تخریب کار قادیانی ہی ہیں؟ ۵۰۵
پولیس نے بدنام زمانہ کتاب کے ناشر اور معاون کو گرفتار کر لیا ۵۰۵
ہائیکورٹ لاہور کا فیصلہ ...... قادیانی صد سالہ جشن پر پابندی ۵۰۶
جرمنی حکومت نے قادیانیوں کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کر دی ۵۳۶
پی۔آئی۔اے کے قادیانی آفیسر کو دینی امور سونپنا ۵۳۶
اسلام، پاکستان اور علماء کے خلاف مرزا طاہر کی ہرزہ سرائی ۵۳۷
سویڈن کی قادیانی جماعت میں انتشار ۵۳۸
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نئے مرکزی عہدیداران و اراکین مجلس شوریٰ ۵۳۸
مسلم کالونی چناب نگر میں حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ کے اعزاز میں استقبالیہ ۵۳۹
قادیانیوں کا سالانہ جلسہ مارچ امسال اب ربوہ کی بجائے قادیان میں ۵۴۱
”را“ کی رپورٹ پر بھارتی حکومت نے کسی بھی شہر میں قادیانی جشن کی اجازت دے دی ۵۴۳
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”را“ کی رپورٹ پر قادیانی ”صد سالہ جشن“ آزادی سے بھارت میں منایا گیا ۵۴۳ بھارت میں قادیانی اجتماع اور پاکستانی حکومت ۵۴۵ ۱۹۹۱ء میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۵۴۸ راولپنڈی میں قادیانی لڑکی کا قبول اسلام ۵۴۸ قادیانیت سے توبہ ۵۴۸ قادیانیت سے تائب ہونے والے افراد کا حلف نامہ ۵۴۸ ظفر آباد، ٹنڈوالہ یار سندھ کے خاندانوں کی قادیانیت سے توبہ ۵۴۹ قادیانیت سے اظہار بریت، گجر والا ڈیرہ غازی خان ۵۴۹ منڈی بہاؤالدین میں قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا ۵۴۹ انڈونیشیاء میں بڑی تعداد میں لوگ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر رہے ہیں ۵۵۰ پشاور کے ایک مرزائی جوڑے کا قبول اسلام اور تجدید نکاح کی تقریب ۵۵۱ ربوہ میں قبول اسلام ۵۵۱ قادیانی کا قبول اسلام ۵۵۲ اٹھارہ افراد نے قادیانیت سے توبہ کر لی ۵۵۲ سیالکوٹ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۵۵۲ مسلم کالونی چناب نگر میں دو قادیانیوں کا قبول اسلام ۵۵۲ ۱۹۹۱ء میں کانفرنس ہائے ختم نبوت ۵۵۳ مجلس راولپنڈی کا تربیتی کنونشن ۵۵۳ فتح مباہلہ کانفرنس چنیوٹ ۵۵۳ سالانہ ختم نبوت کورس ملتان ۵۵۴ بہاول پور میں دروس قرآن ۵۵۴ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کی دورہ تربت کی مکمل رپورٹ ۵۵۴ علماء اور قائدین ختم نبوت کو حکومت نے تربت بدر کر دیا ۵۵۸ ننکانہ ، آٹھواں انٹرنیشنل گولڈ میڈل کا اعلان ۵۵۹ ہری پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۵۶۱ سکھیکی (گوجرانوالہ) میں ختم نبوت کانفرنس ۵۶۲ گورنمنٹ ہائی سکول بڑا گھر میں ختم نبوت کا اجتماع ۵۶۲
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
غازی آباد لاہور میں دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۵۶۳ مسلم ٹاؤن لاہور میں یوم تشکر ۵۶۳ طرابلس لیبیاء میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۵۶۳ ختم نبوت کانفرنس اتحاد ٹاؤن کراچی ۵۶۵ بہاول پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۵۶۶ سید والا میں چوتھی سالانہ تاجدار ختم نبوت کانفرنس ۵۶۶ ختم نبوت کانفرنس قصور ۵۶۶ جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور میں سیرت کا جلسہ ۵۶۷ اہل حدیث ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۵۶۷ اٹک میں ختم نبوت کانفرنس ۵۶۷ چک ۷۸ سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۵۶۸ میٹنگ برائے انتظامات، دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۵۶۹ دسویں سالانہ عظیم الشان آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۵۷۰ گیارھویں ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۵۷۵ شیخوپورہ میں ختم نبوت کانفرنس ۵۷۶ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں ۵۷۷ عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی کے اجلاسات ۵۷۸ (۵۸ واں) اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۵۷۸ (۵۹ واں) اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۵۸۳ (۶۰ واں) اجلاس مجلس عمومی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۵۸۶ (۶۱ واں) اجلاس مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۵۹۱ (۶۲ واں) اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۵۹۲ (۶۳ واں) اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۶۰۰ (۶۴ واں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۶۰۹ (۶۵ واں) اجلاس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۶۱۸ (۶۶ واں) اجلاس عمومی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ۶۱۹
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۶ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کراچی روٹری کلب اور قادیانی
کراچی محمدی بلڈنگ متصل ٹاور میں روٹری کلب واقع ہے۔ ۸۶-۱۹۸۷ء کے لئے اس کا سربراہ رحمت اللہ قادیانی کو بنایا گیا۔ روٹری کلب کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے صیہونی اور مغربی سامراجی طاقتوں سے مراسم ہیں۔ وہ قوتیں اس کے ذریعہ کراچی کے امن سے کھیلتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال، قادیانیت، یہودیت کا چربہ ہے۔ اس کلب کا قادیانی کو سربراہ بنانا کئی خدشات کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۴، مورخہ ۳ تا ۹؍جنوری ۱۹۸۶ء)
مارشل لاء کے خاتمہ پر قادیانی شرارتیں
جناب جنرل ضیاء الحق صاحب نے مارشل لاء کے اختتام کا اعلان کیا تو بعض اخبارات نے خبر شائع کر دی کہ قادیانیوں سے متعلق جو قوانین جنرل صاحب کے زمانہ میں نافذ ہوئے وہ ختم ہوگئے ہیں۔ اس پر قادیانیوں نے ملک میں بعض مقامات پر اذانیں دینا شروع کر دیں۔ اس پر اسلامیان وطن میں اضطراب پھیلا۔ چنانچہ وفاقی وزارت مذہبی امور نے بیان جاری کیا کہ: ”وزارت مذہبی امور نے بعض اخبارات میں شائع ہوئی خبروں کی تردید کی ہے، جس میں سرکاری ذرائع سے یہ کہا گیا کہ مارشل لاء کے خاتمے کے ساتھ ہی قادیانیوں پر اذان دینے کی اب پابندی برقرار نہیں رہی ہے۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مندرجہ بالا پابندی تعزیرات پاکستان کی ۲۹۸-بی اور سی کے تحت لگائی گئی تھی جو کہ بدستور نافذ العمل ہے۔“
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۸؍جنوری ۱۹۸۶ء)
اس خبر پر ہفت روزہ ختم نبوت نے جاندار اداریہ تحریر کیا۔ جس سے پورے ملک کے اسلامیان وطن نے سکھ کا سانس لیا اور یوں قادیانی خود ساختہ خوشی اپنی موت مر کر قادیانیوں کے لئے نئی ماتم کی صف بچھا گئی۔
بھارت کے قادیانی سربراہ کا دورہ ناکام
حیدر آباد دکن کے علاقہ میں قادیانی اپنا کنونشن کرنا چاہتے تھے۔ مسلمانان اندھرا پردیش کی دعوت پر مولانا محمد اسماعیل کٹکی امیر شریعت بہار نے بیس دن کا اس علاقہ کا دورہ کیا۔ اس کے باعث بھارت کے قادیانی سربراہ مرزا وسیم کا دورہ ناکام ہوگیا۔ اس دوران میں معروف قادیانی مبلغ مولانا ولی الدین نے بھی اسلام قبول کر لیا جس سے بھارت کے قادیانی حلقہ پر اوس پڑ گئی۔ مولانا اکبر الدین قاسمی نائب ناظم مجلس علمیہ اندھرا پردیش
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۹، مورخہ ۱۷ تا ۲۳؍جنوری ۱۹۸۶ء)
کلمہ طیبہ کا بیج لگانے پر قادیانی کو سزا
ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ جناب ملک مشتاق احمد باسط نے گوجرہ کے ۲۵ سالہ قادیانی منیر عابد جو کلمہ طیبہ کا بیج اپنے سینہ پر لگا کر خود کو مسلمان ثابت کر کے قانون شکنی کا مرتکب ہوا تھا۔ اس پر مقدمہ زیر دفعہ ۲۹۸ت۔پ درج ہوا۔ اب عدالت نے اسے ایک سال کی سزا سنائی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۷، مورخہ ۷ تا ۱۳؍جنوری ۱۹۸۶ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹوبہ ٹیک سنگھ کی عدالت سے قادیانیوں کے خلاف عدالتی فیصلے کا متن
بعدالت ملک مشتاق احمد مجسٹریٹ درجہ اوّل ٹوبہ ٹیک سنگھ مقدمہ نمبر ۱۶ / ۸۵ ، ۲۹۸-سی. پی. پی تھانہ سٹی گوجرہ، سرکار بنام منیر احمد ولد محمود احمد قوم راجپوت سکنہ گلی صرافاں والی قصبہ گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ۔
فیصلہ: مختصر واقعات مقدمہ ہذا میں اس طور پر ہیں کہ مورخہ ۱۲/ فروری ۱۹۸۵ء کو قریب ۴، ۵ بجے شام حافظ عبدالحئی کے بیان تقریری پر مقدمہ قائم ہوا کہ ملزم جو قادیانی عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے اس نے اپنی قمیص پوشیدنی کی سامنے والی جیب پر کلمہ طیبہ کا بیج لگا رکھا ہے، جسے سمجھایا گیا مگر وہ باز نہ آیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا۔ تفتیش مقدمہ کی اور ملزم کا چالان عدالت کیا۔ ملزم کے حاضر عدالت آنے پر نقولات بیانات زیر دفعہ ۱۶۱-ض. ف تسلیم نہ کیا۔ فرد جرم عائد ہوئی۔ ملزم نے جرم کی صحت سے انکار کیا۔ جس پر شہادت استغاثہ طلب ہوئی۔ استغاثہ نے اپنے مؤقف کی تائید میں ۴/ کس گواہان کو پیش کیا۔ پی. ڈبلیو. ۱ عبیدالرحمٰن پیش ہوا۔ جس نے بتایا کہ ۱۰/ فروری ۱۹۸۵ء کو عصر کے بعد وہ بمعہ حافظ عبدالحئی اور حافظ محمد اشرف زمیندار کے سامنے قائد اعظم روڈ پر تھے۔ انہوں نے ملزم کو دیکھا کہ اس نے کلمہ طیبہ کا بیج لگایا ہوا تھا۔ جسے گواہ یہ جانتا تھا کہ ملزم قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے کلمہ طیبہ لگانے سے روکا۔ اس نے کہا کہ وہ قادیانی ہے اور اسے کلمہ طیبہ لگانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پی. ڈبلیو. ۱ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ایف. آئی. آر اسے پڑھ کر سنائی گئی تھی۔ جس پر اس نے دستخط کئے تھے۔ پی. ڈبلیو. ۲ محمد اشرف ہے جس نے بتایا کہ فرد مقبوضگی پر اس نے دستخط کئے تھے۔ پی. ڈبلیو. ۳ حافظ عبدالحئی ہے جس نے ہمراہ دیگران جا کر تھانے میں اطلاع دی تھی اور قاری عبیدالرحمٰن نے رپورٹ درج کرائی تھی۔ فرد پر گواہ پی. ڈبلیو. ۳ نے بھی دستخط کئے ۔ پی. ڈبلیو. ۴ بشیر احمد اے. ایس. آئی تفتیشی افسر ہے جس نے قاری عبیدالرحمٰن کا بیان قلمبند کیا اور موقعہ پر جا کر ملزم کی چھاتی پر لگا ہوا بیج قبضہ میں لیا۔ فرد مقبوضگی مرتب کی، نقشہ برآمدگی تیار کیا۔ بیانات گواہان قلمبند کئے۔ ملزم کو گرفتار کیا۔ تفتیش مقدمہ کی اور ملزم کو چالان عدالت کیا۔ شہادت استغاثہ ختم ہونے پر بیان ملزم زیر دفعہ ۳۴۲ قلمبند ہوا۔ ملزم نے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے اور ”احمدیہ فرقہ“ سے تعلق رکھنے کا اقرار کیا۔ تاہم اس نے کہا کہ اس نے بیج لگا کر کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ملزم نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش نہ کی۔ بیان ملزم زیر دفعہ ۳۴۰-ض. ف قلمبند کیا گیا۔ جس پر اے. ڈی. اے نے جرح کی۔ ملزم نے اپنے بیان میں بھی اس امر کو تسلیم کیا کہ اس نے کلمہ طیبہ کا بیج لگا رکھا تھا اور جرم سے انکار کیا۔ بحث سماعت میں اے۔ ڈی۔ اے نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم نے اس امر کا اقرار کیا ہے کہ وہ ”احمدی فرقہ“ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ کہ اس نے کلمہ طیبہ کا بیج لگا رکھا تھا۔ اس لئے شہادت پر بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ ملزم کا یہ قدم اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ کلمہ طیبہ کا بیج لگانا اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے جب کہ متعلقہ دفعہ کے تحت اگر کوئی (قادیانی) شخص DIRECTLY یا INDIRECTLY اپنے آپ کو مسلمان یوز (Use) کرتا ہے۔ قابل تعزیر ہے تو کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اسے اس جرم میں سزا دی جائے۔ کونسل صفائی نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس میں بالوضاحت یہ درج نہیں ہے کہ کلمہ طیبہ کا بیج لگانا جرم ہے تو ملزم کو سزا نہیں دی جاسکتی۔ آرڈیننس میں واضح طور پر امتناع نہ ہونے کی صورت میں جو ابہام پیدا ہوتا ہے اس کا فائدہ ہر حال ملزم کو پہنچتا ہے۔
کونسل صفائی نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے عقیدہ کے مطابق کلمہ طیبہ پر اس کا ایمان ہے اور اسے اس حق سے ملک کے آئین کے تحت محروم نہیں کیا جاسکتا۔ کونسل صفائی نے کلمہ طیبہ کے بارے میں تفاصیل بیان کی اور اس کے افضل الذکر ہونے کی وضاحت کی اور اسے لگانے یا پڑھنے سے ممانعت کو غیر قانونی قرار دیا۔ آرڈیننس میں مبہم الفاظ کی روشنی میں ملزم کو کونسل صفائی کے مؤقف کے مطابق سزا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں دی جاسکتی۔ فریقین کے دلائل بغور سنے گئے ہیں۔ شہادت پر بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ امر واضح ہے کہ ملزم نے کلمہ طیبہ کا بیج لگا رکھا تھا اور یہ کہ وہ قادیانی عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ کہ اس نے اس امر کو تسلیم کیا کہ وہ قادیانی عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس امر میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ کلمہ طیبہ کا سینہ پر لگانا اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا ہے۔ جب کہ اس کا عقیدہ قادیانی ہے اور وہ اپنے عقیدہ کی نفی بھی نہیں کرتا۔ اس طرح بطور قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے اس نے کلمہ طیبہ کا بیج لگایا۔ اس کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ ایک مسلمان عام حالات میں کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر نہیں پھرتا۔ اس طرح کلمہ طیبہ لگانے کی وجہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ جسے منطقی طور پر تسلیم کیا جاسکے یا جسے عقل سلیم تسلیم کرے کہ وہ ایک طرف تو اپنے آپ کو قادیانی بتاتا ہے اور دوسری طرف کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ اس صورتحال میں ۲۹۸-سی کا متن کسی ابہام کا شکار نہیں ہوتا۔ لہٰذا کونسل صفائی کی یہ دلیل کہ واضح طور پر قانون میں ایسا درج نہیں ہے، بے بنیاد ہے جب کہ قانون میں واضح طور پر یہ الفاظ درج ہیں کہ: ”وہ ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔“ یہ الفاظ کسی ابہام کا شکار نہیں ہیں بلکہ ملزم کے اس فعل پر پوری طرح منطبق ہوتے ہیں۔ ان حالات میں ملزم محمد منیر کے خلاف جرم زیر دفعہ ۲۹۸-سی کا ارتکاب پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے۔ لہٰذا جرم زیر دفعہ ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان کے تحت محمد منیر مذکور کو مجرم گردانتے ہوئے ایک سال قید با مشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں تین ماہ قید محض میں مزید رہے۔ حکم سنایا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ ش ۷ ص ۱۹، مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء)
شیر گڑھ (ڈیرہ غازی خان) کا واقعہ
جنوری ۱۹۸۶ء میں تحصیل تونسہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے نواحی گاؤں شیرگڑھ میں ایک قادیانی وڈیرہ امیر محمد قیصرانی مر گیا۔ اس کے ورثاء نے مسلمانوں کو اشتعال دلانے اور اپنا وڈیرا پن ظاہر کرنے کے لئے اس کو مسلمانوں کی مسجد کے احاطے میں دفن کر دیا اور مسجد کے دروازے کو یہ کہہ کر تالا لگایا کہ جس کسی نے یہ کھولا اس کے پورے خاندان کو نابود کر دیا جائے گا۔ مقامی مسلمان اکثر مالی اعتبار سے نہایت خستہ حال تھے اور اکثر ان وڈیروں کے مزارع تھے۔ پھر بھی ہمت کر کے انہوں نے مرزائیوں کے اس کھلم کھلا ظلم کے خلاف کسی نہ کسی طرح آواز اٹھائی لیکن وہ آواز صدا بصحراء ثابت ہوئی۔ مسلمانوں کی یہ صدائے بازگشت کسی طریقے سے ڈیرہ غازی خان کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ دار مبلغ حضرت مولانا صوفی اللہ وسایا کو پہنچی۔ مولانا صوفی اللہ وسایا نے اس پر امن تحریک کو آگے بڑھایا۔ شیر گڑھ کے مضافات ٹبی قیصرانی، کوٹ قیصرانی، ریتڑہ، وہوا، تونسہ میں متعدد کانفرنسوں کا اہتمام کیا۔ وہ مثالی طور پر کامیاب رہیں۔ جس سے چاروں مسالک کے علماء ومشائخ اور خانقاہ سلیمانیہ تونسہ شریف کے خواجہ عبد مناف بھی صف اوّل میں رہے۔ ضلع و تحصیل انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ ان کے سامنے مطالبات رکھے۔ بالآخر ایک بھر پور احتجاجی جلوس کی کال دی گئی۔ ڈیرہ غازی خان میں وہ تاریخ ساز جلوس نکلا۔ حکومت نے جلوس پر لاٹھی چارج کیا۔ بیسیوں علماء کرام گرفتار ہو گئے۔ جن میں مولانا صوفی اللہ وسایا، سردار محمد خان لغاری اور دیگر حضرات بھی شریک تھے۔ مولانا اللہ وسایا نے ملتان سے جناب راجہ ظفر الحق صاحب کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں آواز بلند کی۔ اب ملک خدا بخش ٹوانہ دورہ پر ڈیرہ غازی خان آئے۔ ادھر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد ضیاء القاسمی نے زخمیوں کی عیادت اور گرفتار شدگان سے ملاقات کی۔
اللہ تعالیٰ نے کرم کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے صوبائی و وفاقی حکومت کو رپورٹ کی کہ قادیانی مردہ کی لاش نکالے بغیر معاملات درست نہ ہوں گے۔ چنانچہ ضلعی انتظامیہ نے جا کر مسلمانوں کی مسجد سے قادیانی مردہ کی لاش نکال دی جو اسی قادیانی کی حویلی میں ورثا نے دفن کر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دی۔ آج وہ حویلی اور قادیانی محلات دیدۂ عبرت ہیں۔ جب کہ اسی جگہ کے قریب کوٹ قیصرانی کے شہر میں جمعیتہ علماء اسلام کے مولانا امان اللہ صاحب یوسی کے چیئرمین ہیں۔ کوٹ قیصرانی کے اہم چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھ دیا گیا۔ اسی قادیانی سردار کے کئی عزیز اسلام قبول کر چکے ہیں۔ فالحمد لله!
ذیل میں لولاک کا ایک اداریہ ملاحظہ ہو:
”۱۱؍ فروری ۱۹۸۶ء اسلام آباد میں حکومت اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پایا تھا۔ اس کی تفصیل قومی اخبارات میں آچکی ہے۔ مذاکرات کے دوران حکومت نے تسلیم کیا تھا کہ شیر گڑھ میں قادیانی کی لاش کو مسجد سے جلد نکال دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حاجی امیر ترین نے صوبائی وزیر اوقاف ملک خدا بخش ٹوانہ کو حکم دیا تھا کہ وہ خود جا کر موقع پر ان کی موجودگی میں دیکھیں۔ مزید یہ کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے دو نمائندے بھی وہاں موجود ہوں۔ ان کی موجودگی میں قادیانی سردار کی نعش کو وہاں سے نکال دیا جائے لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ حکومت نے اس معاملہ میں انتہائی سردمہری کا ثبوت دیا ہے۔ یہ مجلس عمل کی عزت کا مسئلہ ہے۔ چنانچہ وہاں مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کیا۔ جس پر وہاں کی پولیس نے مسلمانوں پر اندھا دھند لاٹھی چارج کیا۔ درجنوں علماء شدید زخمی ہو گئے۔ بے شمار لوگ پولیس کے روایتی وحشیانہ سلوک کا شکار ہوئے اور قابل احترام بزرگ عالم دین مولانا عبدالستار تونسوی شدید زخمی ہوئے۔ وہاں کی انتظامیہ نے ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اقدام تک اکتفاء نہیں کیا بلکہ علماء کی ایک کثیر تعداد کو گرفتار بھی کیا گیا اور پھر یہ کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مقامی دفتر سیل کر دیا اور وہاں پولیس کا پہرہ بٹھا دیا۔ انتظامیہ کے اس رویہ نے مجلس عمل کے رہنماؤں کو مزید سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ملک کے بے شمار شہروں سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ احتجاج کی آگ کے شعلے ابھی بھڑک اٹھنے والے تھے کہ حکومت اور انتظامیہ نے قادیانی سردار امیر محمد قیصرانی کی لاش کو شیر گڑھ کی مسجد سے نکال کر قادیانیوں کے مخصوص قبرستان (حویلی) میں منتقل کر دیا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مخالفت برائے مخالفت کے قائل نہیں۔ گو وہاں کی انتظامیہ نے ایک مستحسن قدم اٹھایا ہے لیکن ہمارا قلم مقامی انتظامیہ اور حکومت کے اقدام کی تعریف کرنے سے قاصر ہے۔ وہ بروقت یہ اقدام کرتے تو حالات اس حد تک نہ جاتے۔ چلو دیر آید درست آید۔“
(اداریہ لولاک مؤرخہ ۷؍ مارچ ۱۹۸۶ء)
محکمہ سوئی گیس فیصل آباد قادیانیوں کے نرغے میں
مجلس تحفظ ختم نبوت کے ڈویژنل امیر مولانا محمد اشرف ہمدانی نے وفاقی وزارت قدرتی وسائل اور منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانی سوئی گیس کنٹریکٹر ایم اسماعیل اینڈ کمپنی اور پاک یونائیٹڈ کارپوریشن کو فیصل آباد شہر کی لسٹ سے خارج کر دیا جائے اور ان کا دفاع کرنے والے قادیانی افسر مصطفیٰ احمد خان سپیشل اسسٹنٹ ٹو منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن لاہور کے اس عہدہ سے علیحدہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم اسماعیل اینڈ کمپنی ربوہ کا اصل مالک ملک سے باہر رہتا ہے۔ اس کے ایک سپر وائزر نے غیر قانونی طور پر ریلوے روڈ فیصل آباد میں ”ایم اسماعیل اینڈ کو“ کے نام پر سوئی گیس کی فٹنگ کا کام کرتا ہے۔ بعد ازاں ۱۵؍ جنوری ۱۹۸۴ء کو دفتر کی ملی بھگت سے خود مالک بن کر سیل ڈیڈ داخل کروادی۔ جب کہ ہیڈ آفس نے منظوری نہیں دی تھی۔ اسی طرح دوسری قادیانی فرم پاک یونائیٹڈ فرم کارپوریشن کا مالک دوسرے شہر سے ٹرانسفر کرا کے فیصل آباد آ گیا اور مسلمانوں کو تنگ کیا۔ کئی دفعہ وارننگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کی درخواست پر ان کے خلاف تحقیقات ہوئی اور دونوں فرموں کو لسٹ سے خارج کرنے کے لئے ہیڈ آفس کو لکھا گیا۔ جب کہ قادیانی افسر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مصطفےٰ احمد رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانی فرموں کو بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ جعل سازی کے الزام میں پولیس میں بھی مقدمہ درج کرایا جائے۔ بصورت دیگر ان کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی جائے گی۔ مزید برآں مقامی دفتر کے ملازمین کو صارفین کے ساتھ خوش اخلاقی پیش آنے کا پابند بنایا جائے ایک سرکل چپڑاسی کے توہین آمیز رویے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ اس ضمن میں جمعہ کو احتجاجی قراردادیں پاس ہوئیں۔
قرارداد: (یہ قرارداد فیصل آباد شہر کی تمام مساجد میں پیش کی گئی)
جامع مسجد کا یہ عظیم اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانی سوئی گیس کنٹریکٹرز ایم اسماعیل اینڈ کمپنی ربوہ اور پاک یونائیٹڈ کارپوریشن کو فیصل آباد شہر کی لسٹ سے خارج کیا جائے اور ان کا دفاع کرنے والے قادیانی افسر مصطفےٰ احمد خان سپیشل اسسٹنٹ ٹو منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن لاہور بلا تاخیر ملازمت سے برطرف کیا جائے۔ نیز سوئی گیس کمپنی سے تمام مرزائی افسروں کو فی الفور علیحدہ کیا جائے۔
(فیصل آباد) مجلس تحفظ ختم نبوت کے ڈویژنل امیر مولانا محمد اشرف ہمدانی نے وفاقی وزیر قدرتی وسائل حاجی حنیف طیب سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل گیس ڈائریکٹوریٹ وفاقی وزارت قدرتی پیداوار، مخدوم سجاد حسین قریشی گورنر پنجاب، شیخ امیر علی منیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن سیلز منیجر چوہدری محمد لطیف سے ایک ٹیلی گرام کے ذریعہ مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کمپنی کے تمام مرزائی افسروں کو باہر نکالا جائے اور قادیانی افسر مصطفےٰ احمد کو بلا تاخیر پی۔اے ٹو ایم۔ڈی کی سیٹ سے فارغ کیا جائے۔ تار میں کہا گیا ہے کہ فیصل آباد کے شہریوں کے مفاد کے پیش نظر قادیانی سوئی گیس ٹھیکیدار ایم اسماعیل اینڈ کو ربوہ اور پاک یونائیٹڈ کارپوریشن کو فیصل آباد شہر کی لسٹ سے خارج کیا جائے اور ایم اسماعیل اینڈ کو کے سپروائزر معراج شوکت کی طرف سے ۱۵؍جنوری ۱۹۸۲ء کو جعلی ڈیڈ داخل کرانے پر تحقیقات کرائی جائے۔ جب کہ قادیانی اسماعیل خود ملک سے باہر رہتا ہے اور اس کا رشتہ دار بھی کمپنی ملازم ہے۔ پرسنل اسسٹنٹ مصطفےٰ احمد قادیانی جو کہ ان کا دفاع کرتا ہے، کو بلا تاخیر اس اہم عہدہ سے نکالا جائے۔ تار میں کہا گیا ہے کہ سوئی گیس کے ملازمین کو صارفین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کا بھی پابند بنایا جائے اور مقامی دفتر ایریا آفس شعبہ ایڈمن کے ایک چپڑاسی حیات عرف شیرا پاؤ کے توہین آمیز رویہ کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس کا دوبارہ ڈاکٹری معائنہ کرایا جائے۔ نیز بلا تاخیر تبدیل کر دیا جائے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد،مورخہ ۲۸؍مارچ ۱۹۸۶ء)
کنری میں قادیانیوں کی سازش
۱۴؍ مارچ ۱۹۸۶ء کو کنری کے مسلمانوں نے بخاری مسجد سے ایک پرامن جلوس کا پروگرام بنایا۔ جمعہ کی نماز ابھی پڑھی جا رہی تھی کہ ڈی۔ایس۔پی عمر کوٹ نے چار مسلمانوں کو گرفتار کر لیا۔ جمعہ پڑھنے والے مسلمانوں اور امام صاحب کو پتہ چلا تو لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا گیا کہ ہمارے چاروں ساتھیوں کو رہا کیا جائے تو ہم جلوس نہیں نکالیں گے اور یہ اعلان برابر ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ اسی دوران مذاکرات کے لئے ختم نبوت کے دو ساتھی ڈی۔ایس۔پی کے پاس گئے اور ان سے جا کر کہا کہ آپ ہمارے چار ساتھیوں کو رہا کر دیں۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ جلوس نہیں نکالا جائے گا مگر ڈی۔ایس۔پی نے ان کو بھی گرفتار کر لیا اور ایک مسلمان کی ٹانگ پر رائفل کا بٹ مار کر اس کی ٹانگ توڑ دی۔ اس مزید گرفتاری اور ظلم سے مسلمانوں میں اشتعال ہوا تو مسلمان جلوس کی شکل میں تھانے کی طرف گئے۔ دریں اثناء جلوس میں شامل ایک قادیانی نے ہوائی فائر کیا۔ پھر پولیس کی طرف سے اندھا دھند لاٹھی چارج ہوا۔ آنسو گیس پھینکے گئے۔ ہوائی فائر کئے گئے۔ اتنے میں شہر سے آگ کے دھوئیں نظر آئے۔ معلوم ہوا کہ شہر میں قادیانیوں نے ہندوؤں کی دکانوں کو آگ لگا دی ہے۔ جس پر مذکورہ ڈی۔ایس۔پی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے انتقاماً ختم نبوت یوتھ فورس کے کارکنوں کے خلاف جھوٹی ایف۔ آئی۔ آر درج کر کے مزید بیس پچیس آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور کچھ مزید افراد کے نام بھی گرفتاری کے لئے ایف۔ آئی۔ آر میں درج کئے جو اس دن کنری میں بھی موجود نہ تھے۔ پولیس کی اس کارروائی اور قادیانیوں کی اس حرکت کے خلاف مسلمانوں نے ہفتہ اور اتوار کو کنری میں مکمل ہڑتال کی۔ اتوار بارہ بجے عورتوں نے ایک جلوس نکالا اور تھانے کے سامنے دھرنا مار کر بیٹھ گئیں۔ عورتوں نے کہا ہمیں بھی اپنے بچوں کے ساتھ گرفتار کرو۔ شام چھ بجے وہ انتظامیہ کے وعدے پر اپنے گھروں کو واپس آ گئیں۔ سوموار کو مولانا نذیر احمد مبلغ ختم نبوت کی قیادت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے دس رکنی وفد نے کنری کا تفصیلی دورہ کیا اور کنری کے مسلمانوں کو اپنی طرف سے ہر قسم کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کال پر کنری کے مسلمانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر شاہراہوں اور بازاروں میں امڈ آیا۔ مسلمانوں کی طاقت کا یہ مظاہرہ دیکھ کر اگلے دن حکومت نے گرفتار شدگان کو رہا کر دیا۔
(لولاک فیصل آباد، مورخہ ۳۰؍ اپریل ۱۹۸۶ء)
رحیم یار خان دفتر ختم نبوت
رحیم یار خان بلدیہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر کے لئے پلاٹ الاٹ کر دیا۔ امیر مرکزیہ نے دفتر کا سنگ بنیاد رکھا۔ مورخہ ۴؍ اپریل ۱۹۸۶ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر کا سنگ بنیاد رکھے جانے کی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں علماء کرام ضلع رحیم یار خان اور زندگی کے ہر شعبہ سے متعلقہ معززین کے علاوہ جناب چوہدری محمد ایوب صاحب ڈپٹی کمشنر، چوہدری نذیر احمد صاحب اے سی، میاں عبد الخالق صاحب چیئرمین بلدیہ اور جناب ہارون رشید صاحب وائس چیئرمین اور بلدیہ کے تمام کونسلر صاحبان نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مولانا قاری حماد اللہ شفیق صاحب نے اپنے مختصر خطاب میں ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ کے تمام معزز اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ دفتر کی بنیاد کی پہلی اینٹ امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے رکھی اور پھر علی الترتیب حضرت مولانا غلام ربانی صاحب، جناب ڈپٹی کمشنر صاحب، میاں عبد الخالق صاحب نے اینٹیں رکھیں۔ آخر میں حضرت اقدس مدظلہ نے دعا فرمائی اور دفتر کی بنیاد کے لئے معززین شہر اور انتظامیہ کے پر خلوص جذبات پر خوشی کا اظہار فرمایا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری جناب مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری نے اپنے ایک بیان میں تمام کارکنان ختم نبوت، اسلامیان رحیم یار خان کا شکریہ ادا کیا۔ ضلعی انتظامیہ و بلدیہ کے تمام اراکین کی مساعی پر بھر پور مسرت کا اظہار فرمایا اور ان کے لئے دعا فرمائی کہ خداوند تعالیٰ دونوں جہانوں میں تمام حضرات کو اس کی بہتر جزاء نصیب فرمادیں اور اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ ان حضرات کی دلچسپی سے دفتر تعمیراتی مراحل طے کر کے تکمیل تک جلد پہنچ جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں رحیم یار خان کے علماء کرام کا ایک نمائندہ وفد حضرت مولانا غلام ربانی صاحب اور قاری حماد اللہ شفیق کی قیادت میں جناب چوہدری محمد ایوب صاحب ڈپٹی کمشنر سے مجلس عمل کے مطالبات کے ضمن میں ملا تھا۔ خاص کر امتناع قادیانیت آرڈیننس کے سلسلہ کی شکایات کا جناب ڈپٹی کمشنر صاحب نے ازالہ فرمایا۔ اس دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ جناب حافظ احمد بخش صاحب نے ڈپٹی کمشنر کو ایک درخواست دی کہ یہاں مجلس کا کوئی ملکیتی دفتر نہیں بلکہ جامعہ مدینہ میں عارضی اقامت ہے۔ مجلس کو ایک پلاٹ دے دیا جائے تاکہ مجلس کا یہاں مستقل دفتر قائم ہو۔ چنانچہ بلدیہ رحیم یار خان کے اجلاس کے موقع پر جناب خلیل شہزاد نے تحریک پیش کی جو کہ بالاتفاق منظور کر لی گئی اور برلب سڑک مجلس کے نام ایک پلاٹ الاٹ کر دیا گیا۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق پلاٹ پر دفتر کی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مورخہ ۲۵؍ اپریل تا یکم مئی ۱۹۸۶ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کلمہ طیبہ کے بیج لگانے پر قادیانیوں پر مقدمہ
سرگودھا میں چند ایک قادیانیوں نے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی نیت سے سینے پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائے۔ یہ بات جب مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ اور شہر کے ممتاز دینی وسماجی راہنما مولانا محمد اکرم طوفانی کے علم میں لائی گئی تو انہوں نے فوراً انتظامیہ میں قادیانیوں کی یہ آئینی خلاف ورزی واضح کی۔ انتظامیہ کی طرف سے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہ کی گئی۔ اگلے دن دوبارہ قادیانی سینے پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائے سرگودھا شہر میں دندناتے پھر رہے تھے۔ مولانا اکرم طوفانی اپنے ہمراہ سرگودھا شہر کے معززین لے کر ڈی. پی. او کے پاس گئے اور قادیانیوں کی کھلی آئینی خلاف ورزی اور انتظامیہ کی خاموشی پر احتجاج کیا۔ ڈی. پی. او نے احکامات جاری کر دیئے کہ ان کا کیس درج کرایا جائے اور خلاف ورزی کے مرتکب مرزائیوں کو گرفتار کیا جائے۔ سرگودھا کے سیشن کورٹ میں جسٹس ضیاء الرحمٰن ایڈیشنل سیشن جج کی نگرانی میں قادیانیوں کے خلاف کلمہ طیبہ کے بیج لگانے اور دوسرے شعائر اسلام استعمال کرنے کا امتناعی حکم دائر ہوا۔ ۴ مئی ۱۹۸۶ء کو مولانا محمد اکرم طوفانی کیس کی پیروی کرنے عدالت میں آئے تھے۔ جب مقدمہ کی سماعت سے فارغ ہو کر طوفانی صاحب عدالت سے باہر آئے تو کچہری کے موڑ پر ۱۵/ قادیانی غنڈوں کا ایک غول ان کا منتظر تھا۔ جس نے طوفانی صاحب کے باہر آتے ہی ان پر آوازے کسنے شروع کر دیئے اور انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ اس پر طوفانی صاحب با وجود تنہاء ہونے کے وہاں ٹھہر گئے۔ ایک قادیانی جس نے سینے پر بڑا سا کلمہ طیبہ کا بیج لگایا ہوا تھا آگے بڑھا۔ طوفانی صاحب نے مجاہدانہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو بیج سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے مجسٹریٹ کی عدالت کی طرف جانے لگے۔ یہ صورتحال دیکھ کر دیگر قادیانی بھی طوفانی صاحب سے الجھ پڑے اور اپنے ساتھی کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کشمکش میں طوفانی صاحب پر بعض ضربات بھی لگیں اور ان کی انگلی پر زخم آیا۔ اسی اثناء میں جہانگیر سرور ایڈووکیٹ ادھر آ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ اور لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔
سٹی مجسٹریٹ کو اس واقعے کا علم ہوا تو وہ بھی جائے واردات پر پہنچا۔ مختلف لوگوں نے بیچ میں پڑ کر طوفانی صاحب کو ان قادیانی غنڈوں کے نرغے سے نکالا۔ تین قادیانی موقع پر ہی گرفتار کر لئے گئے جب کہ باقی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی روز شام کو جامع مسجد بلاک نمبر ۱ میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ جب تک سرگودھا انتظامیہ ان قادیانی غنڈوں کو گرفتار نہیں کرتی جنہوں نے طوفانی صاحب پر ہاتھ اٹھایا اور شہر میں ان مقامات سے کلمہ طیبہ نہیں ہٹاتی۔ جہاں قادیانیوں نے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے اس کلمہ کو آویزاں کیا ہے۔ ہم احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اگلے روز نماز عصر کے بعد جامع مسجد بلاک نمبر ۱ سے ایک بہت بڑا احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ جو شربت والا چوک، فیصل بازار، گول چوک، امین بازار، کچہری بازار اور اردو بازار سے ہوتا ہوا شربت والا چوک آ کر ختم ہو گیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مؤرخہ ۱۶ تا ۲۳ مئی ۱۹۸۶ء)
چناب نگر (ربوہ) کے قادیانی کو سزا
ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ (چناب نگر) نے دفعہ ۲۹۸- بی تعزیرات پاکستان کے تحت قادیانی محمد یوسف کو قادیانی عبادت گاہ کو مسجد کے نام پر موسوم کرنے کے جرم میں ایک سال قید اور پانچ سو روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ اس نے مرزا طاہر کے بارہ میں ایک نظم ”تازہ کلام“ تقسیم کی جس میں قادیانی مرکزی عبادت گاہ کو مسجد لکھا گیا تھا۔ اس پر مجلس تحفظ ختم نبوت کی درخواست پر پولیس نے ۲۷ ستمبر ۱۹۸۴ء کو پرچہ درج کیا تھا۔ جس کے تحت مئی ۱۹۸۶ء میں فیصلہ کے ذریعہ قادیانی سزا سنائی گئی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مؤرخہ ۲۳ مئی ۱۹۸۶ء ص ۱۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا کے عدالتی فیصلہ کا متن
قادیانی کلمہ طیبہ کا بیج نہیں لگا سکتے ۔ سرگودھا کی عدالت کا فیصلہ!
بعدالت جناب ضیاء الرحمن ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا۔
- ......۱ شیخ نعیم الدین وغیرہ : بنام سرکار رپورٹ ابتدائی نمبر ۹۳، ۱۹۸۶ء زیر دفعہ ۲۹۸ تعزیرات پاکستان تھانہ شہر سرگودھا ۔
- ......۲ نصیر احمد بنام سرکار : رپورٹ ابتدائی ۱۴۲ / ۱۹۸۶ء زیر دفعہ ۲۹۸ تعزیرات پاکستان تھانہ شہر سرگودھا ۔
- ......۳ اویس احمد جنور بنام سرکار : رپورٹ ابتدائی ۱۴۳ / ۱۹۸۶ء زیر دفعہ ۲۹۸، تعزیرات پاکستان تھانہ شہر سرگودھا ۔
درخواست ضمانت ...... فیصلہ : سائلان شیخ نعیم الدین ، شیخ جنود احمد ، حافظ محمد امجد ، محمد نصر اللہ ، بشیر احمد ، محمد احسن عارف زیر دفعہ ۲۹۸، تعزیرات پاکستان گرفتار کیا ۔ انہوں نے درخواست ضمانت گزاری ہے ۔ رپورٹ ابتدائی کے مطابق سائلان کے خلاف یہ الزام ہے کہ ان کا قادیانی فرقہ سے تعلق ہے ۔ جب کہ وہ کلمہ طیبہ کا بیج اپنے سینہ پر لگائے ہوئے تھے ۔ اپنے اس اقدام سے وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتے تھے ۔ اس طرح انہوں نے ملکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے ۔ ان کا موقف ہے کہ کلمہ طیبہ کا بیج لگانا قانون میں ممنوع نہیں ہے ۔ اس لئے سائلان کے خلاف کوئی جرم نہیں بنتا ہے ۔ سائلان نے مزید موقف یہ پیش کیا کہ ملکی آئین کے تحت وہ اپنے عقیدہ کے مطابق اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج کرنے میں آزاد ہیں ۔ جس پر کسی قسم کی قدغن عائد نہ کی جاسکتی ہے ۔ یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ سائلان کا تعلق قادیانی فرقہ سے ہے جو خود کو احمدی کہلاتے ہیں ۔ ان کے مذہب اور عقائد کو یہاں زیر بحث لانا مقصود نہیں ۔ کیونکہ وہ متنازعہ فیہ ہیں ۔ ان کے بنیادی عقائد کی رو سے محمد ﷺ کے نبی آخر الزمان ہونے پر ان کا ایمان نہ ہے ۔ اس کے باوجود وہ خود کو مسلمان گردانتے ہیں ۔ ٹائم بم کی طرح یہ خطرناک صورتحال ملک میں مختلف اوقات میں مذہبی ہنگامہ آرائی پر منتج ہوئی ۔ احمدیوں کی مذہبی حیثیت کا تعین پہلی مرتبہ آئینی ترمیم ایکٹ ۲۹ / ۱۹۷۴ء کی رو سے آرٹیکل ۲۶۰ میں کلاز (۳) ایزاد کر کے کیا گیا ۔ جس کی رو سے قرار دیا گیا کہ : ”ایسا شخص جو خاتم النبیین محمد ﷺ کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت کا عقیدہ نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم یا لفظ میں نبی ہونے کا دعویٰ کرے یا جو کسی بھی ایسے مدعی کو نبی یا مذہبی مصلح مانے وہ آئین اور قانون کی رو سے مسلم نہیں ہے ۔ باوجود یکہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے لیکن متواتر وہ تمام شعائر جو کلیتاً اسلام اور متبرک شخصیات سے موسوم ہیں ۔ ان کو استعمال کرتے ہیں جس پر اس ملک کی مسلم آبادی معترض ہے کہ ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں ۔ آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے تعزیرات کے ذریعہ تعزیرات پاکستان میں دفعات ۲۹۸-بی اور ۲۹۸-سی اس طرح ہے کہ قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ ( جو خود کو احمدی یا کسی بھی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں ) میں سے جو شخص اپنے آپ کو براہ راست یا بالواسطہ مسلمان ظاہر کرے گا یا اپنے عقیدہ کو اسلام کے نام سے ذکر کرے گا یا پکارے گا یا اس عقیدہ کی تبلیغ و تشہیر کرے گا یا دوسروں کو اپنے عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دے گا یا خواہ زبانی یا تحریری کلمات سے یا محسوس تعبیرات یا کسی بھی طریقہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی بے حرمتی کرتا ہے ۔ وہ کسی بھی قسم کی قید جو تین سال تک ہو سکتی ہے ، کی سزا پائے گا اور جرمانہ کا بھی مستحق ٹھہرے گا ۔ اس آرڈیننس ۲۰ / ۱۹۸۴ء جس کی وجہ سے احمدیوں کو غیر اسلامی اقدامات میں ملوث ہونے سے ممنوع قرار دیئے جانے کو وفاقی شرعی عدالت میں دو مرتبہ چیلنج کیا گیا اور دونوں مرتبہ انہیں ناکامی ہوئی ۔ رپورٹ شدہ فیصلہ جات پی . ایل . ڈی ۱۹۸۴ء فیڈرل شریعت کورٹ صفحہ ۱۳۶ اور پی . ایل . ڈی ۱۹۸۵ء فیڈرل شریعت کورٹ صفحہ نمبر ۸ میں شائع شدہ ہیں ۔ ۱۹۷۳ء کے آئین کے آرٹیکل نمبر ۲۰ کی رو سے جو بنیادی حقوق پاکستان کے
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء
تمام شہریوں کو حاصل ہیں کہ وہ جو چاہیں اپنا مذہب اختیار کریں یا اس کی تبلیغ وترویج کریں۔ لیکن یہ حق ملکی قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کے تابع ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ آئین کی مذکورہ دفعات کے باوجود سائلان خود کو مسلمان ظاہر کرنے اور اسلام کو اپنا مذہب کہنے پر مصر ہیں۔ وہ اپنے ظاہری اطوار سے خود کو بطور مسلمان پیش کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلمانوں کا یہ غیر متزلزل ایمان ہے۔ جس کی رو سے وہ محمد ﷺ کو قطعی غیر مشروط اور آخری نبی مانتے ہیں جو ان کے مذہب کی بنیادی اساس ہے۔ شریعت اسلامیہ کسی غیر مسلم کو اس کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے سینہ پر کلمہ طیبہ آویزاں کرلے جو شعائر اسلام ہے۔ بظاہر ایک غیر مسلم کے لئے کلمہ طیبہ کا بیج لگانا مضر رساں معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس کے مشاہدہ سے روحانی مسرت محسوس ہوتی ہے لیکن ایسا اقدام جو منافقت اور بد نیتی پر مبنی ہو جس کا مقصد مسلم امہ کو دھوکا دینا ہو تو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ میں فاضل وکیل سائلان کے مؤقف سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر جرم قانون کی ممنوعہ کلاز کے احاطہ میں نہ آتا ہو تو محض سزا دینے کی خاطر ضمانت نہ لینا مناسب نہیں بلکہ موجودہ کیس اس نوعیت کا نہیں ہے کہ ضمانت کی رعایت بطور اصول کلیہ کے دی جائے۔ بالخصوص جب کہ سائلان ملکی قانون کی صریح خلاف ورزی کے ارتکاب پر مصر ہوں۔ ہر وہ جرم جو شرارتاً بد نیتی پر مبنی ہو اور جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں ان کو بروقت روکنا ضروری ہے تاکہ ایسا ذہن رکھنے والے دیگر لوگ اس کا اعادہ نہ کریں۔ عدالت عالیہ کے جج نے پی. ایل. ڈی ۱۹۶۹ء لاہور صفحہ ۲۰۹ میں قابل ضمانت جرم کے ارتکاب پر بھی ضمانت کی رعایت نہ دینا مبنی بر انصاف اس بناء پر قرار دیا ہے کہ امن میں خلل اندازی اقدام قتل سے زیادہ سنگین ہے۔ الفتنه اشد من القتل ! لہٰذا واقعات مقدمہ کو متاثر کئے بغیر میں سائلان کو ضمانت کی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہوں۔ ہر سہ درخواستہائے ضمانت بدیں وجہ مسترد کی جاتی ہیں۔ تفتیشی عملہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ حتمی طور پر سائلان کے خلاف چالان علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں اندر معیاد چودہ یوم پیش کرے اور عدالت ماتحت دیگر مقدمات پر ان کیسوں کو فوقیت دیتے ہوئے ان کی روز بروز سماعت کرے۔ اس حکم کی نقل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سرگودھا کو برائے اطلاع مرسل ہو، جو ہدایت بالا پر عمل در آمد کو یقینی بنائے کیونکہ یہ معاملہ نہایت حساس نوعیت کا ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مورخہ ۲۳ مئی ۱۹۸۶ء ص ۲۱، ۲۲)
پاکستان میں عظیم تر پنجاب تحریک اور قادیانی ٹولہ
اندیشہ ہے کہ سکھ فوجی اور خالصتان گوریلے پاکستان میں سیاسی پناہ گزین نہ بن جائیں ۔ جیسا کہ خود بھارتی حکومت کی از حد خواہش اور کوشش بھی ہے۔ کیونکہ صرف اسی طرح راجیو گاندھی حکومت معاہدہ شملہ ختم کر کے آزاد سندھو دیش، آزاد بلوچستان، آزاد پختونستان اور عظیم تر آزاد پنجاب کی تحریکوں کو اعلانیہ تیز تر کرسکتی ہے۔ سکھ گوریلوں کا تعاقب کرنے کے بہانے اسرائیل اور جنوبی افریقہ کی طرح بھارتی حکومت تعاقبی مہم بھی شروع کرسکتی ہے۔ اس سلسلے میں ستمبر یا دسمبر کے مہینے تک پاک بھارت جنگ چھڑنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ آزاد خالصتان کی تحریک کو از خود عظیم تر آزاد پنجاب کی تحریک میں بدلنے کی خاطر خاصی سرگرم ہے۔ پاکستان میں آزاد خالصتانی سکھ لابی کے لئے کام کرنے والوں میں مرزائی، احمدی اور لاہوری قادیانی فرقے کے لوگ زیادہ سرگرم ہیں۔ ایک قادیانی دانشور نے ”امرتسر جل رہا تھا“ کے زیر عنوان جو کتاب لکھی ہے اس کا دیباچہ ایک ایسے شخص نے تحریر کیا ہے جو تقسیم کے خلاف ہے اور آزاد خالصتان کا حامی ہے اور امریکہ میں خالصتانی لابی کے ادیب کی حیثیت سے کام بھی کرچکا ہے۔ کتاب کے دیباچے میں امرتسر کو بیت المقدس کا نام دیا گیا ہے اور لکھا گیا ہے کہ ”امرتسر میرا بچھڑا ہوا یروشلم ہے اور میں اس کی دیوار گریہ ہوں ۔“ یعنی جس طرح اسرائیل کے یہودی بیت المقدس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر سلطنت داؤدی کا ستارۂ داؤد چمکتا ہوا دیکھنے کے خواہاں ہیں اور دیوار گریہ کے پاس روتے ہیں اسی طرح عظیم تر آزاد پنجاب کی تحریک کے حامیوں نے اپنا راستہ اینگلو امریکی بلاک کے حامی بن کر اب آزاد خالصتان کی تحریک سے جوڑ لیا ہے۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران کینیڈا، آسٹریلیا، ہالینڈ، برطانیہ اور امریکہ جانے والے پاکستانی دانشوروں کی کثرت آزاد خالصتان کی حامی سکھ لابی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے جن میں اکثریت پیپلز پارٹی والوں، احمدی قادیانی مرزائیوں یا ان کے ہمدردوں اور بعض چین نواز کمیونسٹوں کی ہے۔ پاکستان کے باہر تمام احمدی اور قادیانی دفاتر خالصتان کی آزاد حکومت یا عظیم تر پنجاب کی تحریک کے سفارت خانے اور سفارتی مشن کا خاموش کردار ادا کر رہے ہیں کہ کم از کم آزاد خالصتان کے بارے نشر و اشاعت کا سارا کام مرزائیوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔ ہانگ کانگ سے بھی آزاد سکھستان کے لئے سرمایہ براستہ کشمیر پہنچایا جا رہا ہے۔
(بشکریہ چٹان لاہور)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۹، مؤرخہ ۳۰؍ مئی تا ۵؍ جون ۱۹۸۶ء)
وزیر مذہبی امور کی ہدایت، قادیانی اور کلمہ طیبہ
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حاجی میر ترین نے ملک بھر کے ضلعی حکام کو ہدایت کی ہے کہ قادیانیوں کی عبادت گاہوں اور دکانوں سے کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کے کتبے فوری طور پر ہٹا دیئے جائیں۔ یہ احکامات انہوں نے مرکزی مجلس عمل کے مطالبے پر صادر کئے۔ مجلس عمل کے وفد میں تمام مسلمان مکاتب فکر کے جید علماء شامل تھے۔ قادیانی عبادت گاہوں میں کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کے کتبوں کا مسئلہ کئی ماہ سے ایک متنازعہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ حالانکہ قومی اسمبلی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے چکی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق قادیانیوں کے تمام گروہوں پر ہوتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد قادیانیوں کا تعلق اسلام اور اسلامی شعائر سے ختم ہو جانا چاہئے تھا لیکن قادیانی حضرات نے اس کے باوجود جو طرز عمل اختیار کیا اس سے علمائے کرام میں ایک اضطراب پیدا ہوا۔ کوئٹہ میں خاص طور پر سرکاری حکام کو کسی متوقع تصادم کو روکنے کے لئے خصوصی انتظامات کرنے پڑے اور دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی پر بعض قادیانیوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ جنہیں اب رہا کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر مملکت نے ملک کے تمام سرکاری حکام کو جو ہدایت کی ہے وہ قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہونے کے تاثر کو زائل کر دے گی۔ یہ بات خود قادیانی حضرات کے سوچنے کی ہے کہ قومی اسمبلی کے فیصلے کے بعد انہیں اسلامی شعائر کو استعمال کرنے سے از خود باز آ جانا چاہئے تھا۔ اس طرح ان کا الگ تشخص بھی قائم ہو جاتا۔ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے کر حکومت نے ان کی جان و مال کے تحفظ کی خصوصی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ انہیں اپنے جداگانہ تشخص کو قائم رکھنے کے لئے اپنے الگ مذہبی شعائر کا اہتمام کرنا چاہئے۔ ان کی موجودہ روش سے مسلمانوں کے ساتھ ان کے تصادم کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اسے ٹالنا چاہئے اور ایک وطن دوست غیر مسلم اقلیت کا ثبوت دینے کے لئے انہیں انتظامیہ سے پورا تعاون کرتے ہوئے از خود اسلامی شعائر کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے۔ وفاقی وزیر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تمام ضلعی حکام کو احسن طریقے سے یہ فریضہ انجام دینا چاہئے تاکہ ایک اقلیت کی دل شکنی بھی نہ ہو اور اسلام نے غیر مسلموں سے حسن سلوک کا جو حکم دیا ہے اس کا عملی مظاہرہ بھی سامنے آئے۔ علمائے کرام کا فرض ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے اس حکم اور ہدایت کی تعمیل میں رکاوٹ پیدا ہو۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مؤرخہ ۳۰؍ مئی تا ۵؍ جون ۱۹۸۶ء)
دنیا پور میں قادیانی گردی
امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی پر منیر احمد قوم شیخ سکنہ دنیا پور کے خلاف دفعہ ۲۹۸ کے تحت ۶؍ اپریل ۱۹۸۶ء کو پرچہ
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
درج ہوا۔ چند دنوں بعد اس کے لڑکے ارشد قادیانی نے اس طرح قانون شکنی کی۔ اس کے خلاف بھی ۲۳؍ اپریل کو پرچہ درج ہوا۔ کیس ریذیڈنٹ مجسٹریٹ لودھراں جناب غلام مصطفیٰ ڈوگر کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
(لولاک فیصل آباد مورخہ ۲۳؍ مئی ۱۹۸۶ء ص ۲۳)
۳؍ مئی ۱۹۸۶ء کو ارشد کی ضمانت کی عدالت نے درخواست مسترد کردی۔
(لولاک فیصل آباد مورخہ ۲۷؍ جون ۱۹۸۶ء ص ۲۰)
نو مسلم خاتون کی وزیر اعظم پاکستان سے درد بھری فریاد
نورین گل نامی ایک قادیانی خاتون جو لاہور کے ایک مشہور و معروف قادیانی مذہبی گھرانے کی دختر تھی، مسلمان ہوگئی اور ایک مسلمان نوجوان سے نکاح بھی کرلیا۔ قادیانیوں نے اسے دھمکیاں بھی دیں۔ لالچ بھی دیا اور انتظامیہ کے ذریعے ڈرایا، دھمکایا بھی، لیکن وہ اپنے مؤقف و مذہب پر ڈٹی رہی۔ مسلمان ہونے کے بعد اس پر جو مظالم ڈھائے گئے۔ اس کی مختصر سی وضاحت اسی کے ہاتھوں وزیر اعظم کے نام لکھی ایک درخواست میں بیان کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
لاہور: مؤرخہ ۷؍ جولائی ۱۹۸۶ء....... مکرمی و محترمی! میں اندرون بھاٹی گیٹ لاہور کے ایک معروف قادیانی گھرانے کی لڑکی ہوں۔ الحمد للہ! اس وقت مسلمان ہوں۔ کالج لائف میں ہی میں نے ربوہ سے بیزاری کا اظہار کر کے ایک مسلمان لڑکے طاہر نفیس سے شادی کا ارادہ کرلیا تھا لیکن مذہب دیوار بن گیا۔ ۸؍ جنوری ۱۹۸۳ء کو میں خطیب شاہی مسجد کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئی اور ۲۳؍ جنوری کو ہم نے اسلامی قانون کے مطابق شادی کر لی۔ قادیانیوں نے اس معمولی واقعہ کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیا۔ ابتداء میں میری واپسی کے لئے ان تھک کوشش کی گئی لیکن میری ضد نے ہر کوشش ناکام بنا دی۔ اس سلسلہ میں میرے شوہر کے سیاسی دشمن کامل علی آغا کونسلر حلقہ بلال گنج سے بھی ساز باز کی گئی۔ آخری ناکام پنچائت سابقہ ڈپٹی میئر اشفاق شاہد کے گھر ہوئی اور اس کے بعد قادیانی انتقام پر اتر آئے۔ کئی لمبے خفیہ ہاتھ حرکت میں آئے۔ پولیس اور انتظامیہ میں مرزائی افسران نے اشارہ پا کر اپنا فرض ادا کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک پڑھے لکھے شریف شہری کو بدمعاش بنا کر جیل بھیج دیا گیا۔
۱۹۸۶ء کو تھانہ لوئر مال لاہور نے میرے شوہر کو پرائز بانڈ ڈکیتی کیس میں ملوث کر کے قادیانی مجسٹریٹ بشیر احمد ناصر سے دس یوم کا ریمانڈ لیا اور اس پر بے پناہ تشدد کیا۔ طاہر کے ڈسچارج ہونے کے چند روز بعد ہی اصل ملزم پکڑے گئے لیکن ایک بے گناہ پر ناجائز تشدد کا کوئی حساب نہ دیا گیا۔ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو طاہر نفیس کو ایک اور مقدمہ قتل میں ملوث کر کے انتہائی عجلت میں اسی قادیانی مجسٹریٹ نے اسے اشتہاری قرار دیا اور پھر کسی خفیہ ہاتھ نے مقدمہ مارشل لاء عدالت میں بھجوا دیا لیکن چند روز بعد مارشل لاء اٹھا لیا گیا۔ مثل مقدمہ واپس آئی۔ جناب نواز شریف کے حکم پر تفتیش کرائم برانچ کے سپرد ہوئی تو طاہر کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔ جن دنوں طاہر اشتہاری تھا، کرشن نگر لاہور میں صرافہ کی دوکان پر ڈکیتی ہوئی۔ اخبارات میں طاہر کا نام دے دیا گیا۔ لیکن دس پندرہ روز بعد اس واردات کے اصل ملزمان بھی پکڑے گئے۔ غرض ایک منصوبہ کے تحت شہر میں ہونے والی ہر واردات میں اسے ملوث کر کے بدنام اور اس کا ریکارڈ خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ مارچ ۱۹۸۶ء میں اس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ بارہ گولیاں جسم میں پیوست ہوئیں لیکن خدا نے اسے زندگی دی۔
جب طاہر مقدمہ قتل میں نکلتا نظر آیا تو ۱۸؍ مئی ۱۹۸۶ء کو اسے بغیر وارنٹ گرفتار کر کے بارہ تیرہ یوم تک ناجائز حراست میں رکھا گیا۔ لوئر مال راوی روڈ، کرشن نگر اور شاہدرہ کے تھانیداروں اور ڈی.ایس.پی خالد مختار گوندل نے درندوں کی طرح اس پر تشدد کیا۔ پاؤں کے ناخن جلائے گئے۔ الٹا لٹکایا گیا۔ دہکتے ہوئے انگاروں پر چلایا گیا اور برف پر لٹایا گیا۔ جب ہائیکورٹ میں رٹ دائر ہوئی تو پانچوں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
افسران نے دروغ گوئی کر کے طاہر کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ بعد میں ایس. ایس. پی نے پریس کانفرنس کا ڈھونگ رچا کر اس کی گرفتاری کا اعلان کر دیا۔ اس پر ناجائز مقدمات قائم کئے گئے اور خطرناک ملزم کا لیبل لگا کر جیل بھیج دیا گیا۔ جہاں اسے بیڑیاں پہنائی گئیں اور قید تنہائی میں رکھا گیا۔ اس مکمل کارروائی کے پیچھے ایس. ایس. پی احمد نسیم اور میجر مشتاق ڈی. آئی. جی کا ذاتی ہاتھ تھا۔ جس کی ہر پولیس افسر نے تصدیق کی۔ یہ وہی میجر مشتاق ہے جس نے ایس. پی طلعت محمود سے مل کر مولانا اسلم قریشی کے مقدمہ کو الجھا دیا ہے۔ ہمیں فون پر مختلف پولیس افسروں نے یہ اطلاع دی کہ میجر مشتاق قادیانی ہے اور سب کچھ اس کے حکم پر ہو رہا ہے۔ ایس. ایس. پی احمد نسیم اور ڈی. آئی. جی میجر مشتاق مرزائی یا مرزائی نواز، یہ جاننا حکومت کا کام ہے۔ لیکن میرے شوہر کے ساتھ جو زیادتی ہوئی ہے اس کی ذمہ داری براہ راست حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پولیس تشدد کے باعث میرے شوہر کا دماغی توازن خراب ہو گیا ہے۔ آنکھوں کی بینائی کمزور پڑ گئی ہے اور اسے معذور بنا دیا گیا۔
میں آپ سے اسلام اور انسانیت کے نام پر اپیل کرتی ہوں کہ مکمل واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ورنہ میں یہی سمجھوں گی کہ پاکستان میں سب سے زیادہ مظلوم اور بے بس ”اسلام“ ہے اور جو اسلامی حکومت ایک مسلمان بیٹی کے گھر کی حفاظت نہ کر سکی وہ مملکت خداداد کی حفاظت کا فرض کس طرح پورا کرے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۸ تا ۱۴/ اگست ۱۹۸۶ء)
وزیر اعظم کے نام مرکزی مجلس عمل کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی کا خط
محترم جناب محمد خان جونیجو صاحب وزیر اعظم حکومت پاکستان اسلام آباد
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
گزارش ہے کہ ۱۶/ فروری ۱۹۸۶ء کو آنجناب کے ساتھ مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے رہنماؤں کے مذاکرات میں مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کے سلسلے طے پایا تھا کہ:
صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لئے وفاقی وزیر مذہبی امور کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ جس میں مرکزی مجلس عمل کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ نیز آرڈیننس پر مؤثر عمل درآمد کے لئے صوبائی حکومتوں کو فوری ہدایات جاری کی جائیں گی۔
حکومت اپنی مقرر کردہ تفتیشی ٹیم کے ذریعہ انکوائری کرا کے چار ماہ کے اندر یہ بتائے گی کہ مولانا محمد اسلم قریشی زندہ ہیں یا شہید کر دیئے گئے ہیں اور اگر شہید کر دیئے گئے ہیں تو قاتل کون ہیں؟ اور ان کے خلاف کیا قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ نیز مقررہ مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل حکومت اس سلسلہ میں مرکزی مجلس عمل کو اعتماد میں لے گی۔
جہاں تک صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد کا تعلق ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں مشترکہ کمیٹی تشکیل پا چکی ہے اور اس کے دو اجلاس بھی ہو چکے ہیں لیکن آرڈیننس پر عمل درآمد کے ابھی تک کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ بالخصوص ربوہ میں آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی انتہائی تکلیف دہ صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی کے سلسلہ میں پولیس کی نقل و حرکت کی خبریں وقتاً فوقتاً اخبارات کی زینت بن رہی ہیں لیکن واقعات کی رفتار اور تفتیشی ٹیم کی کارکردگی کے انداز سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ تفتیش کو مؤثر طور پر آگے بڑھانے اور مولانا محمد اسلم قریشی کے اغواء کے ذمہ عناصر کو قانون کی گرفت میں لینے کے لئے غالباً کوئی سنجیدہ قدم ابھی تک نہیں اٹھایا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیا۔ جب کہ چار ماہ کی مدت ۱۵؍ جون کو مکمل ہو رہی ہے اور اس کیس کے سلسلہ میں حتمی نتیجہ سے اس عرصہ کے اندر مرکزی مجلس عمل کو آگاہ کرنے کی پابند ہے۔ مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے آنجناب کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ایک فرد کی حیثیت سے میں آپ کو توجہ دلانا اور آپ سے یہ عرض کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ از راہ کرم ذاتی اور فوری توجہ فرما کر ۱۶؍ فروری ۱۹۸۶ء کے سمجھوتے کی تکمیل کی راہ نکالیں تاکہ اس حساس اور نازک مسئلہ کے قانونی اور دینی تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اس سلسلہ میں اسلامیان پاکستان کے عمومی اطمینان کی صورت بھی پیدا کی جاسکے۔
ابو عمار زاہد الراشدی سیکرٹری اطلاعات مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۴ تا ۱۰؍ جولائی ۱۹۸۶ء ص ۱۷)
ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے نام کھلا خط
مکرمی جناب ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع سرگودھا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجلس تحفظ ختم نبوت چک نمبر ۷۱ جنوبی ضلع سرگودھا کا اجلاس زیر صدارت چوہدری محمد یوسف کھرل منعقد ہوا جس میں آپ کے متعلق حسب ذیل قرارداد منظور ہوئی۔ امید ہے کہ آپ اولین فرصت میں اس پر عمل درآمد کروا کر مشکور فرمائیں گے۔ چک نمبر ۷۱ جنوبی میں قادیانی نمبردار نے ہماری مسجد کے لئے حکومت کی طرف سے مخصوص دو ایکڑ زمین میں سے ایک ایکڑ پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ جس کی آمدنی خود کھا رہا ہے۔ مہربانی فرما کر یہ رقبہ ہماری مسجد کو واپس دلایا جائے۔ مورخہ ۲۸؍ مارچ ۱۹۸۶ء کو مجلس ہذا نے ایک قرارداد آپ کی خدمت میں ارسال کی تھی جس میں قادیانیوں کو اذان دینے سے روکنے، تبلیغ کرنے سے باز رہنے اور اپنی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ کی تختی ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جس پر آپ کے حکم پر ایس ایچ او تھانہ کڑانہ نے دونوں فریقوں کو طلب کیا۔ جہاں قادیانیوں کے نمائندے ناصر اور سردار خان نے یقین دلایا کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہ ہوگی۔ تصفیہ ہوگیا۔ بعد ازاں قادیانی اذان اور لٹریچر کی تقسیم سے تو باز آگئے ہیں۔ لیکن کلمہ طیبہ کی تختی ابھی تک نہیں ہٹائی۔ جس سے مسلمانوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ قادیانیوں کو کلمہ پاک کی بے حرمتی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ آپ سے مناسب کارروائی کی استدعا ہے۔
محمد یوسف کھرل صدر محمد عبد الخالق صدیقی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت چک نمبر ۷۱، جنوبی سرگودھا
بدو ملہی میں قادیانی اشتعال انگیزی
بدو ملہی ضلع سیالکوٹ میں قادیانیوں نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی کی۔ مقامی مسلمانوں کی درخواست پر موقعہ ملاحظہ کے لئے علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس گئی تو قادیانیوں نے ان پر پتھراؤ کیا۔ سیالکوٹ سے پیر سید بشیر احمد، حافظ محمد صادق، مولانا نعیم آسی بدو ملہی آئے۔ تمام مکاتب فکر کی مشترکہ مجلس عمل کی تشکیل کی۔ بدو ملہی کے واقعہ پر اسسٹنٹ کمشنر نارووال نے تحریری وعدہ کیا کہ وہ ایک ہفتہ میں انکوائری مکمل کر کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوائیں گے۔
(لولاک فیصل آباد، مورخہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۸۶ء ۱۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ۳۷ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ژوب تحریک ختم نبوت ایک نظر میں
جولائی ۱۹۸۶ء کو ہفت روزہ لولاک میں ژوب کے مجاہد ختم نبوت صوفی محمد علی فخر نے ژوب میں تحریک ختم نبوت کے آغاز، عروج اور نتائج پر ایک نہایت دلچسپ مضمون لکھا۔ تاریخ کا حصہ بنے اور صحیح حالات مسلمانوں کے سامنے آئے۔ اس نیت سے نقل کرتے ہیں۔ بقول شورش: ”لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں ۔‘‘ اپنے اخبار چٹان میں انہوں نے تاریخ کو مرتب کرنے کی بہت ترغیب دی ہے۔ مبادا عقابوں کا یہ نشیمن زاغوں کے تصرف میں نہ چلا جائے۔ ملاحظہ ہو:
فورٹ سنڈیمن میں کام کی ابتداء
مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے فعال اور مجاہد رہنما فیاض حسن سجاد کوئٹہ کے والد گرامی ملک محمد حسن سجاد فورٹ سنڈیمن میں کاروبار کیا کرتے تھے۔ اوائل ۱۹۶۸ء میں فیاض حسن سجاد صاحب اپنے والد گرامی سے ملنے فورٹ سنڈیمن گئے تو انہوں نے صوفی محمد علی صاحب کلاتھ مرچنٹ نے مجلس کی ژوب میں شاخ قائم کرنے پر زور دیا۔ صوفی صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری کو ژوب میں آنے کی دعوت دی جائے۔ وہ تقریر فرمائیں، ذہن سازی ہو۔ پھر مجلس کی شاخ یہاں پر قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔
مولانا محمد علی جالندھری کی فراست ایمانی: فیاض حسن سجاد صاحب کا کہنا ہے کہ جب مولانا محمد علی جالندھری کوئٹہ تشریف لائے تو میں نے ژوب کے لئے درخواست کی۔ میں درخواست کر کے ابھی فارغ نہ ہوا تھا کہ مولانا نے فوراً آمادگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میری عرصہ سے دلی خواہش تھی کہ ژوب میں مجلس کی شاخ قائم ہو۔ آپ ان کو اطلاع کریں۔ فلاں دن ژوب چلیں گے۔ فیاض صاحب فرماتے ہیں کہ میں اس وقت نہ سمجھ سکا کہ مولانا اتنی جلدی ژوب کے دورہ کے لئے کیوں آمادہ ہو گئے۔ بعد میں آنے والے حالات وواقعات نے بتا دیا کہ مولانا کی یہ فراست ایمانی، وجدان ومؤمنانہ کشف تھا کہ ژوب نے ہی آگے چل کر تحریک ختم نبوت میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔
۱۰؍اگست ۱۹۶۹ء کو حضرت مولانا محمد علی نے ژوب کے لئے کوئٹہ سے سفر کیا۔ فیاض صاحب آپ کے ساتھ تھے۔ ژوب سے باہر ۱۴؍میل دور ژوب کے عوام نے مولانا کا والہانہ استقبال کیا۔ استقبال کنندگان نے پٹھان روایات کے مطابق فضا میں فائرنگ کر کے ارتعاش کی کیفیت پیدا کر دی۔ نعرۂ تکبیر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد، پاکستان زندہ باد، اسلام زندہ باد، مولانا محمد علی جالندھری زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گردونواح کا ماحول جھوم اٹھا۔ موٹر گاڑیوں، سکوٹروں، جیپوں، بسوں، ٹرکوں کے جلوس میں آپ ژوب تشریف لائے۔ مرکزی جامع مسجد میں آپ نے خطاب فرمایا۔ ۱۰؍اگست ۱۹۶۹ء بروز پیر بعد از نماز عشاء صوفی محمد علی کی صدارت میں ختم نبوت ژوب کے زیر اہتمام پہلے تبلیغی جلسہ ختم نبوت سے مولانا محمد علی جالندھری نے خطاب فرمایا۔ فیاض حسن سجاد نے اپنی نوعمری کے باوجود قرار دادیں اور ان پر مختصر تقریر کی۔ جناب الحاج شیخ محمد عمر صاحب کو مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کا امیر اور الحاج صوفی محمد علی صاحب کو ناظم مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد ہر سال یہاں پر کانفرنس منعقد ہوتی رہی۔ مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا محمد حیات، مولانا محمد شریف جالندھری اور دوسرے بزرگ تشریف لا کر اہلیان ژوب کے قلب وجگر کو منور کرتے رہے۔ یہاں پر مجلس کا دفتر بھی قائم ہو گیا۔ سالانہ کانفرنس کے علاوہ گاہے بگاہے مبلغین حضرات دورہ کے لئے تشریف لاتے رہے۔ ۱۹۷۲۔۷۳ء میں حضرت مولانا محمد علی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جالندھری کی وفات کے بعد مولانا لال حسین اختر کو مجلس کا مرکزی امیر منتخب کیا گیا تھا۔ آپ ۱۹۷۲ء میں ژوب تشریف لائے۔ آپ کے خطاب نے کفر و اسلام مرزائیت و مسلمانوں میں حد تمیز قائم کر دی۔ آپ کا یہ خطاب بہت ہی زیادہ تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔
حق و باطل کا پہلا معرکہ: ۱۹۷۳ء میں مرزائیوں نے ربوہ کے چھپے ہوئے قرآن مجید کے تحریف شدہ نسخے ژوب میں تقسیم کئے ۔ ان کی سازش کی اطلاع ملتے ہی صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ نے نوروز ہزاروی نامی ایک شخص سے یہ نسخہ قیمتاً حاصل کیا۔ دوسرا نسخہ سکندر شاہ پی ۔ این ۔ ڈی ۔ آر ڈائریکٹر ڈرائیور سے حاصل کیا۔ اس وقت ژوب میں قادیانیوں کے تقریباً ساٹھ گھرانے آباد تھے۔ مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے باعث ان کی فرعونیت اپنے عروج پر تھی۔ وہ خاطر میں کسی کو نہ لاتے ہوئے دن رات مرزائیت کی تبلیغ میں مصروف تھے۔ ان قرآن مجید کے محرف ومبدل نسخوں پر علمائے کرام کی میٹنگ میں غور وفکر کیا گیا۔ اس میٹنگ میں مولانا شاہ محمد، مولانا میرک شاہ، مولانا رحمت اللہ، مولانا محمد زاہد، مولانا عبدالرحمن، مجاہد ختم نبوت مولانا شمس الدین شہید اور حافظ عبدالغفور نے شرکت کی۔
علماء کرام نے بالاتفاق فیصلہ دیا کہ قرآن مجید کے ان نسخوں میں تحریف و تبدیلی کر کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کی اس جارحانہ سازش و شرارت کے خلاف احتجاجی جلسہ کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کے ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے جب لاؤڈ سپیکر نصب کر کے شہر میں احتجاجی جلسہ عام کا اعلان کیا۔ ۱۳؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو ظریف شہید پارک میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ جلسہ کی صدارت شیخ محمد عمر نے کی۔ حاضرین کی تعداد ۳۰، ۴۰ ہزار سے متجاوز تھی۔ جلسہ کے بعد جلوس نکالا گیا۔ شہر میں ہڑتال ہو گئی۔ پورا شہر سڑکوں پر امڈ آیا۔ رزاق نامی بھائی کی دوکان کھلی دیکھ کر مظاہرین نے اس پر پتھراؤ کیا۔ جلوس شہر کے مختلف حصوں سے گزر کر ڈی سی آفس گیا اور بالاتفاق ایک ہی مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو ہمیشہ کے لئے فورٹ سنڈیمن (ژوب) سے نکالا جائے۔ اس سے کم کسی بات پر سمجھوتہ ناممکن ہے۔ احتجاجی جلوس، ہڑتال اور مظاہروں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ حکومت نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر مرزائیوں کو فورٹ سنڈیمن سے ہمیشہ کے لئے نکالنے کا وعدہ کر لیا۔ مگر عوام کے جوش خروش کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بالاتفاق کہہ دیا کہ جب تک اس وعدہ پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ ہڑتال و احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ہمیشہ کے لئے ژوب سے مرزائیوں کو نکال دیا گیا
بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا مرزا بشیر الدین محمود نے ۱۹۴۱ء میں اپنی جماعت کو مژدہ سنایا۔ مگر آج ۱۶؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو چشمِ فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ صوبہ جس کی طرف مرزائی للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ آج اس کے ایک اہم ضلع ژوب سے ہمیشہ کے لئے مرزائیوں کو وفاقی فورس سے نکال دیا۔ چنانچہ پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد ضلع ہے جہاں حکماً مرزائیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا اور یوں مرزائی نحوست کو اس ضلع سے دیس نکالا دے دیا گیا۔ ژوب کے عوام مجلس کے کارکن تمام علماء کرام بالخصوص حضرت مولانا شمس الدین شہید جو ان دنوں بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے۔ اس عظیم معرکہ کو سر کرنے کا سہرا ان کے سر ہے۔
ژوب میں دوسرا معرکہ
۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ اسٹیشن پر مرزائیوں نے مسلمان طلباء کو مارا، جس کے نتیجے میں تحریک چل پڑی۔ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو بھٹو ژوب تشریف لائے۔ چلڈرن پارک میں انہوں نے جلسہ عام کرنا تھا۔ ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے ختم نبوت کے مطالبات پر مبنی پوسٹر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے اور کوئٹہ سے منگوائے اور تمام پارٹیوں کے ان مطالبات پر بالاتفاق دستخط کرائے اور ان پوسٹرز کو نائب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امیر محمد عبداللہ زئی کے حوالہ کر دیا۔ بھٹو کے ژوب میں آنے پر سب لوگوں میں یہ بینرز بانٹ دیئے گئے۔ جلسہ کے وقت بطور حفاظت ملیشیاء کے ساتھ گھوڑے تعینات کئے گئے۔ ملٹری بھی تھی۔ بھٹو صاحب جب سٹیج پر تشریف لائے تو ختم نبوت کے اراکین نے صاف صاف کہہ دیا کہ بھٹو صاحب آپ مرزائیوں کے ایجنٹ ہیں۔ آپ ہی مولوی شمس الدین کے قاتل ہیں۔ اب پھر آپ ژوب آئے ہیں اور عوام سے خطاب کر رہے ہیں۔ بھٹو صاحب چلا چلا کر کہنے لگے۔ بیٹھو بھائی ،سنو بھائی ۔
اس کے بعد بھٹو صاحب پر ٹماٹروں ، پیازوں اور انڈوں کی بوچھاڑ شروع کر دی گئی ، جس کے نتیجہ میں جلسہ منتشر ہوا۔ جام غلام قادر ایک طرف بھاگ رہے تھے۔ نواب تیمور شاہ اور پولیٹیکل ایجنٹ نے بھٹو صاحب سے گولی چلانے کو کہا مگر بھٹو صاحب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ سب نے بھاگنا شروع کر دیا۔ پولیٹیکل ایجنٹ ایک طرف بھاگ رہے تھے تو باقی لوگ دوسری جانب کو بھاگ رہے تھے۔ یوں بھٹو صاحب جلسہ نہ کر سکے تمام وزراء کسی نہ کسی طرح جان چھڑا کر چلے گئے۔ جب جلسہ ختم ہوا تو نائب امیر ختم نبوت محمد عمر کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھٹو صاحب نے رات وہیں ژوب میں بسر کی۔ اس رات بھٹو صاحب نے غصہ میں تمام وزراء ، پولیٹیکل ایجنٹ ، پیپلز پارٹی کے عہدے داروں سے کہا کہ تم لوگوں نے مجھے اس بے عزتی کے لئے بلایا تھا۔ جب صبح ہوئی تو بھٹو صاحب جہاز میں بیٹھ کر ژوب سے روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے شغالہ گئے۔ اس کے بعد قمر الدین وہاں پر سب ملکوں کو بلا کر ان میں خوب رقم بانٹ دی۔ وہاں ہی بھٹو صاحب مسلم باغ گئے۔ مسلم باغ میں بھی خوب رقم تقسیم کی ۔مگر وہ حالات سے اس قدر پریشان تھے کہ کوئٹہ میں جا کر جلسہ میں ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کی مرزائیوں کے فیصلہ کے لئے تاریخ مقرر کر دی۔ ورنہ پہلے وہ تاریخ مقرر نہ کر رہے تھے۔
یوں بحمدہ تعالیٰ اہالیان ژوب نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں فیصلہ کن قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان حالات میں ۲۵؍ جولائی کو ناظم اعلیٰ صوفی محمد علی نے کوئٹہ اور ملتان ختم نبوت کے تمام علماء کو تار دیا ( جو کانفرنس کرنے کے لئے ژوب آنے والے تھے ) ان میں کانفرنس ملتوی کر دی گئی۔ کیونکہ منتظمین کا کوئی اعتبار نہیں تھا۔ کسی بھی وقت وہ گرفتار ہو سکتے تھے۔
حاجی محمد یسین مندوخیل کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ وہ چونکہ بیمار تھے اس لئے ۲۸؍ دن تک ہسپتال میں رکھا۔ اسی دوران امیر ختم نبوت شیخ محمد عمر نے صوفی محمد علی سے کہا کہ میں آپ کو پناہ دے دوں گا تا کہ پولیس آپ کو گرفتار نہ کر سکے۔ مگر صوفی محمد علی نے پناہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ حاجی صاحب مجھے انہوں نے چھوڑنا نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے جلسہ خراب کیا ہے۔ اس لئے میں چھپنا نہیں چاہتا۔
گرفتاریاں: ۲۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء کو صوفی محمد علی ، حاجی احمد کی دوکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس شیخ عبدالمجید تھانیدار آیا۔ انہیں گرفتار کر کے تھانے میں الگ کمرے میں بند کر دیا۔ ان کے علاوہ جتنے بھی علمائے کرام نظر آئے ان سب کو گرفتار کر لیا گیا۔ مسجد میں نماز پڑھنے والا کوئی نہ رہا۔ ملا خاتوں تین دن سے چھپا ہوا تھا۔ تیسرے دن جب مسجد آیا تو مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔ مولوی نور محمد منی کو بازار لیویز بھیج کر بلا لیا گیا۔ مولانا شمس الدین کے چچازاد بھائی مولانا احمد شاہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا میرک شاہ صاحب ، حافظ علیم الدین موسیٰ خیل ، ملا اسحق اور جمعیۃ علماء اسلام کے اراکین کی بڑی تعداد میں گرفتاری عمل میں آئی ۔صوفی محمد علی کو الگ کمرہ میں رکھا گیا۔ انہیں سونے کے لئے بستر تک نہیں دیا گیا۔ طالب نامی پولیس مین ( جو کہ لورالائی کا رہنے والا تھا ) نے قیدیوں کو گالیاں دیں اور کہا کہ تم سب لوگ بے ایمان ہو۔ قیدیوں نے گیارہ دن تھانے میں گزارے۔ اس کے بعد انہیں سب جیل منتقل کر دیا گیا۔ جب یہ قیدی چلے گئے تو طالب پولیس والا بیمار پڑ گیا۔ اس کی نکسیر پھوٹ گئی اور مرغا کبزئی ( ژوب سے پچپن میل کے فاصلے پر واقع گاؤں ) میں مر گیا۔ پھر انہیں گھر پہنچا دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسمبلی میں بحث: بھٹو صاحب نے یہاں سے واپس اسلام آباد جا کر اسمبلی میں مرزائیوں کا کیس پیش کر دیا۔ چنانچہ مرزا ناصر کو اسلام آباد میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے طلب کیا گیا۔ وہاں پر چودہ دن تک بحث ومباحثہ ہوا۔ جس میں کتابیں مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر پیش کرتے تھے اور پیرزادہ وزیرتعلیم کو یہ بتایا گیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”جو مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے وہ کنجری اور سوروں کی اولاد ہیں۔“ یہ سن کر پیرزادہ نے کہا کہ مرزائی تو پکے بے ایمان ہیں۔
مفتی محمود صاحب نے بھٹو کو صاف صاف بتلایا کہ یہ ۱۹۵۳ء کی بات نہیں ہے جس میں ختم نبوت والوں پر گولیاں چلائی گئیں اور انہیں شہید کر دیا گیا۔ قوم میں اشتعال ہے کہ یہاں پر نہ تم رہ سکتے ہو نہ یہ قوم۔ اگر آپ نے مرزائیوں کو کافر قرار دے دیا تو آپ بھی بچ جائیں گے اور یہ قوم بھی۔ بھٹو نے کہا کہ میں کیا کروں مجھے ڈر سا محسوس ہوتا ہے۔ بعد میں فوج کو تمام جگہوں پر تعینات کر دیا گیا۔ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو دن کے ساڑھے بارہ بجے اکتیس دن جیل میں رہنے کے بعد تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔ نائب امیر ماسٹر محمد عمر عبداللہ زئی ڈیڑھ سال جیل میں رہنے کے بعد رہا کئے گئے۔ اسی رات کو آٹھ بجے مرزائیوں کو خارج از اسلام قرار دینے کا اعلان کیا گیا۔ یوں مرزائیوں کا بیڑہ تباہ ہو گیا۔ ملک بھر میں خوشی ہوئی۔ اس خوشی میں ژوب میں مدرسہ شمس العلوم میں خیرات کی گئی۔ یہ خیرات ختم نبوت کے اراکین نے کی جس کے انچارج حاجی شیخ محمد عمر تھے۔ صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ نے کھانا کھلایا۔
۱۴؍جولائی ۱۹۷۵ء کو ژوب میں ختم نبوت کا سالانہ تبلیغی جلسہ ہوا۔ جلسہ کے بعد پھر خیرات کی گئی۔ اس کے دو دن بعد ۱۶؍جولائی ۱۹۷۵ء کو رات کے نو بجے امام جامع مسجد مولوی میرک شاہ صاحب وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
پھر ہر سال ژوب میں سالانہ تبلیغی جلسہ منعقد ہوتا رہا۔ سوائے ۱۹۷۶ء اور ۱۹۸۴ء کے اور ہر سال جلسہ کے وقت شیخ محمد عمر عالیشان دعوت کرتے رہے۔ شیخ محمد عمر ختم نبوت کے علماء کرام اور مقامی لوگوں کی ہر سال ذاتی طور پر عالیشان دعوت کرتے رہے۔ شیخ محمد عمر نے ختم نبوت کی بہت خدمت کی اور ان کے بیٹے بھی ختم نبوت کی بہت خدمت کرتے ہیں۔ یہ نوے سالہ امیر شیخ محمد عمر اب بھی صحت مند ہے۔ مگر آنکھوں کی بینائی کمزور ہے۔ کوئٹہ ختم نبوت کے جلسہ میں شرکت کرنے کے لئے اب بھی خود جاتا ہے اور ختم نبوت کے دفتر کے لئے زمین دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
۱۴؍ مارچ ۱۹۷۷ء کو قومی اتحاد کے حکم پر ختم نبوت کے کارکنوں نے پرامن جلوس نکالا۔ وفاقی فورس ایف ایس ایف نے جلوس نکالنے والوں پر لاٹھی چارج کیا۔ امیر جماعت مولوی الحق خوشی ، عبدالعلیم قریشی، شہزادہ احمد خان ، بابر شیخ ، غلام مرتضیٰ کو سخت زخمی کر دیا۔ امیر ختم نبوت شیخ محمد عمر کو پولیس نے لاٹھی ماری وہ نالی میں گر گئے۔ انہوں نے خود لاٹھی پولیس پر اٹھائی۔ پندرہ بیس آدمیوں کو سخت زخمی کیا۔ آنسو گیس کا بھی استعمال ہوا۔ ایف ایس ایف نے لاٹھی چارج کا حکم دیا۔ بعد میں پھر گولی چلائی گئی۔ موسیٰ خان افغانوزئی کا لڑکا گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ غرض بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ شہر بھر میں آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس گیس سے گھروں کو تکلیف پہنچی۔
حرف آخر: بحمدہ تعالیٰ جس پودے کو ژوب میں ۱۹۶۹ء میں مولانا محمد علی جالندھری مرحوم ومغفور نے لگایا تھا اب وہ نہ صرف تنا آور درخت بن چکا ہے بلکہ اس کے ثمرات سے پوری تحریک ختم نبوت نے نفع اٹھایا ہے۔ ہر سال جولائی میں یہاں ختم نبوت کانفرنس ہوتی ہے۔ یوں جولائی ۱۹۷۳ء میں مرزائیوں کے فورٹ سنڈیمن سے نکالے جانے کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۳ تا ۱۵، مورخہ ۱۱؍ جولائی ۱۹۸۲ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوئٹہ کے قادیانیوں کی آئینی خلاف ورزی
کوئٹہ کے قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ کے اوپر ایک بورڈ پر کلمہ طیبہ لکھوایا۔ مقامی مسلمانوں نے یہ اشتعال آمیز حرکت دیکھی تو مفاہمتی انداز میں قادیانیوں سے بات کی کہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ہماری دل آزاری ہوتی ہے لیکن قادیانیوں نے نہایت سخت اور تلخ انداز میں مسلمانوں کو ٹالا بلکہ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ مسلمانوں نے مایوس ہو کر مقامی انتظامیہ کو شکایت کی اور قادیانیوں کی اس آئینی خلاف ورزی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود انتظامیہ بے حسی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ قریباً سات دن گزرنے کے باوجود اور بار بار مطالبہ کرنے کے بعد بھی انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہ کی۔ قادیانی اپنے پیشوا مرزا طاہر کے بیان پر پورے کے پورے عمل پیرا تھے جو اس نے صدارتی آرڈیننس امتناع قادیانیت پاس ہونے پر دیا تھا کہ ”اب احمدیوں نے لوہے کی ٹوپی پہن لی۔ مذہبی شعائر پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔“ اور قادیانیوں کو ہدایت کی کہ کلمہ طیبہ کے بیج اور شعائر کا استعمال دھڑلے سے کرو۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس سلسلے میں ایک اجلاس میں متفقہ قرارداد بھی منظور کی لیکن حکومت اس سلسلے میں بالکل خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہی۔ اس پر کچھ مسلمان طلباء انور شاہ ، نصر اللہ کاکڑ ، سلیم خان ، محمد کاظم مینگل، احسان شیرانی اور دیگر نے قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ ہٹایا۔ قادیانیوں نے اس وقت طالب علموں کی کثرت دیکھ کر کوئی مزاحمت نہیں کی۔ البتہ ان کے جانے کے بعد چند گھنٹوں میں کلمہ طیبہ کی عبارت کو عبادت گاہ کے محراب پر پختہ طریقے سے کندہ کرایا۔ جس پر مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ ۲۸؍ اپریل ۱۹۸۶ء کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس صوبائی امیر یادگار سلف ترجمان علماء حق حاجی محمد زمان خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔
آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کی نومنتخب مجلس علماء کا اجلاس صوبائی صدر حاجی محمد زمان خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں جمعیتہ علماء اسلام ، جماعت اسلامی ، اتحاد المسلمین ، جمعیتہ اہل حدیث ، جمعیتہ طلباء اسلام ، اسلامی جمعیت طلباء، مجلس تحفظ حقوق اہل سنت ، دیگر مذہبی اور سیاسی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ۹؍ مئی ۱۹۸۶ء کو نماز جمعہ کے بعد صوبائی دارالحکومت کی تمام مساجد سے جلوس نکالے جائیں جو میزان چوک پر جمع ہوں گے۔ وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اجتماع ہوگا۔ بعد ازاں مجلس عمل کے رہنماؤں کی قیادت میں بصورت جلوس روانہ ہو کر سنڈیمن سکول کے سامنے فاطمہ جناح روڈ پر ایک عظیم الشان جلسہ ہوگا۔ جس سے تمام مکاتب فکر کے علماء خطاب کریں گے۔ جلسے کے اختتام پر نماز عصر وہیں ادا کی جائے گی۔ اس سے قبل صوبائی صدر نے تمام مسلمانوں پر معاملے کو واضح کیا تھا کہ سات دن قبل فاطمہ جناح روڈ واقع قادیانی عبادت گاہ پر سے کلمہ طیبہ طلباء نے مٹا دیا تھا لیکن چند گھنٹوں کے بعد قادیانیوں نے صدارتی آرڈیننس کی دھجیاں اڑا کر دوبارہ اپنی عبادت گاہ پر کلمہ طیبہ تحریر کر دیا۔ اس مسئلے پر عالمی مجلس نے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ مٹانے کے لئے تین دن کی مہلت طلب کی۔ لیکن سات دن گزرنے کے بعد بھی کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ بنابریں مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان نے عملی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اگر انتظامیہ نے قادیانی عبادت گاہ کی ہیئت اور شکل مسجد سے تبدیل نہ کی تو مجلس عمل خود عملی اقدام کرے گی۔
قادیانی عبادت گاہ کے سامنے جلسہ کے انتظامات کے لئے کئی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جو ۸؍ مئی ۱۹۸۶ء کے اجلاس میں اپنی رپورٹیں پیش کریں گی۔ دریں اثناء مجلس عمل کے سالار عنایت اللہ خان بازئی نے مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں کو ہدایت کی کہ اس عظیم مظاہرے کے لئے اپنے رضا کاروں کی فہرست مہیا کردیں۔ اجلاس کے شرکاء میں حاجی محمد امین اللہ خان ، مولانا اللہ داد خیر خواہ ، حافظ حسین
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد (جمیعۃ علماء اسلام)، عبدالمجید خان، مولانا عبدالغفور بلوچ، چوہدری محمد حسین (جماعت اسلامی)، مولانا محمد ادریس فاروقی (جمیعۃ اہل حدیث)، مولانا انوار الحق حقانی خطیب مرکزی جامع مسجد، مولانا حسین احمد شرودی خطیب مسجد الحبیب، اعجاز یوسف ایڈووکیٹ (مجلس تحفظ حقوق اہل سنت)، مولانا نیاز محمد، عنایت اللہ بازئی، حاجی عبدالمتین، محمد نعیم ترین (جمیعۃ علماء اسلام)، مولانا محمد شفیق، حاجی سید شاہ محمد، فیاض الحسن سجاد، سید سیف اللہ آغا، مولانا عبداللہ جان بحرالعلوم، چوہدری محمد طفیل صاحب احرار، نصراللہ خان کاکڑ، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی عبدالمنان اور راحت ملک شامل ہیں۔
مجلس عمل کے اعلان کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ۳۰؍ اپریل کو قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ ہٹا دیا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے فیصلے کی تمام دینی جماعتوں جمیعۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، مجلس تحفظ حقوق اہل سنت، تنظیم اہل سنت، سوادِ اعظم، جمیعۃ علماء پاکستان، جمیعۃ اشاعت توحید اہل سنت، جمیعۃ اہل حدیث، انجمن اتحاد المسلمین، جمیعۃ طلباء اسلام، اسلامی جمیعۃ طلباء اور دوسری تنظیموں نے اخباری بیانات کے ذریعے مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ تنظیم تحفظ ختم نبوت طلباء کے صدر سید انور شاہ نے ۳۰؍ اپریل کو پریس کانفرنس میں قادیانیوں کے خلاف مجلس عمل کی کارروائی کی مکمل حمایت کی اور طلباء تنظیموں سے مل کر مظاہرہ کی تیاری شروع کر دی اور اپنے اجتماع میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا گیا اور مسلمانوں کو مسئلہ کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ نے صوبائی حکومت کو صورتحال سے آگاہ کر دیا۔
ضلعی انتظامیہ نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے۔ انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ انتظامیہ نے کلمہ طیبہ ہٹا دیا ہے۔ اس لئے مجلس عمل مزید کارروائی نہیں کرے گی۔ اس گہما گہمی میں تنظیم تحفظ ختم نبوت پاکستان کے صدر حافظ محمد اسلم صاحب اور لاہور کے خالد متین نے کوئٹہ کا دورہ کیا جو بہت مؤثر ثابت ہوا۔ ۸؍ مئی کو وہ لاہور روانہ ہو گئے۔ ۸؍ مئی کو مجلس عمل کا اجلاس صوبائی امیر حاجی محمد زمان خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی خبر جو اخبارات میں شائع ہوئی وہ یہ ہے:
کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کا ایک اہم اجلاس صوبائی امیر جناب حاجی محمد زمان خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مجلس نے مرکزی امیر مولانا خان محمد صاحب (کندیاں شریف) سے اپنی ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا: حضرت امیر مرکزیہ کا حکم ہے کہ تمام ملک میں ملت کے دشمنوں کا ناطقہ بند کرایا جائے۔ مسلمان ناموس رسالت کے لئے اپنی تمام تر قوت اور مکمل وسائل بروئے کار لائیں تاکہ فتنہ قادیانیت کا سدباب ہو سکے۔ انہوں نے فرمایا کہ پورے ملک میں وہ حالات پیدا کئے جائیں کہ حکومت مسلمانوں کے بنیادی مطالبات کو ماننے پر مجبور ہو جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس کے سیکرٹری اطلاعات مولانا حسین احمد شرودی نے کہا کہ قادیانی عبادت خانہ اگر ”مسجد“ کہلانے کا مستحق ہے تو اسے قرآنی احکام کے مطابق مسلمانوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے اور اگر وہ ”مسجد“ نہیں اور کافروں کی عبادت گاہ ہے تو اس کی مشابہت مسجد سے فوری طور پر ختم کی جائے۔ مینارے، محراب اور منبر دور ہوں۔ وہ چیز جو ”خانہ خدا“ مسجد کی خاصیت ہوا کرتی ہے۔ اسے ”خانہ دجال“ سے ہٹا دی جائے۔ اس لئے کہ اس سے امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کی دل آزاری ہوتی ہے اور کسی بھی وقت خون خرابے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا بلوچستان کے لاکھوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات و احساسات کو مجروح کرنا ارباب اقتدار کی سب سے بڑی غلطی ہو گی۔ انہوں نے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریکات ختم نبوت سے حکومت کو سبق لینا چاہئے۔ اجلاس میں فیصلہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا گیا کہ پروگرام کے مطابق ۹ مئی کو بعد نماز جمعہ میزان چوک پر ایک عظیم الشان مظاہرہ اور جلسہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ تمام خطباء اپنی اپنی مسجدوں سے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں میزان چوک پہنچ جائیں گے ۔ عظیم تر جلسے اور مظاہرے کے پیش نظر مجلس عمل کے کارکن صبح ہی سے تمام قندھاری بازار میں جابجا سپیکر نصب کریں گے تاکہ تمام شرکاء تک قائدین کی آواز پہنچ سکے۔ مجلس عمل کے سالار اعلیٰ عنایت اللہ خان نے تمام جماعتوں کے رضا کاروں کو ہدایات دیں کہ وہ صبح ۸ بجے ان سے ملیں اور اپنے اپنے فرائض سنبھال لیں ۔
۸ مئی ۱۹۸۶ء کی شام کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حافظ محمد انور مندرخیل کی نگرانی میں ۹ مئی کے مظاہرے کا اعلان لاؤڈ سپیکر پر شروع ہوا۔ جس پر انتظامیہ گھبراگئی۔ انتظامیہ نے دوسرے اضلاع سے پولیس طلب کر لی ۔ پولیس ٹریننگ اسکول کے زیرتربیت رنگروٹوں کو طلب کر لیا گیا۔ راتوں رات پولیس نے فاطمہ جناح روڈ واقع قادیانی عبادت گاہ کے اطراف میں ناکہ بندی کردی ۔ رائفلوں ، آنسو گیس اور لاٹھیوں سے مسلح پولیس نے رات کی تاریکی میں ہی پوزیشن سنبھال لی تھی ۔ حتیٰ کہ پولیس بڑی بڑی عمارتوں کی چھتوں پر موجود تھی۔ سٹی مجسٹریٹ نے مجلس عمل کے قائدین سے رابطہ قائم کیا کہ ڈپٹی کمشنر سے بات چیت کی جائے ۔ صوبائی امیر محمد زمان خان اچکزئی نے انتظامیہ سے بات چیت سے انکار کر دیا ۔ انہوں نے مجلس کے رہنماؤں کو علی الصبح نو بجے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت عبداللہ زئی میں پہنچ گئے۔ انہوں نے اکابرین کو بات چیت کے لئے راضی کر لیا ۔ مجلس عمل نے الحاج حاجی محمد زمان خان کی قیادت میں چار رکنی وفد بات چیت کے لئے نامزد کیا ۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا محمد منیر الدین ، ڈاکٹر محمد ابراہیم ، ممتاز قانون دان چوہدری اعجاز یوسف ایڈووکیٹ اور فیاض حسن سجاد شامل تھے ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی بجائے ایس ڈی ایم نے مظاہرہ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جس پر قائد وفد حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے ایس ڈی ایم کی خبر لی اور کہا کہ آپ ہمارے ساتھ بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔ ہماری پوزیشن صوبے کی سطح پر ہے اس لئے چیف منسٹر یا چیف سیکرٹری بات کریں ۔
انتظامیہ نے صرف جلسہ کرنے کا مطالبہ کیا لیکن قائدین نے مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب پندرہ روز قبل اعلان ہوا۔ حکومت نے رابطہ قائم نہیں کیا۔ اب عین وقت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے تاہم مجلس عمل کوئی درمیانی راستہ تلاش کرے گی ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں سینکڑوں کارکن جمع تھے۔ دوسری طرف میزان چوک پر سالار عنایت اللہ خان بازئی کی صدارت میں رضا کاروں کا اجلاس ہورہا تھا جس میں انتظامات کو آخری شکل دی جارہی تھی ۔ شہر کی بڑی بڑی مساجد پر بھاری جمعیت میں پولیس تعینات تھی اور پولیس کا گشت شہر میں جاری تھا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں علماء کرام نے ولولہ انگیز خطاب کئے ۔ جامع مسجد مرکزی سے مولانا قاری انوار الحق حقانی کی قیادت میں ہزاروں افراد پر مشتمل جلوس سوا دو بجے میزان چوک پر پہنچ گیا ۔ دوسرا جلوس جامع العلوم سے حضرت مولانا عبدالواحد کی قیادت میں میزان چوک پہنچا ۔ اس کے بعد جامع مسجد عثمانیہ سے مولانا آغا محمد کی قیادت میں جلوس پہنچا ۔ جامع مسجد سنہری سے مولانا محمد منیر الدین جامع مسجد اقصیٰ سے مولانا محمد نعیم شریف ، مولانا محمد یوسف ، جامع مسجد عمر سے مولانا محمد اکبر ، جامع مسجد مدرسہ مفتاح العلوم سے مولانا عبدالباقی کی قیادت میں ، جامع مسجد ترین روڈ سے مولانا عبدالقیوم کی قیادت میں ، جامع مسجد الحبیب سے مولانا حسین احمد ، حافظ محمد انور مندرخیل کی قیادت میں جامع مسجد عبدالصمد سے مولانا قاری احمد یار کی قیادت میں جامع مسجد لال سے مولانا محمد رفیق کی قیادت میں ، جامع مسجد طوبیٰ سے جلوس مولوی عبدالمجید ، حاجی فضل قادر شیرانی اور حاجی تاج محمد کی قیادت میں جلوس میزان چوک پر پہنچے ۔ مختلف علاقوں سے چار بجے شام تک جلوس پہنچتے رہے ۔ ایک بہت بڑا جلوس پشتون آباد سے شیخ الحدیث مولانا نور محمد کی قیادت میں پہنچا ۔ جلوس تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد ،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت کا قبرستان بلوچستان بلوچستان ، شہداء ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ شہر میں عجیب فضا تھی۔ ہر شخص میزان چوک پر پہنچ رہا تھا۔ میزان چوک میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مجلس عمل کے امیر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے کی۔ اسٹیج پر حضرت مولانا منیر الدین ، حضرت مولانا عبد الباقی ، حضرت مولانا عبد اللہ جان ، مولانا قاری انوار الحق حقانی ، خطیب بلوچستان مولانا عبد الواحد ، مولانا محمد رفیق ، مولانا محمد شفیق ، مولانا آغا محمد ، مولانا محمد دین ، مولانا غلام سرور ، مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی ، مولانا عبدالقیوم ، ڈاکٹر ابراہیم ، مولانا ادریس فاروقی ، حافظ محمد انور مندوخیل ، مولانا محمد نعیم ترین ، سید پیر عبد الحکیم شاہ ، حاجی سید شاہ محمد ، حاجی تاج محمد ، حاجی فضل قادر شیرانی ، حاجی سید سیف اللہ آغا ، حاجی نعمت اللہ ، چوہدری محمد طفیل احرار ، چوہدری اعجاز یوسف ایڈووکیٹ ، سکندر خان ایڈووکیٹ ، زاہد مقیم انصاری ایڈووکیٹ موجود تھے۔
ممتاز قاری شیر محمد نے تلاوت قرآن پاک سے جلسے کا آغاز کیا۔ پشتو کے مشہور شاعر سید رسول فریادی نے نظمیں پڑھیں۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صاحبزادہ حافظ حسین احمد شرودی خطیب جامع مسجد الحبیب نے انجام دیئے۔ اسلامی جمعیتہ طلباء کے رہنماء نصر اللہ خان کاکڑ ، جمعیتہ طلباء اسلام کے رہنما محمد اسحاق بنوی ، تنظیم تحفظ ختم نبوت کے صوبائی صدر سید انور شاہ ، دکی کے ممتاز عالم دین مولانا دین محمد ، مسلم لیگی رہنما ملک احمد شاہ لہڑی ، شیخ الحدیث مولانا عبد الباقی ، بحر العلوم مولانا عبد اللہ جان ، فاضل نوجوان محمد نعیم ترین ، مولانا محمد ادریس فاروقی ، شیخ الحدیث مولانا نور محمد جمعیتہ علماء اسلام کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری ، خطیب بلوچستان شعلہ بیان پشتو کے خطیب جامع العلوم مولانا عبد الواحد مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن مولانا قاری انوار الحق حقانی ، مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے صدر مولانا محمد منیر الدین اور مجلس عمل کے صدر اور صدر جلسہ حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے خطاب کیا۔ رہنماؤں اور علماء نے حکومت کو انتباہ کیا کہ وہ مجلس عمل کے مطالبات تسلیم کرے۔
قائدین نے کہا کہ امام المجاہدین مرشد العلماء حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی ہدایت کے مطابق آج صرف جلسہ کیا جائیگا۔ قادیانی عبادت گاہ پر مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ اس اعلان پر جلسہ گاہ میں بار بار نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ اکثر قادیانی عبادت گاہ پر جا کر مینارے ، محراب گرانے کے لئے تیار تھے۔ انہوں نے قائدین کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور مسلسل نعرے لگاتے رہے اور جلوس نکالنے پر بضد تھے۔ حضرت مولانا منیر الدین نے اختتامی دعا کی۔
دعا کے فوراً بعد قائدین کے روکنے کے باوجود چار جلوس مختلف اطراف سے قادیانی عبادت گاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جلوس کے منتظمین میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے جوشیلے رہنما حاجی عبد المنان بڑیچ ، حاجی سید اختر شاہ ، مولانا آغا محمد خطیب جامع مسجد عثمانیہ ، حافظ عبید اللہ فاروقی ، سالار عنایت اللہ خان بازئی ، فاضل نوجوان محمد نعیم ترین ، حافظ محمد انور مندوخیل ، نظام الدین پانیزئی ، محمد اسحاق بنوی ، جمعیتہ طلباء اسلام کے رہنما نذر محمد سیاف ، عبد العلی ، کمال شاہ ، اسلامی جمعیتہ طلباء کے نصر اللہ خان کاکڑ ، سلیم خان ، محمد کاظم مینگل ، تنظیم تحفظ ختم نبوت کے صدر سید انور شاہ ، نصیب اللہ ناصر اور عمر فاروق شامل تھے۔
واضح رہے کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے ۲۸ /اپریل کو جب قادیانی عبادت گاہ پر مظاہرہ کا اعلان کیا تو اس کے فوراً بعد تنظیم تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں نے سروے کیا کہ شہر میں قادیانیوں کی کتنی آبادی ہے۔ ان کی عبادت گاہ کے اطراف میں کتنے مکان ہیں ، جن میں مرد کتنے ہیں۔ ان کے پاس کیا کیا اسلحہ ہے اور مسلمانوں کے مکان کہاں کہاں ہیں۔ ان نوجوانوں نے مسلمانوں کے مکانوں پر مخصوص نشان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لگا دیا تا کہ مظاہرے کے روز آسانی رہے۔ اس سروے سے کارروائی کے دوران بہت ہی سہولت حاصل رہی۔
علاوہ ازیں میزان چوک میں جب قائدین تقریر کر رہے تھے تو سینکڑوں افراد نے خفیہ مقام پر ڈنڈے اور کلہاڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ جلسہ کے خاتمہ کے فوراً بعد ہی چار جلوس قادیانی عبادت گاہ کی طرف روانہ ہوئے تو پولیس حیران رہ گئی کہ کس طرح جلوس کو روکے۔ ایک جلوس کی قیادت حاجی عبدالمنان، حاجی سید اختر محمد شاہ، نذر سیاف، کمال شاہ، سید انور شاہ، مولانا آغا محمد، عبدالعلی، عبیداللہ فاروقی، نصراللہ خان کاکڑ، سلیم خان، محمد کاظم مینگل، نصیب اللہ ناصر، عبدالخالق، عبدالرحمٰن اور عمر فاروق کر رہے تھے۔ یہ سب سے بڑا جلوس تھا جو شارع لیاقت، آرچر روڈ اور مسجد روڈ سے ہوتا ہوا قادیانی عبادت گاہ کی طرف پہنچ گیا۔ جب جلوس قادیانی عبادت گاہ سے بیس گز کے فاصلے پر تھا پولیس نے اندھا دھند آنسو گیس پھینکی۔ اس دوران دوسرا جلوس مسجد روڈ سے فاطمہ جناح روڈ پر قادیانی عبادت گاہ کے مین دروازہ پر پہنچا۔ جیالے مجاہد محمد نعیم ترین نے دروازے پر ڈنڈے مارنے شروع کر دیئے۔ جس پر پولیس نے آنسو گیس پھینکی اور لاٹھی چارج کیا۔ اس دوران ایک جلوس لندن اسٹریٹ سے قادیانی عبادت گاہ کی طرف بڑھا۔ پولیس نے اس پر بھی آنسو گیس پھینکی۔ چوتھا جلوس پرنس روڈ کی طرف سے فاطمہ جناح روڈ پر قادیانی عبادت گاہ کی طرف پہنچ گیا۔ بڑا جلوس مسجد روڈ پر قادیانی عبادت کے بغلی گیٹ کے قریب ڈٹا رہا۔ پولیس نے بار بار آنسو گیس پھینکی۔ جلوس میں شامل شیدائیان ختم نبوت نے پتھراؤ کی یلغار کی۔ جس پر پولیس پست ہو کر بھاگ گئی۔ جیالے مجاہدین قادیانی عبادت گاہ کے بغلی گیٹ پر آئے۔ قادیانی عبادت گاہ میں اس وقت دو قادیانی موجود تھے جنہوں نے عبادت گاہ کے اوپر ریت کی بوریوں سے مورچے بنائے ہوئے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں پر شدید پتھراؤ کیا اور غلیل سے کانچ کی گولیاں ماریں۔
شیدائیان ختم نبوت زخمی ہونے کے باوجود آگے بڑھتے گئے۔ نصراللہ خان کاکڑ، قادیانی عبادت گاہ کے بغلی گیٹ (گلی والے) پر پہنچ گئے۔ انہوں نے اس کو توڑنا شروع کر دیا۔ ایک قادیانی نے چھت سے بڑی اینٹ ان کے سر پر ماری لیکن وہ زخمی ہونے کے باوجود ڈٹے رہے۔ سید انور شاہ نے اپنے زخمی ساتھی کو دیکھ کر ایک پتھر چھت پر بیٹھے ہوئے قادیانی کے سر پر مارا۔ وہ پتھر لگتے ہی زمین پر گر پڑا۔ اس دوران نذر محمد اور عبدالعلی بھی پہنچ گئے۔ وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس نے اندھا دھند شیلنگ کی۔ ہر طرف گیس کے سیاہ بادل چھا گئے۔ شیلنگ سے تین افراد زخمی ہو گئے۔ متعدد بیہوش ہو گئے۔ آنسو گیس ایک کلومیٹر اطراف میں پھیل گئی۔ شارع لیاقت، عبدالستار روڈ، آرچر روڈ تک گیس کے اثرات سے راہگیر بھی متاثر ہوئے۔ قادیانی عبادت گاہ کے اطراف میں رہنے والے مسلمانوں نے فوری طور پر عزم نوجوانوں کو پانی فراہم کیا۔ بیہوش ہونے والوں کو نمک، اچار، ترش اشیاء فراہم کیں۔ حتیٰ کہ پردہ دار خواتین اور بچوں نے طبی امداد فراہم کی۔ اس دوران چاروں طرف سے دوبارہ قادیانی عبادت گاہ پر یلغار ہوئی۔ ہر طرف سے پتھراؤ ہوا۔ پولیس نے دوبارہ آنسو گیس پھینکی جس پر مجاہدین کے گروپوں نے قادیانیوں کی دوکانوں کو تہس نہس کر دیا۔
یہ حقیقت ہے کہ مظاہرین نے کسی قادیانی کے گھر پر حملہ نہیں کیا۔ حالانکہ وہ ان کی زد میں تھے۔ مظاہرین نے ایک بار پھر قادیانی عبادت گاہ پر دھاوا بول دیا۔ مزید تازہ دم پولیس فورس بھی پہنچ گئی۔ ہزاروں افراد دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کے سامنے جمع ہو گئے۔ جہاں مولانا عبدالواحد صاحب موجود تھے۔ وہ مجلس کے دوسرے قائدین سے مشورہ کر کے عملی اقدام کرنا چاہتے تھے کہ پولیس نے یہاں پر لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کی بکتر بند گاڑی سے آنسو گیس (ٹینک) نے گھیرے میں لے لیا۔ بکتر بند گاڑی سے مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی جاتی رہی۔ جلوس دوبارہ جامع مسجد طوبیٰ کے سامنے منظم ہوا۔ یہاں پر نوجوانوں نے اینٹوں اور پتھروں کو ٹرالیوں اور ریڑھیوں میں ڈالا اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوبارہ آگے بڑھے۔ جلوس دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک حصہ نے مغربی اور دوسرے نے مشرقی طرف سے یلغار کی۔ پولیس کی بکتر بند گاڑی پر شدید پتھراؤ کیا۔ دوسری طرف سے مکار قادیانی بھی غلیل سے مسلمانوں کو پتھر مارتے رہے۔ جب پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ چند باہمت نوجوانوں نے ان گولوں کو دوبارہ پولیس کی طرف پھینک دیا جس سے پولیس پیچھے ہٹ گئی۔ مظاہرین نے قادیانی عبادت گاہ پر شدید پتھراؤ کیا۔ جس سے بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں۔ پانچ قادیانی زخمی ہو گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور آنسو گیس پھینکنی شروع کی۔ یہاں پر مظاہرین نے ایک سرکاری افسر کو یرغمال بنالیا۔ ایک کانسٹیبل بھی زخمی ہوا۔ مظاہرین ڈٹ گئے۔ انہوں نے قادیانی عبادت گاہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا۔ اس وقت ایک گھنٹہ سے زائد اس کارروائی کو ہو چکا تھا۔ دوسری طرف مجلس عمل کے قائدین میزان چوک پر موجود تھے۔ ان کو ایک کلو میٹر دور سے ہی آنسو گیس کے چلنے کی آوازیں آئیں اور بد بو محسوس کی۔ اس وقت انتظامیہ کے ایک افسر گھبرائے ہوئے پہنچے۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر قائدین سے کہا کہ وہ خدا کے لئے چلیں اور مظاہرین کو کنٹرول کریں۔
قائدین نے مشورہ کیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا قاری انوار الحق حقانی نے حاجی محمد زمان خان اچکزئی ، مولانا نور محمد سے کہا کہ ہمیں اس وقت مظاہرین کی رہنمائی کرنی چاہئے۔ قائدین جب میزان چوک سے روانہ ہوئے تو ان کے پیچھے بھی بہت بڑا جلوس روانہ ہو گیا۔ انتظامیہ نے کوشش کی کہ مجلس کے رہنما سرکاری گاڑی میں سوار ہو جائیں۔ لیکن مجلس عمل کے رہنماؤں نے سرکاری گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت ضلع کے تمام افسران ڈپٹی کمشنر ، ایس۔ایس۔پی ، ڈی۔آئی۔جی موقع پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے مجلس کے قائدین سے کہا کہ وہ صورتحال کو کنٹرول کریں۔ قائدین میں حاجی محمد زمان خان اچکزئی ، مولوی عبدالمجید خان ، مولانا قاری انوار الحق حقانی ، شیخ الحدیث مولانا نور محمد ، مولانا عبداللہ جان ، مولانا عبدالباقی ، مولانا عبدالواحد ، حافظ حسین احمد شرودی ، ملک احمد شاہ لہڑی ، حاجی فضل قادر شیرانی ، چوہدری اعجاز یوسف ، ملک محمد عظیم بڑیچ ، مولانا محمد اسحاق ، ڈاکٹر ابراہیم ، تاج محمد ، حاجی سید شاہ محمد ، سید سیف اللہ آغا ، سید عبدالحکیم شاہ ، مولانا نیاز محمد دوتانی ، چوہدری محمد طفیل احرار اور مولانا محمد دین شامل تھے۔ مولانا قاری انوار الحق حقانی نے بتایا کہ وہ مسلمانوں کے جذبہ حریت سے انتہائی متأثر ہوئے۔ ہزاروں مسلمانوں نے قادیانی عبادت گاہ کو گھیرے میں لیا ہوا تھا اور ہر قسم کے خطرے سے بے نیاز ہو کر نعرے لگا رہے تھے۔ قائدین نے حکومت سے کہا کہ اب حالات خراب کرنے کی ذمہ داری اس پر ہے جس نے ہمارا مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔ قائدین کے کہنے پر پولیس نے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد شیلنگ بند کر دی۔ قائدین کے ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات شروع ہو گئے۔ اسی دوران شہر میں یہ خبر پھیل گئی تھی کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی ہے اور قادیانیوں نے جلوس پر فائرنگ کی ہے۔ ہزاروں مسلمان مسلح ہو کر موقع پر پہنچنے لگے۔ پولیس نے ناکہ بندی کر کے ان کو دور رکھا۔ مغرب کی نماز مظاہرین نے قادیانی عبادت گاہ کے قریب بکتر بند گاڑیوں کے سامنے ادا کی۔ جس کی امامت مولانا قاری انوار الحق حقانی نے کرائی۔ رات گیارہ بجے انتظامیہ نے مجبور ہو کر قادیانی عبادت گاہ کو سر بمہر کرنے کا فیصلہ کیا اور قادیانیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے خود کو حکام کے حوالے کر دیں۔ اس دوران چند قادیانی ملحقہ مکان میں کود گئے۔ انتظامیہ نے ۸۱/ قادیانیوں کو تحویل میں لے لیا۔ انتظامیہ کے افسران جب قادیانی عبادت گاہ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں پر اینٹوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ تقریباً ایک سو غلیلیں اور ہزاروں کانچ کی گولیاں ملیں۔ ایک کمرہ میں فرسٹ ایڈ کا مکمل سامان ملا۔ واضح رہے کہ قادیانیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھاری تعداد میں اسلحہ جمع کیا۔ جس کو نکال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی یہ منصوبہ بندی تھی کہ جو مسلمانوں کی عبادت گاہ کے اندر داخل ہو اس کو نشانہ بنایا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جائے۔ مسلمان بھی چاہتے تھے کہ وہ ایک گولی چلائیں۔ جس دن انہوں نے ایک گولی چلائی وہ دن بلوچستان میں ان کا آخری ہوگا۔ انتظامیہ نے ان کی عمارت کو سر بمہر کر دیا اور مجلس کے رہنما حاجی محمد زمان خان اچکزئی اور مولانا قاری انوارالحق حقانی کو سیلیں دکھائیں۔ ان رہنماؤں نے واپس آکر مختصر خطاب کیا اور مسلمانوں کو بتایا کہ حکومت نے قادیانیوں کی عبادت گاہ کو سر بمہر کر دیا اور یقین دلایا ہے کہ دو ماہ کے اندر اندر ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد پر عزم مظاہرین نے پر جوش نعرے لگائے۔ پانچ گھنٹے کے بعد محاصرہ چھوڑ دیا۔ محاصرے کے دوران سینکڑوں افراد روٹیاں اور پانی لے کر مظاہرین کی خدمت کرتے رہے۔ قریبی آبادی کی طرف سے منظور احمد جمالی ، صابر جمیل ، پیلس بیکری کے مالک محمد ظفر نے بڑی دلجوئی سے خدمت کی۔ محاصرہ ختم کرنے کے بعد رات گیارہ بجے عظیم الشان جلوس نکالا گیا۔ جو شارع لیاقت سے ہوتا ہوا میزان چوک میں جلسہ میں تبدیل ہو گیا۔ بارہ بجے رات کو جلسہ ختم ہوا تو مظاہرین اپنے اپنے علاقوں میں جلوس کی صورت میں گئے۔
اس واقعہ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کے نام مندرجہ ذیل ہیں: (۱) سید بدر الدین آغا، (۲) محمد قاسم مینگل، (۳) نفیس خان، (۴) عبدالجبار، (۵) امیر محمد سرپرہ، (۶) عبدالباسط، (۷) عبدالکبیر مغل، (۸) عبدالقدیر خان، (۹) نور محمد۔
علاوہ ازیں دوسرے زخمیوں کے نام معلوم نہیں ہو سکے۔ جو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے چلے گئے تھے۔ ۹ مئی کے واقعہ پر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے ۱۰ مئی کو بیان جاری کیا جو مندرجہ ذیل ہے:
کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے کوئٹہ کے شہریوں کا پرامن تحریک چلانے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا کہ مسلمانوں نے اپنی ذات کی قربانی دی۔ مصائب جھیلے۔ مگر عام شہریوں کے لئے زحمت کا باعث نہیں بنے۔ کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی۔ یہاں تک کہ قادیانیوں کے عام گھروں پر حملے سے گریز کیا۔ صرف مبارزین کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ عین ہنگامے کے دوران ایسے اسلامی تعلیمات پر عمل خوشی وانبساط کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے قادیانیوں کو کہا ہے کہ وہ اپنے کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیں تو مسلمان دیگر اقلیتوں کی طرح ان کی حفاظت کا ذمہ لیں گے۔ اگر وہ ملک وملت سے بغاوت کے شدید ترین جرم کا ارتکاب کرتے رہیں گے تو اپنے لئے بھی مشکلات پیدا کریں گے ہمارے لئے بھی۔ اگر قادیانیوں کو اس ملک میں رہنا ہے تو وہ ملکی قوانین کی پابندی کریں اور اگر انہوں نے اسلامی تعلیمات اور احکام کا مذاق اڑایا اور مسلسل شعائر اسلامی کی توہین کرتے رہے اور قانون سے کھیلنا ترک نہ کیا تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں مسلمانوں کے غیظ وغضب سے نہیں بچا سکے گی۔
(لولاک فیصل آباد ص ۹ تا ۱۲، مورخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۸۶ء)
ننکانہ میں قادیانیوں کی آئین کی خلاف ورزی
ننکانہ میں بعض قادیانیوں نے اپنے گھروں اور عبادت خانوں کے اوپر کلمہ طیبہ لکھوایا۔ چونکہ یہ پاکستانی آئین کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ اس لئے عالمی مجلس کے احباب نے انتظامیہ کو خبر دار کرنے کا مشورہ کیا۔ معروف ادیب اور ختم نبوت کے موضوع پر کئی ضخیم کتابوں کے مصنف جناب متین خالد صاحب ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے صدر تھے۔ انہوں نے ننکانہ صاحب کے اسسٹنٹ کمشنر کے نام درخواست لکھی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶، مورخہ ۲۰؍جون ۱۹۸۶ء)
درخواست کے دو دن بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے سرپرست جناب چوہدری عبدالحمید رحمانی صاحب ناظم مجلس محمد حسین
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علوی، محمد اکرم ناز، محمد اشفاق، محمد خالد اور جناب متین خالد نے اسسٹنٹ کمشنر ننکانہ صاحب سے ملاقات کی۔ اے سی ننکانہ جناب ملک شوکت علی نہایت اچھے ملنسار اور اسلامی ذہن کے آدمی تھے۔ انہوں نے بڑی محبت اور غور سے اراکین مجلس کی گزارشات کو سنا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ امتناعی آرڈیننس پر فوراً عمل کرائیں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر کی فوری ہدایت پر انسپکٹر تھانہ ننکانہ صاحب نے رات کو سلیم نامی قادیانی ایڈووکیٹ کی نگرانی میں قادیانی عبادت گاہ اور ان رہائش گاہوں سے کلمہ طیبہ کو ہٹایا۔ اے سی ننکانہ کے اس فوری اقدام پر عالمی مجلس کے قائدین نے اے سی صاحب کی تعریف اور تحسین میں قراردادیں منظور کیں اور بذریعہ اشتہار مسلمانوں کو مبارک باد دی۔ اگلا دن جمعہ کا تھا۔ قادیانیوں نے نماز جمعہ سے پہلے اپنی عبادت گاہ میں میٹنگ کی جو تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔ بعدازاں انہوں نے پورے شہر کا راؤنڈ لگایا اور اپنے خلاف کی گئی چاکنگ، اسٹیکرز اور پوسٹرز کا جائزہ لیا۔ رات تقریباً بارہ بجے کے قریب پچاس قادیانی سریوں، ہاکیوں اور ریوالوروں سے مسلح ہو کر مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر جناب متین خالد کے گھر آئے اور ان کے گھر پر تحریر عبارت ”ہم قادیانیوں کا پوری دنیا میں تعاقب کریں گے“ کو مٹایا۔ پھر انہوں نے سارے شہر میں سٹیکرز ، پوسٹرز اور چاکنگ کو ختم کیا اور اپنی رہائش گاہوں پر دوبارہ کلمہ طیبہ لکھوایا اور دھمکیاں دیں کہ جو ہماری عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ مٹائے گا ہم اسے قتل کر دیں گے۔ قادیانیوں کے اس اقدام سے پورے شہر میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ صبح عالمی مجلس کا وفد اے سی ننکانہ صاحب کو دوبارہ ملا۔ اے سی صاحب نے کارروائی کرنے کا یقین دلایا۔ اے سی صاحب کو اس سارے واقعہ کی تفصیل پیش کی گئی۔ رات کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ مجلس کے اراکین کو قادیانیوں نے کھلے عام دھمکیاں دینی شروع کیں کہ انہیں عنقریب کلاشنکوف سے اڑا دیا جائے گا۔ اگلے دن انجمن طلباء اسلام کے ناظم جناب سعید زرگر صاحب، فیض الحسن صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اے سی ننکانہ کے پاس پہنچے اور اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اے سی صاحب نے فوراً ایکشن لے کر چار قادیانیوں کو گرفتار کر لیا اور صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
(لولاک فیصل آباد ص ۲۳، مورخہ ۲۰/ جون ۱۹۸۶ء)
جناب متین خالد پر قاتلانہ حملہ
اس واقعہ کے چند روز بعد عالمی مجلس ننکانہ صاحب کے صدر متین خالد صاحب پر قاتلانہ حملہ کیا۔ جس میں متین خالد صاحب محفوظ رہے۔ اس کے علاوہ گاہے بگاہے متین خالد صاحب کو دھمکی آمیز خطوط بھی ملتے رہے۔ جس میں ان کو اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنا مقصود ہوتا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں اور قائدین نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور حکومت سے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔
(لولاک فیصل آباد ص ۱۶، مورخہ ۸/ اگست ۱۹۸۶ء)
۱۹ قادیانیوں کی رات کے اندھیرے میں ضمانت پر رہائی
(کراچی) ۱۹/ جولائی ۱۹۸۶ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے ناظم نشریات مولانا منظور احمد الحسینی قائم مقام جنرل سیکرٹری مولانا محمد انور فاروقی ختم نبوت کے مجاہد عبدالعزیز خلجی نے آج شام دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرانی نمائش کراچی میں ایک پر ہجوم کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی ایئر پورٹ پر گزشتہ روز گرفتار کئے جانے والے قادیانیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کیونکہ قادیانی قانونی طور پر اپنے آپ کو مسلمان نہ کہہ سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔ مگر انہوں نے نہ صرف اس قانون کی خلاف ورزی کی بلکہ امیگریشن کی بھی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اپنے پاسپورٹ پر خود کو مسلمان لکھا اور ”مسلمان“ کی حیثیت سے امیگریشن حکام نے ان کی اس کوشش کو ناکام بنا کر گرفتار کر لیا۔ مگر مقام افسوس کہ مجسٹریٹ ایسٹ نمبر ۷ عبد الرشید ہاشمانی نے رات ورات ان قادیانیوں کی ضمانت لے کر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان کو رہا کر دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جناب ہاشمانی کے اس فعل کی مذمت کرتی ہے۔ کیونکہ ضمانت لینے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ سراسر قادیانیت نوازی کے زمرے میں آتا ہے اور صدارتی آرڈینینس اور مروجہ قوانین کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان قادیانیوں کی ضمانت منسوخ کر کے انہیں فوراً گرفتار کیا جائے۔ ان کے پاسپورٹ ضبط کئے جائیں۔ ان پر پاسپورٹ ایکٹ کے علاوہ ۲۹۸-سی کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ مجسٹریٹ نے چھٹی کے دوران رات کے وقت کس بنیاد پر ضمانت لی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قادیانیوں کے بارے میں صدارتی آرڈینینس پر مکمل عمل درآمد کرائے اور سکھر ساہیوال کے مجرموں کو فوراً پھانسی دی جائے۔ مزید جو قادیانی لندن جا رہے ہیں انہوں نے پاسپورٹ میں اپنے آپ کو مسلمان لکھا ہے، ایسے تمام قادیانیوں کو جو جاچکے ہیں ان کو واپسی پر اور جانے والے قادیانیوں کو فی الفور پاسپورٹ ایکٹ اور ۲۹۸-سی کے تحت گرفتار کیا جائے۔
قادیانی وکلاء عدالت میں ختم نبوت اور اسلامی قوانین کا کھلم کھلا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کی یہ حرکت حضرت رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ حرکت ہے۔ جس کو توہین رسالت کے قانون کے تحت ان پر مقدمہ قائم کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مورخہ یکم تا ۷/ اگست ۱۹۸۶ء ص۹)
مردان میں قادیانی اشتعال انگیزی پر ردعمل
صوبہ سرحد کے اکثر مقامات پر عید الاضحیٰ ہفتہ ۱۶/ اگست ۱۹۸۶ء علماء کرام کے شرعی فیصلے کے مطابق منائی گئی۔ مردان میں غیر مسلم مرزائیوں نے اپنے طور پر ہفتہ کی بجائے اتوار کو عید منانے کا فیصلہ ریٹائرڈ اکبر خان کے مکان ڈیفنس کالونی کے ایک مرزائی اجتماع میں کیا۔ یہ فیصلہ عید سے تقریباً چار روز پہلے کیا گیا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق مردان میں مقیم پنجاب رجمنٹ کے انچارج مرزا منور احمد خصوصی طور پر اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ قادیانی عبادت گاہ واقع بکٹ گنج میں عید الاضحیٰ کے لئے اکٹھے ہو کر جانور بھی وہیں ذبح کئے جائیں گے۔ اس کی اطلاع علاقہ میں موجود مسلمانوں کی ایک جماعت نے مجلس تحفظ ختم نبوت نوجوانان بکٹ گنج کے امیر مولانا محمد یونس صاحب اور مجلس کے دیگر ذمہ دار حضرات کو پہنچا کر اپنی غیرت ایمانی کا ثبوت دیا۔ امیر محترم نے اپنے رفقاء سے مشورہ کے بعد فوری طور پر اس کی اطلاع مقامی انتظامیہ کے ذمہ دار افراد تک پہنچاتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ مرزائی غیر مسلموں کی اس قسم کی حرکت سے صدارتی آرڈینینس مجریہ ۱۹۸۴ء کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوگی اور مسلمانوں میں اس سے اشتعال پیدا ہونا یقینی ہے۔ اس لئے انتظامیہ کو چاہئے کہ حالات کی خرابی سے قبل ان شریر مرزائیوں کو اس قسم کی شرارت سے منع کر کے فضا کو خراب ہونے سے بچایا جائے۔ اس اطلاع کے مطابق مرزائی غیر مسلموں کو انتظامیہ نے بلا کر اس غیر قانونی حرکت سے باز رہنے کی ہدایت کی مگر مرزائی غیر مسلموں کو پنجاب رجمنٹ کے مرزا منور احمد کی پشت پناہی حاصل تھی۔ جس کے باعث انتظامیہ کی وارننگ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مرزائیوں کے مردان کے سرغنہ میجر مشتاق احمد اکبر خان اپنے چند غیر مسلم مرزائیوں کے ہمراہ بکٹ گنج کے بازار سے گزرتے ہوئے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے ان کو اشتعال دلانے کی خاطر اعلان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ آج ہم اجتماعی طریقہ سے نماز بھی پڑھیں گے اور جانور بھی ذبح کریں گے۔ کوئی ہے مائی کا لال جو ہمیں اس طرح عبادت کرنے سے روکے۔ آج ہم اپنی راہ میں حائل ہونے والوں کی وہ خبر لیں گے کہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔ اس کے علاوہ اس مرزائی گروہ نے مرزا غلام کذاب قادیانی کی طرح نہایت ہی گندی زبان استعمال
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ۵۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی۔ قریب ہی تھا کہ نوجوان بازار ہی میں ان پر ٹوٹ پڑتے کہ مجلس کے امیر اور دیگر عہدیداران نے عوام کو پرامن رہنے کی تلقین کی اور یقین دلایا کہ ہم فوری طور پر انتظامیہ سے رابطہ قائم کر کے قانونی کارروائی کریں گے۔ مرزائی غیر مسلموں کی طرف سے مسلسل غلط اور گندی زبان استعمال کرنے کے باوجود مسلمانوں کے جذبات کو مجلس کے کارکن قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ امیر مجلس غازی مولانا محمد یونس نے فوری طور پر پولیس اسٹیشن جا کر وہاں پر موجود پولیس اور انتظامیہ کو حالات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرزائیوں کو اشتعال انگیزی سے نہ روکا گیا تو پھر پیدا ہونے والے حالات کی تمام تر ذمہ داری مرزائیوں کے ذمہ ہوگی۔ پولیس اسٹیشن میں موجود اے۔ ایس۔ آئی پولیس کی نفری لے کر مولانا کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ اسی عرصہ میں تقریباً ستر، اسی مرزائی غیر مسلم اپنی عبادت گاہ میں جمع ہو چکے تھے اور عبادت گاہ کی بالکونی سے مشتاق اکبر خان، آدم خان اور اس کے ساتھی برابر مسلمانوں کو چیلنج کر رہے تھے کہ جوں جوں وقت گزرتا تھا اس طرف مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ چند نفری پولیس ہزاروں مسلمانوں کو قابو میں رکھنے کے لئے ناکافی تھی۔ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے مجلس کے عہدیداران نے اعلیٰ حکام سے فون پر رابطہ قائم کر کے مزید پولیس فورس طلب کر لی۔ اس عرصہ میں پولیس کے اعلیٰ حکام اور علاقہ مجسٹریٹ کے علاوہ اے۔ سی مردان بھی موقع پر پہنچ گئے۔
اس وقت مرزائی عبادت گاہ مکمل طور پر پولیس کے محاصرے میں تھی۔ پولیس افسران اور انتظامیہ کے حکام کی موجودگی میں بالکونی سے مرزائیوں نے مسلمانوں کے متعلق نہایت ہی گندی بکواس کی جس پر اے۔ سی صاحب نے قادیانی عبادت گاہ کے اندر خود جا کر مرزائیوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن مرزا منور احمد فوجی نشے میں اس قدر بدحواس تھا کہ اے۔ سی صاحب کے باہر آنے پر یوں معلوم ہوا کہ مرزائیوں نے اس سے بھی غلط رویہ اختیار کر کے اے۔ سی کو بے عزت کیا اور دھکے دے کر اسے مرزائی عبادت گاہ سے نکالا۔ اے۔ سی کی حالت دیکھ کر اور مرزائی غیر مسلموں کی حرکات سے مسلمان اب بپھرے شیر کی طرح بے قابو ہو چکے تھے اور ہزاروں کے مجمع نے بلند آواز سے پکارنا شروع کر دیا کہ پولیس درمیان سے نکل جائے۔ اب ہم خود ان شرپسند مرزائیوں سے نمٹ لیں گے۔ اب مجلس اور انتظامیہ کی اپیل بھی مسلمانوں پر کچھ اثر نہیں کر رہی تھی اور قریب تھا کہ مسلمان ہلہ بول کر مرزائیوں کا دماغ درست کر دیتے کہ انتظامیہ کے ذمہ دار حکام نے تدبر سے کام لیتے ہوئے اعلان کیا کہ عبادت گاہ میں موجود تمام مرزائیوں کو ہم گرفتار کر رہے ہیں اور پولیس کی حراست میں ان کو جیل بھیجا جا رہا ہے۔ چنانچہ اس طرح مرزائیوں کو نکال کر وہاں سے پولیس کی گاڑیوں میں پولیس اسٹیشن بھیجا گیا۔ اس موقع پر مرزا منور احمد اور چند مرزائیوں نے مزاحمت کی کوشش کی۔ جسے پولیس افسروں نے برداشت کرتے ہوئے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔
دوسری طرف مرزائیوں کی اشتعال انگیزی سے مسلمانوں کے ایمانی جذبے اور پٹھانوں کی روایتی غیرت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ پولیس کی موجودگی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھی ایک دم مسلمان جو بالکل نہتے تھے۔ کسی کے پاس اسلحہ تو درکنار لاٹھی تک بھی نہ تھی۔ خالی ہاتھوں قادیانی معبد پر اچانک ہلہ بول بیٹھے۔ پولیس کی زبردست مزاحمت اور لاٹھی چارج بھی مسلمانوں کے راستے میں بے کار ثابت ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خالی ہاتھوں سے مسلمانوں نے قادیانی عبادت گاہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس پختہ عمارت کو زمین بوس کر دیا۔ اب مجمع کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس میں بچے، بوڑھے، جوان سب ہی شامل تھے۔ سب کا جذبہ ایک ہی تھا کہ پاکستان کی پاک سرزمین سے کفر و ارتداد کے ان اڈوں کو ختم کیا جائے۔ یہ ختم نبوت کا معجزہ تھا کہ اتنی بڑی عمارت کے گرنے کے باوجود کسی مسلمان پر نہ تو کوئی ملبہ گرا اور نہ کوئی لوہے کی سلاخ وغیرہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا سکی۔ بعض افراد اور بچوں کی زبانی معلوم ہوا کہ پولیس کی لاٹھی ہمیں یوں معلوم ہوتی تھی جیسے گلاب کے پھول کی مار، یہ بھی خاتم الانبیاء ﷺ کا پندرہ سو سال بعد معجزہ تھا کہ اس واقعہ کے دوران بھڑوں،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زنبوروں کا ایک بہت بڑا غول مرزائی معبد کے انہدام کے موقع پر مسلمانوں کے سروں پر ہزاروں کی تعداد میں منڈلاتا رہا۔ لیکن کسی ایک مسلمان کو بھی انہوں نے کاٹا تک نہیں۔ ابرہہ کے ہاتھیوں کی تباہی کا قصہ قرآن حکیم اور ارشادات نبوی ﷺ کے مطابق تو معلوم تھا کہ ابابیلوں نے ہاتھی اور ان کے سواروں کی فوج کو تباہ کیا تھا لیکن آج بھڑوں کی اس فوج سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ختم نبوت کے پروانوں کی حفاظت کا کام لیا۔ بھڑوں کے اس عظیم لشکر کو دیکھ کر پولیس والے بھی مسلمانوں پر لاٹھی چارج کرنے سے گھبرانے لگے۔ ایک پولیس والے سے جب ہمارے نمائندے نے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے قسمیہ کہا کہ جب میں نے لاٹھی ہوا میں لہرائی اور قریب تھا کہ وہ کسی مسلمان کی پیٹھ یا سر پر پڑتی میرے کانوں میں ان ہزاروں بھڑوں کی بھنبھناہٹ نے میرے اوسان خطاء کر دیئے اور خود بخود لاٹھی میرے ہاتھ سے گر گئی۔
مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد سارا دن مرزائی عبادت گاہ کے تماشہ کے لئے مختلف علاقوں سے آتی رہی۔ بی۔بی۔سی کی خبر سے مسلمانوں کو اس واقعہ کا علم ہوا۔ اخبارات وغیرہ عید کی چھٹیوں کی وجہ سے اس خبر کو شائع نہیں کر پائے۔ مسلمانان مردان نے جمعہ ۱۵ اگست کو یوم دعا و شکر منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعہ سے اقتدار کی مسند پر بیٹھے ہوئے افراد کے لئے لازمی ہو گیا ہے کہ وہ مرزائی عبادت گاہوں کی مسلمانوں کی مساجد سے ملتی جلتی مشابہت ختم کرائے۔ وگرنہ ہر جگہ مردان جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہمارے نمائندہ کی اطلاع کے مطابق کئی سو من مٹھائی مسلمانوں نے اس خوشی کے موقع پر تقسیم کی ہے۔ مولانا نور الحق نور نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے مولانا محمد یونس صاحب کو غازی محمد یونس کا خطاب دیا۔ یاد رہے کہ اس واقعہ کی ابتداء قادیانی حاضر سروس افسران کی رعونت کی وجہ سے ہوئی کہ وہ کھلے بازار میں مسلمانوں کو چیلنج کر کے مشتعل کر رہے تھے۔ ورنہ کبھی یہ واقعہ ظہور پذیر نہ ہوتا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت نوجوان بکٹ گنج مردان کے فیصلہ کے مطابق جس میں کہا گیا تھا کہ جس وقت انتظامیہ مرزائی غیر مسلموں کی عبادت گاہ کے مینار، محراب و منبر کو ختم کر کے اہل اسلام کی مساجد سے مشابہت کو ختم نہیں کرتیں۔ اس وقت تک ہم نہایت پرامن طریقہ سے احتجاج جاری رکھیں گے اور ہر جمعہ کے روز مردان میں جلسہ اور جلوس نکالا جائے گا۔ اس سلسلہ کا تیسرا جلسہ اور جلوس جمعہ کے روز بکٹ گنج کی مرکزی جامع مسجد ایک مینار میں ہوا۔ امیر حلقہ جناب مولانا محمد یونس خطیب نے اس فیصلہ کے اعلان کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یہ فیصلہ حتمی اور آخری فیصلہ ہے۔ اس سلسلہ میں اگر ہمیں دار و رسن کو بھی چومنا پڑا تو ہم بخوشی اسے چوم کر ختم نبوت کے عقیدہ کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اپنی آخرت کو سنواریں گے۔ آپ نے پرزور الفاظ میں مطالبہ کیا کہ اسلام کے اس بنیادی عقیدہ کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ہم حکومت کے ذمہ دار افراد کو یہ ذمہ داری مکمل طریقہ سے سرانجام پہنچانے کے لئے مجبور کریں گے اور اگر حکومت یہ ذمہ داری پوری نہ کر سکی تو اسے اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔ آپ کی مؤثر تقریر کے بعد مولانا نور الحق نور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس کا فیصلہ ہے۔ مرزائیت جہاں بھی ہو اس کی ارتدادی سرگرمیوں سے اہل اسلام کو بچانے کے مرزائیت کا تعاقب کیا جائے گا اور اللہ کے فضل و کرم سے مجلس اپنے مشن میں کامیاب جدوجہد کر رہی ہے۔ مردان کے اس علاقہ سے لے کر کفر گڑھ تک اور ربوے سے لے کر مرزائی غیر مسلموں کے آقا اور مرزائیت کے خالق انگریزوں کے شہر لندن تک مرزائیت کا تعاقب ہو رہا ہے۔ مولانا نے اعلان کیا کہ مسئلہ ختم نبوت کا تعلق مسلمان کے ایمان سے ہے اور اس خالص ایمانی مسئلہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا عظیم ترین گناہ ہے۔ اس لئے ہی ہم کرسی اقتدار پر بیٹھنے والوں سے کہتے ہیں کہ اقتدار تمہیں مبارک ہو ہم تو صرف تم سے مسلمانوں کے ایمانوں کی حفاظت چاہتے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں ۔ اگر تم نے اپنے دور اقتدار میں ختم نبوت کی حفاظت نہ کی تو حاکمو! یاد رکھو آخرت کی ذلت تو تمہیں یقینی ہو گی ۔ مگر اس جہاں کی رسوائی بھی تمہارا مقدر بن جائے گی ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین اور عام کارکن تمہیں دین و دنیا دونوں کی ذلت و رسوائی سے بچانا چاہتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ میدان محشر میں تم غضب میں ڈوبی ہوئی نظر مصطفےٰ سے بچو۔ آج اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں کے قاتل مرزائی غنڈوں اور ان کے سرغنہ مرزا طاہر کو کیفر کردار تک تم پہنچا دو تو محشر میں سرخرو ہو جاؤ گے ۔ ورنہ روزِ محشر میں بھی تمہیں حساب دینا ہو گا ۔ مولانا نے مرزائی کتابوں کے حوالے سے اور مرزائی رسائل سے مرزائیوں کی اسلام دشمن اور پاکستان دشمن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مرزائی محمد عربی ﷺ کے باغی ہیں اور محمد عربی ﷺ کا باغی پاکستان کا وفادار نہیں ہو سکتا ۔ مولانا نے مقامی نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے علاقہ میں مرزائیوں کے سوشل بائیکاٹ کی جو مہم شروع ہوچکی ہے اس مہم کی کامیابی میں مرزائیت کا خاتمہ ہے ۔ سوشل بائیکاٹ کی اس مہم کو ہر طرح سے کامیاب بنائیں اور اس کی نگرانی کریں کہ مرزائی غلط قسم کے ہتھکنڈوں سے اس مہم کو ختم نہ کرسکیں ۔ یہ بکٹ گنج کے نوجوانوں کا فرض ہے۔ آپ کی تقریر کے بعد مقامی مجلس کے سرپرست الحاج خان محمد یعقوب خان ایم ۔ این ۔ اے کی قیادت میں مسلمانوں کا عظیم جلوس نکلا جس میں صفِ اوّل میں علماء کرام ، مجلس کے عہدیداران ، معززین علاقہ تھے اور نوجوان مختلف نعروں کے ذریعہ اپنے دینی جذبات کا اظہار کر رہے تھے ۔ جلوس کے اختتام پر جناب یعقوب خان نے نعروں کی گونج میں اعلان کیا کہ مجھے مردان کے عوام نے اس لئے منتخب کیا کہ میں اسمبلی کے اندر اور اسمبلی سے باہر ان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کروں ۔ لہٰذا میں آج یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ جو آپ کا اور میرا مشترکہ دینی مسئلہ ہے اسے میں حل کر کے ہی چین کا سانس لوں گا اور اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا ۔ آپ نے علماء کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ علماء کرام نے قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار بطریق احسن شروع کیا ہوا ہے ۔ میں عوام سے کہوں گا کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہوئے جلسہ و جلوس میں شامل ہوں اور ساتھ ہی انتظامیہ اور ذمہ دار افراد سے کہوں گا کہ وہ عوام کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مرزائیت کے اس ناسور کا علاج کریں ۔
جناب خان یعقوب خان نے جلوس میں شامل مسلمانوں کو یقین دلایا کہ چند دنوں میں میں یہ مسئلہ خود حل کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا اور ساقی کوثر محمد عربی فداہ امی وابی ﷺ کی خوشنودی حاصل کروں گا ۔ جلوس نہایت کامیاب تھا جو دعا کے بعد برخاست ہوا ۔ جناب خان یعقوب خان جو ایک نہایت ہی مخلص مسلمان اور نہایت ہی باغیرت پٹھان نوجوان ہیں کی اس یقین دہانی جسے ایفا کرنے کا سب کو مکمل یقین ہے پر فیصلہ ہوا کہ آئندہ تقریروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور جلوس کو فی الحال ملتوی کیا جائے اور اگر انتظامیہ الحاج یعقوب خان کے راستے میں رکاوٹ بنی تو پھر ضلعی سطح پر جلوس و جلسہ کی کارروائی کی جائے گی۔
(لولاک فیصل آباد، مؤرخہ ۲۹؍ اگست ۱۹۸۶ء ص ۱۵ تا ۱۷)
مردان کے واقعہ پر روزنامہ جہاد پشاور کا اداریہ ...... قادیانیوں کا تازہ مسئلہ
مردان سے جہاد کے نمائندے مسٹر حبیب الرحمٰن شاہین نے قادیانیوں کے بارے میں جو خبر ارسال کی ہے اس کے مطابق ۱۷؍ اگست ۱۹۸۶ء کو بکٹ گنج مردان میں واقع قادیانی فرقہ کی عبادت گاہ میں جب قادیانی اپنے عقیدے اور روایت کے مطابق عید الاضحیٰ کی نماز ادا کرنے پہنچے تو انہوں نے اچانک اسلام اور اسلام کی مقدس اور متبرک ہستیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیئے ۔ جس سے علاقہ میں موجود مسلمانوں کا مشتعل ہو جانا ایک لازمی بلکہ قدرتی امر تھا ۔ چنانچہ مشتعل افراد نے قادیانیوں کی عبادت گاہ کو مسمار کر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دیا۔ مقامی انتظامیہ مداخلت نہ کرتی تو صورتحال کشت وخون تک پہنچ جاتی۔ پولیس کے پاس دونوں جانب سے رپورٹیں درج کرائی گئی ہیں۔ حفظ ما تقدم کے پیش نظر انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ چونکہ وہ تعداد میں کم ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کے ہاتھوں ان کو نقصان پہنچ جانا بعید از قیاس نہ تھا۔ بہرحال انتظامیہ نے فوری تدارک کا سامان کر کے حالات کو زیادہ خراب ہونے سے بچالیا ہے۔ قادیانی ایک مدت سے اس علاقہ میں رہائش اختیار کئے ہوئے تھے۔ وہ اپنی الگ الگ عبادت گاہوں میں حاضریاں دیتے رہتے اور عبادت کرتے رہتے تھے۔ کبھی ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا۔ ۱۷؍اگست کے واقعہ سے مسلمان جس بات پر مشتعل ہو چکے تھے ظاہر ہے کہ قادیانیوں کی جانب سے ضرور ایسی کوئی حرکت سرزد ہو چکی ہوگی یا اسلام کے خلاف کوئی نازیبا الفاظ استعمال کئے ہوں گے۔ اس لئے مسلمان مشتعل ہو گئے اور نوبت مار دھاڑ اور واہی تباہی تک پہنچ گئی۔ اب جب کہ حالات پر قابو پالیا گیا ہے مقامی انتظامیہ نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے تدابیر پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ ایک طرف مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے گا تو دوسری طرف قادیانیوں کا جو ظاہر ہے ملک کے شہری ہیں اور اقلیتوں میں شمار کئے گئے ہیں اور اقلیتوں کا تحفظ ہماری داخلی پالیسیوں کا ایک حصہ ہے۔ اس لئے مردان کی فاضل انتظامیہ ان تمام اسباب وعلل کا بخوبی جائزہ لے گی اور یہ کوشش کرے گی کہ اکثریتی اور اقلیتی کسی بھی فرقے کی دل آزاری نہ ہو سکے اور اگر خدانخواستہ حالات کو یونہی رہنے دیا گیا تو ۱۷؍اگست کا واقعہ زیادہ افسوسناک اور تباہ کن حالات پر منتج ہو سکتا ہے۔
(لولاک فیصل آباد ص۲۱، مورخہ ۵؍ستمبر ۱۹۸۶ء)
کلمہ طیبہ کی توہین کرنے پر مردان کے غیر مسلم قادیانیوں کو سزا
پشاور (نمائندہ ختم نبوت) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مردان جناب شاہد حسین خان آفریدی کی عدالت میں جناب حافظ حسین احمد مہتمم مدرسہ تحفیظ القرآن کی طرف سے جاوید اور شبیر غیر مسلم مرزائیوں کے خلاف کلمہ طیبہ کی توہین کے سلسلہ میں دائر کردہ مقدمہ کی چودہ ماہ تک سماعت کے بعد ہر دو ملزموں کو مجرم قرار دیتے ہوئے زیر دفعہ ۲۹۵-اے اور ۲۹۸-سی پانچ پانچ سال قید اور پچیس پچیس ہزار روپیہ جرمانہ کی سزاء دی گئی۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں ملزموں کو مزید اکیس اکیس ماہ قید کاٹنی پڑے گی۔ اس مقدمہ میں مرزائیوں کی طرف سے حسام الدین، وحید الدین حیدر، عبدالباسط اور مجیب الرحمن مرزائی وکلاء نے پیروی کی استغاثہ کی طرف سے خالد محمود ایڈووکیٹ کی قیادت میں محمد اقبال خان، محمد سردار خان اور حبیب الرحمن خان ایڈووکیٹس اور رفقاء پیش ہوئے۔
فیصلہ سننے کے لئے علماء کرام کی قیادت میں مردان کے غیور مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ جیسے ہی عدالت کے معزز رکن شاہ حسین خان آفریدی نے فیصلے کا اعلان کیا، احاطہ ضلع کچہری کی فضاء نعرۂ تکبیر اور ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ قاری محمد یونس، مولانا نور الحق نور، مولانا حافظ حسین احمد اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نوجوانان مردان کی قیادت میں ایک عظیم الشان جلوس نکالا گیا جو مردان کے مین بازار سے ہوتا ہوا بکٹ بازار پہنچ کر ختم ہوا۔ راستہ میں مختلف مقامات پر قائدین جلوس نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کی بنیاد ہے۔ جس قدر یہ عقیدہ پختہ ہو گا اسی قدر پاکستان کو استحکام نصیب ہوگا۔ مقررین نے مرزائیوں کو مشورہ دیا کہ وہ غیر مسلم اقلیتوں کی طرح پاکستان کے آئین اور قانون کی پابندی کریں۔
مسلم وکلاء اور انتظامیہ کے حق میں تمام راستے مسلمان پر جوش نعرے لگاتے رہے۔ مرزائی غیر مسلموں کی سزا کی خوشی میں تمام دن مسلمان ایک دوسرے کو مبارک باد دینے کے علاوہ مٹھائیاں بھی تقسیم کرتے رہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۴، مورخہ ۱۰ تا ۱۶؍اکتوبر ۱۹۸۶ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت امیر مرکزیہ کا دورۂ مردان
حضرت الامیر شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے اکتوبر ۱۹۸۶ء کے اوائل میں مردان کے غیور مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مردان کا یک روزہ دورہ کیا۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے قریب سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ سراجیہ کے خدام اور عالمی مجلس کے ذمہ دار حضرات نے مولانا نورالحق نور کی قیادت میں امیر مرکزیہ کا استقبال کیا۔ اکوڑہ خٹک میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب مدظلہ کی عیادت کے لئے ان کی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔ حضرت شیخ الحدیث نے حضرت امیر مرکزیہ کو اپنی خصوصی دعاؤں سے نوازتے ہوئے آپ کی پیشانی کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا کہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں آپ کی قیادت میں مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد نے مرزائیت کا سر کچل کر رکھ دیا ہے اور ان شاء اللہ وہ دن بہت قریب ہیں کہ پاکستان کی سرزمین سے مرزائیت کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ (قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید) آپ سے رخصت لے کر آپ مردان کے لئے روانہ ہوئے۔ نوشہرہ کے قریب مردان کے علماء کرام اور نوجوان، مولانا غازی محمد یونس، حافظ حسین احمد کی قیادت میں آپ کے استقبال کی خاطر موجود تھے۔ حضرت کی آمد پر فضا تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھی۔ یہاں سے حضرت امیر محترم موٹر سائیکلوں اور موٹروں کے جلوس میں مردان کی جانب روانہ ہوئے۔ راستہ میں جگہ جگہ فضا نعرۂ تکبیر اور ختم نبوت سے گونج اٹھی۔ مردان کالج چوک کے قریب ایک جم غفیر حضرت اقدس کے استقبال کے لئے موجود تھا۔ آپ کی قیادت میں یہاں سے جلوس جامع مسجد بکٹ گنج کی جانب روانہ ہوا۔ سارے راستہ میں مسلمان اپنے دلی جذبات کے اظہار کے لئے نعرے لگاتے رہے۔ بکٹ گنج کے بازار میں عوام کے جذبات قابل دید تھے۔ حضرت اقدس کی موجودگی میں جلسے کی کارروائی قرآن کریم کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ جناب محمد ناصر جمیل نے حضرت اقدس مدظلہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے اعلان کیا کہ حضرت کے ایک ادنیٰ اشارے پر ہم نوجوانان بکٹ گنج ختم نبوت کی حفاظت کی خاطر اپنی جان اپنا مال اور اپنی آن قربان کردیں گے۔ اس اجلاس میں حافظ حسین احمد، مولانا فضل، مولانا سید امام شاہ نے بھی خطاب کیا۔ حضرت اقدس نے مردان کے جوانوں کے اصرار پر اظہار خیال فرماتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین سے واپسی پر مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملتان میں مردان کے واقعات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مردان کے لئے وقت دیا جائے۔ میں نے اسی وقت کہا کہ مردان والے جب بھی حکم دیں۔ میں اسی دن اسی وقت تمام مصروفیات معطل کر کے مردان پہنچ جاؤں گا۔ عزیزی مولوی نورالحق نور جو ہماری مجلس شوریٰ کے رکن ہیں، انہوں نے آج کی تاریخ کا تعین کر کے مرکز کو مطلع کیا۔ آج میں دل کی گہرائیوں سے مردان کے غیرت مند مسلمانوں کو سلام کرنے آیا ہوں اور انہیں جرأت مندانہ اقدام پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ مرکزی عالمی مجلس اس سلسلہ میں مکمل اور غیر مشروط تعاون کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ اس کے بعد دعا فرمائی۔ بعد ازاں مرزاڑے کی منہدم عمارت کو دیکھنے تشریف لے گئے۔ آپ نے مرزاڑے کو دیکھ کر فرمایا: ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“ پھر نماز کے بعد مدرسہ تحفیظ القرآن تشریف لے گئے۔ عصر کے بعد نوجوانوں نے آپ سے بیعت کی۔ بعد ازاں خانقاہ سراجیہ کے لئے روانہ ہوگئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴، مورخہ ۱۷ تا ۲۳/ اکتوبر ۱۹۸۶ء)
مردان کی عدالت سے قادیانیوں کو سزا کا فیصلہ
بعدالت جناب شاہ حسین خان آفریدی سب ڈویژنل مجسٹریٹ مردان بنام: (۱) جاوید ولد شیخ نذیر احمد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۲) شبیر احمد ولد شیخ نذیر احمد ساکن بکٹ گنج مردان
مقدمہ: یو/ایس ۲۹۵-اے / ۲۹۸-سی پی۔پی۔سی ایف۔آئی۔آر نمبر ۸۹ مورخہ ۹ /جولائی ۱۹۸۵ء پولیس اسٹیشن اے ڈویژن مردان فیصلہ: ملزم جاوید ولد شیخ نذیر احمد اور شبیر احمد ولد نذیر احمد ساکن بکٹ گنج مردان کا قانون تعزیرات پاکستان کا پیرا نمبر ۲۹۵/۲۹۵-اے اور ۲۹۸-سی کے تحت مقدمہ کے لئے چالان کیا گیا۔
اس تمام مقدمے کی کارروائی کچھ ایسے ہے کہ مؤرخہ ۳۰/جون ۱۹۸۵ء کو نماز عصر کے بعد شکایت کنندہ مولانا حافظ حسین احمد ملزم جاوید جو کہ دوکان کا مالک ہے۔ اس کی دوکان جس کا نام نیولائٹ ہاؤس ہے۔ کچھ برقی آلات خریدنے گیا اور اس نے ملزم جاوید کی چھاتی پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا۔ دیکھا یہاں تک کہ بجلی کے بلوں پر بھی کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ جب کہ اس نے ایک آیت بھی دیکھی جس کا اردو میں ترجمہ یوں لکھا تھا۔
جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں۔ وہی شاد کام ہوتے ہیں اور جو کلمہ مٹانا چاہے وہ خود بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔
مولانا حافظ حسین احمد کو شک ہوا کہ ملزم قادیانی ہے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے۔ اس پر وہ دوکان سے باہر آگئے اور ساتھ والے دوکاندار سے حقیقت کی تصدیق کی کہ ملزم واقعی قادیانی ہے۔ شکایت کنندہ نے ملزم سے کوئی چیز نہ خریدی۔ جونہی اسے پتہ چلا کہ ملزم عقیدے کا قادیانی ہے اور صرف چھاتی پر یا سینے پر کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے اور اس طرح کا اظہار اس نے دوکان میں بلبوں پر لکھ کر کیا ہے اور یہ پراپیگنڈا بھی اسی اردو فقرے کی صورت میں تھا۔ پھر شکایت کنندہ اپنے گھر چلا گیا اور مؤرخہ ۷/جولائی ۱۹۸۵ء تک انتظار کیا۔ جس دن وہ ہری پور ہزارہ کے قاری یعقوب صاحب، مولوی عبدالغفران صاحب اور حافظ فلک نیاز اور حافظ ذکر اللہ صاحب کے ساتھ ملزم کی دوکان پر گئے۔ نیولائٹ ہاؤس میں انہوں نے جرم کی وہی صورت دیکھی جو کہ ۳۰/جون ۱۹۸۵ء کو دیکھی گئی تھی۔ شکایت کنندہ انہی کے ساتھ دوسری لائٹ ہاؤس دوکان پر گئے۔ جسے ملزم شبیر چلا رہا تھا۔ جہاں پر کلمہ طیبہ ملزم نے الماری میں رکھا ہوا تھا۔ شکایت کنندہ کا مؤقف یہ تھا کہ ملزم اسی طرز سے کلمہ طیبہ کی توہین کا ارتکاب کر رہے ہیں اور قادیانی آرڈیننس کے تحت قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ شکایت کنندہ نے اس بارے مقامی پولیس کو اطلاع دی۔ جس پر مقامی پولیس نے سی.آر.پی.سی کے پیرا نمبر ۱۵۶(۳) کے تحت انکوائری شروع کر دی اور ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ ان کی تلاشی لی گئی۔ ریکوری میمو (Recovery Memo) کے مطابق ملزم جاوید ولد شیخ نذیر احمد کی ملکیت سے چھپا ہوا کاغذ کا ٹکڑا ملا۔ جس پر کلمہ طیبہ اور اردو میں شعر لکھا ہوا تھا۔
اسی طرح شبیر ولد شیخ نذیر احمد کے پاس ایک بٹن کا ٹکڑا ملا جس پر لکھا ہوا تھا۔ انکوائری افسر نے تفتیش مکمل کی اور ایس.ایچ.او نے مقدمے میں ۲۰/اگست ۱۹۸۵ء کو مکمل چالان پیش کیا اور اس کے بعد ملزموں کو پیرا/ ۲۴۱ کے تحت ۲۰/دسمبر ۱۹۸۵ء کو مقدمے کی نقول پیش کی گئیں اور ملزم پر پیرا نمبر ۲۹۵-اے اور ۲۹۸-سی قانون تعزیرات پاکستان کے تحت ۶/مارچ ۱۹۸۶ء کو الزام لگایا گیا اور پیرا نمبر ۲۴۹ کے تحت دلائل سنے گئے۔ وکیل صفائی کی درخواست پیرا نمبر ۲۴۹ کے تحت مسترد کر دی گئی۔ ملزم نے الزام کو اپنے آپ کو قصوروار نہ جانتے ہوئے مقدمے کو ترجیح دی۔ اس کے بعد گواہوں کو سمن جاری ہوئے اور ان کا اس مقدمے کی خاطر جائزہ لیا گیا۔ اسی مقدمے میں عینی گواہ گیارہ کی تعداد میں پیش ہوئے جن میں سے دو حافظ ذاکر اللہ اور ظاہر خان ولد بادام گل کو خارج از بحث قرار دیا گیا۔ باقی نو گواہوں کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہان جنہوں نے اس آیت کے لکھے جانے کی حمایت کی یا تصدیق کی۔ ملزم کے بیانات ۴ اگست ۱۹۸۶ء کو قلمبند کئے گئے۔ ان بیانات میں ملزم کی کوشش تھی کہ اپنے بچاؤ کی خاطر گواہی پیش کرے۔ لیکن ۴ ستمبر ۱۹۸۶ء کو ان کے وکیل نے اس مقدمے میں کوئی عینی شاہد اپنے تحفظ کی خاطر پیش کرنے سے انکار کر دیا۔
جناب خالد محمود خان وکیل مقدمہ نے مقدمے کے حق میں دلائل دیئے۔ جب کہ ایڈووکیٹ مجیب الرحمٰن نے مقدمہ کی صفائی کے لئے دلائل دیئے۔ وکیل مقدمہ جناب خالد محمود نے ایف آئی آر پڑھنے کے بعد یہ دلائل دیئے کہ وہ گواہی کی نوعیت پر زور نہیں دے گا۔ کیونکہ یہ مقدمہ کے حق میں جائے گی کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے اتفاق کرتی ہیں۔ یعنی ایک جیسے حقائق کی تصدیق کرتی ہیں اور ملزم کو قصور وار ہونے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اس نے بڑی شد و مد سے ملزموں کے اقبال جرم کی طرف حوالہ دیا جس میں ملزموں نے بارہا حقائق کو تسلیم کیا تھا۔
- ۱...... یہ کہ ملزم عقیدے کے لحاظ سے قادیانی ہیں۔
- ۲...... یہ کہ ملزم اسے جرم تصور نہیں کرتے جب وہ عقیدے کے لحاظ سے کلمہ طیبہ کو جیسے کہ گواہوں نے دیکھا ہے اس طرح لکھ کر ظاہر
کرنے کو جرم تصور نہیں کرتے۔
وکیل مقدمہ نے یہ بات بھی ظاہر کی کہ جب اس سے عدالت کی طرف سے سوال کیا گیا کہ دونوں ملزم مسلمان ہیں یا کہ غیر مسلم دونوں نے ہی جواب دیا کہ میں اس کا جواب نہیں دے سکتا کہ مجھے قانوناً اس سے منع کیا گیا ہے اور عدالت نے قانون کے بارے میں دریافت کیا جس کی وجہ سے وہ منع کئے گئے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ قادیانی آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے تحت منع کئے گئے ہیں۔ اس وقت سے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کرتے۔ وکیل نے عدالت کی توجہ اس بات کی طرف مرکوز کی کہ پہلے ذکر کئے گئے ملزموں کے جواب کو غور سے پڑھا جائے۔ جن میں ان کے خلاف الزامات لگائے گئے ہیں اور جو انہوں نے صحیح تسلیم کئے ہیں کہ ملزم اپنے آپ کو غیر مسلم تصور نہیں کرتے اور جان بوجھ کر اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے حالانکہ آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے تحت وہ اپنے آپ کو غیر مسلم کہلوانے پر کوئی پابند نہیں رہے۔ وکیل مقدمہ نے دلائل دیئے کہ قادیانی غیر مسلم قرار دیئے جاچکے ہیں۔ پھر بھی وہ اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں مانتے اور مجرم غیر مسلم کے سوال پر نفی یا اثبات کئے بغیر خاموش رہے جس پر وکیل مقدمہ نے اس حقیقت پر زور دیا کہ عدالت لگائے گئے الزامات، گواہی اور ان کے اقبال جرم کی روشنی میں فیصلہ کرے اور اس کی خاطر وکیل نے قانون کا پیرا نمبر ۲۹۸-سی، پی۔ پی۔ سی پڑھا جس کے تحت ایک احمدی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مذہب کا پرچار اور پروپیگنڈا بھی نہیں کر سکتا۔ وکیل مقدمہ نے یہ دلیل دی کہ اردو میں لکھا ہوا شعر ؎
یہ سوائے اس کے کہ کلمہ طیبہ کا پروپیگنڈا ہے۔ کچھ بھی نہیں اور یہ ملزم کی طرف سے تبلیغ ہے۔ جس کا وہ اعتراف کرچکا ہے کہ وہ احمدی ہے۔ جناب خالد محمود صاحب نے اس بارے میں قانون سازی کی وضاحت بھی کی۔ اس معاملے میں پی۔ ایل۔ ڈی ۱۹۸۵ء لاہور ۸-۱۲ / پی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام کو ارتداد سے بچانے کی خاطر قانون سازی کی جائے جب کہ فاضل مقدمہ کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے وکیل صفائی جناب مجیب الرحمٰن نے اس کی باتوں سے اتفاق کیا کہ دونوں ملزم عقیدے کے لحاظ سے قادیانی ہیں اور انہوں نے کلمے کی نمائش کی ہے۔ قرآنی آیات اور اس کے علاوہ اور بہت سی آیات ملزم کی دوکان سے دریافت ہوئیں لیکن فاضل وکیل
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صفائی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ کلمہ طیبہ کی اس لئے نمائش کی گئی کہ ان کا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ اس طرح قرآنی آیات اور اس بارے اردو شعر اسی لئے ہیں کہ وہ ان سے یہ بات ظاہر کریں کہ وہ ان سے کوئی تبلیغ کا کام، پروپیگنڈے کا کام یا مسلمان ظاہر کرنے کے لئے نہیں بلکہ صرف عقیدہ پر عمل کرتے ہوئے یا قائم رہتے ہوئے اس نے پی۔ایل۔ڈی ۱۹۸۵ء لاہور کا حوالہ دیا جس کی رو سے کہ احمدی اپنے عقیدے پر عمل کر سکتے ہیں۔ اگر اس کا پروپیگنڈا یا تبلیغ نہ کی جائے اس نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ کلمہ طیبہ پر قانون کے تحت احمدیوں پر اس کے اظہار پر پابندی لگادی گئی ہے۔ پھر بھی اتنی گنجائش رکھی گئی ہے جیسا کہ پیرا نمبر ۲۹۸-بی، پی۔ پی۔ سی میں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے پی۔ایل۔ڈی ۱۹۵۳ء لاہور ۵۷۸/بی کی طرف اشارہ کیا جس کے ذریعے اس نے ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ شق اور نوعیت کے لئے خصوصاً کسی خارجی آدمی کے جذبات کو جاننے کے لئے اور آخر میں دلیل دی کہ ملزم نے کوئی جرم کا ارتکاب نہیں کیا اور ان پر مقدمے کے کئے جانے پر افسوس بھی کیا اور ان کو بری کئے جانے کی درخواست بھی کی۔
ملزم کا حقائق کو تسلیم کرنا کہ وہ عقیدہ کے لحاظ سے احمدی ہیں کلمہ طیبہ کی نمائش، قرآنی آیات، اردو شعر کا لکھنا کہ ؎
کی نمائش مقدمے کے حق میں ہے اور الزام کے ثابت ہو جانے کے لئے کافی ہے اور حالات میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ ملزم نے قرآنی آیات دوکان میں رکھی ہوئی ہیں جہاں مسلمان گاہک آتے ہیں اور دیکھتے ہیں اور کلمہ طیبہ کا اردو شعر کے ذریعے کلمہ طیبہ کا پروپیگنڈا روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ مخصوص حقائق ہیں جو کہ پیرا نمبر ۲۸۹-سی، پی۔ پی۔ سی کے تحت وہ آدمی جو عقیدے کے لحاظ سے احمدی ہے پر پابندی ہے۔ اس لئے ملزم جو کہ قادیانی ہیں قانون کی اس نے خلاف ورزی کی ہے۔
پیرا نمبر ۲۸۹-سی، پی۔ پی۔ سی کے تحت کوئی بھی احمدی اپنے عقیدے کی تبلیغ نہیں کر سکتا۔ زبانی ہو کہ تحریری یا ایسی چیزوں سے جو کہ دکھائی دے رہی ہوں۔ اس قانون کے تحت قادیانیوں کا مذہبی عقیدہ مان لیا جائے۔ پھر بھی اس طرح پروپیگنڈا کرنا پرچار کرنا اس طرح تحریری یا دکھائی دی جانے والی جیسا کہ ملزموں نے تسلیم کیا ہے قانون کے تحت احمدی لوگوں کے پروپیگنڈا کرنے اور تبلیغ پر پابندی ہے۔ اس مقدمے میں ملزم کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔ جس نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ان میں سے ہر ایک کو تین سال کے لئے جیل بھیجا گیا ہے اور ہر ایک کو پندرہ ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے یا ۲۹۸-سی، پی۔ پی۔ سی کے تحت ایک سال کے لئے ایس۔ ڈی اور ان کو دو سال کے لئے آر۔ آئی کی سزا بھگتیں اور دس ہزار روپے جرمانہ ادا کریں۔ نو مہینے کی ایس۔ آئی جو کہ پیرا ۲۹۵-اے کے تحت دی گئی ہے۔
ملزم جاوید اس طرح کے پہلے بھی ایک مقدمے میں ملوث ہے جب کہ ملزم شبیر احمد کی ضمانت پر رہا ہے۔ اسے بھی حراست میں لیا جانے والا ہے اور دونوں ملزمان کو عدالتی حوالات میں بھیجا جانا چاہئے تاکہ مقدمات بھگتیں اور فائل جی۔ آر۔ او کے پاس تکمیل کے بعد رہے۔ حکم کا اجراء: مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۸۶ء
شاہ حسین خان آفریدی (سب ڈویژنل مجسٹریٹ مردان)
(ہفت روزہ لولاک مورخہ ۷؍نومبر ۱۹۸۶ء ص ۲۱ تا ۲۳)
آٹوموبائل کارپوریشن کراچی کا دیوالیہ پن
۱۹۷۴ء کے آئین کے بعد مسلسل یہ مطالبہ ہوتا رہا کہ اہم اور کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ قادیانی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جہاں بھی ہو اس کی وفاداری صرف اپنے مذہب اور پیشوا سے ہوتی ہے اور یہ بات تو بالکل صاف ہے کہ قادیانی اسلام اور پاکستان دونوں کے غدار ہیں۔ وہ کب چاہیں گے کہ یہ ملک ترقی کرے۔ پاکستان آٹوموبائل کارپوریشن کا ادارہ جو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتا تھا اس کا سربراہ ایک کٹر قادیانی کنور ادریس تھا اور ملک کا یہ ترقی پذیر ادارہ اسی دن سے زوال پذیر ہو گیا تھا جس دن سے کنور ادریس قادیانی اس کا سربراہ بنا تھا۔ روزنامہ جنگ کراچی کی ۱۹؍ دسمبر ۱۹۸۶ء کی اشاعت میں شائع شدہ ایک رپورٹ ملاحظہ ہو۔ جس میں آٹوموبائل کارپوریشن کی تباہی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
روزنامہ جنگ لکھتا ہے: ”سرکاری انتظام کے تحت چلنے والی پاکستان آٹوموبائل کارپوریشن کو ۸۷-۱۹۸۶ء کے مالی سال کے پہلے تین سال کے دوران ۴ کروڑ ۹۰ لاکھ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ جب کہ گزشتہ مالی سال کے اس عرصے کے دوران ٹیکس کی ادائیگی سے قبل ۲ کروڑ ۶۰ لاکھ روپے کا منافع ہوا تھا۔ باخبر سرکاری ذرائع کے مطابق کارپوریشن کی سیلز کی مالیت ایک ارب ۱۰ کروڑ ۱۰ لاکھ روپے سے گر کر ایک ارب ۸ کروڑ ۲۰ لاکھ روپے رہ گئی ہے۔ جب کہ پیداواری انڈکس ۱۰۰ سے کم ہو کر ۸۵ فیصد اور مینوفیکچرنگ کی لاگت ۹۴ کروڑ ۲۰ لاکھ روپے سے بڑھ کر ۹۵ کروڑ روپے ہو گئی۔ کارپوریشن کے زیر اہتمام کام کرنے والے یونٹوں کی تعداد ۷ ہزار ۴۲۰ سے بڑھ کر ۷ ہزار ۴۹۳ ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کارپوریشن کے ایک یونٹ بلوچستان وہیلز کو ۲۰ لاکھ ۲۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ جب کہ گزشتہ مالی سال کے اس عرصے کے دوران ۶۵ لاکھ ۱۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا تھا۔ یونٹ کے پیداواری انڈکس میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ مینوفیکچرنگ کی لاگت میں کمی کے ساتھ سیلز میں ۴۰ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کارپوریشن کے دوسرے یونٹ ڈومیسٹک اپلائنسز کو ۸ لاکھ ۵۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ۷ لاکھ ۷۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا تھا۔ یونٹ کی سیلز میں ۱۰.۸ فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ جب کہ مینوفیکچرنگ لاگت میں ۲.۸۸ فیصد اضافے کے ساتھ مالیاتی اخراجات میں ۴۰ لاکھ ۶۰ ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ میک ٹرکس کے یونٹ موجودہ مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران مکمل طور پر بند رہے۔ یونٹ کو ۶ لاکھ ۷۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ ایک لاکھ ۶۰ ہزار روپے کی مصنوعات سیلز کیں۔ ملت ٹریکٹرز کے یونٹ کے منافع کی مالیت ۴۰ لاکھ ۱۰ ہزار روپے سے کم ہو کر ۳۶ لاکھ ۱۰ ہزار روپے رہ گئی۔ یونٹ کو پہلے نو ماہ کے دوران ۱۴ لاکھ روپے کا منافع ہوا تھا۔ پیداواری انڈکس میں ۹ فیصد جب کہ پیداواری لاگت میں ۱۴ فیصد کا اضافہ ہوا۔ سیلز میں ۱۸ لاکھ روپے کے اضافے اور مالیاتی اخراجات میں ۱۳ لاکھ ۷۰ ہزار روپے کی کمی سے یونٹ کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے۔
بولان کاسٹنگز کے یونٹ کو ۷۱ لاکھ ۲۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ یونٹ کے آپریشن کی پہلی سہ ماہی تھی۔ یونٹ کو سیلز سے ۴۱ لاکھ ۷۰ ہزار روپے کی آمدنی ہوئی جب کہ بجٹ میں ۲۸ لاکھ ۲۰ ہزار روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ۸۷-۱۹۸۶ء کے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران نیشنل موٹرز کو ۴۹ لاکھ ۱۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا۔ جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران ۶ لاکھ ۶۰ ہزار روپے کا منافع ہوا تھا۔ یونٹ کی پیداواری انڈکس میں ۱۶.۶ فیصد کی کمی کے علاوہ پیداواری لاگت میں ۲.۹۹ فیصد اضافے کے ساتھ سیلز میں ۲۵.۵۳ فیصد کی کمی ہو گئی ہے۔ موٹر یونٹ کو ۳۵ لاکھ ۴۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا۔ جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران ۷۳ لاکھ ۷۰ ہزار کا خسارہ ہوا تھا۔ یونٹ کے خسارے میں کمی کی وجہ پیداواری انڈکس میں ۳۰ فیصد اضافے کے علاوہ مینوفیکچرنگ لاگت میں ۱۳ فیصد کی کمی اور سیلز میں ۲۹ فیصد کا اضافہ ہے۔ پاک سوزوکی موٹرز کے یونٹ کو ۳ کروڑ ۵ لاکھ ۷۰ ہزار روپے کا خسارہ ہوا۔ جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران ۲ کروڑ ۴۹ لاکھ ۴۰ ہزار روپے کا منافع ہوا تھا۔ پروڈکشن
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انڈکس میں ۱.۵۵ فیصد کی کمی ہوئی جب کہ مینوفیکچرنگ لاگت میں ۴۰.۴۶ فیصد کا اضافہ ہوا۔ لاگت میں اضافہ سی.کے.ڈی وہیکلز کی قیمت میں اضافہ بیان کیا جاتا ہے۔ سیلز میں ۱۹.۶۵ فیصد اضافے کے باوجود نقصان ہوا ہے۔ ری پبلک موٹرز جو کہ الفطیم گروپ کو منتقل کر دیا گیا ہے، کو ۱۳ لاکھ ۴۰ ہزار روپے کا منافع دوسری آمدنی کے تحت ہوا ہے۔ اس یونٹ میں اب ہینو ٹرکس، ہینو پاک لمیٹڈ کے تحت اسمبل ہو رہے ہیں۔ سندھ انجینئرنگ کے یونٹ کو ۳۲ لاکھ ۳۰ ہزار روپے کا منافع ہوا جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران ۳ لاکھ ۷۰ ہزار روپے کا منافع ہوا تھا۔ پیداواری انڈکس میں بارہ فیصد جب کہ پیداواری لاگت میں ۲۸ فیصد کا اضافہ ہوا۔ تاہم سیلز میں ۴۵.۳۵ فیصد ریکارڈ اضافے سے یونٹ کو منافع ہوا ہے۔
اس اہم انکشاف کے بعد اس بات کی قطعاً گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ نہ صرف آٹو موبائل کارپوریشن سے کنور ادریس قادیانی کو ہٹایا جائے بلکہ جتنی بھی پوسٹوں پر قادیانی موجود ہیں انہیں فوراً برطرف کیا جائے تاکہ ملک مزید خسارے اور نقصان سے بچ سکے۔ یہاں ہم اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ فوج پر اس ملک کے دفاع کی ذمہ داری ہے۔ پچھلے دنوں وزیر خارجہ یعقوب علی خان نے قومی اسمبلی کو فوج میں موجود قادیانی افسروں کی تعداد بتائی ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۱۹/ دسمبر ۱۹۸۶ء)
۱۹۸۶ء میں قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں کی رپورٹ
قادیانیوں کے بہت بڑے مبلغ کا قبول اسلام
حیدر آباد دکن کے نامور سابق قادیانی مبلغ محمد ولی الدین مولوی فاضل مکان نمبر ۲/۱۱،۱۸۴۲ نمست پورہ حیدر آباد نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ (ان کے قبول اسلام پر تفصیلی مضمون ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۷ تا ۲۳/ جنوری ۱۹۸۶ء کی اشاعت ص ۱۸، ۱۹، ۲۷ پر شائع ہوا)
شاہ کوٹ میں تین قادیانی گھرانوں کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شاہ کوٹ کے سرپرست مولانا عبد اللطیف انور صاحب کے ہاتھ پر تین قادیانی گھرانے مسلمان ہو گئے۔ جن کے سربراہوں کے نام عبد الغفار جٹ اٹھوال چک نمبر ۱۸، اللہ رکھا جٹ گھمن اور عبد اللطیف جٹ وینس موضع مہوڑ ہیں۔ تینوں گھرانوں کو مجلس کی طرف سے قرآن پاک کے نسخے دیئے گئے اور ان کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا گیا۔ ان کی استقامت کے لئے باقاعدہ دعائیں کی گئیں۔
ننکانہ صاحب میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام
ننکانہ میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کے نتیجے میں واپڈا آفیسر جناب ظہیر صاحب اور ان کے اہل خانہ مرزائیت پر تین حرف بھیج کر مسلمان ہوئے۔ عالمی مجلس ننکانہ کے سرپرست نے میاں بیوی کا تجدید نکاح کیا اور ان کی استقامت و عافیت کے لئے دعا فرمائی۔
کنری محمود آباد کی دو لڑکیوں کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شوریٰ کے رکن علامہ احمد حمادی کے ہاتھ پر محمود آباد کنری کی دو قادیانی لڑکیوں عابدہ پروین دختر محمد شریف، ساجدہ پروین دختر محمد شریف مسلمان ہو گئیں۔ کنری میں یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس لئے کہ اس کی حیثیت ثانی ربوہ کی سی تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واہ کینٹ میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
واہ کینٹ کے قادیانی رفعت منیر نے مرزائیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے مولانا سید لعل حسین شاہ بخاری کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ان کو اسلام کی دعوت دینے میں ان کے دوست ظہیر احمد نے بہت مؤثر کردار ادا کیا۔
(لولاک مؤرخہ ۲۳؍مئی ۱۹۸۶ء ص ۲۲)
مردان میں قادیانیوں کا قبول اسلام
مرزا غلام احمد قادیانی زندیق اور اس کے پیروکار غیر مسلم، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مردان میں مولانا محمد یونس خطیب کے دست حق پرست پر مندرجہ ذیل افراد نے مرزائیت سے تائب ہو کر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی زندیق اور اس کے جملہ پیروکار کافر و مرتد ہیں۔ بشیر احمد بمعہ اہل وعیال، نور احمد بمعہ اہل وعیال، عبدالرشید بمعہ اہل وعیال، نذیر احمد سنی الیکٹرک سٹور راولپنڈی۔
(نوٹ) بشیر احمد کے والد کفر گڑھ ربوہ میں مرزائی عبادت گاہ میں مرزائی غیر مسلموں کے گرو ہیں۔ اس موقع پر مسلمانوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو گلے لگایا اور مسجد نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر اور ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔
(لولاک مؤرخہ ۲۹؍اگست ۱۹۸۶ء ص ۱۷)
بنی سر روڈ سندھ میں قادیانی کا قبول اسلام
جامع مسجد بنی سر روڈ سندھ کے امام مولانا محمد اسماعیل کے ہاتھ پر سعید احمد ولد منشی مختار احمد قادیانی نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔
(لولاک مؤرخہ ۵؍ستمبر ۱۹۸۶ء ص ۲۰)
گوجرانوالہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
محلہ کنگنی والا گوجرانوالہ میں قادیانی خاندان محمود احمد اس کی بیگم حمیدہ، بیٹی نسرین کوثر بیٹے ناصر محمود، نعیم، مقصود احمد اور ظہور نے مولانا زاہد الراشدی صاحب کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر حافظ محمد ثاقب بھی موجود تھے۔
(لولاک مؤرخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۸۶ء ص ۱۶)
چناب نگر (ربوہ) کے قادیانی کا قبول اسلام
مولانا صاحبزادہ طارق محمود صاحب کے ہاتھ پر محمد رفیع ولد محمد صادق قادیانی نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔
(لولاک مؤرخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۸۶ء ص ۱۹)
۱۹۸۶ء میں منعقد کانفرنس ہائے ختم نبوت اور تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ
ختم نبوت کنونشن لوئر پکھل مانسہرہ
۹؍جنوری ۱۹۸۶ء بروز جمعرات دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت مدرسہ عربیہ انوار القرآن اڈہ خواجگان ایک روزہ کنونشن ضلعی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اور مشہور روحانی پیشوا عالم باعمل حضرت مولانا محمد عبداللہ خالد صاحب مرکزی خطیب مانسہرہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کنونشن کا آغاز قاری خلیل الرحمٰن نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ حضرت مولانا محمد مظفر اقبال قریشی صاحب امیر مجلس نے تمام مندوبین علماء
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرام ، معززین علاقہ اور کارکنان مجلس کو اس کنونشن میں شرکت پر، خوش آمدید کہا۔ بالخصوص استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا عبدالحئی مدظلہ، خطیب جامع مسجد مانسہرہ مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مانسہرہ کے ناظم تبلیغ مولانا سید منظور احمد شاہ صاحب آسی ، مولانا سید اسرار الحق شاہ ناظم اعلیٰ مجلس ختم نبوت مانسہرہ کا شکریہ ادا کیا کہ ان اکابر نے ہم خدام مجلس پر دست شفقت رکھا اور کارکنان مجلس کے پر زور اصرار پر کنونشن کی رونق بنے ۔ مولانا قریشی نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ نمبر ۲۵ ص ۱۵، مؤرخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۸۶ء)
مولانا نذیر احمد تونسوی
۱۲؍ جنوری ۱۹۸۶ء کو مولانا نذیر احمد تونسوی نے ایک ہفتے کے لئے صوبہ سندھ کا تبلیغی دورہ کیا ۔ ڈیرہ مراد جمالی ، جھٹ پٹ ، گھڑی خیرو، ہالہ، لاڑکانہ اور مضافاتی دیہات کا تبلیغی دورہ کیا اور مختلف مقامات پر بیانات فرمائے ۔
مولانا قاضی اللہ یار، تھر پارکر کا دورہ
مولانا قاضی اللہ یار مرکزی مبلغ عالمی مجلس نے تھر پارکر کا کامیاب تبلیغی دورہ کیا ۔ یہ دو دو ہفتوں پر مشتمل تھا ۔ کنری ، تھر پارکر، حیدرآباد اور مضافاتی دیہات کا دورہ کیا جو نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز رہا ۔
سیالکوٹ میں احتجاجی کانفرنس
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے زیراہتمام ۱۰؍ فروری ۱۹۸۶ء کو امام صاحب روڈ پر ایک زبردست احتجاجی جلسہ منعقد ہوا ۔ مسئلہ ختم نبوت کے لئے عامتہ المسلمین کی حیرت اثر دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بوندا باندی اور سرد ہواؤں کے باوجود اس جلسہ کو نہایت جوش وخروش سے سنا ۔
مولانا فضل الرحمن: مولانا فضل الرحمن نے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا میں اس کانفرنس میں شمولیت اپنے لئے سعادت کی بات سمجھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ حالیہ تحریک ختم نبوت کا نقطہ آغاز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کے مطالبات منوانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام مسلمان اور جماعتیں متحد ہو کر جدوجہد کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے چھوٹے چھوٹے اقدامات پر خراج تحسین اور مبارک باد کے انبار لگانے سے اصل مقاصد ادھورے رہ جاتے ہیں اور تحریکوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں احتیاط کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے ماسکو کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد اور منظم ہو کر قادیانیوں کا لندن ، واشنگٹن اور ماسکو تک تعاقب کرنا چاہئے ۔ منظم جدوجہد کے ساتھ ہی تحریک ختم نبوت کے مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔
مولانا عبدالقادر روپڑی: جمعیۃ اہل حدیث کے مرکزی رہنما اور مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا عبدالقادر روپڑی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم کب تک احتجاج کریں گے ۔ حکومت ہمارے احتجاج سے ٹس سے مس نہیں ہوتی ۔ اب احتجاج کی نہیں احتساب کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ۱۷؍ فروری کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی ہال کے سامنے مرکزی مجلس عمل کے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کا اعلان کیا اور علماء کو اس میں بھر پور شرکت کی دعوت دی ۔
مولانا زاہد الراشدی: مولانا نے حکومت کی قادیانیوں کے بارے میں منافقانہ پالیسی اور قادیانیوں کی حمایت کرنے والے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیاسی رہنماؤں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا ریلا دونوں کو بہا کر لے جائے گا۔ قادیانیوں کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ انہیں کوئی بھی بے جا تحفظ نہیں دے سکتا۔
مولانا محمد ضیاء القاسمی : جلسہ میں سب سے طویل اور پر جوش تقریر مولانا محمد ضیاء القاسمی نے کی۔ مولانا کے بعض فقروں پر کتنی ہی آنکھیں نمناک ہوئیں۔ اب تو حکومت کو یقین ہو جانا چاہئے کہ عوام اپنے مطالبات منوائے بغیر خاموش نہیں ہوں گے۔ مولانا ضیاء القاسمی نے حنیف رامے اور خان عبد الولی خان کا نام لے کر ان کے مرزائیوں کی حمایت میں دیئے گئے۔ بیانات کی مذمت کی متذکرہ مقررین کے علاوہ مولانا محمد اجمل قادری ، مولانا محمد رفیق جامی اور صاحبزادہ اکرم زاہد نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔ یہ کانفرنس ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی علمبردار حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملک میں ارتداد کی شرعی سزا فی الفور جاری کی جائے اور اکھنڈ بھارت پر اعتقاد اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والی قادیانی جماعت پر پابندی عائد کی جائے۔ یہ کانفرنس ساہیوال اور سکھر میں قادیانیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے چار مسلمانوں کے مقدمات کے فیصلوں کو لٹکا دینے کی حکومتی پالیسی کی مذمت کرتی اور مطالبہ کرتی ہے کہ ان فیصلوں کا اعلان جلد کیا جائے۔
قادیانی ملک بھر میں قادیانی امتناعی آرڈیننس کی جس طرح خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے آرڈیننس کا تحفظ کرتے ہوئے ان اشتعال انگیزیوں کا فوراً سد باب کرے۔ اس ضمن میں سیالکوٹ انتظامیہ علی الخصوص اپنا فرض فی الفور ادا کرے اور قادیانیوں کی ”کبوتراں والی“ مرکزی عبادت گاہ سمیت شہر کی دیگر قادیانی عبادت گاہوں اور عمارات سے کلمہ طیبہ کے جعلی استعمال کو بند کرائے۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ مرکزی مجلس عمل کی جانب سے ۱۷؍فروری ۱۹۸۶ء کو قومی اسمبلی کے ہال کے سامنے ایک ہزار علماء کے احتجاجی مظاہرے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے قائدین کو مکمل یقین دلاتی ہے کہ علماء کا قافلہ مولانا فیروز خان کی قیادت میں اسلام آباد جائے گا۔
- ...... جلسہ کا آغاز بعد ظہر ہوا۔
- ...... رات اور دن بھر کی بارش کے باوجود جلسہ بہت کامیاب رہا اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
- ...... مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبد القادر روپڑی کے تاخیر کے ساتھ آنے کے باعث جلسہ کی دو نشستیں ہوئیں۔
- ...... حضرت مولانا خان محمد کی دعا پر جلسہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ مگر عوام مولانا فضل الرحمن کا خطاب سننے کی خاطر پھر بھی جمع رہے۔
- ...... نوابزادہ نصر اللہ خان اپنی علالت کے باعث نہ آسکے اور سیالکوٹ میں ان کی جماعت کے رہنما جناب اسد اللہ باجوہ ایڈووکیٹ
ان کی معذرت پہنچانے صدر مجلس عمل کے گھر آئے۔
- ...... جلسہ کی پہلی نشست سے مولانا محمد ضیاء القاسمی ، مولانا زاہد الراشدی ، مولانا محمد رفیق جامی اور صاحبزادہ اکرم زاہد نے خطاب
کیا۔ دوسری نشست میں مولانا فضل الرحمن، مولانا عبد القادر روپڑی اور مولانا محمد اجمل قادری کی تقریر ہوئی۔
- ...... نماز عصر کا وقفہ نکال کر جلسہ نماز مغرب تک جاری رہا۔ دوسرا اجلاس مدرسہ فاروقیہ میں ہوا۔
- ...... جلسہ سڑک پر منعقد کیا گیا اور جلسہ کی صدارت مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خان محمد نے کی۔
- ...... مجلس عمل کے رضا کار مولانا ضیاء القاسمی کو جلوس کی شکل میں شہر میں لائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- جناب حامد عثمان عبیدی نے رضا کار فورس کے انچارج کی حیثیت سے نہایت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
- تلاوت کلام پاک جناب قاری حسن شاہ صاحب نے کی۔
- پیر بشیر احمد ، حافظ محمد صادق ، مولانا محمد انذر قاسمی ، مرزا محمد بشیر سالار اور جناب حامد عثمان پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے ان
تھک محنت کی۔
- اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مجلس عمل کے ضلعی رابطہ سیکرٹری نعیم آسی نے ادا کئے۔
- ضلعی انتظامیہ ۱۹۸۴ء کی تاریخ ساز کانفرنس کے تجربہ کے باعث اس کانفرنس سے سراسیمہ رہی۔
- جلسہ گاہ میں ختم نبوت زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ (ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۴۸ ص ۱۷، ۱۸، مورخہ ۲۱؍ فروری ۱۹۸۶ء)
ٹنڈو غلام علی ضلع بدین میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
(ختم نبوت رپورٹ) مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو غلام علی ضلع بدین میں ۲۴؍ مارچ ۱۹۸۶ء بروز سوموار بعد نماز عشاء شاہی بازار ٹنڈو غلام علی میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس بڑی دھوم دھام منعقد کی گئی۔ جس میں ہزار ہا مسلمانوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں رات ۲ بجے تک علماء کرام کی تقاریر جاری رہیں۔ مقامی علماء کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما و مبلغ جناب مولانا نذیر احمد ، مولانا احمد میاں حمادی ، حضرت مولانا عبدالغفور صاحب قاسمی اور مولانا عبدالغفور حقانی نے شرکت کی۔ صدارت مولانا محمد عسکری فاضل دارالعلوم دیوبند نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد حسین اور مولانا محمد قاسم نے انجام دیئے۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے نوجوان مبلغ مولانا حفیظ الرحمٰن صاحب نے فاضلانہ انداز میں مسئلہ ختم نبوت بیان فرمایا۔ ان کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بدین کے امیر مولانا عبدالستار چاوڑا نے تقریر کی۔ پھر مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا نذیر احمد کو دعوت سخن دی گئی۔ مولانا موصوف نے پون گھنٹہ تقریر کی اور اپنی فاضلانہ تقریر میں مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے تمام مطالبات کی حمایت میں مسلمانان ٹنڈو غلام علی سے تائید لی اور حکومت وقت کو تنبیہ کی گئی کہ اگر انہوں نے اسلام کے دشمن ، دین کے دشمن ، ختم نبوت کے دشمن ، وطن عزیز پاکستان کے غدار اور امریکہ، اسرائیل کے ایجنٹ قادیانیوں کے خلاف مجلس عمل کے مطالبات پر فوری طور پر عمل نہ کیا تو پھر وہ دن دور نہیں کہ اس حکومت کا حشر اور انجام ملک اور ملت کے غداروں کی طرح نہ ہو۔ اس ملک میں مسلمان اس جماعت کو حکومت کرنے کا اختیار دیں گے۔ جو ملک کا ، ختم نبوت کا، اور اسلام کا وفادار ہو۔ ملک میں آئے دن ڈاکے لوٹ مار یا ہتھوڑا گروپ کی تخریبی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ اس میں ملک کے تمام قادیانیوں کا ہاتھ ہے۔ بالخصوص ہر ضلع کا قادیانی امیر اور جنرل سیکرٹری کو گرفتار کر لیا جائے تو پورے ملک میں امن کی فضاء قائم ہو جائے گی۔ قادیانیوں کی گرفتاری کے بعد اگر کسی قسم کی کوئی تخریبی کارروائی ہو تو حکومت مجھے گرفتار کر لے۔ جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے تمام مسلمانوں نے گونج دار آواز میں نعرۂ تکبیر بلند کئے اور مولانا کے مطالبات کی حرف بحرف تائید کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ ش ۴۴ ص ۴، مورخہ ۱۸ تا ۲۴؍ اپریل ۱۹۸۶ء)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
گوجرہ میں ۱۹۸۱ء سے ہر سال دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوتا تھا۔ سال ۱۹۸۶ء میں بھی حسب دستور یہ کانفرنس نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ مارچ کے مہینے میں جب موسم بہار اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ یہ کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۷، ۲۸/مارچ ۱۹۸۶ء کو یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے فرمائی۔ کانفرنس کی تشہیر اشتہارات، اخبارات، لیٹروں، اسٹیکروں اور تانگوں پر اعلانات کے ذریعے کی گئی۔ کانفرنس کے کل پانچ اجلاس ہوئے۔ افتتاحی اجلاس بروز جمعرات بعد از نماز ظہر لائبریری گراؤنڈ میں منعقد ہوا۔ اس کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کے امیر رفیق اعظم نے فرمائی۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری عبیدالرحمن جنرل سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں میں قاری عبدالرشید، قاری فاروق احمد، قاری خلیل الرحمن، قاری محمد صدیق اور ڈاکٹر قاری صولت نواز نے تلاوت کی جب کہ نعت ونظم صوفی خلیل احمد صاحب، صوفی احمد علی چنیوٹی، فلک شیر جھنگ، سید سرفراز شاہ اور جناب سید سلمان گیلانی نے پیش کی۔ پہلے اجلاس میں مولانا سید فضل الرحمن گیلانی نے اس عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کی غرض وغایت، اہمیت اور افضلیت بیان کی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ دین کا دار ومدار عقیدہ ختم نبوت پر ہے۔ ختم نبوت دین کی اساس وروح ہے۔
تنظیم تحفظ ختم نبوت طلبہ کے سیکرٹری جناب محمد ندیم صاحب نے تنظیم تحفظ ختم نبوت طلبہ کا تعارف کراتے ہوئے بانی تنظیم تاج العلماء حضرت مولانا تاج محمود کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو سنایا گیا کہ تنظیم تحفظ ختم نبوت طلباء گورنمنٹ کالج گوجرہ کے زیر اہتمام عقیدہ ختم نبوت کے مقدس عنوان پر طلباء میں تحریری مقابلہ ہوا اور کانفرنس کی اس نشست میں نتائج کا اعلان کیا گیا اور انعامات حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے تقسیم کئے۔
جمعیۃ علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمن نے آیت خاتم النبیین کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا نے کہا کہ ایک نبوت عطائی ہوتی ہے جو عبادت وریاضت سے حاصل ہوسکتی ہے اگر نبوت ایسے مل سکتی تو حضرت صدیق ؓ تو حضور ﷺ کے خلوت وجلوت کے رفیق اور تقویٰ کے پہاڑ تھے۔ مگر صدیق ہی رہے۔ نبی نہ بنے اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ؓ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مرزا قادیانی غلاظت اور گندگی کا ڈھیر تھا۔ اگر وہ ہزار کمالات کا مالک ہوتا۔ عابد وزاہد ہوتا اور دعویٰ نبوت کرتا۔ تب بھی کافر ہوتا۔ کیونکہ فرما گئے ہادی لا نبی بعدی!
ختم نبوت کانفرنس کا دوسرا اجلاس بعد از نماز عشاء بروز جمعرات زیر صدارت پروفیسر مرزا غلام رسول منعقد ہوا۔ اس اجلاس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا اللہ وسایا، مولانا منظور احمد چنیوٹی ایم پی اے اور مولانا حق نواز آف جھنگ نے خطاب فرمایا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیان خلاصہ یہ تھا کہ انگریز سامراج نے فتنہ مرزائیت کی سرپرستی کی۔ اکابرین امت نے اس کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ غداران ملت مرزائیوں کو قیام پاکستان کے بعد کلیدی عہدوں سے الگ رکھا جاتا، لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ مثلاً جو کانوں سے بہرا ہو اس کا نام سمیع رکھا جاتا ہے جو کبھی کسی کیس میں کامیاب نہ ہوا۔ اس کا نام ظفر اللہ رکھ دیتے ہیں اور جو ناپاک ونجس ہو اس کا نام مرزا طاہر رکھ دیتے ہیں۔ آپ نے مولانا تاج محمود اور قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور حضرت امیر شریعت کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے واقعات سنائے۔
مولانا ضیاء الدین آزاد نے مسلم لیگی وزراء اقتدار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نے زبانی طور پر اسلام کا نعرہ لگایا ہے اور اسلام کو چھپانے کی کوشش کی ہے اور یہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف دھوکہ ہے اور جو لوگ اسلام کو نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہیں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔
شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب نے قرآن وحدیث رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں حیات عیسیٰ ؑ اور نزول عیسیٰ ؑ پر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مفصل خطاب فرمایا۔ آپ نے کہا کہ ہر نبی نے امت کو دجال کے فتنے سے ڈرایا۔ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق اب وہ اس امت میں آئے گا اب جو اس کا ساتھ دیں گے وہ جہنمی اور دوسرے جنتی ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جب تشریف لائیں گے تو بال تر ہوں گے اور بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ پہلی نماز امام مہدی کی اقتداء میں ادا کریں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد ۲۵ سال زندہ رہیں گے اور ۷ سال تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی اکٹھے زندہ رہیں گے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ قادیانی مرزا جھوٹا مسیح ہے اور میرے نبی ﷺ کا فرمان سچا ہے اور نہ ابھی امام مہدی آئے ہیں اور نہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔
مولانا منظور احمد چنیوٹ نے بیان میں مطالبہ کیا کہ مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس جماعت کا سربراہ دو سال قید کی سزا سے ڈر کر بھاگ نکلے۔ اس کے چیلے کب اپنی گردنیں پیش کریں گے وہ یا تو توبہ کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے یا پھر پاکستان ان کے ناپاک وجود سے پاک ہو جائے گا۔
مولانا حق نواز جھنگوی نے حجة الاسلام بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نور اللہ مرقدہ کی شہرۂ آفاق تصنیف تحذیر الناس کی روشنی میں انتہائی آسان زبان میں ایک نئے انداز میں عقیدۂ ختم نبوت کی تشریح کی۔ آپ نے واضح کیا کہ آپ آخری نبی کیوں ہیں۔ آپ کو انبیاء کے آخر میں مبعوث کیوں کیا گیا ہے؟ آپ کی بجائے کیا کسی اور پر نبوت کا دروازہ بند ہو سکتا تھا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ آپ ﷺ انبیاء کے درمیان میں مبعوث کیوں نہ کئے گئے۔ اگر سلسلہ نبوت ایک نعمت ہے اور ہدایت کا راستہ ہے تو اسے ختم کیوں کیا گیا؟ اور پھر یہ سلسلہ نبی آخر الزمان پر ہی کیوں ختم ہوا؟
کانفرنس کا تیسرا اجلاس قبل از جمعہ لائبریری گراؤنڈ میں مولانا محمد اسلم چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس کانفرنس میں مقررین نے حضرت امیر شریعت، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حضرت مولانا حسین احمد مدنی، حضرت مولانا تاج محمود اور دیگر اکابرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ کانفرنس میں وقفے وقفے سے نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، تاجدار ختم نبوت زندہ باد، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، اسلام زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، مرزائی نواز مردہ باد، شہدائے ختم نبوت زندہ باد اور نظام شریعت نافذ کرو کے فلک شگاف نعرے لگتے رہے۔ اس اجلاس میں مولانا عبد الرحیم اشعر نے خطاب کیا۔
آپ نے خطبہ جمعہ میں مرزا کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھولی۔ انگریزوں کے خلاف علمائے حق کے جہاد کا ذکر کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی خدمات کا ذکر کیا۔ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی لیاقت علی خان سے ملاقاتوں اور جنگ کی خبر کے حوالے سے قادیانیوں پر تنقید کی اور قادیانیوں کو لیاقت علی خان کا قاتل قرار دیا۔ آپ نے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے قبرستانوں میں قادیانیوں کے مردوں کے اخراج کا ذکر کیا اور شیر گڑھ کے مسئلہ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کوئی قادیانی مرتد مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ڈیرہ غازی خان میں علماء کے جلوس پر لاٹھی چارج کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائیں۔
نماز جمعہ مولانا سید طفیل شاہ گیلانی نے پڑھائی۔ نماز جمعہ کے فوراً بعد کانفرنس کا چوتھا اجلاس شروع ہوا۔ جس کی صدارت گورنمنٹ کالج گوجرہ کے پرنسپل الحاج چوہدری صفدر علی نے کی۔ اسی اجلاس میں مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری، چوہدری صفدر علی اور مسٹر حمزہ نے خطاب کیا۔
مولانا غلام مصطفیٰ نے فرمایا کہ مرزا محمود احمد کا قادیان سے بھاگ کر ربوہ آنا اور مرزا طاہر احمد کا ربوہ چھوڑ کر بھاگنا یہ مرزائی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کے جھوٹے ہونے کی علامت ہے۔ حق والے آج بھی ربوہ (چناب نگر) میں موجود ہیں۔ چوہدری صفدر علی نے کہا کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔ اب ظلی و بروزی قسم کی نبوت کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔
مسٹر حمزہ نے کہا کہ ایک مرزائی جہاں چاہتا ہے۔ وہاں پہنچ جاتا ہے اور اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے سفیروں میں مرزائی سفیروں کی تعداد زیادہ ہے۔ قوم کے مفادات کا تقاضا ہے کہ انہیں کلیدی عہدے نہ دیئے جائیں اور انہیں ان کی آبادی کے تناسب سے عہدے دیئے جائیں۔
آخری اجلاس بروز جمعہ بعد از نماز عشاء منعقد ہوا اور اجلاس کی صدارت حضرت الامیر مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشین خانقاہ کندیاں نے فرمائی۔ اس اجلاس میں اہل حدیث گوجرہ مکتب فکر کے مولوی یحییٰ صاحب نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر خطاب کیا۔ مولانا جناب منیب الرحمن نے کہا کہ مرزا کا دعویٰ مسیح جھوٹا ہے۔ بقول مرزا وہ تو انسان ہی نہیں تھا۔
صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک فیصل آباد نے کہا: میرا ایمان ہے کہ ختم نبوت کانفرنس میں لوگ خود نہیں آتے، لائے جاتے ہیں۔ انہیں میرا خدا لاتا ہے یا میرا مصطفیٰ ﷺ لاتا ہے اور اگر کوئی شخص بھی ہماری بات سننے کو تیار نہ ہو تو ہم دیواروں اور درختوں کو اپنی بات سنائیں گے۔ آپ نے کہا کہ وہ دن گزر چکے جب قادیانیوں کو لیاقت علی کا قاتل ٹھہرانا جرم تھا بلکہ آج بین الاقوامی اخبارات دہائی دے رہے ہیں کہ لیاقت علی خان کو مرزائیوں نے قتل کیا ہے۔ آپ نے قادیانیوں کے ہاتھوں لیاقت علی خان کے قتل کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قاضی صاحب اور لیاقت علی خان کی ملاقاتوں اور آخری ملاقات جو سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن پر ہوئی، کا ذکر کیا کہ لیاقت علی نے کہا تھا کہ قاضی صاحب آپ کا بوجھ اب میرے کندھوں پر آپڑا ہے۔ اللہ مجھے بھی اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آپ نے اپنی تقریر میں علماء حق اور اکابرین ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کیا۔
عبدالرشید انصاری نے فرمایا کہ پاکستان توڑ دو مرزائیوں کا تخلیق کردہ نعرہ ہے۔ کیونکہ قادیانی اکھنڈ بھارت چاہتے ہیں اس لئے ایسا مکروہ نعرہ لگانے والے درپردہ قادیانیوں کے حمایتی ہیں اور پاکستان کے دشمن ہیں۔
مولانا زاہد الراشدی نے بیان میں کہا کہ جو کردار یہودی مشرق وسطیٰ میں ادا کر رہے ہیں۔ یہ پہلے استعمار کے ایجنٹ اور بعد میں پاکستانی ہیں۔ پاکستان کو توڑنے والے زیادہ ہیں اور بچانے والے کم۔ لہٰذا ان کو کلیدی عہدوں سے ہٹاؤ اور پاکستان بچاؤ اور عوام کی بیداری کا نتیجہ ہے کہ بلوچستان مرزائی صوبہ نہ بن سکا۔ قادیانی اس دھرتی کے وفادار نہیں ہیں۔ ان کے مذہب میں جہاد حرام ہے تو وہ فوج میں کیا کر رہے ہیں۔ جواباً فرمایا کہ وہ صرف پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے لئے فوج میں بیٹھے ہیں اور عظیم تر پنجاب کا نعرہ لگواتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ہم عظیم تر پنجاب کی بجائے عظیم تر پاکستان چاہتے ہیں۔
قراردادیں : ختم نبوت کانفرنس گوجرہ میں مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔ قراردادیں حضرت ڈاکٹر محمد مجاہد نور پوری صاحب نے پیش کیں۔
- ١....... ختم نبوت کانفرنس گوجرہ کا یہ عظیم اجتماع مولانا حبیب اللہ، ڈاکٹر عبدالحی، ماسٹر منظور احمد گوجرہ اور حافظ محمد اسماعیل کی وفات پر
گہرے رنج والم کا اظہار کرتا ہے اور پسماندگان کو اللہ صبر جمیل عطاء کرے اور مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ دے۔
- ٢....... اسلامی نظریاتی کونسل کی منظور کردہ سفارش کے مطابق فی الفور مرتد کی شرعی سزا قتل نافذ کی جائے۔
- ٣....... قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ آبادی کے تناسب سے انہیں ملازمت دی جائے۔ نیز کلیدی عہدے ان کے لئے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ممنوع قرار دیئے جائیں۔
- ۴...... شہدائے ختم نبوت سکھر و ساہیوال کے قادیانیوں کو جلد از جلد تختہ دار پر لٹکایا جائے اور اس منظر کو ٹی .وی پر دکھایا جائے۔
- ۵...... قادیانی آرڈیننس پر عملدرآمد کرایا جائے۔ نیز دوسرے شہروں کی طرح قادیانی شہر گوجرہ میں اشتعال آمیز حرکات کر رہے ہیں ۔ اس کا نوٹس لیا جائے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ نمبر ۴، ۵،ص ۱۳ تا ۱۸،مورخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۸۶ء)
مورو میں ختم نبوت کانفرنس
۱۵؍اپریل ۱۹۸۶ء کو ضلع نواب شاہ کی تحصیل مورو کے مضافات قریہ بچل پور میں ایک جلسہ کا انعقاد ہوا جس میں حضرت مولانا عبدالرزاق میکھو صاحب ،حضرت مولانا حافظ حفیظ الرحمٰن،مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم، حضرت مولانا محمد ابراہیم اور حضرت مولانا محمد انس نے خطاب کیا ۔ مولانا میکھو اور حضرت مولانا محمد انس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ قادیانیوں کی شرعی سزا قتل کا نفاذ کیا جائے ۔ حضرت مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت ہر چیز سے زیادہ رکھنا ایمان کی علامت ہے اور رسول اللہ ﷺ کی محبت پر والدین کی محبت ،اولاد کی محبت غرض کہ جس چیز سے بھی محبت کی جاسکتی ہے وہ تمام محبتیں نبی ﷺ کی محبت پر قربان کرنا عین ایمان ہے اور کہا کہ مرزا مراقی تھا اور مراقی جنون کی قسم ہے لہذا مرزا مجنون اور پاگل ہے ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ ش ۶،ص ۱۸،مورخہ ۲؍مئی ۱۹۸۶ء)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور جامع مسجد الصادق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے زیر اہتمام جامع مسجد الصادق میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۶؍ شعبان المعظم ۱۴۰۶ھ،مطابق ۱۶؍اپریل ۱۹۸۶ء بروز بدھ بعد نماز عشاء منعقد ہوئی ۔ جس میں بہاول پور و مضافات کے مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کر کے عقیدہ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت کا ثبوت دیا ۔ کانفرنس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت ، شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی ۔
کانفرنس کی کامیابی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے عہدیداران الحاج محمد ذکر اللہ ، حاجی سیف الرحمٰن ، چوہدری محمد علیم ، عبدالرحمٰن انصاری ، حافظ عبدالحمید ، محمد ریاض چغتائی و دیگر کارکنوں نے بھر پور محنت کی ۔ علاقہ بھر میں عالمی مجلس کے مبلغین مولانا سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی ، مولانا حافظ احمد بخش ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اشتہارات ، دعوت نامے ، خصوصی و عمومی ملاقاتیں کر کے احباب کو شرکت کے لئے آمادہ کیا ۔ سید سلمان گیلانی نے اپنی گونج دار ، سریلی آواز سے مجمع کو مسحور کیا ۔ کانفرنس جامع مسجد الصادق کے وسیع و عریض پنڈال میں منعقد ہوئی ۔ جسے سرچ ، ٹیوب لائٹوں اور مختلف مطالبات پر مشتمل بینرز سے مزین کیا گیا تھا ۔ عالمی مجلس بہاول پور کے زیر اہتمام چلنے والے مدرسہ تعلیم القرآن مدینہ کے ایک ننھے منے طالب علم انوار العارفین جس نے حال ہی میں قرآن پاک حفظ مکمل کیا ۔ اس کی دستار بندی حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے دست مبارک سے فرمائی ۔
بہاول پور کے مشہور قاری ریاض ساجد نے اپنی مسحور کن تلاوت سے مجمع پر گویا جادو کر دیا ۔ کانفرنس میں مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ، مولانا قاری محمد حنیف ، مناظر اسلام حضرت علامہ عبدالرحیم اشعر، مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری ، مولانا قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ ، مولانا محمد لقمان علی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پوری، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری، مولانا محمد یوسف بہاول پوری، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی و دیگر حضرات نے شرکت کی۔
تحفظ ختم نبوت کانفرنس علی پور
۱۹؍اپریل ۱۹۸۶ء کو علی پور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مبلغین ختم نبوت نے خطاب کیا۔ صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے فرمائی۔ عالمی مجلس کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا، اہل حدیث رہنما مولانا عبدالستار فاروقی، بریلوی مکتب فکر کے رہنما مولانا محمد اقبال عمر فاروقی، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما کاظم خان، جماعت اسلامی کے رہنما مولانا محمد افضل، جمعیۃ العلماء پاکستان ڈیرہ غازی خان کے رہنما مولانا محمد خان لغاری، صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان اور مولانا لقمان علی پوری نے بیانات کئے۔
ختم نبوت کانفرنس مانسہرہ
۲۶؍اپریل ۱۹۸۶ء کو دارالعلوم معارف القرآن حنفیہ مرکزی جامع مسجد مانسہرہ کے زیر اہتمام یک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔ مقررین میں مولانا عبدالقیوم نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء الدین ہری پور اور مولانا دوست محمد منگلوری شامل ہیں۔ کانفرنس حضرت الامیر کی دعا سے ختم ہوئی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ ش ۴، ۵، ص ۲۲، مورخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۸۶ء)
لوئر پکھل میں جلسہ ہائے سیرت مصطفےٰ ﷺ
مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر پکھل کے زیر اہتمام ۳۰؍اپریل ۱۹۸۶ء بعد از نماز عشاء جامع مسجد ماڑی خانخیل میں جلسہ سیرت مصطفےٰ ﷺ منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مولانا مظفر اقبال قریشی نے فرمائی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید اسرار الحق شاہ ناظم اعلیٰ مجلس علاقہ لوئر پکھل نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے انسانوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور تاجدار ختم نبوت قرار دیا۔ آپ کی نبوت آخری آپ پر نازل شدہ قرآن آخری کتاب اور آپ کا قبلہ آخری قبلہ اور ہم آپ کی امت اور آخری امت ہیں۔ اس لئے کار نبوت پیغام رسالت کو گھر گھر پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ آپ سے قبل مولانا محمد ادریس مفتی صاحب نے بھی اپنی تقریر میں مسلمانوں کو رسول اکرم ﷺ کے اسوہ کی پیروی کرنے کی تلقین کی۔ آپ نوجوان فارغ التحصیل عالم ہیں اور نہایت جذباتی انداز میں آپ نے مسلمانوں کے خون کو گرما دیا۔ مقامی مسجد کے امام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی امیر مولانا شفیق الرحمن نے علاقہ لوئر پکھل میں مجلس کی کارکردگی پر روشنی ڈالی اور ہمہ وقت اس کام کو کرنے کا عہد کیا۔ مولانا شفیق الرحمن نے مجلس کے قائدین کی خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش فرمایا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا شفیق الرحمن نے ادا کئے۔
ختم نبوت کانفرنس پھگلہ
بعد از نماز ظہر جامع مسجد ختم نبوت پھگلہ میں ختم نبوت کانفرنس حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی زیر سرپرستی منعقد
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء
ہونی تھی مگر حضرت والا ایک ضروری کام کی وجہ سے ۲۷؍ اپریل ۱۹۸۶ء کو علی الصبح راولپنڈی تشریف لے گئے۔ اسی وجہ سے حضرت خطیب مرکزیہ اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر مولانا محمد عبداللہ خالد مانسہروی نے اس اہم اجلاس کی صدارت فرمائی۔ مولانا محمد مظفر اقبال قریشی امیر مجلس علاقہ لوئر پکھل، مولانا نذیر احمد خطیب بفہ اور بعد ازاں مہمان خصوصی خطیب ربوہ مولانا خدا بخش نے ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔ اس شہر میں قادیانی بھی رہتے ہیں۔ اس لئے مولانا خدا بخش صاحب نے خوب اپنے علمی اور خطابتی جوہر دکھلائے۔ مولانا عبدالعزیز شاہ صاحب اور عزیزی حفیظ الرحمن سلمہ نے کافی تگ و دو کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۳، ص ۵، مورخہ ۱۳ تا ۱۹؍ جون ۱۹۸۶ء)
اسٹیل ٹاؤن میں عظیم الشان جلسہ ختم نبوت
بروز جمعہ ۲؍ مئی ۱۹۸۶ء بعد نماز عشاء المصطفیٰ جامع مسجد اسٹیل ٹاؤن شپ کراچی میں ختم نبوت کے موضوع پر ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا عبدالرحیم اشعر مہمان خصوصی تھے۔ جب کہ آپ کے علاوہ ہفت روزہ ختم نبوت کے مدیر مسئول اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ جناب عبدالرحمن یعقوب باوا اور مولانا منظور احمد الحسینی ناظم نشریات کراچی، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا محمد عبداللہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے سے مولانا احمد نے شرکت کی۔ جب کہ اسٹیل ٹاؤن کی مساجد کے تمام آئمہ کرام و خطباء عظام اور کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ٹھیک عشاء کے بعد قاری فصیح اللہ کی تلاوت سے اس جلسہ کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں حافظ غلام احمد نے ختم نبوت کے موضوع پر ایک نعت پڑھی جس نے لوگوں کو گرما دیا۔
جس کا مطلع یہ تھا کہ؎
جو ہوں دجال ان کو انبیاء کہہ دوں یہ مشکل ہے
ان کے بعد مولانا سید محمد شاہ کو دعوت خطاب دی گئی۔ آپ نے ابتدائی و اختتامی کلمات میں جلسہ کی غرض و غایت بیان کرنے کے بعد کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلام کی بقاء اسی پر موقوف ہے۔ آپ نے فتنہ قادیانیت کے بارے میں کہا کہ یہ ٹولہ پاکستان کی سیاسی مذہبی فضاء کو مکدر کر رہا ہے۔ کہیں صوبائی، لسانی، قومی تعصبات پھیلا رہے ہیں اور کہیں فرقہ واریت کو ہوا دے کر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرتے ہیں۔ آپ نے کہا مسلمانوں کا سب سے بڑا رشتہ کلمہ طیبہ کا ہے۔ تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ قرآن ہمیں اتحاد و اتفاق، یکجہتی و یگانگت کی دعوت دیتا ہے۔ ہماری جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی یہی آواز ہے۔ ہم اسی طرف سب کو بلا رہے ہیں۔ قادیانی گروہ یہاں کی فضاء کو مکدر کرنا چاہتے ہیں۔ ہم انہیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان کی تمام سرگرمیوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔
آپ کے بعد مولانا عبداللہ بھام جی (جنوبی افریقہ) کو دعوت خطاب دی گئی۔ آپ نے انگریزی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطاء نہیں کیا جائے گا اور جو آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کذاب و دجال ہے۔ جب آپ نے تقریر ختم کی تو جناب عبدالرحمن یعقوب باوا مدیر مسئول ختم نبوت نے اعلان کیا کہ مولانا عبداللہ کی ساؤتھ افریقہ میں مسئلہ ختم نبوت پر کام کرنے کے سلسلے میں دستار بندی ہوگی۔ چنانچہ مولانا عبدالرحیم اشعر نے ان کی دستار بندی کرائی اور قادیانیوں کے خلاف قلمی جہاد کرنے کے لئے مجلس کی طرف سے ایک قلم بھی عنایت کیا۔ آپ کے بعد اہل حدیث مکتبہ فکر کے بزرگ راہنما اور خطیب مولانا عبدالستار نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا گیا کہ اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر عش عش کرنے اور یہ کہنے لگے کہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگا دی گئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں وہی کونے کی آخری اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں ۔ آپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مرزا قادیانی کو قادیانی وہیں دفن کرتے جہاں وہ مرا تھا۔ اس لئے کہ نبی جہاں انتقال کرتا ہے ۔ وہیں ان کو دفن کیا جاتا ہے ۔ یہ بھی مستقل مرزا کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے مرزائیت کے جھوٹے ہونے کے بہت سے دلائل بیان کئے۔
آپ کے بعد جناب عبدالرحمن یعقوب باوا جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کو دعوت خطاب دی گئی ۔ جوں ہی آپ کے خطاب کا اعلان کیا گیا ۔ فضاء نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی ۔ آپ نے نہایت گرج دار آواز میں قادیانیوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ ہماری مجلس شروع ہی سے تمہارا مقابلہ کر رہی ہے ۔ ہمیں تمہاری قوت کا اندازہ ہے اور جو طاقتیں تمہاری پشت پر کام کر رہی ہیں ۔ ان کا بھی ہمیں علم ہے ۔ ہمیں تمہارے ساتھ مقابلہ کرنا خوب آتا ہے اور ہم تمہارے ساتھ مقابلہ کرنا خوب جانتے ہیں اور ہم تمہارے تمام ہتھکنڈوں کو جانتے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جب دنیا سے قادیانیت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
مدعی نبوت کے جھوٹے امتی سن لیں کہ تمہارا دنیا کے کونے کونے میں تعاقب کیا جائے گا۔ آپ نے زور دے کر کہا کہ قادیانی نواز آفیسران کان کھول کر سن لیں کہ ان کا حشر بھی انہی کے ساتھ ہوگا۔ ان کو چاہئے کہ مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں ۔ ان کے حق میں دنیا آخرت کے اعتبار سے یہ بہتر ہے۔ درمیان والی پالیسی جو انہوں نے اختیار کر رکھی ہے ۔ نہیں چلے گی ۔ ہم اس کی حفاظت کے سلسلے میں کسی سے نہیں ڈرتے ۔ بڑے بڑے جنرل بھی ہمارے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے ۔ لوگ علمائے کرام کے وقار کو گرانے کی کوشش کریں گے وہ خود ذلیل ہوں گے جو ختم نبوت کے مداحوں کو چھیڑے گا ۔ اس کا حال ابتر ہوگا ۔ جب پورے ملک میں خصوصاً ربوہ میں ہم پر پابندی نہیں ہے تو یہاں ہم پر کون پابندی لگا سکتا ہے ۔ کل اسٹیل ٹاؤن میں تین قادیانی چور پکڑے گئے ہیں جن لوگوں نے ان کے پکڑنے میں کردار ادا کیا ہے ۔ وہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ ڈا کو ڈکیتی کرتے ہیں ۔ وہ مجرم ہیں، اس طرح جو قانون کی خلاف ورزی کر کے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ جیسے قادیانی یہ بھی اسی طرح کے مجرم ہیں ۔ ان کو ہرگز نہ چھوڑا جائے ۔ ہم نے قادیانیوں کا انگلینڈ میں ناطقہ بند کر دیا اور وہ وہاں پر جلسہ نہ کرسکے۔ اس طرح ہم یہاں ان کو تبلیغ نہیں کرنے دیں گے ۔ انتظامیہ کو بہرحال ہمارا ساتھ دینا ہوگا ۔ بصورت دیگر پورے ملک میں اس کا اعلان کریں گے اور یہاں جلسہ کریں گے۔ ہمیں کوئی نہیں روک سکے گا ۔ بعد ازاں بریلوی مسلک کے عالم دین مولانا منظور احمد خان خطیب جامع مسجد گلزار مدینہ کو دعوت خطاب دی گئی ۔ آپ نے کہا یہ مبارک محفل صرف اور صرف حضور ﷺ کے نام کو بلند کرنے کے لئے ہے ۔ ختم نبوت کا مسئلہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے ۔ اس کے لئے علماء کرام نے بے پناہ قربانیاں دیں ۔ شجر اسلام کی آبیاری صحابہ کرام نے اپنے خون سے کی ہے ۔ آج جب کہ یہ تن آور درخت بن گیا ہے ۔ قادیانی اس درخت کو کاٹنا اور اکھاڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ سن لیں کہ ہم ان ہاتھوں کو کاٹ ڈالیں گے جو اس درخت کی طرف بڑھیں گے۔ آپ نے زور دے کر کہا کہ چاند کی طرف پھونکیں مارنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ چاند پوری تابانی کے ساتھ چمکتا دمکتا رہے گا ۔ آپ نے کہا وہ علماء قابل صد تعریف و تحسین ہیں جنہوں نے سینہ سپر ہو کر قادیانیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ختم نبوت کا جھنڈا بلند رکھا ۔ رات دن کام کیا اور اس سلسلے میں ہر طرح کی قربانی دی اور دے رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزاء خیر عطاء فرمائے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آخر میں آپ نے قادیانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ لو ہم سب ایک ہیں چاہے وہ المصطفیٰ مسجد سے تعلق رکھتے ہوں یا گلزار مدینہ سے سب کے سب متحد ہو کر قادیانیوں کے خلاف اعلان کر رہے کہ یہ مرتد کافر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ہم سب مسلمان قادیانیوں کے عزائم کو ناکام بنانے میں اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔
آپ کے بعد مولانا منظور احمد الحسینی نے بیان کرتے ہوئے کہا آج جب کہ ملک بھر میں ووٹ بناتے جا رہے ہیں ووٹ لکھنے والے حکومت کے اہل کاروں کو چاہئے کہ اپنی ایمانی غیرت کا ثبوت دیں اور عوام قادیانیوں سے فارم: ۸ اور قادیانی آفیسران سے فارم نمبر ۹ پر کرائیں جو غیر مسلموں کے لئے مخصوص ہیں۔ قادیانی اپنا فیصلہ اقوام متحدہ میں لے گئے ہیں اور وہاں بچاؤ بچاؤ کی دہائی دے رہے ہیں۔ ان کا یہ اقدام پاکستان کے خلاف ہے اور اس پر کیرین پارکر سے جو بیان دلوایا ہے اس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ کیونکہ اسلام اور قادیانیت دو دو جدا ہیں اور قادیانی مذہب کے پیروکاروں کا اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی بیخ کنی کی کسی قیمت پر اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رئیس المبلغین نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔ آپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور ﷺ کی ذات اقدس اللہ کے بعد سب سے بلند ترین ہے۔ آپ ہی کے لئے ساری کائنات بنائی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام انبیاء میں سے چن کر ختم نبوت کا تاج سر پر رکھا۔ اس کے بعد آپ نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو کھول کر بیان کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع اس پر ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد مدعی نبوت واجب القتل ہے۔ اس بناء پر مسیلمہ کذاب سے جنگ کی گئی اور آپ ﷺ کے بعد مسیلمہ کذاب ۲۸/ ہزار مرتدین کو جہنم واصل کیا گیا اور یہی فیصلہ مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں بھی لکھا ہے۔
آپ نے کہا کہ قانون کی زبان میں قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ یہ علامہ اقبال کا مطالبہ تھا جو منظور کیا گیا۔ شریعت کا فیصلہ یہ ہے کہ قادیانی مرتد و زندیق ہے جس کی سزا شریعت میں قتل ہے۔ آپ نے کہا یہ پاکستان ہے ایک وقت تھا کہ جب قادیانیوں کو کافر کہنے پر ۶/ماہ کی سزا ملتی تھی۔ اب حالات وہ نہیں رہے۔ اب ربوہ کی سرزمین میں ہماری آواز قادیانیوں کے نام نہاد قصر خلافت پر گونج رہی ہے۔ آخر میں مولانا بشیر احمد صدر حلقہ اسٹیل ٹاؤن کا بیان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی حکومتی افسران کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مگر یاد رکھیں وہ اپنی کوشش میں ناکام ہوں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ نمبر ۴۹، ص ۲۰، ۲۱، مورخہ ۲۳ مئی ۱۹۸۶ء)
اسٹیل ٹاؤن کراچی میں تین قادیانی گرفتار
کراچی: اسٹیل ٹاؤن میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی روز بروز بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے بوکھلا کر قادیانیوں نے رات کے اندھیروں میں چوروں اور ڈاکوؤں کی طرح اشتہار لگانے شروع کر رہے ہیں۔ ایک عرصے سے یہ سلسلہ جاری تھا کہ گزشتہ ہفتے تین قادیانی اشتہارات لگاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ واقعات کے مطابق ۲؍مئی کو اسٹیل مل کی مجلس تحفظ ختم نبوت نے رات بعد نماز عشاء عظیم الشان ختم نبوت جلسہ کا اعلان کیا تھا۔ مقامی جماعتی ساتھیوں نے اشتہارات چھپوانے اور پورے اسٹیل ٹاؤن میں اشتہارات لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ۳۰؍ اپریل ۱۹۸۶ء کی رات کو کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ ہمارے اشتہارات کو کھرچ کر اس پر امن میں شائع ہونے والا قادیانیوں کی حمایت میں جمعہ خان کا کالم اشتہارات کی صورت میں لگا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ مقامی جماعتی ساتھی جعفر، محمد افضل اور خالد نعیم نے نگرانی شروع کی تو پتہ چلا کہ قادیانیوں کا ایک پورا گروہ کاروں، اسکوٹروں، سائیکلوں پر منظم طریقہ پر اشتہارات لگا رہے ہیں۔ قادیانیوں کے ٹیم کی نگرانی میجر اشرف جو کہ اسٹیل ملز میں ڈپٹی منیجر ٹرانسپورٹ کر رہے تھے۔ چنانچہ ہمارے فدائیان ختم نبوت جناب جعفر صاحب جناب محمد افضل
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور محمد خالد نعیم نے ان کو للکارا تو پورا قادیانی گروپ چوروں کی طرح بھاگ کھڑا ہوا۔ موقع پر تین قادیانی اسٹیل ملز کا فورمین بشر، ایکسین اقبال شاہد اور ایک ناظم آباد کا قادیانی ناصر احمد پکڑے گئے اور انہیں تھانے لے جایا گیا۔ میجر اشرف دوسرے قادیانیوں کو لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ تین قادیانی اشتہارات، گوند، اور برش سمیت گرفتار کئے گئے۔ لوگوں نے بتایا ہے کہ برش گوند وغیرہ انہوں نے اسٹیل ملز کا استعمال کیا ہے۔ اسٹیل ملز کی وہ وین بھی قادیانیوں کے زیر استعمال رہی جس میں میجر اشرف بھاگا۔ اسٹیل ملز کے مزدوروں اور عوام نے اسٹیل مل کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیل ملز میں رہائش پذیر قادیانیوں کو چونکہ اسٹیل ٹاؤن کے امن وسکون کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہیں نکالا جائے۔ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں ملازمتوں سے برطرف کیا جائے۔ اس کے علاوہ میجر اشرف کو بھی معطل کیا جائے۔ چیک پوسٹ کے سیکورٹی گارڈ جناب سید کاظمی نے اس واقعہ میں بھر پور حصہ لیا اور وہ بھی گواہ ہیں۔
رئیس المبلغین کی کراچی میں تشریف آوری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ کے انچارج مولانا علامہ عبدالرحیم اشعر، کراچی تشریف لائے۔ جہاں آپ کا دفتر جماعت میں قیام رہا۔ واضح رہے کہ مولانا عبدالرحیم اشعر جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں دوصد علماء کرام کو ”تردید قادیانیت“ پر ٹریننگ دے رہے ہیں۔ جو ۲۸؍ شعبان تک جاری رہے گی۔ جامعہ کے علاوہ مولانا اشعر نے مختلف مساجد میں اجتماعات سے خطاب کیا اور جماعت کی عظیم کامیابیوں سے حاضرین کو متعارف کیا اور کراچی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۴ ش ۲۸، ص ۵، مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ مئی ۱۹۸۶ء)
کوئٹہ میں عظیم الشان مظاہرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام ۱۱؍مئی ۱۹۸۶ء کو ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ جس میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ مظاہرہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا انوارالحق حقانی، مولانا عبدالغفور بلوچ، مولانا حسین احمد شرودی، مولانا محمد نعیم ترین، مولانا عبدالواحد، محمد انور خان مندوخیل، عنایت اللہ خان بازئی کی قیادت میں میزان چوک سے شروع ہوا اور شہر کی معروف ترین شاہراہوں شارع لیاقت عبدالستار روڈ سے ہوتا ہوا میزان چوک پہنچا۔ حکومت کی مرزائی نوازی اور قادیانیوں کی پشت پناہی پر سخت تنقید کی گئی اور شعائر اسلام کے استعمال پر قادیانیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مؤرخہ ۲۰ مئی ۱۹۸۶ء)
ختم نبوت کانفرنس نواں جنڈانوالہ
۱۴؍ مئی ۱۹۸۶ء کو عالمی مجلس کے زیر اہتمام نواں جنڈانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا سید فضل الرحمٰن احرار، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا محمد رمضان اور مولانا محمد عبداللہ نے بیانات فرمائے۔ مقامی طور پر چند قراردادیں پیش ہوئیں، جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام ۵؍جون ۱۹۸۶ء کو میزان چوک میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ہزاروں فدایان ختم نبوت نے شرکت کی۔ صدارت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا سید عبدالمجید ندیم،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحبزادہ طارق محمود، صوفی مولانا اللہ وسایا، جامعہ اشرفیہ کے استاذ الحدیث مفتی عبدالرحمن، مولانا عبدالغفور بلوچ، مولانا یعقوب شرودی نے بیانات کئے۔ کانفرنس میں متفقہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ ایٹمی پلانٹ سے قادیانیوں اور عبدالسلام قادیانی کو علیحدہ کیا جائے۔ ذکریوں کے نقلی حج اور نقلی بیت اللہ پر پابندی لگائی جائے اور ان کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔
دوسری ختم نبوت کانفرنس باٹلے برطانیہ
باٹلے برطانیہ میں ۲۰؍ اپریل ۱۹۸۶ء بروز اتوار کو بعد نماز ظہر باسکی ٹاؤن ہال میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ نوجوانان ختم نبوت کے صدر مولانا محمد بلال مظاہری، مولانا عبدالرحیم مظاہری اور مولانا پروفیسر ادریس، مولانا محمد اسلم دھورات، مولانا محمد انس، مولانا زبیر مکی، مولانا حسین نکیر، مولانا عثمان درویش، مولانا عبدالنعیم، مولانا محمد ابراہیم خان، مولانا محمد یوسف ٹمپول نے شرکت کی۔ مولانا محمد سلیم دھورات نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب ہم کو قادیانیوں کے خلاف صف آراء ہونا ہوگا۔ اس لئے کہ اب ان کا مرکز لندن ہے اور ان کا ہدف تم ہو۔ مولانا یوسف ٹمپول نے تحریک ختم نبوت پر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تحریک ختم نبوت تو وہ تحریک ہے جس کے لئے پانچ سال کے بچے سے لے کر ۸۰ سال کے بوڑھوں نے قربانیاں دی ہیں۔ مولانا پروفیسر ادریس، مولانا حسین بٹلر، مولانا انس، مولانا ابراہیم خان نے قادیانیوں کے کفریہ عقائد پر روشنی ڈالی۔ جلسہ میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ جوانان ختم نبوت کی دوسری کانفرنس بہت جلد بعدالرمضان لندن میں ہوگی اور آخر میں مولانا بلال مظاہری کی دعاء سے جلسہ اختتام کو پہنچا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۲ ص ۵ ، مؤرخہ ۶ تا ۱۲؍ جون ۱۹۸۶ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس لندن
دوسری سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس ۲۶؍ جولائی ۱۹۸۶ء ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن میں بروز اتوار منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی کل دو نشستیں ہوئیں۔ نشست اوّل ساڑھے نو بجے تا ڈیڑھ بجے، نشست دوم اڑھائی بجے تا ساڑھے سات بجے شام۔ اس طرح کل نو گھنٹے کانفرنس کی کارروائی جاری رہی۔
نشست اوّل کی صدارت حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی مولانا یوسف متالا تھے۔ نشست ثانی کی صدارت مولانا ارشد مدنی نے کی جب کہ مہمان خصوصی مولانا عبدالحفیظ مکی تھے۔ کانفرنس کا آغاز مولانا محمد ضیاء القاسمی خطیب پاکستان کے اس اعلان سے ہوا۔
شمع رسالت کے پروانو، برطانیہ کے طول وعرض سے سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے کانفرنس میں شریک ہونے والے خوش نصیب ساتھیو! میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے آپ سب حضرات کی تشریف آوری کا قلب وجگر کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔ میں اعتماد و یقین کے ساتھ آپ دوستوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ نے اس دیار غیر میں رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے منعقدہ اس سیمینار میں شرکت فرما کر رب کریم کی رحمت اور آقائے نامدار ﷺ کی شفاعت کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ آج ان بزرگان دین کی مقدس روحیں فرحت و انبساط کی فضا میں خوشی محسوس کر رہی ہوں گی جن کی زندگی کا مشن فتنہ قادیانیت کا استیصال تھا۔ یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خود موصوف نے پاکستان سے سفر کی رات اپنے خواب میں مولانا محمد علی جالندھری کو دیکھا کہ وہ سفید لباس میں ملبوس خوشی وانبساط سے مسرور و شادمان ان کو اپنی دعاؤں سے رخصت کرتے اور اس سفر پر مبارک باد دینے کے لئے تشریف لائے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آج فتنہ قادیانیت اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ ہر چیز اپنے اصل کی طرف رجوع کرتی ہے۔ مرزائیت کو برطانوی آقاؤں نے جنم دیا تھا۔ آج دنیا سے سمٹ سمٹا کر اپنی زندگی کی نزعی حالت پر نوحہ خوانی کے لئے مرزائی انگلستان واپس تشریف لائے ہیں۔ ان شاء اللہ العزیز اس فتنہ کا آخری وقت تک محمد عربی ﷺ کے حدی خواں مقابلہ کریں گے۔ اس کانفرنس کے سٹیج سیکرٹری میرے فاضل اجل بھائی، مجاہد ختم نبوت مولانا اللہ وسایا ہوں گے۔ ان کی معاونت قاری محمد طیب اور مولانا محمد سلیم دھورات کریں گے۔
میں مولانا اللہ وسایا سے گزارش کروں گا کہ سٹیج سنبھال کر کانفرنس کے پروگرام کو شروع کریں۔ تاج وتخت ختم نبوت، زندہ باد، مرزائیت، مردہ باد۔ سٹیج پر مولانا خان محمد صاحب ان کے ایک پہلو میں مولانا محمد یوسف متالا برطانیہ، مولانا نصر اللہ منصور افغانستان، مولانا محمد عبداللہ، مولانا قاری محمد اجمل خان، مولانا زاہد الراشدی، میاں اجمل قادری، عبدالرحمٰن یعقوب باوا، عرب مندوبین احمد، جمعیت علماء، برطانیہ کے سربراہ مولانا لطف الرحمٰن تشریف لائے۔ آپ کے دوسرے پہلو میں مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا فداء الرحمٰن درخواستی، مولانا آزاد اور جمعیۃ علماء برطانیہ کے مشائخ تشریف فرما تھے۔
خطبہ استقبالیہ عربی زبان میں مولانا عبدالحفیظ نے پیش کیا جو گزشتہ سال کے کام کی پوری رپورٹ پر مشتمل اور آئندہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عزائم کا آئینہ دار تھا۔
مولانا یوسف متالا جب تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو سامعین نے آپ کے احترام میں اٹھ کر جوش وجذبہ سے ختم نبوت زندہ باد، مولانا یوسف متالا زندہ باد کے نعرے لگائے۔ عوام کے جوش وخروش سے معلوم ہوتا تھا کہ برطانیہ کے مسلمانوں کے قلب وجگر وفکر ونظر پر کس طرح مولانا متالا حکمرانی کرتے ہیں۔
کانفرنس میں جب مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی طرف سے مولانا محمد ضیاء القاسمی نے اعلان کیا کہ برطانیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخ قائم کی جاتی ہے۔ جس کے امیر مولانا یوسف متالا ہوں گے۔ ناظم اعلیٰ مولانا لطف الرحمٰن، ناظم قاری محمد طیب عباسی، عنقریب مجلس کا لندن میں دفتر قائم کیا جائے گا اور یہ کانفرنس ہر سال ہوا کرے گی۔ نہ صرف برطانیہ بلکہ دیگر یورپی ممالک میں بھی ہمارا وفد جا رہا ہے تو اس اعلان پر وجد آفرین، ایمان پرور نظارے دیکھے گئے۔ خوشی سے بعض لوگ اشکبار ہو گئے۔ بعض نعرے لگانے لگے اور بعض کامیابی کے لئے دعائیں کرنے لگے۔
ہال میں جب مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا تاج محمود، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا سید محمد یوسف بنوری ودیگر اکابر کا نام آتا تو لوگ فرط عقیدت سے اشکبار ہو جاتے۔
مولانا فضل الرحمٰن احرار کا معروف احراری نشان لال رنگ کا کرتا زیب تن کئے۔ سٹیج پر تشریف لائے تو ہال سید عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد سے گونج اٹھا۔
چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ برطانیہ کی سرزمین پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد اور مرزائیت مردہ باد نعرے لگائے۔
کانفرنس میں کسی نے ویڈیو کے لئے کیمرہ لگایا تو مولانا یوسف متالا کے حکم پر اتار دیا گیا۔
مولانا چنیوٹی اپنی علالت کے باعث بیٹھ کر تقریر کرنا چاہتے تھے۔ مگر مولانا اللہ وسایا نے اصرار کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا کر دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے جب مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کا شہرہ آفاق یہ جملہ دہرایا کہ اگر مرزائی چاند پر گئے تو وہاں پر بھی ان کے تعاقب کے لئے ختم نبوت کا دفتر قائم کیا جائے گا۔
انٹرنیشنل ہفتہ وار ختم نبوت کے ایڈیٹر نے ارتداد کی شرعی سزا کے اسلامی ممالک میں نفاذ کا مطالبہ کیا تو دوسرے دن اس پر مرزا طاہر چیخ اٹھا۔
کانفرنس حاضری، جذبات، تقاریر، نظم و نسق گویا ہر لحاظ سے مثالی و قابل فخر تھی۔
مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا چہرہ کانفرنس کی کامیابی پر گلاب کے پھول کی طرح کھلا ہوا تھا۔
مولانا متالا کانفرنس کی کامیابی پر اللہ رب العزت کے حضور سراپا عجز و نیاز تھے۔
مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا محمد ضیاء القاسمی، عبدالرحمن باوا، مولانا اللہ وسایا کو کامیابی پر لوگ مبارک باد دے رہے تھے۔ جب کہ شکرانے کے طور پر وہ سراپا انکسار تھے۔
ان چاروں حضرات نے مل کر مولانا یوسف متالا کو مبارک باد دی اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
مولانا متالا کے خطبہ شروع کرتے ہی ہال میں سکوت کی فضاء چھا گئی۔
مولانا متالا نے فرمایا کہ میں جب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے وفد مولانا اللہ وسایا، عبدالرحمن یعقوب باوا سے ملنے کے لئے اور کانفرنس کی تفصیلات پر مشاورت کے لئے لندن آ رہا تھا تو صبح سویرے سڑک پر بے شمار خوبصورت گھوڑوں کی قطار اندر قطار دیکھ کر نیک فال لی۔ حدیث میں ہے کہ گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک خیر ہے۔ تو میں نے دل میں سوچا کہ انشاء اللہ العزیز یہ کانفرنس خیر و برکت سے مملو اور خیر کا پہلو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اس میں تشریف لانے والے خیر و برکت سے جھولیاں بھر کر تشریف لے جائیں گے۔ اس پر آپ کی آواز بھر آئی جب کہ سامعین خوشی سے اشکبار ہو گئے۔
مولانا مفتی شبیر کے حوالہ سے جو شخص یہ روایت سنتا تو جھوم اٹھتا کہ جب مولانا متالا کانفرنس کے انتظامات کے لئے لندن تشریف لا رہے تھے تو آپ نے مراقبہ میں دیکھا کہ رحمت عالم ﷺ اپنے زائرین سے فرما رہے تھے کہ متالا کو راستہ دو۔ یہ میری طرف آ رہا ہے۔
کانفرنس کے پہلے اجلاس میں دارالعلوم بری کے تین صد طلبہ، جب سفید لباس میں ملبوس سر پر سفید پگڑی باندھے ہوئے ہال میں داخل ہوئے تو ہال میں جگہ نہ ہونے کے باعث جگہ کی تلاش میں دوسرے کونہ تک قطار اندر قطار جانا پڑا۔ معصوم بچوں اور مہمانان رسول کی اس جماعت کو دیکھ کر مولانا نصر اللہ منصور مندوب افغانستان نے حیرت سے پوچھا: ”من ھؤلاء“ جواب دیا گیا کہ طلباء دارالعلوم اس پر آپ نے فرمایا: ”ھؤلاء کانھم ملائکۃ“
کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں مولانا آدم کے معصوم نو سالہ بچے محمد نے خوش الحانی اور بڑے اعتماد و وقار سے ختم نبوت زندہ باد، نظم پڑھی تو سامعین پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔
مولانا قاری محمد اجمل خان نے سیرت النبی ﷺ پر ایسی پر مغز تقریر کی کہ سامعین پر سحر بیانی کا سناٹا چھا گیا۔
مولانا محمد ضیاء القاسمی نے مرزا قادیانی کے کریکٹر و کردار پر ان کی اوریجنل کتابوں سے حوالہ جات نکال کر کتابوں کو فضاء میں لہرا کر ان پر تبصرہ کے نشتر چلاتے تو ہال تالیوں سے گونج اٹھتا جس پر منتظمین کو بار بار اعلان کرنا پڑتا کہ تالیاں نہ بجائی جائیں۔ مولانا کی تقریر ایسی عوامی اور عوام کے مزاج کی آئینہ دار تھی کہ صرف آپ کی تقریر میں نوجوان سامعین نے کھڑے ہو کر نعرے لگا کر جھوم کر ایسی داد دی کہ پورا ایوان چہک اٹھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ کی تقریر نے اب رنگ اختیار کیا کہ لوگوں نے مرزا قادیانی کے کردار سے پردہ اٹھتا دیکھ کر جوش وجذبات سے مرزا کی ہائے ہائے کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
انگریزی زبان میں ایک مقرر نے جب انگریزی تقریر میں وہ اردو کا برمحل شعر پڑھتے تو مجمع بھڑک اٹھتا۔
ایک مقرر نے جب مولانا متالا کی مدح میں چند جملے کہے۔ آپ نے اس کی تقریر بند کرا دی۔
مولانا اللہ وسایا نے نزول عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی اور خروج دجال پر احادیث مبارکہ سے روشنی ڈالی، مرزائیت کے دجل وفریب اور ان کے جوابات دیئے۔ ایسے تسلسل سے مربوط تقریر کی کہ ایوان سراپا گوش بر آواز ہو گیا۔ جم کر خاموشی ومکمل سکون سے تقریر سنی گئی۔
مرزائیوں نے ویمبلے ہال کی انتظامیہ کو فون کیا کہ ہم نے ہال میں بم رکھ دیا ہے۔ جو چھ منٹ میں پھٹنے والا ہے۔ ایسی اطلاع سے فوری طور پر انتظامیہ پولیس کی نگرانی میں ہال خالی کرا کر تلاشی لیتی ہے اور تسلی ہونے پر پھر لوگوں کو ہال میں داخلہ کی اجازت ملتی ہے۔ یہ اطلاع محض مرزائیوں کی شرارت تھی کہ کانفرنس کا ہال خالی کرایا گیا۔ بم کی اطلاع ہوئی تو لوگوں میں بدمزگی و سراسیمگی پھیلے گی۔ اس پر ہال کی انتظامیہ نے مولانا متالا سے رابطہ قائم کیا۔ آپ نے پولیس کو یقین دلایا کہ یہ محض شرارت ہے۔ غلط ہے میری ذمہ داری ہے کچھ نہ ہو گا تو پولیس نے ہال خالی کرانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ جب اس بم کی افواہ کی اطلاع مولانا ضیاء القاسمی نے لوگوں کو دی کہ مرزائی یہ کہتے ہیں کہ چھ منٹ میں بم پھٹ جائے گا تو پورا اجتماع پکار اٹھا۔ پھٹ جائے پھٹ جائے ہم نہیں جاتے۔ غرضیکہ تمام سامعین کو یقین تھا کہ جس طرح مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ اسی طرح ان کی امت جھوٹی ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ ش ۲۲ ص ۱۵ تا ۱۸، مورخہ ۵ ستمبر ۱۹۸۶ء)
دوسری بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس لندن میں حضرت مولانا سید ارشد مدنی کا خطاب
خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا: عقیدہ ختم نبوت اسلام کا ایک اہم اور بنیادی پتھر ہے اور اس عقیدہ ختم نبوت کی جو تشریح صحابہ کرام نے کی ہے وہی قابل قبول اور قابل اعتبار ہے۔ اس لئے انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے اس کی تشریح سیکھی۔ اس کی تعلیم لی اور ہم تک پہنچائی۔ آپ کی تعلیمات میں قیامت تک کسی دوسرے نئے نبی کا ذکر نہیں۔ صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے جو کچھ سیکھا یہی سیکھا۔ قرآن میں جو کچھ بیان ہوا یہی ہوا کہ آپ کے بعد نبوت کا تصور محال ہے۔ صحابہ کرام نے اس عقیدہ کو اپنایا۔ اس کی خاطر جہاد کیا اور اس عقیدہ کو رہتی دنیا تک پہنچایا۔ اگر آئندہ کسی نبی کے لئے اس دین میں کوئی گنجائش ہوتی تو جس طرح آپ سے پہلے انبیاء نے جناب رسول ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر کیا۔ اپنی امت کو اس کی خبر دی۔ اس طرح جناب رسول ﷺ اپنی امت کو اس کی خبر دیتے لیکن اس کا ذکر نہیں۔ یہ صحیح عقیدہ ہے اور اسی پر مومن کی نجات کا دارومدار ہے۔ اس کے خلاف کسی دوسرے عقیدے کو جو گنجائش دیتا ہے وہ صحیح عقیدہ نہیں۔ نہ ہی جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعلیم دی ہے۔
لیکن ایک تحریک اٹھی جس کا مرکز ہندوستان تھا۔ اس کے بعد ملک تقسیم ہوا جس طرح دنیا میں بڑے بڑے انقلاب آئے۔ اس طرح یہ بھی ہوا اور بدقسمتی سے یہ تحریک قادیان سے ربوہ منتقل ہو گئی۔ ہو سکتا ہے کہ خود ہی اس تحریک کے بانی کی نظر اس طرف گئی ہو۔ ہندوستان میں اس جماعت کے رہنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ اس لئے کہ مسلمانوں پر ایک بڑی طاقت ہندوؤں کی ہے جو مختلف تنظیموں کی شکل میں ان کے دین میں تحریف کرنے کے لئے موجود ہے۔ اب اس تحریک کے لئے زیادہ موزوں ترین مقام پاکستان ہے۔
چنانچہ بڑی عیاری کے ساتھ یہ تحریک وہاں جنم لینے لگی اور ان کے بانی اس کی اعانت و نصرت کرتے رہے اور یہ تحریک اندر باہر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پھلتی پھولتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک مقررہ وقت آیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں وہ جانباز پیدا کئے جنہوں نے اس تحریک کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور اس جماعت میں خدا نے ایسی مؤثر قوت پیدا فرمادی کہ حکومت کو اس کے سامنے سر جھکانا پڑا اور اس تحریک کو مسلمان کے علاوہ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنا میدان انگلستان کو سمجھا کہ اب دین قیم میں تحریف کے لئے یہ مقام موزوں ترین ہے۔ اس ملک میں لاکھوں مسلمان ہیں۔ ان کی نسلیں ہیں۔ اس لئے یہاں کی آب و ہوا کو دیکھ کر ان کا رخ اس طرف ہوا اور انہوں نے اپنا مرکز یہاں منتقل کیا۔ ایک طرف غیر مسلم تنظیمیں ہماری اولاد اور ہماری نسل پر حملہ آور ہے تو دوسری طرف یہ اسلام کا نام لے کر کفر کی تعلیم دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی۔
اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ آپ اس چیز کو محسوس کریں اور یہاں دینی مراکز قائم کریں۔ عقائد کی تعلیم دیں تاکہ یہاں کی نئی نسل ایمان اور اسلام کی صحیح تعلیم اور صحیح سمت کو پہنچائیں۔
یہ فتنہ پاکستان منتقل ہوا تو ہندوستان میں اس تحریک میں کمزوری آ گئی۔ پھر ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے قادیان میں سالانہ اجتماع کے موقع پر پورے ہندوستان سے لوگ شریک ہوتے تو ان کی تعداد صرف تین ساڑھے تین سو سے زائد نہ ہوا کرتی تھی اور پھر وہ کانفرنس بھی مسلمانوں کے محلے میں نہیں بلکہ ہندوؤں کی سرپرستی میں ان کے محلے ہوتی تھی۔ جہاں وہ ان کی حفاظت کرتے تھے۔ لیکن اب جب کہ فرقہ پرستی کا بھوت ہندوستان میں چل پڑا ہے تو اس وقت دشمن تنظیموں نے اس تحریک میں دوبارہ روح پھونکی اور یہ فتنہ آہستہ آہستہ بڑھنا شروع ہوا۔ الحمد للہ! اس تحریک کی تردید کا واحد مرکز دارالعلوم دیوبند ہی تھا جس میں ان کی ہر موڑ پر تردید کی ۔ جس طرح اس نے ہر فرقہ باطلہ کے خلاف آواز اٹھائی ۔ اسی طرح اس فتنے کی تردید کے لئے بھی دارالعلوم کو قبول فرمایا ۔ ہمارے حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری کی خدمات اس سلسلہ میں اظہر من الشمس ہیں۔
ایک دور وہ تھا کہ یہ فتنہ دب چکا تھا مگر اب جب کہ دوبارہ اس فتنے نے سر اٹھانا شروع کیا ہے تو دارالعلوم دیوبند کے ارباب حل وعقد نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہندوستان میں ختم نبوت کے نام پر تحریک کو پھر سے بیدار کیا جائے تا کہ یہ فتنہ پھر سے اپنی موت مرجائے۔ ان شاء اللہ ! اگلے دو تین ماہ میں پورے ہندوستان کے علماء کا اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔ جس میں تمام مدارس عربیہ کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اس میں ختم نبوت کے کانفرنس کی تاریخوں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
ہمیں پچھلے دنوں معلوم ہوا کہ مرزا طاہر علی گڑھ وغیرہ کے علاقے میں گئے اور چپکے سے وہاں آگئے تھے۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علمائے ہند نے اپنے نمائندے بھیجے۔ انہوں نے جا کر حالات کا جائزہ لیا اور پوری فہرست ان دیہات سے لائے کہ اب تک کیا ہوا ہے اور آگے کا کیا منصوبہ ہے۔ الغرض اب وہ منظم منصوبہ بنا کر میدان میں آئے ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی کوشش کرنی چاہئے کہ اپنی جماعت کو اپنی تنظیم کو متحد اور ایک مؤثر قوت بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطاء فرمائے ۔ آمین! وما علینا الا البلاغ !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۷۱ ص ۲۲، ۲۳، مؤرخہ ۳ تا ۹ / اکتوبر ۱۹۸۶ء )
فاتح ربوہ مولانا اللہ وسایا کی لندن میں باطل شکن تقریر
جناب مولانا اللہ وسایا صاحب مبلغ مجلس ختم نبوت ملتان خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا کہ آج دوبارہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس اپنے پورے عروج پر ہے اور علمائے کرام کے خیالات سے آپ حضرات مستفید ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت میرا موضوع سیدنا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ ہے۔
حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ تین شخصیتیں قیامت سے پہلے ہوں گی۔ ایک انتہائی ملعون اور دو انتہائی محبوب۔ ملعون دجال ہوگا اور جو محبوب ہوں گے۔ انہیں مہدی اور مسیح کہا جاتا ہے۔ حضور علیہ السلام نے ان کی علامات وغیرہ بیان فرمادی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دجال شام اور عراق کے درمیان کے راستے سے خروج کرے گا۔ ساری دنیا میں اس کا فتنہ و فساد ہوگا اور خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ دعویٰ خدائی کا کرے گا۔ لیکن اس کی اپنی آنکھوں میں مرض ہوگا۔ یعنی اس کی ایک آنکھ کانی ہوگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دجال کے اثرات ہر جگہ جائیں گے۔ سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے۔ اللہ تعالیٰ وہاں فرشتوں کی ایک جماعت مقرر کر دیں گے۔ دجال ہر جگہ جائے گا مگر مکہ مدینہ میں نہیں جاسکے گا۔
حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جس وقت دجال کا فتنہ شدت اختیار کر جائے گا اور اس کا فتنہ اتنا خطرناک ہوگا کہ آج تک دنیا میں جتنے فتنے آئے اور آئیں گے مسلمانوں کے ایمان کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ترین فتنہ دجال کا ہی ہوگا۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس وقت دجال ساری دنیا میں فتنہ و فساد پھیلائے گا اس وقت مدینہ طیبہ میں ایک خلیفہ کا انتقال ہو جائے گا تو حضرت امام مہدی اس خیال سے مدینہ چھوڑ دیں گے کہ کہیں مجھے خلیفہ نہ بنادیا جائے چنانچہ وہ سفر کر کے حرم کعبہ میں آجائیں گے۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ طواف کر رہے ہوں گے اور وہاں ابدالوں کی جماعت رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان موجود ہوگی۔ وہ حضرت امام مہدی کے چال ڈھال کو دیکھ کر آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے کہ اس شخص کے چہرے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ آدمی وہ ہے جس کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت میں مہدی آئے گا۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حجر اسود پر اس کا طواف ختم ہوگا۔ ابدالوں کی جماعت مقام ملتزم پر جا کر ان سے ملاقات کریں گے۔ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت ہوگی۔
(ازالۃ الخفاء ص ۶)
بیعت کے واقعہ کے بعد اطلاع ملے گی کہ دجال شام کے قریب پہنچ گیا ہے۔ چنانچہ یہ اپنی جماعت کو لے کر قتل دجال کے لئے شام کی طرف روانہ ہوں گے۔ ان کا مقام سفر مکہ سے شام کی طرف ہوگا۔ ان کی امداد کے لئے آسمان سے ایک اور شخصیت اترے گی۔ ارشاد فرمایا کہ مکہ سے روانہ ہوئے ان کا نام محمد ہے۔ ان کے والد کا نام عبداللہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی اولاد سے ہیں اور جو آسمانوں سے اتریں گے ان کا نام عیسیٰ ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ والدہ کا نام مریم ہے۔ وہ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لائیں گے۔
میرے ماں باپ قربان جب حضور ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ وہاں جامع مسجد دمشق کے مشرقی منارہ پر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جس وقت شام میں مسلمانوں کی حکومت نہ تھی۔ دمشق میں مسجد تو درکنار اس کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ آج صدیاں گزرنے کے بعد مسجد بھی موجود ہے۔ علاقہ بھی موجود ہے۔ اس کا مینار بھی ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ ساری کائنات کا نظام غلط ہوسکتا مگر اللہ کے نبی کا فرمان جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس وقت حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے وہ مینار کے نزدیک اتریں گے اور حضرت مہدی صحن میں موجود ہوں گے۔ وہ آواز دیں گے یہ جواب دیں گے جو مینار کے پاس ہیں۔ ان کا نام اور ہے اور جو صحن میں ہیں۔ ان کا نام اور ہے۔ میں اب آپ دوستوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ شخصیت ایک ہے یا دو؟ (جواب دیا گیا کہ دو ہیں)
مسلمانو! نماز پڑھائی جائے گی۔ پھر سیدنا مسیح علیہ السلام ۴۰ سال اس دنیا کے اندر قیام فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی ایک ساتھ ہوں گے۔ بہر حال یہاں نماز سے فراغت ہوگی وہاں شام میں بیت المقدس میں دجال نے مسلمانوں کو گھیر رکھا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کا لشکر وہاں محصور ہے۔ یہ حضرات پہنچیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جونہی دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا۔ کہاں وہ خدائی کا دعوٰی کہ اپنے ساتھ جنت و جہنم بھی بنا رکھی ہے اور کہاں یہ حال ہوگا کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس طرح پگھل جائے گا جس طرح سیسہ پگھل جاتا ہے۔
(مشکوٰۃ ص ۴۷۳)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس دن دجال کے ساتھ یہودیوں کی ۷۰ ہزار کی جماعت ہوگی۔ دجال مقام لد پر قتل کیا جائے گا۔
(مشکوٰۃ ص ۴۷۴)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مقام لد پر قتل ہوگا۔ اللہ کی شان کہ وہ مقام لد اسرائیلی فوج کا ائیر بیس ہے۔ چھاؤنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہو رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے چھپے گا تو پتھر آواز دے کر کہے گا۔ میاں مسلمان سپاہی میرے پیچھے یہودی ہے۔ اسے قتل کرو۔
(مسلم شریف ج ۲ ص ۳۹۶)
آج کی سائنس نے بڑے مسئلے حل کر دیئے۔ آج آپ نے یہ دو چار دھات کی تاریں ملا کر لوہے (مائیک) سے بول رہے ہیں۔ تم نے اپنے دماغ کو لڑا کر لوہے سے بلوایا۔ خدا اپنی قدرت سے پتھر کو بلوائے گا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ آپ کے سر مبارک سے پانی اس طرح ٹپک رہا ہوگا جس طرح غسل کر کے تشریف لائے ہوں۔ جب آسمان پر گئے تھے اس وقت بھی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ جب واپس آئیں گے تو بھی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔
(ابو داؤد ج ۲ ص ۵۹۴، مسند احمد ج ۲ ص ۴۲۷)
آپ نے ارشاد فرمایا کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکہ مکرمہ آئیں گے۔ وہاں طواف کریں گے۔ حج کریں گے۔ عمرہ کریں گے۔ یہاں سے روضہ پر آئیں گے۔ سلام پڑھیں گے۔ میں جواب دوں گا۔ آپ شادی کریں گے۔ اولاد ہوگی۔ پھر انتقال ہوگا اور میرے روضہ طیبہ میں دفن کئے جائیں گے۔
دوستو بزرگو! یہ چند علامات سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں نہایت مختصر طور پر عرض کر دیں۔ ان گزارشات کا حاصل یہ ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام مہدی کے بارے میں یہ واضح اور کھلی علامات و نشانات ہیں لیکن اس کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے آپ کو مسیح بھی کہا مہدی بھی کہا۔ یعنی دونوں الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہے اور وہ میں ہوں۔ اس سے پوچھا گیا کہ جناب جو مہدی ہوگا۔ اس کا نام محمد ہوگا۔ تیرا نام غلام احمد ہے جو آئے گا اس کے والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ تیرے باپ کا نام غلام مرتضیٰ ہے۔ کس طرح یہ علامات تجھ پر صادق آ سکتی ہیں؟
اس نے کہا میں مسیح ہوں۔ ہم نے کہا آنے والے مسیح کا نام عیسیٰ ہوگا۔ اس کی ماں کا نام مریم ہوگا اور ان کے والد نہیں۔ یہ علامات کس طرح تجھ پر صادق آ سکتی ہیں؟ تو مسیح کس طرح بن گیا وہ کہتا ہے کہ میں مسیح اس طرح بنا دیکھئے۔ یہ کتاب میرے ہاتھ میں ہے۔ رب محمد کی قسم قیامت تک کوئی قادیانی ماں کا لال حوالے کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ اسلامی قربانی اس کا نام ہے۔ اس کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ خدا نے میرے ساتھ وہ کام کیا ہے جو مرد اپنی عورت کے ساتھ کرتا ہے۔ کوئی قادیانی دیکھنا چاہے میں دکھانے کے لئے تیار ہوں۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا ہے)
(اسلامی قربانی ص ۱۳)
اس نے کہا کہ پھر وہ ہوا۔ پھر مجھے حمل ہو گیا۔ پھر دس ماہ کا عرصہ گزرا۔
(کشتی نوح ص ۷۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ۸۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عورتوں کی مدت حمل تو نو مہینے ہے۔ گھوڑی کی دس ماہ ہوا کرتی ہے۔ خیر اس کے بعد درد زہ ہوا جو عورتوں کو ہوتا ہے۔ پھر کھجور کے درخت کے تنہ کو ہلایا تو پھر میں خود ہی عیسیٰ بن گیا۔
حضرات! مرزا غلام احمد قادیانی کی خرافات دیکھئے۔ اس نے شرافت کا منہ چڑایا ہے۔ ہم نے مرزا صاحب سے کہا کہ صاحب بہادر اگر تم مسیح ہو تو مسیح نے تو مینار کے قریب اترنا ہے۔ تمہارا مینار کہاں ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ بہت اچھا اعلان کر دیا۔ چندہ دو مینار کھڑا کرتے ہیں۔ (پھر اعلان چندہ منارۃ المسیح کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اقبال رنگونی مرتب) چنانچہ چندہ اکٹھا ہوا۔ مینار شروع ہوا۔ مرزا پہلے مرا اور مینار بعد میں مکمل ہوا۔ مرزا صاحب کو کہا گیا کہ تم نے تو دجال کا مقابلہ کرنا ہے تو وہ کہنے لگا کہ آج کے پادری دجال ہیں۔ اس سے کہا گیا کہ تم اس کے ساتھ جہاد کرو تو وہ کہتا ہے کہ جہاد تلوار کا نہیں بلکہ قلم کا جہاد ہے۔ (مرزا صاحب کا یہ کہنا بھی بالکل غلط ہے۔ اس لئے کہ مرزا صاحب انگریزوں کے ساتھ جہاد تو کیا کرتے الٹے انہی کی تعریف و توصیف، اطاعت و فرمانبرداری محبت و مودت، وفاداری و خدمت گزاری کے گن گانے لگے تھے۔ اقبال رنگونی)
مرزا صاحب کو کہا گیا کہ صاحب بہادر کہ اگر تم مسیح ہو تو مسیح کے متعلق یہ علامت بیان کی گئی ۔ وہ آنحضرت ﷺ کے روضہ میں دفن ہوں گے۔ اس نے کہا کہ خدا نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ تو مکہ میں مرے گا یا مدینہ میں ۔ یہ شک کی بات کہ یا مکہ میں یا مدینہ میں ۔ کیا خدا تعالیٰ کو علم نہ تھا کہ کہاں مرے گا ؟ یہ الہام اس کا اپنا اختراعی ہے۔ خدائی نہیں یا پھر شیطانی ہے۔ اب میں اس بحث سے قطع نظر صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ مرزا صاحب کہاں مرے تھے۔ مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ سب حضرات اچھی طرح جانتے ہیں۔
الحاصل باتیں ابھی بہت ہیں اور خرافات مرزا بھی بے شمار ہیں۔ ان سب پر تبصرہ کے لئے کافی وقت درکار ہے۔ علمائے کرام ابھی باقی ہیں۔ میں آپ سب دوستوں کو مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ سب حضرات نے ہماری پکار پر لبیک کہا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ نمبر ۲۷ ص ۱۸، ۱۹، مورخہ ۱۲ تا ۱۸ / دسمبر ۱۹۸۶ء)
ٹورنٹو (کینیڈا) میں ختم نبوت کانفرنس
۲۴ / اگست ۱۹۸۶ء کو جامع مسجد ٹورنٹو (کینیڈا) میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں خطیب پاکستان مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا اللہ وسایا، جناب عبدالرحمن باوا کے علاوہ مقامی علماء کرام نے خطاب کیا۔ علماء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قادیانیت کا ہر سطح پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کینیڈا کے مرکزی شہر میں ختم نبوت کی آواز گونجی ہے۔ وفد ختم نبوت دوسرے روز کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن روانہ ہو گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۱۳ ص ۵، مورخہ ۵ / ستمبر ۱۹۸۶ء)
ایڈمنٹن کینیڈا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
ایڈمنٹن کینیڈین اسلامک سنٹر میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اردن کے نائب وزیر اوقاف ڈاکٹر حمود شحرور نے کہا: قادیانی ٹولہ عالم اسلام کے لئے ایک ناسور ہے اور اسلام دشمن عالمی استعماری طاقتوں کے ایجنٹ کی حیثیت سے دنیا بھر میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کینیڈا کی حکومت سے کہا کہ قادیانی چونکہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ اس لئے قادیانی گروہ کو اسلام کی نمائندہ حیثیت سے نہ تسلیم کیا جائے۔ کینیڈا کے مسلمانوں کو اس سلسلے میں کوشش کرنی چاہئے۔ خطیب پاکستان مولانا محمد ضیاء القاسمی اور مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کے کفریہ عقائد پر بحث کی اور مسلمانان کینیڈا کو یہ بھی بتایا کہ قادیانی پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کینیڈا کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخباروں میں پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کینیڈا سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کے غلط پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ان کو سیاسی پناہ دینے کے بجائے پاکستان میں اپنا وفد بھیج کر حقائق معلوم کرنا چاہئے کہ قادیانی کس طرح پاکستان میں ظلم و تشدد کا پرچار کر رہے ہیں اور یہ کہ باہر کی دنیا میں اپنا مظلوم ہونا ثابت کر رہے ہیں۔ ان کا اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنا کینیڈا کی حکومت کو دھوکہ دے کر امیگریشن حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے مغربی جرمنی کی حکومت کو پہلے اسی طرح دھوکہ میں رکھا ہوا تھا۔ اب وہاں پر حقیقت واضح ہو جانے کے باعث ان کو مغربی جرمنی سے نکالا جارہا ہے۔ قادیانی جماعت کو جسے عالم اسلام نے مسلمانوں سے الگ ایک جماعت قرار دیا ہے، ۔ وہ بیرونی دنیا میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں۔ ان کو اسلام کی نمائندگی کا حق دینا دراصل اسلام کی روح کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد جو خطیب پاکستان مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا اللہ وسایا اور ایڈیٹر ہفت روزہ ختم نبوت، عبدالرحمن یعقوب باوا پر مشتمل اپنے کینیڈا کے دورے کے مرحلہ پر مغربی کینیڈا پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ اپنے ایڈمنٹن کے قیام کے دوران مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔ البرٹا یونیورسٹی ایڈمنٹن شہر میں جمعہ کے روز اپنے خطبہ میں جناب عبدالرحمن یعقوب باوا نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ مولانا خلیل احمد ہزاروی جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کے رکن ہیں۔ ابوظہبی سے دورہ میں شامل ہونے کے لئے ایڈمنٹن پہنچ گئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۱۸ ص ۷، مورخہ ۱۰ تا ۱۶ / اکتوبر ۱۹۸۶ء)
ڈنمارک میں عظیم الشان پہلی تاریخی ختم نبوت کانفرنس
کراچی (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اعلامیہ کے مطابق ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۸ / ستمبر ۱۹۸۶ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ناروے، سویڈن، ڈنمارک اور اسکینڈے نیویا کی تاریخ میں یہ پہلی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء اسکالرز اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کر کے یہ ثابت کر دیا کہ ناموس رسالت کے لئے پوری امت مسلمہ ایک ہے۔ کانفرنس میں مصر، سعودیہ، لیبیا، اردن اور دوسرے عرب ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اس کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا اللہ وسایا، مدیر ختم نبوت انٹرنیشنل جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، پروفیسر مولانا محمد ادریس نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنی تقریروں میں دلائل سے واضح کیا کہ سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد نہ تو کسی مدعی نبوت کی گنجائش ہے اور نہ ہی امت مسلمہ نے کسی مدعی نبوت کو برداشت کیا ہے۔ مقررین نے واضح کیا کہ قادیانی اسلام کا نام لے کر یہاں گمراہی اور ارتداد پھیلا رہے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس اسلام دشمن اور سازشی گروہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ جب سے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا وہ اس وقت سے پاکستان اور وہاں کے مسلمانوں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہورہا ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قادیانیوں نے پاکستانی قانون کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا اور وہ بضد ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ حالانکہ پاکستان کے تمام مسلمانوں نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ یہ ایک اصولی بات ہے کہ یا تو وہ پاکستانی قانون کو تسلیم کرلیں تاکہ حکومت ان کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرے یا پھر وہ قادیانیت پر لعنت بھیج کر حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں قادیانی اپنے جو عقائد پیش کرتے ہیں وہ عقائد اس کے برعکس ہیں۔ جو ان کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقررین نے مختلف قادیانی کتب کے حوالے سے قادیانیوں کے گمراہ کن عقائد کو واضح کیا۔ کانفرنس مقامی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے شروع اور پانچ بجے شام اختتام پذیر ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد ناروے، سویڈن، ڈنمارک وغیرہ کے کامیاب دورے کے بعد لندن روانہ ہو گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۱۹ ص ۷، مورخہ ۱۷ تا ۲۳ / اکتوبر ۱۹۸۶ء)
مکتوب برطانیہ ختم نبوت کانفرنس اور وفد کے شب و روز
مکرم محترم جناب مولانا منظور احمد صاحب الحسینی زید عنایتکم سلام مسنون مزاج گرامی
شعبان کے تیسرے ہفتہ ملتان دفتر مرکزیہ میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ عالمی مجلس کا چار رکنی وفد برطانیہ کا دورہ کرلے۔ دفتر کا قیام، برطانیہ میں عالمی مجلس کی شاخ کی تشکیل اور عالمی ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ایسے امور کا فیصلہ ہوا۔ برطانیہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے رکن حضرت اقدس مولانا یوسف متالا ہیں۔ ملتان مجلس عاملہ کے اجلاس میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب مدظلہ بھی شریک تھے اور مولانا عبد الحفیظ صاحب مکی مدظلہ بھی چنانچہ حضرت مفتی صاحب مدظلہ جب حجاز تشریف لے گئے تو مولانا یوسف متالا سے کانفرنس کے بارے میں مشورہ ہوا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس لندن میں ہو۔ چنانچہ مولانا یوسف متالا دارالعلوم انگلینڈ میں اپنے خدام کو حکم فرمایا کہ آپ ویمبلے ہال بک کرالیں۔ جس تاریخ کا بک ہوگا اسی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ گویا کانفرنس ہوگی۔ یہ امر طے تھا صرف تاریخ کا تعین باقی تھا اور وہ ہال بک ہونے پر منحصر تھا۔ اپنے اختیار میں نہ تھا کہ حجاز مقدس میں حضرت مفتی صاحب یا حضرت متالا صاحب تاریخ کا اعلان کر دیتے۔
چنانچہ جب حضرت متالا صاحب اور مولانا مکی صاحب شوال میں انگلینڈ واپس تشریف لائے تو آپ نے ۲۷ / جولائی ۱۹۸۶ء کا ہال کے بک ہو جانے پر کراچی بذریعہ فون اطلاع دی اور فون پر ہی فرمایا کہ میں خط بھیج رہا ہوں۔ چنانچہ ہفتہ عشرہ بعد آپ کا خط بھی آگیا۔ خط میں کانفرنس کی تاریخ اور آنے والے مقررین کے لئے سپانسر لیٹر وغیرہ۔
چنانچہ کراچی سے مکرم باوا صاحب نے ملتان فون کر کے دفتر کو حکم کیا کہ بندہ کراچی پہنچے۔ بندہ کے کراچی پہنچنے پر مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ناظم اعلیٰ بھی کراچی تشریف لائے۔ ان کو حضرت اقدس متالا صاحب کا خط، فون، کانفرنس کی تاریخ کا تعین ہال کی بکنگ کی رپورٹ عرض کی۔ انہوں نے فون کر کے حضرت اقدس امیر مرکزیہ مولانا خان محمد صاحب سے درخواست کی کہ وہ بھی برطانیہ کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت سے سرفراز فرمائیں۔ اتنے میں حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی کا حجاز اقدس سے مکرم باوا صاحب کے نام خط آیا کہ کانفرنس کی تاریخ کا تعین ہوگیا ہے۔ میں جلدی برطانیہ پہنچ رہا ہوں۔ آپ لوگ بھی جلدی پہنچ جائیں۔ مولانا مکی صاحب نے تحریر فرمایا کہ غالباً کانفرنس جوانان ختم نبوت برطانیہ کے زیر اہتمام ہوگی۔ چنانچہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی موجودگی میں اشتہار ترتیب دیا گیا اور جوانان ختم نبوت کے نام سے اشتہار شائع کر دیا گیا۔ وہی اشتہار ہفتہ وار ختم نبوت کراچی میں بھی شائع ہوتا رہا۔
ہال بک کرانے کے لئے حضرت اقدس متالا صاحب نے مولانا مفتی شبیر صاحب کو فرمایا وہ جوانان ختم نبوت کے سرپرست تھے۔ اس لئے مولانا مکی صاحب نے خیال فرمایا کہ کانفرنس جوانان کی طرف سے ہوگی۔ جب کہ مولانا مفتی شبیر احمد اور جوانان ختم نبوت مولانا یوسف متالا کے خدام ہیں۔ آپ نے انگلینڈ تشریف لاتے ہی فرمایا کہ کانفرنس مرکزی جماعت کے نام سے ہوگی۔ کام تمام تر آپ لوگ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کریں اور یہ بھی یاد رہے کہ آپ نے شوال کے اوائل میں حجاز مقدس سے واپسی پر ہی پہلی ملاقات میں جمعیۃ برطانیہ کے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عبد الرشید صاحب ربانی سے فرمایا کہ ہال بک کرا لیا ہے۔ ۲۷؍ جولائی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔ عالمی مجلس کا وفد بھی عنقریب آجائے گا۔ مگر آپ اخبارات میں بیانات وغیرہ خطبات جمعہ میں لوگوں کو اعلانات کے ذریعہ متوجہ کریں۔
ایک ابتدائی اشتہار شوال کے اوائل میں مرکزی مجلس ملتان کی طرف سے شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔ جس میں کانفرنس کے لئے لوگوں سے شرکت کی درخواست کی گئی تھی۔ یہ امر طے شدہ ہیں۔
- ......۱ کانفرنس کرنے کا فیصلہ ملتان اجلاس مجلس عامہ میں ہوا۔
- ......۲ حضرت مفتی احمد الرحمٰن صاحب نے حضرت متالا صاحب سے مکہ میں مشاورت کی اور لندن کانفرنس کی ضرورت پر زور دیا۔
- ......۳ ان کے مشورہ پر حضرت متالا صاحب نے کانفرنس کے لئے ہال بک کروانے کا فرمایا۔
- ......۴ ہال بک ہوا۔ آپ شوال میں انگلینڈ آئے تو آتے ہی حضرت مولانا ربانی صاحب سے کانفرنس کے انعقاد کی اطلاع دی اور
تعاون کا فرمایا۔
- ......۵ کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام۔
- ......۶ اشتہار کراچی والا مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی موجودگی میں ترتیب دیا گیا۔
- ......۷ مولانا عزیز الرحمٰن صاحب نے حضرت امیر مرکزیہ کو کانفرنس کا انعقاد اشتہارات وفد کی روانگی کا مژدہ سنایا اور کانفرنس کی
صدارت کے لئے درخواست کی۔
- ......۸ مرکز کی درخواست پر حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب کانفرنس میں تشریف لائے۔
- ......۹ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف متالا نے مرکز کی خواہش، درخواست پر کانفرنس کا انعقاد کر کے نہ صرف پوری جماعت عالمی مجلس
تحفظ ختم نبوت کو ممنون احسان فرمایا بلکہ پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔
- ......۱۰ حضرت اقدس متالا صاحب کی قیادت و سیادت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ کا قیام صرف برطانیہ نہیں بلکہ پورے یورپ
میں کاموں کی طرف قدرت کی طرف سے پیش قدمی ہے۔
۸؍ جولائی کو مکرم باوا صاحب ایڈیٹر ہفتہ وار ختم نبوت اور فقیر لندن حاضر ہوئے۔ حضرت مولانا بلال پٹیل ائیر پورٹ پر تشریف لائے ہوئے تھے۔ آپ نے کانفرنس کے تمام مہمانوں کے لئے دیدہ دل فرش راہ کیا۔ آپ کی مسجد اور مسجد کمیٹی کے جملہ اراکین مہمانان گرامی کی خدمت کے لئے شب و روز وقف رہے۔ ان کی گرانقدر خدمات مہمان نوازی قابل رشک و قابل صد تحسین ہے۔
جناب اقبال سکرانی صاحب ایک مرنجاں مرنج، شریف النفس، درویش منش فرشتہ سیرت انسان ہیں۔ عظمت اسلام اور عقیدہ ختم نبوت سے وابستگی ان کے خون کے ساتھ ان کے رگ و ریشہ میں گردش کرتی ہے۔ ان کی صلاحیتوں نے کانفرنس کو رونق بخشی۔
۹؍ جولائی کو حضرت اقدس متالا صاحب لندن تشریف لائے اور لندن کی مساجد میں کانفرنس کے لئے محنت کرنے کا فیصلہ ہوا۔ دارالعلوم کے فضلاء کی ایک جماعت بمع اپنی گاڑیوں کے وفد کے ارکان کے ساتھ شامل رہے۔
۱۴؍ جولائی تک لندن کی مختلف مساجد میں بیانات ہوئے۔ ۱۴؍ جولائی کو قادیانی ٹل فورڈ جاکر دیکھا۔ خسر الدنیا والآخرہ کا مصداق چند فرسودہ و بیہودہ کمروں پر مشتمل یہ مرکز ہے جسے نامعلوم کہ پروپیگنڈہ کے ذریعہ قادیانی کیا سے کیا بتا رہے ہیں۔ ۱۴؍ جولائی کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شام کو حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی تشریف لائے ۔ ۱۷/ جولائی کو حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب تشریف لائے ۔ ۱۹/ جولائی سے مڈلینڈ ، سکاٹ لینڈ ، لنکا شائر کا دورہ شروع ہوا ۔ ۳۰/ جولائی کو حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے ۔ مولانا قاری اجمل خان صاحب دامت برکاتہم آپ کے ساتھ تھے ۔ یہ حضرت تشریف لاتے ہی وفد کے ساتھ دورہ میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔ فقیر کا قیام لندن رہا۔ اخبارات سے رابطہ کے لئے ۲۵/ جولائی کو پورے انگلینڈ کی تمام مساجد میں ختم نبوت کے عنوان پر خطابات ہوئے۔ ۲۶/ جولائی کو قراردادیں ۔ نظام الاوقات وغیرہ ترتیب دیا گیا۔ مولانا زاہد الراشدی ، مولانا عبدالحفیظ مکی اور فقیر کا پورا دن ان امور پر صرف ہوا۔
۲۷/ جولائی کو لندن کی تاریخ میں عظیم الشان عدیم المثال تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۲۸، ۲۹/ جولائی کو ڈنمارک کے ویزا کے لئے کوشش و کاوش اور اخبارات کو خبریں بھجوائی گئیں۔ ۳۰/ جولائی لیسٹر، ۳۱/ جولائی مانچسٹر دارالعلوم، یکم اگست رچڈیل ، ۲/ اگست استقبالیہ جمعیۃ میں شرکت ۔ ۳/ اگست کو ہڈرسفیلڈ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت ۔ ۴/ اگست کو روانگی دارالعلوم ۔ ۵/ اگست نیلسن ، بیانات ، ۶/ اگست لیسٹر ، ۷/ اگست دارالعلوم بری اور ہڈرسفیلڈ ، ۸/ اگست جمعہ باٹلے ، رات کو نوجوانان ختم نبوت کے زیر اہتمام جلسہ عام میں شرکت ۔ ۹/ اگست سفر لندن ۔ ۱۰/ اگست روانگی برائے کینیڈا۔
یہاں پہنچ کر الحمد للہ ! کام شروع ہوچکا ہے۔ رپورٹ بعد میں بھجواؤں گا۔ بجملہ حضرات تسلیمات۔ فقیر: اللہ وسایا
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۱۳ ص ۱۲، ۱۳، مورخہ ۵ تا ۱۱ ستمبر ۱۹۸۶ء)
دوسرے روز ۹/ جولائی کو حضرت متالا صاحب لندن تشریف لائے ۔ ہال میں سٹیج، نماز اور دیگر امور کے متعلق مشاورت ہوئی اور باوا صاحب اور بندہ کے ذمہ ڈیوٹی لگی کہ لندن میں کانفرنس کے لئے کام کرنا ہے۔ چنانچہ لندن کی پچاس سے زائد مساجد میں کانفرنس کے لئے آواز لگائی گئی ۔ اللہ رب العزت اس دیوانہ وار محنت کو قبول فرمائے۔ تین چار روز بعد مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی اور ہفتہ بعد مولانا ضیاء القاسمی لندن تشریف لائے ۔ ان کی آمد پر مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا سمیت ہر سہ حضرات جب کہ مولانا قاری محمد اجمل خان ، مولانا فداء الرحمن درخواستی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے مڈلینڈ ، لنکا شائر، سکاٹ لینڈ صوبہ جات برطانیہ کا تفصیلی دورہ کیا ۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے تو آپ کی اور مولانا یوسف متالا صاحب کی سرپرستی میں اتنا کام ہوا کہ قلب و جگر میں ٹھنڈک پڑ گئی۔ فقیر کے ذمہ لندن میں قیام اور اخبارات سے رابطہ تھا۔ کانفرنس ۲۷/ جولائی کو ہوئی اور بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔
کانفرنس سے فراغت کے بعد ۲۹/ جولائی کو ڈنمارک کے ویزا کے لئے کوششیں شروع کیں ۔ ۳۰/ جولائی سے وفد کے چاروں ارکان نے برطانیہ کے تقریباً ہر بڑے اور اہم شہر کا تبلیغی دورہ کیا ۔ آج ۱۱/ اگست ہے۔ صبح نو بجے لندن سے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے لئے روانہ ہوئے ۔ دس بجے ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم اترے ۔ وہاں سے پونے دو بجے ٹورنٹو کے لئے روانہ ہوئے ۔ مانٹریال تک یہاں سے سات گھنٹے کا سفر ہے۔ خیال ہے کہ ساڑھے آٹھ بجے رات تک مانٹریال پہنچ جائیں ۔ یہ وقت فارغ تھا تو آپ کو عریضہ لکھنے بیٹھ گیا ۔ آپ حضرات کی یادوں نے آن گھیرا ہے ۔ بھائی طارق میری یہاں کتنی خوش بختی ہے کہ اللہ رب العزت نے آپ جیسے مخلص محب کرم فرما ساتھیوں ، دوستوں کی محبتوں سے مجھے نوازا ہے ۔ یہ عریضہ لکھتے وقت حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب جہاز میں بیٹھ کر اکتا گئے ہیں ۔ سیٹوں کے درمیان ٹہل رہے ہیں ۔ مکرم باوا صاحب ایک امریکن سے انگریزی میں محو گفتگو ہیں۔ یہاں تک پہنچا ہوں کہ اعلان ہوا سمندر سے اوپر کا سفر ختم اور کینیڈا شروع ہو گیا ہے۔ مانٹریال میں یہ جہاز کچھ وقت سٹاپ کرے گا اور پھر دس بجے تک ٹورنٹو پہنچ جائیں گے۔ ٹورنٹو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں ۲۴ اگست کو ختم نبوت کانفرنس ہے اور ۳۱ اگست ایڈمنٹن میں جو ٹورنٹو سے تین ہزار میل دور ہے۔ ان دو ختم نبوت کانفرنسوں کا پروگرام طے ہے۔ ہال بک ہیں۔ باقی پورے کینیڈا کے ہر بڑے شہر میں پروگرام ہوں گے۔ ستمبر کے اوائل میں کوپن ہیگن جانا ہے جو ڈنمارک کا دارالحکومت ہے۔ وہاں بھی ختم نبوت کانفرنس کا پروگرام طے ہے۔ پورے ملک کا تبلیغی دورہ ہوگا۔ ان ممالک میں مجلس کا ”ختم نبوت“ کا پہلا وفد پہلی کوشش و پہلی آواز ہے۔ (اے اللہ! اخلاص نصیب فرما) اپنی رحمت سے اس سفر کو ختم نبوت کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچانے کا باعث بنا اور فتنہ قادیانیت کے استیصال کا ذریعہ بنا۔ آمین ثم آمین!
ستمبر کے اواخر میں برطانیہ واپسی ہوگی۔ یورپی ممالک اور امریکہ کا ارادہ ہے مگر یورپ میں سردی جوبن پر ہوگی۔ خیر جو میرے اللہ کو منظور ہوا حضرت مولانا متالا صاحب کے حکم پر اگلا سفر ترتیب دیں گے۔ یہ میں نے اپنی رام کہانی سنائی۔ آپ فرمائیں آپ حضرات کے کیا شب و روز ہیں۔ آپ وفد کے دورہ کے ادارتی صفحات میں دعا کا ضرور لکھیں کہ جماعت کے احباب خصوصی دعاؤں سے سرفراز فرمائیں۔
ایک دن آپ کو فون کیا۔ بزی (Bussy) ملا۔ ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب مل گئے۔ خیر خیریت کا معلوم ہوا۔ خوشی ہوئی پھر آج فون کیا آپ اٹک گئے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب بھی گھر پر نہ تھے۔ البتہ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب مل گئے۔ ان سے تفصیلی بات ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے۔ تمام رفقاء مجلس کی خدمت میں سلام نام کسی کا نہیں لکھتا کہ کوئی رہ گیا تو ناراضگی کا سامنا کرنا دشوار ہے۔ ڈاکٹر صاحبان کا امتحان ہو گیا؟ اس وقت زمین و آسمان کی درمیانی فضا میں بھی ان حضرات کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ان حضرات کو دنیا، آخرت، دین و دنیا میں اپنی رحمتوں سے نوازے۔ جب یاد آتے ہیں تو خوب یاد آتے ہیں۔
اقبال کا بلند بخت ہو امید ہے کہ آپ کا مرزائیت کا سیاسی تجزیہ پر مشتمل پمفلٹ چھپ گیا ہوگا۔ جو جناب مکرم بھائی خالد متین صاحب چھپوا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی گرانقدر قابل فخر خدمات کو قبول فرمائے۔ ربوہ کے احباب کا خاص خیال رکھا کریں۔ وہ پوری مجلس کی طرف سے فرنٹ پر بیٹھ کر فرض ادا کر رہے ہیں۔ نصیر صاحب کی پریس، چوہدری صاحب کے سپیکروں کی خیر ہو۔ ہاشمی صاحب، مکرم رانا صاحب، جناب سیف اللہ احرار، میر سلطان میاں صاحب، قاری صاحب، چوہدری مختار احمد صاحب سب حضرات کے لئے دعا گو ہوں اور خود دعا کا طالب گھر پر والدہ سے تسلیمات و درخواست دعا۔ شفیق صاحب، گڑیا، شاہد، ٹیپو، ببا اور اس کا ابا سب کو سلام۔ اچھا تو اجازت!
والسلام! اللہ وسایا عفی عنہ (۱۱؍اگست ۱۹۸۶ء)
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ ش ۲۲ ص ۱۱، ۱۲، مورخہ ۵؍ستمبر ۱۹۸۶ء)
شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کا ایڈیٹر لولاک کے نام خط
مخدوم گرامی صاحبزادہ طارق محمود صاحب سدا سلامت باشید السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی
آج ۱۲؍ستمبر ۱۹۸۶ء ہے۔ اللہ رب العزت نے فضل وکرم سے کینیڈا کا مہینہ بھر کا کامیاب سفر مکمل کر کے ۸؍ستمبر کو ڈنمارک حاضری ہوئی۔ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ۲۷؍ستمبر ۱۹۸۶ء بروز ہفتہ کانفرنس کی تاریخ طے ہوئی ہے۔ مخدومی مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب۔ ۱۳؍ستمبر کو انگلینڈ اور وہاں سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد پاکستان واپس ہو رہے ہیں۔ حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی دامت برکاتہم انگلینڈ کے بعد سعودی عرب حج کے لئے تشریف لے گئے۔ واپس حج کے رش کے باعث ان کو سیٹ نہ مل سکی۔ اس لئے وہ
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کینیڈا تشریف نہ لاسکے۔ ابوظہبی سے مجلس کے رہنما مولانا خلیل احمد صاحب پشاوری تشریف لائے وہ عربی زبان کے بہترین سپیکر ہیں۔ مگر شاید ڈنمارک کا ویزا نہ ہونے کے باعث وہ بھی ادھر تشریف نہ لاسکیں۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب سکندر کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ لیبیاء سے واپسی تشریف لائیں گے۔ مگر آدھ دن ڈنمارک کے ویزا کے لئے بڑی دشواری ہے۔ اس وقت فی الحال صرف مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب اور فقیر رہ گئے ہیں۔ سویڈن، ناروے ادھر سے بالکل قریب ہیں۔ ان کا بھی تقاضا ہے اور ضرورت بھی۔ اس کے ویزا کے لئے کوشش شروع کر رہے ہیں۔ اگر اللہ رب العزت نے فضل فرمایا تو اس طرف کا بھی کام نمٹا دیا جائے گا۔ جوں جوں دوستوں کو آمد کی اطلاع مل رہی ہے توں توں سفر پھیلتا جا رہا ہے۔ دعا فرمائیں اللہ رب العزت سفر کو کامیابی سے ہمکنار فرمائیں۔ میرے اللہ کا لاکھوں لاکھ فضل ہے کہ کینیڈا میں ایک کی بجائے چار ”ختم نبوت کانفرنسیں“ چار صوبوں میں ہوگئیں۔ تقسیم کار یہ کر لیا تھا کہ عوامی تقریر مولانا محمد ضیاء القاسمی صاحب کی۔ قادیانیت کی مظلومیت کے پروپیگنڈا کا جواب اس پر خطاب مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب کا اور قادیانیت کے سوالات کے جوابات فقیر کے ذمہ، کینیڈا کی ہر مجلس میں قادیانی آئے۔ سوالات کئے منہ کی کھائی۔ آخری پیریڈ بہت ہی دلچسپ ہوتا تھا۔ منکرین ختم نبوت کو رسوائی کا جو حصہ ملنا چاہئے ۔ اس سے کہیں زیادہ وہ رسوائی سے دوچار ہوئے۔ اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل وکرم پر توفیق بخشی۔ قادیانیت چیخ اٹھی۔ اخبارات میں پروپیگنڈا مطالبات ریزولیشن ، فریاد آہ وزاری ان کے چیخ و پکار کے منظر کو دیکھ کر ہمارے ایمانوں میں زیادتی ہوئی کہ الحمدللہ ! تیر نشانے پر لگا ہے۔ ختم نبوت کے وفد سے ان کو جو تکلیف ہوئی۔ ہمارے لئے یہی باعث افتخار ہے کہ ہمیں دیکھ کر آقائے ﷺ کے دشمن چیخ اٹھے۔ ہماری نجات وسعادت کے لئے اتنا کافی ہے۔
اتنی بڑی کامیابی پر اللہ رب العزت کے حضور جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ کینیڈا بہت خوبصورت ملک ہے اور دنیا کا دوسرا بڑا ملک شمار ہوتا ہے۔ اس کے ایک کونہ سے دوسرے کونہ تک مسلسل گیارہ گھنٹے کی پرواز ہے۔ عالمی مجلس کے تمام کارکن، معاون، مبلغین ورہنمایان کے اخلاص کا صدقہ ہے کہ توقع سے زیادہ کامیابی نصیب ہو رہی ہے۔ پچھلے سال جب ہماری کانفرنس لندن میں ہو رہی تھی۔ مرزا طاہر سویڈن دوڑ آیا تھا۔ اب سویڈن والوں کا اصرار ہے کہ وفد یہاں بھی حاضر ہو۔ مگر باوا صاحب اور فقیر ان شاء اللہ العزیز ویزا ملنے پر اس ملک میں بھی حاضری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ روز روز تو نہیں ہوتا ایک دفعہ نکلے ہیں تو خیال ہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہوا آواز پہنچائی جائے۔ اللہ رب العزت توفیق بخشیں۔
۲۷ ستمبر کی کانفرنس کی کامیابی کے لئے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم حجاز مقدس سے تشریف واپس لاچکے ہوں گے۔ آپ فون پر رپورٹ عرض کردیں۔ ربوہ کانفرنس تک حاضری بظاہر مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو کامیاب فرمائیں۔ تمام احباب اس پر تشریف لاویں گے۔ فقیر کا سلام عرض کر دیں اور کامیابی کے لئے دعاؤں کی درخواست کریں۔ جناب عبدالمتین خالد صاحب اور ان کے تمام رفقاء کے لئے سفر میں دعائیں جاری ہیں۔ ان کو علیحدہ عریضہ نہیں لکھ سکا۔ مولانا کریم بخش صاحب، مکرم مولانا قاضی اللہ یار خان، مکرم مولانا خدا بخش، قاری محمد اسحاق، چوہدری محمد شفیع، غلام دستگیر خان شیخ منظور احمد، قمر گل، عمر سید، چوہدری ظہور احمد حضرت مولانا محمد حسین صاحب، مکرم مولانا محمد یعقوب، مولانا نذیر احمد چنیوٹی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اکرم طوفانی، جناب زاہد منیر، چوہدری غلام نبی، مولانا عبدالرؤف، مولانا احمد یار چاریاری۔ غرضیکہ تمام حضرات کا فقیر پر حق ہے کہ ان کو عریضہ لکھتا۔ مگر ایسا کرنا مشکل ہے۔ شب و روز کی مصروفیت اور سفر کے باعث میں ان حضرات کا حق ادا نہیں کر سکا۔ مگر توقع ہے کہ وہ
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء
حضرت اپنی دعاؤں میں فراموش نہ کریں گے۔ برادرم اقبال صاحب، مولوی محمد احمد صاحب، جناب سیف اللہ احرار، چوہدری طفیل، محترمی نصیر آزاد، مکرم محترم جناب رانا صاحب، مکرم جناب چوہدری عبدالخالق، مکرم جناب ہاشمی صاحب، شیخ بشیر احمد صاحب، غرضیکہ تمام حضرات سے تسلیمات عرض کر دیں۔ قاری محمد ابراہیم صاحب مولانا فقیر محمد صاحب، حضرت ہمدانی صاحب سے تسلیمات کے بعد دعاؤں کی درخواست ہے۔ جناب ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب، مکرم جناب ڈاکٹر عبدالقیوم صاحب اور جناب حافظ محمد اسلم صاحب، ان حضرات سے تسلیمات کے بعد درخواست ہے کہ ربوہ کانفرنس کے موقع پر ڈسپنسری ضرور لگائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے کہنے کی ضرورت نہیں۔ وہ ضرور اس طرف توجہ دیں گے۔ مگر میں یہ عرض کر کے ثواب میں شریک ہونا چاہتا ہوں کہ (الدال علی الخیر کفاعلیہ) حضرت مولانا عزیز الرحمن زید مجدہم اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر کانفرنس ربوہ کے باعث اکثر و بیشتر ان سے آپ کی ملاقاتیں ہوں گی۔ فقیر کے نیاز مندانہ سلام عرض کر دیں۔ میں نے ملتان بھی عریضہ لکھا تھا۔ امید ہے کہ مل گیا ہوگا۔ مکرم حضرت قاسمی صاحب کی تشریف آوری پر آپ حضرات ملاقات کے لئے ضرور تشریف لے جائیں گے تو مزید حالات وہ سنائیں گے۔ مکرم ڈاکٹر صاحب و مکرم حضرت مولانا فقیر محمد صاحب کو فقیر نے علیحدہ علیحدہ ارسال کئے تھے۔ امید ہے کہ مل گئے ہوں۔
غالباً پہلے لکھ چکا ہوں کہ پوری دنیا کو چھ براعظموں پر تقسیم کریں تو براعظم افریقہ، براعظم جنوبی امریکہ میں حضرت شیخ بنوری، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا، مکرم مولانا منظور الحسینی، براعظم آسٹریلیاء میں مولانا لال حسین اختر مرحوم کے ذریعہ اللہ رب العزت نے ختم نبوت کی آواز پہنچائی۔ آج بجا طور صرف اور صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو یہ شرف حاصل ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا حصہ نہیں۔ جہاں اس کے رہنماؤں و خدام کے ذریعہ اللہ رب العزت نے ختم نبوت کی خدمت کا کام نہ لیا ہو۔ فلحمدللہ!
آج پوری دنیا آقائے مدنی ﷺ کے غلاموں کی زد میں ہے اور ہر جگہ قادیانیت پسپا ہو رہی ہے۔
مکرم! آپ یہ سن کر خوشی محسوس فرمائیں گے کہ مجلس کا لٹریچر ہزاروں کی تعداد میں یہاں سے بھی شائع ہو رہا ہے۔ جس کسی کو کہیں سے ایک کاپی ملی اس نے اس کی ہزاروں کی تعداد میں پرنٹ کرا کر اسے تقسیم کیا۔ کراچی، ملتان، مجلس کے دفاتر سے ارسال کردہ رسائل کی اتنی تقسیم یہاں پر ہوئی کہ اس پر جتنا اللہ رب العزت کا شکر کریں کم ہے۔ ہم سب کے سر اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر کے طور پر جھک جانے چاہئیں کہ وہ پردہ غیب سے ”عقیدہ ختم نبوت“ کے تحفظ کا کس طرح اہتمام کر رہے ہیں۔ ٹورنٹو میں رفیق باجوہ جو پہلے ربوہ میں ٹیچر رہے ہیں وہ نہ صرف قادیانیت سے تائب ہوئے بلکہ انہوں نے گھر کے بھیدی کے طور پر قادیانیت پر ضرب لگائی کہ وہ چیخ اٹھے۔ یہ رفیق باجوہ، چونڈہ کے رفیق باجوہ کے علاوہ ہیں۔ وہ بھی یہاں پر کہیں ہیں مگر ملاقات نہ ہوسکی اس طرح ایک صاحب شمشیر صاحب جو کینیڈا کے رہنے والے فجی کے قادیانی تھے وہ مسلمان ہو گئے۔ غرضیکہ قادیانیت کے متعلق جوں جوں کام ہو رہا ہے۔ بادل چھٹ رہے ہیں۔ کینیڈا کے قادیانی آپس میں بھی گتھم گتھا ہیں۔ جھوٹ بول کر امیگریشن کو دھوکہ دے کر کہ ہم پر پاکستان میں ظلم ہو رہا ہے۔ یہ کہہ کر رہائش حاصل کی۔ خنزیر و شراب بیچ کر مرزا قادیانی کی ٹانک وائن والی سنت پر عمل کر رہے ہیں۔
والدہ صاحبہ کی صحت کیسی ہے۔ ان سے فقیر کے نیاز مندانہ سلام کے بعد بڑے اخلاص سے دعاؤں کی درخواست کریں۔ حضرت اقدس میرے مربی و محسن کے مزار پر یہ عریضہ سنا دیں۔ الحمدللہ! کہ جس محبت و شفقت سے انہوں نے فقیر کی تربیت کی۔ یہ سب کچھ اس کا صدقہ ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت اقدس مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، فاتح قادیان مولانا محمد حیات، شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد شریف بہاول پوری اور اپنے مربی ومحسن حضرت مولانا تاج محمود کی جوتیوں میں بیٹھنے کو اللہ تعالیٰ نے فقیر کے لئے سرمایہ حیات بنادیا ہے۔ یہ ان حضرات کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔ یہ ان کا فیضان نظر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کی قبور کو بقعہ نور بنادیں۔ ان حضرات کے مشن اور زندگی کے وظیفہ، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کو ہمیں بھی حرز جان بنانے کی توفیق ارزاں فرمائیں۔ حافظ امیر سلطان جملہ نمازیاں، بھائی اشرف، گڑیا، شاہد، سعدیہ سب کو درجہ بدرجہ سلام عرض کردیں۔ مولانا عبداللطیف انور شاہ کوئٹہ سنا تھا کہ بیمار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحت کاملہ سے نوازیں۔ مکرم جناب حافظ سعید احمد صاحب شاہ کوئٹہ حج پر گئے تھے۔ واپس آگئے ہوں تو سلام عرض کردیں۔ سندھ سے مکرم حضرت حمادی صاحب پشاور سے مولانا انوارالحق نور، ڈیرہ سے مکرم گنگوہی صاحب اور کوئٹہ سے مکرم فیاض حسن سجاد اور مکرم سید انور شاہ صاحب تشریف لائیں تو سلام عرض کر دینا۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو دنیا و آخرت میں اپنی رحمتوں سے سرفراز فرمائیں۔ آپ خط کی طوالت سے گھبرا گئے ہوں گے۔ مگر میں خط بند کرنے سے پہلے مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب گیلانی سے سلام اور درخواست دعا کے ساتھ گزارش کرتا ہوں کہ وہ لاہور تشریف لے جائیں تو حضرت اقدس سید نفیس شاہ صاحب دامت برکاتہم سے پوری رپورٹ عرض کر دیں کہ ان کی دعاؤں و توجہات کے لئے فقیر قدم قدم پر محتاج ہے۔ مکرم قاضی فیض احمد ٹوبہ، مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی، حضرت مولانا محمد اسلم، مکرم ندیم گوجرہ اور حضرت مولانا احمد حسین شاکری تو آپ کے قریب ہیں۔ ان سے بھی بہت بہت سلام عرض کر دیں۔ والسلام! فقیر : اللہ وسایا کوپن ہیگن ڈنمارک، مؤرخہ ۱۲؍ ستمبر ۱۹۸۶ء
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج۲۳ ش۲۸ ص۱۸ تا۲۰، مؤرخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۸۶ء)
دورہ سے واپسی پر مولانا اللہ وسایا کے تاثرات
ڈنمارک سے واپسی پر مولانا اللہ وسایا صاحب نے اپنے تاثرات قلمبند فرمائے۔ لکھا کہ قادیانیت ڈنمارک سویڈن، ناروے اور کینیڈا میں پوری طرح پسپا ہو رہی ہے۔ پوری دنیا کے عوام کی طرح ان ممالک کے عوام پر قادیانیت کی حقیقت منکشف ہو گئی ہے۔ اب وہ قادیانیت کو استعماری طاقتوں کے گماشتہ کے طور پر جاننے اور پہچاننے لگے ہیں۔ پوری دنیا کے مسلمان قادیانیت کے خلاف سینہ سپر ہیں اور اب قادیانیت بہت جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے۔ جس طرح قرونِ اولیٰ کے منکرینِ ختم نبوت کا اب نام ونشان نہیں رہا۔ اس طرح بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ قادیانیت کا بھی نام تک نہ ہوگا۔ ناموں میں اور داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ انہوں نے کہا کہ اس تبلیغی دورہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام آٹھ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسز اور متعدد اجتماعات کے ذریعہ براعظم یورپ اور شمالی امریکہ کے مسلمانوں تک ختم نبوت کا پیغام پہنچایا گیا۔ ایک بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کے مرکزی شہر لندن میں منعقد ہوئی۔ جس میں گلاسگو سے لندن تک کے ہزاروں فرزندانِ اسلام نے شرکت کی۔ کینیڈا میں چار مقامات پر ایڈمنٹن، ٹورنٹو، مانٹریال، کیلگری میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ اسی طرح ناروے کے دارالحکومت اوسلو اور سویڈن کے اہم شہر میں بھی مثالی اجتماعات منعقد ہوئے اور اس دورہ کی آخری کانفرنس ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں منعقد ہوئی۔ جس میں ناروے، سویڈن، ڈنمارک اور مغربی جرمن کے مسلمانوں نے شرکت کی۔ ان کانفرنسوں میں عربی اور اردو انگریزی اور علاقائی زبانوں میں بیانات ہوئے۔ کانفرنسوں میں سوالات کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جوابات کے لئے بھی وقت دیا گیا۔ البرٹا یونیورسٹی ایڈمنٹن اور کیلگری یونیورسٹی میں اجتماعات رکھے گئے۔ اسی طرح کچھ اجتماعات عرب مسلمانوں کے لئے مخصوص رکھے گئے۔ متعدد پریس کانفرنسوں میں خطابات ہوئے۔ اجتماعی وانفرادی ملاقاتیں اور مخصوص اجتماعات کے ذریعہ بھی ختم نبوت کا پیغام پہنچایا گیا۔ اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا انگریزی، اردو، عربی میں لٹریچر لاکھوں کی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔ غرضیکہ تحریر وتقریر کے ذریعہ عالمی مجلس نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا۔ اسی طرح اس وفد کے رکن رکین ہفتہ وار ختم نبوت کراچی کے ایڈیٹر جناب عبدالرحمن یعقوب باوا برطانیہ میں قیام پذیر ہیں۔ وہ وہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ کے دفتر کے قیام کے لئے کوشاں ہیں۔ بر اعظم یورپ میں مولانا یوسف متالا کی قیادت میں مستقل بنیادوں پر بڑی تیز رفتاری سے کامیاب ہے۔ نوجوانان ختم نبوت کے نام سے، نوجوان پود میں کام شروع ہو گیا ہے اور برطانیہ کی سطح پر ان کا ایک عظیم اجتماع لیسٹر میں دسمبر ۱۹۸۶ء میں منعقد ہو رہا ہے جس کا تمام تر پروگرام انگریزی میں ہوگا۔ شعبہ نشر واشاعت کے زیر اہتمام متعدد پمفلٹ ورسائل شائع ہو کر تقسیم ہو رہے ہیں۔
ان ممالک میں رہنے والے مسلمان، اسلام اور پاکستان کے ناطے سے قادیانیت کے خلاف بڑا مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
کینیڈا میں بھی قادیانیوں نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی غرض سے پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ کیا۔ مگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے پریس کانفرنسوں اور نجی ملاقاتوں کے ذریعہ صحیح صورتحال سے ان کو باخبر کیا اور کینیڈا حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں اپنا وفد بھیج کر معلوم کرے کہ قادیانیوں کے پروپیگنڈہ مظلومیت کی اصل حقیقت کیا ہے؟ مولانا نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان قادیانی مظالم، دہشت گردی، تخریب کاری اور سازشی پہلوؤں پر مشتمل بلیک پیپر شائع کرے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ قادیانی کس طرح ظلم وستم کر کے پاکستان کی سالمیت اور مسلمانوں کے مفادات کا قتل عام کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ہم جہاں گئے وہاں پر معلوم ہوا کہ قادیانیت کے احتساب کا دائرہ مسلمانوں نے تنگ کر رکھا ہے اور مسلمان قادیانیوں کے مکروہ عقائد وعزائم سے باخبر ہیں۔ عالمی پریس بالخصوص عرب پریس میں قادیانیت کے خلاف بڑے وقیع مضامین شائع ہو رہے ہیں اور خوشی کا باعث یہ امر ہے کہ خود قادیانی بیرونی دنیا میں اختلاف وتشتت کا شکار ہیں۔ قادیانیوں کا عام تأثر اپنے موجودہ سربراہ مرزا طاہر کے بارہ میں یہ ہے کہ اس نے پاکستان اور مسلمانوں سے محاذ آرائی کی شکل اختیار کر کے قادیانیت کو ایک گالی بنا دیا ہے۔ مولانا نے پاکستان کے مسلمانوں سے باہمی اتفاق واتحاد اور بھائی چارہ کی فضاء قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی صفوں میں فرقہ واریت کے عفریت کو نہ گھسنے دیں کہ یہ ان کے دشمن کی گہری سازش ہے۔
ختم نبوت کانفرنس اوچ شریف
جولائی ۱۹۸۶ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اوچ شریف میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے کل تین اجلاس منعقد ہوئے۔ جن کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت اوچ شریف کے صدر حاجی محمد عباس، جنرل سیکرٹری، اختر علی خان کھیڑہ اور معروف زمیندار سردار عبدالقیوم خاکوانی نے کی۔ مہمان خصوصی امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب تھے۔ کانفرنس سے ابن امیر شریعت سید عطاء المؤمن شاہ بخاری، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، اہل حدیث رہنما مولانا عبدالرزاق، قاری اللہ یار، سید کرم حسین شاہ، مولانا لقمان علی پوری، صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان، جناب محمد خان لغاری، مولانا اقبال اختر فاروقی اور دیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں جو قرارداد منظور ہوئی۔ اس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ربوہ کا نام تبدیل کیا جائے۔ انجمن احمدیہ کے نام
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پلاٹوں کی لیز منسوخ کر کے الاٹمنٹ قابضین کے نام کی جائے۔ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔
ننکانہ صاحب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام ۵ /ستمبر ۱۹۸۶ء بروز جمعہ بعد از نماز عشاء مرکزی جامع مسجد سفینہ محمدی پرانا ننکانہ میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مسجد سفینہ محمدی کے خطیب جناب حضرت مولانا عبدالمجید رانا نے فرمائی۔ جب کہ مہمان خصوصی مجلس ہذا کے سرپرست جناب چوہدری عبدالحمید رحمانی تھے۔ تلاوت قرآن مجید جناب قاری صابر علی صابر نے فرمائی۔ نعت شریف جناب اشفاق احمد شیخ، اعجاز بٹ ہمایوں اور ریاض احمد نے پڑھی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب راؤ جمشید علی خان صاحب نے فرمایا کہ قادیانی تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی نے کلمتہ الفصل میں لکھا ہے کہ جو شخص موسیٰ کو تو مانتا ہے عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتا۔ یا محمد رسول اللہ ﷺ کو تو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ شخص نہ صرف وہ کافر بلکہ پکا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ہمارے متعلق یہ لکھا کرتے ہیں اور ہمیں چاہئے کہ ان کا مکمل بائیکاٹ کریں اور خصوصاً شیزان بوتل اور اس کی تمام تر مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور قادیانیوں سے ہر طرح کے تعلقات ختم کریں۔
مرکزی جامع مسجد غوثیہ سراجیہ کے خطیب جناب علامہ احسان الحق صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی لعنتی نقلی اور جعلی مسیح موعود ہے جس مسیح علیہ السلام نے دوبارہ اس دنیا میں تشریف لانا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں تمام معلومات امت کو دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس مسیح علیہ السلام نے دنیا میں آنا ہے ان کا نام عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی کا نام غلام احمد قادیانی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت مریم سلام اللہ علیہا اور مرزا کی ماں کا نام چراغ بی بی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب کلمتہ اللہ اور روح اللہ ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی مستحق لعنت اللہ ہے۔ پھر انہوں نے حقیقت الوحی کے حوالہ سے کہا کہ مرزا کو، انگریزی الہام بھی ہوتا تھا۔ آخر میں انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ مرزائیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس جماعت کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ لاہور کے محاذ پر کام کرنے والے سرگرم رکن جناب متین خالد صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جتنا نقصان اسلام کو مرزا غلام احمد قادیانی نے پہنچایا ہے اور پہنچا رہے ہیں۔ اتنا نقصان آج تک کبھی بھی کسی باطل نے نہیں پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی جماعت ملت اسلامیہ کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے۔ اس جماعت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص دنیا میں جس کے ساتھ تعلق رکھے گا۔ اس کے ساتھ حشر ہوگا۔ اس لئے چاہئے کہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے عبرت ناک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ حضرت شیر محمد صاحب شرقپوری مرزا قادیانی کی قبر پر گئے اور کشف کی حالت میں دیکھ کر واپس آگئے۔ مریدوں نے پوچھا حضرت کیا دیکھا، فرمایا ایک کتا دیکھا ہے جو قبر میں پھونک رہا تھا۔
آخر میں انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے حب نبی ﷺ کا ثبوت دیں۔ مجلس کے سرپرست چوہدری عبدالحمید رحمانی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت سے پہلے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل تھا۔ لیکن بعد میں خود مسیح موعود بن بیٹھا۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ مرزا قادیانی پہلے جھوٹا تھا یا بعد میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہیں ایک زبردست حادثہ پیش آیا۔ میری کار کو بے حد نقصان پہنچا اور میں اللہ کے فضل سے بال بال بچ گیا۔ میں حیران تھا کہ مجھے کس مقصد کے لئے بچایا گیا۔ چند دن بعد مجھے مجلس کا سرپرست چن لیا گیا اور میں سمجھ گیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ختم نبوت کے تحفظ کی خدمت کے لئے بچایا ہے۔ انہوں نے نعروں کی گونج میں اعلان کیا کہ ان شاء اللہ وہ تمام زندگی ختم نبوت کا کام کریں گے۔ انہوں نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی تائب ہو کر اسلام قبول کر لیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس جماعت کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ مجلس ہٰذا کے صدر محمد اکرم ناز صاحب، ملک لیاقت علی صاحب، جناب ظہیر شاہ صاحب، ملک ظفر عباس اور فیض الحسن صاحب کا بے حد شکریہ ادا کیا کہ جن کے تعاون سے اخلاص اور دن رات کی محنت سے کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ آخر میں جناب رانا عبدالمجید صاحب کی دعا سے کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۱۷ ص ۵، مورخہ ۳ تا ۹؍ اکتوبر ۱۹۸۶ء)
پانچویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
مؤرخہ ۱۶، ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۸۶ء بروز جمعرات، جمعہ حسب سابق سرزمین (ربوہ) مسلم کالونی چناب نگر میں مذہبی جوش و جذبہ کے ساتھ منعقد ہوئی۔ ۱۶؍ اکتوبر کی صبح ہی سے عاشقان ختم نبوت کے قافلے مسلم کالونی پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ جونہی کوئی قافلہ ریلوے پھاٹک کو عبور کر کے مسلم کالونی میں داخل ہوتا پر جوش نعروں سے ان کا استقبال کیا جاتا۔ گوجرانوالہ جو شمع ختم نبوت کے پروانوں کا شہر ہے، ۲۵؍ بسوں کا ایک عظیم الشان قافلہ بڑی آب و تاب کے ساتھ جلسہ گاہ میں داخل ہوا تو ہر طرف جذبات کا ارتعاش پیدا ہو گیا۔ نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، امیر شریعت زندہ باد، شہدائے ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے چناب نگر کی فضا گونج اٹھی۔
کانفرنس میں مندرجہ ذیل حضرات کے بیانات ہوئے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، مولانا احمد حسین شاکری گوجرہ، مولانا پیر غلام حبیب چکوال، مولانا خدا بخش چناب نگر، جناب محمد یوسف چنیوٹ، مولانا اسلم ٹیچر چناب نگر، مولانا محمد حسین چنیوٹ، مولانا فضل الرحمٰن احرار، مولانا قاضی اللہ یار، مولانا عبدالعزیز راشد اہل حدیث، صاحبزادہ طارق محمود، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، مولانا صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان، مولانا سید عطاء المؤمن، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، قاری سید حسن شاہ، مولانا محمد اشرف ہمدانی، جناب احمد بخش چشتی، مولانا انذر قاسمی، مولانا یار محمد عابد، مولانا عبداللہ خالد مانسہرہ، مولانا نور الحق نور پشاور، مولانا یونس مردان، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد یوسف بہاول پوری، مولانا غلام فرید ڈیرہ غازیخان، جناب محمد اکبر ساقی لاہور، مولانا عبدالشکور دین پوری، قاضی حسین احمد، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا محمد مراد سکھر، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، علامہ محمد احمد گوجرانوالہ، مولانا منظور احمد الحسینی، جناب عبدالحمید رحمانی، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات نے شرکت کی۔
ذیل میں ان حضرات کی تقاریر کے اقتباس ملاحظہ ہوں: پانچویں ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو ہوا۔ اجلاس کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت کے معمر راہنما مولوی احمد حسین شاکری نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی پیر طریقت مولانا غلام حبیب صاحب چکوال والے تھے۔ قاری سید حسن شاہ صاحب کی تلاوت کے بعد خطیب ربوہ مولانا خدا بخش نے اپنی تقریر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی اور مبلغین کی کارکردگی بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے محدود وسائل کے باوجود قادیانی فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ جماعت کی کاوشوں اور محنتوں کا نتیجہ ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیا۔ جس کے نتیجہ میں آج ہم یہاں جمع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں جماعت کے دفاتر اور ساٹھ کے قریب مبلغین کام کر رہے ہیں۔ جہاں کہیں بھی آپ حضرات کو ہماری جماعت کے مبلغ کی ضرورت پڑے صرف ایک لفافہ یا پوسٹ کارڈ لکھ کر بھیج دیں۔ تردید مرزائیت اور دین کی خدمت بلا معاوضہ کرنا ہمارا فرض ہے۔ مولانا خدا بخش نے بتایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی واحد جماعت ہے جو اندرون و بیرون ملک اس فتنہ باطلہ کے خلاف برسر پیکار ہے۔ اس محاذ پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں شاندار کامیابیوں سے سرفراز فرمارہے ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ ربوہ کے اندر اور گردو نواح کے دیہات میں تردید مرزائیت کے سلسلہ میں بہت کام ہورہا ہے۔ مولانا عبدالرحیم اشعر، ناظم تبلیغ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے اپنے خطاب میں تحریک ختم نبوت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آپ نے بزرگوں اور اکابرین کے ایمان افروز واقعات سنائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل و فریب کے پردے چاک کئے۔ مولانا نے گھنٹہ بھر کی تقریر میں تردید مرزائیت کے سلسلہ میں بے شمار حوالہ جات پیش کئے۔ طالب علم مقرر محمد یوسف اسلامیہ کالج نے اپنی مختصر تقریر میں ایک قومی اخبار کے مقامی نامہ نگار کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ اخبار کے مالکان یہاں مسلمان نامہ نگار مقرر کریں۔ مولانا محمد اسلم ٹیچر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ نے ربوہ کے اندر مسلم اساتذہ کے مسائل پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اساتذہ کے لئے ربوہ میں مسلم اساتذہ ہوسٹل قائم کیا جائے۔ امیر شریعت کے دیرینہ رفیق اور پنجابی کے معروف شاعر سائیں حیات علالت اور بڑھاپے کے باوجود پہنچے۔ ان کا معاملہ کچھ یوں تھا ؎
سائیں محمد حیات نے گلو گیر لہجہ اور بہتی آنکھوں کے ساتھ اپنے سے بچھڑنے والے ساتھیوں کے ذکر کے ساتھ ایک پنجابی نظم سنائی۔ مولانا محمد حسین چنیوٹی خطیب بادشاہی مسجد چنیوٹ نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کیا۔ آپ نے حضور ختم المرتبت ﷺ کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے کہا: حضور اکرم ﷺ کی نبوت عالمگیر نبوت تھی۔ آپ قیامت تک کے لئے نبی تھے۔ آپ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا دعویٰ اسلام سے خارج اور جہنمی ہے۔ انہوں نے ارباب اقتدار کو للکار کر کہا کہ یہ ملک اسلام کے لئے معرض وجود میں آیا ہے۔ یہاں اسلام کو نافذ کرو ورنہ کرسی چھوڑ دو۔ مولانا فضل الرحمٰن احرار سرخ رنگ کی جرسی پہنے ہاتھ میں احرار کا نشان کلہاڑی اٹھائے مائک پر آئے تو احرار کی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔ مولانا نے اپنے خطاب میں لندن کانفرنس کی کارروائی اور کارکردگی سنائی۔ آپ نے بتایا کہ اب انگریزوں کی آنکھیں بھی کھل چکی ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ان کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کیا بکواس کی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن احرار نے اعلان کیا کہ قادیانی جہاں بھی جائیں گے ان کا تعاقب کیا جائے گا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ مبلغ مولانا قاضی اللہ یار نے کہا مجلس تحفظ ختم نبوت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک قادیانیت کے فتنے کو روئے زمین سے پسپا نہیں کر دیا جاتا۔ فیصل آباد سے اہل حدیث مکتب فکر کے مولانا عبدالعزیز راشد نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ نبی پاک ﷺ کی نبوت مثالی تھی۔ جس طرح خدا کے بعد اور خدا کوئی نہیں اسی طرح محمد ﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں۔ آپ ﷺ دونوں جہانوں کے لئے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ مولانا عبدالعزیز کی تقریر کے بعد صاحبزادہ طارق محمود نے اعلان کیا کہ آج ختم نبوت کانفرنس کا پہلا روز ہے اور آج پہلی خوشخبری یہ ہے کہ ربوہ کے ایک معروف ایڈووکیٹ نے قادیانیت سے تائب ہو کر حضرت الامیر مولانا خان محمد صاحب کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا ہے۔ بعد ازاں مولانا سید محمد اشرف ہمدانی قادیانیت سے تائب ہونے والے ایڈووکیٹ کو لے کر سٹیج پر آئے اور اعلان کیا کہ سلطان احمد ارشاد آج سے ہمارا بھائی ہے۔ وہ مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیج کر دامن مصطفےٰ ﷺ سے وابستہ ہو چکا ہے۔ اگر کسی نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا، کسی نے اس کی طرف میلی نگاہ سے دیکھا تو وہ اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوگا۔ پر جوش نعروں میں نو مسلم ایڈووکیٹ سلطان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد نے تقریر کا آغاز کیا اور پہلے اپنا تعارف کرایا کہ وہ ایم۔اے پولیٹیکل سائنس ہیں۔ ایل۔ایل۔بی کے علاوہ ایل۔ایل۔ایم ہیں۔ پہلے ایئر فورس میں ملازم تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ربوہ میں پریکٹس شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ میں گھر کا بھیدی ہوں۔ قادیانی مذہب اور جماعت ایک فراڈ ہے۔ ان کے قول وفعل میں تضاد ہے۔ ربوہ دراصل صہیونی ریاست ہے۔ جماعت سے اختلاف کرنے والے شخص کو ذلیل ورسوا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا یہاں ربوہ میں ریاست در ریاست کا نظام ہے۔ ریاست کے چار عنصر ترکیبی ہوتے ہیں۔ (۱) علاقہ، (۲) آبادی، (۳) حکومت، (۴) اقتدار اعلیٰ۔
یہ چاروں چیزیں قادیانی جماعت میں موجود ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دارالقضاء اسلامی اصطلاح ہے۔ اس کو توڑا جائے۔ سلطان احمد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ قادیانی جماعت ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ جس کا کام ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قادیانیوں نے مجھ پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے ہیں۔ میں نے صدر اور وزیر اعظم کو ان سے آگاہ کیا۔ لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ سلطان احمد ایڈووکیٹ پر تقریر کے دوران کئی بار رقت طاری ہوئی۔ شدت جذبات سے ان کی آواز بھرا جاتی اور ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے۔
شب کے اجلاس کی صدارت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت مولانا خان محمد صاحب اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے۔ سید حسن شاہ صاحب کی تلاوت کے بعد ملک کے معروف نعت خواں احمد بخش چشتی نے تاجدار ختم نبوت کے حضور گلہائے عقیدت پیش کئے۔ مولانا انذر قاسمی نے مطالبہ کیا کہ جن افسران نے اس کیس کو خراب کیا ہے۔ ان کو معطل کر کے ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ مولانا یار محمد نے مطالبہ کیا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس حکومت کا نافذ کردہ ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ اس پر مؤثر اور سختی سے عمل درآمد کرائے۔ صوبہ سرحد کے بزرگ راہنما خطیب مانسہرہ مولانا عبداللہ خالد نے فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے مطالبہ کیا کہ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ صوبہ سرحد سے محمد سلیم مہمند محمد ناصر جمیل نوجوانوں نے خطاب کیا۔
مولانا نور الحق نور نے مجاہد ختم نبوت مولانا محمد یونس صاحب خطیب بکٹ گنج مردان کو خطاب کی دعوت دی۔ مولانا نور الحق نور نے بتایا کہ مردان کی حالیہ تحریک میں مولانا یونس نے سرفروشانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے میں انہیں غازی کا لقب دیتا ہوں۔ مولانا محمد یونس نے پشتو زبان میں تقریر شروع کی تو ہمارے مجمع میں جوش وخروش پیدا ہو گیا۔ مولانا نے اپنے مجاہدانہ خطاب میں لوگوں کو خوب گرمایا۔ انہوں نے کہا کہ زندگی وہی کام کی ہے جو آقائے نامدار ﷺ کے نام پر قربان ہو۔ انہوں نے پرجوش انداز میں کہا کہ قادیانیت کا فتنہ قراردادوں اور مطالبوں سے ختم نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے قربانیاں دینی پڑیں گی۔ مولانا یونس کی جوشیلی تقریر کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ جلسہ گاہ نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد سے گونج اٹھی۔ غازی محمد یونس کی تقریر کے بعد مردان کے سینکڑوں جوشیلے نوجوان ان کے ہمراہ ربوہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ حضرت الامیر مولانا خان محمد کو اس اقدام کی اطلاع دی گئی تو آپ نے حکم دیا کہ انہیں سمجھا بجھا کر واپس لایا جائے۔ چنانچہ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا نور الحق نور، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا خدا بخش خطیب ربوہ نے بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں واپس آنے پر مجبور کیا۔ ان جوشیلے نوجوانوں کے اقدام نے سارے مجمع میں ہلچل مچا دی۔ مجمع کو اس طرح بے قابو دیکھ کر صاحبزادہ طارق محمود مائک پر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مردان کے فرزندوں کی قدر ہے۔ لیکن ہم کوئی اقدام حضرت الامیر کے حکم کے بغیر نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا آپ حضرت الامیر مولانا خان محمد صاحب کے حکم پر لبیک کہیں گے۔ سامعین نے ہاتھ اٹھا کر اس بات کی تائید کی۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ ہم ربوہ میں آرام سے نہیں پہنچے بلکہ یہ امیر شریعت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا محمد شریف جالندھری کی قربانیوں اور کوششوں کا ثمرہ ہے۔ مجمع پرسکون ہوا تو ملک رب نواز ایڈووکیٹ کو دعوت سخن دی گئی۔ ملک رب نواز ایڈووکیٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ قادیانی سامراج کی پیداوار ہیں۔ انگریزی سامراج نے انہیں اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کی خاطر پیدا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں جو عالم اسلام اور پاکستان کا دشمن نمبر ۱ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قادیانی جماعت نے ۲۴ کروڑ روپے اپنے حالیہ بجٹ کے لئے مختص کئے ہیں۔ ملک کے اندر شیعہ سنی فسادات کرانا اور مسلمانوں کے فرقوں کو باہمی تصادم کی راہ پر ڈالنا ان کا اہم مشن ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا محمد یوسف بہاول پوری اور مولانا غلام فرید کے بعد جمعیۃ علمائے پاکستان کے سابق راہنما ملک محمد اکبر ساقی نے خطاب کیا۔ آپ نے کہا اصل طاقت حکومت کے پاس ہوتی ہے۔ اختیارات ان کے پاس ہوتے ہیں۔ عوام کا کام مطالبہ کرنا ہے۔ اپنی آواز حکومت تک پہنچانا ہے۔ یہ حکومت کی نیت پر منحصر ہے کہ وہ عوام کی بات مانتی ہے یا نہیں، قادیانی مسئلہ پر سارا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ حکومت نے سردمہری کا بدترین ثبوت دیا ہے۔ ملک اکبر ساقی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے صرف اسلام کا نام استعمال کیا ہے۔ اسلام نافذ نہیں کیا ہے۔
علامہ خالد محمود نے دو گھنٹہ کے مفصل خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلہ میں دلائل اور ثبوت دیئے۔ علامہ نے سخت افسوس کا اظہار کیا کہ ملک وملت کے ازلی ابدی دشمن فتنہ کو ڈھیل دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا جس طرح قادیانی مذہب کے دشمن ہیں۔ اس طرح وہ پاکستان کے بھی دشمن ہیں۔ انہوں نے ابھی تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانی جماعت ملک کے اندر ارتداد کے جراثیم پھیلا رہی ہے۔ اس کا واحد حل وہی ہے جو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف کیا تھا۔ تنظیم حقوق اہل سنت پاکستان کے راہنما حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری نے اپنے فاضلانہ بیان میں سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین کی بنیاد ہے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ مولانا دین پوری نے مجلس تحفظ ختم نبوت کو یقین دلایا کہ ان کی جماعت تحریک ختم نبوت میں ان کے شانہ بشانہ چلے گی۔ صبح تین بجے کانفرنس کا تیسرا اجلاس ختم ہوا۔ لیکن سامعین کے دل ایمان کی حلاوت سے ابھی جاگ رہے تھے۔
۱۷؍ اکتوبر جمعہ کے روز شرکائے کانفرنس کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے شمع ختم نبوت کے پروانے جمعہ کے بڑے اجلاس میں شریک ہونے کے لئے دیوانہ وار چلے آ رہے تھے۔ ختم نبوت کانفرنس کے پنڈال کے باہر عوام کی گہما گہمی اور جوش وخروش قابل دید تھے۔
دوسرے روز کے پہلے اجلاس کی صدارت مولانا خان محمد صاحب نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد ملک کے معروف نعت خواں احمد بخش چشتی نے نعت پڑھی۔ اس اجلاس کے اہم مقرر جماعت اسلامی کے راہنما سینیٹر مولانا قاضی حسین احمد تھے۔ آپ نے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ آپ نے کہا کہ ختم نبوت کا یہ واحد پلیٹ فارم ہے جس پر تمام مکاتب فکر جمع ہوتے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے کہا مرزا غلام احمد قادیانی کو جہاد حرام قرار دینے کے لئے انگریزی حکومت نے پیدا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کتنے افسوس کی بات ہے کہ جہاد کو حرام قرار دینے والے قادیانی ہماری مسلح افواج اور کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جن کا جہاد پر ایمان ہی نہیں۔ انہیں افواج پاکستان میں رکھنا مسلمانوں پر بہت بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کو افواج پاکستان اور اہم کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ جناب قاضی حسین احمد نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ قادیانی فتنہ کے خلاف متحد ہو جائیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے تردید مرزائیت پر فاضلانہ خطاب فرمایا اور سامعین کو بتایا کہ قادیانیوں اور مسلمانوں میں کیا فرق ہے۔ ہمارے نزدیک وہ دائرہ اسلام سے خارج کیوں ہیں۔ مولانا نے کہا کہ قادیانی زندیق ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے کفر پر اسلام کو ڈھالتے ہیں۔ وہ شراب پر نعوذ باللہ زمزم کا لیبل چپکاتے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: لوگو! میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ دو صد سے زیادہ احادیث موجود ہیں جن سے ختم نبوت کا مسئلہ امت مصطفے ﷺ کو سمجھایا گیا ہے۔ قادیانی، محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کو کفر کہتے ہیں۔ مرزا کا کہنا ہے کہ جس نے میرا نام سنا اور مجھے نہیں مانا۔ وہ کنجریوں کی اولاد ہے اور ان کی عورتیں کتیاں ہیں۔ آخر قادیانی ہمیں کیوں کافر کہتے ہیں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں۔ روزہ رکھتے ہیں۔ زکوۃ دیتے ہیں۔ قرآن مجید پڑھتے ہیں۔ حج بھی کرتے ہیں۔ دین کے احکام بھی بجا لاتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا درحقیقت آقائے دو عالم ﷺ کی نبوت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ مولانا نے کہا کہ قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کو غیرت سے کام لینا چاہئے۔ کراچی کے معروف عالم دین اور جماعت کے رہنما ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے جمعہ کا خطبہ دیا۔
جمعہ کا عظیم الشان اجتماع: جمعہ کی نماز کے لئے صف بندی ہوئی تو مدرسہ ختم نبوت و مسجد کا تمام صحن نمازیوں سے بھر گیا۔ گزشتہ برس کی نسبت اس مرتبہ جمعہ کی حاضری میں نمایاں اضافہ ہوا۔ سلام پھیرنے کے بعد بے شمار کارکنوں نے کھڑے ہو کر مالک کائنات کا شکریہ ادا کرنے والے فرزندان توحید کو دیکھا اور دریا چناب کے مقابل بہنے والے ایمان کے دریا کی موجوں کا نظارہ کیا۔ جمعہ کے بعد اجلاس کی صدارت ڈویژنل امیر حضرت مولانا سید محمد اشرف نے کی۔ معروف پنجابی شاعر سائیں محمد حیات نے پنجابی نظم پیش کی۔ گزشتہ برس سکھر میں قادیانیوں کے حملہ میں شدید زخمی ہونے والے جماعت کے راہنما مولانا محمد مراد صاحب سٹیج پر تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بتایا کہ گزشتہ برس رمضان المبارک کے دنوں قادیانیوں نے نماز کے دوران بموں سے حملہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں دو مسلمان شہید اور درجن کے قریب شدید زخمی ہوئے۔ مولانا محمد مراد بھی زخمی ہونے والوں میں شامل تھے۔ مولانا نے احتجاج کیا کہ ابھی تک سکھر کیس کے ملزمان کو جو کہ قادیانی ہیں سزا نہیں دی گئی۔ حالانکہ وزیر اعظم پاکستان محمد خان جونیجو نے وعدہ کیا تھا کہ اس کیس کے ملزمان کی سزا پر جلد از جلد عملدرآمد کرایا جائے گا۔ مولانا کی تقریر سے قبل سندھ سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا جمال اللہ نے قرارداد پیش کی۔ جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ سکھر و ساہیوال کیس میں قادیانی ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اس کی سزا پر فوری طور پر عملدرآمد کرایا جائے۔
آخری اجلاس: دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کے آخری اجلاس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت الامیر مولانا خان محمد صاحب نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے روح رواں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسئلہ ختم نبوت پر بیان کیا اور ثابت کیا کہ قادیانیت ایک جھوٹا اور فریبی طبقہ ہے۔ اس کی بنیاد مکر و فریب پر رکھی گئی ہے۔ گوجرانوالہ سے علامہ محمد احمد نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گوجرانوالہ شہر میں قادیانی عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات محفوظ کرنے کی تحریک جاری ہے۔ انتظامیہ کو مجلس عمل کے ایکشن سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ سرگودھا جماعت کے مبلغ سرگرم رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی نے سرگودھا میں ہونے والی کامیابیوں پر تبصرہ کیا اور سامعین کو بتایا کہ قادیانی فتنہ کی گرفت کے لئے منظم لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ آرڈیننس غیر مؤثر ہو رہا ہے۔ اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ ورنہ مسلمان خود کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ہفت روزہ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کے نائب مدیر مولانا منظور احمد الحسینی نے بیرون ملک جماعت کی کارگزاری پر مختصر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دن دور نہیں جب ساری دنیا سے قادیانی فتنہ کا تعاقب کیا جائے گا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے بزرگ رہنما مولانا احمد میاں حمادی کے خطبہ سے سامعین بہت محظوظ ہوئے۔ مولانا نے بتایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تو درکنار ایک شریف انسان بھی نہ تھا۔ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے چند اقتباسات سنائے۔ جس پر سارے مجمع نے لعنت لعنت کے نعرے لگائے۔ مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن نے ایک قرارداد کی تائید میں فیصل آباد کے ایک قادیانی نواز اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر ایل۔ پی۔ آر پر بھیجا جائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے روح رواں جناب عبدالحمید رحمانی نے اعلان کیا کہ ننکانہ میں قادیانیوں کی خرمستیوں کو خاک میں ملا دیا گیا ہے۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر علماء سے اپیل کی کہ وہ قادیانی فتنہ کے خلاف متحد ومتفق ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارا خدا ایک ہے رسول ایک ہے۔ کتاب ایک ہے۔ قبلہ ایک ہے تو پھر ہم انتشار کا کیوں شکار ہیں۔ ہمارے درمیان اختلافات کی وسیع خلیج کیوں حائل ہے۔ ہم ایک دوسرے کے کیوں دشمن ہیں۔ رحمانی صاحب نے اخلاص بھری درخواست کی کہ تمام مسلمان قادیانی فتنہ کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ مجلس احرار اسلام کے صدر جناب ثناء اللہ بھٹہ نے ایک پیش کی گئی قرارداد کی تائید میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے جاری کردہ قانون کی پاسبانی کرے۔ ۱۹۸۴ء میں حکومت نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کا اعلان کیا لیکن قادیانی اس آرڈیننس کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان سے مجلس کے متحرک رہنما مولانا صوفی اللہ وسایا نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ قادیانی جماعت کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے ہوشیار رہے۔ کیونکہ قادیانی جماعت ایک تخریب کار اور دہشت گرد تنظیم ہے۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ کیا کہ وہ قادیانیوں کو لگام دے۔ وہ قانون اور آئین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔ مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی نے کہا کہ قادیانیت ایک سیاسی تحریک ہے جس کو انگریزی سامراج کی مکمل تائید وحمایت حاصل تھی۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی ایم۔ پی۔ اے نے اپنی تقریر میں قادیانیوں کو دعوت اسلام دی۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی جماعت کا سربراہ مرزا طاہر احمد اگر سچا ہوتا یا اپنے مشن میں مخلص ہوتا تو کبھی اپنی قوم کو تنہا، چھوڑ کر ملک سے فرار نہ ہوتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ربوہ میں رہائشی لوگوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔ ابن شریعت مولانا سید عطاء المؤمن شاہ بخاری نے اپنے تفصیلی بیان میں قادیانی نواز سیاستدانوں کی خبر لی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قادیانیوں کی حمایت اور پشت پناہی کرنے والے سیاست دانوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔
شاہ صاحب نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہمارے ساتھ جو وعدے کئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں کئے گئے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے ممتاز عالم دین مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے ہم سب ایک ہیں۔ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جب تک قادیانی فتنے کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ ملک اسلام کے لئے حاصل کیا گیا تھا۔ اس لئے اسلام کو فوری طور پر یہاں نافذ کیا جائے۔
پانچویں سالانہ دوروزہ ختم نبوت کانفرنس (ربوہ) چناب نگر کی جھلکیاں
- پانچویں دوروزہ ختم نبوت کانفرنس ربوہ (چناب نگر) کا افتتاح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر مولانا خواجہ خان محمد صاحب
دامت برکاتہم نے کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- کانفرنس میں سینکڑوں کی تعداد میں بسیں آئیں۔ کارکن بسوں کی چھتوں پر سوار پرجوش نعرے لگائے ہوئے مسلم کالونی ربوہ میں
داخل ہوئے۔
- سٹیج کے پیچھے اور دائیں طرف تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کے تاریخی فقرے بڑے بڑے بینروں پر لکھے ہوئے تھے۔
- ایک بینر پر مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کا مشہور جملہ درج تھا کہ اگر مرزائی چاند پر بھی گئے تو ان کا تعاقب وہاں پر بھی کیا جائے گا۔
- کانفرنس پنڈال سے باہر کتابوں کے سٹال اور علماء کی تقریروں کے کیسٹوں کی دکانیں لگی ہوئی تھیں۔
- مردان کے غازی محمد یونس کی پرجوش تقریر کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ پشتو نہ سمجھنے والے سامعین بھی ان کی خطابت سے محظوظ ہوئے۔
- مردان کے دو کارکن شدت جذبات سے کئی گھنٹے بیہوش رہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ہمیں قادیانی عبادت گاہوں سے کلمہ مٹانے دو۔
- غازی محمد یونس مردان کی تقریر کے بعد مجمع کو بے قابو دیکھ کر صاحبزادہ طارق محمود نے مائک سنبھالا اور ایک پرجوش تقریر کے بعد
لوگوں کو بٹھا دیا۔
- ملک محمد اکبر ساقی ناساز طبیعت کے باوجود کانفرنس میں خطاب کرنے کے لئے تشریف لائے۔
- علامہ خالد محمود کی تقریر کے آغاز کے ساتھ ہی آندھی اور تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ جس سے بجلی اور لاؤڈ سپیکر کا نظام شدید متاثر ہوا۔
- جمعہ کے اجتماع میں پنڈال کے علاوہ مسجد کا صحن بھی بھر گیا۔ جماعت کے بعض رہنماؤں نے شمع ختم نبوت کے پروانوں کا ٹھاٹھیں
مارتا ہوا سمندر دیکھا تو ان کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو آگئے۔
- مولانا فضل الرحمن کی تقریر کے دوران بار بار نعرہ ہائے تحسین بلند ہوتے رہے۔
- ٹنڈو آدم کے بزرگ مبلغ مولانا احمد میاں حمادی کا خطبہ جس میں انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجی۔ سن کر سامعین
بہت محظوظ ہوئے۔
- ننکانہ جماعت کے سرپرست جناب عبدالحمید رحمانی کی اخلاص بھری تقریر اور درد بھری باتیں سن کر لوگ بہت متاثر ہوئے۔
- سید عطاء المومن شاہ نے اپنے خطاب میں قادیانی کی خوب خبر لی۔
- سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد یعقوب اور مولانا اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔ جب کہ ان کی معاونت کے لئے
صاحبزادہ طارق محمود اور مولانا خدا بخش سٹیج پر موجود رہے۔
- سلطان احمد ارشاد ایڈووکیٹ مرزائیت سے تائب ہو کر اسٹیج پر آئے تو ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔
- اس مرتبہ ختم نبوت کانفرنس کی کارروائی دیکھنے کے لئے پاکستان ٹائمز اور اے. پی. پی کے علاوہ دوسرے شہروں سے اخبارات
کے نمائندے بھی موجود تھے۔
- مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے شب و روز کام کیا۔
- جماعت کے اکثر مبلغ لوگوں کو کھانا کھلانے اور ان کی خدمت پر مامور رہے۔
- استقبالیہ کیمپ میں جماعت کے مبلغین نے شرکائے کانفرنس کی راہنمائی کی۔
- پنڈال کے ساتھ ہی خاکساروں نے کیمپ لگا رکھا تھا۔ اکثر بیشتر بیلچہ بردار خاکسار جلسہ گاہ میں موجود رہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۹ تا ۱۴ ملخص مورخہ ۳۱ / اکتوبر ۱۹۸۶ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تربت مکران میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان اور مجلس عمل کے زیر اہتمام تربت میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس پورے تزک واحتشام سے منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کے انعقاد سے پہلے جب قائدین مختلف اوقات میں ہوائی جہازوں کے ذریعہ تربت ائیر پورٹ پر پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور کاروں، سوزوکیوں، ویگنوں اور موٹر سائیکلوں کے جلوس کی صورت میں شہر لایا گیا۔ بلوچ روایات کے مطابق سو کے لگ بھگ مسلح نوجوان جلسہ گاہ میں ڈیوٹی پر متعین رہے۔ مہمانوں کے اعزاز میں شاندار ضیافتیں کی گئیں۔ ۲۳؍ اکتوبر کو مجلس عمل کے امیر حاجی محمد زمان اچکزئی کی صدارت میں کانفرنس کا پہلا اجلاس ہوا۔ جس میں مولانا عبدالمجید ندیم ، مولانا محمد الیاس ، مولانا عبدالواحد ، مولانا جمال اللہ الحسینی ، مولانا محمد خان شیرانی ، مولانا قمر الدین ، مولانا عبد الشکور خارانی ، مولانا محمد عبد اللہ خضداری، مولانا عبد الغفار اور دیگر علماء نے تقریریں کیں۔ دوسرے دن کا اجلاس حضرت مولانا رحمت اللہ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مکران کی صدارت میں ہوا۔ جس میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب قائد جمعیتہ علمائے اسلام ، مولانا رحمت اللہ، مولانا قاضی اللہ یار خان ، مولانا قاری انوار الحق کوئٹہ، مولانا مفتی احتشام الحق آسیا آبادی ، مولانا نذیر احمد تونسوی مبلغ بلوچستان، مولانا حافظ حسین احمد و دیگر علماء نے تقریریں کیں۔ شاعر ختم نبوت جناب سید امین گیلانی نے ہر اجلاس میں اپنا ایمان افروز کلام سنایا۔ کانفرنس کے دیگر مقررین کے نام یہ ہیں۔ مولانا مولا بخش، محمد سلیم بلوچ ، مولانا عبد الحق ایم. این. اے ، قاضی حسین احمد سینیٹر۔
مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔
- ۱...... مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام دو روزہ ختم نبوت کانفرنس تربت کا یہ عظیم الشان اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ
ذکریوں کو ۱۹۷۳ء کے آئین کی آرٹیکل نمبر ۲۶۰ شق نمبر ۳ کے تحت قادیانیوں کی طرح غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔
- ۲...... تربت میں واقع کوہ مراد پر ان کے مصنوعی حج پر فوراً پابندی لگائی جائے ۔
- ۳...... یہ عظیم اجتماع گوادر میں ذکریوں کی جانب سے مسلمانوں کی دکانوں کو جلانے کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ اس غنڈہ گردی میں
مسلمانوں کا لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ انتظامیہ ذکریوں کی پشت پناہی چھوڑ دے ۔ ورنہ وہ بھی مسلمانوں کے غیض و غضب سے نہیں بچ سکے گی اور اس غنڈہ گردی میں مسلمانوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا مسلمانوں کو معاوضہ ادا کیا جائے ۔
- ۴...... کراچی سے سمندر اور ساحلی علاقوں کے روڈ کو پکا کر کے کیچ کور اور نہنگ کور پر پل بنا دیا جائے ۔
- ۵...... تربت بازار کی روڈ اور گلیاں بنتے بنتے جو اچانک کام روک دیا گیا ہے ۔ اس عمل کو فوراً شروع کر دیا جائے تاکہ لوگوں میں احساس
محرومی نہ ہو ۔
- ۶...... یہ اجتماع افسوس کے ساتھ مطالبہ کرتا ہے کہ تربت کے بازار میں جو ہیجڑوں کا کاروبار چل رہا ہے۔ جو اسلامی اور بلوچی روایات
پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ انہیں فوراً تربت سے جلا وطن کر دیا جائے۔
- ۷...... تربت میں بجلی اور پانی مہیا کر دیا جائے ۔ گوادر کے پانی کی سپلائی کو مناسب طور پر صحیح بنا دیا جائے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۸...... روز بروز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کو فوراً ختم کر دیا جائے۔
- ۹...... ہیروئن کی لعنت فوراً ختم کر دی جائے۔
- ۱۰...... یہ عظیم اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ذکریوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے فوراً برطرف کیا جائے۔ خصوصاً ممبر صوبائی اسمبلی داد کریم
ذکری کو جو کہ ذکریوں کا ایک مذہبی پیشوا ہے۔ فوراً برطرف کیا جائے۔
- ۱۱...... یہ عظیم اجتماع لانڈھی کراچی میں ٹرین کے حادثہ اور پشاور کے قریب فضائی حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے دعائے
مغفرت کرتا ہے اور پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔
- ۱۲...... خضدار شہر میں زلزلوں سے جو نقصان ہوئے ہیں ان پر یہ اجتماع گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے
کہ وہ متاثرین کی فوری امداد کریں۔
- ۱۳...... دشت کالونی زور بازار تربت میں مسجد بنانے کے لئے کمشنر مکران کی عدالت میں مسلمانوں نے ایک درخواست دی ہے۔ یہ
اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ بلا تاخیر اس درخواست کو منظور کیا جائے۔
- ۱۴...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ختم نبوت کانفرنس کے اشتہارات کی بے حرمتی کرنے والے غنڈہ عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ
آئندہ کسی لادین کو اس قسم کی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو سکے۔
- ۱۵...... کوہ مراد کے نزدیک جو کالونی ہے جس کو ذکریوں نے اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے اسے اوپن قرار دیا جائے تاکہ تربت کے
مسلمان بھی وہاں آباد ہوسکیں اور وہاں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔
- ۱۶...... کوئٹہ میں قادیانی عبادت گاہ کی مسجد سے مشابہت فوراً ختم کی جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ج ۵ ش ۲۲ ص ۵، ۶ مورخہ ۲۱ تا ۲۷ نومبر ۱۹۸۶ء)
رپورٹ عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند انڈیا منعقدہ ۲۹، ۳۰، ۳۱/اکتوبر ۱۹۸۶ء
اسلامیان ہند کی تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر میں جب بھی اسلام یا مسلمانوں کے خلاف کسی فتنہ نے سر اٹھایا ہے تو دارالعلوم نے آگے بڑھ بڑھ کر اس کا کامیاب مقابلہ کیا ہے اور بحمد اللہ آج بھی یہ قلعہ اسلام (دارالعلوم) خرمن باطل کے لئے برق بے اماں بنا ہوا ہے۔ چنانچہ ہندوستان میں قادیانیت کے فتنہ خفتہ کی از سر نو حرکت کے پیش نظر دارالعلوم کی موقر مجلس شوریٰ نے اپنے ۱۹، ۲۰، ۲۱/ شعبان ۱۴۰۶ھ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ اس وقت سر زمین ہند پر قادیانیت کا عفریت پھر پنجہ گاڑنے کی تدبیریں کر رہا ہے۔ اس لئے فوری طور پر اس کا علمی و عملی تعاقب ہونا چاہئے اور اہل علم و دانشوران ملت کو جمع کر کے اس کے تازہ پیرہن کو تار تار کرنے کی جدوجہد کو تیز تر کر دینا چاہئے۔
مجلس شوریٰ کی تجویز کے مطابق دارالعلوم کی انتظامیہ نے ۲۹، ۳۰، ۳۱/اکتوبر ۱۹۸۶ء کو عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور اساتذہ دارالعلوم پر مشتمل ایک تیاری کمیٹی بنائی گئی جس کا نگران حضرت مولانا معراج الحق صاحب صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند کو منتخب کیا گیا اور کنوینر جناب مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری استاذ دارالعلوم دیوبند کو بنایا گیا۔ اس کمیٹی نے اساتذہ دارالعلوم، کارکنان مدرسہ اور طلباء دارالعلوم کے تعاون سے اجلاس کا ایسا عمدہ اور مؤثر نظام مرتب کیا اور ایسے نظم و نسق سے اس کو چلایا کہ ہر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شریک اجلاس تعریف و تحسین کئے بغیر نہ رہ سکا اور اجلاس تمام تر کامیابیوں سے ہمکنار ہوا۔ قیام وطعام اور ریلوے اسٹیشن سے آمدورفت کے سلسلہ میں معزز مہمانوں کو ہر قسم کی سہولت پہنچانے کی کوشش کی گئی اور ہر مندوب اجلاس کو رد قادیانیت کے سلسلہ کی دس عدد کتابیں بطور ہدیہ دی گئیں۔ جسے اجلاس کے موقع پر دفتر اجلاس نے شائع کیا تھا۔
یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اجلاس منتخب علماء و مشاہیر کی مخصوص علمی کانفرنس کے طور پر بلایا گیا تھا۔ اس لئے دعوت نامے بھی محدود تعداد میں ارسال کئے گئے تھے لیکن اجلاس کی خبر سے ملک کے ہر علاقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور اجلاس میں شرکت کی خواہش کا اظہار زبانی اور خطوط کے ذریعہ ان حضرات کی طرف سے بھی جو باقاعدہ مدعو نہیں تھے، ہونے لگا۔ اس لئے ایسے حضرات کے لئے بھی اجلاس کی نشستوں میں گنجائش رکھی گئی۔ چنانچہ ہندوستان کے اکثر صوبوں کے علاوہ بنگلہ دیش، پاکستان، دبئی، ابوظہبی، سعودی عرب وغیرہ سے مندوبین سمیت ایک محتاط اندازہ کے مطابق تقریباً دس ہزار افراد نے شرکت کی۔ مشاہیر ہندوستان کے علاوہ دیگر بلاد اسلامیہ سے آنے والوں میں رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری عبداللہ عمر نصیف الموقر اخبار الاتحاد کے نامہ نگار محمد باسل الرفاعی، جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مالک صاحب کاندھلوی، اسلامی فاؤنڈیشن ڈھاکہ کے ڈائریکٹر جناب مولانا فرید الدین مسعود وغیرہ حضرات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اجلاس کی تمام کارروائی چھ نشستوں میں ہوئی جن میں چوتھی نشست تجاویز کے لئے خاص تھی۔ جب کہ پانچویں نشست میں صرف طلباء دارالعلوم کا پروگرام پیش کیا گیا۔ بغرض اختصار ان نشستوں کی اجمالی کیفیت ذیل میں درج کی جارہی ہے۔
پہلی نشست: افتتاحی اجلاس ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۶ء کو صبح ۹ بجے حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جناب مولانا قاری ابوالحسن صاحب صدر شعبہ تجوید دارالعلوم دیوبند کی تلاوت کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ تلاوت کے بعد دارالعلوم کا مشہور ترانہ مولوی عرفان رامپوری، مولوی محمد عدنان دیوبندی، مولوی عبدالقیوم مظفر نگری نے پیش کیا۔ پھر حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے انتہائی جامع و وقیع اور تاریخی خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ اس کے بعد عالم اسلام کے مشہور عالم دین اور داعی حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی مدظلہ نے افتتاحی تقریر فرمائی۔ جس میں دارالعلوم کے اس اقدام کی تحسین فرماتے ہوئے فرمایا کہ حفاظت اسلام کا کام ہمیشہ علماء اسلام ہی نے انجام دیا ہے اور ضروری ہے کہ آج بھی علماء کرام فتنہ قادیانیت کے مقابلہ میں پوری تیاری کے ساتھ سامنے آجائیں۔ اس کے بعد صدر اجلاس حضرت مولانا محمد منظور نعمانی دامت برکاتہم کے خطاب و دعا پر اس نشست کا اختتام ہوا۔
دوسری نشست: ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۶ء کو بعد نماز عشاء ۹ بجے زیر صدارت حضرت مولانا قاضی زین العابدین صاحب رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند منعقد ہوئی۔ اجلاس کا آغاز قاری عبدالرؤف صاحب بلند شہری استاذ تجوید دارالعلوم دیوبند کی تلاوت سے ہوا۔ بعدہ مولوی شفیق عالم بستوی متعلم دارالعلوم دیوبند نے رد قادیانیت کے موضوع پر اپنی ایک لکھی ہوئی نظم پیش کی۔ اس اجلاس میں حضرت مولانا سعید احمد صاحب پالن پوری استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا حبیب الرحمٰن قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند، مولانا برہان الدین صاحب قاسمی سنبھلی استاذ ندوۃ العلماء لکھنؤ، مولانا ریاض احمد قاسمی فیض آبادی نے اپنے مقالات پیش کئے اور حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب جونپوری دامت برکاتہم اور حضرت مولانا اسماعیل صاحب کٹکی مدظلہ نے اپنے خطابات عالیہ سے سامعین کو مستفید فرمایا۔ صدر اجلاس کی تقریر اور دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیسری نشست: ۳۰/ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو صبح ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوئی۔ جس کی صدارت جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مالک صاحب کاندھلوی دامت برکاتہم ، صاحبزادہ شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے فرمائی۔ قاری محمد زکریا گونڈوی متعلم دارالعلوم دیوبند کی تلاوت سے اس اجلاس کا آغاز ہوا۔ پھر عبدالوحید صاحب اشک نے ایک استقبالیہ نظم پیش کی۔ اس اجلاس میں حضرت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی مدظلہ کا مقالہ مولانا محمد نعیم صاحب استاذ جامعہ رحمانیہ مونگیر نے پڑھ کر سنایا اور حضرت مولانا نسیم احمد فریدی امروہہ ، مولانا فریدالدین مسعود ڈھاکہ ، مولانا عبدالحئی صاحب فاروقی دہلی ، مولانا عزیز احمد قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند اور مولانا مفتی ظفیر الدین صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند نے اپنے وقیع مقالات پیش کئے اور حضرت مولانا قاری محمد مشتاق صاحب شیخ الحدیث مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ ، حضرت مولانا منظور احمد مظاہری قاضی شہر کانپور ، حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب ناظم مجلس علمیہ آندھرا پردیش ، حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی لکھنؤ ، مولانا محمد عارف صاحب سنبھلی قاسمی استاذ ندوۃ العلماء لکھنؤ اور جناب ولی الدین صاحب حیدرآبادی (موصوف قادیانیت سے تائب ہوئے ہیں) نے اپنے خطابات اور تقریروں سے حاضرین اجلاس کو محظوظ فرمایا۔ صدر اجلاس کے خطاب عالی پر اجلاس کا اختتام ہوا۔
چوتھی نشست: حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی صدارت میں (جو مندوبین کے لئے مخصوص تھی) ۳۰/ اکتوبر کو بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ قاری عبدالرؤف صاحب کی تلاوت سے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔ اس اجلاس میں چھ تجویزیں پیش کی گئیں اور مندوبین نے ان کو منظور فرمایا۔
- ۱ ...... تحفظ ختم نبوت کا یہ اجلاس ہندوستان میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے اور ملک میں اس
فتنہ کی از سر نو حرکت کو دین اور وطن دونوں کے لئے نہایت خطرناک تصور کرتا ہے۔ اس فتنہ کی ہلاکت خیزیوں کی بناء پر ضروری سمجھتا ہے کہ منظم ہو کر ملک گیر پیمانہ پر اس کا مقابلہ کیا جائے۔ اس لئے یہ تجویز کرتا ہے کہ:
- الف ...... کل ہند سطح پر مجلس تحفظ ختم نبوت کی تشکیل کی جائے۔
- ب ...... مرکزی نظام قائم کرنے کے لئے ارکان منتظمہ پورے ملک سے منتخب کر لئے جائیں۔
- ج ...... نو یا گیارہ افراد پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنادی جائے جو مجلس مرکزیہ کے اصول وضوابط اور طریقہ کار کا مسودہ تیار کرے۔ کام میں
تیزی اور سہولت پیدا کرنے کے لئے اس سب کمیٹی کو اختیار دیا جائے کہ وہ ملک کے صوبوں میں مجلس کی شاخیں قائم کرے۔ نیز مرکزی دفتر کے انصرام و انتظام کی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ سب کمیٹی کے افراد حسب ذیل ہوں گے۔ حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند ، حضرت مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیۃ علمائے ہند ، حضرت مولانا مفتی منظور احمد صاحب قاضی شہر کانپور ، حضرت مولانا سعید احمد صاحب پالن پوری استاذ دارالعلوم دیوبند ، حضرت مولانا مفتی عبدالعزیز صاحب رائے پوری ، مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی ، مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی دارالمبلغین لکھنؤ ، منتظمہ اور سب کمیٹی دونوں کے کنوینر حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب ہوں گے اور عارضی دفتر دارالعلوم دیوبند میں ہوگا۔
- د ...... یہ اجلاس دارالعلوم دیوبند اور اس کے ارکان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مجلس تحفظ ختم نبوت الہند کی سرپرستی فرماتے رہیں گے اور علمی
وتبلیغی امور میں ان کا تعاون مجلس کو حاصل رہے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۲ تحفظ ختم نبوت کا یہ اجلاس حکومت ہند کو اس طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہے کہ ہندوستان اور دنیا بھر کے تمام مسلم علماء اور پوری
ملت اسلامیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو جنہیں قادیانی احمدی لاہوری وغیرہ مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے ایک جھوٹے مدعی نبوت کی پیروی کی بناء پر مرتد اور مسلمانوں سے علیحدہ ایک اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں اور بہت سی مسلم حکومتیں مسلمانوں کے اس اجماعی اور متفقہ فیصلہ کو قانونی حیثیت دے کر اپنے اپنے ملکوں میں اس کا نفاذ کر چکی ہیں۔ اس لئے یہ عظیم اسلامی اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسلمانان ہند کے دینی جذبات اور عالم اسلام کے اس متفقہ فیصلہ کا احترام اور لحاظ کرتے ہوئے قادیانی فرقہ کو ملت اسلامیہ سے الگ ایک اقلیت قرار دے اور مسلمانوں کے مخصوص معاملات اور حقوق میں اس فرقہ کو شریک نہ کرے۔
- ......۳ تحفظ ختم نبوت کا یہ اجلاس وزیر قانون اور وزیر اعظم ہند کے ان بیانات کو جن میں ملک کے اندر یکساں سول کوٹ کے نفاذ کی بات
کہی گئی ہے۔ انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کیونکہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس میں متعدد مذاہب کے پیرو بستے ہیں۔ اس ملک میں ایک زبان، ایک تہذیب اور ایک مذہب نہ کبھی ہوا ہے اور نہ کبھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے جمہوریت اور آزادی فکر و رائے کے اس دور میں یکساں سول کوٹ کا تجربہ نہ صرف یہ کہ یہاں بسنے والے مختلف اہل مذاہب کے ذہنی و فکری انتشار کا سبب بنے گا بلکہ ملک کی سالمیت اور قومی یکجہتی کو بھی پاش پاش کر دے گا۔ علاوہ ازیں یکساں سول کوٹ کے نفاذ سے مسلم پرسنل لاء کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور مسلمان کسی حال میں بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی فرد یا حکومت خواہ وہ مسلمانوں ہی کی کیوں نہ ہو اس کے دینی و مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرے۔ اس لئے مسلمانوں کی نظر میں ہر وہ کوشش جو شرعی احکام اور اس کے ضابطوں کو ختم کرنے کے لئے یا گھٹانے بڑھانے کے لئے کی جائے گی۔ مداخلت فی الدین کے ہم معنی ہے۔ اس لئے یہ اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس خطرناک اسکیم سے جو ملک و قوم دونوں کو انتشار اور پراگندگی میں مبتلا کر دے، دست بردار ہو جائے اور بالفرض اگر وہ اس سکیم کو بروئے کار لانے ہی کے درپے ہے تو کم از کم مسلمانوں کو دفعہ ۴۴ سے مستثنیٰ رکھے۔ کیونکہ یہ اسکیم مسلمانوں کے لئے کسی صورت سے بھی قابل قبول نہ ہوگی۔
- ......۴ تحفظ ختم نبوت کا یہ عظیم اجلاس تمام برادران ملت اور اپنے دینی بھائیوں کو اس امر کی جانب توجہ دلانا اپنا ایک اہم فریضہ سمجھتا ہے
کہ قادیانی فرقہ باجماع ملت اسلامیہ مرتد اور کافر ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو ان کے اسلامی ناموں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ یہ اسلام دشمن گروہ مسلمانوں میں گھس کر قرآن وحدیث کا نام لے کر اور مختلف قسم کے لالچ دے کر بھولے بھالے اور سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں گرفتار کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس لئے مسلمان ان سے ہمہ وقت چوکنا رہیں اور ان کے ساتھ کسی طرح کا میل جول نہ رکھیں۔
- ......۵ تحفظ ختم نبوت کا یہ عالمگیر اجلاس قادیانی فتنہ کے تعاقب اور اس کی اسلام دشمن سازش کو بے نقاب کرنے کے سلسلے میں رابطہ عالم
اسلامی، مؤتمر عالم اسلامی، الجامعۃ الازہر، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اور دیگر عالمی اداروں کے مساعی جمیلہ کو بنظر استحسان دیکھتا ہے اور انہیں اس کارکردگی پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ اجلاس اپنے اس یقین کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہے کہ مسلم علماء و دانشوران ملت اور اسلامی ادارے اس فتنہ کی مکمل سرکوبی کے لئے سرگرم عمل رہیں گے اور مجلس تحفظ ختم نبوت الہند کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۶...... دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس دینیہ کا اصل مقصد حفاظت واشاعت دین کے لئے افراد سازی ہے۔ اب گوناگوں اسباب کی
بناء پر یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس مقصد کے لئے ایک مخصوص شعبہ قائم کیا جائے۔ جس میں منتخب فضلائے دارالعلوم کو دین کی اشاعت اور وقت کے فتنوں سے دین کی حفاظت کے لئے تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ یہ اجلاس دارالعلوم دیوبند کی مؤتمر مجلس شوریٰ سے اس شعبہ کو دارالعلوم دیوبند میں قائم کرنے اور اس جانب خصوصی توجہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
پانچویں نشست: ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو ساڑھے آٹھ بجے شب میں زیر صدارت حضرت مولانا مفتی منظور احمد مظاہری قاضی شہر کانپور رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند منعقد ہوئی۔ یہ نشست طلباء دارالعلوم کے لئے مخصوص تھی۔ جس میں طلباء دارالعلوم نے اپنی محنت و کاوش کو مقالات اور تقریروں کی شکل میں پیش کیا۔ سامعین نے ذوق وشوق سے سنا اور اندازے سے زیادہ یہ اجلاس کامیاب ہوا۔ اجلاس کی کارروائی قاری شفیق الرحمن بلند شہری متعلم دارالعلوم کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ طلباء دارالعلوم میں سے مولوی ریاست علی رام پوری، مولوی محمد سفیان دیوبندی، مولوی شرافت علی سہارنپوری، مولوی محبّ اللہ دربھنگوی، مولوی اختر امام عادل سمستی پوری نے اپنے مقالات پیش کئے اور مولوی سید محمد سلمان منصور پوری، مولوی سعید الرحمن بستوی، مولوی خلیل الرحمن پورنوی، مولوی عبدالکریم گورکھپوری نے تقریروں سے سامعین کو ہمہ تن گوش کیا۔ اسی اجلاس میں ڈاکٹر احمد خلیل رئیس شئون الدینیہ للقوات المسلحہ کا پیغام جناب محمد باسل الرفاعی نامہ نگار اخبار الاتحاد، دبئی نے پڑھ کر سنایا۔ صدر اجلاس کی تقریر و دعا پر اس نشست کا اختتام ہوا۔
چھٹی نشست: ۳۱؍ اکتوبر جمعہ کو صبح ۸ بجے آغاز ہوا۔ جس کی صدارت حضرت مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے فرمائی۔ جناب قاری سید قمر الحسن میرٹھی کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ جناب مولانا نور الحق حیدر آبادی نے بارگاہ رسالت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد مولانا رشید الوحیدی دہلی اور مولانا جمیل احمد نذیری اعظم گڑھ نے اپنا اپنا مقالہ پیش کیا۔ پھر مولانا ابوالقاسم بنارسی نے تجاویز پڑھ کر سنائیں۔ جسے اجلاس نے منظور کیا اور مولانا سعید احمد پالن پوری استاذ دارالعلوم نے تقریر فرمائی۔ اس کے بعد دارالعلوم کا ترانہ پڑھا گیا۔ پھر حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم کی جانب سے جناب مولانا نور عالم صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند ایڈیٹر ’’الداعی‘‘ نے مہمان محترم ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف جنرل سیکرٹری رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔ بعدہ مہمان محترم نے اجلاس سے خطاب فرمایا اور دارالعلوم کے اس اقدام کو انتہائی مستحسن قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور فرمایا کہ دنیا میں ہمیشہ سے حق وباطل کی کشمکش جاری ہے اور آج بھی یہ کشمکش زوروں پر ہے۔ دارالعلوم اور اس جیسے تمام اسلامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ احقاق حق اور ابطال باطل کے سلسلہ میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر ڈالیں اور عوام کو قادیانیوں کی دسیسہ کاریوں سے بچانے کے لئے ہر قسم کے وسائل کام میں لائیں۔
ترجمانی کے فرائض جناب مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری نے انجام دیئے۔ آخر میں صدر اجلاس حضرت مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے خطاب کیا اور حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب جونپوری مدظلہ کی دعائے پر اثر پر یہ سہ روزہ اجلاس انتہائی کامیابی و کامرانی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲ تا ۲۴، مورخہ یکم؍ جنوری ۱۹۸۷ء)
کھرڑیانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس
۱۲؍ دسمبر ۱۹۸۵ء بروز جمعۃ المبارک فیصل آباد کے نواح کھرڑیانوالہ جامع مسجد ختم نبوت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری رابطہ سیکرٹری مولانا اللہ وسایا، صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک کے علاوہ جماعت کے سینئر مبلغ مولانا سید ممتاز الحسن شاہ صاحب مولانا محمد علی نے خطاب کیا۔ جب کہ شاعر ختم نبوت سید محمد امین گیلانی نے نظم پڑھی۔
ختم نبوت کانفرنس کا پہلا اجلاس جمعتہ المبارک کے وقت شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد سید ممتاز الحسن شاہ صاحب نے جماعت کے ناظم اعلیٰ کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ آپ نے بتایا کہ جامع مسجد ختم نبوت کی بنیاد مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے حکم پر رکھی گئی۔ ان کی خواہش تھی کہ اس علاقے میں بھی ختم نبوت کا عظیم الشان مرکز قائم ہو۔ شاہ صاحب نے یقین دلایا کہ ہم خلوص نیت سے یہاں کام کریں گے اور ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ یہ جامع مسجد رشد و ہدایت کا عظیم مرکز بنے گی اور حضرت مولانا محمد علی جالندھری کی یادگار ثابت ہوگی۔ جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اندرون و بیرون ملک فتنہ قادیانیت کا محاسبہ کرنے کے لئے پوری تندہی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ مولانا نے جماعت کا تفصیلی تعارف اور کارکردگی بیان کی۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اعلان کیا کہ جامع مسجد کھرڑیانوالہ میں خطیب اور بچوں کی دینی تعلیم کے لئے مدرس کے اخراجات مجلس تحفظ ختم نبوت برداشت کرے گی۔
جمعتہ المبارک کے بعد دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ سید امین گیلانی نے ایمان افروز نعت پیش کی جب کہ حضرت سید ممتاز الحسن شاہ صاحب نے شان رسالت مآب ﷺ پر خطاب فرمایا۔ آپ نے کہا کہ حضور ﷺ کی نبوت انفرادیت یہ ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور تمام انبیاء کے سردار اور امام ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے کذبات بیان کئے۔ مولانا نے بتایا کہ مرزا قادیانی اپنے ہر دعویٰ میں جھوٹا ثابت ہوا۔ اسی طرح اس کی پیشین گوئیاں بھی غلط ثابت ہوئیں۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی فتنہ اب ساری دنیا میں رو بہ زوال ہے اور اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک کے مسلمان اسی طرح قادیانیوں سے نفرت کرتے ہیں، جس طرح اندرون ملک ان سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی مجلس شوریٰ کے اہم رکن سید نفیس رقم شاہ صاحب نے کی۔ انہی کی دعا سے دوسرا اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
ختم نبوت کانفرنس کا تیسرا اجلاس رات بعد از عشاء منعقد ہوا۔ مولانا محمد علی (بھائی والا) نے اپنے بیان میں اکابرین ختم نبوت کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ مولانا ممتاز الحسن نے کہا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مشن کو زندہ و تابندہ رکھا جائے گا۔ شاہ صاحب نے صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر ہفت روزہ ”لولاک“ کا تعارف کروایا۔ بعد ازاں ایڈیٹر ”لولاک“ نے اپنے بیان میں شہدائے ختم نبوت کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ قادیانی جماعت کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ ایڈیٹر ”لولاک“ کے خطاب کے بعد ممتاز قاری ڈاکٹر محمد صولت نواز نے کلام پاک تلاوت سے سامعین کے قلوب کو گرمایا۔ سید ممتاز الحسن شاہ کی دعا کے بعد اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ ش ۳۸ ص ۲۰، ۲۱، مورخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۸۶ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوتھا کل پاکستان گولڈ میڈل انعامی تحریری مقابلہ اور سالانہ ختم نبوت کانفرنس ننکانہ
۱۹؍دسمبر ۱۹۸۶ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام چوتھا کل پاکستان انعامی تحریری مقابلہ بعنوان ’’مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے کفریہ عقائد‘‘ کی عظیم الشان تقریب تقسیم انعامات اور چوتھی کل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس بعد از نماز عشاء جامع مسجد غوثیہ سراجیہ ننکانہ صاحب میں منعقد ہوئی۔ اس عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کی صدارت پروفیسر غازی احمد صاحب (سابق کرشن لعل) نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، صاحبزادہ طارق محمود، جناب اختر رسول، جناب محمد متین خالد و دیگر حضرات نے خطاب کیا۔ پروفیسر غازی احمد صاحب کو عالم خواب میں حضور نبی کریم ﷺ نے خود اپنے دست مبارک پر مسلمان کیا اور ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا۔ مہمان خصوصی جناب ایم۔ایچ انصاری صاحب ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سابق سربراہ ایل۔ڈی۔اے لاہور تھے اور مہمان ذی وقار سابق اولمپین جناب اختر رسول صاحب صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن تھے اور مجلس ہٰذا کے سرپرست جناب چوہدری عبدالحمید رحمانی صاحب نے کانفرنس کی سرپرستی فرمائی۔
تنظیم تحفظ ختم نبوت طلباء پاکستان کے صدر جناب ڈاکٹر صولت نواز صاحب، شاگرد قاری عبدالباسط آف مصر کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد مجاہد ختم نبوت جناب اعجاز ہمایوں اور مہر صادق رحمانی نے نعت شریف پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ مجلس ہٰذا کے صدر محمد متین خالد نے خطبہ استقبالیہ پڑھا اور کہا: مجلس ہٰذا نے اپنے مختصر سے عرصہ میں دو پمفلٹ اور پانچ کتابچے اور ۲۲ مختلف قسم کے سٹیکرز شائع کر کے ملک کے طول عرض میں تقسیم کئے۔ مجلس ہٰذا کی کوششوں سے دو قادیانی مسلمان ہوئے۔ کلمہ طیبہ کی توہین کرنے پر چار قادیانی گرفتار ہوئے اور قادیانیوں کی تمام رہائش گاہوں اور عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ ہٹایا۔ ان کے بعد جناب سلمان گیلانی صاحب شاعر ختم نبوت نے اپنے روایتی انداز میں قادیانیوں کے چوتھے پوپ مرزا طاہر کے متعلق ’’بھاگ گیا انگلینڈ بھگوڑا بھاگ گیا‘‘ نظم پڑھی اور بے حد داد آفرین وصول کی۔ ان کا یہ شعر ؎
بے حد پسند کیا گیا۔ میاں عبدالرشید صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی مرتد اور زندیق ہیں۔ لہٰذا حکومت فوری طور پر مرتد کی شرعی سزا نافذ کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ ننکانہ صاحب پہلے سکھ یاتریوں کی وجہ سے مشہور تھا مگر اب بین الاقوامی تحریری مقابلہ منعقد کروانے کے بعد ننکانہ صاحب تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے پہچانا جاتا ہے۔ صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک نے کہا کہ حکمرانوں کو چند روز اقتدار کے بعد انہیں کوئی نہ پوچھے گا۔ یہی مسلم لیگ جو آج برسر اقتدار ہے۔ اسی نے ختم نبوت کے دس ہزار پروانوں کو بے دریغ قتل کیا اور جیلوں میں ڈال کر شمع رسالت کے پروانوں پر ایسا ظلم کیا جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اختر رسول سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میری عرصہ دراز سے یہ خواہش تھی کہ ؎
انہوں نے کہا کہ اختر رسول اگر تم واقعی عاشق رسول ہو تو میں تم سے جھولی پھیلا کر بھیک مانگتا ہوں کہ تم صاحب اقتدار ہو تو کانفرنس میں شریک بے شمار لوگ بلک بلک کر رو رہے تھے اور ان کے رونے کی آوازیں دور دور تک سنائی دے رہی تھیں۔ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے اپنا عالمانہ اور محققانہ خطاب کرتے ہوئے مرزا قادیانی کے دجل و فریب اور جھوٹ بیان کئے۔ انہوں
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے کہا کہ کائنات کا سارا نظام بدل سکتا ہے۔ سمندر خشک ہو سکتے ہیں۔ پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ سکتے ہیں۔ آسمان گر سکتا ہے۔ زمین پھٹ سکتی ہے۔ سورج بے نور ہو سکتا ہے۔ مگر اللہ کے نبی کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی اور جھوٹا شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا ہے کہ میں مکہ میں مروں گا یا مدینہ میں۔ مولانا نے کہا کہ اللہ کی بات میں بھی کبھی شک ہوا ہے؟ چونکہ یہ خود ساختہ وحی تھی۔ اس لئے اس میں شک رہا۔ انہوں نے سامعین سے پوچھا کہ بتائیے مرزا قادیانی کہاں مرا۔ آواز آئی لیٹرین میں۔ مولانا نے فرمایا: زور سے بولو۔ آپ لوگوں کو بتانے میں شرم محسوس ہو رہی ہے اور اسے لیٹرین میں مرتے ہوئے شرم نہ آئی۔ انہوں نے فرمایا کہ شریعت کا مسئلہ ہے کہ نبی کا جہاں وصال ہوتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے۔ مرزا چونکہ لیٹرین میں مرا ہے اس لئے اسے بھی لیٹرین میں دفن ہونا چاہئے تھا۔ مہمان خصوصی جناب اختر رسول نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری نجات صرف اور صرف حضور ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر چلنے میں پوشیدہ ہے۔ آج لوگ نور اور بشر کے جھگڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ مگر حضور نبی اکرم ﷺ ان تمام مقاموں سے بلند تر تھے۔ آپ نے کہا کہ فتنہ قادیانیت اب اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ قادیانیوں کو اب چاہئے کہ اب غیر مسلم اقلیت بن کر رہیں یا وہ ملک چھوڑ جائیں۔
پروفیسر غازی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ختم نبوت کی ایک بڑی دلیل میں ضرور دوں گا۔ کیونکہ مجھے حضور نبی کریم ﷺ نے خود اپنے دست مبارک پر مسلمان کیا۔ اگر مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچا ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ مجھے خود فرماتے کہ کبھی کبھی ربوہ کا چکر بھی لگا لیا کرو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے قادیانیت کا پورا مطالعہ کیا ہے یہ کہ یہ مذہب دجل و فریب، جھوٹ اور عیاری پر مشتمل ہے جس کا واحد مقصد مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی کے لئے تیار کرنے اور ان کے دلوں سے شمع مصطفیٰ ﷺ کو بجھا کر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گمراہی کے کنویں میں گرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت دین اسلام کے خلاف ایک بغاوت کا نام ہے۔ تمام مسلمانوں کو اس فتنہ کی بیخ کنی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ آخر میں انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کا ایمان افروز واقعہ سنایا۔ جس سے عوام بے حد مستفید ہوئے۔ انہوں نے مجلس ہذا کے نوجوانوں کے جذبوں کو خوب سراہا اور ان کے لئے دعا فرمائی۔
آخر میں پروفیسر غازی احمد صاحب نے کامیاب امیدواروں میں انعامات تقسیم کئے۔ اوّل پوزیشن حاصل کرتے ہوئے خوش نصیب شیخ غلام رسول صاحب کو گولڈ میڈل اور قیمتی کتابوں کا سیٹ دیا گیا۔ دوم پوزیشن حاصل کرنے والے خوش نصیب حافظ عبدالمجید چشتی صاحب کو ایک سلور میڈل اور قیمتی کتابوں کا سیٹ اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے خوش نصیب عبدالغفور آف انگلینڈ کو کانسی کا میڈل اور قیمتی کتابوں کا سیٹ دیا گیا۔ اس کے علاوہ صوبائی وزیر جناب اختر رسول صاحب، پروفیسر غازی احمد صاحب، ایم۔ ایچ انصاری صاحب اور چوہدری عبدالحمید رحمانی صاحب کو خوبصورت شیلڈ دی گئی۔
علاوہ ازیں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، صاحبزادہ طارق محمود صاحب، رانا فضل احمد صاحب، محمد امجد خان صاحب، ڈاکٹر محمد صولت نواز صاحب، دفتر ختم نبوت شاہکوٹ کے لئے جاوید اقبال صاحب کو اور ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے لئے بھی شیلڈز دی گئی۔ علاوہ ازیں رانا عبدالرشید صاحب، جاوید احمد ٹی اینڈ ٹی، پروفیسر ریاض احمد، رانا عبدالمجید صاحب، شیخ محمد امین ایڈووکیٹ اور محمد اسلم چیمہ صاحب کو بھی قرآن مجید کے نسخے دیئے گئے۔ آخر میں سٹیج سیکرٹری صاحب نے تمام مسلمانوں اور بالخصوص مجلس ہذا کے کارکنوں کا بے حد شکریہ ادا کیا کہ جن کی شب و روز محنت سے کانفرنس کامیاب ہوئی۔
ننکانہ کانفرنس کی جھلکیاں:
- کانفرنس کا آغاز عشاء کی نماز کے بعد قاری صولت نواز کی تلاوت سے ہوا اور رات تین بجے کانفرنس کا اختتام ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ...... تمام مہمانان گرامی کو جلوس کی صورت میں چوہدری عبدالحمید رحمانی صاحب سرپرست مجلس ہذا کی رہائش گاہ پر لایا گیا۔ جہاں
انہیں ایک پر تکلف عشائیہ دیا گیا۔
- ...... کانفرنس میں بطور خاص رانا فضل احمد صاحب، ڈاکٹر صولت نواز، ڈاکٹر اسلم، ڈاکٹر قیوم صاحب، رانا طفیل احمد صاحب، اقبال
صاحب، سیٹھ امین الدین صاحب اور بینک دولت پاکستان کے مجاہدین نے شرکت فرمائی۔
- ...... تحریری انعامی مقابلہ میں کامیاب امیدواروں کو خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔
- ...... پنڈال میں ہر طرف خوبصورت بینرز لگائے گئے۔ تین بینرز خصوصی طور پر پسند کئے گئے جن پر تحریر تھا:
- ۱...... قادیانیوں کا ٹھکانہ جہنم براستہ ربوہ لندن۔
- ۲...... ہر قادیانی راجپال اور ابوجہل کا نمائندہ ہے۔
- ۳...... توہین رسالت پر اے مسلم تیری خاموشی ؎
- ...... ہر مقرر کی تقریر پر بڑے جذباتی نعرے لگائے گئے۔ خصوصاً مرزائیوں پر لعنت بے شمار خوب لگایا گیا۔
- ...... صاحبزادہ طارق محمود صاحب کی تقریر کے دوران بے شمار لوگ بلند آواز سے روتے رہے۔
- ...... سلمان گیلانی کی نظم بھاگ گیا اور سید علمدار حسین شاہ کی نظم جیسا منہ ویسا تھپڑ بے حد پسند کی گئی۔
- ...... مہمانان گرامی کو پنڈال میں استقبال اور جلوس کی صورت میں لایا گیا۔
- ...... جناب ایم ۔ ایچ انصاری صاحب شدید بخار اور طبیعت کی خرابی کی وجہ سے خطاب نہ کر سکے۔
- ...... سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب متین خالد نے سر انجام دیئے۔ برموقع اشعار اور برجستہ فقروں پر سامعین سے داد وصول کرتے
رہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ ش ۴۱ ص ۲۰ تا ۲۲، مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۸۷ء)
ختم نبوت کانفرنس قصور و ڈیرہ مراد جمالی
قصور (احمد علی) قصور میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس نہایت جوش و ولولہ کے ساتھ منعقد ہوئی۔ پہلے اجلاس کی سرپرستی مولانا علامہ عبدالغفور انوری صاحب فاضل دیوبند نے کی۔ صدارت الحاج میاں حاجی محمد شفیع صاحب مالک مدینہ آئس فیکٹری قصور نے کی جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے ختم نبوت کے موضوع پر انتہائی جامع انداز میں روشنی ڈالی۔ مناظر اسلام حضرت محمد یوسف رحمانی اور حضرت مولانا عبدالرحمن شاکر نے دلائل و براہین کے ساتھ مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔ صوفی غلام حیدر حیدری اور شاعر ختم نبوت احسان احمد احسان نے ختم نبوت کے موضوع پر نعتیں پیش کیں۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حکیم شبیر احمد مغل انجینئر اور حفیظ الرحمن مغل نے انجام دیئے۔ اجلاس میں شریعت بل کے لئے قراردادیں منظور کی گئیں۔
ڈیرہ مراد جمالی (پ۔ر) مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ مراد جمالی کا اجلاس زیر صدارت حکیم علی محمد ابڑو مدرسہ تاج العلوم گجر کالونی میں ۲۹؍ نومبر ۱۹۸۶ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک حافظ قاری محمد خان نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا یار محمد نے کہا مسلمانوں اور پاکستان کے بدترین دشمن قادیانی ہیں ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں شامل ہو کر ملک وملت کے دشمنوں کا محاسبہ کیا جائے ۔ مولانا کریم داد نے اپنے بیان میں قادیانیت سے مقابلہ کے لئے زور دیتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں سے ہر قسم کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ہم مارچ میں ڈیرہ مراد جمالی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں مولانا نذیر احمد بلوچ حب نصیر آباد ڈویژن کے رابطہ دورے پر جنوری ۱۹۸۷ء کو تشریف لارہے ہیں ۔ اجلاس مولانا حضور بخش صاحب کی دعا پر ختم ہوا ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۲۵ ش ۲۸ ص ۴، مورخہ ۱۹ تا ۲۵ / دسمبر ۱۹۸۶ء)
مولانا اللہ وسایا حفظہ اللہ کا سہ روزہ دورہ ڈیرہ غازی خان
۲۲ / دسمبر ۱۹۸۶ء کی شام ساڑھے چار بجے آپ ڈیرہ غازی خان پہنچے ۔ جماعتی احباب نے استقبال کیا۔ اسی دن شام ساڑھے پانچ بجے بذریعہ کار صوفی اللہ وسایا اور غلام فرید کھلول کے ہمراہ اللہ آباد چلے گئے ۔ جہاں مسلمانوں کے قبرستان سے دو مرزائی مردے نکلوائے جاچکے ہیں ۔ رات کو بعد نماز عشاء عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے خطاب فرمایا ۔ سردی کے باوجود دوسرے کئی شہروں سے ختم نبوت کے پروانے حضرت کا خطاب سننے آئے ۔ مولانا نے ختم نبوت پر خطاب فرمایا ۔ اپنے دورہ کے مختصر حالات بیان فرمائے اور مسلمانوں کو مبارک باد دی کہ تمہاری کوششوں سے مرزائی مردے مسلمانوں کے قبرستان سے نکال دیئے گئے ۔ کانفرنس کے بعد مولانا رات ہی کو جام پور پہنچے جہاں کی عظیم جامع مسجد محمدی میں صبح بعد از نماز فجر درس قرآن دیا ۔ جس میں کافی لوگوں نے شرکت کی ۔ جام پور سے مولانا ڈیرہ غازی خان واپس تشریف لائے اور بار روم میں وکلاء سے شاندار خطاب کیا اور اپنے بیرون ملک دورے کے تاثرات سنائے اور وکلاء کے سوالات کے جوابات دیئے ۔ مولانا نے تقریباً پون گھنٹہ وکلاء سے خطاب کیا ۔ جس سے تمام وکلاء بے حد متاثر ہوئے ۔ اسی دن تقریباً ایک بجے جکھڑ امام خطاب کرنے کے لئے تشریف لے گئے ۔ یہ قصبہ ڈیرہ غازی خان سے تقریباً بیس میل کے فاصلہ پر ہے اور ضلع ڈیرہ غازی خان کے اس قصبہ میں سب سے پہلے مرزائی آئے اور یہاں ان سے مناظرہ کرنے کے لئے مولانا لال حسین اختر ، مولانا محمد حیات اور دوسرے اکابرین تشریف لاتے رہے ۔ حضرت امیر شریعت بھی اس قصبہ میں تشریف لے گئے ۔ مرزائیت کو للکارا اور ان کے اعتراضات کے جوابات دیئے ۔ الحمد للہ ! پروگرام بہت کامیاب رہا ۔ شام کو واپس ڈیرہ تشریف لائے ۔ رات کو دفتر ہی میں قیام فرمایا ۔ صبح تقریباً دس بجے ڈیرہ غازی خان کی معروف درس گاہ جامعہ اسلامیہ چاٹے کی دعوت پر تشریف لے گئے جہاں علماء اور خطباء سے خطاب فرمایا ۔ اسی دن تین بجے شام مولانا کے اعزاز میں صوفی اللہ وسایا نے شاندار استقبالیہ دیا جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت اور تنظیم تحفظ ختم نبوت طلبہ کے کارکنوں کے علاوہ شہر اور ضلع کی تمام سیاسی ، مذہبی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے دوسو سے زائد افراد نے شرکت کی ۔ استقبالیہ تقریب سے مولانا نے خطاب فرمایا ۔ اپنے بیرون ملک دورے کے تاثرات بیان فرمائے ۔ آپ نے فرمایا کہ مرزائیت کا آفتاب غروب ہونے کو ہے ۔ آپ کی دعاؤں سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے چالیس لاکھ روپے میں لندن میں اپنا دفتر قائم کیا ہے ۔ دنیا کو چھ براعظموں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اب تک تمام براعظموں گویا دنیا کے ہر خطے میں ختم نبوت کے وفد پہنچے ہیں اور اب دنیا کے ہر حصہ میں مرزائیت سے نفرت پائی جاتی ہے ۔ بعد میں مولانا نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب فرمایا ۔ آپ نے فرمایا کہ لاہور اور کراچی کے فسادات میں قادیانی ملوث ہیں ۔ اس سلسلہ میں آپ نے وہاں کے اخبارات کے بھی حوالے پیش کئے ۔ مولانا کا یہ دورہ الحمد للہ ! بہت کامیاب رہا ۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں تادیر سلامت رکھے ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، مورخہ ۳۰ / جنوری ۱۹۸۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۷ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پاکستان کی مسلح افواج میں ۳۲۸ قادیانی افسر ہیں، صاحبزادہ یعقوب
پاکستان کی مسلح افواج میں لیفٹیننٹ جنرل سے لے کر کیپٹن کی سطح تک ۳۲۸ قادیانی افسر کام کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان نے آج قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران صاحبزادہ محمد احمد کے ایک سوال کے جواب میں قادیانی افسروں کی جو تعداد بتائی وہ درج ذیل ہے:
عہدہ آرمی نیوی ایئرفورس کل لیفٹیننٹ جنرل/ مساوی ۱ - - ۱ بریگیڈیئر/ مساوی ۵ - ۱ ۶ کرنل/ مساوی ۱۰ ۲ ۳ ۱۵ لیفٹیننٹ کرنل/ مساوی ۵۶ ۶ ۱۱ ۷۳ میجر/ مساوی ۱۳۵ ۵ ۱۶ ۱۵۶ کیپٹن/ مساوی ۵۸ ۵ ۱۴ ۷۷ کل ۲۶۵ ۱۸ ۴۵ ۳۲۸
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۴، مورخہ یکم جنوری ۱۹۸۷ء)
پاکستان اسٹیل مل میں ہنگامے کا خطرہ
پاکستان اسٹیل بن قاسم کراچی نمبر ۲۹ کے ایک ڈیپارٹمنٹ ٹی . بی . پی میں چار شفٹیں چل رہی ہیں۔ مبینہ طور پر ایک شفٹ انچارج اسحاق ساجد قادیانی دوسری شفٹ کا انچارج محمد احمد قادیانی اور تیسری شفٹ کا انچارج مشکور قادیانی ہے جو کہتا ہے کہ میرا خاندان قادیانی ہے۔ لیکن میں ان سے متفق نہیں ہوں۔ چوتھی شفٹ کا انچارج ایک ہندو ہے۔ ان چار شفٹوں میں تین قادیانی ایک منصوبے کے تحت آئے ہیں جو اپنے ماتحت مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں اور یہاں تک کہتے ہیں کہ آؤ ہمیں دلائل سے قائل کرو کہ ہم قادیانی غیر مسلم ہیں۔ مختلف طریقوں سے وہ مسلمانوں کو اشتعال دلاتے ہیں۔ لہٰذا انتظامیہ وحکومت کو آگاہ کرتے ہیں کہ ان قادیانیوں کو متفرق جگہ ٹرانسفر کریں ورنہ ایک ہنگامے کا خطرہ ہے۔
(روزنامہ جسارت مورخہ ۵/ دسمبر ۱۹۸۶ء)
عبدالغفار کے بیٹے کو قادیانیوں نے اغواء کر لیا
دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے پریس ریلیز کے مطابق عبدالغفار ولد امام دین قوم جٹ سکنہ سکندرآباد کوٹری ضلع دادو جو بارہ سال قبل قادیانی تھا اور اب بحمداللہ مسلمان ہے۔ ربوہ میں اس کا مکان تھا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی برکت سے یہ مسلمان ہوا تو قادیانیوں نے مرزا ناصر کے حکم سے اس کو ربوہ سے نکال دیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہم جو کچھ بھی کریں حکومت ملک کا قانون ہمارے لئے بے بس ہے۔ راستے میں عبدالغفار، مولانا نذیر احمد خان بلوچ کو ملا اور اپنی مظلومیت کی داستان سنائی تو مولانا موصوف نے کہا کہ آج کے بعد جو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی تمہارے اوپر ہاتھ اٹھائے تو ہمیں مطلع کریں۔ عبدالغفار کی دفتر ختم نبوت حیدرآباد کی آمد کی اطلاع جب قادیانیوں کو ہوئی تو قادیانیوں کی کاریں روزانہ اس کے گھر جانا شروع ہوئیں۔ خصوصاً چوہدری نعمت اللہ قادیانی ڈائریکٹر سلفی مل کراچی ، آئی لینڈ مل کوٹری ، چوہدری منصور، چوہدری خلیل پسران، چوہدری اکرم سکنہ لطیف آباد، چوہدری مبشر فورمین ٹیلی گراف کوٹری انہوں نے کہا کہ عبدالغفار آج کے بعد تم نے دفتر ختم نبوت حیدرآباد نہیں جانا۔ اگر تمہیں احمدیت میں کوئی شک ہے تو مرزا طاہر احمد کی کیسٹیں سنو اور یہ یہ کتابیں ہیں ان کو پڑھو لیکن جب عبدالغفار نے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں غلام احمد قادیانی کو اور اس کی ساری جماعت کو کافر مرتد سمجھتا ہوں تو مؤرخہ یکم؍دسمبر ۱۹۸۶ء کو دن کے ساڑھے نو بجے عبدالغفار کے لڑکے محمد ناصر کو چوہدری منصور پولیس کی معیت میں گالیاں دیتا ہوا کہیں لے گیا۔ چونکہ عبدالغفار مزدوری وغیرہ پر گیا ہوا تھا۔ جب بارہ بجے واپس گھر آیا تو گھر والی نے یہ ساری کہانی سنائی تو عبدالغفار دفتر ختم نبوت حیدرآباد میں آیا اور مولانا نذیر احمد خان صاحب کو بتلایا۔ مولانا نے کہا کہ قادیانیوں نے تیرے لڑکے کو گرفتار کرا کے اپنی شکست کو دعوت دی ہے۔ تم صبر کرو میں افسران بالا سے رابطہ کرتا ہوں تو مولانا نے حیدرآباد ، لطیف آباد ، کوٹری، ٹنڈومحمد خان کے تمام تھانوں سے پتہ کیا۔ لڑکے کا علم نہ ہو سکا تو شام چھ بجے سوزوکی کرایہ پر کر کے مولانا نے مولوی محمد رمضان صاحب اور عبدالغفار کو کہا کہ حیدرآباد اور ضلع بدین کے تمام تھانوں کو چیک کرو۔ آخر چوکی پھلکارہ تھانہ ماتلی جو جنگل بیابان میں ہے، محمد ناصر کو باورچی خانہ میں بند کیا ہوا تھا۔ جب انچارج چوکی نے مولانا محمد رمضان کو دیکھا اور ختم نبوت کی بات سنی تو بوکھلا گیا۔ دس بجے محمد ناصر کو دفتر ختم نبوت حیدرآباد لایا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ چوہدری منصور نے چوکی پھلکارہ کے انچارج غازی سے ساز باز کر کے محمد ناصر کو گرفتار کرا کے چوکی پر بٹھایا اور پھر رات کے اندھیرے میں اس بچے کو ربوہ کے تہہ خانوں میں اذیتیں دینے کا پروگرام تھا۔ انچارج چوکی سے پوچھا گیا کہ لڑکے کو کیوں گرفتار کیا؟ کوئی ایف.آئی.آر درج تھی؟ کسی افسر کا حکم تھا؟ تو کہنے لگا کہ مجھ کو ڈی.ایس.پی صاحب ماتلی کا حکم ہے۔ مؤرخہ ۲؍دسمبر ۱۹۸۶ء کو مولانا نذیر احمد کی قیادت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے جب متعلقہ ڈی.ایس.پی صاحب سے ملاقات کی تو ڈی.ایس.پی صاحب نے کہا کہ میرا کوئی حکم نہیں تھا۔ انسپکٹر صاحب سے پوچھا گیا اس نے کہا کہ میرا کوئی حکم نہیں تھا۔ جب وفد نے ڈی.ایس.پی صاحب سے کہا کہ آپ اپنے ماتحت جمعدار کے خلاف قانونی کارروائی کریں تو ڈی.ایس.پی صاحب کا جواب نفی میں تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حافظ منظور حسین، جنرل سیکرٹری ملک محمد الیاس صاحب ، حاجی محمد خالد صاحب نے افسران بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرا کے چوہدری منظور قادیانی اور پولیس کے انچارج کے خلاف اغواء اور حبس بے جا کا مقدمہ دائر کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۷، مؤرخہ یکم؍جنوری ۱۹۸۷ء)
قادیانی ایکسین کا نو لاکھ روپے کا گھپلا ڈپٹی کمشنر ٹوبہ کے نام مولانا محمد عبداللہ کی درخواست
ٹوبہ ٹیک سنگھ (نمائندہ ختم نبوت) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے راہنما مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ اور سیکرٹری انسداد رشوت ستانی کو ایک درخواست دی ہے جس میں کہا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کمالیہ روڈ پر گورنمنٹ کمرشل انسٹی ٹیوٹ زیر تعمیر ہے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ ادارہ کی تعمیر کے فائنل اسٹیمیٹ کے بعد ایکس.ای.این بلڈنگز ٹوبہ ٹیک سنگھ نے ادارہ کے لئے آب رسانی کا منصوبہ بنا کر مبلغ نو لاکھ روپے ہڑپ کر لئے ہیں جس کی تفصیلات حسب شنید حسب ذیل ہیں۔ مہتمم عمارات ٹوبہ ٹیک سنگھ نے بغیر کسی کام کی ابتدائی اور انتہاء کے مبلغ نو لاکھ روپے کا بل پاس کر کے ٹھیکیدار کو پوری ادائیگی کر دی۔ بغیر کسی قسم کے کام کے اوورسیئر صاحب، ایس.ڈی.او صاحب نے اندراج اور C+B/10% تصدیق کر دیا۔ Provide+Fixed Pipe Line کے تحت ایڈوانس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکورٹی کی بجائے Full Payment کر دی اور اس میں مبلغ پانچ لاکھ آفیسران بالا اور مبلغ چار لاکھ ٹھیکیدار کو دیا گیا۔ مذکورہ ایکس.ای.این چونکہ کٹر قادیانی ہے، ۲۲، ۲۳/ جولائی کو ہمراہ ٹھیکیدار مذکور لندن میں قادیانی کانفرنس میں شرکت کے لئے برطانیہ چلا گیا۔ ایس.ای بلڈنگز فیصل آباد ڈویژن کو جب اس فرضی کارروائی اور اتنے بڑے فراڈ کا علم ہوا تو اس نے اپنے افسران بالا کو باخبر کیا جس کے نتیجہ میں ایکس.ای.این صاحب مذکور نے ٹھیکیدار سے کہا وہ فوری طور پر آب رسانی کا کام شروع کر دے۔ کیونکہ یہ فراڈ ظاہر ہو چکا ہے جس پر پائپ لائنیں بچھانے کی غرض سے پائپ وغیرہ بھی منگوائی گئی۔ مگر کام شروع نہ ہوا۔ بعدازاں ایکس.ای.این مذکور نے ٹھیکیدار مذکور کو حکم دیا کہ منصوبہ آب رسانی کی وصول شدہ رقم واپس جمع کرا دے، مگر ٹھیکیدار مذکور نے اس حکم کے خلاف سٹے آرڈر حاصل کر لیا۔ نتیجتاً جملہ منصوبہ جو بغیر Admintra Tive Aprroval کے مجوزہ تھا تو ہنوز تشنہ تکمیل ہے۔ اس کی جملہ رقم مبلغ نو لاکھ روپے ,Sub-Eng, SDO XEN ٹھیکیدار ہضم کر چکے ہیں۔ لہٰذا التماس ہے کہ غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور ملزمان کے خلاف فراڈ و دیگر قواعد کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو قومی خزانہ و املاک کو نقصان پہنچانے کا حوصلہ نہ ہو سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۶، مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/جنوری ۱۹۸۷ء)
کیپ ٹاؤن کا قادیانی اور مسجد کے نمازی
کیپ ٹاؤن ساؤتھ افریقہ، مسجدیں اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں۔ ان میں کسی ناپاک شخص کا داخلہ ممنوع ہے۔ چہ جائیکہ کوئی مرتد، زندیق، مشرک اور کافر و منافق داخل ہو۔ الحمدللہ ! مسلمانوں کی غیرت ایمانی زندہ ہے۔ انہیں اگر یہ معلوم ہو جائے کہ یہ شخص مرتد یا زندیق ہے تو ان کی ایمانی غیرت فوراً جوش میں آجاتی ہے اور وہ غیرت ایمانی کی وجہ سے مسجد کے تقدس اور اس کی حرمت پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ ایسی ہی ایمانی غیرت کا مظاہرہ مسلمانان کیپ ٹاؤن نے کیا۔ یاد رہے کہ کیپ ٹاؤن میں قادیانیت کے خلاف بھرپور تحریک جاری ہے۔ باوجودیکہ وہاں کی عیسائی حکومت ان نقلی مسیحیوں ( قادیانی مسیح کے پیروکاروں) کو پورا پورا تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ وہاں کے تمام مسلمان ان کے خلاف پوری طرح متحد ہیں۔ گزشتہ دنوں جامع مسجد سیرنو میں نماز عصر کی اقامت کہی جا چکی تھی۔ صف بندی ہو چکی تھی۔ حضرت مولانا کاران صاحب نماز پڑھانے کے لئے تیار تھے کہ اتنے میں مقتدیوں میں سے کسی نے با آواز بلند کہا کہ مولانا ذرا ٹھہریں صفوں میں ایک قادیانی پلید مرتد و زندیق گھس آیا ہے۔ جب تک اسے نہ نکالا جائے جماعت نہیں ہوگی۔ اس نے مسجد میں گھس کر اس کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اتنا کہنا تھا کہ مسجد میں موجود مسلمانوں کی غیرت کو جوش آگیا۔ انہوں نے قادیانی کو یہ بھی نہیں کہا کہ نکل جاؤ بلکہ اسے پکڑا اور اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ وہ چیختا چلاتا اور روتا دھوتا د.ف.ع ہو گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴، مؤرخہ ۳۰/جنوری تا ۵/فروری ۱۹۸۷ء)
قادیانیوں کے عالمی اجتماع لندن میں تین مسلمان صحافی کیسے داخل ہوئے
گزشتہ دنوں قادیانیوں کا سالانہ اجتماع لندن کے مضافات میں ہوا اور اس جگہ کا نام انہوں نے اسلام آباد رکھا ہے۔ اس اجتماع میں قادیانی امت کے پیشوا مرزا طاہر کی شرکت کے پیش نظر حفاظتی انتظامات بہت سخت تھے اور اس بات کا پورا اہتمام کیا گیا تھا کہ کوئی مسلمان اس اجتماع میں شریک نہ ہو سکے اور نہ ہی کسی کو اس کی کارروائی معلوم ہو سکے۔ مگر لندن کے مشہور عربی ہفت روزے ”المسلمون“ کے تین صحافی اس اجتماع میں شرکت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ دلچسپ طریقے سے اس اجتماع میں شریک ہوئے اور پھر دلچسپ معلومات بھی لائے۔ یہ تینوں صحافی شریف قندیل، محمد الدسوقی اور اسعد عاشور تھے۔ وہ اپنی مشترکہ تحقیق و پورٹ کے مطابق لکھتے ہیں: ”ہم اس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس سے دو دن پہلے قادیانی حضرات کے مرکز میں گئے جس کا نام انہوں نے ’’مسجد لندن‘‘ رکھا ہوا ہے۔ ہم جوں ہی مرکز میں داخل ہوئے تو حفاظتی گارڈ کے کچھ آدمی دوڑتے ہوئے ہمارے پاس آئے اور ہم سے سوالات کی بوچھاڑ کر دی کہ:
تم کون ہو؟......کہاں سے آئے ہو؟......یہاں کیوں آئے ہو؟......یہاں تم کسے جانتے ہو؟......کیا تم لندن پہلی مرتبہ آئے ہو؟......تم کہاں رہتے ہو؟......اپنے ملک سے یہاں کیوں آئے ہو؟......کیا تم واپس اپنے ملک جاؤ گے؟ وغیرہ وغیرہ!
ہم نے سوال نمبر ۴ کا جواب دینا مناسب سمجھا اور وہ یہ کہ یہاں تم کس کو جانتے ہو؟ چونکہ ہم مصری مدرس کو (جو قادیانی تھا) جانتے تھے۔ اس لئے ہم نے اس کا نام لیا۔ چنانچہ وہ ہمیں فوراً اس مصری مصطفیٰ ثابت کے پاس لے جانے کے لئے ہمارے آگے چل پڑے۔ راستے میں دیواروں پر قادیانی رہنماؤں کی بڑی بڑی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔
مصطفیٰ ثابت نے ہم سے عربی میں بڑی احتیاط اور ہوشیاری سے گفتگو کی۔ مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کرنے کے بعد ثابت نے ہم سے پوچھا کہ :’’تم ”احمدیت“ کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟‘‘ (یہ حضرات اپنے لئے ’’احمدی‘‘ کا لفظ پسند کرتے ہیں)
ہم نے جواب دیا:’’کوئی خاص معلومات نہیں‘‘۔
اس نے جب دیکھا یہ بے خبر اور مجہول سے لوگ ہیں اور ہمارے جال میں آسانی سے پھنس سکتے ہیں تو بڑے پیار و اخلاص سے بات چیت شروع کر دی اور کہا کہ میں تمہارے لئے ’’کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لئے دو کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہم نے لندن کے ایک ساتھی کا فون دیا کہ اس پر ہمیں اطلاع کر دیں کہ کارڈ تیار ہیں۔ اس نے ہم سے وعدہ کیا کہ صبح تک آپ کو اطلاع مل جائے گی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہم تینوں نے عارضی طور پر اپنے نام تبدیل کر لئے تھے تاکہ انہیں یہ پتہ نہ چل جائے کہ ہمارا ’’المسلمون‘‘ رسالے سے کوئی تعلق ہے، اپنے عارضی نام یاد رکھنے کے لئے ہمیں قدم قدم پر بڑی احتیاط سے کام لینا پڑا۔ بہرحال مصطفیٰ ثابت نے جمعہ کی صبح کو فون پر ہمیں اطلاع کی کہ تمہارے کارڈ تیار ہیں اور تم ساؤتھ فیلڈ میں فلاں جگہ سے حاصل کر سکتے ہو اور اس کے بعد ہماری جماعت کے لوگ تمہیں ٹلفورڈ اس جگہ لے جائیں گے۔ جہاں کانفرنس منعقد ہوگی۔ حسب وعدہ ہم نے کارڈ حاصل کر لئے اور مقررہ جگہ پر پہنچ گئے۔ جہاں کانفرنس میں جانے کے لئے قادیانی مرکز کے سامنے کاریں اور بسیں بڑی تعداد میں تیار کھڑی تھیں۔ ہم بھی ایک بس میں سوار ہو گئے۔ اب ہم ٹلفورڈ میں اس قادیانی مرکز کے سامنے کھڑے تھے جسے وہ اسلام آباد کہتے ہیں اور برطانوی حکومت نے بڑی فراخ دلی سے قادیانیوں کو ۵۰ کلومیٹر مربع کا یہ علاقہ مہیا کیا ہے جس میں کانفرنس کی مناسبت سے اور مستقل قادیانی ہیڈ کوارٹر کی حیثیت سے مختلف شعبے قائم تھے۔
کانفرنس ہال کے اردگرد حفاظتی انتظامات بہت سخت تھے۔ قادیانی سیکورٹی گارڈ کارڈ کے بغیر کسی شخص کو اندر جانے کی اجات نہیں دے رہے تھے۔ اچانک مصری قادیانی مصطفیٰ ثابت وہاں پہنچ گئے۔ چونکہ ہمارے پاس ابھی تک کارڈ نہیں تھے۔ بس پر سوار ہوتے وقت تو کسی نے نہ پوچھا لیکن اب کارڈ کے بغیر داخلہ ممکن نہ تھا۔ ثابت نے ہم سے پوچھا کہ تمہارے پاس شناختی کارڈ پاسپورٹ یا کوئی اور پہچان ہے؟ ہم نے نفی میں جواب دیا۔ اس نے کہا: اس کے بغیر کارڈ کا حصول تو کچھ مشکل ہے۔ ہم نے کہا: پھر ہم واپس لوٹ جاتے ہیں۔ ویسے ہماری خواہش تھی کہ نماز جمعہ یہاں پڑھیں۔ اس کے بعد اس نے دوڑ دھوپ کر کے کارڈ حاصل کر لئے۔ ایک گارڈ نے وائرلیس کے ذریعے کچھ معلوم کرنے کے بعد ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی اور اب ہم ہال کے اندر تھے۔ وہاں جو کچھ دیکھا اور سنا اس کی چند جھلکیاں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہال میں افریقہ، امریکہ، ایشیاء اور آسٹریلیاء کے لوگوں کے لئے الگ الگ جگہیں مخصوص تھیں۔ ہمیں ان سے الگ اس جگہ بٹھایا گیا جہاں لارڈ میئر اور اس کی بیوی بیٹھی ہوئی تھی ہم وہاں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد فضاء میں کچھ جنبش پیدا ہوئی۔ قادیانی رضا کار ادھر ادھر بھاگنے لگے اور پھر مائیکروفون پر یہ اعلان ہونے لگا۔ ”مسیح“ آ رہے ہیں! ”مسیح“ آ رہے ہیں!!
اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ان کے مسیح صاحب پہنچے (یعنی مرزا طاہر جسے وہ چوتھا مسیح خلیفہ کہتے ہیں) اس نے پیروکاروں کے آگے اپنے پاؤں رکھے اور انہوں نے مسیح کے جوتے اتارے۔ اس موقع پر جو نعرے انہوں نے لگائے وہ یہ تھے مسیح زندہ باد، احمدیت زندہ باد، خلیفہ زندہ باد، وہ موجودہ امیر کو مسیح کا چوتھا خلیفہ کہتے ہیں۔ یہ صاحب جمعہ کا خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور اس وقت تک نعروں کی چیخ و پکار جاری رہی۔ جب تک اس نے بولنا شروع نہیں کیا۔ اس نے ایک گھنٹہ تقریر کی اور اس دوران اس نے تقریباً ۱۵ پیالی چائے پی۔ پھر اس نے سرالیون کے صدر ایک نائیجیری وزیر ابوبکر حسن، لائبیریا کے صدر اور جزائر فجی کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ مگر اس موقع پر اپنے اصلی آقا وحامی برطانیہ کو اس نے فراموش نہ کیا اور اس کا نہ صرف شکریہ ادا کیا بلکہ اس کی اطاعت اور وفاداری کا عہد کیا اور اس کے لئے دعا بھی کی۔ اس نے جب دنیا میں ظلم و زیادتی کے بارے میں گفتگو کی فلسطین وافغانستان کا ذکر تک نہ کیا۔ حج کے بارے میں کہا کہ یہ قادیانیوں پر فرض نہیں رہا۔ اس کی تقریر اردو میں تھی اور ساتھ انگریزی، فرانسیسی، عربی اور انڈونیشی میں ترجمے کا انتظام تھا۔
نماز سے فراغت کے بعد ہم اس ایریے میں گئے جو عربوں کے لئے مخصوص تھا۔ وہاں کچھ اور قادیانیوں سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن وہ مصافحہ کرنے کے بعد ہم سے اس طرح دور ہوئے جیسے مصافحے میں انگلیوں کو خاص طریقے سے ہلاتے وقت وہ قادیانی وغیر قادیانی کو پہچان لیتے ہیں اور اس بارے میں ان کے ہاں شاید کوئی مخصوص کوڈ ہے۔ اس کے بعد ایک ایک ملک رفیق سے ہماری ملاقات ہوئی۔ جس سے یہ دلچسپ سوال و جواب ہوئے۔
س ...... تم اپنے آقا کو مسیح کیوں کہتے ہو؟
ج ...... اس لئے کہ وہ عیسائیوں کی صلیب توڑنے اور گناہوں کی بخشش کے لئے آیا۔
س ...... تم امیر المؤمنین بھی کہتے ہو؟
ج ...... امیر المؤمنین ہی نہیں ہم خاتم النبیین بھی کہتے ہیں۔
س ...... لیکن خاتم النبیین تو محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔
ج ...... (ہنستے ہوئے) خاتم کا معنی یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ کی انگوٹھی یا مہر کی حفاظت کرنے والا ہے۔
س ...... یہ جو خلیفہ کے پیچھے تین آدمی کھڑے رہتے ہیں یہ کون ہیں؟
ج ...... ان میں سے ہر ایک اس مسیح کی روح کی تمثیل ہے جو مخفی ہو گیا ہے۔
س ...... یہ کون شخص ہے جو کھڑا ہے مگر بالکل حرکت نہیں کرتا؟
ج ...... یہ بہت بڑا پہلوان ہے جو کسی عیسائی حکومت نے خلیفہ المسیح کو تحفہ دیا ہے۔
س ...... قادیانیوں کی تعداد کیا ہے؟
ج ...... بہت ہیں اور پانچ سال پہلے ہمارے خلیفہ نے خواب میں دیکھا تھا کہ ۱۳۸۰ھ میں قادیانی زیادہ اور مسلمان کم ہوں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س...... (میں نے کہا) ۱۳۸۰ سے کیا مراد ہے؟ ج...... قادیانی کیلنڈر کے حساب سے ابھی ۱۳۶۵ھ ہے۔“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۷، ۱۸، مؤرخہ ۶ تا ۱۲ فروری ۱۹۸۷ء)
فورٹ عباس میں مسلمانوں کی کامیابی
فورٹ عباس ضلع بہاول نگر چک ۲۱۳۔ آر۔ ۹ میں قادیانیوں کا علیحدہ مرگھٹ ہونے کے باوجود شرارتاً اپنے مردہ نذیر ولد یوسف قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ اس پر وہاں کے تمام مسلمانوں کے مکاتب فکر کی مجلس عمل تشکیل دی گئی۔ علامہ غلام رسول معصومی صدر، مولانا محمد یار ناظم، مولانا قدرت اللہ، مولانا اکرم، مولانا رشید احمد، حاجی ظفر، حاجی اقبال ممبران شامل تھے۔ اس کے لئے وکلاء پر لاء کمیٹی بنائی گئی۔ ضلعی و تحصیل افسران سے ملاقاتیں کیں۔ قادیانی گروہ کی زیادتی پر کہ تمہارا علیحدہ مرگھٹ موجود تھا۔ تم نے جان کر مسلمانوں کے قبرستان میں اپنا مردہ دفن کر کے قانون شکنی واشتعال انگیزی کی ہے۔ لہٰذا اپنا مردہ نکال لو۔ چنانچہ ایسے ہو۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مؤرخہ ۶ تا ۱۲ فروری ۱۹۸۷ء)
علی پور میں قادیانی مردہ کا مسئلہ
یارُو والہ محلہ علی پور کا قادیانی واحد بخش گوپانگ سیکرٹری یونین کونسل کی قادیانی اہلیہ ۱۰ جنوری ۱۹۸۷ء کو فوت ہو گئی۔ جتوئی روڈ علی پور کے قبرستان میں قادیانیوں نے قبر کھودنی شروع کی۔ مولانا مشتاق احمد، مولانا عبدالرحیم، مولانا حق نواز، مولانا غلام محمد گئے۔ قادیانیوں کو سمجھایا کہ آپ خلاف قانون کر رہے ہیں۔ تم غیر مسلم ہو۔ غیر مسلموں کے مرگھٹ علیحدہ ہیں۔ تمہارا مرگھٹ موجود ہے۔ تم اسے وہاں دفن کرو۔ وہ نہ مانے قانون شکنی پر مصر رہے۔ بالآخر پولیس انسپکٹر عبدل بیگ اور اسسٹنٹ کمشنر سید فاروق صاحب نے قادیانیوں کو قانون شکنی پر روکا۔ چنانچہ ٹرالی میں وہ لاش واپس اپنی زمین یارو والا میں لے گئے۔ وہاں جا کر اس کو دفن کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۷، مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹ فروری ۱۹۸۷ء)
مانسہرہ کے علماء کا اعلان کہ قادیانی مسلمانوں کا جنازہ نہیں پڑھ سکتے
قادیانی جماعت کے دوسرے گرو گھنٹال مرزا محمود نے اعلان کیا کہ قادیانی مسلمانوں کے جنازہ میں شریک نہ ہوں۔ خود اس کے باپ مرزا قادیانی کا بھی یہی طرز عمل تھا کہ وہ اپنے بیٹے فضل احمد صاحب کی نماز جنازہ میں موجود ہونے کے باوجود شریک نہ ہوا کہ مرزا کا بیٹا فضل احمد مسلمان تھا، لیکن آج کل قادیانی محض منافقت کے طور پر خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کے جنازہ میں شرکت کا فراڈ کرتے ہیں۔ چنانچہ مانسہرہ کے مشہور سیاسی و سماجی رہنما حکیم عبدالغفور صاحب کے صاحبزادہ جناب عطاء الرحمن صاحب کا وصال ہوا۔ جنازہ پولیس گراؤنڈ میں تھا۔ ہزاروں کا اجتماع تھا۔ مولانا قاضی رفیق الرحمن صاحب نے اعلان کیا کہ کوئی قادیانی جنازہ میں ہے تو نکل جائے۔ مرکزی جامع مسجد مانسہرہ کے خطیب مولانا عبداللہ صاحب خالد کی قادیانی پر نظر پڑ گئی۔ اس سے پوچھا کہ تم مرزا قادیانی کو کیا سمجھتے ہو وہ گول مول بات کرنے لگا۔ مولانا قاضی رفیق الرحمن صاحب نے کہا کہ یہاں سے فوراً کھسکو ورنہ تمہاری خیر نہ ہو گی۔ چنانچہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا جنازہ سے بھاگ نکلا۔ خیر سے بدھو گھر کو لوٹا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹ فروری ۱۹۸۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ظالم کون؟
قادیانی پوری دنیا میں یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ ہماری جماعت پرامن اور بے ضرر جماعت ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی اور دھوکہ دیا۔ آج کل وہ ایسے خطوط بھی بھیج رہے ہیں۔ جن میں اپنی مظلومیت کا رونا رویا جا رہا ہے۔ برادرم مولانا منظور احمد الحسینی نے مختلف اخبارات ورسائل سے ان کے ظلم وستم کے واقعات مرتب کرنا شروع کئے ہیں۔ ذیل میں اس سلسلہ کی پہلی قسط ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے۔
(محمد حنیف ندیم)
دو مسلمان طلباء کو حبس بے جا میں رکھ کر بید زنی کا وحشت ناک سانحہ: پچھلے دنوں مسٹر احمد نواز (ایف۔اے) اور مسٹر حسین شاہ (بی۔اے) کو مبینہ طور پر ربوہ میں پکڑ کر حبس بے جا میں رکھا گیا اور انہیں تقریباً ۸۰، ۸۰ کوڑے مار کر شدید جسمانی ایذاء پہنچائی گئی جس سے دو طالب علم بیہوش اور ادھ موئے ہوگئے۔‘‘
قادیانیوں کی فائرنگ، تین مسلمان زخمی: ۱۸؍مئی ٹوبہ ٹیک سنگھ چک ۲۹۵ بیریاں والا متصل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرزائیوں نے دہشت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کے پرامن اجتماع پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں تین مسلمان شدید زخمی ہوگئے۔
دس مسلمان زخمی: ۱۱؍فروری ۱۹۷۱ء کی صبح چپ بورڈ فیکٹری جہلم کی انتظامیہ نے جو کہ مرزائیوں پر مشتمل ہے۔ فیکٹری کے باہر ہڑتالی مسلمان مزدوروں پر اچانک چھ بندوقوں اور دو پستولوں سے فائرنگ کر دی جس سے دس مزدور زخمی ہوگئے۔ جنہیں سول ہسپتال جہلم میں داخل کر دیا گیا۔
مٹھائی فروش غلام رسول کا قتل: فروری ۱۹۷۱ء میں چیچہ وطنی کے ایک مٹھائی فروش غلام رسول کو وہاں کی قادیانی جماعت کے امیر نذیر احمد باجوہ نے مبینہ طور پر مغرب کے بعد اپنے مکان میں دھوکہ سے بلوایا اور بڑی بے دردی سے قتل کر دیا۔
سبزی فروش کا قتل جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے: مئی ۱۹۷۳ء میں ربوہ کے ایک سبزی فروش دوکاندار کو انتہائی سفاکی سے پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس بدنصیب مقتول کو قتل کرنے سے قبل چھ گھنٹے تک سخت قسم کی اذیتیں پہنچائی گئیں اور بالآخر اسے قتل کر دیا گیا۔ بعدازاں اس سے جسم کے ٹکڑے کر دیئے گئے۔
قاتلانہ حملہ: ۲۵؍جنوری ۱۹۷۴ء کی صبح کو جب کہ مولانا خان محمد چونڈہ میں مسلمانوں کی ایک مسجد میں قرآن مجید کا درس دے رہے تھے کہ اچانک مرزائی مسجد میں داخل ہو کر مولانا پر حملہ آور ہوگئے اور ایک مرزائی نے قرآن مجید کو ٹھوکر مار کر گرا دیا۔ جس پر نمازیوں میں اشتعال پیدا ہو گیا لیکن وہ پرامن رہے درس بند کر دیا گیا۔ سب لوگ اٹھ کر تھانے جا رہے تھے کہ مرزائی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت راستے میں بندوقوں، پستولوں، تلواروں اور خنجروں سے مسلح ہو کر ان پر حملہ آور ہوگئے۔ فائرنگ کی گئی اور خنجروں سے مولانا محمد صدیق اور رفیق احمد باجوہ پر قاتلانہ وار کر کے ان کو زخمی کر دیا گیا۔ انہی رفیق باجوہ پر اس سے پہلے ربوہ میں بھی حملہ کیا گیا تھا۔
وحشیانہ قتل: مولانا غلام رسول جنڈیالوی ایڈیٹر روزنامہ ایام فیصل آباد کا نوجوان فرزند ربوہ میں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا اور اس بے دردی سے قتل کیا گیا کہ خدا کی پناہ، پہلے اس کی ٹانگیں توڑی گئیں۔ پھر بازو توڑے گئے۔ پھر جان سے مار دیا گیا۔
زخمی کر دیا: مئی ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے ایک گروہ نے ماڈل کالونی کراچی میں ممتاز عالم دین اور خطیب جامع مسجد مولانا مفتی غلام قادر صاحب کو عقیدۂ ختم نبوت کے جرم میں زدوکوب کر کے انہیں زخمی کر دیا گیا۔ نیز چند روز قبل گوہر آباد منصورہ میں جلسہ سیرت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
النبی ﷺ کے دوران قادیانیوں نے مولانا محمد ابراہیم پر عین اس وقت حملہ کر دیا جب وہ ختم نبوت کے موضوع پر تقریر کر رہے تھے۔
۱۶ مسلمان زخمی: ۱۵/ اکتوبر ۱۹۷۴ء کنری ضلع تھر پارکر قادیانی جماعت کے امیر کے لڑکے ڈاکٹر رشید احمد نے آج دوکان کھولی اور اس میں رکھے ہوئے قرآن مجید کے ایک نسخہ کو آگ لگا کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ جس وقت مسلمانوں کو اس کا پتہ چلا تو وہ اس سلسلے میں اس سے دریافت کرنے کے لئے دوکان کے آگے جمع ہو گئے تو اس نے ان پر فائرنگ کی جس سے ۱۶ مسلمان زخمی ہو گئے۔
زخمی کر دیا گیا: سرگودھا میں راؤ عبدالمنان گزشتہ شب ۱۱ بجے اپنی دوکان بند کر کے اسکوٹر پر جا رہے تھے کہ ایک اسکوٹر اور کار نے اس کا تعاقب کیا۔ راستہ میں کئی جگہ انہیں روکنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے خطرہ کو بھانپ کر ٹھہرنے سے انکار کر دیا۔ جس پر تعاقب کرنے والے اپنی رفتار تیز کر کے ان کے برابر پہنچ گئے۔ سکوٹر سوار نے ان پر خنجر سے حملہ کیا۔ جس سے وہ زخمی ہو کر گر پڑے۔ اس کے بعد کار میں سوار شخص نے ان پر فائرنگ کی۔ جس کی ایک گولی ان کے سر پر لگی اور ایک کمر میں لگی اس کے بعد وہ فرار ہو گئے۔
قتل کر دیا گیا: ۴/ اگست ۱۹۷۴ء کو کیمبل پور میں دن دہاڑے شیخ سجاد حسین صدیقی کے گھر پر قادیانیوں نے بم پھینک کر ان کو شہید کر دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۰، مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹/فروری ۱۹۸۷ء)
قادیانی ایمپائر مقرر کرنے پر احتجاج
خوشاب میں آل پاکستان ہاکی ٹورنامنٹ تھا۔ قادیانی گروہ نے سازش سے ایمپائر قادیانی ظفر کو مقرر کر لیا۔ ہفتہ بھر شہر میں روزانہ طلباء جلوس نکالتے رہے۔ بالآخر سیکرٹری ہاکی ٹیم نے دفتر ختم نبوت آ کر معذرت کی اور قادیانی ایمپائر کو ہٹا دیا گیا۔ یوں قادیانی سازش دم توڑ گئی۔
(لولاک فیصل آباد ص ۱۹، مؤرخہ ۲۰/فروری ۱۹۸۷ء)
قادیانی جماعت کے امیر کی گرفتاری
مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے ایک وفد نے زیر قیادت مولانا صوفی اللہ وسایا صاحب ایس. پی صاحب سے ملاقات کی اور انہیں مرزائیوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں سے آگاہ کیا۔ ایس. پی صاحب نے سٹی پولیس کو قادیانی جماعت کے امیر خان مند کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۸-سی مقدمہ درج کرنے اور اسے فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ سٹی پولیس نے مقدمہ درج کر کے یکم/فروری کو قادیانی خان مند کو گرفتار کر لیا۔ خان مند کی گرفتاری سے مرزائیوں میں مایوسی پھیل گئی۔ اگلے دن قادیانی خان مند کو سٹی مجسٹریٹ کو سید عبدالخالق شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تمام قادیانی اکٹھے ہو گئے اور اپنے امیر کے ہاتھ چومتے رہے جسے ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر صوفی اللہ وسایا، مولانا غلام اکبر ثاقب، مولانا امیر عمر اور ختم نبوت کے سرگرم رکن غلام فرید خان کھلول کے علاوہ دیگر اراکین ختم نبوت بھی عدالت میں موجود تھے۔ مسلمانوں کی طرف سے ملک محمد حسین صاحب ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔ سٹی مجسٹریٹ نے خان مند کو جیل بھیجنے کا حکم دیا تو تمام مرزائی صوفی اللہ وسایا جو مدعی ہیں ان سے معافی مانگنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم آئندہ کوئی حرکت نہیں کریں گے۔ ہماری عبادت گاہ اور دوکانوں سے آپ کلمہ طیبہ خود جا کر مٹا دیں۔ ہم عدالت میں لکھ کر دیتے ہیں کہ آئندہ ہم ایسی کارروائی نہیں کریں گے۔ لیکن مولانا صوفی اللہ وسایا نے فرمایا کہ تم تاجدار ختم نبوت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دشمن ہو۔ اپنے محبوب کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا میں کیسے معاف کر سکتا ہوں۔ دشمنان مصطفیٰ ﷺ سے صلح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قادیانی خان مند کو جیل بھیج دیا گیا اور ۴/ فروری کی پیشی دی گئی۔ ۴/ فروری کو ضلع بھر کے مرزائی جمع ہوئے۔ راجن پور سے اپنا ایک مرزائی وکیل لائے جس نے سٹی مجسٹریٹ کی
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عدالت میں ضمانت کی درخواست دی۔ گیارہ بجے بحث شروع ہوئی تو تمام مرزائی کمرۂ عدالت میں پہنچ گئے مسلمانوں کی طرف سے علماء اور اراکین ختم نبوت عدالت میں موجود تھے۔ مولانا صوفی اللہ وسایا نے سٹی مجسٹریٹ سے کہا کہ مرزائیوں کو کمرہ عدالت سے نکال دیا جائے۔ سٹی مجسٹریٹ نے مرزائیوں کو نکل جانے کا حکم دیا لیکن مرزائیوں نے کوئی پرواہ نہیں کی تو صوفی اللہ وسایا نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان مرتدوں کو دھکے دے کر نکال دو۔ ان کے کہتے ہی علماء اور اراکین ختم نبوت نے تمام مرزائیوں کو دھکے دے کر عدالت سے باہر نکال دیا اور انہیں خبردار کیا کہ دوبارہ عدالت میں مت داخل ہونا۔ سٹی مجسٹریٹ نے عدالت کا دروازہ بند کرا دیا۔ دو گھنٹے تک بحث ہوتی رہی۔ مرزائی وکیل نے قانونی بحث میں شکست کھانے کے بعد مذہبی بحث چھیڑنا چاہی اور مرزا ملعون کو مقدس کہا تو مسلمانوں کی طرف سے پیروی کرنے والے وکیل ملک محمد حسین صاحب نے کہا کہ تم یہ لفظ استعمال نہیں کرسکتے۔ قرآن وسنت اور قانون کی رو سے مرزا بدترین کافر ہے۔ تم اپنے یہ لفظ واپس لو تو سٹی مجسٹریٹ صاحب نے اسے اپنے لفظ واپس لینے کے لئے حکم دیا۔ مرزائی وکیل نے اپنے الفاظ واپس لے لئے اور معافی مانگ لی۔ سٹی مجسٹریٹ نے قادیانی امیر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ قادیانی نہایت شرمسار ہو کر نکلے۔ ان کا امیر تا حال جیل میں ہے یہی خاندان تین لاکھ روپیہ سالانہ اپنے مرکز ربوہ بھیجتا ہے۔ اپنے تین بیٹوں کو اپنی جماعت کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ اس کی گرفتاری پر پورے شہر کے مسلمان خوش ہوئے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، مورخہ ۲۰/فروری ۱۹۸۷ء)
عالمی مجلس کا وفد جنوبی افریقہ کے دورے پر روانہ ہو گیا
وفد میں مولانا لدھیانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر، عبدالرحمن یعقوب باوا وغیرہ شامل ہیں۔
جنوبی افریقہ کے معروف قادیانی مقدمہ میں اہل اسلام کی نمائندگی کے لئے ایک وفد گیا ہے جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنمایان حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، جناب حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، جناب مولانا منظور احمد الحسینی بھی شامل ہیں۔ قارئین اور جماعتی احباب سے درخواست ہے کہ وہ وفد کی کامیابی کے لئے خصوصی دعائیں جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سرخرو فرمائیں۔ حق کا بول بالا ہو اور باطل اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ اس کیس کے سلسلہ میں تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ کیس کرنے والے مرزائی ان کا وکیل اسرائیل کا یہودی اور عدالت عیسائیوں کی غرضیکہ کفر سہ آتشہ ہو کر مسلمانوں کے در پے آزار ہے۔ رحمت حق کا فضل ہو اور کروڑوں درود و سلام اس ذات اقدس ﷺ پر جن کی توجہات عالیہ سے خدا تعالیٰ ہر بگڑی کو بنا دیتے ہیں۔ بھر پور دعائیں، آیت کریمہ، درود شریف کی کثرت کی درخواست ہے۔
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری، ملتان
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد، مورخہ ۱۱ تا ۱۷/ مارچ ۱۹۸۷ء)
کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اہم مطالبات
۱۹۸۷ء میں مجلس عمل کی طرف سے یہ مطالبات اشتہارات کی شکل میں مختلف جرائد میں شائع کرائے:
محترمی صدر مملکت، جناب وزیراعظم و معزز ارکان پارلیمنٹ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
- ۱....... گزارش ہے کہ مسئلہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے جس کا تحفظ اور اس کے تقاضوں کی تکمیل ہر مسلمان کے فرائض میں شامل
ہے ۔اس سلسلہ میں چند اہم امور آپ کی توجہ کے لئے پیش کئے جارہے ہیں۔ از راہ کرم ان مطالبات کی منظوری کے لئے فوری قدم اٹھا کر ناموس رسالت علی صاحبہا التحیۃ والسلام کے تحفظ میں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے۔ مملکت کے بنیادی نظریہ سے انحراف کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اس لئے خود حکومت
کی قائم کردہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ارتداد کی شرعی سزا کے نفاذ کی جو سفارش کی ہے اسے منظور کر کے قانونی شکل دی جائے۔
- ۳...... قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے ۱۹۸۴ء میں جو صدارتی آرڈیننس نافذ ہوا تھا۔ اس پر عملدرآمد کی
صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔ قادیانی اپنی عبادت گاہوں اور دیگر عمارات پر کلمہ طیبہ لکھ کر اور دیگر اسلامی شعائر استعمال کر کے کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں لیکن قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے خاموش ہیں۔ اس لئے صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد کا سختی کے ساتھ اہتمام کیا جائے۔
- ۵...... ساہیوال اور سکھر میں قادیانی جارحیت کا شکار ہونے والے شہدائے ختم نبوت کے مقدمات کے فیصلوں کا اعلان کیا گیا۔ رحم کی
اپیلیں صدر مملکت کی میز پر پڑی ہیں۔ جان بوجھ کر تاخیر کر کے ان کو سول عدالتوں میں جانے کا موقعہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت ان فیصلوں پر بلاتاخیر عمل کر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔
- ۶...... کسی بھی نظریاتی مملکت میں کلیدی آسامیاں مملکت کے بنیادی نظریہ کے مخالفین کے لئے ممنوع ہوتی ہیں۔ اس لئے فوج اور سول
کے تمام کلیدی عہدوں کو قادیانیوں اور دیگر غیر مسلموں کے لئے قانوناً ممنوع قرار دیا جائے۔
- ۷...... قادیانیوں نے مردم شماری اور ووٹروں کے اندراج میں خود کو غیر مسلم کے طور پر نہ لکھوانے اور اسمبلیوں میں اپنے لئے مخصوص
نشستوں کو قبول نہ کرنے کو پالیسی بنالیا ہے جو آئین سے سراسر انحراف اور بغاوت ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم ووٹروں کے خانے میں اندراج اور مخصوص نشستیں قبول کرنے کا قانوناً پابند بنایا جائے۔ ورنہ قادیانی جماعت کے خلاف آئین سے بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلا کر اسے خلاف قانون قرار دیا جائے۔
- ۸...... مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ اور اسلام کا مخصوص شعار ہے اور کسی غیر مسلم کو مسجد کا نام اور ہیئت بطور عبادت گاہ استعمال کرنے کا
حق نہیں ہے۔ اس لئے جو مساجد مسلمانوں نے تعمیر کی تھیں اور کسی طریقہ سے قادیانیوں نے ان پر قبضہ کیا ہوا ہے وہ مسلمانوں کو واپس دلائی جائیں اور قادیانیوں کی تعمیر کردہ عبادت گاہوں کی ہیئت قانوناً مسجد سے مختلف مقرر کی جائے۔
- ۹...... قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے بیرون ملک مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لئے حکومت کی طرف سے پاسپورٹ میں مذہب
کے خانہ کا اضافہ خوش آئند بات ہے۔ مگر اس دھوکہ دہی کو مکمل طور پر روکنے کے لئے شناختی کارڈ اور تعلیمی اسناد، فارم ہائے داخلہ اور راشن کارڈ میں بھی حلف نامہ کی بنیاد پر مذہب کے خانہ کا اندراج ضروری ہے۔
- ۱۰...... ربوہ کی زمین قیام پاکستان کے بعد انگریز گورنر سر موڈی کے دور میں انجمن احمدیہ نے کوڑیوں کے بھاؤ ۹۰ سالہ لیز پر حاصل کی
تھیں اور بعد میں جعلسازی کے ذریعہ مالکانہ حقوق حاصل کر لئے۔ انجمن احمدیہ کے نام اس زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے ربوہ کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- ۱۱...... ربوہ کا لفظ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالہ سے مذکور ہے اور مرزا غلام احمد نے اپنے بارے میں عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا
ہے۔ اس بنیاد پر قادیانیوں نے اپنے صدر مقام کا نام ربوہ تجویز کیا تا کہ قرآن پاک کے حوالہ سے لوگوں کو دھوکہ دیا جا سکے۔ اس فریب کاری کو ختم کرنے کے لئے ربوہ کا نام تبدیل کیا جائے۔ حکومت پاکستان نے مسلم اوقاف اور غیر مسلم اوقاف کے دو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الگ محکمے قائم کر کے دونوں قسم کی وقف جائیدادوں کو سرکاری تحویل میں لیا ہوا ہے لیکن قادیانی اوقاف آزاد ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیگر غیر مسلم اوقاف کی طرح قادیانی اوقاف کو بھی سرکاری تحویل میں لیا جائے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد بیک پیج ٹائٹل ،مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷/ مارچ ۱۹۸۷ء)
پاکستان نیوی پر قادیانی تسلط
آستین کے سانپ دیمک کی طرح پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ ان آستین کے سانپوں میں گستاخان رسول، مرزا قادیانی کے پجاری قادیانی سرفہرست ہیں۔ مسلمانوں کے اندر رہ کر مسلمانوں کی جڑیں کاٹنا ان کا اوّلین مشن ہے اور پاکستان کے وجود کا خاتمہ ان کے مشن کی اہم کڑی ہے۔ لیکن ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ناپاک ارادہ میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یوں تو یہ کافر پاکستان میں بہت سے اہم اور حساس اداروں پر مسلط ہیں۔ لیکن پاکستان نیوی پر ان کی گرفت تمام محبّ وطن پاکستانیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ خدا کرے حکومت خواب غفلت سے بیدار ہو۔ ان کافروں کی خبر لے کر اور منکرین ختم نبوت کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ نیوی کا سربراہ افتخار احمد سروہی پکا قادیانی ہے۔ پاکستان نیوی کو ناکارہ کرنا چاہتا ہے اور تمام قادیانی افسروں کو لوٹ مار کرنے کے لئے اہم عہدوں پر نواز رہا ہے۔ جولائی ۱۹۷۴ء کے چٹان نامی رسالے میں اس کا نام قادیانیوں کی لسٹ میں چھپ چکا ہے۔ شاید کہ حکومت وقت کو یہ بات یاد نہیں ہے۔ اس پر دو دفعہ بغاوت کا الزام لگا ہے۔ اس نے سربراہ بنتے ہی کتنے قادیانیوں کو نوازا ہے۔ اس کی مختصر جھلک مندرجہ ذیل ہے۔
ریٹائرڈ کموڈور ایس ۔ این ۔ اے شاہ کو کے ۔ پی ۔ ٹی میں اہم عہدہ پر لگوانا سروہی ہی کا کام ہے۔ اسی طرح شپ یارڈ میں نیوی کے ریڈ ایڈمرل نعیم احمد بیگ جو منیجنگ ڈائریکٹر ہے پکا قادیانی ہے۔ کیپٹن نعیم احمد شپ یارڈ قادیانی ہے۔ پاکستان کا چیف انجینئر سروہی کا خاص چہیتا صلاح احمد پکا قادیانی ہے۔ ریڈ ایڈمرل تسنیم احمد این ۔ ایچ ۔ کیو اسلام آباد پکا قادیانی ہے۔ پاکستان نیوی ڈاکیارڈ کا موجودہ جنرل منیجر سہیل احمد خان سروہی کا خاص آدمی ہے۔ قادیانی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکیارڈ کا ایم ۔ پی سلیم انور کیپٹن ایس ۔ ایم ۔ او کمانڈر سلیمان اسماعیل اور دیگر کچھ افسران قادیانی ہیں۔ ان سب کے آپس میں بہت گہرے مراسم ہیں۔ ریٹائرڈ کموڈور سلیم الدین احمد پکا قادیانی تھا جو نیوی سے کروڑوں کا غبن کر گیا۔ اس کو بچانے والا اور پشت پناہی کرنے والا سروہی ہے۔ کموڈور ارشد رحیم کو اسلام آباد نیوی ہیڈ کوارٹر میں اہم عہدہ دیا ہوا ہے۔ پکا قادیانی ہے۔
سروہی نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے تمام قادیانیوں کو خوب نوازا ہے اور نیوی کے نظام کو درہم برہم کر رہا ہے۔ خدا جانے یہ سب مل کر آخر کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ارباب اقتدار کو اس بات کا فوری نوٹس لینا چاہئے تا کہ یہ لوگ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۹، مؤرخہ ۲۶/ فروری تا ۳/ مارچ ۱۹۸۷ء)
بہاول نگر میں کلمہ طیبہ بچاؤ مہم
قادیانیوں کے خلاف ہڑتال پندرہ ہزار افراد کا عظیم الشان مظاہرہ۔
بہاول نگر (نمائندہ خصوصی) یہاں قادیانیوں نے کچھ دنوں سے زبردست اشتعال انگیزی شروع کر دی تھی۔ جگہ کلمہ طیبہ لکھ کر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کو مشتعل کر رہے تھے۔ اس سلسلہ میں معززین شہر، انجمن تاجران اور علماء کے وفد نے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کر کے اس صورتحال کی طرف توجہ دلائی۔ لیکن ڈپٹی کمشنر جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ لاہوری قادیانیوں سے تعلق رکھتے ہیں اس نے سنی ان سنی کر دی۔ جس پر وہاں کے مسلمان مشتعل ہو گئے اور انہوں نے بھر پور احتجاج کرتے ہوئے ایک عظیم الشان جلوس نکالا۔ پورے شہر میں مکمل ہڑتال ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مورخہ ۲۲ تا ۳۰/ مارچ ۱۹۸۷ء)
بم دھماکہ علامہ احسان الٰہی ظہیر کی شہادت
۲۳/ مارچ ۱۹۸۷ء کو لاہور کے بم دھماکہ میں علامہ احسان الٰہی ظہیر شدید زخمی ہو گئے اور پھر ریاض ہسپتال میں زیر علاج رہ کر شہادت سے سرفراز ہوئے۔ یاد رہے کہ ۲۰/ مارچ ۱۹۸۷ء کو چنیوٹ میں اہل حدیث حضرات کی طرف سے ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں علامہ احسان الٰہی ظہیر نے اعلان کیا کہ چناب نگر میں جمعیۃ اہل حدیث خاتم النبیین مسجد اور ختم نبوت یونیورسٹی قائم کرے گی اور پوری دنیا میں علامہ احسان الٰہی ظہیر کی قیادت میں ختم نبوت کانفرنسوں کا جال بچھایا جائے گا۔ اس اعلان کے تیسرے دن ۲۳/ مارچ کو علامہ احسان الٰہی پر بم حملہ ہو گیا۔ اس پر لولاک نے اداریہ لکھا کہ کہیں یہ سب کچھ قادیانیوں کی تو سازش نہیں؟
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۴، ۳، مورخہ ۳/ اپریل ۱۹۸۷ء)
مسلمانان مقبوضہ کشمیر نے قادیانی مردہ مسلم قبرستان میں دبانے سے انکار کر دیا
مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے ایک قادیانی کو مسلم قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا اور اعلان کیا کہ ہم کسی مرتد کو مسلم قبرستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس سلسلہ میں کئی اسلامی مراکز اور مدارس و مساجد میں قراردادیں بھی منظور کی گئیں جن میں اعلان کیا گیا کہ قادیانی کافر، مرتد اور زندیق ہیں۔ پچھلے دنوں وہاں ایک قادیانی خاندان کا ایک فرد محمد شاہ نامی موٹر کے ایک حادثے میں مر گیا۔ قادیانیوں نے جنوبی کشمیر اننت ناگ کے اپنے شہر کے قبرستان میں جو مسلمانوں کا قبرستان ہے دفن کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مسلمان آڑے آ گئے اور انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور دوسرے اسلامی ممالک نے انہیں کافر قرار دے دیا ہے۔ شریعت اسلامیہ کی رو سے وہ پہلے ہی کافر زندیق اور مرتد ہیں۔ لہٰذا کسی قادیانی مردے کو دفن ہونے کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔ بالآخر قادیانیوں نے مسلمانوں کے فیصلے کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اپنا مردہ اٹھا کر مشرقی پنجاب انڈیا میں اپنے مرکز قادیان کے مرگھٹ میں دبا دیا۔ یاد رہے کہ قادیان سے شائع ہونے والے قادیانی اخبار بدر نے اس واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اصل واقعہ یہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مورخہ ۳ تا ۹/ اپریل ۱۹۸۷ء)
کوٹری میں دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا سنگ بنیاد
میر پور خاص (نمائندہ ختم نبوت) امیر مرکزیہ مولانا خان محمد صاحب مدظلہ نے کوٹری میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر کا سنگ بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھا۔ اس موقعہ پر حیدرآباد اور کوٹری سے مجلس کے کارکنوں اور معززین شہر و علماء کرام نے شرکت کی۔ ۱۸/ مارچ ۱۹۸۷ء کی کانفرنس کا اہتمام مولانا فیض اللہ صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیا۔ یہ اجلاس امیر مرکزیہ مولانا خان محمد صاحب کی صدارت میں ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالرؤف نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا نذیر احمد، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا حفیظ الرحمن نے خطاب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرمایا۔ مقررین نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت، قادیانیوں کی سازشوں اور اس کے سدباب، شیزان قادیانی مشروب کے بائیکاٹ ، قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارہائے نمایاں پر خطاب فرمایا۔ نعتیہ کلام ملک غلام فرید اور عبدالرحیم ساجد نے پیش کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۶،مورخہ ۱۷ تا ۲۳؍اپریل ۱۹۸۷ء)
قادیانیوں کی شاخ دیندار انجمن کے لیڈر کی لاش مسلم قبرستان سے نکالی جائے
مرزا قادیانی نے نبوت کا دروازہ کھولا تو اس کے بہت سے متبعین بھی دعوائے نبوت کے لئے میدان میں اتر آئے اور انہوں نے نبوت کے دعوے کر ڈالے۔ ان میں پہلے مرزا محمود کے استاد مولوی یار محمد قادیانی تھے۔ دوسرے احمد نور کابلی تھے جس نے اپنا کلمہ ’لا الہ الا الله احمد نور رسول الله‘ بنایا اور یہ دعویٰ کیا کہ: ”میں اللہ کی طرف سے رحمۃ للعالمین ہوں۔ میں تمام انبیاء کا مظہر ہوں اور قرآن کو ستاروں سے لایا ہوں۔“
(کتاب لکل امۃ اجل ص ۱، مصنفہ احمد نور کابلی قادیانی)
ایک اور قادیانی عبداللطیف گنا چور ضلع جالندھر کا تھا۔ اس نے اپنے دعوے میں کہا کہ خدا تعالیٰ نے نو سال سے مجھے کل دنیا کی ہدایت کے لئے اور اسلام کو ہر رنگ میں تمام ادیان پر غالب کرنے کے لئے اپنا نبی اور رسول اور امام مہدی بنا کر بھیجا ہے۔ وغیرہ وغیرہ !
ایک اور قادیانی چراغ دین جموی تھا۔ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تو مرزا قادیانی بھی چیخ اٹھا کہ چراغ دین تو مرتد ہو گیا۔ وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے۔ ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس سے احتراز کرے۔
(دافع البلاء ص ۱۹، ۲۲، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۹، ۲۴۲)
پانچواں شخص غلام محمد قادیانی تھا جس نے اپنے دعوے میں کہا کہ میں خدا کے فضل سے (مرزا صاحب کے ) ۳۰؍مئی ۱۹۰۶ء کے الہام کا مصداق ہوں جو حسب ذیل ہے : ”خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے سامنے ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔“
(تذکرہ)
چھٹا قادیانی عبداللہ تیماپوری تھا۔ اس نے اپنے دعوائے نبوت کے ساتھ کہا کہ : ”میرے ذریعے حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کی صداقت زور آور حملوں کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوگی۔“ اس شخص نے بیس کتابیں تصنیف کیں۔
ساتواں قادیانی صدیق دیندار تھا جس کی پارٹی دیندار انجمن کے نام سے آج بھی کراچی میں موجود ہے۔ یہ پارٹی بھی قادیانیوں کی ایک شاخ ہے۔
گزشتہ دنوں کورنگی میں قادیانیوں کی اس شاخ کا ایک اہم شخص مر گیا جسے مسلم قبرستان میں دبا دیا گیا۔ جس پر کورنگی کے عوام میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔ وہاں کے عوام نے متعدد دینی مراکز سے رجوع کیا۔ تمام مراکز نے یہ فتویٰ دیا کہ یہ شخص مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتا۔ انتظامیہ سے رجوع کیا تو وہ اس مسئلہ کو نمٹانے کے بجائے ہٹ دھرمی سے کام لے رہی ہے۔ ممکن ہے کہ انتظامیہ کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ اسے کہاں دبایا جائے تو اس سلسلہ میں ہم گوش گزار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ گزشتہ سال اسٹیل ٹاؤن میں ایک قادیانی زندیقہ مر گئی تھی تو اسے ایک الگ خطہ زمین مخصوص کر کے اس میں دبایا گیا اور اس کی لاش کو مسلم قبرستان سے کئی دن کے بعد نکالا گیا تھا۔ اس لئے اس قادیانی شاخ دیندار انجمن کے رکن کو بھی اسی جگہ دفن کیا جاسکتا ہے جہاں قادیانی مرتدہ کی لاش دبائی گئی تھی۔ اس قادیانی شاخ کے عقائد کیا ہیں اور صدیق دیندار کون تھا؟ ہم انتظامیہ کی آگاہی کے لئے ذیل میں اس پر روشنی ڈالتے ہیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انجمن دیندار کے عقائد
یہ شخص مرزا قادیانی کا مخلص پیروکار تھا جس نے مرزا قادیانی کے ”الہامات“ کی بنیاد پر مامور موعود یوسف موعود، چن بسویشور اور دعوائے نبوت کیا۔ اس نے ایک کتاب بنام ”خادم خاتم النبیین“ لکھی۔ اس میں وہ لکھتا ہے کہ: اگر میں احمدیوں کا مامور موعود نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے جو عین وقت میں یعنی ۱۹۲۴ء میں آیا۔ اگر میاں (محمود احمد ) صاحب کے مامور ہونے کا انتظار ہے تو وہ بالبداہت غلط ہے۔ پہلے تو اس بناء پر غلط ہے کہ مامور کبھی ایک زبردست جماعت کا خلیفہ نہیں ہوا کرتا کیونکہ مامور کے ساتھ ہونے والوں کو ایمان بالغیب اور امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے اور سوائے اس کے حضرت (مرزا قادیانی) نے یوسف موعود کے لئے نطفہ اور علقہ لکھا ہے کہ وہ معمولی انسان ہوگا۔ تمہاری نظریں دھوکہ کھا جائیں گی اور یہ یہی سنت اللہ ہے۔ اللہ جل شانہ نے اپنی سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کے ابتلاء کے زمانہ میں صدیق کا انتخاب کیا۔ ”دیر آمدہ زراہ دور آمدہ“ کا وعدہ کیا۔ ہر لفظ (مرزا کی) پیش گوئی کا فقیر پر چسپاں ہوتا ہے۔ پہلے تو یہ نشان کہ وہ نطفہ علقہ کی طرح ہے۔ اس کو دیکھ کر لوگوں کی نظر دھوکہ کھائے گی۔ وہ اس طرح کہ پیدائش کے لحاظ سے میرا یہ حال ہے کہ میں حد درجہ کمزور پیدا ہوا تھا۔ رونے کی آواز تک نہیں نکلتی تھی۔ والد نے کہا یہ بچہ کیا جیتا ہے؟ کوڑے پر پھینک دو والدہ نے کہا ابھی جان ہے ذرا ٹھہرو۔ اللہ جماعت احمدیہ سے کام لینا چاہتا ہے۔
(خادم خاتم النبیین ص ۱۸)
مرزا قادیانی کی ایک خود ساختہ پیش گوئی ہے کہ ایک لڑکا ...... ایک مدت حمل میں ظاہر ہوگا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ اس کا مفہوم صدیق دیندار اپنے اوپر یوں چسپاں کرتا ہے جس کے دوسرے الفاظ میں یہ معنی ہوئے کہ ۱۹۲۴ء مطابق ۱۳۴۳ھ میں ظاہر ہوگا۔ ایسی صورت میں احمدیوں پر حجت ہے۔ اگر میں نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے یہ قطعی فیصلہ ہے۔ اس سے بھاگنا اور بے بنیاد اعتراض کرنا ایمانداری نہیں ...... میں بھائیوں کے لحاظ سے بھی چوتھا ہوں اور بہنوں کے لحاظ سے بھی چوتھا ہوں۔ چھوٹوں میں چوتھا ہوں اور بڑوں میں بھی چوتھا ہوں۔ پیدائش کی گھڑی چوتھی ہے۔ دن چوتھا ہے۔ تاریخ چوتھی ہے۔ صدی بعد ہزار کے چوتھی ہے۔ سال چوتھا ہے۔
(کتاب خاتم النبیین ص ۵۹)
یوسف موعود کے دعوے کے بارے میں صدیق دیندار قادیانی لکھتا ہے: ”حضرت مرزا (مرزا قادیانی) صاحب کی بشارت میں جتنی صفتیں یوسف موعود کی آئی ہیں وہ کل کمال درجہ پر مجھ پر صادق آتی ہیں۔“
(کتاب مذکور)
اپنے قادیانی ہونے کے بارے میں کہتا ہے کہ میں اس فاضل اجل کی ہر لعنت ملامت کو اطمینان سے سنتا رہا۔ جب وہ مجھے دیندار سمجھ کر ریاست کا بت سامنے لائے۔ میں فوراً سیدھا ہو گیا اور کہا کہ قلم دوات لاؤ۔ میں ابھی لکھ دیتا ہوں۔ ہزار دفعہ لکھ دیتا ہوں کہ میں پکا قادیانی ہوں۔ کاغذ لے کر ذیل کی تحریر لکھ دی۔ صدیق دیندار چن بسویشور پکا احمدی ہے۔
(کتاب مذکورہ ص ۳۹)
اس لعین نے بے شمار دعوے کئے جس کی تفصیل حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب کی کتاب ”بھیڑ کی صورت میں بھیڑیا“ یعنی دیندار انجمن شائع کردہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ صدیق دیندار اور اس کے پیروکار مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی، مصلح اور وہ سب کچھ مانتے ہیں جن کا دعویٰ مرزا قادیانی نے کیا تھا۔ ۱۹۷۳ء کے آئین اور ۱۹۸۴ء کے صدارتی آرڈیننس میں یہ بات موجود ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی یا کسی بھی معنی میں مصلح مانتا ہے وہ کافر ہے۔ لہٰذا دیندار انجمن بھی اسی طرح کافر ہے جس طرح قادیانیوں کی ربوہ جماعت یا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہوری جماعت کافر ہے اور جب کافر ہے تو اس قادیانی انجمن کے کسی فرد کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے۔ کورنگی ساڑھے تین میں اس مسئلہ پر شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ اس لئے کراچی کی انتظامیہ کو حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اس قادیانی مردے کو فوراً مسلم قبرستان سے نکال کر قادیانی مرگھٹ میں منتقل کیا جائے۔ ورنہ اگر اس مسئلہ پر حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۴، ۵، مورخہ ۸ تا ۱۴ مئی ۱۹۸۷ء)
محکمہ ٹیلیفون اور قادیانی
ہمیں یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ: ’’ٹیلیفون ایکسچینج فیڈرل بی ایریا عزیز آباد ڈویژن میں قادیانیوں کا پورا پورا غلبہ ہے۔ قادیانیوں کے ہر گھر میں بغیر کسی دقت کے ٹیلیفون لگ چکا ہے۔ ان کے ماہانہ بل بھی معمول کے مطابق یا اس سے کم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے بلوں میں زیادتی ہوتی ہے جس سے مسلمان صارفین بے حد پریشان ہیں۔ ایکسچینج کے قادیانی عملے نے مختلف دوکانوں پر غیر قانونی پبلک کال آفس کھولے ہوئے ہیں وہ بھی زیادہ تر قادیانی معلوم ہوتے ہیں۔ جہاں پر روزانہ سینکڑوں کالیں ہوتی ہیں لیکن ان کے بل عام صارفین سے بھی کم ہوتے ہیں بلکہ زیادہ تر کالیں قادیانی عملے کی ملی بھگت سے عام صارفین کے کھاتے میں منتقل کر دی جاتی ہیں۔ حکومت کا لاکھوں روپے کا نقصان الگ اور یہاں کے صارفین کی پریشانی الگ....... جب بھی کوئی شکایت کی جاتی ہے تو اسے خوفزدہ اور تنگ کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ٹیلیفون کاٹنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بل کمپیوٹر کے ذریعہ بنائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر کمپیوٹر چلانے والے ہی بددیانتی پر اتر آئیں تو کمپیوٹر سے بھی جھوٹ ہی نکلے گا۔‘‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کراچی کے تمام محکمے ہی قادیانیوں کی زد میں ہیں۔ بھلا ٹیلیفون کا محکمہ کیسے خالی رہ سکتا ہے۔ اس لئے ہم حکومت کو متوجہ کرتے ہیں کہ وہ فیڈرل بی ایریا عزیز آباد کے ٹیلی فون ایکسچینج کے بارے میں تحقیق کرے کہ وہاں کتنے قادیانی ہیں اور ان کی سرگرمیاں کیا ہیں۔ اگر واقعی وہ صارفین پر زیادتیاں کر رہے ہیں تو انہیں فوراً نوکریوں سے برطرف کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۵، مورخہ ۸ تا ۱۴ مئی ۱۹۸۷ء)
اٹک میں ایک چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھ دیا گیا
اس موقعہ پر عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی نے افتتاح کیا۔
اٹک شہر (نمائندہ ختم نبوت) ختم نبوت یوتھ فورس ضلع اٹک کے زیر اہتمام مدنی چوک اٹک شہر میں مفسر قرآن الحاج مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب مدظلہ کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس سے مقامی تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے علاوہ مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، حضرت مولانا محمد اکبر ساقی صاحب اور اسلام آباد مجلس کے رہنما مولانا محمد صادق صدیقی صاحب نے بھی خطاب فرمایا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مشہور سماجی کارکن اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے سالار اعلیٰ مرزا عبدالعزیز صاحب نے انجام دیئے۔ اسٹیج پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے مرکزی جامع مسجد اٹک شہر کے خطیب حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ صاحب تشریف فرما تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع اٹک کے ناظم اعلیٰ شیخ عابد حسین صدیقی کی دعوت پر بریلوی مکتب فکر کی مقامی نمائندگی کے لئے حضرت مولانا محمد ارفاق رضوی صاحب بھی تشریف لائے اور فاضلانہ خطاب فرمایا۔ حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ صاحب کی یادگار جامعہ اشاعت الاسلام کے منتظم اور نڈر خطیب حضرت مولانا محمد صدیق صاحب مدظلہ نے جلسہ عام میں ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرار داد کے ذریعے اٹک شہر کے مرکزی چوک ”چوک فوارہ“ کا نام ”ختم نبوت چوک“ رکھنے کی تجویز پیش کی۔ جلسہ میں موجود کونسلر حضرات، اخباری نمائندوں اور عوام نے اس تجویز کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ اسی وقت ”ختم نبوت چوک“ کے بورڈ لکھوا کر وہاں لگوائے جائیں۔ چنانچہ فوری طور پر بورڈ لکھوائے گئے۔ مرزا عبدالعزیز صاحب نے سٹیج سے اعلان کیا کہ تقاریر کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع اٹک کے امیر مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب مدظلہ ختم نبوت چوک کا افتتاح فرمائیں گے۔ جب حضرت مولانا ابوبکر ساقی صاحب اسٹیج پر تشریف لائے تو جلسۂ عام سے نعرہائے تکبیر اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کانفرنس کے آخری مقرر تھے۔ انہوں نے دنیا بھر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں شہید ہونے والے اٹک شہر کے جیالے سجاد شہید کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے چوک فوارہ کا نام ”ختم نبوت چوک“ کے بورڈ لگائے گئے۔ حضرت اقدس حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب نے ختم نبوت چوک کا افتتاح کیا اور دعا فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۷، مورخہ ۸ تا ۱۴؍مئی ۱۹۸۷ء)
سعودی حکومت نے شیزان کے بارے میں وضاحت طلب کر لی
سعودی عرب کی حکومت نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے قادیانی کمپنی ”شیزان“ کے بارے میں وضاحت طلب کر لی۔ مذکورہ وزارت نے اپنے ایک خط کے ذریعہ ”شیزان“ کی تیار کردہ تمام مصنوعات کی فہرست طلب کی ہے تاکہ اس کی روشنی میں کوئی کارروائی کی جاسکے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے وہ فہرست روانہ کر دی ہیں اور سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیزان کی تمام مصنوعات کی مملکت میں فروخت پر پابندی لگادے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے قادیانی کمپنی شیزان سے بائیکاٹ کی مہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شروع کر رکھی اور وہ مہم کامیابی کے ساتھ جا رہی ہے۔ ملک بھر سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں جس سے پتہ چل رہا ہے کہ جیسے جیسے لوگوں کو معلوم ہورہا ہے کہ ”شیزان“ قادیانی کمپنی ہے ویسے ویسے بائیکاٹ کی مہم میں تیزی پیدا ہورہی ہے۔ بعض جگہ سے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ لوگوں نے شیزان کی بوتلوں کو توڑا ہے اور بعض جگہ ”شیزان“ کی گاڑی کو علاقہ سے بھگایا گیا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مورخہ ۱۲ تا ۱۸؍مئی ۱۹۸۷ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش سلہٹ کا قیام
سلہٹ (خصوصی رپورٹ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع سلہٹ کے قیام کے مقصد پر ایک ضروری مجلس زیر صدارت مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حبیب الرحمٰن صاحب (پرنسپل جامعہ مدنیہ اسلامیہ سلہٹ) منعقد ہوئی جس میں ضلع سلہٹ کے نامور علمائے کرام اور دین دار حضرات شریک ہوئے۔ اجلاس میں یہ بات طے پائی کہ اگرچہ بنگلہ دیش میں قادیانی فتنہ کا زور نہیں ہے۔ تب بھی ان کی خفیہ سازشوں اور اس فتنہ کی بیخ کنی علماء حق پر ضروری ہے۔ اہل مجلس نے یہ عزم ظاہر کیا کہ ہم آخر دم تک کوشش کر کے ان کی خفیہ تدابیر کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ اس غرض سے مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حبیب الرحمٰن کو صدر اور حضرت مولانا محمد نظام الدین صاحب کو ناظم اعلیٰ اور مولانا محمد السبحان صاحب کو ناظم نشر واشاعت اور مولانا محمد رضاء الکریم صاحب کو ناظم تنظیم اور الحاج سید محمد عطاء الرحمٰن صاحب کو خازن مقرر کر کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع سلہٹ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ صدر مجلس نے آخر میں یہ یقین اور عزم وجزم ظاہر کیا کہ بنگلہ دیش میں مسلمان اور مرزائی کافر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ بنگلہ دیش کے مسلمان ایک بھی مرزائی یا قادیانی کے وجود کو برداشت نہیں کریں گے بلکہ اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۷، مورخہ ۱۲ تا ۱۸؍جون ۱۹۸۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور ہائیکورٹ کا قادیانیوں کے خلاف فیصلہ
۲۶/ اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ قادیانیوں نے اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں اپیل کی جو مسترد ہوگئی اور قادیانی مقدمہ ہار گئے لیکن قادیانیوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر اس کی خلاف ورزی شروع کر دی۔ پہلے آپ پڑھ چکے ہیں کہ مقامی عدالتوں نے قادیانیوں کے خلاف فیصلے کئے۔ اب ان کی اپیلیں ہائیکورٹ میں آئیں تو ہائیکورٹ سے ان کے خلاف فیصلے آنے شروع ہوئے۔ جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ ہائیکورٹ کے جج تھے۔ پھر چیف جسٹس لاہور بنے۔ پھر سپریم کورٹ کے جج بنے۔ پھر پاکستان کے صدر مملکت رہے۔ جب آپ ہائیکورٹ کے جسٹس تھے، ۲۸/ جون ۱۹۸۷ء قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔ ذیل میں ”عرض حال“ کے تحت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کا مقدمہ کی تفصیلات اور پھر فیصلہ ذیل میں ملاحظہ ہو:
عرض حال: قادیانیوں کے بھگوڑے سربراہ مرزا طاہر نے پاکستان میں بسنے والے قادیانیوں کو حکم جاری کیا کہ وہ صدارتی امتناع قادیانی آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے مکانوں، دوکانوں اور عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ تحریر کریں اور سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائیں تاکہ وہ عوام الناس میں خود کو مسلمان ظاہر کر سکیں۔ چنانچہ قادیانیوں نے اپنے گرو کے حکم پر یہ فعل شنیع شروع کر دیا۔ اس اشتعال انگیز کارروائی سے پورے ملک کے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ ”روڈہ“ ضلع خوشاب کے رہنے والے ایک اکھڑ مزاج، فرعون صفت اور دریدہ دہن قادیانی جہانگیر جوئیہ ایڈووکیٹ نے قسم کھائی کہ وہ ساری زندگی اپنے سینہ سے کلمہ طیبہ کا بیج نہیں اتارے گا۔ جہانگیر جوئیہ ایڈووکیٹ خوشاب کا زمیندار تھا اور وہیں وکالت کرتا تھا۔ مقامی مسلمانوں نے اس کی دل آزار حرکتوں پر پولیس سے رابطہ قائم کیا اور اس کے خلاف پرچہ درج کرایا۔ کیس عدالت میں چلا۔ جہانگیر جوئیہ نے ضمانت کرالی۔ لیکن دوبارہ پھر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلمہ طیبہ کا بیج لگا لیا۔ اس کے خلاف دوبارہ پرچہ درج ہوا۔ لیکن ضمانت پر رہا ہو گیا۔ اسی طرح کئی مرتبہ وہ قانون کی دھجیاں اڑاتا اور ضمانت پر رہا ہوتا رہا۔ ایک دفعہ پھر اس نے شعائر اسلامی کی توہین کی اور پیشی پر عدالت میں بیج لگا کر آیا۔ سیشن جج نے ضمانت خارج کر دی۔ ملزم جوئیہ نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کر دی۔ ہائیکورٹ کے جناب جسٹس رفیق تارڑ صاحب نے ملزم کی ضمانت خارج کر دی اور کہا کہ چونکہ قادیانی ”محمد رسول اللہ“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ لیتے ہیں، اس لئے وہ توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل جناب خلیل الرحمٰن رمدے صاحب پیش ہوئے۔ موصوف آج کل سپریم کورٹ کے جج ہیں۔ جناب خلیل الرحمٰن رمدے نے اس کیس کو کفر و اسلام کی جنگ سمجھ کر لڑا۔ انہوں نے اپنے دلائل قاہرہ کے ہتھوڑوں سے عدالت کے ایوان میں کفر و ارتداد کے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔ محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کے اس محافظ نے قادیانیوں کو وہ چرکے لگائے کہ قادیانی آج بھی ان زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ وکیل ختم نبوت اور عاشق رسول جناب خلیل الرحمٰن رمدے صاحب نے دنیا کے میدان میں آمنہ کے لال کی عزت و عصمت کی حفاظت کا کیس لڑ کر حشر کے میدان کے لئے شفاعت محمدی ﷺ کا پروانہ حاصل کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے اور مزید ترقیوں سے نوازے۔ جناب ریاض الحسن گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان اور جناب رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے بڑی جانفشانی اور جگر کاوی سے مقدمہ کی تیاری کی اور پوری امت کی طرف سے وکالت کا حق ادا کر دیا۔ ان کے دلائل کا ہر ہر جملہ قادیانیت کے ناپاک جسد پر بجلی بن کر گرتا اور اسے جلا کر خاکستر بناتا محسوس ہوتا، جب کہ حزب شیطان کی طرف سے مجیب الرحمٰن، ملک مجید اور مرزا نصیر احمد ایڈووکیٹ نے پیش ہو کر دنیا و آخرت کی روسیاہی کا سامان اکٹھا کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی سربراہ مرزا طاہر، جہانگیر جوئیہ کو شیر پنجاب کے نام پکارتا تھا، لیکن یہ شیر پنجاب صرف چند پٹھووں ہی سے گیدڑ پنجاب بن گیا اور آج کل بھیگی بلی بنا ہوا ہے۔ شنید ہے کہ مرزا طاہر پھر جہانگیر جوئیہ کو کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کی ترغیب دے رہا ہے لیکن جہانگیر جوئیہ اسے جواباً کہہ رہا ہے کہ گرو جی! خود تو انگلستان کی ہواؤں میں مزے اڑا رہے ہو، جب کہ ہمیں جیل کی ہوائیں کھلا رہے ہو۔ دعا گو! عزیز الرحمٰن جالندھری، خادم: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر دفتر ملتان پاکستان
لاہور ہائیکورٹ لاہور
(ابتدائی کوائف)
عنوان مقدمہ ...... ملک جہانگیر ایم جوئیہ بنام سرکار متفرق فوجداری نمبر ...... ۱۹۸۷۔بی۔۱۵۹۲ تاریخ سماعت ...... ۲۸ / جون ۱۹۸۷ء فریق اوّل ...... ملک جہانگیر ایم جوئیہ (پٹیشنر) فریق ثانی ...... سرکار (ریسپانڈنٹ) فریق اوّل کے وکلاء ...... شیخ مجیب الرحمٰن، ملک محمود مجید اور مرزا نصیر احمد ایڈووکیٹ فریق ثانی کے وکلاء ...... خلیل الرحمٰن رمدے ایڈووکیٹ جنرل، اویس نسیم ایڈووکیٹ وکیل مستغیث ...... رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ، اے. ایس. آئی، امیر خاں مع ریکارڈ
فیصلہ: جسٹس محمد رفیق تارڑ:
- ۱....... یہ درخواست برائے ضمانت ملک جہانگیر محمد خاں جوئیہ ایڈووکیٹ کی طرف سے ہے، جس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی
کے تحت جرم کا الزام ہے۔
- ۲....... ایف. آئی. آر کے مطابق ۱۸ / مارچ ۱۹۸۷ء کو سائل اور اس کے ساتھی ملزموں نے، جو بلحاظ عقیدہ قادیانی ہیں، اپنے سینوں پر
کلمہ طیبہ کے بیج لگائے اور اس طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی کے تحت جرم کا ارتکاب کیا۔
- ۳....... سائل اور اس کے ساتھی ملزموں نے سیشن کورٹ سرگودھا میں ضمانت کے لئے درخواست گزاری۔ مذکورہ ساتھی ملزموں کی
ضمانت ایڈیشنل سیشن جج نے منظور کر لی لیکن سائل کو یہ رعایت دینے سے اس لئے انکار کر دیا گیا کہ وہ قانون کی نظر میں ”ضدی رویہ“ رکھتا ہے اور ضمانت کے بعد اس رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھاتا رہے گا۔
- ۴....... ۹ / جون ۱۹۸۷ء کو سائل کے وکیل شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنے دلائل مکمل کر لئے تھے کہ سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے نکتہ
پیش کیا کہ یہ جرم تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت آتا ہے جو عمر قید یا سزائے موت کے قابل ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ مرزا قادیانی نے بذات خود ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے پیروکار اسے، ایسا ہی مانتے ہیں۔ لہٰذا وہ ”کلمہ طیبہ“ کا بیج لگا کر رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کو پامال کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ”محمد رسول اللہ“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ لیتے ہیں۔ اس ادعا کی حمایت میں انہوں نے مرزا بشیر احمد (قادیانی) کی تصنیف کلمۃ الفصل ص ۱۵۸ سے ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اقتباس پیش کیا، جو یوں ہے: ”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
شیخ مجیب الرحمٰن نے مذکورہ بالا اقتباس کے مندرجات سے اختلاف نہیں کیا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ عقیدے سے متعلق اس مسئلے پر بحث نہیں کرنا چاہتے اور درخواست کی کہ اس عبارت کے بارے میں ان کا بیان قلمبند کر لیا جائے۔
- ۵...... فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے صوبائی اسمبلی میں اپنی حاضری کی غرض سے مقدمے کی کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست کی اور
مقدمہ ۱۴/ جون ۱۹۸۷ء تک ملتوی کر دیا گیا۔ مقررہ تاریخ کو شیخ مجیب الرحمٰن، ملک محمود مجید اور مرزا نصیر احمد ایڈووکیٹ صاحبان نے درخواست ضمانت کی واپسی کے لئے درخواست گزاری۔ اس درخواست میں یہ عذر پیش کئے گئے کہ دلائل کے دوران سائل کے وکیل (شیخ مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ) نے استدعا کی تھی کہ دلائل کو محض ضمانت کے مسئلے تک محدود رکھا جائے اور یہ کہ ”وہ تفصیلی بحث اس لئے چھیڑنا نہیں چاہتے کہ کہیں مقدمہ خاص کے موضوعات زیر بحث نہ آ جائیں اور یوں اس کارروائی سے استغاثہ یا صفائی کے معاملات متأثر نہ ہوں ۔“ اس درخواست میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ مذکورہ وکیل نے اس امر کی درخواست بھی کی تھی کہ اس ضمن میں ان کا بیان قلمبند کر لیا جائے لیکن اس کو ”قلمبند نہ کیا جا سکا“ اور مقدمے کی کارروائی فاضل ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر ملتوی کر دی گئی جو اسمبلی چیمبرز میں جانا چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں یہ بھی گزارش کی گئی کہ ”بعض غیر متعلقہ معاملات زیر بحث لائے گئے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عدالت ان معاملات کے بارے میں وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے والی ہے جن کا ایف آئی آر میں تذکرہ نہیں کیا گیا اور جو اغلباً تحقیقات یا سماعت مقدمہ کے لئے زیادہ مناسب موضوع ہے۔“ اور ”اندریں حالات سائل محسوس کرتا ہے کہ انصاف کے مفاد میں یہ بہتر ہوگا کہ فی الحال ضمانت کی درخواست واپس لے لی جائے۔“
فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اس درخواست کے مندرجات اور اس میں استعمال شدہ زبان پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں جو باتیں اشاروں کنایوں میں کہی گئی ہیں، وہ توہین عدالت کے ذیل میں آتی ہیں۔ لہٰذا انہیں جوابی بیان داخل کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ درست واقعاتی اور قانونی صورتحال ریکارڈ پر لائی جا سکے۔ یہ مسئلہ ۲۲/ جون ۱۹۸۷ء اور پھر ۲۸/ جون ۱۹۸۷ء تک ملتوی کیا گیا۔
جس تاریخ کو فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل پیش کئے اور مسٹر رشید مرتضیٰ قریشی ایڈووکیٹ نے درخواست برائے واپسی کا جواب داخل کیا، جس میں بیان کیا گیا کہ درخواست ضمانت کی واپسی کی کوشش اس بدنیتی پر مبنی ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵-سی کی اطلاق پذیری کے مسئلے پر عدالتی فیصلے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کی تصنیفات ”ایک غلطی کا ازالہ، آئینہ کمالات اسلام اور تبلیغ رسالت“ سمیت قادیانی گروہ کی بہت سی مذہبی کتابوں کے حوالہ جات کی مدد سے یہ ثابت کیا کہ مرزا قادیانی نے بذات خود ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا اعلان کیا اور ان تمام لوگوں کے خلاف بے حد غلیظ زبان استعمال کی، جنہوں نے اس کی جھوٹی نبوت کے دعوے کو مسترد کیا اور اس (مرزا قادیانی) نے خود اعلان کیا کہ وہ برطانوی سامراج کی پیداوار یعنی اس کا ”خود کاشتہ پودا“ ہے۔ لہٰذا جب وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے اور اس کے پیروکار اس کو ایسا ہی مانتے ہیں تو اس صورت میں وہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی شدید توہین اور تحقیر کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا حوالہ جات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر کی گزارش کی جاتی ہے کہ عقیدے کے سوال پر بحث و تمحیص ناگزیر ہے کیونکہ قادیانی لوگ ”کلمہ طیبہ“ سے جو مفہوم وابستہ کرتے ہیں، اس کا بطور خاص جائزہ لینا ضروری ہے جب کہ وہ مرزا قادیانی اور دیگر قادیانیوں کی ان تحریروں کی مخالفت بھی نہیں کرتے، جن میں کلمہ طیبہ کے الفاظ ”محمد رسول اللہ“ سے ان کا اپنا ہی اخذ کردہ مطلب وابستہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا درخواست کی ایک نقل عدالت میں سائل کے وکیل کو فراہم کر دی گئی۔ نیز ان سے دریافت کیا گیا کہ آیا وہ جواب میں کوئی گزارش کرنا پسند کریں گے تو انہوں نے بیان دیا کہ درخواست برائے واپسی کے متعلق وہ مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔
- ۶...... یہ عذر کہ عدالت عقیدے کے مسئلے پر ’’وسیع تر تحقیقات‘‘ شروع کرنے والی ہے۔ (ایسا عدالت میں بیان کیا گیا لیکن درخواست
برائے واپسی میں یہ الفاظ استعمال ہوئے کہ ’’دیگر موضوعات زیر بحث آنے کا احتمال ہے‘‘ اور ’’جن معاملات کا ایف آئی آر میں تذکرہ نہیں‘‘) محض اس لئے اختیار کیا گیا کہ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور فاضل وکیل استغاثہ کی طرف سے اٹھائے گئے سوال سے پہلو تہی کی جاسکے۔ اس امر کی نشاندہی بھی ایک معقول بات ہوگی کہ درخواست ضمانت میں یہ حجت پیش کی گئی کہ غیر مسلموں کے کلمہ طیبہ کو استعمال کرنے کے بارے میں کوئی مبینہ قانون نہیں ہے...... میں اس مبینہ دعوے پر کوئی تفصیلی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا کیونکہ متعلقہ درخواست ضمانت واپس لے لی گئی ہے۔ البتہ اس سلسلے میں جو باتیں اشاروں، کنایوں میں کہی گئی ہیں ان کے پیش نظر، یہ بتا دینا ضروری ہے کہ غیر مسلم قادیانی کلمہ طیبہ کو جن معنوں میں لیتے ہیں یا اس سے جو مفہوم، وہ وابستہ کرتے ہیں، وہ بہرحال یہ تقاضا کرتا ہے کہ آیا ان لوگوں کا یہ عمل، جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے، رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی توہین کے زمرے میں آتا ہے؟
- ۷...... میں درخواست برائے واپسی اور اس کے جواب میں مندرجات کا تذکرہ نہ کرتا، بشرطیکہ مطلقاً خاص درخواست واپس لینے کی
استدعا کی جاتی لیکن سائل کے فاضل وکیل نے نامناسب زبان استعمال کرنے اور اشاروں کنایوں میں غیر ضروری باتوں کا اظہار کرنے کا انتخاب کیا۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے گزارش کی کہ ان تبصروں سے توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ لازم تھا کہ درخواست واپسی اور اس سلسلے سے متعلق جواب کے مندرجات قلمبند کئے جائیں۔ جہاں تک توہین آمیز رویے کا تعلق ہے، جو اس کارروائی کے شروع ہوتے ہی دیکھنے میں آیا، تو اگرچہ اس کی استعمال کردہ زبان میں بے اعتدالی ہے اور اس کے اشاروں، کنایوں سے توہین آمیزی ٹپکتی ہے، لیکن چونکہ یہ درخواست برائے واپسی تیار کرنے والے ایڈووکیٹ صاحبان، ایک اقلیتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس عدالت کو خیر اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں مزید کارروائی کرنے سے ہاتھ روک لینا چاہئے۔ اس اظہار رائے کے ساتھ مذکورہ درخواست ضمانت بطور دستبرداری خارج کی جاتی ہے۔
(دستخط) جج
(پی ایل ڈی ۱۹۸۷ء لاہور ۴۵۸)
(عدالتی فیصلے از محمد متین خالد ص ۲۴۹ تا ۲۵۴)
قادیانیوں کے متعلق مس بے نظیر کا تازہ مَوقِف
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی اور پیپلز پارٹی کی شریک چیئر مین مس بے نظیر نے اعلان کیا ہے کہ قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم ختم نہیں کی جائے گی۔ ان کا بیان حسب ذیل ہے: ”کوئٹہ (نمائندہ جنگ) پاکستان پیپلز پارٹی کی شریک چیئر مین بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم ملک کی منتخب اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ اس لئے وہ ترمیم درست ہے اور اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔ ایک عشائیہ کے موقع پر سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مس بے نظیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی برسر اقتدار آ کر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھے گی۔ طاہر محمد خان کے عشائیہ میں ایک وکیل نے اپنا تعارف مس بے نظیر سے کرایا اور کہا کہ وہ احمدی ہے۔ پیپلز پارٹی کی احمدیوں کے بارے میں کیا پالیسی ہے؟ اس پر بے نظیر نے کہا کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے سے قبل قومی اسمبلی میں بلا کر موقع دیا گیا تھا کہ وہ ثابت کر سکیں کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن قادیانی سربراہ نے قومی اسمبلی میں آکر اپنا جو مؤقف بیان کیا وہ ختم نبوت سے مکمل انکار تھا۔ اس لئے منتخب اسمبلی نے زور دے کر کہا قادیانی مسلمان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کسی کو کافر قرار نہیں دیا۔ اس نے ایک فریم ورک دیا اور کہا جو اس کے اندر نہیں آئے گا وہ مسلمان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا قادیانیوں کے بارے میں ترمیم ۱۹۷۳ء کے آئین کا لازمی حصہ رہے گی۔ اس موقع پر جمعیۃ علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد اے. این. پی کے صوبائی سیکرٹری امان اللہ بازئی اور دیگر رہنما موجود تھے۔ مس بے نظیر بھٹو نے مسئلہ افغانستان پر بھی اپنی پارٹی کا مؤقف بیان کیا۔ اس پر جمعیۃ علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ احمد حسین نے پیپلز پارٹی کی قائد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئین میں قادیانی ترمیم کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ اکثریت کا مؤقف بھی ہے۔“
(جنگ لاہور مؤرخہ ۲۴ جون ۱۹۸۷ء)
مس بے نظیر کا حالیہ بیان ”دیر آید درست آید“ کے مترادف ہے۔ اس سے قبل ان کے بیانات سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ قادیانیوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ دینی اور عوامی حلقوں میں قادیانی مسئلہ پر بے نظیر کے بارے میں گہرے شکوک وشبہات پائے جاتے تھے۔ گزشتہ دنوں اقلیتوں کی حمایت میں ان کا بیان اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ اس سے بھی قادیانیوں سے گہری ہمدردی کا تاثر نمایاں طور پر ظاہر ہوتا تھا۔
مس بے نظیر پیپلز پارٹی کی شریک چیئر مین ہونے کے ساتھ ساتھ ذو الفقار علی بھٹو مرحوم کی صاحبزادی بھی ہیں، جن کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی اس کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی دعویدار ہے۔ بلاشبہ قومی اسمبلی کا فیصلہ متفقہ اور پاکستانی عوام کے جذبات کا آئینہ دار تھا۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ بے نظیر کے سابقہ بیانات میں قادیانیوں کی حمایت اور ہمدردی کا پس منظر کیا تھا۔ قادیانیوں کے خلاف مس بے نظیر کا حالیہ بیان کتنا خوش آئند اور حوصلہ افزاء ہے لیکن قوم کو معلوم ہونا چاہئے کہ آیا ان کے دل و دماغ میں قادیانیوں کے متعلق کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے یا محض یہ سیاسی قلابازی ہے؟ ہمیں محترمہ کی جماعت کے ایک ذمہ دار رہنماء نے یقین دلایا تھا کہ مس بے نظیر قادیانیوں کے بارے میں وہی جذبات رکھتی ہیں جو ایک عام مسلمان کے ہیں۔ ان کا گلہ تھا کہ اخبارات ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر شائع کرتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے حالیہ بیان کو کیوں نہ توڑا گیا؟ خدا کرے ہماری بات غلط ہو۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات گردش کرتی رہتی ہے کہ مس بے نظیر کے پرائیویٹ سیکرٹری مرزا غلام احمد قادیانی کے قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا محترمہ کے سابقہ بیانات انہی کے دست سخاوت کا کرشمہ تو نہیں؟
مس بے نظیر کو نہیں بھولنا چاہئے کہ قادیانی ان کے لئے کیونکر مخلص اور ہمدرد ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ قادیانیت کے تابوت میں پہلی کیل ان کے والد کے دور میں ہی ٹھونکی گئی تھی۔ قادیانی بنیادی طور پر منتقم مزاج جماعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذو الفقار علی بھٹو کی پھانسی پا جانے کے فوراً بعد قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک مکروہ پیشین گوئی شائع کی۔ یہ جناب بھٹو سے ان کی نفرت کا پہلا ثبوت ہے۔ محترمہ بے نظیر کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کے والد کو پھانسی دلوانے میں ایف. ایس. ایف کے کرتا دھرتا مسعود محمود مرزائی نے کیا کردار ادا کیا تھا؟
ہم آنسہ بے نظیر کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کے بیان میں خوشی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے قادیانی وکیل کو اس کی توقع کے برعکس دو ٹوک الفاظ میں مستند جواب دے کر خاموش ہونے پر مجبور کر دیا۔ حالیہ بیان میں اس وضاحت کے بعد کہ قادیانیوں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے متعلق آئینی ترمیم ختم نہیں کی جائے گی۔ اب مس بے نظیر کے بارے میں دینی حلقوں اور تحریک ختم نبوت سے وابستہ حضرات کے شکوک وشبہات دور ہو جانے چاہئیں۔ اختلاف سے قطع نظر مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا اعزاز بھٹو مرحوم کو حاصل ہے۔ ورنہ سابق صدر ایوب خان جیسے مضبوط، خواجہ ناظم الدین جیسے متقی حکمران اس مسئلے کو حل کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ مس بے نظیر کو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ ان کے والد کے دور میں ایک تاریخی اور یادگار فیصلہ ہوا تھا۔ مس بینظیر کو اپنے باپ کے اعزاز کی وراثت کا تحفظ کرنا چاہئے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد مورخہ ۳؍ جولائی ۱۹۸۷ء)
بنن میں عیسائی حکومت کا قادیانیوں کے خلاف اقدام
جنوبی افریقہ کا ایک ملک نائیجیریا کے پڑوس میں واقع ہے۔ جس کا نام بنن ہے جس پر عیسائیوں کی حکومت ہے۔ اس نے یہ قدم اٹھایا ہے کہ قادیانیت کو دیس سے نکال دیا ہے اور ان کے دفاتر سر بمہر کر دیئے ہیں۔ اس خبر سے قادیانیوں پر بجلی گری۔ ان کے خرمن امن کو بھسم کر دیا اور قادیانیوں کی روحوں کے سرطان میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا۔ ہوا یہ کہ اس عیسائی ملک میں قادیانیوں نے اپنے آپ کو اسلام کا نمائندہ ثابت کرنا شروع کیا۔ اپنے مذہب وعقائد کو اسلام کی تبلیغ کا نام دیا۔ اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر وہاں کے رہنے والے مسلمانوں کا سکون غارت کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان بیدار ہوئے۔ رابطہ عالم اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس سلسلہ میں خدمات کو اللہ رب العزت نے شرف قبولیت سے نوازا۔ مسلمانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانی جو چاہیں کہیں جو چاہیں کریں۔ مگر جب وہ اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرتے ہیں تو اس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ وہ مذہبی آزادی کے نام پر ہماری مذہبی آزادی کو غصب کر رہے ہیں۔ (قارئین کو یاد ہوگا کہ برطانیہ کے ایک شہر لیسٹر میں قادیانیوں کی نماز جمعہ پر بھی مسلمانوں نے یہی احتجاج کیا تھا جس پر حکومت برطانیہ نے ان کی نماز جمعہ روک دی تھی)
مسلمانوں کے اس نکتہ نگاہ کو بنن حکومت نے سمجھا، ناپا تولا، مذہبی آزادی کے باوجود انہوں نے مسلمانوں کے ایک جائز مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمانوں کی نمائندگی ترک کر دینے اور بالآخر ان کے دفاتر کو سر بمہر کرنے اور قادیانیت کو دیس نکال دینے کا ’’قادیانیت کش‘‘ اقدام کیا۔
اے کاش! اسلام کی دعویدار ہماری حکومت، حکومت پاکستان بھی یہ سوچتی کہ بنن اور برطانیہ کی حکومتیں ہم سے کہیں زیادہ مذہبی آزادی کی علمبردار ہیں۔ انہوں نے تو مسلمانوں کے نکتۂ نگاہ کو سمجھ لیا۔ مگر آج تک مسلمانوں کے نکتۂ نگاہ کو مسلمان حکومت، حکومت پاکستان نہیں سمجھ سکی۔ حکومت پاکستان کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس وغیرہ تمام اقدام اس لئے تھے کہ قادیانی اپنے آپ کو جو مرضی آئے کہیں۔ اسلام کا نمائندہ نہ کہیں اور نہ ہی اسلام کی نمائندگی کے نام پر اپنے کفریہ عقائد کی تبلیغ کریں تاکہ خنزیر کے گوشت کو بکری کا گوشت کہہ کر یا شراب کو روح افزاء کا لیبل لگا کر فروخت نہ کیا جا سکے۔ مگر مرزائیت نے عملاً اس قانون کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ان حالات میں ہماری سچی تلی رائے یہ ہے کہ اب اتمام حجت ہو چکا، مذہبی آزادی دی جا چکی۔ جس کا انہوں نے ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے حقوق غصب کرنا شروع کر دیئے۔ اب صرف اور صرف ایک راستہ باقی ہے کہ وہ یہ حکومت ان کو خلاف قانون جماعت قرار دے تاکہ اسلام و قانون شکن جماعت اپنے انجام کو پہنچے۔ حکومتی ارکان توجہ فرمائیں کہ اب حالات کے سدھرنے کا صرف یہی ایک راستہ باقی ہے۔ قادیانی تمرد، فرعونیت، تکبر اور اسلام کے ساتھ بدترین مذاق کو آخر کب تک برداشت کیا جائے گا۔ الیس منکم رجل
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رشید!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۵، مورخہ ۲۲ تا ۳۰/جولائی ۱۹۸۷ء)
حضرت امیر مرکزیہ کا پیغام اہل اسلام کے نام
تمام تعریفیں مالک ارض وسما کے لئے جو تمام کائنات کا بلاشراکت غیرے خالق و مالک ہے۔ کروڑوں، اربوں درود وسلام ہر لمحہ وہر آن اس ذات گرامی ﷺ پر جو وجود باعث تخلیق کائنات ہے۔ اما بعد! ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے تمام راہنماؤں، کارکنوں، جماعتی احباب اور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شریک جماعتوں کے رفقاء مبارک باد کے مستحق ہیں کہ امت مسلمہ کی کامیاب محنت اور اخلاص بھری کاوشوں سے اندرون وبیرون ملک قادیانیت کے احتساب کا دائرہ تنگ ہوتا جارہا ہے اور اب ہر جگہ قادیانیت کا دم گھٹ رہا ہے۔
اس سال جنوری کے اواخر میں تمام مسلمانوں کی خادم ورضا کار جماعت ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ نے فیصلہ کیا تھا کہ قادیانی جب غیر مسلم ہیں تو ان کا کوئی مردہ قانوناً شرعاً اخلاقاً مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ ہونے پائے۔ وہ بھی باقی غیر مسلموں کی طرح اپنے مردے اپنے علیحدہ ’’مرگھٹوں‘‘ میں دفن کریں۔ ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ ایک جائز شرعی وقانونی مطالبہ تھا۔ جس کی پشت پر شرعی وقانونی دلائل تھے۔ چنانچہ جماعت نے اشتہارات، پمفلٹ، رسائل، سرکلر اور جماعتی ترجمان ہفتہ وار ختم نبوت انٹرنیشنل اور ہفتہ وار لولاک کے ذریعہ ’’مہم‘‘ چلائی۔ تمام مسلمانوں، جماعتی کارکنوں، مبلغین وعلماء، عامتہ المسلمین نے رائے عامہ کو پیدا کیا اور پورے ملک میں کراچی سے خیبر تک ایک منظم تحریک کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا گیا۔ جس کے فوری چند نتائج سامنے آئے۔
- ۱...... قادیانی جماعت کو اپنے غیر مسلم ہونے کا احساس ہوا۔
- ۲...... حکومتی ارکان وانتظامیہ کو ایک جائز مطالبہ پر عمل کرنا پڑا۔
- ۳...... ختم نبوت کے محاذ پر رائے عامہ بیدار ہوئی۔
چنانچہ جس کام کو مکمل کرنے کے لئے ۱۹۸۷ء کو ہم نے ’’ہدف‘‘ قرار دیا تھا۔ وہ کام صرف چند ماہ میں پورے ملک کے اہم شہروں، قصبات ودیہات میں جہاں پہلے سے قادیانی دھوکہ دیتے اور مسلمانوں کی آنکھوں میں مٹی ڈال کر غیر شرعی وغیر قانونی حرکت کرتے چلے آرہے تھے۔ وہاں پر مسلمانوں کی کوشش سے یا خود قادیانیوں نے مسلمانوں کے احتساب سے تنگ آکر اپنے علیحدہ ’’قادیانی مرگھٹ‘‘ حکومتی اراضی پر یا اپنی ملکیتی اراضی پر قائم کرلئے۔
اللہ رب العزت جو دلوں کے بھیدوں کو جانتے ہیں۔ گواہ ہیں کہ ہماری کوشش وکاوش کے صرف اور صرف دو مقصد تھے:
- ۱...... اسلام وکفر، مسلم وکافر میں تمیز وحد قائم ہو۔
- ۲...... قادیانیوں کو احساس ہو کہ قادیانیت کو قبول کرنے کے بعد ان کا اسلام یا اہل اسلام سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا۔
جب یہ احساس ان کے دلوں میں اجاگر ہوگا تو وہ اسلام یا مسلمانوں میں شامل ہونے کے لئے مضطرب ہوں گے اور اس طرح ان کو اسلام قبول کرنے کا موقع ملے گا۔
واقعہ شادن لنڈ
چنانچہ یہی ہوا۔ شادن لنڈ ضلع ڈیرہ غازی خان میں ایک قادیانی کی لاش کو مرزائی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کے بیدار ہونے پر وہ اپنا مردہ وہاں دفن کرنے کی بجائے اپنے ’’مرگھٹ‘‘ ڈیرہ غازی خان لے گئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ۱۳۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب غلام حیدر خان حیدرانی بلوچ کو اس واقعہ سے دھچکا لگا کہ ایسا عقیدہ ( قادیانیت ) قبول کرنے کا کیا فائدہ کہ زندہ رہ کر مسلمانوں کی شادی بیاہ، نکاح، طلاق، نماز، روزہ، حج میں ہم شریک نہیں اور مرنے کے بعد بھی مسلمانوں کی نماز جنازہ اور اہل اسلام کے قبرستانوں سے محروم ہیں۔ اس پر انہوں نے غور و فکر کیا اور قدرت نے ان کی دستگیری فرمائی نہ صرف وہ بلکہ ان کے خاندان کے ۳۰ سے زائد افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور مرزائیت کے طوق لعنت سے قدرت نے ان کو چھٹکارا دیا۔ ان کے اس اقدام سے علاقہ کے مسلمانوں، علماء کرام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو خوشی ہوئی۔ ان کے اعزاز میں جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔ فقیر (حضرت مولانا خواجہ خان محمد ) بھی اس محفل میں شریک ہوا۔ ان حضرات کے اسلام میں داخل ہونے کے عمل سے مسلمانوں کو جو خوشی ہوئی وہ قابل مشاہدہ تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام نے ان بھائیوں کو اپنی آنکھوں کا تارا بنا دیا۔ اس سے ایک دفعہ پھر حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ قادیانیوں سے ہمارا اختلاف ذاتی نہیں۔ اگر آج وہ مرزا قادیانی پر چار حرف بھیج کر اسلام میں نئے سرے سے داخل ہو جائیں تو تمام مسلمانوں کو ان کے اس اقدام سے دلی خوشی حاصل ہو گی۔
اسی طرح شیر گڑھ ضلع ڈیرہ غازی خان میں جہاں مسلمانوں کی مسجد میں قادیانی مردہ کو آج سے ایک سال پہلے دفن کیا گیا تھا۔ جس کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام نے تمام مسلمانوں کے تعاون سے بھر پور تحریک چلائی۔ خانقاہ عالیہ تونسہ شریف کے ایک مجاہد حافظ خواجہ عبد مناف نے مسلمانوں کو اکٹھا رکھنے میں مثالی کردار ادا کیا۔ کئی ماہ تحریک چلتی رہی۔ احتجاجی جلسے، جلوسوں، ہڑتال، گرفتاریاں ، نظر بندیاں ، ظلم و ستم ، دھونس دھاندلی ، لاٹھی چارج تک معاملہ گیا لیکن بالآخر مسلمانوں کے ایک جائز مطالبہ کے سامنے انتظامیہ اور قادیانیوں کو سرنگوں ہونا پڑا اور یوں ایک قادیانی مردہ مسلمانوں کی مسجد سے نکال دیا گیا۔ مگر خداوند کریم کی قدرت دیکھئے کہ پچھلے ہفتہ اسی قادیانی مردہ کے بچیوں اور بیٹوں میں سے بعض کو اللہ رب العزت نے اسلام قبول کرنے کی سعادت سے سرفراز فرمایا۔ سچ ہے کہ
یخرج الحی من المیت!
میرے عزیزو! ان واقعات سے یہ بات آپ کے گوش گزار کرنا مقصود ہے کہ ہماری اس تحریک سے مرزائی مسلم تمیز قائم ہوئی۔ مرزائیت پسپا ہوئی۔ مسلمانوں کو فتح ہوئی اور یہ کہ مرزائیوں کو قدرت نے اسلام قبول کرنے کا اس تحریک سے ایک موقعہ فراہم کیا۔ آج اللہ رب العزت کے حضور تمام ساتھیوں کی گردنیں جھک جانی چاہئیں اور سجدہ شکر بجا لانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ کام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائی۔ بار بار اخلاص کے ساتھ دعاؤں اور سجدہ شکر کا ہمیں التزام کرنا چاہئے اور ساتھ ہی اس پر نظر رکھنی چاہئے کہ یہ تحریک جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی کہ کراچی سے خیبر تک قادیانی مردے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہیں ہو رہے ۔ یہ تحریک ٹھنڈی نہ ہونے پائے اور اگر کہیں اس پر عمل نہیں ہو رہا تو اس پر فوری توجہ فرمائیے۔
ختم نبوت کا کام دارین کی فلاح کا ضامن ہے۔ اس سے اللہ رب العزت کی رضا اور نبی رحمت ﷺ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ ختم نبوت کا کام جنت و شفاعت حاصل کرنے کا ’’شارٹ کٹ‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نبی ﷺ کی شفقتوں کا آپ حضرات پر دنیا و آخرت میں سایہ ہو۔
دعا گو : فقیر ابو الخلیل خان محمد
امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، خانقاہ سراجیہ کندیاں
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۶ ، ۳۰ ، مورخہ ۲۲ تا ۳۰/ جولائی ۱۹۸۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلامیات کا مضمون اور قادیانی اساتذہ
قادیانی چونکہ کافر ہیں۔ شرعاً، اخلاقاً، قانوناً کوئی قادیانی اسلامیات کا مضمون نہیں پڑھا سکتا۔ اگر کسی تعلیمی ادارہ میں اس کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو اس کا تدارک کرنا تمام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ پیار محبت، احتجاج، جلسہ، جلوس، ریزولیوشن، ہڑتال غرضیکہ جو بھی طریقہ ناگزیر ہو وہ اختیار کریں۔ تمام مسلمان مکاتب فکر کے تعاون سے رائے عامہ کو بیدار کریں اور ایسے حالات پیدا کر دیں کہ محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کو اس کھلی خلاف ورزی اور زیادتی پر اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ اس کی تلافی کر کے پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق بنیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۷، مؤرخہ ۲۱ تا ۲۷/ اگست ۱۹۸۷ء)
بنگلہ دیش کے ضلع سنام گنج سے ایک رپورٹ
ضلع سنام گنج کی مغربی سطح پر واقع پیڑا جالی بازار میں چند قادیانیوں کی پلید حرکت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کے زعماء اور اراکین نے مقامی مسلمانوں کو ان کے ناپاک عقائد سے آگاہ کیا، جلسے کئے، بحث و مباحثہ کے لئے للکارا۔ مسلمانوں اور نئے تعلیم یافتہ طبقے میں ایسا ایمانی ولولہ پیدا کر دیا کہ سب سے پہلے مرتدوں کے رئیس کو مقابلہ کی تاب نہ لاتے ہوئے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ دوسرے قادیانی شاہ عاقل احمد اور اس کی بیوی نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کیا اور اسی بازار میں دوا فروشی کے بہانے مقیم رہا۔ جب کے اس سے قبل بھی اس نے توبہ کی تھی۔ پھر اس نے اپنی ارتدادی حرکت شروع کر دی۔ لوگوں کو مختلف حیلے سے مرتد بنانے کی کوشش کی اور اشتہارات تقسیم کرنے لگا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سنام گنج کے ناظم تنظیم جناب مولانا عبدالمقتدر صاحب اور غیور مسلمان خصوصاً بازار کے علاقے کے بسنے والوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑنے لگی۔ یہاں تک کہ بازار کے اطراف کے نوجوانوں نے ایک موقع پر اس کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ چند ثالثی افراد نے محاصرین کو روکا اور قادیانی بازار چھوڑ کر جان بچاتے ہوئے چلے گئے اور ان کے دوسرے رئیس شاہ عاقل احمد بھی اپنے پیدائشی مقام کیدر پور بھاگ گیا۔
جب ہی وہ گھر پہنچا تو محلہ کیدر پور کے عوام و خواص مسلمان مشتعل ہو گئے۔ اس پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی اور ایک اجتماع کا انتظام کیا۔ برسات کا موسم ہے۔ میدان کے میدان پانی سے بھرے ہوئے ہیں۔ گویا سمندر کی موجیں کھیل رہی ہے۔ موسلا دھار بارش اور تیز ہوا سے ٹکراتے ہوئے ہماری کشتی محلہ کیدر پور پہنچی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سنام گنج کے عظیم راہنما شیخ طریقت (اعجاز مدنی) جناب مولانا عبدالحق صاحب دامت برکاتہم، ناظم اعلیٰ جناب مولانا نور الاسلام خان صاحب اور نائب ناظم مولانا ابوالکلام صاحب اور احقر نے محلہ کیدر پور پہنچتے ہی جناب الحاج ابدالی میاں صاحب کی صدارت میں جلسہ شروع کیا۔ جناب مولانا عبدالحق صاحب مدظلہ اور ناظم اعلیٰ صاحب نے اجتماع سے خطاب کیا۔ قادیانیوں کی متضاد اور بے بنیاد دعاوی سنائے۔ اہل محلہ نے شاہ عاقل احمد قادیانی کو بھی جلسہ میں حاضر کیا۔ اس کو باتیں کرنے کا موقع دیا گیا۔ حتیٰ کہ وہ توبہ کے لئے اب تیسری دفعہ تیار ہوگیا۔ اس نے خود اور اس کی بیوی نے بھی توبہ کی اور اسلام قبول کر لیا۔ اعلیٰ حضرت جناب مولانا عبدالحق صاحب مدظلہ نے اس سے قادیانیت پر لکھی ہوئی کتابیں اور رسالے طلب کئے۔ اس نے تجلیات الہیہ، پیغام صلح وغیرہ کتابیں حضرت مدظلہ کے حوالہ کیں اور قادیانیت سے بیزاری اور قبول اسلام ایک تحریر اہل محلہ کے رؤساء کے شہادتی دستخطوں کے ساتھ لکھی۔ جس میں قادیانیت سے بیزاری اور قبول اسلام کا اعلان کیا۔ نیز اہل محلہ کو بھی ایک تحریری عہد نامہ لکھ کر دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۷، مؤرخہ ۱۸ تا ۲۴/ ستمبر ۱۹۸۷ء)
ستمبر ۱۹۸۷ء) ستمبر ۱۹۸۷ء) ستمبر ۱۹۸۷ء) ستمبر ۱۹۸۷ء) ستمبر ۱۹۸۷ء) ستمبر ۱۹۸۷ء) ستمبر ۱۹۸۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لائبیریا میں قادیانی گروہ کی سرکوبی جاری ہے
لائبیریا کے گاؤں میں قادیانیوں کی سرکوبی جاری ہے۔ الحمد للہ! جب کبھی اسلام کے خلاف کوئی فتنہ مرتدین کا سر اٹھاتا ہے۔ علماء اسلام اس کا سر کچلنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ ان بے دین لوگوں کے مقابلہ کے لئے علماء اپنی جان و مال صرف کرتے ہیں۔ اس طرح قادیانیوں کا فرقہ بھی زندیق اور مرتد فرقہ ہے۔ اس کے خلاف علماء حقانی نے آواز بلند کی۔ دنیا کے کونے کونے میں الحمد للہ! علماء حقانی کی یہ کوششیں کامیاب رہیں اور دنیا میں قادیانی ہر جگہ ذلیل وخوار ہورہے ہیں۔ اسی طرح لائبیریا میں بھی قادیانی ذلیل وخوار ہو چکے ہیں۔ راقم کو مولانا محمد علی جالندھری کی وہ بات یاد آئی کہ قادیانی چاند پر بھی جائیں تو ان کا تعاقب کیا جائے گا۔ یہاں پر قادیانیوں کے خلاف جہاد جاری ہے۔ چنانچہ راقم الحروف کو معلوم ہوا بعض قادیانی مبلغ اپنا باطل مذہب پھیلانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ قادیانی یہاں سے ایک صد میل کے فاصلے پر سانوی اور توتاتا کے گاؤں میں کام کر رہے ہیں۔ راقم نے مصمم ارادہ کیا کہ ان گاؤں کا دورہ کیا جائے اور مسلمانوں پر واضح کر دیا جائے کہ یہ قادیانی مسلمان نہیں۔ اسی ارادے سے میں پروگرام بنا رہا تھا کہ سانوی سے کچھ مسلمانوں کے وفد میرے پاس آئے۔ انہوں نے بھی یہی درخواست کی کہ آپ جتنی جلدی ممکن ہو۔ ہمارے پاس آئیں تا کہ قادیانیوں کا تعاقب کیا جائے تو راقم الحروف نے مع رفقاء کے یہ سفر کیا۔ میرے ساتھ الحاج بابا شریف سیکرٹری جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیہ بھی تھے اور بعض مبعوثین بھی میرے ہمراہ تھے۔ ایک دن ہم نے سانوی میں گزارا۔ راقم الحروف نے مختلف موضوعات پر تقاریر کیں۔ وہ حسب ذیل ہیں۔
(۱) حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام ۔ (۲) قادیانیوں کے عقائد۔ (۳) قادیانی فرقہ اسرائیل کا جاسوس ہے۔ (۴) قادیانیوں کو تمام اسلامی ممالک نے کافر قرار دیا ہے۔ پاکستان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس کے بعد راقم نے اعلان کیا کہ قادیانی راقم کے ساتھ بات کرنا چاہیں۔ کسی بھی موضوع پر تو احقر حاضر ہے لیکن کسی بھی قادیانی کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ کوئی بات کر سکیں۔ واضح رہے کہ اس گاؤں میں قادیانیوں کا انچارج سردار محمد رفیق پاکستانی ہے۔ اس گاؤں میں قادیانیوں کے بارے کی تفصیل راقم نے پہلے روانہ کی تھی۔ دوسرے دن تو تاتا میں دورہ کیا۔ بعض قادیانیوں نے کیلنڈر لکھوا کر مسلمانوں کی دوکانوں پر لگوا رکھے تھے۔ اس میں اپنے مذہب باطل کے بارے میں کچھ نکات لکھے ہوئے تھے اور بعض دعائیں قرآن سے لکھوا رکھی تھی۔ راقم نے دوکانداروں سے کہہ کر اتروائے۔ اس کے بعد مسلمانوں کے ایک اجتماع سے توحید کے موضوع پر تقریر کی۔ الحمد للہ! یہ دورہ کافی کامیاب رہا۔ اس کے چند دنوں کے بعد اہل سانوی کا وفد میرے پاس آئے اور انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس دورے کے اچھے نتائج ثابت ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مورخہ ۲۵؍ ستمبر تا یکم؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء)
دو مسلمان نوجوانوں کو قادیانی مبشر احمد طاہر نے چھریوں کے وار کر کے شہید کر دیا، سیالکوٹ میں مکمل ہڑتال
مسلمان نوجوانوں، قاری عظیم میر اور سلیم میر کو مبشر احمد طاہر قادیانی نے چھریوں کے پے در پے وار کر کے ہلاک کر دیا اور ان کی والدہ ایک بھائی کو شدید زخمی کر دیا۔ پولیس نے ملزموں کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں نوجوانوں کے قتل کی خبر سیالکوٹ شہر اور دیگر مضافاتی علاقوں میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جس کے باعث شہر کی سماجی ، دینی ، فلاحی اور طلباء تنظیموں کے عہدہ دار ہزاروں کی تعداد میں جائے واردات پر پہنچے۔ واقعہ کے مطابق قاری عظیم میر شہید کے گھر کے ساتھ مرزائی عبدالسلام کا گھر تھا۔ ان کے ساتھ مذہبی رقابت بھی تھی۔ قاتل نے بہانہ بنا کر لڑائی شروع کر دی۔ عبدالسلام کی بیوی بشریٰ بی بی نے اپنے بیٹے کو اندر سے چھرا لا کر دیا۔ قاری عظیم میر اور سلیم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میر پر یکے بعد دیگرے چھریوں کے وار سے حملہ کر کے شہید کر دیا۔ ان شہداء کی ماں اپنے لڑکوں کو بچانے کے لئے آگے بڑھی۔ بشریٰ بی بی قادیانی نے شہداء کی ماں کو پکڑا اور بیٹے کو للکار کر کہا کہ اس پر بھی حملہ کر دو اور اسے بھی شدید زخمی کر دیا اور تیسرے بھائی علیم میر کو بھی زخمی کر دیا۔ یہ واقعہ ۹؍نومبر ۱۹۸۷ء ساڑھے بارہ بجے دن پیش آیا۔ پولیس نے قاتل مبشر احمد قادیانی اور ان کی والدہ بشریٰ بی بی کو گرفتار کر لیا۔ رات آٹھ بجے ۵۰ ہزار افراد نے شہیدوں کے جنازہ میں شرکت کی۔ جنازوں کو بہت بڑے جلوس کی شکل میں امام صاحب کے میدان میں لے جایا گیا۔ نماز جنازہ کے بعد ایک بہت بڑا جلوس قاتلوں کے خلاف نعرے بازی کرتا ہوا علامہ اقبال چوک میں پہنچا۔ جہاں شرکاء جلوس نے ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک روک دی۔ اس جلوس میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اس وحشیانہ قتل کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا اور قادیانیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
۱۰؍نومبر ۱۹۸۷ء کو پورے شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ اسی روز شہر کے کئی مقامات سے جلوس نکالے گئے۔ سب سے بڑا جلوس شہداء کی رہائش گاہ سے نکالا گیا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ایک ہنگامی اجلاس میں جس کی صدارت حافظ محمد صادق نے کی اور اس احتجاج میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔ قاتلوں کو عبرتناک سزا دینے تک عملی جدوجہد کا فیصلہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد انذر قاسمی اور جماعت اہل سنت کے رہنماؤں علامہ محمد یعقوب نے ملاقات کر کے عوام الناس کے دینی جذبات کا احساس دلاتے ہوئے جلد از جلد اس قتل کیس کے فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس ملاقات میں ڈپٹی کمشنر شاہد انجم، ایس۔ پی سیالکوٹ آغا محمد اقبال، اے سی ملک حیات محمد کی موجودگی میں ڈپٹی کمشنر نے سپیشل کورٹ میں کیس چلانے کا وعدہ کیا اور ایک ہفتہ میں چالان مکمل کیا جائے گا۔ اسی روز رات آٹھ بجے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے ایک اجلاس بلایا جو تمام مکاتب ہائے فکر نیز سیاسی تجارتی نمائندوں پرمشتمل تھا۔ دونوں بھائیوں کے قتل پر شدید ردعمل کے پیش نظر مقامی حکام بھی اس بہیمانہ المیہ پر برابر کے شریک غم ہیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سیالکوٹ نے اس اجلاس میں تمام نمائندوں سے وعدہ کیا کہ اس کیس کا چالان سات دن میں مکمل کر کے سپیشل کورٹ میں چلایا جائے گا اور مقامی پریس سے بھی یہ خبر سرکاری حوالہ سے شائع کر دی گئی ہے۔ سیالکوٹ میں تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے علیحدہ علیحدہ اجلاس ہوئے اور مرزائیوں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا۔ جن میں جمعیۃ علماء اسلام، جمعیۃ طلباء اسلام، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، انجمن طلباء اسلام، اسلامی جمعیۃ طلباء اور جمعیۃ علماء پاکستان، جماعت اسلامی، مجلس احرار اسلام، جمعیۃ اہل حدیث، انجمن تاجران، جمعیۃ اہل سنت والجماعت حنفی دیوبندی شامل ہیں اور ۱۳؍نومبر ۱۹۸۷ء کے جمعہ میں تمام مساجد میں بھر پور احتجاج کیا گیا۔
قرارداد مذمت: جمعۃ المبارک کا یہ اجتماع جرمنی سے آئے ہوئے ایک ٹرینڈ قادیانی کمانڈو مبشر احمد طاہر کے ہاتھوں سیالکوٹ میں ۹؍نومبر ۱۹۸۷ء کو شہید ہونے والے دو مسلمانوں (عظیم میر اور سلیم میر) کے وقوعہ کی شدید مذمت کرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قادیانی ملکی امن وامان اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لئے ملک میں مسلسل جارحیت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ مذکورہ المیہ سے چند روز پیشتر باہر سے آئے ہوئے ایک اور قادیانی کمانڈر نصیر احمد نے ربوہ میں مسلمانوں کی مسجد محمدیہ کے خطیب حافظ محمد یوسف پر بھی اسی طرح چھری کے ساتھ قاتلانہ حملہ کیا اور پولیس کی حراست میں یہ بیان دیا کہ اب ہم اپنے مخالفین کو قتل کریں گے۔
نماز جمعہ کا یہ اجتماع ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا اور حکومت کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ اس مسلسل جارحیت کا فوری سدباب کرے۔ نماز جمعہ کا یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ سیالکوٹ میں رونما ہونے والے مذکورہ المیے کے قادیانی قاتل پر خصوصی عدالت میں مقدمہ چلا کر مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی سیالکوٹ آمد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری ۱۵؍نومبر ۱۹۸۷ء بروز اتوار ایک وفد کے ہمراہ سیالکوٹ پہنچے تاکہ ۹؍نومبر کو وہاں ہونے والے سانحہ کی تفصیلات معلوم کر سکیں اور قادیانی جوان کے ہاتھوں شہید ہونے والے دو مسلمان نوجوانوں کے لواحقین سے تعزیت کر سکیں۔ پروگرام کے مطابق مولانا عزیز الرحمن جالندھری، صاحبزادہ طارق محمود، چوہدری محمد اقبال اور ابوحسن کے ہمراہ سیالکوٹ پہنچے۔ جناب نعیم کی رہائش گاہ پر وفد نے ان سے ملاقات کی۔ نعیم صاحب نے دلخراش واقعہ کی تفصیلات اور ان کا پس منظر بیان کیا اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور ان کے ساتھیوں نے حافظ محمد صادق، پیر بشیر احمد سالار کے علاوہ مختلف جماعتی احباب اور دوستوں سے ملاقاتیں کیں۔ دوپہر جامعہ فاروقیہ میں وفد کے اعزاز میں کھانے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں جماعتی رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی قیادت میں ایک بھر پور وفد شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے لئے ان کے گھر پہنچا۔ اس موقع پر مولانا عزیز الرحمن نے شہید ہونے والے قاری عظیم میر اور سلیم میر کے سوگوار والد اور ان کے دوسرے عزیز واقرباء سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس عظیم سانحہ میں آپ کے غم اور دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ مولانا نے انہیں مکمل یقین دلایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما اور کارکن ہر طرح ان کے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کی طرف سے انہیں مکمل تائید وحمایت حاصل رہے گی۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے دورہ سیالکوٹ کے موقع پر ایک پریس ریلیز جاری کیا جس میں قادیانی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔ مولانا نے بتایا کہ قادیانی ملک میں انتشار اور گڑبڑ پھیلانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے قبل ربوہ میں ہمارے مبلغ حافظ محمد یوسف پر بھی اسی انداز میں حملہ کیا گیا جو خدا کے فضل و کرم سے ناکام رہا۔ اسی روز شام مولانا جالندھری اپنے رفقاء سمیت واپس فیصل آباد تشریف لے گئے۔
مولانا عزیز الرحمن کا پریس نوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے آج یہاں کہا کہ قادیانی ملک میں افراتفری پھیلا کر ایک نیا مارشل لاء لگوانا چاہتے ہیں تاکہ قادیانی آرڈیننس اور ۱۹۷۳ء کا دستور منسوخ کراسکیں۔ مولانا اپنے رفقاء صاحبزادہ طارق محمود، چوہدری محمد اقبال، حافظ محمد صادق، پیر بشیر احمد، نعیم آسی اور قاری محمد اسحاق نعمانی کے ہمراہ ایک قادیانی کے ہاتھوں شہید ہونے والے دو بھائیوں کے گھر تعزیت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے شہداء کے والد میر محمد یونس کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ مولانا عزیز الرحمن نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے لئے یہ امر نہایت تکلیف دہ ہے کہ سیالکوٹ میں دو مسلمان شہید کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر خصوصی عدالت میں مقدمہ کی سماعت کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ کیس معمول کا کیس نہ بنایا جائے گا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰، ۲۱، مورخہ ۲۷؍نومبر ۱۹۸۷ء)
اس پر ہفت روزہ لولاک نے ایک اداریہ بھی لکھا جو کہ درج ذیل ہے:
سیالکوٹ کا المناک واقعہ
۹؍نومبر ۱۹۸۷ء کو سیالکوٹ کے ایک مقامی محلہ میں قادیانی جوان نے خنجر کے پے در پے وار کر کے اپنے ہمسائے قاری عظیم میر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور سلیم میر دو سگے بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جب کہ مقتولین کی والدہ اور ایک تیسرے بھائی کو شدید زخمی کر دیا۔ اس بہیمانہ واردات کے بعد سیالکوٹ کے مسلمانوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پورے شہر میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ افسوس کہ اس اتنے بڑے سانحہ کی خبر اخبارات میں واضح طور پر شائع نہ ہوئی۔ واقعہ کے مطابق قاری عظیم و سلیم میر کے ساتھ عبدالسلام مرزائی کا گھر واقع ہے۔ سیالکوٹ انتظامیہ کی طرف سے جب کلمہ طیبہ مٹانے کی مہم شروع ہوئی تو ان کے مکان کی پیشانی پر لکھے ہوئے کلمہ پر بھی سیاہی پھیر دی گئی جو ابھی تک موجود ہے۔ مرزائی عبدالسلام کو شبہ تھا کہ ہمارے مکان کی نشان دہی ان کے ہمسایوں نے کی ہے۔ عبدالسلام کی بیوی بشریٰ اپنے بیٹے کو ہمیشہ بھڑکاتی اور اکساتی رہتی تھی۔ سیالکوٹ کے حالیہ المناک واقعہ سے چند روز پہلے ایک قادیانی کمانڈو اور سابقہ فوجی ملک نصیر احمد نے ربوہ میں محمدیہ مسجد کے امام اور مبلغ پر اسی انداز میں حملہ کیا۔ سیالکوٹ اور ربوہ دونوں قاتلانہ حملوں کا ”انداز واردات“ ایک جیسا ہے۔ دونوں ملزمان بیرون ملک سے تربیت یافتہ ہیں۔ دونوں بھائیوں کا قاتل مبشر احمد طاہر بھی بیرون ملک سے ٹریننگ لے کر آیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جوڈو کراٹے کا بھی ماہر ہے۔ دوران واردات بھی اس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ حکومتی تفتیشی اداروں نے انتہائی سردمہری اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ اس شدید ناکامی کا اثر یہ ہوا کہ ساہیوال اور سکھر میں قادیانیوں نے کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا۔ مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپایا گیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ ش ۳۲/ ۳۳، مورخہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء)
وکلاء کے اعزاز میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے عصرانہ سے مولانا انوارالحق اور دیگر مقررین کا خطاب
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے نائب امیر جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا قاری انوارالحق حقانی نے مجلس کی طرف سے وکلاء کے اعزاز میں دیئے جانے والے عصرانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت دین کی اساس ہے اور دین کی پوری عمارت عقیدہ ختم نبوت پر کھڑی ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے۔ مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جائے کہ جب مسیلمہ کذاب نے دعویٰ نبوت کیا تو اس وقت امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا۔ اس جہاد میں بارہ سو صحابہ کرام شہید ہوئے جن میں سات سو حفاظ ، قراء اور عام صحابہ کرام شامل تھے۔ جب کہ حضور نبی کریم ﷺ کے دور میں لڑی جانے والی تمام غزوات میں ۲۵۹ صحابہ شہید ہوئے تھے۔ مولانا انوارالحق حقانی نے کہا کہ انگریز سامراج نے اپنی ضرورت کے لئے قادیانی فتنے کی آبیاری کی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کی حمایت کو عین اسلام قرار دیا اور اطاعت کو واجب قرار دیا اور جہاد کو حرام قرار دیا۔ یہ اقدام اس لئے کیا گیا کہ مسلمان حریت پسند واقع ہوئے تھے۔ وہ انگریزوں کی غلامی کو برداشت نہیں کرتے تھے اور فرنگی سامراج کے خلاف سینہ سپر تھے۔ اس وقت مرزا قادیانی نے حرمت جہاد کا فتویٰ دیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو غدر قرار دیا۔ قادیانیوں نے ملت اسلامیہ کے خلاف سازشیں کیں اور فرنگی سامراج کے لئے بلاد اسلامیہ میں جاسوسی کی۔ دو قادیانی جاسوسوں کو افغان حکومت نے سزائے موت سنا دی۔ روس میں تبلیغ کے نام پر داخل ہونے والے قادیانی محمد امین کو گرفتار کر لیا۔ ہٹلر نے اپنے ایک وزیر کی اس لئے سرزنش کی کہ وہ قادیانی جماعت کے استقبالئے میں شریک ہوا تھا۔ مولانا انوارالحق حقانی نے کہا کہ قادیانی مذہبی جماعت نہیں ایک سیاسی گروہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قیام پاکستان کے بعد بدقسمتی سے ظفر اللہ خان قادیانی وزیر خارجہ بن گیا جس نے اپنے منصب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا بھر میں سفارت خانوں کے ذریعے قادیانیوں کو پھیلا دیا۔ ملت اسلامیہ نے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خان لیاقت علی خان راولپنڈی کے جلسہ میں ظفر اللہ خان قادیانی کو برطرف کرنے کا اعلان کرنے والے تھے کہ انہیں شہید کر دیا گیا۔ اصل قاتل قادیانی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ اس سے قبل مہمان خصوصی جاوید محمود غزنوی نے کہا کہ یہ ان کا فرض تھا جو انہوں نے نبھایا ہے۔ ہر مسلمان کو نبی کریم ﷺ سے محبت وعقیدت ہے۔ میں نے کسی پر احسان نہیں کیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ انہوں نے دوسرے وکلاء اور مجلس کے عہدیداروں کے تعاون اور جذبۂ خدمت کو بھی سراہا۔ چوہدری اعجاز یوسف ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہوں نے بحیثیت مسلمان اپنا فرض ادا کیا ہے۔ ان شاء اللہ وہ ہمیشہ ناموس رسالت ﷺ کے لئے اپنی خدمات وقف رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو قانونی طور پر کہیں بھی مسلمان تصور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مختلف قادیانیوں کے مقدمات کی تفصیل بیان کی۔ اس سے قبل مولانا نذیر احمد تونسوی نے قادیانیوں کے خدوخال، سیاسی عزائم اور مکروہ چالوں پر روشنی ڈالی۔ استقبالیہ میں ممتاز وکلاء جن میں عبدالصمد ڈوگر، حاجی خورشید اقبال، محسن راہی، چوہدری اصغر علی، سرور جاوید، عبدالصمد، سینیٹر عبدالرحیم میر دادخیل، شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی، مولانا آغا محمد، مولانا عبدالواسع، مولانا عبدالحق حقانی، چوہدری محمد حسین، ڈاکٹر نور محمد کاکڑ، عنایت اللہ بازئی، مولانا فضل الٰہی قریشی، مولانا محمد رمضان، حاجی سید شاہ محمد، حاجی اختر محمد، حاجی سید سیف اللہ، حاجی عبدالحنان، سید کمال شاہ اور دوسرے علماء کرام اور معززین شہر شامل تھے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰، مورخہ ۳/جولائی ۱۹۸۷ء)
عدالت نے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے والے قادیانیوں کی سزاؤں کے خلاف اپیل مسترد کر دی اور سزا پر عملدرآمد کا حکم
کوئٹہ ایڈیشنل سیشن جج جناب جمیل خان شیروانی نے کلمہ طیبہ کے بیج لگانے پر پانچ قادیانیوں ظہیر الدین، رفیع احمد، عبدالماجد، عبدالرحمٰن اور چوہدری محمد حیات کو مختلف مدت کی قید اور جرمانوں کی سزاؤں کے خلاف اپیل مسترد کر کے زیر ضمانت مجرموں کی گرفتاری اور سزا پر عملدرآمد کا حکم دے دیا۔ ان قادیانیوں کو گزشتہ سال سٹی مجسٹریٹ رحیم شاہ عبداللہ کی عدالت دفعہ ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان کے تحت کلمہ طیبہ کا بیج لگانے پر مختلف المیعاد قید اور جرمانہ کی سزا سنائیں۔ جس پر ملزم ظہیر الدین، رفیع، عبدالماجد، عبدالرحمٰن اور چوہدری محمد حیات نے ایڈیشنل سیشن جج جناب جمیل احمد خان شیروانی کی عدالت میں سٹی مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ عدالت نے گیارہ ماہ تک اپیل کی سماعت کی۔ مسلمانوں اور قادیانیوں کے وکلاء نے عدالتوں میں دلائل دیئے۔ عدالت نے منگل کی صبح مقدمہ کا فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر عدالت سے باہر مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں، علماء کرام اور عوام کا بہت بڑا ہجوم تھا۔ عدالت نے کمرۂ عدالت سے تمام افراد کو باہر نکال دیا اور دس صفحات پر مشتمل فیصلہ تفصیلی طور پر سنایا۔
عدالت نے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے پر پانچ ملزموں ظہیر الدین ولد عطاء الرحمٰن، رفیع احمد ولد ظفر احمد، عبدالماجد ولد عبدالسلام، عبدالرحمٰن ولد عبداللہ اور چوہدری محمد حیات ولد چوہدری اللہ بخش کی مختلف المیعاد قید اور جرمانوں کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں مسترد کر کے زیر دفعہ ۲۹۸-سی زیر ضمانت مجرموں کی گرفتاری اور سزاؤں پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔ فاضل جج نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ مقننہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے چکی ہے اور ملزموں کی طرف سے کلمہ طیبہ کے بیج لگانا اس امر کے مترادف ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ اس طرح انہوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا جو زیر دفعہ ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان کے تحت مستوجب سزا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو اپنے آپ کو احمدی یا کچھ اور کہلاتے ہیں) کا کوئی شخص جو کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کہے یا بتائے یا دوسروں کو یہ عقیدہ قبول کرنے کی اپنے الفاظ یا تحریر سے دعوت دے یا کسی بھی طرح مسلمانوں کے دینی احساسات کو مجروح کرے۔ اسے تین سال تک قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔ عدالت نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذکورہ ملزموں کی اپیل کو مسترد کر دیا اور سٹی مجسٹریٹ رحیم شاہ عبداللہ زئی کی طرف سے ملزم مظہر الدین ، رفیع احمد ، عبدالماجد اور عبدالرحمن کو زیر دفعہ ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان ایک ایک سال قید بامشقت اور ایک ایک ہزار روپیہ جرمانہ ، عدم ادائیگی جرمانہ مزید ایک ایک ماہ قید بھگتنے کی سزا اور ملزم محمد حیات کو تا برخاست عدالت قید اور تین ہزار روپے جرمانہ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں تین ماہ قید سخت بھگتنے کی سزا سنائی تھی ۔ ایڈیشنل سیشن جج نے اپیلیں مسترد کر کے ان سزاؤں کو برقرار رکھا اور ملزموں کو جیل بھیج دیا ۔ قادیانیوں کی طرف سے احسان الحق ، خالد ملک اور زاہد ملک نے پیروی کی ۔ جب کہ سرکار کی طرف سے ڈسٹرکٹ اٹارنی جاوید غزنوی نے اور مسلمانوں کی طرف سے چوہدری اعجاز یوسف ، حاجی خورشید اقبال ، ملک سکندر خان ، چوہدری اصغر علی میر اورنگزیب ، سرور جاوید ، محمد سرور زاہد مقیم انصاری ، مرزا حسین ، راجہ رب نواز ، حسن راہی ، شوکت رضوی اور متعدد دوسرے وکلاء نے پیروی کی ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰ ، ۲۱ ، مورخہ ۳ / جولائی ۱۹۸۷ء)
اذان دینے پر قادیانی کو سال قید
بدو ملہی ( نامہ نگار ) سول جج دفعہ ۳۰ نارووال راؤ سلطان علی طاہر نے بدو ملہی کے ایک قادیانی نوجوان مسعود بٹ کو دو سال قید اور دو ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی ہے ۔ مسعود احمد بٹ نے ایک سال قبل امتناع قادیانی آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اذان دی تھی ۔ جس پر جمعیتہ شبان اہل حدیث ، بدو ملہی کے صدر اختر اقبال تبسم کی تحریری درخواست ، مقدمہ دائر کر کے گرفتار کر لیا گیا تھا ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱ ، مورخہ ۳ / جولائی ۱۹۸۷ء)
ٹنڈو غلام علی میں قادیانی کی شراب فروشی
ٹنڈو غلام علی ( نامہ نگار ) ۲۶ / اگست ۱۹۸۷ء کو ٹاؤن کمیٹی ٹنڈو غلام علی کے شہریوں کی ایک کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں شہر کے معزز افراد اور کونسلر ، اخباری نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس اسسٹنٹ کمشنر ماتلی نے طلب کیا تھا اور شہر کے حالات کے بارے میں یہ اجلاس تھا ۔ اسسٹنٹ کمشنر نے تمام شہریوں سے شہر کے حالات کے بارے میں پوچھا اور اس پر عملدرآمد کا حکم دیا ۔ جس میں مولوی محمد یعقوب ہزاروی رہنما مجلس تحفظ ختم نبوت نے اے سی صاحب سے گزارش کی کہ قادیانی قدیر سرعام شراب فروخت کرتا ہے ۔ اسی وجہ سے اپنا کام چلا رہا ہے ۔ اے سی نے ایس ایچ او ٹنڈو غلام علی کو حکم دیا کہ قدیر کو جلدی بلا کر لاؤ ۔ ایس ایچ او نے کہا کہ میں سختی سے عملدرآمد کراؤں گا ۔ لیکن اس کے باوجود عمل نہیں ہوا ۔ پھر ۲۲ / ستمبر کو محمد یعقوب نے اعلیٰ افسروں کو درخواست روانہ کی ۔ مگر ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۸ ، مورخہ ۲۷ / نومبر تا ۳ / دسمبر ۱۹۸۷ء)
صدر پاکستان ، سفیر پاکستان اور وزارت خارجہ کے نام جناب عبدالرحمن یعقوب باوا کا مکتوب
عزت مآب جناب شہریار محمد خان سفیر پاکستان ، لندن
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہو گا
عرض ہے کہ اخبار جنگ مورخہ ۲۶ / اکتوبر ۱۹۸۷ء بروز پیر کو صفحہ اول پر ایک تصویر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ نے شہزادی الیگزینڈرا کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا ہے ۔ اس عشائیہ میں ڈاکٹر عبدالسلام بھی مدعو تھے ۔ ڈاکٹر عبدالسلام کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے اور وہ ان کا بین الاقوامی لیڈر ہے ۔ قادیانی اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں ۔ انسانی حقوق کے کمیشن میں پاکستان کے خلاف درخواست دے رکھی ہے ۔ پاکستان کے لئے امریکی امداد معطل کرانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ۱۴۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت کے خلاف مسلمانان پاکستان کے دلوں میں نفرت کے جو جذبات پائے جاتے ہیں شاید اس سے آپ واقف نہ ہوں۔ حال ہی میں (۲۰؍ستمبر ۱۹۸۷ء) کو ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں ایک اہم قرارداد ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں بھی ہے۔ قراردادوں کی ایک کاپی خط کے ہمراہ شامل ہے۔ آپ نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو اس پارٹی میں مدعو کر کے مسلمانان پاکستان کے جذبات مجروح کئے ہیں۔ ہم اعزاز واکرام کئے جانے پر مسلمانان پاکستان کی طرف سے اظہار افسوس کرنے کے علاوہ سخت احتجاج کرتے ہیں کہ آئندہ ہرگز کسی ایسی پارٹی میں اسے مدعو نہ کیا جائے۔
کاپی برائے: عبدالرحمن یعقوب باوا
- ......۱ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق (راولپنڈی) ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (کراچی)
- ......۲ وزارت خارجہ (اسلام آباد) ایڈیٹر ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل
- ......۳ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (ملتان) مینجنگ ڈائریکٹر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ لندن
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۰، مورخہ ۴؍دسمبر تا ۱۰؍دسمبر ۱۹۸۷ء)
برطانیہ کی لیبر پارٹی کے ایم. پی نے قادیانی جلسے کی صدارت سے انکار کر دیا
- ......۱ گلاسکو میں ۲۹؍نومبر ۱۹۸۷ء بروز اتوار کو سٹی سینٹر کے قریب ایک ہوٹل میں قادیانیوں نے ایک جلسہ کا انتظام کیا تھا اور بہت سے
دعوت نامے جاری کئے۔ جس میں ہندوؤں،سکھوں،یہودیوں کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا تھا اور اس جلسے میں گلاسکو کی لیبر پارٹی علاقہ ہل ہیڈ کے ایم. پی مسٹر جارج کو صدارت کے لئے بلایا گیا تھا۔ قادیانیوں نے جس ہوشیاری کے ساتھ دعوت نامے جاری کئے تھے۔ ان کو دیکھ کر لوگ دھوکے میں پڑگئے۔ کیونکہ قادیانیوں نے ”احمدیہ جماعت مسلم“ کا نام استعمال کیا تھا۔ جب اس بات کی خبر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء کو ہوئی تو وہ حرکت میں آگئے۔ انہوں نے جلسے کی صدارت کرنے والے لیبر پارٹی کے ایم. پی مسٹر جارج سے رابطہ قائم کر کے ان کو قادیانیوں کے بارے میں معلومات مہیا کرتے ہوئے بتایا کہ قادیانی گروہ مسلمان نہیں ہے اور انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ۱۹۷۴ء میں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کو مسلمانوں کا نام استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ لیبر پارٹی کے ایم. پی نے قادیانیوں کے جلسے کی صدارت سے انکار کر دیا۔ لیبر پارٹی کے ایم. پی کو اس بات سے بہت دکھ ہوا کہ قادیانیوں نے اس کا نام غلط استعمال کر کے شہرت حاصل کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ دریں اثناء ۲۷؍نومبر ۱۹۸۷ء جمعتہ المبارک کی شام کو لیبر پارٹی کے ایم. پی نے گلاسکو کی سنٹرل جامع مسجد کے کمیونٹی ہال میں گلاسکو کی تمام مساجد کے نمائندوں اور پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ”سب سے پہلے میں آپ لوگوں سے بہت معذرت خواہ ہوں کہ میرا نام قادیانیوں نے اپنے دعوت نامے میں صدارت کے لئے استعمال کیا اور مجھے دھوکے میں رکھا۔ جب مجھے ان قادیانیوں کی حقیقت معلوم ہوئی تو مجھے بہت صدمہ ہوا کہ جب ان لوگوں کو پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور پھر پوری دنیا کے مسلمان ان قادیانیوں کو کافر سمجھتے ہیں تو پھر یہ اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہتے ہیں اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کو کیوں دھوکہ دے رہے ہیں۔ لیبر پارٹی کے ایم. پی نے گلاسکو میں مقیم پاکستانیوں کو پورا پورا یقین دلایا ہے کہ آئندہ وہ قادیانیوں کے جھانسے میں بالکل نہیں آئیں گے اور وہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں گے۔ لیبر پارٹی کے ایم. پی نے اپنی تقریر کے آخر میں پاکستان کے ایک نوجوان سماجی کارکن اور گلاسکو کے ممتاز تاجر جناب چوہدری محمد سرور صاحب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی معلومات میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اضافہ کر کے ان کو ایک بہت بڑے فتنے سے بچالیا۔ ورنہ مسلمانوں کے جذبات بہت مجروح ہوتے ۔‘‘
- ۲...... گزشتہ دنوں جب گلاسکو کے قادیانیوں نے سٹی سینٹر ہوٹل میں اپنا جلسہ کرنا چاہا تو پولیس نے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے
ہوئے جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ چنانچہ قادیانیوں نے گلاسکو میں اپنا مرکز جو گلاسکو آرڈ گیلری کے بالکل نزدیک ارگائل اسٹریٹ پر واقع ہے جلسہ کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام کو اطلاع ملی تو مجاہد ختم نبوت جناب حاجی محمد صادق صاحب جو گلاسکو کے ممتاز تاجر بھی ہیں۔ ان کے علاوہ جناب محترم شیخ عبدالغنی، حافظ طاہر منصور، جناب اعجاز تسلیم، جناب عمران صاحبان کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں پاکستانی اور عربی مسلمانوں نے قادیانیوں کے مرکز کے سامنے زبردست مظاہرہ کیا۔ نعرۂ تکبیر ، تحفظ ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعرے گونج رہے تھے۔ قادیانی اس قدر گھبرا گئے کہ انہیں پولیس کا سہارا لینا پڑا۔ گلاسکو کا یہ کامیاب ترین مظاہرہ تھا جس کا قادیانی تصور بھی نہیں کرتے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مجاہدوں نے نماز مغرب قادیانیوں کے مرکز کے سامنے فٹ پاتھ پر پڑھی۔ مجاہدین ختم نبوت نے تین گھنٹے تک سرد موسم میں قادیانیوں کے مرکز کے سامنے اپنے جذبۂ ایمان کا پورا پورا ثبوت دیا اور مسلمہ پنجاب کے خلاف اپنے جذبات کا مظاہرہ کیا اور گلاسکو کے قادیانیوں پر یہ ثابت کر دیا کہ مسیلمہ پنجاب کو برطانیہ میں بے نقاب کر کے لوگوں کو ان کی اصلیت سے آگاہ کرتے رہیں گے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں جو خود کو تو مسلمان سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ ایسے گروہ کی سرکوبی کرنا اور مؤثر طریقے کے ساتھ اس گروہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا جہاد ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مؤرخہ ۱۵ تا ۲۱ / جنوری ۱۹۸۸ء)
ہائیکورٹ کوئٹہ کا فیصلہ
قادیانیوں نے کوئٹہ میں کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ۔ ان پر مقدمات قائم ہوئے ۔ مقامی عدالتوں نے ان کے خلاف فیصلے صادر کئے ۔ انہوں نے ہائیکورٹ کوئٹہ میں اپیل دائر کی ۔ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۸۷ء ان کے خلاف ہائیکورٹ کوئٹہ کے جسٹس امیر الملک مینگل نے فیصلہ دیا ۔ اس مقدمہ کی تفصیلات جناب فیاض سجاد نے قلمبند کیں ۔ اس کی تفصیل ملاحظہ ہو ۔ پھر فیصلہ پڑھیں :
حدیث دل : نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم. اما بعد ! اللہ رب العزت کی طرف سے آخری نور، محمدی نبوت کا ظہور تھا۔ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر اللہ رب العزت نے رحمت دو عالم ﷺ کی ذات بابرکات پر سلسلہ نبوت ورسالت کے ختم کئے جانے کا اعلان کیا۔ آنحضرت ﷺ نے اسلام میں جن فتنوں کے ابھرنے اور امت کے ابتلائے آزمائش ہونے کی خبر دی تھی، ان سنگین فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ جھوٹے مدعیان نبوت کا فتنہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد تیس دجال وکذاب پیدا ہوں گے۔ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
خاتم الانبیاء ﷺ کے فرمان کے مطابق امت مسلمہ ہمیشہ جھوٹے مدعیان نبوت اور منکرین ختم نبوت کے فتنہ کے خلاف برسرپیکار رہی ۔ کوئی اسلامی صدی اس فتنے کے وجود اور مسلمانوں کے اس کے ساتھ ابتلائے آزمائش کے دور سے خالی نہیں ۔ ہر مسلمان حکومت نے ان جھوٹے مدعیان نبوت کا ، بجرم ارتداد علاج ، تلوار سے کیا اور اسلام کے پاکیزہ ماحول کو مرتدین اور منکرین ختم نبوت کے مہلک جراثیم سے پاک رکھا ۔ صحابہ ؓ نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا اور اس فتنہ کا خاتمہ کیا گیا ۔ اس جنگ میں ۱۲۰۰ صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے ۔ جن میں سات سو صحابی حفاظ قرآن تھے ۔ اسلام کی کسی جنگ اور غزوہ میں اتنی بڑی تعداد میں صحابہ کرام شہید نہیں ہوئے تھے۔ اس سے ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں قادیانیت کا فتنہ ایک ایسا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فتنہ ہے جسے اسلام اور اہل اسلام کے لئے بلاشبہ، خطرناک ترین قرار دیا جاسکتا ہے۔
۱۸۵۰ء میں انگریز، متحدہ ہندوستان پر قابض ہوئے۔ ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔ اس مقدس جہاد میں بہادر شاہ ظفر سے لے کر عام مسلمانوں نے علمائے کرام کی قیادت میں حصہ لیا۔ انگریزوں نے ظلم وستم اور بعض نام نہاد مسلمانوں کے ذریعے متحدہ ہندوستان پر مکمل قبضہ کر کے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے اقدامات شروع کئے۔ ۱۸۶۲ء میں انگریزوں نے لندن سے ایک کمیشن ”ڈبلیو، ڈبلیو ہنٹر“ کی قیادت میں ہندوستان بھیجا، جس نے اپنی رپورٹ تیار کی۔ ۱۸۷۰ء میں وائٹ ہاؤس لندن میں ایک کانفرنس ہوئی، جس میں کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس میں کمیشن کے نمائندوں کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشنری کے پادریوں نے بھی شرکت کی، جنہوں نے علیحدہ علیحدہ رپورٹ پیش کی، جو بعد میں The Arrival of the British Empire in India کے نام سے شائع ہوئی۔ کمیشن ، جس کے سربراہ سر ولیم ہنٹر تھے، نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ: ” مسلمانوں کا مذہبی عقیدہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے اور غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جہاد کے اس تصور سے، مسلمانوں میں جوش اور ولولہ ہے، وہ جہاد کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ ان کی یہ کیفیت کسی بھی وقت ان کو حکومت کے خلاف ابھار سکتی ہے۔“
پادریوں نے اپنی رپورٹ میں کہا: ”یہاں کے باشندوں کی بڑی اکثریت پیری مریدی کے اعتقاد کی حامل ہے۔ اگر ہم اس وقت کسی ایسے غدار کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں جو ظلی نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جائے تو اس کے حلقہ نبوت میں ہزاروں لوگ جوق در جوق شامل ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں اس قسم کے دعویٰ کے لئے کسی کو تیار کرنا ہی بنیادی کام ہے۔ یہ مشکل حل ہو جائے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم اس سے پہلے برصغیر کی حکومتوں کو غدار تلاش کرنے کی حکمت عملی سے شکست دے چکے ہیں، وہ مرحلہ اور تھا۔ اس وقت فوجی نقطہ نظر سے غداروں کی تلاش کی گئی۔ اب جب کہ ہم برصغیر کے چپہ چپہ پر حکمران ہو چکے ہیں، ہر طرف امن وامان بحال ہو گیا ہے، ان حالات میں ہمیں کسی ایسے منصوبے پر عمل کرنا چاہئے جو یہاں کے باشندوں کے داخلی انتشار کا باعث ہو۔“ (اقتباس از مطبوعہ رپورٹ کانفرنس، وائٹ ہاؤس لندن، دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا)
بالآخر انگریزوں نے مرزا قادیانی کو تلاش کر لیا۔ اس نے انگریزوں کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا۔ مسلمانوں نے کسی دور میں کسی جھوٹے مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا۔ چنانچہ اس کے خلاف بھی تحریک کا آغاز ہوا۔ برصغیر میں پوری صدی تک اس فتنے کے خلاف تحریک چلی ، جس میں ہزاروں علمائے کرام نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد دوسرے قادیانی خلیفہ مرزا محمود احمد نے کہا: ”بلوچستان کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے، لیکن تھوڑے آدمیوں کو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں ۔ پس جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لئے یہ عمدہ موقع ہے، اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں ۔ پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنائیں، تا کہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔“
(مرزا محمود احمد کا بیان، اخبار الفضل مورخہ ۱۲/ اگست ۱۹۲۸ء)
فتنہ گر خلیفہ قادیان کے حکم پر قادیانیوں نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر تبلیغی سرگرمیاں شروع کیں، لیکن غیرت اسلامی اور عشق رسول ﷺ سے معمور مسلمانوں نے تبلیغ کرنے پر ایک قادیانی میجر ڈاکٹر محمود کو واصل جہنم کیا اور اس طرح ان کے عزائم خاک میں
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۷ء ۱۴۴ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملا دئیے۔ الحمد للہ! بلوچستان پہلا صوبہ ہے جہاں ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے خلاف فیصلہ کن تحریک شروع ہوئی، جو ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ مسلمانوں کی نوے سالہ جدوجہد کے بعد شہدائے ختم نبوت کی قربانیوں کے نتیجہ میں قادیانیوں کو پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے ۱۹۷۴ء میں متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ آئین میں ترمیم کر دی گئی، لیکن قانون سازی نہ ہوسکی۔ مسلمانوں نے دوبارہ تحریک شروع کی۔ ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا گیا تو مرزا طاہر کی ہدایت پر قادیانیوں نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی شروع کر دی۔ اپنی دوکانوں، مکانوں اور عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ تحریر کرنا شروع کر دیا۔ سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگانے شروع کر دیئے اور آئین پاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خود کو مسلمان کہنا شروع کر دیا۔ لیکن انہیں کیا خبر کہ مسلمان ہمیشہ اپنے آقا ومولا حضور سرور عالم ﷺ کی عزت و ناموس پر مر مٹنے اور اس کی خاطر دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں جنہوں نے فرنگی دور میں کالے قانون کی پروا کئے بغیر گستاخان رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور خود مسکراتے ہوئے تختہ دار پر چڑھ گئے۔ وہ کلمہ طیبہ کی توہین کس طرح برداشت کر سکتے ہیں؟
بلوچستان میں مشرق وسطیٰ کا قبائلی نظام ہے، جس کے اعلیٰ اقدار ہیں۔ قبائلی معاشرہ میں دیندار ماحول ہے۔ اس پر امن صوبے میں قادیانیوں نے مسلمانوں کی دینی حمیت کو للکارا اور کلمہ طیبہ کے بیج لگائے۔ سب سے پہلے ایک قادیانی حیات کو لیاقت بازار میں کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے دیکھ کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک پرعزم کارکن حاجی محمد رفیق بھٹی مرحوم نے مجلس کے مبلغ اور مجاہد ختم نبوت مولانا نذیر احمد تونسوی کو اطلاع دی۔ انہوں نے حیات قادیانی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ سٹی تھانہ کے ایس۔ ایچ۔ او چوہدری محمد شریف نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔ ایک دینی جذبہ سے سرشار پولیس افسر سب انسپکٹر نذیر احمد نے تفتیش کی۔ مولانا نذیر احمد تونسوی نے دو اور قادیانیوں ظہیر الدین اور عبدالرحمن کو بھی پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ دینی حمیت سے سرشار پولیس افسران انسپکٹر حاجی راجہ ارشاد احمد، انسپکٹر شاہنواز وٹو، سب انسپکٹر عبدالعزیز اور سید رفیع اللہ شاہ نے مقدمہ کی احسن طریقے سے پیروی کر کے حق ادا کر دیا۔ پی۔ ڈی۔ ایس۔ پی اور اب ایس۔ پی سردار وریمن حاجی ملک محمد سرور اعوان، پی۔ ڈی۔ ایس۔ پی سید امتیاز شاہ اور پراسیکیوٹنگ انسپکٹر ملک نثار عباس نے مقدموں میں معاونت کی۔ سٹی مجسٹریٹ رحیم شاہ عبداللہ زئی پہلے پاکستانی ہیں، جو سب سے پہلے دشمنان رسول کو سزا دے کر شافع محشر کی شفاعت کے حقدار بن گئے۔ علاوہ ازیں ایڈیشنل سیشن جج جناب سردار نادر خان، جناب چوہدری محمد اسلم مرحوم بھی رحمت دو عالم کی شفاعت کے حق دار بن گئے۔
مولانا نذیر احمد تونسوی نے مقدمات میں وکلاء کی شاندار معاونت کی۔ دینی غیرت وحمیت کے پیش نظر بڑی تعداد میں وکلاء صاحبان نے مقدموں کی پیروی کی۔ اس کا اصل کریڈٹ وکیل ختم نبوت چوہدری اعجاز یوسف، زاہد مقیم انصاری، وکیل سرکار جناب جاوید غزنوی صاحب، اسپیکر بلوچستان اسمبلی ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، ثناء خواں اہل بیت مجاہد ختم نبوت حاجی خورشید اقبال، محسن جاوید راہی، چوہدری اصغر علی گجر، شوکت حسین سرور، جاوید میر، اورنگزیب، جناب مرزا حسن نے بھی پیروی کی۔ عدالت عالیہ کی معاونت سینئر ایڈووکیٹ جناب محمد مقیم انصاری اور جناب بشارت اللہ نے کی۔ اللہ تعالیٰ ان تمام وکلاء اور ان کے معاونین کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ ان کیسوں کے تمام مراحل میں خصوصی توجہ اور محنت، مجلس کے نائب امیر حاجی سید شاہ محمد آغا نے کی۔ وہ مقدمات کی نگرانی کرتے رہے۔ مزید برآں ممتاز علماء کرام، امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد منیر الدین، استاذ العلماء مولانا عبد الغفور، سینیٹر حافظ حسین احمد، مجلس کی مرکزی شوریٰ کے رکن جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا انوار الحق حقانی، جامع مسجد قندہاری کے خطیب مولانا عبد الواحد، حاجی محمد زمان خان اچکزئی، مجاہد ختم نبوت مولانا عبدالحق حقانی مرحوم، مجلس کے سیکرٹری حاجی تاج محمد فیروز، جمعیت کے رہنماء مولانا نور محمد، مولانا حافظ حسین احمد شرودی،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جامع مسجد اینگل روڈ کے خطیب مولانا آغا محمد، حافظ محمد انور مدوخی، حاجی سید سیف اللہ، آغا حاجی عبدالحنان بڑیچ، جامع مسجد کباڑی کے خطیب مولانا عبدالرزاق، چوہدری محمد طفیل احرار، کونسلر سردار صفدر زمان، حاجی نعمت اللہ خان، جناب محمد نعیم ترین، راجہ امجد علی، جناب محمد عارف بھٹی، مجاہد ختم نبوت مولانا عبدالباقی، حاجی عبداللہ خان مینگل، راحت ملک گکے زئی، حاجی عبدالمتین، حاجی ملک مقصود عالم، سید انور شاہ ملک، سعید حسن، قاری عبدالرحمن، مولانا عبدالرحیم رحیمی، مولانا عبداللہ منیر، حاجی محمد نسیم، حاجی فضل قادر شیرانی، مولانا قاضی غلام رسول، ماسٹر گل رحمان توحیدی، قاری محمد شریف، قاری غلام یٰسین، صوفی غلام رسول، مولانا صوفی محمد عالم، محمد اسحاق پرکانی، حاجی محمد عظیم بڑیچ، حاجی خان محمد اور سینکڑوں مسلمان ہر پیشی پر حاضر ہوتے رہے، جن میں سے بہت سے نام یاد نہیں آ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین! مقامی صحافیوں، جنگ کے ایڈیٹر مجید اصغر، روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر مقبول رانا، مشرق کے چیف رپورٹر راؤ محمد اقبال، میزان کے ایڈیٹر جمیل الرحمن، ممتاز صحافی ممتاز ترین، جسارت کے رپورٹر کاظم مینگل، نوائے وقت کے بزرگ صحافی عبدالعزیز بھٹی، مقامی صحافی ایوب ترین نے پیشہ وارانہ فرائض میں اپنی حمیت کا ثبوت دیا۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو۔ خاکپائے مجاہدین ختم نبوت فیاض حسن سجاد (سینئر سٹاف رپورٹر روزنامہ جنگ کوئٹہ)
ہائیکورٹ آف بلوچستان، کوئٹہ کا متن
(ابتدائی معلومات)
فوجداری نگرانی نمبر ۳۸/۸۷
- ❁....... ظہیر الدین ولد عطاء الرحمن، ذات قریشی، سکنہ فلیٹ نمبر ۲۱۔سی، کبیر بلڈنگ، جناح روڈ کوئٹہ۔ اب قیدی، سینٹرل جیل مچھ :سائل
بنام سرکار: ...............................................................................................................مسئول الیہ
فوجداری نگرانی نمبر ۳۹/۸۷
- ❁....... رفیع احمد ولد ظفر احمد، ذات شیخ، سکنہ نہال سنگھ سٹریٹ، کوئٹہ اب قیدی، سینٹرل جیل مچھ :............................ سائل
بنام سرکار: ...............................................................................................................مسئول الیہ
فوجداری نگرانی نمبر ۴۰/۸۷
- ❁....... عبدالمجید ولد عبدالسلام، ذات گکے زئی، سکنہ علی یاور سٹریٹ، توغی روڈ، کوئٹہ اب قیدی، سینٹرل جیل مچھ :.................. سائل
بنام سرکار: ...............................................................................................................مسئول الیہ
فوجداری نگرانی نمبر ۴۱/۸۷
- ❁....... عبدالرحمن خان ولد محمد عبداللہ، ذات گکے زئی سکنہ قائد آباد، کوئٹہ اب قیدی، سینٹرل جیل مچھ :............................ سائل
بنام
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرکار: .................................................................................................... مسئول الیہ فوجداری نگرانی نمبر ۴۲/۸۷ ۞ ...... چوہدری حیات ولد چوہدری اللہ بخش، ذات کشمیری بٹ، سکنہ گوردت سنگھ روڈ، کوئٹہ: ...................... سائل
بنام
سرکار: .................................................................................................... مسئول الیہ
درخواستہائے نگرانی: زیر دفعات ۴۳۹ / ۴۳۵ ضابطہ فوجداری بحکم مورخہ ۱۶/ جون ۱۹۸۷ء از مسٹر جے. کے شیروانی ایڈیشنل سیشن جج درجہ اوّل، کوئٹہ، بدیں وجہ سائل کی اپیل بخلاف حکم سزا دہی مجریہ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر اور مجسٹریٹ درجہ اوّل کوئٹہ کی طرف سے صادر شدہ سزا برقرار رہی اور سائل کی اپیل خارج کر دی گئی۔
۞ ................. ۞ ................. ۞ ................. ۞
تاریخ ہائے سماعت: ۱۹/ستمبر ۱۹۸۷ء ...... ۳/ اکتوبر ۱۹۸۷ء ...... ۴/ اکتوبر ۱۹۸۷ء اور ۵/ اکتوبر ۱۹۸۷ء
سائل: ظہیر الدین ودیگر ان بذریعہ مسٹر مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ ...... مددگار وکلاء: مبارک احمد ، سید علی احمد طارق، خالد ملک، احسان الحق اور مرزا عبدالرشید ایڈووکیٹ صاحبان۔
مسئول الیہ: سرکار، بذریعہ چوہدری محمد اعجاز یوسف ایڈووکیٹ ...... محمد مقیم انصاری اور بشارت اللہ ایڈووکیٹ صاحبان بطور صدیق العدالت۔
فیصلہ
جسٹس امیر الملک مینگل
میں اس واحد فیصلے کے ذریعے مندرجہ ذیل فوجداری نگرانیوں کے تصفیے تجویز کرتا ہوں۔ کیونکہ درخواستیں حقائق اور قانون کے مشترکہ مسئلے پر مبنی ہیں۔
- ۱...... فوجداری نگرانی نمبر ۳۸ (۱۹۸۷ء) ظہیر الدین بنام سرکار۔
- ۲...... فوجداری نگرانی نمبر ۳۹ (۱۹۸۷ء) رفیع احمد بنام سرکار۔
- ۳...... فوجداری نگرانی نمبر ۴۰ (۱۹۸۷ء) عبدالمجید بنام سرکار۔
- ۴...... فوجداری نگرانی نمبر ۴۱ (۱۹۸۷ء) عبدالرحمٰن بنام سرکار۔
- ۵...... فوجداری نگرانی نمبر ۴۲ (۱۹۸۷ء) چوہدری حیات بنام سرکار۔
ان درخواستوں کی بنیاد ان متعلقہ واقعات پر ہے کہ مذکورہ سائلوں کے خلاف مختلف ایف. آئی. آر درج کی گئیں، جن میں ایک ہی طرح کے الزامات ہیں کہ انہوں نے احمدی (قادیانی) ہونے کے باوجود ”کلمہ طیبہ“ کے بیج لگائے۔ چنانچہ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر اور سٹی مجسٹریٹ کوئٹہ کی عدالتوں میں ان کے چالان پیش کئے گئے اور مقدمات کی سماعت ہوئی۔ بعد ازاں ان کا جرم ثابت ہونے پر ضابطہ فوجداری کی ۲۹۸-ج کے تحت فرداً فرداً ہر سائل کو ایک سال قید بامشقت کے علاوہ ایک ہزار روپے فی کس جرمانہ کی سزا سنائی گئی، جس کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ایک ماہ قید بامشقت دی جانی تھی۔
مذکورہ سائلان احمدی (قادیانی) ہیں اور انہوں نے واقعی کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے، سماعت مقدمہ کے دوران اس امر واقعہ سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا۔ ان سائلان نے متعلقہ حکم سزا دہی سے بے اطمینان ہو کر فاضل سیشن جج کوئٹہ کی عدالت میں اپیل کرنے کو ترجیح دی، جنہوں نے اس کو ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ کے پاس منتقل کرنا پسند کیا۔ اپیل کنندگان کی سماعت کے بعد فاضل ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ نے ان اپیلوں کو خارج کرنا پسند کیا۔ دیکھئے : ان کا حکم مؤرخہ ۱۶/ جون ۱۹۸۷ء۔
یہ تمام درخواستیں بمطابق احکام مذکورہ مؤرخہ ۱۰/ جولائی ۱۹۸۶ء صادر کردہ سٹی مجسٹریٹ اور حکم مؤرخہ ۱۶/ جون ۱۹۸۷ء صادر کردہ ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ، داخل دفتر کی گئیں۔
ان سائلان کے فاضل وکیل مسٹر مجیب الرحمن نے بہت سے ایسے قانونی سوالات اٹھائے جو عوامی اہمیت کے حامل تھے، جس پر عدالت نے مسٹر محمد مقیم انصاری اور مسٹر بشارت اللہ ایڈووکیٹ صاحبان کو بطور صدیق العدالت مقرر کیا۔ علاوہ ازیں مسٹر اعجاز یوسف نے بطور سرکاری وکیل بحث میں حصہ لیا۔
مزید کارروائی کے آغاز سے پیشتر یہ مناسب ہو گا کہ ان ابتدائی قانونی اعتراضات کا تصفیہ کر لیا جائے جو سائلوں کے فاضل وکیل مسٹر مجیب الرحمن نے اٹھائے۔ یہ استدلال بڑا زور دے کر پیش کیا گیا کہ چونکہ اپیل کنندگان کی طرف سے دائر کردہ پانچ مختلف اپیلوں کا ایک مشترک فیصلے سے تصفیہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا فاضل عدالت مرافعہ نے ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۳۶۷ بشمول دفعہ ۴۲۴ کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قانونی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ فاضل وکیل نے ”ہر ایک سماعت مقدمہ“ کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے، جو دفعہ ۳۶۶ ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان میں استعمال ہوئے، اظہار رائے کیا کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت مختلف عدالتی فیصلوں کی یکجائی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حلفاً بیان کیا گیا کہ اگر ایک مشترکہ عدالتی فیصلہ تحریر کیا جائے تو اس صورت میں بھی ضروری ہے کہ متعلقہ جج انفرادی طور پر ہر ملزم کے مقدمے کو الگ الگ زیر بحث لائے اور ان کے ریکارڈ پر موجود متعلقہ مواد کا حوالہ بھی دیا جائے۔ علاوہ ازیں یہ حجت بھی پیش کی گئی کہ اگر کوئی جج فرداً فرداً ہر ملزم کی شہادت کو الگ الگ اور امتیازی طور پر زیر بحث لائے بغیر اور ہر ایک ملزم سے متعلقہ شہادت کا انفرادی حوالہ دیئے بغیر کوئی مشترکہ عدالتی فیصلہ صادر کرتا ہے تو وہ غیر صحیح ہو جاتا ہے اور یوں ان احکام کے ساتھ منسوخ کر دیئے جانے کا مستوجب ہوتا ہے کہ ماتحت عدالت از سر نو تحقیقات کر کے اس مقدمے کو دوبارہ تحریر کرے۔ مندرجہ ذیل مقدمات کے حوالہ جات پیش کئے گئے:
- ۱...... راجہ محمد بنام سرکار بمطابق رپورٹ پی۔ ایل۔ ڈی ۱۹۶۵ء کراچی صفحہ ۶۳۷۔ اس مقدمے میں یہ بات ملحوظ رکھی گئی کہ دو مقابل
مقدموں کا ایک عدالتی فیصلے سے تصفیہ غیر قانونی نہیں ہے۔ تاہم یہ احتیاط ضروری ہے کہ ہر مقدمے کو ریکارڈ پر موجود مواد کے پیش نظر علیحدہ طور پر نمٹایا جائے اور اس میں دوسرے مقدمے کے ریکارڈ اور مواد کا حوالہ نہ دیا جائے۔
- ۲...... مقدمہ گل شیر بنام سرکار بمطابق رپورٹ پی۔ ایل۔ ڈی ۱۹۶۳ء کراچی ص ۵۹۸، جن میں یہ قرار دیا گیا کہ جب دو اپیلوں کی یکجا
سماعت کی جاتی ہے تو ہر اپیل کنندہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اس کے مقدمے کو علیحدہ اور انفرادی طور پر زیر غور لایا جائے۔
- ۳...... طاہر بنام سرکار، بمطابق رپورٹ پاکستان کریمنل لاء جرنل ۱۹۶۸ء ص ۲۶۵، جس میں اس بات کو ملحوظ رکھا گیا کہ اگر عدالت
مرافعہ کے فیصلے میں نہ مقدمے کے واقعات بیان ہوں، نہ عدالتی فیصلے کے تجویزی نکات درج ہوں اور نہ شہادت کو زیر بحث لایا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیا ہو، تو اس اپیل کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا بتقاضائے قانون تصفیہ ہوا ہے۔
- ۴...... ایک اور حوالہ بابت مقدمہ سید عبدالوحید بنام سرکار، بمطابق رپورٹ پاکستان کریمنل لاء جرنل ۱۹۶۸ء ص ۷۷۶، یہ ظاہر کرتا ہے کہ عدالت مرافعہ نے چھ مختلف اپیلوں کو نمٹاتے ہوئے ”ہر جگہ لاگو‘ قسم کا فیصلہ (Omnibus Judgment) صادر کیا تو کہا گیا کہ اس طرح ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کی متعلقہ شرائط کی تعمیل نہیں کی گئی اور مقدمہ ماتحت عدالت کو بھجوایا گیا تاکہ ہر معاملے کی انفرادی شہادت کے مطابق ازسرنو سماعت مقدمہ کے بعد علیحدہ علیحدہ فیصلہ صادر کیا جائے۔
- ۵...... اور آخر میں مقدمہ کالوپاری بنام سرکار، بمطابق رپورٹ پی.ایل.ڈی ۱۹۵۸ء ڈھاکہ ص ۵۴۹ کا سہارا لیا گیا، جس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ آخری عدالت مرافعہ بربنائے واقعات اپنے عدالتی فیصلے میں کم از کم اتنی توضیح تو کرے جس سے معلوم ہو کہ متعلقہ شہادت کے مطابق غور و خوض کے بعد فیصلہ ہوا ہے اور جس سے کم از کم عدالت نگرانی کو یہ فیصلے کرنے میں سہولت ہو کہ آیا سماعت مقدمہ میں شہادت کو مناسب حد تک جانچنے پرکھنے کا عمل بروئے کار آیا تھا یا آتا رہا ہے اور یہ کہ آیا وہ تمام نکات جن پر فیصلہ صادر ہونا تھا، آخری عدالت مرافعہ بربنائے واقعات کے زیر بحث آچکے ہیں۔
متذکرہ بالا تمام عدالتی فیصلوں کے مطالعے، اور دفعہ ۴۲۴ ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کے جائزے سے اس بات کا لحاظ کیا جاسکتا ہے کہ عدالت مرافعہ کا فیصلہ ایسا ہونا چاہئے جو ریکارڈ پر موجود متعلقہ مواد سے سروکار رکھتا ہو اور اس میں وہ دلائل بھی شامل ہوں جن کی بناء پر فرداً فرداً ہر ملزم کے متعلق اختتامی فیصلہ کرتے وقت نتائج اخذ کئے گئے ہوں۔ اس کا ایک اور مقصد یہ نظر آتا ہے کہ عدالت مرافعہ کا فیصلہ ایسا ہو کہ ہائیکورٹ بوقت نگرانی متعلقہ ریکارڈ سے رجوع کئے بغیر مقدمے کی نوعیت کو پوری طرح سمجھنے کے قابل ہو سکے۔ اگر کوئی عدالتی فیصلہ ریکارڈ کے مواد سے مناسبت رکھتا ہو اور اس میں قانون کی متعلقہ دفعات پر بحث و تمحیص کا احاطہ کرتے ہوئے وہ دلائل بھی بیان ہوں، جن کی بناء پر نتائج اخذ کئے گئے تو ایسے فیصلے کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ دفعہ ۴۲۴ ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کی خلاف ورزی کر کے صادر کیا گیا ہے۔
محولہ بالا تمام مقدمات کے ملحوظات کا موجودہ مقدمے پر اطلاق کرتے ہوئے یہ نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ فاضل عدالت مرافعہ نے اس مقدمے کے قانونی اور واقعاتی پہلوؤں کو بالکل مدنظر رکھا ہے۔ چونکہ تمام سائلوں نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے احمدی ہوتے ہوئے کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے۔ لہٰذا اس نکتے کا تعین ہونا تھا کہ آیا انہوں نے دفعہ ۲۹۸-ج تعزیرات پاکستان کے مفہوم کے مطابق جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔ یہ نکتہ ان تمام اپیلوں میں مشترکہ تھا۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے مشترک عدالتی فیصلے سے مذکورہ اپیل کنندگان کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعصب برتا گیا، یا یہ کہ فاضل عدالت مرافعہ ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کی دفعات ۳۶۷ اور ۴۲۴ کی مطلوبہ شرائط کی پابندی کرنے میں ناکام رہی۔ میں نے عدالت مرافعہ کے عدالتی فیصلے کو ان دلائل کی روشنی میں بغور پڑھا ہے، جو سائلان کے فاضل وکیل نے پیش کئے اور مجھے یہ باور کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ اس فیصلے میں ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۴۲۴ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے جرم کی نوعیت یکساں ہے۔ یعنی ہر سائل نے احمدی ہونے کے باوجود کلمہ طیبہ کا بیج لگایا ہوا تھا۔ لہٰذا شہادت پر بحث و تمحیص کے استصواب کا موقع نہ تھا، جیسا کہ استغاثہ نے رہنمائی کی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابتدائی سماعت مقدمہ میں تمام سائلوں نے متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے یہ بات تسلیم کی تھی کہ احمدی ہیں اور انہوں نے واقعی کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے۔ ان سب کا ایک ہی مشترکہ مؤقف تھا کہ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے درحقیقت کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ چونکہ ان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پانچوں درخواستوں میں فیصلے کا تعین کرنے کا یہی نکتہ تھا کہ آیا احمدیوں کے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کا فعل دفعہ ۲۹۸-ج تعزیرات پاکستان کے دائرہ نظر میں جرم قرار پاتا ہے یا نہیں۔ لہٰذا ان سب کے لئے ایک مشترکہ عدالتی فیصلہ کسی قانونی کمزوری کا حامل نہیں ہوا۔ مزید برآں کسی بھی سائل کے ساتھ بے انصافی نہیں کی گئی۔ لہٰذا مجھے اس ابتدائی قانونی عذرداری پر مذکورہ عدالتی فیصلے کو خارج کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔
بعدازاں مسٹر مجیب الرحمن نے ایک اور حجت پیش کی کہ چونکہ سائلوں پر لگایا جانے والا الزام ناقص تھا، لہٰذا ان کے لئے سزا دہی کا حکم جائز نہیں ہے۔ فاضل وکیل کے بموجب مجسٹریٹ نے فرد جرم لگاتے وقت ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کے باب XIX، اور خصوصاً دفعہ ۲۲۳ کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ فاضل وکیل نے یہ ادعا بھی کیا کہ سائلوں کو جو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی، وہ دفعہ ۳۴۲ ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کے تحت ان سے پوچھے گئے سوالات سے مختلف تھی۔ نزاع اس بات پر تھا کہ سائلوں سے ان کے بیانات قلمبند کرتے ہوئے زیر دفعہ ۳۴۲ فوجداری تعزیرات پاکستان، جس طرح کے سوالات کئے گئے، وہ ان سے نہیں پوچھے جا سکتے تھے، تاوقتیکہ پہلے فرد جرم میں اس کے مطابق ترمیم کر لی جاتی۔ متذکرہ بالا نزاع کو جانچنے کے لئے بہتر ہوگا کہ سائلوں کے خلاف فرد جرم کو یہاں پیش کر دیا جائے، جو اس طرح سے تھی: ”تم پر یہ الزام ہے کہ تم نے قادیانی / لاہوری (مرزائی) ہوتے ہوئے کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر زیر دفعہ ۲۹۸-ج تعزیرات پاکستان کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیا تم جرم سے انکار کرتے ہو یا اقرار کرتے ہو؟“
سائلوں سے زیر دفعہ ۳۴۲ ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان جو متعلقہ سوال کیا گیا، وہ یوں تھا:
س ...... ”کیا یہ درست ہے کہ تم نے کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر قادیانی ہونے کے ناطے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔ اس لئے تم نے جرم ۲۹۸-ج تعزیرات پاکستان کا ارتکاب کیا ہے؟“
مسٹر مجیب الرحمن نے خاصے زوردار لہجے میں اصرار کیا کہ ملزمان/ سائلان سے زیر دفعہ ۳۴۲ فوجداری تعزیرات پاکستان دریافت کردہ سوال، اور فرد جرم کی عبارت میں صریحاً تناقضات پائے جاتے ہیں۔ فاضل وکیل کے بموجب جواب دہی کے مرحلے میں یہ بات سائلوں سے خالص تعصب برتنے کا باعث بنی، درآنحالیکہ ان کی غلط رہنمائی کی گئی۔
ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کی اس دفعہ کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد، جو ملزم پر فرد جرم لگانے سے تعلق رکھتی ہے، اس کا ناقابل تردید نتیجہ یہ نکلے گا کہ فرد جرم سنانے کا محض یہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ جس شخص کو ملزم قرار دیا جائے، وہ اپنے اوپر عائد شدہ ان الزامات کو بخوبی جاننے کے قابل ہو جائے، جن کا اسے سامنا کرنا پڑے گا اور جن کے لئے اسے شہادت لیتے وقت تیار رہنا چاہئے۔ اس سیاق و سباق میں قانونی ضرورت یہ ہوگی کہ ملزم کو اس جرم کے کوائف مع واقعاتی درستی اور تیقن کے مہیا کر دیئے جائیں، جس کا اس پر الزام ہو۔ اگر ملزم ان الزامات سے بخوبی واقف ہو جائے جو استغاثہ اس کے خلاف ثابت کرنا چاہتا ہے، اور وہ اس اصلی فرد جرم کو بھی جان لے، جس کا اسے سامنا کرنا ہے، تو ملزم پر متعلقہ فرد جرم عائد کرنے کا مقصد بالکل پورا ہو جائے گا۔
مقدمہ سردار گیان سنگھ بنام شہنشاہ بمطابق رپورٹ اے.آئی.آر ۱۹۳۸ء لاہور ص ۸۲۸ اور مقدمہ محمد احسان خان بنام سرکار بمطابق رپورٹ ۱۹۶۸ء پاکستان کریمنل لاء جرنل ص ۷۵۹ پر انحصار کرتے ہوئے فاضل وکیل نے دلیل پیش کی کہ ملزم پر فرد جرم لگاتے وقت اسے یہ بھی خاص طور پر بتانا لازمی ہے کہ اس نے جرم کا ارتکاب کس ”طریقے“ سے کیا۔ میں نے مذکورہ بالا دو عدالتی فیصلوں کو بغور مطالعہ کیا ہے۔ اتفاق سے ان دونوں کا تعلق جرم فریب دہی سے ہے اور ان دونوں متذکرہ مقدموں میں اس قانونی ضرورت کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۲۳ میں استعمال ہونے والا لفظ ”طریقہ“ (بمعنی انداز) جرم فریب دہی کے حوالے سے ہر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس جزو ترکیبی کو شامل کرتا ہے جس کی بدولت وہ عمل محض ایک غیر فوجداری دھوکہ (بمعنی دغا یا مغالطہ دہی) بن کر منقطع یا ختم ہو جاتا ہے اور دفعہ ۴۱۵ تعزیرات پاکستان کے مفہوم میں فریب دہی کا جرم بن جاتا ہے، اور یوں اس کا شکار ہونے والے کے جسم، ذہن، شہرت یا جائیداد پر اس دھوکے کی اثر پذیری اس جرم فریب دہی کے طریقے کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔
اس مقدمے کے واقعات کو متذکرہ بالا مقدمات میں کئے گئے مشاہدات کی روشنی میں جانچتے ہوئے اور ضابطہ فوجداری تعزیرات پاکستان میں محفوظ دفعات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے میں نے یہی رائے قائم کی ہے کہ سائلوں پر فرد جرم بالکل مناسب طور پر عائد کی گئی ہے اور صفائی پیش کرنے کے مرحلے میں سائلوں کو کسی بھی انداز سے گمراہ نہیں کیا گیا۔ دفعہ ۳۴۲ فوجداری تعزیرات پاکستان کے تحت جو سوالات پوچھے گئے، ان میں خفیف سی تبدیلی سے سائلوں کو اپنی صفائی پیش کرنے میں کسی بھی طرح کی معذوری نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس طرح پوچھے گئے سوالات لب لباب کے لحاظ سے باہم مماثل تھے اور دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان کے اجزائے ترکیبی پر محیط تھے۔ سائلوں کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج کے تحت عائد شدہ فرد جرم کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سب نے ایک مشترکہ عذر پیش کیا کہ انہوں نے کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر قانون کے تحت کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ کیونکہ کلمہ طیبہ ان کے مذہب کا ایک حصہ ہے۔ میں یہ بات سمجھنے میں ناکام رہا ہوں کہ سائلوں کو اپنی صفائی پیش کرنے سے کس طرح روکا گیا یا ان سے زیر دفعہ ۳۴۲ تعزیرات پاکستان جو سوالات کئے گئے، ان میں کس انداز سے تعصب برتا گیا۔ لہٰذا اس کا یہی نتیجہ نکلا کہ مذکورہ عذر داری قانونی لحاظ سے مستحکم نہیں۔ چنانچہ اس کو مسترد کیا جاتا ہے۔ اس سے ہمیں ایک ایسے مشقی سوال کی طرف رہنمائی ملتی ہے جو تعین کا متقاضی ہے اور جسے یوں پیش کیا جا سکتا ہے۔ آیا ان سائلوں نے، جو قادیانی تھے، کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر دفعہ ۲۹۸۔ج کے مفہوم کے مطابق کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے؟
اس نکتے پر مسٹر مجیب الرحمٰن اور فاضل صدیق العدالت نے طویل اور ماہرانہ بحث کا آغاز کیا۔ مسٹر مجیب الرحمٰن نے اس سلسلے میں جو نزاعات اٹھائے، ان کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔
- الف ...... کلمہ طیبہ کا بیج لگانا دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان کے مفہوم کے مطابق کسی جرم کے ذیل میں نہیں آتا۔ کیونکہ دفعہ ۲۹۸۔ج
تعزیرات پاکستان میں صریحی طور پر کلمہ طیبہ کا ذکر نہیں کیا گیا اور متن کی لفظی تعبیر کے اصول پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ بھی تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج کا حصہ بنتا ہے۔
- ب ...... دفعہ ۲۹۸۔ج میں کلمہ طیبہ کا تذکرہ نہ ہونا کوئی اتفاقی فروگزاشت نہیں، بلکہ دیدہ و دانستہ ایسا ہوا ہے۔ قانون ساز ادارہ (مقننہ)
اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ کلمہ طیبہ کہنا یا پڑھنا مسلمانوں اور احمدیوں کے درمیان ایک مشترکہ عمل ہے۔
- ج ...... فوجداری قانون کی تعبیر و تشریح بالکل ٹھیک ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور وہ بھی موضوع کے حق میں ہونی چاہئے۔ ماتحت
عدالتوں کی طرف سے اصول "Expressio Unius Est Exclusio Alterious" یعنی ذکر صریح اخراج معنوی کا مناسب حد تک احساس نہیں کیا گیا۔
- د ...... یہ کہ دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان کے صحیح معنوں کی تعبیر کی غرض سے "Ejusdem Generis" (یعنی ہم قسم یا ہم
نوعیت) اور "Noscitur Associis" کے اصولوں کا اطلاق ہو سکتا ہے۔
- ہ ...... یہ نزاعی نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ لفظ ”یا“ جو تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج میں کئی بار آیا ہے، اکثر اوقات تشریح اور توضیحی
صورت میں استعمال ہوا ہے۔ (اس لفظ کو زیادہ تر نہ تو حرف عطف (Conjunction) کے طور پر برتا گیا ہے اور نہ بطور حرف
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
افتراق (Disjunction)۔ تاہم فاضل وکیل نے گزارش کی کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج میں محض تین جرموں کا ثبوت ملتا ہے۔
- و ...... یہ کہ مجرم ضمیر (Mens rea) ہی کسی ارتکاب جرم کی بنیاد ہوتا ہے، جو موجودہ مقدمے میں مفقود ہے۔
اس کے برعکس فاضل صدیق العدالت (Amicus Curiae) مسٹر محمد مقیم انصاری اور مسٹر بشارت اللہ نے طویل بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے جو دلائل پیش کئے، ان کے نمایاں خدوخال کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
- ۱ ...... مقنّنہ (یعنی ادارہ قانون ساز) کی نیت صاف اور واضح ہے۔ متذکرہ بالا دفعات میں استعمال شدہ الفاظ کے لفظی (لغوی) یا
صرفی نحوی (گرامری) معانی کی مزید تعبیر و تشریح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ Ejusdem Generis (ہم نوعیت) اور Noscitur Associis کا اصول یہاں قابل اطلاق نہیں ہیں، کیونکہ مقنّنہ کی نیت مطلقاً واضح ہے۔
- ۲ ...... اس سلسلے میں تاریخ قانون سازی کا بغور مطالعہ کر کے فاضل صدیق العدالت نے گزارش کی کہ تعزیرات پاکستان کی دفعات
۲۹۸۔ب اور ۲۹۸۔ج الگ الگ (مستقل) دفعات ہیں اور ان سے جدا جدا جرموں کا تعین ہوتا ہے۔ دفعہ ۲۹۸۔ب کا تعلق مقدس ناموں، القابوں اور مقامات کے تحفظ سے ہے۔ جب کہ دفعہ ۲۹۸۔ج میں ان جرائم کی تفصیل ہے جو عمومی طرز عمل سے متعلق ہیں۔
- ۳ ...... ان کی طرف سے یہ نزاعی دلیل بھی پیش کی گئی کہ مقنّنہ (یعنی ادارہ قانون ساز) کی نیت کا استنباط کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے
کہ کسی مخصوص قانون موضوعہ (Statute) کی تمہید دیکھ لی جائے جو اس مقنّنہ کی نیت معلوم کرنے کے لئے ایک رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔
فریقین کے فاضل وکیل نے جو نزاعات اٹھائے ہیں، ان کی جانچ پرکھ کرنے کی غرض سے اس مرحلے پر مناسب ہوگا کہ آرڈیننس XX مجریہ ۱۹۸۴ء یہاں پیش کیا جائے جس کا پورا انگریزی نام یوں ہے:
Anti - Islamic Activities of Qadyani Group, Lahori Group and Ahmadis. (Prohibition and punishment) Ordinance, 1984.
(یعنی قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا امتناعی اور تعزیری آرڈیننس، مجریہ ۱۹۸۴ء)
’’اس آرڈیننس کا مقصد موجودہ قانون میں ترمیم ہے تاکہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکا جائے۔‘‘ (گزٹ آف پاکستان، غیر معمولی، حصہ اوّل، مورخہ ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء) نمبر ایف۔ ۱۷(۱) / ۸۴
اشاعت: مندرجہ ذیل آرڈیننس جاری کردہ صدر مملکت بذریعہ ہٰذا اطلاع عامہ کے لئے شائع کیا جاتا ہے۔
ہر گاہ یہ امر قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے اور ہر گاہ صدر مملکت کو ایسے حالات کی موجودگی کے بارے میں کوئی شبہ نہیں جو فوری اقدام کی ضرورت کے متقاضی ہیں۔ لہٰذا اب صدر مملکت نے ۵؍ جولائی ۱۹۷۷ء کے اعلان کی پیروی میں اور ان تمام اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے، جو انہیں اس سلسلے میں حاصل ہیں، بخوشی مندرجہ ذیل آرڈیننس کو تشکیل کر کے مشتہر کیا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حصہ اوّل: ابتدائی
- ۱...... مختصر نام اور آغاز نفاذ: (۱) اس آرڈیننس کو ”قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں“ کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا
امتناعی اور تعزیری آرڈیننس، مجریہ ۱۹۸۴ء کہا جائے گا۔ (۲) یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
- ۲...... عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر فوقیت کا آرڈیننس: اس آرڈیننس کی دفعات بلا لحاظ کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے،
اثر پذیر ہوں گی۔
حصہ دوم: ترمیم تعزیرات پاکستان (ایکٹ XLV مجریہ ۱۸۶۰ء)
- ۳...... ایکٹ XLV مجریہ ۱۸۶۰ء میں نئی دفعات ۲۹۸-ب اور ۲۹۸-ج کا اضافہ: تعزیرات پاکستان (پاکستان پینل
کوڈ) ایکٹ (XLV آف ۱۸۶۰ء)، باب XV، دفعہ ۲۹۸-الف کے بعد مندرجہ ذیل نئی دفعات بڑھائی جائیں گی، یعنی ۲۹۸-ب۔
معینہ مقدس ہستیوں یا مقامات مقدسہ کے لئے مختص القابوں، وصفی بیانوں اور صفاتی ناموں وغیرہ کا بے جا استعمال: (۱) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بولے گئے یا لکھے گئے لفظوں کے ذریعے یا نظر آنے والی قائم مقامی کے ذریعے۔
- الف...... رسول کریم حضرت محمد (ﷺ) کے کسی خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کے لئے ”امیر المومنین“، ”خلیفۃ المومنین“، ”خلیفۃ
المسلمین“، ”صحابی“ یا ”رضی اللہ عنہ“ جیسے الفاظ کا حوالہ دیتا یا اسے موسوم کرتا ہے۔
- ب...... رسول کریم حضرت محمد (ﷺ) کی کسی زوجہ (مطہرہ) کے علاوہ کسی اور کے لئے ”ام المومنین“ جیسے الفاظ کا حوالہ دیتا یا اسے موسوم
کرتا ہے۔
- ج...... رسول کریم حضرت محمد (ﷺ) کے گھرانے (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کے لئے ”اہل بیت“ جیسے الفاظ کا حوالہ دیتا
یا اسے موسوم کرتا ہے۔
- د...... اپنی عبادت کی جگہ کے لئے ”مسجد“ جیسے لفظ کا حوالہ دیتا، نام لیتا یا پکارتا ہے۔
تو اس کو دونوں میں سے کسی وصف کی قید کی سزا دی جائے گی، جس کی میعاد تین سال تک ہو سکے گی اور وہ جرمانے کی سزا کا مستوجب بھی ہوگا۔
- (۲) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص، جو بولے گئے یا لکھے
گئے الفاظ کے ذریعے یا کسی نظر آنے والی قائم مقامی کے ذریعے اپنے عقیدے کے مطابق کی جانے والی عبادت کے لئے بلانے کی صورت یا طریق کے لئے ”اذان“ کا لفظ استعمال کرتا ہے، یا مسلمانوں میں استعمال ہونے والی اذان دیتا ہے، تو اس کو دونوں میں سے کسی وصف کی قید کی سزا دی جائے گی، جس کی میعاد تین سال تک ہو سکے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
۲۹۸-ج- قادیانی گروپ وغیرہ کے شخص کا خود کو مسلم (یا مسلمان) کہنا یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا نشر و اشاعت کرنا:
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنے آپ کو ”مسلم“ (یا مسلمان) ظاہر کرتا ہے، یا کہتا ہے، یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا نشر و اشاعت کرتا ہے، یا دوسروں کو خواہ بولے گئے، خواہ لکھے ہوئے الفاظ کے ذریعے اپنے عقیدے کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے، یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو برانگیختہ کرتا ہے، تو اس کو بمطابق تفصیل میعاد کی سزا دی جائے گی جو زیادہ سے زیادہ تین سال تک بڑھائی جاسکتی ہے اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہوگا۔
ابتداء میں سائلوں کے فاضل وکیل نے شدت سے زور دے کر یہ بات کہی تھی کہ کسی بھی وضع شدہ قانون میں استعمال کئے گئے الفاظ کے حقیقی معانی کی تعبیر کرنے اور مقنّنہ (ادارۂ قانون ساز) کی نیت (یعنی ارادہ) معلوم کرنے کے لئے یہ ایک تصفیہ شدہ اصول ہے کہ اس قانون موضوعہ کو لازماً مجموعی طور پر پڑھا جائے۔ فاضل وکیل نے اس قانونی منطقی جملے پر مزید بحث کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ ۲۹۸۔ب اور دفعہ ۲۹۸۔ج دونوں اس قانون موضوعہ یعنی آرڈیننس XX مجریہ ۱۹۸۴ء کا حصہ ہیں۔ لہٰذا جب اس میں ابہام ہے (فاضل وکیل کے بموجب تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج کے الفاظ مبہم ہیں) تو دفعہ ۲۹۸۔ب تعزیرات پاکستان کے حوالے سے بھی اس کی ویسی تعبیر کرنی چاہئے۔ مزید حجت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ قادیانیوں کے صرف انہی کاموں کو زیر دفعہ ۲۹۸۔ب تعزیرات پاکستان ممنوع قرار دیا گیا ہے، جن کو زیر دفعہ ۲۹۸۔ج قابل سزا بنایا گیا ہے۔ فاضل وکیل کے بموجب ایک قادیانی یا احمدی، جس کے متعلق زیر دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان یہ کہا گیا کہ وہ اپنے آپ کو مسلم (یا مسلمان) ظاہر کرتا ہے، اگر وہ رسول کریم حضرت محمد (ﷺ) کے کسی خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو ”امیرالمؤمنین“، ”خلیفۃ المؤمنین“، ”خلیفۃ المسلمین“، ”صحابی“ یا ”رضی اللہ عنہ“ کے الفاظ سے موسوم کرتا یا خطاب کرتا ہے یا اسی ضمن میں اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہتا ہے۔ وغیرہ! جن کا تذکرہ دفعہ ۲۹۸۔ب (۱)، (الف)، (ب)، (ج) اور (د) میں کیا گیا ہے۔ اس طرح سے فاضل وکیل نے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ کلمہ طیبہ پڑھنے یا کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کا دفعہ ۲۹۸۔ب کے تحت کسی بھی شق میں تذکرہ نہیں کیا گیا۔ لہٰذا ان چیزوں کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج میں مشمولہ جرائم قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمہ قانونی "Expresso Unius Exclusio Alterius" کی طرف رجوع کرتے ہوئے حجت پیش کی گئی کہ دفعہ ۲۹۸۔ج کی شرائط عمومی نوعیت کی ہیں۔ جب کہ دفعہ ۲۹۸۔ب میں مذکورہ جرائم خصوصی قسم کے ہیں۔ لہٰذا خصوصی عمومی کو خارج کرتا ہے اور اس طرح دفعہ ۲۹۸۔ج میں صرف انہی کاموں کو جرائم قرار دیا گیا ہے جو دفعہ ۲۹۸۔ب تعزیرات پاکستان میں واضح اور خصوصی طور پر مذکور ہوئے ہیں۔ سائلوں کے وکیل نے جو بحث کی اس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ عدالت کا یہ کار منصبی نہیں ہے کہ وہ قانون موضوعہ میں ان لفظوں کا اضافہ کرے جو مقنّنہ نے بصورت دیگر نظر انداز کر دیئے ہوں۔ چونکہ کلمہ طیبہ کا تذکرہ موجود نہیں ہے، بلکہ دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان میں اس کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ لہٰذا مذکورہ دفعہ میں اس کی توسیع یا اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ درحقیقت فاضل وکیل، تعبیر کے ایک ایسے ضابطے کی تفصیل بیان کر رہے تھے جو بخوبی تصفیہ شدہ ہے کہ جرم کو کنایتاً وجود میں نہیں لایا جاسکتا۔
متذکرہ بالا نزاع کی تائید میں فاضل وکیل نے مقدمہ خضرحیات بنام کمشنر سرگودھا ڈویژن و دیگران (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۶۵ء لاہور ۳۴۹) پر انحصار کیا۔ اس مذکورہ مقدمے میں قرار دیا گیا تھا کہ یہ ایک طے شدہ قانونی نکتہ ہے کہ عدالتیں کسی مقدمے کو نمٹانے کے لئے کسی قانون موضوعہ میں توسیع نہیں کرسکتیں۔ جس کے لئے پہلے سے صریح اور غیر مبہم قانونی دفعہ یا شرط تجویز نہ کی گئی ہو۔ اس سلسلے میں (برطانوی کتاب) Craies on Statute Law (ساتواں ایڈیشن) کے صفحہ ۷۰ سے مندرجہ ذیل عبارت بھی نقل کی گئی: ”اس موضوع پر اسناد (یا مقتدرات) وافر اور متفق الرائے ہیں۔ لارڈ ہیلسبری نے مقدمہ میرزی ڈوکس بنام ہنڈرسن میں کہا کہ کوئی ایسا کیس قائم نہیں کیا جاسکتا جو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کسی عدالت کو کسی لفظ میں ردو بدل کرنے کا مجاز بنادے جس سے ایک "Casus Omissus" پیدا ہو جائے۔ مقدمہ کرافورڈ بنام سپونر میں جوڈیشل کمیٹی (عدالتی مجلس) نے کہا : ہم کسی ایکٹ ( قانون) میں قانون ساز ادارے کے نامکمل (یا ناقص ) فقروں میں اعانت نہیں کر سکتے۔ ہم اس میں کوئی اضافہ یا ترمیم نہیں کرسکتے اور نہ کوئی توجیہ یا تاویل کرکے اس میں پائی جانے والی کمیوں کو پورا کرسکتے ہیں۔ ۱۹۵۱ء میں مقدمہ میگور اینڈ سینٹ میلنز آر.ڈی.سی بنام نیو پورٹ کارپوریشن میں ہاؤس آف لارڈز (دارالامراء) نے قرار دیا کہ کوئی عدالت اس بات کی مجاز (یا مختار) نہیں کہ وہ کسی ایکٹ کے انکشاف شدہ خلاؤں کو پُر کرے۔ ایسا کرنا اس ادارۂ قانون ساز کے کارمنصبی کو غصب کرنے کے مترادف ہوگا۔‘‘
مقدمہ قاسو مع دو افراد بنام سرکار بمطابق رپورٹ پی.ایل.ڈی ۱۹۶۹ء لاہور ص ۱۴۸ اور متعلقہ مشاہدات بمطابق ص ۱۵۲ میں اس طرح لکھا ہے: ’’ یہ ایک اصول متعارفہ (یعنی امر بدیہی) ہے کہ کسی قانون موضوعہ میں کچھ بھی نہیں بڑھایا جاتا اور کوئی الفاظ اس میں ملا کر نہیں پڑھے جاتے۔‘‘ کوئی نالش جس کی قانون موضوعہ میں گنجائش نہ رکھی گئی ہو، اس پر محض اس وجہ سے کارروائی نہیں ہوتی کہ اس کو ترک یا نظر انداز کئے جانے کی کوئی معقول دلیل دکھائی نہیں دیتی اور یہ عدم توجہ بالآخر غیر ارادی رہی ہوتی ہے۔
عدالتی فیصلے کا یہ اقتباس بطور لب لباب (یعنی خلاصہ نظیر) میکسویل نے اپنی کتاب "Interpretation of Statutes" (یعنی قوانین موضوعہ کی تعبیر) کے گیارھویں ایڈیشن میں ص ۱۲ پر بطور حوالہ دیا ہے، جس کا عنوان ہے "Omission not to be Lightly Inferred" (یعنی ترک یا فروگزاشت سے سرسری طور پر نتیجہ اخذ نہیں کرتے)
مذکورہ بالا نزاع کی تائید میں جس تیسرے مقدمے کا حوالہ دیا گیا، وہ تھا مقدمہ چوہدری خادم حسین بنام سرکار (پی.ایل.ڈی ۱۹۸۵ء ایس سی (اے. جے اینڈ کے) ص ۱۲۵) ص ۱۳۰ پر مقدمہ سرکار بنام ضیاء الرحمٰن و دیگران بمطابق رپورٹ پی.ایل.ڈی ۱۹۷۳ء سپریم کورٹ ۴۹ کے متعلق سپریم کورٹ کے قرار دیئے گئے اصولوں کی تقلید کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اظہار رائے کیا گیا: ’’کسی عدالت کو یہ استحقاق صرف کسی ابہام کی صورت میں ہی حاصل ہوتا ہے کہ وہ قوانین موضوعہ کی دفعات سے مجموعی طور پر کوئی تعبیر نکال کر اس قانون ساز ادارے کی نیت (یا منشاء) دریافت کرے جب کہ اس نے قانون موضوعہ کی تشکیل کا باعث بننے والے حالات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا ہو۔ یہ اصول بالکل صحیح ہے کہ کسی قانون موضوعہ کو کلی طور پر مدنظر رکھ کر ہی اس سے کوئی تعبیر اخذ کی جاتی ہے اور اس قانون کے ہر جزو کو وہی معنی پہنائے جاتے ہیں جو اس کی دیگر دفعات یا شرائط سے مطابقت رکھتے ہوں۔‘‘
تعبیر اخذ کرنے کے مذکورہ بالا یا کوئی اور قاعدے قانون اس طرح سے تشکیل دیئے گئے ہیں کہ کسی قانون موضوعہ میں شامل اس قانون ساز ادارے کا منشاء ٹھیک ٹھیک تحقیق یا دریافت ہو جائے۔ اس کا بنیادی یا اساسی مظہر کسی قانون موضوعہ میں استعمال ہونے والے الفاظ سے واضعان قانون کے ارادے کی تکمیل کرنا ہے۔ اگر الفاظ صاف اور واضح ہیں تو تعبیر نکالنے کے لئے مختلف ضابطوں اور قانونی نکتوں سے رجوع کرنے کی نہیں، بلکہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وضع شدہ قانون میں استعمال ہونے والے الفاظ کے عام صرفی نحوی (یعنی گرامری) معنوں کے مطابق تعمیل کی جائے۔ اب یہ تقریباً تصفیہ شدہ قانون ہے، اور کسی حوالے کی پھر بھی ضرورت ہو تو مقدمہ ایس. اے ہارون بنام کلکٹر آف کسٹمز کراچی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ پی.ایل.ڈی ۱۹۵۹ء ایس سی (پاک) ص ۱۷۷ میں شائع ہوا ہے۔ آنریبل سپریم کورٹ کے قرار دیئے گئے متعلقہ مشاہدات مندرجہ ذیل ہیں: ’’تعبیر نکالنے کے تمام قاعدے قانون اس لئے بنائے گئے ہیں کہ کسی وضع شدہ قانون کے پیچھے کارفرما مجلس مقننہ کی نیت دریافت کرنے میں مدد ملے۔ جہاں الفاظ سادہ اور غیر مبہم ہوں، وہاں ان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لفظوں کے معمولی گرامری معنوں کو مکمل طور پر بروئے کار لاکر ہی اس نیت (یا ارادے) کو بطریق احسن جانچا جا سکتا ہے لیکن جب صورتحال اس سے مختلف ہو، تو اس متعلقہ دفعہ کو اس پورے ایکٹ کے سیاق و سباق کے مطابق جانچ کر صحیح نیت کو دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، جس ایکٹ میں وہ پائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ ان حالات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔ جن میں وہ قانون وضع کر کے منظور کیا گیا تھا۔ قانون کی سابقہ صورت اور وہ نقصان رسانی جس کو دبانا مقصود ہو اور اس کے لئے فراہم کردہ نیا چارہ کار باہم متعلقہ عوامل ہیں، جن پر مناسب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
مزید برآں تعبیر کا ایک تسلیم شدہ اصول یہ ہے کہ عدالتوں سے اس بات کی توقع نہیں ہوتی کہ وہ کسی قانون موضوعہ میں کوئی کمی بیشی کریں گی، تاوقتیکہ کوئی معقول عذرات یہ منطقی نتیجہ نکالنے کا جواز فراہم نہ کریں کہ مجلس مقننہ کا منشاء وہ تھا جس کا اظہار چھوڑ دیا گیا۔ موجودہ معاملے میں ادارۂ قانون ساز کی نیت (یا منشاء) صریح، غیر مبہم اور واضح ہے۔ اس سلسلے میں کہ فاضل صدیق العدالت مسٹر بشارت اللہ نے جس موزوں طریقے سے مقننہ کے سوانح (یعنی تاریخ) سے دلائل پیش کئے ہیں، ان سے بھی یہی نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ پہلا مرحلہ (یا دور ) ۶؍ستمبر ۱۹۷۴ء تک موجود رہا، جب قانون میں یا آئین کے تحت کوئی ایسی صریح قانونی دفعہ (یا شق) نہ تھی کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ دوسرا مرحلہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو وجود میں آیا جب کانسٹیٹیوشن (سیکنڈ امینڈمنٹ) ایکٹ، ۱۹۷۴ء (یعنی آئین میں دوسری ترمیم کا قانون، مجریہ ۱۹۷۴ء) وضع کر کے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین‘‘ (محولہ بعد ازیں: ’’آئین‘‘) میں شامل کیا گیا۔ مذکورہ بالا ’’امنڈمنٹ‘‘ (یعنی ترمیم) کے مطابق آرٹیکل ۲۶۰ میں کلاز (۲) کے بعد مندرجہ ذیل شق کا اضافہ کیا گیا: ’’(۳) جو شخص (ہمارے) آخری نبی (یعنی خاتم النبیین) حضرت محمد (ﷺ) کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت کو نہیں مانتا، یا آنحضرت (ﷺ) کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، خواہ وہ اس لفظ سے کچھ بھی معنی نکالتا یا کسی بھی لحاظ سے کوئی مفہوم اخذ کرتا ہو، یا کسی ایسے دعویدار کو نبی یا مجدد (مذہبی ریفارمر ) مانتا ہے، وہ بغرض آئین یا قانون مسلم نہیں ہے۔‘‘
یہ دور (یا مرحلہ) تھا جب مجلس قانون ساز نے اعلان کیا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد بھی قادیانی یا احمدی وغیرہ، مسلم ہونے کا دعویٰ کرتے رہے، مگر کسی قانون کے تحت کوئی ایسی تعزیری دفعہ نہ تھی، جس کی بناء پر انہیں مسلم کہلانے سے منع کیا جاتا، تاہم بغرض آئینی حقوق وہ غیر مسلم ہی تھے۔ بعد ازیں اس سے اگلا مرحلہ آیا کہ مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز کی صراحت کے لئے آئین میں ایک ترمیم کی جائے جو ’’کانسٹیٹیوشن (تھرڈ امنڈمنٹ) آرڈر ۱۹۸۳ء‘‘ (یعنی آئین میں تیسری ترمیم کا حکم، مجریہ ۱۹۸۳ء) کے نام سے کر دی گئی۔ تب وہ آخری مرحلہ آیا جب متذکرہ بالا آئینی ترمیم کو مؤثر بنانے کے لئے قانون میں تعزیری فقرات (Clauses) وضع کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ کام آرڈیننس XX مجریہ ۱۹۸۴ء سے انجام پایا، جس کو گزشتہ پیراگرافوں میں پہلے ہی نقل کیا جا چکا ہے۔ یہی آرڈیننس تھا جس کی بدولت مجموعہ تعزیرات پاکستان میں دفعات ۲۹۸۔ ب اور ۲۹۸۔ ج کو داخل کیا گیا۔ اس کا آغاز اس تمہید سے ہوتا ہے: ’’ہر گاہ یہ امر قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے۔‘‘
جس کا مطلب یہی ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہونے کے ناطے اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہوتے رہتے ہیں۔ قادیانیوں کی اس حیثیت کے بارے میں قانون سازی کا جو مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس سے بہ آسانی یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ آرڈیننس XX مجریہ ۱۹۸۴ء سے ابتداءً قادیانیوں کو اسلام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے روکنا ہی مراد تھا۔ مذکورہ بالا ترمیم سے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں دو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ۱۵۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دفعات ۲۹۸۔ب اور ۲۹۸۔ج شامل ہوئیں۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ب تسلیم شدہ حد تک اپنے مندرجات (یعنی مافیہ) کے لحاظ سے تخصیصی (یعنی جزئیات پر محیط ) ہے اور اس میں معینہ کاموں کو قانون کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہے، جو اس سے پیشتر دفعہ ۲۹۸۔ب کے قانونی فقرے یا کلاز (۱) اور سب کلاز یا ذیلی فقرات (الف) تا (د) کے علاوہ سب کلاز (۲) میں مذکور ہو چکے ہیں اور ان کے لئے سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں لیکن مقننہ نے پھر بھی دفعہ ۲۹۸۔ج کے اضافے کو ضروری خیال کیا جو مسلمانوں کے ساتھ قادیانیوں کے عام طرز عمل اور طریقہ کار کا احاطہ کرتی ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے میں نے یہ نتیجہ نکالا اور قرار دیا ہے کہ دفعہ ۲۹۸۔ب تعزیرات پاکستان اور دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان دو آزاد دفعات ہیں جو الگ الگ جرائم کا تعین کرتی ہیں۔ دفعہ ۲۹۸۔ب کا ابتداءً یہ منشاء تھا کہ مقدس ہستیوں، ناموں، القابوں اور مقامات وغیرہ کو بے جا استعمال ہونے سے محفوظ رکھا جائے لیکن دفعہ ۲۹۸۔ج کسی قادیانی کو اس کے طریقہ کار اور عام طرز عمل کے لئے اس صورت میں سزا دہی کا مستوجب قرار دیتی ہے، جب وہ بلا واسطہ یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے، یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتا یا اس کا حوالہ دیتا ہے، یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا نشر و اشاعت کرتا ہے، یا کسی نظر آنے والے قائم مقامی کے ذریعے یا کسی بھی اور طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ اس طرح یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان کے الفاظ میں مجلس قانون ساز کا منشاء دریافت کرنے کے لئے کوئی ابہام موجود نہیں ہے۔ سائلوں کے فاضل وکیل مسٹر مجیب الرحمن نے ایک اور نزاعی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک خاص وضع کردہ قانون یا اس کی کسی دفعہ میں استعمال شدہ الفاظ کے معانی مبہم ہوں یا اس کے دو یا اس سے زیادہ الفاظ ملتے جلتے معنوں کا اثر قبول کرنے والے ہوں تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ ان کو قریبی مفہوم میں استعمال کرنا ہے۔ یہ دلیل بھی زور دے کر پیش کی گئی کہ الفاظ اپنا رنگ روپ ان مماثل الفاظ سے اخذ کرتے ہیں، جو کسی خاص قانونی دفعہ میں مقننہ طور پر استعمال کئے گئے ہوں۔ یہ دراصل Noscitur Associis کا طے شدہ اصول ہے لیکن دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان کے محض الفاظ پڑھ لینے سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ مذکورہ اصول یہاں قابل اطلاق نہیں ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم پہلے ہی اظہار رائے کر چکے ہیں، دفعہ ۲۹۸۔ج ایک آزاد دفعہ ہے جو الگ الگ جرموں کو وجود میں لاتی ہے۔ لہٰذا میری حتمی رائے یہی ہے کہ دفعہ ۲۹۸۔ج کی تعبیر کرنے کے لئے کسی اور تعبیری یا توجیہی اصول کو اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ سوائے اس کے کہ مجلس قانون ساز کی نیت (یا منشاء) کو جانچنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ اس آرڈیننس کے ان الفاظ کے گرامری معانی کے ساتھ اس کی تجویز کو بھی زیر عمل لایا جائے۔ یوں اس نکتے پر تمام بحث مباحثے کا اختتام ہو جاتا ہے۔
اب دفعہ ۲۹۸۔ج تعزیرات پاکستان میں استعمال شدہ الفاظ کی تعبیر کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے، اس بات کا پتہ چلانا ہے کہ آیا یہ الفاظ مختلف معانی کا اثر قبول کرنے والے ہیں، یا ایک سے زیادہ معنی رکھنے پر دلالت کرتے ہیں، یا ان کو سادہ ترین شکل میں مجلس قانون ساز کی نیت (یعنی منشاء) کا اظہار کرنے کے لئے موزوں طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مذکورہ دفعہ کا پہلا لفظ جو منظر عام پر لایا گیا، "Pose" ( بمعنی خود کو ظاہر کرنا ) تھا۔ سائلوں کے وکیل مسٹر مجیب الرحمن نے اس کی درست نشاندہی کی کہ لفظ ”پوز“ دراصل ایک عدالتی لفظ نہیں ہے اور اس کو عام طور پر قانونی اصطلاحات میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ کسی بھی عدالتی ڈکشنری میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں ملتا۔ اس کے باوجود کنسائز آکسفورڈ ڈکشنری (ایڈیشن ششم) میں لفظ "Pose" کے معنی اس طرح دیئے گئے ہیں :
- ۱...... متشکل کرنا (ادعا، دعویٰ وغیرہ) پیش کرنا (سوال، مسئلہ ) ۔ خاص وضع میں رکھنا ( آرٹسٹ کا ماڈل وغیرہ)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... کوئی وضع اختیار کرنا، خصوصاً فنکارانہ مقاصد کے لئے، یا دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے، پیش کرنا، خود کو ظاہر کرنا (کسی افسر وغیرہ کی طرح)، بننے یا ہونے کا بہانہ کرنا۔
- ۳...... جسم یا ذہن کی وضع ، خصوصاً وہ جو اثر اندازی کے لئے اختیار کریں۔
اسی طرح ”شارٹر آکسفورڈ انگلش ڈکشنری“ (جلد دوم، نظر ثانی شدہ ایڈیشن سوم) کی تعریفات کے مطابق لفظ ”Pose“ کے معنی ہیں ۔ خود کو ظاہر کرنے کا عمل، جسم یا جسم کے کسی حصے کی وضع یا حالت ، خصوصاً دانستہ اختیار کردہ، یا جس میں کوئی شبیہ اثر ڈالنے کے لئے رکھیں، یا فنکارانہ مقاصد کے لئے ، (مجازاً) ذہن کی وضع ، خصوصاً اثر ڈالنے کے لئے اختیار کردہ، (لازم) ایک خاص وضع اختیار کرنا۔ بالکل ایسے ہی ”لیگل تھیسارس“ میں لفظ ”Pose“ کے یہ معانی لکھے ہیں : نقل اتارنا (یا سوانگ بھرنا) پارٹ ادا کرنا، کسی کا کردار اختیار کرنا اور روپ دھارنا وغیرہ ...... مگر سرکاری وکیل مسٹر اعجاز یوسف نے "Corpus Juris Secundum" میں استعمال شدہ لفظی تعریف پر انحصار کیا، جس میں اس لفظ کے معنی ہیں۔ دعوے سے کہنا، بطور تجویز بیان کرنا۔ اس پر سرکاری وکیل مذکورہ لفظی تعریف میں ایک معنی ”دعوے سے کہنا“ (Affirm) کی تشریح کرنے لگے اور پھر کنایۃً کہنا شروع کیا لیکن اس پر مسٹر مجیب الرحمٰن نے اس بناء پر سخت اعتراض کیا کہ اس انداز سے لفظوں کی معنوی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔
تاہم لفظ ”پوز“ کے سادہ ترین معنی جو یہاں استعمال ہوئے ہیں، بظاہر یہ ہیں: کسی کا رول اختیار کرنا یا وہ بننے کا بہانہ کرنا جو کوئی دراصل نہ ہو۔ یوں اس سادہ ترین صورت میں ، اگر کوئی قادیانی خود کو مسلم ”پوز“ کرتا ہے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ ایک مسلم کی طرح ایکٹ کرتا ہے یا ایک مسلم کا رول اختیار کرتا ہے۔ اس طرح جب ایک قادیانی اپنے طریقہ کار یا کسی مثبت عمل کے ذریعے ایک مسلم کا رول اختیار کرتا ہے یا ایک مسلم کی طرح ایکٹ کرتا ہے، تو اس کا یہ فعل دفعہ ۲۹۸-ج تعزیرات پاکستان کی ممانعت کی ذیل میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی قادیانی کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر خود کو نمایاں کرتا دکھائی دیتا ہے، جیسا کہ موجودہ مقدمے میں مذکور ہے، تو گویا وہ اپنے آپ کو مسلم ”پوز“ کرتا ہے۔
اس سے اگلا لفظ جو اس دفعہ میں بار بار استعمال ہوا "or" (بمعنی یا) ہے۔ فاضل وکیل کے بموجب لفظ ”یا“ کو زیادہ تر توضیحی یا تشریحی صورت میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ نہ تو حرف عطف کے طور پر استعمال ہوا ہے، اور نہ حرف افتراق کے طور پر۔ تاہم فاضل وکیل کے بموجب دفعہ ۲۹۸-ج تین جرائم کا احاطہ کرتی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔
- ۱...... اگر کوئی قادیانی بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلم ظاہر کرتا ہے یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتا یا موسوم کرتا ہے۔
- ۲...... اپنے عقیدے کے بولے گئے یا لکھے گئے الفاظ کے ذریعے یا کسی دکھائی دینے والی قائم مقامی کے ذریعے تبلیغ کرتا ہے یا نشر و اشاعت کرتا ہے یا اس کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
- ۳...... خواہ کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔
اس طرح فاضل وکیل کے بموجب لفظ ”یا“ صرف دو بار حرف افتراق کے طور پر استعمال ہوا ہے اور بقایا ”یا“ بطور حرف عطف یا توضیحی صورت میں استعمال ہوئے ہیں۔ فاضل وکیل نے اپنے بیان کو ثبوتاً مندرجہ ذیل چارٹ کی مدد سے پیش کرنے کی کوشش کی، جو انہوں نے خود تیار کیا اور جس کو بجنسہ یہاں نقل کیا جارہا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چارٹ ۱
دفعہ ۲۹۸-ج
(i) اپنے آپ کو مسلم ظاہر کرتا ہے یا موسوم کرتا ہے یا حوالہ دیتا ہے یا
جو بلا واسطہ یا بالواسطہ
(ii) تبلیغ کرتا ہے یا نشر واشاعت کرتا ہے یا دوسروں کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے یا
اپنے عقیدے کو بطور اسلام
اپنے عقیدے کی خواہ بولے گئے یا لکھے گئے لفظوں سے یا کسی دکھائی دینے والی قائم مقامی سے
(iii) خواہ کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے
اس کے برعکس مسٹر بشارت اللہ نے اپنی بحث میں کہا کہ دفعہ ۲۹۸-ج میں لفظ ”یا“ بطور حرف افتراق استعمال ہوا ہے تو اس سے سات جرم پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے تو ہو، لیکن سوال اپنی سادہ ترین شکل میں یہ ہے کہ اگر کوئی قادیانی خود کو مسلم ”پوز“ کرتا ہے یا ...... تو وہ دفعہ ۲۹۸-ج تعزیرات پاکستان کے مفہوم میں جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ لفظ ”مسلم“ کی آئین میں جو تعریف ہے، اس سے مراد ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی وحدت اور یکتائی کو مانتا ہو (یعنی توحید کا قائل ہو)، خاتم النبیین حضرت محمد (ﷺ) کی مطلقاً اور غیر مشروط ختم نبوت پر اعتقاد رکھتا ہو، اور کسی بھی ایسے شخص کو نبی یا مجدد نہ سمجھتا ہو، یا تسلیم نہ کرتا ہو۔ جس نے حضرت محمد (ﷺ) کے بعد، خواہ کسی لفظی معنی میں، خواہ کسی بھی اور مفہوم میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، یا دعویٰ کرتا ہے۔ اس طرح کوئی شخص صرف اسی صورت میں دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو واحد مانے اور اس کی توحید پر ایمان رکھنے کے علاوہ ہمارے آخری نبی یعنی خاتم النبیین حضرت محمد (ﷺ) کی مطلق اور غیر مشروط ختم نبوت پر پختہ یقین رکھے۔ فاضل صدر عدالت مسٹر محمد مقیم انصاری نے اس بات کی بالکل درست نشاندہی کی کہ کلمہ طیبہ ایک ”شعار“ نہیں ہے جیسا کہ مسٹر مجیب الرحمٰن نے کہا ہے، بلکہ یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے، جس کے بغیر کوئی شخص دین اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ فاضل سرکاری وکیل مسٹر اعجاز یوسف نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ صحیح بخاری شریف کے مطابق کلمہ طیبہ اسلام کے ارکان خمسہ (یعنی پانچ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ستونوں) میں سے ایک ہے۔ ویسے بھی سب کو معلوم ہے کہ جب بھی کوئی غیر مسلم اپنا مذہب چھوڑ کر دین اسلام قبول کرتا ہے تو سب سے پہلا بنیادی رکن یہی ہے کہ وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے۔ یوں اس امر میں کہ کلمہ طیبہ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے، کوئی خواہ مخواہ کا اعتراض نہیں رہتا۔ جو شخص کلمہ طیبہ پڑھتا ہے، اسے عموماً مسلمان سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح جب کوئی قادیانی کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گلیوں بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، تو گویا خود کو مسلم ظاہر کرتا ہے (یعنی ”پوز“ کرتا ہے ) موجودہ مقدمے میں سائلوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے قادیانی ہوتے ہوئے کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے، جب وہ گرفتار کئے گئے۔ یوں اس امر میں بمشکل کوئی شک باقی رہتا ہے کہ سائلوں نے دفعہ ۲۹۸-ج کے مفہوم میں جرم کا ارتکاب کیا۔ سائلان کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کے متعلق کوئی وضاحت کرنے میں ناکام رہے، سوائے اس کے کہ سائلوں کے فاضل وکیل نے اپنی بحث میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ کلمہ طیبہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا مشترکہ ”شعار“ ہے۔ مسئلے کا یہ پہلو وفاقی شرعی عدالت میں کلی طور پر اور بڑے ماہرانہ انداز میں نمٹایا جاچکا ہے، بمطابق مقدمہ مجیب الرحمٰن مع تین دیگر افراد بنام وفاقی حکومت پاکستان، ومقدمہ دیگر بمطابق رپورٹ پی۔ایل۔ڈی ۱۹۸۵ء، ایف۔ایس۔سی ۱۸ اس سلسلے میں ص ۱۱۱ پر یوں اظہار رائے کیا گیا ہے : ”یہ حکم امتناعی بت پرستوں کے ان شعائر کو ممنوع قرار دیتا ہے جو وہ خانہ کعبہ میں انجام دیتے تھے اور رسول کریم ﷺ کا حکم ان کے شعائر حج کے لئے حکم امتناعی تھا۔ (بحوالہ تفہیم القرآن ج۲ ص ۱۸۶، نوٹ ۲۵) لہٰذا اس سے صریحاً یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ شریعت اسلامیہ غیر مسلموں کو شعائر اسلام اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ کیونکہ شعائر کا مطلب ہے وہ امتیازی خدوخال جن سے کوئی جماعت ممیز ہوتی ہے۔“
یہ اقتباس سائلوں کے فاضل وکیل کی طرف سے پیش کردہ دلائل کا مکمل جواب ہوسکتا ہے۔ اب میں ایک اور نکتے کا تعین کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، جو مسٹر مجیب الرحمٰن نے پیش کیا کہ کسی ملزم پر کوئی فوجداری جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ تاوقتیکہ اس کا مجرم ضمیر (mens rea) ثابت نہ ہو۔ فاضل وکیل کے بموجب چونکہ کلمہ طیبہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان مشترک ہے۔ چنانچہ اس کو چسپاں کرنے کا دراصل یہ منشاء نہیں ہوتا کہ کلمہ طیبہ کی تضحیک کی جائے یا اپنے آپ کو مسلم ”پوز“ کیا جائے یا مسلمانوں کے احساسات کو مجروح کیا جائے، بلکہ محض یہ کہ وہ خود اپنے مذہب پر عملدرآمد کرتے ہیں اور ایسا کرنے میں کوئی بدنیتی یا مجرم ضمیر (mens rea) نہیں ہوتا۔ دوسری طرف فاضل رفیق العدالت مسٹر بشارت اللہ نے اس امر کی نشاندہی کی کہ عموماً مجرمانہ ذہنیت ہی کسی جرم کے ارتکاب کا بنیادی جزو ترکیبی ہے، لیکن کسی معین جرم کی صورت میں ہمیشہ اس کو تلاش نہیں کیا جاتا۔ فاضل رفیق العدالت کے بموجب مجموعہ تعزیرات پاکستان میں کئی دفعات ایسی ہیں، جن میں مجرمانہ نیت آشکارا نہیں ہوتی۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعات ۱۲۱-الف، ۱۳۱، ۱۴۰، ۳۲۰ اور ۲۰۲-الف کے حوالے دیئے گئے۔
خواہ کچھ بھی ہو، موجودہ مقدمے میں تو یہ دیکھا جانا ہے کہ ان قادیانیوں کی نیت کیا تھی۔ جب وہ کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گلیوں کے ہجوم میں گھومتے پھرے؟ اس کی صریح وجہ یہی آتی ہے کہ مذکورہ سائلان لوگوں سے یہ منوانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ وہ مسلم ہیں۔ یہی بات ان کی طرف سے مجرمانہ نیت یا مجرم ضمیر (mens rea) کا اظہار کرتی ہے۔ لہٰذا اس مقدمے کے تسلیم کردہ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس موضوع پر بحث نہیں کی جاسکتی کہ سائلان کا یہ فعل کسی مجرمانہ ارادے یا مجرم ضمیر کے بغیر تھا کیونکہ سائلان اس بات کی کوئی دلیل بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انہوں نے شہر کے پرہجوم بازاروں میں چلتے پھرتے وقت کلمہ طیبہ کے بیج کس وجہ سے لگا رکھے تھے، سوائے اس کے کہ وہ مسلم ہونے کا بہانہ کرتے تھے یا دوسروں سے خود کو مسلم منوانا چاہتے تھے۔
اس درخواست کا آخری مگر بڑا معقول سوال آرڈیننس XX مجریہ ۱۹۸۴ء کے اختیارات (Vires) سے تعلق رکھتا ہے۔ اگرچہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسٹر مجیب الرحمٰن نے بڑی صاف گوئی سے یہ قبول کر لیا کہ اس عدالت کے اختیار سماعت بصیغہ نگرانی کی رو سے کسی بھی قانون موضوعہ کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود انہوں نے بالواسطہ طور پر اس نکتے پر بحث کرنے کی کوشش کی۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی مقننہ کے اختیارات کو ہائیکورٹ کے پیش میں اس کے اختیار سماعت بصیغہ نگرانی میں اضافی یا ضمنی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس حیثیت سے صرف اس امر تحقیق طلب کی چھان بین کی جاسکتی ہے، جس کا تعلق ماتحت عدالتوں کے سلسلے میں غیر قانونیت، ناموزونیت، اختیار سماعت سے تجاوز کرنے یا اختیار سماعت کو غیر قانونی طور پر اپنے ذمے لینے سے ہو۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ مقدمہ مجیب الرحمٰن مع دیگران بنام وفاقی حکومت پاکستان کے علاوہ ایک اور مقدمے کے سلسلے میں، جس کی رپورٹ پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء، ایف ایس سی ۸ میں چھپ چکی ہے۔ بصورت دیگر وفاقی شریعت کورٹ نے بھی اس قانون یعنی آرڈیننس XX مجریہ ۱۹۸۴ء کو قوانین موضوعہ یا قانون سازی کا ایک جائز قطعہ قرار دیا تھا۔ مسٹر مجیب الرحمٰن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس مذکورہ بالا عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۲۰۳۔ جی جی کے مطابق وفاقی شریعت کورٹ کا فیصلہ ہائیکورٹ کے لئے واجب التعمیل ہے۔ آئین کی مذکورہ دفعہ یہاں نقل کی جاتی ہے۔
۲۰۳۔ جی جی بہ پابندی آرٹیکل ۲۰۳۔ ڈی اور ۲۰۳۔ ایف، اس عدالت کا کوئی بھی فیصلہ، جو اس کے اختیار سماعت کے مطابق زیر سماعت ہو، اس باب کے تحت کسی ہائیکورٹ (عدالت عالیہ) کے لئے اور ان تمام عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا جو ایک ہائیکورٹ کے ماتحت ہیں۔
اس طرح یہ عدالت اختیار سماعت بصیغہ نگرانی کے مطابق سماعت مقدمہ کے دوران مذکورہ آرڈیننس XX مجریہ ۱۹۸۴ء کے جواز پر بحث نہیں کر سکتی۔
جہاں تک اس مقدمے کے حقائق کا تعلق ہے، جو پیشتر ازیں زیر بحث آچکے ہیں۔ مذکورہ سائلان نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ قادیانی ہیں اور انہوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگا رکھے تھے اور کسی بھی طرح کی کوئی وضاحت ریکارڈ پر نہیں لائی گئی کہ انہوں نے ایسا کس وجہ سے کیا تھا۔ مندرجہ بالا واقعاتی اور متعلقہ قانونی پہلوؤں کو ابتدائی عدالت میں اور عدالت مرافعہ میں بھی بڑے مناسب طریقے سے زیر بحث لانے کے بعد عدالتی فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ اس مقدمے میں بظاہر کوئی غیر قانونیت، ناموزونیت یا اختیار سماعت میں کوئی تجاوز یا اس کے تحت معاملے کو نمٹانے میں ناکامی یا ذمہ دارانہ مداخلت نہیں پائی گئی۔
متذکرہ بالا بحث و تمحیص کا ماحصل یہ ہے کہ مجھے ان درخواستوں میں کوئی اہلیت نظر نہیں آئی۔ بہر حال اس مقدمے کی عجیب صورتحال اور اس امر واقعہ کے پیش نظر کہ درخواست دہندگان اولین مجرم ہیں، سزا کی مقدار کے سلسلے میں نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایک سال قید بامشقت کو کم کر کے ۹ ماہ قید بامشقت کی سزا دی جاتی ہے، تاہم جرمانے کی رقم اتنی ہی رہے گی۔ نتیجے کے طور پر متذکرہ تخفیف سزا کے ساتھ پانچوں درخواستوں کو برخاست کیا جاتا ہے۔ اس کیس کو چھوڑنے سے پہلے میں مسٹر مجیب الرحمٰن اور فاضل صدیق العدالت مسٹر بشارت اللہ اور مسٹر محمد مقیم انصاری ایڈووکیٹ صاحبان کے علاوہ مسٹر اعجاز یوسف کی قابل قدر اعانت پر اظہار تحسین کو واجب سمجھتا ہوں۔
تاریخ فیصلہ: مورخہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۸۷ء (دستخط) امیر الملک مینگل (جج)
(پی ایل ڈی ۱۹۸۸ء، کوئٹہ ص ۲۲)
(عدالتی فیصلے از متین خالد ص ۳۷۱ تا ۳۹۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۸۷ء میں قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں کی رپورٹ
لاہور کی ایک قادیانی لڑکی راشدہ خانم نے اسلام قبول کر لیا
لاہور (جماعتی رپورٹ) لاہور میں ایک خود مختار نوجوان لڑکی راشدہ خانم نے مرزائیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق راشدہ خانم بنت عبدالحمید قادیانی مالک م۔ ر سوپ فیکٹری لاہور، دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بیرون دہلی دروازہ میں حاضر ہوئی اور عالمی مجلس کے مبلغ مولانا کریم بخش کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا اور اعلان کیا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجتی ہوں۔ آج کے بعد میں مسلمان ہوں اور میرا مرزائیوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۷،مؤرخہ یکم جنوری ۱۹۸۷ء)
قادیانیوں کے قبول اسلام پر مبارک باد
کوئٹہ (پ۔ر) جمعیتہ طلباء اسلام کوئٹہ کے کارکن عبدالمالک بریانی نے چکوال کے ۴۶ خاندانوں کی مرزائیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرنے پر ان خاندانوں کو مبارک باد دی ہے اور ان کے لئے استقامت کی دعا کی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۶،مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ جنوری ۱۹۸۷ء)
محمود آباد نزد کنری سندھ کی دو قادیانی لڑکیوں کا قبول اسلام
محمود آباد قادیانی سٹیٹ کی دو قادیانی لڑکیوں عابدہ پروین دختر محمد شریف، ساجدہ پروین دختر محمد شریف نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۷،مؤرخہ ۶ فروری ۱۹۸۷ء)
شاہ کوٹ میں تین قادیانی گھرانوں نے اسلام قبول کر لیا
شاہ کوٹ (رپورٹ جاوید اقبال) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شاہ کوٹ کی کوشش اور دن رات کی تبلیغ سے تین قادیانی گھرانوں نے مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان گھرانوں کے سربراہوں نے جن میں عبدالغفار جٹ وینس موضع بھوڑو چک نمبر ۱۸گ۔ب عبداللطیف جٹ اٹھوال چک نمبر ۱۱۸ اور اللہ رکھا جٹ گھمن ان تینوں افراد نے کہا ہے کہ وہ شروع ہی سے مرزائیت سے نالاں تھے۔ مگر بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر وہ اس فتنہ سے جکڑے رہے۔ انہوں نے جرأت کا مظاہرہ کر کے قادیانی مذہب پر تین حروف بھیجے ہیں اور سچے دل سے مسلمان ہو گئے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شاہ کوٹ کے سرپرست مولانا عبداللطیف انور صاحب صدر جاوید اقبال اور قاری غلام مرتضیٰ صاحب نے ان تینوں گھرانوں کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔ مجلس کی طرف سے قرآن پاک کے نسخے دیئے اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور ان کی استقامت کے لئے دعائیں کی گئیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۳،۲۴،مؤرخہ ۶ تا ۱۲ فروری ۱۹۸۷ء)
ننکانہ میں ایک قادیانی خاندان کا قبول اسلام
ننکانہ صاحب (نمائندہ ختم نبوت) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کی کوششوں سے اور چوتھی کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کے نتیجہ میں واپڈا دفتر میں ملازم جناب ظہیر صاحب اور ان کی اہلیہ قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گئے ہیں۔ ان دونوں خوش نصیب افراد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے حضرت مولانا عبدالرسول صاحب اور جناب مولانا درویش علی کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔ بے شمار مسلمانوں نے انہیں مبارک باد دی۔ اس مجلس میں نکاح کی تجدید بھی ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے سرپرست حاجی عبدالحمید رحمانی صاحب نے ان دونوں افراد کو مبارک باد دی۔ مجلس ہذا کے ناظم محمد حسین علوی صاحب نے ان دونوں نو مسلموں کے اعزاز میں ایک پر تکلف عشائیہ دیا۔ بعد میں مجلس کی طرف سے انہیں ایک قرآن پاک پیش کیا اور محمد اکرم ناز صاحب نے متعلقہ لٹریچر بھی دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۳۴ ص ۲۳ ، مؤرخہ ۶ تا ۱۲؍ فروری ۱۹۸۷ء)
سورینام میں ایک ہزار سے زائد لاہوری قادیانی اسلام قبول کر چکے ہیں
رسالہ ختم نبوت با قاعدگی سے مل رہا ہے۔ ماشاء اللہ ! رسالہ بڑا خوبصورت اور اپنی مثال آپ ہے۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام علماء کرام کو ہمیشہ کے لئے سلامت رکھیں تاکہ اس طرح سورینام کی سرزمین سے لاہوری قادیانیوں ، مرزائیوں ، ان شیطانوں کا صفایا ہو جائے۔ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی اور ریشہ دوانیوں سے امت مسلمہ کو خبر دار کرنے میں مجھے آپ ہر ایک کی امداد بہت ضروری ہے۔ میں نے زور دار طریقے سے قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور خلاف اسلام سرگرمیوں کے خلاف تعاقب شروع کر دیا ہے۔ اللہ کا بڑا ہی کرم ہے کہ اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مرزائیت کو ترک کر کے اسلام قبول کر چکے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں میرا خط ہوگا۔ میں نے آپ سے مرزا قادیانی کی کتابوں کو طلب کیا تھا۔ میں نے مرزا قادیانی کا لٹریچر جو مجھے دفتر نے بھیجا تھا وصول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں آپ ہر ایک کو خاص مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سلامت رکھیں۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵ ، مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍ فروری ۱۹۸۷ء)
بھابڑہ ضلع سرگودھا کے قادیانی نوجوان کا قبول اسلام
اکبر علی ولد علی اصغر نوجوان بھابڑہ ضلع سرگودھا کا رہائشی قادیانیت ترک کر کے مولانا محمد صالح صاحب کے ہاتھ پر اس نے اسلام قبول کر لیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۳۰ ، مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵؍ فروری ۱۹۸۷ء)
ننکانہ میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
گورنمنٹ گرو نانک ہائی سکول ننکانہ کے طالب علم کاشف ولد سمیع نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ عالمی مجلس کے رہنماؤں نے اس کا بھر پور خیر مقدم کیا۔ اس کے والد سمیع اللہ بھی قادیانیت ترک کر کے پہلے مسلمان ہو چکے ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸ ، مؤرخہ ۲۰؍ فروری ۱۹۸۷ء)
فیصل آباد کے ایک گاؤں میں چالیس افراد کی قادیانیت سے توبہ
فیصل آباد (نمائندہ ختم نبوت ) چک نمبر ۶۹۔ ر۔ ب گھسیٹ پورہ کلاں کے نام سے مشہور قصبہ ہے جہاں قلیل مقدار میں قادیانی آباد ہیں۔ وہاں مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود کے ایک قریبی عزیز خطیب رہے ہیں۔ اس وجہ سے یہ قصبہ جہاں قادیانیوں کا مرکز تھا۔ وہاں ختم نبوت کا بھی مرکز ہے۔ ختم نبوت کے مبلغین وہاں جا کر جمعہ کے روز ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوع پر زور دار تقریریں کرتے رہتے ہیں اور قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے رہتے ہیں۔ یہ بات باعث مسرت ہے کہ اب وہاں کے چالیس افراد نے پروفیسر طاہر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمود کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے سیکرٹری اطلاعات جناب مولوی فقیر محمد صاحب نے ان چالیس نو مسلموں کو زبردست مبارک باد پیش کی ہے۔ انہوں نے دوسرے قادیانیوں سے کہا جو اسلام قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ بھی مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت سے تائب ہو جائیں اور اسلام قبول کر لیں۔ جن خاندانوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے سر براہوں کے نام یہ ہیں۔ عبد الحمید، نذیر احمد ، بشیر احمد ، رشید احمد ، عبد اللطیف، معراج دین، محمد اکرم اور محمد اسلم۔ اس موقعہ پر گاؤں میں زبردست اجتماع ہوا اور علاقہ بھر کے عوام نے قادیانیت سے تائب ہونے والے چالیس افراد کا زبردست خیر مقدم کیا۔ نو مسلموں نے واضح اعلان کیا کہ ہم حضور سرور کائنات ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کافر، کذاب، دجال اور دائرہ اسلام سے خارج تھا۔...... ادارہ ختم نبوت ان حضرات کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مورخہ ۸ تا ۱۴ مئی ۱۹۸۷ء)
قادیانیوں کا قبرستان کے نام پر ناجائز قبضہ ...... ۴۰ قادیانی مسلمان ہو گئے
شادن لنڈ ضلع ڈیرہ غازی خان کے ان چند ایک قصبات میں سے ہے جہاں قادیانی قدرے زیادہ رہتے ہیں۔ یہاں کی ایک مشہور قوم حیدرانی کے بااثر افراد مرزائی چلے آ رہے تھے۔ کچھ عرصہ قبل ان کا ایک مرزائی مرا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا۔ مرزائیوں نے نہایت عیاری سے کام لیتے ہوئے راتوں رات شہر سے کچھ فاصلے پر موجود مسلمانوں کے ایک پلاٹ پر احاطہ تعمیر کرا دیا اور اسے اپنے مرگھٹ کا نام دے کر اپنا مردہ اس میں دبا دیا۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ مقدمہ بھی چل ہی رہا تھا کہ رمضان المبارک میں ایک اور مرزائی مرا۔ جیسے قادیانیوں نے اسی احاطہ میں دفن کرنے کے لئے رات کو قبر کھودنا شروع کی۔ جامع مسجد کے خطیب مولانا محمد بخش صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے فوراً تین نوجوان موٹر سائیکلوں پر بھیجے تا کہ وہ قادیانیوں کو روکیں کہ وہ اب اس حرکت سے باز رہیں لیکن مرزائیوں نے ان نوجوانوں کو دھمکیاں دیں۔ نوجوانوں نے واپس آکر مولانا کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس وقت نماز عشاء کا وقت تھا اور نماز کی ادائیگی کے لئے صفیں درست کی جارہی تھیں۔ مولانا نے فوراً لاؤڈ سپیکر پر اعلان کر دیا کہ تمام مسلمان فوری طور پر شہر کے باہر اس مقام پر پہنچیں جہاں مرزائی اپنا مردہ دفن کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ تمام مسلمان یہ اعلان سنتے ہی جمع ہو گئے۔ مجمع نے جلوس کی شکل اختیار کر لی اور نعرے لگاتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ مرزائیوں نے جب مسلمانوں کو آتے ہوئے دیکھا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمان نوجوانوں نے جاتے ہی مرزائیوں کے نام نہاد مرگھٹ کو صاف کر دیا۔ موجود قبر کو برابر کر دیا۔ رات گیارہ بجے تک مسلمان وہاں رہے اور عشاء کی نماز اور تراویح وہاں پر ادا کی گئی۔ ادھر مرزائیوں نے جب اپنی پسپائی دیکھی تو اپنے مردے کو ویگن میں ڈال کر ڈیرہ غازی خان پہنچے اور یہاں اپنے مرگھٹ میں دفن کر دیا۔
مولانا محمد بخش صاحب نے اس صورتحال سے آگاہ کرنے کے لئے اپنے ایک ساتھی کو دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازیخان بھیجا۔ دفتر میں اس وقت راقم (غلام اکبر ثاقب) موجود تھا۔ مولانا صوفی اللہ وسایا صاحب باہر دورہ پر گئے ہوئے تھے۔ راقم نے وعدہ کیا کہ جونہی مولانا صوفی اللہ وسایا صاحب واپس تشریف لائیں گے۔ ان شاء اللہ موقع پر پہنچیں گے۔ اگلے روز مولانا صوفی اللہ وسایا صاحب تشریف لائے۔ راقم نے مولانا کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا۔ مولانا نے فرمایا شادن لنڈ فوری طور پر چلنا چاہئے۔ چنانچہ راقم اور مولانا صوفی اللہ وسایا وہاں پہنچے۔ ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ہم ڈیرہ واپس جا کر ضلعی انتظامیہ کو صورتحال اور یہاں کے مسلمانوں کے جذبات سے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آگاہ کریں گے۔ واپسی پر ہم نے ضلعی حکام کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ مرزائیوں کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ اب مرزائی یہ سوچنے لگ گئے ہیں کہ جب مرنے کے بعد بھی ہماری نعشوں کی یہ حالت ہے تو ہم اس قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان کیوں نہ ہو جائیں۔ اس واقعہ کے ایک ہفتہ کے بعد شادن لنڈ کے تمام بااثر قادیانی جن کی تعداد تقریباً ۴۰ تک بنتی ہے۔ سب مرزائیت سے تائب ہو کر مولانا محمد بخش صاحب خطیب کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ ان سب کے اہل خانہ نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان کا سربراہ غلام حیدر خان حیدرانی ہے جو ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ہے۔ ان کے اسلام لانے سے تمام مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہیں مبارک پیش کی۔ اس تمام واقعہ کی اطلاع مرکزی دفتر ملتان کو دے دی گئی ہے۔ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن صاحب نے اس پر مسرت کا اظہار فرمایا اور یہ مشورہ دیا کہ ان اسلام لانے والوں کے اعزاز میں کانفرنس منعقد کی جائے۔ ماہ شوال کی جب میٹنگ منعقد ہوئی تو مولانا صوفی اللہ وسایا بمعہ رفقاء ملتان تشریف لے گئے۔ حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی سے درخواست کی کہ حضرت آپ بھی تشریف لائیں۔ حضرت نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے وقت دیا۔ اشتہارات شائع کئے گئے اور ۱۷؍ جون کو شادن لنڈ میں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا۔ مقررہ تاریخ کو حضرت کے استقبال کا پروگرام ترتیب دیا گیا اور غازی گھاٹ پل پر حضرت کا استقبال کیا گیا اور پھر شادن لنڈ روانگی ہوئی۔ مغرب کی نماز حضرت نے شادن لنڈ میں پڑھائی۔ بعد از نماز عشاء جلسہ کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ مہمان خصوصی تھے۔ صدارت غلام حیدر خان حیدرانی کی تھی۔ رات تقریباً دو بجے شب تک کانفرنس جاری رہی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا فاتح ربوہ، مولانا عزیز الرحمن صاحب مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا صوفی اللہ وسایا، مولانا عطاء الرحمن صاحبزادہ مفتی محمود، مولانا مشتاق احمد فریدی، مولانا غلام محمد چوٹی، صاحبزادہ عبد الرحمن غفاری، مولانا غلام حسین نمبردار کے علاوہ علماء کرام نے ختم نبوت اور سیرت النبی ﷺ کے موضوعات پر تقریریں کیں۔ کافی تعداد میں لوگ تشریف لائے۔
آخر میں غلام حیدر خان حیدرانی نے صدارتی خطاب فرمایا۔ اپنے اور اپنے خاندان کے اسلام لانے کی وجوہات بیان فرمائیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بچوں نے ربوہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور ہم ربوہ کی رائل فیملی کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ خدا کی قسم! یہ سب بڑے جھوٹے ہیں۔ مرزائیت کوئی مذہب نہیں یہ اسلام اور پاکستان کے دشمن اور غدار ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۵، مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۸۷ء)
فقیر والی...... تین قادیانیوں کا قبول اسلام
فقیر والی (نامہ نگار) مولانا محمد قاسم قاسمی مہتمم جامعہ قاسم العلوم فقیر والی کے ہاتھوں تین قادیانیوں کا قبول اسلام چک نمبر ۶/۱۰۶ آر نزد فقیر والی میں کافی عرصہ سے مرزائی آباد ہیں۔ ان کی اپنی علیحدہ عبادت گاہ بھی موجود ہے۔ کئی دفعہ تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں بہت سے علماء کرام بھی تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک میں مرزائیوں کا مکمل اقتصادی بائیکاٹ کیا گیا۔ وہاں کے مسلمان بڑے غیور، دین سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ مولانا محمد قاسم قاسمی مہتمم جامعہ قاسم العلوم فقیر والی ضلع بہاول نگر کی مساعی جمیلہ سے ان کے ہاتھوں تین قادیانیوں مسمیان فیض احمد ولد حسن محمد، منیر احمد ولد فیض احمد، رشید احمد ولد فیض احمد نے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے تحریری طور پر لکھ کر بھی دیا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو کذاب و دجال و ملعون اور مرتد سمجھتے ہیں۔ ان کے جملہ متبعین کو بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ کو خدا کا آخری نبی اور رسول سمجھتے ہیں۔ آئندہ کے لئے ہمارا مرزائیت سے کوئی تعلق نہ ہے۔ ڈاکٹر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرزند علی ماسٹر عاشق علی اور ماسٹر محمد افضل و دیگر معززین دیہہ نے ان کو مسلمان ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے اور ہرقسم کا یقین دلایا ہے اور آخر میں مولانا محمد قاسم قاسمی نے ان کی استقامت و ثابت قدمی کے لئے دعا کی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۵،مورخہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۸۷ء)
بنگلہ دیش میں چھ قادیانی مراکز ، مزید ۱۷۷ قادیانی مسلمان ہو گئے
بنگلہ دیش بھارت کی مشرقی سرحد اگرتلا سے تین کلومیٹر پر آکھاؤڑا میں قادیانی مرکز کو عوام نوجوان مسلمانوں نے فتح کر لیا اور آکھاؤڑا برہمن باڑیہ میں قادیانیوں کے خلاف زبردست تحریک شروع ہوگئی ، جس کی وجہ سے ایک اور بڑے قادیانی مضبوط قلعے کو عوام نوجوان مسلمانوں نے فتح کر لیا اور گزشتہ ۲۰؍ جون سے لے کر ۱۰؍اگست ۱۹۸۷ء تک ۳۸؍ قادیانی افراد توبہ کر کے مسلمان ہو گئے اور انہوں نے ساتھ ہی دو مقامی عدالتوں میں یہ دعویٰ دائر کر دیا کہ ہم نے سمجھ بوجھ کر مرزائیت سے توبہ کی ہے اور انتہائی تفتیش کے بعد ہم نے دیکھ لیا کہ قادیانی جماعت صرف اور صرف دھوکہ ہے جس میں کچھ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ یادرہے کہ ہفت روزہ ختم نبوت کے ۱۹۸۵ء کے تقریباً نومبر کے ایک شمارہ میں شائع ہوا تھا کہ بھارت بنگلہ دیش سرحد میں قادیانی جاسوسی کا جال پھیلانے کے لئے قادیانی ٹولہ نے آکھاؤڑا کے سرحدی قریہ خرم پور میں قادیانی مرکز قائم کیا۔ اس وقت جریدہ ختم نبوت نے سارے بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی آنکھ کھول دی۔ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں کی تحریک کو سرحد تک پہنچا دیا۔ گزشتہ ماہ برہمن باڑیہ میں اور بھی چار قادیانی عبادت گاہوں کو مسلمانوں نے اپنے حفاظت میں لے لیا۔ ان میں بھادوگھر ، گھاٹورہ ، موڑائیل اور کلیشمہ شامل ہیں۔ کاندی پارہ برہمن باڑیہ اور اکھاؤڑا خرم سمیت گزشتہ دو ماہ کے اندر کل چھ قادیانی عبادت گاہ اور مراکز کو عوام مسلمانوں نے اپنے قبضہ میں لے لیا اور قادیانی نومسلموں کی تعداد دو ماہ میں ۱۷۷ تک پہنچ گئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش نے قادیانیوں میں تبلیغ کی مہم اور بھی تیز کر دی ہے۔ اکھاؤڑا، اُوپ ضلع میں تحفظ ختم نبوت کی تنظیم قائم کی گئی۔ جناب حافظ مولانا مشرف حسین خادم اور مولانا قاضی عبدالمبین واحدی کی قیادت میں آکھاؤڑا میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی تنظیم قائم کی گئی۔
علاوہ اکھاؤڑا South Mr. Nur-ul-Haq Chairman, U-P کے ماتحت اکتالیس ممبران پر مشتمل ایک ختم نبوت کمیٹی تشکیل دی گئی۔ موصوف چیئرمین صاحب قادیانیت کے مقابلہ میں زبردست خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح .Mr Shahid-ul-Haq Bhina Nourth Akaura Chairman اکتالیس ممبران کی ختم نبوت کمیٹی قائم کی گئی۔ خرم پور میں ۱۰۰ طلباء کی جمعیۃ تحفظ ختم نبوت تنظیم قائم ہوئی۔ خادم محمد یوسف الاسلام سائمن اور خادم محمد الدین کی قیادت میں طلباء تنظیموں نے گزشتہ ایک ماہ کے اندر تحریک ختم نبوت کے تحت انتہائی قربانی دی جس کی وجہ سے گیارہ کارکنوں کے خلاف قادیانی ٹولہ نے ایک جھوٹا مقدمہ دائر کیا۔ اسی طرح بمقام آکھاؤڑا میں ۱۸؍ کارکنوں کے خلاف قادیانیوں نے جھوٹا مقدمہ دائر کیا۔ آکھاؤڑا علاقہ میں قادیانیوں کے جھوٹے مقدمہ کے خلاف گزشتہ روز منگل کو ایک زبردست جلوس نکالا اور جھوٹے مقدمہ کرنے والوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ جمعیۃ تحفظ ختم نبوت کے صدر مولانا ابوالقاسم اور سیکرٹری شبیر احمد نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندوں سے جلد از جلد برہمن باڑیہ علاقہ کا دورہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲،مورخہ ۱۸تا ۲۴؍ستمبر ۱۹۸۷ء)
اسٹیل ٹاؤن میں ایک اور قادیانی کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسٹیل ٹاؤن کی پے در پے کوششوں اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے آج مورخہ ۱۹؍ اگست ۱۹۸۷ء بروز بدھ بعد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نماز ظہر المصطفیٰ جامع مسجد اسٹیل ٹاؤن میں تمام نمازیوں کے سامنے حضرت مولانا حافظ محمد صادق شاہ صاحب خطیب اعلیٰ جامع مسجد المصطفیٰ وسرپرست اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت اسٹیل ٹاؤن کے ہاتھ پر جناب حقیق احمد ولد شریف احمد گلشن حدید نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام کو قبول کر لیا۔ قبل ازیں اسٹیل ٹاؤن میں دو خاندان حضرت مولانا سید حافظ محمد صادق شاہ صاحب مدظلہ کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں۔ جناب مولانا شاہ صاحب نے حقیق احمد سے درج ذیل جملے کہلوائے کہ میں مسمی حقیق احمد ولد شریف احمد اپنی رضا و رغبت سے اقرار کرتا ہوں کہ اب میرا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال، کذاب، کافر، مرتد، لعنتی واجب القتل مانتا سمجھتا ہوں اور اس کے ماننے والوں کو خواہ وہ قادیانی گروہ ہو یا لاہوری گروہ ان سب کو اور ہر اس شخص کو جو مرزا غلام احمد قادیانی کو اچھا سمجھتا ہو، کافر مرتد سمجھتا ہوں اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے سچے و آخری نبی مانتا ہوں۔ اس کے بعد جناب شاہ صاحب نے رد قادیانیت پر مفصل تقریر فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مؤرخہ ۲۵؍ستمبر تا یکم؍اکتوبر ۱۹۸۷ء)
فیصل آباد میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام
ملک نصیر احمد ولد نذیر محمد قوم ککے زئی واپڈا ٹریننگ انسٹیٹیوٹ شیخوپورہ روڈ فیصل آباد نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ فلحمد للہ!
(لولاک فیصل آباد ص ۱۲، مؤرخہ ۲۷؍نومبر ۱۹۸۷ء)
منڈی یزمان میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
چک نمبر ۸۸ ڈی. بی یزمان ضلع بہاول پور میں ایک قادیانی مسمی محمد اقبال نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے مولانا احمد حسن خطیب مرکزی مسجد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، مؤرخہ ۲۷؍نومبر تا ۳۰؍دسمبر ۱۹۸۷ء)
سینیٹر مولانا سمیع الحق کے ہاتھ پر ایک قادیانی کا قبول اسلام
آج یہاں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں سینیٹر مولانا سمیع الحق کے ہاتھ پر ایک قادیانی مسمی عبدالباسط نے اسلام قبول کر لیا۔ جناب عبدالباسط صاحب موضع بارخیل پشاور کے بااثر معروف صاحبزادہ سیف الرحمٰن قادیانی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جناب عبدالباسط صاحب آج یہاں دارالعلوم حقانیہ میں تشریف لائے۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالحق صاحب کے سیکرٹری برائے سیاسی امور مولانا سیف اللہ حقانی کی رہنمائی میں مولانا سمیع الحق کے دست مبارک پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ مولانا سمیع الحق نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت امت مسلمہ کے لئے ایک رستے ہوئے ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ قادیانیت کے خلاف متحد ہو جائیں اور قادیانیت کی جڑیں نکالنے کے لئے بھر پور کوشش کریں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۹، مؤرخہ ۲۷؍نومبر تا ۳؍دسمبر ۱۹۸۷ء)
کوٹری میں عالمی مجلس کے راہنما کے ہاتھ پر آٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام
کوٹری (رپورٹ عبدالغفار شیخ) یہ خبر انتہائی مسرت اور فخر و انبساط کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ مندرجہ ذیل قادیانی حضرات نے مؤرخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۸۷ء کے دن جامع مفتاح العلوم جیل خانہ روڈ حیدرآباد میں شیخ الحدیث جناب مولانا محمد عبدالرؤف صاحب کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا۔ انہوں نے قادیانیت اور مرزا غلام احمد قادیانی کذاب پر حاضرین مجلس کے سامنے کئی مرتبہ لعنت بھیجی اور اپنی گزشتہ کفر و ارتداد سے پر زندگیوں کے لئے خدا تعالیٰ سے بخشش و مغفرت کی دعا کرائی۔ ان نو مسلموں کے لئے جناب حاجی محمد ریاض صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوٹری نے بہت تگ و دو کی اور انہیں اسلام کی حقانیت پر قائل کیا۔ یہ نومسلم حضرات کئی پشتوں سے قادیانی تھے اور اب اللہ کے شکر گزار ہیں۔ جس نے اپنی رحمت سے ان کے قلوب کو اسلام کی طرف مائل کیا اور کفر کے اندھیروں سے اسلام کی روشنی عطاء کی۔ خوش قسمت نومسلموں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ محمد اکرم ولد محمد شفیع، زاہد محمود، شاہد محمود، طاہر محمود پسران محمد اکرم، نذیراں بی بی زوجہ محمد اکرم، محمد خلیل داماد محمد اکرم، ریحانہ بی بی زوجہ محمد خلیل، گوگی ولد محمد اکرم، آٹھوں نومسلم کوٹری سائٹ ایریا میں سفائر اور مشتاق ٹیکسٹائل ملز میں کام کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نومسلموں کو اپنے دین پر قائم رہنے کی استقامت عطاء فرمائے اور جناب حاجی محمد ریاض صاحب کو جزائے خیر دے جن کی کوششوں سے انہوں نے اسلام قبول کیا اور ہر طرح سے نومسلموں کو جان و مال اور سروس کے تحفظ و سلامتی کا یقین دلایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۸، مورخہ ۲۷؍ نومبر تا ۳؍ دسمبر ۱۹۸۷ء)
سنجر چانگ میں ۹؍ افراد نے اسلام قبول کر لیا
مقامی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس خوشی میں مٹھائی تقسیم کی۔
سنجر چانگ تحصیل ٹنڈو الہ یار میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی صدر ڈاکٹر عبدالمجید آرائیں جو مدینہ مسجد کے امام اور خطیب بھی ہیں، ان کے ہاتھ پر طفیل ولد دین محمد نے اپنی اہلیہ تین بیٹوں اور چار بیٹیوں سمیت اسلام قبول کر لیا۔ تمام نمازیوں کے سامنے اس نے اعلان کیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں پر لعنت بھیجتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ اسی خوشی میں مقامی مجلس کے ارکان نے مٹھائی تقسیم کی۔ عالمی مجلس حیدرآباد کے مبلغ مولانا محمد اقبال ظفر نے اس کی استقامت کے لئے جمعہ کی نماز میں دعا کرائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مورخہ ۴ تا ۱۰؍ دسمبر ۱۹۸۷ء)
بنگلہ دیش میں قادیانیوں کا مینارہ الٹ گیا، مزید قادیانی قلعے فتح کر لئے
کالیشما میں ۷، کرم پور میں ۶۰، دیب گرام میں ۳۰ گھرانوں میں ۷۶ خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا۔
رپورٹ: مولانا ابوالقاسم نمائندہ ختم نبوت برہمن باڑیہ بنگلہ دیش: یہ رپورٹ بنگلہ دیش سے ہمیں کافی دیر سے موصول ہوئی ہے۔ چونکہ رپورٹ بہت اہم ہے اس لئے ہم اسے شائع کر رہے ہیں۔ یادرہے کہ مرزا طاہر بنگلہ دیش کے مسئلہ پر بہت پریشان ہے اور اس نے اپنی تقریر میں اس پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ دنوں ہفت روزہ ختم نبوت میں برہمن باڑیہ بنگلہ دیش میں ایک قادیانی قلعہ کی فتح اور سینکڑوں افراد کے قبول اسلام کی رپورٹ چھپی ہے۔ اب کچھ اور قلعے بھی فتح ہو چکے ہیں اور سینکڑوں خاندان قادیانیت چھوڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں۔ پہلے قلعے کی فتح کے بعد نوجوانان تحفظ ختم نبوت نے تحریک ختم نبوت کو مزید تیز کر دیا جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کا دوسرا قلعہ جو کالیشما میں واقع ہے وہ بھی فتح ہو چکا ہے اور اب وہ مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ الحمد للہ! جب کہ وہاں سات خاندان بھی اسلام قبول کر کے قادیانیت پر لعنت بھیج چکے ہیں۔ قادیانیوں کا ایک اور قلعہ ”کرم پور“ میں واقع تھا۔ اس قلعہ کو بھی ختم نبوت کے جیالے اور عشق رسالت ﷺ کے دیوانے نوجوانوں نے مقامی مسلمانوں کے تعاون سے اپنے قبضے میں لے لیا۔ جسے ”مسجد بیت النور“ کا نام دے دیا گیا۔ اس کی حفاظت کے لئے ایک ختم نبوت کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ کرم پور میں ۶۵؍ خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اسی کے قریب ”دیب گرام“ میں بھی ان کا قلعہ تھا۔ وہاں ۳۰؍ خاندان مرزائیت پر لعنت بھیج کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیۃ الشباب لحفظ ختم نبوت: برہمن باڑیہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک بھی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلہ میں دستخطی مہم چلائی گئی جو وزارت دینیہ کو بھیجی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک وفد ڈھاکہ کے بڑے بڑے علماء و مشائخ کو لے کر وزیر مذہبی کو مل چکے ہیں۔ قادیانیوں نے لندن اور پاکستان سے پمفلٹ بھیجے ہیں تاکہ اس تحریک کو ناکام بنایا جائے لیکن اب قادیانیوں کے مقدر میں ذلت لکھی جا چکی ہے۔
گزشتہ دنوں ختم نبوت کے پروانوں نے ”گھانورہ“ میں قادیانیوں کے جلسہ کے مقابلہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی۔ جس میں راقم ابوالقاسم صدر، مولانا حسین احمد نائب صدر، جناب شبیر احمد ایل ایل بی ناظم اعلیٰ نے ایمان افروز اور قادیانیت شکن خطاب کیا۔ اس جلسہ میں ۱۹/قادیانیوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد نو مسلمانوں نے مل کر قادیانی عبادت گاہ پر قبضہ کر لیا۔ اب وہ مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ وہاں باقاعدہ جماعت کی نماز شروع ہو گئی۔ تعلیم اور درس کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا بعد میں یہ نتیجہ نکلا کہ اب تک ۷۶/خاندان قادیانیت کو چھوڑ چکے ہیں۔ صرف چھ خاندان باقی ہیں جو مسلمانوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے شہر چھوڑ گئے ہیں۔
گزشتہ دنوں ڈھاکہ سے علماء و مشائخ کا وفد مفتوحہ قادیانیوں کے قلعوں کا معائنہ کے لئے آیا۔ اس میں حضرت مولانا نور حسن صاحب، حضرت مولانا عبدالجبار، حضرت مولانا نور الاسلام، حضرت مولانا عبدالعلیم، حضرت مولانا منیر الزمان وغیرہ شامل ہیں۔ ان حضرات نے وہاں بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا اور نوجوانوں کو مبارک باد دی۔ تحریک جاری ہے اور جاری رہے گی۔ نوجوانوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے ملک سے قادیانیت ختم کر کے دم لیں گے۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں سے پرزور درخواست ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا پروگرام بنائیں اور ان قلعوں کا معائنہ کریں اور اپنے مفید مشوروں سے نوازیں۔ ہم رسالہ ختم نبوت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں بیداری کی زبردست لہر اٹھی ہوئی ہے۔ پرچہ جاری رہنا چاہئے۔ شکریہ!
مرزا طاہر کا اعتراف: کراچی ہفت روزہ ختم نبوت میں گزشتہ دنوں برہمن باڑیہ میں سینکڑوں قادیانیوں کے اسلام قبول کرنے کی خبریں شائع ہوئی تھیں۔ قادیانی عموماً ایسی خبروں کو ”مولویوں کا جھوٹ“ کہہ کر تردید کر دیا کرتے تھے لیکن بنگلہ دیش کے علاقہ برہمن باڑیہ میں قادیانیوں کے خلاف انقلاب اور بیداری کی جو لہر اٹھی ہے اور جس طرح وہاں سینکڑوں قادیانی مسلمان ہوئے ہیں۔ قادیانیوں کے بھگوڑے پیشوا کو اس کی تردید کی جرأت نہ ہوسکی۔ ۱۸/ستمبر ۱۹۸۷ء کو جمعہ کے دن لندن میں جو لیکچر جھاڑا اس میں اس نے دکھی دل کے ساتھ بنگلہ دیش میں برہمن باڑیہ اور اس کے ماحول میں قادیانیت چھوڑنے والوں کو مرتد قرار دیا اور اسے مولویوں کے شدید مظالم سے تعبیر کیا اور اپنی جماعت کو ہدایت کی ہے کہ جہاں جہاں بھی ارتداد ہوا ہے یا کمزوریاں دکھائی گئی ہیں۔ وہاں کی انتظامیہ کو بحیثیت ملک سارے ملک کی انتظامیہ کو آئندہ کے لئے جماعتی حفاظت کے بہتر سامان پیدا کرنے ہوں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۶، مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷/ دسمبر ۱۹۸۷ء)
کنری میں ایک اہم قادیانی کمانڈو کی قادیانیت سے توبہ
۶/نومبر ۱۹۸۷ء جمعۃ المبارک کا دن مجلس تحفظ ختم نبوت اور ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی کا دن تھا، کیونکہ اس دن ایک کنری کے قادیانی نوجوان عبدالحئی نے مرزا قادیانی پر ہزاروں لعنتیں ڈال کر بخاری مسجد کنری میں بہت سے کارکنان ختم نبوت یوتھ فورس اور معززین شہر کی موجودگی میں نماز جمعۃ المبارک پر مولوی غلام نبی کے ہاتھوں دین اسلام کلمہ طیبہ پڑھ کر قبول کر لیا۔ الحمدللہ!
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس سے بڑی ہم مسلمانوں کے لئے اور کیا کامیابی ہوگی؟ یعنی ایک قادیانی نوجوان قادیانیت پر لعنت ڈال کر اسلام قبول کر لیتا ہے۔ اس طرح ایک شخص کے مسلمان ہونے سے اس کی آئندہ آنے والی پوری نسل مسلمان ہوگی ۔ ان شاء اللہ ! وہ دن دور نہیں ، جب سب قادیانی مرزا مردود قادیانی پر لعنت ڈال کر دین اسلام قبول کر لیں گے۔
میں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور ختم نبوت یوتھ فورس کنری اور وہ تمام مسلمان جو کہ اللہ اور اس کے آخری نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں ۔ عبدالحئی صاحب کو جو کہ نئے مسلم ہیں ۔ اس ایمان افروز اقدام پر مبارک باد دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ خدا ہر قادیانی کو عبدالحئی جیسی سمجھ بوجھ عطاء کر دے تاکہ وہ اچھے، برے، سچے اور جھوٹے کی پہچان کر سکیں اور دائرہ اسلام میں داخل ہو کر حضور اکرم ﷺ کے سامنے قیامت کے روز سرخرو ہوسکیں ۔ میں نے اس نو مسلم سے ایک انٹرویو بھی لیا جو ذیل میں پیش کر رہا ہوں۔
سجاد : عبدالحئی صاحب! آپ ماشاء اللہ اب مسلمان ہو چکے ہیں ۔ کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ کو قادیانیت سے نفرت کب اور کیوں ہوئی؟
عبدالحئی : دیکھئے سجاد صاحب ! الحمد للہ میں اب مسلمان ہو چکا ہوں ۔ جہاں تک قادیانیت سے نفرت کا تعلق ہے تو مجھے تقریباً عرصہ دو سال سے نفرت محسوس ہونا شروع ہوئی ۔ نفرت ہونے کی چند ایک وجوہات ہیں۔
میں کافی عرصہ ربوہ میں قادیانیوں کے گڑھ میں دارالضیافت میں کتابت کا کام کرتا رہا ہوں ۔ انہی کتابوں میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ مرزا مردود کہیں کچھ لکھتا ہے اور کہیں کچھ۔ جھوٹی پیشین گوئیاں اس کے علاوہ ہیں ۔ اس کی باتوں کے تضاد نے میرے اندر ایک طوفان برپا کر دیا ۔ مثال کے طور پر کہیں تو وہ اپنے آپ کو نبی اللہ ( نعوذ باللہ ) کہتا ہے کہیں مسیح اللہ، کہیں مجدد، کہیں کرشن تو کہیں موسیٰ و کہیں مریم اور بھی بہت بکواس لکھی ہے۔ اس نے حضرت فاطمہ پر بھی کیچڑ اچھالا ہے۔ (نعوذ باللہ ) اسی تضاد نے مجھے یہ سب کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا اور اس کا رزلٹ آپ کے سامنے ہے۔
سجاد : کیا آپ کے مسلمان ہونے میں کسی خاص واقعہ کا بھی دخل ہے؟
عبدالحئی : جی ہاں ! بالکل ہے۔ میں یہ بتانا ضروری سمجھوں گا کہ مجھے صحیح رستے پر لانے میں ایک خواب کا گہرا تعلق ہے۔ خواب کچھ یوں ہے کہ ایک رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں عبدالغفار مغل ( جو کہ ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے صدر ) محمد صفدر صاحب ( جو کہ نائب صدر ) اور تیسرا کوئی اور مسلمان لڑکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک میرا سابقہ دوست قادیانی ہے۔ میں بیٹھا ہوا ہوں جب کہ یہ چاروں نماز پڑھ رہے ہیں۔ باقی سب یعنی تینوں کا رخ قبلہ کی طرف ہے۔ جب کہ قادیانی لڑکے کا رخ مشرق کی طرف ہے۔ میں صبح بہت پریشان ہوا۔ ایک کتاب جو کہ ایک قادیانی مربی کی لکھی ہوئی ہے جو کہ خوابوں کی تعبیر کے متعلق ہے۔ اس میں پڑھا ۔ اس میں تعبیر لکھی ہوئی تھی کہ جن کا رخ قبلہ اول کی طرف تھا وہ صحیح ہیں ۔ جب کہ مشرق والا غلط ۔ اس خواب نے میری زندگی تک بدل دی۔
سجاد : کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ ربوہ جو کہ قادیانیوں کا گڑھ ہے؟ وہاں آپ نے بہ نسبت یہاں کے کیسا ماحول پایا؟
عبدالحئی : یوں تو گندگی ہر جگہ ہوتی ہے مگر جتنی گندگی میں نے قادیانیوں میں دارالضیافت میں دیکھی ، خاص کر لڑکیوں کی ۔ میرا خیال ہے ان کا ذکر اس دینی رسالہ میں زیب نہیں دیتا۔ بہر حال میں اسے بے حیائی کا نام ضرور دوں گا۔
سجاد : عبدالحئی صاحب! آپ تو مرزا طاہر کے کمانڈوز میں رہے ہیں ۔ میرا مطلب ہے آپ نے تربیت بھی لی تھی ۔ کیا آپ اس کے متعلق کچھ وضاحت فرمائیں گے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالحئی: ہاں سجاد صاحب! واقعی میں ان کے کمانڈوز میں بھی رہا ہوں۔ وہاں میں اس لئے بھرتی ہوا تھا کہ شاید مجھے سکون مل جائے۔ کیونکہ وہ اس وقت میرے آقا تھے۔ (نعوذ باللہ) مگر ہوا اس کے بالکل برعکس۔ کیونکہ مجھے سکون کے بجائے بے سکونی زیادہ ملی اور اسی بے سکونی نے مجھے قادیانیوں کی کتابیں پڑھنے پر مجبور کیا۔ جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
سجاد: آپ کی کوئی خاص تمنا یا خواہش؟
عبدالحئی: یوں تو دل میں کئی خواہشیں ہوتی ہیں مگر میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ کاش! مرزا مردود طاہر جلد واصل جہنم ہو۔ اس کے علاوہ دلی خواہش ہے کہ میری والدہ اور بھائی سب مرزا پر لعنت ڈال کر مسلمان ہو جائیں گے۔
سجاد: آپ کا قادیانیوں کے لئے کوئی پیغام؟
عبدالحئی: میرا ان کے لئے پیغام ہے کہ قادیانیو! تم لوگوں کو اب تو غور ضرور کرنا چاہئے۔ کیونکہ آپ لوگوں سے بہت سے پڑھے لکھے بھی ہیں مگر عقلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ بنا سوچے سمجھے مسلمان ہو جاؤ بلکہ یہ ضرور کہوں گا کہ اپنی ہی کتابوں کا غور سے مطالعہ کرنے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا اور یقیناً آپ مسلمان ہونا پسند کرو گے اور مرزا دجال پر لعنت ڈالیں گے۔ یہ نہیں سوچتے کہ مرزا طاہر ہمارے ہی خون پسینے کی کمائی سے لندن میں بیٹھا عیاشی کر رہا ہے۔ تف ہے تم لوگوں پر جس راستے پر تم لوگ چل رہے ہو۔ وہ سیدھا جہنم پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ سنبھلنے کا وقت اب بھی ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔
سجاد: شکریہ بہت آپ کا۔ اللہ آپ کو ثابت قدم رکھے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۰، ۲۱، مورخہ ۲۵ تا ۳۱؍ دسمبر ۱۹۸۷ء)
بھارت میں عالمی مجلس کے مبلغ مولانا محمد عمر فتح پوری کی کامیابی، تین خاندانوں کی قادیانیت سے توبہ
بمبئی (نمائندہ خصوصی) یہ امر باعث مسرت ہے کہ مولانا محمد عمر فتح پوری جو چند ماہ پہلے پاکستان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ہیڈ آفس ملتان سے رد قادیانیت کا کورس کر کے آئے ہیں، انہوں نے بھر پور انداز میں عالمی مجلس کے مبلغ کی حیثیت سے کام شروع کر دیا ہے۔ وہ خوب دورے کر رہے ہیں۔ فتح پور سے آمدہ اطلاع کے مطابق اس علاقے میں ان کی تبلیغی کاوشوں کے نتیجہ میں تین قادیانی خاندان مرزا قادیانی اور اس کی ذریت پر لعنت بھیج کر حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ مولانا محمد عمر صاحب فتح پوری گزشتہ سال دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرنے کے بعد رد قادیانیت کا کورس کرنے کے لئے کراچی آئے تھے، جہاں سے انہیں عالمی مجلس کے مرکزی آفس ملتان روانہ کر دیا گیا۔ انہوں نے وہاں تین ماہ میں مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری، مولانا اللہ وسایا صاحب سے کورس پڑھا۔ جس کے بعد وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے ختم نبوت کے مبلغ کی حیثیت سے خود کو وقف کر دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱، مورخہ ۲۵ تا ۳۱؍ دسمبر ۱۹۸۷ء)
۱۹۸۷ء میں ختم نبوت کانفرنسوں وسرگرمیوں کی رپورٹ
قصبہ روڈہ تھل میں یک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
روڈہ (نمائندہ ختم نبوت رانا خیر الدین راہی) گزشتہ دنوں قصبہ روڈہ علاقہ تھل ضلع خوشاب میں عظیم الشان یک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ روڈہ کے گردونواح میں تین ساڑھے تین سو کے قریب قادیانیوں کے گھر ہیں۔ مرزائی وکیل جہانگیر جوئیہ جو کلمہ طیبہ کے
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۷ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جرم میں جیل میں ہے۔ اس علاقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ سرگودھا شہر میں بڑے طمطراق سے کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گیا۔ بالآخر پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ اس علاقہ میں مرزائیوں کی سازشوں اور سرگرمیوں کی بناء پر وقتاً فوقتاً ختم نبوت کے موضوع پر جلسے ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک جلسہ گزشتہ دنوں شاہین ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی کی قیادت میں پوری شان وشوکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ جب مولانا محمد اکرم طوفانی ختم نبوت کے شاہینوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ روڈہ پہنچے تو قصبہ کی فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ بعد نماز ظہر تنظیم اہل سنت پاکستان کے صدر المبلغین حضرت مولانا حافظ خدا بخش آف کروڑ لعل عیسن نے ایمان افروز خطاب فرمایا اور قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور مرزا قادیانی کے غلیظ عقائد پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کی دوسری نشست رات کو بعد نماز عشاء مدنی مسجد میں ہوئی، جہاں سب سے پہلے مولانا محمد یعقوب احسن اور مولانا رحیم بخش کا خطاب ہوا۔ اس کے بعد شاہین ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی نے مسئلہ ختم نبوت، مرزائیت کی حقیقت جہانگیر جوئیہ کے واقعہ کا پس منظر اور قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ ان کا ولولہ انگیز بیان ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔ سامعین بڑی دلچسپی سے ان کا خطاب سنتے رہے۔ ان کی اپیل پر ہفت روزہ ختم نبوت کے دس خریدار بنے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصبہ روڈہ کی تشکیل عمل میں آئی۔ جلسہ کے انتظامات حافظ دلاور حسین اور ان کے ساتھیوں نے کئے۔ وہاں کے نوجوانوں نے کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے خصوصی دلچسپی لی۔ رات ساڑھے گیارہ بجے کانفرنس ختم ہوئی۔ سرگودھا سے آنے والے شاہینوں کا قافلہ مولانا محمد اکرم طوفانی کی قیادت میں اسی وقت نعرے لگاتے ہوئے سرگودھا روانہ ہوگیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۶، مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جنوری ۱۹۸۷ء)
ختم نبوت کانفرنس لالہ رخ واہ کینٹ
۲۳؍جنوری ۱۹۸۷ء کو مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد صادق صدیقی مبلغ اسلام آباد واہ کینٹ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ واہ کینٹ کے صدر مجلس مولانا محمد رفیق صاحب نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ حضرت مولانا محمد اسحق صاحب پروانہ کی صدارت میں ان حضرات نے ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۳ نمبر ۲۵ ص۱۷، مؤرخہ ۱۳؍فروری ۱۹۸۷ء)
خانپور میں دوروزہ ختم نبوت کانفرنس
خانپور گزشتہ ہفتہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانپور کے زیر اہتمام دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اجلاس صرف بعد از نماز عشاء ہوئے۔ پہلا اجلاس بعد از نماز عشاء جامع مسجد قادریہ ماڈل ٹاؤن اے میں ہوا۔ جس کی صدارت مولانا مطیع الرحمن صاحب درخواستی نے کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری عبدالرزاق عابد کی تلاوت کے بعد جناب محمد یحییٰ نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ اظہر نائب صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانپور نے قراردادیں پیش کی۔ جامعہ مخزن العلوم خانپور کے استاذ الحدیث حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی، حضرت مولانا عبدالغفار تونسوی اور حضرت مولانا سلطان محمود ضیاء نے ختم نبوت کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ پہلی نشست مفتی عبدالمجید دین پوری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت خان پور کی دعا پر ختم ہوئی۔ دوسرا اجلاس جامع مسجد چوک ڈاکٹر رازی میں ہوا۔ اجلاس کا افتتاح قاری عبدالرحمن صاحب کی تلاوت سے ہوا۔ بعد میں جناب عبدالرحیم ساجد نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ ختم نبوت کے ضلعی مبلغ مولانا محمد احمد شجاع آبادی نے مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔ مولانا عبدالصبور خان ڈاہر نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب فرمایا۔ حضرت مولانا قاری حماد اللہ شفیق نے تحریک ختم نبوت میں مجاہدین کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے نوجوانوں کو متحد رہنے کا حکم دیا۔ مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالرؤف ربانی نے ملک میں نظام اسلام کے عملی نفاذ کو ہی کامیابی کا اصلی راز بتایا اور حکومت سے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد عبدالکریم ندیم نے محسن انسانیت ﷺ کی ختم نبوت کے خصوصیات کا ذکر کیا اور قراردادوں کے ذریعہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ مرتد کی سزا قتل فی الفور نافذ کی جائے۔ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے برطرف کیا جائے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب ناظم جناب عبداللطیف مغل نے علماء اور قائدین کا شکریہ ادا کیا۔ اس اجلاس کے مہمان خصوصی جناب مولانا محمد ضیاء القاسمی کے خطاب سے قبل جامعہ عربیہ امدادالعلوم کریم آباد خان پور کے تین ننھے منھے طالب علم عطاء الرحمٰن جمالی، فداء الرحمٰن، راجہ ناصر حمید نے اپنے مخصوص انداز میں وہ ترانہ دارالعلوم دیوبند پیش کیا جو کہ دیوبند کی صد سالہ تقریب کے موقع پر پڑھا گیا تھا۔ آخر میں ختم نبوت کے مرکزی راہنما عالمی مبلغ مولانا ضیاء القاسمی نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب فرمایا اور عوام الناس کو قادیانی سازشوں سے باخبر کیا۔ اس اجلاس کی صدارت بھی مولانا مطیع الرحمٰن درخواستی نے فرمائی۔ جب کہ مفتی شہر مفتی حبیب الرحمٰن درخواستی کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج۵ نمبر۴۴ ص۲۳، مورخہ ۶ تا ۱۲؍ فروری ۱۹۸۷ء)
شاہ کوٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شاہ کوٹ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ ختم نبوت بعد از نماز عشاء ایک بڑے ہال میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا عبداللطیف انور صاحب نے کی۔ مہمان خصوصی جناب مفتی قاری غلام مرتضیٰ صاحب تھے۔ جلسہ کا آغاز حافظ حبیب اللہ صاحب کی تلاوت سے ہوا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان شعلہ بیان مقرر جناب طارق صاحب نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت اتنا اہم اور پاکیزہ ہے کہ اس مسئلہ کی خاطر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ساڑھے بارہ سو صحابہ کرام کو شہید کرا دیا اور جن میں ساڑھے سات سو صحابہ کرام ؓ حفاظ قرآن تھے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں اور کلمہ طیبہ کی توہین بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اپنی ان حرکتوں سے باز آ جائیں۔ نومسلم عبدالغفار صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی مذہب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ہم پوری طرح سوچ سمجھ کر اس فتنہ پر لعنت ڈال کر امت محمدیہ میں شامل ہوئے ہیں۔ مجاہد ختم نبوت جناب محمد متین خالد نے جلسہ ختم نبوت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کی کمزوری کی واحد وجہ حضور علیہ التحیۃ والثناء کے احکامات سے روگردانی ہے۔ آج بھی اگر امت مسلمہ نبی کریم ﷺ کی غلامی کا طوق اپنے گلوں میں ڈال لے تو یہ جہاں چیز کیا ہے لوح و قلم امت کے ہاتھوں میں دے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی حضور نبی کریم ﷺ کے سب سے بڑے گستاخ ہیں۔ آخر میں حضرت مولانا عبداللطیف انور صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب قادیانی فتنہ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ ایک دور تھا کہ ختم نبوت کا نام لینا جرم سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب لفظ قادیانی ایک گالی بن چکا ہے۔ دنیا کے ہر خطہ میں تحفظ ختم نبوت کی آواز پہنچ چکی ہے اور مسلمانوں میں بیداری پیدا کر رہی ہے۔ ان شاء اللہ! اب یہ فتنہ جلد ہی ختم ہونے والا ہے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمان متحد ہو جائیں اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے تیار ہو جائیں۔ آخر میں قاری مفتی غلام مرتضیٰ صاحب کی دعا سے جلسہ کا اختتام ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری جناب جاوید اقبال صاحب نے اپنے تمام مہمانوں بالخصوص اراکین مجلس تحفظ ختم نبوت شاہ کوٹ اور حافظ سعید صاحب، حافظ حبیب اللہ، جناب سلیم صاحب، محمد علی صاحب، طارق صاحب، مولانا عبداللطیف انور صاحب کا بے حد شکریہ ادا کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج۵ نمبر۴۴ ص۲۴، مورخہ ۶ تا ۱۲؍ فروری ۱۹۸۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سنام گنج بنگلہ دیش میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
سنام گنج بنگلہ دیش (نمائندہ ختم نبوت ) بنگلہ دیش کے علماء حق نے فتنہ قادیانیت کا زبردست تعاقب شروع کر دیا ہے اور قادیانیت کے استیصال کے لئے ملک کے گوشے گوشے میں جلسے شروع کر دیئے گئے ہیں ۔ چند روز قبل ڈونگریا میں وہاں کے ایک قادیانی پیشوا فرید بخت قادیانی سے مناظرے اور مباحثے کی صورت پیش آئی۔ اہل اسلام کی طرف سے مولانا عبدالحق، حضرت مولانا نوراللہ صاحب برہمن باڑیہ اور مولانا نورالاسلام خان صاحب مدظلہم نے اس مباحثے یا مناظرے میں حصہ لیا۔ جب اس کے سامنے مرزا قادیانی کی اصل کتابوں کے حوالے پیش کئے تو وہ بری طرح بوکھلا گیا اور لا جواب ہوگیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی کتابوں کے حوالوں سے جو بات پیش کی جاتی ہے تو اس کا قادیانیوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا ۔ چنانچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا اور وہ ایسا مبہوت اور لا جواب ہوا کہ محلہ ڈونگر یا چھوڑ کر ڈھا کہ میں جاکر پناہ لی۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سنام گنج کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس پورے تزک و احتشام سے منعقد ہوئی ۔ زعماء ختم نبوت نے کتاب وسنت کی روشنی میں عقیدۂ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر پر جوش اور ولولہ انگیز تقریریں کیں ۔ جب مقررین نے مرزائیوں کی کتابوں کے حوالوں سے بتایا کہ یہ گستاخ رسول ٹولہ ہے اور مرزا قادیانی کی کتابوں سے ایسے حوالے پیش کئے تو لوگوں میں زبردست اشتعال پیدا ہوگیا۔ اس کانفرنس سے مولانا عبدالحق ،مولانا نوراللہ ،مولانا نورالاسلام خان کے علاوہ مجاہد ملت جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے بھی خطاب فرمایا۔ حضرت مدظلہ نے الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کریمہ سے تاجدار مدینہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کو نہایت احسن پیرایے میں ثابت کیا اور قادیانیت کی تردید کی ۔ ان کے شیطانی دھوکے سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو ہدایت کی۔ فرمایا کہ الحمد للہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور علماء حق پوری دنیا میں قادیانیت کا تعاقب کر رہے ہیں ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۳۵ ص ۲۸ ،مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍فروری ۱۹۸۷ء)
لوئر پکھل میں اجلاس
نیو مراد پور (نمائندہ ختم نبوت) مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر پکھل کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت مولانا محمد مظفر اقبال قریشی منعقد ہوا جس میں تحریک ختم نبوت کے کارکنوں نے بھر پور شرکت کی ۔ لوئر پکھل کے قائدین مولانا سید اسرار الحق شاہ ، مولانا مظفر اقبال قریشی پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا گیا ۔ بعد ازاں جمعہ کے اجلاس عام میں مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر پکھل کے ناظم حضرت مولانا سید اسرار الحق شاہ صاحب نے اعلان کیا کہ مرزا طاہر اپنے خبث باطن کو لندن سے کیسٹوں میں بھر کر پاکستان روانہ کرتا ہے کہ پاکستان جلد ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ یہ اس کی خام خیالی ہے ۔ اس کی پیشین گوئی کا حشر اس کے باوا مرزا قادیانی کی محمدی بیگم سے نکاح والی پیشین گوئی سے بھی بدتر ہوگا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ایسے شخص پر ابھی تک غداری کا مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔ صدر اور وزیر اعظم کا فرض بنتا ہے کہ قادیانی غنڈوں اور ملک دشمن عناصر کو لگام دیں ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۳۵ ص ۲۸ ،مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍فروری ۱۹۸۷ء)
بہاول نگر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
بہاول نگر (نمائندہ ختم نبوت) بہاول نگر کے زیر اہتمام جامع مسجد بہاول نگر میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جس میں تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام نے خطاب فرمایا۔ جب کہ مہمان خصوصی قاضی اللہ یار اور مبلغ ختم نبوت مولانا اللہ وسایا تھے ۔ مولانا قاضی اللہ یار نے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ جس کا حکومت کو سختی سے نوٹس لینا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چاہئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کے ساتھ ہر قسم کا لین دین ربط وضبط ختم کر دیں۔ جلسہ میں مولانا محمد اکرم، مولانا منظور احمد، قاری عبدالغفور نے بھی خطاب کیا۔ علاوہ ازیں جلسے میں ڈپٹی کمشنر بہاول نگر کے اس اقدام کو سراہا گیا کہ علاقہ فورٹ عباس میں مرزائیوں کے مردے کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر قادیانیوں کے قبرستان میں دفن کیا۔ اس کے علاوہ علاقے کے لوگ مبلغ ختم نبوت بہاول نگر حضرت مولانا محمد طفیل ارشد صاحب کو مبارک باد دیتے ہیں جن کی وجہ سے پورے بہاول نگر میں ہلچل مچ گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۲۶ ص ۲۶، مؤرخہ ۲۰ تا ۲۶؍ فروری ۱۹۸۷ء)
لاہور میں مرکزی ختم نبوت کنونشن
۱۶؍ فروری ۱۹۸۷ء بعد از مغرب دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیر صدارت آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل میں شریک جماعتوں کے سربراہ شریک ہوئے۔ جن میں نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا خان محمد اجمل خاں، مولانا محمد مالک کاندھلوی، خان محمد زمان خاں اچکزئی، مولانا امیر حسن گیلانی، مولانا زاہد الراشدی، علامہ علی غضنفر کراروی، آغا مرتضیٰ پویا، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا نذیر احمد، مولانا عبدالرؤف، مولانا کریم بخش، صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا سید عطاء المؤمن شاہ، صاحبزادہ محمد عابد، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا عبدالحئی جام پوری، مولانا محمد یوسف، آغا مسعود شورش کاشمیری، مولانا محمد عبداللہ، مولانا امجد خان، جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا اور مولانا عبدالقادر روپڑی نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت کی مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں مجرمانہ خاموشی پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا اور ایک دوسری قرارداد کے ذریعے ملک عزیز کی تمام جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ فرقہ واریت کے خلاف اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور ملک عزیز کو فرقہ واریت کے عفریت سے بچائیں۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جون کے مہینہ میں بعد از رمضان المبارک کوئٹہ، پشاور اور کراچی میں بھی صوبائی کنونشن منعقد کئے جائیں گے۔ ۱۷؍ فروری کو ایک بجے مسجد شہداء ریگل چوک میں صوبہ پنجاب سے تشریف لانے والے مندوبین کا عظیم الشان کنونشن و جلسہ عام منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے کی۔ اجتماع سے مولانا عطاء الرحمٰن ڈیرہ غازی خان، قاری سعید احمد خوشاب، مولانا قاری حماد اللہ شفیق رحیم یار خان، مولانا نذیر احمد سندھ، مولانا علامہ خالد محمود، مولانا سید عطاء المؤمن بخاری، مولانا فتح محمد، مولانا حق نواز جھنگوی، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا زاہد الراشدی، قاری محمد اجمل خان، مولانا محمد لقمان، مولانا سید امیر حسین گیلانی، مولانا اللہ وسایا، آغا مرتضیٰ پویا اور وسرے رہنماؤں نے اظہار خیال کیا۔ فیصل آباد سے مولانا فقیر محمد، صاحبزادہ طارق محمود، جناب محمد اقبال، جناب نصیر احمد آزاد کی قیادت میں وہاڑی سے مولانا احمد یار بہاول پور سے مولانا محمد اسماعیل، مولانا عطاء الرحمٰن، رحیم یار خان سے مولانا قاری حماد اللہ، خیر پور سے مولانا مفتی اعظم مفتی غلام قادر، بہاول نگر سے مولانا قاری عبدالغفور، مولانا عبدالحفیظ، ڈیرہ غازی خان سے مولانا صوفی اللہ وسایا، خوشاب سے قاری سعید احمد، سرگودھا سے مولانا محمد اکرم طوفانی، شیخوپورہ سے جناب عبدالحمید رحمانی، جناب محمد حسین علوی، قصور سے مولانا یحییٰ ہمدانی، گوجرانوالہ سے حافظ محمد ثاقب، مولانا زاہد الراشدی، سیالکوٹ سے جناب بشیر صاحب، ساہیوال سے چوہدری صاحب، اوکاڑہ سے مولانا امیر حسین گیلانی، جھنگ سے مولانا حق نواز، مظفرگڑھ سے مولانا محمد لقمان، ملتان سے مولانا عزیز الرحمٰن، خانیوال سے مولانا محمد عابد، میانوالی سے صاحبزادہ عزیز احمد، بھکر سے مولانا محمد عبداللہ، لیہ سے قاری منور صاحب، راجن پور سے مولانا عبدالحئی، ڈیرہ اسماعیل خان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے جناب گنگوہی صاحب، راولپنڈی سے مولانا رمضان علوی، جہلم سے مولانا رحیم ، اسلام آباد سے مولانا قاری احسان اللہ، مولانا محمد صادق، مری سے مولانا اسد اللہ، گجرات سے چوہدری خلیل، مردان سے مولانا گل رحمٰن، اٹک سے جناب فخر الاسلام فیصل، چکوال سے قاری مدنی ، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے مولانا فاروقی کی قیادت میں بیسیوں وفود کے ہزاروں افراد نے کنونشن میں شرکت کی۔ مسجد کا ہال اپنی تمام تر وسعت کے باوجود ناکافی ثابت ہوا جس کے باعث باہر کنونشن منعقد ہوا۔ تقاریر کے دوران حکومت نے بجلی کی رو بند کر دی جس کے باعث کارکنوں نے مال روڈ بند کر کے زبردست مظاہرہ کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۳۹ ص ۲۶، مورخہ ۱۱ تا ۱۷/ مارچ ۱۹۸۷ء)
مرکزی مجلس عمل کے لاہور کنونشن میں عالمی مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ کا بیان
لاہور میں ۱۶/ فروری کو بعد از مغرب مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اجلاس سے مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد!
مہمانان گرامی ذی وقار، حاضرین کرام ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک تبلیغی و دینی پلیٹ فارم ہے۔ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے تعاون و اشتراک سے ہمیشہ اہم ضرورت کے وقت مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان تشکیل دی جاتی ہے۔ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء کی تحریکوں میں اسی پلیٹ فارم پر تمام مسلمانوں کو جمع کیا گیا۔ اس وقت آپ حضرات کو محض اس لئے تکلیف دی گئی ہے کہ اندرون و بیرون ملک قادیانی جارحیت کا آپ اندازہ لگا کر آئندہ کے لئے لائحہ عمل مرتب فرمائیں تاکہ امت مسلمہ کی رہنمائی ہو۔ قادیانی جماعت کا سر براہ ملک عزیز سے مجرمانہ فرار اختیار کر کے لندن بیٹھا ہوا، ملک عزیز کو توڑنے کی باتیں کر رہا ہے اور قادیانیوں کو سازش کے ذریعہ اندرون ملک خانہ جنگی کے لئے منظم کر رہا ہے۔ حکومت وقت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بجائے خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔
اسرائیل و بھارت پاکستان کے دو بڑے دشمن ہیں اور قادیانیوں کے ان دونوں سے گہرے روابط ہیں۔ پاکستان کے فرقہ وارانہ فسادات میں قادیانیوں کا ہاتھ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اندرون سندھ معزز شہریوں کو اغواء کیا گیا۔ ریلوے اسٹیشن کو جلایا گیا۔ ریلوے لائنیں اکھاڑی گئیں۔ باندھی، دوڑ، مورو، شہداد پور، ٹنڈو آدم، ہالا روڈ، صوبھوڈیرو، کنری، ضلع تھرپارکر میں جہاں کہیں تشدد کے واقعات ہوئے ہیں وہاں قادیانی کثرت سے آباد ہیں۔ کراچی کے ایک کونسلر ہاشم زیدی کا بیان اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ کراچی کے حالیہ فسادات میں قادیانیوں کو ملوث پایا۔
۱۶/ فروری ۱۹۸۶ء کو مجلس عمل کے رہنماؤں سے مذاکرات کے دوران جناب محمد خان جونیجو وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ہم نے واضح طور پر اس کیس کے ملزمان نامزد کر دیئے۔ ان کو شامل تفتیش کرنے کے بجائے ان کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا۔ جب کہ اس وقت بعض ملزمان بیرون ملک فرار ہو گئے۔ سکھر، ساہیوال شہداء کیسوں کے مجرمان کو سزائے موت اور اس کی توثیق کو ایک سال ہو گیا ہے۔ رحم کی اپیلیں جنرل محمد ضیاء الحق کی میز پر پڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے ان کو معرض التواء میں ڈال کر قادیانیوں کو عدالتوں میں اپیلیں کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے عرصہ ہوا ارتداد کی شرعی سزا اور قادیانی عبادت گاہوں کی ہیئت مساجد جیسی نہ ہونی چاہئے، کی سفارش کر دی ہے۔ یہ حکومت پاکستان کا اپنا قائم کردہ ادارہ ہے۔ مگر اس کی سفارشات پر قانون سازی نہیں کی گئی۔ امتناع قادیانیت صدارتی آرڈیننس کی قادیانی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ وہ کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر آرڈیننس کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کی عبادت گاہوں پر تاحال اسلامی شعائر واصطلاحات لکھی ہوئی ہیں۔ یہ لاہور شہر جہاں آپ حضرات اس وقت جمع ہیں یہاں بھی قادیانی عبادت گاہوں سے اسلامی اصطلاحات کو نہیں ہٹایا گیا۔ قادیانی جارحیت واشتعال انگیزی سے اس وقت صورتحال تشویش ناک ہوگئی ہے۔ قادیانی سازشوں سے ملک عزیز کا امن تہہ وبالا ہورہا ہے۔ اس پر ہر ذی شعور مسلمان پاکستانی کی آنکھ اشکبار ہے۔ حکومت ان حالات وواقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کی بجائے خاموش تماشائی کا مجرمانہ کردار ادا کررہی ہے۔ اس وقت ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے آپ کے خدام گوناگوں انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں۔ آپ حضرات کو اس وقت اس لئے تکلیف دی گئی ہے کہ آپ سرجوڑ کر بیٹھیں اور امت کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔ خداوند کریم آپ کا حامی وناصر ہو۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج۵ ش۳۹ ص۵، مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷؍مارچ ۱۹۸۷ء)
تونسہ میں ایک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
۴؍ مارچ ۱۹۸۷ء کو تونسہ میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کنونشن منعقد کیا گیا۔ جس میں جملہ مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ ہماری خوش قسمتی کہ حضرت امیر مرکزیہ نے بھی اس کنونشن میں شرکت فرمائی۔ اس سلسلہ میں حضرت صبح دس بجے ڈیرہ غازی خان پہنچے۔ غازی گھاٹ پل پر آپ کا شاندار استقبال کیا گیا اور ایک عظیم جلوس کے ذریعہ آپ کو شہر لایا گیا۔ ویگنوں پر لاؤڈسپیکر لگے ہوئے تھے۔ فضا ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج گئی۔ گیارہ بجے یہ عظیم الشان جلوس جو کاروں، بسوں، ویگنوں اور ڈالوں پر مشتمل تھا تونسہ روانہ ہوا جو ڈیرہ سے تقریباً ۵۰ میل کے فاصلہ پر جانب شمال ہے۔ یہ سفر ڈیڑھ گھنٹہ میں طے ہوا۔ ختم نبوت کے سرگرم کارکن اور رضا کار غلام فرید خان کھلول سارے رستہ میں نعرے لگواتے رہے۔ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن نے موصوف کو ختم نبوت کے سپیکر کا لقب دیا۔ جب یہ جلوس بوہڑ جو تونسہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے پہنچا تو اس کا استقبال کیا گیا اور شایان شان طریقہ سے اسے تونسہ لایا گیا۔ تونسہ میں جلسہ کی کارروائی شروع ہوچکی تھی۔ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا قاضی اللہ یار خاں تقریر فرمارہے تھے۔ مولانا نے بہت دلچسپ تقریر کی۔ لوگ بہت محظوظ ہوئے۔ آپ کی تقریر کو بے حد پسند کیا گیا۔
ظہر کے بعد پھر کنونشن کی کارروائی شروع ہوئی۔ مولانا صوفی اللہ وسایا نے اس نشست کی افتتاحی تقریر کی اور مظالم ومصائب کی داستان سنائی جو گزشتہ تحریک میں ان پر اور ان کے رفقاء پر انتقامی صورت میں کئے گئے تھے۔ آپ نے مطالبہ کیا کہ مسجد کو فوراً مسلمانوں کے حوالہ کیا جائے ورنہ ہم تحریک چلائیں گے۔ آپ نے اجتماع سے پوچھا کہ کیا آپ ہمارا تعاون کریں گے؟ اس موقع پر مسلمانوں کا جوش وجذبہ قابل دید تھا۔ تمام مسلمانوں نے کہا اب ہم جاکر خانہ خدا کو آزاد کراتے ہیں۔ ہندوستان میں اگر محکوم مسلمان مساجد کی بحالی کے لئے تحریک چلاسکتے ہیں تو ہم یہ کام خود کرتے ہیں۔ ان کے بعد فاتح ربوہ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ آپ نے نہایت فاضلانہ انداز میں عصمت انبیاء علیہ السلام اور حفاظت اصحاب رسول ﷺ پر گفتگو کی۔ مولانا عبدالحق مجاہد نے علمی انداز میں خطاب فرمایا اور تاجدار ختم نبوت کے اسماء گرامی سے مسئلہ ختم نبوت کو ثابت کیا۔ علامہ کراروی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سنت صدیق پر عمل سے ہی مرزائیت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے عظیم مجاہد مولانا قاری عبدالحمید صاحب لاہوری نے تحاریک ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔ مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کو واضح کیا۔ جلسہ سے مولانا عبدالحئی، مولانا غلام قادر، محمد خان لغاری، مولانا عبدالکریم، مولانا انوار الحق بلوچستانی، مولانا نذیر احمد تونسوی، صاحبزادہ عبدالرحمن صاحب غفاری اور دیگر علمائے کرام نے خطاب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا۔ یہ کنونشن بہت کامیاب رہا۔ آخر میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی کہ شیر گڑھ کی مسجد کو فی الفور مسلمانوں کے حوالہ کیا جائے۔ ورنہ کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اس جلسہ کے مہمان خصوصی حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ تھے۔ جب کہ صدارت مجاہد تحریک شیر گڑھ خواجہ عبدالمنان نے کی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۴ ش ۱ ص ۲۲، مورخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۸۷ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سندھ کے زیر اہتمام ۸؍ روزہ ختم نبوت کانفرنسیں
زیر سرپرستی : حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ زیر صدارت: حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب مدظلہ
۱۶، ۱۷؍ مارچ کو ٹنڈو آدم، ۱۸؍ مارچ کو میرپور خاص، ۱۹؍ مارچ کو ٹنڈو غلام علی، ۲۰، ۲۱؍ مارچ کو کنری، ۲۲؍ مارچ کو ڈگری، ۲۳؍ مارچ کو ماتلی میں کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ جس میں مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا محمد مراد سکھر، مولانا عبدالغفور قاسمی سجاول، مولانا عبدالرؤف ازہری ملتان، مولانا عبدالغفور حقانی شجاع آباد، مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، مولانا نذیر احمد خان بلوچ حیدرآباد، مولانا جمال اللہ الحسینی پنوں عاقل، مولانا محمد رمضان آزاد حیدر آباد، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی ٹنڈو آدم نے شرکت فرمائی۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے بیانات کئے۔ ان پروگراموں کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام صوبہ سندھ میں ختم نبوت کانفرنسیں
ٹنڈو آدم : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سندھ میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنسوں کا آغاز ٹنڈو آدم سے ہوا۔ اس کانفرنس کا انتظام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روحِ رواں جناب مولانا احمد میاں حمادی نے کیا۔ یہ دو روزہ کانفرنس تھی اور اس کے تین اجلاس ہوئے تھے۔
پہلا اجلاس ۱۶؍ مارچ کو ہوا جس کی صدارت مولانا احمد میاں حمادی نے کی۔ اجلاس کا آغاز قاری عبدالرحمٰن کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد عبدالرحیم ساجد نے نعت شریف پڑھ کر سنائی۔ سب سے پہلے مولانا عرفان احمد قادری نے اتفاق و اتحاد پر بیان فرمایا۔ اس کے بعد مولانا عبدالرؤف مرکزی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانیوں کے مکمل بائیکاٹ پر زور دیا اور حکومت سے ختم نبوت کے سلسلہ میں کئے ہوئے وعدوں پر عملدرآمد پر زور دیا۔ اس کے بعد مولانا جمال اللہ الحسینی نے مرزائیت کی سازشوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ مولانا جمال اللہ الحسینی کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے مسئلہ ختم نبوت پر سیر حاصل خطاب فرمایا۔ اس کے بعد مولانا اللہ وسایا ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت نے مفصل اور مدلل قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ مولانا احمد میاں حجازی کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
دوسرا اجلاس اگلے روز ۱۷؍ مارچ کو ظہر کے بعد ہوا جس سے مولانا عبدالحمید لنڈ نے خطاب فرمایا۔
تیسرا اور آخری اجلاس حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحب مدظلہ امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی صدارت میں ہوا۔ اس اجلاس کے اسٹیج سیکرٹری مولانا عبدالرؤف مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تھے۔ اجلاس کا آغاز قاری عبدالرحمٰن کی تلاوت سے ہوا۔ دو سندھی بچوں نے مرزائیت کے خلاف نظم پڑھی اور خوب داد لی۔ اس کے بعد عبدالرحیم ساجد نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ اجلاس سے مولانا محمد امجد نے خطاب فرمایا۔ فرقہ واریت اور قوم پرستی کے خلاف آپ نے تقریر کی اور مسلمانوں کو متحد ومتفق رہنے پر زور دیا۔ بعد میں مسئلہ ختم نبوت پر مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم نے خطاب فرمایا اور اس کے بعد مولانا نذیر احمد مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ۱۷۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حیدرآباد نے سندھ میں قادیانیوں کی سازشوں سے مسلمانوں کو روشناس کرایا۔ مولانا احمد میاں حمادی نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبات پر حکومت کو عملدرآمد کرانے کے سلسلہ میں پر زور خطاب فرمایا اور اس سلسلہ میں قراردادیں پیش کیں۔ بعد میں مولانا دوست محمد نواب شاہ نے مسئلہ ختم نبوت پر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اور ان کے رفقاء کی خدمات کا ذکر کیا۔ آخر میں مولانا محمد لقمان علی پوری نے مفصل خطاب فرمایا جس میں اکابرین کی قربانی، مرزائیت کی ریشہ دوانیاں اور ان کا سدباب، عقیدۂ ختم نبوت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کا ذکر کیا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے آخر میں دعا فرمائی۔
حیدرآباد دفتر میں امیر مرکزیہ کے اعزاز میں استقبالیہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد اور کوٹری کی طرف سے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔ جس میں حیدرآباد کے معززین اور دینی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مولانا نذیر احمد نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام سے حاضرین کو روشناس کرایا۔
گوٹھ نبی بخش: ۱۹؍ مارچ ۱۹۸۷ء دن کو گوٹھ نبی بخش میں حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ تشریف لے گئے۔ بعد نماز ظہر مولانا اللہ وسایا صاحب نے خطاب فرمایا اور حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے دعا فرمائی۔
ٹنڈو غلام علی: گوٹھ نبی بخش سے واپس پہنچنے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو غلام علی کے کارکنوں نے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا والہانہ استقبال کیا۔ کارکنان ختم نبوت ٹنڈو غلام علی نے کانفرنس سے قبل شہر میں بینرز لگائے ہوئے تھے۔ جن پر درج تھا: شیزان کا بائیکاٹ کرو۔ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کرو۔ قادیانیوں کو کلمہ طیبہ کے استعمال سے روکا جائے۔ اس کانفرنس کی صدارت حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ اس میں مولانا لقمان علی پوری، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی نے خطاب فرمایا۔
کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ضلع بدین میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی شرارتوں کا نوٹس لے۔ تمام مقررین نے ختم نبوت، حیات مسیح، کذب مرزا کے موضوع پر خطاب فرمایا۔ یہ سلسلہ رات بھر جاری رہا۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے دعا فرمائی۔
کنری پاک: کنری پاک جو کہ ربوہ ثانی ہے اور جہاں قادیانیوں نے اپنی سٹیٹ قائم کی ہوئی ہے اور ربوہ کنری کی آمدنی سے چل رہا ہے۔ کنری میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انتظام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کے نوجوانوں نے کیا۔ ۲۰، ۲۱؍ مارچ کو ختم نبوت کانفرنس کنری کے چار اجلاس ہوئے۔ پہلا اجلاس قبل از جمعہ ہوا جس میں مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جالندھری نے خطاب فرمایا۔ دوسرا اجلاس بعد نماز جمعہ ہوا اس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا حفیظ الرحمٰن، مولانا جمال اللہ الحسینی نے خطاب فرمایا۔ رات کو بعد نماز عشاء تیسرا اجلاس ہوا جس میں مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا اللہ وسایا، شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور سجاول، مولانا عبید اللہ سندھی نے خطاب فرمایا۔ علماء نے شیزان قادیانیوں کے مشروب کا بائیکاٹ اور کلیدی آسامیوں سے قادیانیوں کے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا اور مسلمانوں سے قادیانی اور قادیانی نوازوں سے ہوشیار رہنے کے لئے کہا۔ رات گئے تک یہ اجلاس جاری رہا۔ حضرت اقدس خواجہ خان محمد مدظلہ کی دعا پر یہ اجلاس ختم ہوا۔
آخری اجلاس میں ملک کے نامور خطیب مولانا محمد لقمان علی پوری نے مفصل خطاب فرمایا اور قادیانیت کا خوب پوسٹ مارٹم کیا۔
ڈگری: ۲۲؍ مارچ کو ڈگری ختم نبوت کے اجلاس سے مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا عبدالرؤف، مولانا اللہ وسایا، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی، مولانا اکرام الحق، مولانا عبداللہ سندھی نے خطاب فرمایا۔ علماء کرام نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت کے خلاف جہاد کیا۔ اہمیت پر زور دیا اور ٹنڈو غلام علی کے کارکنان ختم نبوت پر جھوٹے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا اور ایس. ایچ. او ٹنڈو غلام علی، ڈی. ایس. پی ماتلی کی معطلی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ختم نبوت کے پروانے جھوٹے مقدمات سے مرعوب نہیں ہوتے۔ اس اجلاس کی صدارت امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈگری مولانا غلام غوث نے کی۔ آخر میں مولانا محمد لقمان علی پوری نے دعا فرمائی۔
ماتلی: سندھ میں ختم نبوت کانفرنسوں کا آخری اجلاس ماتلی میں ہوا۔ کیونکہ ماتلی کے ڈی. ایس. پی کے ایماء پر کارکنان ختم نبوت ٹنڈو غلام علی پر سات جھوٹے مقدمات ہوئے۔ اس لئے علماء کا جوش قابل دیدنی تھا۔ اجلاس کی صدارت مولانا غلام غوث نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا نذیر احمد بلوچ نے سرانجام دیئے۔ علماء کرام نے بڑھ چڑھ کر خطاب فرمایا۔ اجلاس سے مولانا عبدالغفور قاسمی سجاول والوں نے مفصل اور مدلل خطاب فرمایا۔ قادیانیوں اور قادیانی نوازوں کو خبردار کیا کہ سندھ کے غیور مسلمان قادیانیت کی لاش کو دفنا کر دم لیں گے اور اگر قادیانی باز نہ آئے تو صدیق اکبر ؓ کی سنت زندہ کی جائے گی۔ اجلاس سے مولانا عبدالرؤف، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد قاسم گولارچی، مولانا حفیظ الرحمن رحمانی، مولانا محمد عیسیٰ، مولانا محمد ادریس، مولانا غلام محمد نے خطاب کیا۔ یہ اجلاس شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۴۴ ص ۲۶، ۲۷، مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳؍ اپریل ۱۹۸۷ء)
رحیم یار خان میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس اور دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا افتتاح
رحیم یار خان جامع مسجد فاروق اعظم بلاک نمبر ۳ میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس ۱۳، ۱۴؍ مارچ ۱۹۸۷ء کو منعقد ہوئی۔ جس کے کل تین اجلاس ہوئے۔ پہلا اجلاس قبل از جمعہ منعقد ہوا جس سے سندھ اسمبلی کے ممبر مولانا محمد زکریا، مفتی محی الدین اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری مولانا قاری حماد اللہ شفیق تھے۔ خطبہ جمعہ حرم کعبہ کے شیخ التفسیر مولانا محمد مکی حجازی نے ارشاد فرمایا۔ حاضری عدیم المثال تھی۔ جامع مسجد و مدرسہ فاروق اعظم اور سڑک تک لوگوں نے صفیں باندھ رکھی تھیں۔ اس سے قبل جب اٹھارہ سال حجاز مقدس کے قیام کے بعد پہلی بار مولانا محمد مکی حجازی خیبر میل کے ذریعہ رحیم یار خان تشریف لائے تو عوام کی بہت بڑی تعداد نے آپ کا والہانہ استقبال کیا اور تاریخی جلوس کی شکل میں آپ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں لایا گیا۔ جمعہ کے بعد امیر مرکزیہ مولانا خان محمد، مولانا محمد مکی حجازی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا قاری حماد اللہ، مولانا عبدالصبور ڈاہر، مولانا محمد احمد، مولانا قاضی عزیز الرحمن امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان، مولانا بشیر احمد حامد حصاروی، مولانا حافظ محمد اکبر، مولانا اللہ بخش رضوی غرضیکہ تمام مکاتب کے علماء و شہر کے خطباء نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے ملکیتی دفتر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی جو سرکلر روڈ پر حال ہی سوا لاکھ کے زر کثیر کے صرفہ سے تعمیر ہوا ہے۔ دفتر کی جگہ سابق ڈی سی رحیم یار خان چوہدری محمد ایوب، بلدیہ رحیم یار خان کے چیئرمین جناب میاں عبدالخالق اور کونسلر صاحبان کے تعاون خاص سے عالمی مجلس کو حاصل ہوئی۔ اس کی تعمیر میں مولانا محمد احمد مبلغ عالمی مجلس، مولانا قاضی عزیز الرحمن، مولانا قاری حماد اللہ شفیق کی بھر پور کوششوں اور رحیم یار خان کے عوام و خاص انتظامیہ و عامۃ المسلمین کی خصوصی دلچسپی سے مکمل ہوئی۔ موجودہ اے سی رحیم یار خان اپنے گرامی قدر رفقاء سمیت دفتر کی بلڈنگ دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔ موجودہ ڈی سی، ایس پی نے مبارک باد کے پیغام بھجوائے۔ مولانا محمد مکی حجازی، حضرت امیر مرکزیہ خواجہ خان محمد، مولانا عزیز الرحمن، چیئرمین بلدیہ میاں عبدالخالق جب دفتر کی دوسری منزل میں کھڑے ہوئے اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو سڑک پر حاضرین کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں نعروں سے فضاء میں ارتعاش کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ رات عشاء کے بعد دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔ حضرت امیر مرکزیہ نے صدارت فرمائی۔ مہمان خصوصی محمد مکی حجازی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے علاوہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، خانقاہ موسیٰ زئی شریف کے صاحبزادہ محمد سعید نے خطاب فرمایا۔ تیسرا اجلاس بعد از عشاء منعقد ہوا جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا اللہ وسایا اور خطیب پاکستان مولانا محمد ضیاء القاسمی نے پرمغز خطاب کیا۔ مقررین نے قادیانیوں کی ملک واسلام دشمنی ان کے مکروہ عقائد وعزائم سے عوام کو باخبر کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۴۴ ص ۲۸ ،مورخہ ۱۷ تا ۲۳ راپریل ۱۹۸۷ء)
ختم نبوت کنونشن سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے زیر اہتمام عظیم الشان کنونشن منعقد ہوا۔ تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا اللہ وسایا کا روح پرور خطاب ہوا۔ مولانا اللہ وسایا نے مرزا قادیانی کی چند حماقتیں بھی ذکر کیں اور عالمی مجلس کے رہنماؤں کے کامیاب غیر ملکی دورہ کے حالات بیان کئے۔ جس سے نوجوان نہایت ہی متاثر ہوئے اور وعدہ کیا کہ اب ہم آگے سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہر میدان میں قادیانیوں کا تعاقب کریں گے۔ صوفی جمال الدین نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جنرل سیکرٹری شبان حلقہ رحمان پورہ نے انجام دیئے۔ اس تقریب میں تین صد نوجوانوں نے شرکت کی اور بارہ بجے شاہین ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی کی دعا کے ساتھ کنونشن اختتام پذیر ہوا۔
بلیدہ تربت میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
بلیدہ (نمائندہ ختم نبوت ) یہاں بلیدہ ضلع تربت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس انتہائی تزک اور احتشام سے منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا نذیر احمد تونسوی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان اور مولانا سید عبدالمجید ندیم کے علاوہ مولانا محمد الیاس خطیب تربت ، مولانا مفتی احتشام الحق آسیابادی ، مولانا عبدالغفار بلیدی ، مولانا عبدالسلام ھنگور ، مولانا مولا بخش پنجگور ، مولانا عبدالخالق ، مولانا عبدالصمد جمالزئی پنجگور ، مولانا فخر الدین خضدار کے علاوہ متعدد علماء کرام نے ایمان افروز تقریریں کیں۔ کوہ مراد کا نقلی حج بند کرنے ، ذکری اور قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانے ، قادیانیوں کی طرح ذکریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۴۴ ص ۲۹ ، ۳۰ ،مورخہ ۱۷ تا ۲۳ راپریل ۱۹۸۷ء)
مدرسہ دارالعلوم حنفیہ مانسہرہ کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس
زیر سرپرستی : شیخ طریقت مرشد العلماء حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سفیر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا ملتان ، جناب پروفیسر مولانا غازی احمد بوچھال کلاں چکوال۔ بروز ہفتہ ۱۸؍ شعبان المعظم ۱۴۰۷ھ / ۱۸؍ اپریل ۱۹۸۷ء بعد نماز عشاء
مدرسہ دارالعلوم کے زیر اہتمام حسب سابق اس سال بھی سالانہ جلسہ ہو رہا ہے جس میں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب اپنے دست مبارک سے طلباء میں اسناد تقسیم فرمائیں۔ یہ مدرسہ مجاہد ملت مولانا محمد اسحاق صاحب ، مانسہروی بابائے تحریک خلافت کی یادگار ہے جو حضرت شیخ الہند اسیر مالٹا حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی کے رفیق کار تھے۔ مدرسہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحق ہے۔ وفاق المدارس کے نصاب تعلیم کے مطابق تدریس وتعلیم دی جاتی ہے۔ مقامی طلباء کے علاوہ تقریباً پچاس بیرونی طلباء زیر تعلیم ہیں جن کے طعام و قیام کا بندوبست مدرسہ کرتا ہے اور اس کے علاوہ طلباء کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۴۴ ص ۳۰ ،مورخہ ۱۷ تا ۲۳ راپریل ۱۹۸۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مانسہرہ
حضرت علامہ مولانا قاضی محمد عبداللہ خالد خطیب مرکزی جامع مسجد مانسہرہ کے زیر اہتمام چلنے والا عظیم الشان ادارہ دارالعلوم معارف القرآن ہر سال نہایت اہتمام سے ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کرتا ہے۔ حسب سابق اس سال بھی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی زیر صدارت مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں منعقد ہوئی۔ اس عظیم کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا نے عظیم الشان خطاب فرمایا۔ آپ کے علاوہ پروفیسر غازی احمد، مولانا دوست محمد، مولانا ضیاء الدین اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ مدرسہ سے فارغ التحصیل طلباء کو حضرت اقدس نے اپنے دست مبارک سے اسناد عنایت کیں۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ خالد صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت نے ختم نبوت کانفرنس کے جلسہ کے شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ مولانا منظور احمد شاہ آسی نے قرار دادیں پیش فرمائیں۔
حضرت اقدس کی صدارت میں خصوصی اجلاس
۱۹؍ اپریل کو بعد از نماز فجر حضرت اقدس امیر مرکزیہ کی صدارت میں ایک خصوصی اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ہوا۔ اجلاس میں مجاہد ختم نبوت جناب محمد ریاض الحسن گنگوہی صاحب امیر مجلس ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد عبداللہ خالد، مولانا محمد ظفر اقبال قریشی، مولانا سید اسرار الحق شاہ، مولانا محمد صادق مبلغ اسلام آباد، قاری محمد شاہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔
جامع مسجد ختم نبوت پھگلہ میں خطاب
۱۹؍ اپریل ۱۹۸۷ء کو جامع مسجد پھگلہ میں حضرت اقدس کی زیر سرپرستی اجلاس ہوا۔ اس اجلاس سے مولانا ضیاء الدین، مولانا اسرار الحق شاہ، ناظم اعلیٰ مجلس علاقہ لوئر پکھل مولانا محمد صادق صدیقی، جامع مسجد ہذا کے خطیب سید عبدالعزیز شاہ اور آخر میں حضرت مولانا اللہ وسایا نے پر اثر خطاب فرمایا اور مقامی مرزائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم سچے دل سے مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر حلقہ اسلام میں داخل ہو جاؤ تو ہم تمہیں گلے لگا لیں گے اور تمہاری حفاظت کریں گے اور اگر تمہیں قادیانی رہنے پر اصرار ہے تو اسلامی اصطلاحات تمہارے لئے ممنوع ہیں۔ نقابت کے فرائض قاری سید محمد شاہ نے انجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۲۹ ص ۲۷، مورخہ ۲۲ تا ۲۸؍ مئی ۱۹۸۷ء)
دھنوٹ میں ختم نبوت کانفرنس
۲۸؍ اپریل ۱۹۸۷ء کو دھنوٹ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدر خواجہ عبدالحمید بٹ، تلاوت قاری ضیاء الرحمن نیازی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد موسیٰ لودھراں، صوفی عنایت علی دنیا پور، جناب نور محمد مجاہد، قاضی عبدالمالک، ڈاکٹر حبیب الرحمن، مولانا غلام علی نے خطاب فرمایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ ش ۱ ص ۲۹، مورخہ ۲۹؍ مئی تا ۴؍ جون ۱۹۸۷ء)
ختم نبوت کانفرنس سبی
کوئٹہ (نمائندہ ختم نبوت) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک بہت بڑا جلسہ عام جامع مسجد مرکزی چورنگی سبی میں ہوا جس کی صدارت مولانا عطاء اللہ خان نے کی۔ مولانا نذیر احمد تونسوی مرکزی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے بیان میں کہا کہ معراج مصطفےٰ ایسا واقعہ ہے جس کی سب سے پہلے جسمانی معراج کی تصدیق ابوبکر صدیق ؓ نے کی۔ جن کے ایمان کا امتحان کافر لینے آئے کہ محمد مصطفےٰ ﷺ کو راتوں رات معراج کے ذریعے تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت کی اور جنت کی سیر کرائی۔ ان تمام حالات سے ثابت ہوا کہ آپ کو معراج
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جسمانی ہوا جس کی دلیل ہے کہ کافر عاجز آ گئے۔ اس دور کے کافر بھی حیران ہیں کہ آپ ﷺ کو معراج کیسے ہوا۔ ان کافروں کے سرغنہ مرزا قادیانی معراج کا منکر ہے۔ اس جلسہ عام سے مولانا عبدالعزیز لاشاری نے کہا کہ بغیر اتحاد کے ملک میں امن وامان قائم نہیں ہوسکتا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں تمام جماعتیں اکٹھی ہیں۔ اس اتحاد کی برکت ہے کہ قادیانی جیسے زبردست فتنہ کا مقابلہ کیا۔ الحمدللہ! ہر دور میں مجلس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ مولانا عبدالعزیز لاشاری نے تمام مسلمانوں سے پرزور درخواست کی ۔اس اتحاد سے سبق حاصل کریں۔ جلسہ سے محمد انور خان مندوخیل، طالب علم راہنما عبدالعزیز نے بھی خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ ش ۱ ص ۲۹، مورخہ ۲۹؍مئی تا ۴؍جون ۱۹۸۷ء)
ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ مراد جمالی
مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ مراد جمالی کے زیر اہتمام ایک روزہ کل بلوچستان ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ مراد جمالی میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا عبدالستار خان لانگو نے کی۔ جلسے سے مولانا محمد حسین، مولانا عطاء اللہ، مولانا نذیر احمد تونسوی، حکیم محمد علی ابڑو، گل حسن گجر نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۵ ش ۴۹ ص ۲۷، مورخہ ۲۲ تا ۲۸؍مئی ۱۹۸۷ء)
کوٹ سادھورام میں جلسہ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے زیر اہتمام کوٹ سادھورام میں ایک عظیم الشان ختم نبوت جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔ گاؤں کی مسجد سامعین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ جلسہ کا آغاز شوکت علی شاہد صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعت شریف پڑھنے کی سعادت جناب محمد صادق رحمانی نے حاصل کی۔ محمد فاروق رحمانی نے نظم : ’’بھائی ہے بھائی ہے مرزا طاہر شیطان کا بھائی ہے‘‘ سنا کر بے شمار داد وصول کی۔ علامہ احسان الحق صاحب خطیب جامع مسجد مرکزی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی انتہائی شاطر اور عیار شخص تھا۔ جس نے انگریزوں کی تیار کردہ سازش کے تحت نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنی جھوٹی نبوت کو انگریزوں کی سنگینوں کے سائے تلے پروان چڑھایا۔ مرکزی جامع مسجد قاسمیہ سراجیہ کے خطیب مولانا محمد احمد مجاہد نے عالمانہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت اپنے کفریہ عقائد اور عزائم کی وجہ سے کافر ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے سرپرست حاجی عبدالحمید رحمانی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی گروہ صرف مذہبی فتنہ نہیں بلکہ ایک سیاسی گروہ ہے جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر استعماری طاقتوں کے مفادات کے لئے کام کر رہا ہے۔ مولانا محمد اشفاق نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی اسرائیل اور بھارت کے جاسوس ہیں اور قادیانی اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ بھرتی ہیں۔ رانا محمد ایوب صاحب ایڈووکیٹ نے آخر میں جلسہ کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں عبدالحمید رحمانی کی دعا سے جلسہ کا اختتام ہوا اور پھر محمد ادریس نے تمام شرکاء جلسہ کی چائے سے تواضع کی۔
ننکانہ صاحب کی مرکزی جامع مسجد مدینہ میں جلسہ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد مدینہ موگا منڈی میں ایک عظیم الشان جلسہ ختم نبوت کا اہتمام کیا گیا۔ جلسہ گاہ کو خوبصورت بینروں اور جھنڈوں سے سجایا گیا تھا۔ جلسہ کی صدارت مرکزی امیر دعوت اسلامیہ جناب صاحبزادہ فیاض الحسن قادری صاحب زیب سجادہ آستانہ عالیہ سلطان باہو نے کی۔ مہمان خصوصی مجاہد ختم نبوت جناب حافظ محمد فاروق شاہ صاحب فخر میاں میر لاہور تھے۔ سرپرستی جناب حاجی عبدالحمید صاحب رحمانی نے فرمائی۔ قاری غلام رسول نے تلاوت قرآن مجید سے جلسہ کا آغاز کیا۔ اعجاز بٹ ہمایوں، محمد صادق رحمانی اور اول انعام یافتہ قادریہ یارآسی نے نعت شریف پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ محمد فاروق رحمانی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے نظم پڑھ کر داد وصول کی۔ مجلس ہذا کے صدر محمد متین خالد نے جلسہ میں احادیث مبارکہ کی روشنی میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ پر روشنی ڈالی اور آخر میں مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود کا پوسٹ مارٹم کیا۔ جامع مسجد نور کے جناب مولانا محمد عاشق رضوی صاحب نے قرآن وسنت کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت بیان کیا۔ جسے سامعین نے بہت سراہا۔ مہمان خصوصی جناب حافظ محمد فاروق صاحب نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اولادِ آدم میں سے اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا: افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے مقام نبوت کو نہیں سمجھا۔ نبوت کا انتخاب براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت شیر محمد شرقپوری ایک دفعہ مرزا قادیانی کی قبر پر گئے۔ مراقبہ کیا اور واپس چلے آئے۔ مریدوں نے عرض کیا حضرت کیا دیکھا۔ فرمایا: ایک کتا دیکھا ہے جو قبر میں پھونک رہا تھا۔ حاجی عبدالحمید رحمانی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی ملک اور اسلام کے دشمن ہیں۔ فتنہ قادیانیت مذہبی نہیں بلکہ سیاسی فتنہ ہے۔
صاحبزادہ فیاض الحسن قادری صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نجات آقائے دو عالم ﷺ کی سیرت اپنانے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا ظاہر اور باطن رسول اللہ ﷺ کی اداؤں اور سنت سے مزین ہو جائے تو قادیانی فتنہ از خود تباہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو ایک مسلمان معاشرہ میں برداشت کیا جائے۔ آخر میں انہوں نے جلسہ منعقد کروانے پر حسن کارکردگی کی اسناد تقسیم کیں اور ظہیر حسین شاہ مولانا فقیر محمد کونسلر، رانا محمد اکرم خان، محمد اعظم محمد جمیل، ذوالفقار احمد، تجمل حسین، بابر عمران اور قیصر محمود بھٹی کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی دن رات کوششوں سے جلسہ کا انعقاد ہوا دعا پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۴ ش ۴، ۵ ص ۱۴، ۱۵، مورخہ یکم مئی ۱۹۸۷ء)
کوئٹہ میں دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
۱۷، ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۷ء کوئٹہ کے مرکز میزان چوک پر تاریخ ساز کل پاکستان دو روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں ۱۵ روز پہلے سے انتظامات شروع کئے گئے۔ ملک بھر سے آنے والے معزز مہمانوں کے استقبال اور رہائش کے لئے کمیٹی بنائی گئی۔ کوئٹہ شہر کی دیواروں کو ختم نبوت کانفرنس کے پوسٹروں سے سجایا گیا۔ شہر کے گلی گلی میں مسلسل تین دن تک جمعیۃ کے رضا کار محمد انور مندوخیل نے اعلان کیا۔ ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کے استقبال اور رہائش کے انتظامات میں جمعیۃ طلباء اسلام کے نوجوانوں نے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ موجودہ حکومت کی ناقص اور رشوت خور انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے پیدا شدہ حالات کی وجہ سے جلسہ گاہ میں حفاظتی انتظامات جمعیۃ علماء اسلام صوبہ بلوچستان کے سالار عنایت اللہ گانگزئی کے سپرد کئے گئے اور ۱۷؍ جولائی بروز جمعہ کو کانفرنس شروع ہونے سے پہلے جے ٹی آئی کے غیرت مند ڈنڈے بردار رضا کاروں نے میزان چوک اور آس پاس کی تمام سرکاری اور غیر سرکاری عمارات کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ جمعیۃ کے سالار عنایت اللہ بار بار کارکنوں کی کارکردگی کو چیک کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ جمعیۃ یوتھ کے رضا کار جلسہ گاہ میں ہر مشکوک شخص پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ۱۷؍ جولائی کو رات مغرب کی نماز سے پہلے سینکڑوں افراد جلسہ گاہ میں جمع ہو گئے تھے اور بعد نماز مغرب کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ آ رہے تھے۔ دور دراز علاقوں کے لوگ بسوں، ویگنوں اور سائیکلوں کے ذریعہ آئے۔ بعد نماز عشاء میزان چوک کھچا کھچ انسانوں سے بھر گیا تھا۔ جلسہ کا افتتاح کلام پاک سے ہوا۔ اس عظیم الشان کانفرنس کی صدارت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد نے کی۔ کانفرنس کی افتتاحی نشست سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی جنرل
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حصول کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے قربانی دی ہے اور پاکستان اس لئے بنایا گیا تھا کہ یہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ ہو اور پاکستان سے پوری دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کا تحفظ کیا جائے۔ لیکن جب سے پاکستان بنا ہے اس وقت سے امریکی لابی نے یہاں پر قبضہ کر لیا ہے اور اسلام کو مزاح بنالیا ہے۔ اسی امریکی لابی نے مرزائیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے مسلسل جھوٹ بولنے سے اور وعدہ خلافی کرنے کی وجہ سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم حکومت سے کسی قسم کے بھی مذاکرات نہیں کریں گے۔
جمعیتہ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے علماء دیوبند قادیانیوں کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے گریبان تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ہمارے قائد مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی سحر بیانی سے عوام میں نئی روح پھونک دی اور پاکستان کی سڑکوں کو مسلمانوں نے اپنے خون سے رنگین کیا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک کے وقت بھی ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا۔ اسمبلی کے اندر مولانا مفتی محمود سیکرٹری جنرل جمعیتہ علماء اسلام نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلانے میں رہبر کا کردار ادا کیا اور ۱۹۷۳ء کے آئین میں ترمیم کر کے اس میں قادیانیوں کو غیر مسلم لکھوایا۔ آج مسلم لیگ ۱۹۷۳ء کے آئین کو ختم کر کے قادیانیوں کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ہم ۱۹۷۳ء کے آئین کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں شاعر اسلام امین گیلانی امین اللہ بلوچستان نے اپنی نظموں کے ذریعے لوگوں کو خوب جوش دلایا اور دعا پر کانفرنس کی پہلی نشست کا اختتام ہوا۔ یادرہے کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ حسین احمد انجام دے رہے تھے۔
دوسری نشست میں تقریباً ۳۰، ۳۵ ہزار افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا۔ دوسری اور خصوصی نشست سے مولانا عبدالمجید ندیم اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے اپنی تقریر میں کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے رسول اکرم ﷺ کے ناموس پر کبھی بھی آنچ نہیں آنے دی۔ راجن پور کے ممتاز عالم دین مولانا مشتاق احمد فریدی نے کہا کہ قادیانی ملت میں نفاق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے قادیانی دعوت حق قبول کر کے مسلمان ہورہے ہیں۔ ڈیرہ غازیخان میں کئی خاندان مسلمان ہو چکے ہیں۔ مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت دین کی اساس ہے۔ تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ جب تک قادیانیت کا مسئلہ حل نہیں ہوتا قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ کانفرنس میں شاعر اسلام سید امین گیلانی شاعر انقلاب طالب امین اللہ اور شاعر بلوچستان حافظ علی محمد مینگل نے اپنے انقلابی کلام سے لوگوں کو گرمایا۔ ممتاز قاری شیر محمد نے تلاوت قرآن پاک فرمائی۔ مہمان خصوصی مولانا آغا محمد خطیب جامع مسجد عثمانیہ تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ حسین احمد شرودی نے انجام دیئے۔ ہفتے کو کانفرنس کے آخری اجلاس سے مولانا سید عبدالمجید ندیم، مولانا اللہ وسایا ڈیروی، مولانا جمال اللہ الحسینی اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۱۲ ص ۲۶، ۲۷، مورخہ ۶ تا ۱۰ ستمبر ۱۹۸۷ء)
مردان میں ختم نبوت کانفرنس
مردان (نمائندہ ختم نبوت) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مردان کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ عام کٹڑہ چوک میں زیر صدارت ڈسٹرکٹ خطیب مولانا امداد اللہ منعقد ہوا۔ حد نگاہ تک انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اس تاریخی اجتماع کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت سے ختم نبوت کے ایک ننھے مجاہد نے کیا۔ مقامی علمائے کرام اور معززین علاقہ کی ایک بہت بڑی تعداد اسٹیج پر موجود تھی۔ فضا میں بار بار اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کی گونج سے مسلمانوں کے دینی جذبات کی ترجمانی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ مقامی علماء اور صدر مجلس مردان جناب اسد صاحب کی تقریر جس میں انہوں نے مردان میں مجلس کے کام کی تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کے تعاون سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مجلس سرحد کے ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق نور نے اپنی تقریر میں کہا کہ آئین کی رو سے قادیانی پاکستان کی غیر مسلم اقلیت ہیں اور قانون کے مطابق تمہیں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے اس ملک میں رہنا ہوگا۔ مولانا کی تقریر کے بعد عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ زبان یار من پشتو و من پشتو نمی دانم لیکن مردان کے غیور مسلمانوں نے جس دلجمعی سے مسلمانوں کا خطاب سنا وہ مردان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۱۱ ص ۲۶، مؤرخہ ۲۸؍اگست تا ۳؍ستمبر ۱۹۸۷ء)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جابہ
۲۲، ۲۳؍اگست ۱۹۸۷ء جابہ ضلع خوشاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں علاقہ کے لوگوں نے کثرت سے شرکت کی۔ پہلی نشست صوفی احمد بخش چشتی کی نعت سے شروع ہوئی اور ان کے بعد سید ممتاز الحسن گیلانی نے مفصل خطاب کیا۔ دوسری نشست سے مجاہد ختم نبوت مولانا قاضی اللہ یار صاحب اور قاری محمد سعید عثمانی آف تلہ گنگ نے مسئلہ ختم نبوت پر مفصل خطاب کیا۔ آخری نشست سے خطیب ربوہ مولانا خدا بخش اور خطیب ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ مولانا خدا بخش نے سیرت النبی ﷺ کے عنوان پر بیان کیا اور ربوہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کارکردگی سے عوام کو آگاہ کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت پوری دنیا میں پھیل چکی ہے اور ہر مقام پر قادیانیوں کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ آخری خطاب حضرت مولانا قاضی اللہ یار صاحب نے کیا اور مولانا محمد اکرم طوفانی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت حافظ نجیب الدین صاحب انگہ نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کی فرائض حافظ عبدالرحمٰن نے سرانجام دیئے۔
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
۱۴؍اگست ۱۹۸۷ء بروز جمعہ بعد از نماز عشاء جامع مسجد الصادق بہاول پور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ دارالعلوم مدنیہ کے مہتمم مولانا غلام مصطفیٰ نے اس کی صدارت فرمائی۔ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی، مولانا محمد یوسف، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا غلام یٰسین خیر پوری، مولانا محمود احمد محمودی، قاری رشید احمد نقشبندی نے خطاب کیا۔ محمد اسحق شجاع آبادی اور محمد رفیق نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
(لولاک مؤرخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۸۷ء)
لندن میں عالمی مجلس ختم نبوت کانفرنس...... دس ہزار مندوبین شریک ہوئے
لندن (ختم نبوت رپورٹ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تیسری سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس ۲۰؍ستمبر ۱۹۸۷ء اتوار کو لندن میں منعقد ہوئی۔ امام کعبہ شیخ محمد بن عبداللہ السبیل، جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا خان محمد و دیگر ممالک کے سرکردہ رہنماؤں کے علاوہ مکہ مکرمہ سے مولانا عبدالحفیظ مکی اور آصف الرحمٰن اور پاکستان سے مولانا فضل الرحمٰن، محمد ضیاء القاسمی، مولانا سید عبدالقادر آزاد، مولانا حافظ عبدالرشید، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا منظور احمد الحسینی، جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ پروفیسر ساجد میر، مولانا زاہد الراشدی، مولانا منظور احمد ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب چنیوٹ، مولانا فداء الرحمٰن اور دیگر رہنماؤں نے کانفرنس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اس کانفرنس میں برطانیہ، پاکستان، سعودی عرب، بنگلہ دیش، بھارت، افریقہ، کینیڈا اور دیگر ممالک سے ۱۰ ہزار کے قریب مسلمانوں نے شرکت کی اور چالیس سے زائد مقررین نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے چیف آرگنائزر الحاج مولانا عبدالرحمن یعقوب باوا نے کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقابلہ بڑی قوتوں امریکہ اور اسرائیل سے ہے جو قادیانیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ مولانا اسعد مدنی نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عالمی زبانوں میں ختم نبوت کے بارے میں لٹریچر وسیع پیمانے پر شائع کیا جائے اور خصوصی تربیت کے لئے کورسوں کا اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے ختم نبوت فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ اگر پاکستان کی امداد کے لئے قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کی شرط لگاتا ہے تو ہم اس امداد کو قبول نہیں کریں گے۔ مولانا عبدالرحمن یعقوب باوا نے کہا کہ قادیانیوں کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت دوبارہ قائم کیا جائے۔ اس لئے اس گروہ پر کسی طرح اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۱۶ ص ۳، مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء)
تیسری ختم نبوت کانفرنس لندن کی جھلکیاں
عالمی مجلس ختم نبوت کے زیر اہتمام یہ تیسری کانفرنس تھی۔ جب کہ پہلی دو کانفرنسیں ۱۴؍ اگست ۱۹۸۵ء اور ۷؍ جولائی ۱۹۸۶ء کو ہوئیں۔ کانفرنس میں ۹؍ انگریزی، ۴؍ عربی اور ایک بنگالی اور بقیہ تقاریر اردو میں تھیں۔ سب سے پہلے قافلہ دفتر ختم نبوت لندن سے سوا آٹھ بجے ویمبلے ہال میں داخل ہوا۔ حضرت الامیر ٹھیک پونے نو بجے اسٹیج پر تشریف فرما ہوئے۔ کانفرنس کا آغاز ٹھیک ساڑھے نو بجے شروع ہو گیا۔ سیکورٹی کا انتظام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے تھا۔ جن میں بالہم مسجد کے رفقاء پیش پیش تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر کافی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔ پچھلے دو سال اور اب تک ویمبلے کانفرنس سینٹر میں ہونے والی تمام مسلم کانفرنسوں کے مقابلے میں اس کی حاضری سب سے زیادہ رہی۔ اخبار جنگ لندن کے مطابق ہزاروں افراد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ ہال سے باہر ہجوم کی وجہ سے باہر بھی مقررین کا انتظام کرنا پڑا۔ اس طرح سے بیک وقت دو کانفرنسیں ہو رہی تھیں۔ اندر اور باہر۔
اس کانفرنس کی خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس میں پاکستان کی طرح تمام مسلمانوں کو ایک اسٹیج پر جمع کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں اہل حدیث اور بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ چنانچہ وہ تشریف لائے اور خطاب فرمایا۔ عربی اخبارات میں کانفرنس کی کافی تشہیر ہوئی۔ روزنامہ ”المدینۃ“ مدینہ منورہ کے رپورٹر کانفرنس میں شریک ہوئے اور فیکس کے ذریعے روزانہ خبریں بھیجتے رہے۔
کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست صبح ساڑھے نو بجے سے ایک بجے تک، دوسری دو بجے سے سوا چھ بجے تک۔ نوجوانوں کی رعایت رکھتے ہوئے انگریزی زبان میں تقاریر رکھی گئیں۔ تمام مسلمان جم کے آخر تک حوصلے کے ساتھ مقررین کی تقاریر سنتے رہے۔ نوجوانوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ وہ بار بار مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ دارالعلوم ہولکومب بری کے طلباء جب ہال میں پہنچے تو ان کے نعروں سے پورا ہال گونج اٹھا۔ نعرہ تکبیر کے علاوہ تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد، علماء اسلام زندہ باد، شہداء ختم نبوت زندہ باد اور دیگر نعرے بلند کرتے رہے۔
چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
اجلاس منعقدہ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم کالونی بسلسلہ انتظامات چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۲۱؍ ستمبر ۱۹۸۷ء بروز سوموار۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرکاء : حافظ عبدالحئی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا محمد اسلم، قاری خلیل الرحمن، مولانا اقبال حسین، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اصغر، مولانا نیاز احمد، مولانا احسان احمد دانش، مولانا نذیر احمد تونسوی، ملک عدیل احمد، سید لیاقت علی شاہ، چوہدری شیر محمد، ظہور احمد، حاجی فیروز الدین، ممتاز الحسن گیلانی، قاضی محمد اللہ یار، قاری محمد ابراہیم، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، حافظ محمد ادریس، مولانا نذیر احمد، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد یعقوب، مولانا محمد ندیم، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا فقیر محمد، مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری۔
صدارت : حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی۔
تلاوت : قاری محمد شفیق گوجرہ۔
اجلاس کی غرض وغایت مولانا محمد اشرف ہمدانی نے بیان کی۔ اہمیت ختم نبوت کانفرنس صدیق آباد، اکابر کی شبانہ روز کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ باہر سے آنے والے مہمانوں کی عزت واحترام اور کانفرنس کے دنوں میں نظم وضبط برقرار رکھا جائے۔ باہر سے آنے والے مہمانوں پر اچھے اثرات مرتب کئے جائیں۔ جس ساتھی کی جو ڈیوٹی ہو اس کو صحیح طریقے سے نبھایا جائے۔
ابتدائی انتظامات کی تفصیل مولانا اللہ وسایا صاحب نے بیان کی۔ جلسہ کی منظوری مقررین کو دعوت نامے، منظوری کے لئے مولانا خدا بخش نے جھنگ کے علماء کرام کے ساتھ ڈی سی جھنگ سے ملاقات کی۔ ڈی سی صاحب نے دو چار دن میں منظوری کا وعدہ کیا۔ وہ درخواست اے سی چنیوٹ کے پاس آئی۔ مارک ہو کر چلی گئی۔ مقررین کو دعوت نامے بھیج دیئے ہیں۔
علماء کرام میں سے مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے علاوہ راجہ ظفر الحق صاحب، سردار عبدالقیوم، میجر ایوب، کرامت الرحمن نیازی، ایم. ایم عالم، ریٹائرڈ بریگیڈیئر گلزار احمد، میجر ایوب کو دعوت نامے ارسال کئے گئے۔ ایم. این. اے حضرات میں مولانا عبدالحق پنجگور، محمد اسلم کچھیلا نے دعوت قبول کر لی ہے۔ ایم. این. اے حضرات کو دعوت نامے دے دیئے جائیں جن کو خصوصاً بلانا ہے ان سے مل لیا جائے۔
اشتہارات : اشتہارات سب دوستوں کو بھیج دیئے۔ کچھ سٹیکر بھی آئے ہیں۔ جن حضرات کو اشتہار نہ ملے ہوں وہ بھی لے جائیں اور سٹیکر بھی لے جائیں۔
بینرز : چنیوٹ سے ربوہ تک بینر لگائے جائیں اور دیواروں پر لکھائی کرائی جائے۔ اس کام کے لئے مولانا ضیاء الدین آزاد کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ سرگودھا میں چاکنگ ہو چکی ہے۔ بینرز شہر کے اہم چوراہوں پر لگائے جائیں۔ خوشاب چوک پر قاری سعید احمد بینر لگوائیں۔ جلسہ گاہ کے پنڈال کے ارد گرد جماعت کے بینرز لگائے جائیں۔ کسی دوسری جماعت کا بینر نہ لگے۔ کوئی سیاسی بینر نہیں ہونا چاہئے۔
نگران جمعہ کا کام : قاری محمد ابراہیم، مولوی فقیر محمد صاحب۔
پنڈال،سٹیج : سٹیج پر مقررین کی آمد پر نعرہ بازی ہوتی ہے جس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔ مقررین کے مداح ان کی آمد پر نعرہ لگاتے ہیں۔ مقررین سے درخواست کی جاتی ہے کہ اپنے مداحوں کو روک دیں۔ سٹیج سیکرٹری نعروں کی پابندی کرائیں۔ مقررین کو خطاب کے وقت سٹیج پر لایا جائے۔ سٹیج چھوٹا ہو کرسیاں صرف دور رکھی جائیں۔ سٹیج کی نگرانی مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا جماعت کرے۔
رضا کار : رضا کاروں کا امتیازی نشان ہونا چاہئے۔ جن سے ظاہر ہو کہ یہ رضا کار ہے۔ یہ نشان صرف کانفرنس کے لئے ہو۔
ٹیپ ریکارڈ : ٹیپ ریکارڈ والے حضرات کے لئے علیحدہ انتظام ہو۔
سٹال : بک سٹال، ٹی سٹال دیوار اور سڑک کے دوسرے طرف سٹال نہ لگائے جائیں۔ کتابیں بیچنے والے، سرمہ بیچنے والے،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیسٹ بیچنے والے آوازیں نہ لگائیں۔ سٹال بغیر اجازت ناظم اعلیٰ صاحب کے نہ لگائے جائیں۔ سٹال والے اور کام کرنے والے شناختی کارڈ جمع کرائیں۔ فرقہ وارانہ کتابیں نہ بیچی جائیں۔ دیوار کے باہر جگہ پر بانس گاڑھ کر جھنڈے لگائے جائیں۔ جن پر ختم نبوت زندہ باد، ٹریفک والے گاڑیوں کو کنٹرول کریں اور ہمارے اشارے پر گاڑی کو گیٹ پر رکنے دیں۔ سٹال کو مولانا محمد اشرف ہمدانی اور مولانا ضیاء الدین کنٹرول کریں۔ سپیکر سٹال والوں کو استعمال نہ کرنے دیا جائے۔ سٹال رہائش گاہ کی دوسری طرف پنڈال سے ہٹ کر لگائے جائیں۔
کھانا کھلانے کا مسئلہ: گوشت کا ٹھیکہ قصاب کو نہ دیا جائے۔ خود جانور لے کر ذبح کئے جائیں۔ دو تین اچھے قصاب گوشت بنانے کے لئے مقرر کئے جائیں۔ قصاب کی ذمہ داری قاری سعید احمد خوشاب نے لی۔ گوشت بنانے والے بدھ ۷؍ اکتوبر کو پہنچ جائیں۔
کمیٹی سامان خریدنے کے لئے: مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولوی فقیر محمد، محمد اقبال ایم۔ اے سامان کی تفصیل مولانا عزیز الرحمٰن صاحب بتائیں گے۔
کھانا پکانے کی کمیٹی: شیخ منظور احمد، ظہور احمد، فیروز صاحب چنیوٹ، حاجی عزیز الرحمٰن، حافظ غلام حسین جھنگ، حاجی رشید صاحب، حاجی محمد یعقوب سکھر، چوہدری شیر محمد کونسلر۔
کھانا کھلانے کے لئے ضروری اشیاء: دیگیں اٹھانے، لگانے کے لئے دو آدمی ہمہ وقت موجود ہوں۔ برتن دھونے کے لئے چھ آدمی، پانی کے لئے ضروری برتن، کڑچھے، پانی کے پائپ، دستر خوان ایک دن کے استعمال کے بعد دوسرے دن استعمال نہ کیا جائے۔ ڈبل دستر خوان ہوں۔ سابقہ دستر خوان دھلائے جائیں اور نئے خریدے جائیں۔ قاری محمد ابراہیم کی معاونت کے لئے مولانا قاری سعید احمد خوشاب کی جماعت بدھ شام کو آ جائیں۔ گوجرہ کے بیس ساتھی جمعرات اور بیس ساتھی جمعہ کو ہونے چاہئیں۔ کھانا کھلانے والوں کے لئے امتیازی نشان علیحدہ۔
رضا کاروں کے لئے ٹینٹ علیحدہ لگائے جائیں۔
خصوصی مہمانوں کے لئے انتظام کی کمیٹی: حافظ عبدالحئی گوجرہ کے ساتھ حافظ احمد علی مبلغ اور مولانا احسان احمد۔
چائے کا انتظام: مولانا ضیاء الدین کے ساتھ دو ساتھی گوجرہ کے ہونے چاہئیں۔ چائے صرف، ناشتہ کے ساتھ مدعوین حضرات جب چائے مانگیں پیش کر دی جائے۔
میڈیکل: ایمبولینس کا انتظام مولانا فقیر محمد صاحب، طبی امداد کے لئے چناب میڈیکل کالج کے طلباء کی طرف سے۔
پھاٹک کا انتظام: مولانا فقیر محمد صاحب نے درخواست دے دی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو ٹرین کے ذریعہ سفر کرنے کو کہا جائے تاکہ مسلم کالونی سٹاپ ہو۔
کھانے کے لئے ٹکٹ: ہر وقت کا ٹکٹ علیحدہ ہو اور دو روپے فی کھانا ہوگا اور کسی کو فری پاس نہیں دیا جائے گا۔
سیکورٹی: حالات کے پیش نظر تخریب کاری کو روکنے کے لئے رضا کار ہمہ وقت مستعد رہیں۔ مشکوک آدمی پر کڑی نظر رکھی جائے۔
ٹریفک: جلسہ کے اختتام پر ٹریفک والے گیٹ پر انتظامیہ کے کہنے پر گاڑی کو آنے دیں۔
ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
چناب نگر میں ملک گیر ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی بہت بڑی فتح و کامرانی ہے۔ جس کا سہرا مجلس کے
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بانی پاسبان ختم نبوت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے سر ہے۔ بقول مولانا محمد اشرف ہمدانی وہ وقت بھی تھا جب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اور دوسرے اکابرین ترستے تھے کہ وہ کون سا دن ہوگا جب ہم ربوہ میں داخل ہوں گے اور رسول اللہ کی ختم نبوت کا پرچم لہرائیں گے۔ عقیدہ ختم نبوت کی اشاعت وتبلیغ کے لئے کام کریں گے۔ کبھی وقت تھا کہ کوئی مسلمان ربوہ میں داخل ہونے کا تصور بھی نہ کرسکتا تھا۔ ربوہ میں متوازی خودمختار حکومت قائم تھی۔ باقاعدہ قصر خلافت تھا۔ قادیانیوں کی اجازت کے بغیر کوئی پتہ بھی نہ ہلتا تھا۔ کسی مسلمان کا داخل ہونا گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ نامعلوم کتنے لوگ اس جرم میں قتل کر دیئے گئے۔
مگر آج دو چار نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں شمع رسالت کے پروانے، ختم نبوت کے پرچم اٹھائے، جوق در جوق، گروہ در گروہ، جلوس در جلوس اور قافلہ در قافلہ، کاروں، بسوں اور ویگنوں پر سوار ہو کر بڑی شان وشوکت اور وقار کے ساتھ ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ کسی قادیانی کو یہ جرأت نہیں کہ وہ کسی مسلمان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے یا مسلمانوں کو ربوہ میں داخل ہونے اور ختم نبوت زندہ باد کہنے سے روک سکے۔ ایک وقت تھا کہ قادیانی کو کافر کہنا سنگین جرم تھا۔ عقیدہ ختم نبوت کا پرچار بغاوت اور ملک دشمنی تصور کیا جاتا تھا۔ ختم نبوت کا بیان کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جاتا۔ مقدمات کی زد میں لایا جاتا۔ ہراساں و پریشان کیا جاتا۔ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنائی جاتیں اور قادیانیوں کو کافر کہنے سے حکماً روکا جاتا، لیکن آج قادیانیت کی تبلیغ قانوناً ممنوع قرار پا چکی ہے۔ ختم نبوت کا منکر پابند سلاسل ہے۔ آج حب الوطنی، قادیانیت دشمنی سے مشروط ہوچکی ہے۔ ربوہ میں مسلمانوں کے تین عظیم مراکز قائم ہوچکے ہیں۔ لوائے قادیانیت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہوچکا ہے۔ یہ کامیابیاں شہدائے ختم نبوت کے لہو کا نتیجہ ہے۔ جنہوں نے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء میں تحفظ ختم نبوت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ہمارے اکابر کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ربوہ میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ (جسے وہ ظلی حج کا درجہ دیتے تھے) بند ہوچکا ہے اور مسلم کالونی ربوہ میں عظیم الشان چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہورہی ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں سب سے پہلے حضرت مولانا خان محمد صاحب امیر مرکزیہ نے ۷؍جولائی ۱۹۷۶ء کو عصر کی پہلی نماز پڑھائی تھی۔ چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد (سالانہ) مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمود کا بہت بڑا تاریخی اور دور رس نتائج کا حامل فیصلہ و کارنامہ تھا۔ آج مولانا کا لگایا ہوا یہ پودا اپنی جڑیں مضبوط کرچکا ہے۔
نشست اوّل: مورخہ ۸؍اکتوبر ۱۹۸۷ء۔ تلاوت: قاری محمد رمضان صدر مدرس مدرسہ ختم نبوت چناب نگر، قاری یار محمد کراچی۔ تقریر: مولانا مرغوب الرحمن طالب علم رہنما چنیوٹ۔ نعت: صوفی غلام سرور آف نور پور تھل۔ تقریر: مولانا احمد یار وہاڑی، اورنگزیب اعوان ہری پور ہزارہ۔ نعت: جناب حافظ نعیم الدین۔ تقریر: مولانا سید ممتاز الحسن گیلانی مبلغ ختم نبوت۔ صدارت: مولانا نور الحق نور آف سرحد۔ سٹیج سیکرٹری: مولانا محمد یعقوب چنیوٹی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت: قاری فیاض الرحمن آف پشاور۔
تقریر: مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت۔
نشست دوم: مؤرخہ ۸؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء
صدارت: حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب۔
سٹیج سیکرٹری: مولانا طفیل سرگودھا۔
تلاوت: جناب فیض نذیر چنیوٹ۔
نعت: صوفی غلام سرور، حافظ محمد شریف مچن آبادی۔
تقریر: مولانا احسان احمد دانش مبلغ ختم نبوت لاہور، مولانا عبدالحئی ڈیرہ غازی خان، مولانا عبدالحق مجاہد ملتان، مولانا محمد انذر قاسمی سیالکوٹ، مولانا محمد عبداللہ سکھر، مولانا محمد عبداللہ سرحد، مولانا غلام قادر امیر جمعیۃ علماء اسلام شکار پور، مولانا حافظ قاری خلیل احمد، مولانا عبدالغفور حقانی مجلس علماء اہل سنت۔
نشست سوم: مؤرخہ ۸؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء
مہمان خصوصی: جناب ہدایۃ اللہ ہالیجی۔
صدارت: امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب۔
سٹیج سیکرٹری: محمد طفیل ارشد۔
تلاوت: عبدالرحمن چانڈیو۔
تقریر: جناب محمد یوسف اسلامیہ کالج چنیوٹ، جناب محمد خالد خادم ختم نبوت سرگودھا۔
نعت: صوفی حفیظ جالندھری، حافظ محمد شریف مچن آبادی۔
تقریر: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مبلغ ختم نبوت بہاول پور، مولانا حفیظ الرحمن۔
نظم: طاہر جھنگوی۔
تقریر: مولانا قطب الدین، مولانا عبدالرؤف، قاری سعید احمد اسد، قاری بشیر احمد ہزارہ۔
نظم: محمد شریف ماہی۔
تقریر: مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا محمد جمال اللہ الحسینی، جناب عبدالحمید رحمانی۔
نظم: احمد بخش چشتی۔
تقریر: عبدالحمید لنڈ، حضرت مفتی مقبول احمد۔
نظم: طاہر جھنگوی۔
تقریر: قاری محمد یوسف قاسمی انجمن تحفظ ختم نبوت لاہور۔
نعت: محمد شریف مچن آبادی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نظم: حافظ یٰسین گجر (عنوان: ففٹی ففٹی)
تقریر: مولانا امیر حسین گیلانی اوکاڑہ
نشست چہارم: مؤرخہ ۹/ اکتوبر ۱۹۸۷ء
صدارت: حاجی بلند اختر لاہور۔
سٹیج سیکرٹری: مولانا عبدالرؤف، مولانا خدا بخش۔
تلاوت: قاری محمد اسحاق ہری پور ہزارہ۔
نعت: صوفی احمد بخش چشتی، محمد شریف ماہی۔
تقریر: مولانا عبدالغفور، مولانا عبدالرؤف، مولانا خدا بخش، سید منظور حسین شاہ حجازی، مولانا جالندھری کی مقررین کو ہدایات۔
نعت: حافظ محمد شریف مچن آبادی۔
تقریر: مولانا عبدالرحیم صدیقی، مولانا گوہر الرحمٰن، مولانا محمد احمد، مولانا منور احمد، مولانا عبداللہ خالد۔
نظم: طاہر جھنگوی۔
تقریر: مولانا محمد یوسف بہاول پوری۔
خطبہ جمعہ: مولانا عبدالغفور قاسمی۔
صدارت: مولانا عبداللطیف۔
مہمان خصوصی: احمد میاں حمادی۔
نشست پنجم: مؤرخہ ۹/ اکتوبر ۱۹۸۷ء
صدارت: مولوی فقیر محمد سیکرٹری اطلاعات و نشریات مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد۔
تلاوت: قاری عبدالسلام۔
نعت: طاہر جھنگوی۔
تقریر: قاری صاحب، شیخ اشتیاق حسین، مولانا قاضی اللہ یار، سرفراز خان، مولانا عبداللطیف شاہ کوٹی، ملک رب نواز، اللہ دتہ مجاہد، حاجی محمد عبداللہ، مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری۔
نظم: سلیمان گیلانی، مولانا فضل الرحمٰن احرار۔
آخری نشست: مؤرخہ ۹/ اکتوبر ۱۹۸۷ء
تلاوت: جناب محمد عبداللہ۔
نعت: حافظ محمد شریف مچن آبادی۔
تقریر: طالب علم راہنما ممتاز اعوان، ظفر بخاری، مولانا عبداللہ عباسی، حافظ محمد اکبر مجلس احرار، مولانا سید عطاء المؤمن شاہ بخاری، جناب نعیم آسی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نظم: سید امین گیلانی۔
تقریر: مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا سید ممتاز الحسن گیلانی، مولانا سید عبدالمالک شاہ، مولانا یار محمد عابد، مولانا احمد میاں حمادی، صوفی جمال دین، مولانا غلام حسین، صوفی ریاض الحسن۔
قراردادیں: مولانا اللہ وسایا۔
تقریر: مولانا زاہد الراشدی، صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک فیصل آباد، حافظ عبدالقادر روپڑی، ملک اسلم کچھیلا رکن قومی اسمبلی، مولانا محمد اصغر۔
نظم: طاہر جھنگوی۔
تقریر: صاحبزادہ افتخار الحسن۔
اختتامی دعا: حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب۔
ختم نبوت کانفرنس کی جھلکیاں:
- دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کا آغاز علماء پنجاب ومشائخ سندھ کی مشترکہ دعا سے ہوا۔ دعا کا ایمان افروز منظر دیدنی تھا۔
- افتتاحی اجلاس میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ نے جماعتی دستور اور پالیسی پر بھر پور خطاب فرمایا۔
- کانفرنس میں پاکستان کی متعدد دینی وسیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے شرکت کی اور جلوس نکالے۔
- ختم نبوت سرگودھا کے رضا کار مخصوص یونیفارم میں منظم طور پر پریڈ کرتے ہوئے جلسہ گاہ میں داخل ہوئے۔
- اپنی نوعیت کے اعتبار سے مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے جیالوں کا مظاہرہ اوّل رہا۔ انہوں نے مرزائیت کے خلاف نفرت کا بھر پور مظاہرہ کر کے خوب داد پائی۔ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک قد آور پتلا اٹھا رکھا تھا۔ اس کے گلے میں جوتوں کا ہار تھا۔ مرزا کے ایک کندھے پر لکھا تھا: ”مرزائیہ“ مرزا کے ماتھے پر لکھا تھا: ”لعنت“ بائیں کندھے پر رقم تھا: ”بے شمار“ (یعنی مرزا پر لعنت بے شمار) نیچے لکھا تھا:
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
پھر لکھا تھا: ”جو مرزا قادیانی کو انسان ثابت کر دے اسے ایک لاکھ نقد انعام“ کانفرنس کے چھ بھر پور اجلاس ہوئے جن کی ویڈیو فلم گوجرانوالہ وننکانہ مجلس کے اراکین نے تیار کی۔
- ایک موقع پر انجمن سپاہ صحابہ کے کارکنوں نے پنڈال سے اپنا مخصوص نعرہ لگایا تو مولانا اللہ وسایا فوراً اسٹیج پر آئے اور ان کو سمجھاتے ہوئے کہا: اے میرے غیور، بہادر نوجوانوں ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ مولانا حق نواز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم ان کے لئے ایک قرارداد بھی پاس کرائیں گے۔ اس لئے آپ اس اسٹیج اور ہماری صد سالہ تاریخی روایات کا احترام کریں تو اس پر کارکن خاموش ہو گئے۔
- مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ مرزا قادیانی نے ۵۰ کی بجائے ۵ کتابیں لکھیں اور کہا کہ ۵ اور ۵۰ میں نقطے کا ہی تو فرق ہے۔ اسی طرح ربوہ میں ”جنگ“ لاہور کے نمائندے نے کانفرنس کے شرکاء کی تعداد ۳۰؍ہزار کی بجائے ۳؍ہزار ریکارڈ کرائی اور مرزا کی سنت پر عمل کیا۔ انہوں نے حاضرین کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔ کیا حاضرین کی تعداد ۳؍ ہزار ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- جمعہ کا خطبہ سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر مولانا عبد الغفور قاسمی نے دیا ۔
- حافظ یسین گجر نے ایک نظم سنائی جس کا عنوان تھا: ’’ففٹی ففٹی‘‘ پہلا شعر تھا ؎
- کانفرنس کے آخری اجلاس میں صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک کو دعوت دی گئی تو انہوں نے حق میزبانی ادا کرتے ہوئے اپنی تقریر
کا وقت صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ کی نذر کرنے کا اعلان کیا ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ نمبر ۲۸ ص ۱۳ تا ۱۸، مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء)
فیصل آباد کے نواحی گاؤں چک ۹۶ ج ب میں شاندار ختم نبوت کانفرنس
۲۸؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء بروز بدھ بعد نماز عشاء چک ۹۶ ج ب ضلع فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ اجلاس کی صدارت مولانا سید مبارک علی شاہ صاحب نے کی ۔ جب کہ مہمان خصوصی صاحبزادہ طارق محمود مدیر لولاک تھے ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے سینئر مبلغ سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی نے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے جماعت کی کارگزاری اور بزرگوں کی خدمات بیان فرمائیں ۔ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ حضور اقدس ﷺ کی نبوت کے فضائل و خصائص میں ختم نبوت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ختم نبوت کے عقیدہ کا تحفظ ہر مسلمان کا دینی و اخلاقی فریضہ ہے ۔
مفتی غلام مرتضیٰ شاہ کوٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ قادیانی فتنہ کا محاسبہ اب اتنا مشکل نہیں جس قدر پہلے ہوا کرتا تھا ۔ قادیانی غیر مسلم اقلیت بن چکے ہیں ۔ ۱۹۸۴ء میں قادیانیوں کے خلاف صدارتی آرڈیننس کا نفاذ ہو چکا ہے ۔ قادیانی اپنی عبادت گاہوں اور گھروں پر کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات نہیں لکھ سکتے ۔ صاحبزادہ طارق محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ ختم نبوت کا انعقاد ربیع الاول کے پاک مہینے میں منعقد ہو رہا ہے ۔ حضور اقدس ﷺ کے ساتھ جس کو نسبت ہوئی وہ دنیا و آخرت میں سر بلند ہو گیا ۔ یہاں تک کہ جس جانور کو کملی والے سے نسبت وہ متبرک ہو گیا ۔ کانفرنس سے مولانا صاحبزادہ طارق محمود، مولانا اللہ وسایا، مفتی غلام مرتضیٰ شاہ کوٹ نے بیانات کئے ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۲ نمبر ۳۱ ص ۲۱، مورخہ ۱۳؍ نومبر ۱۹۸۷ء)
بہاول نگر میں عظیم الشان خاتم الانبیاء کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول نگر کے زیر اہتمام یکم نومبر ۱۹۸۷ء بعد نماز عشاء ضلع کے صدر مقام بہاول نگر چوک نادر شاہ بازار میں بڑے اہتمام کے ساتھ کانفرنس کی صدارت ولی ابن ولی حضرت مولانا قطب الدین صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول نگر نے کی تلاوت کلام پاک کے بعد مداح رسول رشید احمد دیوانہ نے نعت پڑھی ۔ مبلغ لاہور نے مسئلہ ختم نبوت بیان کیا ۔ حضرت مولانا قاری عبد الغفور صاحب امیر مجلس اور حضرت مولانا جلیل احمد نے مرزائیت کا خوب آپریشن کیا ۔ حضرت مولانا ابوالوفا افغانی نے فصیح وبلیغ عربی میں مرزائیوں کے عالمی جال کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا ۔ حضرت مولانا محمد احمد مبلغ رحیم یار خان نے ختم نبوت کے فضائل ومناقب بیان فرمائے ۔ حضرت مولانا عبد الحفیظ صاحب نے مرزائیوں کی شرارتوں کا نوٹس لیا ۔ مولانا محمد یوسف قریشی نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے حالات سنا کر لوگوں کو مسحور کیا ۔ مناظر اسلام حضرت مولانا قاضی اللہ یار خان مرکزی مبلغ نے حضور علیہ السلام کی سیرت طیبہ مفصل بیان فرما کر لوگوں کو مرزائیوں سے بائیکاٹ پر تیار فرمایا ۔ شاہین ختم نبوت، فاتح ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا نے حضور علیہ السلام کی ختم نبوت کے لئے جن لوگوں نے کام کیا اور قربانیاں پیش کیں ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات کی بارش ہوئی ۔ ان لوگوں پر جو جو انعام ہوئے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں مفصل بیان فرمائے اور جن لوگوں نے حضور علیہ السلام کی ختم نبوت کے ساتھ غداری کی اور مرزائیوں کا ساتھ دیا تھا ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوا، ان کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہی عذاب میں مبتلا کر دیا۔ لوگوں کے سامنے ان کی عزت اور دنیا تباہ ہو گئی۔ ان واقعات کو بیان کرتے وقت لوگوں پر سناٹا چھا گیا۔ جلسہ رات کے ڈیڑھ بجے تک جاری رہا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض راقم الحروف حکیم محمد اسماعیل عاصم مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر نے سرانجام دیئے۔ جب کہ جلسہ کی انتظامیہ حسب ذیل تھی: شیخ محمد اسلم، محمد اقبال، کرم الدین، قدیر احمد قریشی، شیخ محمد انور، قاری حبیب اللہ خان ترین، قاری ذوالفقار علی، حافظ عبدالغنی، شفیق الرحمن، قاری محمد شریف، شیخ محمد خلیل میاں، یٰسین گردیزی کے علاوہ کافی کارکنوں نے جلسہ کو سجا دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۲۸ ص ۲۸، مؤرخہ ۲۵ تا ۳۱ ستمبر ۱۹۸۷ء)
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کا دورۂ سندھ
چھٹی سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر مولانا احمد میاں حمادی، مولانا جمال اللہ الحسینی کی درخواست پر حضرت الامیر، مرشد العلماء، مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے صوبہ سندھ کے لئے ایک ہفتہ کا سفر منظور فرمایا جس کا اخبارات، رسائل و جرائد و اشتہارات کے ذریعہ بھر پور اعلان کیا گیا۔ سات مقامات پر ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ پہلی کانفرنس اباڑو تحصیل کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوئی۔ اباڑو میں آج سے چند سال پہلے مسلمانوں نے آئینی جدوجہد اور اپنے ایمانی جہاد سے قادیانیت کے غرور کو مسمار کیا تھا۔ اس لئے سب سے پہلی کانفرنس کا یہاں پر انعقاد کیا گیا۔
ختم نبوت کانفرنس اباڑو
۱۲؍نومبر ۱۹۸۷ء بروز جمعرات شاہراہ پاکستان کے کنارہ پر وسیع و عریض پنڈال میں شامیانوں اور قناتوں کا شہر آباد کیا گیا۔ مہمانوں کے لئے وسیع پیمانہ پر کھانے کا اہتمام کیا گیا۔ صبح دس بجے کانفرنس کی کارروائی کا آغاز ہوا، جو رات کے ایک بجے جا کر اختتام پذیر ہوئی۔ سندھ کے علماء، مشائخ، عالمی مجلس کے راہنمایان نے اپنے ایمان پرور بیانات سے حاضرین کے ایمانوں کو منور کیا۔ حضرت مولانا عبداللہ بھٹو امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اباڑو نے اپنی جہاد آفریں قیادت و صلاحیت سے کانفرنس کو کامیاب بنانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ کانفرنس کے اجلاسوں کی سندھ کے علماء، مشائخ نے صدارت فرمائی اور مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت کے خلاف جہاد کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ عالمی مجلس کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا، صوبہ بلوچستان کے مبلغ مولانا نذیر احمد تونسوی، صوبہ سندھ کے مبلغ مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا ثناء اللہ اور دیگر درجن بھر کے قریب علماء نے قادیانیت کے پول کھولے۔ درگاہ ہالیجی شریف کے چشم و چراغ مولانا ہدایت اللہ کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ کانفرنس کے آخری مقرر خطیب سندھ مولانا عبدالقادر رند کی مثالی خطابت نے کانفرنس کو چار چاند لگا دیئے۔
درگاہ ہالیجی شریف میں حاضری
۱۳؍نومبر ۱۹۸۷ء بروز جمعہ حضرت الامیر مخدوم المشائخ، مولانا خواجہ خان محمد صاحب، صاحبزادہ محمد عابد کے ہمراہ شاہین ایکسپریس کے ذریعہ صادق آباد تشریف لائے۔ جب کہ ملتان میں عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی قیادت میں جماعتی احباب، متوسلین و معتقدین کی بھاری تعداد نے حضرت امیر مرکزیہ کو الوداع کیا۔ رحیم یار خان سے آپ کے خدام کی ایک جماعت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ کی زیارت کے لئے ٹرین پر سوار ہوئی۔ صادق آباد اسٹیشن پر جماعتی احباب نے آپ کا استقبال کیا۔ مختصر قیام کے بعد آپ نے سندھ کے سفر بابرکت کا آغاز فرمایا۔ کار پر سردار فضل محمود صاحب ، سلیم صاحب ، جناب مقبول احمد صاحب ، صاحبزادہ محمد عابد صاحب کو آپ کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوا۔ آٹھ بجے آپ اباڑو تشریف لائے۔ جہاں مولانا عبید اللہ بھٹو کی قیادت میں علماء ومشائخ نے آپ کا استقبال کیا۔ مختصر قیام کے بعد آپ نے دعا فرمائی اور پنوں عاقل کے لئے روانہ ہوئے۔ تقریباً دس بجے آپ پنوں عاقل کی جامع مسجد ومدرسہ نور میں تشریف لائے۔ مولانا جمال اللہ صاحب کی قیادت میں جماعتی کارکنوں نے آپ کا والہانہ استقبال کیا۔
ہالیجی شریف کے خدام ومتوسلین کو اتحاد کی دعوت کی طرف بھر پور توجہ دلائی۔ حضرت مخدوم العلماء والفقراء مولانا اسعد محمود دامت برکاتہم نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیاب اندرون وبیرون ملک کارگزاری پر بھر پور قلبی مسرت اور اپنے مکمل تعاون وسرپرستی کا یقین دلایا۔ حضرت الامیر کی درخواست پر حضرت ہالیجوی نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ حاضرین پر رقت کی کیفیت طاری ہوگئی۔ چائے نوش کرنے کے بعد جب ایک شیخ وقت نے دوسرے شیخ وقت کو رخصت کیا تو اس روحانی منظر پر فرشتے بھی رشک کر اٹھے ہوں گے کہ آپ ﷺ کے دین کے لئے اپنے پہلو میں تڑپ ودرد رکھنے والے مشائخ الوداع کے وقت کس طرح ڈھیروں محبتوں کے جلو میں دین متین کی سر بلندی کا کیا کیا عزم و ولولہ لے کر ایک دوسرے سے رخصت ہو رہے ہیں۔
ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل
گیارہ بجے دن سے ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل کا پروگرام مسجد نور میں شروع ہوا۔ خطیب سندھ مولانا عبدالقادر رند نے جمعہ کی اذان تک جہاد آفرین خطاب کیا۔ اذان کے بعد خطبہ جمعہ تک عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر حقائق افروز بیان کیا۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے جمعہ کی نماز پڑھائی۔ چونکہ سندھ کی معروف دینی وسیاسی شخصیت خانقاہ عالیہ امروٹ شریف کے سجادہ نشین ، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے روح رواں حضرت مولانا سید محمد شاہ امروٹی کے انتقال پر ملال کی خبر پہنچ گئی تھی۔ اس لئے جمعہ کے بعد حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کی دعا کے بعد کانفرنس کا آخری اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
امروٹ شریف جنازہ میں شرکت
جمعہ کے بعد حضرت الامیر کی قیادت با سعادت میں بیسیوں خدام ورضا کاروں کا قافلہ ویگنوں اور کاروں پر امروٹ شریف کے لئے روانہ ہوا۔ عصر کی نماز امروٹ شریف کی معروف خانقاہ عالیہ کی قدیمی وتاریخی مسجد میں ادا کی۔ حضرت مولانا سید محمد شاہ امروٹی کے پر نور چہرہ مبارک کی آخری زیارت کی۔ پیر طریقت حضرت مولانا عبد الکریم قریشی سجادہ نشین درگاہ عالیہ پیر شریف نے نماز جنازہ پڑھایا۔ ہزار ہا علماء ومشائخ اور عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر نے قلب وجگر کے ہلا دینے والے صدمہ سے آہوں اور سسکیوں کی فضا میں نماز جنازہ میں شرکت کی۔ حضرت امیر مرکزیہ سے علماء ومشائخ نے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ سکھر ، شکار پور ، ٹھل ، کراچی بلکہ پورے صوبہ سے آئے ہوئے جماعتی کارکنوں نے آپ کے دیدار کا شرف حاصل کیا۔ قافلہ مغرب سے کچھ دیر قبل درگاہ امروٹ شریف سے روانہ ہوا۔ راستہ میں مغرب کی نماز ادا کی۔ عشاء کے قریب جمعیۃ علمائے اسلام صوبہ سندھ کے راہنما حضرت مولانا غلام قادر صاحب دامت برکاتہم کے مدرسہ میں قافلہ پہنچا۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سے تفصیلی ملاقات کے لئے بلوچستان سے جناب حافظ حسین احمد ، سابق وفاقی وزیر خان محمد زمان خان اچکزئی کی قیادت میں جماعتی احباب قاری شیر افضل ، جناب مولانا عبد الرزاق عزیز ، کراچی کا قافلہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی قیادت ، مولانا غلام قادر کی سیادت میں سندھ کے علماء و مشائخ تشریف لائے ۔ حضرت سید محمد شاہ امروٹی کے حالات و واقعات اور مجاہدانہ سرگرمیوں و کارناموں کا دیر تک تذکرہ ہوتا رہا ۔
ختم نبوت کانفرنس شکار پور
شکار پور کے معروف گراؤنڈ میں عشاء کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ وادی مہران کے خطیب مولانا عبدالرزاق میکھو ، مولانا جمال اللہ الحسینی ، مولانا نذیر احمد تونسوی ، ڈاکٹر خالد محمود سومرو ، پروفیسر ابو محمود ، مولانا اللہ وسایا سمیت درجن بھر کے قریب علماء نے خطاب کیا ۔ یہ بھر پور و کامیاب کانفرنس علاقہ میں دور رس نتائج کی حامل ہوگی ۔ مقررین نے قادیانیوں کے بائیکاٹ ، جہاد کی فرضیت و اہمیت ، مسئلہ ختم نبوت سے قادیانیوں کی بھیانک و مکروہ غداری ، قادیانیوں کے مذموم عزائم و غلیظ عقائد اور ان کا واحد علاج سیرت طیبہ، استحکام پاکستان ، اتحاد و اتفاق ، صوبہ سندھ میں مشائخ کے کارناموں جیسے مقدس عنوانات پر خطاب کیا ۔ متعدد قراردادوں کے ذریعے جنرل ضیاء الحق اور وزیر اعظم پاکستان کو قادیانیوں کی شورہ پشتی و سرمستی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ آخر میں صدر اجلاس حضرت امیر مرکزیہ نے رات ڈیڑھ بجے کانفرنس کی کامیابی، ملکی استحکام ، حضرت سید محمد شاہ امروٹی کی مغفرت کے لئے دعا کرائی ۔
پیر طریقت مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف سے ملاقات
۱۴؍نومبر ۱۹۸۷ء بروز ہفتہ صبح ناشتہ سے فراغت کے بعد حضرت مولانا غلام قادر دامت برکاتہم سے اجازت لے کر قافلہ امروٹ شریف کے لئے روانہ ہوا ۔ امروٹ شریف میں سید امروٹی شاہ صاحب کے عزیز و اقارب ، صاحبزادگان ، مولانا سید سراج احمد شاہ نے صاحبزادہ سید عزیز احمد شاہ سے تعزیت کی ۔ حضرت امیر مرکزیہ نے تعزیتی رجسٹر پر اپنے غم کے تاثرات لکھے ۔ خانقاہ عالیہ امروٹ شریف کے بانی مجاہد تحریک آزادی مخدوم المشائخ پیر طریقت حضرت قبلہ سیدنا تاج محمود صاحب امروٹی ، مولانا سید محمد شاہ امروٹی کے مزارات پر فاتحہ پڑھی ۔ اس موقع پر سندھ کے علماء کی بہت بڑی جماعت حضرت الامیر کے ہمراہ تھی۔ یہاں سے فراغت کے بعد اس تاریخی مسجد کو دیکھا جو وسیع و عریض نہر کے وسط میں برجوں پر کھڑی ہے ۔ اس کے ارد گرد نہر چل رہی ہے ۔ چاروں طرف سے پانی میں گھری ہوئی مسجد تک پہنچنے کے لئے ایک پل بنایا گیا ہے ۔ انگریز نے اپنے دور اقتدار میں نہر بناتے ہوئے مسجد کو گرانا چاہا ۔ حضرت اقدس سید تاج محمود صاحب امروٹی ، امیر المجاہدین مسجد میں آ کر کفن بردوش معتکف ہو گئے ۔ نہر کھودنے والی دیوہیکل کرینوں کے زنجیر ٹوٹ گئے اور وہ زمین میں دھنس گئیں ۔ انگریز کا نشہ کافور ہو گیا ۔ چنانچہ ایک ولی کامل کے جذبہ جہاد کے سامنے انگریز جھک گیا ۔ مسجد بچ گئی جو آج بھی ایک اللہ والے کو دعائیں دے رہی ہے ۔ اس مسجد کا وجود انگریز کی ہزیمت وشکست کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ حضرت امیر مرکزیہ نے دیر تک مسجد کا معائنہ فرمایا ۔ دعا فرمائی ۔ حضرت امروٹی کے جذبہ جہاد کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد قافلہ روانہ ہوا ۔ ایک بجے کے قریب خانقاہ عالیہ بیر شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا عبدالکریم قریشی ، پیر طریقت کی خدمت میں قافلہ حاضر ہوا ۔ حضرت امیر مرکزیہ نے حضرت بیر شریف کو مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں خدمات پر مبارک باد دی ۔ مجلس کے مبلغین نے آپ سے دعاؤں کی درخواست کی ۔ حضرت امیر مرکزیہ کی تشریف آوری کا حضرت پیر شریف والوں نے شکریہ ادا کیا ۔ دونوں مشائخ وقت مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرتے رہے اور حاضرین ان کی نورانی گفتگو سے اپنے قلب و جگر کو روشن کرتے رہے ۔ حضرت پیر شریف والوں نے کھجوروں اور چائے سے تواضع کی ۔ خانقاہ عالیہ کی مسجد و مدرسہ حضرت پیر طریقت مولانا عبدالکریم بیر شریف والوں کا تارک دنیا ہونا ۔ اس سے قافلہ بہت متاثر ہوا ۔ شریعت کی پابندی ، سنت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوی ﷺ کا احیاء، قادیانیوں کی تردید اور جذبہ جہاد کی ترویج میں حضرت پیر شریف والوں کو قدرت نے مجددانہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آپ کی خواہش پر حضرت امیر مرکزیہ نے دعا فرمائی۔ قافلہ یہاں سے روانہ ہو کر مغرب کے قریب ٹھل پہنچا۔ راستہ میں ظہر کی نماز ایک دینی مدرسہ میں پڑھی، جہاں حضرت ہالیجوی کے خلیفہ حضرت حافظ عبدالعزیز صاحب کے مزار پر فاتحہ پڑھی۔
ختم نبوت کانفرنس ٹھل
۱۴ نومبر مغرب سے عشاء تک علماء ومشائخ و جماعتی احباب کی حضرت امیر مرکزیہ کی ملاقاتیں جاری رہیں۔ عشاء کے بعد جامع مسجد میں کانفرنس شروع ہوئی۔ ٹھل کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا حکیم خدا بخش جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما تھے، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا محمد علی جالندھری کے دیرینہ ساتھی اور فدا کار تھے، جو عرصہ تک سندھ میں جماعت کے مبلغ رہے۔ ان کے صاحبزادے مولانا حکیم شبیر احمد عثمانی نے کانفرنس کا تمام تر اہتمام کیا تھا۔ وہ کانفرنس کے اسٹیج سیکرٹری تھے۔ ابتدائی نظم ونعت اور تلاوت کے بعد مولانا جمال اللہ حسینی ، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا غلام قادر رند نے خطاب فرمایا۔ آخری خطاب مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا کا تھا۔ یوں رات کے ایک بجے حضرت امیر مرکزیہ کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
نواب شاہ میں ختم نبوت کانفرنس
۱۵ نومبر ۱۹۸۷ء بروز اتوار علی الصبح قافلہ ٹھل سے روانہ ہوا۔ روہڑی سے شاہین ایکسپریس کے ذریعے ۹ بجے نواب شاہ پہنچا۔ جہاں نواب شاہ عالمی مجلس کے امیر قاری محمد ارشد، ناظم اعلیٰ قاری محمد ابراہیم ، قاری محمد اسجد کی قیادت میں جماعتی احباب نے ریلوے اسٹیشن پر حضرت امیر مرکزیہ کا استقبال کیا۔ جامع مسجد کبیر ریلوے اسٹیشن جو اپنی خوبصورتی اور وسعت کے اعتبار سے ایک عدیم المثال جامع مسجد ہے، اس میں مولانا دوست محمد صاحب جو حضرت شیخ مدنی کے شاگرد اور حضرت امیر شریعت ، مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا غلام غوث ہزاروی ، مولانا مفتی محمود کے ساتھی ہیں۔ وہ حضرت امیر مرکزیہ کے لئے سراپا استقبال تھے۔ پورا دن جماعتی احباب مقامی علماء کرام، مدارس عربیہ کے مدرسین وطلباء حضرت امیر مرکزیہ سے ملاقاتیں ودعائیں حاصل کرتے رہے۔ عشاء کے بعد حضرت امیر مرکزیہ کی صدارت میں کانفرنس شروع ہوئی۔ مولانا احمد میاں حمادی، مولانا حفیظ الرحمٰن، قاری محمد ارشد، قاری محمد اسجد ، مولانا جمال اللہ حسینی ، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا اللہ وسایا، مولانا غلام قادر رند نے فاضلانہ خطاب کئے۔ ایک بجے رات حضرت امیر مرکزیہ کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کے اسٹیج سیکرٹری قاری محمد ابراہیم گمانوی تھے۔
کنڈیارو میں ختم نبوت کانفرنس
۱۶ نومبر ۱۹۸۷ء ظہر کی نماز پڑھ کر نواب شاہ سے قافلہ روانہ ہوا۔ مغرب کے قریب کنڈیارو پہنچے۔ کنڈیارو کا قدیم دینی مدرسہ جو حضرت مولانا عبداللطیف صاحب کی زیرنگرانی اور حضرت پیر شریف والوں کے اہتمام میں چل رہا ہے۔ اس میں قیام تھا۔ جامع مسجد مرکزی میں کانفرنس کا پہلا اجلاس شروع ہوا جو عشاء تک جاری رہا۔ مولانا غلام قادر رند خطیب سندھ نے خطاب فرمایا۔ جب کہ مدرسہ میں جماعتی احباب وعلماء حضرت امیر مرکزیہ سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ عشاء کے بعد دوسرا اور آخری اجلاس شروع ہوا۔ مولانا محمد قاسم اسٹیج سیکرٹری تھے جو قاسم لائبریری کے مالک ہیں۔ جس میں قدیم وجدید ۹ ہزار کتابیں ہیں۔ کانفرنس سے قاری محمد ارشد مدنی ، مولانا حفیظ الرحمٰن ، مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نذیر احمد تونسوی، مولانا احمد میاں حمادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے آخری مقرر مولانا اللہ وسایا تھے۔ جنہوں نے رات کے ڈیڑھ بجے تک ڈیڑھ گھنٹے رد قادیانیت پر فاضلانہ خطاب کیا۔ حضرت امیر مرکزیہ کی ایمان پرور دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
ٹنڈوآدم میں ختم نبوت کانفرنس
۱۷؍ نومبر صبح ۸؍ بجے کنڈیارو سے روانہ ہو کر قافلہ ٹنڈوآدم پہنچا۔ پورا دن ملاقاتوں کے لئے علماء وعوام حضرت الامیر مدظلہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ عشاء کے بعد حضرت امیر مرکزیہ کی زیر صدارت جامع مسجد میں کانفرنس شروع ہوئی۔ مولانا احمد میاں حمادی، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا محمد اقبال ظفر، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا غلام قادر رند اور جماعت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب فرمایا۔ آخری تقریر مولانا اللہ وسایا کی تھی۔ رات ڈیڑھ بجے کانفرنس حضرت امیر مرکزیہ کی دعا پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ یوں ۱۲؍ نومبر سے شروع ہونے والا مبارک سفر ۱۷؍ نومبر کو اختتام پذیر ہوا۔
تمام کانفرنسوں میں مقررین نے قادیانیوں کے عزائم وعقائد کا پردہ چاک کیا اور مرزائیوں سے مکمل بائیکاٹ کی اپیل کی۔ کانفرنسیں انتہائی کامیاب رہیں۔ ان شاء اللہ ان کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
تمام کانفرنسوں میں مختلف قراردادوں کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سیالکوٹ میں قادیانی جارحیت کا شکار ہو کر دو مسلمانوں کی المناک شہادت واقع ہوئی جو قادیانی ظلم وستم کا شکار ہوئے۔ ان کے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ کلیدی آسامیوں بالخصوص فوج سے قادیانی ملازمین کو نکالا جائے۔ مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر عمل درآمد کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۲۶ ص ۲۶ تا ۲۸، مورخہ ۱۱ تا ۱۷؍ دسمبر ۱۹۸۷ء)
اسلام آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
۱۷؍ نومبر ۱۹۸۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد دارالسلام میں حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے تین اجلاس ہوئے۔ پشاور، حسن ابدال، ہری پور، مانسہرہ، مری اور گوجر خان شمع ختم نبوت کے پروانوں نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔
پہلا اجلاس: پہلا اجلاس صبح دس بجے تلاوت کلام سے ہوا۔ بعد میں حافظ حسین احمد نگران دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد نے سیرت النبی پر ایک نعت پڑھی۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے نوجوان اور خوش الحان مبلغ مولانا محمد احسان دانش نے مسئلہ ختم نبوت کو دلائل کے ساتھ قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ختم نبوت کے موضوع پر ایمان پرور خطاب فرمایا۔ اپنے بیان میں مولانا جالندھری نے مرزا غلام احمد کی حقیقت اور اس کے عزائم وعقائد، قادیانیت نوازی کے سلسلے میں حالیہ حکمرانوں کا کردار اور موجودہ حکمرانوں کی نرم پالیسی اور اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارہائے نمایاں سے سامعین کو آگاہ فرمایا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تقریری، تدریسی اور تحریری میدان میں قادیانیت کا تعاقب کر رہی ہے۔ لاکھوں روپے کا لٹریچر سالانہ شائع کر کے مفت تقسیم کرتی ہے۔
دوسرا اجلاس: نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مولانا عبدالرؤف الازہری
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوج اور سول کی کلیدی آسامیوں سے قادیانیوں کو نکالا جائے۔ سکھر اور ساہیوال کیس کے قادیانی مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر عملدرآمد کرایا جائے۔ قادیانی عبادت گاہ مری روڈ سے کلمہ طیبہ کو مٹایا جائے۔ اسلام آباد کی قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ مٹایا گیا اور اس جرم کے قادیانی مجرم گرفتار ہوئے۔ مگر قادیانیوں نے پھر یہ ناپاک جسارت کی ہے۔ فی الفور کلمہ طیبہ کو ہٹا کر اور قادیانیوں کی ضمانت منسوخ کر کے سخت سزا دی جائے۔ تا کہ کسی بدبخت کو آئندہ کلمہ طیبہ لگانے کی جرأت نہ ہو۔ مولانا عبدالرؤف کے ان مطالبات کے بعد ملک کے ممتاز عالم دین علامہ خالد محمود صاحب نے مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر مفصل اور مدلل خطاب فرمایا۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں علامہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور قیامت کے قریب دمشق کی جامع مسجد میں شرقی مینار کے پاس نازل ہوں گے۔ دو زرد رنگ کی چادروں میں ملبوس ہوں گے۔ نماز کے لئے جماعت کھڑی ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آواز دیں گے۔ ان کے بال گھنگریالے ہوں گے اور سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔ جب یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی تو وہ اس وقت نہا کر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے ہیں کہ ان کے غسل کا پانی صدیاں گزارنے کے باوجود خشک نہیں ہوگا۔ امام مہدی ، مصلے پر کھڑے ہوں گے ۔ وہ اشارہ کریں گے ۔ مگر پہلی نماز عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کے پیچھے پڑھیں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے۔ شادی کریں گے۔ اولاد ہوگی۔ اس کے بعد وہ فوت ہوں گے اور حضور اکرم ﷺ کے روضۂ اطہر میں دفن کئے جائیں گے اور قیامت کے دن حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اٹھیں گے۔ علامہ خالد محمود نے دلائل سے سامعین کو خوب محظوظ کیا اور مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کو مسلمانوں پر واضح کیا۔
تیسرا اجلاس : قاری محمد شریف شاہ ہاشمی کی تلاوت سے شروع ہوا۔ ظہور الٰہی اور اس کے ساتھی جامعۃ العلوم الاسلامیہ الفریدیہ کے طلباء کرام نے نعت سنائی۔ ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مری کے امیر مولانا قاری اسد اللہ عباسی نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس سلسلہ میں کوششوں کو سراہتے ہوئے مسلمانوں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی کہ جہاں کہیں قادیانی مسلمانوں کے ایمان لوٹنے کی کوشش کریں یا قادیانیت کی تبلیغ کریں یا اپنی عبادت گاہوں اور ناپاک سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج لگائیں۔ اس کی اطلاع عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو دی جائے تا کہ کالے سانپ کی طرح قادیانیوں کی سرکوبی کی جائے قادیانی مصنوعات شیزان وغیرہ کا بائیکاٹ کیا جائے۔
قاری محمد اسد اللہ عباسی کے خطاب کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی محمد اللہ یار خان نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بین الاقوامی کام کی تفصیل سامعین کو بتائی کہ ہماری جماعت جس طرح اندرون ملک کام کر رہی ہے اسی طرح بیرون ملک بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کام کر رہی ہے۔ بیرون ملک بنگلہ دیش، ابوظہبی، کویت، مسقط، قطر، کینیا، زامبیا، تنزانیہ، لوساکا، جکارتا، انڈونیشیاء، ملائیشیاء، گھانا، ماریشس، جزیرہ فیجی آئی لینڈ، انگلینڈ، سعودی عرب، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ، جنوبی افریقہ وغیرہ میں جماعت کی شاخیں قائم ہیں۔ مولانا قاضی اللہ یار خان کے بعد فاتح ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نعروں کی گونج میں تشریف لائے۔ آپ نے پونے دو گھنٹے میں قادیانیت کا خوب پوسٹ مارٹم کیا۔ سامعین کو بتایا کہ ساہیوال اور سکھر کیس کے قادیانی مجرم جن کو پھانسی کی سزا دی جا چکی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی توثیق کے بعد بھی انہیں پھانسی نہیں دی جا رہی۔ انہیں فی الفور پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا اللہ وسایا نے ڈی سی راولپنڈی کو للکارا کہ اگر تم نے مری روڈ پر واقع قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ کو نہ ہٹایا تو شمع ختم نبوت کے پروانے خود بخود ہٹائیں گے۔ اس صورت میں حالات کی ذمہ داری تم پر اور قادیانی پر ہوگی۔ مولانا اللہ وسایا نے سیالکوٹ میں قادیانی گوریلے جس نے دو مسلمانوں کو شہید کیا اور محمدیہ مسجد ربوہ کے امام حافظ محمد یوسف پر خنجر سے قادیانی غنڈے نے حملہ کیا۔ ان مجرموں کو جو گرفتار ہو چکے ہیں، عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ قادیانیت اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس کا بین الاقوامی طور پر تعاقب کئے ہوئے ہے۔ مولانا موصوف نے فرمایا کہ قادیانی اب زندہ ہیں تو اپنے عہدوں کی وجہ سے اور گورنمنٹ کی نرم پالیسی کی بناء پر۔ آخر میں مولانا موصوف نے فرمایا کہ پہلے حکمرانوں نے قادیانیت کو سہارا دیا۔ رہے وہ بھی نہیں اور رہنا تم نے بھی نہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی شفاعت چاہتے ہو تو قادیانیت کے تکبر کی عمارت کو مسمار کر دو۔ حضرت امیر مرکزیہ مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعا پر یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۳۰ ص ۲۶، مورخہ ۸ تا ۱۴/ جنوری ۱۹۸۸ء)
خاتم الانبیاء کانفرنس ہارون آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہارون آباد کے زیر اہتمام مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا قدرت اللہ صدر مجلس تحفظ ختم نبوت فورٹ عباس نے کی۔ کانفرنس کی ابتداء قرآن پاک کی تلاوت سے کی گئی اور تلاوت قاری نور محمد صاحب نے کی۔ پھر نعت رسول مقبول ﷺ رشید احمد دیوانہ نے پیش کی۔ پھر نشست کے صدر مولانا قدرت اللہ صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزائیت چیز کیا ہے؟ اس کو انہوں نے ایک بہترین مثال میں حل کر دیا۔ کہا کہ اگر کسی کو کوئی بیماری لاحق ہو جائے تو اس کا علاج ضرور کروایا جاتا ہے۔ اگر علاج نہ کروایا جائے تو بیماری بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر جسم میں پھوڑا پھنسی پیدا ہو جائے تو جب تک اسے کاٹا نہ جائے اس وقت تک انسان کا پورا جسم محفوظ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح مرزائیت بھی امت میں ایک ایسا پھوڑا ہے جب تک اس کو ختم نہ کیا گیا اس وقت تک پوری امت راہ راست پر نہیں چل سکتی۔ پھر نیاز علی صاحب نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ پھر مولانا احسان احمد دانش صاحب مبلغ ختم نبوت لاہور نے اپنے پرجوش بیان میں فرمایا کہ سورج ، چاند بے نور ہو سکتے ہیں۔ ستاروں کی چمک ختم ہو سکتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آخر الزمان نبی کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔ اس لئے آج ہمیں اپنے ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جانا چاہئے تا کہ مرزائیوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔ پھر مولانا محمد احمد صاحب مبلغ ختم نبوت رحیم یار خان نے اپنی پرتاثیر آواز میں بیان کیا اور قاضی اللہ یار صاحب نے اپنے پرزور جوشیلے انداز میں خطاب کیا۔ آخر میں شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب نے مدلل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیرت طیبہ کو بیان کرنے کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ مزید فرمایا کہ جس طرح سچے نبی کی نبوت سے محبت کرنا ایمان کا جز ہے۔ اسی طرح جھوٹے نبی سے نفرت کرنا بھی ایمان کا جز ہے۔ اس کانفرنس کی تیاری کے لئے راؤ عبدالرؤف خان ، مولانا علی احمد ، مولانا محمد علی ، عبدالعلیم ضیاء، محمد اشرف ضیاء ،عبدالماجد فاروقی ،عبدالباسط نظامی، غلام مہر علی تبسم ،عبدالرحیم طاہر، عبدالحلیم خان ،محمد ندیم ،عبدالقیوم بھاٹیا، عبدالقوی زخمی نے بھرپور کردار ادا کیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۴ نمبر ۳۸ ص ۲۲ ،۲۳، مورخہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۸۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۸ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فیصل آباد میں قادیانی مردہ کی تدفین کا مسئلہ
گزشتہ جمعہ یکم جنوری ۱۹۸۸ء کو ایڈیٹر ”لولاک“ کو اطلاع ملی کہ پیپلز کالونی میں ایک قادیانی عبدالرحمن فوت ہوگیا ہے۔ اس کے ورثاء اسے پیپلز کالونی قبرستان میں دفن کرنا چاہتے ہیں۔ ایڈیٹر لولاک اور جماعت کے رہنما مولوی فقیر محمد نے حکام بالا سے رابطہ قائم کیا۔ متعلقہ تھانے کو اطلاع دی کہ اگر یہ مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔ متعلقہ تھانے نے قبرستان پر پہرہ بٹھا دیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما اور کارکنوں نے فیصلہ کیا کہ جمعہ کے بعد قبرستان جا کر معلوم کیا جائے۔ متوفی کے ورثاء نے جماعت کے رہنماؤں سے ملاقات کر کے اسے مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان میں سے کوئی شخص مرنے والے کے مسلمان ہونے کی گواہی نہ دے سکا۔ عبدالرحمن متوفی کے قریبی دوستوں نے بتایا کہ ہم اس سے اکثر مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں سوال کرتے تھے جس کے جواب میں وہ خاموش رہتا تھا۔ یہیں سے اس کے مرزائی ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ عبدالرحمن کے محلہ داروں سے رابطہ کیا گیا تو اس کے سابقہ پڑوسی مفتی محمد امین صاحب محمد پورہ (بریلوی مکتب فکر) نے بتایا کہ مرنے والا قادیانی تھا لہٰذا اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ ان شواہد کی روشنی میں جماعت کے رہنماؤں کا مولانا عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا محمد اشرف ہمدانی سے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ متوفی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ متعلقہ تھانہ اور حکام بالا کو اس فیصلہ سے آگاہ کر دیا۔ چنانچہ ورثاء عبدالرحمن کو پیپلز کالونی قبرستان میں دفن نہ کر سکے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶، مورخہ ۸؍ جنوری ۱۹۸۸ء)
قادیانیوں نے اپنا مردہ خود ہی نکلوا دیا
نصیر آباد (سندھ) رپورٹ عبدالمنان چانڈیو۔ یہاں رات کی تاریکی میں قادیانیوں نے اپنا مردہ مسلمانوں کے منع کرنے کے باوجود چوری چھپے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ واقعات کے مطابق نصیر آباد شہر کا ایک قادیانی مرگیا۔ جب مرزائیوں نے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا ارادہ کیا تو حافظ محمد ثاقب مہتمم جامعہ نصیر آباد نے قادیانیوں کو خبردار کیا وہ مسلمانوں کے قبرستان میں اپنا مردہ دفن نہ کریں۔ اگر دفن کیا تو اسے باہر نکال کر پھینک دیا جائے گا۔ مرزائیوں نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ دفن نہیں کریں گے لیکن انہوں نے رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا مردہ دفن کر دیا۔ جب صبح حافظ صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے بمع مسلمانوں کے ایس۔ڈی۔ایم کے پاس جا کر شکایت کی اور مسلمانوں کا یہ فیصلہ بھی بتایا کہ اگر قادیانیوں کا مردہ واپس نہ نکالا گیا تو مسلمان خود ہی باہر نکال کر پھینک دیں گے۔ ایس۔ڈی۔ایم نے مسلمانوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ جمعداروں کے ذریعہ مردہ نکلوا دیں گے۔ قادیانیوں کو جب اس فیصلے کا علم ہوا تو وہ اپنا مردہ اکھاڑ کر لے گئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۷، مورخہ ۱۵ تا ۲۱؍ جنوری ۱۹۸۸ء)
پاکستان کی آبادی
آخری مردم شماری ۱۹۸۱ء
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذاہب کے اعتبار مذہب آبادی فیصد تناسب مسلم 81450057 96.67 مسیحی 1310426 1.56 ہندو 1267116 1.51 قادیانی 104244 0.12 پارسی 7007 دیگر مذاہب 105794 0.13 مجموعی آبادی 44253644
(رپورٹ مردم شماری حکومت پاکستان ۱۹۸۱ء)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۷، مورخہ ۸ تا ۱۴/ جنوری ۱۹۸۸ء)
سپریم کورٹ کی وفاقی شرعی عدالت کے اپیل بنچ میں قادیانیوں کی اپیل خارج کر دی گئی
الحمد لله وحده والصلوٰة والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ۔ اما بعد!
امتناع قادیانیت آرڈیننس کو قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اسے قرآن وسنت کی تعلیمات اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کی درخواست کی۔ فاضل عدالت کے پانچ جج صاحبان نے اپنے مفصل اور متفقہ فیصلہ کے ذریعے قادیانیوں کی اپیلوں کو خارج کر دیا اور آرڈیننس کو قرآن وسنت اور بنیادی حقوق کے مطابق قرار دیا۔ یہ فیصلہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۸۴ء کو ہوا۔ قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے وفاقی شرعی اپیل بنچ میں کالعدم قرار دینے کی اپیل کی۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اس کی سماعت کی۔ جناب جسٹس محمد افضل ظلہ اس کے چیئرمین تھے۔ اراکین میں جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری، جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی شامل تھے۔ سماعت کے لئے جونہی کوئی تاریخ نکلتی، قادیانی درخواست دے کر سماعت رکوا دیتے۔ اڑھائی سال تک اسی طرح ہوتا رہا۔ بالآخر ۱۰/جنوری ۱۹۸۸ء کو اس کی راولپنڈی سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی۔ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے پھر روایتی دجل سے کام لیا۔ عدالت کے کام میں روڑے اٹکائے۔ غیر ضروری طوالت دینے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال میں لائے اور بالآخر ایک درخواست کے ذریعہ عدالت سے اپنی اپیلوں کو واپس لینے کی استدعا کی۔ قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کی واپسی اپیلوں کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچوں جج صاحبان نے متفقہ فیصلہ تحریر فرمایا۔ یہ فیصلہ مسٹر جسٹس محمد افضل ظلہ نے، جو اس وقت اپیل بنچ کے چیئرمین تھے اور بعد میں چیف جسٹس آف پاکستان بنے، نے تحریر فرمایا اور باقی جج صاحبان نے اس سے اتفاق کیا۔ فیصلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے وفاقی شرعی عدالت اپیل بنچ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کو بحال رکھا۔ حق تعالیٰ شانہ نے امت محمدیہ کی ایک دفعہ پھر دستگیری فرمائی۔ قادیانی ایک اور ذلت سے دوچار ہوئے۔ فیصلہ پڑھئے اور آگے بڑھئے۔ رحمت حق، شفاعت پیغمبر ﷺ، آپ کے شامل حال ہو۔ ذیل میں اس فیصلہ کا متن ملاحظہ ہو:
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سپریم کورٹ آف پاکستان میں
(شرعی مرافعہ کا دائرہ کار)
سماعت کنندہ بنچ:
- جناب جسٹس محمد افضل ظلہ، چیف جسٹس
- جناب جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ
- جناب جسٹس شفیع الرحمٰن
- جناب جسٹس پیر محمد کرم شاہ
- جناب جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی
شرعی مرافعہ نمبر ۲۴ برائے ۱۹۸۲ء
..................................................
شرعی مرافعہ نمبر ۲۵ برائے ۱۹۸۲ء
(شریعت پٹیشن نمبر ۱۷۔آئی ۱۹۸۲ء، ۲۰۔ایل ۱۹۸۲ء، ۱۷۔ایل ۱۹۸۲ء اور ۲۱۔ایل ۱۹۸۲ء میں وفاقی شرعی عدالت، لاہور کے فیصلے/احکامات مجریہ ۱۲/۸/۱۹۸۲ء کے خلاف اپیل)
کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواجد اور ایک دوسرا (ایس۔اے ۲۴/ ۱۹۸۲ء)
مجیب الرحمٰن اور تین دیگر اپیل کنندگان (ایس۔اے ۲۵/ ۱۹۸۲ء)
بنام
وفاقی حکومت پاکستان مدعی علیہ بتوسط اٹارنی جنرل آف پاکستان
..................................................
برائے اپیل کنندہ نمبر: ۱ مسٹر منظور الٰہی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (ایس۔اے ۲۴/ ۱۹۸۲ء)
اپیل کنندہ نمبر: ۲ شخصی طور پر (ایس۔اے ۲۴/ ۱۹۸۲ء)
برائے اپیل کنندگان مسٹر مجیب الرحمٰن شخصی طور پر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(ایس۔اے/۲۵/۱۹۸۴ء) مسٹر حمید اسلم قریشی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ اور دیگران شخصی طور پر برائے مدعیٰ علیہ ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی (دونوں معاملات میں) ڈپٹی اٹارنی جنرل چوہدری اختر علی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ تاریخ سماعت برائے ۱۰/جنوری ۱۹۸۸ء، راولپنڈی (ایس۔اے/۲۴/۱۹۸۴ء) ۱۱/جنوری ۱۹۸۸ء، راولپنڈی تاریخ سماعت برائے ۱۰/جنوری ۱۹۸۸ء، راولپنڈی (ایس۔اے/۲۵/۱۹۸۴ء) تاریخ فیصلہ ۱۱/جنوری ۱۹۸۸ء
فیصلہ
محمد افضل ظلہ، چیف جسٹس
اپیل نمبر ۲۴ اور ۲۵ میں جو علی الترتیب دو اور چار اپیل کنندگان کی جانب سے مشترکہ طور پر دائر کی گئیں، وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جو دستور کی دفعہ ۲۰۳۔ ڈی کے تحت دیا گیا تھا۔ انہیں دفعہ ۲۰۳۔ ایف کے تحت داخل کیا گیا اور چونکہ اب انہیں واپس لے لیا گیا، اس لئے انہیں خارج کر دیا گیا ہے۔
متنازعہ فیصلہ اپیل کنندگان کی ان دو درخواستوں پر دیا گیا تھا، جنہیں انہوں نے الگ الگ پیش کیا اور ان میں ایک قانون ”قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں (کی ممانعت اور سزا) کے آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء“ کو چیلنج کرتے ہوئے اسے دفعہ ۲۰۳۔ ڈی کے مطابق ”احکام اسلام“ کی رو سے کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے اس دفعہ کی ذیلی شق (۲۔ الف) کے مطابق مفصل وجوہ (۲۰۰ سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں) بیان کرتے ہوئے داد رسی سے انکار کر دیا تھا۔
اپیل نمبر ۲۴/ ۱۹۸۴ء احمدیوں کے لاہوری گروہ اور اپیل نمبر ۲۵/ ۱۹۸۴ء ان کے قادیانی گروہ کی طرف سے دائر کی گئی ہیں۔ جیسا کہ انہیں آرٹیکل ۱۰۶ اور آرٹیکل ۲۶۰ کی ذیلی شق (۳) میں قرار دیا گیا ہے۔ دراصل ان دفعات کا اضافہ، بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے ان انتخابات میں، جنہیں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تسلیم کیا گیا، باقاعدہ منتخب ہونے والی پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء کی دوسری آئینی ترمیم کو منظور کرتے ہوئے کیا تھا۔ اس عدالت نے بھی، ملک کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد، اسے آئین سازی کے اہل تسلیم کیا تھا۔ اس نے یہ ترمیم اس مقصد کے لئے صرف ووٹوں کی مطلوبہ لازمی اکثریت سے نہیں بلکہ دونوں ایوانوں میں اتفاق رائے سے پاس کی تھی، جب کہ اس کے خلاف کوئی ووٹ نہ تھا۔ اس کے اصل محرکین میں سے ایک کا صرف ایک رکنی واک آؤٹ بھی، جیسا کہ سرکاری ریکارڈ / کارروائی سے واضح ہے، محض اس بناء پر تھا کہ یہ ترمیم ناکافی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس ترمیم نے مرزا قادیانی کے پیروکاروں کو جو عموماً احمدیوں کے نام سے معروف ہیں، غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ یہ ترمیم جمہوری، پارلیمانی، نیز عدالتی طریقے پر کی گئی تھی اور پورے ہاؤس پر مشتمل خاص کمیٹی کی طویل روئیداد کے دوران احمدیوں کے دونوں گروہوں کے مسلمہ لیڈروں کو بھی اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کو پیش کی جانے والی قرارداد میں (جس کے محرکین میں دوسروں کے علاوہ وہ واحد رکن بھی شامل تھا، جس نے بعد میں واک آؤٹ کیا تھا) یہ تصریح بھی موجود تھی: ”احمدی اندرونی اور بیرونی سطح پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔“
اور یہ کہ: ”اس وقت مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس نے جس میں دنیا بھر سے ۱۴۰ وفود نے شرکت کی تھی ۔“ بالاتفاق قرار دیا تھا کہ: ”قادیانیت اسلام اور عالمِ اسلام کے خلاف سرگرم عمل ایک تخریبی تحریک ہے جو دھوکے اور مکاری سے ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔“
(مباحثہ قومی اسمبلی پارلیمنٹ ج ۴، ۱۹۷۴ء)
ان وجوہ کی بناء پر ترمیم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس خاص کمیٹی نے اپنی طویل سماعت اور مفصل کارروائی (جو ریکارڈ کا حصہ ہے) مکمل کرنے کے بعد اتفاق رائے سے درج ذیل قرارداد منظور کی۔
- الف ...... پاکستان کے دستور میں درج ذیل ترمیم کی جائے:
- ۱...... آرٹیکل ۱۰۶ (۳) میں قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر شامل کیا جائے۔
- ۲...... آرٹیکل ۲۶۰ میں ایک نئی شق کا اضافہ کر کے اس میں غیر مسلم کی تعریف کر دی جائے۔
ان سفارشات کو عملی شکل دینے کے لئے خاص کمیٹی کا متفقہ طور پر منظور کردہ ایک مسودہ منسلک ہے۔
- ب ...... تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ (الف) میں درج ذیل توضیح کا اضافہ کیا جائے۔
توضیح: ”جو مسلمان دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ کی شق (۳) میں درج کردہ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف اظہار کرے گا، عمل کرے گا یا تبلیغ کرے گا، وہ اس دفعہ کے تحت سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔“
(گزٹ آف پاکستان کا غیر معمولی شمارہ، مجریہ ۱۴ / ۱۱ / ۱۹۷۴ء پی. پی ۱۲۰۵ اور ۱۲۰۶ کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ مسودہ وہی تھا، جسے بالآخر پارلیمنٹ نے منظور کر لیا۔)
(متن کے لئے دیکھئے: مباحثہ قومی اسمبلی پارلیمنٹ، ج ۲۵ ۱۹۷۴ء)
یہ امر ملحوظ رہے کہ اس خاص کمیٹی نے مجموعہ تعزیرات میں بھی ترمیم کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس امر کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ان اقدامات کا مقصد احمدیوں (جو اپیل نمبر ۲۴/ ۱۹۸۴ء کے تحت پیش کردہ ضمیمہ مورخہ ۱۵/ ۱/ ۱۹۸۵ء میں درج وجہ نمبر ۱۰ میں اپیل کنندگان (قادیانیوں) کے اپنے بیان کے مطابق ان مسلمانوں کے مقابلے میں ”خود بنی اقلیت“ ہیں، جو (مسلمان) نہ صرف یہ کہ پاکستان میں ”وسیع اکثریت“ میں ہیں، بلکہ عالم اسلام کی سطح پر تو ان (قادیانیوں) کی حیثیت اور بھی کم ہو جاتی ہے) کی حیثیت کے بارے میں اس طویل نزاع کو حل کرنا ہے جو تقریباً پون صدی سے ملک میں چلا آ رہا ہے۔ ماضی میں اس نزاع پر خون ریزی، مارشل لاء کا نفاذ، عدالتی تحقیقات، مداخلت اور کارروائیاں اور احتجاج بھی ہوتے رہے ہیں۔ اس سے قبل یہ تمام حل آزمائے جا چکے تھے۔ اس بار دستوری اور پارلیمانی طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔ جس قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، وہ بھی متذکرہ بالا صورتحال کا حاصل اور بدیہی نتیجہ معلوم ہوتا ہے اور اس سے مقصود بھی یہی ہے کہ احمدیوں کی کچھ ان سرگرمیوں کو روکا جائے جو ان سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اب جہاں تک ان اپیلوں کا تعلق ہے تو جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اپیل کنندگان نے مذکورہ قانون کو احکام اسلام کی کسوٹی پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ اسے دستور کے آرٹیکل ۲۰۳۔ ڈی کی رو سے یہ خصوصی اختیار حاصل ہے کہ وہ اسے احکام اسلام کے منافی قرار دے دے، جیسا کہ دوسری اعلیٰ عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی قانون کو اس بناء پر کالعدم قرار دے سکتی ہیں کہ وہ دستور کے تحت دیئے ہوئے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ چونکہ وفاقی شرعی عدالت نے یہ قرار دینے سے انکار کر دیا کہ متذکرہ قانون احکام اسلام کے منافی ہے تو انہوں نے اس عدالت کے شریعت مرافعہ بنچ میں اپیلیں دائر کر دیں۔ سپریم کورٹ کا یہ شریعت مرافعہ بنچ دستور کے باب ۳۔ الف کے تحت تشکیل دیا گیا ہے اور اسے وفاقی شرعی عدالت کے آرٹیکل ۲۰۳۔ ڈی کے تحت دیئے ہوئے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کا کلی اختیار حاصل ہے۔ یہ بنچ عدالت کے تین مستقل ججوں اور دو علماء ججوں پر مشتمل ہے۔ اس بنچ کے مستقل جج، سپریم کورٹ کے تین ایسے سینئر جج ہیں جو تقریباً بیس سال سے اعلیٰ عدلیہ کے ارکان چلے آرہے ہیں۔ جب کہ علماء جج، عالمی شہرت کے حامل ایسے سکالرز ہیں جو نمایاں دینی اداروں کے منتظم اور سربراہ ہیں اور مختلف علوم میں اعلیٰ درجے کی صلاحیت کے مالک ہیں۔ وہ شریعت مرافعہ بنچ میں تقرری سے قبل وفاقی شرعی عدالت میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
ان اپیلوں کی سماعت ۱۹۸۵/۵/۲۲ء کے لئے مقرر ہوئی تھی لیکن اپیل کنندگان کی جانب سے ایک درخواست پر ملتوی ہوگئی۔ (اپیل نمبر ۲۴ /۱۹۸۴ء کے اپیل کنندہ نمبر ۱ نے اپنی علالت کی بناء پر چند ماہ کے لئے التواء کی استدعا کی۔ اپیل نمبر ۲۵ / ۱۹۸۴ء کے اپیل کنندگان کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے بھی التواء کی درخواست کی تائید کی) اڑھائی سال کے بعد ایک دفعہ پھر یہ فل بنچ کے سامنے سماعت کے لئے آئیں۔ ہمارے معمول کے مطابق اس نوع کے مقدمات کی سماعت کم از کم پانچ ججوں پر مشتمل بنچ ہی کرتے ہیں اور دونوں علماء جج ایسے بنچ کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔
اس پس منظر میں ہمیں توقع تھی کہ اس بار ان اپیلوں کی سماعت ضرور ہوگی، لیکن ہم یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے کہ دوبارہ اسی اپیل کنندہ نے مزید ایک سال کے لئے التواء کی درخواست بھیج دی ہے۔ اب کی بار اس بناء پر اگر چہ وہ بیماری سے شفایاب ہوچکا ہے لیکن اس کا حافظہ ابھی تک پوری طرح بحال نہیں ہوا۔ اس نے کوئی وکیل نہیں کیا۔ اس نے اصرار کیا کہ اگر سماعت ملتوی کر دی جائے تو وہ اپنے مقدمے پر خود بحث کرے گا۔
اس درخواست کے اپنے حقیقی ثبوت اور اپیل میں اس کے شریک ساتھی سے، جو ایڈووکیٹ ہے، کچھ استفسارات سے واضح ہوا کہ یہ سب عذر لنگ ہے، اس لئے ہم نے طویل التواء کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ درخواست گزار / اپیل کنندہ اگلے روز لازماً پیش ہو کر اپنے مقدمے پر بحث کرے۔
جب دوسری اپیل (نمبر ۲۵/ ۱۹۸۴ء) سامنے آئی تو اسے پیش کرنے والے اپیل کنندگان اس سے بھی بڑی حیرت کا ذریعہ بنے۔ وہ بھی مقدمے پر بحث کرنے کے لئے آمادہ نہ تھے۔ دو سال پیشتر بھی دو درخواستوں پر جو ریکارڈ موجود ہیں، اسی طرح کی کوششیں کی گئی تھیں۔ اپیل کنندگان کو اس امر کا بخوبی علم تھا کہ ان درخواستوں میں کی گئی استدعا کی نوعیت ایسی ہے کہ عدالت میں کم از کم ان کی سماعت کی تاریخ کے تعین کے احکام حاصل کئے جاسکتے تھے۔ ان کا تعلق وفاقی شرعی عدالت کے سامنے مقدمے کی کارروائی کے ٹیپ ریکارڈ طلب کرنے اور اپیل کی سماعت سے قبل ہی زیر بحث فیصلے کے ایک حصے کو قلم زد کرنے سے تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شاید ایسا ہی ہو کہ پہلی درخواست کا مقصد، جیسا کہ عدالت میں وضاحت کی گئی تھی، وفاقی شرعی عدالت کے روبرو ان دلائل کی نوعیت کے بارے میں نزاع کو رفع کرنا تھا۔ جن کا زیر بحث فیصلے کے صفحات ۹ تا ۱۵۲ میں تذکرہ کیا گیا ہے اور جنہیں دوسری درخواست میں قلم زد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس درخواست کے اختتام پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ ’اپیل کی سماعت شروع کرنے سے قبل ہی‘ اس نکتے کا فیصلہ کرے، وگرنہ اپیل کنندگان کی ’اس اپیل میں کوئی دلچسپی باقی نہ رہے گی‘، یوں اپیل کو مزید ایک طویل مدت کے لئے ملتوی کرانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ کچھ بحث کے بعد ہم نے اس مرحلے پر ٹیپ ریکارڈ طلب کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ امر غیر ضروری التواء کا موجب ہوگا۔ تاہم، ہم نے اس وقت اپیل کنندگان کو یقین دلایا کہ اگر وہ اپنی اپیلوں پر بحث کریں گے اور ان کی سماعت کے دوران اگر ہم نے ٹیپ ریکارڈ طلب کرنے کی ضرورت محسوس کی تو ہم از خود ایسا ضرور کریں گے۔
اس مرحلے پر پہلی درخواست پر مزید زور دینے کی اور کوئی گنجائش نہ پا کر دوسری درخواست پر زور دیا گیا۔ ان حالات میں یہ بھی غیر معمولی نوعیت کی درخواست تھی۔ درحقیقت ہمیں یہ بتایا جا رہا تھا کہ زیر بحث فیصلے کے تقریباً دو تہائی حصے کو غیر ضروری، غیر متعلق اور اپیل کنندگان کے مذہبی حقوق کے لئے اشتعال انگیز، ہونے کی بناء پر ’قلم زد‘ کر دیا جائے۔ وہ یہ بھول رہے تھے کہ دستور کے آرٹیکل ۲۰۳-ڈی کے تحت نئی تقسیم کے دائرہ کار کے حقائق اور پہلو بھی بنیادی اور لازمی طور پر دین اسلام ہی سے متعلق ہیں۔ ان سے مطالبہ یہ تھا کہ وہ ثابت کریں کہ زیر بحث قانون دین اسلام کے احکام کے منافی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جن امور کا فیصلے کے صفحہ ۸، پیراگراف ۱۱۳ اور ۱۱۴ میں تذکرہ کیا گیا ہے (اور جنہیں قلم زد کرنے کی استدعا نہیں کی گئی) وہ ثابت کرتے ہیں کہ چند رسمی بیانات کے سوا جو غالباً فیصلہ اپیل کنندگان کے خلاف ہونے کی صورت میں مؤقف بدلنے کے لئے دیئے گئے تھے، وہ ’اصرار‘ اور ’زور‘ سے دلائل دیتے رہے کہ وہ غیر مسلم نہیں ہیں اور جب انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ریکارڈ درست نہیں ہے تو فاضل ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جو خود وفاقی شرعی عدالت میں موجود تھے، ان کی تردید کی۔ خود ہم نے بھی محسوس کیا کہ اپیل کنندگان نے اپیل نمبر ۲۴/۱۹۸۴ء کے ضمیمے کے پیراگراف نمبر: ۱ میں زیر بحث فیصلے کے صفحہ ۹ کے ابتدائی حصے میں تحریر کردہ حقائق کی صحت کا انکار نہیں کیا ہے، البتہ اس کے دائرہ کار کے پہلو پر اعتراض کیا گیا ہے۔
قلم زد کرنے کے سوال کی سماعت کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ اپیل نمبر ۲۵/۱۹۸۴ء میں کی گئی استدعا کو اپیل کی سماعت سے قبل بطور ابتدائی دادرسی منظور نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں! البتہ اپیلوں کی باقاعدہ سماعت کے دوران اگر ضرورت پڑی تو قلم زد کرنے کے لئے متعلقہ نکات اور اجزاء کو آخری فیصلے کے احکام میں یقیناً ملحوظ رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے کسی قانون کا حوالہ نہیں دیا گیا کہ مرافعاتی دائرہ کار میں ایسا کرنا مناسب اور قانونی طریقہ نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اس امر کا بھی جائزہ لیا جاتا کہ آیا آرٹیکل ۲۰۳-ایف کے تحت دیئے گئے خصوصی اختیار کی گنجائش کی رو سے زیر بحث فیصلے کی صحت اور ’وجوہ‘ کی بنیاد پر اس کے کسی متنازعہ حصے یا حکم کو قلم زد کرنا، منسوخ کرنا یا بحال رکھنا ہمارے لئے قانونی طریقہ ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ چونکہ اپیل کنندگان خود پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے (کہ اگر ان کی استدعا منظور نہ کی گئی تو انہیں اپیل سے کوئی دلچسپی نہ رہے گی) اس لئے انہوں نے موضوع کے اس پہلو پر، جس سے زیر بحث فیصلے کی قطعیت طے ہونا تھی، بحث کرنے میں سرے سے کوئی دلچسپی نہیں لی۔
اگلی درخواست کو جو ان دونوں اپیلوں میں چوتھی ہے، لینے سے قبل اس امر کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اس فیصلے کی تحریر کے دوران اپیل کنندگان کی جانب سے اس عدالت کو اور وفاقی شرعی عدالت کو پیش کی گئی بحثوں اور یادداشتوں میں دیکھا ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہوں نے اس نکتے پر یقیناً استدلال کیا ہے کہ وہ غیر مسلم نہیں ہیں۔ اگر اپیل کنندگان اپنی اپیلوں پر بحث کرتے تو ہم لازماً ان سب امور پر دستوری نقطۂ نگاہ سے غور کرتے۔ نیز ہمارے سامنے اور وفاقی شرعی عدالت میں ان کے بیانات زیر غور آتے۔ بعد ازاں اس قانونی نکتے کا ضرور جائزہ لیا جاتا کہ اگر اپیل کنندگان اس نکتے پر بحث کریں اور عدالت سے اس پر فیصلہ دینے کی درخواست کریں اور یہ فیصلہ ان کے خلاف ہو جائے تو کیا وہ آرٹیکل ۲۰۳-ایف کے تحت اپنی اپیل میں ایسے استدلال پر مبنی فیصلے کو درخواست میں بیان کردہ اسباب کی بناء پر قلم زد کرا سکتے ہیں؟ یا یہ کہ وفاقی شرعی عدالت کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہ تھا۔
اپیل نمبر ۲۵/ ۱۹۸۴ء میں اپیل کنندگان کی آخری درخواست (اپیل نمبر ۲۴/ ۱۹۸۴ء میں ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی ہے) میں اس بنچ سے تعصب کی بناء پر دونوں علماء ججوں کو خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ہمارے سامنے پیش کردہ اپیلوں میں زیر بحث قانون جیسے ایک قانون کے وضع کرنے کے حق میں رائے دی تھی، اس بارے میں تحریری مواد بھی ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے جائزے کے بعد ہم نے محسوس کیا ہے کہ یہ سرسری انداز میں رائے کے اظہار کا مسئلہ ہے اور وہ بھی پورے دلائل سنے بغیر، جیسا کہ حکم امتناعی کی درخواستوں یا باقاعدہ مقدمات کو منظور کرنے کے لئے ابتدائی دلائل کی سماعت کے وقت یا اس مقصد کے لئے اس عدالت میں بھی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے جج اکثر کرتے ہیں۔ اسے کبھی بھی حقیقی طور پر نہیں لیا جاتا کہ اسے کسی طرح کا تعصب، طرفداری یا ممانعت قرار دیا جاسکے۔ علاوہ ازیں، جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، دوسروں کے مقابلے میں علماء جج سورۃ النساء کی آیت ۱۳۵ کے حکم کے زیادہ پابند اور فکرمند رہتے ہیں۔ یہ آیت مع ترجمہ درج ذیل ہے:
’’یٰایھا الذین اٰمنوا کونوا قوّامین بالقسط شھدآء للہ ولو علٰی انفسکم اوالوالدین والاقربین ان یکن غنیاً او فقیراً فاللہ اولٰی بھما فلا تتبعوا الھوٰی ان تعدلوا وان تلوا اوتعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیراً‘‘ ﴿اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے رہو۔ خواہ وہ تمہارے اپنے یا تمہارے ماں باپ یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ فریق خواہ مالدار ہو یا نادار۔ اللہ ان کا زیادہ خیر خواہ ہے۔ پس تم خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر تم ہیر پھیر کرو گے یا پہلوتہی کرو گے تو یہ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔﴾
(النساء:۱۳۵)
قرآن کریم اور سنت نبوی میں ایسے احکام بکثرت موجود ہیں، جن میں بے لاگ عدل پر زور دیا گیا ہے۔ مغربی تصور قانون کے مقابلے میں ہمارے نظام سیاست میں اس کی اہمیت زیادہ واضح ہے۔ توحید اور رسالت کے بعد یہ تقویٰ کی طرح بنیادی اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے۔ پھر عدل کے بارے میں اسلام کا نظریاتی پہلو مغربی نظریات سے زیادہ وسیع ہے۔ اسلامی تصور میں یہاں تک موجود ہے کہ وہ انسان کو ایسے مقدمے اور فیصلے کی سماعت سے بھی نہیں روکتا جو خود اس کے خلاف ہو۔ قرآن کریم اسے ناممکن قرار نہیں دیتا۔ اگرچہ ایسا انتہائی معاملہ صرف شاذ و نادر ہی واقع ہوتا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت نے ’’وفاق پاکستان بنام حضور بخش اور دو دیگر‘‘ (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۸۳ء ایف۔ایس۔سی ۲۵۵، ص ۲۸۱ اور ۳۰۲) میں اسی طرح کے ایک اعتراض کو نمٹایا تھا جو قطعی ہے۔ اس میں مس عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب اور دیگر (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۷۲ء ایس۔سی ۱۳۹، ص ۱۷۸) ذوالفقار علی بھٹو بنام سٹیٹ (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۷۸ء، ایس۔سی ۱۲۵، ص ۱۳۲) اور میکسویل کی تعبیر قوانین (ایڈیشن ۱۲) ص ۵۰، ۵۱ اور انگریزی قانون کے ایک مقدمے ری میو (۱۸۶۲ء) ۳۱-ایل۔جے، بی۔کے ۷۸ کا حوالہ دیا گیا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جن آراء کا اپیل کنندگان نے سہارا لیا ہے اگر انہیں عدالتی مفہوم میں سنجیدگی سے بھی لیا جائے ۔ حالانکہ بات ایسی نہیں ہے تو پھر بھی یہاں اسلام میں رجوع کا اصول لاگو ہوگا ۔ عدالت میں جو کچھ ہوا ، اسے مدنظر رکھتے ہوئے اس پہلو پر زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ دونوں علماء ججوں نے بتایا ہے کہ ان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ اگر دلائل کی سماعت کے بعد انہوں نے اپنی کسی سابقہ رائے سے رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کی تو ایسا ضرور کریں گے ۔ اب یہ دریافت ہوا ہے کہ دونوں فاضل علماء جج کئی اہم معاملات پر ایسا کر چکے ہیں ، مثلاً ایک مسئلہ کسی تعزیری جرم میں سزائے موت دینے کا ہے ۔ ایک اور مسئلہ دارالحرب میں کسی مسلمان کے سود لینے سے متعلق ہے۔ اس نکتے کے بارے میں وہ دونوں حضرت امام ابو حنیفہ کے موقف کے پیروکار ہیں ۔ اس کے لئے دیکھئے : حیات امام ابو حنیفہ از محمد ابوزہرہ کا اردو ترجمہ ، شائع کردہ ملک سنز ۔ اس میں ان کا یہ قول منقول ہے :
”وكان الامام ابو حنيفة يقول حرام على من لم يعرف دليلى ان يفتى بكلامى، وكان اذا افتى يقول: هذا راى ابى حنيفة وهو احسن ما قدرنا عليه، فمن جاء باحسن منه فهو اولى بالصواب، وكان يقول : اياكم وراء الرجال (المیزان للشعرانی ج ۱ ص ۶۳ ، طبع مصر) “ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں : جو شخص میری دلیل سے ناواقف ہے ، اسے میرے کلام سے فتویٰ دینا حرام ہے۔ آپ فتویٰ صادر کرتے وقت ارشاد فرماتے کہ یہ ابو حنیفہ کی رائے ہے جو ہماری بساط کی حد تک سب سے بہتر ہے ، اگر کسی کو اس سے زیادہ عمدہ قول مل سکے تو وہ زیادہ قرین صحت ہوگا ۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کی آراء سے بچو ۔ ٭
صرف یہی نہیں ہم نے اعتماد و یقین کی ضامن اس کارروائی کے علاوہ ایک اسی طرح کی صورت پاکستان بنام عبدالولی خان (پی ایل ڈی ۱۹۷۶ء، ایس سی ۵۷ ص ۱۸۸۔ پاکستان سپریم کورٹ رپورٹس ۱۹۷۵ء) میں اس عدالت کے طے کردہ ایک اصول کو سامنے رکھا ہے ۔ جب اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں دو ججوں کی شمولیت پر اعتراض کیا گیا تو اس رپورٹ کے صفحہ ۲۱۲ پر درج حسب ذیل رائے دی گئی ۔
”جہاں تک بینچ کی تشکیل پر اعتراض کا تعلق ہے تو فاضل وکیل کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ مقدمے کے کسی بھی فریق کو یہ دعویٰ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں کہ اس کا مقدمہ اس کی اپنی پسند کا مخصوص جج سماعت کرے ۔ اعلیٰ عدالتوں کے معاملے میں یہ صرف متعلقہ جج یا ججوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ وہ کسی مخصوص مقدمے میں بیٹھیں گے یا نہیں بیٹھیں گے ۔ مسٹر ولی خان کو بتا دیا گیا ہے کہ جن دونوں فاضل ججوں کے خلاف اعتراض کیا گیا ہے ، انہوں نے یادداشت قلمبند کی ہے جو اب اس مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ انہیں اس مقدمے کی سماعت کے لئے بیٹھنے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔ اس اعتراض کی بنیاد محض ظن و تخمین پر رکھی گئی ہے ۔ اس لئے یہ ہماری رائے میں بے جواز ہے ۔ متعلقہ جج اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ وہ اس ریفرنس کی سماعت کے لئے بیٹھنے کے اہل نہیں ہیں ۔ اس لئے اس اعتراض کو مسترد کیا جاتا ہے ۔“
اس مقدمے میں متعلقہ اصولوں پر بحث کر دی گئی تھی ۔ اس لئے مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں ہے ۔ اپیل کنندگان نے اس مقدمے کا حوالہ دینے سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک دوسرے مقدمے چیئرمین فیڈرل لینڈ کمیشن اور دیگر بنام سردار عاشق محمد خان مزاری، ۳۷ دیگر افراد (۱۹۸۵ء ایس سی ایم آر ۳۱۷) کا حوالہ دینے پر اصرار کیا ، جو معلوم ہوتا ہے ، رپورٹنگ کے لئے منظور نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم جب رپورٹ کے اختتام پر بینچ کے دونوں ججوں کی رائے سے معترض کو آگاہ کیا گیا تو اس مقدمے پر مزید زور نہیں دیا گیا۔ تاہم ولی خان کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقدمے کو نمایاں کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی۔ ہم نے اس نکتے پر اتفاق نہیں کیا۔ پھر دونوں علماء ججوں سے استفسار کیا گیا کہ وہ اس بنچ میں بیٹھنے میں کسی طرح کی کوئی پریشانی محسوس کریں گے؟ دونوں نے نفی میں جواب دیا۔ یہ ساری کارروائی ایسے متین انداز میں جاری تھی کہ ہمیں حقیقتاً محسوس ہو رہا تھا کہ اپیل نمبر ۲۵ / ۱۹۸۴ء کی سماعت شروع ہو جائے گی لیکن یکا یک اپیل میں شریک اپنے دوسرے ساتھیوں سے مشورہ کئے یا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کو اطلاع دیئے بغیر اپیل کنندہ نمبر ۱ نے، جو اس وقت عدالت میں کھڑا تھا، اعلان کر دیا کہ وہ اپیل واپس لیتا ہے۔ ہم نے اسے بتایا کہ اس نے دوسروں سے مشورہ نہیں کیا۔ اس پر اس نے اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ ان کا بھی یہی مؤقف ہے۔ پھر عدالت میں حاضر دوسرے اپیل کنندگان اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپیل واپس لے لی۔ نتیجتاً ہم نے اسے خارج کرنے کا حکم دے دیا۔
اس بات پر ہمیں مزید حیرت ہوئی کہ اپیل نمبر ۲۴/ ۱۹۸۴ء جو جیسا کہ پہلے تذکرہ ہوا، اگلے دن پھر ملتوی ہو گئی تھی۔ اس میں شریک دوسرا اپیل کنندہ بھی اٹھا اور اس نے کوئی دلیل دیئے یا وجہ بتائے بغیر اپیل واپس لے لی۔ اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ اپیل نمبر ۲۴/ ۱۹۸۴ء میں دائر کی تھیں۔ تب اس سے اپیل میں شریک دوسرے ساتھی کے رویے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ اس سے اس مقصد کے لئے رابطہ قائم کیا جائے گا۔ اگلے دن اس اپیل میں کوئی شخص حاضر نہ ہوا۔ ہم نے کافی دیر انتظار کیا اور پھر مجبوراً اسے اگلی تاریخ پر ملتوی کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اگرچہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ضرورت ہوتی تو ایک مقدمے بی۔ زیڈ کیکاؤس بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگران (پی۔ ایل۔ ڈی ۱۹۸۲ء، ایس سی ۴۰۹) کی طرح دستبرداری کا فیصلہ بھی دیا جا سکتا تھا۔ ہم نے غیر حاضر فریق کے مفاد میں ایسا کرنے سے احتراز کیا۔ کچھ دیر بعد مسٹر منظور الٰہی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے اپنے وکالت نامہ اور دوسری دستاویزات سمیت اپیل کنندہ نمبر ۱ کی جانب سے بھی ایک درخواست دائر کی اور اپیل نمبر ۲۴/ ۱۹۸۴ء واپس لے لی۔ واپس لئے جانے کی وجہ سے ہم نے اسے خارج کر دیا۔
اختتام سے قبل اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ مقدمے کے ان حالات میں معقولیت کی خاطر ہم نے اپیل کنندگان کے رویے کے پس پردہ نیت اور محرک کا جائزہ لینے یا دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دوسری باتوں کے علاوہ یہاں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اگر وہ اس بارے میں سنجیدہ تھے تو انہوں نے اپیل کی باقاعدہ سماعت سے قبل ہی پہلی دو درخواستوں خصوصاً زیر بحث فیصلے کے بڑے حصے کو قلم زد کر دینے کی درخواست کا فیصلہ کرنے کی استدعا کیوں کی؟ اس عمل سے اسی بنچ کی جانب سے مقدمے کی حقیقت کا جائزہ لینے کا مسئلہ پیش آتا، جس کی تشکیل پر انہوں نے تیسری درخواست میں اعتراض کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت تک انہیں یہ خدشہ نہیں تھا کہ اس اہم نکتے پر ان سے انصاف نہیں ہو گا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، وہ پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے کہ اگر دوسری درخواست نامنظور ہو گئی تو وہ اپیل پر زور نہیں دیں گے۔ اگر انہوں نے اسی وجہ سے اپیل واپس لینا تھی تو پھر ایسا اس مرحلے پر کیوں نہیں کیا گیا، جب ہم نے ان کی سب سے زیادہ غیر معمولی استدعا کو مسترد کر دیا اور یہ بے بنیاد اعتراض اٹھایا گیا کہ عدالت کے کچھ ارکان متعصب ہیں۔ حالانکہ وہ اپیل پر زور نہ دینے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکے تھے۔
مذکورہ بالا حقائق اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے دونوں شریعت اپیلیں نمبر ۲۴ اور ۲۵ برائے ۱۹۸۴ء واپس لئے جانے کی وجہ سے خارج کی جاتی ہیں اور قرار دیا جاتا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کا زیر بحث فیصلہ ملک میں نافذ العمل رہے گا۔ خرچ کا کوئی حکم جاری نہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا گیا۔
دستخط: مسٹر جسٹس محمد افضل ظلہ چیف جسٹس
جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ جج جسٹس پیر محمد کرم شاہ جج
جسٹس شفیع الرحمٰن جج جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی جج
مہر سپریم کورٹ آف پاکستان
راولپنڈی
۱۰؍ جنوری ۱۹۸۸ء
۱۱؍ جنوری ۱۹۸۸ء
(PLD 1988 SC 167)
حاشیہ:
- ۱...... اسلامی تنظیموں کی عالمی کانفرنس (مؤتمر المنظمات الاسلامیۃ فی العالم) کی طرف اشارہ ہے، جو ۱۴ تا ۱۸؍ ربیع الاوّل ۱۳۹۴ھ (اپریل ۱۹۷۴ء) رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ سعودی عرب میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میں دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں اور حکومتوں کے ۱۴۰ نمائندہ وفود شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس نے قادیانیوں کے بارے میں جو قرار داد اتفاقِ رائے سے منظور کی تھی، وہ یہ ہے: ”قادیانیت یا احمدیت“ یہ ایک ایسا تخریبی گروہ ہے جو اپنے ناپاک مقاصد کو چھپانے کے لئے اسلام کا نام استعمال کرتا ہے۔ اس کے اسلامی تعلیمات کے منافی بنیادی امور یہ ہیں:
- ۱...... اس کے بانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔
- ۲...... یہ قرآن کریم کی آیات میں تحریف کرتے ہیں۔
- ۳...... یہ جہاد کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔
قادیانیت، برطانوی سامراج کی پروردہ ہے اور یہ اسی کی حمایت اور سر پرستی میں ترقی کر رہی ہے۔ یہ امت مسلمہ کے مسائل اور معاملات میں خیانت کرتی رہی ہے اور سامراج اور صہیونیت کی وفادار ہے۔ قادیانیت، اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کرتے ہوئے اسلامی عقائد اور تعلیمات کو مسخ کرنے اور ان میں تحریف کرنے کے لئے ان کے آلہ کار کے طور پر کام کرتی ہے۔ ان مقاصد کے لئے قادیانیت یہ ذرائع اختیار کرتی ہے۔
- الف...... اسلام دشمن عناصر اور طاقتوں کی امداد سے ایسی عبادت گاہوں کا قیام، جن میں گمراہ کن قادیانی افکار کی تعلیم دی جاتی ہے۔
- ب...... سکول، ادارے اور یتیم خانے قائم کر کے لوگوں کو قادیانیت کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی تعلیم دینا، علاوہ ازیں قادیانی مختلف عالمی اور مقامی زبانوں میں قرآن کریم کے تحریف شدہ تراجم کی اشاعت کرتے ہیں۔ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے کانفرنس سفارش کرتی ہے کہ:
- ۱...... تمام اسلامی تنظیمیں اس امر کا اہتمام کریں کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کو ان کے سکولوں، اداروں اور یتیم خانوں کے اندر محدود کیا جائے۔ نیز مسلمانانِ عالم کو ان کے ہتھکنڈوں سے بچانے کے لئے عالم اسلام کو ان کی حقیقت اور سیاسی سرگرمیوں سے آگاہ کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... اس گروہ کے کافر اور اسلام سے خارج ہونے کا اعلان کیا جائے اور اسی وجہ سے مقدس مقامات میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔
- ۳...... مسلمان، قادیانیوں یا احمدیوں کے ساتھ کوئی لین دین نہ کریں۔ نیز ان کا معاشی، سماجی اور تعلیمی بائیکاٹ کیا جائے۔ نہ ان سے
شادی بیاہ کیا جائے اور نہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ ان سے ہر طرح، کافروں جیسا برتاؤ کیا جائے۔
- ۴...... تمام اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ نبوت کے مدعی مرزا قادیانی کے پیروکاروں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکیں
اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیں اور انہیں حکومت کی کلیدی آسامیوں پر تعینات نہ کریں۔
- ۵...... قرآن کریم میں قادیانیوں کی تحریفات کی تصاویر شائع کی جائیں اور ان کے تراجم کا شمار کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے۔
نیز ان تراجم کی نشر و اشاعت کو روکا جائے۔
- ۶...... اسلام سے منحرف ہونے والے تمام گروہوں سے قادیانیوں جیسا سلوک کیا جائے۔
ٹیلیفون کی ایک کال نے اس کی جان بچالی (ایک مظلوم کی داستان عبرت)
سورج طلوع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی اور جیل کی فضاء پر موت کا سکوت طاری تھا۔ اچانک ٹیلیفون کی گھنٹی بجنے لگی، جس کی آواز تاریک رات کے پر ہول سناٹے کو اور زیادہ پراسرار بنا رہی تھی۔ جیل کے دفتر کا یہ ٹیلیفون موت کے دہانے پر کھڑے ہوئے ایک بے بس انسان کو نئی زندگی کا پیغام دینے کے لئے بے قرار تھا۔ ادھر جیل کے ایک دور دراز گوشے میں کچھ لوگ اپنے ہی جیسے ایک جیتے جاگتے انسان کو موت کے گھاٹ اتارنے کی رسم ادا کرنے کے لئے بڑے چاق و چوبند اور مستعد نظر آ رہے تھے۔ موت کی رسم ادا کرنے والوں میں سے کسی نے زندگی کا پیغام دینے والے ٹیلیفون کی چیخ و پکار بالآخر سن ہی لی اور اس طرح موت اور زندگی کی یہ کشمکش یوں ختم ہوئی کہ زندگی موت پر غالب آ گئی۔
نئی زندگی کا پیغام صدر مملکت کا وہ حکم تھا جس کے تحت سردار محمد سلیمان کی سزائے موت منسوخ کر دی گئی تھی۔ ٹیلیفون پر ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری حکام سے کہہ رہے تھے کہ محمد سلیمان کو پھانسی نہ دی جائے۔ کیونکہ صدر مملکت نے اس کی رحم کی اپیل منظور کرتے ہوئے سزائے موت منسوخ کر دی ہے اور موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا گیا ہے۔ سردار محمد سلیمان وہ خوش نصیب انسان تھا جسے عین اس وقت نئی زندگی ملی جب کہ پھانسی کے تختہ پر اس کے گلے میں رسی کا پھندہ ڈالا جا چکا تھا اور اس کی زندگی و موت کے درمیان چند سانسوں کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ محمد سلیمان کو تقریباً ۲۸ سال قبل کراچی اور حیدر آباد کے درمیان جھمپر ریلوے اسٹیشن پر ریل کے ایک ہولناک حادثے میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ بدترین حادثہ خیبر میل اور آئل ٹینکر کے درمیان ہولناک تصادم کے نتیجے میں رونما ہوا تھا۔ جس میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ خیبر میل کراچی سے پشاور جا رہی تھی اور اس وقت کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان بھی اس میں سفر کر رہے تھے جو بال بال بچ گئے۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب میں قادیانیوں کے خلاف زبردست تحریک چل رہی تھی اور وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے اس حادثہ کو اپنے خلاف ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح ان کے دشمنوں نے ان کی جان لینے کی کوشش کی تھی۔ حادثہ کے بعد تحقیقات شروع ہوئی جو طویل عرصہ تک جاری رہی۔ اس تحقیقات کے دوران بہت سے افراد گرفتار کئے گئے جن میں جھمپر کا اسٹیشن ماسٹر، اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر اور پوائنٹس مین سردار محمد سلیمان بھی شامل تھا۔ اسٹیشن ماسٹر اور اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر کو کچھ عرصہ بعد رہا کر دیا گیا لیکن سلیمان کے خلاف قادیانی وزیر خارجہ کو ہلاک کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقدمہ قائم کیا گیا۔ کیونکہ اس کے والد کا تعلق ایک ایسی جماعت سے تھا جو قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانے میں پیش پیش تھی۔ تحقیقات کے دوران محمد سلیمان کو اٹک کے قلعہ میں لے جایا گیا، جہاں اس پر تشدد کیا گیا اور چھ ماہ تک پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری رہا۔ سلیمان نے تشدد سے بچنے کے لئے پوچھ گچھ کے دوران بعض ایسی باتوں کا اعتراف کر لیا تھا جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے اعتراف کے بعد حیدرآباد کی سیشن کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ اس پر سابق وزیر خارجہ کو ہلاک کرنے کی سازش میں شریک ہونے اور اپنے فرائض سے غفلت و لاپروائی برتنے کے الزامات عائد کئے گئے جس کے نتیجے میں بہت سی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ عدالت نے ملزم محمد سلیمان کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت قید با مشقت کی متعدد و دیگر سزائیں بھی سنائیں جن کی مجموعی مدت ۲۵ سال بنتی تھی۔ محمد سلیمان نے سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں جو مسترد ہو گئیں۔ پھر اس نے گورنر مغربی پاکستان سے رحم کی اپیل کی۔ یہ اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں سلیمان کی جانب سے صدر مملکت کے سامنے رحم کی درخواست پیش کی گئی۔ اس وقت جناب اسکندر مرزا ملک کے صدر تھے۔ لیکن انہوں نے بھی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت بحال رکھی۔
حادثہ کی تحقیقات مقدمہ کی کارروائی سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیلوں کی سماعت اور پھر رحم کی درخواستوں کا فیصلہ ہونے میں کئی سال بیت گئے۔ محمد سلیمان نے جیل کی تنگ و تاریک کال کوٹھڑی میں بھی تین سال تک اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کیا۔ اسی دوران ملک میں ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا۔ جیل کے اندر محمد سلیمان موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھا اور جیل کے باہر اس کی بہن بلقیس اپنے بھائی کی زندگی بچانے کے لئے دوڑ دھوپ کر رہی تھی۔ لیکن وہ بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد تھک ہار کر بیٹھ گئی۔ وہ ایک روز انتہائی مایوسی کے عالم میں بیٹھی ہوئی اپنے بھائی کو یاد کر رہی تھی کہ اچانک ایک نیا خیال اس کے ذہن میں امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھری اور اس نے اپنے بھائی کی جان بچانے کی آخری کوشش کے طور پر اس نئے خیال کو عملی جامہ پہنانے کا تہیہ کر لیا۔
اس نے سوچا کہ نئے سربراہ مملکت ایوب خان سے براہ راست رحم کی اپیل کرنے کے بجائے کیوں نہ بالواسطہ طور پر کوشش کی جائے۔ کیونکہ اس سے قبل سرکاری افسران اور سرکاری دفاتر کے توسط سے صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے سربراہوں کو بھیجی جانے والی اپیلوں کا جو نتیجہ نکلا تھا وہ اس کے سامنے تھا۔ چنانچہ وہ اپنے نئے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے سابق صدر ایوب خان کے آبائی گاؤں ’’ریحانہ‘‘ پہنچی جہاں وہ کسی نہ کسی طرح ایوب خان کی ضعیف العمر والدہ سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس ملاقات کے دوران اس نے ایوب خان کی والدہ کو تفصیل کے ساتھ اپنے بھائی کی کہانی سنائی اور انہیں حقائق سے آگاہ کیا۔ ایوب خان کی والدہ داستان سن کر بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے بلقیس سے وعدہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے ایوب خان سے رحم کی اپیل منظور کرنے کو کہیں گی۔ ان کے اس وعدہ سے وقتی طور پر بلقیس کی ڈھارس بندھ گئی لیکن بدقسمتی سے ایوب خان اس وقت غیر ملکی دورے پر تھے اور ادھر محمد سلیمان کو پھانسی دینے کی تاریخ مقرر ہونے والی تھی۔ جیل میں بلقیس کا بھائی جہاں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا تھا وہاں جیل سے باہر اس کی بہن کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی۔ وہ بھی ذہنی انتشار اور اعصابی کرب میں مبتلا تھی۔ اپنے بھائی کی طرح اس کے لئے بھی دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہو چکی تھی۔ وقت بڑی تیزی سے گزرتا رہا اور آخر کار سلیمان کو پھانسی دینے کی تاریخ اور وقت کا تعین ہو گیا۔ جس کے ساتھ ہی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی۔ بھائی کو پھانسی دینے کی تاریخ مقرر ہونے پر بلقیس تڑپ اٹھی لیکن اس نے ہمت اب بھی نہیں ہاری اور وہ ایک مرتبہ پھر ایوب خان کے آبائی گاؤں ’’ریحانہ‘‘ گئی جہاں اس نے ایوب خان کی والدہ کو ان کا وعدہ یاد دلایا اور کہا کہ خدارا میرے بھائی کی جان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بچانے کے لئے کچھ کیجئے۔ کیونکہ پھانسی دینے کی تاریخ آن پہنچی ہے۔
یہ محمد سلیمان کی خوش قسمتی ہی تھی کہ صدر ایوب اسی دن غیر ملکی دورے سے واپس آگئے اور رات گئے ان کی والدہ نے ٹیلیفون پر محمد سلیمان اور اس کی بہن کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے محمد سلیمان کی رحم کی اپیل منظور کرنے کی سفارش کی۔ جسے ایوب خان نے فوراً مان لیا اور اپنے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ حیدرآباد جیل میں محمد سلیمان کو دی جانے والی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد نہ ہونے دیں اور اس سلسلے میں فوری کارروائی کریں۔ صدر کے اس حکم پر محمد سلیمان کی جان بچ گئی اور سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔
سردار محمد سلیمان مقبوضہ کشمیر (سری نگر) کا رہنے والا ہے۔ اس کا تعلق ایک دینی گھرانے سے ہے۔ اس کے والد سردار عالم دین خان مقبوضہ کشمیر کی ایک سیاسی شخصیت تھے اور مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ سلیمان اٹھارہ انیس سال کی عمر میں گھر سے بھاگ کر کراچی آگیا تھا اور اس نے یہاں ریلوے میں ملازمت کر لی تھی۔ سلیمان کے کراچی آنے کے بعد اس کے والد اور خاندان کے دیگر افراد بھی پاکستان آگئے اور یہاں حیدر آباد میں رہنے لگے، جہاں سلیمان کے والد نے وکالت شروع کر دی تھی۔ سلیمان کو جھمپر ریلوے اسٹیشن پر حادثہ کے سلسلے میں جس وقت گرفتار کیا گیا، اس وقت وہ ۲۱ سالہ نوجوان تھا اور اب جب کہ اس ماہ کی ۱۰؍ تاریخ یعنی ۱۰؍ فروری ۱۹۸۸ء کو جب وہ کوئٹہ جیل سے رہا ہوا ہے تو اس کی عمر ۴۸ سال ہے۔ اس طرح اس نے اپنی عمر کا زیادہ حصہ یعنی ۲۷ سال جیل میں گزارے۔ وہ کوئٹہ کے علاوہ کراچی، حیدر آباد، بہاول پور، ملتان، ساہیوال، پشاور، ہری پور ہزارہ اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلوں میں بھی رہ چکا ہے اور ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں اس نے سیالکوٹ کے محاذ پر اور ۱۹۷۱ء کی جنگ میں کھیم کرن کے محاذ پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔ کوئٹہ جیل سے رہائی کے بعد کراچی پہنچنے پر محمد سلیمان نے ایک ملاقات کے دوران کہا کہ وہ اپنی بہنوں سے ملاقات کے لئے بے تاب ہے جو حیدر آباد میں رہتی تھیں۔ لیکن آج کل تربت گئی ہوئی ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کی بہن بلقیس ڈاکٹر بن چکی ہے جب کہ دیگر دو چھوٹی بہنیں پروین اور رضیہ جن کی عمریں ۱۳ اور ۱۵ سال ہیں اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور وہ اپنی بہنوں سے ملنے کے لئے فوری طور پر تربت جا رہا ہے۔ محمد سلیمان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ وہ پہلے اپنی تینوں بہنوں کی شادی کرے گا اور بعد میں اپنی شادی کے بارے میں سوچے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۱، ۱۲، مورخہ ۱۲ تا ۱۸ فروری ۱۹۸۸ء)
کعبۃ المکرمہ پر قبضہ کر لینے کا قادیانی منصوبہ
”کلکتہ کے ایک قادیانی مبلغ ظفر قادیانی نے بھارتی صحافی کو بتایا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری قادیانیوں کے سب سے بڑے دشمن تھے۔“ قادیانی دھرم کی سالانہ سمیلن یاترا کے لئے ایک اخباری اطلاع کے مطابق بھارت کے انگریزی اخبار ہفت روزہ ”ریڈی انس“ کے ایڈیٹر ایک صحافی اور بے لاگ مبصر کی حیثیت سے ۲۰؍ دسمبر ۱۹۸۷ء کو قادیان شہر میں جا پہنچے۔ وہاں کے قادیانی سمیلن کو دیکھا اور قادیانی دھرم کے دانشور نیتاؤں سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ ان پنڈتوں کے ساتھ فرداً فرداً ملاقاتوں کی سب سے بڑی وجہ معزز معاصر کے الفاظ میں یہ تھی کہ: ”ہر جلسے کے بارے میں پریس کو توقع ہوتی ہے کہ وہ کوئی قرارداد منظور کر کے اپنی کانفرنس کا مقصد انعقاد دنیا کو بتائے گا لیکن ایسی کوئی قرارداد اس (قادیانی) جلسے میں منظور نہ ہوئی۔ صحافی پھر صحافی ہوتا ہے چنانچہ ایڈیٹر صاحب نے یہ وجوہات دوسرے ذرائع سے تلاش کرنا شروع کر دیں۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اس سمیلن کے پس پردہ کوئی وجوہات ضرور ہوں گی۔ بالآخر وہ اس کھوج میں کامیاب ہو گئے۔ یہ کامیابی انہیں قادیانی دانشوروں کے ساتھ انفرادی گفتگو کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ کلکتہ کے قادیانی مبلغ مسٹر سلطان ظفر نے ایڈیٹر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہفت روزہ ”ریڈی ائنس“ کو بتایا کہ ہمارا (قادیانیوں) کا اصل مقصد امت مسلمہ کو قائل کرنا ہے کہ ہمارا (قادیانی) نبی، مرزا قادیانی ایک حقیقی اور اصل نبی تھا۔ اس لحاظ سے کعبہ ہمارا (یعنی قادیانی) تحویل میں ہونا چاہئے۔ مسٹر سلطان ظفر قادیانی نے بتایا کہ کعبہ پر قبضہ ہمارا (قادیانیوں کا) مقصد منتہی ہے۔“
ایڈیٹر موصوف اس قادیانی انکشاف پر حیرت زدہ رہ گئے۔ وہ لکھتے ہیں: ”جب قادیانی مبلغ نے کعبے پر قبضے کی بات کی تو میں ایک لمحے کے لئے دم بخود رہ گیا۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ قادیانی کعبے پر قبضہ کیسے کریں گے؟ کوئی مسلم ملک ان کے داخلے کو اپنے یہاں پسند نہیں کرتا۔ پھر وہ کعبے پر قبضے کی کارروائی کہاں بیٹھ کر کریں گے؟ کیا وہ انڈیا سے یہ کارروائی کریں گے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے معزز معاصر نے سب سے پہلے قادیانی تنظیم کی تفصیلات کا جائزہ لیا پھر ان کی اقتصادیات کی تفصیلات حاصل کیں اور آخر میں اسرائیل اور بھارت کی متعصب ہندو تنظیموں کے ساتھ ان کے تعلقات معلوم کئے۔ مدیر موصوف قادیانی تنظیم کے بارے میں لکھتا ہے: ”قادیانی تنظیم میں چالیس سال سے اوپر کے مرد ’انصار اللہ‘ کہلاتے ہیں۔ چالیس سال سے نیچے کے ’خدام الاحمدیہ‘ پندرہ سال سے کم عمر کے ’اطفال الاحمدیہ‘ اور قادیانی عورتیں ’لجنہ اماء اللہ‘ کہلاتی ہیں اور چھوٹی عمر کی قادیانی لڑکیاں ’ناصرات الاحمدیہ‘ کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔‘ عام مسلمانوں کے مقابلے میں قادیانیت کے علیحدہ تشخص کو معزز معاصر یوں بیان کرتا ہے: ”قادیانیوں کا کیلنڈر بھی مسلمانوں سے مختلف ہے۔ قادیانی مہینوں کے نام حسب ذیل ہیں۔ صلح، تبلیغ، امان، شہادت، ہجرت، احسان، وفا، ظہور، تبوک، آخا، نبوت اور فتح۔ قادیانی دھرم کے اہم ترین دن دو ہیں۔ (۱) یوم مسیح جو ۲۳؍ مارچ کو منایا جاتا ہے۔ (۲) یوم خلافت جو ۲۷؍ مئی کو منایا جاتا ہے۔“
معزز معاصر نے جب قادیان کے مرکزی بجٹ کے بارے میں سوال کیا تو موصوف یہ سن کر حیران رہ گئے کہ قادیانیوں نے اپنے بجٹ کی تفصیلات کی ہر شق کو ڈالروں میں بیان کیا۔ قادیانیوں نے بتایا کہ ۱۹۸۷ء کا قادیان کا بجٹ ۲۵؍ کروڑ ڈالر تھا اور ۱۹۸۴ء میں قادیان کی آمدن پونے تین کروڑ ڈالر تھی۔ جب کہ اس کا خرچ تین کروڑ گیارہ لاکھ ڈالر تھا۔“
ایڈیٹر ”ریڈی ائنس“ لکھتے ہیں کہ قادیان کے مبلغ دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں بھی ان کا ایک تبلیغی دفتر موجود ہے اور حکومت اسرائیل سے ان کے بڑے اچھے مراسم ہیں۔ حکومت اسرائیل کے ساتھ اچھے مراسم اور کروڑ ہا ڈالر کی قادیانی آمدن کو ضبط تحریر میں لانے کے بعد معزز معاصر یہ حیرت انگیز انکشاف کرتا ہے کہ: ”بھارتی حکومت کے ساتھ قادیانیوں کے تعلقات اس حد تک خوشگوار ہیں کہ بھارتی قانون کے مطابق بھارت کی کوئی بھی تنظیم حکومت کی اجازت کے بغیر غیر ملکی عطیات وصول نہیں کر سکتی۔ لیکن قادیانی تنظیم کو بھارتی حکومت نے اس ضابطے سے مستثنیٰ قرار دے رکھا ہے۔“
اب ایڈیٹر صاحب کے سامنے سوال یہ باقی رہ جاتا تھا۔ اسرائیل اور بھارت حکومت کے ساتھ قادیانیوں کے خوشگوار تعلقات کے بعد بھارت کے متعصب ہندو تنظیموں کے ساتھ قادیانی ربط و ضبط کس پوزیشن میں ہے؟ اس سوال کو حل کئے بغیر موصوف کا یہ اندیشہ کیسے دور کیا جا سکتا تھا کہ کعبے پر قادیانی قبضے کی کارروائی کیا انڈیا سے شروع کی جائے گی؟ چنانچہ معزز معاصر انتہائی تعجب کے عالم میں لکھتا ہے کہ بھارت کے ہندو متعصب تنظیمیں مثلاً راشٹریہ سیوک سنگھ، جن سنگھ، شیو سینا، وشوا ہندو پریشد، یہ سب پارٹیاں قادیانیوں کو اپنا سمجھتی ہیں۔ بھارت کے اس معروف ہندو جریدے کے ایڈیٹر نے اپنے چشم دید واقعات کو قلمبند کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی ہندو تنظیمیں ہوں یا بھارت کی قادیانی جماعت دونوں کی تبلیغ کا شکار بھارت کے مظلوم مسلمان ہی بنتے ہیں۔ موصوف لکھتے ہیں: ”قادیانی یو.پی کے ان مسلم علاقوں کو بھی (بھارتی پنجاب کے نولاکھ ان پڑھ مسلمانوں کے علاوہ) اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں جن کی بیشتر آبادی جاہل اور ان پڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔ ان آبادیوں میں ہندو تنظیمیں بھی ان جاہل مسلمانوں کو ہندو بنانے میں مصروف وسرگرم عمل ہیں اور قادیانی تنظیم بھی دونوں ان علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ بغیر اس کے کہ ان میں کوئی تصادم ہو، گویا (ہندو اور قادیانی ) دونوں ایک مقصد کی دو تنظیمیں ہیں ۔“
بھارتی اخبار کے اس ایڈیٹر نے قادیانی پنڈتوں سے ایک دلچسپ سوال کیا:” کیا مسیح موعود کی اصطلاح قرآن مجید سے اخذ کی گئی ہے؟“
قادیانی کا جواب تھا: ”جی نہیں ۔“
” کیا مسیح موعود کی اصطلاح حدیث نبوی سے لی گئی ہے؟“
جواب ملا: ”جی نہیں ۔“ حدیث میں مہدی کے الفاظ آئے ہیں۔
معاصر ”ریڈی انس“ لکھتے ہیں مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ قادیانی دھرم نے ”مسیح موعود“ کی اصطلاح یہودیت سے اخذ کی ہے۔
بھارتی جریدے کے اس صحافی نے قادیانیت کے بارے میں اپنے یہ مشاہدات خاموشی سے قلمبند کر دیئے ہیں۔ اب قادیانی عزائم سے نتائج اخذ کرنا عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ اسرائیل کی یہ محبوب تنظیم بھارت کی متعصب تنظیموں کی آشیر باد، امت مسلمہ کے ملجا و ماویٰ ” بیت اللہ “ کعبہ پر قبضہ کر لینے کا جو منصوبہ تیار کر رہی ہے تو کیا قادیانیت کی یہ مکروہ کارروائی بھارت سے شروع کی جائے گی ؟ خود راقم الحروف کی معلومات کے مطابق پاکستان کے ہزار ہا قادیانی سعودی عرب اور عرب امارات میں مقیم ہیں ۔ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی کے کسی شمارے میں صرف تھر پارکر کے قادیانیوں کی فہرست ان کے پاکستانی اور سعودی عرب سمیت شائع کر چکا ہوں کہ ؎
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۵، ۶ ، مورخہ ۱۹ فروری ۱۹۸۸ء)
قادیانی تخریب کاری ملکی اخبارات کے آئینے میں
قادیانی بڑے دھڑلے سے دعویٰ کرتے ہیں ۔ وہ ملک کے وفادار ہیں اور قانون کی پابندی کرنے والے پرامن شہری ہیں اور یہ کہ کسی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔ ان کا دعویٰ یہ لغو اور جھوٹ ہے۔ وہ ملک کو توڑنا چاہتے ہیں اور تخریب کاری میں سرگرم عمل ہیں ۔ ان کے مفرور سر براہ مرزا طاہر دھمکی دے چکے ہیں کہ افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ تخریب کار ہیں اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ ہم قارئین کو ملکی اخبارات و جرائد کی ایک رپورٹ کے آئینے میں جو گزشتہ چند برسوں پر محیط ہے ۔ درج ذیل میں شائع کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قادیانی کس قماش کے ہیں ۔ (ادارہ)
قائد یونیورسٹی کے دو لیکچرار تخریب کاری کے الزام میں گرفتار: راولپنڈی ۵؍نومبر ۱۹۸۱ء نمائندہ جنگ، ملک میں تخریب کاری اور ببرک کارمل کی حمایت میں لٹریچر تقسیم کرنے والے ایک گروہ کا سراغ لگا کر اس کے دو مبینہ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے کہ ان میں سے ایک ملزم کو رنگے ہاتھوں اسلام آباد سے رات کے ساڑھے بارہ بجے حراست میں لیا گیا ۔ جب کہ اس کی نشاندہی پر اس کے دوسرے ساتھی کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے لٹریچر برآمد کر لیا گیا ۔ علاوہ ازیں متعدد افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ۔ عنقریب سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے گرفتار شدہ دونوں افراد قائد اعظم یونیورسٹی کے لیکچرار بتائے گئے ہیں۔ تخریب کاری کی روک تھام کے لئے اس کامیاب کارروائی کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اطلاع جب صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کو ملی تو انہوں نے متعلقہ حکام کو طلب کیا۔ ملزم گرفتار کرنے والے سرکاری ملازمین اور دوسرے افراد کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سیکرٹریٹ بلایا۔ صدر مملکت نے ملزم پر قابو پائے جانے کی تفصیلات ان متعلقہ افراد سے سنیں ۔ ان تینوں افراد سے مصافحہ کیا۔ ان کو شاباش دی ۔ ملک دشمن لٹریچر تقسیم کرنے والے عناصر کے خلاف ان کی کامیاب کارروائی کو سراہا اور تینوں کو نقد انعامات دیئے ۔ ان میں اب پارہ تھانے کا ایک پولیس کانسٹیبل امیر شاہ تھا جسے صدر مملکت نے ہیڈ کانسٹیبل بنانے کا حکم دیا۔ چنانچہ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد ملک نواز نے امیر شاہ کو فی الفور ہیڈ کانسٹیبل بنا دیا جب کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے امیر شاہ کانسٹیبل کی مدد کرنے والے دو چوکیداروں علی محمد سکنہ گجر خاں اور محمد خطیب گل خاں سکنہ موضع شیخ بابا قبائلی علاقہ نزد پشاور کو نقد انعامات دیئے گئے ۔ صدر مملکت نے ان دو سول افراد کے ملی جذبہ کو سراہا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محمود ہارون انسپکٹر جنرل پولیس ملک نواز اور دوسرے حکام موجود تھے۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان قائد اعظم یونیورسٹی کے لیکچرار ہیں ۔ پہلے جو ملزم پولیس کانسٹیبل اور چوکیداروں نے پکڑا ہے ۔ اس کا نام جمیل ہے، جو غیر شادی شدہ ہے ۔ اس کی عمر ۲۹ سال ہے۔ وہ ۱۹۷۵ء میں قائد اعظم یونیورسٹی آیا اور اس نے کمپیوٹر سائنس میں ڈپلومہ کورس کیا اور ۱۹۷۶ء میں اسے اسی یونیورسٹی میں بطور لیکچرار ملازمت دی گئی۔ لیکچرار جمیل احمدیوں کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کے خلیفہ حکیم نور الدین کا پوتا ہے ۔ اس کی نشاندہی پر اس کا جو ساتھی پکڑا گیا ہے اس کا نام سلیم ہے جو کیمسٹری کا لیکچرار ہے ۔ اس کے کمرے سے کمیونسٹ لٹریچر نکلا ہے ۔ وہ ایف ۶/۱ سیکٹر کے مکان نمبر ۲۱ گلی نمبر ۳۵ کا رہنے والا ہے ۔ قبل ازیں وہ حسن آباد تھانہ غازی میں رہتا تھا۔ آج صدر مملکت کی طرف سے شاباش اور نقد انعامات پانے والے تینوں افراد سے جب باری باری تفصیلات معلوم کی گئیں تو آب پارہ تھانہ کے سابق کانسٹیبل موجود ہیڈ کانسٹیبل امیر شاہ جو باریش تھے اور تہجد گزار ہیں نے بتایا کہ میں سفید کپڑوں میں رات کے وقت ڈیوٹی پر تھا۔
۲ اور ۳/نومبر ۱۹۸۱ء کی درمیانی شب رات ساڑھے بارہ بجے وہ گول مارکیٹ کے پاس درختوں کے سائے میں کھڑا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان سوزوکی موٹرسائیکل پر آیا۔ مجھے اس کے مارکیٹ کی طرف آنے پر شک گزرا ۔ کیونکہ آگے راستہ بند تھا۔ اس نوجوان نے موٹرسائیکل کھڑی کی ۔ ادھر ادھر دیکھا ۔ پھر ایک بیگ میں سے تحریری لٹریچر نکال کر اولڈ بک شاپ کے دروازے میں ڈالنے کی کوشش کی جو کچھ اندر اور کچھ باہر رہ گئے ۔ یہ دیکھتے ہی میں موٹرسائیکل کی طرف بڑھا تو نوجوان موٹرسائیکل کے پاس آیا اور اسے اسٹارٹ کر کے جانے کی کوشش کرنے لگا ۔ اسی دوران میں نے پوچھا کہ وہ کون ہے۔ اس نوجوان نے مجھے دھکا دے کر گرانے کی کوشش کی۔ مگر میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے شور مچا دیا ۔ جس پر دو چوکیدار خطیب گل اور علی محمد آ گئے ۔ تینوں نے اسے قابو کر لیا اور تھانہ آب پارہ میں ایس ایچ او محمد نواز کے پاس لے گئے۔ چوکیدار علی محمد نے بتایا کہ وہ طارق چیمبرز کے اندر چوکیداری کرتا ہے اور سابق فوجی ہے۔ چوکیداری کرتے ہوئے اسے چھ سال ہو گئے اس نے رات کو شور سنا اور کانسٹیبل کی مدد کی۔ گول مارکیٹ کے دوسرے چوکیدار محمد خطیب گل نے بتایا کہ وہ دو ماہ قبل یہاں چوکیدار کی حیثیت میں آیا تھا۔ اس نے شور سنا ۔ امیر شاہ کی آواز سن کر میں ڈنڈا لے کر آیا۔ ملزم کو پکڑنے میں مدد دی۔ ملزم کے ہاتھ میں چار لفافے تھے ۔ یہ چوکیدار تقریباً ان پڑھ ہے۔ اس نے کہا کہ بیگ میں دو لفافے تھے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ دو تین ماہ قبل بھی یہاں تخریبی لٹریچر شیشہ توڑ کر پھینکا گیا تھا۔ کیا آپ نے پہلے ایسے افراد دیکھے تھے تو اس نے کہا کہ میں اس وقت چوکیدار نہیں تھا۔ ہماری موجودگی میں ایسا آدمی نہیں آیا ۔ اب پارہ تھانے کے انچارج نے بتایا کہ جب یہ لوگ ملزم کو پکڑ کر لائے تو اس کے پاس ۳۷ اشتہار برآمد ہوئے ۔ ۳۴ اشتہاروں پر ۲۰ / اکتوبر ۱۹۸۱ء تاریخ اجراء اور ۳ پر ۲۱/ ستمبر ۱۹۸۱ء تاریخ اجراء درج تھی۔ ان میں سے ۳۴ اشتہار جمہور پاکستان کے نام سے شائع شدہ ہیں اور باقی پر شائع کرنے والی تنظیم کا نام نہیں ہے۔ ان اشتہاروں میں حکومت کے خلاف
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مواد ہے۔ اس کے علاوہ روس کے مؤقف کے قریب تر زیادہ مواد ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ کچھ عرصے سے شکایت مل رہی تھی کہ دیواروں پر ملک دشمن نعرے لکھے جارہے ہیں اور قابل اعتراض مواد تقسیم ہورہا ہے۔ چنانچہ ہیڈ کانسٹیبل محبوب حسین کی نگرانی میں خصوصی دستہ بنایا۔ جس میں امیر شاہ کے علاوہ ہدایت اللہ شبیر اور ذوالفقار کانسٹیبل ہیں۔ اسی دستے کے ارکان نے لوگ پکڑے ہیں۔ یہ اشتہار سائیکلو اسٹائل مشین کے تھے۔ ۲۵؍اکتوبر کا اشتہار ۴ صفحات اور ۲۱؍ستمبر کا اشتہار ۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ ملزم جمیل کے کہنے پر پروفیسر سلیم پکڑا گیا ہے۔ جس کے پاس کمیونسٹ لٹریچر اور اشتہارات نکلے ہیں۔ پولیس نے مارشل لاء کے آرڈر ۳۳/۱۳ کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے اور ملزمان کے دوسرے ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ انعام پانے والے تینوں افراد نے صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم وطن دشمن افراد کے ہتھکنڈے ناکام بنانے میں ایسے ہی جذبے سے کام لے۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۶؍نومبر ۱۹۸۱ء)
ملک بھر میں تخریب کاروں کی تلاش جاری ہے
اسلام آباد، ۷؍نومبر ۱۹۸۱ء، تخریبی لٹریچر رکھنے والے ملزموں سے تفتیش کا سلسلہ کافی آگے بڑھا ہے اور ان ملزموں نے دوران تفتیش کئی اہم انکشافات کئے ہیں جنہیں پولیس فی الحال صیغہ راز میں رکھے ہوئے ہے۔ ملکی سلامتی کے منافی لٹریچر پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے پورے ملک میں حرکت میں آگئے ہیں اور وہ تخریب کار گروہ کا کھوج لگانے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ پولیس نے جس نوجوان جوڑے کو شالیمار ۸ کے فیشن ایبل علاقے سے گرفتار کیا تھا اور جو مبینہ طور پر شراب کے نشے میں دھت تھے۔ ان کے نام مس ثروت حسین اور عزیز کمال بتائے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ تخریب کار گروہ کی گرفتاری کے بعد پولیس نے نذیر کمال کی گرفتاری کے لئے شالیمار ۸ میں اس کے مکان پر چھاپہ مارا تھا۔ گروہ اس وقت گھر پر موجود نہ تھا۔ جب کہ اس کا بھائی عزیز کمال مبینہ طور پر خوبرو ثروت حسین کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ مس ثروت حسین اسلام آباد میں ایک غیر ملکی سفارتخانہ میں ملازم ہے۔ عزیز کمال اور نذیر کمال کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک سابق سفیر کے بیٹے ہیں جنہیں سابقہ دور حکومت میں سیمنٹ ایجنسیوں اور دیگر مراعات سے نوازا گیا تھا۔ ان کا تعلق بھی ایک اقلیتی فرقہ سے بتایا جاتا ہے۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۸؍نومبر ۱۹۸۱ء)
اسلام آباد میں مزید تخریب کار گرفتار
جدہ ۶؍نومبر ۱۹۸۱ء، ریڈیو جدہ نے اسلام آباد کے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کی پولیس نے متعدد تخریب کاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ گرفتاریاں کل اسلام آباد میں دو تخریب کاروں کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئیں جو ملک دشمن پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے۔ ان دونوں افراد سے پوچھ گچھ کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں کچھ نوجوان عورتیں بھی شامل ہیں۔ کل جن تخریب کاروں کو حراست میں لیا گیا تھا ان کا تعلق قادیانیوں سے بتایا گیا ہے۔
اسلام آباد ۲۶؍اپریل وہ جون کی ایک گرم رات تھی۔ جب دو افراد ٹہلتے ہوئے اسلام آباد کے سیکٹر ایف / ۶ میں واقع فاروقیہ مارکیٹ کی طرف جارہے تھے۔ ان میں سے ایک پاکستانی اور دوسرا مشرقی یورپ کے کسی ملک کا باشندہ تھا۔ وہ شاپنگ کے لئے نکلے تھے لیکن یہ شاپنگ فاروقیہ مارکیٹ میں نہیں ہوئی تھی۔ مشرقی یورپ کا یہ باشندہ معاہدہ وارسا میں شامل ایک ملک کا سفارت کار تھا جو پاکستان کے سرکاری راز خرید رہا تھا۔ دوسرا شخص جو پاکستان کا باشندہ اور محکمہ خارجہ کا ایک افسر تھا نقد رقم اور عیش و آرام اور وہسکی (شراب) کے عوض یہ راز
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فروخت کر رہا تھا۔ اگر چہ یہ کسی تحیر خیز جاسوسی ناول کا کوئی حصہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ سب کچھ اسی طرح جون ۱۹۷۴ء میں اسلام آباد میں ہوا اور یہ سابق لیفٹیننٹ کمانڈر ۳۵ سالہ منیر احمد وڑائچ کا کمیونسٹ ملک کے اس سفارتکار سے پہلا رابطہ تھا۔ اس کے بعد سات سے تیس دن کے وقفوں سے ان کے درمیان ۱۵ ملاقاتیں ہوئیں جن کے دوران منیر وڑائچ مشرقی یورپ کے اس ملک کو پاکستان کی خفیہ اطلاعات ، اہم دستاویزات کی نقلیں دفتر خارجہ کی رپورٹیں اور دوسرے اہم خفیہ کاغذات برابر پہنچاتا رہا۔ جب مارچ ۱۹۸۱ء میں منیر وڑائچ کو گرفتار کیا گیا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے حکام کو جاسوسی کے منظم جال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جاسوسی کے لئے اس کی خدمات اسلام آباد میں مشرقی یورپ کے ملک کے ایک سفارتخانہ نے حاصل کی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنی بے حد مہنگی عیاشی اور شراب نوشی کی لت کے سبب ملک دشمن سرگرمیوں اور جاسوسی کے گھناؤنے پیشے کو اختیار کیا۔ جب پی آئی اے کا بوئنگ طیارہ اغواء کرنے والے فضائی قزاقوں نے منیر وڑائچ کی رہائی کا مطالبہ کیا تو اس وقت وہ ۱۴ سال قید کی سزا بھگت رہا تھا۔ لیکن وہ رہا ہو کر دمشق (شام) جانے کو تیار نہیں تھا۔ اس کے اس پس وپیش سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے اس نے جیل سے باہر آنے میں جو تامل ظاہر کیا اس کی وجہ کیا یہ خوف تو نہیں تھا کہ اس نے پاکستانی حکام کے سامنے جاسوسی کے جال کا جو راز فاش کیا ہے اسے ملک سے باہر اس کی سزا اور نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ وہ کوئی سیاسی کارکن نہیں تھا۔ بلکہ ذاتی مفادات کے لئے مملکت کے راز فروخت کیا کرتا تھا۔ پھر آخر سیاسی مقاصد کے لئے طیارہ اغواء کرنے والے قزاقوں نے از خود اس کی رہائی کا مطالبہ کیوں کیا۔ منیر وڑائچ میں دلچسپی رکھنے والے کسی غیر ملکی طاقت نے ان سے اس کی رہائی کا مطالبہ کرنے کو کہا۔ کیونکہ منیر وڑائچ نے پاکستان میں اس طاقت کے جاسوسی کے جال کا راز افشاء کر دیا تھا اور شاید وہ اسے اس جرم کی سزا دینا چاہتی تھی۔ برطانیہ کے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو اس کی رہائی میں روس کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ شاید منیر وڑائچ اس حقیقت سے باخبر تھا۔ اس نے دمشق جانے کے بجائے پاکستان کی جیل میں زندہ رہنے کو بہتر سمجھا تھا۔ منیر احمد وڑائچ جو ۷ اپریل ۱۹۴۶ء کو قادیان میں پیدا ہوا تھا اگر آج زندہ ہے تو کسی غیر ملکی سرزمین پر خوف و دہشت کے سیلوں میں کل اپنی سالگرہ منائے گا۔
منیر وڑائچ نے کانونٹ آف جیسس اینڈ مری لاہور سینٹ ڈینس ہائی اسکول (لاہور) اور سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول (کراچی) میں تعلیم حاصل کی۔ وہ ۱۹۶۳ء میں پاک بحریہ میں بطور کیڈٹ بھرتی ہوا۔ اسے ۱۹۶۷ء میں کمیشن ملا۔ ۱۹۶۸ء میں اس کی شادی ہوئی۔ بحریہ میں ملازمت کے دوران ہی اس کے کردار کی خامیاں واضح ہونے لگیں۔ ۱۹۷۴ء میں وہ براہ راست بھرتی کے ذریعہ محکمہ خارجہ سے منسلک ہوا۔ ۱۹۷۸ء میں اسے محکمہ خارجہ سے فارغ کر دیا گیا جس کے بعد اسے خلیج کی ایک ریاست میں ۱۸ ہزار روپے ماہانہ کی نوکری مل گئی۔ ۱۹۷۹ء میں وہ چھٹی پر وطن آیا جس کے بعد اسے واپس جانے دیا گیا۔ اس تمام عرصے کے دوران وہ انٹیلی جنس کی نگاہوں میں رہا۔ بالآخر اسے جب گرفتار کیا گیا تو اس نے سب کچھ قبول کر لیا اور کمونسٹ ملک کی جاسوسی کے جال پر سے پورا پردہ اٹھا دیا۔ اسے ۱۴ سال کی سزا دی گئی۔ جب فضائی قزاقوں نے اس کی رہائی کا مطالبہ کیا اس وقت اسے جیل میں بمشکل ایک ہفتہ ہوا تھا۔
(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۷؍ اپریل ۱۹۸۱ء)
۱۹۵۱ء میں قادیانیوں کی ملک کے خلاف سازش
مارچ ۱۹۵۱ء میں ایک سازش کا انکشاف ہوا جس میں بڑے بڑے فوجی افسر شریک تھے اور جس کا مقصد یہ تھا کہ حکومت پاکستان کا تختہ الٹ دیا جائے۔ اس مقدمہ کے ملزموں میں جسے بعد میں مقدمہ سازش راولپنڈی کے نام سے موسوم کیا گیا ایک میجر جنرل نذیر احمد بھی تھے جو احمدی ہیں۔
(خلاصہ تحقیقاتی عدالتی رپورٹ ص ۷۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تخریب کاری کی تربیت دینے والا قادیانی
سرحد میں قلندر مومن کا نام سبھی نے سنا ہے۔ یہ صاحب پہلے کسی اخبار میں کام کرتے رہے پھر ایک اہم درسگاہ میں چلے گئے۔ اپنی تحریروں سے نوجوانوں کا خون گرماتے رہے اور ایک دن کابل جا پہنچے۔ سنا ہے آج کل وہ تخریب کاروں کے جتھے تیار کرتے ہیں اور پاکستان بھیج رہے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کا تعلق احمدیہ جماعت سے ہے۔
(ماہنامہ اردو ڈائجسٹ لاہور اکتوبر ۱۹۸۲ء، ص ۱۹، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۶ تا ۱۸، مورخہ ۱۲ تا ۱۸/ فروری ۱۹۸۸ء)
کراچی میں ایک مفرور سزا یافتہ قادیانی جعلساز کی گرفتاری
گزشتہ ہفتے کوئٹہ مارشل لاء عدالت سے سزا یافتہ ایک شخص خالد سیف اللہ کو اینٹی کرپشن کوئٹہ کے انسپکٹر عبدالمجید مندوخیل نے ملیر سٹی سے گرفتار کر لیا۔ یہ شخص قادیانی ہے جسے جعل سازی ، دھوکہ ، فراڈ اور خورد برد کے جرم میں کوئٹہ مارشل لاء کی ایک عدالت نے ایک سال قید اور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ کیا۔ ایسے ہی اس پر کچھ اور کیس بھی تھے لیکن وہ کوئٹہ سے بھاگ کر کراچی آ گیا اور ملیر سٹی میں ظفر ہسپتال کے نام سے ایک ہسپتال اور کلینک کھول لیا۔ حالانکہ اس جعل ساز قادیانی کے پاس ڈاکٹر کی کوئی سند نہیں تھی۔ پھر بھی وہ کیپٹن ڈاکٹر خالد سیف اللہ کے نام سے سادہ لوح اور غریب عوام کی صحت سے کھیلتا رہا۔ ایک اور گھناؤنا کردار اس کا یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ قادیانی جعل ساز مبینہ طور پر سادہ لوح لڑکیوں سے نکاح نامے پر دستخط کرا کے انہیں بلیک میل کرتا تھا۔ کوئٹہ میں بھی اس نے یہ گھناؤنا کاروبار شروع کیا لیکن وہاں کے غیور مسلمانوں کو اس کی جعل سازیوں اور شیطانی کردار کا علم ہو گیا تو وہ کراچی بھاگ آیا۔ یہاں بھی اس نے یہی دھندہ شروع کر دیا۔ ملیر کے ایک شخص وحید الدین نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ یہ جعل ساز قادیانی میری ہمشیرہ کے مکان میں کرایہ دار کی حیثیت سے ۱۹۸۳ء سے ظفر ہسپتال چلا رہا تھا۔ ۱۹۸۵ء میں کرایہ نہ دینے پر تنازعہ شروع ہوا۔ اس قادیانی جعل ساز نے دوکان پر قبضہ کرنے کے لئے منصوبہ بندی شروع کر دی۔ چونکہ میں اس کیس میں اپنی ہمشیرہ کی مدد کر رہا تھا۔ اس وجہ سے وہ میرا دشمن بن گیا اور مجھے اور میرے رشتہ داروں کو مختلف طریقوں سے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ جن میں سے اس کی ایک واردات یہ بھی تھی کہ میری لڑکی نفیس فاطمہ کا جو علامہ اقبال کالج میں بی۔اے کی طالبہ ہے راستے میں آتے جاتے تعاقب شروع کر دیا۔ آخر ایک دن ڈرا دھمکا کر ایک ہوٹل کے کیبن میں لے گیا اور نکاح نامے کے فارم اور ایک سادہ فارم پر دستخط کرا لئے۔ بعد ازاں اس نے نفیس فاطمہ اور میرے خاندان والوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ ۲۱/ جون ۱۹۸۷ء اور ۷/ ستمبر ۱۹۸۷ء کو چند غنڈوں کے ساتھ مسلح ہو کر میرے گھر میں گھس گیا اور نفیس فاطمہ کو زبردستی اغواء کرنے کی کوشش کی۔ جس کو محلہ کے غیور لوگوں نے ناکام بنا دیا۔ اس جعل ساز قادیانی نے ملیر سٹی تھانہ میں ان کے خلاف ایف آئی آر کٹوادی۔ دریں اثناء کوئٹہ سے ہمارے نمائندے کے مطابق مذکورہ جعل ساز قادیانی محکمہ تعلیم ریلوے گرلز سکول میں جونیئر کلرک کی حیثیت سے ملازم تھا، جہاں اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کافی رقم ہضم کر لی تاکہ اپنی گزر اوقات بھی ہو اور قادیانی جماعت کے مرکزی خزانہ میں بھی کافی رقم پہنچ جائے۔ اس کے خلاف کوئٹہ اینٹی کرپشن نے تین مقدمات درج کرائے۔ وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تو یہ جعل ساز قادیانی وہاں سے غائب ہو گیا۔ سمری ملٹری کورٹ نمبر ۱ کوئٹہ نے اسے ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا۔ یہ جعل ساز لیڈی ڈفرن ہسپتال کوئٹہ میں بھی ہیڈ کلرک رہا۔ جہاں اس نے بدعنوانیاں کیں۔ جن کی وجہ سے اس کے خلاف بدعنوانی خرد برد کے چار مقدمات قائم ہوئے جن کی وجہ سے یہ بھاگ کر کراچی آ گیا۔ کراچی کی قادیانی جماعت نے اس پیشہ ور جعل ساز کو پناہ دی۔ اپنی جماعت کی سرپرستی میں اس نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہاں بھی یہی دھندہ شروع کر دیا۔ بالآخر کوئٹہ پولیس کو اس جعل ساز کی مخبری ہوگئی۔ کوئٹہ اینٹی کرپشن کے انسپکٹر عبدالمجید مندوخیل کی قیادت میں ایک ٹیم کراچی پہنچی۔ جس نے منصوبہ بندی کے تحت اس جعل ساز کو عین اس وقت گرفتار کر لیا۔ جب وہ اپنے جعلی ہسپتال میں جعلی ڈاکٹر بن کر سادہ لوح مریضوں سے دولت سمیٹنے میں مصروف تھا۔ اب اسے پولیس ٹیم کوئٹہ لے گئی ہے۔ سنا ہے کہ اس جعل ساز قادیانی کی رہائی کے لئے بڑے بڑے قادیانی افسروں نے جدوجہد تیز کر دی ہے۔ جب وہ کراچی حوالات میں بند تھا تو کچھ قادیانی اس کی ملاقات کے لئے بھی آتے رہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کا ایک بھائی کوئٹہ ہوم سیکرٹری کے دفتر میں اہم عہدہ پر فائز ہے جو اسے بچانے کی پوری پوری کوشش کر رہا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۶،مؤرخہ۲۶؍فروری تا ۳؍مارچ ۱۹۸۸ء)
الگ قادیانی مرگھٹ کے لئے حکومت کی ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت
روزنامہ جنگ لاہور نے مندرجہ ذیل خبر دی ہے۔
’’حکومت نے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی ہے کہ قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے دیا جائے اور ایسے انتظامات کئے جائیں کہ کوئی قادیانی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہو سکے۔ اس سلسلے میں بلدیاتی اداروں اور قبرستانوں کا کنٹرول کرنے والے افراد اور اداروں کو سخت ہدایات دی جائیں جب کہ حکومت نے قادیانیوں کو اپنے مردے دفن کرنے کے لئے ہر شہر میں علیحدہ اراضی فراہم کرنے کی بھی ہدایات کر دی ہیں۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ۲؍فروری ۱۹۸۸ء)
اس خبر کی حکومت کی طرف سے کوئی تردید ابھی تک نہیں آئی ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ خبر صحیح ہوگی۔ ایک عرصہ سے قادیانی یہ شرارت کر رہے ہیں کہ کہیں کوئی قادیانی جہنم واصل ہوتا ہے تو چوری چھپے اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دبا دیتے ہیں۔ ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کو جب پتہ چلا اور احتجاج کیا گیا تو انتہائی لیت ولعل کے بعد وہ مردہ مسلمانوں کے قبرستان سے نکالا گیا۔ انتظامیہ کے ذمہ دار افسران کو جب کسی ایسے مسئلے کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تو حیل وحجت کر کے قادیانیوں سے درگزر کرنے کو کہتا ہے۔ حالانکہ یہ اصولی سی بات ہے۔ وقف زمین کا مالک وہی ہوتا ہے جس کے لئے وہ زمین وقف کی جاتی ہے۔ قبرستان مسلمانوں کے لئے وقف ہوتے ہیں۔ اس لئے ان میں کوئی غیر مسلم دفن نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ قادیانیوں کو جو غیر مسلم ہی نہیں مرتد اور زندیق بھی ہیں۔ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔
قادیانیوں کا عقیدہ بلکہ ایمان ہے کہ ہر وہ شخص جو مرزا کو نبی نہیں مانتا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس سے رشتے ناطے، سلام کلام، سب کچھ ممنوع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ربوہ جو پاکستان کے اندر اب بھی قادیانیوں کی ایک سٹیٹ ہے وہاں قادیانیوں نے دو قبرستان بنا رکھے ہیں۔ ایک خاص قبرستان اور دوسرا عام قبرستان۔ یہ دونوں قبرستان قادیانیوں کی ملکیت ہیں۔ خاص قبرستان میں وہی قادیانی دبائے جا سکتے ہیں جو اپنی جائیداد کا دسواں حصہ پابندی سے ادا کرتے ہوں۔ سوائے رائل فیملی کے۔ وہ چندہ ادا کرے نہ کرے اس میں دفن ہو سکتی ہے۔ عام قادیانی اگر غلطی سے بھی وہاں دبا دیا جائے تو اسے وہاں سے نکال کر عام قبرستان میں دبا دیا جاتا ہے۔ عام قبرستان میں بلا امتیاز تمام قادیانی دبائے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہاں کسی مسلمان کو دفن کیا جائے تو قادیانی اسے قطعاً برداشت نہیں کریں گے بلکہ قادیانیوں میں پانچ فرقے ہیں۔ قادیانی ربوائی، قادیانی لاہوری، قادیانی حقیقت پسند، قادیانی دیندار، قادیانی نیماپوری۔ اگر ربوہ میں ان کے عام مرگھٹ میں ربوہ گروپ کے علاوہ کسی دوسرے قادیانی فرقے کا کوئی قادیانی دبا دیا جائے تو ربوائی قادیانی چِلا اٹھیں گے۔
جب خود قادیانی اس بات کو پسند نہیں کرتے تو مسلمانوں سے وہ یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ مسلم قبرستانوں میں کسی قادیانی زندیق
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرد کو دفن ہونے دیں۔ مذکورہ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ : ”ہر شہر میں قادیانیوں کو مردے دفن کرنے کے لئے زمین فراہم کی جائے۔“ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر ہم حکومت کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ بعض شہروں میں قادیانیت کا نام ونشان ہی نہیں ہے اور بعض میں ایک یا دو گھر ہیں۔ قادیانی مرگھٹ کے لئے زمین الاٹ کرنے سے قبل یہ ضرور دیکھنا ہوگا کہ جس شہر میں زمین الاٹ کی جارہی ہے وہاں کتنے قادیانی ہیں اور یہ کہ ہیں بھی یا نہیں۔ اس لئے ہم حکومت سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنروں کے نام اگر مذکورہ مراسلہ بھیجا گیا ہے تو وہ غیر واضح اور نامکمل ہے۔ مذکورہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے از سر نو جائزہ لیکر نیا مراسلہ جاری کیا جائے۔
(اداریہ ہفت ختم نبوت کراچی ص۴،مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷/مارچ ۱۹۸۸ء)
قادیانی عبادت گاہ مری روڈ سے کلمہ طیبہ محفوظ کر دیا گیا
ختم نبوت یوتھ فورس راولپنڈی اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۹/فروری ۱۹۸۸ء کو مظاہرہ کیا گیا۔ مری روڈ کمیٹی چوک پر ٹریفک معطل رہی۔ ختم نبوت یوتھ فورس کے ہزاروں کارکنوں نے دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار سے کمیٹی چوک تک عظیم الشان جلوس نکالا۔ چوک میں پہنچ کر سڑک کو بلاک کر کے ایک عظیم الشان جلسہ کیا گیا۔ جلسہ سے یوتھ فورس کے مرکزی ومقامی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ جن میں مرکزی صدر صاحبزادہ سلمان منیر کونسلر، مرکزی جنرل سیکرٹری خالد محمود ٹیپو، عبدالرحمن قریشی، طلعت محمود عباسی، مولانا عبدالمجید، فخر الاسلام فیصل، محمد صابر جدون، عبدالقدیر، محبوب الرحمن قریشی وغیرہ نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض نواسۂ حضرت شیخ القرآن جناب محمد شاکر صاحب نے سرانجام دیئے۔ اس پروگرام کی کامیابی کے لئے کنوینیئر پنجاب ختم نبوت یوتھ فورس جناب شہزادہ محمد الیاس خلجی نے مقامی ساتھیوں کے ساتھ مل کر بہت کوشش کی۔ اس پروگرام کی وساطت سے انتظامیہ کی لاپرواہی اور حکومت کی خاموشی پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت کو الٹی میٹم دیا گیا کہ وہ چوبیس گھنٹے کے اندر مرزا خانہ سے کلمہ طیبہ محفوظ کر دیا جائے۔ ورنہ ختم نبوت یوتھ فورس کے جیالے کارکن یہ فریضہ خود سرانجام دیں گے۔ ڈپٹی کمشنر ملک محمد اکرم نے کارکنوں سے ملاقات کے دوران دو دن کی مہلت لی۔ مگر کوئی عملدرآمد نہ ہوا۔ نیز خلجی صاحب کی قیادت میں ایک مقامی کارکنوں کا وفد دوبارہ کمشنر راولپنڈی ڈویژن سے ملا۔ انہوں نے ۲۴/مارچ تک کی مہلت حاصل کی۔ اس دوران ایک ہنگامی اجلاس دارالعلوم تعلیم القرآن میں ہوا۔ جس میں ختم نبوت یوتھ فورس کے مرکزی قائدین راولپنڈی ڈویژن کے کارکنوں کے علاوہ مولانا عبدالرؤف مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد اور مولانا محمد اکرم طوفانی شاہین ختم نبوت سرگودھا نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں ۱۸/مارچ کو راولپنڈی مری روڈ پر واقع قادیانی عبادت گاہ کے سامنے جلسہ کا پروگرام بنایا جس کے لئے ختم نبوت یوتھ فورس کے مرکزی صدر صاحبزادہ سلمان منیر کی ہدایت پر اشتہارات چھپوا کر پروگرام کی تشہیر کی۔ مقامی انتظامیہ کو انتہائی تشویش اور فکر کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مجبور ہو کر ہوش مندی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے ۱۶/مارچ کو کلمہ طیبہ محفوظ کر دیا اور بیت الذکر کے الفاظ بھی ہٹا دیئے۔
ختم نبوت یوتھ فورس اپنے اس پروگرام کی کامیابی پر تمام شمع رسالت ﷺ کے پروانوں کو مبارک باد پیش کرتی ہے اور آپ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتی ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۲،مؤرخہ یکم/اپریل ۱۹۸۸ء)
دو سگے بھائیوں کے قاتل مبشر طاہر قادیانی کو سزائے موت سنادی گئی
مبشر طاہر قادیانی کے ہاتھوں دو سگے بھائی عظیم میر، سلیم میر سیالکوٹ کے مشہور قتل کا فیصلہ سپیشل کورٹ کے ڈبل بینچ جسٹس سردار احمد ڈوگر، جسٹس شیخ ریاض حسین نے مبشر طاہر قادیانی کی اپیل خارج کر دی ہے اور سرکار کی نگرانی میں طاہر احمد کو سزائے موت کا حکم دیا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔ سرکار کی طرف سے اسٹیٹ کونسل اختر شبیر ایڈووکیٹ اور مدعی کی طرف سے لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے پیروی کی فیصلہ کے وقت مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے صدر سید بشیر احمد اور مولانا محمد انور قاسمی ، مرزا بشیر سالار اعظم نیز عدالت میں موجود تھے ۔ عدالت کے مذکورہ بالا فیصلے کو یہاں کے عوام نے بے حد سراہا ہے اور موجودہ حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۲ ، مورخہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء)
قادیانیوں کو نوازنے کے لئے سرکاری قوانین معطل
۱۹۷۴ء میں قادیانی مذہب کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ تو ہو گیا مگر اس گروہ کے خلاف سنگین الزامات اور ان الزامات کے جواب میں انتظامیہ کی روایتی تساہل پسندی اور مجرمانہ خاموشی پر اظہار برہمی کا سلسلہ جاری ہے ۔ مسلمانوں کی دل آزاری اور پاکستان ، بانی پاکستان اور صدر جنرل ضیاء الحق کے خلاف اس گروہ کے افراد جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ شرانگیزی اور فساد کا موجب بن رہی ہے ۔ مساجد اور کلمہ طیبہ کے تقدس کی پامالی کی جسارت مسلسل کی جارہی ہے جو مسلمہ حقیقت ہے ۔ تمام محکموں میں کلیدی اور مؤثر عہدوں پر قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پانے کے بعد نہ صرف محفوظ بلکہ غیر قانونی بلندی درجات کے مستحق اور مراعات یافتگان بھی ٹھہرے ہیں ۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں حکمرانوں سے کئی بار قادیانیوں کو ”غلط بخشیوں“ سے متعلق استفسار کیا جاتا رہا ہے ۔ پنجاب اسمبلی کے حالیہ سیشن میں بھی یہ موضوع زیر بحث آیا ۔ گزشتہ سیشن میں بھی اس ضمن میں اسمبلی میں رکن اسمبلی مولانا منظور احمد چنیوٹی نے سوالات دریافت کئے جن کے جواب بھی ریکارڈ پر آئے ۔ اس دوران محکمہ امداد باہمی پنجاب میں موجود قادیانیوں پر نوازشات کا اشارہ ملا تو صرف اسی محکمہ پر تحقیق کے دوران بعض دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں جو ان کالموں میں قارئین کی نذر کئے جارہے ہیں ۔ قادیانیوں کی سرگرمیوں ، بے پناہ اثر ورسوخ اور دیگر حربوں سے حاصل کردہ مراعات کا سلسلہ تمام اداروں اور محکموں تک محیط ہے ۔ ان سطور میں صرف صوبائی امداد باہمی کا مطالعہ و جائزہ ہی پیش کیا جارہا ہے ۔
محکمہ امداد باہمی پنجاب میں ڈپٹی رجسٹرار کو آپریٹوز ایک اہم اور کلیدی پوسٹ ہے ۔ گریڈ نمبر ۱۸ کی اس پوسٹ کی کل ۱۶؍ آسامیاں ہیں ۔ آٹھ ڈویژنل سطح پر یعنی ہر ڈویژن میں ایک پانچ رجسٹرار کو آپریٹوز پنجاب کے دفتر میں ایک ایک کو آپریٹو ٹریننگ کالج فیصل آباد ، پاک جرمن انسٹیٹیوٹ آف کو آپریٹو ایگری کلچر ملتان اور سول سیکرٹریٹ پنجاب لاہور میں ہے ۔ ان سولہ میں سے دو آسامیوں پر قادیانی افسر فائز ہیں ۔ جون ۱۹۸۷ء تک ان کی تعداد تین تھی لیکن ایک قادیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ تعداد دو رہ گئی ہے جو کل آبادی میں ان کے تناسب سے کئی گنا ہے ۔ مزید برآں حقائق پکار پکار کر شہادت دے رہے ہیں کہ اس محکمہ میں قادیانیوں پر غیر معمولی طور پر نوازشات کی جاتی رہی ہیں ۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے واضح احکامات ہیں کہ کوئی سرکاری افسر چار سال سے زائد عرصہ لاہور میں تعینات نہیں رہ سکتا ۔ (تصدیق کے لئے ایس اینڈ جی اے ڈی لیٹرز نمبری SGAD-08/01/65 SOXII مؤرخہ ۳؍ اگست ۱۹۶۶ء ، مؤرخہ ۸؍نومبر ۱۹۶۶ء ، مؤرخہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۶۶ء اور مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۶۷ء وغیرہ ملاحظہ فرمائیں ) مگر ان احکامات کے علی الرغم حسب ذیل قادیانی افسر ۲۰ سال سے بھی زیادہ عرصہ سے لاہور میں تعینات ہیں ۔
سول سروسز رولز کے رول نمبر ۳۰۷ میں سرکاری ملازمت میں داخلے کی عمر کی زیادہ سے زیادہ حد ۲۵ سال رکھی گئی ہے ۔ مگر ایک قادیانی افسر ملک عبدالرحمن کو بطور ڈپٹی رجسٹرار کو آپریٹو سوسائٹیز ۱۸؍ جولائی ۱۹۷۵ء کو سرکاری ملازمت میں لیا گیا ۔ اس وقت اس کی عمر ۴۱ سال ہو چکی تھی ۔ اسی طرح مس تسنیم عبداللہ بٹ کو بطور اسسٹنٹ رجسٹرار بھرتی کیا گیا ۔ اس وقت مس بٹ کی عمر چالیس سال کے قریب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھی۔ کوآپریٹوسروس (کلاس ۱) رولز ۱۹۶۳ء کے رول نمبر ۵ میں بھرتی کا طریق کار یہ ہے:
- الف ...... زیادہ سے زیادہ ایک تہائی آسامیوں پر سی. ایس. پی یا پی. سی. ایس یا دوسری کلاس ۱ سروسز کے لوگ عاریتاً (On
Deputation) لگائے جاسکتے ہیں۔
- ب ...... بقیہ تمام آسامیاں بذریعہ ترقی محکمانہ افسران سے پر کی جائیں گی۔
مگر اس قاعدہ کو پامال کرتے ہوئے قادیانی افسر ملک عبدالرحمن کو ۱۹۷۵ء میں بطور ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز بھرتی کیا گیا جب کہ وہ نہ سی. ایس. پی تھا، نہ پی. سی. ایس اور نہ ہی حکومت پنجاب کے تحت کسی اور کلاس ۱ آسامی کا حامل تھا۔ مزید برآں اس کا تقرر عارضی نہیں بلکہ مستقل طور پر کیا گیا۔ علاوہ ازیں سرکاری ملازمین (بھرتی اور شرائط ملازمت) کے رولز مجریہ ۱۹۷۴ء کے رول نمبر ۳ میں مذکور ہے کہ کسی بھی آسامی پر تقرر بذریعہ ترقی ہوسکتا ہے یا بذریعہ تبادلہ یا بذریعہ براہ راست بھرتی۔ مگر ملک عبدالرحمن کی تعیناتی اس قاعدہ کے بھی صریحاً خلاف ہوئی۔ کیونکہ وہ تعیناتی کے وقت نہ تو کسی اور سرکاری ملازمت میں تھا کہ اس کا تبادلہ محکمہ امداد باہمی میں ہوسکتا اور نہ ہی انہیں براہ راست بھرتی کیا گیا بلکہ اس کے احکامات تقرر کی رو سے اس کی ABSORPTION ہوئی ہے۔ جس کی قانون میں گنجائش نہیں۔ وہ ایک نیم سرکاری ادارے کا ملازم تھا جو آج بھی قائم ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس ادارے کی آسامی پر بھی اس کا قبضہ تاحال چلا آرہا ہے۔ مزید برآں سرکاری ملازمین کی تعیناتی اور شرائط ملازمت کے قواعد کی رو سے گریڈ ۱۶ یا اس سے اوپر کی آسامیوں کے لئے بھرتی پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر ہوسکتی ہے۔ (حوالہ قاعدہ نمبر ۱۶) ملک عبدالرحمن کی تعیناتی پبلک سروس کمیشن سے رجوع کئے بغیر کی گئی۔ یہ حقائق حکام کے علم میں تھے مگر ایک قادیانی پر نوازش کرنا تھی۔ اس لئے رستہ یہ نکالا گیا کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب سے اس کی بھرتی یا ABSORPTION کی منظوری لے لی گئی اور تمام متعلقہ قواعد کو نرم یا ختم کر دیا گیا۔ (ملاحظہ ہوں محکمہ کوآپریٹوز حکومت پنجاب کے احکام نمبری ۷ / ۷۰۸ (SOC(III) مورخہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۷۵ء) سرکاری ملازمین کی بھرتی اور شرائط ملازمت کے قواعد مجریہ ۱۹۷۴ء میں رولز کی نرمی (Relaxation) کے متعلق یہ صراحت موجود ہے کہ گورنمنٹ کسی رول کو Relax کرسکتی ہے۔ لیکن اس کے لئے اسے خاص وجوہات کو ضبط تحریر میں لانا ہوگا۔ لیکن کوئی وجہ درج نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ اس وضاحت کا تکلف بھی ضروری نہ سمجھا گیا کہ کس کس رول سے اس تعیناتی کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یا Relaxation کس حد تک کی گئی ہے۔ مختلف رولز کی Relaxation بیک جنبش قلم کر دی گئی۔ خود اس رول کو بھی پامال کیا گیا جس کے تحت رولز کو Relax کیا گیا۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس دور میں پیپلز پارٹی اور قادیانیوں میں گاڑھی چھنتی تھی۔ یہ غیر معمولی احکامات اسی کا نتیجہ ہیں۔ وزیراعلیٰ لاکھ با اختیار ہوں لیکن قانون کی حاکمیت بھی کوئی چیز ہے۔ معلوم ہوتا ہے بھٹو کے ماتحت شاہ سے زیادہ شاہ پرست تھے۔ آپ کو یاد ہوگا بھٹو نے بھی اپنوں پر نوازشات کے لئے Lateral Entry کا طریقہ ایجاد کیا تھا۔ مگر اس کے لئے قانونی بنیاد بھی فراہم کر دی تھی۔ محض Relaxation کا سہارا تو انہوں نے بھی نہ لیا تھا۔
آگے چلئے۔ وزیراعلیٰ کے لئے جو سمری تیار کی گئی وہ سیکرٹری کوآپریٹوز کی تیار کردہ نہ تھی بلکہ اس وقت کے ڈپٹی سیکرٹری نے تیار کی اور انہوں نے لکھا سیکرٹری راولپنڈی کے دورہ پر ہیں۔ اگر یہ معمول کا کوئی کیس ہوتا تو سیکرٹری صاحب کا انتظار کیا جاتا۔ صاف ظاہر ہے یہ سیاسی جانبداری تھی، جس کا مظاہرہ اوپر کے اشارہ سے ہوا۔ وزیراعلیٰ نے جس تجویز کی منظوری دی اس میں واضح طور پر درج ہے کہ ملک عبدالرحمن کو باقاعدہ تربیت لینی ہوگی۔ (حوالہ: وزیراعلیٰ کے سیکرٹری کا نوٹ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۵ء برصفحہ نمبر ۷۵ ؍ فائل نمبری ۷ / ۸-۷)
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(SO(E) مگر ۱۸/ جولائی ۱۹۷۵ء کو ملک عبدالرحمن مذکورہ کو جو شرائط پیش کی گئیں ان میں تربیت کا ذکر عنقا ہے۔ (حوالہ چٹھی نمبری (SOC(II) ۷/ اگست ۱۹۷۴ء، مؤرخہ ۱۸/ جولائی ۱۹۷۵ء)
کیا یہ حقیقت قادیانی کے ”صاحب کمالات“ ہونے کا ثبوت نہیں؟ اس قادیانی نے آج تک تربیت حاصل نہیں کی۔ متعلقہ سروس رولز کی رو سے کوآپریٹوسروس کلاس ۱ میں کسی شخص کو مستقل یا کنفرم نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک وہ ایسی ٹریننگ نہ لے لے جو گورنمنٹ نے اس کے لئے مقرر کی ہو۔ (ملاحظہ ہو کوآپریٹو سروس کلاس ۱ رولز ۱۹۶۳ء کا رول نمبر ۶ (۴)) ملک عبدالرحمن نے وزیر اعلیٰ کی طرف سے مقرر شدہ ٹریننگ مکمل نہیں کی۔ اس کے باوجود اسے ملازمت میں مستقل کر دیا گیا۔ (ملاحظہ ہوں حکومت پنجاب محکمہ کوآپریٹوز کے احکام نمبری ۱۷/ اگست ۱۹۷۴ء SO(E) مؤرخہ ۳۱/ جنوری ۱۹۸۸ء)
ملک عبدالرحمن ٹریننگ سے بے نیاز کیونکر قرار پائے؟ یہ قصہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ حکومت نے ۱۷/نومبر ۱۹۷۵ء کو ایک چٹھی پرنسپل کوآپریٹو ٹریننگ کالج کو براہ راست ارسال کی کہ ملک عبدالرحمن کے لئے ٹریننگ پروگرام ترتیب دے کر ایک ہفتہ کے اندر ارسال کر دیجئے۔ جب پروگرام ارسال کر دیا گیا تو چٹھی نمبر SOC(II)/۸/۷۴ مؤرخہ ۱۰/ دسمبر ۱۹۷۵ء پرنسپل کو مطلع کیا گیا کہ ملک عبدالرحمن کے لئے صرف چار ماہ کی ٹریننگ کا بندوبست کیا جائے۔ حالانکہ اسسٹنٹ رجسٹرار کے لئے دو سال کی تربیت لازمی ہے۔ اس پر پھر رجسٹرار کوآپریٹوز نے لکھا: ”میرے خیال میں مذکور کو سات ماہ کی ٹریننگ کلاس کرنی چاہئے۔ کیونکہ چار ماہ کی ٹریننگ سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ تاہم اگر حکومت چار ماہ کی ٹریننگ کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو پرنسپل اس کے لئے ایک علیحدہ ٹریننگ پروگرام مرتب کریں گے۔ رجسٹرار کی اس چٹھی کا جواب یہ دیا گیا کہ معاملہ وزیر خوراک و امداد باہمی کو پیش کیا گیا۔ جنہوں نے ٹریننگ کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ لہٰذا ملک عبدالرحمن کو سات ماہ کی ٹریننگ سے مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔“
اس قادیانی افسر کو ہر بار ”مستثنیٰ“ قرار دینا کسی نہ کسی طرح قابل فہم قرار پاسکتا ہے۔ مگر یہ بات زیادہ عجیب معلوم ہوتی ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس شخص کی بھرتی کے لئے جو ٹریننگ مقرر کی وہ ایک وزیر کے حکم سے کیونکر منسوخ ہوگئی۔ یہ نہیں ہوسکتی۔ حکومت کے مراسلہ نمبری S&GAD-SCR 1-14/75(III) مؤرخہ ۱۸/ دسمبر ۱۹۷۷ء سے بھی اس کی تائید و توثیق ہوتی ہے۔ محکمہ امداد باہمی میں ملک عبدالرحمن کے تقرر کے وقت پانچ افراد، ملک نیک محمد روپال، رشید احمد ہاشمی، سید نصیر الحسن شاہ اور چوہدری اقبال محمد خاں بطور ڈپٹی رجسٹرار کام کر رہے تھے۔ اگر ملک صاحب کو محض کھپانا مقصود تھا تو اسے بطور اسسٹنٹ رجسٹرار لیا جاسکتا تھا۔ مگر اسے ایک مستقل آسامی پر لے لیا گیا۔ جس کا کوئی جواز نہیں۔ کیونکہ مستقل کے لئے سنیارٹی کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ مگر ملک صاحب سب سے سینئر قرار پائے۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب ایک معلوم حقیقت ہے۔ چنداں تجسس یا تحقیق کی ضرورت نہیں۔
۱۹۶۲ء میں ایک ادارہ کوآپریٹو ڈویلپمنٹ بورڈ کے نام سے قائم کیا گیا جن میں کچھ لوگ محکمہ امداد باہمی سے عاریتاً لئے گئے اور بعض لوگ براہ راست بھرتی کئے گئے۔ ۱۹۶۶ء کے آخر میں یہ بورڈ توڑ دیا گیا۔ کیونکہ تجربہ کامیاب نہ رہا۔ ملک عبدالرحمن کا ورود بورڈ کے زمانہ میں ہوا۔ بورڈ ختم کیا گیا تو وہ لوگ جنہیں براہ راست بھرتی کیا گیا تھا سبکدوش کر دیئے گئے مگر دو افراد کو یہ امتیاز حاصل رہا کہ انہیں سبکدوش نہیں کیا گیا کیا یہ اتفاق کہلائے گا کہ یہ دونوں قادیانی تھے۔ ایک ملک عبدالرحمن اور دوسری مس تسنیم عبداللہ بٹ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوآپریٹو بورڈ (تحلیل) ایکٹ ۱۹۶۶ء کی دفعہ ۷ کے تحت کوآپریٹو ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا گیا جسے مذکورہ ایکٹ کی دفعہ ۴ کے تحت مقرر ہونے والے ایڈمنسٹریٹر نے استعمال کرنا تھا۔ مذکورہ فنڈ لاکھوں روپے کا تھا جس کا ایڈمنسٹریٹر سیکرٹری کوآپریٹوز کو بنایا گیا۔ ملک عبدالرحمن کو اس فنڈ میں بطور ڈائریکٹر لیا گیا۔ ملک صاحب کو سیکرٹری کوآپریٹوز کا قرب حاصل ہو گیا۔ بورڈ کی عمر عزیز تو چار سال ہی رہی مگر اس کے خاتمہ بالجبر کے بعد ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ اور کوآپریٹو ڈویلپمنٹ فنڈ اکیس سال سے قائم و دائم ہیں۔ مزید دلچسپ بات۔ ڈائریکٹر فنڈ و پراجیکٹس کا عہدہ ہمیشہ سے ملک عبدالرحمن ہی کے پاس ہے اور موجودہ حالات میں ریٹائرمنٹ تک اس کے پاس رہے گا۔ ریٹائرمنٹ ۱۹۹۲ء میں متوقع ہے۔ بشرطیکہ نئے اقدام نہ ضروری ہو جائیں۔ ملازمت میں توسیع ہو سکتی ہے۔ بعد از ملازمت فنڈ کا ”تحفظ“ بھی عین ممکن ہے۔
۱۹۷۷ء میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پنجاب کے جاری کردہ ایک حکم یا ضابطے کے تحت ملک عبدالرحمن کی حیرت انگیز تعیناتی پر بھی نظرثانی ہوئی جس کے نتیجے میں ملک عبدالرحمن کو سرکاری ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ (حوالہ نمبری ۷/۸/۷ SOC(III) مورخہ ۱۲/ستمبر ۱۹۷۷ء) تاہم اسے بطور ڈائریکٹر پراجیکٹس بحال رکھا گیا۔ (حوالہ احکام مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پنجاب زون اے مورخہ ۶/جون ۱۹۷۸ء و کیس نمبر 805\1\C\F\M2 )
ملک عبدالرحمن نے پنجاب سول سروس ٹریبونل کے روبرو اپنی برطرفی کو چیلنج کر دیا۔ حکومت کی جانب سے پیروی میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا گیا اور ملک عبدالرحمن کو بحال کر دیا گیا۔
چوہدری منیر مسعود دس دیگر افراد کے ہمراہ جون ۱۹۶۹ء میں بطور اسسٹنٹ رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز بھرتی ہوا۔ پبلک سروس کمیشن کے دیئے گئے میرٹ کے لحاظ سے وہ ان لوگوں میں جونیئر تھا اور اسے ایک عارضی پوسٹ پر بھرتی کیا گیا۔ وہ ان اسسٹنٹ رجسٹراروں سے بھی جونیئر تھا جو اس وقت پہلے سے بطور اسسٹنٹ رجسٹرار کام کر رہے تھے۔ ان میں چند ایک کے نام یہ ہیں: (۱) قریشی محمد اسلام، (۲) خورشید احمد زاہدی، (۳) سعد اللہ مفتی، (۴) چوہدری محمد علی، (۵) شیخ محمد مکرم اور (۶) چوہدری محمد اسلم ۔ بعد ازاں دو سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار محکمہ کو چھوڑ گئے۔ ان لوگوں کو مستقل آسامیوں پر لیا گیا تھا لیکن چوہدری منیر مسعود کی درخواست پر دوسرے متاثرین کو سنے بغیر منیر مسعود اور ایک دوسرے شخص کو مستقل آسامیوں پر ایڈجسٹ کر دیا گیا۔ (حوالہ احکام رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز پنجاب نمبری RSC\EA-1\616-A\2278-76 مورخہ ۲۷/فروری ۱۹۷۱ء)
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے، چوہدری منیر مسعود اپریل ۱۹۷۷ء میں بطور اسسٹنٹ رجسٹرار لاہور تعینات ہوا۔ قبل ازیں وہ کئی سال تک اپنے ہوم ڈسٹرکٹ یعنی ساہیوال میں تعینات رہا۔ ۱۹۷۷ء سے لے کر آج تک وہ بدستور لاہور میں تعینات ہے۔ ۱۹۷۷ء سے ۱۹۷۹ء تک بطور اسسٹنٹ رجسٹرار، اواخر ۱۹۷۹ء سے اوائل ۱۹۸۰ء تک بطور سرکل رجسٹرار، اوائل ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۱ء کے وسط تک ایل۔ڈی۔اے میں ڈیپوٹیشن پر، جولائی ۱۹۸۲ء سے اب تک بطور ڈپٹی رجسٹرار مسلسل لاہور میں تعینات چلے آنا حکومت کی اپنی پالیسی کی نفی، تضحیک اور توہین کے مترادف ہے۔
۱۹۷۸ء میں پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام سے لاہور میں ایک انجمن بنائی گئی۔ چوہدری منیر مسعود اس وقت اسسٹنٹ رجسٹرار لاہور تھا۔ وہ اب تک اس انجمن کے اعزازی سیکرٹری کے اعزاز سے معزز چلا آ رہا ہے۔ اس انجمن میں تمام قابل ذکر ملازمین قادیانی ہیں۔ ریٹائرڈ قادیانی ملازمین کو بھی اس انجمن میں کھپا لیا گیا، جنہیں انجمن کے صدقے پلاٹ اور دیگر مراعات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حاصل ہوتی رہیں۔ یکم مئی ۱۹۸۷ء سے منیر مسعود کو پنجاب ڈیویلپمنٹ کوآپریٹو کارپوریشن لمیٹڈ میں پانچ سال کے لئے کوآپریٹو ایڈوائزر کے طور پر ۶ ہزار روپے ماہوار پر ملازم رکھوا دیا گیا۔ جو اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے اور یہ اثر و رسوخ کہاں سے حاصل ہوا؟ اس سوال کا جواب از خود واضح ہے۔ اس کے بعد اس کے مشاہرہ میں ۲۴۰۰ روپے اضافہ کر دیا گیا۔ اس طرح اب وہ دس ہزار دو سو روپے ماہوار لے رہا ہے۔ ایک قادیانی خاتون مس تسنیم عبداللہ بٹ بھی محکمہ میں رجسٹرار تھی۔ وہ دو ماہ کے قریب ڈپٹی رجسٹرار بھی رہی۔ حال ہی میں ریٹائر ہوئی ہے۔ اس کی سالانہ خفیہ رپورٹیں محترمہ کے لئے قابل رشک نہیں ہوا کرتی تھیں۔ نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔
سال رپورٹ کا خلاصہ اور ریمارکس ۱۹۶۲ء کوآپریٹو کے اصولوں اور عملی طریقوں میں تربیت کی ضرورت ہے۔ عام رویہ اور اسٹاف کے ساتھ طرزِ عمل میں بھی اصلاح درکار ہے۔ ۱۹۷۰ء پہل کرنے کی صلاحیت، قوت عمل ، منصوبہ بندی، کام کی نگرانی کی اہلیت ، صبر و تحمل اور کام کی لگن، ماتحتوں کی رہنمائی ، تربیت کی صلاحیت ، تعاون و عملی فراست، اوسط سے کم تر ہیں۔ مجموعی طور پر اوسط سے فروتر افسر ہے۔ پابندیٔ وقت عنقاء ہے۔ ترقی کی اہل نہیں۔ یہ عورت اس محکمہ میں فٹ نہیں۔ اسے نظامت سوشل ویلفیئر جیسے ادارے میں منتقل کر دینا چاہئے ۔ ۱۹۷۱ء (اوّل) ایضاً ۱۹۷۱ء (دوم) اس نے بمشکل ہی کوئی کام کیا ہے جس پر رائے دی جاسکے ۔ اسسٹنٹ رجسٹرار (ٹیکنیکل) کی آسامی پر کام کر رہی ہے، لیکن اپنے منصب کی باریکیوں اور گہرائیوں سے بالکل آگاہ نہیں ہے۔ تین بار رجسٹرار سے شکایت ملی۔ ایک جھگڑالو شخصیت ہے۔ سیکرٹری کوآپریٹوز کو بتایا گیا کہ یہ اس محکمہ میں کام کی نہیں اور کسی اور آسامی پر کھپایا جائے ۔ ۱۹۷۲ء بطور رجسٹرار میں نے اس افسر کو اوسط سے بہت کمتر پایا۔ ۱۹۷۴ء ترقی کی اہل نہیں ہے۔ مجموعی کارکردگی اوسط سے کم تر ہے۔ ۱۹۷۶ء اپنے ماتحتوں سے بہتر کام لینے کے لئے ، ان کی رہنمائی کرنی چاہئے ۔ ۱۹۷۸ء اسے ابھی اپنی قدر و قیمت کا ثبوت دینا چاہئے۔ ۱۹۸۰ء اس افسر نے اپنے فرائض خلوص اور دیانتداری سے انجام نہیں دیئے۔ محکمہ میں MIS FIT ہے۔ اس نے اپنا کام سیکھنے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔ دفتر میں وہ ہر وقت مزید اسٹاف اور اضافی سہولتوں کی طلبگار رہتی ہے۔ دفتری اوقات میں اکثر بلا اجازت دفتر سے باہر رہتی ہے اور اس کی کوشش یہ رہتی ہے کہ جیسے بھی بن پڑے ، اپنے دیئے گئے ریمارکس کو حذف کروایا جائے ۔ اسے پابندیٔ وقت اور قاعدے قانون کی پابندی کی قطعاً کوئی پروا نہیں ۔ ۱۹۸۳ء وہ اپنی موجودہ تعیناتی میں اپنی اہلیت ثابت کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ وہ کام میں دلچسپی لے ۔ اسے مختلف مواقع پر مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ کام میں دلچسپی لے۔ لیکن اس کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کی کارکردگی دوران سال اوسط درجے کی رہی۔ ۱۹۸۴ء یہ افسر اپنے موجودہ فرائض سے بمشکل ہی عہدہ برآ ہو رہی ہے۔ دوران سال کام اوسط درجہ کا رہا۔
ان حقائق کے باوجود یہ عورت ۱۹۸۵ء میں بطور سرکل رجسٹرار اور ۱۹۸۷ء میں بطور ڈپٹی رجسٹرار ترقی یاب ہو گئی جو ایک معجزہ سے کم نہیں۔ اس کے لئے اس نے طریقہ یہ اختیار کیا کہ ۱۹۷۲ء ، ۱۹۷۶ء ، ۱۹۸۰ء کے ریمارکس سیکرٹری کوآپریٹوز سے ۱۹۸۳ء میں حذف کروا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لئے ۔ (حوالہ حکومت کی چٹھی نمبری SO(E)3/2/75(II) مؤرخہ ۴؍اپریل ۱۹۸۳ء) اور ۱۹۸۳ء کے ریمارکس نومبر ۱۹۸۴ء میں سیکرٹری کوآپریٹو سے حذف کروالئے ۔ (حوالہ چٹھی نمبر 1-131/66-II SO(E) مؤرخہ ۲۵؍نومبر ۱۹۸۴ء) اس کے بعد سابقہ تاریخوں سے ترقی حاصل کر کے بقایا جات بھی حاصل کئے۔
مس تسنیم عبداللہ بٹ کو ۲۰؍اکتوبر ۱۹۶۱ء کو کمشنر کوآپریٹو کے دفتر میں سپرنٹنڈنٹ کے طور پر ۳۴ سال کی عمر میں بھرتی کیا گیا۔ حالانکہ سرکاری ملازمت میں لئے جانے کے لئے عمر کی زیادہ سے زیادہ حد ۲۵ سال ہے ۔ ۷؍مئی ۱۹۶۲ء کو کمشنر کا دفتر ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ ایک نیم سرکاری ادارہ کوآپریٹو ڈویلپمنٹ بورڈ کے نام سے ایک قانون کے تحت وجود میں لایا گیا ۔ کمشنر کے دفتر کے جن اہلکاروں کی خدمات بورڈ میں منتقل کی گئیں ان میں مس تسنیم عبداللہ بٹ کا نام شامل نہیں تھا۔ تاہم مس بٹ کو بعد میں ، بورڈ میں براہ راست اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر رکھ لیا گیا اور اس نے اسی بنیاد پر بورڈ کالعدم ہونے پر رخصت کے بجائے ، رخصت کے استحقاق کے برابر تنخواہ بورڈ سے وصول کی ۔ (حوالہ احکامات نمبری 2853-58/CB/E مؤرخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۶۶ء)
۳۱؍دسمبر ۱۹۶۶ء کو کوآپریٹو بورڈ توڑ دیا گیا اور محکمہ کی سابقہ شناخت کو یکم؍جنوری ۱۹۶۷ء سے بحال کر دیا گیا۔ مس بٹ ۲۳؍یوم اپنے گھر بے کار بیٹھی رہیں ۔ ۲۴؍جنوری ۱۹۶۷ء کو اسے بطور اسسٹنٹ رجسٹرار محکمہ میں بھرتی کر لیا گیا ۔ (حوالہ احکامات حکومت نمبری SOCI-3/17/66 مؤرخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۶۷ء)
لیکن اب اسے ۲؍اکتوبر ۱۹۶۱ء سے سرکاری ملازم شمار کیا جا رہا ہے اور اسی بناء پر اس کی پنشن کا کیس مرتب ہورہا ہے۔ مس بٹ کو بطور اسسٹنٹ رجسٹرار براہ راست بھرتی کیا گیا ۔ لیکن اس نے اسسٹنٹ رجسٹراروں کے لئے مقررہ ٹریننگ (جو دو سال کے عرصہ پر محیط ہوتی ہے) حاصل نہیں کی ۔ یہ کوآپریٹو سروس کلاس ۲ رولز ۱۹۶۳ء کے رول نمبر (۴) اور (۵) کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ مگر کوئی باز پرس کرنے والا بھی تو ہو؟
(بشکریہ تکبیر کراچی ، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۵ تا ۱۸ ، مؤرخہ ۲۲ تا ۲۸؍اپریل ۱۹۸۸ء)
امریکی نائب قونصلر کا پراسرار دورۂ ربوہ
فیصل آباد کے مقامی اخبار کی اطلاع کے مطابق امریکی نائب قونصلر نے ۲۳؍اپریل ۱۹۸۸ء کو ربوہ کا خفیہ دورہ کیا۔ امریکی نائب قونصلر اپنی گاڑی نمبر 6406-CC پر اچانک ربوہ پہنچے ۔ جہاں انہوں نے سرائے محبت گیسٹ ہاؤس میں اڑھائی گھنٹے قیام کیا اور قادیانی جماعت کے رہنماؤں سے مذاکرات کئے ۔ اس دوران مرزا منصور احمد ایڈووکیٹ اور لنگر خانہ کے انچارج مرزا منور احمد بھی موجود تھے ۔ موصوف نے انتہائی رازداری سے ملاقات کی اور اس دوران ملاقات موصوف نے ایک اٹیچی کیس اور چند ڈبے قادیانی جماعت کے رہنماؤں کے حوالے کئے ۔ امریکی نائب قونصلر بعدازاں محلہ دارالصدر گئے ۔ وہاں بھی انہوں نے بااثر قادیانیوں سے ملاقاتیں کیں ۔ امریکی نائب قونصلر کوارٹر ۸۷ تحریک جدید میں سمیع اللہ زاہد کے ہاں گئے ۔ اس کے بعد انہوں نے پی آئی اے ریجن ربوہ کے مالک سے بھی ملاقات کی اور پھر شام کو امریکی نائب قونصلر سرگودھا روانہ ہوگئے ۔
(روزنامہ عوام مؤرخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۸۸ء)
ان حالات میں جب کہ پورا ملک تخریب کاری، دہشت گردی کے افسوس ناک واقعات کی لپیٹ میں ہے اور ملک غیر ملکی سازشوں کی آماجگاہ بن گیا ہے ۔ امریکی نائب قونصلر کا دورہ ربوہ انتہائی خفیہ اور معنی خیز ہے ۔ ’’لولاک‘‘ کے صفحات میں ہم پہلے بھی کئی دفعہ احتجاج کر چکے ہیں کہ کسی ملک کے سفارت کاروں کو اس طرح کھلے بندوں کسی جماعت کے رہنماؤں کے ہاں جانے کی اجازت نہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہونی چاہئے۔ پھر ایک ایسی جماعت جو پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی دشمن نمبر ایک ہے ان کے رہنماؤں سے مذاکرات چہ معنی دارد!
ان حالات میں جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں تخریب کاری کا تاریخی واقعہ رونما ہوا ہے امریکی قونصلر کا ربوہ جانا کسی گہری سازش کی غمازی کرتا ہے۔ ہم حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس کا سختی سے نوٹس لے گی اور تحقیقات کرے گی کہ امریکی نائب قونصلر کو اس طرح راز داری سے ربوہ کا دورہ کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اور انہوں نے قادیانی جماعت کے رہنماؤں کو کیا ہدایات دی ہیں؟ رسوائے زمانہ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان میں کئی دورے لگا چکا ہے۔ اس دوران موصوف نے پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں جس بغض اور حسد کا اظہار کیا ہے حکومت کو اس سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے۔ عبدالسلام کا پاکستان سے جانا اور پھر امریکی نائب قونصلر کا ربوہ اچانک پہنچ جانا اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اخبارات میں مختلف رہنماؤں کی طرف سے بیان آچکے ہیں کہ اوجڑی کیمپ میں ڈیوٹی پر متعین فوجی افسر دھماکوں سے دو روز قبل چھٹی لے کر وہاں سے چلے گئے تھے۔ حکومت کو اس بات کا بھی سختی سے نوٹس لینا چاہئے اور تحقیقات کرنی چاہئے کہ قادیانی فوجی افسروں کو یہ الہام کیسے ہوگیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہونے والا ہے؟ قادیانی جماعت کی طرف سے جو پمفلٹ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ ساری تباہی اور بربادی قادیانی جماعت پر ظلم کرنے کے نتیجہ میں ہے۔ کیا ہماری حکومت اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ قادیانی جماعت کی ہمیشہ پالیسی رہی ہے کہ وہ ایسے قومی اور ملی سانحہ کے بعد ہی پیش گوئی شائع کرتی ہے۔ کیا قادیانی جماعت میں یہ اخلاقی جرات ہے کہ وہ ایسی پیش گوئیاں قبل از وقت شائع کرے۔
اب جب کہ امریکی نائب قونصلر ربوہ یاترا کر کے واپس لوٹے ہیں تو لامحالہ نئی ہدایات اور حکمت عملی سے نوازا گیا ہے۔ حکومت کو نہیں بھولنا چاہئے کہ قادیانی اکھنڈ بھارت پر یقین رکھتی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہوتا کہ وہ پھر اپنے گرو کی پیش گوئی شائع کر سکیں۔ اس موقع پر حکومت کو فوج اور سول عہدوں پر براجمان قادیانی افسروں کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ حکومت ان تمام معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۴،۳، مورخہ ۶؍ مئی ۱۹۸۸ء)
شادی کارڈ پر بسم اللہ لکھنے پر ایک قادیانی کو چھ ماہ قید
اٹک: مختصرا حالات مقدمہ اس طرح سے ہیں کہ مورخہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۸۶ء کو سید منظور حسین شاہ صاحب خطیب جامع مسجد نے ایک تحریری درخواست تھانہ میں دی کہ مبارک احمد قادیانی کی بچی کی شادی کارڈ پر آیت قرآنی درج ہے۔ جس سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ۲۱؍ اپریل ۱۹۸۷ء کو اس کے خلاف فرد جرم ۲۹۸۔ سی ت۔پ عائد کی گئی۔ ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا۔ چنانچہ شہادت استغاثہ طلب کی گئی۔ استغاثہ نے کل آٹھ گواہان کی فہرست پیش کی تھی۔
- گواہ نمبر:۱....... الحاج اسلم غفار نے بیان کیا کہ وہ پریس کا مالک ہے۔ یہ شادی کارڈ اسی پریس سے چھاپہ گیا۔ ان کارڈوں پر بسم
اللہ، نحمدہ نصلی علیٰ رسولہ الکریم کے کلمات چھاپے گئے گواہ مذکور کو اس وقت علم نہ تھا کہ وہ قادیانی ہے اور اس نے اسی کارڈ کے پروف کو منظور کیا۔
- گواہ نمبر:۲....... شاہد حسین جو کہ پریس میں بطور کمپیوٹر ملازم ہے۔ بیان کرتا ہے کہ مبارک احمد اور ایک لڑکا یہ کارڈ چھپوانے آئے تھے
اور کارڈ کا پروف انہوں نے منظور کیا تو پھر یہ کارڈ چھاپے گئے۔
- گواہ نمبر:۳....... محمد شریف جو کہ ختم نبوت یوتھ فورس کا صدر ہے۔ اس نے بیان کیا کہ مبارک احمد قادیانی ہے اور اس نے اپنی بچی کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شادی کارڈ پر آیات لکھوائیں جس سے ان کے جذبات مجروح ہوئے۔ جرح پر اس گواہ نے تسلیم کیا کہ قادیانی جماعت کے خلاف یوتھ فورس کام کرتی ہے۔
- گواہ نمبر:۴...... سالار اعلیٰ مرزا عبدالعزیز نے کہا کہ مبارک احمد قادیانی نے شادی کارڈ پر قرآنی آیت لکھ کر اپنے آپ کو مسلمان
ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
- گواہ نمبر:۵...... ڈسٹرکٹ خطیب سید منظور حسین شاہ صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ شادی کارڈ جوان کے پاس فخر الاسلام فیصل اور
محمد شریف وغیرہ لے کر آئے ہیں ان پر آیت کریمہ تحریر تھیں جو یہ ظاہر کرتی تھیں کہ ملزم مبارک احمد مسلمان ہے۔ حالانکہ وہ قادیانی ہے۔ فاضل گواہ نے جرح میں تسلیم کیا کہ حضور پاک ﷺ ہادی ساری دنیا کے لئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بسم اللہ شریف پڑھنے پر پلید لوگوں کے لئے پابندی ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ پلید آدمی ان چیزوں کے قریب نہ جاوے۔
ملزم کا بیان لیا گیا جس میں ملزم نے تسلیم کیا کہ وہ احمدی ہے۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کی بیٹی کی شادی ہوئی۔ مگر کارڈ اس نے نہ چھپوائے تھے بلکہ اس کے بیٹے بشارت احمد نے چھپوائے تھے۔ اس نے مزید کہا کہ محض مذہبی تعصب کی بناء پر اس کے خلاف شہادت دی ہے اور کہا کہ کوئی صفائی بھی پیش نہ کرنا چاہتا ہے۔ ۲۱/ مارچ ۱۹۸۸ء کو بحث فریقین سماعت کی گئی۔ ۱۸/ اپریل ۱۹۸۸ء کو جناب طارق جاوید ملک سٹی مجسٹریٹ نے جرأت مندانہ فیصلہ سناتے ہوئے تفصیل بیان کی ہے۔ کارڈ کے EXP کے مطابق کارڈ پر ملک مبارک احمد کا نام کندہ ہے۔ شہادت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کارڈ اس کی منظوری کے بعد چھاپے گئے اور ان کارڈوں پر آیت کریمہ تحریر بھی ہیں اور مبارک احمد نے اپنے بیان میں خود تسلیم کیا کہ وہ احمدی ہے۔ اس کے باوجود اس نے کارڈوں پر آیت کریمہ چھپوائیں۔ جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ مبارک احمد کے اس عمل سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ لہٰذا وہ ۲۹۸۔سی ت.پ کے جرم کا مرتکب ہوا ہے اور استغاثہ نے بلاشک وشبہ جرم اس پر ثابت کر دیا ہے۔ لہٰذا عدالت اسے ۲۹۸۔سی کا مجرم گردانتے ہوئے چھ ماہ قید محض کی سزا سناتی ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰، مورخہ ۱۳/ مئی ۱۹۸۸ء)
پاکپتن میں مہدی ہونے کا دعویدار
پاکپتن ۱۳/ جون ۱۹۸۸ء مقامی سکول کے ایک استاد عبدالقیوم نے جو دیکھنے میں بالکل صحیح الدماغ معلوم ہوتے ہیں امام مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ ماسٹر عبدالقیوم تہجد گزار اور پانچ وقت کے نمازی ہیں۔ عبدالقیوم مقامی فاضلکا اسلامیہ ہائی سکول میں ٹیچر ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ایک بار دیدار باری تعالیٰ کی سعادت حاصل ہوئی۔ جب کہ حضور اکرم ﷺ کا دیدار دو مرتبہ شبیہ کی صورت میں ہوا اور حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچاتے ہیں۔ عبدالقیوم نے کہا ہے کہ انہیں خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے کہ وہ تمام دنیا کے انسانوں کی بھلائی کے لئے امام بنا کر دنیا پر بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی لفظ اپنی طرف سے نہیں کہتا میں جو کچھ کہتا ہوں اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور حکم شامل ہوتا ہے۔ ماسٹر صاحب نے کہا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی واقعی چودھویں صدی کے امام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب پر نکتہ چینی کرنا اور انہیں کافر کہنا گناہ ہے۔ ماسٹر عبدالقیوم نے دعویٰ کیا ہے کہ وحی کے مطابق جو مجھ پر یقین کریں گے اور ایمان لائیں گے ان کی آخرت میں نجات ممکن ہے اور وہ ایسے لوگوں کی خدا کے حضور میں سفارش کریں گے۔ امام مہدی نے پیشین گوئی کی ہے کہ آنے والے وقت میں جمعہ کی بجائے ہفتہ کے دن کو فضیلت ہوگی۔ امام مہدی نے کہا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مشکلات اور مصائب سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ میں خدا کے نام اور سچائی کی بلندی کے لئے ہر قسم کی قربانی دوں گا اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے کہ ایک دن ایسا ہوگا کہ تمام دنیا کے لوگ حقیقت کو سمجھ کر اپنی بھلائی اور نجات کے لئے مجھے نجات دہندہ مان لیں گے اور اسی وقت میرا مشن پورا ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ میرا ڈاکٹری معائنہ کروا سکتے ہیں کہ میں یہ سب باتیں باہوش و حواس کر رہا ہوں۔
(روزنامہ امروز ملتان مؤرخہ ۱۴/جون ۱۹۷۴ء)
ضلع ڈیرہ غازی خان کے ایک سو قادیانیوں کی بیرون ملک جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا
گزشتہ ماہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے ایک سو قادیانیوں نے حکومت پاکستان کو درخواستیں دیں کہ ہمیں چونکہ ختم نبوت والوں سے خطرہ ہے اس لئے ہمیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ ہر قادیانی نے اپنی درخواست میں غیر ملک کا تعین بھی کر دیا۔ زیادہ تر یہ درخواستیں مغربی جرمنی، انگلینڈ اور آسٹریلیا جانے کی تھیں۔ حکومت پاکستان نے قادیانیوں کی درخواستیں مقامی انتظامیہ کی طرف ارسال کیں اور تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔ مقامی انتظامیہ نے قادیانیوں کو بلایا تو انہوں نے اپنا وہی مؤقف دہرایا جو درخواست میں لکھا تھا کہ ہمیں چونکہ ختم نبوت والوں سے خطرہ ہے۔ اس لئے براہ کرم ہمیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ بعد ازاں مقامی انتظامیہ نے مقامی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرکردہ رہنماؤں سے رابطہ قائم کیا اور اس سلسلہ میں ملاقات کا وقت مقرر کر دیا۔ چنانچہ مجلس کے ڈویژنل امیر مولانا صوفی اللہ وسایا مدظلہ اور ناظم اعلیٰ مولانا غلام اکبر ثاقب نے مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ آفیسران سے ملاقاتیں کیں اور انہیں قادیانیوں کی سازشوں اور چال بازیوں سے آگاہ کیا۔ مجلس کے رہنماؤں نے نہایت تفصیل سے بات چیت کی اور افسران کو قادیانیوں کے ماضی اور حال کے سیاہ کارناموں کی تفصیل بتاتے ہوئے قادیانیوں کے آئندہ کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا اور دلائل سے ثابت کیا کہ قادیانی ملک، ملت اور اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔ ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی پیش گوئیاں بیرون ملک بیٹھ کر قادیانیوں کا سربراہ کر رہا ہے۔ ملک میں ہونے والی ہر تخریب کاری میں مرزائیوں کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ پورے ملک سے دھڑا دھڑ قادیانی بیرون ملک جا رہے ہیں۔ جہاں وہ کمانڈوز کی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں اور واپس پاکستان آ کر تخریبی کارروائیوں اور سرگرمیوں میں مصروف عمل ہو جاتے۔ سیالکوٹ میں دو مسلمان بھائیوں کو شہید کرنے والا قادیانی حال ہی میں مغربی جرمنی سے واپس آیا تھا اور وہ باقاعدہ طور پر ٹرینڈ تھا۔ ڈیرہ غازی خان کے قادیانی بھی اسی نیت سے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔
مجلس کے رہنماؤں نے قادیانیوں کی درخواستوں پر تبصرہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ اپنی نوعیت کی عجیب درخواستیں ہیں جن میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ ہمیں ایک جماعت سے خطرہ ہے اس لئے ہمیں باہر بھیج دیا جائے۔ مجلس کے رہنماؤں نے انتظامیہ کے افسران سے سوال کیا کہ قبل ازیں اس نوعیت کی درخواستیں کبھی آپ کے سامنے آئی ہیں۔ اگر کسی کو کسی جماعت یا فرد سے کوئی خطرہ ہوتا ہے تو وہ اپنی درخواست میں انتظامیہ سے یہ استدعا کرتا ہے کہ چونکہ مجھے فلاں آدمی سے خطرہ ہے اس لئے مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔ وطن چھوڑ کر بیرون ملک جانے کی درخواست کوئی نہیں دیا کرتا اور قادیانیوں کو وطن عزیز سے کوئی پیار نہیں یہ ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ افسران مجلس کے رہنماؤں کی تفصیلی گفتگو سے مطمئن ہوئے اور ڈی۔ایس۔پی لیگل کو ہدایت کی کہ وہ مجلس کے رہنماؤں کے مؤقف کی رپورٹ مرتب کر کے اور قادیانیوں کی درخواستوں کو غیر قانونی قرار دے کر حکومت کو فوراً رپورٹ ارسال کر دے۔ چنانچہ موصوف نے ہدایت کے مطابق فوری کارروائی کی اور اس طرح قادیانیوں کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہ مل سکی اور وہ دانت پیستے رہ گئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کچھ عرصہ قبل حکومت پاکستان نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ قادیانیوں کے الگ مرگھٹ بنانے کے لئے جگہ کا تعین کر دیں۔ تاکہ آئندہ قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے امن عامہ کا مسئلہ پیدا نہ کرسکیں۔ حکومت نے یہ اقدام ڈیرہ غازی خان اور ملک بھر کے چند دوسرے مقامات پر قادیانی مردوں کی مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کے خلاف شدید ردّعمل ہوئے اور قادیانیوں کی بار بار قبر کشائی کے سلسلہ کو ختم کرنے کے لئے کیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ڈیرہ کے ڈپٹی کمشنر نے ڈیرہ غازی خان کے علماء کو اپنے پاس بلایا اور اس سلسلہ میں رہنمائی حاصل کرنا چاہی۔ مجلس کے رہنماؤں نے پہلے سے قادیانیوں کی بستیوں کے نام اور ان کے لئے قبرستان یعنی مرگھٹ تجویز کئے ہوئے تھے۔ یعنی ان بستیوں میں قادیانی رہتے ہیں اور ان کے مرگھٹ کی یہ جگہ تجویز کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے فوراً قادیانیوں کے الگ مرگھٹ مقرر کرنے کا حکم دے دیا اور مجلس کے رہنماؤں کی مرتب کی گئی مجوزہ جگہوں پر اپنا عملہ بھیج کر جگہ متعین کر دی۔ ڈیرہ غازی خان میں اب قادیانیوں کے مرگھٹ مسلمانوں سے الگ ہیں اور وہ اپنے مردے وہاں دفن کرتے ہیں۔
ایک طرف قادیانی بیرون ملک جانے کے لئے کوشاں ہیں اور دوسری طرف انہی میں سے بعض خوش نصیبوں کو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کے دامن رحمت میں پناہ عطاء فرما رہے ہیں۔ چنانچہ ایک سال کے عرصہ میں ڈیرہ غازی خان کے ۷۹ قادیانیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مقامی مجلس کے رہنماؤں کی کوشش دن بدن تیز ہوتی جا رہی ہیں تاکہ زیادہ قادیانی مسلمان ہوں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، ۲۲، مؤرخہ ۲۴؍ جون ۱۹۸۸ء)
مرزا طاہر کا مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج اور قادیانیوں کی ریکارڈ رسوائی
ابتداء جون ۱۹۸۸ء میں قادیانی جماعت کے چوتھے گرو مرزا طاہر نے کل دنیا کے مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج دے دیا۔ اس کا پمفلٹ شائع کیا گیا۔ پوری دنیا میں ایک خاص نظم کے تحت اسے تقسیم کیا گیا۔ ہر قادیانی جماعت کے ذمہ لگایا گیا کہ آپ اپنے حلقہ میں ہر مصروف عالم دین، مناظر و مبلغ بالخصوص ہر اس شخصیت کو جو قادیانیوں سے برسرپیکار ہے ان کو یہ پمفلٹ پہنچایا جائے۔ ساتھ میں مرزا طاہر کے پریس سیکرٹری رشید چوہدری کا خط بھی تھا کہ آپ کو مباہلہ کی دعوت ہے۔
اللہ رب العزت کی ذات بابرکات نے دشمن کے برپا کردہ اس شر میں خیر کا پہلو پیدا کر دیا کہ دنیا میں شاید ایک بھی قابل ذکر عالم دین یا شخصیت ایسی نہیں جسے یہ قادیانی چیلنج مباہلہ ملا ہو اور اس نے قادیانیوں کے مباہلہ کے چیلنج کو قبول نہ کیا ہو۔ اس ضمن میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے مجلس نے یکے بعد دیگرے چند اقدامات کئے۔
- ۱...... ایک ورقہ اشتہار شائع کیا جو یہ ہے:
مرزا غلام احمد قادیانی کا مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ
- ۱...... ۱۰؍ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو عید گاہ امرتسر کے میدان میں مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم و مغفور سے
رو در رو مباہلہ کیا۔
(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی جلد اوّل ص ۴۲۷)
- ۲...... مولانا عبدالحق غزنوی کا مباہلہ اس پر تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے سب کافر، ملحد، دجال، کذاب اور بے
ایمان ہیں۔
(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی جلد اوّل ص ۴۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... مرزا غلام احمد قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کی زندگی میں مرگیا ، اور مولانا مرحوم کا انتقال ۹؍سال بعد
۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا۔
(رئیس قادیان جلد دوم ص ۱۹۲)
- ۴...... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی وفات سے سات مہینے چوبیس دن پہلے (۲؍اکتوبر ۱۹۰۷ء کو) کہا تھا کہ: ’’مباہلہ کرنے والوں میں
جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی جلد ۹ ص ۴۴۰)
- ۵...... اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو مولانا مرحوم کی زندگی میں ہلاک کر کے یہ فیصلہ دے دیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے
واقعی دجال و کذاب اور کافر و ملحد ہیں۔
مرزا طاہر احمد اس خدائی فیصلے کو کیوں تسلیم نہیں کرتے؟
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی فرنٹ اندرون ٹائٹل ،مورخہ ۱۷ تا ۲۳؍فروری ۱۹۸۹ء)
- ۲...... اس کے ساتھ ہی متذکرہ حوالہ جات پر مشتمل ذیل کا دوسرا اشتہار یک صفحاتی شائع کیا:
خدائی عدالت کا فیصلہ
مرزا قادیانی جھوٹا تھا
ناظرین کرام! مباہلہ اس کا نام ہے کہ دو فریق ایک میدان میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کریں اور اس سے استدعا کریں کہ وہ ان دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ کردے کہ ان میں سے کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ چنانچہ:
- ۱...... مرزا غلام احمد قادیانی نے عیدگاہ امرتسر کے میدان میں ۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم ومغفور سے روبرو مباہلہ
کیا۔
(مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی جلد اوّل ص ۴۲۷)
- ۲...... مولانا عبدالحق غزنوی کا مباہلہ اس پر تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے سب کافر، ملحد، دجال، کذاب اور بے
ایمان ہیں۔
(مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی جلد اوّل ص ۴۲۵)
- ۳...... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی وفات سے سات مہینے چوبیس دن پہلے (۲؍اکتوبر ۱۹۰۷ء) کو کہا تھا کہ: ’’مباہلہ کرنے والوں میں
جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی جلد ۹ ص ۴۴۰)
- ۴...... مرزا غلام احمد قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کی زندگی میں مرگیا اور مولانا مرحوم کا انتقال ۹؍سال بعد
۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا۔
(رئیس قادیان جلد دوم ص ۱۹۲)
ناظرین کرام! مباہلہ کے نتیجے میں مرزا قادیانی کا مولانا مرحوم کی زندگی میں ہلاک ہو جانا خدائی عدالت کا بے لاگ فیصلہ ہے۔ جس سے ’’دو اور دو چار‘‘ کی طرح واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا اور اس کے ماننے والے واقعی دجال وکذاب اور کافر وملحد ہیں۔ اگر مرزا طاہر اور قادیانی جماعت اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر ایمان رکھتی ہے تو ان کا فریضہ ہے کہ وہ اس خدائی فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اعلان کر دیں کہ مرزا جھوٹا تھا اور مرزائیت سے تائب ہو جائیں۔ ورنہ دنیا یہ سمجھنے پر مجبور ہوگی کہ مرزا طاہر اور تمام قادیانی دہریے ہیں اور ان کا اللہ تعالیٰ پر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایمان نہیں۔ جھوٹے نبی کو ماننا دوزخ کا کندہ بننا ہے، مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ ہر قادیانی کو دوزخ کی آگ سے بچانے کی کوشش کریں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی فرنٹ اندرون ٹائٹل،مؤرخہ ۱۰تا۱۶ / مارچ ۱۹۸۹ء)
- ۳...... یہ بھی ہوا کہ ادھر مباہلہ کا چیلنج آیا تو ہفت روزہ ختم نبوت میں یہ اداریہ تحریر کیا گیا۔ ملاحظہ ہو:
مباہلہ کا چیلنج نہیں، صدر ضیاء کے لئے خطرے کی گھنٹی
قادیانیوں کے بھگوڑے پیشوا مرزا طاہر نے ابھی چند دن قبل تمام مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ اس میں بطور خاص صدر محمد ضیاء الحق صاحب کا نام لیا ہے۔ خبر یہ ہے: ”لاہور (نامہ نگار) لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے صدر ضیاء الحق سمیت جماعت کے تمام مخالفین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ لندن میں مجھ سے مباہلہ کر لیں ۔“
(جنگ لاہور مؤرخہ ۱۵ / جون ۱۹۸۸ء)
راقم الحروف نے مرزا طاہر کا یہ چیلنج پنجاب میں پڑھا۔ پنجاب کے جن حضرات نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے وہ خبریں بھی نظر سے گزریں۔ کراچی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ اور ممتاز راہنما مولانا منظور احمد الحسینی نے بھی ایک بیان میں مرزا طاہر کو کہا ہے کہ وہ جہاں چاہیں اور جس وقت چاہیں مباہلہ کر لیں۔ لیکن ہمارا دعویٰ ہے کہ ؎
اسی طرح کا خبط دجال قادیان مرزا قادیانی کے سر پر سوار ہوا تھا لیکن ہمیشہ منہ کی کھائی۔ جھوٹے کی نشانی یہ ہے کہ: ”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے ۔“
(اخبار الحکم مؤرخہ ۱۰ /اکتوبر ۱۹۰۷ء)
چنانچہ مرزائے قادیانی نے مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کیا۔ مرزا قادیانی اپنے ہی پیش کردہ اصول کے مطابق پہلے مر گیا اور مولانا عبدالحق غزنوی کافی عرصہ بعد بھی زندہ رہے۔ بالکل آخری ایام میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کو ایک طویل خط لکھا اور اس میں یکطرفہ طور پر یہ بددعا کی کہ: ”میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین!“
اسی لمبی چوڑی دعا میں مرزا نے یہاں تک بھی لکھا کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہیضہ یا طاعون جیسے مرض سے مر جائے۔ خدا نے فیصلہ کر دیا اور مرزا قادیانی مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کی زندگی میں ہی ہیضہ سے ہلاک ہو گیا۔ اس واضح نشانی اور مرزا قادیانی کی عبرتناک موت کے بعد تمام قادیانی پیشواؤں نے یہ محسوس کر لیا کہ نہ تو خود مباہلہ کرنا ہے اور نہ ہی کسی مسلمان کے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنا ہے۔
آج سے ۳۲ سال پہلے چنیوٹ کے ممتاز عالم دین مولانا منظور احمد صاحب سابق ایم۔ پی۔ اے نے مرزا طاہر کے آنجہانی والد مرزا محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ اس مباہلہ میں مولانا موصوف کو ملک کی چار بڑی جماعتوں کی تائید حاصل تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھی اس مسئلہ میں ان کے ساتھ تھی لیکن مرزا محمود کو سانپ سونگھ گیا۔ بالآخر کئی سال بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر واصل جہنم ہو گیا۔ مرزا محمود کے بعد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزا ناصر نے چیلنج قبول نہ کیا۔ مولانا کا یہ چیلنج مرزا طاہر کے لئے بھی موجود ہے لیکن بجائے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے مرزا طاہر نے تمام مخالفین کو مباہلہ کا چیلنج دے دیا اور بطور خاص صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کا نام لیا۔ دراصل مرزا طاہر نے مباہلہ کا جو چیلنج دیا ہے اس کا ایک پس منظر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس چیلنج میں بطور خاص مرزا طاہر نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کا نام لیا ہے۔ مرزا طاہر کے ذہن میں یہ بات ہے کہ صدر پاکستان کو کرسی صدارت سنبھالے ۱۲ / سال ہو چکے ہیں۔ ملک کے اندرونی حالات صحیح نہیں ہیں۔ سندھ میں امن و امان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ سیاسی جماعتیں صدر ضیاء سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ایسے میں (مرزا طاہر کے خیال کے مطابق) صدر ضیاء کا اقتدار اب چند دن کا مہمان ہے۔ لہٰذا اس مباہلہ کا پس منظر یہ ہوا:
- ۱...... اگر کسی وجہ سے بھی صدر ضیاء کا اقتدار ختم ہو جائے تو مرزا طاہر اور اس کے مرزائی پیروکار بغلیں بجانے لگیں گے کہ صدر ضیاء کا
اقتدار ہمارے پیشوا کی بددعا کا نتیجہ ہے اور یہ ایک نشان ہے جو ان کے خیال کے مطابق خدا کی طرف سے ظاہر ہوا۔
- ۲...... یہ بھی ممکن ہے کہ افواج پاکستان میں جو قادیانی اہم عہدوں پر متعین ہیں انہوں نے صدر ضیاء کو اقتدار سے ہٹانے کا کوئی منصوبہ
بنایا ہو اور مرزا طاہر نے اسی بنیاد پر یہ چیلنج دیا ہو۔ بہر حال یہ بات طے شدہ ہے کہ کوئی شخص ہمیشہ کے لئے اپنے نام اقتدار الاٹ کروا کے نہیں آیا ، جو آیا اس نے بہر حال جانا ہے۔ صدر ضیاء کا اقتدار ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہونا ہے۔ لیکن مرزائی افسر صدر ضیاء کے اقتدار کے خلاف مرزا طاہر کی ہدایت پر منصوبہ بنا چکے ہیں اور صدر ضیاء مرزائیوں کے نرغے میں ہیں۔ کسی بھی وقت کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ اس لئے صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کو چاہئے کہ وہ مباہلہ پر نہیں بلکہ اس کے پس منظر پر غور کریں۔
آج سے چند سال پہلے مرزائیوں نے یہ افواہ اڑائی تھی کہ صدر ضیاء فلاں مہینے میں قتل ہو جائیں گے اور ان کا قتل (نام نہاد) احمدیت کی صداقت کا بہت بڑا نشان ہوگا۔ مرزائیوں کا وہ بھی منصوبہ تھا جس میں وہ ناکام ہو گئے۔ اسی لئے مرزا طاہر کے نئے چیلنج سے ہمیں کسی خطرناک منصوبے کی بو آتی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴، ۵، مؤرخہ ۱۵ تا ۲۱ / جولائی ۱۹۸۸ء)
یہ اداریہ جس بیدار مغز شخصیت نے لکھا وہ حضرت حافظ محمد حنیف صاحب تھے۔ اس مباہلہ کے بعد جہاں اسلم قریشی کی برآمدگی کا ڈرامہ رچایا گیا وہاں جنرل محمد ضیاء الحق صاحب بھی شہید کر دیئے گئے۔ اداریہ میں جن خدشات کا جنرل صاحب کی شہادت سے قبل اظہار کیا گیا وہ کس طرح پورے ہوئے۔ اسلم قریشی کی برآمدگی پر مستقل عنوان ہم نے دوسری جگہ قائم کیا ہے۔ آپ اس وقت مباہلہ کی طرف بڑھیں۔
- ۴...... آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے پاکستان کے چاروں صوبوں کے دارالحکومت کوئٹہ، کراچی ، پشاور، لاہور اور مرکزی
دارالحکومت میں تاریخ اور وقت مقرر کر کے یہ اشتہار شائع کیا:
قادیانیوں کو ان کے مجوزہ مباہلہ کا جواب دینے کے لئے
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حتمی پروگرام کا اعلان
تمام مکاتب فکر پر مشتمل مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مقتدر رہنما اور جانثاران ختم نبوت ۱۴ / اگست ۱۹۸۸ء شام ۴ / بجے سے ۶ بجے تک چاروں صوبائی دارالحکومت وفاقی دارالحکومت کے درج ذیل مقامات پر موجود ہوں گے۔
- ۱...... اسلام آباد فیصل جامع مسجد۔ ۲...... پشاور یادگار چوک۔ ۳...... لاہور شاہی جامع مسجد۔
- ۴...... کراچی جامع مسجد بنوری ٹاؤن۔ ۵...... کوئٹہ میزان چوک۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ قادیانی جماعت کے نمائندوں کو اپنے دیئے ہوئے مباہلہ کا جواب وصول کرنے کے لئے مذکورہ مقامات پر بروقت پہنچ جانا چاہئے تاکہ ان کے سلسلہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر روز روشن کی طرح واضح ہو جائے۔
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد اگر بیرون پاکستان مباہلہ کرنا چاہیں تو ان کے لئے ۲۱؍ اگست ویمبلے ہال لندن میں ۱۲؍ بجے سے ۶؍ بجے شام تک مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ہزاروں جانثاران ختم نبوت کے ساتھ مباہلہ کا جواب دینے کے لئے موجود ہوں گے۔
نوٹ : بصورت جلوس زندہ دلان لاہور، جانثاران ختم نبوت، مشائخ عظام، علماء کرام بلا تفریق مسلک جامع مسجد شیرانوالہ میں ۱۲؍ اگست ۳؍ بجے سہ پہر جمع ہوں تاکہ اجتماعی صورت میں قافلہ ختم نبوت شاہی مسجد کی طرف روانہ ہو۔
منجانب: مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان
(روزنامہ جنگ لاہور مؤرخہ ۱۱؍ اگست ۱۹۸۸ء ص آخر کالم ۷، ۸)
- ۵...... کراچی سے مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ اشتہار شائع ہوا:
مباہلہ کا جواب
قادیانیوں کے مجوزہ مباہلہ کا جواب دینے کے لئے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا مفتی احمد الرحمن، مولانا محمد انور فاروقی، مولانا عبدالرحمن سلفی، مولانا پیر سید اکبر علی شاہ، آج ۱۴؍ اگست ۱۹۸۸ء بروز اتوار کو جامع مسجد علامہ بنوری ٹاؤن کے سامنے ۴؍ بجے سے ۶؍ بجے تک موجود رہیں گے۔ چنانچہ قادیانی جماعت کے نمائندوں کو اپنے دیئے ہوئے مباہلہ کا جواب وصول کرنے کے لئے مذکورہ بالا مقام پر پہنچ جانا چاہئے تاکہ ان کے سلسلے کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر روز روشن کی طرح واضح ہو جائے۔ مزید لاہور، پشاور، اسلام آباد، کوئٹہ میں بھی مرزا طاہر کا انتظار کیا جائے گا۔
نوٹ : تمام مسلمانوں سے جوق در جوق شرکت کی اپیل ہے۔
منجانب: مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
(روزنامہ جنگ کراچی مؤرخہ ۱۴؍ اگست ۱۹۸۸ء)
چنانچہ ۱۴؍ اگست ۱۹۸۸ء کو لاہور، پشاور، کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد میں اتنے بڑے اجتماع منعقد ہوئے کہ چشم فلک بھی ان نظاروں سے جھوم اٹھی۔ صرف اسلام آباد اور پشاور کی یہ خبریں ملاحظہ ہوں:
پشاور میں مباہلہ کا اجتماع
پشاور ۱۵؍ اگست (پ ر) مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے مرزائی غیر مسلم اقلیت کے پیشوا کے چیلنج مباہلہ کے جواب میں وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومتوں کے مرکزی شہروں میں مباہلہ کرنے کے لئے اجتماعات ہوئے۔ پشاور میں ایک بہت بڑا اجتماع چوک یادگار پر منعقد ہوا۔ جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ اجتماع ایک جلسہ کی صورت اختیار کر گیا۔ جن سے شیخ الحدیث مفتی مولانا عبدالرحیم، شیخ الحدیث مولانا امان اللہ، مولانا عبید اللہ چترالی، مولانا قاری فیاض الرحمن، مولانا عبدالواحد ازہری، مولانا حبیب اللہ، مولانا قاری محمد اسلم، مولانا فضل احد، مولانا نورالحق نور اور محمد یونس اشرف نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تمام مکاتب فکر کا یہ نمائندہ اجتماع اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ختم نبوت کی حفاظت کی خاطر ہم سب اپنے فروعی اختلاف پس پشت ڈال کر متحد ومتفق ہیں۔ مقررین نے مرزائیوں کے مباہلہ کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں اور ان کا کفر ایک مسلمہ حقیقت ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں جھٹلا سکتی۔
(روزنامہ جہاد پشاور مورخہ ۱۶/ اگست ۱۹۸۸ء)
اسلام آباد میں مباہلہ کا اجتماع
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) راولپنڈی اسلام آباد کے ممتاز علمائے کرام نے مجلس مباہلہ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کے لئے قادیانیوں کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ اعلان انہوں نے اتوار کو فیصل مسجد اسلام آباد کے وسیع وعریض صحن میں دعوت مباہلہ کی بہت بڑی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں راولپنڈی اسلام آباد، مری، کہوٹہ اور دوسرے نواحی علاقوں سے سینکڑوں علمائے کرام اور کم وبیش تین ہزار مسلمانوں نے شرکت کی۔ مجلس مباہلہ کے دوران شرکاء نے مسجد میں نماز عصر ادا کی۔ اس موقعہ پر اسلام آباد انتظامیہ نے پولیس کے خصوصی دستے فیصل مسجد کے قریب تعینات کئے تھے۔ شرکاء ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ متعدد افراد نے اپنے ہاتھوں میں کتبے بھی اٹھارکھے تھے۔ علمائے کرام نے میگا فون کے ذریعے لوگوں سے خطاب کیا۔ جب کہ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا محمد عبداللہ نے مباہلے کی دعا کرائی۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے فیصلے کے مطابق مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۴/ اگست کو قادیانیوں کی طرف سے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے راولپنڈی، اسلام آباد، مری اور دیگر قرب وجوار کے سینکڑوں علمائے کرام نے ہزاروں مسلمانوں کے ہمراہ فیصل مسجد اسلام آباد کے وسیع صحن میں جمع ہو کر ۴/ بجے سے ساڑھے چھ بجے شام تک قادیانیوں کی آمد کا انتظار کیا۔ جب کہ مقررہ وقت ۴/ بجے سے ۶/ بجے تک تھا۔ اس دوران مولانا محمد عبداللہ، مولانا قاری محمد اسعد اللہ عباسی، مولانا عبدالعزیز جلالی، مولانا قاری محمد امین، مولانا قاری عبدالمالک، مولانا محمد رمضان علوی، قاری محمد زرین، مولانا عبدالرؤف جتوئی، مولانا محمد نذیر فاروقی، مولانا عبدالرؤف، مولانا محمد شریف، مولانا عبدالغفور، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا بشیر احمد اور میجر (ریٹائرڈ) محمد امین منہاس سمیت علمائے کرام نے ختم نبوت کی اہمیت بیان کی اور کہا کہ قادیانی عالم اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے قادیانیوں کی طرف سے مجوزہ دعوت مباہلہ کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی قادیانی اس اجتماع میں موجود ہے۔ ہم اس کی جان کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کی طرف سے سامنے آئے۔ اس کے باوجود کوئی قادیانی سامنے نہیں آیا۔ علمائے کرام نے اس امر کو واضح کیا کہ قادیانی شرعی اور قانونی طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ نہ صرف پاکستان کی طرف سے ہوا ہے بلکہ عالم اسلام کے تمام مسلمان ملک متفقہ طور پر قادیانیوں کو کافر قرار دے چکے ہیں۔ اس لئے قادیانیوں کا دعوت مباہلہ کا چیلنج امت مسلمہ میں انتشار اور افتراق پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ دعوت مباہلہ اور مولانا اسلم قریشی پر تشدد کر کے اپنی مرضی کے بیان دلوانا اسی سازش کی کڑیاں ہیں۔
(روزنامہ جنگ راولپنڈی مورخہ ۱۶/ اگست ۱۹۸۸ء)
ان پانچوں مقامات کی تفصیلی رپورٹ تو کتاب کا حصہ بنانا خاصہ طوالت کا کام ہے لیکن اتنا یاد رہے کہ قادیانیوں پر اوس پڑ گئی۔ وہ چونٹیوں کی طرح اپنی بلوں میں گھس گئے۔ چہار سو عالم قادیانی کفر الم نشرح ہو گیا۔ ان کی شکست کی ذلت نے قادیانیوں کے چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیا۔ (قارئین! معافی چاہتا ہوں یہ مرزا قادیانی کا جملہ ہے جو اس نے اپنے مسلم مخالفین کو کہا تھا۔ اب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عطائے تو بلقائے تو کے بمصداق آج مرزا قادیانی کا اس موقعہ کے لئے کہا ہوا جملہ قادیانیوں کو ہدیہ کیا ہے)
ان چاروں مقامات پر لاکھوں لوگوں نے قادیانیوں کی ذلت کو، رسوائی کو دیکھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اعلان کیا کہ مرزا طاہر یہیں نہیں آئے تو ۲۱؍ اگست ۱۹۸۸ء کو ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر ویمبلے ہال آجائیں۔ وہاں ہمارے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی سربراہی میں علماء مرزا طاہر سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں گے۔ ہمارے جناب میاں محمد اجمل قادری نے بھی ذیل کا اشتہار شائع کیا۔
- ۶...... خواجہ ٔ کونین (ﷺ) کی عزت و ناموس کے خلاف
قادیانی سازش
۱۴؍ اگست بروز اتوار ۳؍ بجے سہ پہر
مرکز اہل حق جامع مسجد شیرانوالہ سے عظیم الشان جلوس لے کر بادشاہی مسجد جائیں گے
قادیانیوں میں جرات ہے تو آکر اپنے لیڈر کے چیلنج کا جواب وصول کریں
مولانا میاں محمد اجمل قادری ویمبلے ہال لندن میں ۲۱؍ اگست کو مباہلہ کے لئے صبح چھ سے ۹؍ بجے رات تک قادیانیوں کا انتظار کریں گے
المعلن: عالمی انجمن خدام الدین کراچی، لاہور، کویت، لندن
(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۱۳؍ اگست ۱۹۸۸ء)
یاد رہے کہ قادیانیوں نے جہاں اور شخصیات کو مباہلہ کا پمفلٹ بھجوایا وہاں انہوں نے پروفیسر طاہر القادری کو بھی مباہلہ کا چیلنج دیا۔ چنانچہ پروفیسر طاہر القادری بھی قادیانیوں کے مقابلہ میں ڈٹ گئے۔ ملاحظہ ہو:
- ۷...... فتنہ ٔ مرزائیت کی سرکوبی اور اتحاد امت مسلمہ کے لئے
کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس
صدارت: قدوۃ الاولیاء، شیخ المشائخ حضرت سیدنا طاہر علاؤالدین القادری البغدادی
پاکستان کے دیگر اکابر مشائخ عظام اور پیران کرام سرپرستی فرمائیں گے اور
منظوم کلام: حضرت صاحبزادہ شاہ نصیر الدین پیر صاحب گولڑہ شریف (متوقع)
تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام خطاب فرمائیں گے
مولانا عبدالستار خان نیازی میاں محمد اجمل قادری میاں فضل حق جمعیۃ اہل حدیث علامہ ساجد حسین نقوی جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری علامہ زاہد الراشدی مولانا معین الدین لکھوی علامہ نصیر الاجتہادی صاحبزادہ حاجی فضل کریم مولانا سید امیر حسین گیلانی مولانا محمد حسین شیخوپوری علامہ فاضل حسین موسوی صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ مولانا عبدالمالک (منصورہ) مولانا عبدالرشید ارشد علامہ محمد حسین اکبر مولانا سعید احمد مجددی مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاکھوں فرزندان اسلام جوق در جوق جلوسوں کی شکل میں شرکت فرمائیں گے
الداعی: خاکپائے علماء و مشائخ محمد طاہر القادری ادارہ منہاج القرآن
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
اسی طرح جناب طاہر القادری نے پریس ریلیز جاری کیا کہ:
لاہور (پ۔ر) پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ مرزا طاہر احمد اگر مباہلہ یا مناظرہ کے لئے نہ آئیں تو قادیانی نسل اپنے مذہب سے کنارہ کش ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قادیانی امیر کے مباہلہ کے چیلنج کو سر قلم کرنے کی شرط کے ساتھ قبول کیا ہے اور اس سے بڑی دعوت قادیانیوں کو نہیں دی جاسکتی۔ آج مینار پاکستان پارک میں کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس میں جو چاروں مکاتیب فکر کے جید علماء کرام خطاب فرمائیں گے۔ ان علماء کرام میں مولانا عبدالستار خان نیازی، جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری، صاحبزادہ حاجی فضل کریم، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ، مولانا سعید احمد مجددی، میاں محمد اجمل قادری، علامہ زاہد الراشدی، مولانا سید امیر حسین گیلانی، مولانا عبدالمالک (منصورہ) مولانا اللہ وسایا (مجلس ختم نبوت) میاں فضل حق جمعیۃ اہل حدیث، مولانا معین الدین لکھوی، مولانا محمد حسین شیخوپوری، مولانا عبدالرشید ارشد، علامہ نصیر الاجتہادی، علامہ محمد حسین اکبر اور علامہ فاضل حسین موسوی شامل ہیں۔
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
لاہور مینار پاکستان میں جناب طاہر القادری کی کانفرنس کی اخباری رپورٹ ملاحظہ ہو:
مرزا طاہر احمد نے شکست تسلیم کر لی ہے، قادیانی توبہ کرلیں
امید ہے کہ آئندہ قادیانی یا ان کے سربراہ مسلمانوں کو چیلنج نہیں کریں گے۔ طاہر القادری
لاہور (نمائندہ جنگ) گزشتہ رات مینار پاکستان کے مقام پر کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جو رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت پیر سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری البغدادی نے کی۔ کانفرنس میں ہزاروں لوگوں نے مرزا طاہر احمد کا انتظار کیا۔ جس نے مباہلہ کا چیلنج دیا ہوا تھا لیکن مرزا طاہر احمد وہاں نہیں آئے جس پر کانفرنس کی باقاعدہ کارروائی شروع کی گئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ آج رات ہم نے مرزا طاہر احمد کے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید کی موجودگی میں اس کے مباہلہ کے لئے انتظار کر کے اس کے بعد بحث کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ قادیانی امت کے سربراہ یا ان کے کسی فرد کو اس انداز میں مسلمانوں کو چیلنج کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر قادیانی امیر مباہلہ کے لئے میدان میں آجاتا تو نماز فجر سے پہلے مسلمان ہو جاتا یا ہلاک ہو جاتا اور میں نے دونوں صورتوں کے نہ ہونے پر اپنا سر قلم کروانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مرزا طاہر احمد نے محض اس آڑ میں کہ مباہلے کے لئے میدان میں نہ آ کر بالواسطہ اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ اب قادیانیوں سے میری درخواست ہے کہ وہ توبہ کر کے اسلام قبول کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اکابرین امت یہی تاریخی کردار ادا کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں اور ادارہ منہاج القرآن نے وقت کی اس اہم ترین ضرورت پوری کی ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۸ ان چند اہم کارروائیوں کی تفصیل پڑھنے کے بعد آپ ملاحظہ کریں کہ پوری دنیا سے قادیانیوں کے خلاف مباہلہ کے جواب میں
اتنے اعلان، خطوط اور جوابی پمفلٹ ورسائل، مقالہ جات شائع ہوئے جنہیں جمع کریں تو کئی جلدیں بن سکتی ہیں۔ محاسبہ قادیانیت جلد ۵ میں ہم نے ان میں سے بعض مباہلہ کے پمفلٹ ذیل میں جمع کر دیئے ہیں:
- ......۱ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا جواب
- ......۲ حضرت مولانا زاہد الراشدی کا جواب
- ......۳ مفتی عزیز الرحمن بمبئی کا جواب
- ......۴ فقیر راقم اللہ وسایا، جناب مولانا منظور احمد الحسینی، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا نذیر احمد بلوچ کا مشترکہ جواب جو لندن
جاکر فقیر نے مرتب کر کے بھجوایا۔
ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے مرزا طاہر کے مباہلہ کا جواب تحریر کیا وہ یہ ہے:
مرزا طاہر کی دعوت مباہلہ کا جواب
قادیانیوں میں جب مایوسی اور بے چینی کی لہر دوڑتی ہے تو ان کو مطمئن کرنے کے لئے قادیانی لیڈر کوئی نہ کوئی نیا شوشا چھوڑنے کے عادی ہیں۔ جس کا نتیجہ بالآخر ان کی مزید ذلت ورسوائی کی شکل میں نکلتا ہے۔ حال ہی میں قادیانیوں کے لیڈر مرزا طاہر کی طرف سے ایک نئی حرکت مذبوحی صادر ہوئی ہے اور وہ ہے ”دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج“ جس کا درج ذیل جواب راقم الحروف (حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی) کی طرف سے مرزا طاہر کے نام بھیجا گیا۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد للہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی جناب مرزا طاہر احمد صاحب بالقابہ سلام علٰی من اتبع الہدٰی
گزشتہ دنوں آپ کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج شائع ہوا۔ میں اسے شاید لائق التفات نہ سمجھتا مگر طویل سفر سے واپسی پر ڈاک میں اس کی ایک کاپی موجود پائی جس میں بطور خاص مجھے مخاطب کیا گیا تھا جس کا جواب بطور خاص مجھ پر لازم ہوا۔ اس لئے جواباً چند نکات عرض کرتا ہوں۔
- ......۱ سب سے پہلے اس پر آپ کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس ناکارہ کا نام دور حاضر کے مسیلمہ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی
کے مخالفوں کی فہرست میں درج فرمایا۔ یہ دراصل بہت بڑا اعزاز ہے۔ قرآن کریم نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے: ”یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یأتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکفرین یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء واللہ واسع علیم (المائدہ: ۵۴)“ ”اے ایمان والو جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جاوے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو پیدا کر دے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی، مہربان ہوں گے وہ مسلمان پر، تیز ہوں گے کافروں پر، جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں، اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطاء فرمائیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں بڑے علم والے ہیں۔ ﴿
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس آیت کریمہ میں مرتدین سے مقابلہ کرنے والے حضرات کے چھ اوصاف عالیہ بیان فرمائے ہیں۔ اوّل! یہ کہ وہ حق تعالیٰ شانہ کے محبوب بندے ہیں۔ دوم! یہ کہ وہ حق تعالیٰ شانہ کے سچے محبّ اور عاشق ہیں۔ سوم! یہ کہ وہ اہل ایمان کے حق میں نہایت پست اور متواضع ہیں۔ چہارم! یہ کہ وہ اہل کفر کے مقابلہ میں نہایت سخت ہیں۔ پنجم! یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بجالاتے ہیں۔ ششم! یہ کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی پروا نہیں کرتے۔ آخر میں فرمایا کہ یہ حق تعالیٰ کا فضل خاص ہے جس کو چاہتے ہیں یہ فضل عطاء فرما دیتے ہیں۔
اس آیت کریمہ کے اوّلین مصداق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء رضی اللہ عنہم تھے جنہوں نے مسیلمہ کذاب اور دیگر مرتدین کا مقابلہ کیا اور اس دور میں اس آیت کریمہ کا مصداق وہ حضرات ہیں جو مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی مرتد اور اس کی ذریت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پس آپ کا اس ناکارہ کو مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفین میں شمار کرنا گویا اس امر کی شہادت ہے کہ یہ ناکارہ اس دور میں آیت کریمہ کا مصداق ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اس ناکارہ کے بارے میں حق تعالیٰ شانہ کے فضل عظیم کی شہادت و بشارت ہے جس پر آپ کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔ یہ ناکارہ آنحضرت خاتم النبیین وسید المرسلین ﷺ کا ادنیٰ ترین اور نالائق ترین امتی ہے اور اپنی روسیاہی و نالائقی میں پوری امت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ وسلام) میں شاید سب سے بڑھ کر ہے۔ ہمارے حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کے بقول ؎
ایسے نالائق و ناکارہ امتی کے لئے اس سے بڑھ کر کیا اعزاز ہو سکتا ہے کہ اسے ”یحبہم ویحبونہ“ کا مصداق بنا دیا جائے۔ آپ کی تحریر سے اس ناکارہ کو توقع ہو گئی ہے کہ ان شاء اللہ آنحضرت ﷺ اپنے اس ناکارہ و نالائق ”باروئے سیاہ آمدہ و موئے زریری“ امتی کی شفاعت فرمائیں گے ؎
بہر حال آپ نے مرزا قادیانی کے مخالفوں میں اس فقیر کا نام شامل کر کے مجھے بڑا اعزاز بخشا ہے۔ ان شاء اللہ آپ کی یہ تحریر مجھے فردائے قیامت میں سند شفاعت کا کام دے گی۔ اس لئے آپ کے منہ میں گھی شکر۔
- ۲...... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے رسالہ انجام آتھم میں اپنے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ آئندہ وہ علماء کو مخاطب نہیں کرے گا۔ مرزا
کے الفاظ یہ ہیں: ”الیوم قضینا ماکان علینا من البلیغات ...... وازمعنا ان لانخاطب العلماء بعد ھذه التوضیحات ...... وھذه منا خاتمة المخاطبات“ ہمارے ذمہ جو تبلیغ فرض تھی آج ہم نے اس کا حق ادا کر دیا اور اب ہمارا قصد یہ ہے کہ ان توضیحات کے بعد ہم علماء کو مخاطب نہیں کریں گے اور یہ ہماری طرف سے مخاطبات کا خاتمہ ہے۔
(انجام آتھم ص ۲۸۲، خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۲)
جب مرزا قادیانی ۱۸۹۷ء میں وعدہ کر چکا تھا کہ آئندہ ہم علماء کو خطاب نہیں کریں گے تو کیا نوے سال کے بعد یہ وعدہ جو آپ کے عقیدے میں: ”وما ينطق عن الهویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ“ کا مصداق تھا، منسوخ ہو گیا یا آپ کے نزدیک مرزا کے وعدے وعید اور قول و فعل ایسے نہیں جن کی طرف التفات کرنا مرزا کی ذریت کے لئے ضروری ہو؟
- ۳...... آپ نے علمائے امت کو مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ مباہلہ دو فریقوں کے درمیان حق و باطل اور صدق و کذب کے جانچنے کا آخری
معیار ہے۔ کیا آپ کے نزدیک ایک صدی کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کا صدق و کذب اب تک مشتبہ ہے کہ آپ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ۲۴۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کے لئے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟ آپ کو یا آپ کی جماعت کو اب تک اس معاملہ میں اشتباہ ہو تو ہو لیکن الحمد للہ امت اسلامیہ کو اور امت کے اس نالائق ترین فرد کو مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے میں ادنیٰ سے ادنیٰ شبہ نہیں۔ امت اسلامیہ کا قطعی و اجماعی عقیدہ و ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا بلاشک و شبہ جھوٹا ، مرتد اور زندیق ہے اور وہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد: ”ثلاثون کذابون کلہم یزعم انہ رسول اللہ“ کی صف میں شامل ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے مرزا غلام احمد قادیانی مسیلمہ پنجاب کے جھوٹا ہونے پر ایسے بے شمار قطعی دلائل و شواہد جمع کر دیئے ہیں جن سے مرزا کا کذب آفتاب نصف النہار کی طرح عیاں ہو چکا ہے۔ ان دلائل کی روشنی میں مرزا کا کذاب ہونا کسی ایسے شخص پر مخفی نہیں رہ سکتا جس کے دل میں نور ایمان کی معمولی روشنی باقی ہو اور جس کی دل کی آنکھیں یکسر بند نہ ہو گئی ہوں۔ ہاں ! جو شخص ارشاد خداوندی: ”ومن کان فی ہذہ اعمیٰ فہو فی الآخرۃ اعمیٰ واضل سبیلا“ ﴿اور جو شخص دنیا میں اندھا رہے گا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور زیادہ راہ گم کردہ ہو گا۔﴾ کا مصداق ہو اس کے لئے سیاہ و سفید اور صدق و کذب کے درمیان امتیاز ممکن نہیں۔ مرزا قادیانی کے جھوٹ کے لئے یہی کافی ہے کہ اس نے اپنی نام نہاد وحی کے ذریعہ اعلان کیا تھا کہ محترمہ محمدی بیگم کا آسمان پر اس سے نکاح ہو چکا ہے اور وہ ۱۸۸۸ء سے لے کر ۱۹۰۷ء تک اس نکاح کی منادی کرتا رہا اور اسی نکاح کو پکا ثابت کرنے کے لئے اس نے ضمیمہ انجام آتھم میں یہاں تک لکھ دیا : ”یاد رکھو کہ اگر اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی (یعنی محمدی بیگم بیوہ ہو کر مرزا کے نکاح میں نہ آئی ) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں ۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴، خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۸)
ہمارا بھی ایمان ہے کہ خدا کی باتیں نہیں ٹلتیں اس کے سب وعدے سچے ہوتے ہیں۔ ان میں کبھی تخلف نہیں ہو سکتا اور اس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محمدی بیگم کا سایہ دیکھنا بھی مرزا کو نصیب نہ ہوا جس سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ یہ خبیث مفتری مرزا غلام احمد قادیانی کا افتراء تھا اور وہ اپنے اقرار کے بموجب ہر بد سے بدتر ہے۔ یہودی، نصرانی، ہندو، سکھ اور چوہڑے چمار بھی غیر مسلم ہیں، برے ہیں۔ مگر مرزا باقرار خود ان سے بھی بدتر ہے۔ کیا اس خدائی فیصلے اور مرزا کی اپنی تحریر کے بعد بھی مرزا کے جھوٹا، مفتری اور ہر بد سے بدتر ہونے میں کوئی شک رہ جاتا ہے؟ یہ میں نے صرف ایک مثال ذکر کی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے مرزا کو جھوٹا اور روسیاہ کرنے کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں دلائل جمع کر دیئے ۔
- ۴...... دیگر دلائل کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لوگوں سے مباہلے بھی کئے۔ جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے مرزا کا مسیح کذاب ہونا
کھلے طور پر واضح فرما دیا۔ مثلاً :
- الف...... مرزا قادیانی نے ایک عیسائی پادری ڈپٹی آتھم سے پندرہ دن تک مناظرہ کیا۔ جب مرزا اپنے مضبوط حریف سے عہدہ برآ نہ
ہوسکا تو جناب الٰہی سے فیصلے کا طالب ہوا۔ بقول اس کے خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں فریقوں میں سے جو جھوٹ پر ہے وہ آج کی تاریخ (۵/ جون ۱۸۹۳ء) سے پندرہ مہینے کے اندر ہاویہ میں گرایا جائے گا۔
اس مباہلہ کی پیش گوئی کا اعلان کرتے ہوئے مرزا نے لکھا: ”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی ، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں ۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے ، روسیاہ کیا جاوے ۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے ۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے ۔ ہر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک بات کے لئے تیار ہوں۔‘‘
میعاد گزرتی اور قادیانی امت کو یقین تھا کہ ان کے مسیح کذاب کی پیش گوئی کے مطابق آتھم پندرہ مہینے کے اندر ضرور مر جائے گا۔ کیونکہ مرزا نے یہ بھی لکھا تھا: ’’اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں گے پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘
لیکن جب میعاد میں صرف ایک رات باقی رہ گئی تو قادیان میں پوری رات شور قیامت برپا رہا اور سب مردوزن، چھوٹے بڑے اللہ تعالیٰ کے سامنے ناک رگڑتے ہوئے یہ بین کر رہے تھے کہ یا اللہ ! آتھم مرجائے۔ یا اللہ ! آتھم مرجائے اور سب کو یقین تھا کہ آج سورج طلوع نہیں ہوگا کہ آتھم مرجائے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے آتھم کو مارنے کے لئے ٹونے ٹوٹکے بھی کئے اور چنے پڑھوا کر اندھے کنویں میں ڈلوائے۔
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۱۶۳، روایت نمبر۱۶۰)
لیکن ان تمام تدبیروں، دعاؤں، شور و غوغا کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آتھم کو مرنے نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فعل سے ثابت کردیا کہ:
- ...... مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی خدا کی طرف سے نہیں تھی بلکہ مرزا کا اپنا افتراء تھا۔
- ...... مرزا قادیانی اور ڈپٹی آتھم دونوں جھوٹے تو تھے ہی مگر مرزا، آتھم سے بڑا جھوٹا تھا۔
- ...... اللہ تعالیٰ کی نظر میں مرزا قادیانی اس سزا کا مستحق تھا جو اس نے خود اپنے ظلم سے تجویز کی تھی۔ یعنی اس کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا
جائے، اس کے گلے میں رسہ ڈالا جائے، اس کو پھانسی پر لٹکایا جائے اور جو سزا ممکن ہو سکتی ہے اس کو دی جائے۔
کیا اس خدائی فیصلے کے بعد بھی مرزا کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کسی مباہلے کی ضرورت رہ جاتی ہے؟
- ب...... ۱۰؍ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو امرتسر کی عیدگاہ کے میدان میں مرزا قادیانی نے حضرت مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم و مغفور سے رو در رو
مباہلہ کیا۔ اس کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ مرزا قادیانی، حضرت مولانا موصوف کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا اور مولانا موصوف مرزا کے مرنے کے بعد بھی سلامت با کرامت رہے۔ کیا اس کے بعد بھی مرزا کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کسی آسمانی شہادت کی ضرورت ہے؟
- ج...... ۱۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء کو مرزا قادیانی نے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری فاتح قادیان کے خلاف مباہلہ کا اشتہار شائع کیا جس کا
عنوان تھا: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘
اس میں مرزا نے اللہ تعالیٰ سے نہایت تضرع و ابتہال کے ساتھ گڑگڑا کر مکرر سہ کرر یہ دعا والتجاء کی تھی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے۔ ’’مگر نہ انسان ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔‘‘ اور اس اشتہار میں مولانا مرحوم کو مخاطب کر کے مرزا نے لکھا: ’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے ہر ایک پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تا وہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔‘‘
اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے مطابق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں میں ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں، آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ یہ کیس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں۔ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور اس اشتہار کے آخر میں مرزا قادیانی نے لکھا: ”بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“
مرزا قادیانی نے نہایت آہ وزاری کے ساتھ گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے جو فیصلہ طلب کیا تھا اس کا نتیجہ سب کے سامنے آگیا کہ مرزا ۲۵؍مئی ۱۹۰۸ء کو رات دس بجے تک چنگا بھلا تھا۔ شام کا کھانا کھایا اور رات دس بجے کے بعد اچانک خدائی عذاب یعنی وبائی ہیضہ میں مبتلا ہوا اور دونوں راستوں سے غلیظ مواد خارج ہونا شروع ہوا۔ چند ہی گھنٹوں میں زبان بند ہو گئی اور بارہ گھنٹوں کے اندر ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ہلاک ہو گیا۔ جب کہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم ومغفور مرزا کی ہلاکت کے بعد اکتالیس سال تک ماشاء اللہ زندہ وسلامت رہے اور قیام پاکستان کے بعد ۱۹۴۹ء میں سرگودھا میں واصل بحق ہوئے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ!
اس خدائی فیصلے اور مرزا کی منہ مانگی موت نے ثابت کر دیا کہ وہ مفتری اور کذاب تھا۔ مسیح موعود نہیں تھا اور یہ کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں بلکہ شیطان کی طرف سے تھا۔
مرزا طاہر صاحب! کیا اس خدائی فیصلہ کے بعد بھی کسی مباہلہ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟
- ۵...... آج آپ علمائے امت کو مباہلہ کے لئے بلاتے ہیں۔ کیا آپ کو یاد نہیں رہا کہ نصف صدی تک آپ کے ابا مرزا محمود کو مباہلہ کے
مسلسل چیلنج دیئے جاتے رہے اور مرزا محمود نے ان میں سے کسی ایک کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کی۔ اس کی بھی چند مثالیں سن لیجئے۔
- الف...... مولانا عبدالکریم مباہلہ نے مرزا محمود پر بدکاری کا الزام لگایا۔ اسے بار بار مباہلہ کا چیلنج دیا اور اس کے لئے مباہلہ نامی اخبار جاری
کیا۔ مرزا محمود نے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے بجائے مولانا عبدالکریم کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔ ان کا مکان جلا دیا گیا۔ ان پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا اور بالآخر ان کو قادیان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اگر مرزا محمود میں حق وصداقت کی کوئی رمق تھی تو اس نے مولانا عبدالکریم مباہلہ کا چیلنج کیوں قبول نہیں کیا۔ مولانا عبدالکریم مرحوم کی بہن سکینہ، جو مرزا محمود کے گناہ کا تختہ مشق بنی، شاید آج بھی زندہ ہے۔
- ب...... عبدالرحمن مصری مرزا محمود کا ایسا وفادار اور مقرب مرید تھا کہ مرزا محمود کی غیر حاضری میں وہ قادیان میں قائم مقام خلیفہ تک بنایا
گیا۔ غالباً ۱۹۳۶ء میں مرزا محمود نے اس کے لڑکے کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ عبدالرحمن مصری نے مرزا محمود سے اس معاملہ کی تحقیقات کے لئے جماعت کے چند سرکردہ افراد پر مشتمل کمیشن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے سامنے وہ اپنے الزامات ثابت کر سکے۔ مرزا محمود نے اس مطالبہ کو تسلیم کرنے کے بجائے عبدالرحمن مصری اور اس کے ساتھی فخرالدین ملتانی کو ظلم وجور کا نشانہ بنایا۔ ملتانی کو قتل کر دیا گیا اور مصری پر نقص امن کے تحت مقدمات دائر کر دیئے گئے۔ عبدالرحمن مصری نے عدالت عالیہ لاہور میں بیان دیتے ہوئے کہا: ”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“
(تاریخ محمودیت کے پوشیدہ اوراق ص ۳۹، ۴۰)
عبدالرحمن مصری نے مرزا محمود کے نام ایک خط میں یہ بھی لکھا تھا: ”میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔ کیونکہ مجھے مختلف ذرائع سے یہ علم ہو چکا ہے کہ آپ جنبی ہونے کی حالت میں ہی بعض دفعہ نماز پڑھانے آجاتے ہیں۔“
(تاریخ محمودیت کے پوشیدہ اوراق ص ۱۲۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان تمام غلیظ الزامات کے باوجود مرزا محمود کو عبدالرحمن مصری کا سامنا کرنے کی جرأت نہ ہوئی اور اسے مصری کی دعوت کو قبول کرنا موت سے بدتر نظر آیا۔ کیا اس سے کھلے طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس کا انگ انگ اور بند بند نجس تھا اور کیا اس کے بعد بھی کسی عقلمند کو اس کے جھوٹا اور نجس ہونے میں کوئی شبہ رہ سکتا ہے؟
- ج...... پھر آپ ہی کی جماعت کے ایک منحرف گروہ نے حقیقت پسند پارٹی تشکیل دی جس نے مرزا محمود پر سنگین اخلاقی الزامات عائد
کئے۔ انہوں نے ”تاریخ محمودیت“ نامی کتاب لکھی جس میں مرزا محمود کی بدکاریوں پر ۲۸؍ قادیانی مردوں اور عورتوں کی مؤکد بعذاب حلفیہ شہادتیں قلمبند کی گئیں اور ان حلفیہ شہادتوں میں یہاں تک لکھا گیا کہ مرزا محمود اپنی بیٹیوں کی بھی عصمت دری کرتا ہے اور یہ کہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بیوی سے بدکاری کراتا ہے۔ تاریخ محمودیت میں مرزا محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا گیا اور ان مؤکد بعذاب حلفیہ شہادتوں کے مقابلہ میں اس سے مؤکد بعذاب حلف اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔
پھر یہی مضمون راحت ملک کی کتاب ”ربوہ کا مذہبی آمر“ میں شفیق مرزا کی کتاب ”شہر سدوم“ میں اور مرزا محمد حسین بی .کام کی کتاب ”منکرین ختم نبوت کا انجام“ میں دہرایا گیا اور مرزا محمود سے حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ ان واقعات کی تردید کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن مرزا محمود نے ان میں سے کسی چیلنج کا جواب نہ دیا اور اس پر سکوت مرگ طاری رہا۔ البتہ اپنے بھولے بھالے خوش عقیدہ مریدوں کو ان کتابوں کے نہ پڑھنے کا سرکاری فرمان جاری کر دیا۔ کیا اہل عقل اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کریں گے کہ مرزا محمود کے اخلاقی خط و خال وہی تھے جو ان کتابوں میں حلفیہ شہادتوں کے ذریعہ بار بار دہرائے گئے ہیں۔ مرزا طاہر صاحب! کیا اسی خاندانی تقدس کے بل بوتے پر آپ علمائے وقت کو مباہلہ کی دعوت دینے چلے ہیں؟
مرزا طاہر صاحب! اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ کے باپ پر ”حقیقت پسند پارٹی“ کے الزامات غلط ہیں تو آپ نے ان کے مطالبہ کے مطابق حلف مؤکد بعذاب اٹھا کر ان الزامات کی تردید کرنے اور مباہلہ کرنے کی جرأت آج تک کیوں نہیں کی؟
- د...... آپ کی جماعت میں کسی اور کو معلوم ہو یا نہ ہو لیکن آپ کو تو یقیناً معلوم ہوگا کہ آپ کے ابا کی موت کس عبرتناک حالت میں
ہوئی اور وہ اپنی زندگی کے آخری گیارہ سالوں میں ایک طویل عرصہ تک کس طرح مرقع عبرت بنا رہا۔ خصوصاً اس کے آخری دو ایام میں اس کی کیفیت کیا تھی؟ اور اس کی موت کیسی عبرتناک ہوئی۔
اور پھر یاد ہوگا کہ آپ کے بڑے بھائی مرزا ناصر کی ناگہانی موت کس طرح واقع ہوئی۔ آپ کے اسلام آباد کے قصر خلافت کے سامنے ہونے والے جلسہ میں شیر ختم نبوت رفیق محترم جناب مولانا اللہ وسایا زید مجدہ نے آپ کی ہمشیرہ صاحبہ کا جو خط پڑھ کر سنایا تھا اس کا کیا مضمون تھا جس کو سن کر مرزا ناصر صدمہ کی تاب نہ لا سکا اور یکا یک اس پر دل کا دورہ پڑا۔ مرزا طاہر صاحب! کیا اپنے بھائی اپنے باپ اور اپنے دادا کی عبرتناک موتوں کو بچشم خود دیکھنے اور سننے کے بعد بھی آپ کے لئے کسی مزید سامان عبرت کی ضرورت ہے؟ کہ آپ علمائے امت سے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟ کیا آپ یہ دعا کرنے کی جرأت کریں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے باپ اور دادا کی سی موت نصیب کرے؟
- ہ...... رفیق محترم جناب مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی مدظلہ العالی آپ کے ابا مرزا محمود کو اس کی زندگی میں ہر سال مباہلہ کی دعوت
دیتے رہے۔ اس کی عبرتناک موت کے بعد آپ کے بھائی مرزا ناصر کو ہر سال مباہلہ کا چیلنج دیتے رہے اور اس کی ناگہانی موت کے بعد خود آپ کو بھی التزام کے ساتھ ہر سال مباہلہ کی کھلی دعوت دیتے رہے۔ انہوں نے متعدد بار ویمبلے ہال لندن میں بھی آپ کو دعوت دی لیکن
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ کے باپ کو، آپ کے بھائی کو اور خود آپ کو آج تک اس چیلنج کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ کیا اس کا صاف صاف مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اپنے اور اپنے باپ دادا کے جھوٹا ہونے کا حق الیقین ہے۔ مرزا طاہر صاحب! علمائے امت کو مباہلہ کا چیلنج دینے سے پہلے کیا آپ کا فرض نہیں تھا کہ آپ یہ تمام قرضے ادا کر دیتے جو آپ کے اور آپ کے باپ دادا کے ذمہ واجب الاداء ہیں؟
- ۷...... آپ نے اس فقیر کو مباہلہ کی دعوت دی ہے۔ یہ فقیر اس کے لئے بسروچشم حاضر ہے لیکن مباہلہ کا وہ طریقہ نہیں جو آپ نے اختیار
کیا ہے اور جس کی آپ نے علمائے امت کو دعوت دی ہے کہ وہ بھی آپ کی طرح گھر بیٹھے آپ پر لعنتیں بھیجتے رہیں اور اخباروں اور رسالوں میں لعنت کی پتنگ بازی کرتے پھریں۔ گھر بیٹھ کر چرخہ چلانا عورتوں کا مشغلہ ہے اور کاغذی پتنگ بازی بچوں کا کھیل ہے۔
مباہلہ کا طریقہ وہ ہے جو قرآن کریم نے آیت مباہلہ میں بیان فرمایا ہے کہ دونوں فریق اپنی عورتوں، بچوں اور اپنے متعلقین کو لے کر میدان میں نکلیں۔ چنانچہ اس آیت کی تعمیل میں آنحضرت ﷺ نصاریٰ نجران کے مقابلے میں نکلے اور ان کو نکلنے کی دعوت دی اور خود آپ کا دادا مرزا غلام احمد قادیانی، حضرت مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم ومغفور کے مقابلہ میں عید گاہ امرتسر کے میدان میں نکلا۔ اگر آپ اس فقیر کو مباہلہ کی دعوت دینے میں سنجیدہ ہیں تو بسم اللہ! آئیے! مرد میدان بن کر میدان مباہلہ میں قدم رکھئے۔ تاریخ، وقت اور جگہ کا اعلان کر دیجئے کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت فلاں جگہ مباہلہ ہوگا۔ پھر اپنے بیوی بچوں اور متعلقین کو ساتھ لے کر مقررہ وقت پر میدان مباہلہ میں آئیے۔ یہ فقیر بھی ان شاء اللہ اپنے بیوی بچوں اور متعلقین کو ساتھ لے کر وقت مقررہ پر پہنچ جائے گا اور بندہ کے خیال میں مباہلہ کے لئے درج ذیل تاریخ، وقت اور جگہ سب سے زیادہ موزوں ہوگی۔
تاریخ: ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء دن: جمعرات وقت: دو بجے بعد از نماز ظہر جگہ: مینار پاکستان لاہور
میں نے اس کو بہترین تاریخ، وقت اور جگہ اس لئے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ آپ کے دادا مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲۳؍ مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں اپنی دجالی بیعت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ گویا ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء کی تاریخ آپ کے مسیح دجال کی صد سالہ تقریب ہے اور اس نے لدھیانہ میں سلسلہ بیعت کا آغاز کیا تھا، میدان مباہلہ میں آپ کا مقابلہ بھی لدھیانوی سے ہوگا۔ اس طرح باب لد پر مسیح دجال کو قتل کیا جائے گا۔ ظہر کے بعد کا وقت میں نے اس لئے تجویز کیا کہ حدیث نبوی کے مطابق اس وقت فتح ونصرت کی ہوائیں چلتی ہیں اور جگہ کے لئے مینار پاکستان کا تعین اس لئے کیا ہے کہ پاکستان میں اس سے بہتر اور کشادہ جگہ اجتماع کے لئے شاید کوئی اور نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں ۲۳؍ مارچ کی تاریخ یوم پاکستان بھی ہے۔ یوم پاکستان کو مینار پاکستان پر اجتماع نہایت مناسب ہے۔ تاہم مجھے اس تاریخ، وقت اور جگہ پر اصرار نہیں بلکہ تاریخ، وقت اور جگہ کی تعین کو آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔ آپ جو تاریخ، وقت اور پاکستان میں مقام مباہلہ مناسب سمجھیں، تجویز کر کے مجھے اطلاع دیں۔
یہ فقیر امت محمدیہ کا ادنیٰ ترین خادم ہے اور آپ چشم بددور امام جماعت احمدیہ ہیں۔ اس فقیر کو اپنے ضعف وقصور کا اعتراف ہے اور آپ کو اپنی امامت وزعامت اور تقدس پر ناز ہے لیکن الحمد للہ! ثم الحمد للہ! یہ فقیر آنحضرت ﷺ کے غلاموں کا ادنیٰ غلام ہے اور آپ جھوٹے مسیح کے جانشین ہیں۔ یہ فقیر، سید دوعالم ﷺ کے دامن رحمۃ للعالمین سے وابستہ ہے اور آپ دور حاضر کے مسلمہ کذاب کے دم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پتلہ ہیں ۔ یہ فقیر اپنی نالائقی کا اعتراف تقصیر لے کر میدان مباہلہ میں قدم رکھے گا ۔ آپ اپنی امامت و زعامت اور تقدس پر ناز کرتے ہوئے آئیے ۔ میں حضرت خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کا علم اٹھائے ہوئے آؤں گا۔ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت و مسیحیت کا سیاہ جھنڈا لے کر آئیے ۔
آئیے ! اس فقیر کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں قدم رکھئے اور پھر میرے مولائے کریم کی غیرت وجلال اور قہری تجلی کا کھلی آنکھوں تماشا دیکھئے ۔ آنحضرت ﷺ نے نصاریٰ نجران کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر وہ مباہلہ کے لئے نکل آتے تو ان کے درختوں پر ایک پرندہ بھی زندہ نہ بچتا ۔
آئیے ! آنحضرت ﷺ کے ایک ادنیٰ امتی کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں نکل کر آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ایک بار پھر دیکھ لیجئے ۔
اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے اس سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے۔ اپنے باپ دادا کی طرح ذلت کی موت مرنا پسند کریں گے لیکن آنحضرت ﷺ کے اس نالائق امتی کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں اترنے کی جرأت نہیں کریں گے ۔
- ۸...... یہ ذکر کر دینا ضروری ہے کہ اس ناکارہ کو یا دیگر علمائے امت کو آپ سے یا آپ کے باپ دادا سے کوئی ذاتی عناد نہیں ۔ نہ کسی
جائیداد کا جھگڑا ہے نہ کسی ریاست کا تنازعہ ہے۔ واللہ العظیم ! ہم آپ کے خیر خواہ ہیں اور نہایت دردمندی و دل سوزی سے چاہتے ہیں کہ آپ دوزخ کی آگ سے بچ جائیں ۔ مرزا قادیانی کے دجل وفریب اور مکاری وعیاری کی دھجیاں اس لئے بکھیرتے ہیں تاکہ امت محمدیہ کے ایمان کو بچایا جا سکے اور آپ کی جماعت کے افراد کو دوزخ کی جلتی آگ سے نکالا جاسکے ۔ خدا شاہد ہے کہ ہمارا یہ عمل محض رضائے الہی کے لئے اور آپ کی اور امت محمدیہ کی خیر خواہی کے لئے ہے ۔ ہماری یہ خیر خواہی آپ لوگوں کو مرنے کے بعد معلوم ہوگی ۔ میں آج پھر آپ سے اور آپ کی جماعت کے ایک ایک فرد سے نہایت اخلاص وخیر خواہی اور دل سوزی و دردمندی کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ لوگ راستے سے بھٹک گئے ہیں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود نہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے جس مسیح کے قرب قیامت میں آنے کی خبر دی ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا: ”خبردار! کوئی تم کو گمراہ نہ کردے ۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے ۔“
(متی باب :۲۴، آیت : ۴، ۵)
مرزا غلام احمد قادیانی بھی انہی لوگوں میں سے تھا جنہوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کر کے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یا آپ لوگوں نے جو تاویلات ایجاد کر رکھی ہیں وہ محض نفس وشیطان کا دھوکہ ہے۔ یہ تاویلیں نہ قبر میں منکر نکیر کے آگے چلیں گی اور نہ فردائے قیامت میں اور محشر کے سامنے کام دیں گی ۔
مرزا طاہر صاحب! آپ کے لئے اپنی امامت و امارت اور خاندانی گدی کو چھوڑ کر حق کا راستہ اختیار کرنا بے شک مشکل ہے لیکن اگر آپ محض رضائے الہی کے لئے حق کو اختیار کر لیں تو حق تعالیٰ شانہ آپ کو دنیا و آخرت میں اس کا ایسا بہترین بدلہ عطاء فرمائیں گے کہ اس کے مقابلہ میں آپ کی موجودہ ریاست و امارت ہیچ در ہیچ ہے اور اگر آپ نے ریاست کو حق پر ترجیح دی تو مرنے کے بعد ایسی ذلت اور ایسے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا جس کے سامنے موجودہ عزت و وجاہت لغو لا یعنی ہے ۔ میں آپ کی جماعت کے تمام افراد سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے توبہ کرلیں اور میں آپ کو، آپ کی جماعت کو اور ان تمام افراد کو جن کی نظر سے میری یہ تحریر گزرے، گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حق وصداقت کا پیغام آپ تک پہنچا دیا ۔ کسی شخص کے دل میں حق طلبی کا جذبہ ہو اور وہ اپنا اطمینان چاہتا ہو تو اس کو سمجھانے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے لئے تیار ہوں۔
- ۹...... آپ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ میں اپنا جواب اخباروں اور رسالوں میں شائع کردوں۔ جہاں تک میرے امکان میں ہے
میں نے اشاعت کی کوشش کی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو اپنے اخبارات و رسائل میں میرا جواب شائع کراسکتے ہیں۔
- ۱۰...... میں نے آپ کو میدان مباہلہ میں اترنے کی جو دعوت دی ہے چار مہینے تک اس کے جواب کی مہلت دیتا ہوں اور جواب کے لئے
آخری تاریخ یکم جنوری ۱۹۸۹ء مقرر کرتا ہوں۔
- ۱۱...... میرا خیال ہے کہ آپ نے دیگر اکابر علماء کے نام بھی مباہلہ کا چیلنج بھیجا ہوگا۔ اس لئے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ علمائے
امت کے اس خادم کا جواب سب کی طرف سے تصور فرمائیں۔ ہر ایک کو فرداً فرداً زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں۔
سبحانک اللہم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج۷ نمبر ۷ ص۱۰ تا۱۳،مؤرخہ ۲۳ تا۲۹/ستمبر۱۹۸۸ء)
(۹) مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط
(منجانب: ابوعمار زاہد الراشدی، سیکرٹری اطلاعات مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان)
جناب مرزا طاہر احمد صاحب سربراہ قادیانی جماعت
السلام علی من اتبع الہدی
جمعیتہ علماء اسلام پاکستان کے آرگن ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے ایڈیٹر کے نام لندن سے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعہ آپ کی طرف سے مباہلہ کے اس مطبوعہ چیلنج کی ایک کاپی موصول ہوئی ہے جو پاکستان کے متعدد دیگر حضرات کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ اس مطبوعہ دعوت مباہلہ کا عنوان یہ ہے: ’’جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے دنیا بھر کے معاندین اور مکفرین اور مکذبین کو مباہلہ کا کھلا چیلنج‘‘ اس کے ساتھ قادیانی جماعت کی برطانیہ شاخ کے پریس سیکرٹری رشید احمد چوہدری کے دستخط کے ساتھ ایک الگ چٹھی بھی ملفوف ہے۔ جس میں مباہلہ کے اس چیلنج کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے یہ لکھا گیا ہے کہ: ’’اگر آپ بدستور اپنے معاندانہ مؤقف پر قائم ہیں تو آپ کو جماعت احمدیہ کی طرف سے باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے کہ آپ اس چیلنج کو بغور پڑھ کر پوری جرأت کے ساتھ اس کو قبول کرنے کا اعلان عام کریں اور ہر ممکنہ ذریعہ سے اس کی تشہیر کریں۔‘‘
یہ دعوت مباہلہ سرکردہ حضرات کو بھجوانے کے علاوہ آپ کی جماعت نے عام تقسیم کا بھی اہتمام کیا ہے۔ اس لئے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ کھلے خط کے ذریعہ آپ کی دعوت مباہلہ کا جواب دیا جائے تاکہ عام مسلمان بھی جن تک اس دعوت مباہلہ کی کاپیاں مختلف ذرائع سے پہنچائی گئی ہیں اس کی حقیقت سے آگاہ ہوسکیں۔ ہمارے نزدیک اس نئی مہم کا اصل پس منظر یہ ہے کہ سیالکوٹ کے مبلغ ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی کے اغواء کے بعد ان کے اغواء کے کیس میں آپ کو شامل تفتیش کرنے کے عوامی مطالبہ کے باعث آپ نے پاکستان چھوڑ کر لندن چلے جانے میں عافیت سمجھی اور اسی وجہ سے اب تک وہیں مقیم ہیں لیکن آئندہ سال قادیانی جماعت کے صد سالہ جشن کو اپنے عزائم اور خواہشات کے مطابق منانے کے لئے پاکستان واپسی کو آپ ناگزیر سمجھ رہے ہیں اور اسی واپسی کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے مولانا محمد اسلم قریشی کی اچانک برآمدگی کا ڈرامہ رچانے کے علاوہ دعوت مباہلہ کی وسیع پیمانہ پر تقسیم و اشاعت کی جارہی ہے۔ جس کا مقصد تحریک ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے قائدین کے خلاف نفرت پھیلا کر پاکستان کی رائے عامہ کو تذبذب اور بے یقینی کا شکار بنانا ہے تا کہ وطن واپسی کی صورت میں آپ کو اس ردعمل سے دو چار نہ ہونا پڑے۔ جس کا خوف آپ کو ابھی تک لندن میں روکے ہوئے ہے۔ ورنہ اس مرحلہ میں مباہلہ کے نئے چیلنج اور اس کی اس پیمانے پر تشہیر و تقسیم کی اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
جہاں تک مباہلہ کی دعوت کا تعلق ہے اس بات کو بھی آپ بخوبی سمجھتے ہیں کہ یہ عنوان عام لوگوں کو فکری تذبذب اور انتشار کا شکار بنانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ورنہ مناظروں اور مباہلوں کے مراحل سے آپ کی جماعت کئی بار گزری ہے اور انہی کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے پہلے بھی آپ کی جماعت نے مناظرہ اور مباہلہ کے میدان میں نہ آنے کی پالیسی ایک عرصہ سے اختیار کر رکھی تھی۔ مباہلہ کا چیلنج آپ کے آنجہانی دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں کئی حضرات کو دیا تھا اور ہر بار ناکامی ان کے حصہ میں رہی۔ ان میں سے آخری اور فیصلہ کن مباہلہ کا حوالہ دینا ضروری معلوم ہوتا ہے جس کا چیلنج مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۷ء میں تحریک ختم نبوت کے ممتاز راہنما اور معروف اہل حدیث عالم دین مولانا ثناء اللہ امرتسری کو دیا تھا۔ یہ چیلنج ۱۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک مطبوعہ اشتہار کے ذریعہ دیا گیا جس کا عنوان تھا: ’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ اور اس میں مرزا آنجہانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری سے مخاطب ہو کر لکھا تھا کہ: ’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ کے امراض مہلکہ سے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۷۸)
یہ مباہلہ کا آخری چیلنج تھا جو مرزا غلام احمد قادیانی نے دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا صاحب اس سے صرف ایک سال بعد ہیضہ کی بیماری میں انتقال کر گئے۔ جب کہ مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کے بعد کم و بیش چالیس سال تک بقید حیات رہے اور قادیانیت کے خلاف مسلسل مصروف عمل رہے۔ ممکن ہے آنجناب اس سلسلہ میں اپنی جماعت کی اس گھسی پٹی دلیل کا سہارا لیں کہ مرزا قادیانی آنجہانی کی ہیضہ کی بیماری میں وفات کی بات درست نہیں ہے۔ اس لئے مرزا صاحب آنجہانی کے خسر میر نواب ناصر کی خودنوشت سوانح حیات میں سے یہ اقتباس نقل کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جس میں نواب ناصر نے مرزا صاحب کی وفات سے پہلے کا حال ان الفاظ میں ذکر کیا ہے: ’’حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے آپ کا انتقال ہو گیا۔‘‘
(حیات ناصر ص ۱۴)
اس فیصلہ کن مباہلہ کے بعد اب مزید کسی مباہلہ کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی جماعت نے اس کے بعد مباہلہ کے میدان سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لی۔ حتیٰ کہ تحریک ختم نبوت کے ایک ممتاز رہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج ابھی تک آپ کی جماعت کے ذمہ قرض چلا آتا ہے جو انہوں نے آپ کے آنجہانی والد مرزا بشیر الدین محمود کو ان کی سربراہی کے دور میں دیا تھا اور یہ چیلنج انفرادی حیثیت سے نہیں تھا بلکہ ملک کی چار اہم دینی جماعتوں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان، مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، جمعیۃ اشاعت التوحید والسنۃ پاکستان اور تنظیم اہل سنت پاکستان کے قائدین حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا غلام اللہ خان اور حضرت مولانا دوست محمد قریشی نے مولانا چنیوٹی کو اپنی جماعتوں کا نمائندہ قرار دے کر ان کی فتح و شکست کو اپنی فتح و شکست تسلیم کرنے کا تحریری اعلان کیا تھا۔ یہ چیلنج مرزا بشیر الدین محمود کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعہ متعدد بار بھجوانے کے علاوہ مذکورہ بالا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہنماؤں کی تائید وتوثیق کے ساتھ مطبوعہ صورت میں بھی مسلسل تقسیم اور شائع ہوتا رہا ہے۔مگر آپ کے آنجہانی والد نے آخر دم تک اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد یہ چیلنج ان کے جانشین اور آپ کے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد کو بھجوایا گیا۔ انہوں نے بھی قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد آپ کے سربراہ بننے کے بعد آپ کو تسلسل کے ساتھ بھجوایا جا رہا ہے۔مگر آپ نے بھی اسے قبول کرنے کی بجائے اپنی طرف سے مباہلہ کا نیا چیلنج دے دیا ہے جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اصل مقصد مباہلہ نہیں بلکہ اس کے پردے میں کچھ اور مقاصد کا حصول ہے۔
جناب مرزا طاہر احمد صاحب ! اگر آپ کا مقصد صرف مباہلہ ہوتا تو اس کے لئے اس قدر تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ محض یہ عنوان کافی تھا کہ قادیانی مذہب کے حق یا باطل ہونے پر مباہلہ کر لیا جائے۔ باقی تمام تفصیلات اس اصولی بات کے ضمن میں خود بخود آ جاتی ہیں مگر آپ نے دعوت مباہلہ کے حوالہ سے بہت سی ایسی باتوں کو الزامات قرار دے کر انہیں متنازعہ اور مشکوک ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے جن کا حقیقت واقعہ پر مبنی ہونا ناقابل تردید دلائل کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے۔ آپ کی دعوت مباہلہ میں جن امور کو الزامات قرار دے کر ان کی صداقت کو مشکوک ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان سب کی نوعیت یکساں ہے۔ مگر ان میں سے بطور نمونہ چند امور ذکر ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ان کے الزام یا حقیقت ہونے کی بات پوری طرح واضح ہو سکے۔
مرزا قادیانی کا دعویٰ خدائی: آپ نے مباہلہ کے چیلنج میں لکھا ہے کہ یہ بات قادیانی جماعت پر الزام ہے کہ مرزا قادیانی نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر یہ الزام نہیں خود مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی عبارت کا خلاصہ ہے جو انہوں نے یوں تحریر کی ہے کہ: ”میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں جس نے آسمان تخلیق کیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴، خزائن ج ۵ ص ایضاً)
محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل ہونے کا دعویٰ: آپ نے اس بات کو بھی الزامات میں شمار کیا ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کا رتبہ (معاذ اللہ) جناب رسالت مآب محمد رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ہے۔ مگر جناب یہ بھی الزام نہیں حقیقت ہے اور آپ کے اخبار ”پیغام صلح“ مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہونے والے یہ اشعار اس کی گواہی دیتے ہیں کہ ؎
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
ختم نبوت کا انکار: آپ نے اس حقیقت کو بھی الزام دینے کی کوشش کی کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے سے انکار کیا ہے اور خود نبوت کا دعویٰ کر کے عقیدۂ ختم نبوت کی نفی کی ہے۔ مگر آپ کے آنجہانی دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کے بارے میں کیا لکھا ہے صرف تین حوالے ملاحظہ کر لیں:
- ۱...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء، مجموعہ ملفوظات احمدیہ ج ۱۰ ص ۱۲۷)
- ۲...... ”جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ۱۶۳، خزائن ج ۲۲ ص ۱۶۷)
- ۳...... ”مجھے وحی میں محمد رسول اللہ قرار دیا گیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۷)
انگریز کے کہنے پر جہاد کی مخالفت: جناب مرزا طاہر احمد ! آپ نے اس حقیقت کو بھی الزام کا عنوان دے کر دھندلا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے فرنگی حکمرانوں کے اشارے پر جہاد کی مخالفت کی تھی اور باشندگان وطن کو فرنگی سامراج کے خلاف جہاد اور تحریک آزادی سے روکنے کی مہم چلائی تھی۔ مگر یہ بھی الزام نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف مرزا صاحب آنجہانی کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنی تحریروں میں جا بجا ملتا ہے۔ مثلاً ایک جگہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں۔ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص۱۵، خزائن ج۱۵ ص۱۵۵)
ایک اور جگہ مرزا صاحب یوں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ: ”بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیا، میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔“
(ضمیمہ شہادۃ القرآن ص۳، خزائن ج۶ ص۳۸۰)
جب کہ پنجاب کے انگریز گورنر کے نام ایک درخواست میں مرزا صاحب رقمطراز ہیں کہ: ”صرف التماس یہ ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت نرم اور احتیاط و تحقیق اور توجہ سے کام لے۔“
(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۱)
پاکستان کے خلاف: آپ نے اس امر واقعہ پر بھی ”الزام“ کے عنوان سے پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ قادیانی جماعت نے پاکستان بن جانے کے بعد بھی اسے قبول نہیں کیا اور اس خداداد مملکت کو ختم کر کے دوبارہ متحدہ بھارت کا قیام اس جماعت کے مقاصد میں شامل ہے۔ مگر آپ کے آنجہانی والد مرزا بشیر الدین محمود کا یہ اعلان آپ ہی کی جماعتی اخبار ”الفضل“ کے ریکارڈ کا آج بھی حصہ ہے کہ: ”یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائیں۔“
(الفضل قادیان مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۴۷ء)
اسرائیل کے ساتھ تعلقات: آپ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور اسرائیل میں قادیانی مشن کی موجودگی کو بھی ”الزام“ قرار دیا ہے۔ مگر دیگر شواہد سے قطع نظر پاکستان کے موقر اخبار روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۱۶؍جنوری ۱۹۸۶ء کے اخبار میں اسرائیل کے صدر کے ساتھ قادیانی جماعت کی اسرائیلی شاخ کے سابق صدر شیخ محمد شریف کی ملاقات کی تصویر شائع کر کے اس حقیقت کو واشگاف کر دیا ہے جس میں شیخ محمد شریف اسرائیل میں قادیانی مرکز کے نئے سربراہ شیخ حمید کا اسرائیلی صدر کے ساتھ تعارف کرا رہے ہیں۔
اسلم قریشی اغواء کیس: جناب مرزا طاہر صاحب! آپ نے اپنی اس مطبوعہ دعوت مباہلہ کے ذریعہ مولانا محمد اسلم قریشی کے اغواء کے الزام سے بھی دامن چھڑانا چاہا ہے اور اسی مقصد کے لئے مباہلہ کے چیلنج کے ساتھ ساتھ مولانا اسلم قریشی کی اچانک برآمدگی کا ڈرامہ بھی رچایا گیا ہے۔ مگر آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ تیر جو آپ کی کمان سے نکل چکا ہے اپنے ہدف کی صلابت، چمک اور حرارت کی تاب نہ لا کر آپ ہی کی طرف واپس آ گیا ہے۔ کیونکہ مولانا محمد اسلم قریشی نے برآمدگی کے بعد ۳۰؍جولائی ۱۹۸۸ء کو سیالکوٹ کے مجسٹریٹ کی عدالت میں بیان دے کر اس سارے ڈرامے کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ: ”مجھے مرزا طاہر احمد نے اغواء کرایا تھا اور میں مسلسل قادیانیوں کی حراست میں رہا ہوں۔ جہاں مجھ پر تشدد کیا جاتا رہا ہے۔ مجھے جن تہہ خانوں میں رکھا گیا ہے ان میں اسلحہ کے ذخیرے موجود ہیں۔ مجھ سے آئی جی پولیس کی پریس کانفرنس میں جو بیان دلوایا گیا ہے وہ میرا نہیں بلکہ پولیس کا بیان ہے اور میں اپنی رہائی اور مرزا طاہر احمد کی گرفتاری کے بعد سارے حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا۔“
(بحوالہ جنگ لاہور مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۸۸ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ کے ذکر کردہ الزامات میں سے چند کا بطور نمونہ حوالہ دینے کے بعد اب میں ”دعوت مباہلہ“ کی طرف آتا ہوں جسے پاکستان کے متعدد علماء اور رہنماؤں نے قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل تین حضرات بطور خاص قابل ذکر ہیں:
- ۱...... مولانا منظور احمد چنیوٹی سیکرٹری اطلاعات جمعیۃ علماء اسلام پاکستان۔
- ۲...... مولانا عزیز الرحمن جالندھری سیکرٹری جنرل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔
- ۳...... پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری سربراہ ادارہ منہاج القرآن لاہور۔
اگرچہ آپ کی دعوت مباہلہ کے مخاطبین میں میرا شمار بھی ہوتا ہے مگر میں اسے قبول کرنے میں علیحدہ حیثیت اختیار کرنے کی بجائے انہی تین حضرات پر مکمل اعتماد کے اظہار کے ساتھ آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ ان تینوں ذمہ دار مذہبی رہنماؤں یا ان میں سے کسی ایک کی جوابی دعوت کو آپ قبول کرنے کا اعلان کریں۔ آپ ان میں سے جس بزرگ کے ساتھ مباہلہ کے لئے آمادگی کا اظہار کریں گے مجھے ان کی رفاقت کے لئے موجود پائیں گے۔ آگے بڑھئے اور مباہلہ کے میدان میں آئیے۔ تاکہ دنیا کے لوگ ایک بار پھر حق کی فتح اور باطل کی عبرت ناک شکست کا نظارہ کرسکیں۔ والسلام علی من اتبع الہدی! ابوعمار زاہد الراشدی گوجرانوالہ
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد مؤرخہ ۱۳؍ اگست ۱۹۸۸ء ص ۵ تا ۹)
(۱۰) بمبئی سے قادیانی فتنے کے سربراہ مرزا طاہر کے نام خط
(از: مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب، دارالعلوم امدادیہ بمبئی انڈیا)
اما بعد ! جناب مرزا طاہر صاحب! آپ کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج موصول ہوا جس پر نہ تاریخ تحریر درج ہے نہ تاریخ روانگی۔
دعوت مباہلہ پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی۔
میرے لئے یہ قابل فخر اعزاز ہے کہ مسیلمہ پنجاب کے جانشین مسیلمہ کذاب کے مخصوص عقائد ونظریات اور ان پر مبنی ”جدید مذہب قادیانیت“ جو انگریزوں کا ”خودکاشتہ پودا اور فرنگی سامراج کا ساختہ پرداختہ“ ہے اس کے مخالفین میں میرا بھی شمار ہو۔ فالحمدللہ!
جسے بھی اللہ رب العزت نے عقل سلیم سے نوازا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ قادیانیت کی تردید دراصل اسلام کا دفاع اور حضور ختمی مرتبت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ ختم نبوت اور آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ایمان کا وہ بنیادی جزو ہے جس کے خلاف کوئی بھی دعویٰ اور اس کی تائید و تصدیق یا اس سلسلے میں کسی قسم کا تردد و تذبذب بلا تاویل و تخصیص کے صریح کفر اور ارتداد ہے۔ اس صورتحال کے مطابق ختم نبوت کا دفاع یقیناً میرے لئے آخرت میں سرخروئی کا باعث بنے گا۔ بفرض محال میرے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ہو تب بھی مسیلمہ پنجاب اور اس کے سامراجی آقاؤں کے بنائے ہوئے عیسویت کے اس ہندی ایڈیشن کی تردید ان شاء اللہ میری نجات کے لئے بہت کافی ہے۔ رہ گیا مباہلہ کا معاملہ تاریخ قادیانیت تو یہ بتاتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی سے لے کر آج تک مرزا اور اس کے جانشینوں نے صرف اور صرف چیلنج ہی چیلنج کئے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
بجز مولوی عبدالحق مرحوم کے مقابلے کے تاحیات بڑے مرزا جی یعنی غلام فرنگ مرزا قادیانی کو بھی مباہلہ کے نام پر کبھی کسی کے سامنے آنے کی ہمت نہ ہوئی اور مولانا عبدالحق مرحوم کے ساتھ مباہلہ کا نتیجہ سامنے ہے۔ خود اپنے بتلائے ہوئے اس معیار کے مطابق کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ مولانا عبدالحق کی زندگی ہی میں باقرار خود مرزا آنجہانی مرض وبائی ہیضہ اور بقول خود ”لعنتی موت“ مر کر اپنے کذب پر آپ مہر تصدیق ثبت کر گیا اور یہی ”لعنتی موت“ مرزائے آنجہانی کے لئے مولانا ثناء اللہ امرتسری کے مقابلے میں آخری فیصلہ والی دعا کے مطابق مرزا کے کذب وافتراء کا واضح نشان اور لعنتی موت ڈاکٹر عبدالحکیم مرحوم کے بالمقابل واضح شکست اور پوری امت مرزائیہ کے لئے تازیانہ عبرت ثابت ہوئی ہے۔
اس کے بعد مرزا بشیر الدین محمود کو مباہلہ اخبار والے اور خود معتقدین کے ایک حلقے کے بعض ممتاز افراد مثلاً مولوی عبدالرحمٰن مصری وغیرہ نے بارہا مباہلہ کے لئے للکارا مگر قبول کی توفیق نہ ہوئی۔ (مولوی عبدالرحمٰن مصری کے چیلنج کی وجہ سے آپ بھی بخوبی واقف ہوں گے کہ بشیر الدین کے کریکٹر پر سخت الزامات تھے جن کی صفائی تک ممکن نہ ہوسکی) مخالفین نے ثبوت وشہادت پیش کر کے حلف مؤکد بعذاب یا مباہلہ کا مطالبہ کیا۔ مگر بشیر الدین محمود نے کوئی صورت قبول نہ کی۔ مرزا ناصر نے بھی یہ ہمت نہ کی جب کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے آپ کے آنجہانی والد کو مباہلہ کا جو چیلنج دیا تھا وہ مرزا ناصر کے دور میں بھی جوں کا توں برقرار تھا اور آج تک اسی طرح برقرار ہے۔ خود جناب والا بھی اس چیلنج کو قبول نہ کر سکے۔ آپ شاید خود اپنی اس تاریخ سے ناواقف ہیں یا پھر اپنے اسلاف کی طرح محض چیلنج بازی کر کے معتقدین اور دام افتادگان قادیانیت پر بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ حضرات کی تاریخ کے اس پس منظر میں اگر ہم یہ سمجھیں کہ آپ اس چیلنج کے باوجود سامنے آنے کی ہمت نہ کریں گے تو بے جا نہ ہوگا۔ پھر بھی میری دعا ہے کہ آپ مباہلہ کے لئے سامنے آجائیں تاکہ خود اپنی آنکھوں سے باطل کی شکست کا مظاہرہ اور بچشم خود قادیانی فریب کی لعنت کا انجام دیکھ سکیں اور شاید اس طرح دام افتادگان کو ہدایت نصیب ہوجائے۔ لہٰذا واضح اعلان کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کذاب، دجال، مرتد، ضال ومضل اور قادیانیت نبوت محمدی ﷺ کے خلاف ایک بغاوت ہے اور اس اعلان کے ساتھ میں آپ کے مباہلہ کا یہ چیلنج قبول کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں۔ پھر واضح لفظوں میں کہتا ہوں کہ آپ کا یہ چیلنج مجھے منظور ہے لیکن انسانی ہمدردی کے نقطۂ نظر سے میں پہلے یہ دعوت دیتا ہوں کہ مرزا قادیان اور سامراجیوں کے لگائے ہوئے اس جال سے نکل کر آنجہانی جہنم مکانی مرزا قادیانی اور اس کے خانہ ساز عقائد ونظریات پر لعنت بھیج کر حضور رحمت اللعالمین، خاتم النبیین، محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن ہدایت سے وابستہ ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں۔ بصورت دیگر آپ اپنے چیلنج کے مطابق باقاعدہ مباہلہ کے لئے تیار رہیں۔
کفر واسلام کے درمیان یہ قطعی فیصلہ مرکز تجلیات الٰہی مہبط وحی آخر مکہ مکرمہ یا مسکن نبی آخر الزمان دار الہجرت والامان مدینہ منورہ میں ہونا چاہئے تھا لیکن چونکہ ان مقدس مقامات کو پروردگار عالم نے قیامت تک کے لئے کفر کی آلودگیوں سے محفوظ فرما دیا ہے اور کوئی مؤمن کسی کافر کا ان حدود میں داخلہ گوارہ نہ کرے گا۔ اس لئے ہم آنجناب کو یہاں کی دعوت دینے سے معذور ہیں۔ ہاں! ان کے بالمقابل ایک دوسرا مرکز بھی ہے جہاں سے اس سازشی مذہب کی ابتداء ہوئی تھی۔ کیا خوب ہو کہ اس مرکز کفر وضلال میں یہ سازش اپنے بانی کے پہلو میں ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو اس تجویز پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ کیونکہ قادیان میں قادیانی کے داخلہ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو جامع مسجد دہلی، جامع مسجد بمبئی یا جامع مسجد فیصل اسلام آباد میں کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ ہاں! یہ وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ اگر آپ اللہ کے ان گھروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں تو انتظام ہماری طرف سے رہے گا اور اگر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ اپنے مرکز قادیان کو منتخب کرتے ہیں جو آپ کے زعم باطل کے مطابق مکہ و مدینہ سے بھی افضل ہے تو انتظامات کی ذمہ داریاں آپ کو لینا ہوں گی۔ ویسے مذکورہ بالا وجہ کی بناء پر ہم کو قادیان کے انتخاب سے زیادہ خوشی ہو گی۔ مباہلہ کی جملہ تفصیلات طے کرنے کے لئے آنجناب بنفس نفیس تشریف لے آئیں یا اپنے کسی نمائندے کو روانہ فرمائیں تاکہ بالمشافہ گفتگو ہو جائے۔ اگر آپ اپنے مذہب کے لئے مال اور دولت کی اتنی قربانی نہ دے سکتے ہوں تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسٹاک ویل گرین لندن سے رابطہ قائم کر کے مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف متالا اور وہاں کے دیگر ذمہ دار حضرات سے نوعیت مقام، وقت وغیرہ جملہ تفصیلات طے کر لیں چونکہ میں اس مباہلہ کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتا ہوں۔ اس لئے آنجناب سے گزارش کروں گا کہ آپ اپنے اسلاف کی روش سے ہٹ کر میدان میں آئیں اور اپنی تاریخ میں ایک روایت قائم کریں اور حیلوں حوالوں کے ذریعہ مباہلہ کے بدترین اور عبرتناک انجام سے بچنے کی کوشش نہ کریں۔ ورنہ آپ کا فرار قادیانی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔
والسلام على من اتبع الهدى
نوٹ: اس خط کی روانگی کے بعد سے ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا جا رہا ہے تاکہ اس میں آپ جملہ امور طے کرلیں۔ ورنہ آپ کا چیلنج سابقہ روایات کے مطابق محض فریب تصور کیا جائے گا۔ آج ۲۷ محرم الحرام ہے۔ ۱۲؍ ربیع الاول آخری تاریخ ہوگی۔ مسلمانوں کو باخبر کرنے کے لئے یہاں کے اخبارات میں آپ کا چیلنج اور میرا جواب شائع ہورہا ہے۔ آپ بھی اپنے جماعتی اخبارات میں کسی تحریف وخیانت کے بغیر اس کو شائع کرا دیں۔
کاپی برائے اطلاع:
- ۱...... رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ (مع عربی ترجمہ)
- ۲...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند
- ۳...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- ۴...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسٹاک ویل گرین لندن
- ۵...... صدر انجمن احمدیہ قادیان
- ۶...... صدر انجمن احمدیہ (ربوہ پاکستان)
- ۷...... دفتر قادیان مشن بمبئی
- ۸...... دفتر ختم نبوت مدراس
- ۹...... امارت شرعیہ بہار واڑیسہ پھلواری شریف پٹنہ
- ۱۰...... جمعیۃ علمائے ہند دہلی
- ۱۱...... جمعیۃ علمائے مہاراشٹر
- ۱۲...... ملی جمعیۃ علمائے ہند دہلی
- ۱۳...... جماعت اسلامی ہند دہلی
- ۱۴...... جماعت اسلامی مہاراشٹر
- ۱۵...... جمعیۃ اہل حدیث مچھلی دالان دہلی
- ۱۶...... نمائندہ لاہور، قادیانی جماعت بمبئی
- ۱۷...... شاہی امام جامع مسجد مولانا عبداللہ بخاری صاحب
- ۱۸...... امام جامع مسجد بمبئی مولانا شوکت صاحب
- ۱۹...... ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ
- ۲۰...... انجمن فروغ سنت کان پور
- ۲۱...... مجلس علمیہ حیدرآباد
- ۲۲...... دفتر سنی جمعیۃ العلماء بمبئی
- ۲۳...... دارالمبلغین لکھنؤ
- ۲۴...... امامیہ مشن لکھنؤ
- ۲۵...... دین دار انجمن حیدرآباد
- ۲۶...... ہفت روزہ ختم نبوت کراچی پاکستان
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۶، ۱۷، مورخہ ۲۵؍نومبر تا یکم؍دسمبر ۱۹۸۸ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱۱) مباہلہ کا چیلنج منظور ہے......مرزا طاہر کے نام کھلا خط
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مرزا طاہر نے اہل اسلام کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے چار فاضل اجل نمائندگان مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا نذیر احمد خاں بلوچ صاحب اور مولانا منظور احمد الحسینی صاحب کو جولائی ۱۹۸۸ء میں لندن بھجوایا۔ ان حضرات نے وہاں جا کر اشتہارات وخطوط کے ذریعہ مباہلہ کے لئے مرزا طاہر کو للکارا۔ اسے سانپ سونگھ گیا اور اسے سامنے آنے کی جرات نہ ہوسکی۔ مولانا اللہ وسایا نے مرزا طاہر کے مباہلہ کا جواب لکھا اور رجسٹرڈ ڈاک سے مرزا طاہر کو چاروں حضرات کے دستخطوں سے بھجوایا گیا، جسے پورے برطانیہ میں تقسیم کیا گیا۔ اس میں مرزائی عقائد ونظریات اور مرزا طاہر کی فریب کاریوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو: حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جناب مرزا طاہر احمد ہیڈ آف دی قادیانی جماعت ساکن لندن
والسلام علىٰ من اتبع الهدىٰ
جون ۱۹۸۸ء کے وسط میں آپ کا چار سطری بیان ’’مباہلہ‘‘ کے عنوان سے پاکستان کے اخبارات میں شائع ہوا۔ پاکستان و برطانیہ کے متعدد علمائے کرام نے اپنے اپنے طور پر مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کا اعلان کیا۔ ۶؍ جولائی ۱۹۸۸ء تک پاکستان کے کسی اخبار میں ان حضرات علمائے کرام کے مباہلہ قبول کرنے کے متعلق آپ کا ردعمل معلوم نہیں ہوا۔ بالآخر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے چار خدام وقفہ وقفہ سے لندن پہنچے۔ ۹؍ جولائی ۱۹۸۸ء کے اخبار ’’ملت‘‘ لندن میں آپ کی طرف سے مباہلہ کا پھر اعلان شائع ہوا۔ پاکستانی اخبارات کی نسبت اس میں کچھ تفصیلات تھیں۔
چنانچہ ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہم چار خدام نے ایک اخباری بیان اور اشتہار اردو اخبارات لندن کو بھیجا۔ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۸ء کے روزنامہ ملت لندن کے آخری صفحہ پر اشتہار اور اردو روزنامہ جنگ لندن کے پہلے صفحہ پر بیان شائع ہوا اور ۱۴؍ جولائی ۱۹۸۸ء کو روزنامہ جنگ لندن کے ص۷ پر اشتہار اور ملت لندن کے پہلے صفحہ پر بیان شائع ہوا۔ (جو لف ہذا ہیں) اس وقت ہمیں مباہلہ کی تفصیلات سوائے اخباری بیانات کے معلوم نہ تھیں۔ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۸ء کو رجسٹرڈ ڈاک سے ’’جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے دنیا بھر کے معاندین اور مکفرین اور مکذبین کو مباہلہ کا کھلا چیلنج‘‘ نامی ۲۶ صفحاتی پمفلٹ اور اس کے ساتھ آپ کے پریس سیکرٹری رشید احمد چوہدری کے دستخطوں سے ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء کا لکھا ہوا ایک خط موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ:
’’آپ کا شمار بھی انہی معاندین احمدیت میں ہوتا ہے۔ اگر آپ بدستور اپنے معاندانہ موقف پر قائم ہیں تو آپ کو جماعت کی طرف سے باقاعدہ یہ دعوت دی جاتی ہے کہ آپ اس چیلنج کو بغور پڑھ کر پوری جرات کے ساتھ اس کی تشہیر کریں۔‘‘
اس کو اوّل سے آخر تک غور سے پڑھا۔ اس میں آپ نے بعض امور کو غلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے۔ جن کی تصریحات ذیل میں پیش خدمت ہیں۔ انہیں ملاحظہ فرمائیں۔ ان تصریحات کے بعد ہمیں کلیتاً آپ کے مباہلہ کا چیلنج قبول ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ نے آمنے سامنے میدان میں آکر مباہلہ کی بجائے تحریری مباہلہ کا راستہ اختیار کر کے قرآنی تصریحات کو کیوں نظر انداز کیا؟ یہی آپ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے دادا جان مرزا غلام احمد قادیانی سے شکایت تھی کہ انہوں نے بھی پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے سامنے لاہور آنے کی جرأت نہ کی۔ یہی شکایت آپ کے والد گرامی مرزا بشیر الدین سے تھی کہ وہ بھی آپ کی ہی جماعت کے ایک فرد ( جو بعد میں مرزائیت سے تائب ہو گئے تھے ) مولوی عبدالکریم سے مباہلہ کے لئے سامنے تشریف نہ لائے۔ مولوی عبدالکریم نے مباہلہ کا چیلنج دیا۔ آپ کے والد نے قبول نہ کیا۔ انہوں نے مباہلہ نامی اخبار قادیان سے شائع کیا۔ ہم مباہلہ کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے کہ وہ کن خفیہ امور، رنگین واردات اور سنگین الزامات پر آپ کے والد سے مباہلہ چاہتے تھے۔ تفصیلات اس لئے نامناسب ہیں کہ آپ کی طبع نازک پر گراں گزریں گی۔ (اگر تفصیلات کسی کو درکار ہوں تو وہ تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق ، کمالات محمودیہ، ربوہ کا پوپ، ربوہ کا راسپوٹین، ربوہ کا مذہبی آمر، شہر سدوم وغیرہ نامی کتب کا مطالعہ فرمائیں ) آپ نے بھی آمنے سامنے نہ آ کر اپنے ان اکابرین کی سنت پر عمل کیا ہے۔
آپ نے ۸؍ جون ۱۹۸۸ء میں مباہلہ کا چیلنج دیا۔ قدرت کی شان بے نیازی کہ آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی جون ۱۸۹۳ء میں عبداللہ آتھم عیسائی کو چیلنج دیا تھا جو مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئی دربارہ عبداللہ آتھم کا حشر ہوا۔ وہی آپ کے اس مباہلہ کا ہوگا۔ ان شاء اللہ العزیز! آپ کے دادا نے کہا کہ: ”پندرہ دن سے مراد پندرہ ماہ ہیں اور پندرہ ماہ میں عبداللہ آتھم مر جائے گا۔ اگر نہ مرا تو مجھ کو ذلیل کیا جاوے اور روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دی جاوے۔“
(جنگ مقدس ص ۱۸۹، خزائن ج ۶ ص ۲۹۳)
جب وہ پندرہ ماہ میں نہ مرا تو آتھم کی عیسائی پارٹی نے مرزا قادیانی کا پتلا بنا کر اس کے ساتھ وہی حشر کیا۔
مرزا طاہر! یقین جانئے کہ اس تحریر کے لکھتے وقت ہمارے قلوب اس طرح ایمان ویقین سے لبریز ہیں کہ صرف ایک سال کی مہلت نہیں۔ اگر ہمیں آپ اپنے ساتھ آگ میں کود جانے کا چیلنج دیتے تو اس کے لئے بھی ہم تیار تھے۔ اگر ہے شوق تو اعلان کیجئے اور پھر حضرت محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت کے ہم دیوانوں کا ذوق جنون دیکھئے۔ اس بات کو دیوانوں کی بڑ نہ سمجھیں۔ پیدا کرنے والی ذات کی قسم اگر آپ آگ میں چھلانگ لگانے کے مباہلہ کا چیلنج دیں تو بھی ہمیں آگ کچھ نہیں کہے گی۔ جس پروردگار عالم نے محمد عربی ﷺ کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو ٹھنڈا کیا تھا۔ وہ محمد عربی ﷺ کے صدقے آپ ﷺ کے غلاموں پر بھی آگ کو ٹھنڈا کر دیں گے۔ بہر حال آپ کا میدان میں آمنے سامنے نہ آنا اور جون کے مہینہ کو اپنے مباہلہ کے لئے منتخب کرنا یا قدرت کا آپ سے منتخب کروانا ایسے امور ہیں جس پر ہم اللہ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہیں۔
تصریحات: آپ نے اپنے پمفلٹ مباہلہ کے ص ۱ پر لکھا ہے: ”احمدیت کو قادیانیت اور مرزائیت کے فرضی ناموں سے پکارا جارہا ہے۔“ آنجناب کے معرض وجود میں آنے سے پہلے آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ میں آپ لوگوں کی جماعت کے سالانہ جلسہ پر آپ کے ایک شاعر نے یہ شعر کہے تھے۔
(اخبار البدر قادیان مورخہ ۷؍ جنوری ۱۹۰۷ء)
یہ شعر آپ کے اخبار میں شائع ہوئے۔ اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی سمیت کسی مرزائی نے اپنے آپ کو مرزائی کہلوانے پر اعتراض نہ کیا تعجب ہے کہ مرزائی، کا خطاب پا کر آپ کے دادا اور اس کے نام نہاد صحابہ تو خاموش رہیں اور آپ آج اس پر چیں بجبیں ہوں، آخر کیوں؟ جناب اگر مرزائی یا قادیانی کہنے سے آپ غصہ ہوتے ہیں تو مرزا قادیانی پر غصہ نکالیں یا حکیم نورالدین پر جس کا قول کلمۃ الفصل
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ص ۵۳ پر مرزا بشیر احمد ایم۔اے آپ کے چچا نے نقل کیا۔ جس میں آپ کی جماعت کے لئے مرزائی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
آپ کی جماعت کو قادیانی کہنے میں بھی ہمارا قصور نہیں۔ حکیم نور الدین کی وفات پر آپ لوگوں کا گدی نشین ہونے پر اختلاف ہوا۔ ایک گروہ نے لاہور کو اپنا مرکز بنایا اور دوسرے نے قادیان کو۔ اگر آپ لوگ نہ لڑتے تو یہ لاہوری اور قادیانی کا خطاب نہ پاتے اور یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آپ لفظ قادیانی پر کیوں برا مناتے ہیں؟ آخر مرزا غلام احمد قادیانی بھی تو اپنے نام کے ساتھ قادیانی لکھتا تھا۔ اگر قادیانی کا لفظ برا ہے تو جو شخص اپنے نام کے ساتھ اس کو شامل کرتا تھا۔ اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
ہم آپ کو احمدی اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کہنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ کیونکہ احمد آنحضرت ﷺ کا اسم گرامی ہے۔ اس لئے آپ ﷺ کی امت تو اپنے آپ کو احمدی کہلاسکتی ہے۔ آپ لوگوں کے مرزا قادیانی کا نام احمد نہیں تھا۔ بلکہ غلام احمد تھا جس سے معلوم ہوا کہ احمد اور چیز ہے، غلام اور چیز ہے۔ احمد کے ماننے والوں کو تو احمدی کہا جاسکتا ہے۔ مگر غلام والوں کو نہیں انہیں، غلامی کہیں، غلمدی کہیں، قادیانی کہیں، مرزائی کہیں، کچھ کہیں یا کہلوائیں، احمدی ان کو نہیں کہا جاسکتا۔
”آپ نے مباہلہ کے ص ۴ پر لکھا ہے کہ مباہلہ کے دو پہلو ہیں۔“ ہم ان دونوں پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو طریق پر مباہلہ کا چیلنج شائع کر رہے ہیں۔ ہر مکذب، مکفر کو کھلی دعوت ہے کہ مباہلہ کے جس چیلنج کو چاہے قبول کرے۔“
ہمیں آپ کے مباہلہ کے دونوں پہلو قابل قبول ہیں۔ دادا کا بھی اور پوتے کا بھی۔
آپ نے ص ۶ پر کہا ہے کہ: ”ہم سب مکذبین ومکفرین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس چیلنج کو غور سے پڑھ کر اس کو قبول کرنے کا اعلان کریں۔“ ہم نہ صرف اس عبارت ص ۶، ۸ میں مندرجہ مرزا کے دعاوی کو غلط سمجھتے ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں جہاں کہیں جو دعاوی کئے ہیں۔ ان تمام دعاوی میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مفتری، دجال، کذاب، لعنتی، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور پختہ ایمان ویقین کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر شیطان کا غلبہ تھا۔ اسے کوئی وحی نہ ہوتی تھی۔ وہ کذاب ودجال تھا۔ اگر ہم اس اعلان میں جھوٹے ہیں تو ہمارے پر خدا کی لعنت۔ ورنہ مرزا طاہر اور اس کی تمام روحانی وجسمانی ذریت پر بے شمار ’لعنة الله علی الکاذبین‘
مرزا طاہر آپ کا چیلنج نمبر ۲ آپ کے رسالہ مباہلہ کے ص ۹ سے شروع ہو کر ص ۱۸ پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں ص ۹ اور ص ۱۰ پر ۹ باتوں کا ذکر ہے۔
- (۱) مرزا طاہر آپ نے کہا کہ ہمارا عقیدہ نہیں کہ مرزا قادیانی خدا تھے: نہ جانے مباہلہ کے شوق میں آپ نے اپنے
دادا کے دعاوی سے انکار کیوں شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی (کتاب البریہ ص ۸۰، خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۳) پر لکھا ہے کہ: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں واقعی خدا ہوں۔“
(کتاب البریہ ص ۷۹ ج ۱۳ ص ۱۰۵) پر دعویٰ کیا کہ زمین و آسمان کو بھی میں نے بنایا۔
(یاد رہے کہ نبی کا خواب بھی شریعت میں حجت ہوتا ہے)
- (۲) مرزا طاہر آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا خدا تھے یا خدا کے بیٹے تھے: حالانکہ مرزا قادیانی نے کہا کہ
خدا تعالیٰ نے مجھے کہا کہ ”اسمع یا ولدی“ اے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ج ۱ ص ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور (حقیقت الوحی ص ۸۶، خزائن ج ۲۲ ص ۸۹) پر کہا کہ مجھے خدا نے کہا کہ ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ تو مجھ سے میرے فرزند کے مانند ہے۔
(۳) مرزا طاہر آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا خدا کا باپ تھا: حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ۹۵، خزائن ج ۲۲ ص ۹۹) پر اپنے بیٹے کو خدا جیسا قرار دیا۔ جب مرزا قادیانی کا بیٹا خدا ہوا تو مرزا قادیانی خدا کا باپ ہوا۔ مرزا طاہر اگر طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو سینہ تھام کر سنئے کہ آپ کے دادا نے صرف خدا، خدا کا باپ یا بیٹا ہونے کا ہی دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وہ کام کیا جو مرد اپنی عورت کے ساتھ کرتا ہے۔
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر ۳۴ ص ۱۲)
مرزا قادیانی نے کہا کہ مجھے حمل ہوگیا۔ دس ماہ کے بعد درد زہ ہوا۔
(کشتی نوح ص ۴۷، خزائن ج ۱۹ ص ۵۰)
اور (تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۴۳، خزائن ج ۲۲ ص ۵۸۱) پر کہا کہ بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے...... تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔
(۴) مرزا طاہر آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا قادیانی تمام انبیاء کرام سے بشمول حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے افضل و برتر ہے: حالانکہ جناب کے دادا مرزا قادیانی کی کتاب (حقیقت الوحی ص ۸۹، خزائن ج ۲۲ ص ۹۲) پر مرزا قادیانی نے کہا کہ مجھے الہام ہوا کہ: ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔“
کیا اس میں تمام انبیاء علیہم السلام سے افضلیت کا دعویٰ نہیں ہے؟ آپ کے باپ مرزا بشیر الدین نے اپنی کتاب (حقیقت النبوۃ ص ۲۵۷) پر لکھا ہے کہ: ”مرزا بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔“ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (نزول المسیح ص ۱۰۱، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۸) پر لکھا ہے کہ : ”اگرچہ دنیا میں بہت سارے نبی تھے۔ مگر میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔“ کتاب (دافع البلاء ص ۲۰، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۰) میں اس کا یہ شعر ہے کہ ؎
اب بتائیے کہ اس نے انبیاء سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا یا نہیں؟ لیجئے! رحمت عالم ﷺ کے متعلق اس شخص نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ۴۰، خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳) پر لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے معجزات تین ہزار تھے اور اپنی کتاب (تذکرۃ الشہادتین ص ۴۳، خزائن ج ۲۰ ص ۴۳) پر اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ لکھی ہے اور پھر (نصرت الحق ص ۴۰، خزائن ج ۲۱ ص ۷۷) پر لکھا ہے کہ نشان اور معجزہ ایک چیز ہے۔ ان تینوں حوالوں کو ملائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے معجزات تین ہزار تھے اور مرزا قادیانی کے دس لاکھ تھے۔ مرزا طاہر آپ کو بار بار سوچنا چاہئے کہ اب آپ صحیح کہتے ہیں یا آپ کے دادا؟ لیجئے! مرزا قادیانی کی موجودگی میں آپ کی جماعت کے ایک شاعر اکمل نے کہا ؎
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(بحوالہ اخبار بدر قادیان ج ۲ نمبر ۴۳ ص ۱۴، مورخہ ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
نیز مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (الاستفتاء ص ۷۸، خزائن ج ۲۰ ص ۷۱۵) پر لکھا: ”اتانی مالم یؤت احد من العالمین“ مجھ کو وہ کچھ چیز دی گئی جو دونوں جہانوں میں کسی کو نہیں دی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- (۵) مرزا طاہر آپ نے کہا ہے کہ آپ کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کی وحی کے مقابلہ میں حدیث
مصطفےٰ ﷺ کوئی شے نہیں: لیکن اے کاش! اس عقیدہ فاسدہ کی تردید سے پہلے آپ نے مرزا قادیانی کے ان حوالہ جات کو پڑھ لیا ہوتا۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ میرے دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن ہے اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ۳۱، خزائن ج ۱۹ ص ۱۴۰)
- (۶) مرزا طاہر آپ نے کہا ہے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزا قادیانی کی عبادت گاہ احترام میں خانہ کعبہ کے برابر
ہے: آپ نے بیان میں غلط کہا۔ دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ اصل حوالہ یہ ہے کہ آپ کے مرزا قادیانی نے قادیان کی اپنی عبادت گاہ کو (جسے آپ لوگ مسجد کہتے ہیں) مسجد اقصیٰ قرار دیا اور کہا: ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الیٰ المسجد الاقصیٰ“ ”میں مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص د، خزائن ج ۱۶ ص ۲۵ حاشیہ)
- (۷) مرزا طاہر آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ قادیان کی سرزمین مکہ مکرمہ کے ہم مرتبہ ہے: حالانکہ
مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے۔ یعنی مکہ، مدینہ اور قادیان کا۔
(خطبہ الہامیہ ص ث، خزائن ج ۱۶ ص ۲۰ حاشیہ)
مرزا طاہر! مرزا قادیانی کے اس حوالہ کے بعد فرمائیں کہ آپ کے مرزا قادیانی کے نزدیک مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور قادیان کی حیثیت ایک جیسی ہے یا نہیں؟ اور ساتھ ہی صرف مرزا طاہر نہیں بلکہ پوری مرزائی امت کو چیلنج ہے کہ وہ قرآن سے قادیان کا لفظ نکال کر دکھائیں۔ ورنہ اقرار کریں کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا ۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“
- (۸) مرزا طاہر آپ نے کہا ہے کہ یہ ہمارا عقیدہ نہیں کہ سال میں ایک دفعہ قادیان جانا تمام گناہوں کی بخشش کا
موجب ہے: حالانکہ آپ لوگوں کا صرف یہ عقیدہ نہیں کہ سال میں ایک دفعہ قادیان جایا جائے۔ بلکہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ: ”قادیان تمام بستیوں کی ماں (یعنی ام القریٰ) ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا ہے کہ نہیں۔“
(حقیقت الرؤیا ص ۴۶)
اسی مرزا بشیر الدین نے کہا کہ: ”جو قادیان نہیں آتا یا کم از کم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو۔ یہ بالکل درست ہے کہ یہاں (قادیان) میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“
(منصب خلافت ص ۳۳)
- (۹) مرزا طاہر آپ کا یہ کہنا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ حج بیت اللہ کی بجائے قادیان کے جلسہ میں شمولیت ہی حج
ہے: حالانکہ آپ کے والد نے کہا: ”آج جلسہ (قادیان) کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔“
(برکات خلافت ص ہ)
اس (قادیان) جگہ نفلی حج سے زیادہ ثواب ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۵۲، خزائن ج ۵ ص ایضاً)
مرزا قادیانی نے کہا ؎
(درثمین اردو ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس حوالہ میں حرمین شریفین مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی طرح قادیان کو ارض حرم قرار دیا جارہا ہے۔ ان تمام حوالہ جات کو سامنے رکھ کر اب مرزا طاہر آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ نے جن باتوں سے انکار کیا ہے۔ کیا وہ آپ کا انکار صحیح ہے یا محض دھوکہ دہی اور فریب کاری ہے؟ مرزا طاہر! آپ نے تقریباً ہر صفحہ پر ایک ایک بات کے اختتام پر ”لعنة الله علی الکاذبین“ کا ورد کیا ہے۔ آپ کے دادا مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتاب ”نور الحق“ میں چار صفحات پر صرف لعنت، لعنت کا ورد کیا ہے۔ جس کے جواب میں صرف اتنا عرض ہے کہ آپ کی ذکر کردہ نو باتوں کی وضاحت حوالہ جات آپ کی ہی کتب سے عرض کر دیئے ہیں۔ اس کے باوجود اگر آپ ان سے انکار کریں تو ان کتابوں کے مصنفین اور آپ سب لوگوں کے لئے بموجب حکم قرآن ”لعنة الله علی الکاذبین“ اب اگر ہے ہمت تو مرد میدان بنیں اور آمین کہیں۔
پمفلٹ مباہلہ کے ص ۱۰ کی آخری سطر سے ص ۱۱ کے آخر تک آٹھ باتوں کا ذکر ہے۔ ذیل میں اس کی وضاحت ملاحظہ ہو۔
(۱) مرزا طاہر آپ نے کہا کہ مرزا قادیانی نے ختم نبوت سے صریحی انکار نہیں کیا: حالانکہ مرزا قادیانی کی کتاب (دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱) پر ہے کہ سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ نیز (ایک غلطی کا ازالہ ص ۷، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲) پر کہا کہ: ”خدا تعالیٰ نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ۔“ آنحضرت ﷺ کے بعد اگر دعویٰ نبوت ورسالت ختم نبوت کا صریح انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
(۲) مرزا طاہر آپ نے کہا ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید میں لفظی و معنوی تحریف نہیں کی: حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص ۷۸ حاشیہ، خزائن ج ۳ ص ۱۴۰) میں لکھا ہے کہ: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ یہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ اس میں ایک ہی عبارت سے تحریف لفظی و تحریف معنوی ثابت ہوگئی۔
(۳) مرزا طاہر! آپ نے کہا کہ مرزا نے روضہ رسول کی توہین نہیں کی: حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ۷۰، خزائن ج ۱۷ ص ۲۰۵ حاشیہ) پر کہا کہ: ”خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“ مرزا قادیانی کی یہ عبارت روضہ رسول ﷺ کے متعلق ہے یا غار حرا کے متعلق۔ بہرحال بدترین قسم کی سفاکانہ گستاخی ہے۔
(۴) مرزا طاہر! آپ نے کہا کہ مرزا قادیانی نے حضرت حسینؓ کے ذکر کو گونہہ کا ڈھیر نہیں کہا: حالانکہ مرزا قادیانی اپنی کتاب ضمیمہ نزول المسیح جس کا دوسرا نام اعجاز احمدی ہے اس کے (ص ۸۲، خزائن ج ۱۹ ص ۱۹۴) پر شیعہ قوم کو مخاطب ہو کر لکھتا ہے کہ: ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے کہ کستوری کی خوشبو کے پاس گونہہ (گندگی) کا ڈھیر ہے۔“ کیا اس میں مرزا قادیانی نے خدا کے ذکر کو کستوری اور حضرت حسینؓ کے ذکر کو گونہہ سے تشبیہ نہیں دی۔ (نہ معلوم مرزا طاہر انکار کر کے لوگوں کی آنکھوں میں کیوں مٹی ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے؟)
(۵) مرزا طاہر! آپ نے کہا مرزا قادیانی نے جھوٹے مدعیان نبوت کا مطالعہ کر کے دعویٰ نہیں کیا: طاہر صاحب! آپ یہاں بھول گئے۔ دراصل ہمارا (مسلمانوں کا) موقف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے باعث اس کا روحانی رشتہ مسیلمہ کذاب سے ملتا ہے اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کا روحانی سلسلہ حضرت صدیق اکبرؓ سے ملتا ہے۔ پس جھوٹے مدعیان نبوت کا مرزا قادیانی جانشین اور زلّہ خوار ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۶) مرزا طاہر ! آپ نے کہا کہ مرزا قادیانی نے انگریزوں کے ایماء پر اسلامی نظریہ جہاد کو منسوخ نہیں کیا: نہ معلوم مرزا طاہر سیدھے ہاتھ سے کان پکڑنے سے کیوں شرماتے ہیں۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر وحی نہیں ہوتی تھی۔ وہ ایک دجال و کذاب، مفتری اور کاذب اور کافر تھا۔ اس لئے اس نے جہاد کو منسوخ کیا تو ظاہر ہے کہ انہیں لوگوں کے کہنے پر کیا جن کو منسوخی جہاد سے فائدہ پہنچ سکتا تھا اور وہ انگریز تھے۔
(۷) مرزا طاہر ! آپ نے کہا کہ مرزا قادیانی نے تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا: حالانکہ مرزا قادیانی کی یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مرزا قادیانی تشریعی نبوت کا مدعی تھا۔ لیجئے! عبارت یہ ہے: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ۴ ص ۶، خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵)
(۸) مرزا طاہر ! آپ نے کہا کہ قرآن کے مقابل پر ہماری کتاب تذکرہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی ہم اسے قرآن شریف کے ہم پلہ قرار دیتے ہیں: مرزا طاہر ! دو امور ہیں ایک یہ کہ مرزا قادیانی کے نزدیک اپنی وحی کا درجہ کیا ہے۔ آیا وہ قرآن کے برابر ہے یا نہیں۔ (نزول المسیح ص ۹۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷) پر ہے کہ: ”میں اپنی وحی کو قرآن مجید کی طرح خطاؤں سے پاک سمجھتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ۲۱۱، خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰) پر ہے کہ: ”قرآن شریف کی طرح میں اپنی وحی پر ایمان لاتا ہوں۔“
اور (اربعین نمبر ۴ ص ۲۵، خزائن ج ۱۷ ص ۴۵۴) پر ہے کہ: ”توریت، انجیل اور قرآن کی طرح اپنی وحی پر بھی ایسا ایمان ہے۔“
ان تمام حوالہ جات کو سامنے رکھ کر جلال الدین شمس مرزائی نے کہا کہ: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا۔“
(حقیقت الوحی ص ۲۱۱، خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰)
ان حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مرزا قادیانی کی وحی قرآن مجید کے ہم پلہ ہے۔ اب سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی وحی کے مجموعہ کا کیا نام ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا نام ”تذکرہ“ ہے۔ تو صاف ظاہر ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک تذکرہ نامی کتاب قرآن مجید کے ہم پلہ ہے اور پھر یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید کا ایک نام تذکرہ بھی ہے۔ ”کلّا انھا تذکرۃ“ مرزائیوں نے اپنی الہامی کتاب کا نام قرآن نہیں رکھا کہ مسلمان مشتعل نہ ہوں۔ قرآن مجید کا دوسرا غیر معروف نام تذکرہ رکھ دیا تا کہ یہ بھی ثابت کرسکیں کہ یہ ہماری کتاب بھی قرآن ہے۔
ص ۱۰ سے ص ۱۱ تک آٹھ باتوں سے مرزا طاہر نے انکار کر کے کہا ہے کہ: ”لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین“ ہم نے ان تمام باتوں کو مرزا قادیانی کی کتابوں سے ثابت کر دیا۔ اب ہم بھی کہتے ہیں۔ مرزا طاہر بھی کہے کہ ”لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین“ تا کہ دنیا کے سب سے بڑے کذاب مرزا قادیانی کی روح پر بھر پور لعنتوں کی بارش ہو۔ ایک بار پھر ”لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین“
پمفلٹ کے ص ۱۲ پر مرزا طاہر قادیانی نے چار باتوں سے انکار کیا۔
(۱) مرزا قادیانی دھوکہ باز و بے ایمان نہیں تھا: حالانکہ اس کے دھوکے باز، بے ایمان، وعدہ خلاف وحرام مال کھانے والا ثابت کرنے کے لئے صرف ایک حوالہ کافی ہے۔ جس میں اس نے لکھا ہے کہ: ”پچاس کتابیں لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس اور پانچ میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ لہٰذا پچاس کا وعدہ پانچ سے پورا ہو گیا۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۷، خزائن ج ۲۱ ص ۹)
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
الف...... پچاس کتب کے پیسے لئے اور کتابیں پانچ دیں۔ پینتالیس کتابوں کے پیسے کھا گئے۔ حرام خور و بے ایمان ہوا۔
ب...... پچاس کا وعدہ کیا صرف پانچ دیں۔ وعدہ خلافی کی، دھوکہ بازی کی۔ وعدہ خلاف، دھوکہ باز ثابت ہوا۔
(۲) مرزا قادیانی کو گھر کا مال کھانے کی پاداش میں والد نے گھر سے نکال دیا تھا: مرزا طاہر! خواہ مخواہ کیوں غلط بیانی اور دھوکہ دہی سے معاملہ کو خلط ملط کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے باپ کی پنشن سات سو روپے اس زمانہ میں وصول کر کے غبن کر لی۔ جس کے باعث شرم کے مارے گھر سے باہر نکلا رہا۔ گھر کا مال غبن بھی کیا اور گھر سے باہر بھی نکلا رہا۔ اس بات کے انکار سے پہلے اپنے چچا مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے کی کتاب (سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۴۳) ہی کو پڑھ لیا ہوتا۔ تاکہ آپ کو شرمساری نہ ہوتی۔
(۳) مرزا طاہر ! آپ نے کہا کہ ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ مرزا کی اکثر پیش گوئیاں مبینہ وحی الٰہی جھوٹ کا پلندہ ہیں : مرزا طاہر ! بلاوجہ خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ مرزا قادیانی کی اکثر نہیں تمام پیش گوئیوں کو ہم غلط مانتے ہیں اور اس کو وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی یقین کرتے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی ہمارے نزدیک اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا، مکار ، عیار، دھوکہ باز ، دجال، کذاب، مفتری و بے ایمان تھا۔
(۴) مرزا طاہر ! آپ نے کہا کہ ہمارے مخالفین کا یہ الزام ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو لاکھوں ایکڑ زمینیں دی گئیں: مرزا طاہر ! آپ کیوں بلاوجہ ضد کر رہے ہیں، ربوہ کی زمین سرموڈی نے نہیں دی اور سندھ اور تھرپارکر کی زمینیں کس نے کس خوشی میں آپ کو الاٹ کی تھیں؟
ان چار امور کا ذکر کر کے مرزا طاہر قادیانی! آپ نے ”لعنة الله علی الکاذبین“ کا ورد کیا ہے۔ جس کے جواب میں ہم نے تمام حوالے نقل کر دیئے ہیں تاکہ آپ کو اپنا آئینہ دکھایا جاسکے۔ حوالہ جات غلط ہیں تو انکار کی جرأت کریں۔ ورنہ ہماری طرف سے ”لعنة الله علی الکاذبین“ کا تحفہ قبول کریں۔
پمفلٹ کے ص ۱۲ کی آخری سطروں سے ص ۱۳ مکمل پر گیارہ باتوں سے انکار کیا ہے۔
(۱) جماعت احمدیہ انگریز کا خود کاشتہ پودا نہیں: حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (کتاب البریہ ص ۱۳، خزائن ج ۱۳ ص ۳۵۰) پر انگریز گورنر کو خط لکھا کہ: ”سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔“
مرزا طاہر قادیانی ! مرزا قادیانی صرف اپنی جماعت کو نہیں بلکہ اپنے خاندان کو جس میں اب آپ بھی ہیں۔ انگریز کا خود کاشتہ قرار دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو پاکستان میں جب گرم ہوا لگی تو آپ نے بھی اپنے مالکان کے ہاں آکر پناہ لی۔ اب انکار چہ معنی دارد۔
(۲) قادیانی ملت اسلامیہ کے دشمن نہیں: صرف دشمن نہیں بلکہ بدترین دشمن ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور ملت اسلامیہ کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے کہ تمام ملت اسلامیہ کو قادیانی جماعت نے کافر قرار دے دیا ہے۔
ملاحظہ ہو: مرزا طاہر آپ کے والد کی کتاب (آئینہ صداقت ص ۳۵) پر ہے کہ: ”کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“ تمام مسلمانوں کو مرزا قادیانی نے کنجریوں کی اولاد کہا۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۸،۵۴۷، خزائن ج ۵ ص ایضاً)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرمائیے! اس سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی اور کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟
مرزا طاہر نے کہا ہے کہ ہمارے دشمن ہم پر الزام لگاتے ہیں۔
- (۳) مرزائیت عالم اسلام کے لئے سرطان ہے:
- (۴) یہودیوں کی اور انگریزوں کی اسلام دشمن سازش ہے:
- (۵) اسرائیل اور یہودیوں کی ایجنٹ ہے: مرزا طاہر صاحب! یقین فرمائیے کہ یہ تینوں آپ پر الزامات نہیں بلکہ حقائق
ہیں ۔ رہتی دنیا تک ہم مسلمان ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر ان کا انکار تو کر سکتے ہیں مگر حقائق کی دنیا میں سامنا کرنا آپ کے لئے مشکل ہے۔
- (۶) یہ کہ یہ جماعت امریکہ کی ایجنٹ ہے: اس میں کیا کلام ہے ۱۹۵۳ء کی انکوائری میں ہائیکورٹ کے جج صاحبان کے
سامنے پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے کیا یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ اگر میں مسلمانوں کے مطالبہ پر کہ چوہدری ظفر اللہ خاں قادیانی آنجہانی کو وزارت خارجہ سے ہٹا دیتا تو امریکہ ایک دانہ گندم کا نہ دیتا اور پھر آج کل امریکہ کی سینٹ کی وہ کمیٹی جو پاکستان کی امداد کی بندش کی رپورٹیں کر رہی ہے کہ وہاں پاکستان میں مرزائیوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو امداد نہ دی جائے۔ ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے آپ کا انکار کرنا شدید زیادتی نہیں تو اور کیا ہے۔
- (۷) اس جماعت اور روس میں خفیہ مذاکرات:
- (۸) اسرائیلی فوج میں مرزائی جماعت کا وجود:
- (۹) چھ سو پاکستانی قادیانی اسرائیلی فوج میں موجود ہیں:
- (۱۰) قادیانی شرپسندی کے لئے اسرائیل میں ٹریننگ لیتے ہیں:
- (۱۱) جرمنی میں چار ہزار قادیانی گوریلا تربیت حاصل کرتے ہیں: ان تمام امور کو ذکر کر کے مرزا طاہر نے ان سے انکار
کیا ہے۔ حالانکہ یہ تمام باتیں صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے نہیں بلکہ پاکستان کے نامور سیاستدان ، اخبارات وغیرہ کہہ چکے ہیں اور اخبارات نے فوٹو دیئے ہیں کہ جب اسرائیل میں مرزائی مشن کا ایک سربراہ جانے لگا تو اپنے بعد آنے والے کو تعارف کے لئے اسرائیلی وزیر اعظم سے ملوایا۔ یہ تمام فوٹو اخبارات میں چھپ چکے ہیں۔
کیا مرزا طاہر ! آپ اس پر مباہلہ کرتے ہیں کہ اسرائیل میں قادیانی مشن کام نہیں کر رہا۔ مرزا طاہر ! کریں انکار ۔ ہے ہمت تو میدان میں اتریں۔ آئیں، بائیں ، شائیں کر کے بات کو ادھر سے ادھر لے جا کر معاملہ کو الجھانا ہی دجل و فریب ہے۔ جس کا حصہ آپ کو اپنے دادا مرزا قادیانی سے ملا ہے۔ اسرائیل میں قادیانی مشن ہے اور یہ کہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ ایسے امور ہیں جن سے آپ جرأت سے انکار کریں ۔ ہم جرأت سے ”لعنة الله علی الکاذبین“ کہیں۔
مرزا طاہر ! آپ نے ص ۱۴ پر آٹھ باتوں سے انکار کیا ہے۔
- (۱) مرزا طاہر ! آپ نے کہا کہ یہ درست نہیں کہ ہمارا کلمہ مسلمانوں والا کلمہ نہیں:
- (۲) یہ کہ جب مسلمانوں والا کلمہ پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللہ ﷺ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں:
ان دونوں باتوں سے انکار کر کے آپ اپنے مجرم ضمیر کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ جن لوگوں کی مرزائیت کے لٹریچر پر نظر ہے وہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خوب جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص ۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۷) پر کہا ہے کہ مجھے وحی ہوئی: ”محمد رسول اللہ والذين معه“ اس وحی الٰہی میں میرا نام (یعنی مرزا کا) محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ آیت کریمہ قرآن مجید کا جزو ہے اور اس میں محمد رسول اللہ سے مراد رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس ہے نہ کہ مرزا قادیانی۔ لیکن مرزا قادیانی یہ کہتا ہے کہ اس سے مراد میں ہوں۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے لڑکے اور مرزا طاہر کے چچا مرزا بشیر احمد ایم. اے نے اپنی کتاب (کلمۃ الفصل ص ۱۵۸) پر کہا ہے کہ: ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے۔“
اور بس یہ عبارت صاف صاف پکار پکار کر بلکہ چیخ چیخ کر مرزائیوں کے عقیدہ کا اظہار کر رہی ہے کہ کلمہ طیبہ میں مرزائیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شریک ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک جب تک مرزا قادیانی نہیں آیا تھا تو محمد رسول اللہ سے مراد صرف رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس تھی اور مرزا قادیانی کے آنے کے بعد رسول اللہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شریک ہو گیا۔ پس ثابت ہوا کہ جب مسلمان کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو مسلمانوں کے نزدیک محمد رسول اللہ سے مراد صرف اور صرف رحمت عالم ﷺ ہوتے ہیں۔ جس طرح کلمہ طیبہ کے جز اوّل ”لا الہ الا الله“ میں رب العزت کی ذات وصفات میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ جو شریک بنائے وہ مشرک ہے۔ اسی طرح دوسرے جز ”محمد رسول الله“ میں رحمت عالم ﷺ کا بھی کوئی شریک نہیں۔ جو اس میں کسی کو شریک بنائے وہ بھی مسلمان نہیں۔ اس لئے جب مسلمان کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ کا اقرار کرتے ہیں تو ان کی مراد آپ ﷺ ہوتے ہیں اور جب مرزائی کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں تو ان کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا کلمہ اور مرزائیوں کا کلمہ اور ہے۔ اب ان واضح عبارتوں کے بعد مرزا طاہر آپ کے انکار پر ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ: ”لعنۃ الله علی الکاذبین“
(۳) مرزا طاہر نے کہا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہمارا خدا وہ خدا نہیں جو محمد رسول اللہ کا خدا ہے:
نہ معلوم مرزا طاہر عمداً جھوٹ بول رہے ہیں یا اس سے دھوکہ دینا مطلوب ہے۔
حالانکہ مرزا قادیانی کا الہام ہے: ”ربنا عاج“ ہمارا رب عاج ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کا ترجمہ نہیں کیا۔ جب کہ لغت میں عاج کا معنی ہاتھی دانت یا گوبر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس الہام کے ہوتے ہوئے مرزائیوں کا خدا ہاتھی دانت یا گوبر سے بنا ہوا ہے۔ پس یہ عقیدہ خدا تعالیٰ کی ذات بابرکات کے متعلق نہ محمد رسول اللہ کا ہے اور نہ قرآن کا۔
مرزا طاہر کے والد مرزا بشیر الدین نے کہا کہ: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض یہ کہ آپ نے تفصیلاً بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے (مسلمانوں سے) ہمارا اختلاف ہے۔“
(روزنامہ الفضل قادیان ج ۱۹، شمارہ ۱۳، مورخہ ۳۰؍ جولائی ۱۹۳۱ء)
اب فیصلہ کریں کہ باپ جھوٹا تھا یا بیٹا جھوٹا ہے؟ جب کہ ہمارے نزدیک دونوں، اور مصداق لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔
(۴) مرزا طاہر! آپ نے کہا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہمارے فرشتے وہ نہیں جن کا ذکر قرآن وسنت میں ہے:
حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ۳۳، خزائن ج ۲۲ ص ۳۴۶) پر کہا کہ یہ میرے پاس آنے والے کا نام ٹیچی ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو: ”ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا، میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کہا کچھ نہیں۔ میں نے کہا کہ آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا ٹیچی۔“
اس حوالہ سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک یہ کہ مرزا قادیانی کے پاس آنے والا فرشتہ ٹیچی نامی تھا۔ دوسرا یہ کہ مرزا قادیانی کا فرشتہ جھوٹ بھی بولتا تھا۔ اس لئے کہ جب مرزا قادیانی نے اس سے نام پوچھا تو اس نے کہا کہ نام کچھ نہیں۔ اگر نام ٹیچی تھا تو یہ کہہ کر جھوٹ بولا کہ میرا نام کچھ نہیں۔ اگر نام کچھ نہیں تھا تو دوسری مرتبہ پوچھنے پر ٹیچی نام بتا کر جھوٹ بولا یا پہلے جھوٹ بولا یا بعد میں۔ بہرحال جھوٹ بولا تو ٹیچی فرشتہ اور جھوٹ بولنے والا فرشتہ مرزائیوں کا ہو سکتا ہے۔ قرآن وسنت کا نہیں۔ کیونکہ قرآن تو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ: ”لَا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ“ فرشتے معصیت سے پاک ہوتے ہیں۔ جب کہ مرزائیوں کے نزدیک فرشتے جھوٹ بولتے ہیں۔
(۵) مرزا طاہر! آپ نے کہا کہ یہ بھی غلط ہے کہ قادیانیوں کے رسول مختلف ہیں:
حالانکہ چوہدری ظفر اللہ خاں کا ٹریکٹ جو مارچ ۱۹۳۳ء میں بتقریب یوم التبلیغ شائع ہوا۔ اس میں ہے کہ: ”خدا کے راست باز نبی رامچندر پر سلامتی ہو۔“ ”خدا کے راست باز نبی کرشن پر سلامتی ہو۔“ ”خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو۔“ ”خدا کے راست باز نبی زرتشت پر سلامتی ہو۔“ ”خدا کے راست باز نبی کینفوشش پر سلامتی ہو۔“ ”خدا کے راست باز نبی احمد (یعنی مرزا) پر سلامتی ہو۔“ ”خدا کے راست باز نبی بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو۔“
اب فرمائیے! مرزائیوں کے نزدیک یہ لوگ نبی تھے۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن وحدیث میں کہیں ان کا ذکر نہیں اور ظلم یہ کہ مرزا قادیانی کو بھی نبیوں کی فہرست میں مرزائی شامل کرتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک وہ دجال، کذاب، مفتری، کافر و بے ایمان تھا۔
(۶) مرزا طاہر! آپ نے کہا کہ ہماری عبادات اسلامی عبادت سے مختلف نہیں:
اس کا جواب اسی بحث کے نمبر ۳ میں گزر چکا ہے۔
(۷) مرزا طاہر! آپ نے کہا کہ ہمارا حج مختلف نہیں:
حالانکہ آپ کے والد مرزا بشیر الدین نے کہا کہ: ”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔“
(خطبہ جمعہ مرزا محمود مندرجہ برکات خلافت تقاریر جلسہ سالانہ ۱۹۱۲ء)
”شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے یہاں (قادیان) آنے کو حج قرار دیا ہے۔ ایک واقعہ مجھے (مرزا محمود کو) بھی یاد ہے۔ صاحبزادہ عبد اللطیف (کابلی) حج کے ارادے سے کابل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے سے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے۔ چنانچہ پھر صاحبزادہ حج کے لئے نہ گئے اور یہیں رہے۔ کیونکہ وہ اگر حج کے لئے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے۔“
(تقریر جلسہ سالانہ مرزا محمود، مندرجہ الفضل قادیان ج۲ شمارہ ۸، مورخہ ۵؍جنوری ۱۹۲۳ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- (۸) مرزا طاہر ! آپ نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ ہمارے تمام بنیادی عقائد قرآن وسنت سے جدا ہیں:
دیکھئے۔ تمام بحث تفصیل سے پہلے گزر چکی ہے۔ قرآن وحدیث کا واضح حکم کہ رحمت دو عالم ﷺ اللہ رب العزت کے آخری نبی ہیں اور اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں رسول و نبی ہوں ۔ قرآن وحدیث کی رو سے رحمت عالم ﷺ کو ایمان کی حالت میں دیکھنے والے صحابہ ؓ ہیں۔ جب کہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کو دیکھنے والے صحابہ ہیں۔
مسلمانوں کے نزدیک رسول اکرم ﷺ کی گھر والیاں ام المؤمنین ؓ ہیں۔
مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی بیوی ام المؤمنین ۔
مسلمانوں کے نزدیک رسول اکرم ﷺ کی اولاد در اولاد اہل بیت ؓ۔
مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی اولاد اہل بیت۔
مسلمانوں کے نزدیک ”سیدۃ النساء“ حضرت فاطمۃ الزہرا ؓ بنت نبی ﷺ ہیں۔
مرزائیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی بیوی سیدۃ النساء ہیں۔
غرض یہ کہ مرزائیت کسی مذہب وعقیدہ کا نام نہیں بلکہ رحمت عالم ﷺ کے دین متین سے مکمل بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ جسے قادیانی احمدیت کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ جس کی کسی قدر تفصیلات اوپر بیان ہو چکی ہیں۔
ص ۱۵ سے ص ۱۸ تک مرزا قادیانی آپ نے کچھ سیاسی اعمال وافعال کا ذکر کیا ہے کہ ہم لوگ آپ کی جماعت کی طرف یہ الزامات منسوب کرتے ہیں اور آپ نے بڑے شدومد سے ان کا انکار کیا ہے۔
انصاف کا خون نہ کریں: ان چیزوں کا مباہلہ سے کیا تعلق ہے۔ یہ ساری باتیں آپ میں نہ بھی پائی جائیں۔ تب بھی مرزا قادیانی اور اس کی جماعت غلط اور اس کے عقائد جھوٹ پر مبنی ہیں۔ یہ ساری باتیں آپ میں پائی جائیں۔ تب بھی مرزائیت جھوٹے عقیدہ کی حامل ایک جھوٹی جماعت ہے۔ یہ الزامات صحیح ہیں تو بھی مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ یہ الزام سیاسی غلط ہیں تو بھی مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔
ص ۱۹ سے ص ۲۶ تک مرزا قادیانی کی دو عبارتیں اور آخر میں اپنی دعا تحریر کی ہے۔ آپ کے اصل عقائد بمعہ حوالہ جات کی تفصیل کے لئے ”قادیانیوں کو دعوت اسلام“ نامی کتابچہ لف ہذا ہے۔ اسے علیحدگی میں پڑھیں اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ اصل حقائق کیا ہیں۔
ضروری گزارش: بعض جگہ تحریر میں قدرے تلخی آگئی ہے۔ دراصل وہ بھی آپ کی کرم فرمائی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے واضح اپنی عبارتوں کے باوجود، ناحق انکار کر کے بلاوجہ معاملہ کو الجھایا ہے اور پھر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ آپ نے مسلمانوں کو غلط کار ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
حاصل کلام: آپ کے مباہلہ کے پمفلٹ کے متعلق جتنی ضروری تصریحات تھیں وہ ہم نے عرض کر دیں ہیں۔ ان حوالہ جات کو پڑھیں ۔ اپنی کتابوں سے ملالیں۔ تمام تر حوالہ جات صحیح ثابت ہوں تو پھر فیصلہ کریں ۔ آپ نے مباہلہ نامی پمفلٹ شائع کر کے مخلوق خدا کو دھوکہ دینے کی کیوں ناکام کوشش کی ہے؟
مرزا طاہر! یقین کیجئے کہ یہ تمام تر حوالہ جات ہم نے بڑی دیانتداری کے ساتھ عرض کر دیئے ہیں۔ اللہ رب العزت کے حضور ہم سب کو بالآخر پیش ہونا ہے۔ اس کو حاضر و ناظر یقین کر کے دل کی گہرائیوں سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے کوئی بھی حوالہ نقل کرنے میں بددیانتی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یا اس سے غلط مطلب براری کے لئے خیانت نہیں کی۔ یہ تمام تر آپ کے لٹریچر کے حوالہ جات ہیں۔ اب اگر ہے ہمت تو قرآنی تصریحات کو سامنے رکھ کر جگہ اور وقت کا تعین کریں۔ ہم آپ کے ساتھ آمنے سامنے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم اللہ رب العزت کی ذات کو گواہ بنا کر پختہ ایمان ویقین کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس کے تمام تر لایعنی دعاوی سب فریب جھوٹ مکاری و عیاری کا مرقع تھے۔ اس کو وحی الہی نہیں بلکہ القائے شیطانی ہوتا تھا۔ وہ اور اس کے سارے ماننے والے ہر دو گروپ لاہوری و قادیانی کو ہم کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ مرزا ابو جہل و شیطان کی طرح رحمت عالم ﷺ کے دین کا دشمن تھا۔ اس پر آج جب چاہیں مباہلہ کریں۔ ہم تیار ہیں۔ اگر آپ نے جگہ اور وقت کا تعین نہ کیا تو پھر مجبوراً یہ قدم ہمیں اٹھانا ہوگا تا کہ حق و باطل کا ایک بار پھر تصفیہ ہو۔ مباہلہ کے بعد ہم معاملہ رب العزت پر چھوڑ دیں گے کہ وہ باطل کو مٹانے والا ہے۔ اس یقین کے ساتھ ہم اس تحریر کو ختم کرتے ہیں کہ آپ بھی ہمیشہ اپنے باپ دادا کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کبھی بھی ہمارے سامنے میدان میں آکر قرآنی تصریحات کے مطابق مباہلہ نہیں کریں گے۔ نہ آپ کو اس کی جرأت ہوگی۔ آپ نقلی مسیحی ہیں۔ اصلی مسیحی، نصاریٰ نجران جس طرح رحمت عالم ﷺ کے سامنے مباہلہ کے لئے نہیں آئے تھے۔ نقلی مسیحی قادیانی بھی رحمت عالم ﷺ کے خدام کے سامنے کبھی آنے کی جرأت نہیں کریں گے۔
”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار“
عبدالرحمن یعقوب باوا اللہ وسایا نذیر احمد بلوچ منظور احمد الحسینی
خدام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مورخہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۸۸ء
سی آئی۔اے سٹاف اور قادیانی ڈی۔ایس۔پی کو تبدیل کیا جائے
فیصل آباد: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے وفاقی وزارت داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصل آباد شہر اور ضلع میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی اور قادیانی غیر مسلموں کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیز سرگرمیوں کے پیش نظر سی آئی۔اے سٹاف اور پیپلز کالونی سرکل کے دونوں قادیانی ڈی۔ایس۔پی کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے اور گزشتہ جمعہ کے اجتماعات میں لاکھوں نمازیوں کی طرف سے اس سلسلہ میں منظور شدہ قراردادوں پر فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے یہ دو قادیانی افسر پیپلز کالونی کے علاقہ میں تعینات ہوئے ہیں جب سے مقامی اور بیرونی قادیانی جماعت کے ارکان اور خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کی غیر قانونی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں اور ہر وقت شہر کے علاقوں میں اسلحہ سمیت موٹر سائیکلوں پر گھومتے پھرتے ہیں۔ غیر قانونی اجتماعات اور تبلیغ کرتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ جس کی وجہ سے کافی عرصہ سے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے۔ اگر حکومت نے فوری کارروائی نہ کی تو کسی وقت بھی حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے ۱۹؍ فروری ۱۹۸۸ء کو پیپلز کالونی نمبر ۲ کی کوٹھی نمبر ۸۹ میں کھلم کھلا سیرت کانفرنس کی اور قادیانیت کی تبلیغ کی، کوئی پرچہ درج نہیں ہوا۔ اسی طرح مکان نمبر ۶۱۳۔بی پیپلز کالونی نزد رحمانی مسجد میں غیر قانونی اجتماع اور تبلیغ کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سمن آباد میں کوئلے والی گراؤنڈ میں کھلے عام لاؤڈ سپیکر و میگا فون پر تبلیغ کی جاتی ہے۔ یہ دونوں قادیانی ڈی۔ایس۔پی اکثر موجود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ قادیانی غنڈے مسلمانوں پر پستول سے حملے کرتے ہیں۔ اب مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۸، مورخہ ۱ تا ۷؍ جولائی ۱۹۸۸ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ۲۶۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی پولیس افسران کی فیصل آباد میں اندھیر نگری ...... حکومت حالات کا سنجیدگی سے نوٹس لے
فیصل آباد پیپلز کالونی سرکل میں دو قادیانی پولیس افسران (۱) مسٹر حمید اللہ قریشی ڈی. ایس. پی، سی. آئی. اے سٹاف ۔ (۲) مسٹر مسعود وڑائچ ڈی. ایس. پی پولیس تعینات ہیں۔ مسٹر حمید اللہ اٹھارہ سال سے فیصل آباد میں متعین ہیں۔ جب کہ مسعود وڑائچ پہلے ضلع فیصل آباد میں انسپکٹر تھا۔ اب جب سے ڈی. ایس. پی بنا ہے فیصل آباد شہر میں ہی ہے۔ ان دونوں قادیانی افسران کو ایک ساتھ ایک ہی سرکل میں رکھا گیا ہے۔ اتنے طویل عرصہ میں کمشنر سے لے کر پٹواری اور ڈی. آئی. جی سے لے کر سپاہی تک سب ہی تبدیل ہوتے رہے ۔ مگر ان قادیانی افسران کا کیوں تبادلہ نہیں ہوا۔ یہ وہ ایک سوالیہ ہے جس کی تہہ میں کوئی خوفناک قسم کی ناگفتہ باتیں ہیں۔
ربوہ فیصل آباد ڈویژن میں ہے۔ ربوہ سرکاری حقوق کے تحفظ کے لئے مرزائی اور مرزائی نواز طبقہ کی بھرپور کوشش و کاوش ہوتی ہے کہ ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہمارے ایسے آدمی اپنے ہوں کہ ہم جو چاہیں قانون شکنی کریں۔ ہم سے کوئی کچھ نہ پوچھے ۔ یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث فیصل آباد کے قادیانیوں نے اندھیر نگری کی انتہاء کر دی ہے۔ فیصل آباد ضلع میں جگہ جگہ قانون شکنی اور ارتکاب جرم کی شکایات آ رہی ہیں۔ یہ دونوں قادیانی افسران بڑے دھڑلے سے عید و جمعہ کے موقعہ پر قادیانی عبادت خانہ گول امین پور بازار میں جا کر اپنے ہم عقیدہ قادیانیوں سے ملتے ہیں اور قانون شکنی پر ان قادیانی ملزمان کی پشت ٹھونکتے ہیں۔
فیصل آباد ایس. پی خالد فاروق سے ہماری جماعت فیصل آباد کے روح رواں مولانا فقیر محمد صاحب کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تمام چکوک وقصبات اور شہر کے تمام مقامات کی ایک فہرست پیش کر دی۔ جہاں جہاں قادیانیوں نے قانون شکنی کی ہے انتظامیہ کیوں خاموش ہے۔ صوبائی ، مرکزی حکومت کی کیا مصلحتیں ہیں۔ یہ ایک ایسا افسوس ناک امر ہے اس پر جتنا بھی احتجاج کیا جائے کم ہے۔ فیصل آباد میں جمعہ پر احتجاج ہوا۔ ملک عزیز کے نامور عالم دین مولانا مفتی زین العابدین نے اپنے مکان پر شہر کے علماء کی میٹنگ طلب کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے احتجاجی قراردادیں مرکزی وصوبائی حکومت کو پیش کی گئیں۔ گزشتہ جمعہ پورے پنجاب میں یوم احتجاج منایا گیا۔ مگر ان قادیانی افسران کا کلہ اتنا مضبوط ہے کہ ان کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ جو لوگ ان بدترین متعصب جنونی قادیانیوں کو اس جگہ رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں ۔ وہ نہ حکومت کے وفادار ہیں نہ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے، وزیر اعلیٰ نواز شریف صاحب کے، اور نہ ہی پاکستان کے ، ان قادیانی پولیس افسران کی شہ زوری اور قانون سے اپنے آپ کو بالا سمجھنے کا اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان قادیانی پولیس افسران کے حلقہ پیپلز کالونی میں ہی قادیانیوں نے کھلے عام جلسہ عام ”سیرت“ کے عنوان پر کیا ہے اور ہمارے ہزار ہا احتجاج کے باوجود کیس درج نہیں ہوا۔
مجلس کے ایک ذمہ دار رہنما کی آئی. جی پنجاب سے بات ہوئی مگر وہ طرح دے گئے ۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ اس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ مگر سردست صدر جنرل محمد ضیاء الحق ، وزارت داخلہ مذہبی امور ، جناب گورنر پنجاب ، جناب وزیر اعلیٰ پنجاب، جناب آئی. جی ہوم سیکرٹری ، کمشنر و ڈی. آئی. جی سے بھرپور مطالبہ ہے کہ وہ ان قادیانی اور قادیانی نواز حلقہ کے نخروں کی پرواہ کئے بغیر ان کو فوری طور پر فیصل آباد سے تبدیل کر کے اسلامیان فیصل آباد کو مطمئن کریں۔
انتظامیہ پولیس یا کسی بھی حلقہ کے لوگ جو ”سب اچھا“ کی ان کو رپورٹیں پیش کر رہے ہیں وہ سخت دھوکہ میں ہیں اور سخت دھوکہ دہی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حکومت کے ذمہ داران معاملات پر ٹھنڈے دل سے سوچیں اور ان کو فوری تبدیل کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت اسلامیان فیصل آباد کے اس جائز قانونی، مذہبی مطالبہ کی بھر پور تائید کرتی ہے اور ان کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے۔
(اداریہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴، ۵، مورخہ ۷؍جولائی ۱۹۸۸ء)
اسلم قریشی کا اغواء اور برآمدگی
جناب اسلم قریشی ۱۹۳۴ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وہاں سے گریجویشن کی اور اسلام آباد میں الیکٹریشن کے شعبہ میں ملازم ہوگئے۔ یحییٰ خان ایران کے دورہ پر گئے تو قائم مقام صدر ایم. ایم احمد قادیانی کو بنا کر گئے۔ ایم. ایم احمد مرزا مظفر احمد کا مخفف ہے اور یہ قادیانی جماعت کے بانی اور چیف گرو مرزا قادیانی کا پوتا تھا۔ پاکستان بنتے وقت یہ سیالکوٹ کا ڈپٹی کمشنر تھا۔ گورداسپور سے قادیانیوں نے سرحد عبور کی اور ایم. ایم احمد نے پورے ضلع سیالکوٹ کے ہر گاؤں میں قادیانی عقیدہ کے حامل گروہ در گروہ آباد کر دیئے گئے۔ ایم. ایم احمد کو جب قائم مقام صدر مملکت بنایا تو اسلم قریشی نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کا کیس معروف رہنما جناب راجہ ظفر الحق نے لڑا۔ اسے فوجی عدالت سے پندرہ سال کی سزا ہوئی۔ جب بھٹو صاحب وزیر اعظم بنے تو ڈیڑھ سال بعد اس کی بقیہ سزا معاف کر دی گئی اور یہ رہا کر دیئے گئے۔ ۱۷؍فروری ۱۹۸۳ء جمعرات کو سیالکوٹ سے معراجکے جمعہ پڑھانے کے لئے جانا تھا کہ لاپتہ ہو گئے۔ معراجکے کا ڈسٹرکٹ کونسلر امان اللہ سکہ بند قادیانی تھا۔ اس تناظر میں بھی گمان ہوا کہ قادیانیوں نے اغواء کیا۔ ان دنوں سیالکوٹ کے ایس. پی طلعت محمود اور ڈی. آئی. جی گوجرانوالہ میجر مشتاق صاحب تھے۔ ان حضرات نے کیس کو ایسے الجھایا کہ قادیانیوں کی طرفداری کا ان پر الزام لگایا گیا۔ اسلم قریشی کے رشتہ داروں پر مظالم ڈھائے۔ اس سے شکوک اور بڑھے کہ قادیانیوں کی بجائے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے اور پھر ڈی. آئی. جی مشتاق اور کمشنر گوجرانوالہ جی. ایم پراچہ اور ایس. پی طلعت محمود نے بار بار وعدہ کیا کہ دو دن بعد، کبھی چار دن بعد اسلم قریشی زندہ تمہیں دیں گے۔ پھر کیس اہم موڑ میں داخل ہو گیا۔ چند روز تک اسلم قریشی مل جائے گا۔ ملزمان کا گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ اس قسم کی خبروں، وعدوں کے باوجود اسلم قریشی کا اغواء کئی سال تک معمہ بن گیا۔ اس کی تفصیلات و دستاویزی ثبوت جناب نعیم آسی کی کتاب ’’اسلم قریشی کیس‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ اسلم قریشی کے اغواء کے بعد کی صورتحال پر آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی تشکیل ہوئی۔ جس کے صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب، نائب صدر مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا علی غضنفر کراروی، سیکرٹری جنرل مولانا مفتی مختار احمد نعیمی، نائب سیکرٹری جنرل مولانا محمد ضیاء القاسمی، سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی، رابطہ سیکرٹری حضرت مولانا محمد شریف جالندھری، خازن میاں فضل حق قرار پائے۔ تحریک چلی۔ اس کے نتیجہ میں ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ قادیانیوں نے اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں اپیل دائر کی جو مسترد ہو گئی۔ قادیانیوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔ قانون میں یہ تھا کہ قادیانی اسلام کی کوئی علامت نہیں اپنا سکتے۔ جس سے ان کا مسلمان ہونا سمجھا جائے۔ انہوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگائے تاکہ اسلام کی سب سے بڑی علامت کو استعمال کر کے وہ قانون شکنی کے مرتکب ہوں۔
اس دور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جو مرکزی مجلس عمل کی بھی داعی ہے نے قادیانیوں کے خلاف چومکھی لڑائی لڑی۔ تحریک، جلسے، کانفرنسیں، اتحاد امت، میٹنگز، لٹریچر، بینرز، اشتہارات، پمفلٹ، مقدموں کی پیروی کے ذریعہ دن رات ایک کر دیا۔ حق تعالیٰ نے کرم کیا کہ قادیانی جو نئی شرارت کی چال چلتے کچھ عرصہ بعد اسی میں الجھ کر ناکامیوں کی رسوائیوں کو سمیٹنے پر مجبور ہو جاتے۔ قادیانی جماعت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مفرور اور بھگوڑے سربراہ طاہر نے جون ۱۹۸۸ء میں مباہلہ کا چیلنج دے دیا جو ایک مستقل موضوع ہے۔ جسے آپ ملاحظہ کریں گے۔ اس مباہلہ میں اسلم قریشی کیس کا بھی ذکر تھا۔ اس دوران میں افغانستان کا وقوعہ ہوا۔ اوجڑی کیمپ کا حادثہ ہوا۔ اتنے گھمبیر مسائل نے سر اٹھایا ہوا۔ مرزا طاہر نے ۸؍جون ۱۹۸۸ء کو مباہلہ کا چیلنج دیا کہ ۱۲؍جولائی ۱۹۸۸ء کے اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ اسلم قریشی مل گیا ہے۔ کہا گیا کہ وہ ایران سرحد عبور کر کے کوئٹہ آیا۔ پنجاب سے پولیس گئی۔ اسے گرفتار کر کے لاہور لے آئی ہے۔
اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ ملک میں کئی اہم کیس پس منظر میں چلے گئے۔ پولیس کے بیان پر کہ بلوچستان سے برآمد ہوئے۔ یہ بات پولیس نے اسلم قریشی اور مجلس عمل سیالکوٹ کے رہنماؤں کو کہی۔ اس پر مجلس کوئٹہ کے ذمہ داران بلوچستان کے آئی جی سے ملے۔ آئی جی صاحب نے تردید کر دی کہ وہ نہ ایران سرحد سے گرفتار ہوئے نہ بلوچستان پولیس کو کچھ معلوم ہے۔ نہ ہی پنجاب پولیس یہاں آئی ہے۔ معلوم ہوا کہ پنجاب پولیس چاہتی تھی کہ کوئٹہ سے اس کی گرفتاری شو کی جائے لیکن بلوچستان کے آئی جی نے اس ڈرامہ کا کردار بننے سے انکار کر دیا کہ ہمارا صوبہ مذہبی ہے۔ ہمیں ابتلاء میں نہ ڈالا جائے۔ اب پنجاب پولیس کا کہنا کہ ایران سرحد سے گرفتار ہوئے۔ بلوچستان کے آئی جی کا انکار کرنا ، معاملہ بگڑ گیا۔ حکومت نے خود معاملہ کو مشکوک بنا دیا۔ اسلم قریشی کو تھانہ میں رکھا گیا۔ چودہ روز کا ریمانڈ لیا گیا۔ مرضی کے بیانات لاہور میں دلوائے گئے۔ آئی جی پنجاب نثار چیمہ نے پریس کانفرنس کی کہ وہ خود پاکستان پہنچ گئے اور خود کو پولیس کے حوالہ کر دیا۔ کہاں ایران کی سرحد، کہاں بلوچستان، کہاں ختم نبوت کے دفتر کوئٹہ سے برآمدگی ڈالنے کی تیاری۔ اب کہانی یہ بنائی۔ ۱۳؍جولائی ۱۹۸۸ء کے روزنامہ امروز ملتان کی خبر اس وقت میرے سامنے ہے۔ اس میں یہ کہانی کہ وہ خود پولیس کے پاس پیش ہوئے۔ وہ ایران گئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ جب ریمانڈ ختم ہوا ان کو عدالت لایا گیا تو ”انہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ مجھے قادیانیوں نے اغوا کیا تھا۔ پہلے بیانات پولیس نے اپنی مرضی سے تشدد کے ذریعہ دلوائے۔“ ۱۴؍جولائی ۱۹۸۸ء روزنامہ امروز ملتان میں ہے کہ پنجاب پولیس کا کوئی دستہ بلوچستان نہیں گیا۔
۱۴؍جولائی ۱۹۸۸ء کے اخبارات میں جماعت اسلامی کے رہنما حافظ ادریس نے بیان دیا کہ پولیس کی دیو مالائی کہانی فراڈ ہے۔ اصل حقائق کے لئے اسلم قریشی کو مجلس عمل کے سپرد کیا جائے۔ اب ذیل میں صرف حوالہ کی بجائے اخبار کا بیان پڑھ لیا جائے۔ جو یہ ہے: روزنامہ جنگ لاہور مؤرخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۸۸ء کی خبر ہے:
زاہدان کے قونصل جنرل نے مولانا اسلم قریشی کو پاکستانی خفیہ ایجنسی کے حوالے کیا: تفتان سے کوئٹہ تک کے سفر کے دوران مولانا پر دماغی دورے پڑتے رہے اور وہ جیپ سے سر ٹکراتے رہے۔ انہیں ۱۰؍جولائی ۱۹۸۸ء کو کوئٹہ پہنچایا گیا۔ ان کے پاؤں پر زخموں کے نشان ہیں۔ تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
کوئٹہ (نمائندہ جنگ) مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے رہنما مولانا اسلم قریشی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ۹؍جون سے زاہدان کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اسلام آباد سے ایک خفیہ ایجنسی کی ٹیم ۶؍جولائی کو پاکستان کے سرحدی شہر تفتان پہنچی تھی جہاں پاکستان کے ایران کے سرحدی شہر زاہدان کے قونصل جنرل امیر الملک نے ان کو خفیہ تفتیشی ٹیم کے حوالے کیا۔ مولانا کو زاہدان کے محکمہ تعمیرات کے ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا تھا۔ وہاں سے کوئٹہ پہنچا دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ تفتان سے کوئٹہ سفر کے دوران مولانا اسلم قریشی کو دماغی دورے پڑتے رہے اور وہ اپنا سر جیپ سے مارتے رہے۔ کوئٹہ سے ان کو ۱۰؍جولائی کو راولپنڈی لایا گیا۔ ان کے پاؤں پر زخموں کے نشانات ہیں۔ ان کے پر اسرار طور پر تفتان پہنچنے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مولانا اسلم قریشی کا بیان اس لئے بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مشکوک ہو جاتا ہے کہ سیالکوٹ میں بعض ملزموں نے مولانا اسلم قریشی کے اغواء میں اعانت کرنے کا اعتراف کر لیا تھا۔ وہ کار بھی پولیس نے قبضہ میں لے لی تھی جس میں انہیں اغواء کیا گیا تھا۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۸۸ء)
مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا بیان: ملتان (نمائندہ جنگ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمد نے مولانا محمد اسلم قریشی کی برآمدگی کو ایک معجزہ قرار دیا ہے اور آئی. جی پولیس کی پریس کانفرنس میں مولانا محمد اسلم قریشی کے دیئے گئے بیان کو قادیانیوں اور انتظامیہ کی سازش قرار دیا ہے اور کہا کہ اس سلسلہ میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا عنقریب اجلاس بلا کر تفصیلی بیان جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف آئی. جی پنجاب نے اعتراف کیا ہے کہ مولانا اسلم قریشی کی ایران میں موجودگی کا ان کو پہلے علم تھا اور دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ مولانا محمد اسلم قریشی رضا کارانہ طور پر ہمارے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو قادیانیوں کی پشت پناہی کا سلسلہ بند کر دینا چاہئے اور قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اپنے کردار پر پردہ ڈالنے اور مرزا طاہر کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ جسے ختم نبوت کے جانثار کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا محمد اسلم قریشی کو آزاد کیا جائے تاکہ مجلس عمل کے رہنما ان پر گزرے ہوئے واقعات معلوم کر سکیں۔ دریں اثناء مولانا خان محمد ملتان سے کراچی روانہ ہو گئے۔ جہاں سے وہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب جائیں گے۔
(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۸۸ء)
غرض اسلم قریشی کی رہائی ہو گئی۔ وہ جسمانی اور دماغی طور پر بہت ہی ابنارمل تھے۔ اس کیفیت میں ایک دن عدالت میں ایک قادیانی وکیل سامنے آیا تو اسلم قریشی نے ویٹ پیپر اٹھا کر اس کو مارا اور چیختا چلاتا دوڑا کہ مجھے اغوا کرنے میں سیالکوٹ کا یہ قادیانی بھی شریک تھا۔ غرض قادیانیوں نے اسلم قریشی کے اغواء کے مسئلہ میں سو گنڈے بھی کھائے سو ڈنڈے بھی کھائے۔ تحریک بھی چلی۔ قادیانیوں کے خلاف امتناع قادیانیت قانون منظور ہوا۔ وفاقی شرعی عدالت، ہائیکورٹ، سپریم کورٹ کے فیصلے ان کے خلاف ہوئے۔ مرزا طاہر کے مباہلہ کے بعد اسے منظر پر لایا گیا۔ پولیس نے جو کہانی جوڑی اس کی چولیں صحیح نہ بیٹھیں۔ اسلم قریشی دماغی طور پر اسے ایسا مفلوج کیا گیا کہ وہ گھر والوں سے بھی نہ سنبھالا گیا۔ اب گھر سے نکلا، کہ اب وہ کہانی ہی سمیٹ دینے کے قابل ہے۔ البتہ مرزا طاہر کے مباہلہ کا کیا ہوا۔ اسی طرف ہم آگے بڑھیں ۔ قارئین انتظار فرمائیں۔ اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے بلوچستان مجلس کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس کا متن ملاحظہ ہو:
مولانا اسلم قریشی کیس، بلوچستان کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس: کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے قائم مقام امیر حاجی سید شاہ محمد اور مرکزی رہنما مولانا نذیر احمد تونسوی نے جمعرات کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کے اسکینڈل کی تحقیقات ہائیکورٹ کے جج سے کرائی جائے۔ کیونکہ مجلس کے پاس نا قابل تردید ثبوت اور شواہد موجود ہیں کہ مولانا اسلم قریشی کو کس طرح استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کے ڈرامہ سے اہل اسلام کو شدید ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کہ قادیانیوں کو مظلوم اور بے گناہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ پنجاب پولیس نے مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کا شرمناک ڈرامہ رچا کر عوام میں ان کے وقار کو مجروح کیا اور مولانا اسلم قریشی پر مسلسل ساڑھے پانچ سال تک ظلم وتشدد کر کے ذہنی طور پر مفلوج کیا گیا۔ مجلس کے رہنماؤں نے کہا کہ مولانا اسلم قریشی سیالکوٹ کے قصبہ معراجکے جاتے ہوئے اغواء ہوئے تھے۔ پولیس نے ان کے لواحقین اور مجلس کے دباؤ کے بعد تین روز کی تاخیر سے مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے اپنی تفتیش کے دوران اس بات کا سراغ لگا لیا تھا کہ مولانا اسلم قریشی کو قادیانیوں نے اغواء کیا۔ پولیس نے ایک کار بھی برآمد کر لی جو اغواء میں استعمال ہوئی تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کار کے مالک نے اغواء کا اعتراف کر لیا تھا جو بعد میں ملک سے فرار ہو گیا۔ اب پولیس نے فرضی کہانی تیار کی کہ مولانا اسلم قریشی ۱۷؍ فروری کو بس میں سوار ہو کر لاہور چلے گئے ۔ حالانکہ ۱۷؍ فروری ۱۹۸۳ء کو سیالکوٹ میں بسوں کی ہڑتال تھی۔ یہ بات ریکارڈ میں موجود ہے۔ مجلس کے قائدین نے کہا کہ پنجاب پولیس نے فرضی کہانی کے ذریعہ اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ تا کہ اصل مجرموں کے جرم پر پردہ پڑا رہے۔ مولانا اسلم قریشی سے شدید دباؤ یا برین واشنگ کے ذریعے بیان دلوایا گیا ہے۔ پنجاب پولیس نے ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء کو صبح دس بجے فرضی پریس کانفرنس کرائی جس میں پولیس کے اہلکار سادہ کپڑوں میں موجود تھے۔ اس ریہرسل کے بعد دوپہر کو کانفرنس کی گئی جس میں ابلاغ عامہ کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے سربراہ نے کہا کہ اسلم قریشی خود بخود پولیس کے سامنے پیش ہو گئے۔ ان کو ۱۰؍ جولائی ۱۹۸۸ء کو پنجاب پولیس کی خصوصی پارٹی کوئٹہ سے لاہور لائی ہے۔ اس بات کی خود سرکاری ذرائع سے تردید ہو جاتی ہے۔ مولانا اسلم قریشی کو اسلام آباد کی خفیہ ایجنسی کے عملے نے تفتان سے زاہدان میں پاکستان کے وائس قونصل میر گیلانی قادیانی افسر ملک اقبال کے قبضے سے بی اینڈ آر ریسٹ ہاؤس تفتان سے نیم بیہوشی کی حالت میں تحویل میں لیا۔ ان کی ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کا ایف آئی اے کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے نہ ہی ان کی غیر قانونی طور پر ایف آئی اے امیگریشن چیک پوسٹ نے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ مولانا اسلم قریشی کو پجیرو گاڑی میں ۶؍ جولائی کو کوئٹہ پہنچایا گیا۔ چار روز کوئٹہ میں خصوصی انٹروگیشن سیل میں رکھا گیا۔ ۱۰؍ جولائی کو کوئٹہ سے راولپنڈی بذریعہ طیارہ پہنچایا گیا اور راولپنڈی سے ۱۰ اور ۱۱؍ جولائی کی درمیانی رات لاہور پہنچایا گیا۔ اب آئی جی پنجاب کا دعویٰ ہے کہ وہ خود بخود پولیس کے روبرو پیش ہو گئے ۔ اس کی تردید ہوئی ہے۔ ۱۰؍ جولائی کو کوئٹہ سے لاہور کی کوئی فلائٹ نہیں تھی۔ گزشتہ دو ماہ سے پنجاب پولیس کا کوئی افسر بلوچستان نہیں آیا۔ حکومت بلوچستان نے ۱۳؍ جولائی کو ایک ہینڈ آؤٹ جاری کیا کہ پنجاب پولیس کا کوئی افسر یا پارٹی مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کے لئے بلوچستان نہیں آئی۔ مجلس کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں کو مولانا اسلم قریشی کے بارے میں کوئی علم نہیں لیکن اسلام آباد کی خفیہ ایجنسی ۲؍ جولائی سے ڈرامہ کی تیاری کر رہی تھی۔ اس سے قبل حکومت نے کوئٹہ میں مولانا اسلم قریشی کی بازیابی کا ڈرامہ تیار کرنے کی کوشش کی جس کے حقائق کا ہمیں علم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سرحد چیک پوسٹ کے خروج کے ریکارڈ میں مولانا اسلم قریشی کا نام درج نہیں ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سکھر سے گوادر جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ گوادر جانے کے لئے کوئٹہ یا کراچی سے خضدار یا سعداب ہو کر جانا پڑتا ہے۔ یہ راستہ انتہائی طویل اور دشوار گزار ہے۔ دوسری طرف گوادر میں مجلس کی شاخ نے بتایا کہ یہاں پر اب تک کوئی ڈینٹل سرجن موجود نہیں ہے۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ مجلس نے زاہدان، تفتان، گوادر اور ایرانی بلوچستان میں تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بازیابی کے ڈرامہ کی تحقیقات ہائیکورٹ کے جج سے کرائی جائے۔ مولانا اسلم قریشی کو شاہی قلعہ لاہور کے سیل میں تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں دہشت گردوں اور تخریب کاروں کو رکھا جاتا ہے۔ ان کے رشتہ داروں کو ملنے کی اجازت نہیں۔ ان کے رشتہ داروں نے بتایا کہ ان کو پولیس کی موجودگی میں ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ بڑے خوفزدہ اور نڈھال ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مؤرخہ ۲۶؍ اگست تا یکم ستمبر ۱۹۸۸ء)
مبلغ ختم نبوت مولانا نذیر احمد تونسوی کا بیان: مبلغ ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی ساڑھے پانچ سال قبل اغواء ہوئے تھے۔ ۱۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء کو لاہور میں آئی جی پولیس پنجاب نے ایک پریس کانفرنس میں ان کی بازیابی کا ڈرامہ رچایا۔ مولانا اسلم قریشی سے پولیس کی حراست میں پریس کانفرنس کرا کر حقائق پر پردہ ڈالنے کی جو نا کام کوشش کی گئی اس سے ملت اسلامیہ کو شدید تشویش ہوئی۔ علماء کا وقار مجروح ہوا۔ گو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پریس کانفرنس کی تردید حقائق سے ہوتی رہی۔ حکومت بلوچستان اور حکومت ایران نے پنجاب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پولیس نے حقائق پر پردہ ڈالنے کے لئے فرضی کہانی کی تردید کی اور پنجاب پولیس نے حقائق پر پردہ ڈالنے کے لئے مولانا اسلم قریشی کو دفعہ ۱۶۔ ایم۔ پی۔ او کے تحت گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا جس پر درخواست ضمانت دی گئی۔ آج مورخہ ۳۰؍ جولائی ۱۹۸۸ء کو سیشن جج سیالکوٹ کی عدالت میں درخواست کی سماعت تھی۔ مولانا اسلم قریشی کو پولیس نے عدالت میں پیش کیا۔ عدالت میں مولانا اسلم قریشی نے جو جرأت مندانہ بیان دیا اس سے پنجاب پولیس کی فرضی کہانی کی خود بخود تردید ہو جاتی ہے۔ عدالت میں مولانا اسلم قریشی کے وکیل نے وکالت نامہ پیش کیا کہ اس پر دستخط کریں۔ انہوں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک ظلم و تشدد مجھ پر ہوا اور اب مجرم بھی میں ٹھہرا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف کی عدالت ہوتی تو آج میری جگہ مرزا طاہر کو ہونا چاہئے تھا۔ مولانا اسلم قریشی نے کہا کہ مجھے قادیانیوں نے اغواء کیا تھا۔ ربوہ میں مرزا طاہر احمد کے سامنے مجھے پیش کیا تھا۔ مجھ پر انتہائی تشدد کیا گیا۔ تذلیل اور تضحیک کے لئے قادیانی عورتوں کی فورس کے حوالہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف کی عدالت ہے تو پھر مرزا طاہر احمد پر مقدمہ چلایا جائے۔ عدالت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ۱۲؍ جولائی کی پریس کانفرنس میری نہیں بلکہ پنجاب پولیس کی تھی۔ انہوں نے ضمانت پر رہا ہونے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں وقت آنے پر جلد ہی حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰، مورخہ ۱۹؍ اگست ۱۹۸۸ء)
مولانا اسلم قریشی کیس کے ملزم اعظم قادیانی کو عدالت نے مفرور قرار دے دیا: مولانا اسلم قریشی کیس کے ایک ملزم اور جماعت احمدیہ ضلع سیالکوٹ کے امیر سابق ایم۔ پی۔ اے اعظم قادیانی کے کیسوں کا فیصلہ سناتے ہوئے سینئر سول جج ڈسکہ جناب اسعد رضا نے اعظم قادیانی کو مفرور قرار دے کر اس کے دائمی وارنٹ گرفتاری تھانہ سمبڑیال بھیج دیئے ہیں۔ فاضل جج نے کہا کہ اعظم قادیانی جب کبھی بھی پاکستان کی حدود میں آئے اس کو گرفتار کر کے عدالت ہذا میں پیش کیا جائے۔ یاد رہے کہ اعظم قادیانی جس کو تین مرتبہ ۲۹۸۔سی کے تحت گرفتار کیا گیا اس نے نہ صرف صدارتی آرڈیننس کی بار بار خلاف ورزی کرنے کا برملا اظہار کیا بلکہ صدارتی آرڈیننس کو حقوق انسانی کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ضیاء الحق نے یہ آرڈیننس جاری کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور میں اس آرڈیننس کو نہیں مانتا۔ جب اعظم قادیانی کو مولانا اسلم قریشی کیس میں ضلعی امیر جماعت احمدیہ و خدام الاحمدیہ ضلع سیالکوٹ کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے مولانا اسلم قریشی کیس کی تحقیقات کرنے والے ڈی۔ ایس۔ پی محمد بخش گاڑھا نے شامل تفتیش کیا تو وہ راتوں رات غائب ہو گیا۔ کیس کے مدعی ختم نبوت یوتھ فورس پاکستان کے مرکزی صدر صاحبزادہ سلمان منیر نے جب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہوم سیکرٹری اور وزیر مذہبی امور کو اس سلسلے سے آگاہ کیا۔ حاجی میر ترین نے مولانا اسلم قریشی کیس کی انکوائری ٹیم کے انچارج ڈی۔ آئی۔ جی گوجرانوالہ چوہدری امین کو بلا کر مولانا عزیز الرحمٰن سے اسلام آباد میں ملاقات کروائی تو ڈی۔ آئی۔ جی چوہدری امین نے کہا کہ اعظم قادیانی ملک سے فرار ہو گیا تو سمجھ لینا کہ میں نے یا حکومت نے بھجوایا ہے۔ جب کہ اس کے باوجود اعظم قادیانی اپنے آقا اور اسلم قریشی کیس کے سب سے بڑے مجرم مرزا طاہر کے پاس لندن پہنچ گیا۔ اعظم قادیانی کے تین ساتھیوں محمد اسحاق، محمد شریف اور محمد صدیق کو پانچ ہزار دو ہزار دو ہزار بالترتیب جرمانہ کی سزا سنائی۔ جب کہ ۸۷ / ۸۸ کی کارروائی کے احکام تحصیلدار ڈسکہ کے پاس پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۸، مورخہ یکم تا ۷؍ جولائی ۱۹۸۸ء)
واقعات کی ترتیب کو سامنے رکھیں:
- ۱....... ۷؍ فروری ۱۹۸۳ء کو اسلم قریشی اغوا ہوا۔
- ۲....... ڈی۔ آئی۔ جی، کمشنر نے کہا کہ دو چار دنوں میں زندہ مل جائیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... ایک کار برآمد کی کہ اس میں اسلم قریشی اغواء ہوئے۔
- ۴...... اعظم قادیانی زیرتفتیش پولیس سے مفرور ہوا۔
- ۵...... برآمدگی پر کہا کہ وہ بلوچستان سے برآمد ہوا۔ پنجاب سے پولیس گئی۔
- ۶...... بلوچستان پولیس نے کہا کہ پنجاب سے کوئی پولیس نہیں آئی نہ ہی بلوچستان سے برآمد ہوا۔
- ۷...... پھر حکومت نے کہا اسلام آباد سے ایجنسی کے افراد ایران گئے۔
- ۸...... پھر معلوم ہوا کہ پاکستان کے ایران میں جس قونصل خانہ کے جس آدمی سے برآمدگی ہوئی وہ قادیانی ہے۔
- ۹...... اسلم قریشی سے پریس کانفرنس کی پہلے ریہرسل کرائی گئی۔ پھر پریس کانفرنس ہوئی۔
- ۱۰...... ریمانڈ کے بعد عدالت میں اسلم قریشی پولیس کی پریس کانفرنس سے مکر گیا اور اقرار کیا کہ میرا وہ بیان پولیس کے تشدد کے باعث
تھا یہ کہ مجھے قادیانیوں نے اغواء کیا۔
یہ ساری تفصیلات آپ پڑھ چکے۔ اب ہم مسکینوں کے اس جملہ کو ایک بار پھر ذہن میں لائیے کہ قادیانیوں نے سوگنڈے بھی کھائے سو ڈنڈے بھی کھائے۔ چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی اور اب آخر میں ہفت روزہ ختم نبوت کا ایک اداریہ ملاحظہ ہو:
آئی جی پنجاب کو فوراً برطرف کیا جائے: ہم نے گزشتہ اداریے میں شواہد پیش کئے تھے کہ مولانا اسلم قریشی کو قادیانیوں نے ہی اغواء کیا ہے۔ ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ وقت آنے پر حقیقت حال واضح ہو جائے گی۔ چنانچہ پہلے جو بیان مولانا اسلم قریشی کی طرف سے منسوب کیا گیا تھا وہ پولیس کے سخت ترین پہرے میں دیا گیا تھا۔ جو مولانا کا کم اور آئی جی پنجاب کا زیادہ تھا۔ اب جب مولانا موصوف کو سیالکوٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا تو پنجاب پولیس کا سارا ڈرامہ ٹیں ٹیں فش ہو کر رہ گیا اور مولانا نے آزادی کے ساتھ یہ بیان دیا۔
سیالکوٹ (نمائندہ جنگ) مبلغ تحفظ ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی کو گزشتہ روز مقامی پولیس نے لاہور سے لاکر مقامی مجسٹریٹ لیاقت علی کی عدالت میں ڈی ایس پی سٹی عبدالرؤف ڈوگر کی نگرانی میں پیش کیا۔ عدالت نے مولانا اسلم قریشی کے خلاف ۱۶۔ایم پی او کے تحت تھانہ رنگ پورہ میں قائم کردہ مقدمہ میں چودہ روز کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر مولانا محمد اسلم قریشی کو ۱۳؍اگست تک جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ بھجوا دیا ہے۔ مولانا محمد اسلم قریشی نے اپنی بازیابی کے بعد ۱۲؍جولائی ۱۹۸۸ء کو لاہور میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نثار احمد چیمہ اور صحافیوں کے روبرو دیئے گئے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے عدالت میں کہا کہ مجھے مرزا طاہر اور دوسرے قادیانیوں نے اغوا کرایا تھا۔ بعدازاں ان کی عورتوں اور مردوں نے تشدد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ربوہ میں وافر مقدار میں اسلحہ موجود ہے۔ عدالت میں مولانا اسلم قریشی سے ارشد اعوان ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ پر دستخط کرنے کے لئے کہا تو انہوں نے کہا کہ میں کسی درخواست پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی میں موجودہ حالات میں رہائی چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت تک کوئی بیان نہیں دوں گا۔ جب تک کہ ربوہ میں چھاپہ مار کر وہاں سے اسلحہ برآمد نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایک دشمن بھی یہاں نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس وقت تک کسی قسم کا بیان قلمبند نہیں کرانا چاہتا جب تک مجھے اغواء کرنے والے قادیانی مردوں، عورتوں اور مرزا طاہر قادیانی امریکی ایجنٹ کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا۔ میں اس وقت تک نہ تو کوئی وکیل کروں گا اور نہ ہی ضمانت پر رہا ہوں گا۔ مولانا اسلم قریشی نے عدالت میں پیش ہوتے ہی مدعی منظور الٰہی اعوان سے کہا کہ حوصلہ رکھیں۔ اونٹوں والوں سے یاری لگا کر دروازے اونچے رکھنے پڑتے ہیں۔
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ یکم ؍اگست ۱۹۸۸ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس آزادانہ عدالتی بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آئی . جی پنجاب نے مولانا اسلم قریشی کو برآمد کرنے کے بعد بعض پولیس افسروں کو (جو تفتیشی ٹیم میں شامل تھے اور جنہوں نے قوم کا لاکھوں روپیہ ضائع کیا) قادیانی پیشوا مرزا طاہر اور اس کیس میں ملوث سیالکوٹ کے سرکردہ قادیانیوں کو بچانے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈرامہ رچایا تھا جو مولانا اسلم قریشی کے عدالتی بیان کے بعد ریت کا مادھو ثابت ہوا۔ اس بیان کے بعد حکومت کو چاہئے کہ وہ بیک بینی و دو گوش انہیں فوراً آئی . جی پنجاب کے عہدے سے برطرف کرے ۔ ورنہ اس ڈرامہ باز شخص کی وجہ سے ملک کے حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ علاوہ ازیں پولیس کے وہ افسران جو تفتیش پر مامور تھے اور جنہوں نے قوم کا لاکھوں روپیہ ضائع کیا انہیں نہ صرف برطرف کیا جائے بلکہ انہوں نے قومی خزانہ کا جو نقصان کیا ہے ان کی جائیدادیں ضبط کر کے قومی نقصان کو پورا کیا جائے۔
اب جب کہ مولانا محمد اسلم قریشی کے عدالتی بیان سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ انہیں قادیانی پیشوا مرزا طاہر نے اغواء کرایا تھا اور یہ کہ ان پر قادیانی عورتوں تک نے تشدد کیا۔ مرزا طاہر کے خلاف اغواء کا کیس درج کیا جائے اور انہیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان لا کر اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے ۔ نیز جیسا کہ مولانا محمد اسلم قریشی نے اپنے عدالتی بیان میں کہا ہے کہ ربوہ میں بے پناہ اسلحہ موجود ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ربوہ کی نگرانی کرنی چاہئے تا کہ وہ اسلحہ ادھر ادھر منتقل نہ کر دیا جائے ۔ آئی . جی پنجاب نثار احمد چیمہ کی وجہ سے یہ بات ناممکن نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ مولانا کے بیان کے بعد وہ اسلحہ بھی غائب کر دیا گیا ہو ۔ بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ ربوہ پر چھاپہ مار کر اسلحہ برآمد کرنے میں قطعاً تاخیر نہ کرنی چاہئے ۔
(اداریہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۴، مورخہ ۹ تا ۱۵؍ستمبر ۱۹۸۸ء)
غیر قانونی طور پر لٹریچر تقسیم کرنے پر ایک قادیانی گرفتار
یکم اگست کو ایک قادیانی شوکت ولد نظام دین قوم کمہار سکنہ پریم کوٹ ”مباہلہ“ نامی پمفلٹ تقسیم کر رہا تھا جس سے حافظ آباد کا امن خراب ہونے کا خطرہ تھا ۔ حافظ عبد الوہاب جالندھری مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حافظ آباد کو بشیر احمد گجر نے اطلاع دی اور حافظ عبدالوہاب کے بروقت مداخلت کر کے انتظامیہ سے رابطہ کر کے ملزم کو گرفتار کروا دیا اور اس کے خلاف مقدمہ ۲۷۲، جرم ۲۹۸۔الف، ۲۹۵۔الف تھانہ صدر حافظ آباد میں کیس درج کر لیا گیا ہے ۔ اس کیس میں چوہدری محمد خان صاحب تفتیشی افسر نے نہایت ہی دیانت داری کا ثبوت دیا اور قانونی تقاضے پورے کئے ۔ حافظ عبد الوہاب جالندھری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قادیانی ایسی حرکتیں کر کے ملک کے امن اور سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ ان کی حرکات کا سختی سے نوٹس لے ۔ حافظ عبد الوہاب جالندھری نے ان کے لٹریچر کے جواب میں کہا ہے کہ قادیانی مرزا طاہر احمد کو بلائیں اور جہاں چاہیں جس وقت چاہیں میرے ساتھ مباہلہ کر لیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۰، مورخہ ۱۹؍اگست ۱۹۸۸ء)
قادیانیوں کو مسلمان ظاہر کر کے بیرون ملک بھجوانے کا ملزم گرفتار
کراچی: ۲۲؍ستمبر (ایوننگ اسپیشل) ایف . آئی . اے نے ایک قادیانی باشندے کو جعلسازی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا ۔ ملزم کے قبضے سے بارہ پاسپورٹ اور تیس شناختی کارڈ برآمد کئے ہیں ۔ ملزم کی نشاندہی پر پاسپورٹ آفس صدر کے تین بڑے افسروں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔ جن پر افراد کی غیر موجودگی میں پاسپورٹ جاری کرنے کا الزام ہے ۔ ایف . آئی . اے کے ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن مسٹر سہیل درانی کی ہدایت پر ایف . آئی . اے پاسپورٹ سیل کے انچارج
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انسپکٹر فقیر محمد کی سربراہی میں سب انسپکٹر محمد بوٹا نے قادیانی باشندے نعیم اللہ خان کو گرفتار کر کے ملزم کے قبضے سے بارہ پاسپورٹ اور بتیس شناختی کارڈ اور ڈیکلریشن فارم برآمد کئے ہیں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم سیالکوٹ کا رہنے والا ہے اور فیڈرل بی ایریا میں رہتا ہے۔ ملزم پر قادیانی باشندوں کو مغربی جرمنی اور دوسرے ممالک بھجوانے کا الزام ہے۔ ملزم نعیم اللہ خان جو بظاہر امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار کرتا ہے۔ قادیانیوں سے ۳۵/ ہزار فی کس وصول کر کے ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنواتا ہے۔ ملزم کے ساتھ اس غیر قانونی کاروبار میں پاسپورٹ آفس صدر کے تین افسران ملوث ہیں۔ جن کی ملی بھگت سے پولیس انکوائری کے بغیر اور افراد کی غیر موجودگی میں پاسپورٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔ ملزم اس طرح ایک ہزار سے زائد قادیانیوں کو بیرون ملک بھجوا چکا ہے۔ ایف آئی اے پاسپورٹ آفس کے تینوں افسروں کے خلاف تفتیش کر رہے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۸، مورخہ ۴ تا ۱۰/ نومبر ۱۹۸۸ء)
دو رکنی وفد ختم نبوت کا دورہ امریکہ
مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما محترم حضرت مولانا منظور احمد الحسینی ، محترم جناب عبدالرحمن باوا نے ۱۹۸۸ء میں امریکہ کا دورہ کیا۔ اس کی رپورٹ کا ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں:
- ۞...... امریکہ میں وفد ختم نبوت کی شاندار مصروفیات۔
- ۞...... اسلامک سینٹر آف اورنج کاؤنٹی ، اینگل وڈ ، سن گبریل ویلی نارتھ برج اور ورماؤنٹ اسلامک سینٹر سے اردو ، عربی ، فارسی اور
انگریزی میں خطابات ، سوالات و جوابات۔
- ۞...... مرزا طاہر نے آدھ گھنٹہ کی تاخیر کے ساتھ نماز مغرب کی تین رکعتوں کی بجائے چار رکعتیں بغیر درمیانی تشہد کے پڑھا ڈالیں۔
- ۞...... قادیانیت کا پرچار ، طلاقی الہام اور گیارہ سالہ بچے کا قتل ، گستاخ رسول قادیانی جوڑے کی پاکستان میں بدنامی ۔
۲۰/ اکتوبر ۱۹۸۸ء وفد ختم نبوت کو ۱۰ بجے شکاگو ایئر پورٹ پر رفقاء نے الوداع کیا۔ ریاست کیلیفورنیا کے سب سے بڑے شہر لاس اینجلس کے ایئر پورٹ پر ۲/ بجے دوست و احباب نے خیر مقدم کیا۔ ایئر پورٹ سے ہم قیام گاہ پہنچے اور اسی شام ہی پروگرام کے سلسلے میں احباب کے ساتھ مشورہ ہوا۔ عشاء کے بعد اس شہر کے سب سے بڑے اسلامک سینٹر آف اورنج کاؤنٹی کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر مزمل صدیقی سے بغرض ملاقات ان کے گھر حاضری دی۔ وفد نے اپنی حاضری کا مقصد بتلایا اور لٹریچر کا سیٹ پیش کیا۔ ڈاکٹر صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں سے ”ہفت روزہ ختم نبوت“ کے ذریعہ پہلے سے آگاہ تھے۔ آپ نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے انتہائی مسرت کا اظہار فرمایا۔ پروگرام کے بارے میں مشورہ کے بعد طے کیا گیا کہ اتوار کو ظہر کے بعد عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر انگریزی میں بیان ہوگا اور بعد ازاں محفل سوال و جواب ہو گی۔
پروگرام کے مطابق ۲۱/ اکتوبر ۱۹۸۸ء بروز جمعہ وفد ختم نبوت ، اسلامک سینٹر اینگل وڈ پہنچا۔ جمعہ سے قبل رفیق محترم مولانا عبدالرحمن باوا نے انگریزی اور اردو میں خطاب کیا۔ جب کہ راقم الحروف نے خطبہ جمعہ ( جو اسی ختم نبوت کے متعلق تھا ) اور جمعہ پڑھانے کے فرائض سرانجام دیئے۔ دونوں بیانوں میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کی شوریدہ سری سے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا۔ حاضرین نے بڑی دلچسپی سے بیانات سنے اور جمعہ کے بعد بھی کافی دیر تک اسی موضوع پر گفتگو رہی۔
۲۲/ اکتوبر ۱۹۸۸ء ہفتہ لاس اینجلس سے ۵۰ میل دور ”چینو“ شہر جانا تھا۔ جہاں چند احباب سے ملاقات کی گئی۔ واپسی پر مسجد قبا اسلامک سینٹر سن گبریل ویلی میں مغرب کے بعد محترم باوا صاحب کا انگریزی میں خطاب ہوا۔ احقر نے فارسی میں اس کی ترجمانی کی آخر میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال و جواب کی محفل بھی رہی۔
۲۳ اکتوبر اتوار اسلامک سینٹر اورنج کاؤنٹی میں پروگرام تھا۔ ظہر کے بعد سینٹر کے ہال میں بڑا اجتماع تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جو ایک کانفرنس کا سماں پیش کر رہا تھا۔ بیان سے پہلے ڈاکٹر مزمل صدیقی نے وفد ختم نبوت کا تفصیلی تعارف کرایا اور عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں محترم باوا صاحب نے انگریزی میں قادیانیوں کے عقائد وعزائم کے علاوہ مرزا طاہر کی طرف سے جاری کئے گئے۔ چیلنج مباہلہ کے جواب میں تفصیلی طور پر اظہار خیال کیا۔ یہ خطاب پون گھنٹہ جاری رہا۔ بعد ازاں ایک طویل محفل سوال و جواب کی ہوئی۔
اسی روز مغرب کے بعد مسجد نور میں محترم باوا صاحب کا انگریزی میں بیان ہوا اور مختلف سوالات کے جوابات دیئے گئے۔ عشاء کے بعد لاس اینجلس کے فائیو سٹار ہوٹل بیونا پارک میں (فنڈ ریزنگ ڈنر پارٹی تھی جس میں ڈاکٹر مزمل صدیقی کے علاوہ ڈاکٹر جمال بدادی اور ری پبلک پارٹی (آف یونائیٹڈ سٹیٹ امریکہ) کے ایک نمائندہ نے بھی تقریر کی۔ وفد ختم نبوت کو بھی خصوصی دعوت دی گئی تھی) رفیق مکرم جناب مولانا عبدالرحمن باوا نے اپنے دس منٹ کے خطاب میں انتہائی نپے تلے انداز میں تقریر کی۔ یہ تقریر انگریزی میں تھی آپ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی بنیاد ہے۔ مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے براہ راست اس عقیدے پر حملہ کیا ہے اور مسلمانوں کو حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے برگشتہ کر کے مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کے ساتھ وابستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں قادیانی ٹولہ پورے نارتھ امریکہ میں مسلمانوں کے گھروں میں لٹریچر اور کیسٹوں کی تقسیم کے ذریعے قادیانیت کی ارتدادی تبلیغ کرتا ہے۔ اس لئے ہمیں امریکہ کے مسلمانوں نے دعوت دی ہے کہ ہم آئیں اور ان کے سامنے حقیقی صورت کو واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہاں اپنے مسلمانوں میں بھی اس بات کی بیداری پیدا کرنی ہے کہ قادیانیوں کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ قادیانی ٹولہ مسلمانوں کا کوئی فرقہ نہیں ہے بلکہ ایک علیحدہ امت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرزا غلام احمد نے نہ صرف یہ کہ حضرت محمد ﷺ کی معاذ اللہ سخت توہین کی ہے بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات پر بھی کیچڑ اچھالا ہے۔ تقریر کے بعد اسٹیج پر موجود تمام حضرات کو جیسس اینڈ احمد یہ موومنٹ کی ایک ایک کاپی بھی تحفہ کے طور پر دی گئی۔
۲۴ اکتوبر کو ورماؤنٹ سینٹر ڈاؤن ٹاؤن جانا ہوا اور وہاں چند احباب سے خصوصی ملاقات کی گئی۔ ۲۵ اکتوبر کو ۱۱ بجے دن تا ۲ بجے مستورات میں مسئلہ قادیانیت انگریزی اردو اور عربی میں بیان کیا گیا۔ ظہر کے بعد محفل سوال و جواب منعقد کی گئی۔ اسی شام کو مغرب کے وقت نارتھ برج اسلامک سنٹر میں چند نوجوانوں سے ملاقات کی گئی۔ مغرب کے بعد یہاں کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر حسن الدین ہاشمی سے خصوصی ملاقات کی گئی۔ سنٹر میں احقر نے ۱۵ منٹ اردو میں بیان کیا۔ عشاء کے بعد اس علاقے میں ایک دوست کے مکان پر پہنچے۔ وہاں چند احباب جمع تھے۔ جن سے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔
لاس اینجلس میں قیام کے دوران قادیانیوں کے متعلق بہت سے واقعات ہمیں بتلائے گئے۔
- ۱...... ایک صاحب نے ہمیں بتایا کہ اورنج کاؤنٹی (لاس اینجلس) کے قریب ایک مقام پر سکھوں کا خصوصی خفیہ اجتماع ہوا ایک قادیانی
بھی اس میں شریک ہوا اس قادیانی نے سکھوں سے کہا کہ ہم پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔ تم اس سلسلہ میں ہماری مدد کرو، ہم تمہاری بھارت میں مدد کریں گے۔ مگر سکھوں نے صاف طور پر انکار کر دیا۔ جس سے وہ قادیانی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔
- ۲...... پچھلے سال مرزا طاہر جب کیلیفورنیا کے دورے پر لاس اینجلس پہنچا تو ایک شام کو اجتماع رکھا گیا تھا جس میں ریڈیو اور ٹی۔وی کے
نمائندے بھی شریک ہوئے۔ مغرب کے وقت مرزا طاہر اخباری نمائندوں اور ٹی۔وی والوں کے ساتھ اتنا مصروف ہو گیا کہ مغرب کی نماز میں آدھ گھنٹہ سے زیادہ تاخیر ہو گئی۔ قادیانی لوگ دیکھ رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ نماز کا وقت جا رہا ہے مگر کسی میں اتنی جرأت نہ ہوئی کہ وہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حق بات کہے۔ آخر کار کافی لیٹ نماز پڑھائی اور دوران نماز وہ انٹرویو میں اتنے گم تھے کہ بجائے تین رکعتوں کے چار رکعتیں بغیر درمیانی تشہد کے پڑھا دیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ نماز نہیں ہوئی۔ مرزا طاہر کو لوٹانی چاہئے تھی مگر اس نے نہیں لوٹائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزائیوں نے نماز میں بھی تبدیلی کر دی ہے۔ اپنی مرضی سے جتنی چاہیں رکعتیں پڑھ لیں۔
- ۳...... لاس اینجلس میں ڈاکٹر پرویز نامی ایک شخص قادیانیت کا زبردست پرچارک اور مبلغ ہے اور اس کی بیوی بھی مرزائیت کے حلقہ
میں خاصا اچھا مقام رکھتی ہے۔ یہ دونوں مرزائیت کی باطل تبلیغ میں دن رات کوشاں رہتے تھے۔
جیسا کہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ اس ڈاکٹر نے ایک گفتگو کے دوران کئی مرتبہ اپنے گندے منہ سے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی اور دریدہ دہنی کی جس کی فوری سزا اللہ تعالیٰ نے اس کو دے دی ہے۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ اس گستاخی کے واقعہ کے بعد اس کی بیوی پر ’’جعلی الہامات‘‘ کے چھینٹے پڑنے شروع ہوئے جو کبھی پہلے بھی پڑا کرتے تھے۔ مگر اب زور شور سے پڑنے لگے۔ ان الہامات میں یہ الہام بکثرت آنا شروع ہوا کہ تو اپنے شوہر ڈاکٹر پرویز سے طلاق لے لے اور خاص یہی ’’طلاقی الہام‘‘ تسلسل سے آنے لگا۔ آخر کار اس نے عدالت میں اپنے شوہر کے خلاف دعویٰ دائر کر کے طلاق لے لی۔ (مغربی ممالک میں عورت کو بھی طلاق کا حق ہے) اس ڈاکٹر پرویز کے دو لڑکے تھے۔ بڑا لڑکا تقریباً گیارہ سال کا اور دوسرا چھوٹا تھا۔ طلاق کے بعد عدالت میں بچوں کی پرورش کا مسئلہ چلا۔ چنانچہ امریکی قانون کے مطابق ہفتہ دو دن بچے والد کے پاس اور باقی دن اپنی والدہ کے پاس رہنے لگے۔ ڈاکٹر نے بڑے لڑکے کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا اور عدالت میں اس سلسلے میں مقدمہ چلتا رہا۔ ڈاکٹر نے اپنے پرانے گھر سے دور ایک نیا فلیٹ کرائے پر لیا اور اپنے بھائی عبدالستار کے ساتھ وہاں رہنے لگا۔ دونوں بچے بھی وہیں اس کے پاس آتے تھے۔ ایک مرتبہ جب یہ ملنے کے لئے آئے تو ایک خوفناک واقعہ رونما ہوا۔ ڈاکٹر نے قریبی پولیس تھانہ میں رپورٹ درج کرائی کہ میرا بڑا بیٹا گم ہو گیا ہے اور ابھی تک واپس نہیں آیا۔ دوسری طرف گاربیج (کچرا اٹھانے والے آفیسر) کی طرف سے پولیس کو رپورٹ درج کرائی گئی کہ ہمیں پلاسٹک کے تھیلے میں ایک گیارہ سالہ بچے کی لاش ملی ہے جس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ لاش ڈاکٹر پرویز کے فلیٹ کے سامنے سے ملی ہے اور بچے کی جیب سے جو اڈنٹٹی کارڈ ملا ہے اس سے پتہ چلا ہے کہ وہ ڈاکٹر پرویز ہی کا لڑکا ہے۔ پولیس نے ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا ہے اور گھر سیل کر دیا ہے۔
پڑوسیوں کی شہادت کے بعد رات بھر ڈاکٹر کے گھر سے نل چلنے کی آواز آتی رہی ہے اور وہ رسیدیں بھی برآمد کر لی گئی ہیں جن سے چھریاں وغیرہ خریدی گئی تھیں۔ اس قتل کے فوراً بعد اس کا بھائی لاپتہ ہو گیا ہے۔ پولیس سرگرمی سے اس کو تلاش کر رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر نے یہ بیان دیا ہے کہ میں نے قتل نہیں کیا۔ یہ میرے بھائی کا کام ہے۔ ڈاکٹر ابھی تک جیل میں ہے۔ اس واقعہ کی خبر اخبارات میں تفصیلات سے آئی اور ٹی. وی نے بھی اسے نشر کیا۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ پاکستان کے مسلمانوں کے یہ کرتوت ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر قادیانی ہے۔ اس طرح وہ اپنے اس گھناؤنے جرم کی وجہ سے اسلام اور پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا۔ پوری تفصیلات نتائج آنے کے بعد ہی سامنے آ جائیں گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، ۲۷، مورخہ ۲۳ تا ۲۹ دسمبر ۱۹۸۸ء)
نارتھ امریکہ کی ڈائری
- ٭...... البرٹا یونیورسٹی میں ختم نبوت سیمینار۔
- ٭...... قادیانیوں سے مباحثہ، قادیانی لاجواب ہو گئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وینکوور سے روانگی اور وینی پیگ آمد: ۱۱/نومبر ۱۹۸۸ء بارہ بجے رات ایئرکینیڈا کے ذریعہ وینی پیگ پہنچے۔ وینی پیگ ایئرپورٹ پر مسلمانان وینی پیگ نے وفد ختم نبوت کا شاندار استقبال کیا۔ ان میں رانا محمد اکرم، ضیاء الرحمٰن، چوہدری عبدالحمید، وقار احمد کے علاوہ اور ساتھی بھی تھے۔ جائے قیام رانا محمد اکرم کے ہاں پہنچتے ہی مشورہ ہوا اور پروگرام کو آخری شکل دی گئی۔
جمعہ کے دن اس شہر میں صرف ایک ہی جگہ اجتماع ہوتا ہے۔ چنانچہ جمعہ سے قبل اسلامک سینٹر وینی پیگ میں جناب عبدالرحمٰن باوا کا انگریزی میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر بیان ہوا۔ جب کہ راقم الحروف نے خطبہ جمعہ اسی عنوان پر دیا اور نماز پڑھانے کے فرائض انجام دیئے۔ جمعہ کے اجتماع میں مسلمان کثرت سے آئے تھے۔ نیچے اور اوپر والی منزل نمازیوں سے پر تھی۔ جمعہ کے بعد مسلمانوں سے انفرادی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔
عصر اور عشاء کے بعد دوسرا پروگرام شروع ہوا اور سامعین کو دو حلقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ کیونکہ یہاں عرب حضرات بھی کافی تعداد میں ہیں۔ لہٰذا ان کے حلقے میں احقر نے قادیانیت کے عقائد و عزائم کو کھول کر بیان کیا۔ جب کہ محترم باوا صاحب نے دوسرے حلقے کے ساتھیوں میں انگریزی میں مفصل بیان فرمایا۔ ۱۲/نومبر ہفتہ ظہر اور مغرب کے بعد انگریزی اور عربی میں بیانات ہوئے۔ سامعین نے دلچسپی سے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت (جو قرآن اور حدیث کی روشنی میں بیان کی گئی تھی) کو سنا۔
۱۳/نومبر اتوار ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے بعد پروگرام ہوئے اور حلقے بنائے گئے۔ اردو اور عربی میں مفصل تقاریر ہوئیں۔ تقاریر سے فراغت کے بعد اسلامک سنٹر کی نچلی منزل (بیسمنٹ) میں تمام شرکاء جلسہ کھانا کھا رہے تھے۔ اسی اثناء میں تین قادیانی جاسوس شرارت کی غرض سے اسلامک سینٹر میں داخل ہو کر نیچے والی منزل میں پہنچ گئے۔ شروع میں دھوکہ کھا کر مسلمانوں نے سمجھا کہ یہ ”مسلمان“ ہیں۔ بعد میں ان کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ قادیانی کافر ہیں۔ چنانچہ وہ سینٹر سے چلے گئے اور اس طرح سے وہ جو شرارت پھیلانا چاہتے تھے اس میں ناکام ہوئے۔ تین دن کے پروگراموں کے بڑے اچھے اثرات مرتب ہوئے۔ الحمدللہ! تمام مسلمانوں میں بیداری کی لہر دوڑ گئی اور کام کرنے کا ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا ہوا۔ وینی پیگ میں ہمیں بتلایا گیا کہ یہاں ایک قادیانی چرس سمگل کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ کینیڈا حکومت نے ۶ سال جیل میں رکھا۔ پھر اسے ملک سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ پاکستان میں ہے۔ اس طرح مرزائیوں کے ذریعے پاکستان کی بیرونی دنیا میں بدنامی ہوئی۔
عالمی مجلس وینی پیگ کا انتخاب: پچھلے دو سال سے وینی پیگ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام ہو رہا تھا۔ اس کی کارکردگی مزید بڑھانے کے لئے ۱۳/نومبر ۱۹۸۸ء کو بعد نماز مغرب اسلامک سینٹر میں تمام مسلمانوں کی موجودگی میں نیا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ منتخب شدہ حضرات کے اسماء گرامی یہ ہیں:
امیر: جناب میاں حمید، نائب امیر: جناب کاظم ربیعی، جنرل سیکرٹری: جناب محمد اکرم رانا، خزانچی (فنانشل سیکرٹری): جناب وقار احمد، جناب شوکت علی (ممبر)
وینی پیگ سے روانگی اور ایڈمنٹن آمد: ۱۴/نومبر دوپہر ایک بجے وفد ختم نبوت ایڈمنٹن پہنچا۔ جائے قیام سے فوراً اسلامک سینٹر پہنچایا گیا۔ یہاں ساڑھے تین بجے روزنامہ ایڈمنٹن جرنل کے نمائندے کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو کے دوران جناب عامر رشید کے علاوہ پاکستان ایسوسی ایشن کے صدر جناب غلام نبی بھی تھے۔ محترم عبدالرحمٰن باوا نے روزنامہ ایڈمنٹن جرنل کے نمائندے کو تمام سوالات کے جوابات دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
البرٹا یونیورسٹی میں ختم نبوت سیمینار: ۱۶؍ نومبر ۱۹۸۸ء بدھ کو رات بعد نماز عشاء یونیورسٹی آف البرٹا (ایڈمنٹن) مسلم اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک پبلک سیمینار ختم نبوت کے موضوع پر منعقد ہوا۔ اس اجتماع سے انگریزی میں محترم عبدالرحمن یعقوب باوا نے کہا کہ اسلام کی بنیاد ختم نبوت پر استوار ہے اور یہ کہ خاتم النبیین ﷺ نے امت کو خبردار کیا تھا کہ اس امت میں ایسے تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ پھر فرمایا کہ ایسے جھوٹے مدعیانِ نبوت کذاب اور دجال ہوں گے۔ انہوں نے عقیدۂ ختم نبوت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاکی بیان فرمائی۔ جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ان کی تحقیر کی ہے جو سراسر کفر ہے۔ اجتماع میں موجود ایک قادیانی نے مباہلہ قبول کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مرزا طاہر کو چاہئے کہ وہ مباہلہ کے میدان میں نکلیں۔ کیونکہ مرزا غلام احمد کی کتاب انجامِ آتھم میں خود مرزا غلام احمد قادیانی نے مباہلہ کے لئے مقام، وقت اور تاریخ مقرر کرنے کے بارے میں لکھا ہے۔ لیکن مرزا طاہر میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ مباہلہ کے لئے میدان میں آئیں۔ راقم الحروف نے حیات مسیح علیہ السلام کے بارے میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی تقریباً ۱۰؍ آیات ۱۰۹؍ احادیث اور اجماع امت سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ قیامت کے قریب وہ تشریف لا کر دجال کو قتل کریں گے۔ اس عقیدے پر ایمان رکھنا واجب اور اس کا انکار کفر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک تشریف نہیں لائے۔ جو شخص اس وقت یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں مسیح ہوں وہ جھوٹا اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس پروگرام میں عربی طلباء کی کافی تعداد تھی۔ سیمینار کے اختتام کے بعد تمام طلباء نے وعدہ کیا کہ ہم عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرتے رہیں گے۔
ایڈمنٹن کی مساجد میں پروگرام: جامع مسجد الرشید میں جمعہ کے موقعہ پر محترم عبدالرحمن باوا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔ اس کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور یہ امت آخری امت ہے۔ یہ تمام تر تقریر انگریزی میں تھی۔ آپ نے ہفتہ ۱۹؍ نومبر بعد نماز عشاء اسی مسجد میں اردو میں بیان کیا۔ جب کہ راقم الحروف نے مسجد مرکز الاسلام مل وڈ میں جمعہ سے قبل اردو میں بیان کیا۔ اسی کا ترجمہ عربی میں خطبہ جمعہ میں پڑھا اور نماز پڑھانے کے فرائض سرانجام دیئے۔ جب کہ اسی شام کو عشاء کے بعد احقر کا بیان اردو میں ہوا۔
قادیانیوں سے بحث ومباحثہ: ایک مسلمان اور قادیانی کے درمیان بحث چل رہی تھی۔ دوران بحث قادیانی سے سوال کیا گیا کہ مجدد کا ماننا فرض ہے۔ واجب ہے یا سنت نیز یہ کہ ہر علاقے کا مجدد علیحدہ ہوتا ہے تو دوسرے علاقے والے کو بھی اس کا ماننا ضروری ہے یا نہیں۔ جس کا قادیانی سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ مسلمان نے دوسرا سوال کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو وہ بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیں گے۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی سے کسی کارنامے کا کروڑواں حصہ بھی ثابت نہ ہوا۔ نیز مرزا غلام احمد مہدی بھی نہیں ہے کیونکہ حضرت مہدی حاکم عادل ہوں گے اور مرزا قادیانی نے پوری زندگی غلامی میں بسر کی بلکہ غلامی کے دور کی تقویت کے لئے پچاس الماریاں کتابوں سے بھر دیں۔ پھر مسلمان نے سوال کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن میں درج ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔ حالانکہ سارے مسلمان جانتے ہیں کہ قادیان کا نام قرآن میں قطعاً نہیں ہے۔ قادیانی نے کہا کہ اچھا دکھاؤ مرزا غلام احمد قادیانی کی کون سی کتاب میں یہ بات درج ہے۔ مسلمان نے مرزا قادیانی کی کتاب تذکرہ ص ۷۶ طبع دوم میں الفاظ پڑھ کر سنائے۔ قادیانی لاجواب ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ میں اپنے ساتھی کو بلاتا ہوں۔ چنانچہ ایک مسلمان کے مکان کے متعلق طے پایا کہ یہ کتاب اس کو مزید دکھائی جائے گی اور اس کو سمجھایا بھی جائے گا۔ چنانچہ محترم باوا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحب اور راقم الحروف مسلمان کے گھر پر پہنچے۔ ابھی ہم پہنچے ہی تھے کہ مسلمان کے گھر میں دو قادیانی جنہوں نے سمجھنا تھا اس کی بجائے قادیانیوں کی پوری کی پوری ٹیم آدھمکی اور جارحانہ انداز میں انہوں نے باتیں شروع کر دیں۔ ایک موٹا سا بھاری بھرکم منہ پھٹ، منہ زور قادیانی زور سے بولا کہ آپ لوگ تو گالیاں دیں گے۔ باوا صاحب نے کہا ہم کہیں گے کہ مرزا غلام احمد نے حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس لئے وہ حضرت محمد ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق کذاب ( جھوٹا) ہے۔
قادیانی: تم بھی ہم سے اسی طرح کی باتیں سنو گے۔ ( نعوذ باللہ ) یعنی حضور ﷺ کے متعلق۔
باوا صاحب: اگر تم گالی دو گے تو تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ تم نے مرزا غلام احمد قادیانی کی ”سنت“ پر چلنا ہے۔
(اس طرح پھر بات بڑھتی چلی گئی ) ایک قادیانی نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے کہا کہ دیکھو! جنرل ضیاء کس طرح مر گیا۔
باوا صاحب: مرزا غلام احمد بھی تو اپنی ٹٹی پر گر کر مرا تھا۔
دوسرا قادیانی: غلط بات نہ کرو۔
باوا صاحب: ہم ثابت کریں گے۔ ہمارے پاس کتابیں موجود ہیں۔ سیرت المہدی حصہ اوّل کا ص ۹ تا ۱۱ پڑھ لو اور حیات ناصر کا صفحہ ۱۴ پڑھ لو جس میں مرزا صاحب نے کہا: ” مرزا صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے ۔ “ اس کے باوجود تم نہ مانو تو تمہاری مرضی۔
تیسرا قادیانی: جی یہ کینیڈا ہے پاکستان نہیں ہے۔
باوا صاحب: ہمیں معلوم ہے کہ ہم کینیڈا میں ہیں۔
اتنے میں سارے قادیانی شور و غل مچانے لگے ۔ ہر ایک اپنی بولی بول رہا تھا۔ ہمیں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان کی نیت خراب ہے۔ وہ کچھ شرارت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جلد ہی ہم نے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا۔
منظور: جناب ہم یہ کتاب مرزا غلام احمد کی دکھا رہے ہیں۔ اس کا نام تذکرہ ہے۔ اس کے صفحہ ۷۶ پر لکھا ہے: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ کہ قرآن قادیان میں اترا ہے، اور صفحہ ۷۷ اور ۷۸ پر ہے کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن میں درج ہے۔ مکہ ، مدینہ اور قادیان ۔ ہم نے کہا کہ ابھی فیصلہ ہوا چاہتا ہے۔ یہ قرآن مجید میرے ہاتھ میں ہے۔ آپ میں سے کوئی قادیانی اس میں سے ”قادیان“ کا لفظ نکال کر دکھا دے ۔ سب قادیانی آئیں بائیں شائیں کر کے رہ گئے۔ ایک بولا کہ یہ مرزا صاحب کا خواب ہے۔
منظور: جناب کے نزدیک مرزا جی ” پیغمبر“ ہیں اور پیغمبر کا خواب حجت ہوتا ہے۔ نیز یہ خواب نہیں بلکہ کشف ہے۔
قادیانی: جی ! یہ الہام ہے۔
منظور: پھر تو بات اور پکی ہوگئی۔ مرزا غلام احمد کی کتاب ازالہ اوہام ہاتھ میں لے کر اس میں درج ہے جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ خدا کے بلائے بغیر نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعا نہیں کرتے ۔ (ص ۱۹۷) لہٰذا مرزا صاحب نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں لکھی بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے لکھی ہے۔ اب تو آپ لوگوں کو قادیان کا لفظ قرآن میں ضرور دکھانا پڑے گا۔
وہی قادیانی کھسیانا ہو کر بولا جی ! یہ کشف ہے الہام نہیں ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
منظور: آپ ایک بات پر کیوں نہیں جمتے۔ کبھی خواب کبھی الہام کبھی کشف ۔ چلو کشف مان لیتے ہیں۔ کشف کی صورت میں ہمارے لئے اور آسانی ہوگی۔ (مرزا غلام احمد کی کتابوں کی پٹاری) جو قادیانی خود ساتھ لائے تھے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تریاق القلوب، مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ہے۔ وہ مجھے آپ دیں تو میں آپ لوگوں کو دکھا دیتا ہوں۔ مرزا غلام احمد کے نزدیک کشف اور بیداری دونوں برابر ایک چیز ہیں۔ اب تو اس قادیانی کے اوسان خطا ہوگئے۔ ایک ہاتھ میں مشہور قادیانی مربی عبدالرحمن خادم کی احمدیہ پاکٹ بک پکڑے ہوئے ایسا خاموش ہوا کہ اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو جلدی سے کہنے لگا کہ اصل مسئلہ تو حیات مسیح کا ہے۔
منظور: آپ نے قادیانی کا لفظ تو قرآن سے دکھایا نہیں معلوم ہوا کہ مرزا نے یہ قرآن پر بہتان باندھا ہے اور جھوٹ گھڑا ہے۔
قادیانی: ہم تو حیات مسیح پر بات کریں گے۔
منظور: مرزا غلام احمد کی کتاب ازالہ اوہام دکھاتے ہوئے مرزا صاحب نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ یہ مسئلہ بنیادی عقائد میں سے نہیں ہے۔ لہذا آپ لوگ اس پر کیوں بحث کرتے ہیں۔
قادیانی: یہ مرزا صاحب کا پہلے پرانا عقیدہ تھا۔
منظور: پھر تو اس پر گفتگو کی کیا ضرورت ہے۔ اگر ہم بازار جاتے ہیں اور کوئی چیز خریدتے ہیں تو اس کو ٹھوک بجا کر دیکھتے ہیں۔ لہذا پہلے گفتگو مرزا غلام احمد قادیانی پر ہوگی ۔ ہم اس کو جانچیں گے پرکھیں گے کہ وہ کیسا تھا۔
قادیانی: آپ لوگ حیات مسیح کے مسئلے سے بھاگنا چاہتے ہیں؟
منظور: مرزا قادیانی کا ۵۲ سال تک یہ عقیدہ رہا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔
قادیانی: یہ کہاں لکھا ہے؟
منظور: مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ ہر چہار حصہ میں کارٹون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں رکھی ہوئی تھیں) آپ نکالیں میں دکھاتا ہوں۔
قادیانی: ذرا جھجکتے ہوئے۔
منظور: افسوس کی بات ہے کہ ہم نے آپ کو دو تین مرتبہ ”تذکرہ“ دکھایا۔ اب آپ یہ کتاب ہم کو دکھائیں۔ ہم عبارت پڑھ کر سناتے ہیں۔ بالآخر پٹاری سے کتاب نکال کر دے دی۔
منظور: حضرات! یہ کتاب مرزا غلام احمد کی لکھی ہوئی ہے۔ اس میں مرزا غلام احمد نے تین جگہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا اقرار کیا ہے۔ صفحہ ۳۶ حاشیہ میں ہے: ”سو حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔“ اسی طرح صفحہ ۴۹۹ اور ۵۰۵ کی عبارت پڑھ کر سنائی۔
قادیانی: یہ پہلے کا رسمی عقیدہ تھا۔
منظور: ہرگز نہیں۔ مرزا غلام احمد آخری زندگی تک اس کتاب کے حوالے دیتے رہے۔ آئینہ کمالات اسلام کے آخر میں اسی کتاب کے متعلق مرزا قادیانی نے اشتہار دیا ہے کہ یہ کتاب میں نے ملہم اور مامور من اللہ ہو کر لکھی ہے اور ملہم کے متعلق آپ حضرات پہلے ازالہ اوہام میں سے سن چکے ہیں کہ خدا کے بلائے بغیر بولتے نہیں۔ نیز مرزا غلام احمد نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لکھا ہے کہ یہ کتاب قطب ستارے کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے تو یہ عقیدہ اتنی مضبوط کتاب میں خدا کی طرف سے لکھا۔ یہ کیسے رسمی ہو سکتا ہے۔
قادیانی: لاجواب ہو کر خاموش۔
منظور: اچھا! اگر آپ کے نزدیک مسیح آ گیا ہے تو حدیث میں آتا ہے کہ: ”تضع الامنة“ کہ ان کے زمانے میں امن و سکون قائم ہو جائے گا مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ دو بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ تیسری کی تلوار لوگوں کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ کیا مرزا قادیانی کی سبز قدمی کے یہی نشانات ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں۔
قادیانی: لاجواب، لاجواب ہو گیا۔
باوا صاحب: ان لوگوں کو کچھ آتا جاتا ہے نہیں۔ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں پڑھتے ہی نہیں ہیں۔
منظور: مرزا غلام احمد نے ۵۲ سال تک یہی عقیدہ رکھا۔ پھر الاستفتاء ص ۳۹ اور آئینہ کمالات ص ۴۴ میں لکھ دیا کہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے۔ اس طرح تو مرزا غلام احمد خود پکے مشرک بن گئے۔ کیونکہ ”ان الشرك لظلم عظیم“ اور قرآن مجید میں ہی ہے۔ ”لاینال عہدی الظلمین“ ہم اپنا عہد (یعنی نبوت) ظالموں (مشرکوں) کو نہیں دیتے تو جو نبی ہو وہ مشرک نہیں ہو سکتا اور مشرک کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ عجیب مشرک ہے جس کو تم نے نبی بنا لیا ہے۔ قادیانی نے اس کا بھی کوئی جواب نہ دیا۔
منظور: میں نے یہی سوال مرزا طاہر سے ۹، ۱۰/ فروری ۱۹۸۲ء کی رات گیسٹ ہاؤس فیز ون ڈیفنس سوسائٹی کراچی میں کیا تھا۔ مگر تمہاری طرح اس نے بھی کوئی جواب نہ دیا تھا۔
منظور: مرزا غلام احمد قادیانی نے سب کچھ اپنی کتابوں میں لکھ دیا ہے۔ آپ لوگ پڑھتے کیوں نہیں۔ مجھے کارٹون میں سے ”نور الحق“ پکڑائیں۔
قادیانی: اس میں کیا ہے؟
منظور: ابھی بتلاتا ہوں۔
حضرات محترم! مرزا غلام احمد قادیانی نے نور الحق ج ۱ ص ۵۱ حاشیہ میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور ہم پر اس بات کا ماننا فرض ہے۔
منظور: آپ لوگ تو عیسیٰ علیہ السلام کی بات کر رہے ہیں۔ مرزا صاحب تو موسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر زندہ مانتے ہیں۔ قادیانی نے بڑی مشکل سے کتاب مرزا قادیانی کی پٹاری سے نکال کر دی۔ عبارت پڑھ کر سنائی گئی اور کہا گیا کہ آگے پیچھے سے اچھی طرح پڑھ لو۔ مرزا غلام احمد نے یہ مستقل اپنا عقیدہ رکھا ہے۔ قادیانی اس پر حواس باختہ ہو کر کتابوں کی پٹاری اٹھا کر چل پڑے اور کہنے لگے کہ قرآن سے حیات عیسیٰ علیہ السلام دکھاؤ۔
منظور: ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین کا ترجمہ جلالین شریف سے پیش کر دیا۔ قادیانی مرزا بشیر الدین کا محرف ترجمہ پڑھنے لگا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باوا صاحب: ہم نے آج سے کئی سو سال پہلے بزرگ نے جو ترجمہ کیا وہ سنایا ہے۔ جس کو تم بھی مانتے ہو ہم بھی مانتے ہیں۔ لہٰذا تمہیں جلالین کا ترجمہ ماننا چاہئے۔ وہ فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر بجسدہ اٹھالیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ چودھویں صدی کے عالم کا نہیں ہے۔ مگر اب سب قادیانی کھڑے ہوگئے۔ ہڑبونگ اور شور مچانا شروع کردیا اور باہر جانے لگے۔ منظور دروازے تک گیا اور کہا افسوس آپ کو کوئی جواب نہ آیا۔ ہم نے تو آپ کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ اگر آپ کو نہیں آتا تھا تو کسی اور کو لے آتے۔ ایک قادیانی نے جاتے جاتے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ تمہارا نام کیا ہے۔ راقم الحروف کے نام بتانے پر اس نے کہا کہ ہم نے اس نام پر ریڈ کا نشان لگا دیا ہے۔ فکر نہ کرو۔
اس مناظرے کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے۔ جن صاحب کے ہاں مناظرہ تھا انہوں نے کہا کہ قادیانی بہت ہی ہٹ دھرم اور ضدی ہیں۔ یہاں وہ اعلان کر کے گئے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں۔ ان پر جبرائیل بھی آتا تھا۔ نعوذ باللہ! آج ان کا عقیدہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ ان کے ساتھ ہم آئندہ کسی قسم کے تعلقات نہیں رکھیں گے۔
۲۰؍نومبر ۱۹۸۸ء بروز اتوار کو دو پروگرام ہوئے۔ ایک جامع پروگرام جامع مسجد الرشید میں جہاں محترم باوا صاحب نے ظہر کے بعد انگریزی میں خطاب کیا۔ جب کہ احقر نے مسجد مرکز الاسلام میں بیان کیا۔ ہر دو بیان کے بعد محفل سوال و جواب بھی منعقد ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۸ تا ۲۱، مؤرخہ ۳ تا ۹؍فروری ۱۹۸۹ء)
ربوہ میں مسلمانوں کے جلوس سے خنجر بردار مرزائی کی گرفتاری
اخبار جنگ لاہور کے مطابق ربوہ میں ۱۲؍ ربیع الاوّل کے موقع پر جلوس نکالا گیا۔ اس میں ایک قادیانی شامل ہوگیا۔ اس نے اپنی ران کے ساتھ خنجر باندھا ہوا تھا۔ وہ قائدین جلوس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا اور موقعہ کی تاک میں تھا کہ کب اسے موقع ملے اور کب وہ کسی کی جان لے۔ لیکن اس کی مشکوک صورت سے اندازہ لگا کر اسے پکڑ لیا گیا اور بمعہ خنجر کے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ رپورٹ ہو چکی تھی۔
قادیانی جماعت نے بھی ربوہ پولیس کے لئے اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیئے ہوں گے۔ اس لئے ہمیں امید نہیں کہ اس اہم ترین کیس کا کچھ بن سکے گا یا نہیں۔ البتہ اس واقعہ پر ہمارے وہ خدشات درست ثابت ہوگئے ہیں جن کا اظہار ہم ان کالموں میں کئی مرتبہ کرچکے ہیں کہ مرزا طاہر نے جو مباہلہ کا چیلنج دیا ہے وہ دراصل مقاتلہ کے لئے قادیانی کمانڈوز کو ایک سگنل ہے تاکہ وہ اپنی کارروائی شروع کردیں۔
ہمارے خیال میں مقاتلہ کا یہ سلسلہ انتہائی راز داری کے ساتھ شروع کیا جائے گا تاکہ قاتلوں کا سراغ تک نہ لگ سکے اور کسی بھی عالم دین کے قتل کے بعد مرزا طاہر اور اس کی ذریت کو یہ کہنے کا موقع مل سکے کہ فلاں مولوی کا قتل ہماری فتح کا ’’بہت بڑا نشان‘‘ ہے۔
ہماری اطلاع کے مطابق مرزا طاہر نے جن حضرات کو مباہلے کا چیلنج دیا ہے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے اور یہ چیلنج خطوط کے ذریعے روانہ کئے گئے۔ اس طرح قادیانی کمانڈوز کے پاس ان کے مکمل پتے بھی موجود ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وزارت داخلہ میں موجود قادیانی افسروں کی ملی بھگت سے ان حضرات کے فوٹو بھی حاصل کرلئے گئے ہوں۔
بہر حال ربوہ میں ۱۲؍ ربیع الاوّل کے جلوس میں ایک مرزائی کا خنجر لے کر شامل ہونے کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں تھا کہ وہ جلوس کے کسی قائد کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے بعد فرار ہوجانے میں بھی کامیاب ہوجاتا تو قادیانی پیشوا مرزا طاہر نے لندن سے فوراً بیان داغ دینا تھا کہ یہ مباہلہ کی ایک اور کامیابی ہے اور یہ (نام نہاد) احمدیت کی فتح کا بہت بڑا نشان ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم یہاں اس بات کا اظہار کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت صوبہ پنجاب کا آئی جی نثار احمد چیمہ ہے جو نبی احمد قادیانی کا بیٹا ہے۔ اس کی اس منصب پر تقرری اہم عہدوں پر فائز قادیانی افسروں کی سازش سے عمل میں لائی گئی ہے۔ اس لئے نہ تو ہمیں یہ امید ہے کہ ربوہ کے اس واقعہ کا نوٹس لیا جائے گا اور نہ آئندہ ہونے والے واقعات کے بارے میں ہم مطمئن ہیں۔ اس لئے کہ نثار چیمہ کی موجودگی سے قادیانی بھر پور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور قتل کے بعد بہت ممکن ہے رپورٹ بھی درج نہ ہو سکے۔
اس لئے ہم ایک بار پھر حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ نثار چیمہ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ ورنہ اگر کوئی عالم دین یا ان حضرات میں سے جنہیں مرزا طاہر نے نام نہاد مباہلہ کی کاپیاں بذریعہ ڈاک پہنچائی ہے کوئی نقصان پہنچ گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پنجاب ، آئی جی نثار چیمہ اور مرزائیوں پر ہو گی اور اس کے جو نتائج برآمد ہوں گے وہ بھی انتہائی خطرناک ہوں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴ ،مورخہ ۲ تا ۷/ دسمبر ۱۹۸۸ء)
مرزا طاہر کے منہ پر جنرل حمزہ کا زناٹے دار تھپڑ
قادیانی فتنے کے سربراہ مرزا طاہر نے روزنامہ جنگ لندن کو ایک انٹرویو دیا جو ۲۷ ستمبر ۱۹۸۸ء کو پورے ایک صفحہ پر شائع کیا گیا۔ اس انٹرویو میں اس نے چند قادیانی جرنیلوں کو جو کسی خفیہ سازش کے تحت جنرل کے عہدے تک پہنچ گئے تھے ، محب وطن وغیرہ کے الفاظ سے نوازا۔ مرزا طاہر کے الفاظ یہ ہیں : ” جنرل اختر کا نام ایک عظیم جرنیل کے طور پر ساری دنیا میں شہرت پا گیا۔ کشمیر کے محاذ میں انہوں نے ہندوستان کو رگیدا ہے۔ پھر چونڈہ کے محاذ پر ہیرو عبدالعلی ملک تھے۔ فاضلکا سیکٹر پر حمزہ تھے۔ پھر سندھ میں رن کچھ کے علاقہ میں بریگیڈیئر افتخار تھے۔ یہ سارے احمدی ہیں۔ اچھے دیانت دار لوگ ہیں کہ جب جان کی بازی لگانے ، سر دھڑ کی بازی لگانے کا وقت آیا تو سب سے آگے ہوتے ہیں ...... بہت سے جرنیل تھے ان میں احمدیوں کی تعداد جرنیلوں کی تھوڑی ہے۔ لیکن کیسا اتفاق ہے کہ جتنے تھے سارے چمک اٹھے۔ ان کے دل میں جذبے تھے اور وطن سے محبت کرنے والے تھے ۔“
قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی ملعون و دجال کی جنم بھومی ”قادیان“ اسی طرح مقدس ہے جس طرح مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مقدس ہیں۔ مرزا محمود سے لے کر مرزا طاہر تک ان کے ہر لیڈر کی یہ خواہش ہے کہ کس طرح قادیان ہمیں واپس مل جائے ۔ چنانچہ مرزا محمود کی اور اس کی بیوی کی لاشیں ربوہ کے قادیانی مرگھٹ میں امانتاً دفن کی گئی ہیں جن پر یہ کتبہ بھی لکھا گیا تھا کہ جونہی حالات سازگار ہوں (یعنی قادیان واپس مل جائے ) لاشیں قادیان لے جا کر دفن کی جائیں۔ علاوہ ازیں مرزا محمود کی اکھنڈ بھارت کی پیشین گوئی تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لہٰذا جنرل اختر ملک قادیانی ہو یا عبدالعلی قادیانی ۔ انہوں نے اگر پاکستانی جنگ میں حصہ لیا تو اس لئے نہیں کہ پاکستان سے انہیں محبت تھی بلکہ ان کے پیش نظر قادیان کا حصول تھا۔ اسی لئے سیالکوٹ کا محاذ عبدالعلی ملک نے سنبھالا تھا کہ وہاں سے قادیان نزدیک ہے۔ جنرل عبدالعلی نے ایسا کھیل کھیلا کہ بہت سا پاکستانی علاقہ بھارت کے حوالے کر دیا۔
جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو مرزا محمود نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ کشمیر میرا پیروکار فتح کرے گا۔ اس میں بھی وہی راز پوشیدہ تھا کہ گورداسپور سے کشمیر کو راستہ جاتا ہے اور وہ اس طرح کشمیر نہیں قادیان چاہتے تھے۔ چنانچہ کشمیر کا محاذ کھولنے کے لئے قادیانی جنرل اختر ملک نے نواب آف کالا باغ مرحوم سے کہلوایا کہ وہ ایوب خان کو مشورہ دیں کہ کشمیر حاصل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ نواب صاحب سے ملاقات کرنا چاہی تو نواب صاحب نے ملاقات سے انکار کر دیا اور کہا میں ایوب خان کو یہ مشورہ ہرگز نہیں دوں گا۔ مگر اختر ملک کی سازش
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کامیاب ہو گئی اور ایوب خان کشمیر کا محاذ کھولنے پر آمادہ ہو گئے۔ آخر دنیا نے دیکھ لیا کہ کشمیر تو کیا ملتا اکھنور کا پورا علاقہ بھارت کو دے دیا گیا۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ قادیانی ”قادیان“ کو مکہ اور مدینہ کی طرح مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے دلوں میں ہر وقت یہ سودا سمایا ہوا ہے کہ کسی طرح ہمیں قادیان مل جائے جس کے چند شواہد نمونہ ملاحظہ ہوں۔ قادیانیوں کا آنجہانی پیشوا مرزا محمود کہتا ہے ۔
آہ کیسی خوش گھڑی ہو گی کہ بانیل مرام باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیاں
(الفرقان ربوہ اگست تا اکتوبر ۱۹۶۳ء)
قادیان کے سالانہ جلسہ کے موقع پر مرزا محمود نے ایک پیغام بھجوایا اس کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو: ” آج پھر مسجد اقصیٰ میں ہمارا جلسہ ہورہا ہے۔ اس لئے نہیں کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے مشتاقوں کی تعداد کم ہوگئی ہے بلکہ شمع احمدیت کے پروانے سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے قادیان نہیں آسکتے ۔ یہ حالات عارضی ہیں...... ہمیں پورا یقین ہے کہ قادیان احمدیہ جماعت کا مقدس مقام اور خدائے وحدہ لاشریک کا قائم کردہ مرکز ہے۔ وہ ضرور پھر احمدیوں کے قبضہ میں آئے گا۔“
(حوالہ بالا ص ۳۶)
مرزا محمود کے پیغام اور اشعار کو بغور پڑھیں اور پھر غور کریں کہ جن کے نزدیک قادیان کی اتنی عظمت ہے اور قادیان ان کے دل و دماغ پر اتنا مسلط ہے کہ سوتے ہوئے بھی ہائے قادیان پکار اٹھتے ہیں تو کیا وہ اس کے حصول کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے ۔ یقیناً وہ قدم اٹھائیں گے اور اٹھا بھی چکے ہیں۔ قادیانی جنرل اگر کشمیر یا چونڈہ کے محاذ پر پیش پیش رہے ہیں تو ان کے پیش نظر پاکستان کا دفاع ہرگز نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد قادیان کا حصول تھا تا کہ وہ سکھوں کے ساتھ مل کر اپنی ایک الگ سٹیٹ قائم کرسکیں ۔ کشمیر کے محاذ پر لڑنے والا جنرل اختر ملک جسے مرزا طاہر نے عظیم جرنیل ، ہیرو اور پوری دنیا میں شہرت یافتہ قرار دیا۔ وہی عظیم جرنیل ، ہیرو اور شہرت یافتہ ایک فضائی حادثہ میں ہلاک ہو گیا۔ (جو شاید اسے مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی کی وجہ سے پیش آیا۔ کیونکہ اگر جنرل ضیاء بقول قادیانیوں کے ہوائی جہاز کے حادثے میں اس لئے ہلاک ہوئے کہ وہ قادیانیوں کے مخالف تھے تو پھر قادیانی جرنیل کی ہلاکت پاکستان اور اسلام دشمنی کا نتیجہ ہوسکتی ہے ) تو ایسے مخلص قادیانی کو بہشتی مقبرہ میں دو گز جگہ بھی نہ مل سکی اور اسے عام مرگھٹ میں مٹی تلے دبا دیا گیا۔
بہر حال ایک جملہ معترضہ تھا ہمارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مرزا طاہر نے اپنے انٹرویو میں حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔ اس کا جھوٹ یوں بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ اس نے اپنے انٹرویو میں جنرل حمزہ کا نام قادیانی جنرلوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جب کہ جنرل حمزہ نے اپنے بیان میں مرزا طاہر کے منہ پر ایسا زنّاٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے کہ وہ لندن کی رنگین محفلوں میں بھی اسے پڑھ کر تلملا کر رہ گیا ہوگا۔
جنرل حمزہ کا بیان یہ ہے : ”قادیانی جماعت کے امیر مرزا طاہر احمد کا یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ میں قادیانی ہوں ۔ ان خیالات کا اظہار ۱۹۶۵ء کی جنگ کے ہیرو جنرل حمزہ نے روزنامہ جنگ میں مرزا طاہر احمد کے حوالے سے چھپنے والی ایک خبر کے جواب میں کیا ہے۔ انہوں نے مرزا طاہر احمد کے اس دعوے کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ چونڈہ کے محاذ پر ایک قادیانی جرنیل عبدالعلی ملک نے جرأت و شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا جنرل عبدالعلی شکر گڑھ کے محاذ پر شکست کے ذمہ دار تھے۔ جس کے باعث ۱۹۷۱ء میں سیالکوٹ سیکٹر میں دشمن نے بہت سا علاقہ قبضے میں لے لیا ۔ انہوں نے کہا ایک اور قادیانی جرنیل اختر حسین ملک کی بہادری کے قصے بھی بے بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ مرزا طاہر احمد نے چند دن قبل جنگ لندن کو دیئے جانے والے ایک انٹرویو میں قادیانی جرنیلوں کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے جنرل حمزہ کا نام بھی لیا تھا۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ۲۸ / اکتوبر ۱۹۸۸ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزا طاہر نے اپنے انٹرویو میں جو گپیں ہانکیں اور جو جھوٹ بکے ہیں، جناب جنرل حمزہ کے اس بیان سے ہی یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ پورے کا پورا انٹرویو غلط بیانی کا پلندہ ہے۔ اس انٹرویو میں جنرل حمزہ کو قادیانی بتایا گیا جب کہ انہوں نے واضح طور پر نہ صرف اس کی تردید کی بلکہ قادیانی جنرلوں کی اصل حقیقت بھی کھول کر رکھ دی۔ الغرض مرزا طاہر یا دوسرے قادیانیوں کا خود کو محب وطن ظاہر کرنا اسی طرح جھوٹ ہے جس طرح مرزا قادیانی علیہ اللعنۃ کا دعوائے نبوت جھوٹ تھا اور جس طرح وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا تھا۔ آج مرزا طاہر اور تمام قادیانی اسی راہ پر گامزن ہیں۔
(اداریہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴، ۵، مورخہ ۱۶ تا ۲۲/ دسمبر ۱۹۸۸ء)
صدر مملکت کو حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ کا تار
ملتان (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی نے ایک برقیہ میں صدر پاکستان، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک نثار احمد سپرنٹنڈنٹ انجینئر محکمہ آبپاشی لاہور ایک کٹر قادیانی ہے۔ پولیس چھاپہ کے دوران اس کے گھر سے بہت سا اسلحہ برآمد ہوا جو قادیانیوں نے الیکشن کے دوران خصوصیت سے تشدد کی کارروائیوں کے لئے استعمال کرنا تھا۔ نثار احمد سرکاری ملازمت کے دوران ہر لحاظ سے رشوت خور رہا ہے۔ اسے ملازمت سے نکال دیا گیا تھا۔ مگر بھٹو صاحب کے زمانہ میں قادیانیوں کے دباؤ اور اثر و رسوخ کے باعث دوبارہ ملازمت پر بحال کیا گیا۔ پولیس کے نچلے عملہ کے ملازمین اس اہم ترین سنگین نوعیت کے معاملہ کو ایک عام سا کیس یعنی بغیر لائسنس کے اسلحہ کا کیس بنا رہے ہیں اور وہ بھی اس کے لڑکے کے خلاف جو کہ غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ مولانا نے اپنے برقیہ میں مطالبہ کیا ہے کہ خصوصی تفتیشی ٹیم مقرر کر کے مکمل انکوائری کرائی جائے اور سنگین نوعیت کے مسئلہ کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۸، مورخہ ۱۶ تا ۲۲/ دسمبر ۱۹۸۸ء)
دوڑ سندھ میں قادیانی مبلغ کے بیٹے نے مسلمان کو قتل کر دیا
نواب شاہ (نامہ نگار جسارت) قصبہ دوڑ کے سرگرم قادیانی مبلغ ماسٹر لطیف کے فرزند طاہر نے ایک نوجوان مسلمان کو کیلے کے کھیت میں لے جا کر قتل کر دیا۔ پولیس نے ملزم کو خون آلود کپڑے دھوتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب دوڑ میں مقیم قادیانی مبلغ ماسٹر لطیف کے بیٹے طاہر نے ایک نوجوان اکرم کو کیلے کے باغ میں لے جا کر قتل کر دیا اور اس کی لاش دفن کر دی۔ بعد ازاں قاتل نہر پر اپنے خون آلود کپڑے دھو رہا تھا کہ مقامی لوگوں کی اطلاع پر پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر جائے واردات پر جا کر مقتول کی لاش برآمد کر لی۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ دریں اثناء مقتول کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں آج سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس واقعہ پر شہر میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ مجلس ختم نبوت کے رہنما مولانا دوست محمد مدنی، جمعیۃ اہل حدیث کے رہنما بشیر احمد کھوکھر اور جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں محمود الٰہی ہکڑو، حکیم اسلام الدین قریشی اور غلام حیدر بھٹی نے قتل کی اس بہیمانہ واردات کی شدید مذمت کی ہے۔
(جسارت مورخہ ۱۲/ دسمبر ۱۹۸۸ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مورخہ ۳۰/ دسمبر ۱۹۸۸ء)
۱۹۸۸ء میں قادیانیوں کا قبول اسلام
لاہور میں ایک خاتون کا قبول اسلام
لاہور (پ ر) آج دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور میں مسماۃ حمیدہ بیگم دختر چوہدری سلطان علی قوم ورک سکنہ مغل پورہ لا ہور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے برضا ورغبت مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد احسان دانش مبلغ ختم نبوت لاہور کے ہاتھ پر قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم مولانا اللہ وسایا نے ان کی استقامت کی دعا کرائی۔
(لولاک ص۱۶،مورخہ۸؍جنوری۱۹۸۸ء)
مردان میں مشہور قادیانی خاندان کا قبول اسلام
مولانا نورالحق نور اطلاع دیتے ہیں کہ مردان کی مشہور قادیانی قاضی فیملی جس کے آنجہانی قاضی یوسف مرزا غلام کذاب کے نام نہاد صحابی اور جماعت مرزائیہ کے جہنم رسید ہونے تک سربراہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جوانان مردان کی سعی اور کوششوں سے اس فیملی کے ذمہ دار افراد کو خاتم النبیین ﷺ کے دامن اطہر ومقدس سے وابستہ کرنے کے راستے کھول دیئے ہیں۔ قبل اس کے اس خاندان کی مشہور لیڈی ڈاکٹر محترمہ اقبال صاحبہ سیدوشریف سوات کی عدالت میں بمعہ اہل وعیال کے حلقہ بگوش اسلام ہو کر مرزائیت کے کفر ہونے کا برملا اعلان کر چکی ہیں جس کے باعث ربوہ کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا اور مرکز ربوہ سے متعدد ٹیلی فون کالوں کے ذریعے مردان کے مرزائی سربراہ آدم خان سے باز پرس کی گئی مگر الحمدللہ جمعہ کے روز قاضی فیملی کے ایک مشہور خاندان قاضی نثار احمد اور اس کے اہل وعیال نے جناب حسین احمد صاحب مہتمم مدرسہ تحفیظ القرآن پارہوتی کے دست مبارک پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر کے مرزائیت کی بیخ کنی کے اسباب پیدا کر دیئے ہیں۔ قاضی نثار احمد نے جمعہ کے اجتماع میں قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر اور مرتد سمجھتا ہوں۔ اس موقع پر مدرسہ میں طلباء کے علاوہ علمائے کرام اور علاقہ بھر سے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ فضاء اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قاضی نثار احمد کے حقیقی بڑے بھائی ریٹائرڈ میجر اکبر مرزائی نے گزشتہ دنوں مردان کے ختم نبوت کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملہ کیا تھا اور مرزائیت کی تبلیغ کرتے ہوئے گرفتار ہو چکا تھا۔ مرزائی اکبر خان کے خلاف مقدمات اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہیں اور آج اسی مرزائی کا حقیقی بھائی اور اس کے اہل وعیال مسلمانوں کی صف میں شامل ہو کر اس کے مقابل آگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو قاضی فیملی کے افراد قاضی نثار احمد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مرزائیت پر تین حرف بھیج کر حلقہ بگوش اسلام ہوں گے۔
(ختم نبوت کراچی ص۲۸،مورخہ۲۹؍جنوری تا ۴؍فروری۱۹۸۸ء)
بنگلہ دیش میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
بنگلہ دیش ضلع سنام گنج میں ایک قادیانی جس کا نام محمد عاقل شاہ ہے نے قادیانیت سے تائب ہو کر سنام گنج کے مشہور عالم دین، فاضل دارالعلوم دیوبند، خلیفہ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ، حضرت مولانا عبدالحق کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ہے۔ مذکورہ شخص نے اس موقع پر کہا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو تمام دعوؤں میں جھوٹا سمجھتا ہوں اور یہ کہ مرزا قادیانی اور اس کے تمام پیروکار کافر و مرتد ہیں اور میں محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا توبہ نامہ بھی تحریری طور پر پیش کیا تا کہ اس کے تائب ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہ رہے۔ سنام گنج کے علماء نے اس موقع پر دعاء کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو ثابت قدم رکھے۔
(ختم نبوت کراچی ص۲۸،مورخہ۵تا۱۱؍فروری۱۹۸۸ء)
چک نمبر ۲۰ ملکوال میں تیس افراد کا قادیانیت سے تائب ہو کر قبول اسلام
منڈی بہاؤالدین (نمائندہ ختم نبوت) ملکوال ۲۰ چک میں تیس قادیانی مسلمان ہو گئے۔ خاندان کے سرکردہ افراد کے نام یہ ہیں۔ کیپٹن شاہنواز پنشنر ولد حسن محمد، صوبیدار محمد عظیم ولد محبت خان، محمد عزیز ولد سردار خان، محمد فاروق ولد نظر محمد نے مرکزی جامع مسجد ملکوال
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے خطیب حضرت مولانا علامہ خان محمد صاحب مدظلہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان لوگوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کا پٹھو اور عالم اسلام کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کے حواری پاکستان کے دشمن ہیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم اب ختم نبوت پر مکمل ایمان رکھتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹوں اور مکاروں کا سردار تھا۔ یادرہے کہ قادیانی عبادت گاہ ۲۰ چک میں علاقہ ملکوال مجسٹریٹ نے جناب راؤ غلام حسین صاحب ایس ایچ او تھانہ ملکوال کے ہمراہ قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کو اتار کر محفوظ کر دیا ہے۔ علاقہ میں قادیانی سرگرمیاں انتہائی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ قادیانی آرڈیننس (۲۹۸) کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ علاقہ انتظامیہ انتہائی سستی کا مظاہرہ کرتی رہتی ہے۔ انتظامیہ کا یہ شیوہ ہے کہ جہاں حالات خراب ہوتے ہیں وہاں پر پھر کارروائی کرتی ہے۔ انتظامیہ سے بار بار اپیل کی ہے کہ شاہ تاج شوگر ملز میں قادیانی عبادت گاہ سے قادیانی آرڈیننس ۲۹۸-سی کی خلاف ورزی پر قادیانیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا قاضی محمد عبداللہ یار نے علاقہ کا تفصیل سے دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ ملک محمد یامین قادری نے بھی دورہ کیا۔ جامع مسجد نور، جامع مسجد کچہری، جامع مسجد الٰہی میں قاضی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پوری دنیا میں قادیانیوں کا تعاقب کر رہی ہے اور ان کا تعاقب جاری رہے گا۔ مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا۔ منڈی بہاؤالدین کے چند وکلاء نے اپنی فری خدمات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو پیش کر دی ہیں۔ حاجی عبدالغفار گوندل ایڈووکیٹ، چوہدری احمد مونس ایڈووکیٹ، چوہدری ریاض احمد ایڈووکیٹ، راجہ فاروق احمد ایڈووکیٹ، چوہدری غضنفر علی رانجھا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم ہر وقت قادیانیوں کے تعاقب کو تیار ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حاجی محمد اسلم، محمد رزاق، راجہ مظفر، محمد بشیر، راجہ اللہ دتہ منڈی بہاؤالدین مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حاجی ایم رشید میاں، محمد مشتاق، ملک سرفراز طاہر، علاؤ الدین پیرزادہ، اختر اقبال انجم پیرزادہ، ملک طاہر محمود انجم، الحاج جاوید اقبال چغتائی، خان اکرام اللہ، صادق حسین بابو محمد یامین، ملک مظہر محمود، ملک محمد اسحاق، محمد ندیم عرف بوٹا نے ضلع گجرات کی انتظامیہ سے اپیل ہے کہ شاہ تاج شوگر ملز میں قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کو فوراً اتارا جائے اور علاقہ میں قادیانی تبلیغی سرگرمیوں کا فوراً نوٹس لیا جائے اور ان لوگوں کے خلاف آرڈیننس قادیانی ۲۹۸-سی کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا جائے۔
(ختم نبوت کراچی ص ۲۸، مؤرخہ ۱۸ تا ۲۴/ مارچ ۱۹۸۸ء)
باغ و بہار تحصیل خان پور میں ایک خاندان کا قبول اسلام
باغ و بہار (نمائندہ ختم نبوت) باغ و بہار کے ایک نواحی گاؤں موسیٰ والا کی جامع مسجد میں عبدالحمید اور اس کے اہل وعیال نے مرزائیت سے توبہ کر لی اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ جن کی تعداد پانچ ہے۔ یادرہے کہ عبدالحمید کا ایک بیٹا عبدالرحمن چند ماہ قبل مسلمان ہو گیا تھا جو کہ تیسری جماعت کا طالب علم ہے اور اس نے اپنے والدین کے ساتھ مکمل بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ عبدالرحمن کے علاوہ تین افراد نے مذہب اسلام قبول کیا تھا۔ اس طرح اب تک باغ و بہار میں مرزائیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں کی مجموعی تعداد نو ہو چکی ہے۔ انہوں نے اقرار کیا کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کذاب اور دجال، مکار، مرتد، کافر اور زندیق ہے اور اس کے پیروکار بھی کافر ہیں۔ مرزائیت جھوٹا مذہب ہے اور اسلام سچا دین ہے۔
(ختم نبوت کراچی ص ۲۸، مؤرخہ ۱۸ تا ۲۴/ مارچ ۱۹۸۸ء)
آٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام
فیصل آباد (نمائندہ ختم نبوت) یہاں چک نمبر ۸۴ ج ب سرشمر روڈ میں ایک قادیانی خاندان کے آٹھ افراد نے قادیانیت سے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توبہ کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ جن آٹھ افراد نے اسلام قبول کیا ان کے نام یہ ہیں: زہرہ بی بی، زوجہ غلام محمد ، محمد اصغر، محمد اشرف، محمد اکرام، محمد عرفان پسران غلام محمد، عشرت پروین، نصرت پروین، مسرت پروین دختران غلام محمد ارائیں ۔ انہوں نے خطیب جامع مسجد مولانا محمد اقبال فاروقی صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور ہزاروں افراد کی موجودگی میں قادیانیت چھوڑنے کا اعلان کیا۔ اس خاندان کے اسلام قبول کرنے پر چک مذکورہ میں عظیم الشان جشن منایا گیا۔ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ مسلمانوں نے مسجد میں جمع ہو کر اسلام قبول کرنے والے خاندان کو زبردست مبارک باد پیش کی اور ان کو گھر تک ایک عظیم الشان جلوس کی شکل میں لے جایا گیا۔ فضاء نعرہ ہائے تکبیر و تحمید اور ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ اس موقع پر ان کے اعزاز میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی جس میں تمام چک کے مسلمانوں نے نو مسلم خاندان سے درخواست کی کہ جو شخص اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے گناہ دھل جاتے ہیں ۔ آپ حضرات نے قادیانیت سے توبہ کی ہے اور مرزا قادیانی کو چھوڑ کر رحمت اللعالمین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا آپ لوگوں پر بہت بڑا انعام ہے۔ اس لئے آپ حضرات سے ہماری درخواست ہے کہ علاقے میں ایک عرصہ سے باران رحمت نہیں ہورہی۔ آپ حضرات دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ تاجدار ختم نبوت ﷺ کے صدقے میں باران رحمت نازل فرمائے ۔ چنانچہ انہوں نے دعا کی اور تمام مسلمانوں نے بھی دعا کی ۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ اگلے دن صبح رحمت کی بارش نازل ہو گئی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے نو مسلم خاندان کو مبارک باد دیتے ہوئے دوسرے قادیانیوں کو بھی اسلام کی دعوت دی ہے۔
(ختم نبوت کراچی ص ۲۹، مورخہ ۸ تا ۱۲ /اپریل ۱۹۸۸ء)
باغ و بہار میں ایک طالب علم مسلمان ہو گیا
باغ و بہار (نامہ نگار) گزشتہ دنوں باغ و بہار میں ایک طالب علم رفاقت نامی قادیانیت سے توبہ کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ واضح ہو کہ شمارہ نمبر ۳۷ میں رفاقت نامی طالب علم کی خبر شائع ہوئی تھی کہ اسے قادیانی ہونے کی وجہ سے مسجد سے نکال دیا گیا تھا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب وہی لڑکا مسلمان ہے اور اس کے والدین بھی مسلمان ہو چکے ہیں ۔ رفاقت علی ساتویں جماعت کا طالب علم ہے جو کہ گورنمنٹ ہائی سیکنڈری سکول باغ و بہار میں زیر تعلیم ہے ۔ جب رفاقت نے رسالہ میں یہ خبر پڑھی تو اسے حیرت ہوئی ۔ چنانچہ اس خبر کی تردید کی جانی چاہئے ۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ میں مرزا پر لعنت بھیجتا ہوں اور حضور پاک ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں ۔ مرزائیت جھوٹا اور اسلام سچا مذہب ہے۔ یاد رہے کہ رفاقت کا حقیقی اور چھوٹا بھائی عبدالرحمٰن نامی چھ ماہ قبل مسلمان ہو گیا تھا۔ عبدالرحمٰن گورنمنٹ ہائی سکول چاہ موسیٰ والا میں تیسری جماعت کا طالب علم ہے ۔ اس کی عمر بمشکل نو سال ہوگی ۔ عبدالرحمٰن جب مسلمان ہو گیا تو اس نے اپنے والدین سے مکمل بائیکاٹ کر لیا اور کھانا پینا، رہن سہن، مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ ایک چھوٹے بچے کا صبر واستقامت اور ثابت قدمی آخر رنگ لائی اور اب ماشاء اللہ سارا خاندان مرزائیت چھوڑ کر مسلمان ہو چکا ہے۔
(ختم نبوت کراچی ص ۲۴، مورخہ ۲۲ تا ۲۸/ اپریل ۱۹۸۸ء)
سورینام میں ایک ڈاکٹر مع اپنے ایک سو ایک ساتھیوں کے مسلمان ہو گیا
محترم المقام حضرت باوا صاحب اور دیگر متعلقین
بندہ بفضلہ تعالیٰ خیریت سے ہے اور آپ کی خیریت کا باری تعالیٰ سے ہر وقت طالب ہے ۔ آپ کا رسالہ ختم نبوت مجھے تین سال سے برابر مل رہا ہے۔ عیاں را چہ بیاں ، اس رسالہ کی صورت اور سیرت دونوں ہی بہت خوب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کملی والے کی سیرت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے سرفراز فرما کر اس رسالہ سے قادیانیوں کو پاش پاش فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو اور ترقیات سے مالا مال فرمائے۔ دیگر عرض یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس وقت باہر رقم بھیجنے میں کافی مشکلات ہیں۔ اس لئے میں اس وقت رقم بھیجنے سے معذور ہوں۔ ان شاء اللہ کوئی سبیل ہاتھ آئے گی تو ضرور رقم ارسال کروں گا۔ میں اس وقت قادیانی ٹولہ سے زبردست مقابلہ کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ۹ سال میں لوگ کافی تعداد میں راہ راست پر آگئے ہیں۔ حال ہی میں ایک ڈاکٹر ۱۰۱ آدمی کے ساتھ میرے ہاتھ پر توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو گیا ہے اور قادیانی ٹولہ سے مکمل برأت ظاہر کر چکا ہے۔ آپ کی دعاؤں کی خاص ضرورت ہے۔ میں ہندوستان کا گجراتی ہوں۔ ان شاء اللہ حق یہاں پر بھی غالب ہورہا ہے۔ قادیانی دونوں گروپ اس وقت بہت مذبذب ہیں۔ آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ خاص کر مولانا خان محمد شیخ المشائخ سے خاص دعاؤں کی گزارش کرتا ہوں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲،مؤرخہ ۲۵ تا ۳۱/ مارچ ۱۹۸۸ء)
ہسپانوی کا قبول اسلام
میڈرڈ اسلامک سوسائٹی (اسپین) کے مرکزی دفتر میں ایک ہسپانوی باشندے مانول رابرٹ نے اسلام قبول کیا۔ سوسائٹی کے میگزین اخبار اندلس نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شخص مذکور نے اسلام کے مکمل مطالعہ اور غور و فکر کے بعد دین حق قبول کیا ہے اور اس کا اسلامی نام ”محمود“ رکھا گیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسپین میں مقامی باشندے بڑی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں اور اسلامی سوسائٹی میڈرڈ بھی خالص ہسپانوی مسلمانوں کی تنظیم ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۷، مؤرخہ۲۲ تا ۲۸/اپریل ۱۹۸۸ء)
چالیس افراد کا قبول اسلام
سوڈان کے پہاڑی علاقے نوبہ کے شہر برام میں چالیس مردوں اور عورتوں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اسلام ”افریقی تنظیم دعوت اسلامیہ“ کی کوششوں سے قبول کیا ہے اور اس کا بظاہر سبب ایک شادی کی تقریب میں حاضر ہونا ہے۔ جہاں ایک مبلغ نے اسلام کی اجتماعی اور عائلی زندگی کے محاسن بیان کئے۔ جس سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل یہ تمام افراد ایک بت پرست قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ یاد رہے کہ ”افریقی تنظیم دعوت اسلامی“ کے سربراہ سوڈان کے ایک سابق صدر جنرل عبد الرحمٰن سوار الذہب ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴، مؤرخہ۲۲ تا ۲۸/اپریل ۱۹۸۸ء)
اٹک میں چار قادیانیوں نے اسلام قبول کرلیا
اٹک (نمائندہ ختم نبوت) موضع کسران ضلع اٹک کے معروف قادیانی محمد اسلم کی بیوی اور چار بچے گزشتہ روز موضع مرزا سنی مدرسہ میں قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا۔ تفصیلات کے مطابق قادیانی محمد اسلم ملعون نے دو شادیاں کر رکھی تھیں۔ اس کی ایک بیوی کا قادیانی خاندان ہے۔ جب کہ دوسری شادی دھوکہ سے مسلمان گھرانے میں دھوکہ سے کی تھی۔ چنانچہ دوسری بیوی پر (جو موضع مرزا میں رہائش پذیر ہے) جب یہ منکشف ہوا کہ اس کا شوہر ملعون قادیانی ہے تو اس نے چار بچوں سمیت سنی مدرسہ کے سیکرٹری حضرت مولانا قاری گل امیر صاحب اور دیگر اہل محلہ کے لوگ کافی تعداد میں نعرے لگاتے ہوئے ایک جلوس کی شکل میں سرپرست حضرت قاضی محمد زاہد الحسینی کے پاس مدینہ مسجد پہنچے اور مذکورہ خاتون اور اس کے بچوں نے حضرت قاضی محمد زاہد الحسینی کے ہاتھوں پر قادیانیت سے توبہ تائب ہو کر دوبارہ کلمہ طیبہ پڑھا اور قادیانی شوہر سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ بعد میں حضرت قاضی محمد نذر الحسینی صاحب نے مختصر مگر جامع بیان کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۷،مؤرخہ۲۹/اپریل تا ۵/مئی ۱۹۸۸ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضلع بدین میں سات قادیانیوں کا قبول اسلام
دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے پریس ریلیز کے مطابق گولارچی بدین میں حضرت مولانا محمد قاسم مجاہد ختم نبوت کے دست پرست پر سات قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجی اور اسلام قبول کیا۔ واضح رہے کہ جس دن سے ضلع بدین میں تیل نکلنا شروع ہوا ہے تو قادیانیوں نے ضلع بدین کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہوا تھا۔ لیکن مجلس ختم نبوت کے مرکزی رہنما اور کارکنوں نے مسلسل قادیانیوں کا تعاقب کیا ہوا ہے۔ ضلع بدین کے عظیم خطیب اور مجاہد ختم نبوت مولانا محمد قاسم نے پورے ضلع میں قادیانیوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ اس سلسلے میں موصوف کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑی ہیں۔ مولانا نذیر احمد بلوچ کا مولانا موصوف کے ساتھ مکمل رابطہ ہے اور حیدرآباد کی جماعت کا مکمل تعاون مولانا محمد قاسم کو حاصل ہے۔ جن قادیانیوں نے اسلام قبول کیا ہے ان کے نام یہ ہیں : مقصود علی ولد اشرف علی، محمد سلیم ولد مقصود علی، محمد ساجد ولد مقصود علی، صالحہ خاتون زوجہ مقصود علی، نسیم خاتون بنت مقصود علی، طارق سلیم ولد محمد سلیم، فیروزہ خاتون بنت محمد سلیم۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۹،مؤرخہ ۲۲ تا ۳۰؍جون ۱۹۸۸ء)
روڈہ خوشاب میں دو قادیانیوں کا قبول اسلام
جناب نصر اللہ خان ولد گل جہاں قوم ورک اور غلام عباس ولد محمد رمضان قوم ورک۔ ان دونوں حضرات نے جناب ولی اللہ خان صاحب کی کوشش سے مرزائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا ہے۔ ہم اہلیان روڈہ خاص کر ملک محمد اعظم ، ولی اللہ خان ، حافظ دلاور حسین، غلام عباس اور نصر اللہ خان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ثابت قدم رکھے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۸،مؤرخہ یکم تا ۷؍ جولائی ۱۹۸۸ء)
ٹاہلی، تھر پارکر میں قبول اسلام
تھر پارکر، ٹاہلی شہر میں دو قادیانی مسلمان ہوئے ہیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے: ڈاکٹر بشارت احمد ولد محمد شفیع ساکن ٹاہلی شہر ضلع تھر پارکر سندھ ہے اور ڈاکٹر ٹاہلی کے ایک علاقہ کا قادیانی جماعت کا صدر بھی تھا۔ دوسرا مبارک احمد ولد مختار احمد وائرلیس نمبر ۳ نزد نفیس نگر ریلوے اسٹیشن ضلع تھر پارکر سندھ میں پولیس کا ہیڈ کانسٹیبل ہے اور حیدرآباد پولیس لائن میں ہے۔ ان دونوں افراد نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، مؤرخہ ۲۵؍نومبر ۱۹۸۸ء)
۱۹۸۸ء میں ختم نبوت کانفرنسوں اور دیگر سرگرمیوں کی رپورٹ
مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں پندرہ روزہ دورہ ”رد قادیانیت“ کورس
مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مانسہرہ کے زیر اہتمام مرکز کے تعاون سے مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں پندرہ روزہ کورس ”رد قادیانیت“ کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کورس ۲۶؍دسمبر ۱۹۸۷ء تا ۹؍ جنوری ۱۹۸۸ء تک منعقد ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے یہ کورس پڑھایا۔ کالج وسکولوں کے اساتذہ، طلباء اور دیگر خطباء واہل علم حضرات کو اس کورس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ (مولانا) محمد عبداللہ خالد خطیب مرکزی جامع مسجد مانسہرہ اس کورس کے میزبان رہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مانسہرہ میں ردّ قادیانیت کورس کی تقریب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مانسہرہ کے امیر حضرت مولانا قاضی محمد عبداللہ خالد صاحب نے مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں پہلی مرتبہ رد قادیانیت کے پندرہ روزہ کورس کا اہتمام فرما کر ہزارہ ڈویژن میں مسئلہ ختم نبوت کی اشاعت اور رد قادیانیت کا سنہری موقع فراہم کر دیا۔ تحریک ختم نبوت سے وابستہ علماء کرام اور دیندار مسلمانوں کو مل بیٹھ کر اس عظیم مسئلہ کی اشاعت اور قادیانی تحریک کا جائزہ لینے کا موقعہ ملا۔ خوش قسمتی سے عالمی مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جالندھری نے کورس کرانے کے لئے عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ پروانہ ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو مقرر فرمایا۔ کورس کا آغاز ۲۶؍ دسمبر علی الصبح ہوا۔ اس پہلی نشست کے لئے مولانا عبداللہ خالد صاحب اور مولانا محمد مظفر اقبال قریشی صاحب کی خصوصی درخواست پر مجاہد ختم نبوت عالم حق گو، یادگار سلف حضرت مولانا عبدالحیؒ صاحب مدظلہ العالی تشریف لائے۔
حضرت مولانا عبدالحیؒ صاحب تقریباً چالیس سال سے ضلع مانسہرہ کے مسلمانوں کی دینی پیشوائی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ۱۶؍ برس تک جامع مسجد شنکیاری میں خطابت کے فرائض سرانجام دیئے اور پھر تقریباً ۲۴؍ برس سے مانسہرہ میں جامع مسجد ناڑی کے خطیب ہیں۔ مولانا شروع ہی سے قافلہ حق وصداقت کے حدی خواں رہے ہیں۔ بارہا حق گوئی کی پاداش میں جیل کی سیر فرماچکے ہیں۔ تحریک تحفظ ختم نبوت میں ۱۹۵۳ء میں بھی گرفتار ہوئے۔ ۱۹۷۴ء میں ضلع مانسہرہ میں تحریک تحفظ ختم نبوت کی قیادت فرمائی۔ ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں بھی آپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ آپ نے کورس کی افتتاحی نشست میں تین گھنٹے طویل تاریخی علمی سیاسی خطاب فرمایا۔ آپ نے ۱۹۵۲ء میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد شنکیاری میں منعقد کرائی تھی۔ اس کی سرگزشت سنا کر اہل مجلس کے دلوں کو گرما دیا۔ فرمایا اس عظیم الشان کانفرنس کی صدارت امام اولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے فرمائی۔ مقررین میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی جیسی ہستیاں تھیں۔ سن باون میں اس عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس نے ضلع ہزارہ میں تحریک کی بنیاد فراہم کردی تھی۔ مرزائیت کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی تھیں۔ اس کانفرنس کے محرک حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہزاروی تھے۔ بعد میں جب ۱۹۵۳ء آیا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ کانفرنسیں تحریک کی تیاری کے سلسلہ میں تھیں۔ فرمایا: ۱۹۵۳ء میں ہمیں گرفتار کرلیا گیا۔ رات کے وقت ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ سردیوں کے دنوں میں ہمیں ایبٹ آباد سے پشاور لے جانے کا پروگرام بنا۔ جس پولیس وین میں ہمیں پشاور لے جانے کا پروگرام تجویز ہوا وہ وین تیار کر کے لائی۔ ہمیں اس میں بٹھا کر روانہ کیا۔ چنانچہ ایک فرلانگ کے بعد اس میں خرابی پیدا ہوگئی۔ چنانچہ پولیس والے بڑے حیران کہ خرابی کی اصل وجہ کیا ہے۔ ظاہر میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی۔ چنانچہ اس کے بعد جی۔ٹی۔ایس والوں سے فوم کی سیٹوں والی جی۔ٹی۔ایس منگوائی۔ اس میں ہمیں بٹھا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ خرابی کی وجہ جو ہم نے سمجھی وہ یہی تھا کہ پہلی دونوں جیپیں پرانی اور خراب سیٹوں والی تھیں۔ چونکہ سفر بہت لمبا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے تحفظ ختم نبوت کے اسیروں پر مہربانی فرمائی اور آرام دہ سواری فراہم کردی۔
جیل والوں کے لئے اسیران ختم نبوت کا وجود رحمت ثابت ہوا۔ پشاور جیل میں جہاں ہمیں رکھا گیا وہاں پہلے سے موجود قیدی سرخ پوش تھے۔ ہم سے پہلے ان کو رات بارکوں میں ڈال کر آگے سے تالے لگائے جاتے تھے۔ ہماری وجہ سے جیل کے اندر ان کے ساتھ بھی بہت رعایتیں ہونے لگیں۔ فرمایا: یہ سب تحفظ ختم نبوت کے صدقے میں اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ جیل میں ہمارے ساتھی مولانا کریم عبداللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحب فاضل دیوبند نے فرمایا کہ آیت کریمہ کا ختم چالیس روز تک پڑھنا چاہئے۔ ان شاء اللہ اس سے انقلاب آئے گا۔ چنانچہ ختم آیت کریمہ شروع ہوا۔ ابھی چند ہی یوم ہوئے تھے کہ آیت کریمہ کا اثر ظاہر ہو گیا۔ سرحد میں عبدالقیوم خاں کی وزارت ختم ہوگئی اور عبدالرشید خاں کو وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔ اس نے ضلع ہزارہ کا دورہ رکھا۔ دورہ پر ہزارہ میں جہاں پہنچا لوگوں نے اسیران ختم نبوت کی رہائی کا مسئلہ پیش کیا اور اس شدومد سے مطالبہ کیا کہ اس نے کہا مجھے کسی ٹیلیفون پر تو پہنچنے دو۔ چنانچہ عبدالرشید کے حکم پر ہمیں رہا کیا گیا۔ آپ نے دورہ رد قادیانیت کے انعقاد پر عالمی مجلس کے رہنماؤں کو مبارک باد دی اور کہا کہ آپ لوگ خوب دلجمعی کے ساتھ اس دورے سے فائدہ اٹھائیں۔ اپنے اساتذہ کرام کی دل و جان سے قدر کریں اور جو کچھ آپ کو پڑھائیں آپ اس کو اپنے اپنے علاقوں میں جا کر وعظ درد وتدریس عام گفتگو جیسے ممکن ہو سکے پھیلائیں اور قادیانیت اور دیگر خلاف اسلام تحریکوں کا اس شدت سے مقابلہ کریں کہ باطل کے داعی ہمت ہار جائیں اور خدا تعالیٰ سے اس بارے میں مدد کی دعائیں بھی مانگیں۔ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب تلاش کے باوجود بھی دنیا میں کوئی قادیانی نہیں ملے گا۔ حضور علیہ السلام کے یہ دشمن بھی بے نام ونشان ہو جائیں گے جس طرح پہلے ہو چکے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۸، مؤرخہ ۴ تا ۱۰/مارچ ۱۹۸۸ء)
نتیجہ امتحان پندرہ روزہ کورس ”رد قادیانیت“ منعقدہ ۲۶/دسمبر ۱۹۸۷ء تا ۹/جنوری ۱۹۸۸ء مانسہرہ ہزارہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تعاون سے مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں ”رد قادیانیت“ کے پندرہ روزہ کورس کا اہتمام کیا گیا جس میں عام حاضرین، علماء وعوام کے علاوہ باقاعدہ ۱۳۲ حضرات شریک رہے۔ اس کورس کا باقاعدہ تحریری امتحان ہوا جس میں ۷۶ حضرات نے شرکت کی۔ علامہ اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے یہ کورس پڑھایا اور اس کا امتحان بھی لیا۔ اس امتحان میں پانچ حضرات کے علاوہ باقی تمام کامیاب ہوئے۔ مولانا قاضی رفیق الرحمٰن، محمد جاوید، زاہد حسین، قاری محمد شاہ بالترتیب اوّل، دوم اور سوم آئے۔ نتائج کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
نمبر شمار نام پتہ حاصل نمبر نتیجہ کیفیت ۱ محمد ظہور الحق ولد شاہ زمان چکیاں تحصیل وضلع مانسہرہ ۶۵ پاس ۲ محمد ہارون ولد خواص خان // // // ۵۷ // ۳ اورنگزیب ولد محمد مسکین // // // ۸۴ // ۴ مقبول الرحمٰن ولد سائیں محمد گاؤں گلی ڈھیری ڈاکخانہ گڑھی حبیب اللہ ۴۷ // ۵ محمد فیاض ولد محمد اکبر موضع سفیدہ تحصیل و ضلع مانسہرہ ۵۲ // ۶ رحمت اللہ ولد مطیع اللہ بمقام جانوزئی تحصیل اٹھمقام ضلع مظفرآباد ۳۷ // ۷ عابد لغمانی ولد ماسٹر مختار محلہ ڈب نمبر ۲ مانسہرہ ۵۷ // ۸ محمد جاوید ولد محمد یونس گاؤں سہوچ ناراں تحصیل بالاکوٹ ۹۳ // دوم ۹ خالد محمود ولد محمد فاروق ڈب نمبر ۱ کھلا بازار مانسہرہ ۵۴ // ۱۰ محمد ظاہر شاہ ولد مجرب خان امام مسجد کبریٰ محلہ لوہار بانڈا مانسہرہ ۳۹ // ۱۱ قاضی مشتاق احمد ولد مولانا خلیل الرحمٰن خطیب جامع مسجد میاں محلہ ایوب خان مانسہرہ ۶۴ //
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۲ محمد یونس ولد مولانا عبدالرؤف گاؤں نم شہر ڈاکخانہ لسان نواب صاحب ۴۷ // ۱۳ جمیل احمد ولد مہدی زمان مدرسہ تعلیم القرآن جامع مسجد کنگڑ مانسہرہ ۳۹ // ۱۴ شاہ معین الدین محلہ ڈب نمبر ۱ گلی نمبر ۶ مانسہرہ ۳۸ // ۱۵ محمد منیر ولد محمد نظیر گورنمنٹ ہائی سکول مانسہرہ ۶۳ // ۱۶ مختار احمد ولد محمد عالم ڈب نمبر ۲ مانسہرہ ۴۴ // ۱۷ سید قاسم شاکر ولد سید غلام مصطفیٰ گورنمنٹ مڈل سکول بفہ کلاں مانسہرہ ۷۴ // ۱۸ محمد زاہد حسین ولد مولوی حفیظ اللہ محلہ بجودی بفہ مانسہرہ ۶۳ // ۱۹ مولوی غلام الدین ولد مولوی حفیظ اللہ سکنہ خاکی مانسہرہ ۶۸ // ۲۰ غیاث الدین شاہ ولد سید محمد افضل شاہ سکنہ داتہ مانسہرہ ۵۳ // ۲۱ بصیر احمد ولد محمد سلیمان محلہ ڈب نمبر ۲ مانسہرہ ۴۵ // ۲۲ محمد شفیق ولد محمد زمان پکوال روڈ محلہ ڈب نمبر ۲ مانسہرہ ۳۳ // ۲۳ ساجد مسکین ولد محمد مسکین // // // ۳۳ // ۲۴ ارشد اقبال اعوان ولد عبداللطیف محلہ چنن نزد نین سکھ ہوٹل مانسہرہ ۵۱ // ۲۵ کلیم اشرف ولد محمد اشرف ڈب نمبر ۲ نزد کامرس کالج ۵۰ // ۲۶ سید نعیم شاہ ولد دلاور شاہ معرفت شاہ لیدر اینڈ فوم ہاؤس مانسہرہ ۸۵ // ۲۷ شکیل احمد ولد اشرف غازی کوٹ خالد کریانہ سٹور مانسہرہ ۶۱ // ۲۸ محمد نعیم ولد محمد اسحاق // // ۵۹ // ۲۹ قدیر احمد ولد محمد فرید دواخانہ ڈب نمبر ۱ مانسہرہ ۴۰ // ۳۰ محمد نعیم ولد محمد جان گاؤں غازی کوٹ مانسہرہ ۸۲ // ۳۱ قاری عبدالرحمن شاہ ولد شاہ جی محلہ کچھی گاؤں ڈاکخانہ خاکی گاؤں مانسہرہ ۵۱ // ۳۲ امجد علی ولد حاجی قدرت اللہ ڈاکخانہ و گاؤں داتہ مانسہرہ ۷۰ // ۳۳ خالد محمود ولد محمد دین معرفت خالد آٹو سٹور ایبٹ آباد روڈ مانسہرہ ۶۵ // ۳۴ سیف الاسلام ولد مستجاب سکنہ موہگن یوسف مچھلی پول مانسہرہ ۵۱ // ۳۵ محمد اسحاق ولد محمد فضل حق ڈاکخانہ بفہ مانسہرہ ۳۵ // ۳۶ محمد منصف ولد سلیمان گاؤں ہڑیالہ مانسہرہ ۳۳ // ۳۷ عتیق الرحمن ولد عبدالحئی بمقام غازی کوٹ مانسہرہ ۳۹ // ۳۸ قاضی عبداللطیف ولد مولوی عبدالجلیل // // ۴۴ // ۳۹ قاضی شمس الرحمن ولد محمد سیف // // ۵۳ //
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴۰ سید اسرار الحق ولد سید گلاب شاہ نیو مراد پور مانسہرہ ۷۳ // ۴۱ سجاد احمد ولد غلام حسین ایم. ایم اصفہانی چائے ڈپو شنکیاری روڈ مانسہرہ ۵۳ // ۴۲ حبیب الرحمٰن ولد خان زمان بریلہ ڈاکخانہ لسان مانسہرہ ۰ فیل ۴۳ محمد یونس ولد مولانا امیر علی مقام جٹر مانسہرہ ۲۴ فیل ۴۴ محمد قاسم ولد حاجی عبدالجلیل محلہ ڈب نمبر ۲ حامد گارمنٹس اینڈ جنرل سٹور ۵۷ پاس ۴۵ نور محمد سعید ولد مولوی خان زمان خطیب جامع مسجد خواجگان مانسہرہ ۴۰ // ۴۶ عبدالرؤف ولد مولانا محمد یونس سکنہ ونکہ داخلی جبوڑی مانسہرہ ۶۳ // ۴۷ سید عبدالعزیز ولد شاہ امیر علی جامع مسجد ختم نبوت پھگلہ مانسہرہ ۴۰ // ۴۸ غلام الدین صابر ولد مولوی خلیل الرحمٰن ڈاکخانہ قبر کھوتہ ضلع مانسہرہ ۴۸ // ۴۹ محمد اسرائیل ولد محمد اسماعیل خطیب مسجد صدیق اکبر محلہ اکبر چنٹی مانسہرہ ۷۶ // ۵۰ عزیز الاسلام ولد ضیاء الاسلام امام مسجد عثمانیہ ڈب نمبر ۲ مانسہرہ ۵۸ // ۵۱ فضل داد ولد فقیر جان مقام روگرہ تحصیل وضلع مانسہرہ ۶۳ // ۵۲ سید حسین شاہ ولد علی اصغر شاہ لوہار بانڈہ مانسہرہ ۴۶ // ۵۳ زاہد حسین ولد علی اکبر // // ۹۰ // سوم ۵۴ زین العابدین ولد پروفیسر مظفر اقبال گاؤں ہاڑ ہمیرا مانسہرہ ۵۵ // ۵۵ نور الرحمٰن ولد عبید اللہ خطیب جامع مسجد گنگڑ مانسہرہ ۳۵ // ۵۶ شاہ عماد الدین بن سید ابرار ہاشمی جامعہ اسلامیہ محمودیہ مانسہرہ ۶۵ // ۵۷ انجم شہزاد ولد علی زمان مفتی آباد مانسہرہ ۸۵ // ۵۸ خاور علی ولد مسکین اختر صراف محلہ ناڑی مانسہرہ ۵۴ // ۵۹ اعجاز عباسی ولد عبدالرحمٰن عباسی // // ۵۸ // ۶۰ سید صابر حسین شاہ ولد نور احمد شاہ آف گرمالہ مانسہرہ ۲۷ فیل رعایتی پاس ۶۱ قاضی رفیق الرحمٰن عابد محلہ جامع مسجد گنگڑ مانسہرہ ۹۶ پاس اوّل ۶۲ قاری غلام جیلانی ولد مولانا نقیب اللہ مراد پور مانسہرہ ۶۲ // ۶۳ محمد عبدالصبور جابہ ملک پور ڈاکخانہ لوئر پھگلہ مانسہرہ ۴۵ // ۶۴ حاجی محمد منیر الرؤف سویٹ ہاؤس ایبٹ آباد روڈ مانسہرہ ۷۵ // ۶۵ چوہدری اشفاق ولد عبدالمعروف لٹڑ بیٹر جنگلاں مانسہرہ ۵۰ // ۶۶ حافظ محمد ذاکر نصیر مدرسہ تعلیم القرآن حنفیہ جامع مسجد گنگڑ مانسہرہ ۴۲ //
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶۷ رضوان اللہ جان ولد نذیر احمد سینیٹری اینڈ گورنمنٹ فوڈ انسپکٹر مانسہرہ ۳۰ فیل رعایتی پاس ۶۸ محمد منظور عثمانی ولد محمد ظہور عثمانی غازی کوٹ مانسہرہ ۴۰ پاس ۶۹ مسعود اکرم بیگ ولد محمد اکرم // // ۶۵ // ۷۰ ملک نوید ولد ملک اکرام // // ۴۳ // ۷۱ اخلاق احمد ولد ملک اورنگزیب // // ۵۰ // ۷۲ سعید احمد ولد تاج محمد // // ۴۹ // ۷۳ سید مبارک شاہ خطیب جامع مسجد غازی کوٹ مانسہرہ ۲۰ فیل ۷۴ بی بی روبینہ زوجہ قاضی رفیق الرحمٰن خطیب کنگرہ مسجد مانسہرہ ۴۴ پاس ۷۵ قاری محمد شاہ ولد سید گلاب شاہ نیو مراد پور مانسہرہ ۹۰ پاس سوم ۷۶ عبدالقادر جامع مسجد نیو مراد پور مانسہرہ ۴۴ //
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷ تا ۱۹، مورخہ ۱۹/ فروری ۱۹۸۸ء)
ہارون آباد میں سیرۃ خاتم الانبیاء کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہارون آباد کے زیر اہتمام مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن ریلوے مسجد ہارون آباد میں سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا قدرت اللہ صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت فورٹ عباس نے کی۔ کانفرنس کی ابتداء قاری نور محمد کی تلاوت قرآن پاک سے کی گئی۔ اس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ رشید احمد دیونہ نے پیش کی۔ بعد ازاں نشست کے صدر مولانا قدرت اللہ صاحب نے اظہار خیال کیا۔ اس کے بعد نیاز علی صاحب نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ پھر مولانا احسان احمد صاحب دانش مبلغ ختم نبوت لاہور نے اپنے پرجوش بیان فرمایا۔ مولانا محمد احمد مبلغ ختم نبوت رحیم یار خان نے اپنی پرتاثیر آواز میں بیان فرمایا۔ اس کے بعد مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی مبلغ بہاول پور نے خطاب کیا۔ قاضی اللہ یار صاحب نے اپنے پرزور جوشیلے انداز میں خطاب کرتے ہوئے خاتم الانبیاء ﷺ کی شان میں خراج تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں مولانا محمد اسماعیل صاحب عاصم مبلغ تحفظ ختم نبوت بہاول نگر نے مجمع عام سے چند قراردادیں منظور کرائیں۔ آخر میں مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے مدلل خطاب فرمایا۔ عبدالرؤف خان صاحب، مولانا علی احمد، مولانا محمد عارف اکمل، مولانا محمد الیاس، مولانا احمد علی، مولانا محمد علی، عبدالعلیم ضیاء، محمد اشرف ضیاء، عبد الماجد فاروقی، عبد الباسط نظامی، غلام مہر علی تبسم، عبدالرحیم طاہر، عبد الحلیم خان، محمد ندیم اشرف، عبد القیوم بھاٹیا، عبد القوی زخمی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۳۰ ص ۲۸، مورخہ ۸ تا ۱۴/ جنوری ۱۹۸۸ء)
کہروڑ پکا میں ختم نبوت کانفرنس
گزشتہ جمعۃ المبارک کو بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دھنوٹ کے زیر اہتمام مدرسہ حفظ القرآن کہروڑ پکا میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد حسین صاحب وہاڑی، حضرت مولانا غلام علی صاحب اور قاضی عبد المالک فاروقی نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۳۲ ص ۲۶، مورخہ ۲۲ تا ۲۸/ جنوری ۱۹۸۸ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہری پور میں یک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
”ہری پور ہزارہ میں عظیم الشان یک روزہ ختم نبوت کانفرنس ۷؍جنوری ۱۹۸۸ء بروز جمعرات جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ ہری پور میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا عثمان صاحب نے کی۔ تلاوت قرآن پاک حافظ عبدالقدوس صاحب نے کی اور نعت مطیع الرحمٰن اطہر نے پیش کی۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالرؤف جتوئی نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں مسئلہ ختم نبوت اور مرزائیوں کے کفریہ عقائد پر روشنی ڈالی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مسجد ہٰذا کے خطیب مولانا قاری بشیر نے ادا کئے۔ آخری خطاب مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا نے کیا۔ جناب نے اپنے مخصوص انداز میں مرزائیت کے کفریہ عقائد پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ کانفرنس کے اختتام سے پہلے شبان ختم نبوت کے چیف آرگنائزر حفیظ الرحمٰن نے ہری پور ہزارہ میں موجودہ مرزائیوں، زندیقوں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر کے مسلمانی جذبے کو اجاگر کریں اور حضور ﷺ کے روح اقدس کو تسکین پہنچائے۔ یہی ہمارے لئے نجات کا راستہ ہے۔‘‘
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۳۸ ص ۲۹، مورخہ ۴ تا ۱۰؍مارچ ۱۹۸۸ء)
ختم نبوت کانفرنس نیو مراد پور
مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر پکھل کے زیر اہتمام مکی مسجد نیو مراد پور میں ایک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۸؍جنوری ۱۹۸۸ء کو منعقد کی گئی۔ جس کی صدارت مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا قاضی محمد عبداللہ خالد امیر عالمی مجلس ضلع مانسہرہ نے فرمائی۔ مہمان خصوصی حضرت علامہ مولانا اللہ وسایا صاحب سٹیج پر تشریف لائے۔ آپ نے نہایت ایمان افروز اور وجد آفرین خطاب فرمایا۔ آپ نے مدرسہ رحیمیہ تعلیم القرآن نیو مراد پور کے فارغ طلباء کو سندات بھی اپنے دست مبارک سے عنایت فرمائیں۔ اس موقعہ پر حضرت علامہ مولانا محمد مظفر قریشی اور خطیب اسلام مولانا سید اسرار الحق شاہ صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر پکھل نے بھی تقاریر فرمائیں۔ ان حضرات نے حضرت مولانا محمد عبداللہ خالد اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مرکزی راہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ مدرسہ ہٰذا کے مدیر اور ختم نبوت کانفرنس نیو مراد پور کے ناظم حضرت مولانا قاری محمد شاہ صاحب نے بھی تمام مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ جلسہ گاہ کو نہایت سلیقہ کے ساتھ سجایا گیا اور آرائشی محرابیں لگائی گئی تھیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۳۵ ص ۲۶، مورخہ ۱۲ تا ۱۸؍فروری ۱۹۸۸ء)
چک ۹۱ جنوبی سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
سرگودھا (نمائندہ ختم نبوت) چک نمبر ۹۱ جنوبی سرگودھا میں ۸؍فروری ۱۹۸۸ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے سرگودھا سے ختم نبوت کے نوجوانوں کا ستر نوجوانوں کا قافلہ مولانا اللہ وسایا صاحب شاہین ختم نبوت، مولانا محمد اکرم طوفانی اور حاجی محمد خالد صاحب کی قیادت میں نعرۂ تکبیر اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد کے نعروں کی گونج میں چک مذکور پہنچا۔ اس چک میں ایک قادیانی میاں سمیع نون نے اسلام دشمن اور مسلم دشمن سرگرمیاں شروع کر رکھی تھیں۔ بہت سے سادہ لوح مسلمان بھی اس کے دام تزویر میں پھنس چکے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔ چنانچہ وہاں کے کچھ مسلمانوں نے اس صورتحال سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے ممتاز راہنما شاہین ختم نبوت مولانا اکرم طوفانی کو آگاہ کیا۔ انہوں نے مرکز کے مشورہ سے ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا۔ پروگرام کے مطابق زور دار کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اکرم طوفانی نے قادیانیت کے عقائد کا خوب پوسٹ مارٹم کیا۔ وہاں کے عوام پر قادیانیت کی اصلی حقیقت واضح ہوئی اور انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ ہم قادیانی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایڈووکیٹ اور قادیانیوں سے کسی قسم کا لین دین اور تعلقات نہیں رکھیں گے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانی سرگودھا کے چکوک میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آرڈیننس پر فوراً عملدرآمد کرایا جائے۔ وگرنہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۷ ص ۲۷، مورخہ ۲۶؍ فروری تا ۳؍ مارچ ۱۹۸۸ء)
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ کی قراردادیں اور مطالبات
۷؍ فروری ۱۹۸۸ء احتجاجی جلسہ عام، آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان چوک امام صاحب سیالکوٹ میں منعقد ہوا۔ کانفرنس میں درج ذیل قراردادیں مولانا عبدالرحیم شکرگڑھ اور شجاعت مجاہد نے پیش کیں۔ عوام اور مقررین نے ان کی پرزور تائید کی۔ لہٰذا سول پاک فوج اور بالخصوص ایٹمی ٹیکنالوجی جیسے حساس ادارے میں کلیدی عہدوں پر قابض قادیانی افسران کو نکالا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۱۱ ص ۲۸، مورخہ ۲۵ تا ۳۱؍ مارچ ۱۹۸۸ء)
کھرڑیانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس
مؤرخہ ۲۵، ۲۶؍ فروری ۱۹۸۸ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام احسان کالونی کھرڑیانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے تمام مکاتب فکر علماء نے خطاب کیا۔ اتحاد بین المسلمین حفاظت عقیدہ ختم نبوت قادیانی آرڈیننس پر عمل درآمد کے علاوہ فلاح ملک وملت کے عنوانات پر علماء کرام نے مجلس کے مبلغین نے خطاب فرمایا۔ ڈویژنل امیر حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی نے قادیانیت کے مکروہ عقائد وعزائم بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیت بدترین دجل وفریب کا دوسرا نام ہے۔ مولانا نے تحریک ختم نبوت میں شاندار کردار ادا کرنے والے علماء، زعماء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ جن کی شبانہ روز محنت اور ان کے خلوص کی بدولت اس فتنۂ عظیم کو ضرب کاری لگی اور قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ قبل ازیں جماعت کے سینئر مبلغ مولانا خدا بخش نے قادیانی مذہب کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے سامعین کو بتلایا کہ مرزائی اجراء نبوت اور دعویٰ مسیح موعود و مہدویت میں جھوٹ اور فریب کا پلندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیت کا ہر جگہ اور ہر مقام پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
اہل حدیث مکتب فکر کے معروف عالم دین اور رہنما مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی نے نعروں کی گونج میں اپنے بیان کا آغاز کیا۔ مولانا نے کہا کہ مرزائیت کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ سارا عالم اسلام اس فتنہ کے خلاف نبرد آزما ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم سب اس فتنہ کے خلاف متحد ہیں اور ہماری جدوجہد اس وقت جاری رہے گی۔ جب تک انگریز سامراج کے خود کاشتہ پودے کو جڑوں سے اکھاڑ کر نہیں پھینک دیا جاتا۔ حافظ صاحب نے کہا اب قادیانی نواز ذہنیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری جنرل سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنی عالمانہ اور فاضلانہ تقریر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا کردار اور کچا چٹھا بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرزا کی اپنی تحریروں میں اس قدر تناقض اور مبالغہ ہے کہ دنیا میں کسی داعی نے اس قدر جھوٹ مکر وفریب اور جعلسازی سے کام نہیں لیا۔ مولانا عزیز الرحمن نے حفاظت عقیدۂ ختم نبوت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے مختلف مکاتب فکر علماء کی قربانیوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان علماء اور زعماء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قادیانی محاسبہ کی تحریک پورے جوش وخروش سے جاری رکھی جائے گی۔ رات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے کہا مرزائی فتنہ اب اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ انہوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیرونی محاذ پر جماعت کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔
مولانا نذیر احمد نے اپنے بیان میں قادیانی مذہب پر سخت تنقید کی۔ مولانا نے کہا کہ مرزائی ملک وملت کے غدار ہیں۔ لہٰذا تمام برادران اسلام کو چاہئے کہ ان سے قطع تعلق کریں اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں۔ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی (ثانی) نے کہا کہ تردید مرزائیت کے محاذ پر تحمل، بلند عزائم، جفاکشی، ارادے کی مضبوطی ہے۔ مولانا محمد جمیل صاحب قادری نے کہا کہ مرزائی لٹریچر سے مرزائیوں کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ مرزائی حضرات اپنے بانی کے دعوؤں پر غور وفکر کریں اور جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں۔ مولانا امجد سلفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے۔ اکابر سلف کی طرح اس جدوجہد میں ہم کو ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ ختم نبوت کے آخری اجلاس سے صاحبزادہ سید افتخار الحسن صاحبزادہ طارق محمود اور سید ممتاز الحسن شاہ نے خطاب کیا۔ جب کہ معروف قاری عبدالباسط کے شاگرد عزیز ڈاکٹر قاری محمد صولت نواز نے قرآن مجید کی تلاوت سے مجمع کو تڑپایا۔
صاحبزادہ طارق محمود نے اپنے بیان میں شہدائے ختم نبوت کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہندوستان ہمیں ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس کی فوجیں ہماری سرحدوں پر جھانک رہی ہیں۔ خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ جب کہ پاکستانی قوم انڈین فلموں سے دل بہلا رہی ہے۔ صاحبزادہ طارق محمود نے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک قوم متحد نہیں ہوگی وہ رحمت خداوندی سے محروم رہے گی۔ سید ممتاز الحسن شاہ نے آخری مقرر اور معروف خطیب سید افتخار الحسن کی تحریک ختم نبوت میں نمایاں خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ صاحبزادہ سید افتخار الحسن نے آخر میں اپنی خطابت سے مجمع کو محظوظ کیا۔ شاہ صاحب نے اپنے خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کے مختلف پہلوؤں پر شاندار نکتے بیان کئے۔ شاہد صاحب نے نعروں کی گونج میں اعلان کیا کہ تردید مرزائیت کے سلسلہ میں مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
جھلکیاں:
- ختم نبوت کانفرنس کھرڑیانوالہ سے بریلوی مکتب فکر کے معروف خطیب سید افتخار الحسن شاہ صاحب اور اہل حدیث مکتب فکر کے
رہنما حافظ عبدالقادر روپڑی نے خطاب کیا۔
- صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ صاحب نے اپنے خطیبانہ بیان میں لطیفوں اور چٹکلوں سے سامعین کی تواضع کی۔
- صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک کانفرنس کے دونوں دن اپنے رفقاء میجر محمد اقبال، ڈاکٹر عبدالقیوم خان، ڈاکٹر قاری صولت
نواز کے ہمراہ انتظامی امور کی نگرانی کرتے رہے۔
- سٹیج سیکرٹری کے فرائض سید ممتاز الحسن گیلانی نے سرانجام دیئے اور وہ اکثر وبیشتر شاہنامہ اسلام سے برموقع اشعار سے سامعین کو
گرماتے رہے۔
- جامع مسجد ختم نبوت میں شاندار اسٹیج بنایا گیا تھا۔ قمقموں، لائٹوں اور رنگ برنگے جھنڈیوں سے پنڈال بقعہ نور بنا ہوا تھا۔
- ہائی سکول کھرڑیانوالہ سے ملحق چوک میں ختم نبوت کا بورڈ آویزاں تھا اور مہمانوں کے آنے کے راستہ کو رنگ برنگ جھنڈیوں
سے آراستہ کیا گیا تھا۔
کانفرنس سے مولانا محمد شفیع صاحب چک نمبر ۷۷، مولانا محمد افضل مانا نوالہ، کھرڑیانوالہ کے احباب نے معزز مہمانوں کو بڑی خوبی سے خوش آمدید اور خدا حافظ کہا۔ جب کہ تلاوت قرآن مجید ملک کے مشہور قاری ڈاکٹر صولت نواز ایم. بی. بی. ایس اور حافظ نیاز احمد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحب نے کی اور دعا حضرت اقدس رائے پوری کے خلیفہ مجاز حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب نے کی۔ کانفرنس خیر و خوبی نعروں، اظہار تشکر اور دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب خانقاہ سراجیہ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے انتظامی امور کی نگرانی عالمی مجلس کے مرکزی قائد مکرم جناب محترم مولوی فقیر محمد صاحب نے فرمائی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۴ نمبر ۵ ص ۱۹،۱۸، مورخہ ۱۸/ مارچ ۱۹۸۸ء)
کہروڑ پکا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
کہروڑ پکا: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عرصہ دراز کے بعد سرزمین کہروڑ پکا میں عظیم الشان کانفرنس جامعہ باب العلوم کے وسیع وعریض پنڈال میں مورخہ ۲، ۳ / مارچ ۱۹۸۸ء کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی کل پانچ نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ جس سے ملک کے نامور مقررین، محدثین نے خطاب کیا۔ جن میں مولانا محمد یوسف بہاول پوری نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل و فریب کا پردہ چاک کیا۔ جامعہ بورے والا کے مہتمم مولانا عبدالرحیم نعمانی نے مدرسہ باب العلوم کے طلباء اور فارغ التحصیل علماء کو پند و نصائح سے سرفراز فرمایا۔ جامعہ علوم شرعیہ ساہیوال کے استاد الحدیث مولانا عبدالمجید انور نے علماء کرام کے فضائل و مناقب بیان فرماتے ہوئے علماء کرام کو دین کی خدمت کرنے کی تلقین کی۔ اسی نشست میں بخاری شریف کی آخری حدیث بھی پڑھی گئی۔ ختم بخاری سے قبل شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد مہتمم جامعہ امدادیہ فیصل آباد نے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام کی ہر تحریک کے سلسلہ میں قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک ختم نبوت کی کامیابی علماء کرام کی جدوجہد کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ شیخ الحدیث مولانا فیض احمد ملتان نے ختم بخاری کے موقع پر آخری حدیث بخاری پر بحث کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نشست انتہائی مقدس ہے کہ اس میں بخاری شریف کا ختم بھی ہو رہا ہے اور ختم نبوت کانفرنس بھی منعقد ہو رہی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اس امت کا امتیاز ہے کہ اس نے اپنے رسول کی وحی متلو و غیر متلو یعنی قرآن وحدیث کی حفاظت کی ہے جو ختم نبوت کی دلیل ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کی تعلیمات محفوظ نہیں۔ اس لئے کہ ہر نبی کے بعد کسی اور نبی نے آنا تھا۔ اگر ان کی تعلیمات میں تحریف کی جاتی تو دوسرا نبی آ کر اسے اصلی حیثیت میں پیش کر دیتا۔ لیکن حضور ﷺ کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا۔ اس لئے امت آپ کی تعلیمات قرآن وحدیث کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔
دوسری نشست عشاء کے بعد قاری نذیر احمد خیر پوری کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی۔ جناب عبدالعزیز انجم نے ختم نبوت کے عنوان پر ایک پرتاثیر نظم پیش کی۔ خواجہ عبدالمجید بٹ آف قادیان نے مرزا قادیانی اور اس کے خاندان کا واقعاتی انداز میں پوسٹ مارٹم کیا اور ان کی بدکرداریوں کا پردہ چاک کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ الحمدللہ ! پوری دنیا میں قادیانیت ذلت ورسوائی کی موت مر رہی ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ پوری دنیا میں ایک بھی قادیانی ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ قادیانیت کا اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔ بالخصوص شیزان فیکٹری کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ مجلس علماء اہل سنت پاکستان کے مرکزی راہنما مولانا عبدالکریم دین پوری نے اپنے مخصوص انداز میں سیرت طیبہ اور عقیدہ ختم نبوت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمانان پاکستان قادیانیت کا دجل وفریب نہیں چلنے دیں گے۔ مجلس ہی کے مرکزی مبلغ مولانا عبیدالرحمن ضیاء نے عجیب انداز میں سامعین کو محظوظ کیا۔ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پورے عالم میں قادیانیت کا پر زور تعاقب کر کے قادیانیوں کو اسلام قبول کرنے کے لئے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ الحمد للہ ! دھڑا دھڑ قادیانی اسلام قبول کر کے مرزائیت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے برأت کا اعلان کر رہے ہیں۔ مولانا نے عوام سے کہا کہ آپ حضرات جرأت و ہمت سے ختم نبوت کی آواز گلی گلی، کوچہ کوچہ، دوکان دوکان، گھر گھر میں پہنچا کر قادیانیت کو ناک آؤٹ کر دیں۔ مجلس علماء اہل سنت مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عبدالغفور حقانی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پوری قوم مولانا خان محمد مدظلہ کی قیادت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا غلام یاسین خیر پوری نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا خالد محمود مدنی، مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے بھی خطاب کیا۔
کانفرنس کی تیسری نشست دوسرے دن بعد نماز ظہر قاری خدا بخش قاری اللہ داد، متعلمین باب العلوم کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے جس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد علی لودھراں نے کہا کہ لودھراں کی انتظامیہ کو قادیانیوں کی لودھراں میں سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے۔ مولانا غلام یسین خیر پوری نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور عظمت صحابہ کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض منصبی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین“ پر جاندار خطاب فرمایا۔ آپ نے کہا کہ چار عالم مشہور ہیں: عالم ارواح، عالم دنیا، عالم برزخ، عالم آخرت سرور کائنات ﷺ چاروں عالمین کے لئے رحمت ہیں۔ عالم ارواح میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک کانفرنس منعقد کی جس کے مہمان خصوصی سرور کائنات ﷺ تھے۔ جس میں تمام ارواح بنی آدم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”الست بربکم“ تمام کائنات نے آپ ﷺ کے چہرے کو دیکھا۔ سب سے پہلے آپ ﷺ نے جواب دیا: ”بلیٰ“ پھر تمام لوگوں نے آپ کا جواب سن کر جواب دیا: ”قالو بلیٰ“ تو عالم ارواح کے لئے رحمت ہوئے۔ اسی طرح اب عالم دنیا کے لئے بھی رحمت خداوندی ہیں کہ آپ کی برکت سے اربوں مسلمانوں کو ہدایت ملی۔ عالم برزخ بھی بعض روایات کے مطابق مسلمان میت اور آپ کے مزار پر انوار کے درمیان تمام حائل پردے الگ کر دیئے جاتے ہیں اور سوال ہوتا ہے: ”ماتقول فی حق ھذا الرجل“ تو میت آپ ﷺ کے چہرہ انور کو دیکھ کر کہتی ہے کہ یہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ عالم آخرت میں آپ ﷺ کو شفاعت کبریٰ کا مقام نصیب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کی نبوت کے اردگرد مضبوط چار دیواری ہے تو ایک سو آیات اور دوسو سے زائد احادیث پر مشتمل ہے اور اردگرد پوری امت بطور محافظ کے لٹھ برداری کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی غلام احمد قادیانی جیسے بدبخت نے اس دیوار کو پھلانگنے کی کوشش کی، امت نے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ مولانا نے آخر میں فرمایا کہ قادیانیوں کے خلاف چلائی جانے والی جنگ جیتی جا چکی ہے۔ اگر پورے مسلمان ہمت سے کام لیں تو قادیانیت کا وجود تک نہیں رہے گا۔ مولانا نے فرمایا چوری جرم ہے۔ چوری کی اعانت بھی جرم ہے۔ اسی طرح دعویٰ نبوت بھی جرم ہے اور اس کی اعانت بھی جرم ہے۔ لہٰذا تمام قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے غیرت اسلامی کا ثبوت دیا جائے۔ عالمی مناظر ختم نبوت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر مدظلہ نے فرمایا کہ ختم نبوت کی حفاظت سب سے پہلے حضرت صدیق اکبر ؓ نے کی۔ بارہ صد صحابہ رسول ﷺ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ تین سو ساٹھ انصار، تین سو ساٹھ مہاجرین شہید ہوئے۔ ان میں سے سات سو حافظ قرآن تھے۔ علامہ انور شاہ کشمیری نے ختم نبوت کی وکالت کی۔ پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے ختم نبوت کا تحفظ کیا۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ۱۹۵۳ء میں دس ہزار شہید ہوئے۔ ایک لاکھ قید ہوئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا قادیانی پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہوئے۔ ۱۹۵۳ء کی انکوائری میں جج نے قادیانیوں کی تحریروں کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ۱۹۸۴ء میں آرڈیننس کا اعلان ہوا۔ ہر زمانہ میں اکابر اہل اللہ نے تحریک ختم نبوت کی سرپرستی فرمائی۔ قادیانیت ذلت و رسوائی کی موت مر رہی ہے۔ آرڈیننس کے بعد کئی قادیانی جیل میں ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس کی آخری نشست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت اقدس مولانا خان محمد مظلہم کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جب کہ مہمان خصوصی الحاج شیخ غلام احمد عباسی مہتمم جامعہ باب العلوم تھے۔ حرکت الاسلامی مجاہدین افغانستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے افغان مجاہدین کے جرأت مندانہ اور مومنانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا۔ افغان مجاہدین کی خدمات اور قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جنیوا معاہدے پر دستخط کئے جائیں۔ افغان مجاہدین کسی بیرونی دباؤ میں اپنے دین اور عقیدے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے کہا کہ ہم صحابہ رسول کی عظمت کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے کہا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کا یہ آخری اجلاس ہے۔ جس میں کافی عرصہ کے بعد آپ سے مخاطب ہونے کا موقع ملا ہے۔ عظمت رسول و صحابہ رسول کا تحفظ ہر مسلمان کا دینی و اخلاقی فریضہ ہے اور اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے ہم جیل کی سلاخوں اور تختۂ دار کو چومنا گوارا کر لیں گے۔ لیکن اپنے مشن سے غداری نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسا تمام لٹریچر جس میں تحریف قرآن، صحابہ کرام پر سب و شتم ہو، فی الفور ضبط کیا جائے اور بے لگام مصنفین کو قانونی شکنجہ میں کس کر اخلاق و شرافت کا پابند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے رضا کار قادیانیت کے تعاقب اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ہیں۔
قراردادیں:
- ۱...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع ملک کی مایہ ناز علمی و سیاسی شخصیت،
جمعیتہ علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا سید حامد میاں کی وفات حسرت آیات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی، علمی، سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ خداوند قدوس حضرت مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔
- ۲...... یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ساہیوال اور سکھر کیس کے مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے۔
- ۳...... ربوہ کا نام تبدیل کیا جائے۔
- ۴...... کلیدی عہدوں سے قادیانی الگ کئے جائیں۔
- ۵...... قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی کے صاحبزادے شمس العارفین کے اغواء اور انتظامیہ کی طرف سے سستی پر افسوس کرتے
ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مجرموں کو فی الفور گرفتار کرتے ہوئے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۲۳ ص ۲۶، ۲۷، مورخہ ۸ تا ۱۲ اپریل ۱۹۸۸ء)
ڈیرہ مراد جمالی میں ختم نبوت کانفرنس
مؤرخہ ۳/ مارچ ۱۹۸۸ء کو سالانہ ایک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مدرسہ تاج العلوم گجر محلہ ڈیرہ مراد جمالی میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا عبدالستار صاحب لانگو نے کی۔ تلاوت کلام پاک حافظ عبدالستار بنگل زئی نے کی۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی امیر مولانا حضور بخش لانگو نے مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی اور مرزائیوں کے کفریہ عقائد سے پردہ اٹھایا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جے یو آئی کے راہنما حافظ سعید احمد بنگل زئی نے ادا کئے۔ نماز جمعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے پڑھائی۔ بعد از نماز آپ نے خطاب فرماتے ہوئے آسان لفظوں میں مرزائیت کے کفریہ عقائد پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ نے فرمایا کہ آج وعدہ کرو کہ اس مسئلے پر جان جاتی ہے تو جائے حضور ﷺ کے دشمنوں کو کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ اس اجتماع میں سارے مسلمانوں نے ہاتھ اٹھا کر مسجد میں وعدہ کیا کہ ہم سب کچھ برداشت کریں گے لیکن حضور ﷺ کے دشمنوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ مسلمانوں سے قادیانیوں کی مصنوعات اور مشروب ساز کمپنی شیزان سے بائیکاٹ کا بھی وعدہ لیا گیا۔ کانفرنس کی آخری نشست سے مولانا غلام سرور صاحب ندیم اور مولانا الہی بخش ٹاوری صاحب نے بھی بیان فرمایا۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ڈیرہ مراد جمالی کے نائب امیر مولانا کریم داد صاحب نے دعا فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۴۴ ص ۲۹، مورخہ ۱۵ تا ۲۱؍ اپریل ۱۹۸۸ء)
ڈیرہ اسماعیل خان میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ اسماعیل خان کے زیر اہتمام مورخہ ۱۱؍ مارچ ۱۹۸۸ء کو جامع مسجد بخاری بستی ٹھواسیال میں ایک عظیم الشان کانفرنس ختم نبوت بعد از نماز جمعہ زیر صدارت ضلعی صدر محمد ریاض الحسن گنگوہی منعقد ہوئی۔ جب کہ کانفرنس کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ تھے۔ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ خطیب جامع مسجد اللہ بخش نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ بعدہ حضرت مولانا قاضی اللہ یار مرکزی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے خطاب کیا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی دعا پر جلسہ کی کارروائی ختم ہوئی۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد میدان حافظ جمال شہر میں جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مرکزی امیر مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ نے کی۔ کانفرنس کا آغاز قاری حاجی محمد کی تلاوت سے ہوا۔ جلسہ میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض مجلس کے خازن خواجہ محمد زاہد نے سرانجام دیئے۔ خطاب کرتے ہوئے مولانا سید عبدالمجید ندیم نے کہا کہ ختم نبوت ہمارے عقائد کا لازمی حصہ ہے۔ لہٰذا ہم کسی صورت بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ آف بھکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت قادیانیوں کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوج اور دیگر کلیدی عہدوں پر قادیانی ملک میں دھماکے اور قومیت اور فرقہ واریت پر مبنی فسادات کرنے میں حکومت اور قادیانی برابر کے شریک ہیں۔ کیونکہ حکومت اس معاملہ میں چشم پوشی سے کام لے رہی ہے۔ ان کے بعد قاضی اللہ یار نے خطاب کیا کہ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب کے دوران اپنے مخصوص انداز میں قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا اور پوری دنیا میں مجلس کی کارگزاری سے عوام کو باخبر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۴ء میں ہم نے حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں اور ممبران اسمبلی نے حضرت قائد جمعیۃ مفتی محمود مرحوم کی قیادت میں اس بھر پور انداز میں تحریک چلائی کہ بھٹو حکومت کے حکمرانوں کو یہ قرارداد منظور کرنا پڑی کہ قادیانی غیر مسلم اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور آج ہماری کارروائی حضرت صاحب قبلہ کی قیادت میں منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہے اور قادیانی جہاں بھی جائے گا ہم تعاقب کرتے ہوئے وہاں پہنچیں گے۔ جلسہ عام میں ناظم اعلیٰ مجلس حاجی مہربان ناظم تبلیغ مولانا کلیم اللہ، ناظم نشر و اشاعت قاری اللہ بخش، حضرت مولانا احمد صاحب جامع مسجد جمعہ شاہ مفتی ڈیرہ، حضرت مولانا عبدالقدوس، مولانا عبدالسلام، شیخ عزیز الرحمن، محمد جان و محمد اقبال نے شرکت کی۔ حضرت صاحب قبلہ نے دعا فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۶ نمبر ۴۸ ص ۲۶، مورخہ ۱۳ تا ۱۹؍ مئی ۱۹۸۸ء)
ٹنڈو غلام علی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
مورخہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۸۸ء بروز پیر بعد نماز مغرب زیر سرپرستی امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، زیر صدارت مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری منعقد ہوئی۔ جس کے مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب مدظلہ اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی تھے۔ کانفرنس میں حضرت مولانا عبدالغفور قاسمی، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی، حضرت مولانا حافظ میر محمد ہنجرا، حضرت مولانا نذیر احمد بلوچ، حضرت مولانا محمد رمضان، حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی، حافظ محمد طاہر اور قاری عبدالوہاب جارچہ سجاول کے بیانات ہوئے۔
مرزائیوں کو دعوت اسلام، ختم نبوت کانفرنس مروٹ
گزشتہ دنوں مرزائیوں نے مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کرتے ہوئے اپنا مرتد مرزائی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دبا دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول نگر کی کوششوں سے مرزائی مردہ سرکاری طور پر نکال دیا گیا۔ مروٹ کے مسلمانوں کو مبارک باد دینے اور مرزائیوں کو دعوت اسلام دینے کے لئے ختم نبوت کانفرنس ۲۸؍مارچ ۱۹۸۸ء کو جامع مسجد غلہ منڈی مروٹ میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے کثیر تعداد میں اشتہارات شائع کئے گئے۔ دو دن مسلسل دور دراز علاقوں میں بذریعہ ویگن اعلانات ہوتے رہے۔ ۲۸؍مارچ کو جم غفیر اور مسلمانوں کا جوش وخروش قابل دید تھا۔ کانفرنس وقت مقررہ سے بھی پہلے دن کے دس بجے شروع ہوئی۔ قرأت اور نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد حضرت مولانا قدرت اللہ صاحب امیر عالمی مجلس ختم نبوت فورٹ عباس نے محققانہ تقریر کی۔ بعد میں حضرت مولانا محمد اسماعیل عاصم مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول پور نے تقریر کی کہ مسئلہ ختم نبوت تمام مکاتیب فکر کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ مرزائیوں کے نزدیک دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ کافر بلکہ پکے کافر ہیں۔ مولانا نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ابوالحسنات قادری، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا مفتی محمود، مولانا محمد علی جالندھری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا لال حسین اختر، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا محمد یوسف بنوری، فاتح قادیان مولانا محمد حیات، مولانا مظہر علی اظہر اور دیگر اکابرین کے مفصل حالات و واقعات بیان فرمائے، جنہوں نے مسئلہ ختم نبوت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ بعد میں مولانا احمد علی صاحب جو مروٹ میں اہل سنت والجماعت کے خطیب ہیں نے کہا کہ مرزائیو! تم نے مرزا قادیانی میں وہ کون سی چیز دیکھی کہ تم نے حضور ﷺ کو چھوڑ دیا۔ حضور ﷺ میں تمام کمالات بدرجہ اتم موجود ہیں اور مرزا قادیانی میں دنیا جہاں کے تمام عیوب مکمل طریقے سے پائے جاتے ہیں۔ مولانا نے مرزائیوں کو دعوت اسلام دی۔ ظہر کی نماز کے بعد حافظ محمد شریف منچن آبادی نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ بعد میں مولانا عبدالقادر جو جامع مسجد اہل حدیث فورٹ عباس کے مایہ ناز خطیب ہیں نے تقریر کی۔ بعد میں مولانا قاضی اللہ یار خان مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے خطاب فرمایا۔ بعد میں مجاہد ختم نبوت جناب میاں ڈاکٹر احسان باری نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کی سرپرستی ولی ابن ولی حضرت مولانا قطب الدین امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول نگر نے کی۔ اس کانفرنس کی صدارت کے فرائض حاجی محمد عبداللہ، حاجی محمد صادق نے ادا کئے۔ جب کہ مہمان خصوصی غلام رسول اور چوہدری طالب تھے۔ آخری خطاب شاہین ختم نبوت فاتح ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ کانفرنس کے آخر میں حضرت مولانا محمد منشاء امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مروٹ جو سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ چند قراردادیں سامعین سے منظور کروائیں۔ ختم نبوت کانفرنس کی مجلس استقبالیہ میں محمد رفیق رحمانی، حاجی محمد یوسف، محمد عبداللہ رحمانی، محمد اشرف، حافظ اشتیاق احمد، راجہ محمد یعقوب، محمد اقبال اور دیگر مجاہدین ختم نبوت مروٹ تھے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۴، ۵ ص ۱۵، ۱۶، مورخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۸۸ء)
حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کا چار روزہ دورہ صوبہ سرحد
حضرت امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پیر طریقت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ خانقاہ سراجیہ مجددیہ سے چار روز کے دورہ پر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع میں تشریف لے گئے جہاں مقامی جماعتوں نے حضرت کی آمد سے قبل جماعتی پروگرامز طے کئے تھے۔ خانقاہ شریف سے روانگی سہ پہر ہوئی اور ضلع اٹک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس کی صدارت کے لئے حضرت بذریعہ کار رات دس بجے اٹک پہنچے۔ جہاں رئیس المبلغین حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا قاضی اللہ یار اور ان کے علاوہ مولانا منظور احمد چنیوٹی پہلے ہی اٹک پہنچ چکے تھے۔ ان حضرات کے ولولہ انگیز خطابات ہوئے۔ ضلع اٹک میں حضرت مولانا زاہد الحسینی صاحب کی زیر سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے جیالے نوجوان بڑے ہی تندہی اور جوش و ولولے کے ساتھ مرزائیت کے خلاف ہر محاذ پر تعاقب میں مصروف ہیں۔ ایک متحرک رہنما اور قادیانیت کے خلاف بفضل تعالیٰ بڑی سرگرمی سے مصروف عمل ہیں۔ ایبٹ آباد سے حضرت الامیر ہری پور ہزارہ ٹی اینڈ ٹی کالونی کی جامع مسجد تشریف لے گئے۔ جہاں مقامی کارکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مجاہدین نے حضرت سے ملاقات کی۔ بعد ازاں یہ قافلہ حضرت قاضی شمس الدین صاحب کے دولت خانہ درویش کی جانب روانہ ہوا۔ پر تکلف چائے سے قاضی صاحب نے تواضع فرمائی اور وہاں سے صاحبزادہ محمد عابد صاحب اور خالد صاحب جو اسلام آباد سے تشریف لے آئے تھے، ان کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ دفتر ختم نبوت میں مختصر قیام فرمایا اور علی الصبح اسلام آباد سے خانقاہ سراجیہ واپسی ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۷ نمبر ۴۱ ص ۲۶، مورخہ ۲ تا ۸ ستمبر ۱۹۸۸ء)
ختم نبوت کانفرنس ہری پور ہزارہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہری پور کے زیر اہتمام ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۴؍اپریل ۱۹۸۸ء کو چمن پارک (میونسپل پارک) میں منعقد ہوئی۔ چمن پارک ہری پور شہر کے وسط میں جی ٹی روڈ کے متصل وسیع و عریض پارک ہے جو نہایت خوبصورت پارک ہے۔ قیام پاکستان سے قبل یہاں ۲۰، ۲۱، ۲۲؍اپریل ۱۹۲۵ء کو صوبہ سرحد پراونشل احرار کانفرنس اسی پارک میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حافظ علی بہادر صاحب بی۔ایس۔سی علیگ ایم۔ایل۔اے بمبئی مدیر اعلیٰ روزنامہ ہلال نو بمبئی نے کی تھی۔ صوبہ سرحد کے علماء اور سیاسی رہنماؤں نے بڑی دلجمعی سے کی تھی۔ خطبہ استقبالیہ حضرت مولانا حکیم عبدالسلام صاحب نے پڑھا تھا۔ مجلس احرار اسلام کی کانفرنس تین دن جاری رہی تھی۔ جس کی کامیابی کے لئے مجاہد ملت، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا حکیم عبدالسلام اور دیگر احرار رہنماؤں کی انتھک محنت کی تھی۔ اس کانفرنس کے مقررین امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حافظ علی بہادر بمبئی، ماسٹر تاج الدین انصاری، شیخ حسام الدین، مولانا تاج محمود فیصل آبادی، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا غلام غوث ہزاروی، علامہ انور صابری، مرزا غلام نبی جانباز، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر اور آغا شورش کاشمیری تھے۔ یہ کانفرنس ۱۹۲۵ء میں ہوئی۔ آج کی کانفرنس بھی ۴؍اپریل کو ٹھیک اسی جگہ منعقد ہوئی جس کی صدارت مخدوم العلماء خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر بھی ہیں۔ اس کانفرنس سے مولانا عبداللہ ہری پور، مولانا قاری بشیر احمد، مولانا قاضی گل رحمٰن، جناب مطیع الرحمٰن قاسمی ممبر ڈسٹرکٹ کونسل ایبٹ آباد، جناب غلام مصطفیٰ شامی، مولانا قاری عبدالمالک، مولانا فاروق، مولانا ضیاء الاسلام، مولانا عبدالوہاب توحیدی، مولانا حامد علی رحمانی، مسعود الرحمٰن سفری، فیاض خان، محمد یونس اعوان، افتخار احمد خان، افسر سواتی، خالد محمود، اورنگزیب مغل، سعید قیوم اور مولانا عبدالحکیم صاحب سابق ممبر نیشنل اسمبلی، حافظ ابوبکر قریشی، مولانا حافظ محمد صدیق اٹک، جناب صاحبزادہ طارق محمود، مولانا نورالحق نور پشاور اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے باوجود آرڈیننس کی مسلسل خلاف
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ورزی کرتے ہوئے اپنی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ لکھتے اور دیگر شعائر اسلامی استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ آخر میں حضرت الامیر مرکزیہ کی دعاء پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۷ نمبر ۴ ص ۲۶ ، مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳ / جون ۱۹۸۸ء)
ختم نبوت کانفرنس لودھراں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لودھراں کے زیر اہتمام مؤرخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۸۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء شوکت مارکیٹ نزد غوثیہ چوک لودھراں میں یک روزہ تبلیغی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت صوفی محمد علی امیر جماعت لودھراں نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض خواجہ عبدالحمید بٹ سیکرٹری نشر و اشاعت لودھراں نے سرانجام دیئے اور کانفرنس کے جملہ انتظامات نور محمد مجاہد ناظم اعلیٰ نے کئے۔ کانفرنس میں سید سعید احمد شاہ صاحب، مولانا محمد موسیٰ صاحب نے کانفرنس کی غرض و غایت بیان کی۔ بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب فاتح ربوہ نے مرزائی جماعت کی پاکستان میں غنڈہ گردی اور خفیہ سازشوں کو بے نقاب کیا۔ نور محمد مجاہد ناظم اعلیٰ نے قرار دادیں پیش کیں جو کہ اتفاق رائے سے منظور ہوئیں۔ قاضی عبدالمالک فاروقی دھنوٹ اور صوفی عنایت اللہ دنیا پور کی قیادت میں بھر پور قافلوں نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۴، ۵ ص ۲۳ ، مؤرخہ ۲۲؍ اپریل ۱۹۸۸ء)
بہاول پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے زیر اہتمام مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی کی زیر صدارت جامع مسجد الصادق میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز جامع مسجد الصادق کے مؤذن قاری محمد اقبال کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ صوفی محمد رمضان سمہ سٹہ نے نعت پیش کی۔ سب سے پہلا خطاب مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمایا کہ بہاول پور کے علماء کرام، عوام و خواص عقیدۂ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ اس سر زمین اور اسی مسجد (جامع مسجد الصادق) میں امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری ، قطب الاقطاب مولانا خلیفہ غلام محمد دین پوری جیسی عظیم المرتبت شخصیات نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جد و جہد کی۔ کانفرنس سے روز نامہ نوائے وقت کے نمائندے جناب خلیل انور جمالی، مولانا عبدالکریم ندیم دین پوری، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری، مولانا یار محمد عابد، مولانا محمد لقمان علی پوری، الحاج محمد حسن چغتائی اور حاجی اشفاق نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد احمد جالندھری نے سرانجام دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ محمد اسماعیل شجاع آبادی نے قرار دادیں پیش کیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۷ نمبر ۳ ص ۲۶، مؤرخہ ۱۰ تا ۱۶ / جون ۱۹۸۸ء)
تاجدار ختم نبوت کانفرنس سید والا
انجمن ختم نبوت کے زیر اہتمام مؤرخہ ۹؍ جون ۱۹۸۸ء بروز جمعرات سید والا میں حاجی عبدالحمید رحمانی کی زیر صدارت ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض خالد محمود شاہد نے سرانجام دیئے۔ نعت رسول مقبول جناب صوفی حفیظ جالندھری اور نظم مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے بارے میں جناب سید سلمان گیلانی صاحب نے پڑھی اور اس کے بعد جناب طارق محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک نے اپنے منفرد انداز میں مرزائیوں کا اپریشن کیا۔ جناب محمد متین خالد صاحب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی عبادت گاہوں اور گھروں سے قرآنی آیات اور کلمہ طیبہ کو محفوظ کیا جائے۔ ورنہ ہم ننکانہ صاحب آکر خود مٹائیں گے۔ آخر میں مولانا اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وسایا نے جھوٹے مدعیان نبوت کا تذکرہ کرتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا عہد لیا۔ کانفرنس کے خصوصی مہمان ایم۔پی۔اے رانا محمد افضل خان، رائے محمد اسلم خان اور چوہدری محمد امین ایڈووکیٹ تھے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۱۵ ص ۱۴، مؤرخہ یکم جولائی ۱۹۸۸ء)
چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس اٹک
مؤرخہ ۲۹/ جون ۱۹۸۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام مرکزی جامع مسجد اٹک شہر میں چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ خانقاہ سراجیہ کندیاں تھے۔ اس کانفرنس کی صدارت مفسر القرآن حضرت قاضی محمد زاہد الحسینی نے کی۔ جلسہ کا آغاز مولانا عزیز الرحمن صاحب شکر دی کی تلاوت سے ہوا۔ جناب نذر صاحب نے پنجابی زبان میں نظم سنا کر بے حد داد وصول کی۔ مرکزی مبلغ حضرت مولانا قاضی اللہ یار صاحب نے خطاب کرتے ہوئے متعدد حوالہ جات سے قادیانیوں سے بائیکاٹ کے دلائل دے کر قادیانیوں سے علاج کرانے، ان کی معاونت کرنے اور تعلقات کو غیر شرعی ثابت کیا۔
تحریک ختم نبوت کے عالمی مناظر مولانا عبدالرحیم اشعر اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ آخر میں سابق ایم۔پی۔اے مولانا منظور احمد چنیوٹی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ۱۹۸۹ء مرزا قادیانی کی صد سالہ جوبلی منانے کے لئے مرزائی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن اللہ پاک کی غیرت کو جوش آیا۔ انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ مرزائی کسی بھی اسلامی ملک میں صد سالہ جوبلی کسی صورت میں نہیں منا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پندرھویں صدی مرزائی فتنے کی آخری صدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شریعت آرڈیننس کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن صدر پاکستان کو چاہئے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تمام سفارشات کو بھی فوراً نافذ کردیں۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ اور تعلیمی سرٹیفکیٹ میں مذہب کے کالم کا اضافہ کیا جائے۔ اس اجلاس سے ختم نبوت یوتھ فورس ایبٹ آباد کے جنرل سیکرٹری قاضی شاہد اقبال نے بھی خطاب کیا۔
صدر جلسہ قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب نے مولانا کو یقین دلایا کہ وقت آنے پر ضلع اٹک کا بچہ بچہ آپ کے اشارے پر ختم نبوت پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۱۶، ۱۷ ص ۱۶، مؤرخہ ۱۵/ جولائی ۱۹۸۸ء)
ختم نبوت کانفرنس ہری پور ہزارہ
گزشتہ روز ہری پور سنٹرل میں ایک زبردست ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ بہت بڑی تعداد میں شمع رسالت کے پروانوں نے شرکت کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مطیع الرحمن قاسمی ممبر ضلعی کونسل نے انجام دیئے۔ کانفرنس کی صدارت استاد القراء حضرت مولانا انوار الحق صاحب نے کی۔ تلاوت قرآن پاک سرپرست دوئم شبان ختم نبوت ٹی۔اینڈ۔ٹی کے قاری عمر خان صاحب فاروقی نے کی۔ منیع الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرزائی قوم مسلمانوں کے لئے ناسور ہیں۔ لہٰذا ہم ملی اتحاد کے ساتھ رہیں۔ ناسور کو علیحدہ کر لینا چاہئے۔ اس سے پہلے کہ باقی مسلمان اس کی زد میں آئیں۔ افتخار احمد، عارف خان تنولی، راجہ شاہد رزاق، محمد ظہور خان، فرید خان بابر ڈپٹی سیکرٹری سمیع احمد نے بھی خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان شاء اللہ ان کا تعاقب کرتے رہیں گے اور اس وقت کرتے رہیں گے جب تک دنیائے اسلام میں ایک مرزائی بھی رہے گا۔
اورنگزیب مغل نے تفصیلی طور پر مرزائیوں کے عقائد کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ قوم ہے کہ جو ازل سے مسلمانوں کی مذہبی، معاشی اور سیاسی دشمن جماعت ہے۔ لہٰذا ہر مکتبہ فکر اور ہر سیاسی تنظیم کا کام ہے کہ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر ان دشمن عناصر کا محاسبہ کریں تا کہ آئندہ کوئی نسل بھی مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر تنقید کرنے کے قابل نہ ہو۔ آخر میں خطیب اعظم موضع سکندر پور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے حضرت مولانا قاری عبد المالک صاحب نے کہا کہ آج یہ کام بوڑھوں کا نوجوانوں نے سنبھالا ہوا ہے۔ ہم ان کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ آخر میں انہوں نے نوجوانوں کے جذبہ کو سراہا اور داد دی اور کہا ہے کہ بے شک قیامت کے دن حضور ﷺ کی شفاعت حاصل کرنے کا یہی راستہ ہے۔ آخر میں صدر جلسہ نے دعا فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۷ نمبر ۱۸ ص ۲۶، مورخہ یکم؍ تا ۶؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس دوڑ
مورخہ ۲۴؍ جولائی بروز جمعہ بعد نماز عشاء ہوئی۔ جس کے مہمان مولانا ضیاء الرحمن فاروقی تھے۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری عبد الماجد کو حاصل ہوئی۔ اس کے بعد مولانا عبد الغفور صاحب نے ختم نبوت کے عنوان پر ایک بہت اچھی نظم پیش کی۔ اس کے بعد مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے اپنے پیارے لہجہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے جتنے نبی اور رسول اس دنیا میں بھیجے۔ وہ سب حسین مکھڑے اور پیارے چہرے والے تھے۔ نبی مصنف نہیں ہوتا۔ نبی کا استاد خدا کے سوا اور کوئی نہیں ہوتا نبی سب سے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں لیکن اس کے برعکس مرزا قادیانی کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسکول میں ماریں یہ کھاتا تھا۔ ایک بتی، یعنی اس کی ایک آنکھ نہیں تھی اور عقل کا کورا تھا۔ اس کانفرنس میں مولانا عبد الکریم بروہی، مولانا عبد الولی اور دیگر احباب نے خطاب فرمایا۔ اسٹیج سیکرٹری حافظ محمد عبد الولی نے انجام دیئے۔ اختر علی اور شکیل احمد نے رات دن محنت کر کے اس پروگرام کو کامیاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۷ نمبر ۱۸ ص ۲۶، مورخہ یکم؍ تا ۶؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
چوتھی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن کی تفصیلات
چوتھی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن نے ۱۹۸۹ء کو پوری دنیا میں تحفظ ختم نبوت کے سال کے طور پر منانے اور مختلف ممالک میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن میں منعقد ہونے والی عالمی ختم نبوت کانفرنس جو عالمی کے چیف آرگنائزر عبد الرحمن یعقوب باوا کی تجویز پر کیا گیا۔ ختم نبوت کانفرنس جو عالمی تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہوئی جس میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے ہزاروں مسلمانوں کے علاوہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، ڈنمارک اور دیگر ممالک سے سرکردہ علماء اور مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس کی پہلی نشست کی صدارت جمعیۃ علماء برطانیہ کے نائب صدر مولانا عبید الرحمن نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی عالمی انجمن خدام الدین کے امیر مولانا میاں محمد اجمل قادری تھے اور دوسری نشست کی صدارت مرکزی جمعیۃ علماء برطانیہ کے صدر مولانا محمد حسن وال سال نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی بھارت کے بزرگ عالم دین اور اڑیسہ کے امیر شریعت مولانا محمد اسماعیل کٹکی تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے موجود رہے اور تمام انتظامات کی نگرانی کی۔
کانفرنس کے چیف آرگنائزر عبد الرحمن یعقوب باوا نے افتتاحی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی اسلام دشمن سرگرمیوں کا پوری دنیا میں منظم تعاقب کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ۱۹۸۹ء کو پوری دنیا میں ”سال ختم نبوت“ قرار دیا جائے جسے کانفرنس کے شرکاء نے جوش و خروش کے ساتھ منظور کر لیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ”سال ختم نبوت“ کے دوران دنیا کے مختلف ممالک کے اہم شہروں کے علاوہ پاکستان میں ڈویژنل صدر مقامات پر اور برطانیہ میں کارڈف، مانچسٹر، برمنگھم، بریڈفورڈ اور گلاسگو میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ مختلف زبانوں میں دس لاکھ روپے کے خرچ سے دنیا بھر میں تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا برطانیہ میں مساجد کمیٹیوں، مسلم ویلفیئر سوسائٹیوں کا ایک مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔ جس میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے سدباب کے لئے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ عالمی انجمن خدام الدین کے امیر مولانا میاں محمد اجمل قادری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایمان اور اخلاقی قوت کے ساتھ باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو ہمیشہ حق کی فتح اور باطل کی شکست کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی صفوں میں نظم وضبط پیدا کر کے اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا اللہ وسایا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر کی ہر بات سچی ہوتی ہے اور اللہ کا نبی جو پیش گوئی کرتا ہے اس کے غلط ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کے ثبوت کے لئے جتنی پیش گوئیاں کی ہیں ان میں ایک بھی درست ثابت نہیں ہوئی۔ مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ مولانا اسلم قریشی نے ۳۰ / جولائی ۱۹۸۸ء کو سیالکوٹ کی عدالت میں بیان دیا ہے کہ انہیں قادیانیوں نے مرزا طاہر کے ایماء پر اغواء کیا تھا اور وہ مسلسل پانچ سال تک قادیانیوں کے تشدد کا نشانہ بنتے رہے۔ اس عدالتی بیان کے بعد یہ طے ہو گئی کہ مرزا طاہر ، اسلم قریشی کے اغواء کے ذمہ دار ہیں۔ اس لئے ہم حکومت برطانیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مرزا طاہر کی پناہ کا فیصلہ واپس لے کر انہیں پاکستان واپس بھجوایا جائے یا حکومت برطانیہ خود انکوائری کا اہتمام کرے۔ قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا نذیر احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا طاہر نے مسلمانوں کو مباہلے کا جو چیلنج دیا ہے اسے پاکستان میں علماء نے قبول کر لیا ہے اور چودہ اگست کو مختلف شہروں میں سرکردہ علماء مباہلے کے لئے مرزا طاہر کا انتظار کرتے رہے۔ یہاں بھی ہم نے چیلنج قبول کرنے کا اعلان کیا اور ہزاروں کی تعداد میں مسلمان اور سینکڑوں علماء امیر مرکزیہ مولانا خان محمد کی قیادت میں جمع ہو کر مرزا طاہر کا انتظار کر رہے ہیں۔ مگر جس طرح مرزا طاہر کے باپ اور دادا کو مقابلے پر آنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی ، اس طرح مرزا طاہر کو بھی ہمت نہیں ہوگی۔ بھارت کے بزرگ عالم دین مناظر اسلام مولانا محمد اسماعیل کٹکی نے کہا کہ قادیانیوں کے ساتھ ہمارا اصل جھگڑا نبوت جاری رہنے پر نہیں ہے۔ کیونکہ قادیانی گروہ یہ کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی سے پہلے بھی عالم اسلام میں کوئی نبی نہیں آیا اور بعد میں بھی کوئی نہیں آئے گا۔ اس لئے اصل اختلاف اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آخری نبی کون ہے؟ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ مگر قادیانی گروہ مرزا قادیانی کو آخری نبی قرار دیتے ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا منظور الحسینی نے کہا ہے کہ ہمارا قادیانیوں کے ساتھ نہ کوئی ذاتی جھگڑا ہے نہ کوئی دشمنی ہے۔ ہم ان کے خیرخواہ ہیں۔ انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ غلط عقائد سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیں۔ ہم ان کو سینے سے لگائیں گے۔ انہوں نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کو خود مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتابوں میں تسلیم کیا ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان صوبہ سندھ کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اسوہ کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اسوۂ صدیقی کو اپنا کر ہی ہم باطل گروہوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا سدباب کر سکتے ہیں۔ جمعیۃ اہل سنت عرب امارات کے سربراہ شیخ التفسیر مولانا محمد اسحق مدنی نے کہا ہے کہ قادیانی مذہب ایک بہت بڑا فتنہ ہے جس کا مقصد عالم اسلام میں انتشار پیدا کرنا اور نئی نسل کو گمراہ کر کے استعماری سازشوں کی آبیاری کرنا ہے۔ اس لئے اس فتنے سے مسلمانوں کو بچانے کی جدوجہد ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ مرکز ثقافت اسلامی ڈنمارک کے سربراہ پروفیسر محمد ادریس نے کہا کہ قادیانی گروہ اسرائیل کے آلہ کار کی حیثیت سے پوری دنیا میں تخریب کاری کر رہے ہیں اور استعماری قوتوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس سے خبردار رہنا چاہئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیتہ علماء برطانیہ کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرشید ربانی نے کہا کہ قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے سدباب میں جمعیتہ علماء برطانیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی اور برطانیہ بھر کے کالجوں، اسکولوں میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھے گی۔ اسلامی اکیڈمی مانچسٹر کے ڈائریکٹر مولانا محمد اقبال رنگونی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول کا عقیدہ ملت اسلامیہ کا اجتماعی عقیدہ ہے جس پر چودہ سو سال سے امت مسلمہ متفق چلی آ رہی ہے۔ مرزا قادیانی بھی پہلے یہی عقیدہ رکھتا تھا مگر بعد میں منحرف ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا نبی پیدائشی مؤمن ہوتا ہے جب کہ قادیانی خود اپنے قول کے مطابق ۵۲ سال تک مشرک اور مرتد رہا۔ مرکزی جمعیتہ علماء برطانیہ کے ممتاز راہنما مولانا محمد موسیٰ قاسمی نے اپنی تقریر کے دوران حاضرین کو کھڑا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس ہال میں موجود تمام مسلمان مرزا طاہر سے مباہلے کے لئے تیار ہیں۔
ادارہ اشاعت المعارف فیصل آباد کے ڈائریکٹر مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی نے تحریک ختم نبوت کے سو سالہ دور پر روشنی ڈالی اور کہا کہ علامہ سید انور شاہ کاشمیری اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا اسے جاری رکھا جائے گا اور علماء کرام اس سلسلہ میں کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ کانفرنس کے شرکاء سات گھنٹے تک مباہلہ کے لئے مرزا طاہر یا ان کے کسی نمائندے کی آمد کا انتظار کرتے رہے اور بالآخر شام ۷ بجے تک ان کے نہ آنے کی وجہ سے مباہلے سے قادیانی جماعت کے فرار اور شکست کا اعلان کر دیا گیا۔ کانفرنس کم و بیش آٹھ گھنٹے جاری رہی اور بنگلہ دیش کے روحانی پیشوا امام محمد مجددی اور شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد کی پرسوز دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس میں عربی، اردو، انگریزی اور بنگالی زبانوں میں تقاریر ہوئیں۔ مولانا محمد منور، مولانا سکندر خان، مفتی غیاث الدین، مولانا صہیب احسن، جناب اقبال سکرانی، مولانا محمد انس، ڈاکٹر عزیز پاشا، ابراہیم ولی محمد، حافظ بشیر احمد خضری، مولانا محمد طیب، حافظ اکرام، مولانا محمد جمیل، مولانا اسد اللہ عباسی، مولانا عزیز الحق بنگالی، حاجی محمد صادق اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی چوتھی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن منعقدہ ۲۱؍ اگست ۱۹۸۸ء بروز اتوار ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن بالا تفاق قرار دادیں منظور ہوئیں۔
قادیانی مسلمانوں کے نمائندہ نہیں: قادیانی گروہ غیر مسلم ممالک میں اپنے آپ کو مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ حالانکہ پوری امت اسلامیہ قادیانیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے چکی ہے۔ قادیانیوں کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بھی سلسلہ میں اسلام یا مسلمانوں کی نمائندگی کریں۔ لہٰذا غیر مسلم حکومتوں کو چاہئے کہ وہ مذہبی، تعلیمی اور دیگر معاملات میں مسلمانوں کی نمائندگی کا حق مسلمانوں کو دیں نہ کہ قادیانیوں کو ...... قادیانیوں کو اسلام کی نمائندگی کا حق دینا یہ مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔
مغربی جرمنی کی حکومت سے مطالبہ: یہ اجتماع مغربی جرمنی کی حکومت پر واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ قادیانیوں کے قافلے گروپوں کی شکل میں مغربی جرمنی پہنچ کر سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ان پر پاکستان میں ظلم ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ لہٰذا مغربی جرمنی کی حکومت اپنے ذرائع سے اس کی تحقیقات کرائے اور انہیں سیاسی پناہ دینے سے گریز کرے۔
ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، مار آستین: یہ اجتماع ایک بار پھر پوری مسلم دنیا کو بتانا اپنا فریضہ سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ہرگز مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں۔ یہ قادیانیت کا مبلغ ہے۔ لہٰذا مسلمان ملکوں کے مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اپنے ملک میں داخل ہونے کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجازت ہرگز نہ دیں۔ کیونکہ قادیانی اسلام دشمن اور سامراجی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ ان سے کسی بھی قسم کی رعایت کرنا مار آستین کو پالنے کے مترادف ہے۔
عرب ممالک سے مطالبہ: یہ اجتماع ان تمام اسلامی عرب ممالک کا انتہائی مشکور ہے جنہوں نے اپنے اپنے بیان میں قادیانیوں کو کافر قرار دے کر انہیں اقلیت قرار دیا۔ جیسے پاکستان، سعودی عرب، مصر، لیبیا، عراق اور متحدہ عرب امارات وغیرہ۔ نیز یہ اجتماع تمام عرب ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تمام قادیانیوں کو اپنے اپنے ملکوں سے نکال کر باہر کریں۔ اس لئے کہ قادیانیوں کے تعلقات تمام اسلام دشمن طاقتوں خصوصاً اسرائیل سے نہایت گہرے ہیں۔
بنگلہ دیش حکومت کو خراج تحسین: یہ اجتماع حکومت بنگلہ دیش کے اس اعلان کو تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے جس کے تحت ملک کو اسلامیہ جمہوریہ قرار دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کے ارکان حکومت اس پر جہاں مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وہاں یہ اجتماع ان کو یاد دلانا چاہتا ہے کہ کسی بھی اسلامی ملک میں اسلام کا اولین تقاضا یہ ہے کہ قادیانیت جیسے ارتدادی گروہ پر پابندی عائد کی جائے۔
پاکستان کا قادیانی سفیر: یہ اجتماع جاپان میں منصور احمد قادیانی کو سفیر مقرر کرنے پر حکومت پاکستان سے سخت احتجاج کرتا ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے جاپان کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ جس کا انہوں نے احتجاجی مظاہرہ سے اظہار کر دیا ہے۔ لہٰذا وہاں کسی مسلمان سفیر کا تقرر کیا جائے۔
حکومت پاکستان سے مطالبہ: یہ اجتماع حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے تمام مطالبات منظور کرے۔ یہ اجتماع سکھر اور ساہیوال کیس کے قادیانی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ نیز یہ مطالبہ کرتا ہے کہ (۱) فوج اور سول کے کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو نکالا جائے۔ (۲) ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ نیز قادیانی رسائل و جرائد پر پابندی لگانے کے علاوہ ان کے پریس کو ضبط کیا جائے۔ (۴) ربوہ کی زمین کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
جنگ بند کرنے پر ایران، عراق کو خراج تحسین: یہ اجتماع ایک طویل عرصہ سے جاری ایران اور عراق کے درمیان خونریز جنگ کے خاتمہ پر ان دونوں ملکوں کے عمائدین کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۷ نمبر ۱۷ ص ۱۶ تا ۱۸، مورخہ ۲۹ ستمبر ۱۹۸۸ء)
ختم نبوت کانفرنس لندن کی جھلکیاں
- کانفرنس ہال آٹھ بجے انتظامات کی تکمیل اور سیکورٹی سرانجام دینے والے کارکنوں اور انتظامیہ کے لئے کھول دیا گیا۔
- اس دوران قافلے آتے رہے اور باہر انتظار کرتے رہے۔
- حضرت الامیر کانفرنس ہال میں ۸ بج کر ۵۵ منٹ پر تشریف لائے۔
- آپ نے انتظامات کو دیکھ کر دلی مسرت کا اظہار کیا اور عوام کے لئے دروازہ کھولنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔
- سب سے پہلا قافلہ جو کوچ پر مشتمل تھا سکاٹ لینڈ ڈنڈی سے کانفرنس سینٹر میں پہنچا۔ دوسرے نمبر پر گلاسگو۔
- کانفرنس ہال کو خوبصورت رنگارنگ بینروں سے آراستہ کیا گیا تھا۔
- سٹیج پر بیس فٹ لمبا اور بیس فٹ چوڑا ایک بینر جس پر ”ختم نبوت کانفرنس“ لکھا تھا، لگایا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- مندوبین و مہمانان خصوصی حضرات کی میزوں کی سوفٹ کی لمبی قطار پر سو فٹ لمبا بینر جس پر ختم نبوت تحریر تھی آویزاں کیا گیا۔
- کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم تھے۔
- ۱۴ اگست کو پاکستان کے پانچ مقامات، کراچی، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد، لاہور میں مرزا طاہر کے مباہلہ کا چیلنج قبول کرتے ہوئے تمام دینی جماعتوں کے علماء نے انتظار کیا۔ جلسے اور جلوس ہوئے۔ میدان مباہلہ سے مرزائیت کی شکست کا اعلان کیا گیا تھا اور آخری معرکہ کے لئے ویمبلے کانفرنس سنٹر لندن مؤرخہ ۲۱ اگست ۱۹۸۸ء ۱۲ بجے دوپہر تا ۶ بجے شام کا وقت مقرر تھا۔ اخبارات و اشتہارات کے ذریعہ اعلان کیا گیا تھا کہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب علمائے کرام کی موجودگی میں مرزا طاہر کا انتظار کریں گے۔ مگر اسے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔
- برطانیہ میں مولانا عبیدالرحمن اور پاکستان میں مولانا محمد اجمل قادری نے بھی مباہلہ کا چیلنج دے رکھا تھا۔ اس لئے پہلے اجلاس کے علیٰ الترتیب وہ صدر اور مہمان خصوصی قرار پائے۔
- دوسرے اجلاس کے مہمان خصوصی امیر شریعت اڑیسہ مناظر اسلام حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی اور صدر مولانا حضرت محمد حسن والسال قرار پائے۔
- پہلے اجلاس کے اسٹیج سیکرٹری قاری تصور الحق، مولانا قاری محمد طیب عباسی اور دوسرے اجلاس کے اسٹیج سیکرٹری مولانا حق نواز اور مولانا محمد موسیٰ قاسمی تھے۔ انگریزی میں اعلانات مولانا محمد سلیم دھورات مدرس دارالعلوم ہولکمب بری نے پڑھے اور ان تمام امور کی نگرانی عبدالرحمن یعقوب باوا نے کی۔
- کانفرنس کا افتتاح محمد زکریا پانچ سالہ بچے کی تلاوت سے ہوا۔
- برطانیہ کی معروف دینی شخصیت حضرت مولانا یوسف متالا نے پہلے اجلاس کی اختتامی دعا فرمائی۔
- برطانیہ کے ہر قابل ذکر شہر سے قافلوں اور وفود نے شرکت کی۔
- کانفرنس میں امسال پاکستان و برطانیہ کے علاوہ عرب امارات، بھارت، بنگلہ دیش، ڈنمارک، مغربی جرمنی سے بھی وفود نے شرکت کی۔
- کانفرنس میں کل تینتیس تقریریں ہوئیں۔ جن میں سے چار عربی، پانچ انگریزی ایک بنگالی اور باقی اردو میں تھیں۔ تین نعتیں دو تلاوتیں ہوئیں۔
- افتتاحی صدارتی کلمات عبدالرحمن یعقوب باوا نے کہے اور پچھلے سال کی رپورٹ پیش کی۔
- حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی اجازت و حکم سے باوا صاحب نے اعلان کیا کہ: (۱) ۱۹۸۹ء کو ”سال ختم نبوت“ کے طور پر منایا جائے گا۔ (۲) آئندہ سال پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے کے علاوہ پانچ مزید ختم نبوت کانفرنس برطانیہ میں کی جائیں گی۔ (۳) پاکستان کے تمام ڈویژنل مقامات پر ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔ (۴) ایک ملین پاکستانی روپے کا لٹریچر پوری دنیا میں مفت تقسیم کیا جائے گا۔ (۵) پچاس ہزار نسخے صرف برطانیہ میں تقسیم کئے جائیں گے۔ (۶) مزید نئی تین کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کر کے ان کو شائع کیا جائے گا۔
- کانفرنس کے تمام مندوبین میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا انگریزی و اردو لٹریچر ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- مرزا طاہر کا مباہلہ پمفلٹ کا جواب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لندن برطانیہ نے ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا گیا۔ (اس سے
قبل مساجد لائبریریوں میں بذریعہ ڈاک بھجوایا گیا)
- کانفرنس میں مولانا زاہد الراشدی نے مولانا اسلم قریشی کیس، مولانا نذیر احمد خان، مولانا محمد اجمل قادری نے مباہلہ مولانا محمد
اقبال رنگونی، مولانا منظور احمد الحسینی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام، مولانا اللہ وسایا نے کذب مرزا، مولانا محمد اسماعیل کٹکی نے ختم نبوت، مولانا فدا الرحمن درخواستی نے ارتداد کی شرعی سزا، مولانا محمد ادریس ڈنمارک نے قادیانیوں کی اسلام دشمنی، مولانا محمد اسحاق نے قادیانی سامراجی طاقتوں کے آلہ کار ہیں، مولانا عبدالرشید ربانی نے قادیانیوں کی ملک دشمن سازشوں اور ضیاء الرحمن فاروقی نے تحریک ختم نبوت کے عنوان پر فاضلانہ خطابات کئے۔ باقی تمام خطباء نے سیرت طیبہ، جیسے دیگر تمام عنوانات پر خطاب کیا۔
- تمام مقررین نے اصل قادیانی کتابوں کے حوالے اسٹیج پر پڑھ کر سنائے جس کے لئے اہتمام سے قادیانی کتب اسٹیج پر لائی گئی تھیں۔
- کانفرنس کے پہلے اجلاس میں بالہم مسجد کے صدر اور ختم نبوت کانفرنس کے رکن جناب محمد اقبال مکرانی نے انگریزی میں خطاب
کے دوران اعلان کیا کہ تمام مساجد کمیٹیوں اور ویلفیئر سوسائٹیوں کا اجلاس بلا کر فتنہ مرزائیت کے تعاقب کے لئے ان کی معاونت حاصل کی جائے گی۔ جس کے لئے تمام حضرات کانفرنس ہال کے گیٹ پر اپنی اپنی کمیٹیوں کے نام درج کرائیں تاکہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر مرزائیت کا مقابلہ ہو سکے۔ انٹری گیٹ پر رکھے ہوئے رجسٹر پر بہت سی کمیٹیوں کے لوگوں نے اپنے نام لکھوائے۔ یوں سارا دن یہ سلسلہ چلتا رہا۔
- کانفرنس کے دوران ایک آٹھ سالہ بچے محمد اسعد نے اسٹیج پر آکر اعلان کیا کہ میں بھی مرزا طاہر سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔
اتنے میں تمام شرکاء نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ ہم مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔ ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے ایمان پرور نعروں سے فضاء گونج اٹھی۔
- شام چھ بج کر پچیس منٹ پر جناب عبدالرحمن یعقوب باوا نے مرزا طاہر کے نہ آنے کے باعث مباہلہ میں مرزا طاہر کے فرار کا
اعلان کیا تو کانفرنس ہال نعروں سے گونج اٹھا۔
- کانفرنس میں سب سے آخر میں مولانا اسد اللہ عباسی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مری تشریف لائے جو ایئر پورٹ سے سیدھے
کانفرنس ہال تشریف لائے اور خطاب فرمایا۔
- بنگلہ دیش خانقاہ سراجیہ کے بزرگ رہنما مولانا محمد مجددی نے حضرت الامیر دامت برکاتہم کے حکم پر اختتامی دعا کرائی اور ان کی
درخواست پر حضرت الامیر نے دعا کے آخری کلمات ارشاد فرمائے۔
- یوں بخیر و خوبی سے چوتھی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے عصر کی نماز پڑھی اور قافلے آٹھ بجے
شام روانہ ہونے شروع ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱، ۲۲، ۲۶، مورخہ ۳۰؍ ستمبر تا ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
گجرات میں ختم نبوت کانفرنس
گزشتہ دنوں جامعہ سعیدیہ ڈنگہ ضلع گجرات میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا جلال الدین حقانی آف بھیرہ نے کی۔ کانفرنس سے مولانا منظور احمد چنیوٹی ایم۔ پی۔ اے چوہدری غلام رسول ایم۔ پی۔ اے منڈی بہاء الدین، میاں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طارق محمود چیئر مین بلدیہ ڈنگہ، سید زبیر احمد شاہ بخاری، مولانا مفتی ضیاء اللہ، مولانا سعید الرحمن علوی، مولانا اکرم طوفانی، مولانا قاضی کفایت اللہ میانوی، مولانا عزیز الرحمن خورشید اور مبلغ ختم نبوت چوہدری محمد خلیل نے خطاب کیا۔ ختم نبوت کانفرنس ڈنگہ میں پہلی کانفرنس تھی جو الحمد للہ ! کامیاب ہوئی۔ رات کے اڑھائی بجے تک علماء کرام نے خطاب کیا اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور دلجمعی سے بیانات سنے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۷ نمبر ۱۴ ص ۲۳، مؤرخہ ۲ تا ۸/ستمبر ۱۹۸۸ء)
علامہ طاہر القادری اور ختم نبوت کانفرنس مینار پاکستان لاہور
ملک کے نامور عالم دین اور سکالر علامہ طاہر القادری نے ۱۲/ ربیع الاوّل کو مینار پاکستان میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ موصوف نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے مشائخ کرام اور علماء کرام کی موجودگی میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کا انتظار کریں گے۔ یادرہے کہ علامہ طاہر القادری نے مرزا طاہر کا مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے بعد یہ اعلان کیا تھا۔ موصوف نے مرزا طاہر کا چیلنج مباہلہ قبول کرکے قوم کو ایک نیا ولولہ اور جوش بخشا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ علامہ طاہر القادری نے قادیانی فتنہ کی ریشہ دوانیوں اور ان کی خطرناک سازشوں کو بھانپتے ہوئے انہیں للکارا ہے۔ قادیانی فتنہ کے خلاف موصوف کو اگرچہ بہت پہلے میدانِ عمل میں آنا چاہئے تھا تاہم ان کی جرأت رندانہ ”دیر آید درست آید“ کے مصداق ہے۔ ہم علامہ طاہر القادری کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے قوم اور ملک کی ازلی وابدی دشمن جماعت کی خبر لی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائیں۔ ہم علامہ طاہر القادری کو یقین دلاتے ہیں کہ اس عظیم مشن میں یعنی فتنہ قادیانیت کی سرکوبی میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ علامہ طاہر القادری نے فرقہ وارانہ عصبیت سے ہٹ کر اس مسئلہ کو جس طرح اٹھایا ہے اس سے ان کی وسیع القلمی دور اندیشی اور عقیدۂ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت کا حسن صاف جھلکتا نظر آتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ طاہر القادری اس محاذ پر پورے بانکپن اور ولولے کے ساتھ سرگرم رہیں تا آنکہ غداران ملک وملت کا خاتمہ ہو جائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علامہ صاحب اور ان کے ادارہ کے لئے دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی منعقدہ ہونے والی کانفرنس کو کامیاب فرمائے، اتحاد کی نئی راہیں کھلیں۔ ہم سب کا دشمن مشترکہ ہے۔ لہٰذا محاذ بھی مشترکہ ہونا چاہئے۔ تاہم قادیانی فتنہ کو زد جہاں سے بھی پہنچے وہ قابل تحسین ہے۔ اللہ تعالیٰ سب زعماء اور علماء کرام کو ایسی فکر عطاء فرمائے تا کہ وطن عزیز محفوظ ہو۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۲۸، ۲۹، ص ۴، مؤرخہ ۱۴/ اکتوبر ۱۹۸۸ء)
ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر، منعقدہ ۱۳، ۱۴/ اکتوبر ۱۹۸۸ء
دریائے چناب کے کنارے مسلم کالونی چناب نگر کی کھلی فضاء میں ہر سال ختم نبوت کے پروانوں کا عظیم الشان اجتماع ہوتا ہے۔ امسال ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس نہایت تزک و احتشام سے منعقد ہوئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس مرتبہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر فیصلہ کیا کہ چناب نگر میں ہر سال منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس صرف جمعہ کے دن ایک روزہ رکھی جائے تا کہ ختم نبوت کے کارکن سیلاب زدگان کے لئے امدادی کاموں میں زیادہ سے زیادہ وقت دے سکیں۔ ۱۴/ اکتوبر ۱۹۸۸ء بروز جمعۃ المبارک علی الصبح ملک بھر سے کاروں، بسوں، ویگنوں اور گاڑیوں کے ذریعے قافلے چناب نگر پہنچنا شروع ہو گئے۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے بعض قافلے رات گئے ختم نبوت کے عظیم مرکز پہنچ گئے۔
مجلس عمومی کا پہلا اجلاس چناب نگر میں
ختم نبوت کانفرنس کے اجلاس سے قبل ۸/ بجے صبح مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی، صوبائی اور ڈویژنل رہنماؤں کے علاوہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کارکنوں نے انتخابی اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر جماعت کے مرکزی رہنما اور شعبہ نشر واشاعت کے انچارج مولانا عبدالرحیم اشعر نے اپنے مفصل عالمانہ ، فاضلانہ بیان میں بزرگوں کی محنتوں اور ان کی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔ بعدازاں جماعت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اپنی نہایت مؤثر تقریر میں جماعت کی کارگزاری اور جماعت کے مخلص رہنماؤں کی قربانیوں پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ مولانا عزیز الرحمن نے کہا کہ جماعت کے بزرگوں نے نتائج سے بے پرواہ ہو کر وسائل سے بے نیاز ہو کر فتنہ قادیانیت کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔ آج الحمدللہ ! ان کی شبانہ روز محنت اور اخلاص کے طفیل مرزائیت پوری دنیا میں گالی بن چکی ہے۔ آپ نے سامعین کو سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا لال حسین اختر ، مولانا محمد حیات فاتح قادیان کی قوت ایمانی اور عقیدہ ختم نبوت سے وابستگی کے ایسے ایمان پرور واقعات سنائے کہ سامعین اشکبار ہو گئے۔ ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن نے سامعین کو بتایا کہ آج الحمدللہ ! ان بزرگوں کا لگایا ہوا پودا بارآور ہوا ہے۔ ملک بھر میں ہر بڑے شہر میں جماعت کا دفتر موجود ہے۔ اب تو چھوٹے شہروں اور قصبات میں بھی جماعت کے دفاتر قائم ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں کوئٹہ جماعت نے نہایت شاندار دفتر خریدا ہے۔ جماعت کے ساٹھ مبلغ فتنہ قادیانیت کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ جہاں کہیں بھی جماعت کو اس فتنہ ضالہ کی سرگرمیوں کی اطلاع ملتی ہے۔ ہمارے متحرک اور فعال مبلغ اپنے خرچ پر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ اندرون ملک وسیع پیمانے پر جماعت کی طرف سے لٹریچر کی اشاعت کا کام جاری ہے۔ قادیانی فتنہ کے خلاف صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی جماعت تندہی سے سرگرم عمل ہے۔ لندن میں دفاتر قائم ہو چکے ہیں۔ ہر سال لندن میں جماعت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس میں عالم اسلامی کے نامور جید علماء ، ائمہ کرام اور رہنما شرکت فرماتے ہیں۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا اور انہیں تحسین دی جو جماعت کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ مولانا نے اجلاس کو بتایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملک کی وہ واحد دینی جماعت ہے جو باقاعدہ آمد، خرچ کا گوشوارہ ہر سال شائع کرتی ہے۔ الحمدللہ ! پائی پائی کا حساب پیش کیا جاتا ہے۔ مولانا عزیز الرحمن کے بعد مولانا اللہ وسایا نے بیرون ملک جماعت کی کارگزاری اور کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ آپ نے بتایا کہ ساری دنیا فتنہ قادیانی کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب قادیانی جماعت میں وہ دم خم باقی نہیں رہا۔ ان شاء اللہ یہ فتنہ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالرؤف مبلغ اسلام آباد نے سرانجام دیئے۔ آخر میں نومنتخب امیر خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کی دعا سے اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ سرزمین ربوہ میں پہلی مرتبہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا انتخاب عمل میں آیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر حضرت الامیر خواجہ خان محمد کو جماعت کا باضابطہ طور پر تین سال کے لئے امیر منتخب کر لیا گیا۔ اس موقع پر نعرہ تکبیر اور تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے مسلم مسجد گونج اٹھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کفر زار میں جماعت کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔
پہلا اجلاس : کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کا آغاز ساڑھے دس بجے ہوا۔ اجلاس کی صدارت حاجی بلند اختر نظامی نے کی جب کہ تلاوت مولانا محمد یوسف گوجرانوالہ نے کی۔ تلاوت کے بعد مولانا اللہ وسایا نے صاحبزادہ طارق محمود کو افتتاحی خطاب کی دعوت دی گئی۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ اس عظیم الشان کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں افتتاحی خطاب میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ کبھی یہ فریضہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، مولانا محمد علی جالندھری ، مولانا محمد شریف جالندھری ، مولانا تاج محمود سرانجام دیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا خداوند تعالیٰ کے کروڑوں احسان کہ آج ایک مرتبہ پھر ہم اس سرزمین پر جمع ہیں۔ جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاسکتا تھا۔ صاحبزادہ طارق محمود نے ”تحریک ختم نبوت“ کے شہداء اور بزرگوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان شہیدوں کے لہو کے صدقے اور بزرگوں کی محنتوں کے طفیل ختم نبوت کی تحریکیں کامیاب ہوئیں۔ کبھی وہ موقع تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر کہنا جرم تھا۔ کہاں یہ وقت مرزا کو کافر نہ کہنا جرم ہے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو ایک مرتبہ مرزا قادیانی کو کافر کہنے پر قید سنائی گئی۔ صاحبزادہ طارق محمود نے زور دے کر کہا کہ ختم نبوت کی تحریکیں مسلمانوں کے وسیع تر اتحاد کی بدولت کامیاب ہوئیں۔ حضرت شاہ صاحب اور ان کے رفقاء کرام اس عظیم الشان مشن کی خاطر دوسروں کے دروازوں پر جاتے رہے اور جھولیاں پھیلا کر ناموس رسالت کے لئے بھیک مانگتے رہے۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا یہ عظیم کارنامہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ انہوں نے تمام مکاتب فکر علماء، زعماء اور رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ صاحبزادہ طارق محمود نے تحریک ختم نبوت کے ایمان پرور واقعات بھی سنائے اور تمام مکاتب فکر علماء سے اپیل کی کہ وہ مرزائی فتنہ کے خاتمہ کے لئے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے سامعین کو بتایا کہ اگلے سال ۱۹۸۹ء میں قادیانی ربوہ میں خانہ ساز نبوت کا صد سالہ جشن منانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہماری غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ پاک سر زمین پر رسول عربی ﷺ کے دشمنوں کا جشن نہ ہونے دیں۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا یہ ہمارے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ملک بھر کے شہروں، قصبوں، دیہاتوں، گلی کوچوں میں ختم نبوت کے دفاتر قائم کئے جائیں۔ صاحبزادہ طارق محمود نے اعلان کیا کہ ۱۹۸۹ء کو ختم نبوت کا سال منایا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر مسلمانوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا تو ان شاء اللہ قادیانی فتنہ جلد ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سینئر مبلغ سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی نے کہا کہ جس طرح حالیہ سیلاب نے اہل وطن کو بہت نقصان پہنچایا ہے اسی طرح قادیانی فتنہ کے سیلاب کی تباہ کاریوں سے ملک وقوم متاثر ہوئے ہیں۔ شاہ صاحب نے اکابرین ختم نبوت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ وہ رہنما مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے ارتداد کے سیلاب کے سامنے مضبوط بند کا کام دیا۔ ان کی کاوشوں اور محنتوں کی بدولت مرزائیت آج ساری دنیا میں رسوا ہوئی ہے اور ان شاء اللہ اس فتنہ کے خاتمہ تک ہم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مشن کو زندہ و تابندہ رکھیں گے۔ سید ممتاز الحسن گیلانی نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس فریضہ کو بطریق احسن سر انجام دے رہی ہے۔ اندرون و بیرون ملک اس تحریک کی بدولت لوگ قادیانیت کے عقائد اور خطرناک عزائم سے آگاہ ہو چکے ہیں۔ شاہ صاحب نے قوم سے اتحاد کی اپیل کی اور کہا کہ امیر شریعت اور ان کے رفقاء کی ارواح کو سکون تب ملے گا جب ہم باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے قادیانی فتنہ کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے متحرک مبلغ مولانا اسماعیل شجاع آبادی نے اپنی تقریر میں شہدائے ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جنہوں نے ناموس رسالت کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ قربانیوں کے بغیر مسئلے حل نہیں ہوا کرتے۔ مجلس احرار اسلام کے رہنما حضرت امیر شریعت کے دیرینہ رفیق مولانا فضل الرحمن شاہ سلانوالی نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے جسے انگریزی سامراج نے اپنی استعماری ضرورت کے لئے پیدا کیا تھا۔ شاہ صاحب نے قادیانی حوالوں سے ثابت کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگلش سامراج کا ایجنٹ تھا۔ جس نے برطانوی سرکار کے اقتدار کے استحکام اور دوام کے لئے جہاد کی منسوخی کا فتویٰ دیا۔ مولانا نے مطالبہ کیا کہ پاک فوج سے قادیانی افسروں کو نکالا جائے۔ جب ان لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جہاد حرام ہے تو پھر جہاد کرنے والی فوج میں ان کا وجود کیونکر برداشت کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قادیانیوں کے غدار اور کافر ہونے میں جو شک کرتا ہے وہ خود کافر ہے۔ قادیانی اسلام اور پاکستان کے غدار ہیں۔ لہٰذا وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہری پور ہزارہ کے جواں سال خطیب مولانا گل رحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسیلمہ پنجاب نے نہ صرف مجدد مہدی ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ اس نے حد سے بڑھتے ہوئے نبوت کا دعویٰ بھی کیا۔ حالانکہ مرزا کو شریف آدمی سمجھنا بھی گناہ ہے۔ نبوت بہت بڑا منصب ہے۔ مولانا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عقائد رکھنے والوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ قادیانیوں سے ہماری دشمنی صرف دینی نکتہ نظر کی بناء پر ہے۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں اور مرزا پر لعنت بھیجیں تو ہم انہیں اپنے سینے سے لگانے کے لئے تیار ہیں۔ ایبٹ آباد ختم نبوت یوتھ فورس کے رہنما اور روح رواں جناب خالد صاحب نے مطالبہ کیا کہ قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ چونکہ وہ اسلام کے دشمن عقیدہ ختم نبوت کے منکر اور پاکستان کے نظریاتی باغی ہیں جس طرح کسی ملک میں اس ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح کسی ملک کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ محمد عربی ﷺ کے دشمنوں اور باغیوں کے خلاف صف آراء ہو کر جناب رسالت پناہ ﷺ کی غلامی کا حق ادا کریں۔ وہ یقیناً دین اور دنیا سے سرخرو ہوں گے۔ مجلس احرار اسلام کے صدر چوہدری ثناء اللہ بھٹہ نے حضرت امیر شریعت اور ان کے جانثار رفقاء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانیوں کا یہ ثمرہ ہے کہ آج ہم سر زمین ربوہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کر رہے ہیں۔ ثناء اللہ بھٹہ نے کہا کہ قادیانی وطن عزیز کے دشمن نمبر ایک ہیں۔ ان کا الہامی عقیدہ ہے کہ اکھنڈ بھارت بنے تا کہ وہ اپنے مرکز قادیان (بھارت) جاسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی اپنے مردے ربوہ میں امانتاً دفن کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ”جماعت احمدیہ“ پر پابندی عائد کی جائے۔ اس کے جملہ فنڈ منجمد کئے جائیں اور قادیانی تنظیموں پر بھی پابندی عائد کی جائے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے رہنما مولانا احمد میاں حمادی نے کہا کہ قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے نبوت کا سب سے پہلے دعویٰ کرنے والے نام نہاد پیغمبر کے خلاف جہاد کیا۔ آج بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ سنت صدیقی پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے علماء سے اپیل کی کہ وہ اس فتنہ کے خلاف متحد ہو جائیں اور موجودہ حکومت کو مجبور کریں کہ وہ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کرے۔ اجلاس سے پشاور جماعت کے روح رواں مولانا نور الحق نور، مولانا محمد یعقوب چنیوٹی اور طالب علم رہنما محمد یوسف نے بھی خطاب کیا۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے: نماز جمعہ مولانا عبد الحفیظ مکی نے پڑھائی۔ نماز کے لئے جب صفیں درست ہوئیں تو مسجد کا وسیع وعریض صحن ایمان پرور نظارہ پیش کرنے لگا۔ بے شمار آنکھیں جذبہ تشکر کے تحت برسنے لگیں۔ مولا تیرا احسان عظیم کہاں وہ وقت کہ ایک عام مسلمان یہاں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ کہاں یہ وقت کہ کفر زار ربوہ کی فضائیں فرزندان توحید ورسالت کے نعروں سے گونج اٹھتی ہیں۔ نماز سے فارغ ہو کر شمع ختم نبوت کے پروانوں کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھ گئے۔ مولانا مکی کی رقت آمیز دعا سے نمازیوں کے چہرے اشکبار ہو گئے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ خداوند قدوس کی رحمت پوری طرح متوجہ ہے۔ اس سے اچھا موقع اور کیا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اس کی بے پناہ رحمتوں اور کرم نوازیوں سے جھولیاں بھری جائیں۔ نماز جمعہ سے قبل مولانا عبد الحفیظ مکی نے نہایت مؤثر خطاب فرمایا۔ مولانا نے بتایا کہ اسلام ایک مکمل اور جامع مذہب ہے۔ عقیدہ ختم نبوت جزو ایمان ہے جو شخص حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی کو نبی مانتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ منکرین ختم نبوت کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے تلوار کا جہاد کیا۔ مولانا مکی نے مزید کہا کہ قادیانی فتنہ اسلام پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ الحمد للہ! بیرون ملک بھی اس فتنہ کو بے نقاب کر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دیا گیا ہے۔ قادیانی مذہب کے مکروہ چہرہ سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ بیرون ملک بالخصوص یورپی ممالک کے لوگ قادیانی فرقہ کے عقائد سے اور عزائم سے آگاہ ہو چکے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے متحرک اور فعال رہنما جناب عبدالحمید رحمانی نے کہا کہ عشق رسالت کا دوسرا نام ختم نبوت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی محبت تمام محبتوں پر غالب ہونی چاہئے۔ انہوں نے تمام مکاتب علماء اور رہنما سے اپیل کی کہ وہ اسلام اور پاکستان کے خلاف اس کے ازلی وابدی دشمن قادیانیت کے خلاف متحد ہو جائیں۔ یہی دین کا خلاصہ ہے اور یہی نبی آخر الزمان ﷺ کا امت کے لئے پیغام ہے۔ رحمانی صاحب نے جماعت کے امیر اور ناظم کو یقین دلایا کہ ننکانہ جماعت کے رہنما اور کارکن عقیدہ ختم نبوت کی طرح آپ کے اشارہ ابرو پر جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مولانا محمد احمد مجددی ادارہ منہاج القرآن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت ہم تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ انہوں نے اپنے پرجوش خطاب میں عقیدہ ختم نبوت کی عظمت وفضیلت بیان کی اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ آپس کے فروعی اختلافات بھول کر آپس میں متحد ہو جائیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے رہنما مولانا عبدالواحد نے ولولہ انگیز بیان میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو بے نقاب کیا۔ مولانا نے زور دے کر کہا: مسلمانو! نبی رحمت ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے اور تم سورہے ہو۔ اٹھو سرکار دو عالم ﷺ کی غلامی کا حق ادا کرو۔ مولانا نے کہا کہ ربوہ میں ہمارا اجتماع اس بات کی شہادت ہے کہ اب قادیانی فتنہ اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب مرزا قادیانی کی جعلی نبوت خاک میں مل جائے گی۔ جب کہ امام الانبیاء ﷺ کی نبوت ورسالت کا پرچم سر بلند رہے گا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نامور اور ممتاز رہنما مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کہا کہ اگر ہم اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے دشمنوں کو معاف نہیں کرتے تو ہمیں چاہئے کہ اپنے رسول مقبول ﷺ کے دشمنوں کو معاف نہ کریں۔ مولانا یوسف لدھیانوی نے اعلان کیا کہ ملک میں عام انتخابات ہورہے ہیں۔ اگر کسی جماعت نے کسی مرزائی کو ٹکٹ دیا تو اس جماعت کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ قادیانیوں کی جارحانہ سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ہماری جماعت کے ساتھ رابطہ رکھیں۔ قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ تعاون کریں۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ مرزا طاہر کا مباہلہ کا چیلنج ہم نے قبول کیا ہے لیکن وہ ہمارے مقابلہ میں نہیں آیا اور نہ ہی آنے کی ہمت کرے گا۔ مولانا نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں مباہلہ سے فرار اختیار کیا۔ جس طرح مرزا جھوٹا تھا۔ اس طرح اس کے ماننے والے پیروکار بھی جھوٹے ہیں۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے مرزا طاہر کا چیلنج قبول نہیں کیا تھا۔ اس لئے قادیانیوں کا یہ کہنا کہ جنرل محمد ضیاء الحق ہمارے مباہلے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ سراسر زیادتی اور فریب ہے۔ مولانا چنیوٹی نے کہا کہ میں نے مرزا بشیر الدین محمود کو مباہلہ کی دعوت دی۔ وہ انتقال کر گیا۔ مرزا ناصر کو دعوت مباہلہ دی وہ بھی مر گیا۔ مرزا طاہر کو یہی چیلنج دہرایا وہ جلاوطن ہو گیا ہے۔ جو مرنے سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ مولانا حق نواز نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ قادیانی فتنہ کی سرکوبی اور محاسبہ کے لئے ہماری جانیں حاضر ہیں۔ ہم آخری وقت تک اس فتنہ کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔
جھلکیاں:
- ۞ ...... سرزمین چناب نگر میں پہلی مرتبہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا انتخاب عمل میں آیا۔ اجلاس صبح آٹھ بجے شروع ہوا جس میں حضرت
مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کو متفقہ طور پر تین سال کے لئے جماعت کا صدر منتخب کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- اس مرتبہ چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس سیلاب کی بناء پر ایک روزہ منعقد ہوئی۔
- ساتویں کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا آغاز ساڑھے دس بجے حاجی بلند اختر نظامی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ تلاوت مولانا
محمد یوسف گوجرانوالہ نے کی جب کہ افتتاحی تقریر ایڈیٹر ’’لولاک‘‘ صاحبزادہ طارق محمود نے کی۔
- ختم نبوت بلوچستان کوئٹہ کی جماعت ایک دن پہلے چناب نگر پہنچی جب کہ ملک کے باقی حصوں سے بسوں ویگنوں اور کاروں کے
قافلے رات کے علاوہ صبح سویرے آنا شروع ہوگئے۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے نوجوانوں نے نہایت پرجوش انداز میں کانفرنس میں شرکت کی۔
- ننکانہ جماعت کے پرجوش کارکن کانفرنس گیٹ پر لٹریچر مفت تقسیم کرتے رہے اور باہر سے آنے والے قافلوں کا خیرمقدمی نعروں
سے پرجوش استقبال کرتے رہے۔
- سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد یعقوب چنیوٹی نے سرانجام دیئے۔ جب کہ ان کی معاونت مولانا اللہ وسایا کرتے رہے۔
- پہلے اجلاس میں چنیوٹ کے ایک ننھے منھے بچے نے قادیانیت کے خلاف تقریر کر کے سامعین کو مسحور کر دیا۔ بچے کی تقریر ختم ہوئی تو
سامعین دیر تک داد دیتے رہے۔
- مولانا حق نواز جھنگوی نے صرف چند منٹ خطاب کیا۔
- ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں قراردادیں صاحبزادہ طارق محمود نے پیش کیں۔ وہ قراردادوں پر برجستہ تبصرہ کر کے
سامعین کو محظوظ کرتے رہے۔
- ایک قرارداد میں مطالبہ کیا کہ ربوہ کا نام تبدیل کیا جائے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے تجویز کیا کہ مرزائیوں کو جنرل ضیاء شہید
سے چڑ ہے۔ لہٰذا ربوہ کا نام ضیاء نگر رکھا جائے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۳۰، ۳۱ ص ۱۷ تا ۲۳، مورخہ ۲۸ / اکتوبر ۱۹۸۸ء)
ساتویں کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ربوہ کی قراردادیں:
۱۴ / اکتوبر بروز جمعہ ۱۹۸۸ء چناب نگر (ربوہ) میں ایک روزہ ساتویں کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس مرتبہ سیلاب کے پیش نظر کانفرنس دو دن کی بجائے ایک روزہ منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلا اجلاس جمعہ سے قبل اور دوسرا نماز جمعہ کے بعد ہوا۔ کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک نے قراردادیں پیش کیں جو متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر سایہ منعقد ہونے والی ساتویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع حکومت سے
مطالبہ کرتا ہے کہ کلیدی پوسٹوں پر فائز قادیانیوں کو فی الفور ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔ فوج میں قادیانی افسران کلیدی عہدوں پر قابض ہیں۔ حالانکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جہاد حرام ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور کسی بھی نظریاتی مملکت کی کلیدی آسامیاں اس کے نظریہ کے مخالفین کے لئے ممنوع ہوتی ہیں۔ لہٰذا سول، پاک فوج اور بالخصوص ایٹمی ٹیکنالوجی جیسے حساس ادارے میں کلیدی عہدوں پر قابض قادیانی افسروں کو نکالا جائے۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ساتویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت
سے مطالبہ کرتا ہے کہ ربوہ کا نام تبدیل کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ساتویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع حکومت سے
مطالبہ کرتا ہے کہ صدارتی آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء پر عملدرآمد کرایا جائے۔ قادیانی ملک بھر میں بالخصوص ربوہ میں اپنی عبادت گاہوں ، رہائشی و دیگر عمارتوں پر کلمہ طیبہ و قرآنی آیات لکھ کر آرڈیننس کی صریحاً خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ آرڈیننس پر عمل کے احکامات جاری کریں۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ساتویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع حکومت سے
مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت اپنی قائم کردہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ارتداد کی شرعی سزا نافذ کرے۔ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے۔ اس کے بنیادی نظریہ سے انحراف کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ساتویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع حکومت سے
مطالبہ کرتا ہے کہ ساہیوال، سکھر میں قادیانی جارحیت کا شکار ہونے والے شہداء ختم نبوت کے قادیانی قاتلوں کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ قادیانی قاتلوں کی رحم کی اپیلیں مسترد ہونے کے باوجود قاتل ابھی تک تختہ دار تک نہیں پہنچے۔
- ربوہ کی زمین قیام پاکستان کے بعد انگریز گورنر سر موڈی کے دور میں انجمن احمدیہ نے کوڑیوں کے بھاؤ ۹۰ سالہ لیز پر حاصل کی
تھی اور بعد میں جعل سازی کے ذریعے مالکانہ حقوق حاصل کر لئے ۔ انجمن احمدیہ کے نام اس زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے ربوہ کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے بیرون ملک مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لئے حکومت کی طرف سے پاسپورٹ میں مذہب
کا خانہ خوش آئند بات ہے۔ مگر اس دھوکہ دہی کو مکمل طور پر روکنے کے لئے شناختی کارڈ اور تعلیمی اسناد فارم ہائے داخلہ اور راشن کارڈ میں بھی حلف نامہ کی بنیاد پر مذہب کے خانے کا اندراج کیا جائے۔
- قادیانیوں نے مردم شماری اور ووٹروں کے اندراج میں خود کو غیر مسلم کے طور پر نہ لکھوانے اور اسمبلیوں میں اپنے لئے مخصوص
نشستوں کو قبول نہ کرنے کی پالیسی بنا لیا ہے۔ جو آئین سے سراسر انحراف اور بغاوت ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم ووٹروں کے خانے میں اندراج اور مخصوص نشستیں قبول کرنے کا قانوناً پابند بنایا جائے۔ ورنہ قادیانی جماعت کے خلاف آئین سے بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلا کر اسے خلاف قانون قرار دیا جائے۔
- مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ اور اسلام کا مخصوص شعائر ہے۔ کسی غیر مسلم کو مسجد کا نام ہیئت بطور عبادت گاہ استعمال کرنے کا حق
نہیں ہے۔ اس لئے جو مساجد مسلمانوں نے تعمیر کی تھیں اور کسی طریقے سے قادیانیوں نے ان پر قبضہ کیا ہوا ہے وہ مسلمانوں کو واپس دلائی جائیں اور قادیانی تعمیر کردہ عبادت گاہوں کی ہیئت قانوناً مسجد سے مختلف مقرر کی جائے۔
- حکومت پاکستان نے مسلم اوقاف اور غیر مسلم اوقاف دو الگ محکمے قائم کر کے دونوں قسم کی وقف جائیدادوں کو سرکاری تحویل میں
لیا ہوا ہے۔ لیکن قادیانی اوقاف آزاد ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیگر غیر مسلم اوقاف کی طرح قادیانی اوقاف کو بھی سرکاری تحویل میں لیا جائے۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ساتویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع حکومت سے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مطالبہ کرتا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے علاقہ تربت میں ذکری فتنہ کے ”خودساختہ“ کوہ مراد کے نفلی حج پر پابندی عائد کی جائے۔ ذکری فتنہ کی سرگرمیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ جس سے مسلمانوں میں شدید اشتعال پھیلنے کا خدشہ ہے۔ لہٰذا اس فتنہ کی روک تھام کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔
- ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع ملک کے شہروں میں سیلاب سے متاثرہ افراد سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور حکومت
سے مطالبہ کرتا ہے کہ متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر متاثرین کی بحالی کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۳۲ ص ۳، ۴، مورخہ ۱۱/نومبر ۱۹۸۸ء)
نارتھ امریکہ کی ڈائری
- سیکریمنٹو اور اسٹاکٹن میں کانفرنسوں سے خطاب۔
- وینکوور کینیڈا میں سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام۔
- سان فرانسسکو میں وفد ختم نبوت کا خطاب۔
لاس اینجلس سے روانگی، سیکریمنٹو آمد: ۲۶/اکتوبر ۱۹۸۸ء بروز بدھ دوپہر کو لاس اینجلس سے وفد ختم نبوت بذریعہ بس سیکریمنٹو کے لئے روانہ ہوا۔ شام مغرب کے وقت سیکریمنٹو پہنچنا ہوا۔ بس اسٹاپ پر مولانا مختار احمد قاسمی موجود تھے۔ یہ شہر کیلیفورنیا ریاست کا صدر مقام ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے شہروں میں سے اس شہر میں سب سے زیادہ درخت ہیں۔ یہاں ہر گھر کے سامنے تین درختوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس شہر کی جامع مسجد نارتھ امریکہ کی قدیم مسجدوں میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد ڈاؤن ٹاؤن میں واقع ہے اور ۱۹۲۳ء کے لگ بھگ تعمیر کی گئی تھی۔ یہاں کے امام و خطیب ممتاز عالم دین مولانا مختار احمد قاسمی ہیں جو فاضل دیوبند ہیں۔ سیکریمنٹو میں ہمارا قیام مولانا موصوف کے یہاں رہا۔
۲۷/ اکتوبر ظہر کے وقت مولانا عبید الرحمن اسٹاکٹن شہر اور مولانا قاری یوسف بھولا، لوڈائی شہر سے سیکریمنٹو تشریف لائے اور وفد ختم نبوت کے ساتھ پروگرام کے سلسلے میں مشورہ ہوا۔ تمام قریبی شہروں کے لئے کانفرنسوں کا ایک جامع پروگرام مرتب کیا گیا۔ حسب پروگرام ہم مولانا یوسف کے ساتھ لوڈائی پہنچے۔ رات عشاء کے بعد لوڈائی مسلم مسجد میں عبدالرحمن باوا کا بیان اردو میں ہوا۔ جب کہ راقم الحروف نے تقریباً آدھا گھنٹہ عربی میں خطاب کیا۔
سان فرانسسکو روانگی: ۲۸/ اکتوبر ۱۹۸۸ء کو اسلامک سینٹر اسٹاکٹن میں محترم باوا صاحب نے جمعہ سے قبل انگریزی میں خطاب کیا۔ جب کہ احقر نے جامع مسجد سیکریمنٹو میں جمعہ سے قبل خطاب اور نماز جمعہ پڑھانے کے فرائض سرانجام دیئے۔ جمعہ سے فراغت کے بعد وفد ختم نبوت سان فرانسسکو کے لئے روانہ ہوا۔ بے ایریا فجی مسجد جماعت الاسلام میں عشاء کے بعد پروگرام تھا۔ اس علاقے میں فجی سے آئے ہوئے کافی لوگ آباد ہیں۔ یہ مسجد انہوں نے بنائی ہے اور مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر کا اسم گرامی ہر شخص کی زبان پر ہے۔ آپ کی تقریروں اور مناظروں کی یاد تمام فجی مسلمانوں کے دل میں آج بھی زندہ ہے۔ حسب پروگرام پہلے محترم باوا صاحب کا انگریزی میں بیان ہوا۔ جب کہ احقر نے اسلام اور کفر کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا۔ تمام فجی مسلمان جو اس جلسے میں تشریف لائے تھے بہت خوش ہوئے۔ مستورات میں ایک قادیانی عورت نے بھی بیان سنا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکریمنٹو کانفرنس: ۲۹/ اکتوبر ۱۹۸۸ء بروز ہفتہ بعد نماز ظہر جامع مسجد سیکریمنٹو میں عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جو تقریباً چار گھنٹے مسلسل جاری رہی۔ جس میں محترم باوا صاحب نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر ایک گھنٹہ بیان کیا۔ جب کہ راقم الحروف (مولانا منظور احمد الحسینی) نے بھی اسی عنوان پر تقریباً ایک گھنٹہ بیان کیا۔ ہمارے علاوہ مولانا عبیدالرحمن نے بھی خطاب فرمایا۔ مولانا یوسف بھولا نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں دو نعتیں پیش کیں۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے لوڈائی اور اسٹاکٹن تک سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر مسجد کمیٹی کی طرف سے کھانے کا انتظام تھا۔ مغرب کے بعد دوستوں سے ملاقاتیں رہیں۔
لوڈائی اور اسٹاکٹن میں کانفرنس پروگرام: ۳۰/ اکتوبر ۱۹۸۸ء بعد نماز ظہر تا مغرب اسٹاکٹن اسلامک سنٹر میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی گئی۔ مولانا عبیدالرحمن نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے بھر پور انتظام کیا تھا۔ وفد ختم نبوت کے علاوہ سان فرانسسکو سے ڈاکٹر خالد بھی تشریف لائے۔ اس کانفرنس میں محترم باوا صاحب نے انگلش میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کیا۔ مولانا مختار احمد قاسمی نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔ جب کہ احقر نے عقیدۂ ختم نبوت اور ڈاکٹر خالد نے عقائد کی اہمیت اور اصلاح معاشرہ پر خطاب کیا۔ آخر میں علماء کرام کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ مغرب کے بعد احقر نے درس حدیث دیا۔ ۳۱/ اکتوبر لوڈائی میں بعد نماز مغرب کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ فاضل دیوبند مولانا مختار احمد قاسمی نے سیرت النبی ﷺ پر احقر نے عقیدۂ ختم نبوت پر خطاب کیا۔ یہ جلسہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔
دوبارہ سان فرانسسکو روانگی: یکم/نومبر ۱۹۸۸ء سان فرانسسکو سے ہوتے ہوئے قریبی شہر فری ماؤنٹ پہنچے۔ وہاں عشاء کے بعد پروگرام تھا۔ محترم عبدالرحمن یعقوب باوا نے تفصیل کے ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کیا۔ بعد ازاں ایک گھنٹہ تک طویل محفل سوال و جواب منعقد ہوئی۔ وفد ختم نبوت نے محسوس کیا کہ اس علاقے میں لاہوری گروپ کے اکا دُکا افراد رہتے ہیں۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ملحقہ قصبے میں ایک چھوٹا سا ان کا مرکز ہے اور وہاں سے یہ ایک رسالہ بھی نکال رہے ہیں۔
سان فرانسسکو سے روانگی، وینکوور (کینیڈا) آمد: ۲/نومبر ۱۹۸۸ء بروز بدھ سہ پہر تین بجے پیسفک ایئر لائن کے ذریعہ سان فرانسسکو سے وینکوور (کینیڈا) پہنچے۔ ہوائی اڈہ پر مسلمانوں نے پرجوش اور والہانہ انداز میں وفد ختم نبوت کا استقبال کیا۔ ایئر پورٹ سے ہم اپنی جائے قیام پر پہنچے۔ وہاں مختلف احباب ملاقات کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ وینکوور میں بہت سے ساتھی ختم نبوت کے سلسلے میں کافی متحرک تھے ہفت روزہ ختم نبوت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لٹریچر نے یہاں کے مسلمانوں میں ایک تحریک پیدا کر دی تھی۔ ہمارے آنے سے پہلے تمام ساتھیوں نے ایک جامع پروگرام ترتیب دیا تھا۔ جو ایک ہینڈ بل کی شکل میں چھاپ کر تقسیم کر دیا تھا۔ وینکوور میں فجی، پاکستان، بھارت اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان بستے ہیں۔ یہاں کے مسلمانوں نے ایک تنظیم برٹش کولمبیا مسلم ایسوسی ایشن بنائی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کینیڈا نے مذکورہ تنظیم کے تعاون سے سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ ۳/نومبر کو سرے مسجد میں ایک اجلاس میں کانفرنس کے پروگراموں کو آخری شکل دی گئی۔ ۴/نومبر کو جمعہ کے دن محترم باوا صاحب نے رچمنڈ مسجد میں جمعہ سے قبل انگریزی میں ختم نبوت کے موضوع پر مفصل خطاب کیا اور خطبہ جمعہ سے قبل اردو میں بیان کیا۔
سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس کا پہلا اجلاس: پروگرام کے مطابق ختم نبوت کانفرنس کا پہلا اجلاس جمعہ کے روز بعد نماز عشاء اسلامک سینٹر ڈاؤن ٹاؤن وینکوور میں ہوا۔ یہاں بڑی تعداد میں عرب ممالک اور فجی اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلمان تشریف
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لائے تھے۔ پہلے احقر کا نصف گھنٹہ عربی زبان میں خطاب ہوا۔ جس کا انگریزی ترجمہ کیا گیا۔ بعد ازاں محترم باوا صاحب نے اردو میں تقریر کی۔ آپ نے اپنے بیان میں کہا کہ جس طرح مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور اس کے ماننے والوں کے ساتھ صحابہ کرامؓ نے دوستی نہیں کی تھی۔ اسی طرح اس دور کا مسیلمہ کذاب مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے ہمارے دوست نہیں ہو سکتے۔ قادیانی رسائل و کتب میں بھی یہی لکھا گیا ہے کہ مسلمانوں سے قطع تعلق کرو۔
ختم نبوت کانفرنس کا دوسرا اجلاس: کانفرنس کا دوسرا اجلاس مؤرخہ ۵؍ نومبر ۱۹۸۸ء کو سرے مسجد میں بعد نماز عشاء منعقد ہوا۔ محترم باوا صاحب نے اردو میں عقیدۂ ختم نبوت کے موضوع پر مفصل تقریر کی اور احقر نے حیات مسیح کے موضوع پر پون گھنٹہ تقریر کی۔ کانفرنس کے اختتام پر محفل سوال و جواب بھی منعقد ہوئی۔ بعد نماز عشاء ایک قریبی ہال میں سیرۃ النبی ﷺ کا جلسہ ہو رہا تھا۔ احقر کو وہاں بھی جانا پڑا اور مختصر خطاب شان ختم النبیین ﷺ کے موضوع پر ہوا۔ اسی دن بعد نماز ظہر محترم افتخار خان کے مکان پر مستورات سے ختم نبوت کے موضوع پر خطاب ہوا۔
سہ روزہ ختم نبوت کانفرنس کا آخری اجلاس: مؤرخہ ۶؍نومبر ۱۹۸۸ء کو کانفرنس کا آخری اور سب سے بڑا پروگرام تھا۔ رچمنڈ مسجد میں ایک بجے دوپہر سے ساڑھے نو بجے رات تک مسلسل جاری رہا۔ اس پروگرام میں چار تقریریں ہوئیں اور ڈیڑھ گھنٹہ محفل سوال و جواب رہی۔ ظہر کی نماز ساڑھے بارہ بجے ہوئی۔ ایک بجے محترم عبدالرحمن یعقوب باوا نے ایک گھنٹے تک مسلسل انگریزی میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کیا۔ بعد ازاں ایک گھنٹہ تک راقم الحروف کا بیان ہوا۔ نماز عصر کے بعد تھوڑا وقفہ ہوا۔ وقفہ کے بعد محفل سوال و جواب منعقد ہوئی۔ سوال و جواب سب انگریزی میں تھے۔
مغرب کے بعد کانفرنس کا دوسرا حصہ شروع ہوا۔ پہلے احقر نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر ایک گھنٹہ بیان کیا۔ پھر محترم باوا صاحب نے قادیانیت کی اسلام دشمنی عالم اسلام سے غداری کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا اور ان کے سیاسی عزائم کے پردے کو چاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی ٹولہ ہے جس نے سقوط بغداد پر خوشیاں منائیں۔ قادیانیوں کی خواہش ہمیشہ یہی رہی کہ مسلمانوں کو کمزور سے کمزور تر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی شروع ہی سے پاکستان کے مخالف تھے۔ مرزا بشیر الدین (قادیانیوں کے دوسرے سربراہ) نے کہا تھا کہ ’’ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔‘‘
(الفضل قادیان مؤرخہ ۱۷؍مئی ۱۹۴۷ء)
انہوں نے کہا کہ قادیانیت مذہبی سے زیادہ ایک اسلام دشمن سیاسی تنظیم ہے۔ اس ٹولے کا اسرائیل کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ وہاں اس وقت ۱۲۰۰ سے زیادہ قادیانی موجود ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ۲۲؍نومبر ۱۹۸۵ء اخبار یروشلم پوسٹ (اسرائیل) میں شائع شدہ اسرائیلی صدر کے ساتھ دو قادیانیوں کی ملاقات کی تصویر دکھائی۔ آخر میں انہوں نے تمام مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تین روز تک مسلسل کانفرنس میں شرکت کر کے عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عشق کا ثبوت دیا۔ وینکوور میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ایک کمیٹی پہلے سے قائم تھی جو الحمد للہ عرصہ دو سال سے کام کر رہی تھی۔ مگر وفد ختم نبوت کے پہنچنے پر کام کو آگے بڑھایا گیا۔ اس سلسلے میں ۹؍نومبر کو عشاء کے بعد ایک اجلاس ہوا جس میں مسلمانوں سے اس سلسلے میں تجاویز لی گئیں۔ مجوزہ تجاویز پر غور و خوض ہوا اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل تیار کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۷ نمبر ۳۲ ص ۲۶ تا ۲۸، مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍جنوری ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سلانوالی میں ختم نبوت کانفرنس
سلانوالی شہر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام وسط ستمبر میں عمل میں آیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت سلانوالی کی مجلس عاملہ کے فیصلہ کے مطابق یکم نومبر ۱۹۸۸ء کو مدنی چوک سلانوالی میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں نے فرمائی۔ اس کانفرنس سے خطیب پاکستان مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش آف چناب نگر، مولانا عبدالسلام خطیب شاہی مسجد چنیوٹ، جہانگیر سرور شیخ ایڈووکیٹ سرگودھا اور محمد ندیم گوجرہ نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کا آغاز کانفرنس کے روح رواں مدرسہ حسینیہ حنیفہ کے ناظم قاری محمد اکرم مدنی کی تلاوت قرآن سے شروع ہوا۔ احمد بخش چشتی نے نعت رسول پیش کی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۳۳، ۳۴ ص ۲۰، مورخہ ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء)
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں عالمی مجلس کے راہنماؤں کا دورہ
تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان کی صوبائی نشست پر پیپلز پارٹی کی طرف سے منظور احمد خاں قیصرانی کو ٹکٹ دیا گیا۔ منظور احمد خان آنجہانی میر مند قیصرانی کا داماد ہے۔ میر مند جسے شیر گڑھ کی مسجد میں دفن کیا گیا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسے مسجد سے نکالنے کے لئے تحریک چلائی جو اڑھائی تین ماہ تک جاری رہی۔ جلسے ہوئے۔ جلوس نکالے گئے۔ پولیس نے تشدد کیا۔ لاٹھی چارج کیا۔ جس سے کئی ایک علمائے کرام اور معززین علاقہ زخمی ہوئے۔ خداوند قدوس نے فدائیان ختم نبوت کو سرخرو کیا۔ قادیانی ملعون کے تابوت کو مسجد سے نکال کر اس کے مکان میں دفن کیا گیا۔ منظور احمد خان اس پوری تحریک میں قادیانیوں کا ہم نوا رہا۔ مسلمانوں کو دھمکیاں دیتا رہا۔ مذکور کی بیوی قادیانی ہے اور لڑکا قادیانی جماعت کا ڈویژنل صدر ہے۔ کاغذات نامزدگی کے داخلہ کے دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے مبلغ مولانا صوفی اللہ وسایا نے ریٹرنگ آفیسر سے کہا کہ مذکور قادیانی ہے۔ آئین پاکستان کی رو سے وہ مسلم اکثریتی سیٹ پر الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ مذکور نے جھوٹا حلفیہ بیان دے کر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مولانا صوفی اللہ وسایا نے کہا کہ مذکور اگر یہ بیان دے دے کہ میں مرزا قادیانی اور اسے نبی یا مصلح ماننے والوں کو کافر اور لعنتی کہتا ہوں۔ اگرچہ میری بیوی اور میرا لڑکا ”شمس“ کیوں نہ ہو تو مذکور فوراً ریٹرنگ آفیسر کی عدالت سے باہر نکل گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ کے حکم پر عالمی مجلس کے مبلغین مولانا صوفی اللہ وسایا، مولانا نذیر احمد تونسوی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تحصیل تونسہ کا دورہ کیا۔ بعد میں مولانا اللہ وسایا مرکزی ناظم بھی تشریف لے آئے۔ دورہ کی مختصر رپورٹ پیش خدمت ہے۔
راجن پور: مجلس کے مبلغین ”مسجد ختم النبیین“ کی سنگ بنیاد کے سلسلہ میں مولانا عبدالکریم نیاز کی دعوت پر راجن پور تشریف لے گئے۔ جہاں ظہر کے بعد جلسہ سے خطاب کیا اور مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس تقریب میں مولانا سلطان محمود ضیاء خطیب ملتان بھی شریک ہوئے۔
داجل: میں مسلمانوں کے قبرستان میں ایک قادیانی عورت کو مرزائیوں نے از راہ شرارت دفن کیا۔ مولانا اللہ وسایا کی قیادت میں مبلغین حضرات کے وفد نے ڈی سی، ایس۔ پی راجن پور اور ایس۔ ایچ۔ او داجل سے ملاقات کر کے مسلمانوں کے جذبات و احساسات سے آگاہ کیا۔ مذکورہ بالا افسران نے وعدہ کیا کہ عنقریب قادیانی مردہ کو نکال دیا جائے گا۔
تونسہ شریف: میں مولانا غلام فرید قیصرانی، مولانا عبدالکریم قیصرانی، جناب خواجہ عبدالمناف سے مشاورت ہوئی۔ طے پایا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس کے مبلغین مجلس کے مصارف پر ہی سفر کریں گے۔ کسی امیدوار سے کسی قسم کی امداد نہیں لیں گے۔ جناب خواجہ عبدالمناف نے بڑی وسعت ظرفی سے وفد کا خیر مقدم کیا اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔ خواجہ صاحب موصوف نے تحریک شیر گڑھ کے سلسلہ میں تحریک کے دامے، درمے، قدمے، سخنے ہر لحاظ سے معاونت کی تھی۔ خواجہ صاحب ہر دل عزیز شخصیت ہیں۔
ترمن: میں ایک جلسہ کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ مبلغین ختم نبوت جب ترمن پہنچے تو مقامی احباب نے وفد کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ مدرسہ عربیہ کے طلباء نے جلوس نکالا جس میں مرزائیت کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔ جلسہ سے مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا صوفی اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ علمائے کرام نے اپنی آمد کی غرض غایت بیان کی اور اہلیان ترمن سے اپیل کی کہ وہ غیرت اسلامی اور حمیت دینی کا ثبوت دیتے ہوئے قادیانی کو ووٹ نہ دیں۔ احباب نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
کوٹ قیصرانی: میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطبہ جمعہ دیا۔ واضح رہے کہ منظور احمد خان مرزائی کی رہائش اسی مقام پر ہے جب مولانا موصوف کوٹ پہنچے تو مرزائی مذکور کے حواریوں نے کہا کہ یہاں جلسہ نہیں ہو سکتا۔ جب کہ حافظ قادر بخش، مولانا محمد اسماعیل اور دیگر رفقاء نے کہا کہ مولانا موصوف جامع مسجد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمائیں۔ مولانا شجاع آبادی نے جامع مسجد میں ہزاروں کے اجتماع میں مسلمانوں سے وعدہ لیا کہ وہ قادیانی امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ایک باوثوق اطلاع کے مطابق کئی ایک قیصرانی مسلمانوں نے مولانا شجاع آبادی کی مؤثر گفتگو سے متاثر ہو کر مرزائی سردار کے بینر وغیرہ اتار دیئے۔
ٹبی قیصرانی: میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فاضل مبلغ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان نے خطاب کیا۔ جلسہ کے دوران مرزائی امیدوار کے حواریوں نے صوفی اللہ وسایا پر قاتلانہ حملہ کیا جس سے وہ بال بال بچ گئے۔
وہوا: بعد نماز عشاء جامع مسجد اخوند زادگان میں عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس میں علماء کرام نے اپنے تبلیغی اغراض و مقاصد بیان کئے۔ سامعین نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ایک قرارداد میں انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ مولانا صوفی اللہ وسایا پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ وہوا سے ایک جلوس مولانا صوفی اللہ وسایا کی قیادت میں ٹبی قیصرانی، ریٹرا سے ہوتا ہوا تونسہ شریف پہنچا جہاں جلوس نے جلسہ کی شکل اختیار کر لی۔ جلسہ سے صوفی اللہ وسایا کے علاوہ مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بھی خطاب کیا اور احباب تونسہ سے اپیل کی کہ وہ غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے قادیانی امیدوار کو مسترد کر دیں۔ بعد ازاں چار بجے سہ پہر ٹبی قیصرانی میں جلوس نکالا گیا اور جلسہ بھی ہوا جس میں قاتلانہ حملہ کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔
لکھانی: بعد نماز عشاء جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس سے مولانا اللہ وسایا ملتان، مولانا اسماعیل شجاع آبادی، مولانا نذیر احمد تونسوی نے خطاب کیا۔ صبح کی نماز کے بعد مولانا اللہ وسایا نے درس قرآن مجید کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قیصرانی قبیلہ کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ قادیانی سردار کو مسترد کر دیں۔
چلووالی: کی جامع مسجد میں بعد نماز عشاء ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا۔ ۷؍ نومبر کو بعد نماز صبح کھور میں مولانا اللہ وسایا ملتان نے خطاب کیا۔ بعد ازاں کاروان ختم نبوت مندرانی، شہلانی، جھوک بودو، لٹرا، ٹھٹھہ لغاری، ریٹڑا الشاری وغیرہ علاقہ جات میں اجتماعات منعقد کئے۔ احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان پروگراموں میں مولانا عبدالعزیز لاشاری بھی شریک رہے۔ بالآخر کوششیں رنگ لائیں اور منظور احمد خان قادیانی ہار گیا۔ تونسہ شریف ڈیرہ غازی خان کی صوبائی سیٹ پر مرزائی سردار منظور احمد خان جو پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ۳۲۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کھڑا ہوا خانوادہ پیر پٹھان تونسوی کے چشم و چراغ خواجہ محمد داؤد کے مقابلہ میں شکست کھا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا اللہ وسایا ملتان، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا صوفی اللہ وسایا، مولانا نذیر احمد تونسوی نے خواجہ محمد داؤد کو ایم ۔ پی ۔ اے منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۸، ۲۹ ،مؤرخہ ۵/ جنوری ۱۹۸۹ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت واہ کینٹ کا اجلاس
مؤرخہ ۱۵/ دسمبر ۱۹۸۸ء دو بجے دن مدینہ مسجد دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں حلقہ واہ کینٹ کے نامور علمائے کرام اور کارکنان ختم نبوت کا ایک بھر پور اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا نور حسین عبداللہ صاحب منعقد ہوا۔ جس میں مبلغ ختم نبوت اسلام آباد مولانا عبدالرؤف صاحب جتوئی اور مبلغ ختم نبوت راولپنڈی شہر حضرت مولانا احسان احمد صاحب بھی تشریف لائے۔ جس کا آغاز قاری عبد الماجد صاحب نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور موصوف نے ہی شاعر اسلام سید امین گیلانی کے کلام سے انتہائی والہانہ انداز سے یہ چند اشعار پیش فرمائے۔
حلقہ کینٹ واہ مجلس کے خادم حضرت مولانا عبد القیوم قریشی صاحب نے مجلس کی تفصیلی رپورٹ اور ۱۵/ اگست ۱۹۸۸ء سے ۳۰/ نومبر ۱۹۸۸ء تک نئی رکن سازی جن جن مقامات پر کی گئی اس کا جائزہ اجلاس کے سامنے پیش کیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا ایک اہم مکتوب جو ۶/ دسمبر ۱۹۸۸ء خادم مجلس حلقہ واہ کینٹ کے نام تحریر فرمایا گیا تھا اجلاس کے سامنے پڑھ کر سنایا گیا تھا اور آئندہ ہدایات حاصل کرنے کے لئے حضرت مولانا عبدالرؤف جتوئی صاحب سے درخواست کی گئی کہ وہ حاضرین مجلس کو موجودہ حالات سے باخبر فرمائیں۔ مولانا موصوف نے ”الفضل“ کی پابندی قادیانیوں کے سالانہ جلسہ اور صد سالہ جشن کی رکاوٹ اور قادیانی مجرمین کی سزائے موت کی بحالی کے لئے اکابرین عالمی مجلس کی سر توڑ کوششوں کا تفصیلی بیان فرمایا اور انتہائی پر اعتماد انداز میں ارشاد فرمایا جس طرح آج آپ نے اخبارات میں پڑھ لیا ہے کہ قادیانیوں کے سالانہ جلسہ پر حکومت پنجاب نے پابندی لگا دی ہے۔ اسی طرح ان شاء اللہ تعالیٰ صد سالہ جشن بھی نہیں ہوگا اور الفضل پر بھی دوبارہ پابندی عائد ہو کر رہے گی اور قتل کے مجرمین قادیانیوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر چند قراردادیں منظور کی گئیں۔
- ۱...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت واہ کینٹ کا یہ اجلاس حکومت پنجاب کو مبارک باد پیش کرتا ہے کہ اس نے قادیانیوں کے سالانہ جلسہ پر
پابندی عائد کر کے امت مسلمہ کا بہت بڑا اعتماد اور تعاون حاصل کیا۔
- ۲...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ واہ کینٹ یہ اجلاس صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان صاحب اور وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے
نظیر بھٹو کی خدمت میں یہ التماس پیش کرتا ہے کہ ساہیوال اور سکھر قتل کیس کے چار قادیانی ملزموں کو فوراً تختہ دار پر لٹکایا جائے۔ جن کی رحم کی اپیلیں سابق صدر کے دور میں خارج ہو چکی تھیں اور ان کے بلیک وارنٹ بھی جاری ہو چکے تھے اور تختہ دار پر لٹکنے سے چند گھنٹے پہلے کسی سازش کے تحت ان کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔
- ۳...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ اجلاس (حلقہ واہ کینٹ) ضلعی انتظامیہ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ واہ کینٹ میں قادیانی عبادت گاہ
سے مقامی انتظامیہ کی کوشش سے کلمہ طیبہ محو کیا گیا تھا لیکن قادیانیوں نے نئی حکومت کو بدنام کرنے کے لئے دوبارہ جلی حروف میں کلمہ طیبہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریر کر دیا ہے۔ لہٰذا قادیانیوں کو اس اشتعال انگیزیوں سے روکا جائے اور کلمہ طیبہ کو واہ کینٹ مرزائیہ سے محفوظ کیا جائے۔ جیسے راولپنڈی شہر میں دوبارہ ہوا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۵ نمبر ۳۸، ۳۹ ص ۱۹، مورخہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۸۸ء)
چناب نگر (ربوہ) میں سیرت کانفرنس
۱۵؍ دسمبر ۱۹۸۸ء کو جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ میں ایک روزہ عظیم الشان سیرۃ النبی ﷺ کا نفرنس منعقد ہوئی۔ اس عظیم الشان کانفرنس کی صدارت حضرت اقدس مولانا خان محمد صاحب نے کی۔ مقررین میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس ختم نبوت مولانا محمد لقمان علی پوری، قاضی اللہ یار خان، مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش خطیب جامع مسجد محمدیہ ربوہ شامل ہیں۔ انہوں نے مسئلہ ختم نبوت اور سیرت کے مقدس عنوان پر خطاب کیا اور عالمی سطح پر مجلس کی خدمات کا تفصیلی ذکر کیا اور حکومت پاکستان خصوصاً وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو قانون کا پابند کیا جائے اور ان کے اخبار روزنامہ الفضل پر پابندی لگائی جائے۔ مقررین نے کہا کہ قادیانی ملک وملت دونوں کے غدار ہیں۔ کسی کو کبھی ان سے خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ حکومت کے اس اقدام کو سراہا گیا کہ مرزائیوں کے سالانہ جلسہ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر حضرت الامیر خواجہ خان محمد صاحب نے دعا کرائی۔ جس میں عالم اسلام اور مسلمانوں کے لئے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی ترقی کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ ملک کے مشہور نعت خواں صوفی احمد بخش چشتی اور سید سلیمان گیلانی نے نظمیں پڑھیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۹، مورخہ ۲۷؍ جنوری تا ۲؍ فروری ۱۹۸۹ء)
جھنگ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
خواجہ خواجگان پیر طریقت مولانا خان محمد مدظلہ امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ہدایت پر قادیانیوں کی ملک وملت کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشوں اور مرزا طاہر احمد کو پاکستان لانے کے خلاف مختلف مقامات پر ختم نبوت کانفرنسوں کے منعقد کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔ چنانچہ پروگرام کے تحت ۱۶؍ دسمبر ۱۹۸۸ء بعد نماز عشاء دفتر عالمی مجلس جامع مسجد حافظ سلطان والی محلہ پنڈی میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان مولانا خان محمد صاحب نے فرمائی۔ تلاوت قرآن مجید قاری نصیر احمد اور نعت جناب قاری نصیر احمد اور احمد بخش چشتی نے پیش کی۔ جب کہ جھنگ کے مشہور نعت خواہ طاہر برادران نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابیوں کو بطرز نظم پیش کیا۔ جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔ مولانا غلام حسین نے کانفرنس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مرزائی مرزا طاہر کو پاکستان واپس لانے اور قادیانیت کی تبلیغ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ مولانا نے مجمع سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ کیا مرزا طاہر کو واپس آنے دیا جائے ۔ مجمع نے بیک زبان ہو کر کہا کہ ہرگز نہیں۔ مولانا کے مزید استفسار پر پورے مجمع نے کھڑے ہو کر حضرت امیر مرکزیہ کو یقین دہانی کرائی کہ ہم آپ کے حکم کے منتظر ہیں۔ جو حکم دیں گے ہم کر گزریں گے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے نامور عالم مولانا محمد صدیق خلیل نے فرمایا کہ جیسے پہلے حضور اقدس ﷺ کی ذات اقدس کے لئے امت مسلمہ نے مل کر کام کیا ہے آئندہ بھی ان شاء اللہ اسی طرح پوری امت اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کر کے قادیانیت کو ختم کر کے دم لے گی۔ مولانا نے جمعیۃ اہل حدیث کی طرف سے حضرت امیر مرکزیہ کو یقین دہانی کرائی کہ قائدین مجلس کے اشارہ پر ہم اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم مولانا محمد رفیق نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ جب بھی کسی مسئلہ پر امت مسلمہ نے اتفاق کیا ہے اللہ رب العزت نے امداد فرمائی ہے۔ انہوں نے ان لوگوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امت مسلمہ کے لئے قربانیاں نہ دینے والے قوم کے سامنے بھی شرمندہ اور کل قیامت کے دن بھی اللہ رب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
العزت اور پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے سامنے شرمندہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہم کل بھی علماء دیوبند، علماء اہل حدیث کے ساتھ تھے آج بھی ساتھ ہیں۔ قیامت میں بھی ساتھ ہوں گے اور ختم نبوت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کی خاطر جو بھی تکالیف برداشت کرنا پڑیں ہم ان شاء اللہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے تقریباً چالیس منٹ کے خطاب میں مجلس کے اغراض ومقاصد اور پروگرام سے سامعین کو آگاہ کیا اور سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق قادیانیوں کے کفریہ عقائد ونظریات پر سیر حاصل بحث فرماتے ہوئے حیات عیسیٰ ؑ پر فاضلانہ خطاب فرمایا۔ ان کے بعد سفیر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے بڑی تفصیل سے ختم نبوت کے پروگرام پر تقریر کی اور فرمایا کہ مرزا طاہر کے پاکستان آنے پر مجلس ختم نبوت خاموش رہے یا میدان میں نکلے سامعین نے جواباً کہا کہ میدان میں نکلنا چاہئے۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ مرزائیوں کے ربوہ میں کانفرنس کرنے پر مجلس ختم نبوت خاموش رہے؟ سامعین نے جواباً کہا کہ نہیں ان کے خلاف ایکشن لینا چاہئے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم اسی لئے یہ کانفرنسیں کر کے آپ حضرات کو بروقت بیدار کر رہے ہیں کہ آپ حضرات ریشہ دوانیوں سے آگاہ رہیں۔ مولانا محمد لقمان علی پوری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ ہمارے اعمال بد کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے اوپر شاہ فیصل مرحوم کی وفات پر قادیانیوں نے رقص کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی وفات پر انہوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور صدر ضیاء الحق مرحوم کی وفات کو انہوں نے اپنی سچائی کی دلیل قرار دیا۔ یہ اجلاس حکومت وقت پر واضح کرتا ہے کہ جو لوگ خدا اور رسول ﷺ کے غدار ہیں وہ اور کسی کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان کی ناز پروری کی بجائے ان کا احتساب کرے۔
فوری طور پر (۱) روزنامہ الفضل بند کیا جائے۔ (۲) ساہیوال وسکھر کے جن قادیانی قاتلوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا ہے ان کی سزائے موت کو بحال کر کے ان کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔ (۳) حکومت پاکستان کے واضح فیصلہ کے باوجود قادیانیوں نے تاحال اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کیا۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے حالیہ انتخابات میں نہ ہی غیر مسلموں میں اپنے ووٹ بنوائے ہیں اور نہ ہی قومی اسمبلی میں اپنی مخصوص نشست کو قبول کیا ہے۔ اس لئے یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت اپنے فیصلہ پر مرزائیوں سے عملدرآمد کرائے یا قادیانی گروہ کو قانون شکن اور خود سر جماعت قرار دے کر ان پر کھلی عدالت میں بغاوت کا کیس چلایا جائے اور ان کو خلاف قانون قرار دے۔
ہم حکومت پنجاب اور خصوصاً جھنگ انتظامیہ کے قادیانیوں کی ربوہ کی کانفرنس پر پابندی عائد کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اسی طرح مرکزی حکومت بھی قادیانیوں کے بارے میں آئین کی وہ تمام شقیں منسوخ یا ان میں ترامیم نہیں کرے گی کہ جن کی خاطر امت مسلمہ نے بے بہا قربانیاں دی ہیں۔ نیز سکھر اور ساہیوال کے قادیانیوں کی سزائے موت بحال رکھے گی۔ مسجد سامعین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔
آخر میں مولانا حق نواز جھنگوی نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں گے جب تک کہ سیدنا صدیق اکبر کے اس فیصلہ کو جو انہوں نے منکرین ختم نبوت پر نافذ فرمایا تھا ملک پاکستان میں نافذ نہیں کرا لیتے۔ مولانا نے مزید کہا کہ ہم ملک پاکستان میں عزت و ناموس صحابہ ؓ و ختمی مرتبت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی خاطر ہر قسم کی قربانی دے کر خلفائے راشدین کا نظام نافذ کر کے رہیں گے۔ کانفرنس مولانا احمد یار چاریاری اور مولانا محمد الیاس نے بھی خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، ۲۷، مورخہ ۲۷؍ جنوری تا ۲؍ فروری ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۸۹ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حافظ آباد میں ایک مرزائی کو منافقت اور دھوکہ دینے کے لئے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے پر
ایک سال قید بامشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا
حافظ آباد یہاں ایک قادیانی ارشاد کو منافقت سے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے پر عدالت نے ایک سال قید کی سزا دی۔ تفصیلات کے مطابق ملزم کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر گھوم رہا تھا کہ گرفتار کر لیا گیا۔ جس پر عدالت میں کیس چلا۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس امر میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ کلمہ طیبہ سینے پر لگانا اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا ہے۔ اس طرح قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے کلمہ طیبہ کا بیج لگاتے ہیں۔ ایک مسلمان عام حالات میں کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر نہیں پھرتا۔ اس طرح کلمہ طیبہ لگانے کی وجہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتی جسے منطقی طور پر تسلیم کیا جاسکے۔ یا جسے عقل سلیم تسلیم کرے کہ وہ ایک طرف خود کو قادیانی بتاتا ہے اور دوسری طرف کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ اس صورت میں دفعہ ۲۹۸۔سی کا متن کسی ابہام کا شکار نہیں ہوتا۔ اس کے مشاہدہ سے روحانی مسرت حاصل ہوتی ہے لیکن ایسا اقدام جو منافقت اور بدنیتی پر مبنی ہو، مسلم امت کو دھوکہ دیتا ہو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ ہر وہ جرم جو شرارتاً، بدنیتی پر مبنی ہو جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں اس کو بروقت روکنا ضروری ہے۔ فاضل عدالت نے لکھا کہ مجرم کے خلاف جرم پایۂ ثبوت کو پہنچتا ہے۔ لہٰذا مجرم کو ایک سال قید بامشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید تین ماہ قید ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۰ تا ۱۶؍ فروری ۱۹۸۹ء)
اسلام آباد میں سات نوجوانوں کی ناموس رسالت کے لئے قربانی
اہل اسلام، سرکار دوعالم، تاجدار ختم نبوت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں انتہائی جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ آج کل عیسائیوں کی گود میں پلنے والے ایک بدبخت شخص سلمان رشدی کے خلاف پاکستان میں شدید ہیجان برپا ہے کہ اس نے ہمارے نبی کریم ﷺ کے خلاف ایک کتاب لکھ کر اپنے خبث باطن کا اظہار کیا ہے۔ اس کتاب پر اسلام آباد میں زبردست مظاہرہ ہوا۔ جس میں اخباری اطلاع کے مطابق پانچ اور دوسرے ذرائع کے مطابق سات افراد شہید ہوگئے۔ جب کہ نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا عبدالستار نیازی اور کچھ دوسرے ممتاز راہنما زخمی ہوگئے۔ یہ ایک پر امن مظاہرہ تھا، جس کا مقصد امریکی سفارتخانہ کو ایک یادداشت پیش کرکے یہ بتلانا تھا کہ جب برطانیہ، بھارت اور پاکستان میں اس کتاب پر پابندی ہے تو امریکہ میں بھی اسے شائع کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ہمیں افسوس ہے کہ حکومت نے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ نہیں کیا اور ایک پرامن مظاہرہ کو پرتشدد بنا کر سات قیمتی جانوں کا نقصان کر دیا۔ اس صورتحال کے بعد یہ معاملہ ٹھنڈا ہوتا نظر نہیں آتا۔ پاکستان کے مسلمان اپنے پیارے آقا ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے ایک جان کیا ہزاروں جانیں بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ان کا تو ایمان ہے ؎
مگر یہ ہم سے نہ ہو سکے گا نبی کا جاہ و جلال گھٹا دیں گے
ہم اسلام آباد کے واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہونے والے نوجوانوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہیں ؎
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ارفع بہشت سے بھی تمہارا مقام ہے
نیز ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵،مؤرخہ ۳ تا ۹؍مارچ ۱۹۸۹ء)
قادیانی جنرل پاکستان کا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنتے بنتے رہ گیا
جناب بریگیڈیئر ریٹائرڈ عبدالرحمن صدیقی نے اپنے ایک مضمون میں مندرجہ ذیل انکشافات کئے ہیں: ’’۱۶؍دسمبر ۱۹۷۱ء کو سقوط ڈھاکہ کا المیہ پیش آیا۔ ملک دولخت ہوا اور پورے ملک پر حسرت ویاس کے سیاہ بادل چھا گئے ۔‘‘
بظاہر جنرل یحییٰ اپنی جگہ پر جمے بیٹھے تھے مگر حقیقت میں ان کے اقتدار کے ایوان کی دیواریں ہل چکی تھیں۔ ان کے خلاف قوم کے ساتھ ساتھ فوج میں بھی شدید جذبہ پیدا ہو چکا تھا۔ اب سب کی آنکھیں صرف ذوالفقار علی بھٹو پر لگی تھیں کہ وہ واپس وطن آئیں اور قوم کو سہارا دیں۔ خود پاک فوج اور فضائیہ کے اعلیٰ قیادت کا بھی یہی خیال تھا کہ ان حالات میں بھٹو صاحب کے علاوہ اقتدار اعلیٰ کسی اور فرد یا پارٹی کے حوالے کرنے کے متعلق سوچا تک نہیں جاسکتا تھا۔ ان کی وطن واپسی کے لئے ایک خاص طیارے کا بندوبست کیا گیا اور ۲۰؍دسمبر (۱۹۷۱ء) کی علی الصبح وہ بخیریت راولپنڈی پہنچ گئے۔ اپنی آمد کے فوراً بعد بھٹو صاحب ایوان صدر پہنچے اور جنرل یحییٰ سے اقتدار کی فوری منتقلی کا مطالبہ کیا۔ بھٹو صاحب کے علاوہ وہاں جو دوسرے افراد موجود تھے ان میں جنرل گل حسن، ایئر مارشل رحیم، جنرل عبدالحمید خان (آرمی کے چیف آف اسٹاف اور جنرل یحییٰ کے دست راست) اور مسٹر مصطفی کھر وغیرہ شامل ہیں۔ متعدد ثقہ شہادتوں کے مطابق جب بھٹو صاحب نے جنرل یحییٰ سے استعفیٰ طلب کیا تو موصوف نے پہلے تو سخت برہمی کا اظہار کیا مگر بعد میں جب انہیں یقین ہوگیا کہ بساط الٹ چکی ہے تو انہوں نے بڑی نرمی اور مصالحت کا انداز اختیار کر کے بھٹو صاحب کو اس شرط پر وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی کہ انہیں آئینی صدر کی حیثیت سے رہنے دیا جائے۔ جب کہ کل اختیارات وزیراعظم کے پاس رہیں۔ جب بھٹو صاحب نے ان کی اس پیشکش کو بھی سختی سے رد کر دیا تو جنرل موصوف نے بحیثیت سی این سی واپس جی ایچ کیو جانے کو کہا اور جب بھٹو صاحب ان کے استعفیٰ پر مصر رہے تو جنرل یحییٰ نے ریٹائرمنٹ کی صورت میں اپنی جگہ جنرل حمید کو سی این سی بنانے کا مشورہ دیا۔ اس پر بھٹو نے سخت برہمی کا اظہار کر کے جواب دیا کہ آپ کی جگہ کون لیتا ہے کون نہیں لیتا اس سے قطعی آپ کا کوئی واسطہ نہیں۔ بس آپ گھر تشریف لے جائیں۔
میرے راوی کے مطابق اس کے بعد دونوں میں کچھ تلخ کلامی ہوئی مگر جنرل حمید کی بروقت مداخلت سے بات وہیں ختم ہوگئی۔ ان کا مشورہ یہ تھا کہ پہلے یہ معلوم کریں کہ خود فوج اور اس کے افسر کیا چاہتے ہیں اور اس کا اندازہ وہ خود ان سے مل کر کریں گے۔ چنانچہ راولپنڈی اسٹیشن میں حاضر تمام افسروں کی میٹنگ کا بندوبست کیا گیا۔ پروگرام کے مطابق یہ میٹنگ ہوئی۔ جنرل حمید نے افسروں کو خطاب کیا اور اس کے بعد جو اس میٹنگ کا حشر ہوا وہ ایک علیحدہ داستان ہے اور سر دست اس کی تفصیل کی نہ گنجائش ہے اور نہ ہی موقع۔
بہر حال اس روز (۲۰؍دسمبر ۱۹۷۱ء) دوپہر کی خبروں میں ریڈیو پاکستان نے بھٹو صاحب کے بحیثیت چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر مملکت کے تقرر کا اعلان کر دیا اور اس طرح ان کے اقتدار کا وہ سلسلہ جو دو فوجیوں یعنی جنرل اسکندر مرزا اور جنرل ایوب کے توسط سے تیرہ سال پہلے شروع ہوا تھا اپنے نقطۂ عروج کو پہنچ گیا۔
(جنگ کراچی ص ۳،مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سب جانتے ہیں کہ جنرل عبدالحمید قادیانی تھا جسے جنرل یحییٰ خان فوج کا کمانڈر انچیف بنانا چاہتے تھے۔ ہمیں اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ یحییٰ خان کے اردگرد قادیانیوں نے گھیرا ڈالا ہوا تھا۔ سول میں اس پر مسٹر ایم ایم احمد مسلط تھا۔ یحییٰ خان کو اس پر اتنا اعتماد تھا کہ جب وہ شاہ ایران کی دعوت پر ایک روزہ دورے کے لئے ایران گئے تو مسٹر ایم ایم احمد کو قائم مقام صدر بنا گئے۔ جب وہ کرسی صدارت سنبھالنے کے لئے بذریعہ لفٹ جارہے تھے تو اسلم قریشی نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے زخمی کردیا اور وہ بجائے منصب صدارت سنبھالنے کے ہسپتال پہنچ گئے اور اس طرح قادیانیوں کا حصول اقتدار کا خواب پورا نہ ہوسکا۔
اسی ایم ایم احمد نے سقوط مشرقی پاکستان میں اہم کردار ادا کیا اور جب پاکستان اس عظیم سانحہ سے دوچار ہوگیا تو قادیانیوں نے باقی ماندہ پاکستان پر اقتدار حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے لئے بھی یحییٰ خان کو استعمال کرنا شروع کردیا۔ چنانچہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھٹو مرحوم کا ملک میں آنا اور یحییٰ خان کا ان سے اصرار کرنا کہ جنرل حمید کو سی این سی بنادو۔ اس بات کا واضح ثبوت ہے اس وقت فوج میں ۱۷ جنرل قادیانی تھے جو یحییٰ خان پر مسلط تھے۔ اگر جنرل حمید کمانڈر انچیف بن جاتے تو ظاہر ہے کہ وہی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی بن جاتے اور پھر ملک میں وہ خون خرابہ ہوتا کہ الامان والحفیظ !
ہمارا شروع دن سے ہی یہ موقف ہے کہ قادیانی کوئی مذہبی فرقہ یا جماعت ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی ٹولہ ہے جس کے عزائم یہودیوں کی طرح انتہائی خطرناک ہیں۔ اس لئے حکمران طبقہ کو چاہئے کہ وہ اس ٹولہ کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئے اور فوراً ان کو کلیدی عہدوں خاص طور پر فوج جیسے اہم محکمہ سے نکالا جائے۔ موجودہ حالات میں جب کہ پورے ملک میں عصبیت اور نفرت کی آگ سلگ رہی ہے اس ٹولہ کی کلیدی عہدوں سے علیحدگی انتہائی ضروری ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۳ تا ۹ / مارچ ۱۹۸۹ء)
موریشس کے مسلمانوں کی جرأت مندی اور مرزا طاہر کا مایوس کن فرار
پچھلے دنوں موریشس میں مرزا طاہر کی آمد سے کچھ دن قبل قادیانی جماعت نے ’’چیلنج مباہلہ‘‘ نامی ایک پمفلٹ تقسیم کیا۔ ’’سنی مسجد روز ہل‘‘ کی طرف سے ہم نے اس کا جواب شائع کردیا۔ جس میں مرزا طاہر کے چیلنج کو منظور کرتے ہوئے مباہلہ کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کیا گیا تھا۔ یہ جوابی پمفلٹ مسلمانوں کے ایک وفد نے قادیانی جماعت کے صدر کے ذریعے مرزا طاہر تک بھی پہنچا دیا۔ چنانچہ مباہلہ کے لئے متعینہ جگہ وقت مقررہ سے پہلے ہی بھر گئی۔ دور دور سے لوگ اور مسلمان بڑے جوش وخروش سے جمع ہوئے۔ دس بج کر دس منٹ پر قادیانیوں کا ایک وفد نمودار ہوا جس نے یہ اطلاع دی کہ دس بجے ایک دوسری جگہ پروگرام ہونے کے باعث مرزا طاہر صاحب ساڑھے گیارہ بجے تشریف لائیں گے۔ مزید انتظار کیا گیا لیکن ساڑھے گیارہ بج چکے تو قادیانیوں کا ایک دوسرا وفد قادیانی جماعت کے صدر کا خط لے کر آگیا۔ خط میں یہ تحریر تھا کہ مرزا طاہر کا یہاں آنا ضروری نہیں البتہ جو مسلمان مباہلہ کرنا چاہیں وہ اپنا نام، پتہ اور شناختی کارڈ دیں اور ہمارا ایک فارم بھی پر کریں۔ ہم نے قادیانی وفد کو یہ جواب لکھ کر دے دیا کہ مرزا طاہر نے بذات خود چیلنج دیا۔ جسے ہم نے منظور کیا۔ لہٰذا اب مرزا طاہر کو بغیر شرائط کے سامنے آنا چاہئے۔ اس کے بعد لوگوں نے نماز ظہر ادا کی اور مرزا طاہر کو لعن طعن کرتے ہوئے چلے گئے۔ اگلے روز دو قادیانی آئے اور مجھے کہا کہ حضور (مرزا طاہر) اس وقت موجود ہیں۔ اگر آپ سوالات کرنا چاہیں تو آ جائیں۔ میں نے کہا اس وقت تو مجھے ایک سیمینار میں تقریر کے لئے جانا تھا۔ لیکن بہرحال اب میں مرزا طاہر سے کچھ سوالات کرنا زیادہ اہم سمجھتا ہوں لیکن اس بارہ میں بھی اگر آپ کی کوئی شرائط ہیں تو مجھے پہلے بتا دیں۔ ایسا نہ ہو کہ میں اپنا پروگرام کینسل کر کے وہاں پہنچوں تو آپ شرائط نامہ میرے سامنے رکھ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دیں۔ جیسا آپ لوگوں نے مباہلہ کا کیا۔ قادیانیوں نے کہا کہ سوالات کے لئے کوئی شرائط نہیں۔ میں نے کہا اگر ایسا ہے تو میں چلنے کے لئے تیار ہوں۔ مگر میری دو شرائط ہیں۔ پہلی یہ کہ میں مرزا طاہر کی تقریر نہیں سنوں گا اور مجھے انتظار کے بغیر سوالات کا موقع دیا جائے گا۔ دوسری شرط یہ ہے کہ میں مجرموں کی طرح نیچے کھڑا نہیں ہوں گا بلکہ اوپر مرزا طاہر کے ساتھ بیٹھوں گا۔ قادیانیوں نے میری شرائط منظور نہ کیں۔ چنانچہ میں نے دوسرے نوجوانوں کو سوالات کرنے کے لئے بھیج دیا لیکن ان کو اندر بھی داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ بمشکل انہیں تیسرے روز مرزا طاہر کو سوالات سننے کا موقع ملا۔ ایک موقع پر مرزا طاہر نے کہا کہ میں اس کلمہ کو نہیں مانتا۔ کلمہ تو صرف ”لا الہ الا اللہ“ ہے اور ”محمد رسول اللہ“ تو حضرت عمرؓ کا اضافہ ہے۔ ایک روز حضرت ابو ہریرہؓ ”لا الہ الا اللہ“ بار بار پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا تو فرمایا: ”محمد رسول اللہ“ بھی کہو ان کے انکار پر حضرت عمرؓ نے انہیں ڈرایا دھمکایا اور پھر اسی دن سے کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ بن گیا۔ ایک اور مسلمان کے سوال کرنے پر مرزا طاہر نے پورا سوال سنے بغیر جواب دینا شروع کر دیا تو اس مسلمان نے بھرے مجمع میں مرزا طاہر کو کہا آپ تو بڑے بدتمیز ہیں۔ پہلے میرا پورا سوال تو سن لو ، پھر جواب دینا۔ چنانچہ اس مسلمان کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ ایک جگہ قادیانیوں نے مرزا طاہر کا پروگرام رکھا تو مسلمانوں نے بھی قریب ہی اپنے پروگرام کا اعلان کر دیا۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کے پروگرام کو فیل کرنے کے لئے بڑا زور لگایا مگر ناکام ہوئے اور مجبوراً مرزا طاہر کو بھی مسلمانوں کا جلسہ سننا پڑا۔ ایک موقع پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی ایک پریس کانفرنس ہوئی جس میں ممبر پارلیمنٹ ”شوکت علی سودن“ بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس میں حکومت موریشس سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اسلام کے نام پر دعوت و تبلیغ سے روکا جائے۔ اس سلسلہ میں ایک اور پارلیمنٹیرین جناب قاسم اتیم کا اسٹار اخبار میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں انہوں نے مرزا بشیر الدین کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھا کہ وہ خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک فرقہ شمار کرتے ہیں۔ تو پھر قادیانی کیوں دھوکہ دینے کے لئے خود کو مسلمان ظاہر کرنے پر بضد ہیں۔ ان دنوں میرے ہاں بہت سے قادیانی آتے رہے اور مجھ سے جواب لیتے رہے اور جب میں نے ان سے سوالات کئے تو وہ جواب نہ دے سکے اور لکھ کر لے گئے کہ ہم حضور (مرزا طاہر ) سے پوچھیں گے۔ بعض مرزائیوں کو تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ مباہلہ کا ذکر قرآن مجید میں ہے؟ وہ مجھ سے سورت کا نام اور آیت نمبر پوچھنے لگے جو میں نے بتا دیا۔ چند قادیانیوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ مباہلہ کے لئے میں اپنا نام، پتہ، شناختی کارڈ اور فارم پر کر کے دے دوں۔ حضور (مرزا طاہر ) گھر بیٹھ کر بددعا کریں گے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن اپنے حضور سے کہو وقت کا تعین بھی ساتھ کرے کہ اتنے ایام کے اندر اندر مجھ پر عذاب نازل ہو جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر مرزا طاہر اس کا باپ اور اس کا دادا سب جھوٹے ہوں گے۔ قادیانیوں نے میری یہ بات بھی نہ مانی۔ پھر ایک مرتبہ کہنے لگے کہ ایک فرد سے مباہلہ نہیں ہوتا۔
علاوہ ازیں اس سے پہلے ہم نے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا جس میں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی وجوہات اور ان سے کچھ سوالات بھی کئے گئے تھے۔ مگر قادیانیوں کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ پھر ہم نے چند قادیانی نوجوانوں کی مدد سے وہ پمفلٹ مرزا طاہر تک پہنچا دیا اور قادیانیوں کے ایک پاکستانی مبلغ نے بھی مرزا طاہر سے اس پمفلٹ کے جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ مگر تا حال قادیانی جماعت کے امیر سے جواب نہیں بن پڑا۔ غرض وہ کسی صورت بھی سامنے نہ آئے۔ بہرحال الحمد للہ ! مرزا طاہر یہاں چند دن سے زیادہ نہ ٹھہر سکا۔ مسلمانوں نے توقع سے زیادہ قادیانیت سے بیزاری، غم وغصہ اور نفرت کا اظہار کیا اور مرزا طاہر نا کام و نامراد واپس لوٹ گیا۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں میں یہ دینی بیداری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پیدا کی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے مسلمانوں میں ایسا جوش وخروش دیکھنے میں نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے۔ تمام احباب اور کارکنوں کو سلام۔ (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۰ ، ۲۱ ، ۲۲ ، مؤرخہ ۳ تا ۹ / مارچ ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وفاقی اور صوبائی محکموں میں براجمان گریڈ ۱۸ سے اوپر کے قادیانی افسران کی ایک جھلک
- ۱...... سید سہیل احمد ڈائریکٹر جنرل شماریات
- ۲...... کے. یو فاروقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ
- ۳...... کے. زیڈ فاروقی ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی
- ۴...... مجید اختر جوائنٹ سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن
- ۵...... محمد سردار خان ایڈیشنل سیکرٹری وفاقی محتسب اعلیٰ سیکرٹریٹ
- ۶...... بشیر احمد سیکرٹری پلاننگ ڈویژن مانسہرہ سے تعلق رکھتے ہیں
- ۷...... مسز شیخ حفیظ الرحمٰن ڈائریکٹر سول ایوی ایشن
- ۸...... لیفٹیننٹ کرنل مبارک احمد ڈائریکٹر اکائونٹس سی. ڈی. اے
- ۹...... مظفر احمد ایڈیشنل سیکرٹری فنانس
- ۱۰...... ڈاکٹر امیر احمد چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقی کونسل، موصوف نے آج تک کسی مسلمان کو ممبر فنانس نہیں رکھا
- ۱۱...... محمد امجد ورک جوائنٹ سیکرٹری فنانس
- ۱۲...... کنور ادریس سابق چیف سیکرٹری سندھ۔ حال ہی میں ان کی خدمات مرکز کے سپرد کی گئی ہیں
- ۱۳...... کرنل بشیر خانزادہ آرمی میڈیکل کالج میں کسی اہم عہدہ پر فائز ہیں
- ۱۴...... منظور شریف محکمہ زراعت میں ڈائریکٹر ہیں
- ۱۵...... چوہدری نور احمد چیف ایگری کلچرل اکانمسٹ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب
- ۱۶...... تیمور احمد چغتائی ڈائریکٹر پنجاب سیڈ کارپوریشن
- ۱۷...... بریگیڈیئر منظور ملک ڈائریکٹر جنرل ایل. ڈی. اے
- ۱۸...... شمیم احمد ایڈیشنل سیکرٹری لاء کارپوریٹ اتھارٹی
- ۱۹...... عبد الرشید شاہ چیئرمین سروسز ٹربیونل (حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں)
- ۲۰...... میجر جنرل عبد اللہ سعید آج کل کسی ملک میں سفیر ہیں (پہلے ہوانا میں سفیر تھے)
- ۲۱...... بشیر الدین احمد ڈائریکٹر پاپولیشن پلاننگ
- ۲۲...... بشیر احمد چیئرمین پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بینک (پہلے پیٹرولیم کے سیکرٹری تھے)
- ۲۳...... کامران مسعود ڈپٹی فنانشل ایڈوائزر (وزارت اطلاعات و نشریات)
- ۲۴...... ایس. کے رحمانی ڈائریکٹر فنانس شپنگ کارپوریشن
- ۲۵...... ڈاکٹر آفتاب احمد ایڈیشنل سیکرٹری
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲۶...... بشیر احمد بھٹی
ایڈیشنل سیکرٹری/ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، ایٹمی توانائی کمیشن میں کل ۲۵ کے قریب قادیانی اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ جن میں ڈاکٹر سلام کا بھائی بھی شامل ہے۔
- ۲۷...... ذکاء الدین ملک
چیئرمین آئل اینڈ گیس کارپوریشن۔ یادرہے کہ چٹان ان کے بارے میں بڑی تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہے۔ موصوف نے چٹان پر مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ مگر بعد میں ان پر سناٹا طاری ہو گیا۔ انہیں ڈاکٹر شہزاد صادق (سابق چیئرمین آئل اینڈ گیس کارپوریشن) کو ڈاکٹر عبدالسلام کی سفارش پر بھٹو صاحب نے او۔جی۔ڈی۔سی کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ انہوں نے اپنے دور میں ذکاء الدین کو بیرون ملک سے واپس بلایا تھا۔ حالانکہ یہ اپنے آپ کو ذہنی مریض قرار دے کر ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر شہزاد نے انہیں ۱۹ گریڈ دے کر دوبارہ او۔جی۔ڈی۔سی میں ڈائریکٹر مقرر کیا تھا۔ جب انہوں نے اس ادارہ کو چھوڑا تھا اس وقت وہ گریڈ سترہ کے ملازم تھے۔ ملک صاحب نے بے شمار قادیانیوں کو اپنے دور میں ملازمتیں بہم پہنچائی ہیں اور پہنچا رہے ہیں۔
- ۲۸...... منیر احمد
ڈائریکٹر جنرل گیس وزارت پیٹرولیم وقدرتی وسائل
- ۲۹...... شاہد احمد
ڈائریکٹر جنرل پیٹرولیم کنسیشن (وزارت پیٹرولیم وقدرتی وسائل، سابق سیکرٹری پیٹرولیم وقدرتی وسائل)
- ۳۰...... میاں ممتاز عبداللہ
ایڈیشنل سیکرٹری وزارت تجارت
- ۳۱...... بریگیڈیئر ڈاکٹر نسیم احمد
سی۔ایم۔ایچ (آئی اسپیشلسٹ)
- ۳۲...... منصور الحق
ڈائریکٹر جنرل بیورو آف امیگریشن، وزارت محنت وافرادی قوت، آپ ٹی اینڈ ٹی کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ موصوف یستور الحق کے سگے بھائی ہیں۔
- ۳۳...... بیگم اظہار الحق
اظہار الحق سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن آپ سیکرٹری پیٹرولیم وقدرتی وسائل اور خزانہ کے سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ اگرچہ موصوف کی بیگم قادیانی ہیں مگر ان کے سرتاج یعنی سیکرٹری صاحب انہی کے زیر اثر ہیں۔ جناب اظہار الحق صاحب نے ہی شاہد احمد کو ڈائریکٹر جنرل (پیٹرولیم کنسیشن) کے عہدے پر ترقی دلائی تھی۔ منیر احمد بھی انہی کی ”مساعی جمیلہ“ سے ڈی۔جی (گیس) کے منصب پر متمکن ہوئے ہیں۔
- ۳۴...... نسیم احمد
سابق سیکرٹری اطلاعات (عہد بھٹو میں) پہلے انگلستان میں سفیر بنائے جارہے تھے۔ مگر اب انہیں اقوام متحدہ میں نمائندہ بنا کر بھیجا جارہا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۴، ۱۵، مورخہ ۱۷ تا ۲۳ / مارچ ۱۹۸۹ء، بشکریہ ہفت روزہ چٹان لاہور ج ۴۲ ش ۷ ص ۱۸، ۱۹، مورخہ ۱۴ تا ۲۳ / مارچ ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزا محمود کا ”الہامی فرمان“ قادیانی افسران کی فہرست
معاصر ہفت روزہ چٹان لاہور نے قادیانی افسران کی فہرست شائع کی ہے جسے ہم معاصر مذکور کے شکریہ کے ساتھ ذیل میں شائع کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ افسران جو مرزا محمود کو ”مصلح موعود“ مانتے ہیں اور اس کی مکمل اطاعت ان کا ایمان ہے۔ اسی مرزا محمود نے یہ کہا تھا کہ اوّل تو پاکستان بنے گا نہیں اگر بن گیا تو ہم دوبارہ اکھنڈ بھارت بنانے کی کوشش کریں گے۔ اسی وجہ سے اکھنڈ بھارت کا عقیدہ ہر قادیانی کے ایمان کا جزو ہے۔ ہم ارباب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جب اکھنڈ بھارت کا عقیدہ ان کے ایمان کا جزو ہے تو ایسے پاکستان دشمن افراد کو اہم عہدوں پر متعین رکھنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ انہیں فوراً برطرف کیا جائے۔ ادارہ!
۱....... بریگیڈیئر نذیر احمد ملک ۲....... کرنل ڈی ڈی احمد ۳....... کرنل محمد عطاء اللہ ۴....... کرنل احد دین ۵....... لیفٹیننٹ کرنل منظور احمد ۶....... میجر مختار حسین ملک ۷....... میجر حبیب اللہ ۸....... میجر ظہور الحسن ۹....... میجر ڈاکٹر سراج الحق ۱۰....... میجر داؤد احمد مرزا ۱۱....... میجر عبدالحق ملک ۱۲....... میجر غلام احمد ۱۳....... قاضی محمود احمد ۱۴....... میجر محمد اشرف ۱۵....... میجر محمد رمضان ۱۶....... میجر عطاء اللہ ۱۷....... کیپٹن اقبال احمد شمیم ۱۸....... کیپٹن افتخار احمد جنجوعہ ۱۹....... کیپٹن احمد خان جنجوعہ ۲۰....... کیپٹن عزیز احمد چوہدری ۲۱....... کیپٹن سید افتخار حسین ۲۲....... کیپٹن احمد خان ایاز ۲۳....... کیپٹن اختر محمود ۲۴....... کیپٹن آفتاب احمد ۲۵....... کیپٹن احمد محی الدین ۲۶....... کیپٹن احمد بیگ مرزا ۲۷....... کیپٹن بشیر احمد ۲۸....... کیپٹن بشیر احمد آف دلیال ۲۹....... کیپٹن میجر سلطان محمد خان ۳۰....... کیپٹن بشیر احمد بٹ ۳۱....... کیپٹن بدرالدین ۳۲....... کیپٹن بشیر احمد ۳۳....... کیپٹن بشیر احمد چوہدری ۳۴....... کیپٹن بشیر احمد ۳۵....... کیپٹن بشیر احمد شیخ بھیرہ ۳۶....... کیپٹن حبیب احمد ۳۷....... کیپٹن خورشید احمد ۳۸....... کیپٹن حامد احمد کلیم ۳۹....... کیپٹن شیر محمد خان ۴۰....... کیپٹن شیر ولی خان ۴۱....... کیپٹن ظاہر الحق ۴۲....... کیپٹن سید ضیاء الحسن ۴۳....... کیپٹن غلام احمد چوہدری ۴۴....... کیپٹن عزیز اللہ چوہدری ۴۵....... کیپٹن عبدالحمید ۴۶....... کیپٹن عبدالعلی ملک ۴۷....... کیپٹن عطاء اللہ چوہدری ۴۸....... کیپٹن عمر حیات خان ۴۹....... کیپٹن غلام محمد کھوکھر ۵۰....... کیپٹن عبدالعزیز بشری ۵۱....... کیپٹن ڈاکٹر عمر دین ۵۲....... کیپٹن عطاء اللہ ظہور احمد ۵۳....... کیپٹن عنایت اللہ ۵۴....... کیپٹن گل اکبر شاہ ۵۵....... کیپٹن ایف. یوحان ۵۶....... کیپٹن محمد یوسف ۵۷....... کیپٹن محمد ظفر اللہ خان ۵۸....... کیپٹن محمد طفیل ۵۹....... کیپٹن محمد موسیٰ احمد ۶۰....... کیپٹن ڈاکٹر محمد شریف ۶۱....... کیپٹن محمد عبداللہ باجوہ ۶۲....... کیپٹن محمد حیات قیصرانی ۶۳....... کیپٹن چوہدری مظفر علی ۶۴....... کیپٹن محمد طفیل چوہدری ۶۵....... کیپٹن ڈاکٹر محمد جی ۶۶....... کیپٹن محمود احمد ۶۷....... کیپٹن محمد صادق ملک ۶۸....... کیپٹن محمد اسماعیل ۶۹....... کیپٹن محمد عبداللہ موہر ۷۰....... کیپٹن مرزا محمد شفیع ۷۱....... کیپٹن محمود احمد ۷۲....... کیپٹن محمد عبدالرحمن ۷۳....... کیپٹن محمد شریف احمد ۷۴....... کیپٹن خان منظور احمد ۷۵....... کیپٹن محمد اسلم ۷۶....... کیپٹن چوہدری نصر اللہ خان ۷۷....... کیپٹن نورالدین ۷۸....... کیپٹن نعمت اللہ خان ۷۹....... کیپٹن نظام الدین ۸۰....... کیپٹن نذیر احمد ۸۱....... کیپٹن شیخ نواب الدین ۸۲....... کیپٹن محمد اقبال ۸۳....... کیپٹن محمد نذیر ۸۴....... کیپٹن ڈاکٹر محمد شاہ ۸۵....... کیپٹن منیر احمد خالد ۸۶....... کیپٹن محمد علی ملک ۸۷....... کیپٹن محمد محسن ۸۸....... کیپٹن محمد خان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸۹.......کیپٹن ایس. ایم احمد ۹۰.......کیپٹن ممتاز احمد سید ۹۱.......کیپٹن محمد ابراہیم ۹۲.......کیپٹن محمد امین درانی ۹۳.......کیپٹن فیض زمان ۹۴.......کیپٹن وہاب الدین ۹۵.......کیپٹن خورشید احمد چشتی ۹۶.......لیفٹیننٹ اقبال احمد ۹۷.......لیفٹیننٹ عبدالخیر باجوہ ۹۸.......لیفٹیننٹ آفتاب احمد ۹۹.......لیفٹیننٹ انوار احمد چوہدری ۱۰۰.......لیفٹیننٹ اکرم اللہ ۱۰۱.......لیفٹیننٹ بشیر احمد طالب ۱۰۲.......لیفٹیننٹ او. بی. آرچرڈ ۱۰۳.......لیفٹیننٹ سید بشیر احمد ۱۰۴.......لیفٹیننٹ حمید اللہ چوہدری ۱۰۵.......لیفٹیننٹ رحمت اللہ باجوہ ۱۰۶.......لیفٹیننٹ سید سید حسن ۱۰۷.......لیفٹیننٹ ستار بخش ملک ۱۰۸.......لیفٹیننٹ مرزا شریف احمد ۱۰۹.......لیفٹیننٹ سید احمد ۱۱۰.......لیفٹیننٹ صاحب دین ۱۱۱.......لیفٹیننٹ صبح صادق ۱۱۲.......لیفٹیننٹ ڈاکٹر ظفر اقبال ۱۱۳.......لیفٹیننٹ عزیز احمد چوہدری ۱۱۴.......لیفٹیننٹ عارف زمان ۱۱۵.......لیفٹیننٹ عبدالغنی ۱۱۶.......لیفٹیننٹ عزیز الرحمن ۱۱۷.......لیفٹیننٹ عبداللطیف مرزا ۱۱۸.......لیفٹیننٹ ڈاکٹر عبدالرحیم ۱۱۹.......سیکنڈ لیفٹیننٹ خلیل الرحمن ۱۲۰.......سیکنڈ لیفٹیننٹ طالب حسین ۱۲۱.......سیکنڈ لیفٹیننٹ عبداللطیف ۱۲۲.......سیکنڈ لیفٹیننٹ فیروز خان ۱۲۳.......سیکنڈ لیفٹیننٹ عبدالسلام ۱۲۴.......فلائٹ لیفٹیننٹ بشیر احمد ۱۲۵.......فلائٹ لیفٹیننٹ عبدالمنان ۱۲۶.......فلائٹ لیفٹیننٹ عبدالحی ۱۲۷.......ایف. ایل ایم. ایم لطیف ۱۲۸.......فلائٹ لیفٹیننٹ ایم این اختر ۱۲۹.......فلائٹ لیفٹیننٹ حمید اللہ ۱۳۰.......فلائنگ آفیسر انوار احمد ۱۳۱.......فلائنگ آفیسر صلاح الدین ۱۳۲.......فلائنگ آفیسر محمد سید ۱۳۳.......فلائنگ آفیسر غلام علی ۱۳۴.......فلائنگ آفیسر ظفر احمد چوہدری ۱۳۵.......فلائنگ آفیسر ایم. ایم احمد ۱۳۶.......فلائنگ آفیسر منصور احمد ۱۳۷.......پائلٹ آفیسر سید اللہ خان ۱۳۸.......لیفٹیننٹ نواب ۱۳۹.......کیپٹن محمود شفقت ۱۴۰.......کیپٹن عصمت اللہ خان ۱۴۱.......میجر ایم. اے لطیف ۱۴۲.......کیپٹن ضیاء الدین ۱۴۳.......میجر محمد عبداللہ ۱۴۴.......کیپٹن شاہ نواز ۱۴۵.......لیفٹیننٹ غلام قادر ۱۴۶.......کیپٹن ظفر علی ۱۴۷.......کیپٹن محمد اقبال ۱۴۸.......کیپٹن ایم شریف احمد ۱۴۹.......لیفٹیننٹ عبدالسلام ۱۵۰.......لیفٹیننٹ اکرام احمد ۱۵۱.......کیپٹن اکبر علی خان ۱۵۲.......کیپٹن عبدالرشید خان ۱۵۳.......کیپٹن عزیز اللہ خان ۱۵۴.......کیپٹن میجر سرفراز خان ۱۵۵.......فلائٹ لیفٹیننٹ نور خان ۱۵۶.......کیپٹن محمد ابراہیم ۱۵۷.......لیفٹیننٹ عطاء الرحمن ۱۵۸.......لیفٹیننٹ عبدالحئی خان ۱۵۹.......لیفٹیننٹ غلام محمد خان ۱۶۰.......لیفٹیننٹ چوہدری عزیز احمد ۱۶۱.......لیفٹیننٹ سید عبدالحمید ۱۶۲.......لیفٹیننٹ عبدالمنان ۱۶۳.......لیفٹیننٹ عبدالحافظ ۱۶۴.......لیفٹیننٹ عبدالرحمن ۱۶۵.......لیفٹیننٹ گل حسن ۱۶۶.......لیفٹیننٹ کمال مصطفیٰ ۱۶۷.......لیفٹیننٹ محمد یوسف خان ۱۶۸.......لیفٹیننٹ محمد نواز ۱۶۹.......لیفٹیننٹ قاضی منظور الحق ۱۷۰.......لیفٹیننٹ سید مقبول احمد ۱۷۱.......لیفٹیننٹ محمود احمد ڈار ۱۷۲.......لیفٹیننٹ محمود صفدر باجوہ ۱۷۳.......لیفٹیننٹ مبارک احمد ۱۷۴.......لیفٹیننٹ سید محمود احمد ۱۷۵.......لیفٹیننٹ ایم. اے سید ۱۷۶.......لیفٹیننٹ محمد یوسف شاہ ۱۷۷.......لیفٹیننٹ ناصر احمد ۱۷۸.......لیفٹیننٹ سید ناصر احمد شاہ ۱۷۹.......لیفٹیننٹ چوہدری ناصر احمد ۱۸۰.......لیفٹیننٹ نصر اللہ خان ۱۸۱.......لیفٹیننٹ محمد یعقوب ۱۸۲.......لیفٹیننٹ محمد اسلم چوہدری ۱۸۳.......لیفٹیننٹ محمد اسحاق ۱۸۴.......لیفٹیننٹ نوابزادہ محمد ہاشم ۱۸۵.......لیفٹیننٹ منظور احمد ۱۸۶.......لیفٹیننٹ ممتاز احمد گجرات ۱۸۷.......لیفٹیننٹ ممتاز احمد ۱۸۸.......لیفٹیننٹ ممتاز احمد ۱۸۹.......لیفٹیننٹ ایم. ایس صادق ۱۹۰.......لیفٹیننٹ سید مسعود احمد ۱۹۱.......لیفٹیننٹ منظور الحسن ۱۹۲.......لیفٹیننٹ مظفر احمد ۱۹۳.......لیفٹیننٹ محمد عبدالرحمن ۱۹۴.......سیکنڈ لیفٹیننٹ اعجاز احمد ۱۹۵.......سیکنڈ لیفٹیننٹ بشیر احمد ۱۹۶.......سیکنڈ لیفٹیننٹ خان ہمایوں
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۰، ۲۱، مورخہ ۱۷ تا ۲۳ / مارچ ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مانسہرہ کے قادیانی کو ایک سال قید کی سزا
گزشتہ روز ایک قادیانی صالح محمد ولد صادق شاہ ساکن پھگلہ کو محمد فرید خان ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ نے ایک سال قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ اور عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ یادرہے کہ مذکورہ قادیانی نے ڈگری کالج کے داخلہ فارم میں اپنے آپ کو مسلمان تحریر کیا تھا جو دفعہ ۲۹۸-سی کے تحت جرم ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ کے ناظم تبلیغ منظور احمد شاہ آسی نے ۱۸؍مارچ ۱۹۸۷ء کو ایک درخواست دی۔ جرم ثابت ہونے پر مذکورہ قادیانی کی گرفتاری جولائی ۱۹۸۷ء میں عمل میں لائی گئی اور ۲۵ دن تک جیل میں رہنے کے بعد صالح محمد رہا ہوا۔ چنانچہ یہ کیس چلتا رہا۔ بالآخر مندرجہ بالا عدالت نے ۱۲؍مارچ ۱۹۸۹ء کو امتناع قادیانیت صدارتی آرڈیننس کے تحت ایک سال قید اور ایک ہزار جرمانہ کی سزا سنائی۔ استغاثہ کی طرف سے جناب غلام مصطفیٰ خان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ اور سید ایاز ضیاء مشہدی پراسیکیوٹنگ سب انسپکٹر نے پیروی کی۔ جب کہ قادیانی کی طرف سے اعجاز افضل خان ایڈووکیٹ نے کیس لڑا۔ فیصلہ سننے کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ کے رہنماؤں مولانا عبداللہ خالد ، مولانا قاضی رفیق الرحمن ، سید منظور احمد شاہ آسی ، مولانا عبدالعزیز شاہ ، مولانا حمید اللہ ، قاری محمد یعقوب ، مولانا نذیر احمد اور ختم نبوت یوتھ فورس کے نوجوانوں ، بابو فضل الرحمن ، لیاقت ظفر ، ڈاکٹر افتخار حسین زیدی ، بابا وقار احمد ، صوفی ظہور احمد عثمانی اور کامرس کالج کے طلباء نے مشترکہ جلوس نکالا جو مختلف بازاروں کا چکر لگاتا ہوا شینکیاری روڈ پر جا کر تقاریر اور دعا پر اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸، مورخہ ۲۶ مئی ۱۹۸۹ء)
قادیانی صد سالہ جشن ...... کفر ہار گیا اور مسلمان جیت گئے
ملعون قادیانی نے ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں قادیانی جماعت کی بنیاد رکھی۔ سو سال پورے ہونے پر ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانی جھوٹی نبوت کے سو سال پورے ہونے پر صد سالہ جشن منانا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں مجلس نے قادیانیت کی اس سازش کے خلاف کیا بند باندھا اس کی رپورٹ ذیل میں ملاحظہ ہو: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس دفتر مرکزیہ ملتان میں ۱۲؍مارچ ۱۹۸۹ء کو زیر صدارت مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ منعقد ہوا۔ ایجنڈا کی شق نمبر ۳ قادیانی جارحیت اور اس کی روک تھام سے متعلق تھی۔ اس پر بحث شروع ہوئی تو فیصل آباد سے ورکنگ کمیٹی کے رکن مولانا محمد اشرف ہمدانی ، مولانا صاحبزادہ طارق محمود نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے قادیانیوں کی طرف سے ۲۳؍مارچ کو ربوہ میں مجوزہ صد سالہ جشن کی تیاری کی تفصیلات بیان کیں۔
- ۱...... ربوہ میں وسیع پیمانہ پر کروڑوں روپے کا خرچ کر کے چراغاں کیا جا رہا ہے۔
- ۲...... فیصل آباد کے ایک پینٹر سے ڈیڑھ صد بینرز مرزائیوں نے لکھوائے ہیں۔
- ۳...... آتش بازی کا مظاہرہ کریں گے۔ مختلف مقامات پر محلہ وار اور پھر ایک مرکزی اجتماع رکھیں گے۔
- ۴...... پورے ربوہ کے قادیانی مخصوص لباس زیب تن کر کے اپنی عسکری قوت کا مظاہرہ کریں گے۔
- ۵...... یہ کہ سیمینار منعقد ہوں گے۔
اس پر عالمی مجلس کی ورکنگ کمیٹی نے دو تجاویز پیش کیں:
- ۱...... اخبارات میں اشتہار شائع کیا جائے۔ پورے ملک کے مسلمانوں کو ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء کو ربوہ میں آنے کی دعوت دی جائے کہ وہ
ربوہ میں ختم نبوت ریلی میں شرکت کریں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... ۲۰/ مارچ کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اسلام آباد میں اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ ان کے سامنے قادیانی جارحیت اور حکومت کی معنی خیز خاموشی کی تازہ ترین صورتحال رکھی جائے۔
چنانچہ اخبارات میں اشتہار شائع کرانے کے لئے صاحبزادہ طارق محمود اور مجلس کا اجلاس بلانے کے لئے جناب ریاض الحسن گنگوہی نے ذمہ داری قبول کی۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور، راولپنڈی، ملتان، کراچی میں ۱۵/ مارچ اور روزنامہ جنگ لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ میں ۱۶/ مارچ ۱۹۸۹ء کو درج ذیل عالمی مجلس کی طرف سے ان اخبارات کے آخری صفحہ پر یہ اشتہار شائع ہوا۔
عظیم الشان ختم نبوت ریلی
مؤرخہ ۲۳/ مارچ بروز جمعرات ۱۹۸۹ء
مسلمانان پاکستان کی غیرت کو کھلا چیلنج
مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کا صد سالہ جشن کیوں؟
مقام محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن ربوہ
قادیانی ربوہ میں ۲۳/ مارچ کو یوم پاکستان کی آڑ میں جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کے صد سالہ جشن کے موقع پر زبردست چراغاں اور آتش بازی کا اہتمام کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کی یہ ناپاک جسارت نہ صرف امتناع قادیانیت آرڈیننس کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ جناب رسالت مآب ﷺ کی سچی نبوت کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی روز سر زمین ربوہ پر مسلمانوں کی عظیم الشان ریلی منعقد کی جائے گی۔
عاشقان مصطفیٰ! اٹھو...... آقا ومولا فدا ابی وامی کی رسالت کا پرچم بلند کرتے ہوئے جوق در جوق ربوہ پہنچ کر جعلی نبوت کے چراغ گل کردو۔
نوٹ: ۱۷/ مارچ جمعتہ المبارک کے اجتماعات میں قادیانیوں کی ناپاک جسارت کے خلاف ملک بھر کے خطباء یوم احتجاج منائیں گے۔
منجانب: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
(اخبار جنگ لاہور، مؤرخہ ۱۶/ مارچ ۱۹۸۹ء)
ان اشتہارات کے شائع ہوتے ہی پورے ملک میں اضطراب کی کیفیت طاری ہو گئی۔ تمام مسلمانوں نے اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کیا اور صبح و شام قادیانی سازش کو ناکام بنانے کی فکر میں لگ گئے۔
لائٹنگ اینڈ ڈیکوریشن کا فیصلہ: قادیانیوں نے گوجرانوالہ سے لائٹ کا سامان حاصل کرنے کے لئے ہزاروں روپے ایڈوانس لائٹنگ اینڈ ڈیکوریشن پارٹیوں کو دیئے ہوئے تھے اور اسٹام پر ان سے تحریری معاہدہ لکھوایا تھا۔ جب لائٹنگ اینڈ ڈیکوریشن کے تاجران نے یہ صورتحال دیکھی تو مولانا زاہد الراشدی کے پاس حاضر ہوئے۔ مولانا نے انہیں تحریری طور پر فتویٰ دیا کہ اس معاہدہ کا کینسل کرنا ضروری ہے۔ آپ چراغاں کا سامان دیں گے تو مرزائیوں کی جھوٹی نبوت کے صد سالہ جشن کی کامیابی کے گناہ میں آپ بھی شریک ہو کر گنہگار ٹھہریں گے اور یہ کہ مرزائیوں سے لین دین جائز نہیں۔
مولانا زاہد الراشدی کے اس فتویٰ کی بنیاد پر گوجرانوالہ کے تاجران نے نہ صرف قادیانیوں کو ”مال“ فراہم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ ایک وفد بنایا جس نے فیصل آباد، سرگودھا، چنیوٹ، راولپنڈی وغیرہ کا دورہ کر کے لائٹنگ اینڈ ڈیکوریشن پارٹیوں کو قادیانیوں کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بائیکاٹ پر آمادہ کیا۔ ان کے اس بائیکاٹ کی خبریں اخبارات میں شائع ہوئیں تو اس شعبہ کے تمام تاجران نے اس رسم بد میں شریک نہ ہونے اور قادیانی جھوٹی نبوت کے جشن کو ناکام بنانے کے لئے کمر بستہ ہوگئے۔
قادیانیوں کی حواس باختگی: اس صورتحال کو دیکھ کر قادیانی حواس باختہ ہو گئے۔ ایک ایک پارٹی کے پاس کوڑیوں کے ریٹ پر کروڑوں روپے حاصل کرنے کی پیشکش کی لیکن ان کا یہ حربہ ناکام ہو گیا۔ ادھر اخبارات میں کسی کا یہ مطالبہ شائع ہو گیا کہ مرزائیوں کی اس دن بجلی بند کر دی جائے۔ اس خبر سے مرزائیوں کے اوسان خطاء ہو گئے۔ جنریٹر خریدے گئے۔ ایک ٹرک مٹی کے دیئے منگوائے گئے۔ سرسوں کے تیل کے حصول کے لئے آرڈر دیئے گئے اور یوں مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی پشت پر ”دیا جلانے“ کا کام اپنے ہاتھوں انجام دینے لگے۔
احتجاج، احتجاج، احتجاج: ۱۲؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو عالمی مجلس کے زیر اہتمام ملتان میں کانفرنس ہوئی جس میں مقررین نے اعلان کیا کہ اگر مرزائی جشن بند نہ کیا گیا تو ہم ربوہ کی شاہراہ پر ٹریفک بلاک کر دیں گے۔ ۱۳، ۱۴، ۱۵، ۱۶؍ مارچ کو فیصل آباد میں صاحبزادہ طارق محمود، لاہور میں مولانا ریاض الحسن گنگوہی، اسلام آباد میں مولانا عبدالرؤف، راولپنڈی میں مولانا محمد احسان دانش، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا قاری محمد امین، پشاور میں مولانا نور الحق نور، کوئٹہ میں قاری انوار الحق، مولانا عبدالواحد، کراچی میں مولانا مفتی احمد الرحمن، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا نے میٹنگیں شروع کیں۔ اخبارات کو بیانات جاری کئے۔ گورنمنٹ کو ٹیلی گرام دیئے گئے اور یوں پورے ملک میں احتجاج کی ایک فضاء قائم ہوگئی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اپیل کی ہوئی تھی کہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۸۹ء بروز جمعہ کو یوم احتجاج منایا جائے۔ ۱۷؍ مارچ کو پورے ملک کی تمام مساجد میں احتجاج کیا گیا۔ شاید ہی کوئی مسجد ہو جہاں پر اس سلسلہ میں آواز بلند نہ ہوئی ہو۔ گورنمنٹ کو اس کی رپورٹ ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا اپنے تمام تر پروگرام ملتوی کر کے لاہور پہنچ گئے۔ دینی جماعتوں کے سربراہوں، مختلف حضرات سے ملاقاتیں کیں۔ ۱۷؍ مارچ ۱۹۸۹ء جمعہ سے قبل علیحدگی میں مولانا منظور احمد چنیوٹی سے ملاقات کی جس میں طے ہونے والے پروگرام کی عوام کو اس وقت اطلاع ہوئی جس وقت ۱۷؍ مارچ کو جمعہ پڑھ کر مولانا منظور احمد چنیوٹی نے جشن بند نہ ہونے کی صورت میں چنیوٹ سے ربوہ کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔
مولانا اللہ وسایا نے خود مسجد محمدیہ ربوہ میں جمعہ پڑھایا۔ قادیانیت کو لتاڑا، حکومت کو چتایا اور دونوں کو عقلمندی سے کام لینے کی عافیت کے فوائد بتلائے۔ جمعہ پڑھتے ہی آپ سرگودھا گئے۔ وہاں پر مجاہد اسلام مولانا محمد اکرم طوفانی نے ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸؍ مارچ کو سرگودھا میں جلوس اور احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا ہوا تھا۔ ۱۸؍ مارچ کو عظیم الشان جلوس نکلا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا اللہ وسایا نے قیادت کی۔ شہر کے علماء اور مجلس کی قیادت نے خطاب کیا۔ ”سولی پر چڑھ جائیں گے، مرزائیوں کی جوبلی رکوائیں گے“ کے فلک شگاف نعروں نے جہاں سرگودھا میں تحریک کی کیفیت پیدا کر دی وہاں حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا۔ ۱۸؍ مارچ کو بہاول نگر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس عالمی مجلس کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ مقامی حضرات کے علاوہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ جناب مولانا علی غضنفر کراروی، ملک محمد اکبر ساقی غرضیکہ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ تمام مکاتب فکر نے اکٹھے ہو کر مرزائیوں کے جشن پر پابندی کا مطالبہ کیا۔
۱۶؍ مارچ کو اطلاع ملی کہ قصبہ جلو لاہور سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر بھارتی سرحد کے قریب ہانڈو نامی گاؤں میں قادیانیوں نے قطعہ اراضی حاصل کر کے اس پر بلڈوزر اور کرینیں لگا کر پنڈال بنا رہے ہیں اور ۲۳؍ مارچ کو یہاں وہ جلسہ عام منعقد کریں گے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی طرف سے ۱۷؍ مارچ کو روزنامہ جنگ کے صفحہ اوّل پر خبر شائع ہوئی۔ ضلع لاہور کی انتظامیہ کو عالمی مجلس کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ۳۴۳ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طرف تاریں اور درخواستیں بھجوائی گئیں اور یوں ایک اور قضیہ کھڑا ہو گیا۔ ۱۸؍ مارچ کی شام کو ڈی سی جھنگ و ایس پی جھنگ ربوہ آئے۔ قادیانیوں سے الگ اور علماء کرام سے الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں عالمی مجلس کی طرف سے مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا فقیر محمد نے نمائندگی کی۔ جب کہ مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا عبدالوارث چنیوٹی، مولانا اللہ یار ارشد اور دوسرے حضرات بھی اس گفتگو میں شریک ہوئے۔ انتظامیہ نے وعدہ کیا کہ ان کے جشن پر مکمل پابندی لگادی جائے گی۔ مگر جب تک حکومت کی طرف سے سرکاری اعلان نہ ہو اس وقت تک کیسے یقین کر لیا جائے کہ ایسے ہوگا۔ چنانچہ ۱۹؍ مارچ کو مولانا خواجہ خان محمد صاحب امیر مرکزیہ اپنے تمام تر پروگرام ملتوی کر کے اسلام آباد میں مجلس عمل کی میٹنگ اور راولپنڈی میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے روانہ ہو گئے۔
ضلع چکوال کے ایک قدیم قصبہ دوالمیال میں مولانا محمد اکرم طوفانی نے ایک ختم نبوت کانفرنس رکھی ہوئی تھی جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء الحق، مولانا محمد سعید ہاشمی، مولانا محمد اکرم عابد سمیت درجن بھر کے قریب علماء کرام نے خطاب فرمایا اور قادیانیت کے پول کھولے۔ عصر کے بعد مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی زیر قیادت قافلہ راولپنڈی کے لئے روانہ ہوا۔ رات کو ایک مدرسہ کے جلسہ میں مولانا سید چراغ الدین شاہ اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
۲۰؍ مارچ کی میٹنگ و کانفرنس: جامع مسجد دارالسلام اسلام آباد میں ۲۰؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو مجلس عمل کا اجلاس دس بجے دن شروع ہوا۔ اسلام آباد، راولپنڈی کے علماء نے بھر پور شرکت فرمائی۔ اس اجتماع کو دیکھ کر حکومتی اداروں میں کھلبلی مچ گئی۔ مولانا فقیر محمد اور مولانا اللہ وسایا کی مختلف اوقات میں وفاقی وزیر مذہبی امور سے فون پر بات ہوئی اور انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا یقین دلایا۔ مجلس عمل کے اجلاس میں تمام تر صورتحال اور ۲۳؍ مارچ سے متعلق عوام مسلمانوں کی بے اعتنائی اور حکومت کی گومگو کی پالیسی پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔ بالآخر طے ہوا کہ دو کمیٹیاں بنادی جائیں۔ ایک کمیٹی مولانا سمیع الحق صاحب سے بات کر لے کہ وہ حتمی طور پر پنجاب گورنمنٹ سے بات کریں اور دوسری کمیٹی وزارت مذہبی امور، وزارت داخلہ سے بات کرلے۔ اگر تو جشن پر پابندی لگتی ہے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ رات اسلام آباد کے جلسہ عام میں ۲۳؍ مارچ کو ربوہ چلنے کے لئے حتمی اعلان کر دیا جائے اور پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ چنانچہ مولانا سید چراغ الدین شاہ اور مولانا عبدالرؤف صدر مجلس اسلام آباد نے ہسپتال میں مولانا سمیع الحق صاحب سینیٹر سے بات کی۔ مولانا نے وفد کو بتایا کہ آج وزیر اعلیٰ نواز شریف مجھے ملنے کے لئے آ رہے ہیں۔ میں ان سے دو ٹوک بات کروں گا۔ اگر تو وہ پابندی لگاتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ہم بھی سوچیں گے کہ ہم ان کے چل سکتے ہیں یا نہیں۔
دوسرا وفد مولانا ضیاء الدین ہری پوری کی قیادت میں وزیر مذہبی امور و وزیر داخلہ سے ملنے کے لئے گیا۔ مگر وہ دونوں کیبنٹ میٹنگ میں تھے۔ اس لئے ملاقات نہ ہوسکی۔ ظہر کے بعد مجلس عمل کا دوسرا اجلاس شروع ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مجلس عمل کی کارروائی کی خبر مجلس عمل کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے اخبارات کو جاری کی۔ رات کو راجہ بازار تعلیم القرآن راولپنڈی میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ جس کے لئے حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کے جانشین مولانا قاضی احسان الحق صاحب نے وسیع انتظامات کئے ہوئے تھے۔ کانفرنس سے قبل فیصل آباد سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو فون کے ذریعہ پیغام ملا کہ ڈی آئی جی و کمشنر فیصل آباد آج ربوہ پہنچے۔ قادیانیوں کی سرگرمیوں اور جشن پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا فقیر محمد نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب گورنمنٹ نے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کو حکم دیا ہے کہ وہ قادیانیوں کے جشن پر پابندی پر عملدرآمد کرائیں۔ اسی طرح لاہور کے مولانا عبدالتواب صدیقی نے اعلان کر رکھا تھا کہ اگر جشن پر پابندی نہ لگی تو ۲۲؍ مارچ کو باغبان پورہ سے داروغہ والا تک لانگ مارچ کیا جائے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گا۔ چیچہ وطنی کے احرار رہنما جناب عبداللطیف خالد نے پانچ سو کارکنوں کے ہمراہ ربوہ تک کے لئے احتجاجی جلوس کا اعلان کیا ہوا تھا۔ اس تمام تر صورتحال کو سامنے رکھ کر پنجاب گورنمنٹ نے فیصلہ کیا۔ ۲۰؍مارچ کی ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی سے قبل اٹک، واہ کینٹ، پشاور، نوشہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ کے وفود نے حضرت الامیر سے ملاقاتیں کیں اور جشن پر پابندی نہ لگنے کی صورت میں ۲۳؍مارچ کو قافلوں کی شکل میں ربوہ پہنچنے کا عہد کیا تھا۔ حضرت الامیر تمام وفود کو اپنی ہدایات ودعاؤں سے نوازتے رہے۔ ۲۰؍مارچ کی شام کو راولپنڈی مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مقررین نے اشاروں کنایوں میں پابندی لگنے کی خبر کا ذکر کیا اور عوام کو باہمی اتحاد و اتفاق قائم رکھ کر اس سلسلہ کے لئے جدوجہد کرنے کی تلقین کی۔
جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد کا پیغام مولانا عبدالمالک خان شیخ الحدیث منصورہ نے کانفرنس میں سنایا۔ اسی طرح ادارہ منہاج القرآن کے بانی پروفیسر طاہر القادری کے نمائندگان نے میٹنگ میں اور پھر اخبارات کے ذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پروگرام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ غرضیکہ پورے ملک سے تمام مسلمانوں نے اس کے لئے جدوجہد کی، تو حکومت نے حالات کی نزاکت کا احساس کیا۔ تازہ ترین صورتحال اور آمدہ اطلاعات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے عالمی مجلس کے مرکزی قائد و رہنما مولانا عزیز الرحمن جالندھری، صاحبزادہ طارق محمود، ریاض الحسن گنگوہی فیصل آباد روانہ ہوگئے،۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ ۲۱؍مارچ کی صبح کے اخبار پر نظر پڑی تو پہلے صفحے پر خبر تھی کہ پنجاب حکومت نے قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی لگا دی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ۱۲؍مارچ سے ۲۰؍مارچ تک کی آٹھ روزہ محنت امت کے تمام طبقات و رہنماؤں کا تعاون، تمام مسلمانوں کی کوشش وکاوش سے اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ ”کفر ہار گیا اور مسلمان جیت گئے“ اور یوں ایک بار پھر مرزائی ذلت ورسوائی سے دوچار ہوئے۔ ۲۱؍مارچ کی شام جمعیۃ علماء اسلام کے قائد پنجاب مولانا میاں محمد اجمل قادری نے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کو اس پابندی لگانے پر ایک استقبالیہ دیا۔ جس میں خطیب اسلام مولانا قاری محمد اجمل خان، متکلم اسلام مولانا سمیع الحق، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا بشیر احمد شاد نے شرکت کی اور اس پابندی پر خوشی کا اظہار کیا۔ استقبالیہ کے مہمان خصوصی حرم مکہ مکرمہ کے مدرس مولانا محمد مکی حجازی تھے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۶ تا ۲۰، مؤرخہ ۱۴؍اگست ۱۹۸۹ء)
ان کے علاوہ دیگر احتجاجی اجتماعات اور کانفرنسیں بھی منعقد ہوئیں جن کی تفصیل کانفرنسوں کے حصہ میں شامل ہے۔
قادیانیوں کے سوسالہ جشن پر پابندی
لاہور (نیوز ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سردار نصر اللہ خان دریشک، وزیر قانون و پارلیمانی امور حکومت کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کے علاوہ اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں قادیانی فرقہ کی طرف سے ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانیت کا جشن صد سالہ منانے کے پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین نے خاص طور پر ربوہ میں قادیانیوں کے جشن صد سالہ کے بارے میں ہونے والی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے صوبے کے کچھ حصوں سے بھی اس نوعیت کی موصولہ اطلاعات پر اظہار تشویش کیا۔ قادیانیت کے جشن صد سالہ کے بارے میں مسلمان عوام الناس کے دینی جذبات اور احساسات کو ٹھیس پہنچانے کی وجہ سے ان میں غم وغصہ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر اس لئے کہ قادیانیت کا جشن صد سالہ منعقد کیا جانا قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔ مفاد عامہ، امن وامان برقرار رکھنے کی خاطر اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ جشن صد سالہ سے متعلق برسرعام تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اس بارے میں صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحبان کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۸۹ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴، مؤرخہ ۶ تا ۱۲؍ اپریل ۱۹۸۹ء)
اس کے خلاف قادیانیوں نے ۱۹۸۹ء میں ہائیکورٹ لاہور میں کیس دائر کیا۔ اس کا فیصلہ ۱۷؍ ستمبر ۱۹۹۱ء کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جناب خلیل الرحمٰن خان نے کیا۔
شاہ تاج شوگر ملز کے قادیانی جنرل منیجر پی. آر. او، اور کیبن منیجر گرفتار
منڈی بہاؤالدین : مؤرخہ ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو شاہ تاج شوگر ملز کے قادیانیوں نے سچے نبی حضرت محمد ﷺ کے مقابلے میں اپنے جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کا جشن صد سالہ گورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے پابندی کے باوجود منایا۔ اسلامی شعائر کی بے حرمتی کی۔ جس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤالدین کے سیکرٹری جنرل ملک محمد یامین قادری نے فاروق صدیقی جنرل منیجر، مشتاق احمد پی. آر. او، اور محمود احمد خالد کیبن منیجر کے خلاف ۱۸۸/ سی - ۲۹۸ ت.پ پرچہ درج کرایا۔ ملزمان نے پولیس گرفتاری سے بچنے کے لئے عبوری ضمانتیں کروا لیں جو کہ سردار غلام فرید صاحب فاضل سیشن جج گجرات نے مؤرخہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۸۹ء کو خارج کر دیں۔ استغاثہ کی جانب سے فاضل ڈسٹرکٹ اٹارنی جناب فیاض احمد شیرازی صاحب اور حاجی عبدالغفار گوندل ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ ملزمان کو احاطہ عدالت گجرات سے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ملزمان نے دوبارہ فاضل عدالت جناب پرویز اختر ڈار صاحب مجسٹریٹ ون کلاس درخواست ضمانت دائر کر دی۔ فاضل مجسٹریٹ نے مؤرخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۸۹ء کو پھر مشتاق احمد اور محمود کی درخواست ضمانت منظور نہ کی۔ استغاثہ کی جانب سے سرکاری وکلاء سید ناصر شاہ، جناب محمد نواز رانجھا کے علاوہ چوہدری احمد مونس ایڈووکیٹ، جناب حاجی عبدالغفار گوندل ایڈووکیٹ، جناب سید ابرار الحق ایڈووکیٹ، جناب چوہدری ریاض احمد ایڈووکیٹ، جناب راجہ محمد اکرم گکھڑ ایڈووکیٹ، جناب راجہ ارشد نواز ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے۔ جب کہ ملزمان کی جانب سے چوہدری عیسیٰ خان ایڈووکیٹ، چوہدری فتح جنگ ایڈووکیٹ، چوہدری شیر محمد ایڈووکیٹ کے علاوہ دو تین وکلاء موجود تھے۔ شہر اور علاقہ سے آئے ہوئے غیور مسلمانوں کا جوش دیدنی تھا۔ جناب علامہ عنایت اللہ گجراتی، مفتی عبدالواحد، قاضی منظور الحق، حافظ نذیر، الحاج جاوید اقبال چغتائی، نصیر الدین ڈار، کونسلر بلدیہ وسابقہ سیکرٹری جنرل انجمن تاجران، شیخ اخلاق احمد صدر انجمن تاجران، خواجہ ایم. رشید صدر مجلس، ارشاد قریشی سابقہ کونسلر، ملک سرفراز طاہر، قاری محمد اشرف، قاری محمد خلیل، مولانا عبدالقادر افغانی کے علاوہ ہزاروں لوگ فیصلہ سننے کے منتظر تھے۔ ان تاریخ ساز قانونی فیصلوں پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤالدین اپنی طرف سے اور علاقہ کے غیور مسلمانوں کی طرف سے جناب سیشن جج صاحب سردار غلام فرید اور مقامی انتظامیہ جناب سلیم شیرافگن کیانی، اسسٹنٹ کمشنر جناب ڈار صاحب، جناب راؤ غلام حسین، جناب سید زوار حسین ڈی. ایس. پی، جناب عبدالحمید باجوہ ایس. ایچ. او، جناب اسلم بٹ ایس. ایچ. او سٹی خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جن کی فراست سے شہر ہنگامے کی نذر ہونے سے بچ گیا اور مرزائیوں کا جشن صد سالہ کے نام پر ملک میں بدامنی پھیلانے کا خواب پورا نہ ہوا۔ یہاں پر امر واضح رہے کہ ضمانتیں نہ لینے کی صورت میں مل بند کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ جو کہ گیدڑ بھبکی ثابت ہوئی۔ علاقہ کے غیور زمینداروں نے قادیانی ملز انتظامیہ کو ملز چلانے پر مجبور کر دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۵، مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵؍ مئی ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کی تازہ اشتعال انگیزی
گزشتہ دنوں جڑانوالہ کے نواحی گاؤں ۵۶۳ گ۔ ب شرقی میں قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید کے چند نسخے نذرآتش کئے جانے والے واقعہ پر ملک بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ واقعہ کی تمام تر تفصیلات اخبارات میں آ چکی ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے اشتعال انگیز کارروائی کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل قادیانی ایسی احمقانہ و کافرانہ کارروائی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ قادیانیوں نے کنری سندھ میں ایسا ہی شرمناک مظاہرہ کرتے ہوئے قرآن مجید کو نذرآتش کیا تھا۔ اسی طرح سکھر میں منزل گاہ کا المیہ مسلمانوں کو کبھی نہ بھولے گا۔ جس میں قادیانیوں کی بربریت اور سفاکی کی بدولت دو مسلمان شہید اور درجن بھر مسلمان شدید زخمی ہوگئے تھے۔
قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید کی بے حرمتی کا حالیہ واقعہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے جس میں قادیانیوں نے دن دہاڑے قرآن مجید کے نسخوں کو نہ صرف جلایا بلکہ بعض نیم جلے نسخوں کو گاؤں کے بند کنویں میں پھینک کر قرآن دشمنی کا بدترین مظاہرہ کیا۔ چک ۵۶۳ کے علاوہ اردگرد کے دیہات کے مسلمانوں نے جب افسوس ناک خبر سنی تو سارا علاقہ سراپا احتجاج بن گیا۔ ننکانہ صاحب جو ختم نبوت کے قلعے کی حیثیت رکھتا ہے وہاں بھی شدید ردعمل کا مظاہرہ ہوا۔ یہ ایک فطری امر تھا کہ مسلمان خصوصاً نوجوان قادیانیوں کی مکروہ حرکت پر اپنے جذبات قابو میں نہ رکھ سکے۔ اس سانحہ کے رونما ہونے کے بعد دوسرا المیہ یہ ہوا کہ واقعہ میں ملوث قادیانی ملزمان گرفتار نہ کئے جا سکے۔ پولیس نے روایتی سستی کا مظاہرہ کیا۔ یہی ملزم ہفتہ عشرہ بعد گرفتار کئے گئے۔ اگر پہلے روز انہیں حراست میں لے لیا جاتا تو عوام کی طرف سے اس قدر احتجاج اور ردعمل کا مظاہرہ نہ ہوتا۔ مقام شکر ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے دیر آید درست آید کے مصداق ہفتہ گزرجانے کے بعد بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج کے شعلوں کو دیکھ کر واقعہ کے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
حالیہ انتخابات کے سیاسی انقلاب کے بعد قادیانی جماعت کو ایک مرتبہ پھر یہ ڈھارس بندھی کہ شاید پاکستان میں ان کی تقدیر پھر جانے کے دن لوٹ آئیں گے۔ مرزا طاہر کا اخباری بیان اس بات کی واضح شہادت دیتا ہے کہ برسراقتدار جماعت کے ساتھ ان کی امیدیں وابستہ ہیں۔ قادیانی جماعت کو یہ زعم لاحق ہو گیا تھا کہ پاکستان اب اسلامی ریاست نہیں بلکہ سیکولر سٹیٹ کی حیثیت اختیار کر لے گا اور ایک ایسی ہی ریاست قادیانیوں کی پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ لیکن بعد کے حالات نے ان کے حسن ظن پر پانی پھیر دیا۔
ہمارا شروع سے نظریہ ہے کہ قادیانی مذہبی لیبل میں ایک عیار سیاسی جماعت ہے جس کے مفادات غیر ملکی آقاؤں سے وابستہ رہتے ہیں۔ قادیانیوں نے پاکستان کی تباہی و بربادی کے سلسلہ میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ یہاں تک کہ مرکز اور پنجاب کی محاذ آرائی سے بھی قادیانی جماعت نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ ۲۳؍ مارچ کو صوبائی حکومت نے قادیانیوں کے جشن صد سالہ پر پابندی عائد کر دی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ سعادت وفاقی حکومت حاصل کرتی، اور ملک کے باقی صوبوں میں بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کے جشن پر پابندی عائد کر دی جاتی۔ لیکن اعزاز صرف پنجاب حکومت کو حاصل ہوا جس نے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے ربوہ کے علاوہ پنجاب بھر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی عائد کر دی۔ ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے اعلان کے بعد قادیانیوں کے لئے یہ دوسرا بڑا زخم تھا۔ قادیانیوں نے پنجاب حکومت سے انتقام لینے کے لئے اور میاں محمد نواز شریف کو ڈاؤن کرنے کے لئے ربوہ میں ایک خفیہ میٹنگ کی۔ جڑانوالہ کا حالیہ سانحہ اسی خفیہ میٹنگ کا شاخسانہ ہے۔ ہمارا الزام ہے کہ حالیہ افسوس ناک واقعہ قادیانیوں کی سوچی سمجھی سازش کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نتیجہ ہے۔ قادیانیوں کی سازش یہ ہے کہ مختلف دیہاتوں کے اندر ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں کر کے مسلمانوں کو مجبور کر دیں کہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کر کے ایک طرف تو انتظامیہ کو مفلوج کر دیا جائے اور دوسرا صوبائی حکومت کو ناکام بنا دیا جائے۔ شہروں کی نسبت دیہاتوں میں امن عامہ کو کنٹرول کرنے کا مسئلہ اتنا پیچیدہ ہے کہ مقامی انتظامیہ اس سے نبردآزما نہیں ہوسکتی۔
جڑانوالہ کے نواحی گاؤں میں رونما ہونے والے المناک واقعہ میں ایک کردار گاؤں کے مرزائی نمبردار کا ہے۔ یہ بات ہم حکومت کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ دیہاتوں میں قادیانیوں کی نمبرداریاں ختم کر کے ان کا اسلحہ ضبط کر لیا جائے اور ان کے اسلحہ لائسنس منسوخ کئے جائیں تا کہ مسلح قادیانی مسلمانوں کے خلاف ننگی جارحیت کا مظاہرہ نہ کرسکیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد مورخہ ۱۴/ اپریل ۱۹۸۹ء)
جڑانوالہ کے نواحی گاؤں میں قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید کی بے حرمتی کے خلاف شدید احتجاج
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے علماء اور جماعت کے ڈویژنل امیر مولانا محمد اشرف ہمدانی نے جڑانوالہ کے نواحی گاؤں ۵۶۳ گ۔ ب شرقی میں قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید کے نسخوں کو نذر آتش کرنے کی ناپاک جسارت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ علماء نے اس امر پر زبردست احتجاج کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث قادیانی ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں کئے گئے۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس شرانگیز کارروائی میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے تا کہ مشتعل مسلمان مطمئن ہوسکیں۔ علماء نے الزام لگایا کہ قادیانی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کر کے انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ علماء نے اعلان کیا کہ قادیانیوں کی اس سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ علماء نے کہا چک نمبر ۲۶۳ گ۔ ب کا واقعہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس شرانگیز واقعہ کے بعد مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھنا ایک فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گردونواح کے علاوہ ملک بھر میں قادیانیوں کی گھناؤنی سازش کے خلاف احتجاج کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ علماء نے کہا کہ قادیانیوں نے رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کر کے مسلمانوں کے قلوب کو زخمی کر دیا ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے ننکانہ صاحب میں قادیانیوں کی ناپاک جسارت کے خلاف ردعمل کا مظاہرہ کرنے والے مسلمانوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ علماء نے انتباہ کیا کہ قرآن مجید کے نسخوں کو جلانے والے قادیانی ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا اور ننکانہ صاحب میں گرفتار شدہ مسلمانوں کو رہا نہ کیا گیا تو پھر حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ و حکومت پر ہوگی۔ پریس کانفرنس میں علماء نے مطالبہ کیا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ نیز دیہات میں قادیانیوں کی نمبرداریاں ختم کی جائیں۔ ان کے اسلحہ کے لائسنس منسوخ کر کے ان کا اسلحہ ضبط کر لیا جائے۔ نیز چک نمبر ۵۶۳ گ۔ ب میں قادیانیوں کی جو عبادت گاہ مسمار شدہ ہے۔ اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ کیونکہ مسلمانوں کی مسجد قادیانیوں کی عبادت گاہ کے سامنے واقع ہے۔ جس سے مسلمانوں کے جذبات کسی وقت بھی مشتعل ہو سکتے ہیں۔ قادیانیوں کی ناپاک جسارت کے خلاف کل جمعتہ المبارک کو یوم احتجاج منایا جائے گا۔
شرکائے پریس کانفرنس: (۱) مولانا عبدالرحیم اشرف، (۲) مولانا محمد اشرف ہمدانی، (۳) صاحبزادہ طارق محمود، (۴) مولانا عابد نعیم، (۵) مولانا پیر محمد ابراہیم، (۶) نصیر احمد آزاد، (۷) مولانا منظور احمد چنیوٹی ایم۔ پی۔ اے، (۸) ملک محمد دین ایم۔ پی۔ اے، (۹) مولانا فقیر محمد، (۱۰) صاحبزادہ افتخار الحسن، (۱۱) مولانا عزیز الرحمن انوری، (۱۲) مولانا مفتی ضیاء الحق، (۱۳) شیخ بشیر احمد، (۱۴) رانا محمد انور طاہر، (۱۵) چوہدری طفیل احمد، (۱۶) چوہدری محمد اقبال۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرارداد: جامع مسجد فیصل آباد کا یہ اجتماع جڑانوالہ کے نواحی گاؤں ۵۶۳ گ۔ ب میں قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید کے نسخے جلائے جانے کی شرانگیز حرکت کی شدید مذمت کرتا ہے اور مرکزی وصوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قصوروار قادیانی ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ نیز یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کی ناپاک جسارت کے خلاف ننکانہ میں ردعمل کے طور پر مظاہرہ کرنے والے گرفتار شدگان مسلمانوں کو فی الفور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور قادیانیوں کی طرف سے خون خرابہ کرنے کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے مؤثر کارروائی کی جائے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶، ۱۷، مورخہ ۲۸؍اپریل ۱۹۸۹ء)
مولانا منظور احمد حسینی کی واپسی
کراچی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممتاز رہنما اور ہفت روزہ ختم نبوت کے مجلس ادارت کے رکن جناب حضرت مولانا منظور احمد حسینی مدظلہ اپنے دس ماہ کے بیرونی تفصیلی دورہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور جرمنی کا تفصیلی دورہ کیا۔ بیرون ممالک کے مختلف شہروں میں مجلس کی شاخیں قائم کیں۔ مساجد، اسلامی تنظیموں اور دیگر دینی اجتماعات منعقد کئے۔ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر مفصل بیانات فرمائے۔ قومی وبین الاقوامی اہم افراد سے ملاقاتیں کیں اور انہیں فتنہ مرزائیت کے مضمرات سے آگاہ کیا۔ یادرہے کہ مولانا مذکور گزشتہ عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن کے انعقاد وانتظامات کے سلسلہ میں مجلس کے ایک چار رکنی وفد کے ہمراہ برطانیہ تشریف لے گئے تھے۔ دیگر مبلغین حضرات اپنا دورہ مختصر کرکے واپس آگئے تھے۔ جب کہ مولانا صاحب نے مرزا طاہر کے حالیہ چیلنج میں مسلمانوں اور قادیانیوں کی غیر معمولی دلچسپی اور لندن دفتر میں دیگر مجلس مصروفیات کے باعث طویل قیام فرمایا۔ انہوں نے اپنے واپسی پر قادیانی چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہر موڑ پر قادیانیت کا بھرپور تعاقب کیا اور قادیانی پوپ پال کو سامنے آنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مسلمانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اب یورپی ممالک میں بھی رہی سہی قادیانیت کے پاؤں اکھڑ گئے ہیں۔ مسلمان قادیانیوں سے مکمل طور پر چوکنے ہوگئے ہیں اور دینی کاموں میں بڑے جوش وخروش سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے مسلمان شیطان رشدی کے خلاف ہر ہفتہ میں ایک یا دو بار جلوس نکالتے ہیں اور اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے مسلمانوں کو بھی برطانیہ کے مسلمانوں کا ہم آواز ہونا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، ۲۵، مورخہ ۲۸؍اپریل تا ۴؍مئی ۱۹۸۹ء)
جڑانوالہ میں جلوس
جلوس مرکزی جامع مسجد سے مولانا میر زاہد، مولانا قاری محمد انیس اور مولانا ساجد کی قیادت میں نکالا گیا جو مختلف راستوں سے ہوتا ہوا نشاط سینما چوک پہنچ کر پرامن طور پر ختم ہوگیا۔ مقررین نے کہا کہ جو بھی کافر کی حمایت کرتا ہے وہ بھی انہیں میں سے ہے۔ فیصل آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی۔ جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور جماعت کے امیر مولانا محمد اشرف ہمدانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک میں امن وامان کا مسئلہ پیدا کررہے ہیں۔ قرآن حکیم کی بے حرمتی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ گوجرانوالہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے عہدیداروں کا اجلاس ضلعی امیر حکیم عبدالرحمٰن آزاد کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں چک نمبر ۵۶۳ جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں قادیانیوں کی طرف سے قرآن کریم کے نسخے شہید کرنے کی مذمت کی گئی۔ عالمی مجلس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس افسوس ناک واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔ علاوہ ازیں ننکانہ صاحب کے ختم نبوت کے گرفتار کئے جانے والے تمام افراد کو تین مرحلوں میں ضمانت پر رہا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، عمائدین شہر سیاسی رہنماؤں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی مقامی انتظامیہ سے مشترکہ ملاقات میں کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲،مورخہ ۵ تا ۱۱ مئی ۱۹۸۹ء)
حیدرآباد میں قادیانی نے مسجد میں آگ لگادی، ۱۵ قرآن پاک شہید
حیدرآباد کے صنعتی علاقہ میں واقع ایک ٹیکسٹائل مل سے متصل کالونی مسجد میں نامعلوم افراد نے ۱۵ قرآن پاک کو آگ لگا کر شہید کر دیا جس کی لپیٹ میں آکر مسجد کی چار دریاں بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔ علاوہ ازیں جمعیۃ علمائے اسلام حیدرآباد سٹی کے صدر تاج محمد ناہیوں اور حافظ طاہر احمد نے اس سانحہ پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکسٹائل مل کے قادیانی ڈائریکٹر پر اس واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲،مورخہ ۵ تا ۱۱ مئی ۱۹۸۹ء)
مرزا طاہر پاکستان آیا تو قادیانیوں کے خلاف تحریک چلائی جائے گی
علی پور چٹھہ (نمائندہ ختم نبوت) مرزا طاہر احمد قادیانی نے اگر پاکستان میں قدم رکھا تو قادیانیوں کے خلاف بھر پور تحریک چلائی جائے گی۔ گزشتہ روز ان خیالات کا اظہار جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ساجد میر نے اہل حدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ارکان سے ایک ملاقات میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے اسلام اور پاکستان کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی عہدوں پر سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اہل حدیث سٹوڈنٹس اسکولوں اور کالجوں میں مکمل طور پر قادیانیت کی تبلیغ کا محاسبہ کرے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲،مورخہ ۵ تا ۱۱ مئی ۱۹۸۹ء)
قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے چونڈہ کے قادیانی ملزمان کو گرفتار کیا جائے
لاہور: (ب ر) طلبہ تحریک تحفظ ناموس رسالت جامعہ پنجاب کے صدر محمد صابر شاکر نے چونڈہ قادیانیوں کی طرف سے مسجد اور قرآن پاک کی بے حرمتی کئے جانے پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کے ذمہ دار قادیانیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی پنجاب حکومت کی طرف سے اپنے صد سالہ جشن پر پابندی کے بعد قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات کے ذریعے پنجاب کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش تیز کر چکے ہیں۔ اسی سازش کے تحت گزشتہ دو ماہ کے قلیل عرصہ میں پنجاب کے کئی شہروں میں قادیانیوں کی طرف سے قرآن پاک کی توہین کی جاچکی ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ قرآن پاک اور مسجد کی بے حرمتی کے مرتکب تمام قادیانی ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں سخت ترین سزا دی جائے۔ کیونکہ قادیانیوں کی ایسی اسلام دشمن سازشیں مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنے، نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں امن وامان کی صورتحال پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ج ۲۶ ش ۷ ص ۲۱،۲۲،مورخہ ۷/جون ۱۹۸۹ء)
قادیانیوں کی تازہ جارحیت
مرزائیت آج کل زخمی سانپ کی طرح بل کھارہی ہے۔ کلمہ ومباہلہ مہم میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آتے ہی اس نے مسلمانوں کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنانے کے لئے اپنے تمام وسائل کو میدان کارزار میں جھونک دیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں آج کل مرزائیت کی اشتعال انگیزی جنون کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ جب سے پنجاب حکومت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے ان کے صد سالہ جشن کی تقریب پر پابندی عائد کی ہے یہ پنجاب حکومت کو ناکام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ رمضان شریف کے اوائل میں چک نمبر ۵۶۳ جڑانوالہ میں سرعام انہوں نے قرآن مجید کے نسخوں کو نذر آتش کیا۔ مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ دو مسلمان زخمی ہوئے۔ انہیں جان بلب لے کر مسلمان جڑانوالہ ہسپتال میں آئے تو پیچھے مرزائیوں نے باقی ماندہ مسلمانوں کو گاؤں میں ہراساں و پریشان کیا۔ اشتعال انگیزی کی حد کر دی۔ گردونواح کے چکوک کے مسلمان جمع ہوئے اور احتجاج کیا۔ امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوا تو پورا مہینہ پولیس کی کئی چکوک میں ڈیوٹی لگائی گئی۔ پوری ڈویژن انتظامیہ پریشان رہی۔ خدا خدا کر کے حالات ٹھیک ہوئے تو عید کے دن سرگودھا کے چک ۹۸ شمالی میں مرزائیوں نے ضلع کونسل سرگودھا کے رکن چوہدری امانت علی اور ان کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملہ کیا۔ مبینہ طور پر اس کے لئے پلاننگ کی گئی۔ اس میں ایف آئی اے کا ایس پی طاہر نامی مرزائی بھی شریک تھا۔ سوچے سمجھے منصوبہ سے فیصل آباد ڈویژن کے بعد سرگودھا ڈویژن میں قادیانیوں نے اشتعال انگیزی کی کوشش کی۔ مسلمانوں نے جلوس نکالے۔ احتجاج کیا۔ جلسے منعقد ہوئے۔ مظاہرے کئے۔ مگر انتظامیہ میں گھسے ہوئے قادیانی افسران کی ملی بھگت سے قادیانی ملزم گرفتار نہ ہوئے۔ قادیانیوں کا حوصلہ بڑھا۔ کچھ دنوں بعد پھر اسی گاؤں میں دوبارہ مسلمانوں پر مسلح حملہ کیا۔ مسلمانوں نے دیواریں پھلانگ کر جانیں بچائیں۔ خدا کا شکر ہے کہ کوئی بڑا حادثہ نہ ہوا۔ دو ہفتے تک سرگودھا ڈویژن کی انتظامیہ کے لئے مرزائیت درد سر بنی رہی۔
فیصل آباد، سرگودھا کے بعد اب مرزائی سازش نے لاہور کا رخ اختیار کیا۔ مغلپورہ لاہور میں منصوبہ بندی سے قادیانی آبادی کو مرزائی قیادت نے بسایا ہے۔ وہاں پر انہوں نے مسلمانوں میں لٹریچر تقسیم کرنا شروع کیا۔ مسلمانوں میں اشتعال پھیلایا۔ انتظامیہ نے منہ میں گھنگھنیاں ڈال لیں۔ ۲۱؍جون کو وہاں پر تمام مکاتب فکر کی طرف سے مشترکہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جو رات کے ایک بجے بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کی انتظامیہ سامان سمیٹنے میں مصروف تھی کہ مرزائیوں نے ان پر پتھراؤ کیا۔ ہوائی فائرنگ کی، پتھراؤ سے کئی مسلمان زخمی ہوئے۔ مگر انتظامیہ کی بے حسی کہ کسی مرزائی کو گرفتار نہ کیا۔ مرزائیوں کا حوصلہ بلند ہوا۔ مرزائی دوسرے روز ایک مسلمان طالب علم کو پکڑ کر اپنی عبادت گاہ میں لے گئے اور اسے بندوق کے بٹ مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ علاقہ کے مسلمان جمع ہوئے۔ ان پر مرزائیوں نے پتھراؤ کیا۔ پولیس آئی۔ مسلمانوں کو منتشر کیا۔ پولیس کے آنے پر مغلپورہ ایس ایچ او کی موجودگی میں مرزائیوں نے چھاپہ کے ڈر سے اپنی عبادت گاہ سے اسلحہ کئی کاروں کی ڈگی میں بند کر کے دوسری جگہ منتقل کر دیا اور اس کام کی ایک فوجی مرزائی نے نگرانی کی۔ حالات نے شدت اختیار کی۔ لاہور کی تمام قادیانی عبادت گاہوں پر پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا۔ اس طرح کئی دنوں تک لاہور میں یہ صورتحال رہی۔
جون کے وسط میں مرزائیوں نے بہاول نگر کے ضلع کو اپنی سازش کا ٹارگٹ قرار دیا۔ مرزائیوں کی ایک بس میں ایک کنڈیکٹر وکلینر مرزائی نے مسلمان طالبات کو چھیڑا۔ بس میں سوار ایک عالم دین نے احتجاج کیا تو مرزائیوں نے ان کو باہر سڑک پر لا کر مارا پیٹا۔ ان کی داڑھی نوچی، مروٹ شہر میں ہڑتال ہو گئی۔ مسلمان انتظامیہ کے پاس گئے مگر وعدہ کے باوجود ملزموں کو گرفتار نہ کیا گیا۔ ۲۱؍جون ۱۹۸۹ء کو اسلامیان مروٹ کی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مسلمانوں نے مرزائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سیالکوٹ کے معروف قصبہ چونڈہ میں مرزائی ایک مسلمان کو پکڑ کر اپنے مکان میں لے گئے۔ اسے مارا پیٹا، زخمی کیا۔ خون سے لت پت مسلمان باہر آیا۔ شہر کے معززین کے ہمراہ عوام تھانہ کو جا رہے تھے کہ مرزائیوں نے ان پر پتھراؤ کیا۔ ہوائی فائرنگ کی جس سے ایک اور مسلمان زخمی ہو گیا۔ مسجد کے میناروں کو مرزائیوں کی فائرنگ سے نقصان پہنچا۔ چونڈہ شہر میں ہڑتال ہو گئی۔ کئی دن تک یہ صورتحال رہی۔ انتظامیہ نے کچھ مرزائی ملزمان کو گرفتار کیا اور کچھ کو قبل از گرفتاری ضمانت کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس کے خلاف یکم؍جولائی ۱۹۸۹ء کو چونڈہ میں آل پارٹیز ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مسلمانوں نے مرزائیوں سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ یادرہے کہ مروٹ بہاول نگر، چونڈہ، سیالکوٹ پاکستان کے دونوں قصبات ہندوستان کے بارڈر پر واقع ہیں۔ مرزائیوں نے جان بوجھ کر ان علاقوں کا فسادات کے لئے انتخاب کیا۔
۱۵/جولائی ۱۹۸۹ء کو سکندر پور چک نمبر ۳۰ کھاریاں ضلع گجرات میں مسلمان عالم دین پر مرزائیوں نے فائرنگ کی۔ ان کے ایک ساتھی احمد خان کو موقع پر شہید کر دیا۔ ایک دوسرے کو زخمی کر کے خاک و خون میں تڑپا دیا۔ اسی دن جڑانوالہ کے اسی گاؤں میں مسلمانوں پر مرزائیوں نے پتھراؤ کیا۔ مرزائی جارحیت کی انتہاء دیکھئے کہ پولیس والوں پر پتھراؤ کر کے ان کو بھی زخمی کر دیا۔ ان واقعات میں مرکزی حکومت کا کیا کردار ہے۔ وہ سب کے سامنے ہے۔ مرزائیوں کو لگام دینے کی بجائے ان کو اہم عہدوں پر فائز کر کے اتنا دیدہ دلیر بنادیا کہ وہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے۔ حکومت پنجاب مرزائیوں کی ان سازشوں کو دبانے کی بجائے نیم بزدلانہ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ قانون موجود ہے مگر اس پر عمل نہیں ہورہا۔ پورے ملک میں قادیانی عبادت گاہوں سے کلمہ طیبہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ بار ہا درخواستوں کے باوجود ملتان کی انتظامیہ اسے اہمیت نہیں دے رہی۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ انتظامیہ اسے کفر و اسلام کا مسئلہ سمجھنے کی بجائے علاقائی و حادثاتی واقعات قرار دے رہی ہے۔ پانی سر سے گزر رہا ہے۔ قادیانی جماعت محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم پاکستان کے ناک کا بال بنی ہوئی ہے۔ صوبہ سندھ میں قادیانیوں نے صد سالہ جشن منایا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پورے ملک میں اپنی ذمہ داری کو پورا کیا۔ ہر جگہ وفود بھیجے۔ کانفرنسیں کیں۔ لٹریچر تقسیم کیا۔ مسلمانوں کو قانونی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا اور پالیسی دی۔ لیکن مرزائی جارحیت روز افزوں ہے۔ حالات تیزی سے کسی بڑے خونی حادثہ کا الارم دے رہے ہیں۔ مسلمان قوم سخت کرب واضطراب میں مبتلا ہے۔ ان تمام مقامات پر مسلمانوں کی طرف سے کوئی پہل نہیں ہوئی۔ بعض مقامات پر مرزائیوں کا بھی نقصان ہوا لیکن یہ سب کچھ ردعمل میں ہوا۔ مرزائیوں سے ہماری ذاتی دشمنی نہیں۔ وہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے باغی ہیں۔ ملک عزیز کی سالمیت کو گزند پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ملک عزیز کے قانون کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ان حالات میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ:
- ۱...... قادیانی افسروں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کرے۔ یہ ہمارا آئینی مطالبہ ہے۔ کسی بھی نظریاتی مملکت میں اس نظریہ کے مخالفین
کو کلیدی عہدوں پر فائز نہیں کیا جاتا تو پاکستان ایسی نظریاتی مملکت میں ایسا کیوں نہیں ہورہا؟
- ۲...... حکومت پاکستان کی قائم کردہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کی روشنی میں ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔
- ۳...... امتناع قادیانیت آرڈیننس پر عمل درآمد کیا جائے اور مرزائیوں کو قانون کا پابند بنایا جائے۔
مرزائیوں نے اگر اپنی پالیسی ترک نہ کی اور حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو مسلمان قوم ایک بار پھر مرزائیت سے نبرد آزما ہوگی اور حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور مرزائیوں پر ہوگی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۳، ۴، مورخہ ۴/اگست ۱۹۸۹ء)
فیصل آباد کے نواحی گاؤں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں پر قادیانی غنڈوں کا حملہ
چک نمبر ۱۲۱ گوگھوال کے غیور مسلمانوں نے ایک عرصہ سے قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ قادیانی ملک کے آئین امتناع قادیانیت آرڈیننس کی چک میں اکثر خلاف ورزی کے مرتکب رہتے ہیں۔ اس چک میں قادیانیوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ صد ہے۔ قادیانیوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت باہر سے چک کی طرف واپس آتے ہوئے دو مسلمان نوجوانوں کو گھیرا ڈال کر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ ایک نوجوان خلیل احمد کو شدید ضربیں آئیں۔ ختم نبوت کے اس رضا کار کے دماغ پر قادیانیوں نے پے در پے بزدلانہ حملے کئے۔ خلیل احمد
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس وقت بیہوشی کی حالت میں لاہور جنرل ہسپتال میں داخل ہے۔ دوسرا نوجوان خالد محمود کافی دیر تک قادیانی گروپ کا اکیلے مقابلہ کرتا رہا اور شدید زخمی ہوا۔ دونوں نوجوانوں کو الائیڈ ہسپتال میں لایا گیا۔ قادیانیوں نے پیچھا کرتے ہوئے ہسپتال پہنچ کر مسلمانوں پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ چک میں قادیانی اور مسلمان کشیدگی کی وجہ سے انتظامیہ نے پولیس متعین کر دی ہے۔ قادیانی ملزم گرفتار ہو چکے ہیں۔ چک کے مسلمانوں نے فوراً حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی اور مولوی فقیر محمد صاحب سے رابطہ کیا۔ ان حضرات کی قیادت کی وجہ سے قادیانی مزید غنڈہ گردی کی جرات نہ کر سکے اور ملزم کو فوراً پولیس نے حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ چک کے جملہ مسلمانوں نے عہد کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان قادیانیوں کی تقریبات میں شامل ہوا تو اس سے بھی بائیکاٹ کیا جائے۔ عام مسلمان متفق ہیں کہ کوئی بھی قادیانیوں کی طرف مائل نہ ہوگا۔ قادیانیوں کی طرف سے خلاف ورزی میں مسمی محمد حسین، عبدالواحد مرلی، ڈاکٹر طاہر احمد پیش پیش ہیں۔ چک کا ڈاکخانہ ان کے پاس ہے، ایک فری ڈسپنسری کھول رکھی ہے۔ جس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے عقائد خراب کر رہے ہیں۔
چک مذکورہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے سینئر مبلغ مولانا سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی نے دورہ کیا اور عقیدہ ختم نبوت پر درس دیا۔
سید ممتاز الحسن شاہ نے چک مذکورہ میں مسلمانوں کے جذبۂ ایمانی کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف قادیانیوں کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے اہل چک کے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہر قسم کا تعاون جاری رکھے گی۔ درس کے بعد حضرت شاہ صاحب نے زخمی نوجوانوں کے گھر جا کر ان کی عیادت اور بیمار پرسی کی۔ اس موقع پر چک کے معززین حاجی عبدالمجید، ملک عطاء محمد، چوہدری عبدالحمید، حاجی فضل، چوہدری خلیل احمد، جناب طارق محمود، محمد زبیر، محمد اشفاق، محمد اطہر موجود تھے۔
جڑانوالہ: (نمائندہ ختم نبوت) جڑانوالہ کے چک نمبر ۵۶۳ گ۔ ب میں مرزائیوں نے قرآن جلانے کی سازش کے بعد اب تین چار دن پہلے مسلمانوں کے قبرستان میں مردوں کو بھی دفن کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس واقعہ کے خلاف اس علاقہ میں دوبارہ اشتعال پھیلانا شروع ہو گیا ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عہدیداروں نے اس واقعہ پر سخت احتجاج کیا ہے اور انتظامیہ جڑانوالہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور اس مردے کو قبرستان مسلمانان سے نکالا جائے اور مرزائیوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ ورنہ حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ جڑانوالہ پر عائد ہوگی۔ کیونکہ اے سی جڑانوالہ اور آفیسران پولیس جڑانوالہ کو اس سے بار بار مطلع کیا گیا ہے۔ مگر ابھی تک کوئی کارروائی نہ ہوئی ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷، ۱۸، مورخہ ۲۳؍ جون ۱۹۸۹ء)
چک کانا گجرات میں قادیانیوں کی کھلی اور ننگی جارحیت...... مسلمان احمد خان کا قتل
گزشتہ ماہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے بیرون ملک سے اپنی جماعت کو تازہ ہدایات بھیجی ہیں۔ چنانچہ قادیانی جماعت کے ہیڈ کوارٹر ربوہ میں دو خصوصی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ شہروں کی بجائے ملک کے مختلف دیہات میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں۔ جن سے امن عامہ کی صورتحال مخدوش ہو جائے۔ شہروں کی نسبت دیہاتوں میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ صوبائی ومرکزی حکومت کے لئے تشویش ناک اور پریشان کن ثابت ہوگا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق قادیانیوں نے کثیر مقدار میں اسلحہ مختلف دیہاتوں میں سپلائی کیا۔ چنانچہ قادیانی جماعت کی سازش کا پہلا نشانہ چک ۵۶۳ جڑانوالہ کو بنایا گیا۔ قادیانی مربی کا ربوہ سے اس مذکورہ چک میں جانا اور اشتعال انگیز کارروائی میں حصہ لینا قادیانیوں کی جارحیت اور ان کی منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ۵۶۳ گ۔ ب جڑانوالہ کے علاوہ قادیانیوں نے دیگر مقامات پر مسلمان اکثریت کے خلاف اپنی گھناؤنی سازشوں اور انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ چک شمالی، چونڈہ اور ضلع سیالکوٹ کے بعض دیگر مقامات پر مسلمانوں پر قاتلانہ حملوں کی وارداتیں شروع ہو گئیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اب حال ہی میں ضلع گجرات تحصیل کھاریاں چک نمبر ۳۰ میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے مسلح تصادم نے ساری قوم کو چونکا کے رکھ دیا ہے۔ اس خون ریز تصادم میں ایک مسلمان شہید ہوا۔ جب کہ قادیانیوں کی جارحیت اور اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں تین قادیانی مارے گئے ۔ ضلع گجرات کا یہ تصادم انتہائی خطرناک تھا مگر قومی پریس میں اس کی تفصیلات بھی نہیں آئیں اور قومی رہنماؤں نے اس کا وہ نوٹس بھی نہیں لیا۔ جس کا یہ مستحق تھا۔ یہ واقعہ تحصیل کھاریاں کے ایک گاؤں چک باسریاں میں پیش آیا۔ اس گاؤں کو چک کانا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کھاریاں سے تقریباً پانچ چھ میل جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔
چک کانا کی آبادی پانچ چھ ہزار کے درمیان ہے۔ اس گاؤں میں قادیانی کسی زمانے میں عددی اور مالی لحاظ سے مسلمانوں کے مقابلے میں طاقتور تھے۔ گاؤں کی بااثر گوجر برادری کے زمیندار قادیانی تھے اور قادیانیوں کے مشنری یہاں اکثر آتے رہتے تھے۔ خود گاؤں میں بھی ان کے ہمہ وقتی کارکن موجود تھے جو گردو نواح کے دیہات میں اپنے نظریات پھیلانے کی سعی لاحاصل کرتے رہتے تھے۔ اس گاؤں میں مسلم آبادی کمزور بھی تھی اور قلیل بھی اس لئے مسلمان دبے دبے سے تھے۔ قادیانیوں نے ان پر ایسا رعب جما رکھا تھا کہ وہ دم مارنے کی سکت بھی نہ رکھتے تھے۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ بعض اوقات اس گاؤں میں مسلمان قادیانیوں کے خوف سے اپنی دینی فرائض ادا کرنے سے بھی گریز کرتے تھے۔ قادیانی اتنے بااثر تھے۔
۱۹۷۱ء میں سقوط ڈھاکہ کے ساتھ پاکستانی فوجیں اور سیکورٹی سے متعلقہ افراد بھارت کی قید میں چلے گئے۔ قادیانیوں نے سقوط ڈھاکہ پر ہر جگہ جشن منائے تھے۔ اتفاق سے چک کانا کا ہونہار نوجوان محمد امیر بھی جنگی قیدیوں میں شامل تھا۔ اس نے قیدی کے دوران وہ قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوا اور قید سے رہائی کے بعد اپنے گاؤں آ کر اس نے قادیانیوں کے ساتھ مکمل قطع تعلقی کر کے مسلمانوں کے ساتھ نشست و برخاست رکھی ۔ مگر حالات ابھی سازگار نہ تھے کہ محمد امیر کھل کر قادیانی چوہدریوں کو چیلنج کر سکتا۔ وہ خود بھی گاؤں کی چوہدری برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر بڑے بڑے بتوں سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ محمد امیر اس عرصے میں حکمت کے ساتھ کوشش کرتا رہا کہ اپنے قریبی عزیزوں اور بھائی بہنوں کو قادیانیت کے چنگل سے نکال کر اسلام کی روشنی میں لے آئے۔ اسے کسی حد تک کامیابی ہوئی۔ رفتہ رفتہ اس کی مساعی جمیلہ نے پورے گاؤں کا نقشہ بدل دیا۔ اس کے اپنے خاندان نے شروع میں خاصی مزاحمت کی مگر تبدیلی کی لہر کا راستہ نہ روک سکے۔ اس تبدیلی کی بدولت اس کے ساتھ کچھ نوجوان شامل ہو گئے ، اور کچھ پیدائشی مسلمانوں کو حوصلہ ملا۔ چنانچہ اس سال ۲۶ مئی ۱۹۸۹ء کو جمعۃ المبارک کے دن گاؤں میں ایک بڑا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں گاؤں کے گاؤں قادیانی مرد اور عورتیں حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۔ اس کے لئے فضا رمضان المبارک ہی سے بنائی جارہی تھی۔ گردو نواح کے دیہات میں بھی مسلسل اس جلسے کے اعلان ہوتے رہے تھے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق یہ جلسہ حاضری اور جوش و جذبے کے لحاظ سے مثالی جلسہ تھا۔ اس جلسہ سے قادیانی چوہدریوں کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔ وہ بوکھلائے ہوئے تو پہلے ہی سے تھے مگر اب بالکل پاگل ہو گئے۔
قادیانی اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا تھے۔ چنانچہ محمد امیر اور دیگر فعال نوجوانوں کو قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔ کئی مرتبہ دونوں پارٹیوں میں تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بالآخر بات مناظرے اور مباہلے تک پہنچی ۔ مگر کوئی نتیجہ حتمی طور پر برآمد نہ ہو سکا۔ کشیدگی کی فضا میں بقر عید سے ہفتہ عشرہ قبل طرفین نے پنچائیت کر کے طے کیا کہ اپنے اپنے عقیدے کا پرچار پر امن طریقے سے کیا جائے اور تصادم سے بچا جائے۔ یہ بھی طے ہو گیا تھا کہ کوئی فریق اسلحہ لے کر نہیں چلے گا۔ عید کے دن قادیانی نوجوانوں کا ایک گروپ اسلحہ سے لیس ہو کر گلیوں میں نکل آیا۔ مسلمانوں نے ان نوجوانوں کو پکڑ کر بٹھا لیا اور قادیانی آبادی کے لیڈروں سے سخت شکایت کی ۔ قادیانیوں کے وڈیرے موقع پر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہنچے اور اس خلاف ورزی پر معذرت کی جس کے بعد مسلمانوں نے ان نوجوانوں کو چھوڑ دیا اور تاکید کی کہ آئندہ معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
گاؤں میں عید کے روز اور اس کے دو دن بعد تک لوگ قربانی کے جانور ذبح کرتے رہے۔ قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کے لئے مسلمان نوجوانوں کا ایک گروپ گاؤں میں چکر لگا رہا تھا۔ وہ سب معاہدے کے مطابق نہتے تھے۔ قادیانیوں نے خفیہ طور پر سازش کر رکھی تھی اور وہ مسلح ہو کر ایک چوبارے میں بیٹھے تھے۔ جب یہ نوجوان ان کی زد میں آئے تو انہوں نے آتشیں اسلحہ کے فائر کھول دیئے۔ نتیجتاً ایک مسلمان نوجوان احمد خان شہید ہو گیا اور محمد اصغر، فتح علی اور عبد الرحمن شدید زخمی ہو گئے۔ قادیانیوں کی طرف سے یہ حملہ اتنا شرمناک اور قابل مذمت تھا کہ مسلمان آبادی مشتعل ہو گئی۔ اب لوگوں کے جذبات قابو میں رکھنا کسی کے بس میں نہ تھا۔ اس بے گناہ انسانی قتل کی خبر قرب و جوار کے دیہات میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پہلے ہی سے تمام لوگ خطرے کی بو سونگھ رہے تھے۔ آناً فاناً گاؤں کے سارے مسلمان جمع ہو گئے۔ وہ مرنے مارنے کے لئے بالکل تیار تھے۔ دوسرے دیہات سے بھی لوگ فوج در فوج آنے لگے اور خونریز تصادم شروع ہو گیا۔ قادیانی مورچہ بند ہو کر بیٹھ گئے تھے۔ مگر پرجوش نوجوانوں نے ان کے مورچوں کو ملیا میٹ کر دیا۔ باقی بھاگ نکلے۔ یہ اچھا ہوا کہ بھاگتے ہوئے لوگوں کا تعاقب نہیں کیا گیا۔ مگر غم و غصے سے بھرے ہوئے ہجوم نے قادیانیوں کے گھروں کو آگ لگانا شروع کر دی۔ کسی شخص نے کسی کے گھر سے کوئی چیز نہیں اٹھائی مگر ان گھروں کو جلا ڈالا گیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہجوم لوٹ مار کے لئے نہیں بلکہ قادیانیوں کی طرف سے وحشیانہ قتل پر ردعمل کے اظہار کے لئے جمع ہوا تھا۔ یہ واقعات ۱۶ اور ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۹ء کے درمیان رونما ہوئے۔
چک سکندر کے امیر محمد خان
گوجرانوالہ ڈویژن کے کمشنر اور ڈی۔آئی۔جی ضلع گجرات کے ڈی۔سی۔او اور ایس۔ایس۔پی اور دیگر تمام انتظامی افسران اضلاع گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کی بھاری پولیس نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ چک کانا کی قادیانی آبادی میں سے بہت سے لوگوں نے قادیانیت سے برأت کا اعلان کر کے اسلام میں داخل ہونے کی استدعا کی۔ مشتعل ہجوم نے ان لوگوں کی درخواست کو خوش دلی کے ساتھ قبول کیا اور انہیں معاف کر دیا گیا۔ چیدہ چیدہ قادیانی بھاگ کر ربوہ چلے گئے ہیں۔ کمشنر صاحب نے ہجوم کی موجودگی میں مسلمانوں کے مقامی رہنماؤں کو یقین دلایا تھا کہ چونکہ پہل قادیانیوں نے کی ہے۔ بار بار وہ باہمی معاہدہ امن کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف ایف۔آئی۔آر نامزد درج کی جائے گی۔ جب کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی نامزد پرچہ درج نہیں ہوگا تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مسلمانوں کے خلاف بھی پرچہ درج ہو گیا ہے اور چالیس افراد کو اس میں نامزد کیا گیا ہے۔ یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ مقامی انتظامیہ نے حقائق سے روگردانی کر کے اپنے وعدے سے منحرف ہوگئی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آگ لگانے میں بھی پہل قادیانیوں نے کی۔ ابتدائی طور پر قادیانیوں کی گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔ مگر اب خدشہ ہے کہ مسلمانوں کی گرفتاریوں کے لئے بھی چھاپے مارے جائیں گے۔ یہ سطور چھپنے تک شاید بہت سے واقعات رونما ہو چکے ہوں گے۔ اس خونریز تصادم کے ذمہ دار مکمل طور پر قادیانی ہیں۔ گھروں کا جلایا جانا یقیناً کوئی مستحسن اقدام نہیں۔ مگر قادیانیوں نے یہ اشتعال انگیزی خود کی تھی۔ اب ان میں سے کچھ لوگ بھاگ گئے ہیں اور باقی ماندہ لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ مسلمانوں اور ان کے مقامی لیڈر محمد امیر کی عظمت کی دلیل ہے کہ انہوں نے قادیانیوں کے تائب ہونے کے بعد انہیں معاف کر دیا۔ یہ اسلام کے اخلاق و آداب کے عین مطابق ہے۔ رہا آتش زنی کا واقعہ تو اتنے بڑے ہجوم میں جذبات کے اس قدر مشتعل ہو جانے کے بعد اس پر کوئی بھی کنٹرول نہ کر سکا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری آجانے کے باوجود ہجوم منتشر ہونے کے لئے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیار نہ تھا۔ انتظامیہ نے عقلمندی سے کام لیا اور ہجوم کے خلاف کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے حالات جلد پرسکون ہو گئے۔ ورنہ صورتحال بہت زیادہ بگڑ سکتی تھی اور بے شمار لوگ موت کے منہ میں جاسکتے تھے۔ ان فسادات کے موقع پر مقامی مسلمانوں نے انسانی جان کا احترام کیا جو بھاگ نکلے۔ ان کا تعاقب نہیں کیا اور جنہوں نے معافی مانگی انہیں معاف کر دیا گیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو نہ معلوم کتنی جانیں ضائع ہوجاتیں۔ اب مقامی مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ جس طرح انتظامیہ نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولی چلانے سے اجتناب کر کے صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچالیا ہے۔ اسی طرح فوری طور پر ایک جوڈیشل انکوائری کمیٹی مقرر کر کے غیر جانبدارانہ تحقیقی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔ یہ مطالبہ بالکل درست اور مبنی برحق ہے۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا ایسی کوئی کمیٹی تشکیل پا گئی ہے یا نہیں۔ اگر کمیٹی اب تک نہیں بنائی جاسکی تو صوبائی حکومت کو فوراً اس کی تشکیل کے لئے ہدایت جاری کر دینی چاہئے۔ اس سے تمام سربستہ راز کھل جائیں گے اور ممکن ہے قادیانیوں کی کسی عالمی سازش کا بھانڈہ بھی پھوٹ جائے۔
ایک ملاقات میں راقم کو تحریک کے روح و رواں اور مجاہد مولوی محمد امیر نے بتایا کہ قادیانی فتنہ اتنا خطرناک اور قادیانی مذہب اتنا مہلک ہے۔ مولوی محمد امیر نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تردید مرزائیت کے سلسلہ میں مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اپنی جماعت کے وفد کے ساتھ گزشتہ دنوں گاؤں کا دورہ کیا اور ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔ اس ملاقات میں پرعزم اور جواں ہمت مولوی محمد امیر نے بتایا کہ وہ اس ماہ کے آخر میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کریں گے۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء، زعماء اور رہنماؤں کو دعوت دی جائے گی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۳، ۱۴، مؤرخہ ۱۸ اگست ۱۹۸۹ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا دورۂ فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری گزشتہ دنوں فیصل آباد کے جماعتی دورے پر تشریف لائے۔ مولانا فیصل آباد جماعت کے رہنماؤں کے وفد کے ہمراہ چک ۵۶۳ گ۔ ب تحصیل جڑانوالہ کے گاؤں تشریف لے گئے۔ جہاں قادیانیوں کی جارحیت کے نتیجے میں ایک مسلمان شہید اور کچھ مسلمان زخمی ہوگئے تھے۔ وفد میں مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولوی فقیر محمد، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا ساجد فاروقی، مولانا محمد جمیل اجمل شامل تھے۔ وفد نے شہید ختم نبوت محمد یونس کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر مولانا ساجد فاروقی صدر مدرس جامعہ امینیہ جڑانوالہ نے خطاب کرتے ہوئے شہید ہونے والے نوجوان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ موت برحق ہے۔ مرنا تو ہر ایک نے ہے لیکن شہادت کی موت سے بڑھ کر اعلیٰ اور افضل موت کوئی نہیں، پھر ایسی شاندار موت جو سرکار دو عالم ﷺ کی ناموس کی خاطر ہو، انہوں نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت دین کا بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے۔ اس پر دین کی عمارت قائم ہے۔ قادیانی مذہب اسلام کے مقابلے پر خود ساختہ مذہب ہے۔ تمام اہل مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اسی بناء پر انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اس موقع پر شہید کے گھر مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے مرحوم کے بھائی کو جماعت کی طرف سے امداد کے طور پر پانچ ہزار روپے کا عطیہ دیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے بعد ازاں مقامی انتظامیہ کے حکام سے مذاکرات کئے اور اپنے مطالبات پیش کئے۔ چک ۵۶۳ گ۔ ب کے مسلمانوں نے پولیس کے رویہ کے خلاف بعض شکایات پیش کیں۔ وفد نے حکام کو زور دے کر کہا کہ اگر آئندہ کسی مسلمان کے ساتھ زیادتی ہوئی تو اس کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ حکام نے مجلس کے رہنماؤں کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ۳۵۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی روز دوپہر کو ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، صاحبزادہ طارق محمود کے ہمراہ ربوہ تشریف لے گئے۔ مسلم کالونی ربوہ میں مولانا خدا بخش کے علاوہ جماعت کے اراکین نے مولانا کا خیر مقدم کیا۔ بعدازاں مولانا عزیز الرحمن جامع مسجد محمدیہ ریلوے کالونی ربوہ میں مولانا محمد یوسف نے ناظم اعلیٰ کا خیر مقدم کیا۔ جماعتی امور پر تبادلہ خیال کے بعد ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکن منظور احمد کی عیادت کے لئے تشریف لائے۔ رات فیصل میں قیام کے بعد صبح مولانا عزیز الرحمن گوجرانوالہ تشریف لے گئے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷، مورخہ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء)
کیرالہ بھارت میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان آمنے سامنے مباہلہ
انجمن اشاعت اسلام کیرالہ جو برسوں سے قادیانیت کے خلاف سخت ترین محاذ بنی ہوئی ہے۔ انجمن ہٰذا اور قادیانی جماعت کے درمیان ۲۸؍ مئی ۱۹۸۹ء کو شام چار بجے بمقام کوڈیتور، ضلع کالی کٹ، کیرالہ میں مباہلہ ہوا۔ فریقین میں ۴۰ آدمی شریک ہوئے۔ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ اسلامی تاریخ کا یہ غیر معمولی واقعہ تھا۔ جس پر ساری دنیا میں غور کیا گیا۔
انجمن اشاعت اسلام کی طرف سے مولوی محمد مدنی صاحب نے دعا فرمائی کہ: ”ہم یقین کامل سے قائل ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا رسول نہیں ہیں۔ ان کا اپنے اوپر وحی کا دعویٰ کرنا صریح جھوٹ ہے۔ ان پر ایمان نہ لانے سے کوئی کافر یا جہنمی نہ ہوگا بلکہ اس پر ایمان لانے والا کافر بن جائے گا۔ حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت اور رسالت منقطع ہے۔ اے خدائے قادر! اگر ہم اس قول میں جھوٹے ہیں تو ہمارے اوپر لعنت برسا۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین! اگر ہم سچے ہیں تو ہم پر رحمت وبرکت کی بارش برسا۔ آمین!“
انجمن کے صدر جناب عبداللہ کاکیری، جنرل سیکرٹری عبداللہ احمد، رد قادیانیت کی کتابوں کے مصنف عبدالرحمٰن کوڈیتور، مولوی ابراہیم احمد، قاضی عبدالسلام، خطیب عبدالرحمٰن مدنی، محمد انصاری وغیرہ مباہلہ میں شریک ہوئے۔ قادیانیوں کی طرف سے محمد ابوالوفاء، چیف مشنری کیرالہ نے دعا کی ۔”ہم یقین کامل کے ساتھ قائل ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مہدی موعود، عیسیٰ بن مریم اور مسیح موعود ہیں اور رسول من اللہ ہیں۔ ان کے پیش کردہ الہامات اور وحی اللہ کی طرف سے ہیں۔ ان کے نہ ماننے والے کافر اور جہنمی ہوں گے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت بغیر شریعت جاری ہے۔ اے خدائے قادر! اگر ہم اس قول میں جھوٹے ہیں تو ہم پر سخت عذاب نازل فرما۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین! اگر ہم سچے ہیں تو ہم پر رحمتیں برسا۔ آمین!“
قادیانی امیر کیرالہ، ڈاکٹر منصور احمد، مبلغ محمد علوی، ایم گوہر وغیرہ بھی مباہلہ میں شریک ہوئے۔ اس تاریخی واقعہ کی عینی شہادت کے لئے بیس ہزار سے زائد افراد جمع ہوئے، جن میں بوڑھے، بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔ مگر سناٹے کا یہ عالم تھا کہ سوئی گری آواز صاف سنائی دیتی تھی۔ تقویٰ اور ایمان کا انمول نظارہ تھا کہ کہیں اور نہیں پایا جاتا۔ انجمن اشاعت اسلام کیرالہ ۱۹۸۱ء سے کیرالہ، کرناٹک اور لکشدیپ میں قادیانیت کے خلاف کام کر رہی ہے۔ تقریری، تحریری اور مناظرے منعقد کرتی ہے۔ پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور اب ایک ضخیم کتاب چار جلدوں میں شائع ہونے والی ہے۔ ان شاء اللہ! اس کا اردو اور انگریزی میں بھی ترجمہ کرنے کا ارادہ ہے۔ کتابچے اور پمفلٹ ہزاروں کی تعداد میں چھپوا کر مفت تقسیم کرتی رہتی ہے۔ انجمن کی ایک واضح خصوصیت یہ ہے کہ کیرالہ میں کام کرنے والے سارے فرقے قادیانیت کے خلاف تمام اختلافات کو بھلا کر متحد ہو گئے ہیں۔ ۱۰؍ جون ۱۹۸۸ء کو قادیانی پیشوا مرزا طاہر نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مباہلے کا چیلنج دیا۔ اردو، انگریزی، ملیالم وغیرہ زبانوں میں مباہلے کے ہزاروں نسخے شائع کر کے مفت تقسیم کئے گئے۔ جس پر مرزا غلام احمد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی اور قادیانیوں کے خلاف اعتراضات لکھ کر فریق ثانی کو اس پمفلٹ پر دستخط کر کے مباہلے میں شریک ہونے کا کہا گیا۔ ہندوستان، پاکستان وغیرہ کے ممالک کے بہت سے علماء نے مباہلہ قبول کر کے آمنے سامنے مباہلہ کرنے کے لئے مقام اور وقت بھی متعین کرنے کو کہا۔ لیکن مرزا طاہر نے جواب دیا کہ مباہلہ کے لئے ایک جگہ جمع ہونا شرط نہیں ہے۔
کیرالہ میں انجمن اشاعت اسلام نے قادیانی چیلنج کا یہ جواب دیا۔ آپ کا چیلنج اصل میں مباہلہ کا نہیں ہے۔ اصلی مباہلہ وہ ہے جو فریقین مع اپنے اہل وعیال کے ایک جگہ جمع ہو کر جھوٹوں پر لعنت ہونے کی دعا کریں۔ یہ جواب اخباروں میں مفصل شائع کیا گیا۔ ملیالم، اردو کنڑی وغیرہ زبانوں میں پمفلٹ کی شکل میں شائع کر کے مفت تقسیم کئے گئے۔ یہ بھی لکھا کہ خلیفہ نے جھوٹوں پر لعنت کی دعا نہیں کی ہے۔ لہذا انہیں میدان میں آنا چاہئے یا اپنے نائب کو دعا کرنے کی اجازت دے دیں۔ خلیفہ نے یہ جواب دیا کہ بظاہر تو تم نے مباہلہ قبول نہیں کیا لیکن گندگی میں آگے بڑھ گئے ہو۔ اس لئے ہمیں امید ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری اہانت کے سامان پیدا کر کے نشان دکھائے گا۔
بعد میں قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ نے انجمن کی ساری شرائط قبول کیں اور کیرالہ کی قادیانی جماعت کو انجمن اشاعت اسلام کے ساتھ اصلی مباہلہ کرنے کی اجازت دے دی اور خود مان لیا۔ ۱۰؍ جون والا چیلنج اصلی مباہلہ نہیں تھا۔ اصلی مباہلہ وہی ہے جو قرآنی ارشاد کے مطابق کیا جائے۔ قادیانی مذہب کے حق و باطل کی تفریق کے لئے کسی قسم کے مباہلے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانے ہی میں اس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ ۱۰؍ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ، مطابق ۱۵؍ جون ۱۸۹۳ء کو بمقام امرتسر مولوی صوفی عبدالحق غزنوی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے درمیان مباہلہ ہوا تھا۔ مرزا قادیانی نے اعلان کیا تھا کہ فریقین میں جو جھوٹا ہے۔ وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔ خدائے قوی و قادر نے یہ فیصلہ کیا کہ ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء میں مرزا قادیانی مر گیا۔ حالانکہ صوفی عبدالحق غزنوی نے ۱۹۱۷ء میں انتقال فرمایا۔ اس نو سال بعد تک زندہ رہے۔ ان کا انتقال ۱۶؍ مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا۔
اسی طرح ابوالوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ مباہلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے تھے۔ مگر بقول مرزا قادیانی انہوں نے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق خدا سے آخری فیصلہ چاہا۔ اے میرے آقا! مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔ ہم میں سے جو تیری نگاہ میں جھوٹا اور مفتری ہے۔ اسے صادق کی زندگی میں طاعون ہیضہ وغیرہ جیسی مہلک بیماریوں سے ہلاک کر (بدر، قادیان ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء) خدا نے فیصلہ فرمایا جو سب سے بڑا عادل ہے اور منصف ہے کہ اگلے سال مرزا صاحب کی موت ہیضہ سے ہو گئی اور مولوی ثناء اللہ اس کے چالیس سال بعد تک قادیانیت کے خلاف کام کرتے رہے۔ مگر قادیانیوں نے مباہلہ کے ان دونوں خدائی فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا اور مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر ایمان نہیں لائے۔
اب مباہلے کا چیلنج ملیالم میں شائع ہونے پر مرزا غلام احمد قادیانی کی جعلی نبوت کا پردہ ایک بار پھر فاش ہوا۔ مرزا طاہر کا نائب کیرالہ قادیانی جماعت کے امیر ملیالم میں مباہلہ شائع ہونے کے فوراً اس دنیا کو چھوڑ کر واصل جہنم ہوا لیکن قادیانیوں کو اس سے بھی عبرت نہیں ہوئی۔ چنانچہ اب پھر قادیانی خدا سے فیصلہ چاہتے ہیں۔ لہٰذا انجمن اشاعت اسلام کیرالہ سے مباہلہ ہو چکا۔ ہمیں کامل یقین ہے۔ خدائے عزوجل ایک بار پھر قادیانیت کے باطل ہونے کا کھلم کھلا فیصلہ کرے گا۔ ہم قارئین سے عرض کرتے ہیں کہ صدق دل سے دعا فرمائیں کہ نادان قادیانیوں کے لئے ایک کھلا نشان دکھایا جائے اور ان کو شرف ہدایت بخشے جنہیں قادیانیوں نے تشویش میں ڈالا ہوا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۸، ۱۹، مورخہ ۱۱ تا ۱۷؍ اگست ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صرف نواز شریف پڑھیں
سی آئی اے کے حمید اللہ قریشی نامی ڈی ایس پی فیصل آباد میں مسلسل ۲۵ برس سے تعینات ہے۔ اس پولیس افسر کی مسلسل تعیناتی کے خلاف دینی، سماجی اور عوامی حلقوں کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے۔ ۲۱؍اگست ۱۹۸۹ء کو مسلمانان فیصل آباد نے قادیانی جارحیت اور مرزائی ڈی ایس پی کی مستقل تعیناتی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ احتجاجی جلوس کی قیادت مقامی علماء کرام نے کی۔ علماء نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانی ڈی ایس پی کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ اسی طرح کا ایک اور مظاہرہ چنیوٹ اور ربوہ کے علماء نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجاً سڑک بلاک کی اور قادیانی ڈی ایس پی حمید اللہ قریشی کا پتلا نذر آتش کیا۔ چنیوٹ اور ربوہ کے علماء اور عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ بالا قادیانی ڈی ایس پی کے ربوہ میں مقیم بھائی بشیر احمد عرف بلا کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ یہ شخص جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتا ہے۔ علاقے بھر میں اس نے غنڈہ گردی اور دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ گزشتہ دنوں ربوہ پولیس نے اس کے مکان پر چھاپہ مار کر لاکھوں روپے کا مسروقہ سامان برآمد کیا ہے۔ مقامی علماء نے ربوہ تھانہ کے انسپکٹر اور پولیس کے دلیرانہ اقدام پر تحسین کا اظہار کیا ہے اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اثر و رسوخ رکھنے والے مرزائی ڈی ایس پی حمید اللہ قریشی کا فوراً تبادلہ کیا جائے تاکہ وہ تفتیش پر اثر انداز نہ ہو سکے۔
قادیانی ڈی ایس پی حمید اللہ قریشی ایک خطرناک، متعصب اور کٹر قادیانی ہے۔ فیصل آباد میں اس کی مسلسل تعیناتی قادیانیوں کو تحفظ دینے کے لئے ہے۔ قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ربوہ چونکہ فیصل آباد ڈویژن میں واقع ہے۔ اس لئے متعلقہ قادیانی ڈی ایس پی با اعتماد مہرے کی حیثیت سے اپنی جماعت کی سازشوں اور پالیسیوں کے لئے سرگرم عمل ہے۔ اپریل ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے بعد قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہو گئی۔ اس آرڈیننس کے تحت پہلی مرتبہ قادیانیوں کو بذریعہ قانون لگام دی گئی۔ چنانچہ اس صدارتی آرڈیننس کی رو سے فیصل آباد کے اندر بھی جارحیت پسند اور قانون شکنی کے مرتکب مرزائیوں کے خلاف مقدمے درج ہوئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کی معلومات کے مطابق قادیانی ڈی ایس پی نے مرزائیوں پر قائم ہونے والے ہر مقدمے میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور مرزائی ملزموں کو تحفظ فراہم کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتا رہا۔ موصوف کی تمام خلاف قانون اور اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی شکایتیں مقامی جماعت کے نوٹس میں ہیں۔ ہماری جماعت کے سیکرٹری اطلاعات ونشریات مولوی فقیر محمد صاحب اکثر و بیشتر ٹیلی گرامز، پریس ریلیز اور خطوط کے ذریعہ ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو مطلع کرتے رہے ہیں لیکن افسوس کہ ان شکایات کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قادیانی ڈی ایس پی حمید اللہ قریشی فیصل آباد میں ہیروئن کا مکروہ دھندہ بھی کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس کے خصوصی کارندے اس کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔ ہیروئن کا یہ ناجائز کاروبار وسیع پیمانے پر انتہائی منظم اور خفیہ طریقے سے کیا جاتا ہے۔ مرزائی ڈی ایس پی کے متعلق اس کی سماج دشمن سرگرمیوں کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کی حساس ایجنسیاں اور عقابی نگاہیں رکھنے والے ادارے قادیانی افسر کی خلاف قانون اور سماج دشمن سرگرمیوں سے ضرور آگاہ ہوں گے۔ اگر یہ باتیں سچ ہیں تو کیا یہ سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں؟ اس قانون شکنی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے بعد اس قادیانی افسر کو معطل ہو جانا چاہئے تھا۔
سی آئی اے سٹاف کے مرزائی ڈی ایس پی حمید اللہ قریشی کے سرکاری اختیارات سے تجاوز کا مبینہ ثبوت ۱۳؍ستمبر ۱۹۸۹ء کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نوائے وقت لاہور کی وہ چونکا دینے والی خبر ہے۔ جس میں ربوہ پولیس نے سی۔آئی۔اے سٹاف کے قادیانی ڈی۔ایس۔پی کے بھائی بشیر احمد بٹلا کے مکان پر چھاپہ مار کر بڑی تعداد اور بھاری مقدار میں مسروقہ سامان برآمد کیا ہے۔ جب مرزائی پولیس افسر کا غیر سرکاری بھائی اپنے سرکاری بھائی کے اختیارات سے اس قدر ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے تو اختیارات رکھنے والا پولیس افسر اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے میں کیونکر پرہیز کر سکتا ہے؟ کچھ عرصہ پہلے قادیانی ڈی۔ایس۔پی کے اسی بھائی نے ایک شخص کو قتل کیا اور الٹا پرچہ بے گناہ مسلمانوں پر کروا دیا۔ ربوہ اور اس کے نواحی علاقوں کے لوگ بشیر احمد بٹلا کے ظلم و ستم اور دہشت گردی سے عاجز آئے ہوئے ہیں۔ قادیانی ڈی۔ایس۔پی کے بھائی کی اس ظالمانہ حرکت پر بعض دینی حلقوں کی جانب سے صدائے احتجاج بلند ہوئی لیکن ان کی صدا نقار خانہ میں طوطی کی صدا ثابت ہوئی۔ صد افسوس کہ وطن عزیز میں خون سستا اور انصاف مہنگا ہے۔
قادیانی ڈی۔ایس۔پی حمید اللہ قریشی چونکہ ایس۔آئی سے لے کر ڈی۔ایس۔پی کے عہدے تک مسلسل فیصل آباد میں تعینات ہے۔ اس دوران اس شخص نے سیاسی اثر ورسوخ بھی حاصل کر لیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ موصوف نے پیپلز پارٹی اور اسلامی جمہوری اتحاد دونوں کے رہنماؤں کے ساتھ مخلصانہ اور برادرانہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ طویل مدت کی سرکاری ملازمت میں اس نے صحافی برادری کے بعض نادان دوستوں سے خوشگوار تعلقات بنالئے ہیں جو اس کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر اپنے اخباروں میں شائع کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی دنیا و آخرت کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ قادیانی پولیس افسر کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والے ایک صحافی کا حشر دنیا والوں کے سامنے ہے۔ ہمارا قلم تھر تھرا اٹھتا ہے۔ اس پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ مرحوم کا معاملہ اب خدا کے سپرد ہے لیکن ہمارے صحافی دوستوں کو عقیدۂ ختم نبوت سے غداری اور مرزائیت نوازی کا مظاہرہ کرنے والے صحافی کے انجام سے عبرت ضرور حاصل کرنا چاہئے۔ انہیں قلم کی آبرو کی حفاظت کرنی چاہئے یا یہ پیشہ ترک کر کے کسی اور کاروبار کی دلالی کرنی چاہئے۔ اللہ رب العزت نوائے وقت فیصل آباد کے نمائندہ خصوصی احمد کمال نظامی کو خیر و برکت سے نوازے۔ ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ قادیانی ڈی۔ایس۔پی حمید اللہ قریشی نے اپنے خلاف چھپنے والی خبروں کے سلسلہ میں انہیں رام کرنے کے لئے کتنے جتن کئے۔ فیصل آباد پریس میں عقیدۂ ختم نبوت سے دلی وابستگی رکھنے والے بعض قلم کاروں نے بھی بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم ان کے جذبۂ ایمان کے لئے دعا گو ہیں۔
قادیانی ڈی۔ایس۔پی ملزموں کو گرفتار کرنے میں افسانوی کہانیاں تراشنے اور انہیں ڈرامائی رنگ دینے میں فنکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقریباً دو برس پہلے پیپلز کالونی فیصل آباد میں پولیس مقابلہ میں دو افراد مارے گئے۔ موصوف نے اس معرکہ میں ہیرو بننے کی کوشش کی۔ حالانکہ ان دونوں ملزموں کو موقع پر نہیں بلکہ تھانہ لے جا کر مارا گیا۔ ورثاء نے انکوائری کا مطالبہ کیا لیکن اس واقعہ کو پولیس کی روایتی انا کے مسئلہ پر مقتولین کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا۔ کیا صوبائی حکومت اس ظالم ڈی۔ایس۔پی کے ہاتھوں بھینٹ چڑھنے والوں، بے گناہ مظلوموں کو انصاف مہیا کرے گی؟ قادیانی ڈی۔ایس۔پی کے ظلم و تشدد، بربریت، سفاکی کا ایک دفتر موجود ہے لیکن یہ شخص سیاسی شخصیتوں کی پشت پناہی کی بناء پر محکمانہ گرفت سے ابھی تک محفوظ ہے۔ قادیانی ڈی۔ایس۔پی کی کرپشن کا یہ عالم ہے کہ وہ ہمارے مسلمان پولیس افسروں کی طرح معمولی رقم پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے نام کی بیٹھی ہوئی دھاک اور اپنے حاصل شدہ اختیارات کی بھاری قیمت وصول کرنے کا عادی ہے۔ متذکرہ بالا قادیانی ڈی۔ایس۔پی کے خلاف دینی حلقوں نے آواز اٹھائی تو انہی دنوں پرتاب نگر فیصل آباد میں ایک ہی گھر کے چھ افراد کی ہلاکت کا روح فرسا واقعہ رونما ہوا۔ اس واقعہ کے خلاف سارا شہر سراپا احتجاج بن گیا۔ اس وقت کے پولیس کے ضلعی سربراہ نے قادیانی ڈی۔ایس۔پی کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے یہ کیس اس کے سپرد کیا۔ قادیانی ڈی۔ایس۔پی حمید اللہ قریشی نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بڑے طمطراق سے اعلان کیا کہ ملزم چند روز تک گرفتار کر لئے جائیں گے۔ موصوف نے ملزمان کی نشاندھی بھی کر دی لیکن آج تک نہ تو اصل ملزمان پکڑے گئے اور نہ ہی اس افسوس ناک سانحہ کا عقدہ کھل سکا۔ رانا ہوزری کے مشہور واقعہ قتل کی تفتیش بھی اسی قادیانی کے سپرد ہوئی۔ ان دنوں فیصل آباد میں تعینات ڈی آئی جی مرزائیت نوازی میں مشہور تھے۔ اس قتل کے ملزمان بھی بے نقاب نہ ہو سکے۔ البتہ یہ بات مشہور ہوئی۔ سابق ڈی آئی جی صاحب نے اس کیس میں چودہ لاکھ روپیہ کمایا۔ نہ جانے اس میں قادیانی ڈی ایس پی کا حصہ کتنا تھا؟
ہمارا قادیانی ڈی ایس پی حمید اللہ قریشی سے نہ ذاتی جھگڑا ہے اور نہ ہم اس کی ذات کے خلاف ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک پولیس افسر مسلسل ۲۵ برس سے ایک حساس جگہ پر کیوں اور کیسے تعینات ہے؟ کیا ہماری انتظامیہ اور صوبائی حکومت اس بات کی تحقیق کرے گی کہ حالیہ انتخابات کے بعد ملک بھر میں سرکاری افسروں اور خصوصاً پولیس افسروں کے وسیع پیمانے پر تبادلے ہوئے ہیں۔ اگر اس کے تبادلے میں رکاوٹ اس کی ایمانداری اور فرض شناسی ہے تو پھر باقی ایماندار اور فرض شناس افسروں کو کس بات کی سزا دی گئی ہے؟ سی آئی اے سٹاف کے قادیانی ڈی ایس پی کی سرپرستی اور پشت پناہی جو سیاسی حضرات کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے علم میں ہیں۔ موصوف کا حالیہ تبادلہ رکوانے میں غیروں نے نہیں اپنوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
فیصل آباد میں اسلامی جمہوری اتحاد کے دو اہم ستون اس قادیانی پولیس افسر کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ یہ قادیانی ڈی ایس پی اس قدر اہمیت حاصل کر گیا ہے کہ اس کا تبادلہ صوبہ پنجاب کے ایماندار اور محب وطن آئی جی صاحب بھی نہیں کر سکتے۔ اس کی قسمت کا فیصلہ صرف نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب کر سکتے ہیں لیکن صد افسوس کہ میاں نواز شریف ایسے نادان دوستوں کے گھیرے میں ہیں جو ان کی سیاسی ضرورت اور مجبوری ہیں اور یہ لوگ نواز شریف کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی آخرت تباہ کر رہے ہیں۔ اگر اسلامی جمہوری کے یہ نام نہاد راہنماء خدا اور رسول کو بھول گئے ہیں تو یہ ان کی بد قسمتی ہے۔ عشق رسالت ﷺ سے روگردانی کر کے کملی والے کے دشمن کے ساتھ ان کی رغبت اور محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر مرتبہ اس کا تبادلہ رکوانے کا باعث بنتے ہیں تو انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انہیں بہر حال عوام کی عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ ہم مصلحتاً ان کا نام نہیں لکھ رہے۔ ہم انہیں موقع دے رہے ہیں کہ وہ باغیان مصطفےٰ ﷺ کی فہرست میں اپنا نام نہ لکھوائیں تو بہتر ہے۔ اگر ہم نے ان حضرات کی مرزائیت نوازی، اسلام دشمنی کا پردہ ان کے حلقہ انتخاب میں چاک کیا تو پھر وہ یقین کریں کہ انہیں منہ چھپانا مشکل ہو جائے گا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے یہ راہنماء ہمارے صبر کا کافی امتحان لے چکے ہیں۔ اب انہیں شرم کرنی چاہئے ۔‘‘
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۷ تا ۹ ،مؤرخہ ۲۹/ستمبر ۱۹۸۹ء)
انڈونیشیاء کے پاکستانی سفارت خانے میں قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیاں
قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ اس وقت دنیا میں ان کی تعداد پندرہ ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور دنیا کے ۱۲۰ ممالک میں ان کے ماننے والے قیام پذیر ہیں۔ اسرائیل سمیت دنیا کے ایک سو بیس ممالک میں ان کے عبادت خانے موجود ہیں۔ جہاں انتہائی منظم انداز میں احمدیت کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کا کام جاری ہے۔ پاکستان میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ جس پر برافروختہ ہو کر ۱۹۸۴ء میں خلیفہ وقت مرزا طاہر احمد انگلستان ہجرت کر گئے ہیں اور اب احمدیت کی نشر و اشاعت کا مرکز لندن ہے۔ بیشتر اسلامی ممالک میں بشمول
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
سعودی عرب قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ قادیانی حضرات شہرت کی خاطر اکثر و بیشتر مباہلوں ، مناظروں اور اسی قسم کی دیگر حرکات سے اپنے وجود کا یقین دلاتے رہتے ہیں۔ پچھلے سال ۱۰/جون ۱۹۸۸ء کو مرزا طاہر احمد نے تحریری طور پر دنیا کے مسلمانوں کو مباہلے کا چیلنج دیا تھا جسے اکثر و بیشتر مقامات پر انفرادی اور اجتماعی طور پر قبول کر لیا گیا تھا اور مرزا طاہر سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک مقررہ جگہ پر تشریف لے آئیں۔ جہاں حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ مگر انہوں نے یہ کہہ کر اپنی جان بچالی کہ مباہلے کے لئے کسی ایک جگہ جمع ہونا شرط نہیں ہے۔ ان کے اتباع میں جماعت احمدیہ کیرالہ کے امیر نے بھی وہاں کے مسلمانوں کو مباہلے کا چیلنج دیا۔ ۲۸؍مئی ۱۹۸۹ء کو مباہلے کا دن طے کیا گیا تھا۔ مگر چیلنج کے فوراً بعد خلیفہ وقت کے نائب اور امیر احمدیہ جماعت ملیالم اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ اس واقعے کی تفصیل دیگر اخبارات کے علاوہ ۱۳؍جولائی ۱۹۸۹ء کے تکبیر میں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ پاکستان میں بھی احمدیوں کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔ پاکستان میں مختلف ناجائز ذرائع سے احمدی حضرات نے بہت سے اہم مناصب پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وزارت خارجہ اور وزارت تعلیم پر ان کی خاص توجہ ہے۔ اس سلسلے میں جکارتہ کے پاکستانی سفارتخانے کے پولیٹیکل افیئرز کے بعض پاکستانیوں کی طرف سے ارسال کردہ بعض حقائق جو انتہائی مستند طریقے سے حاصل شدہ ہیں۔ پیش کئے جارہے ہیں۔ حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ ان واقعات کی فوری تحقیقات کرائی جائے اور پاکستانی سفارتخانے اور اسکول کو نیز جہاں کہیں بھی اس قسم کے واقعات ہو رہے ہیں ان سے نجات حاصل کی جائے۔ جکارتہ میں پاکستانی ایمبیسی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق انڈونیشیاء میں متعین پاکستانی سفیر، جناب خالد سلیم، کمرشل سیکرٹری، مسٹر انجم بشیر، پریس اٹیچی مسٹر جاوید سرفراز اور پاکستانی اسکول جکارتہ کے پرنسپل مبشر احمد انتہائی متعصب قادیانی (احمدی) ہیں۔ یہ حضرات پاکستان کے عزت و وقار اور تحفظ و سلامتی کے ضیاع کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پاکستان دشمن سرگرمیوں میں پوری طرح ملوث ہیں۔ ان حضرات نے تین ہندوستانی نوجوان لڑکیوں اور دو اسرائیلی عورتوں کو پاکستان کمیونٹی اسکول اور پاکستان ایمبیسی میں ملازم رکھا ہوا ہے۔
ان حضرات کے پرائیویٹ خطوط سے جو بعض محب وطن پاکستان عناصر کے ہاتھ لگ گئے۔ ثابت ہو گیا کہ یہ حضرات پاکستانی پاسپورٹ اور ویزے بیچنے کے کالے دھندے میں بھی پوری طرح ملوث ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی انٹیلی جنس کمانڈوز اور اسرائیلی ایجنٹوں، موساد کے کمانڈوز کو ویزے جاری کئے ہیں تاکہ وہ پاکستان کے بڑے شہروں میں قتل عام کریں۔ تخریب کاری کے باقاعدہ نظام کو منظم کریں اور پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیں، بالخصوص کہوٹہ پلانٹ کو۔ یہ ساری خط و کتابت اور پاکستانی رازوں پر مشتمل دستاویزات کی ترسیل ان ہندو اساتذہ کے ذریعہ ہو رہی ہے جو پاکستانی ایمبیسی اسکول جکارتہ میں کام کر رہے ہیں اور حقیقتاً وہ ”را“ اور ”موساد“ کے لوگ ہیں۔ انڈین ٹیچرز کے بارے میں سرکاری ریکارڈ سے جو ایمبیسی کے پریس اٹیچی کے دفتر سے برآمد ہوا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ اسکول کے ایک ٹیچر مس پشپا گورنانی جو ہندو ہیں، انہوں نے جکارتہ کے گاندھی انٹرنیشنل اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے اور پھر پونہ جاکر سی .ٹی کی ٹریننگ کی ہے۔ انہیں ان کی خدمات عالیہ کے صلے میں چار سو امریکی ڈالر مشاہرہ دیا جاتا ہے۔ دوسری ہندو ٹیچر مسز اولینڈیو ہیں، جنہوں نے ایک فلپائنی سے شادی کرلی ہے، انہوں نے بھی پونہ میں تعلیم حاصل کی ہے، اور گاندھی میموریل اسکول جکارتہ میں بھی پڑھا چکی ہیں، اور اب پاکستانی اسکول میں پڑھاتی ہیں، انہیں ماہانہ چھ سو یو. ایس ڈالر مشاہرہ ادا کیا جاتا ہے۔ ان کے مقابلے میں دیگر انڈونیشی ٹیچرز سے بہت برا سلوک ہوتا ہے۔ تنخواہیں بھی بہت کم ہیں۔ حالانکہ وہ لوگ اعلیٰ تعلیمی اسناد کے حامل ہیں۔ پاکستانی سفیر صاحب کے اس امتیازی برتاؤ کو انڈونیشی محکمہ تعلیم انٹیلی جنس ایجنسی باکن کے علم میں بھی لایا جا چکا ہے۔ جن کی طرف سے آج کل تفتیش ہو رہی ہے۔ ایک اور ہندو انڈین ٹیچر مس پڈتھا ہیں۔ ان کی ماہانہ تنخواہ پانچ سو امریکن ڈالرز ہے۔ ایک اسرائیلی ایجنٹ مسز ریال
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھی اس سکول میں متعین کی گئی ہیں جن کا ماہانہ مشاہرہ چھ سو یو۔ایس ڈالر ہے۔ سفارتخانے میں سفیر صاحب کی ”پرائیویٹ سیکرٹری“ مسز جینی ہیں، جو عیسائی ہیں اور اسرائیلی مفادات کے لئے کام کرتی ہیں۔ ان کی تنخواہ بھی بہت زیادہ ہے۔
اسکول کی انجمن والدین اور اساتذہ وطلباء کے والدین کی طرف سے بھیجے گئے بے شمار خطوط سے پتہ چلا ہے کہ اسکول میں ملازم ہندوستانی اساتذہ نہ صرف پاکستان کے قیام کو غلط بتاتے ہیں بلکہ موقع بہ موقع پاکستان اور پاکستانیوں کی توہین کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف بچوں کے دلوں میں نفرت اور تحقیر واستہزاء کو بھی اپنا مستقل وطیرہ بنایا ہوا ہے۔ پاکستان کی تہذیب وثقافت شعائر اسلامیہ، پاکستانی لیڈروں اور قائداعظم، شہید ملت، علامہ اقبال وغیرہ کو مستقل برا بھلا کہا جاتا ہے۔ پاکستانی سکول کے نصاب میں من مانی تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔ مثلاً گریڈ نمبر ۵ اور گریڈ نمبر ۶ کی جغرافیے کی کتاب کو، جس میں پاکستان کا جغرافیہ تھا۔ ایک اور ملک کے جغرافیے کی کتاب سے تبدیل کر دیا گیا ہے جو نہ صرف بچوں کے لئے غیر ضروری ہے۔ بے حد مشکل بھی ہے۔ پاکستانی بچوں کو ہندو اساتذہ مشرقی پاکستان کے سقوط کی مثالوں اور دیگر طریقوں سے بتاتے رہتے ہیں کہ پاکستان غلط بنا ہے اور ایک نہ ایک دن اسے ٹوٹنا ہے۔ ان کا طرزِ عمل بالکل وہی ہے جو بنگلہ دیش بننے سے پہلے کے بنگالی ہندو اساتذہ کا تھا۔ انڈونیشی ٹیچرز میں بھی پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف نفرت کا جذبہ بڑی تیزی سے ابھر رہا ہے۔ کیونکہ سفیر صاحب اور پرنسپل صاحب کی مہربانیوں سے ہندو ٹیچرز کو انڈونیشی ٹیچرز کے مقابلے میں کم از کم پانچ گنا زیادہ تنخواہ دی جارہی ہے۔
پاکستانی اسکول میں عیسائیوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ کلاسوں میں روزانہ عیسائی عبادات انجام دی جاتی ہیں۔ چیریٹی کیک تیار کئے جاتے ہیں جو پاکستانی اور دیگر مسلمان بچوں میں معاشرتی سرگرمیوں کے نام پر تقسیم کئے جاتے ہیں۔ ایک بڑے افسر نے ۲۱؍ جون ۱۹۸۹ء کو اسکول کے معائنے کے بعد اس کی تصدیق کرتے ہوئے اسے غیر مناسب بھی قرار دیا ہے۔ تمام عیسائی تہوار بڑی دیدہ دلیری سے، شان وشوکت سے منائے اور پاکستانی اور دیگر مسلمان بچوں سے منوائے جاتے ہیں۔ اسکول کے مختلف فنکشنز اور تقریبات میں ہندوستانی بالخصوص جنسی مظاہروں سے بھر پور رقص خاص اہتمام کے ساتھ دکھائے جاتے ہیں۔ احمدی پرنسپل جناب مبشر احمد صاحب نے ۲۱؍ فروری ۱۹۸۹ء کو اپنی آمد کے فوری بعد انڈین ایمبیسی سے خصوصی درخواست کی کہ پاکستانی اسکول میں ہندوستانی کلچر اور موسیقی پر مبنی کلاسوں کا اجراء کیا جائے۔ ان کے اس شرمناک اقدام سے پاکستانی قوم کے عزت ووقار کو کس قدر بٹہ لگا اور وہاں مقیم غیرت مند اہل پاکستان کی کتنی تضحیک ہوئی۔ اس کا اندازہ ہر غیرت مند پاکستانی لگا سکتا ہے۔ وہاں کام کرنے والے عیسائی مشنری گروپوں اور طائفوں نے اسکول کے ہندوستانی اساتذہ کو فرنیچر، پوسٹر اور وال کلاک وغیرہ پیش کئے ہیں تاکہ اسکول میں آویزاں کیا جائے، ہر محب وطن مسلمان اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان پوسٹروں میں کن ”ارشادات“ کی تلقین ہوگی۔
مسلمان اساتذہ کی تضحیک وتذلیل سے انہیں اس بات کی طرف دھکیلا جاتا ہے کہ وہ استعفیٰ دے دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ہندو اور عیسائی اساتذہ بھرتی کئے جاسکیں۔ اس وقت بھی بچوں کے والدین کے تخمینے کے مطابق اسی فیصد اساتذہ غیر مسلم ہیں۔ اسکول اخلاقی گراوٹ، ابتذال اور مالی بدعنوانیوں کا مرکز بن چکا ہے جسے قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہی کہا جاسکتا ہے۔ سنگاپور بینک میں اسی ہزار امریکی ڈالروں پر مشتمل ایک خفیہ ریزرو فنڈ کھولا گیا ہے جو وزارت تعلیم یا حکومت پاکستان سے بالکل پوشیدہ ہے۔ تحقیق وتفتیش ہی پر شاید اس کا پتہ لگایا جاسکے۔ حکومت پاکستان ہر سال اس سکول کے لئے نو لاکھ روپے کی گرانٹ دیتی ہے۔ مگر یہ ساری گرانٹ اور وہاں سے حاصل کردہ آمدنی کا ایک معتدبہ حصہ درج بالا ذمہ داران سکول کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ جب کہ پاکستانی قوم کا بڑا حصہ خود افلاس اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پریشان کن حالات سے دوچار ہے۔ بیروزگاری اور بحران بڑھتے جارہے ہیں۔ یہاں مسٹر بشیر ہی کے پاس دو دو کاریں موجود ہیں۔ احمدی پروفیسر مبشر احمد ، سفیر کبیر کے سالے ہیں۔ اسی لئے بغیر کسی انتخاب یا وزارت تعلیم کی ضروری کارروائی کے اس منصب پر متعین کر دیئے گئے ۔ حالانکہ اس جگہ اور یہاں دیگر متعدد جگہوں کے لئے اس مرتبہ انتخاب صوبہ بلوچستان سے ہونا تھا۔ گویا اس طرح واضح اور صریح طور پر صوبہ بلوچستان کے حقوق کو غصب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور احمدی مبلغ صاحب کو بھی ربوہ سے ایک ہزار ڈالر ماہانہ تنخواہ پر طلب کیا گیا ہے۔ یہ صاحب بھی بظاہر تعلیم دینے کے لئے بلائے جارہے ہیں جب کہ ان کا کبھی بھی شعبہ تعلیم سے کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ہے۔ اس مرتبہ تمام اساتذہ کا انتخاب اور تقرر صوبہ بلوچستان سے ہونا تھا، مگر سفیر صاحب اور مسٹر انجم بشیر تمام قوانین اور صوبائی کوٹے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور بلوچوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے صرف اور صرف احمدی اساتذہ لا رہے ہیں جس کے لئے وزارت تعلیم سے کوئی منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی ہے۔ ان حضرات کو لانے سے جہاں انہیں پاکستانی اسکول کی چھت نصیب ہوگی ۔ وہیں اس کی آڑ میں انڈونیشیاء کا وسیع وعریض میدان میسر ہوگا تا کہ احمدیت اور قادیانیت کی دل کھول کر تبلیغ کی جاسکے اور لوگوں کو احمدی بنایا جاسکے۔
پاکستانی ایمبیسی کے دیگر اسٹاف ممبر عرصہ دراز سے یہ باتیں حکومت کے علم میں لاتے رہے ہیں۔ مگر شاید یہاں کے ارباب حل وعقد کا خیال ہے کہ ہندو اساتذہ عیسائیوں یا پاکستان دشمن حضرات کی تعلیم سے بچوں پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا، تعلیم تو ہوتی ہی رہے گی۔ ایک بڑے افسر کی طرف سے ایک مرتبہ اسٹاف میٹنگ میں یہ کہا بھی گیا ہے کہ مسلمان بچے ہندو تھوڑے ہو جائیں گے۔ حال ہی میں ایک انڈونیشی مسلمان طالب علم نے اپنے خط میں حکومت کو اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ سفیر صاحب کی کوششوں اور فری ویزا دینے کی وجہ سے پندرہ احمدی طالب علم اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ ان طلباء سے ویزوں اور دیگر مراعات پر کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ جب کہ دوسرے انڈونیشی طلباء سے ویزوں اور دیگر مدوں میں بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی ان کی پاکستان آنے پر ہمت شکنی بھی کی جاتی ہے۔ یہ خط اور اس سلسلے میں ایک مضمون جکارتہ کے ایک اسلامی رسالے ”پوجی میساراکت“ میں جولائی ۱۹۸۹ء میں بھی چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک انڈونیشی طالب علم پاکستانی سفارت خانے کے ذمہ دار حضرات پر سخت تنقیدی خط بھی لکھ چکا ہے۔ جس میں ان بے قاعدگیوں اور امتیاز پر شرم دلائی گئی ہے۔ یہ خط سفارتخانے میں محفوظ ہے۔ بھاشا انڈونیشیاء میں تحریر ہے۔ خط اور اس کا ترجمہ حسب طلب متعلقہ محکمہ سے منگوایا جاسکتا ہے۔
احمدی پرنسپل مبشر احمد صاحب نے اسکول کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے ایک خاص سائنس ٹیچر پر ڈال رکھا ہے۔ یہ سائنس ٹیچر جو سائنس پڑھانے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ آج کل ”دینیات“ پڑھاتے ہیں۔ اس سلسلے میں والدین شکایات بھی کر چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ سائنس ٹیچر نہ ہونے سے بچے سائنس میں کافی کمزور ہیں۔ مبشر احمد صاحب یہ ”ٹھکانہ“ میسر آجانے پر اب اسکول کے امور میں کم سے کم دلچسپی لیتے ہیں اور جکارتہ میں احمدی تبلیغی مشنوں کی ترویج واشاعت میں ہمہ تن گوش ہیں۔ پریس اٹیچی مسٹر جاوید بھی اپنی ڈیوٹی میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے اور مسٹر انجم کمرشل سیکرٹری کے ساتھ مل کر پاکستان دشمن تحریکوں میں مشغول ہیں۔ انڈونیشیاء کے اخبارات اور ذرائع ابلاغ پاکستان کے بارے میں بڑی تشویشناک اور تکلیف دہ خبریں چھاپ رہے ہیں۔ ملک کو افلاس زدہ اور بیہودہ کلچر کا حامل ظاہر کیا جارہا ہے۔ بعض اوقات بڑی شرمناک خبریں اور تاریک پہلو دکھائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس میں وزیر اعظم پاکستان کو بھی نہیں بخشا گیا ہے۔ جکارتہ کے سب سے بڑے عیسائی روزنامے ”KOMPAS“ کے ۲۳/جولائی ۱۹۸۹ء کے سنڈے ایڈیشن میں ایک کرسچن میگزین ”جکارتہ جکارتہ“ کے حوالے سے ایک اشتہار شائع ہوا ہے، جس میں وزیر اعظم کو بھی مطعون کیا گیا ہے۔ جس کے الفاظ ہیں ”سی ہوئے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بلان مادوراجیوے بے نظیر‘‘ جس کا ترجمہ ہے: ’’راجیو کا بے نظیر کے ساتھ ہنی مون مبارک ہو۔‘‘ اس کے علاوہ دیگر متعدد پاکستان کی اہانت پر مبنی خبریں شائع ہو چکی ہیں، جن کا ایمبیسی میں باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔ یہ خبریں اور دیگر معلومات ایمبیسی سے کسی بھی وقت حاصل کی جاسکتی ہیں۔ مندرجہ بالا تمام باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہماری درخواست ہے کہ:
- ۱...... ملک وملت اور اسلام دشمن عناصر بالخصوص سفیر پاکستان مسٹر خالد سلیم پریس اتاشی جاوید سرفراز ، کمرشل سیکرٹری انجم بشیر احمد اور
پرنسپل مبشر احمد کو فوراً برطرف کیا جائے۔
- ۲...... آئندہ مزید احمدی اساتذہ کے تقرر پر پابندی لگائی جائے۔
- ۳...... اسکول کی تمام گرانٹس بند کر دی جائیں۔ کیونکہ ان کا بہت بڑا حصہ ہندوستان منتقل ہو جاتا ہے۔
- ۴...... تمام اساتذہ کو وزارت تعلیم کے تحت قائم کردہ ایک سلیکشن بورڈ کے ذریعہ منتخب کیا جائے۔
- ۵...... ہندوستانی اور اسرائیلی ایجنٹوں کو فوراً سکول سے نکال دیا جائے۔
- ۶...... تمام سکول اکاؤنٹس حکومت پاکستان کے علم میں لائے جائیں اور حکومت کے حکم کے بغیر کوئی اکاؤنٹ کہیں نہ کھولا جائے۔
- ۷...... اب تک ایمبیسی کے ارباب حل و عقد سے، جو یہاں کے والدین نے متعدد سوالات کئے ہیں۔ جن کا ہمارا سفارتخانہ کوئی جواب
نہیں دے سکا ہے۔ حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ ان کا واشگاف الفاظ میں جواب عنایت فرمایا جائے۔ سوالات یہ ہیں:
- الف...... کیا احمدیوں کو مملکت کی اعلیٰ ترین پوسٹوں پر کام کرنے کی آزادی ہے؟ (والدین)
- ب...... کیا پاکستانی اساتذہ کے انتقال پر ان کی جگہ ہندو غیر پاکستانی اساتذہ کو مقرر کیا جانا چاہئے ۔ (سوال منجانب ایمبیسی اسٹاف)
- ج...... کیا پاکستان میں کوئی انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ (ایک مسلمان ملک کے غیر پاکستانی والدین کا سوال)
- د...... کیا پاکستانی بھول چکے ہیں کہ کس طرح ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان میں پاکستانیوں کی تذلیل کی گئی تھی۔ ان کے نوے ہزار
فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا تھا اور دسمبر ۱۹۸۸ء میں بھارتی فوج نے پاکستانی ملٹری اٹیچی بریگیڈیئر عباسی کو مارا تھا۔ (مقامی پاکستانیوں کے تین خطوط )
- ر...... کیا پاکستانی اتنے ہی ناسمجھ اور غیرت سے عاری ہیں کہ ہندوستانی اور اسرائیلی ایجنٹوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں۔ (ایک مقامی
پاکستانی کا خط )
- ز...... ہندوستانی سفارتخانوں میں کتنے پاکستانی ملازم ہیں؟ ( حکومت انڈونیشیاء میں ملازم ایک مقامی پاکستان کا خط )
یہ تمام خطوط پاکستانی ایمبیسی انڈونیشیاء کے ریکارڈ میں موجود ہیں، جنہیں کسی بھی وقت منگوایا جاسکتا ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۹ تا ۱۲، مورخہ ۱۳/اکتوبر ۱۹۸۹ء)
بھارت میں قادیانیت کا تعاقب
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب مدظلہ بمبئی بلکہ پورے صوبے کے مفتی اعظم ہیں، وہ گزشتہ دنوں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان تشریف لائے۔ افسوس کہ واہگہ بارڈر پر متعین کسی قادیانی افسر نے انہیں واپس بھیج دیا وہ دوبارہ کوشش کر کے تشریف لائے لیکن کانفرنس اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ بہر حال انہوں نے پاکستان میں قیام کے دوران ربوہ جھنگ، سرگودھا، ملتان، بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور کراچی کا مختصر دورہ فرمایا۔ کراچی میں قیام کے دوران ان سے انٹرویو کی کچھ شکل نکل آئی جو ذیل میں پیش ہے۔
سوال ۱: بھارت میں آپ کی مصروفیات اور مشاغل کیا ہیں؟ کچھ خاندانی اور علمی حالات؟ آپ کی زندگی کا کوئی خاص واقعہ؟
جواب: میری پیدائش ضلع فتح پور صوبہ یو۔ پی کے ایک گاؤں موضع عالم گنج میں ہوئی جو کئی پشتوں سے ہمارے آباؤ اجداد کی اقامت گاہ ہے۔ ہم لوگ مسلم راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں جن لوگوں کو اللہ نے قبول اسلام کی توفیق دی۔ بیشتر راجپوت لوگ تھے، جن کی بہادری اور شجاعت محتاج ثبوت نہیں۔ ہندوستان میں بیشتر علاقوں میں آپ کو کثیر تعداد میں مسلمان راجپوتوں کے خاندان ملیں گے۔ اس قوم کا اتنی بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لینا اسلام دشمنوں کے اس غلط پروپیگنڈے کی تردید ہے کہ معاذ اللہ! اسلام ہندوستان میں بجبر پھیلا ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ مفروضہ صحیح مان لیا جائے تو پھر ایک بھی غیر مسلم کا وجود ہندوستان میں نہ ہونا چاہئے تھا۔ جو لوگ راجپوتوں کو زبردستی مسلمان بنا سکتے تھے۔ ان کے لئے پوری آبادی کو حلقہ اسلام میں داخل کر لینا کیا مشکل تھا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا کردار اسلام کی یہی تعلیمات اور مسلم صوفیاء کی تبلیغی مساعی نے سارے ہندوستان میں اسلام کی راہ ہموار کی اور بہت سی سعید روحیں حلقہ بگوش اسلام ہوگئیں۔ انہیں میں ہمارے آباؤ اجداد بھی تھے جنہیں اللہ نے یہ توفیق دی کہ قبول اسلام کا شرف حاصل کریں۔
دینی تعلیم و تربیت کی خصوصاً ان خاندانوں میں آج بھی کمی محسوس ہوتی ہے جن کے آباؤ اجداد غیر مسلم تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے قیام سے پہلے تک تو صورتحال اور زیادہ تشویشناک تھی۔ الحمدللہ! ہمارے اکابر کی جدوجہد سے آج بستی بستی میں مدارس و مکاتب کا سلسلہ نظر آتا ہے۔ میری دینی تعلیم و تربیت اصلاً والدہ مرحومہ کی دین ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں عالم دین بنوں۔ میرے بچپن ہی میں والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ مگر آج تک ان کی باتیں یاد ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا اور اس نہج پر تربیت بھی کی۔ چنانچہ ان کے انتقال کے بعد نامساعد حالات کے باوجود بھی اللہ نے مجھے یہ توفیق دی کہ تعلیم مکمل کروں اور آج میں برائے نام جو کچھ بھی ہوں سب ان کی دعاؤں کا صلہ ہے۔ قابل ذکر واقعہ کے طور پر میں والدہ مرحومہ کے دینی تصلب ہی کا ایک قصہ بیان کر دوں۔ مجھ سے پہلے اور بعد میرے کئی بھائی بہن بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے۔ ہمارے رشتہ داروں میں بعض ضعیف الاعتقاد قسم کی عورتوں نے میری پیدائش کے بعد منت مانی تھی کہ زندہ رہا تو فلاں بزرگ کے مزار پر گیارہ سال کی عمر تک مونڈن کرائیں گی۔ (بال منڈوانا) اب خدا کی قدرت کہ میں ہی تنہا زندہ بچا تو والدہ پر بہت زور ڈالا گیا کہ یہ منت پوری کرنے دیں۔ ورنہ خدانخواستہ یہ بھی مر جائے گا۔ والدہ کا ایک ہی جواب تھا کہ جہاں اتنے مرے ایک یہ بھی مر جائے لیکن مجھے شرک گوارہ نہیں۔
میری تعلیم کچھ تو اپنے گاؤں کے مدرسے میں ہوئی مگر زیادہ تر بلکہ تقریباً تمام درسیات ہدایہ آخرین تک جامعہ عربیہ ہتورہ ضلع باندہ میں پڑھیں۔ پھر ایک سال جامع مسجد امروہہ میں اور کچھ دن دارالعلوم دیوبند میں رہ کر استفادے کا موقع ملا۔ تعلیم مکمل کر لینے کے بعد ہی سے درس وتدریس میں مشغول ہو گیا۔ پہلے کچھ دن نادر علی مدرسہ ہتورا میں رہا اور اس کے بعد بمبئی آ گیا۔ بمبئی اگرچہ کاروباری نقطہ نظر سے آیا تھا۔ مگر اللہ کو منظور کچھ اور تھا۔ لہٰذا کچھ دنوں کے بعد دارالعلوم امدادیہ سے وابستہ ہو گیا اور تقریباً پندرہ برس کا عرصہ ہو گیا۔ یہ وابستگی آج تک برقرار ہے۔ درس وتدریس کے علاوہ افتاء کی ذمہ داریاں بھی مجھ پر ہیں اور ہر ایک مشغولیت ایسی ہے کہ دوسرے مشاغل کے لئے وقت نہیں مل پاتا۔ تاہم بمبئی کے اردو اخبارات سے مستقل وابستگی کی وجہ سے کچھ دینی مضامین کا سلسلہ بھی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی، سوشل، ادبی، نیم ادبی مصروفیات کے لئے وقت ہی نہیں ملتا۔ البتہ ختم نبوت کے محاذ پر جب ضرورت ہوتی ہے اپنی ہر مشغولیت کو ترک کر کے اس طرف فوری توجہ دینا سب سے مقدم سمجھتا ہوں۔ دعا فرمائیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور مزید توفیق دے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال ۲: آپ پاکستان میں پہلی مرتبہ تشریف لائے۔ آپ نے کیسا محسوس کیا نیز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جو رد قادیانیت کے سلسلہ میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: میرا یہ سفر صرف اور صرف ختم نبوت کے تعلق سے تھا۔ سنا بھی تھا اور پڑھا بھی تھا مگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کی وسعت اب بچشم خود دیکھ لی اور اس سے بے حد مسرت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اکابر کو جزائے خیر دے کہ تقسیم کے بعد انہوں نے پاکستان میں اپنے آپ کو صرف اس کام کے لئے وقف کر دیا اور مسئلہ کی نزاکت کو کما حقہ سمجھا۔ ورنہ قادیانیت تو روز اوّل ہی سے اسلام کے خلاف انگریز سامراج کی ایک سازش ہے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کے سیاسی منصوبے اور بھی خطرناک تھے۔ مگر ارباب سیاست کو سوچنے کی فرصت کب تھی۔ خدا نخواستہ یہ منصوبے کامیاب ہو جاتے تو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بہت مضر ہوتا۔ پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اس اسلامی نظریاتی مملکت میں تو اسلام کے ان دشمنوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے باغیوں کے لئے کوئی جگہ نہ ہونی چاہئے تھی۔ مگر یہ بھی انگریز کی سیاست تھی کہ قادیان کو مکہ کہنے والے بیک وقت وہاں سے منتقل ہو کر یہاں آ گئے اور ربوہ میں انہیں بسا دیا گیا۔ مجھے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیت پاکستان اور ہندوستان کسی کے حق میں مخلص نہیں۔ ان کے اپنے مفادات اور منصوبے ہیں اور ہندو پاک کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع کرنے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ عام مسلمان تو ان سے متنفر ہے اور اس کے لئے مرزا قادیانی کا دعوائے نبوت ہی کافی ہے۔ جب وہ یہ سنتا ہے کہ یہ ایک جھوٹے مدعی نبوت کے ماننے والے ہیں تو خود ان سے نفرت کرتا ہے۔ مگر ان کی سازشوں سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے جب تک قادیانیت کا وجود ہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام ختم نہ ہوگا۔ مجھے بے حد مسرت ہوئی۔ یہ دیکھ کر مجلس تحفظ ختم نبوت غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد خاموش نہیں بیٹھ گئی بلکہ آج تک اس فتنے کے تعاقب میں سرگرم عمل ہے۔
سوال ۳: صدیق آباد (ربوہ) میں عالمی مجلس کے مراکز کو دیکھ کر آپ کے تاثرات کیا ہیں؟
جواب: ربوہ ایک سازش کے تحت وجود میں آیا تھا۔ وہاں عملی طور پر ایک قادیانی ریاست کی تشکیل پیش نظر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ طویل عرصے تک عام مسلمان اس علاقے میں داخل بھی نہ ہو سکتا تھا۔ یہ اللہ کا فضل ہے کذاب کے جانشینوں کا یہ طلسم زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور آج یہ ایک کھلا شہر ہے اور یہاں ختم نبوت کے مراکز بھی قائم ہیں۔ ان مراکز کی افادیت بھی میرے سامنے ہے۔ اگر مزید توجہ کی گئی تو ان شاء اللہ! یہ طلسم سامری ہمیشہ کے لئے ٹوٹ جائے گا۔
سوال ۴: بھارت میں قادیانیوں کی پوزیشن اب کیا ہے؟ خصوصاً پاکستان اور عرب ممالک میں غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بعد وہاں کے مسلمانوں اور پھر قادیانیوں سے مناظرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں، کچھ واقعات اگر آپ کے ذہن میں ہوں تو فرمائیے؟
جواب: بھارت میں قادیانی کسی قابل ذکر پوزیشن میں نہیں۔ آپ اس سے سمجھ لیں کہ بمبئی جیسے شہر میں بمشکل ڈیڑھ دو سو قادیانی ہوں گے۔ دہلی جو دارالسلطنت ہے وہاں بھی ان کی تعداد اس سے زیادہ نہیں۔ البتہ پاکستان میں غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد انہوں نے ہندوستان میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
چند علاقے ان کا نشانہ ہیں۔ جن میں بیشتر کا تعلق جنوبی ہند سے ہے۔ مثال کے طور پر حیدر آباد میں ان کی تعداد بجائے چند سو کے ہزار تک ہوگی۔ شہر میں تو لوگ ان سے واقف ہیں مگر دیہاتی بستیوں میں پہنچ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا شروع کیا تھا۔ ورنگل کا علاقہ خصوصی نشانہ تھا۔ جس کے لئے ایک زمانے میں انہوں نے ورنگل فنڈ کا بھی اعلان کیا تھا تا کہ دیہاتی غریب مسلمان کو دنیوی منفعت کا لالچ دے کر ان کے ایمان کو خریدا جا سکے۔ مگر حیدر آباد کے علماء کو اللہ جزائے خیر دے کہ بروقت ان کا تدارک کیا اور قادیانی جو خواب دیکھ رہے تھے وہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس میں ناکام ہوگئے۔ اس علاقے میں ایک قصبہ ہے یادگیر یہیں پر حضرت مولانا محمد اسماعیل کٹکی مدظلہ کا مناظرہ سلیم نامی ایک قادیانی مبلغ سے ہوا تھا۔ جس میں یہ قادیانی مبلغ لاجواب ہوگیا بلکہ بتانے والوں کے مطابق بیہوش بھی ہوگیا تھا۔ کیرالہ وغیرہ میں چند مقامات اور بھی ہیں مگر ہر جگہ ان کے تعاقب کرنے والے موجود ہیں۔ شمالی ہند میں علی گڑھ، آگرہ کے اطراف میں ان کی سرگرمیاں سننے میں آئی تھیں۔ چنانچہ مولانا اسماعیل کٹکی کے ایک دورے کے بعد یہ فتنہ تھم گیا۔ فتح پور میں بھی کچھ سرگرم ہوئے تھے مگر وہاں مولوی محمد عمر قاسمی مستقل تعاقب میں سرگرم ہیں۔ کرناٹک میں مولانا ریاض احمد نے بڑی خدمات انجام دی ہیں اور آپ ہی کی کوششوں سے کرناٹک ہائی کورٹ نے ۱۹۶۰ء میں انہیں غیر مسلم قرار دیا تھا۔ بہار و اڑیسہ کے چند اضلاع میں بھی پائے جاتے ہیں مگر وہاں حضرت مولانا محمد اسماعیل کٹکی موجود ہیں۔ ہمارے یہاں صوبہ مہاراشٹر اور گجرات میں تو یہ ان شاء اللہ سر نہ اٹھا سکیں گے۔ عام مسلمان بھارت میں بھی جب یہ سنتا ہے کہ مرزا قادیانی نبوت کا مدعی تھا اور خود کو محمد رسول اللہ بھی کہتا تھا پھر مزید تردید کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ خود ان سے متنفر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ایک گریجویٹ نوجوان اتفاقاً ان کے چنگل میں پھنس گیا۔ ہفتوں ان کے مرکز میں رہا۔ انہوں نے اسے بیعت پر آمادہ کرنا چاہا۔ شروع میں تو اس نے انہیں خادم اسلام جماعت سمجھا۔ مگر جب مرزا کی نبوت کا دعویٰ معلوم ہوا تو از خود متنفر ہوگیا۔ دیو بند میں تحفظ ختم نبوت قائم ہے۔ مہاراشٹر میں بھی اس کی شاخیں موجود ہیں۔ ہم نے اس سلسلے میں ایک پروگرام بمبئی وغیرہ میں مرتب کر لیا ہے۔ اللہ نے چاہا تو یہ وہاں بھی سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں گے۔ اللہ نے توفیق دی تو ہمارا ارادہ یہ بھی ہے کہ انہیں اسلام کی مسلسل تبلیغ کی جائے۔ توقع ہے کہ بہت سے قادیانی مسلمان ہو جائیں گے۔
سوال: ۵ کیا بھارت میں قادیانیوں سے مناظرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں، کچھ واقعات اگر آپ کے ذہن میں ہوں تو فرمائیے؟
جواب: ایک مناظرے کا واقعہ تو پہلے بتا چکا ہوں۔ یادگیر میں مولانا محمد اسماعیل صاحب مدظلہ کے بالمقابل قادیانی مبلغ کس طرح رسوا ہوا تھا۔ ابھی بمبئی میں قادیانیوں کا ایک پروگرام تھا جس میں ہمارے نوجوانوں نے سوالات کرنا چاہے تو قادیانیوں نے جلسہ ہی بند کر دیا۔ اس دوران احباب مجھے لے گئے۔ میں نے اصولی طور پر یہ مطالبہ کیا کہ مرزا وسیم جو مرزا قادیانی کا پوتا اور تمہارا کل ہند امیر ہے، اس سے گفتگو ہو تاکہ ہندوستان بھر کے قادیانی پابند ہو سکیں۔ مگر وہ اس پر کسی طرح تیار نہیں ہوئے۔ اس کے بعد دوسرے دن ہمارے عزیز نوجوان فاضل مولوی محمد طلحہ قاسمی نے ان کے مبلغین سے گفتگو کی مگر دو گھنٹے تک کوشش کے باوجود مرزائی مرزا کی صداقت، کردار اور پیش گوئیوں پر بات کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اندازہ ہوا کہ انہیں خود بھی اپنے جھوٹ کا یقین ہے۔ (اور آخر میں خود ہی جھگڑا بھی شروع کر دیا۔ ہمارے لوگ ۱۰/۸ ہوں گے۔ یہ ۷۰/۶۰ کی تعداد میں تھے مگر اللہ نے نصرت کی اور اس میں بھی وہ ناکام رہے بلکہ نقصان بھی انہیں کا ہوا)
سوال: ۶ بھارت میں مجلس تحفظ ختم نبوت قائم ہو چکی ہے۔ اس کی کارکردگی پر روشنی ڈالیں۔
جواب: اس سلسلے میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اب تک ان کی سرگرمیاں بھی کوئی خاص نہ تھیں۔ لہٰذا ہمارے بڑوں نے چنداں ضرورت نہ سمجھی تھی۔ اب جب کہ وہ سرگرم ہونے لگے ہیں۔ ہم نے بھی لائحہ عمل مرتب کر لیا ہے۔ سردست تحفظ ختم نبوت دیو بند علماء اور طلباء کو مسلسل تربیت دیتی رہتی ہے تاکہ جب ان کے علاقے میں قادیانی مبلغ آئے تو اسے منہ توڑ جواب ملے اور وہ دوبارہ ادھر کا رخ نہ کرے۔ مزید جو پروگرام ہے اس پر جلد ہی عمل شروع ہو جائے گا۔ جس کا اہم اور بنیادی پہلو قادیانیوں کو اسلام کی دعوت ہے۔
سوال: ۷ بھارت میں زیادہ تر کس علاقے میں قادیانی رہتے ہیں اور وہاں رد قادیانیت کے سلسلے میں کیا کام ہو رہا ہے؟
جواب: شمالی ہند میں بہار کے کچھ اضلاع میں مونگیر، بھاگل پور، دیوگھر ( یہاں ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ قادیانی ہے اور وہ اپنی حیثیت سے
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فائدہ اٹھا کر مسلسل تبلیغ قادیانیت میں مشغول ہے) اڑیسہ کے چند مقامات پر بھی یہ پائے جاتے ہیں۔ آسام اور بنگال میں کلکتہ میں کچھ قادیانی ہیں۔ باقی کہیں قابل ذکر تعداد میں نہیں پائے جاتے۔
یوپی میں جو اضلاع ان کی زد میں ہیں وہ اس طرح ہیں۔ کانپور، لکھنؤ، فتح پور، شاہ جہانپور، الہ آباد، ہمیر پور، مراد آباد، مظفر نگر، گونڈہ، فیض آباد، آگرہ وغیرہ زیادہ زور آگرہ، فتح پور میں نظر آیا تھا اور اس سلسلے میں کام شروع ہوچکا۔ ایم۔ پی (مدھیہ پردیش) میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی حال گجرات میں بھی ہے۔ مہاراشٹر میں صرف پونہ، بمبئی اور ایک دو مقامات پر ہیں مگر اس پوزیشن میں نہیں کہ سر اٹھا سکیں۔ جنوبی ہند میں یاد گیر اور حیدرآباد میں خاص گروہ ہے۔ مدراس میں بھی تقریباً ہزار یا پانچ سو ہوں گے۔ باقی تھوڑے تھوڑے کر کے کئی مقامات پر ہیں۔ وہاں کے لوگ بھی بیدار ہوچکے ہیں۔ کشمیر ان کا خصوصی نشانہ شروع سے رہا ہے۔ مگر اس لحاظ سے وہاں ان کے اثرات کوئی خاص نہیں۔ کئی مقامات پر یہ فتنہ ہے مگر ان شاء اللہ اس کا سد باب بھی آسان ہوگا۔
سوال: ۸ آپ بھارت میں قادیانیوں کے خلاف بہت زیادہ سرگرم عمل ہیں۔ اس کے محرکات کیا ہیں؟ نیز آپ کب سے اس محاذ پر سرگرم عمل ہوئے؟
جواب: قادیانیت نبوت محمدی ﷺ کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ کوئی شخص جب قادیانی بنتا ہے تو اس کی عقیدت محمد عربی ﷺ سے منقطع ہو کر مرزا قادیانی سے وابستہ ہو جاتی ہے اور امت عالم اسلام کا دشمن اور سامراجیوں نیز صہیونیت کا آلۂ کار ہوتا ہے۔ ہر حساس انسان جو اتنی بات سمجھ لے گا ضرور یہ کوشش کرے گا کہ یہ فتنہ ختم ہو جائے۔ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ میں نے قادیانیت کے لٹریچر کو خود پڑھا ہے اور ان سے اچھی طرح واقف ہوں۔ قادیانیت خود ساختہ دین ہے اور اس کا جو تاریخی پس منظر ہے اس سے بھی الحمد للہ! آگاہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنی ہر مشغولیت پر رد قادیانیت کو ترجیح دینا سعادت سمجھتا ہوں۔ طالب علمی کے دور میں جب قدوری یا کنز پڑھ رہا تھا ہمارے ایک عزیز کا انتقال ہوا۔ ان کا سالہ جو قادیانی ہو گیا تھا تدفین کے بعد اس نے اپنی تبلیغ شروع کردی۔ میرے ایک ساتھی مولانا جلال صاحب جو میرے ہم سبق تھے وہ بھی موجود تھے۔ ہم دونوں سے گھنٹوں اس کی گفتگو ہوئی اور اگر چہ ہم طالب علم تھے مگر الحمد للہ! وہ لا جواب ہو گیا اور اس پر بس نہیں صبح اندھیرے اندور چلا گیا۔ یہی واقعہ تھا جس نے بچپن ہی سے اس جانب متوجہ کیا۔
سوال: ۹ آئندہ اس سلسلے میں آپ کا کیا پروگرام ہے؟
جواب: آئندہ پروگرام کے متعلق تذکرہ کر چکا ہوں۔ مختصراً یہ کہ ہمیں ہر مسلمان کو یہ بتانا چاہئے کہ یہ (قادیانی) رسالت محمدی ﷺ کے باغیوں کا ٹولہ ہے اور انہیں مسلسل اسلام کی دعوت دینی ہے۔ پروگرام کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ جہاں کہیں یہ پہنچیں ہمارے تربیت یافتہ علماء پہلے سے موجود ہوں۔ یقین کیجئے جب کسی قادیانی کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہماری حقیقت کو جاننے والے یہاں موجود ہیں تو دوبارہ اس جانب رخ ہی نہ کریں گے۔
سوال: ۱۰ قادیانی اپنے مرکز قادیان کو ظلی کعبہ کہتے ہیں۔ وہاں قادیانیوں کی کیا پوزیشن ہے؟
جواب: قادیان میں ان کی موجودہ پوزیشن کوئی خاص نہیں۔ وہاں چار ہزار پانچ سو تک ان کی تعداد ہوگی اور یہ بھی ان کے بتانے کے مطابق ایک قادیانی نے ۱۸۰۰ تعداد بتائی۔ جب کہ سکھ ۱۵ / ۲۰ ہزار ہوں گے۔ مرزا قادیانی کو قادیان کے متعلق جو شیطانی الہامات ہوئے تھے جن میں قادیان کی وسعت آبادی اور بازاروں کی رونق کا خصوصی تذکرہ تھا موجودہ صورتحال ان الہامات کو غلط اور مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے بہت بڑی دلیل ہے۔ مرزا محمود نے بھی بڑی ڈینگیں ہانکی تھیں۔ مگر منہ چھپا کر فرار خود بتاتا ہے کہ یہ روحانی کے بجائے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک سیاسی مرکز تھا۔ لہٰذا قادیان نہ سہی ربوہ سہی، بجائے قادیان کے ربوہ میں مقیم ہوگئے اور وہ دن دور نہیں جب کہیں بھی ان کا ٹھکانہ نہ ہوگا۔ اسلام کے نام سے اسلام دشمن کا یہ حربہ زیادہ دن تک نہ چھپ سکے گا۔ اللہ نے چاہا تو جس طرح یہ پاکستان میں رسوا ہوئے ہیں، ہندوستان میں ذلیل ہوں گے۔ ان شاء اللہ الکریم!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۴ تا ۱۷، مورخہ ۲۲ تا ۲۸؍ دسمبر ۱۹۸۹ء)
۱۹۸۹ء میں قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والوں کی رپورٹ
اٹک میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
ہیڈ کوارٹر آرٹلری سنٹر اٹک کے قاری احمد رضا کے دستِ حق پرست پر موضع ضلع ننکانہ صاحب کے قادیانی خالد عمران ولد چوہدری محمد صادق نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، مورخہ ۲۸؍ اپریل ۱۹۸۹ء)
موضع سکندر چک نمبر ۳۰ میں قادیانیوں کی ننگی جارحیت...... ۲۶؍ قادیانیوں کا قبول اسلام
چک سکندر نمبر ۳۰ کھاریاں سے ڈنگہ روڈ پر سات کلومیٹر پر واقع ہے۔ اس چک میں قادیانی اور مسلمان باہمی طور پر مل جل کر رہائش پذیر تھے۔ قادیانیوں نے شرارت کرتے ہوئے ۳؍ جولائی ۱۹۸۸ء کو مباہلہ نامی کتابچہ گھر گھر پھینکا تو چک کے مسلمانوں کے امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دھوریہ نے ایک درخواست ڈی سی گجرات کو دی جس کے نتیجہ میں دو مساجد قادیانیوں سے آزاد کرا لی گئیں۔ کچھ عرصہ بعد قادیانیوں نے پھر شرارت کرتے ہوئے مسجد سے ملحقہ دائرہ (دارہ) میں اپنی حصہ داری کا شوشہ چھوڑا۔ اس پر جناب اے سی شیخ زبیر مسعود نے ۱۵؍ فروری ۱۹۸۹ء کو مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیا لیکن مرزائیوں نے پھر شرارت کی جس کا مسلمانوں نے سختی سے نوٹس لیا۔ ۲۰؍ مئی ۱۹۸۹ء کو مرزائیوں کے مربی حمید احمد اور اس کے دو باڈی گارڈوں نے ناجائز ریوالور سے حملہ کیا۔ مسلمانوں نے اسلحہ چھین لیا اور مسلمانوں کے خلاف دفعہ ۳۲۵ کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ میاں امیر صاحب احتجاجی جلوس لے کر اے سی کھاریاں کے پاس گئے۔ چنانچہ مرزائیوں کے خلاف ۳۰۷ کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ بعد میں مرزا کرم الٰہی مجسٹریٹ صاحب نے فریقین کا راضی نامہ کرا دیا جس کی شرائط درج ہیں۔
- ۱...... قادیانی مبلغ کو نکالنے اور آئندہ نہ آنے کا یقین دلایا گیا۔ لیکن دوسرے روز قادیانی منحرف ہو گئے تو جناب راجہ ریاض احمد
ایس ایچ او کھاریاں راجہ محمد فاروق صاحب ڈی ایس پی اور اے سی کھاریاں جناب قاضی جاوید احمد لودھی نے انہیں بلا کر حمید احمد مربی کو نکالنے کا حکم دیا۔ اس دوران فریقین کی طرف سے گولیاں چلتی رہیں لیکن کوئی نقصان نہ ہوا۔ اس پر مجبور ہو کر ایک پنچائت قادیانیوں نے موضع دھوریہ میں بلائی تو مسلمانوں کی طرف سے مندرجہ ذیل شرائط صلح کے لئے رکھی گئیں۔
- ۲...... کلمہ شریف کا بیج کندھے پر سے اور دیوار، دروازہ سے ہٹائیں اور آئندہ نہ لگائیں۔
- ۳...... مسجد اور دارہ میں قادیانیوں کا داخلہ بند ہوگا۔
- ۴...... مرزائیوں کی عبادت گاہ کو بشکل مسجد تعمیر نہ کرنا اور بنائے گئے مینار، محراب و منبر و گنبد گرا دینا ہوگا۔
- ۵...... قادیانیوں کو اپنی عبادت گاہ میں بذریعہ لاؤڈ سپیکر اذان یا کسی قسم کی تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
- ۶...... قادیانی اپنا لٹریچر تقسیم نہیں کریں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۷...... مسلمانوں کی کسی جائیداد میں جو کہ مقبوضہ اہل اسلام ہے کسی طور بھی دخل اندازی نہ کرنا۔
- ۸...... گاؤں کے موجودہ قبرستان میں کوئی قادیانی دفن نہیں ہوگا۔ وہ اہل اسلام کی ملکیت میں رہے گا۔
- ۹...... دونوں طرف سے فوجداری و دیوانی مقدمات واپس لئے جائیں گے۔
- ۱۰...... قادیانیوں کو امتناع قادیانیت آرڈیننس پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔
- ۱۱...... قادیانی اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کریں تو پرامن زندگی گزار سکتے ہیں۔
- ۱۲...... مسلمان قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دے سکتے ہیں۔
مندرجہ بالا شرائط کو قادیانیوں نے تسلیم کیا۔ اس وقت جناب اے سی کھاریاں قاضی جاوید احمد لودھی موجود تھے لیکن ابھی دستخط نہیں ہوئے۔ اس دوران ۲۶ افراد مرزائیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ مقامی مسلمانوں کی یہ کامیابی مثالی ہے۔ اس کامیابی کا سہرا آج سے پندرہ سال قبل قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے والے مجاہد میاں محمد امیر صاحب کے سر پر ہے جو ان دنوں الفتح جامع مسجد چک سکندر نمبر ۳۰ کے خطیب ہیں۔ میاں محمد امیر صاحب کی اس کامیابی کی وجہ سے مقامی قادیانی میاں صاحب کے جانی دشمن بن گئے۔ چنانچہ قادیانیوں نے میاں محمد امیر کو ختم کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور ان پر مسلح حملہ آور ہوئے۔ قدرت کا کرشمہ دیکھئے جب میاں محمد امیر صاحب پر فائرنگ کی گئی۔ میاں صاحب بال بال بچ گئے لیکن میاں صاحب کے دو ساتھی ایک احمد خاں شہید ہو گئے اور دوسرے زخمی۔ میاں صاحب کے گھر والے جائے موقعہ پر پہنچے تو قادیانیوں نے میاں صاحب اور ان کے بھائی کے گھر کو نذر آتش کر دیا۔ جس پر مقامی مسلمانوں نے جوابی حملہ کر کے قادیانیوں کے تین افراد کو جہنم رسید کیا۔ دریں اثناء امن قائم رکھنے والے اداروں نے چک سکندر نمبر ۳۰ میں کرفیو نافذ کر کے امن و امان قائم کیا اور گاؤں کو مزید خون خرابہ سے بچایا۔ احمد خان شہید کے جنازہ میں دور دراز علاقہ کے لوگ شامل ہوئے۔ جب کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے چوہدری محمد خلیل صاحب گجرات سے اور گوجرانوالہ سے حافظ محمد ثاقب، چوہدری غلام نبی، ڈاکٹر غلام محمد اور میر عبداللطیف نے وفد کی صورت میں جنازہ میں شرکت کی اور مولانا کریم بخش مرکزی مبلغ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی نمائندگی کی۔ احمد خان شہید کو دفن کرنے کے بعد چک سکندر نمبر ۳۰ کے کثیر قادیانیوں نے مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجتے ہوئے قادیانیت سے تائب ہوئے۔ اسلام کے دامن رحمت میں آئے۔ مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے والوں کے نام یہ ہیں:
(۱) مولوی غلام محمد قادیانی جماعت کے امیر چک سکندر ۳۰ / کھاریاں، (۲) محمد اقبال ولد عبداللہ مع اہل و عیال، (۳) ولایت ولد عبداللہ مع اہل و عیال، (۴) رحمت خان ولد جلال خان مع اہل و عیال، (۵) محمد اسلم ولد محمود مع اہل و عیال، (۶) نذیر بیگم زوجہ محمد علی مع اہل و عیال، (۷) محمد اسلم ولد اکرم علی مع اہل و عیال، (۸) غلام حیات مہر مع اہل و عیال، (۹) محمد اقبال مہر مع اہل و عیال، (۱۰) غلام سرور مع اہل و عیال، (۱۱) لال خان ولد عقیل مع اہل و عیال، (۱۲) فضل احمد ولد رحمت مع اہل و عیال، (۱۳) محمد اصغر مع اہل و عیال، (۱۴) سردار خان ولد نور محمد مع اہل و عیال، (۱۵) نذر حسین مع اہل و عیال، (۱۶) مبارک احمد مع اہل و عیال، (۱۷) خان موچی مع اہل و عیال، (۱۸) غلام محمد ولد حیات مع اہل و عیال، (۱۹) خان محمد مع اہل و عیال، (۲۰) بہادر خان مہر مع اہل و عیال، (۲۱) فضل کریم ولد رحمت لوہار مع اہل و عیال، (۲۲) محمد شفیع ولد رحمت مع اہل و عیال، (۲۳) محمد شریف حجام مع اہل و عیال، (۲۴) غلام محمد مع اہل و عیال، (۲۵) خان محمد مہر مع اہل و عیال، (۲۶) سردار ولد نور علی مع اہل و عیال، (۲۷) محمد اسلم حجام مع اہل و عیال، (۲۸) میاں عبدالرحمن،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۲۹) عزیز بیگم زوجہ غلام رسول، (۳۰) ریاض بیگم زوجہ محمد یونس، (۳۱) محمد وارث، (۳۲) بابو عزیز محمد افضل گورسی، (۳۳) سردار خان ولد غلام محمد، (۳۴) سردار بیگم زوجہ شاہ محمد، (۳۵) محمد بوٹا ولد سردار خان، (۳۶) منشی غلام علی، (۳۷) میر بیگم زوجہ سردار خان گوجر، (۳۸) راج بیگم زوجہ عبداللہ، (۳۹) محمد خان ولد عبداللہ، (۴۰) سکینہ بیگم زوجہ بوٹا خان، (۴۱) فضلاں بیگم، (۴۲) شہناز بیگم، (۴۳) محمد ہاشم، (۴۴) سردار خان ولد فتح خاں، (۴۵) شریز اقبال ولد بشیر احمد۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۳، ۱۴، مورخہ ۴؍ اگست ۱۹۸۹ء)
بھیرہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
عیدالاضحیٰ کے موقعہ پر مسمی ظفر محمود ولد غلام الٰہی محلہ اسلامی باغ بھیرہ نے اپنے بہن بھائیوں اور والدہ سمیت مجلس مرکزیہ حزب الانصار بھیرہ کے دفتر میں حضرت مولانا صاحبزادہ ابرار احمد امیر مجلس اور خطیب مرکزی جامع مسجد بھیرہ کے دست حق پر اسلام قبول کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم سرور کائنات کو غیر مشروط طور پر آخری نبی و رسول تسلیم کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی دجال و کذاب، مرتد کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور آئندہ کے لئے ہمارا قادیانیوں اور لاہوری گروپوں سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اراکین مجلس حزب الانصار اور دیگر احباب نے نومسلم خاندان کی مالی اعانت کی۔ ان کے اسلام قبول کرنے پر مبارک باد پیش کی اور استقامت کی دعا کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۶، مورخہ ۱۸ تا ۲۴؍ اگست ۱۹۸۹ء)
قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد کے رفیق خاص حسن محمود عودہ کا قبول اسلام
کشادہ پیشانی سوچتی آنکھوں اور بکھرے بالوں والا ایک فلسطینی نوجوان لندن میں قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے ہیڈکوارٹر کے شعبہ عربی کا سربراہ قادیانی عربی اخبار ’’التقویٰ‘‘ کا چیف ایڈیٹر نبیوں کی سرزمین فلسطین پر عودہ خاندان پہلا قادیانی خاندان تھا۔ حسن عودہ کے نانا نے ۱۹۲۴ء میں سب سے پہلے قادیانیت کو قبول کیا۔ اس سے پہلے فلسطین میں کوئی قادیانی نہ تھا۔ نانا کے بعد حسن کے دادا نے بھی قادیانیت قبول کر لی اور یوں پورا عودہ خاندان قادیانیت کی آغوش میں چلا گیا۔ حسن عودہ کو تعلیم وتربیت کے لئے اللہ کے سچے نبیوں کی مقدس سرزمین سے قادیان بھجوا دیا گیا۔ وہ قادیان ہی میں پلا بڑھا اسے اول و آخر ایک مبلغ کی تعلیم دی گئی۔
حسن عودہ فلسطین سے قادیان پہنچے تو انہیں مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے ٹھہرایا گیا اردو زبان کی تعلیم دی گئی۔ مرزا قادیانی کی کتابیں پڑھائی گئیں۔ قادیان میں جماعت کی طرف سے بنائی جانے والی قادیانی عبادت گاہیں اقصیٰ، مبارک، مینارۃ المسیح بہشتی مقبرہ بقول حسن عودہ ایک خاص انداز میں دکھائے گئے۔ حسن عودہ ان مقامات کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے۔ چھ سات ماہ کا خصوصی کورس مکمل کرنے کے بعد حسن عودہ واپس فلسطین آئے اور پوری تندہی اور جانفشانی سے قادیانی جماعت کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ حیفہ جیسا شہر قادیانی مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ حسن عودہ نے اس جوش وخروش سے کام کیا کہ پورے فلسطین میں اپنی دھاک بٹھا دی تو پھر ایک دفعہ قادیان واپس آئے تو مرزا قادیانی کے گھر ’’بیت الریاض‘‘ میں ان کی شادی کر دی گئی۔ قادیانی جماعت کے خود ساختہ جلاوطن سربراہ مرزا طاہر احمد جنہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ انہوں نے نام نہاد اسلم قریشی کیس کی وجہ سے پاکستان نہیں چھوڑا تھا بلکہ قادیانی آرڈیننس ۱۹۸۴ء کی وجہ سے ملک چھوڑا، جب تک یہ آرڈیننس ختم نہ ہوگا۔ وہ واپس نہیں جائیں گے) جب حسن عودہ کی شہرت سنی تو انہیں فلسطین سے لندن طلب کر لیا اور انہیں عربوں میں قادیانیت کی تبلیغ واشاعت کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔
قادیانی آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے نفاذ کے دو روز بعد جب مرزا طاہر احمد پراسرار طریقے سے لندن پہنچ گئے تو علماء اس بات کو بہت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بڑا خطرہ سمجھنے لگے۔ ان کے خیال میں اب مرزا طاہر بہت بہتر طریقے سے دنیا بھر میں اپنی تبلیغ و تنظیم کرسکیں گے۔ علماء کو اس بات کا کوئی توڑ نہ نظر آتا تھا کہ ایک معروف سعودی عالم دین الشیخ ملک عبدالحفیظ مکی آگے بڑھے اور پاکستان کے علماء کو پیشکش کی کہ وہ مسئلہ ختم نبوت کی ترویج کے لئے لندن آئیں۔ انہوں نے تمام اخراجات برداشت کئے اور رابطہ عالم اسلامی اور دیگر اسلام دوست تنظیموں سے یہاں کا تعارف کرایا اور مستقل بندوبست کر دیا کہ وہ دنیا میں قادیانی جماعت کا پیچھا کریں۔ جناب مرزا طاہر احمد نے ۲۵ نومبر ۱۹۸۸ء کو ٹل فورڈ لندن میں خصوصی خطاب کیا۔ اس خصوصی خطاب کے دوران حسن عودہ پہلی صف میں بیٹھے رپورٹنگ کر رہے تھے۔ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء گزر گئی لیکن مرزا طاہر کے مباہلہ کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ مجھے اس بات نے غور کرنے پر مجبور کر دیا کہ قادیانی سربراہ اگر سچا ہوتا تو جن علماء نے مباہلے کا چیلنج قبول کیا۔ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا لیکن مرزا طاہر کے چیلنج کو قبول کرنے والے زندہ سلامت رہے اور اس طرح قادیانی سربراہ کی مباہلہ کی مہم بری طرح ناکام ہوئی۔
س...... فلسطین سے قادیان پہنچے تو آپ کیا محسوس کر رہے تھے؟
ج...... میرے لئے فلسطین اور قادیان میں فضا تو یکساں تھی ایک بات سے سختی سے منع کیا جاتا تھا کہ مسلمان علماء کی باتوں پر دھیان نہ دیں وہ جماعت کے کام اور ترقی سے عناد اور حسد رکھتے ہیں۔
س...... پھر اس ماحول سے کیسے نکلے آپ؟
ج...... جب میں لندن کی کھلی فضا میں آیا اور غیر قادیانی حضرات کی باتیں سننے اور ان سے ملنے کا موقع ملا تو ذہن میں شک و شبہ نے جگہ بنانی شروع کر دی۔ قادیانی جماعت کے سربراہوں اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں عقیدت اور تصورات بکھرنے لگے۔ اب تک تو تصورات بڑھنے تک ہی کا معاملہ تھا۔ جب عملی طور پر واسطہ پڑا تو میرے دل و دماغ نے بغاوت کر دی۔ دینی اور روحانی طور پر میرے ذہن نے اس قیادت کو تسلیم نہ کیا۔
س...... آپ مرزا طاہر احمد کے ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ منصب پر فائز تھے۔ پھر آپ کے ذہن میں بغاوت کا خیال کیوں آیا؟
ج...... قادیانی مرکز میں کام کرنے والے افراد کا عالمی قیادت پر پورا نہ اترنے کا احساس جذبات عقیدت کی جڑوں کو کرید رہا تھا۔ وہاں مرزا قادیانی کے بارے میں مسلم علماء کے بیانات نے مجھے شک و شبہ میں ڈال دیا۔ تجسس بڑھنے لگا کہ کھوج لگانا چاہئے ۔ آخر معاملہ کیا ہے؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اپنے طور پر تحقیق کرتا رہا۔ بالآخر بات کھل گئی اور میں سمجھ بھی گیا کہ یہ مسلمان علماء مرزا قادیانی کا وہ رخ دکھاتے ہیں جو ہم سے آج تک اوجھل رکھا گیا تھا۔ مسلمان علماء اس رخ کو پوری طرح بے نقاب کرتے ہیں اور ان کی بات تسلیم کئے بغیر چارہ کار بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ دنیا بھر کے مسلمان جب کلمہ پڑھتے ہیں۔ قرآن، نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کے احکامات جانتے ہیں۔ پھر یہ سب کے سب ہمارے نزدیک کافر کیوں ہیں اور کون سی وجوہات ہیں کہ ہمیں ان سب مسلمانوں کو کافر کہنے کا حق حاصل ہے۔
س...... پھر جواب ملا آپ کو ان سوالوں کا؟
ج...... جی ہاں! یہ سوالات میرے ذہن میں کلبلاتے رہے اور میری پرسکون زندگی میں ایک طوفان آگیا۔ دل و دماغ میں ہلچل مچ گئی۔ میں جریدہ ’التقویٰ‘ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر ۹ شمارے شائع کر چکا تھا کہ میں برملا قادیانی مرکز میں اپنے سوالات کا جواب مانگنے لگا۔ مرزا طاہر احمد نے مجھے طلب کیا اور اپنے سوالات ان کے سامنے رکھے۔ لیکن وہ مجھے مطمئن نہ کر سکے اور جب ان کے مباہلے کا آخری دن بھی گزر گیا اور نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا تو میں نے انہیں منہ پر صاف صاف کہہ دیا کہ: ”میں مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا نہیں مانتا۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
س ...... اس کا رد عمل کیا ہوا؟
ج ...... مجھے ٹل فورڈ کے قادیانی مرکز سے نکال دیا گیا اور فوراً برطانیہ چھوڑ دینے کا کہا گیا اور میری سپانسر شپ ختم کر دی گئی۔ مجھے یہاں کے مسلمانوں نے سہارا دیا ہے۔
س ...... اب کیا ارادہ ہے؟
ج ...... میری اہلیہ بھی میرے ساتھ تائب ہو گئی ہیں۔ میں اب جس طرح قادیانی مذہب کے لئے عربوں میں سرگرم تھا۔ اب عربوں میں اس مذہب کے خلاف کام کروں گا۔ عرب نوجوانوں کو اصل صورتحال سے آگاہ کروں گا۔
س ...... قادیانی حمایت پر اسرائیل سے تعلقات کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے؟
ج ...... فلسطین کے شہر ”حیفہ“ میں واقع قادیانی مرکز کے ساتھ اسرائیلی حکومت کے تعلقات بہت خوشگوار ہیں۔ اسرائیلی پولیس اور رضا کار فورس میں سینکڑوں قادیانی نوجوان کام کرتے ہیں۔ البتہ فوج میں قادیانی نہیں ہیں۔ قادیانی مراکز کی تعمیر کے لئے اسرائیلی حکومت فنڈز فراہم کرتی ہے۔
س ...... شکریہ! حسن عودہ۔
ج ...... شکراً۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۱، ۱۲، مورخہ ۸؍ دسمبر ۱۹۸۹ء)
۱۹۸۹ء میں کانفرنس ہائے ختم نبوت ودیگر سرگرمیوں کی رپورٹ
تحفظ ختم نبوت کا سال منانے کے لئے مبلغین نے دورہ شروع کر دیا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے گزشتہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقعہ پر تحفظ ختم نبوت کا سال منانے کا اعلان کیا تھا۔ فیصلے کے مطابق اس سلسلہ میں مبلغین نے دورہ شروع کر دیا ہے۔ پروگرام کے مطابق ۲۰؍ جنوری کانڈیوال، ۲۱؍ جنوری چک ۴۵ جنوبی، ۲۲؍ جنوری چک ۳۰ جنوبی، ۲۳؍ جنوری احمد نگر، ۲۴؍ جنوری ڈاور، ۲۵؍ جنوری برجی، ۲۶؍ جنوری چنیوٹ، ۲۷؍ جنوری لالیاں / ربوہ، ۲۸؍ جنوری لنگر مخدوم، ۲۹؍ جنوری یکے کی، ۳۰؍ جنوری ڈاور، ۳۱؍ جنوری پٹھان کوٹ، یکم؍ فروری بروز بدھ لالیاں میں ختم نبوت کانفرنس، ۲؍ فروری کو چک ۴۶ میں ختم نبوت کانفرنس، ۳؍ فروری کو احمد نگر میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔ سال کا آغاز ربوہ کے اردگرد کے علاقوں میں دورے اور کانفرنسوں سے کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا مقامات پر ہونے والے اجتماعات میں خطیب ختم نبوت مولانا قاضی اللہ یار، خطیب ربوہ مولانا خدا بخش شجاع آبادی، خطیب اسلام مولانا عبدالواحد مخدوم، مناظر ختم نبوت مولانا اللہ وسایا اور ممتاز نعت خواں جناب احمد بخش چشتی شریک ہوں گے۔ حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی صرف لالیاں کانفرنس میں شرکت فرمائیں گے۔ یہ پروگرام چونکہ شروع ہو چکے ہیں اور بعض مقامات پر ہو چکے ہیں۔ اس لئے ان کی موصولہ رپورٹیں جلد شائع کی جائیں گی۔ (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مورخہ ۳ تا ۹؍ فروری ۱۹۸۹ء)
ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام گزشتہ جمعہ ۲۷؍ جنوری ۱۹۸۹ء سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ کانفرنس سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا اللہ وسایا، مولانا سید ممتاز الحسن گیلانی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا عبدالرحیم اشعر نے خطاب فرمایا۔ جناب سید امین گیلانی نے نعتیہ کلام پیش کیا جب کہ سٹیج سیکرٹری مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی تھے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، ۲۱، مورخہ ۳؍ فروری ۱۹۸۹ء)
بنگلہ دیش کی ڈائری
- ٭...... سنام گنج میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
- ٭...... قادیانیت کے خلاف نعروں سے فضا گونج اٹھی
- ٭...... بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ
سنام گنج (رپورٹ محمد شاہد احمد) مرکزی عیدگاہ میدان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سنام گنج کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر سے وکلاء، فضلاء، دانشور، علماء اور عوام نے نہایت جوش وخروش سے شرکت کی۔ اسکول، کالج اور مدارس عربیہ کے طلباء کا ہجوم تھا۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے بالترتیب مجاز حضرت مدنی حضرت مولانا عبدالکریم، مولانا عبدالحق اور مولانا عبدالمالک نے صدارت فرمائی۔ ماہنامہ مدینہ کے ایڈیٹر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکن جناب مولانا محی الدین خان (ڈھاکہ) نے رد قادیانیت پر زور دار بیان فرمایا۔ تقریباً پندرہ ہزار لوگوں کا اجتماع قادیانیت کے خلاف فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا۔ جناب مولانا صادق احمد صدیقی اور جناب مولانا عبدالمنان پرنسپل ڈگری کالج (سلہٹ) نے ختم نبوت اور رد قادیانیت پر مدلل تقریر کی۔ اس کے بعد آخری نشست سے ختم نبوت کے راہنما جناب شیخ مولانا عبدالحق دامت برکاتہم نے نہایت ہی پراثر تقریر فرمائی۔ کانفرنس کے اختتام پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ جناب نورالاسلام خان نے قادیانیت اور مرزا قادیانی کے متعارض دعاوی پر تبصرہ کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ دیکھئے! انسان صورت اور شیطان عادت مرزا قادیانی اپنے کو عیسیٰ (مرد) اور مریم (عورت) ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور یہ خدا سے ہم بستر بھی ہوتا ہے تو لوگ لاحول پڑھ کر ہنسنے لگے۔ مولانا نورالاسلام مرزا قادیانی کی کتابیں کھول کھول کر اس کے متضاد دعاوی دکھاتے رہے۔ اس کے بعد اجتماع نے چند قراردادیں منظور کیں۔
- ۱...... قادیانیوں کو فوراً بنگلہ دیش میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ان کے پمفلٹ، کتابچوں اور اشتہارات کی اشاعت بند کی جائے۔
- ۲...... چونکہ مرزائی کلمہ طیبہ میں رسول اللہ سے مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں۔ لہٰذا قادیانیوں کو کلمہ طیبہ کے استعمال سے روکا جائے۔
- ۳...... چونکہ قادیانی کافر اور مرتد اور زندیق ہیں اور ان سے رشتہ داری اور ان کا ذبیحہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے۔ لہٰذا ان سے ہر قسم
کے تعلق کا انقطاع اور سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ آخر میں ختم نبوت سنام گنج کے سرپرست خلیفہ حضرت مدنی، حضرت مولانا عبدالحق دامت برکاتہم نے دعا کی اور کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۷، مورخہ ۳ تا ۹؍ فروری ۱۹۸۹ء)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ”سال ختم نبوت“ کے سلسلہ میں پہلی ڈویژنل ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد الصادق بہاول پور میں منعقد ہوئی۔ صدارت قائد تحریک ختم نبوت مولانا خان محمد مدظلہ نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا محمد رحیم یار خان، مولانا خدا بخش، مولانا نذیر احمد، مولانا سید امیر حسین گیلانی، روزنامہ نوائے وقت کے نمائندہ خلیل انور جمالی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، علامہ ڈاکٹر خالد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمود لندن، قاری نور الحق قریشی، مولانا اللہ وسایا، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد عبداللہ، ڈاکٹر وسیم اختر ، مولانا غلام یسین خیر پوری، حافظ عبید اللہ انور، مولانا محمد احمد، مولانا منور احمد جالندھری نے خطاب کیا۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے انجام دیئے۔ کانفرنس قائد تحریک ختم نبوت مولانا خان محمد مدظلہ کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کے انتظامات کے لئے حاجی سیف الرحمٰن، چوہدری محمد علیم ، جناب محمد ریاض چغتائی سمیت رفقاء نے بھر پور محنت فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، ۲۳، مؤرخہ ۶ تا ۱۲؍ اپریل ۱۹۸۹ء)
اجتماعات سلسلہ سال ختم نبوت بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول پور کے زیر اہتمام سلسلہ سال ختم نبوت تقریبات منعقد ہوئیں۔
- ۱...... پہلی تقریب حاصل پور میں منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا قاری عبدالحئی عابد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ جب
کہ محمد اسحاق نے ہدیہ نعت پیش کی۔ علماء کرام نے اپنے خطابات میں قادیانیوں کی ملک میں بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں اور وفاقی حکومت کی مرزائیت نوازی پر کڑی تنقید کی۔ علماء کرام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبات تسلیم کئے جائیں اور قادیانیوں کو قانون کے دائرے میں رہنے کا پابند کیا جائے۔
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس عباس نگر
- ۲...... دوسرا پروگرام عباس نگر کی جامع مسجد میں منعقد ہوا۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا رفیق احمد نے کہا کہ ناموس رسالت کے
تحفظ کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ مولانا محمد اکرم نے کہا کہ سلمان رشدی ملعون نے کتاب لکھ کر مسلمانان عالم کے جذبات کو جھنجھوڑا ہے۔ اسلامیان عالم نے منظم احتجاج کر کے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان سرور کائنات ﷺ اور آپ کے صحابہؓ واہل بیت کی ناموس کے تحفظ کے لئے جان قربان کرنا باعث نجات سمجھتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم ومبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی، اس کی ذریت خبیثہ اور رشدی دونوں انگریز کی پیداوار ہیں۔ آخری خطاب مولانا قاری عبدالحئی عابد نے کیا۔ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کا اہتمام مولوی عبدالرحمٰن ودیگر کارکنان عالمی ختم نبوت نے کیا۔ کانفرنس صبح دس بجے سے شروع ہو کر عصر تک جاری رہی۔
معراج خاتم الانبیاء کانفرنس نور پور نورنگا
- ۳...... تیسرا پروگرام مؤرخہ ۲۲؍ فروری بعد نماز عشاء جامع مسجد نور پور نورنگا میں منعقد ہوا۔ جس کا انتظام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے
کارکنوں نے کیا۔ جن میں مولانا رشید احمد ، مولانا عبید اللہ ، مولانا مطیع اللہ پیش پیش رہے۔ معراج مصطفیٰ ﷺ کانفرنس سے مولانا یار محمد عابد، مولانا کریم بخش علی پوری، مولانا قاری عبدالحئی عابد لاہور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ جب کہ طاہر جھنگوی، محمد اسحاق شجاع آبادی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔
ختم نبوت کانفرنس احمد پور شرقیہ
- ۴...... چوتھا پروگرام جامع مسجد عباسیہ محلہ عباسیہ احمد پور شرقیہ میں ختم نبوت کانفرنس کے نام سے منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مقامی مجلس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے امیر مولانا غلام احمد نے کی اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا منظور احمد جالندھری نے سرانجام دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم ومبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا قاری عبدالحئی عابد نے کہا کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں قادیانیت نوازی کی پالیسی ترک کر دیں۔ چیف سیکرٹری سندھ سمیت تمام قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔ اسلامی جمہوری اتحاد بہاول پور ضلع کے صدر مولانا غلام مصطفیٰ نے کہا کہ قادیانی ملک وملت کے غدار ہیں اور غدار کی سزا سزائے موت ہوتی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے ناظم نشر واشاعت مولانا محمد احمد جالندھری نے کہا کہ مرکزی حکومت قادیانیوں پر اعتماد نہ کرے۔ کیونکہ قادیانی تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے بعد پیپلز پارٹی کے دشمن بن چکے ہیں۔ نیز ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار تک پہنچوانے میں قادیانیوں کا ہاتھ سرفہرست ہے۔ کیونکہ ایف ایس ایف کا چیئرمین مسعود محمود قادیانی تھا۔ جس نے بطور وعدہ معاف گواہ بھٹو کو پھانسی کے تختہ تک پہنچوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لہٰذا پی پی کی حکومت قادیانی ریشہ دوانیوں سے خبردار رہے۔ کانفرنس رات گئے جاری رہی اور مولانا قاری عبدالحئی عابد کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ لولاک ص ۱۹ تا ۲۱، مورخہ ۱۲؍ مئی ۱۹۸۹ء)
ڈیرہ اسماعیل خان میں سالانہ ختم نبوت ومعراج النبی ﷺ کانفرنس
ڈیرہ اسماعیل خان میں سالانہ ختم نبوت ومعراج النبی ﷺ کانفرنس مسجد جمعہ شاہ میں مارچ ۱۹۸۹ء کو مفتی ڈیرہ حضرت مولانا عبدالقدوس صاحب ایم پی اے کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا قاری سعید الرحمن علوی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب فرمایا۔ سٹیج سیکرٹری خواجہ محمد زاہد تھے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰ ، ۲۱ ، مورخہ ۲۶؍ مئی ۱۹۸۹ء)
ختم نبوت کانفرنس ملتان
موجودہ حکومت ایک پروگرام کے تحت قادیانیت نوازی کر رہی ہے۔ حالیہ دورہ میں پنجاب کے ڈپٹی فنانس سیکرٹری رشید شریف نامی قادیانی کو مقرر کیا گیا جو قادیانی مبلغ محمد شریف کا لڑکا ہے جو عرصہ دراز تک اسرائیل میں فوجی مشن لے کر مقیم رہا۔ رشید شریف کی پیدائش بھی تل ابیب میں ہوئی۔ ایک دوسرے قادیانی نسیم احمد کو اقوام متحدہ میں سفیر مقرر کیا جا رہا ہے۔ ایک تیسرے قادیانی ادریس کنول کو چیف سیکرٹری سندھ مقرر کیا گیا ہے۔ ’’الفضل‘‘ جس پر سابقہ حکومت کے دور میں پابندی تھی۔ موجودہ حکومت نے دوبارہ جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ستم ظریفی کی انتہاء ہے کہ قادیانی صد سالہ جشن منانے کی تیاری کر رہے ہیں اور مرزا طاہر احمد کو پورے اعزاز کے ساتھ واپس لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ یہ سب کچھ موجودہ حکومت کی قادیانیت نوازی کی کھلی دلیل ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اللہ وسایا مرکزی راہنما مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے ختم نبوت کانفرنس میں کیا جو حضوری باغ روڈ ملتان میں قصر ختم نبوت میں ۱۶؍ مارچ کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد اسماعیل شجاع آباد نے کہا کہ اگر حکومت نے قادیانیوں کو جشن منانے کی اجازت دی تو ربوہ کو جانے والی تمام سڑکوں کو بلاک کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر قادیانیوں نے جشن منایا تو اسی روز ربوہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ملکی سطح کی کانفرنس ہوگی۔ پھر ربوہ کی سرزمین پر فیصلہ ہو جائے گا کہ منکرین ختم نبوت کیسے جمع ہونے کی جرأت کر سکتے ہیں۔ مولانا عبدالواحد نے کہا مرزائیت ایک ناسور ہے۔ تمام مرزائی کافر و مرتد ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرتدین کے لئے شرعی سزا قتل نافذ کی جائے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ مسلمان اپنے پیارے نبی ﷺ کی عزت وعظمت کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ مرزائیوں کو سلمان رشدی کے خلاف اٹھنے والے طوفان سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کانفرنس سے علامہ عبدالحق مجاہد، قاری انوار الحق کوئٹہ، محمد امین گیلانی، محمد شریف ماہی، مولانا عبدالرحیم اشعر، جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا، مولانا حمادی، قاری سید ابصار علی شاہ، مولانا سلطان محمود اور دوسرے بہت سے مقررین نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے کی۔ مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب سٹیج سیکرٹری مولانا عبدالحق مجاہد تھے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۲، مؤرخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۸۹ء)
ڈیرہ مراد جمالی میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ مراد جمالی کے زیر اہتمام ۱۷؍مارچ کو ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس مدرسہ تاج العلوم گجر محلہ ڈیرہ مراد جمالی میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا عبدالستار صاحب بحرانی نے فرمائی۔ محمدیہ مسجد ربوہ کے خطیب فاتح ربوہ حضرت مولانا خدا بخش مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے پر جوش اجتماع سے وعدہ لیا کہ قادیانیت کے خاتمہ تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کانفرنس سے مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا اللہ وسایا ڈیروی اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۵، مؤرخہ ۱۳ تا ۱۸؍اپریل ۱۹۸۹ء)
راولپنڈی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
راولپنڈی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹، ۲۰، ۲۱؍مارچ کو تین روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
پہلا پروگرام: جامع مسجد عثمانی پنڈورہ میں حضرت مولانا عبدالغفار عثمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کانفرنس کی کارروائی کا آغاز قاری عبدالباسط کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مبلغ ختم نبوت احسان دانش نے سرانجام دیئے۔ دو ننھے خالد محمود اور ساجد محمود نے بھی خطاب کیا جسے سامعین نے بڑے ذوق وشوق سے سنا۔ کانفرنس سے محمد لیاقت خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت انگریز سامراج کا لگایا ہوا پودہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ قاری محبوب الرحمٰن ہزاروی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزائیوں نے پھر شرانگیزیاں شروع کر دی ہیں۔ حکومت ان کا فوری نوٹس لے ورنہ شمع رسالت کے پروانے خود ان سے نمٹنا جانتے ہیں۔ خلیفہ مجاز حضرت شیخ الحدیث، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ہزاروی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ اور عظمت صحابہ ؓ کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کو اپنے تمام احباب کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مجلس کے ہر فیصلہ کا خیر مقدم کریں گے۔ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ گناہ گار سے گناہ گار انسان سب کچھ برداشت کر لیتا ہے مگر اپنے نبی ﷺ کی توہین برداشت نہیں کرتا۔ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر بیان کیا۔ یہ اجلاس آخر میں حضرت مولانا عبدالغفار عثمانی کے دعائیہ کلمات پر اختتام پذیر ہوا۔
دوسرا پروگرام: جامع مسجد رحمانی، جھنگی محلہ میں ختم نبوت کانفرنس جس کی صدارت قاری محمد یونس نے کی، منعقد ہوئی کانفرنس کا آغاز حافظ محمد افضل کی تلاوت سے ہوا۔ جب کہ عبدالرشید میر نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس سے حضرت مولانا احسان احمد، اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے صدر جناب رانا محمد شفیق پسروری اور بریلوی مکتب فکر کے صاحبزادہ مظہر علی۔ آخر میں حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیسرا پروگرام: جامع مسجد محمدیہ تیلی محلہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس سے حضرت مولانا اللہ وسایا نے تفصیلی خطاب کیا۔ یہ مسجد راولپنڈی کے مرزائیوں کے مرکز مری روڈ کے بالکل عقب میں واقع ہے۔ جہاں پر مولانا اللہ وسایا نے مرزا قادیانی کے کفر دجل پر مباہلہ کا چیلنج کیا مگر کسی مرزائی کی جرأت نہ ہوئی کہ وہ مولانا اللہ وسایا کا چیلنج قبول کریں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، ۲۵، مورخہ ۲۸ / اپریل تا ۴ / مئی ۱۹۸۹ء)
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
نواب شاہ میں قادیانیوں نے صد سالہ جشن منانے کے موقع پر لٹریچر تقسیم کیا اور جب وہ ایک مسلمان کی دوکان پر گئے اور اسے مٹھائی وغیرہ دی تو اس نے مرزائی سے کہا کہ تمہارا نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) جھوٹا دجال بے ایمان تھا تو جواب میں اس نے حضور ﷺ کے متعلق بکواس کی جس سے اس کے خلاف کیس درج ہوا اور اب کیس چل رہا ہے۔ تمام مسلمان اس کی اور تمام کیسوں کی کامیابی کی دعا کریں۔ قادیانی جارحیتوں کے خلاف یہاں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ قادیانیوں نے کانفرنس کو ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اللہ کے فضل سے کافی لوگ آئے۔ نواب شاہ شہر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تھا۔ اس لئے کانفرنس اسٹیشن کے قریب کبیر مسجد میں حضرت مولانا دوست محمد صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ جس میں بریلوی مسلک، شیعہ، اہل حدیث، دیوبندی حضرات علماء نے حضرت علامہ حمادی، حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، ۲۵، مورخہ ۲۸ / اپریل تا ۴ / مئی ۱۹۸۹ء)
مانسہرہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
مانسہرہ (نمائندہ ختم نبوت) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ نے ملک کے دوسرے شہروں کی طرح ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا۔ مانسہرہ کے وسیع وعریض ظفر میدان میں کانفرنس کا پروگرام تھا۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے مانسہرہ کی عظیم تاریخی مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں پروگرام رکھا گیا۔ ۲۷ / مارچ کو صبح نو بجے اجلاس کی پہلی نشست کا آغاز ہوا۔ قاری فیض محمد صاحب نے تلاوت پاک فرمائی۔ مولانا قاضی رفیق الرحمن قمر صاحب، مولانا عبدالحق صاحب، مولانا امجد سعید صاحب، مولانا حمید اللہ صاحب نے تقاریر فرمائیں۔ جب کہ اعجاز الحق، مولانا عزیز العلام صاحب، قاری مصباح الاسلام نے بہترین نعتیں اور نظمیں پیش کیں۔ اسی اثناء میں امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان مولانا خان محمد صاحب ختم نبوت یوتھ فورس کے نوجوانوں کی نعروں کی گونج میں تشریف لائے۔ مرکزی جامع مسجد کے صدر دروازے پر ختم نبوت یوتھ فورس کے صدر لیاقت ظفر، بابو فضل الرحمن، نسیم اکبر، وقار احمد بابا ظہور عثمانی کی قیادت میں سلامی پیش کی گئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا دوست محمد منگوری نے انجام دیئے۔ قاری مصباح الاسلام کی نعت کے بعد مولانا قاری عبدالرشید صاحب کونسلر اوگی بازار کو دعوت دی گئی۔ قاری صاحب نے اپنی تقریر میں عشق رسالت مآب ﷺ پر ایسے واقعات بیان کئے کہ ہر ایک سننے والے کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ قاری عبدالرشید صاحب نے حضرت امیر مرکزیہ کی موجودگی میں کہا کہ ہم اپنے مخدوم ومرشد رہنما کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کی قیادت میں ختم نبوت کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے آپ کے اشارے کے منتظر ہیں۔ ان کے بعد شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانیت کا خوب تجزیہ کیا اور قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی اور بتایا کہ عالمی مجلس مخدوم العلماء امیر مرکزیہ مولانا خان محمد صاحب کی قیادت میں پانچ براعظموں میں مصروف ہے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب کی تقریر کے بعد شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی نے متواتر تین نظمیں پیش کیں۔ ان کی ایک نظم کا عنوان تھا ”بھگوڑا بھاگ گیا“ جس کو سن کر سامعین جھوم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اُٹھے۔ جلسہ کے دوران مولانا مفتی وقار الحق عثمان فاضل خیرالمدارس کی دستار بندی کی گئی۔ مفتی وقار الحق صاحب، مولانا عبداللہ صاحب خطیب مرکزی جامع مسجد کے صاحبزادے ہیں۔ ان کی بطور نائب خطیب وامام کے تقرری کی گئی۔ حضرت امیر مرکزیہ نے اپنے ہاتھ سے دستار بندی فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مورخہ ۵ تا ۱۱ مئی ۱۹۸۹ء)
آٹھویں ترمیم کی آڑ میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کو نہ چھیڑا جائے، احمد پور شرقیہ کے عوام کا مطالبہ
احمد پور شرقیہ (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت احمد پور شرقیہ کی طرف سے جمعتہ المبارک کے اجتماع سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت آٹھویں ترمیم کے خاتمے کی آڑ میں امتناع قادیانیت آرڈیننس اور تحفظ مقام صحابہ آرڈیننس کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس سازش کو کسی صورت کامیاب نہ ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی ان آرڈیننسوں میں کسی ردو بدل کو برداشت کیا جائے گا۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آتے ہی مرزائیوں کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ قادیانی سابقہ دور حکومت میں ملک سے فرار ہوگئے تھے۔ ان کو دوبارہ ملک پاکستان لایا جا رہا ہے اور ملک کے اہم عہدوں پر ان کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل اور ایٹمی توانائی کمیشن جیسے اداروں میں قادیانی اپنا تسلط قائم کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے بھائی سمیت کوئی ۲۸ کے قریب قادیانی نہایت اہم عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ اجتماع حکومت پاکستان پر یہ بات واضح کرتا ہے کہ مرزائی خاتم النبیین کے باغی، اسلام کے غدار اور پاکستان کی پیشانی پر بد نما داغ ہیں۔ ان کی تمام تر سرگرمیاں ملک قوم اور دین کے منافی ہیں۔ حکومت مرزائیوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے اور مرزائی پارٹی کو خلاف قانون قرار دے۔ تمام مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ شیزان گستاخان رسول ﷺ قادیانیوں کی مشروب سازی فیکٹری ہے۔ اس کی تمام تر مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرکے حب رسول ﷺ اور غیرت ایمان کا ثبوت دیں۔
قادیانیوں کے صد سالہ جشن منانے پر کنری میں ہڑتال
گزشتہ دنوں کنری میں قادیانیوں نے اپنے صد سالہ جشن کے سلسلہ میں عبادت گاہوں اور مکانوں پر چراغاں کیا اور انتظامیہ نے ان سے ساز باز کر کے انہیں چراغاں کی اجازت دی۔ جس پر کنری کے مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور ختم نبوت یوتھ فورس کی اپیل پر کنری شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ ختم نبوت یوتھ فورس کے ممبران اور عہدیداران نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور انتظامیہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ اگر قادیانیوں کی سرگرمیاں جاری رہیں اور انتظامیہ نے اس کا نوٹس نہ لیا تو شہر کے حالات کسی وقت بھی خراب ہو سکتے ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری قادیانیوں اور انتظامیہ پر ہوگی۔
میر پور آزاد کشمیر میں عظیم الشان جلسہ ختم نبوت
میر پور (نمائندہ ختم نبوت) گزشتہ دنوں یہاں ایک جلسہ زیر صدارت حافظ مہر دین صدر مجلس تحفظ ختم نبوت بمقام کالونی کے میر پور آزاد کشمیر منعقد ہوا۔ جس میں اراکین انجمن فلاح و بہبود نوجوانان اہل سنت والجماعت اور کافی تعداد میں معززین حلقہ نے شرکت کی۔ جلسہ مغرب کی نماز کے فوراً بعد شروع ہوا اور رات ۹ بجے تک جاری رہا۔ جلسے سے چوہدری محمد خلیل صاحب گجرات نے خطاب کیا اور مرزائیت کے جھوٹا ہونے کے ثبوت مرزا غلام احمد قادیانی کی خود نوشت کتابوں سے لوگوں کے سامنے حوالے پیش کئے اور یہ ثابت کر کے دکھایا کہ مرزا قادیانی جھوٹا ہے اور اس نے حضرت محمد ﷺ کی توہین کی ہے۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی بھی توہین کی ہے۔ یہ تمام جماعت جھوٹی ہے اور توہین رسالت کرنے والا واجب القتل اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مولانا نے حکومت آزاد جموں و کشمیر سے اپیل
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی کہ پورے آزاد جموں و کشمیر میں مرزائیوں کا مکمل سروے کیا جائے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرح آزاد جموں و کشمیر میں بھی امتناع قادیانیت آرڈیننس ۱۹۸۴ء پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے۔ مرزائیوں کے نام مسلمان ووٹروں سے علیحدہ کر کے ان کی علیحدہ ووٹر لسٹیں مرتب وشائع کی جائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، مورخہ ۵ تا ۱۱ مئی ۱۹۸۹ء)
کنری میں ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے زیر اہتمام ہونے والے جلسہ سیرت النبی ﷺ کی روداد
ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں جامع بخاری مسجد چوک میں ایک عظیم الشان جلسہ سیرت النبی ﷺ منعقد ہوا جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی مبلغین اور سندھ کے معروف علماء دین نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر ایمان افروز خطاب کیا۔ اس موقعہ پر سید قلندر شاہ مہمان خصوصی تھے۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز مولوی عبدالقدوس نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور الحاج محمد طاہر نے نعت رسول ﷺ پیش کی۔ مقامی مسلمانوں کے علاوہ جلسہ میں شرکت کی غرض سے تھر پارکر کے دیگر شہروں اور قصبوں سے بھی سینکڑوں مسلمان اور حضور اکرم ﷺ کے پروانے یہاں پہنچے ہوئے تھے۔
مقررین میں سے سب سے پہلے مولانا خالد سعید نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ خالص مذہبی اور سیرت النبی ﷺ کا جلسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیرونی سازش کے تحت پاکستانی قوم کو علاقائیت اور لسانیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے مسئلہ پر کسی بھی فرقہ کو قطعی کوئی اختلاف نہیں ہے اور کوئی بھی شخص خواہ کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اس کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت پر یقین نہ رکھتا ہو۔ ٹنڈو آدم سے آنے والے شعلہ بیان مقرر مولانا حفیظ الرحمن نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اسلامی اخوت اور بھائی چارے کے رہنما اصول کو پس پشت ڈال کر مختلف قسم کی منافرت اور عصبیت کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں اور لا دینی قوتیں ہماری صفوں میں گھس کر ہمارے اتفاق اور اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلمان متحد ہو کر رد مرزائیت اور قادیانیوں کے خلاف کام کریں۔ انہوں نے کنری اور گرد و نواح کے علاقہ میں مقیم مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ قادیانی مرتد ہیں۔ لہٰذا انہیں اپنی خوشی اور اپنی دعوتوں میں ہرگز شریک نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ قادیانیوں سے بائیکاٹ کرے اور ان سے کسی قسم کا لین دین نہ کرے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مولوی عبیداللہ چانڈیو نے کہا کہ مؤمن وہ ہے جس کے دل میں حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت ہو۔ انہوں نے کہا نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ قیامت تک تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کی خدائی ہے۔ وہاں تک ہی رسول عربی ﷺ کی نبوت ہے۔
اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی مبلغ مولانا جمال اللہ الحسینی نے اپنی تقریر میں کہا کہ حضور ﷺ کی ذات بابرکات سے تعلق کو دوسرے تعلقات پر فوقیت دینا صحیح مسلمان کی علامت ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی گستاخ نے حضور ﷺ کے حق میں بے ادبی کا ارتکاب کیا تو مسلمانوں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ انہوں نے کہا اس سلسلہ میں غازی علم الدین شہید اور عبدالقیوم خان کے نام تاریخ میں سنہری حروف میں درج ہیں کہ جنہوں نے گستاخ رسول کو واصل جہنم کیا۔ انہوں نے کہا یوم پاکستان کے موقعہ پر قادیانیوں کے صد سالہ جشن کے موقعہ پر پنجاب کے غیور مسلمانوں نے ربوہ پہنچ کر انہیں یہ جشن منانے نہ دیا۔ اس ضمن میں پنجاب کے مسلمان مبارک باد کے مستحق ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سندھ کے کنوینر حضرت مولانا احمد میاں حمادی نے اپنی تقریر میں کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی سے ہر مسلمان کا ایک والہانہ تعلق ہے۔ آپ ﷺ کی شان میں ذرا سی بے ادبی کے مرتکب شخص کو کوئی سچا مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا ہمارے ملک کی بنیاد بھی عقیدہ پر رکھی گئی ہے اور عقیدہ کے بغیر ملکی سالمیت کا تصور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کوئی بھی مسلمان حضور اکرم ﷺ کی غلامی کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ملک میں بسنے والے تمام مسلمان ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے اولیاء کرام کو گالی گلوچ کرنے والا مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ مولانا نے کہا جو آدمی کافر ہو یا مسلمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ہنسی اڑاتا ہے یا ان کی سیرت و زندگی کے کسی گوشے کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیار کرتا ہے یا ان کی توہین و تنقیص کرتا ہے یا ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے یا گالی دیتا ہے یا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اور امہات المؤمنین اور صحابہ کرام کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اور قرآن مجید کو ایک دیوانے اور مجنوں آدمی کا خواب بتاتا ہے یا ایک ناول اور کہانی سے تعبیر کرتا ہے تو وہ سراسر کافر، مرتد، زندیق اور ملحد ہے۔ اگر ایسا آدمی کسی مسلمان ملک میں یہ حرکت کرتا ہے تو اس کا قتل کرنا مسلمانوں کی حکومت پر واجب ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ میرا عورت کی سربراہی کے متعلق کوئی اختلاف نہیں لیکن مجھے قوی امید ہے کہ مرحوم و مغفور ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی دین کے دشمنوں اور رسول اکرم ﷺ کے گستاخوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین میں یہ قانون ہے صرف عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھویں ترمیم میں بھی گستاخ رسول ﷺ کی موت کا قانون ہے۔ انہوں نے ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ صد سالہ جشن منانے والے مرزائیوں کے خلاف عدالتوں میں مقدمات درج کرائیں۔
سیرت النبی ﷺ کے سلسلے میں منعقدہ جلسے کے آخر میں سندھ کے معروف عالم دین اور قاری حضرت مولانا امیر محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ قادیانیت مسلمانوں کے ملک میں کینسر کے مرض کے مترادف ہے اور جسم کو بچانے کے لئے کینسر والے عضو کا کاٹنا اشد ضروری ہے۔ ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے صدر مولانا محمد صفدر نے اس موقعہ پر حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کے چیف سیکرٹری کنور ادریس کو برطرف کیا جائے۔ (خبر ہے کہ تبدیل ہو چکا ہے) اور قادیانی رسالہ ”الفضل“ پر فوری پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ: ”قادیانیوں سے بائیکاٹ“ کی تحریک کو کامیاب بنائیں۔ سیرت النبی ﷺ کے اس جلسہ کی کمپیئرنگ کے فرائض عبدالغفار مغل نے سرانجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، ۲۵، مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵ مئی ۱۹۸۹ء)
چھٹی کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ننکانہ صاحب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب گزشتہ چھ سال سے کل پاکستان ختم نبوت کانفرنسیں اور انٹرنیشنل گولڈ میڈل انعامی تحریری مقابلے کا اہتمام کرتی چلی آ رہی ہے۔ جس کا مقصد رسوائے زمانہ فتنہ قادیانیت کا تعاقب اور مسلمانان عالم میں تحفظ ختم نبوت کا جذبہ پیدا کر کے پرچم تاجدار ختم نبوت کی بلندی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس ذات بابرکات نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کو اس عظیم اور نیک مقصد میں کامیابی سے ہمکنار کر کے ایک تاریخ ساز مرتبہ سے نوازا۔ جس کا بین ثبوت گزشتہ روز ننکانہ صاحب ہی میں مجلس ہذا کے زیر اہتمام ۲۹؍ مارچ کو منعقد ہونے والی چھٹی کل پاکستان عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کی عظیم اور تاریخی کامیابی ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد نے قادیانیت کے مکروہ چہرہ سے نقاب اٹھا کر اس کا اصل روپ عوام الناس کو دکھایا ہے اور ہر زاویہ سے قادیانیت کا پوسٹ مارٹم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ غرضیکہ اس کے انعقاد سے نہایت مفید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
چھٹی کل پاکستان عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مرکزی جامع مسجد غوثیہ سراجیہ ننکانہ صاحب میں رات ٹھیک نو بجے ڈاکٹر صولت نواز کی تلاوت سے شروع ہوئی اور رات دو بجے قاری مغیث الدین شیخ کے پرمغز خطاب سے اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس میں مختلف مکتبہ فکر کے جید علماء کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت اور خطاب کیا۔ جن میں ممتاز مسلم سکالر پروفیسر علامہ محمد سعید احمد مجددی، شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا آف ملتان، صاحبزادہ طارق محمود، مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ صاحب، قاری مغیث الدین شیخ صاحب اور حاجی عبدالحمید رحمانی کے اسماء گرامی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد متین خالد صدر مجلس ہذا اور خطبہ استقبالیہ مولانا شوکت علی شاہد ناظم مجلس ہذا نے پڑھا۔ کانفرنس کی صدارت پروفیسر غازی احمد صاحب نے کی۔
مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرزائیت یا قادیانیت کسی مذہب یا گروہ کا نام نہیں بلکہ ایک بغاوت کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان میں کلیدی آسامیوں پر بھرپور قبضہ کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر کی حیثیت سے متعین بدنام تخریب کار گروہ کے نمائندے نسیم احمد قادیانی کو فی الفور اقوام متحدہ سے نکالا جائے۔ اپنے خطاب میں صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ موجودہ وقت میں مرزا قادیانی جہنم مکانی کے پیروکاروں کا عبرت ناک انجام اور باطل قادیانی مذہب کا مسلسل زوال اس بات کا شگون ہے کہ اب آقائے نامدار ﷺ کی سچی اور سچی ختم نبوت کا پرچم سب سے بالا لہرائے گا۔ ممتاز مذہبی و سماجی شخصیت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے سرپرست اعلیٰ حاجی عبدالحمید رحمانی نے کہا کہ قادیانیوں کو بتا دو کہ ہم نے نواز شریف، بے نظیر یا جنرل ضیاء کا کلمہ نہیں پڑھا۔ ہم نے آمنہ کے لعل ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے۔ ہم اس کلمہ کی حرمت اور نبی ﷺ کی ناموس کی خاطر ہر وہ جائز قدم اٹھائیں گے جو فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے حق میں جاتا ہو۔
عالم خواب کے اندر حضور خاتم المرسلین ﷺ کے دست مبارک پر اسلام کی ایمانی چاشنی سے فیضیاب ہونے کی عظیم سعادت حاصل کرنے والے (سابقہ ہندو) موجودہ مسلم سکالر پروفیسر غازی احمد صاحب اور ممتاز مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ صاحب ہر دو شخصیات نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ قادیانیت کا بانی مرزا قادیانی شخصیت اور کردار کے لحاظ سے ایک مکمل انسان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی نیشنل اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تھا لیکن قادیانیوں، مرزائیوں نے قومی اسمبلی کے اس اکثریتی فیصلے کو اب تک قبول نہیں کیا اور آج تک بھی اپنے آپ کو مسلمان کہلوا رہے ہیں۔
شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور کے چیئرمین قاری مغیث الدین شیخ نے اپنے پرمغز اور نہایت مدبرانہ خطاب میں مرزائیت اور مرزائی سازشوں پر تفصیلاً روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ مرزائیت اور اس کے پیچھے کارفرما سازشیں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد فوج، بیورو کریسی، ذرائع ابلاغ، اٹامک انرجی اور دیگر اہم اور حساس شعبوں میں ایک منظم سازش کے تحت اس ملک دشمن گروہ نے اپنے قدم جمالئے جس کا خمیازہ آج تک حکومت پاکستان اور پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایئر مارشل ظفر اللہ چوہدری اور اٹامک انرجی کا ایک سینئر اعلیٰ آفیسر فرحت اللہ بابر جو کہ دونوں قادیانی جماعت کے سرگرم رکن ہیں۔ سارا عالم ان دونوں کو قادیانی اور غدار وطن کی حیثیت سے جانتا ہے۔ ان دونوں قادیانیوں نے بھارت اور اسرائیل کو پاکستان کے اہم دفاعی راز فراہم کئے۔ بعد ازاں فرحت اللہ بابر ملک سے فرار ہو گیا۔ اس کی غیر موجودگی میں محکمہ کی جانب سے اس کے نام سے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخبارات میں اشتہار شائع ہوتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان آستین کے سانپوں کی شکایت کریں تو کس سے کریں۔
(لولاک ص ۱۴، ۱۵، مؤرخہ ۱۲؍مئی ۱۹۸۹ء)
سید والا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
سید والا ۲۹؍مئی ۱۹۸۹ء بروز سوموار بعد نماز عشاء بمقام مدرسہ فاروقیہ تعلیم القرآن میں مجلس تحفظ ختم نبوت سید والا کے زیر اہتمام دوسری سالانہ عظیم الشان تاجدار ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ صدارت حاجی عبدالحمید رحمانی سرپرست مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کی تھی۔ کانفرنس میں سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، حضرت مولانا عبدالوارث، مولانا عبدالہادی شیخوپورہ، مولانا محمد جمیل اجمل جڑانوالہ، محمد متین خالد نے خطاب فرمایا۔ نعت خواں جناب سید سلمان گیلانی اور حافظ محمد یاسین ثاقب نے اپنے منفرد انداز میں نظمیں پیش کیں۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے قادیانیوں کو دعوت اسلام پیش کی۔ کانفرنس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے اور صدارتی آرڈیننس پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے۔ کانفرنس رات ڈیڑھ بجے ختم ہوئی۔ علاقہ بھر کے مسلمانوں نے دور دراز سے شرکت کی۔ ننکانہ صاحب، جڑانوالہ، بچیکی، چک نمبر ۵۶۲، ۵۶۴ سے لوگ بسوں اور ٹرالیوں میں شریک ہوئے۔
(لولاک ص ۲۱، مؤرخہ ۷؍جولائی ۱۹۸۹ء)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس خانیوال
امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا خان محمد صاحب کے حکم پر ۱۹۸۹ء کو ختم نبوت کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلہ کی خانیوال میں پہلی ختم نبوت کانفرنس اور حضرت مولانا عبدالمالک صدیقی علیہ الرحمۃ کی یاد میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت حضرت عبدالمالک صدیقی کے صاحبزادے عبدالماجد صدیقی نے فرمائی۔ ۱۸؍مئی جمعرات کی نماز فجر سے نماز جمعہ تک کانفرنس کی تین نشستیں تھیں۔ ان نشستوں میں تسبیحات، قرآن خوانی کے علاوہ مایہ ناز علماء کرام اور حضرت کے جید خلفاء کے بیانات اور تقاریر شامل تھیں۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد طیب نے تلاوت کلام اللہ سے کیا۔ بعد ازاں قاری محمد اشرف اور حکیم صاحب نے حمد باری تعالیٰ اور نبی اکرم ﷺ کے حضور گلہائے عقیدت پیش کئے۔ نماز عشاء کے بعد جم غفیر سے شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔ نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمایا کہ حب نبوی ﷺ کا تقاضا ہے کہ پیغمبر خدا کے دوستوں کے دوست اور محبت کرنے والے بنیں اور آپ ﷺ کے دشمنوں سے نفرت کرنے کے لئے دلوں میں بغض رکھیں۔ آپ نے لوگوں کو واضح طور پر بتایا کہ قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں کیا فرق ہے۔ یہودی، عیسائی اور دوسرے کافر خود غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہوئے اپنے مذاہب کی تبلیغ کرتے ہیں جب کہ قادیانی مسلمانوں کے بھیس میں ختم نبوت پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ ان کا تعلق مسیلمہ کذاب اور نبوت کے دوسرے جھوٹے دعویدار مرتدین سے ہے۔ اگر ہم اپنے ماں باپ کے خلاف کوئی بات اور ان کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آقائے نامدار محمد عربی ﷺ کے خلاف کوئی بات سنیں۔ حضرت مولانا محمد شاہ صاحب بیلہ پشاور والوں نے فرمایا کہ مسلمان قوتوں کو چاہئے کہ باہمی رنجشوں کو یکسر بھلا کر اسلام دشمن کے خلاف متحد اور یک جا ہو جائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ ہماری اپنی نااتفاقیوں اور باہمی اختلاف کا صلہ ہے کہ نئے نئے فتنے اور اسلام کے خلاف نت نئی سازشیں کی جارہی ہیں۔ حضرت مولانا شاہ عالم ہزاروی خطیب جامع مسجد مینار خانیوال نے بھی خطاب کیا۔ آخری نشست سے حضرت مولانا عبد المالک صدیقی کے جید خلفائے کرام نے بیانات فرمائے۔ آخر میں صاحبزادہ عبدالماجد صدیقی نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابی، عالم اسلام اور تمام امت مسلمہ کے لئے دعا فرمائی اور یوں کانفرنس کا عظیم الشان اجتماع اختتام کو پہنچا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، ۲۵، مورخہ ۱۰ تا ۱۶ / جون ۱۹۸۹ء)
چک ۴۶؍ شمالی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
سرگودھا (نامہ نگار) چک نمبر ۴۶؍ شمالی میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں پولیس تھانہ صدر نے تین قادیانیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور قادیانیوں کی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ محفوظ کر لیا گیا۔ بعدازاں مذکورہ چک میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ قادیانی ملک میں سوچی سمجھی سکیم کے تحت انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ مگر جب تک علماء حق کا ایک بھی فرزند زندہ ہے ہم انہیں ایسا کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر سخت تنقید کی کہ جس کی شہ پر قادیانی آئے روز امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا اکرم طوفانی نے کہا کہ مقامی انتظامیہ قادیانیت نوازی چھوڑ دے وگرنہ ہم ان کے خلاف بھی ایکشن لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ سابقہ ایم۔ این۔ اے حاجی محمد اسلم کچھیلا نے اپنی طرف سے ختم نبوت کے کارکنوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ کانفرنس میں میئر کارپوریشن چوہدری عبدالمجید ایم۔ پی۔ اے مہمان خصوصی تھے۔ رانا محمد یونس، بشیر احمد، عبدالرزاق، حسن رزاق اور دیگر عہدیداران نے مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں نے جو کلمہ طیبہ گھروں پر آویزاں کر رکھے ہیں۔ ان کو بھی محفوظ کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے قادیانیوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۱۰ تا ۱۶ / جون ۱۹۸۹ء)
مروٹ ضلع بہاول نگر میں جلسہ ختم نبوت
۱۱ / جولائی کو مروٹ ضلع بہاول نگر میں عظیم الشان جلسہ ختم نبوت ہوا۔ منڈی مروٹ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دوسرا جلسہ تھا۔ دونوں جلسے بڑے کامیاب رہے۔ الحمدللہ! مروٹ کے عوام نے مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ غلہ منڈی اور بازار میں ان کے ساتھ لین دین نہیں۔ اس جلسہ میں مقامی علماء میں سے جناب مولانا محمد علی نوری، قاری محمد انور اور مولانا منشاء قادری نے خطاب کیا۔ فورٹ عباس سے مولانا قدرت اللہ اور ہارون آباد سے مجاہد ختم نبوت ڈاکٹر میاں احسان باری نے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ بعدازاں جناب مولانا اللہ وسایا مرکزی مبلغ تحفظ ختم نبوت نے اپنے ارشادات سے اہل جلسہ کو نوازا۔ مرزائیوں کے غلط عقائد وعزائم سن کر عوام الناس میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ الحمدللہ! ختم نبوت جلسہ کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ عوام الناس نے مرزائیوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرنے کا وعدہ کیا۔ بعدازاں مولانا محمد منشاء صاحب نے قرارداد پیش کی کہ علاقہ میں جہاں جہاں بھی سکولز میں قادیانی مدرس ہیں، انہیں فوراً برطرف کیا جائے عوام الناس نے بڑی گرم جوشی سے اس قرارداد کی تائید کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، مورخہ ۲۸ / جولائی تا ۳ / اگست ۱۹۸۹ء)
پشین، ژوب اور لورالائی میں ختم نبوت کانفرنس
عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے سنت صدیقی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ قادیانی ملک وملت کے دشمن ہیں۔ ان خیالات کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد پشین میں ۲۸؍ جولائی ۱۹۸۹ء ختم نبوت کانفرنس سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین اور ممتاز علماء کرام نے کیا۔ جس کی صدارت مرکزی جامع مسجد پشین کے خطیب مولانا محمد طاہر نے کی۔ جب کہ مولانا اللہ وسایا، مرکزی جامع مسجد کوئٹہ کے خطیب مولانا انوار الحق حقانی، ڈپٹی سپیکر عنایت اللہ خان بازئی، مولانا عبد الواحد جمعیۃ علماء اسلام کے رہنما محمد نعیم ترین، مولانا جمال اللہ الحسینی نے خطاب کیا اور محمد انور مندوخیل نے قراردادیں پیش کیں۔ مقررین نے کہا کہ مسلمان کسی بھی صورت میں توہین رسالت برداشت نہیں کریں گے اور اسلام و ملک دشمنوں کے عزائم ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب قراردادوں اور مطالبوں کا زمانہ گزر گیا ہے۔ اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ایک منصوبے کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرم عمل ہو گئے ہیں لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا نوٹس لیا ہے۔ ان کی سرگرمیوں سے وطن عزیز کے مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا۔ علماء کرام نے کہا کہ بلوچستان میں ذکری فرقہ بلوچستان میں جعلی کعبہ بنا کر مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔ اسلام اور ختم نبوت کی توہین کر رہا ہے۔ اس کے لئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ذکری ختم نبوت ، قرآن ، اسلام کے باغی ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ذکریوں کے جعلی حج پر پابندی عائد کی جائے اور ان کو بھی قانونی طور پر قادیانیوں کی طرح غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ دریں اثناء مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب کے زیر اہتمام ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۹ء ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس کے سلسلے میں کانفرنس کی دو نشستیں مرکزی جامع مسجد ژوب اور ظریف شہید پارک میں ہوئی جن کی صدارت ضلعی امیر شیخ غلام حیدر نے کی۔ کانفرنس سے ممتاز عالم دین مولانا اللہ وسایا، مولانا جمال اللہ بخش، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا انوار الحق حقانی ، مولانا عبد الواحد، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا حبیب الرحمٰن، مولانا اللہ داد کاکڑ نے خطاب کیا۔ علماء نے اپنی تقریروں میں قادیانیوں کی جارحانہ کارروائیوں پر روشنی ڈالی۔ کہا کہ پی۔ پی کی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد قادیانیوں کی معاندانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لورالائی کے زیر اہتمام ۳۰؍ جولائی ۱۹۸۹ء بروز اتوار کو بعد نماز عشاء جامع مسجد میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس کی صدارت مجلس کے مرکزی شوریٰ کے رکن مولانا عبد الواحد نے کی۔ کانفرنس سے مجلس کے مرکزی رابطہ سیکرٹری مولانا اللہ وسایا، مولانا قاری انوار الحق حقانی، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا احمد بخش شجاع آبادی، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا جمال اللہ الحسینی اور مولانا خلیل الرحمٰن نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت دین کی اساس ہے۔ یہ مسئلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ یکم تا ۷؍ستمبر ۱۹۸۹ء)
ختم نبوت کانفرنس خضدار (بلوچستان)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ بلوچستان کے زیر اہتمام پانچ روزہ ختم نبوت کانفرنسیں ہوئیں۔ آخری کانفرنس یکم اگست بروز منگل مرکزی جامع مسجد خضدار میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے ختم نبوت کے رہنماء مولانا اللہ وسایا، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا احمد بخش پنجاب، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا جمال اللہ الحسینی ، مولانا عبد الواحد کوئٹہ اور سید امین گیلانی صاحب ظہر کے وقت خضدار پہنچے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جمعیۃ علماء اسلام اور جمعیۃ طلباء اسلام کے کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ تاہم عصر کے وقت ایک ضروری کام کے سلسلہ میں مولانا اللہ وسایا اور نذیر احمد بلوچ کراچی چلے گئے۔ ظہر سے مغرب تک ایک گاڑی میں کانفرنس کے لئے شہر میں اعلان کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مغرب کے بعد کانفرنس شروع ہوئی۔ کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ختم نبوت اور جے ۔ یو ۔ آئی کے رہنماء مولانا محمد اسحاق کی صدارت میں قاری عبدالرحمٰن کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد ماسٹر خدا بخش نے ختم نبوت زندہ باد کے عنوان سے نظم پیش کی۔ مولانا احمد بخش صاحب نے ختم نبوت کے موضوع پر اہم تقریر کی۔ تقریر کے بعد جب سید امین گیلانی کا نام لیا تو جلسہ نعروں سے گونج اٹھا۔ نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، سید گیلانی نے انقلابی نظم پڑھ کر سامعین کے دلوں کو گرمایا۔ اس طرح ہر مقرر کے بعد سید گیلانی نظم پیش کرتے ۔ مولانا جمال اللہ الحسینی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں جو امن وامان کا مسئلہ ہے۔ آئے دن فسادات ہوتے ہیں۔ ان سب کا ذمہ دار سندھ کا قادیانی چیف سیکرٹری کنور ادریس ہے۔ جس کی حکومت کو ہم نے پیشگی کی اطلاع دی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے رہنما مولانا نذیر احمد تونسوی کا استقبال بھی زبردست نعروں سے ہوا۔ مولانا تونسوی نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں کانفرنسیں منعقد کرنے کا مقصد مسلمانوں کو قادیانیوں اور ذکریوں کے ناپاک عزائم سے آگاہ کرنا ہے۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے وزراء کے خدمات کو سراہا۔ جمعیت طلباء اسلام کے مقامی رہنما محمد عبد الصمد شاہوانی نے گرجدار آواز میں کہا کہ اگر ذکریوں کو غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا اور قادیانیوں کو نوازا گیا تو جے ۔ ٹی ۔ آئی کے جیالے باطل کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔ انہوں نے قادیانیوں کو مرا ہوا سانپ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس ایوان میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا۔ اسی ایوان میں ڈاکٹر عبدالسلام کو دعوت دے کر آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ فیض احمد فیض نے بھی انعام حاصل کیا تھا۔ کمیونسٹ تھا۔ کچھ تھا لیکن اس کو اس طرح نوازا نہیں گیا لیکن عبدالسلام کو ظہرانے عشائیے دے کر حکمرانوں نے قادیانیوں سے اپنی محبت کا واضح ثبوت فراہم کیا۔ جب کہ امریکی یہودیوں نے سازش کے تحت ان کو نوبل دے کر قادیانیت کو اجاگر کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ اس کے بعد مولانا عبد الواحد خطیب قندھاری مسجد کوئٹہ نے بھی جذباتی انداز میں ختم نبوت کے موضوع پر تقریر کی۔ قادیانیوں اور ذکریوں کے ناپاک چہرے سے پردہ ہٹایا۔ صدر جلسہ اور ختم نبوت بلوچستان کی مجلس شوریٰ کے کارکن مولانا محمد اسحاق شاہوانی نے اپنے مختصر خطاب میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس میں ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندے نسیم فرحت اللہ بابر، ٹی اینڈ ٹی کوئٹہ کے منیجر، گورنمنٹ گرلز کالج پشین کے پرنسپل، سندھ کے چیف سیکرٹری کو فوراً برطرف کیا جائے جو پکے قادیانی ہیں۔ لوگوں نے اس کی تائید کی۔ نیز مطالبہ کیا گیا کہ ذکریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ مولانا فیض محمد صاحب کی دعا سے کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ ۱۵ تا ۲۱ ستمبر ۱۹۸۹ء)
بہاول پور میں عظیم الشان استحکام پاکستان و تحفظ ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا عبد الرحیم اشعر نے کہا کہ اگر آٹھویں ترمیم کی آڑ میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کو ختم کیا گیا تو عظیم الشان اور مؤثر تحریک چلائی جائے گی۔ جس کے نتیجہ میں قادیانی اور قادیانی نواز حکمران خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے۔ وہ یہاں ۱۴؍ اگست ۱۹۸۹ء کو جامع مسجد الصادق میں عظیم الشان سالانہ استحکام پاکستان و تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے عظیم اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کی صدارت حاجی سیف الرحمٰن امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور نے کی۔ مناظر ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ پی۔ پی کی حکومت قادیانیت نوازی کر کے بھٹو مرحوم کے دور میں ہونے والی آئینی ترمیم کی دھجیاں بکھیر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے چیف سیکرٹری کنور ادریس قادیانی کو فی الفور علیحدہ کیا جائے ۔ کیونکہ سندھ کی علیحدگی پسند تنظیمیں چیف سیکرٹری مذکور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہیں اور سندھ میں ہندو قادیانی، بنگلہ دیش والے حالات پیدا کر رہے ہیں جو ملک و ملت کے لئے نقصان دہ ہیں۔ علماء اہل سنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عبدالغفور حقانی نے کہا کہ ختم نبوت کی تحریک کو نہیں دبایا جاسکتا۔ اگر کسی نے دبایا تو وہ خود مٹ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں قائد تحریک مولانا خان محمد مدظلہ کی ولولہ انگیز قیادت کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں جو پیرانہ سالی کے باوجود پوری دنیا میں قادیانیت کے پرزور تعاقب میں مصروف ہیں۔
بہاول پور کے ممتاز عالم دین مولانا غلام مصطفیٰ نے کہا کہ گزشتہ سال جنرل ضیاءالحق کے طیارے کے المناک حادثہ میں قادیانی بھی شریک ہیں۔ حکومت جان بوجھ کر شہداء بہاول پور کے کیس کو دبا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو شامل تفتیش کیا جائے۔ کیونکہ اس المناک حادثہ میں ایک قادیانی بریگیڈیر لطیف احمد بھی مرا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۱۵ تا ۲۱ ستمبر ۱۹۸۹ء)
ہری پور میں عظیم الشان امیر شریعت کانفرنس
ختم نبوت تحصیل ہری پور کے زیر اہتمام ۱۹؍ اگست ۱۹۸۹ء کو چن پارک ہری پور میں ایک روزہ عظیم الشان امیر شریعت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے دو دور ہوئے۔ پہلی نشست سے خطاب کرنے والوں میں ختم نبوت یوتھ فورس ایبٹ آباد کے جنرل سیکرٹری فداء بہادر شبان ختم نبوت تحصیل ہری پور کے نائب صدر سید امداد شاہ شبان ختم نبوت ہری پور شہر کے جنرل سیکرٹری اورنگزیب اعوان اور مولانا قاضی گل رحمان شامل تھے۔ یہ نشست دن بارہ بجے سے شروع ہوئی اور دو بجے ختم ہوئی۔ نماز ظہر کے بعد اڑھائی بجے دوسری نشست شروع ہوئی جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکندر پور کے صدر خان افسر سواتی، ختم نبوت یوتھ فورس ایبٹ آباد کے صدر وقار گل جدون، شبان ختم نبوت ہری پور تحصیل کے چیف آرگنائزر حفیظ الرحمٰن، حکیم عبدالرشید انور، مفتی محمد حسن، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا اور مجلس تحفظ حقوق اہل سنت کے مرکزی ناظم اعلیٰ سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب شامل ہیں۔ مولانا اللہ وسایا نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری برصغیر میں ایک عظیم مقام کے مالک تھے اور آزادی وطن کے لئے لڑنے والوں میں سب سے اوّل نمبر پر ہیں۔ انہوں نے مرزائیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ۱۹۰۱ء میں تاج نبوت کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے والے غلام احمق قادیانی کی ناپاک ذریت اس کے ناپاک مشن کو پھیلانے کے لئے مختلف قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی مرزائیت نوازی کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے وزیراعظم کے اس فعل کی بھی مذمت کی کہ وزیراعظم نے وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالتے ہی ساہیوال، سکھر اور سیالکوٹ کے شہدائے ختم نبوت کے قاتلوں کی سزائے موت معاف کر دی جو شہداء کے خون سے غداری ہے۔
سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے اپنے خطاب میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ امیر شریعت بیک وقت بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ وہ اپنے وقت کے قلندر اور مجاہد تھے۔ امیر شریعت ہی وہ مجاہد تھے کہ جنہوں نے مرزائیت کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا۔ عبدالمجید ندیم نے کہا کہ اگر تحریک ختم نبوت سے حضرت شاہ جی کا نام نکال دیا جائے تو یہ تحریک بالکل نامکمل دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے مرزائیت کو ایک ناسور قرار دیا۔ آخر میں قاضی شمس الدین نے صدارتی خطاب فرمایا۔ مطالبہ کیا کہ نسیم احمد، کنور ادریس، گوجرانوالہ پیپلز ورکس پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر قادیانی کو فوری برطرف کیا جائے۔ کانفرنس کا اختتام ایبٹ آباد کے امیر مولانا حبیب الرحمٰن کی دعا سے ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳، مورخہ ۱۵ تا ۲۱ ستمبر ۱۹۸۹ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شاد باغ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیراہتمام شاد باغ جامع مسجد اشرفیہ لاہور میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس شیخ فضل حیات کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک قاری محمد شکیل شہزاد نے کی۔ مولانا قاضی اللہ یار صاحب نے ختم نبوت کے موضوع پر اہم تقریر کی۔ اپنے خطاب میں قاضی صاحب نے زور دیا کہ قادیانی دین اسلام کے لئے ایک فتنہ ہیں اور جب تک اس فتنہ کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ختم نبوت کے پروانے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ لاہور کے مبلغ مولانا محمد نذر نے اپنے خطاب میں مسیلمہ پنجاب مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کی سازشوں سے عوام الناس کو آگاہ کیا اور وفاقی وصوبائی حکومت کی پالیسوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت جس طرح مرزائیت نوازی کا مظاہرہ کر رہی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ کانفرنس قاری غلام مصطفیٰ قادری کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۷ تا ۱۳/ اکتوبر ۱۹۸۹ء)
عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن سے پہلے حضرت امیر مرکزیہ کی لندن میں اہم پریس کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد مدظلہ نے لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس پریس کانفرنس میں مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن، ختم نبوت کانفرنس کے چیف آرگنائزر مولانا عبدالرحمن باوا، مرکزی مبلغین مولانا اللہ وسایا، مولانا منظور احمد الحسینی موجود تھے۔ پریس کانفرنس بعد از وقت موصول ہوئی۔ اس لئے ریکارڈ میں لانے کے لئے ہم اسے ادارتی کالموں میں شائع کر رہے ہیں۔ اس کا شائع کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ قادیانی بیرون ملک جو غلط پروپیگنڈہ کر رہے ہیں پاکستانی عوام کے سامنے اس کی حقیقت ظاہر ہو جائے۔ ادارہ!
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن میں پانچویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس ان شاء اللہ منعقد ہو رہی ہے۔ یہ کانفرنس ایسے موقع پر ہو رہی ہے۔ جب کہ پوری ملت اسلامیہ شیطان رشدی کی ”شیطانی کتاب“ کی اشاعت پر سراپا احتجاج ہے اور پوری دنیا میں قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے مباہلہ کا ڈھونگ رچایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قادیانی صد سالہ جشن کے نام پر اپنے ارتدادی تبلیغی پروپیگنڈے میں بھی مصروف ہیں۔ اسلام اور قادیانیت کے درمیان اختلافات فروعی نہیں بلکہ بنیادی ہیں۔ ان کے نزدیک مرزا قادیانی کے مانے بغیر نجات نہیں ہو سکتی جب کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت جھوٹا تھا۔ چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے مسئلہ پر کوئی اختلاف نہیں رہا۔ ختم نبوت کے عقیدہ پر پوری امت کا اجماع ہے اور اس بات پر پوری امت متحد ومتفق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا فرد مرتد ہے۔ ختم نبوت کا مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ بھی ہے اور حساس ترین بھی۔ حساس اس لئے کہ اسی مسئلہ پر یمامہ کے میدان میں بارہ سو صحابہ کرام ؓ نے اپنی جان کے نذرانے پیش کئے اور اسی مسئلہ پر پاکستان میں تین بار تحریکیں چل چکی ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں ایک اندازے کے مطابق بارہ ہزار مسلمانوں نے قربانیاں دیں۔ اس لئے معلوم ہوا کہ امت کسی بھی جھوٹے مدعی نبوت کو برداشت نہیں کر سکتی۔ قادیانیوں کے بارے میں پوری امت کا ایک ہی نظریہ ہے کہ قادیانیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکار، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ۱۹۷۴ء کی پاکستان کی قومی اسمبلی اور رابطہ عالم اسلامی نے بھی ۱۹۷۴ء میں یہی متفقہ فیصلہ دیا ہے۔ گزشتہ چار سالوں سے ہم یہ کانفرنس منعقد کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ پوری ملت اسلامیہ میں عقائد کی پختگی پیدا کی جائے اور انہیں بیدار کر کے ان اسلام دشمن عناصر کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطرناک عزائم سے باخبر کیا جائے جو اسلام کے لبادے میں اسلام کی بنیادوں پر حملہ آور ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں قادیانیت کے کفریہ عقائد سے بھی آگاہ کیا جائے جن کی سرگرمیاں اسلام کے نام پر جاری ہیں۔ اس وقت قادیانی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے گھر جلائے جارہے ہیں۔ انہیں مارا پیٹا جارہا ہے۔ قتل کیا جارہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ! حالانکہ واقعات اس سے مختلف ہیں۔ پہل قادیانیوں کی طرف سے ہوئی ہے۔ پھر جب ردعمل ہوتا ہے تو ظلم ظلم کا شور مچاتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کھاریاں میں رونما ہونے والے واقعہ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ اخبارات نے اس کی رپورٹنگ کی ہے۔ قادیانی اس پروپیگنڈے کے ذریعہ مغربی ممالک میں قانونی، غیر قانونی طریقہ سے سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں قادیانیوں کے اس فراڈ کی خبر بھی اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ پولیس نے ایسے ۱۳ قادیانیوں کو کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار کرلیا جو جعلی سفری دستاویزات کے ذریعہ مغربی جرمنی جاکر سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند تھے۔ ہماری ان کانفرنسوں اور دوروں کا مقصد بھی یہی ہے کہ دنیا کے مسلمانوں اور غیر مسلم حکومتوں کو صحیح حقائق سے آگاہ کیا جائے کہ قادیانی غلط بیانی سے کام لیتے ہیں اور اپنے مفاد کے خاطر غلط پروپیگنڈے کرتے ہیں۔ گزشتہ سال جب ہمیں شمالی امریکہ جانے کا موقع ملا تو وہاں کے مسلمانوں نے مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ قلبی وابستگی کا اظہار کیا اور اس کی اہمیت و ضرورت کو سمجھا۔ چنانچہ اسی کے نتیجہ میں ۷، ۸؍ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو شکاگو میں ختم نبوت کانفرنس کا فیصلہ ہوا۔ امسال ہونے والی کانفرنس ’’فتح مباہلہ کانفرنس‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس لئے کہ مرزا طاہر نے گزشتہ سال ملت اسلامیہ کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ جب علمائے کرام نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے میدان مباہلہ میں اترنے کا اعلان کیا تو مرزا طاہر کو میدان میں اترنے کی جرأت نہیں ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۶، مورخہ یکم تا ۷؍ دسمبر ۱۹۸۹ء)
لندن برطانیہ میں عظیم الشان پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم؍ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ویمبلے کانفرنس سنٹر لندن میں منعقد ہونے والی پانچویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں قادیانیوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ہٹ دھرمی سے کام نہ لیں اور اپنی دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لئے جھوٹی نبوت سے توبہ کر کے جناب سرور کائنات ﷺ کے دامن ختم نبوت کو تھام لیں۔ عالمی ختم نبوت کانفرنس ویمبلے سینٹر میں منعقد ہوئی۔ جس میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے فدایان ختم نبوت نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کی پہلی نشست کی صدارت عالمی انجمن خدام الدین کے امیر مولانا میاں محمد اجمل قادری نے کی جب کہ دوسری نشست کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا خواجہ خان محمد نے کی اور جمعیتہ علماء اسلام پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا سمیع الحق کانفرنس کی دوسری نشست میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔
کانفرنس میں پنجاب کے وزیراعلیٰ اور اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کا ایک خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ جس میں انہوں نے عالمی ختم نبوت کانفرنس کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مولانا خان محمد اور ان کے رفقاء کی جدوجہد کو سراہا ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے اس سال قادیانیوں کو صد سالہ جشن منانے کی اجازت نہیں دی اور آئندہ بھی انہیں اسلام اور پاکستان کے خلاف کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عالمی ختم نبوت کانفرنس کے چیف آرگنائزر جناب عبدالرحمن یعقوب باوا نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امت محمدیہ کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف لادین مسلمانوں کو مٹانے کے درپے ہیں تو دوسری طرف مغربی استعماری قوتیں جو مسلمانوں کو لڑاؤ اور حکومت کرو کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پالیسی پر گامزن ہیں۔ یہی قوتیں اسرائیل کو پال رہی ہیں اور رشدی و قادیانی گروہ کی سرپرستی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں کا دائرہ شمالی امریکہ تک وسیع ہو چکا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کہا کہ ہم قادیانی جماعت کے ہر فرد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ٹھنڈے دل کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کے ان دعوؤں کا جائزہ لیں جو واقعات اور حقائق کی کسوٹی پر غلط ثابت ہو چکے ہیں اور وہ ان جھوٹے دعاوی کو مسترد کرتے ہوئے قادیانیت سے توبہ کر کے جناب نبی اکرم ﷺ کے دامن ختم نبوت سے وابستہ ہو جائیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ قادیانیوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کریں اور انہیں اسلام کی دعوت دے کر قادیانیت کے فریب سے نجات دلانے کے لئے محنت کریں۔ اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان کے نائب صدر سینیٹر مولانا سمیع الحق نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی صہیونی لابیاں ایک لمبے عرصے سے مسلمانوں کے عقائد اور کردار کو کمزور کرنے کے لئے منظم کام کر رہی ہیں اور قادیانی فتنہ اور سلمان رشدی کی خرافات بھی اسی کا ایک حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کی دشمن طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ مسلمان اپنے عقیدہ اور تعلیمات پر قائم نہ رہیں تاکہ اسلام کو ایک زندہ اور متحرک قوت کے طور پر ایک بار پھر سامنے آنے سے روکا جاسکے۔ لیکن ان کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ ان شاء اللہ! وہ وقت دور نہیں جب اسلام ایک بار پھر دنیا کے نقشہ پر ایک غالب قوت کے ساتھ نمودار ہوگا۔ انہوں نے یورپ اور امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اسلام کے خلاف کام کرنے والی لابیوں سے ہوشیار رہیں اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے سد باب کے لئے منظم جدوجہد کریں۔
کانفرنس سے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے سابق سیکرٹری اور قادیانی عربی جریدہ ’’التقویٰ‘‘ کے ایڈیٹر حسن محمود عودہ نے بھی خطاب کیا۔ حسن عودہ فلسطینی نوجوان ہیں اور انہوں نے حال ہی میں قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی مذہب محض ایک دھوکہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس جھوٹے مذہب کا بہت جلد مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔ پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا طاہر نے بھی اپنے دادا کی طرح پیشین گوئیوں کے جھوٹے سہاروں کے ذریعہ پیروکاروں کو مطمئن رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی پیش گوئیوں کو باطل کر دیا ہے اور ایک بار پھر حق واضح ہو کر سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرزا طاہر احمد نے گزشتہ سال واضح طور پر میرے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ منظور احمد چنیوٹی ۱۵؍ستمبر ۱۹۸۹ء سے قبل ختم ہوجائے گا۔ ریزہ ریزہ ہوجائے گا اور ذلت کی موت مرجائے گا، لیکن مرزا طاہر کی یہ پیش گوئی خدا نے جھوٹ کر دی ہے اور میں نہ صرف زندہ موجود ہوں بلکہ مرزا طاہر احمد کی پیش گوئی کے بعد ایک بار پھر بھاری اکثریت کے ساتھ پنجاب اسمبلی کا رکن بھی منتخب ہو چکا ہوں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ دنیا میں ہر شخص کے بارے میں نرمی ہو سکتی ہے لیکن جناب نبی اکرم ﷺ کے باغی کے بارے میں کوئی نرمی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ایک مسلمان کی غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ جناب نبی اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کر دے۔
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ قادیانی گروہ دنیا میں انسانی حقوق کے نام پر اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے اور عالمی طاقتیں یک طرفہ طور پر اس کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ یہ محض دھوکہ ہے۔ کیونکہ قادیانی گروہ کے انسان حقوق مسلمانوں کے ہاتھوں مجروح نہیں ہو رہے بلکہ قادیانی گروہ اسلام کے نام پر ایک جھوٹے مذہب کا پرچار کر کے مسلمانوں کے اسلامی تشخص کا حق غصب کر رہے ہیں۔ عالمی انجمن خدام الدین کے امیر مولانا محمد اجمل قادری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یورپ میں رہنے والے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی اولاد کے دینی عقائد و کردار کی حفاظت کی فکر کریں اور ان کی ایسی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں کہ کوئی قادیانی، رشدی یا کوئی بھی اسلام دشمن لابی ان کو اسلام سے برگشتہ نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ حضرات کی غفلت کی وجہ سے نئی نسل اسلام سے لا تعلق ہو گئی تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔
ماہنامہ ”الہلال“ مانچسٹر کے ایڈیٹر حافظ محمد اقبال رنگونی نے کہا کہ اسلام دشمن لابیاں پوری طرح متحرک ہیں۔ اسی لئے ہمیں اپنے نوجوانوں کو ان لابیوں کے مقابلہ کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنا چاہئے۔ جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ کے راہنما مولانا صہیب حسن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جدوجہد کو تیز تر کر دیا جائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا منظور احمد الحسینی نے کہا کہ قرآن وسنت کی قطعی نصوص سے ثابت ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم کر دیا گیا۔ آپ ﷺ سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کے ممتاز عالم دین مولانا سید چراغ الدین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے ہر دور میں عقیدۂ ختم نبوت کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ کیونکہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس عقیدہ سے انکار کرنے والا کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ عالمی ختم نبوت کانفرنس سے جمعیۃ علماء برطانیہ کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرشید ربانی، مولانا سلیم دھورات، مولانا مفتی محمد اسلم، مولانا مفتی محمد مقبول، فجی آئی لینڈ کے ڈاکٹر قادر بخش، مولانا محمد عرفان غوری، مولانا محمد اسلم زاہد، مولانا مفتی محی الدین، مولانا محمد طیب عباسی، مولانا قاری امداد اللہ قاسمی، مولانا احمد پانڈور، مولانا امداد الحسن نعمانی اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقدہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کی قراردادیں اور مطالبات : جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقدہ پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے کانفرنس سینٹر لندن مؤرخہ یکم/اکتوبر ۱۹۸۹ء بالاتفاق منظور کر لی گئی۔
- ۱...... یہ اجتماع حکومت پاکستان کی مرزائیت سے متعلق موجودہ پالیسی پر شدید کرب کا اظہار کرتا ہے کہ وفاقی حکومت نے برسر اقتدار
آتے ہی قادیانیت نوازی کی بدترین مثال قائم کی ہے۔ سندھ کا چیف سیکرٹری کنور ادریس بدترین قادیانی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سندھ میں قادیانی آرڈیننس عملاً معطل ہے۔ وفاقی حکومت نے اسے ہٹانے کا وعدہ کر کے اس کا ایفاء نہیں کیا۔ نسیم احمد کو اقوام متحدہ میں سفیر متعین کیا۔ اس کے متعلق ہمیں بتایا ہے کہ وہ قادیانی ہیں۔ مگر اب سینٹ میں حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ کاغذات میں اس نے اپنے آپ کو مسلمان لکھا ہے۔ حکومت کو قادیانیوں کی اس دھوکہ دہی کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہر قادیانی اپنے آپ کو مسلمان اور تمام مسلمانوں کو غیر مسلم سمجھتا ہے اور آئین پاکستان کی رو سے کوئی قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہے تو اس پر مقدمہ قائم ہونا چاہئے نہ کہ اسے سفیر بنانا چاہئے۔ اس لئے یہ اجتماع حکومت پر واضح کرتا ہے کہ حکومت کے اس موقف نے اس کیس میں مزید الجھاؤ پیدا کر دیا ہے۔ جب تک نسیم احمد خود مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کا اعلان نہیں کرتے ان کی پوزیشن صاف نہ ہوگی۔ اسی طرح وزیر اعظم کا سپیچ سیکرٹری قادیانی ہے۔ بعض سفارت خانوں میں بھی قادیانیوں کو بھیجا گیا ہے۔ ملک عزیز میں کئی اہم عہدوں پر قادیانیوں کو ایسے طور پر مسلط کیا جا رہا ہے جس سے حکومت کی مرزائیت نوازی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ حکومت کو اپنے موقف پر نظر ثانی کر کے اسلامیان پاکستان کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ کسی بھی نظریاتی مملکت میں نظریہ کے مخالفین کو کلیدی عہدے نہیں دیئے جاتے۔ لہٰذا فوج وسول کے کلیدی عہدوں سے قادیانی افسروں کو برطرف کیا جائے۔
- ۲...... یہ اجلاس حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ قادیانی آرگن روزنامہ الفضل ربوہ، ہفت روزہ ”لاہور“ اور دیگر قادیانی جرائد
پر پابندی عائد کرے اور پنجاب میں متعین قادیانی افسروں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... یہ اجتماع حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کے مطابق ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔
- ۴...... گزشتہ دنوں قادیانیوں کے سالانہ جلسہ میں اخباری اطلاع کے مطابق چند غیر مسلم ممالک کے وزراء اور ایم. پی. اے اور
نمائندوں نے شرکت کی اور جلسہ سے خطاب کیا۔ ان تمام نمائندوں نے پاکستان میں قادیانی آرڈیننس پر نکتہ چینی کرنے کے علاوہ قادیانیوں کو مظلوم بنانے اور مسلمانوں کو ظالم بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ اجلاس اس بات کو سمجھتا ہے کہ ان نمائندوں کے یہ بیانات یک طرفہ قادیانی پروپیگنڈے کا نتیجہ ہیں۔ یہ اجتماع ان ممالک سے سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور احتجاج کرتا ہے کہ ان نمائندوں کو چاہئے کہ وہ اصل حقائق سے آگاہی حاصل کرتے۔ پھر وہ بیان جاری کرتے۔ ان نمائندوں کے بیانات سے نہ صرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوتی ہے بلکہ پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ یہ اجتماع ان ممالک کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہتا ہے کہ قادیانیوں کی ان من گھڑت کہانی پر ہرگز اعتماد نہ کریں۔ قادیانی ایسے بیانات دلوا کر ان ممالک میں قادیانیوں کے لئے داخلے کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے لئے ان ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کا راستہ کھلا رہے۔ انہی بہانوں کے ذریعے ہزاروں قادیانی کینیڈا ، جرمنی وغیرہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ جب کہ فی الواقع قادیانی خود دہشت گردی پھیلا کر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور حکومت کے لئے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے دنوں چک نمبر ۵۶۳ گ۔ ب جڑانوالہ فیصل آباد میں قادیانیوں نے قرآن مجید کو نذر آتش کیا۔ دو مسلمانوں کو فائرنگ کر کے زخمی کیا۔ چک نمبر ۹۸ شمالی سرگودھا میں متعدد بار قادیانیوں نے مسلمانوں پر فائرنگ کر کے زخمی کیا۔ مغل پورہ لاہور میں قادیانیوں نے مسلمانوں پر پتھراؤ کیا۔ مروٹ ضلع بہاول نگر میں مرزائیوں نے مسلمان طالبات پر حملہ کیا۔
- ۵...... یہ اجتماع رشدی کے مسئلے پر برطانیہ کے مسلمانوں کے موقف کی بھرپور تائید کرتا ہے اور ان کی غیرت ایمانی کو تحسین کی نظر سے
دیکھتا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کی جدوجہد میں بھرپور تعاون کا یقین دلاتی ہے۔ نیز یہ اجتماع حکومت برطانیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کے مطالبات کے مطابق اس کتاب پر فوری پابندی عائد کر کے مسلمانوں کو مطمئن کیا جائے۔ نیز یہ اجتماع تمام غیر مسلم حکومتوں سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ اس کتاب پر فوری پابندی عائد کریں اور جہاں اس کی اشاعت نہیں ہوئی وہاں یہ بندوبست کریں کہ یہ کتاب شائع نہ ہو۔ نیز یہ اجتماع تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ زبانی جمع خرچ کی بجائے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے بھرپور کردار ادا کریں۔
- ۶...... یہ اجتماع مرکز اسلام مکہ مکرمہ میں ہونے والے بم کے دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے دشمنان اسلام کی بیت اللہ اور
مسلمانوں کے خلاف گھناؤنی سازش قرار دیتا ہے۔ اس سلسلے میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے سعودی حکومت کے جرأت مندانہ اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سعودی حکومت کو اپنے بھرپور اخلاقی تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے آئندہ بھی کسی مصلحت کو خاطر میں نہ لائے اور آئندہ کے لئے بھی مجرمان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جائے جس سے آئندہ ایسی گھناؤنی حرکت کی جرأت نہ ہو سکے۔
- ۷...... یہ اجتماع بابری مسجد کے تنازعہ میں بھارتی مسلمانوں کے موقف اور جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعلان کرتا ہے اور
بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ تاریخی بابری مسجد کے خلاف سازشوں کو روکا جائے اور اسلامیان عالم کے جذبات سے کھیلنے سے گریز
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا جائے ۔ یہ اجتماع مسلمانانِ بھارت کو یقین دلاتا ہے کہ خانہ خدا کے تحفظ کی اس مقدس جدوجہد میں انہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی بھر پور حمایت حاصل رہے گی۔
- ۸...... یہ اجتماع افغان مجاہدین کی جدوجہد کی ایک بار پھر مکمل حمایت کرتے ہوئے اس کے خلاف عالمی سازشوں کی مذمت کرتا ہے اور
حکومت پاکستان اور دیگر تمام مسلم حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ افغان مجاہدین کی عبوری حکومت کو فی الفور تسلیم کیا جائے اور افغانستان میں عبوری حکومت کی مکمل عملداری کے لئے افغان مجاہدین سے بھر پور تعاون کیا جائے ۔
- ۹...... یہ اجتماع فلسطینی حریت پسندوں کی جدوجہد آزادی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور فلسطین کی آزادی اور مسجد اقصی کی
بازیابی کے لئے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۰ تا ۲۳ ، مورخہ ۲۰ تا ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۸۹ء)
ختم نبوت کے جلسہ پر ذکریوں کی فائرنگ ، عوام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی
ذکری فرقہ نے سربند ضلع گوادر کے ختم نبوت کے جلسے میں فائرنگ کی ۔ جلسے سے مبلغ ختم نبوت مکران ڈویژن قاری فضل الرحمٰن فاروقی تقریر کر رہے تھے لیکن مسلمانوں نے فائرنگ کا جواب فائرنگ سے نہیں دیا ۔ البتہ ختم نبوت یوتھ فورس سربند کے جوان دفاعی کارروائی کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ اسی دوران مبلغ ختم نبوت قاری فضل الرحمٰن فاروقی نے کہا کہ ذکری کافر ہیں بلکہ زندیق ہیں ، کافر وہ ہوتے ہیں جو اپنے مذہب پر خنزیر کے گوشت پر خنزیر کا لیبل لگا کر فروخت کرتے ہیں لیکن ذکری فرقہ خنزیر کے گوشت پر بکرے کا لیبل لگا کر فروخت کرتا ہے ۔ ذکری کوہ مراد تربت پر حج بیت اللہ کا لیبل لگا کر سالانہ حج کرتے ہیں۔ ذکر پر نماز کا لیبل لاتے ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمان اور نمازی لوگوں کو کافر سمجھتے ہیں اور کوہ مراد شیطانی حج کے اندر گندہ نالہ کے پانی کو آب زم زم کا نام دیتے ہیں۔ اپنے شیطانی رقص کی جگہ کو مسجد طوبیٰ اور شیطانی حرکات کی جگہ کوہ عرفات کا نام دیا گیا ہے۔ اسی طرح محمد عربی ﷺ کو خداوند قدوس نے بذریعہ قرآن آخری نبی کہا ہے لیکن ذکری یہ نام اور صفت اپنے جھوٹے دجال ملاّں اَٹکی پر چسپاں کرتے ہیں ۔ ذکری فرقہ اپنی شیطانی کتاب برہان (فارسی) پر خدا کے کلام کا لیبل لگا کر اپنی زندیق ہونے کا خود ثبوت دیتے ہیں۔ تقریر کے بعد پتہ چلا کہ ضلع گوادر کی انتظامیہ اور ذکری فرقہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے کہ ختم نبوت کے جلسے پر ذکریوں نے فائرنگ کی اور ڈپٹی کمشنر گوادر اور اسسٹنٹ کمشنر گوادر نے ذکری نوازی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے قاری فضل الرحمٰن فاروقی مبلغ ختم نبوت پر مکران ڈویژن کے سربند میں داخلہ پر پابندی لگانے اور مبلغ موصوف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ جب مبلغ موصوف ذکری نواز انتظامیہ کے سامنے معہ ۱۲؍ علماء کرام ضلع گوادر کے پیش ہوئے تو انتظامیہ شرم کے مارے جھک گئی۔ انتظامیہ نے کہا کہ ہمیں آل پاکستان ذکری ایسوسی ایشن کے صدر اور پی . این . پی گوادر کے لیڈر نے مجبور کیا تھا۔ مکران کے مسلمان ضلع گوادر کی انتظامیہ ذکری فرقہ اور پی . این . پی کے لیڈر کے اس اقدام پر بھر پور غم وغصے کا اظہار کرتے ہیں اور مکران کی مسلح قوم نے یہ عہد کر لیا ہے کہ اس سال ذکریوں کو حج کرنے کے لئے کوہ مراد جانے سے روکا جائے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳،۲۴ ، مورخہ ۲۰ تا ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۸۹ء)
شکاگو میں پہلی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکاگو کے زیر اہتمام سرزمین امریکہ میں پہلی مرتبہ ختم نبوت اور حجیت حدیث پر دو روزہ عظیم الشان عالمی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس ۷ ، ۸؍ اکتوبر ۱۹۸۹ء ہفتہ اتوار دنیا کے سب سے بڑے ایئر پورٹ شکاگو کے بالکل پڑوس میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واقع ہوٹل ہالیڈے ان (Holyday Inn) کے وسیع کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں پاکستان، انڈیا، سعودی عرب اور امریکہ سے تشریف لائے ہوئے علماء کرام، مفکرین اور دانشوروں نے تقریریں کیں اور مقالے پڑھے۔ کانفرنس میں شکاگو کے علاوہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مختلف شہروں اور کینیڈا سے کثیر تعداد میں مسلمان شریک ہوئے۔ کانفرنس کے انعقاد کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکاگو کے امیر مولانا قاری عبداللہ سلیم، جناب عبدالحئی، جناب محمد سکندر سعید، جناب عظمت اللہ قادری، جناب احمد محی الدین، جناب ڈاکٹر عرفان احمد، جناب امتیاز پٹیل اور دیگر رفقاء کار نے رات دن محنت کر کے کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ جب کہ شکاگو کی کئی ایک مسلم تنظیموں کے ذمہ دار حضرات اور کارکنوں نے بھی کانفرنس کے انعقاد کے سلسلے میں دوڑ دھوپ کی نیز مقامی اخبار وجرائد نے کانفرنس کو مشتہر کرنے میں اچھا کردار ادا کیا۔
پچھلے سال وفد ختم نبوت (جس میں مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا اور راقم الحروف مولانا منظور احمد الحسینی شامل تھے) نے شمالی امریکہ کے اہم شہروں کا تفصیلی دورہ کیا تھا جو ۲۰؍ستمبر ۱۹۸۸ء سے شروع ہو کر ۲۰؍دسمبر ۱۹۸۸ء کو ختم ہوا تھا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے شہروں میں نیویارک سٹی، بالٹی مور، شکاگو، ڈٹرائٹ ڈلاس، واشنگٹن، سنسٹی کولمبس ڈیٹن اسپرنگ فیلڈ، لاس اینجلس، سان فرانسسکو، اسٹاکٹن، سیکریمنٹو وغیرہ اور کناڈا میں سے ٹورنٹو لندن انٹاریو وینی پیگ ایڈمنٹن وینکور وغیرہ شامل تھے۔ اس دورہ میں تمام شہروں کے مراکز اور مساجد میں تقریریں ہوئیں۔ یونیورسٹیوں میں سیمینار ہوئے۔ تمام مسلمان بڑے ذوق وشوق سے جلسہ ہائے ختم نبوت میں شریک ہوئے۔ اس دورے کے خاطر خواہ اثرات مرتب ہوئے۔ قادیانیت کے بارے میں مسلمانوں میں بیداری کی لہر دوڑ گئی اور علماء کرام اس سلسلے میں کام کرنے کے لئے آگے بڑھے۔ دورہ کے دوران اس امر کا جائزہ لیا گیا تھا کہ شمالی امریکہ کے کسی شہر میں ختم نبوت کے کام کا باقاعدہ طور پر آغاز کیا جائے۔ چنانچہ اس سلسلے میں نگاہ انتخاب شکاگو پر پڑی۔ اسی وجہ سے شکاگو میں دو مرتبہ قیام کیا گیا۔ ۱۳؍اکتوبر ۱۹۸۸ء تا ۱۹؍اکتوبر ۱۹۸۸ء اور کینیڈا سے واپسی پر ۲؍دسمبر ۱۹۸۸ء سے ۱۲؍دسمبر ۱۹۸۸ء تک۔ چنانچہ ۳ اور ۴؍دسمبر ۱۹۸۸ء کو میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں کانفرنس کے سلسلے میں بہت ساری تاریخیں سامنے آئیں اور ان پر غور وخوض بھی ہوا۔ مگر آخر کار ۷، ۸؍اکتوبر ۱۹۸۹ء کی تاریخوں پر کامل اتفاق ہوگیا اور اسی میٹنگ میں جماعت کی تشکیل بھی ہوئی۔
کانفرنس کے سلسلے میں ابتدائی تیاریاں اس میٹنگ کے بعد جنوری سے شروع ہوگئی تھیں۔ مگر ماہ اگست ۱۹۸۹ء سے نقطہ عروج پر پہنچ گئیں۔ ستمبر کے آخری عشرے میں معزز مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی جو ۷؍اکتوبر تک برابر جاری رہی۔ یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء کو ختم نبوت کانفرنس لندن سے فراغت کے بعد ۳؍اکتوبر کی شام وفد ختم نبوت (جو مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا اور راقم الحروف پر مشتمل تھا) شام چھ بجے اوہیر ایئرپورٹ شکاگو پہنچا۔ مولانا عبداللہ سلیم اور جناب امتیاز پٹیل نے خیر مقدم کیا اور مقرر شدہ جگہ پر پہنچایا گیا۔ ۵؍اکتوبر کی شام کو حضرت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ تشریف لائے۔ ایئرپورٹ پر مولانا عبداللہ سلیم، جناب شبیر سعید، امتیاز پٹیل، مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا، جناب بہاؤالدین جمال راقم الحروف (مولانا منظور احمد الحسینی) اور دیگر احباب نے پر تپاک استقبال کیا اور ایئرپورٹ سے طے شدہ جائے قیام پر ٹھہرایا گیا۔
کانفرنس کی پہلی نشست: کانفرنس میں شرکت کے لئے صبح ۸؍بجے سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ۹؍بجے باقاعدہ رجسٹریشن کی ابتداء کی گئی۔ دس بج کر دس منٹ پر کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد مدظلہ نے فرمائی۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض اسلامک سوسائٹی اورنج کاؤنٹی (کیلیفورنیا) کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی ادا کر رہے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھے۔ تلاوت کلام پاک حافظ محمد یعقوب صادق نے کی۔ ڈاکٹر مزمل صدیقی نے کانفرنس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس عنوان پر یہ پہلی عظیم الشان کانفرنس ہے جو نہایت تزک واحتشام اور شان وشوکت سے سرزمین امریکہ میں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت اور حجیت حدیث کے موضوع پر شمالی امریکہ میں کانفرنس کے انعقاد کی شدید ضرورت تھی جس کی توفیق اللہ تعالیٰ نے شکاگو کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو عطاء فرمائی ہے۔ اس جماعت کے تمام ساتھی ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں۔
بعد ازاں شکاگو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری جناب عبدالحئی نے ابتدائی کلمات کہے اور مہمان علماء کرام اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ مقررین کی فہرست میں سب سے پہلے راقم الحروف (مولانا منظور احمد الحسینی) کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ احقر نے اردو میں اسلام اور قادیانیت میں تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے اپنے بیان میں یہ واضح کیا کہ قادیانیت نے کن کن امور میں اسلام سے خروج وانحراف کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ایسی ۲۰ سے زائد وجوہات بیان کی گئیں۔ جناب ڈاکٹر قادر حسین نے احقر کے بیان کے بعد فوری طور پر ترجمہ کیا۔ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی نے مزید روشنی ڈالی۔ پہلے اجلاس کے دوسرے مقرر حضرت مولانا واصف حسین تھے جو دیوبند انڈیا سے تشریف لائے تھے۔ آپ نے عربی میں عمدہ مقالہ پڑھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں میں بنیادی اختلافات ہیں، جزوی نہیں۔ جس کا ترجمہ اور خلاصہ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی نے انگریزی میں پیش کیا۔ تیسرے مقرر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا میاں محمد اجمل قادری تھے جنہوں نے موجودہ دور میں مسلمانوں کی ذمہ داری کے عنوان پر انگریزی میں خطاب کیا۔ جس میں آپ نے شمالی امریکہ کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی نئی نسل کے عقائد اور ایمان کے تحفظ کی طرف توجہ دیں۔
آپ کے بعد ڈاکٹر محمود احمد غازی کو دعوت خطاب دی گئی۔ آپ فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب وامام ہونے کے علاوہ اسلام آباد اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ دعوت وارشاد کے سربراہ بھی ہیں۔ ڈاکٹر موصوف نے ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قادیانیوں کا عقیدہ کیا ہے؟“ کے عنوان پر انگریزی میں ایک عمدہ پرمغز مقالہ پڑھا۔ آپ نے اپنے مقالے میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر سیر حاصل بحث کی۔ قرآن مجید، احادیث متواترہ اور اجماع سے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ہی آسمانوں پر اٹھایا۔ قرب قیامت میں دنیا میں آپ تشریف لائیں گے۔ آپ کے مقالے کا ایک حصہ تواتر کے بارے میں تھا کہ نزول عیسیٰ کے سلسلے میں احادیث تواتر کے ساتھ منقول ہیں اور تواتر کا انکار کفر ہے۔ اس نشست کے آخری مقرر ہیلی فاکس یونیورسٹی کینیڈا کے پروفیسر ڈاکٹر جمال بداوی تھے، جنہوں نے اسلامی شریعت میں ”سنت کا مقام“ کے عنوان پر انگریزی زبان میں نپی تلی تقریر فرمائی۔ آپ کی تقریر کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا خان محمد مدظلہ نے اختتامی دعا کرائی۔
کانفرنس کی دوسری نشست: کانفرنس کی دوسری نشست مجلس مذاکرہ تھی جس کے تین پینل بنائے گئے تھے۔ ہر ہر پینل کے لئے تین ہال کمرے مقرر کئے گئے تھے۔ پینل نمبر ایک کے اسٹیج سیکرٹری جناب ڈاکٹر عرفان احمد تھے۔ اس کا عنوان ختم نبوت اور حجیت حدیث تھا۔ پینل نمبر دو کے اسٹیج سیکرٹری جناب ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی تھے جس کا عنوان احیاء اسلام کے لئے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مسلم نوجوانوں کا کردار اور پینل نمبر تین کے اسٹیج سیکرٹری ڈاکٹر جمال بداوی تھے جس کا عنوان تھا روزمرہ کی زندگی میں سنت کو جاری کرنا۔
سوا دو بجے ہی لوگوں نے اپنی اپنی پسند کے مطابق ان کمروں میں بیٹھنا شروع کردیا تھا۔ حاضرین کی تعداد بہت تھی۔ سب کمرے شرکاء سے پر ہوگئے۔ ٹھیک اڑھائی بجے اسٹیج سیکرٹری حضرات مع ممبران کے کمروں میں تشریف لے آئے۔ طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے مقرر ممبران طے شدہ وقت (دس دس منٹ یا پندرہ پندرہ منٹ) کے مطابق عنوان پر تقریر کریں گے۔ خطاب کے بعد محفل سوال وجواب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوگی ۔ پہلے پینل کے مقرر ممبران پینلسٹ اسلامک سنٹر اسٹاکٹن کے ڈائریکٹر مولانا عبید الرحمن ، اسلامک سینٹر لاس اینجلس (کیلیفورنیا) کے ڈاکٹر فتحی عثمان کے علاوہ مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا اور مولانا منظور احمد الحسینی تھے۔ پہلے جناب ڈاکٹر عرفان احمد خان نے شرکاء مجلس مذاکرہ کے سامنے عنوان کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ بعد ازاں طے یہ ہوا کہ تقریروں کی وجہ سے سوال و جواب کا مناسب وقت باقی نہیں رہے گا۔ لہٰذا شروع سے ہی محفل سوال و جواب منعقد کی جائے ۔ چناں چہ بہت سے سوالات اٹھائے گئے جس کے تسلی بخش جوابات اردو اور انگریزی میں تفصیل سے دیئے گئے ۔
مولانا عبید الرحمن اور احقر (مولانا حسینی) نے اردو میں جوابات دیئے جن کا ترجمہ ڈاکٹر عرفان احمد نے انگریزی میں کیا۔ جب کہ مکرم عبدالرحمن باوا اور ڈاکٹر فتحی عثمان نے براہ راست انگریزی میں جواب دیئے ۔ شرکاء مجلس مذاکرہ کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ کمرے کے باہر دروازے سے باہر بھی لوگ کافی تعداد میں کھڑے تھے ۔ سوالات زیادہ تر قادیانیت سے متعلق تھے ۔ ایک آدھ سوال دوسرے موضوع پر بھی ہوا ۔ کچھ سوالات حسب ذیل تھے۔ قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں فرق ، ارتداد و زندقہ کی سزا ، قادیانیوں اور لاہوریوں سے بائیکاٹ ، حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زندہ رہنا ، حضرت مہدی علیہ الرضوان کی شخصیت ، الہام اور وحی میں فرق وغیرہ ۔
نوٹ : شمالی امریکہ میں نئے مدعی نبوت ارشاد خلیفہ نبوی کا فتنہ چل رہا ہے۔ اس جھوٹے مدعی رسالت نے ایریزونا اسٹیٹ میں رسالت کا دعویٰ کیا ہے کہ محروم ہدایت لوگ اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ ان میں سے اس کے ایک چیلے نے ہمارے ہال کمرے میں داخل ہو کر شور مچانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام بنادی گئی ۔ آخر میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ خلافت کے قیام کے لئے کام کیا جائے۔ مولانا عبید الرحمن نے جواب دیا کہ اس کے لئے ہر مسلمان کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر جب تک خلافت قائم نہ ہو ان فتنوں کو کھلی چھٹی دے دیں ، ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ہمیں ہر فتنے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے ۔ خصوصاً وہ فتنہ جو حضور ﷺ کی عزت پر حملہ آور ہو ۔ مولانا عبید الرحمن کی دعا پر یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔ پینل کے تین مقرر ممبران حسب ذیل تھے ۔ (۱) حافظ محمد امین ، (۲) امریکن اسلامک کالج شکاگو کے پروفیسر ڈاکٹر غلام حیدر عاصی ۔ (۳) مولانا محمد یوسف اصلاحی ۔ علی الترتیب ان حضرات نے خطاب کیا۔ پھر محفل سوال و جواب منعقد ہوئی جو نہایت کامیاب رہی ۔ پینل نمبر تین کے مقرر ممبران حسب ذیل تھے۔ مولانا جعفر محی الدین قادری ، شیخ محمد نور ، مولانا قادری کا عربی اردو میں بیان ہوا ۔ شیخ محمد نور نے انگریزی میں تقریر کی ۔ بعد ازاں محفل سوال و جواب ہوئی۔
کانفرنس کی تیسری نشست : کانفرنس کا تیسرا سیشن شکاگو کے سب سے بڑے مسلم کمیونٹی سنٹر میں مغرب کے بعد شام پونے سات بجے شروع ہوا جو سوا نو بجے تک جاری رہا۔ اس نشست کے سٹیج سیکرٹری نارتھ الی لائے یونیورسٹی کے استاد فضیلۃ الشیخ محمد نور تھے۔ اسلامک فیڈریشن رولنگ میڈوز کے امام حافظ محمد یعقوب شریف نے تلاوت کلام پاک سے اس کا آغاز کیا۔ اس مجلس کے پہلے مقرر ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی تھے ۔ آپ نے عقیدۂ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر انگریزی میں نہایت سلجھی ہوئی تقریر فرمائی ۔ آپ کے بعد مولانا تقی عثمانی مدظلہ کو دعوت خطاب دی گئی ۔ چنانچہ آپ نے اسلام میں حدیث کی قانونی حیثیت کے عنوان پر انگریزی میں ایک وقیع مقالہ پڑھا ۔ اس نشست کے تیسرے مقرر یونیورسٹی امام محمد بن سعود ریاض شعبہ عربی زبان کے پروفیسر ڈاکٹر صالح حسین عبداللہ العائد تھے جنہوں نے عربی زبان میں ’’قادیانی فتنہ خطرناک کیوں ہے‘‘ کے عنوان پر عربی میں جامع تقریر فرمائی ۔ آپ کی تقریر کے بعد ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی نے اس کا خلاصہ انگریزی میں پیش کیا ۔ بعد ازاں اسٹیج سیکرٹری نے مسجد ’’التقویٰ‘‘ بروک لین نیویارک کے خطیب و امام جناب سراج وہاج کے بارے میں اعلان کیا ۔ آپ مائک پر تشریف لائے اور نبوت کا مقام اور حدیث کی ضرورت کے عنوان پر ولولہ انگیز پر جوش خطاب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا۔ اس نشست کے آخری مقرر اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے صدر جناب ڈاکٹر احمد ذکی حماد تھے۔ آپ نے حجیت حدیث کے عنوان پر جامع بیان فرمایا۔ ۹ بج کر دس منٹ پر یہ اجلاس حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ اس اجلاس میں ایک تقریر عربی کے سوا سب انگلش میں ہوئیں۔ سوا نو بجے عشاء کی نماز ادا کی گئی۔
عشاء کے بعد باہر سے تشریف لائے ہوئے علمائے کرام کے اعزاز میں ایم سی سی کی طرف سے پر تکلف عشائیہ دیا گیا۔ چوتھی نشست کا ۸/ ربیع الاوّل ۱۴۱۰ھ بمطابق ۸/ نومبر ۱۹۸۹ء کو ٹھیک دس بجے تلاوت کلام پاک سے آغاز ہوا۔ اس نشست کے اسٹیج سیکرٹری ڈاکٹر جمال بداوی تھے۔ انگریزی میں تین تقاریر کے علاوہ باقی سب تقاریر اردو میں ہوئیں۔ اردو میں جو تقاریر ہوئیں اس کے مقررین حسب ذیل ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان مرکزی رہنمایاں حضرت مولانا سمیع الحق، حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، حیدرآباد دکن سے مولانا منظور، حمید الدین عاقل حسامی لکھنؤ، دارالعلوم ندوۃ العلماء سے مولانا برہان الدین، رام پور انڈیا سے مولانا محمد یوسف اصلاحی تھے۔ ان حضرات کی تقاریر کا خلاصہ جناب عبدالحمید ڈوگر صاحب نے کیا۔ جب کہ انگریزی زبان میں اسلامک سنٹر لاس اینجلس کے ڈائریکٹر فتحی عثمان یونیورسٹی امام محمد بن سعود ریاض کے پروفیسر ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مکرم عبدالرحمن باوا نے خطاب کیا۔
آخری اجلاس: آخری اجلاس مغرب کے بعد ہوا جس میں تمام شرکاء جلسہ اور باہر سے تشریف لائے ہوئے مہمانان گرامی کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ کھانے سے فراغت کے بعد ۸ بجے اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ تلاوت کلام پاک حضرت مولانا قاری عبداللہ سلیم نے فرمائی۔ اس اجلاس کے اسٹیج سیکرٹری شکاگو اسٹیٹ یونیورسٹی شکاگو کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید فخری تھے۔ اس اجلاس میں خطاب کرنے والے جناب پرنس محمد الفیصل کے علاوہ یونائیٹڈ اسٹیٹ نیشنل مسلم کے لیڈر امام وارث دین محمد (ایلیجاہ محمد کے بیٹے) ڈاکٹر احمد سقر، ڈاکٹر داؤد اسد تھے۔ جب کہ پہلے بیان کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کا بیان پڑھ کر سنایا گیا۔ آخر میں مولانا عبداللہ سلیم امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکاگو نے عربی اور انگلش دونوں زبانوں میں چند اعلانات کئے۔ تمام مہمانوں اور حاضرین جلسہ کا شکریہ ادا کیا۔ اس اجلاس کا اختتام جناب مولانا عبدالرحمن صدیقی کی دعا پر ہوا۔ شکاگو میں منعقد ہونے والی پہلی عالمی ختم نبوت کانفرنس مجموعی حیثیت سے انتہائی کامیاب رہی اور ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ کانفرنس سال ختم نبوت کا ایک حصہ تھی۔ پورے شمالی امریکہ کے مسلمان اس کانفرنس کے انعقاد پر بہت خوش ہیں۔
ختم نبوت کانفرنس ایک نظر میں:
- کانفرنس ہال میں قرآن کی آیات اور مختلف احادیث (مع ترجمہ انگریزی) کے بینرز لگائے گئے تھے جو سب کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
- شکاگو شہر میں بہت سے اسلامی مراکز ہیں۔ ہر ہفتہ اتوار کو ان میں اہم پروگرام ہوتے ہیں۔ مگر کانفرنس کے موقع پر سب مراکز
نے قربانی دی اپنے تمام پروگراموں کو منسوخ کر کے کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ کانفرنس میں مراکز کے تمام ذمہ داران سے ملاقات ہوئی۔
- کانفرنس نہایت منظم اور مرتب تھی جس کے ذمہ جو ڈیوٹی لگائی گئی تھی اس نے نہایت خوش دلی اور خوش اسلوبی سے نبھائی۔ عالمی
مجلس تحفظ ختم نبوت شکاگو کے اراکین اور ورکرز نے اس سلسلے میں مثالی کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی اور دیگر مترجم حضرات نے بھی اپنی ذمہ داری پورا کرنے کا حق ادا کر دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- تین کتابچے کانفرنس کے بارے میں انگریزی میں چھپا ہوا پروگرام ایک عدد چھپا ہوا قلم جس پر (عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)
انگریزی میں درج تھا مع فائل کور (اس پر بھی جماعت کا نام لکھا تھا) کانفرنس کے شرکاء کو پیش کیا گیا۔ مجلس شکاگو کی طرف سے تقسیم کئے گئے تین کتابچوں میں سے ایک انگریزی دوسرا اردو اور تیسرا انگلش اردو دونوں زبانوں میں تھا۔
- تمام حاضرین کو مجلس شکاگو کی طرف سے نہایت خوبصورت بیج لگائے گئے تھے۔ ہال میں داخل ہونے سے پہلے ہر شخص کو ٹائپ کر
کے بیج لگایا جاتا اور مذکورہ بالا فائل دی جاتی۔ جب کہ مہمانان گرامی کو مخصوص ممتاز بیجز دیئے جاتے جن پر ان کا نام اور مختصر تعارف ٹائپ ہوتا تھا۔
- ہر مقرر کی تقریر کے بعد درمیانی آواز میں تکبیر اللہ اکبر کے الفاظ ایک مرتبہ یا تین مرتبہ دہرائے جاتے۔ یعنی مجمع میں کوئی صاحب
صرف لفظ ’’تکبیر‘‘ کہتا تھا اور باقی شرکاء صرف اللہ اکبر کہتے تھے۔ پہلی چار نشستوں میں حاضرین کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ تھی لیکن آخری اجلاس میں دو ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔
- چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس لندن کے موقع پر دس لاکھ روپے کا لٹریچر تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسی اعلان کے پیش نظر
پانچویں عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن کے موقع پر بے پناہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ اس طرح شکاگو ختم نبوت کانفرنس میں لٹریچر تقسیم کرنے کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ چھ بڑی پیٹیاں لٹریچر کی لائی گئی تھیں۔ ہال کے باہر اسٹال لگایا گیا اور باقاعدہ محترم باوا صاحب اور احقر کی نگرانی میں انگریزی، اردو اور عربی تینوں زبانوں میں لٹریچر مفت تقسیم ہوا۔
- شکاگو کے تمام اخبار و جرائد نے بھر پور تعاون کیا۔ جناب وارث دین محمد (الیجاہ محمد کے بیٹے) جنہوں نے اپنے والد کے انتقال
کے بعد اس کے گمراہ ہونے کا اعلان کیا اور اس کے باطل طریقے کو چھوڑ کر مخلصانہ طور پر اسلام کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے، ان کے ہفت روزہ انگریزی اخبار مسلم جرنل شکاگو نے کانفرنس کو خوب کوریج دی۔ اردو، انگلش ماہنامہ پاکستان شکاگو نے بھی اس سلسلے میں اپنا حق ادا کر دیا۔
- ہال کی ایک سمت میں چائے اور کافی کا عمدہ انتظام تھا۔ پہلے اور چوتھے اجلاس میں حسب ترتیب پندرہ اور دس منٹ کا چائے کا
وقفہ بھی دیا گیا۔
- مولانا عبداللہ سلیم اور ان کے چاق و چوبند ساتھی بڑی خوش اسلوبی سے کانفرنس کا پورا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ ہر ایک کے
پاس ایک واکی ٹاکی تھی جو ایک دوسرے سے رابطہ کا کام دے رہی تھی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۸ تا ۲۲،مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍دسمبر ۱۹۸۹ء)
ربوہ میں آٹھویں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
۲، ۳؍اکتوبر ۱۹۸۹ء کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس مولانا خان محمد مدظلہ کی دعا سے شروع ہوئی۔ مولانا عبدالرحیم اشعر نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض منصبی ہے۔ چودہ سو سال سے امت اس کی حفاظت کرتی چلی آرہی ہے۔ جب بھی کسی بدبخت نے نبوت کا دعویٰ کیا امت نے اس کے قتل کا ہی فیصلہ دیا۔ چنانچہ کئی ایک مدعیان نبوت کو قتل کیا گیا۔ امت نے ان سے دلیل تک پوچھنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ مولانا نے مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مولانا نے فرمایا کہ جن لوگوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کا دعویٰ کیا ان کا عبرتناک انجام ہوا۔ مولانا نے کہا کہ مرزا قادیانی کی موت ہیضہ کی مرض سے ہوئی۔ مرزا کا پہلا جانشین حکیم نور الدین بھیروی گھوڑے سے گرا، گردن ٹوٹ گئی۔ زبان بند ہوئی اور یوں وہ عبرت کا نمونہ بنا۔ مرزا بشیر الدین جو دوسرا جانشین تھا ۱۰؍ برس تک بیماری کی گرفت میں رہا۔ آخری دنوں میں جانور کی طرح بھونکنے کی آوازیں نکالتا تھا اور دونوں راستوں سے غلاظت کا اخراج ہوتا رہا۔ یوں ذلت وخواری کی موت مرا۔ مرزا ناصر تیسرا جانشین ختم نبوت کے ایک مجاہد کی للکار پر دل کا دورہ پڑنے پر راہی عدم ہوا۔ چوتھے جانشین کی موت کا انتظار کریں۔
صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ ربوہ میں مسلمانوں کا داخلہ عقیدۂ ختم نبوت کا اعجاز ہے۔ اتحاد امت کی برکات کا ثمرہ ہے۔ تحریک ختم نبوت کے شہداء کے خون کی برکت ہے۔ بزرگان تحریک ختم نبوت کی مساعی جمیلہ کا پھل ہے۔ صاحبزادہ طارق محمود نے پورے ملک سے آئے ہوئے مندوبین کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا قادیانی آٹھویں ترمیم ختم کرانے کے خواب دیکھ رہے ہیں لیکن یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ کیونکہ آٹھویں ترمیم میں امتناع قادیانیت آرڈیننس موجود ہے۔ اگر یہ ترمیم ختم ہوتی ہے تو پوری قوم اٹھ کھڑی ہوگی اور عظیم الشان تحریک چلے گی۔
مولانا عبدالواحد کوئٹہ نے کہا کہ ایک سو سال گزرنے کے باوجود قادیانیت کے خلاف حکومت کی پالیسیاں بزدلانہ ہیں بلکہ ہر آنے والی حکومت قادیانیت نوازی میں اپنے سے پیشرو سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا اگر پنجاب کے عوام اٹھ کھڑے ہوں تو قادیانیت کو ختم کرنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ مولانا نے اہل پنجاب سے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا عہد لیا۔ مولانا دوست محمد نواب شاہ سندھ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی اسرائیل اور انگریز سامراج کے جاسوس اور ایجنٹ ہیں۔ ملک وملت کے تحفظ کے لئے اس فتنہ کا تعاقب اشد ضروری ہے۔ ادارہ منہاج القرآن لاہور کے خواجہ نذیر احمد صدیقی نے کہا کہ عشق مصطفیٰ جس دل میں موجود ہے اس دل میں قادیانیت سمیت کوئی باطل فتنہ گھر نہیں کر سکتا۔ عشق مصطفیٰ سے سرشار مسلم قول وفعل کے تضاد میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ صاحبزادہ طاہر مبین ادارہ منہاج القرآن لاہور نے کہا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کا مسئلہ ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے۔ مولانا نے کہا کہ اصلی مسیح موعود کی قبر مقبرہ رسول میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایک بھی مسلمان موجود ہے ناموس رسالت کا تحفظ کرتے ہی رہیں گے۔
بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین مولانا احمد علی قصوری نے کہا کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں تین باتیں عرض کروں گا۔
- (۱) علمی اعتبار سے ایک نقطہ پیش: جب قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ درپیش تھا تو قادیانیوں اور اس کے ایجنٹوں نے کہا کہ علماء
کرام مسلمان کی تعریف میں متفق نہیں ہیں۔ علماء کرام نے چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا کہ اصول اسلام میں تمام مسلمان متفق ہیں اور مسلمان کی تعریف اس آیت سے پیش کی: ”والذین یؤمنون ............ الخ“
سیدنا صدیق اکبر ؓ سے سوال کیا گیا کہ آپ خدا سے زیادہ محبت کرتے ہیں یا مصطفیٰ سے۔ یہ انتہائی مشکل سوال تھا۔ جواب دیا اللہ بھی وہی تھا، کعبہ بھی وہی ہے، ہم بھی وہی تھے لیکن آپ ﷺ نے ہمیں کعبہ کی عظمت اور خدا کی توحید کا درس دیا۔ مسلمان گنہگار تو ہوسکتا ہے لیکن جب ناموس رسالت کا مسئلہ آتا ہے تو ہر مسلمان غازی علم الدین شہید بن جاتا ہے۔ قادیانیوں کو مسلمانوں والے حقوق نہیں دیئے جا سکتے۔ پاکستان کے شہری حقوق بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ آئین پاکستان کو نہیں مانتے۔ اگر وہ مسلمانوں والے حقوق چاہتے ہیں تو مسلمان بن کر رہیں اور اگر اقلیت کے حقوق چاہتے ہیں تو آئین پاکستان کا احترام کریں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیسری نشست: صدارت: حضرت الامیر مدظلہ بعد نماز عشاء۔
تلاوت: قاری عبید الرحمن عابد گوجرانوالہ، نعت: مرید احمد سلیمانی گوجرانوالہ ۔ نظم: شاعر انقلاب مرزا غلام نبی جانباز ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ مبلغ مولانا قاضی اللہ یار خان نے کہا کہ نبی کسی کا غلام نہیں ہوتا اور غلام نبی نہیں ہو سکتا۔
- (۲) نبی جھوٹ نہیں بول سکتا اور جو جھوٹ بولے وہ نبی نہیں ہو سکتا۔
مرزا غلام احمد غلام ہے۔ لہٰذا نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نبی کسی انسان کا غلام نہیں ہوتا۔
- (۳) مرزا قادیانی نے بیسیوں جھوٹ بولے۔ لہٰذا انہیں نبی نہیں ’’نمونہ‘‘ مرزا کہتا ہے کہ ہم مکہ مکرمہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔
جب کہ وہ لاہور میں مرا۔ لہٰذا جھوٹا ثابت ہوا۔
مولانا حکیم محمد اسماعیل عاصم بہاول نگر نے کہا مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ لہٰذا نبوی فرمان کے مطابق وہ دجال و کذاب ہے۔ مولانا نعیم ترین کوئٹہ نے کہا کہ قادیانیت کے خاتمہ تک تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ذکری فتنہ قرآن وسنت، کعبۃ اللہ ، صحابہ کرام کے دشمن ہیں۔ ان کے خلاف بھی ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
مولانا محمد اشرف ہمدانی صدر استقبالیہ نے کہا محبت غیرت سکھاتی ہے۔ جسے غیرت نہیں وہ محب نہیں ہو سکتا۔ ہمارا مطالبہ یہ نہ تھا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے بلکہ یہ مطالبہ علامہ اقبال کا تھا۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ مرتد کی سزا سزائے موت مقرر کی جائے۔ پچھلے دنوں مرزائیوں نے کیمپ کے عنوان سے انتظامیہ کو گمراہ کیا۔ ہم نے کہا کہ ہم بھی کیمپ میں فریق ہیں۔ رائل فیملی کے دو فرد حکیم خورشید اور مرزا غلام احمد کو گرفتار کیا گیا تو قصر خلافت میں زلزلہ آ گیا۔ مولانا ہمدانی نے کہا کہ حکمرانو! اگر کوئی وزیر اعظم کی توہین کرے تو تمہیں غیرت آ جاتی ہے۔ اگر کوئی بد بخت حضرت خدیجہ ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ کی توہین کرے تو ہماری غیرت کب برداشت کر سکتی ہے۔ مرزائیت کے یار کی حکومت اس ملک میں کبھی مستحکم نہیں بنے گی۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے جو قانون بنایا تھا ہم وہ بنوائیں گے بھی اور چلوائیں گے بھی۔ طالب علم رہنما محمد یوسف نے کہا پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جس میں نظریہ کے مخالف کسی آدمی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
مولانا نذیر احمد تونسوی کوئٹہ نے کہا کہ پورے بلوچستان میں قادیانیوں کی ایک بھی عبادت گاہ نہیں ہے۔ کوئٹہ میں ایک عبادت گاہ ہے جو سیل ہو چکی ہے۔ ژوب پورے ملک میں واحد شہر ہے کہ جس میں مرزائیوں کا سرکاری طور پر داخلہ بند ہے۔ مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم نے کہا کہ منکرین ختم نبوت کے خلاف حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور سے لے کر آج تک امت نے جہاد کیا ہے۔ مدعی نبوت کے کفر میں پوری امت متحد ہے۔ کافروں کی حیثیت سے مملکت اسلامی میں رہ سکتا ہے لیکن مرتد اور زندیق اسلامی مملکت میں نہیں رہ سکتا۔
جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبد المالک شیخ الحدیث منصورہ لاہور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں امیر مرکزیہ مولانا خان محمد مدظلہ کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جو پیرانہ سالی کے باوجود ختم نبوت کے محاذ کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ حکومت کو مسلمانان پاکستان کے مطالبات فی الفور تسلیم کرنا چاہئیں۔ جماعت اسلامی پنجاب کے امیر مولانا فتح محمد نے کہا کہ تمام مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کرتے ہوئے نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ مولانا نذیر احمد خان نے کہا کہ ربوہ کا نام تبدیل کر کے میونسپل کمیٹی قرارداد کے مطابق صدیق آباد رکھا جائے۔ روزنامہ الفضل پر پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے پنجاب حکومت اور وفاقی گورنمنٹ پر کڑی تنقید کی۔ دارالعلوم دیوبند کے نائب مفتی مولانا محمد ارشد نے تحریری مقالہ میں قادیانیوں کے پس منظر کو بیان کیا جو علیحدہ شائع کیا جائے گا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم و مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ قادیانیت کے خلاف مسلمانان پاکستان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تین مرتبہ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء میں تحریک چلا کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت دلوا چکے ہیں اور ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر قانونی طور پر پابندی لگوا چکے ہیں۔ اگر حکومت نے مرزائیت نوازی ترک نہ کی تو ہم چوتھی عظیم الشان تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔ مولانا سید افتخار الحسن شاہ نے کہا کہ میں تحریک ختم نبوت کا آخری سپاہی ہوں اور ۱۹۵۳ء سے اس تحریک سے وابستہ چلا آ رہا ہوں اور ۱۹۷۴ء سے بھی حصہ لیا اور ۱۹۸۴ء میں بھی پیچھے نہیں رہا۔ اب بھی اگر ضرورت پڑی تو کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے بغیر سر دھڑ کی بازی لگادوں گا۔ صاحبزادہ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مسئلہ ختم نبوت کو قرآن وسنت سے مدلل و مبرہن بیان کر کے مجمع سے داد تحسین حاصل کی۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اجتماع چونکہ دشمنان ختم نبوت کے خلاف منعقد ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں شرکت ایمانی تقاضہ ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت پر دلائل و براہین کا اس قدر انبار موجود ہے کہ سوائے ازلی و ابدی بد بخت کے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
مولانا نے اس عقیدۂ کے تحفظ کے لئے قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت کی حکومتی سطح پر اس قدر پذیرائی تھی کہ ان کے خلاف لب کشائی جرم سمجھی جاتی تھی اور اسے فرقہ واریت سے تعبیر کیا جاتا تھا اور علماء کرام کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کیس رجسٹرڈ کئے جاتے تھے۔ مسلمانوں کا لہو پانی سمجھ کر بہایا گیا۔ علماء کرام اس جرم کی پاداش میں جیلوں کی سلاخوں میں قید کئے گئے۔ بظاہر یہ حقیقت تصور سے باہر تھی کہ کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہے، اذان کہے، اقامت کہے، کلمہ طیبہ کا بیج لگائے تو اسے گرفتار کیا جائے گا۔ آج الحمد للہ ! یہ ایک تاریخی حقیقت بن چکی ہے۔ قادیانیت کے خلاف جرأت کے ساتھ آواز بلند کرنے والی ایک وہ شخصیت گزری ہے کہ جس جیسا با اخلاق جرأت مند صدیوں تک نظر نہیں آئے گا۔ جس کی خطابت کی مثال دور دور تک نظر نہیں آئی۔ وہ شخصیت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تھی۔ قادیانیت کے خلاف فیصلے کی بنیاد وہی شخصیت بنی۔ جنہیں برف کے بلاکوں پر لٹایا گیا۔ جنہیں حوالات میں بستہ ب کے بدمعاشوں کے ساتھ بند رکھا گیا۔ جنہیں تخریب کار اور فتنہ پرور قرار دیا گیا۔ یہ فیصلے انہی حضرات کی برکات ہیں۔ شاید ملت اسلامیہ کو ایک بار پھر اس فتنہ کے انسداد کے لئے تحریک چلانا پڑے۔ کیونکہ قادیانیت سے متعلق قرآن وسنت کے مطابق فیصلہ نہیں کرا سکے۔ جو خلیفہ رسول ﷺ سیدنا صدیق اکبر ؓ نے کیا۔ جب تک قادیانیت کا بیج نہیں مٹایا جائے گا تو اس وقت تک ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو جد و جہد کرنا چاہئے۔ کیونکہ ان کی شرعی سزا سزائے موت ہے جو ابھی تک نافذ نہیں ہوئی۔
کانفرنس کی چوتھی نشست ۹ بجے شروع ہوئی۔ جس کی صدارت مانسہرہ کے مجاہد ختم نبوت ، ممتاز عالم دین ، مولانا محمد عبد اللہ خالد نے کی۔ اس اجلاس سے مولانا عبد الرحمن ہزاروی ، مولانا محمد احمد شجاع آبادی ، قاری انعام الٰہی ساہیوال ، مولانا محمد اسرائیل مانسہرہ ، مولانا محمد عبد الرحیم شکر گڑھ ، مولانا خلیل الرحمٰن سندھ، حاجی منظور احمد لاہور ، علامہ کریم بخش مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت جناب وقار گل جدون ایبٹ آباد ، مولانا محمد انور جیلانی ، حاجی عبد الحمید رحمانی ننکانہ، مولانا محمد عبد اللہ بہاول پور ، مولانا جمال اللہ الحسینی پنوں عاقل نے خطاب کیا۔
مرکزی جمعیتہ اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ میاں فضل حق نے اتحاد امت پر زور دیا اور کہا کہ اس قسم کی کانفرنسیں بڑے بڑے شہروں میں بھی منعقد ہونی چاہئیں۔ جہاں تمام مکاتب فکر کے علماء ومشائخ اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا جائے۔ نیز قادیانیوں سے متعلق اہم مسائل قراردادوں کی صورت میں حکام تک پہنچائی جائیں ۔ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے معین مدرس مولانا سعید الرحمٰن نے کہا کہ ہم انڈیا سے اس مقدس مشن میں شمولیت کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ جو ہمارے لئے سرمایہ افتخار ہے۔ ہم ان شاء اللہ العزیز پورے انڈیا میں قادیانیت کا محاسبہ شروع کر چکے ہیں اور انڈیا میں بھی اسے اس کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ دارالعلوم دیوبند کے استاد الحدیث اور آل انڈیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا سعید احمد پالن پوری نے جمعۃ المبارک کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرمایا۔ نبی اکرم ﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق بڑے تیس متنبئ پیدا ہوں گے۔ جن سے لوگ متاثر ہوں گے۔ ورنہ چھوٹے چھوٹے بہت سے متنبئ آتے رہیں گے۔ اس موقع پر دو روزہ جلسہ میں عملی، عقلی، نقلی، دلائل سے سیر حاصل بحث کی اختتام پذیر ہوئی اور حضرت الامیر دامت برکاتہم کی پرسوز دعا پر ختم ہوئی۔
مورخہ ۳/اکتوبر ۱۹۸۹ء بعد نماز صبح مناظر اسلام مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی نے حیات و نزول مسیح علیہ السلام پر فرمایا کہ ہم پر دو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ (۱) خود کو بچانا، (۲) دوسروں کو بھی اس سے محفوظ رکھنا۔ نیز ختم نبوت کے دو پہلو ہیں۔
(۱) دفاعی: اس پر ہند و پاک بلکہ پوری دنیا میں بہت کام ہو رہا ہے لیکن دوسرا پہلو بھی ہے جو غور طلب ہے جس پر کام نہیں ہو رہا۔ ہم میں سے ہر مسلمان کو محنت کرنا چاہئے اور کم از کم ایک مسلمان ایک مرزائی کو دعوت و تبلیغ کے ذریعہ مسلمان کرے۔ یعنی اقدامی پہلو پر بھی کام کرنا ضروری ہے اور یہ کام ہند و پاک ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہر مذہب کے لوگوں کو دین کی دعوت دے کر مسلمان بنانا یہ بھی ختم نبوت کا ایک شعبہ ہے۔
مولانا پالن پوری نے کہا کہ قادیانیوں کو یہاں سے دیس نکالا ملنے کے بعد انہوں نے برطانیہ اور بھارت کا رخ کیا ہے۔ الحمدللہ! اس صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے دارالعلوم دیوبند نے مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کی ہے۔ جس کے مقاصد میں دو پہلو شامل ہیں۔ یعنی اقدامی بھی اور دفاعی بھی۔ اگر چہ ہندوستان کے حالات کے پیش نظر ابھی تک بہت سی مشکلات ہیں۔ مولانا نے فرمایا: اقدام کرنے والا کبھی مار نہیں کھاتا۔ اس لئے یہ کام انتہائی ضروری ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم سمجھا بجھا کر قادیانیوں کو مسلمان بنائیں۔ ہمارے بہت سے دوست تجارت کی غرض سے بیرون ملک جاتے ہیں تو وہ جہاں تجارت کرتے ہیں وہاں دعوت و تبلیغ کا کام بھی کریں۔ کیونکہ بہت سے ممالک میں اسلام تاجروں کے ذریعہ پہنچا ہے۔
آخری نشست: صدارت: حضرت اقدس امیر مرکزیہ مدظلہ۔
تلاوت: سید حامد ہمدانی، نظم: طاہر برادران۔
مولانا سید فضل الرحمن احرار سلانوالی نے کہا کہ یہ قافلہ قادیان سے مقابلہ کرتا چلا آ رہا ہے اور قیامت تک عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرتا چلا جائے گا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے فرمایا: جو شخص 'رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد نبیا' صبح و شام تین مرتبہ پڑھا کرے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ اس سے راضی ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد کسی حقیقی، ظلی، بروزی کسی قسم کے خدا کی ضرورت نہیں۔ قبر میں تین سوال ہوتے ہیں۔ 'من ربک، مادینک، من نبیک' اللہ تعالیٰ مؤمن کو ثابت قدم رکھے گا۔ وہ تیسرے سوال کا جواب دے گا۔ "ھذا نبینا محمد ﷺ" منافق و کافر جواب دے گا۔ 'ھاہ ھاہ لا ادری'
جب کائنات، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کریں گے تو وہ فرمائیں گے۔ "ارائتم ان وعاء قد ختم علیہ" حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: "فان محمد ﷺ قد حضر الیوم" دنیا میں آپ خاتم النبیین اور آخرت میں بھی ضرورت، قبر میں بھی ضرورت، حشر میں بھی ضرورت۔ تو مرزائی دوستو! کیا جواب دو گے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: "یا ایھا الناس لا نبی بعدی ولا امة بعدکم" نبی کہتے ہیں: جو شخصیت تمام مخلوق میں سے علم، تقویٰ، تدبر، سیاست، شکل صورت میں اپنے کسی امتی سے پیچھے نہ ہو لیکن منصب کے امتحان میں فیل ہونے والا نبی ہر گز نہیں ہو سکتا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دنیا میں کوئی ایک نبی دکھلاؤ کہ اس نے اپنے مخالفوں کو چیلنج کیا ہو کہ اگر میں جھوٹا نکلا تو مجھے تمام جھوٹوں سے زیادہ گنہگار، لعنتی کہا ہو اور وہ جھوٹا نکلے ۔ ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کا دن ”یوم الفرقان“ کا دن ہوا کہ اس کے دونوں راستوں سے غلاظتیں خارج ہو رہی تھی اور یوں عبرت کی موت مرا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر مفتی احمد الرحمن نے کہا اسلام بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کا جس قدر بھی شکر ادا کریں کم ہے۔ مسئلہ تحفظ ختم نبوت کے لئے آپ کمربستہ ہو جائیں تو قادیانیت جلد نیست و نابود ہو جائے گی۔ قاری حضرت گل بنوں نے کہا کہ قادیانیت کے خاتمہ تک جدوجہد جاری رہے گی۔
مولانا محمد عبداللہ بھکر نے کہا کہ اس وقت مرزائیت درحقیقت کوئی طاقت نہیں ہے۔ اگر آپ تھوڑی سی توجہ فرمائیں تو قادیانیت کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت نے ختم نبوت سے غداری کی تو حکومت نہیں چل سکے گی۔ جماعت اہل حدیث کے صدر حافظ عبدالقادر روپڑی نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے دجل و فریب کیا ہے۔ شاہ جی ! فرمایا کرتے تھے یا منکرین ختم نبوت کے خلاف بولنے والوں کی زبان نہ رہے یا سننے والے کان نہ رہیں۔ اگر مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ نہ کیا گیا تو حکومت نہیں رہے گی۔ شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی نے اپنے مخصوص انداز میں مرزائیت سے متعلق نظم پیش کی جو علیحدہ شائع کی جا رہی ہے۔
جمعیتہ علماء اسلام پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمن ایم۔این۔اے جو کانفرنس کے آخری خطیب تھے نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ ختم نبوت کے مقدس عنوان کے تحت منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ میں حضرت الامیر مدظلہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس سعادت سے نوازا ہے۔ مولانا نے کہا مسئلہ ختم نبوت کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ چودہ سو سال پرانا مسئلہ ہے۔ قادیانیت انگریز کا پیدا کردہ فتنہ ہے جو وہ چھوڑ کر گیا اور وہ فتنہ اسی نظام کا حصہ ہے جو وہ چھوڑ کر گیا۔ ۴۲؍ سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں انگریز کا مسلط کردہ نظام موجود ہے۔ جب ہم پاکستان کی سیاست میں متحرک نظر آئے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم ابھی تک آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہاں انگریز کا نظام تعلیم، نظام معیشت، نظام مملکت، فوجداری، دیوانی قوانین پولیس و فوج کے ضابطے جوں کے توں ہیں۔ ملکی وسائل پر انگریز سامراج کے ایجنٹ اور مراعات یافتہ طبقات قابض ہیں اور حقیقی معنوں میں وہی ملک پر حکمران ہیں۔ انگریز سامراج نے اس فتنہ کی بنیاد رکھی اور انگریز کی روحانی اولاد اس کی آبیاری کر رہی ہے۔ ہم سامراج کی روحانی اولاد کو بستر بوریا باندھ کر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیں گے۔ یہ ایک لابی ہے۔ امریکی، اسرائیل کی مغربی قوتوں کی، جنہیں ملت اسلامیہ کے استحصال کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن علماء کرام مسلسل ان کی حرکات و سکنات ریشہ دوانیوں اور تنظیم پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک اس سامراجی فتنہ کے خلاف ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء میں عظیم الشان تحریکیں چل چکی ہیں۔
موجودہ حکومت کے سامنے یہ مسئلہ خاص طور ہم نے رکھا۔ صوبہ سندھ کا چیف سیکرٹری ایک قادیانی کو بنایا گیا۔ ہم نے اس سلسلہ میں وزیر اعظم کو متوجہ کیا اور کھل کر کہا کہ مسئلہ قادیانیت میں آپ کے والد محترم کو عوام کے احتجاج کے سامنے جھکنا پڑا تھا۔ شاید آپ کو بھی جھکنا پڑے۔ چنانچہ ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ چیف سیکرٹری کو ہٹا دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ سندھ سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ کچھ مشکلات ہیں وہ دور ہونے پر قادیانی چیف سیکرٹری کو ہٹا دیا جائے گا۔ ایک مرتبہ میں سفر کر رہا تھا تو ایک صاحب میری قریبی سیٹ پر تشریف لائے اور کہنے لگے کہ قادیانی چیف سیکرٹری کے متبادل مجھے تجویز کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ کیا مشکلات ہیں تو وہ کہنے لگا۔ کوئی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مشکلات نہیں ہیں۔ ہر وقت تیار ہوں لیکن مجھے نہیں بلایا جا رہا۔ جہاں تک نسیم احمد قادیانی کا مسئلہ ہے تو ہم نے احتجاج کیا تو ہمیں یہ کہا گیا کہ فی الحال وہ اندرون ملک نہیں جب اسے بھیجا جائے گا تو وہ وضاحتی بیان جاری کر کے جائے گا۔ لیکن کسی قسم کا بیان لئے بغیر اسے مستقل مندوب کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں بھیج دیا گیا۔
ختم نبوت کانفرنس کی قراردادیں اور مطالبات
- ١...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آٹھویں کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس یہ عظیم اجتماع اس امر پر
تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ کچھ عرصہ سے ملک بھر اور بالخصوص ربوہ میں قادیانیوں کی اسلام دشمن اور جارحانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ قادیانیوں کی طرف سے قرآن مجید کو نذر آتش کرنے اور اسلامی شعائر کی توہین کرنے پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے چھ مقامات پر دو مسلمانوں کو شہید اور بارہ کو شدید زخمی کر چکے ہیں۔ قادیانی جارحیت کے سدباب کے لئے ضروری ہے کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
- ٢...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ چک نمبر ۵۶۳ گ ۔ب جڑانوالہ اور چک نمبر ۳۰ سکندر پور کھاریاں میں قادیانی جارحیت اور غنڈہ گردی
کے نتیجہ میں شہید ہونے والے دو مسلمانوں کے قادیانی قاتلوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ نیز یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کے خلاف قائم کردہ مقدمات فی الفور ختم کئے جائیں اور قادیانی قاتلوں کے خلاف مقدمات خصوصی عدالت میں چلائے جائیں۔
- ٣...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں کو فی الفور ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔ پاک فوج میں قادیانی
افسران کلیدی پوسٹوں پر قابض ہیں۔ حالانکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جہاد حرام ہے۔ ایک نظریاتی مملکت میں نظریاتی دشمنوں کا حساس عہدوں پر موجود ہونا ملک وملت کے مفاد کے منافی ہے۔ لہٰذا سول ، پاک فوج دیگر سرکاری اداروں سے قادیانی افسروں کو نکالا جائے۔
- ٤...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی توانائی کے تحفظ اور بہتر کارکردگی کے لئے بھارت اور اسرائیل کے ایجنٹ اور
جاسوس غیر مسلم سائنس دان عبدالسلام قادیانی کو اٹامک انرجی کمیشن میں کسی آسامی پر تعینات نہ کیا جائے۔ نیز تمام ایسے حساس اداروں میں اس غدار وطن کا داخلہ ممنوع قرار دیا جائے تاکہ ایٹمی راز دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ نیز یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ محبّ وطن ، دیانتدار اور فرض شناس ، سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر خان کو قادیانی سازش سے بچایا جائے ، جو انہیں ان کے موجودہ عہدے سے ہٹانے کے لئے ناپاک سازشیں کر رہے ہیں۔
- ٥...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ربوہ کا نام تبدیل کرنے کا سرکاری طور پر اعلان کیا جائے۔
- ٦...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ربوہ کی زمین قیام پاکستان کے بعد انگریز گورنر سر موڈی کے دور میں انجمن احمدیہ نے کوڑیوں کے بھاؤ
۹۹ سالہ لیز پر حاصل کی تھی اور بعد میں جعل سازی کے ذریعہ مالکانہ حقوق حاصل کر لئے ۔ انجمن احمدیہ کے نام اس زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے ربوہ کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- ٧...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر نسیم احمد قادیانی کو فی الفور ہٹایا جائے اور اس کی جگہ کسی مسلمان
سفیر کا تقرر عمل میں لایا جائے۔
- ٨...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کے نفاذ کے بعد قادیانیوں کے رسائل و جرائد پر پابندی عائد
کردی گئی تھی۔ گزشتہ ایک برس سے ان کی اشاعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ قادیانی لٹریچر کی اشاعت سے قادیانی مذہب کی غیر آئینی تشہیر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ۴۰۵ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوتی ہے۔ لہٰذا قادیانی رسائل و جرائد کے ڈیکلریشن منسوخ کئے جائیں۔ نیز قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کی قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر اور اشتعال انگیزی پر مبنی خلاف اسلام و قانون اور ملک دشمن کیسٹوں پر پابندی عائد کی جائے۔
- ۹...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانی جماعت تنظیموں انجمن احمدیہ ربوہ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماء اللہ، اطفال الاحمدیہ اور انصار اللہ کی
مسلسل جارحانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ لہٰذا ان تنظیموں کو خلاف قانون قرار دے کر ان کے فنڈز بحق سرکار ضبط کئے جائیں۔
- ۱۰...... یہ اجتماع اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ قادیانیوں نے حال ہی میں اقلیتی نشستوں پر حصہ لینے والے قادیانیوں سے
لاتعلقی کا اظہار کر کے آئین و قانون کے ساتھ بغاوت کی ہے۔ قادیانی جماعت کے خلاف آئین سے بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلا کر اسے خلاف قانون قرار دیا جائے۔
- ۱۱...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لئے حکومت کی طرف
سے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ خوش آئند ہے۔ مگر اس دھوکہ دہی کو مکمل طور پر روکنے کے لئے شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد، فارم ہائے داخلہ اور راشن کارڈز میں حلف نامے کی بنیاد پر مذہب کے خانہ کا اندراج کیا جائے۔
- ۱۲...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے علاقہ تربت میں ذکری فتنہ کی خود ساختہ کوہ مراد کے نقلی حج پر پابندی عائد کی جائے۔
ذکری فتنہ کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس سے مسلمانوں میں شدید اشتعال پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا اس فتنہ کی روک تھام کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اداریہ ص ۲۱ تا ۲۵، مورخہ یکم تا ۷؍ دسمبر ۱۹۸۹ء)
کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس کی جھلکیاں:
- ٭...... آٹھویں کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس ربوہ (صدیق آباد) کا افتتاح صدر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی
پرسوز دعا سے ہوا۔
- ٭...... کانفرنس کے کل پانچ اجلاس ہوئے جس میں تمام مکاتب فکر علماء اور رہنماؤں نے خطاب کیا۔ جب کہ ملک بھر ہزاروں شمع ختم
نبوت کے پروانوں نے جوق در جوق شرکت کر کے عقیدۂ ختم نبوت سے قلبی وابستگی کا ثبوت دیا۔
- ٭...... کانفرنس کا افتتاحی خطاب استاد المناظرین مولانا عبدالرحیم اشعر کا تھا۔ جنہوں نے قادیانیت کا تجزیہ کیا اور سامعین کو قادیانیوں
کے عقائد و عزائم سے آگاہ کیا۔
- ٭...... کانفرنس کے آخری مقرر جمعیۃ العلماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمن تھے۔
- ٭...... صاحبزادہ طارق محمود کی تقریر کے دوران بلوچستان کا ایک شخص انتہائی جذباتی ہو کر یا اللہ، یا محمد کے نعرے لگانے لگا۔ پھر وہ
زار و قطار رونے لگا۔
- ٭...... جماعت کے ڈویژنل امیر مولانا اشرف ہمدانی نے جماعت کی کارکردگی اور پالیسی پر نہایت فصیح و بلیغ تبصرہ کیا۔
- ٭...... مولانا اللہ وسایا نے شرکائے کانفرنس کے علاوہ مہمان مقررین کا خیر مقدم کیا اور شاندار الفاظ میں ان کا شکریہ ادا کیا۔
- ٭...... مولانا منظور احمد چنیوٹی ایم۔ پی۔ اے کانفرنس میں اس وقت پہنچے جب مولانا فضل الرحمن کو دعوت خطاب دی جا رہی تھی۔ مولانا
منظور احمد چنیوٹی نے نماز عصر کی امامت کروائی اور بعد میں خطاب کیا۔
- ٭...... مولانا فضل الرحمن احرار سرخ کرسی اور کلہاڑی لئے مائک پر تشریف لائے تو احرار کی یاد تازہ ہو گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- بریلوی مکتب فکر کے معروف خطیب صاحبزادہ سید افتخار الحسن کے چٹکلوں اور برجستہ جملوں نے سامعین کو بہت محظوظ کیا۔
- عالمی تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری علالت طبع کے باعث کانفرنس سے خطاب نہ کر سکے۔
- ننکانہ کے نوجوانوں نے ایک عدالت لگائی جس میں مرزا قادیانی کو پیش کیا جس نے بیس کوڑے سزا تجویز کی، کوڑے لگانے کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے پتلے کو نذر آتش کر دیا گیا۔
- جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کے وسیع و عریض پنڈال کو خوبصورت بینروں سے سجایا گیا۔ جن پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبات پر مشتمل نعرے لکھے ہوئے تھے۔ چند ایک بینروں کی عبارتیں پیش خدمت ہیں۔
- پاکستان کے حکمرانو! اگر وطن عزیز کی سلامتی چاہتے ہو تو مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کرو۔
- ربوہ کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نسیم احمد قادیانی کو فی الفور اس اہم منصب سے علیحدہ کیا جائے۔
- میونسپل کمیٹی ربوہ کو قرارداد کے مطابق ربوہ کا نام تبدیل کیا جائے۔
- خدام الاحمدیہ سمیت قادیانی مسلح تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے۔
- جب تک قادیانیت صفحہ ہستی سے نہیں مٹ جاتی ہماری تحریک جاری رہے گی۔
- جب تک ملک کی کلیدی آسامیوں سے قادیانیوں کو الگ نہیں کیا جاتا تو ملک عزیز کا استحکام ناممکن ہے۔
- اسلامی نظریاتی کونسل کی قرارداد کے مطابق ارتداد کی شرعی سزا ”سزائے موت“ نافذ کر کے قادیانیت کی ترویج کو ختم کیا جائے۔
- قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ اس کا اسلحہ ضبط کیا جائے۔
- اے مسلمان! جب تو کسی مرزائی سے ملتا ہے تو گنبد خضراء میں دل مصطفیٰ ﷺ دکھتا ہے۔
- پنجاب حکومت قادیانی اخبارات روزنامہ الفضل ربوہ، روزنامہ تقاضے لاہور، ہفت روزہ لاہور، و احسان لاہور پر پابندی کرے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۴ تا ۲۰، مورخہ ۲۴ نومبر ۱۹۸۹ء)
ختم نبوت کانفرنس صدیق آباد...... قادیانی لیڈر کے پیٹ میں مروڑ
قادیانیوں کو اصلی شکایت تو یہ ہے کہ جب سے ملک میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا ہے۔ ان کے سالانہ ”حج“ یعنی سالانہ جلسہ پر پابندی لگ گئی۔ اکتوبر میں انہوں نے اپنی ذیلی تنظیم لجنہ اور ایک دوسری تنظیم کے اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کی اجازت بھی مل گئی۔ لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں خصوصاً عالمی مجلس فیصل آباد کے ممتاز رہنما جناب مولوی فقیر محمد صاحب نے پنجاب اور مرکزی حکمرانوں کے گریبانوں کو جھنجوڑا اور انہیں توجہ دلائی کہ وہ قادیانیوں کو کسی قسم کے جلسہ کرنے کی اجازت نہ دیں۔ اگر دی گئی ہے تو اسے منسوخ کیا جائے۔ نیک اور اخلاص نیت کے ساتھ جو کام بھی کیا جائے اللہ تعالیٰ اس میں ضرور کامیابی عطاء فرماتے ہیں۔ مولانا کی مخلصانہ کوششیں بار آور ثابت ہوئیں اور قادیانی جلسہ نہ کر سکے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور جناب خان بہادر سے انہوں نے ملاقات کر کے ایک یادداشت بھی پیش کی جس میں قادیانیوں کی غنڈہ گردی، اشتعال انگیز حرکتوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف انہیں متوجہ کیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ اس ملاقات کے اثرات اچھے مرتب ہوں گے۔
یہ تذکرہ ہم نے ضمناً کر دیا۔ اصل مسئلہ امسال منعقد ہونے والی آٹھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہے جس پر قادیانیوں کے پیٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں خاصی مروڑ اٹھی ہے۔ خصوصاً قادیانی ناظم امور عامہ تو شدت مروڑ کی وجہ سے بہت ہی زیادہ پریشان نظر آتا ہے۔ اس نے ختم نبوت کانفرنس پر اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’حکومت احمدیوں (قادیانی زندیق) کے حقوق کھلم کھلا پامال کر رہی ہے اور مولوی صاحبان کو اس امر کی کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ نہ صرف احمدیوں (قادیانیوں) کے بزرگوں کو غلیظ اور فحش گالیاں دیں۔ بلکہ ان کے قتل کا علی الاعلان پرچار کریں اور اس پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے دو اور تین نومبر ۱۹۸۹ء کو ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر احمدیوں (قادیانیوں) کو کیوں نہیں نکالا جاتا۔‘‘
(الفضل ربوہ مؤرخہ ۵؍ نومبر ۱۹۸۹ء)
قادیانی لیڈر نے اپنے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ کانفرنس کے اختتام پر جب بسوں کا قافلہ سرگودھا کی جانب روانہ ہوا تو ربوہ بس اسٹاپ پر بسوں کو روک کر ہمارے خلاف نہ صرف نعرے بازی کی گئی بلکہ قادیانی عورتوں کو دیکھ کر بسوں میں سوار نوجوان ننگے ہو گئے۔ اس بات کو تو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ نوجوانوں نے جاتے ہوئے نعرے لگائے ہوں۔ ختم نبوت زندہ باد کا عقیدہ ہر مسلمان کا ایمان ہے۔ جس کا اظہار نعروں کی صورت میں کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ ربوہ ہو یا کوئی دوسرا شہر، وہاں آبادی مسلمان ہو یا قادیانی یہ نعرہ گونجتا رہے گا۔ اگر جرم ہے تو یہ جرم بار بار ہوتا رہے گا لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہمارے کارکن قادیانی عورتوں کے سامنے ننگے ہو گئے۔ ایسا ہی جھوٹ ہے۔ جیسا مرزا قادیانی علیہ اللعنۃ کا جھوٹا دعوائے نبوت، بھری بسوں کی چھتوں پر برے سے برا انسان بھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ ختم نبوت کے پروانے اور محمد مصطفیٰ ﷺ کے غلام ایسا کریں۔
ہاں! قادیانی ایسا کر سکتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ جائز ہے۔ مرزا قادیانی کے گھر میں عورتوں کا ننگا غسل اور مرزا محمود کا دورۂ یورپ میں وہاں کا عریاں حصہ دیکھنا ثبوت کے لئے کافی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ:
- ۱...... مقررین نے قادیانیوں کے قتل پر اکسایا۔
- ۲...... ان کے بزرگوں کو غلیظ گالیاں دیں۔
ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اسلامی اور شرعی نقطۂ نگاہ سے قادیانی مرتدوں کی سزا یہی ہے کہ جو گستاخ رسول ہو، ملحد و زندیق ہو، مرتد ہو اسے قتل کر دیا جائے۔ جیسا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب اور دوسرے مدعیان نبوت کے ساتھ ساتھ ان کی ذریت کے ساتھ کیا۔ مقررین نے اسی مسئلہ پر اظہار کیا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان میں مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ یہ مطالبہ کرنا قتل کرنے پر اکسانے کے مترادف کیسے ہو گیا۔ اگر علماء کرام کا قانون ہاتھ میں لینے کا پروگرام ہوتا تو آج پاکستان میں ایک بھی قادیانی نظر نہ آتا۔ ہمارا اب بھی یہ مطالبہ ہے کہ یہاں مرتد کی شرعی سزا فوراً نافذ کی جائے۔
جہاں تک گالیاں دینے کا تعلق ہے شاید قادیانی لیڈر نے علماء کو اپنے پر قیاس کر لیا جن کے مذہب میں گالی دینا عین ایمان ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی تحریروں سے ثابت ہے۔ دراصل قادیانی لیڈر کے پیٹ میں مروڑ اس لئے اٹھی ہے کہ کانفرنس کیوں ہوئی اور ہمیں جلسوں کی اجازت دے کر منسوخ کیوں کر دی گئی۔ ہم قادیانی لیڈر اور تمام قادیانیوں کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ اب پاکستانی قوم بیدار ہو چکی ہے۔ قادیانیوں کو ملک میں من مانی کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔
بلوچ آباد میں عظیم الشان سیرت کانفرنس
ایک روزہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس بمقام بلوچ آباد مند مکران منعقد ہوئی۔ جس کی تین نشستیں ہوئیں۔ صدارت کے فرائض
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میزبان حاجی محمد بلوچ آبادی نے انجام دیئے ۔ جب کہ مہمان خصوصی شیخ المشائخ حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب نائب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان تھے ۔ تلاوت قرآن کریم قاری محمد عیسیٰ صاحب مدرس مدرسہ دارالہدیٰ پیشکان قاری علی محمد صاحب مدرس اشاعت التوحید تلاوت حافظ سلام الدین متعلم مدرسہ دارالعلوم بلوچ آباد مند نے کی ۔ مہمان حضرات کو سپاسنامہ حضرت مولانا عبداللطیف صاحب مدرس دارالعلوم بلوچ آباد مند نے پیش کیا اور قراردادیں مفتی مکران مولانا مفتی احتشام الحق صاحب نائب ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان نے پڑھ کر سنائیں ۔ اسٹیج سیکرٹری فضل الرحمٰن فاروقی ، مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت مکران ڈویژن اور نعت خوانان عبدالباقی بلوچ ، دین محمد ، عبدالحمید بلوچ ، حافظ سلام الدین ، عطاء اللہ خارانی تھے ۔ مقررین حضرات میں حضرت مولانا عبدالرشید ترابی ، مولانا محمد ابراہیم دشتی ، ڈاکٹر محمد اسماعیل ، مولانا خلیل بلیدی ، مولانا عبدالغفور ، مولانا عبدالرؤف صدر جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوادر ، مولانا عبدالرزاق دالبندین ، مولانا عبداللہ پنجگوری ، شیخ الحدیث مولانا عبدالغفار ضامرانی ، رکن مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت بلوچستان ، حضرت مولانا نذیر احمد صاحب تونسوی مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان ، حضرت مولانا عبدالغفور صاحب حیدر جوائنٹ سیکرٹری جمعیۃ ورکن سپریم کونسل صوبہ بلوچستان ، شیر مکران شہباز خطابت مولانا محمد الیاس رکن مجلس شوریٰ تحفظ ختم نبوت بلوچستان ، شیخ المشائخ استاذ الاساتذہ حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب نائب امیر تحفظ ختم نبوت بلوچستان مندرجہ بالا تمام علماء کرام کی تقریروں کا خلاصہ یہ ہے کہ آج محمد عربی ﷺ کی روح طیبہ ہم سے یہ پوچھتی ہے کہ اے میری امت تم کہاں خواب غفلت میں سوئے ہو کہ ذکری اور قادیانی میرے بعد بھی مرزاغلام احمد اور انہی کو نبی مانتے ہیں ۔ جب کہ میں آخری نبی ہوں ۔ کیا یہ ہماری زندگی ہے جو ہم گزار رہے ہیں ۔ عطاء اللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود کے بعد ہم نے اپنا مشن چھوڑ دیا ہے ۔ ذکری اور قادیانی اب پھر سر اٹھا رہے ہیں ۔ بالخصوص موجودہ حکومت ان کی پشت پناہی میں مصروف ہے ۔ کبھی ربوہ کو کعبہ بنایا گیا کبھی کوہ مراد کو کعبہ بنا دیا اور کبھی بابری مسجد کی جگہ مندر کا تعمیر یہ امت محمدیہ کی غیرت کو للکارا جا رہا ہے ۔ ان کو مٹانے کے لئے عہد کریں اور ہاتھ اٹھائیں ۔ سب نے ہاتھ اٹھائے ۔ اگر ہماری یہ حالت رہی تو محشر کے میدان میں محمد عربی ﷺ ہم سے پوچھیں گے تو کیا جواب ہمارے پاس موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھیں گے کہ تم زندہ ہو شعائر اللہ کی توہین بنام کوہ مراد ہو رہی ہے ۔ میرے آخری پیغمبر کی ختم نبوت پر لوگ ڈاکہ ڈالتے ہیں اور تم خاموش ہو ۔ (مولانا رحمت اللہ صاحب) اجلاس میں یہ مندرجہ ذیل قراردادیں متفقہ طور پر منظور ہوئیں ۔
- ۱...... بابری کی جگہ مندر کی تعمیر کرنے پر یہ عظیم الشان احتجاج انڈیا حکومت کی پرزور مذمت کرتا ہے اور عالم اسلام سے یہ مطالبہ کرتا ہے
کہ انڈیا گورنمنٹ پر سفارتی دباؤ ڈالا جائے ۔
- ۲...... ذکریوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے اور کوہ نامراد کے نام نہاد حج پر پابندی عائد کی جائے ۔
- ۳...... ذکریوں اور قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے ۔
- ۴...... مکران ڈویژن میں ذکریوں کو زکوٰۃ کمیٹی کا ممبر و چیئرمین بنا دیا گیا ہے ۔ جب کہ ذکری زکوٰۃ کے منکر ہیں ۔ یہ عظیم الشان اجتماع
حکومت کے اس اقدام کو ہم غم و غصے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ عظیم الشان جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ ذکریوں کو زکوٰۃ کمیٹی سے علیحدہ کیا جائے ۔
- ۵...... یہ عظیم الشان جلسہ صوبہ بلوچستان حکومت کی اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے کہ صوبائی حکومت نے شراب ، عریانی ، بے حیائی پر
پابندی عائد کی ہے ۔ لیکن مکران میں اس حکم پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے ۔ یہ عظیم الشان جلسہ مطالبہ کرتا ہے کہ یہاں بھی عمل درآمد کیا جائے ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳ ، مؤرخہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۸۹ء تا ۵؍ جنوری ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۹۰ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امریکہ میں مدعی نبوت ارشاد خلیفہ قتل کر دیا گیا
انٹرنیشنل عربی اخبار ’’المسلمون‘‘ کی خبر کے مطابق ارشاد خلیفہ نامی شخص جس نے تین سال قبل ریاست ہائے متحدہ امریکہ (اری زونا اسٹیٹ کے شہر ٹوسان) میں رسالت کا دعویٰ کیا تھا، ۳۱؍جنوری ۱۹۹۰ء رات دو بجے اس کو اس کے گھر میں تیز دھار آلے کے ذریعے قتل کر دیا گیا۔ ارشاد خلیفہ نے پہلے حدیث کا انکار کیا پھر رسالت کا دعویٰ کیا۔ بعد ازاں الوہیت کا مدعی بن بیٹھا۔ اخبار عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے مطابق مزید بتایا گیا ہے کہ قتل کے وقت خلیفہ ارشاد کی عمر ۵۴ سال تھی۔ اس نے ۱۹؍عدد کے سلسلے میں ایک کتابچہ بھی لکھا تھا جس سے باطل مذہب بہائی کی ترویج مقصود تھی۔ تمام اسلامی تنظیموں نے اس کے کفریہ اور مرتدانہ عقائد کی وجہ سے اپنے متعدد بیانات میں اس کو خارج از اسلام قرار دیا تھا۔ امریکہ کی پولیس تلاش بسیار کے باوجود ابھی تک قاتل کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے ہلاک ہونے کے اسباب ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۹، مورخہ ۹ تا ۱۵؍مارچ ۱۹۹۰ء)
امریکی کونسلر کی ربوہ میں قادیانیوں سے ملاقات
معاصر روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۹۰ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’ربوہ ۵؍مارچ (نامہ نگار) امریکی قونصلر لاہور مس ایلی سن اور تھرڈ سیکرٹری مس سیل آج یہاں عوامی رابطے کے اپنے نجی دورہ پر ربوہ پہنچیں اور انہوں نے یہاں مرزا خورشید احمد، چوہدری حمید اللہ اور نواب منصور احمد سمیت قادیانیوں کے ساتھ انسانی حقوق کے ضمن میں مذاکرات کے بعد بتایا کہ قادیانیوں کے نمائندوں کے ساتھ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تبادلہ خیالات ہوا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکہ کی جانب سے پاکستان حکومت پر کوئی دباؤ ڈالا جائے گا یا نہیں پاکستان میں کسی سیاسی تبدیلی کی توقع ہے تو امریکی خاتون قونصلر نے کہا: ’’چمکتا سورج سب کو نظر آتا ہے‘‘۔ پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد کو انسانی حقوق کی صورتحال کے ساتھ مشروط بنانے کے ضمن میں انہوں نے سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا اور ایٹمی پلانٹ کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا فرانس کے صدر متراں کے فیصلہ کا پاکستان میں بڑا خیر مقدم ہوا‘‘۔
بین الاقوامی حالات اور بالخصوص پاکستان کے سیاسی حالات کے پیش نظر امریکی قونصلر کا حالیہ دورہ ربوہ بڑا معنی خیز ہے۔ ہم یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ امریکی قونصلر مس ایلی سن اور ان کے رفقاء کو اچانک عوامی رابطہ کے سلسلہ میں ربوہ یاترا کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ یہ عوامی رابطہ ملک کے کسی اور حصے یا شہر سے شروع ہو سکتا تھا۔ تاہم اخباری تفصیلات کے مطابق رابطہ کا دائرہ صرف قادیانیوں کے ہیڈ کوارٹر ربوہ تک محدود ہے۔ امریکہ پاکستان کو اقتصادی اور فوجی امداد دیتا ہے۔ ہمیشہ یہ امداد مشروط طور پر دی جاتی ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ برس بھی امریکی کانگریس نے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر بعض شرائط عائد کی تھیں۔ بڑی شرط قادیانیوں کے بنیادی و انسانی حقوق کی بحالی تھی۔ امریکہ پاکستان کو اگر اقتصادی یا فوجی امداد دیتا ہے تو وہ اپنے مخصوص مفادات کے تحت دیتا ہے جو پاکستان سے وابستہ ہیں۔
جہاں تک قادیانی اقلیت کے بنیادی اور انسانی حقوق کا تعلق ہے قادیانیوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ بیرون ملک انتہائی ڈھٹائی سے شرانگیز پراپیگنڈہ کرنے میں مشغول رہتے ہیں کہ پاکستان میں بحیثیت اقلیت ان کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ جب کہ اندرون ملک قادیانی جماعت کا طرز عمل اس سے یکسر مختلف رہا ہے۔ ہم امریکی قونصلر کی خدمت میں نہایت ادب سے گزارش کرنا چاہتے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں کہ قادیانیوں کو اقلیت کی حیثیت سے وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو پاکستان کی باقی اقلیتوں کو حاصل ہیں۔
- ۞...... قادیانیوں کو ۱۹۷۴ء میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ کسی فوجی آمر کا نہ تھا اور نہ ہی قادیانیوں کو کسی آرڈیننس کے تحت
غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس تاریخی فیصلہ کا خیر مقدم پورے عالم اسلام میں کیا گیا۔
- ۞...... قادیانی جماعت اور اس کے رہنماؤں نے اس فیصلہ کو آج تک قبول نہیں کیا۔ وہ خود کو مسلمان کہنے اور لکھنے میں مصر ہیں لیکن بیرون
ملک اقلیت کے طور پر پاکستانی عوام اور حکومت کے خلاف مذموم پراپیگنڈہ کر کے ہمدردیاں اور امداد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
- ۞...... باقی اقلیتوں کے برعکس قادیانی پاکستان کے بنیادی نظریہ کے مخالف اور دشمن ہیں۔ اکھنڈ بھارت ان کا غیر متزلزل عقیدہ ہے۔
پاکستان کے آئین و قانون کا احترام ان کی لغت میں سرے سے مفقود ہے۔ قادیانی اسلام کے دشمن اور پاکستان کے غدار ہیں۔ جب کہ پاکستان میں بسنے والی باقی اقلیتیں ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی پاکستان کے وفادار اور محب وطن شہری ہیں۔ آئین وقانون کا احترام کرتے ہیں اور اقلیت بن کر اقلیتوں کے حقوق سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
- ۞...... قادیانی جماعت کا آئین پاکستان اور قانون سے غداری کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ووٹروں کی حیثیت سے اپنے نام تک درج
نہیں کروائے اور نہ ہی اقلیتی نشستوں پر قادیانی حضرات نے کبھی انتخاب میں حصہ لیا ہے۔ گزشتہ برس جن قادیانیوں نے اقلیتی نشستوں پر انتخاب میں حصہ لیا قادیانی جماعت نے نہ صرف انہیں اپنی جماعت سے خارج کر دیا بلکہ انہیں اپنی جماعت کا باغی قرار دے کر اس فیصلہ کو اپنے ضمیر اور عقیدہ کے خلاف قرار دیا۔ اس کا ثبوت قومی اخبارات میں قادیانی جماعت کا وہ اشتہار کافی ہے جو روزنامہ جنگ لاہور میں شائع ہوا تھا۔
- ۞...... قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد بیرون ملک بیٹھ کر اس شرانگیز پراپیگنڈے میں مشغول رہتے ہیں کہ پاکستان میں
قادیانیوں کا تحفظ نہیں۔ قادیانی دنیا کی نظروں میں مظلوم بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت حال اس سے قطعی مختلف ہے۔ قادیانی مظلوم نہیں بلکہ ظالم ہیں۔ پرامن نہیں بلکہ جارح ہیں۔ ۱۹۵۳ء میں قادیانیوں کے خلاف جو تحریک چلی اس میں قادیانی فورس نے پولیس کے ساتھ مل کر دس ہزار مسلمانوں کو شہید کیا۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی تو ۳۲ مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ سکھر میں قادیانیوں نے کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا۔ مسلمان نمازیوں پر مسلح حملہ کیا۔ ایک مسلمان کو موت کے گھاٹ اتارا جب کہ درجن بھر مسلمانوں کو شدید زخمی کیا۔ ساہیوال میں قادیانیوں نے فائرنگ کر کے دو مسلمان نوجوانوں کو ہلاک کر دیا۔ فیصل آباد کے نواحی گاؤں جڑانوالہ کے قریب ایک گاؤں میں کلام پاک کے نسخوں کو نذر آتش کیا۔ مسلمانوں نے احتجاج کیا تو قادیانیوں نے فائرنگ کر کے ایک جوان مسلمان کو شہید کیا اور دیگر مسلمانوں کو زخمی کیا۔ سرگودھا کے قریب چک شمالی میں قادیانیوں نے کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو زخمی کیا۔ اسی طرح کے بے شمار واقعات ملک بھر میں رونما ہوئے۔ ان حقائق کی روشنی میں جب کہ ایک طرف قادیانی جماعت اپنے آپ کو اقلیت تسلیم نہیں کرتی دوسری طرف ان کی جارحیت کا یہ عالم ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گریز نہیں کرتی۔ امریکی قونصلر اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت بے شک ربوہ سے عوامی رابطہ کریں لیکن انہیں تصویر کا ایک رخ نہیں دیکھنا چاہئے۔ قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیاں آئین وقانون کے خلاف صریحاً بغاوت اور ملک بھر میں دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا بغور مشاہدہ اور جائزہ لینا چاہئے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۳، ۴، مؤرخہ ۱۶/مارچ ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فیصل آباد میں دارالمطالعہ ختم نبوت کا قیام
۲۲؍ مارچ ۱۹۹۰ء بروز جمعرات بعد نماز عصر ہوٹل الامین نزد جامع مسجد اہل حدیث امین پور بازار میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دارالمطالعہ ختم نبوت کا افتتاح مجلس کے ڈویژنل امیر حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی دامت برکاتہم کے ہاتھوں سرانجام پایا۔ اس موقع پر ایک افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب سعید کا آغاز تنظیم تحفظ ختم نبوت طلباء پنجاب میڈیکل کالج کے سابق صدر جناب ڈاکٹر صولت نواز کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ دارالمطالعہ ختم نبوت کے انچارج جناب نصیر احمد آزاد نے اغراض ومقاصد بیان کئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما صاحبزادہ طارق محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت سے دلی وابستگی رکھنے والے دو پرجوش ساتھیوں ڈاکٹر صولت نواز اور جناب نصیر احمد آزاد کی ذاتی کوششوں سے دارالمطالعہ کا قیام عمل میں آیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے رفقاء کے ہمراہ پنجاب میڈیکل کالج میں تنظیم تحفظ ختم نبوت طلباء قائم کی تھی جس کے زیر اہتمام دیگر تعلیمی اداروں میں بڑا کام ہوا۔ تنظیم کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں لٹریچر شائع کر کے تقسیم کیا گیا۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ ختم نبوت کے پیغام کو عام کرنے اور مسلمانوں کو قادیانیوں کے مکروہ عقائد اور ناپاک عزائم سے آگاہ کرنے کے لئے دارالمطالعہ کا قیام لازمی تھا۔ انہوں نے کہا قادیانیت ایک صیہونی تحریک کا نام ہے جس کے خلاف ہمارے اکابرین اور بزرگوں نے بیش بہا قربانیاں دیں۔
صاحبزادہ طارق محمود نے بتایا کہ فیصل آباد کے کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں تک تردید مرزائیت کے سلسلہ میں لٹریچر پہنچایا جائے گا۔ نیز فیصل آباد کے مختلف علاقوں میں ختم نبوت یونٹ قائم کئے جائیں گے۔ صاحبزادہ طارق محمود نے مولانا محمد اشرف ہمدانی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا، ہمیں امید ہے کہ مولانا اپنے اکابرین کی روایات کو زندہ و تابندہ رکھتے ہوئے ختم نبوت کے کارکنوں اور رضا کاروں کی سرپرستی فرمائیں گے۔ فاضل نوجوان جناب مولانا محمود احمد قادری نے تقریر کرتے ہوئے دارالمطالعہ قائم کرنے والے کارکنوں کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے عقیدہ کا تحفظ تمام مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ مولانا محمود احمد قادری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی فتنہ کی سرکوبی اور محاسبہ کے لئے نوجوانوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نوجوان خون ہی کسی قوم کا اصل سرمایہ ہے۔ مولانا نے تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ فیصل آباد کے ممتاز عالم دین مولانا محمد انور کلیم نے عقیدہ ختم نبوت کی فضیلت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت اسلام کا اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے جس پر دین کی عمارت استوار ہے۔ مولانا نے کہا قادیانی فتنہ اسلام اور پاکستان کے لئے ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا مرزائیت کا محاسبہ ایک مقدس مشن ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ رفیق تاجدار ختم نبوت ﷺ پہلے مجاہد ہیں جنہوں نے مسیلمہ کذاب کو واصل جہنم کیا۔ انہوں نے کہا حضرت ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ پاسبان ختم نبوت تھے۔ مولانا انور کلیم نے کہا قادیانی فرقہ کے خلاف جہاد تمام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ ممتاز تاجر رہنما شیخ بشیر احمد نے تقریر کرتے ہوئے دارالمطالعہ کے قیام کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا قادیانی فتنہ انگریزی سامراج کی یادگار ہے جسے جہاد کو منسوخ کرنے اور مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کی خاطر پیدا کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا اب جب کہ کشمیر میں جذبہ جہاد بیدار ہو چکا ہے اور کشمیری غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عقیدہ جہاد کی اہمیت اور فضیلت اور زیادہ اجاگر ہو گئی ہے۔ شیخ بشیر احمد صاحب نے علماء کو یقین دلایا کہ تاجر برادری عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں علماء کے ساتھ ہے اور وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ۴۱۳ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ڈویژنل امیر مولانا محمد اشرف ہمدانی نے اپنے ایمان پرور خطاب میں کہا جس طرح جسم نبوت کی حفاظت عین ایمان ہے۔ اسی طرح عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت بھی ایمان کا جزو ہے۔ مولانا نے کہا عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ ایک مقدس اور پاکیزہ مشن ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے محبوب کی نبوت کی ناموس کے لئے برگزیدہ بندوں کو چن لیتے ہیں۔ مولانا محمد اشرف ہمدانی نے کارکنوں کو تلقین کی کہ وہ ختم نبوت کا پیغام گلی گلی، کوچے کوچے تک پہنچائیں۔ مولانا نے کہا کہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے کہا تھا کہ اگر قادیانی چاند پر بھی گئے تو ان کا تعاقب وہاں بھی کیا جائے گا۔
دارالمطالعہ ختم نبوت کی افتتاحی تقریب میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دفتر کے ارد گرد خوبصورت اور جلی حروف میں لکھے گئے بینر آویزاں تھے جن پر تحریر تھا: تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد، سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مشن جاری رہے گا۔ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری زندہ باد، تقریب سے قبل مولانا محمد اشرف ہمدانی نے دارالمطالعہ کا افتتاح فرمایا۔ تقریب کا اختتام مولانا ہمدانی کی دعا سے ہوا۔ شرکائے مجلس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع کردہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ بعدازاں مہمانوں کی خاطر تواضع کی گئی۔ شہر بھر میں مجلس کے دارالمطالعہ کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ تقریب میں حاجی خلیل احمد لدھیانوی، جناب زبیر بنی ایڈووکیٹ، جناب حسن بٹ صاحب (مکہ مکرمہ)، علامہ مجیب الرحمن لدھیانوی، جناب طاہر اسلام، جناب سیف اللہ احرار، چوہدری طفیل احمد تارڑ نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، ۲۰، مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۹۰ء)
کراچی میں ربوہ سے آمدہ دو قادیانی مسلح دہشت گردوں کی گرفتاری
جب سے کراچی حیدرآباد اور اندرون سندھ کے حالات خراب ہوئے اور باہمی قتل و قتال تک نوبت پہنچی۔ ہم نے اسی وقت متنبہ کر دیا تھا کہ کراچی کو بیروت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہی دنوں قادیانیوں کے بھگوڑے پیشوا مرزا طاہر نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے بظاہر ایک پیش گوئی کی تھی کہ: ”سندھ میں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔“
دراصل یہ پیشین گوئی نہیں بلکہ اپنی رضا کار فورس جس کا پہلا نام ”فرقان بٹالین“ تھا اور اب خدام الاحمدیہ کے نام سے موسوم ہے۔ اسے سگنل دیا گیا تھا کہ اٹھو اور اپنا کام شروع کر دو تاکہ سندھ میں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں۔ چنانچہ مرزا طاہر کے اس سگنل کے بعد ہی سندھ کے حالات میں بگاڑ پیدا ہوا۔ وہ علاقے جہاں قادیانی پنجابی زیادہ ہیں۔ مثلاً نواب شاہ اور کنری میر پور خاص کا علاقہ زیادہ متاثر ہوا۔ ریلوے لائن اکھاڑی گئی۔ اسٹیشن جلائے گئے، لوٹ مار اور قتل وغارت گری کے واقعات ہوئے۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکوؤں کے ایک گروہ کا سرغنہ بھی قادیانی ہے۔ جس کا تعلق سرگودھا کے کسی چک سے ہے۔
اب حکومت سیاسی جماعتیں اور اخبارات یہ رٹ لگا رہے ہیں کہ فلاں جگہ دہشت گرد آئے اور انہوں نے کار سے فائرنگ کر کے کئی افراد کو ہلاک کر دیا۔ یہ صورتحال حیدرآباد میں بھی ہے اور کراچی میں بھی کہ دہشت گرد آتے ہیں اور اندھا دھند فائرنگ کر کے بھاگ جاتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں صرف حیدرآباد اور کراچی میں ان گنت افراد ان دہشت گردوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ یہ دہشت گرد باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ واردات کے بعد فرار ہوجاتے ہیں اور پولیس ان کا سراغ لگانے میں ناکام رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کون ہیں؟
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم پہلے بھی یہ بتا چکے ہیں اور اب پھر حکومت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد اور تخریب کار صرف اور صرف قادیانی ہیں جو اپنے پیشوا مرزا طاہر کی ہدایت کے مطابق کراچی، حیدرآباد اور سندھ میں قتل وغارت گری کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل لیاقت آباد کے علاقہ میں بذریعہ کار ایسا ہی ایک گروہ آیا لیکن وہاں کے باشندوں کے بروقت ہوشیار ہو جانے پر بھاگ کھڑا ہوا۔ اسی گروہ کے ایک فرد سے شناختی کارڈ کے فارم زمین پر گر گئے۔ جن میں نام و پتے کے علاوہ مذہب کے خانے میں ”احمدی“ لکھا ہوا تھا۔ اس پر جمعیتہ علماء پاکستان کے ایک ممتاز رہنما حافظ محمد تقی صاحب نے ایک اخباری بیان (جو ہمارے ریکارڈ میں محفوظ ہے) میں کہا تھا کہ کراچی کے حالات خراب کرنے میں قادیانیوں کا ہاتھ ہے۔ ابھی حال ہی میں دو مسلح شخص گرفتار ہوئے جن کا تعلق ربوہ سے ہے۔ روزنامہ نوائے وقت کراچی مورخہ ۲۹؍ مارچ ۱۹۹۰ء ص ۱ پر شائع ہونے والی خبر کا متن ملاحظہ ہو۔
کراچی ۲۸؍ مارچ (وقائع نگار خصوصی) ناظم آباد پولیس نے ڈکیتی کی نیت سے ہادی مارکیٹ کے قریب واقع فلور ملز کے پاس مشتبہ حالت میں کھڑے ہوئے دو افراد محمد احمد اور محمد احسن کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے ریوالور اور دس کارتوس برآمد کر لئے۔ دونوں ربوہ پنجاب سے آئے تھے۔ وہ اس سے پہلے بھی کئی وارداتوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔“
اب تک ہم ان کالموں میں کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے حالات کے بارے میں جو کچھ لکھتے رہے۔ اس خبر نے ہمارے خیالات کی تصدیق کر دی ہے اور اس خبر سے ثابت ہو گیا ہے کہ کراچی، حیدرآباد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں قادیانیوں کا ہاتھ ہے۔
یہاں ہم ایک خفیہ خط کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں جو تحریک انسداد قادیانیت (یہودیت) کے لیٹر پیڈ پر لکھا گیا ہے اور نیچے ”الپ ارسلان مجددی“ کا نام درج ہے۔ خط کا خلاصہ ملاحظہ ہو۔ ”ہنگامی نوعیت کی ضرورت کے پیش نظر تحریک کا یہ مراسلہ آپ کی توجہ کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔ عرض یہ ہے کہ جنگ آزادی کشمیر کے سلسلہ میں جب کہ کراچی سے لے کر شمالی علاقہ جات تک حکومت وحزب اختلاف سمیت تمام مسلمان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہو چکی ہے۔ کراچی، حیدرآباد اور نواب شاہ سمیت پورے سندھ میں جو قتل وغارت گری کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں درحقیقت جو کچھ ظاہری طور پر نظر آ رہا ہے۔ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ تحریک انسداد قادیانیت کے خفیہ کارکنان کی اطلاع کے مطابق:
- ۱...... پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے تنازعہ کا فائدہ اٹھا کر کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں قادیانیوں کے مسلح افراد نے ایسے
مسلمان نوجوان اور پڑھے لکھے باشعور افراد کو اغوا کر لیا ہے اور انہیں افغانیوں کے روپ میں قادیانی کمانڈوز کی بستیوں میں رکھا گیا ہے اور کئی گاڑیاں اور سکوٹر بھی چھینے گئے ہیں تاکہ ان لوگوں پر تشدد کر کے ہاتھ، پاؤں توڑ کر یا زندہ جلا کر گاڑیوں کے ذریعے شاہراہوں پر ڈالا جائے اور اس طرح مہاجر بلوچ فساد، مہاجر پنجابی فساد، مہاجر پختون فساد، مہاجر سندھی فساد کروایا جائے۔ اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں قادیانی گزشتہ پانچ سالوں میں کثرت سے آباد ہو گئے ہیں۔ قادیانیوں نے ”خاد“ اور ”را“ کے ایجنٹ طلب کئے ہیں تا کہ کشمیر کے مسئلہ پر قوم کو انتشار میں مبتلا کر کے سندھو دیش کے قیام کی راہ نکالی جائے اور احمدیوں (قادیانیوں) کے اس عقیدے کو برقرار رکھا جائے کہ کشمیر مرزا قادیانی کی امت (ذریت) برسر اقتدار آ کر فتح کرے گی۔
- ۲...... بعض لسانی تنظیمیں صرف اور صرف قادیانی اسٹیٹ اور مرزا طاہر کی واپسی کے لئے سندھ کو بیروت بنا رہی ہیں اور اس سلسلہ میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی جماعت بہائیوں، پرویزیوں اور کمیونسٹوں کے علاوہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر باقاعدہ منصوبہ بندی سے ان پر سرگرم عمل ہو چکی ہے۔
- ۳...... احمدیوں (قادیانیوں) کے مراکز میں ہماری اطلاعات کے مطابق اس وقت مجموعی طور پر ۱۶۲؍ افراد قید ہیں۔ ازراہ کرم آپ
فوری قانونی، تحریری اور عملی کارروائی کر کے عنداللہ ماجور ہوں۔ فقط: یہ ہے اس خفیہ خط کا خلاصہ جو ہمیں بذریعہ ڈاک موصول ہوا۔ ربوہ سے آنے والے دو مسلح دہشت گردوں کی گرفتاری اور مذکورہ بالا خط سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ قادیانی وہی عمل پھر دہرا رہے ہیں جو انہوں نے ایم. ایم احمد کی سرپرستی میں مشرقی پاکستان میں دہرایا تھا۔ جس کا نتیجہ پاکستان کے دولخت ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا تھا۔ آج وہ کراچی، حیدرآباد اور سندھ میں سرگرم عمل ہیں اور مرزا طاہر کی نام نہاد پیش گوئی پر عمل کر رہے ہیں کہ ”سندھ میں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔“
دوسری طرف وہ مرزا محمود (مرزا طاہر کے باپ) کے اس فرمان پر کہ: ”اوّل تو پاکستان بنے گا نہیں اگر بن گیا تو ہم دوبارہ کوشش کریں گے کہ متحد ہو جائیں۔ یعنی اکھنڈ بھارت بن جائے۔ عملی جامہ پہنانے کے لئے سرگرم عمل ہو چکے ہیں۔ یہاں ہم یہ بات بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ فرقان بٹالین کے نام سے قادیانیوں کی مسلح فورس قائم کرنے والا مرزا محمود ہی تھا۔ بلکہ مرزا محمود نے تو ہر قادیانی کو یہ ہدایت کی تھی کہ جو احباب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں وہ لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہ تلوار رکھیں۔ لیکن جہاں اس کی اجازت نہ ہو وہاں لاٹھی ضرور رکھی جائے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۳۰ء)
ایک طرف تو قادیانیوں کے یہ خطرناک عزائم اور منصوبے ہیں لیکن دوسری طرف وہ یہ ڈھنڈورہ بھی پیٹ رہے ہیں کہ ہماری جماعت بڑی امن پسند، محب وطن، بے ضرر اور قانون پرست ہے۔ یہ محض دھوکہ ہے اور اس ضرب المثل کا مصداق ہے۔ ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور“ قادیانی ٹولہ دہشت گردی بھی کرتا ہے اور تخریب کاری بھی۔ لیکن جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے اپنا دامن بھی بچا لیتا ہے۔ جو قادیانی دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں ہمیں ان کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ وہ ابھی تک زیر حراست ہیں یا انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم ہمارا غالب گمان یہ ہے کہ قادیانیوں نے اپنے اثر و رسوخ سے انہیں چھڑا لیا ہوگا۔ کیونکہ ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں اور موجودہ دور حکومت میں کچھ زیادہ ہی بااثر ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم کے ارد گرد اہم پوسٹوں پر کئی قادیانی براجمان ہیں۔ اگر مذکورہ بالا خفیہ خط کی روشنی میں ان دونوں قادیانی دہشت گردوں سے تحقیقات کی جائیں تو ان سے بہت سے انکشافات کی توقع ہے۔ ان سے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کراچی میں کتنے دہشت گرد ہیں۔ حیدر آباد میں کتنے اور اندرون سندھ کتنے؟ یہ سب معلومات ان سے مل سکتی ہیں۔
بہر حال ان دونوں قادیانی دہشت گردوں کی گرفتاری سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کراچی اور حیدر آباد میں قتل و غارت گری، لوٹ مار اور تخریب کاری کے جو واقعات رونما ہو رہے ہیں ان میں قادیانی سازش کارفرما ہے۔ ان حالات میں محب وطن عناصر کا یہ فرض ہے کہ وہ اس سازشی ٹولے کی سازشوں سے چوکنا اور ہوشیار رہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ہوں یا دینی تنظیمیں ان سب کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کو بھلا دیں اور متحد ہو کر حکومت پر زور ڈالیں کہ اگر وہ پاکستان کے بارے میں مخلص ہے تو قادیانیوں کو نہ صرف اہم پوسٹوں سے برطرف کرے بلکہ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو ایران میں بہائیوں کے ساتھ ہوا۔ یعنی انہیں فوراً خلاف قانون قرار دیا جائے اور ان کے شائع شدہ لٹریچر کو ضبط کیا جائے۔ ہمیں امید ہے کہ اگر ہم سب متحد ہو جائیں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں تو یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ ورنہ اگر ہم نے اس طرف توجہ نہ دی تو پھر قادیانی آنجہانی مرزا محمود کی اکھنڈ بھارت والی پیش گوئی کو کامیاب بنانے میں تیزی سے سرگرم عمل ہو جائیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۲۰ تا ۲۶؍اپریل ۱۹۹۰ء)
جھنگ میں دو ہندو اور ایک قادیانی دہشت گرد گرفتار
جھنگ (نامہ نگار) جھنگ کا امن وامان تہہ و بالا کرنے والے اصل ملزمان ڈرامائی انداز میں پکڑے گئے ہیں۔ ان میں دو ہندو اور ایک مرزائی شامل ہے۔ ان سے مزید اہم انکشافات کی توقع کی جارہی ہے۔ پولیس ان سے ضروری پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ان کا انکشاف کل اس وقت ہوا جب نماز جمعہ کے بعد ایک ویگن کو آگ لگائی گئی اور یہ لوگ موقع پر ہی پکڑے گئے۔ پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ ان میں سے دو سکھر کے ہندو اور ایک قادیانی ہے۔ ان سے مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔ دراصل ان ملزموں نے جھنگ میں در پردہ فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلا رکھی تھی اور امن وامان کو تہہ و بالا کر رکھا تھا۔ اب توقع کی جاتی ہے کہ ان ملزموں کی گرفتاری سے جھنگ میں حالات بہتر ہو جائیں گے اور پائیدار امن بحال ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت کمبل بنانے والے خاندان جھنگ اور سکھر میں آباد ہو گئے تھے۔ حال ہی میں جب سکھر میں گڑبڑ ہوئی تو وہاں سے کئی لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس جھنگ آگئے اور انہوں نے جھنگ میں بھی سکھر جیسے حالات پیدا کرنا شروع کر دیئے۔ جس کی وجہ سے جھنگ میں دو ماہ سے متواتر آتشزدگی ، فائرنگ اور قتل وغارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ماہ جب لوٹ مار کا سلسلہ انتہاء کو پہنچ گیا تو ان لوگوں نے لوٹ مار کر کے نہ صرف لوٹ کا مال سکھر پہنچایا بلکہ وہاں جا کر اسے فروخت کر کے بھاری رقم بھی وصول کر لی۔ یہ تینوں انجمن سپاہ صحابہ کے کرتا دھرتا بنے ہوئے تھے لیکن در پردہ تخریبی کارروائیوں میں پیش پیش تھے۔ کچھ عرصہ قبل شہر میں امن کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں اور فریقین نے مل بیٹھ کر وارداتوں کا سدباب کرنے کا عہد کیا تھا۔ کل نماز جمعہ کے بعد جب ویگن کو آگ لگائی گئی تو فریقین نے مل کر ان لوگوں کو پکڑ لیا۔ رات گئے تک وہ پولیس کو کچھ بتانے سے انکار کرتے رہے لیکن پولیس کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور آخر کار انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ ان میں سے دو ہندو اور ایک قادیانی ہے اور وہ جھنگ میں گڑبڑ پھیلانے کے کام پر مامور تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۳ تا ۹؍اگست ۱۹۹۰ء)
رائس ایکسپورٹ کارپوریشن تباہی کے دہانے پر
رائس ایکسپورٹ کارپوریشن جو ایک سرکاری اور قومی ادارہ ہے۔ کسی زمانے میں ملک کے لئے اچھا زرمبادلہ پیدا کرنے والا ثابت ہوا ہوگا۔ اب تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کروڑوں روپے کا غبن وہاں ہو رہا ہے۔ دھوکہ دہی، بدعنوانی ، دھاندلی وہاں کا معمول بن چکا ہے۔ وہاں کام کرنے والے اہل کار، قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج کل اس ادارہ میں ہونے والی دھاندلیوں کی خبریں قومی اخبارات میں چھپ رہی ہیں۔ ان خبروں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جو لوگ اس اہم ترین ادارے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وہ دراصل ملک کی معیشت کو تباہ وبرباد کر رہے ہیں۔ آئیے پہلے ایک اخبار میں چھپنے والی خبر ملاحظہ ہو۔
’’کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایف آئی اے نے چاول کے چھلکے کی جگہ دھوکہ دہی کے ذریعہ برآمدی کوالٹی کا چاول رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کے گوداموں سے نکالنے کے الزام میں چاول کے تاجر کو گرفتار کر لیا۔ جب کہ ایف آئی اے اس سلسلے میں مقامی کمپنی کے ڈائریکٹروں اور رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کے بعض افسران کو تلاش کر رہی ہے۔‘‘
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کے حکام کو اطلاع ملی تھی کہ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کے عملے کے بعض افراد مختلف اداروں سے مل کر دھوکہ دہی کے ذریعہ برآمدگی کوالٹی کا چاول گودام سے نکال رہے ہیں۔ جس پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر خلیق الزمان کی نگرانی میں ایف آئی اے نے تحقیقات کی۔ اس دوران انکشاف ہوا کہ ایک کمپنی روز انٹرپرائزز نے چاول کے چھلکوں کی برآمدی کے لئے ٹینڈر بھرا تھا جو منظور ہو گیا۔ کمپنی نے چاول کے چھلکوں کی آڑ میں کارپوریشن کے عملے کی ملی بھگت سے پانچ کروڑ سے زائد مالیت کے برآمدگی کوالٹی کے پانچ ہزار بیگ گودام سے نکلوائے اور چاول کے تاجر عبد الغفار کے ذریعہ مختلف دوکاندار کو فروخت کر دیئے۔ جس پر ایف آئی اے نے چھاپہ مار کر عبد الغفار کو گرفتار کر لیا اور اس کی نشاندہی پر چاول کی ...... بڑی مقدار برآمد کر لی۔ جب کہ کئی گوداموں کو جہاں یہ چاول رکھا ہوا تھا۔ سربمہر کر دیا۔ ایف آئی اے اس سلسلے میں مذکورہ کمیٹی اور رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کے بعض افراد کو تلاش کر رہی ہے۔
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ۲۳؍ اپریل ۱۹۹۰ء)
رائس ایکسپورٹ میں اس قسم کا ہونے والا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی کئی ایسے واقعات یا اس سے زیادہ ایسے خطرناک واقعات ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ جس میں نہ صرف اس ادارہ کو نقصان پہنچایا گیا۔ بلکہ بین الاقوامی سطح ہمارا ملک بھی بدنام ہوا تھا۔ اخبارات میں ریکارڈ موجود ہے۔ ہم نے آج سے ٹھیک پانچ سال پہلے ’’ختم نبوت‘‘ میں وہاں ہونے والے اہم واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ اس واقعہ کے مطابق اسی ادارہ نے یعنی رائس ایکسپورٹ کارپوریشن نے دبئی میں بھیجے جانے والے چاول کے کنٹینر میں چاول کے بجائے اربوں ڈالر کی مالیت کی ہیروئن بھر دی تھی۔ وہ دبئی میں پکڑی گئی اور وہاں بھی یہاں بھی بڑے پیمانے پر تحقیقات کی گئی پھر کیا ہوا۔ نہ ہمیں معلوم ہے اور نہ اہل وطن کو معلوم۔
ہم نے اس موقع پر بھی لکھا تھا کہ اس واقعہ کے پیچھے مرزائی سازش کارفرما نظر آتی ہے۔ اس لئے کہ اس وقت اس ادارہ میں بڑے بڑے اہم عہدوں پر مرزائی فائز تھے۔ ایک طرف تو وہ کروڑوں روپے اپنے جیب میں بھر رہے تھے اور دوسری طرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کا کام انجام دے رہے تھے۔ آج بھی اگر وہ قادیانی افسران اس ادارہ میں موجود ہیں تو پھر اس ادارہ کے لئے بڑی بدبختی ہوگی اور ہم یہ سمجھیں گے کہ پانچ سال قبل پرانے واقعہ پر نوٹس نہ لینے کا نتیجہ ہے کہ آج پھر ایسے واقعات وہاں رونما ہو رہے ہیں۔ اگر اس وقت ان مجرموں کو اپنے انجام تک پہنچا دیا ہوتا۔ تو غبن اور دھاندلی ہرگز نہ ہوتی۔ حکمرانوں کے پاس اب بھی وقت ہے کہ ان قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کرے۔ دبئی میں چاول کی بجائے ہیروئن جو بھیجی گئی تھی، اس واقعہ پر ہم نے ایک تفصیلی رپورٹ چھ سال قبل شائع کی تھی۔ وہ ہم اس شمارہ میں دوبارہ شائع کر رہے ہیں۔ وہ بھی ملاحظہ فرمائیں اور تحقیقات کرنے والوں کے شاید وہ رپورٹ فائدہ مند ثابت ہو۔
دبئی میں چاول کی بجائے ہیروئن کی برآمدگی
روزنامہ جنگ کراچی مؤرخہ ۲۵؍ اپریل ۱۹۸۵ء کی خبر ملاحظہ ہو: ’’معلوم ہوا ہے کہ حکام نے پاکستان سے چاول کی آڑ میں ہیروئن اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی اور ایک کنٹینر سے اربوں ڈالر مالیت کی ایک ٹن ہیروئن برآمد کر لی۔ تفصیلات کے مطابق ۱۴؍ اپریل کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہاز چترال کے کراچی سے دبئی پہنچنے پر ایک کنٹینر سے جس میں چاول لدا ہوا تھا ایک ٹن ہیروئن برآمد کی تھی۔ یہ چاول پاکستان رائس ایکسپورٹ کارپوریشن نے دبئی کی ایک فرم دارسم کو برآمد کیا تھا۔‘‘
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱...... چاول پاکستان کے لئے زرمبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس ذریعہ کو ختم کرنے اور بیرونی دنیا میں پاکستان کی ساکھ
کمزور کرنے کے لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کام ہورہا ہے۔ جس میں مرزائی پیش پیش ہیں۔ دبئی پہنچنے والے جہاز سے چاول کی بجائے ایک ٹن ہیروئن برآمد ہونے میں اسی مرزائی لابی کی سازش کارفرما نظر آتی ہے۔ کیوں کہ چاول رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کی ذمہ داری پر ایکسپورٹ ہوتا ہے۔ چاول کی ترسیل سے متعلقہ ڈویژن کا جنرل منیجر حمزہ بن عبدالقادر ہے جو کہ پکا قادیانی ہے اور بارہ سال سے اسی شعبہ سے متعلق ہے۔ ایکسپورٹ سے متعلقہ چاول کی تیاری، پیکنگ اور جہاز پر روانگی یہ تمام شعبے اس قادیانی سے متعلق ہے۔
- ۲...... چاول برآمد کرنے کے لئے پپری مل میں تیار ہوتے ہیں اور وہیں تھیلوں میں بند کئے جاتے ہیں۔ جن انسپکٹروں کی موجودگی میں
یہ کام انجام پاتا ہے۔ ان کا تعلق بھی قادیانی جماعت سے بتایا جاتا ہے اور جنہیں حمزہ بن عبدالقادر پورا پورا تحفظ دیتا ہے۔
- ۳...... ایک شعبہ ”پروکیومنٹ“ کا ہے جس کا منیجر ایس کے ملک قادیانی ہے۔ اس کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ مرزائیت کا
پرزور مبلغ ہے اور اس نے اپنے ماتحت کئی سندھیوں کو مرزائی بنایا ہے۔ یہ شخص پہلے لاڑکانہ میں تھا تو وہاں بھی انہیں سرگرمیوں میں مصروف تھا۔
- ۴...... کئی مرتبہ مال غائب ہوا۔ اسٹاک میں کمی واقع ہوئی، اسٹاک کی کمی کا ذمہ دار حمزہ بن عبدالقادر کا شعبہ ہے اور مبینہ طور پر اس میں
اسی کا ہاتھ ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے گوداموں میں موجود مال کی اسٹاک چیکنگ نہیں ہونے دی گئی۔ مل سے ٹرکوں کے حساب سے مال غائب ہوتا ہے۔
- ۵...... یہی مسٹر حمزہ اس سے قبل پپری میں ایریا منیجر تھا اور مکمل اختیارات کا مالک تھا۔ اس وقت کئی مرتبہ مبینہ طور پر گوداموں میں آگ
لگنے کے واقعات ہوئے۔ بعد میں ناقص مال کے ٹنڈر طلب کر کے ایکسپورٹ کوالٹی مال ڈسپوز کر دیا گیا۔ جس سے ملک کو زرمبادلہ کا کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
- ۶...... جب اندرون سندھ سے چاول کی آمد زوروں پر تھی اور سینکڑوں کی تعداد میں مال سے لدے ہوئے ٹرک روزانہ پپری لانڈھی
گوداموں میں پہنچ رہے تھے تو عین انہیں دنوں میں متعلقہ ہینڈلنگ ایجنٹ کو ہٹانے کے لئے اور اپنی ایجنسی کو ٹینڈر دلوانے کے لئے مبینہ طور پر مزدوروں سے ہڑتال کرائی گئی اور لگا تار ایک ماہ تک کام بند رکھا گیا۔ جس سے ہزاروں ٹن چاول خراب ہوا اور کئی دن مال سے لدے ٹرک گوداموں میں رکے رہے۔ بروقت کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اتنی لمبی ہڑتال کے باوجود (جنرل منیجر ایم اینڈ ایم) اپنے عہدہ پر برقرار رہا۔ پھر ٹنڈر بھی حسب منشاء مبینہ طور پر اس کی اپنی پارٹی شہزاد انٹر پرائز کو مل گیا۔ اس ایجنسی کا مالک جو اب ہیروئن سمگلنگ میں ملوث ہونے کی بناء پر زیر حراست ہے۔ برائے نام مالک بتایا جاتا ہے۔ اصل میں ایجنسی حمزہ بن عبدالقادر ہی کی ہے۔ اس کی مرضی سے تمام امور طے پاتے ہیں۔ اس ایجنسی کو ایڈہاک کی بنیاد پر لاکھوں روپے پیشگی دیا گیا۔ چونکہ اصل مالک قادیانی ہے۔ اسلئے بلوں کے پاس کرنے میں جنرل منیجر فنانس چوہدری عبدالغنی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا۔ کیونکہ وہ بھی قادیانی ہے۔ اس طرح یہ چند قادیانی ملک کے کروڑوں روپے سے کھیلتے رہے۔ مبینہ طور پر ڈائریکٹر آپریشن بھی حمزہ بن عبدالقادر کے اشاروں پر ناچتا رہتا ہے اور سارے امور باہمی رضامندی سے طے پاتے ہیں۔
- ۷...... سعودی عرب میں خراب اور کم چاول بھیجا گیا تا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات خراب ہوں ۔ جب سعودی نمائندے
نے خراب اور کم چاول بھیجنے کا شکوہ کیا تو اسے بدلے میں ۵۰۰ سے ہزار ٹن چاول دینے کا وعدہ کیا۔ اس غیر قانونی معاہدہ کی اطلاع حکام بالا کو ہوئی تو انہوں نے تحقیق حال کے لئے اپنا نمائندہ سعودی عرب بھیجا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۸ روزنامہ جنگ لاہور میں ایک خبر شائع ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن کو مختلف تجارتی معاہدوں میں
۴۱ لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ کارپوریشن نے ایک ہزار ترپالیں خریدیں جو سب کی سب خراب تھیں۔ کارپوریشن سپلائرز کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرسکی۔ کیونکہ پہلے ہی ڈیپارٹس ری فنڈ حاصل کرچکا تھا۔ جب انسپکشن ایجنسی اور سپلائرز کے خلاف کارروائی ہوئی تو نامعلوم وجوہات کی بناء پر ختم کردی گئی۔ ریکارڈ معلوم کیا جائے کہ ترپالوں کے آرڈرس کس نے دیئے تھے اور جس کو دیئے تھے وہ کون تھا۔ ڈیپارٹس ری فنڈ پہلے ہی کیوں دیا گیا؟ کس کے حکم سے دیا گیا؟ پھر سپلائرز اور انسپکشن ایجنسی کے خلاف کارروائی کیوں روک دی گئی؟
الغرض رائس ایکسپورٹ کارپوریشن جیسے ادارے میں اہم عہدوں پر قادیانیوں کی موجودگی سے یہ نتیجہ نکالنا کوئی مشکل کام نہیں کہ دبئی جانے والے جہاز سے ہیروئن کی برآمدگی، بیرونی دنیا میں پاکستانی ساکھ کو گرانے کے مرزائیوں کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔
یہی وہ حالات ہیں جن کی بناء پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ تمام اہم پوسٹوں سے مرزائیوں کو الگ کیا جائے۔ کیونکہ اہم پوسٹوں پر مرزائیوں کی تعیناتی سے جہاں مسلمان اکثریت کی حق تلفی ہوتی ہے وہاں ان کی موجودگی ملک کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ کیونکہ قادیانی ملازم خواہ کسی محکمے کے بھی ہوں ان کی وفاداریاں اپنی نام نہاد خلافت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔ اس وقت مرزائیوں کا نام نہاد خلیفہ مرزا طاہر لندن میں بیٹھ کر پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کے خلاف جو زہر اگل رہا ہے اس کے بعد اس بات کا کوئی جواز نہیں کہ مرزائیوں کو اہم پوسٹوں پر رکھا جائے۔
ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
- ......۱ تمام مرزائیوں کو بلاتاخیر اہم پوسٹوں سے ہٹایا جائے۔
- ......۲ رائس ایکسپورٹ کارپوریشن میں ہونے والے تمام حادثات اور بدعنوانیوں کا سراغ لگایا جائے۔
- ......۳ حمزہ بن عبدالقادر کی مدت ملازمت میں جتنے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے ان کی تحقیق کی جائے کہ ان میں کتنے قادیانی ہیں اور
کہاں کہاں ہیں؟
انہیں فوراً نکالا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت نے فرض شناس، ایماندار اور محب وطن افسران کے ذریعہ تحقیقات کرائی اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا تو اس بات کی تصدیق ہوجائے گی کہ دبئی میں ہیروئن کی برآمدگی، سعودی عرب میں خراب مال بھیجنے، گوداموں میں آگ لگانے، خراب ترپالیں خریدنے اور دوسری تمام بدعنوانیوں کے ذمہ دار صرف اور صرف مرزائی ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵ تا ۷، مورخہ یکم تا ۷؍ جون ۱۹۹۰ء)
آل پاکستان ذکری انجمن کا بیان حقائق کو مسخ کرنے کی ایک کوشش ہے
ذکری ختم نبوت کے منکر ہیں۔ نماز، روزہ اور تمام ارکان اسلام کا انکار کرتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کی وضاحت۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آل پاکستان ذکری انجمن کی طرف سے جو بیان ۴؍ مئی ۱۹۹۰ء کو مقامی اخبارات میں چھپا ہے اس میں ذکری مذہب کے بارے میں حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے انتہائی درجہ تک اپنے عقائد و اعمال کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ذکری مذہب اسلام کا ایک فرقہ نہیں ہے اور نہ ہی آج تک کسی مسلمان نے ان کو مسلمانوں کا ایک فرقہ شمار کیا ہے۔ پاکستان سے قبل خوانین
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قلات کے زمانے سے وہ غیر مسلم شمار ہوتے رہے ہیں۔ عام مسلمان بھی ان کو اب تک غیر مسلم سمجھتے ہیں۔ خود ذکریوں کی مطبوعہ اور قلمی کتابوں میں اس کی وضاحت ہے کہ ان کا پیغمبر اور مذہب علیحدہ ہے اور جو ان کے جعلی پیغمبر کو نہیں مانتا ہے اس کو کافر کہا گیا ہے۔ سوائے آج کل کے چند مفاد پرست سیاسی جماعتوں کے ان کو کسی نے مسلم نہیں کہا ہے اور یہ سیاسی جماعتوں کے مفاد پرست اجارہ داروں کو ذکریوں کے ووٹ اور نوٹوں کی مجبوری درپیش ہے۔ جس کے بغیر ان کو اپنا سیاسی سورج غروب ہوتا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس مجبوری سے مذہب کا سودا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کا یہ رویہ ذکریوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ذکریوں کے لئے ان کی علیحدہ غیر مسلم حیثیت ہی ان کے لئے فائدہ مند ہے اور اگر وہ اپنی علیحدہ حیثیت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اسلام کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ مان کر اس کے دامن امن وعافیت میں آجائیں۔ ان مفاد پرستوں کی مسیحائی بہر حال ان کے لئے نقصان دہ ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بیان میں کہا گیا کہ ذکری اپنے جعلی پیغمبر محمد اٹکی کو آخری نبی مانتے ہیں۔ جس کی ان کی مذہبی کتابوں میں پوری وضاحت موجود ہے۔ وہ دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ یہ بھی سراسر دھوکہ ہے۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں صاف صاف لکھا ہے کہ ہم جہاں محمد کہتے ہیں اس سے مراد محمد اٹکی ہے نہ کہ محمد عربی ﷺ ان کے جعلی پیغمبر محمد اٹکی نے خود بھی اس کی وضاحت کی ہے کہ میں افضل الانبیاء اور آخری پیغمبر ہوں۔ یہ وضاحت ان کی کتب ”سیر جہانی“ اور نور تجلی میں دیکھی جاسکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ذکریوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ہم ارکان اسلام کو مانتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔ چنانچہ بیان میں ذکریوں نے ارکان اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے نماز اور روزہ رمضان المبارک کا بالکل تذکرہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے سرے سے منکر ہیں۔ چونکہ وہ نماز کے منکر ہیں۔ اس لئے وہ مسلمانوں کو نمازی کے نام سے پکارتے ہیں۔ چنانچہ کوئی ذکری جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اس کو مرتد اور برگشتہ شمار کرتے ہیں۔ یہی حال ان کا دیگر ارکان اسلام کے ساتھ ہے جہاں تک حج کوہ مراد کے بارے میں ذکریوں کی وضاحت کا تعلق ہے۔ اس کی ذکریوں نے انتہائی غلط انداز میں توضیح کی ہے۔ ذکریوں کی مذہبی کتابوں میں صراحتاً لکھا ہوا ہے کہ جس دن مسلمانوں پر حج فرض ہوا اس دن ہم پر حج کے بدلے ذکر فرض کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی بھی ذکری نے کعبۃ اللہ جا کر حج نہیں کیا۔ سیر جہانی میں لکھا ہے کہ ان کے جعلی پیغمبر محمد اٹکی نے بیت اللہ کو توڑنے کی کوشش کی۔ چنانچہ اس نے بیت اللہ کے پانچ اینٹ توڑ ڈالے اور بھاگ گیا۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا مگر وہ پکڑا نہیں گیا۔ ان کا یہ کہنا کہ ہم کوہ مراد کی زیارت کرتے ہیں۔ یہ بھی محض دھوکہ ہے۔ اوّلاً تو ذکری انجمن کے بیان کے مطابق کوہ مراد عبادت گاہ ہے۔ حالانکہ کسی بھی مسلمان فرقہ کے نزدیک زیارت کی جگہ عبادت گاہ شمار نہیں ہوتی ہیں اور نہ ہی کسی جگہ کی زیارت فرض شمار ہوتی ہے۔ جب کہ ذکری کتب میں صاف صاف لکھا ہے کہ کوہ مراد مقام محمود ہے اور اس کی زیارت کرنا فرض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکری کوہ مراد جا کر حج کرتے ہیں۔ وہاں صفا، مروہ، آب زم زم، عرفات، مسجد طوبیٰ وغیرہ کا تعین بھی اسی مذموم خواہش کی ترجمانی کرتا ہے۔ ذکری کتب میں حج بیت اللہ کی توہین صراحتاً موجود ہے۔ دراصل ذکری مذہب ہمیشہ رشوت اور تقیہ کے زور پر زندہ رہا ہے۔ ان کا موجودہ بیان بھی اسی کا نمونہ ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان نے کہا کہ قرآن مجید پر ان کو مسلمانوں کی طرح ایمان نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے اور عرب کے کسی بھی قبیلے میں ذکری مذہب نہیں ہے۔ حالانکہ عربی قرآن کو وہی بہتر سمجھتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس قرآن میں تو ذکری مذہب کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا اصل مذہب برہان ہے جو ان کے جعلی پیغمبر کے پاس ہے جو بقول ذکری حضرات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے اللہ کے ہاں عرش پر بیٹھا ہوا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذرائع نے کہا کہ اگر ذکری ارکان اسلام کو مانتے ہیں تو وہ کیوں اپنے کسی قدیم مذہبی کتاب کا حوالہ پیش نہیں کرتے ہیں۔ جب ارکان اسلام کے انکار پر ہم ان کی اپنی کتب کا حوالہ دے رہے ہیں جہاں تک ان کی عملی زندگی کا تعلق ہے وہ تو سرے سے ارکان اسلام کے خلاف ہے۔ یہاں تک کہ ان کا کلمہ بھی مسلمانوں کے کلمہ کے برعکس ”لا الہ الا اللہ “ نور پاک نور محمد مہدی رسول ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذرائع نے تربت کی موجودہ تحریک کے بارے میں کہا کہ یہ سارا ذکریوں کے ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہیں۔ کیونکہ بقول گزیٹر بلوچستان کے ذکریوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی وجہ مشترک نہیں ہے۔ اس کے باوجود جب ذکری اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور دھوکہ دہی کر کے مسلمانوں کے ساتھ شادی بیاہ کے معاملات رچاتے ہیں۔ ان کا لازمی نتیجہ آئے دن کے ہنگامے اور مخالفت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ ذکری اپنی غیر مسلم حیثیت کو مان لیں تو یہ تمام صورتحال امن وامان کی فضا میں بدل جائے گی۔ ایسے ہی موجودہ کشیدہ صورتحال کے منجملہ دیگر وجوہات کے ایک ذکریوں کی طرف مسلمانوں کو بحث مباحثہ کا چیلنج بھی ہے۔ جسے مسلمانوں نے اگرچہ اس وقت بھی قبول کر لیا تھا اور اب بھی وہ چیلنج مسلمانوں کو قبول ہے۔ مگر معلوم نہیں ذکری چیلنج دے کر کیوں پیچھے ہٹ گئے۔ موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیچھے مکران انتظامیہ اور مفاد پرست بعض سیاسی جماعتوں کا بھی پورا ہاتھ ہے۔ جن کا پورا انحصار ذکریوں کے ووٹ اور نوٹوں پر ہے۔ (منجانب شعبہ نشر و اشاعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان)
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۷، ۱۸، مؤرخہ یکم/ جون ۱۹۹۰ء)
انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور پر قادیانیت کا تسلط
انجینئرنگ یونیورسٹی میں قادیانی اور کمیونسٹ عناصر مکمل طور پر غلبہ حاصل کر چکے ہیں۔
وطن عزیز کے تعلیمی ادارے اس وقت قتل وغارت، ہنگامہ آرائی اور آتشیں اسلحہ کی زد میں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے دو طلباء تنظیموں کے درمیان فائرنگ کے دوران ایک طالب علم کی ہلاکت کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد بند ہو گئی۔ سندھ کے تعلیمی ادارے خصوصاً کراچی یونیورسٹی بھی اکثر بند رہتی ہے۔ اسی طرح دیگر شہروں کے تعلیمی اداروں میں بھی ہنگامہ آرائی کی کیفیت کے بعد تعلیمی تسلسل ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں تعلیمی اداروں میں سینکڑوں طلباء ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے دو مختلف طلباء تنظیموں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور بھی بند ہوکر رہ گئی اور تادم تحریر نہیں کھل سکی۔
وہ کون سے حالات و واقعات اور محرکات یا پھر کہئے کہ وہ کون سی ایسی قوت ہے جو طلبہ کو تشدد اور ہنگامہ آرائی میں مصروف رکھ کر ان کی تعلیم سے عدم دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کمیونسٹ، لادین اور پاکستان دشمن عناصر ہیں جو اس ملک میں آئینی طریقے سے اس ملک میں اپنی مرضی کا نظام نہیں لاسکتے۔ مجبوراً طلباء کو استعمال کر کے ملک میں ہنگامہ آرائی کی کیفیت پیدا کر کے اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اسلام اور پاکستان دشمن عناصر میں ایک عنصر قادیانی تحریک بھی ہے۔ قادیانیوں نے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ کیونکہ ان کا الہامی عقیدہ ہے کہ ایک نہ ایک دن پاکستان ٹوٹ کر رہے گا۔ قیام پاکستان کے وقت قادیانی پیشوا مرزا محمود نے کہا تھا کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائیں۔
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۷؍ مئی ۱۹۴۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کچھ عرصہ پہلے قادیانیوں کے موجودہ پیشوا مرزا طاہر نے لندن میں یہ پیش گوئی کی کہ پاکستان جلد ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پاکستان میں افغانستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ قادیانی پیشوا کے اس بیان کے بعد اس کی مذمت میں سینٹ میں بھی آواز بلند ہوئی۔ لیکن پھر نہ جانے کن حالات کے باعث دب کر رہ گئی۔ الغرض پاکستان کو ختم کرنے کی لادین، کمیونسٹ اور قادیانی عناصر کی یہ کوشش آج تک جاری ہے۔ ملک پاکستان میں جہاں ہر قادیانی اپنے پیشوا کی پیشین گوئی کی تکمیل کے لئے سرگرم ہے۔ وہاں ملک کے تعلیمی اداروں میں موجود قادیانی طلباء اور تعلیمی اداروں میں اہم کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانی افراد بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور بھی ان تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ جہاں پر قادیانی اور کمیونسٹ عناصر مکمل طور پر غلبہ حاصل کر چکے ہیں۔
انجینئرنگ یونیورسٹی کی سب سے بڑی کلیدی آسامی پر فائز وائس چانسلر اکرام الحق ڈار کے متعلق کچھ حلقوں کا تاثر یہ ہے کہ ان کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے۔ انہیں حلقوں کے مطابق وائس چانسلر کی بیوی قادیانی ہے جب کہ اس کا باپ عزیز احمد واہ کینٹ قادیانی مرکز کا اعزازی ناظم الامور تھا۔ وائس چانسلر نے اپنی اشیر باد کے ساتھ جن قادیانیوں کو یونیورسٹی میں اہم کلیدی آسامیوں پر فائز کر رکھا ہے۔ اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔ ڈاکٹر فیض الحسن قادیانی چیئرمین ٹرانسپورٹ کمیٹی، پروفیسر محمود حسین قادیانی چیئرمین آرکیٹکچر ڈیپارٹمنٹ، پروفیسر اظہر ظہور بٹ قادیانی چیئرمین ہیومنیٹیز (Chairman Humanities) ، منصور الحق قادیانی آڈٹ آفیسر اس کے علاوہ پی۔ آر۔ او آفس میں ایک حساس پوسٹ پر کرامت مرزا نامی ایک قادیانی کو فائز کیا گیا ہے۔ دو ریٹائرڈ پروفیسروں اصغر حمید قادیانی اور مقبول الٰہی قادیانی کو ایڈمن میں خصوصی تنخواہ کے ساتھ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسسٹنٹ رجسٹرار محمد احمد قادیانی کو ریٹائرمنٹ پر امتیازی سلوک کرتے ہوئے ایک خصوصی انکریمنٹ اور دیگر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ قادیانی پروفیسر اظہر ظہور بٹ کو کسی میڈیکل کے رپورٹ کے بغیر دل کی بیماری کے علاج کے بہانے لندن میں منعقد ہونے والے قادیانی جماعت کے سالانہ اجتماع میں شرکت کے لئے بھیجا گیا اور اس مقصد کے لئے اسے چار لاکھ روپے دیئے گئے اور پھر ظہور بٹ قادیانی کی انگلینڈ موجودگی کے دوران ہی وائس چانسلر اکرام ڈار بھی انگلینڈ چلا گیا۔ اگرچہ وائس چانسلر اپنے قادیانی ہونے کی تصدیق نہیں کرتے لیکن یونیورسٹی میں کلیدی آسامیوں پر قادیانیوں کی بھرمار اور قادیانی پروفیسروں پر نوازشات وائس چانسلر کے قادیانی نہیں تو قادیانی نواز ہونے کی ضرور تصدیق کرتی ہیں اور بھی کئی قادیانی یونیورسٹی کی کلیدی آسامیوں پر موجود ہیں جو بعض مصلحتوں کے تحت خود کو قادیانی ظاہر نہیں کرتے۔
تدریسی عملے اور انتظامیہ کے بعد اگر ہم طلباء پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی صورتحال کافی تشویش ناک دکھائی دیتی ہے۔ جامعہ میں اس وقت دو طلباء تنظیمیں ہیں۔ اسلامی جمعیت طلباء اور قائد اعظم سٹوڈنٹس فیڈریشن واضح طور پر متحرک نظر آتی ہیں۔ یہاں قادیانی طلباء کی بڑی تعداد مسلمانوں کے روپ میں زیرتعلیم ہے۔ یہ قادیانی طلباء مکمل طور پر قائد اعظم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ کیو۔ ایس۔ ایف کمیونسٹ اور لادین نظریات رکھنے والے طلباء کی تنظیم ہے اور قادیانی طلباء کے لئے اس تنظیم کے ساتھ رہ کر اپنے عزائم کے حصول کے لئے جدوجہد قدرے آسان ہے۔ قادیانی طلباء اس جیسی مختلف تنظیموں میں شامل ہو کر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے ان تنظیموں میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرتے ہیں اور پھر مختلف طلباء تنظیموں میں موجود مسلمان طلباء کو آپس میں لڑا کر تعلیمی اداروں میں قتل و غارت گری اور ہنگامہ آرائی کی فضاء پیدا کر کے ملکی حالات کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مرزا طاہر کی پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی پیش گوئی پوری کر سکیں۔ اس وقت بیشتر دیگر تعلیمی اداروں کے علاوہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں بھی قادیانی طلباء اور اساتذہ کی طرف سے
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء
پاکستان دشمنی کا یہ گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ کیو۔ایس۔ایف کی مرکزی قیادت میں اس وقت بھی یونیورسٹی کی قادیانی جماعت کے مرکزی افراد موجود ہیں۔ قادیانی جماعت کا خورشید غنی نائب ناصر الدین محمود (پچھلے دنوں دو طلباء تنظیموں کے درمیان لڑائی میں فائرنگ کا شکار ہوا) اسٹنٹ رجسٹرار محمود احمد کا بیٹا ناصر محمود مرزائی تھرڈ الیکٹریکل اور کیو۔ایس۔ایف کے سابق رہنما طارق مرزائی کا چھوٹا بھائی شاہد مرزائی تھرڈ سول کے علاوہ بھی ایسے کئی قادیانی طلباء کیو۔ایس۔ایف کی مرکزی قیادت میں موجود ہیں۔ کچھ عرصہ قبل کیو۔ایس۔ایف کی مرکزی قیادت نے قادیانی طلباء کے ساتھ ربوہ جاکر مرزا طاہر سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں کیو۔ایس۔ایف درحقیقت قادیانیوں کے مفاد کے لئے کام کر رہی ہے۔
کیو۔ایس۔ایف کی یونین کی طرف سے اکثر تقاریب میں قادیانی افراد کو مہمان کی حیثیت سے مدعو کرنا بھی محب وطن افراد کے لئے تکلیف دہ امر ہے۔ چند ماہ قبل کیو۔ایس۔ایف کی یونین کی طرف سے منعقد کی گئی ایک تقریب پاکستان بیالیس سال کے بعد میں درحقیقت رامے اور عاصمہ جہانگیر کو بھی بلایا گیا۔ حنیف رامے کے نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ۱۹۸۲ء میں جب حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں کو کلمہ طیبہ سمیت تمام شعائر اسلامی استعمال کرنے سے روکا تو حنیف رامے ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے قادیانیوں کی حمایت میں ایک مضمون لکھا جسے ایک اخبار نے شائع بھی کیا۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ حنیف رامے کے سسر کوئٹہ میں قادیانی جماعت کے امیر رہے ہیں اور آج بھی ایک متعصب قادیانی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں جب کہ ان کی بیوی شاہین رامے بھی قادیانی تھی۔ عاصمہ جہانگیر کو بھی بعض حلقے قادیانی قرار دیتے ہیں۔ انہی حلقوں کے مطابق چند سال پہلے اس نے حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی بھی کی تھی اور پھر جب ملک کے مختلف حصوں سے اس کی مذمت کے سلسلہ میں آوازیں بلند ہونے لگیں تو یہ بیرون ملک چلی گئی۔ اس واقعہ کے بعد ہی قومی اسمبلی میں آپا نثار فاطمہ اور دیگر ارکان اسمبلی کی طرف سے گستاخ رسول کی سزا کے متعلق آواز اٹھائی گئی اور ملک میں پہلی بار توہین رسالت کے مرتکب کے لئے سزائے موت کا قانون وجود میں آیا۔ اسی عاصمہ جہانگیر اور حنیف رامے کو انجینئرنگ یونیورسٹی میں مدعو کر کے جس طرح عاشقان مصطفیٰ ﷺ کی دل آزاری کی گئی ہے۔ وہ نہایت ہی قابل مذمت ہے۔
قائد اعظم اور علامہ اقبال سے بے پناہ محبت کا اظہار کرنے والے کیو۔ایس۔ایف کے کارکنان قائد، اقبال زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے نہیں تھکتے لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں کہ عظیم قائد اور علامہ اقبال کے جس پاکستان کے متعلق اظہار خیال کے لئے وہ قادیانیوں کے لئے دیدہ دل فرش راہ کرتے ہیں۔ خالق نظریہ پاکستان علامہ اقبال کا انہی قادیانیوں کے متعلق یہ جملہ بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ شاید وہ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ بانی پاکستان قائد اعظم کے بعد اس ملک کی سب سے بڑی محسن اور قابل احترام شخصیت کہوٹہ پلانٹ کے بانی معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی قادیانیوں کو اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔ اس پاک سرزمین کے عظیم رہنماؤں اور محسنوں کے واضح بیانات کے بعد بھی کیو۔ایس۔ایف کے ”جیالے“ نہ جانے کن وجوہات کی بناء پر قادیانیوں کو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
پچھلے دنوں جمعیتہ اور کیو۔ایس۔ایف کے حامی طلباء کے درمیان انجینئرنگ یونیورسٹی میں فائرنگ کے نتیجہ میں جمعیتہ کے کچھ ارکان شدید زخمی ہوئے۔ جب کہ دوسرے ہی دن کیو۔ایس۔ایف کا سرگرم رکن ناصر الدین قادیانی دوطرفہ فائرنگ کے نتیجہ میں گولیوں کا نشانہ بنا۔ تعلیمی اداروں میں اسلحہ کی نمائش اور اس کا آزادانہ استعمال جمعیتہ کی طرف سے ہو یا کیو۔ایس۔ایف کی طرف سے ہو۔ اس کی بھرپور مذمت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی جانی چاہئے۔ جمعیتہ اور کیو۔ ایس۔ ایف کے درمیان لڑائی کی وجہ کچھ بھی ہو اس کا ذمہ دار کوئی بھی ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں قتل و غارت تشدد اور اسلحہ کی نمائش کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو۔
جامعہ میں فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد ایک ناقابل یقین اور افسوس ناک منظر بھی دیکھنے میں آیا۔ اسلام کے نام پر حاصل کی گئی۔ اس نظریاتی مملکت میں اسلام کے نام لیواؤں نے اسلامی تعلیمات کا جس طرح مذاق اڑایا۔ وہ کسی طرح بھی قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا اور پھر قانون سازوں کے ہاتھوں قانون کی دھجیاں اڑانے کی افسوس ناک صورتحال بھی دیال سنگھ کالج میں پیش آئی۔ ہوا یوں کہ فائرنگ کا نشانہ بننے والے کیو۔ ایس۔ ایف کے کارکن ناصر الدین قادیانی کی لاش تو اس کے آبائی شہر واہ کینٹ بھجوادی گئی۔ جہاں پر اسے قادیانی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ لیکن کیو۔ ایس۔ ایف کے طلباء نے اس غیر مسلم کی نماز انجینئرنگ یونیورسٹی میں ادا کی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایم۔ ایس۔ ایف کے ”جیالے“ بھی اس ”کار خیر“ میں شریک ہوئے اور اس طرح ایم۔ ایس۔ ایف کے مختلف کالجوں میں ایک قادیانی کی نماز جنازہ ادا کر کے شریعت اسلامی کا مذاق اڑایا۔ بات طلباء سے آگے بڑھی۔ ایک طلباء تنظیم کے مرکزی صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر نے بھی دیال سنگھ کالج میں ناصر قادیانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر کے صوبائی حکومت کے نفاذ اسلام کی کوششوں میں مخلص ہونے کی نفی کر دی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان طلباء اور صوبائی حکومت کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے کس بنیاد پر ایک غیر مسلم کی نماز جنازہ ادا کی۔ ناصر قادیانی کو اگر مسلمان سمجھا جاتا ہے تو کیا اس کے قادیانی ہونے کے لئے یہی ثبوت کافی نہیں کہ اسے واہ کینٹ کے قادیانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ جس کی تصدیق واہ کینٹ کے علمائے کرام، کونسلروں ناصر قادیانی کے محلے داروں اور متعدد شہریوں نے بھی کی۔ ذرائع ابلاغ کی طرف سے ناصر الدین کے متعلق قادیانی ہونے کی واضح نشاندہی کے باوجود ایم۔ ایس۔ ایف اور کیو۔ ایس۔ ایف کے کارکنان اور صوبائی وزیراعلیٰ کے مشیر نے ایک غیر مسلم کی نماز جنازہ ادا کر کے نہ صرف اسلامی احکامات سے بغاوت کی بلکہ ملکی قانون کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔ قائد اعظم کا دم بھرنے والے مسلم لیگ کے ان پروانوں کو یہ احساس تک نہیں ہوسکا کہ جس قادیانی کی وہ نماز جنازہ ادا کر رہے ہیں۔ ایک قادیانی سابق وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی نے قائد اعظم کا نماز جنازہ صرف اس لئے پڑھنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ خود کو مسلمان اور قائد اعظم کو کافر سمجھتا تھا۔
تعلیمی اداروں میں ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت کے بڑھتے ہوئے واقعات اور صوبے کے ذمہ دار رہنماؤں کی طرف سے جب ملکی قانون اور اسلامی تعلیمات کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہ صرف پنجاب حکومت کے خلاف مشکلات پیدا کر سکتی ہے بلکہ اسلامی جمہوری اتحاد شامل اتحادی جماعتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر اور وزیراعلیٰ نواز شریف اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو پورا کریں اور انجینئرنگ یونیورسٹی کی اس تمام تر صورتحال کے متعلق اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائیں۔ بعض شرپسند عناصر اور قادیانی طبقے کی طرف سے یونیورسٹی کھولنے کے لئے بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں انجینئرنگ یونیورسٹی کو کھولنے سے پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ ہنگامے اور قتل و غارت شروع ہو جائے گی۔ اس لئے ارباب اختیارات کو اس قسم کے کسی بھی اقدام سے پہلے کیو۔ ایس۔ ایف اور اسلامی جمعیتہ طلباء کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ ضرور کرالینا چاہئے۔ جس سے جامعہ میں امن وامان کی صورتحال قائم رہ سکے۔ (شکریہ)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۷، ۱۸، مؤرخہ ۱۱/ تا ۱۷/ مئی ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیغام بنام وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف
بخدمت عالی مرتبت جناب میاں نواز شریف صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب لاہور السلام علیکم ورحمۃ اللہ !
اس خط کے ذریعہ میں آپ کی توجہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اس معاملہ کا فوری نوٹس لے کر مناسب کارروائی فرمائیں گے۔ یقیناً آپ کے علم میں نہیں ہوگا کہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں قادیانی کافی عرصہ سے سرگرم عمل ہیں اور پچھلے کچھ عرصہ سے قادیانی لابی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یونیورسٹی کی اکثر کلیدی آسامیوں پر قادیانی پروفیسروں کو فائز کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلباء میں قادیانیوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کے روپ میں موجود ہے جو قادیانی عقائد کی تبلیغ کر کے مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ یہ قادیانی طلباء مختلف طلباء تنظیموں میں گھس کر یونیورسٹی کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دو اہم مقاصد حاصل کر رہے ہیں۔ مسلم طلباء کو آپس میں لڑا کر یونیورسٹی میں مرزائیوں کا تسلط قائم کرنا اور یونیورسٹی کو قادیانی اسٹیٹ بنانا۔
قادیانی پروفیسر کو کلیدی آسامیوں تک پہنچانے کے لئے سیاسی دباؤ ڈالنا۔ تمام اسلامی حلقے ان حالات پر اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور بار بار اپنا احتجاج ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اسلامی نظام قائم کرنے کی دعویدار حکومت کا مشیر برائے تعلیم ریاض فتیانہ یونیورسٹی میں قادیانیوں کی اعلانیہ سرپرستی کر رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس شخص کے ایماء پر گزشتہ دنوں قادیانی طلباء کی تنظیم کیو۔ایس۔ایف کو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں ضم کر دیا گیا اور انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ایک قادیانی طالب علم کی غائبانہ نماز جنازہ جگہ جگہ کرا رہی ہے۔ اسے شہید قرار دے کر اس کے راستے کو اپنا راستہ قرار دے رہی ہے اور یہ سب کچھ صوبائی مشیر تعلیم ریاض فتیانہ کے ایماء اور سرپرستی میں ہو رہا ہے۔
آپ کو علم ہے کہ تعلیم کا شعبہ ایک حساس شعبہ ہے اور تعلیمی اداروں میں وطن کے معماروں کی تربیت ہوتی ہے۔ اس لئے مسلمان اپنے حسب ذیل مطالبات میں حق بجانب ہیں کہ:
- ۱....... انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں تمام کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانیوں کو برطرف کر کے یونیورسٹی کو قادیانی اسٹیٹ بننے سے بچایا جائے۔
- ۲....... ایم۔ایس۔ایف کے پلیٹ فارم سے قادیانیوں کی سرپرستی بند کر کے کیو۔ایس۔ایف کو ایم۔ایس۔ایف سے نکالا جائے۔
- ۳....... ایم۔ایس۔ایف مردود قادیانی طالب علم ناصر الدین محمود احمد (جو ۲۰؍ مارچ ۱۹۹۰ء کو یونیورسٹی میں دو طرفہ فائرنگ کے دوران
جہنم واصل ہو کر قادیانی مرکز واہ کینٹ میں دفن ہوا) کی غائبانہ نماز جنازہ، فاتحہ خوانی، قرآن خوانی کے سلسلہ کو بند کرے۔ اسے شہید کہنا اور لکھنا بند کرے اور اس کی خاطر کسی قسم کی تحریک چلانے کا ارادہ ترک کر دے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶ مورخہ ۱۱؍ مئی ۱۹۹۰ء)
تربت کے حالیہ واقعات پر مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کا وضاحتی پریس ریلیز
محترم صحافی بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سب سے پہلے ہم آپ حضرات کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ حضرات نے اپنی تمام مصروفیات کو نظر انداز کر کے ہماری دعوت پر تشریف لائے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان نے تربت کے حالیہ واقعات کے متعلق اصل حقائق اور اپنا موقف
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیش کرنے کے لئے آپ حضرات کو یہاں آنے کی تکلیف دی ہے۔ کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چیف منسٹر کی جانب سے اخبارات کو یہ ہدایت کر دی گئی ہے کہ تربت کے متعلق ان کے بیان کے سوا کسی کا کوئی بیان شائع نہ کیا جائے اور دوسری جانب وزیر اعلیٰ کے یکطرفہ بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ یا تو انہیں حقائق سے بے خبر رکھا جا رہا ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر ذکریوں کے وکیل صفائی بننے کا شوق پورا کر رہے ہیں اور تمام الزام وہ علماء کرام اور مسلمانوں پر عائد کر کے حالات کو سلجھانے کی بجائے مزید خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان حالات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان نے یہ ضروری سمجھا کہ صحافی حضرات کو مدعو کر کے صحیح صورتحال سے مطلع کیا جائے تا کہ وہ صحافت کے اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے پریس کے ذریعہ اصل صورتحال عوام تک پہنچا سکیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تربت میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار تربت انتظامیہ کو سمجھتی ہے۔ کیونکہ مورخہ ۲۲/ رمضان بروز بدھ کو تربت کی جامع مسجد میں مجلس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں پر امن طریقے سے حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ذکریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ یہ لوگ کلمہ، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے اسلام کے بنیادی ارکان کے منکر ہیں اور کوہ مراد پر ان کے مصنوعی حج پر پابندی عائد کی جائے۔ بصورت دیگر مطالبات کی منظوری تک ہم پر امن احتجاج جاری رکھیں گے۔ جمعۃ الوداع مسلمانان تربت نے مرکزی جامع مسجد میں ایک ہی جگہ ادا کرنے کا اعلان کیا۔ تقریباً ۳۰/ ہزار مسلمان جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ انتظامیہ نے مجلس کے قائدین سے مذاکرات کئے۔ انتظامیہ نے مسلمانوں کے مطالبات میں سے یہ منظور کر لیا کہ ذکری کو حج نہیں کرنے دیا جائے گا اور کمشنر مکران ڈویژن نیاز محمد جعفر نے تحریری طور پر علماء کو یہ یقین دلایا کہ ذکریوں کو حج کے لئے کوہ مراد نہیں آنے دیا جائے گا اور جو قلیل تعداد میں آچکے ہیں۔ انہیں فوراً واپس کر دیا جائے گا۔ اس تحریری یقین دہانی کے بعد مسلمان پر امن طریقے سے منتشر ہو گئے اور مورخہ ۲۴/ رمضان بروز ہفتہ کو یہ بات اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئی کہ ذکریوں کے مصنوعی حج پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس تحریری یقین دہانی کے باوجود تربت انتظامیہ نے ذکریوں کو کوہ مراد پر مصنوعی حج سے روکنے کی بجائے ان کے باہر سے آنے والے افراد کو پولیس کے مسلح دستوں کی حفاظت میں کوہ مراد پر بھیجنا شروع کر دیا۔ اس صورتحال کو دیکھ کر مسلمانوں کے قائدین پھر کمشنر مکران سے رابطہ کر کے اسے اپنے تحریری وعدہ کو پورا کرنے کی درخواست کی اور کمشنر پر واضح کیا کہ اگر آپ اپنے کئے تحریری وعدہ سے منحرف ہوئے تو حالات کی تمام تر ذمہ داری آپ پر ہوگی اور پھر مسلمانوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ کمشنر کی طرف سے منفی رویہ کے جواب میں مسلمانوں نے پھر احتجاج کیا اور پر امن جلوس نکالا تو پولیس نے نہتے روزہ دار مسلمانوں پر آنسو گیس پھینکی اور بے تحاشا ہوائی فائرنگ کی۔ جس سے حالات مزید خراب ہوتے چلے گئے اور انتظامیہ نے گرفتاریاں شروع کر دیں۔ جس میں علماء سمیت سینکڑوں افراد کو گرفتار کر کے گوادر وغیرہ منتقل کر دیا اور انہیں نماز، روزہ، سحری وافطاری کی کوئی سہولت نہیں دی گئی۔ انتظامیہ کے اس ظلم و بربریت کے خلاف معصوم بچوں نے جب احتجاجی جلوس نکالا تو انہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ جب عورتوں نے اس ظلم کے خلاف احتجاج کیا تو ان پر آنسو گیس پھینکی گئی۔ چنانچہ کل صبح سے تربت میں کرفیو لگا دیا گیا ہے اور آج صبح نو بجے سے گیارہ بجے تک جب کرفیو میں نرمی کی گئی اور لوگ اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے تو راستے میں ناکہ بندی کر کے دوسو افراد کو گرفتار کر کے تربت جیل بھیج دیا گیا۔ اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے ایک وفد نے جس میں مولانا انوار الحق حقانی خطیب جامع مسجد مرکزی مولانا عبدالواحد خطیب جامع مسجد قندھاری، مولانا نذیر احمد تونسوی مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا محمد الیاس صاحب، خطیب جامع مسجد تربت، مولانا عبدالرحیم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رحیمی، مولانا غلام غوث اربانوی، مولانا عبدالغفور قاسمی، حاجی سید سیف اللہ آغا، حاجی عبدالمنان وڑائچ، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی نعمت اللہ خان اور خلیل الرحمٰن شامل تھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جناب نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کر کے اصل حقائق ان کے سامنے رکھے اور وفد نے وزیراعلیٰ پر اس بات کو واضح کیا کہ تربت کے حالات کو خراب کرنے میں کمشنر کا ہاتھ ہے۔ جس نے تحریری یقین دہانی کے بعد بھی ذکریوں کو کوہ مراد پر مصنوعی حج کرنے کی اجازت دے دی۔ جس کے نتیجہ میں حالات خراب ہوئے۔ چنانچہ وزیراعلیٰ نے وفد کے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ حالات کمشنر کی نااہلی کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں اور وفد کے ارکان نے یہ بھی واضح کیا کہ اخبارات پر آپ نے جو ہمارے موقف کی اشاعت پر پابندی لگا دی ہے اور آپ نے یکطرفہ ذکریوں کی وکالت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے۔ آپ کے اس رویہ نے اہلِ اسلام کو مزید مشتعل کر دیا ہے۔ آپ کے بیانات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے ذکریوں کی نمائندگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تیز وتند جملوں کے تبادلہ کے بعد یہ ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ پھر آج صبح کوئٹہ کے مقامی اخبارات میں وزیراعلیٰ کے یکطرفہ بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان، وزیراعلیٰ کے یکطرفہ بیانات کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اگر بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے ذکریوں کی وکالت نہ چھوڑی تو پورے صوبے میں اس پر جو ردعمل ہوگا۔ اس کے ذمہ دار خود وزیراعلیٰ ہوں گے۔ جب کہ اس وقت بھی گوادر، پسنی، پنجگور، خضدار، قلات، ژوب، چمن، لورالائی وغیرہ میں جلسے جلوس تقاریر کے ذریعہ مسلمانوں کا پرامن احتجاج جاری ہے۔ اگر وزیراعلیٰ اور تربت انتظامیہ نے عقل مندی سے کام نہ لیا اور گرفتار شدہ علماء کرام اور مسلمانوں کو فوراً رہا نہ کیا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ اور تربت انتظامیہ پر ہوگی۔
شرکائے پریس کانفرنس، مولانا رحمت اللہ مہتمم جامعہ مفتوح العلوم پنجگور، مولانا انوار الحق حقانی خطیب جامع مسجد مرکزی، مولانا عبدالواحد خطیب جامع مسجد قندھاری، مولانا عبدالغفور قاسمی، مولانا غلام غوث اربانوی، مولانا محمد ادریس فاروقی، مولانا عبدالرحیم رحیمی، مولانا عبدالواحد نائب امیر جمعیۃ، مولانا نذیر احمد تونسوی مرکزی مبلغ عالمی مجلس، مولانا آغا محمد صاحب، حاجی سید سیف اللہ آغا، حاجی عبدالمنان بڑیچ، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی نعمت اللہ خان۔
مجلس تحفظ ختم نبوت تربت بلوچستان کا ہنگامی اجلاس: مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کا ایک ہنگامی اجلاس مولانا عبدالواحد صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں تربت کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پولیس نے تربت کے نہتے روزہ داروں پر فائرنگ کی اور بے حساب آنسو گیس پھینکی اور پھر علماء کرام سمیت تقریباً تین صد افراد جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں، کو گرفتار کر لیا اور ان سے جیل میں نامناسب سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں سحری و افطاری وضو، نماز وغیرہ کی کوئی سہولت مہیا نہیں کی جا رہی اور دوسری جانب صوبائی حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ صاحب ذکریوں کے وکیل صفائی بنے ہوئے ہیں اور جب عالمی مجلس نے اپنا موقف پیش کرنے کے لئے پریس سے رابطہ قائم کیا تو معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ کا حکم آچکا ہے کہ اخبارات میں وزیراعلیٰ کے بیان کے سوا کسی کا کوئی بیان اخبارات میں شائع نہ کیا جائے۔ اب صوبائی سطح پر مجلس کی آواز کو بالکل دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ تحریر ہذا کے ذریعہ عوام کو خطباء کے توسط سے اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ اصل صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ مورخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۹۰ء بمطابق ۲۲؍ رمضان المبارک ۱۴۱۰ھ کو مجلس کے زیر اہتمام تربت میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جو صبح دس بجے سے رات بارہ بجے تک پرامن طریقہ سے جاری رہی۔ دوسرے دن جمعرات صبح نو بجے کے قریب مسلمانوں نے علماء کی قیادت میں پرامن طریقہ سے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تربت شہر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے چوک پر علماء کرام نے مشتعل مسلمانوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک ذکریوں کے فرضی حج پر حکومت پابندی نہ لگائے ۔ ہم واپس نہیں جائیں گے اور پرامن طریقہ سے ہمارا احتجاج جاری رہے گا ۔ پھر جمعۃ الوداع مسلمانوں نے مشترکہ طور پر ایک ہی جگہ مرکزی جامع مسجد تربت میں ادا کیا۔ تقریباً ۳۰/ہزار مسلمان جمع ہو گئے ۔ انتظامیہ نے علماء کرام سے مذاکرات کئے اور کمشنر تربت ڈویژن نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی کہ ذکریوں کا حج نہیں ہوگا اور جو ذکری حج کے لئے تربت پہنچ چکے ہیں ۔ انہیں واپس گھروں کو روانہ کر دیا جائے گا۔ کمشنر کی اس یقین دہانی پر مسلمان اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ جب کہ ذکریوں کو پولیس کی حفاظت میں نقلی حج کے لئے کوہ مراد پر پہنچایا جا رہا تھا۔ مسلمانوں نے تحریری طور پر کمشنر کو اس صورتحال سے مطلع کیا اور اپنا تحریری معاہدہ یاد دلایا کہ اس پر فوراً عمل کرائیں ۔ لیکن کمشنر نے وعدہ خلافی کی اور کوئی عملی کارروائی ذکریوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی جس پر مسلمانوں نے علماء کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا۔ جس میں تقریباً دس ہزار مسلمان شامل تھے ۔ جب جلوس ذکریوں کے مصنوعی کعبہ کوہ مراد کی جانب روانہ ہوا تو پولیس نے پرامن جلوس پر فائرنگ کی اور آنسو گیس کا استعمال عمل میں لایا گیا ۔ جس کے نتیجہ میں نو مسلمان زخمی ہوئے ۔ پولیس نے انتہائی تشدد آمیز کارروائی کی اور سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا اور راتوں رات انہیں گوادر جیل منتقل کر دیا۔ اتوار کی صبح کے وقت تربت شہر سے ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا ۔ انتظامیہ نے اس جلوس پر بھی فائرنگ اور بے تحاشا آنسو گیس استعمال کی جس سے جلوس کے شرکاء مشتعل ہو کر کمشنر ہاؤس پہنچ گئے اور کمشنر کو کوہ مراد پر ذکریوں کے حج پر پابندی لگانے کا وعدہ پورا کرنے کے لئے کہا۔ لیکن کمشنر نے پرامن مسلمانوں پر آنسو گیس پھینکنے کا حکم دیا جس سے متعدد مسلمان زخمی ہوئے ۔ آج پیر کی صبح سے تربت میں کرفیو لگا دیا گیا ہے جس سے حالات مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ اس تمام ظلم اور انتظامیہ کی جانب داری پر ۲۷/رمضان کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے جس میں مولانا انوار الحق حقانی صاحب خطیب مرکزی جامع مسجد، مولانا محمد الیاس صاحب خطیب جامع مسجد تربت، مولانا نذیر احمد تونسوی، مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر علماء نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی وزیر اعلیٰ نے خود اقرار کیا کہ تربت انتظامیہ کے افسران نااہل ہیں۔ حالات ان کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد جمعیۃ کے صوبائی وزراء پر وفد نے اصل حقائق واضح کئے جس پر انہوں نے تعاون کی یقین دہانی اور گرفتار شدہ مسلمانوں کو عید سے قبل رہا کر دیا گیا۔ اس وقت پورے صوبہ میں گوادر، پسنی، پنجگور، بلیدہ، قلات، ژوب، لورالائی وغیرہ میں احتجاج جاری ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۰ تا ۲۲،مؤرخہ ۱۸مئی ۱۹۹۰ء)
اسٹیٹ لائف میں ارباب اختیار (قادیانیوں) کی رنگ رلیاں
آپ کی خدمت میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ارباب اختیار کی رنگ رلیوں کی ایک جھلک ارسال کر رہا ہوں ۔ گزشتہ دنوں مجھے اس ادارے کی تین روزہ سالانہ کانفرنس میں ایک مندوب کی حیثیت سے شرکت کا موقع ملا ۔ اس کانفرنس کے دوران قومی سرمائے کو نہ صرف صبح، دوپہر، شام کی ضیافتوں کے ذریعے برباد کیا جاتا رہا۔ بلکہ کانفرنس کے آخری روز اس ادارے کے سربراہ اور ایک قادیانی ڈائریکٹر کی ملی بھگت سے ”Contests Pride of Performance“ کی آڑ میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی نقد انعامات سے نوازا گیا۔ جس کے وہ سرے سے مستحق ہی نہ تھے۔ یہ وہ اصحاب ہیں جنہوں نے ۱۹۸۹ء کے دوران اس لحاظ سے مایوس کن مظاہرہ کیا کہ اسٹیٹ لائف کے ضابطے کے مطابق صرف وہ لوگ انعامات کے حق دار ہوتے ہیں۔ جن کی ”Persistency“ کل ان کے ذاتی کاروبار بیمہ کے یا ان کے ”Zone“ کے ۷۳ فیصد سے کم نہ ہو۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انتظامیہ نے اس مروجہ قانون کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان حضرات کو لاکھوں روپے کے انعامات بلاوجہ دیئے۔ (تقریباً ۲۴/ ہزار روپے فی کس) قانون کے مطابق ان کو ایک پائی بھی ادا نہیں کی جاسکتی تھی۔
سب سے زیادہ قابل اعتراض بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ چیئرمین صاحب کے گھر پر شراب و کباب اور رقص و سرود کی جو محفل رچائی گئی۔ اس کا کیا جواز تھا۔ اس موقع پر نہ صرف بدنام قسم کی طوائفوں نے لچر رقص کئے۔ بیہودہ گانے گائے بلکہ ایک نوجوان نے خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی موجودگی میں وہ انتہائی غلیظ لطیفے سنائے کہ الامان والحفیظ !
کئی شریف لوگ اپنی بیویوں اور بچوں کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔ اسی پر بس نہیں اسٹیٹ لائف کے معزز فیلڈ کے لیڈران کرام اور عیاش مزاج سربراہان، جو تمام پاکستان سے اکٹھے ہوئے تھے۔ شراب کے جام پر جام لنڈھاتے رہے۔ چیئرمین صاحب لڑکھڑاتے قدموں سے گانے والیوں کو اٹھ اٹھ کر داد دیتے رہے اور کچھ اصحاب ۵۰۰ روپے کے نوٹ ان طوائفوں پر نچھاور کرتے رہے۔ محفل قابل افسوس تھی اگر یہ چیئرمین کی ذاتی جیب سے بھی سجائی جاتی۔ لیکن یہ قابل گردن زدنی ہے۔ کیونکہ بیمہ داروں کے زرضمانت سے یہ پھریرے اڑائے گئے اور وہاں:
- ۱...... پاکستان اسٹیٹ لائف کے تمام ”Zonal“ سربراہان موجود تھے۔
- ۲...... سابقہ اور موجودہ ڈائریکٹر صاحبان شریک محفل تھے۔
- ۳...... ایک صاحب سے تعارف ہوا۔ آپ ”پی.ٹی.وی“ کے نیوز ایڈیٹر نکلے۔
- ۴...... اسٹیٹ لائف لاہور سے منسلک ایک جانے پہچانے صحافی بھی موجود تھے۔ اگرچہ وہ ہمارے ساتھ لاحول ولا کے ورد میں مسلسل
مشغول رہے۔ یہ تمام سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔
(بشکریہ ہفت روزہ تکبیر مورخہ ۱۵ / جون ۱۹۹۰ء)
کوئٹہ ...... ذکریوں کے بارہ میں پریس کانفرنس
محترم صحافی بھائیو! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
سب سے پہلے میں آپ حضرات کی یہاں تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ حضرات نے اپنی تمام مصروفیات کو نظر انداز کیا اور یہاں تشریف لائے۔ محترم صحافیو! آپ کی صحافت اور تحریر نے ہمیشہ ختم نبوت کی آواز کو بین الاقوامی سطح پر بلند کیا ہے۔ اس وقت میں آپ سے مخاطب ہوں۔ صرف اور صرف اخباری دنیا میں ذکری انجمن یا کسی صاحب کی طرف سے اخبارات میں خبر چھپ چکی ہے کہ ذکری خدا کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ کوہ مراد پر حج نہیں زیارت کرتے ہیں۔ محمد ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور یہ کہ پٹھان اور پنجابی علماء مکران میں آکر بلوچوں کو آپس میں لڑاتے ہیں۔ تربت کے واقعہ کی مختصر جھلکیاں سے تفصیل سے آپ کو آگاہ کیا گیا ہے۔
آج میں ان واقعات کے نشیب و فراز سے مختصراً عرض کرنا چاہوں گا کہ ۴ / مئی ۱۹۹۰ء کو روزنامہ انتخاب میں آل پاکستان ذکری انجمن کی طرف سے بیان چھپ چکا ہے کہ ذکری خدا کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں اتنا عرض کروں گا کہ ذکری ارکان خمسہ کے منکر ہیں۔ جب کہ یہ حکم خداوندی ہے اور ذکریوں کی اپنی کتاب سفرنامہ مہدی صفحہ نمبر ۷ میں تحریر ہے کہ : ” فرشتوں نے عرض کیا یا رب آپ کے اور مہدی (اٹکی) کے درمیان کیا فرق ہے تو خداوند قدوس نے فرشتوں کو جواب دیا کہ وہ یعنی مہدی مجھ سے اور میں اس
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے ۔‘‘ مہدی خدا ہی ہیں اور حوالے بھی توحید کے متعلق ذکریوں کی اپنی کتابوں میں موجود ہیں لیکن اسی ایک حوالے کو لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ذکری کہاں تک خدا کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں۔
ختم نبوت پر کہاں تک ذکری عقیدہ رکھتے ہیں۔ ذکری اپنی کتاب معراج نامہ صفحہ نمبر ۲ پر تحریر کرتے ہیں کہ:”حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام علیہم السلام کے سامنے آخری نبی ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا اور کرتے ہی حضور ﷺ فکرمند ہوئے تو خدا نے معراج کرایا تو وہاں پر محمد اٹکی موجود تھا۔ آنحضرت ﷺ کو خدا نے فرمایا کہ تمہارا دعویٰ ختم المرسلین غلط اور من گھڑت ہے۔ آخری نبی ذکریوں کا پیغمبر محمد اٹکی ہے ۔‘‘ جب کہ ذکری کلمہ پڑھتے ہیں۔ لا الہ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی رسول اللہ، کیا اس عقیدے کے لوگ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔
آل پاکستان ذکری انجمن کے خدام حقائق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ذکری کوہ مراد تربت میں حج نہیں زیارت کرتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں کچھ مقدس مقامات پر لوگ زیارت کرتے ہیں۔
صحافی بھائیو! اس وقت میں آپ کے خیالات شہباز قلندر سندھ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ آیا شہباز قلندر میں مقام محمود ہے یا منیٰ وہاں پر ہے یا حرم پاک ہے۔ قلندر زیارت میں مسجد طوبیٰ ہے یا آب زم زم ہو گا یا آب کوثر شجر طوبیٰ، عرفات، غار حرا، حجر اسود ہوں گے۔ جب کہ یہ تمام نام اور اوصاف کوہ مراد میں موجود ہیں اور ذکری بڑی دلیری اور سینہ زوری سے ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ بعینہ حج بیت اللہ کی طرف عبادت کرتے ہیں۔ ذکری رہنما جی . ایس بجارانی اپنی کتاب نور تجلی ص ۴۱ میں لکھتا ہے کہ : ” کوہ مراد مقام محمود ہے۔ اس کی زیارت فرض اور لازمی ہے ۔‘‘ اور پھر مسلمانوں کو کیسے یہ دھوکہ دیا جائے کہ ذکری کوہ مراد پر حج نہیں زیارت کرتے ہیں۔ اگر ذکری کوہ مراد تربت کو حج نہ سمجھتے تو واضح اور دلیل کے ساتھ میں کہتا ہوں کہ ساڑھے چار سو سال سے آج تک کوئی بھی ذکری یہ ثبوت دے کہ اس نے حج بیت اللہ خانہ کعبہ میں حج کیا ہو اور کتاب موسیٰ نامہ ص ۱۴۴ میں شیخ محمد نصر قتدی تحریر کرتا ہے کہ : ” حج بیت اللہ منسوخ ہو چکا ہے۔ اس کا قائم مقام کوہ مراد حج تربت ہے ۔‘‘
صحافی بھائیو! آپ کے توسط سے یہ حوالے خود ذکریوں کی تحریروں سے عالم اسلام کے مسلمانوں میں پہنچانا چاہتا ہوں کہ ذکری انجمن کے خدام برائے کرم آئندہ اپنے کو مسلم یا اسلام کا ایک دھڑہ تحریر تقریر نہ کریں اور ذکری بھی ایسے الفاظ دہرانے سے گریز کریں۔ مسلمان ان کو اسلام کا مذاق اڑانے کا کبھی اور کسی صورت میں اجازت نہیں دیں گے۔ تربت کی تحریک ختم نبوت کے دوران جو واقعات رونما ہوئے وہ مکران انتظامیہ اور خود ذکریوں کی ملی بھگت اور گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے اور آنے والے رمضان شریف میں انٹر نیشنل چار روزہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کے احکامات جاری ہونے والے ہیں۔ ختم نبوت کی تحریک ہر دور میں کسی فرعون سے دبی ہے اور نہ دبے گی۔ آخر میں میں تمام مسلمانوں بالخصوص مکران کے بزرگوں ، بھائیوں ، ماؤں اور بہنوں کو ۱۸ / اپریل کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸، ۱۹، مورخہ ۱۵ / جون ۱۹۹۰ء)
مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسجد عائشہ ۵ / حسین سٹریٹ کرم آباد سٹاپ مسلم ٹاؤن کی واگزاری ۷ / جون ۱۹۹۰ء کو ہوئی تھی۔ اس موقعہ پر جمعہ تھا۔ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی بمع رفقاء کرام کے سرگودھا سے ، مولانا کریم بخش مع رفقاء کرام لاہور سے ، حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عزیز الرحمن جالندھری، فقیر راقم اللہ وسایا ملتان، حضرت الحاج بلند اختر نظامی لاہور نے اس موقع پر بھر پور شرکت سے اس اجتماع کو کامیاب کیا۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا دورہ فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ۲۶؍جون ۱۹۹۰ء بروز منگل ایک روزہ دورہ پر لاہور سے فیصل آباد تشریف لائے۔ ناظم اعلیٰ نے مولوی فقیر محمد سیکرٹری اطلاعات ونشریات سے ملاقات کی اور بعض جماعتی امور پر ان سے تبادلہ خیال کیا۔ بعدازاں مولانا عزیز الرحمن جالندھری دفتر دارالمطالعہ ختم نبوت واقع الامین ہوٹل امین پور بازار فیصل آباد میں تشریف لائے۔ جہاں نصیر احمد آزاد، جاوید سنی اور چوہدری محمد اقبال نے مولانا کا خیرمقدم کیا۔ مولانا نے دارالمطالعہ کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا۔ بعد دوپہر ناظم اعلیٰ صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک کے ہمراہ ربوہ تشریف لے گئے۔ جامعہ مسجد و مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ میں قاری طالوت نے مولانا کا خیرمقدم کیا۔ مسلم مسجد میں بعض جماعتی امور پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن ربوہ تشریف لے گئے۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، صاحبزادہ طارق محمود اور چوہدری محمد اقبال منیجر لولاک نے بعدازاں چنیوٹ پہنچ کر نشاط ٹینٹ سروس کے پروپرائٹر حاجی مقبول احمد مرحوم کی وفات پر ان کے بیٹے مشتاق احمد سے تعزیت کی اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے دعا فرمائی۔ نمائندہ جنگ چنیوٹ بشیر احمد چمن سے ملاقات کے بعد ناظم اعلیٰ واپس فیصل آباد تشریف لائے اور رات شاہین ایکسپریس پر ملتان روانہ ہوگئے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۰،مورخہ۱۳؍جولائی۱۹۹۰ء)
جڑانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جڑانوالہ کے اجلاس میں درج ذیل عہدیداران کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ سرپرست: مولانا عبداللطیف انوری مسجد وریام نگر۔ صدر: خواجہ امان اللہ صاحب۔ نائب صدر: قاری محمد الیاس عابد۔ نگران اعلیٰ: مولانا محمد جمیل اجمل قادری خطیب واستاد دارالعلوم امینیہ۔ جنرل سیکرٹری: حافظ قاری محمد ندیم۔ جوائنٹ سیکرٹری: عبدالقیوم۔ خزانچی: غلام رسول گورسیجہ۔ نائب خزانچی: قاری نصراللہ استاد جامع ہارونیہ۔ پروپیگنڈہ سیکرٹری: محمد عبداللہ خلفی۔ سیکرٹری نشرو اشاعت: مولانا محمد یوسف۔ نائب سیکرٹری: مولانا عبدالمبین۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا فقیر محمد صاحب نے جڑانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام پر نئے عہدیداران کو مبارک باد دی ہے۔
دس مرزائیوں کو قید اور جرمانہ کی سزا
ایڈیشنل سیشن جج گوجرانوالہ طالب حسین بلوچ نے تلونڈی موسیٰ خان میں جلسہ عام منعقد کرکے سرعام قادیانیت کا پرچار کرنے کے مشہور مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے آج یہاں دس مرزائیوں کو دو دو سال قید بامشقت اور پانچ پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں ہر ملزم کو دو دو ماہ مزید قید بامشقت بھگتنا ہوگی۔ سزا پانے والوں میں ربوہ کے دو بڑے مربی اور مبلغ دوست محمد شاہد اور شبیر احمد شاہد کے علاوہ تلونڈی موسیٰ خان کے منظور احمد، نذیراحمد، سلیم احمد، خالد پرویز، یوسف، منظور احمد اور ناصر احمد شامل ہیں۔ جب کہ ایک ملزم ظفر احمد کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے مقدمہ کی پیروی ممتاز قانون دان نوید انور نوید ایڈووکیٹ نے کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جب کہ قادیانیوں کی طرف سے سیالکوٹ کے خواجہ سرفراز ایڈووکیٹ اور گوجرانوالہ کے ملک محمود احمد نے وکالت کے فرائض سرانجام دیئے۔
استغاثہ کے مطابق متذکرہ بالا ملزمان نے مرزائیت کے قیام کے سوسالہ جشن کے سلسلے میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تلونڈی موسیٰ خان کی بڑی گراؤنڈ میں لاؤڈ سپیکر نصب کر کے ایک جلسہ عام منعقد کیا اور قادیانیت کا پرچار اور احمدیت کی تبلیغ کر کے مسلمانوں کے جذبات کو شدید مجروح کیا۔ پولیس نے خواجہ محمد شفیق کی رپورٹ پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔ آج مقدمہ کا فیصلہ سننے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں حافظ محمد ثاقب ، چوہدری غلام نبی ، مولانا محمد ایوب طوفانی ، حافظ احسان الواحد ، حافظ محمد یوسف ، حافظ محمد الیاس ، ڈاکٹر رفاقت علی اور حکیم عبدالرحمن آزاد کی قیادت میں مسلمانوں کی بھاری تعداد سیشن کورٹ میں موجود تھی۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے سنٹرل جیل گوجرانوالہ میں پہنچا دیا۔ جب کہ مسلمان ایک جلوس کی صورت میں ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ضلع کچہری میں آ کر پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، مورخہ ۱۳/ جولائی ۱۹۹۰ء)
اورنگی ٹاؤن میں ایک مسلمان نوجوان پر قادیانی غنڈوں کا حملہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی طرف سے پرزور احتجاج، ملزموں کی گرفتاری کا مطالبہ
کراچی : اورنگی ٹاؤن کراچی تھانہ مؤمن آباد کے علاقے میں مسلح قادیانیوں نے ایک مسلمان پٹھان نوجوان پر حملہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق قادیانی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وہاں تبلیغ کر رہے تھے کہ مسلمان نوجوان نے ان قادیانیوں کو منع کیا۔ لیکن وہ تبلیغ سے روکنے کی بجائے اسی نوجوان پر پل پڑے اور اس نوجوان کو زخمی کر دیا جس سے پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ پتھراؤ ہوا۔ ٹریفک معطل کر دی گئی۔ پون گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مولانا محمد انور فاروقی ، مولانا فیض اللہ آزاد ، مولانا محمد بخش ، قاری حفیظ ، پیر سید اکبر علی شاہ ، مولانا غلام مرتضیٰ رندوی ، مولانا عبد القادر حیدری موقعہ پر پہنچے اور بمشکل امن بحال کرایا۔ مسلمانوں نے قادیانیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی ہے۔ چھ قادیانیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بعد ازاں قادیانیوں نے بھی مسلمانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ چار مسلمان بھی گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد انور فاروقی کی زیر صدارت ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں اورنگی ٹاؤن سے مولانا فیض اللہ آزاد ، الطاف حسین شاہ وغیرہ کے علاوہ کثیر تعداد میں کارکنان مجلس نے شرکت کی۔ اجلاس میں اورنگی ٹاؤن میں قادیانی شرانگیزیوں کا سختی سے نوٹس لیا گیا اور ایک نوجوان محمد افسر کو زدوکوب کرنے پر پرزور احتجاج کرنے کے علاوہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ تمام ملزموں کو فوراً گرفتار کیا جائے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔
سالانہ عالمی میلے میں شرکت کرنے والے قادیانیوں پر پی آئی اے کی مہربانیاں
دو سو قادیانیوں کو کراچی لندن کے ٹکٹ رعایتی شرح پر دیئے گئے۔
کراچی : ۲۹/ جولائی (اسٹاف رپورٹر ) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے اس ہفتہ لندن میں منعقدہ قادیانیوں کی سالانہ کانفرنس میں برطانیہ شرکت کے لئے برطانیہ جانے والے تقریباً دو سو قادیانیوں کو بڑی رعایتی شرح پر ٹکٹ جاری کئے۔ جب کہ اس کانفرنس میں قادیانی سربراہ اور دنیا کے مختلف حصوں کے قادیانی رہنماؤں نے پاکستان پر شدید حملے کئے۔ پی آئی اے کے ذرائع نے اس بات کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توثیق کی ہے کہ اعلیٰ افسران کے حکم پر کراچی، لندن، کراچی ٹکٹ پر سفر کرنے والے تمام قادیانیوں کو بیس فیصد رعایت دی گئی۔ یہ تمام ٹکٹ کراچی میں آئی. اے. ٹی. اے (IATA) کے ایک ٹریول ایجنٹ نے جاری کئے جو خود بھی قادیانی ہے اور جسے پی. آئی. اے ہیڈ آفس کے ایک ”قادیانی باس“ کی بڑی سرپرستی حاصل ہے۔ اکانومی کرایہ پر کراچی، لندن، کراچی سفر کرنے والے تمام پاکستانیوں کو ۱۹؍ ہزار دوسو روپے کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ ان قادیانیوں نے صرف ۱۲؍ ہزار روپیہ ادا کیا۔ ادھر لندن میں پی. آئی. اے کے جنرل منیجر برائے یو. کے اور ایئرلینڈ سلیم جہانگیر کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے ان قادیانی مندوبین کے آرام وسہولت کا پورا خیال رکھیں۔ واضح رہے کہ پاکستان سے بیرون ملک تبلیغ کے لئے جانے والوں کو کبھی ایسی رعایت نہیں دی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳؍ اگست ۱۹۹۰ء)
پیپلز ورکس پروگرام کے ضلعی ایڈمنسٹریٹر قادیانی کو برطرف کر دیا گیا
پارٹی کارکنوں کے احتجاج اور ہفت روزہ چٹان نے ضلع گوجرانوالہ کو مرزائی افسر سے بچالیا۔
پنجاب میں انتخابی شکست کے بعد پی. پی. پی نے ممبران صوبائی اسمبلی کے اشک شوئی اور عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے پیپلز ورکس پروگرام کے نام سے الگ فنڈ مخصوص کیا۔ جس پر پورے پنجاب اور بلوچستان میں پرزور احتجاج کیا گیا اور دونوں صوبائی حکومتوں نے اسے مرکز کی طرف سے صوبوں کے معاملات میں کھلم کھلا مداخلت قرار دیا۔ نتیجہ صوبوں اور مرکز میں رسہ کشی میں اضافہ ہوا۔ صوبوں کا مؤقف یہ تھا کہ یہ فنڈ صوبائی حکومتوں کی صواب دید پر استعمال ہونا چاہئے۔ جب کہ پی. پی. پی نے اس مؤقف کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف اپنا وطیرہ جاری رکھا بلکہ اس پر ستم یہ کہ الیکشن ہارنے والے اور غیر منتخب نمائندہ لوگوں کو پیپلز ورکس پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ اگر بات یہاں تک ہی رہتی تو پھر بھی کام چلتا رہتا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ضلع گوجرانوالہ میں ایک کٹر قادیانی ریٹائرڈ کرنل عزیز الملک کی پیپلز ورکس پروگرام کے ضلعی ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تقرری نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انگریز کی ذریت اور خودکاشتہ اس پودے کی ہر ٹہنی اور پتہ نہ صرف زہر آلود ہوتا ہے بلکہ قانونی طور پر اقلیت قرار دی گئی۔ اس غیر مسلم اقلیت کو مسلمانوں کے سروں پر مسلط کرنا پی. پی. پی کے ناخداؤں کی عجلت پسندانہ اور احمقانہ حرکت تھی، جسے پی. پی. پی کے غیرت مند مسلمان کارکنوں نے نہ صرف سخت نفریں نظروں سے دیکھا بلکہ اس کی معطلی کا مطالبہ کر دیا۔ ہم نے چٹان کے ان ہی کالموں میں حکومت وقت کو کہا تھا کہ ایک قادیانی جو ختم نبوت کے معاملہ میں آستین کے سانپ ہی نہیں بلکہ ڈھٹائی اور بدمعاشی کے ساتھ خود کو باوجود اقلیت قرار دیئے جانے کے مسلمان کہہ کر سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے مرتکب ہوتے ہیں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ساتھ ہی ہم نے واضح کیا تھا کہ یہ معاملہ کوئی پنجاب مرکز جھگڑے کا شاخسانہ نہیں، نہ ہی یہ سیاسی الزام تراشی ہے بلکہ خود پی. پی کے ایم. این. اے اور ایم. پی. اے حضرات کا بتقاضہ اسلام فرض ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو قادیانی ایڈمنسٹریٹر سے چھٹکارا حاصل کریں تا کہ مذہبی قوتیں جو پی. پی. پی کے منشور سے پہلے ہی نالاں ہیں۔ اس مسلسل چشم پوشی کو پی. پی. پی کی مرزائی نوازی کی پالیسی نہ سمجھیں لیکن کافی دیر تک ارباب اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ تا آنکہ پی. پی. پی کے کارکنوں میں اس بات پر بغاوت پیدا ہو گئی اور انہوں نے سرعام مطالبہ کیا کہ پی. پی. پی کے غریب اور متوسط طبقے کے کارکن چادر ختم نبوت پر دھبہ لگانے کی مذموم کوشش کرنے والی اس اقلیتی جماعت کے فرد کی چوکھٹ پر کاسہ گدائی کے لئے منتظر رہتے ہیں جو کہ ناقابل برداشت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تذلیل ہے۔ جسے برداشت نہ کیا جاسکتا ہے۔ لہذا مرزائی ایڈمنسٹریٹر کرنل ریٹائرڈ عزیز الملک کو فوری برطرف کیا جائے۔ چٹان نے بالترتیب ۲؍جون ۱۹۸۹ء اور ۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں ان کا موقف شائع کیا۔ اس کے علاوہ ملک کے قومی اخبارات بھی اس کے گواہ ہیں لیکن ریٹائرڈ کرنل غلام سرور چیمہ وفاقی وزیر دفاع جو کہ مرزائی خاندان کے فرد ہی نہیں مبینہ طور پر انہیں مرزائی سمجھا جاتا ہے، نے واضح طور پر (چٹان کے ایک مضمون کے بعد انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو مرتد سمجھتے ہیں اور ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں) اس مرزائی ایڈمنسٹریٹر کی مکمل پشت پناہی کی بلکہ اس کے دفاع میں یہاں تک آگے نکل گئے کہ فرمایا مجھے پورے ضلع میں اس سے زیادہ ایماندار شخص نہیں مل سکا۔ یہ ایک اور طمانچہ تھا جو وزیر دفاع نے پی۔پی۔پی ضلع گوجرانوالہ کے عہدیداروں اور کارکنوں کو رسید کیا۔ چنانچہ شدید ردعمل ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانی ایڈمنسٹریٹر کے خلاف احتجاج ترتیب دیئے۔ جلوس نکالے مساجد میں قراردادیں پاس ہوئیں۔ اشتہارات چھپے اور حکومت پر واضح کیا کہ وہ سیاسی تنظیم نہیں۔ اس کی غرض و غایت فقط چادر نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی بیخ کنی ہے۔ لہذا حکومت فوری طور پر اس مرزائی کو برطرف کرے۔
آغا شورش کاشمیری مرحوم نے جس طرح تحفظ نبوت کی جنگ لڑی اور بڑے بڑے بتوں کو توڑا۔ چٹان کی پالیسی آج بھی اسی روش کی عادی ہے۔ چادر نبوت کے تحفظ میں چٹان نے ہمیشہ چٹان کی طرح حائل ہو کر قادیانیوں کے دانت کھٹے کئے ہیں۔ چنانچہ ضلع گوجرانوالہ کے مرزائی ایڈمنسٹریٹر کی برطرفی کے معاملہ کو اور پارٹی کارکنوں کے مطالبہ کو ۲؍جون اور ۲۲؍نومبر کی اشاعت میں جس انداز سے واضح طور پر شائع کیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ بحمد اللہ وفاقی حکومت نے بالآخر اس مرزائی ایڈمنسٹریٹر کرنل ریٹائرڈ عزیز الملک کو برطرف کر کے اس جگہ حافظ آباد سے پی۔پی۔پی کے ایم۔این۔اے افضل حسین اعوان کو پیپلز ورکس پروگرام کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا ہے جو کہ خوش آئند بھی ہے اور پارٹی کارکنوں کی دادرسی بھی ہوگئی ہے۔ جہاں تک مرکز اور صوبوں کے اختلافات کا تعلق ہے یہ معاملات جمہوریت میں چلتے رہتے ہیں۔ لیکن ہماری گزارش وفاقی حکومت سے فقط اتنی ہے کہ وہ کوئی اہم عہدہ پر تقرری کرتے وقت اس چیز کو ضرور مدنظر رکھے کہ مرزائیت قادیانیت کا فروغ اور کسی کلیدی عہدے پر اس گروہ کے کسی فرد کی تقرری کو نہ صرف کوئی مخالفت سیاسی گروپ بلکہ خود پی۔پی۔پی کے خودار کارکن بھی برداشت نہ کریں گے۔ لہذا تمام ایسی آسامیوں سے مرزائیوں کو فوراً برطرف کیا جائے۔ گوجرانوالہ کے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں خان غلام دستگیر خان، کاظم علی شاہ، ایس۔اے چیمہ، مہر محمد سلیم، مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد، حکیم محمود، حافظ محمد امین، مولانا زاہد الراشدی، علامہ محمد احمد، ڈاکٹر غلام محمد، مولانا عبدالعزیز چشتی، مظہر اقبال رندھاوا اور دیگر رہنماؤں نے قادیانی ایڈمنسٹریٹر کی برطرفی کا خیر مقدم کیا۔‘‘
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷، ۱۸، مورخہ ۳؍اگست ۱۹۹۰ء، بشکریہ ہفت روزہ چٹان لاہور)
مرزا طاہر کا پاکستان کو پاگل خانہ قرار دینا
قادیانی جماعت کے مفرور سربراہ مرزا طاہر احمد نے لندن میں منعقدہ قادیانیوں کے تین روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں پر خدا کا قہر نازل ہوگا اور یہ کہ لاقانونیت کی وجہ سے پورا پاکستان پاگل خانہ بن چکا ہے۔ مرزا طاہر قادیانی کی تقریر کا اقتباس روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا ہے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد ۱۹۸۴ء میں پاکستان سے اس وقت فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ جب امتناع قادیانیت آرڈیننس کا اجراء ہوا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزا قادیانی کا ملک سے فرار انتہائی ڈرامائی تھا۔ موصوف جب سے بیرون ملک گئے ہیں۔ تب سے انہوں نے پاکستان، پاکستانی حکومت اور پاکستانی علماء کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کرنے میں جارحانہ انداز اپنا رکھا ہے۔ اگر قادیانی جماعت کے سربراہ حکومت پاکستان یا پاکستانی علماء تک اپنی ہرزہ سرائی محدود رکھتے تو بات سمجھ میں آتی تھی۔ کیونکہ تمام مکاتب فکر کے علماء نے متفقہ طور پر انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا اور قادیانی فتنہ کی سرکوبی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔ ۱۹۷۴ء میں بھٹو حکومت نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
بعدازاں ۱۹۸۴ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کر کے قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی تھی۔ اسی بناء پر قادیانی جماعت کے سربراہ نے راہ فرار اختیار کرنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ پاکستانی حکومت اور پاکستانی علماء کے خلاف مرزا طاہر احمد کا ردعمل تو فطری امر کی حیثیت رکھتا ہے اور مرزا طاہر قادیانی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ان دو طبقوں پر اپنا غصہ نکالیں۔ جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے۔ قادیانی جماعت نے اعلیٰ سطح پر حکومت سے سیاسی مفادات حاصل کئے ہیں۔ بظاہر موجودہ حکومت نے قادیانی جماعت کو کوئی زک نہیں پہنچایا۔ تاہم آئین وقانون کے مطابق قادیانیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی گرفت کرنا ہر حکومت کا فرض ہے اور ہوگا۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کا حکومت یا علماء پر گرجنا اور برسنا تو برداشت ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ پاکستان ہمارا ملجاء و ماوا ہماری پناہ گاہ اور ہماری آنکھوں کا تارا ہے۔ یہ ہماری پہچان ہے۔ اسی کے صدقے دنیا میں ہماری عزت اور وقار ہے۔ مرزا طاہر احمد نے پاکستان کو پاگل خانہ قرار دے کر بلاشبہ اپنے خبیث باطن کا اظہار کیا ہے۔ اچھا ہوا کہ ان کے دل ودماغ میں چھپی ہوئی وطن دشمنی ان کی نوک زباں پر آگئی۔ ہم تو شروع سے ایک ہی بات کہتے چلے آئے ہیں کہ جو آقا ومولا ﷺ کا وفادار نہیں، وہ پاکستان کا وفادار اور محبّ کیوں کر ہو سکتا ہے؟
قادیانی جماعت کے سرپنچ مرزا طاہر احمد نے پاکستان کے خلاف معاندانہ پراپیگنڈہ کرنا اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ کچھ مدت پہلے بھی موصوف نے وطن دشمنی اور پاکستان کے خلاف بغض کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان جلد ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ تب بھی ہم نے سختی سے مرزا صاحب کا نوٹس لیا تھا۔ خدا کرے ایسی پیشین گوئی کرنے والوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ مرزا طاہر احمد نے یہ الفاظ پاکستان میں کہے ہوتے تو ان کی زبان گدی سے کھینچ کر نکال دی جاتی۔ قادیانی جماعت نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ قادیانی جماعت اکھنڈ بھارت کے الہامی عقیدے پر ایمان رکھتی ہے۔ پاکستان سے نظریاتی بغض اور دشمنی رکھنے والی جماعت اور اس کے سربراہ سے کیونکر توقع رکھی جاسکتی ہے کہ پاکستان کے لئے ان کے منہ سے کوئی کلمہ خیر نکلے۔ مرزا طاہر احمد کی تقریر کے حالیہ ریمارکس سے پوری پاکستانی قوم کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ہمارے پڑھے لکھے اور رواداری کا ورد رکھنے والے حضرات کے لئے وطن عزیز کے خلاف قادیانی جماعت کے قائد کی بکواس لمحہ فکریہ ہے۔ وہ سوچیں کہ اس ملک کا نمک کھانے والی، مراعات ومفادات حاصل کرنے والی اقلیت کے سربراہ کے خیالات پاکستان کے متعلق کس قدر گھٹیا، ناپاک اور نامناسب ہیں۔ ایسی نازیبا زبان کو پاکستان کا کھلا دشمن بھی استعمال کرنے سے گریز کرتا ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۵، ۶، مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۹۹۰ء)
کمپنی باغ جھنگ میں قادیانیوں کی نماز عید پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی
مرزائی تقریباً ۲۵ سال سے جھنگ صدر کی معروف سیر گاہ ”کمپنی باغ“ کے ایک حصہ لیڈیز کلب میں عیدین کی نماز ادا کرتے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھے۔ انتظامیہ سے جب بھی مذاکرات کئے جاتے کہ ان کو آپ یہاں عیدین کی نماز نہ پڑھنے دیں۔ مگر انتظامیہ حسب عادت ٹال مٹول سے کام لیتی۔ اس دفعہ بھی عید الفطر کے موقع پر علمائے کرام کے وفود ڈی سی، ایس۔ پی سے ملے۔ مساجد میں قرار دادیں پاس کروائی گئیں کہ مرزائیوں کو اپنی عبادت گاہوں تک محدود کیا جائے اور ان کو اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکا جائے۔ کیونکہ مرزائی دفعہ ۲۹۸۔ج کے تحت اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر نہیں کر سکتے۔ مگر انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ عیدالفطر گزر گئی۔ عید الاضحیٰ قریب آ گئی۔ ایک دفعہ پھر مساجد میں مندرجہ ذیل عبارت میں قراردادیں پاس کروائی گئیں۔
۲۲/ جون ۱۹۹۰ء بروز جمعہ قرارداد: قادیانی شرعی اور آئینی طور پر اپنی تبلیغ نہیں کر سکتے اور شرعی اصطلاحات کو بھی استعمال کرنا ان کے لئے جرم ہے لیکن جھنگ میں حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانی آئے دن اپنی اسلام دشمن اور ملک دشمن سرگرمیوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اپنی عبادت میں اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کر رہا ہے۔ اس سلسلہ کی ایک کڑی یہ بھی ہے کہ قادیانی لائبریری پارک میں عید کی نماز پڑھتے ہیں اور عید پر اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ لاؤڈ سپیکر پر کرتے ہیں۔ اس سے مسلمانان جھنگ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ لہٰذا انتظامیہ جھنگ سے احتجاج کرتے ہوئے یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کو ان کی عبادت گاہوں تک محدود کیا جائے ورنہ حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔
۲۲/ جون ۱۹۹۰ء وزیراعلیٰ پنجاب، ہوم سیکرٹری، کمشنر فیصل آباد ڈویژن، ڈی آئی جی فیصل آباد ڈویژن، ڈی سی جھنگ، ایس۔ پی، اے۔ ڈی۔ سی۔ جی ان تمام حکام بالا کو مندرجہ ذیل علماء نے درخواستیں ارسال کیں۔
- ۱...... مولانا سید صادق حسین شاہ۔ ۲...... مولانا رشید احمد مدنی۔ ۳...... مولانا محمد رفیق۔
- ۴...... مولانا محمد الیاس بالاکوٹی۔ ۵...... مولانا محمد یاسین۔ ۶...... حکیم اللہ بخش۔
- ۷...... مولانا غلام حسین۔
ان سب حضرات نے حکام بالا کو درخواستیں بھیجیں۔ پھر چار علماء پر مشتمل وفد نے ڈی سی، ایس۔ پی سے ملاقات کر کے ان کو حالات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ قادیانی لائبریری پارک کی بجائے لیڈیز کلب میں عید پڑھتے ہیں اور وہ محفوظ جگہ ہے۔ چار دیواری اندر چار دیواری ہے۔ وہ بالکل محفوظ جگہ ہے لیکن ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ وہ اپنے مرکزوں میں جو کچھ کرتے ہیں کریں لیکن پبلک پارک میں ان کو اجازت نہیں ہونا چاہئے۔ مختصر یہ کہ ۳/ جولائی ۱۹۹۰ء بروز منگل تقریباً ڈیڑھ بجے دن انتظامیہ نے مسلمانوں کو بالکل جواب دے دیا کہ قادیانی لیڈیز کلب میں نماز عید ادا کریں گے۔
انتظامیہ کے اس جواب کے بعد علماء نے احباب کے مشورہ سے فیصلہ کیا کہ ہم اس دفعہ مرزائیوں کو عید وہاں نہیں پڑھنے دیں گے۔ اگر مرزائی وہاں عید پڑھیں گے تو ہم بھی عید وہیں پڑھیں گے۔ چنانچہ اس فیصلہ کے بعد مساجد میں اعلان کروائے گئے۔ ساتھ ہی رکشہ پر بھی عام منادی کی جانے لگی کہ مسلمان نماز عید کمپنی باغ میں ادا کریں۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلمان انتظامیہ کو کارکنان ختم نبوت کا یہ اعلان بری طرح چبھا۔ انہوں نے اعلان کرنے والے تین کارکنان امجد اقبال ساجد، چوہدری محمد ندیم، محمد حنیف کو رکشہ ڈرائیور انجم سمیت گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ جب انتظامیہ سے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تو جواب ملا کہ ہم ”اوپر کے حکم“ سے مجبور ہیں نہ جانے پاکستان کے مقدر کو یہ ”اوپر والا حکم“ کب تک تباہ کرتا رہے گا۔ نہ جانے ”اوپر“ کون سی طاقت ہے جو گستاخان رسول کا اس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قدر تحفظ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ آج کل جب کہ مارشل لاء معہ اپنے ”حواریوں“ کے رخصت ہو چکا ہے۔ جمہوریت اور آئین میں بحال ہو چکا ہے نہ جانے کیوں مارشل لاء کے ”گماشتے“ ایک مرتبہ ملک وقوم کو سیاہ اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ بہر کیف کارکنان ختم نبوت کے اعلان سے انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔ ایس۔ پی، ڈی۔ سی، ڈی۔ آئی۔ جی تک ٹیلیفون کھڑک گئے کہ مسلمان جاگ اٹھا ہے اور مرزائیوں کو قانون کی لگام چڑھانا چاہتا ہے۔ رات دس بجے ایس۔ ایچ۔ او نے ”مجبوراً“ ناظم ختم نبوت مولانا غلام حسین سے رابطہ کیا اور کہا کہ مولانا آپ عید وہاں نہ پڑھائیں۔ مولانا نے جواب دیا بھئی ہمارا تو مطالبہ یہ ہے کہ مرزائیوں کو عید وہاں نہ پڑھنے دیں۔ اس نے وعدہ کیا کہ ہم مرزائیوں کو وہاں عید نہیں پڑھنے دیں گے۔ آپ بھی نہ پڑھیں۔ مولانا نے بھی یقین دلایا کہ اگر مرزائی نہیں پڑھیں گے تو ہم بھی نہیں پڑھیں گے۔ کارکنان جن کا دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے دفعہ ۱۸۸ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ان کی رہائی کا جب مطالبہ کیا گیا تو جواب ملا کہ انہوں نے جرم کیا ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے پاکستان میں آقاﷺ کی ختم نبوت کا پرچار جرم قرار پایا۔ ناظم ختم نبوت مولانا غلام حسین نے مرکزی دفتر میں مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن ملتان، مولوی فقیر محمد سیکرٹری اطلاعات ونشریات فیصل آباد، ایڈیٹر لولاک صاحبزادہ طارق محمود سے بھی رابطہ کیا۔ رب العزت کے فضل و کرم، آقا کریم ﷺ کی ختم نبوت کی برکت اور قائدین ختم نبوت کی محنت کے نتیجہ میں کارکنان ختم نبوت کو ۴؍جولائی عید والے دن بعد از نماز ظہر ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ کارکنوں کے ایک رات حوالات میں گزارنے کا فائدہ یہ ہوا کہ مرزائی جو گزشتہ ۲۵ سال سے عیدین کی نماز پبلک پارک میں پڑھ رہے تھے اس پر پابندی لگ گئی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۴، ۱۵، مورخہ ۱۳؍اگست ۱۹۹۰ء)
حضرت الامیر خواجہ خان محمد صاحب کی حج سے واپسی، ملتان ہوائی اڈے پر شاندار استقبال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خان محمد صاحب حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف یاب ہونے کے بعد ۱۴؍جولائی ۱۹۹۰ء صبح ساڑھے نو بجے کراچی سے ملتان پہنچے۔ ہوائی اڈے پر جماعتی احباب اور حضرت الامیر کے مریدین کی ایک بڑی تعداد نے مولانا خان محمد صاحب کا شاندار استقبال کیا۔ استقبال کرنے والوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، صاحبزادہ طارق محمود، مولوی فقیر محمد سیکرٹری اطلاعات ونشریات فیصل آباد اور جماعتی کارکنوں نے حضرت الامیر کا خیر مقدم کیا۔ بعد ازاں مولانا خواجہ خان محمد صاحب دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تشریف لائے۔ جہاں رابطہ سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے حضرت کا خیر مقدم کیا۔ مختلف شہروں سے آنے والے وفود نے حضرت الامیر کو حج کی مبارک باد دی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۵، ۱۶، مورخہ ۱۳؍اگست ۱۹۹۰ء)
مسلم کالونی ربوہ میں ایک مسلمان پر قادیانی غنڈوں کا حملہ
مؤرخہ ۱۶؍اگست ۱۹۹۰ء بروز جمعرات رات ڈیڑھ بجے کے قریب چھ عدد قادیانی غنڈے مسلم کالونی ربوہ میں ایک مسلمان جو کہ ٹی آئی کالج ربوہ کا لائبریرین ہے، کے مکان کے اندر داخل ہو کر حملہ آور ہوئے۔ مسلمان بال بال بچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق ۱۶؍اگست کی شب ڈیڑھ بجے کے قریب جب کہ تمام افراد خانہ سوئے تھے ایک شخص دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا تو مضروب غلام دستگیر کی ہمشیرہ کی آنکھ کھل گئی تو اس نے زور زور سے پکارنا شروع کر دیا کہ بھائی جان چور چور تو مضروب غلام دستگیر اٹھ کر فوراً آگے بڑھا تو اتنے میں ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شخص اور اندر داخل ہو گیا تو اس نے دونوں کو دبوچ لیا تو انہوں نے آواز لگائی کہ اندر آ جاؤ اور للکارا کہ اس کو جان سے مار دو۔ اتنے میں چار افراد اور اندر داخل ہو گئے تو کل چھ اشخاص ہو گئے تو انہوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ جیسے زمین کو پیٹا جا رہا ہو۔ اس اثناء میں غلام دستگیر کی ضعیف والدہ اور ہمشیرہ مزاحمت کرتی رہیں اور یہ کہتی رہیں کہ تم نے جو کچھ لوٹنا ہے وہ لے لو مگر میرے بیٹے کو کچھ نہ کہو۔ کیونکہ وہ اس بوڑھی عمر میں واحد سہارا ہے اور وہ ان کا اکلوتا بیٹا ہے۔
مگر وہ بدطینت غنڈے جو اپنے کردار کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں یہ وہی غنڈے ہیں جن کو پہلے فرقان بٹالین فورس کے نام سے پکارا جاتا تھا تو جب اس بدمعاشی اور غنڈہ گردی پورے عالم میں عام ہونے لگی تو اس کا نام تبدیل کر کے خدام الاحمدیہ رکھ دیا گیا تو یہ حملہ بھی انہی سورماؤں کی شرافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مضروب غلام دستگیر کے سر میں دو وار ڈنڈے سے کیا تو تیسرا وار کلہاڑی سے کیا۔ اسلحہ ان کے پاس موجود تھا۔ ویسے تو پورے ربوہ میں ان کے نام نہاد مرزا وڑے اقصیٰ کی بیرکیں، اسلحہ، شراب، جوا، زنا کے لئے مختص ہیں۔ اگر وہ اسلحہ استعمال کرتے تو مسلمان بیدار ہو جاتے اور وہ موقعہ پر پکڑے جاتے۔ دستگیر نے ہمارے نمائندہ ختم نبوت کو بتایا کہ جب میں نے دیکھا کہ اب یہ چھ ہیں اور میں اکیلا تو میں خون میں لت پت اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہی مکان کا دروازہ کھول کر اپنے مکان کے عقب سے ہوتے ہوئے اپنے ہمسائے عارف اور وارث کے گھر گیا اور ان کو بتایا کہ قادیانیوں نے مجھ پر حملہ کر دیا تو وہ فوراً اپنی بندوق نکال کر مکان پر پہنچے تو وہ وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔ اس کے بعد قرب و جوار کے تمام مسلمان بیدار ہو گئے تو مضروب کو ہسپتال چنیوٹ لے جایا گیا۔ جہاں پر اس کے سر میں ٹانکے وغیرہ لگا کر مرہم پٹی کی گئی اور وہیں داخل ہے۔ یاد رہے کہ غلام دستگیر گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں لائبریرین ہے۔ جمعرات کو قاری طالوت احمد جالندھری مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا اللہ یار ارشد مبلغ مجلس احرار اسلام نے بھر پور کوشش کر کے مقدمہ درج کرایا۔ مگر پولیس ملزموں کو پکڑنے میں سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ہم حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملزموں کو جلد گرفتار کر کے ان کے خلاف جو دفعہ ۳۰۷، ۴۵۲، ۱۴۸، ۱۴۹ ت پ مقدمہ درج ہوا ہے۔ کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص بیک ٹائٹل مؤرخہ ۲۸؍ستمبر تا ۴؍اکتوبر ۱۹۹۰ء)
قادیانی ملزم کو ایک سال سزا قید اور ہزار روپیہ جرمانہ
مجسٹریٹ رانا فاروق احمد خان نے آج یہاں حافظ آباد روڈ پر قادیانیوں کے مرکز پر سرعام کلمہ طیبہ لکھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلانے اور قادیانی آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والے مرزائی محمود احمد بھٹی کے مشہور مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو ایک سال قید با مشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں ملزم کو مزید دو ماہ قید سخت کی سزا بھگتنا ہو گی۔
مسلمانوں کی طرف سے مقدمہ کی پیروی ممتاز قانون دان نوید انور نوید ایڈووکیٹ، ابرار احمد خاں ایڈووکیٹ، چوہدری محمد ظفر سیکھو ایڈووکیٹ اور سرکاری وکیل سردار حفیظ الرحمٰن نے فرائض سر انجام دیئے۔ مقدمہ کا فیصلہ سننے کے لئے حافظ محمد ثاقب، چوہدری غلام نبی، مولوی محمد رفیق، خواجہ محمد شفیق، حافظ احسان الواحد اور عبدالرزاق خان کی قیادت میں ختم نبوت کے کارکنوں اور مسلمانوں کی کثیر تعداد احاطہ کچہری میں موجود تھی۔ بعد ازاں ملزم کو پولیس نے سنٹرل جیل گوجرانوالہ میں پہنچا دیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں اور دہریہ تحریکوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جامعہ الازہر کے ریکٹر کی مسلمانوں سے اپیل
AL-AZHAR URGES MUSLIMS TO COMBAT HERETIC CULTS
The Islamic Research Academy at the Azhar University has called on Muslims to mobilise all their energies and resources to combat the nefarious activities carried out by the heretic Qadiyanis and Bahais.
Describing these sects as main sources of spreading blasphemous and heretic ideas, the academy said they were renegades to the religion of God. It was necessary for the Muslims to combat their malicious activities by all means.
A study made by the academy and approved by the Rector of the Azhar University, Shaikh Jad al-Haq Ali throws light on the historical causes of the emergence of these heretic sects.
It said they were mixture of ideas and philosophies of man-made religious orders. They have nothing new to offer to the Islamic religion. The study stressed the fact these heretic sects were created by the Zionists and imperialists to serve their own ends. The Muslim Ummah has suffered great damage at the hands of these heretics as they have been waging an undeclared war on Islam. It is therefore imperative for all Muslims to stand united and fight against the enemies of Islam with all material and intellectual resources at their disposal.
(Courtesy: 'MUSLIM WORLD NEWS')
گمراہ قادیانیوں اور بہائیوں کی غلط مشرکانہ حرکات کا مقابلہ کرنے کے لئے الازہر یونیورسٹی کی اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے وسائل اور طاقت ان کے خلاف استعمال کریں۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے ان گمراہ گروہوں کو دہریہ اور مجرمانہ خیالات پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ یہ گمراہ لوگ اللہ کے دین کے مخالف غنڈوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان کی مجرمانہ حرکتوں کا مقابلہ ہر طریقہ سے کریں۔ الازہر یونیورسٹی کے ریکٹر (مہتمم اعلیٰ) کی ہدایات پر اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے ایک تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے جو ان گمراہ گروہوں اور فرقوں کی بناء کے تاریخی اسباب پر روشنی ڈالتا ہے۔ اسی جائزے سے یہ معلوم ہوا کہ ان فرقوں کے اصول اور فلسفے انسانوں کے خودتراشیدہ مذہبی سلسلے ہیں جن سے دین اسلام کو کوئی مناسبت نہیں ہے۔ تحقیقی جائزے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ گمراہ فرقے یہودیوں اور استعماری طاقتوں کے پیدا کردہ ہیں اور مسلم امت نے ان کے ہاتھوں سے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ کیونکہ یہ طاقتیں اسلام کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ تمام مسلمان متحد ہو کر اپنے تمام مادی وعلمی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان دشمنان اسلام کا مقابلہ کریں۔
(بشکریہ: ”مسلم ورلڈ نیوز“)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج۹ش۱۵ص۲۲، مورخہ ۱۴ تا ۲۰/ستمبر ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈی سی، ایس. پی جھنگ کے نام مولانا اللہ وسایا کا خط
جناب ایس. پی صاحب ...... جناب ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع جھنگ
حالیہ حکومتی تبدیلی کے باعث نگران حکومت کو سبوتاژ کرنے اور امن وامان کو تہہ و بالا کرنے کی غرض سے قادیانی جماعت خوفناک جارحیت پر اتر آئی ہے۔ مسلم کالونی ربوہ کے رہائشی جناب غلام دستگیر پر رات ساڑھے گیارہ بجے ان کے مکان کی دیوار پھلانگ کر چھ مرزائی اندر داخل ہوئے۔ اس کے سر پر کلہاڑی ماری۔ زخمی کیا۔ مارا پیٹا اور اپنی طرف سے مار کر چلے گئے۔ اس کی بوڑھی والدہ کے رونے دھونے پر ہمسائے اکٹھے ہوئے۔ زخمی حالت میں اسے چنیوٹ ہسپتال لے گئے۔ پولیس نے پرچہ درج کیا مگر تاحال کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ حالانکہ پولیس چاہتی تو قادیانی قیادت کو شامل تفتیش کرتی۔ ایک گھنٹہ کے نوٹس پر ملزمان گرفتار ہو سکتے ہیں۔ بجائے احتجاجی راستہ اختیار کرنے کے آپ کے دروازے پر دستک دی ہے کہ شاید اس کا مداوا فرما کر ممنون فرمائیں۔ بڑی بے تابی سے آپ کے منصفانہ اقدام کے منتظر ہیں۔
انتہائی دکھ کے ساتھ آپ کا مخلص: اللہ وسایا سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)
نوٹ: صدر مملکت، پرائم منسٹر، وزیر داخلہ، گورنر، چیف منسٹر، آئی. جی، کمشنر، ڈی. آئی. جی، ایس. پی، ڈی سی کو تاریں بھجوائی گئیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مورخہ ۷ تا ۱۳ ستمبر ۱۹۹۰ء)
قادیانیوں کا گھناؤنا کاروبار
قادیانیوں کے برطانیہ میں گھناؤنے سلسلے ...... اس واقعہ کا تعلق لندن سے ہے جہاں مرزا طاہر مقیم ہے۔
ایک مسلمان ماں کا قادیانی (تنظیم انصار اللہ برطانیہ) کے صدر آفتاب خان کے نام کھلا خط
قادیانی لڑکیاں کس طرح مسلمان نوجوانوں کا شکار کھیلتی ہیں۔
شانی نام کی قادیانی لڑکی، مسلمان لڑکا اطہر حفیظ غوری جسے اس لڑکی نے اپنے جال میں پھنسا کر مرتد بنایا اور شادی رچالی اور پھر مکان پر قبضہ کرنے کے لئے کیس بھی کر رکھا ہے۔ اطہر حفیظ غوری کی والدہ زاہدہ غوری نے آفتاب خان قادیانی کو ایک خط لکھا ہے جس کے چند اقتباسات قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہیں۔ جس سے وہ اندازہ لگائیں گے کہ قادیانی اپنے باطل مذہب کو پھیلانے کے لئے کس قدر ذلیل حرکتوں پر اتر آئے ہیں۔
(لندن) کچھ دن ہوئے فون پر آپ سے بات ہوئی تھی۔ میں اطہر حفیظ غوری کی ماں ہوں۔ الیاس ناصر (قادیانی) اس کی بیوی اور ان کی بیٹی شانی (قادیانی لڑکی) اطہر حفیظ غوری کی عقل پر پردہ ڈال کر اس سے جائز و ناجائز کام کرا رہے ہیں۔ کیا آپ کے ...... میں یہ حکم ہے کہ اللہ کی طرف سے کہ ماں باپ کو گھر سے نکالو اور ان پر کورٹ کیس کرو اور ان کا مال ناحق چوری کر کے لے لو۔ اگر یہ سب کچھ ہے تو مجھے افسوس سے کہنا پڑے گا کہ آپ سب جھوٹے ہیں اور آپ سب کا ایمان ............ بھی جھوٹا۔ اگر آپ نے انصاف کرنا نہیں سیکھا تو یاد رکھیں یہ دنیا چند روز کی ہے۔ آخر ہر چیز کا حساب بہت بڑی عدالت میں دینا ہوگا۔ یہاں تو آپ چوروں کی اور جھوٹوں کی عدالت میں کامیاب ہو جائیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرآن میں آتا ہے کہ فتنہ قتل سے بھی زیادہ برا ہے۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگ کیوں قاتل ہو۔ لوگوں کے بچے، مال اور حق چھین کر تم تو واقعہ میں ظالم اور قاتل ہو۔ یہ بات تو یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ یہ تو آنے والی نسلوں تک جاتی ہے اور اس کے ذمہ دار آپ کاذب لوگ ہیں۔ کیا مکان چھوٹ جانے سے اطہر چھوٹ جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ ان شاء اللہ ! اس کی رگوں میں ایک مجاہد کا خون ہے۔ ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔ یہ بدمعاش ( قادیانی ) لڑکی نے سات سال تک میرے بیٹے سے یارانہ لگا کر اس کی کمائی اور جوانی لوٹتی رہی اور اس سے پہلے بھی آپ لوگوں کی لڑکی مشرف بھی اپنے گھر سے اپنے کپڑوں کا بیگ لے کر میرے بیٹے کے لئے جو اس (اطہر) سے بڑا تھا، آگئی تھی اور میں نے تم لوگوں کی عزت رکھتے ہوئے اس کے بھائی کو واپس کی تھی۔ ان سے کہو کہ اسلام کا نام لینا چھوڑ دیں۔ ورنہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ منافقوں کی کافروں سے بھی زیادہ سزا ہوگی۔
اس سے پہلے اطہر کے والد صاحب نے بھی اس کو خط لکھا تھا۔ اس کی کاپی بھی بھیج رہی ہوں تاکہ آپ بھی پڑھ لیں اور یہ اخبار کی کاپی بھی بھی بھیج رہی ہوں اور بھی اخباروں کو کاپیاں بھیجتی رہوں گی۔ اطہر حفیظ غوری کی ماں: زاہدہ غوری!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۶، مورخہ ۱۲ تا ۱۸/اکتوبر ۱۹۹۰ء)
چک سکندر ۳۰ رکھاریاں میں مسلمانوں پر بے جا تشدد
گزشتہ سال عید الاضحیٰ کے دوسرے روز قادیانیوں نے حسب سابق سینہ زوری کرتے ہوئے چک ہذا کے ایک مسلمان نوجوان کو قتل کر دیا تھا۔ چونکہ عید الاضحیٰ کی چھٹیاں تھیں۔ لوگ گھروں میں موجود تھے اور علاقہ کے رواج کے مطابق چک سکندر کے ساتھ تھوڑے فاصلے پر بھیڑ بکریوں کی منڈی مویشیاں تھی جو ایک میلہ کی شکل اختیار کر گئی۔ کافی تعداد میں مسلمان نزدیک دور سے اکٹھے تھے۔ جب قادیانیوں نے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے سردار احمد نوجوان کو شہید کیا تو لازمی بات ہے کہ اس لرزہ خیز قتل کی آواز بجلی کی طرح چاروں طرف پھیل گئی اور یہی قادیانی چاہتے تھے۔ سابقہ جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں یہ بات ثابت ہے کہ ان سب تحریکوں میں پہل قادیانیوں نے کی۔ ان کی ملک دشمنی کی علامت یہی ہے کہ جس دن سے پاکستان معرض وجود میں آیا قادیانی اکثر و بیشتر کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کر کے اس ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگاتے رہتے ہیں۔ ۱۹۵۳ء میں بھی دس ہزار سے زیادہ مسلمان نوجوان شہید ہوئے اور اس کا پیش خیمہ بھی مرزا محمود کی یہ بڑھک تھی کہ ۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے کہ ”احمدی“ پورے پاکستان خصوصاً بلوچستان میں چھا جائیں۔
۱۹۷۴ء کی تحریک میں بھی ربوہ اسٹیشن پر ان کی پہل تھی کہ کئی مسلمان نوجوانوں کو پکڑ کر زدوکوب کیا اور حالات بگاڑے۔ نتیجتاً پورے پاکستان میں تحریک چل نکلی۔ چک سکندر ۳۰ میں بھی پہل انہوں نے کی۔ مسلمان نوجوانوں کو شہید کیا۔ مسلمانوں کے جذبات مشتعل کئے۔ پہلے دو گھروں کو آگ لگائی جس سے مسلمان مشتعل ہو گئے۔ خبر دور تک پہنچی۔ خصوصاً جو مسلمان بکریوں، بھیڑوں کی منڈی میں آئے ہوئے تھے اور جو تھوڑے ہی فاصلے پر تھے فوراً چک سکندر میں گھس آئے اور جب نوجوان کی لاش کو تڑپتے ہوئے دیکھا تو مرزائیوں کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ جن قادیانیوں کے پاس اسلحہ تھا وہ مورچہ بند ہو گئے اور فائرنگ شروع کر دی۔ چنانچہ اس عمومی بلوہ میں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ باہر سے آئے ہوئے تھے جن میں ہر قسم کے لوگ شامل تھے۔ انہوں نے بھی دفاعی فائرنگ کی۔ بعض چشم دید گواہوں کے مطابق خود قادیانی بھی اپنے ہی گھروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ چنانچہ اس افراتفری کے عالم میں مسلمان چک ہذا سے اپنے نوجوان کی لاش
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لے کر تھانہ کھاریاں پہنچے۔ جب کہ باہر سے آئے ہوئے مسلمان شہر کی حفاظت میں لگ گئے۔ اس افراتفری میں ایک بچی سمیت دو قادیانی مرد جہنم رسید ہو گئے۔
چک سکندر کے مسلمانوں کا مؤقف یہ ہے کہ ہم تو اپنے نوجوان کی تجہیز وتکفین اور تھانے پہنچانے میں مصروف رہے۔ قادیانیوں نے جو کھیل شروع کیا اور جس نے کیا وہ اس میں کامیاب ہو گئے اور ابتداء کرنے کے باوجود بھی وہ امریکہ اور دیگر ممالک میں مکانوں اور دوکانوں کے فوٹو پیش کر کے اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شنید یہ ہے کہ لاہور میں امریکی قونصلر کھاریاں چک سکندر کے واقعہ میں زبردست انٹرسٹ لے رہا ہے۔ مقامی حکام ضلع گجرات نے مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ قادیانیوں نے چک کے ۴۴ مسلمانوں پر قتل حملہ کا پرچہ درج کرایا ہے۔ جب کہ چک کے مسلمان فائرنگ میں بے گناہ ہیں۔ ڈی سی گجرات زبردست بد اخلاقی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جو آدمی ملنے جاتے ہیں ان پر ڈکٹیٹر کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے۔ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی مرکز کی طرف سے وہاں ڈی سی کو ملنے گئے تو ان کے ساتھ زبردست بد اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔ گالیاں نکالیں کہ تم سرگودھا سے یہاں کیا لینے آئے ہو۔ چک کے مسلمانوں کے ساتھ رویہ بھی نامناسب ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قادیانیوں کی طرف سے ڈی سی پر زبردست دباؤ ہے۔ وہ ہر حال میں مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دریں حالات نگران وزیر اعظم جتوئی، وزیر اعلیٰ پنجاب مسلمانوں کے حالات پر رحم کھائیں اور امریکہ کے قونصلیٹ جو اس مسئلہ میں اچھی خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے اس کو حقائق سے آگاہ کریں اور اگر مقامی انتظامیہ نے اسی طرح ڈکٹیٹر شپ کا ثبوت دیا اور حالات کو نظر انداز کرتے رہے تو ایک تحریک چل سکتی ہے اور یہی کچھ قادیانی چاہتے ہیں اور ہمیشہ سے ان کا وطیرہ رہا ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ حکومت پنجاب خصوصی دلچسپی لے کر حالات کو بگاڑنے سے روکے گی اور جانبداری کا مظاہرہ نہ کرے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اداریہ ص ۵، مؤرخہ ۱۲ تا ۱۸ / اکتوبر ۱۹۹۰ء)
قادیانی جماعت کا اشتہار صدر فوری نوٹس لیں
مؤرخہ ۲۶ / ستمبر ۱۹۹۰ء روزنامہ نوائے وقت لاہور میں قادیانی جماعت کے ناظر امور عامہ مرزا خورشید احمد کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوا ہے جس میں ہونے والے ملکی انتخابات کے سلسلہ میں قادیانی جماعت کی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اشتہار میں کہا گیا ہے کہ قادیانیوں کے لئے مختص کی گئی نشستوں پر انتخاب میں حصہ لینا قادیانی اپنے ضمیر اور اعتقاد کے منافی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں نے انتخابی فہرستوں میں بطور ووٹر اپنے ناموں کا اندراج نہیں کروایا۔ ناظر امور عامہ نے اشتہار میں اس بات کا اعادہ کیا ہے۔ ۱۹۸۵ء کے انتخابات میں قادیانیوں نے اپنے لئے مخصوص اقلیتی نشستوں پر انتخاب میں حصہ نہیں لیا تھا۔ یہ نشستیں خالی رہیں۔ اس اشتہار میں قادیانی جماعت کی طرف سے ملک بھر کے قادیانیوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ملک میں ہونے والے انتخابات میں اگر کسی مفاد پرست قادیانی نے مخصوص اقلیتی نشست پر بطور احمدی حصہ لیا تو وہ کسی طور پر بھی جماعت کا نمائندہ نہیں کہلا سکتا اور نہ ہی اسے قادیانیوں کا نمائندہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
۱۹۸۸ء کے انتخابات کے موقع پر قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے پروگرام کا اعلان ہوا تو قادیانی جماعت نے ۲۲ / ستمبر ۱۹۸۹ء کو اخبارات میں ایسی نوع کا اشتہار دیا تھا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ کوئی قادیانی اسمبلی میں مخصوص اقلیتی نشست پر انتخاب میں حصہ لینے کی کوشش نہ کرے۔ کیونکہ قادیانی جماعت کے نزدیک ایسا کرنا ان کے ضمیر اور اعتقاد کے خلاف ہے۔ چنانچہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی جماعت نے اشتہار کے علاوہ جماعت کے وفود اور تحریری طور پر چیف الیکشن کمشنر کو مطلع کیا تھا کہ قادیانیوں کے لئے مختص اقلیتی نشست پر انتخاب کا کوئی آئینی، قانونی اور اخلاقی جواز نہیں اور ان نشستوں پر انتخاب انصاف، قانون اور نیابت کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔
قادیانیوں کو ۱۹۷۴ء میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلہ سے قبل انہیں مکمل طور پر اپنے عقائد کی وضاحت اور اپنے مؤقف کی صراحت کا حق دیا گیا تھا۔ قادیانی جماعت نے ابھی تک اپنے فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نہ قادیانیوں نے انتخابی فہرستوں میں اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے اور نہ ہی وہ اسمبلیوں میں مخصوص اقلیتی نشست پر انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ قادیانی جماعت ۱۹۷۴ء کے قومی اسمبلی کے فیصلہ کے خلاف ابھی جارحانہ پالیسی سے باز نہیں آئی۔ قادیانیوں کی اقلیتی نشست پر ۱۹۸۸ء میں جس قادیانی نے حصہ لیا، اسے قادیانی جماعت نے اپنا نمائندہ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ ۱۹۸۹ء کا اشتہار در حقیقت اسی وضاحت کے لئے تھا اور اب بھی انتخابات آئندہ کے انعقاد کے موقع پر قادیانی جماعت نے پیشگی وارننگ دے کر اپنی سابقہ پالیسی کا اعادہ کر دیا ہے۔ قادیانی جماعت کی یہ پالیسی بڑی عجیب و غریب ہے کہ وہ ملک کے اندر انہیں اقلیت قرار دیئے جانے والے فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ یعنی بدستور مسلمان ہونے اور رہنے پر مصر ہیں۔ لیکن بیرون ملک وہ یہ پراپیگنڈہ کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ پاکستان میں ان کی اقلیت پر بڑے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ قادیانی جماعت کی دورخی پالیسی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک طرف تو وہ اپنے آپ کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے اور دوسری طرف وہ بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان کے اندر جتنی اقلیتیں ہیں، مثلاً ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی وہ سب اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرتے ہیں لیکن قادیانی جماعت نے آج تک اپنے آپ کو اقلیت تسلیم نہیں کیا۔ قادیانی جماعت کا سابقہ اور حالیہ اشتہار آئین اور قانون سے کھلی بغاوت ہے۔ ہم صدر مملکت جناب غلام اسحاق خان جنہوں نے اب تک ملک کے صحیح آئینی صدر کا کردار ادا کیا ہے ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ قادیانی جماعت کی خرمستیوں کا فوری نوٹس لیں گے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲، ۵، مورخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۹۰ء)
راولپنڈی میں اہل اسلام کی زبردست فتح
راولپنڈی میں کچھ عرصہ قبل قادیانی کھلے عام دندناتے پھرتے تھے۔ شعائر اسلام کی توہین روز کا معمول بنا لیا تھا۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی کھلی دھجیاں بکھیری جاتی تھیں اور انتظامیہ قادیانیوں کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی تھی۔ قادیانیوں نے اپنے کفر گڑھ پر کلمہ طیبہ تحریر کیا ہوا تھا جو پہلے ہی محفوظ کر لیا گیا تھا۔ ابھی حال ہی میں مرزائہ سے لاؤڈ اسپیکر اتروایا گیا۔ مرزائہ کے باہر روڈ پر ان کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگ چکی ہے۔ عرصہ دراز سے مرزائہ پر احمدیہ لائبریری کی تختی نصب ہے۔ جس پر لفظ احمدیہ کا اشارہ تحریر تھا جو سراسر قانون کی خلاف ورزی اور حضور اکرم ﷺ کی گستاخی کا موجب تھا اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جا رہا تھا۔ بار بار مطالبات کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ علماء کے وفد نے انتظامیہ سے ملاقاتیں کیں۔ متعلقہ تھانہ میں میٹنگ ہوئی۔ مگر انتظامیہ ہر دفعہ یقین دہانی کراتی رہی۔ بالآخر ختم نبوت اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا ایک فیصلہ کن اجلاس زیر صدارت مولانا احسان دانش منعقد ہوا۔ جس میں حتمی فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ مجسٹریٹ سے آخری ملاقات کی جائے۔ ورنہ مجاہدین ختم نبوت خود وہ تختی اتار دیں گے۔ طلباء کا ایک وفد ضلعی کچہری میں گیا۔ علاقہ مجسٹریٹ فوری اے سی کے پاس گیا اور صورت حال سے آگاہ کیا۔ اسی دوران قادیانیوں کے سربراہ بھی مجسٹریٹ کی عدالت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں پہنچ گئے۔ مجسٹریٹ کا رویہ مسلمانوں کے متعلق بہت سخت تھا۔ جس پر انتظامیہ نے فوری ایکشن لیا۔ بالآخر کئی سال کا مطالبہ منظور ہوا اور محفوظ ہو گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/نومبر ۱۹۹۰ء)
جعلی کھاد، جعلی نبی
مؤرخہ ۲/دسمبر ۱۹۹۰ء کے اخبارات میں خبر آئی ہے کہ : ’’ربوہ میں جعلی کھاد کی ساٹھ بوریاں برآمد ہوئی ہیں۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ حکام کو اطلاع ملی کہ ربوہ میں ایک دوکان پر کھلی بوریوں میں مہنگے داموں کھاد فروخت ہو رہی ہے۔ موقع پر چھاپہ مارا گیا تو تحقیق پر معلوم ہوا کہ خیر سے کھاد ہی جعلی ہے۔ جس پر دوکاندار کو گرفتار کر لیا گیا۔ جعلی کھاد کی خبر پڑھ کر ربوہ میں بسنے والے جعلی امتیوں کے پیشوا کے جعلی دعویٰ نبوت کا خیال آ گیا۔ جن لوگوں کا نبی جعلی، خلیفہ جعلی، صحابی جعلی، دین جعلی حتیٰ کہ جنت و دوزخ جعلی ہو۔ ان کے نزدیک جعلی کھاد کی تیاری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ان کے آنجہانی پیشوا مرزا قادیانی نے پہلے جعلی مہدی پھر جعلی مسیح پھر جعلی نبوت کا دعویٰ کیا بلکہ خود کو اصلی نبوت سے بھی زیادہ کھرا اور روشن بنا کر پیش کرنے کی سازش کی۔ نعوذ باللہ ! اس کے بقول حضور ﷺ کی مثال پہلی تاریخ کے چاند کی طرح ہے اور اس کی (مرزا) کی مثال چودھویں کے چاند کی طرح ہے۔ ایک قادیانی شاعر کے بقول ؎
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
وغیرہ خرافات اور جعل سازیوں کی عادت خبیثہ نے ان کے مزاج میں جعل سازی کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔ ایک دفعہ جسٹس کیانی کسی پروگرام پر ربوہ کالج گئے تو آنجہانی مرزا ناصر نے سپاسنامہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ہم نے ربوہ کی پتھریلی زمین کھود کر اسے درختوں سے بھر دیا ہے تو اس کے جواب میں جسٹس نے کہا کہ تم لوگوں نے تو (ختم نبوت) جیسی سنگلاخ زمین میں نئی نبوت کا پودا لگا دیا۔ یہ ظاہری شجر کاری تو تمہارے لئے بہت ہی آسان ہے۔ قصہ مختصر جعلی کھاد برآمد کرنے والے حکام سے میری گزارش ہے۔ جہاں ان پر جعلی کھاد کے سلسلے میں مقدمہ قائم کیا جائے۔ وہاں ان کے جعلی کاروبار نبوت پر بھی پابندی لگائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر آئین پاکستان کے تحت مقدمات قائم کر کے ان پر تعزیر (صدیقی) نافذ کی جائے تا کہ ملک جعلی نبوت کی نحوست سے پاک ہو سکے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، مؤرخہ ۲۱/دسمبر ۱۹۹۰ء)
ملتان میں قادیانی مذہب کا پرچار کرنے والوں کو قید بامشقت کی سزا
ملزمان نے اپنی قریبی دوکانداروں کو قادیانی مذہب اختیار کرنے پر زور دیا تھا اور پڑھنے کے لئے کتابیں دی تھیں۔
مجسٹریٹ درجہ اوّل ملتان سید زاہد حسین قادری نے قادیانی مذہب کا پرچار کرنے پر دو افراد کو مجموعی طور پر ۱۲/ سال قید بامشقت، ساٹھ ہزار روپے جرمانہ، ایک سال قید تنہائی اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر تین سال قید محض مزید کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ۱۹۸۷ء کو گھنٹہ گھر کے قریب تغلق روڈ پر دو بھائیوں محمد حنیف اور محمد احسن ولد خدا بخش نے اپنے ہمسایہ دوکاندار محمد اسلم کے ذریعہ مدعی مقدمہ محمد حسین اور محمد رفیق دوکاندار کو اپنی دوکان پر بلا کر قادیانی مذہب کا پرچار شروع کر دیا۔ دونوں بھائیوں نے تینوں دوکانداروں کو بتایا کہ وہ قادیانی ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان رکھتے ہیں۔ محمد حنیف نے تینوں دوکانداروں کو اپنا لٹریچر پڑھنے کے لئے دیا اور اس پر دیگر دوکاندار بھی اکٹھے ہو گئے۔ ان تینوں افراد نے انہیں بتایا کہ محمد حنیف اور محمد احسن نے انہیں قادیانی مذہب اختیار کرنے کی دعوت دی ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس پر مسلمان مشتعل ہو گئے اور جلوس کی شکل میں تھانہ پرانی کوتوالی پہنچ کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کے قبضہ سے ایک مزید کتاب بھی برآمد کر لی۔ مقدمہ کی سماعت علاقہ مجسٹریٹ سید زاہد حسین قادری مجسٹریٹ درجہ اوّل ملتان کی عدالت میں ہوئی۔ جرم ثابت ہونے پر ملزمان محمد حنیف اور محمد احسن کو تین تین سال قید بامشقت بشمول تین تین ماہ قید تنہائی اور پندرہ پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور ثبوت جرم زیر دفعہ ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان کے تحت تین تین سال قید بامشقت بشمول تین تین ماہ قید تنہائی پندرہ پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور عدم ادائیگی جرمانہ نو نو ماہ قید محض مزید کی سزا ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۹، مورخہ ۲۱ تا ۲۷/ دسمبر ۱۹۹۰ء)
نجی الہدیٰ کالج ربوہ میں فوجی ٹریننگ دینے کی تحقیقات کرائی جائے
فیصل آباد (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے صوبائی وزیر تعلیم اور ڈائریکٹر کالجز فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ ربوہ میں قادیانیوں کے نجی الہدیٰ ماڈل کالج میں این سی سی کی فوجی ٹریننگ دینے کی تحقیقات کرائی جائے اور غیر قانونی طور پر قادیانی طلباء کو فوجی تربیت دینے پر متعلقہ میجر کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قادیانیوں کے اس پرائیویٹ کالج کے طلباء کو گورنمنٹ ٹی آئی کالج ربوہ میں غیر قانونی فوجی ٹریننگ دی گئی تھی اور ایک قادیانی پروفیسر صادق علی کی سازش سے این سی سی کے انچارج کرنل اعجاز محمود کے ذریعہ قادیانی طلباء کو فوجی ٹریننگ دی گئی تھی جس پر عالمی مجلس نے چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ سے درخواست کی تھی کہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے اور این سی سی کے انچارج کرنل اعجاز محمود کو واپس اپنے یونٹ بھیجا جائے جس پر انہوں نے کرنل اعجاز محمود کو جبری طور پر ریٹائرڈ کر دیا تھا۔ جس کی اطلاع عالمی مجلس کو دی گئی تھی۔ مولوی فقیر محمد نے کہا کہ قادیانی جماعت اور خدام الاحمدیہ کمانڈو تنظیم تخریب کار اور ملک دشمن ہے۔ اس لئے قادیانی طلباء کو فوجی ٹریننگ دلاتی ہے جس کو بند کیا جائے اور قادیانی کالج الہدیٰ کا فیصل آباد تعلیمی بورڈ سے الحاق نہ کیا جائے۔ مولوی فقیر محمد صاحب نے مزید ایک مسئلہ کی طرف توجہ دیتے ہوئے کہا کہ قادیانی جماعت لاہور کے سیکرٹری جنرل راجہ غالب احمد قادیانی غیر مسلم کی پریس کانفرنس کہ ربوہ کی ضلعی انتظامیہ نے قادیانیوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے کی وجہ سے دو اجتماعات کے تحریری اجازت نامے منسوخ کر دیئے ہیں اور قادیانیوں کے انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے کے جواب میں کہا ہے۔ آئین کی رو سے ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانی اور لاہوری گروپ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے اور اینٹی قادیانی آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کے تحت قادیانی پر پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے اور ہر قسم کی تبلیغ و اشاعت بند کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی شعائر استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت تعزیرات پاکستان میں ترمیم کر کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۲۹۸-بی اور ۲۹۸-سی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جس کی خلاف ورزی کی سزا تین سال اور جرمانہ مقرر ہے اور قادیانی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے ہوئے ربوہ میں اجتماعات کر کے قادیانی مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ جس پر قانون کے مطابق ۲۶/اپریل ۱۹۸۴ء سے پابندی لگائی جا چکی ہے۔ جس کے بعد سے مرزا طاہر احمد ہیڈ آف دی احمدیہ پاکستان سے بھاگ کر لندن جا چکے ہیں اور ربوہ میں دسمبر کا جلسہ لندن میں منعقد کرتے ہیں۔ اسی طرح ۲۳/مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانی مذہب کا صد سالہ جشن ربوہ میں منانا ہے تو وہ بھارت میں منعقد کیا جائے اور اپنے جلسے لندن میں منتقل کئے جائیں۔ جہاں قادیانی ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا ہے جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کا خودکاشتہ پودا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور سابقہ فیصلوں کی خلاف ورزی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرتے ہوئے ۹ تا ۱۱؍نومبر ۱۹۹۰ء کو ڈپٹی کمشنر جھنگ نے غیر قانونی طور پر ربوہ میں قادیانیوں کے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ جس کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا اور کمشنر فیصل آباد نے ان اجتماعات پر پابندی لگادی۔ اس طرح آئی جے آئی کی حکومت کے خلاف قادیانیوں کی ایک سازش کو ناکام بنادیا گیا۔ اسی طرح ۲۱؍اکتوبر ۱۹۸۹ء کو قادیانی مذہب کی تبلیغ کرنے پر ربوہ میں مرزا طاہر احمد کے عزیزوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس طرح ۱۵؍ دسمبر ۱۹۸۹ء کو آرڈیننس کی خلاف پر ۱۳ سرکردہ قادیانی ربوہ کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور مجلس مشاورت ربوہ میں مذہب کی تبلیغ پر بھی چھ قادیانیوں کے خلاف پرچہ درج ہوا۔ ملکی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے انسانی حقوق کے حق دار نہیں ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۹۰ء)
کراچی میں قادیانی جلسہ کی خفیہ رپورٹ اندوہناک انجام
قادیانی پروہت نے جلسہ کو قادیانیوں کے لئے الٰہی نشان قرار دیا لیکن وہ قادیانیت کے خلاف عبرتناک الٰہی نشان بن گیا اور اس کا انجام اندوہناک ہوا۔
جمعہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۹۰ء کو کراچی کے قادیانیوں نے ایک غیر قانونی جلسہ کا اہتمام کراچی اسٹیل ملز سے آگے رزاق آباد میں کیا۔ اس جلسہ کی قادیانیوں نے اجازت لی یا نہیں؟ اگر انتظامیہ کی اجازت سے ہوا تو قادیانی آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کی موجودگی میں کیوں اجازت دی گئی اور اگر بغیر اجازت جلسہ کرنے کی جسارت کی گئی تو کیا انتظامیہ کے علم میں ہے؟ دینی حلقوں نے انتظامیہ کی اس لاپرواہی پر زبردست احتجاج کیا اور کہا کہ قادیانی جلسہ کے منتظمین کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ذیل میں قادیانی جلسہ کی ایک روئیداد جو ہمیں ایک خفیہ ذریعے سے موصول ہوئی ہے۔ اس لئے شائع کر رہے ہیں کہ اس جلسہ میں عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوئی۔ جلسہ کیا تھا ایک ڈرامہ کا منظر تھا۔ پورے جلسے میں شور و غل، ہنسی و مذاق، ٹھٹھہ ہوتا رہا۔ آئیے اس جلسے کی روئیداد پڑھیں اور لطف اندوز ہوں کہ اس جلسے کا اختتام اندوہناک انجام سے ہوا۔ یہ جائے عبرت ہے ہم اس سلسلے میں قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہیں کہ اپنے گلے سے لعنت کا طوق اٹھا کر پھینک دیں اور اسلام قبول کرنے میں عافیت سمجھیں۔ (ادارہ)
جب قادیانیوں کے مرکزی جلسوں اور اجتماعات پر ربوہ میں کرنے پر پابندی لگنا شروع ہوئی تو انہوں نے مختلف شہروں اور قصبوں میں اجتماعات شروع کر دیئے ہیں۔ اسی قسم کا ایک سالانہ جلسہ اسٹیل ملز سے آگے رزاق آباد کے قریب قادیانیوں کے مرگھٹ میں ۲۸؍ دسمبر ۱۹۹۰ء کو ہوا۔ جس میں کراچی اور مضافات کے قادیانیوں نے شرکت کی۔ مرکزی پروہت سلطان محمود انور اور لاہور کے ایڈیٹر ثاقب زیروی نے ربوہ مرکز کے رہنماؤں کی حیثیت سے شرکت کی سلطان محمود نے اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ حکومت کی طرف سے قادیانی اجتماعات پر پابندیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور حکومت کی طرف سے ربوہ کے ایک سالانہ جلسہ پر جو پابندی لگائی گئی ہے۔ اسکے جواب میں امسال کراچی کی طرز پر پاکستان کے مختلف علاقوں میں قادیانیوں نے تین صد سالانہ جلسے اور اجتماعات کئے ہیں۔ منظور شاد نے اپنی تقریر میں کہا کہ کراچی میں قادیانیوں کی دو بیوت الحمد (قادیانی عبادت گاہیں) بند کی گئی ہیں۔ مگر وہ دبنے والے نہیں اور حکومت کے اس اقدام کا جواب اس طرح دیں گے کہ ہر سال کراچی میں کم از کم ۱۵ بیوت الحمد (عبادت گاہ کے نام پر قادیانی اڈے) تعمیر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی محمود آباد منظور کالونی، لانڈھی اور کورنگی میں بیوت الحمد کا عنقریب افتتاح ہونے والا ہے اور بہت سے دیگر علاقوں میں بھی زیر تعمیر ہیں۔ اس پر قادیانیوں نے نعرہ ہائے تحسین اور مرزا غلام احمد کی جے کے نعرے بلند کئے۔ گو نعرے کمزور آواز اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ردعمل بھی مایوس کن تھا۔ کراچی کے قادیانی نائب امیر مرزا عبدالرحیم بیگ ایڈووکیٹ نے مائک پر آ کر درخواست کی کہ کم از کم ”مرزا غلام احمد کی جے“ کا نعرہ تو زور سے لگاؤ۔ اس پر قادیانی امیر احمد مختار نے کہا کہ نہیں سارے نعرے ہی زور سے لگاؤ۔ اس پر قہقہہ پڑا اور دو تین نوجوانوں نے ایک ساتھ مختلف نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ اس شور میں کسی منچلے نے نعرہ رسالت بھی لگا دیا جو کہ قادیانی جلسوں میں نہیں لگایا جاتا۔ جس پر لوگ بہت چونکے اتنے نعروں میں کون کسی کا جواب دیتا۔ بس غل غپاڑہ اور لوگ ہنس ہنس کر بے حال ہورہے تھے۔
پروہت سلطان محمود نے رسالہ ”ختم نبوت“ کا بھی ذکر کیا کہ اس میں کسی عبدالکریم نے لکھا کہ صرف قادیانیوں کی تعداد پر مباہلہ کرو۔ پروہت نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ کس تعداد پر مباہلہ کریں گے۔ راجہ ظفر الحق نے قادیانیوں کی تعداد پاکستان میں ۳۰؍ لاکھ بتائی تھی اور ان کے اخبار نے لکھا کہ ۲۲؍ لاکھ قادیانی پیپلز پارٹی کی الیکشن میں مدد کر رہے تھے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو حکومت پاکستان نے قادیانیوں کی تعداد سات ہزار بتائی۔ قادیانی پروہت نے کہا کہ قادیانیوں کی کل تعداد سوا کروڑ سے زائد ہے۔
کراچی کے اس جلسے میں کل اڑھائی تین ہزار قادیانیوں نے شرکت کی۔ جس میں عورتیں بچے بھی تھے۔ ایک نئی جدت یہ پیدا کی گئی کہ جلسے میں ایک عورت اور ایک مرد باری باری تقریر کرتے تھے۔ قادیانی امیر اور پروہت سلطان محمود کی تقریروں کے دوران دلچسپ صورت یہ بھی پیدا ہوئی کہ ان کی تقریروں کے ساتھ ساتھ ہی فلمی گانے بھی نشر ہونے لگ جاتے۔ پتہ نہیں کیا فنی خرابی تھی کہ باوجود چیک کرنے کے ان اکابرین کی آواز کے ساتھ گانے کی آواز مل کر مائک سے نشر ہونے لگتی تھی۔ جس سے بڑی مزاحیہ صورتحال پیدا ہوتی رہی اور حاضرین جلسہ مارے ہنسی کے لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔
کراچی کے مختلف اطراف سے قادیانی کل اکتیس بسوں میں کراچی جلسہ گاہ پہنچے۔ بعض کاروں، سوزوکیوں، موٹرسائیکلوں پر بھی آئے۔ جلسہ گاہ قادیانی مرگھٹ کی چار دیواری کے اندر شامیانہ لگا کر بنائی گئی تھی۔ کھانے پینے کی اشیاء اور قادیانی لٹریچر پرمشتمل سٹال بھی لگائے گئے تھے۔ بسوں اور گاڑیوں کو مرگھٹ سے تقریباً ایک فرلانگ دور کھڑا کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہر طرف سخت گرد و غبار اور جھکڑ چل رہا تھا۔ کھانے کا اس بار بہت پروپیگنڈہ کیا گیا تھا کہ ربوہ سے اسپیشل باورچی بلائے گئے ہیں جو کہ وہاں کی مخصوص چٹ پٹی ذائقہ دار دال تیار کریں گے۔ چنانچہ جونہی کھانے کا وقفہ ہوا لوگوں نے ہلہ بول دیا۔ تاہم پہلے ریلے کے بعد کارکنوں نے لائنیں لگوائیں۔ دیوار سے باہر میدان میں میزیں لگا کر کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جہاں خوب جھکڑ چل رہا تھا۔ بہت گرد اڑ رہی تھی۔ کارکن دال کی پلیٹوں سے پلاسٹک کی پلیٹوں پر دال بھر بھر کر میزوں پر رکھ رہے تھے۔ لیکن جھکڑ کی وجہ سے پلیٹیں دال سمیت اڑ جاتی تھیں۔ اس کا علاج یہ کیا کہ پلیٹیں فل بھر کر رکھی گئیں تا کہ وزن سے اڑیں نہ۔ لیکن ایسی صورتحال ہوگئی کہ پلیٹ آدھی کے قریب کھا پاتے تھے کہ وہ اڑ جاتی تھی۔ چنانچہ منظر یہ تھا کہ کھانے کے دوران ہی کھانے والے کے سامنے سے پلیٹیں دال سمیت ہی اڑ جاتی تھیں۔ ایک دوسرے کے اوپر کپڑوں پر بعض کے چہروں پر شڑاپ سے پڑیں۔ لوگ پیچھے بھاگ کر ریت سے اپنی پلیٹ اٹھا کر مٹی ملی دال ہی کھانے لگتے یا پھر دوسری پلیٹ پکڑ لیتے۔ دال بالکل پھیکی اور بے مزہ بدذائقہ تھی اور لوگ بہت شکوہ کر رہے تھے کہ پروپیگنڈا تو بہت کیا کہ ربوہ سے اسپیشل باورچی آ رہا ہے اور ایسا بے کار پکوان، قادیانی بر ملا تنقید کر رہے تھے کہ اتنا چندہ لیتے ہیں اور پلاسٹک کی پلیٹوں کی بجائے سٹین لیس سٹیل کی پلیٹیں نہیں لے سکتے۔ بعض کہہ رہے تھے کہ کروڑوں اربوں چندہ جمع کرتے ہیں۔ نہ جانے وہ سب کہاں جاتا ہے۔ ایک چھت والی عمارت یا حال نہیں بنوا سکتے۔ جہاں گرد مٹی اور جھکڑ سے بچ کر کھانا ہی کھا سکیں۔ کھانے کے دوران سب کی شکلیں گرد وغبار سے اٹ کر ایسے ہوگئیں جیسے انسان نہیں بلکہ بندر ہوں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں آیا ہے کہ: ”کونوا قردة خاسئین“ ایک دوسرے کی شکل پہچانی نہیں جاتی تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرکزی پروہت کارکنوں کے انتظام کی بڑی تعریف کر رہا تھا اور جلسہ کے شرکاء کی طرف سے نظم وضبط کی بھی کہ عین اسی وقت شرکاء نے سامنے کی قنات گرادی۔ سلطان محمود نے لوگوں سے کہا کہ بد نظمی نہ کریں اور قنات دوبارہ کھڑی کریں۔ کارکن بھی ادھر بھاگے مگر حاضرین نے ایک نہ مانی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری قنات گرا کر اوپر براجمان ہو گئے۔ اکثر جہاں کہیں بھی قادیانی اپنا چکر چلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی ان کو پسپا کرنے اور جھٹلانے کے لئے نشان دکھلاتی ہے۔ چنانچہ اس بار بھی الٰہی نشان ظاہر ہوا اور اس جلسے کا انجام بڑا اندوہناک ہوا۔
۴ بجے کے قریب جب کہ ربوہ کے مرکزی پروہت کی تقریر زوروں پر تھی۔ ایک دم آسمان پر سیاہ مہیب گھٹا اٹھی اور کالے بادل سرعت سے جلسہ گاہ کی طرف بڑھنے لگے۔ لوگوں نے شور مچایا کہ جلسہ ختم کرو۔ ختم کرو بارش ہونے والی ہے اور اس مرگھٹ میں سر چھپانے کی جگہ بھی نہیں۔ مگر سلطان محمود پر جوش خطابت کا جنون سوار تھا۔ کہنے لگا کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور ہمیشہ ہماری حمایت میں نشان دکھاتا ہے۔ گھبرائیں مت کچھ نہیں ہوگا۔ مگر اتنے میں بڑے بڑے چھینٹے پڑنے لگے تو پروہت کہنے لگا کہ قادیانی جماعت بڑی بڑی قربانی راہ حق میں دینے کی عادی ہے۔ یہ بارش کیا چیز ہے۔ ہمارے جیالے قربانی دینے سے نہیں ڈرتے۔ بارش سے بھیگ بھی گئے تو کیا ہوا۔ مگر قادیانی بھاگنا شروع ہوگئے۔ وہ بے چارے مجبور بھی تھے۔ وجہ یہ تھی کہ جائے پناہ۔ صرف بسیں تھیں جو ایک فرلانگ دور کھڑی کی گئی تھیں۔ سلطان محمود انور نے بھاگتوں کو پکار کر کہا آخری دعا میں تو شامل ہو جاؤ۔ مگر جلال الٰہی پناہ گاہ تک حفاظت سے پہنچنے کا موقعہ نہ دینا چاہتا تھا۔ بارش ایک دم تیز ہوگئی اور آخری دعا کے دوران ہی قادیانی شرکاء جلسہ بسوں کی جانب بگٹٹ بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر بارش میں اس قدر شدت تھی کہ بسوں تک پہنچنے میں سب تر بتر پانی میں نچڑ گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ قدرت ڈنڈا لئے ان کو جلسہ گاہ سے بھگا رہی ہے۔ عورتوں بچوں کا تو بہت برا حال تھا کہ وہ تیز نہ چل سکتے تھے۔ پھر ریتلے ٹیلوں کی وجہ سے عورتوں کی چپلیں پانی اور ریت میں دھنس کر رہ گئیں جو بغیر برقعے کے مہین کپڑوں میں تھیں۔ ان کی بھیگ کر ابتر حالت عبرتناک۔ بوڑھے جوان بچے سب کے سر سے پاؤں تک دھاریں بہہ رہی تھیں۔ اوپر سے ٹھنڈی یخ ہوا زور سے چلی۔ جس سے سبھی خصوصاً عورتیں بچے بوڑھے بری طرح کپکپارہے تھے اور اکثر کی حالت ایسی غیر تھی کہ شاید ہی گھر سلامت پہنچے ہوں اور بکثرت شدید بیمار پڑ گئے۔ بسوں کے اوپر رہنمائی کے لئے کاغذ کے پوسٹر لگائے گئے تھے کہ یہ فلاں علاقے محلے والوں کے لئے بس ہے۔ مگر بارش شروع سے ہی ایسی تیز تھی کہ وہ پوسٹر دھل کر اتر گئے۔ اس کی وجہ سے بھی لوگوں کو اپنی اپنی بسیں ڈھونڈنے میں بہت ٹائم لگا اور اس دوران وہ بری طرح بھیگتے رہے۔ خدا کی قدرت کہ یہ قیامت خیز بارش بھی تقریباً آدھا گھنٹہ ہی تیز رہی۔ یعنی ادھر سب پانی میں غرق بسوں میں بیٹھ گئے تو بارش بھی مدہم ، مگر ٹھنڈی یخ ہوا تر بتر جسموں کو منجمد کرنے کے لئے زوروں میں چلنے لگی۔ پھر معلوم ہوا کہ بسوں کے انجن ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ کسی میں دھکا لگانے کا دم نہ تھا۔ بہ ہزار خرابی زبوں حالت خوار ہو کے نکلے۔ امید ہے کہ کراچی کے قادیانی شرکاء اس جلسہ کو کبھی نہ بھولیں گے اور سعادت مند عبرت پکڑیں گے اور تائب ہو کر امت محمدیہ میں شمولیت اختیار کریں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴ تا ۲۶، مورخہ ۱۸ تا ۲۴؍ جنوری ۱۹۹۱ء)
۱۹۹۰ء میں قادیانیوں کے قبول اسلام کی رپورٹ
کراچی کے قادیانی مربی اشرف ناصر کے نام ایک نوجوان کا کھلا خط
جناب اشرف ناصر صاحب
Good Morning میرا نام احمد علی ہے۔ میں اس خط کے ذریعے اپنا تعارف کرانا چاہتا ہوں۔ مثلاً یہ کہ آپ سوچ رہے ہوں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گے کہ میری آپ سے کیا دشمنی ہے تو میں یہ عرض کردوں کہ میری دشمنی سارے مربیوں سے ہے جو کہ ہم لوگوں کو حقیقت نہیں بتاتے جس کا مجھے اب علم ہوا ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جو احمدی ہے۔ میں بھی اوپر سے احمدی ہوں مگر اندر سے مسلمان ہوں۔
مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ میں بھی ۱۰/جون ۱۹۸۹ء سے پہلے احمدیت کی بڑی تعریف کیا کرتا تھا اور مسلمان لڑکوں سے بحث بھی کیا کرتا تھا اور کوئی میرے سوالوں کا صحیح جواب نہیں دے پاتا تھا۔ مگر ۱۰/جون کو ایک ایسے نوجوان مسلمان سے واسطہ پڑا جو اسلام اور احمدیت کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا۔ اس نے مجھے احمدیت کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بتائیں جو مجھے بھی معلوم نہ تھیں۔ اس نے مجھے آٹھ عدد کتابچے دیئے جن میں سے دو کے نام لکھ رہا ہوں۔
- ۱...... ’’قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق‘‘
- ۲...... ’’قادیانی عقائد پر ایک نظر‘‘
ان کتابچوں میں میں نے جو کچھ پڑھا اور پھر اس کی تصدیق ’’ربوہ‘‘ کی لائبریری سے کی۔ جب مجھے پتہ چلا کہ واقعی مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کا لگایا ہوا پودا ہے اور اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ بھی ان کتابچوں کا مطالعہ کریں اور دوسرے احمدیوں کو بھی کروائیں۔ مربی اشرف ناصر صاحب! جس پودے کو انگریزوں نے لگایا وہ اسلام کی کیا خدمت کر سکتا ہے۔ آپ خود بھی سوچیں اور تمام احمدیوں کی آخرت سنواریں اور اگر یہ جھوٹ ہے تو آپ مولویوں کے پتہ پر جا کر یہ معلوم کریں اور اگر یہ منظور نہ ہو تو عدالت میں اس بات کو ۱۵/فروری ۱۹۹۰ء تک چیلنج کریں۔ اس بات کا خیال رہے کہ وہ عدالت پاکستان کی ہو یا انڈیا کی تاکہ تمام احمدیوں اور تمام مسلمانوں کو پوری کارروائی کی خبر ہو اور اگر آپ نے میرے مشورے پر عمل نہ کیا تو اس خط کی فوٹو کاپیاں بنوا کر احمدیوں کے پتے پر پوسٹ کرنا شروع کر دوں گا تاکہ حقیقت کیا ہے۔ وہ بھی جان لیں۔ یہ خط پڑھ کر بھاگ نہ جانا مرزا طاہر کی طرح۔
اپیل: تمام احمدیوں سے اپیل ہے کہ وہ بھی میری طرح پوری تحقیق کریں اور اپنی آخرت سنواریں۔ شکریہ!
فقط: آپ کا مخلص دوست احمد علی مؤرخہ ۱۶/جنوری ۱۹۹۰ء
ایک قادیانی کا قبول اسلام
وارہ (نمائندہ ختم نبوت) وارہ سے ۱۳/کلو میٹر دور نصیر آباد سندھ کے شہر کی جامع مدینہ مسجد میں جمعہ کے روز ایک قادیانی اوشاک علی نے قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اوشاک علی مسلمان ہونے سے پہلے اکثر عبد القادر مسن سے ختم نبوت پر گفتگو کیا کرتا تھا۔ آخر کار ان مباحث کے بعد اوشاک علی نے محسوس کر لیا کہ میں جس راستے پر چل رہا ہوں وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا اس نے خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت پر کامل ایمان لا کر قادیانیت سے توبہ کر لی اور جامع مسجد میں آکر اعلان کیا کہ: ’’میرا قادیانی جماعت سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا، کافر اور دجال سمجھتا ہوں ۔‘‘ نو مسلم کے اعزاز میں پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر امیر احمد شیخ، رزاق ڈنو بھٹی، غلام رسول شیخ اور عبد القادر بھی موجود تھے۔ نمائندہ ختم نبوت نے اوشاک علی سے مل کر اسے مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر پیش کیا۔ توقع ہے کہ وارہ تحصیل کے علاقہ میں قادیانیوں میں سے مزید دیگر افراد بھی حلقہ بگوش اسلام ہو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جائیں گے۔ کیونکہ پچھلے چند سالوں کے دوران گاؤں گورگیجن ، انور آباد وغیرہ میں تقریباً دس قادیانی تائب ہو کر اسلام قبول کر چکے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۸، مورخہ ۲۶/ جنوری تا یکم/ فروری ۱۹۹۰ء)
ایک قادیانی خاندان نے مرزائیت سے توبہ کر لی
پھالیہ (نامہ نگار) منڈی بہاؤالدین کے ایک بڑے قادیانی خاندان نے مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ قادیانی خاندان نے خطیب شہر علاقہ قاضی منظور الحق ایم۔اے کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ قادیانی خاندان کے افراد حمید احمد کلیم ولد نذیر احمد ، سعید احمد ولد حمید احمد ، مجید احمد ولد حمید احمد ، محمود احمد ولد حمید احمد ، داماد محمد سلیم زوجہ حمید اللہ ، زوجہ سعید احمد زوجہ سلیم احمد اور حمید اللہ کی تین لڑکیوں نے عید الاضحیٰ کے اجتماع میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسلام قبول کرنے والے خاندان کے سربراہ حمید اللہ کلیم نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مرتد اور اسلام کا دشمن تھا۔ میں اور میرے خاندان کے دیگر افراد نبی کریم ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر الحاج ایم رشید خواجہ ، سیکرٹری جنرل ملک یامین قادری ، حاجی عبدالغفار گوندل ایڈووکیٹ ، چوہدری احمد یونس ایڈووکیٹ ، ملک محمد سلیم ، ملک محمد اشتیاق ، ملک سرفراز ، طاہر صفدر عباس باجوہ ، الحاج جاوید اقبال چغتائی ، محمد شاہد اور علاقہ بھر کے مسلمانوں نے قادیانی خاندان کو اسلام قبول کرنے پر مبارک باد دی ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خاندان کو اپنی رحمت سے نوازے۔ ان کے ارادے قوت ایمان سے مضبوط ہوں۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۲ تا ۸/ مارچ ۱۹۹۰ء)
مغربی افریقہ کے ایک اسلامی ملک جمہوریہ مالی میں تیس ہزار قادیانیوں کا دوبارہ قبول اسلام
قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے قادیانیوں کے سالانہ جلسہ منعقدہ ۱۱، ۱۲، ۱۳/ اگست ۱۹۸۹ء بمقام ٹلفورڈ برطانیہ میں قادیانیوں کو یہ مژدہ سنایا کہ ان کے گروہ مغربی افریقہ کے ایک اسلامی ملک جمہوریہ مالی میں ۳۵ ہزار مسلمانوں کو قادیانی بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے ایک نمائندہ وفد جو مکرم عبدالرحمٰن باوا اور مولانا منظور احمد الحسینی پر مشتمل تھا۔ حالات کا جائزہ لینے اور صحیح صورتحال معلوم کرنے کے لئے جمہوریہ مالی کے دارالحکومت بماکو بھیجا۔ وفد نے ۱۸/ جنوری ۱۹۹۰ء سے یکم/ فروری ۱۹۹۰ء تک جمہوریہ مالی کا دورہ کیا۔ اس دورے سے کراچی واپسی پر وفد نے اپنے جن تاثرات کا اظہار فرمایا وہ قارئین کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔ تفصیلی رپورٹ آئندہ کسی شمارے میں پیش کی جائے گی۔ (ادارہ)
یہ بات اظہر من الشمس اور طے شدہ ہے کہ قادیانیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پوری امت مسلمہ کا آج سے نہیں بلکہ سو سال سے اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور مرتد و زندیق ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے ۱۹۷۴ء میں ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور ۱۹۸۴ء سے ان کی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ رابطہ عالم اسلامی نے ۱۹۷۴ء میں منعقدہ ایک کانفرنس میں بھی تمام اسلامی ملکوں سے یہی کہا کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں۔ گویا قادیانیت کے کفر میں کسی کا اختلاف نہیں۔ دنیا کی اکثر و بیشتر جگہوں میں مسلمانوں کو قادیانیوں کی حیثیت کا پتہ چل چکا ہے۔ لیکن ابھی تک کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں کے لوگ قادیانیت کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے اور ایسے ممالک کے لوگ قادیانیت کو اسلام سمجھ کر دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ براعظم افریقہ کے بعض ممالک ایسے ہیں جن کو غربت افلاس اور قحط نے بری طرح جکڑ رکھا ہے اور ایک سازش کے تحت استعماری
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء
طاقتوں نے انہیں تعلیم سے بے بہرہ رکھا ہے۔ ایسے ممالک میں مقیم مسلمان، عیسائیت اور قادیانیت کے لئے ترنوالہ ثابت ہورہے ہیں۔ افریقہ کے بعض ملکوں میں جہاں عیسائی مشنریاں کام کررہی ہیں وہاں قادیانیت کی ارتدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ اگرچہ قادیانی ان غریب ملکوں میں اپنی دولت پانی کی طرح بہا رہے ہیں اور ایک عرصے سے ہسپتال، اسکول، کالجز اور ان کے مراکز قائم ہیں لیکن جو خرچ ان کا ہورہا ہے اس کے مقابلے میں جو کامیابی انہیں ملنی چاہئے تھی نہیں مل رہی ہے۔ قادیانیت ایک سیاسی گروہ ہے۔ اس کے اپنے سیاسی عزائم ہیں۔ اس بات کو ان کے اپنے رسائل وجرائد سے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرح ایک ایسے خطے کی تلاش میں ہے جہاں وہ اپنی حکومت قائم کرسکے۔ پہلے انہوں نے پاکستان میں قادیانی اسٹیٹ بنانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ پاکستان میں ان کے خلاف جو شدید نفرت کی فضا پائی جاتی ہے۔ اس سے قادیانی قیادت نے محسوس کیا کہ یہاں ان کا مستقبل تاریک ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے ان کی نظر افریقہ پر ہے۔ قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے قادیانیوں پر زور دیا ہے کہ کارخانے افریقہ میں لگائیں۔ وہاں مشنری طرز پر کام کریں۔ ہسپتال، اسکولز، کالجز اور سڑکیں بنانے اور کارخانے لگانے کے بہانے مال ودولت کے بل بوتے پر وہاں کے غریب بھولے بھالے مسلمانوں کے ایمان کا شکار کھیلیں۔
ابھی حال ہی کی بات ہے کہ قادیانیوں نے مغربی افریقہ کے ایک مسلمان ملک جمہوریہ مالی میں اپنی ارتدادی سرگرمیاں شہر کے بجائے دیہات میں شروع کیں۔ اس لئے دیہات کے لوگ بڑے سادہ لوح ہوتے ہیں۔ ان کو اسلام کے لبادے میں احمدیت یعنی قادیانیت کی دعوت دی اور کہا کہ ”دین احمدیہ“ اور ”دین محمدیہ“ میں کوئی فرق نہیں۔ ہم تمہاری سڑکیں بنادیں گے۔ تمہارے لئے زراعت کے جدید آلات فراہم کریں گے۔ بجلی پہنچانے کا انتظام کریں گے۔ ہسپتال، اسکولز، کالجز تعمیر کرادیں گے۔ سائیکلیں، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں مفت دیں گے۔ ان کو مال ودولت کے لالچ کے ذریعہ جھانسہ دینے کی کوشش کی۔ جس میں وہ کامیاب ہوگئے۔ جمہوریہ مالی کے دارالحکومت بماکو سے ۱۸۰ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا قصبہ جس کا نام ”جیجنی“ ہے۔ وہاں ایک مذہبی رہنما جو تجارت بھی کرتے ہیں، شیخ عمر کانتے کو قادیانی بنانے میں وہ کامیاب ہوگئے۔ پھر اس مذہبی رہنما نے (جس کا ایک وسیع علاقے پر اثر تھا) تقریباً ۳۰، ۴۰ ہزار مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔
قادیانیوں نے دولت کے منہ کھول دیئے اور اسلام کے نام پر دھوکہ دیا۔ چنانچہ قادیانیت کو دین محمدی سمجھ کر لوگوں نے قبول کر لیا۔ قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے سالانہ جلسہ ۱۱، ۱۲، ۱۳؍ اگست ۱۹۸۹ء منعقدہ لندن میں اپنے خطاب کے دوران شیخ عمر کانتے کو پیش کیا اور کہا کہ ان کے ذریعہ مالی میں تیس سے چالیس ہزار مسلمانوں نے قادیانیت کو قبول کرلیا ہے۔ اس کامیابی کو مرزا طاہر نے قادیانیت کے لئے ”نئے سال کا عظیم تحفہ“ قرار دیا۔ جب یہ خبر اخبارات وجرائد میں چھپی تو اس سے مسلمانوں میں بڑی تشویش پیدا ہوئی۔ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے درخواست کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ چنانچہ نومبر ۱۹۸۹ء میں ہم دونوں مکہ معظمہ میں عمرہ پر تھے۔ ہماری جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزی شیخ المشائخ مولانا خان محمد مدظلہ نے جو اس موقع پر حرم میں موجود تھے ہمیں حرم شریف میں ہی حکم فرمایا کہ فوراً جمہوریہ مالی پہنچیں اور وہاں کے لوگوں کو ختم نبوت کا پیغام پہنچائیں اور ان پر قادیانیت کی حقیقت واضح کرتے ہوئے ارتداد سے بچائیں۔ چنانچہ گزشتہ ماہ جنوری ۱۹۹۰ء میں ہم نے جمہوریہ مالی کا پندرہ روزہ دورہ کیا اور ابھی ابھی عمرہ کرتے ہوئے کراچی پہنچے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمہوریہ مالی میں اللہ تعالیٰ نے ہماری بے حد مدد و نصرت فرمائی اور ہم عظیم الشان کامیابی کے ساتھ واپس آئے ہیں۔ علماء کرام، مسلمانوں، حضرت امیر مرکزیہ اور ہم نے جو دعائیں کی تھیں اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیں۔ آج ہم پاکستان کے مسلمانوں کو آپ کے اخبارات کے ذریعہ خوشخبری سنانا چاہتے ہیں کہ جن مسلمانوں کے قادیانیت کے قبول کرنے پر مرزا طاہر نے قادیانیوں کو نئے سال کا عظیم ’’تحفہ‘‘ قرار دیا تھا۔ اب وہ تیس سے چالیس ہزار قادیانی قادیانیت پر لعنت ڈالتے ہوئے اور قادیانیت کی تکفیر کرتے ہوئے شیخ عمر کانتے کے ہمراہ دوبارہ داخل اسلام ہوچکے ہیں اور یوں یہ واقعہ سال کا سب سے بڑا حادثہ قادیانیوں کے لئے ثابت ہوا اور قادیانیت ایک بار پھر ذلیل ہوئی۔
جب ہم مالی کے دارالحکومت بماکو پہنچے تو وہاں کے مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ مالی الاتحاد وتقدم الاسلام کے ذمہ داروں نے ہمارا استقبال کیا اور فوراً مشاورت کے بعد جمہوریہ مالی کے وزیر داخلہ محترم جناب عیسیٰ انگوئیسا سے ملاقات کرائی۔ ہم نے محترم وزیر داخلہ سے اپنی آمد کا مقصد بتایا اور جمہوریہ مالی میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا جس کے جواب میں محترم وزیر داخلہ نے کہا: ہم مسلمان ہیں اور یہ مسلمانوں کا ملک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت ورسالت پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ملک صدیوں سے اسلام کا گہوارہ ہے۔ یہاں مشہور صحابی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ پہلی صدی میں تشریف لائے جن کی بدولت یہاں نور اسلام پھیلا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی شیاطین یا اس قسم کے دوسرے دھوکے باز لوگ یہاں اپنے قدم نہیں جما سکیں گے۔ ہمارا ملک غریب ضرور ہے ہم مرسکتے ہیں مگر جھوٹ اور غلط عقائد کو نہیں اپنائیں گے اور میں واضح کردوں کہ یہاں باطل کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔
وزیر محترم نے ہماری آمد پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر محترم کی خدمت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ایک یادداشت پیش کی گئی اور ان کی خدمت میں کراچی کا مطبوعہ قرآن کریم کا تحفہ پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ دستور پاکستان، پاکستانی پاسپورٹ فارم قادیانی آرڈیننس ۱۹۸۴ء اور رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد کی کاپی ان کی خدمت میں پیش کی گئی جو انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کی۔ محترم وزیر داخلہ نے ملاقات کے بعد ان کی اجازت سے ہم بماکو سے بذریعہ جیپ ”جیجنی“ پہنچے۔ جہاں شیخ عمر کانتے سکونت پذیر ہیں۔ اپنی آمد کے فوراً بعد ہم نے شیخ عمر کانتے کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ ان کو مسلمانان عالم کی تشویش سے آگاہ کیا اور قادیانیت کی حقیقت ان پر واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ قادیانی ہمارے پاس یہ کہہ کر آئے تھے کہ ”دین محمدی“ اور ”دین احمدی“ میں کوئی فرق نہیں۔
اس گفتگو کے بعد یہ طے پایا کہ لوگوں کو جمع کیا جائے۔ چنانچہ وقت مقررہ پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور حاکم بلدیہ کی موجودگی میں شیخ عمر کانتے نے ہمارے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر پوری جماعت کے ہمراہ قادیانیت سے توبہ کے الفاظ دہرائے۔ مرزا قادیانی ان کے پیروکاروں اور مرزا طاہر کی تکفیر کا اعلان کیا۔ جناب شیخ عمر کانتے نے ہمارے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب قادیانی میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم دین محمدی ہی کے پیروکار ہیں اور اسلام کے پھیلانے والے ہیں اور انہوں نے کہا کہ تم لوگوں کو ہم بہت مال دیں گے۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر آپ دین محمدی کے علاوہ اور کوئی دین لائے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ نہیں چلیں گے۔ مگر انہوں نے یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ ہم دین محمدیہ کو ہی لے کر چلنے والے ہیں۔ شیخ عمر کانتے نے اعتراف کیا کہ ۵۷ گاؤں کے لوگوں کو میں نے قادیانی بنایا تھا اور میں نے لندن کے جلسے میں شرکت کی تھی اور وہاں خطاب کیا تھا۔ انہوں نے اجتماع میں موجود اپنی جماعت سے مخاطب ہو کر کہا جو دین محمد ﷺ کے دین سے ہٹ کر ہے وہ مردود ہے۔ قابل قبول نہیں اور جو شخص حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ کافر مرتد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم سمجھ چکے ہیں کہ قادیانیوں کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم سب قادیانیوں کے کافر و مرتد ہونے کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اعلان کرتے ہیں۔ ہم لوگ ان کے دھوکہ میں آ گئے تھے۔ شیخ عمر کانتے کے اس بیان کے بعد تمام جماعت نے توبہ کے الفاظ دہراتے ہوئے مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کی تکفیر کی بعد ازاں سب نے ہاتھ اٹھا کر قادیانیت سے برأت کا اظہار کیا اور اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے۔
جیجنی کی جامع مسجد کے امام الحاج ابوبکر جلو نے ہمارے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس قصبہ میں قادیانیت کی بنیاد میری عدم موجودگی میں رکھی گئی۔ جب کہ میں بماکو گیا ہوا تھا۔ جب میں واپس آیا تو لوگوں نے کہا کہ ایک نئے دین احمدی کی بنیاد رکھی گئی ہے اور اس کا امیر شیخ عمر کانتے ہے۔ میں نے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ امام صاحب نے مزید کہا کہ میں قادیانیوں کو کافر و مرتد اور زندیق سے بدتر سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا قادیانیوں نے یہاں کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تمہاری زمینوں کو صحیح کر دیں گے۔ تمہاری ہر طرح کی مدد کریں گے اور بہت سا مال دیں گے۔ امام موصوف نے قادیانیوں کو خبردار کیا کہ اگر آئندہ انہوں نے ادھر کا رخ کیا تو ہم تمہارے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ حاکم بلدیہ نے وفد ختم نبوت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب آپ حضرات کی آمد پر بہت خوش ہوئے ہیں۔ آپ نے اتنا لمبا سفر کر کے اس دور کے دیہات میں اپنی ذمہ داری پوری کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں سے قادیانیوں نے بہت سے وعدے کئے۔ بہت سا مال دینے، راستوں کو صحیح کرنے، شفاخانے کھولنے اور گاڑیاں مفت دینے کا وعدہ کیا اور اسلام کا نام لے کر دھوکہ دیا۔ بستی والوں نے سمجھا کہ ”احمدیت“ اسلام کے سوا کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے قادیانیت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔
انہوں نے کہا کہ اب حق ظاہر ہو گیا ہے۔ لہٰذا ہم سب قادیانیت کی تکفیر کا اعلان کرتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ اور آپ کی ختم نبوت پر ایمان لاتے ہیں۔ جیجنی کے گاؤں میں ایک عرصہ سے جو فساد پھیلا ہوا تھا وہ اب ختم ہو گیا ہے۔ شیخ عمر کانتے جو ۷۵ گاؤں کا نمائندہ تھا ان کے اعلان سے تمام کے تمام قادیانی از سر نو دوبارہ مسلمان ہو گئے ہیں اور یوں یہ علاقہ قادیانیت کی لعنت سے پاک ہو گیا ہے۔ بعد ازاں وفد ختم نبوت نے جامع مسجد اور شیخ عمر کانتے میں باہمی مصافحہ اور معانقہ کرایا۔ وفد ختم نبوت جب اس علاقے سے روانہ ہوا تو بڑی تعداد میں لوگوں نے الوداع کہا۔ ”جمعیۃ مالی للاتحاد وتقدم الاسلام“ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ جب سے شیخ عمر کانتے نے قادیانیت کو اختیار کیا تھا حکومت مالی کی اسی وقت سے تشویش تھی۔ حکومت نے اقدامات کا فیصلہ کر لیا تھا اور قادیانیوں کے خلاف احکامات جاری کر رکھے تھے۔ لیکن آپ حضرات کی آمد کے بعد حکومت متوجہ ہو گئی اور ان پر عملدرآمد کرایا گیا اور یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ بماکو میں جن چار شخصوں نے قادیانیت اختیار کر کے اس باطل مذہب کو مالی میں پھیلانے کی کوشش کی ان کی گرفتاری کے لئے پولیس چھاپے مار رہی ہے لیکن وہ تا حال مفرور ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۷ تا ۹، مورخہ ۹ تا ۱۵؍ مارچ ۱۹۹۰ء)
مرزائیت سے بریت کا اعلان
میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ نہ پہلے قادیانی تھا نہ اب ہوں۔ آنحضرت ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں۔ ان کے بعد دعویٰ کرنے والے کو کافر و کاذب سمجھتا ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ میرے متعلق یہ مشہور ہے کہ میں مرزائی / احمدی / قادیانی ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔
نثار احمد کیڈٹ، جونیئر انسٹرکٹر (انسپکٹر) کواپریٹو ٹریننگ کالج سرگودھا روڈ فیصل آباد
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۴، مورخہ ۳۰؍ مارچ ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شادن لنڈ میں ایک قادیانی خاندان کا قبول اسلام
شادن لنڈ میں ماسٹر محمد سلطان حیدرانی نے اطلاع دی ہے کہ یہاں ۳۰/ مارچ ۱۹۹۰ء بروز جمعتہ المبارک کو حفیظ اللہ قادیانی اسسٹنٹ چیف ریلوے کے بہنوئی جناب اللہ بخش خان ولد نور محمد خان لنڈ اور ان کے بیٹے شوکت اقبال لائن سپرنٹنڈنٹ واپڈا تونسہ نے مدرسہ عربیہ نعمانیہ اظہار العلوم شادن لنڈ میں نماز جمعہ کے موقع پر لاؤڈ اسپیکر پر مسلمان ہونے کا اعلان بھی کیا اور اپنے والد واہلیہ کے مسلمان ہونے کی اطلاع بھی دی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱ تا ۲۳، مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷/ مئی ۱۹۹۰ء)
اردن میں بارہ قادیانیوں کا قبول اسلام
دفتر ختم نبوت لندن سے یہاں موصول ہونے والی ایک اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ اردن میں بارہ قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ابتدائی خبر کے مطابق طہ محمد صالح جن کی عمر ۷۹ سال ہے اپنے بارہ ساتھیوں سمیت مسلمان ہو گیا ہے۔ طہ محمد صالح نے کہا کہ وہ اور ان کے بارہ ساتھی بغیر جبر و اکراہ کے قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اور ان کے ناعور شہر کی شریعت عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں میں ابو شعیب کی کتاب جو کہ عربی زبان میں ہے پڑھنے کا موقع ملا۔ مجھ پر قادیانیت کی حقیقت واضح ہو گئی ہے اور اب میں قادیانیت ترک کر کے مسلمان ہو رہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں قادیانیت سے نفرت کا اظہار کرتا ہوں۔ انہوں نے ایسی تمام قادیانی کتب جو ان کے پاس موجود تھیں شرعی عدالت کے جج کے حوالہ کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد اردن کے پہلے قادیانی تھے جنہوں نے ۱۹۲۸ء میں قادیانیت جیسے باطل مذہب کو قبول کیا تھا۔ بعض خبروں کے مطابق طہ نے کہا کہ میں نے پچاس ہزار امریکی ڈالر تین سال قبل قادیانیوں کو دیئے تھے تاکہ اس رقم سے مرزا محمود کی نام نہاد تفسیر کبیر عربی میں چھاپیں۔ مگر انہوں نے ابھی تک نہیں چھاپیں۔ اس خبر کی مزید تفصیلات کا ابھی انتظار ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مؤرخہ یکم تا ۷/ جون ۱۹۹۰ء)
نوٹ: اس خبر کے آخر میں ہے کہ تفصیلات کا انتظار ہے۔ چنانچہ جب وہ تفصیلات موصول ہوئیں تو انہیں بھی شائع کیا گیا جو یہ ہیں:
اردن میں قادیانی گروہ کے سربراہ طہ قزق کی قادیانیت سے توبہ کی تفصیلات
بسم الله الرحمن الرحيم
الى الشيخ منظور احمد الحسينى
السيد رئيس مجلس ختم النبوة فى لندن المحترم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اشكر سيادتكم فى البداية على الرسالة التى ارسلتموها مع مجموعة من الكتب القيّمة واشكركم على المكالمة الهاتفية بتاريخ ۱۹۹۰/۶/۲۸ء واسال الله ان يوفقكم فى خدمة الاسلام والمسلمين وفى محاربة الفرقة القاديانية الكافرة.
وبالنسبة لمحاكمات القاديانية فى الاردن فانى اكتب لكم ملخصاً عنها من البداية وحتى النهاية.
كانت البداية عند ما نشرت صحيفة ”الرّاية الاسلامية“ مقابلة مع زعيم القاديانية فى الاردن المدعو . طه محمد صالح القزق وذلك بتاريخ ۱۹۹۰/۳/۱۶ء وعلى اثر هذه المقابلة قامت محكمة ناعور
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الشرعية بتشكيل دعوى باسم الحق العام الشرعى موضوعها الردة عن الاسلام واعتناق القاديانية ضد المدعو طه القزق وقد انتدبت المحكمة المحامى عبدالله الشمايلة مدعياً باسم الحق العام الشرعى. وقد استدعى طه القزق عن طريق الشرطة وعقدت الجلسة الاولى بتاريخ ١٩٩٠/٢/٦ء وتليت لائحة الدعوى بحضور المدعى باسم الحق العام الشرعى المحامى عبدالله الشمايله بحضور المدعى عليه طه محمد صالح القزق وقد اقر المدعى عليه واعترف انه من اتباع الجماعة القاديانية (الاحمدية) منذ سنة ١٩٢٨ء وانه اصبح قاديانياً عن طريق والده وانه يؤمن بجميع العقيدة وقد بذلت المحكمة الجهد فى اقناعه وهدايته لكنه اصر على عقيدته وكان يوافقه احد اتباعه وهو شاب اسمه سعيد السودانى وقد ادخلته المحكمة فى الدعوى على اعتبار انه قاديانى وقد اعترف بذلك وقد عرضت المحكمة عليهما التوبة لكنهما لم يتوبا وقد تاجلت الجلسة الى يوم السَّبت ١٩٩٠/٢/٨ء الا انه ولعدم حضور المدعى باسم الحق العام والمدعى عليها تاجلت الجلسة
وفى يوم الاحد ١٩٩٠/٢/٩ء عقدت الجلسة الثالثة فى مركز الشرطة فحضر طه القزق ولم يحضر سعيد السّودانى لانه سافر الى العراق وقد استمرت هذه الجلسة عدة ساعات وفى نهاية الجلسة اعلن طه محمد صالح القزق توبته ورجوعه الى الاسلام وانكاره للقاديانية ونبوة نبيها الكذاب المدعو بمرزا غلام احمد ونزع وخلع البيعة من الخليفة القاديانى الكذاب طاهر مرزا واعلن استعداده للتعاون مع المحكمة فى هداية جميع اتباعه والدلالة على العناوين جماعته
وبعد هذه الجلسة قامت المحكمة وبحضور المدعى باسم الحق العام الشرعى وبمندوبى الصحف بالتوجه الى منزل طه القزق فى مدينة عمان وقامت المحكمة باستلام جميع الكتب الموجودة عنده والتى تتعلق بالقاديانية وقد قام رئيس المحكمة بتسليم هذه الكتب فى اليوم الثانى لسماحة قاضى القضاة الشيخ محمد محيلان فى عمان
والجلسة النهاية كانت بتاريخ ١٩٩٠/٢/١٥ء وقد حضر طه القزق وكذلك سعيد السودانى وقد اعلن سعيد السودانى التوبة وقد اصدرت المحكمة القرار والذى يتلخص بالحكم باسلام وتوبة المدعى عليهما طه القزق وسعيد السودانى بعد ثبوت ردتهما باعتناقهما القاديانية وكذلك الحكم بتجديد عقود زواجهما
قامت المحكمة بالتعاون مع زعيم القاديانية التائب طه القزق للتحقيق مع جميع القاديانية فى الاردن والذين ذكرت اسماءهم على لسان طه القزق وتبين ان اكثرهم ليسوا من الجماعة القاديانية وهم يكذبون غلام مرزا ويعتقدون انه كافر باستثناء عدد قليل منهم تبين انه قاديانى وقد اعلنوا التوبة والاسلام من جديد وتم تجديد عقود زواجهم مثل غانم احمد غانم ومحمد محمود يوسف سليمان يوجد البعض الأخر مسافر خارج الاردن
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وقد تمت كذالك محاكمة الصحفى ابراهيم ابوناب بتهمة القاديانية وقد ابرا الصحفي المذكور هذه التهمة وانه ليس قاديانياً وانه وقع على ورقة البيعة على القاديانية لاغراض صحفية والقى قصائد شعر فى لندن يمدح فيها زعيم القادياني طاهر ميرزا وجماعته وذلك لاسباب خاصة حتى يعرف حقيقة القاديانية. وحيث ان القضاء انما يحكم على الظاهر فقد حوكم ابراهيم المذكور باصدار القرار بحقه فى ۱۹۹۰/۵/۲۳ء وملخصه:
الحكم باسلامه وتوبته بعد ثبوت ردته بمبايعته على القاديانية والقاء قصائد شعرية فى مدحها وتقرر فسخ عقد زواجه وكذلك الحجر على اقواله وفتاويه ومطبوعاته حتى يثبت صلاح فكره
والخلاصة ان القاديانية فى الأردن هى الان فى حكم الميتة والحمد لله رب العالمين وقد انتهت وان المحاكم الشرعية تقف لها بالمرصاد واننى ارسل اليكم اجزاء من بعض الصحف والمجلات التى تناولت قضية القاديانية ومحاكمة زعيمها طه القزق وفيها بعض الصور والله يحفظكم والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته. خالد رضوان منور الوريكات قاضی ناعور الشرعی
مثل مشہور ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ یہ بات اردن کے قادیانیوں پر صادق آتی ہے۔ کئی سالوں سے قادیانی اردن میں زیر زمین کام کر رہے تھے۔ مارچ ۱۹۹۰ء میں جب اردن کے قادیانی سربراہ نے کھلم کھلا کام کرنے کی کوشش کی اور اپنا انٹرویو ایک اخبار میں دیا تو مسلمان فوراً حرکت میں آگئے۔ ناعور اردن کی شرعی عدالت نے فوراً اس کا نوٹس لیا اور قادیانیوں کو شرعی عدالت میں طلب کر لیا۔ چنانچہ اس کی تفصیلات ذیل میں آپ خود ملاحظہ فرمائیں گے۔ اسی دوران عالمی مجلس کے رہنما مولانا منظور احمد الحسینی لندن میں تھے۔ انہوں نے فوراً کارروائی کی اور ناعور شرعی عدالت کے محترم قاضی خالد سے رابطہ قائم کیا اور ان کو لٹریچر بھی ارسال کیا اور اس سلسلے میں فون پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ چنانچہ قاضی صاحب موصوف نے شرعی عدالت میں جو فیصلہ ہوا اس کی اپنے ہاتھ سے نقل کر کے مہر لگا کر ارسال فرمایا۔ اصل فیصلہ عربی ہے۔ وہ بھی ساتھ دیا جا رہا ہے۔ قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں۔
جناب الشیخ منظور احمد الحسینی (لندن) محترم جناب صدر صاحب مجلس ختم نبوت (لندن)
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
سب سے پہلے میں آپ سے اس خط سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو آنجناب نے اپنی مطبوعہ کتابوں کے ساتھ ارسال کیا تھا۔ اسی طرح میں مکرر مشکور ہوں کہ آپ نے مزید اہتمام فرما کر ۲۸/ جون ۱۹۹۰ء کو فون کے ذریعے گفتگو فرمائی۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت عطاء فرمائے۔ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور کافر ٹولہ قادیانی کے مقابلہ کی توفیق بخشے۔ اردن میں قادیانی ٹولہ کے خلاف شرعی عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے۔ اس کی مختصر کارروائی لکھ رہا ہوں۔ اس واقعہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ رسالہ ”الرایۃ الاسلامیۃ“ جو اردن سے نکلتا ہے۔ میں قادیانی جماعت (اردن) کے سربراہ طہٰ محمد صالح قزق کا ایک انٹرویو شائع ہوا اور یہ انٹرویو ۱۶/ مارچ ۱۹۹۰ء کو ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں قزق نے قادیانیت کے حق میں بیان دیا۔ اس انٹرویو کے شائع ہونے کے بعد ناعور (اردن) کی شرعی عدالت نے طہٰ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قزق قادیانی کے خلاف عام شرعی حق کے نام سے ایک مقدمہ تیار کر لیا۔ اس مقدمے کا موضوع تھا۔ اسلام میں ارتداد کا حکم جیسے قادیانیت اختیار کرنا۔
(باقاعدہ اس مقدمے کی کارروائی کی گئی) اور طہ قزق کو پولیس کے ذریعہ طلب کیا گیا پہلی نشست ۱۶/ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو رکھی گئی۔ اس مقدمہ میں قانون عام شرعی حق کے مدعی (عدالت کی طرف سے وکیل) عبداللہ شمائلہ تھے۔ ان کی موجودگی میں مدعا علیہ طہ محمد صالح قزق کو شرعی عدالت میں طلب کیا گیا۔ جب وہ حاضر ہوا تو اس نے سب کے سامنے عدالت میں اس امر کا اعتراف واقرار کیا کہ وہ ۱۹۲۸ء سے قادیانی مذہب سے وابستہ ہے اور قادیانی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس کا والد قادیانی تھا اور قادیانی عقائد پر پوری طرح ایمان رکھتا ہے۔ شرعی عدالت نے اس کو دلائل کے ذریعہ صحیح راستے پر لانے کی پوری کوشش کی مگر وہ اپنے باطل عقیدے پر اڑا رہا۔ قزق کا ایک دوسرا ساتھی سعید سوڈانی تھا۔ شرعی عدالت نے اس کو بھی اس مقدمے میں شامل کر لیا۔ کیونکہ وہ بھی قادیانی تھا۔ جس کا اس نے خود اقرار کیا تھا۔
دریں اثناء شرعی عدالت نے ان دونوں پر توبہ پیش کی۔ لیکن ان دونوں نے انکار کر دیا۔ شرعی عدالت نے اس مقدمہ کی سماعت کو ۱۸/ اپریل ۱۹۹۰ء تک ملتوی کر دیا اور فریقین کو مذکورہ ، تاریخ میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ فریقین (وکیل ، مدعی اور مدعی علیہما) کے مقررہ تاریخ میں عدالت میں نہ پہنچنے کی وجہ سے سماعت اگلے روز تک ملتوی کر دی گئی۔ اتوار ۹/ اپریل ۱۹۹۰ء کو عدالت پولیس اسٹیشن میں لگائی گئی۔ مدعی علیہ (۱) طہ قزق حاضر ہو گیا۔ البتہ سعید سوڈانی عدالت سے غیر حاضر تھا۔ وہ عراق چلا گیا تھا۔ یہ سماعت چند گھنٹے چلتی رہی اور برخاست ہونے سے پہلے مدعی علیہ (۱) طہ قزق نے اسلام لانے، قادیانی مذہب، قادیانی ٹولے کے سربراہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب سے اپنی برأت اور قادیانیوں کے موجودہ ہیڈ مرزا طاہر سے اپنی بیعت توڑنے کا اعلان کیا اور اس امر کا بھی اعلان کیا کہ وہ محکمہ شرعی کے ساتھ مل کر قادیانیوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرے گا اور اس طرح محکمہ کو ان سب کے پتہ جات سے مطلع کرے گا۔
اس نشست کے بعد شرعی عدالت نے عام شرعی حق کے مدعی اور اخبارات کے نمائندوں کی موجودگی میں پہلا کام یہ کیا کہ طہ قزق کے مکان پر جو عمان شہر میں واقع ہے۔ پہنچ کر تمام قادیانیت سے متعلق مختلف تمام کتابوں پر قبضہ کیا اور شرعی عدالت کے قاضی (خالد الوریکات) نے تمام کتب قاضی القضاۃ جناب محمد محیلان کو عمان میں سپرد کیں۔
آخری نشست ۱۰/ اپریل ۱۹۹۰ء کو تھی۔ جس میں طہ قزق اور سعید السوڈانی خود حاضر ہوئے تھے۔ اس میں سعید السوڈانی نے اپنی توبہ کا اعلان کیا اور شرعی عدالت نے یہ آرڈر جاری کیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسمیان طہ قزق اور سعید سوڈانی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے کہ چونکہ یہ دونوں قادیانی مذہب اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہو چکے تھے۔ پھر انہوں نے قادیانیت سے توبہ کرنے اور اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کیا۔ لہٰذا ان دونوں کے اسلام اور نکاح کی تجدید کا فیصلہ سنایا گیا۔
شرعی عدالت نے دوسرا یہ کام کیا کہ اردن میں تمام قادیانیوں کی تحقیق شروع کر دی اور خاص کر ان کی جن کے نام طہ قزق کی زبانی معلوم ہوئے تھے۔ تحقیقات سے واضح ہوا کہ ان میں سے اکثر قادیانی نہیں ہیں اور وہ سب مرزا غلام احمد قادیانی کی تکفیر کرتے ہیں۔ البتہ کچھ لوگ ایسے ملے جلے قادیانی نکلے۔ انہوں نے بھی قادیانیت سے اپنی توبہ اور دوبارہ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان کیا۔ ان کے نام کا اعلان کیا گیا اور ان کے نکاح کی بھی تجدید کی گئی۔ جیسا کہ خانم احمد خانم محمد محمود یوسف سلمان وغیرہ وغیرہ۔
شرعی عدالت میں اسی طرح صحافی ابراہیم ابوناب کے خلاف قادیانیت کی تہمت کے سلسلہ میں مقدمہ دائر کیا گیا۔ مذکور صحافی نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس تہمت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قادیانی نہیں ہے اور اس کا قادیانیت کے بیعت نامہ پر دستخط کرنا اخباری رپورٹ کے حصول کے لئے تھا اور اس نے لندن میں قادیانیوں کی کانفرنس میں قصیدہ پڑھا تھا جس قصیدہ میں اس نے قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر اور اس کی جماعت کی تعریف کی تھی اور بقول اس کے یہ خاص وجوہات کی بناء پر تھا تا کہ وہ قادیانیت کی حقیقت کو جان سکے۔
اور جیسا کہ یہ طے شدہ بات ہے کہ شریعت کا فیصلہ ظاہری حالات کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے تو اس اعتبار سے ابراہیم ابوناب کے بارے میں بھی ۲۳/ مئی ۱۹۹۰ء کو فیصلہ سنایا گیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی بیعت نامہ پر دستخط اور قادیانی جلسہ میں ان کی مدح میں قصیدہ سنانے کی وجہ سے چونکہ وہ مرتد ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس سے توبہ کرائی گئی اور دوبارہ اسلام میں داخل کیا گیا اور اس ارتداد کی وجہ سے نکاح کے فسخ کا حکم صادر کیا گیا اور اس کی بیان بازی اور اس کی تمام مطبوعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اردن میں قادیانیت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ وہاں اس کی حیثیت مردہ کی سی ہے۔ ہم اس فیصلہ کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور شرعی عدالت ان کی گھات میں ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۴ تا ۱۷، مؤرخہ ۱۲ تا ۱۸/اکتوبر ۱۹۹۰ء)
میں مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر، کاذب اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں، ڈاکٹر فیض الحسن
میں مسمی فیض الحسن ولد مرزا اللہ دتہ قوم مغل سکنہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور حلفاً تحریر کرتا ہوں کہ میں صحیح حنفی العقیدہ مسلمان ہوں۔
میں عقیدہ ختم نبوت پر کامل اور پختہ ایمان رکھتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ جناب محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کافر، کاذب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے پیروکار خواہ وہ قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتے ہوں میں ان کو بھی کافر، کاذب اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ میرا قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے نہ تو کوئی تعلق اب ہے اور نہ ہی پہلے کبھی قادیانی مذہب سے تھا۔ لہٰذا مجھے قادیانی سمجھنا یا لکھنا جائز نہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷، مؤرخہ ۱۵/جون ۱۹۹۰ء)
کیرالہ میں مباہلہ کے بعد بہت سے قادیانی مسلمان ہو چکے ہیں
جناب محمد عبدالرحمن سیکرٹری اشاعت اسلام کا خط، جناب حسن محمود عودہ کے نام
محترم حضرت حسن محمود عودہ صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ یہ خبر پا کر بڑی مسرت ہوئی کہ آپ نے قادیانیوں کی فریب کاری سے بچ کر بہدایت مشرف ہو گئے ہیں۔ الحمدللہ! یہاں کیرالہ (ہندوستان کا ایک صوبہ) میں بھی چند نوجوان مباہلہ کی میعاد ختم ہوتے ہی اسلام لائے ہیں۔
آپ نے انجمن اشاعت اسلام کیرالہ کا نام سنا ہوگا جس نے قادیانی نام نہاد خلیفہ کے چیلنج مباہلہ قبول کیا۔ بشرطیکہ مباہلہ آمنے سامنے ہو اور جزئی باتوں کے بجائے دعویٰ نبوت قادیانی کے موضوع پر ہو، آخر خلیفہ کی اجازت پا کر ۲۸ مئی ۱۹۸۹ء کو یہاں مباہلہ ہوا۔ دونوں فریقین میں سے ہر چالیس آدمی شریک ہوئے۔ میعاد ختم ہونے پر قادیانیوں کا پروپیگنڈہ یہ ہوا کہ خلیفہ نے مباہلہ کا چیلنج وحی کے مطابق نہیں کیا تھا لیکن اس بیان سے لوگ مطمئن نہیں ہوئے اور ان کے چند آدمی رجوع الی الحق ہوئے اور چند اسلام لانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ انجمن اشاعت اسلام کیرالہ کا دسواں سال ہے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ یہ بڑی دھوم دھام سے منایا جائے۔ چند اجلاس منعقد ہوں گے۔ جن میں کل ہند ختم نبوت کانفرنس ہے۔ جس میں آپ کو شریک کرنا ہمارے لئے ناز و فخر کی بات ہوگی اور یہ کیرالہ اور ہندوستان کے قادیانیوں کو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام میں واپس لانے کا موجب ہوگی۔ اسی لئے آپ اپنے تکالیف گوارا فرماتے ہوئے ہندوستان آنے کا ارادہ فرمائیے۔ والسلام! خاکسار عبدالرحمن سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام کیرالہ
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مؤرخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۹۰ء)
مرزائیت سے برأت کا اعلان
حافظ عبدالقدوس ولد عبدالرحیم قوم راجپوت سکنہ بہاول پور خداوند قدوس کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے اس بات کا برملا اعلان کرتا ہوں کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی ولد مرزا غلام مرتضیٰ مدعی نبوت کو دجال و کذاب ، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ نیز مرزا قادیانی کو نبی یا مذہبی مصلح ماننے والے لاہوری اور قادیانی کو بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔
گزشتہ دنوں میرے متعلق بعض احباب میں غلط فہمی پیدا ہوئی کہ میں قادیانی ہو گیا ہوں۔ میں پہلے کبھی قادیانی تھا نہ اب ہوں اور نہ آئندہ ہوں گا۔ (ان شاء اللہ العزیز)
یہ واقعہ ہے کہ میں کچھ عرصہ قادیانیوں میں رہا ہوں اور ان کی ملک و ملت دشمنی کو قریب سے دیکھا ہے۔ مجھ پر کچھ قادیانیوں نے جو بہاول پور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈورے ڈالنے کی کوشش کی۔ میں ان کے خلاف صدارتی آرڈیننس امتناع قادیانیت کے تحت قانونی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔ اس سلسلہ میں اپنے وکلاء سے مشاورت کر رہا ہوں۔ میں عنقریب آئندہ لائحہ عمل اور تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ہدایات کے مطابق کام کرنے کا بھر پور اعلان کروں گا۔ لہٰذا میرے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات دور ہو جانے چاہئیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۲، مؤرخہ ۲۸؍ستمبر ۱۹۹۰ء)
رحیم یار خان میں چار افراد کی مرزائیت سے توبہ
رحیم یار خان کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ضلع رحیم یار خان کے دفتر سرکلر روڈ میں بستی کندھار سنگھ کے چار آدمی آئے۔ جن کے نام یہ ہیں۔ محمد محمود ولد رحمت اللہ قوم راجپوت، محمد شفیع ولد رحمت اللہ قوم راجپوت، محمد شریف و محمد بشیر ولد رحمت اللہ قوم راجپوت۔ یہ چار آدمی قادیانی تھے۔ بستی کے امام مسجد مولانا نور احمد صاحب ولد مولا بخش صاحب نے تبلیغ کی چاروں اشخاص اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ چنانچہ یہ حضرات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر رحیم یار خان میں تشریف لائے۔ ضلعی مبلغ مولانا احمد بخش شجاع آبادی نے تبلیغ کی مرزا کی خرافات بیان کی چاروں اشخاص نے مرزا قادیانی پر لعنت کی اسے کافر و جہنمی کہا۔ بعد میں حضرت مبلغ صاحب نے قاری حماد اللہ صاحب شفیق مہتمم جامعہ مدنیہ اور قاری امداد اللہ صاحب خطیب زرعی کالج، مولانا عبداللطیف صاحب صدر مدرس جامعہ مدنیہ کی موجودگی میں ان حضرات کو کلمہ طیبہ پڑھایا اور ان کے لئے استقامت علی الاسلام کے لئے دعا کی جملہ مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ، مؤرخہ ۲۸؍ستمبر تا ۴؍ اکتوبر ۱۹۹۰ء)
جواں سال عبدالوحید قادیانی کا قبول اسلام
میں مسمی عبدالوحید ولد عبدالرشید سکنہ ۱۵۴۔ پی سرکلر روڈ فیصل آباد حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میرے والدین قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں قادیانی مذہب کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں حضرت محمد ﷺ کو خدا کا آخری پیغمبر ﷺ سمجھتا ہوں اور حلفاً کہتا ہوں کہ ان کے بعد ہر دعویٰ نبوت کرنے والے ہر مدعی نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حلفاً کہتا ہوں کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا ، کاذب ، کافر، جہنمی اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو ہرگز مسیح موعود، مجدد، مہدی، مسیح، ظلی بروزی یا تشریعی یا غیر تشریعی نبی تصور نہیں کرتا۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ اب میرا قادیانی جماعت ربوہ یا لاہوری گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔ میں حلفاً دونوں گروپوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ایمان پر استقامت عطاء فرمائے۔
تصدیق نامہ
مسمی عبدالوحید ولد عبدالرشید قوم ککے زئی سکنہ ۱۵۴-پی سرکلر روڈ فیصل آباد نے میرے روبرو قادیانیت سے تائب ہوکر مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے۔ عبدالوحید کے والدین اگرچہ قادیانی ہیں۔ تاہم عبدالوحید نے قادیانی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا ہے۔ انہوں نے میرے روبرو اعلان کیا ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کو خدا تعالیٰ کا آخری نبی سمجھتے ہیں اور ہر مدعی نبوت بالخصوص مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا، کاذب، کافر، جہنمی اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ عبدالوحید صاحب کو اللہ تعالیٰ ایمان کی سلامتی اور استقامت نصیب فرمائے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۰، ۲۱، مورخہ ۲۱/دسمبر ۱۹۹۰ء)
۱۹۹۰ء میں کانفرنس ہائے ختم نبوت و دیگر سرگرمیاں
سنام گنج (بنگلہ دیش) میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
سنام گنج (رپورٹ شاہد احمد) ۱۴/جنوری ۱۹۹۰ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت سنام گنج کے زیر اہتمام یک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے شرکاء کی تعداد بیس ہزار تھی۔ اس کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست کا آغاز ظہر کے بعد دو بجے مولانا محمد نور الامین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پہلے اجلاس کے بڑے مقرر حضرت مولانا نور اللہ (برہمن باڑیہ) تھے۔ آپ نے رد قادیانیت پر تفصیلی تقریر فرمائی۔ دوران تقریر مسلسل نعرے تکبیر لگتے رہے۔ جب کہ مسیح الرحمان نے اپنی تقریر میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مولانا نور الاسلام ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ اس کانفرنس کا دوسرا اجلاس مغرب کے بعد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت حضرت مولانا عبدالکریم صاحب شیخ کوڑیا نے کی۔ اس اجلاس کے مہمان خصوصی حضرت مولانا سید محمد اسعد مدنی تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرزا قادیانی کی تمام پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔ مرزا نے محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی کی تھی مگر نکاح نہ ہوا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کی موت کے بارے میں پیش گوئی کی۔ خدا کا شکر کہ ایسا ہوا کہ مرزا خود حضرت مولانا کی زندگی میں ہی منہ مانگی موت ”وبائی ہیضہ“ سے جہنم واصل ہوا۔ اس کے علاوہ اس کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی تھی اور جھوٹا کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس اجلاس میں مولانا شمس الدین قاسمی ڈھاکہ، مولانا زکریا استاد ڈھاکہ یونیورسٹی، مولانا اسماعیل، مولانا امین الدین نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں حضرت مولانا عبدالحق صاحب مجاز حضرت مدنی نے تمام مسلمانوں کو رد قادیانیت اور عیسائیت کے بارے میں کام کرنے کا وعدہ لیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۵، مورخہ ۹ تا ۱۵/مارچ ۱۹۹۰ء)
برہمن باریہ بنگلہ دیش میں دوروزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے مطالبات
گزشتہ ۸/فروری ۱۹۹۰ء بروز جمعرات سے دوروزہ برہمن باریہ تنظیم نوجوان تحفظ ختم نبوت کی طرف سے نیاز محمد ہائی سکول
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میدان میں حضرت علامہ مولانا سراج الاسلام مدظلہ العالی کی زیر صدارت عظیم الشان کانفرنس ہوئی۔ جس میں بنگلہ دیش کے بڑے بڑے علماء کرام و مفکرین اسلام نے شرکت فرمائی۔ اس کانفرنس میں قریباً ۳۰؍ہزار لوگوں نے شرکت کی تنظیم نوجوانان ختم نبوت کانفرنس کے دوسرے دن چند مطالبات پیش کئے گئے جو اتفاق رائے سے تسلیم کئے گئے۔ سرکاری سطح پر ان مطالبات کو تسلیم کرانے کے لئے حکومت بنگلہ دیش سے پرزور اپیل کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱، مورخہ ۱۳ تا ۱۹؍اپریل ۱۹۹۰ء)
سیرا لون میں مسلمان ختم نبوت کانفرنس
سیرالون سے ایک خبر کے مطابق وہاں کے مسلمانوں نے دو افریقی شخصیات کے تعاون سے بیا بوشہر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جو ایک تاریخی کانفرنس تھی۔ آبادی کے لحاظ سے اس علاقے میں بہ نسبت دوسرے علاقوں کے قادیانیوں کا قدرے اثر ہے جس کی وجہ سے وہاں قادیانیت کے خلاف پروگرام کرنے میں مشکلات حائل تھیں۔ اس قسم کی کانفرنس کے انعقاد سے قادیانیوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ یہ گروہ وہاں دوسری تنظیموں کی بات سننے تک کا موقع نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور مسلمانوں کے معدودے اشخاص نے پروگرام منعقد کرانے کا فیصلہ کیا اور نتیجتاً کئی قادیانیوں نے اپنے عقیدے سے براءۃ کا اعلان کیا۔ وہاں پر علماء نے قادیانی عقائد باطلہ سے لوگوں کو خبردار کیا۔ جس کے بہترین اثرات علاقے میں پڑے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مورخہ ۲۰ تا ۲۶؍اپریل ۱۹۹۰ء)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس مکران ڈویژن
مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۹۰ء کو مکران ڈویژن کے صدر مقام تربت میں یک روزہ ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی تین نشستیں ہوئیں۔ جس کی صدارت مولانا قمر الدین صاحب خضداری نے کی۔ تلاوت قاری محمود نوشکی نے کی۔ خطاب حضرت مولانا عبد الغفار صاحب زامرانی، امیر تحفظ ختم نبوت مکران مولانا نذیر احمد صاحب، مولوی مبلغ مرکزی تحفظ ختم نبوت مولانا محمد امین صاحب قاسمی ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب، مولانا عبد الرشید صاحب ترابی، مولانا محمد ابراہیم صاحب دستی نے کیا۔ انقلابی شعر شاعر ختم نبوت حافظ علی محمد صاحب مینگل نے پیش کئے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری فضل الرحمٰن فاروقی مبلغ تحفظ ختم نبوت نے انجام دیئے۔ یہ اجتماع چھ ہزار مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ رات گئے جاری رہنے کے بعد سٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا کہ ۱۹؍اپریل ۱۹۹۰ء کو صبح ۸؍بجے جلوس ہوگا۔ چنانچہ مقررہ تاریخ کو فداء ختم نبوت نے جلوس کا اہتمام کیا۔ ہزاروں مسلمانوں پر مشتمل کفن پوش جلوس نکالا جو کہ تربت بازار میں گشت کرتا ہوا جامع مسجد پہنچا بینرز پر درج ذیل نعرے درج تھے۔
ذکریوں کو آج سے کوہ مراد حج سے بھگا دیا جائے۔ یہ جلوس جب جامع مسجد پہنچا تو جلسہ میں تبدیل ہو گیا۔ تقریروں کا سلسلہ جاری رہا اور مقررین نے اپنی تقریروں میں اکثر یہ بیان کیا کہ کوہ مراد حج پر ابھی سے پابندی لگادی جائے۔ بصورت دیگر ہم عنقریب کوہ مراد پر حملہ کریں گے۔ مفتی احتشام الحق صاحب بار بار قرارداد پڑھتے تھے کہ حکومت فی الفور ذکریوں کو حج سے روکے۔ ورنہ حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ رات گئے تک یہ جلسہ جاری رہا اور تحصیل تمپ تحصیل بلیدہ اور تحصیل تربت کے خطباء سے اپیل کی گئی کہ وہ ۲۰؍اپریل ۱۹۹۰ء کو جمعہ کی نماز اپنی اپنی مساجد میں نہ پڑھائیں بلکہ مشترکہ جمعہ پڑھیں۔ دریں اثناء خطباء نے اس بار ختم نبوت کی اپیل پر ۳۵ جامع مسجد کے خطباء مع ہزاروں مقتدیوں کے مرکزی جامع مسجد تربت پہنچے اور ۳۰ ہزار مسلمانوں کی موجودگی میں اعلان کیا گیا کہ نماز جمعہ کے بعد کفن پوش جلوس کوہ مراد کو گرانے کے لئے جعلی حج کی طرف روانہ ہوگا۔ تمام مسلمانوں نے جانے کا عہد کیا۔ چنانچہ کمشنر مکران نے نقلی حج پر پابندی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لگانے کے لئے تحریراً احکامات جاری کر دئیے۔ کمشنر کے تحریر کردہ الفاظ ہدیہ ناظرین ہیں۔ وہی الفاظ مفتی احتشام الحق صاحب جوائنٹ سیکرٹری تحفظ ختم نبوت بلوچستان نے مسلمانوں کے سامنے پڑھے اور یہ جلسہ منتشر ہوا۔ ۲۱؍اپریل کی صبح ۸/ بجے تک یعنی سولہ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد بھی کمشنر نے اپنے تحریر کردہ وعدہ پر عمل نہیں کیا تو امیر صاحب ختم نبوت مکران ڈویژن مولانا عبدالغفار صاحب نے ایک سو تیرہ آدمیوں سے بیعت لیا کہ آپ خود آر۔سی۔ڈی کراچی تربت روڈ میں جا کر خود ذکریوں کو کوہ مراد آنے سے روکیں۔ ایک سو تیرہ جانثاران ختم نبوت میں مولانا مفتی احتشام الحق، ڈاکٹر محمد اسماعیل، مولانا عبدالغفار، قاری فضل الرحمٰن فاروقی مبلغ ختم نبوت سر فہرست تھے۔ سڑک پر آئے اڑھائی گھنٹے تک ہزاروں ذکریوں کو واپس کیا گیا۔ ان سے ہتھیار چھین کر حکومت کے قبضے میں دیئے۔ پولیس آئی اور ایک سو تیرہ مسلمانوں کو گرفتار کرنے کے لئے ساڑھے چار ہزار کلاشنکوف کی گولیاں سولہ سو ربڑ کی گولیاں دو سو ستر آنسو گیس کے گولے استعمال کئے۔ تین گھنٹے کی کشمکش کے بعد پولیس نے جانثاران ختم نبوت کو گرفتار کر کے تربت سنٹرل جیل بھیجا۔ جہاں اسیران ختم نبوت کو سحری کے لئے ماسوائے ایک ایک گلاس گرم پانی کے اور کچھ نہ دیا گیا۔ بعد میں تربت کے حالات بہت خراب ہونے لگے۔ آٹھ ہزار مردوں نے جلوس نکالا۔ پانچ سو عورتوں کا ایک جلوس اور تین سو تیرہ کمسن بچوں نے جلوس نکال کر کوہ مراد کی طرف رخ کیا۔ ان پر بھی پولیس نے چار ہزار کلاشنکوف کی گولیاں اور دو ہزار ربڑ کی گولیاں اور ایک سو آنسو گیس کے گولے استعمال کر کے ان کو منتشر کیا اور تربت میں کرفیو لگا دیا۔ اسیران ختم نبوت کے ۵۰ جان نثاروں کو تربت سے گوادر جیل منتقل کیا گیا اور کوہ مراد کو ذکریوں سے خالی کرنے کے بندوبست میں لگے۔ ۲۵؍اپریل کو حافظ حسین احمد صاحب پارلیمانی لیڈر جے یو آئی نے آ کر بیک وقت اسیران ختم نبوت کو رہا کروایا۔ کرفیو اٹھا دیا گیا۔ اخبارات کی پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ کوہ مراد نقلی حج سے ذکریوں کو نکالا گیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸ تا ۲۰، مؤرخہ یکم؍جون ۱۹۹۰ء)
ننکانہ صاحب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
کانفرنس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ۱۶؍مارچ ۱۹۹۰ء کو ٹھیک رات ۹/ بجے ریڈیو پاکستان کے قاری صابر علی کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ اگلی صبح تقریباً ۲/ بجے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں ملک بھر سے آئے ہوئے جید علماء کرام، معروف دانشوروں اور ممتاز شخصیتوں نے اظہار خیال کیا۔ کانفرنس کے پہلے سیشن کے صدر تحریک پاکستان کے ممتاز کارکن اور چیئرمین قومی ادارہ برائے سماجی بہبود، جناب محمود علی تھے۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے صدر اور پرجوش نقیب محمد متین خالد نہایت سلیقے سے ادا کر رہے تھے۔ مقررین کی فہرست گو طویل تھی لیکن تقریریں بہرحال سامعین کے دلوں پر خاصے ولولہ انگیز اور پرجوش اثرات نقش کر گئیں۔ مقررین اور سامعین میں ایسی ہم آہنگی بہت کم جلسوں میں دکھائی دیتی ہے۔ متین خالد نے خیر مقدمی کلمات و تمہید کے بعد مجلس عمل (شیخوپورہ) کے راہنما مولانا عبد الہادی، مولانا عبد اللطیف انور جو کہ ضلع شیخوپورہ کے ممتاز عالم دین اور ختم نبوت کے اہم راہنما ہیں۔ فقیر سلطانی پہلے مقررین کی تائید کرتے ہوئے جلسے کانفرنسوں اور تقریروں کے جہاد کو ناکافی قرار دے کر عملی جہاد کا مجاہدانہ نعرہ بلند کر رہے تھے۔ رات بھیگ چکی تھی اور جامعہ پنجاب لاہور کے نوجوان شاعر سید منظور الحسن شاہ اپنی وجد انگیز نظم ”جب میں محمد کے در پر پہنچا“ پڑھتے ہوئے سامعین پر وجدان طاری کئے ہوئے تھے۔ ان سے قبل اس سیشن کے صدر وفاقی وزیر مملکت برائے سماجی بہبود محمود علی اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں اپنا دانشورانہ خطاب کر چکے تھے۔ جناب محمود علی قائد اعظم کے دیرینہ اور تحریک پاکستان کے ممتاز مجاہد ہیں۔ ناسازی طبیعت کے بعد ان کا خاصا صحت مندانہ خطاب سامعین کے سنجیدہ طبقہ کے دل کو لگا۔ جناب محمود علی کا کہنا تھا کہ رسول کریم ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انسان کو قدرت کی عطاء کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جدوجہد کرنے سے ہم اپنا گوہر مقصود پاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا قادیانی کافر ہیں۔ یہ دنیا بھر کے علماء کا متفقہ فیصلہ اور پاکستان کے آئین کا حصہ ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں علماء اور محب اسلام جماعتوں کا کردار قابل صد تحسین ہے۔ انہوں نے علماء مشائخ سے متحد ہو کر اس پلیٹ فارم پر مشترکہ جدوجہد کے لئے اپیل کی۔
رات نصف سے زیادہ سفر طے کر چکی ہے۔ تاریخ تبدیل ہو چکی ہے۔ سر میں اسلام کا سودا سمائے دل میں وطن کی محبت جگائے، پروفیسر ظفر علی عادل پر عزم لہجے میں مخاطب ہیں۔ کانفرنس میں اپنی شرکت اور خطاب کو عین سعادت قرار دیتے ہوئے امت مسلمہ اور قصر ختم نبوت میں نقب لگانے والے ڈاکوؤں، قادیانیوں کو اسلام اور پیغمبر اسلام کا دشمن ازلی قرار دے رہے ہیں۔ قادیانیوں نے ہماری تاریخ میں جو گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ ہم جوش جذبات میں ان کی مخالفت نہیں کرتے اور نہ ہی اس وجہ سے کہ وہ قادیانی اور غیر مسلم ہیں۔ بلکہ قادیانیت کے خلاف ہماری تمام تر محاذ آرائی اس کے باطل و کفریہ عقائد اور اسلام کے خلاف اس کی مذموم و ناپاک سازشوں کی بناء پر ہے۔ جناب سٹیج سیکرٹری انٹرنیشنل گولڈ میڈل تحریری مقابلہ کے کامیاب امیدواروں کے نام پکارتے جاتے اور دوسری طرف ان خوش نصیبوں کو میڈلز پہنائے جارہے تھے۔ پھر باری خصوصی انعامات اور مقامی سطح کے امتیازی انعامات کی تھی۔ سب سے آخر میں مہمان گرامی اور معاونین کے لئے شیلڈز اور اسناد کی تقسیم کا مرحلہ تھا۔ جناب محمود علی اور صاحبزادہ پیر سید غضنفر علی شاہ صاحب کے ہاتھوں تقسیم انعامات کے بعد شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کا نام پکارا گیا۔ جھپٹ کر پلٹنے، پلٹ کر جھپٹنے کی صلاحیت رکھنے والے مولانا اللہ وسایا مائک پر تھے اور دنیا بھر کے قادیانیوں کو چیلنج کر رہے تھے کہ مرزا قادیانی کو اور سب کچھ چھوڑ کر صرف ایک شریف آدمی ہی ثابت کر دکھاؤ۔ مولانا کا کہنا تھا کہ مرزائیت ایک مذہب کا نہیں بلکہ ایک گندگی اور ذلالت کا نام ہے۔ اس کرۂ ارض پر بسنے والی تین بدترین قوموں میں مجموعی طور پر پائی جانے والی صفات رذیلہ ہر قادیانی میں انفرادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ دکھ اور غم سے بھر پور لہجے میں وہ کہہ رہے تھے کہ مرزا قادیانی میں انفرادی طور پر بدبودار آدمی کو رحمت عالم ﷺ جیسی عظیم و جلیل شخصیت کے مدمقابل ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ہم اس قبیح قادیانی حرکت کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ گوش برآواز حاضرین نے بھی یک زبان ہو کر ان کے ساتھ اس عزم کا عہد کیا۔ پھر سامعین بہ اصرار انہیں خطاب کو ختم کرنے کی بجائے طویل کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ اپنے عالمانہ خطاب کا اختتام انہوں نے اس بات پر کیا کہ خدا کے بعد خدا کوئی نہیں اور مصطفیٰ ﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں۔
اور اب پیر طریقت صاحبزادہ پیر سید غضنفر علی شاہ اپنے اختتامی خطاب میں سیدنا صدیق اکبر ؓ کے اس فرمان کو دہرا رہے تھے کہ اگر حضور خاتم النبیین کی ختم نبوت کا تحفظ ہو رہا ہے تو دنیا کی ہر شئے سلامت ہے اور اگر آقا کی ختم نبوت و ناموس رسالت کے خلاف کوئی سازش جنم لیتی ہے تو پھر کچھ بھی سلامت نہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱ تا ۲۳، مورخہ ۱۱ تا ۱۷؍ مئی ۱۹۹۰ء)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
۱۴؍ مئی ۱۹۹۰ء عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس نواں شہر ضلع ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ہزارہ کی تاریخی مسجد جامعہ مسجد الیاسی میں انتہائی تزک واحتشام کے ساتھ منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کی صدارت امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ جب کہ اس کانفرنس کی دو نشستیں منعقد کی گئیں۔ پہلی نشست بعد از نماز ظہر اور دوسری نشست بعد از نماز عشاء شروع کی گئی۔ مقررین میں مولانا حبیب الرحمن صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد، مولانا محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایوب الہاشمی صاحب، سرپرست اعلیٰ تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ضلع ایبٹ آباد، مولانا قاضی محمد نواز خان صاحب سرپرست تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس نواں شہر ضلع ایبٹ آباد، مولانا عبداللہ خالد صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ، مولانا ضیاء الدین صاحب ہری پور، مولانا نور الحق نور صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور، مولانا عبدالمجید صاحب ہزاروی راولپنڈی، مولانا عبدالواحد صاحب نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ بلوچستان، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور علامہ ضیاءالرحمٰن فاروقی کا خصوصی خطاب شامل تھا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مؤرخہ ۸ تا ۱۴/جون ۱۹۹۰ء)
ڈھاکہ بنگلہ دیش میں تحفظ ختم نبوت اندولن کے زیر اہتمام دوروزہ بین الاقوامی ختم نبوت سیمینار
ختم نبوت اندولن پریشد بنگلہ دیش کے زیر اہتمام مؤرخہ ۱۷، ۱۸/مئی ۱۹۹۰ء کو ڈھاکہ جامعہ حسینیہ عرض آباد میر پور میں منعقد ہونے والے دوروزہ ختم نبوت سیمینار میں بنگلہ دیش حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور قادیانی تفسیر جو حال ہی میں بنگلہ زبان میں شائع ہوئی ہے اس پر پابندی لگائی جائے۔ اس لئے کہ یہ تفسیر تحریف شدہ ہے۔
اس ”ختم نبوت سیمینار“ میں بھارت سے فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم پاکستان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد مدظلہ، مولانا عبدالمجید ندیم، مولانا محمد بنوری، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما عبدالرحمٰن یعقوب باوا، صاحبزادہ عزیز احمد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ڈھاکہ کے سعودی سفارت خانہ کے اسلامی امور کے سیکرٹری جناب خالد السبعی نے سعودی سفیر کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی۔
سیمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت حضرت مولانا شیخ عبدالکریم (کوزیا سلہٹ) نے کی۔ ختم نبوت اندولن پریشد بنگلہ دیش کے صدر مولانا شمس الدین قاسمی نے اپنے افتتاحی اجلاس میں قادیانی فتنہ بنگلہ دیش کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قادیانی فتنہ انگریز کا لگایا ہوا پودا ہے اور آج یہ فتنہ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی یہ سمجھ رہے تھے۔ یہاں میدان خالی ہے اور یہاں کے بھولے بھالے مسلمانوں کو آسانی سے مرتد بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ یہاں مسلمان غریب ضرور ہیں لیکن ایمان کا سودا کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء کے بعد ایم .ایم احمد جیسے قادیانی سودا کرنے والے نے یہاں قادیانیت کو بہت تقویت پہنچائی۔ دور ایوبی میں ہمارے سرحدی علاقے ضلع پنچوگڑھ میں دوسو ایکڑ زمین، ایم .ایم احمد قادیانی کے ایماء پر قادیانیوں کے نام الاٹ کر دی اور وہاں قادیانیوں نے احمد نگر کے نام سے قادیانی کالونی بنائی۔ مولانا نے مزید کہا کہ اس وقت قادیانی گروہ نے بنگلہ دیش میں اپنی اشتعال انگیز کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اس لئے اب اکابر علمائے کرام کے مشورہ سے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ختم نبوت اندولن پریشد بنگلہ دیش کے نام سے ایک مستقل تنظیم کا وجود عمل میں آیا ہے۔ اس تنظیم کے کارکنوں اور مبلغوں نے گزشتہ چھ ماہ میں شدید محنت کر کے پورے بنگلہ دیش میں تقریباً ڈیڑھ سو اضلاع میں اس کی شاخیں قائم کر لی ہیں۔ اب میدان قادیانیوں کے لئے خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان شاء اللہ! فتنہ قادیانیت کا بھر پور تعاقب کیا جائے گا۔ آخر میں مولانا قاسمی نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس تنظیم کے پروگراموں کو بروئے کار لانے کے لئے ہر قسم کا تعاون کریں۔ حاضرین نے ہاتھ اٹھا کر تائید کی اور بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے تمام حاضرین کا خصوصاً شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد اور فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی اور مولانا فضل الرحمٰن کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شکریہ ادا کیا۔ جمعیۃ العلمائے اسلام پاکستان کے ناظم عمومی مولانا فضل الرحمٰن ایم۔این۔اے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی فتنہ کے مقابلہ کے لئے جہاں تنظیم کی ضرورت ہے وہاں سیاسی قوت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۴ء میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے زمانہ میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے اندر مفتی محمود کی قیادت علماء کرام کا ایک مضبوط گروپ موجود تھا، جنہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ ختم نبوت جیسے اہم مسئلے پر اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ نے بتایا کہ اس وقت بنگلہ دیش کے اہم سرکاری عہدوں پر قادیانی قبضہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور وہ اپنی سرگرمیاں ملک بھر میں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ پوری توانائی کے ساتھ متحد ہو کر اس فتنہ کا محاسبہ کریں اور یہاں کے مسلمانوں کو بتائیں کہ قادیانیت کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ۱۹۷۴ء میں مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس کے موقع پر میں حاضر تھا۔ سب جیکٹ کمیٹی کے ایک رکن کی حیثیت سے میں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی تجویز پر زور دیا۔ چنانچہ دنیا بھر کے ایک سو چالیس مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی موجودگی میں بالاتفاق قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی تجویز پاس ہوئی۔ اس کے بعد شد شاہ فیصل نے اس مسئلہ کی طرف پوری توجہ دی اور انہی کے مساعی کے نتیجہ میں بہت سے مسلم ممالک میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزی حضرت مولانا خان محمد زید مجدہ کی دعا کے ساتھ پہلی نشست ختم ہوئی۔
۱۷؍ مئی سہ پہر تین بجے حضرت مولانا ظفر امام پیر صاحب نارندہ ڈھاکہ کی زیر صدارت دوبارہ اجلاس شروع ہوا۔ اس اجلاس میں شیخ الحدیث مولانا عزیز الحق صاحب، مولانا فرید الدین مسعود، مولانا محی الدین خان، مولانا منیر الزمان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مکرم عبدالرحمٰن یعقوب باوا اور مولانا سید عبدالمجید ندیم نے تقریر فرمائی۔ مولانا عزیز الحق صاحب نے اپنی تقریر میں فتنہ قادیانیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس فتنہ کے مقابلہ میں ختم نبوت اندولن پریشد کی طرف سے جو پروگرام دیا جائے گا۔ ہم اس کی بھر پور اور پر زور تائید کرنے کا یقین دلاتے ہیں۔
مولانا فرید الدین مسعود نے کہا کہ اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے ہمیں بنگلہ زبان میں کتابیں شائع کرنا ہوں گی۔ نیز عوام کو متحد ہو کر اس فتنہ کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مولانا محی الدین خان نے اپنی تقریر میں اس موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سامراجی طاقتوں کی طرف سے عالمی پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔ متحدہ ہندوستان میں سیاسی اغراض کے حصول کے لئے برطانیہ نے قادیانی کذاب مدعی نبوت کو کھڑا کر کے آزادی کی جدوجہد میں پھوٹ ڈالنے کی ناپاک سازش کی تھی۔ مولانا نے فرمایا کہ بنگلہ دیش میں قادیانی، بہائی اور عیسائی مشنری فتنوں کے مقابلہ کے لئے ختم نبوت اندولن پریشد کے نام سے جو تنظیم قائم ہوئی ہے۔ ہر طبقہ کے مسلمانوں کو اس کی پوری تائید کرنا چاہئے۔
مولانا منیر الزمان نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ مرزا قادیانی کذاب کے ہر دعویٰ کو اللہ تعالیٰ نے جھوٹا ثابت کر کے دنیا والوں کے سامنے ثابت کر دیا کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ وہ کذاب و دجال ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کے دوران میں علماء کرام اور نمائندوں سے پر زور اپیل کی ہے کہ ختم نبوت اندولن پریشد ایک غیر سیاسی خالص دینی تنظیم ہے۔ اس کا واحد مقصد یہ ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی اور متحد ہو کر اس کے لئے تحریک چلائی جائے۔ مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا نے اپنے بیان میں مرزا قادیانی کے دجل وفریب کو قادیانی کتب کے حوالے سے ثابت کیا۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم نے اپنے تفصیلی بیان میں عقیدہ ختم نبوت کو واضح الفاظ میں سمجھایا اور جھوٹی نبوت کے دعویدار مرزا قادیانی کے دجل وفریب کو کھول کر ثابت کر دیا اور حاضرین سے وعدہ لیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے متحد ہو کر کام کریں گے۔
۱۸؍ مئی ۱۹۹۰ء بروز جمعہ صبح ۸؍ بجے حضرت مولانا اشرف علی بشوناتھی (سلہٹ) نائب صدر ختم نبوت اندولن پریشد بنگلہ دیش کی زیر صدارت تیسری نشست شروع ہوئی۔ اس نشست میں ختم نبوت اندولن پریشد بنگلہ دیش کے ناظم عمومی حضرت مولانا مفتی نور اللہ نے ختم نبوت اندولن پریشد کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس تنظیم کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔ اس کا صرف اور صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیا جائے۔ قادیانی اور بہائی دجل وفریب سے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی جائے۔ اس تنظیم میں ہر جماعت کے مسلمان شامل ہو سکتے ہیں۔
ناظم تنظیم مولانا ظہیر الحق شعبانی، ناظم مولانا عبدالقادر اور حافظ اسماعیل نے ختم نبوت اندولن پریشد کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے تقریریں کیں۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع سے آئے ہوئے نمائندوں نے بھی تقریریں کیں۔ ۱۸؍ مئی بروز جمعہ شام تین بجے سے حضرت مولانا ثناء الدین صاحب مدظلہ مہتمم مدرسہ محمودیہ بریسال کی زیر صدارت آخری نشست شروع ہوئی۔ اس اجلاس میں بہت سارے اکابر علماء کرام نے بیان فرمایا۔ ان میں سے حضرت مولانا شمس الدین قاسمی صدر محترم ختم نبوت اندولن پریشد بنگلہ دیش، ناظم عمومی مفتی نور اللہ، حضرت مولانا سید محمد بنوری، مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا اور حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم قابل ذکر ہیں۔ اجلاس کے اخیر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر محترم شیخ المشائخ حضرت العلامہ مولانا خان محمد مدظلہ نے ایک مختصر جامع بیان کے بعد دعا فرمائی۔ دعا میں ہزاروں کی تعداد میں حاضرین زار زار رو رہے تھے۔
تحفظ ختم نبوت اندولن کا نو نکاتی پروگرام
- ۱...... جن اضلاع میں اب تک شاخیں قائم نہیں ہوئیں ان اضلاع میں شاخیں قائم کی جائیں۔ تمام اپ ضلع (قصبات) اور یونین
میں مستقبل قریب میں شاخ قائم کی جائے۔ نیز ہر یونین سے دو سو ابتدائی رکن اور اپ ضلع (قصبات) کے مرکزی شہر میں پانچ سو ابتدائی رکن اور ہر ضلعی شہر میں ایک ہزار ابتدائی رکن اور ڈویژنل شہر میں تین ہزار اور دارالحکومت ڈھاکہ میں دس ہزار ابتدائی رکن بنائے جائیں۔
- ۲...... قادیانی اور بہائیوں کے متعلق رائے عامہ ہموار کرنے کی غرض سے ہر مسجد کے امام صاحب سے تبادلہ خیال کر کے مسجد کے
مصلیوں کو ان فتنوں پر واقف کرنے کی غرض سے ہر ہر مسجد میں بیان کا انتظام کیا جائے۔ خصوصاً ائمہ کرام سے درخواست کی جائے کہ وہ حضرات جمعہ کے دن اپنے بیان میں ان فتنوں کے متعلق کچھ نہ کچھ بیان کیا کریں۔ علاوہ ازیں واعظین کرام کو ختم نبوت کے موضوع پر اپنے وعظوں میں بیان کرنے کی اپیل کی جائے۔
- ۳...... مرزائی فتنہ اور بہائی وغیرہ فتنوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کے ذہن ہموار کرنے کی غرض سے شعبہ نشر واشاعت کی طرف سے کتابیں
شائع کی جائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴...... ملک بھر میں ختم نبوت کے مبلغین تیار کرنے کی غرض سے سال میں دو دفعہ مرکز میں نوجوان علماء، خطباء، ائمہ، مساجد اور واعظین
کی ٹریننگ کا انتظام کیا جائے۔
- ۵...... قادیانی اور بہائی کے متعلق معلومات حاصل کر کے ہر ضلعی دفتر کے رجسٹر میں درج کریں اور مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ نیز جہاں
کہیں قادیانی مبلغ پہنچ جائے۔ وہاں ختم نبوت کے مبلغ بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔
- ۶...... دیہاتی علاقوں میں جہاں ابتدائی دینی تعلیم کے لئے مکتب نہیں ہے۔ وہاں مکتب قائم کرنے کا انتظام کیا جائے اور تمام مکاتب
کے اساتذہ کرام سے عقیدۂ ختم نبوت کا علم بچوں اور بچیوں کو تعلیم دینے کا انتظام کیا جائے۔
- ۷...... ضلع، ذیلی ضلع (قصبہ) اور یونین کمیٹی ماہانہ کمیٹی کے اجلاس منعقد کر کے اپنی اپنی کمیٹی کی کارروائی کا جائزہ لے گی۔ نیز آئندہ ماہ
کے پروگرام بنا کر بروئے کار لانے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہے گی۔
- ۸...... جن علاقوں میں قادیانی یا بہائی موجود ہیں وہاں ایسا ماحول پیدا کرنے کی سعی کرنی ہوگی کہ مسلمان ان مرتدوں سے ہر معاملات
میں مکمل بائیکاٹ کر سکے۔
- ۹...... مرکز میں نیز ہر ہر ضلع میں غریب نادار اور یتیموں کی امداد و تعاون کے لئے ”بیت المال“ کے نام سے ایک فنڈ قائم کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، ۲۳، مورخہ ۲۲ تا ۲۸ / جون ۱۹۹۰ء)
چاٹگام میں ختم نبوت کانفرنس
سابقہ مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی اور بنگلہ دیش بننے کے بعد تحریک تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیاں ماند پڑ چکی تھیں۔ لیکن پھر بھی علماء بنگلہ دیش نے ختم نبوت مشن کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا۔ حالیہ برسوں میں اس تحریک میں مزید شدت پیدا ہو گئی۔ قادیانیوں کی اشتعال انگیز کارروائیوں میں جوں جوں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ علمائے کرام نے محسوس کیا۔ اب خاموش رہنے کا وقت نہیں۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا کہ اگر قادیانیوں کے لئے یونہی کھلا میدان چھوڑ دیا گیا تو لوگوں کا ایمان خطرہ میں پڑ جائے گا۔ چنانچہ مختلف اوقات میں مختلف حضرات نے ختم نبوت کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا۔ پچھلے چند برسوں میں ختم نبوت کے بڑے بڑے جلسے منعقد کئے گئے۔ برہمن باڑیہ کے علاقے میں تقریباً ایک صد سے زائد لوگوں نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا اور اس کے نتیجہ میں چھ قادیانی عبادت گاہیں، مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں۔ جس سے قادیانیوں میں بوکھلاہٹ طاری ہو گئی۔ قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے برہمن باڑیہ کی صورتحال پر اپنے خطبہ میں تبصرہ کرتے ہوئے ان مسلمانوں کو جو قادیانیت سے مسلمان ہوئے تھے ”مرتد“ قرار دیا تھا۔
۱۷، ۱۸ / مئی ۱۹۹۰ء کو ڈھاکہ میں ”ختم نبوت اندولن پریشد بنگلہ دیش“ کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ یہ سیمینار دراصل میں علمائے کرام اور کارکنوں کا جوڑ تھا جو بنگلہ دیش کے مختلف اضلاع سے آئے تھے اور وہاں انہوں نے اپنے اپنے اضلاع میں ”ختم نبوت اندولن پریشد“ کے یونٹ قائم کر رکھے تھے۔ اس سیمینار میں شرکت کے لئے بھارت سے فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی مدظلہ پاکستان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمد مدظلہ، جمعیۃ علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن، مولانا عبدالمجید ندیم، ایڈیٹر ختم نبوت انٹرنیشنل عبدالرحمٰن باوا، جامعہ علوم اسلامیہ کراچی مولانا محمد بنوری کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
پروگرام کے مطابق پاکستان سے ۴ / مئی کو مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا محمد بنوری سب سے پہلے تشریف لائے۔ جب کہ حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا خان محمد مدظلہ، مولانا عبدالمجید ندیم ، مکرم عبدالرحمن باوا ۱۶؍ مئی کو تشریف لائے اور ادھر بھارت سے مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ بھی سیمینار میں شرکت کے لئے تشریف لے آئے۔ ۱۷؍مئی کو صبح ۸؍بجے پہلے سیشن کا آغاز ہوا اور ظہر تک جاری رہا اور ۴؍بجے جو اجلاس شروع اور رات عشاء تک جاری رہا۔ اسی طرح جمعہ ۱۸؍مئی کو اس کے دو اجلاس اور آخری اجلاس حضرت مولانا خان محمد مدظلہ کی دعا پر ختم ہوا۔
۱۹؍مئی کو چاٹگام میں قائم ختم نبوت اندولن پریشد کے رہنماؤں کا اصرار تھا کہ چاٹگام میں بھی ایک مختصر سا پروگرام رکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ڈھاکہ سے مولانا عبدالمجید ندیم ، مولانا محمد بنوری، مولانا عبدالرحمن باوا اور ختم نبوت اندولن پریشد بنگلہ دیش کے مرکزی صدر مولانا شمس الدین قاسمی بذریعہ طیارہ صبح سویرے روانہ ہوئے۔ چاٹگام ائیرپورٹ پر ان مہمانوں کے استقبال کے لئے بڑی تعداد میں علمائے کرام موجود تھے۔ شام ۴؍بجے جامعہ مسجد اندر قلعہ چاٹگام میں ایک جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا جو قبل عشاء تک جاری رہا۔ مہمان علمائے کرام کے علاوہ چاٹگام کے علمائے کرام نے بھی تقریریں کیں۔ ۲۰؍مئی کو صبح مولانا عبدالمجید ندیم اور مولانا محمد بنوری ڈھاکہ تشریف لے گئے لیکن ایڈمنسٹریٹر ختم نبوت انٹرنیشنل ، مکرم عبدالرحمن باوا کو مزید دو دن کے لئے روک دیا گیا۔ انہوں نے چاٹگام کے قیام کے دوران ناظر ہاٹ، ہاٹہزاری، بابونگر، نانو پور، پٹیہ اور چاٹگام شہر کے دیگر مدارس میں خطاب کیا اور علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں۔ ۲۳؍مئی کو رات ٹرین کے ذریعہ ڈھاکہ روانہ ہوئے۔ ۲۱؍مئی کو مولانا عبدالمجید ندیم اور مولانا محمد بنوری ڈھاکہ سے واپس کراچی تشریف لے گئے۔ جب کہ حضرت مولانا خان محمد مدظلہ ۲۳؍مئی کی پرواز سے شام کو روانہ ہوگئے۔ واضح رہے کہ ڈھاکہ میں شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد مدظلہ کے سلسلہ بیعت تعلق رکھنے والے بہت احباب موجود ہیں اور ڈھاکہ میں خانقاہ سراجیہ بھی قائم ہے۔ حضرت مولانا خان محمد مدظلہ کے دوران قیام ان سے تعلق رکھنے والے مستفیض فرماتے رہے۔ مولانا فضل الرحمن اور حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم کی واپسی ۱۷؍مئی کو ہوگئی تھی۔
۲۳؍مئی سے ۳۰؍مئی تک ایڈمنسٹریٹر ختم نبوت عبدالرحمن یعقوب باوا کا قیام ڈھاکہ میں رہا۔ انہوں نے اپنے قیام کے دوران جامعہ حسینیہ عرض آباد میر پور میں طلباء سے دو گھنٹہ ختم نبوت کے موضوع پر خطاب کیا۔ ختم نبوت اندولن پریشد چاٹگام بنگلہ دیش کے زیر اہتمام مؤرخہ ۲۰؍مئی ۱۹۹۰ء کو جامع مسجد اندر قلعہ چاٹگام میں قبل عصر تا عشاء ایک جلسہ ختم نبوت کا انعقاد کیا گیا۔ اگرچہ یہ کسی مختصر نوٹس پر منعقد کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں چاٹگام کے مسلمانوں نے شرکت کی۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مکرم عبدالرحمن باوا نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ خالصتاً ایک مذہبی اور دینی مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس مسئلہ کا تعلق پوری امت محمدیہ سے ہے۔ انہوں نے چاٹگام کے مسلمانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قادیانیت جیسے اسلام دشمن ٹولے کی چالوں سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے قادیانیوں کے کفریہ عقائد کو ان کی اپنی کتابوں کے حوالوں سے ثابت کیا۔ سامراجیوں کے دائمی ایجنٹ قادیانیوں کو ملک وملت کی حفاظت کے لئے تمام اہم عہدوں سے بالکل ہٹا دینے کے لئے یہ اجلاس حکومت سے پرزور اپیل کرتا ہے۔
قرآن کریم کا صاف اعلان ہے کہ کوئی کافر یا مشرک حرم شریف میں داخل نہیں ہوسکتا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ملک سے قادیانی غیر مسلم کو حج وعمرہ کرنے کی اجازت ہے۔ اس لئے اس اجتماع کا مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کے لئے حج وعمرہ قانوناً ممنوع قرار دیا جائے۔
پھر بعد المغرب کافی وقت گزرنے پر صدر محترم مولانا نظر امام صاحب اپنی ذاتی ضرورت کی بناء پر باہر تشریف لے جانے کے بعد حضرت مولانا شیخ عبدالحلیم مدظلہ مہتمم علماء بازار فینی کے زیر صدارت نشست دوم اختتام کو پہنچی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر محترم حضرت العلام خان محمد زید مجدہ کی دعا کے ساتھ یہ نشست بھی ختم ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴ تا ۲۶، مؤرخہ ۲۲ تا ۲۸؍جون ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رحیم یار خان میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
(رپورٹ: حفیظ الرحمن قاضی ایم۔ اے) ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت ہو یا ۱۹۷۴ء کی تحریک ناموس ختم نبوت اہل رحیم یار خان ہر دور میں تحفظ ختم نبوت کے لئے اپنے تن من دھن کی بازی لگانے کی خاطر تیار نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے اہل رحیم یار خان کی ہر خواہش رہی ہے کہ تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے کام سرانجام دینے والی قد آور شخصیات یہاں تشریف لائیں تاکہ یہ لوگ ان کی زیارت کے لئے ساتھ ساتھ ان کے ایمان افروز خیالات سے بھی مستفید ہوسکیں۔ ان کی یہ دیرینہ خواہش عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان نے پوری کردی اور شہر رحیم یار خان میں ۷؍جون ۱۹۹۰ء کو ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کردیا۔ جس سے شہر رحیم یار خان اور اس کے متصل دیہاتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد کے لئے جس مقام کا انتخاب کیا گیا وہ شہر رحیم یار خان کے سب سے قدیمی اور مشہور مرکز علوم دینیہ مدرسہ عربیہ جامعہ قادریہ کی خوبصورت مرکزی جامع مسجد تھا۔ اس جگہ کو شہر رحیم یار خان کا دل بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ سارا شہر اس کے چاروں اطراف میں آباد ہے۔
اس عظیم الشان کانفرنس کے سرپرست امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان الحاج قاضی عزیز الرحمن صاحب نقشبندی تھے۔ اس کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض شہر کے ہر دل عزیز مقرر و عالم قاضی شفیق الرحمن سراجی نے سرانجام دیئے مگر اس کانفرنس کی کامیابی کا سہرا اگر کسی ایک شخص کے سر باندھنے کے لئے کہا جائے تو پھر وہ فرد واحد مبلغ ختم نبوت مولانا محمد احمد صاحب ہیں جنہوں نے رات دن ایک کر کے اس کانفرنس کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ اس کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز دینی رہنماؤں اور جید علماء نے شرکت کی۔ اس کی تین نشستیں تھیں۔ کانفرنس کے نمایاں مقررین شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد عبداللہ درخواستی (خان پور)، سجادہ نشین دربار عالی موسیٰ زئی شریف، مفتی صاحبزادہ حافظ محمد سعید صاحب مراجی (ڈیرہ اسماعیل خان)، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری (ملتان)، مولانا قاضی عبداللطیف صاحب (شجاع آباد)، مولانا اللہ وسایا (ملتان)، مولانا خلیل الرحمن صاحب (پنوں عاقل سندھ)، حضرت مولانا قاری عزیز الرحمن صاحب، مولانا شفیق الرحمن درخواستی (خان پور)، مولانا بشیر احمد حصاروی (رحیم یار خان) اور قاضی شفیق الرحمن (کراچی) تھے۔
نماز جمعہ سے قبل مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا خطاب تھا۔ خوبصورت انداز بیان نے سامعین کو بے حد متاثر کیا اور پھر رحیم یار خان کے امیر عالمی مجلس ختم نبوت قاضی عزیز الرحمن صاحب تشریف لائے۔ جو اس مرکزی جامع مسجد کے خطیب بھی ہیں۔ انہوں نے چند منٹ میں لوگوں کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ آپ کلمہ حق کہتے ہیں۔ کسی قسم کی مصلحت کے قائل نہیں۔ انہوں نے مختصر سے وقت میں اپنے اس فرض کو بخوبی سرانجام دیا۔ نماز جمعہ کے فوراً بعد بارش اور آندھی کی وجہ سے نشست کچھ حد تک متاثر ہوئی۔ مگر مولانا اللہ وسایا صاحب جنہیں فاتح ربوہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے انہوں نے اپنی محققانہ اور دلائل سے بھرپور تقریر شروع کی تو لوگوں کا توجہ کئے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔ انہوں نے اس موقع پر فاتح ربوہ ہونے کا حق ادا کر دیا۔ انہوں نے اس وقت قادیانیت کے بھیانک چہرے سے نقاب الٹ کر رکھ دیا۔ بعد میں مولانا بشیر احمد حصاروی نے خطاب کیا اور مسلمانوں کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔
تیسری نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ اس نشست کی رپورٹ قدرے تفصیل سے پیش کی جارہی ہے۔ کیونکہ یہ نشست تینوں نشستوں سے اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ حضرت درخواستی جیسی قد آور، شخصیت اور اہل علم میں بلند پایہ مقام رکھنے والی ہستی بنفس نفیس لوگوں کے درمیان موجود تھی۔
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء
اس نشست کی صدارت حضرت خواجہ صاحبزادہ مفتی محمد سعید صاحب سراجی سجادہ نشین دربار عالی موسیٰ زئی شریف (سرحد) نے فرمائی۔ نماز عشاء کے بعد جیسے ہی نشست کا آغاز تلاوت کلام اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔ حضرت درخواستی کے نواسے حضرت مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی نے اپنا بیان شروع کیا اور سیرت النبی پر بڑی مدلل تقریر کی اور دیکھتے ہی دیکھتے پنڈال سامعین سے بھر گیا۔ اسی دوران ابھی سٹیج سے سیکرٹری صاحب مائیک پر اعلان کر رہے تھے کہ مسجد کے مین گیٹ سے چپکے سے ایک گاڑی داخل ہوئی۔ لائٹیں جیسے ہی سامعین پر پڑیں تو سب گاڑی کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ کیونکہ ہر آہٹ پر انہیں حضرت درخواستی کی آمد محسوس ہو رہی تھی اور اب ان کی انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی تھیں اور وہ جان چکے تھے کہ حضرت درخواستی اب تشریف لا چکے ہیں۔ لہٰذا اسٹیج سے استقبال کے نعرے لگائے جانے لگے۔ ختم نبوت کے فلک شگاف نعرے سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔ اس دوران کار سے حضرت درخواستی باہر تشریف لائے۔ کافی ضعیف ہو چکے تھے۔ مگر عزم جواں دکھائی دے رہا تھا۔ لوگ اپنی اپنی جگہ پر احتراماً کھڑے ہو گئے اور بغیر کسی رہنمائی کے دو رویہ قطار سب کھڑے ہو گئے۔ جسے دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ لوگوں کے اندر ابھی نظم وضبط اور احترام ختم نہیں ہوا۔ شرط یہ ہے کون ہے جو احترام کرانا جانتا ہے۔ بہر حال حضرت درخواستی آہستہ آہستہ سہارے کے ساتھ چل کر سٹیج تک پہنچے تو پھر انہوں نے صاحبزادہ مفتی محمد سعید صاحب سے فرمایا کہ پہلے وہ اظہار خیال کریں۔ مجمع مکمل طور پر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ جب صاحبزادہ صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور پھر آپ نے انقلابی طرز خطابت اپناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم ختم نبوت پر کامل یقین نہیں رکھتے۔ پھر خواہ ہماری ساری زندگی تقویٰ اور عبادات میں کیوں نہ گزر جائے تو فضول ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جب تک اس سر زمین پر ایک بھی مسلمان زندہ ہے۔ اس وقت تک تحفظ ختم نبوت کی تحریک جاری رہے گی۔
اس کے بعد اس نشست کے مہمان خصوصی حافظ الحدیث والقرآن حضرت درخواستی کا بیان دل پذیر شروع ہوا۔ آپ نے ابتداء میں ختم نبوت کے حق میں بہت سی قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ پیش فرمائیں اور پھر مسلمانان عالم کو فتنہ قادیانیت کی خفیہ، ظاہری، اسلام دشمنی اور ملک دشمن سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ۔ آپ نے فرمایا اگر ہم ختم نبوت کا تحفظ نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نبی کے چاروں اصحاب رسول کی عزت کا تحفظ نہیں کر سکتے۔ اگر ہم امہات المؤمنین کی ناموس کا تحفظ نہیں کر سکتے تو پھر ہمارا یہ جینا کسی کام کا نہیں۔ اللہ رب العزت کو ہماری ان بے مقصد زندگیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایک بار پھر وقت آگیا ہے کہ قادیانیت کے خلاف مکمل طور پر متحد ہو جایا جائے، اور وقت ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ افغانستان کے سلسلہ میں بھی کسی قسم کی ضرورت اور قربانی سے گریز نہ کیا جائے۔ آپ نے اس موقعہ پر عوام کے ہاتھ اٹھوا کر عہد لیا کہ ان تمام محاذوں پر اگر ان کی جان مال اور وقت کی قربانی کے لئے پکارا گیا تو وہ سستی نہیں کریں گے۔ اس کے بعد موقعہ کی مناسب چند قراردادیں پاس کی گئی اور پھر مولانا کی دعا کے ساتھ یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کئی موضوعات پر دعوت فکر دیتے ہوئے اور کئی خوشگوار یادیں چھوڑ کر رات کے پچھلے پہر اپنے اختتام کو پہنچی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، ۲۳، مورخہ ۱۰ تا ۱۶ / اگست ۱۹۹۰ء)
قصبہ پیلو وینس میں جلسہ ختم نبوت
بمقام جنوبی مسجد پیلو وینس نزد روڈہ ضلع خوشاب ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا اہتمام خوشاب اور پیلو وینس شہر کے مخیر حضرات نے کیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ کی کوششوں سے ہوا۔ انہوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ۴۷۱ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چند روز قبل پیلووینس کا دورہ کیا اور قادیانیوں کی پیلووینس میں سرگرمیاں اور مسلمانوں کی مرزائیت سے ناواقفی پر اس کانفرنس کا انعقاد کروایا۔ اس کانفرنس میں علاقہ تھل سے کافی لوگوں نے بسوں، موٹر سائیکلوں، کاروں، ویگنوں کے ذریعے پیلووینس پہنچے۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے نعتیں پڑھی گئیں۔ اس کے بعد باقاعدہ کانفرنس کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے مرکزی مبلغ جناب غلام مصطفیٰ سرگودھا نے ختم نبوت کے موضوع پر تفصیلی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حضور کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ہر مسلمان کا اگر عقیدہ نہیں ہوگا وہ جھوٹا ہوگا، منکر ہوگا، منافق ہوگا۔ حضور کریم ﷺ نے ہر طرح کی تکلیفیں جھیلیں لیکن انہوں نے اپنے ہر دکھ، تکلیف کو بھول کر صرف اور صرف اپنی امت کے لئے دعائیں کیں۔ ہر دکھ تکلیف کے موقع پر دعا مانگی کہ یا اللہ ! میری امت کو بخش۔
اس کے بعد مولانا خدا بخش صاحب خطیب (صدیق آباد) نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضور کریم ﷺ سے پہلے نبی اس دنیا میں تشریف لاتے رہے تو وہ کسی خطے، کسی علاقے کے لئے آتے تھے لیکن ہمارے نبی حضور کریم ﷺ پوری دنیا کے نبی بن کر آئے۔ حضور کریم ﷺ کی ختم نبوت کی تائید قرآن مجید میں سو دفعہ ہوئی۔ اس کے علاوہ ۲۱۰ احادیث ہیں جن میں حضور کریم ﷺ کی ختم نبوت کی تائید کی گئی ہے۔ اس لئے اگر کوئی حضور کریم ﷺ کی ختم نبوت کو نہ مانے وہ قرآن کا منکر، احادیث کا منکر، اجماع امت کا منکر بلکہ وہ سب سے بدترین کافر ہے۔ مرزائی آپ لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ وہ آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ براہ کرم خدا کے لئے اپنے دین کو اپنے اسلام کو اپنے پیارے نبی کی ختم نبوت کا بغور مطالعہ کرو۔ مرزائیوں سے بائیکاٹ کرو۔ ان کا ہر مسلمان پر محاسبہ کرنا فرض ہے۔ گزشتہ دنوں ربوہ میں ایک قادیانی پروفیسر ایک اجلاس میں اپنے مرزا غلام احمد کے نظام کی تعریف کرتا ہوا کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد کا نظام اب سو برس تک چل رہا ہے۔ لیکن حضور کریم ﷺ کا نظام ناکام ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور کریم ﷺ کے صحابہ ؓ نااہل تھے۔ لیکن مرزا کے صحابہ اہل ہیں۔ مولانا خدا بخش صاحب نے مرزائیوں کو چیلنج کیا کہ مرزا کی اپنی کتابوں میں مرزا کی جھوٹی باتیں اس کی اپنی زبانی اور اس کے لڑکے کی زبانی تحریر ہیں لہٰذا مرزائی اپنی کتابوں میں مرزا کو صرف شریف آدمی ثابت کردیں تو ان کا منہ مانگا انعام دوں گا۔ اس کے بعد قاری سعید احمد اسعد کے صاحبزادے محمد عبداللہ جن کی عمر آٹھ سال ہے نے پر جوش طریقے سے ختم نبوت کے موضوع پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کے جذبات کو ابھارا۔ اس نے مرزائیوں کو چیلنج کیا کہ آپ کا بڑے سے بڑے مرزا طاہر میرے ساتھ مباہلہ کر لیں۔
اس کے بعد سرگودھا کے مبلغ ختم نبوت جناب مولانا ضیاء الحق صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں ختم نبوت کے موضوع پر تفصیلی تقریر کی۔ انہوں نے کہا حضور کریم ﷺ کی وفات کے بعد بہت سے جھوٹے نبیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ لیکن صحابہ کرام ؓ نے ان کو واصل جہنم کیا۔ اب اس صدی میں انگریزوں نے مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان میں انتشار پھیلانے کے لئے اپنے ایک خصوصی ایجنٹ کو یہ کام سپرد کیا کہ تم اپنی نبوت کا اعلان کر دو تو اس نے اس کام کو سرانجام دیا۔ حالانکہ اس کو نبی تو نبی ایک شریف آدمی بھی نہیں کہا جا سکتا۔
اس کے بعد نوجوان عالم جناب حضرت قاری سعید احمد اسعد خوشاب نے اپنے مخصوص انداز میں ختم نبوت پر تفصیل سے بیان دیا۔ انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ختم نبوت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی انہوں نے صحابہ کرام ؓ کے ایثار وقربانی کا تذکرہ کیا کہ انہوں نے حضور کریم ﷺ کی خاطر اپنی نو بیاہتا بیوی گھر بار، جان ومال، ہر قدم پر ہر موقعہ پر قربان کیا۔ آج ہم اپنے آپ کو حضور کریم ﷺ کے عاشق کہلواتے ہیں۔
لیکن آج ختم نبوت پر ڈاکہ ہوا ہے اور ہم ٹس سے مس نہیں ہورہے ۔ مسلمانو! اگر تمہیں اپنی جان و مال ماں باپ ، رشتہ داروں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے حضور کریم ﷺ کو محبت زیادہ نہیں تو آپ مسلمان نہیں ہیں۔ قاری صاحب نے کہا کہ اگر ہماری ماں یا بہن کو کوئی گالی دے تو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن آج حضور کریم ﷺ کو اور ان کی اہل بیت کو گالیاں دی جاتی ہیں لیکن ہماری غیرت ختم ہوگئی بلکہ ہم ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ شادی غمی میں ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ مسلمانو خدا کے لئے اپنے ایمان کو بچاؤ مرزائیوں کا بائیکاٹ کرو۔ ان کو مسلمان کہلانے کا کوئی حق نہیں۔ لہٰذا ان کے ان چالاکیوں پر کڑی نگرانی رکھی جائے۔ پڑھے لکھے نوجوان اپنے بزرگوں کو اپنی ماؤں بہنوں کو مرزائیوں کے عقائد کے بارے میں بتائیں کیوں کہ اگر کوئی آپ کی ماں، بہن یا بزرگ ایسی حالت میں وفات پا جائیں۔ اس کے ایمان میں شک ہو تو آپ سے پوچھ ہوگی قیامت کے دن۔ آخر میں مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا نے پرجوش خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴، ۲۵، مورخہ ۲۴ تا ۳۰؍اگست ۱۹۹۰ء)
بریڈ فورڈ میں چھٹی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۱۲؍اگست ۱۹۹۰ء کو چھٹی عالمی سالانہ ختم نبوت کانفرنس اسپیڈ بال انڈور کرکٹ سینٹر بریڈ فورڈ میں نہایت تزک واحتشام سے منعقد ہوئی۔ جس میں برطانیہ بھر سے ہزاروں مسلمانوں نے نہایت جوش وولولے کے ساتھ شرکت کی۔ کانفرنس صبح ۹؍بجے سے شام ۷؍بجے تک جاری رہی۔ درمیان میں نماز ظہر کا وقفہ دیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ المشائخ مولانا خان محمد مدظلہ نے کی۔
کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم نشریات مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انبیاء کرام کی جماعت اس کائنات میں سب سے افضل واکمل اور مقدس ترین جماعت ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت ورسالت کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی تحقیر وتنقیص چونکہ اس منصب رفیع کی توہین ہے۔ اس لئے باجماع امت یہ بدترین کفر وارتداد ہے۔ انہوں نے کہا موجودہ دور کے جھوٹے مدعی نبوت کے کفر وارتداد کے باوجود بے شمار ہیں۔ ان میں سے ایک خبیث ترین سبب یہ ہے کہ اس نے قریب قریب تمام انبیاء خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مختلف عنوانات سے سخت توہین کی ہے۔
عالمی مجلس کے نائب امیر مولانا مفتی احمد الرحمن نے کہا کہ تکمیل شریعت اور حفاظت دین حضور ﷺ کی ختم نبوت کی زبردست دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت کا کام ہر مسلمان کی ڈیوٹی ہے انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ انہوں نے مغربی افریقہ کے ملک مالی میں عظیم الشان کامیابی پر مالی جانے والے وفد ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کیا۔ عالمی مجلس کے جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں عالمی مجلس کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کو شروع ہی سے اکابر اولیاء اور علماء کرام کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ اس جماعت کا طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے امت محمدیہ کے تمام مکاتب فکر کو ایک اسٹیج پر جمع کیا ہے۔
ختم نبوت کانفرنس کے چیف آرگنائزر اور عالمی مجلس کے مرکزی راہنما مکرم عبدالرحمن باوا نے کہا کہ پہلے ہر فتنہ کے عروج کا زمانہ ہوتا ہے۔ پھر اس پر زوال آتا ہے جو فتنہ سو سال سے چل رہا تھا اب اس کا زوال شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا منکرین ختم نبوت کے فتنہ کے خلاف امت مسلمہ کی جدوجہد فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ لہٰذا تمام امت محمدیہ مل کر اس آخری معرکہ کو سر کریں۔
ڈاکٹر علامہ خالد محمود نے کہا کہ نبی پاک ﷺ کی شریعت میں جہاد منسوخ نہیں جہاد قیامت تک باقی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے تشریف لائیں گے۔ اس وقت ساری دنیا ایک ملت پر ہو جائے گی۔ ایک ہی مذہب اسلام ہوگا تو جہاد کی ضرورت نہیں رہے گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ۴۷۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جہاد کی وجہ کفر اور کافر ہیں ۔ جب کفر باقی نہیں تو لڑائیاں ختم ۔ انہوں نے کہا کہ چودھویں صدی کے جھوٹے مسیح نے حدیث کا مطلب نہ سمجھا اور اپنی طرف سے جہاد کو حرام قرار دیا جب کہ دنیا میں کافر بھی موجود ہیں اور کفر کی شوکت اور طاقت بھی موجود ہے۔
ادارہ دعوت و ارشاد کے سربراہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے اور قیامت سے قبل دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے ۔ یہ امت کا اجماعی عقیدہ ہے۔ اس کا منکر کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ دو علیحدہ شخصیتیں ہیں۔ یہ ایک شخصیت کے دو نام نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں مسیح ابن مریم یا مہدی ہوں وہ اپنے اس دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ مولانا عبد الرشید ربانی نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اور مبلغین کو ہر سال برطانیہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر کفر و ارتداد کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ جناب حسن محمود عودہ نے کہا کہ میں اسلام لانے سے پہلے قادیانیوں کا مشہور و معروف مبلغ تھا۔ اللہ نے مجھے ہدایت سے نوازا اور میں علماء اسلام کی کتابیں پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن میں قادیانیوں کا سربراہ قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا میں ایک مرتبہ پھر تمام قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتا ہوں۔
عالمی مجلس کے مبلغ اور ختم نبوت کانفرنس کے آرگنائزر مولانا منظور احمد الحسینی نے کہا کہ انبیاء کرام علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوا کرتی ہیں۔ کوئی نبی ایسا نہیں جو خود کتابیں لکھتا ہو کتابوں کی تصنیف کرنے والا ”مصنف“ تو کہلا سکتا ہے انہوں نے کہا اسلام حضور ﷺ کا لہلہاتا باغ ہے۔ اس باغ کی حفاظت ہر عالم اور امتی کی ذمہ داری ہے۔ مولانا قاری محمد طیب عباسی نے کہا کہ اسلامی عقائد کا جاننا ہر مسلمان کا فریضہ ہے اور تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں ہر مسلمان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
عالمی مجلس کراچی کے جنرل سیکرٹری مولانا انور فاروقی نے کہا کہ ختم نبوت پر ہمارا کامل ایمان ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی بنیادی پہچان ہے۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ منکرین ختم نبوت کا سوشل بائیکاٹ کریں۔ کونسل آف مساجد کے صدر جناب شیر اعظم نے عالمی مجلس اور علماء کرام کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے بریڈ فورڈ کو ختم نبوت کانفرنس کے اعزاز سے نوازا۔ انہوں نے کہا توہین انبیاء کا مرتکب سلمان رشدی کے خلاف جہاد جاری رہے گا۔ انہوں نے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں او۔اے سی کی کانفرنس (جو حال ہی میں قاہرہ میں منعقد ہوئی ہے) کی قرارداد پر عمل کرے۔
بنگلہ دیش کے عالم مولانا محمد اشرف علی نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہاں قادیانیوں کو آئینی طور پر جلد غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے ۔ بصورت دیگر بنگلہ دیش کے مسلمان تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے ۔ کانفرنس سے مولانا احمد پانڈور، مولانا منیر قاسم، مولانا شمس الحق ، مولانا عبد الجلیل ، مولانا قاری اسماعیل رشید، مولانا محمد نعیم ، مولانا محمد اسلم زاہد کراچی چیمبرز آف کامرس کے سابق نائب صدر جناب محمد حسین کاپڑیا اور دیگر حضرات نے بھی خطاب کیا۔ عالمی مجلس نے ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی پر علماء اسلام اور مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱،۲۲، مورخہ ۱۴ تا ۲۰؍ستمبر ۱۹۹۰ء)
عالمی ختم نبوت کانفرنس کی جھلکیاں:
- ٭...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پچھلی پانچ ختم نبوت کانفرنسیں مشہور عالم سینٹر ویمبلے کانفرنس ہال لندن میں منعقد ہوئیں۔
پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس لندن کے اسی ہال میں یکم اکتوبر ۱۹۸۹ء کو منعقد کی گئی تھی تو کانفرنس کے دوران بریڈ فورڈ کے مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بریڈ فورڈ میں منعقد کی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- چنانچہ کانفرنس کے نظم و ضبط کے سلسلے میں جناب شیر اعظم صدر کونسل آف مساجد کو استقبالیہ کا صدر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے پچھلے
سال ۱۹۸۹ء کے آخر سے کانفرنس کے انعقاد کے لئے مناسب جگہ کی تلاش شروع کر دی جو ماہ جون ۱۹۹۰ء کے آخر تک جاری رہی۔ جب اس سلسلے میں کامیابی نہ ہوئی تو جامع ہاورڈ اسٹریٹ میں کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا۔
- احقر ۲۷؍جولائی کو کانفرنس کے سلسلے میں بریڈفورڈ پہنچا۔ یکم اگست ۱۹۹۰ء اسپیڈ ہال انڈور کرکٹ سینٹر کے مالک سے رابطہ قائم کیا
تو انہوں نے بتایا کہ ۱۲؍اگست کے علاوہ باقی اتوار ہال بک ہے۔ چنانچہ ایڈوانس پہلے پے کر کے ہال بک کر لیا گیا۔ قریبی ملحقہ شہروں کے دورے کئے گئے۔ کانفرنس سے قبل بریڈفورڈ اور ملحقہ علاقہ جات کے دو اجلاس بلائے گئے جو نہایت کامیاب رہے۔
- مسجد ابوبکر کے حاجی فقیر محمد خان، غالب خان اور صوفی عبدالرشید صاحب کے ذمے رضا کاروں کے دستوں کے ناظم مقرر کئے
گئے، جنہوں نے اچھے طریقے سے اس نظام کو نبھایا۔ ہر مسجد سے رضا کاروں کے سلسلے میں تین کارکن لئے گئے۔
بریڈفورڈ کے علماء کرام ائمہ حضرات اور خطباء کرام مولانا احمد پانڈور، مولانا محمد نعیم سواتی، مولانا محمد اشرف، مولانا عبدالجلیل، مولانا نورالحق نے اپنی اپنی مساجد میں مسلمانوں کو کانفرنس کی طرف متوجہ کیا۔ ۱۲؍اگست کی صبح ۸؍بجے رضا کاروں کے دستوں نے کانفرنس ہال پہنچ کر اپنی اپنی جگہ ڈیوٹی کے فرائض سنبھال لئے۔ اکثر رضا کاروں نے سبز رنگ کی پلاسٹک کی پٹیاں بازوں پر باندھی ہوئی تھیں جن پر رضا کار ختم نبوت لکھا تھا۔ بعض رضا کاروں نے سبز پلاسٹک کے کرتے پہنے ہوئے تھے۔ کانفرنس ہال میں پانچ ہزار آدمیوں کی گنجائش تھی۔
اسٹیج سلیقے سے سجایا گیا تھا۔ اسٹیج پر چالیس کرسیاں لگائی گئیں۔ سامنے والی بیس کرسیوں پر علماء کرام کے نام لکھ کر لگا دیئے گئے۔
اس کانفرنس کے موقع پر ایک انگریزی بینر کا اضافہ کیا گیا۔ سبز رنگ کے بینرز پر سفید جلی حروف سے ”سالانہ ختم نبوت کانفرنس“ لکھا گیا تھا۔ (بریکٹ میں ختم نبوت کا معنی بھی لکھ دیا گیا تھا تاکہ غیرمسلم اخبار نویسوں کو سمجھنے میں آسانی ہو کہ ختم نبوت کا مقصد کیا ہے)
ہال میں سبز رنگ کا قالین پہلے سے بچھا ہوا تھا۔ اس سبز رنگ کے قالین پر عمدہ نیا کپڑا آخر تک بچھا دیا گیا جو ایک صاحب خیر نے اس سلسلے میں استعمال کے لئے دیا تھا۔ کانفرنس ہال کے آخر میں ۵؍فٹ جگہ چھوڑ کر تقریباً ۲۰۰؍کرسیاں لگائی گئیں۔ ٹھیک ۹؍بجے شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد تشریف لائے اور آپ درمیان والی کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔ ساڑھے نو بجے جلسے کی ابتداء کر دی گئی۔ یہ کانفرنس نہایت کامیاب کانفرنس رہی۔ روزنامہ ٹیلی گراف اینڈ آرگس بریڈفورڈ کا مشہور اخبار ہے اس نے ۱۳؍اگست ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں پہلے صفحے پر اس خبر کو لگایا اور لکھا کہ سامعین کی تعداد ۳۰۰۰ ہزار تھی۔ اسی طرح روزنامہ یارک شائر پوسٹ جو لیڈز سے نکلتا ہے اس نے بھی پہلے ہی صفحے پر خبر لگائی اور سامعین کی تعداد ساڑھے تین ہزار لکھی۔
قادیانی اس کانفرنس سے بری طرح بوکھلا گئے ہیں۔ انہوں نے کانفرنس کے بعد اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ کبھی پولیس کو دہائی دیتے ہیں کبھی کنٹربری بشپ سے ملتے ہیں کہ دیکھئے مسلمان ہمارا جینا دوبھر کر رہے ہیں اور ان میں ہماری نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ ۱۲ تا ۱۸؍اکتوبر ۱۹۹۰ء)
بہاول پور میں استحکام و تحفظ ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے زیر اہتمام ساتویں سالانہ عظیم الشان استحکام و تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۱۴؍اگست ۱۹۹۰ء یوم آزادی کے موقع پر جامع مسجد الصادق میں منعقد ہوئی جس کی صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید کہروڑ پکا نے کی۔ کانفرنس میں ضلع
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھر کے خدام جماعت شریک ہوئے۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد اقبال مؤذن جامع الصادق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ کے انچارج علامہ عبدالرحیم اشعر مدظلہ مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاضی عبداللطیف، مولانا عبدالکریم ندیم نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، مورخہ ۱۲ تا ۲۰ ستمبر ۱۹۹۰ء)
راولپنڈی میں عظیم الشان احتجاجی کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی طرف سے مطالبات کے حق میں چلائے جانے والی احتجاجی تحریک کی پہلی احتجاجی کانفرنس جامع مسجد عثمانی سید پور روڈ پنڈورہ میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ممتاز عالم دین جناب قاری محمد امین نے کی۔ مہمان خصوصی جناب سید تنویر سہیل ایڈووکیٹ نے کانفرنس میں پنجاب، سرحد سے علماء، طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے کہا کہ قادیانی انگریز کی باقیات میں سے ہیں۔ جس طرح انگریز کو برصغیر چھوڑنا پڑا۔ ہم قادیانیت کو برصغیر سے بھگا کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس فتنہ کے خلاف مکمل ایک صدی امت نے قربانیاں دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج قادیانی امت پوری دنیا میں رسوا اور ذلیل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں قادیانیت کا تعاقب کریں گے اور مرزائیت کے مکمل خاتمے تک ہمارا جہاد جاری رہے گا۔ انہوں نے نگران حکومت کو متنبہ کیا کہ قادیانی نگران حکومت کو ناکام کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔ حکومت ان کی شرانگیزیوں کا فوری نوٹس لے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت مری کے امیر جناب قاری اسد اللہ عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلہ پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ قادیانیوں نے اس کا انکار کیا۔ اپنے آپ کو مسلمانوں سے جدا کر لیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ قادیانی راولپنڈی میں مسلمانوں کے شعائر استعمال کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ حضرت مولانا عبدالرؤف الازہری نے خطاب کرتے ہوئے قادیانیوں کی طرف سے کارکنان ختم نبوت اور ختم نبوت کے ضلعی مبلغ مولانا احسان دانش کو دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ قادیانی غنڈوں کے گلہ میں پٹہ ڈالے ورنہ مجاہدین ختم نبوت خود ان کا محاسبہ کریں گے۔ انہوں نے چوہدری انور قادیانی کو متنبہ کیا کہ وہ علاقہ میں اپنی شرانگیزیوں کو بند کرے۔ کانفرنس سے میڈیکل کالج راولپنڈی کے قادیانیت سے تائب ہونے والے طالب علم جناب ریاض محمود سحر نے کہا کہ قادیانیت ایک قابل نفرت مذہب ہے۔ اس کی اسلام کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تمام فروعی اختلافات چھوڑ کر حضور ﷺ کی عزت اقدس و ناموس کے تحفظ کے لئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳، مورخہ ۱۲ تا ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۰ء)
جنڈانوالہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس
(رانا ندیم اقبال سے) بعد از نماز عشاء مدرسہ مدینۃ العلوم جنڈانوالہ میں زیر سرپرستی شیخ المشائخ حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ایک روزہ عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس میں خطیب ایشیاء حضرت مولانا قاری محمد حنیف ملتانی نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے ہر باطل قوت کے سامنے اور خصوصاً مرزائیت جو انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے، سے علمائے دیوبند کا محبت رسول ﷺ سے سرشار ہو کر ٹکرانا اور علمائے حق کی قربانیوں پر تفصیلاً روشنی ڈالی۔ حضرت قاری صاحب کے خطاب سے قبل مجلس تحفظ ختم نبوت جنڈانوالہ کے جنرل سیکرٹری محمد یوسف آسی نے سپاسنامہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہب ، ملت و وطن دشمنوں کی خرمستیاں عروج پر ہیں اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باطل نوازی بھی انتہاء پر پہنچی ہوئی ہے۔ مگر حضرت خاتم النبیین ﷺ کے دشمنوں کا حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ کے غلاموں کی غیرت کو بھلا دینا خودکشی کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے ختم نبوت یوتھ فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ بعد از کانفرنس مجلس تحفظ ختم نبوت جڑانوالہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ جس میں مجلس کے سرکردہ سات کارکنوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جو ختم نبوت یوتھ فورس کی نگرانی کرے گی۔ نگران کمیٹی کے سات ممبران حسب ذیل ہیں۔ مولانا محمد یوسف صاحب، مولانا حفظ الرحمٰن صاحب، چوہدری نذیر احمد صاحب، محمد یوسف آسی، محمد اسلم شاہین، مولانا نثار احمد ڈاچروی، قاری عبد الرحمٰن رحمانی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ ۱۲ تا ۱۸/اکتوبر ۱۹۹۰ء)
پنوعاقل میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
پنوعاقل میں گزشتہ دنوں مدرسہ حسینیہ نور القرآن میں ۲۱/ستمبر ۱۹۹۰ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ رات کی نشست کا انعقاد شاہی بازار میں ہوا۔ کانفرنس کا آغاز صبح دس بجے ہوا اور رات دو بجے حضرت امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعا سے اختتام ہوا۔ کانفرنس میں سندھ اور پنجاب کے علماء کرام و مشائخ عظام اور شعلہ بیان مقررین نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں اثبات ختم نبوت اور رد قادیانیت پر مدلل تقریریں کیں۔ کانفرنس کی کامیابی عالمی مجلس پنوعاقل کے مخلص کارکنوں خصوصاً قاری عبدالقادر چاچڑ نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل، صوفی لطیف اللہ سومرو ناظم نشر و اشاعت کی محنت اور اخلاص کا نتیجہ تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس محاذ پر مزید کام کرنے کی ہمت عطاء فرمائے۔ آمین! کانفرنس میں حضرت امیر مرکزیہ کے علاوہ مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری خطیب ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا عبدالصمد سجادہ نشین ہالیجی شریف، حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی مبلغ سندھ، حضرت مولانا عبدالحمید صاحب لنڈ بلوچ، حضرت مولانا فاروق احمد امیر پنوعاقل کے علاوہ مقامی علماء کرام نے بھی شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ ۱۶ تا ۲۲/نومبر ۱۹۹۰ء)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس کنری
۲۳/ستمبر ۱۹۹۰ء کو ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور ختم نبوت یوتھ فورس کنری کے زیر اہتمام بخاری چوک کنری میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا خان محمد صاحب امیر مرکزیہ نے کی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز محمد سعید صاحب کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ سب سے پہلے دعوت خطاب حضرت مولانا عبیداللہ چانڈیو صاحب کو دی گئی۔ ان کے بعد حضرت مولانا عبداللہ چاچڑ صاحب نے خطاب کیا۔ چاچڑ صاحب کے بعد اسٹیج پر سفیر ختم نبوت کنوئیر صوبہ سندھ حضرت مولانا احمد میاں حمادی صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے دلائل کے ساتھ مسئلہ ختم نبوت واضح کیا۔ ان کے بعد دعوت خطاب حضرت مولانا صاحبزادہ عبدالعزیز قریشی صاحب لاڑکانہ کو دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج جو لڑائی جھگڑا پیدا ہوا ہے یہ صرف بندہ کی اللہ سے دوری کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان آج بھی اپنا تعلق اللہ سے جوڑے تو سب لڑائی جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔ ان کے بعد شاہین ختم نبوت فاتح ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ آپ نے حوالوں کے ساتھ قادیانیوں کے پیش رو غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پردہ چاک کیا اور انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کی نجات اسی میں ہے کہ وہ ایک جھوٹے نبی کو چھوڑ کر سچے نبی کا دامن تھامیں۔ ان کے بعد کانفرنس کے آخری مقرر شیریں زبان، شعلہ بیان حضرت مولانا عبدالحمید لنڈ صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ اپنے تمام اختلافات بھلا کر اپنے دشمن کو پہچانیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جو تعصب پرستی پھیلائی گئی ہے اس میں غیر مسلموں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمان تمام اختلافات ختم کر کے دین کے جو باغی ہیں ان کا تعاقب کریں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸، ۱۹، مورخہ ۱۹ / اکتوبر ۱۹۹۰ء)
سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس اور اس کے مطالبات
دن کے ۴ بجے ایک بہت بڑی موٹر سائیکل ریلی کا اہتمام کیا گیا جس نے تمام بازاروں کا گشت کیا۔
سرگودھا (نمائندہ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۹ نومبر ۱۹۹۰ء کو جامع مسجد بلاک نمبر ۱ سرگودھا میں منعقد ہوئی۔ جس کی قیادت عالمی مجلس کے امیر مولانا خان محمد نے کی۔ کانفرنس سے قبل سٹوڈنٹس شبان ختم نبوت کے سینکڑوں کارکنوں نے موٹر سائیکل، سائیکل سواروں پر مولانا خان محمد کا شہر سے باہر نزد چھاؤنی استقبال کیا اور جلوس کی شکل میں ختم نبوت اکیڈمی لے جایا گیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ضیاء القاسمی نے کہا کہ مرزائیت ایک ایسا ناسور ہے جو مسلمانوں کو لکڑی کے گھن کی طرح چاٹنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جھوٹے اور کذاب نبی کو ماننے والے جھوٹے قادیانیوں کو اپنے جھوٹے نبی کی طرح موت سے ڈرنا چاہئے۔ مولانا ضیاء القاسمی نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی زندگی تمام دنیا کے لئے مشعل راہ ہے۔ مولانا امداد الحسن آف انگلینڈ نے کہا کہ مرزائیت یہودیت کا دوسرا نام ہے۔ اس فتنے کی سرکوبی کے لئے جتنی بھی کوشش کی جائے، کم ہے۔ انہوں نے مرزائیت کے تعاقب کے بارے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام امت مسلمہ کو مل کر عالمی مجلس کا ساتھ دینا ہو گا تا کہ ان گستاخ رسول قادیانیوں کا جلد سے جلد خاتمہ ہو سکے۔ مولانا اکرم طوفانی جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرگودھا کے امیر ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری مرزائیوں سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے بلکہ ہماری جنگ نظریاتی جنگ ہے۔ ہماری جنگ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیت ایک ناسور ہے۔ اس ناسور کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں جڑ سے کاٹ دیا جائے اور یہ عمل اس وقت ممکن ہو گا جب حکومت ارتداد کی سزا نافذ کرے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرتد کی شرعی سزا فی الفور نافذ کی جائے۔ مولانا سرفراز نیازی نے کہا کہ ہم کسی بھی گستاخ رسول کو ربوہ میں مسلمانوں سے زیادتی کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ربوہ میں بے گناہ مسلمانوں پر تشدد کرنے والے قادیانیوں کو جلد گرفتار نہ کیا تو سرگودھا میں قادیانیوں کا سڑکوں پر چلنا مشکل کر دیں گے۔ شبان ختم نبوت کے ننھے مجاہد حسن عبد الرزاق نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب مرزائی اپنے نانا کی گود (لندن) میں بھاگنے پر مجبور ہوں گے۔ ننھے مجاہد نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے تو ہمارا حکومت کے ساتھ بھی مطالبہ جاری رہے گا اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جب تک یہ غلیظ فتنہ ختم نہیں ہو جاتا۔ کانفرنس سے جناب ضیاء الحق شیخ جہانگیر سرور، یونس بلوچ، جمیل بلوچ، خالد جاوید نے بھی خطاب کیا اور مرزائیوں کی مذموم سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ مندرجہ ذیل قرار دادیں منظور کی گئیں۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت قادیانیوں پر کڑی نگاہ رکھے۔ قادیانیوں نے انتخابات میں جو کردار ادا کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
قادیانیوں کی عبادت کی شکل مسلمانوں کی مساجد کی شکل سے علیحدہ ہونے کا قانون وضع کیا جائے۔ قادیانیوں اور لادین فرقوں کی وہ تمام کتب ضبط کی جائیں۔ جن میں شعائر اسلام کی توہین کی گئی ہے۔ قادیانیوں کے خفیہ اجتماع پر نگاہ رکھی جائے اور کھیلوں کے نام پر تبلیغ کو روکا جائے۔ الفضل کا ڈیکلریشن منسوخ کیا جائے۔ ربوہ کے مکینوں کو حقوق ملکیت دیا جائے۔ کلیدی آسامیوں سے مرزائیوں کو الگ کیا جائے۔ خصوصاً آرمی اور ایئر فورس سے فوراً نکالا جائے۔ سرگودھا انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور مرزائی نواز پالیسی پر گوشمالی کی جائے۔ جلسہ دعا سے اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۰، مورخہ ۱۴ تا ۲۰ / ستمبر ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا انتظامی اجلاس
اجلاس برائے ۹ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر مورخہ ۲۳؍نومبر ۱۹۹۰ء جس کے تین اجلاس ہوں گے۔ ان شاء اللہ العزیز! اجلاس اوّل: قبل از جمعہ۔ اجلاس دوم: بعد از جمعہ۔ اجلاس سوم: بعد از عشاء۔ مبلغین وکارکنان کا اجلاس انتظامات کو آخری شکل دینے کے لئے مورخہ ۱۲؍نومبر ۱۹۹۰ء بروز پیر صبح دس بجے مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی میں زیر صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ منعقد ہوا۔ بسوں کی ہڑتال کے باعث تمام رفقاء تشریف نہ لا سکے جو تشریف لائے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: مولانا عزیز الرحمن جالندھری (ملتان)، مولانا محمد اسحاق ساقی (بہاول پور)، مولانا نذر عثمانی (سرگودھا)، حاجی فیروز الدین (چنیوٹ)، مولانا احمد بخش (رحیم یار خان)، جناب سرفراز نیازی (سرگودھا)، صاحبزادہ طارق محمود (فیصل آباد)، مولانا محمد یعقوب (چنیوٹ)، مولانا محمد اکرم طوفانی (سرگودھا)، مولانا اللہ وسایا (ملتان)، مولانا خدا بخش (ربوہ)، مولانا غلام مصطفیٰ (ملتان)، جناب ظہور احمد (چنیوٹ)، حاجی معراج دین (ملتان)۔ تلاوت کلام پاک مولانا محمد یعقوب نے فرمائی۔ مولانا عزیز الرحمن صاحب نے اجلاس کی غرض وغایت بیان فرمائی۔
مشاورت میں طے ہوا: (۱) مقررین میں سے مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، جناب اعجاز الحق، قاضی حسین احمد، مولانا محمد امیر چک سکندر، مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا ضیاء الرحمن، مولانا ایثار القاسمی، مولانا عبدالمجید ندیم، مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، علامہ خالد محمود، صاحبزادہ افتخار الحسن، مولانا عبدالقادر روپڑی، پروفیسر ساجد میر کے لئے بطور خاص کوشش کی جائے۔ ندیم صاحب وتونسوی صاحب کے لئے مولانا عزیز الرحمن صاحب نے ذمہ داری قبول فرمائی۔ قاضی حسین احمد، عبدالستار نیازی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق کے لئے صاحبزادہ طارق محمود نے ذمہ داری قبول فرمائی۔ باقی ماندہ حضرات کے لئے رفقاء کوشش کریں گے۔ منیر سرگودھا، انور چیمہ کو مولانا محمد اکرم طوفانی لائیں گے۔
افتتاحی اجلاس وبعد از ظہر کے اجلاس میں مرزائی عقائد وعزائم پر مشتمل بیانات ضرور ہوں تاکہ کانفرنس میں نئے شرکاء کی ذہن سازی ہو سکے۔ نیز یہ کہ ہر اجلاس میں رد قادیانیت پر معلوماتی تقاریر ہوں۔
کانفرنس کے انتظامات وتیاری کے لئے مبلغین کے دورے مرتب کرنے کا اختیار مبلغین کو دے دیا گیا جو جمع ہونے پر اپنے اجلاس میں فیصلہ کر لیں گے۔ وہی ہاؤس کا فیصلہ متصور ہوگا۔
کارروائی آل پاکستان نویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ۲۳؍نومبر ۱۹۹۰ء: آل پاکستان نویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس قبل از جمعۃ المبارک منعقد ہوئی۔ صدارت حاجی بلند اختر نظامی لاہور، اجلاس کا آغاز محمد اسماعیل شجاع آبادی مبلغ لاہور کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ کانفرنس کا افتتاحی خطاب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہنما علامہ عبدالرحیم اشعر مدظلہ نے فرمایا۔ مولانا نے کانفرنس کی غرض وغایت، عقیدۂ ختم نبوت کی عظمت، تحفظ ختم نبوت کے لئے دی جانے والی قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ الحاج میاں فضل حق راہنما مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان، مولانا عبدالمالک خاں جماعت اسلامی پاکستان منصورہ لاہور، حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی مدظلہ۔
دوسری نشست بعد از جمعہ: تلاوت قاری محمد صدیق صاحب فیصل آباد، نظم جناب سید امین گیلانی مدظلہ، تقریر جناب عبدالرحمن یعقوب باوا ایڈیٹر ہفت روزہ ختم نبوت، قاری محمد یوسف ڈسٹرکٹ خطیب محکمہ اوقاف بہاول پور، نظم جناب طاہر جھنگوی برادران،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سید امین گیلانی، تقریر مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب، مولانا فضل الرحمٰن صاحب جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء اسلام پاکستان، بعد از عصر تقریر مولانا فتح محمد، مولانا فضل الرحمٰن احرار۔
تیسری نشست بعد از عشاء: تلاوت قاری ڈاکٹر صولت نواز، نظم جناب طاہر برادران، تقریر قاری سعید احمد اسعد خوشاب، صوفی اللہ دتہ مجاہد قصور، مولانا سید امیر حسین گیلانی، عبدالرؤف چشتی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، چوہدری عبدالحمید ایم۔ پی۔ اے، سرفراز نیازی، چوہدری محمد اقبال چیمہ ایم۔ این۔ اے، مولانا عبدالحمید لنڈ، حضرت حافظ عبدالقادر روپڑی لاہور، قراردادیں محمد یعقوب رحمانی، تقریر حضرت مولانا قاضی عبداللطیف شجاع آبادی، صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ، جناب طاہر جھنگوی، مولانا ایثار القاسمی، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی۔
نویں کل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس خلاصہ تقاریر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام نوویں سالانہ آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۲۳ نومبر بروز جمعۃ المبارک صبح دس بجے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پہلی نشست کی صدارت عالمی مجلس لاہور کے امیر الحاج بلند اختر نظامی نے کی۔ کانفرنس کا افتتاح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا عبدالرحیم اشعر نے فرمایا۔ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے مرکزی رہنما میاں فضل حق نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ انبیاء کی بعثت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر سرور کائنات ﷺ کی ذات گرامی پر تکمیل پذیر ہوا۔ آپ ﷺ نے اپنے بعد تیس دجالوں، کذابوں کی پیش گوئی فرمائی۔ جن کا آغاز اسود عنسی، مسیلمہ کذاب سے ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ مرزائیت کے خلاف تین مرتبہ عظیم الشان تحریکیں چلیں۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں میں بھی فنانس کمیٹی مرکزی مجلس عمل کا چیئرمین تھا۔ اس تحریک کے لئے ہزاروں مسلمان متاثر ہوئے۔ اللہ کے فضل وکرم سے قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے۔ میاں صاحب نے آئی جے آئی کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانیوں کو علیحدہ کیا جائے۔ تعلیمی اداروں کی اہم پوسٹوں سے قادیانیوں کو الگ کیا جائے۔
مولانا خان محمد جو لائحہ عمل تیار کریں۔ جمعیۃ اہل حدیث ساتھ ہے۔ اس سلسلہ میں لائحہ عمل مرتب کر کے اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ سکولوں، کالجوں، تعلیمی اداروں میں تحریک کو وسعت دی جائے۔ اس سلسلہ میں جمعیۃ اہل حدیث، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شانہ بشانہ ہوگی۔ مولانا عبدالمالک خان منصورہ نے کہا کہ الحاد، زندقہ، ارتداد کے شرعی احکام کا اجراء ہو۔ مجلس تحفظ ختم نبوت جو قادیانیت کے خلاف جہاد جاری رکھے ہوئے ہے۔ میں اس پر اسے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ دارالکفر ربوہ ایک دن ضرور بالضرور دارالاسلام میں تبدیل ہو کر رہے گا۔ مجلس امت مسلمہ کے اتحاد، وجود، تشخص کو بحال رکھنے پر مبارک باد کی مستحق ہے۔ ہم اس پلیٹ فارم پر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے جمعہ کی نماز سے قبل عالمانہ و فاضلانہ خطاب فرمایا۔ جس میں دردمندی کے ساتھ قادیانیوں کو دعوت اسلام دی۔ مولانا نے فرمایا اس زمانے کا سب سے بڑا فتنہ مرزائیت ہے۔ مسیلمہ کذاب کے مقابلہ میں حضرت خالد ابن ولید ؓ صدیقی لشکر کے سردار تھے۔ مسیلمہ کا مقابلہ ہوا۔ مسیلمہ اور اس کے بہت سے لشکری جہنم رسید ہوئے۔ بیس ہزار آدمی بمع مسیلمہ ’’حدیقۃ الموت‘‘ یعنی موت کے باغ میں قتل کئے گئے۔ ایک صدی سے اس مسیلمی فتنہ سے ہمیں واسطہ ہے۔ ہم نہتے تھے۔ ہمارے پاس
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدیق اکبر، خالد ابن ولید کی تلوار نہیں تھی۔ صرف ان سے نسبت ہے۔ بایں ہمہ اللہ پاک نے بہت سی کامیابیوں سے سرفراز فرمایا۔ میں شرح صدر سے کہتا ہوں کہ اخلاص کے ساتھ اس جلسہ میں شرکت کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائیں گے۔ قادیانی آج بھی نوکری اور چھوکری کے لالچ میں نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کی ہر سکول، کالج، یونیورسٹی میں ختم نبوت کی تنظیمیں ہونی چاہئیں اور سال بھر میں کم از کم ایک قادیانی کو مسلمان کر لینا چاہئے۔ مقدمہ بہاول پور کے موقع پر جلال دین کو بازو سے پکڑ کر مولانا سید انور شاہ کشمیری نے فرمایا کہ شمس صاحب کہ میں غلام احمد کو جہنم میں جلتا ہوا دکھلا دوں تو ایمان لاؤ گے۔ حضرت کے اس ارشاد پر شمس نے کہا کہ میں اسے جادو سمجھوں گا۔ حضرت نے اس کا بازو جھٹک کر فرمایا۔ انا لله وانا اليه راجعون! تیری قسمت میں ہدایت نہیں۔ مرزا طاہر کو اپنے جھوٹے ہونے کا سو فیصد یقین ہے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کسی قادیانی کی توبہ کئے بغیر نجات نہیں ہوگی۔
ایک صاحب کشف نے غلام احمد کی قبر پر مراقبہ کیا تو معلوم ہوا کہ ایک باؤلا کتا ہے جو گھوم رہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کشف بالکل صحیح ہے کیونکہ اس نے بھی باؤلے کتے کی طرح انبیاء کرام ، صحابہ کرام اور امت مسلمہ کو کاٹا ہے۔ لہٰذا خداوند عالم نے اسے باؤلے کتے کی صورت دے دی ہے۔ میں ربوہ کے قادیانیوں کو اخلاص کے ساتھ دعوت دیتا ہوں کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔ ورنہ جہنم کے ابدی عذاب کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ الحمدللہ! ہم نے حجت پوری کردی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے جنرل سیکرٹری جناب عبدالرحمن یعقوب باوا نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس سے انگلینڈ میں ختم نبوت کی آواز گونج رہی ہے۔ شکاگو امریکہ میں بھی گزشتہ سال کانفرنس ہوئی۔ مرزا طاہر نے اس سال کے آغاز میں اعلان کیا کہ مغربی افریقہ ایک ملک (مالی) تیس ہزار مسلمان قادیانی ہوچکے ہیں۔ حضرت امیر مدظلہ کے حکم پر میں اور میرے ساتھی مولانا منظور احمد الحسینی نے جمہوریہ مالی کا دورہ کیا۔ شیخ عمر کانتھے جو تمام مرتدین کا سردار تھا سے گفتگو کی۔ الحمدللہ! شیخ عمر اور اس کے ساتھ پچھتر گاؤں (۳۰۰۰۰) مسلمان ہو گئے۔ قاری محمد یوسف ڈسٹرکٹ خطیب اوقاف بہاول پور نے کہا کہ بہاول پور کی نسبت میرے لئے باعث اعزاز ہے۔ کیونکہ بہاول پور کی سرزمین میں سب سے پہلے مرزائیت کے کفر کا عدالتی فیصلہ ہوا۔
مولانا سید عبدالمجید ندیم جنرل سیکرٹری مجلس تحفظ حقوق اہل سنت پاکستان نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت دلائل وبراہین کی رو سے روز روشن کی طرح واضح ہو چکا۔ گزشتہ چودہ سو سال کی سرخرو تاریخ ہے۔ جس نے امت مسلمہ کو اس مرکزیت پر متحد کیا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام آخری دین، قرآن آخری کتاب، محمد عربی ﷺ آخری رسول ہیں۔ ایک وقت تھا کہ اس مسئلہ پر دلائل کی ضرورت ہوا کرتی تھی لیکن ہمارے مشائخ نے اپنی زندگیاں گزار دیں کہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ امت مسلمہ کا اتفاق ہے جھوٹے مدعی نبوت کے لئے سیدنا صدیق اکبر ؓ نے قرآن وسنت کی منشاء کی تکمیل کرتے ہوئے سزائے موت لاگو کی۔ پوری امت نے اتفاق کیا۔ نصف صدی سے ہم منتظر ہیں کہ اسلام کے نام مسند اقتدار پر متمکن ہونے والے مرتدین کے متعلق کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم نے آئی جے آئی کی حکومت سے اس شرط پر تعاون کیا ہے کہ وہ آئین شریعت اور ختم نبوت اور عظمت صحابہ کا تحفظ کرے گی۔ ہم نفاذ اسلام کے لئے ساتھ دیں گے۔ محمود کے رضا کار اس راستے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔
تو اس پر جان دیجئے سیاست نہ کیجئے
قادیانی پاکستان کی مرکزیت میں وہ چنگاری ہے کہ اگر ان کو نہ بجھایا گیا تو پورا وجود خطرے میں ہوگا۔ مولانا ندیم نے مجمع اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت الامیر مدظلہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ہم یہاں ثابت کرتے ہیں کہ یہ سمندر ہے۔ ہم سب اس کی شاخیں ہیں۔ ان کے ہاتھ مضبوط کرو۔ اگر مرکز نہ رہا تو شاخیں نہ رہیں گی۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمن نے نعروں کی گونج میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کی یاد تازہ کر دی۔ مولانا نے اپنے فاضلانہ بیان میں فرمایا میں حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے آج کی اس کانفرنس میں مجھے آپ حضرات سے ملاقات کا موقعہ دیا۔ یہ شرکت میرے لئے بڑی سعادت ہے۔ کیونکہ اس کا عنوان ہی بابرکت ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک بابرکت اور با مقصد اجتماع میں شرکت کر رہا ہوں۔ قادیانیت ایک ایسا فتنہ ہے جو بظاہر خالصتاً عقیدہ کا مسئلہ نظر آتا ہے لیکن پس پردہ ایک زہریلی تحریک ہے جو پاکستان کو اسلامی مملکت بننے میں رکاوٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ہمارے اکابر بالغ نظری اور سوچ کی گہرائی تھی کہ اس فتنہ کے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جس پر ملت اسلامیہ کا بکھرا ہوا شیرازہ اکٹھا ہوتا ہے۔ ہم یکجا ہو کر یہ بتلاتے ہیں کہ تمام تر اختلافات کے باوجود قادیانیت کے مقابلہ میں ہم سب ایک ہیں اور متحدہ قوت ہیں اور اگر ہم اس پلیٹ فارم پر ایک قوت نہیں بن سکتے تو اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔
۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء میں تحریکیں چلیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعہ قانون سازی بھی ہوئی۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ قانون بن جاتا ہے لیکن زمام اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو اس میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جب بھی کوئی اسلامی دفعہ بنی وہ عمل کی منتظر رہی۔ کیونکہ یہاں عملاً انگریز کی حکومت رہی ہے۔ ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ اس قوم نے جب بھی ووٹ دیا جاگیردار اور سرمایہ دار کو عوام، اسلام، ملک و قوم کا نمائندہ کہا۔ جب ہم استحصال کرنے والی قوتوں کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں تو پھر ہمیں استحقاق حقوق کی بات نہیں کرنی چاہئے۔
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
میں پوری فراخ دلی سے کہتا ہوں کہ اس ملک کو در پیش تمام مسائل صرف ایک فرد کے مسائل نہیں پوری قوم اور ملک کے مسائل کا حل نظام اسلام میں ہے۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود میری گردن فخر سے سر بلند ہے کہ کسی کا سہارا لئے بغیر ہم نے اپنے تشخص کے ساتھ اپنی زندگی کا ثبوت دیا ہے۔ ہماری جماعت ہمارا کردار زندہ ہے۔ ہماری شرائط نہ کرسی، نہ وزارت، نہ کوئی عہدہ ہے بلکہ ہماری بنیادی شرط یہ ہے کہ آج تک بنائے گئے اسلامی قوانین پر عملدرآمد کرایا جائے۔ ان مسائل میں بنیادی مسئلہ ختم نبوت بھی ہے۔ قادیانیوں کے اخبارات، لٹریچر وغیرہ آج بھی ارتداد پھیلا رہے ہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ قانون بنا کر عملدرآمد کیا جائے۔ اسلام لانے کے بعد ارتداد کی سزا قتل ہے۔ کیونکہ اس مملکت کے باشندوں کے شہری حقوق تمام شہریوں کو ملتے ہیں۔ اگر کوئی کہہ دے کہ میں پاکستان کو نہیں مانتا، باغی ہوں تو اس کی سزا موت ہوتی ہے تو اسی اصول کے مطابق رسول اللہ کے باغی کی سزا قتل ہونی چاہئے۔
ہمارے نزدیک بنیادی چیز نظام کو بدلنا ہے۔ مکمل اسلامی نظام کے نفاذ تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ جماعت اسلامی صوبہ پنجاب کے امیر مولانا فتح محمد نے کہا کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پوری قوم کا اتحاد نا قابل تنسیخ ہے۔ میں مولانا خان محمد صاحب شیخ المشائخ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ جو پیرانہ سالی کے باوجود ختم نبوت کے تحفظ کے لئے شب و روز میں مصروف عمل ہیں۔ ختم نبوت سے متعلقہ دیگر مسائل کے حل کرانے کے لئے متحدہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔ ہم اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیت سے متعلقہ مسائل کو فی الفور حل کیا جائے اور جس کام کے لئے ووٹ دیئے ہیں اس کو نافذ کیا جائے۔ حافظ عبداللہ احمد نے چھوٹی عمر کے بچوں کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے چھوٹے بچے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
امیر شریعت کے دیرینہ خادم جرنیل احرار مولانا فضل الرحمٰن احرار سلانوالی نے شعلہ بیان خطاب میں قادیانیت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ قادیانیت کے لئے صرف دو ہی راستے ہیں یا اسلام قبول کرلے یا قانون تسلیم کر کے اپنے کفر کو مان لے۔
آخری نشست: صدارت خواجہ خواجگان مولانا خان محمد مدظلہ نے کی۔ مہمان خصوصی مولانا عبد القیوم تھے۔ آخری نشست عشاء کی نماز کے بعد شروع ہوئی۔ نشست کا آغاز ڈاکٹر صولت نواز کی تلاوت سے ہوا۔ جناب طاہر برادران نے ترانہ ختم نبوت پیش کیا۔ مولانا قاری سعید احمد اسعد خوشاب نے کہا کہ قادیانیت کے تعاقب کے لئے نوجوانوں کو اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دینی چاہئیں اور قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ ایمان اور غیرت اسلامی کا تقاضا ہے۔ حاجی امداد اللہ سندھی نے سندھی زبان میں نعت پڑھی۔ جس کی مجمع نے خوب داد دی۔ مولانا محمد مراد شیخ الحدیث جامعہ حمادیہ منزل گاہ سکھر نے فرمایا کہ قرآن پاک احادیث کی تلاوت، اسماء الرجال کی کتب ختم نبوت کی بین دلائل ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ہم مجلس کے ساتھ ہیں۔ ۱۹۷۴ء میں آئینی ترمیم سے مرزائیت کی کمر ٹوٹ گئی۔ اصل مسئلہ تو ارتداد کی شرعی سزا کا نفاذ تھا۔ جسے آج تک نافذ نہیں کیا گیا۔ اگر سزائے موت نافذ کر دی جائے تو ایک بھی قادیانی نہیں رہے گا۔ جمعیتہ علماء اسلام صوبہ پنجاب کے امیر مولانا سید امیر حسین گیلانی نے کہا کہ پاکستان پر اس وقت مسلم لیگ برسر اقتدار ہے۔ اس لئے موجودہ حکومت جو قانون نافذ کرنا چاہے اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت کو اپنے منشور پر عمل کرنا چاہئے۔ ہم اس پر عمل کرانا چاہتے ہیں۔ شریعت بل منظور کیا جائے۔ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ بنیادی ضروریات ملنی چاہئے۔ روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، علاج کی سہولتیں میسر ہونی چاہئیں۔
جناب محمد صفدر کڑی نے نوجوانوں کو جذبہ جہاد بیدار کرنے کی تلقین کی۔ مولانا عبد الرؤف چشتی نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ جناب سرفراز نیازی نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کے خلاف امتناع قادیانیت آرڈیننس پر موثر عملدرآمد کیا جائے۔ گستاخانہ لٹریچر پر پابندی عائد کی جائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے کہا کہ مرزائیت نے اسلام کا نام لے کر مسلمانوں کا حلیہ بنا کر انبیاء کرام، صحابہ کرام، امت مسلمہ کو گالیاں دیں اور ان کی شان میں گستاخیاں کیں۔ قادیانیت آج بھی استعماری طاقتوں کی ایجنٹ ہے۔ عالم اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمنوں اسرائیل اور انڈیا کے ساتھ ان کے قریبی روابط ہیں۔ جتنے انبیاء کرام تشریف لائے۔ ان کی تعلیمات تیس سے پچاس فیصد تک باقی رہیں۔ لیکن یہ آقائے نامدار ﷺ کی تعلیمات ہیں کہ قیامت تک رہیں گی۔ اقوام متحدہ کی شماریات کے مطابق چودہ لاکھ حفاظ روئے زمین پر موجود ہیں۔ بایں ہمہ امت گوناگوں مسائل کا شکار ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ شروع میں میں ہوں۔ درمیان میں امام مہدی اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ آپ نے پیش گوئی کی کہ آخر میں ایک آدمی پیدا ہوگا جو تمام تر شرارتوں میں واحد و یکتا ہوگا۔ اس کا فتنہ بدترین فتنہ ہوگا۔ اس کے انسداد کے لئے اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجیں گے۔ جو دجال کو قتل کریں گے۔ میئر کارپوریشن سرگودھا چوہدری عبدالحمید ایم۔ پی۔ اے نے کہا کہ آج پورے ملک میں اسلامی جمہوری اتحاد پاکستان کی حکومت ہے جو علماء کرام کے اتحاد اور تعاون سے برسر اقتدار آئی۔ ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے علاقہ میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں کا طرز اسلامی نہ ہو، اور ہم اس سلسلہ میں اسمبلی میں بھی آواز بلند کریں گے۔ چوہدری محمد اقبال چیمہ ایم۔ این۔ اے سرگودھا نے کہا کہ یہ میری بہت بڑی سعادت ہے کہ میں ختم نبوت کانفرنس میں حاضر ہو
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء
رہا ہوں۔ قادیانیوں کو قانون کا پابند کرنا حکومت کا فرض ہے۔ ہم قومی اسمبلی میں قادیانیت کے خلاف قرارداد پیش کریں گے ۔ ہماری کامیابی علماء کرام کی مرہون منت ہے۔ سندھ کے خوش الحان خطیب مولانا عبدالحمید لنڈ نے عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت میں قرآن پاک کی بیسیوں آیات پڑھ کر مجمع کے قلوب کو گرمایا۔ مولانا نے فرمایا کہ ہماری عزت ختم نبوت کے طفیل ہے ۔ لہٰذا تمام علماء کرام چاہے کسی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں اتحاد کر لیں تو دنیا کائنات کی کوئی طاقت نظام اسلام کے نفاذ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ حافظ عبدالقادر روپڑی نے کہا کہ ختم نبوت کانفرنس کا اجتماع دربار محمدی ہے۔ اس میں ہم سب حاضر ہوتے ہیں۔ آج کے اخبار میں ہے کہ مرزا طاہر پاکستان میں نہیں آئے گا۔ کیونکہ حالات سازگار نہیں۔ ان شاء اللہ ! نہیں آئے گا۔ اگر کوئی حکومت لانے کی کوشش کرے گی تو نہیں رہے گی۔
مرزا نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوسرے آسمان پر نہیں ہے۔ لہٰذا نہیں آئے گا۔ مولانا نے کہا کہ اب عمل کا زمانہ ہے۔ نہ کہ مطالبات کا امام ابوحنیفہ نہ ہوتے تو دین ہم تک نہ پہنچتا۔ فرماتے ہیں جو حضور کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر جو اس سے دلیل طلب کرے وہ بھی کافر جو انہیں کافر نہ کہے وہ بھی کافر۔
مولانا قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی نے کہا حضرت قاضی صاحب فرمایا کرتے تھے ۔
عرب سے اٹھے عجم پہ چھائے
صدیق کی صداقت سے چمن میں پھول کھلتے ہیں
انہیں کے نقش قدم سے اصول بنتے ہیں
مولانا سید افتخار الحسن شاہ زیدی نے کہا کہ حضرت شاہ صاحب، مولانا ابوالحسنات، مولانا جالندھری، قاضی صاحب، مولانا فیض الحسن، شورش کاشمیری نے جو تحریک شروع کی الحمد للہ رواں دواں ہے۔ میں بھی اس قافلہ کا بچھڑا ہوا سپاہی ہوں۔ ہر سال اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر حاضر ہو جاتا ہوں۔ ان شاء اللہ العزیز تا دم زیست حاضر ہوتا رہوں گا۔ مولانا محمد ایثار القاسمی ایم.این.اے اور مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت کا پلیٹ فارم مجھے وراثت میں ملا ہے۔ (مولانا فاروقی کے والد مولانا محمد علی جانباز تا دم زیست ختم نبوت کے مبلغ رہے) اس پلیٹ فارم پر حاضری عظیم ترین سعادت ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات محتاج تعارف نہیں ہیں۔ ہم حضرت الامیر دامت برکاتہم کے حکم پر ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷ تا ۲۱ ،مورخہ ۷؍ دسمبر ۱۹۹۰ء)
ختم نبوت کانفرنس کی جھلکیاں:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسلم کالونی ربوہ میں ۹؍ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس مسجد تحفظ ختم نبوت کے وسیع وعریض صحن میں منعقد ہوئی ۔ جس میں چاروں صوبوں سے ختم نبوت کے پروانوں نے بھر پور شرکت کی۔ کانفرنس کے چاروں اطراف کپڑے کے بڑے بڑے بینرز لگائے گئے تھے۔ جن پر جلی حروف میں نعرے اور مطالبات درج تھے جن میں :
- ...... ٹاؤن کمیٹی ربوہ کی قرارداد کے مطابق ربوہ کا نام صدیق آباد رکھا جائے۔ شہدائے ختم نبوت کو سلام ، مرزائیوں کو احمدی کہنا بھی
کفر ہے۔ جب تک کلیدی آسامیوں سے قادیانیوں کو الگ نہیں کیا جاتا۔ استحکام پاکستان ممکن نہیں ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- تین چیزوں سے ہمیشہ بچیں۔ شیطان، شیزان اور قادیان پنجاب حکومت قادیانی ترجمان الفضل بند کرو وگرنہ حکومت چھوڑ دو اور اسلام کا نام لینا چھوڑ دو۔ قادیانیوں سے لین دین قادیانی ڈاکٹروں سے علاج کرانا چھوڑ دو۔
- تمام صحابہ کرام ؓ معیار حق ہیں اور تنقید سے بالاتر ہیں۔ مرزائیت پر عائد پابندیاں برقرار رکھی جائیں۔ جی ایچ کیو جیسی اہم جگہ پر قادیانیوں کی عملداری پاکستان کے ساتھ بغاوت ہے۔ امیر شریعت تیرا مشن زندہ رہے گا کے نعرے درج تھے۔
- چاروں صوبوں سے ختم نبوت کے پروانے قافلوں کی صورت میں جب جلسہ گاہ پہنچے تو کانفرنس کی فضاء نعرہ تکبیر اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔ سٹیج پر تمام مکاتب فکر کے علماء بیٹھے ہوئے تھے۔
- مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسافروں کے لئے قیام وطعام کا معقول بندوبست کیا گیا تھا۔ خصوصاً بلوچستان اور سرحد سے آئے ہوئے پٹھانوں کے جذبے قابل دید تھے کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔
- کانفرنس کے آخری اجلاس میں ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی اور اجلاس رات تین بجے تک جاری رہا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۷، مورخہ ۱۴ تا ۲۰/دسمبر ۱۹۹۰ء)
آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے لئے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کا پیغام
محترمی قبلہ خواجہ صاحب، محترم علمائے کرام وشرکائے کانفرنس
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
میں آپ کی خدمت میں بسروچشم حاضر ہوتا۔ اگر بعض ناگزیر مصروفیات میرے راستے میں حائل نہ ہوتیں۔ بہرحال میری دعائیں اور جدوجہد اس عظیم مقصد کے لئے وقف ہیں جس کی خاطر آپ حضرات جمع ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت ہی وہ محکم بنیاد ہے جس پر امت مسلمہ کی وحدت کا انحصار ہے۔ خدانخواستہ یہ بنیاد منہدم کر دی جائے تو یہ ملت پارہ پارہ ہو کر رہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں ملت اسلامیہ نے اپنے کسی مسئلے میں بھی اس قدر اضطراب و ہیجان محسوس نہیں کیا۔ جس قدر اس مسئلے کے بارے میں محسوس کیا۔ پوری امت اس نکتے پر جمع ہوگئی کہ ملت اسلامیہ میں رسول اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد کسی دوسری نام نہاد نبوت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ ظاہر ہے کہ ہر نبی ایک امت پیدا کر دیتا ہے۔ اس لئے نئی نبوت امت کے اندر تصادم اور تفریق کا ذریعہ ہی بن سکتا ہے اور ایک نئے نبی کا اعلان نبوت امت مسلمہ کی تفریق اور تباہی کا سامان پیدا کر دیتا ہے۔ اس لئے فقہا نے فرمایا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے بعد امکان نبوت پر بحث کرنا بھی کفر ہے اور اس مسئلے کو برائے بحث بھی چھیڑا نہیں جاسکتا۔
برصغیر کے مسلمانوں نے اس علاقے میں ایک جھوٹے مدعی کا جس طرح پوری ایک صدی سے تعاقب کیا۔ اس کے لئے مسلسل قربانیاں دیں۔ حکومتوں کے معاندانہ رویے کے باوجود جہاد ختم نبوت کو جاری رکھا اور بالآخر پوری ایک صدی کی جدوجہد کے بعد قومی اسمبلی کی ایک واضح آئینی ترمیم کے ذریعے جھوٹی نبوت کا راستہ بند کیا وہ ختم نبوت کی عظیم الشان جدوجہد کا عظیم کارنامہ دین حق کی سربلندی کا عظیم جہاد اور ملت اسلامیہ علماء کرام اور ختم نبوت کانفرنس کا قابل فخر کارنامہ ہے۔ جس پر اس جدوجہد میں شریک علماء کرام اور ختم نبوت کے کارکن آخرت میں اجر عظیم اور رسول کریم ﷺ کی شفاعت کی بہترین امید رکھ سکتے ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ مالک الملک ان مجاہدین اسلام کو اپنے فضل و کرم سے ضرور نوازے گا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷، مورخہ ۱۲/دسمبر ۱۹۹۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۹۱ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ربوہ میں ایک قادیانی گرفتار
خطیب جامع مسجد محمدیہ ربوہ مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے اپنے ایک بیان میں حکومت پاکستان خصوصاً وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ مرزا قادیانی کی تمام کتب کو ضبط کیا جائے اور قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی جائے۔ اس لئے کہ قوم نے آپ کو اسلام کے نام پر ووٹ دیئے ہیں اور عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اسلام کا اہم فریضہ ہے۔ مولانا خدا بخش نے کہا کہ ربوہ میں ایک قادیانی شکور بھائی چشمے والے مسلسل اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی کتابیں عوام میں تقسیم کرتے ہیں۔ آر ایم صاحب ربوہ کو میں نے تحریری درخواست اس کے خلاف پیش کی اور کتابیں بھی پیش کیں۔ جس پر آر ایم صاحب نے پرچہ اور اس کی گرفتاری کا حکم صادر کیا۔ مقامی پولیس نے گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ مولانا نے کہا کہ ربوہ میں قادیانیوں کی جارحیت ختم کی جائے اور قانون کی بالا دستی قائم کر کے رہائشی مسلمانوں کو تحفظ دیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴، مورخہ ۱۱ تا ۱۷؍ جنوری ۱۹۹۱ء)
ذکریوں کے عمرہ و حج کوہ مراد پر پابندی لگا دی گئی
پچھلے دنوں تربت میں ختم نبوت کانفرنس کے دوران مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے ایک وفد نے ڈی سی تربت سے ملاقات کی۔ مذاکراتی ٹیم میں مفتی احتشام الحق آسیا آبادی، مولانا عبدالحق بلوچ، حاجی شاہ محمد کوئٹہ، حاجی تاج محمد فیروز، آغا عبیداللہ شاہ، مولانا عبدالغفار ضامرانی اور دیگر رہنما شامل تھے۔ ڈپٹی کمشنر مکران نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کو پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ ذکریوں کے مبینہ عمرہ کو جو وہ ذی الحجہ کو کوہ مراد میں ادا کرتے ہیں وہ اس پر پابندی لگا چکے ہیں۔ چنانچہ وہ ذی الحجہ کو ذکریوں کے کسی بھی قسم کے اجتماع کی اجازت نہیں دیں گے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے ڈپٹی کمشنر تربت کے ذکریوں کے جعلی عمرہ پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کے لئے دعا گو ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍ جولائی ۱۹۹۱ء)
قادیانی کے خلاف مقدمہ
’’راولپنڈی میں قادیانیوں کا سب سے بڑا سرغنہ جس نے اپنی دوکان قریشی پراپرٹی مرزائیت کی تبلیغ اور فحاشی کا اڈہ بنایا ہوا تھا۔ اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے پورے علاقہ پر چھایا ہوا تھا۔ مقامی انتظامیہ بھی اس کے زیر اثر تھی۔ مگر الحمد للہ! آئین پاکستان کی آرٹیکل ۲۹۸ کے تحت مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔‘‘
(لولاک ص۱۹، مورخہ ۲۵؍ جنوری ۱۹۹۱ء)
ڈیرہ غازی خان میں قادیانیت کی صورتحال
ضلع ڈیرہ غازی خان و ضلع راجن پور میں یک صد قادیانی قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو چکے ہیں۔ ۱۰۰ میں تین افراد سرداروں کی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں ایک رشید خان قیصرانی جو ریٹائرڈ ونگ کمانڈر ایئر فورس ہیں۔ دوسرے سردار ظہور احمد قیصرانی ہیں جو موجودہ الیکشن میں ایم پی اے صوبہ پنجاب منتخب ہوئے۔ جب بندہ (صوفی اللہ وسایا) سردار ظہور احمد خان سے مرزائیت سے بیزاری کی تحریر لی تو بندہ نے قیصرانی صاحب سے کہا کہ سیاسی جماعتیں انتخابات میں ٹکٹیں تقسیم کرتی ہیں۔ ہم آپ کو ختم نبوت کے صدقہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایم.پی.اے کی سیٹ دے رہے ہیں۔ سردار صاحب الیکشن میں کامیاب ہو گئے ہیں امید ہے کہ ایم.پی.اے صاحب جماعت کے وفادار ثابت ہوں گے ۔ رشدی ملعون کے ہمزاد ایک یہودی ملعون مائیکل ایچ ہارٹ نے رکیک حملے کئے ہیں جس کی ضبطی کے متعلق علماء کرام کی میٹنگ بلا کر ضبطی کا مطالبہ کیا ہے اور مندرجہ ذیل حضرات کو تاریں دی ہیں۔ (۱) صدر پاکستان، (۲) وزیر اعظم پاکستان، (۳) مولانا عبدالستار خان نیازی، (۴) وزیر قانون، (۵) سردار فاروق احمد خان لغاری، (۶) جناب محمد خان شیروانی، (۷) جناب لیاقت بلوچ، (۸) جناب میر بلخ شیر مزاری و دیگر ممبران قومی اسمبلی، مختلف اخباروں خصوصاً اخبار روزنامہ امروز میں جلی سرخیوں کے ساتھ شائع ہیں۔ کٹنگ روانہ ہے شائع فرمادیں ۔ (مکتوب مولانا صوفی اللہ وسایا)
(لولاک فیصل آباد ص ۱۹، ۲۱، مورخہ ۲۵/جنوری ۱۹۹۱ء)
قومی اسمبلی میں قادیانی افسران کی نا تمام فہرست
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں کلیدی اور حساس عہدوں پر متعین قادیانی افسروں کا مسئلہ اٹھایا گیا تھا جس کے جواب میں حکومتی پارٹی کی طرف سے صرف چھ قادیانی افسروں کے نام لئے گئے۔ خبر یہ ہے: ”اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی میں جمعرات کو قادیانی افسروں کی فہرست فراہم کی گئی اور بتایا گیا کہ کوئی قادیانی بھی حساس عہدے پر تعینات نہیں ہے۔ ان افسروں کے نام اور عہدے درج ذیل ہیں: (۱) ناصر محمود کھوکھر گریڈ ۱۷ ڈی.ایم.جی گروپ، (۲) طاہر عارف گریڈ ۱۸ ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل پولیس کالج، (۳) محمد انور گریڈ ۱۸ ڈپٹی ڈائریکٹر پولیس کالج سہالہ، (۴) کنور ادریس گریڈ ۲۲ او ایس.ڈی اسٹیبلش منٹ ڈویژن، (۵) سید سہیل احمد گریڈ ۲۰ ڈائریکٹر فیڈرل بینک برائے کواپریٹو اسلام آباد، (۶) محمد اقبال امجد گریڈ ۱۷ سیکشن آفیسر۔“
(روزنامہ جنگ کراچی مورخہ ۴/ جنوری ۱۹۹۱ء)
۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا لیکن قادیانیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے اخبار الفضل میں صاف طور پر اعلان کر دیا تھا کہ: ”ہم اصلی مسلمان ہیں جب کہ دوسرے تمام (اصلی) مسلمان آئینی مسلمان ہیں ۔“
(مفہوم)
یہی وجہ ہے کہ وہ کلمہ طیبہ اور اسلامی اصطلاحات و شعائر کو بے دریغ استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان کے کسی آئین و قانون کی پابندی نہیں کرتے ۔ انہیں تبلیغ کی بھی اجازت نہیں لیکن وہ صرف ربوہ کے جلسے کو چھوڑ کر (جس کی اجازت نہیں ملتی) ہر جگہ جلسے کرتے ہیں اور لاؤڈ اسپیکر کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اگرچہ دین سے لگاؤ نہیں رکھتی تھی لیکن وہ قادیانی مسئلہ کو ایک حساس مسئلہ سمجھتی تھی ۔ ماسوائے بے نظیر بھٹو کے کہ اس نے اپنے ارد گرد قادیانیوں کو اہم پوسٹوں پر فائز کر لیا تھا لیکن موجودہ آئی.جے.آئی کی حکومت اسلام کی علمبردار ہے بلکہ اسلام اس کے نام کا جزو لاینفک ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت قائم ہوئے کئی ماہ ہو چکے ہیں ۔ اسلام تو کیا آتا جو اسلام کے دشمن ٹولے ملک میں موجود ہیں جن میں قادیانی سرفہرست ہیں کے بارے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا اور وہ ہزاروں کی تعداد میں ہر محکمے میں اہم کلیدی عہدوں پر فائز ہیں ۔
گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں حساس اور کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کے تعین کا مسئلہ زیر بحث آیا تو حکومت کو کلیدی عہدوں پر صرف چھ قادیانی نظر آئے ۔ حالانکہ صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں بتایا گیا تھا کہ صرف فوج میں ۳۶۸ یا ۳۳۸ قادیانی فوجی ہیں ۔ فوج محکمہ دفاع سے متعلق ہوتی ہے اور یہ محکمہ صوبائی نہیں وفاقی ہے اور حساس بھی ہے۔ اس لئے کہ فوج کا سب سے بڑا مقصد جہاد اور ملکی سرحدات کا تحفظ دفاع ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے ایمان کا بنیادی رکن یہ ہے کہ جہاد حرام ہے۔ مرزا قادیانی بانی فتنہ قادیانیت نے خود لکھا ہے ؎
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۶، خزائن ج ۱۷ ص ۷۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جہاد کی حرمت جس گروہ کے ایمان کا بنیادی رکن ہو اس گروہ کو فوج جیسے محکمہ میں رکھنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اور پھر یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ قادیانی:
- ۱...... اپنے پیشوا کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ فوج کا چیف آف اسٹاف ہو یا ملک کا صدر اور وزیر اعظم ان کی ہدایات واحکام کے مقابلے
میں اپنے پیشوا کی ہدایت پر عمل کرنا ان کے ایمان کا حصہ ہے۔
- ۲...... بھارت پاکستان کا دشمن ہے۔ وہاں ان کا مرکز ہے جہاں پاکستان سے ہر سال قادیانی جاتے اور آتے ہیں۔
- ۳...... مرزا محمود اکھنڈ بھارت کا حامی تھا اور مرزائی بھی حامی ہیں۔
تو کیا جن لوگوں کے یہ عقائد ونظریات ہوں وہ ملک کے خیر خواہ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان سے قادیانیوں کا ہندوستان جانا آنا یقیناً اس لئے ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے خلاف جاسوسی کرتے ہیں اور مرزا طاہر (جس نے پاکستان کو ملعون کہا، جس نے پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی دھمکی دی اور جو ایک اخباری خبر کے مطابق قادیانیوں کے بھارت میں آئندہ سال منعقد ہونے والے سالانہ جلسہ میں شرکت بھی کر رہا ہے ) کی ہدایت کے مطابق اکھنڈ بھارت کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اس لئے ہمارا حکومت سے یہی مطالبہ ہے کہ وہ قادیانیوں کی اصلی فہرست کو نہ چھپائے بلکہ وہ تمام قادیانیوں کی فہرست جاری کرے اور پھر انہیں ان کے عہدوں سے الگ کر کے پاکستان کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کرے۔
ہمارے خیال میں قومی اسمبلی میں چھ قادیانی افسروں کی جو فہرست جاری کی گئی ہے وہ کسی قادیانی ہی کی تیار کردہ ہو سکتی ہے۔ جس نے محض خانہ پری کر کے اس خطرے کو ٹالنے کی کوشش کی ہے کہ کہیں قومی اسمبلی میں قادیانی افسروں کے مسئلہ پر بحث طول نہ پکڑ جائے۔ ہم دعوے سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ہزاروں قادیانی اہم پوسٹوں پر متعین ہیں اور ظفر اللہ قادیانی سے لے کر اب تک ہر قادیانی نے ہزاروں کی تعداد میں قادیانیوں کو بھرتی کیا ہے۔ اس کا کھوج لگانے کے لئے کہ کتنے قادیانی سول کلیدی عہدوں پر ہیں اور کتنے فوج میں ہیں اور کتنے دوسرے محکموں میں کسی ایسے شہر یا گاؤں کا انتخاب کر لیں۔ جہاں قادیانی زیادہ ہوں اور پھر یہ چھان بین کی جائے کہ اس گاؤں یا شہر کے کتنے قادیانی ملازمین ہیں اور وہ کس کس عہدے پر ہیں۔ اسی طرح ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ایک گاؤں یا شہر کے اتنے قادیانی ملازمین ہو سکتے ہیں تو یقیناً دوسرے شہروں کے بھی اتنے یا اس سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت یہ طریقہ اختیار کرے تو قادیانی ملازمین کی مکمل فہرست سامنے آ جائے گی اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ کون سا قادیانی کس عہدے پر ہے اور آیا وہ حساس عہدہ ہے یا نہیں؟
اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایسے گاؤں یا شہروں کی نشاندہی کرنے کے لئے تیار ہے جہاں قادیانی زیادہ ہیں اگر حکومت سنجیدگی سے اس مسئلہ کو حل کرنا چاہے تو یہ با آسانی حل ہو سکتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۶، مورخہ ۲۵ تا ۳۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء)
قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ کراچی کا جزوی ٹھیکہ قادیانی کمپنی کو دے دیا گیا
اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز قادیانی افسران ہمیشہ سے اپنی جماعت اور اپنے گروہ کے افراد کا خیال کرتے ہیں اور جماعت کے افراد کو آگے لانے کی خفیہ طور پر کوشش کرتے ہیں اور ان کو منافع پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بڑی چالاکی سے مسلمان افسروں کو جھانسہ دے کر اپنا کام بھی نکال لیتے ہیں۔ حال ہی میں کراچی کے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر کام کرنے والے ایک واقف کار نے بتایا ہے کہ کراچی میں جدید ترین نیا ایئر پورٹ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ دراصل اس کا مکمل ٹھیکہ تو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک فرانسیسی کمپنی کو ملا ہے لیکن اس کمپنی نے آگے دو ایئر کنڈیشنگ کے کام کا ٹھیکہ ایک قادیانی فرم شاہنواز لمیٹڈ کو دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ شاہنواز لمیٹڈ قادیانیوں کی مشہور فرم ہے۔ یہی فرم مرسڈیز کے ایجنٹ بھی ہیں اور شیزان کمپنی کے مالکان بھی یہی ہیں۔ یہ فرم قادیانی جماعت کو کروڑوں روپے بطور امداد دیتی ہے۔ واقف کار نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شاہنواز لمیٹڈ جو قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر سب ٹھیکہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس سے بدرجہا بہتر کام کرنے والی اور پرانے تجربہ رکھنے والی کمپنیوں کی موجودگی میں قادیانی فرم نے ٹھیکہ کس طرح حاصل کر لیا ہے۔ واقف کار نے سوال کیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں نے شاہنواز لمیٹڈ کو مذکورہ ٹھیکہ دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ پی آئی اے ایئر پورٹ سیکورٹی فورس میں اعلیٰ عہدوں پر قادیانی فائز ہیں۔ دینی و مذہبی حلقوں نے قادیانی فرم کو ٹھیکہ دیئے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ بھی قادیانی نحوست سے نہیں بچ سکا اور یہاں تعمیرات میں بھی قادیانی شامل ہو گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ اطلاع درست ہے تو پھر قادیانی فرم سے ٹھیکہ واپس لیا جائے اور تحقیق کی جائے کہ قادیانی فرم کو ٹھیکہ دلوانے کا کردار کس نے ادا کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۵، مؤرخہ یکم تا ۷ فروری ۱۹۹۱ء)
سینٹ کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ مرتدوں کو سرکاری عہدے نہ دیئے جائیں
اسلام آباد سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اہم سرکاری اور سیاسی عہدوں پر ایسے لوگوں کی تقرری پر پابندی لگائی جائے جو نظریہ اسلام کے باغی ہوں یا جو ارتداد کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ایسے تمام لوگوں کو واجبات دے کر سبکدوش کر دیا جائے۔ سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عقائد و عبادات کے ضمن میں ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے۔ یہ کمیٹی سینیٹر پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی۔ سینیٹر نوابزادہ جہانگیر شاہ جوگزئی، سینیٹر قاضی عبداللطیف، سینیٹر محمود احمد منٹو، سینیٹر خوانزادہ بہرہ ور سعید اس کمیٹی میں شامل تھے۔ خصوصی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری مسلمان ملازمین کی سالانہ خفیہ رپورٹ (اے سی آر) میں ایک کالم کا اضافہ کیا جائے تاکہ اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی ان کے کردار سے متعلق رپورٹ ہو سکے اور یہ دیکھا جائے کہ وہ اسلامی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلامی شعائر بالخصوص نماز، روزے کی کس حد تک پابندی کرتے ہیں تاکہ پابندی نہ کرنے والوں کی ترقی یا سالانہ انکریمنٹ کو روکا جا سکے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ سماجی برائیوں مثلاً فحاشی، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی وغیرہ سے متعلق جرائم کی بدنی سزائیں بھی مقرر کی جائیں جو سر عام دی جائیں۔ عبادات کے اہتمام کے لئے مساجد کو معاشرے میں مرکزی حیثیت دی جائے۔ حکومت ملک میں نمایاں مقامات پر مساجد تعمیر کرے اور کسی نئی آبادی کا نقشہ اس وقت تک منظور نہ کیا جائے۔ جب تک اس میں مناسب فاصلوں پر مساجد تعمیر کرانے کے لئے موزوں جگہیں مختص نہ کی گئی ہوں اور نئے شہروں اور بستیوں کی منصوبہ بندی سمت قبلہ کا خیال رکھتے ہوئے کی جائے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ اصحاب اقتدار نماز جمعہ مساجد میں ادا کریں تاکہ دوسرے لوگوں کو ترغیب ملے۔ خواتین کے لئے مساجد میں کم از کم جمعہ میں شرکت اور درس وتدریس کا مناسب بندوبست کیا جائے۔ نماز جمعہ کے وقت کاروبار بند کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ سرکاری تقریبات نماز کے اوقات کا لحاظ رکھتے ہوئے منعقد کی جائیں اور اگر کسی تقریب کے دوران نماز کا وقت آجائے تو ادائے فرض کے لئے کارروائی ملتوی کر دی جائے۔ نماز کو تعلیمی اور تربیتی اداروں کی اقامت گاہوں کے شب و روز کے نظام الاوقات میں شامل کیا جائے۔ تبلیغ دین کے کام کو اندرون ملک اور بیرون ملک مؤثر طریقے پر انجام دینے کے لئے نجی کوششوں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی یہ ذمہ داری ادا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرے۔ اس کام کے لئے ہر سال مناسب رقم بجٹ میں مختص کی جائے۔ سرکاری تقریبات میں حرام اشیاء کی خوردونوش پر پابندی عائد کی جائے۔ پاکستان کے تمام ہوٹلوں اور طعام گاہوں پر قانونی پابندی ہو کہ عوام کو فراہم کی جانے والی خوراک میں خنزیر کا گوشت اور حرام اجزاء شامل نہ ہوں۔ ان حرام اشیاء کی ملک میں درآمد بھی کلی طور پر ممنوع ہونا چاہئے۔ ایسی تمام اشیاء جو نشے کے مقصد کے لئے تیار کی جاتی ہیں۔ ان کا بنانا درآمد کرنا رکھنا اور خرید و فروخت ممنوع قرار دیا جائے۔ ایسی سرکاری پالیسی کی تشہیر کی جائے کہ جن تقریبات میں شراب پیش ہو۔ اس میں کوئی پاکستانی شریک نہ ہو عصمت فروشی کو حرام قرار دینے والے قوانین کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ جوئے کو اس کی ہر شکل میں ممنوع قرار دیا جائے۔ کمیٹی نے مقررین، واعظوں اور ذاکر حضرات سے کہا ہے کہ وہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ جن سے اسلام کے مختلف مکاتب فکر کے پیروکاروں میں باہمی نفرت پھیلنے کا اندیشہ ہو۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳، ۲۴، مورخہ یکم تا ۷؍ فروری ۱۹۹۱ء)
پاکستان ایسوسی ایشن جاپان کا قادیانی سفیر کی برطرفی کا مطالبہ
گزشتہ شمارہ میں جاپانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن کے عہدیداروں جناب حسین خان اور جناب رئیس صدیقی صاحبان کا تفصیلی انٹرویو شائع ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے جاپان میں متعین قادیانی سفیر منصور احمد کی پاکستانی مسلمانوں خود پاکستان کے خلاف سازشوں اور قادیانیوں پر خصوصی نوازشوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
- ۱...... خاص طور پر کوئی تقریب ہو تو قادیانی نمایاں نظر آتے ہیں۔
- ۲...... قادیانیوں کو بطور خاص جاپان کا ویزا دلوایا جاتا ہے اور پھر وہ مظلوم بن کر سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں۔
- ۳...... مسلمانوں خصوصاً موجودہ تنظیم کے عہدیداروں کو جاپان کے دورہ کے دوران صدر اسحاق سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔
- ۴...... سابق سفیر نے مسلمانوں کے لئے مسجد کی خاطر جگہ کے حصول کی کوشش کی لیکن قادیانی سفیر نے اس کے حصول میں رکاوٹیں ڈالنا
شروع کر دیں۔
- ۵...... رشدی شیطان کے خلاف مظاہرہ روکنے کے لئے جاپانی پولیس کو روکا۔
- ۶...... ترکی نے ایک اپنی تعمیر کردہ مسجد کی جگہ کوئی اور سینٹر بنانے کا پروگرام بنایا۔ مسلمانوں نے احتجاج کیا جس میں دوسرے مسلمان ملکوں کے
علاوہ پاکستان کے مسلمان بھی شریک تھے تو قادیانی سفیر نے حکومت کو شکایت بھیجی کہ یہ برادر ملک سے تعلقات خراب کر رہے ہیں۔
- ۷...... پاکستان کے مسلمانوں کو فسادی اور اچکے قرار دیتا ہے۔
- ۸...... اس کی وجہ سے پاکستان کا سفارت خانہ قادیانی جماعت کے دفتر میں تبدیل ہو چکا ہے۔
- ۹...... قادیانی مبلغین اور مربی وہاں قیام کرتے ہیں۔ (ظاہر ہے کہ لٹریچر وغیرہ بھی تقسیم کرتے ہوں گے)
- ۱۰...... مرزا طاہر کی عزیزہ نے مبینہ طور پر اپنے دورۂ جاپان میں وہاں قیام کیا۔
الغرض یہ اور اس طرح کے بہت سے الزامات ہیں جو پاکستان کے قادیانی سفیر پر عائد کئے گئے ہیں۔ ہمارے خیال میں پاکستان ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے جو الزامات لگائے ہیں وہ مبنی بر حقیقت ہیں۔ کیونکہ ہر قادیانی اپنی جماعت اور اپنے پیشوا کا زیادہ وفادار ہوتا ہے اور ان کے احکامات کو حکومت کے احکامات پر ترجیح دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی گوش گزار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ مذکورہ دونوں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمان رہنماؤں نے اسلام آباد جا کر صدر اسحاق اور میاں نواز شریف سے ملاقات بھی کی ہے اور انہیں جاپان میں متعین اس قادیانی سفیر کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر آگاہ کیا ہے۔ جب کہ وزیر خارجہ یعقوب خان نے ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا۔ ممکن ہے کہ قادیانی سفیر کی تقرری میں ان کا ہاتھ ہو۔ کیونکہ قادیانی اخبار ان کی بہت زیادہ تعریف کرتا رہتا ہے۔ جس سے یہ شبہ قوی تر ہو گیا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے اور وزیر خارجہ کی کوئی رگ ایسی ہے جو قادیانیوں سے ملتی ہے۔
ہم نے وزیر خارجہ کے بارے میں پہلے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ وہ قادیانیوں کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کریں۔ لیکن انہوں نے ابھی تک کسی قسم کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ اب جب کہ انہوں نے جاپان میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم سے ملاقات کا وقت نہیں دیا تو وزیر خارجہ صاحب کے بارے میں پاکستانی مسلمانوں میں شکوک وشبہات میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ کمی نہیں ہوئی۔ اس لئے ایک دفعہ پھر ہم ان سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ پاکستان کے مسلمانوں میں ان کی ذات کے بارے میں پائے جانے والے شکوک وشبہات کو فوراً دور کریں۔ بہر حال پاکستان ایسوسی ایشن کے مذکورہ وفد کے دونوں رہنماؤں نے صدر اسحاق اور وزیر اعظم کو قادیانی سفیر کی سرگرمیوں اسلام دشمن اور ملک دشمن سرگرمیوں سے آگاہ کر کے اس کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
ہم جاپان کے مذکورہ مسلمان رہنماؤں کے مطالبات کی پر زور حمایت کرتے ہوئے صدر اسحاق اور وزیر اعظم نواز شریف سے ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ جاپان سے پاکستان کے قادیانی سفیر منصور احمد کو فوراً برطرف کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۶، مؤرخہ یکم تا ۷/ مارچ ۱۹۹۱ء)
مغل پورہ میں ختم نبوت فری ڈسپنسری کا قیام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصل پارک مغل پورہ میں دفتر اور ختم نبوت فری ڈسپنسری قائم کی ہے۔ جس سے علاقہ کے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔ ڈسپنسری میں دو لیڈی ڈاکٹرز صبح شام بچوں اور خواتین کا علاج کرتی ہیں۔ مریضوں سے صرف پرچی فیس لی جاتی ہے۔
مکتوب فیصل آباد
- ...... فیصل آباد شہر کا امن تباہ ہونے کا خطرہ۔
- ...... غیر قانونی قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر۔
- ...... ربوہ میں قادیانی اسپورٹس ریلیوں پر پابندی کا مطالبہ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصل آباد کی اضافی بستی پیپلز کالونی میں پانچ کنال رقبہ کے رہائشی پلاٹ نمبر ۲۹۰- ڈی کینسل اور ضبط شدہ پر محکمہ ہاؤسنگ کے حکام کی ملی بھگت سے قادیانی جماعت کی طرف سے خفیہ طور پر قادیانی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے معاملات کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائے اور شہر کا امن تباہ کرنے کے لئے ایک قادیانی سمیع اللہ کے منصوبے کو ناکام بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس پلاٹ کا قادیانی الاٹی ۱۹۸۳ء میں فوت ہو گیا تھا۔ جب کہ ان کے قانونی وارثوں نے پلاٹ کی الاٹمنٹ کے لئے محکمہ کو درخواست نہ دی اور مارچ ۱۹۹۰ء کو ایک قادیانی شخص سمیع اللہ نے غیر قانونی طور پر اس پلاٹ پر غیر قانونی طور پر قادیانی عبادت گاہ و احمدیہ جماعت خانہ کی تعمیر شروع کر دی۔ جس پر پیپلز کالونی کے مسلمانوں کو سخت تشویش ہوئی تو انہوں نے عالمی مجلس کے نوٹس میں یہ بات لا کر حکومت سے احتجاج کرنے کی اپیل کی جس پر محکمہ ہاؤسنگ سے رجوع
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا۔ جنہوں نے قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر روکنے کے لئے کئی نوٹس دیئے۔ مگر فوت شدہ قادیانی کے جائز وارثوں نے محکمہ کے پاس کوئی درخواست نہ دی۔ جس پر محکمہ ہاؤسنگ نے ۲۵/اپریل ۱۹۹۰ء کو پلاٹ کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے پلاٹ ضبط کر لیا اور ایگریمنٹ منسوخ کر دیا۔ جب کہ نقشہ شروع سے ہی منسوخ شدہ تھا۔ اس کے بعد مجسٹریٹ علاقہ کی موجودگی میں پلاٹ کے گیٹ پر سرکاری تالہ لگا کر سیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد اسی قادیانی نے فوت شدہ قادیانی الاٹی کی بیوہ کی طرف سے کمشنر فیصل آباد کے پاس اپیل کر دی۔ مقام افسوس ہے کہ کمشنر فیصل آباد محکمہ ہاؤسنگ کے جواب دعویٰ اور فائل ملاحظہ کئے بغیر پلاٹ کا کیس ریمانڈ کر دیا۔ جب کہ جائز وارث کی طرف سے کوئی سرٹیفکیٹ بھی شامل نہ تھا۔ اس کے بعد قادیانی جماعت کے اس شخص کی بجائے سرکاری تالہ توڑ کر پلاٹ پر بھرتی ڈلوانی شروع کر دی اور تعمیر بھی اندر اندر کی جاتی رہی۔ کیونکہ پلاٹ کا چھوٹا دروازہ سیل نہیں تھا۔ اس دھاندلی پر پھر محکمہ ہاؤسنگ کے نوٹس میں لایا گیا کہ کینسل شدہ پلاٹ پر پھر تعمیر شروع کی گئی ہے مگر قصور وار قادیانیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی ہے۔ جب کہ تھانہ پیپلز کالونی میں محکمہ نے مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست دے رکھی ہے۔ قریشی قادیانی ڈی.ایس.پی کے دباؤ کے تحت مقدمہ درج نہیں ہو رہا ہے اور محکمہ ہاؤسنگ کے ڈائریکٹر قادیانیوں کے دباؤ کی وجہ سے مؤثر کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔ جس پر قادیانیوں کے اور محکمہ ہاؤسنگ کے خلاف تحریک چلائی۔ مولوی فقیر محمد نے وزیر اعلیٰ اور ہوم سیکرٹری پنجاب سے مزید مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کے تحت قادیانی مذہب کی تبلیغ واشاعت پر پابندی کے پیش نظر ۳/مارچ کو ربوہ میں خدام الاحمدیہ کے زیر اہتمام آل پاکستان اسپورٹس ریلی پر پابندی لگائی جائے۔ انجمن احمدیہ ربوہ کے زیر اہتمام ۲۶ تا ۲۸/اپریل ۱۹۹۱ء کو قادیانی جماعت کے سرکردہ رہنماؤں کی مجلس شوریٰ کا انعقاد بھی بند کیا جائے۔ کیونکہ گزشتہ سال مجلس شوریٰ کے اجلاس میں اسلام اور پاکستان کے خلاف تقریریں ہوئی تھیں۔ جس پر چھ قادیانیوں کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ۲۵/ستمبر ۱۹۹۰ء کو ڈپٹی کمشنر جھنگ نے ربوہ میں غیر قانونی طور پر کھیلوں کی اجازت دی تھی۔ اسی طرح نومبر کے مہینہ میں قادیانیوں کی ذیلی تنظیموں کے تین جلسوں کو اجازت دے کر قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ جس کو بعد میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کا تخریب کار قادیانی عبدالکلیم جو ربوہ میں قادیانی کمانڈو کو تخریب کاری کی تربیت دے رہا ہے۔ اس کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴،مؤرخہ ۲۹/مارچ تا ۴/اپریل ۱۹۹۱ء)
ربوہ قادیانی ٹورنامنٹوں کو روکا جائے
فیصل آباد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے ۹، ۱۰/فروری ۱۹۹۱ء کو ربوہ میں قادیانی عورتوں کی ذیلی تنظیم لجنہ اماء اللہ کی قادیانی مذہب کی تبلیغ کی آڑ میں کھیلوں کے آل پاکستان ٹورنامنٹ کی اجازت دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مقصد کے لاؤڈاسپیکر کی اجازت دینے کی سفارش کرنے پر ایس.ایچ.او ربوہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ سے ربوہ کی قادیانی جماعت کھیلوں کے ٹورنامنٹ منعقد کر کے اور کشتی رانی کے مقابلے کرا کر قادیانی مذہب کی تبلیغ کا نیا طریقہ اختیار کر رہی ہے جس میں مسلمان نوجوانوں کو مدعو کر کے ان کو مرتد کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ہر جمعرات کو قادیانی جماعت کے مربی سادہ لوح مسلمانوں کو دیہاتوں سے گھیر گھار کر ربوہ میں لنگر خانوں میں لے آتے ہیں۔ ربوہ کی یاترا کرا کر ان کو مرتد کرنے کے لئے کئی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ جس کی روک تھام کے لئے چنیوٹ اور ربوہ کی انتظامیہ اور تھانہ ربوہ کے ایس.ایچ.او کوئی کارروائی نہیں کر رہے ہیں اور کھلے عام امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی جاری ہے۔ قادیانی جماعت نے خدام
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الاحمدیہ کمانڈو تنظیم کی کھیلوں کا ٹورنامنٹ یکم تا ۳ / مارچ اور مجلس مشاورت ۲۶ تا ۲۸ / اپریل ربوہ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقام افسوس ہے کہ صوبائی حکومت اور ہوم سیکرٹری غیر قانونی اجتماعات نہیں روک رہے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مؤرخہ ۲۹ مارچ تا ۴ / اپریل ۱۹۹۱ء)
کنور ادریس قادیانی کی تنزلی اور دوبارہ ترقی
جب پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور دوبارہ الیکشن کے نتیجہ میں اسلامی جمہوری اتحاد برسر اقتدار آیا تو حکومت کو نا کام بنانے کے لئے یوں تو پوری قادیانی جماعت ہی حرکت میں آگئی تھی۔ لیکن خاص طور پر جو قادیانی اہم پوسٹوں پر متمکن تھے انہوں نے من مانی کارروائیاں شروع کر کے حکومت کو بدنام کرنے اور ناکام بنانے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ سازشیں شروع کر دی تھیں۔ کنور ادریس قادیانی کو سب جانتے ہیں کہ وہ پکا قادیانی ہے اور قادیانی خواہ کوئی ہو اور کسی بھی عہدے پر ہو وہ اپنے نام نہاد خلیفہ اور جماعت کا وفادار ہوتا ہے۔ جب مذکورہ شخص صوبہ سندھ کا چیف سیکرٹری تھا تو اس کی وجہ سے قادیانی سندھ میں اکڑ کر چلتے تھے۔ اس نے قادیانیوں کو نہ صرف نوازا بلکہ ان کی خوب سر پرستی کی۔ اسی بناء پر نہ صرف صوبہ سندھ میں اس کے خلاف احتجاج ہوا بلکہ پورے ملک میں یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ کنور ادریس کو سیکرٹری شپ کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔ اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے قائد حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے اہم کردار ادا کیا۔ یہاں اس وقت کے وزیر اعلیٰ جناب قائم علی شاہ صاحب سے ملاقات کر کے اس مسئلہ کو اٹھایا۔ نیز افسران بالا اور وزراء کو بھی اس طرف متوجہ کیا۔
ہفت روزہ ختم نبوت نے زور دار اداریے تحریر کئے جن میں کنور ادریس کا کچا چٹھا کھول کھول کر بیان کیا گیا۔ علاوہ ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں نے بھی بیانات اور خطوط کے ذریعے حکومت کو اس کی سرگرمیوں ، ملک دشمن نظریات اور خطرناک عزائم سے آگاہ کیا۔ چنانچہ اسے یہاں سے ہٹا کر وزارت پیداوار کا سیکرٹری مقرر کر دیا گیا۔ آئی. جے. آئی کے برسر اقتدار آنے کے بعد قادیانیوں کو یہ یقین ہو گیا کہ اب ہماری دال نہیں گلے گی اس لئے انہوں نے اندرون خانہ سازشیں شروع کر دیں۔ کنور ادریس قادیانی اور اس کے ایک ساتھی نے بلامشورہ کے سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ جب سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو اس کے ساتھ ہی دوسرے تعمیراتی سامان لوہا، اینٹ، بجری وغیرہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔ جس کا اثر نچلے اور متوسط طبقے پر پڑا۔ حکومت کے علم میں جب یہ بات آئی تو اس نے یہ فیصلہ واپس لے لیا اور یہ بھی بتایا کہ سیمنٹ کی قیمتوں میں بغیر مشورے کے اضافہ کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس کی وجہ سے حکومت نے کنور ادریس قادیانی اور اس کے ساتھی کی تنزلی کر دی۔
اب یہ اطلاع آئی ہے کہ اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے اور اب پھر وہ وزارت پیداوار کا سیکرٹری ہے۔ وزارت پیداوار کے بارے میں اگر ہم یہ کہیں کہ یہ سونے کی چڑیا ہے تو ہماری یہ بات غلط نہیں ہوگی۔ اس سونے کی چڑیا کو ایک قادیانی کے ہاتھ میں دے دینا عوام پر سراسر ظلم ہے۔ وہ یقیناً اس سونے کی چڑیا کے پر نوچ ڈالے گا اور قادیانیوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ ایسے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں۔ اسی کنور ادریس قادیانی نے بہت سے قادیانیوں کو پیٹرول پمپ الاٹ کئے اور اس طرح وہ قادیانی چند دنوں میں ہی اپنے علاقے کے مالدار ترین لوگوں میں شامل ہو گئے۔ آئی. جے. آئی کی حکومت کو چاہئے کہ وہ پیپلز پارٹی کے نقش قدم پر نہ چلے اور قادیانیوں کو آگے لانے اور کلیدی عہدوں پر بٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ اس وقت جہاں بھی کسی عہدے پر کوئی قادیانی موجود ہے۔ خواہ
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء
وہ سول کا محکمہ ہو یا فوج کا۔ اسے فوراً وہاں سے الگ کیا جائے۔ خاص طور پر کنور ادریس جو ایک انتہائی متعصب قادیانی ہے۔ اس کا ہٹایا جانا بہت ضروری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت اس مسئلہ پر فوری توجہ دے گی اور اس کو فوراً الگ کر کے پاکستان کے عوام کو مطمئن کرے گی۔
(اداریہ ختم نبوت کراچی ص ۵، مورخہ ۵ تا ۱۱؍اپریل ۱۹۹۱ء)
بھکر کے قادیانی سول جج کی کار سے کلمہ طیبہ محفوظ کر لیا گیا
”ارشاد اللہ سیال سول جج قادیانی جو کہ تیسری مرتبہ اسی عہدہ پر بھکر ہی میں تعینات ہے۔ اس نے اپنی کار MNA-5043 پر کلمہ طیبہ کے سٹیکر لگا کر کھلے بندوں بازاروں میں پھرنا شروع کر دیا جس سے شہر میں اشتعال پھیل گیا۔ ختم نبوت بھکر کے رہنماؤں نے ضلعی حکام سے مل کر صورتحال کے سلسلہ میں گفتگو کی۔ ڈپٹی کمشنر بھکر نے اسسٹنٹ کمشنر بھکر کو حکم دیا کہ قادیانی سول جج کی کار سے کلمہ طیبہ محفوظ کر لیا جائے۔ الحمد للہ ! اگلے روز پولیس نے قادیانی سول جج کے چیمبر کے سامنے کار کے گرد گھیرا ڈال کر کلمہ طیبہ کے دونوں سٹیکرز محفوظ کر لئے۔ بھکر کے عوامی سماجی حلقوں نے اس کارکردگی کو سراہتے ہوئے مسلمانوں کی جیت اور اسلام کی سربلندی سے تعبیر کیا۔ نیز ضلعی انتظامیہ کے بروقت تعاون کو بھی بھکر کے عوام نے بے حد سراہتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔“
(لولاک فیصل آباد ص ۲۰، مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۹۱ء)
بھکر میں قادیانیوں کے تبلیغی مرکز ختم
بھکر میں عرصۂ دراز سے مسلم بازار میں ملک سنز جنرل سٹور قادیانیوں کے تبلیغ و تشہیر کا اڈا بنا ہوا تھا۔ یہاں پر کاروبار کم قادیانیت کی تشہیر زیادہ کی جاتی تھی۔ یہ جنرل سٹور قادیانیوں کی تبلیغ کا اڈا بنا ہوا تھا۔ جو اپنے مذموم عزائم و عقائد کی برملا تبلیغ کرتے تھے۔ مگر بھکر میں ڈاکٹر دین محمد فریدی کوشش سے قادیانیوں کا یہ اڈا بند ہو گیا ہے۔ ۱۸؍ستمبر ۱۹۸۹ء کو قادیانی باپ بیٹا کے خلاف دفعہ ۲۹۸۔سی کے تحت قادیانیوں کی برملا تشہیر سے پیدا ہونے والے حالات سے ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کر کے مقدمہ درج کروا کر گرفتار کرا دیا۔ عبداللطیف قادیانی جو بھکر کے مسلم بازار میں قادیانیوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ دکان چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔
(لولاک فیصل آباد ص ۹، مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۹۱ء)
شمع ختم نبوت کے پروانوں پر گولیوں کی بارش
پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ جس کے لئے ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں نے جان کی قربانی دی۔ قیمتی جائیدادیں اور سونا اگلنے والی زمینوں کو چھوڑا۔ گھر سے بے گھر ہوئے۔ الغرض پاکستان کیلئے جو کچھ کرنا چاہئے تھا وہ کیا، صرف اس لئے کہ ہمارا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہوگا جہاں ہم آزادی کے ساتھ اسلام کا عادلانہ نظام حیات نافذ کر کے اپنے خالق و مالک اللہ رب العالمین جل جلالہ اور اس کے پیارے حبیب تاجدار ختم نبوت رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی بندگی و اطاعت کا صحیح معنی میں حق ادا کرسکیں۔ لیکن پاکستان کو بنے ہوئے عرصہ بیت گیا جن لوگوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا۔ وہ اپنے دل میں اسلام کی حسرت لئے دنیا سے رخصت ہو گئے اور جو رہ گئے ان کی تعداد بہت کم ہے۔ جو نعرہ ہم نے تحریک پاکستان کے وقت لگایا تھا آج بھی جب الیکشن کے دن آتے ہیں۔ اسی طرح لگایا جاتا ہے اور ہر پارٹی کے جلسے جلوسوں میں یہی صدا بلند ہوتی ہے۔ ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ“ الیکشن ہوتے ہی جو پارٹی اقتدار کی کرسی پر متمکن ہوتی ہے وہ کرسی ارباب اقتدار کو اندھا، بہرہ اور گونگا بنا دیتی ہے اور ان کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دماغ کو ماؤف کر دیتی ہے۔ اس لئے کہ ان کے سامنے جو بھی مطالبہ کیا جاتا ہے وہ سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔ کل تک شریعت بل کے نفاذ کا وعدہ کیا جاتا رہا آج جب شریعت بل کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو ارباب اقتدار کی طرف سے یہی آواز بلند ہوتی ہے کہ پاکستان میں بہت سے مکاتب فکر رہتے ہیں۔ کس کا شریعت بل نافذ کیا جائے۔ یہ اوچھے ہتھکنڈے صرف مختلف مکاتب فکر کو باہم لڑانے کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں۔ جب یہاں فرنگی سامراج برسراقتدار تھا تو وہ ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی کرتے ہوئے حکومت کرتا رہا۔ وہ جا چکا لیکن کالے انگریز کی صورت میں اپنی معنوی اولاد چھوڑ گیا۔ جو نہ صرف وہی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے بلکہ اسی کے اشارے پر ناچ رہی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں اسلام یا شریعت کا نفاذ تو کیا آتا اس کالی کملی والے آقاﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ بھی نہ ہوسکا جس کے صدقے یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا۔
انگریز نے نبی اور مہدی کے نام سے مرزا قادیانی کو اٹھایا۔ اس فتنہ کو اٹھے سو سال ہو چکے ہیں۔ اس کے خلاف کئی تحریکیں اٹھیں۔ جن کے نتیجہ میں اس کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا تا کہ اسلامی اصطلاحات اور اسلامی شعائر استعمال نہ کر سکیں، لیکن اس کے باوجود اس فتنہ کے رسائل وجرائد اور تنخواہ دار ڈھنڈورچی خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ اسلامی اصطلاحات وشعائر کے استعمال میں تو کوئی رکاوٹ ہی نہیں ہے۔
رد قادیانیت پر اس وقت تک چھوٹی بڑی کتابیں رسائل واشتہارات وغیرہ ہزاروں کی تعداد میں شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں قادیانی فتنہ کے بانی آنجہانی مرزا قادیانی اور قادیانی فتنہ کے دوسرے سرکردہ حضرات کی کتابوں کے حوالوں سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نبوت یا مہدویت کا دعویدار ہی نہیں تھا بلکہ وہ حضور تاجدار ختم نبوت، رحمۃ للعالمین ﷺ کا گستاخ بھی تھا۔ یہاں تک کہ اس کا دعویٰ تھا کہ محمد وہ خود ہے۔ اس کے پیروکاروں نے بھی گستاخیوں میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ایسے میں جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ محمد وہ خود ہے اور اس کے پیروکار لکھیں کہ مرزا پہلے محمد سے بڑھ کر ہے تو کیا مسلمان کہلانے والے حکمرانوں، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے ارباب اقتدار کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ آپ ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کریں اور اس فتنہ کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں؟
قادیانیوں ہی کی طرح ایک ذکری فتنہ بھی ہے جو تربت مکران کے علاوہ کراچی میں آباد ہے۔ قادیانیوں اور ذکریوں میں فرق یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ لیکن کلمہ میں محمد رسول اللہ سے مراد قادیانی کو لیتے ہیں۔ جب کہ ذکریوں نے ذیل کے چار کلمے ایجاد کئے ہوئے ہیں۔
- ۱...... لا الہ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی رسول اللہ
- ۲...... لا الہ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی مراد اللہ
- ۳...... لا الہ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی خلیفۃ اللہ
- ۴...... لا الہ الا اللہ نور پاک نور محمد مہدی سر مکنون اللہ
علاوہ ازیں ذکری نماز کی فرضیت کے منکر ہیں اور جو نماز پڑھے اسے کافر سمجھتے ہیں۔ نماز کے قائم مقام ذکر کو قرار دیتے ہیں۔ قبلہ کے منکر ہیں۔ کوہ مراد ان کا قبلہ ہے۔ جہاں ہر سال یہ ”حج“ کرتے ہیں۔ وہاں انہوں نے صفا و مروہ کی جگہ کوہ مراد اور ایک میدان کا نام عرفات رکھا ہوا ہے اور ایک جوہڑ (جو مبینہ طور پر خشک ہو چکا ہے اسے آب زم زم کا درجہ دیتے ہیں) روزوں کی فرضیت کے منکر ہیں۔ روزے ان کے نزدیک منسوخ ہو چکے ہیں۔ زکوٰۃ ان کے ہاں عشر بشرح ایک دہائی ہے۔ غسل جنابت اور وضو کے قائل نہیں۔ ان کے ملائی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(راہنما) دنیا میں بیٹھے بیٹھے (قادیانیوں کی طرح) جنت فروخت کرتے ہیں۔ الغرض مندرجہ بالا عقائد کی رو سے ذکری بھی اسی طرح کافر، ملحد اور زندیق ہیں جس طرح قادیانی۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے خلاف جو تحریک چلی تھی اس کے نتیجہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ آئین کی اس دفعہ کا اطلاق ذکریوں پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن ذکری آئین کی اس دفعہ اور اپنے غلیظ ترین عقائد کے باوجود خود کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔ ایک عرصہ سے بلوچستان کے عوام حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ ذکریوں کا نام لے کر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ تربت میں کوہ مراد پر جمع ہو کر وہ جو نقلی حج کرتے ہیں اس پر سختی سے پابندی لگائی جائے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تربت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس میں یہ مطالبات شدت کے ساتھ اٹھائے گئے۔ بگٹی کی ذکری نوازی بلکہ ان کی سرپرستی کی وجہ سے ہنگامہ آرائی تک نوبت پہنچ گئی۔
امسال ۴؍ اپریل ۱۹۹۱ء کو عالمی مجلس کے زیر اہتمام کانفرنس کا اعلان کیا گیا تھا۔ حکومت نے یہ افواہ پھیلا دی تھی کہ کانفرنس نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس سلسلہ میں علماء بلوچستان کا ایک وفد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر تاج محمد جمالی سے ملا اور یقین دہانی کرا دی کہ کانفرنس انتہائی پرامن ہوگی۔ میر تاج محمد نے کانفرنس کی اجازت دے دی اور کہا کہ آپ کانفرنس کر سکتے ہیں۔ لیکن میر صادق اور میر جعفر کے اس جانشین نے دھوکے سے کام لیا۔ وفد کو زبانی طور پر کانفرنس کا یقین دلایا اور درپردہ انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دیں کہ جو علماء بھی جائیں انہیں تربت بدر کر دیا جائے اور کانفرنس نہ ہونے دی جائے۔ علماء کرام جب ۳؍ اپریل کو کوئٹہ سے بذریعہ ہوائی جہاز تربت پہنچے تو جہاز کو ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور ملیشیاء نے اس طرح گھیرے میں لے لیا جیسے جہاز میں ہائی جیکرز ہوں اور وہ طیارہ اغواء کر کے لائے ہوں۔ بہر حال ڈیڑھ گھنٹہ مذاکرات ہوئے۔ اے سی نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ہمیں اوپر سے ہدایات ملی ہیں۔ آپ واپس جائیں۔ اس وقت کوئٹہ واپسی کے لئے کوئی جہاز نہیں تھا۔ چنانچہ انہیں براستہ کراچی کوئٹہ پہنچایا گیا۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے لئے تربت شہر کی مکمل طور پر ناکہ بندی کر دی گئی اور کسی مسلمان کو تربت شہر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ جب کہ ذکری بسوں، کوچوں اور دوسرے ذرائع سے دل آزار اور اشتعال انگیز حرکتیں کرتے ہوئے ”نقلی حج“ کے لئے پہنچتے رہے۔ جن کی حفاظت پولیس، ملیشیاء اور افسران کرتے رہے۔
اعلان کے مطابق ختم نبوت کانفرنس پورے زور و شور کے ساتھ منعقد ہوئی اور ناکہ بندی بھی کانفرنس کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈال سکی۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کر کے تاجدار ختم نبوت ﷺ سے دلی محبت اور عشق کا بھر پور ثبوت دیا۔ لیکن وزیر اعلیٰ جمالی صاحب کو مسلمانوں کی حضور ﷺ سے محبت ایک آنکھ نہ بھائی اور عشق رسالت ﷺ سے سرشار مسلمانوں پر پہلے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور بعد ازاں گولیوں کی بارش کرادی۔ اخباری اطلاع کے مطابق دو افراد شہید، تیرہ شدید زخمی ہوئے اور ۳۰۰؍ افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ فوج طلب کر لی گئی اور غیر سرکاری کرفیو لگا دیا گیا۔ ایک اطلاع کے مطابق شہید اور زخمی ہونے والوں نیز گرفتار ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ سنسناتی گولیوں میں بھی وہاں کے زندہ دل غیرت مند بلوچ و پٹھان مسلمانوں کا یہی نعرہ تھا۔ ”تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد“ ہم جان دے دیں گے لیکن حضور ﷺ کے مقابلہ میں ذکریوں اور ان کے جھوٹے مدعی نبوت اٹکی کو برداشت نہیں کریں گے اور نہ ہی ہم ذکریوں کا نقلی حج برداشت کریں گے۔ عوام نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ذکریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ان کے نقلی حج پر فوری پابندی لگائی جائے ۔“
تربت میں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے والے مسلمانوں نے ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور زخمی ہونے والوں نے عشق کی اس راہ میں خون گرایا اور اپنے جسم کو لہولہان کر لیا۔ اس ناگہانی واقعہ (موت) پر تشویش کا پیدا ہونا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لازمی ہے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ عشق تاجدار ختم نبوت ﷺ میں جن مسلمانوں نے موت کو اپنے سینے سے لگایا اور جن مسلمانوں نے اپنے جسموں کو لہولہان کرایا ان کی یہ موت اور ان کا بہنے والا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہ خون جہاں میر تاج جمالی کی کرسی کو بہا لے جائے گا وہاں ذکریوں کو بھی لے ڈوبے گا۔ وہ پہلے ہی اسلام کے لحاظ سے غیر مسلم اور زندیق وملحد ہیں۔ آئینی لحاظ سے بھی غیر مسلم قرار پائیں گے۔ (حسب عادت انتظامیہ نے دو افراد کے مرنے کی تردید کی ہے اور گرفتار شدگان کی تعداد بھی کم بتائی ہے)
بہرحال اس واقعہ نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی اسلام دشمنی، قادیانیت نوازی (قادیانیوں کا لاہور سے شائع ہونے والا سیاسی ترجمان جمالی خاندان کے بڑوں کی برسی مناتا ہے۔ ان کی مدح میں مضامین اور فوٹو وغیرہ شائع کرتا ہے۔ نیز جب بھی جمالی خاندان کا کوئی فرد اہم منصب پر پہنچتا ہے صفحہ اول پر اس کا فوٹو شائع کیا جاتا ہے۔ میر تاج جمالی کا فوٹو بھی شائع کیا ہے اور اس کی تعریف میں نوٹ بھی لکھا ہے۔ نامعلوم وہ کون سی رگ ہے جو قادیانیوں کی جمالی خاندان سے یا جمالی خاندان کی قادیانیوں سے ملتی ہے۔ اس کے بارے میں صحیح طور پر وہی صفائی دے سکتے ہیں) اور اب ذکری نوازی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ شنید ہے کہ گولی کا آرڈر دینے اور گولی چلانے والے ذکری تھے۔ ورنہ کوئی غیرت مند بلوچ یا پشتون ایسی شرمناک حرکت نہیں کر سکتا کہ شمع رسالت کے پروانوں پر گولیاں چلائے۔
ہم صدر پاکستان جناب محمد اسحاق خان صاحب اور وزیر اعظم جناب میاں نواز شریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ :
- ۱...... تربت کے واقعہ کا نوٹس لیں اور پر امن اجتماع پر گولی چلانے والوں اور آرڈر دینے والوں کو شریعت کے مطابق سخت ترین سزا
دی جائے۔
- ۲...... قادیانیوں کی طرح ذکریوں کو بھی غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ۳...... کوہ مراد پر ان کے نقلی حج کو بند کیا جائے۔
- ۴...... مبینہ طور پر جو مسلمان شہید یا زخمی ہوئے ان کے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا جائے۔
- ۵...... کوئٹہ کے مظاہرہ اور تربت میں گرفتار ہونے والے مسلمانوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
ہم قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین خصوصاً دینی جماعتوں اور آئی جے آئی سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری کو پورا کریں۔ مذکورہ بالا مطالبات اسمبلی میں اٹھا کر ذکریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوائیں اور ان کے نقلی حج پر پابندی لگوائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو اور قیامت کے دن حضور تاجدار ختم نبوت ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵ تا ۷، مورخہ ۲؍ مئی ۱۹۹۱ء)
چھ ہزار قادیانیوں کو جعلی پاسپورٹ پر جرمنی بھجوانے کا اعتراف
اڑھائی لاکھ روپے فی کس معاوضہ لیا جاتا تھا۔ ملزم نے بیوی کے پاسپورٹ پر کئی لڑکیوں کو بھیجا ہے۔ پناہ دینے والا چوکیدار گرفتار۔ ایک ملزم لاؤنج سے اصل کاغذات واپس لانے کے پانچ ہزار روپے لیتا تھا۔ دیگر ملزمان کو پولیس سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے۔ یہ گروہ جرائم پیشہ افراد کو بیرون ملک اسمگل کرنے میں ملوث رہا ہے۔
ایف آئی اے کے پاسپورٹ سیل کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے گروہ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اب تک پاکستان سے چھ ہزار (۶۰۰۰) قادیانیوں کو جرمنی بھیج چکا ہے، جس کا معاوضہ اڑھائی لاکھ روپے فی کس لیا جاتا تھا۔ یہ گروہ دس سال سے اس مذموم کاروبار میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملوث ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن آصف نواز وڑائچ نے اس کیس کی تفصیل تین روز میں طلب کر لی ہے۔ اس مقدمہ کی مزید تفتیش ایف آئی اے امیگریشن ایئر پورٹ کے انسپکٹر چوہدری سردار خان کر رہے ہیں۔ ملزم مظفر احمد ظفر فیصل آباد کا رہنے والا ہے۔ اپنی بیوی کے پاسپورٹ پر بھی متعدد عیاش لڑکیوں کو جرمنی بھیج چکا ہے۔ خود پی آئی اے میں فوٹوگرافر کی حیثیت سے ملازم ہے اور آج کل چھٹیوں پر تھا۔ جب کہ ملزم جمیل ارشد پاکستان اسٹیل میں بحیثیت اسسٹنٹ منیجر پروٹوکول ملازم ہے۔ ملزم جمیل لاؤنج سے اصل کاغذات لا کر ظفر کو واپس کرنے کے ۵۰۰۰ روپے فی پاسپورٹ لیا کرتا تھا۔ یہ گروہ جرائم پیشہ افراد کو بھی پاکستان سے نکال کر بیرون ملک اسمگل کرنے میں ملوث ہیں۔ گارڈن ایسٹ کے فلیٹوں کے چوکیدار کو بھی ملزم کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے بھی پاسپورٹ برآمد کئے گئے ہیں۔ چوکیدار کا نام عبدالرحمٰن بتایا جاتا ہے۔ اس گروہ کے متعلق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن کو جرمنی سے بذریعہ فیکس اطلاع ملی کہ سات افراد پر مشتمل ایک خاندان جعلی دستاویزات پر جرمنی پہنچا ہے جو کہ پی آئی اے کی فلائٹ پی کے ۷۱۱ کے ذریعہ ۱۳؍ اپریل ۱۹۹۱ء کو فرینکفورٹ پہنچا ہے اور وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔ اس اطلاع پر اس گروہ کو تلاش کرنے کا حکم ملا تھا۔ اس پر ایف آئی اے نے اس گروہ کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر کے ۷۸ پاکستانی، ۷۲ شناختی کارڈ برآمد کر کے مقدمہ درج کیا گیا۔ اس گروہ کے دیگر ساتھی مہر شاہ اور لالہ انور کو بھی پولیس سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے۔ ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن جناب آصف نواز وڑائچ نے مکمل چھان بین کی تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کاروبار میں ایف آئی اے کا کوئی اہل کار تو ملوث نہیں۔ مکمل چھان بین کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس کاروبار میں ایف آئی اے کا کوئی اہلکار ملوث نہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱، مورخہ ۲۴ تا ۳۰ مئی ۱۹۹۱ء)
امریکی سفیر مسٹر چرڈکی کا دورۂ ربوہ
مؤرخہ ۹؍ جون ۱۹۹۱ء کے معاصر جنگ کی خبر کے مطابق امریکی سفیر نے ربوہ جانے پر معذرت کی ہے۔ خبر کے مطابق مسٹر چرڈ کی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ ربوہ کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج سے اس حد تک ڈرتے ہیں کہ اب لاہور سے لالیاں آنے کے لئے وہ راستہ اختیار کیا ہے کہ اس کے درمیان ربوہ نہ آئے۔ امریکی سفیر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے دورۂ ربوہ سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ لہٰذا وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔
چند روز پہلے امریکی سفیر مسٹر چرڈکی نے ربوہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے چار گھنٹے قادیانی جماعت کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کئے۔ تفصیلات کے مطابق خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں نے امریکی سفیر کی سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیئے۔ شریعت بل کی منظوری اور قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن کے موقع پر امریکی سفیر کا دورہ ربوہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ شریعت بل میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کے مطابق ارتداد کی شرعی سزا کے نفاذ سے قادیانی جماعت کی نیند حرام ہو چکی ہے۔ شریعت بل کو نامنظور کرانے میں قادیانی جماعت نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ اب شریعت بل کی منظوری کے بعد قادیانیوں کی یہی کوشش ہوگی کہ وہ گہری سازش کے ذریعہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں اشتعال انگیزی اور باہمی تصادم کی راہیں ہموار کریں۔ اس مقصد کے لئے قادیانی جماعت کے لئے اپنے وسائل اور کثیر رقوم کا فنڈ صرف کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ جس جماعت کا بجٹ کروڑوں روپے کا ہو اس کے لئے ایسے منفی راستے اور اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ قادیانی جماعت کی تاریخ اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ وہ برطانوی سامراج کی خود کاشتہ اور لے پالک جماعت ہے۔ جس کا کام سازشوں کو جنم دینا اور انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ قادیانی فتنہ کا ناسور پاکستان اور اسلام دشمنی کا نشان ہے۔ امریکی سفیر کو انسانی حقوق کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فکر دامن گیر رہتی ہے۔ قادیانیوں کا یہ پراپیگنڈہ انہیں متاثر کرتا ہے کہ پاکستان میں قادیانی اقلیت پر ظلم وستم کے بازار گرم ہیں۔ امریکی سفیر کیا اس بات کا تجزیہ کرنا پسند فرمائیں گے کہ قادیانی جماعت اندرون ملک اپنے آپ کو اقلیت تسلیم نہیں کرتی۔
- ٭...... آج تک قادیانیوں نے قومی اسمبلی کے تاریخی فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا۔ جس میں انہیں غیر مسلم اقلیت تسلیم کیا گیا تھا۔
- ٭...... قادیانی جماعت کے آئین وقانون کا کبھی احترام نہیں کیا۔ قادیانی ووٹروں نے اپنے نام آج تک ووٹر لسٹ میں درج نہیں
کروائے۔ قادیانی جماعت نے قومی اسمبلی میں مخصوص اقلیتی نشست پر کبھی نہ تو اپنا امیدوار کھڑا کیا اور نہ ہی اس میں کبھی حصہ لیا بلکہ قادیانی ٹولہ کی آئین وقانون سے کھلی بغاوت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ اقلیتی نشست پر قادیانی امیدوار کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا اور اس سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے لئے اخبارات میں اشتہارات دیئے۔
امریکی سفیر قادیانی جماعت کی دوغلی پالیسی ملاحظہ فرمائیں کہ اندرون ملک تو قادیانی اپنے آپ کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے جب کہ بیرون ملک بطور اقلیت مظلومیت کا رونا رو کر اور انسانی حقوق کے نام پر اخلاقی امداد کے لئے مختلف بین الاقوامی اداروں کو متوجہ کرتے ہیں۔ امریکی سفیر مسٹر رچرڈ کی اگر انسانی حقوق کے علمبردار ہیں تو انہیں کشمیری مسلمانوں کے حق میں بھی آواز بلند کرنے کے علاوہ ان کی عملی مدد کا مظاہرہ بھی کرنا چاہئے۔ امریکی سفیر نے ربوہ کا دورہ کر کے نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ اسلام اور پاکستان دشمن جماعت کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کر کے حکومت کے اعتماد اور سفارتی آداب کی بھی توہین کی ہے۔ امریکی سفیر کی سرگرمیاں کسی طور پر مناسب نہیں۔ ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانی جماعت کے رہنماؤں اور امریکی سفیر کے درمیان ہونے والی بات چیت کو عوام کے سامنے لائے۔
امریکی سفیر کی سرگرمیاں پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفاد کے صریحاً خلاف ہیں۔ اگر پاکستان میں متعین عراقی سفیر کو چلتا کیا جاسکتا ہے تو امریکی سفیر کو کیوں لگام نہیں دی جاسکتی۔ امریکی سفیر کا دورۂ ربوہ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے۔ ہمیں امریکی امداد ہمیشہ شرائط کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ امریکی سفیر اپنی لے پالک جماعت کو تسلی وتشفی دینے کے لئے بھی تشریف لائے ہوں کہ سابقہ شرائط پر ہی پاکستان کی امداد بحال رکھی جائے گی۔ اس سلسلہ میں حکومت کو جرأت مندانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ورنہ ایسی امداد ہماری قومی وملی غیرت کے لئے چیلنج کا نشان بن جائے گی۔ امریکی سفیر مسٹر رچرڈ کی کا ربوہ یاترا کے بعد کم از کم اتنا احساس تو ضرور ہو گیا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کی حیثیت کیا ہے؟ اور پاکستانی مسلمان ان سے کس قدر نفرت رکھتے ہیں۔
اے کاش! امریکی سفیر یہ بھی جاننے کی کوشش کریں بلکہ ہمیں امید ہے کہ تمام حقائق ان کے علم میں ہوں گے کہ عوام ربوہ اور قادیانیوں سے کیوں نفرت کرتے ہیں۔ صرف اس لئے کہ قادیانی سامراج اور یہودیوں کے ایجنٹ اسلام اور پاکستان کے باغی ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۴،۵، مؤرخہ ۱۴؍جون ۱۹۹۱ء)
رچرڈ کی کا دورۂ ربوہ ملک میں شیعہ سنی فساد کرنے کی ایک کڑی تھا
بھکر (پ۔ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندہ ڈاکٹر دین محمد فریدی نے کہا ہے کہ رچرڈ کی کا معافی نامہ ناقابل قبول ہے۔ اس نے ربوہ کا دورہ کر کے پاکستان میں فساد کا جو بیج بویا ہے وہ مولانا عبدالصمد آزاد کے قتل کی صورت میں ظاہر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رچرڈ کی کا دورۂ ربوہ ملک میں شیعہ سنی فساد کرانے کی ایک کڑی تھا اور اس کے برگ وبار ظاہر ہو چکے ہیں۔ پاکستانی عوام کو ہوشیار ہو جانا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چاہئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ غیر مسلم طاقتیں جھنگ کے بعد پنجاب کے دوسرے اضلاع کو فساد زدہ بنانا چاہتی ہیں۔ قادیانی غیر مسلموں کے آلہ کار ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ رچرڈ مکی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان سے نکال باہر کیا جائے۔ ...... قادیانیوں کو غیر مسلم ہونے کی وجہ سے عید الاضحیٰ کی اضافی تنخواہ نہ دی جائے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، مورخہ ۵/جولائی ۱۹۹۱ء)
امریکی قونصل کا پراسرار دورۂ ربوہ پر مرزا طاہر سے لندن میں رابطہ
لاہور میں متعین امریکی قونصل رچرڈ مکی قادیانی جماعت کی دعوت پر ربوہ پہنچے جہاں قادیانی رہنما مرزا منصور احمد اور دیگر سرکردہ قادیانی رہنماؤں نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور خصوصی مہمان خانہ میں ٹھہرایا۔ اس مہمان خانہ کے گرد مسلح خدام الاحمدیہ متعین کئے گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی انتظامیہ اور خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں کو بھی اس میں داخل ہونے سے منع کر دیا گیا تھا۔ مسٹر مکی اس سال ربوہ کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس دورہ میں انہوں نے قادیانی رہنماؤں سے چار گھنٹے تک تفصیلی بات چیت کی۔ ان میں جماعت احمدیہ کے صدر مرزا منصور احمد، مرزا ناصر احمد کا بیٹا مرزا فرید احمد، مرزا خورشید احمد، چوہدری نذیر احمد، راشد احمد، ڈاکٹر ظہیر الدین اور فدا حسین وڑائچ شامل تھے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور زیر غور آئے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ مسٹر مکی نے لندن میں مرزا طاہر احمد سے بھی فون پر بات کی۔ امریکی قونصل نے اپنے اس دورہ کو نجی قرار دیا ہے۔ جب ان کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ تمام دنیا میں مسلمان قادیانیوں کے لئے خصوصی سوچ رکھتے ہیں اور اس تناظر میں امریکی سفارت کار قادیانیوں سے نجی ملاقاتیں کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کا جواب خاموشی سے دیا۔ یہاں یہ تاثر عام ہے کہ جب بھی قادیانی جماعت کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے اور اس کے بجٹ کو آخری شکل دی جاتی ہے تو امریکی قونصل قادیانی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرتے ہیں۔ انہوں نے یہاں متعدد قابل دید مقامات کا دورہ بھی کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۱۲ تا ۱۸/جولائی ۱۹۹۱ء)
امریکہ کے سفیر رچرڈ مکی کے دورۂ ربوہ پر احتجاج
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، علامہ عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حاجی بلند اختر نظامی، ختم نبوت یوتھ فورس کے جنرل سیکرٹری محمد ممتاز اعوان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ربوہ میں امریکی قونصل کے قادیانی لیڈروں سے بند کمرہ میں طویل مذاکرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قونصل کے خفیہ مذاکرات اسلام اور پاکستان کے لئے خطرہ کا الارم ہیں۔ کیونکہ قادیانی پاکستان اور اسلام کے غدار ہیں۔ سامراجی قوتوں کے ایجنٹ اور جاسوس ہیں۔ قادیانی گروہ کے سربراہ کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ: ”عنقریب پاکستان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔“
امریکی قونصل کا ایسی ملک دشمن جماعت کے لیڈروں سے پانچ گھنٹے تک طویل مذاکرات سفارتی آداب کے خلاف اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ مذکورہ بالا رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ امریکی قونصل رچرڈ مکی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کیا جائے۔ مذکورہ بالا رہنماؤں نے کہا کہ امریکی قونصل کی ملاقات کو جناب یاسر عرفات کے حالیہ بیان کے تناظر میں اگر دیکھا جائے جس میں انہوں نے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کو خبردار کیا ہے کہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو باہر سے نہیں بلکہ اندرونی طور پر سبوتاژ کیا جائے گا۔ نیز یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ میں دو درجن سے زائد قادیانی موجود ہیں۔ عین ممکن ہے کہ امریکی سامراج قادیانی کارندوں کو استعمال کر کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنا چاہتا ہو۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رہنماؤں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امریکی سفارت خانے مسلسل قادیانیت نوازی کو امت مسلمہ کے جذبات واحساسات سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مؤرخہ ۱۲ تا ۱۸ / جولائی ۱۹۹۱ء)
قادیانی عورت کی لاش کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے نہیں دیا گیا
وارہ ضلع لاڑکانہ سے قریباً ۱۳؍ کلومیٹر دور ایک گاؤں کھنڈو ہے۔ کھنڈو میں چند قادیانی بھی رہتے ہیں۔ ان دنوں جب قادیانیوں کی ایک عورت مر گئی تو قادیانیوں نے اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہا۔ جب اس کا علم مسلمانوں کو ہوا تو انہوں نے مزاحمت کی اور قادیانی عورت کی لاش کو دفن نہیں ہونے دیا۔ قادیانیوں نے جب علاقہ کے چند قادیانی نواز حضرات کے اشارے پر زبردستی لاش قبرستان میں دبانے کی کوشش کی تو وارہ کے غیور مسلمان مجاہدین نے اپنا فرض سمجھتے ہوئے میدان کارزار میں قدم رکھا۔ محترم قمر الدین ابڑو نے بڑا کام کیا۔ جب کہ وارہ سے مولانا بشیر احمد، مولوی محمد صدیق شاہ اور شیر محمد کھنڈو پہنچ گئے۔ وارہ سے مسلمان بڑی تعداد میں گاڑیوں، سوزوکیوں اور بسوں میں بیٹھ کر کھنڈو پہنچ گئے۔ قادیانی عورت کی لاش کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے نہیں دیا۔ اللہ کے فضل سے ختم نبوت یوتھ فورس جمعیتہ طلباء اسلام اور جمعیتہ علماء اسلام کے مجاہد کارکنوں کی جدوجہد سے قادیانیوں کا مردہ مسلم قبرستان میں دفن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جس میں قادیانیوں کی بڑی ذلت اور رسوائی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے قادیانی غنڈوں نے ایک مذہبی جلسہ پر پتھراؤ کیا تھا اور جب پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کے لئے چھاپہ مارا تھا تو قادیانی بیت الخلاء (لیٹرین) میں چھپے ہوئے تھے اور ان کو وہاں سے ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ جہاں قادیانیوں کا انگریزی نبی اپنی نجاست پر گر کر مرا تھا۔ وارہ میں قادیانیوں کی بڑی ذلت ورسوائی ہوئی ہے۔ منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ شہر میں آتے ہیں تو اپنے کو ”قادیانی“ کہلوانے میں شرم محسوس کرتے ہیں جب کہ ان کا انگریزی نبی مرزا غلام احمد اپنے کو ”قادیانی“ لکھتا تھا۔ وارہ میں قادیانیوں کا کئی دوکانوں اور ہوٹلوں میں جانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ کئی جگہوں پر قادیانیوں کو باہر نکالا گیا ہے۔ قادیانیوں کی ایسی ذلت ہوئی ہے جس کے زخم قادیانی قیامت تک چاٹتے رہیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۸، مؤرخہ ۲۶ / جولائی تا یکم اگست ۱۹۹۱ء)
بھکر کا مشہور قادیانی مقدمہ سیشن جج نے خارج کر دیا
بھکر ۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھکر نے قادیانیوں کی اپیل خارج کر دیا۔ مقدمہ کی سماعت سٹی مجسٹریٹ کریں گے۔ واقعات کے مطابق عبداللطیف قادیانی نے سیشن جج کی عدالت میں درخواست گزاری کہ ہمیں اپنے مقدمہ میں ڈسٹرکٹ کورٹس سے انصاف کی امید نہیں۔ لہٰذا مقدمہ تبدیل کیا جائے۔ چنانچہ یکم / جولائی کو سیشن جج بھکر کی عدالت میں اپیل پیش ہوئی۔ قادیانیوں کی طرف سے مظفر عباس زیدی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ ختم نبوت کے وکیل ملک محمد عثمان تھے۔ عدالت نے بحث سننے کے بعد اپیل خارج کر دی۔ یاد رہے کہ یہ بھکر کا مشہور قادیانی مقدمہ ہے جو دو سال سے چل رہا ہے۔
(لولاک فیصل آباد ص ۲۱ ، مؤرخہ ۲ / اگست ۱۹۹۱ء)
دو قادیانیوں کی تبدیلی کا خیر مقدم
فیصل آباد : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے فیصل آباد گرڈ سسٹم آپریشن سرکل سے دو قادیانیوں غیر مسلم اور ایک عیسائی غیر مسلم انجینئر واپڈا کو تبدیل کرنے کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے اور چیئر مین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ زاہد علی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سرکل میں ایک غیر مسلم ہندو تارا چندانی کو بھی جلد تبدیل کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۲، مؤرخہ ۲ تا ۸ / اگست ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی قاتل کو سزائے موت پندرہ ہزار روپے جرمانہ کی سزا
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) لنڈیانوالہ کے نواحی گاؤں میں ڈیڑھ سال قبل قرآن مجید نذر آتش کرنے سے روکنے پر مشتعل ہو کر ایک شخص عباس کو قتل کرنے والے ملزم عبدالمجید قادیانی کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پرویز احمد نے سزائے موت اور پندرہ ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سال قبل چک ۵۶۳ گ ۔ ب میں قادیانیوں نے قرآن پاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔ جس نے احتجاج کیا تھا اور اس پر مشتعل ہو کر پانچ احمدیوں اسلم ،شفیق ، مجید ، وارث اور رزاق نے آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کر کے عباس کو قتل کر دیا تھا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران گنہگار ہونے کی صورت میں آج فاضل عدالت نے مجرم مجید کو سزائے موت اور مجموعی طور پر پندرہ ہزار روپے معاوضہ وجرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں اسے اڑھائی سال قید سخت کی سزا بھگتنا ہوگی۔ جب کہ فاضل جج نے مجرم کے دوسرے ساتھیوں کو بری کر دیا ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱،مؤرخہ ۹؍اگست ۱۹۹۱ء)
مجلس تحفظ ختم نبوت مدراس ہند کا ایک اہم اجلاس
گزشتہ دنوں بھارت کے شہر مدراس میں محترم عالی جناب سید عبدالباسط صاحب کے مکان پر بعد نماز عصر ریاست تامل ناڈو کی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ صدر مجلس حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب قاسمی بانی مدرسہ کاشف الہدیٰ مدراس کے علاوہ جناب الحاج سید عبدالباسط صاحب، جناب الحاج پیش امام، نذیر احمد صاحب جناب ایڈووکیٹ محمد غوث صاحب، پروفیسر ناگال احمد پاشا صاحب، ڈاکٹر سید محمد صالح صاحب، الحاج سید مسعود احمد صاحب، مولانا عبدالمجید صاحب، مولانا محمد ہدایت اللہ صاحب، مولانا محمد عبدالباقی اور پروفیسر محمد نصر اللہ شریک ہوئے۔ صوبہ کے بعض علاقوں میں مسلمان عوام کو ورغلانے اور مساجد پر قابض ہونے کی قادیانی فرقہ کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس کی فوری روک تھام کے لئے طے پایا کہ شہر مدراس کے ذمہ داران مساجد سے درخواست کی جائے کہ وہ قادیانیوں کو قبرستان میں تدفین کی اجازت نہ دیں اور شادی و بیاہ و دیگر امور شرعیہ میں ان سے قطع تعلق کیا جائے۔ تامل ناڈو کے وقف بورڈ چیئرمین کو بھی اس طرف توجہ دلائی جائے۔
مزید طے پایا کہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کی تالیف قادیانیت کو تمل زبان میں شائع کیا جائے اور معلوماتی پوسٹر چھپوا کر پورے صوبے میں تقسیم کئے جائیں۔ مجلس کی کارروائیوں کے لئے ایک مرکزی دفتر کا قیام عمل میں آیا اور ایک مقرر کا تقرر کیا جائے۔ مجلس کے نئے عہدیداروں کا انتخاب عمل میں آیا۔ صدر حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب قاسمی نائبان صدر عالی جناب الحاج پیش امام نذیر احمد صاحب اور مولانا الحاج محمد عبدالباقی صاحب سیکرٹری پروفیسر محمد نصر اللہ، نائب سیکرٹری ، ڈاکٹر سید محمد صالح صاحب خازن پروفیسر ناگال احمد شاہ صاحب، دعا پر یہ اجلاس اختتام کو پہنچا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱،مؤرخہ ۲ تا ۸؍اگست ۱۹۹۱ء)
حکمرانوں کے نام امیر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ کا مکتوب گرامی
حضرت المخدوم مولانا خان محمد صاحب مدظلہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ مجددیہ کندیاں ضلع میانوالی نے یہ مکتوب گرامی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، ان کی کابینہ کے وزراء اور پاکستان قومی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہوں کو ارسال فرمایا تھا۔ ہم اسے ریکارڈ میں محفوظ کرنے کے لئے ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع کر رہے ہیں۔
بعد الحمد والصلوٰۃ وارسال التسلیمات والتحیات امیر مجلس تحفظ ختم نبوت فقیر ابوالخلیل خان محمد نقشبندی ، مجددی سجادہ نشین خانقاہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شریف سراجیہ مجددیہ کندیاں ضلع میانوالی کی طرف سے عالی جناب ...... مطالعہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کا بے پایاں احسان ہے کہ پاکستان قومی اتحاد کو حکومت میں شمولیت اختیار کر کے یہ موقع میسر ہوا ہے ...... کہ ارض پاکستان میں خدا تعالیٰ کی حاکمیت اور شریعت مطہرہ کے نفاذ کی راہ ہموار ہو سکے۔ آپ پر بخوبی واضح ہے کہ پاکستان ایک نظریہ کے تحت معرض وجود میں آیا تھا ...... تا کہ یہاں کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور اس کے مقتضیات پر عملدرآمد ہو سکے۔ فقیر آپ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا وقت کا اہم تقاضا گردانتا ہے ...... کہ ہمارے وطن عزیز میں سامراجی اور صہیونی سازشوں کے تحت خلاف اسلام تحریکیں اٹھتی رہی ہیں ...... اور اب بھی یہ تنظیمیں پوری قوت اور جوش وخروش کے ساتھ سرگرم عمل ہیں، جن میں عیسائی مشنریاں اور قادیانی سرفہرست ہیں۔ اگرچہ قادیانی آئینی طور پر اقلیت قرار دیئے جاچکے ہیں۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قادیانی تحریک عملی طور پر جوں کی توں جاری ہے بلکہ وہ اپنے افکار وتعلیمات کی اشاعت وتشہیر میں پہلے سے زیادہ شدومد کے ساتھ کوشاں ہیں۔
دوسرے نمبر پر عیسائی مشنریاں ہیں جن کے مختلف ادارے کام کر رہے ہیں اور جنہیں مغربی ممالک سے بھاری رقوم مہیا کی جاتی ہیں۔ ان مشنریوں کے خلاف اسلام اور خلاف وطن کارروائیاں نتائج کے اعتبار سے قادیانی تحریک سے کسی طور پر کم نہیں لیکن ان کے مفادات مشترک ہیں اور ان کے طریق کار میں ہم آہنگی اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ مآل کار انہوں نے اسلامی تشخص کو ابھرنے سے روکنے کے لئے تعلیمی اداروں پر یلغار کی، نوجوانوں کے ذہنوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے مختلف طریقہ اختیار کئے۔ جس کی وجہ سے نوجوان نسل عیسائیت سے متاثر ہوئی اور اس میں اسلام سے برگشتگی کی رو چل نکلی۔ ہماری بیورو کریسی میں بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو ذہنی طور پر عیسائیت نواز ذہنیت کا حامل ہے ...... یا پھر قادیانیت کے پرچار کے لئے سرگرم عمل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ حضرات ملکی انتظام وانصرام کے ساتھ پوری سنجیدگی اور فکرمندی سے خلاف اسلام اور خلاف وطن تحریکوں کے سدباب کا جائزہ لیں، اور ان تحریکوں کے انہدام کے لئے اقدامات کریں۔ لہٰذا:
- الف ...... تمام قادیانی اور عیسائی ملازموں کو کلیدی عہدوں سے یکسر ہٹا دیا جائے۔
- ب ...... قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے اقلیت قرار دیئے جانے پر جو متفقہ فیصلہ کئے گئے تھے، ان اصل روح سامنے رکھ کر پوری طرح عمل
درآمد کیا جائے۔
- ج ...... قادیانیوں اور عیسائیوں کے مذہبی اور ثقافتی لٹریچر پر قدغن عائد کی جائے اور ان کے اجتماعات پر کڑی نظر رکھی جائے۔ نیز نظام
تعلیم کو خالص اسلامی نظام میں ڈھالنے اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل و ترتیب کے لئے ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جائے جو نوجوان نسل کے ذہنوں میں صحیح اسلامی اور قومی تشخص اجاگر کرے۔
- د ...... تمام انتظامی شعبہ جات میں ارکان اسلام کی پابندی لازم قرار دی جائے تا کہ ہم صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی مملکت قائم
کرنے میں سرخرو ہوسکیں۔
فقیر آپ کے حکومت میں شامل ہونے اور اہم منصب پر فائز ہونے پر آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ آپ اور آپ کے رفقاء کو اللہ تعالیٰ حسن کارکردگی کی توفیق عطا فرمائے اور دین اسلام کو وطن عزیز کی خدمت کے مواقع عطا فرمائے۔ آمین!
فقیر: ابوالخلیل، امیر مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کوٹلہ ٹولے خان ملتان
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۶، مورخہ ۹ تا ۱۵؍اگست ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انڈین اور پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے قادیانی کی گرفتاری
”نیشنل پولیس سٹاف ربوہ نے انڈین اور پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رکھنے والے قادیانی کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سپیشل پولیس ربوہ کو مخبری ہوئی کہ ربوہ دارالضیافت میں اعجاز محمود قادیانی نامی ایک شخص رہائش پذیر ہے۔ جس کے پاس قادیان (ہندوستان) اور سیالکوٹ (پاکستان) کے علیحدہ علیحدہ پاسپورٹ بھی موجود ہیں جس پر پولیس نے چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا۔ اس کے قبضہ سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لے لیا اور اس کی مزید تفتیش جاری ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جائے اور ملزم کو قانون کے مطابق عبرت ناک سزادی جائے۔“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۳،مورخہ ۲۳تا۲۹؍اگست ۱۹۹۱ء)
ربوہ سے گورداسپور کا بشارت قادیانی بھارتی جاسوس گرفتار
چنیوٹ (نامہ نگار) قادیانی بھارتی جاسوس پکڑا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سپیشل برانچ پولیس ربوہ کے ملک احمد حسن اے.ایس.آئی اور سپاہی احمد بخش نے مخبری پر ایک جاسوس کو گزشتہ روز گرفتار کر لیا۔ مذکورہ شخص اپنا نام فیصل ولد حبیب کراچی کا شہری بتاتا ہے۔ جب کہ اس کا اصل نام بشارت احمد ولد نذیر قوم راجپوت قادیانی کمہار سکنہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ہندوستان ہے۔ وہ جون ۱۹۹۰ء میں تین ماہ کے ویزے پر پاکستان آیا اور پھر واپس نہ گیا اور غیر قانونی طور پر پاکستان میں رہنے لگا۔ سپیشل برانچ نے اسے گزشتہ روز پاکستان دشمن سرگرمیوں کے شبہ میں گرفتار کر کے اس کے خلاف جاسوسی ایکٹ دفعہ ۱۴ فارنرز ایکٹ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
(روزنامہ پاکستان لاہور، مورخہ ۱۱؍اگست ۱۹۹۱ء)
پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ کے ناپاک اقدام کی مذمت
پشتو کے ممتاز شاعر وادیب اور صحافی محمد سعید رہبر نے امسال پشاور یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایم.اے کے تحریری امتحان کے لئے قلندر مومند جیسے کٹڑ قادیانی کافر کو بطور ممتحن مقرر کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی اس ناپاک جسارت کی پر زور مذمت کی ہے اور اس امر پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ یونیورسٹی مذکورہ سے تعلق نہ رکھنے والے ایک غیر متعلقہ شخص اور ایم.اے پشتو کی ڈگری نہ رکھنے والے ایک قادیانی کافر کو ایم.اے پشتو کے تحریری امتحان کا ممتحن مقرر کرنا تمام اخلاقی ضابطوں اور آئینی تقاضوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ایک سنگین جرم ہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ اپنے اس گھناؤنے اور شرمناک فعل پر آج تک ٹس سے مس نہ ہوئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد یونیورسٹی انتظامیہ خصوصاً وائس چانسلر اور پشتو کے چیئرمین سے اس بارے میں باز پرس کرے کہ انہوں نے کسی ایکٹ کے تحت ایک ایم.اے پشتو کی ڈگری نہ رکھنے والے قادیانی کافر کو مسلمان طلباء سے ایم.اے پشتو کا امتحان لینے کے لئے بطور ممتحن مقرر کیا تھا اور مسلمان طلباء کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس سلسلے میں فوری کارروائی کر کے مسلمانوں کی تشویش کا ازالہ کرے گی اور آئندہ کے لئے قادیانی کافروں کو ملک کے حساس اداروں کے قریب نہیں پھٹکنے دے گی۔ انہوں نے تمام مسلمان بھائیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور پشاور یونیورسٹی کے چانسلر گورنر سرحد کو احتجاجی مراسلے بھیجیں تاکہ یونیورسٹی انتظامیہ آئندہ کے لئے اس جیسی ناپاک جسارت کا اعادہ نہ کر سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲،مورخہ ۲۳تا۲۹؍اگست ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان میں اصل تخریب کار قادیانی ہی ہیں؟
بھکر : گزشتہ دنوں شائع ہونے والی سنسنی خیز خبر کہ سات قادیانیوں کو کراچی ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ عرصہ دراز سے ظہور احمد اور منظور احمد نامی قادیانی سرکاری جعلی پاسپورٹوں کے کام میں مصروف تھے جو جعلی پاسپورٹ بنانے کے عوض ایک لاکھ روپیہ وصول کر کے پاکستانی سادہ لوح بھائیوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ مگر ستم تو یہ ہے کہ یہ قادیانی مسلمانوں کو لالچ دے کر فارم پر قادیانی جیسا مکروہ لفظ تحریر کروا کر جبراً قادیانی بنا رہے تھے اور ان کے ذریعے اپنی اشاعت کا مکروہ دھندا بھی جاری رکھے ہوئے تھے اور یہ گروہ پاکستانی افراد کو ایک تو قادیانی بنا کر غیر ملکوں میں نوکریاں دلوانے کے بہانے قادیانیوں کی فہرست کو لمبی کر رہے تھے اور پھر ان لوگوں کے ذریعے پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف شرمناک زہر اگل رہے تھے۔ قادیانیوں کا افسر ، ڈاکٹر اور عام آدمی جہاں بھی مقیم ہے وہ پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف برسر پیکار ہے اور پاکستان میں پاکستان کے افراد کی جانوں سے اس ظالمانہ طریقے سے کھیل رہے ہیں کہ قتل کئے جانے والے گروہوں کو حکومت گرفت میں کرنے سے قاصر اور تاحال مجبور کیوں نظر آرہی ہے کہ ہمارے بے آستینوں میں تو خود سانپ داخل ہے تو بھلا وہ کیسے نظر آسکے گا؟ عرصہ سے شیعہ سنی فسادات سے فائدہ اٹھا کر قادیانی اپنے کافر ہونے کی انتقامی آگ کی ہولی کھیل کر سکون قلب محسوس کر رہے ہیں۔ محرم میں شہر بھکر میں ایک شیعہ سنی فساد ہوا۔ جس میں ایک شیعہ مارا گیا اور کئی زخمی ہوئے دوسرا واقعہ شیخوپورہ میں رونما ہوا۔ جس میں جانی مالی نقصان ہوا۔
پھر جھنگ میں ۶ محرم الحرام کو بھی شیعہ سنی فساد ہوا اور شمشیر سیال کے ڈیرہ پر مجلس سننے والے جب مجلس سن کر واپس گھروں کو جارہے تھے اس وقت کسی ظالم وحشی درندہ نے خون ناحق سے ہولی کھیلی جس میں بے گناہ بچے، عورتیں اور نوجوان لڑکے جو کہ اہل تشیع تھے، ہلاک و زخمی ہوئے۔ بھکر کے معروف مجاہد ختم نبوت ڈاکٹر دین محمد فریدی اور مولانا محمد علی صدیقی نے حکومت کے ارباب بست و کشاد سے مطالبہ کیا ہے کہ فساد کرنے اور خون ناحق کرنے والوں کو فوری گرفتار کر کے سرعام پھانسی دی جائے۔ اگر حکومت کی گرفت سے بچ نکلنے میں یہ شر پسند اور دہشت گرد عناصر کامیاب ہو گئے تو یہ حکومت کی قادیانی نوازی کا ثبوت ہوگا اور حکومت کی نا اہلی بھی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، ۲۲، مؤرخہ ۳۰؍ اگست ۱۹۹۱ء)
پولیس نے بدنام زمانہ کتاب کے ناشر اور معاون کو گرفتار کر لیا
منڈی بہاؤالدین (نمائندہ ختم نبوت) پولیس نے بدنام زمانہ دل آزار کتاب صلوٰۃ القرآن کی ۹۳۵ طبع شدہ کتابوں پر قبضہ کر کے ملزم عبدالحمید بسوی کمیشن ایجنٹ غلہ منڈی ، منڈی بہاؤالدین کو موقع پر گرفتار کر لیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ممتاز عالم دین مولانا پروفیسر قاری محمد یوسف اور علماء لدھیانہ کے چشم و چراغ چوہدری احمد مونس ایڈووکیٹ کی قیادت میں ایک وفد اے سی جناب سلیم شیر افگن کیانی کو ملا۔ جس نے بدنام زمانہ دل آزار کتاب کا ایک نسخہ اے سی سلیم شیر افگن کیانی کو دیا اور مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف فوراً قانونی کارروائی کی جائے۔ اے سی صاحب نے کتاب پڑھتے ہی سٹی مجسٹریٹ جناب خواجہ محمد اعجاز غنی کو ہدایت کی کہ پولیس کے ہمراہ فوراً ملزم کو پکڑا جائے۔ مجسٹریٹ نے ملزم کو گرفتار کر لیا اور پولیس نے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس رپورٹ میں تحریر ہے کہ بدنام زمانہ دل آزار کتاب صلوٰۃ القرآن ۲۰۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوئی ہے۔ مذکورہ کتاب میں مندرجہ ذیل اقتباس تحریر ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱...... نمازیں صرف تین ہیں۔ باقی نمازیں خود ساختہ ہیں۔
- ۲...... اذان قوال کا راگ اور گدھے کی آواز ہے۔
- ۳...... حدیثیں من گھڑت روایات وخلاف عقل ہیں۔
- ۴...... قبر میں منکر ونکیر کا مناظرہ روایتی ڈھکوسلے ہیں۔
- ۵...... قل یا ایہا الکافرون پڑھ کر امام مقتدیوں کو کافر کہتا ہے۔
- ۶...... نماز میں قل ہو اللہ احد پڑھنا خدا کا خدا ماننا ہے۔
- ۷...... ہر نماز صرف دو رکعتوں پر مشتمل ہے۔
- ۸...... نماز میں تکبیر اللہ اکبر پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔
- ۹...... سورۃ فاتحہ کے بعد آمین پڑھنا جائز نہیں۔
- ۱۰...... اللہم صل علی محمد والا درود من گھڑت ہے۔
- ۱۱...... عید الفطر وعید الاضحیٰ کی علیحدہ نماز نہیں ہے۔
- ۱۲...... نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا جائز نہیں۔
مذکورہ کتاب کا نام صلوٰۃ القرآن ہے جو عبدالقیوم شاہ آنجمانی نے لکھی ہے اور عبدالحمید بسوی کمیشن ایجنٹ نے طبع کروائی ہے۔ پولیس نے ملزم کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۵، اے۔ پی۔ پی۔ سی ۱۶/ایم۔ پی۔ او اور ۱۱۸/ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ شیطانی کتاب کے ناشر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ مذکورہ کتاب کی اشاعت سے علاقہ بھر کے مسلمانوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے جس سے علاقہ بھر خصوصاً منڈی بہاؤالدین کا امن تباہ ہونے سے بچ گیا ہے۔ پولیس نے بدنام زمانہ کتاب کے معاون محمد صادق ہیلاں کو بھی گرفتار کر لیا ہے اور بہت سے گمراہ کن فرقہ کے کارکن روپوش ہو گئے ہیں اور بہت سوں نے کہا ہے کہ ہم پانچ نمازیں پڑھتے ہیں اور پولیس روپوش نمازیوں کو تلاش کر رہی ہے۔ اس کتاب میں اور بھی بہت خرافات لکھی گئی ہیں۔ علاقہ مجسٹریٹ جناب محمد آصف قریشی کی عدالت میں ضمانت کی درخواست دی گئی جس پر تفصیل سے بحث کی گئی۔ عدالت نے وکلاء کی بحث سننے کے بعد درخواست ضمانت مسترد کر دی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مورخہ ۲۰ تا ۲۶/ ستمبر ۱۹۹۱ء)
ہائیکورٹ لاہور کا فیصلہ...... قادیانی صد سالہ جشن پر پابندی
۲۳/ مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانی چناب نگر میں ’’صد سالہ جشن‘‘ منانا چاہتے تھے۔ جس پر ملک بھر میں احتجاج ہوا اور حکومت نے پابندی لگادی۔ اس حکومتی فیصلہ کے خلاف قادیانیوں نے ۱۹۸۹ء میں ہائیکورٹ لاہور میں رٹ دائر کی جس کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خلیل الرحمن خان نے ۱۷/ ستمبر ۱۹۹۱ء کو سنایا۔ اس کا تعارف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے تحریر کیا۔ پہلے تعارف پھر ۱۷/ ستمبر ۱۹۹۱ء کا فیصلہ مطالعہ فرمائیں:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حدیث دل
الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ۔ اما بعد!
اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں قادیانیت کا فتنہ ایک ایسا فتنہ ہے جسے اسلام واہل اسلام کے لئے بلاشبہ خطرناک، مہلک اور بدترین قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس فتنہ کے بانی، فتان اعظم، مرزا قادیانی آنجہانی نے ۲۳/ مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ (بھارت) میں اس فتنہ کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ اس فتنہ کے سو سال پورے ہونے پر قادیانی ۲۳/ مارچ ۱۹۸۹ء کو ’’صد سالہ جشن‘‘ منانا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے پاکستانی مرکز ربوہ (اب چناب نگر) میں یہ انتظام کیا کہ:
- ۱...... پورے ربوہ اور گردونواح کی پہاڑیوں اور عمارتوں پر چراغاں کے لئے لائٹ اینڈ ڈیکوریشن پارٹیوں سے گوجرانوالہ، سرگودھا،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فیصل آباد، راولپنڈی اور جھنگ وغیرہ سے سامان کرایہ پر لینے کے لئے معاہدے کئے۔ ہزاروں روپیہ ایڈوانس دیا اور اسٹام پیپرز پر تحریریں حاصل کیں۔
- ۲...... بجلی بند ہونے کی صورت میں وسیع پیمانہ پر جنریٹروں کا انتظام کیا۔
- ۳...... مٹی کے ”دیئے“ کئی ٹرکوں پر منگوائے جو سرسوں کے تیل سے جلانے تھے۔
- ۴...... مرزا قادیانی اور اس کے نام نہاد خلیفوں کی اسلام دشمن اور اشتعال انگیز تحریروں پر مشتمل پمفلٹ، پوسٹرز، اسٹیکرز اور بینرز کی
وسیع پیمانے پر اشاعت اور تقسیم کا منظم منصوبہ۔
- ۵...... صد سالہ جشن کی مناسبت سے، ربوہ میں سو گھوڑے، سو ہاتھی اور سو ملکوں کے جھنڈے لہرانے کا انتظام کیا۔
- ۶...... اس موقع پر ربوہ میں عورتوں اور مردوں کے لئے فوجی وردی تیار کی گئی، جسے پہن کر انہیں عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔
- ۷...... اس کے علاوہ تقسیم مٹھائی، جشن، جلسے اور تقریبات وغیرہ کے دیگر لوازمات کا اہتمام کیا۔ غرض اس طرح وہ اپنے کفر کی تبلیغ کے
لئے سرگرم عمل تھے اور تماشہ دیکھئے کہ جھوٹے کے جھوٹ کے سو سال مکمل ہونے پر ”صد سالہ جشن“ اور وہ بھی آئین و قانون کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے لئے اشتعال کا باعث۔
قادیانی جماعت کی اس تیاری پر اسلامیان پاکستان کو تشویش لاحق ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر دفتر مرکزیہ ملتان میں اپنی مرکزی ورکنگ کمیٹی کا ۱۲؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو اجلاس طلب کیا اور اس تشویشناک صورتحال پر غور کر کے اہم فیصلے کئے۔
- ۱...... روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، راولپنڈی، کراچی، ملتان، روزنامہ ”جنگ“ لاہور، کراچی، راولپنڈی، کوئٹہ کے تمام ایڈیشنوں
میں آخری صفحہ پر ہزاروں روپیہ کی لاگت سے اشتہار دیا، جس میں جشن پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا اور پابندی نہ لگنے کی صورت میں ۲۳؍ مارچ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ پر ”آل پاکستان ختم نبوت ریلی“ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔
- ۲...... ۱۷؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو پورے ملک کے تمام مکاتب فکر نے یوم احتجاج منایا۔
- ۳...... ۱۲؍ مارچ کو ملتان، ۱۸؍ مارچ کو بہاول نگر، ۱۹؍ مارچ دوالمیال جہلم میں عظیم الشان احتجاجی کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ ربوہ میں
مشترکہ جمعہ اور سرگودھا، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب اپنے رفقاء کی ٹیم لے کر پورے پنجاب میں سرگرم عمل ہو گئے۔
- ۴...... ۱۸؍ مارچ کو سرگودھا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں تمام دینی جماعتوں نے بھر پور حصہ لے
کر نمایاں کردار ادا کیا۔
- ۵...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا اور چنیوٹ نے ۲۳؍ مارچ کو ربوہ کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔
- ۶...... پورے ملک کے اخبارات میں احتجاجی بیانات اور غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ اس سلسلہ میں مولانا فقیر محمد صاحب سیکرٹری اطلاعات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد نے بھر پور اور مؤثر کردار ادا کیا۔ یوں پورے ملک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنان و رہنما سراپا احتجاج بن گئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۷...... پورے ملک سے وفود اور قافلے ”جشن“ بند نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کے لئے ربوہ پہنچنے کی تیاری کرنے لگے۔
- ۸...... مولانا زاہد الراشدی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان نے گوجرانوالہ کی لائٹ اینڈ ڈیکوریشن کی
پارٹیوں سے ملاقات کی اور مرزائیوں کے خودساختہ جشن پر چراغاں کا سامان سپلائی نہ کرنے کا وعدہ لیا اور تمام مکاتب فکر کی طرف سے ایک مشترکہ فتویٰ مرتب کیا کہ مرزائیوں کے جشن پر مسلمانوں کا سامان چراغاں مہیا کرنا تعاون علی الکفر کے باعث قطعاً حرام اور ناجائز ہے۔ مولانا کی اخلاص بھری کاوش سے گوجرانوالہ کی لائٹ اینڈ ڈیکوریشن کی پارٹیوں نے نہ صرف سامان دینے کے معاہدے منسوخ کئے بلکہ ایک وفد مرتب کیا اور تمام ایسے شہر جہاں سے مرزائیوں نے سامان کی بکنگ کا معاہدہ کیا تھا، کا دورہ کر کے تمام مسلمان پارٹیوں کو سامان دینے سے روکا، جس پر انہوں نے اپنی دینی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرزائیوں کو کورا جواب دے دیا۔
- ۹...... مولانا منظور احمد چنیوٹی ان دنوں پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے۔ انہوں نے اسمبلی میں اس جشن پر پابندی کے سلسلہ میں آواز بلند کی۔
مرزائیوں نے یہ صورتحال دیکھ کر ربوہ میں جشن کے انتظامات کے علاوہ بھارتی سرحد کے قریب جلوموڑ سے تقریباً تین کلو میٹر آگے ”ہانڈو“ نامی گاؤں میں وسیع قطعہ اراضی لے کر اس پر بلڈوزر اور کرینیں لگا کر پنڈال بنایا۔ ٹیوب ویل بور کئے، پانی کے پائپ بچھائے اور متبادل نظام کی مکمل تیاری کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر الحاج بلند اختر نظامی کو ایک خط کے ذریعہ اس کی اطلاع ہوئی۔ مرزائیوں کی اس سازش پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے اخبارات کو بیان جاری کیا، جو روزنامہ ”جنگ“ لاہور کے صفحہ اوّل پر مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۸۹ء کو شائع ہوا۔ عالمی مجلس نے لاہور کے کمشنر، ڈی سی اور ہوم سیکرٹری پنجاب کو ٹیلی گرام دیئے۔ یوں قادیانی کفر نے مسلمانوں کو الجھانے کے لئے ربوہ کے علاوہ دوسرا محاذ بھی کھول دیا۔
لاہور کے قریب اس سازش کی اخبارات میں خبر آتے ہی مولانا عبدالتواب صدیقی نے باغبانپورہ سے داروغہ والا تک ۲۲؍مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ جمعیتہ علماء اسلام کے نائب امیر محترم مولانا قاری محمد اجمل خان، مولانا محمد اجمل قادری اور جامع مسجد وزیر خان لاہور کے خطیب مولانا خلیل احمد قادری سرگرم عمل ہو گئے۔ قائد جمعیتہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے وفاقی حکومت کی سربراہ بیگم زرداری کو اس طرف متوجہ کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ اعتزاز احسن، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار بہادر خان اسے صوبائی مسئلہ کہہ کر فارغ ہو گئے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے ۲۰؍مارچ کو اسلام آباد میں مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس جامع مسجد دارالاسلام میں طلب کرلیا۔ اسلام آباد میں عالمی مجلس کے مبلغ مولانا عبدالرؤف، مولانا قاری محمد امین، مولانا محمد رمضان علوی اور مولانا محمد عبداللہ اراکین شوریٰ شب و روز ایک کر کے اسے کامیاب بنانے پر لگ گئے۔
۱۸؍مارچ کی شام کو ڈی سی اور ایس۔ پی جھنگ ربوہ گئے۔ جہاں عالمی مجلس کے رہنما مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا فقیر محمد اور مولانا خدا بخش نے ان سے ملاقات کر کے سارے ملک کی صورتحال سے ان کو باخبر کیا۔ صوبائی حکومت، عالمی مجلس مرکزی مجلس عمل، اسلامیان پاکستان اور تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو دیکھ رہی تھی۔ ۲۰؍مارچ کو اسلام آباد میں مجلس عمل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اسلام آباد، راولپنڈی کے تمام علماء کرام، جماعت اسلامی، جمعیتہ علمائے اسلام، جمعیتہ اہل حدیث، جمعیتہ علمائے پاکستان اور منہاج القرآن غرضیکہ تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے پچاس نمائندگان نے شرکت کی۔ مولانا سید چراغ الدین نے مولانا سمیع الحق صاحب سے ہسپتال جا کر ملاقات کی۔ انہوں نے بتایا کہ میری عیادت کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب جناب محمد نواز شریف
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آرہے ہیں۔ ان سے میں دوٹوک بات کروں گا۔ وفاقی وزارت داخلہ ومذہبی امور کے نمائندگان عجیب ذہنی کیفیت اور دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کررہے تھے۔
مجلس عمل کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ مولانا زاہد الراشدی آئی۔ جے ۔آئی کی جماعت کا وفد لے کر ہوم سیکرٹری پنجاب کو ملیں۔ اتحاد العلماء کے مولانا محمد عبدالمالک نے حضرت امیر مرکزیہ کے نام قاضی حسین احمد صاحب کا پیغام پہنچایا کہ اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہی پیغام ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے ان کے نمائندے لائے۔ صوبائی حکومت آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کی کارروائی سے لمحہ بہ لمحہ آگاہی حاصل کر رہی تھی۔ پورے صوبہ کی صورتحال ان کے سامنے تھی۔ مجلس عمل کا یہ فیصلہ کہ اگر مرزائی جشن بند نہ ہوا تو ۲۳؍مارچ کو پورے ملک کا رخ ربوہ کی طرف ہوگا۔ اس فیصلہ کی اطلاع ملتے ہی لاہور میں ہوم سیکرٹری نے مجلس عمل کے نمائندگان کو بلایا اور اسی وقت ۲۰؍مارچ ۱۹۸۹ء کو ڈی سی اور ایس پی جھنگ ربوہ گئے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ طارق محمود اور مولانا فقیر محمد، ربوہ اور چنیوٹ کے رفقاء سمیت ان افسران سے ملے اور پنجاب حکومت کی ہدایت پر ڈی سی جھنگ نے قادیانی جشن پر مکمل پابندی کا اعلان کردیا۔ مولانا فقیر محمد قادیانیوں کے تمام پروگراموں سے باخبر تھے۔ انہوں نے ان کی تفصیل ڈی سی کو بتائی۔ انہوں نے تمام پروگراموں کو منسوخ کرنے کا آرڈر جاری کردیا۔ ۲۰؍مارچ ۱۹۸۹ء کی رات کو راولپنڈی راجہ بازار میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ اس سے قبل ریڈیو کے ذریعہ پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے ’’جشن‘‘ پر پابندی کا اعلان ہو چکا تھا۔ کانفرنس سے فارغ ہوتے ہی حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم گوجرانوالہ، فیصل آباد کے راستہ ربوہ روانہ ہوئے۔ صوفی ریاض الحسن گنگوہی اور دوسرے رفقاء فیصل آباد سے آپ کے ہمراہ ہوگئے۔ ۲۳؍مارچ کو آپ نے اپنی آنکھوں سے ربوہ میں مرزائی سازش کی ناکامی کا منظر دیکھا اور خدا کے حضور سجدۂ شکر بجالائے۔ اس مختصر دورہ کے بعد آپ خانقاہ سراجیہ تشریف لے گئے۔
یوں ایک بار پھر کفر ہار گیا اسلام اور مسلمان جیت گئے۔ فالحمدللہ! ربوہ کی طرح ’’ہانڈو‘‘ گاؤں میں بھی پابندی عائد کردی گئی۔ لاہور پولیس نے سب سامان اٹھوا دیا۔ مرزائی، مرزا قادیانی کو ماننے کے گناہ سمیت جلسہ کا سامان سروں پر رکھ کر دوڑے۔ پورے پنجاب میں مرزائیوں کے جشن پر پابندی لگ چکی تھی۔ بلوچستان اور سرحد کے مسلمانوں کے سامنے بھی مرزائیوں کی سازش کامیاب نہ ہوسکی۔ البتہ سندھ میں جہاں خالصتاً پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ بعض مقامات پر مرزائیوں نے پروگرام کئے مگر انتہائی راز داری سے، بزدلانہ طریقہ پر چھپ کر الحمدللہ! یوں ۲۳؍مارچ کا سورج مرزائیت کی رسوائی کا سامان لے کر طلوع ہوا۔ فالحمدللہ!
مرزائیوں نے اس پابندی کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ دائر کردی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ کے حکم ’’پابندی جشن‘‘ کو چیلنج کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے عزت مآب جسٹس خلیل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کے ہاں کیس لگا۔ ہائیکورٹ کے قابل احترام جج نے مرزائیوں کو کہا کہ اب جشن کا وقت گزر گیا ہے، اب یہ رٹ بعد از وقت ہے۔ مگر مرزائی مصر تھے کہ نہیں جناب! فیصلہ ہونا چاہئے کہ یہ پابندی جائز تھی یا ناجائز۔ مرزائیوں کی طرف سے اصرار پر عدالت میں کارروائی شروع ہوئی۔ مرزائیوں کے وکیل مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پنڈورہ بکس لے کر آئے۔ ادھر پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے رحمت عالم ﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کی سعادت و وکالت کے لئے قدرت نے جناب مقبول الٰہی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نذیر احمد غازی صاحب کو منتخب فرمایا۔ جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ اور جناب عبدالرشید قریشی ایڈووکیٹ بھی مرزائیت کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر میدان میں آگئے۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اللہ رب العزت نے پھر توفیق بخشی۔ ملتان مرکز سے مرزائیت کی کتابوں کا سیٹ لے کر شاہین ختم نبوت حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا اللہ وسایا، لاہور کے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور سندھ سے مولانا احمد میاں حمادی پہنچ گئے۔ اللہ رب العزت جزائے خیر دے۔ لاہور کے رفقاء کرام جناب محمد متین خالد، جناب سید محمد صدیق شاہ، سید منظور الحسن شاہ، جناب محمد صابر شاکر اور نکانہ صاحب کے مہر محمد اسلم ناصر ایڈووکیٹ، قدیر شہزاد، چوہدری محمد اختر اور دوسرے رفقاء کو کہ وہ ہر روز عدالتی کارروائی میں دیوانہ وار دلچسپی لیتے رہے۔ پاکستان کے نامور عالم دین علامہ خالد محمود صاحب نے بھی دن رات ایک کر دیا۔
مرزائیوں کے جواب الجواب کا جب مرحلہ آیا تو قدرت نے جناب نذیر احمد غازی صاحب اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو توفیق دی۔ ان کے رفقاء و متوسلین جناب پروفیسر سید قمر علی زیدی، جناب پروفیسر ملک خالد داد، جناب مسعود ایڈووکیٹ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ محترم مولانا اللہ وسایا اور محترم مولانا محمد اسماعیل صاحب نے پوری رات جاگ کر جواب الجواب تیار کیا۔ غازی نذیر احمد عدالت میں پیش ہوئے اور گھنٹوں دلائل وبراہین کے ساتھ نپے تلے انداز میں مرزائیوں کا جواب الجواب دیا تو عدالت میں سناٹا چھا گیا۔ مرزائیت پر اوس پڑ گئی۔ ان کے چہرے ان کے دلوں کی طرح سیاہ ہو گئے اور مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۹۱ء کو سماعت مکمل ہوگئی۔ عالی جناب عزت مآب جسٹس خلیل الرحمن صاحب نے مؤرخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۹۱ء کو فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ ایمان پرور بھی ہے، حقائق افروز بھی۔ اس فیصلہ سے ایک بار پھر لاہور ہائیکورٹ کے عزت ووقار میں مزید در مزید اضافہ ہوا۔ فیصلہ کا ایک ایک حرف قدرت کی طرف سے مرزائیت کی رگ جان کے لئے نشتر ہے۔ پڑھئے، سر دھنئے اور اپنے ایمان کو تازہ کیجئے۔ تائید رحمت حق اور شفاعت محمد ﷺ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔ بندہ عاجز آپ کے لئے دعا گو بھی ہے اور دعا جو بھی۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جملہ رفقاء، آل پارٹیز مجلس عمل کے تمام نمائندگان، تمام دینی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں کو اس پر مبارک باد پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ جناب عنایت اللہ رشید صاحب، محمود صادق صاحب اور واحد علی صاحب اور گرافورڈ کمپوزنگ کے جاوید بٹ صاحب، ارشد غوری صاحب، محمد یاسین صاحب اور کامران پراسس کے سعید صاحب بھی خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں، جن کے تعاون سے یہ فیصلہ شائع ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ ہماری اس آزمائش میں جس شخص نے جتنا حصہ ڈالا، وہ اسی قدر مبارک باد اور شکریہ کا مستحق ہے۔ طالب دعا: عزیز الرحمن (خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دفتر مرکزیہ ملتان) ۳۰؍دسمبر ۱۹۹۱ء
لاہور ہائیکورٹ لاہور
(ابتدائی کوائف)
عنوان مقدمہ: مرزا خورشید احمد و دیگر بنام حکومت پنجاب مقدمہ نمبر: رٹ پٹیشن نمبر ۲۰۸۹ / لغایت ۱۹۸۹ء فریق اوّل: مرزا خورشید احمد و دیگر اپیلانٹ فریق ثانی: حکومت پنجاب وغیرہ مسئول الیہان فریق اوّل کے وکلاء: سی۔ اے رحمان، مبشر لطیف احمد اور مجیب الرحمن ایڈووکیٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فریق دوم کے وکلاء: مقبول الٰہی ملک ایڈووکیٹ جنرل ان کے معاون این.اے غازی، اے.اے.جی، ارشاد اللہ خان اور مسعود احمد خان ایڈووکیٹ دیوانی متفرق: درخواست نمبر ۵۳۷، لغایت ۱۹۸۹ء کی پیروی محمد اسماعیل قریشی دیوانی متفرق: درخواست نمبر ۲۰۲۹، لغایت ۱۹۹۱ء میں رشید مرتضیٰ قریشی پیش ہوئے۔ تاریخ ہائے سماعت: ۷، ۱۱، ۱۲، ۱۴، ۱۵، ۱۸، ۱۹، ۲۰، ۲۱ اور ۲۲؍مئی ۱۹۹۱ء فیصلہ کا اعلان: مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۹۱ء کو کیا گیا۔
فیصلہ ...... جسٹس خلیل الرحمٰن
۱...... یہ رٹ پٹیشن سائلان مرزا خورشید اور حکیم خورشید احمد کی طرف سے دائر کی گئی جو احمدیہ برادری کے ارکان اور اس کی مرکزی و مقامی تنظیم کے عہدیداران ہونے کے دعویدار ہیں۔ اس آئینی درخواست میں اس امر کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی کہ پنجاب کے ہوم سیکرٹری نے مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات پر پابندی کی بابت جو حکم صادر کیا۔ نیز جھنگ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے مورخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۸۹ء کو زیردفعہ ۱۴۴ مجموعہ ضابطہ فوجداری جو حکم جاری کیا گیا۔ جس کی رو سے ضلع جھنگ کے قادیانیوں کو ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی جو مذکورہ بالا حکم میں مذکور تھیں، بعدازاں ربوہ کے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے ۲۵؍مارچ ۱۹۸۹ء کو ایک حکم کے ذریعے احمدیہ جماعت ربوہ کے عہدیداران کو خبردار اور ہدایت کی کہ وہ شہر ربوہ میں لگائے گئے آرائشی گیٹ ہٹا دیں۔ جھنڈے اور چراغاں کے لئے لگائی گئی روشنی کی تار اتارلیں اور اس امر کی یقین دہانی کرائیں کہ دیواروں پر مزید اشتہار نہ لکھے جائیں گے۔ نیز یہ کہ ۲۱؍مارچ ۱۹۸۹ء کو جاری کئے گئے حکم کی میعاد میں تاحکم ثانی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات خلاف قانون و باطل ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔ یہ استدعا بھی کی گئی کہ مسئول الیہان کو اس امر کی ہدایت کی جائے کہ وہ سائلان کو ان واضح بنیادی و اساسی حقوق کے استعمال سے نہ روکیں جو سائلان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل ۲۰ کی رو سے حاصل ہیں۔
۲...... مذکورہ بالا احکام و ہدایات جاری کرنے کی استدعا اس دعویٰ پر مبنی ہے کہ احمدیہ جماعت کو جس کا قیام ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کو عمل میں آیا تھا، قائم ہوئے سو سال ہو گئے ہیں۔ جماعت کی تشکیل کے ۱۰۰ برس پورے ہونے پر دنیا بھر کے دوسرے احمدیوں کی طرح ربوہ کے احمدیوں نے بھی ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء سے صد سالہ جشن کی تقریبات منانے کا فیصلہ کیا۔ ان تقریبات کو شایان شان طریقہ سے منانے کے لئے سائلان اور ربوہ کے دیگر شہریوں نے نئے ملبوسات زیب تن کرنے، بچوں میں مٹھائیاں بانٹنے محتاجوں کو کھانا کھلانے اور بغرض اجلاس جمع ہونے کا پروگرام بنایا تاکہ جلسہ عام میں احمدیہ جماعت کی ۱۰۰ سالہ تاریخ کے اہم واقعات پر روشنی ڈالی جائے۔ مزید التجاء کی گئی کہ اگر کوئی احمدی اور ان کے جانشینوں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں یا افریقہ اور دوسرے ممالک میں ان کی تبلیغی مساعی کے بارے میں اپنے بچوں کو کچھ بتاتے تو ممکن ہے اس سے بعض متشدد اور متعصب لوگوں کے جذبات مجروح ہوں۔ گزارش کی گئی کہ قادیانیوں کو (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) صد سالہ سالگرہ منانے سے روکنے کا کوئی قانونی جواز نہیں، ایسا کرنا ان کا بنیادی اور فطری حق ہے۔ کیونکہ یہ موقع ان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم میں کہیں مذکور نہیں کہ اس کے یقین کے مطابق اگر احمدیوں نے حسب پروگرام ربوہ میں صد سالہ جشن کی تقریبات منعقد کیں تو شہر میں نقص امن یا فرقہ وارانہ فسادات کے پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... درخواست میں جو دیگر مؤقف اختیار کئے گئے، وہ یہ ہیں کہ ربوہ کی غالب اکثریت احمدیوں پر مشتمل ہے، وہ گاہ بگاہ ایک
دوسرے کی خوشی وغمی میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے دفعہ ۱۴۴ ض.ف کے تحت جو کارروائی کی گئی، اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مذکورہ بالا دلیل کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو چاہئے تھا کہ احمدیوں کو جشن منانے سے باز رہنے کی ہدایت کرنے کے بجائے دوسروں کو خبردار کرتا کہ وہ ان تقریبات میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں۔ کیونکہ احمدیوں کو ایسی سرگرمی سے نہیں روکا جاسکتا، جس کی ممانعت قانون میں نہ کی گئی ہو۔ مزید عرض کیا گیا کہ صوبائی حکومت یہ حکم جاری کرنے کی بجائے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ ہدایت کرنی چاہئے تھی کہ ان متشدد عناصر کو، جو پاکستان میں احمدیوں کا وجود تک برداشت کرنے کو تیار نہیں اور انہیں مرتد کہتے ہیں۔ احمدیوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے سے باز رکھا جائے اور ان کی تقریبات میں مخل ہونے سے روکا جائے۔ یہ گزارش بھی کی گئی کہ شہریوں کے حقوق کو محض اس بناء پر پامال کرنا قرین انصاف نہیں کہ چند متشدد یا بااثر افراد کی طرف سے گڑبڑ کا اندیشہ ہے۔ مزید عرض کیا گیا کہ احمدی ۲۳/مارچ ۱۹۸۹ء کو نیز سال بھر کے دوران وقتاً فوقتاً جمع ہوکر جلسے کرنا چاہتے تھے، جن میں اظہار تشکر کی خصوصی دعائیں کرنا، اللہ تعالیٰ کے ان احسانات اور نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا، جن سے گزشتہ صدی کے دوران انہیں نوازا گیا۔ بچوں اور نوجوانوں کو احمدیت کی راہ میں ان کے آباء واجداد کے ایثار و قربانی اور اس سلسلے میں ان پر عائد کی گئی پابندیوں اور نوجوانوں کو ان فرائض سے آگاہ کرنا مقصود تھا۔
- ۴...... زور دے کر یہ بات کہی گئی کہ ایسے جلسے منعقد کرنا اور دیگر افعال انجام دینا، جن کا پروگرام بنایا گیا تھا، احمدیہ برادری کے ہر رکن کا
آئینی حق ہے۔ اس لئے حکومت کو ان کے انعقاد کو یقینی اور محفوظ بنانا چاہئے تھے۔ اس حق سے کسی کو اس بناء پر محروم نہیں کیا جاسکتا تھا کہ بعض اشخاص نے احتجاج ومزاحمت کی دھمکی دی تھی۔ فاضل وکیل نے دلیل پیش کی کہ اگرچہ ۲۱/مارچ ۱۹۸۹ء کا حکم ۲۵/مارچ ۱۹۸۹ء کو زائد المیعاد ہوگیا اور اس حقیقت کے باوجود کہ اس میں توسیع نہیں کی گئی، ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ نے غیر قانونی طور پر ۲۵/مارچ ۱۹۸۹ء کا حکم جاری کر دیا، جس میں متنازعہ فیہ ہدایات درج تھیں۔
سائلان نے قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو غیر اسلامی سرگرمیوں پر (پابندی اور ممانعت) کے آرڈیننس ۱۹۸۴ء (۱۹۸۴ء کا ۲۰/ رواں) کے احکام کے تحت مجموعہ تعزیرات پاکستان میں داخل کی گئی۔ نئی دفعہ ۲۹۸-سی کی وجہ جواز کو بھی اس بناء پر چیلنج کیا کہ اس سے دستور پاکستان کے آرٹیکل کے تحت ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ بہرحال بحث کے دوران فاضل وکیل نے اس نکتہ پر یہ کہتے ہوئے زور نہیں دیا کہ یہ مسئلہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے اور وہ اس کا فیصلہ ہونے تک انتظار کرنے کو تیار ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سائلان کی طرف سے پیش ہونے والے تینوں وکلاء قادیانیوں کے عقیدہ کی ”تبلیغ کے حق“ پر یقین نہیں رکھتے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے استدلال اور مؤقف کو مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق تک محدود و مقید رکھا۔
- ۵...... مقدمہ کے قانونی پہلوؤں پر دلائل پیش کرتے ہوئے مسٹر سی.اے رحمان نے گزارش کی کہ قادیانیوں پر زیادہ سے زیادہ یہ
پابندی لگائی جاسکتی تھی کہ وہ دوسرے لوگوں سے اپنے عقیدہ کی تبلیغ نہ کریں۔ لیکن انہیں عام جلسوں میں رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ اور دوسرے مذہبی موضوعات پر تقاریر کرنے سے نہیں روکا جاسکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تقاریر میں قادیانی جو حوالے دیتے، ان کی تعبیر وتشریح ان کی کتب میں مذکور نقطۂ نظر کے مطابق کی جاتی۔ حقیقت میں نہ تو پبلک تقاریب منعقد کرنی تھیں، نہ جلوس نکالے جانے تھے، نہ کوئی پمفلٹ تقسیم ہونے تھے، نہ ہی بینرز لگانے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ اس استدلال کی بناء پر انہوں نے عرض کیا کہ مذکورہ بالا طریقے سے ایسی تقریبات کے انعقاد کو روکا نہیں جاسکتا تھا۔ کیونکہ دستور کے آرٹیکل ۱۶، ۱۹ اور ۲۰ کے تحت ہر شہری اور برادری کو اس حق کی ضمانت دی گئی ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر سکتا ہے۔ نیز اپنی برادری کے بچوں یا افراد میں اپنے عقیدہ یا افکار کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید عرض کیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم میں جو متنازعہ فیہ ہدایات درج ہیں۔ انہیں ایک ایک کر کے پرکھا جائے یا اجتماعی طور پر جائزہ لیا جائے۔ ان سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان ہدایات کے ذریعے جو مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، وہ بھی بنیادی حقوق سے متصادم تھا، اگر چہ جشن کا سال گزر گیا ہے۔ تاہم ان کی درخواست غیر مؤثر نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس میں جس حق کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ روزمرہ کے معمولات میں سے ہے اور اگر مذہب کی پیروی نیز اس پر عمل کرنے کے حق کی وسعت اور اس کی حدود کا تعین کر دیا جائے تو یہ چیز احمدیوں کے ساتھ ساتھ دوسرے شہریوں کو بھی درست لائحہ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دے گی۔
- ۶...... فاضل وکیل نے مزید عرض کیا کہ جن امور کی شکایت کی گئی ہے۔ اگرچہ ان امور کی عام جلسہ اور عام مقامات پر انجام دہی کے حق
سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ان میں سے کوئی ایک کام بھی جائے عام پر کرنے کا پروگرام نہیں تھا۔ انہوں نے وضاحت سے بتایا کہ نہ تو کوئی ایسا پروگرام بنایا گیا تھا، نہ ہی ایسی تقاریر کرنے کا ارادہ تھا جس سے ملکی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ۔ اندریں حالات ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا یہ کہنا مسلمانوں کی توہین کرنا ہے کہ ان تقریبات کے انعقاد پر مسلمان احتجاج اور برہمی کا اظہار کرتے یا اس سے امن عامہ میں خلل پڑتا۔ اگر مذکورہ بالا امور کی بجا آوری کے موقع پر، جو بصورت دیگر قانوناً درست تھے، نقص امن کا اندیشہ تھا تو اس اندیشہ کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کرنی چاہئے تھیں تاکہ قادیانیوں کو ان سے باز رہنے کی ہدایت کی جاتی۔ اپنے استدلال کی حمایت میں انہوں نے رام ناد ضامن دیواستھانم بتحصیل دار بنام کدار میرا امبالم (اے۔آئی۔آر۱۹۳۲ء، مدراس۲۹۴) متعلق بہ سری کانت آئڑ (اے۔آئی۔آر۱۹۳۷ء، مدراس ۳۱۱) نیز مسماۃ جسودہ لکھراج بنام ایمپرر (اے۔آئی۔آر۱۹۳۹ء،سندھ ۱۶۷) کا حوالہ دیا۔
- ۷...... آگے بڑھنے سے پیشتر ایک درخواست (دیوانی متفرق درخواست نمبر۵۷۳ بابت ۱۹۸۹ء) پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا جو
فریق مقدمہ بنائے جانے کی خاطر مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے داخل کی گئی تھی تاکہ عدالت کے سامنے مسلمانوں کا نقطہ نظر بھی پیش کیا جاسکے۔ کیونکہ دنیا کے مسلمان آنحضرت ﷺ کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مرزا قادیانی بانی جماعت احمدیہ، ایک مرتد و کافر شخص تھا۔ درخواست گزار نے گزارش کی کہ وہ اس مقدمہ کا ایک لازمی فریق ہے۔ کیونکہ اس نے بین الاقوامی ختم نبوت مشن کے عہدیدار کی حیثیت سے احمدیوں کی متذکرہ بالا سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے، جن سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی خلاف ورزی کا خدشہ اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے بھڑکنے کا امکان تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندہ مندوبین کی معیت میں حکومت پنجاب سے رابطہ قائم کیا۔ قادیانی جشن کے پروگرام کی بابت اپنی گہری تشویش واضطراب سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان تقریبات پر فوراً پابندی لگائی جائے، ورنہ ملک گیر سطح پر شدید ہنگامے شروع ہو جائیں گے یہ کہ حکومت پنجاب نے ان کے مطالبہ پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے سالگرہ کی تقریبات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ درخواست ۱۸؍دسمبر ۱۹۸۹ء کو زیر سماعت آئی۔ اس موقع پر سائلان کے فاضل وکلاء نے تجویز کیا کہ درخواست دہندہ کو اس سلسلہ میں بیان حلفی داخل کرنا چاہئے اور یہ کہ فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست پر اصل درخواست کے ساتھ غور کر لیا جائے۔ درخواست دہندہ کو بیان حلفی داخل کرنے کی اجازت دے دی گئی اور اس کی درخواست مع اصل پٹیشن کی سماعت کے لئے تاریخ سماعت مقرر کر دی گئی۔
- ۸...... فریق مقدمہ بنائے جانے کی ایسی ہی درخواست عبدالناصر گل نامی شخص کی طرف سے دی گئی تھی جو عیسائیت سے تعلق رکھتا ہے۔
وہ اس استدلال پر مبنی تھی کہ عیسائیت کے خلاف مرزا قادیانی کی تقاریر اور اس کا لٹریچر تمام عیسائیوں کے نزدیک قابل مذمت اور نفرت انگیز
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ درخواست دہندہ کے فاضل وکیل نے وضاحت سے بتایا کہ ان تقریبات کی مسلمہ غرض وغایت جماعت احمدیہ کی ۱۰۰ سالہ تاریخ کا اعادہ کرنا تھا، جس میں جماعت کی تحریروں اور لٹریچر سے حوالے لازماً دیئے جاتے جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور عیسائیت کی بابت انتہائی قابل اعتراض اور توہین آمیز ریمارکس شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود (وہ مسیح جن کی دوبارہ آمد کی بشارت دی گئی ہے) ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے پیرو اسے مسیح موعود مانتے ہیں۔ اس لئے عیسائیوں کے عقائد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزت وناموس کی حفاظت کے لئے ایسے لغو دعویٰ کی تردید وتکذیب ضروری تھی۔ ان کی تحریروں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف ملامت آمیز مواد نیز ان کے جلسوں اور تقریبات میں متوقع حملے عیسائی برادری کے غیظ وغضب کا موجب بنتے۔ اس سے احمدیوں اور عیسائیوں کے مابین دشمنی ونفرت میں اضافہ ہوتا اور نقص امن کی سنگین صورتحال پیدا ہوجاتی۔
۹...... سائلان کے فاضل وکلاء نے ہر دو درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان دونوں درخواستوں کو مزید دلائل سنے بغیر خارج کر دیا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس نکتہ پر اس وقت زور دیا گیا جب فاضل وکلاء میں سے ایک اپنے دلائل مکمل کر چکے تھے اور فاضل ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس درخواست کو ۱۳؍مئی ۱۹۹۱ء کو صادر کردہ حکم کی رو سے نمٹایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ: ’’اس مرحلہ پر فاضل وکیل سی.اے رحمان نے بتایا کہ فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست (ای.ایم ۸۹/ ۵۳۷۷) کا تصفیہ معاملہ کی مزید سماعت کرنے سے پہلے کر دیا جائے۔ یاد رہے کہ پٹیشن کی حمایت میں وہ اپنے دلائل پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں۔ مسٹر مبشر لطیف احمد نے اپنے دلائل ختم کر چکے ہیں۔ اب مسئول الیہ اور درخواست گزار کو جواب دینا ہے۔‘‘
علاوہ بریں ۱۸؍دسمبر ۱۹۸۹ء کے حکم میں کہا تھا کہ: ’’درخواست دہندہ نے فریق مقدمہ بنائے جانے کی یہ درخواست مسئول الیہ کی حیثیت سے دی ہے۔ اس کی ایک نقل سائلان کے فاضل وکیل کو فراہم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ درخواست دہندہ کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں بیان حلفی داخل کرے، نیز یہ کہ اس کی درخواست کی سماعت پٹیشن کے ساتھ کی جائے۔ درخواست گزار کے فاضل وکیل نے تجویز سے اتفاق کیا کہ تحریری بیان داخل ہونے دیا جائے اور اس درخواست نیز اصل پٹیشن پر دلائل کا آغاز ۲۷؍جنوری ۱۹۹۰ء سے کیا جائے۔ اندریں حالات اس مرحلہ پر فریق مقدمہ بنائے جانے کی درخواست پیش کرنا دراصل کارروائی کو طول دینے کا ایک حربہ ہے جس سے پٹیشن میں اٹھایا گیا اصل معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ پس اس معاملہ کا فیصلہ اصل پٹیشن کے ساتھ کیا جائے گا۔ جیسا کہ خود فاضل وکیل نے تجویز کیا ہے، مسئول الیہان اور دوسرے اپنے دلائل شروع کر سکتے ہیں۔‘‘
۱۰...... جہاں تک درخواست گزاروں کے بطور مسئول الیہان فریق مقدمہ بنائے جانے کا تعلق ہے، یہ بات قابل غور ہے۔ ابتداء میں فاضل وکیل کو جیسا کہ محسوس ہوتا ہے، درخواست کی سماعت پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کیونکہ انہوں نے خود ہی تجویز پیش کی تھی کہ درخواست گزار کو پہلے تحریری بیان داخل کرنے کا موقع دیا جائے۔ درخواست گزار نے عام مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے قادیانیوں کے خیالات کی مخالفت اور صد سالہ جشن کی تقریبات پر زبردست احتجاج کیا تھا، جس کی بناء پر صوبائی حکومت نے ان تقریبات پر پابندی عائد کر دی تھی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے زیر بحث امتناعی احکام جاری کئے تھے۔ درخواست گزار کا مؤقف یہ تھا کہ سماعت کے دوران ان کا موجود ہونا ضروری ہے تاکہ وہ ثابت کر سکے کہ اندرون ملک قادیانیوں کا عام اجتماعات میں مذہبی موضوعات پر قادیانیت کے پردہ میں تبلیغ کرنا از روئے قانون ممنوع اور جرم ہے۔ عیسائی درخواست گزار کے فاضل وکیل نے بھی ایسا ہی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قادیانیوں کی طرف سے مذہبی موضوعات پر بحث مباحثہ اندیشہ نقص امن پر منتج ہوتا۔ کیونکہ ان کے افکار و تعلیمات نہ صرف مسلمانوں بلکہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عیسائیوں کے بھی مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی ثابت ہوتی ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ صد سالہ سالگرہ کا سال گزر جانے کے باوجود اس درخواست پر اس لئے زور دیا جارہا ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی تبلیغ کے لئے مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے حق کا تعین کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ایسا کرنا ممبران جماعت احمدیہ کے روزمرہ معمولات کا ایک حصہ ہے اور اس میں شک نہیں کہ روزمرہ معمولات کا حصہ ہونے کی بناء پر اس کا تعلق مسلمانوں، عیسائیوں اور دوسرے تمام شہریوں سے ہے۔ اس لئے وہ اس پٹیشن کے خلاف سنے جانے کے حق دار ہیں۔ چنانچہ دونوں درخواستیں برائے سماعت منظور کی جاتی ہیں اور درخواست گزاروں کو بطور مسئول الیہ مقدمہ کا فریق بنانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ دونوں درخواستیں نمٹا دی گئیں۔
۱۱...... اب دوسری درخواست کو لیتے ہیں۔ سی۔ ایم ۲۰۵۱/۹۱ اس وقت داخل کی گئی جب سائلان کے فاضل وکیل مسٹر سی۔ اے رحمان نے اپنے دلائل مکمل کر لئے تھے اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کے فاضل وکیل مسٹر اسماعیل قریشی نیز فاضل ایڈووکیٹ جنرل فریق مخالف کے وکیل کے پیش کردہ مباحث کے جواب میں کچھ معروضات پیش کر چکے تھے۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے بحث شروع کرنے سے پہلے ایک فہرست داخل کی جو ظاہر کرتی تھی کہ وہ مرزا قادیانی کے افکار کو کس کس موضوع کے تحت زیر بحث لائیں گے۔ جیسا کہ وہ خیالات مرزا قادیانی کی کتابوں میں موجود ہیں، جنہیں صد سالہ جشن کی تقریبات میں دہرایا جانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں کی یہ تحریریں جن کی نشاندہی عدالت میں پیش کردہ درخواست میں کی گئی ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی محسوسات کو مشتعل و مجروح کرنے والی ہیں جو روز اوّل سے ان افکار و نگارشات کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ ۱۰۰ برسوں کے دوران انہوں نے مرزا قادیانی کے کذب و افترا کو طشت از بام کرنے کے لئے قدم قدم پر قربانیاں دی ہیں۔ عام اجتماعات میں ایسے افکار کا تذکرہ و اعادہ نہ صرف ارتکاب جرم کے مترادف ہوتا بلکہ مسلمانوں میں وسیع پیمانہ پر شدید غم و غصہ کو ابھارنے کا سبب بنتا اور اس سے نقص امن کو خطرہ لاحق ہونا ناگزیر ہو جاتا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جشن کی تقریبات منعقد کرنے، جماعت احمدیہ کی تاریخ کو دہرانے، مرزا قادیانی کے مقام و حیثیت کو اجاگر کرنے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے سے امن و امان کی صورتحال پر جو اثرات مرتب ہوتے انہیں تاریخی پیش منظر میں دیکھنا چاہئے۔ جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا دستوری فیصلہ بھی شامل ہے۔ تاہم فاضل ایڈووکیٹ جنرل یا دوسرے وکلاء کی طرف سے مذکورہ بالا موضوعات کو زیر بحث لانے سے قبل ہی سائلان نے اس امر کی درخواست (سی ایم ۲۰۵۱/۹۱) پیش کر دی کہ پٹیشن میں محض ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور یہ استدعا کی گئی ہے کہ ۲۱ اور ۲۵/مارچ ۱۹۸۹ء کے حکم کو کالعدم ٹھہراتے ہوئے مسئول الیہان کو ہدایت کی جائے کہ وہ سائلان کے بنیادی حق کے استعمال میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ لیکن ۸/مئی ۱۹۹۱ء کو اپنے دلائل کے دوران فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اعتقادی اختلافات اور مذہبی مباحث چھیڑ دیئے۔ اپنی گزارشات میں جب انہوں نے سائلان کے ساتھ بعض عقائد منسوب کئے تو انہوں نے ان عقائد کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ درخواست کی تائید میں ایک حلفیہ بیان داخل کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ قانونی مسائل کے تصفیہ میں عقیدہ و مسلک کی بات کرنا سراسر غیر متعلقہ اور خارج از بحث معاملہ ہے۔ کیونکہ مذہبی بحث و مناظرہ کے لئے عدالت ہذا موزوں فورم نہیں ہے۔ رٹ پٹیشن میں کسی مذہبی عقیدہ کا فیصلہ یا اس کی بابت اعلان کرنے کی استدعا نہیں کی گئی، نہ ہی عدالت کو اس بارے میں اختیار حاصل ہے۔ یہاں فریق مخالف نے سائلان کے عقیدہ کی بابت غلط فہمی اور لا علمی پر مبنی غلط دعویٰ کئے ہیں۔ اس سے جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت و عداوت پھیلنے کا امکان ہے۔ عدالت میں جن الزامات کی تکرار کی گئی، وہ قومی اخبارات میں شائع کر دیئے گئے اور ان کی زبردست تشہیر دیکھنے میں آئی۔ جس میں
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان کے عقیدہ کو توہین آمیز طریقہ سے غلط رنگ میں پیش کیا گیا۔ مسئول الیہان عدالت ہذا کو احمدیہ برادری کی ذلت ورسوائی کا سامان بہم پہنچانے اور ان کے خلاف بغض ونفرت پھیلانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس موقف کی بنیاد پر استدعا کی گئی کہ بحث کو صرف قانونی مسائل تک محدود و مقید کیا جائے اور اس امر کی ہدایت جاری کی جائے کہ پریس میں طرفین کی درست یکساں اور مساوی کوریج کو یقینی بنایا جائے۔ اس درخواست پر مسٹر مبشر لطیف احمد نے دلائل پیش کئے۔ انہوں نے گزارش کی کہ اس درخواست کا فیصلہ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے وکلاء کو دلائل شروع کرنے کی اجازت دینے سے پہلے کر دیا جائے۔
فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل میں قادیانی برادری کی ان تصنیفات کی نشاندہی کی، جن کے حوالے سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ان کتابوں میں درج افکار ونظریات کا کھلے بندوں پرچار کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو وہ تعزیرات پاکستان اور قانون کے تحت ارتکاب جرم کے مترادف ہوتی اور یہ چیز مسلمانوں کی بھاری اکثریت والے ملک میں ان کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے کا موجب ہوتی اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عائد کردہ پابندی خود ان کے اپنے مفاد میں ہے، کیونکہ پبلک میں ان کے رویہ وعمل کا نتیجہ باہمی تصادم کی صورت میں نکلتا، جس سے خود ان کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی۔ انہوں نے وضاحت سے بتایا کہ سائلان اپنی پٹیشن میں خود کہہ چکے ہیں کہ ان اجتماعات میں مذہبی موضوعات بشمول رسول اکرم ﷺ کی سیرت پاک اور مرزا قادیانی کے حالات زندگی کے بارے میں تقاریر ہونی تھیں، اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اعتقادی اختلافات اور مذہبی مباحث پر گفتگو کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی جماعت احمدیہ اور اس کے حواریوں کی تعلیمات وتحریرات کی اشتعال انگیزی کو عریاں کرنا اعتقادی اختلافات کو چھیڑنا نہیں، بلکہ اس تباہ کن تاثر کو اجاگر کرنا مقصود تھا جو ان افکار وتعلیمات کے پرچار سے امن عامہ کی صورتحال پر مرتب ہوئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ایسا کر کے وہ مذہبی عقیدہ سے متعلق سوالات حل کرانا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے اراکین اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ ان کا مذہب اچھا ہے یا برا، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ تاہم جب وہ اپنے عقیدہ پر اس طرح عمل کرنا چاہیں جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرے یا ان کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرے تو خواہ وہ ہوں یا کوئی اور، ملکی قانون کی نظر میں جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس لئے ان کی کتابوں کے ان مذہبی موضوعات سے عدالت کو آگاہ کرنا میرا حق ہے۔ جو مذہبی احساسات کو برافروختہ کرنے والے ہیں اور ان کی نشرواشاعت ارتکاب جرم کے مترادف ہے اور زیر دفعہ ۱۴۴ احتیاطی تدابیر بروئے کار لانے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔
- ۱۲...... سائلان کی رٹ میں جو اعتراض کیا گیا، اسے ان وجوہات کی بناء پر مسترد کر دیا گیا، جنہیں بعد ازاں قلمبند کیا جائے گا۔ فریقین
کے فاضل وکلاء کو بتایا گیا کہ وہ یہ بات ثابت کرنے کے لئے مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کی تعلیمات وافکار کے حوالے دے سکتے ہیں ۔ جیسا کہ وہ ان کی اصل تصانیف میں موجود ہیں کہ آیا وہ تحریریں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے والی ہیں یا نہیں؟ نیز وہ زیر دفعہ ۱۴۴ کارروائی اور حکومت پنجاب کی طرف سے صد سالہ تقریبات پر لگائی گئی پابندی کا جواز فراہم کرتی ہیں یا نہیں؟ مذکورہ بالا حکم کی وجوہات ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
- ۱۳...... سائلان کے فاضل وکیل مسٹر مبشر لطیف احمد نے اس دلیل کی تائید میں مجموعہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ ۹ کے حوالے سے کہا کہ عدالتیں
مذہب سے متعلق تنازعات یا ایسے سوال کا فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں کہ آیا کسی شخص کا مذہب اچھا ہے یا برا؟ نہ ہی انہیں اعتقادی اختلافات یا مذہبی مباحث کو نمٹانے کا اختیار حاصل ہے، جب کہ یہاں احمدیہ جماعت کی طرف سے مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق کے بارے میں کوئی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعویٰ زیر بحث نہیں۔ نہ ہی اس کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ دلیل جس انداز میں پیش کی گئی ہے۔ اس سے معاملہ کی وہ صورتحال سامنے نہیں آتی جیسی کہ رٹ میں ظاہر کی گئی ہے یا عدالت کے روبرو سوال اٹھایا گیا ہے۔
دراصل یہ درخواست اصل مسئلہ کو نگاہوں سے اوجھل کرنے کا ایک حربہ ہے۔ سائلان کا کیس یہ ہے کہ ان اجتماعات میں منجملہ دیگر امور کے، رسول اکرم ﷺ کی سیرت پاک وارشادات اور ان کے بارے میں مذہبی موضوعات پر اظہار خیال کیا جانا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے مباحث پر خواہ انہیں احمدی نقطۂ نظر سے کیوں نہ پیش کیا جاتا، کیسے پابندی لگائی جاسکتی ہے؟ فاضل وکیل کے مطابق ان تقریبات میں تمام کام قانون کے دائرہ میں کئے جانے تھے۔ مسئول الیہان کے بقول ان پر دو دلائل کے بطلان کے لئے بانی جماعت احمدیہ کی اصل، مستند اور معروف و مسلمہ کتابوں میں درج افکار و تعلیمات کا حوالہ دینا ضروری تھا۔ یہ بالکل غلط ہے کہ وہ محض چند متشدد لوگ تھے جن کی طرف سے ناموافق ردعمل کا اظہار کیا جاتا یا امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ احمدیہ مذہب کی پوری تاریخ اور برصغیر کے مسلمانوں کی طرف سے اس کی جو شدید مخالفت کی گئی، وہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ محض مٹھی بھر متعصب آدمی نہیں جو ان کی مزاحمت پر کمر بستہ ہیں بلکہ عامۃ المسلمین قادیانیوں کے افکار و نظریات کو اپنے مذہب اور مذہبی جذبات کی توہین کرنے والا سمجھتے ہیں۔ ان کی کتابوں سے حوالے دینے کا مقصد یہ تھا کہ ان پہلوؤں کو نمایاں کیا جائے اور اوپر نقل کردہ دونوں دلیلوں کا توڑ کیا جائے۔ اس سے یہ ثابت کرنا ہرگز مطلوب نہیں کہ سائلان کا مذہب اچھا ہے یا برا، یا یہ کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی یا اس پر عمل کرنے کے مجاز نہیں، نہ ہی اعتقادی اختلافات کا حل تلاش کرنے کی غرض سے مذہبی بحث چھیڑنا مقصود تھا۔ قادیانیوں کے ساتھ مذہبی بحث ومناظرہ میں پڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے جس قسم کے مذہب کی تلقین وتبلیغ کی اور قادیانی جس مذہب کے پیروکار اور وفادار ہیں، رسول اکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر اب تک تمام ممالک کے مسلمان اسے اسلام کے اساسی نکات کے خلاف گستاخانہ، توہین آمیز، اشتعال انگیز، گمراہ کن اور بے ادبی پر مبنی سمجھتے آئے ہیں۔ وہ تمام مسلمان جو اسلام اور ختم نبوت کے مابین قائم رشتہ وتعلق میں کسی مداخلت کے روادار نہیں، مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت سے سخت برگشتہ ہیں اور اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک غیر قادیانی یا غیر احمدی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی علیحدہ امت بنالی ہے جو امت مسلمہ کا حصہ نہیں۔ یہ چیز خود ان کے طرز عمل اور عقائد سے ثابت ہے۔ وہ خود کو مسلمانوں کو اپنی ملت سے خارج گردانتے ہیں۔ احمدی لوگ حکومت برطانیہ کے زیر سایہ خود کو مسلمان ظاہر کر سکتے تھے۔ اب ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی امت مسلمہ میں انتشار وتفریق پیدا کر کے انگریزوں کے مفادات کے لئے کام کرتا رہا تھا۔ امت مسلمہ کے اتحاد ویکجہتی کے متعلق اسلامی معاشرہ کے عظیم اصحاب فضل و کمال کی آراء کا نچوڑ یہ ہے کہ: ”یہ امت محض عقیدہ ختم نبوت کی بدولت انتشار سے محفوظ ہے ۔“ انہوں نے مزید کہا : اگر کسی قوم کی یکجہتی کو خطرہ لاحق ہو جائے تو اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ وہ انتشار و تفریق پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور حفاظت خود اختیاری کا طریقہ اس کے سوا اور کون سا ہو سکتا ہے کہ متنازعہ تحریروں اور ایسے شخص کے دعاوی کی تردید وتکذیب کی جائے۔ جسے مورث قوم ایک مذہبی زمانہ ساز اور عیار سمجھتی ہے؟ کیا ایسی صورت میں اس مورث قوم کو جس کی یکجہتی معرض خطرہ میں پڑ چکی ہو، تحمل و رواداری کی تلقین کرنا اور باغی گروپ کو بلاخوف وخطر اپنا پروپیگنڈہ جاری رکھنے کی اجازت دینا قرین انصاف ہوسکتا ہے؟ جب کہ وہ پروپیگنڈہ مورث قوم کے نزدیک انتہائی غلیظ و بیہودہ ہو۔“
(Thoughts and Reflections of Iqbal p:253)
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں اور احمدیوں کے مابین کوئی نقطہ اشتراک نہیں ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ نبوت ورسالت رسول اکرم ﷺ پر ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس احمدی مرزا قادیانی کو نیا نبی مانتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ احمدی زیر اعتراض افکار یا استدلال کی جو وضاحت پیش کرتے ہیں کہ ان افکار کی تعبیر وتشریح ایک مخصوص طریقہ سے کی جانی چاہئے اور انہیں ایک خاص زاویہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے تاکہ انہیں اسلامی احکام کے موافق بنایا جاسکے۔ ان کی گہرائی میں اترنے کی ضرورت نہیں۔ ایسا کیا جائے تو اعتقادی اختلافات کو ہوا دینے کا الزام لگ جاتا ہے۔ دوسرے ان وضاحتوں، جوازات اور عبارات کو امت مسلمہ کب کا مسترد کرچکی ہے۔ پس اس دعویٰ میں کوئی وزن نہیں کہ ان افکار وخیالات سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگنے کا کوئی احتمال نہیں۔ یہ استدلال کہ اگر کسی شخص یا جماعت اشخاص کا عقیدہ زیر بحث ہو تو اس عقیدہ کی بابت مذکورہ بالا شخص یا اشخاص کے اختیار کردہ مؤقف یا پوزیشن کو اس گروپ میں مروجہ مفہوم کے حوالہ سے اس کی تصدیق کرنا لازم ہوتا ہے اور یہ کہ انفرادی مخصوص خیال یا رائے کو اس شخص یا اشخاص کے مؤقف یا نقطۂ نظر کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ بیان کی حد تک تو بڑا اچھا لگتا ہے تاہم یہ استدلال زیر بحث صورتحال پر منطبق نہیں ہوتا۔ کیونکہ مسئلہ کسی خیال یا عقیدہ کو ذاتی طور پر اپنانے کا نہیں، بلکہ اس کی اعلانیہ تبلیغ وپرچار کرنے یا ایسے طریقہ سے اس کی پیروی کرنے کا ہے۔ جس میں تشہیر واشاعت کو نمایاں دخل ہو۔ علاوہ ازیں ان عبارات وافکار کی جو وضاحتیں اور جواز پیش کیا جاتا ہے، مسئول الیہان ان پر نہیں جاتے، وہ واقعاتی پوزیشن کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔ اگر ان کی رائے میں معقول وجوہ موجود ہوں تو وہ متعلقہ قانون کے احکام (دفعہ ۱۴۴ ض ف) کے تحت کارروائی کر گزرتے ہیں۔ یاد رہے اس مرحلہ پر سائلان کے فاضل وکیل نے کتابوں کی فوٹوسٹیٹ نقول پیش کرنے پر یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ جن کتابوں سے یہ اقتباسات لئے گئے ہیں، وہ کتابیں پیش کی جانی چاہئے تھیں۔ جب مسئول الیہان نے اصل کتابیں پیش کر دیں تو فاضل وکیل سے کہا گیا، اگر وہ چاہیں تو ایسی کتب کی ایک فہرست دے دیں جنہیں اقتباسات کے سلسلہ میں وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ نہ کبھی وہ فہرست داخل کی گئی نہ ہی زبانی طور پر ایسی اغلاط وعبارات کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے برعکس مسٹر مجیب الرحمٰن جنہوں نے اس پہلو پر مقدمہ کی پیروی کی، یہ ذمہ داری سائلان پر ڈال دی۔ انہوں نے خود کو اس کے پیش کرنے کا پابند نہیں سمجھا۔
۱۴....... سائلان کے فاضل وکلاء نے مجموعہ ضابطہ دیوانی کی دفعہ ۹ کا جو حوالہ دیا ہے، وہ غیر متعلق اور بے محل ہے۔ یہ دفعہ دیوانی عدالتوں کے اس عمومی اختیار سماعت سے بحث کرتی ہے۔ جس کے تحت وہ دیوانی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ اس کے اختتام پر جو ”تشریح“ درج ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایسے مقدمات جن میں مذہبی رسوم یا تقریبات سے متعلق مسائل شامل ہوں، محض دیوانی نوعیت کے مقدمے نہیں ہوتے، جب تک ان سوالات سے کوئی مالکانہ حق یا حصول منصب کا حق پیوستہ نہ ہو۔ عدالت کے سامنے ایسا کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ایسی رٹ پٹیشن ہے جو دستور کے آرٹیکل ۱۹۹ کے تحت عدالت ہذا کو حاصل غیر معمولی آئینی اختیار سماعت سے داد رسی کی خواہاں ہے۔ اس رٹ میں دستور میں شامل بنیادی حقوق کے حوالہ سے وہ احکام وہدایات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس میں کسی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق میں مدد لی گئی جب کہ مذہب اور افکار وخیالات کی تبلیغ کرنے کے حق سے مدد نہیں مانگی گئی، نہ ہی اس پر زور دیا گیا بلکہ قصداً اپنے دلائل اس حد تک محدود رکھے۔ اس سیاق وسباق میں مسئول الیہان نے ان دلائل کا جواب دینے کی ضرورت محسوس کی اور یہ ثابت کرنا چاہا کہ اگرچہ یہاں تبلیغ مذہب کا حق زیر بحث نہیں، تاہم جو مؤقف اختیار کیا گیا، جو دلائل پیش کئے گئے اور جس دادرسی کی استدعا کی گئی، اگر وہ عطاء کر دی جاتی تو اس کا نتیجہ لازماً یہ نکلتا کہ قادیانی مذہب اور زیر اعتراض افکار ونظریات کی اعلانیہ یا پوشیدہ بے خوف وخطر تبلیغ یقینی بن جاتی۔ پس جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان پر کسی دیوانی عدالت میں زیر دفعہ ۹ ضابطہ دیوانی زور نہیں دیا جارہا
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ اس مرحلے پر یہ واضح کرنا مناسب ہو گا کہ سائلان کے فاضل وکلاء نے عرض کیا تھا کہ زیر بحث مسئلہ صد سالہ جشن کا سال گزر جانے کے باوجود ایک جیتا جاگتا مسئلہ ہے۔ اگر ان کے حسب پروگرام تقریبات منانے کا مطالبہ مان لیا جائے اور عدالت کی طرف سے اس بارے میں حکم صادر کر دیا جائے تو وہ ان تقریبات کو اب بھی منعقد کر سکتے ہیں۔ اس لئے عدالت کو مذکورہ بالا سیاق و سباق میں اٹھائے گئے سوالات کا تجزیہ کرنا پڑا۔ فاضل وکلاء کو مکمل آزادی دی گئی کہ وہ جتنی دیر چاہیں دعاوی اور دلائل پیش کریں۔ بشرطیکہ وہ مذکورہ سیاق و سباق سے متعلقہ ہوں، ان سے باہر نہ ہوں۔ البتہ ان افکار و خیالات اور وضاحتوں کے اخلاقی پہلو کی بابت جو ان زیر بحث افکار کے جواز کو ثابت کرنے کی غرض سے کئے گئے، ان کی اجازت نہیں دی گئی۔ کیونکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور صوبائی حکومت کو ان جوازات میں جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ وضاحت کہ پچھلی پوری صدی کے دوران مسلمانوں نے مرزا قادیانی کے عقائد اور تعلیمات کو غلط سمجھا یا انہیں غلط معنے پہنائے اور اب ان کی تصحیح کی جاسکتی ہے، معاملہ کی موجودہ صورتحال کے سیاق و سباق میں ایک غیر متعلقہ ہے۔ یہاں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ یہ ساری وضاحتیں اور جوازات مع زیر اعتراض افکار مجیب الرحمن بنام وفاق پاکستان (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء، ایف ایس سی ۸) نامی مقدمہ میں پیش کی جا چکی ہیں، جن پر وفاقی شرعی عدالت نے پوری طرح غور و خوض کیا اور اپنے فیصلہ میں ان کی بابت اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یہ فیصل شدہ اور مسلمہ معاملہ ہے۔ عدالت ہذا بھی اسے تسلیم کرنے کی پابند ہے۔ مذکورہ بالا عدالت نے اپنے فیصلہ کے صفحہ ۸۲ پر درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا: ”پس یہ بات شک و شبہ کے ادنیٰ شائبہ کے بغیر ثابت ہو چکی ہے، جیسا کہ سر ظفر اللہ خان نے کہا تھا: ”یا تو پاکستان میں رہنے والی اکثریت کے لوگ کافر ہیں یا پھر قادیانی کافر ہیں۔“ جس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دونوں ملتیں ایک نہیں ہو سکتیں اور مسلمان و قادیانی ایک امت کے فرد نہیں بن سکتے۔ دونوں کے مابین کوئی نقطہ اشتراک و اتحاد نہیں، کیونکہ مسلمان ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں جب کہ قادیانی اس کے قائل نہیں، وہ مسلمانوں کے برعکس مرزا قادیانی کو ایک نیا نبی مانتے ہیں......
اس سے ظاہر ہوا کہ یہ دونوں ایک ہی امت سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس سوال کو حل نہیں کیا گیا کہ دونوں گروہوں میں سے کون سا اصل مسلمان ہے۔ کیونکہ برطانوی ہند میں اس کا فیصلہ کرنے کے لئے کوئی فورم موجود نہیں تھا۔ تاہم ایک اسلامی ریاست میں جہاں اس مسئلہ کو طے کرنے والے ادارے موجود ہیں، اسے حل کرنے میں کوئی دشواری نہیں۔ مجلس دستور ساز کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت بھی اسے حل کرنے کی قانوناً مجاز ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مسلمان اور احمدی دو الگ اور جدا گانہ وجود ہیں۔ جماعت احمدیہ اور اس کے بانی کی کتب سے حوالے پیش کرنا اور دونوں علیحدہ جدا گانہ ملتوں میں امتیاز و تفریق کے لئے بلکہ زیر بحث احکام و ہدایات جاری کرنے کی ضرورت، جواز کو ثابت کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر متفرق درخواست (سی ایم ۸۹ء، ۲۰۴۹) خارج کی جاتی ہے۔
۱۵...... اب اس متنازعہ فیہ مسئلہ/پٹیشن کے متنازعہ معاملہ کو میرٹ پر جانچنے کا مرحلہ آ گیا ہے۔ سائلان نے اپنی رٹ میں حسب ذیل کو چیلنج کیا ہے۔ یعنی:
- (۱) صوبائی حکومت کی طرف سے ۲۰؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو صادر کردہ حکم، جس کی رو سے صد سالہ جشن کی ان تقریبات پر
پابندی لگائی گئی، جن کا اعلان اور تشہیر احمدیہ برادری کی مقامی تنظیم کے عہدیداران نے کی تھی۔
- (۲) جھنگ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے مورخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو زیر دفعہ ۱۴۴ جاری کردہ حکم اور
- (۳) ربوہ کے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کی طرف سے ۲۵؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو جاری کیا گیا حکم مذکورہ بالا احکام کو منجملہ دیگر امور
کے، ان وجوہات کی بناء پر چیلنج کیا گیا تھا کہ عائد کردہ پابندی آئین کے آرٹیکل ۲۰ میں ہر شہری کو اپنے مذہب کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیروی اور اس پر عمل کرنے کے بنیادی حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ پابندی اس حق کو پامال کرتی ہے۔ نیز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے زیر دفعہ ۱۴۴ جو حکم جاری کیا تھا، وہ خلاف قانون، ناجائز، بے موقع اور دخل در معقولات کے مترادف ہے۔ چونکہ رٹ میں اصل حملہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ و ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے احکام پر کیا گیا تھا۔ اس لئے بغرض حوالہ اور استفادہ دونوں حکم ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ۲۱؍ جون ۱۹۸۹ء کو جو حکم جاری کیا، اس میں کہا گیا تھا: ”چونکہ مجھ پر واضح اور عیاں کیا گیا ہے کہ ضلع جھنگ کے قادیانی ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانیت کے صد سالہ جشن کی تقریبات منعقد کرنے والے ہیں، جس کے لئے انہوں نے عمارتوں پر چراغاں، مکانوں کی سجاوٹ، آرائشی دروازوں کی تیاری، جلوسوں کا اہتمام، جلسوں کے انعقاد، پمفلٹوں کی تقسیم، دیواروں پر پوسٹروں کی چسپائی، مٹھائیوں کی تقسیم، خصوصی کھانوں کا انتظام، بیجوں، جھنڈیوں اور جھنڈوں کی نمائش وغیرہ کا بندوبست کر لیا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے اس پر شدید اعتراضات و احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس سے عام لوگوں کے امن وامان اور سکون واطمینان میں خلل پڑنے کا قوی امکان ہے، جس سے انسانی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور چونکہ حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے مورخہ ۲۰؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو ٹیلی پرنٹر پیغام نمبر ۸۸/۱۱۱۔ایس۔پی۔ایل۔ایچ۔۱۔۷ کے ذریعے ان تقریبات پر پورے پنجاب میں پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور چونکہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی میں کہا گیا ہے کہ قادیانی گروپ کا کوئی شخص جو خود کو اعلانیہ یا بصورت مسلمان ظاہر کرے، کہلائے یا اپنا مذہب اسلام بتائے، اپنے مذہب کی دوسروں میں تبلیغ کرے یا انہیں زبانی یا تحریری طور پر اسے قبول کرنے کی دعوت دے، یا کوئی اور طریقہ، خواہ کوئی بھی ہو، بروئے کار لائے۔ جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہوتے ہوں، وہ موجب تعزیر ہوگا اور چونکہ میری رائے میں نیز حکومت پنجاب کے فیصلہ اور مجموعہ تعزیرات پاکستان کے احکام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ فوری روک تھام مناسب ہوگی اور دفعہ ۱۴۴ کے تحت کارروائی کی معقول وجوہ موجود ہیں اور ذیل میں درج کی گئی ہدایات، انسانی جان و مال کو لاحق خطرہ، نیز امن عامہ اور سکون واطمینان میں پڑنے والے خلل کی روک تھام کے لئے ضروری ہیں۔ اس لئے اب میں چوہدری محمد سلیم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۱۴۴ کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ضلع جھنگ میں بسنے والے قادیانیوں کو مندرجہ ذیل سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتا ہوں۔
- (۱) عمارتوں اور احاطوں پر چراغاں۔
- (۲) آرائشی گیٹ لگانا۔
- (۳) جلوسوں اور جلسوں کا انعقاد۔
- (۴) لاؤڈ سپیکر یا میگافون کا استعمال۔
- (۵) نعرے بازی۔
- (۶) بیجوں، جھنڈوں اور جھنڈیوں کی نمائش۔
- (۷) پمفلٹوں کی تقسیم، دیواروں پر پوسٹروں کی چسپائی، نیز دیواروں پر اشتہاروں کی لکھائی۔
- (۸) مٹھائیوں اور اشیائے خوردونوش کی تقسیم۔
- (۹) کوئی اور سرگرمی جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل یا مجروح کرے، یہ حکم فوری طور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر نافذ ہو گا اور دو ماہ تک مؤثر رہے گا۔
اس حکم کی میعاد ختم ہو جانے کے باوجود ہر کام جو کیا جائے ، ہر قدم جو اٹھایا جائے ، ہر فعل جو انجام دیا جائے ، ہر فرض یا ذمہ داری جو عائد کی جائے ، تعزیر یا سزا یا زیر التواء تفتیش ، تحقیقات یا کارروائی ، تفویض کردہ اختیارات سماعت یا اختیارات ، درجہ اوّل کے مجسٹریٹوں کی عدالت میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہونے والی تازہ کارروائی اور اس حکم کی تنقید کے دوران ارتکاب کردہ جرائم پر دی گئی سزا جاری رہے گی یا شروع رہے گی اور یہ تصور کیا جائے گا ، گویا یہ حکم زائد المیعاد نہیں ہوا۔ اس حکم کی ڈھول بجا کر ، سرکاری جریدہ میں شائع کر کے ضلع کی عدالتوں ، ایس. پی جھنگ ، اسسٹنٹ کمشنر ، تحصیل دار کے دفاتر ، میونسپل اور ٹاؤن کمیٹی ، نیز ضلع کے تمام تھانوں میں نوٹس بورڈز پر چسپاں کر کے وسیع پیمانہ پر تشہیر کی جائے گی۔
”آج مؤرخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو میرے دستخطوں اور عدالت کی مہر کے ساتھ جاری کیا گیا۔“
- ۱۶...... ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ نے ۲۵؍ مارچ کو حسب ذیل حکم جاری کیا تھا۔
”ابھی ابھی اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ نے بذریعہ ٹیلی فون اطلاع دی ہے کہ نوٹیفکیشن نمبر ۱۹۰۵ مؤرخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۸۹ء میں مزید توسیع کر دی گئی ہے اور یہ پابندی تا حکم ثانی جاری رہے گی۔ نیز انہوں نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ ناظر امور عامہ ، صدر عمومی جماعت احمدیہ ربوہ اور دیگر اکابرین کو اس ضمن میں مطلع کیا جائے اور انہیں ہدایت کی جائے کہ وہ ہر قسمی دروازے ، بینرز ، چراغاں کے متعلق بجلی کی تاروں وغیرہ کو اتار دیں اور اس امر کی تسلی کریں کہ دیواروں پر مزید عبارت ہرگز نہ لکھی جائے۔
(مؤرخہ ۲۵؍ مارچ ۱۹۸۹ء)
ان احکامات کے اجراء کا واقعاتی پس منظر یہ تھا کہ صد سالہ جشن کی تقریبات کی بابت اعلان ، احمدیہ جماعت کی مقامی تنظیم کے عہدیداروں کی طرف سے اخباروں میں کیا جاچکا تھا۔ احمدیوں کے بارے میں سال ۱۹۸۹ء کے دوران جو قانونی پوزیشن بتائی گئی ، وہ یہ تھی کہ ۱۹۷۴ء کی دستوری ترمیم کے ذریعے انہیں غیر مسلم قرار دیا جاچکا ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ اگرچہ احمدی زبانی طور پر یہ اقرار کرتے ہیں کہ ملک کا دستور دوسرے شہریوں کی طرح ان کے لئے بھی واجب التعمیل ہے ، تاہم وہ خود کو مسلمان کہلانے ، اپنے مذہب کو اسلام ظاہر کرنے اور ان القابات کو جو خالصتاً رسول اکرم ﷺ، اہل بیتؓ اور صحابہ کرامؓ کے لئے مخصوص ہیں ، مرزا قادیانی اور اس کے خاندان کے افراد کے لئے استعمال پر اصرار کرتے ہیں۔ اس لئے ۱۹۸۴ء میں احمدیوں کو وہ کچھ کہلانے سے ، جو کچھ وہ نہیں ہیں ، باز رکھنے کے لئے آرڈیننس نمبر ۲۰ نافذ کیا گیا۔ انہیں اس امر کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے امت مسلمہ کو دھوکہ دے سکیں۔ آئینی ترمیم پر عملدرآمد کے لئے مخصوص القابات کے استعمال پر پابندی کا حکم بھی جاری کیا گیا تا کہ قادیانی خود کو واضح طور پر یا کنایتاً مسلمان ظاہر نہ کرسکیں۔ مزید برآں مجیب الرحمٰن (سپرا) کے مقدمہ میں وفاقی شرعی عدالت یہ قرار دے چکی ہے کہ دستور کا آرٹیکل ۲۶۰(۳) قادیانیوں کو آئین وقانون کی اغراض کے لئے غیر مسلم قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل ۲۰ میں پاکستان کے شہریوں کے منجملہ دیگر امور ، یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ یہ آرٹیکل آئین کے دیگر مشمولات کے تابع ہے۔ حقیقت میں یہ چیز مسٹر مجیب الرحمٰن نے خود بھی تسلیم کی تھی۔ اس آرٹیکل کو آرٹیکل ۲۶۰(۳) کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس سے یہ مطلب بنتا ہے کہ: ”قادیانی اس امر کا اقرار کرنے کے مجاز ہیں کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ تاہم اپنے آپ کو مسلمان یا اپنے دین کو اسلام ظاہر نہیں کر سکتے۔“ دستوری فیصلہ اور ۱۹۸۴ء کے آرڈیننس نمبر ۲۰ کے ذریعے پابندی کے نفاذ کی وجوہات مجیب الرحمٰن سپرا کے مقدمہ میں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں ، جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ مرزا قادیانی کی طرف سے ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ، مہدی ، نبی یا رسول
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اکرم ﷺ کا بروز ہونے کا جو دعویٰ کیا گیا، اس نے عامۃ المسلمین، علمائے کرام اور ارباب علم و دانش میں ہمیشہ کے لئے یکساں دشمنی، غم وغصہ، ملامت اور اظہار ناراضگی پیدا کر دیا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۸۶ تا ۹۰، ج ۲ ص ۴۴ تا ۶۴، ۱۸۷ اور ج ۳ ص ۹۴)
خود اس کی زندگی میں مسلمانوں میں بار بار جنم لینے والے انتہائی اشتعال کی یہ ایک جھلک ہے۔ پاکستان کی تخلیق کے بعد ۱۹۵۳ء میں لاہور میں مارشل لاء کا نفاذ، منیر کمیٹی کی تشکیل اور ۱۹۷۴ء کی دستوری ترمیم، سب کے سب مسلمانوں کے زبردست احتجاج، جھنجھلاہٹ، کشیدگی اور کراہت و بیزاری کے آئینہ دار ہیں۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی ممانعت کرتی ہے اور اس معاملہ میں مسلمانوں کی اس بے چینی، اضطراب اور غم وغصہ کا روشن ثبوت پیش کرتی ہے۔ جسے بالآخر آرڈیننس کے ذریعے ممنوع قرار دیا گیا۔ مزید برآں رپورٹ کے صفحہ نمبر ۱۰۰ پر کہا گیا ہے: ”قادیانیوں نے امت مسلمہ کے افراد میں بڑی حد تک پنجاب میں تھوڑی بہت کامیابی اس سٹرٹیجی کے تحت حاصل کی کہ خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اصل اسلام ظاہر کیا اور دوسروں کو یقین دلایا کہ احمدی ازم (قادیانیت) کو قبول کرنے کا مطلب اسلام کو ترک کرنا یا اسلام سے کفر کی طرف مراجعت نہیں، انہوں نے لوگوں کو بہکایا کہ اگر وہ بہتر مسلمان بننا چاہتے ہیں تو احمدیت کے سایۂ عاطفت میں آجائیں۔ اسی غرض کے لئے حسب معمول انہوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی دکھتی رگ یعنی فرقہ بندی سے بیزاری اور علماء کی مذہبی معاملات میں سخت گیری و انتہاء پسندی پر ہاتھ رکھا اور انہیں مرزائیت، جسے وہ اسلام میں روشن خیالی کی علمبردار کہتے تھے، کی نام نہاد آغوش عافیت کی طرف لانے کی تگ و دو کی۔ ان کی یہ سٹرٹیجی اس گندم نما جو فروش تاجر سے ملتی جلتی تھی جو کسی مشہور و معروف فرم کا نام لے کر اپنا گھٹیا مال فروخت کرتا ہو۔ ان کی حکمت عملی ایک حد تک کامیاب رہی۔ اگر قادیانی یہ بات تسلیم کر لیں کہ ان کی تبلیغ، اسلام کے لئے نہیں، ایک دوسرے مذہب کے لئے ہے تو مسلمانوں میں جاہل اور غافل لوگ بھی اپنی متاع ایمان کو، بے ایمانی سے بدلنے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں، بلکہ اس سے، قادیانیت کے سحر میں اسیر قادیانی بھی چھٹکارا پانے کی فکر کرنے لگیں۔
دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ قادیانیوں نے خود کو مسلمان ظاہر کر کے ہر مسلمان کو، جس سے ان کی مڈبھیڑ ہوتی، اپنے مذہب کی دعوت دینے کی کوشش کی۔ وہ مرزا قادیانی کو نبی کہہ کر ان کے جذبات مجروح کرتے، کیونکہ ہر مسلمان رسول اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے، اس لئے یہ بات ان کے غم وغصہ کو بھڑکانے کا سبب بنتی اور نفرت میں اضافہ کرتی۔ اس سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی پر بڑی برہمی وخفگی کا اظہار کیا جاتا۔ یہ محض زبانی دعویٰ نہیں، قادیانیت کی تاریخ بلکہ خود مرزا قادیانی کی تصانیف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے نہ صرف علماء کی طرف سے بلکہ عامۃ المسلمین کی طرف سے بھی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘
۱۷...... اس لئے متنازعہ حکم کو مذکورہ بالا تاریخی و قانونی تناظر میں پرکھنا چاہئے۔ اس رٹ میں جس حق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، وہ مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق ہے۔ جس کی ضمانت دستور کے آرٹیکل ۲۰ میں دی گئی ہے۔ تاہم یہ حق دستور کے دیگر مشمولات، قانون، مصلحت عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا احمدیوں کی تقریبات کا انعقاد ”مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق‘‘ کی تعبیر وتوضیح میں آتا ہے یا نہیں؟ آیا قانون ایسی تقریبات کی ممانعت کرتا ہے؟ آیا ایسے حالات موجود ہیں جو امن عامہ قائم رکھنے کے لئے ایسی تقریبات پر پابندی کا تقاضا کرتے ہوں؟ ان سوالات کا جواب جاننے کے لئے اس طریق کار کو سمجھنا ضروری ہے، جس طریقے سے ان تقریبات کا انعقاد عمل میں آنا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ بات قابل غور ہے کہ رٹ میں جو مؤقف اختیار کیا، وہ یہ تھا: ”قادیانی تحریک کی سو سالہ تقریبات کو اعلانیہ طور سے منانا اور پوری صدی کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تذکرہ کرنا احمدیوں کا آئینی وقانونی حق ہے۔“ جب کہ دلائل کے دوران ان کے وکلاء کا کہنا یہ تھا: ”اگرچہ عام جلسے کرنا اور مذہبی موضوعات بشمول سیرت نبوی (ﷺ) جس میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا ذکر یقیناً شامل ہے، پر تقاریر کرنا ان کا حق ہے۔ تاہم اس کے لئے نہ تو کوئی پروگرام وضع کیا گیا تھا۔ نہ ہی ایسی تقاریر کرنا ان کا ارادہ تھا، جس سے ملکی قانون کی خلاف ورزی ہوتی۔“ بظاہر یہ مؤقف تعزیرات پاکستان کی زیر دفعہ ۲۹۸- اے، ۲۹۸- بی اور ۲۹۸- سی کو سامنے رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا، حالانکہ اس کی تردید جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع کردہ پمفلٹوں، جاری کردہ اشتہارات اور جماعت کے ترجمان روزنامہ ”الفضل“ میں شائع شدہ رپورٹوں اور خبروں سے ہوتی ہے۔ مسٹر سی اے رحمان ایڈووکیٹ نے بڑے وثوق سے یہ بات کہی کہ تقریبات کے تحت جلسہ ہائے عام منعقد کرنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا، نہ کوئی آرائشی گیٹ بنائے گئے تھے، جھنڈیوں، بیجوں اور پھریروں کی نمائش کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جلوس نکالنے کا بھی کوئی منصوبہ زیرغور نہیں تھا۔ جب کہ ۲۶؍مارچ ۱۹۸۹ء کے قادیانی روزنامہ ”الفضل“ نے اس کے بالکل برعکس کہانی شائع کر کے ڈھول کا پول کھول دیا۔ ”اخبار“ نے لکھا تھا: ”حکومتی احکامات کی تعمیل میں کوئی آرائشی گیٹ نہیں بنایا گیا، جب کہ اندازاً پچاس سے زائد آرائشی دروازے بنائے جانے تھے، نہ کہیں کوئی بینر آویزاں کیا گیا۔ جب کہ سینکڑوں کی تعداد میں بینر لگانے کا منصوبہ تھا۔ ربوہ میں منادی کی گئی۔ پولیس نے ۲۴ احمدی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ ان میں سے چار کو دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کے الزام میں اور بقیہ ۲۰ کو دفعہ ۲۹۸-سی. ت. پ نیز دفعہ ض. ف ۱۴۴ کی مشترکہ خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پٹاخے چلائے، نعرے لگائے، سینوں پر بیج سجائے اور محلوں میں پہرہ دیا۔ چار لڑکوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں ۔ جن پر ”Hundred Years of Truth“ (سچائی کے سوسال) لکھا ہوا تھا۔ اس جشن کی تیاری کا انتظام اس انداز میں کیا گیا تھا کہ اگر اسے آزادی سے منانے دیا جاتا تو دنیا کی تاریخ میں یہ ایک منفرد جشن ہوتا۔“
۱۸...... فاضل ایڈووکیٹ جنرل کے پیش کردہ مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ نے یہ جشن کھلے بندوں منانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سلسلہ میں جو پروگرام بنایا گیا، اس میں بانی جماعت اور اس کے رفقاء کی تعلیمات وافکار کا اعلانیہ پرچار اور ایسے بینرز کی نمائش شامل تھی جن پر طرح طرح کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر نعرہ تھا۔
”Hundred Years of Truth“ (سچائی کے سو برس) یہ نعرہ ان ٹی شرٹس پر بھی لکھا ہوا تھا جو سالگرہ کے لئے بطور خاص سلوائی گئی تھیں۔ بحث کے دوران سائلان کے فاضل وکلاء نے دعویٰ سے کہا کہ ان تقریبات میں احمدیہ کمیونٹی کے ارکان اور ان کے دوستوں نے خصوصی دعوت ناموں کے ذریعے شریک ہونا تھا۔ واقعاتی لحاظ سے ان کا یہ مؤقف قرین صداقت نہیں تھا۔ پس ایڈووکیٹ جنرل یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ صوبائی حکومت اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے امن وامان کے مسئلہ اور نقص امن کے اندیشہ کو اس کے صحیح واقعاتی اور قانونی تناظر میں جانچا، اس لئے اس عدالت کو بھی متنازعہ حکم کا جائزہ اس تناظر میں لینا ہوگا کہ سالگرہ کی تقریبات، پبلک میٹنگز کی شکل میں منعقد ہونی تھیں۔ جس میں صرف اراکین جماعت اور ان کے دوست ہی شرکت نہ کرتے بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی غیر ارادی طور پر ان اجتماعات میں شریک ہو جاتے۔
۱۹...... سائلوں کے فاضل وکلاء کی دوسری دلیل یہ تھی کہ نہ تو کوئی پروگرام تیار کیا گیا تھا نہ ہی کسی ایسی تقریر کا ارادہ کیا گیا تھا، جس سے ملکی قانون پامال ہوتا۔ ان کے بقول گزشتہ صدی (۱۸۸۹ء تا ۱۹۸۹ء) کے واقعات کو دہرانے، بانی جماعت اور اس کے رفقاء کے خیالات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وافکار، جیسا کہ ان کی تالیفات میں مذکورہ ہیں، کا اعادہ کرنے سے ملک کے کسی قانون کی پامالی کا خطرہ نہیں تھا۔ ان مقاصد کے لئے منعقد ہونے والے جشن پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس کے برعکس مسئول الیہان کا کہنا ہے کہ پیش نظر مقاصد حاصل کرنے کے لئے جو پروگرام بنایا گیا تھا ، اسے عملی جامہ پہنانے سے نہ صرف امن وامان کا سنگین مسئلہ کھڑا ہو جاتا ، جیسا کہ حکومت اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے قیاس کیا، بلکہ وہ سب کچھ خلاف اور زیر دفعہ ۲۹۸-سی ت۔پ کے ارتکاب جرم کے مترادف بھی ہوتا۔ اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا حکم مؤرخہ ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء جسے رٹ میں متنازعہ کہا گیا ہے، درست تھا۔
فاضل ایڈووکیٹ جنرل نیز مسئول الیہان کے فاضل وکلاء نے گزارش کی کہ جس قسم کے جلسوں کا اعلان مشتہر کیا گیا تھا، وہ بھی مسلمہ مقاصد کے لئے خواہ وہ سوسالہ جشن کی تقریبات کی شکل میں ہوتا یا بصورت دیگر امن عامہ کے لئے سخت خطرناک ثابت ہوتا۔ مزید عرض کیا گیا، اگرچہ یہاں قادیانی مذہب کی تبلیغ کرنے کے حق پر زیادہ زور نہیں دیا جا رہا بلکہ ایسے جلسے منعقد کرنے کا ذکر ہو رہا ہے جن میں مرزا قادیانی کے حالات زندگی اور مقام ومنزلت نیز گزشتہ ۱۰۰ سالوں کے دوران حاصل ہونے والی کامرانیوں کا تذکرہ کیا جاتا، جس کی غرض وغایت قادیانیت کی تلقین، تبلیغ اور تشہیر و پرچار کے سوا کچھ نہ ہوتی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ایک طرف خلاف قانون فعل کا ارتکاب عمل میں آتا ، دوسری طرف مسلمانوں نیز عیسائیوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی ۔ تقریبات کے اس پہلو کو نمایاں کرنے کی غرض سے مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کی تعلیمات وافکار کو درج ذیل عنوانات کے تحت نقل کیا گیا تھا۔
- (۱) مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور فضیلت میں خود رسالت مآب آنحضرت ﷺ سے سبقت لے جانے کا خبط۔
- (۲) خداوند تعالیٰ کی شان میں گستاخانہ کلمات۔
- (۳) حضرت عیسیٰ روح اللہ کے بارے میں غلیظ اور توہین آمیز عبارات۔
- (۴) اہل بیت اطہار (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی شان میں بے ادبی وگستاخی پر مبنی ریمارکس۔
- (۵) امت مسلمہ کو گروہ منافقین اور قادیانیوں سے جداگانہ ملت ظاہر کرنے والی تحریریں۔ نیز مسلمانوں کے مستند علماء کے
بارے میں ہفوات۔
۲۰....... مسلمانوں کے متعلق مرزائیوں کی کتابوں میں مذکورہ متنازعہ آراء، افکار اور نظریات وتعلیمات جو بحث کے دوران پڑھ کر سنائی گئیں، انہیں یہاں درج کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کا نقل کرنا، مزید احتجاج وہنگامہ آرائی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ سائلان کے فاضل وکیل مسٹر مبشر لطیف احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی کارروائی کو اخبارات میں رپورٹ کرنے سے وہ تاریخیں، جن تاریخوں پر مذکورہ موضوعات زیر بحث آتے تھے، احمدیوں کے خلاف نفرت وعداوت کے بھڑکنے کا امکان ہے۔ جب کہ مسٹر مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ کا استدلال یہ تھا کہ مذکورہ بالا عنوانات کے تحت جو مواد پیش کیا گیا، وہ تازہ ترین کتابوں سے اخذ کردہ نہیں ہے۔ پچھلی ایک صدی کے دوران یہ کتابیں بار بار چھپی ہیں، اگر وہ مواد پچھلے عرصہ میں اشتعال انگیز نہیں تھا تو سوسالہ جشن کے موقع پر اسے اشتعال انگیز کیوں سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ۱۹۸۳ء تک جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسے ربوہ میں منعقد ہوتے رہے، حکومت لوگوں کی سہولت کے لئے سپیشل ٹرینیں چلاتی رہی۔ کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور قادیانی مذہب کبھی امن عامہ میں خلل کا موجب نہیں بنا تو جشن کی تقریبات منانے سے کون سی قیامت آ جاتی؟
ہمارے خیال میں فاضل وکیل کا یہ استدلال، قادیانی مذہب اور مرزا قادیانی کی نبوت کے خلاف مسلمانوں کے غیظ وغضب اور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان کی شدید مخالفت و مزاحمت سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کے بارے میں جو انتہائی ناشائستہ اور گندی زبان میں تحریریں لکھیں ، مشتے از خروارے کے طور پر ان سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔ یادرہے کہ مرزا قادیانی نے پہلے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور خود کو مسیح موعود کی صورت میں حضرت عیسیٰ کا بدل ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ مسیح موعود ابن مریم کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس نے دعویٰ سے کہا :
”خدا نے براہین احمدیہ‘‘ (مرزا قادیانی کی تالیف جو ان پر نازل ہونے والے الہام وانکشافات پر مشتمل ہے) کی تیسری جلد میں میرا نام میری (مریم) رکھا۔ عرصہ دو سال تک مریم کی طرح تنہائی کی حالت میں میری پرورش کی گئی اور میری تربیت زنانہ خلوت میں ہوئی ۔ پھر عیسیٰ کی روح بھی پھونکی گئی ، بالکل اسی طرح جیسے یہ روح حضرت مریم کے نفس میں پھونکی گئی تھی ۔ اس طرح مجازی معنوں میں مجھے بھی حاملہ سمجھا گیا ، کئی ماہ کی مدت ( جو ۱۰ ماہ سے زیادہ نہیں تھی) کے گزرنے پر براہین احمدیہ کی چوتھی جلد میں شامل الہام کے ذریعے مجھے مریم کے بطن سے جدا کر کے عیسیٰ بنایا گیا۔ یوں میں عیسیٰ ابن مریم بنا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے براہین احمدیہ کے زمانہ نزول کے دوران اس مخفی راز سے مطلع نہیں کیا ۔“
(کشتی نوح ص ۴۶، ۴۷ ، مشمولہ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۵۰)
- ۲۱...... معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا ، مرزا قادیانی نے اپنی نگارشات میں حضرت عیسیٰ کے متعلق انتہائی توہین آمیز، لعنت ملامت پر مبنی اور
اشتعال انگیز باتیں لکھی ہیں ۔ اگر چہ کسی مستند کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ (نعوذ باللہ ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام بدزبان اور فحش گو یا شہوت پرست تھے۔ لیکن مرزا قادیانی کے قلم سے اللہ کے اس برگزیدہ، مقدس اور معصوم نبی کے بارے میں ایسے ایسے ناپاک خباثت پر مبنی اور بے ادبی و گستاخی کے حامل جھوٹے کلمات نکلے اور اس نے بار بار روح اللہ پر ایسے گھناؤنے الزام لگائے کہ الامان والحفیظ ! ان میں سے بعض ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں۔
- ۞...... ”عیسیٰ میں فحش گوئی کی عادت تھی اور وہ اکثر گندی زبان استعمال کرتے تھے ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۳ بقیہ حاشیہ ، مشمولہ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
- ۞...... ”مسیح کے کردار کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ عیسیٰ ایک شرابی کبابی شخص تھے، نہ وہ کبائر سے پرہیز کرتے تھے نہ ہی حقیقی
متقی و پارسا تھے۔ وہ سچائی کے متلاشی بھی نہ تھے ۔ حقیقت میں وہ ایک مغرور ، انا پرست اور الوہیت کے جھوٹے دعویدار تھے۔“
(نورالقرآن ص ۸ ، مشمولہ روحانی خزائن ج ۹ ص ۳۸۷)
- ۞...... ”الکحل شراب کے استعمال نے اہل یورپ کو جو زبردست اخلاقی و معاشرتی نقصان پہنچایا ، اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ خود عیسیٰ
شراب استعمال کرتے تھے ۔ شاید کسی بیماری کے باعث یا پرانی عادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ۔“
(کشتی نوح ص ۶۵ حاشیہ، مشمولہ روحانی خزائن ج ۱۹ ص ۷۱)
- ۞...... ”عیسیٰ خود کو ایک پارسا شخص کے طور پر پیش نہیں کر سکے۔ کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ وہ ایک شرابی کبابی شخص تھے۔“
(ست بچن ص ۱۷۲ حاشیہ ، مشمولہ خزائن ج ۱۰ ص ۲۹۶)
- ۲۲...... مرزا قادیانی نے خدا کے اس محبوب نبی کا مذاق اڑانے اور ان کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے میں بائبل کو بھی مات کر دیا۔
مثال کے طور پر اس کی درج ذیل عبارتیں ملاحظہ کیجئے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۞ ...... "عیسیٰ میں طوائفوں کے لئے زبردست رغبت اور اشتیاق پایا جاتا تھا۔ شاید ان کے ساتھ آبائی تعلق اس کا سبب ہو، وگرنہ کوئی
پارسا اور نیکو کار شخص کسی نوجوان فاحشہ کو یہ اجازت ہرگز نہیں دے سکتا کہ وہ اپنے ناپاک ہاتھوں سے اس کی مالش کرے اور بدکاری کی کمائی سے خریدی ہوئی خوشبو (روغن) سے اس کے سر پر مساج کرے اور اپنے بالوں سے اس کے پاؤں کو صاف کرے۔ سمجھدار آدمی خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ کس قسم کے کردار کے حامل تھے۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص۳ بقیہ حاشیہ، مشمولہ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
- ۞ ...... "ایک حسین طوائف ان کے اس قدر قریب بیٹھی ہوتی تھی کہ جیسے ان سے بغل گیر ہورہی ہو۔ بعض اوقات وہ خوشبودار تیل سے
ان کے سر میں مساج کرتی ...... بالوں سے ان کے پیر رگڑتی۔ بعض اوقات اپنی سیاہ زلفیں ان کے قدموں پر ڈال دیتی۔ کبھی ان کی گود میں بیٹھ کر کھیلنے لگتی۔ ایسی صورت میں جناب مسیح ترنگ میں آجاتے ، کوئی اعتراض کرے تو اس پر لعن طعن کی جاتی۔ نوجوانی کے بعد وہ شراب کے رسیا اور مجرد ہوتے ہوئے بھی ایک خوبصورت طوائف کو اپنے پاس لٹائے رکھتے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے اس کے جسم کو چھوتے ، کیا یہ کسی پارسا شخص کا طرزعمل ہوسکتا ہے؟ اور اس بات کا کیا ثبوت یا شہادت موجود ہے کہ بازاری عورت کے یوں مس کرنے سے عیسیٰ اشتعال میں نہیں آتے ہوں گے۔ افسوس ہے نگاہیں اس عورت کے تن سے پار کرنے کے بعد جنسی تسکین کے لئے انہیں بیوی میسر نہیں تھی۔ اس بدبخت چنچل و شوخ حسینہ کو چھونے کے بعد کیا جانے ان کی کیا حالت ہوتی ہوگی۔ شہوانی جذبات یقیناً مشتعل ہوتے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰؑ اتنی سی بات کہنے کے لئے بھی اپنی زبان کو جنبش نہیں دیتے تھے کہ : "اے فاحشہ مجھ سے دور ہو جا۔" بائبل سے یہ بات بخوبی ثابت ہے کہ وہ عورت طوائفوں میں سے ایک تھی جو بدکاری اور فحاشی کے لئے پورے شہر میں بدنام تھی۔"
(نور القرآن ص ۴۷، مشمولہ روحانی خزائن ج ۹ ص ۴۲۹)
- ۲۳ ...... مرزا قادیانی کی محولہ بالا روایت کے برعکس بائبل میں یہ داستان اس طرح بیان کی گئی ہے۔ "اور فریسیوں میں سے ایک نے اس
سے کہا کہ وہ اس کے گھر کھانا کھائے۔ وہ فریسی کے گھر گیا اور کھانے پر بیٹھ گیا اور دیکھو! شہر کی ایک عورت جو کہ گناہگار تھی، جب یہ پتہ چلا کہ عیسیٰ ایک فریسی کے ہاں کھانا کھا رہے ہیں تو وہ سنگ جراحت کے بکس میں روغن لائی اور روتی ہوئی ان کے قدموں میں کھڑی ہوگئی اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤں سے دھونے لگی۔ پھر اپنی زلفوں سے ان کے پاؤں صاف کئے۔ انہیں بوسہ دیا اور پاؤں پر روغن سے مساج کرنے لگی۔ جب فریسی نے جس نے اسے بلایا تھا، یہ منظر دیکھا تو وہ اپنے دل میں سوچنے لگا۔ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو اسے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ یہ عورت کون ہے اور کیسی ہے، جو اسے چھو رہی ہے۔ کیونکہ وہ بدکار ہے۔ (اس کی بات سن کر) عیسیٰ نے جواب میں کہا سائمن مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔ وہ بولا ! آقا فرمائیے۔ عیسیٰ نے کہا ایک ساہوکار تھا، اس سے دو آدمیوں نے قرض لے رکھا تھا۔ ایک نے ۵۰۰ پینس اور دوسرے نے ۵۰ پینس۔ دونوں قلاش تھے اور ان کے پاس ادائیگی کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ ساہوکار نے بڑی فراخ دلی سے دونوں کا قرض معاف کر دیا۔ تم بتاؤ ان دونوں میں سے اسے کون زیادہ پیار کرے گا؟ سائمن نے جواب دیا: "جس کا زیادہ قرضہ معاف کیا گیا۔" تب عیسیٰ نے کہا تم نے صحیح اندازہ لگایا ہے۔ پھر وہ اسی عورت کی طرف پلٹے اور سائمن سے فرمایا: "تم نے اس عورت کو دیکھا ہے؟ میں تمہارے گھر میں داخل ہوا تو تم نے ہاتھ، پاؤں دھونے کے لئے مجھے پانی تک نہیں دیا۔ جب کہ اس نے اپنے بالوں سے میرے پیر صاف کئے۔ تم تو مجھ سے بغل گیر نہیں ہوئے لیکن یہ عورت، جب سے میں گھر میں داخل ہوا ہوں میرے پاؤں چومنے سے باز نہیں آتی۔ تم نے میرے سر میں سادہ تیل نہیں لگایا۔ جب کہ اس نے خوشبودار روغن سے مالش کی ہے۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں اس کے گناہ زیادہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھے، معاف کر دیئے گئے ہیں۔ اس لئے وہ مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہے، جس کے تھوڑے گناہ معاف کئے گئے ہیں، وہ کم محبت کرتا ہے۔‘‘ جو لوگ ان کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے تھے، آپس میں کہنے لگے، یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کر دیتا ہے؟‘‘ عیسیٰ نے اس عورت سے کہا: ’’تمہارے ایمان نے تمہیں بچالیا ہے۔ اب تم امن سے رہو۔‘‘
( The New Testament, St. Luke Ch.7: 36-50)
پروٹسٹنٹ مذہب کی کتاب مقدس ”گوسپل“ میں اس روایت کی اس طرح تصدیق کی گئی ہے۔ ”پھر میری نے ایک پاؤنڈ سپائک نارڈ (انتہائی قیمتی) روغن لیا، اس سے عیسیٰ کے پیروں کی مالش کی، ان کے پاؤں اپنے سر کے بالوں سے صاف کئے، اس کا گھر روغن کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ پھر ان کے حواریوں میں سے ایک سائمن کا بیٹا جوداس اسکریوٹ بولا، اسے کس چیز نے گمراہ کر دیا۔ یہ روغن ۳۰۰ پینس میں فروخت کر کے وہ رقم غریبوں میں کیوں نہ بانٹ دی گئی؟ اس لئے نہیں کہ اسے غریبوں کا فکر نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ چور ہے۔‘‘ ان کے پاس ایک تھیلا تھا جو خالی تھا، اس میں کیا ڈالا گیا؟ اس پر عیسیٰ بولے: ”اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، میری تدفین کے روز یہ تھیلا اس کے ساتھ ہو گا۔ کیونکہ میں ہمیشہ غریبوں کا ساتھی رہا ہوں، لیکن تم میرے ساتھ نہیں رہے۔“
( The New Testament, St. John Ch.12: 3-8)
اور متی کی انجیل میں یہی واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے: ”اب یہ کہ عیسیٰ بیتعانی میں سائمن کوڑھی کے گھر میں تھے۔ ان کے پاس ایک خاتون آئی۔ اس کے ہاتھ میں سنگ جراحت کا ایک بکس تھا، جس میں انتہائی مہنگا روغن تھا۔ اس نے وہ روغن اس کے سر میں ڈالا اور وہ دسترخوان پر بیٹھ گئے۔ جب حواریوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ بڑے برہم ہوئے اور کہنے لگے۔ اس ضیاع کا کیا مقصد ہے؟ کیونکہ یہ روغن خاصی قیمت پر فروخت ہو سکتا تھا اور وہ رقم مفلسوں میں بانٹی جاسکتی تھی۔ عیسیٰ ان کا مطلب سمجھ گئے اور بولے: ”اے خاتون تو نے اتنی تکلیف کیوں کی ؟ تو نے میرے ساتھ نیکی کی ہے لیکن میں ہمیشہ تیرے پاس نہیں رہوں گا۔ چونکہ تم نے میرے سر میں تیل ڈالا ہے، یہ تو نے میری تدفین والے دن کے لئے کیا ہے۔ یقیناً میں تم سے کہتا ہوں، میری یہ عقیدت مند جہاں کہیں بھی ہوگی، دنیا بھر میں اس کا چرچا کرے گی۔ میں بھی یہی کہوں گا کہ اس عورت نے ایسا کیا تھا۔‘‘ پھر عیسیٰ نے اس عورت کی یادگار کے بارے میں انکشاف کیا۔“
( The New Testament, St. Mathew Ch.26: 6-13)
۲۴...... اس مسخ شدہ روایت کا دقت نظر سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں بہت سی درپردہ تعریضات اور جھوٹے الزامات شامل ہیں۔ مثال کے طور پر:
- گویا وہ ان سے بغل گیر ہو رہی تھی۔
- وہ ان کی آغوش میں کھیل رہی تھی۔
- جناب عیسیٰ کسی ترنگ میں بیٹھے ہوئے تھے۔
- ایک حسین طوائف ان کے سامنے لیٹی ہوتی ہے...... ان کے بدن کو مس کر رہی ہے...... عیسیٰ شہوانی اشتعال میں ہوتے تھے۔ وغیرہ!
ان لغویات و خرافات کا اضافہ اس خیال سے کیا گیا ہے تاکہ عیسیٰ علیہ السلام کو بدنام کیا جائے۔ حالانکہ تعصب پر مبنی بائبل میں شامل ایسی حکایتوں میں بھی حضرت عیسیٰ روح اللہ کو اس رنگ میں کہیں پیش نہیں کیا گیا۔ اصل کہانی یوں ہے کہ کوئی بدکار عورت چیختی چلاتی ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی تاکہ اسے اس کے گناہوں کی معافی مل جائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسے بشارت دی تھی کہ: ”تمہارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۵...... اسی پر بس نہیں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو بھی نشانہ تحقیر وتضحیک بنایا ہے۔ مرزا قادیانی کا محولہ بالا اسلوب بیان اور نقطہ نظر قرآن حکیم میں مذکور حضرت عیسیٰ کے مقام مرتبہ اور ان کی شان ومنزلت کے بالکل الٹ ہے۔ پورا قرآن ( مسلمانوں کی مقدس کتاب ) کسی ایسے بیان سے قطعاً پاک ہے، جو حضرت عیسیٰ کو کسی بھی طور منفی انداز میں پیش کرے یا ان کی تنقیص کا پہلو نکلتا ہو۔ اس کے برعکس سارا قرآن ان کی تعریف وتوصیف میں رطب اللسان ہے اور انہیں اللہ کے پانچ جلیل القدر اور اولوالعزم پیغمبروں میں شمار کرتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی یہ آیت ملاحظہ فرمائیے : ” اے نبی ! کہو کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں ۔ اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے۔ ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم، اسماعیل ، اسحاق، یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل ہوئی تھیں اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰ ، عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان (مسلم) ہیں۔“
(آل عمران : ۸۴)
قرآن حکیم حضرت عیسیٰ ان کی والدہ ماجدہ اور ان کے خاندان کی شان میں یوں مدح سرا ہے۔ ”اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراہیم، آل عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی ) رسالت کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ یہ سب ایک ہی سلسلہ کے لوگ تھے جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔“
وہ اس وقت سن رہا تھا جب عمران کی عورت اس سے کہہ رہی تھی ۔ ” اے میرے پروردگار میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے، تیری نذر کرتی ہوں ۔ وہ تیرے ہی کام کے لئے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبول فرمالے۔ تو سننے والا اور جاننے والا ہے ۔“
پھر جب اس کے ہاں اس بچی نے جنم لیا تو اس نے کہا : ” میرے مالک ! میرے ہاں تو بچی پیدا ہوگئی ہے ۔“ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی ، اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا ۔ خیر میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
آخر کار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول کر لیا ۔ اسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اٹھایا اور زکریا کو اس کا سر پرست بنا دیا۔ زکریا جب کبھی محراب میں اس کے پاس جاتا تو وہاں کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ہے؟ وہ جواب دیتی ، اللہ کے ہاں سے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بے حد وحساب رزق دیتا ہے۔
(آل عمران ۳۳ تا ۳۷)
اس سے آگے ارشاد ہوتا ہے : ” اور یاد کرو پھر وہ وقت آیا جب فرشتوں نے آکر مریم سے کہا : اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطاء کی اور تجھے تمام دنیاوی عورتوں پر ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لئے چن لیا ہے۔ اے مریم ! اپنے رب کی تابع فرمان بن کر رہ، اس کے آگے سر بسجود ہو اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں، ان کے ساتھ تو بھی جھک جا۔“
(آل عمران:۴۲، ۴۳)
قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ ولادت کو بھی پرعظمت وتوقیر انداز میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ اس سورۃ میں ذرا آگے چل کر فرمایا گیا ہے :
- ٭...... ”اور (یاد کرو ) جب فرشتوں نے کہا : اے مریم ! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح (عیسیٰ ابن مریم)
ہوگا۔ وہ دنیا و آخرت میں معزز ہوگا۔ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا۔“
- ٭...... ”(وہ ) لوگوں سے گہوارہ میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔“
(آل عمران : ۴۵ تا ۴۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی طرح سورۂ مریم میں جناب روح اللہ کی پیدائش کے واقعہ کو اس دل نشین انداز میں بیان کیا گیا ہے: ”اور (اے نبی) اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہوگئی تھی اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی۔ ایسے میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح (فرشتہ) کو بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہوگیا۔ مریم یکا یک بول اٹھی کہ: ”اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ۔“ اس نے کہا: میں تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔ مریم بولی: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا۔ جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں۔ فرشتہ نے کہا: ایسا ہی ہوگا۔ تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لئے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہوکر رہے گا۔“
مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لئے ایک دور کے مقام پر چلی گئی۔ پھر زچگی کی تکلیف نے اسے ایک درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی: ”کاش! میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا ۔“ فرشتہ نے پائتی سے اس کو پکار کر کہا: ”غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے اور تو ذرا اس درخت کے تنے کو ہلا ، تیرے اوپر تر و تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر تجھے کوئی آدمی نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لئے روزہ کی نذر مانی ہے۔ اس لئے میں آج کسی سے نہیں بولوں گی۔“
پھر وہ اس بچہ کو لئے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے : ”اے مریم! یہ تو تو نے بڑا پاپ کر ڈالا ہے۔ اے ہارون کی بہن نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی ۔“ مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔ لوگوں نے کہا: ”ہم اس سے کیا بات کریں، جو گہوارہ میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے ۔“ (اس پر) بچہ بول اٹھا : ”میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا اور با برکت کیا، جہاں بھی میں رہوں اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا۔ جب تک میں زندہ ہوں، اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا اور مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا۔ سلام ہے مجھ پر جب کہ میں پیدا ہوا، اور جب کہ میں مروں اور جب کہ میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں ۔“
(مریم:۱۶ تا ۳۳)
- ۲۶...... علاوہ بریں مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے قائدین یا لوگوں کی تحقیر و تضحیک کرنے سے منع فرمایا گیا ہے تا کہ دوسروں کو ان کے
سرداروں کی توہین و تذلیل کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ یہ درست ہے کہ مسلمان اور عیسائی علمائے دین کے مابین بعض پہلوؤں پر دیانتدارانہ اختلافات موجود ہیں۔ تاہم یہ اختلافات ایک دوسرے کے مذہب یا پیغمبر کی تنقیص و بے حرمتی کی بنیاد یا جواز نہیں بن سکتے ۔ رسول اکرم ﷺ سے مروی ہے ، ابو ہریرہؓ کہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں مجھے عیسیٰ سے زیادہ قربت ہے۔ کیونکہ تمام انبیاء آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ یعنی گو سب کی مائیں مختلف ہیں لیکن دین سب کا ایک ہے ۔“
(صحیح مسلم، کتاب الفضائل اردو ترجمہ رئیس احمد جعفری ج ۲ ص ۱۴۸۰)
- ۲۷...... مرزا قادیانی کی یہی تحریریں اور افکار و خیالات تھے جن کی بناء پر مسلمانوں نیز عیسائیوں نے ان کے دعوئی نبوت اور مسیح موعود
ہونے کے ادّعا کی مخالفت کی خود مرزا قادیانی کی زندگی میں، پھر اس کی وفات کے بعد اور قیام پاکستان کے بعد بھی ایسے واقعات ظہور پذیر ہوئے ، جب عوامی احتجاج ۱۹۵۳ء لاہور میں مارشل لاء کے نفاذ کا سبب بنا اور ۱۹۷۴ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ایک ٹرین پر مرزائیوں کے حملہ کے نتیجہ میں ملک گیر ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”حمامۃ البشریٰ“ میں اپنے خلاف مسلمانوں کے عمومی غم و غصہ کا ذکر اس طرح کیا ہے ۔ ” یہ میرا دعویٰ ہے جس پر لوگ (غیر احمدی مسلمان ) میرے ساتھ جھگڑتے ہیں اور مجھے مرتد سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بڑا شور مچایا اور اس آدمی کی قدر نہ جانی ، جس پر اللہ کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔ انہوں نے مجھے غدار ، جھوٹا، مکار اور مرتد
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا۔ اگر انہیں حکمرانوں کے تیر و تفنگ کا ڈر نہ ہوتا تو مجھے کبھی کا جان سے مار ڈالتے۔‘‘
(حمامة البشریٰ ص ۸، خزائن ج ۷ ص ۱۸۲)
ان نگارشات کی اشتعال انگیز نوعیت ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ بعض دوسری عبارتوں میں مرزا قادیانی کے ایسے خیالات شامل ہیں جو امت مسلمہ کے افکار و خیالات کے عین مطابق ہیں۔ مسٹر مجیب الرحمٰن کا ایسی تحریروں کا بھروسہ کرانا مناسب ہے، اسے ظاہر کرنے کے لئے صرف ایک خاص مثال نقل کی جاتی ہے اور اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے جو سائلان کے فاضل وکلاء کے اس مؤقف کی تردید کرتی ہے کہ تاریخ کو دہرانا اور مخصوص خیالات کا اعادہ زیر دفعہ ۲۹۸-سی ارتکاب جرم کے مترادف نہیں۔
۲۸...... نوجوانوں کی ٹی شرٹس یا بینرز یا آرائشی گیٹوں پر لکھے ہوئے نعرہ ’’سچائی کے سو سال‘‘ کو لیجئے۔ اس سے کیا سمجھانا اور ذہن نشین کرانا مقصود ہے؟ احمدیہ جماعت کی صد سالہ تقریبات کے پس منظر میں اس نعرہ پر غور کیا جائے تو اس سے یہ پیغام پہنچانا مطلوب ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا جو دعویٰ کیا، وہ درست ہے۔ مرزائیوں کا یہ عقیدہ کہ اصل میں امت مسلمہ انہی پر مشتمل ہے، درست ہے۔ دوسرے لوگ جو مرزا قادیانی کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے، وہ رافضی و بدعتی ہیں۔ ’’تم بھاری اکثریت والے دستوری فیصلہ آجانے کے باوجود رافضی ہو۔‘‘ فاضل ایڈووکیٹ جنرل نے بجا طور پر کہا کہ اگر پابندی کا یہ حکم جاری نہ کیا جاتا تو اس قسم کی اشتعال انگیزی امن و امان کی سنگین صورتحال پیدا کر دیتی۔ ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ممنوعہ افعال کو انفرادی طور پر لیا جائے تو وہ قابل نفرت و مکروہ، دل آزاری کرنے والے اور ضرر رساں نہیں لگتے۔ مثلاً آرائشی دروازے لگانا، جھنڈے لہرانا، عمارت پر چراغاں کرنا، غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانا، یا کسی شخص کا نئے کپڑے زیب تن کرنا، نہ ہی وہ دوسروں کے لئے موجب تکلیف و باعث آزار بنتا ہے۔ ان افعال کو کئے گئے اعلانات اور مطلوبہ مقاصد سے جو پیغام پہنچانا مقصود ہے اور ان کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ردعمل کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ ان افعال کو تاریخی تناظر میں لیا جائے تو ایک اقلیتی جماعت کی طرف سے انہیں خالی از خطر اور بے ضرر قرار نہیں دیا جاسکتا جو اپنے ماضی کی یاد منانا اور اپنے بانی مؤسس نیز قائدین کی مدح و ثناء کرنا چاہتی ہو۔ بہر حال اس طرح کے اعلانیہ اظہار و اعلانات کسی خاص مذہب کی پیروی کرنے اور اس پر عمل کرنے کے حق کے ذیل میں کیسے آسکتے ہیں؟ یہ استدلال کہ ان افعال کی انجام دہی قانوناً جائز ہے۔ اس لئے جائز کاموں کی انجام دہی پر زیر دفعہ ۱۴۴ ض.ف محض اس لئے پابندی عائد نہیں کی جاسکتی کہ ایک شخص کی طرف سے کسی کام کو قانون کے مطابق کرنا دوسرے کی طرف سے خلاف قانون کام کرنے کا سبب نہ بن جائے اور یہ کہ احتیاطی تدابیر ایسے شخص یا مجموعہ اشخاص کے خلاف عمل میں لائی جاتی ہیں جن کی طرف سے خلاف قانون کام کئے جانے کا اندیشہ ہو، اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
۲۹...... سائلان کے فاضل وکلاء نے مذکورہ بالا دلائل پیش کرتے ہوئے فرض کر لیا کہ یہ افعال جن کے کرنے پر پابندی لگائی گئی یا سالگرہ کی تقریبات جیسا کہ ان کے انعقاد کا منصوبہ بنایا گیا ہے، بے ضرر، غیر دل آزار، غیر مضر بلکہ قانوناً جائز تھے، یہ مفروضہ درست نہیں۔ یہ فرض کرنا کہ کسی قسم کی نفرت و بیزاری پیدا نہ کرنے یا مزاحمت اور بے چینی و اضطراب کو نہ بھڑکانے کا پختہ عزم کر لیا گیا تھا۔ اس کے باوجود یہ ردعمل کہ ان تقریبات کا صحیح طور سے ادراک کر لیا گیا تھا۔ مفاد عامہ کے تحت زیر اعتراض احکام کے جاری کرنے کا معقول جواز فراہم کرتا ہے۔ فاضل وکلاء نے جس اصول پر انحصار کیا، وہ بیٹی بنام گلبانکس (1882) 9Q.B.D.308 میں طے پایا تھا۔ اس کے حقائق یہ تھے کہ مکتی فوج (Salvation Army) کے ممبران گلیوں میں سے مارچ کرتے ہوئے گزرنے پر مصر تھے۔ جب کہ مقامی فوج اس کے زبردست خلاف تھی اور مجسٹریٹ نے بھی یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ انہیں گلیوں میں سے نہیں گزرنا چاہئے۔ ڈویژنل کورٹ نے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسا فعل قانون کے مطابق کرنے پر سزا نہیں دی جاسکتی، خواہ اسے معلوم ہو کہ اس کا ویسا کرنا دوسرے شخص کو خلاف قانون کام کے انجام دینے پر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اکسانے کا سبب بن سکتا ہے، مجرمانہ مواخذہ کی تقسیم میں یہ فیصلہ صحیح لگتا ہے، تاہم کسی مقدمہ میں اس کی پیروی نہیں کی گئی۔ پولیس کے ریاستی اختیارات کے استعمال سے متعلق مقدمات میں، جو امن عامہ کے قیام سے تعلق رکھتے ہوں، اس اصول کے اطلاق میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمسفر بنام کونر (17-1864-IR.CLR.I) جس میں ایک پولیس مین کے خلاف مار پیٹ کی شکایت کی گئی تھی۔ آئرلینڈ کی عدالت نے قرار دیا کہ کانسٹیبل مدعی کے کپڑوں پر سے نارنجی سوسن کے پھول کو ہٹانے کا مجاز تھا۔ کیونکہ ایک ہجوم کے درمیان نقص امن کو روکنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ وہاں اس علامت نے عناد پیدا کر دیا تھا۔ (دیکھئے جی. پی ولسن کی کتاب Cases and Materials in Const. And Admin. Law) کا صفحہ نمبر ۶۹۳۔ اسی طرح اوکلے بنام ہاروے میں ایک مجسٹریٹ کو ایک قانونی جلسہ کو منتشر کرنے کا مجاز ٹھہرایا گیا۔ کیونکہ وہ یہ فرض کرنے کی کافی وجوہ رکھتا تھا کہ جلسہ کے مخالفین آئرستان کی سیاسی انجمن کے لوگ تشدد اور طاقت سے کام لیں گے اور امن کی بحالی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ (دیکھئے ولسن کیسز ص ۶۰۵) یہاں ضمناً یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ قادیانیوں کی طرف سے ایسے جھنڈوں کی نمائش جن پر کلمہ طیبہ کڑھا ہوا یا لکھا ہوا ہو، بر محل ہیں۔ ایسی صورتوں میں بھی جہاں الفاظ یا طرز عمل اشتعال انگیز یا توہین آمیز ہو، قیام امن و امان کے لئے پولیس کی طاقت استعمال کی جاسکتی ہے۔ وائز بنام ڈنگ (1902-I.K.B-167) کا حوالہ بھی دیا جاسکتا ہے۔ اس نالش میں ایک پروٹسٹنٹ مبلغ کو اس کی طرف سے رومن کیتھولک مذہب پر بار بار حملوں کے بعد لیورپول کے علاقہ میں قیام امن کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور امن میں خلل پڑ گیا تھا۔ قرار دیا گیا کہ حقائق کی رو سے مجسٹریٹ اس امر کا مجاز تھا کہ کیتھولک فرقہ کی طرف سے معاندانہ جواب کو وائز کے توہین آمیز رویہ کے قدرتی نتیجہ پر محمول کرتا۔
۳۰...... اب ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا کلمہ طیبہ والے بینرز کی نمائش توہین آمیز اور دل آزار ہے یا نہیں۔ فاضل ایڈووکیٹ جنرل اور مسئول الیہان کے فاضل وکلاء کے مطابق ”محمد“ رسول اللہ ﷺ کے الفاظ سے قادیانی، مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں اور اس کی طرف نسبت کرتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی نے خود ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ بھی کیا اور اس کے پیرو کار اسے ایسا ہی مانتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جب قادیانی جھنڈے لہراتے ہیں یا اپنے سینوں پر بیج سجاتے ہیں تو وہ رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ اپنے اس ادّعا کی حمایت میں ”کلمۃ الفصل“ سمیت مرزا بشیر الدین محمود کی کتابوں کے حوالے پیش کئے جس میں لکھا ہے کہ:
- ...... ”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی
ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پڑتی۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)
”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے صفحات ۱، ۲، ۳، ۵ اور ۶ پر درج ذیل عبارتیں موجود ہیں۔
- ...... ص۱: ”اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
- ...... ص۲: ”اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد ہی کو ملی۔ غرض میری نبوت و رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔“
- ...... ص۳: ”کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔“
- ...... ص۵: ”چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں...... یعنی میں، جب کہ بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں۔“
- ...... ص۶: ”اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت
و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی ، علیه الصلوٰة والسلام!“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱، ۲، ۳، ۵، ۶، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۷، ۲۰۸، ۲۰۹، ۲۱۲، ۲۱۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسئول الیہان کے فاضل وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مفہوم اور عقیدہ کے ساتھ کلمہ طیبہ والے جھنڈوں کا لہرانا یا بیجوں کا لگانا تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸-سی کے تحت جرم کے مترادف ہے۔
۳۱...... اس مرحلہ پر سائل مرزا خورشید احمد کی طرف سے داخل کردہ بیان حلفی کا حوالہ دینا مناسب ہوگا۔ اس کے پیراگراف نمبر ۴، ۵ میں کہا گیا ہے۔
۴...... یہ کہ اقرار کنندہ صدق دل سے اقرار کرتا ہے کہ جب وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے تو ”محمد رسول اللہ“ کے الفاظ سے غیر مشروط طور پر حضرت محمد ﷺ مراد لیتا ہے۔
۵...... یہ کہ اقرار کنندہ صدق دل کے ساتھ اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ الفاظ محمد (ﷺ) سے وہ مرزا قادیانی مراد لیتا ہے۔ ایسا جھوٹا، غلط اور بے خبری پر مبنی ہے۔ اقرار کنندہ صدق دل سے ایسے کنایہ کی تردید کرتا ہے جو اس کے اور تمام احمدیوں کے عقائد کے برعکس ہو۔
حلفیہ بیان میں اختیار کردہ مذکورہ مَوقَف کے پیشِ نظر مسٹر مجیب الرحمٰن سے مرزا قادیانی کی حیثیت و مرتبہ اور ان تحریروں کے بارے میں جن میں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، مرزا خورشید احمد اور احمدیہ جماعت کے دیگر ممبران کے عقیدہ کی بابت پوچھا گیا، نیز دریافت کیا گیا۔ آیا جب کوئی شخص قادیانی مذہب اختیار کرتا ہے تو اسے محض کلمہ طیبہ پڑھنا پڑتا ہے یا کچھ اور چیز بھی پڑھنی ،قبول کرنی اور اس پر ایمان لانا ہوتا ہے؟ جواب دیا گیا کہ قادیانی حضرت محمد ﷺ کی قطعی اور آخری نبوت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی مہدی، اور مسیح موعود تھے۔ مزید کہا گیا فریق مخالف نے جس چیز پر اعتراض کیا ہے۔ بانی جماعت احمدیہ اپنی کتابوں ”ازالہ اوہام“ ص ۷۰، ۱۶۹ ”کشتی نوح“ روحانی خزائن ج ۷ ص ۷۶، ج ۸ ص ۲۵۲، نیز ج ۱۴ ص ۳۲۳ اور روحانی خزائن کی ج ۲۳ ص ۴۶۹ میں شامل ”پیغام صلح“ میں اس کی کھول کر وضاحت کر چکے ہیں۔ مسٹر مجیب الرحمٰن کے بقول مرزا قادیانی نے محولہ بالا پیغام اپنی وفات سے ایک روز پیشتر یعنی ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ : ”ایک غلطی کا ازالہ“، ”آئینہ کمالات“ اور ”تبلیغ رسالت“ میں کچھ لکھا گیا ہے۔ اسے ”ظل“ اور ”بروز“ کے تصور کے تحت سمجھنے کی ضرورت ہے جو کہ روحانی مشابہت ومماثلت اور معرفت کا تصور ہے اور اس تصور کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے دوبارہ جسمانی ظہور اور دوبارہ حلول کا نظریہ وابستہ نہیں۔
۳۲...... سب سے اہم بات جسے مسٹر مجیب الرحمٰن نے بڑی آسانی سے نظر انداز کر دیا اور اس کی تردید نہیں کی وہ یہ تھی کہ جو کوئی قادیانیت میں داخل ہوتا ہے۔ اسے یہ ماننا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت حضرت محمد ﷺ کی بروزی نبوت ہے یہ کہ مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کا صحیح ظل یا بروز ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا کہ قادیانیت اختیار کرتے وقت جس فارم پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، اس میں مرزا قادیانی کو نبی اور مسیح موعود اور مہدی ماننا پڑتا ہے۔ فارم میں استعمال کردہ الفاظ منجملہ دیگر امور، حسب ذیل ہیں۔
”آں حضرت ﷺ کو خاتم النبیین یقین کروں گا / کروں گی اور حضرت مسیح موعود کے سب دعاوی پر ایمان رکھوں گا / رکھوں گی ۔“
مسلمانوں نے رسول اکرم ﷺ کے بعد ہر زمانے میں وقتاً فوقتاً نبوت کے جھوٹے دعویداروں کو مسترد کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو بھی مسلمانوں کے تمام فرقوں نے جھٹلایا ہے، جہاں تک مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کا تعلق ہے، اس پر مجیب الرحمٰن (سپرا) کے مقدمہ میں بڑی شرح وبسط سے بحث ہو چکی ہے، جس میں اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ بات قابل غور ہے کہ اس قول کے نتائج کہ مرزا قادیانی بذات خود محمد اور احمد تھے۔ (یہ دونوں رسول اکرم ﷺ کے نام ہیں) خاصے دور رس نکلتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے خلفاء، رسول اکرم ﷺ کے خلفاء بن گئے۔ مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں اس کے معنی ہیں ۔ ’’اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور حضرت محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں ۔‘‘ مرزا قادیانی کو محمد مان لیا جائے تو جب بھی اور جہاں بھی لفظ محمد پڑھا یا ادا کیا جائے گا، اس سے مراد مرزا قادیانی ہی ہوں گے۔
۳۳...... سائلان کے فاضل وکلاء کا یہ موقف کہ ظل اور ’بروز‘ کے تصور سے کسی طور پر بھی دوبارہ جسمانی ظہور یا حلول کا تصور وابستہ نہیں، خود مرزا قادیانی اور ان کے شاگرد عبدالقادر محمود کے ظاہر کردہ خیالات کے بالکل برعکس لگتا ہے۔ اس پہلو پر رپورٹ کے ص۷۴ پر درج ذیل بحث کی گئی ہے۔ ’’اب خود اس تصور کا تجزیہ کرنا مناسب ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالقادر محمود کی کتاب ’’الفلسفۃ الصوفیاء فی الاسلام‘‘ (ص ۵ تا ۱۱) میں وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ الفاظ ’ظلی‘ اور ’بروزی‘ ہندوؤں کے حلول یا تناسخ کے تصور سے بہت حد تک ملتے جلتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ بروز کے معنی اوتار (خدا یا دیوتا کا جسمانی روپ میں ظہور) کے ہیں۔ اپنے سیالکوٹ والے لیکچر مورخہ ۲؍نومبر ۱۹۰۴ء ص۳۳، خزائن ج ۲۰ ص ۲۲۸ میں انہوں نے کہا: واضح ہو کہ خدا کی طرف سے میرا ظہور صرف مسلمانوں کی اصلاح کے لئے نہیں۔ بلکہ تینوں اقوام، مسلم، ہندو اور عیسائی کی اصلاح مطلوب ہے۔ چونکہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور نصاریٰ کے لئے مسیح موعود بنا کر بھیجا، اس لئے میں ہندوؤں کے لئے اوتار اور راجہ کرشن، جیسا کہ مجھ پر واضح کیا گیا ہے، ایک مکمل انسان تھے۔ وہ اپنے وقت کے اوتار یا نبی تھے۔ اللہ کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اپنا بروز یعنی اوتار پیدا کرے گا۔‘‘ ضمیمہ رسالہ جہاد‘‘ (مطبوعہ ۱۹۰۰ء) میں انہوں نے لکھا: ’’خدا نے مجھے عیسیٰ کے اوتار کی حیثیت سے بھیجا۔ اس طرح اس نے میرا نام احمد اور محمد رکھا اور میری عادات، اخلاق اور اطوار حضرت محمد (ﷺ) جیسے بنائے۔ مجھے ان کے چوغہ میں ملبوس کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کا اوتار بنایا تا کہ میں توحید کا پرچار اور اشاعت کر سکوں۔ پس اس مفہوم میں میں عیسیٰ ہوں، محمد ہوں اور مہدی بھی اور اظہار کا یہی وہ اسلوب ہے جو اسلام میں اصطلاحاً بروز کہلاتا ہے۔
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ۶، ۷، خزائن ج ۱۷ ص ۲۸)
پس ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی اوتار اور بروز ایک دوسرے کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ ’’اصل شریعت میں حلول یا تناسخ کا کوئی تصور نہیں۔ البتہ ایسی اصطلاحات ہیں جو ان تصورات پر یقین کرنے والوں مثلاً مزدک اور لامان کی بدولت وجود میں آئیں۔ اسی طرح اسلام میں ظلیت کے تصور کے لئے کوئی جگہ نہیں۔‘‘
(خاتم النبیین از مولانا انور شاہ کشمیری ص ۲۱۰)
مولانا محمد یوسف بنوری نے موقف الامۃ الاسلامیہ میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا: مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظلیت اور بروز کا سارا تصور سراسر ہندوانہ تصور ہے۔ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ حضرت عبدالقادر بغدادی (متوفی ۴۲۹ھ) نے بھی فرمایا ہے کہ حلول کی حمایت کرنے والا تصور جھوٹا اور بیہودہ ہے۔
(اصول الدین ص ۷۲)
حضرت مجدد الف ثانی بھی جن کے ملفوظات پر مرزا قادیانی یقین رکھتے تھے، نبوت میں ظل کے منکر ہیں، اپنے مکتوب نمبر ۳۰۱ میں انہوں نے فرمایا: ’’نبوت اللہ کی قربت پر دلالت کرتی ہے۔ جس میں ظلیت کا کوئی شائبہ یا شک و شبہ نہیں۔‘‘
۳۴...... تیسرا پہلو جس کی نشان دہی مسئول الیہان نے کی، وہ یہ تھا کہ قادیانی مذہب میں داخل ہونے والے شخص سے بیعت کی شکل میں جس دستاویزات پر دستخط کرائے جاتے ہیں، وہ بھی دھوکے کی ٹٹی اور مکر و فریب کا جال ہے جو مسلمانوں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے اور پھانسنے کے لئے بچھایا جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اسلام کو اپنے مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور مرزا قادیانی کو اسلام کے نئے نبی کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
روپ میں دکھایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ بیعت کے فارم میں آنحضرت ﷺ کے بعد الفاظ ”خاتم النبیین“ کے استعمال سے مسلمہ طور پر یہ مراد نہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، بلکہ اس کے برعکس اس شخص کو مرزا قادیانی کے جملہ دعاوی پر ایمان لانا ہوتا ہے جس میں اس کا دعویٰ نبوت بھی شامل ہے۔ مسلمانوں کے مطابق رسول اکرم ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہوگا اور نہ ہی ہوسکتا ہے کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے واشگاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ: ”لا نبی بعدی“ (میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا) اور لفظ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آخری مہر لگا دی گئی ہے۔ اب کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی سوال نہیں۔ اس کے برخلاف مرزا قادیانی ”ایک غلطی کا ازالہ“ نامی کتاب میں رقمطراز ہے۔ ”اگرچہ نبوت کی مہر نہیں ٹوٹے گی تاہم اس امر کا امکان ہے کہ اس دنیا میں بروزی طریقے سے کوئی نیا نبی آجائے۔ صرف ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار، اور وہ اپنی نبوت و کاملیت کا اظہار کرے۔“
- ۳۵...... واضح ہو کہ ۱۸۹۱ء کی مطبوعہ ”ازالہ اوہام“، ۱۸۹۳ء کی ”کرامت صادقین“ (مشمولہ روحانی خزائن ج ۷) اور ۱۸۹۹ء کی ایام صلح
(مشمولہ روحانی خزائن ج ۱۴) میں جو کچھ لکھا گیا اس سے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی صحیح تصویر اجاگر نہیں ہوتی۔ اس لئے اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی متعلقہ کتابیں وہ ہیں جو ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۸ء تک لکھی گئیں اور ایک غلطی کا ازالہ اس سلسلے کی بنیادی تحریر ہے۔ اس سیاق و سباق میں یہ وضاحت کرنا مناسب ہوگا کہ ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کی لکھی ہوئی ”پیغام صلح“ (مشمولہ روحانی خزائن ج ۲۳) بھی متعلقہ اور اس سلسلے میں کارآمد نہیں ہے۔ کیونکہ اس پیغام کے مخاطب ہندو تھے۔ مسلمان نہیں، اور مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرنے کا سوال اس صورت میں پیدا ہوتا جب کہ ہندوؤں نے حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو تسلیم کیا ہوتا۔ مرزا قادیانی کے مخصوص دعویٰ کے پیش نظر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ احمدی مرزا قادیانی کو حضرت محمد ﷺ کا بدل مانتے ہیں۔
اس لئے جھنڈوں پر لکھے ہوئے اور بیجوں پر تحریر شدہ الفاظ ”محمد رسول اللہ“ کا استعمال ہر احمدی کی اپنی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایسا کرنا رسول اکرم ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ ایسا فعل دفعہ ۲۹۵-سی ت۔پ کے دائرہ میں آتا ہے۔
- ۳۶...... مزید برآں ایسے بینرز اور بیجوں کی نمائش غالب اکثریت کی حامل مسلم آبادی کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا موجب بنتی۔ یہ
چیز سالگرہ کی تقریبات پر پابندی لگانے کا دوسرا جواز فراہم کرتی ہے، کیونکہ اس سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا زبردست خدشہ تھا۔ یاد رہے کہ صرف مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کا دعویٰ تو کیا گیا لیکن سائلان کے فاضل وکلاء یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ان تقریبات کے کھلے بندوں انعقاد اور جس طریقے سے انہیں منانے کا پروگرام بنایا گیا۔ اس پر پابندی لگانے سے قادیانی مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق کی کس طرح خلاف ورزی ہوتی یا اس میں کمی واقع ہو گئی؟ ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کی طرح قادیانی بدستور اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کر رہے ہیں اور مکمل مذہبی آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ خود کو مسلمان ظاہر کر کے اور شریعت اسلامیہ یا کلمہ طیبہ کو جو کہ اسلام کے اساسی ارکان میں سے ایک ہے، استعمال کر کے وہ اپنے رویہ سے خود مشکل صورتحال پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر قادیانی دستوری فیصلہ کو قبول کرلیں اور خود کو مسلمانوں سے ایک علیحدہ اور جداگانہ برادری سمجھنے لگیں۔ جیسا کہ ان کا اپنا دعویٰ ہے تو کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو۔ ان کا خود کو مسلمانوں کا بدل ظاہر کرنا اور عامۃ المسلمین کو اسلام کے دائرہ سے خارج کرنا، مسلمانوں کے لئے کسی طرح قابل قبول اور قابل برداشت نہیں۔ ملک اور دستور سے ان کی وفاداری اور ان کا جداگانہ وجود ان کی سلامتی و بھلائی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے، چاہے وہ کوئی سا مذہب اختیار کریں لیکن وہ مسلمانوں کے دین کو ناپاک کرنے پر کیوں مصر ہیں؟ اگر مسلمان اپنے مذہب کو ہر قسم کی آمیزش سے پاک و خالص رکھنے کے لئے کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس پر قادیانی کیوں سیخ پا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوتے ہیں، اسے مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں۔
۳۷...... دفعہ ۱۴۴ ض ف کی رو سے حاصل شدہ اختیار نیز ریاست کی پولیس قوت کو ایسے مقصد کے لئے جائز طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جو پبلک کی بھلائی یا لوگوں کے مفاد میں ضروری نظر آئے۔ یہاں سائنس ٹولوجی مسلک کے ممبران کے دو مقدمات کا حوالہ دینا مناسب ہوگا؟ دیگر بنام وزیر داخلہ (1969 - 2 Ch.149) میں نوٹ کیا گیا کہ سائنس ٹولوجی کے محرکین کے نزدیک یہ ایک مذہب ہے۔ اس کی ابتداء امریکہ سے ہوئی، اس کا مسلک اور عقیدہ اس کی تعلیمات اور اعمال سسیکس (انگلینڈ) میں ایک کالج کے طلباء کو پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ کالج ایک امریکی کارپوریشن کی مملکت ہے جس کا نام چرچ آف سائنس ٹولوجی آف کیلیفورنیا ہے۔ سائلان شمٹ اور جوزف فرنشی امریکہ کے شہری تھے اور ان کے پاس داخلہ کے لئے محدود مدت کے اجازت نامے تھے۔ میعاد ختم ہوگئی اور وزیر داخلہ نے توسیع کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ حکومت کا نقطہ نظر یہ تھا کہ: ’’سائنس ٹولوجی نقلی فلاسوفیکل مسلک ہے جو اس ملک میں چند برس پہلے امریکیوں کی طرف سے متعارف کرایا گیا اور اس کا عالمی ہیڈ کوارٹر ایسٹ گرنسٹیڈ میں ہے۔ اس کے بانی مسٹر رون ہبارڈ نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ذہنی صحت کی تنظیم ہے۔ حکومت دستیاب جملہ شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد مطمئن ہے کہ سائنس ٹولوجی معاشرتی لحاظ سے ضرر رساں ہے۔ یہ ممبران خاندان کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے اور جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں، ان سے گندے اور رسوا کن محرکات منسوب کر دیتی ہے۔ اس کے تحکمانہ اصول اور اعمال ان لوگوں کی شخصیت اور بھلائی کے لئے باعث تشویش ہیں، جو اسے چھوڑ چکے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے طریقے ان لوگوں کی صحت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں، جو انہیں اختیار کرتے ہیں۔ ایسی شہادتیں ملی ہیں کہ اب بچوں کو اس کی تعلیم دی جارہی ہے۔ لارڈ ڈیننگ، ماسٹر آف رولز نے اپنے فیصلہ میں اس دلیل کو مٹاتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے اپنے اختیارات استرداد اور ایک مذہبی فرقہ کی جس پر از روئے قانون پابندی نہیں لگائی گئی، بے حرمتی کرنے کی غرض سے استعمال کئے تھے۔ لکھا: ”میرے خیال میں وزیر اس امر کا مجاز ہے کہ اپنے اختیارات کسی ایسے مقصد کے لئے کام میں لائے جو اس کے نزدیک پبلک کی بھلائی اور اس ملک کے لوگوں کے مفاد میں ہو، یہ سوچنے کی معمولی سی وجہ بھی موجود نہیں کہ وزیر داخلہ نے اس معاملہ میں اپنے اختیارات کو غلط مقصد کے لئے استعمال کیا یا بد نیتی سے کام لیا۔ وزیر کے مقصد کو اس بیان میں واضح طور پر ظاہر کر دیا گیا تھا جو اس نے دارالعوام میں دیا۔ اس نے سوچا کہ ان لوگوں یعنی سائنس ٹولوجسٹس کے اعمال ہمارے معاشرہ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں اور یہ بات اس ملک کے مفاد میں نہیں کہ سائنس ٹولوجی کے غیر ملکی طلباء کو اس کی تعلیم حاصل کرنے یا نئے طلباء کو داخلہ لینے کی اجازت دی جائے۔ وہ مقصد سراسر جائز تھا۔ وزیر داخلہ نے اپنے اختیارات اس ملک کے عام آدمی کے مفاد میں استعمال کئے اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس کے درست ہونے کی بابت کسی شک وشبہ میں پڑیں۔‘‘
۳۸...... اس طرح اجازت میں توسیع سے انکار کے حکم کی توثیق کر دی گئی۔ ہاؤس آف لارڈز نے اپیل کے لئے داخل کی گئی، درخواست خارج کر دی (رپورٹ کے ص ۷۴۱ پر درج نوٹ ملاحظہ کیجئے) یوں آزادانہ نقل وحرکت کے حق کو مفاد عامہ کے تابع کر دیا گیا۔ اسی اصول کو یورپ کی عدالت ہائے انصاف نے Van Duyn Vs. Home Office. (1975 \ Ch.358) مقدمہ پر لاگو کیا۔ اس مقدمہ میں معاہدہ روم میں شامل ایک دفعہ، جس کی رو سے کارکنوں کو کمیونٹی کے نو ملکوں میں آزادانہ نقل وحرکت کی ضمانت دی گئی تھی، مصلحت عامہ کی وجوہات کے تابع کر دیا گیا تھا۔ مس وان ڈوئن نے ہوائی اڈہ پر پہنچ کر اعلان کیا کہ وہ کالج آف سائنس ٹولوجی میں سیکرٹری کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنے آئی ہے۔ اسے یہ کہتے ہوئے داخلہ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا کہ کسی شخص کو چرچ آف سائنس ٹولوجی کی ملازمت میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت دینا ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس انکار کو چیلنج کر دیا گیا اور معاملہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لگسمبرگ کی یورپین کورٹ آف جسٹس کو بھیج دیا گیا، جہاں اس انکار کو بحال رکھا گیا۔
۳۹...... اسی طرح مصلحت عامہ کے اسباب اور عام آدمی کی بھلائی اور مفاد، سائر تقریبات پر پابندی لگانے کی از روئے قانون جائز بنیاد فراہم کرتا ہے، جیسا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ بات پہلے ہی واضح کی جاچکی ہے کہ عام لوگ یعنی امت مسلمہ قادیانیوں کی سرگرمیوں اور ان کے مذہب کی تبلیغ کی مزاحمت ومخالفت کرتی ہے تا کہ ان کے مذہب کا اصل دھارا پاک صاف اور غلاظت سے محفوظ رہے اور امت کی یکجہتی بھی برقرار رہے۔ ایسا کرنے سے قادیانیوں کے ان کے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کے حق پر نہ کوئی زد پڑتی ہے، نہ اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
۴۰...... مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر اس پٹیشن کو کسی استحقاق کے بغیر قرار دیتے ہوئے خارج کیا جاتا ہے۔ مقدمہ کے اخراجات دونوں فریق خود برداشت کریں گے۔
مؤرخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۱ء کو سنایا گیا۔ اس موقع پر مسٹر مجیب الرحمن ایڈووکیٹ حاضر تھے۔ دستخط: (جج)
(PLD 1992 Lahore-1)
جرمنی حکومت نے قادیانیوں کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کر دی
چنیوٹ (آغاز رپورٹ) جرمن حکومت نے قادیانیوں کے سلسلے میں پاکستان حکومت کے مؤقف کی تائید کر دی اور قادیانیوں کو سیاسی پناہ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق قادیانیوں نے جرمن حکومت کو درخواست دی تھی کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ہماری جان و مال کو تحفظ نہیں ہے۔ ہمیں بے جا پریشان کیا جاتا ہے اور مذہب کی آڑ لے کر ہم پر زیادتیاں کی جاتی ہیں اس لئے ہمیں جرمنی میں سیاسی پناہ دی جائے۔ جس کی روشنی میں حکومت جرمن نے قادیانیوں کو سیاسی پناہ دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور اپنے فیصلوں میں لکھا ہے کہ زبان تحریر یا کسی بھی ذریعے سے جو شخص مذہب اسلام کے بانی حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا۔ اسے حکومت جرمن سزا دے گی اور اسی زمرے میں قادیانیوں کا معاملہ بھی آتا ہے۔ تاہم یہ معاملہ صرف قادیانیوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جو شخص حضرت محمد ﷺ کی توہین کرے گا۔ اس فیصلے کے مطابق اس پر گرفت ڈالی جائے گی۔ ایسٹ یورپین انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر اے۔ ایچ ارادے کے مطابق پاکستان میں قوانین جو قادیانیوں کے خلاف جاری ہوئے ہیں۔ ان کی رو سے اس نظریہ کو تقویت ملی کہ قادیانی چونکہ مسلمان نہیں ہیں۔ لہٰذا وہ ارکان اسلام پر عمل نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد فوجی حکومت اور مذہبی رہنماؤں نے قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ آرڈیننس کا حقیقی مقصد دراصل ضیاء الحق کے نزدیک یہ تھا کہ قادیانیوں کے خلاف عوامی تحریک اور مخالفت کو روکا جائے۔ اس کے بعد حکومت کی تبدیلی، سیاسی انقلابات اور بے نظیر حکومت کا دور شروع ہوا۔ مذہبی آزادی اور مذہبی فرقوں کے مابین امن قائم کے لئے قوانین پاکستان میں موجود ہیں۔ لہٰذا قادیانیوں کے لئے اس بناء پر کہ وہ اپنے عقائد پر عمل نہیں کر سکتے۔ سیاسی پناہ لینے کے حق کی اہمیت نہیں رکھتے۔ اس لئے قادیانی حکومت پاکستان پر غلط الزام تراشی کر رہے ہیں۔ اس لئے اندریں حالات سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷/اکتوبر ۱۹۹۱ء)
پی۔آئی۔اے کے قادیانی آفیسر کو دینی امور دینا
پی۔آئی۔اے کے بہت سے شعبوں میں سے ایک شعبہ ویلفیئر ڈویژن کا بھی ہے۔ اس شعبہ کے دائرہ اختیار میں پی۔آئی۔اے کے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ۵۳۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جملہ کینٹین، ہسپتال اور ویلفیئر سے متعلق دیگر بہت سے اداروں کے انتظام وانصرام کے امور آتے ہیں۔ اسلام کے نام پر ووٹ لے کر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے والی موجودہ حکومت کے بہت سے غیر اسلامی اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قومی ایئر لائن کے اس اہم شعبہ کے جنرل منیجر کے عہدے پر ایک کٹر قادیانی تبسم منہاس کے تقرر کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پی۔آئی۔اے میں ایک شعبہ اسلامیات بھی ہے جو ہر قسم کے مذہبی امور کا ذمہ دار ہے۔ مگر ایک عرصے سے اس شعبے کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے۔
سیرت النبی ﷺ کا جلسہ ہو یا حج و عمرے کا مسئلہ ، کفن دفن کا معاملہ ہو یا عیدین کے موقع پر گراؤنڈ میں ہونے والے انتظامی امور، یہ تمام امور ویلفیئر ڈویژن کے تحت تبسم منہاس ہینڈل کرتا ہے۔ مرحوم جنرل ضیاء الحق نے تمام سرکاری اداروں پر یہ امر لازمی کر دیا تھا کہ وہ ہر سال سالانہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا اہتمام کریں۔ اس حکم نامے پر اسی وقت سے عمل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ دیگر اداروں کی طرح قومی ایئر لائن بھی ہر سال اس ”کانفرنس“ کا اہتمام کرتی ہے۔
اسی سلسلے کی ایک ”کانفرنس“ ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو ہوئی اور اس کے انتظامی معاملات کی نگرانی یہی قادیانی ”جنرل منیجر“ کرتا رہا۔ جس سے عام مسلمانوں کے مذہبی جذبات بالعموم اور قومی ایئر لائن کے ملازم مسلمانوں کے جذبات بالخصوص مجروح ہوئے۔ سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد ایک قادیانی کی زیر نگرانی کرانا دودھ کی حفاظت بلی سے کرانے کے مترادف ہے۔ کیونکہ جن لوگوں نے جناب نبی کریم ﷺ کی ”ختم نبوت“ پر ڈاکہ مارا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی سیرت کانفرنس کرنے کے کس طرح مجاز ہو سکتے ہیں؟ لہذا حکومت یہ انتظامات فی الفور کسی مسلمان کے حوالے کر کے اپنی مذہبی و آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔ کیونکہ خالص قسم کے دینی و مذہبی امور و شعبہ اسلامیات سے لے کر قادیانی جنرل منیجر کے حوالے کرنے کی منطق ناقابل فہم ہے۔ جب ہمارے آئین میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا جا چکا ہے تو ایسی صورت میں اسلامی امور کا ایک قادیانی کے حوالے کیا جانا آئین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام کر کے آئین کے محافظوں نے آئین پر شب خون مارا ہے۔ اسی طرح پی۔آئی۔اے ماڈل اسکول کا سیکرٹری بھی یہی قادیانی ہے۔ اس اسکول میں مسلمان بچے پڑھتے ہیں اور یہ قادیانی یقیناً ان بچوں کے مذہبی رجحانات کے لئے خطرہ ہے۔ ہم اسلامی نظام کی علمبردار کی دعویدار حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قومی ایئر لائن کے وجود میں موجود اس ”وائرس“ کو نکال باہر کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کلاں یہ ”وائرس“ قومی ایئر لائن کے وجود میں کینسر کا موجب بن جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، مؤرخہ ۱۵ تا ۲۱؍ نومبر ۱۹۹۱ء)
اسلام ، پاکستان اور علماء کے خلاف مرزا طاہر کی شیریں بیانی
(لندن) قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے ۲۷؍ ستمبر ۱۹۹۱ء کو لندن میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے پاکستان کے حالات حاضرہ پر تبصرہ کیا اور کہا کہ : ”پاکستان کے حالات نہایت خراب ہیں۔ امن وامان نام کی کوئی شئے نہیں ہے۔ رشوت کا بازار گرم ہے۔ بددیانتی ہر شعبہ زندگی میں جاری ہے۔ چوری ، ڈاکہ ، اغواء کے واقعات کی بہتات ہے۔ پاکستان میں ہر قوم نے کسی قوم کے حقوق سلب کئے ہوئے ہیں۔ اگر کسی نے نہیں تو حکومت نے حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ ہر جگہ نحوست ہے ہر پاکستانی خصوصاً حکومت کے اہلکاروں کے چہروں پر نحوست طاری ہے۔ سیاست مسلسل گندی سے گندی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ سیاستدانوں نے اپنے آپ کو شریعت کے تابع بنا کر اپنے ہاتھوں کو خود رسیوں میں جکڑ رکھا ہے۔ شریعت مولوی کے ہاتھ دے کر سیاست دان مجبور ہو گئے ہیں۔ جو مولوی کہے اس کی بات ماننے پر مجبور ہیں۔“ مرزا طاہر نے علماء کرام کی توہین کرتے ہوئے کہا کہ: ”اگر قادیانی مسئلہ نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ پاکستان کی سیاست مولوی کو اپنی جوتی کی نوک پر بھی
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رکھتی۔‘‘ مرزا طاہر نے کہا کہ: ”اخبارات میں شریعت کے قصے چل رہے ہیں۔ مولوی کے قبضے میں اسلام دے کر اسلام کے ساتھ بے وفائی کی گئی ہے اور جب سے ملک میں اسلامائزیشن کا نام شروع ہوا، یعنی ملک میں اسلام کو جاری کرنا اور جب سے ساری قوم نے بحیثیت قوم اسلام کے نام پر خدا کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسلسل اللہ تعالیٰ کے عذاب اس قوم پر نازل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جگہ جگہ سے بلائیں گھیرتی چلی جا رہی ہیں۔‘‘ مرزا طاہر نے کہا کہ: ”کبھی کسی نے نہیں سوچا کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ قادیانی جماعت پر ظلم کے نتیجہ میں ہو رہا ہے۔ جب سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی۔ پاکستان مصیبت میں مبتلا ہے۔ یہی وہ تعویز تھا جس کے نام پر اسلام کا تقدس جاری تھا اور اس تعویز یعنی قادیانیت کو آپ نے باہر نکال کر پھینک دیا۔ اس وقت سے اسلام کیا اسلام کی برکتیں تھیں۔ سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہا۔‘‘ مرزا طاہر نے کہا کہ: ”تم نے ہم پر ظلم کر کے اسلام سے دوری اختیار کی ہے۔ یہ اس کی سزا ہے۔ ورنہ اسلام کے قرب کی خدا سزا نہیں دیتا۔ اسلام سے قرب کی تو جزا ہوتی ہے۔‘‘
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۷، مورخہ ۲۰ تا ۲۷؍دسمبر ۱۹۹۱ء)
سویڈن کی قادیانی جماعت میں انتشار
چنیوٹ: سویڈن میں قادیانیوں کے خلاف بغاوت پھیل گئی۔ سینکڑوں قادیانی قادیانیت چھوڑ کر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ قادیانی سے تائب ہونے والوں نے جماعت کو دیئے گئے چندوں کی رقوم کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے مرزائیت چھوڑ جانے والوں کی رقوم واپس کرنے کی ہدایت کر دی اور پیروکاران کو مزید چندہ دینے کو کہا۔ واقعات کے مطابق قادیانیوں میں اندرون اور بیرون ملک مختلف ممالک میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے جماعت کے متعدد عہدیداروں کو مختلف مقامات پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مرزا طاہر احمد نے خود اپنے بھانجے قاسم کی جگہ ایک کلرک عطاء الرحمن کو خدام الاحمدیہ کا مہتمم بنا دیا ہے اور اس طرح جرمنی، بیلجیم، ہالینڈ، برطانیہ، امریکہ اور بعض افریقی ممالک کے جماعتی مبلغوں کی رکنیت منسوخ کر رہے ہیں۔ جن میں مبشر احمد باجوہ، مولوی مسعود، حافظ صدیق قریشی اور مولوی الیاس نام لئے جا رہے ہیں جو قادیانیوں کے سربراہ کے چند قریبی مصاحب میں شمار ہوتے ہیں۔ اندریں حالات سویڈن کے تائب قادیانیوں نے مرزائیوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ ان کے دیئے گئے چندے واپس کر دے۔ بصورت دیگر وہ جماعت کے دفاتر اور دوسری املاک پر قبضے کر کے ان کو مساجد اور اسلامی دفاتر میں تبدیل کر دیں گے۔ جس پر مرزا طاہر نے جماعت کے سرکردہ عہدیداروں کو معطل کر دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ ان کی نااہلی کی وجہ سے ہوا اور رقوم کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے جماعت کے باغی افراد کو پائی پائی ادا کرنے کی ہدایت کی اور اس چندے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے پیروکاران کو زیادہ سے زیادہ جماعت سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۶، مورخہ ۲۶ تا ۲۹؍دسمبر ۱۹۹۱ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نئے مرکزی عہدیداران و اراکین مجلس شوریٰ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی نے اپنے اجلاس منعقدہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۹۱ء بروز جمعۃ المبارک بمقام چناب نگر میں آئندہ سہ سال کے لئے حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کو امیر مرکزیہ اور حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب مدظلہ کو نائب امیر اوّل بالاتفاق منتخب کیا۔ بعد میں دستور کی دفعہ ۹، ۱۰ کے تحت حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے باقی ماندہ عہدیداران و اراکین مرکزی شوریٰ کے لئے مندرجہ ذیل حضرات کو نامزد کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چنانچہ اب آئندہ تین سال کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی عہدیداران واراکین مرکزی مجلس شوریٰ یہ حضرات ہوں گے۔
۱ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب امیر مرکزیہ ۲ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نائب امیر اوّل ۳ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب نائب امیر دوم ۴ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ ۵ حضرت مولانا بشیر احمد صاحب ناظم تبلیغ ۶ حضرت صاحبزادہ طارق محمود صاحب ناظم نشر واشاعت ۷ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب ناظم ۸ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب خازن
مندرجہ بالا حضرات بلحاظ عہدہ مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر بھی ہوں گے۔ ان کے علاوہ مزید اراکین شوریٰ یہ ہیں:
۹ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ابوظہبی ۱۰ حضرت مولانا محمد یوسف متالا صاحب برطانیہ ۱۱ حضرت مولانا سید انور حسین نفیس شاہ صاحب لاہور ۱۲ حضرت مولانا محمد ہارون صاحب سپین ۱۳ حضرت جناب سعید خان صاحب ری یونین ۱۴ حضرت راجہ حبیب الرحمن صاحب سپین ۱۵ حضرت مولانا محمد بنوری صاحب کراچی ۱۶ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب کراچی ۱۷ حضرت مولانا منیر الدین صاحب کوئٹہ ۱۸ حضرت مولانا انوار الحق حقانی صاحب کوئٹہ ۱۹ حضرت مولانا عبدالواحد صاحب کوئٹہ ۲۰ حضرت مولانا علامہ حامد میاں حمادی صاحب ٹنڈو آدم ۲۱ حضرت الحاج عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب کراچی ۲۲ محترم الحاج لعل حسین صاحب کراچی ۲۳ حضرت حکیم قاری محمد یونس صاحب راولپنڈی ۲۴ حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب راولپنڈی ۲۵ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب اسلام آباد ۲۶ حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد صاحب گوجرانوالہ ۲۷ حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی صاحب فیصل آباد ۲۸ محترم الحاج بلند اختر نظامی صاحب لاہور ۲۹ محترم الحاج فرزند علی صاحب سکھر ۳۰ محترم الحاج قاضی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۱ حضرت مولانا قاری نور الحق نور صاحب پشاور ۳۲ محترم الحاج سیف الرحمن صاحب بہاول پور ۳۳ حضرت مولانا فیض اللہ صاحب میر پور خاص ۳۴ محترم صوفی ریاض الحسن گنگوہی صاحب ڈیرہ اسماعیل خان ۳۵ حضرت مولانا فیض احمد صاحب ملتان ۳۶ حضرت الحاج اشتیاق احمد صاحب جھنگ ۳۷ حضرت قاضی عبدالمالک صاحب سرگودھا ۳۸ حضرت مولانا قاضی عزیز الرحمن صاحب رحیم یار خان
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۵، مورخہ ۶ تا ۱۲؍دسمبر ۱۹۹۱ء)
مسلم کالونی چناب نگر میں حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ کے اعزاز میں استقبالیہ
مسلم کالونی چناب نگر میں مورخہ ۲۳؍نومبر ۱۹۹۱ء بروز ہفتہ دارالعلوم دیوبند بھارت کے استادالحدیث حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ العالی کے اعزاز میں ایک سادہ مگر پروقار استقبالیہ دیا گیا۔ حضرت مولانا ارشد مدنی جب مدرسہ ختم نبوت کو پہنچے تو مولانا مدنی کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ حضرت مولانا ارشد مدنی نے مغرب کی نماز جامع مسجد ومدرسہ ختم نبوت میں ادا کی۔ نماز مغرب کے بعد استقبالیہ تقریب کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ جب کہ مولانا محمد یعقوب کے ننھے منے بیٹے نے عظمت دیوبند پر خوبصورت انداز میں منظوم کلام پیش کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مولانا ارشد مدنی کو خوش آمدید کہا اور انہیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ مولانا نے اکابرین دیوبند کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ جن کی قربانیوں اور محنت سے برصغیر پاک و ہند کے مسلمان انگریز کے خود کاشتہ پودا قادیانی فتنہ سے آگاہ ہوئے۔ مولانا نے تحریک ختم نبوت میں مشائخ عظام علمائے کرام کی جدوجہد کی تاریخ بیان کی۔ مولانا عزیز الرحمن نے بتایا کہ ۱۹۷۴ء کے بعد جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو ربوہ کو کھلا شہر بھی قرار دیا گیا۔ ورنہ اس سے قبل ربوہ قادیانیوں کی عملی ریاست تھی۔ مولانا عزیز الرحمن نے کہا: جماعت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سرزمین ربوہ میں اپنا مرکز قائم کیا۔ جس کے انچارج مولانا خدا بخش ہیں۔ جو مدت دراز سے یہاں دینی تبلیغی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اطلاعات و نشریات صاحبزادہ طارق محمود نے حضرت الامیر خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کی طرف سے مہمان خصوصی کو سپاسنامہ پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا اللہ وسایا نے ادا کئے۔ حضرت الامیر اور مجلس کی طرف سے شائع کردہ کتابوں کے تین سیٹ مہمان خصوصی کو پیش کئے گئے۔ آخر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کے فرزند ارجمند حضرت مولانا ارشد مدنی کو دعوت خطاب دی گئی۔
مولانا ارشد مدنی نے خطاب کرتے ہوئے حضرت الامیر خواجہ خان محمد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے تحفظ ختم نبوت کے مرکز میں بلا کر سعادت بخشی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی تحریک میں بزرگان دیوبند نے کلیدی کردار ادا کیا اور رد قادیانیت کی پہلی اینٹ انہوں نے ہی رکھی۔ مولانا ارشد مدنی نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند سے مسلمانوں کی عقیدت اور وابستگی در حقیقت عقیدے کی بناء پر ہے۔ عقیدے کی پختگی ہی ایمان کہلاتی ہے اور جب عقیدہ پختہ ہو جائے تو پھر انسان ہر قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتا۔ جیسا کہ علمائے دیوبند کی تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس عقیدے کی خاطر مال و جان قربان کیا۔
مولانا نے مزید فرمایا چونکہ محاسبہ قادیانیت کی تحریک کی پہلی اینٹ اکابرین دیوبند نے رکھی تھی۔ اس لئے جہاں جہاں بھی رد قادیانیت کے ضمن میں کام ہوا ہے۔ ہو رہا ہے اور جب تک ہوتا رہے گا۔ اس کا ثواب اکابرین دیوبند کو پہنچتا رہے گا۔ حضرت مدنی نے محمد ابن عربی کی ایک روایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کی فضیلت کے بارے میں دلائل دیئے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کا دور تاریخ اسلام کا سنہری دور تھا۔ حضرت عمر ؓ کے دور کو فتوحات کے لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ آپ ؓ کے دور میں اسلامی سلطنت کی سرحدیں پھیلیں۔ سیاسی معاشرتی اور معاشی طور پر استحکام نصیب ہوا۔ اگر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور خلافت کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔ تو ہر لحاظ سے حضرت عمر ؓ کا دور نمایاں نظر آتا ہے۔ لیکن اگر تاریخی شواہد کو سامنے رکھا جائے تو فضیلت کے لحاظ سے حضرت عمر ؓ حضرت ابوبکر ؓ کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر فاروق ؓ کو خلافت کے لئے منتخب کیا تھا۔ آپ ؓ کی دور رس نگاہ نے حضرت عمر ؓ کی ظاہری و باطنی صلاحیتوں کو بھانپ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی یہ بات موجب فضیلت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر ؓ کا انتخاب کیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں اسلام کی ترقی و ترویج ، فتوحات اور اسلامی سلطنت کے استحکام میں جتنا کام حضرت عمر ؓ نے کیا اس کا اجر و ثواب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو پہنچتا رہے گا۔ اسی طرح اکابرین دیوبند نے فتنہ قادیانیت کے خلاف عملی جہاد میں جس مشن کا آغاز کیا تھا وہ جہاد جب تک ہوتا رہے گا۔ اس کا اجر و ثواب بزرگان دین کو پہنچتا رہے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا ارشد مدنی نے بھارت میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں فرمایا: چونکہ بھارت میں قادیانی معاشی ومعاشرتی طور پر اتنے مضبوط نہیں جتنا کہ پاکستان میں ہیں۔ یہاں وہ کلیدی آسامیوں پر ہیں۔ جب کہ بھارت میں ان کی پوزیشن اس کے برعکس ہے۔ تاہم ہندوستان کی سرزمین پر اس فتنہ کا محاسبہ ہورہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے فضلاء ہر اس موقع پر سرگرم عمل ہوکر وہاں پہنچ جاتے ہیں، جہاں قادیانی اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ مولانا مدنی نے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے فرمایا کہ ربوہ میں ہر سال منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونا ہم اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔ لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ حکومت کبھی ویزا جاری کردیتی ہے اور کبھی نہیں کرتی۔ ہم ان شاء اللہ ویزا ملنے کی صورت میں بھارت سے اپنا وفد اس عظیم الشان مرکز میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس بھیجا کریں گے، تاکہ قادیانیوں کے مکروہ عزائم اور ناپاک عزائم سے آگاہ ہوسکیں۔ تقریب میں علاقہ بھر کے مسلمانوں کے علاوہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مسلم کالونی چناب نگر کی تقریب سے فارغ ہو کر مہمان خصوصی کاروں کے جلوس میں جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن تشریف لے گئے، جہاں محمدیہ مسجد کے امام مولانا محمد یوسف نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا۔ یہاں حضرت مولانا ارشد مدنی نے شہدائے ختم نبوت اور ختم نبوت تحریک کے کارکنوں کے لئے خصوصی دعا فرمائی۔ ۸؍ بجے شب مولانا ارشد مدنی علماء کرام کے ہمراہ چنیوٹ روانہ ہوگئے۔ جہاں مہمان خصوصی نے مولانا عبدالوارث کے مدرسہ دارالعلوم مدنیہ میں ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب فرمایا۔ یہاں بعدازیں مولانا ارشد مدنی کے اعزاز میں ایک پر تکلف عشائیہ دیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، ۲۵، مورخہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۹۱ء)
قادیانیوں کا سالانہ جلسہ یا حج اکبر اب ربوہ کی بجائے قادیان میں
قادیانی اصل میں تو مرتد اور زندیق ہیں لیکن چونکہ پاکستان میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے اس لئے وہ:
- ۱...... مرزا قادیانی کو بطور نبی، مجدد، مہدی اور مسیح وغیرہ کے پیش نہیں کر سکتے۔
- ۲...... وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنے غیر اسلامی یا دوسرے لفظوں میں کافرانہ مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔
- ۳...... غیر مسلم ہونے کے بعد وہ اپنے نام بھی مسلمانوں جیسے نہیں رکھ سکتے اور جو نام ان کے اسلامی طرز کے رکھے ہوئے ہیں وہ بھی
انہیں تبدیل کرانے چاہئیں۔
- ۴...... نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ (زکوٰۃ ان کے ہاں نہیں بلکہ آمدن کا دسواں حصہ ہے جس کے ادا کرنے پر بہشت کا سرٹیفکیٹ دے دیا
جاتا ہے) اور کلمہ جو مسلمانوں کے شعار اور اسلام کے ارکان خمسہ ہیں۔ ان کے استعمال کا انہیں قطعاً حق حاصل نہیں۔
- ۵...... قرآن کریم مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے۔ اس کو پڑھنے بلکہ چھونے کا بھی انہیں حق حاصل نہیں۔ اس لئے کہ قادیانی ناپاک ہیں۔
- ۶...... اوّل تو مرتد اور زندیق کی عبادت کوئی درجہ نہیں رکھتی۔ اگر وہ کسی قسم کی عبادت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی عبادت گاہوں کا نام
مسجد کے نام پر نہیں رکھنا چاہئے اور نہ ہی مساجد کے ساتھ مشابہت ہونی چاہئے۔
پاکستان میں مغربی پاکستان کے انگریز گورنر جنرل موڈی نے اپنی سیاسی مقصد برآری کے لئے ربوہ آباد کیا۔ اس وقت سے قادیانی اپنا سالانہ جلسہ ربوہ میں کرتے رہے ہیں۔ گو اس کا نام جلسہ رکھا جاتا ہے لیکن دراصل وہ ان کا حج ہوتا ہے۔ یہ ہم نہیں کہتے خود ان کی
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء
تحریریں بول بول کر کہہ رہی ہیں۔ مرزا قادیانی آنجہانی جس کو وہ نبی، مجدد، مہدی اور مسیح کہتے ہیں اس نے کہا ہے:
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
آنجہانی مرزا محمود کہتا ہے: ”آج جلسہ قادیان کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔“
(کتاب برکات خلافت مرزا محمود)
”قادیان کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کو ظلی حج کہنا کوئی ناجائز بات نہیں۔“
(از مرزا محمود، اخبار الفضل مورخہ ۵؍جنوری ۱۹۳۳ء)
قادیانیوں کا یہ حج یا ظلی حج پہلے قادیان میں ہوا کرتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ حج پاکستان میں ربوہ منتقل ہو گیا۔ ۱۹۷۴ء میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو چند سال یہ حج لندن کے نزدیک ان کے نئے مرکز میں منتقل ہو گیا اور پاکستان سے قادیانی اس حج یا ظلی حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے لندن جاتے رہے۔ قادیانیوں کا حج واحد حج ہے جس کو گشتی حج کہہ سکتے ہیں۔ جس طرح قادیانیوں کے نام نہاد نبوت گشتی، خلافت گشتی، بہشتی مقبرہ گشتی، اسی طرح ان کا حج بھی گشتی ہے، جو کبھی کہیں ہوتا ہے اور کبھی کہیں۔ اب یہ گشتی حج پھر قادیان ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ اس قادیان کے متعلق مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ، مدینہ اور قادیان۔“
(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ث، خزائن ج ۱۶ ص ۲۰)
اور یہ بھی مجھے مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان “ میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ۷۳ بقیہ حاشیہ، خزائن ج ۳ ص ۱۳۸، ۱۳۹)
قادیانی قادیان کو وہی درجہ دیتے ہیں جو اہل اسلام مکہ اور مدینہ کو دیتے ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ بالا حوالہ جات سے واضح ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ مرزا قادیانی نے جو مدعی نبوت تھا، مدعی وحی و الہام اور اس بات کا دعویدار تھا کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں خدا کی باتیں ہیں اور خدا ہی کی طرف سے ہیں۔ صریح جھوٹ بولا ہے کہ قادیان کا ذکر یا نام قرآن شریف میں درج ہے۔ ہمارا مرزا طاہر سمیت دنیا بھر کے قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ وہ قرآن پاک میں قادیان کا نام دکھا دیں اور منہ مانگا انعام لیں۔ ورنہ اس بات کو تسلیم کر لیں کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ لکھا ہے اور جب جھوٹ لکھا ہے تو وہ نبی تو کیا شریف انسان کہلانے کا حق دار بھی نہیں ہے۔ اس لئے اس پر لعنت بھیج کر دوبارہ حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کر لیں۔ اسی میں دین دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے۔ بہرحال چاہے مرزا نے جھوٹ ہی بولا پھر بھی ہر مرزائی قادیانی کا اس جھوٹ پر ایمان ہے۔ اسی جھوٹ کی بناء پر اب قادیانی اپنا حج جسے صد سالہ جشن کا نام دیا گیا ہے۔ وہاں منعقد کر رہے ہیں اور اس غرض سے پاکستان خصوصاً ربوہ کے قادیانی دھڑا دھڑ پاسپورٹ بنا رہے ہیں۔ ویزے کا حصول مرزا طاہر کے اس بیان کے بعد کہ ”ہندوستان“ پاکستان اور بنگلہ دیش کو پھر متحد ہو جانا چاہئے۔ کوئی مشکل مسئلہ نہیں۔ آخر وہ ہوئے جو بھارت کے ایجنٹ اور جاسوس۔
۱۹۶۵ء کی جنگ ہمارے سامنے ہے۔ اس وقت صدر مملکت ایوب خان مرحوم تھے اور مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ تھے۔ ربوہ جہاں واقع ہے وہاں سے سرگودھا بہت ہی قریب ہے جو ایئر فورس کی بہت بڑی چھاؤنی ہے۔ اس کے علاوہ دریائے چناب کا پل ربوہ سے ملحق مشرق میں واقع ہے۔ امر واقعہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے پورا ملک بلیک آؤٹ کی لپیٹ میں تھا۔ ربوہ واحد شہر تھا جہاں بلیک آؤٹ نہیں کیا گیا جس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ ربوہ سے روشنی کے ذریعے بھارتی جنگی جہازوں کی راہنمائی کی جاتی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھی تاکہ ہوائی فوج کا یہ بہت بڑا اڈہ تباہ ہو جائے اور بھارت کو فتح حاصل ہو اور قادیان انہیں دوبارہ مل جائے۔ ایک مقصد دریائے چناب کے پل کو تباہ کرانا تھا تاکہ زمینی راستہ بھی منقطع ہو جائے۔ اس صورتحال کی اطلاع نواب آف کالا باغ کو دی گئی تو انہوں نے ربوہ کی بجلی کٹوا دی۔ عین ممکن ہے کہ وائرلیسوں کے ذریعے بھی بھارتی جنگی جہازوں کی رہنمائی کی جاتی ہو۔
ہم نے قدم قدم پر قادیانیوں کو آزمایا۔ وہ ہرگز پاکستان کے دوست و وفادار نہیں ہیں تو کیا ایسے میں قادیانیوں کو ہندوستان جانے کی سہولت دینا انہیں دھڑادھڑ پاسپورٹ مہیا کرنا محض اس بہانے سے کہ ان کا جشن صد سالہ یا ان کا حج اکبر ہو رہا ہے۔ کسی طرح بھی درست نہیں ہو گا۔ ممکن ہے کہ جس طرح لندن کے جلسہ میں شرکت کے لئے پی آئی اے نے انہیں خصوصی مراعات دی تھیں جو یقیناً پی آئی اے میں موجود قادیانی افسروں کی سازش یا دباؤ کے تحت دی گئیں۔ پاکستان ریلوے سے بھی وہ اسی قسم کی مراعات حاصل کر لیں۔ اس لئے مذکورہ بالا حالات کے پیش نظر حکومت کو چاہئے کہ جن قادیانیوں کے پاسپورٹ جاری کئے گئے ہیں وہ فوراً منسوخ کئے جائیں اور آئندہ کے لئے پاسپورٹوں کا اجراء بند کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اداریہ، مورخہ ۶ تا ۱۲ دسمبر ۱۹۹۱ء)
نوٹ: اداریہ کتابت ہو چکا تھا کہ مندرجہ ذیل خبر آ گئی جس سے اداریہ کی تصدیق ہو گئی۔ خبر یہ ہے:
’’را‘‘ کی رپورٹ پر بھارتی حکومت نے کسی بھی شہر میں قادیانی جشن کی اجازت دے دی
پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کو قادیانیوں سے ہر طرح سے تعاون کی ہدایت کر دی۔
’’لاہور (نیوز ڈیسک) بھارتی حکومت دہلی میں اگلے ماہ قادیانیوں کے ایک بڑے اجتماع کے انعقاد کے لئے قادیانیوں کی مدد کر رہی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کے مجاہدین کے مطابق لندن میں قائم قادیانیوں کے ہیڈ کوارٹر کو بھارتی ہائی کمشنر کے ذریعے بھارتی حکومت نے پیشکش کی تھی کہ بھارت کے کسی بھی شہر میں اجتماع کیا جائے جسے قادیانیوں کی اعلیٰ قیادت نے منظور کر لیا۔ بھارتی حکومت نے پاکستان میں اپنے ہائی کمیشن کو بھی ہدایت کی ہے کہ ایسے تمام قادیانیوں سے تعاون کیا جائے جو بھارت میں مجوزہ اجتماع میں شرکت کے خواہشمند ہوں۔ مجاہدین کے ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے ایک رہنما بھی پنجاب کے قادیانیوں کے ویزے کے حصول میں مدد کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور یورپ میں مقیم قادیانیوں کی حمایت کرنے کا فیصلہ بھارتی حکومت نے ’’را‘‘ کے مشورہ پر کیا ہے تاکہ پاکستان کو کشمیر کے معاملے میں بلیک میل کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ قادیانیوں کو ربوہ میں ایسے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘
(جنگ لاہور، مورخہ ۲۱ نومبر ۱۹۹۱ء)
’’را‘‘ کی رپورٹ پر قادیانی ’’صد سالہ جشن‘‘ آزادی سے بھارت میں منایا گیا
پچھلے دنوں لاہور ہائیکورٹ کے جناب جسٹس خلیل الرحمن خان نے قادیانیوں کے سو سالہ جشن پر پابندی کے حکم کے خلاف قادیانیوں کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ مفاد عامہ کے تحت قادیانیوں کے سو سالہ جشن پر پابندی عائد کرنا جائز تھا۔ قادیانیوں کی سرگرمیوں اور ان کے عقیدے کی اشاعت کے خلاف مسلم امہ اور عوام مزاحمت کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کا عقیدہ پاک اور خالص رہے اور امت مسلمہ کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ جب مسلمان ایسا کرتے ہیں تو اس سے قادیانیوں کا اپنے عقیدہ پر عمل کرنے کے حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلہ کے بعد قادیانی اپنا جشن صد سالہ مرزا قادیانی کے جنم استھان قادیان یا بھارت کے کسی شہر میں منا رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے ’’را‘‘ کی رپورٹ پر جشن منانے کی اجازت دے دی ہے۔ ہم نے گزشتہ شمارہ میں بتایا تھا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ قادیانی وہاں جانے کے لئے دھڑا دھڑ پاسپورٹ بنارہے ہیں۔ ویزے کا حصول ان کے لئے مشکل نہیں کہ وہ ہندوؤں کے ایجنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مخالف اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے بھارتی حکومت کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔ اس خبر نے ثابت کر دیا کہ واقعی قادیانی بھارت کے ایجنٹ ہیں۔ چونکہ یہ بات طے شدہ اور مسلمہ ہے کہ قادیانی پاکستان کے دشمن اور بھارت کے جاسوس ہیں۔ اس لئے وہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی رعایت کے ہرگز مستحق نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے انہیں رعایت دینے کی بجائے ان کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔ گو قادیانیوں کا جشن صد سالہ بھارت میں ہورہا ہے، جہاں پاکستان کا قانون اور عدالتی فیصلے لاگو نہیں ہوتے لیکن چونکہ قادیانیوں کا اس وقت مرکز یہاں ہے اور عدالت نے جشن صد سالہ پر پابندی بھی یہاں لگائی ہے۔ اس لئے عدالتی فیصلہ کا اطلاق صرف اس ایک مسئلہ تک محدود نہیں ہونا چاہئے کہ وہ یہاں جشن نہیں منا سکتے بلکہ اس کا اطلاق تمام قادیانیوں پر ہونا چاہئے کہ وہ کسی جشن میں شرکت کے لئے بھارت بھی نہیں جاسکتے۔
قادیانیوں کی ایک عرصہ سے یہ خواہش ہے کہ ہمیں کوئی خطۂ زمین ایسا مل جائے جہاں ہم اپنی حکومت قائم کر سکیں۔ قیام پاکستان کے تھوڑے عرصے بعد ان کے دوسرے پیشوا آنجہانی مرزا محمود قادیانی نے صوبہ بلوچستان کا دورہ کیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ یہ صوبہ رقبہ کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور بندرگاہ بھی موجود ہے۔ پھر یہاں ہمارے بھائی ذکری بھی خاصی تعداد میں ہیں جو ہماری طرح ایک نئی نبوت کے پیروکار ہیں تو کیوں نہ اس صوبہ کو احمدی (قادیانی) سٹیٹ بنالیا جائے۔ اس نے ربوہ پہنچ کر ایک ”خطبہ“ دیا جس میں اس نے تبلیغ کے زور پر بلوچستان کو احمدی (قادیانی) سٹیٹ بنانے پر زور دیا لیکن یہ منصوبہ اس کا اس لئے کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ وہاں بلوچوں اور پٹھانوں کی اکثریت ہے جو سچے اور کھرے مسلمان ہیں۔ بعد میں عملی طور پر قادیانیوں نے تحریف شدہ قرآن پاک کے نسخے تقسیم کئے جس میں مولانا سید شمس الدین شہید کی قیادت میں تحریک چلی۔ اس کے نتیجہ میں بلوچستان بھر سے قادیانیوں کو دیس نکالا مل گیا۔ وہاں سے ناکامی کے بعد انہوں نے دریائے چناب اور دریائے جہلم کے درمیانی علاقے کو ”مرزائیل“ بنانے کی کوششیں تیز کردیں۔ اس مقصد کے لئے ربوہ سے ساہیوال (سرگودھا) روڈ پر زمینیں خرید کر کالونیاں بنانے کا پروگرام بنایا۔ یہ کام اتنی تیز رفتاری سے شروع کیا کہ ایک جلسہ پر ریٹائرڈ ایئر مارشل ظفر چوہدری قادیانی کی ہدایت پر سرگودھا کے ہوائی اڈے سے اڑ کر جنگی جہازوں نے ڈائی مار کر بار بار مرزا ناصر کو سلامی دی۔ جس پر شرکاء جلسہ سہم گئے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ جس پر مرزا ناصر نے مائیک پر آ کر اعلان کیا کہ آپ کو ان جہازوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ تو اس بات کا اشارہ ہے کہ ”پھل پک چکا ہے اور عنقریب آپ لوگوں کی جھولی میں گرنے والا ہے“ یہ کورڈ ورڈ یا استعارے کی زبان میں قادیانی اسٹیٹ یا دوسرے لفظوں میں ”مرزائیل“ کی طرف اشارہ تھا لیکن ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر مرزا طاہر کی قیادت میں قادیانی فورس نے حملہ کر دیا۔ جس سے بہت سے طلباء زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ سے پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ زبردست تحریک چلی۔ بالآخر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی میں مسلسل کئی روز تک گرما گرم بحث کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ غیر مسلم اقلیت قرار دئے جانے سے ان کا مرزائیل یا قادیانستان بنانے کا خواب پورا نہ ہوسکا اور ان کے پیشوا مرزا ناصر کی پیشین گوئی بھی پوری نہ ہوسکی۔ اسی اثناء میں مرزا ناصر نے ایک اور پیشین گوئی بھی کی وہ یوں کہ ایک لڑکی جو کہ ڈاکٹر تھی۔ اس کے والد نے اپنی لڑکی کے رشتے کی بابت درخواست دی جس میں بہت سے ناموں کی فہرست بھی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ درخواست میں مذکورہ ناموں سے جو حضور کو پسند ہو اس پر نشان لگا دیں۔ مرزا ناصر نے درخواست اپنے پاس رکھ لی اور کہا کل آئیں میں کشف کے ذریعے ان میں سے اچھا رشتہ آپ کی لڑکی کے لئے منتخب کردوں گا۔ چنانچہ وہ دوسرے دن مرزا ناصر نے فہرست سے اوپر اپنا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نام لکھ دیا۔ باقی سب نام کاٹ دیئے۔ مرزا ناصر نے یہ کہا مجھے خدا نے بتایا ہے کہ یہ رشتہ تیرے لئے بابرکت ثابت ہوگا۔ چنانچہ کشف کا بہانہ بنا کر وہ لڑکی کو لے اڑا۔ پورے ربوہ میں چہ میگوئیاں ہوگئیں کہ یہ ہمارے پیشوا نے کیا کرتوت کیا ہے۔ لیکن کسی میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ اس مسئلہ پر لب کشائی کر سکے۔ آخر وہ لڑکی کو لے کر ہنی مون منانے کے لئے اسلام آباد گیا۔ وہاں اگلے روز نزدیکی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ جس سے مولانا عبدالشکور دین پوری اور مناظر ختم نبوت و ممتاز مصنف حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کا خطاب تھا۔ جب مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرزا ناصر سمیت رائل فیملی کی بدکرداریوں پر روشنی ڈالی اور مرزا ناصر کو للکارا تو اسے فوراً دل کا دورہ پڑ گیا اور وہ اسی سے واصل جہنم ہو گیا۔ اس واقعہ کا اثر یوں تو سب ہی قادیانیوں پر ہوا۔ لیکن خاص طور پر اس سے ربوہ میں ہلچل مچ گئی۔ کیونکہ مرزا ناصر کی دو پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں۔
- ......۱ پھل پک چکا ہے اور عنقریب تمہاری جھولی میں گرنے والا ہے۔ یعنی تمہاری حکومت آنے والی ہے۔
- ......۲ یہ کہ نیا نکاح تیرے لئے (مرزا ناصر کے لئے ) بہت ہی بابرکت ثابت ہوگا۔
نہ پھل پک کر جھولی میں گرا اور نہ ہی مرزا ناصر کا نکاح بابرکت ثابت ہوا بلکہ ہوا یہ کہ پہلے قادیانی مسلمانوں میں شامل تھے۔ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی نے فیصلہ دے دیا کہ مرزائی ہر دو گروپ غیر مسلم اقلیت ہیں اور مرزا ناصر کے بعد مرزا طاہر اس کا جانشین بنا تو اسے پاکستان سے بھاگنا پڑا نہ صرف مرزا طاہر بلکہ رائل فیملی کے اکثر افراد ربوہ چھوڑ کر باہر جا چکے ہیں۔ شروع دن سے عام قادیانیوں کو رائل فیملی ہی فریب دے رہی ہے کہ: ”ہماری حکومت بس تھوڑے عرصے بعد آنے والی ہے۔“ لیکن اب وہ اس فریب کو سمجھ چکے ہیں۔ تاہم سازش جاری ہے۔
گزشتہ چند سال پہلے قادیان بھارت میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ (جسے وہ حج کا درجہ دیتے ہیں) تھا جس میں سکھ لیڈروں کو بطور خاص شرکت کی دعوت دی گئی ۔ وہ نہ صرف شریک ہوئے بلکہ ان کے ساتھ خفیہ بات چیت بھی ہوئی۔ جس کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ سکھوں کو ساتھ ملا کر مشرقی اور مغربی پنجاب پر ایک الگ ملک تشکیل دینا چاہتے ہیں لیکن بھارتی حکومت کی ناراضگی کی وجہ سے یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اب یہ تاثر ہے کہ آغا خان کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ ہو چکا ہے اور کشمیر گلگت بلتستان کو ملا کر ایک نیا ملک بنانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہیں بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ کیونکہ اس سے پاکستان کا نقصان ہے اور یہی قادیانی اور بھارتی حکومت چاہتی ہے۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ قادیانی بھارت کے ایجنٹ اور جاسوس ہیں۔ اب اخبار جنگ لاہور کی خبر نے ہماری بات کی تصدیق کر دی ہے جس میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ کی رپورٹ پر قادیانیوں کو بھارت کے کسی بھی شہر میں جشن منانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس خبر کے بعد بھی اگر کوئی قادیانیوں کو محب وطن سمجھتا ہے تو ہمارے خیال میں اس سے بڑا احمق اور پاگل کوئی نہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اداریہ، مؤرخہ ۲۰ تا ۲۶/ دسمبر ۱۹۹۱ء)
بھارت میں قادیانی اجتماع اور پاکستانی حکومت
دسمبر ۱۹۹۱ء کے آخری عشرہ میں بھارت میں قادیانی جماعت کا دسواں سالانہ جلسہ تین روز تک جاری رہنے کے بعد ختم ہو گیا۔ قادیانی جماعت کے مفرور سربراہ مرزا طاہر احمد نے بھی اس اجتماع میں شرکت کی اور قادیانیوں سے خطاب کیا۔ ۴۸ ممالک سے آئے ہوئے قادیانیوں نے اپنے مرکز قادیان کے سالانہ اجتماع میں شرکت کی۔ اخباری رپورٹ کے مطابق قادیانی جماعت کی درخواست پر بٹالہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے قادیان تک بھارتی سرکار نے قادیانی زائرین کو ریل کی سہولت فراہم کی۔ مرزا طاہر احمد نے شکوہ کیا کہ بھارتی مسلمانوں نے ان کے بھارت میں آنے کی مخالفت کی۔ جب کہ بھارت سرکار نے ان کو پذیرائی بخشی اور مسلمانوں کے احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ہماری معلومات کے مطابق اس بار بھارتی حکومت نے قادیانیوں کی مکمل سرپرستی کی اور قادیانیوں کی حوصلہ افزائی کی خاطر جلسہ کی کارروائی جلسہ گاہ سے براہ راست تین دن تک بھارت دور درشن سے ٹیلی کاسٹ ہوتی رہی، جسے پاکستان کے بعض شہروں میں بھی دیکھا گیا۔ ہمیں قادیانیوں کے سالانہ جلسہ سے نہ اختلاف ہے اور نہ ہی ہم بھارتی سرزمین پر ان کے اجتماع کے مخالف ہیں، بلکہ ہمیں تو خوشی ہے کہ ؎
بھارت میں منعقد ہونے والے حالیہ سالانہ قادیانی اجتماع کے مقاصد اور مضمرات کے پیش نظر اٹھانا ہم اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔
پاکستان سے راہ فرار اختیار کرنے والے قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد کے حکم پر قادیانی جماعت نے مختلف ممالک میں بسے ہوئے قادیانیوں کو پاکستان کے ازلی وابدی دشمن کی سرزمین پر جمع کیا۔ قادیان کے جلسہ میں بڑی تعداد پاکستان کے قادیانیوں کی تھی۔ بھارت کی سرزمین پر قادیانیوں کے اجتماع کی بدولت بھارت نے کروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ: ”۲۵؍ دسمبر ۱۹۹۱ء کو پاکستان سے بھارت جانے والے قادیانیوں نے ایک کروڑ روپے کی بھارتی کرنسی حاصل کی۔ اٹاری ریلوے اسٹیشن پر بھارتی بینک کرنسی تبدیل کرتا ہے۔ اس روز کاؤنٹر پر بھارتی کرنسی ختم ہوگئی اور بینک والوں کو خصوصی گاڑی بھیج کر امرتسر سے مزید رقم منگوانا پڑی۔“
یہ تو صرف ایک دن کی روئداد تھی۔ پاکستانی قادیانی سات روز تک بھارت آتے جاتے رہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو کتنا زرمبادلہ خرچ کرنا پڑا۔ پاکستان کی معیشت جس زبوں حالی کا شکار ہے حکومت اور اہل پاکستان اس سے آگاہ ہیں۔ بھارت میں ہونے والے تین روزہ قادیانی جلسہ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بلاشبہ متاثر ہوئی ہے۔ بھارت نے قادیانیوں کے حالیہ اجتماع کے موقع پر جو حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی ہے وہ بلاوجہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں بھارت کے سیاسی مقاصد پوشیدہ ہیں۔ بھارت ایک سیکولر سٹیٹ ہے جب کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ بھارت نے ہماری جغرافیائی سرحدات کو نقصان پہنچانے کے لئے ساتھ ساتھ ہماری نظریاتی سرحدوں میں بھی نقب زنی کی ہے۔ قادیانی جماعت ایک دینی و مذہبی جماعت ہونے کی دعویدار ہے۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ بھارت اپنی سرزمین پر بھارتی مسلمانوں کے وجود کو تو برداشت نہیں کرتا، بطور مسلم اقلیت کے بنیادی حقوق پامال کرتا ہے لیکن اس کے برعکس خود کو مسلمان ظاہر کرنے والے قادیانیوں کو تمام سہولتیں بھی فراہم کرتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ اجمیر شریف کے سالانہ عرس کے موقع پر یا مسلمانوں کے کسی مذہبی تہوار کے موقع پر بھارتی سرکار نے کبھی ایسی فیاضی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
بھارتی سرکار کی اس دوغلی پالیسی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت جس طرح خود کو پاکستان کا دشمن سمجھتا ہے، اسی طرح وہ قادیانیوں کو بھی پاکستان کا نظریاتی دشمن سمجھتا ہے۔ اسی مشترکہ ”پاکستان دشمنی“ کی بناء پر بھارتی حکومت نے ”بھارتی دور درشن“ کو بھی قادیانیوں کے لئے وقف کر دیا تاکہ ان کے پروگرام کو زیادہ سے زیادہ پبلسٹی دے کر قادیانیوں کو نوازا جائے۔ بھارت پاکستان کے قادیانیوں سے وہی دوستی اور تعلقات چاہتا ہے جو وہ ہندوستان کے سکھوں سے اپنائے ہوئے ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی سکھوں سے سیاسی مفادات حاصل نہیں کئے اور نہ ہی انہیں بھارت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ سکھ اگر پاکستان حکومت اور پاکستان عوام سے محبت کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ پاکستان میں سکھوں کے متبرک مقامات کی ہر طرح سے نگہداشت کی جاتی ہے۔ نیز سکھوں کو پاکستان میں مکمل طور پر مذہبی رسومات ادا کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ پاکستانی قوم چونکہ بنیادی طور پر مہمان نواز ہے۔ بالخصوص اہل
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پنجاب سکھوں کی آؤ بھگت اور مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔ اس لئے سکھ حضرات اس خیرسگالی اور علاقائی محبت کے جذبہ کے تحت ہمارے مشکور ہیں۔ ”سکھ دوستی“ کے باعث بھارت نے ہمیشہ ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھا ہے اور پاکستان پر بارہا یہ الزام عائد کیا ہے کہ مشرقی پنجاب میں سکھوں کو بھڑکانے میں پاکستان کا ہاتھ ہے اور سکھوں کی دہشت گردی میں بھی پاکستان ملوث ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بھارتی حکومت خاص طور پر آنجہانی راجیو گاندھی نے سکھوں پر جو مظالم ڈھائے۔ ان کے متبرک مقامات کی بے حرمتی کی۔ اس بنا پر سکھوں کے دلوں میں جذبہ انتقام بھڑک اٹھنا ایک قدرتی امر تھا۔ مذہبی آزادی اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کے ضمن میں سکھ جب بھارت اور پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں تو انہیں حقیقی خوشی اور مسرت محسوس ہوتی ہے کہ ایک نظریاتی اور اسلامی ریاست ہونے کے باوجود بھارت کی نسبت پاکستان میں انہیں زیادہ بہتر مذہبی آزادی حاصل ہے۔ بھارت کی گھٹیا سوچ نے اسے مجبور کیا ہے کہ پاکستان کی اقلیت قادیانیوں کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے۔ بھارت کے اندرونی معاملات میں سب سے بڑا اور الجھا ہوا مسئلہ کشمیر کا ہے۔ کشمیری حریت پسندوں نے بھارتی سرکار کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ پاکستان چونکہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی اخلاقی اور مالی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ پاکستان کی اس تحریک سے بھارتی سرکار کو خاصی تکلیف ہے۔ اس لئے بھارت کی کوشش ہے کہ ایسے ہی حالات پاکستان کے اندر بھی پیدا کر کے اسے کشمیریوں کی تائید وحمایت کرنے کی سزا دی جائے۔ اکھنڈ بھارت قادیانیوں کا الہامی عقیدہ ہے۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق قادیان کے جلسہ میں مرزا طاہر احمد کو قادیانیوں کی طرف سے جماعت کے لئے ایک کروڑ روپے کی رقم پیش کی گئی۔ یہ ایک کروڑ روپیہ کہاں سے آیا؟ ہمارے قیاس کے مطابق یہ رقم ایک کروڑ سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کروڑ روپیہ کا مصرف کیا ہوگا؟ اور اسے کن مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا؟ یہ وہ تمام باتیں ہیں جو حکومت پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہیں کہ قادیانی ہمارے دشمن ملک میں بیٹھ کر کیا گل کھلا رہے ہیں؟ حکومت کا فرض ہے کہ وہ متعلقہ ایجنسیوں سے قادیان کے جلسہ کے پیش نظر ہونے والی سازشوں کا نوٹس لے، اور یہ معلوم کیا جائے کہ مرزا طاہر احمد کو دیا جانے والا کروڑ روپیہ بھارتی سرکار کا نذرانہ تو نہیں؟ اگر یہ رقم بھارت سرکار کی طرف سے ہے تو پھر حکومت ہماری بات نوٹ کر لے کہ یہ رقم پاکستان کے اندر تخریب کاری، دہشت گردی اور قتل وغارت کے لئے استعمال ہوگی۔
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کا شکوہ اپنی جگہ بجا ہے کہ بھارتی مسلمانوں نے ان کے بھارت آنے کی مخالفت کی۔ جب کہ بھارتی حکومت نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ مسلمان بھارت کا ہو یا دنیا کے کسی ملک کا وہ مرزا طاہر احمد کی مخالفت ضرور کرے گا کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ قادیانیوں کا امت مصطفیٰ ﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ مسلمانوں کے برعکس ایک الگ امت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا مذہب بھی اسلام کے متوازی الگ مذہب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی مسلمانوں نے مرزا طاہر احمد کے بھارت آنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ رہا مسئلہ بھارتی حکومت کا، بنیئے نے کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔ بھارتی حکومت نے اپنے مفادات اور مخصوص مقاصد کے لئے قادیانی جمات کو جو آشیر باد دی ہے۔ اس کی قلعی جلد کھل جائے گی۔ بھارت میں قادیانیوں کے جشن کے بعد ایک کشمیری رہنما کا بیان سیاسی حلقوں کے لئے قابل فکر ہے۔ کشمیری رہنما ء نے الزام عائد کیا ہے کہ: ”بھارت نے حریت پسندوں کی مختلف تنظیموں میں اپنے ایجنٹ داخل کر دیئے ہیں۔ یہ ایجنٹ گنجان علاقوں میں بم دھماکے کرنے دوکانداروں اور تاجروں کو لوٹنے اور املاک کو نذر آتش کرنے میں مصروف ہیں۔ بعد ازاں ان کارروائیوں کا الزام حریت پسندوں پر لگا دیا جاتا ہے۔“
(روزنامہ نوائے وقت ص ۱، مورخہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۲ء، اداریہ ہفت روزہ لولاک ص ۴ تا ۶، مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۹۲ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۹۱ء میں قادیانیوں کا قبول اسلام
راولپنڈی میں قادیانی لڑکی کا قبول اسلام
مؤرخہ ۳؍ جنوری ۱۹۹۱ء کو دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی میں مسلسل تین سال کی کوشش کے بعد بالکل مطمئن ہوکر اور قادیانی مذہب سے بیزار ہو کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع راولپنڈی کے مبلغ حضرت مولانا احسان احمد دانش کے ہاتھ پر مذہب اسلام قبول کرلیا ہے۔ یہ لڑکی جو کہ ایف. اے کی طالبہ ہے نے مسلسل تین سال خط و کتابت کے ذریعہ سوال و جواب کر کے اور ہر طرح سے مطمئن ہو کر باوجود تمام گھر والوں کے قادیانی ہونے کے مسلمان ہوگئی ہے۔ یہ لڑکی جس کی عمر سترہ سال ہے، کا تفصیلی انٹرویو مرزائیت کو میں نے کیسا پایا، جلد شائع کیا جائے گا۔
(لولاک فیصل آباد ص۱۹، مؤرخہ ۲۵؍ جنوری ۱۹۹۱ء)
قادیانیت سے توبہ
گوجرانوالہ، کوٹلی حسن شاہ نارووال کے ایک قادیانی خاندان نے جماعت رضائے مصطفیٰ گوجرانوالہ کے امیر مولانا ابو داؤد محمد صادق کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے اور آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا، جعلی اور کاذب قرار دیتے ہوئے رسول کریم ﷺ کی نبوت اور ختم نبوت کا اقرار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مدعی نبوت ہے۔ وہ بے ایمان، دجال اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور ہم اس کے پیروکاروں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے والوں میں شاہدہ پروین، بشیر احمد بخاری، امت الحی بخاری، مبشر احمد بخاری، امت الحفیظ بخاری، شبیر احمد بخاری، امت الہادی اور منور احمد بخاری شامل ہیں۔ اس موقع پر انجمن قاضیان قریشاں نارووال کے سرپرست رشید احمد قریشی اور چھوٹی مسجد قاضیاں نارووال کے خطیب مولانا عبدالرشید رضوی موجود تھے۔ دریں اثناء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد، حافظ محمد ثاقب، چوہدری غلام نبی، حافظ احسان الواحد، سید احمد حسین زید اور حافظ محمد الیاس نے اس پورے خاندان کے مسلمان ہونے پر انہیں مبارک باد دی ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں مکمل تحفظ دیا جائے۔ کیونکہ انہیں قادیانیوں کی طرف سے ہراساں کیا جارہا ہے اور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
قادیانیت سے تائب ہونے والے افراد کا حلف نامہ
میں مسمی حلفاً کہتا / کہتی ہوں کہ محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت بالخصوص بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر، کاذب، دجال، بے ایمان، جہنمی اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا / سمجھتی ہوں۔ میں حلفاً کہتا / کہتی ہوں کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو مصلح موعود، مہدی، مجدد، مسیح، ظلی، بروزی، تشریعی یا غیر تشریعی نبی نہیں مانتا / مانتی۔ میں حلفاً کہتا / کہتی ہوں کہ میرا قادیانی جماعت ربوہ یا لاہوری جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ میں ہر دو گروپوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا / سمجھتی ہوں ۔ اللہ رب العزت مجھے ایمان پر قائم رکھے۔
دستخط: شاہدہ پروین بخاری
نوٹ: مزید برآں میں حلفاً کہتا/ کہتی ہوں کہ میں نے مؤرخہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۰ء بروز جمعۃ المبارک کو برضا ورغبت بغیر کسی دنیاوی لالچ کے حضرت مولانا ابوداؤد محمد صادق صاحب خطیب زینت المساجد امیر رضائے مصطفیٰ دارالاسلام گوجرانوالہ کے ہاتھ پر قادیانیت سے توبہ کی تھی جو کہ رشید احمد قریشی صدر انجمن قاضیاں قریشیاں رجسٹرڈ، متولی چھوٹی مسجد قاضیاں قریشیاں نارووال کی تبلیغ اور حسن اخلاق کا نتیجہ تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ تعالیٰ مجھے استقامت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!
”ربنا افرغ علينا صبراً وثبت اقدامنا وانصرنا على القوم الكافرين“ اے رب ہمارے ڈال دے ہمارے دلوں میں صبر اور جمائے رکھ ہمارے پاؤں اور مدد کر ہماری اس کافر قوم پر۔
(لولاک فیصل آباد ص ۱۷، ۱۸، مورخہ ۱۷ / جنوری ۱۹۹۱ء)
ظفر آباد، ٹنڈوالہ یار سندھ کے خاندانوں کی قادیانیت سے توبہ
میر پور خاص، عبدالمجید ولد عبدالرحمن عمر پچپن سال، عبدالحمید ولد عبدالمجید اور ان کے پورے خاندان ظفر آباد فارم تعلقہ ٹنڈوالہ یار نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا: عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ چوہدری فضل الٰہی صاحب ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی تبلیغ کا ہم پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ ہم پر مرزائیت کی قلعی کھل کر سامنے آگئی۔ آپ نے مرزائیت کی بنیادی حقیقت ہم پر نمایاں کر دی۔ حتیٰ کہ ہمیں یقین واثق ہو گیا کہ آنجہانی مرزا غلام احمد انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا جو انہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے کھڑا کیا تھا۔ ورنہ کہاں نبوت کا درجہ عظیم اور کہاں امام مہدی کا مقام۔ مرزا تو بچپن میں چڑیوں کا شکار کیا کرتے تھے اور مسمات بانو سے جوانی میں زور دلایا کرتے تھے جو موضع بسرون نزد قادیان کی رہنے والی نوجواں بچیاں تھیں۔ اندریں حقیقت مذکورہ بالا ہم تہہ دل سے مرزائیت سے تائب ہو کر مکمل طور پر اسلام میں دوبارہ داخل ہو رہے ہیں۔ دعا کریں خدا ہماری سابقہ کوتاہیوں کو معاف کرے اور آئندہ بھی اسلام کے ارکان کا پابند بنائے ۔ دوسرے افراد جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے نام یہ ہیں: محمد سلیم عمر ۲۲ سال، اختر علی عمر ۱۸ سال، عمران خان عمر ۶ سال، اصغر علی عمر ۱۴ سال، پسران عبدالمجید اور خاندان کے دوسرے افراد۔
دوسرا خاندان: میں مسمی بشارت علی ولد نواب دین مغل ساکن ظفر آباد تعلقہ ٹنڈوالہ یار ضلع حیدر آباد مدت سے قادیانیت سے بدظن اور غیر مطمئن تھا لیکن مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام کی گود میں آنے (داخل ہونے) کی جرأت نہ پاتا تھا۔ آج میرے محسن چوہدری فضل الٰہی نے مجھے نئے سرے سے تبلیغ کی جس پر اسلام کی حقانیت مجھ پر ظاہر ہو گئی اور مجھے مرزائیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ لہٰذا میں بھی اپنی بیوی تین بچیوں اور ایک بچے سمیت اسلام میں داخل ہو رہا ہوں۔ دعا کریں، خدا مجھے ایمانی تقویت بخشے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ یکم تا ۷ / فروری ۱۹۹۱ء)
قادیانیت سے اظہار بریت، گجر والا ڈیرہ غازی خان
گورنمنٹ ہائی سکول گجر والا تحصیل ڈیرہ غازی خان کے استاد جان محمد صاحب نے ایک تحریری بیان میں وضاحت کی ہے کہ وہ صحیح حنفی العقیدہ مسلمان ہے اور میں مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے دعویٰ نبوت کی بناء پر کاذب، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ یہ وضاحت انہوں نے مولانا صوفی اللہ وسایا، مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کو تحریری شکل میں لکھ کر دی ہے۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۲، مورخہ ۵ / اپریل ۱۹۹۱ء)
منڈی بہاؤالدین میں قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا
منڈی بہاؤالدین: یہاں ایک قادیانی خاندان نے مولانا قاضی منظور الحق ایم ۔ اے خطیب جامع مسجد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا اور مرزا قادیانی پر لعنت بھیج دی۔ اس خاندان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم بغیر کسی جبر کے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور مرزا کی جھوٹی نبوت اور جھوٹے مذہب سے توبہ کرتے ہیں۔ آئندہ ہمارا قادیانیوں سے خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری، کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ نو مسلموں کے نام
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ ہیں۔ مرزا حمید احمد ولد نذیر احمد صدر بازار منڈی بہاؤ الدین، سعید احمد، مجید احمد، محمود احمد پسران مرزا حمید احمد، زاہدہ زوجہ سعید احمد، ثریا زوجہ محمد سلیم، محمد سلیم ولد محمد سعید، نصرت، ناصرہ، نصیرہ دختران مرزا حمید احمد۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳، مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵/ اپریل ۱۹۹۱ء)
انڈونیشیاء میں بڑی تعداد میں لوگ قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کر رہے ہیں
الاسلام يدخل هذا البيت
احمد هار يادي : اعتنقت الاسلام بعد ١٠ سنوات دعوة للقاديانية
قضى عشر سنوات من عمره يدعو الى القاديانية التي اعمت بصيرته عن حقائق نور الاسلام .. ولكنه بعد فترة صحا من هذه الكبوة وادرك ان الاسلام هو دين الحق .. انه احمد هاريادي بن محفوظ داعية الرابطة الاسلامية بجاكرتا حاليا التقيناه ليحكى لنا قصة دخوله الاسلام فقال موجها دعوته الى الله : انك يا الله تهدي من تشاء .. سبحانك على كل شيء قدير ندعوك كما هديتنا للاسلام الا تنزعه منا واضاف : القاديانية اعمت بصيرتى عن حقائق الاسلام استمررت عشر سنوات ادعو لها .. ولكن سرعان ما اعتنقت الاسلام .. فعادت نفسى الى صفاء نبع الاسلام الذى يدعو الى الاخاء والتراحم ..
اعتناقى للاسلام يؤكد اننى ولدت من جديد ..
- وعن الدور الذى قام به قبل ان يسلم لنشر
القاديانية يقول : كنت ادعو للقاديانية عشر سنوات ولكنى صحوت على حقيقة ان الاسلام هو الدين الحق .. وكل من رفض الانصياع للعودة الى الاسلام انما هو كذاب ومفتر سيلعنه الله ويموت حقيرا مهانا . وعن موقف اهله منه بعد اعتناقه الدين الاسلامى قال : لقد فرح اهلى لاننى تركت الديانة التى لا اساس لها من الصحة ورجعت الى الدين الصحيح دين الاسلام . وعن رأيه فى الصحوة الاسلامية يقول : الصحوة شيء جميل نأمل ان تستمر لان الرجوع الى الله مطلوب .
مکہ المکرمہ (نمائندہ خصوصی) رابطہ عالم اسلامی کے مرکزی دفتر واقع مکہ المکرمہ میں موصولہ اطلاعات کے مطابق جکارتہ (انڈونیشیاء) میں بڑی تعداد میں لوگ قادیانیت سے تائب ہوکر مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی کی جکارتہ برانچ سے حال ہی میں موصول ہونے والی ایک رپورٹ میں ایک شخص مسمی احمد ہاریادی کی قادیانیت سے تائب ہوکر مشرف بہ اسلام ہونے کی تفصیلات معلوم ہوئی ہیں جن کے مطابق احمد ہاریادی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال سے قادیانیت کا مذہب اپنائے تھے۔ مگر اب اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت بخشی ہے اور اس کی آنکھیں کھلی ہیں اور اسے نور اسلام کی روشنی نصیب ہوئی ہے اور اب وہ اپنے گزشتہ سالوں کے غیر اسلامی عقائد پر نادم ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسلام میں دوبارہ لوٹ آنا اس کے لئے بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ آج نئے سرے سے پیدا ہوا ہے۔
احمد ہاریادی کے بقول وہ اپنے گزشتہ دس سالوں کی زندگی کے حالات سے سخت پریشان ہے اور یہ کہ اسلام ہی دین حق ہے اور قادیانی مذہب ایک من گھڑت اور فرضی مذہب ہے جس کی قطعاً کوئی بنیاد نہیں ہے اور یہ کہ قادیانی مذہب کے پیروکاروں پر اللہ کی لعنت ہو اور ان کی موت بہت ہی بری حالت میں آئے۔ جب احمد ہاریادی سے اس کے مذہب اسلام قبول کر لینے کے بعد اس کے اہل خانہ کے ردعمل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اب جب کہ وہ خود صحیح اسلامی عقائد پر عمل پیرا ہو گیا ہے تو اس کے اہل خانہ بھی بہت خوش ہیں اور وہ بھی قادیانیت سے تائب ہوکر صحیح اسلامی عقائد کی پیروی کرنے لگے ہیں۔
(رپورٹ محمد اکرم فضلی ایم۔ اے الریاض سعودی عرب نمائندہ خصوصی)
(ختم نبوت کراچی ص ۲، مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰ / مئی ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پشاور کے ایک مرزائی جوڑے کا قبول اسلام اور تجدید نکاح کی تقریب
پشاور: جماعت زندیقہ مرزائیہ سرحد کے خازن شجاع الدین نے اپنی بیٹی طیبہ بشریٰ کے ذریعہ ایک مسلمان نوجوان کے ایمان پر ڈاکہ ڈال کر اسے مرتد بنایا اور اس طرح اپنی بیٹی کا نکاح اس نو مرتد علی ساجد صدیقی سے کرا کر اپنے بھگوڑے پیشوا مرزا سے ایک خط کے ذریعہ علی ساجد صدیقی کو مبارک باد کا پیغام دے کر اسے کفریہ عقائد پر مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ مرزا طاہر کے اس خط مؤرخہ ۲۲؍نومبر ۱۹۸۹ء کی فوٹو کاپی اور رسم نکاح کے فوٹو مرکزی دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان میں محفوظ ہیں۔ جب اس جوڑے کی رخصتی مؤرخہ ۷؍مارچ ۱۹۹۱ء کو ہوئی تو رخصتی سے قبل اس جوڑے نے اسلام قبول کر کے گواہوں کی موجودگی میں مرزا غلام احمد کذاب قادیانی اور اس کے جملہ پیروکاروں کے کفر کا اعلان کیا اور رخصتی کے فوراً بعد نکاح کی تجدید کرتے ہوئے تحریراً کہا:
منکہ علی ساجد صدیقی ولد علی اوسط صدیقی سکنہ پیراں غائب بابا پشاور ومسماۃ طیبہ بشریٰ بنت شجاع الدین سکنہ مذکورہ بالا مؤرخہ ۷؍مارچ ۱۹۹۱ء کو تجدید نکاح بدیں وجہ کرتے ہیں کہ قبل ازیں ہم مرزائی قادیانی تھے اور ہمارا نکاح ایک مرزائی قادیانی نے پڑھایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم دونوں کو اپنے فضل سے نوازا اور ۵؍مارچ ۱۹۹۱ء کو ہم مرزائیت سے تائب ہو کر ایک تحریری حلف نامہ کے ذریعہ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ آج چونکہ رخصتی ہوئی ہے سابقہ نکاح کفر کی حالت میں ایک کافر نے پڑھایا تھا جو باطل ہو چکا ہے۔ لہٰذا شریعت اسلامیہ کے مطابق آج ہمارا نکاح الحاج مولانا فضل حق صاحب خطیب جامع مسجد ہشت نگری پشاور نے گواہوں کی موجودگی میں پڑھایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام پر قائم و دائم رکھے اور مرزائیت / قادیانیت کی لعنت سے محفوظ فرمائیں۔ آمین! ۷؍مارچ ۱۹۹۱ء
دستخط بحروف انگریزی علی ساجد صدیقی، دستخط بحروف اردو و انگریزی طیبہ بشریٰ بنت شجاع الدین دستخط گواہان (۱) محمد سلیم ولد شجاع الدین برادر طیبہ بشریٰ (۲) عبدالرزاق ولد عبدالغفار پشاور (۳) مولانا نور الحق نور پشاور (۴) محمد ارشد ولد محمد رفیق کراچی (۵) الحاج مولانا فضل حق خطیب پشاور۔
الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کی کوشش سے یہ جوڑا محمد عربی ﷺ کے دامنِ اطہر واقدس سے وابستہ ہوا۔ مجلس کی سعی ہماری نجات کا ذریعہ ہو۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۷، مؤرخہ ۳۱؍مئی تا ۶؍جون ۱۹۹۱ء)
ربوہ میں قبول اسلام
محترمہ کشور بی بی زوجہ احمد علی سکنہ ربوہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے ہاتھوں مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ موصوفہ نے اپنے تحریری بیان میں مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق کہا کہ مرزا قادیانی دجال، کذاب، مرتد، دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نیز اسے نبی یا مصلح ماننے والے قادیانی اور لاہوری گروپ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے۔ محترمہ نے کہا کہ یہ بیان میں بلا جبر و اکراہ اور برضا و رغبت دے رہی ہوں۔ علاوہ ازیں موصوفہ کی تین بچیوں شکیلہ بی بی، جمیلہ بی بی، عدیلہ بی بی نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ قبول اسلام کے وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے راہنما جناب حافظ محمد ثاقب اور موصوفہ کے دادا محترم چوہدری سردار علی بھی موجود تھے۔ بعدازاں مولانا شجاع آبادی نے اسلام قبول کرنے والیوں کے لئے دعائے استقامت فرمائی اور مجلس کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۳، مؤرخہ ۲؍اگست ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی کا قبول اسلام
ربوہ: جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ میں ایک قادیانی محمد اکرم نان والے نے مرزائیت چھوڑ کر مولانا خدا بخش شجاع آبادی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ محمد اکرم نان والا محلہ دارالرحمٰن ربوہ کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں حضورﷺ کی ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان لاتا ہوں اور مرزا قادیانی کو کافر سمجھتا ہوں۔ مسجد محمدیہ میں سینکڑوں مسلمانوں نے انہیں مبارک باد دی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، مورخہ ۹ اگست ۱۹۹۱ء)
اٹھارہ افراد نے قادیانیت سے توبہ کر لی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رکن اور ہفت روزہ ختم نبوت کے پرانے معاون جناب چوہدری فضل الٰہی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میر پور خاص کی کوششوں اور تبلیغ سے حیدر آباد کے ۱۸ افراد نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ جن افراد نے اسلام قبول کیا ہے ان کے نام یہ ہیں: چوہدری غلام رسول ولد شیر محمد، مسماۃ نذیراں زوجہ غلام رسول، چوہدری احسان الٰہی ولد غلام رسول مع اہل وعیال، چوہدری اکرام الٰہی صاحب ولد غلام رسول مع اہل وعیال، چوہدری جاوید اقبال، چوہدری شاہد اقبال، محمد عثمان ولد چوہدری احسان الٰہی، عمران ولد چوہدری احسان الٰہی، انہوں نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں جس پر آٹھ ذمہ دار حضرات کے دستخط ہیں۔ کہا کہ ہم دستخط کنندگان ذیل (۸) جملہ اٹھارہ افراد مع اہل وعیال کے صدق دل سے اسلام قبول کرتے ہیں۔ ہمیں ہمارے بزرگ چوہدری فضل الٰہی ولد محمد بخش کافی عرصہ سے قادیانیت کے خلاف اور اسلام کی حقانیت پر تبلیغ کرتے رہے۔ آخر ہم قائل ہو گئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا۔ وہ جھوٹا اور کذاب تھا اور حضرت سیدنا محمد رسول اللہﷺ اللہ کے سچے اور آخری رسولﷺ ہیں۔ آپﷺ کے بعد جو بھی شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ہم یوم آزادی کے مبارک موقعہ پر مرزائیت سے تائب ہو کر حلقۂ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام پر استقامت عطاء فرمائیں۔ عوام ہماری استقامت علی الاسلام اور مغفرت کے لئے دعا فرمائیں۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۳، مورخہ ۶ تا ۱۲؍ ستمبر ۱۹۹۱ء)
سیالکوٹ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
سیالکوٹ شہر کے نواحی قصبہ چنوں موم میں ایک پیدائشی قادیانی ”حفیظ احمد“ نے اپنی بیوی ”کنیز“ چار بیٹوں اور دو بیٹیوں سمیت حضرت مولانا حافظ عزیز الرحمٰن قاسمی صاحب صدر المدرسین مرکزی مدرسہ تعلیم الاسلام چنوں موم کے دست حق پرست پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ قارئین ختم نبوت سے گزارش ہے کہ اس خاندان کے لئے استقامت علی الحق کی دعا فرمائیں۔ حفیظ احمد مذکور کا نیا نام عبدالحفیظ رکھا گیا ہے۔ مرکزی مدرسہ تعلیم الاسلام علاقہ کی قدیم و معروف دینی درسگاہ ہے۔ یہاں کے علماء کرام کی مساعی جمیلہ سے ماضی میں بھی کئی عیسائی اور قادیانی مشرف با اسلام ہو چکے ہیں۔ قارئین کرام ادارہ ہٰذا کی ترقی کے لئے بھی دعا فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴، مورخہ ۱۱ تا ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء)
مسلم کالونی چناب نگر میں دو قادیانیوں کا قبول اسلام
ربوہ: محمد اظہر قریشی، محمد انور قریشی موضع چھنی متصل ربوہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مسلم کالونی ربوہ میں مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خدا بخش خطیب جامع مسجد محمدیہ ربوہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا ہے اور مرزائیت سے تائب ہو کر حضور ﷺ کے ختم نبوت کا اقرار کیا اور اعلان کیا کہ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ قیامت سے پہلے ان کا نزول ہوگا۔ اس مبارک مجلس میں چوہدری محمد شفیق، مولوی غلام مصطفیٰ، محمد اختر، ناصر قریشی، محمد نواز تبسم فیض الحسن قریشی، چوہدری محمد سرور ساکنان مسلم کالونی ربوہ بھی موجود تھے۔ آخر میں مولانا خدا بخش نے ان کی استقامت کے لئے دعا کرائی اور اس خوشی میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ تمام حاضرین نے اسلام قبول کرنے والوں کو مبارک دی اور عالمی مجلس ختم نبوت کی کوششوں کو سراہا۔ بیان میں مسمی محمد اظہر قریشی ہاشمی ولد نمبردار اکبر حسین قریشی ہاشمی و محمد انور قریشی ہاشمی موضع مہنی قریشیاں خدا تعالیٰ کو ایک مانتا ہوں اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں۔ حضور ﷺ کی ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے۔ اس کو کافر سمجھتا ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ مدعی نبوت ہے۔ اس کو اور اس کے ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر موجود ہیں اور قیامت سے پہلے ان کا نزول ہوگا اور مرزا قادیانی کو نہ میں مسیح مانتا ہوں اور نہ مجدد اور نہ مہدی بلکہ ایسے شخص کو جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کافر سمجھتا ہوں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا خدا بخش کے ہاں دفتر ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ میں چوہدری محمد شفیق ولد علی محمد، مولانا غلام مصطفیٰ، محمد اختر ولد دین محمد، چوہدری محمد سرور سکنہ مسلم کالونی کی موجودگی میں میں نے یہ اعلان باقائمی ہوش وحواس بغیر کسی جبر کے کیا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴، مورخہ ۱۳ تا ۱۹/دسمبر ۱۹۹۱ء)
۱۹۹۱ء میں کانفرنس ہائے ختم نبوت
مجلس راولپنڈی کا تربیتی کنونشن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کا سالانہ تربیتی کنونشن زیر صدارت مولانا حضرت قاری محمد امین منعقد ہوا۔ جب کہ مہمان خصوصی حضرت مولانا عبد الحکیم تھے۔ کنونشن سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی رہنما جناب حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی عالم اسلام کے بدترین دشمن ہیں جو کبھی بھی ملک وملت کے حق میں نہیں رہے۔ کنونشن سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے مبلغ احسان احمد دانش نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ جس کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا بنیادی فرض ہے اور ہماری جماعت پوری دنیا میں یہ فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔
کنونشن سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مجلس شوریٰ کے رہنماء حضرت مولانا قاری محمد امین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے قادیانی فتنہ پیدا ہوا ہے ہر دور میں علمائے کرام نے اور تمام مسلمانوں نے ان کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور ہزاروں جانیں قربان کر کے قادیانیوں کے کفر کو پوری دنیا میں بے نقاب کیا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا عبد الحکیم نے کہا کہ قادیانی ختم نبوت کے منکر ہونے کی وجہ سے غیر مسلم ہیں۔ نیز حکومت اور انتظامیہ کو قادیانیت نوازی کا سلسلہ بند کرنا چاہئے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قادیانیوں، یہودیوں کے خلاف میدان عمل میں اتر کر ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ کریں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۱، مورخہ یکم/مارچ ۱۹۹۱ء)
فتح مباہلہ کانفرنس چنیوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما جناب صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک نے فتح مباہلہ کانفرنس چنیوٹ منعقدہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۶ فروری ۱۹۹۱ء بروز منگل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی فتنہ اب اپنی منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین کی مسلسل جدوجہد کے باعث قادیانیت کو دینی، سیاسی، روحانی، علمی، قلمی ہر محاذ پر ناک آؤٹ کیا گیا۔ صاحبزادہ طارق محمود نے انکشاف کیا کہ جب جنرل محمد ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا تو فلسطین کی مختلف تنظیموں نے انہیں مبارک باد کی ٹیلی گرامیں دیتے ہوئے بتایا تھا کہ قادیانی اسرائیل کی فوج میں شامل ہیں اور یہ کہ آج بھی پارلیمنٹ میں بہائی اور قادیانی فتنہ کے بانیوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قادیانیوں کے یہودیوں کے ساتھ کس قدر مستحکم تعلقات ہیں۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۲، مورخہ یکم /مارچ ۱۹۹۱ء)
سالانہ ختم نبوت کورس ملتان
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته مزاج گرامی!
آپ کے علم میں ہے کہ عالمی مجلس کے مرکزی دفتر ملتان میں عرصہ چالیس سال سے ہر سال پندرہ شعبان سے تیس شعبان تک سالانہ ”رد قادیانیت کورس“ ہوتا ہے جس میں ملک کے نامور پروفیسر، علماء حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی زیر نگرانی شرکاء کو قادیانیوں کے عقائد و عزائم سے باخبر کرنے اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر لیکچر دیتے ہیں۔ اس کورس میں دینی مدارس کے طلباء اور سکول و کالجز کے سٹوڈنٹس اور عام نوجوان شریک ہوتے ہیں۔ شرکاء کی رہائش و خوراک اور دیگر سہولیات مجلس کے ذمہ ہوتی ہے۔ آپ سے استدعا ہے کہ اس سال کورس کے لئے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں، جماعتی کارکنوں اور طلباء کو تیار کر کے اس میں شریک کریں تاکہ ان کی ذہن سازی ہو اور وہ ملک عزیز میں قادیانی فتنہ کے خلاف کام کرسکیں۔ توقع ہے کہ اپنے حلقہ اثر میں رفقاء کو تیار کر کے ان کی فہرست واپسی ڈاک کے ذریعے جلدی ارسال کریں گے تاکہ اس کی روشنی میں انتظامات کئے جاسکیں۔ فوری مثبت جواب کا منتظر مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰، مورخہ ۸ /فروری ۱۹۹۱ء)
بہاول پور میں دروس قرآن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت حسب سابق بھی بہاول پور کے زیر اہتمام جامع مسجد الصادق میں بعد از نماز فجر درسہائے قرآن پاک یکم /رمضان المبارک تا ۱۶/ رمضان المبارک مطابق ۱۸/مارچ تا ۲/ اپریل منعقد ہوئے۔ جس میں حسب ذیل علماء نے خطاب کئے۔ مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی اللہ یار خان، مولانا بشیر احمد حامد، مولانا فضل الرحمن خانقاہ شریف، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اسحق ساقی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۲، مورخہ ۵ / اپریل ۱۹۹۱ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کی دورۂ تربت کی مکمل رپورٹ
بخدمت جناب وزیر اعلیٰ صاحب بلوچستان
جناب عالی!
آپ کے کہنے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب کی قیادت میں مورخہ ۷ / اپریل ۱۹۹۱ء کو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوئٹہ سے تربت روانہ ہوا۔ وفد نے تربت جاتے ہی سب سے پہلے خانہ خدا جامع مسجد تربت میں حاضری دی اور مسجد کی بے حرمتی کا تفصیل سے معائنہ کیا۔ بعد ازاں وفد نے کمشنر مکران کو اپنی آمد کی جا کر اطلاع دی اور اس کے بعد تھانہ اور سینٹرل جیل میں گرفتار شدگان سے ملاقات کی۔ اس کے بعد تربت انتظامیہ سے تربت کے حالات و واقعات پر مختلف اوقات میں تین نشستوں میں مذاکرات ہوئے۔ ان تمام حالات و واقعات کی مختصر اور محتاط تحریری رپورٹ جناب کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔ مورخہ ۸؍ اپریل ۱۹۹۱ء کو وفد نے حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب کی قیادت میں جامع مسجد تربت کی بے حرمتی کا معائنہ کیا۔ جامع مسجد کی پریشان کن حالات کو دیکھ کر وفد کے تمام ارکان اشکبار ہو گئے۔ مسجد کی بے حرمتی کے بارے میں وفد نے جو مشاہدہ کیا وہ کچھ اس طرح ہے کہ مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۹۱ء بروز جمعہ کو بعد از نماز جمعہ جامع مسجد تربت میں ختم نبوت کانفرنس میں شریک علماء کرام اور قائدین نے اعلان کیا کہ ہم اپنے مطالبات کی منظوری کے سلسلے میں مسجد سے نکل کر تربت شہر کے چوک تک جلوس کی شکل میں پرامن مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں اور پرامن طریقے سے واپس مسجد میں آجائیں گے۔ مسجد سے اس اعلان کے ہوتے ہی انتظامیہ کی جانب سے پولیس لیویز بی. آر. پی اور درا فورس کے جوانوں نے (جس میں حال ہی میں ذکریوں کی ایک خاصی تعداد کو بھرتی کیا گیا ہے) مسجد کے گیٹ بند کر کے پوزیشن سنبھال لی۔ علماء کرام نے بار بار انتظامیہ کو واضح الفاظ میں یہ یقین دہانی کرائی کہ ہم پرامن مظاہرہ کر کے واپس مسجد میں آجائیں گے۔ لیکن انتظامیہ کے افراد نے مسلسل گھیراؤ کر کے مسلمانوں کو مسجد کے اندر بند کر کے اشتعال دلایا۔ اس کشمکش کے دوران اے.سی تربت نصیب اللہ بازائی نے آگے بڑھ کر مسجد تربت کے خطیب مولانا محمد الیاس صاحب کے گریبان سے پکڑا اور دو جھٹکے دے کر سخت برا بھلا کہا۔ جس پر مسجد میں موجود مسلمان سخت مشتعل ہوئے اور پولیس اور مسلمانوں میں تکرار شروع ہوا۔ اچانک پولیس نے بشمول دیگر فورسز کے مسجد کے اندر موجود مسلمانوں پر آنسو گیس استعمال کی اور فائرنگ کی۔ اس کے بعد پولیس کے افراد جوتوں سمیت مسجد میں گھس آئے اور ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایک ذمہ دار افسر کے بقول تین ہزار گولیاں چلائی گئیں اور بڑی مقدار میں مسجد کے اندر مسلمانوں پر آنسو گیس کے گولے پھینکے گئے۔ مسلمانوں نے مسجد کے اندر جا کر اندر سے مسجد کے دروازے بند کر دیئے تا کہ پولیس کی اس وحشیانہ اور ظالمانہ کارروائی سے اپنا بچاؤ کر سکیں۔ لیکن پولیس نے جوتوں سمیت مسجد میں گھس کر مسجد کا تقدس پامال کرتے ہوئے مسجد کے ایک دروازے پر زور آزمائی کر کے مسجد کا دروازہ توڑا اور مسجد کے اندر داخل ہو کر ذکر و تلاوت میں مشغول نہتے مسلمانوں پر ڈنڈے برسائے اور مسجد کے اندر ہی سے علماء کرام اور ختم نبوت کے کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کر دیں اور اپنی مطلوبہ تعداد کو جبراً گرفتار کر کے باقی مسلمانوں کو جبراً مسجد سے نکال دیا۔ یہاں تک کہ بعض افراد نے جب یہ استدعا کی کہ ہمیں مسجد میں ذکر و تلاوت کی اجازت دی جائے تو پولیس کے افراد نے انہیں سختی سے یہ کہہ کر مسجد سے نکال دیا کہ اس میں آپ کو ذکر وغیرہ کی بھی اجازت نہیں ہے اور پولیس نے جبراً مسجد سے مسلمانوں کو نکال دیا۔ حتیٰ کہ کئی وقت تک اس مسجد میں اذان اور نماز باجماعت بھی نہ ہوسکی۔ وفد کے ارکان نے مسجد کا بغور معائنہ کیا تو متعدد مقامات پر مسجد کو خون سے رنگین پایا اور خون کی ایک لمبی پٹی کو ناپا گیا تو ۵۰؍ فٹ تک تھی اور مسجد کی متعدد دریوں کو خون سے رنگین پایا اور مسجد کے ٹوٹے ہوئے دروازے کا وفد نے اپنی آنکھوں سے معائنہ کیا۔ انتظامیہ نے وفد کے تربت آنے سے قبل جس کی مرمت کرا دی تھی اور جس کا کچھ ٹوٹا ہوا ملبہ اب بھی وفد کے پاس بطور ثبوت موجود ہے اور مسجد کے ایک ٹوٹے ہوئے روشن دان کا بھی وفد نے معائنہ کیا اور مسجد کی دریاں وفد کے جانے تک بدستور بکھری پڑی تھیں۔ اس کے ساتھ بے شمار جوتے مسجد کے اندر بکھرے پڑے تھے۔ جامع مسجد تربت کی یہ حالت زار انتظامیہ کے ظلم و ستم کی داستان ہر آنے والے کو از خود بتا رہی تھی۔ مسجد کی یہ حالت دیکھ کر وفد کے ارکان پر لرزہ طاری ہو گیا کیونکہ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں ہوا جس کو اسلام کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے اور جہاں ہمارے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکمران بارہا اسلام کے نفاذ کا اعلان فرما چکے ہیں۔ اس کے بعد یہ وفد مولانا رحمت اللہ صاحب کی قیادت میں کمشنر ہاؤس گیا اور کمشنر مکران کو مسجد کی بے حرمتی سے مطلع کیا اور یہ بات اس پر واضح کی کہ جب تک آپ ہمارے ساتھ چل کر مسجد کی ہونے والی بے حرمتی کا معائنہ نہیں کریں گے۔ ہم آپ کے ساتھ مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔ چنانچہ کمشنر صاحب نے خود آکر وفد کے قائد مولانا رحمت اللہ صاحب کے ساتھ مسجد کا معائنہ کیا اور اس بات کا وفد کے سامنے اقرار کیا کہ واقعی مسجد کی بہت بے حرمتی ہوئی ہے۔ ہم اس پر بہت شرمندہ ہیں اور پولیس میں بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے یہ کارروائی کر کے ہمیں بدنام کیا ہے اور ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس جرم کو معاف فرمائے۔
وفد کے ارکان نے تھانہ میں جا کر گرفتار ہونے والے افراد سے ملاقات کی۔ ان میں ایک زخمی مولوی عبدالواحد تھے جو موت و حیات کی کشمکش میں تھانہ کے اندر گرفتار ہونے والوں کے ساتھ تھے اور ان پر اتنا تشدد کیا گیا تھا کہ وہ غشی کی حالت میں تھے اور ان کا سارا جسم بے حس و بے حرکت تھا اور گرفتاری کے بعد اے سی تربت نصیب اللہ بازائی نے پلاس سے اس کے ہاتھ کی ایک انگلی کا ناخن بھی کھینچ کر نکال دیا تھا اور پولیس کے افراد نے اس کے ہاتھ کی راڈو گھڑی اور مبلغ تیرہ ہزار روپے نقد مال غنیمت سمجھ کر ہضم کر لئے تھے۔ وفد نے کمشنر صاحب کی توجہ جب اس طرف دلائی تو اس مظلوم کو دوسرے دن ہی پولیس نے ہسپتال میں داخل کرایا اور آج کل وہ کوئٹہ میں زیر علاج ہے۔
کوئٹہ کے ڈاکٹروں نے خصوصی توجہ دے کر اس کی جان بچائی اور اب اس کی حالت بہتر ہے۔ وفد کے ارکان نے تربت کی سینٹرل جیل میں جا کر ختم نبوت کے کارکنوں کی حالت معلوم کی جن کی تعداد ۹۰ کے قریب تھی۔ ان میں ڈیڑھ درجن سے زائد افراد زخمی تھے۔ ان زخمیوں میں ایک شخص مولوی عبد الہادی تھا جس کے بازو میں پولیس فائرنگ سے دو گولیاں لگی تھیں جس کو ہسپتال میں علاج کی بجائے انتظامیہ نے جیل میں رکھا ہوا تھا۔ وفد نے جب کمشنر صاحب کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تو اسے رہا کیا گیا اور اس وقت یہ آدمی کراچی میں زیر علاج ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن کو جیل میں رکھا ہوا تھا۔ جن کے سر اور جسم کے دوسرے حصے پر زخموں کے نشانات وفد نے خود ملاحظہ کئے۔ ان حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد وفد کے ارکان نے مولانا رحمت اللہ صاحب کی قیادت میں تربت کے کمشنر سمیت انتظامیہ کے افسران سے مذاکرات شروع کئے۔ مذاکرات کی کل تین نشستیں ہوئیں۔ وفد کے ارکان نے واضح الفاظ میں انتظامیہ پر اپنا مؤقف پیش کیا اور انہیں بتایا کہ مؤرخہ ۴؍ اپریل ۱۹۹۱ء کو جامع مسجد تربت میں منعقد ہونے والی تحفظ ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونے والے علماء اور قائدین مجلس کو تربت بدر کرنے سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا ہے۔
دوسرے نمبر پر آپ نے اپنے اہل کاروں کے ذریعہ مسجد کی بے حرمتی کرا کے مسجد کے اندر سے علماء کرام اور مسلمانوں کو گرفتار اور ان پر تشدد کر کے فضاء کو خراب کیا اور ان تمام واقعات و کارروائی پر پردہ ڈالتے ہوئے صوبائی حکومت کو غلط اطلاعات فراہم کر کے اصل حالات و حقائق سے بے خبر رکھا۔ جس سے صورتحال کے بگڑنے کا خطرہ ہے۔ اب حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ہماری سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ تمام گرفتار شدہ افراد کو آپ وزیر اعلیٰ کے حکم پر غیر مشروط طور پر رہا کر دیں تاکہ حالات کچھ نارمل ہوں اور اس کے بعد ہم آپ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر کے افہام و تفہیم کے ذریعہ حالات کو پرامن کرنے کی کوشش کریں گے اور وفد نے یہ بات بھی کمشنر پر واضح کر دی کہ اس وقت سب سے زیادہ اہم مسئلہ جس سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا ہے، وہ مسجد کی بے حرمتی کا مسئلہ ہے اور مسجد کی ہونے والی
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء
توہین اور بے حرمتی کا آپ خود جائزہ لے چکے ہیں۔ اس لئے جو افسران یا پولیس کے افراد اس واقعہ میں ملوث ہوئے ہیں آپ کم از کم ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا وعدہ کریں تاکہ مسلمانوں کے جذبات کی لہر کچھ کم ہو سکے۔
ہماری ان گزارشات کے جواب میں کمشنر تربت اور دیگر افسران کا لب ولہجہ مصالحت کی بجائے حالات مزید خراب کرنے کا عندیہ دے رہا تھا اور وہ حالات کو کنٹرول کرنے کے اسباب کے بجائے مسلمانوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے نزدیک مسجد کے تقدس سے کوہ مراد کا تقدس بڑھ کر ہے۔ وہ ہماری کسی گزارش اور تجویز کو ماننے کے موڈ میں نہ تھے بلکہ وہ ہر قیمت پر ذکریوں کے وکیل کا کردار ادا کر کے حالات کو مزید خراب کرنا اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔ انہیں مسجد کی بے حرمتی، مسلمانوں کی گرفتاری اور ان پر ہونے والے تشدد کا کوئی احساس نہیں تھا۔ وفد نے جب یہ محسوس کیا کہ انہیں اہل اسلام کے جذبات کا کوئی احساس نہیں ہے اور نہ وہ گرفتار ہونے والے افراد کو رہا کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ مورخہ ۹؍ اپریل ۱۹۹۱ء کو دن کے بارہ بجے مذاکرات کی تیسری اور آخری نشست میں کمشنر صاحب نے واضح طور پر اس چیز کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی تجاویز اور مطالبات کو ماننے سے قاصر ہوں اور میں سودے بازی کے موڈ میں نہیں ہوں۔ اس قسم کے الفاظ جذباتی انداز میں کہہ کر کہا: آپ کی مرضی ہے کہ آپ یہاں رہیں یا واپس جائیں پھر گلہ نہ کریں۔
کمشنر صاحب کے ان غیر متوقع الفاظ کے جواب میں، میں نے انہیں کہا کہ جناب ہم اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ وزیراعلیٰ کے کہنے پر آپ سے بات چیت کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ جب آپ ہماری تجاویز کو سودے بازی سے تعبیر کر رہے ہیں اور ہماری مخلصانہ کوشش کی کوئی قدر کرنے کو تیار نہیں۔ آپ کا ذہن صرف کوہ مراد کے تحفظ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور مسجد کی بے حرمتی کا آپ کو کوئی خیال نہیں۔ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کا آپ کو کوئی احساس نہیں اور ہمارے گرفتار شدہ افراد کو آپ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو پھر آپ کی مرضی۔ آپ جس طرح کریں ہم واپس جا رہے ہیں۔
ہمارا وفد مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۹۱ء کو واپس کوئٹہ آیا۔ آپ ان دنوں اسلام آباد گئے ہوئے تھے۔ واپس کوئٹہ آتے ہوئے موسم کی خرابی کے باعث آپ کراچی چلے گئے اور عید کی رخصت پر آپ اپنے آبائی گاؤں عید منانے چلے گئے۔ کوشش کے باوجود اس دوران آپ سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اب یہ مختصر سی رپورٹ تحریری صورت میں جناب کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے جس کی اہم چیزیں اشارتاً دوبارہ درج تحریر کی جاتی ہیں۔
- ۱...... تربت انتظامیہ کے حکم پر پولیس کے افراد نے جوتوں سمیت مسجد میں گھس کر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے مسجد میں
پھینکے۔ ہزاروں کے حساب سے فائرنگ، مسجد کے دروازے توڑنا اور مسجد کے اندر داخل ہو کر پولیس کا وحشیانہ ظلم و تشدد ان سب واقعات نے مسلمانوں میں اشتعال پیدا کیا اور تربت انتظامیہ نے ان حالات سے جان بوجھ کر آپ کو بے خبر رکھا۔
- ۲...... آپ کے کہنے پر تربت جانے والے علماء کے وفد سے تربت انتظامیہ نے کوئی مفید بات چیت کر کے حالات کو سدھارنے کی
بجائے ان کی تمام تجاویز کو مسترد کر کے حالات کو مزید خراب کیا۔
- ۳...... قومی اسمبلی کے فلور پر مولانا سید محمد صدیق شاہ صاحب ایم۔این۔اے اور مولانا محمد خان صاحب شیرانی ایم۔این۔اے کی جانب
سے پیش کی گئی تحریک کے جواب میں وزیر داخلہ نے واضح الفاظ میں یہ بیان دیا کہ میں نے صوبائی حکومت اور تربت کے کمشنر کو
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ذاتی طور پر فون کے ذریعہ یہ کہہ دیا ہے کہ ذکریوں کے نقلی حج پر پابندی لگائی گئی ہے۔ لہٰذا ذکریوں کو کوہ مراد پر جمع نہ ہونے دیا جائے۔ وزیر داخلہ کا یہ بیان ملک بھر کے اخبارات میں جلی سرخیوں کے ساتھ نمایاں طور پر شائع ہوا۔ کمشنر مکران نے اس کی واضح خلاف ورزی کر کے ذکریوں کو کوہ مراد کا نقلی حج کرایا جب کہ مرکزی حکومت کے وزیر داخلہ نے جب واضح اعلان میں اس پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تو کمشنر مکران نے اس کی خلاف ورزی کر کے اہلِ اسلام کے جذبات کو کیوں مجروح کیا۔
- ۴...... کمشنر مکران اب انتقامی کارروائی کر کے تربت کے حالات کو مزید خراب کرنا چاہتا ہے۔ جس کی تازہ مثال وہاں کے معزز شہری
اور جماعت کے اہم رکن محمد شاہ کی گرفتاری ہے جس کو عید سے قبل گرفتار کیا گیا اور آج تک گرفتاری کی وجہ بتائے بغیر اسے قید و بند میں رکھ کر اس پر تشدد کیا جا رہا ہے اور کمشنر مکران کی جانب سے اس قسم کی مزید گرفتاریاں بعید از قیاس نہیں ہیں۔
وفد کے ارکان یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر تربت انتظامیہ کو اسی طرح بے لگام رکھا گیا اور مسجد کی بے حرمتی میں ملوث تربت انتظامیہ کے ذمہ دار افسران کے خلاف آپ کی طرف سے کوئی سخت کارروائی عمل میں نہ لائی گئی اور اس سارے واقعہ میں ملوث افراد کو معطل نہ کیا گیا اور ذکریوں کے بارے میں اہلِ اسلام کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کر کے انہیں تسلیم نہ کیا گیا تو حالات کسی سنگین خطرے کا باعث بن کر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱، ۲۲، مؤرخہ ۳۱؍مئی تا ۶؍جون ۱۹۹۱ء)
رپورٹ دہندگان: حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب شیخ الحدیث مدرسہ مفتاح العلوم سوراب و پنجگور، حضرت مولانا عبدالحق صاحب بلوچ امیر جماعت اسلامی بلوچستان، حضرت مولانا مفتی احتشام الحق آسیا آبادی جامعہ رشیدیہ آسیا آباد، حضرت مولانا عبدالواحد صاحب خطیب جامع مسجد قندھاری کوئٹہ، حاجی سید شاہ محمد آغا قذافی جنرل اسٹور منصفی روڈ کوئٹہ، مولانا نذیر احمد تونسوی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آرٹ اسکول روڈ کوئٹہ۔
علماء اور قائدین ختم نبوت کو حکومت نے تربت بدر کر دیا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے بلوچستان کے علماء اور مجلس کے قائدین کو تربت میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ جب جہاز تربت میں اترا تو پولیس نے اسے گھیرے میں لے لیا اور اے سی تربت نے علماء کرام کو اترنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات کا تربت میں داخلہ بند ہے۔ علماء کرام نے بہت اصرار کیا کہ ہمیں تحریری طور پر آرڈر دکھائے جائیں، لیکن انہوں نے تحریری آرڈر دکھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہمیں چیف منسٹر کا حکم ہے۔ یہ علماء کرام تربت میں ۴؍اپریل کو منعقد ہونے والی آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے کوئٹہ سے تربت پہنچے تھے۔ چنانچہ انہیں کافی تکرار کے بعد تربت سے تربت بدر کر دیا اور اسی طیارے سے کراچی روانہ کر دیا۔ جن حضرات کو تربت بدر کیا گیا ہے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ مولانا انوار الحق حقانی خطیب مرکزی جامع مسجد کوئٹہ، مولانا نذیر احمد تونسوی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان، مولانا عبدالواحد خطیب جامع مسجد قندھاری کوئٹہ، حاجی سید شاہ محمد آغا نائب امیر عالمی مجلس بلوچستان، حاجی تاج محمد فیروز جنرل سیکرٹری عالمی مجلس بلوچستان، حاجی عبدالمنان پرنچ رکن مجلس شوریٰ، مولانا سیف الرحمٰن اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبدالحق صاحب بلوچ بعد میں تربت میں عالمی مجلس کی کانفرنس پر پولیس نے فائرنگ کر دی۔ دو افراد شہید ۱۳ شدید زخمی ہو گئے۔ فوج کی طلبی کے ساتھ غیر سرکاری کرفیو لگا دیا۔ کوئٹہ میں پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا دی۔ ۱۲۰۰ افراد کوئٹہ میں اور ۱۳۰۰ افراد تربت میں گرفتار کر لئے گئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵؍اپریل ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ننکانہ، آٹھواں انٹرنیشنل گولڈ میڈل کا اعلان
عالم اسلام کو جن فتنوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے ان میں فتنہ قادیانیت سرفہرست ہے۔ قادیانیت حضور ﷺ کی پاکیزہ نبوت پر ڈاکہ زنی کا نام ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ فتنہ بقول علامہ اقبال ”اسلام اور ملک دونوں کا غدار ہے“ نہایت خطرناک اور مہلک فتنہ ہے۔ اس کے کفریہ عقائد وعزائم ان کی سیاسی سازشوں، سامراجی طاقتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور اس فتنہ کے بانی مرزا قادیانی علیہ ما علیہ کے اصل روپ سے عوام الناس اور بالخصوص نوجوان نسل آشنا نہیں ہے۔ خدائے وحدہ لاشریک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس ذات بابرکات نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے اراکین کو یہ توفیق بخشی ہے کہ وہ آقائے نامدار شافع یوم النشور ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ امت مسلمہ کے اکابرین کی سنت پر چلتے ہوئے کریں اور قادیانیت کے مکروہ چہرہ سے نقاب ہٹا کر اصل چہرہ عوام الناس کو دکھا سکیں۔ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک اور جان سے پیارے وطن عزیز پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی باغیانہ اور مجرمانہ سرگرمیوں اور سازشوں سے محب وطن شہریوں کو آگاہ کیا جائے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے زیراہتمام آٹھواں انٹرنیشنل گولڈ میڈل انعامی تحریری مقابلہ بعنوان ”قادیانیت ایک دہشت گرد تنظیم“ منعقد ہوا۔ جس میں ملک بھر سے دوسو سے زائد مضامین موصول ہوئے۔ آخری تاریخ ختم ہونے پر ان مضامین کی تزئین کر کے فوری طور پر مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان کو بھجوائے گئے۔ جہاں مکرمی حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی ہدایت پر تین صاحبان فہم و فراست، قابل محنتی اور اس موضوع پر دسترس رکھنے والے مناظرین اسلام، جید اور فاضل جج صاحبان کا تقرر ہوا۔ معزز جج صاحبان نے دن رات محنت کر کے ہر مقابلہ کے ایک ایک لفظ کو بغور پڑھا۔ دلائل عقلی ونقلی، مرزائیوں کی کتب کے حوالہ جات، طرز بیان، ترتیب موضوع، وسعت مطالعہ اور خوش خطی کا خاص خیال رکھا۔ معزز جج صاحبان کے دیئے ہوئے علیحدہ علیحدہ نمبروں کو جمع کیا گیا۔ ان کے متفقہ فیصلہ کے مطابق مندرجہ ذیل خوش نصیب امیدواروں نے بالترتیب پہلی تین پوزیشنیں حاصل کیں۔
- اوّل: ایچ ساجد اعوان نواں شہر ضلع ایبٹ آباد۔
- دوم: محمد اورنگ زیب تحصیل ہری پور ضلع ہزارہ۔
- سوم: محمد اقبال ابوبکر حبیب کالونی سرگودھا، شیخوپورہ۔
مندرجہ ذیل اصحاب دس خصوصی انعامات کے حق دار قرار پائے۔
- ۱...... شعیب، محلہ موسیٰ زئی نواں شہر ضلع ایبٹ آباد۔
- ۲...... عبدالغفار سینئر انجینئر مکینکل واپڈا کوٹری سندھ۔
- ۳...... شہزاد نصیر مسعود پارک بند روڈ لاہور۔
- ۴...... عامر ملک کامران بلاک علامہ اقبال لاہور۔
- ۵...... شہباز سلیم محلہ اسلام نگر ریس کورس فیصل آباد۔
- ۶...... شازیہ محلہ عثمانی کھوہ وارڈ نمبر ۱۷ ننکانہ ضلع شیخوپورہ۔
- ۷...... مظہر حیات محلہ لیویاں والا ضلع خوشاب۔
- ۸...... صادق علی زاہد پرانا ننکانہ، ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ۔
- ۹...... محمد یوسف شاہد گوجرانوالہ۔
- ۱۰...... مہر نور احمد اسد محلہ فاروق گنج ننکانہ صاحب۔
- ۱۱...... محمد ادریس آدم ستھونی موضع بھاگل گجرات (بھارت)
- ۱۲...... عمر فاروق سلیمان دیسائی بھارت۔
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان کے علاوہ ہر امیدوار کو اس مقابلہ میں شرکت کی بناء پر خوبصورت سند امتیاز پیش کی جارہی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اور مجلس ہذا کی طرف سے آپ سب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک ہو۔ خدا تعالیٰ آپ کی اس خدمت جلیلہ کو قبول فرمائے اور آپ کو دین پر چلنے کی استقامت اور مرزائی فرقہ باطلہ کی بیخ کنی کرنے کے لئے کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ آمین ثم آمین!
آئندہ سال کے لئے نویں انٹرنیشنل گولڈ میڈل انعامی تحریری مقابلہ کا عنوان ”مسئلہ کشمیر اور قادیانیت“ ہے۔ اس کی ابھی سے تیاری شروع کردیں۔ اس مسئلہ پر ہم ایک بڑا جامع، تاریخی اور ناقابل تردید حقائق سے بھر پور کتابچہ تیار کر رہے ہیں جو تحفظ ختم نبوت کے لٹریچر میں یقیناً ایک گراں قدر اضافہ ہوگا۔ یہ کتابچہ ماہ جون ۱۹۹۱ء تک طباعت کے تمام مرحلوں سے گزر کر آپ کے طلب کرنے پر آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ !
مجلس ہذا کے زیر اہتمام انٹرنیشنل گولڈ میڈل انعامی تحریری مقابلہ کے سلسلہ میں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں ایک عظیم الشان تقریب تقسیم انعامات اور آٹھویں کل پاکستان عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۲؍ مئی ۱۹۹۱ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد غوثیہ سراجیہ انڈہ تالاب میں بڑے تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہورہی ہے۔ جس میں کامیاب امیدواروں کو قیمتی میڈلز اور انعامات دیئے جائیں گے، اور معزز مہمانان گرامی فکر انگیز اور ایمان افروز خطاب فرمائیں گے۔ اتحاد بین المسلمین کی داعی، عقیدہ ختم نبوت کی محافظ اور منکرین ختم نبوت کے خلاف جہاد کرنے والی اس جماعت کے اراکین کی حوصلہ افزائی کے لئے آپ سے شرکت کی اخلاص بھری درخواست ہے۔ بغیر کسی معقول وجہ کے تقریب تقسیم انعامات میں شرکت نہ کرنے والے امیدواروں کے انعامات بحق مجلس ضبط کر لئے جائیں گے۔ مزید برآں مجلس ہذا آپ سب بہن بھائیوں کو عقیدۂ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے بارے میں لٹریچر بھجواتی رہی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس تمام لٹریچر کا مطالعہ فرمائیں اور دیکھیں کہ آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے گماشتوں نے رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ نبوت کو کس طرح نقصان پہنچایا اور پہنچا رہے ہیں۔ یقین مانئے آج خاتم النبیین ﷺ اپنی امت جس کی بخشش کے لئے وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے تھے کو پکار رہے ہیں کہ اے میرے شمع رسالت کے پروانو! آج مرزائی فتنہ قرآن مجید اور میری احادیث میں تحریفیں کر رہا ہے۔ اٹھو اور آپس کے تمام اختلافات کو بھلا کر میری نبوت کا تحفظ کرو۔ مرزائیوں کی تمام مذموم کوششوں کو ناکام بنادو۔ اگر مجھ سے محبت ہے تو میرے دشمن مرزائیوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرو۔ قیامت کے دن میں تمہاری شفاعت کروں گا۔
اگر آپ خاتم النبیین ﷺ کے دامن رحمت میں پناہ لینا چاہتے ہیں۔ قبر اور قیامت کی ہولناک گھڑیوں میں شافع محشر ﷺ کی شفاعت چاہتے ہیں تو آئیے حضور نبی اکرم ﷺ کی فوج (عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) میں شامل ہو جایئے ۔ اپنے محلہ میں ختم نبوت کا دفتر قائم کریں۔ تنظیم بنا کر مرکزی دفتر سے رابطہ فرمائیں۔ مرکزی مجلس آپ کو ہر قسم کا لٹریچر فراہم کرے گی۔ حضور نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے خلاف جہاد آپ کو ہی کرنا ہے۔ یہ آپ پر فرض ہے اور آپ ہی اسے پورا کریں گے۔ اپنے محلہ میں، شہر میں، دفتر میں، مرزائیوں کی مذموم کوششوں کے آگے بند باندھیں۔ ان کی باطل سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ شعائر اسلامی کی حفاظت کریں۔ مرزائیوں کی تمام مصنوعات خصوصاً شیزان بوتل اور اس کی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور کروائیں۔ متعلقہ لٹریچر خود پڑھیں اور اپنے دوستوں اور عزیز واقارب کو بھی پڑھائیں۔ مزید لٹریچر کی ضرورت ہو تو ہمیں مطلع فرمائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ترجمان اور عقیدۂ ختم نبوت کے علمبردار دو پرچے ہر ہفتہ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔ جن میں سیرت النبی ﷺ ، حیات عیسیٰ علیہ السلام،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت کا پوسٹ مارٹم، جماعتی سرگرمیوں پر خصوصی رپورٹیں اور دیگر دلچسپ مضامین شامل ہوتے ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اپنے بجٹ کو کم کر کے ان پرچوں کی اشاعت میں مدد فرمائیں اور ان پرچوں کے مستقل خریدار بنیں۔ یہ پرچے مندرجہ ذیل پتہ سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
- ۱...... ہفت روزہ ’’ختم نبوت‘‘، مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت ایم . اے جناح روڈ پرانی نمائش کراچی نمبر۳۔
- ۲...... ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ جامع مسجد محمود ریلوے کالونی فیصل آباد۔
نیز آپ کے پاس اگر رد قادیانیت پر یا مرزا غلام احمد قادیانی یا اس کے کسی چیلے کی کوئی کتاب موجود ہو اور آپ دینا چاہتے ہوں تو آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس کا ہدیہ لے کر مجلس ہذا کو بھیج دیں۔ آپ کو مطلوبہ قیمت فوراً ادا کر دی جائے گی۔ اپنی پنجگانہ نمازوں کا پورا پورا خیال رکھیں۔ بے نمازی کا انجام قیامت کے دن بڑا عبرت ناک ہوگا۔ نماز کی خود بھی پابندی فرمائیں اور اپنے احباب اور اہل خانہ کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ خدا تعالیٰ آپ کو ہر مرحلہ زندگی میں کامیاب و کامران کرے۔ (آمین) مجلس ہذا کی کامیابی کے لئے دعاؤں کی درخواست ہے۔
آپ کا بھائی محمد متین خالد، صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نسیم منزل ریلوے روڈ ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸ تا ۲۰، مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۹۱ء)
ہری پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
جامع مسجد شیرانوالہ گیٹ میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ قائدین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جب مسجد میں پہنچے تو ان کا پر تپاک خیر مقدم کیا گیا۔ کانفرنس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز تلاوت کلام مجید سے کیا گیا۔ جناب حافظ عبدالقیوم قریشی نے شان رسالت ﷺ پر ہدیہ نعت پیش کیا۔ ان کے بعد ختم نبوت سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر جناب عبدالصبور قریشی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ باہمی رنجشوں کو بھلا کر اسلام دشمن قوتوں کے خلاف متحد ہو جائیں اور یہ ہماری اپنی نا اتفاقیوں اور باہمی اختلاف کا نتیجہ ہے کہ نئے نئے فتنے اور اسلام کے خلاف نئی نئی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ اگر ہم اپنے ماں باپ کے خلاف کوئی بات اور ان کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آقا نامدار ﷺ کے خلاف کوئی بات برداشت کر سکیں؟ یہ ہماری دینی غیرت کے خلاف ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی توہین برداشت کر سکیں۔ ان کے بعد جناب محمد شعیب ندیم مائک پر تشریف لائے۔ آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ختم نبوت کا عقیدہ اور عظمت صحابہؓ کا دفاع ہر کلمہ گو کا فرض منصبی ہے۔ حب نبوی ﷺ کا تقاضہ ہے کہ ہم نبی مکرم ﷺ سے محبت کرنے والوں کے دوست اور ان سے بغض اور دشمنی رکھنے والوں سے نفرت کرنے والے بنیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے مبلغ مولانا احسان احمد دانش کو دعوت خطاب دی گئی۔ مولانا نے اپنے مدلل خطاب میں فرمایا کہ قادیانی فتنہ دراصل یہودیت اور عیسائیت کی بگڑی ہوئی شکل ہے ایک زمانہ تھا ہمارے اکابر نے چوکوں اور چوراہوں میں، گلی کوچوں میں، قریہ قریہ اور نگر نگر جا کر مسلمانوں کو قادیانیت کا مسئلہ سمجھایا۔ اب الحمد للہ! قادیانیت ایک گالی بن چکی ہے۔ مولانا اللہ وسایا دامت برکاتہم کو دعوت خطاب دی گئی۔ آپ نعروں کی گونج میں مائک پر تشریف لے آئے۔
آپ نے فرمایا: سورج کی روشنی ختم ہو سکتی ہے، آگ سرد ہو سکتی ہے، دریاؤں میں پانی ختم ہو سکتا ہے، لیکن نبی مکرم ﷺ کی ختم نبوت کا آفتاب ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ شروع میں نبوت کے چار دعویدار ہوئے جن میں تین مرد اور ایک عورت تھی۔ ان میں سے ہر ایک کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انجام جہنم ہوا اور سبھی مردود ہوئے۔ ختم نبوت کے دفاع کا کام سب سے پہلے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انجام دیا تھا۔ قیامت تک اس سلسلہ میں جتنا بھی کام ہوگا آپ ﷺ کے درجات بلند ہوتے جائیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ مرزائیت ایک ناسور ہے۔ مولانا اللہ وسایا کے خطاب کے بعد ڈگری کالج ہری پور کی تنظیم نو کے عہدیداروں نے حلف اٹھایا اور یہ عہد کیا کہ ہم ان شاء اللہ ناموس مصطفےٰ ﷺ کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ دینے سے بھی انکار نہیں کریں گے۔ بالآخر رات گئے یہ عظیم الشان کانفرنس حضرت مولانا فضل مولیٰ کی پرسوز دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، ۲۵، مورخہ ۱۹ تا ۲۵ / اپریل ۱۹۹۱ء)
سکھیکی (گوجرانوالہ) میں ختم نبوت کانفرنس
سکھیکی: سرگودھا لاہور روڈ پر واقع گوجرانوالہ ضلع کا ایک قصبہ ہے۔ جسے ربوہ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اور علوم اسلامیہ سے ناواقفیت کی وجہ سے قادیانیوں نے اسے اپنی آماجگاہ بنایا۔ اس چھوٹے سے قصبہ کے لئے ربوہ سے دو مربی متعین کئے گئے جنہوں نے مسلمانوں کے علاقے کو اپنے دام حرص و آز میں پھنسانا شروع کر دیا۔ کئی ایک پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کا لالچ دے کر مغربی جرمنی ”سیاسی پناہ“ کے عنوان سے روزگار اور ملت اسلامیہ پاکستان کے خلاف مسلح ٹریننگ کے لئے بھجوایا۔ جب علاقہ کے حساس نوجوانوں جناب فخرالدین اختر، جناب طارق محمود گل کو پتہ چلا تو انہوں نے ملک بھر کے مختلف علمائے کرام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفاتر سے رابطہ قائم کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے لاہور ڈویژن مجلس کے انچارج مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کو حکم فرمایا کہ وہ علاقہ کا سروے کریں۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کریں تو موصوف نے سکھیکی کا دورہ کیا۔ احباب سے ملاقاتیں کیں اور ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا۔ اس کانفرنس کی صدارت بریلوی مکتب فکر کے ممتاز رہنما اور روحانی شخصیت پیر عارف حسین شاہ نے کی۔ کانفرنس سے مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا خدا بخش خطیب ربوہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن چشتی، مولانا محمد صابر سرہندی فیصل آباد، مولانا حفیظ الرحمن رحمانی ٹنڈو آدم و دیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔ علمائے کرام نے قادیانیت کا اصل روپ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرزا قادیانی کائنات کا غلیظ ترین کافر تھا۔ جس نے امت مسلمہ میں افتراق و انتشار کا بیج بونے، انگریزی اقتدار کو استحکام و طول دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ علمائے کرام نے کہا کہ آج قادیانی اخلاق کی رٹ لگاتے ہیں۔ جب کہ مرزا قادیانی، مرزا بشیر الدین محمود اور رائل فیملی کے دوسرے لیڈر قادیانی لٹریچر کی رو سے انتہائی بداخلاق، بدکردار، زانی، شرابی تھے اور انہوں نے انبیائے کرام، صحابہ کرام، علمائے کرام، صلحائے امت کو گالیاں دیں۔ مرزائیوں کے لٹریچر میں مسلمانان عالم کو ”ذریۃ البغایا“ کنجریوں کی اولاد اور امت مسلمہ کی ماؤں اور بہنوں کو کتیوں سے بدتر قرار دیا اور اپنے مخالفین پر لعنت کی بھر مار کی۔ چنانچہ ”نور الحق دوحصہ“ نامی کتاب میں سوا چار صفحات میں اپنے مخالفین پر ایک ہزار لعنت لکھی۔ آخر میں صدر مجلس نے دعائے خاص فرمائی اور یوں یہ کانفرنس بطریق احسن اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸، مورخہ ۲۱/ جون ۱۹۹۱ء)
گورنمنٹ ہائی سکول بڑا گھر میں ختم نبوت کا اجتماع
(شیخوپورہ) گورنمنٹ ہائی سکول بڑا گھر میں ختم نبوت کا اجتماع ہوا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ تلاوت محمد اسلم نے کی۔ نعت عبدالغفور نے پڑھی۔ بعد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خالد محمود شاہد نے طلباء سے مرزائیوں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ مرزائی مرتد ہیں اور حکومت نے خود آرڈیننس نافذ کیا۔ لیکن آج ملک بھر میں آرڈیننس کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا ہم مسلمانوں کو بیدار ہونا چاہئے اور آپس میں فرقہ واریت کو ختم کرنا چاہئے۔ ہم سب کو مل کر دشمنان ختم نبوت کے خلاف جہاد کرنا چاہئے۔ اس تقریب کا اہتمام عبدالحمید صابر، محمد ندیم مختار، عبدالغفور، ندیم باری رانا، جاوید اختر، محمد امین، شاہد محمود نے کیا۔ طلباء کی اکثریت نے شمولیت کی اور تنظیم بنانے کا پروگرام بنایا اور اس مجلس میں سکول کے تمام ملازمین نے بھی شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍ جولائی ۱۹۹۱ء)
غازی آباد لاہور میں دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت غازی آباد کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۶؍ جون ۱۹۹۱ء بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا پیر سیف اللہ خالد نے کی۔ کانفرنس سے جماعت اہل حدیث پاکستان کے صدر حافظ عبدالقادر روپڑی، جمعیۃ علماء اسلام کے سیکرٹری اطلاعات مولانا منظور احمد چنیوٹی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا، بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین حافظ غلام حسین کلیانوی، پیر طریقت مولانا قاری عبدالحئی عابد، مولانا مصطفیٰ صادق، قاری حفیظ الرحمٰن ربانی، محمد طاہر ضیاء، جاوید اقبال نے خطاب کیا۔ جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے قراردادیں پیش کیں۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب محمد اشرف نے سرانجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲،۲۴، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍ جولائی ۱۹۹۱ء)
مسلم ٹاؤن لاہور میں یوم تشکر
لاہور (نمائندہ ختم نبوت) نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں قادیانیوں نے ایک عرصہ تک مسلمانوں کی بنائی گئی مسجد ’’جامع مسجد عائشہ‘‘ پر ناجائز قبضہ جمائے رکھا۔ گزشتہ سال ۱۹۹۰ء ۷؍ جون کو اہل اسلام نے مسجد کو بحال کیا۔ خدا کی قدرت گزشتہ سال ۷؍ جون جمعۃ المبارک کو مسجد کی بحالی ہوئی۔ امسال ۷؍ جون کو سال مکمل ہوا تو جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ مسجد کی بحالی کے سال مکمل ہونے پر ’’یوم تشکر‘‘ منایا۔ چنانچہ جمعۃ المبارک کا خطبہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے دیا۔ مولانا نے قادیانیت کی تاریخ، دہشت گردی، مسلمانوں کی املاک پر ناجائز قبضہ کے کئی واقعات بیان کئے۔ جامع مسجد عائشہ کی بحالی کرانے والے احباب کو ہدیہ تبریک پیش کیا۔
عشاء کی نماز کے بعد ’’یوم تشکر‘‘ کے موقع پر جلسہ منعقد ہوا۔ تلاوت کلام پاک حافظ عبدالخالق جالندھری نے کی۔ جس میں مولانا قاری عبدالحئی عابد نے خطاب کرتے ہوئے ملک وملت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو سراہا اور مجلس کے بانی قائدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر شریعت اور آپ کے گرامی قدر رفقاء نے ناگفتہ بہ حالات کے باوجود قادیانیت کو ہر محاذ پر ناک آؤٹ کیا۔ آج پوری دنیا میں قادیانیت کی پسپائی انہیں بزرگوں کی مرہون منت ہے۔ آخر میں حضرت امیر شریعت کی اہلیہ محترمہ کی وفات پر ان کے لئے مغفرت کی دعا کی گئی اور حاضرین میں کھانا تقسیم کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۳، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍ جولائی ۱۹۹۱ء)
طرابلس لیبیاء میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی جمعیۃ دعوۃ اسلامیہ جماہیریہ لیبیاء کے زیر اہتمام مورخہ ۱۳، ۱۴؍ جولائی ۱۹۹۱ء طرابلس میں بین الاقوامی دوروزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں عالم اسلام کے مشاہیر علماء، مفکر، دانشور اور اصحاب عقل و دانش نے شرکت کی۔ اس بین الاقوامی کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’ختم نبوت اور تکمیل دین‘‘ تھا۔ اس کانفرنس کے لئے جو زیر غور بحث تھی وہ ’’اربعة عشر قرناً على اختتام النبوة واكمال الدین‘‘ کے عنوان سے تھی۔ اس عالمی کانفرنس میں مرکزی نقطہ حق رہا کہ ختم نبوت اور تکمیل دین چودہ سو سال سے ایک ثابت شدہ اور تسلیم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ۵۶۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شدہ حقیقت ہے۔ جس میں کسی قسم کی شک وشبہ کی گنجائش ہی نہیں۔
عالمی کانفرنس کا افتتاح قرآن کریم کی تلاوت سے شروع ہوا۔ جس کے بعد جمعیۃ دعوۃ اسلامیہ کے سیکرٹری جنرل جناب ڈاکٹر محمد احمد شریف کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے پس منظر سے آگاہ کیا۔ چونکہ حضور ﷺ کا دنیا سے رحلت فرمانا تاریخ اسلام کا اہم ترین باب ہے کہ اسی وفات کی وجہ سے آسمانی وحی منقطع ہوئی۔ جس وحی سے انسانی عقل وشعور کو جلا ملتی ہے۔ لہٰذا حضور کریم ﷺ کی وفات درحقیقت ختم نبوت اور دین کی تکمیل کی مکمل دلیل ہے۔ ڈاکٹر محمد احمد شریف نے معزز مہمانوں کی گوناگوں مصروفیات کے باوجود کانفرنس میں ان کی شرکت کو سراہا۔ اس موجودہ قرآن مجید کے بعد کوئی دوسرا قرآن ہے۔ نہ اس دین اسلام کے بعد کوئی دوسرا دین ہے جو بارگاہ خداوندی میں منظور ہو سکے۔ آپ ﷺ کی وحی کی تکمیل پر نہ کوئی آسمانی وحی ممکن ہے۔ انہوں نے حاضرین پر زور دیا کہ وہ ان مقاصد اور سازشوں سے آگاہ رہیں جو کہ ختم نبوت کے انکار اور جھوٹے پیغمبروں کے پس منظر میں مقصود تھیں۔
ختم نبوت کے انکار اور جھوٹے مدعیان نبوت کے پس منظر میں جو کافرانہ جال اور دین اسلام کی تباہی و بربادی مقصود تھی۔ اس سازش سے مسلمانوں کو غافل نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا انکار درحقیقت عالم اسلام کی تباہی و سازش کے لئے رائج کیا گیا جس کا بنیادی مقصد دین اسلام کی کامل عمارت کو گرانا اور تباہ کرنا تھا اور یہ اسلامی ثقافت، دین اور عقیدہ اسلامیہ کی بیخ کنی کا ذریعہ تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبدالجلیل شلبی جامعہ ازہر مصر نے تقریر کرتے ہوئے اشارہ فرمایا۔ میں منتظمین کانفرنس اور جمعیۃ دعوۃ اسلامیہ کے ارکان کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں عرض کروں گا کہ اس وقت اہم مسئلہ اتحاد و یگانگت کا ہے، اور اختلاف و تفرقہ بازی سے باز رہنے کی ضرورت اہم ترین مسئلہ ہے۔ جس میں امت مسلمہ مبتلا ہو چکی ہے۔ اتفاق کو قائم کرکے ہی ہم اسلام دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ان کے بعد لیبیاء کے وزارت اوقاف کے سیکرٹری جنرل کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور ان کو خیر مقدمی کلمات سے نوازتے ہوئے کہا کہ اسلام آزادی، انصاف، مساوات اور خیر خواہی کا دین ہے اور اسلامی اخلاقی اقدار پر ہی انقلابی کمان کونسل کی بنیاد استوار کی گئی ہے۔ لیبیاء میں اسلامی قوانین سرچشمہ قرآن کریم ہے۔ سرزمین لیبیاء میں غلامانہ ذہنیت اور طبقاتی کشمکش ختم کر دی گئی ہے۔ مخلوق خدا کو مساوات کا درجہ دیا گیا ہے۔ اب جھکنا صرف ذات باری تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ یہاں نہ کوئی سردار ہے، نہ سردار زادہ! ان کے بعد جلسہ کی رسمی کارروائی شروع ہوئی۔ شرکاء محفل نے بارہ موضوعات پر اظہار خیال کیا اور مختلف مضامین پر مقالے پڑھے گئے۔ ان مضامین کو پانچ مختلف نشستوں پر تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں جو کلیدی موضوع تھا وہ ختم نبوت اور تکمیل دین سے متعلق تھا۔ اس موضوع پر اظہار خیال کے لئے ڈاکٹر محمد جنیدی، جناب زکریا احمد ڈاکٹر شوقی ابوخلیل اور جناب محمد ہلاسی جناب محمد سعدی اور ڈاکٹر محمد برج کو دعوت دی گئی۔ ان تمام حضرات کے مقالات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی وفات درحقیقت ختم نبوت کی حفاظت ہے۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد قرآن کریم کا معجزہ زندہ جاوید ہے اور قرآن کریم کا آفاقی معجزہ درحقیقت ختم نبوت کی نشانی ہے۔ جیسے قرآن کریم تحریف و تبدیل اور کمی زیادتی سے محفوظ ہے۔ اسی طرح ختم نبوت کا معجزہ کمی بیشی تحریف و تبدیلی سے محفوظ ہے۔ جیسے قرآن کا انکار کفر ہے۔ اسی طرح ختم نبوت کا انکار کفر ہے۔
آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کا دعویٰ نبوت سوائے جھوٹ دروغ گوئی کے اور کچھ نہیں۔ ماضی، حال اور مستقبل میں جس کسی نے بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کا دعویٰ کیا وہ جھوٹا تھا اور جھوٹا ہے۔ تاریخ اسلام میں جھوٹی نبوت کے واقعات جہاں جہاں ملیں اس کے پس منظر میں اسلام دشمن عناصر کی مکاری عیاری اور اسلام دشمنی کارفرما تھی۔ انہیں مقاصد میں سے امت اسلامیہ کو گروہ بندی میں ڈال کر اس کے اتحاد ملی کو پارہ پارہ کرنا تھا۔ جب کہ یہ حقیقت ثابت ہے کہ ختم نبوت کی بنیاد ہی دین ہے اور اس کا انکار سراسر بے دینی شمار ہوگی۔ ڈاکٹر احمد بن نعمان اور عثمان حسین ایڈوائزر جناب جمال سلطان نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت نے اسلام کی بنیاد کو مستحکم کر دیا ہے کہ ختم نبوت کی وجہ سے امت اسلامیہ کو اجتہاد اور استنباط مسائل کی ذمہ داری سونپ دی گئی اور امت مسلمہ پر یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ آنے والے مسائل وحی آسمانی کی روشنی میں مل بیٹھ کر خود حل کریں اور تشریع اسلامی کی بقاء کو مضبوط بنائیں اور یہ کہ اسلامی ثقافت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں اور امت اسلامیہ کی کوششوں کو مضبوط، مستحکم شدہ اور ضمانت شدہ بنادیں اور یہ کہ اسلام دشمنی کی کوششوں کو آگے بندھ باندھیں۔ مندرجہ ذیل سفارشات منظور کی گئیں۔
- ۱...... مسلمانوں کی زندگی میں عقیدہ ختم نبوت کے موضوع کو اجاگر کیا جائے۔ اس مضمون کو تعلیم اور تربیت، نصاب، بحث ومباحثہ
ادیبوں کے پلیٹ فارم پر ہر سمت سے مسلمان کو اجاگر کر کے اس کی اہمیت واضح کی جائے اور ختم نبوت کے خلاف ہر قسم کے باطل نظریات کا قلع قمع کیا جائے۔
- ۲...... ختم نبوت کے متعلق کانفرنس، سیمینار، علمی و فکری نشست، تکمیل دین اور دوسرے متعلقہ موضوعات پر کانفرنس منعقد کرانے کا
مسلسل اہتمام کیا جائے تاکہ ختم نبوت کی علمی وفکری حیثیت سے مسلمان روشناس ہوسکیں۔
- ۳...... کانفرنس اس بات کا خیال رکھے گی اور سفارش کرتی ہے کہ اس دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کی کارروائی مقالات، سوالات
و جوابات کو یکجا کر کے کتابی صورت میں عام مسلمانوں کو نفع کی خاطر شائع کیا جائے۔
- ۴...... تمام اسلامی علمی اور فکری تنظیموں سے رابطہ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اسلامی ثقافت اور ختم نبوت سے متعلق مواد کو
محفوظ کریں اور ان تمام نظریات و خیالات کو جو ختم نبوت کے خلاف ہوں۔ پر سیر حاصل بحث کر کے ان کو واشگاف اور واضح کریں تاکہ ختم نبوت کا عقیدہ کامل مکمل صورت میں مسلمانوں تک پہنچے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، ۲۳ ،مورخہ ۶ تا ۱۲ ستمبر ۱۹۹۱ء)
ختم نبوت کانفرنس اتحاد ٹاؤن کراچی
کراچی: مؤرخہ ۲؍اگست ۱۹۹۱ء جمعہ بعد نماز عشاء جامع مسجد عمر فاروق اتحاد ٹاؤن بلدیہ کراچی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عظیم مجاہد مولانا محمد عرفان قادری مدظلہ نے منعقد کرائی۔ کانفرنس کے انعقاد کے سلسلہ میں پورے بلدیہ ٹاؤن، سعید آباد (کراچی وغیرہ) میں اشتہار لگائے گئے۔ مقامی علماء کرام کو بھی اس میں دعوت دی گئی۔ چنانچہ کانفرنس کے موقع پر جہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنمایان تشریف فرما تھے۔ نیز مقامی علماء کرام خصوصیت کے ساتھ مولانا حق نواز اور مولانا عطاء الرحمٰن صاحب مع احباب کے موجود تھے۔
تلاوت کلام پاک کے بعد مولانا عطاء الرحمٰن اور مولانا حق نواز نے تقریر فرمائی۔ بعدازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنمایان، مولانا منظور احمد الحسینی اور مولانا احمد میاں حمادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات ۱؍بجے اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس خوب کامیاب رہی اس میں بلدیہ ٹاؤن کے عوام نے بھرپور حصہ لیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، مؤرخہ ۲۷؍ستمبر تا ۳؍اکتوبر ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہاول پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
بہاول پور: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا ہے کہ ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے انسداد کے لئے ضروری ہے کہ مغربی جرمنی اور دیگر ممالک سے تربیت حاصل کر کے لوٹنے والے قادیانیوں کو گرفتار کر کے ان پر کڑی نظر رکھی جائے۔ وہ یہاں ۱۲؍ اگست ۱۹۹۱ء کو جامع مسجد الصادق میں منعقد ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے نامور عالم دین اور مذہبی سکالر علامہ ڈاکٹر خالد محمود (پی۔ایچ۔ڈی لندن) نے کہا کہ جب تک ایک بھی قادیانی دنیا میں موجود ہے مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک پوری دنیا میں جاری وساری رہے گی۔ انہوں نے سیاستدانوں، افسروں اور بیوروکریٹ سے کہا کہ قادیانیت کی طرف داری بند کر کے رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی حاصل کریں۔ مولانا محمد لقمان علی پوری نے کہا کہ اگر ملک میں اسلامی نظام نافذ کر دیا جاتا تو مرزائی اور دوسرے باطل گروہ اپنی موت آپ مر جاتے اور ملک سے عریانی وفحاشی، عیاشی معاشی ناہمواری، بے روزگاری خود بخود ختم ہو جاتی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اسلامی نظام نافذ کرے۔ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ قادیانی پاکستان کی جاسوسی کرنے والے ہیں۔ لہٰذا ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ پشاور سے گرفتار ہونے والے قادیانیوں کے خلاف ملک کی بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے۔ کانفرنس کی صدارت حاجی سیف الرحمن نے کی۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسحاق ساقی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی نے بھی خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳، مورخہ ۲۲ تا ۲۶ ستمبر ۱۹۹۱ء)
سید والا میں چوتھی سالانہ تاجدار ختم نبوت کانفرنس
۲۲؍ اگست ۱۹۹۱ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سید والا کے زیر اہتمام چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد حنفیہ (لال) میں منعقد ہوئی۔ جس میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب ملتان، حاجی عبدالحمید رحمانی سرپرست مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ، حضرت مولانا عبد الہادی جنرل سیکرٹری جمعیۃ العلماء اسلام ضلع شیخوپورہ عالم باعمل حضرت مولانا محمد جمیل اجمل جڑانوالہ، حافظ مشتاق احمد سرپرست مجلس تحفظ ختم نبوت سید والا نے کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کی صدارت مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض خالد محمود شاہد جنرل سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت سید والا نے انجام دیئے۔ خطبۂ استقبالیہ ڈاکٹر سیف اللہ صاحب نے پیش کیا۔ شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی صاحب شیخوپورہ نے شان رسالت اور مرزا بھگوڑے پر پرجوش نظمیں پڑھیں ۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷، مورخہ ۲۰؍ ستمبر ۱۹۹۱ء)
ختم نبوت کانفرنس قصور
قصور (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۰؍ ستمبر ۱۹۹۱ء کو ریلوے اسٹیشن قصور میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مجلس علماء پاکستان کے چیئرمین اور بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب حضرت مولانا عبدالقادر آزاد نے کی۔ کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے شرکت کی۔ بریلوی مکتب فکر کے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری، دیوبندی مکتب فکر کے مولانا عبدالقادر آزاد، اہل حدیث کے مولانا مفتی عبدالرشید، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مجاہد ختم نبوت جناب محمد متین خالد اور مناظر اسلام حضرت مولانا محمد یوسف رحمانی نے کانفرنس سے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا محمد یوسف رحمانی نے اپنے خطاب میں مرزا قادیانی پوسٹ مارٹم کیا۔ حضرت مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کے عقائد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مرزائی کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی کو لیتے ہیں۔ انہوں نے مرزائیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں کے متعلق بتایا کہ اس وقت اسرائیل میں کافی قادیانی بستے ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کر کے مسلمان افسروں کو تعینات کیا جائے۔ مجاہد ختم نبوت جناب متین خالد نے اپنے خطاب میں ۱۹۵۳ء کی تحریک کے متعلق بتایا کہ اس تحریک میں دس ہزار مسلمان نوجوان عزت مصطفیٰ ﷺ کی خاطر قربان ہو گئے۔ آج ہمیں بھی اس جذبہ کی ضرورت ہے۔ اس موقعہ پر تمام حاضرین نے ہاتھ کھڑے کر کے کہا کہ وہ اس مسئلے کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ مولانا مفتی عبدالرشید اور مولانا خلیل احمد قادری نے بھی عقیدۂ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر خطاب کیا۔
حضرت مولانا سید عبدالقادر آزاد نے عقیدہ ختم نبوت بتاتے ہوئے کہا کہ اس عقیدے کے بغیر ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عقیدہ ایمان کی بنیاد ہے۔ انہوں نے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اس فتنہ کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ آخر میں انہوں نے دعا کی جس میں اس فتنہ کے خاتمہ اور تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے لئے اور امت مسلمہ کی کامیابی کے لئے دعائیں کی گئیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲،مؤرخہ ۸ تا ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۱ء)
جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور میں سیرت کا جلسہ
لاہور (پ۔ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عائشہ مسلم ٹاؤن میں سرور کائنات ﷺ کی ولادت باسعادت کے موضوع پر ۱۲؍ ربیع الاوّل بمطابق ۲۲؍ستمبر ۱۹۹۱ء بعد نماز عشاء کے ایک جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں ملک کے معروف خطیب قاری عبدالحئی عابد اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ سیرت طیبہ کا اہم ترین پہلو عقیدہ ختم نبوت ہے۔ جس کا تحفظ عالم اسلام کا فرض ہے۔ اجلاس کی نگرانی حافظ عبدالخالق جالندھری نے کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲،مؤرخہ ۸ تا ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۱ء)
اہل حدیث ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
چنیوٹ: مؤرخہ ۴؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء ملک میں تخریب کاری، قتل وغارت اور علماء کرام کے قتل جیسے واقعات میں قادیانی گروہ ملوث ہے۔ توہین رسالت کی مرتکب جماعت کے سرکردہ افراد کو حراست میں لے کر قرار واقعی سزا دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ جمعیتہ اہل حدیث پاکستان کے کل پاکستان اہل حدیث خاتم النبیین کانفرنس کے اجتماع سے شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ صاحب سرپرست متحدہ جمعیتہ اہل حدیث پاکستان، قاری محمد سعید اشرف چنیوٹی، صاحبزادہ حافظ عبدالعلیم صاحب یزدانی، مولانا عبدالرشید صاحب حنیف، مولانا بہادر علی سیف سمندری، مولانا محمد فاروق صاحب جھنگوی، مولانا عبدالرشید صاحب راشد ہزاروی ساہیوال کے علاوہ دیگر علماء نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲،مؤرخہ ۸ تا ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۱ء)
اٹک میں ختم نبوت کانفرنس
اٹک (ختم نبوت) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد اٹک شہر میں ۳؍اکتوبر ۱۹۹۱ء کو آٹھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے اندرون اور بیرون ملک دین وطن کے خلاف قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور قادیانیت کے کھلے عام پرچار کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیرون ملک قادیانی لٹریچر کی پرچار کرنے پر سخت تشویش کا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اظہار کیا ہے۔ بیرون ملک قادیانی لٹریچر کی بڑے پیمانے پر تقسیم اور قادیانیت کو اسلام بنا کر پیش کرنے کی جرأت کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ربوہ میں کھلے عام لٹریچر شائع کر کے بیرون ملک اسمگل کیا جارہا ہے۔ حکومت کو توجہ دلانے کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار انجام دے رہی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بیرون ملک سفارت خانوں کی کارکردگی پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی غفلت اور چشم پوشی کی وجہ سے قادیانی بیرون ملک اپنے آپ کو مظلوم ثابت کر کے بڑے پیمانے پر کینیڈا، امریکہ، جرمنی کے ویزے حاصل کر رہے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا صاحب نے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر فی الفور پابندی عائد کرنے پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو جعلی ویزوں پر بیرون بھیجنے کے اسکینڈل میں ملوث پشاور کے قادیانیوں کے خلاف بغاوت کا پرچہ درج کیا جائے۔ انہوں نے افسر شاہی اور سیاست دانوں کے لادینی رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ گھٹیا مفادات کے حصول کا سلسلہ ختم کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ذرائع اختیار کریں۔ انہوں نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کو لا دینیت اور قادیانیت کے فتنوں کا حل قرار دیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نور الحق نور نے اندرون ملک دہشت گردی اور تخریب کاری کی ذمہ داری قادیانیوں پر عائد کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بیرون ملک سے آنے والے قادیانیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ کیونکہ بیرون ملک تخریب کاری کی تربیت حاصل کر کے اندرون ملک امن امان بگاڑنے میں قادیانی ملوث ہیں۔ کانفرنس سے حافظ محمد صدیق، مرزا عبدالعزیز اور سید سلمان گیلانی نے خطابات کئے۔
چک ۸۷ سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
چک ۸۷ شمالی سرگودھا میں ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت معروف سیاسی وسماجی رہنما عبدالقیوم سیلوی نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی جناب مہر امانت ایڈووکیٹ تھے۔ ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قاری عبدالخالق نے کہا کہ موجودہ حکومت مرزائیوں کی مذموم سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے۔ کیونکہ یہ فتنہ پرست لوگ ملک میں تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ مہمان خصوصی مہر امانت ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم اپنے والدین کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ مگر جس گستاخ رسول مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں حضور ﷺ کی توہین کی ہے وہ آج بھی مرزائی چھاپ رہے ہیں اور ان گستاخان رسول سے ہم میل ملاپ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ قاری احمد علی ندیم نے کہا کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، مسلمان آخری امت اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا پیغام مسلمان کو گھر گھر پہنچانا چاہئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد اکرم طوفانی نے قرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں جہاں جہاں دیہاتوں میں قادیانی نمبردار ہیں، ان کو تبدیل کر کے مسلمان نمبردار مقرر کئے جائیں۔ دعوت وارشاد چنیوٹ کے سربراہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ ہماری قادیانیوں سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصود ان کو صراط مستقیم پر لانا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے مدعی نبوت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن میں پناہ لے لیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی بڑے ڈرپوک ہیں۔ صرف تین سال کی سزا سے بچنے کے لئے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اگر مرزائی سچے ہیں تو آئین پاکستان اور امتناع قادیانی آرڈیننس کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام اور مسلمانوں نے ۱۹۵۳ء میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مگر عقیدۂ ختم نبوت پر آنچ نہ آنے دی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳، مؤرخہ ۸ تا ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میٹنگ برائے انتظامات، دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
کارروائی اجلاس اراکین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منعقدہ ۶/ اکتوبر ۱۹۹۱ء بروز اتوار۔ کارکنان ختم نبوت کا اجلاس مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی۔ مولانا قاضی محمد اللہ یار، مولانا غلام حسین، مولانا عبداللہ، مولانا محمد صدیق، مولانا محمد ثاقب، مولانا غلام مصطفیٰ مچن آبادی، حافظ محمد یوسف، ممتاز الحسن، مولانا نذیر احمد تونسوی، حاجی فیروز الدین چنیوٹ، محمد اشرف، فیض الحسن قریشی، مولانا محمد اقبال کراچی، مہر خضر حیات ربوہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مبشر عزیز مسلم کالونی، سجاد حسین سرگودھا، ظہور احمد، طارق، محمد نعیم فیصل آباد، رانا مانک خان، مخدوم شیر محمد، حاجی محمد نواز، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد یعقوب، عبداللہ سرگودھا، مہر غلام احمد، میاں غلام رسول، محمد نواز ڈاور، خان عابد حسین، ظہور احمد چنیوٹ، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا اللہ وسایا۔
ربوہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں اور قائدین کا اجلاس مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ قاری محمد ابراہیم نے تلاوت کی۔ کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ طے پایا کہ خوردونوش کا بندوبست مسجد کی چار دیواری سے باہر ہو۔ خوردونوش کا سامان حسب سابق فیصل آباد سے آئے گا۔ لائٹ، ٹینٹ کا سامان، مولانا فقیر محمد صاحب نے بتلایا کہ ہوگیا ہے۔ کھانا پکانے کے لئے حسب سابق رضا کار جھنگ سے تشریف لائیں گے۔ کھانا تقسیم کرنے کا انتظام قاری محمد ابراہیم صاحب کریں گے۔ جب کہ مہمان خصوصی کے خوردونوش کا بندوبست مولانا اللہ وسایا صاحب کی نگرانی میں ہوگا۔
اسٹیج کی تیاری اور نگرانی مولانا محمد اکرم طوفانی اور ان کے رضا کار کریں گے۔ اسٹیج سیکرٹری کے لئے مولانا عبدالرؤف الازہری، مولانا محمد یعقوب چنیوٹی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس کے انچارج صاحبزادہ طارق محمود ہوں گے۔ خطباء اور مدعوئین سے رابطہ اور ان کے ذمہ عنوانات صاحبزادہ طارق محمود، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کریں گے۔ کانفرنس کے پنڈال کی نگرانی ربوہ کے پٹھان حضرات اور دیگر نوجوان کریں گے اور شب و روز پہرہ بھی دیں گے۔ پریس گیلری کے لئے چھولداری مخصوص ہوگی۔ کانفرنس کی رپورٹنگ چنیوٹ کے نمائندگان کریں گے اور اس سلسلہ میں قومی اخبارات سے رابطہ مولانا فقیر محمد صاحب کے ذمہ لگایا گیا۔ دیواروں پر چاکنگ مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن کریں گے جو ربوہ اور چنیوٹ کے اہم چکوک طالب والا پل کی دونوں جانب، پنڈی بھٹیاں چوک پر ہوگی۔ فیصل آباد میں کچھ مقامات پر بینر بھی لگائے جائیں۔
مبلغین حضرات کے تبلیغی دوروں کے پروگرام حسب ذیل ہوں گے۔
مولانا امام الدین قریشی، مولانا غلام مصطفیٰ: ڈاور، جبانہ، مخدوماں، بھلوال، جھاوریاں، شاہ پور، صدر شہر، خوشاب، روڈہ، گروٹ ۔
سید ممتاز الحسن شاہ : جڑانوالہ، ماموں کانجن، کمالیہ، ٹوبہ، گوجرہ، ننکانہ۔
مولانا عبدالرؤف : مری، کہوٹہ، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بفہ، اٹک، نوشہرہ، مردان، واہ، راولپنڈی، اسلام آباد، ٹیکسلا، سیالکوٹ، شکر گڑھ، نارووال، چونڈہ۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی : سکھیکی، خانقاہ ڈوگراں، فاروق آباد، واربرٹن، شیخوپورہ، مریدکے، کوٹ عبدالمالک، لاہور، پتوکی، رینالہ خورد، کھڈیاں، ٹھینگ موڑ، نور پور نہر، قصور، دیپال پور، حجرہ مقیم شاہ، ننکانہ، شاہ کوٹ، مانا نوالہ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا عبد الرؤف: فیصل آباد، جامع مسجد ، دھوبی گھاٹ، سنت پورہ، ماڈل ٹاؤن، جامع مسجد باغ والی، گلبرگ، جناح کالونی، غلام محمد آباد، جامعہ امدادیہ، دارالعلوم پیپلز کالونی، خالصہ کالج، طارق آباد، سمن آباد، مصطفیٰ آباد، چکباوا، کھرڑیانوالہ، چک جھمرہ، ڈھا بال سنگھ، سانگلہ ہل۔
مولانا محمد اسماعیل عاصم ، مولانا قاضی للّٰہ یار : چنیوٹ، بھوانہ، اٹھارہ ہزاری، کوٹ شاکر، ماچھیوال، روڈو سلطان، ٹڑھ موڑ، گڑھ مہاراجہ، احمد پور سیال، شورکوٹ شہر، شورکوٹ کینٹ، پیرمحل، رشیدہ، بخاریاں، جامعہ محمدی شریف، جھنگ شہر، جھنگ صدر۔
دسویں سالانہ عظیم الشان آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مؤرخہ ۱۷، ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو نہایت تزک واحتشام سے منعقد ہوئی۔
۱۷؍ اکتوبر قبل از ظہر پہلا اجلاس: کانفرنس کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی اور بانی راہنما مولانا عبدالرحیم اشعر مدظلہ کے خطاب سے ہوا۔ مولانا نے اپنے مدلل ومفصل خطاب سے سامعین کو ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کے لئے امت مسلمہ کی عظیم الشان قربانیوں کا تذکرہ ایسے دلنشین انداز میں کیا کہ مجمع میں سے ہر آنکھ اشکبار تھی۔ مولانا نے بتلایا کہ آپ کے بزرگوں نے کن پریشان کن، ابتلاآت، پریشانیوں، تکالیف میں کام شروع کیا۔ جیلوں میں گئے۔ ہتھکڑیاں پہنیں۔ بیڑیوں کو پاؤں میں سجایا لیکن تحریک کے تقدس کو زنگ آلود نہ کیا۔ یہ انہیں حضرات کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کی برکت ہے کہ آج قادیانیت پوری دنیا میں ذلت ورسوائی کی موت مر رہی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور اسلام آباد کی مرکزی مسجد کے خطیب مولانا محمد عبداللہ نے اپنے دلنشین خطاب میں قادیانیت کی سنگینی اور جارحیت امت مسلمہ کی بے بسی وبے کسی کے باوجود پرزور مقابلہ اور کئی ایک محاذوں کی قادیانیت کی پسپائی اور امت مسلمہ کی کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سرحد کے راہنما مولانا نور الحق نور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر حضور ﷺ کی عزت وناموس اور ختم نبوت محفوظ نہیں تو ہمارا کچھ بھی محفوظ نہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو مذہبی فرض سمجھتے ہوئے قادیانیت کا پرزور تعاقب کرنا چاہئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مظفر گڑھ کے مبلغ اور خوش الحان خطیب مولانا قاری امام الدین قریشی نے ’’لحن داؤدی‘‘ میں قرآن پاک کی قرأت اور احادیث نبویہ ﷺ کی تلاوت سے سامعین کو تڑپا دیا۔
مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت کے مبلغین نے پورے ملک میں قریہ قریہ، بستی بستی، کوچہ کوچہ اور قصبات وشہروں میں پھر پھر کر قادیانیت کو بدنام کر دیا ہے اور آج پوری دنیا میں قادیانیت اور مرزائیت کو بدترین گالی بنا دیا ہے۔
۱۷؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء، دوسری نشست: بعد از نماز ظہر شروع ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا عبد الواحد کوئٹہ نے فرمائی۔ نشست کا آغاز ’’انٹرنیشنل ختم نبوت کراچی‘‘ کے چیف ایڈیٹر جناب عبدالرحمٰن باوا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ختم نبوت کی تحریک سیدنا صدیق اکبر ؓ نے شروع فرمائی۔ ہماری تحریک کے اصل بانی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی ہیں۔ قادیانیت کو کیفر کردار تک پہنچانے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بنیادی کردار ادا کیا اور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا میں قادیانیت کو نیست ونابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کچھ دانشور بیرون ملک جا کر قادیانیوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں جرمن میں قادیانی جماعت میں زبردست اختلاف رونما ہوئے ہیں۔ کئی ایک پرانے قادیانی لیڈروں اور مربیوں کو الگ کر دیا گیا ہے۔ جس پر مرزا طاہر نے کہا کہ ایسے لوگوں کے سر کچل دیئے جائیں
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گے۔ قادیانی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہمیں مذہبی آزادی نہیں جب وہ اپنی جماعت میں آزادی برداشت نہیں کرتے تو پاکستان میں ان کی مذہبی آزادی برداشت نہیں کی جائے گی۔ الحمد للہ! پوری دنیا میں مجلس تحفظ ختم نبوت قادیانیت کا تعاقب کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما اور ماہنامہ ”بینات“ کراچی کے ایڈیٹر اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ حدیث پیر طریقت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے آیت ارتداد پر سیر حاصل گفتگو کی۔ فرمایا: سب سے پہلا فتنہ ارتداد حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ میں رونما ہوا، جس کی کئی قسمیں تھیں۔ مدعیان نبوت نے سر اٹھایا۔ حضرت فیروز دیلمیؓ نے اسود عنسی کو جہنم رسید کیا۔ جس پر آپ نے فرمایا: ”فاز فیروز“ یعنی فیروز کامیاب ہو گیا۔ سب سے پہلی خوشخبری حضرت ابوبکر صدیقؓ کو سرکاری سطح پر اسود عنسی، مسیلمہ کذاب، حضرت خالد بن ولیدؓ کے مقابلہ سے اپنے اکیس ہزار ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ طلیحہ اسدی، سجاح مسلمان ہو گئے۔ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت بدترین ارتداد کی شکل ہے۔ مرزا قادیانی نے کئی ایک دعاوی کئے۔ علماء امت نے فتنہ مرزائیت کے مقابلہ میں ایک سو سال تک جدوجہد کر کے قادیانیت کو ذلیل ورسوا کر دیا ہے۔ مرزائیت کے خلاف بہت سے علماء کرام نے جہاد کیا۔ مناظرے کئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے مولانا عبدالحق (امرتسری) غزنوی سے ۱۰؍ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ (۲۷؍ مئی ۱۸۹۳ء) کو مباہلہ کیا تھا۔ عیدگاہ امرتسر کے میدان میں مولانا عبدالحق نے کہا کہ یا اللہ! میں غلام قادیانی اور اس کی جماعت کو کذاب، دجال، مرتد سمجھتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت، ایسا ہی مرزا قادیانی نے کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر خدا کی لعنت۔
ملفوظات ج۹ ص۴۴۰ میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”دو مباہلہ کرنے والے میں جھوٹا سچے کی زندگی میں مرتا ہے۔“ مرزا قادیانی ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء میں مرا۔ جب کہ مولانا غزنوی ۹؍ سال بعد فوت ہوئے۔ گویا کہ ایک سو سال قبل اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دے دیا۔ اگر مرزائیوں کی قسمت میں ہدایت ہو تو اس کے لئے ایک ہی واقعہ کافی ہے۔ (یاد رہے کہ پچھلے سال ۱۰؍ ذیقعدہ ۱۴۱۰ھ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے لندن میں جشن فتح مباہلہ منایا گیا۔ ناقل!) جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ناظم تعلیمات مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ خداوند قدوس کا احسان عظیم ہے کہ ہماری ہدایت ورہنمائی کے لئے قریہ قریہ، گلی گلی، کوچہ کوچہ میں علماء کرام ہمیں دین اسلام کی تبلیغ فرماتے ہیں اور کفر و ارتداد سے بچنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ ایک بڑا ذخیرہ کتابوں کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ ہمیں قادیانیوں کو حکمت عملی کے ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کے دجل وفریب سے آگاہ کرنا چاہئے کہ قادیانی جہنم کی آگ سے نکل کر جنت کے راستہ پر چل پڑے۔
مولانا فضل الرحمن شاہ احرار سلانوالی نے خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہر دور میں ظلم واستبداد کا مقابلہ کیا ہے۔ انگریز کو ملک سے نکالنے کے لئے علماء ہند کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ایسے ہی فتنہ قادیانیت کے مقابلہ میں حضرت امیر شریعت اور ان کے رفقاء کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔
۱۷؍اکتوبر ۱۹۹۱ء، تیسری نشست بعد نماز عشاء: تیسری نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جب کہ صدارت امام الصلحاء مولانا خان محمد مدظلہ، امیر مرکزیہ نے کی۔ جناب صوفی محمد حفیظ جالندھری، فلک شیر جھنگوی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ جناب شیخ عیسوی محمد پروفیسر ازہر یونیورسٹی قاہرہ مصر نے عربی زبان میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت قرآن سنت کی روشنی میں سیر حاصل گفتگو کی۔ شیخ نے شیخ ازہر اور مصر کے علماء کرام کی طرف سے اسلامیان پاکستان کی خدمت میں سلام پیش کیا اور کہا کہ علماء مصر علماء پاکستان کی دینی خدمات پر انہیں خراج
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحسین پیش کرتے ہیں اور کہا کہ مسئلہ ختم نبوت کے سلسلہ میں ہماری تمام تر ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا سید عبدالقادر آزاد نے کہا کہ شیخ مصر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ تشریف لائے۔ مصر کو ہم پر تقدم زمانی حاصل ہے کہ پاکستان سے پہلے مصر نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور مصر میں داخلہ بند ہے۔ بقول حسنی مبارک قیامت تک مرزائی داخل نہیں ہو سکتے۔ تمام شہداء کے مینار ہیں لیکن ختم نبوت کے شہداء کا مینار مسلم کالونی کی مسجد کا مینار ہے۔ آنے والی صدی اسلام کی ہے۔ امریکہ میں ۲۶؍ ہزار جیلوں میں ۸۵۰ مسجدیں اور علماء مقرر کرنے پڑے۔ ساڑھے تین لاکھ قیدی مسلمان ہوئے۔
اہل دل کہتے ہیں کہ اگلی صدی اسلام کی صدی ہے جس میں ان شاء اللہ العزیز قادیانیت نیست و نابود ہو جائے گی۔ پیرس میں رابرٹ نامی پادری نے اسلام قبول کیا۔ اس نے ایک لاکھ عیسائیوں کو کلمہ اسلام پڑھایا۔ جاپان میں ایک بچہ عبدالحلیم مسلمان ہوا۔ اس کی وجہ سے اسی ہزار لوگ مسلمان ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے رہنما مولانا قاری انوار الحق نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ بلوچستان کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس میں قادیانیت کا ناطقہ بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح قادیانیت عالم اسلام کے لئے ناسور ہے اسی طرح ذکری فتنہ بھی عالم اسلام سے بغاوت کا نام ہے۔ اس کے انسداد کے لئے بھی مسلمانان پاکستان کو بھر پور محنت کرنا پڑے گی۔
جماعت اہل حدیث پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا حافظ زبیر احمد ظہیر نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیت کے قلع قمع کرنے کے لئے اس کا مکمل اقتصادی و عمرانی بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اہل حدیث عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مجلس کے شانہ بشانہ ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔ مولانا حسین علی وار برٹن شیخوپورہ نے کہا کہ قادیانی کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا محمد عبداللہ بھکر نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اس مبارک اجتماع میں شرکت سعادت سمجھتا ہوں عقیدہ ختم نبوت کا نصب العین ہمارا محتاج نہیں۔ ہم اس کے محتاج ہیں۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری اپنے وقت کے عظیم محدث تھے۔ بیماری کے عالم میں بہاول پور تشریف لائے تو فرمایا کہ شاید میری بخشش کا باعث بن جائے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا طرفدار بن کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفت روزہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ فوج میں سینکڑوں کی تعداد میں قادیانی موجود ہیں جو کسی کو آلہ کار بنا کر انقلاب کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ جو کبھی پورا نہیں ہوگا۔ ”ایں خیال است و محال است و جنون“
جب تک پاکستان میں ایک بھی مسلمان موجود ہے، قادیانیت کا فتنہ نہیں پنپ سکتا۔ خاکسار تحریک کے مرکزی نائب صدر جناب محمد سلیم انبالوی نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کا ایک ہی علاج ہے۔ وہ ہے الجہاد، الجہاد۔ حکمران انگریز کے نمک خوار ہیں۔ ان سے مطالبات کا کوئی فائدہ نہیں۔ مولانا قاضی عبداللطیف اختر نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کے قائدین نہ جھکنے والے تھے اور نہ بکنے والے۔ انہیں کے اخلاص کی برکت سے آج ہم ربوہ کی سرزمین پر قیام پذیر ہیں۔ پچھلے سال اسی اسٹیج سے مطالبہ ہوا تھا کہ ربوہ کا نام تبدیل کیا جائے لیکن آج تک مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
مجلس علماء اہل سنت پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حقانی نے اپنی مسحور کن تلاوت سے سامعین کے دلوں کو گرماتے ہوئے فرمایا کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات پر اسے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اس کی جدوجہد سے قادیانیوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ مولانا حقانی نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے فرمایا کہ کامیابی چاہتے ہو تو رسول اللہ ﷺ کے دامن ختم نبوت سے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وابستہ ہو جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت محفوظ نہیں تو ہمارا کچھ بھی محفوظ نہیں۔ ملک محفوظ ہے نہ ملت محفوظ۔ جماعت اہل حدیث پاکستان کے مرکزی صدر مولانا عبدالقادر روپڑی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مرزاقادیانی انگریز کا خودکاشتہ پودا تھا۔ الحمدللہ! میں نے ساری عمر مرزائیوں کے ساتھ مناظرہ کیا۔ اب ضرورت نہیں اگر کبھی مناظرہ کرنا بھی ہو تو اس بات پر کرو کہ مرزا قادیانی انسان بھی تھا یا نہیں۔ اگر مرزائیوں کو ربوہ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی گئی تو سب سے پہلے اس کو بند کرنے کے لئے میں آؤں گا۔ مرزائیوں کی دیواروں سے کلمات طیبہ محفوظ کئے جائیں۔ مولانا روپڑی نے افسروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ کہ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے الگ کیا جائے۔ اس میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ ہم نے افسر نہیں بننا۔ وہ ہٹیں گے تو آپ ان کی جگہ پر آئیں گے۔ مولانا نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جماعت اہل حدیث کے کارکن مجلس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر قسم کی قربانی کے لئے حاضر ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی راہنما امیر شریعت کے شاگرد مولانا محمد لقمان علی پوری نے سیرت النبی ﷺ، مسئلہ ختم نبوت، مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں کاروان بخاری کی خدمات پر اپنے مخصوص انداز میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیت کو ذلت و رسوائی کی گھاٹیوں میں ڈالنے والے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری اور ان کے رفقاء تھے۔ ان حضرات نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے عظیم الشان قربانیاں دیں۔ ان قربانیوں پر تاریخ کو ناز رہے گا۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں لیگی حکومت کی منشور و دستور سے غداری کے ارتکاب، شریعت بل سے انحراف، سرکاری شریعت بل میں سود کے تحفظ اور رسوا زمانہ عائلی قوانین کے تحفظ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینٹ سے منظور شدہ بل کو من وعن نافذ کیا جائے۔ مولانا ضیاء الرحمن فاروقی جو اس نشست کے آخری مقرر تھے، کی آمد پر ان کے کارکنوں نے اپنے مخصوص نعروں سے مولانا فاروقی کا استقبال کیا تو انہوں نے سختی سے کارکنوں کو منع کیا اور عہد لیا کہ وہ تقریر کے دوران کوئی نعرہ بازی نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جس مشن پر نصف صدی سے مصروف عمل ہے۔ وہ کاز انتہائی مبارک و مقدس ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی گستاخ رسول ہیں۔ ان کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ چاہے اس کے لئے ہمیں جان تک کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سپاہ صحابہ پاکستان کے رضا کار ختم نبوت کے تحفظ کے لئے حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے حکم کے منتظر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحابہ، اہل بیت، ازواج مطہرات کے خلاف چھپنے والے لٹریچر پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ان کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں کی سزا مقرر کی جائے۔
۱۸ / اکتوبر ۱۹۹۱ء، چوتھی نشست قبل از نماز جمعہ: چوتھی نشست کی صدارت مولانا صاحبزادہ محمد سعد سراجی سجادہ نشین خانقاہ موسیٰ زئی شریف ڈیرہ اسماعیل خان سرحد نے کی۔ مولانا نذیر احمد تونسوی مبلغ ختم نبوت کوئٹہ نے کہا کہ بلوچستان کو یہ شرف حاصل ہے کہ قادیانی ژوب میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ہم دو سال سے بلوچستان میں ذکری فتنہ کے خلاف مصروف جہاد ہیں۔ ذکری فتنہ بھی قادیانی فتنہ کی طرح امت مسلمہ کے لئے وبال جان و ایمان ہے۔ جس کے خلاف امت اسلامیہ کو جہاد کرنا چاہئے۔ مولانا خدا بخش خطیب ربوہ نے کہا کہ قادیانی ربوہ میں کھیلوں کے عنوان سے اپنی نئی نسل کے خون کو گرم رکھنے کے لئے تبلیغی اجتماعات منعقد کرتے ہیں اور انہیں انتظامیہ اجازت دے دیتی ہے۔ جس سے مسلمانان پاکستان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ امسال بھی پروگرام اسی جمعہ سے منعقد ہو رہے ہیں۔ اگر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجازت دی گئی تو حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی ۔ مولانا قاضی اللہ یار خان مرکزی مبلغ نے کہا کہ مرزائیت کے خلاف ملت اسلامیہ نے ایک سو سال تک جدوجہد کی ہے ۔ سو سالہ طویل سفر میں مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے ۔ مرزائیوں کی سرگرمیوں پر قانوناً پابندی عائد کی گئی ۔ وہ وقت دور نہیں کہ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے گی اور مرزائیت کی کمر ٹوٹ جائے گی ۔ مولانا احمد شعیب ڈیرہ اسماعیل خان نے کہا کہ عالمی تحفظ ختم نبوت کا اسٹیج اتحاد امن کا باعث ہے ۔ جس پر دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ تمام مکاتب فکر اکٹھے نظر آتے ہیں ۔ اگر دیگر دینی و سیاسی امور میں یہ مکاتب فکر اکٹھے ہو جائیں تو تمام امور نمٹائے جا سکتے ہیں ۔
صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان نے کہا کہ میرے ہاتھ پر ۱۵۰ قادیانی مسلمان ہوئے ہیں ۔ اٹھارہ قبرستان سے نکلوائے ہیں ۔ مولانا محمد امین گولڑوی چک سکندر کھاریاں نے کہا کہ ہم نہ دیوبندی نہ بریلوی ہیں بلکہ اہل سنت والجماعت ہیں ۔ ہم مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے تن من دھن قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ چک نمبر ۳۰ سکندر کھاریاں کے کئی ایک مسلمان جیل میں ہیں ۔ خداوند قدوس انہیں رہائی نصیب فرمائیں ۔ علامہ عبدالحق مجاہد ملتان نے کہا کہ مرزا قادیانی نے کئی ایک دعوے کئے ۔ مجدد، مہدی، مسیح موعود، نبی ظلی ، بروزی، غیر تشریعی بالآخر شرعی نبوت کا دعویٰ کر دیا ۔ مرزا قادیانی اپنے تمام دعوے میں کذاب تھا ۔ نبی با اخلاق، حسین، سچا امانت دار ہوتا ہے لیکن مرزا قادیانی میں کوئی بھی اچھا وصف نہیں ہے ۔ مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ ہے جس میں وہ سچا ہے ۔ اگر مرزائی بھی مان لیں تو تمام اختلافات ختم ہو سکتے ہیں اور وہ دعویٰ یہ ہے ۔
مولانا قاری سعید احمد اسعد خوشاب نے کہا کہ ربوہ کے درودیوار پر کلمات طیبہ اور آیات قرآنی کا ناجائز استعمال ۔ مسلمانوں کے لئے اشتعال کا باعث ہے ۔ حکومتوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں ۔ ہر حکومت اپنے مفادات کے حصول کے لئے تو سب کچھ کر گزرتی ہے لیکن سرور کائنات ﷺ کے باغیوں کے خلاف قانون کا حرکت میں آنا قوت بازو کے بغیر ناممکن ہے اور قوت بازو اتحاد ملت اسلامیہ سے ہو سکتا ہے ۔ لہٰذا تمام مکاتب فکر کا اتحاد وقت کا اہم تقاضا ہے ۔
۱۸؍اکتوبر ۱۹۹۱ء، پانچویں نشست، بعد نماز جمعہ: اس نشست کی صدارت حضرت الامیر مدظلہ نے فرمائی ۔ جب کہ شاعر انقلاب مرزا غلام نبی جانباز، سید امین گیلانی، صوفی احمد بخش چشتی نے ہدیہ نعت پیش کیا ۔ جماعت اسلامی صوبہ پنجاب کے امیر مولانا فتح محمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام روئے زمین پر آخری دین ہے ۔ جسے غالب کرنے کے لئے سرور کائنات ﷺ تشریف لائے ۔ یہ ختم نبوت کا اعجاز ہے جو نکتہ اتحاد امت ہے ۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ آپس کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں ۔ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری کے فرزند ارجمند مولانا سید انظر شاہ کشمیری نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ علامہ انور شاہ کشمیری ختم نبوت کے سلسلے میں بہت حساس تھے ۔ اپنے شاگردوں کو وصیت فرماتے ۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی شفاعت مطلوب ہے تو ختم نبوت کی حفاظت کرتے رہنا ۔ فرمایا جب تک حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہ ہو، ایمان کی تکمیل نہ ہوگی ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آپ ﷺ تک بہت سے رسول اور انبیاء تشریف لائے ۔ انہیں نبوت و رسالت تو ملی لیکن ختم نبوت کسی کو نہیں مل سکی ۔ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سے زیادہ سخی ہیں ۔ آپ نے ہر معاملہ میں سخاوت فرمائی لیکن ختم نبوت کا اعزاز آپ ﷺ نے کسی کو نہیں دیا ۔ یوں تو مختلف مکاتب فکر نے ختم نبوت کے محاذ پر کام کیا ہے لیکن جو جوش و جذبہ، جرأت و ولولہ، قدرت نے علماء دیوبند کو نصیب فرمایا ۔ وہ انہیں حضرات کا اعزاز ہے ۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے اہم مسئلہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ عمل مقبول ہے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۸/ اکتوبر ۱۹۹۱ء آخری نشست، بعد نماز عشاء: اس نشست کی صدارت حضرت الامیر مدظلہ نے فرمائی۔ صاحبزادہ طارق محمود نے قراردادیں پیش کیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا محمد اسماعیل عاصم بہاول نگر، مولانا حافظ احمد بخش رحیم یار خان، مولانا خلیل الرحمن صاحب جیکب آباد نے بھی خطاب کیا۔ سید امین گیلانی، جناب مولانا محمد شریف ماہی، صوفی احمد بخش چشتی نے نعت پیش کی۔ مولانا اللہ وسایا نے ربوہ کے مقامی مسائل اور ملک بھر میں ہونے والی تخریب کاری میں قادیانیوں کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کئے۔
- ۱...... مظفر گڑھ میں محرم کے دنوں میں شیعہ وسنی فساد ہونے لگا۔ جانبین سے کچھ آدمی گرفتار ہوئے جو تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک
قادیانی کی فیکٹری میں ملازم ہیں۔
- ۲...... عاشورہ کے دن شیخوپورہ سے کچھ آدمی گرفتار ہوئے۔ سیدنا صدیق اکبر، سید فاروق اعظم کے نام لکھ کر العیاذ باللہ جوتے رسید کئے
ملزم گرفتار ہوئے تو تحقیق پر معلوم ہوا کہ وہ دونوں قادیانی تھے۔
- ۳...... مولانا ایثار القاسمی کے قتل میں جو لوگ گرفتار ہوئے۔ ان میں اسلم نامی قادیانی تھا۔ اس کی تفتیش قادیانی حمید اللہ قریشی کے سپرد ہوئی۔
- ۴...... ربوہ کے قریب سانگلہ میں سیدنا عمر ابن خطاب ؓ کا پتلا بنایا گیا۔ اسی پر جوتوں کا ہار ڈالا گیا۔ ایک پول کے ساتھ کھڑا کر کے
کوڑے مارے گئے اور اسے نذر آتش کیا گیا۔ (نعوذ باللہ) یہ ربوہ کے قریب کا واقعہ ہے بلکہ ربوہ کے زیر سایہ ہو رہا ہے۔
مولانا منظور احمد چنیوٹی سیکرٹری اطلاعات جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ نئے قادیانی مرتد ہیں اور پرانے یعنی جدی پشتی قادیانی زندیق ہیں۔ مرتد اور زندیق کے احکام ایک ہیں یعنی دونوں شرعاً واجب القتل ہیں۔ ان کے کفر کی تفتیش عدالتی سطح پر کرائی جائے گی۔ مرزائیوں کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان و ہندوستان کو ایک ہو کر اکھنڈ بھارت بن جانا چاہئے۔ ”مسلم انڈیا“ دہلی کے جنوری کے شمارہ میں مرزا طاہر کا انٹرویو چھپا جس میں اس نے کہا کہ ہندو، سکھ مسلمان سب ایک ہیں۔ لہٰذا پاک و ہند کو ایک ہو جانا چاہئے۔ میرا مطالبہ ہے کہ مرزائیوں کی تنظیم کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور ان کی املاک کو بحق سرکار ضبط کیا جائے۔ مولانا غلام حسین جھنگ نے کہا کہ آپ حضرات قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور قادیانی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ جھنگ کو بیروت بنانے میں قادیانی سرفہرست ہیں۔ مولانا نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی عبادت گاہوں کی ہیئت وشکل تبدیل کی جائے۔ مولانا حفیظ الرحمن ٹنڈو آدم نے کہا کہ سرور کائنات ﷺ کی آمد قیامت کی علامت ہے۔ یعنی آپ کے بعد قیامت ہوگی نہ کہ کوئی نبی آئے گا۔ قادیانی گستاخ رسول ہیں اور گستاخ رسول ﷺ کی سزا بھی سزائے موت ہے۔
مولانا اللہ وسایا قاسم امیر حرکت المجاہدین لاہور نے کہا کہ میں گردیز کے محاذ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں۔ اس وقت گردیز ”محاذ جنگ“ بنا ہوا ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ گردیز پر اہل اسلام کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔ میں اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کا پیغام حضرت الامیر مدظلہ کی خدمت میں پہنچانے آیا ہوں کہ ختم نبوت کے محاذ پر حرکت المجاہدین کے جانباز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شانہ بشانہ ہوں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۰ تا ۲۳، مؤرخہ ۲۵/ نومبر تا ۵/ دسمبر ۱۹۹۱ء)
گیارھویں ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کے زیر اہتمام ایک روزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۲۷/ ستمبر ۱۹۹۱ء بروز جمعہ کولا بمبیری گراؤنڈ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس مجلس کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی سرپرستی میں ہوئی۔ کانفرنس کے تین اجلاس ہوئے۔ پہلا اجلاس قبل از جمعہ دوسرا اجلاس بعد از جمعہ تا عصر اور تیسرا اور آخری اجلاس بعد از نماز عشاء منعقد ہوا۔ کانفرنس کے مختلف اجلاسوں سے حافظ حسین احمد ، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی، صاحبزادہ طارق محمود، جناب حمزہ ایم. این. اے، شہباز گجر، مولانا حق نواز خالد، مولانا عطاء الرحمن شہباز، حافظ بشیر عثمانی ٹوبہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا جلیل احمد، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، رائے عبدالخالق نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱ ، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۹۱ء)
شیخوپورہ میں ختم نبوت کانفرنس
شیخوپورہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ محمودیہ محلہ احمد پورہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ کے بہادر، جرأت مند، عالم دین مولانا عبداللطیف صاحب نے کی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد اسلم کی تلاوت پاک سے ہوا جو آپ نے آیت ختم نبوت: ”ماکان محمد ابا احد“ کو سات قرأتوں میں پڑھ کر مجمع پر رقت طاری کر دی۔ کانفرنس میں ابتدائی تقریر مولانا حسین علی واربرٹن کی ہوئی جب کہ اختتام مولانا میاں محمد اجمل قادری کی دعا سے ہوا۔ کانفرنس سے مجاہد ملت مولانا محمد لقمان علی پوری نے خطاب کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں علماء امت کی خدمات کو سراہا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں شہید ہونے والے ہزاروں شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔
مولانا کی سحر انگیز تقریر سے مجمع پر جادو کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔ مولانا نے ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک تقریر میں میں نے مرزا قادیانی کو الو کا پٹھا کہہ دیا۔ میرے خلاف پرچہ درج ہو گیا۔ میں نے ضمانت کرالی۔ کیس عدالت میں چالان ہوا۔ مولانا لال حسین اختر اور میں نے ساری رات محنت کی۔ مرزا قادیانی کی کتابوں سے اڑھائی سو گالیاں جمع کیں۔ ہم نے سب سے پہلا حوالہ نجم الہدیٰ کا دیا جس میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ میرے نہ ماننے والے جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر۔ جب مجسٹریٹ نے یہ حوالہ دیکھا تو پریشان ہو گیا۔ کبھی کتاب کا ٹائٹل والا ورق دیکھتا اور کبھی حوالہ والا صفحہ، مولانا لال حسین اختر نے فرمایا یہ گالی آپ کو بھی ہے تو مجسٹریٹ نے کہا واقعتاً وہ الو کا پٹھا تھا۔ میں نے گواہی کی لسٹ میں حضرت لاہوری، حضرت امیر شریعت، مولانا سید ابوالحسنات قادری جیسے درجن بھر علماء کا نام بطور گواہ لکھا تو مجسٹریٹ نے کہا کہ یہ علماء کرام کیا شہادت دیں گے کہ مرزا قادیانی کو گالی نہیں دی۔ میں نے کہا نہیں بلکہ ثابت کریں گے کہ قادیانی الو کا پٹھا تھا۔ غرضیکہ مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں اکابرین علماء حق، قائدین تحریک ختم نبوت کے ولولہ انگیز واقعات سے مجمع کو گرما دیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور ڈویژن کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اس کے تحفظ کے لئے قربانیاں، مجلس کے تسلیم شدہ مطالبات اور باقی ماندہ مطالبات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ جمعیۃ علماء اسلام شیخوپورہ کے راہنما مولانا عبد الہادی نے ضلع شیخوپورہ بالخصوص خانقاہ ڈوگراں، فاروق آباد میں قادیانیوں کی سرگرمیوں اور انتظامیہ کی بے حسی، مرزائیت نوازی اور کلمہ دشمنی پر روشنی ڈالی۔ مطالبہ کیا کہ خانقاہ ڈوگراں فاروق آباد کے قادیانیوں کے در و دیوار سے کلمہ طیبہ محفوظ کیا جائے۔ کانفرنس کے انتظامات شیخ محمد یوسف ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر کارکنوں نے کئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍دسمبر ۱۹۹۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کی
مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں
کی
کارروائیاں
۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی کے اجلاسات
۱۹۸۵ء سے ۱۹۹۰ء تک کے عالمی مجلس کے نو اجلاس منعقد ہوئے۔ ان کی تاریخ و مقام انعقاد کی تفصیل درج ذیل ہے۔ یادرہے کہ باضابطہ قیام مجلس سے مجلس کی مرکزی شوریٰ ومجلس عمومی کی کارروائیوں کا باضابطہ گزشتہ جلدوں میں درج کیا گیا۔ چنانچہ دوسری جلد میں ۳۹ اجلاسوں کی کارروائی کی تکمیل قلمبند ہوئی۔ جلد چہارم میں ۴۰ویں سے ۵۴ اجلاسوں کی کارروائیوں کی تلخیص درج ہوئی۔ اس پانچویں جلد میں اجلاس نمبر ۵۵ سے اجلاس نمبر ۶۳ تک کی کارروائیوں کی فہرست و تلخیص یہاں درج کی جارہی ہے۔
نمبرشمار مقام اجلاس تاریخ صدر اجلاس ۵۸ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۱۹/مارچ ۱۹۸۶ء، مطابق ۱۷/ رجب ۱۴۰۶ھ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد ۵۹ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۶/مارچ ۱۹۸۸ء، مطابق ۱۶/ رجب ۱۴۰۸ھ // // // ۶۰ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل مجلس عمومی) ۱۴/اکتوبر ۱۹۸۸ء، مطابق یکم ربیع الاول ۱۴۰۹ھ // // // ۶۱ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۷/نومبر ۱۹۸۸ء، مطابق ۲۶/ ربیع الاول ۱۴۰۹ھ // // // ۶۲ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۱۲/مارچ ۱۹۸۹ء، مطابق ۱۳/ شعبان ۱۴۰۹ھ // // // ۶۳ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۵/فروری ۱۹۹۰ء، مطابق ۲۷/ رجب ۱۴۱۰ھ // // // ۶۴ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲/مارچ ۱۹۹۱ء، مطابق ۱۴/ شعبان ۱۴۱۱ھ // // // ۶۵ مسلم کالونی چناب نگر (اجلاس شوریٰ) ۱۷/اکتوبر ۱۹۹۱ء، مطابق ۸/ ربیع الثانی ۱۴۱۲ھ // // // ۶۶ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۱۸/اکتوبر ۱۹۹۱ء، مطابق ۹/ ربیع الثانی ۱۴۱۲ھ // // //
(۵۸ واں) اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۷/ رجب ۱۴۰۶ھ، مطابق ۱۹/مارچ ۱۹۸۶ء، بروز بدھ بوقت دس بجے بمقام دفتر مرکزیہ ملتان منعقد ہوا۔ اجلاس زیر صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، (۲) جناب ریاض الحسن گنگوہی صاحب، (۳) جناب حاجی فیض احمد صاحب، (۴) حضرت مولانا محمد رمضان علوی راولپنڈی، (۵) جناب حاجی سیف الرحمٰن صاحب، (۶) حضرت مولانا اشتیاق حسین عثمانی ابوظہبی، (۷) حضرت مولانا خلیل احمد ابوظہبی، (۸) جناب محمد رفیق صاحب صابری، (۹) حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب اسلام آباد، (۱۰) حضرت مولانا انوار الحق صاحب کوئٹہ، (۱۱) حضرت مولانا عبدالواحد صاحب کوئٹہ، (۱۲) جناب حاجی عبدالمنان بلوچستان، (۱۳) حضرت مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، (۱۴) جناب محمد اسماعیل صاحب دولۃ قطر، (۱۵) حضرت مولانا عبدالرزاق صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ۵۷۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کراچی، (۱۶) حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب ملتان، (۱۷) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب ملتان، (۱۸) جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا کراچی، (۱۹) حضرت مولانا نورالحق نور صاحب پشاور، (۲۰) جناب مولانا محمد بلال صاحب برطانیہ، (۲۱) حضرت مولانا محمد یوسف متالا صاحب انگلینڈ، (۲۲) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کراچی، (۲۳) حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب راولپنڈی، (۲۴) حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، (۲۵) حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن کراچی۔
ایجنڈا اجلاس ہذا درج ذیل ہے:
- ۱...... حضرت امیر مرکزیہ کی قیادت میں وفد لندن کی مفصل رپورٹ اور مشرق بعید، ممالک یورپ میں کام کا طریق کار۔
- ۲...... نائب امیر مدظلہ کے زیر قیادت وفد ابوظہبی کی رپورٹ اور متحدہ امارات میں کام کے لئے تجاویز پر غور۔
- ۳...... فتنہ قادیانیت کی اندرون پاکستان و بیرون ریشہ دوانیاں اور مجلس کی ذمہ داریاں۔
- ۴...... بیرون پاکستان کام کے لئے مجلس کے دستور میں ترامیم اور مجلس عمومی سے توثیق کے لئے ہفت روزہ ختم نبوت اور لولاک کی دو
اشاعتوں میں تشہیر۔
- ۵...... دفتر مرکزیہ میں آزمائشی طور پر شروع کئے گئے تردید قادیانیت سالانہ کورس کے نتائج اور آئندہ اجرا کے لئے غور۔
- ۶...... حسابات کی پڑتال اور آڈٹ رپورٹ گزشتہ سال کے اخراجات کی منظوری۔
- ۷...... مستعملہ قدیم مرکزی رسید بکوں، مقامی رسید بکوں، ممبرشپ کی رسید بکوں کی تلفی کی منظوری۔
- ۸...... ۱۴۰۶ھ کے لئے مبلغین اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور تناسب۔
اجلاس کا آغاز جناب قاری محمد امین صاحب کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔
قدیم اراکین شوریٰ میں سے جن کی تعداد تیس ہے، بارہ معزز اراکین اجلاس میں شرکت نہیں فرماسکے، اٹھارہ اراکین نے شرکت فرمائی۔ (۱) جناب حاجی بلند اختر نظامی صاحب لاہور، (۲) جناب حاجی فرزند علی صاحب سکھر، (۳) جناب حاجی لال حسین صاحب کراچی، (۴) حضرت مولانا محمد بنوری صاحب کراچی، (۵) مولانا منیر الدین صاحب کوئٹہ۔
یہ پانچ حضرات بوجہ طبع ناسازی شریک نہ ہوسکے، اور جناب سید انور حسین شاہ صاحب نفیس رقم لاہور کو دعوت نامہ نہ پہنچ سکا وہ اس لئے شرکت نہ فرماسکے اور جناب صاحبزادہ طارق محمود صاحب فیصل آباد، جماعتی مصروفیت کی بنا پر حسب ہدایت مرکز شریک اجلاس نہ ہوسکے۔ بیرون ملک سے چھ حضرات شوریٰ کے اراکین ہیں۔ جن میں سے دو حضرات نے اجلاس میں شرکت فرمائی۔ (۱) حضرت مولانا محمد یوسف صاحب متالا (برطانیہ)، (۲) حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ہزاروی ابوظہبی۔ جب کہ حضرت مولانا محمد ہارون صاحب (ابوظہبی) اجلاس میں شریک ہونے کے لئے تیار تھے، سفر سے دو گھنٹہ قبل اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے شریک اجلاس نہ ہوسکے، اور شوریٰ میں اپنی نمائندگی کے لئے دو حضرات مکرم اشتیاق حسین صاحب (ابوظہبی) جناب محترم محمد رفیق صاحب صابری کو اجلاس شوریٰ میں شریک ہونے کی ہدایت فرمائی، چنانچہ دونوں حضرات نے بطور نمائندہ اجلاس میں شرکت فرمائی۔
۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا، جس کا ظاہری سبب محمد اسلم صاحب قریشی کی بازیابی کے لئے چلائی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جانے والی تحریک تھی۔ تحریک اس حد تک زور پکڑ گئی کہ تفتیش میں شامل کئے جانے کے ڈر سے مرزا طاہر لندن بھاگ گیا، اور وہاں علماء دیوبند اور تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے علماء کرام کے خلاف زہر اگلنا شروع کی اور اس نوعیت کی مختلف تقاریر کے کیسٹ پاکستان بھجوانے شروع کئے۔ چنانچہ ان حالات میں مجلس کے لئے اس کا تعاقب ضروری ہو گیا ، اور حضرت اقدس امیر مرکزیہ زید مجدہ اور نائب امیر مرکزیہ حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب زید مجدہ کی قیادت میں سات رکنی وفد جس میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، جناب عبد الرحمن یعقوب باوا، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، جناب حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب اور حضرت مولانا حافظ محمد عابد صاحب تھے، یورپ کا تفصیلی دورہ کیا۔
اب جناب باوا صاحب سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے دورہ کی تفصیلات سے معزز اراکین کو آگاہ فرمادیں۔
جناب باوا صاحب نے فرمایا کہ ہمارے وفد نے لندن سے گلاسکو تک پورے انگلستان کا دورہ کیا، ہر مقام پر عظیم الشان اجتماعات منعقد ہوئے، حلقہ ہائے درس ، خطبات جمعہ ، خصوصی ملاقاتیں ، مقامی جماعتی احباب اور علماء کرام سے رابطے کئے ، الحمد للہ ! انگلستان کے لاکھوں مسلمانوں تک عقیدہ ختم نبوت کا پیغام پہنچایا ، قادیانیوں کی فریب کاری اور مکاری سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔
مرزائیت کے خلاف اردو، انگریزی لٹریچر معقول تعداد میں تقسیم کیا نیز اخباری بیانات کے ذریعہ سرزمین انگلستان میں قادیانیت کا احتساب کیا، اس طرح برطانیہ میں جمعیۃ العلماء برطانیہ کے بھر پور تعاون سے لندن میں جو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی ، جس میں ملک کی اکثر دینی تنظیموں کے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی ، وفد نے بھر پور طریقے سے اپنا کردار ادا کیا۔ باوا صاحب نے فرمایا کہ اس وقت دنیا کے ساٹھ ممالک سے ہمارے رابطے قائم ہوچکے ہیں ، اور ہر ملک سے دورہ کے دعوت نامے آرہے ہیں، چونکہ ہم نے پوری دنیا میں قادیانیت کا تعاقب کرنا ہے ، اس لئے ہم وقفے وقفے سے ترجیحی بنیادوں پر تمام ایسے ممالک کہ جہاں سے دعوت نامے آئے ہیں دورے کریں گے ، آخر میں باوا صاحب نے کہا! اس طرح ہمارا سات رکنی وفد ڈیڑھ ماہ کے قریب وقت انگلستان میں گزارنے کے بعد حج کے لئے حجاز مقدس روانہ ہو گیا، جب کہ مولانا اللہ وسایا صاحب نے وسط محرم الحرام تک وہاں مزید قیام کیا۔
جناب مولانا اللہ وسایا صاحب نے فرمایا کہ ہمارا یہ دورہ تبلیغی نکتہ نگاہ سے نہایت کامیاب رہا، جہاں بھی ہم نے تبلیغی پروگرام رکھا ، لوگ قادیانیت کے متعلق معلومات کے لئے بیتاب نظر آئے ، وفد کے دوروں سے لوگوں کو ولولہ اور جوش قادیانیت عقائد کے خلاف نفرت اور ان کے مقابلہ کے لئے مستعدی قابل دید تھی ، وفد کے اراکین کی حج پر روانگی کے بعد بحکم حضرت امیر مرکزیہ زید مجدہ بندہ کو مزید یہاں قیام کرنا تھا ، چنانچہ جماعتی احباب نے دوروں کا پروگرام ترتیب دیا، اور قریب قریب کے ہر شہر میں بیانات ہوئے ، اس کے علاوہ تربیتی کورسوں کا پروگرام تو بہت ہی مفید اور کامیاب رہا، ساؤتھ ہال، دارالعلوم بری ، ہڈریس فیلڈ ، باٹلے ، ہر چہار مقامات پر دس دس روزہ تربیتی کورس ہوئے ، جس میں زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، اور قادیانیت کے خلاف علمی طور پر مسلح ہوئے ، خاص کر دارالعلوم بری کے طلبہ نے بہت استفادہ کیا ، اور یوں بندہ نے قادیانیوں کے تعاقب کے لئے انگلستان میں مزید ڈیڑھ ماہ قیام کیا۔
عرب امارات کا دورہ: لندن ہی میں عرب امارات کے دورہ کے لئے یہ طے پا گیا تھا کہ حج سے واپسی پر ایک چار رکنی وفد ابو ظہبی کا دورہ کرے گا، جس میں نائب امیر مرکزیہ مفتی احمد الرحمن صاحب ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، جناب عبد الرحمن
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یعقوب باوا، حضرت مولانا منظور احمد الحسینی چار حضرات ہوں گے، لیکن کاغذات کی تکمیل نہ ہونے کی بنا پر ایسا نہ ہوسکا، اور یہ وفد حج بیت اللہ سے فراغت کے بعد کراچی پہنچ گیا، اور کراچی میں تقریباً پندرہ گھنٹے گزارنے کے بعد ابوظہبی روانہ ہوگیا، اور ۲۱؍ ذی الحجہ کو ابوظہبی پہنچ گیا۔
حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی مدظلہ نے اس سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا، ابوظہبی کے احباب نہایت ہی شکریہ کے مستحق ہیں، جن کے اخلاص و محبت، للہیت اور مسئلہ ختم نبوت سے والہانہ لگن نے دو ہفتہ تک قیام کے لئے مجبور کیا، اس قیام کے دوران اکثر مساجد میں اہم دینی مراکز میں مسئلہ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر بیانات ہوئے، دینی شخصیات اور مشائخ سے مفید ملاقاتیں ہوئیں، خاص طور پر وہاں کی فعال دینی تنظیم جمعیۃ اہل سنت کا تعاون ہمیں ہر موقعہ پر حاصل رہا، اور وہاں حضرات حضرت مولانا محمد ہارون صاحب، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ہزاروی، مولانا اشتیاق حسین صاحب اور محترم محمد رفیق صاحب صابری کا تعاون قدم قدم پر ہمیں اور ہر طرح کی راحت میسر رہی، مکان نہیں بلکہ وہ تو تحفظ ختم نبوت کا دفتر تھا، جہاں ہر وقت یہی مسئلہ ختم نبوت اور رد قادیانیت کا چرچا رہتا۔
حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب نے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ابوظہبی کے احباب نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا، کہ لندن دفتر کی خریداری کے تمام مصارف ہم ابوظہبی سے فراہم کریں گے، بلکہ ایک خاصی رقم اس دورہ میں بھی فراہم کردی، جس کے لئے ہم نے ابوظہبی میں ایک اکاؤنٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام سے کھلوایا، اور اس دورہ میں فراہم شدہ وہاں جمع کرادی ہے، اس طرح ایک اکاؤنٹ لندن میں بھی کھلوا دیا جائے تا کہ وہاں بھی جو چاہے چیک وغیرہ جمع کراسکے۔
دفتر کی خریداری کی تمام تر ذمہ داری حضرت مولانا محمد یوسف متالا صاحب کے سپرد کردی گئی تا کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق جہاں مناسب ہو ایک لاکھ پونڈ کی رقم کے تخمینہ سے جگہ منتخب فرمائیں، اگر ابوظہبی کے احباب پوری رقم مہیا نہ کرسکے، تو باقی رقم مرکز سے فراہم کی جائے گی، خریداری کے مراحل طے پانے کے دوران، پاکستان سے عبدالرحمن باوا اور ابوظہبی سے حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ہزاروی رجسٹری وغیرہ کی تکمیل کے لئے لندن کا سفر فرمائیں گے، اور دفتر لندن کی رجسٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نام پر ہوگی۔
حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ شیخ الہند سیمینار کے موقع پر حضرت مولانا سید محمد اسعد مدنی سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے ہاں بھارت میں بھی فتنہ قادیانیت پھیل رہا ہے، اور میں نے سوچا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ سے کہوں گا کہ دارالعلوم میں تردید قادیانیت کے لئے ایک مستقل شعبہ قائم کرے، اگر ایسا نہ ہوسکا تو پھر جمعیۃ العلماء ہند کی طرف سے اس کا انتظام کریں گے، اس پر میں نے کہا کہ ہم اس سلسلہ میں ہر طرح کا تعاون کریں گے، ہر قسم کا لٹریچر، حوالہ جاتی کتب، حوالہ جات ہم مہیا کریں گے، بلکہ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات دو یا تین ماہ کے لئے آپ کے سپرد کردی جائیں گی، تا کہ آپ کے ہاں طلبہ اور علماء کو اس موضوع پر مکمل تیاری کرائی جاسکے۔
ایجنڈا کی شق نمبر ۴ (جو کہ بیرون ملک کام کے سلسلہ میں دستوری ترامیم کے لئے تھی) کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے مولانا عزیز الرحمن صاحب نے کہا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک لاکھ کے قریب اسلامیان پاکستان گرفتار ہوئے، اور ایک روایت کے مطابق بیس ہزار مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت میں تحفظ ختم نبوت کے جان نثاروں پر اتنا ظلم؟ اس حادثہ نے بیرونی دنیا کو اس طرف متوجہ کردیا، خاص کر عالم اسلام تو دہل کر رہ گیا جہاں اسیران اور شہدائے ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کے ساتھ لوگوں کی ہمدردیاں شامل حال ہوئیں، وہاں بیرون ملک یہ تجسس بھی پیدا ہوا کہ ، پتہ لگایا جائے ، کہ مرزا غلام احمد قادیانی کون تھا؟ اور قادیانیت کیا ہے؟ اس سلسلہ میں اس محاذ پر کام کرنے والے حضرات کو بیرون ملک سے خطوط آنا شروع ہوئے ، اس طرح بیرونی دنیا سے مسئلہ ختم نبوت اور رتر دید قادیانیت کے سلسلہ میں رابطہ شروع ہوا۔
چنانچہ ۱۹۵۵ء میں حضرت امیر رابع مولانا لال حسین اختر صاحب مرحوم نے براستہ مشرقی پاکستان کلکتہ اور بہار کا سفر کیا، اس پورے عرصہ میں بیرونی دنیا سے مسلسل رابطہ رہا ، تا آنکہ ۱۹۶۵ء میں حضرت موصوف نے لندن ، جزائر فجی آئر لینڈ ، مغربی جرمنی کا تبلیغی سفر فرمایا اور تقریباً پونے تین سال تک قیام کیا ، وہاں پر بہت سے لوگوں کو مسئلہ ختم نبوت اور تردید قادیانیت پر مکمل تیاری کرائی ، اس دوران جنوبی افریقہ ، فرانس ، گھانا وغیرہ کے لوگوں کو مولانا سے مسلسل رابطہ رہا۔ اور اس سبب سے مجلس تحفظ ختم نبوت کا بہت سے ممالک سے رابطہ قائم ہوا۔ اب جب کہ مرزا طاہر نے پاکستان سے فرار ہو کر لندن میں پناہ لی ، تو قدرتی طور پر علماء صلحاء کے قلوب کو خداوند کریم نے اس طرف متوجہ کر دیا کہ بیرون ملک بھی کام ہونا چاہئے ۔ چنانچہ جمعیۃ العلماء برطانیہ اور پاکستان علماء کے کثیر تعاون سے لندن میں انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں علماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی ، اور اس اجتماع کے موقعہ پر علماء کے دل میں یہ بات آئی کہ اجتماعی طور پر تردید قادیانیت پر بیرونی ممالک میں کام کرنا چاہئے ، اور اس کے لئے مستقل جماعت کی تشکیل کی جائے۔ ہمارے اکابر اسلاف حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم ، حضرت شیخ الحدیث مرحوم ، اور حضرت شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری مرحوم جو سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری کے بعد اس محاذ پر کام کرنے والوں کی سب سے زیادہ تحسین اور حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔ ہر سہ حضرات کے حلقہ ہائے کے جملہ حضرات کی بھر پور خواہش تھی ، کہ نئی جماعت کی تشکیل کے بجائے ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت یہ کام کیا جائے۔ اس قسم کے امور کے لئے باہمی مشاورت کے لئے دارالعلوم بری میں علماء کرام کی ایک مجلس منعقد ہوئی ، جس میں تمام حضرات نے آزادی سے اپنی تجاویز اور آرا پیش فرمائیں ، یہ بات اتفاق رائے سے طے پائی کہ نئے نام سے کوئی جماعت نہ بنائی جائے ، اس طرح باہمی مناقشت شروع ہو جائے گی ، اور اصل مقاصد سے بعد ہو جائے گا ، جو اس محاذ پر ان حالات میں کام کرنے کے لئے سخت نقصان دہ ہوگا۔
چنانچہ عالمی سطح میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دستور میں آئینی ترامیم اور دستوری سفارشات مرتب کرنے کے لئے ایک دستوری کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ، جو عالمی سطح پر کام کرنے کے پیش نظر مجلس کے دستور کا بغور مطالعہ کر کے اس میں مناسب ترامیم مرتب کر کے بطور سفارش پیش کرے گی۔ (اس سے آگے کی کارروائی کو عدم ضرورت کی بنیاد پر حذف کیا جاتا ہے۔ مرتب)
اس طرح ہفت روزہ ختم نبوت پر پچاس ہزار روپے ماہانہ خرچ ہوتا ہے ، جب کہ ماہانہ وصولی مبلغ بائیس ہزار روپے صرف ہے ، اور چھبیس ہزار روپے کے قریب ماہانہ خسارہ ہے یہ خسارہ جناب مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن صاحب زید مجدہ ، نائب امیر مرکزیہ مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، ہر سہ حضرات کی خصوصی توجہات سے پورا ہوتا ہے ، اور تاحال مجلس کے تبلیغی فنڈ پر اس کا کوئی بوجھ نہیں۔
تمام اراکین نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ، کہ پرچہ کے مضامین کا معیار بلند اور پرچہ کو مزید جاذب انداز میں مزید مؤثر کر کے پرچہ کو صحیح قیمت پر فروخت کیا جائے اور اس طرح خسارہ کو پورا کیا جائے ، سردست اردو اشاعت کو کامیاب بنایا جائے ،
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آئندہ اگر حالات ساتھ دیں، تو عربی، انگریزی کی بھی ماہانہ ایک ایک اشاعت ہو جایا کرے۔
کوئٹہ کے ایک معزز رکن مولانا انوار الحق نے ذکری فرقہ سے متعلق رپورٹ پیش کی اور ان کے عقائد ونظریات سے اراکین کو تفصیلاً آگاہ فرمایا، اور کہا کہ یہ لوگ کوہ مراد پر سالانہ حج کرتے ہیں، قرآن اور اسلام کے منکر ہیں، ان کے عقائد قادیانیوں سے بھی بدتر ہیں، اس لئے مجلس کو چاہئے کہ قادیانیوں کے ساتھ ساتھ اس فرقہ کا تعاقب بھی کرے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دلائے۔ اس سلسلہ میں مولانا عزیز الرحمن صاحب نے ایک تجویز پیش کی جو منظور کی گئی کہ آپ حضرات دو بلوچ علما منتخب کر کے بھیج دیں، جنہیں تین ماہ ملتان مرکز میں تربیت دی جائے گی اور تین ماہ حضرت لدھیانوی صاحب کراچی میں انہیں اپنے زیر تربیت رکھیں گے۔ اس طرح ان کی مکمل تیاری کے بعد ایک صاحب کو تو باقاعدہ جماعت کے تبلیغی نظام میں منضم کر لیا جائے گا اور ایک صاحب کا مقامی سطح پر آپ حضرات مولانا عبد الواحد صاحب اور مولانا انوار الحق صاحب انتظام فرمادیں گے۔
مولانا عبد الرحیم صاحب اشعر نے ناظم تبلیغ ہونے کے ناطے تبلیغ پر اظہار رائے کرتے ہوئے فرمایا گزشتہ سال ہم نے وفاق المدارس کے چھ علماء کرام کو اپنے دار المبلغین میں زیر تربیت رکھا، جس کی مدت ایک سال تھی۔ اراکین شوریٰ نے کہا کہ کورس جاری رہنا چاہئے۔ ہاں! آپ لوگ مدت اور وظیفہ کا تعین اپنی صوابدید کے مطابق کر لیں، نیز تربیت حاصل کرنے والے علماء کے لئے ضروری نہیں کہ جماعت میں ہی رکھے جائیں، بلکہ اس تربیت سے وسیع تر مقصد ہے کہ ایسے حضرات جس میدان میں بھی جائیں گے، قادیانیت سے آگاہ ہوں گے، اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے کوشاں رہیں گے۔
فقط قاضی فیض احمد
(۵۹ واں) اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۱۶؍ رجب ۱۴۰۸ھ، مطابق ۶؍ مارچ ۱۹۸۶ء، بروز اتوار بوقت ۹؍ بجے بمقام دفتر مرکزیہ ملتان منعقد ہوا۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، (۲) حضرت مولانا احمد الرحمن، (۳) مولانا محمد رمضان، (۴) جناب محمد ریاض الحسن گنگوہی، (۵) حضرت مولانا نور الحق نور، (۶) حضرت مولانا انوار الحق حقانی، (۷) جناب قاضی فیض احمد، (۸) عبدالرحمن یعقوب باوا، (۹) حضرت مولانا اللہ وسایا، (۱۰) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۱) حضرت مولانا عبد الرحیم اشعر، (۱۲) جناب الحاج بلند اختر نظامی، (۱۳) صاحبزادہ طارق محمود، (۱۴) قاری محمد امین، (۱۵) محمد عبداللہ، (۱۶) حضرت مولانا عبد الرزاق اسکندر، (۱۷) حضرت مولانا محمد بنوری، (۱۸) حضرت مولانا ابو زاہد اشرف ہمدانی، (۱۹) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی۔
کارروائی کا آغاز: پہلا اجلاس صبح ۹؍ بجے شروع ہوا۔ ”تلاوت کلام پاک“ حضرت مولانا محمد عبداللہ اسلام آبادی نے فرمائی۔ بعدہ! حضرت مولانا اللہ وسایا نے سابقہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ جس پر حضرت امیر مرکزیہ نے توثیقی دستخط فرمائے۔ یہ اجلاس دو سال آٹھ دن بعد ہورہا ہے۔ اس دوران بہت سے حضرات راہی ملک بقاء ہوئے۔ جن میں حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحئی صاحب عارفی (کراچی)، شاعر ختم نبوت سائیں محمد حیات پسروری، حضرت مولانا محمد اسماعیل (خوشاب)، حضرت مولانا محمد شریف وٹو (بہاول نگر)، حضرت مولانا احسان اللہ فاروقی (لاہور)، حضرت مولانا علامہ احسان الٰہی ظہیر (لاہور)، حضرت مولانا احمد حسن (ملتان)، حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا نور احمد (کراچی)، حضرت مولانا قاری فتح محمد (مدینہ منورہ)، حضرت مولانا عبدالشکور دین پوری، حضرت مولانا محمد شاہ امروٹی، محترم بابا بھورے خان (کنری پاک)، حضرت مولانا عبدالعزیز فیصل آبادی، حضرت مولانا عبدالخالق (چنیوٹ)، جناب خان عبدالغفار خان (پشاور)، جناب ملک اللہ دتہ چنیوٹی، حضرت مولانا عطاء اللہ حنیف (لاہور)، حضرت مولانا عبدالحکیم، حضرت مولانا سکندر خان، حضرت مولانا حامد میاں (لاہور)، شہداء لیہ۔
ان تمام حضرات کے لئے مجلس شوریٰ میں دعاء مغفرت کی گئی اور پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا گیا۔ اس کے بعد بندہ عزیز الرحمٰن ناظم اعلیٰ نے تاخیر اجلاس مرکزی شوریٰ کے سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دستور مجلس کے اعتبار سے سال میں کم از کم مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس ضرور ہونا چاہئے اور عندالضرورت اس سے زیادہ بھی اجلاس بلائے جاسکتے ہیں لیکن یہ اجلاس دو سال سات روز بعد ہورہا ہے۔ فروری، مارچ ۱۹۸۷ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر ناظم تبلیغ، حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی ناظم نشر واشاعت ایک مقدمہ کے سلسلہ میں مسلسل جنوبی افریقہ رہے۔ اپریل، مئی ۱۹۸۷ء رمضان المبارک رہا۔ ۱۶؍جولائی سے اختتام نومبر ۱۹۸۷ء تک مشہور مقدمہ جنوبی افریقہ کے سلسلہ میں مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب پھر جنوبی افریقہ رہے۔
تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس لندن مؤرخہ ۲؍ستمبر ۱۹۸۷ء کو ہوئی۔ کانفرنس سے قبل ایک ماہ اور ایام حج سے قبل حضرت اقدس امیر مرکزیہ زیدمجدہ اور محترم باوا صاحب بیرون ملک رہے۔ اس قسم کی جماعتی اور تبلیغی مصروفیات کی وجہ سے حضرت امیر مرکزیہ زیدمجدہ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر، حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی اور محترم باوا صاحب کی عدم موجودگی کی بناء پر اجلاس میں تاخیر ہوئی۔ اراکین شوریٰ سے استدعاء کی گئی کہ مندرجہ بالا ضروری وجوہات کی وجہ سے ایک اجلاس نہ بلائے جانے کو معقول وجوہات کی وجہ سے جائز قرار دیں اور اس اجلاس میں سابقہ اجلاس سے متعلق تمام دستوری اور قانونی امور کی منظوری اور توثیق فرمادیں۔ جس میں گزشتہ سے پیوستہ سال کے اخراجات کی منظوری بھی شامل ہے جو کہ ایجنڈا کی شق نمبر ۵ میں شامل ہو کر آپ حضرات کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ مرکزی شوریٰ کا اجلاس مقررہ میعاد پر بروقت ہوگا، جس پر معزز اراکین نے مناسب تنبیہ کے بعد توثیق فرمائی۔
حضرت امیر مرکزیہ زیدمجدہ ۱۵؍رجب مطابق ۵؍مارچ ۱۹۸۶ء قریب نماز مغرب دفتر مرکزیہ میں تشریف لے آئے اور نماز مغرب کے بعد مفتی احمد الرحمٰن صاحب، مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، عبدالرحمٰن یعقوب باوا صاحب بھی تشریف لے آئے اور دفتر میں موجود حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر، مولانا اللہ وسایا صاحب اور احقر عزیز الرحمٰن، حضرت امیر مرکزیہ زیدمجدہ نے بعد نماز عشاء فتنہ قادیانیت کی ملک اور بیرون ملک ریشہ دوانیوں سے متعلق مجلس کی اور کارکنوں کی ذمہ داریوں کے سلسلہ میں ایک مشاورت فرمائی اور یہ اجلاس مشاورت رات بارہ بجے تک جاری رہا۔ زیادہ تر اس میں بیرون پاکستان محاذ ختم نبوت پر طریق کار سے متعلق سوچ بچار ہوتا رہا۔ اس کی اجلاس میں رپورٹ پیش کی۔ حضرت مفتی احمد الرحمٰن صاحب نے فرمایا کہ میں اس سلسلہ میں مولانا اللہ وسایا اور مولانا منظور احمد الحسینی کا نام تجویز کرتا ہوں کہ انہیں برطانیہ مستقل بھیج دیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس تجویز سے ہر طرح اتفاق کرتے ہوئے بندہ عزیز الرحمٰن نے معمولی ترمیم کے لئے یہ درخواست کی کہ مولانا منظور احمد صاحب الحسینی مستقلاً بیرون ملک کے لئے موزوں ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کی اندرون ملک اشد ضرورت ہے۔ اس لئے مولانا اللہ وسایا مستقل بیرون ملک سفر کا پروگرام رکھنے کے بجائے گاہے بگاہے شدید ضرورت کی بناء پر کوئی پروگرام رکھا جائے اور قدیمی مبلغین حضرات میں سے حضرات مولانا نذیر احمد صاحب بلوچ اور حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی بھی بیرون ملک سفر کے لئے موزوں ہیں اور ان ہر دو حضرات کے کاغذات بھی بیرون ملک سفر کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔ بنابرین بیرون ملک مستقلاً قیام کے لئے مولانا منظور احمد صاحب الحسینی اور ان دو حضرات میں سے کوئی ایک صاحب موزوں رہیں گے۔ چنانچہ اس ترمیم وتجویز پر تمام حضرات نے اتفاق فرمایا اور حضرت مولانا منظور احمد صاحب الحسینی جو اجلاس کے موقعہ پر تشریف لائے ہوئے تھے، نے اپنے اکابر کی اس تجویز پر بخوشی اتفاق کا اظہار کیا اور بیرون ملک مستقل طور پر قیام کے لئے آمادگی کا اظہار فرمایا۔
ایجنڈا کی شق نمبر ۲ پر بحث کا آغاز بندہ عزیز الرحمٰن کی رپورٹ سے شروع ہوا۔ جو اندرون ملک ختم نبوت کے محاذ پر جماعتی کارکردگی پر مشتمل تھی۔ بندہ نے کہا: اللہ رب العزت کے فضل واحسان سے ملک بھر میں رد قادیانیت کے محاذ پر بے انتہاء کامیابی ہوئی۔ دشمن جگہ جگہ پسپا ہوا۔ ملک بھر میں ڈویژنل و ضلعی سطح پر کانفرنسوں کے ذریعہ پاکستان کے لاکھوں افراد تک مجلس کا پیغام پہنچایا گیا۔ ہفتہ وار ”لولاک“ فیصل آباد، ہفتہ وار ”ختم نبوت“ کراچی کے ذریعہ پورے ملک کے عوام جماعتی سرگرمیوں سے آگاہی اور راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان دو سالوں میں لاکھوں روپے کا لٹریچر شائع کر کے مفت تقسیم کیا گیا۔ اندرون و بیرون ملک لٹریچر کی فراوانی سے تقسیم کے اچھے اور حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں۔
قومی اسمبلی، سینٹ، چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، وفاقی وصوبائی وزراء، وفاقی اور چاروں صوبائی سیکرٹریٹ، ملک بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، آئی جی، ڈی آئی جی، ایس پی، ڈی ایس پی، تحصیلدار، حتیٰ کہ تھانوں کے انچارج صاحبان تک بذریعہ ڈاک جماعتی لٹریچر بھجوایا گیا اور یوں گزشتہ سالوں میں جماعت کی یہ پہلی باضابطہ مہم تھی کہ ایوان صدر سے لے کر تھانہ تک پوری سرکاری مشینری، افسران اور اہل کاروں کو فتنہ قادیانیت سے آگاہ اور باخبر کیا گیا۔ پہلے مرحلہ کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلہ کے طور پر ملک بھر کے تمام تعلیمی وفنی اداروں کے سربراہوں کو یونیورسٹیز سے لے کر نرسری سکولوں تک لٹریچر بھجوایا گیا۔ جس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے، اب پنجاب میں کالجز کی سطح تک طلباء میں لٹریچر کی تقسیم کا کام شروع ہے۔ رمضان المبارک کے بعد باقی صوبوں کے کالجز میں بھی تقسیم لٹریچر کا عمل شروع ہوگا۔ اسی طرح سٹیکرز شائع کر کے تقسیم کئے گئے جس کے اثرات نہایت اچھے مرتب ہوئے۔
بندہ عزیز الرحمٰن کی اس رپورٹ پر شوریٰ کے اراکین نے اللہ رب العزت کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ کے لئے مزید محنت و کوشش کا عزم مصمم کیا۔ اس موقع پر الحاج بلند اختر نظامی صاحب نے مقامی جماعتوں کے لٹریچر کی طباعت کے سلسلہ میں ایک نکتہ اٹھایا اور اس سے متعلق جماعتی پالیسی کا استفسار فرمایا۔ جس پر دستور کی متعلقہ شق کو پڑھا گیا۔ جس کی روشنی میں وضاحت کی گئی کہ مرکز سے شائع شدہ لٹریچر کو من وعن تمام مقامی جماعتیں اپنے طور پر بھی شائع کرنے کی مجاز ہیں۔ البتہ اپنے طور پر کوئی نیا پمفلٹ یا تحریر شائع کرنا چاہیں تو مرکزی شعبہ نشر واشاعت سے مسودہ کی منظوری ضروری ہوگی اور ہفتہ وار ”لولاک“ اور ”ختم نبوت“ میں اس کا اعلان کرایا جائے۔ ایک معزز رکن کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طرف سے مقامی جماعتوں کے لٹریچر کی طباعت کے سلسلہ میں اخراجات کی وضاحت چاہی گئی کہ مرکز فنڈز مہیا کرتا ہے یا مقامی جماعتیں اپنے طور پر، اگر مقامی جماعتیں اپنے طور پر اخراجات برداشت کرتی ہیں تو فنڈز کیسے جمع کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں وضاحت کی گئی کہ مرکز کوئی فنڈز مہیا نہیں کرتا بلکہ جہاں ناگزیر ہو وہاں مقامی رسید بکیں مہیا کی جاتی ہیں۔ جس پر مقامی جماعتیں اپنی مقامی ضروریات کے لئے جیسے جلسہ، کانفرنس، پریس کانفرنس وغیرہ یا کوئی لٹریچر یا رسالہ شائع کرنا چاہیں تو اس میں سے اخراجات پورے کرتی ہیں۔
مقامی جماعتیں مستعملہ رسید بکیں مرکز کو واپس کرتی ہیں اور آمد و خرچ کا حساب انہیں کے پاس رہتا ہے۔ آئندہ ان شاء اللہ ! مقامی جماعتوں کے لئے آمد و خرچ کا ایک فارم زیر غور ہے، جو انہیں مہیا کیا جائے گا اور مقامی جماعتیں اپنی مقامی آمد و خرچ کا گوشوارہ مرکز کو بھیجا کریں گی۔
ایجنڈا کی شق نمبر ۴ کا تعلق مرکزی انتخابات سے ہے۔ گزشتہ انتخابات ۷؍جولائی ۱۹۸۵ء، ۱۸؍شوال ۱۴۰۵ھ کو ہوئے۔ دستور کی دفعہ نمبر ۸ کے تحت اندر میعاد یعنی ۸؍جولائی ۱۹۸۸ء تک آئندہ سہ سالہ انتخابات ضروری ہیں۔ باتفاق رائے تمام اراکین شوریٰ طے پایا کہ رمضان المبارک میں جماعتی مصروفیات بہت بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے بعد حج کا موسم ہے اور اگست میں لندن ختم نبوت سالانہ کانفرنس کے انتظامات ان تمام امور کے پیش نظر جولائی کے بجائے انتخابات اکتوبر ۱۹۸۸ء میں ہوں ۔ اس سے قبل ملک بھر کی تمام مقامی جماعتیں ممبر سازی اور اپنے انتخابات کا مرحلہ مکمل کر لیں اور حسب ضابطہ مجلس عمومی کی تشکیل ہو جائے اور اکتوبر ۱۹۸۸ء میں ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ربوہ (چناب نگر) کے موقع پر مسلم کالونی میں کانفرنس کے دوسرے روز دس بجے صبح انتخابات ہوں ۔
لندن کانفرنس کے ضمن میں یہ بات بھی ہوئی کہ ہر سال لندن کانفرنس کے موقع پر مقامی طور پر کچھ کشیدگی پائی جاتی ہے اور اس کا تذکرہ مولانا محمد اسعد مدنی زید مجدہ نے بھی کیا۔ محترم باوا صاحب اور حضرت مفتی احمد الرحمٰن صاحب زید مجدہ سے حضرت مولانا محمد اسعد صاحب مدنی نے ملاقات کے دوران انڈیا میں قادیانیوں کی سرگرمیوں، دیوبند میں ختم نبوت کانفرنس پر گفتگو فرمائی اور محاذ ختم نبوت پر باہمی تعاون کا بھی فرمایا۔ چنانچہ مجلس کا تمام لٹریچر دیوبند بھجوایا گیا۔ پھر مزید دس ہزار کاپی کی طلب آئی اور چار ہزار کاپی لٹریچر بذریعہ مولانا حامد میاں صاحب مرحوم بھجوادی گئی ہے۔ باقی کا انتظام بھی ان شاء اللہ ہو جائے گا۔ اس ضمن میں طے پایا کہ رمضان المبارک سے پہلے حضرت اقدس امیر مرکزیہ زید مجدہ، حضرت مفتی احمد الرحمٰن، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، محترم باوا صاحب انڈیا کا دورہ فرماویں اور وہاں قادیان میں قادیانیوں کے اجتماع، ہندوستان میں قادیانیوں کی سرگرمیوں، خاص کر لندن کانفرنس اور بیرون ملک کام کے سلسلہ میں حضرت مولانا سید محمد اسعد مدنی زید مجدہ سے مشورہ ہو جائے۔
فقط احقر محمد علی
(۶۰ واں) اجلاس مجلس عمومی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
یکم ربیع الاول ۱۴۰۹ھ، مطابق ۱۴؍اکتوبر ۱۹۸۸ء، بروز جمعۃ المبارک، بمقام مسلم کالونی چناب نگر (ربوہ) منعقد ہوا۔
آغاز تلاوت قرآن کریم: حضرت مولانا احسان اللہ صاحب ہزاروی خطیب اسلام آباد
صدارت: مخدوم العلماء والصلحاء حضرت اقدس امیر مرکزیہ خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اراکین مجلس عمومی کو جو دعوت نامہ ارسال کیا گیا، وہ حسب ذیل ہے۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مکرم و محترم جناب ......................................... صاحب زید مجدہ
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته مزاج گرامی بخیر ہو!
امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہ نے مؤرخہ یکم ربیع الاول ۱۴۰۹ھ، مطابق ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء بروز جمعۃ المبارک بمقام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ (چناب نگر) مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا خصوصی اجلاس طلب فرمایا ہے۔ اجلاس کا ایجنڈا درج ذیل ہوگا۔
۱...... سہ سالہ مرکزی انتخابات۔ ۲...... منظوری دستوری ترامیم۔
جس میں بحیثیت رکن مجلس عمومی آپ کی شرکت انتہائی ضروری ہے۔ والسلام!
عزیز الرحمن جالندھری، مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
ملک بھر سے کثیر تعداد میں اراکین مجلس عمومی نے شرکت فرمائی اور دیگر حاضرین نے بھی تبرکاً دستخط ثبت فرمانے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ باجازت حضرت اقدس امیر مرکز یہ تمام حضرات سے دستخط لئے گئے۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد، (۲) حضرت مولانا عبد الرحیم اشعر، (۳) جناب محمد ریاض الحسن گنگوہی، (۴) حضرت مولانا نور الحق نور (پشاور)، (۵) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۶) حضرت مولانا اللہ وسایا، (۷) (دستخط نہیں پڑھے گئے)، (۸) حکیم عبد الرحمن آزاد (گوجرانوالہ)، (۹) صاحبزادہ طارق محمود، (۱۰) جناب حاجی بلند اختر نظامی، (۱۱) حضرت مولانا احمد میاں حمادی، (۱۲) حضرت مولانا احمد الرحمن، (۱۳) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۱۴) مولانا عبد الحفیظ مکی، (۱۵) حضرت سید نفیس الحسینی، (۱۶) مولانا حبیب الرحمن (ایبٹ آباد)، (۱۷) مولانا افسر علی شاہ (ایبٹ آباد)، (۱۸) مولانا ولی الرحمن (ایبٹ آباد)، (۱۹) احمد ندیم قاضی (ایبٹ آباد)، (۲۰) مولانا محمد امیر زمان (ایبٹ آباد)، (۲۱) جناب سعید احمد (ایبٹ آباد)، (۲۲) جناب حاجی غلام عباس (اوچ شریف)، (۲۳) جناب شیر محمد قریشی (احمد پور شرقیہ)، (۲۴) جناب احمد علی محمودی (احمد پور شرقیہ)، (۲۵) جناب ضیاء الدین آزاد (ماموں کانجن)، (۲۶) مولانا محمد اسلم (فاروق آباد شیخوپورہ)، (۲۷) جناب محمد افضل چشتی (سلانوالی، سرگودھا)، (۲۸) قاری محمد اکرم مدنی (سرگودھا)، (۲۹) مولانا محمد رفیق (سرگودھا)، (۳۰) مولانا ذکاء اللہ (سرگودھا)، (۳۱) مولانا حافظ عطاء اللہ (سرگودھا)، (۳۲) مولانا محمد اسلم (لیہ)، (۳۳) مولانا محمد عبد اللہ (بھکر)، (۳۴) خالد محمود (پپلاں ضلع میانوالی)، (۳۵) حافظ محمد اسلم (پپلاں ضلع میانوالی)، (۳۶) نصیر علی شاہ (میانوالی)، (۳۷) جناب نور محمد (ہرنولی)، (۳۸) صوفی کریم الدین (ہرنولی)، (۳۹) حافظ محمد اکرم (ہرنولی)، (۴۰) حافظ الیاس (کلورکوٹ بھکر)، (۴۱) حافظ محمد زکریا (کلورکوٹ بھکر)، (۴۲) محمد سرور (خوشاب)، (۴۳) محمد ارشد (خوشاب)، (۴۴) حاجی محمد رمضان (خوشاب)، (۴۵) سائیں محمد فاروق (خوشاب)، (۴۶) جناب محمد ریاض (خوشاب)، (۴۷) جناب لیاقت علی (احمد نگر)، (۴۸) جناب محمد افضل (احمد نگر)، (۴۹) مولانا قاضی اللہ یار (چیچہ وطنی)، (۵۰) جناب محمد سرور
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(چیچہ وطنی)، (۵۱) شیخ منظور احمد (چنیوٹ)، (۵۲) شیخ ظہور احمد (چنیوٹ)، (۵۳) ڈاکٹر عبدالستار اختر (بہاول پور)، (۵۴) عطاء الحسن خالد (بہاول پور)، (۵۵) مولانا محمد اسماعیل (بہاول پور)، (۵۶) مولانا رحیم بخش (دنیا پور)، (۵۷) صوفی عنایت علی (دنیا پور)، (۵۸) مولانا غلام حسین (حاصل پور)، (۵۹) ماسٹر مختار احمد (حاصل پور)، (۶۰) مولانا محمد الیاس (حاصل پور)، (۶۱) حاجی محمد شفیع (حاصل پور)، (۶۲) حاجی محمد اشرف (حاصل پور)، (۶۳) مولانا احمد حسن (یزمان)، (۶۴) مولانا جاوید اقبال (یزمان)، (۶۵) پیر تنویر (بہاول پور)، (۶۶) حاجی عبدالحق (بہاول پور)، (۶۷) شوکت علی (بہاول پور)، (۶۸) مولانا رشید احمد (نور پور نورنگا)، (۶۹) مولانا مطیع اللہ (نور پور نورنگا)، (۷۰) جناب محمد اسماعیل (شجاع آباد)، (۷۱) حافظ ثناء اللہ (شجاع آباد)، (۷۲) آغا سید محمد (سکھر)، (۷۳) حاجی فرزند علی (سکھر)، (۷۴) حاجی رشید احمد (سکھر)، (۷۵) حافظ محمد اقبال (سکھر)، (۷۶) نور محمد صاحب قریشی (سکھر)، (۷۷) مولانا غلام محمد (کہروڑ پکا)، (۷۸) میاں اللہ دتہ (کہروڑ پکا)، (۷۹) مولانا ظفر اقبال (کہروڑ پکا)، (۸۰) مولانا فیض محمود (کہروڑ پکا)، (۸۱) ڈاکٹر محمد امین (کہروڑ پکا)، (۸۲) مولانا عبدالواحد (کوئٹہ)، (۸۳) حاجی سید شاہ محمد (کوئٹہ)، (۸۴) حاجی تاج محمد صاحب فیروز (کوئٹہ)، (۸۵) حاجی نعمت اللہ (کوئٹہ)، (۸۶) حاجی رفیق اعظم (گوجرہ)، (۸۷) حاجی منظور احمد (لاہور)، (۸۸) محمد یعقوب برہانی (چنیوٹ)، (۸۹) محمد اقبال اختر (رینالہ خورد)، (۹۰) محمد شعیب گنگوہی (ڈیرہ اسماعیل خان)، (۹۱) محمد عبدالرشید (رحیم یار خان)، (۹۲) ایڈمرل کرامت رحمٰن نیازی (اسلام آباد)، (۹۳) محمد احسان اللہ (اسلام آباد)، (۹۴) محمد اسماعیل (اسلام آباد)، (۹۵) مولانا صوفی اللہ وسایا (ڈیرہ غازی خان)، (۹۶) فخر الاسلام فیصل (اٹک)، (۹۷) قاری محمد الیاس (اٹک)، (۹۸) محبوب الرحمٰن رحمانی (اٹک)، (۹۹) محمد یعقوب (ٹنڈو غلام علی سندھ)، (۱۰۰) ممتاز الحسن، (۱۰۱) ضیاء الدین آزاد، (۱۰۲) عبدالرؤف (اسلام آباد)، (۱۰۳) احمد بخش، (۱۰۴) احسان احمد دانش (راولپنڈی)، (۱۰۵) حافظ محمد رب نواز، (۱۰۶) محمد یوسف آسی (بھکر)، (۱۰۷) محمد انعام اللہ بخاری، (۱۰۸) محمد شفیع (لاہور)، (۱۰۹) عبدالحق مجاہد، (۱۱۰) رانا محمد یسین، (۱۱۱) فضل محمد خان، (۱۱۲) محمد اقبال (فیصل آباد)، (۱۱۳) سید محمد یحییٰ ہمدانی، (۱۱۴) اللہ دتہ (قصور)، (۱۱۵) حافظ خان محمد، (۱۱۶) جوہر علی (نوشہرہ پشاور)، (۱۱۷) امام الدین (شہداد پور سندھ)، (۱۱۸) محمد زمان (سانگھڑ)، (۱۱۹) محمد عبداللہ خالد (مانسہرہ)، (۱۲۰) عبدالرؤف (مانسہرہ)، (۱۲۱) منور حسین (لاہور)، (۱۲۲) حاجی وزیر محمد، (۱۲۳) جمال اللہ الحسینی، (۱۲۴) خالق داد جان (ٹنڈو آدم)، (۱۲۵) حکیم قاری محمد یونس چشتی (راولپنڈی)، (۱۲۶) مفتی محمد اقبال (راولپنڈی)، (۱۲۷) حافظ محمد حیات (خوشاب)، (۱۲۸) رحیم بخش (دنیا پور)، (۱۲۹) شیخ بدر الاسلام (سرگودھا)، (۱۳۰) حافظ محمد عبداللہ قادری (کلور کوٹ ضلع بھکر)، (۱۳۱) حافظ جمیل احمد (کلور کوٹ)، (۱۳۲) حافظ محمد عباس (جنڈانوالہ)، (۱۳۳) حافظ ملک محمد رضاء الحق، (۱۳۴) محمد ابراہیم (کلور کوٹ)، (۱۳۵) عبدالرحیم (شکر گڑھ)، (۱۳۶) میاں ارشاد الحق (فیصل آباد)، (۱۳۷) قاری نذیر احمد (لاہور)، (۱۳۸) محمد طفیل (طارق آباد فیصل آباد)، (۱۳۹) محمد عیسیٰ بھٹی (پیپلز کالونی فیصل آباد)، (۱۴۰) ڈاکٹر حافظ محمد اسلم (فیصل آباد)، (۱۴۱) ڈاکٹر محمد صولت نواز (فیصل آباد)، (۱۴۲) صوفی محمد حفیظ (ہری پور ہزارہ)، (۱۴۳) (نام نہیں پڑھا گیا) (ہری پور)، (۱۴۴) قاضی گل رحمان (ہری پور)، (۱۴۵) (نام نہیں پڑھا گیا) (ہری پور)، (۱۴۶) (نام نہیں پڑھا گیا) (ہری پور)، (۱۴۷) غلام مصطفیٰ (ہری پور)، (۱۴۸) اورنگزیب
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اعوان (ہری پور)، (۱۴۹) عزیز الرحمن (جھنگ)، (۱۵۰) غلام حسین (جھنگ)، (۱۵۱) قاری اکرم مدنی (سلانوالی)، (۱۵۲) رانا محمد یونس (سرگودھا)، (۱۵۳) محمد شبیر خان (اسلام آباد)، (۱۵۴) محمد یعقوب (اسلام آباد)، (۱۵۵) مولانا محمد عابد (خانیوال)، (۱۵۶) محمد خان (فیصل آباد)، (۱۵۷) اشتیاق احمد (جھنگ)، (۱۵۸) محمد شریف خانپوری (سیالکوٹ)، (۱۵۹) دین محمد، (۱۶۰) آفتاب احمد (جھنگ صدر)، (۱۶۱) محمد اشتیاق (جھنگ صدر)، (۱۶۲) خالد اقبال (ہری پور ہزارہ)، (۱۶۳) ثناء اللہ بھٹی، (۱۶۴) غلام جانباز مرزا، (۱۶۵) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۱۶۶) مولانا فتح محمد (بھکر)، (۱۶۷) محمد جمیل خان (کراچی)۔
آغاز اجلاس میں افتتاحی تقریر مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر نے فرمائی۔ جس میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت، محاذ ختم نبوت پر کام کرنے والے حضرات کے عمل کا ربط اور تسلسل، مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ، کام، کام کی وسعت، اس سلسلہ میں مجلس کی کامیابیاں، حضرت نے ان عنوانات پر بھر پور انداز میں روشنی ڈالی۔ مولانا نے فرمایا کہ احادیث میں جہاں انکار ختم نبوت کے فتنہ کا تذکرہ ہے۔ اس میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس فتنہ کے بانی، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اس فتنہ کو پھیلائیں گے۔ چنانچہ مدعیان نبوت کاذبہ کی تاریخ کا تسلسل اس پر شاہد عدل ہے۔ اسی تسلسل کے نتیجہ میں انکار ختم نبوت کا سب سے بڑا فتنہ قادیانیت پیدا ہوا۔ جس نے دین اسلام اور مسلمانوں کے استیصال کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ آج وطن عزیز پاکستان اس کی زد میں ہے اور قادیانیوں کی انتہائی کوشش اور خواہش ہے کہ دنیا کے نقشہ سے پاکستان کا نام مٹ جائے۔ اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری تو اللہ کریم نے لے رکھی ہے۔ ملک عزیز کی سلامتی خطرے میں ہے۔ ملک پاکستان کی سلامتی اور اس سرزمین میں نظام اسلامی کے نفاذ کی جدوجہد کے لئے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیت کا تعاقب ضروری ہے اور اس ضمن میں الحمد للہ! مجلس تحفظ ختم نبوت مقدور بھر اور اپنے محدود وسائل کی موجودگی میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب کے بعد حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب (ناظم اعلیٰ) نے سرور کائنات ﷺ کی شان رحمت للعالمین پر اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ ہمارے اکابر نے حضور ﷺ کی شفاعت کے حصول کے لئے اپنے آپ کو کس قدر تحفظ ختم نبوت کی اشاعت اور حفاظت کے لئے وقف کر دیا۔ آپ کے بعد شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے مفصل اور جامع خطاب فرمایا۔ ملک اور بیرون ملک جماعت کے کام، خدمات اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ خاص کر مرزا طاہر کے حالیہ چیلنج مباہلہ اور اس کے جواب کے لئے جماعت کے وفد کا لندن میں قبولیت چیلنج مباہلہ کا اعلان اور مسلسل اڑھائی ماہ لندن میں قیام اور بیرون ملک تعاقب قادیانیت کی مفصل روداد بیان کی۔ مولانا کے بیان کے اختتام پر مولانا عزیز الرحمن نے اللہ کریم کا اس نعمت پر شکر ادا کرتے ہوئے کہ آج ہمارے لئے کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ اس سرزمین پر جس پر ایک وقت تھا کہ قادیانیت کے امیر کا انتخاب ہوتا تھا۔ آج سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والی جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر کا انتخاب ہو رہا ہے۔ ہم بارگاہ رب العالمین میں نہایت ہی عاجزی سے دست بدعا ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک نیک فال ہے۔ اس فتنہ خبیثہ کے اختتام کی۔ ان شاء اللہ! اب اس سرزمین پر تحفظ ختم نبوت کے امیر کا ہی انتخاب ہوگا اور رد قادیانیت کا بوری بستر یہاں سے لپٹ چکا۔ اب ہم اپنے اکابر کے معمول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انتخابی عمل کا آغاز کرتے ہیں اور ہم اپنی اور آپ تمام حضرات کی طرف سے مخدوم العلماء والصلحاء حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہ کی خدمت میں التماس کرتے ہیں کہ آپ نے جس طرح پہلے اکابر کے اٹھ جانے پر ہمارے سر پر ہاتھ رکھا۔ ہماری سر پرستی اور رہنمائی فرمائی۔ آئندہ بھی اپنی شفقت جاری رکھتے ہوئے ہمارے سروں پر ہاتھ رکھیں اور ہماری
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرپرستی فرمائیں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مسند امارت کو اپنے فیوض وبرکات سے زینت بخشیں اور ہماری دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی اس گزارش کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے ہماری دلجوئی اور حوصلہ افزائی فرمائیں تاکہ ہم آپ کے ظل عاطفت میں اس عظیم مقصد اور مقدس مشن کو لے کر رواں دواں ہوں۔ ہمیں آپ کی کریمانہ نوازشات سے امید ہے کہ آپ ہمیں مایوس اور محروم نہیں فرمائیں گے۔ تمام حاضرین نے پورے جوش وخروش سے پر مسرت انداز میں تائیدی انداز میں آپ کی خدمت میں گزارش مکرر کی۔ جس پر حضرت اقدس زید مجدہ نے نہایت شفقت فرماتے ہوئے تمام خدام کو اپنے الطاف سے نوازا۔ والحمد للہ علیٰ ذلک! اور حضرت اقدس امیر مرکزیہ منتخب ہوئے۔ حسب معمول سابق حضرت اقدس زید مجدہ کے اشارہ اور منشاء کے مطابق حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب زید مجدہ اور حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی زید مجدہ کے اسماء گرام نیابت امارت کے لئے پیش ہوئے۔ پورے ہاؤس نے اس کی تائید کی اور منظوری دی۔ اجلاس کا اختتام حضرت اقدس امیر مرکزیہ زید مجدہ کی دعا مستجابہ پر ہوا۔
اسی روز بعد از عصر حضرت اقدس زید مجدہ کے حکم پر مرکزی عہدہ داران اور موجود اراکین شوریٰ پر مشتمل ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ جس میں چند تجاویز اور مشاورتیں زیر بحث آئیں اور ان پر حسب ذیل فیصلے ہوئے۔
- ١...... بیرونی کام کے لئے حضرت مولانا محمد یوسف صاحب زید مجدہ متالا اور حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی زید مجدہ باہمی مشورہ
سے تمام امور طے فرمایا کریں گے اور دونوں حضرات زید مجدہما اس سلسلہ میں مسلسل باہمی رابطہ رکھیں۔
- ٢...... دفتر لندن کے سلسلہ میں حضرت مکی صاحب زید مجدہ نے فرمایا کہ موجودہ دفتر موزوں جگہ نہیں۔ نہ تو وہاں کوئی خاص مسلم آبادی
ہے بلکہ آبادی سے خاصا ہٹ کر ہے بلکہ وہاں زیادہ تر سیاہ فام لوگ رہتے ہیں۔ باہر سے وہاں آنے والے حضرات وہاں پہنچنے میں خود کو پرسکون محسوس نہیں کرتے۔ اس پر حضرت اقدس زید مجدہ نے فرمایا کہ سردست تو وہاں ہی کام کیا جائے اور موزوں تر کی تلاش جاری رکھی جائے۔ اگر کوئی موزوں صورت پیدا ہو جائے تو مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب متالا باہمی مشورہ فرما کر مرکز کو مطلع فرما دیں اور پھر اس سلسلہ میں جو طے ہو کیا جائے۔
- ٣...... طے پایا کہ قادیانیت پر آج تک مختلف مکاتب فکر کے دینی اداروں خواہ وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی کے جتنے فتاویٰ چھپے ہیں۔ انہیں جمع
کر کے یکجا طبع کرایا جائے۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر خود اور جناب غازی محمود صاحب اسلام آباد کے تعاون سے تمام مواد جمع فرمائیں گے اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی نے اپنے ذمہ لیا کہ مواد مہیا ہونے پر میں ترتیب دے دوں گا۔ مرکز ان کے طبع اور اشاعت کا انتظام کرے گا۔
- ٤...... طے پایا کہ رجب کے آخر میں ایک تبلیغی وفد بیرون پاکستان کا دورہ کرے۔ جس میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب ضرور
تشریف لے جائیں۔
- ٥...... انڈونیشیاء کے حالات پر نہایت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وہاں حالات بہت ہی خراب ہیں اور قادیانی اہم عہدوں بلکہ وزارتوں
پر قابض ہو چکے ہیں۔ طے پایا کہ وہاں رابطہ کا انتظام کیا جائے اور وہاں کام کرنے کے ذرائع پیدا کئے جائیں اور مختلف دینی اداروں کے پتے حاصل کر کے ان سے رابطہ کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایجنڈا کے مطابق مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کے سالانہ اجلاس منعقدہ مؤرخہ ۶؍ مارچ ۱۹۸۸ء، مطابق ۱۶؍ رجب المرجب ۱۴۰۸ھ بمقام دفتر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان میں پاس شدہ دستوری ترامیم برائے منظوری مجلس عمومی، مجلس عمومی کے اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کی گئیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
- ......۱ آئندہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ ہوگا۔
- ......۲ دستور میں مندرجہ مرکزی عہدہ داروں کے ذیل میں نائب امیر دوم کے عہدہ کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب مرکزی عہدہ داروں کی
تفصیل اور تعداد یوں ہوگی۔ (۱) امیر مرکزیہ، (۲) نائب امیر اوّل، (۳) نائب امیر دوم، (۴) ناظم اعلیٰ، (۵) ناظم تبلیغ، (۶) ناظم نشر و اشاعت، (۷) خازن، (۸) ناظم۔
- ......۳ دستور کے لحاظ سے اراکین شوریٰ کی تعداد گیارہ تا تیس ہے۔ اس میں ترمیم کر کے اب کم از کم تعداد تیرہ اور زیادہ سے زیادہ
تعداد انتالیس ہوگی۔
- ......۴ ایک تہائی اراکین کی حاضری مکمل کورم متصور ہوگی اور ۱/۳ حاضری پر مشتمل اجلاس باقاعدہ اجلاس متصور ہوگا جب کہ پہلے جملہ
اراکین کی حاضری ماسوائے عذر شرعی یا طبعی ضروری تھی۔
پورے ہاؤس نے بھر پور انداز میں ان دستوری ترامیم کی منظوری دی اور اس طرح اب یہ ترامیم دستور مجلس تحفظ ختم نبوت کا حصہ متصور ہوں گی۔ فقیر خان محمد غفرلہ
(۶۱ واں) اجلاس مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
طلب کردہ حضرت اقدس امیر مرکزیہ زید مجدہ برائے نامزدگی و تقرری، مرکزی عہدہ داران و اراکین مرکزی شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منعقدہ ۷؍ نومبر ۱۹۸۸ء، مطابق ۲۶؍ ربیع الاوّل ۱۴۰۹ھ بروز سوموار بمقام مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان۔ آغاز اجلاس مولانا قاضی اللہ یار خان صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ زیدمجدہ نے مختصر تمہیدی کلمات ارشاد فرمانے کے بعد مندرجہ ذیل حضرات کو مرکزی عہدہ داران و اراکین شوریٰ نامزد فرمایا۔ اسماء گرامی حضرات مرکزی عہدہ داران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و اراکین مرکزی شوریٰ:
- ......۱ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہ امیر مرکزیہ
- ......۲ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب زید مجدہ نائب امیر اوّل
- ......۳ حضرت الشیخ مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی زید مجدہ نائب امیر دوم
- ......۴ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب زید مجدہ ناظم اعلیٰ
- ......۵ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر زید مجدہ ناظم تبلیغ
- ......۶ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی زید مجدہ ناظم نشر و اشاعت
- ......۷ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی ناظم
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۸...... حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب زید مجدہ خازن
مندرجہ بالا حضرات بلحاظ عہدہ مرکزی شوریٰ کے رکن بھی ہوں گے۔ مندرجہ ذیل حضرات بھی مرکزی شوریٰ کے رکن نامزد ہوئے۔
- ۹...... حضرت مولانا محمد بنوری صاحب زید مجدہ کراچی
- ۱۰...... حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب زید مجدہ کراچی
- ۱۱...... حضرت مولانا منیر الدین صاحب زید مجدہ کوئٹہ
- ۱۲...... حضرت مولانا انوار الحق صاحب زید مجدہ کوئٹہ
- ۱۳...... حضرت مولانا احمد میاں حمادی صاحب زید مجدہ ٹنڈو آدم
- ۱۴...... مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب کراچی
- ۱۵...... محترم حاجی لال حسین صاحب کراچی
- ۱۶...... حضرت مولانا محمد رمضان علوی زید مجدہ راولپنڈی
- ۱۷...... حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب راولپنڈی
- ۱۸...... حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب زید مجدہ اسلام آباد
- ۱۹...... حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد زید مجدہ گوجرانوالہ
- ۲۰...... حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی زید مجدہ فیصل آباد
- ۲۱...... حضرت مولانا نور الحق صاحب نور پشاور
- ۲۲...... محترم حاجی فرزند علی صاحب سکھر
- ۲۳...... محترم حاجی سیف الرحمن صاحب بہاول پور
- ۲۴...... محترم قاضی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ
- ۲۵...... محترم حاجی بلند اختر صاحب نظامی لاہور
- ۲۶...... محترم ملک منظور الٰہی صاحب اعوان سیالکوٹ
- ۲۷...... محترم صوفی ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان
- ۲۸...... محترم جناب صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد
- ۲۹...... حضرت مخدوم سید انور حسین نفیس شاہ صاحب زید مجدہ لاہور فقیر خان محمد غفرلہ
(۶۲ واں) اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۳؍ شعبان المعظم ۱۴۰۹ھ، مطابق ۱۲؍ مارچ ۱۹۸۹ء، بروز اتوار بوقت ساڑھے نو بجے بمقام دفتر مرکزیہ ملتان منعقد ہوا۔
کارروائی کا آغاز جناب قاری محمد امین صاحب زید مجدہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، (۲) حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب، (۳) جناب قاضی فیض احمد صاحب، (۴) جناب سیف الرحمن صاحب، (۵) حضرت مولانا انوار الحق حقانی، (۶) جناب عبدالواحد، (۷) حضرت مولانا اللہ وسایا، (۸) حضرت مولانا نور الحق نور، (۹) حضرت مولانا احمد میاں حمادی، (۱۰) حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی، (۱۱) حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، (۱۲) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۳) منظور الٰہی ملک، (۱۴) قاری محمد امین، (۱۵) مولانا محمد رمضان علوی راولپنڈی، (۱۶) جناب بلند اختر نظامی لاہور، (۱۷) حضرت مولانا محمد بنوری کراچی، (۱۸) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۱۹) جناب محمد ریاض الحسن گنگوہی، (۲۰) حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
شق نمبر ۱: تلاوت کے بعد سابقہ اجلاس کی کارروائی کا خلاصہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے پڑھ کر سنایا اور حضرت امیر مرکزیہ نے توثیقی دستخط فرمائے۔
کوئٹہ سے تین معزز اراکین کا تعلق ہے۔ جن میں سے دو حضرات تشریف لائے۔ ایک معزز رکن محض اس لئے تشریف نہ لائے
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ دو اراکین کی تشریف آوری سے نمائندگی تو بھر پور ہو ہی جائے گی اور بلاوجہ جماعت کا بیت المال زیر بار نہ ہو۔ یہ معزز رکن مولانا منیر الدین صاحب زید مجدہ ہیں۔
اسلام آباد سے حضرت مولانا عبد اللہ صاحب زید مجدہ نے اجلاس میں شرکت کے لئے سفر فرمایا اور دوران سفر مولانا زید مجدہ کی طبیعت خاصی خراب ہوگئی اور آپ میانوالی سے واپس اسلام آباد تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی زید مجدہ کے بچے کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔ اس لئے آپ اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔
حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب زید مجدہ، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا زید مجدہ کراچی میں مصروفیات کی وجہ سے صبح کے اجلاس میں شرکت نہ کر سکے اور دونوں حضرات شام کی پرواز سے تشریف لائے اور مغرب وعشاء کے بعد جو خصوصی اجلاس ہوئے ان میں شرکت فرمائی۔
شق نمبر ۲: ملک عزیز میں قادیانیوں سے متعلق تازہ ترین صورتحال۔ مؤرخہ ۱۷/اگست ۱۹۸۸ء کو سانحہ بہاول پور ہوا۔ اس سے کچھ پہلے قادیانیوں نے مباہلہ نامی پمفلٹ تین لاکھ کی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔ جس پر ۲۱/جولائی کے ہفت روزہ ختم نبوت نے پیش لفظ میں نشاندہی کی کہ یہ پمفلٹ کسی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ جس کا اظہار مخفی انداز میں کیا گیا۔ چنانچہ اس المناک سانحہ کے بعد قادیانیوں کی جارحیت بڑھتی چلی گئی ہے۔ انتخابات کے نتیجہ میں مرکز میں پیپلز پارٹی کی اور پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومتیں قائم ہوئیں اور دونوں ہی قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ جس پر اجمالی شواہد درج ذیل ہیں:
- ۱...... الفضل کا مکمل چار سال کی بندش کے بعد اجراء۔
- ۲...... سکھر اور ساہیوال کے قادیانیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا، جسے فوجی عدالتوں سے سزا یافتوں کا عنوان دیا گیا۔
حالانکہ سزائے موت کے قیدی صرف قادیانی ہی تھے۔
- ۳...... نسیم احمد جو کہ کٹر قادیانی ہے، اسے دبئی سے بلا کر اقوام متحدہ میں پاکستان کا نمائندہ بنا کر بھیج دیا گیا ہے۔
- ۴...... رسوائے زمانہ قادیانی کنور ادریس کو سندھ کا چیف سیکرٹری مقرر کر دیا گیا۔
- ۵...... حکومت پنجاب نے مرزا قادیانی کے خاندان کے ایک فرد رشید شریف فلسطینی کو جس کی پیدائش اسرائیل میں ہوئی اور تین سال
مسلسل چھٹی لے کر جرمنی رہا۔ ایک اہم عہدہ یعنی ڈپٹی سیکرٹری فنانس بنا دیا اور یہ عمل انتخابات کے فوراً بعد ہوا۔ بعض محبان وطن آفیسرز سے خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت مرزا طاہر کو واپس لانے کے لئے جائزہ رپورٹیں حاصل کر رہی ہیں کہ عام مسلمانوں کا ردعمل کیا ہوگا اور اس ردعمل کے ساتھ کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔
- ۶...... قادیانی کافی عرصہ سے ”جھوٹی نبوت“ کا جشن صد سالہ منانے کے لئے تیاری کر رہے تھے۔ اب انہوں نے اس عزم کی تکمیل
کے لئے ۲۳/مارچ ۱۹۸۹ء یوم پاکستان کو منتخب کیا ہے کہ یوم پاکستان کی آڑ میں ربوہ میں خصوصاً اور ملک عزیز کے بڑے بڑے شہروں میں عموماً چراغاں، بینرز اور اجتماعی تقریبات کے ذریعہ جشن صد سالہ کا پروگرام کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے صاحبزادہ طارق محمود صاحب، مولانا محمد اشرف ہمدانی نے فرمایا کہ جشن کے موقع پر قادیانی مرد و عورتیں بچے، مخصوص وردی پہن کر عسکری قوت کا مظاہرہ کریں گے۔ چراغاں کے لئے انہوں نے کروڑوں کا فنڈ مخصوص کیا ہے۔ نہ صرف ربوہ شہر بلکہ گردونواح کے پہاڑ، دریا، آنے والے راستوں کو دلہن کی طرح سجایا جائے گا۔ بجلی بند ہونے کی شکل میں انہوں نے جنریٹر خرید کئے ہیں۔ کئی ٹرک مٹی کے دیئے منگوائے ہیں۔
اسی طرح لاہور کے قریب جلو موڑ سے تین فرلانگ کے فاصلہ پر بھارتی سرحد سے متصل ہانڈو گجراں نامی ایک گاؤں میں قادیانیوں نے ۳۵ کنال قطعہ اراضی خرید کر کے بلڈوزر و کرینیں لگا کر جلسہ عام کے لئے پنڈال تیار کر رہے ہیں۔ شامیانے، قناتیں، رہائشی کیمپ، وضو کے لئے ٹیوب ویل، پائپ بچھانے کا کام زور وشور سے جاری ہے۔ حاضرین کے کھانے کے لئے شیزان فیکٹری نے پانچ ہزار قادیانی افراد کے کھانے کا انتظام اپنے ذمہ لیا ہے۔ غرضیکہ اس وقت تک آمدہ اطلاعات کے مطابق قادیانی ہر قیمت پر صد سالہ جشن منانے کے لئے بھر پور کوشش و کاوش کر رہے ہیں۔
ان تفصیلات پر غور و فکر کے بعد مجلس شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ ان تمام امور میں سے فوری اور اہم نوعیت کا مسئلہ صد سالہ جشن کا ہے۔ اس کو رکوانے کے لئے جماعت کو اپنی قوت صرف کر دینی چاہئے تاکہ اللہ رب العزت کے فضل واحسان سے قادیانیوں کے اس سازشی پروگرام جشن پر پابندی لگ جائے۔ کیونکہ اگر وہ جشن کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس سے نہ صرف یہ کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ بلکہ قادیانی پھر قوت پکڑ جائیں گے اور مسلمان شکستہ دل ہوں گے۔ چنانچہ طے ہوا کہ:
- ۱....... روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ملتان، راولپنڈی، کراچی، روزنامہ ”جنگ“ راولپنڈی، کوئٹہ، لاہور، کراچی کی تمام اشاعتوں
میں آخری صفحہ پر عالمی مجلس کی طرف سے اشتہار لگوایا جائے۔ جس میں جشن کی پابندی کا مطالبہ کیا جائے اور پابندی نہ لگنے کی صورت میں ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو ہی جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن ربوہ میں ختم نبوت ریلی منعقد کرنے کا اعلان کر دیا جائے۔
- ۲....... ۲۰؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو اسلام آباد میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس رکھا جائے اور اسی روز عشاء کے بعد
راولپنڈی یا اسلام آباد جہاں ممکن ہو ختم نبوت کانفرنس رکھی جائے۔
- ۳....... ٹیلی گرام خطوط قراردادیں اور احتجاجی جلسے منعقد کر کے حکومت کو باور کرایا جائے کہ رائے عامہ قطعاً قادیانی جشن کو قبول کرنے
کے لئے تیار نہیں ہے۔
اخبارات میں اشتہارات لگوانے کا کام صاحبزادہ طارق محمود صاحب کے ذمہ لگایا گیا۔ چنانچہ انہوں نے ظہر کے بعد کے اجلاس میں اشتہار کا مسودہ پڑھ کر سنایا اور مناسب ترامیم کے بعد اس کی مجلس شوریٰ نے منظوری دی جو یہ ہے:
مسلمانان پاکستان کی غیرت کو کھلا چیلنج
مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کا صد سالہ جشن کیوں؟
عظیم الشان ختم نبوت ریلی ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء بروز جمعرات بمقام محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن ربوہ
- ٭....... قادیانی ربوہ میں ۲۳؍ مارچ کو یوم پاکستان کی آڑ میں جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کے صد سالہ جشن کے موقع
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر زبردست چراغاں اور آتش بازی کا اہتمام کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کی یہ ناپاک جسارت نہ صرف امتناع قادیانیت آرڈیننس کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ جناب رسالت مآب ﷺ کی سچی نبوت کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
- ☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی روز سر زمین ربوہ پر مسلمانوں کی عظیم الشان ریلی منعقد کی جائے گی۔
عاشقان مصطفیٰ ﷺ اٹھو، آقا ومولا فداہ ابی وامی کی رسالت کا پرچم بلند کرتے ہوئے۔ جوق در جوق ربوہ پہنچ کر جعلی نبوت کے چراغ گل کر دو۔
نوٹ: ۱۷؍ مارچ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں قادیانیوں کی ناپاک جسارت کے خلاف ملک بھر کے خطباء، یوم احتجاج منائیں گے۔ منجانب: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان
مجلس عمل کے اجلاس اور نمائندگان مجلس عمل سے ملاقاتوں کے لئے جناب صوفی ریاض الحسن گنگوہی نے ذمہ داری قبول فرمائی اور اجلاس کے اختتام پذیر ہوتے ہی لاہور جانے کا پروگرام مرتب کر لیا۔ راولپنڈی یا اسلام آباد میں ۲۰؍ مارچ ۱۹۸۹ء کی ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کی ذمہ داری حضرت مولانا محمد رمضان صاحب ومولانا قاری محمد امین صاحب مدظلہما نے قبول فرمائی۔
ایجنڈا شق نمبر ۳: مجلس کی کارکردگی اندرون ملک کی رپورٹ۔
- ۱...... قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے ۱۰؍ جون ۱۹۸۸ء کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور اس کی آڑ میں پوری ملت اسلامیہ کی غیرت کو
چیلنج کیا۔
اللہ رب العزت کی شان بے نیازی پر قربان جائیں۔ کراچی سے لے کر خیبر تک کے تمام اہم پاکستانی علماء کرام، جنوبی افریقہ، شمالی امریکہ، یورپ، آسٹریلیا، جنوبی امریکہ، ایشیاء غرضیکہ پوری دنیا کے وہ تمام علماء اسلام جن کو مرزائیوں نے مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ وہ تمام کے تمام مباہلہ کے لئے تیار ہو گئے۔ ان سے کسی ایک نے انکار نہ کیا۔ جب کہ مرزائیوں نے مرزا قادیانی اور نصاریٰ نجران کی سنت پر عمل کر کے کہیں بھی مباہلہ کے لئے میدان میں نہ آئے۔ عالم دنیا کے مسلمانوں کا مباہلہ کے لئے تیار ہونا ایک دفعہ پھر گویا تمام مسلمانوں کا مرزائیت کے کفر پر اجماع منعقد ہو گیا۔ مرزائیوں کے لئے پوری دنیا میں منہ چھپانے کے لئے جگہ نہ رہی۔ پوری امت نے مباہلہ کے سلسلہ میں جس طرح آپ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے دشمن کو فیصلہ کن جواب دے کر اپنی ذمہ داری کو پورا کیا۔ اس پر جتنا مولائے کریم کا شکر ادا کیا جائے، کم ہے اور امت کی مرزائیت کے تعاقب کے لئے بیداری نیک فال ہے۔ اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جو خدمات انجام دیں وہ یہ ہیں:
- ☆...... اندرون ملک اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، کراچی، پشاور میں ۱۴؍ اگست ۱۹۸۸ء کی تاریخ مقرر کر کے اخبارات میں اشتہارات کے
ذریعہ مرزائی قیادت کو للکارا کہ وہ مباہلہ کے لئے میدان میں آئے۔ ہم امت کے منتخب نمائندہ علماء کرام کو لے کر ان مقامات پر انتظار کرتے رہے۔ مگر کسی بھی مرزائی کو آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ یوں اس تاریخ کو لاہور شاہی مسجد، پشاور جامع مسجد مہابت خان، کوئٹہ میزان چوک، اسلام آباد جامع مسجد فیصل، کراچی جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں پانچ مباہلہ کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء شریک ہوئے۔ اس سے مرزائیوں کے پروپیگنڈہ کی قلعی کھل گئی۔ مسلمانوں کے حوصلے بلند
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے اور مرزائیوں پر اوس پڑ گئی۔
- ☆...... ۲۱/ اگست ۱۹۸۸ء کو ویمبلے ہال لندن میں جماعت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی اس موقع پر مرزا طاہر کو لندن میں
ہی مباہلے کے لئے اخبارات کے ذریعہ بلایا گیا۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم بیسیوں علماء کرام اور ہزاروں مسلمانوں کے ہمراہ مرزائیوں کا انتظار کرتے رہے اور شام کو مرزائیوں کے نہ آنے کے باعث ان کی شکست کا اعلان کر دیا۔ ان اقدامات و جوابی کارروائی سے مرزائیوں کے منفی پروپیگنڈہ کا اثر ختم ہوا۔ الٹا مرزائیوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
- ☆...... عالمی مجلس کے مرکزی شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے مرزائیوں کے مباہلے نامی پمفلٹ کے تین جواب شائع کئے گئے۔ سب
سے پہلے لندن میں مولانا اللہ وسایا، مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا نذیر احمد بلوچ، مولانا منظور احمد الحسینی کی طرف سے دستخطوں کے ساتھ جواب تیار کر کے مرزا طاہر کو رجسٹری کیا گیا۔ پھر لندن اور پاکستان کے اخبارات میں اس کو شائع کرایا گیا۔ لندن کانفرنس کے موقع پر اس کا پہلا ایڈیشن تمام شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔ بعد میں پاکستان میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا۔ دوسرا جواب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما ملک عزیز کے نامور صاحب طرز ادیب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے تحریر فرمایا۔ اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوا۔ تیسرا جواب قادیانی جماعت کے سابق فرد عبدالرحمن مصری کے صاحبزادے حافظ بشیر احمد مصری (مسلم) نے تحریر کیا۔ اسے بھی عالمی مجلس کے مرکزی شعبہ نشر و اشاعت نے شائع کیا۔ اس کے علاوہ مقامی جماعتوں اور شاخوں نے اپنے اپنے طور پر جو جوابات تحریر کئے وہ دو درجن سے زائد ہوں گے۔
الحمد للہ! تحریر و تقریر کے ذریعہ مباہلہ نامی مرزائیت کی سازش کو عالمی مجلس نے ناکام بنایا اور اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے اپنی ذمہ داری کو احسن طریق پر نبھانے کی سعادت حاصل کی۔
- ۲...... ۱۹۸۸ء کے عام انتخابات میں قادیانیوں نے کھل کر پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا۔ تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان کی سیٹ پر صوبائی
اسمبلی کے لئے مرزائیوں نے اپنے نمائندہ منظور خان قیصرانی کے لئے ٹکٹ بھی حاصل کر لیا۔ عالمی مجلس نے مولانا اللہ وسایا صاحب ڈیرہ غازی خان والوں کی قیادت میں وہاں تحریک چلائی۔ گاؤں گاؤں کا چکر لگا۔ لٹریچر تقسیم کیا۔ انفرادی ملاقاتیں کیں۔ جلسہ ہائے منعقد کئے اور یوں اللہ رب العزت کے فضل و احسان سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا عبدالعزیز لاشاری پر مشتمل وفد نے دن رات محنت کر کے ایسی فضاء قائم کر دی کہ مرزائی امیدوار الیکشن میں شکست کھا گیا۔ اسی طرح آزاد امیدوار کے طور پر ملتان کی شہری سیٹ سے صوبائی اسمبلی کے لئے لاہوری مرزائی نصیر اے شیخ نے الیکشن میں حصہ لیا۔ اس کے حلقہ میں بھی لٹریچر وغیرہ تقسیم کرایا۔ یوں اللہ رب العزت کے فضل سے کوئی مرزائی الیکشن میں کامیاب نہ ہو سکا۔
- ۳...... الیکشن کے بعد موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آتے ہی قادیانیوں کی سرگرمیوں میں تشویشناک اضافہ ہو گیا۔ جس پر فوری عالمی
مجلس تحفظ ختم نبوت نے اخبارات میں درج ذیل اشتہار شائع کرایا اور یوں پورے ملک کے مسلمانوں کو قادیانیوں سرگرمیوں سے باخبر کر کے ان میں بیداری کی لہر پیدا کی۔ اشتہار یہ ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی فتنہ کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کے خلاف احتجاج
مرکزی حکومت وصوبائی حکومت قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے۔ حالیہ عام انتخابات کے بعد قادیانی جماعت کی شرانگیز سرگرمیوں میں اچانک تشویشناک اضافہ ہو گیا ہے۔
- ☆...... چار برس کی قانونی بندش کے بعد قادیانی جماعت کے ترجمان روزنامہ الفضل ربوہ کی دوبارہ اشاعت ۔
- ☆...... قادیانیوں کے دسمبر میں سالانہ تبلیغی جلسہ پر گزشتہ چار سال کی پابندی کے بعد دوبارہ انعقاد کی افواہ۔
- ☆...... قادیانی جماعت کے بھگوڑے سربراہ مرزا طاہر احمد کو پاکستان واپس لانے کے لئے قادیانیوں کی پراسرار سرگرمیاں۔
- ☆...... مارچ ۱۹۸۹ء میں قادیانیوں کی جعلی نبوت کے ”جشن صد سالہ“ کا اعلان۔
قادیانیوں کی اچانک اشتعال انگیز سرگرمیاں ملک میں نئی منتخب حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے اور امن عامہ کو تباہ کرنے کی گہری سازش ہیں۔ ہم منتخب مرکزی حکومت و حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں پر عائد شدہ پابندیاں برقرار رکھی جائیں اور ان کی اسلام دشمن اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف موثر کارروائی کر کے اسلامیان پاکستان کے دینی جذبات کا احترام کیا جائے۔
منجانب : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ ۶؍دسمبر ۱۹۸۹ء
اسی طرح یہ اشتہار ”جنگ“ لاہور، راولپنڈی میں بھی جماعت نے شائع کرایا۔ قومی، صوبائی اور سینٹ کے ارکان کو حضرت الامیر کی طرف سے مبارک بادی کے خطوط اور اس متذکرہ اشتہارات کے کٹنگ بھیجے گئے۔ مرزائی اپنے اخبار الفضل میں اپنے سالانہ جلسہ کی تاریخ کا نہ صرف اعلان کر چکے تھے بلکہ ربوہ میں دیگیں پکا کر خوشی کا اظہار کیا اور یوں پوری قادیانی جماعت اپنے سالانہ جلسہ کی تیاری کے لئے کوشاں تھیں۔ عالمی مجلس کا اشتہار اخبار میں شائع ہوا۔ یوں کفر و اسلام دونوں اس مرحلہ پر ایک بار پھر آمنے سامنے آکر اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے لگے۔
مسلمانوں کی کاوش اور قادیانی کوششوں کا بھر پور ایک دوسرے کو گرانے کے لئے مقابلہ شروع ہوا۔ عالمی مجلس نے سرگودھا میں ڈویژنل ختم نبوت کانفرنس منعقد کر کے تمام مکاتب فکر کو جمع کیا۔ ربوہ کی مسجد محمدیہ میں اجتماعی جمعہ پڑھا۔ جھنگ میں یک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی۔ ان تمام پروگراموں میں حضرت الامیر دامت برکاتہم نے شرکت فرمائی۔ ریزولیوشن، قراردادیں، احتجاجی بیانات وتاریں حکومتی ارکان سے ملاقاتیں کیں۔ یوں شب و روز کی محنت سے کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا اور مرزائی سالانہ جلسہ پر پابندی لگ گئی۔ اس پر جتنا اللہ رب العزت کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکر کرے کم ہے۔
- ۴...... ۱۹۸۸ء میں کوئٹہ دفتر کی خریداری کا کام تکمیل پذیر ہوا۔ اس سے قبل مجلس نے تیس سال سے دفتر کرایہ پر حاصل کیا ہوا تھا۔ اس
کرایہ کے دفتر کی عمارت کی مالکہ بیوہ عورت ہے۔ اس نے جماعت کوئٹہ سے مطالبہ کیا کہ مجھے عمارت خالی کر دی جائے۔ جماعت کوئٹہ کے احباب کی میٹنگ ہوئی۔ اللہ رب العزت ان تمام حضرات کو جزائے خیر دیں کہ انہوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ کیونکہ مالک مکان کی اجازت کے بغیر اور خواہش کے خلاف کرایہ دار کا مکان میں رہنا شرعاً ناجائز ہے۔ اس لئے یہ دفتر مطلوبہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدت میں خالی کر کے شرعی امر پر پابندی کی جائے اور کوشش کی جائے کہ اللہ رب العزت اپنے فضل سے اس کرایہ کے دفتر سے ایسے دفتر میں منتقل کریں جو جماعت کا ملکیتی ہو۔ چنانچہ احباب نے اس کے لئے کوشش کی۔ جماعت کا وہاں پر ایک پلاٹ تھا۔ ۱۳۵۰۰۰ پر وہ فروخت ہوا۔ ۷۵۰۰۰ روپے جماعت نے مرکز کے فنڈ سے دیئے، باقی کا مقامی جماعت کوئٹہ نے اہتمام کیا اور یوں خوبصورت صاف ستھرے ماحول میں ۲۶۵۰۰۰ روپے میں جماعت کا دفتر کوئٹہ میں ملکیتی قائم ہو گیا۔ اس پر کوئٹہ کی جماعت پوری جماعت کی طرف سے شکریہ کی مستحق ہے۔ تمام اکابر و اصاغر نے مل کر جس طرح دفتر کوئٹہ کی خریداری کے لئے کوشش کی۔ اس پر ان تمام رفقاء کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
- ۵...... اس سال جماعت نے حکومتی اداروں کو لٹریچر بھجوانے میں ریکارڈ محنت کی۔
- ۶...... حضرت الامیر نے چونکہ ۱۹۸۹ء کو سال ختم نبوت کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ اس کے لئے جماعت کے مرکزی دفتر
نے اتنی تیاری کر رکھی ہے کہ ان شاء اللہ العزیز ! اس سال پوری دنیا میں ختم نبوت کا علم بلند ہوگا اور قادیانی گروہ مزید رسوائیوں سے دوچار ہوں گے۔
ایجنڈا شق نمبر ۴، ۵: بیرونی کارکردگی کی رپورٹ / دورۂ امریکہ
- ☆...... اس سال بھی حسب سابق لندن میں عالمی مجلس کی طرف سے سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں حضرت الامیر، مولانا
اللہ وسایا ، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا نذیر احمد بلوچ، صاحبزادہ محمد عابد نے مجلس کی طرف سے شرکت فرمائی۔ کانفرنس کے بعد دو رکنی وفد جس میں جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا منظور احمد الحسینی شامل تھے، انہوں نے شمالی و جنوبی امریکہ کا دورہ کیا۔ جس کی تفصیلات کراچی کے ہفتہ وار ختم نبوت میں شائع ہو چکی ہیں۔
- ☆...... دنیا بھر میں جہاں کہیں ضرورت تھی یا مانگ، وہاں پر لٹریچر بھیجا گیا۔
- ☆...... چھ رسائل کا مزید انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ ان کو بھی بیرونی دنیا میں خصوصیت سے تقسیم کیا جارہا ہے۔
ایجنڈا شق نمبر ۶: سال ختم نبوت
- ۱...... ۲۱؍ اگست ۱۹۸۸ء کی ختم نبوت کانفرنس لندن میں حضرت الامیر دامت برکاتہم نے اعلان فرمایا کہ چونکہ ۱۹۸۹ء میں قادیانی
صد سالہ جشن منا رہے ہیں تو اس کے مقابلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۱۹۸۹ء کو سال ختم نبوت کے طور پر منائے گی۔ ۱۹۸۹ء میں برطانیہ میں مرکزی کانفرنس کے علاوہ چار علاقائی کانفرنسیں ہوں گی۔
- ۲...... اس سال دس لاکھ روپے کا لٹریچر شائع کر کے تقسیم کیا جائے گا۔
- ۳...... اس سال امریکہ میں کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔
- ۴...... پاکستان کے ڈویژنل مقامات اور علاقائی کانفرنسوں کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ ان امور پر عمل در آمد شروع ہے۔ سرگودھا، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، بہاول پور، ربوہ میں کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ مارچ ۱۹۸۹ء میں راولپنڈی، اٹک، ہری پور، ایبٹ آباد، گوجرہ، مانسہرہ میں کانفرنسیں ہیں۔ رمضان المبارک کے بعد پھر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سندھ، سرحد، بلوچستان اور پنجاب میں کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
اسی طرح لٹریچر واشتہارات ملتان و کراچی سے چھپنا شروع ہو گئے۔ نئے انداز میں بھر پور محنت سے لٹریچر مہم کو شروع کیا جارہا ہے۔ اس وقت آٹھ رسائل لاکھوں کی تعداد میں چھپ کر ملتان آگئے ہیں۔ اخبارات میں ضرورت کے مطابق اشتہارات دیئے گئے ہیں۔ غرضیکہ اس سال لٹریچر کے اعتبار سے بھی مثالی محنت کا پروگرام ہے۔
ایجنڈا شق نمبر: تقرریاں۔
اس سال جن نئے حضرات کی مجلس میں تقرریاں کی گئیں ان کی منظوری دی گئی جو یہ ہیں:
- ۱...... دفتر مرکزیہ کے لئے جمعہ خان۔
- ۲...... مکران ڈویژن میں مبلغ مولانا فضل الرحمن۔
- ۳...... مدرسہ تعلیم القران بہاول پور میں مدرس محمد احمد۔
- ۴...... مسلم کالونی ربوہ میں مدرس قاری غلام فرید۔
- ۵...... جیکب آباد میں مبلغ مولانا خلیل الرحمن۔
- ۶...... مدرسہ تعلیم القرآن دفتر مرکزیہ ملتان۔
میں بطور مدرس و امام قاری عبدالحنان۔
ایجنڈا شق نمبر: مبلغین حضرات کی تنخواہوں میں اضافہ کے لئے طویل غور وخوض کے بعد تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔
- ۱...... حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر۔
- ۲...... حضرت حاجی قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ۔
- ۳...... حضرت حاجی بلند اختر نظامی لاہور۔
اراکین کمیٹی مبلغین حضرات کی کارکردگی، مہنگائی، ضروریات کا ہر طرح خیال رکھ کر ترقیاں لگانے کے مجاز ہوں گے۔ مبلغین حضرات کی تبلیغی کارکردگی، رخصتوں کے اصول پر عمل درآمد کی صورتحال وغیرہ کی رپورٹ ناظم تبلیغ و رکن کمیٹی مولانا عبدالرحیم اشعر مرتب کر کے کمیٹی کو مہیا فرمائیں گے۔ مبلغین کی فہرست و سابقہ مشاہرات کی تفصیل دفتر مرکزیہ اراکین کمیٹی کو مہیا کرے گا۔ کمیٹی کے اراکین باہمی مشاورت کے بعد ترقیاں کرنے کے مکمل مجاز ہوں گے۔ ان کی سفارش پر نئے سال محرم ۱۴۱۰ھ سے دفتر مرکزیہ عمل درآمد کرنے کا پابند ہوگا۔ کمیٹی کے اراکین کا فیصلہ مجلس شوریٰ کا فیصلہ تصور کیا جائے گا۔ یہ کہ تمام صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کمیٹی کے اراکین اگر چاہیں تو باہمی مشورہ سے یا اپنا اجلاس منعقد کر کے فیصلہ کریں۔
ایجنڈا شق نمبر ۱۱: مولانا اسلم قریشی۔
مولانا محمد اسلم قریشی مورخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۸۳ء کو سیالکوٹ سے معراجکے جمعہ کے لئے جاتے ہوئے اغواء ہوئے۔ مسلسل مجلس نے ان کی بازیابی کے لئے کاوش کی۔ اگست ۱۹۸۸ء میں ڈرامائی طور پر برآمد ہوئے۔ پولیس پنجاب کے سربراہ نے موقف اختیار کیا کہ ان کو کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا۔ بلوچستان پولیس نے اس کی تردید کر دی۔ انہوں نے پھر کہا کہ اچانک میرے دفتر میں آ کر پیش ہو گئے۔ اس پر کہا گیا کہ جو پانچ سال بعد واپس آیا ہے۔ اسے گھر جانا چاہئے تھا نہ کہ آئی۔ جی کے ہاں۔
انہوں نے پھر موقف تبدیل کیا کہ اسلم قریشی ایران کی فوج میں رہا۔ اس پر مجلس کوئٹہ کا وفد ایرانی کونسلیٹ کوئٹہ سے ملا۔ انہوں نے اس کی تردید کر دی کہ پنجاب پولیس غلط بیانی کر رہی ہے۔ پھر انہوں نے موقف تبدیل کیا کہ اسلم قریشی مکران گوادر کے علاقہ سے
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دندان ساز ڈاکٹر کی معرفت ایران گئے۔ مجلس کوئٹہ نے ان علاقوں کے علماء سے تصدیق کرائی کہ یہاں پر سرکاری وغیر سرکاری اس نام کا تو درکنار سرے سے دندان ساز ڈاکٹر ہی نہیں ہے۔ غرضیکہ مجلس کو بدنام کرنے کے لئے پولیس نے جتنے مؤقف بدلے سب کی تردید ہوکر مجلس سرخرو ہوئی۔ قدرت کا فضل ہے کہ مجلس احرار پر شہید گنج کے ملبہ کی طرح مجلس تحفظ ختم نبوت پر جو دشمن آفت گرانا چاہتا تھا قدرت نے اس میں مجلس کو سرفراز فرمایا۔
اب اصل واقعہ کیا ہے۔ اس پر اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ یہ بات تو متعین ہے کہ یہ تمام تر سازش قادیانی گروہ کی تھی۔ پولیس و مقامی انتظامیہ اس میں برابر کی شریک ہے۔ مرزا طاہر کے مباہلہ کے چیلنج کے بعد اسے نکال لانا اور وہ نثار چیمہ آئی . جی پنجاب کے ہاتھوں جو خود مشکوک آدمی ہے، یہ بات بجائے خود معنی خیز بھی ہے اور حیران کن بھی۔ اس پر اس وقت تک کچھ کارروائی کرنا ممکن نہیں ہے کہ اسلم قریشی ذہنی طور پر مفلوج ہے۔ وہ کیس کو آگے چلانے میں ممد و معاون نہیں ہوسکتا۔ اس کے ذہنی انتشار کے باعث بعض متضادات بیانات آگئے ہیں۔ تاہم صورتحال اس وقت تک درست ہے اور قابو میں ہے اور یہ کہ ایک پیشی پر حال ہی میں اس نے ایک قادیانی وکیل سرفراز پر حملہ کیا۔ ۳۰۷ کے مقدمہ میں گرفتار ہے۔ اس کی ضمانت، مقدمہ کی پیروی کے لئے کیا کیا جائے۔ جب کہ وہ خود بقول ملک منظور الہی صاحب وکالت نامہ پر دستخط کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ ان حالات میں مجلس شوریٰ فیصلہ کرے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
فیصلہ ہوا کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے امیر پیر بشیر احمد صاحب سے مولانا عزیز الرحمن رابطہ کریں۔ وہ وہاں کے حالات کو سامنے رکھ کر عمل کیا جائے۔
شق نمبر ۱۲ : دیگر تجاویز باجازت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم ۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم اپنے صاحبزادے کی اچانک علالت کے باعث تشریف نہ لاسکے۔ اس لئے قبلہ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا بھی دن کے اجلاس میں شریک نہ ہوسکے۔ ظہر سے قبل ان سے رابطہ ہوا عصر کے بعد حضرت قبلہ مفتی احمد الرحمن دامت برکاتہم و جناب عبدالرحمن یعقوب باوا تشریف لائے۔ مغرب کے بعد غیر رسمی اجلاس میں دن بھر کی کارروائی ان حضرات سے عرض کی گئی۔ حضرت قبلہ مفتی صاحب دامت برکاتہم نے حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سے لندن وغیرہ کی صورتحال پر عشاء تک مشاورت فرمائی۔ عشاء کے بعد دفتر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ دیگر حضرات کے علاوہ حضرت مولانا عبدالواحد صاحب کوئٹہ اور حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر نے فاضلانہ خطاب کیا۔ رات ایک بجے کانفرنس بخیروخوبی اختتام پذیر ہوئی۔ اس کانفرنس میں مجلس کے فیصلوں کا اعلان کیا گیا۔ جو دوسرے دن اخبارات میں شائع ہوا۔ دوسرے دن بھی حضرت الامیر دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن دامت برکاتہم نے دفتر میں موجود حضرات کو اپنے پند و نصائح ہدایات واحکامات سے نوازا۔
فقیر خادم حسن محرر غفرلہ
( ۶۳ واں ) اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
۲۷؍ رجب ۱۴۱۰ھ ، مطابق ۲۵؍ فروری ۱۹۹۰ء ، بروز اتوار بوقت ۱۰؍ بجے بمقام دفتر مرکزیہ ملتان منعقد ہوا۔
زیر صدارت : امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم
شرکاء : (۱) حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ ، (۲) حضرت اقدس مفتی احمد الرحمن صاحب ، (۳) حضرت صوفی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ریاض الحسن گنگوہی، (۴) حضرت مولانا منیر الدین صاحب، (۵) حضرت مولانا قاری انوارالحق صاحب، (۶) حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر، (۷) مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا، (۸) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۹) حضرت حاجی فرزند علی صاحب، (۱۰) حضرت مولانا نور الحق نور صاحب، (۱۱) حضرت مولانا احمد میاں حمادی صاحب، (۱۲) حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب، (۱۳) حضرت صاحبزادہ طارق محمود صاحب، (۱۴) حضرت مولانا محمد امین صاحب، (۱۵) قاضی فیض احمد صاحب، (۱۶) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب، (۱۷) حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، (۱۸) حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
حضرت مولانا قاری محمد انوار الحق صاحب کی تلاوت سے کارروائی کا آغاز ہوا۔
سب سے پہلے گزشتہ برس فوت ہونے والے بزرگ علماء کرام، مشائخ عظام جماعتی کارکن حضرات کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے دعا فرمائی۔
ایک تعزیتی قرارداد کے ذریعہ ان مرحومین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ان کے پسماندگان سے اظہار ہمدردی کیا گیا اور مرحومین کی وفات حسرت آیات کو ملک و ملت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنے والوں کیلئے بہت بڑا خلا قرار دیا گیا اور مرحومین کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کا اظہار کیا گیا۔
ان مرحومین کے اسماء گرامی یہ ہیں:
- ۱......شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب اکوڑہ خٹک
- ۲......حاجی عبدالغفور صاحب رکن جامعہ خیر المدارس ملتان
- ۳......ملک عبدالغفور انوری ملتان
- ۴......حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور
- ۵......جناب بابو تاج محمد صاحب مدرس قاسم العلوم فقیر والی
- ۶......حضرت مولانا سید محمد علی شاہ صاحب ہیڈ راجکاں ضلع بہاول پور
- ۷......حضرت حاجی اللہ رکھا صاحب جلہ ارائیں ضلع ملتان
- ۸......حضرت مولانا محمد رمضان علوی بھیروی رکن مرکزی مجلس شوریٰ مجلس ختم نبوت، ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۰ء
- ۹......حضرت چوہدری غلام جیلانی صاحب لاہور، رکن مرکزی مجلس شوریٰ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت
- ۱۰......حضرت مولانا حق نواز جھنگوی جھنگ
(۱) سابقہ کارروائی کی توثیق: سابقہ کارروائی اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ منعقدہ ۱۲؍ مارچ ۱۹۸۹ء کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ اجلاس میں شریک تمام معزز اراکین نے اس کی توثیق فرمائی اور حضرت الامیر دامت برکاتہم نے اس پر توثیقی دستخط فرمائے۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ نے آج کے اجلاس میں (۱) مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کے تشریف نہ لاسکنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ۱۵؍ شعبان ۱۴۱۰ھ سے ایک ہفتہ کے لئے مرکزی دارالمبلغین میں رد قادیانیت کا کورس کرانے کے لئے ملتان تشریف لائیں گے، مختصر وقفہ سے ملتان کے لئے ان کی مصروفیات کے باعث دو سفر ممکن نہ تھے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد بنوری مدظلہ بنگلہ دیش کے سفر پر ہیں اور جناب الحاج بلند اختر نظامی بوجہ علالت تشریف نہیں لا سکے۔ ان ہر سہ حضرات کے یہ عذر قبول فرما کر اجلاس میں ان کی حاضری متصور کی جائے۔
(۲) فتنہ قادیانیت کے استیصال کی جدوجہد میں گزشتہ سال کے کام کی رپورٹ:
- ۱...... گزشتہ سال تقریباً ساڑھے سات لاکھ روپے کا لٹریچر شائع کر کے پوری دنیا میں تقسیم کیا گیا
- ۲...... گزشتہ سال تمام انتظامیہ وعدلیہ کے افسران کو لٹریچر بھجوایا گیا
- ۳...... روزنامہ الفضل ربوہ وغیرہ سے قادیانی افراد کے گھروں کے مکمل ایڈریس تلاش کر کے ان کو کئی بار لٹریچر بھجوایا گیا۔
- ۴...... انگریزی رسائل و کتب جو مجلس کے زیر اہتمام شائع ہوئے ان کی تعداد سترہ تک پہنچ چکی ہے۔
راولپنڈی کے جناب کے. ایم اسلم صاحب انگریزی ترجمہ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور شعبہ نشر واشاعت کے سر براہ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی مدظلہ العالی اپنی صوابدید پر ان سے کام لے رہے ہیں۔ اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جناب کے. ایم اسلم صاحب کی شکر گزار ہے کہ ان کی مساعی سے انگریزی لٹریچر کی بھر پور ضرورت پوری ہو رہی ہے۔
- ۵...... اندرون ملک تقریباً اہم شہروں میں ۹۱ کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔
- ۶...... مارچ ۱۹۸۹ء میں قادیانیوں نے ربوہ میں صد سالہ جشن منانے کی تیاری کی۔ عالمی مجلس نے اخبارات میں اشتہارات کانفرنسوں، مجلس عمل کی میٹنگ اور ریزولیوشن کے ذریعہ حکومت کو احساس دلایا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔ نیز اس تاریخ ۲۳ / مارچ ۱۹۸۹ء کو ربوہ میں جشن پر پابندی نہ لگنے کی صورت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ لاہور، سرگودھا اور بعض دوسرے شہروں میں احتجاجی جلوس بھی نکالے گئے۔ ربوہ جشن کی منظوری نہ ملنے کی صورت میں قادیانیوں نے بھارتی سرحد کے قریب جلوموڑ سے چند میل کے فاصلہ پر ہانڈو گجراں نامی گاؤں میں زمین لے کر اسے جلسہ گاہ بنانے کے لئے کیمپ لگائے، ٹیوب ویل اور وضو کے پانی کے نل لگوائے، جنریٹروں کا انتظام کیا۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو بر وقت اطلاع ہو گئی۔ عالمی مجلس نے احتجاج کیا، چاروں طرف سے حکومت کو اطلاع ہوئی کہ مسلمان بیدار ہیں کوئی بھی اقدام کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً حکومت پنجاب نے قادیانیوں کے جشن پر پابندی لگا دی۔ ربوہ میں اس تاریخ کو کو بجائے جشن کے قادیانیوں کے گھر میں ماتم تھا۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم اپنے رفقاء سمیت اس تاریخ کو ربوہ گئے اور مرزائی بربادی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اس طرح ہانڈو گجراں میں بھی ان کے تمام سامان کو حکومت نے اٹھوا دیا۔ پنجاب، سرحد، بلوچستان میں کہیں بھی قادیانی جشن منعقد نہ کر سکے۔ سندھ میں پابندی تو حکومت سندھ نے عائد کی مگر پھر بھی جیسے توقع تھی کہیں پر کھلے طور پر قادیانی جشن نہ منا سکے سوائے چند ایک مقامات کے سندھ میں قادیانیوں کو جرات نہ ہو سکی۔
- ۷...... مرزائیوں نے اپنی عورتوں کی تنظیم لجنہ اماء اللہ، نوجوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کے تربیتی اجلاسوں کے نام سالانہ اجتماعات کی منظوری حاصل کر لی۔ کھیلوں و تربیت کے نام حاصل کردہ منظوری سے قادیانیوں نے ربوہ میں اجتماعات عام منعقد کئے، سپیکر کا استعمال کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بر وقت کوشش کر کے یہ منظوری نہ صرف کینسل کرائی بلکہ امتناع قادیانیت آرڈی نینس کی خلاف ورزی پر مرزا قادیانی کے خاندان کے افراد خاص کر مسمی مرزا غلام احمد، مرزا خورشید احمد وغیرہ گرفتار ہوئے سات
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
افراد پر مقدمہ قائم ہوا، جلسہ منسوخ ہوا، پنڈال پر پولیس نے قبضہ کر لیا قادیانیوں کو دوہری ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔
- ۸...... سالانہ جلسہ قادیانی خواہش اور مرکزی حکومت کی مرزائیت سے متعلق نرم گوشہ رکھنے کے باوجود مرزائی نہ کر پائے۔
- ۹...... مرزائی مرزا طاہر کو پاکستان لانا چاہتے تھے۔ حکومت پاکستان نے اس سلسلہ میں خفیہ طور پر سروے بھی کرایا لیکن مذکورہ بالا
اقدامات سے حکومت اور مرزائیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور اب یہ پوزیشن ہو گئی ہے کہ قادیانی سربراہ نے پاکستان سے اپنی جماعت کا ہیڈ کوارٹر تبدیل کر کے لندن مقرر کر دیا ہے۔ اب ربوہ کی بجائے نہ صرف لندن ان کا ہیڈ کوارٹر ہے بلکہ ربوہ پاکستان کے عہدیدار صرف مقامی عہدیدار ہیں کہ نہ مرکزی ۔ اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اللہ رب العزت کا جتنا شکر کرے کم ہے۔ کہاں مرزائیوں کا یہ منصوبہ کہ پاکستان پر حکومت کریں گے اور یہ کہاں کہ اب اپنی جماعت کا ہیڈ کوارٹر بھی پاکستان سے منتقل کر کے لے گئے۔
- ۱۰...... امتناع قادیانیت آرڈی نینس کی منسوخی کے لئے قادیانی لابی نے حکومتی تبدیلیوں سے فائدہ اٹھا کر سر توڑ کوشش کی مگر اس میں بھی
وہ ناکام ہوئے۔ فلحمد للہ!
- ۱۱...... سکھر ساہیوال کے ملزمان کی سزاؤں اور الفضل کے اجراء پر کامیابی کے علاوہ قادیانیوں نے ہر محاذ پر مار کھائی ہے۔
- ۱۲...... چک نمبر ۵۶۳ گ ۔ ب جڑانوالہ میں مرزائیوں نے قرآن مجید کو نذرِ آتش کیا۔ مسلمانوں نے احتجاج کیا تو قادیانیوں نے
مسلمانوں پر فائر کھول دیا جس سے دو مسلمان زخمی ہو گئے۔ جڑانوالہ ہسپتال میں ان زخمیوں سے ملاقات ان کی اعانت مذکورہ چکوک کے مسلمانوں سے رابطہ اور کیس کے سلسلہ میں مجلس نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا۔
- ۱۳...... چک نمبر ۵۶۳ گ ۔ ب کے وقوعہ پر ننکانہ صاحب کی عالمی مجلس نے احتجاج کیا۔ قادیانیوں کی شرارت کے باعث مشتعل جلوس نے
قادیانیوں کے مکانات کو نقصان پہنچایا اس پر ہمارے رفقاء کے خلاف کیس دائر ہوا۔ شب روز محنت کر کے تمام ساتھی رہا ہو گئے۔ کیس کی سماعت ابھی ہونا ہے اس سلسلہ میں بھی عالمی مجلس نے اپنی ذمہ داری کو نبھایا۔
- ۱۴...... چک نمبر ۳ سکندر پور کھاریاں ضلع گجرات میں مسلمانوں اور مرزائیوں کی ایک عبادت گاہ مشترکہ زیر استعمال تھی۔ دوسری مسجد میں
نا جائز قادیانی قابض تھے۔ عالمی مجلس سرگودھا کے مبلغ مولانا محمد اکرم طوفانی نے وہاں جا کہ جمعہ پڑھایا پہلے ہی مشترکہ عبادت گاہ سے قادیانی بے دخل ہو گئے۔ دوسرے جمعہ کا اعلان کیا کہ دوسری مسجد میں قادیانیوں سے واپس لی جائے گی۔ انتظامیہ گجرات نے سرگودھا انتظامیہ سے کہہ کر مولانا محمد اکرم طوفانی کو دوسرے جمعہ کے اجتماع سے رکوایا اور قانوناً وہ مسجد بھی قادیانیوں سے لے کر مسلمانوں کے سپرد کر دی گئی۔ فلحمد للہ!
چک مذکورہ سے دو افراد سالانہ رد قادیانیت کورس پر ملتان میں شریک ہوئے۔ یہاں پندرہ روزہ کی تربیت کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مجلس کا فری لٹریچر لے کر گئے جو علاقہ بھر میں تقسیم ہوا۔ گذشتہ عید الاضحیٰ ۱۴۰۹ھ پر قادیانیوں نے مسلمانوں پر فائرنگ کی ایک ساتھی شہید اور ایک زخمی ہوا۔ مسلمانوں نے جوابی فائرنگ کی ۱۳ قادیانیوں کو زخمی اور ۳ مردود ہوئے۔ تمام قادیانی جو اسی گھرانوں پر مشتمل تھے گاؤں چھوڑ کر فرار ہوئے۔ مسلمانوں نے اعلان کیا کہ کوئی قادیانی ہمارے گاؤں میں آباد نہیں ہو سکے گا۔ اس پر کئی قادیانی گھرانے مسلمان ہو گئے۔ باقی ماندہ قادیانی تاحال واپس گاؤں میں دوبارہ آباد نہیں ہو سکے۔ عالمی مجلس کے سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ سے وفود مسلمان
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شہید کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ قادیانیوں پر فائرنگ کے نتیجہ میں مسلمانوں پر مقدمہ ہوا لیکن صورت حال سے خائف ہو کر حکومت نے تاحال مسلمانوں کی گرفتاری نہیں کی۔
عالمی مجلس کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے اپنے رفقاء سمیت گاؤں کا دورہ کیا اور مجلس کی طرف سے اخلاقی و قانونی و مالی معاونت کی۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی غیر ملکی سفر سے واپس تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے اس گاؤں کا دورہ فرمایا، اس سے وہاں کے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے۔ ہر چند کہ وہاں کے تمام لوگ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں ان کی طرف سے ہمارے ساتھ معاملہ سرد مہری کا ہے مگر بایں ہمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس سلسلہ میں بھی اپنی ذمہ داری کو احسن طریق پر نبھایا ہے فالحمد للہ۔
اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات و مساعی کا یہ وہ مختصر تبلیغی جائزہ ہے جو آپ کے سامنے پیش کیا گیا اس کارگزاری پر تمام شرکاء اراکین نے خوشی و انبساط کا اظہار فرمایا اور مزید تبلیغی مساعی کو کامیاب اور مؤثر بنانے کی اہمیت پر توجہ دلائی۔
(۳) قادیانی مقدمات سے پیدا شدہ صورت حال پر غور : مقدمات کی تفصیل بتاتے ہوئے معزز اراکین کو بتایا گیا کہ :
- ۱...... مقامی اور سیشن عدالتوں میں سینکڑوں کی تعداد میں مقدمات زیر سماعت ہیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مقامی جماعتیں اپنی بساط
کے مطابق ان کی پیروی کر رہی ہیں مرکز بھی مقامی جماعت سے ان کے طلب کرنے پر امداد کر رہا ہے۔ جبکہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت میں اس وقت آٹھ مقدمات زیر سماعت ہیں۔
- ۲...... سندھ ہائی کورٹ میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس کی منسوخی کے لئے قادیانیوں نے کیس دائر کیا جو سماعت کے لئے منظور ہو گیا
ہے۔ اس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فریق بننے کی درخواست دی جو منظور ہو گئی ہے۔ اور عالمی مجلس کو فریق مقدمہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ باقاعدہ سماعت پر مجلس ہی اس کی مسلمانوں کی طرف سے پیروی کرے گی۔ اس کیس کی نگرانی کراچی مجلس کے رفقاء کے ساتھ مل کر حضرت مولانا احمد میاں حمادی فرما رہے ہیں اور ہر مرحلہ پر رہنمائی و سرپرستی حضرت اقدس مولانا مفتی احمد الرحمٰن دامت برکاتہم و حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ فرما رہے ہیں۔
- ۳...... کوئٹہ مجلس نے مرزائیوں کو امتناع قادیانیت آرڈی نینس میں گرفتار کرایا۔ سول جج سے ہائیکورٹ بلوچستان تک مجلس کو کامیابی
ہوئی۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس امیر الملک نے ۲۹۸ سی کے تحت قادیانیوں کو کلمہ طیبہ کا بیج لگانے کی سزا کی توثیق کی۔ اب اس کے خلاف قادیانیوں نے سپریم کورٹ کے بنچ کراچی میں اپیل دائر کر دی ہے۔ جو مسٹر جسٹس عبدالقادر شیخ کے پاس سماعت کے لئے منظور ہو گئی ہے۔ قادیانی اپیل کی نقل حضرت مولانا احمد میاں حمادی مدظلہ العالی نے حاصل کر لی ہے۔ فیصلہ ہوا کہ اس میں مجلس فریق بنے۔ کوئٹہ کے مولانا نذیر احمد صاحب اس کیس میں مدعی ہیں وہ حضرت حمادی صاحب سے رابطہ کر کے وکیل کو وکالت نامہ دیں۔
- ۴...... سپریم کورٹ لاہور بنچ میں قصور کے ایک قادیانی نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی منسوخی کے لئے رٹ دائر کی ہے جو سماعت
کے لئے منظور ہو گئی ہے۔ قادیانی رٹ کی نقل حاصل کر لی گئی ہے۔ فیصلہ ہو کہ وہ کاغذات اسلام آباد بھجوائے دیئے جائیں مولانا عبدالرؤف صاحب ، حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب مدظلہ کے مشورہ سے ایڈووکیٹ ان ریکارڈ کے ذریعہ فریق بننے کی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
درخواست دائر کر دیں جب باضابطہ سماعت شروع ہو تو مناسب اچھا وکیل کر لیا جائے۔
- ۵...... جناب سید افضل میجر ریٹائرڈ راولپنڈی نے قادیانیوں کے خلاف اپیل وفاقی شرعی عدالت میں اسلام آباد کیس دائر کیا ہے کہ
اسلامی ملک میں تبلیغ نہیں کر سکتے جو سماعت کے لئے منظور ہو گیا ہے۔ فیصلہ ہوا کہ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب اس سے رابطہ قائم کریں، اپیل کی نقل حاصل کریں اور باقاعدہ سماعت شروع ہونے پر مناسب وکیل کی خدمات کی پیشکش کی جائے۔
- ۶...... اٹک میں قادیانیوں نے اپنی ایک عورت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ مسلمانوں کے اضطراب کو عالمی مجلس تحفظ ختم
نبوت نے تحریک کی شکل دی انتظامیہ مردہ نکالنے پر آمادہ ہو گئی اس دوران مرزائیوں نے ہائی کورٹ راولپنڈی کے جسٹس اختر حسین کے ہاں رٹ دائر کر دی۔ جج نے کیس کو طول دیا اب سماعت مکمل ہے مگر اس نے فیصلہ محفوظ رکھا ہوا ہے۔ فیصلہ ہوا کہ فیصلہ آنے کے بعد مناسب اقدام کی دفتر کو اجازت ہے۔
- ۷...... بلوچستان ہائیکورٹ میں پیپلز پارٹی نے آٹھویں ترمیم کی منسوخی کے لئے اپیل دائر کی جس میں مجلس کوئٹہ بھی فریق بنی کیونکہ اس
ترمیم میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے تمام آرڈی نینسوں کو تحفظ حاصل ہے۔ جس میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس بھی شامل ہے ۔ ترمیم کی منسوخی کی صورت میں یہ آرڈی نینس بھی متأثر ہوگا۔ اس کی سماعت مکمل ہو گئی ہے فیصلہ محفوظ ہے۔
- ۸...... جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ لاہور نے پنجاب ہائی کورٹ میں قادیانیوں کے مباہلہ نامی پمفلٹ کو بنیاد بنا کر مرزا طاہر وغیرہ
کے خلاف توہین عدالت کا کیس دائر کیا ہے جو سماعت کے لئے منظور ہوا ہے۔ فیصلہ ہوا کہ موصوف چونکہ خود وکیل ہیں اس لئے ان سے رابطہ رکھا جائے اور ہر پیشی پر مقامی مجلس لاہور کے رفقاء پیش ہوں اور اس کی کارروائی سے ناظم اعلیٰ صاحب کو باخبر رکھیں۔
- ۹...... گوجرہ کے ایک کیس ۲۹۸ سی میں سول جج نے قادیانیوں کو سزا دی۔ ٹوبہ کا سیشن جج قادیانی تھا۔ اس کے ہاں مرزائیوں نے
اپیل کی۔ عالمی مجلس نے ہائیکورٹ سے آرڈر کرایا کہ بوجہ قادیانی ہونے کے یہ اس کیس کی سماعت نہ کرے۔ قادیانی سیشن جج کے زیر اثر مسلمان ایڈیشنل جج نے فیصلہ ہمارے خلاف دے دیا جس کے خلاف ٹوبہ کی عالمی مجلس نے ہائیکورٹ لاہور میں اپیل کی جو سماعت کے لئے منظور ہو گئی ہے اور یہ کیس چیف جسٹس رفیق تارڑ کے پاس ہے۔ فیصلہ ہوا کہ کوشش کر کے اس کی سماعت کی تاریخ جلد لگوائی جائے۔
- (۴) بیرون پاکستان محاذ ختم نبوت پر مجلس کی ذمہ داریاں رپورٹ وتجاویز: اس سال لندن میں پانچویں سالانہ ختم
نبوت کانفرنس ۱۹۸۹ء منعقد ہوئی جس میں حضرت الامیر مدظلہ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، صاحبزادہ محمد عابد، مولانا اللہ وسایا، مولانا منظور احمد الحسینی عالمی مجلس کے رہنما شریک ہوئے۔ دیگر جماعتوں کے نمائندگان علاوہ ازیں تھے۔
اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پہلی بار امریکہ میں دو ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ پہلی کانفرنس شکاگو میں منعقد ہوئی، جو دو روزہ تھی۔ اس کے ختم نبوت، حجیت حدیث عنوان تھے۔ دونوں روز کانفرنس میں سوال و جواب کے سیشن بھی منعقد ہوئے۔ دوسری کانفرنس لاس اینجلس میں منعقد ہوئی۔ ان کانفرنسوں کے بڑے مثبت نتائج برآمد ہوئے امریکہ کے مسلمان قادیانی عقائد سے باخبر ہوئے۔ اس طرح منکرین حدیث کے عقائد وعزائم کا بھی مسلمانوں کو علم ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امریکہ میں ایک مدعی نبوت نے فتنہ پھیلا رکھا تھا۔ اس کے ماننے والے بھی ان کانفرنسوں میں شریک ہوئے۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے وہ باخبر ہوئے چنانچہ اب حال ہی میں مکۃ المکرمہ سے شائع ہونے والے رابطہ عالم اسلامی کے اخبار کی رپورٹ کے شمارہ نمبر ۱۱۵۶، ۵؍ فروری ۱۹۹۰ء کے مطابق مدعی نبوت باطلہ رشاد خلیفہ کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست اری زونا اسٹیٹ کے مشہور شہر ٹوسان میں ۳۱؍ جنوری ۱۹۹۰ء کو رات دو بجے نامعلوم افراد تیز دھار آلے سے اسے قتل کر دیا ہے۔ اس رشاد خلیفہ نے پہلے انکار حدیث کیا پھر دعویٰ نبوت اور یوں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی جلد ۸ شمارہ نمبر ۳۸)
- ☆...... حسن عودہ اسرائیل کا رہنے والا تھا۔ مرزائیوں کے ہتھے چڑھا قادیان میں لے جا کر اسے تعلیم دی اور اب لندن میں اسے لاکر
قادیانی جماعت نے اپنے عربی رسالہ التقویٰ کا ایڈیٹر بنا دیا۔ لیکن خدا کا کرنا ہوا ایسے کہ وہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۸۹ء کو مسلمان ہو گیا۔ اس کا عالمی مجلس کے مرکز لندن سے رابطہ ہوا۔ اس کی مختلف موقعوں پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مالی امداد کی اور اب پھر رابطہ عالم اسلامی سے مل کر اس کی امداد کے لئے پندرہ سو پونڈ منظور کرائے اب چھ ماہ تک وہ عالمی مجلس لندن میں کام کرے گا اس کے اخراجات بھی رابطہ ادا کرے گا۔ اس کے سپانسر شپ کے کاغذات لندن قیام کے لئے عالمی مجلس کا لندن دفتر مہیا کرے گا۔ اس کے ذریعے ہمارا لٹریچر اسرائیل بھی جانا شروع ہو گیا ہے اور یوں اس سال عالمی مجلس کی طرف سے پہلی بار اسرائیل میں بھی عالمی مجلس کا لٹریچر پہنچنا شروع ہوا ہے۔ جس کے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ حسن عودہ کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی اس لٹریچر کو پڑھ کر اسرائیل میں نہ صرف قادیانیت سے تائب ہوا بلکہ اس نے بھی وہاں مرزائیت کی تردید کا کام اپنے حلقہ میں شروع کر دیا ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک!
اجلاس میں جناب عبدالرحمن یعقوب باوا نے معزز اراکین کو بتایا کہ مرزا طاہر نے لندن کے ایک اپنے اجتماع سے خطاب کے دوران قادیانیوں کو نئے سال کا تحفہ قرار دیتے ہوئے یہ خبر سنائی کہ مالی جمہوریہ میں تیس سے پینتیس ہزار مسلمانوں کو قادیانی بنا لیا گیا ہے۔ اور یہ سارا ڈرامہ انہوں نے جمہوریہ مالی کے شیخ عمر کانتے کے ذریعہ سٹیج کیا۔ ہم نے اس کی کیسٹ اور ویڈیو دیکھا۔ مکۃ المکرمہ حرم کعبہ میں حضرت الامیر دامت برکاتہم سے مشاورت ہوئی آپ نے اپنی دعاؤں سے نوازا اور جمہوریہ مالی کے سفر کی اجازت مرحمت فرمائی۔ رابطہ عالم اسلامی کے مرکز سے جمہوریہ مالی کے صدر کے نام عالمی مجلس نے خط حاصل کیا وہاں کے پتہ جات سے آگاہی ہوئی۔ چنانچہ پاکستان آ کر اس سفر کے لئے تیاری اور ۱۸ جنوری ۱۹۹۰ء سے یکم فروری تک کا وہاں کا عالمی مجلس کے دو نمائندگان (عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا منظور احمد چنیوٹی) نے دورہ کیا وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مشہور صحابی عقبہ بن عامر پہلی صدی ہجری میں یہاں تشریف لائے اور یوں ان کی تبلیغ سے یہ ملک مسلمان ہوا۔ ہمارے علاقے کی نسبت وہ السابقون الاولون سے ہیں۔ جمہوریہ مالی کے شہر بماکو کے علماء کرام کی جمعیت مالی الاتحاد و تقدم الاسلام نے مہمان نوازی کی وزیر داخلہ جمہوریہ مالی جناب عیسیٰ انگونیا سے ملاقات ہوئی۔ قادیانیت کے خلاف عالمی مجلس کا عربی و انگلش لٹریچر ان کو دیا گیا۔ مالی الاتحاد و تقدم الاسلام کے رہنماؤں کی معیت میں عمر کانتے جو قادیانی ہو گیا تھا اس کے علاقہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے سامنے قادیانیت کو اسلام کے نام پر پیش کیا گیا۔ اور احمدیت کو اسلام ہی کی ایک منظم تنظیم کے طور پر روشناس کرایا گیا اور یہ کہ اس تنظیم قادیانیت کی طرف سے ہمارے علاقے میں سڑکوں، کالجز، یونیورسٹی، شفاخانے قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ ملک انتہائی غریب و پسماندہ ہے ایک اسلامی تنظیم کے نام پر اس تعاون کی غرض سے لوگ دھوکا میں آ گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے جب قادیانیوں کے کفریہ عقائد، مرتدانہ عزائم ان کے سامنے رکھے تو وہ توبہ توبہ پکار اٹھے۔ ان تمام لوگوں نے جو اسلام کے نا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
م پر دھوکہ سے قادیانیت کے دام تزویر میں پھنس گئے تھے شیخ عمر کاتے سمیت تمام نے قادیانیت سے برأت کا اظہار کیا۔ مرزا قادیانی ملعون پر لعنت بھیجی اور یوں اجتماعی طور پر وہ دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی جمیلہ کو اللہ رب العزت قبولیت سے نوازے کہ یہ جمہوریہ مالی کے تیس سے پینتیس ہزار افراد کے ایمان بچانے کا باعث بنی۔ وفد نے دو بار مالی کے دارالحکومت میں وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔ مرزائیوں کی مالی میں رجسٹریشن کے لئے درخواست آئی ہوئی تھی وہ مسترد کر دی اب صرف مالی میں چار قادیانی باقی تھے جو پہلے سے قادیانی تھے ان کی گرفتاری کے لئے آرڈر کئے۔ اور یوں یہ وفد کامیاب و کامران سرفراز و بامراد واپس آیا۔ مکۃ المکرمہ کے اخبار المسلمون، جنگ کراچی میں اس دورہ کے ایڈیشن شائع ہوئے۔ جنگ لاہور، نوائے وقت کراچی، لاہور، خبریں، تکبیر، لولاک، ختم نبوت، اقراء ڈائجسٹ، زندگی وغیرہ میں اس وفد کی تفصیل دورہ کی رپورٹ شائع ہوئی۔ فالحمد للہ!
- ☆...... ۱۹۹۰ء میں چھٹی سالانہ ختم نبوت لندن کی بجائے بریڈ فورڈ میں ہو گی ایک تو اس لئے کہ وہاں کے مسلمانوں کا مطالبہ تھا دوسرا یہ کہ
بریڈ فورڈ برطانیہ کے وسط میں ہے۔ تیسرا یہ کہ وہاں پر بہت زیادہ تعداد میں مسلمان اقامت پذیر ہیں اس لئے وہاں پر کانفرنس سالانہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ۱۲؍ اگست بروز اتوار منعقد ہو گی۔
معزز رکن مولانا قاری محمد امین صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ مرکزی کانفرنس کے علاوہ برطانیہ میں علاقائی کانفرنسیں بھی رکھی جائیں۔ یہ تجویز بھی منظور ہوئی۔
- ☆...... لندن دفتر میں باوا صاحب نے فرمایا کہ چار حضرات مستقل کام کریں گے۔ جناب مولانا منظور احمد الحسینی، جناب مولانا
باٹا صاحب فاضل دارالعلوم دیوبند، جناب نعمان صاحب، اور ان کے ساتھ ہی جناب حسن عودہ صاحب۔ اس طرح کام مکمل طور پر چل نکلے گا۔
- ☆...... مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ہاوس کو بتایا کہ اس سال بھارت سے متعدد حضرات نے گاہے بگاہے دفتر مرکزیہ تشریف لاکر رد
قادیانیت پر تیاری کی اور واپس جا کر کام کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ اس وقت (اجلاس کے موقع پر) مولانا محمد یوسف امروہی، اور مولانا محمد عبداللہ صاحب بھارت سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور مولانا عبدالرحیم صاحب اشعر کے پاس تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ مولانا محمد یوسف امروہی بھارت واپس جا کر دارالعلوم دیوبند میں کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے کام کو سنبھالیں گے۔ فالحمد للہ!
- ☆...... باوا صاحب سے کہا گیا کہ وہ بیرون ممالک سے علماء کرام کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں مرکز ملتان آکر رد قادیانیت کی تیاری کے
لئے بھجوائیں تا کہ وہ واپس جا کر اپنے ممالک میں مؤثر کام کر سکیں۔
- ☆...... مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی تجویز پر بالاتفاق ہاوس نے منظور کیا کہ بیرون ممالک کے کام بالخصوص لندن کی گزشتہ کانفرنس کی
رپورٹ آمد و صرف شائع کی جائے اور آئندہ ہر سال آمدن کے اخراجات بمع کانفرنس کی رپورٹ برابر شائع ہوتی رہے۔
جناب عبدالرحمن یعقوب باوا کی تجویز پر بالاتفاق پاس ہوا کہ آج کل چونکہ کیسٹوں کا دور ہے۔ رد قادیانیت پر کیسٹوں کو عام کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... غدار پاکستان اور قادیانی جنازہ دونوں رسائل کا حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب عربی ترجمہ کر دیں انہیں شائع کیا جائے۔
- ☆...... شیزان کے متعلق ڈاکٹر صاحب کا عربی خط سعودی عرب بھجوایا جائے تا کہ سعودیہ میں اس کا داخلہ ممنوع ہو۔ محترم و معزز اراکین جناب الحاج فرزند علی صاحب نے تجویز پیش کی کہ شیزان کے مقابلہ میں اس سے اعلیٰ کوالٹی کا سامان بازار میں لانے کے لئے مسلم انڈسٹریز لمیٹڈ وغیرہ سے بات کی جائے۔
- ☆...... محترم جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا صاحب نے بتایا کہ قادیانیوں نے اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے انگلش میں آرٹ پیپر پر عمدہ کتابت و طباعت سے ایک کتاب شائع کر کے دنیا بھر میں تقسیم کی ہے۔ اس کا توڑ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قادیانیوں کی دہشت گردی پر مشتمل کتاب لکھ کر مجلس کو بھی شائع کرنی چاہئے۔ یہ تجویز بھی بالاتفاق پاس ہوئی۔
- ☆...... باوا صاحب نے بتایا کہ اس کتاب میں قادیانیوں نے لکھا ہے کہ ۱۲۰ ممالک میں قادیانیت کی شاخیں ہیں ہمیں بھی ان ممالک کے ذمہ دار اہلیان کو قادیانیت کی حقیقت سے باخبر کرنا چاہئے۔
(۷) جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ کے مینار کی تعمیر کی منظوری: دارالکفر ربوہ مرزائیت کا ارتدادی اڈہ تھا۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء سے قبل وہاں پر اہل اسلام کا داخلہ بند تھا۔ مرزائی جو چاہے کرتے تھے۔ اس میں حکومت کے کسی آدمی کو دخل دینے کی جرأت نہ تھی۔ ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا جس کے ردعمل میں تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء چلی اور سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لئے مسٹر جسٹس صمدانی پر مشتمل ٹریبونل مقرر ہوا۔ ان کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت نے ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا۔ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء سے وہاں پر آر۔ ایم ربوہ کی عدالت میں ایک تھڑے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ نے نمازیں پڑھانی شروع کیں۔ بعد میں مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تعمیر ہوئی جس میں اس دن سے لے کے اس وقت تک نماز پنج گانہ، جمعہ اور عیدین کا سلسلہ شروع ہے۔ مسجد کی تعمیر اور دفتر و رہائشی کوارٹر وہاں پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے موجود ہیں۔ اللہ رب العزت اسے سرچشمہ ہدایت فرمائیں۔
صمدانی کمیشن کی سفارشات پر ربوہ میں دریائے چناب کے کنارے مسلم کالونی محکمہ ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ محکمہ پنجاب نے لو انکم سکیم کے تحت مکمل کی۔ اس میں نو کنال کا پلاٹ جامع مسجد و مدرسہ کے لئے تھا۔ جس کے حصول کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دو بزرگ رہنماؤں مولانا تاج محمود اور مولانا محمد شریف جالندھری نے اوائل ۱۹۷۶ء میں درخواست دی۔ اللہ رب العزت ان حضرات کی قبور کو اپنے نور سے منور فرمائیں کہ ان حضرات کی شبانہ روز اخلاص بھری محنت سے ۲۸؍ جون ۱۹۷۶ء مطابق ۲۹؍ جمادی الثانی ۱۳۹۶ھ بروز پیر ڈپٹی ڈائریکٹر ہاؤسنگ جھنگ سے ۹ کنال زمین برائے جامع مسجد و مدرسہ کے پلاٹ کا قبضہ حاصل کیا۔ ۷؍ جولائی ۱۹۷۶ء مطابق ۸؍ رجب ۱۳۹۶ھ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے شیخ اسلام مولانا محمد یوسف بنوری کی نیابت میں جو ان دنوں عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ تھے وہاں عصر کی پہلی نماز باجماعت پڑھائی۔ فوری طور پر عارضی مصلے کا کمرہ تعمیر کر کے اس دن سے کام کو شروع کر دیا گیا۔ ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۷۶ء سے مولانا محمد حیات فاتح قادیان فاتح ربوہ بن کر یہاں تشریف لائے اور مرض وفات تک مقیم رہے۔ اللہ رب العزت ان سب حضرات کی اخلاص بھری محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں۔ آمین!
جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی کی تعمیرات کا مرکزی بیت المال سے علیحدہ مرکز نے حساب رکھا اس کے لئے علیحدہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رسیدات برائے تعمیر جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی طبع کرائیں۔ اس وقت وہاں پر عظیم الشان جامع مسجد، دومنزلہ برآمدہ، صحن، وضوخانہ، ٹیوب ویل /ٹینکی۔ ۹ عدد مدرسہ کے کمرے برآمدہ، باورچی خانہ اور ایک عدد رہائشی کوارٹر جس کے دوکمرے اور برآمدہ ہے تعمیر ہو چکے ہیں۔ ان تعمیرات پر تعمیرات جامع مسجد و مدرسہ کی آمدہ رسیدات کی رقم سے خرچہ کیا گیا۔ رسید بک نمبر ۱۵۱ تک بکیں استعمال میں لائی گئیں۔ ان کا علیحدہ آمد و صرف کا رجسٹر تیار کیا گیا۔ تمام بل اخراجات کے چٹھے مکمل کر کے اس تمام حساب کو بند کر دیا گیا ہے۔
رسیدات کی بک نمبر ۱۵۱ تک کی کل آمد پندرہ لاکھ ستاون ہزار چارسو چھہتر روپے چھیالیس پیسے ۱۵۵۷۴۷۶/۴۶ ہے جبکہ آج تک تعمیرات پر اٹھنے والے اخراجات چودہ لاکھ ستاون ہزار دوسو اٹھاون روپے انتالیس پیسے ۱۴۵۷۲۵۸/۳۹ ہیں۔ اس طرح ایک لاکھ دوسواٹھارہ روپے سات پیسے ۱۰۰۲۲۸/۰۷ اس کھاتہ میں جمع ہیں (تفصیلات روپے کھاتہ سال ۱۴۱۰ھ) جامع مسجد کا مینار اور فرنٹ پر ماربل کا کام باقی ہے ۔ چونکہ تعمیرات جامع مسجد و مدرسہ مسلم کالونی کا حساب مکمل کر کے بند کیا جاچکا ہے ۔ اس کی تمام رسیدات بھی محفوظ کر دی گئیں ہیں ۔ آئندہ سے منظوری دی جاتی ہے کہ مینار و فرنٹ مسجد کا کام مرکز کے بیت المال سے کر لیا جائے اس کھاتہ میں جمع شدہ رقم ایک لاکھ دوسواٹھارہ روپے سات پیسے اخراجات سے وضع کر کے باقی اخراجات عالمی مجلس کے مرکزی اخراجات میں سے ادا کئے جاویں۔
(۸) دفتر اسلام آباد کی ضروری مرمت کی منظوری : دفتر اسلام آباد کی سیڑھیاں و دروازے کھڑکیاں قابل مرمت ہیں۔ نیز یہ کہ اس کے صحن میں ایک کمرہ بمع فلش وغیرہ بنانے کی ضرورت ہے اس کے اخراجات و نقشہ وغیرہ کی تکمیل کرا کر کام ٹھیکہ پر دے دیا جائے۔
(۹) تقرریاں ، تبادلے توثیق و منظوری : جو نئے مبلغین و مدرسین و امام حضرات اس سال رکھے گئے۔ مولانا محمد اسحق بہاول پور، مولانا غلام مصطفی سرگودھا، مولانا حفیظ الرحمن بطور خطیب کنری ۔ قاری طالوت احمد صاحب مدرس ربوہ مسلم کالونی، قاری عطاء محمد بہاول پور، مولانا حسین محمد کراچی، مولانا فضل الرحمن مکران ، قاری غلام رسول کنری ، محمد شکیل خادم دفتر لاہور ، محمد اشرف خادم اسلام آباد، محمد انور خادم کوئٹہ، حافظ شوکت علی معاون دفتر مرکزیہ ان کی تقرری کی منظوری دی گئی۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی خدمات بہاول پور سے لاہور جماعت کے سپرد کی گئیں۔
قبل از عصر حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی پر سوز دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ فالحمد للہ علی ذالک ! فیضان احمد محرر مجلس
(۶۴ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔ مؤرخہ ۲/ مارچ ۱۹۹۱ء،مطابق ۱۴/ شعبان المعظم ۱۴۱۱ھ ، بروز ہفتہ بوقت دس بجے صبح منعقد ہوا۔
زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء : (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ، (۲) حضرت سید انور حسین نفیس دامت برکاتہم ، (۳) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم ، (۴) حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم ، (۵) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۶) حضرت الحاج بلند اختر نظامی لاہور، (۷) الحاج فرزند علی سکھر، (۸) حضرت مولانا سید محمد بنوری کراچی ، (۹) حضرت مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالواحد کوئٹہ، (۱۰) حضرت مولانا قاری انوار الحق کوئٹہ، (۱۱) حضرت صوفی ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۱۲) حضرت مولانا حکیم عبدالرحمٰن آزاد گوجرانوالہ، (۱۳) حضرت ملک منظور الٰہی اعوان سیالکوٹ، (۱۴) حضرت قاری محمد امین راولپنڈی، (۱۵) حضرت مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، (۱۶) حضرت مولانا نورالحق نور پشاور، (۱۷) حضرت صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، (۱۸) حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ملتان، (۱۹) حضرت عبدالرحمٰن یعقوب باوا کراچی، (۲۰) حضرت مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، (۲۱) حضرت مولانا اللہ وسایا ملتان۔
صبح دس بجے کارروائی کا آغاز حضرت مولانا قاری انوار الحق صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
گزشتہ سال فوت ہونے والے حضرات مرحومین: مولانا محمد شریف صاحب کشمیری شیخ الحدیث صاحب خیرالمدارس ملتان، حضرت مولانا عزیز گل صاحب، تلمیذ رشید حضرت شیخ الہند پشاور، حضرت مولانا غلام حبیب نقشبندی چکوال، حضرت صاحبزادہ میاں محمود اسعد ہالیجی شریف، حضرت مولانا عبدالغنی رحیم یار خان، حضرت صوفی محمد علی مجاہد ختم نبوت ژوب، حضرت مولانا ظہور الحق صدر مدرسہ دارالعلوم کبیر والا، حضرت مولانا محمد ہارون اٹک، حضرت مولانا عبدالجمیل حقانی اکوڑہ خٹک، حضرت مولانا قاری نذیر احمد ناظم اعلیٰ عالمی مجلس انارکلی لاہور، حضرت مولانا تاج الدین بمل پڑعیدن، حضرت مولانا ایثار القاسمی جھنگ، حضرت مولانا عبدالحکیم جامعہ فرقانیہ راولپنڈی، حضرت مولانا احسان الحق تونسہ شریف، حضرت مولانا مفتی عطاء محمد چودھوان ڈیرہ اسماعیل خان، حضرت مولانا غلام محمد ڈیرہ غازی خان، حضرت چوہدری عبدالباری صاحب برادر بزرگ مولانا محمد یوسف لدھیانوی ٹبہ سلطان پور، حضرت مولانا مفتی عبدالرحمٰن نائب امیر اوّل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی۔
ان مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے پرسوز دعائے مغفرت فرمائی۔ تمام شرکاء اجلاس نے پرنم آنکھوں سے ان حضرات کی مغفرت کے لئے ہونے والی دعا میں شرکت فرمائی۔ اللہ رب العزت مرحومین کی مغفرت فرمائیں۔ پسماندگان کو صبر جمیل عنایت فرمائیں۔ ان حضرات کے سانحہ ارتحال سے امت میں بہت بڑا خلاء واقع ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ امت کو ان حضرات کا نعم البدل نصیب فرمائیں۔
اجلاس میں حضرت مولانا مفتی عبدالرحمٰن صاحب مرحوم نائب امیر اوّل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا۔ حضرت مفتی صاحب مرحوم نے جس طرح شیخ الاسلام حضرت بنوری کی نیابت و جانشینی کا حق ادا کیا، اس پر وہ پوری امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق تھے۔ انہوں نے اپنے قلب و جگر سے، خون سے ایک جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی آبیاری کی۔ یہ انہی کا ہی حصہ تھا۔ وہ مرنجاں مرنج صالح فطرت، نیک سرشت، بزرگ تھے۔ ان کی یاد مدتوں رہے گی۔ اجلاس میں حضرت مفتی صاحب مرحوم کے مشن کی تکمیل کا عہد کیا گیا۔
سابقہ اجلاس شوریٰ منعقدہ ۲۵؍ فروری ۱۹۹۰ء کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ تمام شرکاء اجلاس نے اس کے تمام مندرجات سے بالاتفاق صاد فرمایا۔ اس کی توثیق فرمائی اور حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے نہایت ہی شفقت سے اس پر توثیقی دستخط فرمائے۔ اس کے بعد ایجنڈا کے مطابق کارروائی کا آغاز ہوا۔ ایجنڈا یہ ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱...... نائب امیر اوّل عالمی مجلس کے عہدہ کی ذمہ داریوں کی سپردگی اور تقرر۔
- ۲...... قادیانی فتنہ کے خلاف تبلیغی نظام کا جائزہ۔
- ۳...... نظام تبلیغ کو مؤثر بنانے کی تدابیر و تجاویز۔
- ۴...... بیرون پاکستان اخراجات کی منظوری۔
- ۵...... عالمی مجلس کے سال ۱۴۱۰ھ کی آمد و صرف کی پڑتال۔
- ۶...... عالمی مجلس کے سالانہ اخراجات کی منظوری۔
- ۷...... مسجد عائشہ لاہور کے معاملات کا جائزہ۔
- ۸...... تقرریاں، تبادلے، ترقیاں، توثیق۔
- ۹...... جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کے مینار کی تعمیر کی رپورٹ۔
- ۱۰...... دیگر امور باجازت حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم۔
شق نمبر ۱: نائب امیر اوّل عالمی مجلس کے عہدہ کی ذمہ داریوں کی سپردگی اور تقرر: مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن نے اس شق پر گفتگو اور بحث کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد رمضان علوی معزز رکن کی وفات کے باعث ان کی جگہ رکن کی تقرری حضرت فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالحفیظ صاحب نائب امیر دوم کے استعفیٰ اور حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب متوفی ۳۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء کی جگہ تقرری۔ یہ تین امور ہیں۔ ان تینوں حضرات کی جگہ پر نئے حضرات کا تقرر کرنا ہے۔
حضرت مفتی صاحب کے سانحہ ارتحال کے باعث عالمی مجلس کے نائب امیر اوّل کے متعلق مختلف قدیم ترین جماعتی رفقاء اور عالمی مجلس کے ذمہ دار حضرات میں سے بعض کی رائے یہ ہے کہ حضرت قبلہ سید انور حسین صاحب نفیس مدظلہ موزوں ہیں۔ جب کہ بعض حضرات کے خیال میں دوسری تجاویز بھی ہوں گی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی روایات کے مطابق اس پر بالاتفاق مبارک فیصلہ ہونا چاہئے۔ اسی میں خیر و برکت ہوگی۔ چنانچہ موصوف نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ حضرت مولانا محمد رمضان صاحب علوی کی جگہ رکن شوریٰ کی تقرری حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب کی جگہ رکن شوریٰ کی تقرری اور حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی فضیلۃ الشیخ کا استعفیٰ اور ان کی جگہ نائب امیر دوم کی تقرری سہ سالہ عام انتخابات عالمی مجلس تک ملتوی رکھی جائے۔ آٹھ دس ماہ بعد یہ سہ سالہ انتخابات عالمی مجلس کے از روئے دستور ہونا ہیں۔ اس موقعہ پر ان امور کے متعلق مناسب فیصلہ کر لیا جائے۔
البتہ نائب امیر اوّل کا عہدہ از روئے دستور اہم اور اس کا پر ہونا ضروری ہے۔ ورنہ کئی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ اس لئے یہ اجلاس حضرت الامیر دامت برکاتہم کو اپنے اختیارات تفویض کر دے اور تا اختتام اجلاس اپنی اپنی آراء سے حضرت الامیر دامت برکاتہم کو مطلع بھی فرما دیا جائے۔ ان تمام آراء کی روشنی میں حضرت الامیر دامت برکاتہم جو فیصلہ فرمائیں گے، وہ اجلاس کا ہی فیصلہ ہوگا۔ اس تجویز کو تمام اجلاس نے مفید قرار دیا اور اسے منظور کر لیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایجنڈا شق نمبر ۲: قادیانی فتنہ کے خلاف تبلیغی نظام کا جائزہ، ایجنڈا شق نمبر ۳: نظام تبلیغ کو مؤثر بنانے کی تجاویز
وتدابیر: اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ان دونوں شقوں کو ایک بار ہی زیر بحث لایا جائے۔ ان پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی نے فرمایا کہ قادیانیت کے احتساب کا دائرہ تنگ کرنے کے لئے ہمارے بزرگوں نے جو احتسابی شکنجہ تیار کیا۔ اسی کا صدقہ ہے کہ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت میں امت نے گرانقدر خدمات سرانجام دی اور آج بھی ضرورت ہے۔ اس امر کی کہ بزرگوں کے اس طرز عمل پر بھر پور اور مؤثر اقدام کیا جائے تاکہ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کی محنت کی بھٹی میں برابر ایندھن پڑتا رہے۔ لیکن ساتھ ہی اس ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس وقت مرزا طاہر کے فرار کے باعث قادیانیت شکستہ دل اور مردہ ہے۔ جس طرح وہ ہمارے مسلمانوں کو اپنی فریب کاریوں سے گمراہ کرتے ہیں۔ ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم بھی ان کو راہِ حق دکھائیں۔ اب موقعہ ہے کہ مسلمانوں میں تبلیغ کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کو بھی دعوت اسلام دی جائے۔ اس سلسلہ میں مجلس نے ”ظفر اللہ خان کو دعوت اسلام“، ”قادیانیوں کو دعوت اسلام“ نامی پمفلٹ بھی شائع کر کے زیادہ سے زیادہ اپنی ہمت کے مطابق قادیانیوں میں تقسیم کر کے دعوت اسلام کی سعادت حاصل کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سابق امیر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کے بعد ہی قادیانیوں کو دعوت الی الاسلام کی تحریکی طرز پر کام کرنے کا سوز رکھتے تھے۔ مگر قادیانیوں نے اس فیصلے سے انحراف کی معاندانہ روش اختیار کر کے فضاء کو مکدر کر دیا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے فرمایا کہ اب میرا دل چاہتا ہے کہ اس تحریک کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ اس سلسلہ میں ایک اشکال ہے کہ اگر ہمارے مبلغین و مدرسین نے مرزائیوں کو دعوت اسلام کے لئے ان سے روابط رکھے تو قادیانیت کے خلاف ہماری جو تحریک ہے اس جذبے کو نقصان پہنچے گا۔ اس لئے بجائے اس کے کہ ہمارے مبلغین مرزائیوں کے پاس جائیں میری تجویز یہ ہے کہ ہمارے دیندار طلباء جن کا مساجد سے رابطہ ہے دینی ذہن رکھتے ہیں ان کو تلاش کیا جائے۔ ان کی ذہن سازی کی جائے۔ وہ قادیانیت کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔ پھر ان پختہ ذہن نوجوانوں کے ذمے لگایا جائے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں ایسے مرزائیوں کو جو معاند یا جنون کی حد تک مرزائی نہ ہوں، تلاش کریں۔ ان پر محنت کریں۔ ان کو تبلیغ کریں اور ضرورت پڑنے پر ان کو ہمارے ہاں مبلغین کے پاس لائیں۔ اس طرح ہماری عوامی تحریک اور جذبات پر بھی اثر نہ پڑے گا اور قادیانیوں کو دعوت اسلام کا بھی سلسلہ چل نکلے گا۔ ممکن ہے اس طرح اللہ رب العزت اپنا رحم و کرم فرمائیں اور ان لوگوں کو ہدایت کی سعادت نصیب ہو جائے۔
- ۲...... لٹریچر کی تقسیم کا جو نظم چل رہا ہے قابل تعریف ہے۔ لیکن اس میں جتنی عمدگی اور بہتر سے بہتر بنانے کی شکل ہو سکتی ہے۔ وہ اختیار
کی جائے۔ ہمارا جذبہ اخلاص یہ ہو کہ دنیا میں کوئی ایسا شخص ضرورت مند نہ رہے۔ جس تک کہ ختم نبوت کی آواز حق نہ پہنچے۔
- ۳...... سرحد میں مبلغین کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ سرحد سے عالمی مجلس کے دونوں معزز اراکین کوشش فرمائیں کہ اپنے طور پر سرحد
ہی سے مبلغ تلاش کریں۔ دفتر مرکزیہ میں کچھ عرصہ ان کی تربیت ہو اور پھر وہ مرکز کے زیر اہتمام اس علاقہ میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کریں۔
- ۴...... حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا کہ ایک تو عالمی مجلس کا لٹریچر فری تقسیم کرنے کا
سلسلہ ہے۔ بہتر خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ سلسلہ مزید بہتر بنایا جائے۔ دوسرا یہ کہ مرکزی ہمارے دفتر میں مکتبہ ہے۔ اصل
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاگت پر جہاں سے قیمتاً کتب مہیا ہوتی ہیں۔ ہمیں کوشش کر کے ملک کے اہم کتب خانوں میں اپنی مطبوعات اصل لاگت پر مہیا کرنی چاہئیں تاکہ جس کتب خانہ پر بھی کوئی آدمی کتاب لینے جائے وہاں پر رد مرزائیت کا بھی اسے لٹریچر مل جائے۔
- ۵...... حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر، حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب سے درخواست کی گئی کہ وہ وفاق المدارس کے
نصاب میں تقابل ادیان کے مضمون میں نصاب میں ”اسلام اور قادیانیت“ یا کوئی اور مناسب کتاب شامل کرائی جائے اور وفاق المدارس کی نصاب کمیٹی کو عالمی مجلس کی طرف سے پیشکش کی جائے کہ اصل لاگت پر عالمی مجلس یہ کتاب تمام مدارس کو مہیا کرے گی۔
- ۶...... مرزائی رسائل کو منگوایا جائے اور ہمارے رسائل ہفتہ وار ختم نبوت، ہفتہ وار لولاک ان رسائل کو منگوا کر ان کا مؤثر جواب دیں۔
- ۷...... کیسوں کی پیروی کے لئے وکلاء کی کمیٹی بنائی جائے اور اگر ممکن ہو تو مرکزی مجلس شوریٰ میں ایک وکیل بھی رکھا جائے۔
- ۸...... علاقائی، مقامی دفاتر کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ الحاج فرزند علی صاحب معزز رکن سکھر کے استفسار پر وضاحت کی گئی کہ مقامی مبلغ
کو چلانا، اس سے کام لینا، اس کی رہنمائی کرنا، اسے ہدایات دینا، اس کے کام کے خطوط مقرر کرنا، یہ مقامی مجالس کے ذمہ ہے۔
آئندہ تمام اراکین شوریٰ اپنے اپنے علاقہ میں مبلغ کے کام کی رپورٹ بھی اجلاس سے پیش کیا کریں۔
- ۹...... قادیانیوں سے گفتگو کا طریقہ کار اور ضروری حوالہ جات کے لئے مقامی اہم دفاتر میں مرزائیت کی کتب ہونی چاہئے۔
حضرت الحاج بلند اختر نظامی کی اس تجویز پر ان سے عرض کیا گیا کہ ضروری اہم کتب جو میسر آسکی مہیا کریں گے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ ایک صد حوالہ جات منتخب شدہ کے فوٹوسٹیٹ کی ایک ایک جلد مقامی دفاتر کو دی جاسکتی ہے۔ حوالہ جات منتخب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی فرمائیں گے۔
- ۱۰...... مرزائیت کے خلاف مسلمانوں اور بالخصوص مقامی نوجوان طلباء کی تیاری کے لئے مقامی جماعتیں ومبلغین اپنے اپنے حلقہ میں
تربیتی کلاسوں کا ضرور اہتمام کریں۔ مولانا قاری انوار الحق صاحب نے اس تجویز کی اہمیت پر مفصل گفتگو فرمائی۔
- ۱۱...... اپنے پرچوں میں اعلان کر دیا جائے کہ مقامی جماعتوں کے رفقاء حسب پابندی دستور اپنے طور پر کوئی بھی پمفلٹ شائع کرنا
چاہیں ۔ وہ مرکزی دفتر میں مولانا عبدالرحیم اشعر کو مکمل مسودہ پڑھا دیں، یا حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی اسے دیکھ لیں تا کہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ کوئی بھی چیز جو چھاپنی ہو چھاپی جائے۔
- ۱۲...... وکلاء سے رابطے اور ان کی ذہن سازی، ان تک لٹریچر پہنچانا اور بار روموں سے خطاب کے پروگرام کو شروع کرنا چاہئے۔
اس موقعہ پر حضرت مولانا قاری انوار الحق اور حضرت مولانا عبدالواحد معزز اراکین نے تبلیغی عنوان سے کام کرنے کی بابت اپنے ایک مقامی مسئلہ مکران میں ذکری فرقہ کی سرگرمیوں کا ذکر کیا کہ وہ ۲۷/ رمضان کو اپنا نام نہاد حج کرتے ہیں۔ پچھلے سال عالمی مجلس، جمعیۃ علماء اسلام اور عامۃ المسلمین نے مقامی علماء کرام کی سرپرستی میں متعدد ایسے اقدامات کئے کہ ان پر پابندی لگ گئی۔ اس سال بھی یہی ہوگا ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ بلوچستان کے چیف منسٹر شیر جان بلوچ کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا ہے۔ شیر جان متعصب کٹر قسم کا ذکری ہے۔ فیصلہ ہوا کہ اس کے خلاف قرارداد مذمت منظور کی جائے اور مقامی طور پر اس کے خلاف ابھی سے مؤثر آواز بلند کی جائے۔ قرارداد مذمت کی گئی جو یہ ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرارداد مذمت: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان کے چیف منسٹر نے ذکری طبقہ کے ایک اہم لیڈر شیر جان بلوچ کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا ہے۔ یہ اجلاس ان کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے یہ اقدام کر کے ایک غیر مسلم طبقہ کو بلوچستان جیسے حساس مسلمانوں کے سروں پر مسلط کر کے مکران وغیرہ کے حالات کو بگاڑنے کی از خود مذموم کوشش کی ہے۔ ان کا یہ اقدام ذکری طبقہ کی شورش و ہنگامہ خیزی کا باعث بنے گا۔ مسلمان اضطراب کا شکار ہوں گے۔ اسلام کے نام پر اقتدار میں آنے والی حکومت سے یہ توقع نہ تھی۔ انہوں نے یہ اقدام کر کے مسلمانوں کے جذبات کا خون کیا ہے۔ ذکری فرقہ کی غیر اسلامی و غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس توقع کرتا ہے کہ چیف منسٹر بلوچستان اور جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کے رہنمایان اس غلطی کی فوری تلافی کریں گے۔ اللہ رب العزت ان کو توفیق مرحمت فرمائیں۔
یہ قرارداد مذمت چیف منسٹر بلوچستان ومولانا عبدالغفور حیدری پارلیمانی لیڈر جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان کو بھجوائی گئی۔ مولانا انوار الحق صاحب نے مزید بتایا کہ حالیہ مردم شماری میں ذکریوں کے لئے شماریات کے فارم میں خانہ نہ تھا۔ ہم نے صوبائی شماریات کے افسران سے ملاقات کی اور ان کو درخواست دی۔ انہوں نے ہماری درخواست وفاقی شماریات اور وزارت داخلہ کو بھجوائی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ مقامی کوئٹہ کی جماعت اس درخواست کی پیروی کرے اور اگر درخواست رد ہو جائے تو وکلاء سے مشورہ کے بعد اگر ممکن ہو تو اسے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا جائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے ساتھ مرکزی دفتر اور اسلام آباد دفتر ہر قسم کی معاونت کریں۔ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے بتایا کہ حضرت الامیر دامت برکاتہم اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے حکم ومنشاء پر مجلس شوریٰ کے اجلاس کے متصل کل ۳، ۴، ۵ / مارچ ۱۹۹۱ء کو دفتر مرکزیہ میں مبلغین حضرات کا سہ روزہ اجلاس رکھا ہے۔ تین دن تک حضرت الامیر دامت برکاتہم اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی صدارت میں یومیہ دو اجلاس ہوں گے۔ تبلیغی نظام سے ایجنڈا کی شق نمبر ۲، ۳ کے فیصلوں کی روشنی میں متذکرہ اکابر انہی ہدایات، پندونصائح سے نوازیں گے اور ان شقوں کے فیصلوں کی نقول مرکزی شوریٰ کے اراکین کو بھیج دی جائیں گی تاکہ وہ بھی ملک بھر میں اس تبلیغی نظام سے متعلق فیصلوں کو عملی جامہ پہنا سکیں اور ان پر عمل درآمد ہو اور آئندہ اجلاس میں ان پر عمل درآمد کی حوصلہ افزاء رپورٹ سنائی جاسکے۔
ایجنڈا شق نمبر ۴: بیرون پاکستان اخراجات کی منظوری: ۱۹۸۵ء میں عالمی مجلس کا باقاعدہ لندن میں کام شروع ہوا۔ وہاں پر دفتر خرید کیا گیا۔ ۱۹۸۵ء، ۱۹۸۶ء کے تمام تر اخراجات اور دفتر کی خریداری کے تمام اخراجات مرکزی بیت المال سے ادا کئے گئے اور ان کی آمد و صرف کی رپورٹ مرکزی روئیداد کے ساتھ شائع ہوتی رہی ہے۔ ۸۸-۱۹۸۶ء کی کانفرنس ہائے سالانہ لندن کے اخراجات اور اس سلسلہ میں جانے والے وفود کے اخراجات مرکزی بیت المال سے ادا کئے گئے۔ جن کی روئیداد باقاعدہ شائع ہو چکی ہے۔
۱۹۸۹ء کی ختم نبوت کانفرنس لندن کے اخراجات ۹۰-۱۹۸۷ء (جون) تک مقامی دفتر لندن کے اخراجات از قسم مشاہرات عملہ، گیس، پانی، بجلی، فون، صفائی و ضروری مرمت، رنگ و روغن وغیرہ اور انہیں سالوں کی آمد کی رپورٹ یہ ہے۔ اس عرصہ میں مرکزی رسیدات بکیں کل ۲۸ عدد استعمال کی گئیں۔ یہ تمام تر آمد اور اخراجات پاؤنڈوں میں ہوئے۔ آمد و صرف کی تفصیل مرکزی آمد و صرف کے رجسٹر میں درج ہو گئی۔ بقایا رقم جو پاؤنڈوں میں ہے وہ لندن میں مجلس کے اکاؤنٹ میں جمع ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایجنڈا شق نمبر ۷: مسجد عائشہ کے معاملات کا جائزہ: جامع مسجد عائشہ ۵۔ حسین اسٹریٹ مسلم ٹاؤن وحدت روڈ لاہور مسلمانوں کی مسجد تھی۔ جو ایک سادات گھرانہ اس کا متولی تھا۔ ان میں سے ایک شخص لاہوری مرزائی بنا تو لاہوری مرزائیوں نے اس مسجد پر قبضہ کر کے تمام ملحقہ پلاٹ پر قبضہ کر لیا اور اس پر اپنا ہاسٹل، دفاتر اور رہائشی کوارٹر قائم کر لئے۔ یوں کافرانہ کارروائی تیس پینتیس سال تک یہاں پر جاری رہی۔ لاہوری گروپ کے دارالسلام نامی جگہ پر چلے جانے کے باعث یہ جگہ انہوں نے مقفل کر دی اور ہاسٹل وغیرہ میں زیر تبلیغ مرزائی طلباء کو وہاں رکھنا شروع کر دیا۔ مسجد ویران ہو گئی۔ وہاں کے مسلمانوں نے اس مسجد کو لاہوری مرزائیوں سے واگزار کرنے کے لئے اپنے طور پر کاوش کی۔ مگر ان کو اس میں کامیابی نہ ہوئی۔ خدا کا کرنا ہوا ایسے کہ اس خاندان کا ایک شخص سید اسد حسین شاہ صاحب صحیح العقیدہ مسلمان ہیں اور وہ اس وقت پورے خاندان کے سربراہ ہیں اور ان کے خاندان میں اب مرزائیت تقریباً ختم ہے۔ ان کو اللہ رب العزت نے توفیق بخشی۔ انہوں نے مختلف احباب کے ذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر اور لاہور جماعت کے رفقاء سے رابطہ کیا اور مسجد کو واگزار کرنے کی کوشش کی۔ حضرت ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے سرگودھا سے مجاہد فی سبیل اللہ مولانا محمد اکرم طوفانی، گوجرانوالہ سے حضرت حافظ محمد ثاقب، چوہدری غلام نبی، لاہور سے مولانا الحاج بلند اختر نظامی صدر، الحاج طارق سعید صاحب ناظم اعلیٰ، مبلغ مولانا کریم بخش سے مشاورت کی۔ یہ حضرات اپنے رفقاء سمیت لاہور تشریف لائے اور یوں اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے مؤرخہ ۸/ جون ۱۹۹۰ء مطابق ۱۴/ ذیقعدہ ۱۴۱۰ھ بروز جمعہ صبح اس مسجد میں داخل ہوئے۔ جن رفقاء نے جان جوکھوں میں ڈال کر اس فریضہ کو ادا کیا۔ اس پر وہ شکریہ اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ان کے اخلاص بھرے اس اقدام کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ پہلے دن ہی مسجد واگزار ہو گئی۔ فوری صفائی کا انتظام کر کے مسجد میں جمعہ کی نماز شروع کی گئی۔ مکان اور ہاسٹل تاحال ان کے قبضہ میں ہے۔
مسجد میں پانچ وقتہ نماز باجماعت، جمعہ، عیدین کا عالمی مجلس نے اہتمام کیا۔ امامت و خطابت کے لئے آدمی مقرر کئے۔ سیرت النبی اور دوسرے مواقع پر جلسوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مسجد کے انتظام کے لئے مقامی نمازیان کی کمیٹی بنادی گئی اور اس میں جو قواعد وضوابط مرتب کئے گئے۔ ان میں جماعت کو تفوق حاصل ہے۔ کاغذات مسجد کی رجسٹریشن کے لئے بھجوا دیئے ہیں۔ سید اسد حسین شاہ صاحب نے ایک اسٹام کے ذریعہ مسجد و ملحقہ جگہ کی تولیت مسجد کے نام کر دی۔ چھوٹے موٹے مصارف مقامی کمیٹی کے ذمہ ہیں۔ امام و خطیب کا مشاہرہ مسجد کا واگزاری پر اٹھنے والے مصارف اور مسجد کے عقب میں ایک رہائشی کوارٹر برائے امام پر اخراجات مرکزی بیت المال سے ادا کئے گئے اور یہ تمام کام لاہور جماعت کے صدر اور معزز رکن شوریٰ الحاج بلند اختر نظامی، لاہور جماعت کے ناظم اعلیٰ الحاج طارق سعید خان کے مشورہ اور رائے سے ہوئے۔ مسجد کی کمیٹی اور مسجد کے ماحول میں کچھ رفقاء ایسے ہیں جو ذہنًا اس طرح ہمارے ساتھ نہیں جس طرح انہیں ہونا چاہئے۔ جو رفقاء ہمارے ساتھ ہیں ان کی اور دفتر کی خواہش ہے کہ وہاں پر لاہور مجلس کا دفتر قائم ہو جائے۔
اس کے لئے کوشش بھی کی گئی۔ شاہ صاحب اور کچھ رفقاء کا خیال ہے کہ مسجد کے ساتھ ملحقہ خالی پلاٹ پر نئی تعمیر کی بجائے جو ہاسٹل مرزائیوں کے پاس ہے وہ واپس لے کر وہاں پر دفتر قائم کیا جائے۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم وہاں پر ایک دو بار تشریف لے گئے۔ اسی طرح اس میٹنگ سے ایک روز قبل یعنی کل (یکم/مارچ ۱۹۹۱ء) کا جمعہ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے وہاں پڑھایا ہے۔ کچھ کاغذات و حالات کی پیچیدگیاں ہیں۔ فیصلہ ہوا کہ حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب، حضرت الحاج بلند اختر نظامی، مولانا محمد اکرم طوفانی،
تحریک ختم نبوت جلد(۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب طارق سعید خان، مولانا محمد اسماعیل ، مولانا کریم بخش جو مناسب سمجھیں قدم اٹھائیں۔ مناسب وقت پر مقامی رفقاء کمیٹی کی میٹنگ بلا کر حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر جو مناسب سمجھیں، فیصلہ فرمائیں اور جو اقدام مناسب ہو اختیار کریں۔ مجلس شوریٰ کی طرف سے یہ حضرات مجاز ہوں گے۔
ایجنڈا شق نمبر ۸: تقرریاں، تبادلے، ترقیاں، توثیق: اس سال عالمی مجلس کی طرف سے ضلع مظفر گڑھ کے لئے حضرت مولانا امام دین صاحب کو بطور مبلغ رکھا گیا۔ حافظ شوکت علی صاحب معاون دفتر مرکزیہ کی جگہ جناب محمد طفیل جاوید بطور معاون دفتر اور خادم دفتر کی جگہ عبداللطیف کو دفتر مرکزیہ میں رکھا گیا۔ ان حضرات کی تقرریوں کی اجلاس نے منظوری مرحمت فرمائی۔
اس سال تمام رفقاء حسب سابق کام کر رہے ہیں۔ کسی کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔
آئندہ ترقیوں کے لئے حضرت الحاج بلند اختر نظامی معزز رکن لاہور، حضرت الحاج قاضی فیض احمد معزز رکن ٹوبہ ٹیک سنگھ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، حضرت مولانا عزیز الرحمن پرمشتمل کمیٹی کا اسی سال ذی الحجہ ۱۴۱۰ھ کے اواخر میں اجلاس بلا لیا جائے ۔ یہ حضرات مبلغین حضرات کی کارکردگی ، ضروریات ، مہنگائی کا خیال کر کے خوش اور فراغ دلی کے ساتھ ترقیاں لگا دیں اور محرم ۱۴۱۲ھ ترقیاں، مبلغین وعملہ کو ملنا شروع ہو جائیں۔
ایجنڈا شق نمبر ۹: جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کے مینار کی تعمیر کی رپورٹ: گزشتہ اجلاس کے فیصلہ کی رو سے اس کی تعمیر شروع کر دی گئی تھی۔ مینار اس وقت آخر تک پہنچ چکا ہے۔ صرف اس کا آخری حصہ گنبد وغیرہ بننا باقی ہے اور اس کی تعمیر جاری ہے۔ تکمیل تعمیر کے بعد اس کے رنگ و روغن ، پلستر اور چپس وغیرہ کا کام ہوگا۔ اس طرح مسجد کے فرنٹ اور برآمدوں کے دونوں سائیڈوں پر ماربل لگنے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حضرت الحاج معراج الدین صاحب وحضرت الحاج اصغر علی صاحب ملتان والے معاونت ومشاورت و نگرانی کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ دونوں حضرات تبلیغی جماعت اور حضرت مولانا فضل الہی قریشی کے متعلقین میں سے ہیں۔ مستری بھی انہوں نے مہیا کیا ہے اور اس کی نگرانی و دیکھ بھال کے لئے ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے بتایا کہ مینار کا اوپر والا حصہ چپس کر دیا جائے۔ شیڈ سے نیچے چھت تک کے حصہ کی مشین سے رگڑائی کر دی جائے اور باقی حصہ پر جس طرح فرنٹ پر ماربل لگنا ہے۔ وہی ماربل اس کی چھت کے نیچے کا حصہ پر لگا دیا جانے کی تجویز ہے۔ اس پر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فرمایا کہ خشت نمی پکڑتی ہے۔ اگر رگڑائی ہو اور اس پر پلستر روغن یا چپس نہ ہو تو کہیں نمی نہ پکڑ لے۔ تسلی کر لی جائے کہ رگڑائی کے بعد نمی نہیں پکڑے گا تو پھر ٹھیک ہے۔ ورنہ مولانا عزیز الرحمن ان رفقاء اور دوسرے حضرات سے مشاورت کر کے جو مناسب ہو اقدام کریں اور کوشش کی جائے کہ کام جلد تکمیل پذیر ہو۔ منظوری دی جاتی ہے۔
ایجنڈا شق نمبر ۱۰: دیگر امور باجازت حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ:
- ۱....... جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی کی تعمیر کی منظوری مل گئی ہے۔ لیکن ایک وفاقی افسر کی رکاوٹ اور
خلل اندازی کا اندیشہ اب بھی باقی ہے۔ فیصلہ ہوا کہ اس کی تعمیر فوری ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دی جائے اور کراچی سے ہی اس کا فنڈ مہیا
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا جائے۔ سردست اگر تعمیر کے لئے رقم نہ ہو تو مرکز کے فنڈ سے قرض دے کر اس کو شروع کرایا جائے اور پھر کراچی سے فنڈ کر کے مرکز کی رقم واپس کر دی جائے گی۔ تعمیر شروع ہونے کی خبر پر خوشی وانبساط کا اظہار کیا گیا۔ یادرہے کہ مسجد کی تعمیر کی منظوری کے لئے حضرت قبلہ مولانا مفتی احمد الرحمٰن نے بہت زیادہ کوشش کی تھی اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں اس مہم کو انہوں نے سر کر لیا تھا۔ اللہ رب العزت حضرت مفتی صاحب کے اس صدقہ جاریہ کو قبول فرمائیں۔ خدا کرے کہ یہ مسجد جلد تکمیل پذیر ہو تا کہ حضرت مفتی صاحب مرحوم کی روح پرفتوح کے لئے سکون کا باعث ہو۔
- ......۲ روس میں کچھ ریاستیں آزادی حاصل کرنے کے آخری مرحلہ میں ہیں۔ یہاں پر بہت زیادہ مسلمان ہیں۔ ان ریاستوں کے
آزاد ہونے اور مسلمان ریاستوں کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرنے کا موقع پا کر وہاں پر مرزائیوں نے اپنی گمراہیوں کا جال پھیلانا شروع کر دیا ہے۔ اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور فیصلہ کیا کہ محترم حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر مدظلہ اور محترم باوا صاحب اس سلسلہ میں معلومات حاصل کریں۔ ان ریاستوں کی زبان کے متعلق معلومات حاصل کریں۔ اس زبان میں قادیانیت کے رد میں لٹریچر تیار کیا جائے اور پھر یہی حضرات جسے مناسب سمجھیں اپنے ہمراہ لے کر ان ریاستوں میں تبلیغی دورہ رکھیں تا کہ فوری طور پر مرزائیت کے مکر و فریب کو ان مسلمانوں پر واضح کیا جا سکے۔
- ......۳ خدام الاحمدیہ، انصار اللہ کے ربوہ میں کشتی رانی کے مقابلے ہوئے۔ اس میں ڈی سی، ایس پی جھنگ مہمان خصوصی تھے۔ فیصلہ
ہوا کہ ان کے اس اقدام کی مذمت پر قرارداد بنا کر ان کو بھجوائی جائے۔
- ......۴ محترم معزز رکن الحاج بلند اختر نظامی نے ارشاد فرمایا کہ ڈاکٹر ارشاد احمد چوہدری ڈائریکٹر، کالجز ڈیرہ غازی خان ڈویژن
قادیانی ہے اور وہ اپنے عہدہ کا ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمان ملازمین کو تنگ کر رہا ہے۔ نیز یہ کہ وہ مرزائیت کی تبلیغ کرتا ہے۔ فیصلہ ہوا کہ ڈیرہ ڈویژن کے مبلغ مولانا الحاج صوفی اللہ وسایا کو اس سلسلہ میں خط لکھا جائے۔ وہ اس امر کی تصدیق کریں اور مقامی طور پر مؤثر قدم اٹھائیں۔ ان کے طلب کرنے پر مرکز بھی ان کی امداد کرے۔
- ......۵ سیالکوٹ سے جناب ملک منظور الہی صاحب کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ موصوف نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مثالی خدمات
سرانجام دی ہیں۔ خصوصاً کراچی قیام کے دوران اس کاز کے لئے ان کی خدمات قابل رشک تھیں۔ پاکستان میں ہر آنے والی حکومت کی بدترین قادیانیت نوازی، مرزائیوں کے بدترین عقائد اور ان کی دہشت گردی کا ان کی طبیعت پر اتنا اثر ہے کہ اب ان کی اس بڑھاپے میں طبیعت جذباتی ہو گئی ہے۔ وہ بات بات پر خفا ہو جاتے ہیں۔ طبیعت پر کنٹرول نہیں ہے۔ بلا سوچے سمجھے ایسے اقدام کر گزرتے ہیں جن سے مجلس کی پوزیشن افسوس ناک حد تک متاثر ہوتی ہے۔ شوریٰ نے ان کی سابقہ خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آئندہ کے لئے ان کو ہر قسم کی جماعتی ذمہ داریوں سے علیحدہ کر دیا ہے۔ اب وہ جماعت کے نام کو استعمال میں نہیں لا سکتے۔
- ......۶ اجلاس کے اختتام پر حضرت الامیر مدظلہ نے حضرت مفتی احمد الرحمٰن صاحب مرحوم کی جگہ پر نائب امیر اوّل مولانا محمد یوسف
صاحب مدظلہ لدھیانوی کو نامزد فرمایا۔
فیضان حسن محمود علی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۶۵ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔ مؤرخہ ۱۷/ اکتوبر ۱۹۹۱ء، مطابق ۹/ ربیع الثانی ۱۴۱۲ھ، بروز جمعرات بوقت ۳ بجے دن منعقد ہوا۔
زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، (۲) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، (۳) حضرت مولانا عبدالواحد صاحب کوئٹہ، (۴) حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی صاحب، (۵) حضرت محمد ریاض گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۶) حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۷) جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا، (۸) جناب قاضی فیض احمد، (۹) جناب الحاج بلند اختر نظامی، (۱۰) جناب مولانا انوار الحق کوئٹہ، (۱۱) حضرت مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، (۱۲) حضرت مولانا نور الحق نور پشاور، (۱۳) حضرت مولانا احمد میاں حمادی، (۱۴) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۱۵) حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ، (۱۶) حضرت مولانا اللہ وسایا ملتان۔
حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب مدظلہ اسلام آباد کی تلاوت کلام پاک سے کارروائی کا آغاز ہوا۔
- ۲...... تلاوت کے بعد سب سے پہلے سابقہ اجلاس شوریٰ ۲/ مارچ ۱۹۹۱ء مطابق ۱۴/ شعبان ۱۴۱۱ھ کی حضرت مولانا عزیز الرحمٰن
جالندھری نے کارروائی پڑھ کر سنائی۔ جس کی تمام حاضرین نے توثیق فرمائی۔
- ۳...... گزشتہ اجلاس شوریٰ میں روس کی مسلم ریاستوں کی آزادی کے بعد وہاں پر قادیانی ریشہ دوانیوں کے جائزہ و انسداد کے لئے وفد
جانا تجویز ہوا۔ مگر اس پر عمل نہ ہو سکا۔ اس سلسلہ میں حال ہی میں حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا عبدالحفیظ دامت برکاتہم کا مشترکہ والا نامہ حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم کے نام آیا۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی نے خط کے مندرجات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس خط میں دو امور کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ (۱) یہ کہ روس کی مسلم آزاد ریاستوں میں قادیانی اپنا جال بچھا رہے ہیں۔ اس کی فوری انسدادی کارروائی کی جائے۔ (۲) یہ کہ ایک عالمی شوریٰ قائم کی جائے اور دنیا بھر کے جید حضرات کو مشاورت کے لئے کم از کم سال میں دو بار بلا کر ان سے مشاورت کی جائے۔
مولانا محمد یوسف صاحب مدظلہ کی تجویز پر پہلی بات کے متعلق طے ہوا کہ روس کے ان علاقوں کے علماء کرام کی فہرست حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا مدظلہم مہیا کریں گے۔ اس سلسلہ میں ایک خط ان حضرات کے نام مولانا محمد یوسف صاحب مرتب فرمائیں اور قبلہ ڈاکٹر حضرت مولانا عبدالرزاق صاحب اسکندر اس کی عربی کر کے کراچی دفتر سے ان کو خطوط ارسال فرمائیں۔ ان حضرات کے پتہ جات، رابطہ مکمل ہو جانے پر پھر ایک وفد ان علاقہ جات کا دورہ کرے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب کے ذمہ ہوا کہ منگولیا، روس کی دوسری ریاستوں کے جو علماء علامہ اقبال یونیورسٹی میں پڑھنے کے لئے اسلام آباد آئے تھے۔ وہ موجود ہوں تو ان سے رابطہ اور اگر ممکن ہو تو اسلام آباد ہی میں ان کے لئے دو چار لیکچروں کا انتظام کیا جائے اور اگر جیسا کہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر کی معلومات کے مطابق وہ وفد واپس جا چکا ہے تو ان کے پتہ جات حضرت مولانا محمد عبداللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحب مہیا فرمائیں تاکہ ان کو بھی خطوط بھجوائے جاسکیں اور مجوزہ پروگرام میں قبلہ ڈاکٹر صاحب کی سربراہی میں شعبان میں جانے والا وفد ان علاقوں کا بھی دورہ کر سکے۔ شعبان کے اوائل تک یہ کارروائی مکمل ہو جائے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب کاغذات کی تکمیل کے لئے سعی فرمائیں تاکہ شعبان میں وفد جاسکے۔
حضرت مکی صاحب، حضرت مدنی صاحب مدظلہما کے خط کی روشنی میں دوسری تجویز عالمی شوریٰ کے متعلق حضرت مولانا محمد یوسف صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ حضرت امیر مدظلہ کی طرف سے مولانا مکی صاحب کو تار، خط بھیجا گیا کہ وہ اس موقعہ پر تشریف لائیں مگر وہ تشریف نہ لاسکے۔ اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ دنیا بھر کے جید حضرات کی شوریٰ کی تجویز پر عمل ہمارے بس میں نہیں اور نہ ہی ہماری کمر اس بوجھ کو برداشت کرسکتی ہے۔
اس کے لئے میری تجویز یہ ہے کہ جیسا کہ ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم ملک کے جس حصہ میں تشریف لے جاتے جید علماء کرام اور صلحائے امت کو مجلس کے کام کی رپورٹ اور آئندہ کے لئے ان سے تجاویز طلب فرماتے تھے اور پھر اس کی روشنی میں کام کی رفتار تیز کی جاتی تھی۔ اب بھی حضرت الامیر دامت برکاتہم اور دوسرے رفقاء اندرون و بیرون ملک جہاں تشریف لے جائیں۔ صائب الرائے، علماء کرام صلحائے امت اور اس محاذ سے متعلق دوسرے ذی فہم حضرات سے مشورہ فرمالیا کریں اور پھر اس کے مطابق کام کو آگے بڑھایا جائے۔ اس طرح ساری دنیا میں حضرات سے رابطہ ومشاورت بھی ہوتی رہے گی اور ان کی رہنمائی سے فوائد بھی حاصل ہوسکیں گے۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کے ان ارشادات پر یہی فیصلہ ہوا۔ نیز یہ کہ ان حضرات کے خط کے جواب میں کارروائی کا متعلقہ حصہ اور شکریہ کا خط ان کو بھجوا دیا جائے۔
فقیر خان محمد غفرلہ
(۶۶ واں) اجلاس عمومی
اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔
مؤرخہ ۱۸/اکتوبر ۱۹۹۱ء، مطابق ۹/شعبان المعظم ۱۴۱۲ھ، بروز جمعہ بوقت دس بجے صبح منعقد ہوا۔
زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۳) جناب الحاج بلند اختر نظامی، (۴) حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لاہور، (۵) جناب قاضی محمد اللہ یار ملتان، (۶) جناب غلام نبی جانباز، (۷) جناب سید منور حسین صدیقی لاہور، (۸) جناب مولانا محمد یعقوب ربانی، (۹) مولوی غلام قادر لاہور، (۱۰) مولوی محمود الحسن قریشی، (۱۱) عبدالرحیم ولد محمد عبداللہ، (۱۲) جناب احمد بخش چشتی جھنگ، (۱۳) جناب کریم الدین، (۱۴) جناب محمد صدیق شاہ لاہور، (۱۵) جناب مستری برکت علی کنری سندھ، (۱۶) جناب محمد اسماعیل، (۱۷) جناب اللہ دتہ مجاہد قصور، (۱۸) جناب شوکت علی شاہد ننکانہ، (۱۹) جناب محمد اکرم ننکانہ، (۲۰) حافظ محمد الیاس کلور کوٹ، (۲۱) جمال اللہ الحسینی سندھ، (۲۲) مولانا خدا بخش شجاع آبادی چناب نگر، (۲۳) سید فضل الرحمٰن شاہ سلانوالی، (۲۴) مولانا نذیر احمد تونسوی بلوچستان، (۲۵) میاں سلطان محمد لاہور، (۲۶) حافظ محمد حیات انگوی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خوشاب، (۲۷) قاری سعید احمد خوشاب، (۲۸) حاجی وزیر محمد، (۲۹) محمد اعظم ٹنڈو آدم، (۳۰) علی نواز، (۳۱) حافظ محمد حسین، (۳۲) ڈاکٹر محمد عاشق قصور، (۳۳) عبدالحمید جھنگ، (۳۴) مولانا غلام حسین جھنگ، (۳۵) غازی محمد سلطان ٹیپو گوجرانوالہ، (۳۶) خالد اقبال ہری پور ہزارہ، (۳۷) عبدالوحید خان، (۳۸) مولانا بشیر احمد سکھر، (۳۹) اللہ دتہ شورکوٹ، (۴۰) عبدالحمید گوجرانوالہ، (۴۱) ظفر اللہ شفیق لاہور، (۴۲) غلام مصطفیٰ بہاول نگر، (۴۳) حکیم محمد اسماعیل عاصم بہاول نگر، (۴۴) رشید احمد نور پوری بہاول پور، (۴۵) محمد اسحاق ساقی بہاول پور، (۴۶) سید محمد انور بہاول پور، (۴۷) مولانا ضیاء الدین آزاد فیصل آباد، (۴۸) ممتاز الحسن گیلانی فیصل آباد، (۴۹) حبیب الرحمٰن ہری پور (۵۰) محمد شبیر خان اسلام آباد، (۵۱) حافظ محمود الحسن اسلام آباد، (۵۲) غلام مرتضیٰ اسلام آباد، (۵۳) فخر الاسلام اٹک شہر، (۵۴) ملک عتیق الرحمٰن اٹک شہر، (۵۵) سید عادل ممتاز حسین اٹک شہر، (۵۶) محمد عارف اٹک شہر، (۵۷) حافظ حفیظ الرحمٰن رحمانی ٹنڈو آدم، (۵۸) ابو معاویہ خواجہ محمد زاہد ڈیرہ اسماعیل خان، (۵۹) محمد عبدالحئی جام پور، (۶۰) احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، (۶۱) احمد بخش شجاع آباد، (۶۲) مولانا عبدالواحد بلوچستان، (۶۳) انوار الحق حقانی کوئٹہ، (۶۴) راؤ محمد حنیف خان میانوالی، (۶۵) چوہدری شان احمد ولد سلطان خان سرگودھا، (۶۶) حافظ محمد یوسف گوجرانوالہ، (۶۷) چوہدری غلام نبی گوجرانوالہ، (۶۸) عبدالمتین، (۶۹) عبدالقدوس گوجرانوالہ، (۷۰) علی محمد جاوید، (۷۱) محمد جاوید گوجرانوالہ، (۷۲) محمد لقمان گوجرانوالہ، (۷۳) محمد جہانگیر خوشاب، (۷۴) حافظ محمد اسلم میانوالی، (۷۵) محمد عبدالسلام بہاول پور، (۷۶) غلام سرور مسلم کالونی چناب نگر، (۷۷) محمد صفدر کنری سندھ، (۷۸) اصغر علی انوری سیالکوٹ، (۷۹) مہتاب احمد لاہور، (۸۰) قاری محمد حسن اسلام آباد، (۸۱) قاری حضرت گل بنوں، (۸۲) محمد ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۸۳) عبدالجبار خانقاہ سراجیہ میانوالی، (۸۴) محمد اشرف لاہور، (۸۵) خادم علماء دیوبند محمد عدیل خیر پور میرس، (۸۶) حاجی مہربان ڈیرہ اسماعیل خان، (۸۷) مولوی منشاء احمد جنڈانوالہ، (۸۸) صاحبزادہ محمد عابد خانیوال (۸۹) محمد اشرف، (۹۰) مولانا صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان، (۹۱) مولانا محمد راشد مدنی ٹنڈو آدم، (۹۲) عبدالرحمٰن ظفر ٹھینگی ضلع وہاڑی، (۹۳) امام الدین قریشی مظفر گڑھ، (۹۴) اشتیاق احمد جھنگ، (۹۵) مولوی فاروق احمد پنوں عاقل، (۹۶) نور محمد مجاہد لودھراں، (۹۷) رضا محمد شیخ پنوں عاقل، (۹۸) رانا شوکت حیات خانیوال، (۹۹) محمد عبدالرشید رحیم یار خان، (۱۰۰) ساجد اعوان ایبٹ آباد، (۱۰۱) محمد اورنگزیب اعوان ہری پور، (۱۰۲) اعجاز احمد ایبٹ آباد، (۱۰۳) حافظ عبدالرحمٰن ایبٹ آباد، (۱۰۴) محمد سعید اللہ راولپنڈی، (۱۰۵) اعجاز بلوچ لاہور، (۱۰۶) محمد سعد موسیٰ زئی شریف، (۱۰۷) مولوی محمود الحسن قریشی ڈیرہ اسماعیل خان، (۱۰۸) مولانا اللہ وسایا ملتان۔
- ۱....... سب سے پہلے حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کے حکم پر مولانا اللہ وسایا نے گزشتہ اجلاس مجلس عمومی منعقدہ مسلم کالونی
چناب نگر مورخہ یکم ربیع الاول ۱۴۰۹ھ مطابق ۱۴/اکتوبر ۱۹۸۸ء بروز جمعتہ المبارک کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ جسے تمام شرکاء اجلاس نے بالاتفاق توثیق و تصویب سے نوازا۔
- ۲....... مجلس عمومی کے اجلاس میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھی جناب مرزا غلام نبی جانباز دو سال کی طویل
علالت کے بعد پہلی بار کسی عام اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ دو سال بعد ان کا حاضرین سے پہلا خطاب تھا۔ اس لئے ہاؤس کی خواہش پر
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہوں نے ایک نظم پڑھی۔
- ۳...... حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر مدظلہ العالی طویل علالت، نقاہت، بڑھاپے کے بعد اس اجلاس کی اہمیت کے پیش نظر تشریف
لائے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری کی درخواست پر انہوں نے ابتدائی پرمغز خطاب فرمایا۔ انہوں نے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بزرگوں کی میراث ہے۔ اکابر امت ایک ایک کر کے چلے گئے لیکن اب بھی ہم فضاؤں میں ان کی آواز سن رہے ہیں کہ اے ہمارے نام لیواؤ! ہم نے جو چراغ جلایا تھا یہ بجھنے نہ پائے۔ مرزائیت ایسے قبیح اور خطرناک فتنہ کے خلاف مسلمانوں کے جذبات کی بھٹی جو ہم نے گرم کی تھی اس میں اپنی اپنی استطاعت سے برابر ایندھن ڈالتے رہو تا کہ یہ سرد نہ ہونے پائے۔
آپ نے فرمایا کہ الحمد للہ ! تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ قیامت کے دن ہم اکابر کے سامنے سرخرو ہوں گے کہ جو مشن انہوں نے ہمارے ذمہ لگایا تھا اس کو ہم نے آگے بڑھایا ہے اور آج اللہ رب العزت کا فضل ہے کہ ہمارے اکابر کی محنتیں رنگ لا رہی ہیں اور ہم ان محنتوں کے ثمرات کو سلیقہ سے سمیٹ کر آنے والی نسل کے سپرد کر کے بار امانت سے عہدہ برآ ہورہے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ بزرگوں کی اس امانت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو سنبھالنا اس کی آبیاری کرنی اس کی نشوونما میں جان کھپانا حاضرین آپ کا فرض ہے۔ اس فرض کو فرض منصبی سمجھ کر نبھائیے ، آگے بڑھئے کام کو سنبھالئے۔ اس فتنہ کے دور میں اس پلیٹ فارم کی آب و تاب کو زنگ لگنے سے بچائیے ۔ اپنے ایمان اور یقین سے اسے مزید جلا بخشئے تاکہ اس کی روشنی دنیا کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکے۔
- ۴...... گزشتہ تین سال کی عالمی مجلس کی اجمالی رپورٹ اس کے کام کی رفتار، تبلیغ ، نشر واشاعت، تنظیم ، اندرون و بیرون ملک میں
قادیانیت کے خلاف احتساب کی سرگزشت مولانا اللہ وسایا نے پیش کی۔
- ۵...... حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اس کے بعد خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج سے ٹھیک تین سال قبل عالمی مجلس تحفظ ختم
نبوت کی مجلس عمومی کا یہاں پر اسی روز ، اسی وقت ، اسی مسجد میں اجلاس ہوا تھا۔ آج تین سال بعد پھر یہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔ کام کی اہمیت و رفتار، رپورٹ وغیرہ میرے گرامی قدر رفقاء مولانا عبدالرحیم اشعر اور (مولانا) اللہ وسایا نے آپ کے سامنے پیش کی ہے۔ مجھے کوئی نئی بات نہیں کہنا ہے۔ میں صرف چند باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو یوم تاسیس سے یہ شرف حاصل ہے۔ اس کی سربراہی ہمیشہ اولیاء کرام اور وقت کے علماء کے ہاتھ میں رہی ہے۔ اس پر جتنا آپ اور میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کریں کم ہے۔ الحمد للہ ! کہ ہمارے کام کا قبلہ صحیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم تاسیس سے لے کر اس گھڑی تک نامساعد حالات کے باوجود عالمی مجلس کا کام آگے بڑھ رہا ہے۔ محنت رنگ لا رہی ہے۔ ہر محاذ پر چاہے وہ تبلیغ کا ہو یا نشر واشاعت کا۔ مقدمات کا ہو یا تحریک کا۔ اندرون ملک کا ہو یا بیرون ملک کا۔ ہمیں کامیابیاں نصیب ہورہی ہیں۔ دشمن ہر محاذ پر شکست سے صرف دو چار نہیں ہو رہا بلکہ منہ کی کھا رہا ہے۔
میں علی وجہ البصیرت اپنے بزرگوں کی موجودگی میں یہ عرض کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے کام کو اللہ رب العزت نے جس طرح شرف قبولیت سے نوازا ہے۔ اس کی پذیرائی فرمائی ہے۔ یہ ہمارے لئے دنیا میں عزت اور آخرت کے لئے توشہ ہے۔ آپ سب حضرات، جماعت کے تمام رفقاء، میرے مبلغین بھائیوں کی شبانہ روز کی محنت اور جہد مسلسل اللہ رب العزت کی رحمت،
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رحمت عالم ﷺ کی تو جہات اور بزرگوں کے اخلاص کا صدقہ ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ ہم اتنا کام نہیں کر پائے جتنا درکار تھا۔ لیکن جتنا ہوا ہے اتنا کوئی بھی نہ کر سکا۔ دیکھئے آج سر زمین ربوہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیادت و سعادت وامارت و نائب امارت کا چناؤ محض اللہ رب العزت کا فضل نہیں تو اور کیا ہے۔ آپ ربوہ کی اس بستی کے ماحول میں آنکھیں بند کر کے ماضی کے اوراق کی ورق گردانی کریں کہ ہم یعنی ہمارے اکابر کہاں سے چلے تھے اور آج کہاں پہنچے ہیں اور مرزائیت کہاں سے چلی تھی اور کہاں پہنچی ہے۔ آپ سرخرو وہ روسیاہ، آپ کامیاب وہ نامراد، آپ آگے بڑھے وہ پیچھے ہٹے، آپ ان کے گھر ربوہ پہنچے وہ اپنا گھر چھوڑ کر لندن جادھمکے۔ اس پر سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ : ”الحق یعلوا ولا یعلی یا قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“
مجھے آپ حضرات کا زیادہ وقت نہیں لینا لیکن یہ کہے بغیر بات نہ مکمل ہوگی کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صلحائے امت، بلکہ اجازت دیجئے کہ میں آپ سے یہ کہہ سکوں کہ قدرت حق کی طرف سے امت کے منتخب افراد کی یہ امانت ہے اور میں اللہ رب العزت کے گھر میں کھڑے ہو کر آپ سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ پروردگار عالم کی قسم یہ امانت ہمیں اپنے ایمان کی طرح عزیز ہے۔ اس کا ضیاع ہم اپنے ایمان کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ دنیا و آخرت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ ہم کمزور ہیں، ناتواں ہیں، بے کس ہیں، نادار ہیں۔ حکومت وقت ہمارے ساتھ نہیں۔ ہم میں بے شمار کمیاں کوتاہیاں ہیں لیکن الحمد للہ! بد نیت یا اس مشن کے ساتھ غیر مخلص نہیں ہیں۔ کام آگے بڑھ رہا ہے۔ آپ کو مجھے احساس نہ ہو لیکن دشمن سے پوچھئے اپنے مد مقابل سے سوال کیجئے کہ ان کے دل پر کیا بیت رہی ہے۔ آپ کا ہر قدم دشمن کے سینے پر پڑتا ہے۔ آپ کا ہر لفظ ان کے سینے کو چھلنی کر رہا ہے۔ آپ کی ہر آواز ان کے لئے سوہان روح ہے۔ آپ کا دشمن ڈھیٹ ہے۔ وہ اپنی دلی کیفیت زبان پر لانے سے ہچکچاتا ہے۔ لیکن اس کا اندر اس کے ایمان کی طرح کھوکھلا ہو چکا ہے۔
میرے قابل احترام رفقاء! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابر نے درد دل اور اخلاص نیت کے ساتھ جماعت کی بنیاد رکھی تھی۔ ملتان کی ایک کوٹھڑی سے اٹھنے والی ایک نحیف آواز آج چار دانگ عالم پہنچ چکی ہے۔ اس کی صدائے بازگشت حکومت کے ایوانوں میں گونج رہی ہے اور رحمت کردگار اس آواز کو مزید عالم گیر بنا رہی ہے اور ”اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء“ کی عملی تفسیر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
میرے قابل قدر حاضرین! مجھے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس مجلس عمومی کے اجلاس میں یہ آپ کے دلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ کہنا ہے اور یہ میں سمجھتا ہوں کہ میں آپ سب کی طرف سے اللہ رب العزت کے حضور ایک عہد کو دہرا رہا ہوں کہ ضابطہ و دستور کے لحاظ سے تو ہم اپنے امیر مرکزیہ و نائب امیر اوّل کے انتخاب کے لئے یہاں پر جمع ہیں۔ لیکن یہ محض دستوری کارروائی ہے۔ ہم لوگ دراصل ہر تین سال بعد تجدید عہد کرتے ہیں۔ اپنے امیر کو اپنی طرف سے مکمل سمع و طاعت کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ اس جذبہ سے کہ بیٹا اپنے باپ کی اتنی عزت و اطاعت نہیں کر سکے گا جتنا ہم اپنے امیر کی اطاعت کریں گے۔ (اس پر سامعین میں وجد کی ایک کیفیت طاری ہوئی اور سب نے بلند آواز سے صدقت صدقت کی صدا بلند کی )
رفقاء و حاضرین! حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے سانحہ ارتحال کے بعد جس طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا بوجھ اٹھانے کے لئے اپنے کندھے پیش کئے، بڑھاپے، مصروفیات کے باوجود
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت کے کام کو، مشن کو اس کارخیر کو، جس طرح آگے بڑھایا ، اس کارروائی میں جس طرح سرپرستی فرمائی ، اس کے لئے اپنی راحتوں کو قربان کیا، اس پر جتنا اللہ رب العزت کا شکر ادا کریں کم ہے۔ ہم ایسے یتیم و مسکین لوگوں کے سروں پر دست شفقت رکھا یہ ”ید اللہ علی الجماعت“ کا پرتو نہیں تو اور کیا ہے۔
دیکھئے! آج سے چودہ سو سال قبل رحمت عالم ﷺ نے ایک درخت کے نیچے اپنے صحابہ کرام ؓ سے ایک بیعت لی تھی۔ جس کے نقشے خداوند کریم نے قرآن مجید میں ہمیشہ کے لئے بیان کر کے آنے والی مسلمان قوم کے لئے مشعل راہ بنا دیا ۔ وہ بیعت رضوان تھی۔ خدا تعالیٰ کا پیغمبر مال و جان کی بیعت لے رہا تھا ۔”اذ یبایعونک تحت الشجرہ، ید اللہ فوق ایدیہم“ آئیے رفقاء کرام رحمت عالم ﷺ کے صحابہ کرام سے ایک ادنیٰ تعلق قائم کرنے کے لئے ان کے نقش قدم پر چلنا تو ہمارے لئے دعویٰ کرنا بھی مشکل ہے۔ لیکن ان کی سنت ادا کرنے کے لئے یا کم از کم ان کی سنت کی نقل اتارنے کے لئے شاید اللہ رب العزت اس نقل کو اصل سے جوڑ دیں ۔ انہی حضرات کی رحمتوں سے ہمیں کچھ حصہ مل جائے ۔ رحمت عالم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے دم عثمان ؓ اور حرمت کعبہ کی بیعت لی تھی ۔ آج رسول مقبول ﷺ کے ایک غلام اور میرے اور آپ کے مخدوم مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی ذات گرامی پر اعتماد کے لئے آ گئے ۔ بڑھئے ! فضا میں ہاتھ لہرائیے ۔ اللہ رب العزت کے گھر میں وعدہ کیجئے کہ ہم ناموس مصطفیٰ ﷺ کے تحفظ کے لئے دشمن سے اس وقت تک نبرد آزما رہیں گے جب تک ہماری جانوں میں جان ہے اور رگوں میں خون ۔ ہم دشمن پیغمبر کو چین سے نہ بیٹھنے دیں گے ۔ اس کے ہر شیطانی منصوبہ ، ہر طاغوتی سازش کو ناکام بنائیں گے ۔ آپ لوگ ہاتھ اٹھائیں رحمت حق بھی اس کا نظارہ دیکھے اور خدام ختم نبوت میں آپ کا نام بھی لکھا جائے ۔
مولانا کی ایمان پرور تقریر نے وجدانی کیفیت پیدا کر دی۔ سامعین کا ہر شخص تجدید عہد کے لئے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ اجتماع میں سمندر کا مدوجزر پیدا ہوا۔ جذبات سمندر کے اس ارتعاش کو روکتے ہوئے مولانا نے ضابطہ کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دستور کی دفعہ نمبر ۷ ، شق نمبر ۱ کو پڑھا اور پھر اس کی روشنی میں آئندہ تین سال کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ کا انتخاب کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا اسم گرامی اور دستور کی دفعہ نمبر ۷ ، شق نمبر ۱ کے تحت نائب امیر اوّل کے لئے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم کا اسم گرامی تجویز کیا۔ پورے ہاؤس نے باالاتفاق تائید کے لئے ہاتھ بلند کئے۔ ایک بھی شخص نے اس کے خلاف ایک لفظ تک نہ کہا۔ اس بھر پور تائید اور توثیق تجدید عہد نے ایک بار پھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اتفاق کی سابقہ روایات کو زندہ کر دیا گیا ۔ فلحمد للہ علٰی ذالک !
حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کمال مہربانی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے اپنے بوڑھے کندھے ایک بار پھر پیش کر دیئے ۔ حاضرین و سامعین کی ایمانی خوشی قابل دید تھی۔ عالمی مجلس کے سابق نائب امیر اوّل حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن صاحب مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کے ساتھ حضرت اقدس نے تمام رفقاء و حاضرین کے لئے اخلاص عمل ، حسن خاتمہ کی دعا فرمائی ۔ یوں تقریباً گیارہ بج کر دس منٹ پر یہ اجلاس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
اس کے بعد حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر مرکزیہ نے دستور کی دفعہ نمبر ۹ ، ۱۰ کی تمام شقوں کے مطابق آئندہ تین سال کے لئے دیگر مرکزی عہدیداران و مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین کی نامزدگی فرمائی ۔ اسمائے گرامی مرکزی
تحریک ختم نبوت جلد (۵) ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عہدیداران و اراکین مرکزی شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔
- ۱...... حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہ امیر مرکزیہ
- ۲...... حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب زید مجدہ نائب امیر اوّل
- ۳...... حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب زید مجدہ نائب امیر دوم
- ۴...... حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب زید مجدہ ناظم اعلیٰ
- ۵...... حضرت مولانا بشیر احمد صاحب زید مجدہ ناظم تبلیغ
- ۶...... حضرت صاحبزادہ طارق محمود زید مجدہ ناظم نشر و اشاعت
- ۷...... حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب زید مجدہ ناظم
- ۸...... حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب زید مجدہ خازن
مندرجہ بالا حضرات بلحاظ عہدہ مرکزی شوریٰ کے رکن بھی ہوں گے۔ ان کے علاوہ مزید اراکین شوریٰ یہ ہیں:
- ۹...... حضرت مولانا محمد یوسف صاحب برطانیہ ۱۰...... حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ابوظہبی
- ۱۱...... حضرت سید انور حسین نفیس صاحب لاہور ۱۲...... محترم جناب سعید احمد صاحب ری یونین
- ۱۳...... حضرت راجہ حبیب الرحمن صاحب سپین ۱۴...... حضرت مولانا محمد بنوری صاحب کراچی
- ۱۵...... حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی ۱۶...... حضرت مولانا منیر الدین صاحب کوئٹہ
- ۱۷...... حضرت مولانا انوار الحق حقانی صاحب کوئٹہ ۱۸...... حضرت مولانا عبدالواحد صاحب کوئٹہ
- ۱۹...... حضرت مولانا احمد میاں صاحب حمادی ٹنڈو آدم ۲۰...... حضرت الحاج عبدالرحمن یعقوب باوا کراچی
- ۲۱...... محترم الحاج لال حسین صاحب کراچی ۲۲...... حضرت حکیم محمد یونس صاحب راولپنڈی
- ۲۳...... حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب راولپنڈی ۲۴...... حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب اسلام آباد
- ۲۵...... حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد گوجرانوالہ ۲۶...... حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی فیصل آباد
- ۲۷...... محترم الحاج فرزند علی صاحب سکھر ۲۸...... محترم الحاج قاضی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ
- ۲۹...... محترم الحاج بلند اختر نظامی لاہور ۳۰...... حضرت مولانا نور الحق صاحب پشاور
- ۳۱...... محترم الحاج سیف الرحمن صاحب بہاول پور ۳۲...... حضرت مولانا فیض اللہ صاحب میر پور خاص
- ۳۳...... محترم صوفی ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان ۳۴...... حضرت اقدس مولانا فیض احمد صاحب ملتان
- ۳۵...... حضرت الحاج اشتیاق احمد صاحب جھنگ ۳۶...... حضرت قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان
- ۳۷...... حضرت مولانا قاضی عبدالمالک جہاوریاں سرگودھا ۳۸...... حضرت مفتی ڈاکٹر نظام الدین شامزئی کراچی
فقیر خازن اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز
نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر و تحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خدا داد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ وتحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۹۷۴ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق و محبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور، جہاد آفرین بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ انداز نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔
یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات، پس پردہ حقائق، ہوش ربا انکشافات، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھر پور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت و محبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت وحمیت کی ایسی پرسوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہوگی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین
محمد متین خالد لاہور