بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خَتْمِ نُبُوَّت زِنْدَہ بَاد
انگریزی نبی
مُرَتِّبَہ
منظور احمد چنیوٹی
پرنسپل جامعہ عربیہ ، چنیوٹ
ضلع جھنگ
جاوید سنٹر کتابت فیصل آباد
چیلنج
حوالہ غلط ثابت کرنے والے کو فی حوالہ مبلغ -/۱۰۰۰ روپیہ انعام
دیا جائیگا
- ۱ —— مرزا صاحب انگریزی روپ میں
- ۲ —— نئے زاویہ سے مرزا صاحب کی نبوت سے نقاب کشائی
- ۳ —— انگریزی خدا کے انگریزی فرشتے کے ذریعہ انگریزی الہامات
- ۴ —— انگریزوں کی خوشامد، کاسہ لیسی اور ان کی خاطر حرمت جہاد
- ۵ —— انگریزوں کیلئے عاجزانہ دعائیں جو پوری نہ ہوسکیں
مرتبہ منظور احمد پرنسپل ۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ ناشر: ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ
خود فیصلہ کیجئے
حامداً ومصلیاً
انگریز ہندوستان میں تجارت کا عیارانہ روپ دھار کر وارد ہوئے اور انہوں نے بتدریج حکمت عملی اور سازشانہ پالیسی کے تحت بڑی دسیسہ کاریوں اور حیلہ بازیوں سے اپنا استیلاء وتسلط قائم کیا ملت اسلامیہ کی آخری تلوار سلطان ٹیپو رحمۃ اللہ تعالیٰ کی شہادت کے بعد انگریزوں کے قدم جم گئے۔
۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں حریت پرور مسلمانوں نے آخری سنبھالا لینے کی بھرپور کوشش کی لیکن انگریزوں نے پنجاب کے غداران ازلی (جن میں غلام احمد قادیانی کا خاندان سر فہرست تھا) کی وساطت سے اس شعلۂ مستعجلہ کو ظلم وستم کی صرصر سے بجھا دیا اور سلطنت مغلیہ کا آخری ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی رنگون کی سرزمین میں گُل ہوگیا۔
تحریک آزادی تو ختم ہو کر رہ گئی لیکن انگریزوں کا ظلم وستم ۔ بہیمانہ سفاکی و عیاری قلوب ملت اسلامیہ میں ناسور بن گئے
انگریزوں کی عیارانہ نگاہیں اُن چنگاریوں سے غافل نہ تھیں جو دلوں کی خاکستر میں سلگ رہی تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ کسی
وقت بھی یہ شرر شعلہ جوالہ بن سکتا ہے۔ بنا بریں انگریزوں نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی منافقانہ پالیسی وضع کی۔ انگریز یہ جانتا تھا کہ جب تک ملت اسلامیہ سے جذبہ جہاد ، وحدت ملی ، ایمان و یقین کامل ، کتاب و سنت سے والہانہ شیفتگی اور عقیدہ ختم نبوت ختم نہیں کیا جائے گا۔ اس وقت تک ہمارا سامراجی نظام دیر پا اور مستحکم نہیں ہو سکتا۔
ان اغراض مشئومہ اور مقاصد ملعونہ کی تکمیل کے لئے انہوں نے ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت سرکاری وحی اور سرکاری نبی پیدا کئے اپنے وفاداران قدیمہ کے ایک قادیانی خاندان سے ایک آدمی چنا جسے مذکورہ الصدر یہ مقاصد کی تکمیل کے لئے آلہ کار بنایا گیا۔ تاکہ وہ ملت میں افتراق و انتشار پیدا کرے۔ اور جذبہ جہاد کے فنا کرنے کے لئے الہامات وضع کرے۔ نیز اس ملک میں انگریزوں کی جاسوسی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ان تمام مجاہدین ملت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے جو انگریزی حکومت کے لئے کسی وقت بھی خطرہ ہو سکتے ہیں۔
قارئین کرام : مرزا غلام احمد قادیانی نے محدثیت مہدویت ، مسیحیت اور نبوت کے حسین و دلپذیر پردے اوڑھ کر انگریز کی وفاداری ، خوشامد ، کاسہ لیسی ملت اسلامیہ سے غداری ، حرمت جہاد جیسے اغراض فاسدہ کی تکمیل کی۔
اور اس دور میں جب کہ پورے ہندوستان میں سامراجی تسلط کے خلاف نفرت اور بیزاری کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ اور برطانوی سنگھاسن ڈول رہا تھا۔ مرزا غلام احمد آنجہانی انگریزوں کی حمایت و تائید میں پچاس ہزار کتابیں جن سے پچاس الماریاں بھر جائیں شائع کر رہے تھے انہی غداریوں کی داستان اور مرزا صاحب کی انگریزی نبوت کی روئداد مولانا منظور احمد صاحب نے مرزا صاحب کی مستند کتابوں سے بقید صفحات ان کے اپنے الفاظ میں بڑی دیدہ ریزی اور کاوش سے مرتب کی ہے ۔ تاکہ اُمت مسلمہ پر مرزا صاحب کی اصل حقیقت منکشف ہو جائے۔ دراصل مولانا موصوف نے ان کے چہرے سے منافقت کا نقاب سرکا دیا ہے۔ تاکہ آپ مرزا صاحب کو اصلی روپ میں ملاحظہ فرمائیں۔
شاید اس کو پڑھ کر اُمت مرزائیہ میں کوئی سعید روح چونک پڑے اور دائرۂ اسلام میں آجائے ۔
انگریزوں کی اسلام دشمنی، ممالک اسلامیہ میں ان کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں، مقامات مقدسہ کی بے حرمتی، ملت اسلامیہ کے ساتھ ان کے سفاکانہ طرز عمل کو سامنے رکھتے ہوئے ذرا اس انگریزی نبی کی خوشامد، کاسہ لیسی، شکرانے، ان کے استحکام کے لئے عاجزانہ دعائیں اور انگریزی اقتدار کے مخالفین کو مرصع گالیاں ملاحظہ فرما کر خود فیصلہ کریں کہ ایسا شخص جو ملت اسلامیہ کا غدار اعظم ہو۔ نبی تو نبی رہا، ایک معقول آدمی بھی ہو سکتا ہے ؟؟
گزشتہ سالانہ جلسہ کے موقعہ پر اس پمفلٹ کے فاضل مرتب مولانا منظور احمد صاحب نے "خود فیصلہ کیجئے" پمفلٹ شائع کیا تھا جس میں مرزا صاحب کے اکاذیب باطلہ مسلمانوں کو مرصع گالیاں ، غیر محرم عورتوں سے اختلاط کے عجیب و غریب مستند حوالے مرزا صاحب کی اپنی کتابوں سے مرتب کر کے پیش کئے تھے اس کا جواب تا حال اُمت مرزائیہ نہیں دے سکی ۔
اب یہ پمفلٹ چیلنج بن کر پھر نمودار ہو رہا ہے ۔ اگر کوئی مرزائی اس کے ایک حوالے کو غلط ثابت کر دے تو فی حوالہ ایک ہزار روپیہ انعام حاصل کریگا
ابو المظفر حبیب الغفور خطیب مسجد شیخان چنیوٹ
ارشادِ ربّانی اَور مرزا قادیانی
يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَالنَّصٰرَى اَوْلِيَآءَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ط
"اے ایمان والو! مت بناؤ یہود و نصاریٰ کو دوست وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ ان ہی میں سے ہے ۔ (پ ۶ ۔ ع ۱۱)
اب مرزا کی کہانی پڑھیے پھر ارشادِ ربّانی کی روشنی میں سوچیے کہ کیا مرزا "انگریزی نبی" نہیں تھا ــــــــــــ ؟
مرزا صاحب کی کہانی خود اُن کی زبانی
(۱) میں کس کی تحریک سے آیا ؟
"اے بابرکت قیصرہ ہند (ملکہ وکٹوریہ) تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے ۔ کہ تا پرہیزگاری اور پاک اخلاق اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں "
(ستارہ قیصرہ ، صفحہ ۱۵)
(۲) میں کس کا لگایا ہوا پودا ہوں ؟
"یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ (برطانیہ) کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے
سرکار انگریزی کے خیرخواہ اور خدمت گزار رہے ۔ اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم واحتیاط سے اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت و مہربانی کی نظر سے دیکھیں“
(تبلیغ رسالت، جلد۷، صفحہ ۱۹)
(۳) میں کس مقصد کے لئے آیا ؟
”اس نے (خدا تعالیٰ) اپنے قدیم وعدہ کے موافق جو مسیح موعود کے آنے کی نسبت تھا ۔ آسمان سے مجھے بھیجا تا میں اس مرد خدا کے رنگ میں ہو کر جو بیت اللحم میں پیدا ہوا اور ناصرہ میں پرورش پائی، حضور ملکہ معظمہ (وکٹوریہ) کے نیک اور با برکت مقاصد کی اعانت میں مشغول ہوں اس نے مجھے بے انتہا برکتوں کے ساتھ چھوا اور اپنا مسیح بنایا تا وہ ملکہ معظمہ (وکٹوریہ) کے پاک اغراض کو خود آسمان سے مدد دے “
(ستارۂ قیصرہ، صفحہ ۱۰)
(۴) دو نُور ۔ (نُور نُور کو کھینچتا ہے)
”اے ملکہ معظمہ (وکٹوریہ) تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں ۔ اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے جس سے آسمان رحمت کے فرشتے زمین کی طرف جھکنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا
اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور (مرزا صاحب) نازل کیا کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔"
(ستارہ قیصره ، صفحہ ۱۱ )
(۵) میرا مذہب
" سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے ۔"
(شہادة القرآن ، صفحہ ۸۶)
خاندانی خدمات
والد صاحب
(۶) گورنری دربار میں کرسی
" والد صاحب مرحوم اس ملک کے معزز زمینداروں میں سے شمار کیے جاتے تھے ۔ گورنری دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی اور گورنمنٹ برطانیہ کے وہ سچے شکر گزار اور خیر خواہ تھے ۔"
(ازالہ اوہام ، صفحہ ۵۸)
انگریزوں سے وفاداری اور خدمات
میرے والد مرحوم کی سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں جو وہ خلوصِ دل سے اس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں بجا لاتے انہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ (برطانیہ) کی خدمت گزاری میں اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت وہ صدق اور وفاداری دکھلائی کہ جب تک انسان سچے دل اور تہ دل سے کسی کا خیر خواہ نہ ہو ہرگز دکھلا نہیں سکتا ۔
(شہادت القرآن ، صفحہ ۸۴)
(۸)
چونسٹھ ۶۴ گھوڑے اور چونسٹھ ۶۴ سوار !
" ۱۸۵۷ء (سن ستاون) کے مفسدہ میں جب کہ بے تمیز لوگوں نے اپنی محسن گورنمنٹ (برطانیہ) کا مقابلہ کر کے ملک میں شور ڈالا تھا تب میرے والد بزرگوار نے پچاس ۵۰ گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس ۵۰ سوار بہم پہنچا کر گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کیئے ۔ اور پھر ایک دفعہ چودہ ۱۴ سوار دے خدمت گزاری کی ۔ اور انہی مخلصانہ خدمات کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ میں ہر دلعزیز ہو گئے چنانچہ جناب گورنر جنرل کے دربار میں عزت کے ساتھ ان کو کرسی ملتی تھی ۔ اور ہر ایک درجہ کے حکام انگریزی بڑی عزت اور دلجوئی سے پیش آتے تھے "
(شہادت القرآن ، صفحہ ۸۴)
(۹) اپنی تمام عمر،
” اور انھوں (والد صاحب) نے میرے بھائی کو صرف گورنمنٹ کی خدمت گزاری کے لئے بعض لڑائیوں پر بھیجا اور ہر ایک باب میں گورنمنٹ کی خوشنودی حاصل کی اور اپنی تمام عمر نیک نامی کے ساتھ بسر کر کے اس ناپائیدار دنیا سے گزر گئے !“
(شہادت القرآن ، صفحہ ۴۸)
بڑا بھائی
(۱۰) گورنمنٹ کی مخلصانہ خدمت
”اس عاجز کا بڑا بھائی مرزا غلام قادر جس قدر مدت تک زندہ رہا اس نے بھی اپنے والد مرحوم کے قدم پر قدم مارا ۔ اور گورنمنٹ (برطانیہ) کی مخلصانہ خدمت میں بدل وجان مصروف رہا ۔ پھر وہ بھی اس مسافر خانے سے گزر گیا !“
(شہادت القرآن ، صفحہ ۴۸)
حکومت برطانیہ کی خدمات
اور
وفاداریاں
(١١)
بیس برس
”میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا۔ اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا “
(تریاق القلوب، صفحہ ۲۷)
(١٢)
ساٹھ برس کی عمر تک اہم کام
”دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں، کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔“
(تبلیغ رسالت جلد ۷، صفحہ ۱۰)
(۱۳) میری کوشش
" میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت (برطانیہ) کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں "
(تریاق القلوب، صفحہ ۲۵)
(۱۴)
پچاس الماریاں
" اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل و کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں "
(تریاق القلوب صفحہ ۲۵)
(۵۰,۰۰۰)
پچاس ہزار کتابیں
" مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلام میں اس
مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے ۔ اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اُردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں اور یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکے اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کر دیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکتا۔"
(ستارہ قیصرہ صفحہ ۷)
(١٦) عمر کا اکثر حصہ
میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے"
(تریاق القلوب، صفحہ ۲۵)
- (۱۷)
انگریزوں کی خاطر
حُرمتِ جہاد ،
خُدا اور رسُول کا نافرمان
" آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا ۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اُٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اُس کے رسول کا نافرمان ہے ۔
(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ، صفحہ ب ، ت ، ضمیمہ خطبہ الہامیہ)
- (۱۸)
ہرگز جہاد درست نہیں
" میں نے بیسیوں کتابیں عربی ، فارسی اور اُردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں ۔ کہ اس گورنمنٹ محسنہ (برطانیہ) سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرفِ زرِ کثیر چھاپ کر بلاد اسلام میں پہنچائی ہیں ۔ اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے "
( تبلیغ رسالت ، جلد ششم ، صفحہ ۶۵)
(۱۹) جہاد قطعاً حرام ہے
”آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے کیوں کہ مسیح آچکا ۔ خاص کر میری تعلیم کے لحاظ سے اس گورنمنٹ انگریزی کا سچا خیرخواہ اس کو بننا پڑتا ہے “
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ضمیمہ صفحہ ۷ )
دُشمن ہے وُہ خدا کا جو کرتا ہے اَب جہاد
دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دُشمن ہے وُہ خدا کا جو کرتا ہے اَب جہاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، صفحہ ۳۹)
انگریزوں کے مخالف
مسلمانوں کو
نازیبا گالیاں
(۲۱) بعض احمق
" بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں سو یاد رہے یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا "
(شہادت القرآن، صفحہ ۸۶)
(۲۲) شریر اور بدذات
" تیرے (وکٹوریہ) عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اٹھ رہے ہیں تا تمام ملک کو رشک بہار بنا دیں، شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کی قدر نہیں کرتا "
اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گزار نہیں !!
(ستارہ قیصریہ ، صفحہ ۱۵)
(۲۳) ایک حرامی اور بدکار
”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن (گورنمنٹ برطانیہ) کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے ۔“
(شہادۃ القرآن صفحہ ۸۴)
(۲۴) سخت بدذاتی !!
”ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے تم چاہو دل میں مجھے کچھ کہو ۔ گالیاں نکالو یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو مگر میرا اصول یہی ہے ۔ کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہو سکے سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے ۔“
(تریاق القلوب ، صفحہ ۲۷)
(۲۵) سخت نادان بدقسمت اور ظالم
"اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہیں میں اُن کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں"
(تریاق القلوب، صفحہ ۲۶)
(۲۶) سخت جاہل اور سخت نالائق !
"سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ (برطانیہ) سے کینہ رکھے"
(ازالہ اوہام، صفحہ ۲۱۱)
انگریزوں کی خوشامد
اور
کاسہ لیسی
خدا اور فرشتے ملکہ کی تائید میں ؛
"اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردئ رعایا نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں"
(ستارہ قیصرہ، صفحہ ۵)
انگریزی حکومت (۲۸) کا قلعہ اور تعویذ
” پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ (قلعہ) کے ہوں جو آفتوں سے بچا سکتا ہے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچا دے اور تو ان میں ہو ۔ پس اُس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں ۔ اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی ۔ اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے “
(نور الحق حصہ اول ، صفحات ۳۳ ، ۳۴)
میری اور میری (۲۹) جماعت کی پناہ
خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت (برطانیہ) کو بنا دیا ہے ۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے ۔ نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے اور نہ مدینہ میں
اور نہ سلطان روم کے پایۂ تخت قسطنطنیہ میں ”
(تریاق القلوب، صفحہ ۲۶)
(۳۰) ہرگز ممکن نہ تھا
"اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے۔ مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر سایہ انجام پذیر ہو سکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی ”
(تحفہ قیصریہ، صفحہ ۲۷)
(۳۱) انگریزوں کا شکر خدا تعالیٰ کا شکر ہے
” خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا ۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ (برطانیہ) کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جب کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں
کو بطور نعمت کے عطا کر دے۔ درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیزیں ہیں۔ اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، اور ایک کو چھوڑنے سے دوسری چیز کا چھوڑنا لازم آجاتا ہے"
(شہادت القرآن، صفحہ ۸۶)
(۳۲) ہمارا اور ہماری ذریت کا فرض،
اور ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں"
(ازالہ اوہام، صفحہ ۵۰۹)
(۳۳) میرے رگ و ریشہ میں !
یہ عاجز صاف اور مختصر لفظوں میں گزارش کرتا ہے کہ باعث اس کے کہ گورنمنٹ انگریزی کے احسانات میرے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کے وقت سے آج تک اس خاندان کے شامل حال ہیں۔ اس لئے نہ کسی تکلف سے بلکہ میرے رگ و ریشہ میں شکر گزاری اس معزز گورنمنٹ کی سمائی ہوئی ہے ۔"
(شہادت القرآن، صفحہ ۸۴)
جیسا نبی ویسی اُمّت
(۲۴)
میری جماعت
" اور جو لوگ میرے ساتھ مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے ۔ کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی سے لبالب ہیں ۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے ۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لیئے بڑی برکت ہیں ۔ اور گورنمنٹ کے لیئے دلی جاں نثار ہیں ۔"
(تبلیغ رسالت، جلد ۶ ، صفحہ ۶۵)
(۲۵)
میرے مُرید !
" میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے "
(تبلیغ رسالت، جلد ۷، صفحہ ۱۷)
میرا گروہ !
اور میرا گروہ ایک سچا خیر خواہ اس گورنمنٹ کا بن گیا ہے جو برٹش انڈیا میں سب سے اول درجہ پر جوشِ اطاعت رکھتے ہیں جس سے مجھے بہت خوشی ہے۔
(ستارہ قیصریہ صفحہ ۲۰)
جیسی
رُوح ویسے فرشتے
انگریز خُدا
" ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں یہ الہام ہوا ۔" آئی لو یو " یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں ۔ پھر یہ الہام ہوا " آئی ایم ود یو " یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ پھر الہام ہوا " آئی شیل ہیلپ یو " یعنی میں تمہاری مدد کروں گا ۔ پھر الہام ہوا " آئی کین دیٹ آئی ول ڈو " یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا ۔ پھر اس کے بعد بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا ۔" وی کین وٹ وی ول ڈو " یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر
کھڑا ہوا بول رہا ہے ۔
( براہین احمدیہ ، صفحہ ۴۸۰)
(۳۸) انگریز فرشتہ
" ایک فرشتہ کو میں نے بیس بائیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا ۔ صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی ۔ اور میز کرسی لگائے بیٹھا ہے ۔ میں نے اُس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں ۔ اس نے کہا کہ ہاں میں درشنی ہوں ۔ "
(تذکرہ صفحہ ۳۱ و مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا صاحب)
(۳۹) انگریزی الہامات
"ہاں میں خوش ہوں (یس آئی ایم ہیپی" "زندگی دکھ کی" (لائف از پین ۔ ) (گاڈ از کمنگ بائی ہز آرمی) خدا تمہاری طرف ایک لشکر کے ساتھ چلا آتا ہے ۔ (ہی از ود یو ٹو کل اینیمی) وہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لیے تمہارے ساتھ ہے ۔
(5) "The days shall come when God shall help you?" وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کریگا" (دی ڈیز شیل کم وہین گاڈ شیل ہیلپ یو)
(6) "glory be to the lord." (گلوری بی ٹو دی لارڈ ۔) " خداوند کے ذوالجلال ! "
(7) "God maker of earth and heaven." " آفرینندہ زمین و آسمان " (گاڈ میکر آف ارتھ اینڈ ہیون)
(حقیقت الوحی صفحہ ۳۰۳)
(8) "you have to go to Amritsar." (یو ہیو ٹو گو ٹو امرتسر) " تمہیں امرت سر جانا پڑے گا ۔"
(البشریٰ صفحہ ۲)
(9) "He halts in the Zila Peshawar." " وہ ضلع پشاور میں ٹھہرتا ہے ۔" (ہی ہالٹس اِن دی ضلع پشاور)
(البشریٰ صفحہ ۳۰)
(10) "Word and to girls" (ورڈ اینڈ ٹو گرلز) " ایک کلام اور دو لڑکیاں "
(البشریٰ صفحہ ۱۰۶)
(فیر مین) (11) "Fair man." " معقول آدمی "
(البشریٰ جلد دوم مجموعہ الہامات ) صفحہ ۸۴
(12) "Though all men should be angry, but God is with you. He shall help you, words of God can- not exchange" (دو آل مین شوڈ بی اینگری ، بٹ گاڈ از ود یو ۔ ہی شیل ہیلپ یو ، ورڈز آف گاڈ کین ناٹ ایکسچینج ۔)
اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے، مگر خدا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہاری مدد کریگا۔ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔"
(براہین احمدیہ، حاشیہ در حاشیہ نمبر۳، صفحہ ۵۵۴)
" اس کے بعد دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت بباعث سُرعتِ الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں :" (13) "I shall give you a large party of Islam." (آئی شیل گو یو اے لارج پارٹی آف اسلام) " چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خوان نہیں اور نہ اس کے پورے معنی کھلے ہیں۔ اس لئے بغیر معنوں کے لکھا گیا۔"
(براہین احمدیہ، حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳، صفحہ ۵۵۶)
وفاداری کا اعتراف
آئندہ صفحات میں سرکار انگریزی کی ان چٹھیات کا عکس ہے۔ جو اس وفادار خاندان کو لکھی گئیں۔ نیز ان کتب و رسائل کا نام بمعہ صفحہ نمبر درج ہے جن میں بقول مرزا غلام احمد قادیانی سرکار کی خیر خواہی اور اطاعت کا ذکر ہے۔ ملاحظہ ہو۔ کتاب البریہ صفحہ ۴ تا ۸
کی نہیں مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں مگر تین چٹھیاں جو مدت سے چھپ چکی ہیں انکی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں ۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات
Translations of Certificates. Pt. 1st. To Mirza Ghulam Murtaza Khan chief of Qadian. I have perused your applica- tion reminding me of your and your family's past services and rights well aware that since the introduction of the British Govt. you and your family have certainly remained devoted faith -ful and steady subjects & that your right are really worthy of regard. In every respect you may rest assured and satisfied that the British Govt. will never forget your family's rights and services which will recieve due consideration when a favor- able opportunity offers itself.
نقل مراسلہ
(ولسن صاحب) نمبر ۳۵ توجہ پناہ شجاعت دستگاہ مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان حفظہ عریضہ شما مشعر بر یاد دہانی خدمات و حقوق خود و خاندان خود بملاحظہ حضور اینجانب آمد بخوبی میدانم کہ بلا شک خاندان شما از ابتدائے دخل و حکومت سرکار انگریزی جان نثار وفا کیش ثابت قدم ماندہ اید و حقوق شما در اصل قابل قدر اند۔ بہرحال تسلی و تشفی دارید بسرکار انگریزی حقوق و خدمات خاندان شما را ہرگز فراموش نخواہد کرد۔ بموقعہ مناسب بر حقوق و خدمات شما غور و توجہ کردہ خواہد شد ۔ باید کہ ہمیشہ ہوا خواہ و جان نثار سرکار انگریزی بماند کہ دریں امر خوشنودی سرکار و بہبودی شما متصور است فقط المرقوم ۱۱ جون ۱۸۴۹ء مقام لاہور انارکلی
کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب چٹھوں کے مفسدوں کا سرکار انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں
You must continue to be faith- -ful and devoted subjects as in it lies the satisfaction of the Govt and your welfare. 4-6-1847 Lahore
Translation of Mr. Robert Cust's Certificate. To Mirza Ghulam Murtaza Khan chief of Kadian. As you rendered great help in enlisting Sowars & supplying horses to Govt in the mutiny of 1857 and maintained loyal- ty since its beginning up to date and thereby gained the favor of Govt a Khilat with Rs 200/- is presented to you in recognition of good services
نقل مراسلہ
از رابرٹ کسٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور بنام مرزا غلام مرتضیٰ رئیس قادیان بعافیت باشند۔ از آنجاکہ ہنگام مفسدہ ہندوستان بسنہ ۱۸۵۷ء از جانب آپکے رفاقت و خیرخواہی و ہمدردی سرکار دولتمدار انگلشیہ در باب نگہداشت سواران و بہمرسانی اسپان بخوبی بظہور پہنچی اور شروع مفسدہ سے آجتک آپ بدل ہوا خواہ سرکار رہے اور باعث خوشنودی سرکار ہوا لہٰذا بصلہ اس خیرخواہی اور خیرسگالی کے خلعت مبلغ دو صد روپیہ کا سرکار سے آپ کو عطا ہوتا ہے اور حسب منشاء چٹھی
شریک تھا۔ پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار انگریزی کی امداد اور تائید میں اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ
and as a reward for your loyalty Moreover in accordance with the wishes of chif Commissioner as conveyed in his no 2191. 10th August 57 this parwana is ad- dressed to you as a token of satis- -faction of Govt. for your fidelity and repute.
صاحب چیف کمشنر بہادر نمبری ۲۱۹۱ مورخہ ۱۰؍ اگست ۱۸۵۷ء یہ پروانہ ہذا باظہار خوشنودی سرکار و نیکنامی و وفاداری بنام آپکے لکھا جاتا ہے۔ مرقومہ ۲۰؍ ستمبر ۱۸۵۸ء
Translation of sir Robert Eger- ton Financial Commr murasla d/ 29 June 1876 My dear friend Gulam Qadir I have perused your letter of the 2 nd instant I deeply regret the death of your father mirza Gulam murtaza who was a great well wi- sher and faithful cheif of Govt. In consideration of your family services . I will act on you with the same respect as that bestowed on your loyal father. I will Keep in mind the restoration & welfare of your family when a favorable opportunity occurs .
نقل مراسلہ فنانشل کمشنر پنجاب مشفق مہربان دوستان مرزا غلام قادر رئیس قادیان حفظہ آپکا خط ۲۔ ماہ حال کا لکھا ہوا ملاحظہ حضور آیا۔ جس میں گذارش حال وفات آپکے والد کی تحریر تھی مجھکو بہت افسوس ہؤا۔ مرزا غلام مرتضےٰ سرکار انگریزی کا اچھا خیر خواہ اور وفادار رئیس تھا۔ ہم آپکی خاندانی لحاظ سے اسی طرح پر عزت کرینگے جس طرح پر تمہارے باپ وفادار کی کیجاتی تھی ہمکو کسی اچھے وقت کے نکلنے پر تمہارے خاندان کی بہتری اور پابجائی کا خیال رہے گا۔ المرقوم ۲۹ جون ۱۸۷۶ء الراقم سر رابرٹ ایگرٹن صاحب بہادر فنانشل کمشنر پنجاب
برس کی مدت میں جتنی مینے کتابیں تالیف کیں اُن سب میں سرکار انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں لکھیں۔ اور پھر مینے قرین مصلحت سمجھ کر اسی ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں جنکی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت اُن کا اثر ہوگا۔ کیا اسقدر بڑی کارروائی اور اسقدر دراز مدت تک ایسے انسان سے ممکن ہے جو دل میں بغاوت کا ارادہ رکھتا ہو؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ مینے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے لوگوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟ اگر مینے یہ اشاعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیرخواہی سے نہیں کی تو مجھے ایسی کتابیں عرب اور بلاد شام اور روم وغیرہ بلاد اسلامیہ میں شائع کرنے سے کس انعام کی توقع تھی؟ یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن مقامات میں مینے یہ تحریریں لکھی ہیں اُن کتابوں کے نام معہ اُنکے نمبر صفحوں کے یہ ہیں جنمیں سرکار انگریزی کی خیرخواہی اور اطاعت کا ذکر ہے
نمبر نام کتاب تاریخ طبع نمبر صفحہ ۱ براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۸۸۲ء الف سے ب تک (شروع کتاب) ۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۱۸۸۴ء الف سے د تک ایضاً ۳ آریہ دھرم (نوٹس ۱ دربارہ توہین دفعہ ۲۹۸) ۲۶ ستمبر ۱۸۹۵ء ۵۷ سے ۶۰ تک آخر کتاب ۴ التماس شامل آریہ دھرم ایضاً ایضاً ۱ سے ۴ تک آخر کتاب ۵ درخواست شامل آریہ دھرم ایضاً ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء ۶۹ سے ۷۲ تک آخر کتاب ۶ خط دربارہ توسیع دفعہ ۲۹۸ ۲۱ اکتوبر ۱۸۹۵ء ۱ سے ۷ تک ۷ آئینہ کمالات اسلام فروری ۱۸۹۳ء تے ۔ ثاء اور ۵۱ سے ۵۰۰ تک
۸ نور الحق حصہ اول (اعلان) ۱۳۱۱ھ ۲۳ سے ۴۵ تک ۹ شہادۃ القرآن (گورنمنٹ کی توجہ کے لائق) ۲۲ ستمبر ۱۸۹۳ء الف سے ع تک آخر کتاب ۱۰ نور الحق حصہ دوم ۱۳۱۱ھ ۴۹ سے ۵۰ تک ۱۱ سر الخلافہ ۱۳۱۲ھ ۷۱ سے ۷۴ تک ۱۲ اتمام الحجہ ۱۳۱۱ھ ۲۵ سے ۲۷ تک ۱۳ حمامتہ البشریٰ ۱۳۱۱ھ ۲۵ سے ۴۲ تک ۱۴ تحفہ قیصریہ ۲۵ مئی ۱۸۹۷ء تمام کتاب ۱۵ ست بچن نومبر ۱۸۹۵ء ۱۵۳ سے ۱۵۴ تک اور ٹائٹل پیج ۱۶ انجام آتھم جنوری ۱۸۹۷ء ۸۳ سے ۸۴ تک آخر کتاب ۱۷ سراج منیر مئی ۱۸۹۷ء صفحہ ۷۴ ۱۸ تکمیل تبلیغ معہ شرائط بیعت ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء صفحہ ۴ حاشیہ اور صفحہ ۶ شرط چہارم ۱۹ اشتہار قابل توجہ گورنمنٹ اور عام اطلاع کیلئے ۲۷ فروری ۱۸۹۵ء تمام اشتہار یکطرفہ ۲۰ اشتہار دربارہ سفیر سلطان روم ۲۴ مئی ۱۸۹۷ء ۱ سے ۳ تک ۲۱ اشتہار جلسہ احباب جشن جوبلی بمقام قادیان ۲۳ جون ۱۸۹۷ء ۱ سے ۴ تک ۲۲ اشتہار جلسہ شکرگزاری جوبلی حضرت قیصرہ دام ظلہا ۲۷ جون ۱۸۹۷ء تمام اشتہار یک ورق ۲۳ اشتہار متعلق بزرگ ۲۵ جون ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۰ ۲۴ اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ متعلقہ جرائم پیشہ ۱۰ دسمبر ۱۸۹۷ء تمام اشتہار ۱ سے ۷ تک
غیر معقول اور بیہودہ امر
اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے
چشمہ معرفت صفحہ ۲۰۹ حصہ دوم
انگریزی نبی کی انگریزوں کے لئے عاجزانہ دعائیں
جو منظور نہ ہو سکیں۔
(۴۱)
ہمارے ہاتھ میں بجز دُعا کے کیا ہے ؟
"ہم نے اس گورنمنٹ (برطانیہ) کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکر کرنا کوئی سہل بات نہیں ، اس لئے ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے ۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے !"
(شہادت القرآن ، صفحہ ۸۶)
(۴۲)
سو ہم دُعا کرتے ہیں !
سو ہم دعا کرتے ہیں ۔ کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ (برطانیہ) کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن (مسلمانوں) کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے ۔
(شہادت القرآن ، صفحہ ۸۶)
ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہ روزگار
(براہین احمدیہ ، حصہ پنجم ، صفحہ ۱۱)
معذرت : تلفظ ، سپیلنگ اور معنی کی غلطی سے ہمیں معذور سمجھا جائے کیونکہ یہ نقل مطابق اصل ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کا فرشتہ بھی مڈل فیل تھا