رَدِّ قادیانیّت
رسائل
- جناب اسرار احمد صاحبؒ آزاد
- حضرت مولانا محمد امیر الزماں کشمیریؒ
- جناب ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئیؒ
- جناب فرزند توحیدؒ صاحب
- حضرت مولانا محمد اسحاقؒ صدیقی
احتساب قادیانیّت
جلد ٣
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّة
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 061-4783486
ردّ قادیانیت
رسائل
احتساب قادیانیت
٤٢
• جناب اسرار احمد صاحبؒ آزاد
• حضرت مولانا محمد امیر الزماں کشمیریؒ
• جناب ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئیؒ
• جناب فرزند توحید صاحبؒ
• حضرت مولانا محمد اسحاق صدیقیؒ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد چونتیس (٣٤) مصنفین : جناب اسرار احمد صاحب آزادؒ حضرت مولانا محمد امیر الزمان کشمیریؒ جناب ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئیؒ جناب فرزند توحید صاحبؒ حضرت مولانا محمد اسحق صدیقیؒ صفحات : ٥٢٨ قیمت : ٣٠٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : نومبر ٢٠١٠ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب
عرض مرتب
- ١...... کفریات مرزا جناب
- ٢...... فتنہ مرزائیت حضر
- ٣...... مرزا غلام احمد قادیانی کے
شیطانی الہامات اور شیطانی تحریریں جنا
- ٤...... حیات عیسیٰؑ اور مرزا قادیانی کا اقرار و انکار
- ٥...... مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں
- ٦...... حیات ونزول مسیحؑ اور مرزا قادیانی
- ٧...... مرزا غلام احمد قادیانی کی
خطرناک بیماریاں اور عبرتناک موت
- ٨...... مرزائیت سے توبہ
- ٩...... بناسپتی نبی اور اس کے صحابہ کا چال چلن جنا
- ١٠...... عبرتناک موت
- ١١...... ربوے کا راسپوٹین یا مذہبی آمر
- ١٢...... مسخروں کی محفل یا قادیانی انبیاء
- ١٣...... حکومت مغربی پاکستان
کے پانچ سوال اور ان کا جواب
- ١٤...... علامہ اقبال کا پیغام، ملت اسلامیہ کے نام
- ١٥...... مرزا قادیانی زندیق اور حکومت برطانیہ
- ١٦...... مسئلہ ختم نبوت علم وعقل کی روشنی میں
- ١٧...... آخری نبی
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٣٤
عرض مرتب ٤
- ١...... کفریات مرزا جناب اسرار احمد آزاد ٧
- ٢...... فتنہ مرزائیت حضرت مولانا محمد امیر الزمان کشمیریؒ ١١٣
- ٣...... مرزا غلام احمد قادیانی کے
شیطانی الہامات اور شیطانی تحریریں جناب ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئیؒ ٢٤٥
- ٤...... حیات عیسیٰؑ اور مرزا قادیانی کا اقرار و انکار // // ٢٦٧
- ٥...... مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں // // ٢٧٣
- ٦...... حیات و نزول مسیحؑ اور مرزا قادیانی // // ٢٧٩
- ٧...... مرزا غلام احمد قادیانی کی
خطرناک بیماریاں اور عبرتناک موت // // ٢٨٣
- ٨...... مرزائیت سے توبہ // // ٢٨٩
- ٩...... بناسپتی نبی اور اس کے صحابہ کا چال چلن جناب فرزند توحید صاحبؒ ٣٢١
- ١٠...... عبرتناک موت // // ٣٢٩
- ١١...... ربوے کا راسپوٹین یا مذہبی آمر // // ٣٣٧
- ١٢...... مسخروں کی محفل یا قادیانی انبیاء // // ٣٤٣
- ١٣...... حکومت مغربی پاکستان
کے پانچ سوال اور ان کا جواب // // ٣٦١
- ١٤...... علامہ اقبالؒ کا پیغام ملت اسلامیہ کے نام // // ٣٨٣
- ١٥...... مرزا قادیانی زندیق اور حکومت برطانیہ // // ٤٠٧
- ١٦...... مسئلہ ختم نبوت علم وعقل کی روشنی میں حضرت مولانا محمد اسحق صدیقیؒ ٤١٥
- ١٧...... آخری نبی // // ٥١٩
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
عرض مرتب
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ، اما بعد! اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے احتساب قادیانیت کی چوتیسویں (٣٤ ویں) جلد پیش خدمت ہے۔ اس جلد میں:
- ٭ جناب اسرار احمد صاحب آزاد مرحوم کا ایک رسالہ۔
- ١....... کفریات مرزا: شامل اشاعت ہے۔ یہ رسالہ پہلی بار جون ١٩٤٤ء
میں شائع ہوا۔ پون صدی بعد دوبارہ اشاعت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ جناب اسرار صاحب آزاد مرحوم ”العزم“ کے مدیر تھے اور اپنے زمانہ کے معروف دانشور تھے۔ آپ نے اوّلاً اس رسالہ کا حضرت مولانا ظفر علی خانؒ کے نام انتساب کیا۔
- ٭ جناب حضرت مولانا محمد امیر الزمان صاحب کشمیریؒ کا ایک رسالہ۔
- ١/٢....... فتنہ مرزائیت: شامل اشاعت ہے۔ آپ نے یہ رسالہ جولائی
١٩٥٢ء میں تحریر فرمایا۔ نصف صدی سے زائد عرصہ بعد اس کی اشاعت محض توفیق ایزدی کی مرہون منت ہے۔ مولانا امیر الزمانؒ کشمیر کے رہائشی تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور جامع مسجد فاروقی کراچی کے خطیب ومہتمم تھے۔ آپ کے اس رسالہ پر مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیعؒ کی تقریظ اس کی ثقاہت کے لئے کافی ہے۔
- ٭ ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئیؒ کے چھ رسائل اس جلد میں شامل ہیں۔
- ١/٣....... مرزا غلام احمد قادیانی کے شیطانی الہامات اور شیطانی تحریریں:
جناب ڈاکٹر محمد عبداللہ خانؒ جتوئی ضلع مظفر گڑھ کے رہائشی تھے۔ تعلیم کے زمانہ میں ایک
قادیانی ٹیچر نے ان کو قادیان بھیج دیا تو اس دوران ہوئی۔ کئی ممالک میں قادیانیت کے مبلغ کے طور پ مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے یہ رسالہ تحریر کیا۔
- ٢/٤....... حیات عیسیٰ علیہ السلام اور مر
- ٣/٥....... مرزا قادیانی اور غیر محرم عور
- ٤/٦....... حیات ونزول مسیح علیہ السلا
- ٥/٧....... مرزا قادیانی کی خطرناک ب
- ٦/٨....... مرزائیت سے توبہ:
یہ تمام رسالے جناب ڈاکٹر عبداللہ خا اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔
- ٭ جناب فرزند توحید صاحب
- ١/٩....... بناسپتی نبی اور اس کے صحا
- ٢/١٠....... عبرتناک موت:
- ٣/١١....... ربوے کا راسپوٹین یا مذہبی
- ٤/١٢....... مسخروں کی محفل یا قادیا
- ٥/١٣....... حکومت مغربی پاکستان ب
- ٦/١٤....... علامہ اقبالؒ کا پیغام، ملح
- ٧/١٥....... مرزا غلام احمد قادیانی زن
جناب فرزند توحیدؒ خوب آدمی تھے
قادیانی لٹریچر نے ان کو قادیان بھیج دیا تو اس دوران قادیانی ہوگئے۔ پھر قادیان میں ہی شادی ہوئی۔ کئی ممالک میں قادیانیت کے مبلغ کے طور پر کام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی تو مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے یہ رسالہ تحریر کیا ۔
- ٤/٢...... حیات عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی کا اقرار و انکار:
- ٥/٣...... مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں:
- ٦/٤...... حیات و نزول مسیح علیہ السلام اور مرزا قادیانی:
- ٧/٥...... مرزا قادیانی کی خطرناک بیماریاں اور عبرتناک موت:
- ٨/٦...... مرزائیت سے توبہ:
یہ تمام رسالے جناب ڈاکٹر عبداللہ خان اختر جتوئی مرحوم کے مرتب کردہ ہیں اور اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔
- ٭...... جناب فرزند توحید صاحبؒ کے اس جلد میں سات رسائل شامل ہیں ۔
- ٩/١...... بناسپتی نبی اور اس کے صحابہ کا چال چلن:
- ١٠/٢...... عبرتناک موت:
- ١١/٣...... ربوے کا راسپوٹین یا مذہبی آمر:
- ١٢/٤...... مسخروں کی محفل یا قادیانی انبیاء:
- ١٣/٥...... حکومت مغربی پاکستان کے پانچ سوال اور ان کا جواب:
- ١٤/٦...... علامہ اقبالؒ کا پیغام ، ملت اسلامیہ کے نام:
- ١٥/٧...... مرزا غلام احمد قادیانی زندیق اور حکومت برطانیہ:
جناب فرزند توحیدؒ خوب آدمی تھے۔ زندگی بھر اپنے اور دوسرے حضرات کے
قادیانیت کے خلاف رسائل برابر شائع کرتے رہے۔ ایسی دھن ان پر سوار تھی۔ جس سے قادیانیت اور حکومت بلبلا اٹھی۔ جیسا کہ ”حکومت مغربی پاکستان کے پانچ سوال اور ان کا جواب“ کے مطالعہ سے آپ پر واضح ہوگا۔
- ٭...... حضرت مولانا محمد اسحٰق صدیقیؒ ، سندیلوی، ندوی کے اس جلد میں
دو رسائل شامل اشاعت ہیں۔
- ١/١٦...... مسئلہ ختم نبوت علم وعقل کی روشنی میں:
- ٢/١٧...... آخری نبی:
مولانا محمد اسحٰق صدیقیؒ سندیلوی، ندوی بہت فاضل آدمی تھے۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں مدرس رہے۔ ان کے ٢ رسائل اس جلد میں شامل ہیں۔
خلاصہ: یہ کہ اس جلد میں:
- ١...... جناب اسرار احمد آزاد کا ١ رسالہ
- ٢...... حضرت مولانا امیر الزمان کشمیریؒ کا ١ رسالہ
- ٣...... ڈاکٹر محمد عبداللہ خان اختر جتوئیؒ کے ٦ رسائل
- ٤...... جناب فرزند توحید صاحب کے ٧ رسائل
- ٥...... مولانا محمد اسحٰق صدیقیؒ کے ٢ رسائل
ٹوٹل ١٧ رسائل
اس جلد میں شامل ہیں۔ اگلی جلد کی آمد تک کے لئے اجازت چاہتا ہوں۔
محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ٤ ؍ ذوالحجہ ١٤٣١ھ بمطابق ١١؍ نومبر ٢٠١٠ء
اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
کفریات مرزا
جناب اسرار احمد آزاد صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
دیباچہ
گورداسپور کے ضلع میں قادیان ایک غیر معروف اور ویران موضع تھا۔ اس کی قسمت کا ستارہ چمکا اور اس میں مرزا غلام مرتضیٰ کے ہاں ایک لڑکا بنام سندھی بیگ پیدا ہوا۔ جو بعد میں مرزا غلام احمد کہلایا اور اس نے اس گمنام بستی کی رونق بڑھادی۔ وہ مقام جس کی نسبت خود اس مولود مسعود کو الہام ہوا کہ: ”اخرج منہ الیزیدیون“ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔
(ازالہ اوہام ص٧٣، خزائن ج٣ ص١٣٨)
وہاں کے پیداشدہ مغل بچہ سے بعد میں بعض عقل کے اندھے برکتیں ڈھونڈنے لگے۔ وہ مقام جہاں کسی کا گزر نہ ہوتا تھا۔ کیونکہ نہ وہ کوئی مرکز علم تھا، نہ مرکز تجارت؛ نہ کوئی اور کشش ایسی تھی کہ لوگوں کو دور دراز سے کھینچ لائے۔ وہاں اس کثرت سے لوگ آنے جانے لگے کہ کثرت آمد و رفت سے راستوں میں عمیق گڑھے پڑ گئے۔ یہاں خدا نے اپنی تجلیات و الہامات اور مکاشفات کے دروازے اپنے ایک بندے پر کھول دیئے۔ جس نے کہا کہ خدا نے میرے آنے کی خبر قرآن میں دی ہے اور میری جائے ولادت کا بھی اس پاک کتاب میں ذکر آیا ہے۔ بلکہ قادیان کا لفظ قرآن میں موجود ہے اور ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ (ازالہ اوہام ص٧٤، خزائن ج٣ ص١٣٨) کا ٹانکا لگا دیا۔ اس سے بڑھ کر اس گاؤں کی کیا قدر و منزلت ہو سکتی تھی۔ قادیان کو ”دارالامان“ کہنے لگے۔ چنانچہ کسی بے فکر نے یہ شعر بھی لکھ دیا۔
شدہ دارالاماں کوئے نگارے
تھا تو وہ بقول خود رئیس اور رئیس زادہ بھی۔ لیکن خدا جانے کیا ضرورت آپڑی کہ کچہری سیالکوٹ میں ایک نہایت ہی حقیر تنخواہ پر ملازم ہو گیا اور بمشاہرہ پندرہ روپے ماہوار محرر مقرر ہوا۔ خدا کو منظور تھا کہ سیالکوٹ کی سرزمین جہاں اور بہت سی باتوں کے لئے مشہور ہے۔ اس کی شہرت کا ایک ذریعہ یہ بھی رہے کہ صاحب الہام مکاشفہ اور مدعی نبوت و رسالت جو اٹھا اور اس نے ایک دنیا کی توجہ کو اپنی طرف مائل کر لیا۔ اپنی عمر کا ایک حصہ اس شہر میں بسر کرے۔ جس کٹیا کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے شرف بخشا اور اس میں قیام فرمایا۔ وہاں اب امتداد زمانہ کے باعث الو بول رہے ہیں اور ابابیلوں کے گھونسلوں کے سوا وہاں کچھ بھی نہیں۔ یہ تاراج و برباد مکان اپنی بیکسی پر
٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
دیباچہ
گورداسپور کے ضلع میں قادیان ایک غیر معروف اور ویران موضع تھا۔ اس کی قسمت کا ستارہ چمکا اور اس میں مرزا غلام مرتضیٰ کے ہاں ایک لڑکا بنام سندھی بیگ پیدا ہوا۔ جو بعد میں مرزا غلام احمد کہلایا اور اس نے اس گمنام بستی کی رونق بڑھادی۔ وہ مقام جس کی نسبت خود اس مولود مسعود کو الہام ہوا کہ: ”اخرج منہ الیزیدیون“ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔
(ازالہ اوہام ص٧٣، خزائن ج٣ ص١٣٨)
وہاں کے پیداشدہ مغل بچہ سے بعد میں بعض عقل کے اندھے برکتیں ڈھونڈنے لگے۔ وہ مقام جہاں کسی کا گزر نہ ہوتا تھا۔ کیونکہ نہ وہ کوئی مرکز علم تھا، نہ مرکز تجارت؛ نہ کوئی اور کشش ایسی تھی کہ لوگوں کو دور دراز سے کھینچ لائے۔ وہاں اس کثرت سے لوگ آنے جانے لگے کہ کثرت آمد و رفت سے راستوں میں عمیق گڑھے پڑ گئے۔ یہاں خدا نے اپنی تجلیات و الہامات اور مکاشفات کے دروازے اپنے ایک بندے پر کھول دیئے۔ جس نے کہا کہ خدا نے میرے آنے کی خبر قرآن میں دی ہے اور میری جائے ولادت کا بھی اس پاک کتاب میں ذکر آیا ہے۔ بلکہ قادیان کا لفظ قرآن میں موجود ہے اور ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ (ازالہ اوہام ص٧٤، خزائن ج٣ ص١٣٨) کا ٹانکا لگا دیا۔ اس سے بڑھ کر اس گاؤں کی کیا قدر و منزلت ہو سکتی تھی۔ قادیان کو ”دارالامان“ کہنے لگے۔ چنانچہ کسی بے فکر نے یہ شعر بھی لکھ دیا۔
شدہ دارالاماں کوئے نگارے
تھا تو وہ بقول خود رئیس اور رئیس زادہ بھی۔ لیکن خدا جانے کیا ضرورت آپڑی کہ کچہری سیالکوٹ میں ایک نہایت ہی حقیر تنخواہ پر ملازم ہو گیا اور بمشاہرہ پندرہ روپے ماہوار محرر مقرر ہوا۔ خدا کو منظور تھا کہ سیالکوٹ کی سرزمین جہاں اور بہت سی باتوں کے لئے مشہور ہے۔ اس کی شہرت کا ایک ذریعہ یہ بھی رہے کہ صاحب الہام مکاشفہ اور مدعی نبوت و رسالت جو اٹھا اور اس نے ایک دنیا کی توجہ کو اپنی طرف مائل کر لیا۔ اپنی عمر کا ایک حصہ اس شہر میں بسر کرے۔ جس کٹیا کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے شرف بخشا اور اس میں قیام فرمایا۔ وہاں اب امتداد زمانہ کے باعث الو بول رہے ہیں اور ابابیلوں کے گھونسلوں کے سوا وہاں کچھ بھی نہیں۔ یہ تاراج و برباد مکان اپنی بیکسی پر
٢
ماتم کناں ہے۔ غرض یہاں آپ کی تنخواہ بہت اور ترقی کے ولولے مختاری کا امتحان دیا، ناکام دستگیری کی۔ خدا نے ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ کا بھائی بڑی کامیابی حاصل کی۔ خاکروب اسے اٹھائے اور آپ نے ایک اور سلسلہ شروع حمایت دین متین میں ایک کتاب تصنیف کر آپ کی شہرت کی ابتداء تھی اور انتہاء تو وہ ہوئی ہے۔ آپ ملہم بنے، محدث بنے، نبوت کا دعویٰ مثیل موسیٰ و ابراہیم ہوں، عیسائیوں کے لئے مسیح ہنود کے لئے کرشن۔ پھر کچھ اور مدارج عالیہ طے ہے کہ: ”مجھے کسی کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں۔ جس کینہ کا دھواں چھپا نہیں سکتا اور کوئی ایسا شخص طا میرا قدم ایک ایسے مینارہ پر ہے۔ جس پر ہر بلند
١؎ صاحبزادہ ابوالعزم والاجاہ میسو ”مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین وغیرہ پر (سیرت مہدی حصہ اول ص١١٤، روایت نمبر١٢٦) پھر فرما گیا۔“ حضرت (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے رہا۔ آخر اس نے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اس ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا چچا زاد بھائی جیل اول روایت ٤٩) حضرت صاحب کی ذہنیت ملاحظہ ہو کہ ان کا چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ بھائی ایک دہریہ طبع بے دین تھا اور ڈاکو تھا۔ حضر موجب تشنیع نہیں۔ بلکہ صرف سزایابی سے ان پر اعتر
٩
ماتم کناں ہے۔ غرض یہاں آپ کی تنخواہ بہت کم تھی اور گزارا نہ ہوتا تھا۔ حب جاہ کی امنگیں تھیں اور ترقی کے ولولے مختاری کا امتحان دیا، ناکام رہے۔ آخر جب دنیا نے ساتھ نہ دیا تو دین نے دستگیری کی۔ خدا نے ہاتھ پکڑ لیا۔ آپ کا بھائی مرزا امام الدین ”خاکروبوں“ کا پیر بن بیٹھا اور بڑی کامیابی حاصل کی۔ خاکروب اسے اٹھائے اٹھائے پھرتے تھے ١؎۔
اور آپ نے ایک اور سلسلہ شروع کر دیا۔ پہلے تو ایک طویل وعریض اشتہار دیا کہ ہم حمایت دین متین میں ایک کتاب تصنیف کر رہے ہیں۔ خریدار روپیہ پیشگی ارسال کر دیں۔ یہ آپ کی شہرت کی ابتدا تھی اور انتہاء تو وہ ہوئی جس کے اظہار کے لئے ہم نے یہ رسالہ ترتیب دیا ہے۔ آپ ملہم بنے ، محدث بنے ، نبوت کا دعویٰ کیا۔ فرمایا کہ میں محمد واحمد ہوں۔ آدم ونوح ہوں، مثیل موسیٰ وابراہیم ہوں، عیسائیوں کے لئے مسیح موعود بنے۔ مسلمانوں کے لئے مہدی معہود اور ہنود کے لئے کرشن۔ پھر کچھ اور مدارج عالیہ طے کئے۔ خطبہ الہامیہ میں اپنی شان یوں رقم فرمائی ہے کہ: ”مجھے کسی کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ...... میں مغز ہوں۔ جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں۔ جس کے ساتھ جسم نہیں اور سورج ہوں جس کو دشمنی کے کینہ کا دھواں چھپا نہیں سکتا اور کوئی ایسا شخص تلاش کرو۔ جو میری مانند ہو۔ ہرگز نہیں پاؤ گے...... میرا قدم ایک ایسے مینارہ پر ہے۔ جس پر ہر بلندی ختم کی گئی ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص١٩تا٣٥، خزائن ج١٦ص٥٢تا٧٠)
١؎ صاحبزادہ ابوالعزم والاجاہ میاں مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ: ”مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین وغیرہ پرلے درجے کے بے دین و دہریہ طبع لوگ تھے۔“ (سیرت مہدی حصہ اوّل ص ١١٤، روایت نمبر ١٤٦) پھر فرماتے ہیں کہ : ”یہی امام الدین ڈاکوؤں میں پکڑا گیا۔“ حضرت (مرزا غلام احمد قادیانی ) فرماتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ کر پھر امام الدین ادھر ادھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا۔ مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے بچا لیا۔ ورنہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا۔ ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔ (سیرت مہدی ص٤٤ حصہ اوّل روایت ٤٩) حضرت صاحب کی ذہنیت ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں کہ: مخالف اب تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کا چچا زاد بھائی جیل خانہ میں رہ چکا ہے۔“ مگر کیا کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا چچازاد بھائی ایک دہریہ طبع بے دین تھا اور ڈاکو تھا۔ حضرت سلامت کی نظر میں ڈاکہ زنی باعث طعن اور موجب تشنیع نہیں۔ بلکہ صرف سزایابی سے ان پر الزام عائد ہوتا ہے۔ اللہ اللہ کیا بلند خیالی ہے؟
اس پر بس نہ کیا اور آگے بڑھے۔ خدا کا بیٹا بنے۔ خدا بنے اور ارض و سما پیدا کئے۔ انبیاء بیچارے ان کے مقابل کیا تھے۔ جہاں ان کی گذر تھی۔ وہاں فرشتوں کے پر جلتے ہیں۔ غرض اس من چلے نے نبیوں کی توہین کی اور علماء کو گالیاں دیں۔ عیسائیوں، مسلمانوں اور آریوں سب سے مناظرہ کا بازار گرم کیا۔ عمر بھر کسر صلیب کا ڈھول پیٹا۔ ہندوؤں کی بربادی کے خواب دیکھے۔ مسلمانوں کو ستاتا اور پریشان کرتا رہا۔ بڑی بڑی تعلیاں کیں۔ اس ڈھب سے بہتیرے اس کے دام تزویر میں آ پھنسے۔ بہت سی دولت بٹوری۔ آخر اس جہاں فانی سے چل بسا۔ اس کی داستان طویل بھی ہے اور دلچسپ بھی، مگر یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں۔ مختصر یہ کہ وہ ایک دنیا دار شخص تھا۔ جھوٹ اس کی گھٹی میں تھا۔ گالیاں دینا اس کی عادت تھی۔ فحش گوئی اور سخت کلامی سے اس کی تمام تصنیفات آلودہ ہیں۔ شاعر بھی تھا، مگر گھٹیا درجہ کا اور عاشق مزاج بھی۔ اگرچہ اس کا عشق خام تھا۔ ہم اسے حرام سمجھتے ہیں کہ بلا تحقیق کچھ منہ سے نکالیں یا اپنی جانب سے کچھ افتراء کر کے کسی کو مفت میں ملزم گردانیں۔ اس لئے ہم نے جو کچھ لکھا ہے مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات پر مبنی ہے۔ نپی تلی باتیں ہیں جنہیں کوئی غلط ثابت نہیں کر سکتا۔ سچائیاں ہیں جو جھٹلائی نہیں جا سکتیں اور یہ سب الزامات نہیں۔ بلکہ حقائق ہیں۔ ثابت شدہ امور ہیں اور ہر کہ ومہ پر روشن ہیں۔ ہم بفضل خدا مرزا قادیانی کے الفاظ سے یہ ثابت کریں گے باوجود استطاعت وتوفیق کے آپ نے فریضۂ حج بھی ادا نہ کیا۔ ملائکہ سے انہیں انکار، معراج کے وہ منکر۔ غرض ان کی زندگی پر غور کرنے کے بعد علی وجہ البصیرت یہی فیصلہ دینا پڑتا ہے کہ غالباً مرزا قادیانی کے خیالات ....... ملحدانہ تھے۔ خدا پر انہیں یقین تھا نہ انبیاء پر ایمان۔ آپ نے خدا سے ٹھٹھا کیا۔ مذہب کی خاک اڑائی اور بتایا کہ اس طرح نبی بنتے ہیں۔ جہلاء کے دینی جوش وخروش سے فائدہ اٹھا کر دنیا کمائی۔ مولوی عبد العزیز صاحب اپنی تصنیف (تفسیر القرآن اردو ص ٨٦) میں لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی ایک دنیا دار تھے۔ آپ کو روپیہ کا بڑا لالچ تھا ....... کہیں مینارہ کا چندہ، کہیں بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے جائیداد متوفی کا دسواں حصہ۔ کہیں سلسلہ تصنیف وتالیف کے واسطے چندہ کی مانگ۔ الغرض طرح طرح کے حیلوں سے آپ روپیہ بٹورا کرتے تھے۔ پلاؤ، قورمہ، روغن یاقوتی وغیرہ مقویات سے عیش اڑاتے تھے۔“ مرزا قادیانی مخالفین کے اعتراضات کو بدین الفاظ دہراتے ہیں کہ: ”میری روح میں بجز شرارت اور بدی اور بدکاری اور نفس پرستی کے کچھ نہیں اور محض دنیا کے ٹھگنے کے لئے میں نے یہ دوکان بنائی ہے۔“ اور حقیقت میں مخالفین کے یہ اعتراضات بالکل بجا اور درست ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی اوائل میں عسرت اور تنگ حالی کے باعث نہایت سراسیمہ وحیران تھے اور انہیں اس
٤
سے بہتر اپنی حالت کا سدھار اور مالی مشکلات کا حل نظر نہ آیا کہ دعویٰ نبوت کریں اور ہم کسی غیر کے قول کو بطور سند کیوں پیش کریں۔ جب کہ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ سے ہمارا دعویٰ ثابت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ: ”جب میں نے براہین احمدیہ تصنیف کی جو میری پہلی تصنیف تھی تو مجھے یہ مشکل پیش آئی کہ اس کی چھپوائی کے لئے کچھ روپیہ نہ تھا اور میں ایک گمنام آدمی تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٠)
یہ تھا بے روزی اور مفلسی کا عالم اور اس طرح ناداری، سوہان روح ہورہی تھی۔ جب شادی کے بارے میں جو دہلی میں ہوئی تھی الہام ہوا تو آپ کو یہ فکر پیدا ہوئی کہ: ”شادی کے اخراجات کو کیونکر میں انجام دوں گا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں اور نیز کیونکر میں ہمیشہ کے لئے اس بوجھ کا متحمل ہو سکوں گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٧)
اور پھر فرماتے ہیں کہ: ”جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہی کی زندگی سے وابستہ تھے۔ اس لئے خیال گزرا کہ ان کی وفات کے بعد کیا ہوگا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی طرح چمک کر ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گزر گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٩)
مرزا قادیانی پھر اپنی ابتدائی حالت اور حاجت و افلاس اور دعویٰ نبوت کے بعد امارت و خوشحالی کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں کہ: ”ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا اور میں ایک گمنام انسان تھا۔ جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیشین گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپے ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
٥
بھلا اس سے بڑھ کر فاقہ مستی کا کوئی موثر علاج تھا؟ اور تھا کوئی اور ذریعہ جس سے یوں مال و دولت جمع ہو سکتی۔ آخر یہی افسون چلایا۔ جو ناواقفوں پر کام کر گیا۔ انہیں مسحور کر لیا اور وہ بندہ بیدام بن گئے۔ پھر کیا تھا۔ مرزا قادیانی خود ہی فرماتے ہیں کہ: ”نقد اور جنس ہر ایک قسم کے تحائف اس کثرت سے لوگوں نے دئے اور دے رہے ہیں جن کا میں شمار نہیں کر سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٢)
قصہ کوتاہ مرزا قادیانی کی تنگی آسائش سے بدل گئی۔ مالی فتوحات ہونے لگیں۔ وہ دونوں ہاتھ پسار کر طلب زر کرتے اور کوتاہ نظر بے سمجھ مرید جھولیاں بھر بھر کر دیتے۔ لکھتے ہیں کہ: ”مجھ کو مکان فراخ کرنے کا دوبارہ الہام ہوا ہے۔ جماعت مخلصین دو ہزار روپیہ جلد بہم پہنچائیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٢٧ ملخصاً)
ان حالات میں ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ الزامات محض غلط اور سراسر بے بنیاد تھے کہ براہین احمدیہ کی قیمت وصول کر کے کھالی۔ ”رسالہ سراج المنیر“ کے نام سے چودہ سو روپیہ اڑا لیا۔ مینارۃ المسیح کے نام سے کھایا۔ بہشتی مقبرہ اور لنگر خانہ کے نام سے ہضم کر گئے۔ مگر جب عدالت میں پوچھا گیا تو کہا کہ میں بنیوں کی طرح حساب نہیں رکھتا۔
خیر یہ تو مال و دولت اور حصول آرام و آسائش کی باتیں ہیں اور ان کی طمع دنیا اور حرص پر دلالت کرتی ہیں۔ کوئی زر پرست ہو، بلا سے ہوا کرے۔ لیکن وہ دنیا کی عافیت تو تنگ نہ کر دے اور لوگوں کے لئے پیام اجل تو ثابت نہ ہو۔ گالیاں دینے والا نہ ہو اور اس کے منہ سے غلاظت تو نہ نکلے۔ کیا یہ بھی خصوصیات نبوت ہیں۔ مگر نہیں ہم بھول گئے ہمیں کیا حق ہے کہ جناب مرزا کے قول و فعل پر معترض ہوں اور حجت بڑھائیں۔ ان کے تو ماشاء اللہ اگلے پچھلے گناہ خداوند غفور الرحیم نے بخش دیئے۔ پھر جنہیں دست قدرت نے مٹا دیا اور جو خدا نے بھلا دیئے ہم ان کا ذکر کیوں کریں۔ الہام ہوتا ہے: ” اعمل ماشئت فانی قد غفرت لك “ یعنی اے مرزا جو چاہے سو کر ہم نے تجھے بخش چھوڑا ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٨، خزائن ج ٢١ ص ٦٦٧)
اول اول تو بعض برگزیدہ اشخاص کو بھی دھوکا ہوا۔ لیکن آخر سب نے اس کی حقیقت کو معلوم کر لیا۔ مسلمانوں نے اسے دجال کے نام سے منسوب کیا۔ عیسائیوں نے کہا کہ یہ جھوٹا نبی ہے۔ آریوں نے اس کو فریبی جانا اور ان سب نے مل کر اس کی خوب ہی تواضع کی اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ ناروا کام نہیں کیا۔ کیونکہ اگر وہ شخص نبی ہو سکتا ہے جو خدا کے سچے نبیوں کی اہانت
٦
کرے۔ جھوٹ بولے اور خیانت کرے۔ بدزبان ہو۔ خدا پر افتراء اور اس کے نام پر الہامات شائع کرنے والا ہو۔ جس کی پیشین گوئیاں غلط نکلیں۔ جس کے الہامات جھوٹے ثابت ہوں۔ حب دنیا رکھتا ہو۔ وعدہ خلاف اور تارک فرائض ہو۔ جس کے کلام میں اختلاف و تناقض پایا جائے۔ جو شاعر ہو اور صحیح عقائد نہ رکھتا ہو تو بیشک باب نبوت بند نہیں ہوا اور مرزا قادیانی نبی برحق ہیں اور ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ: ”آسمان سے کئی تخت اترے۔ مگر میرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
لیکن اگر یہ سب امور منافی نبوت ہیں تو مرزائی دوست از راہ عقیدت مرزا قادیانی کو جو چاہیں مان لیں انہیں اختیار ہے۔ مگر ہم تو مان نہیں سکتے۔ سب جانتے ہیں کہ نبوت کوئی اکتسابی شے نہیں کہ انسان ریاضت و عبادت کر کے اور تقویٰ و پارسائی کی راہ پر گامزن ہوکر اسے حاصل کر لے۔ بلکہ یہ محض فضل ربی ہے۔ جس زمانہ میں خدا کسی نبی کی ضرورت سمجھتا ہے اور جسے چاہتا ہے۔ یہ عہدہ جلیلہ مرحمت فرماتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی نرالے نبی تھے کہ بقول خود عشق رسول میں ترقی کر کے آخری نبی بن گئے۔ اس کے علاوہ نبوت براہ راست خدا تعالیٰ سے ملتی ہے۔ یہ داد الٰہی ہے اور کسی بشر میں ہر چند کہ وہ نبی ہو۔ یہ قدرت نہیں کہ وہ نبی پیدا کر دے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں اور اس سے انہیں جاہل مسلمانوں کو دھوکا دینا اور امت مرحومہ کا دل لبھانہ مطلوب ہے کہ میں مستقل نبی نہیں۔ آنحضرت کا عکس اور سایہ ہوں۔ انہیں کے فیضان سے میں نے نبوت حاصل کی۔
فرماتے ہیں کہ: ”ایک قسم کی نبوت ختم نہیں وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں۔ کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے۔ یعنی اس کا ظل ہے اور اس کے ذریعے سے ہے اور اسی کا مظہر ہے اور اسی سے فیضیاب ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)
نبوت کی یہ قسم نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث سے نہ آنحضرت ﷺ ہی کی نبوت بخشنے کا ادعا ہے اور نہ عقل سلیم ہی اسے قبول کرتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو اس سے کیا واسطہ۔ انہیں تو بہرکیف نبی بننا تھا حقیقی نہیں۔ تو بروزی ہی سہی اور یہ منصب خود ایجاد کر لیا۔ پھر یہ بھی تو ایک راز سربستہ ہے کہ اس ظلی اور طفیلی نبی کے جی میں کیا آیا کہ مستقل نبیوں کے منہ آنے لگا اور ان سے افضل واعلیٰ اور برتر و بالا ہونے کا دعویٰ کیا۔ کیسی کیسی لن ترانیاں ہانکیں۔ مگر سمجھنے والوں نے سمجھا کہ اب یہ انتہائی بلندیوں سے سر کے بل گرے گا۔
٧
موت آئی ہے سر چڑھتا ہے دیوانہ ہوا ہے
مرزا قادیانی کی نسبت یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ مثل مسیح ہونے کے مدعی تھے اور فرماتے تھے کہ: ”میں مسیح ناصری سے شان میں بڑھ کر ہوں ۔“
(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ١٨٢)
جناب مسیح کا احیائے موتی پر اعجازی قدرت رکھنا مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے نزدیک مسلم ہے۔ قرآن پکار پکار کر ان کی شان میں ”یحی الموتی باذن اللہ“ کہہ رہا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے فیضان سے تو کوئی بیمار بھی اچھا نہ ہوا۔ مردوں کو جلانا تو درکنار ہاں ان کی برکت سے اموات بہت واقع ہوئیں اور اس اعتبار سے ہم انہیں ایسا نبی مانتے ہیں جو ظلمت و ہلاکت موت اور بربادی اپنے ساتھ لایا۔ خود بھی فرماتے ہیں کہ: ”طاعون میرے دعویٰ کی صداقت کے لئے خدا نے بھیجی ہے۔“ مسیح جو احیاء سے ثابت کرتا تھا وہ جناب مرزا اماتت سے کرتے تھے۔ آپ کی معاون و مددگار وبائے طاعون نے کتنے گھر ویران کئے اور کتنی جانیں تلف کیں۔ فرماتے ہیں: ”حمامۃ البشریٰ میں جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی میں نے یہ لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کے لئے دعا کی۔ سو وہ دعاء قبول ہو کر ملک میں طاعون پھیل گئی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥)
پھر آپ نے کتنوں کو ہلاک کیا اور کس قدر لوگ تھے جن کی نسبت موت کی پیشین گوئیاں کیں۔ لیکھرام مرا تو آپ کا مارا۔ ڈوئی کا کام تمام کیا تو آپ نے۔ احمد بیگ بھی اس جہاں فانی سے گزر گیا۔ تو ذات شریف کی بدولت ۔ چراغ دین بھی آپ ہی کی نیم نگاہی کا شہید ہوا۔ غرض ہم کس کس کا نام لیں۔ یہ مارا وہ مارا کا ایک شور تھا کہ آپ نے بپا رکھا۔ پیسہ، اخبار کے مدیر نے بمنت کہا کہ: ”خدا کے لئے مجھے کچھ اور دن زندہ رہنے دیجئے۔“
(اشاعت السنۃ)
اور مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ: ”میرے مقابل پر ہر ایک فرشتہ سیرت جب آیا تو وہی مارا گیا۔ جس نے مباہلہ کیا وہی تباہ ہوا۔“
(سرورق حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٢)
پھر انگریزی زبان میں الہام ہوتا ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: ”خدا دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے۔“
(تذکرہ ص ٦٥)
واہ رے ہلاکو خاں ! تیرے فیض سے تو خدا کی مخلوق کا خاتمہ ہی ہو چلا تھا۔ کیا سچ کہا ہے
٨
کہ: ”طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش فشاں لوگ ہلاک ہورہے ہیں اور اس قدر اسباب موت یکے سے وقوع میں آتے ہیں کہ اس مجموعی حالت کی نظیر کسی
پھر اور فرماتے ہیں کہ: ”میں نے مولویوں کوئی ان میں سے مباہلہ کرے تو میں یہ دعا کروں گا اور اور کوئی دیوانہ اور کسی کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہو کوئی بے عزت ہو اور کسی کو مال کا نقصان پہنچے۔“
جو بچ گیا وہ اپنے بخت کی یاوری پر شکر م کا بازار گرم رکھا کہ آخر کار ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے مجبو جسمانی تکلیف کی پیشین گوئیاں شائع کرنا بند کر دو۔ خصوصیت اور مسیح پر فضیلت کی وجہ نظر آتی ہے۔ سچ ہے
سوائے اس میدان ہلاکت کے مرزا قادیا یہ ہے کہ وہ اپنی شکست اور ہزیمت پر اس قدر ناز کر کرے گا۔ جہاں منہ کی کھائی رسوائی ہوئی۔ جھٹ اپ گالیاں دیں۔ ورنہ واقعات پر نظر کر کے کوئی صاحب میں کامیاب ہوئے۔ جو بروایات اسلامی مسیح موعود کا مشرف باسلام ہوئے اور کس قدر اہل کتاب ان پر ایما مسلمانانِ عالم میں چند ہزار کے سوا جو آپ کے حلقہ ا صلیب کا آپ نے بہت ڈھول پیٹا۔ مگر بے کار و بے گرجا مسمار کرایا۔ کتنے عیسائیوں کو مسلمان کیا۔ بلکہ آ مرزا قادیانی نے ایسے مضبوط کر دیئے کہ وہ آپ کے مم سے جو اعتراضات تھے وہ سب کے سب آپ نے اپ کتاب کے سامنے بجز شرم اٹھانے یا چپ رہنے کے کو
٩
کہ: ”طاعون اور زلزلوں اور طوفان اور آتش فشاں پہاڑوں کے صدمات اور باہمی جنگوں سے لوگ ہلاک ہورہے ہیں اور اس قدر اسباب موت کے اس زمانہ میں جمع ہوئے ہیں اور اس شدت سے وقوع میں آتے ہیں کہ اس مجموعی حالت کی نظیر کسی پہلے زمانے میں پائی نہیں جاتی۔“
(حقیقت الوحی ص١٩٩، خزائن ج٢٢ ص٢٠٧)
پھر اور فرماتے ہیں کہ: ”میں نے مولویوں کا نام لے کر بلایا تھا...... اور لکھا تھا کہ اگر کوئی ان میں سے مباہلہ کرے تو میں یہ دعا کروں گا ان میں سے کوئی اندھا ہو جائے اور کوئی مفلوج اور کوئی دیوانہ اور کسی کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہو، اور کوئی بے وقت موت سے مر جائے اور کوئی بے عزت ہو اور کسی کو مال کا نقصان پہنچے۔“
(حقیقت الوحی ص٣٠٠، خزائن ج٢٢ ص٢١٣)
جو بچ گیا وہ اپنے بخت کی یاوری پر شکر خدا کرے۔ ورنہ مرزا قادیانی نے تو وہ بازار موت گرم رکھا کہ آخر کار ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے مجبور ہوکر یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگوں کی موت اور جسمانی تکلیف کی پیشین گوئیاں شائع کرنا بند کردو۔ ہمیں تو جناب مرزا قادیانی کی یہی امتیازی خصوصیت اور مسیح پر فضیلت کی وجہ نظر آتی ہے۔ سچ ہے۔
سوائے اس میدان ہلاکت کے مرزا قادیانی کو ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ لیکن لطف یہ ہے کہ وہ اپنی شکست اور ہزیمت پر اس قدر ناز کرتے ہیں کہ کیا کوئی بندہ خدا اپنی فتح و نصرت پر کرے گا۔ جہاں منہ کی کھائی رسوائی ہوئی۔ جھٹ اپنی فتح کا ترانہ بلند کیا اور نہ ماننے والوں کو گالیاں دیں۔ ورنہ واقعات پر نظر کر کے کوئی صاحب فہم یہ نہیں کہہ سکتا کہ مرزا قادیانی اس مشن میں کامیاب ہوئے۔ جو بروایات اسلامی مسیح موعود کو انجام دینا تھا ان کی کوشش سے کتنے کافر مشرف باسلام ہوئے اور کس قدر اہل کتاب ان پر ایمان لے آئے۔ بلکہ آپ نے تو چالیس کروڑ مسلمانان عالم میں چند ہزار کے سوا جو آپ کے حلقہ ارادت میں آگئے۔ سب کو کافر بنا دیا۔ کسر صلیب کا آپ نے بہت ڈھول پیٹا۔ مگر بے کار وبے سود کتنی، صلیبیں آپ نے توڑیں۔ کون سا گرجا مسمار کرایا۔ کتنے عیسائیوں کو مسلمان کیا۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ عیسائی مناظروں کے ہاتھ مرزا قادیانی نے ایسے مضبوط کر دیئے کہ وہ آپ کے ممنون ہیں۔ عیسائیوں پر مسلمانوں کی طرف سے جو اعتراضات تھے وہ سب کے سب آپ نے اپنی ذات شریف پر چسپاں کرالئے اور اہل کتاب کے سامنے بجز شرم اٹھانے یا چپ رہنے کے کوئی چارہ نہ رہا۔ عیسائی اگر حضرت مسیح علیہ
٩
السلام کو ابن اللہ کہتے ہیں تو بڑے میاں نے اپنے تئیں ولد اللہ کہا۔ وہ اگر تثلیث کے قائل ہیں تو انہوں نے بھی ایک پاک تثلیث ایجاد کر لی۔ بلکہ خدا کی بیوی بن بیٹھے۔ پھر ایک اور عنایت کی کہ خلاف قرآن حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا اور اس طریق سے گویا قرآن کی تکذیب اور انجیل کی تصدیق کی اور جمہور اہل اسلام کے عقیدہ کے خلاف مسیح کی موت کے قائل ہو گئے۔ یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ انہی کی بدولت عیسائیوں نے آپ کی جان بخشی کی اور آپ سے گالیاں کھا کر خوش ہوتے رہے اور پھر جو آپ نے محلہ خانیار سری نگر میں مدفن مسیح کی تلاش میں خاک چھانی اور ایک دنیا کو اپنے آپ پر ہنسایا۔ یہ بھی کیسا نہ ہو کہ حضرت مسیح کو بے حیائی سے گالیاں دیں۔ تو کیا اس سے صلیبیں ٹوٹ گئیں اور عیسائیوں پر آپ نے فتح پالی۔ آخر وہ کیا بات ہے جس پر قادیانی حضرات کو ناز ہے۔ مرزا قادیانی کے ان خیالات پر جن کی رو سے بمصداق؎
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
وہ خود ملزم ٹھہرتے ہیں۔ اس معقولیت پر انہیں غرہ ہے۔ جو قسام ازل نے مرزائیوں کے حصہ میں بہت ہی کم کر دی ہے۔ ان کا مبلغ علم چند خرافات کچھ الٹی منطق اور بعض سطحی باتوں کے سوا کچھ نہیں اور خدا گواہ ہے کہ کسی مرزائی دوست سے دلائل اور براہین کا نام اور معقولیت کا دعویٰ سن کر مارے ہنسی کے ہمارے پیٹ میں بل پڑ جاتے ہیں۔ ہم نے تو ان کی ایک بھی عقل کی بات نہ دیکھی نہ سنی؎
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
ان اوراق میں ہم نے مرزا قادیانی کی تصنیفات سے ان کا مقام، ان کے عقائد، ان کی پیشین گوئیاں نکال کر جمع کر دی ہیں۔ تاکہ انہیں کے الفاظ میں ان کی سیرت ناظرین پر منکشف ہو جائے۔ امید ہے کہ مرزائی دوست بھی خوش ہوں گے۔ کیونکہ ہم صرف مرزا قادیانی کے اقوال اور ان کے الہامات پیش کرتے ہیں۔ ہم انہیں کے مبلغ ہیں۔ ان معنوں میں نہیں کہ ان کے مطبخ یا مہمان خانہ سے کھانا کھاتے ہیں۔ نہ اس حیثیت سے کہ ان کے مشن سے تنخواہ پاتے ہیں۔ بلکہ اس لئے کہ ان کے حالات و خیالات کو مفت میں شہرت دیتے ہیں اور ان کے اس الہام کو پورا کرنے میں بدل و جان معاون ہیں؎
١٠
”میں تجھے زمین کے کناروں تک شہرت
اور اسی غرض سے ہم نے مرزا قادیانی کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیئے ہیں کہ رسال پریشانی اور اس کی زولیدگی موجب کوفت ہو کر عوام عقائد و تعلیمات، تمرد و تفاخر اور عجائبات پر مطلع نہ سبق انہوں نے اپنے پیر و مرشد اور استاد ازل سے کبھی بھولنے کے نہیں۔ جو کچھ بڑے میاں فرما گئے و عقیدت میں ایسے اندھے ہو گئے ہیں کہ بس یہی س
کہ سالک بے خبر
چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مخلص مر سے کرتے ہیں۔ جو ہم نے انجم الثاقب سے مرزا صاحب کی باتوں کو قبل اس کے کہ مجھ کو علم ہو جس سے ایمان بڑھتا گیا۔ اب اگر دلیل کی رو تو دل سے وہ یقین جو پہلے ہو چکا ہے۔ مٹ نہی کے جواب میں مرزا صاحب کا ناحق پر ہونا بذریع دل کو منوانا مشکل ہے۔“
پس ایسے لوگوں کی حالت تو نہایت ق میں پڑے ہیں اور اپنے زعم باطل میں یہ سمجھے ہ گامزن ہیں اور عاقبت نا اندیش خیال کرتے ہی بیکسی ان کے سرہانے کھڑی رو رہی ہے اور خود اپنے مرض الموت سے واقف نہیں۔ نہیں جانتے ان میں سے اکثر پر غفلت نہیں بلکہ غشی طاری
”میں تجھے زمین کے کناروں تک شہرت دوں گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٣٤، خزائن ج ٣ ص ٤٤٤)
اور اسی غرض سے ہم نے مرزا قادیانی کے اقوال بے ربط بغیر طویل حاشیوں کے مرتب کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیئے ہیں کہ رسالہ طول نہ پکڑ جائے اور مبادا اس کی تطویل باعث پریشانی اور اس کی ژولیدگی موجب کوفت ہو کر عوام کو اس دنیا ”دارِ شیخ چلی“ کے الہامات ودعاوی، عقائد و تعلیات، تمرد و تفاخر اور عجائبات پر مطلع نہ ہونے دے۔ مرزائی تو کسی کی سنتے ہی نہیں۔ جو سبق انہوں نے اپنے پیر و مرشد اور استاد ازلی سے پڑھا ہے۔ وہ کچھ ایسا ذہن نشین ہو چکا ہے کہ کبھی بھولنے کے نہیں۔ جو کچھ بڑے میاں فرما گئے۔ اس سے سرمو تفاوت کو کفر جانتے ہیں اور محبت و عقیدت میں ایسے اندھے ہو گئے ہیں کہ بس یہی شعر ان کے ورد زبان ہے ۔
کہ سالک بے خبر نبود رسم وراہ منزلہا
چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مخلص مرید عبدالمجید اس اندھی تقلید کا اظہار اپنے اس خط سے کرتے ہیں۔ جو ہم نے انجم الثاقب سے نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ: ”میرا دل حضرت مرزا صاحب کی باتوں کو قبل اس کے کہ مجھ کو علم ہو ۔ مان گیا۔ کتاب اور رسالے تو بعد کو دیکھتا رہا۔ جس سے ایمان بڑھتا گیا۔ اب اگر دلیل کی رو سے مرزا صاحب کا ناحق پر ہونا کوئی ثابت کر دے تو دل سے وہ یقین جو پہلے ہو چکا ہے۔ مٹ نہیں سکتا ..... لہٰذا اگر آپ کی یہ نیت ہو کہ میرے خط کے جواب میں مرزا صاحب کا ناحق پر ہونا بذریعہ دلیل ثابت کر کے بھیج دیں تو فضول ہوگا۔ کیونکہ دل کو منوانا مشکل ہے۔“
پس ایسے لوگوں کی حالت تو نہایت قابل رحم ہے۔ وہ کفر اور گمراہی کے تاریک گڑھوں میں پڑے ہیں اور اپنے زعم باطل میں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم فلک نشین ہیں۔ ہلاکت کی راہ پر گامزن ہیں اور عاقبت نااندیش خیال کرتے ہیں کہ ہم راہ راست پر ہیں۔ مگر وہ ایسے بیمار ہیں کہ بیکسی ان کے سرہانے کھڑی رو رہی ہے اور خود موت ان کا ماتم کرتی ہے۔ لیکن وہ خوش ہیں اور اپنے مرض الموت سے واقف نہیں۔ نہیں جانتے ہیں کہ حالت کہاں تک بگڑ چکی ہے اور فی الحقیقت ان میں سے اکثر پر غفلت نہیں بلکہ غشی طاری ہے۔ ایسے لوگوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہدایت
١١
پائیں گے تو ذرا مشکل ہے، مگر پھر بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی سعید روح ہو جو مرزا قادیانی کی ان ہزلیات، لغویات، خرافات، ہذیانات، کلام متناقض و عبارات متخالف، تاویلات بعیدہ، ورکیکہ، خیالات واہیہ و ناشائستہ و ناپسندیدہ طرز کلام پر اطلاع پا کر تائب ہو۔ لیکن یہ رسالہ خاص کر عام مسلمانوں کے لئے لکھا گیا ہے۔ تاکہ وہ مرزا قادیانی کے گلدستہ لغویات کو دیکھیں۔ ان کے دام تزویر سے بچیں اور انہیں دور ہی سے وہ معنی خیز سلام کریں جس کا قرآن میں ذکر ہے۔
” واذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاماً (الایة)“
بسم الله الرحمن الرحيم!
باب نمبر:١ ....... الہامی عجائبات
ذیل میں ہم جناب مرزا قادیانی کے عجیب و غریب دعاوی جو الہام الہی پر مبنی ہیں درج کرتے ہیں۔ ہم تو دم بخود ہیں۔ مگر ناظرین خود فیصلہ کر لیں کہ یہ کسی باخدا سنجیدہ انسان کا کلام ہے یا کسی مجذوب کی بڑ، الہامات ہیں یا احلام اور حدیث النفس۔ مرزا عین اللہ زمین و آسمان کا خالق خدا بھی اور خدا کا باپ بھی، خدا کا بیٹا بھی اور خدا کی بیوی بھی اور پھر (عیاذاً باللہ) خدا ان سے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمائے۔ الہی توبہ! مرزا قادیانی خدا کا شریک و ہمراز، وہ نہ ہوتا تو زمین و آسمان نہ ہوتے۔ رحمت اللعالمین، نبیوں کا چاند غرض۔
ستم گاروں میں عیاروں میں دلداروں میں یاروں میں
فرماتے ہیں۔ میں مسلمانوں کا امام بن کر آیا ہوں۔ آدم، خلیفۃ اللہ میں ہوں، نوح میرا نام ہے۔ موسیٰ و عیسیٰ میں ہوں، محمد و احمد ہوں، زندہ علی ہوں، حسن و حسین ہوں، ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں، برہمن اوتار ہوں ......... گردش کرنے والے آسمان نے بھی اتنے چکر کاٹے ہوں گے۔ نہ کسی گرگٹ نے اتنے رنگ بدلے ہوں گے۔ جتنے مرزا قادیانی نے بدلے۔ لیکن ہم تو یہی کہتے ہیں۔
من انداز قدت را می شناسم
خدا قادیان میں
”خدا قادیان میں نازل ہوگا۔“
(البشریٰ ج ١ ص ٥٦)
١٢
مرزا قادیانی خالق ارض و سما
”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہو ہوں۔ اسی حال میں میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم کوئی نیا آ نئی زمین بناویں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی و ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور جو تر مرتب کر دیا اور میں اس وقت اپنے آپ کو ایسا پاتا تھا۔ گویا نے ورلا (یعنی اوپر والا) آسمان بنایا اور میں نے کہا: ”انا پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی سے بناتے ہیں۔“
(آئینہ کمالات
مرزا قادیانی باعث تکوین روزگار
”لولاک لما خلقت الافلاک“ (اے آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔
مرزا قادیانی خدا کی توحید وتفرید
”انت منی بمنزله توحیدی وتفری جیسا کہ میری توحید و تفرید۔
)
مرزا قادیانی خدا کا باپ
لڑکے کے تولد ہونے کی پیشی گوئی کرتے ہو ارجمند،”مظہر الحق والعلاء کان الله نزل من الـ خود آسمان سے اتر آیا۔“
مرزا قادیانی خدا کا بیٹا
”انت منی بمنزلة ولدی“ اے مرزا تو مجھ ”اسمع ولدى“ اے میرے بیٹے سن۔
١؎ عیسائی مسیح کو ابن اللہ کہتے ہیں۔ لیکن یا مشتقات مجاز کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثال
١٣
مرزا قادیانی خالق ارض و سما
”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں، اور میں نے یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔ اسی حال میں میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم کوئی نیا نظام دنیا کا بنائیں۔ یعنی نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے۔ جن میں کوئی تفریق و ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور جو ترتیب درست تھی اس کے موافق ان کو مرتب کر دیا اور میں اس وقت اپنے آپ کو ایسا پاتا تھا۔ گویا میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے ورلا (یعنی اوپر والا ) آسمان بنایا اور میں نے کہا: ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح “ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی سے بناتے ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مرزا قادیانی باعث تکوین روزگار
”لولاك لما خلقت الافلاك“ (اے مرزا قادیانی) اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔
(حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
مرزا قادیانی خدا کی توحید وتفرید
”انت منی بمنزلہ توحیدی وتفریدی“ اے مرزا قادیانی تو مجھے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید وتفرید۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
مرزا قادیانی خدا کا باپ
لڑکے کے تولد ہونے کی پیشی گوئی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”فرزند دلبند ، گرامی ارجمند، مظہر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء“ یعنی وہ لڑکا ایسا ہو گا جیسا کہ خدا خود آسمان سے اتر آیا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٥٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
مرزا قادیانی خدا کا بیٹا١
”انت منی بمنزلة ولدی“ اے مرزا تو مجھے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”اسمع ولدی“ اے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ جلد اول ص ٤٩)
ا عیسائی مسیح کو ابن اللہ کہتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ ابن تثلیث اور اس کے تمام مشتقات مجاز کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
١٣
مرزا قادیانی خدا کی بیوی
مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی یار محمد صاحب اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم بہ (اسلامی قربانی ص ١٢ مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر ) میں لکھتے ہیں۔ ”حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔“ نعوذ باللہ!
مرزا قادیانی کا حیض
”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے، یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے الہامات دکھلائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں۔ بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
مرزا قادیانی کو درد زہ
”اور پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)
(بقیہ حاشیہ) دو الفاظ ”ابن الوقت“ اور ”ابن السبیل“ پیش کئے جاسکتے ہیں اور عیسائیوں کا عذر یہ ہے کہ ابن اللہ سے یہ مراد ہے کہ مسیح کو خدا کے ساتھ ایک ایسا تعلق ہے جو مجاز کے طور پر اور روحانی اعتبار سے ابنیت کے نام سے موسوم ہے۔ جیسا کہ مولانا روم نے بھی فرمایا ہے: ”اولیاء اطفال حق اند اے پسر“ مگر یہاں مرزا قادیانی خود کو ولد اللہ کہتے ہیں۔ حالانکہ لفظ ولد اور سب الفاظ جو اس سے مشتق ہیں۔ مثلاً والد، مولود، تولید، میلاد، ولادت وغیرہ حقیقی پیدائش کا مفہوم رکھتے ہیں۔ گویا مرزا قادیانی خدا کے صلبی اور حقیقی بیٹے ہیں اور یہ کفر ہے۔ اس لئے قرآن پاک نے جہاں خدا کے بیٹا ہونے کی تردید کی ہے۔ یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ”لم یلد ولم یولد“ کہ نہ کسی نے اس کو جنا۔ نہ اس نے کسی کو جنا ہے۔ نہ وہ کسی کا والد ہے اور نہ مولود۔ اس صریح نص قرآنی کے خلاف مرزا قادیانی کو الہام ہوتا ہے کہ اے میرے بیٹے ہوئے میری بات سن۔ اب ظاہر ہے کہ یہ اس خدا کا کلام تو ہو نہیں سکتا۔ جو سورۂ اخلاص میں اپنی شان ”لم یلد ولم یولد“ کے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ بلکہ جس طرح ان دو الہامات میں بعد المشرقین ہے۔ اسی طرح ان کے الہام کرنے والے بھی ایک دوسرے کی ضد ہیں ایک الہام ربانی ہے اور دوسرا القائے شیطانی۔ مرزائی بھائیو! کس منہ سے عیسائیوں پر اعتراض کرتے ہو کہ وہ مسیح کو ابن اللہ کہتے ہیں۔ دوسرے کی آنکھ کا تنکا تو تمہیں نظر آ جاتا ہے۔ مگر اپنی آنکھ کے شہتیر کی خلش تمہیں نہیں ہوتی۔
١٤
مرزا قادیانی کا استقرار حمل
”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں ٹھہرایا گیا۔“
مرزا قادیانی خدا کے پانی سے
”انت من مائنا“ اے مرزا تو ہمارے
١؎ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”اکثر ہوتے ہیں کہ قبل از ظہور خود انبیاء کو بھی جن پر وہ وح اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١) اسی طرح (براہین احمد وارحم من السماء ربنا عاج“ جس کے معن الہام ہوتا ہے اور جناب ملہم اس کے مطلب پر مطلقا
اس کے علاوہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”بعض دف ہے اور اس کی تفہیم کے لئے کتب لغت کی مدد لینی پڑ دے سکتی۔“ کئی پیش گوئیاں اور الہامات ایسے ہوت مرزا قادیانی کچھ اور سمجھ لیتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٤ ہر حالت میں مرزا قادیانی کی تشریح درست اور صحیح ت
پس یہاں جو لکھا ہے کہ اے مرزا تو میر معنی ہیں کہ اے مرزا قادیانی تو میرے نطفہ سے ہ قرینہ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی خدا کی بیوی بنے۔ نے بے چین کر دیا۔ بچہ جنے، خدا تعالیٰ نے معاذ ا جب یہ سب باتیں سچ ہیں تو نطفۃ اللہ ہونا کون سا م مرزائی برہم ہو، ناک بھنویں چڑھائے، یا شرمندہ ہ اور روحانی اور مجازی اعتبار سے یہ سب کچھ کہا گی مرزا قادیانی کو مجاز کے رنگ میں نطفۃ اللہ کہتے ہیں ل
١٥
مرزا قادیانی کا استقرار حمل
ٹھہرایا گیا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
مرزا قادیانی خدا کے پانی سے ١؎
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ص ایضاً)
١؎ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”اکثر پیشین گوئیوں میں ایسے ایسے اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں کہ قبل از ظہور خود انبیاء کو بھی جن پر وہ وحی نازل ہوتی ہے سمجھ میں نہیں آسکتے۔“ (ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١) اسی طرح (براہین احمدیہ ص ٥٥٦) پر یہ الہام درج ہے۔ ”رب اغفر وارحم من السماء ربنا عاج“ جس کے معنی مرزا قادیانی پر نہیں کھلے۔ پھر عبرانی زبان میں الہام ہوتا ہے اور جناب ملہم اس کے مطلب پر مطلقاً مطلع نہیں ہوتے۔
(براہین احمدیہ ص ٥٥٣، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)
اس کے علاوہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”بعض دفعہ الہامات کے الفاظ مستعملہ کا مفہوم مجہول ہوتا ہے اور اس کی تفہیم کے لئے کتب لغت کی مدد لینی پڑتی ہے۔ لیکن بسا اوقات لغت بھی کچھ مدد نہیں دے سکتی۔“ کئی پیش گوئیاں اور الہامات ایسے ہوتے ہیں جن کا حقیقی مفہوم کچھ اور ہوتا ہے اور مرزا قادیانی کچھ اور سمجھ لیتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦) اس لئے لازم نہیں کہ ہر حالت میں مرزا قادیانی کی تشریح درست اور صحیح تسلیم کر لی جائے۔
پس یہاں جو لکھا ہے کہ اے مرزا تو میرے پانی سے ہے۔ ہماری سمجھ میں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اے مرزا قادیانی تو میرے نطفہ سے ہے اور ایسا سمجھنے کے لئے ہمارے پاس زبردست قرینہ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی خدا کی بیوی بنے۔ انہیں حیض آنے لگا۔ استقرار حمل ہوا۔ درد زہ نے بے چین کر دیا۔ بچہ جنے، خدا تعالیٰ نے معاذ اللہ ان سے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ جب یہ سب باتیں سچ ہیں تو نطفۃ اللہ ہونا کون سا دشوار نا قابل قبول اور خلاف عقل امر ہے کہ کوئی مرزائی برہم ہو، ناک بھنویں چڑھائے، یا شرمندہ ہو۔ ہاں اگر کہا جائے کہ یہ سب استعارات ہیں اور روحانی اور مجازی اعتبار سے یہ سب کچھ کہا گیا ہے تو چلو ہمیں اس میں اصرار نہیں۔ ہم بھی مرزا قادیانی کو مجاز کے رنگ میں نطفۃ اللہ کہتے ہیں۔
١٥
مرزا قادیانی کی پاک تثلیث ١؎
”ہم دونوں (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا قادیانی) کے روحانی قوائے میں ایک خاص طور پر (خاصیت) رکھی گئی ہے۔ جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ ...... اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے جو در حقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں ...... ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کا نام روح القدس ہے۔ ...... اور یہی پاک تثلیث ہے۔“
(توضیح المرام ص ٢١،٢٢، خزائن ج ٣ ص ٦١، ٦٢)
مرزا قادیانی خدا کا شریک و ہمراز
اے مرزا قادیانی ”تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”الارض والسماء معک کما ہو معی“ آسمان و زمین تیرے ساتھ ہیں۔ جیسے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
”انت مرادی ومعی“ اے مرزا قادیانی تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”ان اللہ معک ان اللہ یقوم اینما قمت“ خدا تیرے ساتھ ہے۔ خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہوتا ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٧، خزائن ج ١١ ص ٣٠١)
مرزا قادیانی کا ہاتھ خدا کا ہاتھ
”وہ لوگ جو تیرے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں۔ وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)
مرزا قادیانی ممدوح خدا
”یحمدک اللہ من عرشہ“ اے مرزا خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔
(براہین احمدیہ ج ٣ ص ٢٤٠، خزائن ج ١ ص ٢٦٦)
١؎ عیسائیوں کی تثلیث کے مقابل مرزا قادیانی نے بھی ایک تثلیث ایجاد کر لی ہے۔ جسے وہ پاک تثلیث کہتے ہیں۔ اگر تثلیث کو کفر سمجھا جائے تو مرزا قادیانی کا یہ ایک پاک کفر ہے۔ سبحان اللہ ! ان کے منہ سے کفر بھی پاک ہو کر نکلتا ہے۔
١٦
مرزا قادیانی مغفور
”انت منی بمنزلة لا يعلمها الخلق نحن اولياء فى الحيوٰة الدنيا والاخرة اذا غضبت غضبت“ ”تو مجھ سے بمنزلہ اس انتہائی قرب کے ہے۔ جس کو دنیا نہیں جان سکتی۔ ہم تمہارے متولی اور متکفل دنیا اور آخرت میں ہیں۔ جس پر تو غضبناک ہو۔ میں غضبناک ہوتا ہوں ۔“ ”وكلما احببت احببت من عادى ولياً لى فقد اذنت للحرب“ اور جن سے تو محبت کرے میں محبت کرتا ہوں اور جو شخص میرے ولی سے دشمنی رکھے میں لڑنے کے لئے اس کو متنبہ کرتا ہوں ۔ ”انی مع الرسول اقوم والوم من يلوم واعطيك لما يدوم“ ”میں اس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس شخص کو ملامت کروں گا جو اس کو ملامت کرے اور تجھے وہ چیز دوں گا جو ہمیشہ رہے گی۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩، ٩٠)
مرزا قادیانی نبیوں کا چاند
”يأتى قمر الانبياء“ ”نبیوں کا چاند آئے گا۔
(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٥٨)
”تو مجھے ایسا ہے جیسے بنی اسرائیل ۔ تو مجھے ایسا ہے جیسی میری توحید ۔ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ ١؎ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٣، اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء)
١؎ مرزا قادیانی تو اس جہاں سے گزر گئے۔ ورنہ ہم ان سے پوچھتے کہ کس بادشاہ نے آپ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈی۔ کہیں وہ والی دولت خداداد افغانستان نہ ہو۔ جس نے آپ کے مریدوں کو سنگسار کرا دیا اور آپ کو ٹسوے بہانے پڑے۔ تذکرۃ الشہادتین لکھی اور آپ کی امت میں آج تک ان کا ماتم بپا ہے اور ابھی تھوڑے دن ہوئے۔ امیر امان اللہ خان غازی کے حکم سے ایک مرزائی مارا گیا۔ آخر اس آباد دنیا کے طول و عرض میں وہ کون سا بادشاہ ہے جس کے دل میں مرزا قادیانی کی محبت ڈالی گئی اور وہ ان سے برکت ڈھونڈنے آیا ہوگا۔ کوئی بے ملک نواب، غیر متمدن ترکوں نے آپ کی طرف مطلق التفات نہ کیا۔ عرب کی سرحد کو بھی آپ نے نہ پایا۔ بلکہ موت کے ڈر سے آپ کو فریضہ حج ترک کرنا پڑا۔ کسی آزاد اسلامی سلطنت میں جاکر آپ کو تبلیغ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ مسلمان والیان ریاست نے بھی آپ کو قبول نہ کیا۔ غیر مسلم حکومتوں نے آکر آپ کی چیخ و پکار نہ سنی اور کسی نے آپ کے کپڑوں سے برکت نہ ڈھونڈی تو کیا گلہ۔ جب کہ مسلمان سلاطین نے آپ کی طرف اعتناء نہ کی اور مطلق اعتنا نہ کی۔
١٧
مرزا قادیانی لوگوں کا امام
اے مرزا قادیانی میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
مرزا قادیانی ابراہیم
”واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی“ اس طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا جو اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)
مرزا قادیانی آدم
”اس عاجز کو آدم اور خلیفۃ اللہ کہا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٢٧٥)
”اے آدم تو اور تیرے دوست بہشت میں داخل ہو۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)
مرزا قادیانی موسیٰ، یعقوب، آدم و احمد
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
در برم جامہ ہمہ ابرار
میں آدم ہوں اور احمد مختار ہوں۔ جملہ ابرار کے جامہ فضیلت میرے زیب تن ہیں۔
(درثمین فارسی ص ١٧١)
مرزا قادیانی مسیح
”انت الشیخ المسیح“ تو بزرگ مسیح ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٩٣)
مرزا قادیانی نوح
”اے نوح اپنی خواب پوشیدہ رکھ۔“
(انجام آتھم ص ٥١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
١٨
مرزا قادیانی محمد مصطفیٰ
منم محمد وا
یعنی میں ہی تو مسیح زمان اور کلیم خ
مرزا قادیانی زندہ علی
”میں زندہ علی ہوں۔“
مرزا قادیانی کرشن رودر گوپال
”ہے رودر گوپال تیری استت گ
”ایسا ہی میں راجہ کرشن کے رنگ سے ایک بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ خیال اور قیاس سے نہیں بلکہ وہ خدا جو زمین ہے ...... خدا کا وعدہ تھا کہ آخر زمانہ میں اس میرے اوتار سے پورا ہوا۔“
مرزا قادیانی برہمن اوتار
”برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا
باب نمبر: ٢ ...... قرآنی
قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیا کی رفعت شان، عظمت و جلال اور پاکیز سب میری ہی شان میں وارد ہوئی ہیں۔ وہی رتبہ ہے جو رسول پاک کا تھا۔ ”داعی
اے مرزا قادیانی کے ان عجیب کچھ کہا۔ مگر ہم صرف اس قدر عرض کرتے
مرزا قادیانی محمد مصطفیٰ
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
یعنی میں ہی تو مسیح زمان اور کلیم خدا ہوں اور میں نبی محمد مصطفیٰ اور احمد مجتبیٰ ہوں۔
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
مرزا قادیانی زندہ علی
”میں زندہ علی ہوں۔“
(الحکم، مورخہ ١٠ نومبر ١٩٠٥ء)
مرزا قادیانی کرشن رودر گوپال ١؎
”ہے رودر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٣١٧)
”ایسا ہی میں راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں۔ جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے۔ اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے۔...... خدا کا وعدہ تھا کہ آخر زمانہ میں اس (یعنی کرشن) کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے اوتار سے پورا ہوا۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨، ٢٢٩)
مرزا قادیانی برہمن اوتار
”برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١)
باب نمبر : ٢ ...... قرآنی آیات کا مکرر نزول مرزا قادیانی پر
قرآن مجید میں بہت سی ایسی آیات ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ کی حیثیت اور مقام۔ ان کی رفعت شان، عظمت و جلال اور پاکیزہ اخلاق سے متعلق ہیں۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یہ سب میری ہی شان میں وارد ہوئی ہیں۔ خدا نے وہی آیات قرآنی مجھ پر مکرر الہام فرمائیں۔ میرا وہی رتبہ ہے جو رسول پاک کا تھا۔ ”داعياً الی الله“ میں ہی ہوں۔ میں ہی ایک روشن چراغ
١؎ مرزا قادیانی کے ان عجیب و غریب دعاوی کو سن کر لوگوں نے ان کی شان میں بہت کچھ کہا۔ مگر ہم صرف اس قدر عرض کرتے ہیں ۔ تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی۔
١٩
اور ابوجہل تو خود مشہور ہے۔ ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں۔ استعمال کئے۔ (ازالہ اوہام ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٥، ١١٦)
”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(سراج المنیر ص ٣٢، خزائن ج ١٢ ص ٣٢)
قرآن میں نحوی غلطیاں
”بعض جگہ خدا تعالیٰ انسانی محاورات کا پابند نہیں ہوتا۔ یا کسی اور زمانہ کے متروکہ محاورہ کو اختیار کرتا ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بعض جگہ انسانی گریمر یعنی صرف ونحو کے ماتحت نہیں چلتا۔ اس کی نظیریں قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں۔ مثلاً آیت: ”ان ھذان لساحران“ انسانی نحو کی رو سے ”ان ھذین“ چاہئے تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٠٤ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٧)
”قرآن زمین سے اٹھ گیا تھا۔ میں اسے آسمان پر سے لایا ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣١، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)
باب نمبر : ٥ ...... نبوت مرزا قادیانی
مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تاریخ و ترتیب دیکھنی ہو اور ان کی تدریجی ترقی کا راز معلوم کرنا ہو۔ تو مناسب ہے کہ ان کی کتب کا باقاعدہ اور سلسلہ وار مطالعہ کیا جائے۔ اوّل اوّل تو آپ نے ملہمیت کا دعویٰ کیا۔ پھر محدثیت ومجددیت کا۔ اس کے بعد کہیں کہیں دبی زبان سے نبی ہونے کا اعلان کیا۔ لیکن ساتھ ہی اس کی تشریح بھی کر دی کہ اس سے مراد مشرف بہ الہام ہونا اور خدا سے خوشخبریاں پانا ہے اور بس اور مجھے مجاز کے طور پر نبی کہا گیا ہے۔ پھر بتدریج آپ حقیقی نبی بنے اور جلیل القدر اور اولوالعزم مستقل نبیوں پر فضیلت و فوقیت کا دعویٰ کرنے لگے۔ پھر جب مسلمان برہم ہوئے تو کہہ دیا کہ نہیں میری نبوت کچھ ایسی شے نہیں ہے جو باعث پریشانی ہو۔ مجھے رسول خدا کی اتباع سے یہ درجہ ملا ہے۔ میں عکس و بروز اور ظل و سایہ ہوں۔ اس ذات ستودہ صفات کا اور کہا کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ صاحب شریعت نبیوں کی شان ہے کہ ان کے منکر کافر ہو جائیں اور کبھی اپنے نہ ماننے والوں کو کافر اور جہنمی کہہ دیا۔ کبھی فرمایا میں نبی تو ہوں۔ لیکن جدید شریعت نہیں لایا اور کبھی صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ غرض مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کر کے ایک عجیب مشکل میں پڑ گئے۔ کبھی انکار کرتے۔ کبھی اقرار۔ ان کا کلام
٤٠
- ٩...... ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم کما ارسلنا الی
فرعون رسولاً“ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔
(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- ١٠...... ”انا اعطیناک الکوثر“ ہم نے کثرت سے (کوثر) تجھے دیا۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- ١١...... ”وما ینطق عن الهویٰ“ وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ١٢...... ”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله“ ان سے
کہہ۔ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو۔ تاکہ خدا بھی تم سے محبت کرے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- ١٣...... ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ اپنے بعد ایک
رسول کی بشارت دیتا ہوں۔ جس کا نام احمد ہوگا۔
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)
اس سے پہلے آپ دیکھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی آدم و نوح و موسیٰ و عیسیٰ، محمد و احمد سب کچھ بنے اور بمصداق؎
سال دیگر گر خدا خواہد خدا خواہد شدن
اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے بیوی اور بال بچے بھی بن بیٹھے۔ اب دیکھئے کہ جس قدر اولوالعزم انبیاء ہوئے ہیں۔ آپ سب پر فضیلت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جناب مسیح تو ان کے ممبر پر بھی قدم رکھنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ابوالبشر آدم علیہ السلام سے یہ افضل، حضرت نوح ان کا پانی بھرتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ سے بھی ماشاء اللہ آپ کو دعویٰ برتری ہے۔ تمام مخلوق خدا پر انہیں فضیلت ہے۔ امام حسینؓ اور ابو بکرؓ سے یہ ارفع واعلیٰ، اولیاء و ابدال واقطاب سب سے ان کا مقام بلند۔ غرضیکہ تقدس مآب افضل الرسل ہیں۔ سرور کائنات ہیں اور خلاصہ موجودات ہیں۔ خود ہی فرماتے ہیں کہ میں نبیوں کا چاند ہوں۔ سبحان اللہ! احسن الخالقین۔ درثمین کے یہ شعر جو ان کے طبعزاد ہیں۔ خاص توجہ کے لائق ہیں؎
(درثمین فارسی ص ١٧٤)
٢١
داد آں جام را مرا بتمام
(درثمین فارسی ص ١٧١)
فرماتے ہیں کہ یوں بہت سے نبی ہو گزرے ہیں۔ مگر میں عرفان الٰہی میں کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس کے خلاف میں ان سب کا مجموعہ ہوں۔ ان کا خلاصہ ہوں۔ انہیں کب یارا ہے کہ میرے سامنے آئیں۔ میں سورج ہوں وہ چراغ ہیں۔ میں چاند ہوں وہ تارے ہیں۔ میرے مقابل میں ...... انہیں کب فروغ ہو سکتا ہے۔ خار تو ایک طرف چمنستان معرفت کے گل بھی دعویٰ ہمسری نہیں کر سکتے ؎
صبا نے مار طمانچہ منہ ان کا لال کیا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
”خدا تعالیٰ نے اس امت میں مسیح موعود بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
”اے عیسائی مشنریو! اب ربنا مسیح مت کہو اور دیکھو آج تم میں ایک ہے جو مسیح سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے۔ مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا وہ ہر گز نہیں مرے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤)
”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو جو کام میں کر سکتا ہوں وہ نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہر گز نہ دکھلا سکتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بہ منبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
٢٢
”یعنی میں ہی تو ہوں جو بشارتوں اور پیشگو السلام کی کیا مجال ہے کہ میرے منبر پر قدم بھی رکھنے پا ”وہ خدا جو مریم کے بیٹے کے دل پر اترا ت تجلی میں اس سے زیادہ ۔“
”تم کہتے ہو مسیح کلمۃ اللہ ہے۔ ہم کہتے ہ دیا ۔“
حضرت محمد ﷺ پر فضیلت ١
خسفا القمران الم
”آنحضرت ﷺ کے لئے چاند کے خسوف سورج دونوں ۔ کیا تو انکار کرے گا۔“
اے مرزا قادیانی تھے بڑے استاد۔ کہنے کو تو ک حضرت محمد ﷺ پر بھی خاص طور سے فضیلت کا اظہار کر د لازم ہے۔ انہیں پر مجھے جادو چلانا ہے۔ اس لئے باقی س تو کچھ مضائقہ نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بالخصوص ب گا کہ میں تمہاری طرف سے وکیل ہو کر تمہارے نبی کے برا بھلا کہہ کر ترکی بہ ترکی جواب دیتا ہوں۔ مگر محمد ﷺ کی جائے گا۔ ان ہی مسلمانوں کو پھانسنا ہے۔ ان کے نبی کی ہے۔ اوپرے دل سے ہی سہی مجھے تو اپنا الو سیدھ آنحضرت ﷺ پر اپنی فضیلت جتائی تو دوسرے مقامات خادم ہوں۔ وہ میرے آقا ہیں۔ میں ان کا غلام ہوں اور
لیکن ان باتوں سے جہلاء کی تشفی ہوتی ہو تو ہ کہ یہ سب روباہ خصالیاں ہیں۔ ابلہ فریبیاں ہیں۔ مرزا قادیانی کچھ اور شکار کھیلنا چاہتا ہے۔
٢٣
"یعنی میں ہی تو ہوں جو بشارتوں اور پیشین گوئیوں کے مطابق بھیجا گیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی کیا مجال ہے کہ میرے منبر پر قدم بھی رکھنے پائے۔"
"وہ خدا جو مریم کے بیٹے کے دل پر اترا تھا۔ وہی میرے دل پر بھی اترا ہے۔ مگر اپنی تجلی میں اس سے زیادہ۔"
(حقیقت الوحی ص ٢٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٦)
"تم کہتے ہو مسیح کلمتہ اللہ ہے۔ ہم کہتے ہیں۔ ہمیں خدا نے اس سے بھی زیادہ درجہ دیا۔"
(بدر مورخہ ٧ نومبر ١٩٠٢ء)
حضرت محمد ﷺ پر فضیلت ؎١
خسفا القمران المنيران اتنكر
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
"آنحضرت ﷺ کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں ۔ کیا تو انکار کرے گا۔"
١؎ مرزا قادیانی تھے بڑے استاد۔ کہنے کو تو کہہ گئے کہ میں سب نبیوں سے افضل ہوں اور حضرت محمد ﷺ پر بھی خاص طور سے فضیلت کا اظہار کر دیا۔ مگر پھر سمجھے کہ مسلمانوں کی کچھ اشک شوئی لازم ہے۔ انہیں پر مجھے جادو چلانا ہے۔ اس لئے باقی سب انبیاء پر اپنی بزرگی جتاؤں اور چلا جاؤں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بالخصوص جو چاہوں کہہ گذروں۔ مسلمانوں کو سمجھالوں گا کہ میں تمہاری طرف سے وکیل ہو کر تمہارے نبی کے خلاف جو عیسائیوں نے زہر اگلا ہے۔ مسیح کو برا بھلا کہہ کر ترکی بہ ترکی جواب دیتا ہوں۔ مگر محمد ﷺ کی نسبت اگر ناشائستہ کلام کیا تو بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ ان ہی مسلمانوں کو پھانسنا ہے۔ ان کے نبی کی کہیں کہیں بڑائی بھی کردوں تو میرا کیا بگڑتا ہے۔ اوپرے دل سے ہی سہی مجھے تو اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔ اس لئے اگر ایک آدھ جگہ آنحضرت ﷺ پر اپنی فضیلت جتائی تو دوسرے مقامات پر کہہ دیا کہ میں رسالت مآب ﷺ کا ادنیٰ خادم ہوں۔ وہ میرے آقا ہیں۔ میں ان کا غلام ہوں اور یہاں تک بھی کہہ دیا کہ ؎
لیکن ان باتوں سے جہلاء کی تشفی ہوئی ہو تو عجیب نہیں۔ ورنہ جو سمجھ دار تھے وہ جان گئے کہ یہ سب روباہ خصالیاں ہیں۔ ابلہ فریبیاں ہیں۔ دھوکے بازیاں ہیں۔ اس ٹٹی کی آڑ میں مرزا قادیانی کچھ اور شکار کھیلنا چاہتا ہے۔
٢٣
”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں گذر گیا اور دوسری فتح مبین باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو ۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٩٣ ، خزائن ج ١٦ ص ٢٨٨)
”تین ہزار معجزے ہمارے نبی کریم ﷺ سے ظہور میں آئے ۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ ، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
”اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت
”ان اللہ خلق آدم وجعلہ سیدا وحاکما وامیرا علی کل ذی روح من الانس والجان کما یفھم من آیتہ اسجدوا لادم ثم ازلہ الشیطان واخرجہ من الجنان ورد الحکومة الی ھذا الثعبان ومس آدم ذلة وخزی فی ھذہ الحرب العوان وان الحرب سجال وللاتقیاء مآل عند الرحمن فخلق اللہ المسیح الموعود یحیل الھزیمة علی الشیطان فی الاخر الزمان وکان وعد مکتوباً فی القرآن“
(خطبہ الہامیہ ص ٣١٢ ، خزائن ج ١٦ ص ٣١٢)
یعنی اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور سردار اور حاکم اور امیر ہر ذی روح جن و انس پر بنایا۔ جیسا کہ آیت ”اسجدوا لادم“ سے سمجھا جاتا ہے۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان نے پھسلا لیا اور جنت سے نکلوا دیا اور حکومت اس اژدھا یعنی شیطان کی طرف لوٹائی گئی ۔ اس سخت لڑائی میں آدم علیہ السلام کو ذلت اور رسوائی نے چھوا اور لڑائی ڈول کھینچتی ہے اور بزرگوں کے لئے مآل ہے۔ رحمٰن کے نزدیک پس اللہ نے پیدا کیا۔ مسیح موعود کو کہ شکست دے۔ آخر زمانہ میں اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔“
حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت
”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٣٧ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)
٢٤
امام حسینؓ پر فضیلت
صد حسینؓ ا
ہر گھڑی ہر آن مجھے سیر کربلا میسر ہے۔
سنو۔ اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین عـ ایک ہے کہ اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔
فانی اوید کل
مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ملتی رہتی ہے۔
” طلبتم فلاحا من قتیل نجـ فلاح و نجات ڈھونڈتے ہو جو نومیدی کے ساتھ قتل کیـ میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسینؓ دُ ہے۔
ے ”حسینؓ طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ ان بـ ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا۔ اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ۔ استقامت اور زہد و عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ غرض یہ امر نہایت درجہ کـ کی تحقیر کی جائے۔ جو شخص حسینؓ یا کسی اور بزرگ کی کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا۔
٢٥
امام حسینؓ پر فضیلت ١؎
صد حسینؑ است در گریبانم
(درثمین فارسی ص ١٧١)
ہر گھڑی ہر آن مجھے سیر کر بلا میسر ہے۔ سینکڑوں حسین تو میں جیب میں لئے پھرتا ہوں۔ اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسینؓ تمہارا منجی ہے۔ سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسینؓ سے بڑھ کر ہے۔
فانی اوید کل آن وانصر
(اعجاز احمدی ص ٧٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد ملتی رہتی ہے۔
”طلبتم فلاحا من قتیل بخیبته“ (یعنی اے شیعہ لوگو) تم ایسے شخص سے فلاح و نجات ڈھونڈتے ہو جو نومیدی کے ساتھ قتل کیا گیا۔
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
١؎ ”حسینؓ طاہر مطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے۔ جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت الٰہی اور صبر اور استقامت اور زہد و عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسینؓ کی تحقیر کی جائے۔ جو شخص حسینؓ یا کسی اور بزرگ کی جو ائمہ مطہرین میں سے ہے۔ تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٥)
٢٥
اولیاء ابدال واقطاب پر فضیلت
”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)
ابوبکر صدیق پر فضیلت
”میں حضرت ابوبکر صدیق بلکہ بعض انبیاء علیہم السلام سے بھی افضل ہوں۔“
( مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)
سب انبیاء پر فضیلت
من بہ عرفان نہ کمترم ز کسے
( درثمین فارسی ص ١٧٢)
اگرچہ بہت سے نبی ہو گزرے ہیں ۔مگر میں عرفان الٰہی میں کسی سے کم تو نہیں ہوں۔
داد آن جام را مرا بتمام
( درثمین فارسی ص ١٧١)
محبت اور عرفان کا جام اور نبیوں کو بھی خدا نے دیا۔ مگر میرا پیالہ تو چھلک رہا ہے۔ کیونکہ ان سب کا مجموعہ اس میں ہے۔ ” یاتی قمر الانبیاء “ نبیوں کا چاند (یعنی مرزا قادیانی ) آئے گا۔
( انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
خلاصہ صفات انبیاء
”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک راست باز مقدس نبی گذر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جاویں۔ سو وہ میں ہوں۔“
( براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧)
تمام مخلوق خدا پر فضیلت
”اگر تیری عزت ہمیں منظور نہ ہوتی تو یہ مقام تباہ ہو جاتا۔ اگر تو تمام مخلوق سے بہتر
٢٦
شخص نہ ہوتا تو یہ مقام تباہ ہو جاتا۔ (نوٹ مرزا قادیانی) اس الہام میں ابتدائی حروف کچھ اور تھے جو یاد نہیں رہے۔ مگر مفہوم یہ تھا۔
(بدر ج ٦ نمبر ١٤ ص ٣)
”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
”میں نور ہوں۔ مجدد مامور ہوں، عبد منصور ہوں، مہدی معہود ہوں اور مسیح موعود ہوں......مجھے کسی کے ساتھ قیاس مت کرو اور کسی دوسرے کو میرے ساتھ ......میں مغز ہوں۔ جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں۔ جس کے ساتھ جسم نہیں اور وہ سورج ہوں۔ جس کو دشمنی اور کینہ کا دھواں چھپا نہیں سکتا اور کوئی ایسا شخص تلاش کرو جو میری مانند ہو اور ہرگز نہیں پاؤ گے...... میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور میرا قدم ایک ایسے مینارہ پر ہے جس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١٦ ص ٥٠ حاشیہ)
باب نمبر:٣ ...... اہانت انبیاء علیہم السلام
ذیل میں ہم مرزا قادیانی کے ناملائم ودرشت الفاظ، سب وشتم اور فحش کلمات درج کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین ان کو بنظر انصاف پڑھیں اور دیکھیں کہ یہ صریح بدزبانیاں اور گالیاں ہیں کہ مدعی نبوت کی زبان پر معلم الملکوت کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔ جلے دل کے پھپھولے ہیں کہ توڑے ہیں۔ روح اللہ کے ساتھ بغض وعداوت ہے کہ ان کی ہر بات سے ٹپکتی ہے۔ یہ ایسا متعفن وآلودہ، ناپاک اور بیہودہ مواد ہے کہ نبی تو ایک طرف کسی شریف آدمی کی نسبت بھی یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ یہ گندگی کا ذخیرہ اس کے دل میں جمع ہو اور یہ غلاظت اس کی زبان سے مترشح ہو۔ خصوصاً وہ جو اعلیٰ تہذیب واخلاق کا مدعی ہو اور جو دنیا کو اخلاق فاضلہ سکھانے اور انسانیت وشرافت کا سبق دینے آیا ہو۔ جو مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ روح القدس کی تائید ہمیشہ اس کے شامل حال رہے۔ جسے الہام ......ہو کہ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی ہے اور جو ساری دنیا کو بیوقوف سمجھ کر خود ہی کہتا ہو کہ: ”ہمارا ہرگز یہ طریق نہیں کہ مناظرات ومجادلات یا اپنی تالیفات میں کسی نوع کے سخت الفاظ کو اپنے مخاطب کے لئے پسند رکھیں یا کوئی دل دکھانے والا لفظ اس کے حق میں یا اس کے کسی بزرگ کے حق میں بولیں۔ کیونکہ یہ طریق علاوہ خلاف تہذیب ہونے کے ان لوگوں کے لئے مضر بھی ہے۔ جو مخالف رائے کی حالت میں فریق ثانی کی کتاب کو
٢٧
دیکھنا چاہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب کسی کتاب کو دیکھتے ہی رنج پہنچ جائے تو پھر برہمی طبیعت کی وجہ سے کس کا جی چاہتا ہے کہ اس دل آزار کتاب پر نظر بھی ڈالے۔“
(شحنہ حق ص ١١، خزائن ج ٢ص٤٣٤)
اب اس تہذیب کے دعویدار اور سخت کلامی و دل آزاری سے باز رہنے والے بزعم خود سنجیدہ و مقدس انسان کی یاوہ گوئیاں اور ژاژ خائیاں سنئے اور دیکھئے کہ کون ہے جسے وہ نہیں کوستا۔ مریم صدیقہ کی اہانت کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان باندھتا اور ان کے حق میں بدزبانی کرتا ہے۔ حضرت محمدﷺ کی ہتک سے نہیں چوکتا۔ حسین کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی بے عزتی کرتا ہے اور قرآن پر حرف گیری کرنے کے لئے اپنا نامبارک منہ کھولتا ہے۔
اہانت مریم علیہا السلام
- ١...... ”مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیا۔ تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو اور
تمام عمر خاوند نہ کرے۔ لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ بعد مریم کے بیٹا پیدا ہوا۔“
(چشمہ مسیحی ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ٢٠ص ٣٥٥، ٣٥٦)
- ٢...... ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے
روک رکھا۔ پھر بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ص ١٨)
- ٣...... ”ایک بڑھیا عورت کا بچہ خدا کا بیٹا بن گیا۔“
(نور الحق ص ٥٠، خزائن ج ٨ص ٦٨)
اہانت مسیح علیہ السلام
- ١...... ”ایسے ناپاک خیال، متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس
آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اسے نبی قرار دیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ص ٢٩٣)
- ٢...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں
آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ص ٢٩١)
٢٨
- ٣...... ”یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ
روح تھی۔“
- ٤...... ”مریم کا بیٹا کشلیا کے بیٹے سے
- ٥...... ”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کر
عادت سے۔“
- ٦...... ”ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا۔
- ٧...... ”آپ کا کنجریوں سے میلان
مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی والے سمجھ لیں کہ ایسا آدمی کس چال چلن کا آدمی ہو سکتا
١؎ اسی طریق استدلال کے مطابق مرزا قادیانی ان کی جوانی کا زمانہ کیسے لوگوں کی صحبت میں گزرا تو ہما دیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”نیز زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت بادہ بہ سر اور یار آشنا بہ بر کا مصداق ہوتی ہے۔ کوئی خاوند الرام ص ٨٠، خزائن ج ٣ ص ٩٥) یہ سب تجربہ کی باتیں دلالت کرتی ہیں۔ جن کی ہم نشینی اور موانست ومجالست میں بھی اعزاز شمولیت حاصل ہوگا اور ان کے خواب بھی کہ یہ تجربہ کی باتیں ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی خود ہی فرما کہ زانیہ اور قوم کے کنجر جن کا دن رات پیشہ زنا کاری کا نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں۔“ (حقیقت الوحی ص کرتوت پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراض جن کے آئی تھی۔ چھوؤ اور بدن بھی ہاں ایسا پاک ومطہر کہ جس جس سے اعجازی قوت ہر دم نکلتی رہتی تھی۔ ایک مومنہ کے
٢٩
- ٣....... ”یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ کسی شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی
روح تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٤....... ”مریم کا بیٹا کئلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔“
(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٤١)
- ٥....... ”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید بیماری کی وجہ سے یا پرانی
عادت سے۔“
(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- ٦....... ”ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا۔ بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔“
(الحکم مورخہ ٢١ فروری ١٩٠٢ء)
- ٧....... ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی
مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔...... سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا آدمی کس چال چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
١؎ اِسی طریق استدلال کے مطابق مرزا قادیانی کا میلان طبع دیکھنا اور معلوم کرنا ہو کہ ان کی جوانی کا زمانہ کیسے لوگوں کی صحبت میں گزرا تو ہم سے سنئے۔ ہم ان کی پوتھی سے ان کو سنا دیں۔ لکھتے ہیں کہ: ”زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت (کنجری) ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بہ سر اور یار آشنا بہ بر کا مصداق ہوتی ہے۔ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔“ (توضیح المرام ص ٨٠، خزائن ج ٣ ص ٩٥) یہ سب تجربہ کی باتیں ہیں اور ارباب نشاط کی صحبت و رفاقت پر دلالت کرتی ہیں۔ جن کی ہم نشینی اور موانست ومجالست مرزا قادیانی کو میسر ہوگی۔ بزم رقص و سرود میں بھی اعزاز شمولیت حاصل ہوگا اور ان کے خواب بھی سنتے ہوں گے اور ہم نے یونہی نہیں کہہ دیا کہ یہ تجربہ کی باتیں ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی خود ہی فرماتے ہیں کہ: ”میرا ذاتی تجربہ ہے۔............ کہ زانیہ اور قوم کے کنجر جن کا دن رات پیشہ زنا کاری کا تھا۔ ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہو گئیں۔“ (حقیقت الوحی ص ٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥) اس منہ سے اور اس کرتوت پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراض جن کے بدن کو ایک گنہگار عورت نے جو ایمان لے آئی تھی۔ چھوا اور بدن بھی ہاں ایسا پاک و مطہر کہ جس کے چھونے سے بیماریاں دور ہو جاتی تھیں۔ جس سے اعجازی قوت ہر دم نکلتی رہتی تھی۔ ایک مومنہ کے اظہار عقیدت (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٩
- .......٨ "خدا ایسے شخص کو دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا۔ جس کے پہلے فتنہ نے ہی دنیا
کو تباہ کیا ہو۔"
(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)
- .......٩ "آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کرنے کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ
بات میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکت جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- .......١٠ "اس درماندہ انسان کی پیشین گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے
آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی۔ نادان اسرائیلی نے ایسی معمولی باتوں کو پیش گوئی کیوں نام رکھا۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)
(بقیہ حاشیہ) پر جو مجمع عام کے روبرو اس سے ہوا۔ یہ کہ اس نے اپنا سر روح اللہ کے پاک قدموں میں رکھ دیا اور پاؤں پر عطر انڈیلا۔ یہ بے شرمانہ اعتراضات اوباشانہ کلمات اور سوقیانہ گفتگو کہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگائے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پاؤں پر ملے۔ بھلا اس سے کوئی پوچھے کہ تجھے کیونکر معلوم ہوا کہ وہ تائب عورت کنجری تھی۔ حالانکہ اصل یونانی متن میں جو لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی گنہگار عورت کے ہیں اور پھر تجھے یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ کنجری جوان بھی تھی اور مزید برآں جو عطر کی شیشی اس کے پاس تھی جب کہ وہ ایمان لائی۔ اس میں حرام کاری کی کمائی کا عطر تھا اور یہ کہ وہ عورت بد نظری کا محل تھی اور خاکم بدہن مسیح نے اس عورت کو ایسی نظر سے دیکھا جو قابل اعتراض ہے۔ یہ کیسی غیر ثابت شدہ و بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔ اس کرتوت پر بھی حضرت مسیح علیہ السلام پر اعتراضات یہ باتیں صرف وہی کر سکتا ہے۔ جسے نہ خدا کا خوف ہو نہ خلق خدا سے شرم اے مرزا نفسانیت کی عینک اتار کر دیکھ تو تجھے حقیقت معلوم ہوگی اور اپنی فطرت پر روح اللہ کا اندازہ نہ کر۔ جھوٹوں کے لئے ذلت اور خواری ہے۔ رسوائی و روسیاہی ہے۔ مگر جس نے بے حیائی و بے شرمی کا آسرا کر رکھا ہو اسے کوئی کیا سمجھائے۔
تو ہم بھی لیتے کسی اپنے مہربان کے لئے
٣٠
- .......١١ "آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔
مرگی کو بیماری نہ سمجھتے تھے۔ جن کا آسیب خیال کرتے تھے
- .......١٢ "نہایت شرم کی بات ہے کہ آ
ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا اور پھر اپنا
- .......١٣ "آپ کا ایک یہودی استاد تھ
تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی س شرارت ہے کہ آپ کو سادہ لوح رکھا۔"
- .......١٤ "آپ علمی اور عملی تقویٰ میں ب
شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔"
- .......١٥ "ایک فاضل پادری فرماتے
شیطانی الہام بھی ہوا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہا ہوگئے۔"
- .......١٦ "آپ کی انہی حرکات سے
رہتے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ض شفاخانہ میں آپ کا با قاعدہ علاج ہو۔"
- .......١٧ "عیسائیوں نے بہت سے آ
کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔"
- .......١٨ "چاہئے تھا کہ وہ ایسی لاف
بات پر قائم رہتے کہ میری بادشاہت دنیا کی بادشاہت سکے اور اپنے پہلے پہلو میں ناکامی دیکھ کر ایک اور چا میں پکڑے گئے تو پھر اپنے تئیں بغاوت کے الزام س خدائی کا اور پھر یہ چالبازیاں جائے تعجب ہے۔"
- .......١٩ "ساری رات آنکھوں میں
٣١
- ١١...... ”آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔ آپ جاہل عورتوں اور عوام الناس کی طرح
مرگی کو بیماری نہ سمجھتے تھے۔ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ١٢...... ”نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی
ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ١٣...... ”آپ کا ایک یہودی استاد تھا۔ جس سے آپ نے تورات کو سبقاً پڑھا
تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور اس استاد کی شرارت ہے کہ آپ کو سادہ لوح رکھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ١٤...... ”آپ علمی اور عملی تقویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ
شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ١٥...... ”ایک فاضل پادری فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ
شیطانی الہام بھی ہوا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا کے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہوگئے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ١٦...... ”آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض
رہتے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور ہمیشہ چاہتے تھے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا با قاعدہ علاج ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ١٧...... ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے
کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ١٨...... ”چاہئے تھا کہ وہ ایسی لاف وگزاف سے اپنی زبان کو بچاتے اور اسی پہلی
بات پر قائم رہتے کہ میری بادشاہت دنیا کی بادشاہت نہیں۔ مگر نفسانی جذبات کی وجہ سے صبر نہ کر سکے اور اپنے پہلے پہلو میں ناکامی دیکھ کر ایک اور چال اختیار کی اور پھر جب باغی ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے تو پھر اپنے تئیں بغاوت کے الزام سے بچنے کے لئے وہی پہلا پہلو اختیار کیا۔ دعویٰ خدائی کا اور پھر یہ چالبازیاں جائے تعجب ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ١٣)
- ١٩...... ”ساری رات آنکھوں میں رو رو کر نکالی۔ پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی۔ ایلی
٣١
ایلی کہتے جان دی۔ باپ کو کچھ رحم نہ آیا۔ اکثر پیش گوئیاں پوری نہ ہوئیں۔ معجزات پر تالاب نے دھبہ لگایا۔ فقیہوں نے پکڑا اور خوب پکڑا کچھ پیش نہ گئی۔ ایلیاہ کی تاویل میں کچھ عمدہ جواب نہ بن پڑا اور پیش گوئی کو اپنے ظاہر الفاظ میں پورا کرنے کے لئے ایلیا کو زندہ کر کے نہ دکھلا سکا اور لما سبقتنی کہہ کر بصد حسرت اس عالم کو چھوڑا۔ ایسے خداؤں سے تو ہندوؤں کا رام چندر ہی اچھا رہا۔ جس نے جیتے جی راون سے اپنا بدلہ لے لیا۔"
(نور القرآن حصہ اول ص ٢٥، خزائن ج ٩ ص ٣٥٤)
٢٠...... "جس نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں اور جس نے شراب خوری اور قمار بازی اور کھلے طور پر دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اور اس کو یہ موقع دے کر کہ وہ اس کے بدن سے بدن لگاوے۔ اپنی تمام امت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی حرام نہیں۔"
(انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ ص ٣٨)
عذر گناہ
یہ اور اس قسم کی گالیاں جب مرزا قادیانی نے اپنے حریف حضرت مسیح کو پیٹ بھر کے دے لیں اور خوب کوسا تو مسلمانوں کے ڈر سے مارے جن میں غیرت مندوں کی کمی نہیں۔ ایک عذر کیا۔ مگر عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق۔ لکھتے ہیں کہ: "مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کوئی خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
گویا یہ فرماتے ہیں اور مسلمانوں کو بیوقوف بناتے ہیں کہ ہم نے یسوع کو گالیاں دی ہیں۔ جو عیسائیوں کا خدا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ انہیں ہم گالیاں نہیں دیتے۔ حالانکہ کوئی صاحب علم یہ نہیں مان سکتا کہ یسوع جو ایک کنواری کے یہاں پیدا ہوا۔ جس کی ماں کا نام مریم تھا۔ جس کے معجزات کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ جسے عیسائی خدا مانتے ہیں۔ کوئی اور شخص تھا اور عیسیٰ علیہ السلام جنہوں نے مریم صدیقہ کے ہاں جنم لیا (دراں حالیکہ کسی انسان نے اس عفیفہ با عصمت ...... اور پاک باز عورت کے بدن کو نہ چھوا تھا) ایک اور شخص تھا۔
مرزائی دوستو! اگر وہ دو مختلف شخصیتیں ہیں تو قرآن کیوں نصاریٰ کو الزام دیتا ہے کہ انہوں نے خدا کے نبی کو خدا کا بیٹا کہا اور خدا مانا۔ وہ کون شخص تھا جو مسلمانوں کے عقائد کے مطابق تو نبی تھا۔ لیکن نصاریٰ نے اسے خدا بنا دیا۔ وہ کون تھا جس پر یہودیوں نے بہتان لگائے اور
٣٢
قرآن نے ان ملعون یہودیوں پر لعنت بھیجی۔ وہ کون تھا جسے عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق صلیب پر چڑھا دیا گیا۔ لیکن قرآن نے کہا کہ خدا نے اسے صلیب پر چڑھنے نہ دیا۔ لیکن شاید مسلمانوں کا قول مرزائیوں کے لئے حجت نہ ہو اور نہ قرآن ان کے لئے دستور العمل اور واجب الاتباع شے ہو۔ اس لئے ذرا ٹھہریئے ہم جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا ہی دیں۔ سنئے۔ آپ کے پیر و مرشد کا اپنا قول ہے کہ: ”ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے۔ مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی جانتا ہوں۔“
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ١ نمبر ٩ ص ٣٤٤ ستمبر ١٩٠٢ء)
کیا اب بھی کچھ شک ہے کہ یسوع مسیح اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔ ڈوئی ایک عیسائی مدعی نبوت تو اس ذات اقدس کے حق میں مبالغہ کر کے اسے خدا کہتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی یسوع مسیح کو نبی مانتے ہیں۔ پھر یہ کیا لغو عذر ہے کہ ہم یسوع مسیح کو برا بھلا کہتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام کو تو نہیں کوستے۔ مولانا مولوی محمد انور شاہ کشمیریؒ صدر مدرس دارالعلوم دیوبند کے منظوم قطعہ اہجویہ کا ایک شعر ہے۔
کما سب او مـــا ھکذا اخوان
یعنی مرزا قادیانی مسیح ابن مریم پر اصطلاحیں گھڑ گھڑ کر طعن کرتا ہے کہ اے نصاریٰ یہ تمہارا مسیح ہے۔ جیسے دو حقیقی بھائی ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ دوسرے کی ماں کہہ کر۔
مسیح اور یسوع ایک ہیں
اب اس کی تائید میں اور حوالے سنئے کہ عیسائی جسے یسوع مسیح کہتے ہیں اور الٰہی ذات تصور کرتے ہیں وہ مرزا قادیانی کے اپنے خیال میں وہی شخص ہے جسے مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام سے موسوم کرتے اور ایک جلیل القدر نبی تسلیم کرتے ہیں اور ایک حوالہ نہیں دو نہیں ہم تو اس قدر پیش کر دیں کہ کسی مرزائی کی ڈائری میں نقل کرنے کی گنجائش نہ رہے۔
”جن لوگوں نے ان کو خدا بنایا ہے۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان۔ وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کے پیدا کرنے والا قرار دیں تو ان کو اختیار ہے۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩)
دیکھا کیسا صاف اور مہر نیمروز کی طرح روشن حوالہ ہے۔ کون ہے جسے عیسائی تو خدا کہتے ہیں اور مسلمان خالق طیور اور دونوں اس کے آسمان پر صعود فرمانے پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیا
٣٣
وہ دو جداگانہ ہستیاں ہیں۔ عقل اور انصاف کو نہ چھوڑو، لو اب اور سنو۔ لکھتے ہیں: ”اور دوسری قسم ظلم کی جو خالق کی نسبت ہے وہ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خالق کی نسبت کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں تو کچھ شک نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی ہیں اور بلاشبہ عیسیٰ مسیح خدا کا پیارا خدا کا برگزیدہ اور دنیا کا
خدمت کر دیں۔ جو اس قدر مسکت اور دندان شکن ہے کہ اگر مرزا قادیانی پھر قبر سے نکل آئیں تو باوجود اس کے کہ وہ تحریف کلام میں ید طولیٰ رکھتے ہیں اور باتیں بنانے میں انہیں کافی مشق ہے۔ اس حوالہ کو نہ توڑ موڑ سکیں گے۔ کیونکہ یہ قطعی اور فیصلہ کن ہے اور ان کی زبان سے مجرمانہ اقبال ہے۔ لیکن پھر بھی کیا ہی سچا قول ہے کہ نادانستہ ان کے منہ سے نکل گیا۔ کوئی مرزائی حیا اور تقویٰ کو رکھتے ہوئے اس کا جواب دے۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا...... دوسرے مسیح ابن مریم۔ جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢)
ایک حوالہ ہم اور بھی دے دیں۔ کتاب ازالۃ اوہام مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے ثبوت میں تصنیف کی ہے۔ جس میں قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے اقوال سے جمہور اہل اسلام کے عقیدہ کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت کرنا چاہی ہے اور اس میں علمائے اہل اسلام کی طرف روئے سخن ہے۔ لکھا ہے کہ: ”اے حضرات مولوی صاحبان جب کہ عام طور پر قرآن شریف سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے اور ابتداء سے آج تک بعض اقوال صحابہ اور مفسرین بھی اس کو مانتے چلے آئے ہیں تو اب آپ لوگ ناحق کی ضد کیوں کرتے ہیں۔ کہیں عیسائیوں کے خدا کو مرنے بھی دو۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٧٩ خزائن ج ٣ ص ٣٥١)
یہ حوالے اس امر کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ مرزا قادیانی کو حضرت مسیح علیہ السلام سے نہایت عداوت تھی۔ وہ کہتے تھے کہ:
ہم ہونگے وہ نہ ہونگے وہ ہونگے ہم نہ ہونگے
یہ اصل حقیقت ہے۔ جسے مرزا قادیانی مسلمانوں سے عمر بھر چھپاتے رہے اور ان کی ذریت کو اس کا اخفا پسند ہے۔ لیکن سارے جہاں کی آنکھوں میں تو خاک جھونکی جا نہیں سکتی۔ بھلا یہ بھی کوئی عذر ہے کہ یسوع کو ہم نے سخت سست کہا اور خدا جانے وہ انجیلی یسوع کون تھا۔ لو مرزائیو! تم بھی کیا کہو گے۔ ہم تمہیں بتاتے ہیں اور مرزا قادیانی کے الفاظ میں بتاتے ہیں کہ یسوع کی کیا شان تھی۔ سنئے مرزا قادیانی کیا فرماتے ہیں: ”اس (خدا) نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے
٣٥
ہے۔ جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)
"اس خدا کے دائمی پیارے اور دائمی محبوب اور دائمی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)
"جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے۔ وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترک جائیداد کی طرح ہے۔"
(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥)
لیجئے! اب تو یسوع بھی مرزا قادیانی کی نظر میں کوئی حقیر اور قابل نفرت انسان نہ رہا۔ بلکہ خدا کا نہایت پیارا، خدا کا برگزیدہ خدا کے ہاتھ سے صاف کیا ہوا اور اس کے نور کے سایہ میں رہنے والا پاک انسان ٹھہرا تو کیا اس صاف باطن کو بدکار اور بد باطن کہنا اور روشنی بخشنے والے چاند پر تھوکنے کی کوشش کرنا اسی شخص کا کام ہے۔ جس میں خدا کی روح ہو۔ یا اس شخص کا جو من کل الوجوہ تصرف شیطان میں ہو۔ انصاف! انصاف!!
مگر نہیں مرزائی کہیں گے کہ کہیں عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر ناروا بات کہی ہو۔ یا الزام لگایا ہو تو بتاؤ۔ ورنہ ہم کسی صورت میں نہیں مانیں گے کہ مرزا قادیانی نے خدا کے پاک نبی کے حق میں گستاخی کی ہے۔ لئے ہم اپنے دوستوں کی یہ بات بھی مان لیتے ہیں اور ان کی خاطر وہ مقام نقل کرتے ہیں جہاں مسیح علیہ السلام کا نام لے کر اور عیسیٰ علیہ السلام کہہ کر کفر بکا ہے اور گالیاں دی ہیں۔ تاکہ کوئی حجت باقی نہ رہنے پائے۔
دوستو! ہم ثبوت پر ثبوت پیش کئے جائیں گے اور عذر وحیلہ کی تمام راہیں مسدود کر دیں گے۔ مگر تمہیں بھی قسم ہے۔ جو کسی ایک بات کو بھی مان لو۔ اب آنکھوں سے تعصب و جہالت کے پردوں کو اٹھاؤ اور کانوں سے روئی نکالو اور سنو کہ مرزا قادیانی حضرت مسیح کو کس طرح کوس رہے ہیں۔
- الف ....... "عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید بیماری کی وجہ سے یا پرانی
عادت سے۔"
(کشتی نوح ص ٦٦ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)
- ب ....... "ایک خوبصورت کنجری ایسی قریب بیٹھی ہے۔ گویا بغل میں ہے۔ کبھی
ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے۔"
(نور القرآن حصہ اول ص ٧٤، خزائن ج ٩ ص ٤٤٩)
٣٦
- ج...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کسی فاحشہ کے گھر میں چلے جانا اور اس کا عطر
پیش کردہ جو حلال وجہ سے تھا۔ استعمال کرنا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٧، خزائن ج ٥ ص ٥٩٧)
- د...... ”ایک دفعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر آئے تھے تو اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ
کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہوگئے۔ دوبارہ آ کر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہشمند ہوں۔“
(بدر ج ٦ نمبر ١٩ ص ٥، مورخہ ٩ مئی ١٩٠٧ء، ملفوظات ج ٩ ص ٢٤٣)
- ہ...... ”حضرت مسیح علیہ السلام ہدایت توحید اور دینی استقامتوں کو دلوں میں
قائم کرنے میں...... قریب قریب ناکام رہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٠، ٣١١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
- و...... ”مسیح علیہ السلام کی راست بازی اپنے زمانے کے راست بازوں سے
بڑھ کر ثابت نہیں ہوئی۔“
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
- ز...... ”مسیح علیہ السلام کا بغیر باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کچھ عجوبہ بات
نہیں۔...... برسات آتی ہے تو ضرور باہر جا کر دیکھئے۔ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ پیدا ہو جاتے ہیں۔“
(جنگ مقدس ص ١٩٨، ١٩٩، خزائن ج ٦ ص ٢٨٠، ٢٨١)
یہ سب مجموعہ خرافات اور گلدستہ لغویات مرزا قادیانی کی تحریرات سے انتخاب کر کے ہم نے پیش کر دیا۔ بتاؤ اب بھی کوئی عذر باقی ہے۔ کوئی حیلہ ہے جو چل سکے۔ ہے کوئی تاویل ممکن جو پیش کی جاسکے۔ مگر پھر بھی اگر تم اپنے راگ الاپے جاؤ اور کہو کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کی مطلق توہین نہیں کی۔
کوئی انسان حسین علیہ السلام جیسے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے راست باز پر بد زبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ (اعجاز احمدی ص ٣٨، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩) اور بقول ملا آں باشد کہ چپ نشود۔ تم سچ مچ کہے جاؤ تو جانو۔ ہم اتمام حجت کر چکے۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں
اب ایک اور بات باقی اور لازم ہے کہ اس بحث کو مکمل کرنے کے لئے اس کا بھی ذکر کیا جائے۔ ممکن ہے کہ کوئی مرزائی کہے کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا الزامی جواب کے طور پر لکھا۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ کیا الزامی جواب ہے۔ جس کی زد کے نیچے خود الزام دینے والا آ جائے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سچے نبی ہیں اور مرزا قادیانی ان پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ کیونکر ان کے حق
٣٧
میں بدزبانی کر سکتے ہیں۔ جنہیں خود خدا کا برگزیدہ اور رسول مانتے ہیں۔ یہ تو دراصل الزامی جواب نہیں۔ بلکہ اپنے آپ کو ملزم گرداننا ہے۔ کیونکہ جب خود ان کے قول کے مطابق آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترک جائیداد کی طرح ہے۔ تو کس طرح ممکن ہے کہ آپ اپنے اولوالعزم رسول کو گالیاں بھی دیں اور مسلمان بھی کہلائیں۔ مرزا قادیانی کے الزامی جواب بھی خوب ہیں۔ جن کی بدولت غیر کا تو کچھ بگڑتا نہیں۔ مگر اپنے ایمان سے انہیں ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ کیا کوئی عیسائی کسی یہودی کے الزامات کے جواب میں جو وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت نہایت بے باکی و بے حیائی اور دریدہ دہنی سے شب و روز لگاتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دے کر اپنی ایمانی غیرت کا ثبوت دے سکتا ہے؟ وہ تو اپنی چھری سے اپنی ناک کاٹنا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اپنے حسد، بغض اور عداوت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے اور مسیح کے ساتھ بوجہ رقابت کے انہیں اس قدر عناد تھا کہ انہیں وہ ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے اور انہوں نے اپنے دل کا بخار نکالنے کے لئے اس کی پرواہ نہ کی کہ ایمان ہاتھ سے جاتا ہے۔
ہزار خندہ کفر است بر مسلمانی
لیکن لطف یہ ہے کہ اس قدر یاوہ گوئی پر بھی لوگوں کو یہی کہتے اور سمجھاتے رہے کہ: ”جس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا نبی اور نیک اور راست باز مانتے ہیں تو پھر کیونکر ہمارے قلم سے ان کی شان میں سخت الفاظ نکل سکتے ہیں۔“
(کتاب البریہ ص١٠١، خزائن ج١٣ ص١١٩)
یہ ایسی جرأت و جسارت، بے باکی اور دیدہ دلیری کا کام ہے جو صرف مرزا قادیانی جیسے ابلہ فریب ہی کر سکتے ہیں۔
اہانت موسیٰ علیہ السلام
”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کئی لاکھ بے گناہ بچے مار ڈالے۔“
(نورالقرآن ص٢٤ حاشیہ، خزائن ج٩ ص٣٥٣)
اہانت حسینؓ
”تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی کے ساتھ مر گیا۔ پس تم کو خدا نے جو ٣٨ غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا۔“
اہانت آنحضرت ﷺ
”حضرت رسول خدا ﷺ کے الہام
”ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ﷺ ہونے موجود کسی نمونہ کے منکشف نہ ہوئی۔“
مرزا قادیانی کا یہ عام دستور تھا کہ کر انبیائے سابقین کے سر تھوپ دیتے۔ یا قر جائے۔ چنانچہ اپنی گالیوں کی حمایت میں بھی ا نے بھی بدزبانی کی تھی اور حوالہ میں متی کی انجیل فقیہوں اور فریسیوں کی زبوں حالی پر رنج و افسو اس درد و محبت کے ساتھ جیسا کہ ان الفاظ سے یروشلم! اے یروشلم!!
”تو جو نبیوں کو قتل کرتی ہے اور جو ہی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچ تیرے لڑکوں کو جمع کر لوں۔ مگر تم نے نہ چاہا۔“
اور مرزا قادیانی اسی پر اکتفا نہیں کر
باب نمبر:٤ ...... اہانت
”قرآن شریف جس آواز بلند غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے ہے۔.... ایسا ہی کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے آدمی کا نام لے کر یا اشارے کے طور پر اس برخلاف ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن میں
غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا۔“
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
اہانت آنحضرتﷺ
”حضرت رسول خداﷺ کے الہام و وحی مدینہ منورہ سے قصد مکہ غلط نکلی۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١)
”ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرتﷺ پر مسیح ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ ہونے موجود کسی نمونہ کے منکشف نہ ہوئی۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
مرزا قادیانی کا یہ عام دستور تھا کہ جب ذات شریف پر کوئی اعتراض ہوتا تو اسے اٹھا کر انبیائے سابقین کے سر تھوپ دیتے۔ یا قرآن مجید کے ذمہ لگا دیتے اور آپ ایک طرف ہو جاتے۔ چنانچہ اپنی گالیوں کی حمایت میں بھی آپ نے ایسا ہی کیا۔ فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی بدزبانی کی تھی اور حوالہ میں متی کی انجیل کا تیسواں باب پیش کیا۔ جہاں آپ نے ریا کار فقیہوں اور فریسیوں کی زبوں حالی پر رنج و افسوس کیا ہے اور ان کی کمزوریاں ان پر ظاہر کی ہیں اور اس درد و محبت کے ساتھ جیسا کہ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے جو ان کے متصل ہی آتے ہیں کہ اے یروشلم ! اے یروشلم !!
”تو جو نبیوں کو قتل کرتی ہے اور جو تیرے پاس بھیجے گئے۔ انہیں سنگسار کرتی ہے۔ کتنی ہی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں۔ مگر تم نے نہ چاہا۔“
اور مرزا قادیانی اسی پر اکتفا نہیں کرتے۔ قرآن مجید سے بھی سند لیتے ہیں۔
باب نمبر : ٤ ...... اہانت قرآن (قرآن میں گالیاں)
”قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے۔ ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔...... ایسا ہی کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے۔...... ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارے کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانہ حال کی تہذیب کے برخلاف ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے قرآن میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر رکھا
٣٩
اور ابوجہل تو خود مشہور ہے۔ ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں۔ استعمال کئے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٥، ١١٦)
”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“
(سراج المنیر ص ٣٢، خزائن ج ١٢ ص ٣٤)
قرآن میں نحوی غلطیاں
”بعض جگہ خدا تعالیٰ انسانی محاورات کا پابند نہیں ہوتا۔ یا کسی اور زمانہ کے متروکہ محاورہ کو اختیار کرتا ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ بعض جگہ انسانی گرائمر یعنی صرف ونحو کے ماتحت نہیں چلتا۔ اس کی نظیریں قرآن شریف میں بہت پائی جاتی ہیں۔ مثلاً آیت: ”ان ھذان لساحران“ انسانی نحو کی رو سے ”ان ھذین“ چاہئے تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٤٠٤ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٤١٧)
”قرآن زمین سے اٹھ گیا تھا۔ میں اسے آسمان پر سے لایا ہوں۔“
(ازالۃ اوہام ص ٧٣١، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)
باب نمبر: ٥ ...... نبوت مرزا قادیانی
مرزا قادیانی کے دعوٰی نبوت کی تاریخ و ترتیب دیکھنی ہو اور ان کی تدریجی ترقی کا راز معلوم کرنا ہو۔ تو مناسب ہے کہ ان کی کتب کا باقاعدہ اور سلسلہ وار مطالعہ کیا جائے۔ اوّل اوّل تو آپ نے ملہمیت کا دعوٰی کیا۔ پھر محدثیت و مجددیت کا۔ اس کے بعد کہیں کہیں دبی زبان سے نبی ہونے کا اعلان کیا۔ لیکن ساتھ ہی اس کی تشریح بھی کر دی کہ اس سے مراد مشرف بہ الہام ہونا اور خدا سے خوشخبریاں پانا ہے اور بس اور مجھے مجاز کے طور پر نبی کہا گیا ہے۔ پھر بتدریج آپ حقیقی نبی بنے اور جلیل القدر اور اولوالعزم مستقل نبیوں پر فضیلت و فوقیت کا دعوٰی کرنے لگے۔ پھر جب مسلمان برہم ہوئے تو کہہ دیا کہ نہیں میری نبوت کچھ ایسی شے نہیں ہے جو باعث پریشانی ہو۔ مجھے رسول خدا کی اتباع سے یہ درجہ ملا ہے۔ میں عکس و بروز اور ظل و سایہ ہوں۔ اس ذات ستودہ صفات کا اور کہا کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ صاحب شریعت نبیوں کی شان ہے کہ ان کے منکر کافر ہو جائیں اور کبھی اپنے نہ ماننے والوں کو کافر اور جہنمی کہہ دیا۔ کبھی فرمایا میں نبی تو ہوں۔ لیکن جدید شریعت نہیں لایا اور کبھی صاحب شریعت ہونے کا دعوٰی کر دیا۔ غرض مرزا قادیانی دعوٰی نبوت کر کے ایک عجیب مشکل میں پڑ گئے۔ کبھی انکار کرتے۔ کبھی اقرار۔ ان کا کلام
٤٠
در حقیقت ایک چیستان سے کم نہیں۔ جسے ہم نے بتلایا میں بھی اسی بناء پر پھوٹ پڑ گئی اور مرزائی دو جماعتوں میں قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو ان کے دعوے پارٹی منکر نبوت ہے اور انہیں صرف مجدد تسلیم کرتی ہے باب نبوت کھول دیا اور دوسرا فرقہ ختم نبوت کا قائل ہے اپنے عقائد کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ دونوں نبوت کا دعوٰی کیا بھی اور نہیں بھی کیا۔ وہ نبی بنے اور ن شریعت اور مستقل نبی ان کے مقابل آسکے اور پھر دفعۃً والی زبان ہی کسی نے گدی سے نکال دی اور اب وہ منہ
گہے بر پشت پائے
مگر وہ زمانہ شناس تھے۔ وقت کی نزاکت کو جہاندیدہ تھے اور ہوشیار و چالاک تھے۔ اس لئے پہیلیوں خوب ہی کام چلایا۔ کسی شاعر نے شاید انہی کی حالت کو
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے
اعتذار
کفریات مرزا کی پیش نظر اشاعت سے قبل تفصیل داستان دراز کی حیثیت رکھتی ہے۔ مختصرًا صرف میں کتابت ختم ہو چکی تھی اور صرف طباعت باقی تھی کہ و آخر کی تمام کاپیاں گم ہوگئیں اور ان گمشدہ اوراق کو و طباعت اور ترتیب صفحات میں کچھ نقائص رہ گئے ہوں ثانی میں انشاء اللہ العزیز ان نقائص کا ازالہ کر دیا جائے
اب ان کا کلام معجز نظام سنئے۔ ان کے اق لطف اٹھائیے۔
٤١
در حقیقت ایک چیستان سے کم نہیں۔ جسے ہم تو بھلا کیا سمجھیں گے۔ مرزا قادیانی کے مقلدین میں بھی اسی بناء پر پھوٹ پڑگئی اور مرزائی دو جماعتوں میں تقسیم ہو گئے۔
قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو ان کے دعاوی کے لحاظ سے نبی مانتی ہے اور لاہوری پارٹی منکر نبوت ہے اور انہیں صرف مجدد تسلیم کرتی ہے۔ ایک فرقہ نے نہایت فیاضی کے ساتھ باب نبوت کھول دیا اور دوسرا فرقہ ختم نبوت کا قائل ہے۔ دونوں مرزا قادیانی کی تحریرات کی بناء پر اپنے عقائد کی بنیاد رکھتے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ دونوں راستی پر ہیں۔ فی الواقع مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا بھی اور نہیں بھی کیا۔ وہ نبی بنے اور نبی بھی ایسے کہ کیا جرات جو کوئی صاحب شریعت اور مستقل نبی ان کے مقابل آسکے اور پھر دفعۃً ایسے چپ ہو گئے کہ گویا وہ تعلیاں کرنے والی زبان ہی کسی نے گدی سے نکال دی اور اب وہ منہ میں نہیں رہی۔ ان کی یہی کیفیت رہی کہ ؎
گہے بر پشت پائے خود نہ بینم
مگر وہ زمانہ شناس تھے۔ وقت کی نزاکت کو سمجھتے تھے۔ ضرورت زمانہ کو جانتے تھے۔ جہاندیدہ تھے اور ہوشیار و چالاک تھے۔ اس لئے پہلوؤں سے کام چلاتے رہے اور حق تو یہ ہے کہ خوب ہی کام چلایا۔ کسی شاعر نے شاید انہی کی حالت کو ملحوظ رکھ کر یہ شعر کہا تھا کہ ؎
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
اعتذار
کفریات مرزا کی پیش نظر اشاعت سے قبل مجھے جن مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑا۔ ان کی تفصیل داستان دراز کی حیثیت رکھتی ہے۔ مختصراً صرف اس قدر عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ اواخر مئی میں کتابت ختم ہو چکی تھی اور صرف طباعت باقی تھی کہ درمیان کے چالیس صفحات کے علاوہ اوّل وآخر کی تمام کاپیاں گم ہوگئیں اور ان گمشدہ اوراق کو دوبارہ لکھانا پڑا۔ ایسی حالت میں اگر کتابت، طباعت اور ترتیب صفحات میں کچھ نقائص رہ گئے ہوں تو میں ان کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ طبع ثانی میں انشاء اللہ العزیز ان نقائص کا ازالہ کر دیا جائے گا۔ اسرار احمد آزاد! مورخہ ١٦؍جون ١٩٣٣ء
اب ان کا کلام معجز نظام سنئے۔ ان کے اپنے الفاظ میں ان کے دعویٰ ملاحظہ فرمائیے اور لطف اٹھائیے۔
٤١
دعویٰ نبوت
- ١...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ٢...... ”میں اسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ
اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ٣...... ”میں رسول اور نبی ہوں۔“
(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)
- ٤...... ”الہامات میں میری نسبت بار بار کہا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا
امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ اس کا دشمن جہنمی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٢ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
ایک اور عبارت جو نہایت شاندار اور مرزا قادیانی کی مہتم بالشان نبوت پر دال ہے۔ ملاحظہ ہو:
- ٥...... ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کیلئے کہ میں اس کی طرف
سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ثابت ہو جائے۔“
(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
اللہ اللہ کتنا بڑا دعویٰ ہے۔
غیر تشریعی نبوت
- ٦...... ”میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں۔ مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعویٰ
اور نئے نام کے۔“
(نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠)
- ٧...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم بغیر نئی شریعت کے رسول اور نبی ہیں....... بنی
اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے جن پر کتاب نازل نہیں ہوئی۔“
(بدر ج ٧ نمبر ٩، مورخہ ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٨...... ”یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی
اس میں شک کروں تو میں کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا۔ یقینی اور قطعی ہے............. اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔“
(تجلیات الہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)
٤٢
دعویٰ نبوت کی آیات پیش ہو چکیں اور وہ مقامات بھی پیش ہو چکے جن سے دعویٰ میں ایک تخصیص کی ہے۔ یعنی جدید شریعت لانے والا نبی ہونے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ میں بغیر شریعت کے نبی ہوں۔ جیسے بنی اسرائیل میں کئی نبی ہو گزرے ہیں۔ جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ مگر یہ ابتدائے عشق ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
اب آپ فرمائیں گے کہ میری وحی امر بھی ہے اور نہی بھی۔ احکام شریعت کی تجدید بھی ہے اور تنسیخ بھی اور اسی کا نام شریعت ہے۔ گویا کہ آپ نے ترقی کے زینہ پر دوسرا قدم رکھا اور تشریعی نبی بن بیٹھے۔ غور سے پڑھئے:
باب نمبر: ٦ …… امر و نہی (تجدید و تنسیخ شریعت)
- ……١ ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند
امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اسی تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- ……٢ ”میری شریعت میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام
کی تجدید ہے۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ زیر حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
جہاد حرام
- ……٣ ”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے نہیں بچا سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)
- ……٤ ”ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود جانتا ہے اسی روز
سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانے میں جہاد قطعاً حرام ہے۔“
(ضمیمہ رسالہ جہاد ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٨)
اب آپ دیکھ چکے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ شریعت کے
٤٣
ضروری احکام کی تجدید بھی ہے۔ حکم جہاد کو انہوں نے موقوف اور حرام قرار دے دیا اور صاحب شریعت نبی بن گئے۔ پہلے انکا یہ مذہب تھا کہ: ”میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
مگر یہ اس حالت میں درست تھا۔ جب آپ محض ملہم ومحدث تھے۔ چنانچہ ایک اصولی بات بیان فرماتے ہیں:
- ٥...... ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر
کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے سوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
اس زریں اصول کے ماتحت جب مرزا قادیانی ایک مجدد ومحدث کی صورت میں پیش ہوئے اور نبوت تامہ ومستقلہ کا انہیں دعویٰ نہیں تھا تو آپ نے فرمایا کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ لیکن جب صاحب شریعت نبی بن گئے تو ان کے انکار سے کفر لازم آیا۔ اس لئے آپ یوں فرمانے لگے کہ:
مرزا قادیانی کا منکر کافر اور جہنمی
- ١...... ”خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی
ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔“
(خط مرزا قادیانی مندرجہ الحکم نمبر ٤ ص ٢٤، تذکرہ ص ٦٠٧)
- ٢...... ”خدا کی لعنت ہو۔ اس پر جو ہمارا خلاف یا انکار کرے۔“
(خط مرزا بنام مہر علی شاہ مورخہ ٢٠/ جولائی ١٩٠٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٣١)
- ٣...... ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا۔ وہ کیونکر مؤمن ہوسکتا
ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- ٤...... ”جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف
رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
- ٥...... ”آج چودہویں صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ کا رسول اس کی طرف سے
٤٤
خلقت کے لئے رحمت اور برکت ہے۔ ہاں جو اللہ تعا اوندھا گرے گا۔“
- ٦...... ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور ر
اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ یعنی رسول اللہﷺ میں سے ہی مسیح موعود آئے گا اور خدا نے میری سچی گوا ظاہر کئے۔ اب جو شخص خدا اور اس کے رسول کے بیان عمدًا خدا تعالیٰ کی نشانیوں کو رد کرتا ہے تو وہ مومن کیونکر
خلیفہ اول حکیم نورالدین کی شہادت
گر کسے آرد شکے در شان جائے او باشد جہنم بی ش
ترجمہ: مرزائے قادیان غلام احمد کا اسم م اس کی شان اور منصب نبوت میں شک لائے وہ کافر ا
مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں ک خدا اور رسول کو نہیں مانتے، کافر ہیں، جہنمی ہیں اور ان افراد کے سوا باقی تمام مسلمانوں کو جو ان پر ایمان نہ ل دیا اور حق بھی یہی تھا کہ جب آپ خدا کی طرف س آئے تو آپ کے منکر غضب الٰہی کے نیچے آجائیں وملعون اور کافر سمجھے جائیں۔ اس لئے مرزا قادیانی ن حکم دیا کہ میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہ ایسی سوسائٹی بن گئی ہے۔ جسے باقی مسلمانوں سے ک مذہب علیحدہ اور مسلمانان عالم کا علیحدہ ان کا نبی اور ٤٥
خلقت کے لئے رحمت اور برکت ہے۔ ہاں جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو نہ مانے گا وہ جہنم میں اوندھا گرے گا۔
(الحکم مورخہ ٢٤؍ اکتوبر ١٨٩٩ء)
- ٦....... ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا
اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی کہ آخر زمانہ میں میری امت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا اور خدا نے میری سچی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے۔ اب جو شخص خدا اور اس کے رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کی نشانیوں کو رد کرتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
خلیفہ اوّل حکیم نور الدین کی شہادت
آن غلام احمدست و مرزائے قادیان
گر کسے آرد شکے در شان او آں کافرست
جائے او باشد جہنم بی شک و ریب و گماں
ترجمہ: مرزائے قادیان غلام احمد کا اسم مبارک خدا تعالیٰ نے ابن مریم رکھ دیا۔ اگر کوئی اس کی شان اور منصب نبوت میں شک لائے وہ کافر ہے اور بلاشبہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
(اخبار الحکم مورخہ ١٧؍اگست ١٩٠٨ء)
مرزا قادیانی نے اپنے نہ ماننے والوں کی نسبت کہا کہ وہ مومن نہیں، مسلمان نہیں۔ خدا اور رسول کو نہیں مانتے، کافر ہیں، جہنمی ہیں اور ان پر خدا کی لعنت ہے اور گویا اپنے حلقہ کے چند افراد کے سوا باقی تمام مسلمانوں کو جو ان پر ایمان نہ لائے۔ اسلام سے خارج، بے دین اور کافر کہہ دیا اور حق بھی یہی ہے۔ جب آپ خدا کی طرف سے ایک عظیم الشان صاحب شریعت نبی ہو کر آئے تو آپ کے منکر غضب الٰہی کے نیچے آجائیں اور اس کی قہری تجلی انہیں کھا جائے اور وہ مردود و ملعون اور کافر سمجھے جائیں۔ اس لئے مرزا قادیانی نے ان کے پیچھے نماز پڑھنا قطعی حرام ٹھہرایا اور حکم دیا کہ میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہیں اور ان احکام کی بدولت احمدی جماعت ایک ایسی سوسائٹی بن گئی ہے۔ جسے باقی مسلمانوں سے مذہبی اور دینی رنگ میں کچھ سروکار نہ رہا۔ ان کا مذہب علیحدہ اور مسلمانان عالم کا علیحدہ ان کا نبی اور، اور مسلمانوں کا اور۔ ایک دوسرے کے پیچھے
٤٥
نماز نہیں پڑھتے۔ باہم رشتے ناتے نہیں ہوتے۔ ایک جدا برادری، مسلمان ان کی نظر میں کافر اور یہ مسلمانوں کی نظر میں اپنے اعتقادات کی بناء پر کافر۔ سنئے مرزا قادیانی کے قطعی احکام:
غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنا حرام
”تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے۔ اس لئے وہ اس لائق نہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھے۔ بلکہ چاہئے تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٦٤)
غیر مریدوں سے لڑکی بیاہنا منع
”میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔“
(فتاویٰ احمدیہ ج ٢ ص ٢٧ ملخص)
مسلمانو! خوب یاد رکھو کہ احمدی تم سے ایک عضو معطل کی طرح کٹ کر جدا ہو چکے۔ دین کی بنیاد نبوت پر ہے اور جب انہوں نے ایک جدا نبی تسلیم کر لیا تو گویا ایک نئے دین کی بنیاد ڈالی۔ اگر وہ کہیں کہ ہم حضرت محمدﷺ کو نبی مانتے ہیں تو تم ہرگز نہ مانو۔ کیونکہ نصاریٰ بھی تو یہود کے نبی حضرت موسیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن جب وہ ایک نئے نبی حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو ان کا دین یہودیوں کے دین سے علیحدہ ہو گیا۔ مسلمان یہود و نصاریٰ دونوں کے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور کتب سابقہ کو بھی مانتے ہیں۔ مگر جو نبی انہوں نے حضرت محمدﷺ کو اپنا نبی مان لیا وہ یہودی اور نصاریٰ سے علیحدہ ایک نئے مذہب کے پیرو کہلائے۔ اسی طرح جماعت احمدیہ نے ایک نیا نبی ایجاد کیا۔ مستقل اور صاحب شریعت نبی۔ بلکہ نبیوں کا چاند۔ پس لازم ہے کہ اس نبی کے آنے پر پرانی باتیں جاتی رہیں اور دین نیا ہو جائے جو دین محمدی سے جدا ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ضروری احکام کی تجدید بھی ہوئی اور بعض باتیں منسوخ بھی کی گئیں اور یہی ایک جدید شریعت ہے۔ اسی کو ایک نیا دین کہتے ہیں۔ پس احمدیت درحقیقت ایک جدا دین ہے۔ جسے اسلام سے صرف اس قدر علاقہ ہے جس قدر اسلام کو نصرانیت سے۔ یا نصرانیت کو یہودیت سے۔ احمدیوں سے پوچھ لو کہ وہ باقی مسلمانوں کو کافر جانتے ہیں یا نہیں اور ان کا یہ ایمان ہے یا نہیں کہ اسلام روئے زمین سے سمٹ کر قادیان دارالامان میں آ گیا۔ جہاں سے وہ بحصہ رسدی مریدان مرزا قادیانی میں تقسیم کیا گیا۔ پھر یہ کس قدر بددیانتی ہے کہ بوقت ضرورت و بر بنائے مصلحت وہ مسلمانوں سے ملنے کا خیال بھی رکھیں اور یہ غلط فہمی پھیلائیں کہ ہم اور مسلمان ایک ہیں۔
٤٦
باب نمبر : ٧ ...... انکار نبوت
- ......١
”میں نبوت کا مدعی نہیں۔ بلکہ ایسے مدعی کو اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔“
(فیصلہ آسمانی ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٣١٣)
- ......٢
”مجھے یہ کہاں حق ہوتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین میں جا کر مل جاؤں اور یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
- ......٣
” آنجناب ختم المرسلین ﷺ کے بعد دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
- ......٤
”واضح ہو کہ ہم نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور بہ اتباع آنجناب ﷺ اولیاء اللہ کو ملتی ہے اس کے ہم قائل ہیں۔ اس سے زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگائے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے ۔“
(اشتہار مورخہ ٢٠؍ شعبان ١٣٢١ھ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
- ......٥
ہر نبوت را برو شد اختتام
(سراج المنیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
فرماتے ہیں ۔ ” بھلا یہ کب ممکن ہے کہ میں مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں ۔ “ گویا دعویٰ نبوت منافی اسلام ہے۔ اسلام سے خارج اور کافر و کاذب بننا ہے اور ہم بھی کہتے ہیں کہ بجا ہے۔ لیکن جب مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا تو وہ کیا ہوئے؟ ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے ۔ صرف انہیں کے الفاظ ان پر چسپاں کرتے ہیں کہ وہ اسلام سے خارج ہیں۔ کاذب اور کافر ہیں، اور آخری حوالہ کیسا واضح ہے۔ جس میں لکھتے ہیں کہ ؎
یعنی آنحضرت ﷺ پر ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔ اب نہ کوئی ظلی نبی ہوگا نہ بروزی۔ نہ انعکاسی، نہ طفیلی، نہ براہ راست، نہ بالواسطہ، نہ مستقل نہ غیر مستقل۔ غرض نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں اور مرزا قادیانی کا یہ حیلہ بھی باطل ہوا کہ: ”یہ تمام فیوض بلا واسطہ مجھ پہ نہیں
٤٧
ہیں ۔ بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے۔ یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ ۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ:
- ١...... ”مسیح ابن مریم کیونکر آسکتا ہے وہ رسول تھا اور خاتم النبیین کی دیوار اس کو
آنے سے روکتی ہے۔ سو اس کا ہم رنگ آیا۔ وہ رسول نہیں مگر رسولوں کا مشابہ اور مثل ہے ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٨٠)
- ٢...... ”اب جبرائیل علیہ السلام بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی
نبوت لانے سے منع کیا گیا۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
- ٣...... ”تمام نبوتیں اور کتابیں جو پہلے گزر چکی ہیں۔ ان کی الگ الگ پیروی کی
حاجت نہیں رہی ۔ کیونکہ نبوت محمدیہ ان سب پر مشتمل اور حاوی ہے اور بجز اس کے اور راہیں بند ہیں ۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں ۔ اس کے اندر ہیں ۔ نہ اس کے بعد کوئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں ۔ اس لئے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا ۔ کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے۔ اس کے لئے ایک انجام بھی ہے ۔“
(رسالہ الوصیت ص ١٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١)
دیکھئے! باب نبوت بالکل مسدود ہو گیا اور وحی نبوت بند کی گئی ۔ نزول جبرائیل علیہ السلام ممتنع، خاتم النبیین کی دیوار آہنی ، سد سکندری کی طرح حائل ہے اور کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ کیونکہ نبوت کا پاک سلسلہ جس کے لئے ایک آغاز ہے۔ اس کے لئے ایک انجام بھی ہے۔ آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر محمد ﷺ پر ختم ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا ۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی ایک مدعی نبوت مسمی ذوکی کو لکھتے ہیں: ”وانك تفتري على الله فى دعوة النبوة والنبوة قد انقطعت بعد نبينا صلعم“ یعنی ارے ذوکی تو نے نبوت کے دعویٰ میں اللہ تعالیٰ پر افتراء کیا ہے۔ کیونکہ یقیناً محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔
باب نمبر : ٨ ...... مرزا قادیانی کی کتب الہامی
”ھذا کتاب مبارك فقوموا الاجلال والاکرام“ یہ کتاب مبارک ہے۔ اس کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاؤ ۔ اس کتاب کی تحریر کے وقت دو مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ کی زیارت مجھ کو ہوئی اور آپ نے اس کتاب کی تالیف پر بہت مسرت ظاہر کی ۔ (البشریٰ ج ٢ ص ٣٥)
٤٨
”ان کنتم فی ریب مما ایدنا عـ شک میں ہو۔ اس سے کہ تائید کی ہے ہم نے اپنے بند آؤ۔ ”یہ میری کتاب ہے۔ اس کو کوئی ہاتھ نہ لگا
بخدا پاک
ہمچو قرآں منزہ
از خطا ہا ہمیں
”یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھے ہوتا ہے یقینی ہے کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ روشنی ہے۔ ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ
الہامات انگریزی
قرآن مجید نے ایک اصول بیان کیا ہے قومه (ابراھیم:٤) ”یعنی جو نبی آیا وہ اپنی ہی قوم چلا آیا ہے کہ خدا کے نبی اپنی ہی مادری زبان میں قوم کی زبان میں ان پر خدا کا الہام نہیں ہوا۔ دنیـ قائل ہیں اور ان کے نبیوں کو خدا نے شرف مکالم سے ایسی نہیں ملے گی کہ ملہم پر اس زبان میں مرزا قادیانی کچھ ایسے مظہر العجائب تھے کہ ان پر اردو میں ہوئے۔ حتیٰ کہ انگریزی میں ہوئے اور
”ان کنتم فی ریب مما ایدنا عبدنا فاتوا بکتاب من مثلھم“ اگر تم شک میں ہو۔ اس سے کہ تائید کی ہے ہم نے اپنے بندے کی۔ پس اس کی مانند کوئی کتاب لے آؤ۔
(تذکرہ ص٢٥١)
”یہ میری کتاب ہے۔ اس کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ مگر وہی جو خاص خدمت گار ہیں۔“
(البشریٰ ج ٢ ص١١٤)
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآں منزہ اش دانم
از خطا ہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٧)
”یہ مکالمہ الہیہ جو مجھے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک یوم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور اس کی روشنی ہے۔ ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا۔ جو خدا کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔“
(تجلیات الٰہیہ ص٢٠، خزائن ج٢٠ص٤١٢)
الہامات انگریزی
قرآن مجید نے ایک اصول بیان کیا ہے۔ ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ (ابراھیم:٤)“ یعنی جو نبی آیا وہ اپنی ہی بولی بولتا ہوا آیا۔ ابتدائے آفرینش سے یہی دستور چلا آیا ہے کہ خدا کے نبی اپنی ہی مادری زبان میں خدا کا کلام لوگوں کو سناتے رہے اور کبھی کسی غیر قوم کی زبان میں ان پر خدا کا الہام نہیں ہوا۔ دنیا میں جس قدر مذاہب خدا سے الہام پانے کے قائل ہیں اور ان کے نبیوں کو خدا نے شرف مکالمہ بخشا ہے۔ ان میں کوئی ایک نظیر بھی تلاش کرنے سے ایسی نہیں ملے گی کہ ملہم پر اس زبان میں خدا کی وحی نازل ہوئی جو اس کی اپنی نہ ہو۔ مگر مرزا قادیانی کچھ ایسے مظہر العجائب تھے کہ ان پر عربی زبان میں الہام ہوئے، فارسی میں ہوئے، اردو میں ہوئے۔ حتیٰ کہ انگریزی میں ہوئے اور نہ ہوئے تو صرف اپنی مادری زبان پنجابی میں اور
٤٩
خدا نے اپنی سنت دائمہ و مستمرہ کو بدل ڈالا۔ ہم یہاں صرف ان کے انگریزی الہام درج کرتے ہیں جو عربی، فارسی اور اردو الہامات کے مقابلہ میں نہایت غیر فصیح ہیں۔ بلکہ ان کی انگریزی بھی درست اور بامحاورہ نہیں اور انگریزی الہامات بخلاف دیگر زبانوں کے الہامات کے جن میں مرزا قادیانی کو کافی دستگاہ حاصل تھی۔ نہایت مختصر چھوٹے چھوٹے فقروں پر مشتمل ہیں اور پھر دو دو چار چار الفاظ کے جملوں کی بھی غلط انگریزی۔ ہائے غضب انگریزی خواں حضرات ذرا توجہ کے ساتھ پڑھیں۔
- ١...... Then you will go to Amristar.
تب تم امرتسر بھی جاؤ گے۔
(براہین احمدیہ ص ٤٦٨، خزائن ج١ ص ٥٥٩)
- ٢...... I am querreler. میں جھگڑنے والا ہوں۔
(براہین احمدیہ ص ٤٧٢، خزائن ج١ ص ٥٦٣)
(اس کی تو ہم بھی تصدیق کرتے ہیں)
- ٣...... ایک دفعہ کی بات یاد آتی ہے۔ انگریزی میں اوّل یہ الہام ہوا۔
I Love you. یعنی میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ I am with you. یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ I shall help you یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر یہ الہام ہوا۔ I can what will do. (کیسی اعلیٰ انگریزی ہے) یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر بعد اس کے بہت زور سے جس سے بدن کانپ گیا۔ یہ الہام ہوا۔ We can what we will do یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اسی وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہا ہے اور باوجود پردہشت ہونے کے اس میں ایک لذت تھی۔ جس سے روح کو معنی معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفی ملتی تھی اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨٠، ٤٨١، خزائن ج١ ص ٥٧١، ٥٧٢)
- ٤...... ایک دفعہ ایک طالب علم انگریزی خواں ملنے کو آیا۔ اس کے روبرو ہی یہ
الہام ہوا۔ This is my enemy. یعنی یہ میرا دشمن ہے۔
(براہین احمدیہ ص ٤٨١، خزائن ج١ ص ٥٧٢)
٥٠
- ٥...... ”ایک دفعہ صبح کے وقت خطوط
ڈاکخانہ سے آئے تھے اور آخر پر ان کے لکھا تھا۔ ہوں۔“
- ٦...... s I am happy.”
- ٧...... Life of pain.”
- ٨...... ”یہ دو فقرے انگریزی میں
e is with you to kill enemy. لے کر چلا آتا ہے۔ وہ دشمن کو مغلوب اور ہلاک کریگا
- ٩...... n god shall ”
s lord, ------- of earth and heaven. یعنی وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہارا و آسمان۔“
- ١٠...... ou a large ”
party of Islam. یعنی میں تم سے مجھ جماعت دوں گا۔“
- ١١...... t I told you.”
چاہئے جو میں نے فرمایا۔“
- ١٢...... angry, yet ”
f God can not exchange. یعنی اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے۔ مگر خدا نہیں باتیں بدل نہیں سکتیں۔“
- ٥...... ”ایک دفعہ صبح کے وقت بنظر کشفی چند ورق چھپے ہوئے دکھائے گئے کہ جو
ڈاکخانہ سے آئے تھے اور آخر پر ان کے لکھا تھا۔ I am by Isa یعنی میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨١، خزائن ج ١ ص ٥٧٣)
- ٦...... ”Yes I am happy. یعنی ہاں میں خوش ہوں۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨٣، خزائن ج ١ ص ٥٧٥)
- ٧...... ”Life of pain. یعنی زندگی دکھ کی ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨٣، خزائن ج ١ ص ٥٧٥)
- ٨...... ”یہ دو فقرے انگریزی میں الہام ہوئے۔ God is Coming
by his army. He is with you to kill enemy. یعنی خدا تعالیٰ لشکر لے کر چلا آتا ہے۔ وہ دشمن کو مغلوب اور ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٨٤، خزائن ج ١ ص ٥٧٦)
- ٩...... " The days shall come when god shall "
help you. Glory be to this lord, ------- of earth and heaven. یعنی وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ خدائے ذوالجلال آفریندہ زمین و آسمان۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٢٢، خزائن ج ١ ص ٦٢٣)
- ١٠...... " I love you. I shall give you a large "
party of Islam. یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ میں تمہیں مسلمانوں کی ایک کثیر جماعت دوں گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٢، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)
- ١١...... " You must do wahat I told you." تم کو وہ کرنا
چاہئے جو میں نے فرمایا۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٦)
- ١٢...... " Though all men shall be angry, yet "
God is with you. Words of God can not exchange. یعنی اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے۔ مگر خدا تمہارے ساتھ ہے وہ تمہاری مدد کرے گا۔ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٥٢، خزائن ج ١ ص ٦٦١)
٥١
Words of God can not exchange. الہامی انگریزی کا نمونہ ہے۔ کیونکہ انسان محاورہ میں یہ استعمال نہیں ہوتا۔
- ١٣...... پھر فرمایا۔ ”هو شعنا نعسا“ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان
کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔“
(براہین احمدیہ ص٥٥٤، خزائن ج١ ص٦٦٤)
یہ گلابی انگریزی جہاں جناب ملہم کی جہالت کا بین ثبوت ہے۔ وہیں انگریزی دانوں کے لئے ظرافت و تفنن طبع کا موجب یہی ہے۔ ہمارے دوست اس غلط انگریزی پر ہنستے ہیں۔ مگر ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ خدا کی بولی ہے اور خدا انسان محاورات کا پابند نہیں۔ تحقیق خدا نہیں شرماتا کہ چوتھی جماعت کے نالائق طالب علم ایسی یا اس سے بھی غلط انگریزی بولے۔ پس کوئی غیر احمدی معترض نہ ہو۔ ہمیں تو بفضلہ مرزا قادیانی کے الہام بانی کی مشین کے تمام کیل کانٹے اور پرزے معلوم ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ الہامات کیا تھے۔ کیونکر ہوتے تھے اور ان کی حقیقت کیا ہے۔ لیکن شاید یہ راز چند واقفان حال کے سوا کسی پر نہ کھلتا۔ مگر ان انگریزی الہامات نے ساری حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے اور اب ہر کس و ناکس معلوم کر سکتا ہے کہ یہ غلط انگریزی اور ٹوٹے پھوٹے ناتمام سے جملے اس خدا کا کلام تو ہو نہیں سکتا۔ جو نہایت فصیح شستہ اور نکھری ہوئی زبان میں گویا ہوتا ہے۔ جس کا کلام فصاحت اور بلاغت میں بے مثل ہی نہیں۔ بلکہ کل اعجاز ہے اور جس کا نمونہ قرآن مجید میں منضبط ہے۔ نتیجہ صاف ہے کہ یہ مرزا قادیانی کی اپنی باتیں ہیں۔ جو وہ خدا کے نام پر دنیا میں شائع کرتے رہے۔ فارسی اور عربی میں آپ کو کافی دسترس تھی۔ اس لئے بڑے بڑے قصائد لکھ دیئے (گو وہ بھی اغلاط سے پر ہیں۔ مرتب) اور دنیا کو مقابلہ کے لئے للکارا۔ لیکن انگریزی سے بے بہرہ تھے۔ اس لئے جو کسی مسخرے نے کہہ دیا کہ Words of God can not exchange کے یہ معنی ہیں کہ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ بس یہی لے اڑے اور اتنی توفیق نہ ہوئی کہ کسی انگریزی جاننے والے سے اس کی اصلاح کرالیں۔ تا کہ اس الہام کی مٹی پلید نہ ہوتی کہ اے مرزا: ”تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص١٠٢، ١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٥، ١٠٦)
مرزا قادیانی کے ظہور سے قبل الہام ایک غیر معمولی شے سمجھی جاتی تھی۔ لیکن ان کے فیضان سے یہ نعمت بہت عام ہوگئی اور وہ اپنی امت میں اس کے لئے بہت وسیع دروازہ کھول گئے
٥٢
اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے امتیوں میں یہ مرض ا ایک وقت میں امریکن مشن اسکول سیالکوٹ میں ملا لئے تھا اور جس کے لئے اس کو تنخواہ ملتی تھی۔ چرا کر خو بیٹھے بیٹھے اونگھ جاتا اور گویا لاسلکی کی تار برقی شروع دیکھتے تو اس قدر شور مچاتے کہ کمرہ سر پر اٹھا لیتے۔ ب گالیاں اپنے شاگردوں کو سناتا کہ شیطان بھی اما الہامات نقل کر لیتا۔ یہ ڈائری مرزا قادیانی کے ملا حظ
باب نمبر: ٩ ......
- ١...... حضرت رسول خداﷺ
نزدیک مرزا قادیانی افضل بھی ہیں۔
- ٢...... ”اسمه احمد“ (مجا
اس کے حق دار نہیں۔
- ٣...... ”کل مسلمان جو حضرت
انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کرتا ہوں میرے یہ عقائد ہیں۔“
- ٤...... ”مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ
مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت کی وجہ کھٹکتے تھے۔ لیکن ان کے عقائد بھی عام مسلمانو عجیب حال ہے۔ کبھی تو وہ لغو اور خلاف عقل و دان ڈانٹتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”تمہیں چاہئے کہ عزت کی نگاہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں اور کبھی جمہور اہل اسلام کے عقائد کو والوں کو احمق و نادان کہتے ہیں۔
اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے امتیوں میں یہ مرض الہام متعدی ہو گیا۔ ایک ملہم کو ہم جانتے ہیں جو ایک وقت میں امریکن مشن اسکول سیالکوٹ میں ملازم تھا اور اسکول کا وقت جو لڑکوں کی تعلیم کے لئے تھا اور جس کے لئے اس کو تنخواہ ملتی تھی ۔ چرا کر خدا سے مکالمہ و مخاطبہ میں صرف کرتا تھا ۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے اونگھ جاتا اور گویا لاسلکی کی تار برقی شروع ہو جاتی ۔ طلباء استاد کو آنکھ بند کئے مراقبہ میں دیکھتے تو اس قدر شور مچاتے کہ کمرہ سر پر اٹھا لیتے ۔ جس سے ملہم چونک اٹھتا اور ایسی بے نقط اور فحش گالیاں اپنے شاگردوں کو سناتا کہ شیطان بھی امان مانگے ۔ پھر وہ ڈائری نکالتا اور اس میں وہ الہامات نقل کر لیتا ۔ یہ ڈائری مرزا قادیانی کے ملاحظہ میں بھی آئی تھی ۔
باب نمبر : ٩ ........ بعض عقائد خصوصی
- ١ ...... حضرت رسول خدا ﷺ اور مرزا قادیانی برابر ہیں اور بعض غالیوں کے
نزدیک مرزا قادیانی افضل بھی ہیں ۔
(الفضل ج٢ نمبر ٣٣)
- ٢ ...... ”اسمہ احمد“ (بلحاظ علم ) مرزا قادیانی کے لئے ہے ۔ رسول اللہ ﷺ
اس کے حق دار نہیں۔
(انوار خلافت ص ١٨ تا ٢٤ ملخص)
- ٣ ...... ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ میں تسلیم کرتا ہوں میرے یہ عقائد ہیں ۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
- ٤ ...... ”مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہو گیا ۔“
(حقیقت الرؤیا ص ٤٦)
مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت کی وجہ سے صاف دل اور ایماندار لوگوں کی نگاہ میں تو کھٹکتے تھے۔ لیکن ان کے عقائد بھی عام مسلمانوں کی پریشانی کا باعث ہوئے ۔ مرزا قادیانی کا عجیب حال ہے۔ کبھی تو وہ لغو اور خلاف عقل و دانش امور پیش کرتے ہیں اور لوگوں کے نہ ماننے پر ڈانٹتے ہیں اور فرماتے ہیں : ”تمہیں چاہئے کہ اس دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو اور ان کو عزت کی نگاہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں ۔“
(کشتی نوح ص ٢٢، خزائن ج ١٩ ص ٢٢)
اور کبھی جمہور اہل اسلام کے عقائد کو غیر معقول اور خلاف فلسفہ و سائنس بتا کر ماننے والوں کو احمق و نادان کہتے ہیں ۔
٥٣
ذیل میں ہم ان کے بعض عقائد درج کرتے ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک کفر و بے دینی ہیں۔
وفات مسیح
”مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ مر چکے اور دنیا سے اٹھائے گئے۔ پھر دنیا میں نہ آئیں گے۔ خدا نے حکم موت کو اس پر جاری کیا اور پھر آنے سے روک دیا۔“
(مکتوب عربی ص ٨٠، خزائن ج ١١ ص ٨٠)
نفی صعود
”کیا تمہارا مسیح آسمان پھاڑ کر آئے گا۔“
(مکتوب عربی ص ١٧٤، خزائن ج ١١ ص ١٧٤)
”کیا اس سے پہلے کبھی سنا ہے کہ کوئی انسان آسمان پر گیا اور پھر واپس ہوا ہو۔“
(مکتوب عربی ص ١٤٩، خزائن ج ١١ ص ١٤٩)
”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے جسم خاکی کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔ بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوتی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔ پس اس جسم کا کرۂ مہتاب یا کرۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
انکار معراج
”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
ہاتھی دانت کا خدا
”رب اغفر وارحم من السماء ربنا عاج اے میرے رب میرے گناہ بخش اور آسمان سے رحم کر۔ ہمارا رب عاجی ہے۔“ (یعنی ہاتھی دانت کا)
(براہین احمدیہ ص ٥٥٣، خزائن ج ١ ص ٦٦٢)
خدا کا تصور
”ہم تخیلی طور پر فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے
٥٤
شمار ہاتھ بے شمار پیر ہر ایک عضو اس کثرت رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود کی ہیں۔“
تناسخ
بارہا چوں
”ہمیشہ انسان کے بدن میں و جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں مستحیل ہو جاتا ہے۔“
دجال اور اس کا گدھا
”دجال جس کے آنے کی انتظا ”وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا
دابتہ الارض
”دابتہ الارض وہ علماء اور وا زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہو گی
یاجوج ماجوج
”ان دونوں قوموں (یا جوج مرزا قادیانی نے پادریوں ایک جماعت کا۔ لیکن سارے جہاں خطاب دیا اور عیسائیوں نے بھی اس پر
شمار ہاتھ بے شمار پیر ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہاء عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود کی تاریں ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں ۔“
(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩١)
تناسخ
بارہا چوں سبزہ ہا روئیدہ ام
(ست بچن ص ٨٣، خزائن ج ١٠ ص ٢٠٨)
”ہمیشہ انسان کے بدن میں سلسلہ تحلیل جاری ہے ۔ یہاں تک کہ تحقیقات قدیمہ و جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پا کر معدوم ہو جاتا ہے اور دوسرا بدن بدل ما یتحلل ہو جاتا ہے ۔“
(توضیح المرام ص ٧٦، خزائن ج ٣ ص ٩٢)
دجال اور اس کا گدھا
”دجال جس کے آنے کی انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٩٥، ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)
”وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٠)
دابۃ الارض
”دابۃ الارض وہ علماء اور واعظین ہیں جو آسمانی قوت اپنے میں نہیں رکھتے ۔ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہوگی ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
یاجوج ماجوج
”ان دونوں قوموں (یاجوج ماجوج) سے مراد انگریز اور روس ہیں ۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٠٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)
مرزا قادیانی نے پادریوں کے گروہ کو دجال کہا۔ حالانکہ دجال ایک فرد کا نام ہے نہ ایک جماعت کا۔ لیکن سارے جہاں کے مسلمانوں نے یک زبان ہو کر مرزا قادیانی کو دجال کا خطاب دیا اور عیسائیوں نے بھی اس پر صاد کیا۔ پھر ریل گاڑی جسے خر دجال کہا، بار ہا اس پر سوار
٥٥
ہوئے اور خدا کی شان ان کی لاش بھی اسی خردجال پر لاد کر لاہور سے قادیان پہنچائی گئی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے؎
بصد منت بصد خواہش کرایہ دے کر چڑھتا ہے
انکار ملائکہ
- ١...... ”جبرائیل علیہ السلام جس کا سورج سے تعلق ہے۔ وہ بذات خود حقیقتاً
زمین پر نہیں اترتا۔ اس کا نزول جو شروع میں وارد ہے۔ اس سے اس کی تاثیر کا نزول مراد ہے اور جو صورت انبیاء علیہم السلام دیکھتے تھے وہ جبرائیل وغیرہ کی عکسی تصویر تھی۔ جو ان کے خیال میں متمثل ہو جاتی تھی۔“
(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٨٧)
- ٢...... ”ملک الموت بذات خود زمین پر اتر کر روح قبض نہیں کرتا۔ بلکہ اس کی
تاثیر سے قبض روح ہوتا ہے۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ نجوم کی تاثیر سے ہو رہا ہے۔ ملائکہ سیاروں کی ارواح ہیں۔ وہ سیاروں کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ کبھی سیاروں سے جدا نہیں ہوتے۔“
(توضیح المرام ص ٣٠، ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦٦، ٦٨)
جبرائیل اور ملائکہ کا انکار اس سے زیادہ صاف الفاظ میں اور کیا ہو سکتا ہے؟ ہندو فلاسفروں کی تقلید میں فرماتے ہیں۔ ”گویا دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے نجوم کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔“
حالانکہ یہ بالبداہت باطل اور لغو خیال ہے۔ اسی طرح ملائکہ کو ارواح کواکب کہنا مذہب اسلام کے سراسر خلاف ہے اور پھر یہ کہنا کہ وہ کبھی سیاروں سے جدا نہیں ہوتے تو لغو تر ہے اور قرآن کے خلاف۔ جس کی رو سے وہ ایک جاندار مخلوق ہیں، پر رکھتے ہیں۔ خدا کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور اس کے حکم کے مطابق زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ اب دیکھئے مرزا قادیانی معجزات کا کس طرح انکار کرتے ہیں۔
باب نمبر:١٠ ...... انکار معجزات
- ١...... ”ممکن ہے کہ آپ نے کسی معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شبکور وغیرہ کو اچھا کیا
٥٦
ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی یہ تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو استعمال کرتے ہوں گے اور اسی تالاب سے آپ کے مجز تالاب نے فیصلہ کر دیا کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہ کا معجزہ ہے۔“ (ضمیمہ
- ٢...... ”اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے
طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھایا ہو اور ایسا مجز کے اکثر صناع اکثر چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ پرواز بھی کرت
اب آپ معجزات انبیاء کو علم الترب یعنی مسمر
- ٣...... یاد رکھنا چاہئے کہ جو قرآن مجید
اجزائے متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑوں پر چھوڑا ب الترب کی طرف اشارہ ہے۔“
- ٤...... ”قرآن شریف کی کسی عبارت
ہو گیا تھا اور واقعی طور پر کسی قالب میں جان پڑ گئی تھی۔ ب چھپا دیا تھا۔ ان کو یہ تدبیر سجھائی گئی کہ ایک گائے ذبح ک اصلی خونی کے ہاتھ سے جب لاش پر بوٹی لگے گی تو اس سے خونی پکڑا جائے........... اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ت ہے۔ جس کے بعض خواص سے یہ بھی ہے کہ جمادات م حرکت حیوانات پیدا ہو کر اس سے بعض مشتبہ اور مجہول ا
- ٥...... ”یہ اعتقاد بالکل غلط مشرکانہ ا
ان میں پھونک مار کر ان کو سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ ب
٥٧
ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے اور اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٢...... ”اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی
طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید نہیں۔ کیونکہ حال کے اکثر صناع اکثر چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ پرواز بھی کرتی ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
اب آپ معجزات انبیاء کو علم الترب یعنی مسمریزم کے نام سے موسوم کریں گے۔ سنئے:
- ٣...... یاد رکھنا چاہئے کہ جو قرآن مجید میں چار پرندوں کا ذکر لکھا ہے کہ ان کو
اجزائے متفرقہ یعنی جدا جدا کر کے چار پہاڑوں پر چھوڑا گیا اور پھر وہ بلانے سے آگئے۔ یہ بھی عمل الترب کی طرف اشارہ ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٥٢، خزائن ج ٣ ص ٥٠٦)
- ٤...... ”قرآن شریف کی کسی عبارت سے نہیں نکلتا کہ فی الحقیقت کوئی مردہ زندہ
ہو گیا تھا اور واقعی طور پر کسی قالب میں جان پڑ گئی تھی۔ بلکہ یہودیوں کی جماعت نے خون کر کے چھپا دیا تھا۔ ان کو یہ تدبیر سجھائی گئی کہ ایک گائے ذبح کر کے اس کی بوٹیاں لاش پر ماریں۔ تب اصلی خونی کے ہاتھ سے جب لاش پر بوٹی لگے گی تو اس لاش سے ایسی حرکتیں سرزد ہوں گی جس سے خونی پکڑا جائے........... اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق عمل تراب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ ہے۔ جس کے بعض خواص سے یہ بھی ہے کہ جمادات یا مردہ حیوانات سے ایک حرکت مشابہ بہ حرکت حیوانات پیدا ہو کر اس سے بعض مشتبہ اور مجہول امور کا پتہ لگ سکتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٩، ٥٠٧، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤)
- ٥...... ”یہ اعتقاد بالکل غلط مشرکانہ اور فاسد خیال ہے۔ مسیح مٹی کے پرند بنا کر
ان میں پھونک مار کر ان کو سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ بلکہ صرف عمل الترب تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
٥٧
- ٦ ...... ’’حضرت مسیح کے عمل مسمریزم سے وہ مردے زندہ ہوتے تھے یعنی وہ
قریب الموت آدمی جو گویا نئے سرے سے زندہ ہو جاتے تھے وہ بلا توقف چند منٹ میں مر جاتے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
’’واقعی اور حقیقی حیات پیدا نہ ہوتی تھی۔ بلکہ صرف ظلی اور مجازی اور جھوٹی حیات جو علم مسمریزم کے ذریعہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔ ایک جھوٹی جھلک کی طرح ان میں پیدا ہو جاتی تھی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣١٨، خزائن ج ٣ ص ٢٦٢)
- ٧ ...... ’’یہ بھی جاننا چاہئے کہ سلب امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈال
دینا در حقیقت یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ ہر زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہتے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلب امراض کرتے رہتے ہیں اور مفلوج مبروص و مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہتے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٤٧٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)
مرزا قادیانی نے قرآن کریم کے تمام بیان کردہ معجزات کو جو انبیائے بنی اسرائیل سے ظاہر ہوئے۔ مسمریزم اور عمل الترب کہا ہے۔ جو گناہ عظیم ہے۔ (بلکہ کفر خالص۔ مرتب) لیکن اس پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت کہہ کر نہ صرف انکار معجزات کیا۔ بلکہ معجزات کو مکروہ اور قابل نفرت شے بتایا ہے۔ صاحب الہام اور ایسے شخص کا جو مشرف بہ مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ ہو۔ تو کیا مذکور۔ کسی مسلمان کا بھی جو خدا پر ایمان رکھتا ہو یہ منصب نہیں کہ ایسے ناشائستہ کلمات زبان پر لائے۔ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں کہ: ’’اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
اور پھر ارشاد ہوتا ہے کہ: ’’کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں۔ مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان شغلوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)
کیا اب بھی کچھ شک ہے کہ مرزا قادیانی منکر خدا، دہریہ اور ملحد تھے اور اس کے پاک نبیوں کی ہنسی اڑاتے تھے۔ کیونکہ بجز اس کے یہ کیونکر ممکن تھا کہ جس امر کو مرزا قادیانی معیوب خیال کریں۔ اسے انبیاء اولوالعزم کی طرف منسوب کر کے ان کی تنقیص شان اور تحقیر و تذلیل کے
٥٨
مرتکب ہوں۔ جس کام اور جس عمل کو وہ برا اور قابل نفرت جانیں۔ اسے انبیاء کے ذمہ لگائیں۔ خدا کے انبیائے مقربین سے یہ تمسخر روا نہیں اور اس کی کتاب سے یہ استہزاء جائز نہیں۔
اے مرزائیو! عقل و ہوش سے کام لو اور خدا کے لئے کچھ تو سوچو کہ یہ کیا بھول بھلیاں ہیں۔ اب ایک اور مزے کی بات سنئے۔ یہ تو آپ نے دیکھ لیا کہ مرزا قادیانی نے معجزات کو عمل الترب یعنی مسمریزم کہا۔ پھر اس عمل کو قابل نفرت اور مکروہ بھی کہہ دیا۔ لیکن خود ہی ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”مسیح ابن مریم باذن و حکم الہی طبعی نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)
لو یہ کمال ہی ہو گیا۔ ”باذن و حکم الہی“ اور پھر بھی ”قابل نفرت و مکروہ“ کوئی ہے جو اس عقدہ کو حل کرے۔ دوستو! یہ سب مرزا قادیانی کے حافظہ کا قصور اور فتور ہے۔
مرزا قادیانی کے اس قسم کے عقائد کی بناء پر جن میں سے چند ہم نے ذکر کئے ہیں۔ علماء نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا اور آپ کا انکار کرنا پڑا۔ مگر آپ کا انکار بہت ہی بعد از وقت تھا۔ ان کی کتابوں پر جنہیں عبور حاصل ہے۔ وہ ہرگز اس انکار کی قدر نہیں کر سکتے۔ بہر حال فتویٰ کفر لگنے کے بعد آپ لکھتے ہیں: ”تمام لوگ جانتے ہیں اور شیخ جی (مولوی محمد حسین بٹالوی) کے کفر نامہ کو پڑھ کر ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ ان حضرات (مولوی محمد حسین بٹالوی) اور (میاں نذیر حسین دہلوی) نے بڑے اصرار اور قطع اور یقین سے اس عاجز کی نسبت کفر اور بے ایمانی کا فتویٰ لکھا اور دجال اور ضال اور کافر نام رکھا۔ ان الزامات کی نسبت اگرچہ میں نے بار بار بیان کیا اور اپنی کتابوں کا مطلب سنایا کہ کوئی کلمہ کفر، ان میں نہیں ہے۔ نہ مجھے دعویٰ نبوت و خروج از امت اور نہ میں منکر معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر سے انکاری اور آنحضرت ﷺ خاتم النبیین کا قائل ہوں۔“
(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
لیکن اس قسم کے جوابات سے علماء کی مطلق تسلی نہ ہوئی۔ کیونکہ وہ مرزا قادیانی کی تصنیفات سے بخوبی واقف تھے اور جانتے تھے کہ ان کا عذر بالکل بیہودہ اور لغو ہے اور محض کفر کی زد سے بچنے کے لئے انہوں نے یہ الفاظ لکھ دیئے ہیں۔
باب نمبر: ١١ ...... چٹکیاں اور گدگدیاں
یوں تو مرزا قادیانی ہرفن میں یکتائے زمان تھے۔ مگر ان کا ترشح قلم نوادر روزگار کا حکم
٥٩
رکھتا تھا۔ بعض تو انہیں ایک بڑا ادیب خیال کرتے تھے۔ اور ان کے مرید انہیں سلطان القلم کہتے تھے۔ ہم بھی انہیں اپنے مخصوص رنگ میں یکتا اور وحید العصر خیال کرتے ہیں۔ خیر آپ نے جو کچھ لکھا۔ علم ادب کے اعتبار سے اس کا کچھ ہی پایہ کیوں نہ ہو۔ مگر غلط ہونے میں، مبالغہ آمیزی میں، قابل استہزاء طویل اور بے سروپا ہونے میں نظم یا نثر محیر العقول ہونے میں بے مثل اور بے نظیر تھا۔ ذات شریف کی نسبت ایسے ایسے دعویٰ کئے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔ الہامات جو سنائے وہ اس قابل ہیں کہ انسان پڑھے اور ہنسے۔ پھر پڑھے اور پھر ہنسے۔ پیشگوئیاں ایسی ہیں جو یا تو بالکل ہی جھوٹ ثابت ہوئیں یا مبہم سی رہ گئیں۔ اسلام کو خوب ہی بگاڑا۔ عقائد کی کایا پلٹ دی۔ نبوت کا حال خراب کیا۔ غرض جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی۔
مگر ان سب باتوں کے علاوہ کچھ ایسے عجیب و غریب لطیفے بھی بیان کئے جن کے لئے ہم نے ”چٹکیاں اور گدگدیاں“ عنوان تجویز کیا ہے جو عجیب بھی ہیں اور مزیدار بھی۔ جن میں معرفت بھی ہے اور ظرافت بھی۔ ہم ان میں سے چند یہاں انتخاب کر کے پیش کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین! پڑھیں اور ان کی داد دیں اور جس دماغ کا یہ نتیجہ ہیں اس پر فتویٰ لگائیں۔
خدا کی دوات کی سرخی مرزا قادیانی کے کرتے پر
- ......١ ''ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا کی زیارت ہوئی۔ اور میں نے اپنے ہاتھ
سے کئی پیشگوئیاں لکھیں۔ جن کا مطلب یہ تھا کہ ایسے واقعات آئندہ ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذات دستخط کرانے کے لئے خدائے تعالیٰ کے سامنے پیش کئے اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کر دیئے اور دستخط کرتے وقت قلم کو چھڑکا۔ جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آ جاتی ہے تو اسی طرح قلم کو جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا۔ اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف خدا تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اسی وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پاؤں دبا رہے تھے کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا۔ ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو ہرگز نہ سمجھے گا اور شک کرے گا۔ کیونکہ اس کو ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اسی طرح خدا نیست سے ہست کرتا ہے۔ غرض
٦٠
میں نے یہ سارا قصہ عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک روایت کا گواہ ہے اس پر بہت اثر ہوا۔ اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک کے اپنے پاس رکھ لیا۔ جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
اللہ اللہ! کیسی معرفت کی باتیں ہیں۔ یہ واقعی ایک غیر آدمی ہرگز نہ سمجھے گا کہ خدا تعالیٰ کی لبریز دوات جس میں خدا تعالیٰ نے نعوذ باللہ! اس عجلت سے قلم ڈالا کہ طفل مکتب بھی ایسا نہیں کرتا اور آخر قلم کو جھٹکا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کی کہ سرخی کے قطرے مرزا قادیانی کے کرتے پر گریں گے یا میاں عبداللہ کی ٹوپی خراب ہوگی۔ کوئی بدتمیز بچہ بھی ایسی حرکت نہیں کرتا۔ شاید مرزا قادیانی کا وہ کرتہ آج تک محفوظ ہو اور اس کے امتحان سے پتہ چل سکے کہ ایسی سیاہی دنیا کے کس کارخانہ میں تیار ہوسکتی ہے؟۔ جس کے چھینٹے اس پر پڑے ہیں اور اگر یہ پتہ چل جائے کہ فلاں کارخانہ میں ایسا رنگ تیار ہوتا ہے تو پھر صرف یہ امر دریافت طلب رہ جائے گا کہ خدا کا قلم کہاں سے آیا۔ اور اس کی دوات کس کارخانہ میں تیار ہوئی۔ وہ قلم کتنا بڑا تھا۔ دوات کا حجم کیا تھا؟۔
صاحبزادہ عبداللطیف کی لاش کی خوشبو
- ٢....... ”وہ صاحبزادہ عبداللطیف (جو مرزا قادیانی کے مرید تھے) پتھروں سے
سنگسار کئے گئے۔ اور ایسی استقامت دکھائی کہ ایک آہ بھی ان کے منہ سے نہ نکلی اور چالیس دن تک ان کی لاش پتھروں پر پڑی رہی۔ اور پھر ایک مرید احمد نور نام نے ان کی لاش دفن کی اور بیان کیا گیا کہ ان کے قبر سے اب تک مشک کی خوشبو آتی ہے اور ایک بال ان کا اس جگہ پہنچایا گیا جس سے اب تک مشک کی خوشبو آتی ہے اور ہمارے بیت الدعا کے ایک گوشہ میں ایک شیشی میں آویزاں ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢١١)
چالیس دن تک جو نعش پتھروں پر پڑی رہی اس سے جس قسم کی خوشبو آتی ہوگی وہ سب قیاس کر سکتے ہیں۔ افسوس ہے کہ چونکہ نعش بالآخر دفن کی گئی۔ اس لئے اب اس کی خوشبو سونگھنے کا ہمیں شرف حاصل نہیں ہوسکتا۔ لیکن صاحبزادہ عبداللطیف کی بال کی زیارت کے ہم از بس مشتاق ہیں جس سے مشک کی خوشبو آتی ہے اور جو مرزا قادیانی کے بیت الدعا کے ایک گوشہ میں ایک شیشی میں آویزاں ہے۔
زیارت مسیح علیہ السلام
- ٣....... ”اور خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی جو میں نے
٦١
عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اصل دعوٰی اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣)
زیارت پنج تن پاک
- ......٤ ”ایک دن رات کے فرض اور سنتیں ادا کر چکا تھا کہ میں نے ایک آواز
سنی۔ جب قریب آگئے تو میں نے پہچانا کہ یہ پنج تن پاک ہیں۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٤٩، ٥٥٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
یہ سب عالم بیداری کا ذکر ہے۔ رات کے فرض اور سنتیں ادا کر چکے تھے اور غالباً نفل اور وتر باقی ہوں گے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ پنج تن زیارت کو چلے آرہے ہیں۔ اور مرزا قادیانی نے انہیں پہچان لیا۔ گویا پہلے سے صورت آشنا تھے۔ خدا کے کیسے کیسے مقبول بندے قبور سے اٹھ کر مرزا قادیانی کی زیارت کو پا پیادہ چلے آتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو بھی مرزا قادیانی نے بارہا دیکھا۔ اور قیاس غالب یہی کہ وہ بھی ان کی زیارت کو آئے ہوں گے۔ کیا شان ہے مرزا قادیانی کی۔ یہ مقام عشق ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے:
اے خواجہ درد نیست وگر نہ طبیب ہست
انا انزلناہ قریباً من القادیان
- ......٥ ”جس روز الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہوا
تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن مجید پڑھ رہے ہیں۔ اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ انا انزلناہ قریباً من القادیان ! تو میں نے سن کر تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن مجید کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔ اور میں نے کہا کہ تین شہروں کے نام اعزاز کے ساتھ قرآن مجید میں درج کئے گئے ہیں۔ مکہ ومدینہ اور قادیان۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٨، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
٦٢
- ......٦ ”مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موع
میں واقع ہے......... معراج میں جو آنحضرت ﷺ تھے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں جانب مشرق
باب نمبر: ١٢ ...... مرزا
قرآن مجید نے اپنی صداقت میں ایک ع اللہ لوجدو فیه اختلافاً کثیرا (النساء: ٨٢) ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے اور واقعی یہ اختلاف سے پاک ہونا چاہئے۔ لیکن اگر انسانی ہمیں فتویٰ دینا پڑے گا کہ یہ کسی معقول اور راست ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود ہی تحریر فرماتے ہیں: ”وہ ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متضا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
اب اس اصول کو خوب ذہن نشین کر پھر ان کے کلام میں تناقض دیکھئے:
- ......١ ”ایسی مثال دینے والا ایک سادہ لوح
آدمی ٹھہرتا ہے جس کو خبر نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔“
(ست بچن ص ١٧، خزائن ج١٠ ص ٣٠٢)
- ......٢ ”عیسیٰ نبی اللہ وفات یافتہ است وازیں
دنیا برداشته شدہ بآسماں پیوست که فوت شد اندو باز گردد دینار نخواهد آمد ۔ یعنی عیسیٰ مرچکے اور دنیا سے اٹھائے گئے۔ پھر دنیا میں واپس نہیں آئیں گے۔“
(انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
٦...... ”مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی مسجد ہے۔ جو قادیان میں واقع ہے...... معراج میں جو آنحضرتﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے تھے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں جانب شرق واقع ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٨٩)
باب نمبر: ١٢ ...... مرزا قادیانی کا متضاد کلام
قرآن مجید نے اپنی صداقت میں ایک دلیل پیش کی ہے ”ولو کان من عند غیر الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا (النساء: ٨٢)“ یعنی اگر وہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کا کلام ہوتا تو تم اس میں بہت اختلاف پاتے اور واقعی یہ ایک زریں اصول ہے۔ اور خدا کا کلام بہرحال اختلاف سے پاک ہونا چاہئے۔ لیکن اگر انسانی کلام میں بھی اختلاف وتناقص پایا جائے تو فوراً ہمیں فتویٰ دینا پڑے گا کہ یہ کسی معقول اور راست گو آدمی کا کلام نہیں۔ بلکہ حافظہ نباشد کا کرشمہ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود ہی تحریر فرماتے ہیں:
”وہ ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متضاد باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“
(ست بچن ص٣١، خزائن ج١٠ ص١٤٣)
اب اس اصول کو خوب ذہن نشین کر لیجئے جو مرزا قادیانی نے خود ہی ہمیں بتایا ہے اور پھر ان کے کلام میں تناقص دیکھئے:
١...... ”ایسی مثال دینے والا ایک سادہ لوح ١...... ”تشبیہات میں پوری تطبیق کی ضرورت آدمی ٹھہرتا ہے جس کو خبر نہیں کہ مشبہ اور مشبہ بہ نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔“ مماثلت کی وجہ ..........الخ۔“ (ست بچن ص ب، خزائن ج١٠ ص٣٠٢) (ازالہ اوہام ص٧٥، خزائن ج٣ ص١٣٨ح) ٢...... ”عیسیٰ نبی اللہ وفات یافتہ است وازیں ٢...... ”جب عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا دنیا برداشتہ شدہ بآناں پیوست کہ فوت شدہ میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے اند و باز بدنیا نخواہد آمد۔ یعنی عیسیٰ مرچکے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے اور دنیا سے اٹھائے گئے۔ پھر دنیا میں واپس گا۔“ نہیں آئیں گے۔“ (انجام آتھم ص٨٠، خزائن ج١١ ص٨٠) (براہین احمدیہ ص٤٩٩، خزائن ج١ ص٥٩٢)
٦٣
٣...... ”عیسیٰ مرگیا اور اس کی قبر سری نگر میں ہے۔“
(رسالہ الہدیٰ ص١١٧، خزائن ج١٨ ص٣٦١)
٣...... ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہوا۔“
(ازالہ اوہام ص٤٧٣، خزائن ج٣ ص٣٥٣)
٤...... ”و من نیستم رسول نیاوردہ ام کتاب۔ یعنی میں رسول نہیں ہوں اور نہ ہی میں کوئی کتاب لے کر آیا ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص٧٨، خزائن ج٣ ص١٨٥)
٤...... ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٣١)
٥...... ”میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں لا الہ اللہ کا قائل ہوں۔ مدعی نبوت کو خارج از اسلام سمجھتا ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ ص٣، خزائن ج٤ ص٣١٣)
”قرآن کریم اور بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ نیا رسول ہو یا پرانا۔“
(ازالہ اوہام ص٧٦١، خزائن ج٣ ص٥١١)
٥...... ”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں عیسائیوں ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اس لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرتے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے۔ ہم پر کئی سال سے جو وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔“
(بدر مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج١٠ ص١٢٧)
٦...... ”اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح علیہ السلام پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔“
(تریاق القلوب ص١٥٧، خزائن ج١٥ ص٤٨١)
”آنے والا مسیح واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہوگا۔ ہاں نبوت ناقصہ اس میں پائی جائے گی۔“
(ازالہ اوہام ص٥٣٢، خزائن ج٣ ص٣٨٦)
٦...... ”خدا نے اسی امت میں سے مسیح موعود کو بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص١٤٨، خزائن ج٢٢ ص١٥٢)
٦٤
٧...... ”میرے دعویٰ کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔“
(تریاق القلوب ص١٣٠، خزائن ج١٥ ص٤٣٢)
”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“
(تریاق القلوب ص١٣٠، خزائن ج١٥ ص٤٣٢)
٨...... ”ہم اپنی بعض کتابوں میں لکھ آئے ہیں کہ اس زمانہ کے ایسے مولوی سجادہ نشین جو متقی نہیں اور زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ یہ دابۃ الارض ہیں۔“
(نزول المسیح ص٤٣، خزائن ج١٨ ص٤٢١)
٩...... ”جبرائیل علیہ السلام کے پر بھی تین سو ہیں۔“
(آئینہ کمالات ص١٢٠، خزائن ج٥ ص١٢٠)
١٠...... ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص٥، خزائن ج١٩ ص٥)
١١...... ”اب کوئی بھی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ کسی ایک حکم کی تبدیلی یا تغیر کر سکتا ہو۔“
(ازالہ اوہام ص١٣٧، خزائن ج٣ ص١٧٠)
٧...... ”میرے دعویٰ کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢)
”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میر دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢)
٧...... ”یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔ کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا...... وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر میں پڑے گا...... جو مجھے نہیں مانتا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
٨...... ”ہم اپنی بعض کتابوں میں لکھ آئے ہیں کہ اس زمانہ کے ایسے مولوی سجادہ نشین جو متقی نہیں اور زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ یہ دابۃ الارض ہیں۔“
(نزول المسیح ص ٤٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٢١)
٨...... ”دابۃ الارض جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتداء سے مقرر ہے۔ یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابۃ الارض رکھا۔“
(نزول المسیح ص ٣٨، ٣٩، خزائن ج ١٨ ص ٤١٦)
٩...... ”جبرائیل علیہ السلام کے پر بھی تین سو ہیں۔“ (آئینہ کمالات ص ١٣٠، خزائن ج ٥ ص ١٣٠)
٩...... ”جبرائیل علیہ السلام جس کا سورج سے تعلق ہے۔ وہ بذات خود اور حقیقتاً زمین پر نہیں اترتا۔“ (توضیح مرام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٨٧)
١٠...... ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“
(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)
١٠...... ”عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
١١...... ”اب کوئی بھی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیلی یا تغیر کر سکتا ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ١٣٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)
١١...... ”میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید بھی۔“
(اربعین ص ٤، ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
٦٥
١٢ ...... ”کس طرح کوئی نبی بعد ہمارے نبی کے آ سکتا ہے۔ حالانکہ آنحضرت کی وفات کے بعد وحی نبوت بند ہو چکی ہے۔“
(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
١٢ ...... ”اس وقت میں ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونے پر وحی اللہ پانے میں تیس برس کی مدت دی گئی ہے۔“
(اربعین ص ٢٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٩)
١٣ ...... ”مولوی عبدالکریم کے لئے بہت دعا کرتے رہے۔ اس پر الہام ہوا۔ ”الطلع البدر علینا“ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مولوی عبدالکریم صحت یاب ہوگا۔“
(ملفوظات ج ٨ ص ٤٨٤، اخبار الحکم مورخہ ٢٤ ستمبر ١٩٠٥ء)
١٣ ...... ”گیارہ اکتوبر کو ہمارے ایک مخلص دوست مولوی عبدالکریم ایسی بیماری کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے۔ اس کے لئے بھی میں نے دعا دی تھی۔ مگر ایک الہام بھی ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩)
١٤ ...... (اے شیعہ لوگو) ”تم نے ایسے کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی کے ساتھ مر گیا۔“
(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
صد حسین است در گریبانم
(دُرِثمین فارسی ص ١٧١)
یعنی ہر گھڑی مجھے سیر کربلا میسر ہے۔ سینکڑوں حسین تو میں جیب میں لئے پھرتا ہوں۔
١٤ ...... ”حسینؓ طاہر و مطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کرتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمانی ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت الٰہی اور صبر واستقامت اور زہد وعبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی ...... غرض یہ امر نہایت درجہ شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسینؓ کی تحقیر کی جائے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٥)
ان تناقضات کے دیکھنے کے بعد اب آپ چاہیں بقول ان کے انہیں منافق کہیں یا
٦٦
٧٣
پاگل۔ آپ کو کامل اختیار ہے۔ ہم اپنی طرف سے ح...
باب نمبر : ١٣ ...... مرزا قا...
مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام ... قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
اور ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں : ”...
مرزا قادیانی کا یہ کس قدر جھوٹ ہے کہ انہوں نے ... منسوب کیا ہے۔ مگر درحقیقت انہوں نے اپنی در... گے کہ جھوٹ ان کے ضمیر میں داخل تھا۔ وہ کتاب ... تھے اور ہمیں ان کی جرات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ... دوستوں کو بتاتے ہیں کہ ہم دعویٰ بلا دلیل نہیں کیا ... ہمیں مرزا قادیانی کی طرح جھوٹ بولنے کی مکروہ ...
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ...
- ١...... ”قرآن شریف بلکہ تو...
مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضر...
”بائبل کی کتابوں میں موجود ہے کہ...
- ٢...... ”سنت جماعت کا مذھب...
- ٣...... ”حضرت مسیح کا اپنا عق...
نہ کہ مجوسی ۔ اس بناء پر ہتھیار بھی خریدے۔“
- ٤...... مولانا ثناء اللہ صاح...
خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہ... ہے۔“
پاگل۔ آپ کو کامل اختیار ہے۔ ہم اپنی طرف سے مزید حاشیہ آرائی غیر مناسب سمجھتے ہیں۔
باب نمبر:١٣ ...... مرزا قادیانی کے سفید جھوٹ
مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یہ کفر بکا تھا کہ معاذ اللہ : ”آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
اور ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں۔ ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ پھر مرزا قادیانی کا یہ کس قدر جھوٹ ہے کہ انہوں نے اس صادق الصادقین کی طرف بلا سند جھوٹ منسوب کیا ہے۔ مگر درحقیقت انہوں نے اپنی دروغ گوئی کے لئے عذر ڈھونڈا ہے۔ ہم بتائیں گے کہ جھوٹ ان کے خمیر میں داخل تھا۔ وہ کتاب اور صفحہ کا حوالہ دے کر بھی جھوٹ بول دیا کرتے تھے اور ہمیں ان کی جرأت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ہم ذیل میں ان کے چند جھوٹ لکھ کر قادیانی دوستوں کو بتاتے ہیں کہ ہم دعویٰ بلا دلیل نہیں کیا کرتے جو کہتے ہیں اسے ثابت بھی کرتے ہیں اور ہمیں مرزا قادیانی کی طرح جھوٹ بولنے کی مکروہ عادت نہیں۔
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
- ١...... ”قرآن شریف بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ
مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے۔“
(کشتی نوح ص ٥ ، ٦، خزائن ج ١٩ ص ٥)
”بائبل کی کتابوں میں موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“
(کشتی نوح ص ٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٥)
- ٢...... ”سنت جماعت کا مذہب ہے کہ امام مہدی فوت ہو گئے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٢٥، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)
- ٣...... ”حضرت مسیح کا اپنا عقیدہ تھا کہ یہودیوں کے لئے یہودی بادشاہ چاہئے
نہ کہ مجوسی۔ اس بناء پر ہتھیار بھی خریدے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
- ٤...... مولانا ثناء اللہ صاحب کی بابت لکھتے ہیں: ”وہ دو آنے کے لئے در بدر
خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے۔ مردوں کے کفن اور وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)
٦٧
کہ عیسیٰ نے ملک کشمیر کی طرف ہجرت کی ی اور اس ملک میں بہت مدت تک رہتے شہر سری نگر میں جو اس خطہ کے سبب سے اور اطمینان کے لئے اس کتاب (اکمال ہاتھ لکھا ہوا ہے۔“
(رسالہ الہدی ص ١١٧، خزائن ج ١٨ ص ٣٦١)
قادیانی نے لوگوں کو دھوکا دینا چاہا ہے۔ سفید جھوٹ ہے کہ اس کتاب میں حضرت ہمارے ایک دوست نے برٹش میوزیم کے ابتداء سے آخر تک پڑھا ہے۔ خلاصہ اس کی مملکت میں مذہب اسلام پھیل چکا تھا۔ فقراء اور صلحاء کی دل آزاری کرنے لگا۔ طالع کی نسبت کہا کہ یہ شہزادہ زاہدوں اور ھوگی۔ بادشاہ نے اس کی تربیت کا خاص خدا سے دنیا سے بے رغبتی ہو۔ مگر یہ سب محبت مائل ہوگئی۔ اس نے علم دین حاصل ندوستان کے ایک شہزادے کا ذکر ہے۔ بن بیٹھا۔ دنیا اور اس کی ساری لذت کو ہزادۂ شہزادے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قادیانی کی جرات دیکھئے کہ یہ کتاب کا
نی کی بدزبانی
ضرت عیسوی کے دیباچہ میں لکھتے ن کا ناگوار اتفاق ہوا ہے وہ خوب
جانتے ہیں کہ مناظرہ میں فحش بیانی سخت کلامی بد زبانی بلکہ گالی کو سننے کا مرزا قادیانی نے سرکار سے ٹھیکہ لے لیا ہے۔ آپ اس فن کے جگت استاد مانے جاتے ہیں۔ ہر مذہب کے بزرگوں کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ آپ کے دست و زبان سے کسی مؤمن کو امان نہیں۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ آپ ہی کی انشاء پردازی سے گبر و مسلمان کا چلن بگڑا۔“
مولوی چراغ دین جموی لکھتے ہیں کہ: ”ہندوستان میں جو شخص دینی مباحثہ میں اپنی بدزبانی اور دریدہ دہنی بلکہ فحش کلامی کے لئے شہرہ آفاق ہوا۔ جس کی نسبت اہل الرائے کی یہ مستقل رائے ہے کہ دینی مناظرہ میں گندگی اور خباثت کے چلن کو اس نے رواج دیا۔ جو اس فن کا استاد اور موجد ہے۔ وہ مرزا قادیانی ہے۔“
(رسالہ مجلے سنہ ١٩٢٧ء)
لیکن یہ ایک عیسائی اور ایک مخالف مسلمان کی رائے ہے اور اگر ہم حقیقت حال دریافت کئے بغیر صرف اسی پر انحصار کر کے مرزا قادیانی کے خلاف فیصلہ دے دیں تو بڑی بے انصافی ہو گی۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی مرزا قادیانی ایسے بدزبان، فحش بیان اور گندہ دہن تھے۔ یا یہ محض ان پر افتراء ہے۔ کیا مرزا قادیانی اس الزام کو قبول کرتے ہیں؟ اور اس کی سچائی کے معترف ہیں۔ نہیں وہ تو فرماتے ہیں کہ: ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق وتهذيب الاخلاق“ یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب الاخلاق کے ساتھ بھیجا۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٥)
پھر ضرورت امام میں لکھتے ہیں کہ: ”چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کو دنیا کے بے ادبوں اور بدزبانوں سے بھی مقابلہ پڑے گا۔ اس لئے اخلاقی قوت (یعنی امام کو) بدرجہا عطاء کی جاتی ہے۔“
(ضرورت امام ص ٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٧)
اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ”راستی کو تہذیب اور نرمی سے بیان کرنا ہمارا شیوہ ہے۔ بخدا ہم دشمنوں کے دلوں کو بھی تنگ کرنا نہیں چاہتے۔“
(رسالہ شحنۂ حق ص ج، خزائن ج ٢ ص ٣٤٦)
پھر آپ اپنے رحم و حلم اور صبر وضبط کو کس خوبصورت اور مؤثر پیرایہ میں بیان کرتے ہیں کہ:
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٦٩
مذکورہ بالا الفاظ کو پڑھ کر ہر شخص بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ یہ نہایت ہی با اخلاق اور مہذب انسان کا کلام ہے۔ جو دشمنوں کے دلوں کو بھی تنگ کرنا نہیں چاہتا۔ جسے اپنے غیض وغضب پر اس قدر قابو ہے کہ وہ گالیاں سن کر بھی چیں بجبیں نہیں ہوتا۔ بلکہ دعائیں دیتا ہے۔ بھلا ممکن ہے کہ ایسا شخص کسی کے حق میں بدزبانی کرے اور اسے بھلا برا کہے۔ مگر نہیں ابھی آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کے قول وفعل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہ زبان سے تو تہذیب اور شائستگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر ان کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کے بعد ہر شخص اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ تہذیب ماشاء اللہ آپ کو چھو نہیں گئی اور آپ کی تمام کتابیں فحش گالیوں اور بیجا حملوں سے بھری پڑی ہیں۔ ہم اپنے دعویٰ کی تائید میں صرف چند ایک کتابوں سے ان کی تہذیب اور شائستگی کے نمونے دکھاتے ہیں۔ اس سے ناظرین اندازہ کرلیں کہ باقی کتب میں کیا کچھ بھرا ہو گا۔ سنئے:
- ١...... "أخرهم شيطان الاعمى والغول الاغوى بقال له رشيد
احمد جنجوهى وهو شقى كالامروهى ومن ملعونين" یعنی سب سے آخر شیطان اور دیو گمراہ ہے کہ جسے رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں اور محمد حسن امروہی کی طرح بدبخت ملعون ہے۔
(مکتوب عربی ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)
- ٢...... "یہودی صفت مولوی اور ان کے چیلے ان کے ساتھ ہوں گے۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧)
- ٣...... "شاید بعض بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٤...... "مردار اور خبیث فرقہ۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
- ٥...... "خنزیر سے زیادہ پلید...... اے مردار خور مولویو اور گندی روحو...... اے
اندھیرے کے کیڑو۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)
- ٦...... "بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ الہام کے
معارف کو سنتے ہی جلد بول اٹھتے ہیں کہ یہ کچھ حقیقت نہیں...... لیکن جاننا چاہئے کہ یہ سب شیاطین الانس ہیں۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)
٧٠
- ٧...... ”یہ مردہ پرست لوگ کیسے جاہل اور خبیث طینت ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)
- ٨...... ”پلید نالائق فتح مسیح ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)
- ٩...... ”آتھم تمام پادریوں کا منہ کالا کر کے قبر میں داخل ہو گیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)
- ١٠...... ”وہ شخص نہایت درجہ کور باطن ہے کہ جو اب بھی حال کے پادریوں کو
دجال اکبر نہیں سمجھتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)
- ١١...... ”جس قدر فقہاء میں سے اس عاجز کے مکفر یا مکذب ہیں وہ تمام اس کامل
نعمت مکالمہ الہیہ سے بے نصیب ہیں اور محض یاوہ گو اور ژاژ خا ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣)
- ١٢...... ”بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)
- ١٣...... ”تم نے حق کو چھپانے کے لئے یہ جھوٹ کا گوہ کھایا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)
- ١٤...... ”خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)
- ١٥...... ”اے بدذات فرقہ مولویاں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
- ١٦...... ”بے ایمان اندھے مولوی اور خبیث طبع عیسائی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦)
- ١٧...... ”نجاست خور پادری۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٧)
- ١٨...... ”ناپاک فرقہ نصرانیوں کا طوائف کی طرح کوچوں اور بازاروں میں
ناچتے پھرتے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦)
- ١٩...... ”پلید ذریت شیطان فتح مسیح۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)
٧١
- ٢٠...... ”بدکاروں نجاست خوروں کی بے ادبیوں سے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)
- ٢١...... (محمد حسین بٹالوی، عبدالحق، احمد اللہ اور ثناء اللہ امرتسری کی نسبت) ”یہ
جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)
- ٢٢...... ”اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہئے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا
کہاں گیا۔ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا۔ یا پھر رجعت قہقہری کر کے نطفہ بن گیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٣١١)
- ٢٣...... ”مگر اس کی بدبختی سے وہ دعویٰ بھی باطل نکلا اور اب تک اس کی عورت
کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٤، خزائن ج ١١ ص ٣١٧)
- ٢٤...... ”اے اسلام کے عار مولویو!“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)
- ٢٥...... ”ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک
کٹ جائے اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
- ٢٦...... ”اندھے پادریوں یا ایک چشم مولویوں نے آتھم کے مقدمہ کی حقیقت کو
اچھی طرح نہ سمجھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)
- ٢٧...... ”نہ معلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ کیوں شرم و حیا سے کام نہیں لیتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)
- ٢٨...... ”یہ لوگ جو پادریانہ مشرب رکھتے ہیں۔ اکثر وہ جھوٹ کے پتلے اور
نجاست خوری کے کیڑے ہیں۔ ان کو نہ فطرتی حیا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کا خوف۔“
(انجام آتھم ص ١٧، خزائن ج ١١ ص ١٧)
- ٢٩...... ”تم جھوٹ مت بولو اور نجاست نہ کھاؤ۔ جو عیسائیوں نے کھائی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)
- ٣٠...... ”و پنجہ ہمچو سگاں بجامہ من دراویخت و سخن ہائے ہرزہ بان خود آورد کہ بجز
شیطان لعین ہیچ کس بداں گونہ تکلم نہ کند۔“
(مکتوب ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)
٧٢
یعنی کتوں کی طرح مرے۔ کپڑے نوچے اور اپنی زبان سے ایسے الفاظ نکالے کہ بجز شیطان ملعون کے کوئی نہ نکال سکتا تھا۔
- ٣١...... ”رئیس المفسرین پولوس کہ رئیس مفترین بود۔“
(مکتوب عربی ص ١٩٥، خزائن ج ١١ ص ١٩٥)
- ٣٢...... ”میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے
معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (زنا کاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی۔ وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
دوستو! یہ اس شخص کا کلام ہے جو چودھویں صدی کے سرے پر مسلمانوں کا امام ہو کر آیا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کو جہاں کے بے ادبوں اور بدزبانوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لئے اخلاقی قوت بھی اعلیٰ درجہ کی اسے عطاء کی۔
بسیار خوباں دیدہ ام اما تو چیزے دیگرے
یہ جو کچھ ہم نے نقل کیا ہے مرزا قادیانی کی مکروہات و مزخرفات اور لغویات کا عشر عشیر بھی نہیں ۔ مصنف عصائے موسیٰ نے ان کی گالیوں کو انتخاب کر کے ابجد کے لحاظ سے مرتب کیا ہے۔ مگر اس میں یہ نقص ہے کہ اصل کتاب کے حوالہ نہیں دیئے گئے اور صرف عبارتیں نقل کر دی ہیں۔ (احتساب قادیانیت ج ٢ میں مرزا قادیانی کی بدزبانی ابجد کے حساب سے باحوالہ موجود ہے۔ خذ وکن من الشاکرین ۔ مرتب) لیکن پھر بھی ہر شخص اپنی ضرورت کے موافق بیہودہ گوئیوں کا بے حساب ذخیرہ ان کی کتابوں سے جمع کر سکتا ہے۔ ہم نے تو صرف ان کی ایک دو تصنیف کے چند اوراق سے یہ سب کچھ بادل ناخواستہ فراہم کیا ہے اور اس کے لئے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ کسی شاعر نے اپنے محبوب کی تعریف میں کہا ہے؎
کسی کی آنکھ میں جادو تیری زبان میں ہے
لیکن مرزا قادیانی کی زبان اور آنکھ دونوں میں جادو ہے۔ سحر زباں تو آپ فرما چکے۔ آنکھ کا جادو دیکھنا مقصود ہو تو کتاب حقیقت الوحی میں ان کی تصویر ملاحظہ ہو۔
٧٤
باب نمبر: ١٥ ...... مسیح مریض
حضرت مسیح علیہ السلام اپنی شفا بخشی کی خصوصیت کے سبب دنیا میں اس قدر مشہور ہیں اور ان کی مسیحائی اس حد تک زبان زد خلائق ہے کہ بے شمار تیر بہدف ادویات ان کے نام سے مشہور ہیں اور سب سے بڑا فخر جو کسی طبیب حاذق و صاحب کمال کو ہو سکتا ہے وہ ان کی نسبت کا ہے کہ مسیح زمان سے بڑھ کر کوئی خطاب نہیں سمجھا جاتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سراپا شفا تھے۔ ان کے بدن کو چھونے سے خطرناک اور مایوس العلاج مریض شفا پا جاتے تھے اور ان کے دم سے جی اٹھتے تھے اور جب یہ حالت ہو تو کب ممکن ہے کہ وہ خود بھی کبھی بیمار ہوئے ہوں۔ اس لئے کسی کو یہ ثابت کرنے کا دعویٰ ہے نہ ہمت کہ عمر بھر کبھی ان کا سر بھی دکھا ہو۔ اب اس شخص کے لئے جو مسیح کے نام پر آئے اور ان کی تمام صفات و کمالات اپنے اندر رکھنے کا مدعی ہو تو ضرور ہے کہ اگر وہ دوسروں کو شفا نہ دے سکے تو کم از کم خود امراض گوناگوں کا شکار اور دائم المریض نہ ہو۔ لیکن مرزا قادیانی کا حال عجیب زبوں اور خستہ ہے کہ جس قدر جسم پر بال تھے۔ انہیں اسی قدر عوارض لاحق تھے۔ جن کے باعث وہ ہمیشہ تکلیف اٹھاتے رہتے تھے اور غالباً انہیں کے حق میں کسی نے یہ برجستہ اور پرمغز مصرعہ کہا ہے کہ ؎
ذیل میں مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں ان کی بیماریوں کی فہرست درج کی جاتی ہے۔ تاکہ ناظرین کرام کو مسیح قادیان کی زبوں حالی پر ترس آئے۔
- .......١ ”میں تو اکثر عوارض لاحقہ سے بیمار رہتا ہوں اور درد سر کی بیماری مجھے
٣٠ سال سے ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٧)
- ......٢ ”ایک دفعہ قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون
آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٦)
- ......٣ ”ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی۔ ایک دم قرار نہ تھا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٦)
- ......٤ ”دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصے میں اور
دوسری بدن کے نیچے کے حصے میں۔ اوپر کے حصے میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصے میں کثرت
٧ے
پیشاب اور دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا۔ میں نے ان کے لئے دعائیں کیں۔ مگر منع میں جواب پایا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠)
- ......٥ ”دن کے وقت ایک دفعہ نصف حصہ اسفل بدن کا میرا بے حس ہو گیا اور
ایک قدم چلنے کی طاقت نہ رہی۔ مجھے خیال گزرا کہ یہ فالج کی علامت ہے۔‘‘
(تذکرہ ص ٤٦٧)
- ......٦ ”ایک دفعہ مجھے مرض ذیابیطس کے سبب سے بہت تکلیف ہوئی۔ کئی دفعہ
سو سو مرتبہ پیشاب آتا تھا اور دونوں شانوں میں ایسے آثار نمودار ہو گئے جس سے کاربنکل کا اندیشہ تھا۔‘‘
(تذکرہ ص ٣٨٢ طبع سوم)
- ......٧ ”میں نے کئی دفعہ بیماریوں میں آزمایا کہ پیشاب بار بار آ رہا ہے۔ دست
بھی لگے ہیں۔ آخر خدا سے دعا کی صبح کو یہ الہام ہوا۔ ”دعاء ك مستجاب‘‘ اس کے بعد ہی وہ کثرت جاتی رہی۔‘‘
(تذکرہ ص ٤٦٦ طبع سوم)
- ......٨ ”کھانسی کی شدت بہت ہوتی تھی اور بعض وقت حالت جان کندنی کی سی
ہو جاتی تھی اور کوئی امید زندگی کی باقی نہ رہتی تھی ۔‘‘
(البدر ج ٣، نمبر ٨، ملفوظات ج ٨ ص ٤٢٩)
- ......٩ ”ایسا اتفاق ہوا کہ مجھے درد گردہ سخت پیدا ہو گئی ۔‘‘
(تذکرہ ص ٤٠٤ طبع سوم)
- ......١٠ ”عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہو گئی ہے۔ بجز دو وقت
ظہر اور عصر کی نماز کے لئے بھی نہیں جاسکتا اور اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور ایک سطر بھی کچھ لکھوں یا فکر کروں تو خطرناک درد سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔ جسم بالکل بیکار ہو جاتا ہے اور جسمانی قوٰی ایسے مضمحل ہو گئے ہیں کہ خطرناک حالت ہے۔ گویا مسلوب القوٰی ہوں اور آخری وقت ہے۔ ایسا ہی میری بیوی دائم المرض ہے۔ امراض رحم وجگر دامنگیر ہیں۔‘‘
(تذکرہ ص ٦١٧)
مرزا قادیانی نے ان تمام عوارض کا علاج کرایا۔ لیکن شفا نہ ہوئی۔ آرام نصیب نہ ہوا اور ان کی بیوی نصرت جہاں بیگم بھی باوجود سخت کوشش کے دائم المریض ہی رہی اور لطف یہ ہے کہ اپنے خلیفہ حکیم نورالدین ایسے یکتائے زمان طبیب کی رفاقت بھی کارگر نہ ہوئی اور حکیم صاحب کی خدمت سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ اس لئے کہ خدا کو منظور تھا کہ ہر پہلو سے مرزا قادیانی کی تکذیب ہو
٧٥
اور ان کا پول کھلے۔ آخر کار آپ مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر اس جہاں سے گزر گئے۔ وہ مر گئے ہمیں ایک دن مرنا ہے۔ جہاں سے کوچ کرنا ہے۔ رہے نام اللہ کا۔ مگر افسوس یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی موت قبل از وقت تھی۔ کیونکہ ان کی بتائی ہوئی میعاد ابھی پوری نہ ہوئی تھی۔ اسی برس کی عمر میں انہیں جانا تھا اور اڑسٹھ برس کی عمر میں چل دیئے۔ خیر ان کی وفات حسرت آیات کی جانکاہ اور جگر فرسا رپورٹ سنئے۔
”برادران جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے۔ حضرت امامنا و مولانا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے۔ حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا ہضم نہ ہونے کے ہو جایا کرتی تھی۔ دل سخت کمزور اور نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی اور عموماً مشک وغیرہ کے استعمال سے واپس آجایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے مقام میں بھی حضور کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ٢٥ تاریخ مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا دن پیغام صلح کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپس پر حضور کو پھر اسی بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے۔ مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی۔ مگر اس سے کچھ فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے ایک اور دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہو گئی اور مجھے اور حضرت خلیفہ نورالدین صاحب کو طلب فرمایا۔ مقوی ادویات دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی۔ نیند آنے سے آرام ہو جائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے۔ مگر قریباً دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آگیا۔ جس سے نبض بالکل بند ہو گئی اور مجھے اور حضرت مولانا خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب اور خواجہ کمال الدین کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو بھی طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرزا یعقوب بیگ کو اپنے پاس بلا کر کہا۔ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج با قاعدہ ہوتا رہا۔ مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوا دس بجے صبح ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جاملی۔“
(ضمیمہ غیر معمولی پرچہ مورخہ ٢٨ مئی ١٩٠٨ء)
مرزا قادیانی کی موت اہل بصیرت کے لئے عبرت کا مقام ہے۔ انسان کیسا جاہل اور نادان ہے۔ وہ اس چند روزہ زندگی اور اس کی جھوٹی عیش وعشرت پر ایسا فریفتہ ہوتا ہے۔ گویا مرنا
٧٦
اسے یاد ہی نہیں رہتا۔ کیسے کیسے خودسری کے دعویٰ کرتا ہے۔ خدا کی خدائی سے برسر پیکار ہوتا ہے اور قضا و قدر سے بھڑ جاتا ہے۔ وہ سرکش انسان اور خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس کی خام خیالیاں اور باطل امیدیں مبارک ہیں۔ وہ جو اپنے انجام پر نظر رکھتے ہیں۔
ہر روز چھاپتے تھے جو دعویٰ نئے نئے
مرزائے قادیانی کذاب الغرض
دنیا سے آپ ہی بصد ارمان چلے گئے
باب نمبر: ١٦ ...... ہلاکت مرزا قادیانی کے قلم سے
شعرائے متقدمین میں مرزا رفیع الدین سودا کا بڑا پایہ ہے۔ ہجو گوئی میں انہیں بہت کمال حاصل تھا اور لوگ ان سے ڈرتے تھے کہ کہیں بگڑے تو ہجو نہ لکھ دیں۔ مولانا محمد حسین آزاد ”آب حیات“ میں ان کی بابت لکھتے ہیں کہ: ”عالم، جاہل، فقیر، امیر، نیک، بد کسی کی داڑھی ان کے ہاتھ سے نہیں بچی۔ غنچہ نام ان کا ایک غلام تھا۔ ہر وقت خدمت میں رہتا تھا اور ساتھ قلمدان لئے پھرتا تھا۔ جب کسی سے بگڑتے تو فوراً پکارتے۔ ارے غنچہ! لا تو قلمدان۔ ذرا میں اس کی خبر تو لوں۔ یہ مجھے سمجھا کیا ہے۔ پھر شرم کی آنکھیں بند اور بے حیائی کا منہ کھول کر وہ وہ بے نقط سناتے تھے کہ شیطان بھی امان مانگے۔“ یہی حال مرزا قادیانی کا تھا کہ جس سے مخالفت ہوئی۔ اس سے بھلے مانس کی مذمت کی۔ گالیاں دیں۔ تہذیب و شرافت کو بالائے طاق رکھا اور جو دل میں آیا کہہ دیا۔ اسی پر طرہ یہ کہ جھٹ موت کی دھمکی دی اور بیماری و لاچاری یا سخت تکلیف اور مصیبت کی پیش گوئی کر دی۔ آپ کی زبان تو بدگوئی میں سودا سے کم نہ تھی۔ لیکن فخر آپ کو لوگوں پر ہلاکت اور تباہی، ذلت و بربادی لانے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے میں تھا۔ ہمارا تو ایمان ہے کہ مرزا قادیانی خدا کی کائنات میں ایک بے مقدار ذرہ اور ایک بے حقیقت شے تھے۔ ان کی کیا طاقت تھی کہ خدا کے انتظام میں دخل دے سکتے۔ وہ دعاء کرتے اور لوگ مر جاتے۔ لیکن انہیں اپنی بددعاؤں پر بڑا ناز تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ ہزاروں اور لاکھوں ان کی بدعا سے مر گئے۔ مردوں کے جلانے کا نہ مرزا قادیانی کو دعویٰ تھا نہ ان کے مرید اسے ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں سنایا جاتا ہے تو بس یہی کہ دیکھا۔ انہوں نے پیکانِ اجل سے کیسے بے امان تیر چلائے۔
٧٧
اسے یاد ہی نہیں رہتا۔ کیسے کیسے خودسری کے دعویٰ کرتا ہے۔ خدا کی خدائی سے برسر پیکار ہوتا ہے اور قضا و قدر سے بھڑ جاتا ہے۔ وہ سرکش انسان اور خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس کی خام خیالیاں اور باطل امیدیں مبارک ہیں۔ وہ جو اپنے انجام پر نظر رکھتے ہیں۔
ہر روز چھاپتے تھے جو دعویٰ نئے نئے
مرزائے قادیانی کذاب الغرض
دنیا سے آپ ہی بصد ارمان چلے گئے
باب نمبر: ١٦ ...... ہلاکت مرزا قادیانی کے دم سے
شعرائے متقدمین میں مرزا رفیع الدین سودا کا بڑا پایہ ہے۔ ہجو گوئی میں انہیں بہت کمال حاصل تھا اور لوگ ان سے ڈرتے تھے کہ کہیں بگڑے تو ہجو نہ لکھ دیں۔ مولانا محمد حسین آزاد ”آب حیات“ میں ان کی بابت لکھتے ہیں کہ: ”عالم، جاہل، فقیر، امیر، نیک، بد کسی کی داڑھی ان کے ہاتھ سے نہیں بچی۔ غنچہ نام ان کا ایک غلام تھا۔ ہر وقت خدمت میں رہتا تھا اور ساتھ قلمدان لئے پھرتا تھا۔ جب کسی سے بگڑتے تو فوراً پکارتے۔ ارے غنچہ! لا تو قلمدان۔ ذرا میں اس کی خبر تو لوں۔ یہ مجھے سمجھا کیا ہے۔ پھر شرم کی آنکھیں بند اور بے حیائی کا منہ کھول کر وہ وہ بے نقط سناتے تھے کہ شیطان بھی امان مانگے۔“ یہی حال مرزا قادیانی کا تھا کہ جس سے مخالفت ہوئی۔ اس سے بھلے مانس کی مذمت کی۔ گالیاں دیں۔ تہذیب و شرافت کو بالائے طاق رکھا اور جو دل میں آیا کہہ دیا۔ اسی پر طرہ یہ کہ جھٹ موت کی دھمکی دی اور بیماری و لاچاری یا سخت تکلیف اور مصیبت کی پیش گوئی کر دی۔ آپ کی زبان تو بدگوئی میں سودا سے کم نہ تھی۔ لیکن فخر آپ کو لوگوں پر ہلاکت اور تباہی، ذلت و بربادی لانے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے میں تھا۔ ہمارا تو ایمان ہے کہ مرزا قادیانی خدا کی کائنات میں ایک بے مقدار ذرہ اور ایک بے حقیقت شے تھے۔ ان کی کیا طاقت تھی کہ خدا کے انتظام میں دخل دے سکتے۔ وہ دعاء کرتے اور لوگ مر جاتے۔ لیکن انہیں اپنی بددعاؤں پر بڑا ناز تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ ہزاروں اور لاکھوں ان کی بددعا سے مر گئے۔ مردوں کے جلانے کا نہ مرزا قادیانی کو دعویٰ تھا نہ ان کے مرید اسے ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں سنایا جاتا ہے تو بس یہی کہ دیکھو۔ انہوں نے پیکان اجل سے کیسے بے امان تیر چلائے۔
٧٧
ملک الموت ان کی تائید کے لئے ان کے ہم رکاب رہتا تھا۔ وہ جس طرف آنکھ اٹھاتے۔ لوگ موت کی نیند سوجاتے ۔ان کا مارا پانی نہ مانگتا تھا۔سبحان اللہ کیا ہی کرامت ہے! اور خصوصاً مسیح موعود کے لئے۔ کسی مہیب قاتل نے اپنی زندگی میں اتنے خون نہ کئے ہوں گے جتنے اس امن کے شہزادے نے کئے اور کسی قصاب نے اتنی بھیڑ بکریاں نہ ذبح کی ہوں گی جتنے انسانوں کو ذبح کرنے کا اسے دعویٰ ہے۔ کوئی جان سے مارا گیا۔ کوئی بیماری میں مبتلا ہوا۔ کسی کو مالی نقصان پہنچا۔ کوئی سزا یاب ہوا۔ یا اور مصیبتیں اس پر آ پڑیں۔ غرض کسی مخالف پر کوئی بھی آفت آئی۔ جھٹ مرزا قادیانی نے فرما دیا کہ یہ ہمارا اعجاز ہے۔ ہماری مسیحائی کی دلیل ہے اور یہ سارا ما بدولت کا کاروبار ہے۔ کتاب کے دیباچہ میں ہم مرزا قادیانی کی اس خصوصیت کا ذکر کر چکے ہیں اور کیا لکھیں۔ پس اب مخالفین مرزا قادیانی کی فہرست ملاحظہ کیجئے کہ جو بیچارے ان کی پیش گوئیوں کے مطابق شکار اجل ہوئے۔ یا ان پر سخت مصیبت آئی ان کا شمار لاکھوں تک پہنچ گیا۔ دعاء کرو کہ الٰہی تجھے اپنی شانِ رحیمیت ومنصب ربوبیت کا واسطہ اپنے بندوں کو ایسے نبیوں سے محفوظ رکھ۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں:
- ......١...... ”اس پیش گوئی کے مطابق ملک میں ایسی طاعون پھیلی کہ اب تک تین
لاکھ کے قریب لوگ مر گئے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٨ خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩)
- ......٢...... ”دعائیں جو دشمنوں کی سخت ایذا کے بعد کی گئیں۔ جناب الٰہی میں مقبول
ہوکر پیش گوئیوں کے مطابق طاعون کا عذاب ان پر آگ کی طرح برسا اور کئی ہزار دشمن جو میری تکذیب کرتا اور بدی سے نام لیتا تھا۔ ہلاک ہوگیا۔ لیکن اس جگہ ہم نمونے کے طور پر چند سخت مخالفوں کا ذکر کرتے ہیں۔ مولوی رسل بابا باشندہ امرتسر ...... طاعون سے ہلاک ہوا۔ محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ ...... طاعون سے ہلاک ہوا۔ چراغ دین جموں ...... مع اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا۔ نور احمد موضع بھڑی چٹھہ تحصیل حافظ آباد کا باشندہ طاعون سے مر گیا ...... مولوی زین العابدین مولوی فاضل ومنشی فاضل انجمن حمایت اسلام کا مقرب مدرس طاعون سے مر گیا اور اس کے گھر کے سترہ آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ کریم بخش نام لاہور میں ایک ٹھیکدار تھا۔ جوانی کی عمر میں شکارموت ہوا۔ حافظ سلطان سیالکوٹی ...... سخت طاعون سے اسی ١٩٠٦ء میں ہلاک ہوا اور اس کے گھر کے نو یا دس آدمی بھی طاعون سے ہلاک ہو گئے۔ حکیم محمد شفیع سیالکوٹی جو بیعت کر کے مرتد ہو گیا تھا ...... آخر وہ بھی طاعون کا شکار ہوا اور اس کی بیوی اس کی والدہ اور اس کا بھائی ٧٨
سب یکے بعد دیگرے طاعون سے مرے۔ مرزا صاحب گرفتار ہو کر ہلاک ہوا۔“
(حقیقت الوحی)
- ......٣...... ”رشید احمد گنگوہی پہلے اندھا ہوا
بعض دیوانہ ہو کر مر گئے۔ جیسا کہ مولوی شاہ دین لدھیانوی اور مولوی عبداللہ لدھیانوی جو درجہ اول کے مخالف تھے الدین لکھو کی والے ......... فوت ہو گئے۔“
- ......٤...... ”مولوی غلام دستگیر قصوری......
- ......٥...... ”مولوی محمد حسن بھیں والا میرے
- ......٦...... ”احمد بیگ کی نسبت جو میری
ہنسی ٹھٹھا کرتا تھا۔ کس صفائی سے پیش گوئی نے اس ہوشیار پور کے شفاخانہ میں فوت ہو گیا۔“
- ......٧...... ”پھر جیسا کہ پیش گوئی میں
موتیں بھی اس کے عزیزوں میں ہوں گی۔ وہ امر بھی ہمشیرہ انہیں ایام میں فوت ہو گئے۔“
- ......٨...... ”ڈپٹی عبداللہ آتھم کی نسبت
- ......٩...... ”ایک شخص ڈوئی امریکہ کا
............... میں نے اس کی طرف لکھا کہ میرے ساتھ وہ مباہلہ نہیں کرے گا تب بھی خدا اسے تباہ کرے گا سے اس کو جواب مل گیا اور بڑی ذلت پیش آئی اور اس ایک قدم بھی آپ نہیں چل سکتا ........... اور امریکہ قابل علاج نہیں۔ شاید چند ماہ تک مرجائے گا۔“ ٧٩
سب یکے بعد دیگرے طاعون سے مرے۔ مرزا سردار بیگ سیالکوٹی ...... بھی سخت طاعون میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٥ تا ٢٢٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٦ تا ٢٣٨)
- ٣...... ”رشید احمد گنگوہی پہلے اندھا ہوا اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مرگیا۔ اور
بعض دیوانہ ہوکر مرگئے۔ جیسا کہ مولوی شاہ دین لدھیانوی اور مولوی عبدالعزیز اور مولوی محمد اور مولوی عبداللہ لدھیانوی جو درجہ اول کے مخالف تھے تینوں فوت ہو گئے۔ ایسا ہی عبدالرحمٰن محی الدین لکھوکی والے ......... فوت ہو گئے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩)
- ٤...... ”مولوی غلام دستگیر قصوری ......... ہلاک ہو گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩)
- ٥...... ”مولوی محمد حسن بھیں والا میری پیشگوئی کے مطابق مرا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٩)
- ٦...... ”احمد بیگ کی نسبت جو میری تکذیب کے لئے کمر بستہ تھا اور دن رات
ہنسی ٹھٹھا کرتا تھا۔ کس صفائی سے پیش گوئی نے اپنا ظہور کیا اور میعاد کے اندر محرقہ تپ سے ہوشیار پور کے شفاخانہ میں فوت ہو گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨)
- ٧...... ”پھر جیسا کہ پیش گوئی میں لکھا تھا کہ احمد بیگ کی موت کے قریب اور
موتیں بھی اس کے عزیزوں میں ہوں گی۔ وہ امر بھی وقوع میں آگیا اور احمد بیگ کا ایک لڑکا اور دو ہمشیرہ انہیں ایام میں فوت ہو گئے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨)
- ٨...... ”ڈپٹی عبداللہ آتھم کی نسبت پیش گوئی بہت صفائی سے پوری ہوگئی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)
- ٩...... ”ایک شخص ڈوئی امریکہ کا رہنے والا تھا۔ اس نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا
......... میں نے اس کی طرف لکھا کہ میرے ساتھ مباہلہ کرے اور ساتھ اس کے یہ بھی لکھا کہ اگر وہ مباہلہ نہیں کرے گا تب بھی خدا اسے تباہ کرے گا ......... نتیجہ یہ ہوا کہ کئی لاکھ روپے کی ملکیت سے اس کو جواب مل گیا اور بڑی ذلت پیش آئی اور آپ مرض فالج میں گرفتار ہو گیا۔ ایسا کہ اب وہ ایک قدم بھی آپ نہیں چل سکتا ......... اور امریکہ کے ڈاکٹروں نے رائے دی ہے کہ اب یہ قابل علاج نہیں۔ شاید چند ماہ تک مر جائے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٦)
٧٩
- ١٠....... ”اس جگہ دشمن سے مراد ایک ڈپٹی انسپکٹر ہے جس نے ناحق عداوت سے
مقدمہ بنایا تھا۔ آخر طاعون سے ہلاک ہوا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٧)
- ١١....... ”ایک شخص مسمی چراغ دین ساکن جموں میرے مریدوں میں داخل ہوا
تھا۔ پھر مرتد ہو گیا......... میں نے اس کی نسبت یہ پیش گوئی کی کہ وہ غضب اللہ کی بیماری سے یعنی طاعون سے ہلاک ہوگا اور خدا اس کو غارت کرے گا۔ چنانچہ وہ ٤؍اپریل ١٩٠٦ء کو معہ اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٢٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٠، ٢٣١)
- ١٢....... ”پنڈت دیانند جو آریوں کے لئے بطور گرو کے تھا فوت ہو گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٢١، ٢٢٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣١، ٢٣٢)
- ١٣....... ”تمام مولویوں کے شیخ المشائخ مولوی نذیر حسین دہلوی اس دنیا کو چھوڑ
گئے...... پھر مولوی غلام دستگیر وہ بزرگ تھے جنہوں نے میرے کفر کے لئے مکہ معظمہ سے کفر کے فتوے منگوائے تھے وہ بھی اپنے یک طرفہ مباہلہ کے بعد انتقال کر گئے...... پھر لدھیانہ کے مفتی مولوی محمد مولوی عبداللہ مولوی عبدالعزیز جنہوں نے کئی دفعہ مباہلہ کے رنگ میں لعنت اللہ علی الکاذبین کہا تھا۔ وہ بھی اس الہام کے بعد گزر گئے۔ پھر امرتسر کے مولوی رسل بابا تھے وہ بھی کوچ کر گئے۔ اسی طرح بہت سے پنجاب کے مولوی اور بعض ہندوستان کے مولوی اس الہام کے بعد اس جہاں کو چھوڑ گئے۔ اگر ان سب کی اس جگہ فہرست لکھی جائے تو وہ بھی ایک رسالہ بنے گا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٢٧، ٢٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٨، ٢٥٩)
- ١٤....... ”منجملہ ہیبت ناک اور عظیم نشان کے پنڈٹ لیکھرام کی موت کا نشان
ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩٤)
- ١٥....... ”لدھیانہ میں ایک صاحب میر عباس علی تھے جو بیعت کرنے والوں میں
داخل تھے...... مرید ہونے کے بعد ایک دن وہ لدھیانہ میں پیر افتخار احمد صاحب کے مکان پر مجھے ملے اور کہنے لگے کہ آپ کا اور ہمارا اس طرح پر مقابلہ ہو سکتا ہے کہ ایک حجرے میں ہم دونوں بند کئے جائیں اور دس دن تک بند رہیں۔ پھر جو جھوٹا ہو گا مر جائے گا...... میں نے کہا اب بس خدا کے فیصلے کے منتظر رہو۔ پھر اسی حال میں وہ فوت ہو گئے اور کسی حجرے میں بند کئے جانے کی ضرورت نہ رہی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٩٤، ٢٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠٧، ٣٠٨)
٨٠
٨٧
- ١٦....... ”ایک شخص سمیع رام نام امرتسر کا
ہمیشہ مذہبی بحث کیا کرتا تھا...... ناگہانی موت سے اس د
- ١٧....... ”تمام بالمقابل مولویوں سے
بھی کسی نہ کسی بلا میں گرفتار، باقی سب فوت ہو گئے کاٹنے سے مر گیا۔ جیسا کہ مباہلہ کی دعا میں تھا۔ مولوی دستگیر خود اپنے مباہلہ سے مر گیا اور جو زندہ ہیں ان می نہیں۔ حالانکہ ابھی انہوں نے مسنون طریقہ پر مباہلہ
- ١٨....... ”قریباً ایک برس اس مباہل
خاص علی گڑھ ) ایک دفعہ کسی ناگہانی بیماری میں مبتلا ہ
- ١٩....... ”مولوی محمد حسن بھین والا
الکاذبین لکھ کر اپنے تئیں مباہلہ کے بیچ میں ڈال دی کہ بڑے دکھ کے ساتھ اسی جہان سے گزر گیا اور ب
- ٢٠....... ”مولوی عبدالرحمٰن محی الد
- ٢١....... ”مولوی نور احمد مع اپ
خدا یار تھے مر گیا۔“
- ٢٢....... ”ستائیسواں نشان کرم
سے آخر وہ سزا پا گیا۔“
- ٢٣....... ”شیخ مہر علی کی نسبت ا
ہوگا۔ چنانچہ بعد اس کے وہ مرض فالج میں مبتلا ہ
- ١٦...... ”ایک شخص بیج رام نام امرتسر کی کمشنری میں سررشتہ دار تھا اور وہ مجھ سے
ہمیشہ مذہبی بحث کیا کرتا تھا...... ناگہانی موت سے اس دنیا سے گذر گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠٩)
- ١٧...... ”تمام بالمقابل مولویوں سے جو باون تھے آج صرف بیس زندہ ہیں اور وہ
بھی کسی نہ کسی بلا میں گرفتار، باقی سب فوت ہوگئے۔ مولوی رشید احمد اندھا ہوا اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مرگیا۔ جیسا کہ مباہلہ کی دعا میں تھا۔ مولوی شاہ دین بھی دیوانہ ہو کر مرگیا۔ مولوی غلام دستگیر خود اپنے مباہلہ سے مر گیا اور جو زندہ ہیں ان میں سے کوئی بھی آفات متذکرہ بالا سے خالی نہیں۔ حالانکہ ابھی انہوں نے مسنون طریقہ پر مباہلہ نہیں کیا تھا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣١٣)
- ١٨...... ”قریباً ایک برس اس مباہلہ پر گذرا ہوگا کہ وہ (مولوی اسماعیل باشندہ
خاص علی گڑھ) ایک دفعہ کسی ناگہانی بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٤)
- ١٩...... ”مولوی محمد حسن بھین والانے میری کتاب اعجاز احمدی پر لعنت اللہ علی
الکاذبین لکھ کر اپنے تئیں مباہلہ کے بیچ میں ڈال دیا۔ چنانچہ اس تحریر پر ایک سال بھی نہیں گذرا تھا کہ بڑے دکھ کے ساتھ اسی جہان سے گذر گیا اور جوان مرگ موت ہوئی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٦)
- ٢٠...... ”مولوی عبدالرحمٰن محی الدین کئی سال ہوگئے کہ اس دنیا سے گذر گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٤٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٣)
- ٢١...... ”مولوی نور احمد مع اپنے مددگار بھائی نور محمد کے جو دونوں پسران مولوی
خدایار تھے مر گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٥)
- ٢٢...... ”ستائیسواں نشان کرم دین جہلمی کی سزا یابی کی نسبت پیش گوئی جس کی رو
سے آخر وہ سزا پا گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٤)
- ٢٣...... ”شیخ مہر علی کی نسبت ایک اور پیش گوئی کی گئی تھی کہ وہ ایک سخت بلا میں مبتلا
ہوگا۔ چنانچہ بعد اس کے وہ مرض فالج میں مبتلا ہو گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٣)
٨١
یہ ان مصائب اور آفات وبلیات ارضی و سماوی کی ایک غیر مکمل فہرست اور ہلاکت و بربادی کا ناتمام گوشوارہ ہے جو مرزا قادیانی کے فیض نبوت کی بدولت روئے زمین پر ظاہر ہوئیں۔ کاش تقدس مآب ایک ایسی طویل مگر صحیح فہرست اپنے اعجاز و کرامات کی بھی شائع کر دیتے۔ جس سے ظاہر ہوتا کہ فلاں تباہی سے بچ گیا۔ اس نے مصیبت سے امان پائی۔ وہ مردہ تھا جی اٹھا۔ اس پر سے آفت ٹل گئی۔ اسے خدا نے برکت دی وغیرہ۔ مگر یہ نشان تو سچے مسیح سے ظاہر ہونے تھے۔ مسیح دجال کے نشان بس موت ہے۔ وبائیں اور زلزلے ہیں۔ مخالف کے لئے جوانا موت ہے۔ ذلتیں ہیں۔ رسوائیاں ہیں اور گرفتاریاں ہیں۔ مرزا قادیانی کے ایک پرانے مرید اور گھر کے بھیدی ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب کیا خوب فرماتے ہیں۔
”وبائیں اور حادثات خواہ ہند میں ہوں یا اٹلی میں۔ فارموسا میں ہوں یا سان فرانسسکو میں۔ خواہ ان کی حضرت کو خبر بھی ہو یا نہ ہو۔ اپنی تکذیب ہی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ خداوند عالم کو ایک باؤلا سمجھ لیا ہے جو جوش حمایت میں از خود رفتہ ہو کر مرزا قادیانی کی خاطر دنیا کو تباہ کرتا پھرتا ہے اور اتنا بھی نہیں سوچتا کہ اس کے اصل مکذب اور دشمن کون ہیں۔ دنیا میں کہیں تباہی آئے تو فوراً مرزا قادیانی اور ان کے مرید بغلیں بجاتے اور عید مناتے ہیں کہ یہ ہمارے واسطے ایک نشان ظاہر ہوا ہے اور ہر وقت اس ہوس اور انتظار میں ہیں کہ دنیا تباہ ہو۔ فلاں ہلاک ہو۔ جس قدر زیادہ تباہی آئے اسی قدر ان کے گھر عید ہو ۔“
( تجلی مئی ١٩٠٦ء )
باب نمبر : ١٧ ...... مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں
یوں تو مرزا قادیانی کی علماء نے خوب جانچ پڑتال کی۔ قرآن کی محک پر انہیں کسا اور زر قلب کی طرح ...... پھینک دیا۔ حدیث کی کسوٹی پر رگڑا اور مس خام پایا۔ بعضوں نے عقل سلیم سے فتویٰ چاہا کہ اس قماش کا آدمی نبی ہو سکتا ہے اور جواب نفی میں ملا۔ غرض ہر امتحان میں وہ ناکام نکلے اور ہمیں افسوس ہے کہ ؎
کیا کیا تمہارے نام میری جان نکل گئے
لیکن ہماری نظر میں انصاف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو انہیں کے مقرر کردہ معیار سے پرکھا جائے اور اس کے بعد اگر ضرورت ہو تو کوئی اور معیار بھی قائم کر لیا جائے۔ مرزا قادیانی
٨٢
فرماتے ہیں: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے نہیں ہو سکتا۔“
اور پھر تحدی کے ساتھ للکارتے ہیں کہ : منہ سے نکلی ہوئی پیش گوئی نہ ٹلے گی جو خالی جائے ۔ دیکھئے کس زور کا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی گوئی نہ ٹلے گی جو غلط نکلی ہو اور فرماتے ہیں کہ یہ سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے پیش کردہ معیار سے ان کی سچائی لوگوں پر ثابت کرنے کی ناکام کو صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی باتیں گھڑ گھڑ کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہو بڑھ کر اعلیٰ اور فیصلہ کن بتاتے ہیں آپ کے خیال گوئیوں کو الگ رکھو اور صرف قرآنی معیار پر مرزا کے مطابق ہی ان کا امتحان لیتے ہیں۔ ان کی پیش ہیں کہ ان کا کیا حشر ہوا۔ امتحان کے دوسرے طر ہے۔ مرزا قادیانی کا پیش کردہ عام فہم معیار ہے یکساں طور پر دیکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان پیش نکلیں ۔ لیکن ہم نے ایک معقول تعداد میں سے وہ ہیں جن کی شہرت بہت عام ہو چکی ہے۔ خصو مرزا قادیانی نے مسلمانوں، عیسائیوں اور ہندو خوب چرچا کیا گیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ:
- ...... ١ ”بعض عظیم الشان نشان
جیسا کہ منشی عبد اللہ آتھم امرتسری کی نسبت پیش تک اور“
فرماتے ہیں: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
اور پھر تحدی کے ساتھ للکارتے ہیں کہ: ”اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر جائے تو بھی میرے منہ سے نکلی ہوئی پیش گوئی نہ ملے گی جو خالی جائے۔“
(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦)
دیکھئے کس زور کا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر جائے تو بھی میری ایک پیش گوئی نہ ملے گی جو غلط نکلی ہو اور فرماتے ہیں کہ یہ میری صداقت کا معیار ہے۔ پس ہم مرزائیوں سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے پیش کردہ معیار صداقت کی موجودگی میں تم کیوں کسی اور طریق سے ان کی سچائی لوگوں پر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہو۔ مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی امتحان نہیں اور تم از خود قیاسی باتیں گھڑ گھڑ کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہو۔ کیا وہ طریق امتحان جسے مرزا قادیانی سب سے بڑھ کر اعلیٰ اور فیصلہ کن بتاتے ہیں آپ کے خیال میں غلط اور خلاف قرآن ہے۔ تم کہتے ہو کہ پیش گوئیوں کو الگ رکھو اور صرف قرآنی معیار پر مرزا قادیانی کو پرکھو۔ آج ہم آپ کے مرشد کے حکم کے مطابق ہی ان کا امتحان لیتے ہیں۔ ان کی پیش گوئیاں انہیں کے الفاظ میں لکھتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ ان کا کیا حشر ہوا۔ امتحان کے دوسرے طریقے بھی درست ہیں۔ لیکن یہ طریقہ مسلمہ فریقین ہے۔ مرزا قادیانی کا پیش کردہ عام فہم معیار ہے اور واقعات سے متعلق ہے۔ جنہیں عالم و جاہل یکساں طور پر دیکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان پیش گوئیوں کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ جو جھوٹی نکلیں۔ لیکن ہم نے ایک معقول تعداد میں سے صرف ایک درجن کے قریب انتخاب کی ہیں اور یہ وہ ہیں جن کی شہرت بہت عام ہو چکی ہے۔ خصوصاً پہلی تین تو ایسی شاندار پیش گوئیاں ہیں کہ انہیں مرزا قادیانی نے مسلمانوں، عیسائیوں اور ہندوؤں میں خوب مشہور کیا اور ہندوستان بھر میں ان کا خوب چرچا کیا گیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ:
- ١...... ”بعض عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں۔
جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم امرتسری کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ٥؍جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینے تک اور“
٨٣
- ......٢ پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ١٨٩٣ء
سے چھ سال تک اور پھر
- ......٣ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع
لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالا تر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں خدائے تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعاء سے ہلاک نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں من جانب اللہ قرار دے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہرائے۔ یہ تینوں پیش گوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔
- ......١ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- ......٢ اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔
- ......٣ اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- ......٤ اور پھر یہ کہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ......٥ اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ......٦ اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسانوں کے
اختیار میں نہیں۔
(شہادت القرآن ص٧٩، ٨٠، خزائن ج٦ ص٣٧٥، ٣٧٦)
ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ کچھ معمولی پیش گوئیاں نہ تھیں۔ بلکہ ہندوستان اور پنجاب کی تین قوموں پر حاوی تھیں۔ نہایت عظیم الشان نشان تھے اور صرف یہی نشانات ایک صادق اور کاذب کی شناخت کے لئے کافی تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے انہیں بالخصوص نہایت زور اور یقین اور تحدی کے ساتھ پیش کیا۔ اب ایک ایک کر کے ان کی کیفیت دیکھئے اور باقی پیش گوئیوں کا حال بھی ملاحظہ فرمائیے۔ ڈپٹی عبداللہ آتھم کے ساتھ آپ کا مباحثہ ہوا۔ جس کے بعد آپ نے اس کے حق میں پیش گوئی کی۔ فرماتے ہیں کہ:
٨٤
١...... ”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعاء کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ کر عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے کو خدا مانتا ہے۔ اسکی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سنیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ٢١٠، ٢٠٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١، ٢٩٢)
٢...... ”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اسی نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی غلط نکلی یعنی وہ فریق جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں۔ پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص ٢١١، ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)
کیا یہ پیش گوئی پوری ہوئی؟ اور عبداللہ آتھم مر گیا؟ آج اس کا جواب مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی انتہاء درجہ کی یاس و نومیدی کا باعث ہے۔ آتھم باوجود پیرانہ سالی اور بیماری کے بچ رہا اور میعاد مقررہ کے اندر نہ مرا۔ پھر بھی عیسائیوں نے مرزا قادیانی کو ذلیل نہ کیا۔ روسیاہ نہ کیا۔ گلے میں رسہ نہ ڈالا۔ پھانسی نہ دی اور جان بخشی کر دی کہ ذلت کی زندگی موت سے بدتر ہے۔ خود ہی لکھا تھا کہ: ”اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“
(جنگ مقدس ص آخر، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
اور ہم آپ کے متعلق آپ کے حق میں یہی اعتقاد رکھتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ
٨٥
آتھم دل میں ڈر گیا اور اپنی حفاظت کی تدبیریں کرتا رہا اور اسے اضطراب و بے چینی رہی کہ مبادا میں مر نہ جاؤں۔ ہاں ہمیں تسلیم ہے کہ آتھم نے اپنی جان کی حفاظت کی بچ گیا۔ لیکن اگر خدا اسے مارنا چاہتا تو کون بچا سکتا تھا اور کیا تدبیر کارگر ہو سکتی تھی۔ اسباب حفاظت اس لئے تھے کہ کہیں مرزاقادیانی سازش سے نہ مروا ڈالیں اور اگر ذرا بھی ہوگا تو مرزاقادیانی کو سفاک قاتل اور ظالم جان کر نہ کہ ان کی پیش گوئی کو حق سمجھ کر۔ لیکن مرزاقادیانی خود سراسیمہ اور حیران تھے کہ اس کا کیا جواب دیں۔ اوّل تو یہ کہا کہ آتھم رجوع الی الحق کر گیا۔ ورنہ قسم کھائے کہ وہ نہیں ڈرا۔ بیچارے نے کہا کہ حلف اٹھانا تو میرے لئے مذہبًا حرام ہے۔ میں کیوں ایسا کروں۔ لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ نہ میں نے اپنے عقائد کو چھوڑا۔ نہ تمہارے عقائد کو صحیح تسلیم کیا اور نہ مجھے کچھ خوف۔ یہ سب کچھ تو آتھم نے کہا اور بظاہر معقول ہے ۔مگر ہمیں بھی ضد ہے کہ جہاں تک ممکن ہو مرزا قادیانی کا عذر قبول کر لیں گے۔ اس لئے ہم مان لیتے ہیں کہ آتھم نے بقول مرزاقادیانی رجوع الی الحق کیا۔ عاجز انسان کو خدا کہنا چھوڑ دیا۔ یعنی الوہیت مسیح کا قائل نہ رہا اور مسلمان ہو گیا۔ مگر ہم اس کا کیا علاج کریں کہ مرزاقادیانی نے آتھم کے بھاگے پھرنے سراسیمہ ہونے اور اپنی جان کی حفاظت کی تدبیر کرنے کو ہاویہ میں گرنا ہی کہا ہے۔ اب ہم حیران ہیں کہ رجوع الی الحق اور ہاویہ میں گرنا ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ کیا اجتماع ضدین ہے کہ آتھم رجوع الی الحق بھی کر گیا اور ہاویہ میں بھی گرا ہے۔ کوئی احمدی صفحہ ہستی پر ایسا ہے جو اس کی کل بیٹھاوے۔ یا ہے کوئی مرد فرزانہ جو اس گتھی کو سلجھاوے؟ یہ سب مرزاقادیانی کے اضطراب اور بے چینی کی دلیل ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ اس میعاد کے بعد جب آتھم مرا۔ مرزاقادیانی نے تب بھی کہا۔ کہو اب آتھم کہاں ہے؟ وہ مر گیا اور اب اس کا نشان بھی نہیں ملتا۔ مرنا تو آخر سب کو ہے۔ کیا مرزا قادیانی نہیں مر گئے۔ کہو اس زمین پر ان کا کہیں نشان ہے۔ لیکن میعاد مقررہ کے اندر آتھم نہ مرا اور مرزا قادیانی کو مشکلوں میں ڈال دیا کہ پڑے تاویلیں کیا کریں اور کچھ بن نہ پڑے۔
اس کے بعد دوسری پیش گوئی کو لیجئے جو ہندووں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی نسبت مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
- ......١ "اس عاجز نے اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں جو اس کتاب کے ساتھ
شامل کیا گیا تھا۔ اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ ٨٦ خواہش مند ہوں تو ان کی قضا وقدر کی نسبت بعض بعد اندرمن نے اعتراض کیا اور کچھ عرصہ کے بع ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا۔ میری نسب اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو جسد له خوار نصب وعذاب" یعنی ت سے مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان اور عذاب مقدر ہے۔ جو ضرور اس کو مل کر رہے ہے۔ چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں۔ پیش گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اند نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا نطق ہے اور ا بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی جائے۔"
- ......٢ " فبشرنی ربی ب
بشارت دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جا
یہ ایک پیش گوئی ہے جس کے پورا ہو ملک میں شور مچا دیا تھا کہ یہ آسمانی نشان کس صف عذاب مثل طاعون ہیضہ یا دیگر وبا سے مرا یا ان فیصلہ مرزائی دوستوں پر موقوف ہے۔ مرزا قادیا قتل میری سازش سے ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ کامیاب تدبیر کر لینا کچھ حیرت انگیز امر نہیں۔
خواہش مند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیش گوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے اعتراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔ لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا۔ میری نسبت جو پیش گوئی چاہو شائع کردو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ ”عجل جسد له خوار نصب وعذاب“ یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے۔ جس کے اندر سے مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے۔ جو ضرور اس کو مل کر رہے گا...... اور اس کے بعد آج جو ٢٠؍فروری ١٨٩٣ء ہے۔ چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں۔ عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیش گوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہو جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر ایسی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا نطق ہے اور اگر میں اس پیش گوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسی ڈال کر سولی پر کھینچا جائے۔“
(سراج منیر ص ١٢، ١٣، خزائن ج ١٢ ص ١٣، ١٤)
- ٢...... ”فبشرنی ربی بموته فی ست سنة“ یعنی خدا تعالیٰ نے مجھے
بشارت دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔“
(کرامات الصادقین ص آخر، خزائن ج ٧ ص ١٦٣)
یہ ایک پیش گوئی ہے جس کے پورا ہونے میں مرزا قادیانی کو ناز تھا اور انہوں نے تمام ملک میں شور مچا دیا تھا کہ یہ آسمانی نشان کس صفائی کے ساتھ پورا ہوا۔ لیکن لیکھرام پشاوری خدائی عذاب مثل طاعون ہیضہ یا دیگر وبا سے مرا یا انسانی ہاتھ سے اور انسانی سازش کی بدولت؟ اس کا فیصلہ مرزائی دوستوں پر موقوف ہے۔ مرزا قادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ لوگوں کا گمان ہے کہ یہ قتل میری سازش سے ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ چھ سال کے طویل عرصہ میں کسی مخالف کے قتل کی کامیاب تدبیر کر لینا کچھ حیرت انگیز امر نہیں۔ خدا انسانی ہتھیاروں کا محتاج نہیں۔ آسمان سے بجلی
٨٧
گری ہوتی۔ یا پیش گوئی کے مطابق کسی اور خارق عادت طریق سے لیکھرام مارا جاتا تو بات بھی تھی۔ لیکن کسی ظالم اور جاہل کو اشتعال دلا کر یا یہ کہہ کر کہ خدا نے تمہیں اس دشمن اسلام کی ہلاکت کے لئے مقرر کیا ہے۔ اس سے قتل کرا دینا خدائی کام نہیں اور نہ اسے خارق عادت کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ خدا کو چھ سال کی لمبی مہلت کی کیا ضرورت تھی۔ یہ سب انسانی کاروبار ہے۔ آریوں کا بیان ہے کہ ایک شخص قوی الجثہ اور دیو قد آریہ ہونے کے لئے پنڈت لیکھرام کے پاس آیا۔ اس کے چہرے سے وحشت اور درندگی کے آثار ہویدا تھے۔ مگر پنڈت لیکھرام نے اپنے مذہبی جوش تبلیغ میں بدگمانی کو پاس نہ بھٹکنے دیا اور سایہ کی طرح اس خونخوار قاتل کو ساتھ لئے پھرا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد جب شام کے بعد باہر سے پنڈت لیکھرام اور یہ جھوٹا متلاشی سیر کر کے آئے تو اس نے ایک ایسا خنجر پنڈت کے پیٹ میں گھونپ دیا کہ انتریاں باہر نکل آئیں۔ قاتل مفرور ہو گیا اور اس طرح مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔
آؤ اب تیسری پیش گوئی کو دیکھیں۔ جو مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور بہت ہی عظیم الشان ہے۔ محمدی بیگم نام ایک لڑکی مرزا قادیانی کے اپنے ہی خاندان میں تھی۔ جس سے آپ نے چاہا اور بہت چاہا کہ کسی صورت نکاح ہو جائے۔ لڑکی تھی کم سن اور دوشیزہ اور غالباً حسینہ و جمیلہ بھی اور مرزا قادیانی پیر فرتوت اہل و عیال والے اور کچھ خوش شکل اور خوب صورت بھی نہ تھے۔ خود ہی لکھتے ہیں: ”حديثة السن كنت حينئذ جاوزت على الخمسين“ یعنی وہ لڑکی کم عمر ہے اور میں پچاس سال سے زیادہ ہوں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤، خزائن ج ٥ ص ٥٧٤)
مرزا قادیانی نے کہا کہ خدا نے مجھے اس نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کی ہدایت کی ہے۔ لوگ ہر طرح مانع آئیں گے اور چاہیں گے کہ اس لڑکی کا عقد مجھ سے نہ ہو۔ مگر یہ ہو کر رہے گا۔ ہر حال میں ہو کر رہے گا اور مخالفین کی ناک کٹ جائے گی۔ زمین و آسمان ٹل جائیں۔ مگر یہ بات نہیں ٹلے گی۔ آسمان پر خطبہ نکاح پڑھا جا چکا ہے۔ یہ تقدیر مبرم ہے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں۔ لو ہم ان کی اصل عبارت پیش کئے دیتے ہیں۔
- ١....... ”عرصہ قریباً تین برس کا ہوا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے جن کا مفصل
اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے۔ خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاما بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں
٨٨
آئے گی اور لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کریگا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
- ٢...... ’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔
اس کا انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہ ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١)
- ٣...... ’’یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو (متعلق وفات داماد احمد بیگ)
پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں ہے۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
- ٤...... ’’سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان دوست انجام کے منتظر رہتے اور پہلے
اسے ہی اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
- ٥...... ’’اصل امر بہر حال خود قائم است و ہیچکس باحیلہ خود او را رد نتواں کرد و ایں
تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است وعنقریب وقت آں خواہد آمد...... من ایں را برائے صدق وکذب خود را معیار میگردانم ومن نگفتم الا بعد از آں کہ از رب خود خبردادہ شدم۔ (اردو ترجمہ مرزا قادیانی) میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کام ختم ہو گیا۔ بلکہ یہ کام ابھی باقی ہے۔ اس کو کوئی بھی حیلہ سے رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر مبرم ہے۔ اس کا وقت آئے گا۔ خدا کی قسم جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا ہے یہ بالکل سچ ہے تم دیکھ لوگے اور اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
٨٩
- ٦...... ”١٨٩١ء میں اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ موت تک
نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا یہ پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخر دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ جب میں نے اسی پیش گوئی کے متعلق خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔ ”الحق من ربك فلا تكونن من الممترين“ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ تو کیوں شک کرتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)
یہ عبارتیں اپنے مفہوم میں اتنی صاف اور واضح ہیں اور اس قدر تکرار اور زور کے ساتھ مرزا قادیانی نے یہ کہا ہے کہ اس کی کوئی تاویل ہو ہی نہیں سکتی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں حق الیقین تھا کہ سعی و کوشش سے یہ رشتہ ہو جائے گا اور کوشش یہاں تک کی کہ لڑکی والوں کی جو رشتہ دار مرزا قادیانی کی بہو تھی۔ اسے اپنے بیٹے سے بلا قصور طلاق دلوانے کی دھمکی دی۔ مگر نتیجہ کیا ہوا۔
اب آرزو یہ ہے کہ کوئی آرزو نہ ہو
محمدی بیگم کا نکاح ایک اور شخص مرزا سلطان محمد سے ہو گیا اور لگی مرزا قادیانی پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہونے۔ پھر کیا تھا ایک اور عذر تراشا کہ: ”وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہ جائے گی۔ بلکہ یہ تھا کہ اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے گی سو یہ پیش گوئی کا ایک حصہ ہے کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الٰہی الہام کے یہ الفاظ ہیں۔ ”سيكفيكهم الله يردها اليك“ یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا...... وہ قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہوگا۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ٢٤ ص ٢، مورخہ ٣٠؍جون ١٩٠٥ء)
مگر کیا ہوا۔ یہی کہ محمدی بیگم اور اس کا شوہر دونوں جیتے جاگتے اور سلامت باکرامت ہیں۔ نہ محمدی بیگم بیوہ ہوئی نہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی۔ بلکہ داماد احمد بیگ کے حین حیات میں آپ چل بسے۔ آہ! وہ امر جسے آپ قضائے مبرم کہتے رہے ٹل گیا۔ جسے سچ یا جھوٹ کا معیار بتاتے تھے۔ اس میں جھوٹے نکلے جو خدا سے خبر پا کر کہا تھا پورا نہ ہوا اور جس بات کی موت کو
٩٠
سامنے دیکھ کر بھی امید نہ توڑی۔ آخر اس کی حسرت جس لڑکی کے نکاح کے لئے قادر مطلق نے سلسلہ جن حالانکہ ہر دنیوی وسیلہ استعمال کیا گیا۔ مگر منہ کی کھا اور دیگر لواحقین کو لکھے۔ مگر بیکار۔ ہاں البتہ ؎
مگر انہیں جتا تو
مرزائی دوستو! تم ہی بتاؤ کہ کون سچا نکلا نہ ملی۔ کس کی ناک نہایت صفائی سے کٹ گئی اور خ بندروں اور سوروں کی طرح کر دیا۔ یہ ایک سنجید ہے۔ ہمیں تو مرزا قادیانی کی ناکامی پر رونا آتا ہ
کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎
پھر جان پہ بنتی ہے
مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ قاد تحت گاہ ہے۔ خدا اسے اس وبا کی دستبرد اور تباہ ہے۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ طاعون نے قادیان کو بھی پ پھر منکرین ومخالفین پر ہاتھ صاف کرتی تو صداقت کے حلقہ میں بھی اپنا کام شروع کر دیا۔ یہاں ت مرزا قادیانی نے آخر بذریعہ اعلان ہدایات جار پابندی کی جائے اور کہا کہ جس مکان میں چوہے طاعون ہو اس محلہ سے نکل جاؤ اور طاعون میں م سے بچو اور اس کا جنازہ بھی ایک سو گز کے فاص طوفان کے لئے جو کشتی ہم نے تیار کی تھی وہ ط طاعون ہماری غلامی سے نکل گیا اور ناچار ہمیں
سامنے دیکھ کر بھی امید نہ توڑی۔ آخر اس کی حسرت کو زمین میں لے کر ہمیشہ کے لئے سوگئے۔ جس لڑکی کے نکاح کے لئے قادر مطلق نے سلسلہ جنبانی کا حکم دیا۔ اس کا عقد کسی اور سے ہو گیا اور حالانکہ ہر دنیوی وسیلہ استعمال کیا گیا۔ مگر منہ کی کھائی۔ کیسے کیسے خوشامدانہ خطوط میں لڑکی کے والد اور دیگر لواحقین کو لکھے۔ مگر بیکار۔ ہاں البتہ ؎
مگر انہیں جتا تو دیا جان تو گئے
مرزائی دوستو! تم ہی بتاؤ کہ کون سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کسے جائے فرار نہ ملی۔ کس کی ناک نہایت صفائی سے کٹ گئی اور ذلت کے سیاہ داغوں نے کس کے منحوس چہرے کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیا۔ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے جو مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں ہے۔ ہمیں تو مرزا قادیانی کی ناکامی پر رونا آتا ہے۔ انجام پر نظر ہوتی تو کبھی یوں رسوا نہ ہوتے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے؎
پھر جان پہ بنتی ہے جب درد ستاتا ہے
مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ کیونکہ یہ ہماری تخت گاہ ہے۔ خدا اسے اس وبا کی دستبرد اور تباہی سے بچالے گا اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ طاعون نے قادیان کو بھی نہ چھوڑا اور تخت گاہ رسول بھی اس بلا سے نہ بچی۔ پھر منکرین ومخالفین پر ہاتھ صاف کرتی تو صداقت کا نشان سمجھا جاتا۔ مگر اس نے مخلصین ومؤمنین کے حلقہ میں بھی اپنا کام شروع کردیا۔ یہاں تک کہ آپ کے لڑکے شریف احمد پر بھی وار کیا اور مرزا قادیانی نے آخر بذریعہ اعلان ہدایات جاری کیں کہ حفظان صحت کے اصولوں کی پوری پوری پابندی کی جائے اور کہا کہ جس مکان میں چوہے مرنے شروع ہوں اسے خالی کر دو اور جس محلہ میں طاعون ہو اس محلہ سے نکل جاؤ اور طاعون میں مبتلاء مریض کے نزدیک نہ جاؤ۔ اس کی زہریلی ہوا سے بچو اور اس کا جنازہ بھی ایک سوگز کے فاصلے پر کھڑے ہو کر پڑھو۔ گویا یہ اعلان کیا کہ اس طوفان کے لئے جو کشتی ہم نے تیار کی تھی وہ ٹوٹ گئی ہے اور آسمانی حفاظت سے کام نہیں چلا۔ طاعون ہماری غلامی سے نکل گیا اور ناچار ہمیں اپنا دامن شفاعت کھینچنا پڑا۔ اب اپنی حفاظت کے
٩١
لئے میری طفل تسلیوں پر تکیہ نہ کرو۔ بلکہ اے میرے مریدو وہی تمام اصول حفظ صحت کے تم بھی برتو جو تمام دنیا برتتی ہے شاید کہ تم بچ جاؤ۔ لو مرزا قادیانی کے الفاظ میں ہم پیش کرتے ہیں:
- ١...... ”لنا من الطاعون امان ولا تخوفونی من هذاه النيران
فان النار غلامنا بل غلام الغلمان“ یعنی ہمارے لئے طاعون سے امان ہے۔ مجھ کو طاعون سے مت ڈراؤ۔ طاعون ہمارا غلام بلکہ غلاموں کا غلام ہے۔
(مواہب الرحمن ص٢٤، خزائن ج١٩ص٢٤٢)
- ٢...... ”خدا ایسا نہیں کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے۔ حالانکہ تو ان میں رہتا
ہے۔ وہ اس گاؤں کو طاعون کی دستبرد اور اس کی تباہی سے بچالے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مد نظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔“
(دافع البلاء ص٧، خزائن ج١٨ص٢٢٧)
- ٣...... ”خدا تعالیٰ بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک
رہے۔ قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔“
(دافع البلاء ص١٠، خزائن ١٨ص٢٣٠)
- ٤...... ”حضرت مسیح موعود نے اپنی راستی اور شفاعت گیری کا یہ ثبوت پیش کیا
ہے کہ قادیان کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے ان تمام لوگوں کو جو دہریہ طبع کفار مشرک اور دین حق سے ہنسی کرنے والے ہیں۔ خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایہ شفاعت میں لے لیا۔“
(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٢ء)
یہ سب حفاظت کے وعدے ہیں۔ مگر ان وعدوں سے کیا حاصل ہوا۔ سنئے :
- ٥...... ”چونکہ آج کل ہر جگہ مرض طاعون زور پر ہے۔ اس لئے اگرچہ قادیان
میں نسبتاً آرام ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برعایت اسباب ہذا مجمع جمع ہونے سے پرہیز کیا جائے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٨١)
- ٦...... ”طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون کا زور تھا۔ میرا لڑکا
شریف احمد بیمار ہو گیا۔“
(حقیقت الوحی ص٨٤، خزائن ج٢٢ص٨٧)
- ٧...... ”اسباب ظاہری کی رعایت رکھو۔ جس مکان میں چوہے مرنے شروع
ہوں اسے خالی کر دو اور جس محلہ میں طاعون ہو۔ اس محلہ سے نکل جاؤ اور کسی کھلے میدان میں جا کر
٩٢
ڈیرا لگاؤ۔ جو تم سے بتقدیر الٰہی طاعون میں مبتلا ہو جائے۔ اس کے ساتھ اور اس کے لواحقین کے ساتھ پوری ہمدردی کرو اور ہر طرح سے مدد کرو اور اس کے علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھو۔ لیکن یاد رہے کہ ہمدردی کے یہ معنی نہیں کہ اس کے زہریلے سانس یا کپڑوں سے متاثر ہو جاؤ۔ بلکہ اس اثر سے بچو اور اسے کھلے مکان میں رکھو اور جو خدانخواستہ اس مرض میں مر جائے وہ شہید ہے اور اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا کفن پہنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو ایک سفید چادر اس پر ڈال دو اور چونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہریلا اثر زیادہ ترقی پکڑ جاتا ہے۔ اس واسطے سب لوگ اس کے گرد جمع نہ ہوں۔ حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اٹھائیں۔ باقی سب دور کھڑے ہوں۔ مثلاً ایک سو گز کے فاصلے پر کھڑے ہو کر جنازہ پڑھیں ...... جو مکان تنگ و تاریک ہو اور ہوا اور روشنی خوب طور پر نہ آسکے اس کو بلا توقف چھوڑ دو۔ کیونکہ خود ایسا مکان ہی خطرناک ہوتا ہے جو کوئی چوہا بھی اس میں نہ مرا ہو اور حتی المقدور مکانوں کی چھتوں پر رہو۔ نیچے کے مکان سے پرہیز کرو اور اپنے کپڑوں کو صفائی سے رکھو۔ نالیاں صاف کراتے رہو۔‘‘
(الحکم مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٢ء)
کس زور کا دعویٰ تھا، کیسی زبردست تعلی تھی اور کس دم خم سے کہا تھا کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ مگر پھر خود ہی اعلان شائع کئے کہ یہاں نسبتاً آرام ہے۔ گویا قادیان بالکل محفوظ تو نہیں۔ ہاں باقی مقامات کی نسبت یہاں اس وبا کا دورہ کم ہے۔ پھر حقیقت الوحی میں مرزا قادیانی نے خود ہی لکھا کہ قادیان میں طاعون کا زور تھا اور میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہو گیا۔ ہائے طاعون تیرا ستیاناس۔ تو تو مرزا قادیانی کے غلاموں کی غلام تھی۔ پھر تو نے اپنے آقائے نامدار سے بے مروتی کی۔ اس کی تخت گاہ پر یورش کی اور اس کی اولاد کو بھی نہ چھوڑا۔
کیا ہوئے وہ سب انعامات اور کہاں گئیں وہ خدا کی تسلیاں۔
’’انی حافظ کل من فی الدار وما کان اللّٰہ لیعذبہم وانت فیہم‘‘ امن است در مکان محبت سرائے ما۔ میں ہر ایک کو جو اس گھر کی چاردیواری کے اندر ہے بچالوں گا۔ کوئی ان میں سے طاعون یا بھونچال سے نہیں مرے گا۔ خدا ایسا نہیں کہ جن میں تو ہے ان کو عذاب کرے۔ ہماری محبت کا گھر امن کا گھر ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص٩٤، خزائن ج٢٢ص٩٧،٩٨)
٩٣
ولادت بشیر
”سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا اور ذکی غلام تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔ جو خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عمانوئیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے۔ جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ سخت ذہین اور فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
اس پیش گوئی کے بعد جس مولود کے صاحب شکوہ اور عظمت و دولت ہونے کا خدا کی طرف سے وعدہ تھا وہ اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں اس دار فانی سے راہی ملک بقا ہوا۔ اس کی موت کی خبر مرزا قادیانی کے الفاظ میں یوں دی گئی ۔ ” واضح ہو کہ اس عاجز کے لڑکے بشیر احمد کی وفات سے جو ١٧؍ اگست ١٨٨٧ء روز یکشنبہ پیدا ہوا تھا اور چار نومبر ١٨٨٨ء کو اسی روز یکشنبہ میں ہی اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف بلایا گیا۔ عجیب طور کا شور وغوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا۔“
فرزند سن شعور کو پہنچنے نہ پایا اور طفولیت ہی میں فوت ہو گیا۔ اس کے علم وحلم، فہم وذکا اور شکوہ و عظمت کے بڑے چرچے تھے۔ مگر نہ وہ پروان چڑھا نہ اس کے جوہر کھلے۔ نہ اس نے کچھ عمر پائی۔ نہ اسکے ہنر ظاہر ہوئے نہ وہ بڑا ہوا۔ نہ کسی نے اس کی بزرگی وعظمت دیکھی۔ قوموں نے اس سے برکت نہ پائی۔ امیروں کی رستگاری کا موجب نہ ہوا۔
ڈاکٹر عبدالحکیم
”خدا سچے کا حامی ہے۔ میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن بٹالہ نے میری نسبت پیش گوئی کی ہے۔ مرزا مسرف کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ۔ اس کے مقابلہ پر وہ پیش گوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن بٹالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے
٩٤
کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی عذاب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا۔ نہ دیکھا نہ جانا۔ اے میرے رب تو صادق اور کاذب کے درمیان فرق کر کے دکھا تو ہر مصلح اور صادق کو دیکھتا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩، ٥٦٠)
نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم کے الہام کے مطابق مرزا قادیانی تین برس کے اندر ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو مر گئے۔ جادو ہے وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط نکلی۔ سلامتی کا شہزادہ سلامت نہ رہا۔ ہاں مرزا قادیانی کی دعاء مستجاب ضرور ہوئی کہ اے میرے رب صادق اور کاذب کے درمیان فرق کر کے دکھا۔
’’وہ (مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری) قادیان میں تمام پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)
یہ پیش گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی اور مولوی ثناء اللہ مورخہ ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچے اور پیش گوئیوں کو پڑتال کرنا چاہا۔ مقابلے کے لئے للکارا، مگر مرزا قادیانی سامنے نہ آسکے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب مرزا قادیانی کے مریدوں کو کہا کرتے ہیں کہ ارے ہم جب قادیان میں جا دندناتے تو آپ کے باوا جان حرم سرائے سے باہر نہ نکل سکے۔
’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔‘‘
(میگزین مورخہ ١٤؍جنوری ١٩٠٦ء، تذکرہ ص ٥٩١)
مگر مرزا قادیانی لاہور میں مرے اور یاروں نے اسی لاہور کا نام مدینۃ المسیح رکھ دیا۔
مرزا جیو! آخر تمہاری لغویت کی کوئی انتہاء بھی ہے۔
’’٢٤؍اگست ١٩٠٧ء صاحبزادہ مبارک احمد تو سخت تپ سے بیمار ہیں اور بعض دفعہ بیہوشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ان کی نسبت آج الہام ہوا۔ قبول ہوگئی۔ ٩ دن کا بخار ٹوٹ گیا۔ یعنی دعاء قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ میاں موصوف کو شفا دے گا۔‘‘
(میگزین ستمبر ١٩٠٧ء، تذکرہ ص ٧٢٧، ٧٢٨)
نتیجہ کیا ہوا۔ مرزا قادیانی کے اپنے الفاظ میں سنئے: ’’١٦؍ستمبر کو صبح کے وقت میاں مبارک احمد انتقال کر گئے۔‘‘
(میگزین ستمبر ١٩٠٧ء)
’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ اے موت تیرا ستیاناس تو نے مرزا قادیانی کو بہت ہی نادم کیا۔ اخباروں میں ایک شور مچ گیا۔ اہل حدیث میں زبردست مضمون نکلے لیکن
٩٥
ماہوار رسالہ تجلی میں ایک نہایت ہی عالمانہ اور ہمدردانہ مضمون شائع ہوا۔ جسے نقل کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔
”جس طرح دنیا میں بیٹوں کے باپ مر گئے اور باپوں کے بیٹے اسی طرح بالکل قانون فطرت کے تابع مرزا قادیانی کا فرزند مر گیا۔ نہ وہ کسی کی بددعا سے مرا اور نہ اب کسی کی دعا سے جی سکتا ہے۔ ایک بالکل معمولی واقعہ ہے اور جب انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ اس کے لئے رنج وافسوس اس کے عزیزوں کو ہونا لازمی ہے۔ مگر مجھ کو ایک صاحب کی تحریر سے ضرور صدمہ ہوا۔ جنہوں نے بجائے اس کے کہ افسوس کے ساتھ اس واقعہ کا تذکرہ فرماتے الحمدللہ کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔ خدا کی حمد تو ہر حال میں واجب ہے۔ خدا نے دیا خدا نے لیا خدا کا نام مبارک ہو۔ مگر الحمد کو کسی دشمن کا دل دکھانے کے لئے دوسرے کی مصیبت پر اپنی خوشی ظاہر کرنے کے لئے استعمال کرنا حمد کی مناسب قدر نہ پہچاننا ہے۔ ہمارے دل میں اس وقت اور خیالات پیدا ہو رہے ہیں اور وہ مرنے والے کے عزیزوں کے ساتھ خالص ہمدردی کے ہیں۔ عزیزوں کی موت دنیا کی بے ثباتی ہمارے ذہن میں چھا جاتی ہے اور دلوں کو نرم کرتی ہے۔ ہم جس وقت اپنے متوفی عزیز کے پیچھے آسمان کی طرف تاکتے ہیں تو اکثر ایسا نور نظر آ جاتا ہے جو اور حالت میں نظر آنا مشکل تھا اور ایسے وقت میں ہم کو امید ہوتی ہے کہ عجب نہیں اگر خدا اس فرزند کی موت کو مرزا قادیانی کے کفر وفریب سے رہائی کا باعث کر دے اور اگر کسی شخص کا کھویا ہوا ایمان اپنے فرزند دلبند کے عوض میں مل جائے تو وہ ضرور نعم البدل ہے۔ گویا اس نے ایک معقول قربانی خدا کے آگے گزاری۔
ریویو ماہ ستمبر سے روشن ہے کہ ٢٧؍ اگست کو مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کی صحت یابی کی قطعی پیش گوئی کی تھی اور ١٦؍ ستمبر کو اس کی موت واقع ہو گئی اور اسی تھوڑی سی مدت میں اس کی شادی بھی ہو گئی تھی۔ اب اس میں تو کلام نہیں کہ پیش گوئی جس کو الہام سے منسوب کیا تھا۔ باطل ہو گئی اور بری طرح باطل ہو گئی۔ اگر لڑکے کو شفا ہو جاتی تو کسی کو معتقد ہونے کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن اب کوئی شخص جو عقل سے کام لیتا ہے۔ آپ کے الہام کا قائل نہیں رہ سکتا۔ لیکن اب سوال یہ ہے آیا۔ آپ اپنے الہام کے خود بھی قائل ہو سکتے ہیں؟
ہم ضرور تمہارے کفر کے دشمن ہیں۔ ہم کو دل سے یقین ہے کہ تم کذاب ہو مفتری ہو۔ ہم تمہاری نسبت مشتبہ نہیں۔ ہاں ایک زمانہ تھا جب ہم تم کو صرف فریب خوردہ جانتے تھے۔ مگر
٩٦
مدت ہوئی کہ فریبی جاننے لگے۔ لیکن ہم خدا کے کسی بندہ سے مایوس نہیں۔ تم سے بھی نہیں۔ ہم تمہارے کفر کے دشمن ہیں۔ لیکن تمہارے دشمن کبھی نہیں ہوئے اور ہم ہرگز تمہارا دل دکھانا نہیں چاہتے۔ بلکہ دوستی کے طور پر ایک بات کہتے ہیں۔ شاید اس کے سننے کو تم اس وقت زیادہ تیار ہو۔
جو شخص برابر دعویٰ کرتا رہا ہو کہ دشمنوں کی موت کی خبر مجھ کو ہو جاتی ہے۔ میں ان کے حق میں پیش گوئیاں کر دیتا ہوں۔ ان کے حق میں میری دعا تیر بہدف ہے۔ میں مستجاب الدعوات ہوں۔ امریکہ کے مرنے والوں کی مجھ کو خبر، دہلی کے خاندان طبابت میں مرنے والوں کی مجھ کو خبر۔ جو سخت مخالف پلیگ میں مرنے والا ہے۔ اس کی مجھ کو خبر۔ آنے والے زلزلہ کی خبر۔ آنے والی وبا کی خبر۔ آنے والے قحط کی خبر۔ جس کے اوپر رویا اور الہام کا دروازہ یوں وا ہو۔ پھر اس کو اپنے بیٹے کی موت کا علم کیسے نہ ہوا۔ بجائے موت کی خبر کے اس کی شفا کی خبر سنا گیا۔ دروازے پر موت کا فرشتہ کھڑا تھا۔ اسے نہ دیکھا بلکہ مرنے والے کا ایک معصوم کمسن لڑکی کے ساتھ سہرا باندھ کر اسے رانڈ ہو جانے دیا۔ یہ دیکھ لینے کے بعد بھی کیا وہ شخص اپنے الہام ووحی کا قائل رہ سکتا ہے۔ الہام و وحی تو بڑی چیزیں ہیں۔ معمولی فطری شعور و احتیاط سے بھی اگر کام لیا جاتا تو غلط کاریوں کا ایسا لمبا سلسلہ جاری نہ کیا جاتا۔ ہرگز برا ماننے کی بات نہیں۔ اگر کوئی کہہ بیٹھے۔
کہ نہ دانی کہ درسرائے تو کیست
خدا رحم کرے۔ مثیل مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ اور تم بیمار۔ جسم کے اوپر حصہ میں بھی اور جسم کے نیچے حصہ میں بھی۔ جیسے دنیا مرتی جاتی ہے۔ بلا تاویل تمہارے مرید اور عزیز بھی مرتے جاتے ہیں۔ عبدالکریم آپ کا روحانی فرزند مرگیا۔ آپ نے دعائیں کیں۔ اس کی شفا کی پیش گوئیاں کیں۔ مگر نہ بچا۔ آپ کا فرزند صلبی بیمار پڑا اور مرگیا۔ تم نے دعائیں کیں اور ضرور کیں اور کیوں نہ کرتے۔ تم باپ تھے۔ اس کی مفارقت گوارہ نہ ہو سکتی تھی۔ وہ کس کام کا حکیم کہ تمام جہاں کا علاج کرے اور اپنے گھر کو بے علاجی میں چھوڑے۔ وہ مرگیا۔ خدا کا حکم اس کا حق میں پورا ہوا۔ تم اس کی بیماری و موت کے حق میں سفر کا اثر بھی نہ رکھتے تھے۔ تم مسیح نہ تھے کہ تم اس کو شفا دیتے۔ تم مسیح نہیں ہو کہ اب اس کو مردوں میں سے جلالو۔
خیر یہ سب کچھ ہوا۔ جو ہونا تھا۔ ان کا مرنا برحق تھا۔ تمہارا جھوٹا ہونا برحق ہے۔ تم بھی مرو گے۔ جس طرح ہم بھی مریں گے۔ آگے یا پیچھے۔ پھر تم کو مسیحائی اور استجابت دعا کا وہم اپنی ذات کے لئے کہا سے پیدا ہوا۔
٩٧
جو دلیل اس وقت ہم تم کو دے رہے ہیں وہ کوئی ایسی دلیل نہیں جو صرف ہماری سمجھ کے موافق ہو۔ ورنہ ہم ہرگز اس کا ذکر نہ کرتے۔ کیونکہ ہماری سمجھ تمہاری سی سمجھ نہیں ہے۔ بلکہ ہم کو خوب معلوم ہو گیا ہے کہ یہ وہی دلیل ہے جس کے تم خود قائل ہو چکے ہو اور ایک حریف کے مقابل استعمال کر چکے ہو۔ پس اگر اب بھی تم اس کے زور کے قائل نہ ہو تو یہ خدا اور بندوں کے سامنے سرکشی ہے۔
ڈاکٹر ڈوئی امریکہ کا ایلیاء جس کو مستجاب الدعوات ہونے کا بہت بڑا دعویٰ تھا اور جس کے تم شدت سے منکر تھے۔ تم نے خود کیسی معقول بات اس کو سنائی تھی۔ ہم تم کو یقین دلاتے ہیں۔ تم خوب یاد کر لو اور خدا کے سامنے اپنے دل کو کھول کر اور سر کو سجدہ میں جھکا کر غور کر لو۔ اس کو تم ہماری دلیل مت سمجھنا۔ خود اپنی دلیل سمجھو اور اس کے زور کو دیکھو۔ یعنی تم کو اس وقت اپنا قائل ہونا چاہئے۔
ستمبر ١٩٠٢ء کے ریویو میں ص ٤٣٥ پر تم نے ڈوئی کی نسبت لکھا تھا۔ ”ڈوئی بیہودہ باتیں اپنے ثبوت میں لکھتا ہے کہ میں نے ہزار ہا بیمار توجہ سے اچھے کئے ہیں۔ ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ کیوں پھر اپنی لڑکی کو اچھا نہ کر سکا اور وہ مر گئی اور اب تک اس کے فراق میں روتا ہے اور کیونکر اپنے مرید کی عورت کو اچھا نہ کر سکا۔ جو بچہ جن کر مر گئی اور اس کی بیماری پر بلایا گیا پر وہ گذر گئی۔ تم اس ڈوئی کے مریدوں کی خام خیالی اور خوش اعتقادی پر حیرت میں رہ جاتے ہو کہ کیونکر اس کی بیہودہ باتوں اور تاویلوں سے ان کی تسکین ہو جاتی ہے اور وہ اس کے معتقد بنے رہتے ہیں۔ باوجود اس سخت ناکامی کے اور تم کہتے ہو امریکہ کے سادہ لوحوں پر نہایت تعجب ہے کہ وہ کس خیال میں پھنس گئے۔
اب وہی بات ہم تم سے کہہ رہے ہیں۔ کاش تم خود اپنی بات یاد کرو اور اس کو سچ جانو اور آئندہ ڈوئی کی سی بیہودہ باتیں اپنے ثبوت میں لکھنا چھوڑ دو اور سادہ لوحوں کو ان کے امریکائی بھائیوں کی تقلید سے عبرت دلاؤ۔ کیونکہ دن ڈھل چکا۔ اب غروب کا وقت ہے۔ صبح کا بھولا اگر شام کو لوٹے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ خدا تمہارے فرزند کی موت کو تمہاری روحانی زندگی کا باعث بناوے اور اسی کو خوب معلوم ہے کہ کیا ہونے والا ہے اور کیا ہونا چاہئے۔“
(ماخوذ از تجلی ماہ اکتوبر و نومبر ١٩٠٧ء)
٩٨
باب نمبر: ١٨ ...... مرزا قادیانی کا انتقال
”اطال الله بقاء ك“ خدا تیری عمر دراز کرے گا۔ اسی یا اس پر پانچ چار کم یا زیادہ۔
(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
مرزا قادیانی کا یہ الہام بھی پورا نہ ہوا اور بارہ برس پہلے ہی آپ اس جہاں سے گزر گئے۔ مرزا قادیانی خود اپنے قول کے مطابق ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے اور سب جانتے ہیں کہ ١٩٠٨ء میں آپ رحلت فرما گئے۔ اس حساب سے انہوں نے گویا قریباً اڑسٹھ برس کی عمر پائی۔ خود تو قبل از وقت راہی ملک عدم ہوئے اور اپنے مریدوں کی مصیبت بڑھا گئے۔ وہ بیچارے سخت پریشان ہیں کہ کس طرح اس الہام کی کل بٹھائیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ ہر کوئی اپنی ہی راگنی گا رہا ہے۔ کوئی تاریخ پیدائش کچھ بتا رہا ہے اور کوئی کچھ، تا کہ کسی طرح مرزا قادیانی کی عمر اسی سال یا اس کے قریب ثابت ہو جائے۔ مگر ہم تو مرزا قادیانی کے قول کو ان کے مریدوں کے قول سے زیادہ معتبر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب انہوں نے اپنی تاریخ پیدائش بتائی تو انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ کب اللہ میاں بلالیں گے کہ اسی حساب سے پیدائش کی تاریخ لکھ دیتے اور سچے مریدوں کی بھی یہی شان ہے کہ اپنے پیر و مرشد کو جھوٹا نہ بنائیں اور انکی بات کو حق جانیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے مرید ان کے نادان دوست ہیں کہ اپنے پیر کو جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہیں۔ انہیں اپنی تاریخ پیدائش کی کیا خبر تھی۔ لو ہم سے پوچھو وہ تو اپنی دھن میں لگے ہیں۔ ہم ان کی پریشانیاں ظاہر کرنے کے لئے اخبار اہل حدیث سے ان کے اختلاف بیانیاں دکھاتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعضوں کو پتہ ہی نہیں کہ اپنے خط میں کیا کہہ رہے ہیں۔
- ١...... (اخبار الحق ج ٥ ص ٢٠٥، مورخہ ٢٠، ٢٧؍ فروری ١٩١٣ء ص ٤ نمبر ٢) میں ہے۔ ”صحیح
امر یہی ہے کہ آپ کی پیدائش ١٨٢٨ء یا ١٨٢٩ء میں ہوئی۔ آپ توام پیدا ہوئے تھے۔“
- ٢...... قاضی عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”یوز آسف (یسوع مسیح) دوبارہ
دنیا میں آئے اور ٧٨ سال دنیا میں رہ کر پھر خداوند کے پاس چلے گئے۔ وہ مرزا غلام احمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے وجود میں ظاہر ہوئے اور مئی ١٩٠٨ء تک زندہ رہے۔ یہاں تک کہ خدا نے ان کو اپنے پاس بلا لیا۔“
اس تحریر سے مرزا قادیانی کا سنہ پیدائش ١٨٣٠ء معلوم ہوتا ہے اور یہ تحریر قاضی عبداللہ صاحب احمدی کی ہے۔
٩٩
- ٣...... (ریویو آف ریلیجنز ج ٢٣ نمبر ٥، بابت ماہ مئی ١٩٢٥ء ص ١٨٥) پر ہے۔ حضرت
مرزا غلام احمد صاحب صوبہ پنجاب کے ایک قصبہ قادیان نامی میں ١٨٣٢ء کو پیدا ہوئے۔
- ٤...... (اخبار البدر مورخہ ١٧ اگست ١٩٠٨ء ص ٦ کالم ٣) میں ہے۔ میرے خیال میں
خاتم المصلحین کاسر الصلیب مہدی ١٨٣٤ء میں پیدا ہوئے۔
- ٥...... (اخبار بدر مورخہ ١١ جون ١٩٠٨ء ص٤، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جولائی ١٩٠٨ء
ص٢٧١، اخبار بدر مورخہ ٢٠؍ اگست ١٩٠٨ء ص٩، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩٠٦ء ص٣٢٦، ٣٣٦، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩١٧ء ص٣٣٣، کتاب سیرۃ المہدی حصہ اول روایت ١٨٥، ٢١٥، تشحیذ الاذہان بابت ماہ دسمبر ١٩١٨ء ص٦، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مارچ ١٩٢٤ء ص ٧، ٨) پر لکھتا ہے۔ آپ کی پیدائش ١٨٣٦ء یا ١٨٣٧ء میں ضلع گورداسپورہ پنجاب کے ایک گاؤں قادیان میں ہوئی۔
- ٦...... مرزا قادیانی کے الفاظ (کتاب البریہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧، حاشیہ
رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص٢١٩، اخبار البدر ج ٣ ص ٣٠، مورخہ ٨؍ اگست ١٩٠٤ء ص ٥ کالم ٢، اخبار الحکم ج ١٥، ١٩، ٢٠، مورخہ ٢١، ٢٨؍ مئی ١٩١١ء ص ٤ کالم ١ اور کتاب حیات النبی ج ١ ص ٤٩) پر یوں ہیں۔ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔
- ٧...... مرزا قادیانی کے الفاظ (تحفہ گولڑویہ ص ١٥٤، رسالہ حقیقت الوحی ص ٧٣، رسالہ
ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٣٣، ٣٤) پر یوں ہیں۔ میری پیدائش اس وقت جب چھ ہزار سے گیارہ برس رہتے تھے چھٹا ہزار ١٢٧٠ھ میں پورا ہے۔ (رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ مارچ ١٩٠٨ء ص ٥٦، ٥٧، ٩١، اخ ؍ الحکم مورخہ ٦؍ جنوری ١٩٠٨ء ص ٦) مرزا قادیانی کی اس تحریر کی رو سے آپ کا سن پیدائش ١٢٥٩ھ یعنی ١٨٤٣ء بنتا ہے۔ اور اس پر بڑے مزے کی بات یہ ہے کہ (ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء کے ص ١٥٤) پر لکھا ہے کہ مرزا قادیانی ١٢٦٠ھ یعنی ١٨٤٤ء میں پیدا ہوئے۔
- ٨...... حکیم خدا بخش صاحب احمدی اپنی کتاب (عسل مصفےٰ حصہ دوم ص ٥٢٢) پر
لکھتے ہیں۔ ”ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسی وقت یعنی ١٢٨٨ھ میں مرزا قادیانی کی عمر عین شباب کی تھی۔ یعنی ٢١ برس۔“
نوٹ: اس تحریر کی رو سے مرزا قادیانی کا سن پیدائش ١٢٦٧ھ یعنی ١٨٥٠ء ہوتا ہے۔
(ماخوذ از پرچہ اہل حدیث مورخہ ٢٠ جولائی ١٩٢٦ء)
سن پیدائش کے متعلق اختلاف بیانیاں آپ نے ملاحظہ فرمالیں۔ سال وفات کی نسبت تو کسی کو شبہ ہی نہیں۔ اب آپ حساب لگاتے رہیں کہ فلاں کے قول کے مطابق تو
١٠٠
مرزا قادیانی اتنے برس کے تھے اور فلاں کے قول کے مطابق اس سے کم یا زیادہ عمر پائی۔ مگر ہم مرزا قادیانی کے مریدوں کا تخمینہ عمر ان کے اپنے الفاظ میں کیوں نہ پیش کر دیں۔ سنئے: مولوی عمر الدین صاحب شملوی کے الفاظ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩١٨ء کے ص ٤٤٤ پر یوں درج ہیں۔ دسمبر ١٩٠٠ء میں آپ کی عمر ٧٥ سال کے قریب تھی۔ لہٰذا وفات کے وقت مئی ١٩٠٨ء میں آپ کی عمر ٨٢، ٨٣ سال ہوئی۔
- .......٢ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٧ نمبر ٩ بابت ماہ ستمبر ١٩١٨ء ص ٣٤١) پر ہے۔ حکمت
الٰہی نے حضرت مسیح موعود کو ٨٠ برس کی عمر عنایت فرمائی۔
- .......٣ (ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩١٨ء ص ٣٤٢) پر ہے۔ مولوی ثناء اللہ نے تو
اپنے مرقع ص ٩ ص ١٢ پر حساب لگا کر حضرت مسیح موعود کی عمر ٧٥ برس شمسی لکھی ہے اور ٧٥ برس شمسی، ٧٧، ٧٨ برس قمری کے برابر ہوتے ہیں۔
- .......٤ (ریویو آف ریلیجنز ج ٢٣ نمبر ٣ بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٢٣) پر ہے۔ ١٢٩٠ھ
میں آپ کی عمر چالیس سال کی تھی۔ ١٣٢٦ھ میں آپ نے وفات پائی تو آپ کی عمر اس لحاظ سے ٧٦ سال ہوئی۔
- .......٥ (تشحیذ الاذہان بابت ماہ جون و جولائی ١٩٠٨ء ص ٨٤) پر لکھا ہے۔ جب حضرت
اقدس نے وفات پائی تو آپ ٧٤ برس کے تھے۔
- .......٦ حکیم نور الدین اپنی کتاب (نور الدین ص ١٧١ سطر ١٩) میں مرزا قادیانی کا
١٩٠٨ء میں ٦٩ سال عمر پانا لکھتے ہیں۔
- .......٧ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٥٤) پر ہے۔ مکاشفات یوحنا
میں ہے۔ ایک عورت سورج اوڑھے ہوئے چاند اس کے پاؤں تلے اور سر پر بارہ سورج کا تاج اور وہ ایک ہزار دو سو ساٹھ دن تک چھوڑی گئی۔ یہ اسلام کی حالت ہے۔ سورج نبی کریم بارہ ستارے بارہ مجدد اور چاند مسیح موعود ١٢٦٠ھ پیدائش مسیح موعود کا سال۔ نوٹ: اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر کل ٦٦ سال قمری بنتی ہے۔
- .......٨ کتاب (عسل مصفے حصہ دوم ص ٥٢٢) پر ہے۔ اسی وقت یعنی ١٢٨١ میں
حضرت مرزا صاحب کی عمر عین شباب کی تھی۔ یعنی ٢١ برس۔ نوٹ: اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر ٥٩ سال بنتی ہے۔
(اخبار اہل حدیث مورخہ ١٦/ اگست ١٩٢٠ء)
١٠١
قارئین تعجب کریں گے۔ اگر انہیں علم ہو جائے کہ یہ اقوال صاحب ہوش لوگوں کے ہیں اور اس جماعت کے ممتاز افراد کے ہیں۔ جنہیں عقل و شعور کا دعویٰ ہے اور جو ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ لے کر تاریک دنیا میں روشنی پھیلانے کے زعم میں پھرتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی بے سروپا اور بے ربط باتیں کریں تو مقام حیرت ہے۔ کوئی مرزا قادیانی کی عمر ٨٣،٨٢ سال بتاتا ہے۔ کوئی ٨٠ سال سناتا ہے۔ پھر ایک کہتا ہے کہ وہ ٧٧ یا ٧٨ برس زندہ رہے۔ دوسرا ٧٦ برس کے بعد انہیں مار ڈالتا ہے۔ کوئی اور اٹھتا ہے اور بتاتا ہے کہ ٧٤ برس کی عمر میں ہی مرزا قادیانی اس جہاں کو چھوڑ گئے۔ مولوی حکیم نورالدین فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی ٦٩ سال جئے۔ کوئی اور صاحب ٦٦ کی عمر بتاتے ہیں اور حکیم خدا بخش نے تو کمال ہی کر دیا اور ٥٩ سال سے زیادہ اپنے آقا کو زندہ رہنا انہیں پسند نہ آیا۔ غرض یہ ایک تماشا ہے اور ہماری عقل تو اس گتھی کو سلجھانے سے قاصر ہے۔ ممکن ہے کہ قادیان کا کوئی منجم ان اقوال کو تطبیق دے سکے۔ یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ سب عمریں درست ہوں اور سب سن صحیح مرزا قادیانی نے کئی بار جنم لیا اور کئی بار انتقال فرمایا ہو۔ مسئلہ بروز کے تو وہ قائل تھے ہی وہ خود ہی لکھتے بھی تو ہیں ؎
بارہا چوں سبزہ ہا روئیدہ ام
(ست بچن ص ٨٤، خزائن ج ١٠ ص ٢٠٨)
باب نمبر : ١٩ ....... خاتمہ سخن
لو یہ دس پورے ہوئے ۔ ”ہٰذا عشرۃ کاملۃ“ سردست اسی عشرہ کاملہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔ یہ ایسے صاف اور صریح ، ظاہر اور روشن نشان ہیں۔ مرزا قادیانی کے کذب اور ان کی بطالت کے ایسے بیّن اور واضح دلائل ہیں۔ ان کے مفتری اور دجال ہونے کے کہ جسے اب بھی ان کی راستی اور صداقت پر ذرہ بھر اعتماد ہے۔ اس کے فہم کا قصور ہے۔ عقل سلیم پکارتی ہے کہ یہ دجل وافتراء ہے۔ تجربہ شہادت دیتا ہے کہ سادہ لوحوں کے لئے دام مکر و فریب بچھا ہے اور نور فطرت اور نور ایمان مرزا قادیانی کے جھوٹ پر اور فریب پر گواہی دیتے ہیں کہ ہر کہ شک آرد کافر گردد۔
مرزائیو! کیا تم نے ساری دنیا کو احمق سمجھ لیا ہے۔ ہاں دنیا بیوقوفوں سے خالی نہیں۔ مگر تمہاری اپنی جماعت سے زیادہ کون عقل و فہم سے عاری ہو سکتا ہے کہ موٹی اور سادہ باتیں بھی سمجھ
١٠٢
میں نہ آئیں ۔ وہ کیا جادو ہے جو تم پر چل گیا اور ایسا چلا کہ صدق و کذب ، حق و باطل ، راستی اور ناراستی کی تمیز ہی جاتی رہی۔ تم تو بڑے شعور اور دانش کے مدعی ہو۔ فلسفہ مذاہب پر تمہیں عبور حاصل ہے۔ مغربی دنیا کو علم و حکمت سکھانے جاتے ہو۔ تم ادیان عالم پر نظر و نقد کرتے ہو۔ مگر یہ کیا بات ہے کہ مرزا قادیانی کی ہر رطب و یابس بلاچوں چراں تسلیم کر لیتے ہو۔ ایک نہیں دو نہیں درجنوں پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں اور ایسی زبردست پیش گوئیاں جنہیں خود مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا۔ مخالفوں کو للکارا کہ آئیں اور انہیں آزمائیں۔ ہمیں ترس آتا ہے۔ تمہارے آقا پر کہ وہ بہت رسوا ہوئے۔ مگر ان سے بڑھ کر تم پر کہ وہی لکیر پیٹتے جاتے ہو۔ سنو بڑے میاں تو یوں فرماتے ہیں : ”اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مرجائے تو بھی میرے منہ سے نکلی ہوئی پیش گوئی نہ ملے گی جو خالی جائے۔“
(کشتی نوح ص ٦ ، خزائن ج ١٩ ص ١٦)
مگر ایک عالم جانتا ہے اور خود تمہارے دل گواہ ہیں کہ کتنی باتیں مرزا قادیانی کے منہ سے نکلیں اور پوری نہ ہوئیں ۔ جن کی وہ خود جب تک جیتے رہے تاویلیں کرتے رہے اور ایک نہ بن آئی اور آج تک تم نعل در آتش اور سخت کوشاں ہو۔ مگر کوئی کل نہیں بیٹھی۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں اور کیا سچ کہتے ہیں ۔ ” کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ کہا ہو پورا نہ ہو۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٣١١)
پھر اور پر زور الفاظ میں فرماتے ہیں۔ ” انسان کا اپنی پیش گوئیوں میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع الوساوس مندرجہ رسالہ لیکھرام کی نسبت پیش گوئی ص ٢، خزائن ج ٥ ص ٢٥١)
اس لئے ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے کہ مرزا قادیانی دجال اور کذاب تھے۔ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا اور بالآخر ذلیل خوار ہوئے۔ رسوا اور بے عزت ہوئے۔ یہ ان کا اپنا ہی فتویٰ ہے۔ جو ان کے حق میں صادق آتا ہے۔ خدا دشمن کو بھی وہ روز بد نہ دکھائے جو مرزا قادیانی کو آتھم کے بچ جانے پر دیکھنا پڑا۔ وہ ذلت جو محمدی بیگم کے ہاتھ نہ آنے پر اٹھانی پڑی۔ وہ حسرت جو اس نیک خاتون کے غیر کے حبالہ عقد میں آجانے پر نصیب ہوئی اور ان چند پیش گوئیوں نے جو سطور بالا میں مشتے نمونہ از خروارے ان کے جھوٹا ہونے پر شاہدان ناطق ہیں۔ انہیں ایک جہاں میں بدنام کر دیا۔ مرزا قادیانی نے کہا میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا۔ لیکن ان کے اللہ میاں نے لڑکی بھیج دی۔ بہت شرمندگی ہوئی۔ لیکن تھے پرانے گھاگ، بات بنانا خوب جانتے تھے۔ بنا گئے۔ فرمایا کہ میں نے یہ کب کہا تھا کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا۔ دوسری بار پھر لڑکی تولد ہوئی تو کسی خوش
١٠٣
احمق نے (خدا اس کا بھلا کرے) یہ کہہ دیا کہ دو اٹھنیاں مل کر روپیہ بن جاتی ہیں۔ ان پیش گوئیوں کو لوگ پڑھتے ہیں اور ہنستے ہیں اور مرزا قادیانی کی فضیحت اور رسوائی ہوتی ہے۔ مگر ماننے والوں پر آفرین۔ قربان جائیں ان کی سادگی اور ان کے بھولے پن پر کہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر برساتے ہیں۔ سارے جہاں سے جنگ چھیڑ رکھی ہے۔
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
مسلمانو! خوب یاد رکھو کہ مرزائی گو بظاہر کچھ بھی کہیں اور کتنی ہی بڑیں ہانکیں۔ مگر ان کی بنیاد ریت پر ہے۔ جب مرزا قادیانی کی شخصیت پر ان سے بحث کرو تو وہ کوئی نہ کوئی راہ فرار نکال لیں گے۔ یہ ایک ایسا سنگ گراں ہے جو ان سے اٹھائے نہیں اٹھتا۔ صاف کہو کہ مسلمانان عالم اور ان کے ساتھ تمام دنیا کے عیسائیوں کی امیدیں آنے والے مسیح سے وابستہ ہیں۔ دونوں اپنے اپنے معتقدات کے مطابق اس کا انتظار کر رہے ہیں اور ان کی آنکھیں اس کی راہ تک رہی ہیں۔ اس لئے دونوں کا حق ہے کہ جب کوئی مسیح کے نام پر آئے تو اس کا امتحان لیں۔ آزمائیں اور اگر وہ سچا مسیح ہو تو اس کی پیروی کریں۔ اسی لئے مرزا قادیانی نے سب قوموں کو صلائے عام دی اور بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کو کہا کہ جس کے تم منتظر ہو وہ آگیا۔ اس کو آزماؤ۔ پھر جو حق خود مرزا قادیانی نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو دیا ہے کیا کوئی مرزائی وہ ان سے چھین سکتا ہے۔ ہر مسلمان اور عیسائی کا حق ہے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی اور ان کی پیش گوئیوں کی جانچ پڑتال کرے۔ ان کے قول اور فعل پر نظر ڈالے اور ہر جہت سے اپنی تسلی کرے۔ کیونکہ یہ ایمان کا معاملہ ہے۔
پھر مرزا قادیانی کا ارشاد ہے: ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اب یہ طریق امتحان ایسا ہے کہ کسی مخالف یا موافق کو اس سے انکار نہیں ہو سکتا اور مرزائیوں کو بالخصوص کیونکہ یہ مرزا قادیانی کا اپنا پیش کردہ طریق ہے۔ اسی لئے مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں اور صرف پیش گوئیوں پر مرزائیوں سے بحث کرو۔ کوئی مرزائی بطیب خاطر اس کے لئے تیار نہ ہوگا۔ یہ ایک تیر بہدف اور مجرب نسخہ ہے۔ کارگر نہ ہو تو کہنا۔
ہم نے مرزا قادیانی کے جھوٹے الہامات اور غلط پیش گوئیوں کی ایک طویل فہرست پیش کر دی ہے۔ جن سے حضرت سلامت کا جھوٹا ہونا مہر نیمروز کی طرح عیاں ہے اور ان کی نبوت
١٠٤
کاذبہ کے بخیئے اس طرح ادھیڑ دیئے ہیں کہ اب اس چاک دامان کا رفو محال ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ نبی مشتق ہے نابہ سے۔ جس کے معنی پیش خبریاں ہیں۔ گویا نبی وہ ہے جو آئندہ کی نسبت خبر دے اور اس کی خبریں سچی نکلیں۔ اب ظاہر ہے کہ کسی ایک پیش گوئی کا سچا نکلنا ثبوت نبوت نہیں ہو سکتا۔ بلکہ نبی وہ ہے جس کی سب پیش گوئیاں سچی نکلیں۔ مرزا قادیانی خود ہی فرماتے ہیں کہ: ”دنیا میں بجز انبیاء علیہم السلام کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا کرتے ہیں...... اور بار ہا ان کی کوئی نہ کوئی خبر سچی نکلی ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٢٧٦، خزائن ج ١ ص ٥٥٨، ٥٥٩)
”پس مدعی نبوت کی ایک بات بھی ایسی نکل آئے جو پوری نہ ہو تو اس کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ کیونکہ سالبہ جزئیہ موجبہ کلیہ کی نقیض ہوتا ہے۔ ان کا تو دعویٰ ہے کہ میرا نطق میری خواہش سے نہیں بلکہ خدا کی مرضی سے بولتا ہوں اور واقعات آئندہ کی خبر بھی وہ خدا سے پا کر دیتے تھے اور خدا کی دی ہوئی خبر کبھی جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ مگر ساری دنیا نے دیکھ لیا۔ واقعات نے بتا دیا کہ یہ سب ان کے نفس کا مکر وفریب اور انہوں نے خود اپنی پیش گوئیوں کی درگت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور انہیں اسی جھوٹ کے باعث بہت شرمسار ہونا پڑا۔ کس زور اور تعلی کے ساتھ کہا تھا کہ یوں ہوگا اور نہ ہوا۔ پھر ایک اور عذر کیا اور سبحان اللہ کیا ہی عمدہ عذر ہے کہ سب نبیوں کی بعض اوقات پیش گوئیاں جھوٹی نکلتی ہیں۔ اضطراب و بے چینی بھی کیا بلا ہے۔ ہوش وخرد رخصت ہو جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کوئی روئے زمین پر ہے جو اس عقیدہ کو حل کر دے۔“
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعض پیش گوئیاں بھی اسی صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں۔ جس صورت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں امید باندھ لی تھی۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)
”حضرت رسول خداﷺ کے الہام غلط نکلے۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٨٩، ٢٦٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١، ٤٦١)
”ایک بادشاہ کے وقت چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی۔ بلکہ اسی میدان میں مر گیا۔“
(ازالہ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)
١٠٥
اب یہ جو کچھ مرزا قادیانی نے کہا ہے۔ اگر چہ غلط اور بیہودہ ہے۔ لیکن کہا اس لئے گیا کہ لوگ ان کی پیش گوئیوں کے جھوٹے نکلنے پر اعتراض نہ کریں اور سمجھیں کہ اولوالعزم انبیاء کی پیش گوئیاں غلط نکلتی ہیں تو میرے حق میں ایسا ہونا کون سا محل اعتراض ہے۔ یہ عذر نہایت لغو اور پوچ ہے۔ مگر اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اور پچھلے نبیوں کی نظیر تلاش کرتے ہیں اور یہی ہمیں ثابت کرنا تھا۔ جو ہم واقعات سے بھی کر چکے اور مرزا قادیانی کے اقرار سے بھی۔ ہاں اس سے ہمیں انکار ہے کہ خدا کے سچے نبیوں نے پیش گوئی کی ہو۔ خدا سے خبر پا کر کی ہو۔ پھر اسے اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا ہو اور وہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی ہو۔ یہ تو جھوٹے نبیوں کی علامت ہے۔ پھر آپ کے جھوٹا ہونے میں کون سی کسر ہے۔ مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور سے قبل تیس دجالوں کا آنا ضرور ہے۔ جن میں سے ہر ایک کہے گا کہ میں رسول اللہ ہوں اور عیسائیوں کو بھی خبر دی گئی ہے کہ بہت سے جھوٹے نبی پیدا ہوں گے اور ان دونوں نے آپ کو نہایت اچھی طرح پہچان لیا۔
ان اوراق میں ہم نے جہاں تک ممکن ہو سکا مرزا قادیانی کی سیرت کو ان کے اپنے الفاظ اور واقعات کی بناء پر بیان کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ میں مسیح ہوں، کون مسیح؟ جس کی نسبت لکھا ہے کہ وہ گالیاں کھا کر گالی نہ دیتا تھا جو دشمنوں کو باوصف ان کی شدید عداوت اور مخالفت کے پیار کرتا تھا۔ جو سہتا تھا اور مائل بہ کرم ہوتا تھا وہ مسیح جو لذات دنیوی سے مجتنب رہا۔ نہ گھر بنایا نہ کھانے پینے کی فکر کی اور نہ شادی کی۔ بلکہ پاک اور بے عیب زندگی بسر کی۔ انیس سو برس ہوئے جب وہ مسیح آیا تھا اور اب پھر اس کی آمد ثانی کی امید میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی آنکھیں فرش راہ ہیں لیکن اس کے نام پر کون آیا؟ گالیاں دینے والا وبائیں پھیلانے والا جس کی نسبت کسی نے کہا کہ پنجاب میں طاعون کے ساتھ پیدا ہوا۔ جو دنیا اور اس کی خواہشات میں غرق رہا۔ مال و متاع جمع کیا۔ اچھا کھایا اور اہتمام کے ساتھ کھایا۔ پلاؤ، قورمہ، بادام روغن یاقوتی وغیرہ ملذات سے عیش اڑاتا رہا۔ جس نے کئی بیاہ کئے اور بیاہ شادیوں سے جی نہ بھرا۔ آخر ایک مغل زادی کی خواہش تزویج میں جان دے دی۔ اگر ناظرین اسی قسم کے مسیح کے منتظر تھے تو انہیں مژدہ ہو کہ وہ قادیان میں آچکا۔ بلکہ ایک گندہ لٹریچر چھوڑ کر اس جہان سے چل بسا اور اگر ایسا شخص مسیح الدجال ہے اور سچے مسیح کو ہنوز آنا ہے تو آؤ! ہم سب مل کر دعا کریں۔
١٠٦
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
فتنہ مرزائیت
حضرت مولانا محمد امیر الزمان کشمیریؒ
بشارت
٢٣ رمضان المبارک ١٣٧١ھ بعد از نماز صبح قریب سات بجے فاروقی مسجد کے حجرے میں سو رہا تھا کہ یکا یک خواب ہی میں یہ معلوم کر کے رونا شروع کیا (کہ میں سرکار مدینہ ﷺ کی مبارک مجلس میں ہوں) کہ یا رسول اللہ فتنہ مرزائیت حد سے بڑھ گیا ہے۔ یا رسول اللہ اس سے بچائیے۔ سرور کائنات علیہ افضل الصلوٰۃ نے ارشاد فرمایا کہ: ”رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد نبیاً“
پھر بیدار ہو گیا۔ ان ایام میں احقر کتاب ہذا کی ترتیب و تالیف میں مصروف تھا۔ اس خواب کی یہی تعبیر ذہن میں آئی کہ اس ناچیز تالیف پر ختم المرسلین ﷺ کی نظر کرم ہے۔
علیک الصلوٰۃ اے نبی والسلام
تقریظ
”فخر الاماثل فقید المثال مفسر قرآن الحاج حضرت مولانا احتشام الحق مدظلہ مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ حیدرآباد سندھ“
”نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ النبی الکریم الذی لا نبی بعدہ“
مولانا محمد امیر الزماں صاحب کشمیری کی بروقت تالیف ”فتنہ مرزائیت“ اس وقت میرے سامنے ہے اور کہیں کہیں سے بغور میں نے مطالعہ بھی کیا۔ دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ اس بروقت اور ضروری خدمت کو حسن قبول عطا فرمائے۔ آمین!
مولانا موصوف نے اس فتنہ مرزائیت کے مذہبی و سیاسی نتائج کا بہت صحیح احساس فرمایا اور اجرائے نبوت کے باطل عقیدہ کی مختلف عنوانات سے تردید فرمائی ہے اور اسلام کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے ختم نبوت کے عقیدہ کی بہترین وضاحت فرمائی ہے۔ مجھے امید ہے کہ عوام و خواص اس رسالہ سے استفادہ کریں گے اور دوسروں تک ان خیالات کو پہنچانے کی سعی بلیغ کریں گے۔
آخر میں پھر مولانا کی اس کوشش کے لئے حسن قبول کی دعاء کرتا ہوں۔
بندہ احتشام الحق تھانوی جیکب لائن کراچی مورخہ ٧/جولائی ١٩٥٢ء
٢
پیش لفظ
صدر الافاضل الفقیہ علامہ العصر استاذی ومولائی مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی مفتی اعظم پاکستان وممبر بورڈ آف تعلیمات اسلامیہ حکومت پاکستان۔
"الحمدلله وكفٰی سلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی"
اہل بصیرت پر مخفی نہیں کہ فتنہ قادیانیت اسلام، مسلمان ممالک اسلامیہ کے لئے بعض حیثیات میں تمام سابقہ فتنوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس فرقہ کی تاریخ اور بانی فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے بیانات اس پر شاہد ہیں کہ درحقیقت یہ ایک پولیٹیکل (سیاسی) جماعت ہے جس کو مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے، مسلمانوں کو اصول اسلام سے ہٹانے، انگریزوں کی مکمل اطاعت پر مجبور کرنے، ممالک اسلامیہ میں فساد برپا کرنے کے لئے انگریزوں کی شاطرانہ سیاست نے جنم دیا ہے۔ مگر مسلمانوں میں یہ دسائس صرف مذہبی لباس ہی میں کارگر ہو سکتے تھے۔ اس لئے شروع سے تبلیغ اسلام کا نام دے کر اس فرقے کو کھڑا کیا گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے پہلے اپنے آپ کو صرف ایک مبلغ اسلام کے نام سے پیش کیا۔ مخالف اسلام مذاہب کے مقابلے میں چند رسائل و کتب لکھ کر مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف پھیرنا چاہا۔
اس کے بعد تدریجی طور پر کچھ دعوے شروع ہوئے۔ مجدد، مہدی، محدث وغیرہ کے دعوؤں کا سلسلہ چلتا رہا۔ مسلمان قوم اپنی قدیم فطرت کے مطابق خدمت اسلام کے نام پر ان کی شکار ہوتی گئی۔ کیونکہ مجدد یا محدث یا مہدی ہونا کسی مسلمان کا کچھ مستبعد یا شرعی قواعد سے ناجائز نہ تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا نہایت گرا ہوا کریکٹر اور معاملات میں صریح جھوٹ لوگوں پر ظاہر ہوتا رہا۔ سمجھدار اور دین دار طبقہ پہلے ہی اس سے بیزار ہو گیا۔ لیکن دوسری طرف کچھ جاہل بیوقوف لوگ اس کے دام میں پھنس گئے جو اس کے ہر دعوٰی کی تصدیق و تائید کے لئے تیار نظر آئے۔ مرزا قادیانی کا حوصلہ بڑھا اور نبوت کا دعوٰی شروع ہوا۔ ابتداء میں مسیح موعود بنے۔ پھر دبے دبے لفظوں سے بروزی، مجازی، لغوی وغیرہ تاویلات کی آڑ لے کر نبوت کے دعوے کرتے گئے اور جب دام میں پھنسے ہوئے بیوقوفوں نے اس کو بھی مان لیا تو کھلے طور پر نبوت، رسالت، شریعت، وحی سبھی کچھ اس کے دعوؤں میں واضح طور پر شامل ہو گئے۔
فتنہ مرزائیت اور علمائے امت
حق پرست علمائے امت کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ کسی مسلمان کی زبان وقلم سے کوئی
٣
عقیدہ کفریہ ظاہر ہو تو اس پر تکفیر کا حکم کرنے میں جلدی نہیں کرتے۔ بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا ہے اس کے کلام کی تاویل کر کے اس کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں اور جب تک وہ خود اپنی مراد کو خود اسی طرح واضح نہ کر دے جس میں تاویل نہ چل سکے۔ اس وقت تک اس کی تکفیر نہیں فرماتے۔
مرزا قادیانی کے بارے میں بھی ان حضرات کا یہی طرز رہا۔ جب تک اس نے صاف وصریح طور پر نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ مہدی، مجدد، مسیح موعود کہتا رہا۔ اگرچہ ضمنی طور پر ان میں بھی دعوائے نبوت پایا جاتا تھا۔ مگر محققین علماء بالخصوص اکابر دارالعلوم دیوبند اس وقت تک اس کی تکفیر سے کف لسان کرتے رہے۔ تا آں کہ اس نے اپنے دعوؤں میں نبوت، رسالت، وحی، شریعت سبھی چیزوں کا صاف طور پر اظہار واعلان کیا تو دارالعلوم دیوبند کے دوسرے سر پرست، ابو حنیفہ عصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ اور جملہ اکابر دارالعلوم نے اس کی تکفیر کا اعلان کیا اور اطراف ملک سے ہر طبقہ اور ہر فرقہ کے علماء کا اس پر اجماع واتفاق ہو گیا۔ اس زمانے کے شائع شدہ مستقل رسائل واشتہارات اس پر شاہد ہیں۔ ١٣٣٠ھ کا طبع شدہ رسالہ ”القول الصحيح في مكائد المسيح“ ہمارے سامنے ہے۔ جس میں دیار ہند کے ہر صوبہ و ہر ضلع کے سینکڑوں علماء کی تصدیق موجود ہے۔ ادھر خود مرزا قادیانی کے قول کے مطابق یہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا اب انگریزوں ہی کے سائے میں پھولنے پھلنے لگا تھا۔ اس کی تبلیغ کا رخ اب غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام سے ہٹ کر خود مسلمانوں کو کافر بنانے اور ٹھہرانے کی طرف پھر گیا۔ علمائے اسلام سے مناظروں، مباہلوں کے چیلنج شروع ہوئے۔ مناظروں میں ہر جگہ شکست فاش ہونے کے باوجود فتح عظیم کا ڈھنڈورا پیٹنا وظیفۂ زندگی بنالیا گیا۔ پروپیگنڈا کی دنیا میں انگریزوں کی حمایت سے ایک مقام حاصل کرلیا۔ مگر بایں ہمہ اس کا دجل وفریب ہندوستانی مسلمانوں پر آشکارا ہو گیا اور یہاں زمین سازگار نہ ملی تو اسلام اور مسلمانوں سے دور سات سمندر پار یورپ میں جاکر تبلیغ اسلام کا نقارہ بجایا۔ اسلام کی قبا کو کھینچ تان کر بلکہ پارہ پارہ کر کے ہوا پرست یورپین تہذیب کی قامت نازیب پر راست کر کے دکھانا شروع کیا۔ قرآن میں تحریفات کر کے مغرب زدہ اقوام کو خوش رکھنے کی طرح ڈالی۔ ایک طرف یورپ میں اسلام کے نام سے دوسری طرف ہوائے نفسانی کے مطابق اسلام سے ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ دام فریب میں آنے لگا کہ
ان چالاکیوں اور انگریز نوازیوں کے سہارے یہ طائفہ زور پکڑتا گیا۔ اب اس پودے کے لگانے والوں کے لئے پھل حاصل کرنے کا وقت آ گیا کہ مسلمانوں کے اندر رہ کر ان میں
٤
تفرقہ ڈالیں اور ان کو انگریز کی اطاعت پر لگادیں۔ چنانچہ ١٩١٤ء کی جنگِ عظیم میں اس پارٹی نے پورا حقِ نمک ادا کیا۔ مرزا محمود نے اپنے خطبہ جمعہ قادیان میں خود کہا کہ: ”عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری (میاں محمود کی) تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہوکر چلے گئے۔“ (الفضل قادیان مورخہ ٣١؍ اگست ١٩٢٣ء ج ١١ ص ١٧) انگریزوں نے اس جنگ میں عراق کو مسلمانوں سے فتح کیا تو جہاں پورے عالم اسلام میں اس کا ماتم تھا وہیں قادیان میں خوشیاں منائی جارہی تھیں۔ چراغاں ہو رہے تھے۔ خود مرزا قادیانی کے الفاظ میں سنئے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ احمدیوں کو اس فتح (فتح بغداد) سے کیوں خوشی نہ ہو۔
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٢، مورخہ ٧؍ دسمبر ١٩١٨ء)
٢٧؍ نومبر کو انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ کے زیر انتظام حسب ہدایات حضرت خلیفہ المسیح الثانی گورنمنٹ برطانیہ کی شان دار اور عظیم الشان فتح کی خوشی میں ایک قابلِ یادگار جشن منایا گیا۔ نماز مغرب کے بعد دار العلوم اور اندرون قصبہ میں روشنی اور چراغاں کیا گیا۔ منارۃ المسیح پر گیس کی روشنی کی گئی۔ اس سے احمدیہ پبلک کی اس عقیدت پر خوب روشنی پڑتی ہے جو اسے گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ (الفضل ج ٦ نمبر ٣١، مورخہ ٣؍ دسمبر ١٩١٨ء) اس جنگِ عظیم میں مرزائی امت نے انگریزوں کا حقِ نمک ادا کیا۔ ١٩١٩ء میں جنگ ختم ہوئی تو اسلام کی غدار انگریز کی وفادار اس امت مرزا کو کچھ صلہ ملنا تھا۔ حکومت برطانیہ کی مزید حمایت وتائید کے ساتھ اس نے مسلمانوں کے خلاف زور دکھانا شروع کیا اور مرزا قادیانی کی نبوت کی طرف عام مسلمانوں کو دعوت اور نہ قبول کرنے والے سارے جہان کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ ان کی زبان اب پہلے سے زیادہ کھل گئی۔
تمام مسلمانان عالم کے متعلق قادیانیوں کا عقیدہ
قادیانیوں کے خلیفہ ثانی کے بھائی صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی اپنے رسالہ (کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز نمبر ١٠، ١١، ج ١٤) میں لکھتے ہیں: ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (الفضل قادیان ج ٧ نمبر ٩٠) میں ہے: ”جس طرح موسیٰ کے وقت میں موسیٰ کی آواز تھی
٥
اور حضرت عیسیٰ کے وقت میں عیسیٰ کی اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آواز اسلام کا صور تھا۔ اسی طرح آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز بھی اسلام کی آواز ہے۔“ مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان (انوار خلافت ص ٩٠) میں لکھتے ہیں: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدائے تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کو اپنا اختیار نہیں۔“ (الفضل ج ٨ ص ٥٩) میں ہے: ”غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور ان کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ الغرض اس وقت مرزائی امت نے تمام مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی زبان درازی، انبیاء علیہم السلام کی توہین، اپنی نبوت و رسالت کا اعلان جابجا شروع کیا۔“
علمائے دیوبند اور فتنہ قادیانیت
حضرات علمائے دیوبند ایک ٹھوس تعلیمی کام میں مشغول ہنگاموں اور پلیٹ فارموں سے دور رہنے کے عادی تھے۔ لیکن اس وقت فتنہ قادیانیت کا شیوع مسلمانوں کو ہزار طرح کے حیلوں سے مرتد بنانے کی اسکیم ناقابلِ تحمل ہو گئی تو دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور دوسرے اکابر علماء اس پر مجبور ہوئے کہ اس فتنہ کو مسلمانوں میں آگے نہ بڑھنے دیں۔ اس وقت ان اکابر کی ایک جماعت نے دیوبند سے صوبہ سرحد تک ایک تبلیغی دورہ کر کے جابجا اپنی تقریروں سے ان کے مکائد کی قلعی کھولی اور مسلمانوں کو ان کے شر سے آگاہ کیا۔
قادیانیوں نے اپنے مکر و دجل اور مرزا قادیانی کے ذاتی حالات پر پردہ ڈالنے کے لئے چند علمی مسائل حیات عیسیٰ علیہ السلام، مسئلہ ختم نبوت وغیرہ میں مسلمانوں کو الجھا دیا تھا۔ جن سے درحقیقت مرزا قادیانی کی نبوت اور قادیانی مذہب کا کوئی تعلق نہ تھا۔ مگر طویل الذیل علمی مسائل میں ہر شخص کو کچھ نہ کچھ بولنے کا موقع مل جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ بحثیں مسلمانوں میں چل پڑیں۔ حضرات علمائے دیوبند نے تحریری طور پر بھی بیسیوں رسائل ان کے ہر مسئلہ اور ہر موضوع پر تصنیف فرمائے۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے قادیانیوں کی تکفیر پر رسالہ اکفار الملحدین، حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں عقیدۃ الاسلام عربی زبان میں اور مسئلہ ختم نبوت (پر خاتم النبیین) فارسی زبان میں تصنیف فرمائے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اسی زمانے میں رسالہ ”الشہاب“ لکھا۔ حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ناظم تعلیم دارالعلوم نے ایک درجن سے زائد رسالے ہر موضوع پر لکھے۔
٦
احقر نے مسئلہ ختم نبوت پر ایک مفصل کتاب تین حصوں میں بزبان اردو اور اس کا خلاصہ ”ہدیۃ المہدیین“ بزبان عربی لکھی اور مسئلہ حیات مسیح کے متعلق عربی زبان میں ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ اور اردو میں ”مسیح موعود کی پہچان“ اور مرزا قادیانی کے مہمل و متضاد دعوؤں کو ایک مختصر رسالہ میں بنام دعاوی مرزا شائع کرایا۔ اسی زمانے میں علمائے دیوبند اور ائمہ قادیان کا ایک معرکۃ الآراء مناظرہ چھاؤنی فیروز پور پنجاب میں ہوا۔ جس میں ان کی شکست فاش کو ہر طبقے کے مسلمانوں نے محسوس کر لیا۔
الغرض فتنہ قادیانیت کے متعلق حضرات علمائے دیوبند کی یہ مساعی تقریباً دس سال جاری رہیں۔ جس کے سبب فتنہ قادیانیت تقریباً قادیان میں دفن ہو کر رہ گیا۔ مسلمان ان کے دجل وفریب سے واقف ہو گئے۔
کیا مسئلہ ختم نبوت و رد قادیانیت مجلس احرار کا خاص مسئلہ ہے
مذکورہ الصدر تصریحات سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ علمائے امت کی یہ مساعی فتنہ قادیانیت کے رد میں اس وقت سے جاری ہیں جب کہ مجلس احرار کی جماعت وجود میں بھی نہ آئی تھی۔ کیونکہ جماعت احرار ١٩٣٠ء میں قائم ہوئی اور علمائے دیوبند کے مناظرے، تبلیغی دورے، تصنیف واشاعت یہ سب ١٩٢١ء سے ١٩٣٠ء تک کے واقعات ہیں۔ آج بعض ناواقفوں کا کہنا کہ رد قادیانیت یا ختم نبوت کا مسئلہ احرار کی پیدا کردہ بحث ہے۔ حالات سے بالکل ناواقفیت پر مبنی ہے۔
پاکستان میں فتنہ قادیانیت
اگر چہ قادیانیوں کی دسیسہ کاری اوّل ہی سے پاکستان کے خلاف کام کر رہی تھی ۔ مگر ان کے بعض ظاہری اعلانات سے مسلمان مجبوراً مسحور ہو گئے اور ہماری غلط کاری یا سوء اتفاق سے پاکستان کی اسلامی سلطنت کے کلیدی (با اختیار) عہدوں پر مرزائی قابض ہو گئے۔ ان لوگوں کو تو پاکستان سے ہمدردی نہ پہلے تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ان کا قبلہ گاہ قادیان اور مرکز اطاعت بشیر الدین محمود ہے۔ علمائے اسلام اور مسلمان جنہوں نے پاکستان کے لئے خون بہائے، بچوں کی بسمل لاشیں تڑپتی دیکھیں، ماں بہنوں کی عصمت لٹتی دیکھی ان کے سامنے پاکستان کی نوزائیدہ سلطنت کے مصالح اور اس کے استحکام کی فکر تھی۔ انہوں نے عہدوں، ملازمتوں اور الاٹمنٹوں میں ان کے مظالم علانیہ دیکھنے اور سہنے کے باوجود پانچ سال خاموشی میں گزار دیئے۔۔۔
٧
لیکن مرزائی امت نے اس پر بھی قناعت نہ کی۔ بلکہ اپنے عقائد کفریہ کی ترویج اور مسلمانوں کو ارتداد کی طرف دعوت اور اس کے لئے مخالفانہ لٹریچر کی اشاعت عقائد کفریہ کی تبلیغ کے لئے جلسے اور کانفرنسیں کرنا شروع کر دیں اور حکومت پاکستان کے اثرات ترویج قادیانیت کے لئے استعمال کرنے لگے تو اب پاکستانی مسلمان کے سامنے یہ سوال آ گیا کہ پاکستان اسلام کے لئے بنا اور اسلام ہی کے ساتھ اس کی بقاء واستحکام ہے۔ اگر یہی بنیاد منہدم ہوتی ہے تو پاکستان ایک بے معنی لفظ اور بے روح جسم ہوگا۔ اس لئے قادیانیوں کی مسلسل تبلیغی کوششوں نے انہیں اس کے ردعمل پر مجبور کر دیا۔ جس کے لئے ملک میں مختلف مقامات پر عام جلسے بھی ہوئے اور اس کی ضرورت بھی از سر نو پیدا ہو گئی کہ مرزائی امت کے دجل وفریب، مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی صحیح تصویر اور ان کے اعمال ناموں سے مسلمانوں کو واقف کیا جائے کہ وہ اس ارتداد کے شکار نہ ہوں۔ کیونکہ پچھلا لٹریچر بلکہ عام کتب خانے انقلاب ١٩٤٧ء کی نذر ہو چکے تھے۔ اب کسی لکھنے والے کو مواد تصنیف جمع کرنا بھی آسان نہ تھا۔
فتنہ مرزائیت
(مصنفہ مولانا محمد امیر الزماں خاں صاحب کشمیری) اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء فرمائے۔ ہمارے محبّ محترم مولانا امیر الزماں خاں صاحب کشمیری مہتمم مدرسہ اسلامیہ فاروقی مسجد کراچی کو کہ انہوں نے وقت کی ضرورت کا احساس فرمایا اور اپنے پیش نظر رسالے میں مرزا قادیانی اور مرزائی امت کی پوری حقیقت خود انہی کے الفاظ میں انہی کی زبان سے کھول کر مسلمانوں کے لئے پیش کر دی۔ اس کتاب میں ان کا اپنا کوئی مضمون نہیں جو کچھ ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء کے اقوال ومضامین ہیں۔ احقر نے اس رسالہ کو مختلف مقامات سے دیکھا۔ حوالے مستند اور مآخذ کو صحیح پایا۔ مسلمانوں سے میری درخواست ہے کہ قادیانیوں نے اپنی سیاہ کاریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے جن علمی مسائل میں مسلمانوں کو الجھانے کی طرح ڈالی ہے۔ ان کے کید سے باخبر رہتے ہوئے ان مسائل میں الجھنے سے پہلے اس کتاب کو ایک مرتبہ پڑھ لیں تو مجھے امید ہے کہ پھر کسی بحث ومباحثہ کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ بلکہ اگر کچھ بھی عقل وانصاف اور غیرت اسلامی ہو تو مرزائی بھی اس کے پڑھنے کے بعد اپنی غلطی محسوس کریں گے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف سلمہ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں اور اخلاص کامل کے ساتھ دین کی مزید خدمات کے لئے موفق فرمائیں۔ ”واللہ المستعان وعلیہ التکلان“
بندہ محمد شفیع عفا اللہ عنہ کراچی، ٢١ / شوال ١٣٧١ھ
٨
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قولہ تعالیٰ
- ١...... ”ماکان محمد ابا اح
النبیین (احزاب:٤٠)“
- ٢...... ”الیوم اکملت لکم
الاسلام دینا (مائدہ:٣)“
- ٣...... ”قل یایھا الناس انی رس
(اعراف:١٥٨)“
- ٤...... ”یایھا النبی انا ارسلن
باذنہ وسراجاً منیرا (اح
- ٥...... ”انما انت منذر و لکل ق
منزہ عن فجوھر ال
چراغ مصطفیٰ
انسانی تاریخ کے اوراق پار ارمغاں پیش کرتے ہیں کہ جہالت وضلا وہر زمانے میں کرہ ارضی پر اپنے وسیع وعری صلاحیتیں قلب ونظر کی تیرگی میں گم ہوتی ہو ہی تاریکی ’ظلمات بعضہا فوق بع رہی۔ عناد وتعصب، فسق ومعصیت، ہوائے وروایات کی پرستش، ہر قسم کی حرص وہوس اور ہلاک بری طرح دبوچ رکھا ہے اور الحاد وزندقہ تلاطم بپا معلوم ہوتا ہے اور ہوائے مخالف پیچھے کی جانب دھکیلتے نظر آتے ہیں۔ دنیا اور ”ولا تکونوا کالتی نقضت غ
بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلى على رسوله الكريم!
قوله تعالى
- ١...... ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم
النبيين (احزاب:٤٠)“
- ٢...... ”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم
الاسلام ديناً (مائده:٣)“
- ٣...... ”قل يايها الناس انى رسول الله اليكم جميعا الذى له ملك السموت
(اعراف:١٥٨)“
- ٤...... ”يايها النبي انا ارسلنك شاهداً ومبشراً ونذيراً وداعياً الى الله
باذنه وسراجاً منيرا (احزاب:٤٥)“
- ٥...... ”انما انت منذر ولكل قوم هاد (رعد:٧)“
فجوهر الحسن فيه غير منقسم
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
انسانی تاریخ کے اوراق پارینہ دیدۂ اعتبار سے دیکھنے والے کے لئے یہ نقشہ بطور ارمغاں پیش کرتے ہیں کہ جہالت وغوایت، ضلالت وشقاوت کی تیرہ وتار گھٹائیں ہر قرن ودہر زمانے میں کرۂ ارضی پر اپنے وسیع وعریض دامن کے ساتھ چھائی رہیں اور فطرت کی بخشی ہوئی صلاحیتیں قلب ونظر کی تیرگی میں گم ہوتی رہی ہیں۔ اسی عالم مثال وناسوت میں ہر چہار سو تاریکی ہی تاریکی ”ظلمات بعضها فوق بعض“ کی آفاق گیر اندھیری پوری انسانی آبادی پر مسلط رہی۔ عناد وتعصب، فسق ومعصیت، ہوا پرستی، حرص دولت وجاہ، قوم ووطن کی عصبیت، قومی تاریخ وروایات کی پرستش، ہر قسم کی مزمن اور ہلاکت آفرین بیماریوں نے آج تک پوری مظلوم انسانیت کو بری طرح دبوچ رکھا ہے اور الحاد وزندقہ، فسق وفجور، بندگی نفس کے دریا کی موجوں میں قیامت خیز تلاطم بپا معلوم ہوتا ہے اور ہوائے مخالف کے تیز وتند جھونکے پوری شدت کے ساتھ ناؤ (کشتی) کو پیچھے کی جانب دھکیلتے نظر آتے ہیں۔ دنیا کا طریق فکر وعمل سراپا تخریب اور بغی وضلالت پر مبنی ہے اور ”ولا تكونوا كالتى نقضت غزلها من بعد قوة انكاثا (النحل:٩٢)“
٩
کا دور بھیا نک منظر پیش کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اگر چہ پونے چودہ سو سال پیشتر ایک عظیم المرتبت، محسن انسانیت، جامع الصفات کامل ترین اور ہمہ گیر شخصیت نے دنیا کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، اجتماعی، مملکتی، عمرانی مسائل میں اہم انقلابی تغیرات پیدا کئے۔
اور وادی بطحا سے جو صدائے عشق بلند ہوئی تھی اس کی بازگشت آج بھی ہر محفل کو گرمانے کے لئے کافی ہے اور اس طبیب کامل (ﷺ) نے بیچارے انسان کو حالت نزع میں ایسی دوائی پلائی تھی کہ جس نے حلق سے اترتے ہی ایسا حیرت انگیز اثر دکھایا کہ بیمار نہ صرف خود تندرست و توانا ہو گیا بلکہ پوری انسانی دنیا کو سرچشمہ زندگی سے سیراب کر دیا۔
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا
”وكنتم على شفا حفرة من النار فانقذكم منها (آل عمران: ١٠٣) “
﴿تم لوگ آگ کے گڑھے کے پاس پہنچ گئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو اس سے نجات دلائی۔﴾
مرکزی اجزائے زندگی یعنی مستقل اور قائم بالذات اقدام حیات کے گہرے اور محکم یقین وایمان کی بنیادوں پر ازسرنو حیات اجتماعیہ کی عمارت کھڑی کی اور زندگی کے ہر جزو کو اس کی اصلی جگہ پر رکھ دیا۔ دنیا کی غفلت شعار قوموں میں حقیقت شناسی کے جوہر آب دار جن سے وہ تہی دامن تھیں پیدا کئے۔ اپنی بالغ النظری سے فساد انسانیت کے حقیقی اسباب و علل ایک ایک کر کے دریافت کئے اور ان کے ازالہ واصلاح کی ایک درخشندہ اور تابناک مثال قائم کی۔ کیونکہ آج کی طرح اس وقت بھی دنیا کی ہر قوم میں الحاد و بے دینی، انتہائی اخلاقی پستی، سیاسی طوائف الملوکی، معاشی ناہمواری، عدالتی و معاشرتی عدم مساوات جیسے مفاسد قبیحہ موجود تھے اور اتباع ہوائے نفس کی ہلاکت آفرینیوں نے انسانی زندگی کی کشتی کو خون آشام حوادث و مہالک کی طوفانی لہروں کے حوالے کر دیا تھا۔ یہ سرور کائنات علیہ افضل الصلوات ہی کی ذات ستودہ صفات تھی۔ جس نے بڑے سے بڑے باجبروت حکمرانوں اور شریر الطبع عناصر کے پنجہ ظلم واستبداد سے مظلوم دنیا کو نجات دلا کر انہیں تقویٰ وطہارت، انسانی مساوات ومؤاخات کا درس عمل دیا۔
حیات انسانی کے ہر گوشہ پر نظر رحمت ڈال کر تمام مسائل کو حل فرمایا۔ کیونکہ رحمتہ للعالمین ختمی المرتبت ﷺ کو بتلا دیا گیا تھا کہ آپ آخری نبی ہیں اور آپ کی امت آخری امت ہے۔ کیونکہ مذہبی ارتقاء سفر کی منازل طے کرتا ہوا اپنی انتہا کو پہنچ کر کامل ہو چکا تھا۔ ”الـــيــــــــــــــوم
١٠
اکملت لكم دينكم (مائده: ٣)“ بعدی ولا امة بعدكم (كنز العمال ج اور باری عزاسمہ نے ”ولکن رسول ا دنیا کو متنبہ فرمایا اور واضح الفاظ میں فرما بہیمیت، قیامت خیز معرکہائے جنگ وجد انبار، بستیوں کی عالمگیر تباہی و ویرانی، انسا وشرافت کی پامالی اور ہمہ گیر شور و شر سے دنی دامن فیض سے وابستہ ہو کر ہی مل سکتی ہے
(انبیاء: ١٠٧)“
بہر در کہ
متوازی نبوت کا مقصد قیام
انگریز قوم کا محبوب ترین مشغلہ بددیانتی و بد معاملگی، استبداد واستعباد تھا او ہوئی بغاوت تھی۔
حضور ﷺ کے لائے ہوئے ا باطلہ کی زنجیریں حقانیت اسلام کی چمک دار چکی تھیں۔ وقائع ماضیہ کے نتائج سامنے یہود و نصاریٰ دو قومیں ہیں جو چودہ سو برس استیصال میں جب ان کے جور و ستم کے تما میں بعض نام نہاد مسلمانوں کو اپنی کام جوئیو کے لئے کسی کو جعفر بنایا اور کسی کو میر صادق کے اڑوس پڑوس میں شریف حسین مکی جیسے جب ان کا یہ دجل وفریب بھی اسلام کے اس ایسی ایسی ناپاک کوششیں شروع کر دیں کہ اور الجھاؤ پیدا ہو جائیں کہ اسلام کا حقیقی تصو
اکملت لکم دینکم (مائدہ:٣) ”یہی وجہ ہے آپ نے اپنی زبان ترجمان حق سے ”لا نبی بعدی ولا امة بعدکم (کنزالعمال ج ١٥ ص ٩٤٧، حدیث نمبر ٤٣٦٣٧)“ کا اعلان فرمایا اور باری عزاسمہ نے ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب: ٤٠)“ کے اعلان سے دنیا کو متنبہ فرمایا اور واضح الفاظ میں فرمایا کہ اگر لادینی سیاست کے جبر و استبداد، انسانیت کش بہیمیت، قیامت خیز معرکہائے جنگ و جدال، خطرناک اور مہیب اسلحہ جات، انسانی لاشوں کے انبار، بستیوں کی عالمگیر تباہی و ویرانی، انسانی خون کا سیلاب، عفت و فرہنگ کی عصمت دری، اخلاق و شرافت کی پامالی اور ہمہ گیر شور و شر سے دنیا کو فلاح و نجات مل سکتی ہے تو صرف رحمۃ اللعالمین کے دامن فیض سے وابستہ ہو کر ہی مل سکتی ہے۔ ”وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمین
(انبیاء: ١٠٧)“
بہر در کہ شد ہیچ عزت نیافت
متوازی نبوت کا مقصد قیام
انگریز قوم کا محبوب ترین مشغلہ قتل و سفاکی، غصب و نہب، شراب نوشی و عصمت فروشی، بددیانتی و بد معاملگی، استبداد و استعباد تھا اور ان کی ریاست و قیادت جو حکومت الہیہ میں ایک کھلی ہوئی بغاوت تھی۔
حضورﷺ کے لائے ہوئے اسلام سے خطرہ میں پڑ چکی تھی جن کے مذہبی مزعومات باطلہ کی زنجیریں حقانیت اسلام کی چمک دار تلوار کے پے در پے ضربات سے ایک ایک کر کے کٹ چکی تھیں۔ وقائع ماضیہ کے نتائج سامنے رکھ کر مستقبل انہیں بہت بھیانک نظر آ رہا تھا۔ یہود و نصاریٰ دو قومیں ہیں جو چودہ سو برس سے اسلام سے برسر پیکار ہیں۔ اسلام و مسلمانوں کے استیصال میں جب ان کے جور و ستم کے تمام حیلے ناکام ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں بعض نام نہاد مسلمانوں کو اپنی کام جوئیوں کا آلہ کار بنا کر اسلام کی ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے کسی کو جعفر بنایا اور کسی کو میر صادق ان کی ستم ظریفیوں نے یہاں تک ترقی کی کہ کعبۃ اللہ کے اڑوس پڑوس میں شریف حسین مکی جیسے غداروں کو اپنے مقصد براری کے لئے استعمال کیا۔ جب ان کا یہ دجل و فریب بھی اسلام کے استیصال کا سبب نہ بن سکا تو نظام اسلام بدلنے کے لئے ایسی ایسی ناپاک کوششیں شروع کر دیں کہ جن سے مقاصد دین قویم کی صراط مستقیم میں ایسے اشتباہ اور الجھاؤ پیدا ہو جائیں کہ اسلام کا حقیقی تصور دھندلا ہو جائے۔
١١
انگریزی حکومت کی منافقانہ سیاست نے اچھے اچھے دماغوں کو ابن الوقتی کی طرف مائل و قائل کر دیا تھا۔ انہوں انہوں نے اس کام کی تکمیل کے لئے مسلمانوں میں ایک ایسا گروہ تلاش کیا جو دین اسلام کو چند سکوں کے بدلہ قربان کر سکے۔ اس کام کے لئے انگریز کو صرف خاندان مرزا غلام احمد قادیانی (پنجابی) نظر آیا۔ پسند اپنی اپنی نظر اپنی اپنی، چونکہ خاندان مرزا غلام احمد قادیانی علیہ مایستحقہ اباً عن جد انگریزوں کا آلہ کار بن کر اسلام سے غداری میں اپنی مثال آپ تھا۔ بناءً علیہ شاطر انگریز نے غلام احمد قادیانی کو اس کام کے لئے منتخب کر کے نبوت کا دعویٰ کروایا کہ نبی اور نبوت کی تبدیلی سے امت بھی تبدیل ہو جائے گی۔ جہاد جیسے اہم فریضہ جس پر امت مسلمہ زندہ ہے حرام کروایا۔
تبلیغ اسلام کے لباس میں غیر ممالک میں جاسوسی کے فرائض انجام دلوائے۔ ملت مرزائیہ نے اسلام و بلاد اسلامیہ کے خلاف جو خدمات انجام دی ہیں۔ ان کو کتاب ہٰذا کے صفحات آتیہ میں ملاحظہ فرمائیے۔
پاکستان بن جانے کے بعد خیال تھا کہ یہ گروہ اپنے سفید فام آقا کے جانے کے بعد اپنے ناپاک عزائم سے باز رہے گا، لیکن بدقسمتی سے حکومت میں اقتدار کی وجہ سے اس نے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ شروع کر دیا اور مفلوک الحال مسلمانوں کو مرتد بنانے کی مہم تیز تر کر دی۔ امت مرزائیہ کی ان اسلام کش پالیسیوں کے پیش نظر بندہ نے متوکلاً علی اللہ اس فتنہ عمیاء کے دجل و فریب کو عیاں کرنے اور اپنے مذہبی فرائض سے سبک دوش ہونے کے لئے اس ناچیز تالیف کو برادران ملک و ملت کے سامنے پیش کیا ہے۔
احقر وافقر : محمد امیر الزماں خاں کاشمیری خطیب فاروقی مسجد ٦؍ شوال ١٣٧١ھ
فتنہ مرزائیت کے متعلق پاک و ہند کی دو عظیم المرتبت شخصیتوں کی رائیں
(علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کا ایمان افروز بیان) قادیانیوں اور جمہور مسلمانوں کے نزاع نے نہایت اہم سوال پیدا کیا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے حال ہی میں اس کی اہمیت کو محسوس کرنا شروع کیا ہے۔ میرا ارادہ تھا کہ انگریز قوم کو ایک کھلی چٹھی کے ذریعہ اس مسئلہ کے معاشرتی اور سیاسی پہلوؤں سے آگاہ کروں۔ لیکن افسوس کہ صحت نے ساتھ نہ دیا۔ البتہ ایک ایسے معاملہ کے متعلق جو ہندی مسلمانوں کی پوری زندگی سے وابستہ ہے میں نہایت مسرت سے عرض کروں گا۔
١٢
لیکن میں آغاز ہی میں یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی مذہبی بحث میں الجھنا نہیں چاہتا اور نہ میں قادیانی تحریک کے بانی کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی چیز عام مسلمانوں کے لئے کچھ دلچسپی نہیں رکھتی اور دوسری کے لئے ہندوستان میں ابھی وقت نہیں آیا۔ ہندوستان کی سرزمین پر بے شمار مذہب بستے ہیں۔ اسلام دینی حیثیت سے ان تمام مذاہب کی نسبت زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ ان مذاہب کی بناء کچھ حد تک مذہبی ہے اور ایک حد تک نسلی تخیل کی سراسر نفی کرتا ہے اور اپنی بنیاد محض مذہبی تخیل پر رکھتا ہے اور چونکہ اسلام کی بنیاد صرف دینی ہے۔ اس لئے وہ سراپا روحانیت ہے اور خونی رشتوں سے کہیں زیادہ لطیف بھی ہے۔ اسی لئے مسلمان اس تحریک کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہو۔
چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بناء نئی نبوت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت ختم نبوت سے استوار ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اسلام جو تمام جماعتوں کو ایک رسی میں پرونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ایسی تحریک کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھ سکتا جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ ہو اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لئے مزید افتراق کا باعث ہو۔
یہودیت نے حال ہی میں جن دو صورتوں میں جنم لیا ہے۔ میرے نزدیک ان میں بہائیت، قادیانیت سے کہیں مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن مؤخر الذکر اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ اس کا خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لا تعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں۔ اس نبی کے متعلق نجومی تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔ روح مسیح کا تسلسل یہودی باطنیت کا جز ہے۔ پولش مسیح بال شیم کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر بوبر کہتا ہے کہ مسیح کی روح پیغمبروں اور صالح آدمیوں کے واسطے سے زمین پر اتری۔
شاعر اسلام علامہ محمد اقبالؒ کا مطالبہ
میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہو گا کہ وہ قادیانیوں کو ایک
١٣
الگ جماعت تسلیم کرلے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہوگا اور مسلمان ان سے ویسی ہی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے۔
(پرچہ ہفتہ وار حق ص ١٣،١٠، مورخہ ٩؍ جون ١٩٥٢ء)
ناظرین کرام خوب غور وفکر سے علامہ اقبالؒ کا فتویٰ ومطالبہ ملاحظہ فرمائیں۔ تو ایک نہایت ہی باریک اصول سامنے آئے گا وہ یہ کہ مرزائیوں کا وجود وحدت اسلامی کے لئے ایک زبردست خطرہ ہے۔ اگر انگریز چاہتا ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کی وحدت ملی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کر دے۔ مرزائی اس لئے بھی کافر و مرتد ہوئے کہ اسلام کے انتشار اور افتراق کا باعث و سبب بنے۔
واضح ہو کہ یہ فتویٰ کسی مولوی کا نہیں ہے۔ بلکہ ایک فلسفی اور شاعر اسلام کا ہے۔
حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کا فیصلہ کن بیان
اللہ کی آخری اور کامل ہدایت آچکی ہے۔ جس کا نام قرآن ہے اور جس کے مبلغ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ جو انسان اس پر ایمان لاتا ہے اور اس کے بتلائے ہوئے احکام پر عمل کرتا ہے اس کے لئے نجات ہے۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں جانتے۔
کسی صاحب نے مولانا سے استفسار کیا کہ مرزائیوں کے متعلق ہم کیا عقیدہ رکھیں؟
حضرت مولانا صاحب کی طرف سے جو جواب عنایت ہوا وہ مندرجہ ذیل ہے۔
١٩ (الف) بانی گنج سرکلر روڈ کلکتہ۔ ١٨؍ مارچ ١٩٢٦ء۔ حبی فی اللہ ! السلام علیکم ! خط پہنچا۔ آپ دریافت کرتے ہیں احمدی فرقہ کے دونوں گروہوں میں سے کون سا حق پر ہے۔ قادیانی یا لاہوری؟ میرے نزدیک دونوں حق وصواب پر نہیں ہیں۔ البتہ قادیانی گروہ اپنے غلو میں بہت دور تک چلا گیا ہے ..... حتیٰ کہ اسلام کے بنیادی عقائد متزلزل ہوگئے ہیں۔ مثلاً ان کا یہ اعتقاد کہ اب ایمان و نجات کے لئے اسلام کے معلوم و مسلم عقائد کافی نہیں۔ مرزا قادیانی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ لیکن لاہوری گروہ کو اس غلو سے انکار ہے۔ وہ نہ تو مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار کرتا ہے نہ ایمان کی شرائط میں کسی نئی شرط کا اضافہ کرتا ہے۔ اسے جو کچھ ٹھوکر لگی ہے۔ اس بے محل اعتقاد میں لگی ہے جو اس نے مرزا قادیانی کے لئے پیدا کر لیا ہے۔ باقی رہے۔ مرزا قادیانی کے دعاوی تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے
١٤
اسلام کے اصول و مبادیات کو سمجھا ہے اور عقل سلیم سے بے بہرہ نہیں۔ یہ دعویٰ ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم کر سکتا ہے۔
(اخبار زمیندار لاہور ١٩٢٦ء، بحوالہ ہفت روزہ حق مورخہ ٩؍ جون ١٩٥٢ء)
قرآن اور مرزائیت
اس بارے میں دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ تیسری کوئی نہیں یا نجات کے لئے وہ عقائد کافی ہیں جو قرآن نے صاف صاف بتلادیئے ہیں یا پھر کافی نہیں۔ اگر کافی ہیں تو قرآن نے کہیں یہ حکم نہیں دیا کہ کسی نئے ظہور پر بھی ایمان لاؤ۔ اگر کافی نہیں ہیں اور نئے شرائط میں نجات کی گنجائش باقی ہے تو پھر قرآن ناقص نکلا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے اعلان 'الیوم اکملت لکم دینکم' میں صادق نہیں۔ ہر مسلمان کے سامنے دونوں راہیں کھلی ہیں جو چاہے اختیار کرے۔ اگر قرآن پر ایمان ہے تو نئی شرط نجات کی گنجائش نہیں۔ اگر نئی شرط نجات مانی جاتی ہے تو قرآن اپنی جگہ باقی نہیں رہا۔ "والعاقبۃ للمتقین ابوالکلام" ١٩ (الف) بالی گنج۔ سرکلر روڈ کلکتہ، مورخہ ٥؍ جون ١٩٢٦ء
سائل کے سوالات میں ایک سوال نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی تھا۔ مولانا نے اس کا جواب بھی عنایت فرمایا وہ بھی درج ہے۔
نزول عیسیٰ علیہ السلام
آخر میں آپ نے سوال کیا ہے۔ اس جملہ کا کیا مطلب ہے کہ اب نہ کوئی بروزی مسیح آنے والا ہے نہ حقیقی، قرآن آچکا اور دین کامل ہو چکا۔ جواب یہ ہے جو اردو میں اس جملہ کا ہو سکتا ہے۔ یعنی دین اسلام اپنی تکمیل میں کسی ظہور کا محتاج نہیں۔ اس لئے نہ تو کسی بروزی مسیح کی ضرورت ہے نہ حقیقی کی۔
ہاں....... بلاشبہ احادیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک ایسے نزول کی خبر دی گئی جو قیامت کے آثار و مقدمات میں سے ہوگا۔ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ ان کا ظہور بحیثیت رسول کے ہوگا۔ یا تکمیل دین کا معاملہ ان کے نزول پر موقوف ہے۔ پس تکمیل دین کے لئے ہم کسی نئے ظہور پر اعتقاد نہیں رکھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دین کا معاملہ کامل ہوچکا۔ پھر کیا آپ کو اس اعتقاد سے انکار ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قرآن ناقص ہے۔ دین کا معاملہ پورا نہ ہوسکا اور اب نئے ظہور ہوتے رہیں گے، تا دین کامل ہو جائے۔
(از ہفتہ وار حق ص١٠، مورخہ ٩؍ جون ١٩٥٢ء)
١٥
نذر عقیدت ببارگاہ رسالت
”از مجتہد العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ“
معراج تو کزیں شدہ وسیع سماوات فرش قدمت عرش بریں سدرہ سریری
بر فرق جہاں پایہ پائے تو شدہ ثبت ہم صدر کبیری وہمہ بدر منیری
ختم رسل ونجم سبل صبح ہدایت حقا کہ نذیری تو والحق کہ بشیری
آدم بصف محشر و ذریت آدم درظل لوایت کہ امامی وامیری
یکتا کہ بود مرکز ہر دائرہ یکتا تا مرکز عالم توئی بے مثل ونظیری
ادراک بتخم است کمال ہست بخاتم عبرت بخواتیم کہ در دور اخیری
امی لقب وماہ عرب مرکز ایماں ہر علم وعمل را تو مداری ومدیری
عالم ہمہ یک شخص کبریست کہ اجمال تفصیل نمودند دریں دیر سدیری
ترتیب کہ رتبی است جدا کردہ نمودند در عرصہ واسرا تو خطیبی وسفیری
حق ہست وحقے ہست چو ممتاز زباطل آں دین نبی ہست اگر پاک ضمیری
آیات رسل بودہ ہمہ بہتر وبرتر آیات تو قرآن ہمہ دانی ہمہ گیری
آں عقدہ تقدیر کہ از کسب نہ شد حل حرف تو کشودہ کہ خبیری وبصیری
کارا کہ جزا خواندہ آں عین عمل ہست بگذر زخفاف ونگر آنچہ پذیری
اے ختم رسل امت تو خیر امم بود چو ثمرہ کہ آید ہمہ در فصل نضیری
کس نیست ازیں امت تو آں کہ چو انور باروئے سیہ آمدہ وموئے زریری
(عقیدۃ الاسلام ص ٢٦، از شیخ انور کشمیریؒ)
ختم نبوت کے دلائل
چونکہ مسلمانوں کے نزدیک سب سے بڑی اور قوی ترین کے بارے میں قرآنی استناد اور استدلال ہے۔ اس لئے بالاختصار قرآن مجید کی آیات سے مسئلہ ختم نبوت کو ثابت کرتے ہیں۔ وہو الموفق!
١٦
پہلی آیت
”ماکان محمد ابا اح وكان الله بكل شئ عليما (اح کسی کے باپ ۔ لیکن آپ اللہ کے رسول کا جاننے والا ہے۔ ﴿ اس کا شان نزول اور اس کے اس پہلو سے بحث کی جائے گی۔ ج خدائے علیم و خبیر ہی کو معلوم غیر معتبر لکھی گئیں اور کہاں کہاں اور کس ضرورت ہے اور نہ یہ کسی بشر کی طاقت الثبوت اور قابل استدلال سمجھی جاتی ہی کے اصلی اور حقیقی معنی پیش کرتے ہیں ی
مفردات القرآن
یہ کتاب امام راغب اصفہ قرآن کے لغات کو نہایت عجیب انداز فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس س متعلق فرماتے ہیں۔ ”وخاتم النبیی راغب ص ١٤٢) “ آنحضرتﷺ کر دیا ہے۔ یعنی آپؐ نے تشریف لا ک
المحكم لابن السيده
لغت عرب کی وہ معتمد کتا جن پر تفسیر قرآن کے بارے میں اعتما وآخره (لسان العرب) “ ﴿اور خات
- ا۔ ان تمام لغات ومباحث
پاکستان کی تصنیف کردہ کتاب ختم نبو
پہلی آیت
"ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شئ عليما (احزاب:٤٠) ﴿ نہیں ہیں محمد ﷺ تمہاری مردوں میں سے، کسی کے باپ۔ لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔﴾
اس کا شان نزول اور اس کی تفصیل کتب تفاسیر میں موجود ہے۔ یہاں صرف آیت کے اس پہلو سے بحث کی جائے گی۔ جو ”مسئلہ مانحن فیہ“ سے متعلق ہوگی ١؎۔
خدائے علیم و خبیر ہی کو معلوم ہے کہ لغت عرب پر آج کتنی کتابیں چھوٹی بڑی اور معتبر اور غیر معتبر لکھی گئیں اور کہاں کہاں اور کس صورت میں موجود ہیں۔ ہمیں نہ ان سب کے جمع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ یہ کسی بشر کی طاقت میں ہے۔ بلکہ صرف چند کتابوں سے جو عرب و عجم میں مسلم الثبوت اور قابل استدلال سمجھی جاتی ہیں۔ ”مشتِ نمونہ از خروارِے“ ہدیہ ناظرین کر کے لفظ خاتم کے اصلی اور حقیقی معنی پیش کرتے ہیں۔
(ختم النبوۃ فی القرآن)
مفردات القرآن
یہ کتاب امام راغب اصفہانی کی وہ عجیب تصنیف ہے کہ اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ خاص قرآن کے لغات کو نہایت عجیب انداز سے بیان فرمایا ہے۔ شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے اتقان میں فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس سے بہتر کتاب آج تک تصنیف نہیں ہوئی۔ وہ اس آیت سے متعلق فرماتے ہیں۔"وخاتم النبيين لانه ختم النبوة اى تممها بمجيئه (مفردات راغب ص ١٤٢)“ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ نے نبوت کو ختم کر دیا ہے۔ یعنی آپ نے تشریف لا کر نبوت کو تمام کر دیا ہے۔
المحکم لابن سیدہ
لغت عرب کی وہ معتمد کتاب ہے جس کو علامہ سیوطیؒ نے ان معتبرات میں شمار کیا ہے جن پر تفسیر قرآن کے بارے میں اعتماد کیا جاسکے۔ "وخاتم كل شئ وخاتمته عاقبه وآخره (لسان العرب)“ ﴿ اور خاتم اور خاتمہ ہر شے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے۔﴾
١؎ ان تمام لغات ومباحث کا مدار حضرت مولانا واستاذنا محمد شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان کی تصنیف کردہ کتاب ختم نبوت ہے۔
١٧
تہذیب للازہری
اس کتاب کو بھی سیوطیؒ نے معتبرات لغت میں شمار کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے: ”والخاتم والخاتم من اسماء النبی ﷺ فی التنزیل ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ای اخرهم (لسان العرب) “ ﴿اور خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح نبی کریم کے ناموں میں سے ہیں اور قرآن عزیز میں ہے کہ نہیں ہیں آنحضرت ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ۔ لیکن آپ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں آخری نبی ہیں۔﴾
اس میں کس قدر صراحت کے ساتھ بتا دیا گیا کہ خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح دونوں آنحضرت ﷺ کے نام ہیں اور قرآن مجید میں خاتم النبیین سے آخر النبیین مراد ہے۔ کیا ائمہ لغت کی اتنی تصریحات کے بعد بھی کوئی منصف اس معنی کے سوا کوئی اور معنی تجویز کر سکتا ہے؟
لسان العرب
لغت کی مقبول کتاب ہے۔ عرب و عجم میں مستند مانی جاتی ہے۔ اس کی عبارت یہ ہے: ”خاتمهم (بالكسر) وخاتمهم (بالفتح) اى اخرهم عن اللحيانى ومحمد خاتم الانبياء عليهم الصلوة والسلام “ ﴿خاتم القوم بالکسر و خاتم القوم بالفتح کے معنی آخر القوم کے ہیں اور انہیں معنی پر لحیانی سے نقل کیا جاتا ہے۔ محمد ﷺ خاتم الانبیاء یعنی آخر الانبیاء ہیں۔﴾
اس میں بھی بہ صراحت بتلا دیا گیا کہ خاتم بالکسر کی قرأت پڑھی جائے یا بالفتح کی ہر صورت میں خاتم النبیین اور خاتم الانبیاء کے معنی آخر الانبیاء کے ہیں۔
ایک قاعدہ
لسان العرب کی اس عبارت سے ایک قاعدہ بھی مستفاد ہوتا ہے۔ اگرچہ لفظ خاتم بالفتح اور بالکسر دونوں کے بحیثیت نفس لغت بہت سے معنی ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب قوم یا جماعت کی طرف اس کی اضافت کی جاتی ہے تو اس کے معنی آخر اور ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں۔ غالباً اسی قاعدہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ خاتم کو تنہا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ قوم اور جماعت کی ضمیر کی طرف اضافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
لغت عرب کے تتبع (تلاش) کرنے اور کتب لغت کی ورق گردانی سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ خاتم بالکسر یا بالفتح جب کسی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی آخری
١٨
کے ہوتے ہیں۔ ولہذا چونکہ آیت مذکورہ کے معنی آخر النبیین اور نبیوں کو ختم کرنے و تاج العروس شرح قاموس سے بھی ہوتی ہے
تاج العروس
شرح قاموس للعلامة الزبید الخاتم والخاتم وهو الذی جـ مبارک میں سے الخاتم بالکسر اور الخاتم بالفـ آوری سے نبوت کو ختم کر دیا ہو۔﴾
مجمع البحار
جس میں لغات حدیث کو سمـ ہے۔ ”الخاتم والخاتم من اسـ فاعـل (مجمع البحار ج ٢ ص ١٥) “ خاتم بالکسر و بالفتح نبی کریم ﷺ آخر کے ہیں اور بالکسر اسم فاعل کا صیغہ نیز (مجمع البحار ج ٣ ص ١٥) میـ الختم وهو الاتمام وبفتحها بـمعـ خاتم النبوۃ بکسر التاء یعنی تمام کرنے والے آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
قاموس میں ہے: ”والخـتـ النبیین ای اخرھم“ اور خاتم بالفـ معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد و خاتم اس میں بھی لفظ قوم یا جما کا سب سے زیادہ وضاحت کے سا انحراف کر سکتا ہے؟ ”الا بوجه لیـس
کے ہوتے ہیں۔ ولہذا چونکہ آیت مذکورہ میں خاتم کی اضافت جماعت نبیین کی طرف ہے۔ اس کے معنی آخر النبیین اور نبیوں کو ختم کرنے والے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ اس قاعدہ کی تائید، تاج العروس شرح قاموس سے بھی ہوتی ہے۔ وهو هذا!
تاج العروس
شرح قاموس للعلامۃ الزبیدی میں لحیانی سے نقل کیا ہے۔”ومن اسمائه ﷺ الخاتم والخاتم وهو الذی ختم النبوة بمجئيه “ اور آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارک میں سے الخاتم بالکسر اور الخاتم بالفتح بھی ہے اور خاتم وہ شخص ہے۔ جس نے اپنی تشریف آوری سے نبوت کو ختم کر دیا ہو۔
مجمع البحار
جس میں لغات حدیث کو معتمد طریق سے جمع کیا گیا ہے۔ اس کی عبارت درج ذیل ہے۔”الخاتم والخاتم من اسمائه ﷺ بالفتح اسم اى أخرهم وبالكسر اسم
فاعل (مجمع البحار ج ٢ ص ١٠)“
خاتم بالکسر وبالفتح نبی کریم ﷺ کے ناموں میں سے ہے۔ بالفتح اسم ہے۔ جس کے معنی آخر کے ہیں اور بالکسر اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ جس کے معنی تمام کرنے والے کے ہیں۔
نیز (مجمع البحار ج ٣ ص ١٥) میں درج ہے:”خاتم النبوة بكسر التاء اى فاعل الختم وهو الاتمام وبفتحها بمعنى الطابع اى شئ يدل على انه لا نبى بعده“ خاتم النبوۃ بکسر التاء یعنی تمام کرنے والا اور بفتح تاء بمعنی مہر یعنی وہ شے جو اس پر دلالت کرے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
قاموس میں ہے: ”والخاتم أخر القوم كالخاتم ومنه قوله تعالى وخاتم النبيين اى أخرهم “ اور خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح قوم میں سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور اسی معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد وخاتم النبیین ای آخر النبیین۔
اس میں بھی لفظ قوم بڑھا کر قاعدہ مذکورہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیز مسئلہ زیر بحث کا سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ فیصلہ کر دیا ہے۔ ان براہین قاطعہ سے کوئی کس طرح انحراف کر سکتا ہے؟ ”الا بوجه ليس فيه حياء“
١٩
صحاح العربیہ للجوہری
جس کی شہرت محتاج بیان نہیں۔ اس کی عبارت یہ ہے: ”والخاتم والخاتم بكسر التاء وفتحها والخيتام والخاتام كله بمعنى والجمع الخواتيم وخاتمة الشئ أخره ومحمدﷺ وخاتم الانبياء عليهم السلام“ خاتم اور خاتم ت کے زیر اور زبر دونوں سے اور ایسے ہی خیتام اور خاتام سب کے معنی ایک ہیں اور جمع خواتیم آتی ہے اور خاتمہ کے معنی آخر کے ہیں اور اسی معنی میں حضرت محمدﷺ کو خاتم الانبیاء کہا جاتا ہے۔ اس میں بھی یہ تصریح کر دی گئی ہے کہ خاتم اور خاتم بالکسر والفتح دونوں کے ایک معنی ہیں۔ یعنی آخر قوم!
کلیات ابوالبقاء
یہ لغت عرب کی مشہور و معتمد کتاب ہے۔ اس میں مسئلہ زیر بحث کو سب سے زیادہ واضح کر دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: ”وتسمية نبينا خاتم الانبياء لان الخاتم آخر القوم قال الله تعالى ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين
(کلیات ابوالبقاء ص ٣١٩)“
اور ہمارے نبی کریم کا نام خاتم الانبیاء اس لئے رکھا گیا کہ خاتم آخر قوم کو کہتے ہیں اور اسی معنی میں خدا تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کے متعلق فرمایا کہ وہ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور آخر سب نبیوں کے ہیں۔
اس میں نہایت صاف کر دیا گیا ہے کہ آپ کے خاتم الانبیاء اور خاتم النبیین کے نام رکھنے کی وجہ ہی یہ ہے کہ خاتم آخر قوم کو کہا جاتا ہے اور آپ آخر النبیین ہیں۔ نیز ابوالبقاء نے اس کے بعد کہا ہے کہ : ”ونفى الاعم يستلزم نفى الاخص “ اور عام کی نفی خاص کی نفی کو مستلزم ہے۔
جس کی غرض یہ ہے کہ نبی عام ہے۔ تشریعی ہو یا غیر تشریعی اور رسول خاص تشریعی کے لئے بولا جاتا ہے اور آیت میں جب کہ عام نبی کی نفی کر دی گئی تو خاص یعنی رسول کی بھی نفی ہونا لازمی ہے۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ اس آیت سے تشریعی اور غیر تشریعی ہر قسم کے نبی کا اختتام اور آپ کے بعد پیدا ہونے کی نفی ثابت ہوتی ہے۔ جو لوگ آج امت میں تشریعی اور غیر تشریعی کی تقسیم
٢٠
گھڑتے ہیں۔ علامہ ابوالبقاء نے پہلے ہی سے ان کے لئے رد تیار کر رکھا ہے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“
منتہی الارب
اس میں لفظ خاتم کے متعلق لکھا ہے۔ خاتم کصاحب مہر انگشتری اور آخر ہر چیزے و پایان آن و آخر قوم و خاتم بالفتح مثله ومحمدﷺ خاتم الانبیاء علیہم السلام اجمعین!
صراح میں ہے
”خاتمة الشئ اخره ومحمد خاتم الانبیاء بالفتح صلوة الله عليهم اجمعین“ خاتمہ کے معنی آخر شے کے ہیں اور اسی معنی میں محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔
لغت عرب کے غیر محدود دفتر میں سے یہ چند اقوال ائمہ لغت اور بطور مشتے نمونہ از خروارے پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین کو یقین ہو گیا ہوگا کہ از روئے لغت آیت مذکورہ میں خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتے اور لفظ خاتم کے معنی آیت میں آخر اور ختم کرنے والے کے علاوہ ہرگز مراد نہیں بن سکتے۔
آیت مذکورہ کی تفسیر صحابہؓ و تابعینؒ سے
ظاہر ہے کہ اس کا استیعاب کسی کی قدرت میں نہیں۔ اس لئے اقوال صحابہؓ و تابعینؒ میں سے بقدر ضرورت معدودے چند ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں۔ جن سے ان کو یہ اندازہ ہو سکے گا کہ امت کے ان اسلاف نے اس آیت کے کیا معنی سمجھے ہیں۔ جنہوں نے یہ سبق اس استاد سے پڑھا ہے۔ جس کا استاد بلاواسطہ خدائے قدوس ہے۔
حضرت قتادہؓ کی تفسیر
امام ابو جعفر ابن جریر طبریؒ اپنی عظیم الشان تفسیر میں حضرت قتادہؓ سے خاتم النبیین کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں۔ (جو بالاختصار درج ذیل ہے)
”عن قتادة ولكن رسول الله وخاتم النبيين اى آخرهم (ابن جرير ج ٢٢ ص ١١)“ حضرت قتادہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا اور لیکن آپﷺ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخر النبیین ہیں۔
نیز حضرت قتادہؓ کا یہ قول شیخ جلال الدین سیوطیؒ نے تفسیر در منثور میں عبدالرزاق اور عبد بن حمید اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے بھی نقل کیا ہے۔
(درمنثور ج ٥ ص٢٠٤)
٢١
ابن کثیر میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے
(ابن کثیر ج ٢ ص ٢٨) میں تخریج ابن ابی حاتم حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ: ”انا اول النبیین فی الخلق واخرهم فی البعث (حاشیه فی البیان)“ میں پیدائش میں تمام انبیاء علیہم السلام سے پہلے تھا اور بعثت میں سب سے آخر۔
مذکورہ بالا تفسیر مندرجہ ذیل اصحاب رسول ﷺ سے منقول ہے:۔ قتادہؓ، حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ،۔ حضرت حسنؓ، عائشہ صدیقہؓ، مغیرہؓ ابن شعبہؓ، حضرت جعفرؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت ابو الطفیلؓ، حضرت ابی ہریرہؓ، حضرت انسؓ، حضرت عفان ابن مسلمؓ، حضرت ابو معاویہؓ، حضرت جبیر ابن مطعمؓ، حضرت عبداللہ ابن عمرؓ، حضرت ابی ابن کعبؓ، حضرت حذیفہؓ، حضرت ثوبانؓ، حضرت عبادہ ابن الصامتؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عطاء ابن یسارؓ، حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ، حضرت عرباض بن ساریہؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت فاروق اعظمؓ، و غیرہم من اصحاب رسول ﷺ میں قریب چونسٹھ صحابہؓ سے بھی ختم نبوت کے وہی معنی بالفاظ مختلفہ منقول اور ثابت ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ آخر النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی انسان نبی بن کر نہیں آ سکتا۔ اگر قلب میں کوئی احساس اور دماغ میں سمجھنے کا کچھ مادہ ہے تو کوئی مسلمان بلکہ کوئی منصف مزاج کافر بھی ان چونسٹھ حضرات کی شہادتوں کے بعد ہمارے دعویٰ کے ثبوت میں شک وشبہ نہیں کر سکتا۔ ”ان فی ذلک لعبرة لاولی الابصار“
(ختم نبوت فی القرآن ص ٦٣)
آیت مذکورہ کی تفسیر ائمہ تفسیر کے اقوال سے
خداوند علیم و خبیر ہی کو معلوم ہے کہ کتنے متقدمین اور متاخرین بڑے اور چھوٹے علماء وصلحاء نے اس وقت تک تفسیر میں کتابیں لکھی ہیں اور کتنی موجود ہیں۔ تفاسیر کے ان غیر محدود ذخائر سے صرف چند مشہور ومعتبر تفاسیر کے حوالے اور مفسرین کے اقوال ہدیہ ناظرین ہیں۔ تاکہ اندازہ کیا جا سکے کہ جن بزرگان دین نے اپنی تمام عمر کو اسی میدان کی سیاحت میں ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے اس آیت کریمہ کی مراد کیا سمجھی ہے اور اس کی کیا تفسیر کی ہے۔
امام المفسرین ابو جعفر ابن جریر طبری کی تفسیر
”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین الذی ختم النبوة فطبع عليها فلا تفتح لاحد بعدہ الی قیام الساعة (ابن جریر ج ٢٢ ص ١١) “ لیکن آپ اللہ کے
٢٢
رسول ہیں اور خاتم النبیین۔ یعنی وہ شخص جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی۔ پس وہ آپ کے بعد کسی کے لئے نہ کھولی جائے گی۔ قیامت کے قائم ہونے تک۔
یہی مضمون حافظ عمادالدینؒ نے اپنی مستند ترین تفسیر ابن کثیر کے ج ٨ ص ٨٩، ٩١ اور جلالین ص ٣٥٥ اور در منثور ج ٥ ص ٢٠٤ پر پوری تفصیل سے بیان فرمایا ہے جو ارباب علم و فضل کے لئے قابل دید ہے۔
تفسیر کشاف میں ہے
"خاتم بفتح التاء بمعنى الطابع وبكسرها بمعنى الطابع وفاعل الختم وتقويه قراة عبد الله بن مسعود ولكن نبيئا ختم النبيين فان قلت كيف كان آخر الانبياء وعيسى عليه السلام ينزل فى أخر الزمان قلت معنى كونه ﷺ أخر الانبياء انه لا ينباء احد بعده وعيسى ممن نبى قبله (كشاف مصرى ج ٢ ص ٢١٥) ”خاتم بفتح التاء بمعنی آلہ مہر اور بکسر التاء بمعنی مہر کرنے والا، ختم کرنے والا اور اسی (ختم کرنے والا) معنی کی تقویت کرتی ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ کی قراۃ ”ولكن نبيئا ختم النبيين“ پس اگر آپ یہ کہیں کہ آپ آخرالانبیاء کس طرح ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں آسمان سے اتریں گے تو ہم یہ کہیں گے کہ آپ کے آخرالانبیاء ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا۔ (تو اب نزول عیسیٰ پر کچھ اعتراض نہیں ہو سکتا) کیونکہ عیسیٰ ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
تفسیر کبیر میں ہے
امام المعقول والمنقول امام رازیؒ نے اپنے مخصوص انداز میں اپنی تفسیر کبیر کے ج ٦ ص ٦١٧ پر اس مسئلہ پر خوب شرح وبسط کے ساتھ سیر حاصل بحث کی ہے جو قابل دید ہے۔
تفسیر روح المعانی
سید محمود آلوسی بغدادیؒ نے اپنی مشہور و مستند تفسیر روح المعانی میں آیت مذکورہ کی تفسیر نہایت شرح وبسط کے ساتھ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ”والمراد بالنبي ما هو اعم من الرسول فيلزم من كونه ﷺ خاتم النبيين كونه خاتم المرسلين (روح المعانی ج ٧ ص ٦)“ اور نبی سے مراد وہ ہے جو رسول سے عام ہے۔ پس آپ کے خاتم النبیین ہونے سے خاتم المرسلین ہونا بھی لازم ہوگا۔
٢٣
جیسا کہ اوپر ابن کثیر سے نقل کیا جاچکا ہے۔ شیخنا سید محمود آلوسی بھی وہی فرما رہے ہیں۔ یہ بات صاف کر دی گئی ہے کہ خاتم النبیین سے مطلقاً انبیاء کا اختتام بتلانا منظور ہے۔ اس میں کسی قسم کی تخصیص یا استثناء نہیں ہے۔
تفسیر خازن
تفسیر خازن اہل علم کے نزدیک ایک مشہور ومستند کتاب ہے۔ اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”خاتم النبيين ختم الله به النبوة فلا نبوة بعده اى ولا معه (خازن ج٣ ص٣٧٠) ”خاتم النبیین یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبوت ختم کردی۔ پس نہ آپ کے بعد کوئی نبوت ہے اور نہ آپ کے ساتھ۔
تفسیر مدارک التنزیل میں ہے
علامہ نسفیؒ نے اپنی مستند و معتبر تفسیر مدارک التنزیل میں لکھا ہے کہ: ”خاتم النبيين بفتح التاء (عاصم) بمعنى الطابع اى أخرهم يعنى لا ينباء احد بعده وعيسى عليه السلام ممن نبئ قبله وغيره بكسر التاء بمعنى الطابع وفاعل الختم وتقويه قرأة ابن مسعود (مدار برهاشيه خازن ج٣ ص٣٧٠، بحوالہ ختم النبوۃ فی القرآن ص٧٠)“ خاتم النبیین عاصم کی قرأت میں بفتح التاء بمعنی مہر جس سے مراد آخر ہے۔ یعنی آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے نبی بنائے گئے تھے۔ (اس لئے ان کے نزول پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا اور وہ علاوہ عاصم کے سب قراء کے نزدیک بکسر التاء بمعنی مہر بند) کرنے والا اور ختم کرنے والا اور اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت۔
اس کے علاوہ اس مسئلہ کو علامہ زرقانیؒ نے (مواہب لدنیہ ج٥ ص٢٦٧) میں اور علامہ احمد الشہیر بہ ملا جیون (تفسیر احمدی) میں اور قاضی عیاضؒ نے (شفا ص٣٦٢) میں (مطبوعہ بریلی) اور علامہ ابوالبقاء حنفیؒ نے (کلیات ابوالبقاء ص٣١٩) اور ابو ابراہیم بخاری نے (شرح تعرف ص١٤، ج١ ص١٥) میں اس مسئلہ پر غیر معمولی علمی بحثیں کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی شخص کسی وقت کسی جگہ کبھی بھی کسی قسم کا نبی اور رسول نہیں بن سکتا اور نہ کسی نئے نبی و رسول کی حاجت ہے۔ قرآن آچکا، دین پورا ہو چکا۔
٢٤
حجۃ الاسلام امام غزالیؒ کا فتویٰ
حجۃ الاسلام امام غزالیؒ جو علوم ایک ایسا مضمون تحریر فرماتے ہیں کہ گویا لکھتے ہیں: ”ان الامة قد فهمت من رسول بعده ابداً وانه ليس فيه فكلامه من انواع الهذيان لا يعتد اجمعت الامة على انه غير مؤول بحوالہ ختم النبوۃ فی القرآن ص ١٠٠
خوب سمجھ لو کہ تمام امت آنحضرت ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہے نہ کوئی تاویل ہے اور نہ تخصیص اور جس تاویل کی۔ اس کا کلام ایک بکواس وہذیان نہیں سکتی۔ کیونکہ وہ اس نص صریح کی جس اس میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں۔
١؎ رد مرزائیت میں آج تک تمام کتابوں میں سے سب سے زیادہ مستند الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا محمد آف تعلیمات پاکستان کی ختم النبوۃ سے یہ کتاب کیا ہے۔ علمی موتیوں کا ایک نایاب حصہ میں ایک صد قرآنی آیات سے ختم احادیث سے ختم نبوت کو ثابت فرمایا ومفسرین ومحدثین کے سینکڑوں اقوال کو سے کوئی مرزائی مرتد نہیں رہ سکتا۔ بشرط کہ اس کتاب کو خرید کر زیر مطالعہ رکھیں۔ ان کی درازی عمر اور رفع درجات کے لئے
حجة الاسلام امام غزالیؒ کا فتویٰ
حجة الاسلام امام غزالیؒ جو علوم ظاہرہ و باطنہ کے مسلم امام ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک ایسا مضمون تحریر فرماتے ہیں کہ گویا قادیانی فتنہ ان پر منکشف ہو گیا تھا۔ اسی کے رد میں یہ الفاظ لکھے ہیں: ”ان الامة قد فهمت من هذا اللفظ انه افهم عدم نبي بعده ابداً وعدم رسول بعده ابداً وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص ومن اوله بتخصيص فكلامه من انواع الهذيان لا يمنع الحكم بتكفيره لا نه مكذب لهذا النص الذى اجمعت الامتہ على انه غير ماؤل ولا مخصص (كتاب الاقتصاد لامام الغزالي، بحوالہ ختم النبوة في القرآن ص ٧٠)“
خوب سمجھ لو کہ تمام امت نے آیت خاتم النبیین کے الفاظ سے یہی سمجھا ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہے نہ رسول اور اس پر بھی اجماع و اتفاق ہے کہ نہ اس آیت میں کوئی تاویل ہے اور نہ تخصیص اور جس شخص نے اس آیت میں کسی قسم کی تخصیص کے ساتھ کوئی تاویل کی۔ اس کا کلام ایک بکواس و ہذیان ہے اور یہ تاویل اس کے اوپر کفر کا حکم کرنے سے روک نہیں سکتی۔ کیونکہ وہ اس نص صریح کی تکذیب کرتا ہے۔ جس کے متعلق امت محمدیہ کا اتفاق ہے کہ اس میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں۔
١؎ رد مرزائیت میں آج تک مختلف زبانوں میں سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ان تمام کتابوں میں سے سب سے زیادہ علمی اور عام فہم اردو میں حضرت استاذی ومولائی جانشین شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا محمد شفیع صاحب دامت برکاتہم، مفتی اعظم پاکستان ورکن بورڈ آف تعلیمات پاکستان کی ختم النبوت ہے۔ یہ تمام مضمون ختم نبوت کے متعلق اس سے لیا گیا ہے۔ یہ کتاب کیا ہے۔ علمی موتیوں کا ایک ناپیدا کنار سمندر ہے۔ یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں ایک صد قرآنی آیات سے ختم نبوت کو ثابت کیا گیا ہے۔ دوسرے حصہ میں تقریباً دو صد احادیث سے ختم نبوت کو ثابت فرمایا ہے۔ تیسرے حصہ میں صحابہؓ اور تابعینؒ اور ائمہ مجتہدین ومفسرین ومحدثین کے سینکڑوں اقوال کو ایک جا کر دیا ہے۔ میرا یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے کوئی مرزائی مرتد نہیں رہ سکتا۔ بشرطیکہ منصف مزاج ہو۔ میں ناظرین کرام سے اپیل کروں گا کہ اس کتاب کو خرید کر زیر مطالعہ رکھیں۔ حضرت مفتی صاحب کا پوری ملت پر احسان عظیم ہے۔ ان کی درازی عمر اور رفع درجات کے لئے دعاء بھی ضرور کرنی چاہئے۔ للہ مرتب!
٢٥
ختم النبوة کی آیت نمبر ٢
”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدة:٣)“ ﴿آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام ہی پسند کیا۔﴾
اس آیت میں خداوند قدوس ارشاد فرماتے ہیں کہ دین کامل ہو گیا۔ پس نہ کسی دوسرے دین کی حاجت ہے نہ کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہے۔ اب اگر نبی ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کو تسلیم کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ دین کامل نہیں ہوا! اور کسی دوسرے نبی کی ضرورت باقی رہ گئی تھی۔ پس قرآن کریم کی تکذیب لازم آئے گی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص حضرت ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کو مانتا ہے وہ اس آیت کو جھٹلاتا ہے۔ بایں وجہ مرتد ہو جاتا ہے۔
(بیانات علمائے ربانی ص ١١)
اس کے علاوہ تکمیل کے بعد کسی چیز پر اضافہ کرنا دو صورتوں سے خالی نہ ہوگا۔
- ١....... زیبائش۔ ٢....... بدنمائی۔
اگر صورت حال اول ہے تو وہ شے ناقص تھی۔ کیونکہ محتاج زیبائش نکلی۔ لہذا مرزا قادیانی سے یہ سوال ہے کہ مرزا قادیانی جو کچھ لائے ہیں وہ دین اسلام اور قرآن میں ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو یہ تحصیل حاصل ہے جو لایعنی ہونے کے علاوہ محال بھی ہے اور اگر وہ احکام دین اسلام اور قرآن میں موجود نہ تھے تو پھر قرآن اور دین اسلام ناقص ثابت ہوئے جو اس اعلان باری عزاسمہ کے خلاف بلکہ مکذب ہے۔
پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی لائی ہوئی شریعت اسلام کے لئے ایک بد نما چیز ہے۔
ختم نبوت کی آیت نمبر ٣
”قل يايها الناس انی رسول الله اليکم جميعا الذي له ملك السمٰوت والارض (اعراف:١٥٨)“ ﴿(اے) محمد آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے تمام لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کے لئے ملک ہے آسمانوں اور زمینوں کا۔﴾
پس جو شخص حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور قیامت کے درمیان کسی دوسرے نبی کو تسلیم کرے۔ وہ اس آیت کو جھٹلاتا ہے۔ لہذا مرتد ہو جاتا ہے۔ قریب قریب دنیا میں جس قدر نبی اور
٢٦
رسول تشریف لائے۔ ہر رسول نے اپنی امت سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ساری ایک زمانہ میں دو دو نبی بھی گزرے ہیں۔ دعوت کو دیکھئے۔ آپ پورے قرآن کو غور پیغمبر اسلام علیہ السلام نے صرف عرب یا دعوت دی ہو۔ سب سے پہلا خطاب جو کے بعد لفظ الیکم لائے جو جمع کی ضمیر ہے سے خوب ظاہر ہوتا ہے کہ آپ تمام نسل انسا برحق بن کر تشریف لائے تھے۔
اب جو شخص اپنے آپ کو نسل ا رسول بنالے۔ جس طرح ہمارا رب رب العا کعبہ ”مثابة للناس“ ہے۔ اسی طر رب ”رب العلمین“ ہے۔ ہماری کتا ”رحمة للعلمین“ ہے۔ ”وما ارس بعد کوئی رب نہیں۔ قرآن کے بعد کوئی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ”ولکن رسول
ختم نبوت کی آیت نمبر ٤
”انما انت منذر (آنحضرت ﷺ) ہر قوم کے لئے ڈرانے
اس آیت کریمہ کا مطلب نبی اور رسول بن کر آئے ہیں۔ جب ہر کر تشریف فرما ہوئے تو پھر مرزا قادیانی
ختم نبوت کی آیت نمبر ٥
”يایها النبی انا ارسل
رسول تشریف لائے۔ ہر رسول نے اپنی ایک خاص قوم کو یا قوم کے لفظ سے خطاب فرمایا ہے۔ جس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ساری اقوام کے لئے تشریف نہ لائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک زمانہ میں دو دو نبی بھی گزرے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس سرور دوعالم رحمتہ اللعالمین ﷺ کی دعوت کو دیکھئے۔ آپ پورے قرآن کو غور وفکر سے دیکھتے جائیں۔ لیکن یہ لفظ کہیں نہیں ملے گا کہ پیغمبر اسلام علیہ السلام نے صرف عرب یا صرف اپنے خاندان یا اپنی محدود قوم کو یقوم کے لفظ سے دعوت دی ہو۔ سب سے پہلا خطاب جو آپ نے فرمایا وہ یا ایہا الناس کے جامع لفظ سے تھا۔ اس کے بعد لفظ الیکم لائے جو جمع کی ضمیر ہے۔ پھر مزید تاکید کے لئے لفظ جمیعاً کا اضافہ فرمایا گیا۔ جس سے خوب ظاہر ہوتا ہے کہ آپ تمام نسل انسانی ”مايكون الى يوم القيمة “ کے لئے ہادی برحق بن کر تشریف لائے تھے۔
اب جو شخص اپنے آپ کو نسل انسانی سے خارج تصور کرے تو وہ جس کو چاہے اپنا نبی اور رسول بنالے۔ جس طرح ہمارا رب رب الناس ہے۔ ہماری کتاب”ھدی للناس “ ہے۔ ہمارا کعبہ ”مثابة للناس “ ہے۔ اسی طرح ہمارا رسول بھی”کافة للناس“ ہے۔ جس طرح ہمارا رب ”رب العلمين “ ہے۔ ہماری کتاب ”ھدى للعلمين “ ہے۔ اسی طرح ہمارا نبی بھی ”رحمة للعلمين“ ہے۔ ”وما ارسلناك الا رحمة للعلمين“ پس جس طرح رب کے بعد کوئی رب نہیں۔ قرآن کے بعد کوئی کتاب نہیں۔ کعبۃ اللہ کے بعد کوئی کعبہ نہیں۔ ٹھیک اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ کوئی رسول، کوئی پیغمبر نہیں ہے۔ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (ﷺ)“
ختم نبوت کی آیت نمبر ٤
”انما انت منذر و لکل قوم هاد (رعد:٧)“ ﴿بے شک آپ (آنحضرت ﷺ) ہر قوم کے ڈرانے والے اور ہدایت کرنے والے ہیں۔﴾
اس آیت کریمہ کا مطلب بالکل واضح اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر قوم کے لئے نبی اور رسول بن کر آئے ہیں۔ جب ہر قوم وملک کے لئے آنحضرت ﷺ رسول اور نبی برحق بن کر تشریف فرما ہوئے تو پھر مرزا قادیانی یا کسی اور نبی کی کیا ضرورت ہے؟
ختم نبوت کی آیت نمبر ٥
”يايها النبى انا ارسلناك شاهداً ومبشراً ونذيراً وداعياً الى الله
٢٧
بإذنه وسراجاً منيرا (احزاب:٤٥) ”اے نبی ہم نے آپ کو شہادت دینے والا، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے دعوت دینے والا اور چمکدار سورج بنا کر (دنیا کی رشد و ہدایت) کے لئے بھیجا ہے۔“
قرآن پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس آیت میں سراج منیر سے تشبیہ دی ہے۔ اس سے ظاہر کرنا یہ مقصود ہے کہ جیسے سورج کی روشنی کے بعد کسی ستارے یا کسی چراغ کی ضرورت نہیں رہتی۔ ٹھیک اسی طرح آفتاب نبوت کے طلوع ہونے کے بعد نہ کسی اور نبی کی ضرورت رہتی ہے نہ کسی متنبّی کی۔ ورنہ اس آفتاب میں نقص و کمی لازم آتی ہے۔
پس جس طرح سورج کے بعد کوئی روشنی نہیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبوت و رسالت بھی نہیں۔
(بیانات علمائے ربانی ص١٤)
تلخیص مضمون
- ١....... ”وما ارسلناك الا رحمة للعٰلمين (انبیاء:١٠٧)“ ”ہم نے
آپ کو اہل جہان کے لئے مجسمہ رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“
یہ آیت حکم کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام اہل عالم کے لئے رحمت ہیں اور آپ پر ایمان لانا نجات کے لئے کافی ہے۔ پس اگر آپ کے بعد کوئی اور نبی دنیا میں پیدا ہو تو آپ کی امت کے لئے آپ کی پیروی و اتباع نجات کے لئے کافی نہ ہو گی بلکہ اس پر ایمان لانا ضروری ہوگا۔ جس سے لازم آتا ہے۔
- (الف)...... آپ کی امت آخری امت نہ رہی۔ (ب)...... کہ آپ کل جہان
والوں کے لئے رحمت تامہ ثابت نہ ہو سکے۔
- ٢...... قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا نزول دو قسموں پر ہے:
- (١)...... جو آنحضرت ﷺ پر ہوا۔ (٢)...... جو آپ سے پہلے ہوا۔
١؎ یہ فیصلہ بہاولپور کا ایک حصہ ہے۔ جس میں ارتداد مرزا پر مجتہد العصر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، شیخ الجامعہ دیوبند، مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا غلام محمد گھوٹویؒ شیخ الجامعہ العباسیہ، مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع صاحب زیدمجدہ کے بیانات جمع ہیں۔ یہ کتاب اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اپنے پاس رکھے۔
٢٨
”والذين يؤمنون بما انزل سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والے نبی پر بھی ضرور ایمان لانا ہوگا۔ سے ہر نبی نے اپنے مابعد آنے والے نبی پر ا ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی اور شخص بھی حکم فرماتے۔
بجائے اس کے آنحضرت ﷺ آخری نبی ہوں اور تم آخری امت۔
- ٣....... تیسری جگہ قرآن شریف
مخاطب کر کے فرمایا کہ: ”واذ اخذ الله میثـ ثم جاء كم رسول مصدق لما معکـ میں جب لوگوں کو کتاب دوں اور حکمت اور آئے گا جو تمام پہلی چیزوں کی تصدیق کرنے والـ
اس آیت میں دو لفظ قابل غور ہیں ہے کہ تمام انبیاء کو یہ خطاب ہے۔ دوسرا لفظ ”ثـ بعد ایک نبی آئے گا اور وہ تمام پہلی کتابوں کی ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت محمد ﷺ سب نبیـ ہوئے تو حضرت محمد ﷺ سب نبیوں کے بعد ہـ امام ابن کثیر نے (ج١ ص٢٢٥) میں اور محمد علی مو معنی بیان کئے ہیں۔
احادیث متعلقہ ختم النبوت
- ١....... ”عن سعد بن ابـ
انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انـ غزوه تبوك وهي غزوه العسرة) ”سعد بـ حضرت علیؓ کو فرمایا کہ تو مجھ سے ہارون کی طرح ہـ
”والذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك (بقر:٤)“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ورنہ یہ حکم ضرور ہوتا کہ آئندہ آنے والے نبی پر بھی ضرور ایمان لانا ہوگا۔ اس لئے انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والسلام میں سے ہر نبی نے اپنے مابعد آنے والے نبی پر ایمان لانے اور تصدیق و تائید کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی اور شخص ہوتا یا ہونے کا امکان ہوتا تو ضرور نبی کریم ﷺ بھی حکم فرماتے۔
بجائے اس کے آنحضرت ﷺ نے بار بار تاکید فرمائی کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت۔
- ٣....... تیسری جگہ قرآن شریف میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے
مخاطب کر کے فرمایا کہ: ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران:٨١) “ ﴿میں جب لوگوں کو کتاب دوں اور حکمت اور تم نبوۃ کے منصب پر فائز ہو تو اس کے بعد ایک نبی آئے گا جو تمام پہلی چیزوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ تم لوگ اس کو ماننا اور اس پر ایمان لانا۔﴾
اس آیت میں دو لفظ قابل غور ہیں۔ ایک ”میثاق النبيين“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کو یہ خطاب ہے۔ دوسرا لفظ ”ثم جاءکم“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم سب کے بعد ایک نبی آئے گا اور وہ تمام پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ وہ بالاتفاق سید محمد ﷺ ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت محمد ﷺ سب نبیوں کے بعد آئے ہیں۔ پس اگر مرزا قادیانی بھی نبی ہوتے تو حضرت محمد ﷺ سب نبیوں کے بعد نہ آتے اور قرآن کی تکذیب لازم آئے گی۔ چنانچہ امام ابن کثیر نے (ج ١ ص ٢٤٥) میں اور محمد علی مرزائی لاہوری نے (ترجمہ قرآن ج ١ ص ٣٥٢) میں یہی معنی بیان کئے ہیں۔
احادیث متعلقہ ختم النبوت
- ١....... ”عن سعد بن ابي وقاص قال قال رسول الله ﷺ لعلی
انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدى (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣، باب غزوہ تبوک وھی غزوہ العسرۃ) “ ﴿سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ کو فرمایا کہ تو مجھ سے ہارون کی طرح ہے موسیٰ سے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔﴾
٢٩
حدیث ”لا نبی بعدی“ تقریباً ٤١ طرق سے مروی ہے۔ لہذا یہ حدیث حکماً حدیث متواتر ہے۔ حدیث متواتر کا انکار کفر جلی ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی مدعی نبوت بن کر مرتد وکافر ہوئے۔
- .......٢ "عن ابي هريرة ان رسول الله قال فضلت على الانبياء
بست اعطيت جوامع الكلم ، نصرت بالرعب واحلت لي الغنائم وجعلت لي الارض مسجداً وطهوراً ارسلت الى الخلق كافة وختم بي النبييون (مشكوة ص ٥١٢، باب سید المرسلين ﷺ) ﴿حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمام انبیاء علیہم السلام پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ (١) فصیح و بلیغ کلام سے۔ (٢) نصرت رعب سے۔ (٣) مالِ غنیمت میرے لئے حلال کیا گیا۔ (٤) تمام زمین میری پاک کی گئی اور ہر جگہ نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی۔ (٥) مجھے تمام کائنات کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر سلسلہ نبوت کو ختم کر دیا گیا۔﴿
اس حدیث شریف میں اس بات کو بوضاحت بیان کر دیا گیا کہ مجھے تمام مخلوقات کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا۔ کیونکہ اب ایک ایسا کامل دین آ چکا ہے کہ کسی اور دین کی حاجت و ضرورت نہیں۔ پھر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کی مزعومہ نبوت کی کیا ضرورت ہے اور کس کو ضرورت ہے؟ ہاں مرزا قادیانی کو وہی نبی مان سکتا ہے جو دین اسلام اور قرآن پاک چھوڑ کر ایک نیا دین و مذہب اختیار کرنا چاہتا ہو تو مرتدوں کے لئے مرتد نبی کی شاید کوئی گنجائش نکل آئے۔ ”قاتلہم اللہ انی یوفکون“
- .......٣ "عن انس ابن مالك قال قال رسول الله ﷺ ان الرسالة
والنبوة قد انقطعت...... فلا رسول بعدى ولا نبى (الترمذى ج٢ ص٥٣، باب ذهبت النبوة بقيت المبشرات) ﴿حضرت انس ابن مالکؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت دونوں ختم ہو چکی ہیں...... نہ میرے بعد کوئی رسول ہو سکتا ہے نہ کوئی نبی۔﴿
اس حدیث شریف میں صاف اعلان فرمایا گیا کہ نہ کسی رسول و نبی کی ضرورت باقی ہے نہ کوئی نبی ورسول آسکتا ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کو آنا ہوتا تو سرکار دو عالم ﷺ
٣٠
یہ اعلان کیوں فرماتے۔ پس اگر کوئی ازلی بدبخت نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کے اس اعلان کی تکذیب کرتا ہے جو سبب ہے کفر کا۔
- ٤...... ”عن ابی امامة الباهلی عن النبی انه قال انا آخر الانبياء
وانتم آخر الامم (ابن ماجه ص٢٩٧، فتنه الدجال وخروج عیسی بن مریم وخروج یاجوج وماجوج)“ ﴿حضرت ابی امامہ باہلی سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت۔﴾
”وابن خزيمة والحاكم (ومن منتخب الكنز ج ٦ ص ٤١)“
”ايضاً عن ابی امامة عن النبی قال فی خطبة يوم حجة الوداع ايها الناس انه لا نبی بعدی ولا امة بعدكم . الا فاعبدوا ربكم . وصلوا خمسكم وصوموا شهركم وادوا زكوة اموالكم طيبة بها انفسكم واطيعوا ولاة اموركم تدخلوا جنة ربكم (منتخب الكنز على هامش مسند احمد ج٢ ص٣٩١) “
﴿نیز ان سے یہ بھی مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا کہ اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ اپنے رب کی عبادت کرو۔ پانچ وقت کی نمازیں پڑھو۔ ماہ رمضان کے روزے رکھو۔ خوشی سے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔﴾
”وايضاً عن ابی زمل الجهنی قال قال رسول الله ﷺ ولا نبی بعدی ولا امة بعد امتی (البيهقی)“ ﴿ایضاً ابن زماں سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔﴾
- ٥...... ”عن عقبة بن عامر قال قال رسول الله ﷺ لو كان
بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب (الترمذی ج٢ ص٢٠٩، مناقب ابی حفص عمر بن خطاب) “ ﴿حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی شخص ہو سکتا۔ (یا نبی کی ضرورت ہوتی) تو عمر بن خطاب ہوتا۔﴾
حضرات! بالاختصار چند آیات کریمہ اور چند احادیث شریفہ نقل کر دی ہیں۔ جن سے مسئلہ زیر بحث پر کافی روشنی پڑسکتی ہے۔ بشرطیکہ پورے تعمق وتدبر اور دیانتداری سے دیکھا جائے۔
٣١
معزز قارئین! ذرا خدارا غور فرمائیں کہ جہاں اور جس مکان میں صدیق و فاروق جیسی عظیم المرتبت شخصیتیں اور عثمان و علی جیسی علم وحیا سے پر ہستیاں نہ داخل ہو سکیں اور نہ ہی دخول وشمولیت کی ضرورت تھی۔ بھلا وہاں انگریز کا خودکاشتہ پودا کس طرح داخل ہو سکتا ہے اور کیوں؟
ان صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی جو ختم نبوت کے شاہد ہیں
حضرت صدیق اکبرؓ، حضرت فاروق اعظمؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت ابی ابن کعبؓ، حضرت انسؓ، حضرت حسنؓ، حضرت عباسؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت سلمانؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابوذرؓ، حضرت ابوسعید خدریؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت جابر ابن عبداللہؓ، حضرت جابر ابن سمرہؓ، حضرت معاذ ابن جبلؓ، حضرت ابوالدرداءؓ، حضرت مغیرہؓ، حضرت حذیفہؓ، حضرت ابن عباسؓ، حضرت ابن ولیدؓ، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت عقیل ابن ابی طالبؓ، حضرت معاویہ بن حیدہؓ، حضرت بہز ابن حکیمؓ، حضرت جبیر ابن مطعمؓ، حضرت بریدہؓ، حضرت زید ابن ابی اوفیٰؓ، حضرت عوف ابن مالکؓ، حضرت نافعؓ، حضرت مالک ابن حویرثؓ، حضرت سفینہ مولیٰ ام سلمہؓ، حضرت ابوالطفیلؓ، حضرت نعیم ابن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عمرو اللیثیؓ، حضرت ابوحازمؓ، حضرت ابومالک اشعریؓ، حضرت ام کرزؓ، حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت عبداللہ بن ثابتؓ، حضرت ابوقتادہؓ، حضرت نعمان ابن بشیرؓ، حضرت ام غنمؓ، حضرت ابو میسرہؓ، حضرت ابوبکرہؓ، حضرت سعید ابن جشمؓ، حضرت سعدؓ، حضرت زید ابن ثابتؓ حضرت عرباض بن ساریہؓ، حضرت زید ابن ارقمؓ، حضرت مسعود ابن مخرمہؓ، حضرت عروہ ابن رویمؓ، حضرت ابوامامہ باہلیؓ، حضرت تمیم داریؓ، حضرت محمد ابن حزمؓ، حضرت سہل ابن سعد الساعدیؓ، حضرت ابورہم جہنیؓ، حضرت خالد بن معدانؓ، حضرت عمرو ابن شعیبؓ، حضرت سلمہ بن نفیلؓ، حضرت قرۃ ابن ایاسؓ، حضرت عمران بن حصینؓ، حضرت عقبہ ابن عامرؓ، حضرت ثوبانؓ، حضرت ضحاک ابن نوفلؓ، حضرت مجاہدؓ، حضرت مالکؓ، حضرت اسماء بنت عمیسؓ، حضرت حبشی ابن جنادہؓ، حضرت عبداللہ بن حارثؓ، حضرت سلمہ بن اکوعؓ، حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ، حضرت عصمۃ بن مالکؓ، حضرت ابوقبیلہؓ، حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ، حضرت عمرو بن قیسؓ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم۔
(ختم نبوت فی الآثار ص ١٣)
اذا جمعتنا يا غـلام المجامع
٣٢
طبقات المحدثین
مندرجہ ذیل ان محدثین عظام نے نبوت کی احادیث مرفوعہ آنحضرت ﷺ سے کی ہیں۔ ”اولئك عليهم صلوات من ربہ امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخار ترمذیؒ، ابن ماجہؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ فی السنۃ، ابونعیمؒ، ابن حبانؒ، ابن عساکرؒ، محمد ابویعلیٰؒ، محی السنۃ بغویؒ، دارمیؒ، خطیبؒ، سعید ابی حاتمؒ، ابن النجارؒ، بزارؒ، ابوسعد باوردیؒ، ابن دہلویؒ، علامہ زرقانیؒ، ابن کثیرؒ وغیرہ ہم۔ غرض نبوت کے شاہد عدل ہیں۔
طبقات المفسرین
حضرت استاذی واستاذ العلماء مو نے کتاب ختم النبوۃ فی الآثار میں ان ناموں چاہیں اس کو ملاحظہ فرمائیں۔ وہاں ان مشہور کے معنی بالاتفاق آخر النبیین بیان فرما کر ہر قسم
حضرات فقہائے کرام
تمام فقہائے عظام کا اس فتویٰ پر آخر الانبياء فليس بمسلم لانه من نہیں جانتا کہ حضرت محمد ﷺ سب انبیاء سے آخری ہونا ضروریات دین سے ہے۔ ﴾
حضرات متکلمین
ابن حزمؒ نے اس مسئلہ کو ملل ونحل ص ١٨٠، ج ١ ص ١١٢ اور ملا علی قاریؒ نے ف المعتقد المنتقد ص ٢٠٩ الاتقان للسیوطی ج
طبقات المحدثین
مندرجہ ذیل ان محدثین عظام کے اسمائے گرامی درج کئے جاتے ہیں۔ جنہوں نے ختم نبوت کی احادیث مرفوعہ آنحضرت ﷺ سے روایت فرمائیں اور بغیر کسی تاویل وتخصیص کے قبول کی ہیں۔ ”اولئك عليهم صلوات من ربهم ورحمة واولئك هم المهتدون“ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاریؒ، امام المحدثین امام مسلمؒ، نسائیؒ، ابوداؤد سجستانیؒ، ترمذیؒ، ابن ماجہؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ، طحاویؒ، ابن ابی شیبہؒ، ابوداؤد طیالسیؒ، طبرانیؒ، شاہینؒ فی السنۃ، ابونعیمؒ، ابن حبانؒ، ابن عساکرؒ، حکیم ترمذیؒ، حاکمؒ، ابن سعدؒ، بیہقیؒ، ابن خزیمہؒ، ضیاء، ابویعلیٰؒ، محی السنۃ بغویؒ، دارمیؒ، خطیبؒ، سعید ابن منصورؒ، ابن مردویہؒ، ابن ابی الدنیاؒ، دیلمیؒ، ابن ابی حاتمؒ، ابن النجارؒ، بزارؒ، ابوسعد باوردیؒ، ابن عدیؒ، رافعیؒ، ابن قیمؒ، ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، علامہ زرقانیؒ، ابن کثیرؒ وغیرہم۔ غرض تقریباً ٥٨ مشہور و معروف محدثین حضرات بھی ختم نبوت کے شاہد عدل ہیں۔
طبقات المفسرین
حضرت استاذنا و استاذ العلماء مولانا محمد شفیع صاحب حال مفتی اعظم پاکستان زید مجدہ نے کتاب ختم النبوۃ فی الآثار میں ان ناموں کو تفصیلاً مع حوالہ جات کتب بیان فرمایا ہے جو تفصیل چاہیں اس کو ملاحظہ فرمائیں۔ وہاں ان مشہور مفسرین کی تعداد بیان فرمائی۔ جنہوں نے خاتم النبیین کے معنی بالاتفاق آخر النبیین بیان فرما کر ہر قسم کی نبوت کی نفی کی ہے۔
حضرات فقہائے کرام
تمام فقہائے عظام کا اس فتویٰ پر پورا اتفاق ہے کہ: ”اذالم یعرف ان محمداً ﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم لانه من الضروریات (اشباہ ص٢٩٦) ”جو شخص یہ نہیں جانتا کہ حضرت محمد ﷺ سب انبیاء سے آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں۔ اس لئے کہ آپ کا آخری ہونا ضروریاتِ دین سے ہے۔“
حضرات متکلمین
ابن حزمؒ نے اس مسئلہ کو ملل ونحل کے ج ١ ص ٧٧، ج ٣ ص ٢٤٩، ج ٤ ص ١٩٨، ج ٤ ص ١٨٠، ج ١ ص ١١٣ اور ملا علی قاریؒ نے فقہ اکبر میں اور علامہ تفتازانیؒ نے شرح عقائد نسفی اور المعتقد المنتقد ص ٢٠٩ الاتقان للسیوطی ج ٢ ص ١٢٨، مسامرہ لابن ہمام ص ٢٠٤، مجموعۃ العقائد
٣٤
لليافعی ص ١٥، عقیدۃ العوام للشیخ احمد المرزوقی ج ١ ص ١٢، شرح عقیدہ مذکورہ از علامہ نوویؒ، مسائل ابواللیثؒ، قطر الغیث للنووی ص١٥٠، شاہ عبدالعزیزؒ میزان العقائد وجوہر التوحید، شیخ امام عبدالسلام اتحاف المرید ص ١٢٦، شیخ عبدالغنی نابلسیؒ شرح کفایۃ العوام ص ١٨، حجة الاسلام امام غزالیؒ، اقتصاد، مورخ اسلام علامہ شبلی نعمانیؒ، الکلام میں متکلم اسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، یہ سب حضرات قاطعاً اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد کسی جدید نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور مرتد ہے۔ اسلام سے خارج اور مباح الدم ہے۔
حضرات! ان شواہد وحوالہ جات کے ہوتے ہوئے کون انسان ہے جو انکار کرے۔ مگر جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے نور ایمان سے محروم کر دیا ہے وہ گمراہیوں کے ناپیدا کنار سمندروں کی طوفان خیز اور متلاطم موجوں میں ایک حقیر تنکے کی طرح بہتے ہوئے چلے جا رہے ہیں۔
” من یہدی اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ہادی لہ ...... اللہم اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین . آمین “
ضروری گذارش
یہ ہے کہ اگرچہ مرزا قادیانی اور اس کے اتباع ” خذلہم اللہ فی الدنیا ولا خرة “ کے فتنہ ارتداد کے انسداد کے لئے سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں رسائل شائع ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے بعض کتابیں اپنی تمام خوبیوں کے باوجود حلقہ خواص وعوام میں متعارف نہ ہوسکیں۔ یا تو اس لئے کہ عربی، فارسی، انگریزی میں تھیں یا پھر اس وجہ سے کہ ضخیم مجلدات اور نایاب ہونے کی وجہ سے نیز پھر بعض کتابیں صرف مرزا قادیانی کے ہذلیات وکفریات کے بیان کرنے پر مشتمل تھیں اور بعض صرف مسئلہ ختم نبوت کے قابل قدر علمی مباحث تک محدود محصور۔ لیکن احقر نے ان تمام باتوں کا خیال رکھتے ہوئے انہی قابل قدر کتابوں سے مضامین اس طرح نقل کر کے ترتیب دی ہے کہ تصویر کے دونوں رخوں پر روشنی پڑسکے۔
- اولاً...... یہ کہ یہ رسالہ اردو زبان میں ہے۔ پھر اصطلاحی لفظ استعمال کرنے کی جگہ
عام فہم الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ جن سے ادنیٰ سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی بھی استفادہ کرسکے۔
- ثانیاً...... یہ کہ پہلے چند آیات اور احادیث سے بالاجمال مسئلہ ختم نبوت پر روشنی
ڈالی۔ تاکہ ابتداء ہی میں ناظرین حضرات اعلان خداوندی اور پیغام محمدی سے باخبر ہو جائیں۔
- ثالثاً...... یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پر فریب لائف کو چند فصول وابواب پر تقسیم
٣٤
کرتے ہوئے ان کے سیاسی و مذہبی دجل و فریب سے عوام کو مطلع کیا ہے کہ کس طرح وہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے رنگ بدلتا رہا اور کس طرح اسلام کا لبادہ پہن کر کفر و ارتداد کی تبلیغ کی۔ اب پہلے مسئلہ کو ختم کرتا ہوں اور دوسرے کی ابتداء کرتا ہوں۔
کہ ہستی را نمی بینم بقائے
مرزا غلام احمد قادیانی کے ذاتی حالات
(انہی کی زبان سے) اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا کا نام گل محمد تھا اور جیسا بیان کیا گیا ہے۔ ہماری قوم مغل برلاس ١؎ ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات جو اب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے۔ سکھوں کے ابتدائی زمانے میں میرے پردادا صاحب مرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پردادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطاء محمد صاحب فرزند رشید ان کے گدی نشین ہوئے۔ ان کے وقت میں خدا کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی اور سکھ غالب آئے ٢؎ ۔ اور اس وقت ہمارے بزرگوں پر تباہی آئی..... اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزیں ہوئے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد انہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔ پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانے میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ قادیان آئے اور مرزا موصوف کو اپنے والد کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے۔ پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے۔
١؎ دو باتیں قابل غور ہیں۔ (١) مغل کوئی قوم نہیں بلکہ ایک قبیلہ ہے کہ سب مسلمان ایک قوم ہیں۔ اس سے مرزا قادیانی کی علمی جہالت معلوم ہوئی۔ (٢) ”وَجَعَلْنَا فِی ذُرِّیَّتِہِمُ النُّبُوَّةَ وَالْکِتَابَ“ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبوت خاندان ابراہیم یعنی اسماعیل واسحاق میں محصور ہوچکی ہے تو اس سے مرزا قادیانی کا کذب وافتراء معلوم ہوا کہ مغل ابراہیمی نسل سے نہیں ہیں۔
٢؎ جی ہاں خدا کی مصلحت ہمیشہ ان کے خاندان کے ساتھ رہی ہے۔ دادا صاحب کے زمانے میں سکھ غالب آئے اور پوتے صاحب کے زمانے میں انگریز غالب آئے۔ وہ بھی صرف ہندوستان پر نہیں عالم اسلام پر اور شاید یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟
٣٥
اب میری ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا اور ابھی ریش و بروت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ لیکن میری پیدائش کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا..... بچپن کے زمانے میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدائے تعالیٰ کے فضل کی ابتدائی تخم ریزی تھی۔ اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے، اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدائے تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے۔ کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز ان کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ ہو کر ان کے ہموم و غموم میں شریک ہو جاؤں۔ آخر ایسا ہی ہوا...... میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کی ہوگی جب والد صاحب کا انتقال ہوا۔ مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔ میں اس وقت لاہور میں تھا۔ جب مجھے یہ خواب آیا تھا تب میں جلدی سے قادیان پہنچا اور ان کو مرض زحیر (پیچش) میں مبتلا پایا اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہو گئے...... غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گزری۔ ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا
٣٦
جاتا تھا اور ایک بڑے زور و شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔
(کتاب البریہ ص ١٤٤ تا ١٤٧ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٩٥، ١٦٢)
قادیان کی وجہ تسمیہ
”آپ کا خاندان اپنے علاقہ میں ایک معزز خاندان تھا اور اس کا سلسلۂ نسب برلاس جو امیر تیمور کا چچا تھا ملتا ہے اور جبکہ امیر تیمور نے علاقہ کش پر بھی جس پر اس کا چچا حکمران تھا قبضہ کر لیا۔ تو برلاس خاندان خراسان میں چلا آیا اور ایک مدت تک یہیں رہا۔ لیکن دسویں صدی ہجری یا سولہویں صدی مسیحی کے آخر میں اس خاندان کا ایک ممبر مرزا ہادی بیگ بعض غیر معلوم وجوہات کے باعث اس ملک کو چھوڑ کر قریباً دو سو آدمیوں سمیت ہندوستان میں آ گیا اور دریائے بیاس کے قریب کے علاقہ میں اس نے اپنا ڈیرہ لگایا اور بیاس سے نو میل کے فاصلے پر ایک گاؤں بسایا اور اس کا نام اسلام پور رکھا۔ (یعنی اسلام کا شہر) چونکہ آپ نہایت ایک قابل آدمی تھے۔ دہلی کی حکومت کی طرف سے اس علاقہ کے قاضی مقرر کئے گئے اور اس عہدہ کی وجہ سے آپ کے گاؤں کا نام بجائے اسلام پور کے قاضی پور ہو گیا۔ یعنی اسلام پور جو قاضی کا مقام ہے اور بگڑتے بگڑتے اسلام پور کا نام بالکل مٹ گیا اور صرف قاضی رہ گیا۔ جو پنجابی تلفظ میں قادی بن گیا۔ اور آخر اس سے بگڑ کر قادیان ہو گیا۔“
(سیرت مسیح موعود ص ٢٠،٢)
انگریز بہادر کی نوکری
جب آپ تعلیم سے فارغ ہوئے اس وقت گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت پنجاب میں مستحکم ہو چکی تھی۔ غدر کا پر آشوب زمانہ بھی گزر چکا تھا اور اہل ہند اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے تھے کہ اب اس گورنمنٹ کی ملازمت ہی میں تمام عزت ہے۔...... اس لئے مختلف شریف خاندانوں کے نوجوان اس کی ملازمت میں داخل ہو رہے تھے۔ ایسے حالات کے تحت اور اس بات کو معلوم کر کے مرزا قادیانی کی طبیعت زمینداری کے کاموں میں بالکل نہیں لگتی تھی۔ اپنے والد صاحب کے مشورہ سے سیالکوٹ بحصول ملازمت تشریف لے گئے اور وہاں ڈپٹی کمشنر صاحب کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔ مگر اکثر وقت علمی مشاغل میں ہی گزرتا اور ملازمت سے فراغت کے اوقات میں یا تو آپ مطالعہ کرتے یا دوسرے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔
(سیرت مسیح موعود ص ١٣)
١؎ مکان و مکیں میں عجیب مناسبت ہے کہ اسلام پور بدلتے بدلتے قادیان بن گیا اور ایک برطانیہ کا جاسوس ارتقائی منازل طے کرتے کرتے نبی بن گیا۔
٣٧
انگریز بہادر کی غلامی سے استعفاء
’’ قریب چار سال آپ سیالکوٹ میں ملازم رہے۔ لیکن کراہت کے ساتھ آخر والد صاحب کے لکھنے پر فوراً استعفاء دے کر واپس آگئے اور اپنے والد صاحب کے حکم کے ماتحت ان کی زمینداری کے مقدمات کی پیروی میں لگ گئے۔‘‘
(سیرت مسیح موعود ص ١٥)
بچپن یاد آئے
بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت (مرزا قادیانی) صاحب سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ میں گھر آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستے میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ بس پھر کیا تھا میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا وہ بورا نہ تھی۔ بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٤٤، روایت نمبر ٢٤٤)
ادھر ادھر یا مرزا قادیانی کی آوارگی
بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر...... پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔ (الیٰ قولہ) والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ کر پھر مرزا امام الدین ادھر ادھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چارے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا۔
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٣، روایت ٤٩)
یہ مرزا امام الدین کس قدر جرائم پیشہ اور خطرناک انسان تھا نہ جانے اس نے قادیانی ہونے والے نبی کو کس کس جہان کی سیر کرائی ہوگی؟ اور ادھر ادھر پھرانے سے کیا کیا وقائع اور حوادث پیش آئے کہ شرم و حیا کی وجہ سے چند ایام مرزا قادیانی اپنوں کے منہ نہ لگ سکے؟
اک لفظ محبت ہے اک لفظ جوانی
٣٨
جنگی سامان سے نفرت
جس زمانے میں حضرت مسیح موعود کا بچپن جوانی کی طرف جا رہا تھا۔ عام طور پر لوگ ہتھیارات رکھتے تھے اور استعمال کرتے تھے اور گتکہ وغیرہ اور تلوار کے کرتب کی ورزشیں عام تھیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود چونکہ یضع الحرب (جہاد مٹانے) کے لئے آئے تھے اور ان کے زمانے میں امن و آسائش کی راہیں کھلنے والی تھیں۔ آپ نے ان امور کی طرف توجہ نہیں کی۔ بجائے اس کے لازمہ شرافت وشجاعت سمجھے جاتے تھے۔
(سیرۃ المہدی ج١ ص ١٩٨)
چونکہ یہ نبوت منجانب انگریز بہادر تھی اور اس کی مرضی بھی یہی تھی کہ جہاد اٹھ جائے تاکہ وہ اطمینان سے غلامی کے طوقوں سے ایشیاء کے گلے مزین کرتے رہیں۔ مرزا قادیانی نے ”یضع الحرب“ کا اعلان فرما کر ولی النعمۃ کا حق نعمت ادا کیا ہے۔
جس کا کھاتے اس کا گاتے ہیں
مرزا قادیانی کی سادگی
ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش کیا۔ (مرزا قادیانی) نے اس کی خاطر سے پہن لیا مگر اس کے دائیں بائیں کی شناخت نہ کر سکتے تھے۔...... دایاں پاؤں بائیں طرف کے بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف کے بوٹ میں پہن لیتے تھے۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لئے ایک طرف کے بوٹ پر سیاہی سے نشان لگانا پڑا۔
(منکرین خلافت کا انجام ص ٩٦، سیرۃ المہدی ج١ ص ٦٧، روایت نمبر ٨٣)
ذکاوت و فطانت کا یہ عالم تھا کہ دائیں، بائیں تمیز نہیں تھی۔ بے ہوشی، مدہوشی کا یہ حال تھا کہ خود اپنے جسم کے اعضاء جن کو روز دیکھتے تھے معلوم نہیں۔
قادیانی نبی کو ضعف باہ کی شکایت
دوسرا بڑا نشان یہ ہے کہ جب شادی کے متعلق مجھ پر مقدس وحی نازل ہوئی تھی تو اس وقت میرا دل و دماغ اور جسم نہایت ہی کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر ابھی بہ کلی دور نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا۔ کیونکہ میری حالت مردی کالعدم تھی...... اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری
٣٩
زندگی تھی ....... چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مجھے خط لکھا تھا جو اب تک موجود ہے کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلاء پیش آئے ....... مگر باوجود ان کمزوریوں کے مجھے پوری قوت صحت اور طاقت بخشی اور چار لڑکے عطاء کئے۔
(نزول المسیح ص ٢٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٧)
قوت باہ کے متعلق وحی مقدس کا نزول ....... ایک ابتلاء
ایک ابتلاء مجھ کو اس (دہلی کی) شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور دردسر مع دوران سر قدیم سے میرے شامل حال تھیں۔ جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی ....... غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جناب الہی میں دعاء کی اور مجھے اس نے رفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں ....... اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کی اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پرصحت وطاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے وہ مجھے دی گئی اور چار لڑکے مجھے عطاء کئے گئے ....... میں اس زمانے میں اپنی کمزوری کی وجہ ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔
(تریاق القلوب ص ٣٥، ٣٦ ، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣، ٢٠٤)
مرزا قادیانی کی نامردی دور کرنے کے لئے ایک فرشتہ آسمان سے نسخہ شفا لے کر آیا۔ تب مرزا قادیانی کی برباد رفتہ قوت بحال ہوئی۔ لیکن مرزا قادیانی نے یہ نہ بتلایا کہ اس بیماری کے اسباب کیا تھے ....... مرزا قادیانی کی قوت رجولیت اس قدر فنا ہوچکی تھی کہ دنیا کے اطباء ناکام رہے۔ یہاں تک کہ معالج قوت باہ کو آسمان سے نزول فرمانا پڑا۔
قوت باہ کو تیز تر کرنے والی مجرب دوائیں
مخدومی ومکرمی اخویم مولوی (نورالدین) صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
وہ دوا ....... جس میں مروارید داخل ہیں جو کسی قدر آپ لے گئے تھے۔ اس کے استعمال سے بفضلہ تعالیٰ مجھ کو بہت فائدہ ہوا ....... قوت باہ کو ایک عجیب فائدہ یہ دوا پہنچاتی ہے اور مقوی معدہ
٤٠
ہے اور کاہلی سستی کو دور کرتی ہے اور کئی عوارض دیں۔ مجھ کو یہ بہت ہی موافق آگئی۔ فالحمدللہ
بے شک غیر تربیت یافتہ ماحول شکایات پیش آتی ہیں۔ جن کی شکایت مرزا قاد والبحر بما کسبت ایدی الناس“
توحید کا گھر یا مالنخولیا کا اثر ؟
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والـ بیماری میں دواؤں کا استعمال کرتے تو صرف دوائیں کھا لیتے اور فرمایا کرتے کہ میں اس ـ یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فلاں دوائی سے شفا ہوئی تعالیٰ کی طرف توجہ ہٹا لے۔
یہ ایک توحید کا گر ہے جو حضرت توجہ رکھنے کے لئے صرف ایک دوا نہیں بلکہ ا
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندر
چونکہ مرزا قادیانی کا توکل واہـ بجائے صبر وسکون اور بجائے ایک دوا کے کرتے تھے۔ تاکہ توکل واعتماد میں فرق نہ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت ـ
ہم مندرجہ ذیل تحریر میں مرزا قاد سے ہدیہ ناظرین کرتے ہیں جن کی وجہ سے
مراق کا سلسلہ اور دماغ کی بربادی
”مراق کا مرض حضرت مرزا صـ ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، گـ
ہے اور کاہلی سستی کو دور کرتی ہے اور کئی عوارض کو نافع ہے۔ آپ ضرور استعمال کر کے مجھ کو اطلاع دیں۔ مجھ کو یہ بہت ہی موافق آگئی۔ فالحمد للہ علی ذالک!
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٣، مورخہ ٣٠؍ دسمبر ١٨٨٦ء)
بے شک غیر تربیت یافتہ ماحول و غیر مہذب سوسائٹی میں رہ کر عام نوجوانوں کو یہی شکایات پیش آتی ہیں۔ جن کی شکایت مرزا قادیانی فرما رہے ہیں۔ ”ظہر الفساد في البر والبحر بما کسبت ايدي الناس“
توحید کا گر یا مالنجولیا کا اثر ؟
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا قادیانی) کی عادت تھی کہ آپ جب کسی بیماری میں دواؤں کا استعمال کرتے تو صرف ایک دوائی کھانے پر ہی اکتفاء نہ کرتے۔ بلکہ بہت دوائیں کھا لیتے اور فرمایا کرتے کہ میں اس لئے کرتا ہوں۔ تا جب شفا حاصل ہو جائے تو دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فلاں دوائی سے شفا ہوئی ہے اور اس طرح پر اس قدر اعتماد ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ ہٹا لے۔
یہ ایک توحید کا گر ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام نے سکھایا۔ آپ خدا ہی کی طرف اپنی توجہ رکھنے کے لئے صرف ایک دوا نہیں بلکہ اکٹھی بہت دواؤں کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٩، نمبر ١٨ مورخہ ٧؍ جنوری ١٩٣٢ء)
چونکہ مرزا قادیانی کا توکل و اعتماد کلی اللہ پر ہی تھا۔ اس لئے معمولی علالت میں بھی بجائے صبر و سکون اور بجائے ایک دوا کے تمام ادویات کی ایک معجون مرکب بنا کر تناول فرما لیا کرتے تھے۔ تاکہ توکل و اعتماد میں فرق نہ آئے۔
مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کے اصلی اسباب
ہم مندرجہ ذیل تحریر میں مرزا قادیانی کے وہ مہلک اور خطرناک امراض انہی کی کتابوں سے ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں جن کی وجہ سے مرزا قادیانی نبوت کے دعویٰ دار بننے پر مجبور ہوئے:
مراق کا سلسلہ اور دماغ کی بربادی
”مراق کا مرض حضرت مرزا صاحب کو مورثی نہ تھا۔ بلکہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا تھا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوئے ہضم تھا جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا
٤١
اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔‘‘
(رسالہ ریویو قادیان ص ١٠، بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء نمبر ٨ ج ٢٥)
مراق والے نبی کی مراقی بیوی
"میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔ ان کے ساتھ چند خادم عورتیں بھی ہوتی ہیں اور پردے کا پورا التزام ہوتا ہے .......... ہم باغ تک جاتے ہیں پھر واپس آ جاتے ہیں .......... ۔"
(منقول از منظور الٰہی ص ٢٣٤ حصہ دوم مصنفہ مرزا منظور الٰہی قادیانی)
مرزا قادیانی اور مرض مالنخولیا مراق
"مالنخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ مرض تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہوتا ہے اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس کی علامات یہ ہیں۔ ترش دخانی ڈکاریں آنا، ضعف معدہ کی وجہ سے کھانے کی لذت کم معلوم ہونا، ہاضمہ خراب ہو جانا، پیٹ پھولنا، پاخانہ پتلا ہونا، دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہونا۔" (ترجمہ)
(شرح الاسباب والعلامات ، امراض راس، مالنخولیا، تصنیف علامہ برہان الدین نفیس)
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مرض (مراق) کی علامات کا ظہور فتور قوت حیوانی یا روح حیوانی سے ہوتا ہے جو کہ جگر ومعدہ میں ہوتی ہے۔ مگر تحقیق جدیدہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مرض عصبی ہے اور جیسا کہ عورت میں رحم کی مشارکت سے مرض اختناق الرحم (ہیسٹریا) پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح اعضائے اندرونی کے فتور سے ضعف دماغ ہو کر مردوں میں مراق ہو جاتا ہے۔
علامات مرض
، مریض ہمیشہ سست و متفکر رہتا ہے۔ اس میں خودی (تکبری) کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک بات میں مبالغہ کرتا ہے..... بھوک نہیں لگتی۔ کھانا ٹھیک طور پر ہضم نہیں ہوتا۔
(مخزن حکمت مصنفہ شمس الاطباء ڈاکٹر غلام جیلانی طبع دوم، بحوالہ قادیانی مذہب ص ١٤٣)
فساد ہضم
کھٹی دخانی ڈکاریں۔ منہ میں زیادہ رال آ جائے، پیٹ پھولتا ہو، پیٹ میں قراقر، ٤٢
تناوٹ اور سوزش ہو۔ جھوٹی بھوک معلوم ہو، تالو کی معلوم ہوں، ہاضمہ اچھا ہو تو مرض میں تخفیف ہو، ہا گا ہے جسم کے اوپر کے حصے میں کپکپی اور لرزہ، ہا تمام بدن کا ٹھنڈا ہو جانا، مرض کی کمی بیشی کے مطا نوبت پہنچ جائے۔ دماغ اور سر میں سوزش و گرمی، مراق کے لوازم سے ہے۔ لیکن ان سب کا مریض
علاج
عمدہ خون پیدا کرنے والی غذائیں استعما ہضم گوشت اور کبھی کبھی سفید ہلکی شراب جو تیز اور عود استعمال کرائیں۔ نیز فم معدہ کے لئے مقوی ج لازم ہے کہ کسی دل خوش کن کام میں مشغول رہے و تکریم کرتے رہیں اور اس کو خوش رکھیں اور شراب جائے۔
مالنخولیا کے کرشمے
مالنخولیا خیالات وافکار کے طریق طب بعض مریضوں میں گا ہے گا ہے یہ فساد اس حد ت ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ م
(شرح اسباب و علاما
مریض کے اوہام
مریض کے اکثر اوہام اس کام سے مشغول رہا ہو۔ مثلاً ...... مریض صاحب علم ہو ت لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔
تفاوت اور سوزش ہو۔ جھوٹی بھوک معلوم ہو، تالو کی طرف دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہوں، ہاضمہ اچھا ہو تو مرض میں تخفیف ہو، ہاضمہ کی خرابی اور تخمے سے مرض میں زیادتی ہو۔ گاہے جسم کے اوپر کے حصے میں کپکپی اور لرزہ، ہاتھ پاؤں کی ہتھیلیوں کا جلنا، کبھی ان ہتھیلیوں یا تمام بدن کا ٹھنڈا ہوجانا، مرض کی کمی بیشی کے مطابق کمزوری لاحق ہونا یہاں تک کہ کبھی غشی تک نوبت پہنچ جائے۔ دماغ اور سر میں سوزش وگرمی، درد سر، نسیان..... اچانک اچھو لگ جانا، مرض مراق کے لوازم سے ہے۔ لیکن ان سب کا مریض میں پایا جانا ضروری نہیں۔
(اکسیر اعظم ج١ ص ١٨٩، مصنفہ حکیم محمد اعظم خاں)
علاج
عمدہ خون پیدا کرنے والی غذائیں استعمال کرائی جائیں۔ مثلاً مچھلی (پرندوں کا) زود ہضم گوشت اور کبھی کبھی سفید ہلکی شراب جو تیز اور پرانی ہو عمدہ عمدہ خوشبوئیں جیسے مشک، عنبر، نافہ، عود استعمال کرائیں۔ نیز فم معدہ کے لئے مقوی جوارشات کا استعمال کرائیں۔ مریض مالیخولیا کو لازم ہے کہ کسی دل خوش کن کام میں مشغول رہے اور اس کے پاس وہ لوگ رہیں جو اس کی تعظیم وتکریم کرتے رہیں اور اس کو خوش رکھیں اور شراب..... تھوڑا تھوڑا پانی ملا کر اعتدال کے ساتھ پلائی جائے۔
(قانون شیخ الرئیس حکیم بوعلی سینا فن اوّل از کتاب ثالث)
مالیخولیا کے کرشمے
مالیخولیا خیالات وافکار کے طریق طبعی سے متغیر بخوف وفساد ہو جانے کو کہتے ہیں۔ بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب داں سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔
(شرح اسباب والعلامات امراض راس مالیخولیا از علامہ برہان الدین نفیس)
مریض کے اوہام
مریض کے اکثر اوہام اس کام سے متعلق ہوتے ہیں جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً..... مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات وکرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔
(اکسیر اعظم ص ١٨٨، از حکیم محمد اعظم خاں)
٤٣
ہسٹریا ...... ابھی دم نکلتا ہے
ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے ایک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کے بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ۔
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ٥٥، روایت نمبر ٣٦٩)
مرض ہسٹریا عام طور پر عورتوں میں ہوتا ہے
ہسٹریا کا مرض جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں۔ چونکہ عام طور پر یہ مرض عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔ جن مردوں کو یہ مرض ہو ان کو مراقی کہتے ہیں۔
(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد قادیانی، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ص ٦، مورخہ ٣٠؍ اپریل ١٩٢٣ء)
مرض ہسٹریا اور دعوائے الہام
ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا یا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔
(مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان جلد ٢٥ نمبر ٨ ص ٦٧، بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء)
مرزا قادیانی کے الہام و ادعائے نبوت کے بطلان کے لئے صرف یہی ڈاکٹر کا فتویٰ کافی ہے۔ پھر کمال یہ کہ یہ مفتی بھی قادیانی ہیں۔ کاش کہ مرزا قادیانی کے دام تزویر میں پھنسے ہوئے چند ناواقف طوطے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لیتے۔ آہ!
دق اور سل
حضرت اقدس نے اپنی بیماری دق کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ بیماری آپ کو مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کی زندگی میں ہو گئی تھی اور قریباً چھ ماہ تک بیمار رہے۔ مرزا غلام مرتضیٰ آپ کا علاج خود کرتے
٤٤
تھے اور آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا کرتے تھے۔ اس بیماری میں آپ کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی۔
(سیرۃ المہدی حصہ اول روایت ٦٦ص ٥٥)
بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں مرزا قادیانی کو سل ہو گئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے اور بڑی نازک حالت ہو گئی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہوگئی...... والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا خود مرزا قادیانی کا علاج کرتے تھے اور برابر چھ ماہ تک انہوں نے آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا تھا۔
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥٦، روایت نمبر ٦٦)
دو چادریں یعنی مراق و کثرت بول
دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔
(حقیقت الوحی ص ٣٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠)
اگر مرزا قادیانی کی لائف کے ”باب الامراض“ کا مطالعہ کیا جائے تو شاید ٢٠، ٣٠ بیماریوں تک نوبت پہنچتی ہے۔ پھر دو چادریں کیسی؟ ٢٠ یا ٣٠ چادریں ہونی چاہئے تھیں۔ نیز یہ کہ مسیح آسمان سے اترا۔ مراق و بول کی دو بیماریاں لے کر یہ کون سا آسمان تھا؟ علاوہ ازیں چادروں سے مراق اور سلسل بول مراد لینا آخر کون سا استعارہ ہوگا؟ کیا کبھی کسی زبان میں چادر سے پیشاب کے قطرے مراد لئے گئے ہیں؟
دو بیماریاں
مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے میں نہایت بے تاب ہو جایا کرتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہو گیا اور طبیبوں نے لکھا ہے کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دو ماہ تک اس مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے اور اسی سے ان کا انتقال ہو گیا۔ لہٰذا میں دعاء کرتا رہا کہ خدائے تعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے۔ (محفوظ خوب رہے۔ صرف ٢٠، ٣٠ امراض لاحق ہوئیں)
٤٥
ایک دفعہ عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ رنگ چارپائے کی شکل پر جو بھیڑیئے کے قد کے مانند اس کا قد تھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے۔ میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ صرع ہے۔ (شاید یہ محمدی بیگم کا بے تحاشہ عشق ہو جو تشکیل با شکال مختلفہ کی صورت میں نظر آیا ہو ) تب میں نے اپنا داہنا ہاتھ زور سے اس کے سینے پر مارا اور کہا کہ دور ہو تیرا مجھ میں حصہ نہیں ....... (شاید محمدی بیگم نے یہ جواب دیا ہو ) تب خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ درد شدید بالکل جاتی رہی۔ صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے تا دو زرد چادروں کی پیش گوئی میں خلل نہ آوے۔ دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٣٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٧، ٣٧٦)
تیس برس
مجھے دو مرض دامنگیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصے میں کہ سر درد اور دوران سر اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا، نبض کم ہو جانا اور دوسرے جسم کے نیچے حصے میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریب بیس برس سے ہیں۔
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٣٥)
سو سو دفعہ پیشاب
میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔ ہمیشہ درد سر اور دوران سر کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سوسو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔
(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١، ٤٧٠)
مرزا قادیانی اور تصویر کشی
مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا باہر مردوں میں بھی مرزا قادیانی کی یہ عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں۔ ایک دفعہ مرزا قادیانی مع چند خدام فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں۔ ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی
٤٦
اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلیف طرح نیم بند ہوگئیں۔ جبکہ آنکھوں کو نیم بند رکھنا آپ ہوتی تھی؟
عصبی کمزوری
حضرت (مرزا قادیانی) صاح تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب او کمزوری تھا۔
مرض اعصابی
مخدومی مکرمی اخویم (مولوی نور الد یہ عاجز پیر کے دن ٩/مارچ ١٨٩ چونکہ سردی اور دوسرے تیسرے دن بارش بھی ہوا اور بارش سے بہت ضرر پہنچتا ہے۔ اس و نہیں سکتا۔ اس حالت میں لدھیانہ پہنچ کر پھ ہوں۔ اس لئے مناسب ہے کہ اپریل کے مہین
خرابی حافظہ
مکرمی اخویم سلمہ ......میرا حافظہ بہو بھی بھول جاتا ہوں۔ (دروغ گو را حافظہ نباشد (یعنی بدترین حالت) ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔ جس انسان کی قوت حافظہ (علم و عمل سماوی کو کس طرح یاد رکھ سکتا ہے؟ (للمرتب) ١۔ بلکہ دماغی کمزوری اور اختلاج قل پر مجبور کیا۔
اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلیف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہوگئیں۔
(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص ١١، روایت ٤٠٣، ٤٠٤)
جبکہ آنکھوں کو نیم بند رکھنا آپ کی عادت تھی تو پھر کھولتے ...... ہوئے تکلیف کیوں ہوتی تھی؟
عصبی کمزوری
حضرت (مرزا قادیانی) صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔
(رسالہ ریویو قادیان ص ٤٥، اپریل ١٩٢٥ء)
مرض اعصابی
مخدومی مکرمی اخویم (مولوی نورالدین صاحب) السلام علیکم ورحمۃ اللہ......
یہ عاجز پیر کے دن ٩؍ مارچ ١٨٨٩ء کو مع اپنے عیال لدھیانہ کی طرف جائے گا اور چونکہ سردی اور دوسرے تیسرے دن بارش بھی ہو جاتی ہے اور اس عاجز کو مرض اعصابی ہے۔ سرد ہوا اور بارش سے بہت ضرر پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے یہ عاجز کسی صورت سے اس قدر تکلیف اٹھا نہیں سکتا۔ اس حالت میں لدھیانہ پہنچ کر پھر جلدی لاہور میں آوے۔ طبیعت بیمار ہے۔ لاچار ہوں۔ اس لئے مناسب ہے کہ اپریل کے مہینے میں کوئی تاریخ مقرر کی جاوے۔ والسلام!
خاکسار غلام احمد عفی عنہ
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٢)
خرابی حافظہ
مکرمی اخویم سلمہ...... میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کوئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ (دروغ گو را حافظہ نباشد) یاد دہانی کا عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری (یعنی بدترین حالت) ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٣ ص ٢١)
جس انسان کی قوت حافظہ (علم و عمل کا مدار علیہ ہے) اس قدر برباد ہو چکی ہو تو وہ وحی سماوی کو کس طرح یاد کر سکتا ہے؟ (للمرتب)
١؎ بلکہ دماغی کمزوری اور اختلاج قلب بھی تھا۔ جس نے مرزا قادیانی کو ادعائے نبوت پر مجبور کیا۔
٤٧
پیشاب کے ڈھیلے
آپ کو (یعنی قادیانی مخبوط الحواس نبی کو) شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانے میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ اسی قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جو اس پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو اپنے باری ازل کی محبت میں ایسی محویت تھی کہ جس کے باعث اس دنیا سے بالکل بے خبر ہورہے تھے۔
(تتمہ براہین احمدیہ ج ١ ص ٦٧، مرتبہ معراج الدین احمد)
یہاں تک کہ گڑ اور پیشاب کے ڈھیلے ایک ہی جیب میں رہتے تھے اور کیا تعجب ہے کہ ایک دوسرے کی جگہ استعمال بھی ہوتے ہوں۔ آپ دنیا و مافیہا سے بالکل غافل و بے خبر تھے۔ البتہ کھانے میں مرغ، بٹیر، مشک، عنبر، مفرح عنبری اور خاص مجربات ومقویات کی تمنا اور سرکار عظمت مدار کی توصیف و تائید اور دین میں تاویلات اور نبوت کے دعوے۔ دنیا کی طرف سے صرف اسی قدر توجہ باقی رہ گئی تھی۔
دوران سر
پان عمدہ بہیگی اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے اس کی قیمت معلوم نہیں آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دی جائے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔
(خطوط امام بنام غلام ص ٦، مجموعہ مکتوبات مرزا قادیانی بنام حکیم محمد حسین قریشی)
دماغی بیہوشی
پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب حضور سخت دماغی محنت کیا کرتے تو اچانک آپ کے دماغ پر ایک کمزوری کا حملہ ہوتا اور بے ہوش ہو جاتے۔
(اخبار الحکم قادیان خاص نمبر مورخہ ٢ مئی ١٩٣٤ء)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرابی تھے؟
مجھے اس وقت ایک اپنا سرگذشت قصہ یاد آیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے۔ کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آتا
٤٨
ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔ پس اس طرح میں نے خدا پر توکل کیا تو خدا نے مجھے ان خبیث چیزوں کا محتاج نہیں کیا۔
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤، ٤٣٥)
مرزا قادیانی کی افیون وحی مقدس کی روشنی میں تیار ہوتی تھی
افیون دواؤں میں اس کثرت سے استعمال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ پس دواؤں کے ساتھ افیون کا استعمال بطور دوا نہ کہ بطور نشہ کسی رنگ میں بھی قابل اعتراض نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک شخص نے علم کے ساتھ یا بغیر علم کے ضرور کسی نہ کسی وقت افیون کا استعمال کیا ہوگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے تریاق الٰہی دواء خدا کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (نورالدین) کو حضور (مرزا قادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے۔ ...... اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٧ ص ٢١، نمبر ٦، مورخہ ١٩؍جولائی ١٩٢٩ء)
سنکھیا خوری کی مشق
جب مخالفت زیادہ بڑھی اور حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہونے شروع ہوئے تو کچھ عرصہ تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کئے تاکہ خدانخواستہ آپ کو زہر دیا جائے تو جسم میں اس کے مقابلے کی طاقت ہو۔ (یہ تھا ان کا توکل علیٰ اللہ کا کرشمہ)
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٥؍فروری ١٩٣٥ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ١٩٠)
برانڈی کی دو بوتلیں
حضور (مرزا قادیانی) نے مجھے لاہور سے بعض اشیاء لانے کے لئے ایک فہرست لکھ کر دی۔ جب میں چلنے لگا تو پیر منظور محمد صاحب نے مجھے روپیہ دے کر کہا کہ دو بوتل برانڈی کی میری اہلیہ کے لئے پلومر کی دکان سے لیتے آئیں۔
٤٩
میں نے کہا کہ اگر فرصت ملی تو لیتا آؤں گا۔ پیر صاحب فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں گئے اور کہا کہ حضور مہدی حسین میرے لئے برانڈی کی بوتلیں نہیں لائیں گے۔ حضور ان کی تاکید فرمادیں۔ حقیقتاً میرا ارادہ لانے کا نہ تھا۔ اس پر حضور اقدس (مرزا قادیانی) نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں مہدی حسین! جب تک تم برانڈی کی دو بوتلیں نہ لے لو لاہور سے روانہ نہ ہونا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لئے لانا لازمی ہے۔ میں نے پلومر کی دوکان سے دو بوتلیں برانڈی کی غالباً چار روپے میں خرید کر پیر صاحب کو لادیں۔ ان کی اہلیہ کے لئے ڈاکٹروں نے بتلائی ہوں گی۔
(اخبار الحکم قادیان ج ٣٩ نمبر ٢٥، مورخہ ٧ نومبر ١٩٣٦ء)
ٹانک وائن اور برانڈی کی حلت کا فتویٰ
پس ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے مریضوں سے کرواتے ...... یا خود بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن جو ایک ١؎ دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان کے کسی ممبر یا دوست کے لئے جو لمبی مرض سے اٹھا ہو اور کمزور ہو یا بفرض محال خود اپنے لئے بھی منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہو گیا۔ آپ کو ضعف کے دورے ایسے شدید پڑتے تھے۔ ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے۔ نبض ڈوب جاتی تھی۔ الیٰ قولہ تو اطباء یا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندریں حالات کیا ہو تو عین مطابق شریعت ہے۔ (مندرجہ اخبار پیغام صلح ج ٢٣ نمبر ١٥، مورخہ ١٤ مارچ ١٩٣٥ء، ج ٢٣ نمبر ٦٥، مورخہ ١١ اکتوبر ١٩٣٥ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ١٩١)
مرزائی یہ کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی غیر شرعی نبی ہیں۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کو مانتے ہیں تو پھر حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیوں گردانتے ہیں۔ جہاد کو حرام قرار دیا اور شراب کو حلال جو قطعی حرام ہے۔ (المرتب)
مرزا قادیانی کے گھر میں بے پردگی
بیان کیا حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔ اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ اسٹیشن
١؎ یہ طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو لندن سے سر بند بوتلوں میں آتی ہے۔
(سودائے مرزا ص ٣٩ حاشیہ)
٥٠
کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی تھی۔ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت حضرت سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں ان میں نے کہا میں تو نہیں کہتا۔ آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں س فرمایا جاو جی! میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔
ناظرین کرام! اس بات کو خاص طو اہتمام کیا گیا۔ یہاں تک آنحضرت ﷺ کی پردے کی تاکید تھی۔ حضرت عائشہؓ کو حضرت عبد کو کہا گیا۔
لیکن ملت مرزائیہ کا نبی اپنی بیگم صاح ان کی نمائش کر رہے ہیں۔
مرض الموت
خاکسار مختصراً عرض کرتا ہے کہ حضر تندرست تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہو اور پھر مجھے نیند آ گئی۔ رات کے پچھلے پہر مج اور بولنے کی آواز سے میں خود بیدار ہوا تو اسہال (ہیضہ) کی بیماری سے سخت بیمار ہیں ا لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں۔ جب میں نے گیا۔ کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس کہ یہ مرض الموت ہے۔
مرزا قادیانی کی وفات
برادران! جیسا کہ آپ صاحبان
کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب جن کی طبیعت غیور اور جوشی تھی۔ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر ہوتے ہیں۔ آپ حضرت سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جائے۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا۔ آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں۔ بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت نے فرمایا جاو جی! میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔
(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ٦٣ ، روایت نمبر ٧٧)
ناظرین کرام! اس بات کو خاص طور پر نوٹ فرمالیں کہ اسلام میں پردے کا کس قدر اہتمام کیا گیا۔ یہاں تک آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہراتؓ اور صحابہ کرامؓ کو باہم سخت ترین پردے کی تاکید تھی۔ حضرت عائشہؓ کو حضرت عبداللہ بن ام مکتومؓ (جو نابینا تھے) سے بھی پردہ کرنے کو کہا گیا۔
لیکن ملت مرزائیہ کا نبی اپنی بیگم صاحبہ کو لے کر گذرگاہ عام پر ہوا خوری کے بہانے سے ان کی نمائش کر رہے ہیں۔
مرض الموت
خاکسار مختصراً عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ٢٥ مئی ١٩٠٨ء یعنی پیر کی شام کو بالکل تندرست تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ میں اپنے بستر پر جاکر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آ گئی۔ رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب مجھے جگایا گیا یا شاید لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سے میں خود بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اسہال (ہیضہ) کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے اور ادھر ادھر معالج اور دوسرے لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں۔ جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود کے اوپر ڈالی تو میرا دل بیٹھ گیا۔ کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ کبھی دیکھی تھی اور میرے دل پر یہی اثر پڑا کہ یہ مرض الموت ہے۔
(سیرۃ المہدی ص ٩ حصہ اوّل روایت نمبر ١٢)
مرزا قادیانی کی وفات
برادران! جیسا کہ آپ صاحبان کو معلوم ہے۔ حضرت امامنا ومولانا حضرت مسیح موعود
٥١
جو مہدی معہود (مرزا قادیانی) کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو بڑھ جاتی تھی۔ حضور کو یہ بیماری بہ سبب کھانا نہ ہضم ہونے کی تھی اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی اور عموماً مشک وغیرہ کے استعمال سے واپس آ جایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ٢٥ مئی کی شام جب آپ کا سارا دن پیغام صلح کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی۔ مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے ایک دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہو گئی اور مجھے اور خلیفہ نور الدین صاحب کو طلب فرمایا۔ مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی۔ نیند آنے سے آرام ہو جائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے۔ تقریباً دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آ گیا۔ جس سے نبض بالکل بند ہو گئی اور حضرت مولانا خلیفہ المسیح مولوی نور الدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرزا یعقوب بیگ صاحب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے۔ آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا۔ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لئے ہم پاس ہی کھڑے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوا ایک بجے صبح ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جا ملی۔ ”انا لله وانا اليه راجعون“
(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٢٨ مئی ١٩٠٨ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ١٩٨)
مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے ہوئی (مرزا قادیانی کا سسر میر ناصر نواب کہتا ہے)
حضرت (مرزا قادیانی) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ...... میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔
(مندرجہ حیات ناصر ص ١٤)
٥٢
مرزا غلام احمد قادیانی کی سرگزشت کا اجمالی جائزہ
ناظرین کرام خود ملاحظہ فرمائیں کہ جو انسان اس قدر بیماریوں کا گھر ہو۔ بھلا اس کی دماغی و ذہنی قوت کا توازن کس قدر برابر رہ سکتا ہے؟ جس کا دماغ خراب، جس کا حافظہ کمزور، جس کے اعصاب ضعیف، جس کو دوران سر، جس کا ہاضمہ خراب، جس کی قوت مردی کالعدم غرضیکہ جو انسان اس قدر امراض شتی کا مجموعہ ہو وہ کیا نبوت ورسالت کے فرائض انجام دے گا؟ ان تمام مصائب و آلام کے ہوتے ہوئے جو دعوائے نبوت کرے تو اس کے دماغ کے دیوالیہ پن کا کھلا ثبوت ہے۔
کاش امت مرزائیہ اگر اسی بات پر غور کرتی تو شاید اس فتنہ ارتداد سے بچ کر دولت اسلام سے سرفراز ہو سکتی۔ لیکن یہ اسلام اور مسلمانوں کی ضد میں آکر عقل و حواس کھو بیٹھی ہے۔ ان کو سننے کے لئے کان بھی ہیں اور دیکھنے کے لئے آنکھیں بھی ہیں۔ لیکن ان کے دل اندھے ہو چکے ہیں اور کان بہرے۔ ”فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمل قلوب التی فی الصدور“
مرزا غلام احمد قادیانی کی عبرتناک موت
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریات میں ہیضے کو قہر الہی کا ایک نشان قرار دیتے تھے جو سرکشوں پر بطور عذاب نازل ہوتا ہے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب (مرحوم) سے جو ان کے مقابلے ہوئے ان میں بھی انہوں نے یہی بددعا کی کہ جو کاذب ہو اس پر ہیضے وغیرہ کی شکل میں موت نازل ہو۔
اور آج تک قادیانی صاحبان کا ہیضہ کے متعلق یہی عقیدہ ہے۔ مگر خدا کی قدرت کہ اس مرض ہیضہ میں خود مرزا قادیانی نے انتقال کیا اور ہیضہ بھی ایسا تیز کہ اچھے خاصے تصنیف تالیف میں مشغول تھے۔ شام کو سیر و تفریح کر کے آئے۔ رات کو بیوی صاحبہ کے ساتھ کھانا کھایا۔ یکا یک دست اور قے شروع ہوئیں۔ برابر علاج کیا، چند گھنٹوں میں خاتمہ ہو گیا۔ مقام عبرت ہے۔
قادیانی حضرات دل میں شرمندہ ہیں
قادیانی صاحبان اس واقعہ سے دل میں تو شرماتے ہیں۔ لیکن زبان سے جھٹلاتے ہیں کہ مرزا قادیانی گویا اسہال کی مرض میں فوت ہوئے۔ ہیضہ سے فوت نہیں ہوئے۔
٥٣
اس غیر متوقع واقعہ سے قصر قادیانیت پر ایک ناقابل برداشت گولہ پڑا۔ اگر مرزا قادیانی کو صادق مانتے ہیں تو معذب ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ ہیضہ کے عذاب میں مرا۔ اگر کاذب گردانتے ہو تو پھر ”لعنة الله على الكاذبين“ کا مصداق ٹھہرتے ہیں۔
بوجھ وہ سر پہ لیا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھے
تین دور
مرزا غلام احمد قادیانی کی علمی اور مذہبی زندگی کے تین نمایاں دور نظر آتے ہیں۔ پہلا دور ...... وہ امت محمدی کے مبلغ کی حیثیت سے ١٨٨٠ء میں شروع کرتے ہیں۔ جب کہ براہین احمدیہ کے سلسلے میں وہ اپنی دینی خدمت گذاری کا اعلان کرتے ہیں۔ لیکن خیالات میں ترقی کرتے کرتے دس سال کے بعد (١٨٩١ء میں) وہ مسیح موعود ہونے کا باضابطہ اعلان کرتے ہیں۔
یہاں سے دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح مزید ترقی کرتے کرتے دس سال ١٩٠١ء میں وہ باقاعدہ نبی کے مرتبہ کو پہنچ جاتے ہیں اور یہاں سے تیسرا دور شروع ہوتا ہے۔ جو آٹھ سال میں ترقی کرتے کرتے نبوت کے انتہائی مقام تک پہنچ جاتا ہے۔
قادیانی صاحبان بالعموم صرف آخری دو دوروں پر زور دیتے ہیں۔ لیکن فی الجملہ پہلا دور بھی قابل شمار ہے۔ پہلے دور کے اختتام اور دوسرے دور کے آغاز کا مرزا قادیانی خود یوں اعلان فرماتے ہیں: ”پھر میں تقریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز سے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدے پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارے میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
تیسرا دور جس میں مرزا قادیانی بخیر و خوبی نبی بن جاتے ہیں۔ اس کی تصریح مرزا قادیانی کے صاحبزادے میاں محمود احمد خلیفہ قادیانی یوں فرماتے ہیں: ”غرض کہ مذکورہ بالا حوالہ سے صاف ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ١٨٩٩ء سے شروع
٥٤
ہوئی اور اکتوبر ١٩٠٢ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت، لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت فقرہ دو اور تین سے ثابت ہے۔ آپ کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں ..... اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں...... ہاں ایسے نبی جن کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت ملی ١؎ ۔ پس ١٩٠٢ء سے پہلے کی کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا۔“
(القول الفصل ص ٢٤، از محمود احمد قادیانی)
بعد کو پتہ چلا کہ ١٩٠١ء میں مرزا قادیانی کی نبوت کا دور شروع ہو چکا تھا۔ چنانچہ پھر میاں محمود احمد قادیانی تصحیح نامہ کرتے ہیں: ”اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے اور ١٩٠٠ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ پس یہ ثابت ہے کہ ١٩٠١ء کے پہلے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے۔ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٢١)
حاصل کلام یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی مذہبی زندگی کے تین مستقل دور ہیں۔ پہلے دور میں ہمدرد اسلام، دین دار مسلمان، دوسرے دور میں مہدی موعود اور مسیح موعود، اور تیسرے دور میں کھلم کھلا نبی اور رسول اللہ۔ (للمرتب)
واضح ہو کہ پہلے دور سے دوسرے دور تک مرزا قادیانی کو صرف چار منازل پیش آئے۔ یعنی اوّل حضرت مسیح سے ایک فطری مناسبت محسوس ہوئی۔ اس کے بعد مرزا قادیانی مثیل بنے۔ پھر مریم بنے۔ پھر ابن مریم بن کر مسیح موعود ہو گئے۔ لیکن تیسرے دور تک جانے میں بہت مراحل طے کرنے پڑے۔ یعنی ولایت، مجددیت، محدثیت، لغوی نبوت، اعزازی نبوت، اصطلاحی نبوت، جزوی نبوت، ظلی نبوت، بروزی نبوت، امتی نبوت، بالآخر خالص نبوت کہ اس کی وحی قرآن کریم کے مساوی اور ہم پلہ قرار پائی۔ (جیسا کہ آئندہ آئے گا) پھر مکمل نبوت کہ اس کے بغیر نبوت محمدی ناقص رہ جائے۔ (توبہ توبہ) اور لازمی نبوت کہ اس کے انکار سے ہر مسلمان کافر بن جائے۔ بلکہ تمام ناواقف اور بے خبر مسلمان بھی اس کی برکت سے خود بخود کافر ہو جائیں......
١؎ حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ وغیرہم من الانبیاء علیہم السلام سبھی کو آنحضرت ﷺ کے طفیل نبوت ملی ہے تو گویا وہ سب انبیاء کے برابر ٹھہرے۔
٥٥
ختم نبوت کی کیسی انوکھی تفسیر اور ارتقائے نبوت کی کیسی تصویر ہے۔ تیرے مقام پر فضائل کا کیا کہنا۔ اولیاء تو کجا انبیاء بھی نظر نہیں آتے۔ جیسا کہ ؎
من چہ روائے مصطفیٰ دارم
سے ظاہر ہے۔ متعدد مقامات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابل آتے ہیں اور آنحضرت ﷺ پر اپنی جزوی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی مذہبی زندگی کے تفصیلی دو دور
واقعہ یہ ہے کہ قادیانی مذہب کا ایک بڑا اصول ہے۔ جس سے عام تو کیا خاص لوگ بھی بے خبر ہیں۔ وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مذہبی زندگی کے دو دور ہیں۔ پہلے دور میں تو وہ انکسار جتاتے ہیں۔ خوب اعتقاد اور عقیدت مند نظر آتے ہیں۔ انبیاء، اولیاء سب کو اپنا بڑا مانتے ہیں۔ سب کی عظمت کرتے ہیں۔ اتباع کا دم بھرتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
پہلا دور
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ کا والا نامہ پہنچا۔ خداوند کریم آپ کو خوش وخرم رکھے۔ آپ دقائق متصوفین میں سوالات پیش کرتے ہیں اور یہ عاجز مفلس ہے۔ محض حضرت ارحم الراحمین کی ستاری نے اس ہیچ اور ناچیز کو مجلس صالحین میں فروغ دیا ہے۔ ”ورنہ من آنم کہ من دانم“ کاروبار قادر مطلق سے سخت حیرانی ہے کہ نہ عابد نہ عالم نہ زاہد، کیونکر اخوان مؤمنین کی نظر میں بزرگی بخشتا ہے۔ اس کی عنایت کی کیا ہی بلند شان ہے اور اس کے کام کیسے عجیب ہیں۔
زما کہتراش چہ آمد پسند
(مندرجہ مکتوبات احمدیہ ج١ ص ١٠)
میرا اعتقاد ہے کہ میرا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں اور میں کوئی کتاب بجز قرآن کے نہیں رکھتا اور میرا کوئی پیغمبر بجز محمد مصطفیٰ ﷺ کے نہیں جو کہ خاتم النبیین ہے۔ جس پر خدا نے بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں اور اس کے دشمنوں پر لعنت بھیجی ہے۔ گواہ رہ کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے اور رسول ﷺ کی حدیث جو کہ چشمۂ حق و معرفت ہے۔ میں پیروی کرتا ہوں
٥٦
اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں ۔ جو اس خیر القرون میں باجماع صحابہ صحیح قرار پائی ہیں۔ نہ ان پر کوئی زیادتی کرتا ہوں ۔ نہ ان میں کوئی کمی اور اس اعتقاد پر میں زندہ رہوں گا ۔ اسی پر میرا خاتمہ اور انجام ہوگا اور جو شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے یا کسی اجماعی عقیدے کا انکار کرے ۔ اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو ۔
(مندرجہ انجام آتھم ص ١٤٤،١٤٣،خزائن ج ١١ص ایضا)
میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن وحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ختم المرسلین کے بعد کسی اور مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی ...... میری اس تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے ۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ص ٢٣٠،٢٣١ ، بحوالہ قادیانی مذہب ص ٤٢)
یہ فتویٰ خود مرزا قادیانی کا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت ورسالت کا دعویٰ کرنا صریح کفر و ارتداد ہے ۔ گویا مرزا قادیانی ہی کے فتوے سے خود مرزا قادیانی کافر ہوئے ۔ ہمیں سخت حیرانی ہے کہ امت مرزائیہ یوم آخرت سے آنکھیں بند کر کے کیوں مرزا قادیانی کی عامیانہ تقلید میں چلی جا رہی ہے؟ احکام اسلام کی مخالفت میں اس قدر اندھا دھند چلنا کہ نفس اسلام سے ہی دست بردار ہو جانا آخر کون سی عقلمندی ہے ۔ بہرحال جہاں مرزا قادیانی نے لاکھوں جھوٹ بولے وہاں ایک سچی بات بھی کہہ دی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے ۔ ”ان الکذوب قد یصدق“
ختم نبوت پر ایمان و اصرار
کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم وصاحب فضل نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر اپنے قول ”لا نبی بعدی “ میں واضح طور پر فرمادی اور اگر ہم اپنے نبی کے بعد ...... کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ...... ہم باب وحی بند ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں۔ جیسا کہ
١؎ لیکن بالآخر کفر مرزا سے یہ پیش گوئی غلط اور خلاف واقعہ ثابت ہوئی اور مرزا قادیانی کاذب قرار پائے ۔
٥٧
مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسول کے بعد نبی کیونکر آ سکتا ہے۔ درآں حالیکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرمادیا۔
(حمامتہ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث ”لا نبی بعدی“ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔
(کتاب البریہ ص ١٩٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧، ٢١٨)
خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے
ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بہ تصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل علیہ السلام بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔
(ازالہ اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
اس سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی پوری امت کو خدائے صادق الوعد ہونے پر ایمان نہیں۔ تب ہی تو اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کے ماننے والوں نے اس کی تائید کی۔ (لمرتب)
خاتم النبیین کے بعد کسی رسول کا آنا جائز نہیں
قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور اب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے۔ مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔
(ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)
مرزا قادیانی کے بیان سے معلوم ہوا کہ ان کا دعوائے نبوت ورسالت ناجائز وممنوع ہے اور چونکہ اب آمد وحی قطعی طور پر مسدود ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے آئندہ جس وحی کا دعویٰ
٥٨
کیا وہ وحی منجانب رحمٰن تو قطعاً نہیں۔ ہاں ممکن ہے کہ منجانب شیطان ہو۔ ”وكذلك جعلنا لكل نبي عدواً شيطين الانس والجن يوحي بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا (انعام: ١١٢)“ (للمرتب)
نبی علوم بذریعہ جبرائیل علیہ السلام حاصل کیا کرتا ہے
رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ نبی دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)
مرزا قادیانی کے گذشتہ حالات سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس نے جو کچھ حاصل کیا وہ نیم ملاؤں یا انگریزی خوانوں سے حاصل کیا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے بیان سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی ایک کذاب اشر ہیں۔ (للمرتب)
نبیﷺ کے بعد جبرائیل علیہ السلام کا وحی لے کر زمین پر آنا مستلزم محال ہے
اور ظاہر کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے...... اور جو مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٤)
مرزا قادیانی کے مضمون سے معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی انسان پر وحی ربانی کا نزول محال ہے جو اس کا دعویٰ کرے وہ کذاب ومفتری ہے۔ (للمرتب)
اللہ کو شایاں نہیں کہ کسی نئے نبی کو بھیجے
اور اللہ کو شایاں نہیں کہ خاتم النبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایاں کہ سلسلہ نبوت کو دوبارہ از سر نو شروع کر دے بعد اس کے کہ اسے قطع کر چکا ہو۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ٣٧٧)
میں ختم نبوت کا قائل ہوں، مدعی نبوت کو (خارج از اسلام) سمجھتا ہوں
ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و جماعت کا ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا (جامع مسجد دہلی) میں
٥٩
کرتا ہوں کہ جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔
(مندرجہ تبلیغ رسالت حصہ دوم ص ٤٤ ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)
خاتم النبیین کے بعد مدعی نبوت پر خدا کی لعنت
ہم بھی مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ“ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٢ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)
خاتم النبیین کے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے
”وما كان لى ان ادعى النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم كافرين“ مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں کی جماعت سے جاملوں۔
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
مرزا قادیانی آنجہانی کی مذہبی زندگی کا یہ دور اوّل تھا۔ اس میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا وہ تفصیلاً قارئین حضرات کے سامنے موجود ہے۔ اب ان کی مذہبی زندگی کے دور ثانی کے متعلق کچھ اقتباسات درج کئے جاتے ہیں تاکہ دونوں زندگیوں میں واضح فرق معلوم ہو سکے۔
دوسرا دور
لیکن دوسرے دور میں حالت بالکل برعکس ہے۔ اوّل تو غلام احمد بن جاتے ہیں۔ پھر بڑھتے بڑھتے تقریباً تمام انبیاء و مرسلین سے صراحۃً یا کنایۃً بڑھ جاتے ہیں۔ بڑے سے بڑے دعوے زبان پر لاتے ہیں۔ اچھے اچھے کو نظروں سے گراتے ہیں اور اپنے واسطے انتہائی عقیدت کے طالب نظر آتے ہیں۔ دونوں حالتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قادیانی صاحبان اپنی تبلیغ میں تمام تر دور اوّل کی خوش عقیدگیاں پیش کرتے ہیں اور ان میں کافی تراوٹ ہے۔ ناواقف اور سادہ لوح مسلمان ان کی خوش عقیدگیوں سے خوش ہو کر خود ان کی عقیدت میں پھنس جاتے ہیں اور جب اچھی طرح متاثر ہو کر قابو میں آجاتے ہیں تو وہ ان کو دور دوم کے اعتقادات پر لاتے ہیں۔ پھر جو چاہتے ہیں منواتے ہیں، بیان کی خوب گت بناتے ہیں۔ قادیانی تبلیغ کا یہ بڑا گر ہے۔ اچھے اچھے بے خبر ہیں۔ تحقیق کیجئے۔ پتہ چلتا ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ یہ دانا
٦٠
دشمنوں کا طائفہ جب کبھی بھی کسی کو مرتد ہو پیش کرتا ہے جن کا تعلق مرزا قادیانی کی غیر کے آخری دور ارتداد و الحاد سے متعلق ہیں اور اور نئے رنگروٹوں سے مخفی رکھتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی مذہبی زندگی کے ملاحظہ کرنے کے بعد بانی فرقہ ضالہ و مضلہ ”اکابر مجرمیہا“ کی کتابوں سے صاف پوشیدہ رکھے جاتے ہیں ان کو آئندہ صفحات پر قادیانیت کی چند معتبر کتب موجود ہیں۔ ہم کو و ترتیب کے ساتھ پیش کریں۔ تاکہ ناظرین کو و اسلام سے ہے اور کن بنیادی عقائد پر مبنی ہے
نبوت کا ایقان و اعلان
جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلا کلامی سے مشرف ہوں اور میرے ساتھ بکثرت ہے۔ بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کر جب تک انسان کو ان کے ساتھ خصوصیت کا امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھ اور اگر میں اس سے انکار کروں تو می رکھتا ہے تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں؟ میں ا جاؤں۔
(مرزاغلام احمد قادیانی کا ط
یہ مرزا قادیانی کا آخری اعلان ہے۔ ہے۔ شرعی یا غیر شرعی کی کوئی قید نہیں۔ میں رسول اور مرسل اور نبی ہوں چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب
دشمنوں کا طائفہ جب کبھی بھی کسی کو مرتد ہونے کی دعوت دیتا ہے تو دورِ اوّل کی وہ چند نمائشی خدمات پیش کرتا ہے جن کا تعلق مرزا قادیانی کی غیر کافرانہ زندگی سے ہے اور وہ مسلمہ کفریات جو زندگی کے آخری دور ارتداد و الحاد سے متعلق ہیں اور جن پر مرزا قادیانی آنجہانی کا خاتمہ ہوا۔ اس کو عوام اور نئے رنگروٹوں سے مخفی رکھتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی مذہبی زندگی کے دورِ اوّل کے متعلق مناسب اور ضروری مواد کو ہدیہ ناظرین کرنے کے بعد بانی فرقہ ضالہ ومضلہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے مشہور مستند ”اکابرِ مجریہا“ کی کتابوں سے صاف صاف اور مخصوص اعتقادات جو عام طور پر عوام سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں ان کو آئندہ صفحات پر درج کیا جائے گا۔ اس وقت ہمارے سامنے تحریک قادیانیت کی چند معتبر کتب موجود ہیں۔ ہم کوشش کریں گے کہ ان کے مضامین موزوں عنوانات و ترتیب کے ساتھ پیش کریں۔ تاکہ ناظرین کو اندازہ ہو جائے۔ اس مذہب کا تعلق کس قدر قرآن و اسلام سے ہے اور کن بنیادی عقائد پر مبنی ہے۔
نبوت کا ایقان واعلان
جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے۔ بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو ان کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو۔ دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔
اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا…… اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں؟ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔
(مرزا غلام احمد قادیانی کا خط مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩٧)
یہ مرزا قادیانی کا آخری اعلان ہے۔ اسی دعویٰ پر مرا۔ اس میں مطلق نبوت کا دعویٰ ہے۔ شرعی یا غیر شرعی کی کوئی قید نہیں۔
میں رسول اور مرسل اور نبی ہوں
چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے ایک اعتراض پیش ہوا
کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨ ص٢٠٦)
ڈیڑھ سو پیش گوئی
پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جبکہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کروں۔ یا اس کے سوا کسی سے ڈروں۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص٦، خزائن ج١٨ ص٢١٠)
شیطان ہے جو مجھے نبی نہ مانے
خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔.....لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔
(چشمہ معرفت ص٣١٧، خزائن ج٢٣ ص٣٣٢)
خدا نے اور نبیوں سے بڑھ کر میری تائید کی ہے
خدا نے میرے ہزار ہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں۔ وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص١٤٩، خزائن ج٢٢ ص٥٨٧)
میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نبی ہوں اور میرے معجزات تین لاکھ ہیں
میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔.....اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص٦٨، خزائن ج٢٢ ص٥٠٣)
٦٢
قادیان میں رسول کی بعثت
سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں
کرشن اور زرتشت نے مرزا قادیانی کا نام
اگر کوئی شخص عقلی یا طبعی طور پر اس بات پر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے۔ کیونکہ یہ ممکن کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے دانیال نبی رکھے خبریں دی جارہی ہوں۔ لیکن با وجود ان سب شہادتوں
مرزا قادیانی حقیقی نبی
در حقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی کے بتائے ہوئے معنی کے رو سے جو نبی ہو اور نبی کہلائے تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جاتے رو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔ آج بعض حکام اپنی جہالت یا ابن الوقتی کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ غیر حقیقی یا ظلی نبی ہے۔ یہ قادیانی ہیں۔
شریعت کی رو سے بھی مرزا قادیانی نبی تھے
پس اسلامی شریعت نبی کے جو معنی کرتی ہے مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) رسول اللہ اسرائیلی نبی (عیسیٰ علیہ السلام) سے کم نہیں اور ہر طرح
میاں محمود احمد قادیانی کا اعلان
میں پبلک اور حکام کی اطلاع کے لئے یہ بات
٦٣
قادیان میں رسول کی بعثت
سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
کرشن اور زرتشت نے مرزا قادیانی کا نام نبی رکھا ہے
اگر کوئی شخص مخلی بالطبع ہو کر اس بات پر غور کرے گا....... روز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے۔ کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے دانیال نبی رکھے اور ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جارہی ہوں۔ لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ پھر غیر نبی کا نبی ہی رہے۔
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٩٨، ١٩٩)
مرزا قادیانی حقیقی نبی
در حقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنی کے رو سے جو نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو تمام کمالات نبوت اس میں حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنی کی رو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔
(القول الفصل ص ١٢، مرزا محمود قادیانی)
آج بعض حکام اپنی جہالت یا ابن الوقتی کی وجہ سے یہ کہہ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ غیر حقیقی یا ظلی نبی ہے۔ یہ قادیانیوں کی تحریک ہے جس کو یہ لوگ چلا رہے ہیں۔
شریعت کی رو سے بھی مرزا قادیانی نبی تھے
پس اسلامی شریعت نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت مرزا قادیانی ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی ہیں۔
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٧٤)
مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہیں
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) رسول اللہ ....... اور نبی اللہ جو کہ اپنی ہر ایک شان میں اسرائیلی نبی (عیسیٰ علیہ السلام) سے کم نہیں اور ہر طرح بڑھ چڑھ کر ہے۔
(کشف الاختلاف ص ٧)
میاں محمود احمد قادیانی کا اعلان
میں پبلک اور حکام کی اطلاع کے لئے یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم حضرت مسیح
٦٣
موعود (مرزا قادیانی) کو اللہ تعالیٰ کا مقدس نبی جری اللہ فی حلل الانبیاء اور بنی نوع انسان کا نجات دہندہ مانتے ہیں..... اور تمام وہ عقیدت مندی اور محبت جو کسی ہندو کو حضرت کرشن یا حضرت رام چندر جی سے یا کسی عیسائی کو حضرت مسیح ناصری سے یا کسی یہودی کو حضرت موسیٰؑ سے ہو سکتی ہے وہ اپنے پورے کمال کے ساتھ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ رکھتے ہیں ۔
(الفضل قادیان نمبر ١٠ مورخہ ١٢ جولائی ١٩٣٥ء)
مرزائیو ! تم جو چاہو وہی عقیدت مندی رکھو ! مگر ہر مسلمان مرزا قادیانی کے ساتھ وہی عقیدہ رکھتا ہے جو مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، سجاح بنت حویلد بلکہ فرعون مصر، شداد و ہامان اور ابو جہل و غیرہم من الکفرۃ الفجرۃ کے ساتھ رکھتا ہے۔ جس طرح وہ اللہ اور اس کے رسولوں سے باغی تھے۔ اسی طرح دجال قادیان بھی باغی ہے جو ان کا حشر وہی اس کا حشر۔ (المرتب)
میں خود محمد رسول اللہ ہوں (توبہ توبہ)
اور میں ظلی طور پر محمدﷺ ہوں۔ اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہر حال محمدﷺ ہی نبی رہے نہ کوئی اور۔
( ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٥ ، بحوالہ اکفار الملحدین ص ١٢٠)
تناسخ کا عقیدہ
اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت ’’وآخرین منھم‘‘ سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے..... جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔
(کلمۃ الفصل مندرجہ اخبار ریویو آف ریلیجنز ج ١٣ ص ١٥٨ نمبر ٤)
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
٦٤
مصطفے مرزا صدی چودھویں کہ جس پہ وہ محمد بنے ہے اب احمد حقیقت کھلی کہ جب مصطفے
قادیانی سلام
اے امام سر بدرالدجی مہدی عہد احمد مجتبی مطلع قادیاں ہو کے شمس تیرے آنے مظہر الانبیاء
تمام امت پر فضیلت
اسلام میں اگرچہ ہزار ہا ولی اور ا وہ جو مسیح کے نام پر آنے والا تھا وہ موعود تھا۔
محبت رسول اللہﷺ کا زعم باطل
بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تک امت محمدیہ میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا فرمانبردار ہو ...... جیسا کہ حضرت مسیح موعود
مصطفےٰ مرزا
کہ جس پہ وہ بدر الدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت
ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفےٰ مرزا بن کے آیا
(اخبار الفضل قادیان ج١٣ ص١١٤،مورخہ ٢٨ مئی ١٩٢٨ء)
قادیانی سلام
سر بدر الدجیٰ سلام علیک
مہدی عہد عیسیٰ موعود
احمد مجتبیٰ سلام علیک
مطلع قادیاں پہ تو چمکا
ہو کے شمس الہدیٰ سلام علیک
تیرے آنے سے سب نبی آئے
مظہر الانبیاء سلام علیک
(اخبار الفضل یکم جولائی ١٩٣٠ء، ج ١٧ ص ١٠٠)
تمام امت پر فضیلت
اسلام میں اگرچہ ہزار ہا ولی اور اہل اللہ گزرے ہیں۔ مگر ان میں کوئی موعود نہ تھا۔ لیکن وہ جو مسیح کے نام پر آنے والا تھا وہ موعود تھا۔
(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣١)
محبت رسول اللہ ﷺ کا زعم باطل
بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تیرہ سو سال میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے آج تک امت محمدیہ میں کوئی ایسا انسان نہیں گزرا جو آنحضرت ﷺ کا ایسا فدائی اور ایسا مطیع اور ایسا فرمانبردار ہو ...... جیسا کہ حضرت مسیح موعود تھے۔
(حقیقت النبوۃ ص ٥)
٦٥
العیاذ باللہ صدیق و فاروق سے بھی محبت و اطاعت میں بڑھ گئے۔ (مرتب)
حضرت مولانا عبدالقادر جیلانیؒ کی تنقیص
سید عبدالقادر جیلانی نے اپنے آپ کو حال کی کیفیت بیان کرنے تک رکھا۔ کیونکہ وہ مامور نہ تھے مجدد تھے۔..... مگر توحید کو اصولی طور پر بیان کرنا ان کے لئے نہ تھا۔ بلکہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے لئے رکھا گیا تھا۔ جو مامور کر کے بھیجے گئے تھے۔
(الفضل قادیان ص ٧ ج ١٣ نمبر ٣٩، مورخہ ٢٠ اکتوبر ١٩٢٥ء)
امام حسینؓ پر فضیلت
اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا قادیانی) ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
حضرت علیؓ اور اہل بیت کی توہین
یہ سوال کہ حضرت علیؓ نبی کیوں نہ ہوئے اور دیگر اہل بیت نے یہ مرتبہ کیوں نہ پایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر حضرت علیؓ یا دیگر اہل بیت کامل طور پر آنحضرتﷺ کے علوم اور معارف کے وارث ہوتے اور ضرورت زمانہ بھی متقاضی ہوتی تو ضرور وہ نبوت کا درجہ پاتے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ١٠٧، مورخہ ١٨ اپریل ١٩٠٦ء)
زندہ اور مردہ علیؓ (توبہ توبہ)
پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔
(اخبار الحکم قادیان ج ٤ نمبر ٣٦ ص ٢٦، مورخہ ١٠ نومبر ١٩٠٠ء، ملفوظات احمدیہ ج ٢ ص ١٤٢)
کئی نبیوں سے افضل
اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو جو بلحاظ مدارج کئی نبیوں سے بھی افضل ہیں
٦٦
اور صرف محمدؐ کے نائب ہو کر ایسے مقام پر پہنچے کہ نبیوں کو اس مقام پر رشک ہے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٩٣، مورخہ ٥؍ فروری ١٩٣٣ء)
آنحضرتﷺ کے سوا تمام انبیاء سے افضل
سوال....... کیا صاحب شریعت نبی کو غیر شرعی نبی پر فضیلت نہیں ہوتی؟ صاحب شریعت نبی تو معلم ہوتا ہے۔
جواب....... (از میاں محمود) اگر صاحب شریعت غیر شرعی نبی کا معلم ہو تو اسے اس پر فضیلت ہوگی۔ ورنہ ایک غیر شرعی نبی صاحب شریعت نبی سے بڑھ سکتا ہے۔ جب مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ پہلے سب انبیاء بھی رسول کریمﷺ سے فیضان حاصل کر رہے تھے۔ ادھر اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ میں کمالات محمدیہ کا بروز ہوں جو آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا....... تو صاف ظاہر ہو گیا کہ آپ کا درجہ رسول کریمﷺ کے سوا تمام انبیاء سے بلند ہے۔
(الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ١٤٥، مورخہ ٦؍ جون ١٩٣٣ء)
حضرت صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کی شان میں گستاخی
مجھے اہل بیت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے خاص محبت اور عاشقانہ تعلق تھا۔ مجھے اس وقت بھی تمام خاندان مسیح موعود کے ساتھ دلی ارادت ہے اور میں ان سب کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتا ہوں....... میرے ایک محبّ تھے جو اس وقت مولوی فاضل بھی ہیں اور اہل بیت مسیح موعود کے خاص رکن رکین ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی بھی اتنی پیش گوئیاں نہیں جتنی مسیح موعود کی ہیں۔ (العیاذ باللہ)
پھر انہوں نے ایک اور بھی ایسا دکھ دینے والا فقرہ بولا کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کیا تھے۔ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے لائق بھی نہ تھے۔
(المہدی ص ٤٢،٤١ ص ٥٧)
حضرات انبیاء علیہم السلام کی توہین
من بعرفاں نہ کمترم ز کسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام
٦٧
ہر کہ گوید دروغ است لعین
(نزول المسیح ص٩٩، ١٠٠، خزائن ج١٨ص٤٧٧، ٤٧٨)
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
(نزول المسیح ص١٠٠، خزائن ج١٨ص٤٧٨)
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(تریاق القلوب ص٦، خزائن ج١٥ص١٣٢)
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٨؍فروری ١٩٣٠ء ج١٧ نمبر١٥)
اپنے لئے نبوت کاملہ کا ادعاء باطل
اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں احمدیہ لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے: ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“ اور یہ دعویٰ امت محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص٦٧، ٦٨، خزائن ج٢٢ص٥٠٢، ٥٠٣)
غلام احمد قادیانی سب نبیوں سے بڑا ہے
آپ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مرزا قادیانی نبی تھے اور ان کا درجہ بھی رسول کریم ﷺ یا دیگر انبیاء علیہم السلام کے برابر ہے۔ مرزا قادیانی کی نبوت کے لئے قرآن شریف میں بھی کہیں ذکر ہے۔ اس سوال کا جو درحقیقت تین سوالوں پر مشتمل ہے یہ جواب ہے۔
- الف...... حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی ہے۔
- ب...... آپ کا درجہ مقام کے لحاظ سے رسول کریم کا شاگرد آپ کا ظل ہونے کا
٦٨
تھا۔ دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے بہتوں سے آپ بڑے تھے۔ ممکن ہے سب سے بڑے ہوں۔ ج...... آپ کی نبوت کا ذکر قرآن کریم میں متعدد جگہ پر آیا ہے۔ لیکن اسی صورت میں جس طرح کہ پہلے انبیاء کا پہلی کتابوں میں ہوا کرتا تھا۔
(مکتوب میاں محمود الفضل قادیان مورخہ ١٩؍اپریل ١٩٢٧ء نمبر ٨٥، ج ١٣)
محمد رسول اللہ مرزا قادیانی (العیاذ باللہ)
مسیح موعود کی جماعت و آخرین منہم کی مصداق ہونے سے آنحضرت ﷺ کے صحابہ میں داخل ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ ہونے کے لئے صحابہ نے آنحضرت ﷺ کا وجود پایا۔ پس صحابہ بننے کی شان ایک امتی پر ایمان لانے کا نہیں ہو سکتی اور احمدی بننے کا مرتبہ احمد پر ایمان لانے سے ہو سکتا ہے نہ کسی غلام احمد پر۔ ایک غلطی کا ازالہ (اشتہار) میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم “ کے الہام میں محمد رسول اللہ سے مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔ اب اس الہام سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔
- ١...... یہ کہ آپ (مرزا قادیانی) محمد ہیں اور آپ کا محمد ہونا بلحاظ رسول اللہ ہونے
کے ہے نہ کسی اور لحاظ سے۔
- ٢...... آپ کے صحابہ آپ کی اس حیثیت سے محمد رسول اللہ کے ہی صحابہ ہیں۔
جو ”اشداء علی الکفار رحماء بینھم “ کی صفت کے مصداق ہیں۔
(حقیقت النبوۃ ص ٢٦٢)
قرآن میں جو احمد کا لفظ آیا ہے اس سے میں ہی مراد ہوں
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا یا آنحضرت ﷺ کا؟ اور کیا سورہ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہوگا۔ بشارت دی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت (اسمہ احمد) مسیح کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں۔ لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھ جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا لفظ جو قرآن کریم میں آیا ہے وہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق ہی ہے۔
(انوار خلافت ص ١٨)
٦٩
آنحضرت ﷺ پر فضیلت کا دعویٰ
غسا القمران المشرقان اتنکر
اس (آنحضرت ﷺ) کے لئے صرف چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا کیا تو انکار کرے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
مرزا تشریعی نبوت کا مدعی ہے
مرزا قادیانی اپنی تشریعی نبوت کا دعویٰ (اربعین ص ٦ نمبر ٤) پر کھلے الفاظ میں کرتے ہیں۔ اگر کہو کہ صاحب الشریعت افتراء کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری؟ تو اول تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہوگا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً ”قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذالك اذكى لهم“ یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی...... اور اس پر ٢٣ برس کی عمر گزر گئی...... اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی...... اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”ان هذا لفي الصحف الاولى صحف ابراهيم وموسیٰ“ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے کہ جس میں باستیفاء امر ونہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر تورات یا قرآن میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشیاں ہیں۔
(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)
اسی کتاب کے حاشیہ ص ٧ میں لکھتے ہیں کہ چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہو۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ایک الہام الہی کی یہ عبارت ہے۔ ”واصنع الفلك باعيننا ووحينا ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله
٧٠
يد الله فوق ايديهم“ یعنی اس تعلیم اور سے ہٹا...... جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھ خدا نے میرا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ہوئے۔
جیسا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ یہ خواں) جاہل طبقہ کو یہ باور کرانے کی کوشش نہیں کیا۔ بلکہ غیر شرعی اور غیر تشریعی نبوت ک ہمارے ارباب حل وعقد جنہیں نہ مسائل شر لنگ پیش کرتے ہیں ایسے لوگوں کی آگاہی ک (صحابہ کرام) تا خلف (اس زمانہ) امت م عقیدہ یہ رہا ہے کہ کفر و ارتداد کے لئے تشریع وارتداد کا موجب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ ت کیا گیا ہے کہ اس نے تشریعی نبوت کا دعو آنحضرت ﷺ کو رسول ونبی برحق مانتا تھا ب چاہتا تھا۔ جس کو کفر وارتداد کا سبب قرار دے غرضیکہ نفس نبوت کا دعویٰ باعث کیا تھا کہ ان کی نبوت شرعی ہے یا غیر شرعی ب دعویٰ کفر کا سبب قرار دیا گیا۔ نیز مرزا قادیان پیش خدمت ہیں جو خود مستقل کفر وارتداد کا ب
قرآن میں مرزا قادیانی کی بشارا
چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہ وحی اللہ ہے۔ ”هو الذی ارسل رسو كله“ اس میں صاف طور پر اس عاجز مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔
یداللہ فوق ایدیھم“ یعنی اس تعلیم اور بیعت کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا...... جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھ خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
جیسا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ یہ فرقہ ضالہ ارباب حکومت اور لکھے پڑھے (انگریزی خواں) جاہل طبقہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ غیر شرعی اور غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کو کافر و مرتد قرار نہیں دیا جاسکتا؟ ہمارے ارباب حل و عقد جنہیں نہ مسائل شرعیہ سے کچھ دلچسپی ہے اور نہ ہی واقفیت۔ وہ یہی عذر لنگ پیش کرتے ہیں ایسے لوگوں کی آگاہی کی خاطر یہ چند سطور نقل کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں از سلف (صحابہ کرام) تا خلف (اس زمانہ) امت محمدیہ علیٰ صاحبہا السلام کا قاطبۃ (یقینی طور پر) اجماعی عقیدہ یہ رہا ہے کہ کفر و ارتداد کے لئے تشریعی نبوت کا دعویٰ ضروری نہیں بلکہ نفس نبوت کا دعویٰ کفر و ارتداد کا موجب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ تاریخ طبری میں مسیلمہ کذاب کا واقعہ ارتداد یوں نقل کیا گیا ہے کہ اس نے تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ غیر تشریعی نبوت کا مدعی تھا اور وہ آنحضرت ﷺ کو رسول و نبی برحق مانتا تھا۔ ان کے ماتحت وہ بھی ایک چھوٹی سی نبوت کی بنیاد ڈالنا چاہتا تھا۔ جس کو کفر و ارتداد کا سبب قرار دے کر تہہ تیغ کیا گیا۔
غرضیکہ نفس نبوت کا دعویٰ باعث ارتداد بنا۔ اس وقت کی حکومت نے یہ دریافت نہیں کیا تھا کہ ان کی نبوت شرعی ہے یا غیر شرعی، ظلی ہے کہ غیر ظلی، بروزی ہے یا غیر بروزی۔ بلکہ نفس دعویٰ کفر کا سبب قرار دیا گیا۔ نیز مرزا قادیانی نے قرآن میں جو تحریفیں کی ہیں۔ ان کے چند نمونے پیش خدمت ہیں جو خود مستقل کفر و ارتداد کا بڑا سبب ہیں۔
قرآن میں مرزا قادیانی کی بشارات
چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ“
(براہین احمدیہ ص ٥٩٣، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔
١٧
- ٢...... ”محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء
بينهم“ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا ہے۔
(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٤)
- ٣...... ”قل يايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً“ کہہ (اے
غلام احمد ) اے تمام لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦ ، مجموعہ الہامات غلام احمد قادیانی)
- ٤...... مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس
آیت کا مصداق ہے۔ ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
- ٥...... ”وما ارسلناك الا رحمة للعلمين“ اور ہم نے دنیا پر رحمت کرنے
تجھے بھیجا ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠)
- ٦...... ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“ اور یہ
(مرزا قادیانی) اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
- ٧...... ”مارميت اذ رميت ولكن الله رمى“
(حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)
- ٨...... ”الرحمن علم القرآن“
(حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)
- ٩...... ”قل انى امرت وانا اوّل المؤمنين“
(حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)
- ١٠...... ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى“
(حقیقت الوحی ص ٧١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)
- ١١...... ”داعياً الى الله وسراجاً منيراً“
(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
- ١٢...... ”دنى فتدلى فكان قاب قوسين او ادنى“
(حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)
٧٢
- ١٣...... ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
- ١٤...... ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
- ١٥...... ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق
ایدیہم“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٨٣)
- ١٦...... ”سلام علٰی ابراہیم“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٩٠)
- ١٧...... ”فاتخذوا من مقام ابراہیم مصلیٰ“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)
- ١٨...... ”انا فتحنا لک فتحاً مبیناً لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک
وما تاخر“
(حقیقۃ الوحی ص ٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)
- ١٩...... ”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الیٰ
فرعون رسولاً“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- ٢٠...... ”انا اعطینک الکوثر“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- ٢١...... ”اراد اللہ ان یبعثک مقاماً محموداً“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
- ٢٢...... ”یسین ، انک لمن المرسلین علٰی صراط مستقیم“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
قرآن میں لفظی تحریف
”انا ارسلنا احمد الیٰ قومہ فاعرضوا وقالوا کذاب اشر“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
ناظرین حضرات اندازہ لگائیں کہ کس دریدہ دہنی اور بے حیائی اور بے خوفی سے قرآن پاک میں تحریف کی گئی ہے۔ بھلا خدارا یہ تو سوچئے کہ قرآن عزیز کو نازل ہوکر ١٤ سو برس ہونے والے ہیں اور یہ روسیاہ شقی القلب ١٣ سو سال بعد پیدا ہوا۔ پھر یہ آیات اس کی شان میں کس طرح
٧٣
نازل ہوئیں؟ مسلمانو! ایک دن تم کو مرنا ہے۔ روز محشر اور حوض کوثر پر سرکار دو عالم تاجدار مدینہ ﷺ کو کیا جواب دو گے کہ آپ کے سامنے آنحضرت ﷺ کی توہین کی جاتی ہے۔ نبوت کے تاج و تخت پر کتے اور جنگلی سور حملہ آور ہو رہے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں۔
مسلمانو! اس سے بڑا جرم اس آسمان کے نیچے کیا ہوسکتا ہے کہ سید المرسلین سرور کائنات تاجدار مدینہ، رحمت للعالمین، محبوب رب العالمین کی شریعت مطہرہ میں تحریف و تبدیل تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین، صحابہ کرامؓ کی تذلیل، حضرت ﷺ پر افتراء، بہتان باندھے جائیں اور تم اپنی آنکھوں سے انبیاء اور اولیائے عظام کی عزت و عصمت کی پامالی کو دیکھتے رہو؟ اور یوں ہی خاموش رہو۔ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر سرکار دو عالم ﷺ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ ورنہ وہ مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا۔ بلکہ اللہ کی تمام کائنات سے بدتر اور تمام مخلوقات کی لعنتوں کا مورد بن جاتا ہے۔ پس اے ابوبکر و عمر و عثمان و علی کا نام لینے والو! تمہیں قسم ہے اس خدائے جبار و قہار کی جس کے قبضہ میں کل کائنات ارضی و سماوی کی جانیں ہیں یا تو ان بزرگوں کا نام نہ لو! وگرنہ نام لیواؤ! اور عشق و محبت کے حقوق ادا کرو۔ عیسیٰ علیہ السلام کا نام لیوا عیسیٰ علیہ السلام پر، موسیٰ علیہ السلام کا نام لیوا موسیٰ علیہ السلام بدھ کا نام لیوا بدھ پر، گرونانک کا نام لیوا گرونانک پر اپنی جان و مال نچھاور کر سکتا ہے تو مسلمان سرکار دو عالم ﷺ کی عزت و آبرو پر اپنی جانوں کی قربانی نہ دے سکے؟ اور ختم نبوت کے تاج و تخت کی تحفظ کی خاطر خون کا آخری قطرہ نہ بہا سکے تو وائے افسوس اس کی زندگی پر۔
در طریق عشق شرط اوّل است
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیر
- ١...... عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے
کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٢...... آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے.....
تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
٧٤
- ٣...... آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی
مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری (کسی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- ٤...... بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی
نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا اپنے ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن مجید میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔
(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
ہائے کس کے سامنے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو عقدہ کو حل کرے۔
(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)
- ٥...... چونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ (حالانکہ بلا باپ پیدا ہوئے)
یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ٦...... مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل اس قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس
کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔
(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
- ٧...... خدا تعالیٰ نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی
تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
مسلم بھائیو! حضرت عیسیٰ علیہ السلام انبیاء اولوالعزم میں سے ایک نبی اور رسول برحق ہیں۔ قرآن پاک نے بار بار ان کی تقدیس کا اعلان فرمایا ...... اور مسلمانوں کو ان پر ایمان لانے کی
٧٥
طرف دعوت دی اور قرآن نے یہ بھی بتلایا کہ تمام انبیاء سے کسی ایک کا انکار تمام نبیوں اور رسولوں سے کفر وارتداد کے مساوی ومترادف ہے۔ لیکن ان تمام تاکیدوں کے باوجود دفعات گذشتہ میں آپ حضرات نے ملاحظہ فرمالیا ہے کہ کس طرح بازاری زبان میں ان کو مخاطب کیا گیا اور کس طرح ان کی نبوت ورسالت پر غلام قادیان حملہ آور ہوتا ہے۔ جس کو کوئی مسلمان نہ سن سکتا ہے نہ برداشت کر سکتا ہے۔ کیونکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی عزت وناموس کا تحفظ ہر مسلمان کا ملی فرض ہے۔ (المرتب)
٢٣ برس کی متواتر وحی
میں خدا تعالیٰ کی ٢٣ برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔
(حقیقۃ الوحی ص١٥٠، خزائن ج٢٢ ص١٥٤)
میری وحی اور قرآنی دونوں مساوی ہیں
مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوتا ہے، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔
(حقیقۃ الوحی ص٢١١، خزائن ج٢٢ ص٢٢٠)
یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی اس اصول کے ماتحت کہ کلام آخر کو کلام سابق کے لئے ناسخ شمار کیا جاتا ہے۔ شریعت محمدیہ کو منسوخ کر کے نئی شریعت رائج کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی وحی میں حرمت جہاد کا فتویٰ بھی ہے۔ اس لئے یہ ٹولی پاکستان کی غدار ہے۔
دس لاکھ سے زائد معجزات
ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زائد ہیں اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے جو اوّل درجہ پر خارق عادت ہیں۔
(براہین احمدیہ ج٥ ص٥٦، خزائن ج٢١ ص٧٢)
خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ
”انت منی بمنزلۃ اولادی، انت منی وانا منك، واصنع الفلك
٧٦
باعيننا ووحينا، ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله، يد الله فوق ايديهم، قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد والخير كله فى القرآن“
(دافع البلا ص ٦، ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦، ٢٢٧)
ناظرین حضرات! مرزا قادیانی کے مختلف اور متعدد دعاوی اور افتراء و بہتان آپ کی نظر سے گزر چکے۔ اب ان سب کے متعلق حرف آخر کے طور پر صرف ایک آیت کریمہ لکھ کر اس نامبارک موضوع کو ختم کرتا ہوں۔
خدا پر افتراء باندھنے والوں کا خطرناک حشر
”ومن اظلم ممن افترى على الله كذباً او قال اوحى الى ولم يوح اليه شئ ومن قال سانزل مثل ما انزل الله (الانعام:٩٣) “ ﴿اور اس سے زیادہ ظالم کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا کہے مجھ پر وحی اتری اور اس پر وحی نہیں اتری کچھ بھی اور جو کہے کہ میں بھی اتارتا ہوں۔ مثل اس کے جو اللہ نے اتارا اور اگر دیکھے تو جس وقت کہ ظالم ہوں موت کی سختیوں میں اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہیں کہ نکالو اپنی جانیں ۔﴾ آج تم کو بدلہ میں ملے گا ذلت کا عذاب اس سبب سے کہ تم کہتے تھے اللہ پر جھوٹی باتیں اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔
اسی طرح جو شخص نبوت و پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کرے یا یہ ڈینگ مارے کہ خدا کے جیسا کلام تو میں لا سکتا ہوں۔ جیسے بعض مشرکین کہتے تھے۔ ”لو نشاء لقلنا مثل هذا “ یہ سب باتیں انتہائی ظلم اور دیدہ دلیری کی ہیں۔ جس کی سزا کا تھوڑا سا حال مابعد آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ (فوائد بر ترجمہ شیخ الہند از شیخ الاسلام علامہ عثمانی )
میں انصاف پسند حضرات سے استدعا کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ اور مزعومات واہیہ اور ان کی عبرت خیز موت کو سامنے رکھ کر پھر پوری توجہ سے اس آیت کا مطالعہ کریں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مصداق مرزا قادیانی ہیں۔ کیونکہ افتراء علی اللہ، قول زور، مکر و فریب، دجل و حیلہ سازی، خدائی دعویٰ، صحابہ کی تنقیص، اولیاء کی تحقیر میں مرزا قادیانی نے کوئی کمی نہیں کی۔ اسی لئے اس کی موت میں عذاب کے فرشتوں نے بھی مار پٹائی اور ذلت و خجالت میں کوئی کمی نہیں کی۔ کما تدین تدان!
قادیانی انبیاء
دروغ گورا حافظہ نہ باشد کے مطابق اس بارے میں مرزا قادیانی کے تناقض و تخالف
٧٧
مضامین متعدد مقامات پر موجود ہیں۔ ان میں سے ہم پہلے اس اعلان کو درج کرتے ہیں۔ جس میں مرزا قادیانی نے قطعی طور پر اس بات کا دعویٰ کیا کہ میرے بعد امت میں کوئی نبی نہیں آ سکتا اور پھر وہ سلسلۂ انبیاء درج کریں گے۔ جس سے معلوم ہوگا کہ اب تک متعدد نبی قادیانی امت میں پیدا ہو چکے ہیں۔
مرزا قادیانی خاتم النبیین
پس ثابت ہوا کہ امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں بھی نہیں آ سکتا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت میں سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی آپ نے خبر دی ہے۔ بلکہ ”لا نبی بعدی“ فرما کر اور اوروں کی نفی کر دی اور کھول کر بیان فرما دیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اس امت میں نبی صرف ایک ہی آ سکتا ہے جو مسیح موعود ہے اور قطعاً کوئی نہیں آ سکتا۔ جیسا کہ دیگر احادیث پر نظر کرنے سے یہ امر محقق ہو چکا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صرف مسیح موعود کا نام نبی اللہ رکھا ہے اور کسی کو یہ نام ہرگز نہیں دیا۔
(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ج ٩ نمبر ٣ ص ٢٢ تا ٣٠، ماہ مارچ ١٩١٤ء)
پس اس لئے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا۔ کیونکہ ہر ایک کا کام نہیں کہ اتنی ترقی کر سکے۔ بے شک اس امت محمدیہ میں بہت سارے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو ”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“ کے حکم کے ماتحت انبیائے بنی اسرائیل کے ہم پلہ تھے۔
(کلمتہ الفضل قادیان مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج ١٤ ص ١١٦ نمبر ٣)
مرزا قادیانی کی اس قطعی اعلان کے بعد مفصلا وہ مضامین بھی ملاحظہ فرمائیں۔ جن میں صاف طور پر ایک نہیں متعدد نبیوں کی آمد کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
متعدد انبیاء عظام
خاتم النبیین آنے والے نبیوں کے لئے روک نہیں ہے۔ انبیاء عظام حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خادموں میں پیدا ہوں گے اور وہ ہمیشہ اسلام کے محافظ اور شائع کرنے والے ہوں گے۔ ان کا کام صرف یہی ہوگا کہ جب اسلام کے چہرہ منور اور جسم صفا پر نفسانیت اور تیرگی علم کے باعث کج رو علماء گرد و غبار ڈال دیں گے۔ تو وہ اس کو صاف کریں گے۔
(اخبار الفضل قادیان کا خاتم النبیین نمبر ١٥ ج ١٥ ص ٩٦، ٩٧، بابت ماہ جون ١٩٢٨ء)
٧٨
ہزاروں نبی
انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدرت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔
(انوار خلافت ص ٦٢)
اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔
(انوار خلافت ص ٦٥)
بوقت ضرورت انبیاء آتے رہیں گے
ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ اس امت کی اصلاح اور درستی کے لئے ہر ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ انبیاء بھیجتا رہے گا۔
(فتویٰ محمود میاں مندرجہ الفضل قادیان ج ١٣ نمبر ٤٣ ص ٥ ، مورخہ ١٢ مئی ١٩٢٥ء)
امت مرزائیہ میں پانچ نبی
بالاختصار ذیل میں ملت مرزائیہ کے پانچ نبیوں کا اجمالی حال بیان کرتے ہیں۔ جن سے ان کی ہرزہ سرائیوں کی حقیقت معلوم ہو جائے اور یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ اس قدر متعدد نبیوں کی آمد کے قائل ہو کر امت محمدیہ میں کس طرح انتشار واختلاف پیدا کیا گیا ہے۔
یار محمد قادیانی کی نبوت
ایک میرے استاد تھے جو اسکول میں پڑھایا کرتے تھے بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان کا نام مولوی یار محمد صاحب تھا۔ انہیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آ گیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو۔ مگر ہم نے یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور حضرت مسیح موعود کی ہر پیش گوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم جنوری ١٩٣٥ء)
نور احمد کابلی قادیانی کی نبوت
”لا الہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ “ اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اب
٧٩
آسمان کے نیچے اللہ کا دین میری تابعداری میں ہے اور اللہ کا مخاطب رسول زندہ موجود دنیا پر میں ہوں۔ میرا مان لینا اللہ کا دین ہے اور میرے خلاف اور نہ مان لینا اللہ کے دین سے اخراج ہے اور دنیا پر میرا وقت رسالت کا ہے اور اللہ کے دین کی رسی صرف میرے اور رحمٰن کے ہاتھ میں ہے۔ میری وحی اللہ کی طرف سے ہے۔ جیسا کہ تمام انبیاء کی وحی اللہ سے ہے۔ میں اللہ کی طرف سے رحمۃ للعالمین ہوں۔ میں تمام انبیاء کا مظہر ہوں اور قرآن ستاروں سے لایا ہوں۔
(کتاب کلمۃ الفصل ص ٢١، مصنفہ صاحبزادہ محمود احمد قادیانی)
عبداللطیف قادیانی کی نبوت
چونکہ خدائے تعالیٰ نے نو سال سے مجھے کل دنیا کی ہدایت کے لئے اور اسلام کو ہر رنگ میں تمام ادیان پر غالب کرنے کے لئے اپنا نبی اور رسول امام مہدی بنا کر مبعوث کیا ہے اور میرے دعوٰی کے دلائل کتاب چشمہ نبوت کے ذریعہ پانچ سال سے شائع ہو چکے ہیں۔ لیکن میاں محمود احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے میرے دعوٰی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ وہ ان کو سزا دے گا اور ان کے اسی انکار اور سرکشی کی پاداش میں خدا کا غضب میاں محمود احمد قادیانی پر اور ان کے ساتھیوں پر اور ان کی بستی پر کسی سخت مصیبت اور عذاب شدید عبرتناک کی صورت میں عنقریب نازل ہونے والا ہے اور اس عذاب شدید کے بعد جماعت احمدیہ کے بقیہ اور منتشر لوگ پھر خدا کے حکم سے میرے ہاتھ پر جمع ہوں گے۔ اس عذاب کے ٹلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جماعت احمدیہ قادیان قوم یونس علیہ السلام کی طرح میرے دعوٰی پر ایمان لا کر مجھے قبول کریں۔ اس کے سوا اور کوئی صورت اس عذاب کے ٹلنے کی نہیں۔ (مورخہ ٥/مارچ ١٩٣٠ء، عبداللطیف خدا کا نبی اور رسول امام مہدی گنا چور ضلع جالندھر، بحوالہ قادیانی مذہب ص ١٠١٣)
چراغ دین جموی قادیانی کی نبوت
چراغ دین جموی کے متعلق مرزا مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔ ”نزل به الجیز“ کہ یہ کتے کی طرح آ بیٹھا تو اسے ٹکڑا ڈال دیا گیا۔ اس میں بتایا کہ یہ الہام کے قابل نہ تھا۔ مگر ہمارے دروازے پر آ بیٹھا۔ اس لئے اس پر الہام تو نازل کر دیا۔ مگر وہ ایسا ہی تھا جیسا کتے کو ٹکڑا ڈال دیا جائے۔ چراغ دین تو مرتد ہو گیا۔ کیونکہ جیز کو اس نے اعلیٰ چیز سمجھ لیا اور اس پر اترانے لگا...... لیکن نیچے پڑنے سے پہلے چیز نازل ہو اور انسان اس پر متکبر نہ ہو بلکہ دعاؤں میں لگا
٨٠
رہے تو اس کے لئے اعلیٰ چیز بھی نازل ہو گ ملتی ہے۔ لیکن تعلقات بڑھ جاتے ہیں او کسی کو خدا تعالیٰ خوان نعمت پر نہیں بلاتا او خواہ چیز ہی مل جائے۔ (مص
غلام محمد قادیانی کی نبوت
جس طرح تمام نبی مامور ب ہوتے ہیں۔ ایسا ہی میرا حال تھا۔ میری زب اپنے ذاتی فرائض منصبی، اپنی ذاتی تکمیل او میں مراد کو پہنچ گیا تو ایک ہی لیلۃ القدر کی مش غار ثور سے باہر نکل آیا۔ جس کی کوئی مثال م الشان تبدیلی مجھ میں ظہور میں آگئی کہ میں ع بھی ہو گیا اور مصلح بھی ہو گیا۔ (انتہاء یہ کہ م ساتھ ظہور میں آیا۔ مجھے جس انجمن نے ا حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی طرح عنقریب میر
مرزائیوں کی پانچ جماعتیں
مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنی زن سابقہ پڑا۔ پہلی جماعت وہ ہے جو شروع سے رہی لیکن مسیح موعود کے دعوے میں بھڑک گئی دعوٰی تو قبول کر لیا۔ لیکن نبوت کے دعوے نبوت کو بھی بخوشی تسلیم کر لیا۔ بلکہ زور د مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کو مان کر خو کیا۔ سلسلہ نبوت جس نے جاری کر رکھا ہے
سیاسیات مرزا کے تین دور
مرزا غلام احمد قادیانی کے ذاتی
رہے تو اس کے لئے اعلیٰ چیز بھی نازل ہو گی۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلے پہل معمولی چیز ملتی ہے۔ لیکن تعلقات بڑھ جاتے ہیں اور دوستی ترقی کر جاتی ہے تو دعوتیں ہونے لگتی ہیں۔ پس اگر کسی کو خدا تعالیٰ خوان نعمت پر نہیں بلاتا اور دعوت نہیں دیتا تو بھی اسے کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ خواہ چپیڑ ہی مل جائے۔
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٨ نمبر ٥٩، مورخہ ١٥ نومبر ١٩٣٠ء)
غلام احمد قادیانی کی نبوت
جس طرح تمام نبی ماموریت سے پہلے بالکل خاموش، گم شدہ معمولی اور بے علم محض ہوتے ہیں۔ ایسا ہی میرا حال تھا۔ میری زبان اور قلم وعظ کے لئے بہت کم اٹھتی۔ میری تمام توجہ اپنے ذاتی فرائض منصبی، اپنی ذاتی تکمیل اصلاح اور تلاش محبوب میں منہمک رہی اور جوں ہی کہ میں مراد کو پہنچ گیا تو ایک ہی لیلۃ القدر کی مشہور رات کے بعد میں بڑے شور و غل کے ساتھ غار حرا یا غار ثور سے باہر نکل آیا۔ جس کی کوئی مثال موجودہ دنیا پیش نہیں کر سکتی۔ ایک ہی رات میں وہ عظیم الشان تبدیلی مجھ میں ظہور میں آگئی کہ میں عالم بھی ہو گیا۔ مصنف بھی ہو گیا۔ مقرر بھی ہو گیا۔ امام بھی ہو گیا اور مصلح بھی ہو گیا۔ (انتباہ یہ کہ مرتد بھی ہو گیا) اور یہ سب کچھ علم و عمل کے اتحاد کے ساتھ ظہور میں آیا۔ مجھے جس انجمن نے اپنی تجارت میں بطور کارندہ ملازم رکھا ہوا تھا وہ انجمن حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی طرح عنقریب میری زوجیت میں بخوشی آنے والی ہے۔
(قادیانی مذہب ص ١٠١٥)
مرزائیوں کی پانچ جماعتیں
مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنی زندگی کے تینوں دور میں فی الجملہ پانچ جماعتوں سے سابقہ پڑا۔ پہلی جماعت وہ ہے جو شروع سے تاڑ گئی اور مخالف رہی۔ دوسری وہ جو شروع میں معتقد رہی لیکن مسیح موعود کے دعوے میں بھڑک گئی اور منحرف ہو گئی۔ تیسری وہ جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تو قبول کر لیا۔ لیکن نبوت کے دعوے کو ٹال دیا۔ چوتھی وہ جس نے مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کو بھی بخوشی تسلیم کر لیا۔ بلکہ زور و شور سے اس کی اشاعت کی۔ پانچویں وہ جس نے مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کو مان کر خود بھی فائدہ اٹھایا اور ان کی ماتحتی میں اپنی نبوت کا دعویٰ کیا۔ سلسلۂ نبوت جس نے جاری کر رکھا ہے یہی جماعت پنجم ہے۔
سیاسیات مرزا کے تین دور
مرزا غلام احمد قادیانی کے ذاتی حالات اور مذہبی زندگی کے دو دوروں کو بالاختصار بیان
٨١
کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی الہامی سیاسی زندگی کے چند نمونے ہدیہ ناظرین کئے جائیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے سیاسی حالات کو ہم نے تین حصوں پر منقسم کیا ہے۔ تاکہ قارئین آسانی سے ان کے سیاسی ارتقاء سے واقف ہوسکیں۔ (للمرتب)
دور اوّل
اپنا تعارف
چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدرآباد اور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔ لہٰذا میں قرین مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کرلیں۔
(کشف الغطاء ص٢، خزائن ج١٤ ص١٧٩)
اور یہ مؤلف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلیشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام سے باادب گذارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔
(کشف الغطاء ص١،٢، خزائن ج١٤ ص١٧٧،١٧٨)
رسالہ پڑھنے کی دوبارہ اپیل
میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ اس رسالہ کو ہمارے حکام عالی مرتبہ توجہ سے اوّل سے آخر تک پڑھیں۔
(کشف الغطاء ص٢، خزائن ج١٤ ص١٧٩)
گورنمنٹ کا مقبول شدہ خاندان
سب سے پہلے میں یہ اطلاع دیتا ہوں کہ میں ایسے خاندان سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیرخواہ ہے۔ ان تمام تحریروں سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب اور خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار ہے اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز
٨٢
افسروں نے مان لیا کہ یہ خاندان کمال د
یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میر مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد کی فرضیت کو لوگوں کے دلوں میں جما دی
خاندانی خدمات
میں ایک ایسے خاندان سے مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاح انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگر
جہاد حرام ہے
جہاد یعنی لڑائیوں کی شدت کو میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے پھر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت قط
تلوار سے جہاد بند کردیا گیا ہے
آج سے انسانی جہاد جو تلوار کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔
افسروں نے مان لیا کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکار انگریزی ہے۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٠٩)
یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور میں خود بھی روح کے جوش سے اس بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت کو لوگوں کے دلوں میں جمادیں۔
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ١٢)
خاندانی خدمات
میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گرفن صاحب کی تاریخ ”رئیسان پنجاب“ میں ہے اور ١٨٥٧ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو امداد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے۔
(کتاب البریہ حاشیہ ص٤، خزائن ج١٣ ص٤)
جہاد حرام ہے
جہاد یعنی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔
(اربعین نمبر٤ ص١٣، خزائن ج١٧ ص٤٤٣)
تلوار سے جہاد بند کر دیا گیا ہے
آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرمایا کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا۔
(خطبہ الہامیہ ص٢٧، خزائن ج١٦ ص٢٨،٢٩)
٨٣
حرمت جہاد پر ایک نظم
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٦، خزائن ج١٧ ص٧٧، ٧٨)
دینی جہاد اور مسیح موعود
اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کو کر کے استوار
لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے
اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا
اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٢٩، خزائن ج١٧ ص٨٠)
جہاد قطعاً حرام ہے
یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے۔
(تریاق القلوب ص٣٨٩، خزائن ج١٥ ص٥١٧)
١؎ اس عقیدہ پر مرزا قادیانی کا انتقال ہوا ہے۔ کیونکہ اس فتوے کے بعد اس نے رجوع نہیں کیا۔ اسی سابقہ فتوے پر اس کی امت قائم ہے۔
٨٤
زمینی جہاد بند کئے گئے
تیسرے وہ گھنٹہ جو اس مینارۃ المسیح کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا۔ اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ تا لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں۔ یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازے کے کھلنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔
(خطبہ الہامیہ اشتہار چندہ مینارۃ المسیح ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ١٧)
اسلامی ممالک سے جہاد ختم کرانے کی کوشش
میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھیج دوں۔ کیونکہ اس کتاب ص ١٥٢ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔ اسی وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھی بہت شہرت پا گئی ہیں۔
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٤٣)
میرے زمانے میں رسم جہاد کو اٹھایا گیا
ایسا ہی آنحضرت ﷺ کے آخری زمانہ میں مسیح ابن مریم کے رنگ اور صفت میں اس راقم کو مبعوث فرمایا ...... اور میرے زمانہ میں رسم جہاد کو اٹھا دیا۔ جیسا کہ پہلے خبر دی گئی تھی۔
(مرزا غلام احمد قادیانی کا لیکچر موسومہ بہ سیالکوٹ ص ١٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢١٣)
مسئلہ جہاد کی تردید
اور اب جماعت احمدیہ کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی عربی، فارسی اور اُردو کی بہت کتابوں کا مصنف تھا۔ جن میں جہاد کے مسئلہ کی تردید کی ہے اور یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ان کتابوں نے مسلمانوں پر اچھا اثر کیا ہے۔
(سیرت مسیح موعود ص ٥)
مسلمانوں کو جہاد درست نہیں
میں ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ جس کی دنیوی طریق پر زندگی نہیں تھی اور نہ اس کے کامل
٨٥
اسباب مہیا تھے۔ تاہم میں نے برابر سولہ برس سے یہ اپنے پر حق واجب ٹھہرایا کہ اپنی قوم کو اس گورنمنٹ کی خیر خواہی کی طرف بلاؤں اور ان کو سچی اطاعت کی طرف ترغیب دوں۔ چنانچہ میں نے اس مقصد کے انجام کے لئے اپنی ہر ایک تالیف میں یہ لکھنا شروع کیا۔ (مثلاً براہین احمدیہ، شہادۃ القرآن، سرمہ چشم آریہ، آئینہ کمالات اسلام، حمامۃ البشریٰ، نور الحق وغیرہ) کہ اس گورنمنٹ کے ساتھ کسی مسلمان کو جہاد درست نہیں...... اور نہ صرف اس قدر بلکہ بار بار اس بات پر زور دیا کہ چونکہ گورنمنٹ برطانیہ برٹش انڈیا کی رعایا کی محسن ہے۔ اس لئے مسلمانان ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل بد ارادوں سے رکیں۔ بلکہ اپنی سچی شکر گزاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلاویں۔
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٩٣، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٢)
جہاد کی ممانعت
میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں...... میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے...... میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی (مہدی علیہ السلام) اور مسیح خونی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں...... ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
سترہ سال سے جہاد کی مخالفت
پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے، پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس مدت دراز کی دوسرے مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟ (بے شک ایسی غداری و منافقت کی مثال نہیں مل سکتی)
(کتاب البریہ ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٨)
٨٦
انگریزوں کی اطاعت آدھا اسلام ہے
میں سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں، یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن کیا۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں (مرزائیوں کو) ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ حکومت برطانیہ ہے۔ اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا، رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔
(شہادۃ القرآن ص٨٤،٨٥، خزائن ج٦ ص٣٨٠،٣٨١)
برطانیہ، خدا، رسول کی اطاعت برابر ہے
(مرزا قادیانی نے) لکھا ہے کہ میں نے کوئی کتاب یا اشتہار ایسا نہیں لکھا جس میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اطاعت کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ نہیں کیا۔ پس حضرت کا اس طرف توجہ دلانا اور اس زور کے ساتھ توجہ دلانا اس آیت ”اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول“ کے ماتحت ہونے کی وجہ سے گویا اللہ اور اس کے رسول کا ہی توجہ دلانا ہے۔ اس سے سمجھ لو کہ اس طرف توجہ کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔
(مندرجہ اخبار الفضل ج٥ نمبر١٣، مورخہ ١٤؍ اگست ١٩١٧ء)
جہاد کے غلیظ خیالات
گورنمنٹ انگریزی ہم (قادیانی) مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کردیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلیظ خیالات چھوڑ دیئے۔ جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔
(ستارہ قیصره ص٣، خزائن ج١٥ ص١١٤)
سب مسلمانوں کو معلوم ہے کہ جہاد اسلام کا ایک رکن عظیم ہے۔ جس کے متعلق قرآن ٨٧
کریم کی سینکڑوں آیات ہیں۔ یوں کہنا چاہئے کہ اسلام کی بقا جہاد پر ہے اور تمام ممالک اسلامیہ کا دوام وبقا بھی اسی رکن عظیم کی بدولت رہ سکتا ہے۔
اب اس کے ساتھ مرزائیوں کے فتاوے متعلقہ حرمت جہاد بھی ملاحظہ فرما کر اندازہ لگائیے کہ ملک اور ملت کا غدار کون ہے۔ جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ جہاد حرام ہے۔ وہ دراصل پاکستان کے مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو نکال کر پاکستان کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں سخت تعجب ہے کہ ایسی کتابوں کی اشاعت کی اجازت ارباب حکومت نے کیوں دے رکھی ہے۔ انگریزوں کی غرض یہ تھی کہ مسلمانوں کو جہاد سے نفرت دلا کر ان کے تمام ملکوں پر قبضہ کریں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تمام مسلمانوں کے ملکوں پر قبضہ کر لیا۔ یہاں تک کہ بیت المقدس پر یہودیوں کو مسلط کروا دیا۔ اسی غرض کی تکمیل کے لئے آج پاکستان میں یہ منافقین کا گروہ ہمہ تن کوشاں ہے۔ لیکن مسلمان یاد رکھیں کہ اگر خدانخواستہ پاکستان کو کچھ نقصان پہنچا تو وہ دس کروڑ مسلمانوں کی موت ہوگی۔
دوسرا دور انگریزی اطاعت میں
اس دور میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حکومت برطانیہ سے والہانہ عشق اور بے پناہ عشق ومحبت کے راز ہائے سربستہ کے چند نمونہ جات ناظرین کی خدمت میں پیش ہیں۔ جن سے قارئین حضرات اندازہ لگا سکیں گے کہ زمین (قیصرہ ہند) اور آسمان (مرزا قادیانی) کے درمیان کس قدر شدید تر روابط وضوابط ہیں۔
ہم گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیر خواہ ہیں
(اطلاعاً عرض ہے) جو ہدایتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں۔ جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے کہ ان کو اپنا دستورالعمل رکھے اور وہ ہدایتیں میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں۔ جو ١٢؍جنوری ١٨٨٩ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے۔ جس کا نام ”تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت“ ہے۔ جس کی ایک کاپی اسی زمانہ میں گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی تھی۔ ان ہدایتوں کو پڑھ کر اور ایسا ہی دوسری ہدایتوں کو دیکھ کر جو وقتاً فوقتاً چھپ کر مریدوں میں شائع ہوتی ہیں۔ گورنمنٹ کو معلوم ہوگا کہ امن بخش اصولوں کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے اور کس طرح بار بار ان کو تاکیدیں کی گئی ہیں کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیر خواہ اور مطیع رہیں۔
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٨)
٨٨
بیعت کی بڑی شرط
اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل و جاں خیر خواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔
(ضمیمہ کتاب البریہ ص ١٠، خزائن ج ١٣ ص ١٠)
مکہ اور مدینہ میں میرا کام نہیں چل سکتا
میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں۔ نہ روم میں نہ شام میں، نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعاء کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
گورنمنٹ برطانیہ تمام دنیا کی گورنمنٹوں سے افضل ہے
میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت (نیچے) میں اشاعت حق کر سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز نہیں بجا لا سکتے۔
(ازالہ اوہام ص ٥١٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
گورنمنٹ توجہ کرے
بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گذرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گذاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں مخالف جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے اس گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں؟ ہم نے قبول کیا کہ ہماری اردو کی کتابیں جو ہندوستان میں شائع ہوئیں ان کے دیکھنے سے گورنمنٹ عالیہ کو یہ خیال گذرا ہوگا کہ ہماری خوش آمد کے لئے ایسی تحریریں لکھی گئی ہیں۔ لیکن یہ دانشمند گورنمنٹ ادنیٰ توجہ سے سمجھ سکتی ہے کہ عرب کے ملکوں میں ہم نے جو ایسی ٨٩
کتابیں بھیجیں۔ جن میں بڑے بڑے مضمون اس گورنمنٹ کی شکر گزاری اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں تھے۔
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٨ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٥)
بے مثل خیر خواہی
میرے اس دعوے پر کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا خیر خواہ ہوں۔ دو ایسے شاہد ہیں کہ اگر سول ملٹری جیسا لاکھ پرچہ بھی ان کے مقابلہ پر کھڑا ہو تب بھی وہ دروغ گو ثابت ہوگا۔ اوّل یہ کہ علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔ دوسری یہ کہ میں نے کئی کتابیں عربی فارسی تالیف کر کے غیر ملکوں میں بھیجی ہیں۔ جن میں برابر یہ ہی تاکید اور یہی مضمون ہے۔ پس اگر کوئی بد اندیش یہ خیال کرے کہ سولہ برس کی کارروائی میری کس نفاق پر مبنی ہے تو اس بات کا اس کے پاس کیا جواب ہے کہ جو کتابیں عربی و فارسی روم اور شام اور مصر اور مکہ اور مدینہ وغیرہ ممالک میں بھیجی گئیں اور ان میں نہایت تاکید سے گورنمنٹ انگریزی کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ کیونکر نفاق پر مبنی ہو سکتی ہیں؟ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی خیر خواہی کے لئے کی ہے۔ اس کی نظیر نہیں ملے گی۔
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١٩٧، ١٩٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٨)
میں گورنمنٹ برطانیہ کا تعویذ ہوں
اطلاع ! براہین احمدیہ ص ٢٤١ میں ایک پیش گوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے: ”وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم اینما تولوا فثم وجہ اللہ“ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ اس (برطانیہ) گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچائے۔ حالانکہ تو ان کی عملداری میں رہتا ہو۔ جدھر تیرا منہ خدا کا اسی طرف منہ ہے۔..... اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے۔ کیا یہ انسان کا فعل ہو سکتا ہے۔ غرض میں گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرز سلطنت ہوں ۔
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠ ، ٣٧١)
برطانیہ کے بڑے احسان ہیں
گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے
٩٠
زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔
٭ (برکات خلافت ص ٦٥)
خوشنودی کے سرٹیفکیٹ
پچھلے دنوں کی شورش میں جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ کے متعلق جس وفاداری اور امن پسندی کا ثبوت دیا وہ کسی صلہ یا انعام حاصل کرنے کی غرض سے نہیں تھا۔ بلکہ اپنا مذہبی فرض سمجھ کر بانی سلسلہ احمدیہ عالیہ اور موجودہ امام جماعت احمدیہ کی تعلیم کے مطابق دیا تھا۔ لیکن خوشی کی بات ہے کہ گورنمنٹ پنجاب کے اعلان کے علاوہ اور کئی مقامات کے ذمہ دار افسروں نے بھی جماعت احمدیہ کے افراد کے رویہ پر نہایت مسرت کا اظہار کیا اور اپنی خوشنودی کے سرٹیفکیٹ عطاء کئے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٦ ص ٩٠، مورخہ ٢٧ مئی ١٩١٩ء)
برطانیہ کی خوشنودی حاصل کرنا امت مرزائیہ کا مذہبی مقدس فریضہ ہے تو پھر اب یہ امر سب پر عیاں ہے کہ برطانیہ کی انتہائی تمنا یہ ہے کہ تمام ممالک اسلامیہ عموماً اور مملکت خداداد پاکستان خصوصاً کمزور بلکہ ہمیشہ برطانیہ کے پنجہ استبداد میں کسے رہیں۔ پھر ہم مسلمانان پاکستان اس بات کا یقین کیسے نہ کریں کہ اب بھی پاکستان اور دیگر بلاد اسلامیہ کو جو مصائب پیش آ رہے وہ ان ہی کی غداریوں کے نتائج ہیں۔ بہرحال برطانیہ کی خدمت اور خوشنودی حاصل جن کا مذہبی فریضہ ہے تو ان سے پاکستان سے وفاداری کی امید کسی طرح اور کسی وقت نہیں رکھی جاسکتی۔ پس اے مسلم پاکستان ہوشیار باش!
گورنمنٹ برطانیہ کس سے خوش ہوتی ہے
قرآن حکیم نے صاف الفاظ میں اعلان فرمایا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی آدمی سے اسی وقت راضی اور خوش ہوتے ہیں۔ جب کہ ان کے دین و مذہب کی اتباع کی جائے۔ ”وَلَن تَرْضىٰ عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ (البقرہ: ١٢٠)“ اور حقیقت یہ ہے کہ اپنی سچائی کی کتنی ہی نشانیاں پیش کرو۔ لیکن یہود و نصاریٰ تم سے خوش ہونے والے نہیں۔ وہ صرف اسی حالت میں خوش ہو سکتے ہیں کہ تم ان کی (بنائی ہوئی)
قرآن پاک کا یہ غیر مبہم اعلان آپ کے سامنے ہے۔ اب مرزا قادیانی کی ان بے شمار عبارات کو دیکھو۔ جہاں وہ فخر و مباہات کے طور پر بار بار اعلان کرتے ہیں کہ انگریز
٩١
مجھ سے راضی ہوا اور میں انگریز سے راضی ہوا۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مرزائی عیسوی مذہب کی ایک بگڑی ہوئی جماعت ہے۔ نام احمد سے مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ جیسا کہ ایک زمانہ میں لارنس کرنل نے جبہ قبہ پہن کر اور ایک بالشت لمبی داڑھی رکھ کر مسلمانوں کے امام کی حیثیت سے اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی کرتا رہا۔ وہی مشن قادیانی کا ہے۔ ”ولکن اکثر الناس لا یشعرون“
ناز و نیاز کے چند خطوط
قادیانی اڈریس بحضور نواب لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب۔ ”آئندہ مشکلات اور آنے والے واقعات کی نسبت سوائے خدا تعالیٰ اور کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا اور ہم نہیں جانتے کہ جناب کے عرصہ کارگذاری میں واقعات کس رنگ میں ظہور پذیر ہوں گے۔ مگر ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو جناب جماعت احمدیہ کو ملک معظم کا نہایت وفادار اور سچا خادم پائیں گے۔ کیونکہ وفاداری گورنمنٹ جماعت احمدیہ کے شرائط بیعت میں سے ایک شرط رکھی گئی ہے؟ اور بانی سلسلہ نے اپنی جماعت کو وفاداری حکومت کی اس طرح بار ہا تاکید ہے۔ اس کی اسی (٨٠) کتابوں میں کوئی کتاب بھی نہیں جس میں اس کا ذکر نہ کیا گیا ہو؟“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٧ ، نمبر ٤٨، مورخہ ٢٢؍ دسمبر ١٩١٩ء)
خدمات کا مختصر خاکہ
جناب عالی! یہ ایک نہایت ہی مختصر خاکہ ہے ان خدمات کا جو ہمارے سلسلہ قیام امن کے لئے بادشاہ معظم کی وفاداری میں کرتا رہا ہے اور اس کے بیان کرنے کی یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ جناب کو بتائیں کہ اسی روح کو لے کر ہم آج جناب کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور اسی روح کے ساتھ ہم جناب کو ہندوستان میں ملک معظم کا سب سے بڑا قائم مقام سمجھ کر یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ممکن اور جائز طریقے سے جناب کے ارادوں اور تجویزوں کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٩ نمبر ١، مورخہ ٤؍ جولائی ١٩٢١ء)
١٩٢٧ء کا قادیانی وفد بحضور وائسرائے ہند
٢٥؍ فروری ١٩٢٧ء بروز جمعہ اڑھائی بجے جماعت احمدیہ کا وفد جو مشتمل بر ١٢٩ اشخاص تھا۔ بحضور ہزاکسی لنسی وائسرائے ہند لارڈ ارون وائسریگل لاج دہلی میں پیش ہوا۔ جب ممبران وفد کرسیوں پر بیٹھ گئے تو حضور وائسرائے تشریف لائے اور ہیڈ چوہدری ظفر اللہ خاں (موجودہ
٩٢
وزیر خارجہ حکومت پاکستان) سے ہاتھ م پرائیویٹ سیکرٹری اور ایڈی کانگ بھی ا چوہدری ظفر اللہ خاں نے ا حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صا (مرزائیہ) کی چند کتابیں جو مخملی خریطے م پیش کرتے وقت اس کتاب کا مختصر ذکر ک نے ولایت میں پڑھے جانے کے واس قبول کیا اور فرمایا کہ میں ان کو پڑھوں گ جواب دیا۔ اس کے بعد چوہدری ظفر اللہ نے سب کے ساتھ ہاتھ ملایا اور فوجی ممبر و تمغے دیئے۔
غیر متزلزل وفاداری
ہم ضمناً اس جگہ یہ بات کہ اسے ہمارے سلسلہ کے متعلق تھی وہ تو ا وفاداری کے غیر معمولی کارناموں نے ث ہے کہ یہ سلسلہ سچی وفاداری کا ایک بے نظ
سلسلہ دوستی ہندوستان سے جا (ہزاکسیلنسی وائسرائے ہند ب جناب محترم! آپ نے نہایت مہربانی س نے کل مجھے دی اس کے اور نیز اس خلوص ا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ان ع ہے اور جماعت کے ممبروں کے ساتھ م کے لئے ایک خوشگوار یادگار کا کام دے گ دس ہزار پیروؤں نے اس خوبصورت تحف
وزیر خارجہ حکومت پاکستان) سے ہاتھ ملا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے ۔ وائسرائے کے ساتھ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری اور ایڈی کانگ بھی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔
چوہدری ظفر اللہ خاں نے ایڈریس پڑھا۔ ایڈریس ایک چاندی کے کاسکٹ میں رکھ کر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب نے پیش کیا اور مفتی محمد صادق صاحب نے سلسلہ (مرزائیہ) کی چند کتابیں جو مخملی خریطے میں تھیں ایک ایک کر کے پیش کیں اور ہر ایک کتاب کے پیش کرتے وقت اس کتاب کا مختصر ذکر کیا۔ مثلاً یہ وہ لیکچر ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ نے ولایت میں پڑھے جانے کے واسطے لکھا تھا۔ وائسرائے بہادر نے کتابوں کو شکریہ کے ساتھ قبول کیا اور فرمایا کہ میں ان کو پڑھوں گا ۔ اس کے بعد وائسرائے نے کھڑے ہو کر ایڈریس کا جواب دیا۔ اس کے بعد چوہدری ظفر اللہ نے ایک ایک ممبر کو الگ کر کے پیش کیا۔ وائسرائے بہادر نے سب کے ساتھ ہاتھ ملایا اور فوجی ممبران وفد سے جنگی حالات دریافت کرتے رہے اور بعض کو تمغے دیئے ۔
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٨/ مارچ ١٩٢٧ء، ج ١٤ نمبر ٧١)
غیر متزلزل وفاداری
ہم ضمناً اس جگہ یہ بات کہنے سے بھی نہیں رک سکتے ۔ گو گورنمنٹ کی دیرینہ بدظنی جو اسے ہمارے سلسلہ کے متعلق تھی وہ تو ایک حد تک دور ہو چکی ہے اور سلسلہ احمدیہ کی غیر متزلزل وفاداری کے غیر معمولی کارناموں نے حکام حکومت برطانیہ کو اس امر کے تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ سلسلہ سچی وفاداری کا ایک بے نظیر نمونہ ہے ۔
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ٨/ مارچ ١٩٢٧ء، ج ١٤ نمبر ١٧)
سلسلہ دوستی ہندوستان سے جانے کے بعد بھی باقی رہے گا
(ہز ایکسیلنسی وائسرائے ہند لارڈ ارون کا جواب میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کے نام) جناب محترم! آپ نے نہایت مہربانی سے مجھے کتاب بھجوائی ہے اور جو یور ہولینس کے نمائندہ وفد نے کل مجھے دی اس کے اور نیز اس خوبصورت کاسکٹ کے لئے جس میں کتاب رکھی ہوئی تھی آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ان تمام کاسکٹوں سے جو میں نے آج تک دیکھے ہیں بے نظیر ہے اور جماعت کے ممبروں کے ساتھ مختلف مواقع پر میری جو ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں یہ کاسکٹ ان کے لئے ایک خوشگوار یادگار کا کام دے گا ۔ یہ امر میری بے حد دلچسپی کا باعث ہے کہ آپ کے تقریباً دس ہزار پیروؤں نے اس خوبصورت تحفہ کی تیاری میں حصہ لیا ہے۔
٩٣
اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کو خدا حافظ کہتا ہوں۔ آپ یقین رکھیں کہ ہندوستان سے جانے کے بعد آپ کی جماعت سے میری دلچسپی اور ہمدردی کا سلسلہ منقطع نہ ہوگا۔ بلکہ بدستور جاری رہے گا اور میری ہمیشہ یہی آرزو رہے گی کہ مسرت و خوشحالی پوری طرح آپ نیز آپ کے متبعین کے لئے شامل حال رہے۔
(بحوالہ قادیانی مذہب ص ٦٠٧)
برطانیہ کا جاسوس ہونے کا الزام
جناب عالی! جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک ایک مقررہ شاہراہ ہے۔ جس سے وہ ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ وہ حکومت وقت کی فرمانبرداری اور امن پسندی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کا رسول دنیا کو امن دینے کے لئے نہیں آتے تو یقیناً دنیا کے لئے رحمت نہیں کہلاسکتے۔ بعض لوگوں نے سلسلہ احمدیہ کی اس تعلیم سے یہ دھوکہ کھایا ہے کہ شاید جماعت احمدیہ حکومت ہند سے ساز باز رکھتی ہے۔ لیکن جناب سے زیادہ کوئی اس امر کی حقیقت سے واقف نہیں ہوسکتا کہ جس قدر شدت سے یہ الزام لگایا جاتا ہے اتنا ہی یہ الزام بے بنیاد ہے۔ جناب کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ یہ الزام نہ صرف ہندوستان میں لگایا جاتا ہے۔ بلکہ بیرون ہند میں بھی۔ چنانچہ چند سال ہوئے ایک احمدی عمارت کی بنیاد کے موقع پر جرمن وزیر تعلیم نے شمولیت کی تو اس کے خلاف لوگوں نے یہ الزام لگایا کہ حکومت برطانیہ کی جاسوس جماعت کے ساتھ اس نے اظہار تعلق کیا ہے اور مجلس وزراء نے اس کے اس فعل پر جواب طلبی کی۔
(اخبار الفضل قادیان نمبر ١١٨، ج ٢١، مورخہ ٣؍ اپریل ١٩٣٤ء)
سیاسی شبہات
جناب عالی! گو بعض وجوہ سے جن کی تفصیل میں ہم نہیں پڑنا چاہتے۔ بعض برطانوی حکومت یہ شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ سیاسیات میں خلاف اپنی سابقہ روایات کے حصہ لینے لگ گئی ہے۔ لیکن چونکہ ہماری وفاداری مذہبی جذبات پر مبنی ہے۔ ہم ان شبہات کی پروا نہیں کرتے۔ ہم نے جب کبھی کوئی کام کیا ہے۔ دیانت داری سے کیا ہے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٢١ نمبر ١١٨، مورخہ ٣؍ اپریل ١٩٣٤ء)
غلام احمد کی سیاسی زندگی کے دو دور ختم ہوئے۔ اب تیسرا دور شروع کیا جا کر چند نمونوں پر ختم کیا جائے گا۔ ناظرین سمجھ چکے ہوں گے کہ انگریز اپنے خودکاشتہ پودا کی کس حکمت عملی سے آب یاری کرتا ہوا چلا جا رہا ہے اور کس طرح اپنی کٹھ پتلیوں کا آلہ بنا کر اپنی خبیث جڑوں کو مضبوط کر رہا ہے۔
٩٤
مرزا غلام احمد قادیانی کی سیاسی زندگی کا تیسرا دور
(سرکاری بے اعتباری) احمدیت کی ابتداء میں انگریز مخالف نہ تھے۔ سوائے چند ابتدائی ایام کے جب کہ وہ مہدی کے لفظ سے گھبراتے تھے۔ مگر اب تو وہ بھی مخالف ہورہے ہیں۔ بہت تھوڑے ہیں جو جماعت کی خدمات کو سمجھتے ہیں۔ باقی تو باغیوں سے بھی زیادہ ہمیں غصہ سے دیکھتے ہیں اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہوتا تو وہ ہمیں پیس بھی دیں۔ انگریز شاید خیال کرنے لگے ہیں کہ اتنی بڑی منظم جماعت اگر مخالف ہوگی تو ہمارے لئے بہت پریشانیوں کا موجب ہوگی اور وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جماعت احمدیہ کی مذہبی تعلیم یہ ہے کہ حکومت کی فرمانبرداری کی جائے۔ تو پھر جماعت احمدیہ گورنمنٹ کی مخالف ہو کس طرح سکتی ہے؟ لیکن شاید وہ گربہ کشتن روز اوّل کے مطابق ہمیں دبا دینا ضروری سمجھتے ہیں۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٢١ نمبر ١١٨، مورخہ ١٥؍مارچ ١٩٣٤ء، قادیانی مذہب ص ٦١١)
قادیانی اسناد
ہم نے پچاس سال سے دنیا میں امن قائم کر رکھا ہے۔ ہم نے لاکھوں روپیہ گورنمنٹ کی بہبودی کے لئے قربان کیا ہے اور کوئی شخص بتا نہیں سکتا کہ اس کے بدلے ایک پیسہ بھی ہم نے گورنمنٹ سے کبھی لیا ہو؟ ہمارے پاس وہ کاغذات موجود ہیں جس میں گورنمنٹ نے ہمارے خاندان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ اور یہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ اس خاندان کو وہی اعزاز دیا جائے گا جو اسے پہلے حاصل تھا۔ ہمارے پر دادا کو ہفت ہزاری کا درجہ ملا ہوا تھا۔ جو مغلیہ سلطنت میں صرف شہزادوں کو ملا کرتا تھا۔ پھر عمر عضدالدولہ کا خطاب حاصل تھا۔ یعنی حکومت کا بازو۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٥٠، مورخہ ٢٣؍اکتوبر ١٩٣٤ء)
برطانیہ کے لئے جانیں قربان کرنے والی جماعت
بہت سے افسر ایسے گزرے ہیں جو فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے حسن سلوک سے پچاس ہزار یا لاکھ بلکہ کئی لاکھ کی ایک ایسی جماعت (قادیانی) ہندوستان میں چھوڑی ہے جو اپنی جانیں قربان کر کے بھی برطانیہ سے تعاون کرے گی۔ مگر موجودہ افسر جا کر کیا کہہ سکتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ فخریہ کہیں کہ ہم اسی جماعت کے شیرازہ کو توڑ کر آئے ہیں۔ کیا یہ بات ان کی اپنی یا ان کی حکومت کی شہرت کا سبب ہوگا؟
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٣، نمبر ٢٣، مورخہ ٣١؍جولائی ١٩٣٥ء)
٩٥
عہدوں کی ناجائز تقسیم
ان الفاظ کے معنی یہ ہیں کہ ہم جماعت احمدیہ کی وفاداری کے بدلے اسے عہدے نہیں دے سکتے۔ یہ ایک غلطی ہے جو کئی انگریزوں کو لگی ہوئی ہے۔ وہ ایسے وقت جب کہ انہیں کسی وفادار جماعت کی ضرورت ہو جماعت احمدیہ کو مدد کے لئے بلاتے ہیں۔ مگر عہدے دینے کا سوال ہو تو کانگریسیوں کو دے دیتے ہیں۔ مگر اس کا خمیازہ بھی گورنمنٹ بھگت رہی ہے اور اب حالت یہ ہے کہ حکومت کے اپنے راز بھی محفوظ نہیں۔ (اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٤٣ ص ٤، مورخہ ٢٢ نومبر ١٩٣٤ء)
مرزائیوں کو خود اپنے ولی النعمۃ سے شکایت پیدا ہوئی کہ وقت پر آلہ کار تو بناتے ہیں جماعت احمدیہ کو اور عہدے غیروں کو دیتے ہیں۔
انگلستان میں احرار کے چرچے
گفته آید در حدیث دیگراں
جوں جوں انگلستان کے لوگ ان کارروائیوں سے اطلاع پا رہے ہیں جو احرار اور ان کے بعض دوست حکام کی طرف سے احمدیوں کے خلاف ہو رہی ہیں۔ وہاں کے سنجیدہ طبقہ میں اس پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اب سابق گورنر نے حالات سن کر کہا کہ آخر میرے زمانہ میں بھی احرار موجود تھے۔ اس وقت کیوں ان لوگوں کو یہ جرأت نہ ہوئی۔ میں ہمیشہ اپنے افسروں سے کہا کرتا تھا کہ یہ (احرار) خطرناک لوگ ہیں۔ ان کے قریب میں نہ آنا۔
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٣٥ء، ج ٢٣ ص ٢٦)
انگلستان کی تحریریں
پھر چونکہ ہماری جماعت انگلستان میں بھی موجود ہے۔ اس لئے جب پنجاب کی خبریں انگلستان جاتی ہیں اور وہ ہمارے آدمیوں کو دیکھتے ہیں تو وہاں کے افسر حیران ہوتے ہیں کہ یہ تو ہمارے دوست ہیں۔ ہم سے ملنے جلنے والے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ کے بدخواہ نہیں بلکہ وفادار ہیں۔
(اخبار الفضل ص ٩ مورخہ ١٦ جنوری ١٩٣٦ء، ج ٢٣ نمبر ٦٦)
خلیفۃ المسلمین بننے میں انگریزوں سے امداد کی اپیل
انگریزوں کو بالخصوص جن سے کل تک یہ درخواستیں کی جاتی تھیں کہ ہمیں (یعنی میاں
٩٦
محمود احمد قادیانی کو خلیفۃ المسلمین بنا دیا جائے اور جن کے بغداد فتح کرنے پر قادیان میں چراغاں کیا گیا اور غیر احمدیوں (مسلمانوں) ہندوؤں اور سکھوں وغیرہم کو بالعموم یہ دھمکی ضرور دی گئی ہے کہ: ”ہم (قادیانی) کونے کا پتھر ہیں۔ جس پر ہم گرے وہ بھی ٹوٹ جائے گا اور جو ہم پر گرا وہ بھی سلامتی سے نہیں رہے گا۔“
(قادیانیوں کی لاہوری جماعت اخبار پیغام صلح ج٢٢ نمبر ٢٦، مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٩٣٤ء)
آج کل بھی ان کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی پرانے سودا میں مبتلا ہیں کہ انگریزوں سے مل کر پاکستان پر قبضہ کر کے خلیفۃ المسلمین بن کر دل کے ارمان نکالیں؟ (لمرتب)
سب کچلے جائیں گے اور ہمیں پادشاہت دی جائے گی
غرض ہر قوم، ہر طبقہ اور ہر ملک میں گھبراہٹ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی ایسی جماعت ہے جو مذہب پر پکی اور امید ویقین سے پر ہے تو وہ احمدی جماعت ہے۔ وہ لوگ جو واقعہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر ایمان لاتے ہیں اور وہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے۔ صرف ہم باقی رہیں گے۔ ہر ایک کو موت نظر آ رہی ہے اور صرف ہم کو زندگی دکھائی دے رہی ہے۔
دوسرے بادشاہوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی۔ مگر ہمیں امید ہے کہ بادشاہت دی جائے گی۔
(خطبہ میاں محمود احمد مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج١٥ص٦ نمبر ٧٨، مورخہ ٣؍ اپریل ١٩٢٨ء)
مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہبی زندگی کے دو دور اور ملت مرزائیہ کے سیاسی زندگی کے تین دور بیان کرنے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس امت کی ان غداریوں کو بھی طشت از بام کیا جائے جو اسلامی بلاد سے کی گئی ہیں۔
ممالک اسلامیہ سے مرزائیوں کی غداریاں
- ١...... شاہ افغانستان امیر امان اللہ خاں صاحب کے عہد حکومت میں نعمت اللہ
خاں مرزائی کو مرزائی عقائد رکھنے کی وجہ سے علمائے افغانستان کے فتوے سے مرتد قرار دیا گیا تھا اور شریعت مطہرہ کے قانون کے مطابق اس جرم ارتداد میں اس کو بتاریخ ٣١؍ اگست ١٩٢٤ء بعد نماز ظہر بروز اتوار بمقام شیر پور (چھاؤنی کابل) زمین میں گاڑ کر پتھروں سے سنگسار کیا گیا۔ اس پر ہندوستان کے مرزائیوں نے شور و غل کیا اور اس فعل پر حضرات علمائے کرام نے تحقیقی مقالات ومضامین لکھے اور اخبارات نے بھی اس مسئلہ کو اچھی طرح واضح کیا تھا۔ ان میں سب سے بہترین
٩٧
اور محققانہ رسالہ امام المفسرین استاذ العلماء بانی پاکستان علامۃ العصر حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ کا ’’الشہاب لرجم الخاطف المرتاب‘‘ ہے۔ جس نے مسئلہ ارتداد کو شرعی نقطہ نظر سے حل کرتے ہوئے ملت مرزائیہ کو ہمیشہ کے لئے لاجواب اور خاموش کردیا۔ ’’فجزاہ الله منا ومن جميع المسلمين خير الجزاء‘‘
عبداللطیف مرزائی جہاد کی مخالفت کی وجہ سے قتل کیا گیا
ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کی شہادت کی وجہ کیا تھی۔ اس کے متعلق ہم نے مختلف افواہیں سنی۔ مگر کوئی یقینی اطلاع نہ ملی تھی۔ ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب بھی ہو گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر ہے جو افغانستان میں ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔
لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔ اس کتاب کے مصنف کی یہ بات اس لئے بھی یقینی ہے کہ وہ شاہ افغانستان کا درباری تھا اور اس لئے بھی کہ وہ اکثر باتیں خود وزراء اور شہزادوں سے سن کر لکھتا ہے اور ایسے معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٣١، مورخہ ١٦؍اگست ١٩٣٥ء)
جماعت احمدیہ کا مسلک جہاد کی مخالفت ہے
اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر وہ بڑھتے ہوئے جوش کے شکار ہوگئے۔ جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا اور وہ اسی ہمدردی کی وجہ سے مستحق سزا ہوگئے۔ جو قادیان سے لے کر گئے تھے۔
(مندرجہ اخبار الفضل ج ٢٢ نمبر ٣١، مورخہ ١٦؍اگست ١٩٣٥ء)
گورنمنٹ افغانستان کے خلاف سازشی خطوط
افغانستان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے۔ کابل کے دو
٩٨
اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیائی اور ملا نور علی دوکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں صلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہو کر ان کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم ثابت ہو کر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ ١١؍ رجب المرجب کو عدم آباد پہنچائے گئے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضہ میں پائے گئے۔ جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھوں بک چکے تھے۔
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٢ نمبر ٦٩ ص ٣، مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٢٥ء)
لیگ اقوام سے افغانستان کے خلاف مداخلت کی اپیل
جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود قادیانی خلیفۃ المسیح نے لیگ اقوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ حال میں پندرہ پولیس کانسٹیبلوں اور سپرنٹنڈنٹ کے روبرو جو دو احمدی مسلمانوں کو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے حکومت کابل نے سنگسار کر دیا ہے۔ اس لئے دربار افغانستان سے باز پرس کے لئے مداخلت کی جائے۔ کم از کم ایسی وحشیانہ حکومت اس قابل نہیں کہ مہذب سلطنتوں کے ساتھ ہمدردانہ تعلقات رکھنے کے قابل سمجھی جائے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ١٢ نمبر ٩٥، مورخہ ٢٨؍ فروری ١٩٢٥ء)
قسطنطنیہ فتح ہو گیا اور کابل کو فتح کیا جائے گا
اب دیکھ لو قسطنطنیہ مفتوح ہو گیا۔ پھر حضرت مسیح موعود کے مخالف آپ کو اکثر کہا کرتے تھے۔ کابل میں چلو پھر دیکھو تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔ اب کیسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ عنقریب انشاء اللہ ہم کابل جائیں گے اور ان کو دکھا دیں گے کہ جس کو قتل کرنا چاہتے تھے اس (مرزا قادیانی) کے خدام خدا کے فضل سے صحیح سلامت رہیں گے۔
(اخبار الفضل ج ٦ نمبر ٩ مورخہ ٢٧؍ مئی ١٩١٩ء)
امیر امان اللہ خاں نے نادانی سے انگریزوں سے جنگ شروع کی
اس وقت (بعہد شاہ امان اللہ خاں) جو کابل نے گورنمنٹ انگریزی سے نادانی سے جنگ شروع کر دی ہے۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ کی خدمت کریں۔ کیونکہ گورنمنٹ (برطانیہ) کی اطاعت ہمارا فرض ...... لیکن افغانستان کی جنگ ایک نئی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ
٩٩
کابل وہ زمین ہے جہاں ہمارے نہایت ہی قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے گئے اور بے سبب بلاوجہ مارے گئے ہیں۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے اور اس پر صداقت کے دروازے بند ہیں۔ اس لئے صداقت کے قیام کے لئے گورنمنٹ (برطانیہ) کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لئے گورنمنٹ (برطانیہ) کی مدد کرنا احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔ پس کوشش کرو تا کہ تمہارے ذریعہ وہ شاخیں پیدا ہوں۔ جن کی حضرت مسیح موعود نے اطلاع دی ہے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٦ مورخہ ٢٧ مئی ١٩١٩ء)
جنگ کابل میں مرزائیوں کی انگریزوں کو معقول امداد
جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مدد دی اور علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی۔ جس کی بھرتی بوجہ جنگ ہو جانے کے رک گئی۔ ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لئے نام لکھوا چکے تھے۔ ..... اور خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔
(الفضل قادیان ج ٩ نمبر ١ مورخہ ٤ جولائی ١٩٢١ء)
عبداللطیف مرزائی کو امیر امان اللہ خاں نے کیوں قتل کروایا
ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لئے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو حکومت افغانستان کا ملازم تھا، لکھا ہے امیر امان اللہ خاں نے صاحبزادہ سید عبداللطیف کو اس لئے مروایا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرتا تھا۔ پس ہم نے اپنی جانیں قربان کیں کہ انگریزوں کی جانیں بچیں ..... مگر آج بعض حکام سے ہمیں یہ بدلا ملا کہ ہم سب باغی اور ہمارے ساتھ شورش پسندوں کا سلوک روا رکھا گیا۔
(الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٨٨ مورخہ یکم نومبر ١٩٣٤ء)
حضرات جنگ کابل کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ ١٩١٩ء میں افغانستان کے ترقی پسند مگر برطانیہ دوست حکمراں حبیب اللہ خاں کو شہید کر دینے کے بعد اس ملک کے قدامت پسندوں نے ان کے بھائی نصر اللہ خاں کو بادشاہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن امیر شہید کے خلف الرشید امان اللہ خاں اپنے چچا نصر اللہ خاں کو قید کر کے خود تخت پر متمکن ہو گئے۔ افغانستان کی عنان حکومت ہاتھ میں لینے کے بعد امیر امان اللہ خاں نے برطانیہ کے خلاف اعلان جہاد کر دیا ..... اور افغانستان کی فوجیں درہ خیبر سے گزر کر آزاد سرحدی قبائل میں مل گئیں۔
١٠٠
بہرحال اس جنگ کے نتیجہ میں پہلے تو عارضی صلح ہوئی اور اس کے بعد ١٩٢١ء میں مستقل طور پر صلح نامہ مرتب کیا گیا۔ جس کی رو سے افغانستان کی مکمل آزادی کو تسلیم کر لیا گیا۔ امیر امان اللہ خاں نے روس کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات قائم رکھے اور ہر دو حکومت کے درمیان ایک معاہدہ کر کے روس کے ساتھ تعلقات کو استوار بنالیا۔ ایسے حضرات بہت کم ہیں جو اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ اس آزادی میں بہت کچھ حصہ محمودی اور عبیدی اور دیوبندی سیاست کا بھی ہے۔ حسب الحکم مولانا شیخ الہند مرحوم، مولانا عبید اللہ سندھی کئی سال تک کابل میں قیام پذیر رہے اور اپنی خلوت وجلوت میں حریت کی تخم ریزی کرتے رہے۔ جس کا نتیجہ امیر امان اللہ خاں کا اعلان جہاد اور حصول حریت ملت افغانیہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صلح کے وقت برطانیہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یہ صلح درحقیقت برطانیہ اور مولانا عبید اللہ کے درمیان ہے۔
حضرات! آپ کو مذکورہ بالا عبارات سے اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہو گا کہ امیر امان اللہ خاں نے جہاد کر کے اپنے وطن عزیز کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلاتے ہوئے دولت آزادی سے بہرہ ور کیا۔
اس جنگ میں پہلے تو مرزائیوں نے انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر ایک اسلامی ملک کو کس طرح نیست و نابود کرنے کے لئے اپنی پوری قوت وطاقت سے گورنمنٹ برطانیہ کا تعاون کیا۔ کیا اسی ملک میں بیٹھ کر جہاد کی مخالفت کرنا اسلام اور اسلامی اسٹیٹ سے کھلی ہوئی غداری اور نمک حرامی نہیں؟ دنیا کی کوئی باخبر حکومت ایسی غداری اور منافقت برداشت نہیں کر سکتی۔ لہٰذا حکومت افغانستان کا فیصلہ دربارہ ارتداد و مرزائیت صحیح اور حق بجانب تھا۔ ہمیں خوف ہے کہ خدانخواستہ کسی نازک وقت میں ہمارے ملک کے ساتھ بھی ایسی ہی غداری نہ کر بیٹھیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہئے۔
عراق کی فتح اور عمدہ نتائج
لارڈ ہارڈنگ کا یہ سفر (سفر عراق) سابق وائسرائے لارڈ کرزن کے سفر خلیج فارس سے زیادہ اہم اور زیادہ اچھے نتائج کی امید دلاتا ہے۔ ہم اس وقت اس سفر کے نتائج اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ ناظرین پر چھوڑتے ہیں۔ یقیناً اس نیک افسر (لارڈ ہارڈنگ) کا عراق جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا۔ ہم ان نتائج پر خوش ہیں۔ خدا ملک گیری اور جہاں بانی اس کے سپرد کرتا ہے جو اس کی
١٠١
مخلوق کی بہتری چاہتا ہے اور اس کو زمین پر حکمراں بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے۔ پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں۔ کیونکہ خدا کی بات پوری ہوتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع ١؎ کے ساتھ ہمارے (مرزائیوں کے) لئے اشاعت اسلام (مرزائیت) کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا ...... اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمانوں (غیر مرزائیوں) کو پھر مسلمان کریں گے۔
(اخبار الفضل قادیان نمبر ١٠٣، مورخہ ١١؍فروری ١٩١٥ء)
عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے
عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری (میاں محمود احمد قادیانی) تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے۔ لیکن جب وہاں حکومت قائم ہو گئی تو گورنمنٹ نے یہ شرط تو کروائی کہ پادریوں کو عیسائیت کی اشاعت کرنے میں کوئی روک نہیں ہوگی۔ مگر احمدیوں کے لئے صرف اس قسم کی شرط نہ رکھی بلکہ احمدی اگر اپنی تکالیف پیش کرتے ہیں تو بھی عراق کے ہائی کمشنر اس میں دخل دینے کو اپنی شان سے بالا تر سمجھتے ہیں۔
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١١ نمبر ٧١ مورخہ ٣١؍ اگست ١٩٢٣ء)
محولہ عبارات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مرزائیوں کا مذہبی نصب العین یہ ہے کہ دنیائے اسلام کی حکمرانی و جہاں بانی انگریزوں کو ملے۔ جس میں یہ آزادی سے ارتداد کی تبلیغ کر سکیں اور یہ مرزائیوں کا ملی فرض ہے کہ دنیائے اسلام سے جہاد کے اثرات زائل کئے جائیں اور ہر میدان میں انگریزوں کا تعاون کیا جائے۔ ”قاتلہم اللہ انی یوفکون“
فتح بغداد (گورنمنٹ برطانیہ قادیانیوں کی تلوار ہے)
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے۔ جس کے مقابلہ میں علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ احمدیوں کو اس فتح (فتح بغداد) سے کیوں خوشی نہ ہو۔
عراق، عرب ہو یا شام۔ ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔ فتح بغداد کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی؟ ہماری
١؎ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک پر برطانیہ کا پورا قبضہ ہو جائے تو پھر ہم بھی مرزائی ارتداد کا کام وسیع پیمانہ پر کر سکیں گے۔
١٠٢
گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کے اس طرف بھیجا۔ دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے دو فرشتے تھے۔ جن کو گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے ایسے وقت اتارا کہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کر کے اس قسم کی مدد کے لئے تیار کرے۔
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤٢، مورخہ ٧؍دسمبر ١٩١٨ء)
بیت المقدس کے حقدار صرف قادیانی ہیں
اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی کریم ﷺ کی رسالت ونبوت کے منکر ہیں...... اور عیسائی اس لئے غیر مستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النبیین کی رسالت ونبوت کا انکار کر دیا ہے تو یقیناً یقیناً غیر احمدی (مسلمان) بھی مستحق تولیت بیت المقدس نہیں...... کیونکہ یہ بھی اس زمانہ میں مبعوث ہونے والے خدا کے ایک اولوالعزم نبی کے منکر اور مخالف ہیں۔ اگر کہا جائے کہ مرزا قادیانی کی نبوت ثابت نہیں تو سوال ہوگا کہ کن کے نزدیک؟ اگر جواب یہ ہے کہ نہ ماننے والوں کے نزدیک تو اس طرح یہود کے نزدیک مسیح اور آنحضرت ﷺ کی اور مسیحیوں کے نزدیک آنحضرت کی نبوت ورسالت ثابت نہیں۔ اگر منکرین کا فیصلہ ایک نبی کو غیر نبی ٹھہراتا ہے تو کروڑوں عیسائیوں اور یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت من جانب اللہ رسول نہ تھے۔ پس اگر غیر احمدی بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی تولیت کے مستحق تمام نبیوں کے ماننے والے ہی ہو سکتے ہیں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے سوا خدا کے تمام نبیوں کا مؤمن اور کوئی نہیں۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٩ نمبر ٣٦)
ارض بیت المقدس مسلمانوں کے قبضے سے کیوں نکلی
اب اگر مسلمان کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اسی کا سبب تلاش کرنا چاہئے۔ کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا؟ سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن آزادی مذہب کو ہم دیکھ چکے، آزما چکے ہیں اور آرام پا رہے ہیں...... اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لئے نہیں ہے۔ اس زمانہ میں مذہبی جنگ نہیں۔
(قادیانی مبلغ کا خطبہ الفضل قادیان ج ٥ نمبر ٧٥، مورخہ ١٩؍مارچ ١٩١٨ء)
ترکی...... ترک سے مذہباً ہمارا کوئی تعلق نہیں
ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ مذہباً ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے مذہبی نقطۂ خیال سے اس امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا مذہبی پیشوا سمجھیں جو حضرت مسیح موعود کا جانشین
١٠٣
اور دنیاوی لحاظ سے اسی کو اپنا سلطان و بادشاہ یقین کریں۔ جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہوں۔ پس ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلیفہ ثانی ہیں۔ ہمارے سلطان اور بادشاہ حضور ملک معظم ہیں۔
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٢/دسمبر ١٩١٩ء ج ٧ نمبر ٣١)
سلطان ترکی ہرگز خلیفۃ المسلمین نہیں
اخبار لیڈر الہ آباد مجریہ ٢١ جنوری ١٩٢٠ء میں خلافت کانفرنس کا ایڈریس بخدمت جناب وائسرائے شائع کیا گیا ہے۔ فہرست دستخط کنندگان میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کے نام سے پہلے کسی شخص مولوی محمد علی قادیانی کا نام درج ہے۔ مولوی محمد علی کے نام کے ساتھ قادیانی کا لفظ محض لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے لکھا ہے۔ ورنہ قادیان یا قادیان سے کوئی تعلق رکھنے والا احمدی نہیں ہے جو سلطان ترکی کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتا ہو...... معلوم ہوتا ہے کہ یہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری سرگروہ غیر مبائع ہیں۔ لیکن وہ لفظ قادیانی کے ساتھ لکھنے کے ہرگز مستحق نہیں ہیں۔ نہ اس لئے کہ وہ قادیان کے باشندے ہیں اور نہ اس لئے کہ وہ مرکز قادیان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ان کے عقیدہ کے مطابق سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے تو اس عقیدہ کو ظاہر کرنے کے لئے قادیان کی آڑ کیوں لیتے ہیں۔ لہٰذا بذریعہ اس اعلان کے پبلک کو مطلع کیا جاتا ہے کہ قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٧ نمبر ٦١، مورخہ ١٦ فروری ١٩٢٠ء)
قادیان میں چراغاں
٢٧/نومبر کو انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ کے زیر انتظام حسب ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (میاں محمود احمد) گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار اور عظیم الشان فتح کی خوشی میں ایک قابل یادگار جشن منایا گیا۔ نماز مغرب کے بعد دارالعلوم اور اندرون قصبہ میں روشنی اور چراغاں کیا گیا جو بہت خوبصورت اور دلکش تھا۔ اندرون قصبہ میں احمدیہ بازار کے دونوں طرف مدرسہ احمدیہ اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کی عمارتوں پر بے شمار چراغ جلائے گئے اور منارۃ المسیح پر گیس کی روشنی کی گئی۔ جس کا نظارہ بہت دلفریب تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی اور خاندان مسیح موعود کے مکانات پر بھی خوب روشنی کی گئی جس سے محلوں میں خاص رونق اور خوشنمائی پیدا ہوگئی۔ (الیٰ قولہ) اس سے احمدیہ پبلک کی اس عقیدت پر خوب روشنی پڑتی تھی جو اسے گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہے۔
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٤١، مورخہ ٣/دسمبر ١٩١٨ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ٤٧٩)
١٠٤
فتح کی خوشی
(عنوان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ
جنگ جس کا اثر دنیا کے ہر حصہ میں عذاب ال الشان فتح کے ساتھ ختم ہوئی ہے۔ جو کہ ہماری سب سے بڑی خوشی تو ہمارے لئے یہ ہے کہ فرما کر اپنی جماعت کو سلطنت برطانیہ کی فتح برطانیہ کی فتح کے لئے خاص دعا کی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر خص دیا۔ پھر خدا کا بڑا فضل یہ ہوا ہے کہ حکومت برط بھی احمدیت کی تبلیغ کے لئے کھل گئے ہیں جواب
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر
مرزائیوں کی پاکستان سے غداریاں
- ١...... مرزائیوں نے باؤنڈری کمیشن کے
- ٢...... مرزائیوں نے وزارتی کمیشن سے
- ٣...... مرزائیوں نے مذہب، سیاست
سے جدا رہنے کی پالیسی اختیار کر
- ٤...... مرزائی تیس سال سے آزادی کش
- ٥...... جنگ کشمیر میں جہاد کے نام سے
تعجب ہے کہ پاکستانی فوج کے کیوں بنی؟ اور اس فوج کا سامان
- ٦...... پانچ اپریل ١٩٤٧ء میں اکھنڈ
اسلامیہ پاکستان کے وجود کو عام
- ٧...... حرمت جہاد کے فتوے کی نشر واش
کرنے کی کوشش کی۔
فتح کی خوشی
(عنوان مندرجہ اخبار الفضل مورخہ ٢٣ نومبر ١٩١٨ء) خدا کا ہزار ہزار شکر ہے کہ وہ جنگ جس کا اثر دنیا کے ہر حصہ میں عذاب الیم بن کر چھا رہا تھا۔ اب گورنمنٹ برطانیہ کی عظیم الشان فتح کے ساتھ ختم ہوئی ہے۔ جو کہ ہماری جماعت کے لئے کئی قسم کی خوشیوں کا موجب ہے۔ سب سے بڑی خوشی تو ہمارے لئے یہ ہے کہ حضور اقدس (مرزا قادیانی) نے جنگ کی پیش گوئی فرما کر اپنی جماعت کو سلطنت برطانیہ کی فتح کے لئے دعا کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اور خود بھی برطانیہ کی فتح کے لئے خاص دعا کی تھی۔
اب اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حضور کی قبولیت دعا کو تمام عالم پر روز روشن کی طرح چمکا دیا۔ پھر خدا کا بڑا فضل یہ ہوا ہے کہ حکومت برطانیہ کا اقتدار واثر اور بھی زیادہ بڑھنے سے وہ ممالک بھی احمدیت کی تبلیغ کے لئے کھل گئے ہیں جو اب تک بالکل بند تھے۔
(الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٣٩، مورخہ ٢٣ نومبر ١٩١٨ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ٧٥٧)
مرزائیوں کی پاکستان سے غداریاں
- ١...... مرزائیوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے علیحدہ پیش کیا۔
- ٢...... مرزائیوں نے وزارتی کمیشن سے مسلمانوں کے جدا حقوق طلب کئے۔
- ٣...... مرزائیوں نے مذہب، سیاست، معیشت، تجارت ہر معاملہ میں پاکستانی مسلمانوں
سے جدا رہنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
- ٤...... مرزائی تیس سال سے آزادی کشمیر کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
- ٥...... جنگ کشمیر میں جہاد کے نام سے مرزائیوں نے اپنی علیحدہ فرقان بٹالین تیار کی۔ ہمیں
تعجب ہے کہ پاکستانی فوج کے ہوتے ہوئے مرزائیوں کی یہ متوازی فوج کیسے اور کیوں بنی؟ اور اس فوج کا سامان تا ہنوز مملکت پاکستان کو واپس نہیں کیا گیا۔
- ٦...... پانچ اپریل ١٩٤٧ء میں اکھنڈ ہندوستان کا الہامی عقیدہ بیان کرتے ہوئے مملکت
اسلامیہ پاکستان کے وجود کو عارضی قرار دیا۔
- ٧...... حرمت جہاد کے فتوے کی نشر واشاعت سے پاکستان و دیگر بلاد اسلام کو نیست و نابود
کرنے کی کوشش کی۔
١٠٥
- ٨...... جو ناگڑھ و دیگر ریاست ہائے ہند جو بلا جبر و اکراہ پاکستان میں شامل ہوئیں یا ہونا
چاہتی تھیں اور حیدرآباد دکن پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کرنے کے بعد ان کے مقدمہ کی پیروی میں سر ظفر اللہ نے غداری سے کام لیا اور کشمیر کے مسئلہ میں خصوصاً ان کی ہر تقریر و وعظ سے بھارت کو فائدہ پہنچا۔
- ٩...... مرزائیوں نے راولپنڈی کی سازش میں نہ صرف حصہ لیا۔ بلکہ ان کے بانی بنے۔ جس
کی پاداش میں اب تک چند مرزائی گرفتار ہیں۔
- ١٠...... انگریزوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو فتح کرنے کے ناپاک عزائم "تلك عشرة كاملة"
لہذا مرزائیوں کی ان غداریوں سے تنگ آکر مسلمانان پاکستان حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کے حقوق کو متعین اور محدود کر دے۔ کیونکہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی خود اقلیت میں رہنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
بشیر الدین محمود کے اقلیت کے مطالبہ پر دستخط
اپنے ایک نمائندہ کی معرفت ایک بوڑھے ذمہ دار انگریز افسر کو کہلا بھیجا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں۔ جس پر افسر نے کہا کہ وہ اقلیت ہیں اور تم ایک مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق علیحدہ تسلیم کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بھی کئے جائیں۔ تم ایک پارسی پیش کر دو میں اس کے مقابلہ میں دو احمدی (مرزائی) پیش کرتا جاؤں گا۔
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٣/نومبر ١٩٤٦ء، بحوالہ زمیندار لاہور مورخہ ١١/جولائی ١٩٥٢ء)
غیر مرزائی سب کافر اور مشرک ہیں ...... مسلمان مسلمان نہیں
مسلمان زا مسلماں باز کر دند
اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی...... کہا ہے اور ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ مسلمان تو اس لحاظ سے ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب یہ لفظ
١٠٦
استعمال نہ کیا جاوے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ کون مراد ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو نئے سرے سے مسلمان کیا جاوے۔
(کلمۃ الفضل ج ٣ ص ١٣٣)
غیر احمدیوں کے لئے لفظ مسلمان
یاد رکھنا چاہئے کہ ہم جہاں غیر احمدیوں کے لئے مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد حسب پیش گوئی نبی کریمؐ وہی ہوتی ہے۔ کیونکہ آخر وہ نہ تو ہندو ہیں نہ عیسائی ، نہ بدھ۔ کلمہ پڑھتے ہیں اور قرآن شریف پر عمل کے مدعی ، ضرور ہے کہ ہم انہیں اسی نام سے پکاریں جس کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کے لئے الذین ھادوا قرآن مجید میں آتا ہے اور عیسائیوں کے لئے نصاریٰ اور بعض اوقات عیسائی اور موسائی بھی کہہ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ نہ ہدایت یافتہ ہیں نہ حضرت عیسیٰ و موسیٰ کے متبعین۔
(اخبار الفضل قادیان ج ١٢ ص ٢٥، مورخہ ١١؍ اپریل ١٩٢٥ء)
جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا کو نہیں مانتا
علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
میرے سچائی کے لئے تین لاکھ آسمانی نشان
خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف ، خسوف رمضان میں ہوا۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صد ہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے۔ وہ مؤمن کیونکر ہوسکتا ہے اور اگر وہ مؤمن ہے تو میں بوجہ افتراء کے کافر ٹھہرا۔ کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
جو مجھے قبول نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں
خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔
(الذکر الحکیم ص ٢٤ نمبر ٤ ، مورخہ ١٥؍ جنوری ١٩٣٥ء)
کفر کی دو قسمیں ہیں
کفر دو قسم پر ہے۔ ایک کفر یہ کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور
١٠٧
آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً علاوہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
کل مسلمان کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں
کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
احمدیوں اور غیر احمدیوں میں کفر و اسلام کا اختلاف ہے
یہ بات بالکل غلط ہے کہ ہمارے (مرزائیوں) اور غیر احمدیوں (مسلمانوں) کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔ کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مرزا قادیانی کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیوں کر ہوا؟ قرآن مجید میں تو لکھا ہے۔ ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ لیکن حضرت مسیح موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔
(نہج المصلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص ٢٧٤)
جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتا وہ پکا کافر ہے
ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(کلمۃ الفصل مندرجہ رسالہ ریویو برلیجنز ص ١١٠ نمبر ٣ ج ١٤)
اصول تکفیر مسلمانان عالم (بصورت سوال و جواب)
ایک دن نماز عصر کے بعد خود جناب خلیفہ (میاں محمود احمد) صاحب سے اس بارہ میں میری گفتگو ہوئی کہ وہ غیر احمدیوں کی کیوں تکفیر کرتے ہیں؟ اس گفتگو کا خلاصہ میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔
خاکسار: (معلم عبدالقادر) کیا یہ صحیح ہے کہ آپ غیر احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں؟
خلیفہ صاحب: ہاں یہ درست ہے۔
خاکسار: اس تکفیر کی بناء کیا ہے۔ کیا وہ کلمہ گو نہیں ہیں؟
١٠٨
خلیفہ صاحب: بے شک وہ کلمہ ہے۔ مسلم کے لئے توحید پر تمام انبیاء پر ایما میں سے ایک بھی نبی اللہ کا منکر ہو جائے ت السلام تک تمام انبیاء کو مانتے ہیں۔ لیکن رسو ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کے مطابق ف شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مام
مرزا قادیانی پر ایمان لانا جزو ایمان
ہمارے نزدیک مسیح موعود علیہ السلا کے انکار کو رسول اللہ ﷺ کا انکار مستلزم ہے ہیں۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور
غیر قادیانی کیوں کافر ہیں؟
اس کی وجہ کہ غیر احمدی کیوں کافر قرآن کریم نے بتایا ہے اس سب کا انکار یا ا اور وہ یہ ہے کہ اللہ کا انکار کفر ہے۔
سب نبیوں کا یا نبیوں سے ایک کا ہے وغیرہ۔ ہم چونکہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک ن ہیں۔
میرے مخالف یہود، نصاریٰ اور مشرک
آخری زمانہ کے لئے خدا نے مجھ امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں ک نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا ن سلیمان، یوسف، یحییٰ، عیسیٰ (علیہم السلام) و
خلیفہ صاحب: بے شک وہ کلمہ گو ہیں۔ لیکن ہمارا اور ان کا اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے ۔ مسلم کے لئے توحید پر تمام انبیاء پر ملائکہ پر کتب آسمانی پر ایمان لانا ضروری ہے اور جو ان میں سے ایک بھی نبی اللہ کا منکر ہو جائے ۔ وہ کافر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کو مانتے ہیں۔ لیکن رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کے مطابق غیر احمدی مرزا قادیانی کی نبوت سے منکر ہو کر کفار میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور آیا جس کو ہم نے مان لیا اور انہوں نے نہ مانا۔
(اخبار الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٩٩ ، مورخہ ٢/ جون ١٩٢٣ء)
مرزا قادیانی پر ایمان لانا جزو ایمان ہے
ہمارے نزدیک مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانا جزو ایمان ہے۔ کیونکہ آپ کے انکار کو رسول اللہ ﷺ کا انکار مستلزم ہے۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
غیر قادیانی کیوں کافر ہیں؟
اس کی وجہ کہ غیر احمدی کیوں کافر ہیں۔ قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ وہ اصل جو قرآن کریم نے بتایا ہے اس سب کا انکار یا اس کے کسی ایک حصہ کے نہ ماننے سے کافر ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کا انکار کفر ہے۔
سب نبیوں کا یا نبیوں میں سے ایک کا انکار کفر ہے۔ ملائکہ کے انکار سے انسان کافر ہو جاتا ہے وغیرہ۔ ہم چونکہ مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور غیر احمدی آپ کو نبی نہیں مانتے۔ اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک نبی کا انکار کرنے کی وجہ سے بھی ہر غیر احمدی کافر ہیں۔
(الفضل قادیان ج ٩ نمبر ١٠١ ، ١٠٢، مورخہ ٢٦ ، ٢٩/جون ١٩٢٢ء)
میرے مخالف یہود، نصاریٰ اور مشرک ہیں
آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہوگا۔ یہ امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یوسف، یحییٰ ، عیسیٰ (علیہم السلام) وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور
١٠٩
اس صورت میں گویا تمام انبیاء گذشتہ اس موت میں دوبارہ پیدا ہوگئے۔ یہاں تک کہ سب کے آخر مسیح پیدا ہو گیا اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔
(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)
دنیا کے ہر نبی کا نام مجھے دیا گیا
دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ بن مریم ہوں، میں محمد رسول اللہ ہوں۔ توبہ! توبہ!! جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
تمام انبیاء کے متفرق کمالات مجھ میں ہیں
تمام کمالات متفرقہ جو تمام انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم میں بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے ہیں۔ اس لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ، وغیرہ ہے۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کے بعض صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔
(مندرجہ اخبار الحکم قادیان ١ اپریل ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠)
آنحضرت ﷺ سے میرے معجزات زائد ہیں
اور جو میرے لئے نشانات ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زائد ہیں اور کوئی مہینہ بغیر نشانوں کے نہیں گزرتا۔
(اخبار البدر قادیان جولائی ١٩٠٦ء، اخبار الفضل قادیان ج ١٩ مورخہ ٢٤؍ جنوری ١٩٣٢ء)
تین ہزار معجزات ہمارے نبی سے ظہور میں آئے۔
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
سرکار مدینہ ﷺ سے افضلیت کا دعویٰ
مسیح موعود کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔
(قادیانی ریویو، بابت ماہ مئی ١٩٢٩ء)
١١٠
ترقی کرتے کرتے آنحضرت ﷺ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترق حتیٰ محمدؐ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
مرزا کرشن جی کے رنگ میں
اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی او تھا۔ جس پر خدا کی طرف سے روح القدس ا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا سے دشمنی رکھتا تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے مجملہ اور الہ کرشن رودر گوپال، تیری مہما گیتا میں لکھی گئی میں موسیٰؑ، عیسیٰؑ، کرشن، محمد احمد ہوں خدا تعالیٰ نے جری اللہ فی حلل ا جو یہودیوں کے لئے موسیٰ، عیسائیوں کے لئے محمد واحمد ہے۔
مرزا قادیانی کے دعویٰ پر ایمان ن
پھر (مرزا قادیانی کا) ایک اور سوائے اس کے کہ الہام کا انکار کیا جائے او الصادقین“ خدا مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہوں۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس الہام میں سمجھتا۔ کیونکہ فقرہ ”انی من الصادقی ایک جو آپ کو صادق نہیں جانتا اور دعاوی
ترقی کرتے کرتے آنحضرت ﷺ سے بڑھ سکتا ہے
یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑے درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ محمدؐ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔
(الفضل ج١٠ نمبر ٥ مورخہ ١٧؍ جولائی ١٩٢٢ء)
مرزا کرشن جی کے رنگ میں
اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے۔ درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔ جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور با اقبال تھا۔ جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔ وہ اپنے زمانہ کا درحقیقت نبی تھا۔ جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ الہام بھی ہوا تھا۔ ہے کرشن رودر گوپال، تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨، ٢٢٩)
میں موسیٰ، عیسیٰ، کرشن، محمد احمد ہوں
خدا تعالیٰ نے جری اللہ فی حلل الانبیاء تمام نبیوں کے قائم مقام ایک نبی مبعوث فرمایا جو یہودیوں کے لئے موسیٰ، عیسائیوں کے لئے عیسیٰ اور ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں کے لئے محمد واحمد ہے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ ص ١١١، مورخہ ٦؍ مئی ١٩١٦ء)
مرزا قادیانی کے دعوٰی پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے
پھر (مرزا قادیانی کا) ایک اور الہام ہے جس میں انکار کی گنجائش باقی رہتی ہی نہیں۔ سوائے اس کے کہ الہام کا انکار کیا جائے اور وہ الہام یہ ہے۔ ”قل یا ایھا الکفار انی من الصادقین“
(حقیقت الوحی ص ٩٢، خزائن ج ٢٢ ص ٩٤،٩٥)
خدا مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو حکم دیتا ہے کہ تو کہہ اے کافرو میں صادقین میں سے ہوں۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ اس الہام میں ہر ایک ایسا شخص ہے جو حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں سمجھتا۔ کیونکہ فقرہ ”انی من الصادقین“ اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہر ایک جو آپ کو صادق نہیں جانتا اور دعوٰی پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے۔
(کلمۃ الفصل ج ١٤ ص ١٣٣)
١١١
ابن مریم کا منکر کافر ہوا اور مرزا قادیانی کا منکر کیوں کافر نہ ہو؟
پس کس طرح مان لیں کہ خدا تو ایک شخص کو کہے کہ ”انت منی بمنزلة ولدی انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی“ لیکن وہ شخص ایسا معلوم ہو کہ اس کا ماننا قریباً قریباً برابر ہو؟ پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص کے انکار سے یہودی مغضوب علیہم بن جائے۔ لیکن اس کو ماننا ایمانیات میں سے نہ ہو؟ پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص پکار پکار کر کہے۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
لیکن ابن مریم کا منکر تو کافر ہو اور غلام احمد (قادیانی) کا منکر کافر نہ ہو اور پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ بار بار اپنے الہام میں رسول اور نبی کہہ کر پکارے لیکن وہ ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ کے لفظ میں شامل نہ ہو اور اس کا منکر ”اولئك هم الكافرون حقا“ سے باہر ہو۔
(کلمۃ الفصل ج ١٤ ص ١٧،١٥٤،١٧٣،نمبر٢)
ہمارا فرض
ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کو اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔
(انوار خلافت ص٩٠)
مسلمان اور یہود و نصاریٰ سب مساوی ہیں
غیر احمدیوں کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مؤمن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مؤمن اہل کتاب عورت کو بیاہ لا سکتا ہے۔ مگر مؤمنہ عورت کو اہل کتاب سے نہیں بیاہ سکتا۔ ایسے ایک احمدی غیر احمدی (مسلمان) عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لا سکتا ہے۔ مگر احمدی (مرزائی) عورت شریعت اسلام (قادیانی شریعت) کے مطابق غیر احمدی (مسلمان) مرد کے نکاح میں نہیں دی جاسکتی۔
غیر احمدی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اہل کتاب عورت سے بھی نکاح جائز ہے۔ بلکہ اس میں تو فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے۔ اپنی لڑکی کسی غیر احمدی کو نہ دینی چاہئے۔ اگر ملے تو بے شک لے لو۔ لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے۔
(الحکم ١٤ اپریل ١٩٠٨ء، بحوالہ الفضل قادیان ج ٨ نمبر ٤٥، مورخہ ١٦؍دسمبر ١٩٢٠ء)
١١٢
دونوں حرام
غیر احمدیوں سے ہماری نمازی کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب ہما سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں یہ ذریعہ عبادات کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی ت لئے حرام قرار دیئے گئے۔
دعائے مغفرت کی ممانعت
سوال...... کیا کسی شخص کی و خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے اور مغفرت جواب...... غیر احمدیوں کا کفر نہیں ۔
اہل بیت کی توہین
حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ غلامی ...... بلکہ آپ کی خاک پا کا سرمہ بنا آپ کی غلامی میں داخل نہ ہوں گے وہ کٹ
سیدنا حضرت علیؓ اور اہل بیت
یہ سوال کہ حضرت علیؓ کیوں نبی کا جواب یہ ہے کہ اگر حضرت علیؓ یا دیگر ا کے وارث ہوتے۔ (نعوذ باللہ گویا کامل زمانہ بھی متقاضی ہوتی تو ضرور وہ بھی نبوت
حضرت امام حسینؓ کی توہین
امام حسینؓ پر فضیلت کے بار میں آجاتے ہیں۔ قرآن کریم نے کہاں
دونوں حرام
غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا جو ہم ان (مسلمانوں) کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادات کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔
(کلمۃ الفصل ص ١٦٩)
دعائے مغفرت کی ممانعت
سوال ...... کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں شامل نہ ہو یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے اور مغفرت کرے؟ جواب ...... غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ہے اور ان کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔
(الفضل دارالامان ج ٨ ص ٥٩)
اہل بیت کی توہین
حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے بڑی شان دی ہے اور موجودہ سادات کو آپ کی غلامی ...... بلکہ آپ کی خاک پا کا سرمہ بنانا بھی بہت بڑا فخر ہے ...... اور ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو آپ کی غلامی میں داخل نہ ہوں گے وہ کٹ جائیں گے اور سید نہ رہیں گے۔
(الفضل قادیان نمبر ٨ ص ٦١)
سیدنا حضرت علیؓ اور اہل بیت
یہ سوال کہ حضرت علیؓ کیوں نبی نہ ہوئے اور دیگر اہل بیت نے یہ رتبہ کیوں نہ پایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر حضرت علیؓ یا دیگر اہل بیت کامل طور پر آنحضرتﷺ کے علوم اور معارف کے وارث ہوتے ۔ (نعوذ باللہ گویا کامل طور پر علوم و معارف کے وارث نہیں تھے) اور ضرورت زمانہ بھی متقاضی ہوتی تو ضرور وہ بھی نبوت کا درجہ پاتے۔
(اخبار الفضل قادیان ج ٣ ص ١٠٧، مورخہ ١٨؍ اپریل ١٩١٦ء)
حضرت امام حسینؓ کی توہین
امام حسینؓ پر فضیلت کے بارے میں فرمایا کہ ان پر میری فضیلت سن کر یوں ہی غصہ میں آ جاتے ہیں۔ قرآن کریم نے کہاں امام حسینؓ کا نام لیا ہے؟ زید ہی کا نام لیا ہے۔ اگر ایسی ہی
١١٣
بات تھی تو چاہئے تھا کہ امام حسین کا نام بھی لیا جاتا اور پھر ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم“ کہہ کر اور بھی ابوت کا خاتمہ کر دیا۔ اگر ابا حسین اس آیت کے ساتھ کہہ دیا جاتا تو شیعہ کا ہاتھ کہیں تو پڑ جاتا۔
(ملفوظات احمدیہ ص ١٩١، ١٩٢)
حسین جیسے کروڑوں انسان گزر چکے اور کروڑوں آئیں گے
ہاں یہ سچ ہے کہ وہ حسین بھی خدا کے راست باز بندوں میں سے تھے۔ لیکن ایسے بندے تو کروڑ ہا دنیا میں گزر چکے اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے؟ ایسا ہی خدا نے اور اس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے۔ (سبحان و تعالیٰ ہذا بہتان عظیم) اور تمام خدا کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے۔ اس کو تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو اس (مرزا قادیانی) سے کیا نسبت۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث اور تمام نبیوں کی شہادت سے مسیح موعود حسین سے افضل ہے اور جامع کمالات متفرقہ ہے۔ پس اگر در حقیقت میں ہی مسیح موعود ہوں تو خود سوچ لو کہ حسین کے مقابل میں مجھے کیا درجہ دینا چاہئے؟
(نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥ تا ٤٢٨)
صد حسین
حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے۔
صد حسین است در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
کہ میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔ لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے میں حسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کا مفہوم یہ ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی۔
(الفضل قادیان ج ١٣ نمبر ٨٠، مورخہ ٢٦ جنوری ١٩٢٦ء)
عربی اشعار میں امام حسین کی اہانت
مزید برآں مسئلہ ”ما نحن فیہ“ میں مرزا قادیانی کے چند عربی اشعار مع ترجمہ مشتے نمونہ از خروارے ملاحظہ ہوں۔ قصیدہ اعجازیہ جو مرزا قادیانی کا خالص الہام ہے۔ ایسی ہی بد عقیدگیوں کا مجموعہ ہے۔
١١٤
ما كان محمد ابا احد من حسین اس آیت کے ساتھ کہہ دیا جاتا تو شیعہ
(ملفوظات احمدیہ ص ١٩١، ١٩٢)
کروڑوں آئیں گے
است باز بندوں میں سے تھے۔ لیکن ایسے گے کس قدر ہوں گے؟ ایسا ہی خدا نے اور اس رکھا ہے۔ (سبحان وتعالیٰ ہذا بہتان عظیم ) اور تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ قادیانی) سے کیا نسبت۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ موعود حسین سے افضل ہے اور جامع کمالات تو خود سوچ لو کہ حسینؓ کے مقابل میں مجھے کیا
(نزول المسیح ص ٤٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٥ تا ٤٢٨)
لوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے
در گریبانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
ف اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح ں کہتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کا مفہوم یہ ا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو
(امان ج ١٣ نمبر ٨٠، مورخہ ٢٦؍جنوری ١٩٢٦ء)
قادیانی کے چند عربی اشعار مع ترجمہ سنئے دیانی کا خالص الہام ہے۔ ایسی ہی بد
اقول نعم والله ربى سيظهر
ترجمہ: اور انہی نے کہا کہ اس شخص نے امام حسنؓ اور حسینؓ سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اچھا سمجھتا ہوں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا کہ میں اچھا ہوں۔
(اعجاز احمدیہ ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)
فانى اءيد كل ان وانصر
واما حسين فذكروا دشت كربلا
الى هذا الايام تبكون فانظروا
ترجمہ: مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر (رہا) حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو۔ اب تک روتے ہو۔ پس سوچ لو۔
(اعجاز احمدیہ ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
قتيل العدو والفرق اجلى واظهر
ترجمہ: اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔
(اعجاز احمدیہ ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
حضرات! خبیث عبارات کے چند گزیدہ فقرات جن کو دل پر پتھر رکھ کر نقل کیا ہے۔ تاکہ عوام و خواص ان کے خبیث عقائد وعزائم خفیہ پر مطلع ہو کر اس فتنہ ارتداد کے لئے کچھ روک تھام کی فکر کریں۔
ایک لمحہ غافل بودم وصد سالہ راہم دور شد
غلام احمد قادیانی کے ٥ وجوہات کفر (شرک)
تمام جرائم اور کبائر میں سب سے بڑا گناہ اور جرم حرم وحدانیت میں دست اندازی یعنی شرک ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جس اعلیٰ پیمانہ پر منافقانہ شرک کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کی مثال مشرکین عرب میں بھی شاید ہی پائی جائے۔ کیونکہ مشرکین عرب اگرچہ بہت خداؤں کے قائل تھے۔ لیکن خود خدائی کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا۔ بخلاف مرزا قادیانی کے۔
١١٥
”وقالوا اتخذ الرحمن ولداً ٠ لقد جئتم شيئاً اداً ٠ تكاد السمٰوت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمن ولداً ٠ وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولداً (مريم: ٨٨ تا ٩٢)“ ﴿اور لوگ کہتے ہیں رحمن رکھتا ہے اولاد بیشک تم لائے ہو بھاری چیز قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اس بات سے اور ٹکڑے ہو زمین اور گر پڑیں پہاڑ ڈھ کر اس بات پر کہ پکارتے ہیں رحمن کے لئے اولاد اور نہیں پھبتا رحمن کو کہ رکھے اولاد۔﴾
خدا کا بیٹا ہونے کا دعوٰی
- الف...... ”انت منی بمنزلة ولدی“ تو بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- ب...... ”انت منی بمنزلة اولادی “
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥)
- ج...... ”اسمع یا ولدی“ اے میرے بیٹے سن۔
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
”یا شمس یا قمر انت منی وانا منك“ اے چاند اے خورشید تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے۔
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
- د...... ”انت منی وانا منك ظهورك ظهوری“ تو مجھ سے اور میں تجھ
سے تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔
(تذکرہ ص ٧٠٧)
- ل...... ”انت منی بمنزلة بروزی“ بعینہ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔
(تذکرہ ص ٧٠٢)
”انت من ماء نا وهم من فشل“ تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ فشل (بزدلی سے) ”یحمدك الله من عرشه ویمشی الیك“ خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔
(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)
خدا قادیان میں نازل ہوگا۔
(البشریٰ ج ١ ص ٥٦، مجموعہ الہامات مرزا)
- ی...... ”انا نبشرك بغلام حلیم مظهر الحق والعلیٰ کان الله نزل
من السماء“ ہم تجھے ایک لڑکا کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا ہی آسمان سے اتر آیا۔
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)
خدا ہونے کا دعوٰی
- الف...... ”رأیتنی فی المنام عین الله وتیقنت اننی هو ولم یبق لی
١١٦
ارادة ولا خطرة وبين ما انا فى هذه الحالة كنت اقول انا نريد نظاماً جديداً سماء جديدة وارضاً جديدة ..... فخلقت السموت والارض اولا بصورة اجمالية لا تفريق فيها ولا ترتيب ثم فرقتها ورتبتها وكنت اجد نفسي على خلقها كالقادرين ثم خلقت السماء الدنيا وقلت انا زينا السماء الدنيـا بـمـصـابيح ثم قلت الآن نخلق الانسان من سلالة من طين . فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فى احسن تقويم وكنا كذالك الخالقين “ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں اور نہ میرا کوئی ارادہ باقی رہا نہ خطرہ اسی حال میں ( جبکہ میں بعینہ خدا تھا ) میں نے کہا کہ ہم ایک نیا نظام نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے ۔ جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی ۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور ترتیب دی اور میں نے اپنے آپ کو اس وقت ایسا پایا تھا کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہوں ۔ پھر میں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور کہا: ”انا زيـنـا السماء الدنيـا بـمـصـابيـح “ پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے ۔ پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اسی طرح سے ہم خالق ہو گئے ۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥ خزائن ج ٥ ص ٥٦٤، ٥٦٥)
- ب....... ” واعطيت صفة الافناء والاحياء “ مجھ کو فنا کرنے اور زندہ کرنے
کی صفت دی ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٥٥)
- ج....... ” انما امرك اذا اردت شيئاً ان تقول له فكن فيكون “
(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)
نتائج
” ومن يقل منهم اني اله من دونه فذالك نجزيه جهنم “
او قادیانیو! او مرزائیو! بتاؤ اور سچ بتاؤ کہ مرزا قادیانی نے خدا ہونے میں کون سی کسر باقی چھوڑی ہے؟ کیونکہ اسی الہام کی تصدیق و تائید کرتے ہوئے یقین کر لیا کہ میں واقعی خدا ہوں ۔ فرعون نے بھی تو یہی کہا تھا کہ: ”انا ربکم الاعلیٰ “ پھر بتلاؤ کہ مرزا قادیانی کے ان الفاظ میں اور فرعون کے مقولہ میں کیا فرق باقی رہا؟
عبارت ” واعـطـيـت وانـمـا امـرك “ سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کو ”کن فـيـكـون “ کے اختیارات حاصل ہیں۔ زندہ کرنے اور فنا کرنے کی بھی صفت مرزا قادیانی میں
١١٧
موجود ہے۔ جیسا اس سے پہلے اس کے جد امجد نمرود علیہ ماعلیہ نے ”انا احیی وامیت“ کا اعلان کیا تھا۔ اب بتلاؤ مرزا قادیانی اور نمرود میں کیا فرق رہا؟ مرزا قادیانی نے جدید آسمان اور زمین بھی بنائے، آدم کو بھی پیدا کیا؟ اب شرم وحیا کی بات اور عقل کا تقاضا یہی ہے کہ مرزائی مرزا قادیانی کی نئی پیدا کردہ دنیا میں قیام کریں۔ جس طرح پرانے اسلام کو چھوڑا اسی طرح پرانے آسمان و زمین کو بھی چھوڑ دیں۔ مرزائی دوستو! غور کرو اور خوب سوچ لو کہ تمہارا پیغمبر تم کو جنت کی طرف لئے جا رہا ہے یا جہنم کی طرف؟ آخر ایک دن تم کو بھی مرنا ہے اور خدائے لاشریک کے دربار میں پیش ہونا ہے۔ آخر کیا جواب دو گے۔ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں اس قدر مستغرق ہو جانا کہ دار آخرت کی داروگیر سے غافل ہو جانا کس قدر افسوس ناک ہے۔
- ٢...... ادعاء نبوت تشریعی یا غیر تشریعی ۔
- ٣...... توہین انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام۔
- ٤...... تمام مسلمانوں کو کافر قرار دینا خواہ ان کو اس زندیق کی دعوت پہنچے یا نہیں۔
- ٥...... اجماع امت محمدیہ کی مخالفت اور قرآن میں تحریف۔ یہ بالاختصار کفر مرزا
کی پانچ وجہیں بیان کی گئی ہیں۔ تفصیلی بیان آئندہ درج کیا جائے گا۔
مرزا قادیانی کی تفصیلی وجوہات کفر
رئیس المناظرین اور راس المتکلمین حضرت مولانا سید محمد مرتضیٰ حسن مرحوم سابق صدر مدرس مدرسہ امدادیہ مرادآباد ، بہت بڑے مشہور فاضل دوراں تھے۔ عرصہ تک دارالعلوم دیوبند میں ناظم تعلیم رہے ہیں۔ فن مناظرہ میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ جامع علوم وفنون تھے۔ رد مرزائیت میں آپ کے بہت سے رسائل لاجواب ہیں۔ آپ کا بیان ٢١؍ اگست ١٩٣٢ء کو شروع ہو کر ٢٥؍ اگست ١٩٣٢ء کو ختم ہوا۔ بیان کیا ہے دلائل کا ایک بحرِ ذخار ہے۔ جو مرزائی نبوۃ کو ایک تنکے کی طرح بہائے لے جا رہا ہے اور ایک حقیقت نما آئینہ ہے جس میں مرزائی دجل وفریب اور کذب وزور کے باریک سے باریک نقش بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ حضرت ممدوح نے اپنے بیان میں مرزا قادیانی کے کفر کے بہت سے وجوہ بیان کئے ہیں اور مختار مدعاعلیہ (مقدمہ بہاولپور) کی جرح کے دندان شکن جواب دیئے۔ جن سے مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کا کفر اور ارتداد پہلے سے زیادہ واضح ہو گیا۔
مرزا قادیانی کے ١٥ وجوہات کفر
- ١...... ایک وجہ ان کے کفر کی یہ ہے کہ دعوائے نبوت تشریعیہ وشرعیہ کی جو باتفاق
١١٨
مرزا قادیانی کفر ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے صریح کلام میں دعوائے تشریعی کیا اور اس میں شریعت کی تفسیر بھی کر دی۔ اگر ہمارے پاس صرف یہی وجہ ہوتی تو مدعیہ کی کامیابی کافی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ اور بھی بہت وجوہ بیان کی گئیں۔
- ٢...... مرزا قادیانی نے اقرار کیا کہ خاتم النبیین کے بعد مطلق نبوت منقطع ہے اور
جو دعویٰ کرے وہ کافر ہے اور مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا۔ لہٰذا باقرار خود کافر ہوئے۔
- ٣...... مرزا قادیانی نے یہ بھی کہا کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی جدید یا قدیم نبی نہیں
آسکتا اور اس کو قرآن کا انکار قرار دیا۔ حالانکہ خود دعویٰ نبوت کیا۔
- ٤...... مرزا قادیانی نے نزول عیسیٰ علیہ السلام کو ختم نبوت کا انکار قرار دے کر اسے
کفر ٹھہرایا اور پھر اپنا نبی ہونا (کہ جو اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام سے معاذ اللہ ہر شان میں اعلیٰ اور افضل سمجھتے ہیں) جائز رکھا بلکہ ضروری، لہٰذا مرزا قادیانی کافر ہوئے۔
- ٥...... مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ آپ کا خاتم
النبیین ہونا ”انا خاتم النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ سے ثابت ہے اور پھر اس کے بعد یہ کہا کہ جو ایسا کہے کہ آپ کے بعد نبوت نہیں آسکتی وہ کافر ہے۔ اس وجہ سے بھی مرزا قادیانی کافر ہوئے۔
- ٦...... مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے بعد جواز نبوت کو کفر قرار دیا تھا۔ اب
مرزا قادیانی اسی نبوت کو فرض و ایمان قرار دیتا ہے۔ یہ اس سے بھی بڑھ کر کفر ہوا۔
- ٧...... مرزا قادیانی نے باب نبوت کھول کر اپنے تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ کہتے
ہیں کہ یہ دروازہ قیامت تک کھلا رہے گا لہٰذا اس وجہ سے بھی کافر ہوئے۔
- ٨...... مرزا قادیانی نے صرف یہ نہیں کہا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی
آئے گا۔ بلکہ کہتے ہیں کہ ہزار ہا آنحضرت ﷺ خود بروز فرماویں گے۔ گویا آنحضرت ﷺ کے بعد ہزاروں نبی واقع ہو سکتے ہیں۔ امکان ذاتی نہیں بلکہ امکان وقوعی ہے۔ پھر مرزا قادیانی نے یہ کہا کہ آنحضرت ﷺ کی ایک بعثت پہلے تھی اور پھر بعثت ثانیہ ہوئی۔ اس کا حاصل تناسخ ہے اور تناسخ کا قائل کافر ہوتا ہے۔
- ٩...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں عین محمد ہوں...... اس میں آنحضرت ﷺ
کی صریح توہین ہے۔ اگر واقعی عین ہیں تو کھلا ہوا کافر ہے اور یہ ایک توہین صدہا توہین اور استہزاء اور تمسخر پر مشتمل ہے اور عین محمد نہیں تو پھر آپ کے بعد دوسرا نبی ہوا اور ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی اور یہ وجہ کفر کی ہے۔
١١٩
- ١٠....... مرزا قادیانی نے دعویٰ وحی کیا ہے۔ حالانکہ عبارات علماء سے ظاہر ہے کہ
محض دعویٰ نبوت کفر ہے۔
- ١١....... مرزا قادیانی نے دعویٰ وحی نبوت کیا یہ بھی وجہ کفر ہے۔
- ١٢....... مرزا قادیانی نے اپنی وحی کو قرآن، توریت، انجیل کے برابر کہا ہے۔ اس
بناء پر قرآن آخر الکتب باقی نہیں رہتی۔ یہ بھی ایک وجہ کفر کی ہے۔
- ١٣....... مرزا قادیانی نے اپنی وحی کو متلو بھی قرار دیا اور کہا کہ اگر اس کو جمع کیا
جاوے تو کم از کم بیس جز کی ہوگی یہ اور وجہ کفر کی ہے۔
- ١٤....... مرزا قادیانی نے اپنے اقرار سے اور تمام علماء نے اس کی تصریح کر دی کہ
جو شخص کسی نبی کو گالیاں دے یا توہین کرے وہ کافر ہے۔ مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی اتنی وجوہ سے توہین کی ہے کہ غالباً سو سے کم نہ ہوگی اور ہر توہین موجب کفر ہے اور کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا۔ (جن کی تعداد کو خدا ہی جانے بعض روایات میں آتا ہے سوا لاکھ ہیں) جس کی مرزا قادیانی نے توہین نہ کی ہو؟ ہر نبی کی مرزا قادیانی نے توہین کی تو اس لحاظ سے اتنی تعداد کے دگنے برابر مرزا قادیانی کی وجوہ تکفیر ہوسکتی ہیں۔ اگر ہر ایک نبی کی دو دو توہینیں سمجھی جائیں تو اتنی مقدار ہر وجوہ کفر ہوسکتی ہیں۔ بالہٰذا جتنی توہینیں ہوئیں اتنی وجوہ سے مرزا قادیانی کافر ہوئے۔
مرزا قادیانی نے سرور عالم کی توہین کی ہے۔ یہ وجہ بہت بڑی کفر کی ہے۔
- ١٥....... مرزا قادیانی نے احکام شرع کو بدلا۔ علمائے اسلام اور مرزا قادیانی کے
اقرار سے ”نسخ شرع“ باطل ہے۔ لہٰذا اس وجہ سے بھی مرزا قادیانی کافر ہوئے۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ کسی مرزائی عورت کا غیر احمدی سے نکاح جائز نہیں۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ چنانچہ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧ حاشیہ) پر ہے۔ پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تم پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ جو مجھے نہ مانیں وہ سب کافر ہیں۔ مرزا قادیانی نے ”نفخ صور“ کا بالکل انکار کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے ”حشر اجساد“ کا انکار کیا۔ جس طریق میں قیامت کی خبر قرآن وحدیث میں آئی ہے۔ اس سے بالکل انکار کیا ہاں ظاہری لفظ وہی چھوڑے مگر معنی دوسرے بیان کئے۔ یہ وجوہ بھی مرزا قادیانی کے کفر کی ہیں۔ لہٰذا مسئلہ واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کافر بھی ہیں اور مرتد بھی اور ان عقائد کے معلوم ہونے کے بعد جو شخص مرزا قادیانی کے کفر اور ارتداد میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ کسی
١٢٠
مسلمان مرد یا عورت کا نکاح کسی مرزائی مرد نکاح کے بعد کسی نے مرزائی مذہب اختیار ک ہو گی اور نسب ثابت نہ ہوگا۔
مرزا قادیانی کی متضاد باتیں
مرزا قادیانی کی مذہبی زندگی کے کہ دونوں دوروں کی تشخیص کی جائے تاکہ
قادیان طاعون سے اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان تھا۔
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص)
اگرچہ طاعون تمام بلاد اسلامیہ پر اپنا پرچھا ڈالے گی۔ مگر قادیان یقیناً یقیناً اس کی ط برد سے محفوظ رہے گا۔
(اخبار الحکم مورخہ ١٠ اپریل ١٨)
ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست با کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قر دے سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص)
مرزا قادیانی مسیح (عیسیٰ علیہ السلام معجزے کے متعلق کہتے ہیں۔ ان پر پرواز کرنا قرآن مجید سے ہرگز ثاب ہوتا۔
(ازالۃ اوہام ص ٣٠٧، خزائن ج ٣ ص)
مسلمان مرد یا عورت کا نکاح کسی مرزائی مرد اور عورت سے جائز نہیں اور اگر نکاح ہو گیا اور ان کے نکاح کے بعد کسی نے مرزائی مذہب اختیار کر لیا تو نکاح فوراً فسخ ہو جائے گا۔ ورنہ اولاد اولاد الزنا ہوگی اور نسب ثابت نہ ہوگا۔
(بیانات علمائے ربانی بر ارتداد فرقہ قادیانی ص ١٠٠)
مرزا قادیانی کی متضاد باتیں
مرزا قادیانی کی مذہبی زندگی کے دو تفصیلی دور بیان کرنے کے بعد ضرورت محسوس ہوئی کہ دونوں دوروں کی تشخیص کی جائے تاکہ قارئین حضرات کو سہولت رہے۔
پہلا تضاد
طاعون کے دنوں میں جب قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔
(حقیقت الوحی ص ٨٤ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
قادیان طاعون سے اس لئے محفوظ رکھی گئی ہے کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان تھا۔
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
اگرچہ طاعون تمام بلاد اسلامیہ پر اپنا پر ہیبت اثر ڈالے گی۔ مگر قادیان یقیناً یقیناً اس کی دست برد سے محفوظ رہے گا۔
(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٢ء)
دوسرا تضاد
حضرت مسیح ایسے خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے۔
(مقدمہ براہین احمدیہ ص ١٠٤، خزائن ج ١ ص ٩٤)
مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی تھا۔
(حمامتہ البشریٰ ج ١ ص ٤٤)
ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ نبی قرار دیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
تیسرا تضاد
حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزے کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ٦٨)
مرزا قادیانی مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) کے معجزے کے متعلق کہتے ہیں۔ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن مجید سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔
(ازالہ اوہام ص ٣٠٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)
١٢١
چوتھا تضاد
حضرت مسیح (مرزا قادیانی) کی حقیقت نبوت کی یہ ہے کہ وہ براہ راست بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے ان کو حاصل ہے۔
(اخبار بدر مورخہ ٨؍رمضان ١٣٢٠ھ)
حضرت مسیح (مرزا قادیانی) کو جو بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمدؐ کے ملی۔
(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ١٢)
پانچواں تضاد
آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
ہم قرآن شریف کے فرمودہ کے مطابق حضرت عیسیٰ کو سچا نبی مانتے ہیں۔
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٠١، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٢، ٢٦٣)
چھٹا تضاد
میرے دعویٰ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا۔
(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)
دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا۔
(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)
ساتواں تضاد
سچ تو یہ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ (ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
بعد اس کے مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیا اور وہیں فوت ہوا۔ (کشتی نوح ص ٥٣، خزائن ج ١٩ ص ٥٧)
آٹھواں تضاد
اور اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا۔ کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں۔ (کلام مرزا از بدر ١٩٠٧ء)
ہمارا مذہب وہابیوں کے برخلاف ہے۔
(کلام مرزا از ڈائری ١٩٠١ء ، ملفوظات ج ٢ ص ٣٣٣)
١٢٢
لوگوں نے جو اپنے نام حنفی، شافعی وغیرہ رکھ ہیں یہ سب بدعت ہے۔ (کلام مرزا از ری ١٩٠١ء، ملفوظات ج ٢ ص ٢٠٨)
’’وما کان لی ان ادعی النبوۃ وا من الاسلام والحق بقوم کافرین مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں نبوت کا کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں کافرین سے جا کر مل جاؤں۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص
ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی بھیجتے ہیں اور کلمہ’’لا الہ الا اللہ مح رسول اللہ ‘‘ کے قائل ہیں اور آنحضر کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔
(تبلیغ رسالت ج
’’ان الرب الرحیم المتفضل نبینا خاتم الانبیاء بغیر ا وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبی ببیان واضح للطالبین‘‘
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج
تلک عشرۃ کاملہ
ہم نے نمونتاً چند مثالیں د
نواں تضاد
ہمارے ہاں جو آتا ہے اسے پہلے ایک حنفیت کا رنگ چڑھانا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں چاروں مذہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔
(ملفوظات ج٢ ص٣٣٣)
لوگوں نے جو اپنے نام حنفی، شافعی وغیرہ رکھے ہیں یہ سب بدعت ہے۔ (کلام مرزا از ڈائری ص١٠، ١٩٠١ء، ملفوظات ج٢ ص٢٠٨)
دسواں تضاد
ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔
(نزول المسیح ص٣، خزائن ج١٨ ص٣٨١)
”وما کان لی ان ادعی النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین“ اور مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافرین سے جا کر مل جاؤں۔
(حمامة البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص٢٩٧)
سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔ (دافع البلاء ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٣٦)
ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ“ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔
(تبلیغ رسالت ج٦ ص٢)
”محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ وحی اللہ میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص٣، خزائن ج١٨ ص٢٠٧)
”ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبینا خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبینا فی قولہ لا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین“
(حمامة البشریٰ ص٢٠، خزائن ج٧ ص٢٠٠)
تلک عشرۃ کاملۃ
ہم نے نمونۃً چند مثالیں ہدیہ ناظرین کی ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ
قادیانی نبی جنون میں کیا کچھ کہہ رہا ہے۔ جس کو نہ ماقبل کی خبر ہے نہ مابعد کی۔ ”دروغ گو را حافظہ نباشد“ کی مثال شاید مرزا قادیانی کے لئے ہی وضع کی گئی ہے۔
اس کے بعد ہند اور بیرون ہند کے چند مشاہیر علمائے اسلام کے فتاوے بھی درج کئے جاتے ہیں تاکہ مرزائیوں اور بعض ارباب حل وعقد کے اس گمراہ کن پروپیگنڈہ کی قلعی کھل جائے کہ یہ مسئلہ صرف احرار اسلام اور مرزائیوں کا ہے۔
فتاویٰ علمائے اسلام متعلقہ کفر مرزا
شیخ الاسلام والمسلمین اسوۃ السلف وقدوۃ الخلف مجتہد العصر
حضرت العلامہ مولانا سید محمد انور شاہ صاحب الکشمیری قدس سرہ
بسم الله الرحمن الرحیم!
مرزائیوں کا اختلاف قانون اور اصول کا اختلاف ہے
اہل سنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے۔ علمائے دیوبند اور علمائے بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے۔ قانون کا نہیں۔ شیخ الاسلام سید محمد انور شاہ کشمیری گواہ مدعیہ نے ان اصولوں کے تحت جو ان کے بیان کے حوالہ سے (مقدمہ بہاولپور میں) بیان کئے جاچکے ہیں۔ چھ وجوہات ایسی بیان کی ہیں جن کی بناء پر ان کے نزدیک مرزا قادیانی باجماع کافر اور مرتد قرار دیئے جاسکتے ہیں اور جن کی وجہ سے ان کی رائے میں ہندوستان کے تمام فرقے باوجود سخت اختلاف خیال اور اختلاف مشرب کے ان کے کفر اور ارتداد اور ان کے متبعین کے کفر و ارتداد پر متفق ہیں۔ یہ وجوہات حسب ذیل ہیں۔
- ......١ ختم نبوت کا انکار اور اس کے اجماعی معنی کی تحریف اور جس مذہب میں
سلسلہ نبوت منقطع ہو اس کو لعنتی اور شیطانی مذہب قرار دینا۔
(حقیقت الوحی ص ١٣٩، ١٥٠)
- ......٢ دعویٰ نبوت مطلقہ و تشریعیہ۔
(انجام آتھم ص ٦٢)
- ......٣ دعویٰ وحی اور اپنی وحی کو قرآن کے برابر قرار دینا۔
(ایضاً ص ١٥٠)
- ......٤ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین۔
(حقیقت الوحی ص ١٥٥، ١٧٩، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧)
١٢٤
- ٥...... آنحضرت کی توہین۔
(حقیقۃ الوحی ص ٢٦، ٦٨، ٧٩، ١٠٢، ١٦٢، نزول المسیح ص ٩٩، براہین احمدیہ ج ٥ ص ٨٥)
- ٦...... ساری امت کو بجز اپنے متبعین کے کافر کہنا۔
از مولانا المکرم واستاذنا المعظم العالم النبیل الفاضل
الجلیل محمد شفیع صاحب زید مجدہ سابق مفتی دیوبند
(وحال مفتی اعظم پاکستان)
بسم الله الرحمن الرحیم!
میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف میرے نزدیک بلکہ تمام علمائے امت کے نزدیک یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرے یا ختم نبوت کا انکار کرے وہ کافر و مرتد ہے اور اس کا نکاح کسی مسلمان عورت سے جائز نہیں۔ اگر نکاح کے بعد یہ عقیدہ اختیار کرلے تو نکاح فسخ ہوجائے گا اور بغیر حکم قاضی اور بلا عدت اسے دوسرے نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔
اس کے ثبوت کے لئے سب سے پہلے میں عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ کس وقت ایک مسلمان کو کن افعال یا اقوال کی بناء پر کافر کہا جاسکتا ہے؟
رسول کے انکار کے معنی
میں سب سے پہلے ایک آیت پیش کرتا ہوں۔ قرآن شریف میں ارشاد ہے۔
”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فى ما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليماً (النساء: ٦٥)“ ”وہ شخص ہر گز مؤمن نہیں ہوسکتا جو آنحضرت ﷺ کو اپنے تمام معاملات میں حکم نہ بنائے اور آپ کے فیصلہ کو ٹھنڈے دل سے قبول نہ کرے۔“ ﴿
اس آیت کی تفصیل میں حضرت امام جعفر صادقؒ فرماتے ہیں: ”لو ان قوماً عبدوا الله تعالى واقاموا الصلوة واتو الزكوة وصاموا رمضان وحجوا البيت ثم قالوا لشئ صنعه رسول الله الا صنع خلاف ما صنع او وجدوا فى انفسهم حرجاً كانوا مشركين“ ”اگر کوئی قوم یا جماعت خدا کی عبادت کرے نماز پڑھے۔ زکوٰۃ دے
١٢٥
روزے رکھے اور سارے اسلامی کام ادا کرے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے کسی فعل پر حرف گیری کرے وہ مشرک ہے۔
(روح المعانی ج ٥ ص ٦٥)
مدعیان نبوت کے خلاف اسلامی درباروں کے فیصلے
اس کے بعد میں چند وہ فیصلے پیش کرنا چاہوں جو مدعیان نبوت کے بارے میں اسلامی درباروں سے صادر ہوئے۔
اسلام میں سب سے پہلا مدعی مسیلمہ کذاب اور پھر اسود عنسی ہیں۔ اسود عنسی کو وہاں حضرت کے حکم سے قتل کر دیا گیا اور کسی نے نہ پوچھا کہ تیری نبوت کیا ہے اور تیرے صدق کا معیار کیا ہے؟ ملاحظہ ہو (فتح الباری ٦ ص ٤٥٥) آنحضرت کے بعد مسیلمہ کذاب پر باجماع صحابہؓ جہاد کیا گیا اور اسے قتل کیا گیا۔ (درآں حال کہ اس نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا)
(طبری)
اسلام میں سب سے پہلا اجماع
وہ سب سے پہلا اجماع جو اسلام میں منعقد ہوا۔ وہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد پر تھا۔ جس میں کسی نے بحث نہ ڈالی کہ مسیلمہ اپنی نبوت کے لئے کیا دلائل اور کیا معجزات رکھتا ہے۔ بلکہ اس بناء پر کہ آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت سرے سے کذب وافتراء مان لیا گیا۔ اس لئے باجماع صحابہ اس پر جہاد کیا گیا۔
- ٣...... اس کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کے عہد میں طلیحہ نامی ایک شخص نے دعویٰ
نبوت کیا اور صدیق اکبرؓ نے اس کے قتل کے لئے حضرت خالدؓ کو بھیجا۔
(فتوح البلدان ص ١٠٢)
- ٤...... اس کے بعد حارث نامی ایک شخص نے خلیفہ عبدالملک کے عہد میں دعویٰ
نبوت کیا۔ خلیفہ نے علمائے وقت سے جو صحابہ اور تابعین تھے فتویٰ لیا اور متفقہ فتویٰ سے اسے قتل کر کے سولی پر چڑھا دیا گیا۔
کسی نے اس بحث کو روا نہ رکھا کہ اس کی صداقت کا معیار دیکھیں اور معجزات اور دلائل طلب کریں۔ قاضی عیاضؒ نے اس واقعہ کو اپنی کتاب شفاء میں نقل کرکے فرمایا ہے۔ ”وفعل ذالك غير واحد من الخلفاء والملوك باشباههم“ یعنی بہت سے خلفاء پادشاہوں نے بہت ایسے مدعیان نبوت کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے۔
- ٥...... ہارون الرشید عباسیؒ کے زمانہ میں ایک شخص نے دعوائے نبوت کیا۔ خلیفہ
نے علماء کے فتویٰ سے اسے قتل کیا۔
(کتاب المحاسن ج ١ ص ٩٦، بیانات علمائے ربانی بر ارتداد فرقہ قادیانی ص ٤٦)
١٢٦
- ٦...... ایک شاعر کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بفتوائے علمائے دین اس ایک
شعر کے کہنے پر قتل کرا دیا تھا۔
سعى فاصبح يدعى سيد الامم
جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اس دین کا آغاز ایک ایسے شخص سے ہے جس نے کوشش کی اور امتوں کا سردار بن گیا۔ اس شعر سے مرتد قرار دیا گیا کہ یہ نبوت کو کسبی کہتا ہے۔ جو ریاضتوں سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس لئے اسے قتل کر دیا گیا۔
(کتاب صبح الاعشاء ج ١٣ ص ٣٠٥، بحوالہ بیانات ص ١٠٧)
واضح ہو کہ قتل وغیرہ کے لئے اسلامی حکومت کا ہونا اور حدود شرعیہ شرط ہے۔ مرتب
از علامۃ الدہر فہامۃ العصر مولانا غلام محمد صاحب گھوٹویؒ
شیخ الجامعۃ العباسیہ بہاولپور دام فیضہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اصول میں سے ہے
اسلام کے بنیادی اصول بہت سے ہیں۔ لیکن ان میں اہم توحید باری عزاسمہ اور ایمان بالملائکہ ایمان بالانبیاء ایمان بالکتب المنزلہ اور ایمان بالبعث اور حضرت نبی کریم ﷺ کو آخری نبی یقین کرنا وغیرہ وغیرہ۔
انکار ختم نبوت کفر و ارتداد ہے
جو شخص پہلے اہل سنت والجماعت ہو اور پھر وہ مرزائی بن جائے (العیاذ باللہ) اور نبی علیہ السلام کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے وہ مرتد ہو جاتا ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ کو قرآن نے آخری نبی قرار دیا ہے اور جو شخص اس قرآنی حکم کو نہ مانے اور اس کا انکار کرے وہ قرآن کے انکار کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے۔
ختم نبوت اجماعی عقیدہ ہے
اب میں مذہب اسلام کے عقائد اور سلف صالحین کے اقوال نقل کرتا ہوں کہ نبی علیہ السلام آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد اور کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
١٢٧
شرح عقائد میں علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ پس ثابت ہو گیا کہ رسول اللہﷺ آخر الانبیاء ہیں۔ مواہب لدنیہ میں ہے کہ اختلاف ہے کہ نبی اور پیغمبر کتنے ہوئے۔ مگر اوّل سب نبیوں کا آدم ہے اور آخر سب کے حضرت محمدﷺ ہیں۔ (جلد اوّل)
(صبح الاعشیٰ ج١٣ ص ٣٠٥) پر ہے کہ یہ دو کلام ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے فلاسفہ کو کافر کہا گیا ہے۔ ایک یہ کہ حضرت محمدﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کا آنا ممکن سمجھتے اور جائز سمجھتے ہیں۔
(عقیدہ امام طحاوی ص ١٤)
اہل سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا ادعا (دعویٰ کرنا) گمراہی اور ضلالت اور ہوائے نفسانی اور کفرِ صریح ہے۔ حضرت جناب شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (غنیۃ الطالبین ص١٨٣) پر فرماتے ہیں کہ سب اہل اسلام کا یہی عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ابن ہاشم آخری نبی ہیں۔ مولانا مولوی عبدالحکیم صاحب سیالکوٹی غنیۃ الطالبین کے ترجمہ میں فرماتے ہیں کہ اعتقاد کنند اہل اسلام ہمہ کہ محمدﷺ پیغمبر خداست و سالار ہمہ پیغمبراں است و تمام کردہ شدہ است باو پیغمبراں را۔
پہلی صدی کے مجدد حضرت خلیفۃ المسلمین عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ اے لوگو! کہ قرآن کے بعد کوئی کتاب نہ آئے گی اور حضرت محمدﷺ کے بعد کوئی (نیا) نبی نہیں آسکتا۔ ملاحظہ ہو
(تاریخ الخلفاء ص١٥٧)
ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ کے بعد کسی شخص کا دعوائے نبوت کرنا باتفاق اہل اسلام کفر ہے۔
(کتاب مذکور ص ٢٠٢)
(الاشباہ والنظائر ص ٢٢٧) میں ہے کہ جب کسی شخص کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ محمدﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں۔ ”من لم یعرف ان محمدا آخر الانبیاء لیس بمسلم“
(کتاب الفصل ج٣ ص ١٨٠) میں ہے کہ جو شخص محمدﷺ کے بعد بغیر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے کسی اور شخص کو نبی کہے گا تو اس کے کافر ہونے میں دو مسلمان بھی مختلف نہیں ہوں گے۔
اسی کتاب کے (ج٣ ص ٢٤٩، ج٤ ص ١٨٠، ج٣ ص ٢٥٥، ص ٢٥٦) میں ہے کہ جو شخص نبی علیہ السلام کے بعد دوسرے شخص کو نبی کہے وہ کافر ہے۔
(نسیم الریاض ج٤ ص ٥٠٦) میں ہے کہ جو شخص آنحضرتﷺ کے ساتھ دوسرے نبی کو
١٢٨
مانے، چاہے حضرت کے زمانے میں یا ان کے بعد کسی کو نبی مانے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی۔
(بیانات علمائے ربانی ص ١٦)
”الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول“ (از شیخ الاسلام ابن القیم ص ٦٨) میں ہے جو شخص حضرت ﷺ کے بعد کسی کے متعلق یہ کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے وہ کافر ہے اس کو قتل کرنا جائز ہے۔ ”(ھکذا فی مشکل الاثار ج ٤ ص ١٠٤) يتعلق بهذه المسئلة ان من اعتقد ان يمكن مجيئ النبى بعد نبينا عليه السلام فهو مرتد وخارج عن الاسلام جاز قتله“
کفر مرزا کے متعلق اسلامی ممالک کے فتاوے
فتویٰ مکہ مکرمہ
”بعد حمد الله نقول ، لا شك فى كفر مدعى النبوة لانه لا نبى بعد محمد صلى الله وآله وسلم بقوله تعالىٰ ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين وكل من صدقه واتبعه على دعواه فهو كافر مثله ولا يصح مناكحته لاهل الاسلام والحالة هذه والله اعلم“
(از رئیس القضاة شیخ عبداللہ بن حسن)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ہم کہتے ہیں کہ مدعی نبوت کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم“ اور جو شخص اس (مدعی نبوت) کے دعوٰی کی تصدیق کرے یا اس کی تابعداری کرے وہ مدعی نبوت کی طرح کافر ہے اور اہل اسلام سے ان کا رشتہ نکاح و بیاہ صحیح نہیں۔
مفتی قدس کا فتویٰ
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! ”الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده صريح
١٢٩
كتاب الله بان محمداً خاتم النبيين وقد اجتمعت الامة على ذالك فاعتقاد خلافه كفر وخروج عن الاسلام فاذا ارتد شخص بسبب ذلك ينفسخ نكاحه والله سبحانه وتعالى اعلم “ (الفقیر الضعیف مفتی القدس شریف محمد امین الحسینی)
ترجمہ: تمام تعریف خدائے یکتا کے لئے ہے۔ صلوٰۃ وسلام نازل ہو اس ذات کریم پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا صریح حکم ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور امت کا اس عقیدہ پر اجماع ہے اور اس کے خلاف اعتقاد رکھنا کفر ہے اور دائرہ اسلام سے خروج ہے۔ پس جو شخص اس عقیدہ کی وجہ سے مرتد ہو جائے اس کا نکاح خود بخود فسخ ہو جائے گا۔
(بیانات علمائے ربانی ص١٨٤)
حضرت العلامہ محمود صواف کا فتویٰ
جو احتفال علماء میں بغرض شرکت عراق سے فروری ١٩٥٢ء میں تشریف لائے تھے ان کا فتویٰ بھی درج ذیل ہے۔
” الحمد لله رب العلمين وصلى الله على خاتم النبيين وامام المتقين سيدنا محمد وعلى اله وصحبه وسلم وبعد ، فقد قرأت هذالا ستفتا فاقول وبالله التوفيق كل من ادعى النبوة بعد نبينا محمدﷺ الذى ختم الله به النبوات والرسالات فهو كذاب اشر ومفتر اثيم ، فان كان مسلماً وادعى هذا لا دعاء فهو مرتد عن الاسلام وخارج من حضرته ويجب على كل مسلم محاربته وكفه عن اثمه وباطله وقتل هذا لرجل ان صدرت منه هذ الا قوال وصحت فهو كافر مرتد والله اعلم“ (محمود صواف، مورخہ ١٨؍ فروری ١٩٥٢ء)
ترجمہ: حمد وصلوٰۃ کے بعد اس استفتاء کو پڑھا۔ پس اللہ کی توفیق و عنایات سے کہتا ہوں کہ جو شخص بھی ہمارے نبی ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے تمام قسم کی نبوتوں اور رسالتوں کو کلیتہً ختم کر دیا ہے۔ وہ شریر جھوٹا اور مفتری واثیم ہے۔ اگر مسلمان ہوتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تو وہ مرتد اور اسلام سے خارج ہے۔ ہر مسلم پر اس کا مقابلہ و محاربہ کرنا اور اس کو اس باطل کی اشاعت سے روکنا واجب ہے۔
١٣٠
مجاہد جلیل بطل حریت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی تقریظ
مرزائیت اسلام میں ایک خطرناک تحریک ہے۔ جس کی حقیقت سے اکثر اہل اسلام خصوصاً دفتری مسلمان ناواقف ہیں۔ اس وقت اسلام اور پاکستان کی بڑی خدمت اہل اسلام کو اس فتنہ سے بچانا ہے۔ بنا بریں میں یقین کرتا ہوں مولانا امیر الزماں کی تصنیف ”فتنہ مرزائیت“ بہت مفید ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کی سعی مشکور فرمائیں۔
(محمد علی جالندھری ٩؍ جولائی ١٩٥٢ء)
رئیس الموحدین حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ کی تقریظ
”الحمد للہ والصلوٰۃ علیٰ رسول اللّٰہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وجمیع من اتبع الہدیٰ اما بعد“ فقیر نے رسالہ ہذا کو بعض مقامات میں سے دیکھا۔ اصلاح الناس کے لئے مفید پایا۔ لہٰذا فقیر کا مشورہ یہی ہے کہ اس رسالہ کی اشاعت میں سعی کی جاوے۔ تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو اور عوام الناس جو مرزائیوں کے جال میں پھنس رہے ہیں ان کے خباثات سے آگاہ ہوتے ہوئے ان کے دام تزویر سے بچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر دے کہ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی دجال پنجاب کے احوال واقوال کفریہ کے بیان میں دونوں پہلو اختیار فرماتے ہوئے نہایت اچھے طریق سے احقاقِ حق فرمایا ہے۔ فقیر داعی من اللہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی خدمت کو منظور فرماوے اور اس سے بھی زیادہ اشاعت حق کی توفیق عطاء فرماوے۔ آمین!
مسجد جامع شاہی خان پور محمد عبداللہ درخواستی ریاست بہاولپور مورخہ ٢٧؍ رمضان المبارک ١٣٧١ھ
حضرت العلامہ مولانا فضل احمد صاحب کی تقریظ
”الحمد للہ رب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا محمد خاتم النبیین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین“ بندہ کی نظر سے یہ رسالہ فتنہ مرزائیت گذرا۔ الحمد للہ یہ رسالہ رد فتنہ مرزائیت میں بہت عمدہ ہے۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ جناب مولانا امیر الزماں خاں صاحب کی اس سعی جمیل کو قبول فرمائیں اور لوگوں کے لئے یہ رسالہ باعث ہدایت ورحمت ثابت ہو۔ فقط : فضل احمد غفرلہ محلہ کھڈا کراچی ٩؍ شوال ١٣٧١ھ
١٣١
بقیۃ السلف قدوۃ الخلف المجاہد فی سبیل اللہ حضرت مولانا محمد صادق کی تقریظ
بیشک یہ رسالہ ردمرزائیت میں کافی وشافی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ مصنف کو جزائے خیر دیوے۔ فقط: محمد صادق عفی عنہ کھڈہ مورخہ ٩؍شوال ١٣٧١ھ
حرف آخر
امت مرزائیہ کی ہفوات اور ہرزہ سرائیوں کو بیان کرنے کے لئے بیکاری اور کاغذوں کے دفاتر چاہئیں۔ پھر بھی ممکن نہیں ہے کہ جملہ خرافات کو یکجا جمع کر کے پیش کیا جاسکے۔ ایک دیندار، سلیم الفطرت اور صاحب انصاف انسان کے لئے جتنا تحریر کیا جاچکا بس ہے۔ آخر میں اختتام کتاب پر میں چاہتا ہوں قادیانیوں کی پوری تحریک کا لب لباب اور نچوڑ ہدیہ ناظرین کردوں اور ہر بہی خواہ اسلام و پاکستان کو دعوت فکر ونظر ہے کہ وہ مخلی بالطبع ہوکر رات کی تیرہ و تار تنہائیوں میں مرزائیوں کے ناپاک عزائم پر غور وفکر کرے۔
پاکستان کے متعلق مرزائیوں کے خوفناک عزائم
- .......١ ١٩٥٢ء کو گزرنے نہ دیجئے۔ جب تک احمدیت کا رعب دشمن اس رنگ
میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ مجبوراً احمدیت کی آغوش میں آگرے۔
(الفضل ١٦ مئی ١٩٥٢ء)
- .......٢ تم (مرزائی) اس وقت تک امن میں نہیں ہوسکتے جب تک تمہاری اپنی
بادشاہت نہ ہو۔
(الفضل ٢٥ اپریل ١٩٣٠ء)
- .......٣ ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک
یہ (پاکستان کی) تقسیم اصولاً غلط ہے۔
(الفضل ١٣ اپریل ١٩٥٢ء)
لعمری لقد نبہت من کان نائماً واسمعت من کانت لہ اذنان
ونادیت قوماً فی فریضۃ ربہم فہل من نصیر لی من اھل الزمان
وآخر دعوانا ان الحمد للذی لنصرۃ الحق کان ھدانی
وصلی اللہ علی ختم النبیین دائما وسلم ما دام اعتلی القمران
محمد امیر الزماں خاں کشمیری فاضل دیوبند خطیب فاروقی مسجد کراچی نمبر ٢ مورخہ ١٣؍اگست ١٩٥٢ء
١٣٢
خَاتَمَ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزاغلام احمد قادیانی کے
شیطانی الہامات
اور
شیطانی تحریریں
ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئیؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
پیش لفظ
مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ شیطانی نبی تھا اور شیطان نے اس کو مبعوث کیا تھا۔ اس لئے اس کے الہام شیطانی تھے اور تحریریں بھی شیطانی تھیں۔ اس لئے مختصر طور پر اس کی اپنی کتابوں میں سے مندرجہ ذیل الہامات اور تحریریں نقل کی ہیں جو ہر ایک مسلمان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔
شیطانی الہامات
- ١...... تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
(تذکرہ ص ٤٣٦، ٥١٧)
- ٢...... تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید۔
(تذکرہ ص ٣٨١)
- ٣...... خدا عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔
(تذکرہ ص ٧٨، ٢٤٥)
- ٤...... تو اس (خدا) سے نکلا ہے۔
(تذکرہ ص ٣١٦)
- ٥...... تو جہاں کا نور ہے۔
(تذکرہ ص ٣١٦)
- ٦...... تو خدا کا وقار ہے۔
(تذکرہ ص ٣١٦)
- ٧...... میرا لوٹا ہوا مال تجھے ملے گا۔
(تذکرہ ص ٣١٦)
- ٨...... ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تجھ پر درود بھیجتے ہیں۔
- ٩...... تیرے ساتھ ہوں جہاں تو ہے۔
(تذکرہ ص ٤٣٦، ٥١٧)
- ١٠...... جس طرف تیرا منہ اس طرف خدا کا منہ۔
- ١١...... تیرا ہاتھ میرا ہاتھ۔
(تذکرہ ص ١٧٤)
- ١٢...... تو بہادر ہے۔
- ١٣...... میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں۔ میں نے آدم کو پیدا کیا ہے تجھے پیدا کیا۔
(تذکرہ ص ٢١٥)
- ١٤...... آہ! من خدا تیرے اندر اتر آیا۔
(تذکرہ ص ٣٠٤، ٣٨٤)
- ١٥...... اس کو خدا نے قادیان کے قریب نازل کیا۔
(تذکرہ ص ٧٦، ٢٧٨)
- ١٦...... تیرا بھید میرا بھید ہے
(تذکرہ ص ٩٨، ٢٥٠)
٢
- ١٧...... میں نے اپنے ایک کشف م
- ١٨...... اس کی الوہیت مجھ میں جو
- ١٩...... خدا تعالیٰ میرے وجود می
- ٢٠...... سو میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہ
ہیں ۔ سو میں نے آسمان او اس کے خلق پر قادر ہوں ا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ
- ٢١...... آج ہماری بخت بیداری
- ٢٢...... آسمان مٹھی بھر رہ گیا۔
- ٢٣...... آسمان سے کئی تخت اترے
- ٢٤...... آگ سے ہمیں مت ڈرا
- ٢٥...... اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم
- ٢٦...... اپنے رب کریم کو اکیلا مت
- ٢٧...... اس شخص (احمد بیگ ہوشیار
- ٢٨...... اس طرف خدا تھا جو آپ
- ٢٩...... قرآن شریف خدا کی کتا
- ٣٠...... الٰہی میری عمر ٩٥ برس کی
- ٣١...... امین الملک جے سنگھ بہاد
- ٣٢...... اے ابراہیم تجھ پر سلام
- ٣٣...... اے ازلی ابدی خدا تیری
- ٣٤...... تیری عقدہ کشائی ہوشیار
- ٣٥...... ایک کلام اور دو لڑکیاں
- ١٧...... میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔
(تذکرہ ص١٩٥، ١٩٨)
- ١٨...... اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔
(تذکرہ ص١٩٩)
- ١٩...... خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہوگیا۔
(تذکرہ ص١٩٩)
- ٢٠...... سو میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام چاہتے ہیں اور نیا آسمانی اور نئی زمین چاہتے
ہیں۔ سو میں نے آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا۔ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔
(تذکرہ ص٢٠٠)
- ٢١...... آج ہماری بخت بیداری۔
(تذکرہ ص٧٤٧)
- ٢٢...... آسمان مٹھی بھر رہ گیا۔
(تذکرہ ص٧٤٨)
- ٢٣...... آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ (تذکرہ ص٤٠٨)
- ٢٤...... آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ (تذکرہ ص٤١٠)
- ٢٥...... اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں۔
(تذکرہ ص٧٢٨)
- ٢٦...... اپنے رب کریم کو اکیلا مت چھوڑ۔
(تذکرہ ص٧١٧)
- ٢٧...... اس شخص (احمد بیگ ہوشیار پوری) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر۔
(تذکرہ ص١٦٢)
- ٢٨...... اس طرف خدا تھا جو آپ تھے۔
(تذکرہ ص٤٠٨)
- ٢٩...... قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ (تذکرہ ص١٠٢، ٦٣٥)
- ٣٠...... الٰہی میری عمر ٩٥ برس کی ہو جائے۔
(تذکرہ ص٥٠٧)
- ٣١...... امین الملک جے سنگھ بہادر۔
(تذکرہ ص٦٦٦)
- ٣٢...... اے ابراہیم تجھ پر سلام۔
(تذکرہ ص١٩١)
- ٣٣...... اے ازلی ابدی خدا بیڑیاں پکڑ کر لے آ۔
(تذکرہ ص٤٥٥، ٤٧٦)
- ٣٤...... تیری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔
(تذکرہ ص١٣٨، ٥٨٧)
- ٣٥...... ایک کلام اور دو لڑکیاں۔
(تذکرہ ص٥٨٦)
٣
- ٣٦...... ایک ہفتہ تک ایک بھی نہیں رہے گا۔
(تذکرہ ص ٦٩١)
- ٣٧...... برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔
(تذکرہ ص ٦١٣، ٦٣٩)
- ٣٨...... بہشتی کمرہ میں نزول ہوگا۔
(تذکرہ ص ٧٠٨)
- ٣٩...... پاک محمد مصطفے (مرزا قادیانی) نبیوں کا سردار۔
(تذکرہ ص ١٠٢، ٣٨٢)
- ٤٠...... پندرہ ماہ میں آتھم ہاویہ میں گرایا جائے گا۔
(تذکرہ ص ٢٣٩)
- ٤١...... پیٹ پھٹ گیا۔
(تذکرہ ص ٢٢٦)
- ٤٢...... تائی آئی تائی آئی تائی آئی۔
(تذکرہ ص ٧٧٧)
- ٤٣...... تمہارا نام ہے علی باسل۔
(تذکرہ ص ٨٤٣)
- ٤٤...... تو مسیح موعود ہے۔
(تذکرہ ص ٢٣٨)
- ٤٥...... ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔
(تذکرہ ص ٦٠٤، ٦٥٢)
- ٤٦...... تیری خوش زندگی کا سامان ہو گیا ہے۔
(تذکرہ ص ٧٤٦)
- ٤٧...... تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔
(تذکرہ ص ٨٠٢)
- ٤٨...... تیری نمازوں سے تیرے کام افضل ہیں۔
(تذکرہ ص ٦٤٨، ٥٥٣)
- ٤٩...... تیرے لئے میرا نام چکا۔
- ٥٠...... جس سے تو پیار کرتا ہے میں بھی اس سے پیار کروں گا۔ جس سے تو ناراض میں بھی
اس سے ناراض رہوں گا۔
(تذکرہ ص ٥٩٤)
- ٥١...... جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا وہ خدا اور رسول
خدا (مرزا قادیانی) کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔
(تذکرہ ص ٣٤٢، ٣٤٣)
- ٥٢...... جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔
(تذکرہ ص ٣٩١)
- ٥٣...... حسین ٹٹیوں کے شر سے بچایا جائے گا۔
(تذکرہ ص ٧٦٧)
- ٥٤...... خدا خوش ہو گیا۔
(تذکرہ ص ٧٢٨)
- ٥٥...... خدا غمگین ہے۔
(تذکرہ ص ٤٤٤)
- ٥٦...... خدا قادیان میں نازل ہوگا۔ اپنے وعدہ کے موافق۔
(تذکرہ ص ٤٥٢)
٤
- ٥٧...... خدا نکلے کو ہے۔
- ٥٨...... دس دن کے بعد مونہ دکھا
- ٥٩...... دولت اعلام بذریعہ الہام
- ٦٠...... دیکھ میں ایک چھپی ہوئی ب
- ٦١...... راز کھل گیا۔
- ٦٢...... رسول اللہ ﷺ پناہ گزین
- ٦٣...... کشتی تیار کر جو شخص اس ک
- ٦٤...... سب مولوی ننگے ہو جائی
- ٦٥...... عنقریب ایک اور نکاح
- ٦٦...... غلام احمد کی ہے۔
- ٦٧...... قیصر ہند کی طرف سے ش
- ٦٨...... ہے کرشن رودر گوپال تیری
- ٦٩...... کمترین کا بیڑا غرق۔
- ٧٠...... گورنر جنرل کی پیش گوی
- ٧١...... منہ کالے۔
- ٧٢...... میں تیری عمر کو بڑھا دوں
- ٧٣...... میں قادیان کو اس قدر وسع
- ٧٤...... میں نے ارادہ کیا کہ تمہارا
- ٧٥...... ہماری قسمت اتوار۔
- ٧٦...... ہم مکہ میں مریں گے یا م
- ٧٧...... آہ نے تیری صحت کا ٹھیک
- ٧٨...... یلاش خدا کا ہی نام ہے
(تذکرہ ص٦٩١)
(تذکرہ ص٦١٣، ٦٤٩)
(تذکرہ ص٧٠٨)
ردار۔
(تذکرہ ص١٠٢، ٣٧٢)
(تذکرہ ص٣٤٩)
(تذکرہ ص٦٦٦)
(تذکرہ ص٧٧٨)
(تذکرہ ص٨٢٣)
(تذکرہ ص٢٢٨)
سائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔
(تذکرہ ص٦٠٤، ٦٥٢)
(تذکرہ ص٣٧٦)
(تذکرہ ص٨٠٢)
(تذکرہ ص٥٥٣، ٦٤٨)
یار کروں گا۔ جس سے تو ناراض میں بھی
(تذکرہ ص٥٩٣)
جنت میں داخل نہیں ہوگا جو خدا اور رسول گا ہے۔
(تذکرہ ص٣٤٢، ٣٤٤)
تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔
(تذکرہ ص٣٩١)
(تذکرہ ص٧٦٧)
(تذکرہ ص٧٢٨)
(تذکرہ ص٤٤٤)
(تذکرہ ص٤٥٢)
- ٥٧...... خدا نکلے کو ہے۔
(تذکرہ ص٥٩٦)
- ٥٨...... دس دن کے بعد موج دکھاتا ہوں۔
(تذکرہ ص٥٤)
- ٥٩...... دولت اعلام بذریعہ الہام۔
(تذکرہ ص٧٠٨)
- ٦٠...... دیکھ میں ایک چھپی ہوئی بات پیش کرتا ہوں۔
(تذکرہ ص٧٤٠)
- ٦١...... راز کھل گیا۔
(تذکرہ ص٧٠٩)
- ٦٢...... رسول اللہ ﷺ پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں۔
(تذکرہ ص٥٠٦)
- ٦٣...... کشتی تیار کر جو شخص اس کشتی میں سوار ہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پائے گا۔
(تذکرہ ص١٧٤)
- ٦٤...... سب مولوی ننگے ہو جائیں گے۔
(تذکرہ ص٢١٤)
- ٦٥...... عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا۔
(تذکرہ ص١٩٤)
- ٦٦...... غلام احمد کی جے۔
(تذکرہ ص٧٢٠)
- ٦٧...... قیصر ہند کی طرف سے شکریہ۔
(تذکرہ ص٣٢٨)
- ٦٨...... ہے کرشن رودر گوپال تیری مہا گیتا میں لکھی ہے۔
(تذکرہ ص٣٩١)
- ٦٩...... کترین کا بیڑا غرق۔
(تذکرہ ص٦٧٧)
- ٧٠...... گورنر جنرل کی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
(تذکرہ ص٣٥٠)
- ٧١...... منہ کالے۔
(تذکرہ ص٧٧٧)
- ٧٢...... میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔
(تذکرہ ص٣٩٧)
- ٧٣...... میں قادیان کو اس قدر وسعت دوں گا کہ لوگ کہیں گے کہ لاہور بھی کبھی ہوتا تھا۔
(تذکرہ ص٨١٥)
- ٧٤...... میں نے ارادہ کیا کہ تمہاری ایک اور شادی کروں۔
(تذکرہ ص٢٧٠)
- ٧٥...... ہماری قسمت اتوار۔
(تذکرہ ص٥٢١)
- ٧٦...... ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔
(تذکرہ ص٥٨٤)
- ٧٧...... آہ نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے۔
(تذکرہ ص١٠٣)
- ٧٨...... یلاش خدا کا ہی نام ہے۔
(تذکرہ ص٣٨٩)
٥
- ٧٩...... یہ زمین تیری اور تیرے مریدوں کی ہے۔
(تذکرہ ص ٨٠٥)
- ٨٠...... یہ لعنت بھی وزیر آباد میں برسی ہے۔
(تذکرہ ص ٣٢٧)
عربی میں شیطانی الہامات کا ترجمہ
- ١...... قادیان سے یزیدی نکال دیئے جائیں گے۔
(تذکرہ ص ١٨١)
- ٢...... خدا نے کہا کہ میں خطا بھی کرتا ہوں اور درست بھی۔
(تذکرہ ص ٤٧٥، ٦٥٤)
- ٣...... میرا ذکر تارو تو نے میری خدیجہ کو دیکھا۔
(تذکرہ ص ٣٨٧)
- ٤...... خدا نے کہا کہ میں افطار بھی کرتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں۔
(تذکرہ ص ٤٤١، ٤٩٧)
- ٥...... اللہ وہ ہے جس نے تم کو مسیح ابن مریم بنایا ہے۔
(تذکرہ ص ٢٨٢)
- ٦...... خدا نے کہا کہ تو میرے بیٹے کی مانند ہے۔
(تذکرہ ص ٦٣٦)
- ٧...... تو میری اولاد کی مانند ہے۔
(تذکرہ ص ٤١٢، ٤٣٤)
- ٨...... بے شک تو جس شے کو حکم کرے گا کہ ہو جا تو ہو جائے گی۔
(تذکرہ ص ٥٢٥، ٦٥٦)
- ٩...... میرے رب نے میری بیعت کر لی ہے۔
(تذکرہ ص ٣٣٦، ٣٤٤)
- ١٠...... اللہ تعالیٰ تیری تسبیح کرتا ہے۔
(تذکرہ ص ٦٢٦، ٨٢١)
- ١١...... تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔
(تذکرہ ص ٧٠٠)
- ١٢...... عمّ تمّ عمّ۔
(تذکرہ ص ٣٢٥)
- ١٣...... قَرتِ قَرتِ قَرتِ۔
(تذکرہ ص ٧٥٤)
- ١٤...... تو محبوبوں میں سے ہے۔
(تذکرہ ص ٣٨١)
- ١٥...... ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔
(کتاب البریہ ص ٨٣، خزائن ج ١٣ ص ١٠١)
- ١٦...... ہو شعنا نعسا۔
(تذکرہ ص ١٠٢، ١٢٠)
- ١٧...... میں فوجوں سمیت تیرے پاس آؤں گا۔
(کتاب البریہ ص ٨٣، خزائن ج ١٣ ص ١٠١)
- ١٨...... اے مریم (مرزا قادیانی) تو اور تیرا خاوند جنت میں رہو۔
(تذکرہ ص ٧١)
- ١٩...... اے آدم (مرزا قادیانی) تو اور تیرا خاوند جنت میں رہو۔
(تذکرہ ص ٧١)
- ٢٠...... اے احمد تو اور تیرا خاوند جنت میں رہو۔
(تذکرہ ص ٧١)
- ٢١...... تو ہمارے نطفہ سے ہے۔ دوسرے فشل سے ہیں۔
(تذکرہ ص ٢٨٠)
٦
فارسی میں مرزا قادیانی کے شی
- ١...... بستر عیش۔
- ٢...... بلائے دمشق۔
- ٣...... طرپہ۔
- ٤...... دولت اعلام بذریعہ الہام
- ٥...... زر چندہ حیدرآباد۔
- ٦...... ششصد پائے من بوسید و من
- ٧...... کرم ہائے تو ما را کرد گستا
- ٨...... مبارک بادت اے مری
- ٩...... نزول در قادیان۔
انگریزی میں شیطانی الہامات
- ١...... آئی ایم ہائی لی۔
- ٢...... آئی ایم کو رلر۔
- ٣...... آئی لو یو۔
- ٤...... ایسوسی ایشن۔
- ٥...... اے ورلڈ ٹوگرو۔
- ٦...... پریش۔
- ٧...... ایکسپیج۔
- ٨...... یس آئی ایم ہیپی۔
- ٩...... یس یو ہیو گونو امرتسر۔
مندرجہ بالا الہامات
کتاب البریہ اور مقار مجرم تصور ہوں گا۔
فارسی میں مرزا قادیانی کے شیطانی الہامات
- ١...... بستر عیش۔ (تذکرہ ص ٥٠٦)
- ٢...... بلائے دمشق۔ (تذکرہ ص ٧٠١)
- ٣...... طرپہ۔ (تذکرہ ص ٧٧١)
- ٤...... دولت اعلام بذریعہ الہام۔ (تذکرہ ص ٦٥٨)
- ٥...... زر چندہ حیدرآباد۔ (تذکرہ ص ٨٣٣)
- ٦...... شخصے پائے من بوسید و من گفتم کہ سنگ اسود متہم۔ (تذکرہ ص ٣٦)
- ٧...... کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ۔ (تذکرہ ص ١٠٥)
- ٨...... مبارک بادت اے مریم کہ عیسیٰ باز مے آید۔ (تذکرہ ص ٨٠١)
- ٩...... نزول وز قادیان۔ (تذکرہ ص ٨٠٢)
انگریزی میں شیطانی الہامات
- ١...... آئی ایم بائی عیسیٰ۔ (تذکرہ ص ٦٥)
- ٢...... آئی ایم کورلر۔ (تذکرہ ص ٥٦)
- ٣...... آئی لو یو۔ (تذکرہ ص ٦٤)
- ٤...... ایسوسی ایشن۔ (تذکرہ ص ٧٢١)
- ٥...... اے ورلڈ ٹو گرلز۔ (تذکرہ ص ٥٨٦، ٦١٦)
- ٦...... پریشن۔ (تذکرہ ص ١١٩)
- ٧...... آئیچی۔ (تذکرہ ص ١٠٤، ١٢٠)
- ٨...... یس آئی ایم پی۔ (تذکرہ ص ٦٦)
- ٩...... یس یو ہیو گو ٹو امرتسر۔ (تذکرہ ص ١٢١)
مندرجہ بالا الہامات کتاب البریہ اور مفتاح التذکرہ کتابوں سے نقل کئے ہیں۔ اگر ایک بھی غلطی ہو تو میں مجرم تصور ہوں گا۔
٧
شیطانی تحریریں
- ......١ "اوپر رہنا تیرے حصہ میں ہے اور نیچے رہنا تیرے دشمنوں کے حصہ میں
ہے۔"
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ٦٩)
- ......٢ "هو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ
علی الدین کلہ" اس وحی الٰہی میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کہہ کر کے پکارا گیا ہے۔
- ......٣ "محمد رسول الله والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم۔ اس وحی الٰہی میں
میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
- ......٤ "میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
- ......٥ "خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا"
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
- ......٦ "میں کہتا ہوں کہ موسیٰ عیسیٰ اور داؤد اور آنحضرت ﷺ کی طرح سچا
ہوں۔"
(تحفۃ الندوہ ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)
- ......٧ "خدا کی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں
اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔"
(چشمہ معرفت ص ٣٢٧، ٣٢٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)
"نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔"
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)
- ......٨
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
- ......٩ "میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں۔ نیز ابراہیم ہوں۔ نسلیں
میری ہیں بے شمار۔"
(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٠٣، خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
٨
- ......١٠ "خدا تعالیٰ نے
ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں
مرزا قادیانی کی شیطانی تحریریں
- ......١ "احادیث صحیحہ
اسی حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام ہو
- ......٢ "بعض فاسقو
اور بعض پرلے درجے کے بدمعاشوں ہیں۔"
مرزا قادیانی کا اپنا تجربہ
- ......٣ "تجربہ میں آ
کے گروہ میں سے ہے۔ جس کی تمام جوا اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عور (مرزا قادیانی) کا مصداق ہوتی ہے کہ
مرزا قادیانی نجاست کا کیڑا تھا
- ......٤ (جو شخص) "م
ہے یا الہام ہوا ہے اور جھوٹ بولتا ہے نجاست میں ہی پیدا ہوا اور نجاست میں "جھوٹ بولنا مرتد ہونے "جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ا
مرزا قادیانی کے جھوٹ
- ......١ "مگر قرآن
- ١٠...... "خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ میں آدم ہوں، میں نوح
ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمدﷺ ہوں۔"
(حقیقۃ الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
مرزا قادیانی کی شیطانی تحریریں
- ١...... "احادیث میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت
اسی حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام ہوگا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے۔"
(ضرورۃ الامام ص ٥، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥)
- ٢...... "بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں
اور بعض پرلے درجے کے بدمعاشوں شریر آدمی ایسے مکاشفات بیان کرتے ہیں کہ آخر سچے نکلتے ہیں۔"
(توضیح المرام ص ٧١، خزائن ج ٣ ص ٩٤)
مرزا قادیانی کا اپنا تجربہ
- ٣...... "تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت فاسقہ عورت جو کنجریوں
کے گروہ میں سے ہے۔ جس کی تمام جوانی بدکاری ہی میں گزری ہے۔ کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں کہ جب وہ بادہ بسر اور آشنا بر (مرزا قادیانی) کا مصداق ہوتی ہے۔ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔"
(توضیح المرام ص ٧١، خزائن ج ٣ ص ٩٥)
مرزا قادیانی نجاست کا کیڑا تھا اور نجاست میں مرا تھا
- ٤...... "(جو شخص) اپنا رسوخ جتانے کے لئے دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے یہ خواب آئی
ہے یا الہام ہوا ہے اور جھوٹ بولتا ہے یا جھوٹ ملاتا ہے۔ وہ نجاست کے کیڑے کی طرح ہے۔ جو نجاست میں ہی پیدا ہوا اور نجاست میں ہی مرتا ہے۔"
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)
"جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔"
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)
"جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔"
(حقیقۃ الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)
مرزا قادیانی کے جھوٹ
- ١...... "اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔"
(تحفہ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)
٩
- ٢...... ”تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔
مکہ، مدینہ اور قادیان۔“
(ازالہ ص ٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
- ٣...... ”خدا تعالیٰ نے اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٤، خزائن ج ٣ ص ١٣٩)
- ٤...... ”ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)
- ٥...... ”اور اس بارے میں مجھے الہام ہوا تھا۔ اخرج منہ ایزیدیون یعنی اس میں
یزیدی لوگ پیدا ہوگئے ہیں اور ایزیدی لوگ نکالے جائیں گے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٢، خزائن ج ٣ ص ١٣٩)
- ٦...... ”فی الحقیقت اس کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے یہ الہامی
عبارت لکھی ہوئی ہے۔ تب میں نے کہا واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)
- ٧...... ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ اس کی تفسیر یہ ہے کہ ”انا
انزلناہ قریباً من دمشق“ (بطرف شرقی کنارة البیضاء) کیونکہ اس عاجز (مرزا قادیانی) کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر منارہ کے پاس ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ١٣٩)
- ٨...... ”داماد احمد بیگ (سلطان احمد پٹی والے) کے متعلق موت کی پیش گوئی،
تقدیر مبرم ہے۔ جو ٹل نہیں سکتی۔ اس کا انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٢٩، خزائن ج ١١ ص ٣١)
مرزا قادیانی کی شیطانی نبوت کا معیار
”ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس، چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندگی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا اور چند دفعہ زنا کے کیس میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں بھی قید رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی
١٠
ماں اور دادیاں اور نانیاں ایسے ہی کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ خدا کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اسے جہنم میں ڈال دے گا۔‘‘
(تریاق القلوب ص ٢٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٧٩)
نبیوں نے بھی غلطیاں کی تھیں
”جس قسم کا کوئی اعتراض انہوں نے ان پیش گوئیوں کی نسبت کیا ہے۔ کیا دوسرے انبیاء میں نہیں پائی جاتی؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ قطع نظر دوسرے انبیاء کے خود ہمارے نبیﷺ جو سب نبیوں سے افضل اور خاتم النبیین ہیں۔ اس اجتہادی غلطی سے محفوظ نہیں رہے کہ کیا حدیبیہ کا سفر اجتہادی غلطی نہیں تھی۔ یمامہ کی ہجرت کو اپنی ہجرت کا مقام خیال کرنا اجتہادی غلطی نہ تھی۔ کیا اور بھی اجتہادی غلطیاں نہ تھیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٥)
”خدا نے اپنے نبی کو شق القمر کا معجزہ دیا۔ سو اس جگہ بھی شمس اور قمر کا کسوف اور خسوف کا معجزہ عنایت ہوا۔‘‘
(حجۃ اللہ ص ١٤، خزائن ج ١٢ ص ١٦٢)
حضور نبی تراش تھے
”آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمال نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ نبی تراش ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
معراج کشفی تھا
- ١...... ”معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ ایک اعلیٰ درجہ کا کشف
تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ)
- ٢...... ”معراج کے لئے رات اس لئے مقرر کی گئی کہ معراج کشف کی قسم تھا اور
کشف اور خواب کے لئے رات موزوں ہے۔ اگر بیداری کا معاملہ ہوتا تو دن موزوں ہوتا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٣١٠ حاشیہ)
کوئی مہدی آنے والا نہیں
”کوئی مہدی آنے والا نہیں۔ یہ سب حدیثیں موضوع اور بے بنیاد ہیں۔‘‘
(کشف الغطاء ص ١٢، خزائن ج ١٤ ص ١٩٣)
١١
- ١...... ”یہ بات یاد رکھو کہ ایک مدت سے مجھے الہام ہو رہا تھا۔ جو گو میں نے ایک
مدت تک چھپایا اور اپنے تئیں ظاہر نہ کیا۔“
(نجم الہدیٰ ص١٢، خزائن ج١٤ص٤٢)
- ٢...... ”میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ باری تعالیٰ کے آگے رکھ دیا کہ وہ
اس پر دستخط کر دیں..... سو خدا تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے اس پر دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر گر پڑے۔“
(تریاق القلوب ص٣٣، خزائن ج١٥ص١٦٧)
- ٣...... ”آسمان اور زمین نے میری گواہی نہیں دی تو میں جھوٹا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص٤٥، خزائن ج٢٢ص٤٨)
- ٤...... ”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔“
(چشمہ معرفت ص١٠٦، خزائن ج٢٣ص١١٤)
- ٥...... ”دجال مشرق سے پیدا ہوگا۔ یعنی ملک ہند میں پیدا ہوگا۔“
(تحفہ گولڑویہ ص٤٧، خزائن ج١٧ص١٦٧)
- ٦...... ”حدیثوں میں دجال معہود کی دونشانیاں لکھی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نبوت کا
دعویٰ کرے گا اور دوسرے یہ کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔“
(کتاب البریہ ص٢٢٥، خزائن ج١٣ص٢٤٣)
- ٧...... ”ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیش گوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں
ایک اوتار آئے گا جو کرشن کی صفات پر ہوگا...... اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص٢٣١، خزائن ج١٧ص٣١٧)
- ٨...... ”بعض دفعہ میرے دل میں یہ بھی خیال آیا کہ میں درخواست کروں کہ خدا
مجھے اس عہدہ سے علیحدہ کرے اور میری جگہ پر کسی اور کو اس خدمت سے ممتاز فرماوے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٨، خزائن ج١٧ص٤٩)
- ٩...... ”میرا انکار تیز دھار تلوار پر ہاتھ مارنا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص٤٥، خزائن ج٢٢ص٤٨)
- ١٠...... ”خدا نے میرے بیان کی تلوار کو تیز کیا اور میری برہان کی تیزی کے ساتھ
اس کے جوہر دکھلائے۔“
(حجۃ اللہ ص٢٣، خزائن ج١٢ص١٧١)
١٢
مرزا قادیانی کی شیطانی تحریریں
(علماء کرام کے خلاف قادیانی کی بکواس)
- ......١ ”مولوی دنیا کے کتے ان کے ہاں میں ہاں ملانے لگے ہیں اور یہ فتنہ تمام
فتنوں سے بڑھا ہوا تھا۔“
(استفتاء ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)
- ......٢ ”مولوی یہودی صفت ان کے ساتھ ہو گئے۔“
(استفتاء ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)
- ......٣ ”اے بدذات فرقہ مولویاں بتا کب تک حق کو چھپاؤ گے۔“
(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)
- ......٤ ”ہامان سے مراد نذیر حسین دہلوی ہے اور فرعون سے مراد محمد حسین
بٹالوی ہے۔“
(استفتاء ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ١٣٠)
- ......٥ ”ابولہب سے مراد ابو سعید مولوی محمد حسین ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
- ......٦ ”یاد رہے کہ مولوی ثناء اللہ نے صرف پیش گوئیوں پر اعتراض نہیں کیا۔
بلکہ محض افتراء کے طور پر جو نجاست خوری کی ہے۔ میری پیش گوئیوں پر اور بھی حملے کئے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٤)
مولانا عبدالجبار صاحب غزنوی کے خلاف بکواس
”اے گمراہ عبدالجبار کیا تو گھنی داڑھی کے ساتھ تکبر کرتا ہے یا تجھے مشیخت پر ناز ہے۔ کیا تو عورتوں کی طرح اپنے کو چھپاتا ہے۔ ...... تو ایک بھیڑیا ہے نہ انسان کی قسم اور شریروں میں سے ہے۔ ...... اے گمراہ تو بوڑھا ہو گیا اور چمڑا پرانا ہو گیا اور وقت نزدیک آ گیا کہ پیٹھ ٹیڑھی ہو گئی ...... فساد کے طریقوں کو نہیں چھوڑتا ...... پس خدا نے تیرا (عبدالحق غزنوی) منہ کالا کیا اور ذلت کی قبر میں تجھ کو سونپا ...... اور سر تیرے ہی کو جوتوں سے نرم کیا جائے گا ...... پس یہ تیری حماقت ہے۔ اے کلب العناد ...... تجھ پر لعنت اے دشمن اسلام ...... اے غزنی کے بندر ...... تو تو کتوں کی طرح تھا ...... کیا تو وہی نہیں فطرت کا غبی۔ دل کا سفیہہ بہت بک بک کرنے والا ...... اور یہ لوگ آسمان کے نیچے بدترین خلائق ہیں۔ اگرچہ اپنے تئیں مولوی کر کے پکاریں ...... تو جہلاء میں سے ہے۔ ...... اور چارپایوں میں سے ہے۔ ...... اے احمقوں کے فضلے۔ پس ہمیں بتلا کہ کب تو پانی سے
١٣
نکلے گا۔ تو غرق کیا گیا اور جلایا گیا..... تیرے جیسا آدمی کتے کی طرح بھونکتا ہے اور فریاد کرتا ہے..... ہم نے تنبیہ کے لئے تجھے طمانچہ مارا ہے۔ مگر تو نے طمانچہ کو کچھ نہ سمجھا۔ کاش ہمارے پاس مضبوط اونٹ کے چمڑے کا جوتا ہوتا..... ان کا کتے کی طرح حملہ اور سانپ کی طرح پیچ و تاب اور بھیڑیئے کی طرح عادتیں اور خرگوش کا دل..... اے لعنت کا شکار، لعنت کا ذکر چھوڑ دے۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بکواس کے بعد تیرا کیا حال ہوا..... تو خنزیر کی طرح حملہ کرتا ہے اور گدھوں کی طرح آواز کرتا ہے اور تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا ہے..... میں تمہیں بھیڑیئے کی طرح دیکھتا ہوں یا کتے کی طرح..... اے شیخ شقی سوچ انسان کی طرح فکر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر..... انہوں نے مجھے کتے کے دانت پیسنے والے کی طرح تکلیف دی ہے..... اے مردار کے کتے کیا تو بھیڑیئے کی طرح ڈراتا ہے..... میں نے بہت لئیم دیکھے ہیں۔ مگر تیرے جیسا بدخو نہیں دیکھا..... اور تو کچھ نہیں۔ مگر ایک چڑیا ہے..... پس اے ابلیس تو سنگسار کیا جائے گا..... تو ان لئیموں کا وارث بن گیا ہے۔ جو تمہارے سے پہلے گزرے ہیں..... تو ایک ریتلے اور تہ بہ تہ ریت کے جنگل میں مرتا ہے..... میں تیرے منحوس سر کو عقل سے خالی دیکھتا ہوں..... میں گونگوں کی طرح تمہیں دیکھتا ہوں۔ یا جنگ کے گدھوں کی طرح اور تمہاری زبان ایسی کھوٹی گئی۔ جیسا کہ عورت کو طلاق دی جاتی ہے۔“ (مرزا قادیانی کی کتاب حجۃ اللہ سے نقل کیا ہے۔ ناقل!)
(حجۃ اللہ ص ٥٣ تا ٩٥، خزائن ج٢٢ ص٢٠٢ تا ٢٤٣)
مجاہدین ١٨٥٧ء کے خلاف اور مولویوں کے خلاف بکواس
”جب ہم ١٨٥٧ء کی سوانح کو دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے مولویوں کے فتوؤں پر نظر ڈالتے ہیں تو ندامت سے سر جھک جاتا ہے۔ جنہوں نے مہریں لگادیں تھیں۔ جو انگریزوں کو قتل کر دیا جائے۔ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے فتوے تھے۔ ان لوگوں نے چوروں، قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کیا تھا۔“
(ازالہ اوہام ص ٧٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٤٩٠)
”ہم پر اور ہماری ذات پر فرض ہے کہ ہم گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٦)
”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
١٤
”سب مسلمانوں نے تصدیق کی۔ مگر کنجریوں کی اولاد نے نہ مانا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
”اور یہ لوگ (تمام مسلمان) جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح مردار کھا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)
”جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا سو سمجھا جائے گا کہ اس کو حرامزادہ بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)
پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے خلاف بکواس
- ١...... ”پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے اپنی کتاب میں میرے مقابل پر لعنت اللہ علی
الکاذبین کہا۔ وہ معاً جرم سرقہ میں اس طرح گرفتار ہوا کہ اس نے ساری کتاب محمد حسن مردہ کی چرالی اور کہا کہ میں نے بنائی ہے اور اس کا نام سیف چشتیائی رکھا۔“
”اب بتلاؤ یہ بھی ایک قسم کی موت ہے کہ مسودہ چرایا اور وہ چوری پکڑی گئی۔ پھر گدی نشین ہو کر جھوٹ بولا کہ یہ کتاب میں نے بنائی ہے۔ پھر جو کچھ چرایا وہ ایسی غلطیاں تھیں کہ گویا وہ نجاست تھی۔ کیا اس عذاب سے عذاب جہنم زیادہ ہے۔“ (نیز حاشیہ میں لکھا) ”مہر علی کی یہ چوری اور جہالت غلطی پر بھروسہ کرنا اور نادانی سے ابن مریم کو زندہ قرار دینا وغیرہ امور جو سراسر جہل اور نادانی سے صادر ہوئے۔ اس کے بارے میں میری طرف سے ایک زبردست کتاب تالیف ہو رہی ہے۔ جس کا نام نزول المسیح ہے۔ جس سے طنبور چشتیائی پاش پاش ہو کر اس میں صرف گرد و غبار رہ جاتی ہے کہ جو مہر علی کی آنکھوں میں پڑے گی اور اس کی زندگی تلخ کر دے گی۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ٩٩)
- ٢...... ”چونکہ میں اپنی کتاب انجام آتھم کے آخر میں وعدہ کر چکا ہوں کہ آئندہ
کسی مولوی وغیرہ کے ساتھ زبانی بحث نہیں کروں گا۔ اس لئے پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی درخواست زبانی بحث کی جو میرے پاس پہنچی ہے میں کس طرح اس کو منظور نہیں کر سکتا...... خدا تعالیٰ سے وعدہ کر چکا ہوں کہ میں ایسے مباحثات سے دور رہوں گا۔ پھر بھی مجھ سے درخواست کر دی۔“
(تحفہ گولڑویہ اندرون ٹائٹل ص ١، خزائن ج ١٧ ص ٣٦)
- ٣...... ”پیر صاحب مجھے اسی پہلے مقام کی طرف کھینچتے ہیں اور اس سوراخ میں
١٥
پھر میرا ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس میں بجز سانپوں کے میں نے کچھ نہیں پایا اور جس کی نسبت میں اپنی کتاب انجام آتھم میں مولویوں کی سخت دلی کو دیکھ کر تحریری وعدہ کر چکا ہوں کہ آئندہ ہم ان کے ساتھ مباحثات مذکورہ نہیں کریں گے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ٢، خزائن ج ١٧ ص ٨٩)
مرزائیوں کے سوا باقی سب لوگ چوہڑے چمار رہ جائیں گے
’’اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ بنیاد جو اس وقت کمزور نظر آتی ہے اس پر ایک عظیم الشان عمارت تعمیر ہو گی۔ ایسی عظیم الشان کہ ساری دنیا اس (مرزائیت) کے اندر آجائے گی اور جو لوگ باہر رہیں گے ان کی کوئی حیثیت کچھ نہیں ہو گی۔‘‘ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔
’’ایسے لوگوں کی حیثیت چوہڑے اور چماروں کی ہوگی۔ جیسے کہ موجودہ زمانہ میں چوہڑوں چماروں کی ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٥٩، مورخہ ٢٩ جنوری ١٩٣٣ء)
اسلام سے مراد مرزائیت ہے
’’یہ سلسلہ (مرزائیت) پھیلے گا۔ مشرق ، مغرب ، شمال ، جنوب میں ۔ بلکہ دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ٩٦، خزائن ج ١٧ ص ١٨٢)
مرزا قادیانی کی شیطانی تحریریں
- ......١ ’’ہمارے نبیﷺ کے نشان اور معجزات شمار کے رو سے تین ہزار کے
ہیں ۔‘‘
(کتاب البریہ ص ١٤٦ حاشیہ ، خزائن ج ١٣ ص ١٥٤)
- ......٢ ’’میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر کئے ہیں۔ تین لاکھ سے بھی زیادہ
ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ٤٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨)
- ......٣ ’’آنحضرتﷺ کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ مکمل ہو گیا۔ مگر اشاعت
ابھی ناقص ہے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ١٧٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٠)
- ......٤ ’’وہ عالمگیر غلبہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)
- ......٥ ’’خدا تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو چھپانے کے لئے ایسی ذلیل جگہ تلاش
کی جو نہایت متعفن اور تاریک اور تنگ اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ١١٩، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٥)
١٦
مرزا قادیانی بھی عیسائی تھا
- ٦...... ”حضرت عیسیٰ نے سچائی کی خاطر سے صلیب سے پیار کیا اور اس طرح
اس پر چڑھ گیا۔ جیسا کہ ایک بہادر سوار گھوڑے پر چڑھتا ہے۔...... سو ایسا ہی میں بھی صلیب سے پیار کرتا ہوں ...... سو جیسا کہ اس نے صلیب کو قبول کیا۔ ویسا ہی میں بھی قبول کرتا ہوں۔“
(تریاق القلوب ص ٣٧١، خزائن ج١٥ ص٤٩٩)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بکواس
- ١...... ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب
تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“
(کشتی نوح ص٧٣ حاشیہ، خزائن ج١٩ ص٧١)
- ٢...... ”اس شخص (عیسیٰ علیہ السلام) کو تمام عیبوں سے پاک اور مبرا سمجھتے ہیں۔
جس نے شراب نوشی کی اور قمار بازی کی اور ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر حرام کمائی کا تیل ڈلوایا۔ اس کو موقع دیا کہ اس کے بدن سے بدن لگائے۔“
(انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج١١ ص ایضاً)
- ٣...... ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک تھا اور مطہر تھا۔ تین دادیاں اور نانیاں
آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور میں آیا ...... آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان میں ہو۔“
(انجام آتھم ص ٢٩١ حاشیہ، خزائن ج١١ ص ایضاً)
- ٤...... ”حضرت مسیح کا بغیر باپ پیدا ہونا بھی نادرہ میں سے ہے۔ خلاف قانون
قدرت نہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١١٦، خزائن ج١٧ ص ٢٠٢)
- ٥...... ”پس بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے تھے جو مس شیطان
اور نفخ ابلیس سے پیدا ہوئے اور بغیر باپ کے ان کا پیدا ہونا یہ امر دیگر تھا جس کو روح القدس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ دنیا میں ہزاروں کیڑے مکوڑے برسات کے دنوں میں بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٠، خزائن ج١٧ ص ٢٩٨)
- ٦...... ”مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔
کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدس سمجھتا ہوں۔ کیونکہ وہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں ...... مجبوری کی وجہ سے مریم کا نکاح یوسف نجار سے کیا گیا۔“
(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج١٩ ص١٨)
- ٧...... ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح
١٧
ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا۔‘‘
(کشتی نوح ص ٦٢، خزائن ج ١٩ ص ٦٠)
- ......٨ ’’ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے انکار نہیں۔ مگر ان کے
معجزات پر دھبہ لگتا ہے۔ ہاں ہمارے بے توجہ علماء کی غلطی ہے کہ ان کی نسبت گمان کرتے ہیں کہ وہ کسی جانور کا قالب تیار کر کے اس میں پھونک مارتا تھا اور وہ زندہ ہو کر اڑ جاتے تھے اور وہ مردہ پر ہاتھ رکھتے تھے تو وہ زندہ ہو جاتا ہے اور غیب دانی کی بھی ان میں طاقت تھی اور اب مرے بھی نہیں مع جسم آسمان پر موجود ہیں۔‘‘
(شہادت القرآن ص ٧٧، خزائن ج ٦ ص ٣٧٣)
- ......٩ ’’نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا۔ وہ میں
ہوں۔‘‘
(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)
- ......١٠ ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- ......١١ ’’حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس کی
مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
پنجتن اور حضرت بی بی فاطمہ کے خلاف لعنتی تحریر
- ......١ ’’حضرت پنجتن سید الکونین حسنین فاطمہ زہرہ اور علی المرتضیٰ عین بیداری
میں آئے اور حضرت فاطمہ نے......خاکسار کا سر اپنی ران پر رکھا اور عالم خاموشی میں ایک غمگین صورت بنا کر بیٹھے رہے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٨)
- ......٢ حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا۔
صد حسین است در گریبانم
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٩ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٣)
سید علی حائری اور شیعوں کے خلاف
گندے اور رکیک حملے اور حضرت علیؓ کی توہین
یہ عبارت مرزا قادیانی کی کتاب حجۃ اللہ سے نقل کی ہے۔
- ......١ ’’نجفی اور غزنوی نے یاوہ گوئی کی...... تب میں نے یہ رسالہ لکھا ہے۔‘‘
(حجۃ اللہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ١٧٢)
١٨
- ٢....... ”یہ شیخ نجفی شیعہ ہے اور اس نے ایک عربی میں خط میری طرف لکھا
ہے....... جس نے سب و شتم کو کمال تک پہنچایا ہے۔“
(حجۃ اللہ ص ٢٧، خزائن ج ١٢ ص ١٧٥)
- ٣....... ”یہ وہ لوگ ہیں جو ان کی زبان سے خاتم الانبیاء ﷺ بھی بچ نہیں سکے۔
بلکہ وہ خدا بھی جو احکم الحاکمین ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفے ان کی زبان سے بچے اور نہ ازواج آنحضرت جو امہات المؤمنین تھیں۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ان لوگوں نے اصدق الصادقین پر کس طرح ظن بد کیا اور استخلاف کی پیش گوئی کی تکذیب کی اور کہا کہ علی مظلوم ہے۔ پس ان لوگوں نے اس عمارت کو مسمار کرنا چاہا۔ جس کو خدا نے بنایا اور قرآنی اخبار کی تکذیب کی اور یہ صریح ظلم ہے اور ان لوگوں نے کہا کہ علی تمام عمر نفاق کے لقوہ میں مبتلا رہا اور اس کی طینت میں راست گوئی کی جرأت پیدا نہیں کی گئی تھی اور اس نے ظاہر و باطن ایک بنانے کا دودھ نہیں پیا تھا۔ جب کفار کو خلافت ملی تو انکار نہ کیا۔ بلکہ اطاعت کی اور پیٹھ اور پنڈلی کو معہ اپنے رفیقوں کے ان کے لئے باندھا اور اسلام کا امر مشکل ہو گیا۔
(حجۃ اللہ ص ٣١، خزائن ج ١٢ ص ١٧٩)
اس نے ان کی بدگوئی نہ کی۔ بلکہ ان کی تعریف میں شعر بنائے۔ یہاں تک کہ مر گیا۔ کیا یہی شیعوں کا شیر ہے؟ اور کہتے ہیں کہ اس نے اپنی ماں صدیقہ کا مقابلہ کیا..... اور اپنی ماں سے نیکو کار نہیں تھا بلکہ جبار، عاق اور شقی تھا۔ نفاق کو اختیار کیا۔ سختی اور بھوک پر صبر نہ کر سکا اور نفس کی پیروی کی..... نفاق ہر قدم میں اختیار کیا۔ جس نے بخشش کے ساتھ احسان کیا۔ اس کو سجدہ کیا۔ اگر چہ وہ دین اور تقویٰ کا دشمن ہی کیوں نہ ہو اور جب مال دنیا کا اس پر پیش کیا گیا تو اپنے نفس کو کہا کہ لے لے..... اور انعام کے لئے ان کے پیچھے نماز پڑھتا رہا نہ کہ نماز کی برکتوں کے لئے..... صحابہ میں سے اس کے ساتھ کوئی نہ آتا اور نہ اسلام کے لشکر میں سے اس کے ساتھ کوئی ہوا۔ یہاں تک کہ بیقرار اور ناکام ہو کر ابوبکر صدیق کے دروازے پر آیا اور جانتا تھا کہ یہ زندیقوں کی طرح ہے۔ مگر پیٹ نے اس کو اس کی طرف جانے کے لئے بیقرار کیا اور اپنے معدے کے تنور کا ایندھن اس کے پاس پایا اور عمر نے اس کی بعض اولاد کو قتل کر دیا۔ مگر پھر بھی وہ اس کے پاس جانے سے باز نہ آیا اور ابوبکر نے باغ فدک کے معاملہ میں اس کو درد پہنچایا۔ مگر پھر بھی اس کو غیرت نہ آئی اور ابوبکر کے دروازے پر اعتکاف کرنے والوں کی طرح پڑا رہا..... اور ان کے دانتوں کا فضلہ ہضم کرتا رہا اور عار رکھنے والوں کی طرح ان سے علیحدہ نہ ہوا۔ بلکہ ان کی خدمت میں اپنی آبرو کو بٹہ لگاتا رہا اور اپنی حاجت ان کے آگے پیش کرتا رہا اور ان کے دروازے پر سوالیوں کی طرح پھرتا
١٩
تھا۔ اس کو چاہئے تھا کہ مدینہ کو اور ان کے باشندوں کو جو کافر اور مرتد تھے چھوڑ دیتا ...... اور مدینے کے لوگوں کو قتل کر دیتا۔ اگر وہ مسلمان نہیں تھے ...... یا کیوں ہجرت نہ کی اور کیوں اپنے نفس کو دوسروں کے کناروں میں نہ ڈال دیا ...... بلکہ نفاق اور تقیہ کی طرف جھک گیا ...... کیا یہ فعل شیر خدا کا ہے ...... تم نے خاتم الانبیاء ﷺ کی تحقیر کی اور کہا کہ اس کے ساتھ دو کافر دائیں بائیں بھائیوں اور بیٹوں کی طرح دفن کئے گئے ...... اور ہم تم سے اے نجفی گمراہ ایک بات پوچھتے ہیں تیرے پر سوال بھاری نہ ہو کیا تو اس بات پر راضی ہو سکتا ہے کہ تیری ماں دو زنا کار عورتوں کے درمیان دفن کر دی جائے۔ یا تیرا باپ دو مجذوم بدکاروں کے درمیان گاڑ دیا جائے۔ اگر تو اس سے کراہت کرتا ہے تو تو کس طرح اس بات پر راضی ہو گیا کہ سید الکونین دو کافروں ملعونوں کے درمیان دفن کر دیا جائے ...... خدا تعالیٰ ہلاک کرے اے جھوٹ اور دروغ کی حمایت کرنے والو ...... علیؓ کی طرف نظر کرو کہ جب اس کو خلافت کا منصب ملا۔ پس اس نے ان دونوں اماموں کی قبروں کو آں حضرت ﷺ کے روضہ سے علیحدہ نہ کیا۔ پس اگر وہ یہ گمان کرتا تھا کہ وہ دونوں مؤمن پاک دل نہیں ہیں تو کیونکر ان کی قبروں کو آنحضرت ﷺ کی قبر کے ساتھ رہنے دیا۔ تمام گناہ علیؓ کی گردن پر ہے ...... یہی شیر خدا اور اسد اللہ ہے ...... اور تم آنحضرت ﷺ کی بیویوں امہات المومنین کو لعنت سے یاد کرتے ہو اور گمان کرتے ہو کہ خدا کی کتاب میں کچھ زیادہ اور کم کیا گیا ہے اور کہتے ہو کہ وہ بیاض عثمان ہے اور خدا کی طرف سے نہیں ہے ...... تم نے علیؓ کی تصویر ایسی ظاہر کی کہ گویا وہ سب سے زیادہ نامرد تھا اور نعوذ باللہ شیطان کے تابع تھا ......
پس اے نجفی سگ لومڑی کیا تو مجھے ڈراتا ہے ...... کیا تو چند روز ابلیس کی شاگردی میں رہا ہے ...... تیرے ملک (ایران) میں قحط پڑ گیا۔ یا تجھ پر فقر و فاقہ غالب آ گیا۔ پس تو ان لوگوں کے ملک کی طرف دوڑا جو رزق کی کشادگی رکھتے ہیں۔ تا کہ گداگروں کی طرح چلا کر بھیک مانگ کر گزارہ کرے ...... تو کمینوں اور سفیہوں سے تھا ...... ہم اس خناس کے فتنہ سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ خود سب اور توہین کا موجب نہیں۔ بلکہ اس کو غزنویوں میں سے ایک اور شیطان نے سکھایا ہے ...... گویا وہ جوتوں کے خواہش مند ہیں اور ان کا سر فریاد کر رہا ہے۔ تاکہ نعلوں کے ساتھ کوفتہ کیا جائے ...... اور میں جانتا ہوں کہ وہی مفسد اور اظلم امام ہے ...... بکواس سے باز نہ آئے۔ پس میں نے جان لیا کہ وہ مردود مخذول اور بد بخت اور محروم ہیں۔“ (یہ عبارت بھی مرزا قادیانی کی کتاب (حجۃ اللہ ص ٤٠ تا ٤١، خزائن ج ١٢ ص ٢٠ تا ٢١) سے نقل کی ہے)
٢٠
مرزا قادیانی کو محمد ﷺ کے دربار میں جوتے پڑے اور دجال کا خطاب ملا
(اس کی اپنی کتاب میں)
”ایک بزرگ اپنے ایک واجب التعظیم مرشد کی ایک خواب جس کو اس زمانہ کا قطب الاقطاب اور امام الابدال خیال کرتے ہیں اور یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر خدا ﷺ خواب میں دیکھا اور آپ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور اردگرد تمام علماء پنجاب اور ہندوستان گویا بڑی تعظیم کے ساتھ کرسیوں پر بٹھائے گئے تھے۔ تب یہ شخص جو مسیح موعود کہلاتا ہے آنحضرت ﷺ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ جو نہایت کریہہ شکل اور میلے کچیلے کپڑوں میں تھا۔ آپ نے فرمایا یہ کون ہے۔ تب ایک عالم ربانی اٹھا (شاید محمود شاہ واعظ یا محمد علی بوہڑی) اور اس نے عرض کی کہ یا حضرت یہی شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ تو دجال ہے۔ تب آپ کے فرمانے سے اسی وقت اس کے سر پر جوتے لگنے شروع ہوئے۔ جن کا کچھ حساب اور اندازہ نہ رہا اور آپ نے ان تمام علماء پنجاب اور ہندوستان کی بہت تعریف کی۔ جنہوں نے اس شخص (مرزا قادیانی) کو کافر اور دجال ٹھہرایا تھا۔ آپ بار بار پیار کرتے اور کہتے تھے کہ یہ میرے علماء ربانی ہیں جن کے وجود سے مجھے فخر ہے ۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٥٢ ، ٥٣ ، خزائن ج ١٧ ص ١٧٦)
مرزا بشیر الدین محمود کی اسلام کے خلاف گندی تحریر
- ١...... ”اسلامی تعلیم کو معین صورت دینے کے لئے جو جامہ رسول کریم ﷺ کے
زمانہ کے لوگوں کے لئے پہنچایا گیا تھا وہ آج یقیناً کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اب حالات مختلف ہیں۔ اسی طرح بعد میں حضرت ابو بکرؓ ، حضرت عمرؓ ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے ان احکام کو جو صورت دی تھی وہ بھی آج کامیاب نہیں ہو سکی۔ غرض خلفاء نے اپنے زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے اسلام کے احکام کی تعبیر کی۔ مگر موجودہ زمانہ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کسی اور نظام کی ضرورت تھی اور اس نظام کے قیام کے لئے ضروری تھا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ۔“
(نظام نو ص ١٠١)
- ٢...... ”نظام نو کی بنیاد ١٩٠٥ء میں قادیان میں رکھی جا چکی ہے۔ اب دنیا کو کسی
اور نظام کی ضرورت نہیں۔“ اب نظام نو کا شور مچانا ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں ؎
اب لکیر پیٹا کر
(نظام نو ص ١١١)
٢١
- ٣...... "پس آج وہی تعلیم امن قائم کریگی جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آئی ہے
اور جس کی بنیاد الوصیت میں ١٩٠٥ء رکھ دی گئی ہے۔"
(نظام نو ص ١١٧)
- ٤...... "خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو چھوڑا نہیں۔ بلکہ اس نے ایک برگزیدہ کے
ذریعے سے دنیا کو ہدایت کے لئے پیغام بھیجا ہے۔ جس طرح کہ اس نے نوح ابراہیم، موسیٰ، داؤد، مسیح، رامچندر کرشن بدھ کنفیوشس زرتشت اور محمد رسول اللہ ﷺ کی معرفت پیغام بھیجا تھا۔ اس پیغامبر کا نام احمد تھا۔ میں اس پیغمبر کے ماننے والا اور خلیفہ ثانی ہوں۔
(پیغام آسمانی از مرزا بشیر الدین)
- ٥...... "سوائے اس مسیح (مرزا قادیانی) کے اتباع کے اور کوئی (چارا) نہیں۔
آج سب دروازے بند ہیں۔ سوائے اس کے دروازے کے اور سب چراغ بجھے ہوئے ہیں۔ سوائے اس کے چراغ کے پس اس دروازے سے داخل ہو۔"
(پیغام آسمانی ص ٢٣)
مرزا بشیر احمد ایم ۔اے پسر مرزا قادیانی کی بکواس...... کلمہ میں قادیانی محمد
- ١...... "مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے مفہوم
میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی ہے۔ لہٰذا مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے آنے سے "لا اله الا الله محمد رسول الله" کا کلمہ باطل نہیں ہوتا۔ بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے...... ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو (کسی اور کلمہ کی) ضرورت پیش آتی۔"
(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)
مرزا قادیانی کا دماغ اور دل شیطان نے پکڑ رکھا تھا
"ایک چیز ہے جس نے میرے دماغ اور دل کو پکڑا ہوا ہے۔ جب گھر جاتا ہوں تو گھر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن میری یہ حالت ہوتی ہے کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ہوتا اور جب میں مجلس میں آتا ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے باتیں سنتا ہے۔ میری حالت یہ ہوتی کہ مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ میرے پاس کون بیٹھا ہے اور نہ مجھے ان کی باتوں کی سمجھ آتی ہے۔، پس یہ ایک چیز ہے جس نے میرے دماغ کو پکڑا ہوا ہے۔ بے شک ہم نے کتابیں لکھیں اور بہت لکھیں۔ ہم نے دلائل دیئے اور بہت دیئے۔ ہم نے مخالفوں کے جواب دیئے اور بہت دیئے۔ مگر اصل مقصد پورا نہ ہوا تو سب بیکار ہے۔ یہ ایک چیز ہے جس نے میرے دماغ کو ایسا پکڑا ہوا ہے کہ اور کوئی چیز میرے دماغ میں آتی ہی نہیں۔"
(ریویو آف ریلیجنز ص ٣٥، ماہ جنوری ١٩٣٢ء)
٢٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
حیات عیسیٰ علیہ السلام
اور
مرزا قادیانی کا
اقرار و انکار
ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئی
بسم الله الرحمن الرحيم!
- ١...... قرآن کریم میں حیات عیسیٰ علیہ السلام
"وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه ما لهم به من علم الاتباع الظن وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيما (النساء)"﴿اور ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح علیہ السلام بیٹا مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے۔ حالانکہ نہ انہوں نے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ لیکن وہ شبہ میں مبتلا کئے گئے جولوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں۔ یقیناً وہ محض ظن کی اتباع کر رہے ہیں۔ ان کو کچھ بھی علم نہیں ہے۔ ہرگز انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا (آسمان کی طرف) اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔﴾
- ٢...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں
"وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها "﴿اور وہ (عیسیٰ علیہ السلام) نشانی ہیں قیامت کی تم اس میں ہرگز شک نہ کرو۔﴾
- ٣...... ہر ایک اہل کتاب ان کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا
"وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء)"﴿اور کوئی بھی اہل کتاب نہیں جو ان (عیسیٰ علیہ السلام) کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے۔﴾
قادیانی نبی، حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل تھا
- ١...... "هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهر على
الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے۔ جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح
٢
دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور گا۔"
- ٢....... "میں نے
خلافت صرف روحانی خلافت ہے طور پر خلافت ہوگی۔"
- ٣....... "اس عاجز
موعود خیال کر بیٹھے ہیں ......... میر یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفس سال سے برابر شائع ہورہا ہے کہ میں
- ٤....... "مجھے مسیح ابن
بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہ
- ٤....... "میں نے مسیح
مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے جیسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔"
- ٥....... "اس عاجز کی
خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں ہے سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں سے نازل ہو۔"
- ٦....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
"حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی سے نجات پاگئے اور خدا تعالیٰ نے
دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع اقطار و آفاق میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٨ تا ٥٠٣، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
- ٢...... ”میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل ہوں اور میری
خلافت صرف روحانی خلافت ہے۔ لیکن جب وہ مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہوگی۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٦)
- ٣...... ”اس عاجز نے مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح
موعود خیال کر بیٹھے ہیں........... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
- ٤...... ”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں۔
بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)
- ٤...... ”میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف
مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
- ٥...... ”اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی
خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں ہے۔ بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال اور اقبال کے ساتھ بھی آوے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں سے نازل ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥١)
٦...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بجائے پولوس سولی پر لٹکایا گیا تھا
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے۔ اس لئے وہ سولی سے نجات پا گئے اور خدا تعالیٰ نے ان کو زندہ بچا لیا۔ لیکن چونکہ پولوس نے سچائی کو چھوڑ دیا
٣
تھا۔ اس لئے وہ لکڑی پر لٹکایا گیا۔“
(چشمہ مسیحی ص ٥٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٧٦)
تصویر کا دوسرا رخ، قادیانی نبی اور غلطی کا اقرار
- ١...... ”براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میں نے وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور
پر لکھ دیا اور شائع کر دیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٥، خزائن ج ٢١ ص ١١١)
- ٢...... خدا کی نافرمانی اور مخلوق کی پیروی اور اپنے کلام میں تناقض کا اقرار
”رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں تناقض کیوں پیدا ہو گیا۔ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں یہ لکھا تھا کہ آنے والا میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگر چہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا۔ بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا وہی اعتقاد رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣)
- ٣...... خدا کے الہام کو ایک مدت تک چھپائے رکھا
”اور پھر یہ بات یاد رکھو کہ ایک مدت تک مجھے الہام ہو رہا تھا۔ جس کو میں نے لوگوں سے ایک عرصہ تک چھپائے رکھا۔“
(نجم الہدیٰ ص ١١٢، خزائن ج ١٤ ص ١١٢)
قادیانی نبی کا اقرار کہ سچی بات کو چھپانا لعنتیوں کا کام ہے
”سچی بات کو چھپانا بے ایمانوں اور لعنتیوں کا کام ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٢)
٤
٤...... قادیانی نبی دس سال تک شرک کرتا رہا ہے
”گو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے۔ حتیٰ کہ حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔ حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ مسیح بنا چکا تھا۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کے الہام سے ثابت ہے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٤٢)
٥...... دروغ گو را حافظہ نہ باشد
”تخمیناً عرصہ بیس برس کا گذرا ہے کہ مجھ کو اس آیت کا الہام ہوا تھا۔ ”ھو الذی ارسل رسوله بالھدى ودین الحق لیظهره علی الدین كله“ اور مجھ کو اس الہام کے یہ معنی سمجھائے گئے تھے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا میرے ہاتھ سے خدا تعالیٰ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرے۔“
(تریاق القلوب ص ٩٢، خزائن ج ١٥ ص ٢٣١)
٦...... قادیانی نبی کے کلام میں تناقض کا اقرار
”جب تک دونوں عقیدوں میں تناقض وتخالف تسلیم نہ کیا جائے اس وقت تک پہلے عقیدہ کو تبدیل کر کے دوسرے کو اختیار کرنے کا اعلان ایک بے معنی اور مضحکہ خیز بن جاتی ہے۔ چنانچہ دیکھئے حضرت مسیح موعود نے حقیقت الوحی میں جہاں اوپر کے زیر بحث حوالہ میں عقیدہ کی تبدیلی کا ذکر فرمایا ہے وہاں صاف لفظوں میں آپ نے سابقہ عقیدہ میں تناقض اور تخالف تسلیم کیا ہے۔“
(ریویو آف ریلیجنز ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ٢٧)
٧...... قادیانی نبی کا اقرار کہ مخبوط الحواس آدمی کے کلام میں تناقض ہوتا ہے
”اس شخص کی حالت مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)
٥
٨...... مرزا قادیانی کا جھوٹ اور قرآن پر بہتان
”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)
٩...... جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کرسی خالی نہ کرائیں
مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں بن سکتا
- ١...... جب تک حضرت مسیح ناصری کی وفات وحیات کا فیصلہ نہ ہو کوئی مسلمان
مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں کر سکتا۔
- ٢...... ”مرزا غلام احمد قادیانی سلسلہ احمدیہ کے دعویٰ مسیحیت کے راستہ میں سب
سے پہلا سوال حضرت مسیح ناصری کی وفات کا ہے۔ کیونکہ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ پہلا مسیح فوت ہو چکا ہے۔ اس وقت تک خواہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کی صداقت پر ہزار سورج کیوں نہ چڑھا دیا جائے طبیعت میں ایک گونہ خلجان ضرور رہتا ہے کہ جس منصب کا مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے۔ یعنی مسیحیت ، جب تک اس کی کرسی خالی نہ ہو مرزا قادیانی کی سچائی کے متعلق دل اطمینان نہیں پکڑ سکتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس روگ کو دور کیا جائے۔“
(الحجۃ البالغۃ ص ٢١)
١٠...... مرزا قادیانی کی عیسیٰ ابن مریم بننے کی حقیقت
- ١...... ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی۔
- ٢...... مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا۔ آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔
- ٣...... درد زہ مجھے کھجور کی طرف لے آئی۔
- ٤...... مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“
(کشتی نوح ص ٤٧، ٤٨، خزائن ج ١٩ ص ٥٠، ٥١)
٦
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرزا قادیانی
اور
غیر محرم عورتیں
ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرزا قادیانی کا قول اوّل
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور (مرزا قادیانی) فرماتے تھے کہ انبیاء کے لئے عصمت ہے وہ ہمیشہ گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔ انبیاء گناہ سے معصوم ہوتے ہیں اور انبیاء کے سوا اور لوگ جو اتنی ترقی کر لیتے ہیں کہ گناہ کرنے سے بالکل آزاد اور پاک ہو جاتے ہیں۔ ان کو محفوظ کہا جاتا ہے۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ١١٥ روایت ٦٦٣)
مرزا قادیانی کا قول دوم
”ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہوچکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لے کر آوے اور کہے کہ جو شخص تم سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اسے جہنم میں ڈالے گا۔“
(تریاق القلوب ص ١٣٠ خزائن ج ١٥ ص ٢٨٠،٢٧٩)
مرزا قادیانی کا قول سوم
”قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ صرف بد نظری اور شہوت کے خیال سے غیر محرم عورتوں کو مت دیکھو اور بجز اس کے دیکھنا حلال بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہ دیکھ۔ نہ بد نظری سے اور نہ نیک نظری سے کہ یہ سب تمہارے لئے ٹھوکر کی جگہ ہے۔“ (کشتی نوح ص ٢٦ خزائن ج ١٩ ص ٢٩،٢٨)
٢
مرزا قادیانی کا اپنا فعل
”بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب نے کہ بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد نے کہ جو عورت والد صاحب کو کھانا دینے جاتی تھی وہ بعض اوقات واپس آکر کہتی تھی۔ میاں ان کو یعنی حضرت صاحب کو کیا ہوش ہے یا کتابیں ہیں اور یا یہ ہیں۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٣٢، روایت ٢٣٢)
پاخانہ میں لوٹا رکھنے والی غیر محرم عورت
- ٢....... ”ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لئے پاخانہ میں لوٹا
رکھ دے۔ اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا۔ جب حضرت مسیح موعود فارغ ہوکر باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا۔ جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا تو آپ نے اسے بلوایا اور اسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے اس لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٤٣، روایت ٨٤٧)
خاص خدمت گار غیر محرم عورت
- ٣....... ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر نور محمد
صاحب لاہوری کی بیوی ڈاکٹرنی کے نام سے مشہور تھی۔ وہ مدتوں قادیان آکر حضور کے مکان میں رہی اور حضور کی خدمت کرتی تھی۔ جب وہ فوت ہوگئی تو اس کا ایک دوپٹہ حضرت صاحب نے یاد دہانی کے لئے بیت الدعا کی کھڑکی کی ایک آہنی سلاخ سے باندھوا دیا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ١٢٩، روایت ٦٨٨)
غیر محرم عورت بھانو پاؤں دبایا کرتی تھی
- ٤....... ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام
٣
المومنین نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دبا رہی تھی۔ اس لئے اس کو پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی جی ہاں جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں۔“
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢١٠، روایت نمبر ٧٨٠)
پہرہ دینے والی غیر محرم عورتیں
٥ ...... ”مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب جٹ مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا۔ اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی فجو منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔“
(سیرۃ المہدی حصہ ٣ ص ٢١٣، روایت ٧٨٦)
غیر محرم عورت کو اپنا جوٹھا قہوہ پلایا
٦ ...... ”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری بڑی لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود قہوہ پی رہے تھے کہ حضور نے اپنا بچا ہوا قہوہ دیا اور فرمایا زینب یہ پی لو۔ میں نے عرض کی حضور یہ گرم ہے اور مجھ کو ہمیشہ اس سے تکلیف ہو جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارا بچا ہوا قہوہ ہے۔ تم پی لو کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے پی لیا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٦٦، روایت ٨٩٦)
٤
غیر محرم عورت سے نظم کا
٧ ...... ”مول سے حضرت صاحب کے پاس ہوں۔ جس میں یہ یہ قافیہ ہے پڑھایا ہی نہیں۔ فرمایا کہ آپ اس قافیہ کو استعمال کرلیا۔“
غیر محرم عورت کا مراق ا
٨ ...... ”ڈاک لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے ب دعیہ سے ان کی خدمت میں ح مارے آپ سے عرض نہیں کر س فرمایا کہ زینب تجھ کو مراق کی بی میں اپنے مکان پر جانے کے ب ملا۔ اس لئے مجبوراً مجھے پیدل تھی۔ مگر خدا کی قدرت جوں میں پیدل چل کر حضور کی زیار
غیر محرم عورت سے تین
٩ ...... ”ڈاک
غیر محرم عورت سے نظم کا قافیہ پوچھا
- ٧...... ”مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی بڑی بیوی مولویانی کسی کام کی غرض
سے حضرت صاحب کے پاس آئیں۔ حضرت صاحب نے ان سے فرمایا کہ میں ایک نظم لکھ رہا ہوں۔ جس میں یہ یہ قافیہ ہے۔ آپ بھی کوئی قافیہ بتائیں۔ مولویانی مرحومہ نے کہا ہمیں کسی نے پڑھایا ہی نہیں۔ فرمایا کہ آپ نے بتا تو دیا ہے۔ (پڑھا) چنانچہ آپ نے اس وقت ایک شعر میں اس قافیہ کو استعمال کر لیا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٣٣، روایت ٨٢٦)
غیر محرم عورت کا مراق اپنی خدمت کرا کر دور کر دیا
- ٨...... ”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری
لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضور سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے تو میں دعیہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ان ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا۔ میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہیں کرسکتی تھی۔ میں حضور کی خدمت کر رہی تھی کہ حضور نے خود معلوم کر کے فرمایا کہ زینب تجھ کو مراق کی بیماری ہے۔ ہم دعاء کریں گے۔ کچھ ورزش کیا کرو اور پیدل چلا کرو۔ میں اپنے مکان پر جانے کے لئے جو حضور کے مکان سے ایک میل دور تھا۔ تانگے کی تلاش کی مگر نہ ملا۔ اس لئے مجبوراً مجھے پیدل جانا پڑا۔ مجھ کو یہ پیدل چلنا سخت مصیبت اور ہلاکت معلوم ہوتی تھی۔ مگر خدا کی قدرت جوں جوں میں پیدل چلتی تھی۔ آرام معلوم ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ دوسرے روز میں پیدل چل کر حضور کی زیارت کو آئی تو دورہ مراق کا جاتا رہا اور بالکل آرام ہو گیا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٧٥، ٢٧٦ روایت ٩١٧)
غیر محرم عورت سے تین ماہ خدمت کروا کر اس کا دل خوشی اور سرور سے بھر دیا
- ٩...... ”ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مجھ
سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ رات خدمت کرتے گذر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ ایک دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز سے صبح کی اذان تک مجھے ساری ساری رات خدمت کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔“
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص ٢٧٢، ٢٧٣، روایت ٩١٠)
غیر محرم لڑکیوں کو گھر میں رکھ کر ان کی شادی کا بندوبست کرتے تھے
١٠...... ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ جب میاں ظفر احمد کپور تھلوی پہلی بیوی فوت ہوگئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں۔ ان کو میں لاتا ہوں۔ آپ ان کو دیکھ لیں۔ پھر ان میں سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کرادی جاوے۔ چنانچہ حضرت صاحب گئے اور ان دو لڑکیوں کو بلا کر کمرہ کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آ کر کہا وہ باہر کھڑی ہیں۔ آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔ چنانچہ میاں ظفر احمد صاحب نے ان کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے ان کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمہیں کون سی لڑکی پسند ہے۔ وہ نام تو کسی کا جانتے نہیں تھے۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی۔ میں نے عرض کیا حضور میں نے تو نہیں دیکھا۔ پھر خود فرمانے لگے کہ ہمارے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے‘ جس کا منہ گول ہے۔ پھر فرمایا کہ جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بدشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن گول چہرے کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔“
(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٠٣، روایت ٢٦٨)
٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حیات ونزول مسیح علیہ السلام
اور
مرزا قادیانی
ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئی
بسم الله الرحمن الرحیم!
نزول مسیح کا عقیدہ جزو ایمان نہیں
”اول تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں جو ہماری ایمانیات کا کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کر دی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہوگیا۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
حضرت مسیح دوبارہ خود تشریف لائیں گے
”ھوالذی ارسل رسوله بالهدى ودین الحق لیظهره علی الدین کله یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے۔ جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٤٩٨ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
مرزا قادیانی کا دعوٰی مسیحیت سے انکار
”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)
جب مسیح آئے گا اس کی جسمانی خلافت ہوگی
”میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں۔ میری خلافت صرف روحانی خلافت ہے۔ لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہوگی۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٦)
مرزا قادیانی جیسے دس ہزار مثیل مسیح آسکتے ہیں
”میرا یہ کبھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے ہی پر ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
٢
ممکن ہے کہ اوّل وہ د
”اس عاجز کی طر
آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا
زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہ
وہ دمشق میں ہی نازل ہو
جب حضرت مسیح آسمان
”صحیح مسلم کی حد
ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا
مسیح دجال یک چشم کو قت
”جب وہ مسیح مو
یک چشم کو قتل کر ڈالے گا۔“
صحیح مسلم کی حدیث
”ناگہاں مسیح ابن
طرف اترے گا“
”حضرت ابن مری
کے دیہات میں سے ایک گا
الحدیث یہ وہ حدیث ہے جو صیح
مرزا قادیانی کا پہلا دعو
”تخمیناً عرصہ بی
ہے۔ ”ھوالذی ارسل ر
مجھ کو اس الہام کے معنی یہ س
ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں ہی نازل ہو
”اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا۔ بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال اور اقبال کے ساتھ بھی آوے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں ہی نازل ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٩٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥١)
جب حضرت مسیح آسمان سے اتریں گے
”صحیح مسلم کی حدیث میں یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“
(ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
مسیح دجال یک چشم کو قتل کر ڈالے گا
”جب وہ مسیح موعود آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا اور دجال یک چشم کو قتل کر ڈالے گا۔“
(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٨٠، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)
صحیح مسلم کی حدیث
”ناگہاں مسیح ابن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اترے گا۔“
(ازالہ اوہام ص ٢١٨، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩)
”حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں نکلیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جا کر پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔ تمت ترجمۃ الحدیث یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢٠٩)
مرزا قادیانی کا پہلا دھوکہ اور غلط بیانی
”تخمیناً عرصہ بیس برس کا گزرا ہے کہ مجھ کو اس قرآنی آیت کا الہام ہوا تھا اور وہ یہ ہے۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھر علیٰ الدین کلّہ“ اور مجھ کو اس الہام کے معنی یہ سمجھائے گئے تھے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہوں
٣
تاکہ میرے ہاتھ سے خدا تعالیٰ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرے۔“
(تریاق القلوب ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٢٣١)
دروغ گو را حافظہ نہ باشد
”براہین احمدیہ میں قبل علم قطعی کے جو خدا سے منکشف ہوا اپنے خیال سے یہی لکھا گیا تھا کہ خود عیسیٰ دوبارہ آئے گا۔“
(تریاق القلوب ص ١٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٥)
مرزا قادیانی کا دوسرا دھوکہ اور غلط بیانی
”هو الذی ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحق لیظهره علی الدین کله دیکھو (براہین احمدیہ ص ٤٩٨) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
مرزا قادیانی نے اپنے جھوٹا ہونے پر مہر ثبت کر دی
”اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔“
(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)
میرا مطالبہ
”میں نے کاہڑی وال ضلع جھنگ میں دوران مناظرہ قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری سے بھی یہ مطالبہ کیا تھا۔ جس کا جواب قاضی صاحب نہ دے سکے اور پہلے ہی دن مناظرہ کر کے فرار ہو گئے تھے۔ حالانکہ دوسرا دن بھی مناظرہ کے لئے مقرر تھا اور اب بھی ہر ایک مرزائی مبلغ بلکہ ہر ایک مرزائی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ قرآن پاک میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام ابن مریم لکھا ہوا دکھا دو اور مجھے دوبارہ اپنے ساتھ ملا لو اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب آپ کے مذہب کی مفت تبلیغ کروں گا۔ پہلے کی طرح تنخواہ اور الاؤنس وغیرہ ہر گز نہیں لوں گا۔ لیکن اگر قرآن پاک میں ہر گز نہ دکھا سکیں ۔ بلکہ ہر گز نہیں دکھا سکیں گے تو بقول مرزا قادیانی ان کو جھوٹا تو لکھ دیں۔
”وما علینا الا البلاغ المبین“
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
(ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ)
٤
پر غالب کرے۔‘‘
(تریاق القلوب ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١٥ ص ٢٣١)
اسے منکشف ہوا اپنے خیال سے یہی لکھا گیا تھا
(تریاق القلوب ص ١٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٥)
لهدى ودين الحق ليظهره على الدين پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
ثابت کر دی دکھا تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)
دوران مناظرہ قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری نہ دے سکے اور پہلے ہی دن مناظرہ کر کے لئے مقرر تھا اور اب بھی ہر ایک مرزائی مبلغ بلکہ تک میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام ابن مریم میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب آپ کے مذہب کی وغیرہ ہرگز نہیں لوں گا۔ لیکن اگر قرآن پاک رسول مرزا قادیانی ان کو جھوٹا تو لکھ دیں۔
لاغ المبین‘‘
ہے تو امتحاں ہمارا
(ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ)
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مرزا قادیانی کی
خطرناک بیماریاں اور
عبرتناک موت
ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئیؒ
بسم الله الرحمن الرحیم!
مرزا قادیانی کا اقرار کہ سچے کلام میں اختلاف نہیں ہوتا
”کیونکہ قرآن شریف کی نسبت خدا کا ارشاد ہے: ”لوکان من عند غیر الله لو جدوا فیہ اختلافاً کثیراً “ اور عدم اختلاف اس کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہے۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١٠٣)
مرزا بشیر الدین محمود احمد کا اقرار
”کیا دونوں ضدیں ایک وقت میں جمع ہو سکتی ہیں؟ ضروری ہے کہ اگر پہلی بات درست ہو تو دوسری درست نہ ہو اور اگر دوسری بات درست ہو تو پہلی درست نہ ہو۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٣٨)
خدا نے مرزا قادیانی کی صحت کا ٹھیکہ لیا تھا
- ١...... ”ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لیا ہے۔“
(الہام تذکرہ ص ٨٠٦ طبع ٤)
- ٢...... ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود
فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمہارے تین اعضاء پر خدا کی رحمت کا نزول ہے۔ ایک ان میں سے آنکھ ہے۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص ٥١، روایت ٧٥٠)
مرزا قادیانی کی بیماریاں
- ١...... آنکھوں میں مائی اوپیا تھا
”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا۔ اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہیں دیکھ سکتے تھے۔“
(سیرت المہدی حصہ ٣ ص ١١٩، روایت ٦٧٤)
- ٢...... گرگابی کے الٹے سیدھے پاؤں کی پہچان بھی نہ تھی
”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ
الٹا پاؤں پڑ جاتا تھا تو بہت تنگ ہوتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دیئے تھے۔ مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔ اس لئے آپ نے اسے اتار دیا تھا۔
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٦٧، روایت ٨٣)
٣...... اپنی سوٹی بھی نہیں پہچان سکتے تھے
”مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔ حضرت صاحب باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی۔ حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا۔ یہ کس کی چھڑی ہے؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی چھڑی ہے۔ جو حضور ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ فرمایا اچھا میں نے سمجھا تھا کہ میری نہیں ہے۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدت سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٢٢٥، روایت ٢٤٦)
اپنی گھڑی پر وقت بھی نہیں پہچان سکتے تھے
”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ میں دی تھی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور پھر جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر اس کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگل رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے۔ گھڑی دیکھتے ہی وقت نہیں پہچان سکتے تھے۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٨١، روایت ١٦٥)
مرزا قادیانی کا قول ...... مرگی اور تعلق شیطان
- ١...... ”مرگی کی بیماری کے مبتلا اکثر شیطان کو اسی طرح دیکھا کرتے ہیں۔“
- ٢...... ”یسوع دراصل مرگی کی بیماری میں مبتلا تھا اور اسی وجہ سے ایسی خوابیں بھی
دیکھا کرتا تھا۔“
- ٣...... ”جن لوگوں کو شیطان کا سخت آسیب ہوتا ہے اور شیطان ان سے محبت
کرنے لگتا ہے تو گو ان کی اپنی مرگی وغیرہ اچھی نہیں ہوتی۔ مگر دوسروں کو اچھا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ شیطان ان سے محبت کرتا ہے۔“
٣
٤...... ”یہ جو کہا کہ تو میرا بیٹا ہے۔ اس میں بھید یہ ہے کہ درحقیقت مصروع مرگی کا بیٹا ہی ہوتا ہے۔ اس لئے مرگی کو طبابت میں ام الصبیان کہتے ہیں۔“
(ست بچن ص ١٧٠،١٧١ حاشیہ، خزائن ج١٠ص٢٩٤، ٢٩٥)
مرزا قادیانی کو مرگی کے دورے پڑتے تھے
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ مگر وہ خفیف تھا ..... میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا۔ میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہوگئے۔ خاکسار نے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ بدن کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص١٦، ١٧، روایت ١٩)
مرزا قادیانی کو مراق بھی تھا
”سیٹھی غلام نبی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے حضرت مسیح موعود سے فرمایا کہ حضور غلام نبی کو مراق ہے تو حضور نے فرمایا کہ ایک انگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے ..... اور جس قدر ایسے آدمی ہیں سچے چلے آویں گے۔“
(سیرت المہدی حصہ سوم ص٣٠٤، روایت ٩٦٩)
مرزا قادیانی کا ہاتھ ٹوٹا ہوا (ٹنڈا) تھا
”خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ آپ کھڑکی سے اترنے لگے تھے۔ سامنے سٹول رکھا تھا۔ وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے لقمہ تو آپ منہ تک لے جاسکتے تھے۔ لیکن پانی کا برتن منہ تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سنبھالنا پڑتا تھا۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٢١٧، روایت ١٨٨)
٤
مرزا قادیانی کو سل کی بیماری
”بیان کیا مجھ سے حضرت صاحب کو سل ہوگئی اور چھ ماہ تک ب ناامیدی ہوگئی تھی۔“
مرزا قادیانی کو ذیابیطس کی بیما
”والدہ صاحبہ بیان فرماتی تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی ج میں آسانی ہو۔ اگر گرہ بھی پڑ جائے ت وقت گرہ پڑجاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلی
مرزا قادیانی کو سخت قولنج کی بیما
”ایک مرتبہ میں سخت بیما نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طر قولنج تھا۔ دم بدم حاجت ہوکر خون آت
مرزا قادیانی کو خارش کی بیماری
”بیان کیا مجھ سے حضرت ہاکوٹا کو بروالوں سکنہ قادیان کی ماں تھی کے وقت جب لاؤ دآئی تو ان دنوں اسے اور پھر آہستہ آہستہ تمہارے تایا کے گھ میں بھی خارش کا اثر پہنچا۔ چنانچہ حضر
مرزا قادیانی نامرد بھی ہوگئے
”قریب ہی وہ زمانہ گذر دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت س
مرزا قادیانی کو سل کی بیماری بھی تھی
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سل ہوگئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے اور بڑی نازک حالت ہوگئی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہوگئی تھی۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٥٥ روایت ٦٦)
مرزا قادیانی کو ذیابیطس کی بیماری بھی تھی
”والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازاربند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازاربند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو۔ اگر گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازاربند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔“ (سیرت المہدی حصہ اول ص ٥٥، روایت ٦٥)
مرزا قادیانی کو سخت قولنج کی بیماری بھی ہوگئی تھی
”ایک مرتبہ میں سخت بیمار ہوا تھا۔ یہاں تک کہ تین مختلف وقتوں میں میرے وارثوں نے میرا آخری وقت سمجھ کر مسنون طریقہ پر مجھے تین دفعہ سورۃ یٰسین سنائی۔ مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا۔ دم بدم حاجت ہوکر خون آتا تھا اور سولہ دن برابر ایسی حالت رہی۔“
(تریاق القلوب ص ٨٠، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٨)
مرزا قادیانی کو خارش کی بیماری بھی ہوئی تھی
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب کی دائی کا نام لاڈو تھا اور ہاکو ناکو بروالوں سکنہ قادیان کی ماں تھی۔...... نیز والدہ صاحب نے بیان کیا کہ عزیز احمد کی پیدائش کے وقت جب لاڈو آئی تو ان دنوں اسے خارش کی مرض تھی۔ چنانچہ اس سے عزیز احمد کو خارش ہوگئی اور پھر آہستہ آہستہ تمہارے تایا کے گھر میں اکثر لوگوں کو خارش ہوگئی اور آخر ادھر سے ہمارے گھر میں بھی خارش کا اثر پہنچا۔ چنانچہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں خارش کی تکلیف ہوگئی تھی۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٥٦، ٢٥٧، روایت ٢٦٢)
مرزا قادیانی نامرد بھی ہو گئے تھے
”قریب ہی وہ زمانہ گذر چکا تھا۔ جب کہ مجھے دق کی بیماری ہوگئی تھی۔ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد
٥
سر۔ دوران سر (مرگی ناقل) قدیم سے میرے شامل حال تھیں۔ جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی۔“
(تریاق القلوب ص ٧٤، ٧٥، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٢، ٢٠٣)
مرزا قادیانی کا قول ...... جھوٹا نبی بری موت مرتا ہے
”اور جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں۔ حالانکہ نہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے۔ وہ بہت بری موت سے مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ١ ص ١)
مرزا قادیانی کی عبرتناک موت ہیضہ سے ہوئی تھی
”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود آخری بیماری میں بیمار ہوئے اور آپ کی حالت نازک ہوئی تو میں نے گھبرا کر کہا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔..... حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔ تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے۔ اس لئے میں نے چارپائی کے پاس انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے۔ میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١١، ١٢، روایت ١٢)
٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین
مرزائیت سے
توبہ
ڈاکٹر محمد عبداللہ خان جتوئی
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تمہید
سب سے پہلے میں اس وحدہ لاشریک خداوند تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں جس نے ٢٢ سال تک مرزائیت جیسی گمراہ کن اور اسلام دشمن تحریک کی تبلیغ کرنے کے بعد سچے دل سے توبہ کرنے کی توفیق بخشی۔ گویا کہ میں معصیت اور کفر کے سمندر کی لہروں میں تھپیڑے کھا رہا تھا۔ جب کہ اس کے دست رحمت نے میرا ہاتھ پکڑ کر کنارے پر لا کھڑا کیا۔
پھر میں اس پاک وجود رحمۃ للعالمین کی ذات والصفات پر لاکھوں درود اور سلام بھیجتا ہوں جو کہ تمام دنیا مافیہا بلکہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بن کر آئے اور جن کی ذات بابرکات کے طفیل تمام جہان آباد کئے گئے۔ نہ صرف یہ کہ تمام انبیاء کرام کے سردار ہیں بلکہ خداوند تعالیٰ کے سب سے زیادہ مقبول اور محبوب ہیں۔ جن کا دیا ہوا ضابطہ حیات قیامت تک کے لئے کافی ہے۔ بلکہ اس کے بعد بھی جن و انس کی نجات کا موجب ہوگا اور ان کے نام کا ہلالی جھنڈا قیامت تک لہراتا رہے گا۔ جن کے بعد کسی نئے نبی، رسول اور پیغمبر کے پیدا ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ جن کی پاک زندگی کا ایک ایک لمحہ ہر ایک ذی شعور انسان کے لئے درس ہدایت ہے۔
الحمدللہ کہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کو خیر باد کہہ کر شفیع المذنبین، راحت العاشقین، رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے پاک دامن کو پھر سے تھام لیا ہے۔
اے میرے پیارے رحیم و کریم خدا۔ تو مجھ پر رحمت اور احسان کی بارش فرما جو میں نے تائید مرزائیت میں پاکستان، ہندوستان اور سمندر کے پار ملایا اور سنگاپور میں جوش وخروش کے ساتھ جاری کر رکھی تھیں اور بیسیوں خاندانوں کو گمراہ کر کے آغوش مرزائیت میں پہنچا دیا تھا۔
اب میں تیرے دربار میں کھڑا ہو کر سچے دل سے توبہ کر چکا ہوں اور متواتر، پانچ سال سے تیرے سچے دین اسلام اور مذہب اہل سنت کی تبلیغ کر رہا ہوں۔ تو میرے گذشتہ گناہوں کو معاف فرما اور میری موجودہ حقیر کوششوں کو مقبول اور منظور فرما۔ جو تیرے دین کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے کر رہا ہوں۔
آمین یا رب العالمین!
٢
عرض حال
حضرات! میں حقیر بندہ قصبہ جتوئی ضلع مظفر گڑھ کا رہنے والا ہوں اور بلوچ قوم سے تعلق رکھتا ہوں۔ جس قوم کے نام سے یہ قصبہ آباد ہے۔ میری سرگزشت یہ ہے کہ میں ابھی مقامی اسکول کی آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا کہ چوہدری عبداللہ خان صاحب برادر حقیقی چوہدری سرظفر اللہ خاں صاحب کی تبلیغ سے ہمارا انگریزی ماسٹر مرزائی ہو کر قادیان جلسہ سالانہ پر چوہدری صاحب موصوف کے ساتھ چلا گیا۔ ان دنوں چوہدری عبداللہ خاں صاحب ہمارے ضلع مظفر گڑھ میں پنچایت افسر کے عہدہ پر تعینات تھے۔ جب جلسہ سے واپس ماسٹر صاحب پہنچے تو انہوں نے گرمجوشی سے ہمیں تبلیغ شروع کر دی۔ استاد کا اثر شاگردوں پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ جب میں نے مڈل کا فائنل امتحان دیا تو خیال یہ تھا کہ کسی دینی درسگاہ میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کروں اور پھر دینی خدمات بجالاؤں۔ ماسٹر صاحب موصوف نے میرے ارادہ کو معلوم کرنے کے بعد قادیان جانے کی ترغیب دی اور کہا کہ آپ کی مرضی ہے کہ تعلیم جہاں بھی حاصل کریں۔ مگر قادیان جا کر دیکھیں ضرور۔ اگر دل مان لے تو احمدی ہو جانا ورنہ واپس آ کر جہاں چاہو تعلیم حاصل کر سکتے ہو۔ چنانچہ ان کے زور دینے پر میں قادیان جانے کے لئے تیار ہو گیا۔
انہوں نے چوہدری عبداللہ خاں صاحب کے نام ایک چٹھی لکھ دی جب میں نے مظفر گڑھ میں چوہدری صاحب کو چٹھی دی تو وہ میرے قادیان جانے پر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے مجھے دو چٹھیاں قادیان میں ایک جناب خلیفہ صاحب مرزا محمود کے نام اور دوسری اپنے خسر چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے کے نام لکھ دیں۔ جو ان دنوں صدر انجمن احمدیہ کے ناظر اعلیٰ تھے۔ جب میں قادیان پہنچا تو چوہدری صاحب کو ان کی چٹھی دے دی اور خلیفہ صاحب والی چٹھی بھی ان کو ہی دے دی۔ کیونکہ وہ باہر گئے ہوئے تھے۔ چوہدری صاحب موصوف نے اپنی کوٹھی پر مجھے جگہ دی اور بڑی خاطر مدارت سے پیش آئے۔ جب میں نے قادیان میں چند دن گزارے اور خلیفہ صاحب بھی واپس آ گئے۔ مجھے ان کی ملاقات بھی خاص اہتمام کے ساتھ کرائی گئی اور رات دن میرے ساتھ تبلیغی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ چونکہ میں اس سے پہلے دینی معلومات سے بالکل کورا تھا۔ اس لئے ان کی تبلیغ نے مجھے مرزائیت میں داخل ہونے پر آمادہ کر لیا اور تھوڑے ہی دنوں میں میں نے خلیفہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور مدرسہ احمدیہ میں دینی تعلیم کے حصول کے لئے داخل ہو گیا۔
٣
نتیجہ یہ ہوا کہ میرے والد صاحب اور تمام خاندان نے مجھ سے تعلقات منقطع کر لئے اور زمین اور دوسری تمام جائیداد سے محروم کر دیا اور اپنی غیرت ایمانی کا پورا پورا مظاہرہ کیا۔ مگر میں نے ان کی ایک نہ مانی۔ تعلیم کو جاری رکھا۔ دینی تعلیم کے حصول کے بعد مجھے ملایا سنگاپور میں مبلغ بنا کر بھیج دیا گیا۔ ساڑھے تین سال تبلیغ کرنے کے بعد قادیان واپس آگیا اور ایک معزز گھرانے میں میری شادی بھی ہوگئی۔ اس کے بعد بھی تبلیغ پر ہی اکثر مامور رہا اور ہندوستان کے مشہور مقامات پر میں نے تبلیغ کی۔ دہلی، آگرہ، لکھنو، کلکتہ، مونگیر، شاہ جہاں پور، پٹنہ اور پھر پنجاب اور سندھ میں بھی جوش وخروش سے ان کی تبلیغ کرتا رہا۔ غرضیکہ پاکستان بن جانے کے بعد بھی ان کی تبلیغ میں ہی مشغول رہا۔ چنانچہ جب تحریک تحفظ ختم نبوت زوروں پر تھی ان دنوں میں ضلع سرگودھا میں مبلغ مقرر تھا اور تحریک کی پوری پوری مخالفت کی۔ چنانچہ مولانا لال حسین اختر کے ساتھ بھی چک نمبر ٨٨ شمالی ضلع سرگودھا اور قصبہ لالیاں ضلع جھنگ میں شرائط مناظرہ پر دو بدو بحث مباحثہ کیا۔ غرضیکہ تحریک کے دنوں میں بھی میں نے مرزائیت کی تائید میں ہرممکن کوشش کر کے تحریک کا پورا پورا مقابلہ کیا، مگر وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ جب تحریک ختم ہوگئی اور تحقیقاتی عدالت میں بیان شروع ہوگئے۔ ہر ایک پارٹی نے اپنے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ چنانچہ جناب مرزا محمود قادیانی کو بھی عدالت میں طلب کیا گیا اور ان کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے۔ انہوں نے جو اپنا بیان عدالت میں دیا وہ ایک ایسا بیان ہے۔ جس نے مرزائیت کی بنیاد ہی اکھیڑ کر رکھ دی ہے۔ جس کے پڑھنے سے میرے دل ودماغ پر ایک خاص اثر ہوا۔ جس نے مجھے مرزائیت کی بنیاد پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔
چنانچہ تحقیقاتی عدالت میں امام جماعت احمدیہ کا بیان جو کہ دارالتجلیہ اردو بازار لاہور کی طرف سے شائع ہوا ہے۔ جس کے شروع میں خلیفہ صاحب کا فوٹو بھی دیا گیا ہے۔ اس میں سے وہ حصص درج کرتا ہوں جس نے مجھ پر خاص اثر کیا۔
”سوال عدالت ...... اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی پر واجبی غور کرنے کے بعد امانت داری سے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ آپ کا دعویٰ غلط تھا تو کیا پھر بھی وہ مسلمان رہے گا؟
جواب ...... خلیفہ صاحب۔ جی ہاں عام اصطلاح میں پھر بھی وہ مسلمان سمجھا جائے گا۔
سوال عدالت ..... آپ نے اپنی شہادت میں کہا ہے کہ جو شخص نیک نیتی کے ساتھ مرزاغلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا وہ پھر بھی مسلمان رہتا ہے۔ کیا شروع سے آپ کا یہی نظریہ ہے؟
٤
جواب...... خلیفہ صاحب۔ ہاں۔ سوال عدالت...... کیا آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو ان مامورین میں شمار کرتے ہیں ۔ جن کا ماننا مسلمان کہلانے کے لئے ضروری ہے؟ جواب ...... خلیفہ صاحب۔ میں اس سوال کا جواب پہلے دے چکا ہوں۔ کوئی شخص جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں لاتا دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سوال عدالت ...... تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانا جزوایمان ہے؟ جواب...... خلیفہ صاحب ۔ جی نہیں ۔“
ان جوابات کے پڑھنے سے میرا دماغ چکرا گیا اور دل پر خاص اثر ہوا کہ مرزائیت کے تمام مبلغین اور میں خود بھی لوگوں کو یہی بات پیش کر کے مرزائیت میں داخل کرتے تھے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا ماننا جزوایمان ہے جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بے ایمان اور کافر ہو جاتا ہے۔ اسی دلیل سے ہزاروں خاندانوں کو مرزائیت کی آغوش میں داخل کر چکے ہیں۔ اس دلیل پر غیر مرزائیوں کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی اور اسی دلیل پر ان سے رشتے ناتے حرام ہیں ۔ اسی دلیل پر ان کا جنازہ ہم پر حرام ہو گیا ہے۔ مگر اب مرزا محمود قادیانی نے چوراہے پر جا کر بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اب میں مرزائیت کے بنیادی عقائد لکھتا ہوں جو کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کو نہ صرف یہ کہ کافر بناتے ہیں بلکہ یہودی اور عیسائی جیسا بناتے ہیں خواہ وہ ایک ولی اللہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
اول ...... مرزاغلام احمد قادیانی کا فتویٰ بصورت الہام
- ١...... ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور
تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول خدا کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے ۔“
(تذکرہ ص ٣٣٦ طبع سوم)
- ٢...... ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ
مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ ص ٦٠٧ طبع سوم)
مرزا محمود احمد قادیانی کے اپنے فتوے
- ١...... ”مرزا غلام احمد قادیانی صحیح معنوں میں شریعت کے مطابق نبی تھے۔ ہرگز
وہ مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی تھے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)
اب صاف ظاہر ہو گیا کہ ایک نبی کا منکر تمام نبیوں کا منکر ہوتا ہے۔ نبیوں کا منکر خدا کا منکر ہوتا ہے۔ پھر مسلمان کیسے رہ سکتا ہے۔ ناقل!
٥
- ......٢ ”کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے
حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
- ......٣ ”غیر احمدی تمام کافر ہیں۔“
(الفضل مورخہ ٢٦، ٢٩ جون ١٩٢٢ء)
بیان مرزا محمود احمد قادیانی بعدالت سب جج صاحب گورداسپور
- ......٤ ”اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر
ہوئے۔ اس لئے انکا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔“
(انوار خلافت ص ٩٣)
- ......٥ ”احمدی اور غیر احمدی میں فرق بیان کرتے ہوئے مرزا محمود قادیانی تحریر
فرماتے ہیں۔ ”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ان کا اسلام اور ہے ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے ہمارا اور، ان کا حج اور ہے اور ہمارا اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“
(الفضل قادیان مورخہ ٢١ اگست ١٩١٧ء)
- ......٦ ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز
نہ پڑھیں۔ کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا وند تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
ناظرین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات اور پھر مرزا محمود قادیانی کے بیانات ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اس کے بعد ہر ایک انسان مجبوراً اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ عدالت میں خلیفہ صاحب نے جو بیانات دیئے ہیں وہ سراسر غلط بیانی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے دل و دماغ پر ایک خاص اثر پڑا۔ جس کے بعد میں نے مرزائیت کے اندرون کو خالی الذہن ہو کر محبت اور دشمنی کے جذبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کے باپ دادا چچاؤں اور اس کے بڑے بھائی اور خود مرزا قادیانی کے حالات کا مطالعہ کیا۔ جس کا نتیجہ ناظرین کرام کے فائدہ کے لئے درج ذیل کرتا ہوں۔ تا کہ میرے جیسے بھولے بھٹکے شاید راہ راست پر آجائیں اور میرے لئے یہی ذریعہ نجات ہو جائے۔ یا اللہ ہر مسلمان کو گمراہ ہونے سے محفوظ فرما اور راہ راست پر چلا۔ وہ راستہ دکھا جو تیری رضا کا موجب ہو اور ہر اس راستہ سے بچا جو تیری ناراضگی کا موجب ہو۔ آمین یا رب العالمین! احقر العباد ڈاکٹر عبداللہ خان اختر جتوئی، بقلم خود!
٦
ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کیا ہی خوب فرمایا ہے ؎
کہتی ہے کہ مؤمن پارینہ ہے کافر
(ضرب کلیم ص ٢٠)
تحقیقات دقیق ...... مرزاغلام احمد قادیانی کا خاندان اور مسلمان
یہ حقیقت ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے والد مرزاغلام مرتضیٰ اور چچا مرزاغلام محی الدین وغیرہ نے پہلے سکھوں سے مل کر اور ان کی فوج میں داخل ہوکر مسلمانوں سے جنگیں کیں اور پھر انگریزوں کی فوج میں داخل ہوکر اس کے والد اور چچا اور بڑے بھائی نے مسلمانوں کو ہمیشہ تہہ تیغ کیا اور خود مرزاغلام احمد قادیانی نے زورِ قلم سے مسلمانوں کی گردنوں کو انگریزوں کے آگے جھکایا اور خود ہر طرح کا فائدہ اٹھایا۔ وہ خود بھی لکھتے ہیں کہ: ”سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٥،خزائن ج٥ ص ایضاً)
گویا کہ مرزا قادیانی کا خاندان تو علی الاعلان تلوار لے کر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتا رہا۔ مگر یہ قلم لے کر مسلمانوں سے ہمیشہ جنگ کرتے رہے۔ فرق صرف تلوار اور قلم کا ہے۔ ورنہ مقصد میں سرمو فرق نہیں ہے۔ ثبوت ذیل میں درج ہے۔
سکھوں اور انگریزوں کی فوج میں داخل ہوکر مسلمانوں کو تہہ تیغ کرتے رہے
- ١...... مرزا بشیرالدین محمود قادیانی فخریہ طور پر تاریخی واقعات کو اپنی کتاب سیرت
مسیح موعود میں یوں درج کرتے ہیں: ”آخر تمام جاگیر کو کھو کر عطاء محمد (مرزا غلام احمد کا دادا ناقل) بیگووال میں سردار فتح سنگھ آہلوالیہ کی پناہ میں چلا گیا اور بارہ سال تک امن وامان سے زندگی بسر کی۔ اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ کی تمام جاگیر پر قابض ہوگیا تھا۔ غلام مرتضیٰ کو واپس قادیان بلالیا اور اس کی جدی جاگیر کا ایک بہت بڑا حصہ اسے واپس دے دیا۔ اس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہوا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات انجام دیں۔“
(سیرۃ المسیح موعود ص ٤)
پھر لکھتے ہیں: ”نونہال سنگھ اور شیرسنگھ اور دربار لاہور کے دور دورے میں غلام مرتضیٰ ہمیشہ فوجی خدمات پر مامور رہا۔ ١٨٤١ء میں یہ جرنیل ونچوار کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا۔“
(سیرت مسیح موعود ص ٥)
٧
صاف ظاہر ہے کہ جہاں کہیں غیور مسلمان اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے سکھوں کے خلاف صف آراء ہوتے تھے۔ مرزائے قادیانی کے والد بزرگوار ان کا صفایا کرنے کے لئے سکھوں کی فوج لے کر پہنچ جاتے تھے اور ان کو تہہ تیغ کئے بغیر واپس نہ آتے تھے۔ پھر لکھتے ہیں کہ: ”اور ١٨٤٣ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیدان (کمانڈر ) بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ ہزارہ کے مفسدے میں اس نے کارہائے نمایاں کئے اور جب ١٨٤٨ء کی بغاوت ہوئی تو یہ اپنی سرکار کا نمک حلال رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔ (مرحبا، مرحبا! چہ خوب ) اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔ جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج لئے دیوان مولراج کی امداد کے لئے ملتان کی طرف جا رہا تھا تو غلام محی الدین نے مصر دیال کی فوج کے ساتھ باغیوں سے مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش دی۔ ان کو سوائے دریائے چناب کے کسی اور طرف بھاگنے کا راستہ نہ تھا۔ جہاں چھ سو سے زیادہ آدمی ڈوب کر مر گئے۔“
(سیرت مسیح موعود ص٥)
معلوم ہے وہ باغی کون تھے۔ وہ مسلمان مجاہد تھے۔ جنہوں نے ملتان کے ظالم حاکم مولراج کے خلاف علم جہاد بلند کیا تھا۔ یہ واقعات سکھوں کے عہد حکومت کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔
اب انگریزوں کی آمد کے بعد کے متعلق مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”الحاق کے موقع پر اس خاندان کی جائیداد ضبط کی گئی۔ مگر ٧٠٠ روپے کی ایک پنشن غلام مرتضیٰ اور اس کے بھائیوں کو عطاء کی گئی اور قادیان اور اس کے گردونواح کے مواضعات پر ان کے حقوق مالکانہ رہے۔ اس خاندان نے غدر ١٨٥٧ء کے دوران میں بہت اچھی خدمات کیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا جبکہ افسر موصوف تریموں گھاٹ پر ٤٦ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہہ تیغ کیا۔ جنرل نکلسن صاحب بہادر نے غلام قادر کو ایک سند دی۔ جس میں یہ لکھا ہے کہ ١٨٥٧ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔“
(سیرت مسیح موعود ص٦)
”نظام الدین کا بھائی امام الدین (مرزائے قادیان کا چچا زاد بھائی ) جو ١٩٠٤ء میں فوت ہوا۔ دہلی کے محاصرہ کے وقت ہاڈسن ہارس (رسالہ ) میں رسالدار تھا اور اس کا باپ غلام محی الدین تحصیلدار تھا۔“
(سیرت مسیح موعود ص٦)
٨
مرزا غلام احمد قاد مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہو ہمیشہ بلائے جاتے تھے۔ بہ گھوڑے معہ پچاس سواروں ب امداد کا عند الضرورت وعدہ بھ چٹھیات خوشنودی مزاج ان ک اوقات ان کی دلجوئی کے لئے کرتے تھے۔“
پیدائش مرزا غلام احمد قاد
بیان مرزا محمود احمد قا کے والد کے عروج کا زمانہ تھا کی فوجی خدمات کی وجہ سے اچھ بیان مرزا غلام احم ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں
تعلیم مرزا غلام احمد قادیا
مرزا غلام احمد قادیا جب میں سات سال کا تھا تو ای شریف اور چند فارسی کتابیں مجھ دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خو فضل احمد تھا اور میں نے صرف میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ای گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاح خدا نے چاہا حاصل کیا اور بعض م
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے باپ کے متعلق لکھتے ہیں: ”میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے۔ گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے۔ ١٨٥٧ء میں انہوں نے سرکار انگریزی کی خدمت گزاری میں پچاس گھوڑے معہ پچاس سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی امداد کا عندالضرورت وعدہ بھی دیا اور سرکار انگریزی کے حکام سے بجلدوے خدمات عمدہ عمدہ چٹھیاں خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔ غرض وہ حکام وقت کی نظر میں بہت ہردلعزیز تھے اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر اور کمشنران کے مکان پر آ کر ان کی ملاقات کرتے تھے۔“
(کتاب البریہ ص ١٥٨، ١٥٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٧٦، ١٧٧)
پیدائش مرزا غلام احمد قادیانی
بیان مرزا محمود احمد قادیانی: ”آپ ١٨٣٦ء یا ١٨٣٧ء میں پیدا ہوئے تھے جو کہ آپ کے والد کے عروج کا زمانہ تھا۔ کیونکہ اس وقت ان کو جاگیر کے بعض مواضع اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی خدمات کی وجہ سے اچھی عظمت حاصل تھی۔“
(سیرت مسیح موعود ص ٧)
بیان مرزا غلام احمد قادیانی: ”اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔“
(کتاب البریہ ص ١٥٩ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧)
تعلیم مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنا بیان: ”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں۔“
(کتاب البریہ ص ١٦١، ١٦٢ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٨٠، ١٨١)
٩
چنانچہ مرزا محمود احمد قادیانی اس تعلیم کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”یہ تعلیم ان دنوں کے لحاظ سے جن میں آپ تعلیم پا رہے تھے بہت بڑی تعلیم تھی۔“
(سیرت مسیح موعود ص ١٢)
اب ظاہر ہے کہ قریباً ٢٥ سال کی عمر تک مرزا قادیانی دینی اور دنیوی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ حالانکہ سکھوں کے زمانہ میں مسلمانوں کی تعلیم کے تمام ذرائع ختم کر دیئے گئے تھے اور جو پڑھا لکھا مسلمان سکھوں کو مل جاتا تھا تو اس کو اس خیال سے قتل کر دیتے تھے کہ یہ جہاد کا مسئلہ بیان کر کے مسلمانوں کو ہمارے خلاف نہ کھڑا کر دے۔ مگر چونکہ مرزا غلام مرتضیٰ رنجیت سنگھ کی فوج میں کمانڈر تھا۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیم کے لئے یکے بعد دیگرے تین استاد ملازم رکھ کر ٢٥ سال تک تعلیم دلوائی گئی۔ تا کہ وہ اپنے قلم کے زور سے مسلمانوں کو ہمیشہ شکست پر شکست دے کر حکومت وقت کا مطیع اور فرمانبردار بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہے۔
جوانی کی ترنگ
مندرجہ ذیل واقعہ سے ناظرین کرام خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نبوت کا مقام حاصل کرنے کا دعویدار ہونے والے نے کس طرح اپنے والد کی پنشن کا ٧٠٠ روپے اڑا کر ناجائز طریقوں سے چند ہی دنوں میں ختم کر دیا اور پھر اپنی بدنامی کو چھپانے کے لئے بجائے گھر آنے کے سیالکوٹ میں جا کر نہایت ادنیٰ ملازمت اختیار کر لی۔ واقعہ پڑھئے اور سر دھنیئے۔ یہ واقعہ مرزا بشیر احمد قادیانی ایم۔اے نے جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا منجھلا لڑکا ہے اور مرزا محمود قادیانی کا حقیقی بھائی اور جماعت قادیان کا بہت بڑا عالم اور مصنف ہے نے اپنی کتاب میں اپنی والدہ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کی روایت یوں درج کی ہے۔
”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا آیا۔ مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔ اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ٤٣، ٤٤، روایت ٣٩)
ناظرین! خود اندازہ کریں کہ ان دنوں کے ٧٠٠ روپے کی حیثیت موجودہ وقت کے سات ہزار روپے سے بھی زیادہ تھی اور خرچ کرنے والے صرف دو ہی آدمی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا امام الدین ہی تھے اور چند ہی دنوں میں وہ روپے ختم کر دیئے تو آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ کہاں کہاں خرچ کئے ہوں گے۔ جب کہ جوانی کا زمانہ دھت رہنے کا تھا۔
١٠
کچہری والوں پر مرزا قادیانی کی لیاقت کا انکشاف
”مرزا قادیانی کی لیاقت سے کچہری والے آگاہ نہ تھے۔ مگر چونکہ اسی سال کے اوائل گرما میں ایک عرب نوجوان محمد صالح نام شہر میں وارد ہوئے۔ ان پر جاسوسی کا شبہ ہوا۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے جن کا نام پرکسن تھا محمد صالح کو اپنے محکمہ میں بغرض تفتیش حالات طلب کیا۔ ترجمان کی ضرورت تھی۔ مرزا قادیانی چونکہ عربی میں کامل استعداد رکھتے تھے اور عربی زبان میں تحریری وتقریری بخوبی کر سکتے تھے۔ اس لئے ان کو بلا کر حکم دیا کہ جو بات ہم کہیں عرب صاحب سے پوچھو اور جو جواب وہ دیں اردو میں ہمیں لکھواتے جاؤ۔ مرزا قادیانی نے اس کام کو کماحقہ ادا کیا اور آپ کی لیاقت لوگوں پر منکشف ہوئی۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص١٥٤، ١٥٥، روایت ١٥٠)
جب مرزا قادیانی کی لیاقت کا انگریزی حکام کو علم ہو گیا اور پھر اس کے خاندان کی مسلمانوں سے ہمیشہ غداری اور انگریزوں کے ساتھ سچی وفاداری کا جائزہ بھی لے لیا تو پھر ایک عیسائی مشنری مسٹر ریورنڈ بٹلر ایم۔اے کو مرزا قادیانی کی علمی خدمات برائے گورنمنٹ انگریزی حاصل کرنے پر مامور کیا۔ چنانچہ وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہو گیا اور مرزا قادیانی کو مسلمانوں کے خلاف بزور قلم مقابلہ کرنے پر آمادہ کر لیا تا کہ مسلمانوں میں سے جہاد کا معرکۃ الآرا مسئلہ جس کا ثبوت قرآن کریم، احادیث صحیحہ اور رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے قول اور فعل سے ثابت ہے کو ختم کر دیا جائے اور انگریزوں کی حکومت کو مسلمانوں پر مستحکم کر دیا جائے۔
ایک پادری اور مرزا قادیانی کی ساز باز
چنانچہ مرزا محمود قادیانی اپنی کتاب سیرۃ مسیح موعود میں لکھتے ہیں: ”ریورنڈ بٹلر ایم۔اے سیالکوٹ کے مشن میں کام کرتے تھے اور جن سے حضرت صاحب کے بہت سے مباحثات ہوتے رہتے تھے۔ جب ولایت جانے لگے تو خود کچہری میں آپ کے پاس ملنے چلے آئے اور جب ڈپٹی کمشنر نے پوچھا کہ کس طرح تشریف لائے ہیں تو ریورنڈ مذکور نے کہا کہ صرف مرزا قادیانی کی ملاقات کے لئے اور جہاں آپ بیٹھے تھے وہیں سیدھے چلے گئے اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس چلے گئے۔..... ریورنڈ بٹلر آپ کی نیک نیتی، اخلاص اور تقویٰ کو دیکھ کر متاثر تھے اور باوجود اس بات کو محسوس کرنے کے کہ یہ شخص میرا شکار نہیں۔ ہاں ممکن ہے کہ میں اس کا شکار ہو جاؤں اور باوجود اس طبعی نفرت کے جو صید کو صیاد سے ہوتی ہے وہ دوسرے مذہبی مناظرین کی نسبت مرزا قادیانی سے مختلف سلوک کرنے پر مجبور ہوئے اور جاتے وقت کچہری ہی میں آپ سے ملنے کے لئے آئے اور آپ سے ملے بغیر جانا پسند نہ کیا۔“
(سیرت مسیح موعود ص١٤، ١٥)
١١
امید ہے کہ ناظرین کرام اس نکتہ کو سمجھ گئے ہوں گے کہ کس بات پر مسٹر بٹلر مرزا قادیانی کے ساتھ یہ سلوک کرنے پر مجبور ہوئے۔ صاف بات ہے کہ بٹلر مذکور نے مرزا قادیانی کو مسلمانوں سے غداری اور انگریزوں سے سچی وفاداری پر خفیہ ملازمت کے لئے تیار کر لیا تھا اور ولایت جاتے ہوئے تکمیل معاہدہ کئے بغیر نہ جاسکتا تھا۔ بہرحال تکمیل معاہدہ کے بعد بٹلر تو ولایت چلا گیا اور مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ کی ملازمت چھوڑ کر قادیان آ گئے اور معاہدہ کے مطابق اپنی خفیہ ملازمت کا چارج لے لیا۔ جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
چنانچہ مرزا محمود قادیانی مندرجہ بالا عبارت کے نیچے لکھتے ہیں کہ: ”قریباً چار سال آپ سیالکوٹ میں ملازم رہے۔ فوراً استعفیٰ دے کر واپس آ گئے۔“
(سیرۃ مسیح موعود ص ١٥)
خفیہ ملازمت
آپ حیران ہوں گے کہ خفیہ ملازمت کا تو کہیں ذکر نہیں ہے۔ آپ یونہی الزام لگا رہے ہیں۔ لیجئے وہ تمام واقعات نیچے درج کرتا ہوں جن سے نہ صرف یہ خفیہ ملازمت کا ثبوت ہے۔ بلکہ تنخواہ اور ڈیوٹی کا بھی پورا پورا ثبوت موجود ہے۔
اقرار ملازمت
مرزا بشیر احمد قادیانی ایم۔اے لکھتے ہیں: ”بیان کیا مجھ سے جھنڈا سنگھ ساکن کاٹھواں نے کہ میں بڑے مرزا صاحب کے پاس آیا جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے بڑے مرزا صاحب نے کہا جاؤ۔ غلام احمد کو بلا لاؤ۔ ایک انگریز حاکم میرا واقف ضلع میں آیا ہے۔ اس کا منشاء ہو تو کسی اچھے عہدہ پر ملازم کرا دوں۔ جھنڈا سنگھ کہتا تھا کہ میں مرزا قادیانی کے پاس گیا تو دیکھا چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا کر اس کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کر رہے ہیں۔ میں نے بڑے مرزا صاحب کا پیغام پہنچا دیا۔ مرزا قادیانی آئے اور جواب دیا۔ میں تو نوکر ہو گیا ہوں۔ بڑے مرزا صاحب کہنے لگے۔ اچھا کیا واقعی نوکر ہو گئے ہو؟ مرزا قادیانی نے کہا ہاں ہو گیا ہوں۔ بڑے مرزا صاحب نے کہا۔ اچھا اگر نوکر ہو گئے ہو تو خیر ہے۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ٤٨، روایت ٥٢)
ناظرین کرام پر واضح ہو گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے باپ کے سامنے اپنی ملازمت کا صاف لفظوں میں اقرار کر لیا ہے۔ مگر نہ ہی بڑے مرزا صاحب نے پوچھا کہ کیا ملازمت ہے اور نہ ہی چھوٹے مرزا قادیانی نے بتایا کہ کون سی ملازمت ہے۔ کیونکہ جھنڈا سنگھ کے سامنے بیان کرنے سے افشاء راز کا خطرہ لاحق تھا۔ مندرجہ بالا روایت سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
١٢
- ......١ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزی حکومت کے ملازم ہو چکے تھے۔ کیونکہ اس کے والد نے
بھی ایسی ہی ملازمت کے لئے طلب کیا تھا۔
- ......٢ بہت بڑے عہدہ پر ملازم ہو چکے تھے۔ کیونکہ اس کے والد کا یہ کہنا کہ کسی بڑے عہدہ پر نوکر
کرا دوں۔ گویا جو عہدہ ان کا باپ دلانا چاہتا تھا اس سے بھی بڑے عہدہ پر مقرر ہو چکے تھے۔
- ......٣ ملازمت اس قدر خفیہ تھی کہ اس سے قبل اپنے باپ سے بھی اس کا ذکر تک نہیں کیا۔
- ......٤ ملازمت کا تعلق کتابوں کے مطالعہ اور اس کے بعد تصنیف کتب سے تھا۔
- ......٥ اس کے والد کو پوری تسلی ہو گئی کہ جو ملازمت یہ حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے بعد کسی
اور ملازمت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
یہ پانچ شواہد ایسے ہیں کہ ان پر مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اب دوسری بات یہ رہ جاتی ہے کہ ہر ملازمت کی تنخواہ ہوتی ہے تو مرزا قادیانی کو تنخواہ کتنی ملتی تھی؟ اور کیسے ملتی تھی؟ اب اس کے متعلق میں نے تحقیقات شروع کی تو مجھے اس کا بھی ثبوت مل گیا۔ جو کہ ذیل کی روایت میں موجود ہے جو کہ خواب اور الہام کی لپیٹ دے کر بیان ہوئی ہے تاکہ عوام اندرونی بھید سے واقف نہ ہو سکیں۔
تنخواہ کی برآمدگی
چنانچہ سیرۃ المہدی میں درج ہے۔ ”مرزا دین محمد صاحب ساکن لنگروال ضلع گورداسپور نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ مسیح موعود نے مجھے صبح کے وقت جگایا اور فرمایا کہ مجھے خواب آیا ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب آیا ہے۔ فرمایا میں نے دیکھا کہ میرے تخت پوش کے چاروں طرف نمک چنا ہوا ہے۔ میں نے تعبیر پوچھی تو کتاب دیکھ کر فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ اس کے بعد میں چار دن یہاں رہا۔ میرے سامنے ایک منی آرڈر آیا۔ جس میں ہزار سے زائد روپیہ تھا ہم نے دیکھا تو منی آرڈر بھیجنے والے کا پتہ اس پر درج نہیں تھا۔ حضرت صاحب کو بھی پتہ نہیں لگا کہ کس نے بھیجا ہے۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ١٠١، روایت ١٣٦)
اب میں پوچھتا ہوں کہ یہ روپیہ کہاں سے آیا تھا؟ ممکن ہے کوئی سر پھرا مرزائی یہ کہہ دے کہ مرزا قادیانی کے اللہ میاں نے اپنے نبی کو یہ روپیہ بھیجا تھا تو میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا اللہ میاں اگر ان کو روپیہ بھیجتا تو ٹیچی فرشتہ کے ذریعہ بھیجتا جو کہ اس کام پر مقرر تھا اور عین صبح کے وقت پر پہنچتا تھا اور روپیہ بھی پہنچایا کرتا تھا۔ نہ یہ کہ انگریزوں کے ڈاکخانہ کے ذریعہ بھیجتا۔ جن کو مرزا قادیانی نے خود دجال لکھا ہے۔
١٣
بات صاف ہے کہ یہ ایک ہزار سے زائد روپیہ اس ملازمت کی تنخواہ تھی۔ جس ملازمت کا اقرار مرزا قادیانی نے گذشتہ روایت میں اپنے باپ کے سامنے کیا تھا۔ خاص کر یہ بات قابل غور ہے کہ مرزا قادیانی نے کتاب دیکھ کر فرمایا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ کتاب دیکھنے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مقررہ تاریخوں پر ان کو تنخواہ ملا کرتی تھی۔ تبھی تو ڈائری میں مقررہ تاریخوں کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ کہیں سے بہت سا روپیہ آئے گا۔ جیسا کہ آج کل بھی ہر محکمہ میں تنخواہ کے لئے علیحدہ علیحدہ تاریخیں مقرر ہوتی ہیں اور انہی تاریخوں پر ملا کرتی ہیں۔
اب آخری سوال باقی رہ جاتا ہے کہ مرزا قادیانی جب ملازم بھی ہوگئے اور ایک ہزار سے زائد تنخواہ بھی ملا کرتی تھی۔ مگر ان کی ڈیوٹی کیا تھی؟ اور وہ کس کام پر مقرر تھے؟ اس کا جواب مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات پیش کریں گی کہ ان کو انگریزوں نے مسلمانوں میں سے مسئلہ جہاد کو ختم کر کے انگریزوں کو سچا وفادار اور مطیع بنانا تھا۔ جس کا ثبوت ذیل میں درج کرتا ہوں۔
سلسلۂ تصنیف اور مسئلہ جہاد
آپ یہ بات تو پڑھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی سیالکوٹ سے واپس آنے کے بعد ہمیشہ کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رہتے تھے۔ اس مطالعہ کا سب سے پہلا نتیجہ مرزا قادیانی کی پہلی کتاب براہین احمدیہ ہے اور براہین احمدیہ کا پہلا حصہ تو اشتہار پر ختم ہو گیا ہے۔ دوسرا حصہ محض چیلنج پر ختم کر دیا گیا ہے اور تیسرے حصہ میں اصل عبارت لکھی ہے۔ جس کے اوّل میں مرزا قادیانی یوں رقمطراز ہیں۔
”سو اس عاجز کی دانست میں قرین مصلحت یہ ہے کہ انجمن اسلامیہ لاہور کلکتہ اور بمبئی وغیرہ یہ بندوبست کریں کہ چند نامی مولوی صاحبان جن کی فضیلت اور علم اور زہد اور تقویٰ اکثر لوگوں کی نظر میں مسلم الثبوت ہو۔ اس امر کے لئے چن لئے جائیں کہ اطراف واکناف کے اہل علم کہ اپنے مسکن کے گردونواح میں کسی قدر شہرت رکھتے ہوں۔ اپنی اپنی عالمانہ تحریریں جن میں برطبق شریعت حقہ سلطنت انگلشیہ سے جو مسلمانان ہند کی مربی ومحسن ہے سے جہاد کرنے کی صاف ممانعت ہو۔ ان علماء کی خدمت میں بہ ثبوت مواہیر بھیج دیں کہ جو بموجب قرارداد بالا اس خدمت کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جب ...... خطوط جمع ہو جائیں تو یہ مجموعہ خطوط کہ جو مکتوبات علماء ہند کے نام سے موسوم ہو سکتا ہے کسی خوشخط مطبع میں بصحت تمام چھاپا جائے اور پھر دس بیس نسخہ جات متفرق مواضع پنجاب اور ہندوستان خاص کر سرحدی ملکوں میں تقسیم کئے جائیں ...... بالآخر یہ بات
١٤
بھی ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ ...... سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی نعمت سمجھیں اور اس کا شکر بھی ادا کریں۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکرگزار ہوں گے۔ اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں خدا کی ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں بس یہ سلطنت فی الحقیقت ان کے لئے ایک آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے...... حقیقت میں خداوند کریم و رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے باران رحمت کر کے بھیجا ہے...... کیا ایسی سلطنت کی بدخواہی جائز ہوسکتی ہے۔ حاشا و کلا ہرگز نہیں...... ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ دنیا میں آج یہی ایک سلطنت ہے جس کے سایہ عاطفت میں بعض بعض مقاصد ایسے حاصل ہوتے ہیں کہ جو دوسرے ممالک میں ہرگز ممکن الحصول نہیں...... مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس خداداد نعمت کی قدر کریں۔‘‘
الملتمس غلام احمد عفی عنہ
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ب، خزائن ج ١ ص ١٣٩ تا ١٤٢)
یہی وہ ملازمت اور ڈیوٹی تھی جو مرزا قادیانی کے ذمہ گورنمنٹ کی طرف سے عائد کی گئی تھی۔ جس کا اظہار پہلی دفعہ مرزا قادیانی نے مندرجہ بالا عبارت میں کیا ہے اور آئندہ بھی مرتے دم تک یہی فرض ادا کرتے رہے ہیں۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
اور یہی وہ ملازمت ہے جس کی تنخواہ مرزا قادیانی کو ایک ہزار روپیہ سے زیادہ پاتے تھے۔ کیونکہ ان کے والد بزرگوار تو صرف ٧٠٠ روپے پنشن پاتے تھے۔ مگر یہ ایک ہزار سے بھی زیادہ پاتے تھے۔ کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے۔
چھوٹے میاں سبحان اللہ
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں نے بھی مرزا قادیانی کی اس آواز پر لبیک کہا یا سخت نفرت اور بیزاری کا اظہار کر کے اپنی برأت کا اظہار کیا۔
مسلمانوں کی طرف سے مخالفت
مرزا قادیانی خود اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ چہارم کے شروع میں تحریر فرماتے ہیں: ’’تھوڑا عرصہ گزرا کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اس مضمون کی بابت کہ جو حصہ سوم کے
١٥
ساتھ گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے اعتراض کیا ہے اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت لفظ بھی لکھے کہ انگریزی علمداری کو دوسری علمداریوں پر کیوں ترجیح دی۔ لیکن ظاہر ہے ..... کہ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کر اس کا احسان اٹھائے اس کے ظل حمایت میں باامن و آسائش رہ کر اپنا رزق مقسوم کھاوے۔ اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے۔ پھر اس پر عقرب (بچھو، ناقل) کی طرح نیش (ڈنک) چلاوے۔“
(ملخص براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ب، خزائن ج ١ ص ٣١٦)
مندرجہ بالا اقتباسات سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی رزق مقسوم بھی انگریزوں کا کھاتے تھے اور انہی کے انعامات متواترہ سے پرورش بھی پاتے تھے۔ اس لئے اگر وہ ان کو آسمانی رحمت سمجھتے تھے تو ان کو یہ مدح اور توصیف بھی زیب دیتی تھی۔ کیونکہ وہ باقاعدہ تنخواہ دار ملازم ہی تو تھے۔ مگر کیا دوسرے مسلمان بھی ان کو آسمانی رحمت سمجھتے تھے؟ اور کیا دوسرے تمام مسلمانوں کے ساتھ بھی انگریزوں کا ویسا ہی سلوک تھا جو مرزا قادیانی کے ساتھ تھا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کے برخلاف انگریز مسلمانوں کی تمام سلطنت پر قبضہ کرچکے تھے۔ بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں قید کر دیا تھا اور ہر اس شخص کو جو مسلمانوں کی سلطنت کا حامی تھا قتل کردیا۔ ان کی عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنا دیا تھا اور شاہی خاندان کے جو افراد (مرد، عورتیں اور بچے) باقی بچ رہے تھے در در کی بھیک مانگ رہے تھے۔ غرضیکہ مسلمانوں کے بچے بچے کو اپنا دشمن سمجھ کر کچل ڈالا تھا۔ تاکہ مسلمانوں کو دوبارہ نہ اکسایا جائے۔ ان حالات کے پیش نظر مسلمانوں کے جذبات کب ٹھنڈے ہو سکتے تھے۔
جس قوم نے ایک ہزار سال متواتر ہندوستان پر عدل اور انصاف کے ساتھ حکومت کی ہو اس کے بعد یک دم انگریزوں نے نہ صرف ان کی سلطنت چھین لی۔ اقتصادی لحاظ سے بھی ان کے معاشرہ کو تہس نہس کردیا تھا اور ان کے مقابلہ میں اس قوم کو ان پر مسلط کردیا تھا۔ جس قوم پر وہ بڑی شان وشوکت سے ایک ہزار سال حکومت کر چکے تھے۔ ان حالات کے ہوتے ہوئے مسلمان کس طرح انگریزوں جیسی مکار اور دجال صفت قوم کی شاہی میں رہ کر خوش ہو سکتے تھے۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا تحریر نے ان کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا۔ لیکن چونکہ انگریزوں نے مرزا قادیانی کی جانی اور مالی حفاظت کی ذمہ داری اپنے ہی ذمہ لے رکھی تھی۔ اس لئے مسلمان بیچارے صبر ہی کرتے رہے۔ لیکن ان مشکلات کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے دلوں میں رہ رہ کر ایک ہوک اور ولولہ ضرور اٹھتا تھا اور انگریزوں کے خلاف بسا اوقات علم جہاد بلند کرتے ہی
١٦
رہتے تھے۔ چنانچہ ١٨٥٧ء میں بھی اسی جذبہ کے ماتحت علم جہاد بلند کیا گیا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں ان مجاہدین اسلام کو جہلاء اور بدچلن کے خطاب سے نوازا ہے۔ سچ ہے۔ ”المرء يقيس على نفسه“ کیونکہ مرزا قادیانی خود اور ان کا تمام خاندان تو مسلمانوں کے خون کا سودا انگریزوں کے ساتھ کر چکے تھے اور اس کے عوض پنشن تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کرتے رہے تھے۔ اس لئے باوجود کہ تمام علمائے کرام اور دوسرے تمام مسلمانوں نے مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریر سے سخت بیزاری کا اظہار کر دیا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی ڈیوٹی اور ذمہ داری کو پوری پوری تابعداری سے مرتے دم تک ادا کیا ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل تحریرات ان کے اندرونہ کو اظہر من الشمس کرتی ہیں۔
- ١....... ”اب اے بھائیو! ایک دوسرا کام ہے جو میں شروع کرنا چاہتا ہوں۔
آپ لوگ یقین سمجھیں کہ سرکار انگریزی اس درخت کی طرح ہے جو پھلوں سے لدا ہوا ہو اور ہر ایک شخص جو میوہ چینی کے قواعد کی رعایت سے (اپنی قوم سے غداری اور انگریزوں کی وفاداری اپنے اوپر فرض کر لے۔ ناقل) اس درخت کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی پھل ضرور اس کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ ہماری بہت سی مرادیں ہیں۔ جن کا مرجع اور مدار خدا تعالیٰ نے اسی گورنمنٹ کو بنا دیا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ رفتہ رفتہ وہ ساری مرادیں اس مہربان گورنمنٹ سے ہمیں حاصل ہوں ۔“
(تبلیغ رسالت ج٥ ص٤، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢١٩، ٢٢٠)
”اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد کرنا درست نہیں۔ بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج٦ ص٦٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٣٦٦)
”ہم رعایا کی یہ بھی تمنا ہے کہ جس طرح اسلامی ریاستوں میں ان سلاطین کا شکر کے ساتھ خطبہ میں ذکر ہوتا ہے....... ہم بھی اور بلاد کے مسلمانوں کی طرح یہ دائمی شکر جمعہ کے ممبروں پر اپنا وظیفہ کر لیں کہ سرکار انگریزی نے ہم پر بھی عنایت کی نظر کی۔“
(تبلیغ رسالت ج٥ ص١٠، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٢٢٦)
”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ تین باتوں نے مجھے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ اوّل والد مرحوم کے اثر نے دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے سوم خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٤٢)
١٧
غارت گر قوم ہے یہ صورت چنگیز
(علامہ اقبال ضرب کلیم ص ٥١)
قرآن شریف ہرگز جہاد کی تعلیم نہیں دیتا
”دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٣٢)
”غرض اب جب مسیح موعود آ گیا تو ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جہاد سے باز آوے۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٢٧)
”اگر فرض بھی کر لیں کہ اسلام میں ایسا جہاد تھا۔ تاہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا۔“
(کتاب مذکورہ ص ٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٢٥)
”یہ حکم مختص الزمان والوقت تھا۔ ہمیشہ کے لئے نہیں تھا۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٢٣)
”اس گورنمنٹ کے آتے ہی گویا نئے سرے پنجاب کے مسلمان مشرف باسلام ہوئے۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٣١)
”ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ قرآن شریف ہرگز جہاد کی تعلیم نہیں دیتا۔ اصلیت صرف اس قدر ہے کہ ابتدائی زمانہ میں بعض مخالفوں نے اسلام کو تلوار سے روکنا بلکہ نابود کرنا چاہا تھا۔ سو اسلام نے اپنی حفاظت کے لئے ان پر تلوار اٹھائی اور انہی کی نسبت حکم تھا کہ یا قتل کئے جائیں یا اسلام لائیں۔ سو یہ حکم مختص الزمان تھا۔ ہمیشہ کے لئے نہیں تھا اور اسلام ان بادشاہوں کی کارروائیوں کا ذمہ دار نہیں ہے جو نبوت کے زمانہ کے بعد سراسر غلطیوں یا خودغرضیوں کی وجہ سے ظہور میں آئیں۔ اب جو شخص نادان مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے بار بار جہاد کا مسئلہ یاد دلاتا ہے۔ گویا ان کی زہریلی عادت کو تحریک دیتا ہے۔“
(ضمیمہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص ١٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٥٠،٢٥١)
مندرجہ بالا عبارت پر کسی حاشیہ آرائی کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ جہاد اسلام اور مسلمانوں کی بقا کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو ہر اس زمانہ میں جبکہ مسلمانوں کو مٹانے کے لئے غیر قوم ان کے خلاف کارروائی کرے۔ فرمانِ خداوندی کے مطابق ہر ایک عاقل اور بالغ مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے۔ نیز تمام احادیث سے بھی یہ بات چمکتے
١٨
ہوئے سورج کی طرح ظاہر و باہر ہے کہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام دجال اور اس کی قوم سے جہاد کر کے اس کو قتل کریں گے۔ مگر چودھویں صدی کے نبی صاحب کا ارشاد گرامی آپ نے پڑھ ہی لیا ہے۔ چنانچہ علامہ اقبال فرماتے ہیں۔
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
(ضرب کلیم ص ٥٣)
مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں: ”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا انتظار ہے۔...... اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٨٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٧)
مرزائیت انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے
”سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کا پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار اور جانثار ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون اور جان دینے سے فرق نہ کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایت اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩، ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١، ٢٢)
مرزا قادیانی اور پولیٹکل برانچ
”گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں سے ..... ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں ..... ایسے نقشے ایک پولیٹکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے۔ جب تک
١٩
گورنمنٹ ہم سے طلب نہ کرے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
اب صاف طور پر مرزا قادیانی نے اپنی ملازمت کا محکمہ بھی بتا دیا ہے۔ گویا وہ برٹش انڈیا کی طرف سے انچارج پولیٹیکل برانچ برائے مسلمانان ہند کے افسر اعلیٰ تھے جو خفیہ ڈائریاں مسلمانوں کے خلاف مرتب کر کے افسران بالا کو پہنچایا کرتے تھے اور بظاہر مجدد، محدث، مسیح موعود، مہدی موعود اور نبی اللہ اور رسول اللہ ہونے کے دعوے دار تھے تاکہ عوام اس راز کو نہ پاسکیں۔ جو ان کے اور گورنمنٹ کے درمیان کارفرما تھا۔
اب میں صرف ایک کتاب ستارہ قیصریہ کی عبارت نقل کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ جس میں مرزا قادیانی نے مفصل طور پر اپنے والد اور اپنی خدمات کو درج کیا ہے اور اپنی ماموریت کا اصل سبب بھی بیان فرمایا ہے۔ جس سے اصل حقیقت پورے طور پر ناظرین کرام کے سامنے آجائے گی۔
”میرے والد غلام مرتضیٰ مرحوم جنہوں نے سکھوں کے عہد میں بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے۔ (بالکل غلط ہے کہ سکھوں کے عہد میں مرزا غلام مرتضیٰ نے صدمات دیکھے تھے۔ بلکہ اس کے برخلاف وہ ہمیشہ سکھوں کی طرف سے فوجی خدمات پر مامور رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ہمیشہ عیش وعشرت کی زندگی بسر کی تھی اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی بہت بڑی تعلیم دلائی تھی۔ جس کا مفصل بیان شروع کتاب میں گذر چکا ہے۔ ناقل) انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے جیسا کہ کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہوتا ہے اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہو گیا تو وہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ اور جانثار تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ایام غدر ١٨٥٧ء میں پچاس گھوڑے مع سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے اور بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لئے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت ان کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اس گورنمنٹ کو مدد دیں اور اگر ١٨٥٧ء کا غدر کچھ اور بھی طول ہوتا تو وہ سو سوار تک اور بھی مدد دینے کو تیار تھے۔ غرضیکہ اس طرح ان کی زندگی گزری اور پھر ان کے انتقال کے بعد یہ عاجز (مرزائے قادیان خود) دنیا کے مشغلوں سے بکلی علیحدہ ہو کر خدائے تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا۔ (یہ خوب مشغول تو خدائے تعالیٰ کی طرف ہوا مگر کرتوت یہ کئے۔ ناقل) مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ
٢٠
گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعا گو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو، فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کردیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام، مصر اور کابل اور افغانستان کے مختلف شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئیں۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے غلط خیالات چھوڑ دیئے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں۔ اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا۔ (کیونکہ تنخواہ دار ملازم جو تھے۔ ناقل) کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس با برکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی۔ (غلط! غلط! کیونکہ رنجیت سنگھ اور اس کے بعد بھی سکھوں کی حکومت کے تمام زمانہ میں یہ تمام خاندان فوجی خدمات پر ماموریت کی وجہ سے ہمیشہ مسلمانوں سے برسر پیکار رہا اور بڑی بڑی تنخواہیں اور انعامات پاتا رہا تھا۔ ناقل) اس لئے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیرگاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔"
(ستارہ قیصرہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤، ١١٧)
اب رہا یہ کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی ذات پر تھا۔ یا کہ انگریزوں کی پشت پناہی اور ان کی طرف سے ماموریت کی وجہ سے تھا۔ ذیل کی تحریر اپنی وضاحت خود کر رہی ہے۔
"اے ملکہ معظمہ تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش ہے۔ جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے۔ اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی عہد سلطنت ایسا نہیں ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ نور نور کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔"
(ستارہ قیصرہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٦، ١١٧)
پھر تحریر فرماتے ہیں: "جس طرح تو اے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام کے لئے دردمند ہے اور رعیت پروری میں مشغول ہے۔ اسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا
٢١
ہاتھ بٹاوے۔سو یہ مسیح موعود (مرزاے قادیانی۔ ناقل) جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہونا دنیا کے لئے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے سلسلۂ عدل نے آسمان کے سلسلۂ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر رحم کا سلسلہ بپا کیا۔‘‘
(ستارہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٨)
اب میں نے علی رؤس الاشہاد یہ ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی انگریزوں کے تنخواہ دار ملازم تھے اور کم از کم ایک ہزار روپیہ ماہوار سے زیادہ تنخواہ پاتے تھے اور ان کی ڈیوٹی یہ تھی کہ غیور مسلمانوں کے اندر جذبۂ جہاد کو ختم کر کے انگریزوں کا سچا وفادار بنائیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ان کے فرائض میں شامل تھا کہ ان مسلمانوں کے خلاف خفیہ رپورٹ کرتے رہیں جو غیور مسلمان انگریزوں کے خلاف اپنے دلوں میں جذبۂ نفرت رکھتے تھے یا ان کے خلاف جہاد کرنا جائز سمجھتے تھے۔ تاکہ ان بیچاروں کو ہمیشہ انگریزوں کی طرف سے قید و بند کی سزائیں بھی ملتی رہیں۔ ان کے دعاوی مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت اور رسالت کو پرکھتے ہیں تو مجبوراً ہمیں اس بات پر یقین کرنا پڑتا ہے کہ ان تمام دعاوی کو محض پردہ پوشی کے لئے ایک آڑ بنایا گیا تھا۔ تاکہ عوام ان کی خفیہ ڈیوٹی سے آگاہ ہو کر ان کے خلاف محاذ قائم نہ کریں اور تمام راز فاش ہو کر بدنامی کا موجب نہ بن جائیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
مسئلہ ختم نبوت اور مرزائیت
قبل اس کے کہ میں مسئلہ ختم نبوت کو قرآن کریم اور حدیث شریف کی رو سے پیش کروں۔ آپ کے ذہن میں ایک خاکہ بٹھا دیتا ہوں تاکہ اس کے بعد قرآن وحدیث کے دلائل آپ کو ذہن نشین ہونے میں دقت پیش نہ آئے۔
ہر ایک مسلمان اس بات سے واقف ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ابوالانبیاء تھے اور آپ کے دو ہی بیٹے تھے۔ ایک اسحاق علیہ السلام اور دوسرے اسماعیل علیہ السلام۔ جب اللہ تعالیٰ کا پہلا پہلا گھر خانہ کعبہ تیار کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام دونوں نے مل کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعاء مانگی کہ: ”ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم آیاتک ویعلمہم الکتاب والحکمۃ ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم (البقرۃ: ١٢٩) ”اے ہمارے رب ان مکہ کے رہنے والوں میں (صرف) ایک رسول مبعوث فرما
٢٢
جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوتا دنیا نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا گیا۔“
(ستارہ قیصریہ ص ٨ ،خزائن ج ١٥ص ١١٨)
وجہ ہے کہ مرزا قادیانی انگریزوں کے تنخواہ دار تنخواہ پاتے تھے اور ان کی ڈیوٹی یہ تھی کہ غیور سچا وفادار بنائیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی خفیہ رپورٹ کرتے رہیں جو غیور مسلمان کرتے تھے یا ان کے خلاف جہاد کرنا جائز سمجھتے قید و بند کی سزائیں بھی ملتی رہیں۔ ان کے بات کو پرکھتے ہیں تو مجبوراً ہمیں اس بات پر کے لئے ایک آڑ بنایا گیا تھا۔ تاکہ عوام ان کی اور تمام راز فاش ہو کر بدنامی کا موجب نہ
قرآن کریم اور حدیث شریف کی رو سے پیش کہ اس کے بعد قرآن وحدیث کے دلائل
حضرت ابراہیم علیہ السلام ابوالانبیاء تھے دوسرے اسماعیل علیہ السلام۔ جب السلام اور اسماعیل علیہ السلام دونوں فيهم رسولا منهم يتلوا عليهم م انك انت العزيز الحكيم ہی میں (صرف) ایک رسول مبعوث فرمانا جو انہی میں سے ہو اور ان پر تیری آیات پڑھے اور ان کو (تیری بھیجی ہوئی) کتاب کی تعلیم دے اور حکمت بھی سکھائے اور ان کو پاک بھی کر دے۔ یقینا تو ہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔ ﴿
ظاہر ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے صرف ایک نبی کے آنے کی دعا مانگی گئی تھی جو کہ مقبول ہوئی۔ مگر حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد کے لئے ایسی دعاء نہیں مانگی گئی تھی۔ لہٰذا بنی اسرائیل میں جس قدر نبی آئے۔ وہ سارے کے سارے حضرت اسحاق علیہ السلام کی ہی اولاد میں سے آئے۔ چنانچہ حضرت اسحاق کا بیٹا یعقوب علیہ السلام جن کا لقب اسرائیل تھا۔ ان کے بعد ان کا بیٹا یوسف علیہ السلام بھی نبی تھا۔ غرضیکہ جس قدر بھی نبی آئے وہ تمام کے تمام حضرت یعقوب ہی کی اولاد میں سے آئے۔ اب معلوم ہو گیا ہمیشہ نبی کی اولاد ہی سے نبی آتے رہے۔ غیر نبی کی اولاد سے نبی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی پیدا ہوا۔ سچ کہتے ہیں۔
گندم سے گندم اور جو سے جو پیدا ہوتا ہے۔ اس قاعدہ کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے نبوت کو بھی ایک جنس قرار دے کر انہی کی اولاد میں سے نبوت کو جاری رکھا۔ غیر نبی کی اولاد سے نبوت کو جاری نہ فرمایا۔ چنانچہ حضرت رسول کریم ﷺ سے پہلے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے بعد جس قدر نبی گزرے ہیں وہ سارے کے سارے بنی اسرائیل میں سے گزرے ہیں۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے نبوت کو ختم کرنا چاہا تو بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دیا۔ تاکہ وہ خود بنی اسرائیل نہ کہلا سکے۔ ورنہ نبوت پھر بھی جاری رہ سکتی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنا قانون قدرت سے باپ کے بغیر بچہ پیدا کر دیا۔ جو کہ قانون قدرت کے بظاہر خلاف ہے۔ مگر جنس نبوت کو بند کر دیا۔ تاکہ بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہ بن سکے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شادی بھی نہیں ہوئی۔ اب جب کہ بنی اسرائیل میں سے نبوت ختم ہو گئی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس لئے بن باپ پیدا کیا تا کہ وہ بنی اسرائیل نہ کہلا سکیں۔ کیونکہ نسل ہمیشہ باپ کی طرف سے چلتی ہے۔ نہ ماں کی طرف سے۔ اس لئے آپ کی ماں حضرت بی بی مریم کو تو پیدا کیا۔ مگر آپ کا باپ پیدا نہ کیا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں جب نبوت ختم ہو گئی تو پھر بنی اسماعیل میں نبوت منتقل ہوئی۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی دعا پوری ہوئی اور مکہ والوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک رسول یعنی شفیع المذنبین راحت العاشقین مراد المشتاقین خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ چونکہ بنی اسرائیل میں صرف ایک ہی نبی کے آنے کی
٢٣
درخواست کی گئی تھی۔ لہٰذا صرف ایک ہی نبی آئے۔ مگر یہ ایک نبی تمام نبیوں کے سردار تمام نبیوں کے امام اور تمام نبیوں کے نبی اور رحمتہ اللعالمین بن کر آئے۔ تاکہ آپ کے بعد کوئی اور نبی نہ آئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اعلان فرما دیا کہ: ”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (الاحزاب: ٤٠) ”محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔“
اب مطلب صاف ہے کہ حضورﷺ کو خاتم النبیین یعنی آخری نبی بنا کر بھیجا۔ جن کے بعد اور کوئی نبی قیامت تک نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ تھی کہ اگرچہ نبی کریمﷺ کے گھر میں اولاد نرینہ بھی پیدا ہوئی۔ یعنی چار لڑکیاں اور چار لڑکے بھی پیدا ہوئے۔ مگر لڑکیاں تو زندہ رہیں اور چاروں لڑکے فوت ہوگئے۔ ان کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے ایسے رسول ہیں جو نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ اگر غیر نبی کی اولاد میں سے بھی نبی ہو سکتے تو پھر اللہ تعالیٰ اس طرح اعلان نہ کرتا کہ چونکہ آپ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ اس لئے خاتم النبیین ہیں۔ مندرجہ بالا آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر نبی کریمﷺ کی اولاد نرینہ زندہ رہتی تو ان میں نبوت جاری رہتی۔ چنانچہ خود حضورﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم علیہ السلام کے فوت ہونے پر ارشاد فرمایا کہ: ”لَوْ عَاشَ اِبْرَاهِيْمُ لَكَانَ صِدِّيْقاً نَبِيّاً (ابن ماجہ ص ١٠٨) ”اگر میرا یہ بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور سچا نبی بن جاتا۔“
صاف پتہ چل گیا کہ حضورﷺ کی اولاد اس لئے فوت کر دی گئی کہ آپ کے بعد نبوت ختم تھی۔ اب تمام معاملہ صاف ہو گیا کہ چونکہ آپ کے بعد جنس نبوت کو ختم کرنا تھا۔ اس لئے حضورﷺ کے صاحبزادوں کا بچپن میں انتقال کر دیا۔ مگر چار لڑکیاں اس لئے زندہ رہنے دیں اور ان کی اولاد بھی ہوئی کہ نسل ہمیشہ مردوں سے چلتی ہے۔ یعنی لڑکوں سے چلتی ہے نہ عورتوں اور لڑکیوں سے نسل چل سکتی ہے۔ جس طرح کہ اوپر درج ہو چکا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے نبوت ختم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کے پیدا کر کے نبی بنایا اور پھر آگے ان کی شادی نہیں ہوئی۔ امید ہے کہ ناظرین کرام اصل حقیقت کو سمجھ گئے ہوں گے۔ ختم نبوت کا مقام اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو کس طرح عطاء فرمایا اور اصل مفہوم نبوت کا کیا ہے۔ لیکن معترض یہ کہہ سکتا ہے کہ تم نے صرف اپنی من گھڑت اور عقلی دلیل کو بروئے کار لا کر یہ معنی خاتم النبیین کے کئے ہیں۔ کیا خود خاتم النبیین اور رحمتہ اللعالمین محمد رسول اللہﷺ نے بھی یہی معنی کئے ہیں تو اس کا
٢٤
جواب میرے ذمہ ہے اور فرمان رسول ذیل میں درج کرتا ہوں۔ کیونکہ قرآن کریم کے معنی خود حضرت اقدس ﷺ نے جو کئے ہیں وہی صحیح ہیں اور اس کے خلاف اگر کوئی شخص معنی کرے گا تو وہ آپ کا مخالف ہوگا۔
ختم نبوت کے معنی اور تاجدار مدینہ ﷺ
”انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ ﴿میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا۔﴾
ممکن ہے کہ معترض یہ اعتراض کر دے۔ جیسا کہ کئی دفعہ زبانی اعتراض مجھ پر کر چکے ہیں کہ کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا، کہاں سے مفہوم نکلا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ لا نبی بعدی میں ”لا نفی جنس“ درج ہوا ہے۔ لہٰذا یہ ”لا“ جس جنس پر داخل ہو جاتا ہے اس جنس کو ختم کر دیتا ہے۔ چونکہ یہاں نبوت کی جنس پر داخل ہوا ہے۔ لہٰذا جنس نبوت ختم ہو جاتی ہے۔ یعنی اب نہ ظلی، نہ بروزی، نہ امتی، نہ غیر امتی اور نہ تشریعی اور نہ غیر تشریعی کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس لا کے معنی ہر مسلمان کو مسلمان ہوتے وقت بتلا دیئے ہیں۔ تاکہ کوئی مسلمان دھوکہ نہ کھا سکے اور اس کے معنی غلط نہ کر بیٹھے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ مسلمان مسلمان نہیں ہوتا۔ جب تک ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ نہ پڑھے۔ اب اس کلمہ طیبہ میں سب سے پہلا حرف لا نفی جنس رکھ دیا گیا ہے کہ ”لا الہ“ یعنی نہیں کوئی معبود حقیقی۔ ”الا الله“ سوائے اللہ تعالیٰ کے یہاں اس لا نے جنس الوہیت ختم کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ نہ ظلی نہ بروزی، نہ مجازی۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی قسم کا معبود نہیں ہے۔ یہی معنی ”لا نبـی بعدی“ میں ہوئے۔
جس طرح ”لا الہ“ سے ہر قسم کی الوہیت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ”لا نبی بعدی“ میں حضور ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت ختم ہوگئی ہے۔ چاہے ظلی ہو، بروزی ہو، امتی ہو یا غیر تشریعی ہو۔ ہر قسم کی نبوت کو حضور ﷺ کے بعد اس لا نے ہڑپ کر لیا ہے۔
اب حضور ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ تو کر سکتا ہے۔ مگر سچی نبوت کے لئے تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں اور اس لا نفی جنس نے ہر ایک سچی نبوت کو بند کر دیا ہے۔
”لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩) “ ﴿اگر میرے بعد نبی ہوتا تو عمر ابن الخطاب ہوتا۔﴾
٢٥
حضورﷺ کے اس ارشاد سے ثابت ہو گیا کہ اگر حضورﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا بھی تو حضرت عمر ابن الخطابؓ ہوتا۔ اگر عمر ابن خطابؓ نبی نہیں بن سکتے تو قیامت تک دوسرا کوئی بھی نبی نہیں ہو سکتا۔ گویا اجرائے نبوت کو سرکار دو عالمﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ کے وجود میں مرکوز کر دیا کہ اگر ہوتا تو صرف یہی ہوتا۔ ورنہ قیامت تک دوسرا کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ نہیں تو کوئی بھی نہیں۔
اب صرف ایک امکان اجرائے نبوت کا باقی رہ جاتا ہے کہ نبی ہمیشہ نبی کی اولاد میں سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ ایک نبی اپنے بھائی کے لئے سفارش کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے بھائی کو بھی نبی بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگ کر حضرت ہارون علیہ السلام کو نبی بنوا ہی دیا تھا۔ اگرچہ نبی کریمﷺ کی اولاد تو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی میں چھین لی تھی تو پھر حضورﷺ اللہ تعالیٰ سے دعاء مانگ کر حضرت علیؓ کو تو نبی بنوا سکتے تھے۔ تو اس امکان کا سد باب بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی رسول کریمﷺ کے ذریعہ اس طرح کرا دیا کہ:
جب حضرت نبی کریمﷺ جنگ تبوک پر جا رہے تھے تو حضرت علیؓ کو عورتوں اور بچوں کی نگرانی کے لئے مدینہ پاک میں رہنے دیا۔ منافقین مدینہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بزدلی کا طعنہ دیا تو حضرت علیؓ رسول اللہﷺ کے پیچھے دوڑ کر گئے اور منافقین کا طعنہ سنا کر حضورﷺ کی خدمت اقدس میں جنگ تبوک میں ساتھ چلنے کی درخواست کی۔ مگر حضورﷺ نے فرمایا: ”یا علی انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی (مسلم ج٢ ص٢٧٨)“ ﴿اے علیؓ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام سے ہارون علیہ السلام تھے۔ مگر یہ پکی بات ہے کہ میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں بن سکتا۔﴾ یعنی نہ میری زندگی میں اور نہ ہی میرے بعد۔ اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو شیعہ لوگ ہرگز ہرگز حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نبی بنانے سے نہ چوکتے۔ جب کہ وہ حضرت علیؓ کا درجہ سوائے نبی کریمﷺ کے باقی تمام نبیوں سے بھی افضل سمجھتے ہیں تو ان کو نبی ماننے میں کون سی چیز روک سکتی تھی۔ پس مندرجہ بالا حدیث ہی تو ہے جو نہ صرف حضرت علیؓ کو نبی بنانے سے روکتی ہے۔ بلکہ مسئلہ ختم نبوت پر بھی شیعہ حضرات کو اہل سنت والجماعت کے دوش بدوش کھڑا کر دیتی ہے۔
مسئلہ ختم نبوت اور صحابہ کرامؓ کا کردار
رسول کریمﷺ کے وصال کے بعد بیک وقت تین شخصیتوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔
٢٦
یعنی مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور ایک عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ صحابہ کرام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر یہ نبوتیں زندہ رہتی ہیں تو حضور ﷺ خاتم النبیین ثابت نہیں ہوتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی غلط ہو جائے گا۔ نعوذ باللہ! اس لئے تمام صحابہ کرامؓ نے بہ اتفاق رائے ان تینوں کے خلاف محاذ جنگ قائم کیا۔ دو نے تو توبہ کر لی اور کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" پڑھ کر اپنی جان بچائی۔ مگر مسیلمہ کذاب نے پوری تیاری کر کے صحابہ کرامؓ سے زبردست جنگ کی۔ یہاں تک کہ ہزار ہا صحابہ کرامؓ جو کہ حافظ قرآن کریم اور قاری تھے شہید کر دیئے۔ صحابہ کرامؓ نے اس نقصان عظیم کو تو برداشت کر لیا۔ مگر جھوٹی نبوت کے قیام کو ہرگز ہرگز برداشت نہ کیا۔ یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب بھی واصل جہنم ہو گیا اور صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا تمام لشکر بھی کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ تب جا کر صحابہ کرامؓ نے آرام کا سانس لیا۔
صحابہ کرام کے بعد بھی اب تک تمام ائمہ کرام مجتہدین عظام اور مفسرین و محدثین اور علماء کرام اسی اعتقاد پر قائم ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں آ سکتا اور جو شخص بھی ایسا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ دجال ہے۔ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چنانچہ تحریک تحفظ ختم نبوت میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ سوائے قادیانی جماعت کے دوسرے مسلمانوں کا کوئی ایک گروہ یا جماعت یا فرد ایسا نہیں ہے جو ختم نبوت کا قائل نہ ہو۔
اب اس کے باوجود جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے قرآن اور رسول کریم ﷺ کے فرمان اور صحابہ کرامؓ کے افہام اور جملہ مسلمانوں کے ایمان کے خلاف نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اس کا تعلق مسلمانوں سے کسی طرح قائم نہیں رہ سکتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کا پہلا اعتقاد
- ١...... "میں کافر نہیں ہوں اور خدا جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب
اعتقاد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔"
(آسمانی فیصلہ ص ٦، مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٨٩١ء، خزائن ج ٣ ص ٣١٣)
- ٢...... "ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ
وخاتم النبیین یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم
٢٧
کرنے والا ہے نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٢٥٢ خزائن ج ٣ ص ٤٣١)
- ٣...... ”آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا
اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ غرض قرآن شریف میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث ”لا نبی بعدی“ فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی ...... آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آسکتا۔“
(کتاب البریہ ص ٢٥٥ حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ٢١٨)
مرزا قادیانی کا دوسرا اعتقاد
- ١...... ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء
بینہم“ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)
- ٢...... ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی
الدین کلہ“ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، ٢٠٧)
- ٣...... ”غرض میری نبوت اور رسالت بہ اعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔ نہ
میرے نفس کے رو سے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)
- ٤...... ”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢١١)
- ٥...... ”وہی خاتم الانبیاء ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
- ٦...... ”خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا
ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
- ٧...... ”خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ رکھا اور رسول اللہ رکھا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٦ خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
٢٨
- ٨...... ”میرا نام محمد اور احمد ہوا ۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
مندرجہ بالا دعاوی میں یہ دعویٰ مرزا قادیانی نے کئے ہیں۔
- ١...... میں نبی ہوں۔
- ٢...... میں رسول ہوں۔
- ٣...... میں محمد ہوں۔
- ٤...... میں احمد ہوں۔
- ٥...... وہی خاتم الانبیاء ہوں۔
اب ان کے مندرجہ بالا دعوؤں سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ محمد رسول اللہ دو ہیں ۔ ایک نہیں ہے۔
- پہلا...... ایک وہ جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا پاک کلام قرآن کریم نازل فرمایا اور وہ مکہ
معظمہ میں پیدا ہوئے اور جن کا پاک روضہ مدینہ پاک میں موجود ہے جہاں لوگ حج کے موقع پر حج سے پہلے یا بعد میں حضور ﷺ کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔
- دوسرا...... وہ جو قادیان میں پیدا ہوا اور وہاں ہی پرورش پائی اور ساری عمر انگریز
دجال کی ملازمت اور حمایت کر کے ان کی حکومت کو مستحکم کیا اور مسلمانوں سے ساری عمر قلمی جنگ کرتا رہا اور قرآن کریم کے حکم ”جاهدوا فی اللہ حق جہادہ (الحج:٧٨)“ کے صریح حکم کو منسوخ کر دیا۔
اب نتیجہ صاف نکل آیا کہ روئے زمین کے مسلمانوں کا ”محمد رسول اللہ“ مکی المدنی العربی ﷺ ہی ہیں اور مرزائیوں کے محمد رسول اللہ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے تو بیشک دعویٰ کر دیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ ہوں۔ مگر مرزائی ان کو محمد رسول اللہ نہیں مانتے۔ اس کا جواب ذیل میں مرزائیت کے مفتی اعظم سید سرور شاہ صاحب کا ارشاد گرامی ملاحظہ ہو جو کہ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل رہے اور مرتے دم تک مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی عبادت گاہ مبارک کے امام رہے اور انہوں نے ہی اس مبارک میں میرا خطبہ نکاح بھی پڑھا تھا۔
فرمایا: ”ہم احمدیوں نے مرزا قادیانی کو بحیثیت مرزا نہیں مانا۔ بلکہ اس لئے کہ خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا ہے۔ ہم پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ کیونکہ اگر ہم ساری جائیدادیں سارے اموال اور جانیں قربان کر دیتے تو بھی صحابہ کرامؓ میں شامل نہ ہو سکتے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے
٢٩
کہ غوث قطب ولی جتنے بزرگ امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ ان کا ایمان صحابہ کے ایمان کے برابر نہیں ہو سکتا اور اس شرف کو نہیں پاسکتے۔ جو صحابہ عظام نے پایا۔ کیونکہ انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کا چہرہ دیکھا۔ مگر اللہ نے ہمیں محمد رسول اللہ کا چہرہ مبارک دکھا کر اس کی محبت سے مستفاد کر کے صحابہ کرام کے گروہ میں شامل کر دیا ۔ “
(الفضل ٢٧؍ دسمبر ١٩١٣ء ص ٧، بحوالہ قادیانی فتنہ ص ٣٨، ٣٩)
خود مرزا قادیانی بھی گوہر افشانی فرماتے ہیں کہ : ”صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا۔“
ناظرین کرام! کے سامنے اب اور بھی پوری وضاحت ہو گئی کہ نہ صرف یہ کہ مرزائیوں کا محمد رسول اللہ اور ہے بلکہ ان کے محمد رسول اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے بھی اسی طرح صحابہ ہیں۔ جیسے کہ نعوذ باللہ تاجدار مدینہ رحمتہ اللعالمین کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے صحابی تھے اور جیسے کہ حضور کی ازواج مطہرات کا نام اللہ تعالیٰ نے امہات المؤمنین رکھا ہے۔ جیسا کہ ازواجہ، امہاتہم کا خطاب نازل فرمایا ہے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی بھی مرزائیوں کی ام المومنین ہے اور جس طرح خانہ کعبہ کو اللہ تعالیٰ نے مسجد الحرام فرما کر حرم پاک بنایا۔ ارشاد فرمایا ہے۔ مرزا قادیانی بھی قادیان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے
( درثمین اردو ص ٥٢)
اور مرزا محمود احمد قادیانی اپنی کتاب منصب خلافت میں لکھتے ہیں: ”قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے ”انه اوى القرية“ فرمایا۔ یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں ۔“
(منصب خلافت ص ٣٢، ٣٥)
لیکن ایک نہایت اہم بات لکھنے سے پہلے یہ بھی لکھ دوں کہ یہ بھی اعتراض ہو سکتا ہے کہ مفتی مرزائیت نے تو لکھ دیا ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی کو بحیثیت مرزا نہیں بلکہ محمد رسول اللہ سمجھ کر مانا ہے۔ مگر دوسرے مرزائی مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ نہیں مانتے ہوں گے۔
اب میں ایک مشہور مرزائی شاعر جس سے میں خود بھی قیام قادیان کے دوران اپنے بعض اشعار کی اصلاح لیا کرتا تھا اور جن کا نام قاضی ظہور الدین صاحب اکمل تھا، نے اپنی ایک نظم میں چند اشعار لکھے ہیں۔ جو درج ذیل کرتا ہوں ۔ انہوں نے بھی مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ کے طور پر ظاہر کیا ہے۔ بلکہ حضور ﷺ سے بھی بڑھ کر۔ اشعار
٣٠
امام غلام غلام ا مکاں محمد پھر اور آگے محمد کیو غلام ا
ممکن ہے کہ کوئی شخص ی قلابے ملا دیئے ہیں۔ کیا اس ظلم کو م ثبوت پڑھ لیں۔ ” یہ وہ نظم ہے جو اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گے پس حضرت مسیح موعود کا شرف صحابی لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا ب
(اخبار ا
کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ س
جب میں نے مندرجہ بالا ساتھ میری قادیانی بیوی اور بچوں ی اسلام کو اپنا مقصد حیات بنالیا تو ایک د جا کر تقریر کرنے کا اتفاق ہوا تو میری تقریر کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کی کہ ہم احمدی کلمہ میں جو محمد رسول اللہ میں ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا ب منادی کرادی کہ میں ثابت کروں گا مرزا غلام احمد قادیانی ہوتے ہیں اور
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر ج ٢ شمارہ نمبر ٤٣، مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
ممکن ہے کہ کوئی شخص یہ اعتراض کر دے کہ شاعروں کا کیا کہنا وہ تو عرش و فرش کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ کیا اس نظم کو مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی سنا تھا اور پسند کیا تھا تو یہ بھی آپ ثبوت پڑھ لیں۔ ”یہ وہ نظم ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزائے قادیانی۔ ناقل) کے حضور پڑھی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ پھر یہ نظم اخبار بدر اکتوبر ١٩٠٦ء میں چھپی اور شائع ہوئی۔ پس حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاکم اللہ کا صلہ پانے اور قطعے کو خود اندر لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان اور قلت عرفان کا ثبوت دے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٢٣ اگست ١٩٤٤ء، بحوالہ قادیانی فتنہ ص ٤٥، ٤٦)
کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی
جب میں نے مندرجہ بالا تحقیقات کے بعد مرزائیت سے توبہ کی اور الحمد للہ کہ میرے ساتھ میری قادیانی بیوی اور بچوں نے بھی مرزائیت سے توبہ کر لی اور اس کے بعد میں نے تبلیغ اسلام کو اپنا مقصد حیات بنا لیا تو ایک دفعہ مولانا محمد علی جالندھری کے ساتھ ڈیرہ غازیخان شہر میں جا کر تقریر کرنے کا اتفاق ہوا تو میری تقریر کے دوسرے دن مرزائی مبلغ عبدالرحمن مبشر نے میری تقریر کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ اور چیلنج بھی پیش کر دیا کہ اگر کوئی شخص یہ بات ثابت کر دے کہ ہم احمدی کلمہ میں جو محمد رسول اللہ کا لفظ پڑھتے ہیں۔ اس سے مراد مرزا قادیانی ہوتے ہیں تو میں ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ چنانچہ اس کے اس چیلنج کے پیش نظر دوسرے دن میں نے منادی کرا دی کہ میں ثابت کروں گا کہ احمدی جو کلمہ پڑھتے ہیں اس میں محمد رسول اللہ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہوتے ہیں اور ایک ہزار روپیہ کا مطالبہ بھی کروں گا۔ چنانچہ حسب اعلان
٣١
نماز عشاء کے بعد پاکستان چوک میں میں نے ثبوت بہم پہنچا کر ایک ہزار کا مطالبہ کیا تو مرزائی مبلغ صاحب ایسے فرار ہوئے کہ آج تک میرا مطالبہ پورا نہیں کر سکے۔ مگر الحمد للہ کہ میری اس تقریر کے کچھ عرصہ بعد بعض مرزائی خاندان شہر ڈیرہ غازیخان میں مرزائیت سے توبہ کر چکے ہیں۔ الحمد للہ علی ذلک!
اب میں ناظرین کرام کی معلومات میں اضافہ کی خاطر یہاں وہ حوالہ درج کر دیتا ہوں جس میں صاف الفاظ میں اقرار کیا گیا ہے کہ کلمہ میں محمد رسول اللہ ﷺ سے مراد غلام احمد قادیانی ہوتے ہیں۔
کلمہ طیبہ میں قادیانی محمد
- .......١ ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے مفہوم
میں ایک اور رسول (مرزا قادیانی) کی زیادتی ہو گئی ہے۔ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا۔ بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔“
(کلمۃ الفضل ص ١٠٠، بحوالہ قادیانی فتنہ ص ٣٦)
- .......٢ ”ہم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کے بعد مرزا قادیانی
بھی ایسے ہی نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر مرزا قادیانی کا کلمہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ پس جب ظلی طور پر مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہی ہیں۔ جو دوبارہ دنیا میں تشریف لائے تو ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو پھر یہ سوال اٹھ سکتا تھا۔“
(کلمۃ الفضل ص ١٠١، بحوالہ قادیانی فتنہ ص ٣٦، ٣٧)
امید ہے کہ ناظرین کرام مرزائیت کی حقیقت سے واقف ہو چکے ہوں گے اور مزید طول کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ جس شخص کو جب بھی مرزائیت کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہو تو براہ راست مجھ سے ہر قسم کی معلومات بذریعہ خط و کتابت یا بذریعہ ملاقات حاصل کر سکتے ہیں اور مندرجہ بالا تمام تحریرات میں سے بھی کسی کو اگر یہ شبہ لاحق ہو جائے کہ یہ درست ہیں یا غلط تو میری طرف رجوع کر کے اپنا شک و شبہ دور کر سکتے ہیں۔
٣٢
بناسپتی نبی ا
چال
جناب فر
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
بناسپتی نبی اور اس کے صحابہ کا
چال چلن
جناب فرزند توحید صاحب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
انتساب
اپنی حکومت کے نام جس نے ماضی میں میرے دو پمفلٹ ضبط کئے ۔ زیر ترتیب پمفلٹ کے حشر سے بھی غافل نہیں ۔ بلکہ بطور پیشین گوئی کے عرض کرتا ہوں کہ حکومت اسے بھی ضرور ضبط کرے گی ۔ لیکن حکومت کو ملکی مفاد کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں ۔ اس کی ضبطی کے ساتھ صفائی کے حق سے مجھے محروم نہ کرے ۔
اگر حکومت نے مجھے صفائی کا موقع دیا تو میں عدالت میں وہ مواد فراہم کر سکوں گا کہ آنے والی نسلیں نہ صرف اس سے فیضیاب ہوں گی ۔ بلکہ حال کے مسلمان اپنی آنکھوں سے ایوانِ مرزائیت کو گرتا ہوا دیکھیں گے اور اس طرح موجودہ حکومت کا ملک وملت پر احسانِ عظیم ہوگا۔
فرزند توحید، مرزائیوں کا خیر خواہ!
قارئین حضرات
مولانا فرزند توحید صاحب کا یہ پمفلٹ میرے سامنے ہے ۔ مولانا موصوف نے حوالہ جات کی ترتیب دینے میں خوب جانفشانی کی ہے ۔ حوالہ جات کی صحت کا خیال اس حد تک ملحوظ رکھا گیا ہے کہ صرف مرزا قادیانی کی مستند کتب کے اقتباسات کو ہی نقل کیا گیا ہے ۔ ان واقعات بلکہ حادثات کی روشنی میں اگر ہم مرزائیت کو پرکھنے کی کوشش کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ سوائے غلاظتوں کے ڈھیر کے اور کوئی چیز نظر نہیں آئے گی ۔ تف ہے ان لوگوں پر جو اس گند سے باخبر ہیں اور پھر اس پر منہ مارتے ہیں ۔
اب تو معاملہ یہاں تک آ پہنچا ہے کہ خود مرزا محمود قادیانی کے مریدان باصفا ان کی محلاتی زندگی کے رنگین راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھا رہے ہیں ۔ جنہیں مرزا محمود منافقین کے لقب سے ملقب فرما کر دھڑا دھڑ جماعت سے خارج کر رہے ہیں اور دنیا داروں کے تمام طریقے استعمال کر کے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہاتھ پیر مار رہے ہیں ۔ ہمیں ان گھناؤنے واقعات میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ ہمارا آپ سے ایک ہی سوال ہے کہ یہ آوازیں مرزا محمود قادیانی کے خلاف کیوں اٹھیں؟ ایک شریف بے لوث انسان کے خلاف کبھی دنیا ایسی آوازیں نہیں اٹھاتی ۔ چہ جائیکہ ایک ایسے انسان کے خلاف جو ایک جماعت کا امام اور خلیفہ المسیح کہلاتا ہو اور اپنے آپ کو وارثِ جنت خیال کرتا ہو ۔ لہٰذا ہمارے نزدیک مرزا محمود قادیانی کے خلاف آواز کا اٹھنا اور
٢
قادیانیوں کی طویل خاموشی ہی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مرزا محمود احمد قادیانی اپنے دامن سے زنا جیسے قبیح فعل کے سیاہ اور بد نما داغ کو دھونے کی جسارت نہیں کر سکتا اور وہ جسارت بھی کیسے کرے۔ جب کہ اس کا قصر خلافت ہر وقت راجہ اندر کا اکھاڑا بنا رہتا ہے۔ آخر میں دعاء ہے کہ خدا اس غارتگر ایمان کو صفحہ ہستی سے پاک کر دے تاکہ لاکھوں بھولے بھالے انسانوں کو جو اس کی مکارانہ سیاست کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں نجات ملے۔
ایم یوسف ناز کنوینر حقیقت پسند پارٹی (حلقہ کراچی)
بناسپتی پیغمبر شراب طلب کرتا ہے
محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس وقت میاں یار محمد کو بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خریدنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دوکان سے ضرور خریدیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔
والسلام!
مرزا غلام احمد قادیانی !
(خطوط امام بنام غلام ص ٥، مرزا غلام احمد قادیانی)
نوٹ: ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے۔ جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی قیمت ١٩٣٣ء میں ساڑھے پانچ روپے تھی۔ موجودہ قیمت خلیفہ مسیح الثانی صاحب کو معلوم ہو گی۔ جو اپنے ابا کی سنت پر ابا سے زیادہ صاحب عمل ہوں گے۔
بناسپتی پیغمبر کی شان میں عدالت کے تبصرے کا اقتباس
مرزا غلام احمد قادیانی ایک ٹانک استعمال کرتا تھا۔ جس کا نام پلومر کی شراب، لاہور سے خرید کر مجھے بھیجو۔ باقی دوسرے خطوط میں یاقوتی کا تذکرہ ہے۔
(مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور ماہ ٦؍جون ١٩٣٥ء)
بناسپتی پیغمبر اور نامردی کا اعتراف
”ایک مرض مجھے نہایت خطرناک تھا کہ بوقت صحبت لیٹنے کی حالت میں نعوظ یعنی انتشار بکلی جاتا رہتا تھا۔ جب میں نے نئی شادی کی مجھے مدت تک یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ بلکہ میری بیوی نصرت جہاں بیگم نے اپنے والد کو خط لکھا کہ میرا دل چاہتا ہے خود کشی کر جاؤں۔
٣
(کیونکہ اول تو میں نامرد تھا۔ دوسرے میری عمر ٤٥ سال تھی۔ باوجود نامردی کا یقین ہونے کے پھر بھی اولاد شادی کے بعد جلد ہی پیدا ہونی شروع ہو گئی۔ شاید کسی فرشتہ کا کرشمہ ہو یا اس خدا کی مہربانی ہوگی۔ جس کی طبیعت مرزا قادیانی پر آگئی تھی اور مرزا قادیانی سے رجولیت کا اظہار فرمایا تھا۔ شاید پھر نزلہ ادھر منتقل ہو گیا ہو، سمجھنے والے سمجھ لیں)
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ دوم ص ١٤، ٢١)
بناسپتی پیغمبر کو ایک فرشتے نے مرد بنا دیا
”اسی نامردی کی کشمکش میں بہت پریشان تھا۔ پھر ایک فرشتے نے نسخہ تیار کر کے میرے منہ میں ڈال دیا۔ اس وقت میرے اندر پچاس مردوں کی قوت عود کر آئی۔
(تریاق القلوب ص ٧٦، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٤)
میں تمام مرزائیوں سے پوچھتا ہوں قوت تو آپ کے بناسپتی نبی میں ٥٠ مردوں کی تھی اور عورت ایک تھی۔ یہ بتاؤ ٤٩ مردوں کی قوت کہاں صرف ہوتی تھی۔ شاید آگے چند سطور سے معلوم ہو جائے۔
بناسپتی پیغمبر کے لئے سب کچھ جائز ہے
”چونکہ حضرت مرزا قادیانی نبی ہیں۔“ اس لئے ان کو موسم سرما کی اندھیری راتوں میں ”غیر محرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانا اور ان سے اختلاط و مس کرنا منع نہیں ہے۔ بلکہ کار ثواب اور موجب رحمت و برکات ہے۔“ (وہ بھی اس حالت میں جب کہ ٥٠ مردوں کی قوت کے مالک ہیں)
(سیرت مہدی حصہ سوئم ص ٢١٠، ٢١٣، روایت نمبر ٧٨٠، ٧٨٦)
بناسپتی پیغمبر بھانوں سے پاؤں دبوا رہا ہے
”حضرت ام المؤمنین نے ایک دن بتایا کہ حضرت مرزا غلام احمد کے ہاں ایک ملازمہ بھانو تھی۔ وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی۔ حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ لحاف کے اوپر سے دبا رہی تھی۔ اس لئے معلوم نہ ہو سکا جس چیز کو دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں۔ تھوڑی دیر بعد حضور نے فرمایا بھانوں آج بڑی سردی ہے۔ بھانوں نے کہا جی ہاں!
(سیرت مہدی ص ٢١٠، روایت نمبر ٧٨)
بناسپتی پیغمبر نے زنا کر لیا تو کیا حرج ہے
”مرزا قادیانی ولی اللہ تھے اور ولی اللہ کبھی کبھار زنا کر لیتے ہیں۔ حضرت نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں حرج کیا ہے۔ ہمیں اعتراض تو موجودہ خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“
(اخبار الفضل قادیان مورخہ ٣١؍ اگست ١٩٣٨ء)
٤
عاشق مزاج بناسپتی پیغمبر کے عشقیہ اشعار
ایسے بیمار کا مرنا ہے دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا مرے دل ابھی کچھ پاؤ گے
تم بھی کہتے تھے کہ الفت میں مزا ہوتا ہے
ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے
مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے دل سے صبر گیا
ہوش بھی ورطۂ الم میں پڑے
سبب کوئی خاوندا بنا دے
کسی صورت سے وہ صورت ملا دے
کرم فرما کے آ او میرے جانی
بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٣٢، روایت ٢٢٨)
بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں کے کیا کہنے
عبدالرحمن مصری کی کورٹ میں درخواست ”موجودہ خلیفہ بشیر الدین محمود سخت بدچلن ہے۔ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور معصوم لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد عورتیں شامل ہیں۔“
(تاریخ محمودیت کے پوشیدہ اوراق ص ٣٩، ٤٠)
خوبصورت لڑکے خوب ملتے ہیں (میاں مہاشہ محمد عمر کا بیان)
”میں بیان میں خدا کی قسم کھا کر یہ بھی لکھتا ہوں کہ انہوں نے میاں فخر الدین ملتانی قادیانی کو ایک دن اپنے مکان کے پاس کھڑے ہو کر یہ کہا تھا کہ تحریک جدید کے بورڈنگ کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پہلے تو لڑکوں کو تلاش کرنا پڑتا تھا اور اب لڑکے جمع شدہ مل جاتے ہیں۔“
(اخبار فاروق ١٧ اگست ١٩٣٧ء)
٥
بناسپتی پیغمبر کے بعض صحابہ پر اغوا کے مقدمات
دربار قادیان کے خاص رازداں مولانا محمد حسین بٹالوی نے لکھا ہے کہ: ”مرزا قادیانی کے صحابہ ان کی طرف سے مبلغ بن کر گئے۔ عورتوں کے اغوا کے مقدمات میں ماخوذ ہو گئے۔ گو انجام کار مستغیث سے جھوٹا وعدہ کر کے کہ ہم تمہاری عورتوں کو علیحدہ کر دیں گے۔ سزا سے بچ گئے مگر عورتوں کو علیحدہ نہ کیا اور انجمن کے چندے سے زنا اور شراب خوری کے مرتکب ہوئے۔ اسی وجہ سے انجمن نے ان کو تبلیغ ارتداد سے علیحدہ کر دیا اور ان کی بدکرداریوں کو بذریعہ اشتہار الم نشرح کیا۔“
(اشعۃ السنۃ ج١٨ ص٧، ٨)
سر ظفر اللہ کے سیاہ کارنامے
قاہرہ ٦؍ اگست چوہدری ظفر اللہ سابق وزیر خارجہ پاکستان کی نئی نویلی بیوی بشریٰ ربانی کے پرانے شوہر مسٹر محمود قزاق نے مشہور مصری روزنامہ ”اخبار الیوم“ کے نمائندے کو اپنی نوجوان سابقہ بیوی اور بوڑھے ظفر اللہ کے معاشقہ کی جو رنگین داستان سنائی ہے۔ اسے پڑھ کر مولانا حسرت موہانی صاحب کا یہ شعر بے ساختہ زبان پر آتا ہے۔ نہ چھوڑی تم نے حسرت عشق بازی، تمنا پیر ہو کر بھی جواں ہے۔ مسٹر محمود قزاق کی داستان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بشریٰ ربانی اور اس کے والدین بھی مرزائی نہیں۔ اس کے ساتھ چوہدری ظفر اللہ خاں کی عشق بازی کا آغاز دمشق کی مرزائی انجمن کے دفتر میں مرزا محمود قادیانی کی آمد کے موقع پر ہوا تھا۔ مسٹر محمود لکھتے ہیں کہ جماعت مرزائیہ کے دفتر میں بشریٰ ربانی سے پہلی ملاقات کے موقع پر چوہدری ظفر اللہ خاں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔ بشریٰ نے چوہدری صاحب کو قادیانی خلیفہ کا معتمد خاص سمجھ کر ادب اور احترام سے ان کے ہاتھ چومے اور اپنا نام بتا دیا۔ اس کے بعد چوہدری ظفر اللہ خاں نے قادیانی خلیفہ سے سرگوشی کی۔ خلیفہ جی نے بآواز بلند کہا یہ تو اس کے خاندان کے لئے سب سے بڑی عزت ہے۔ سننے والے سمجھ گئے کہ کسی کی شادی کا تذکرہ ہے۔ اس کے بعد چوہدری ظفر اللہ نے مقامی مرزائیوں کے امیر سے کچھ کہا اور اس نے بلند آواز سے کہا اس کا ہی بھائی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خاں نے پوچھا کیا اس لڑکی کا بھائی یہاں دمشق کے پاکستانی سفارت خانے میں ملازمت پسند کرے گا اور دوسرے ہی دن میری بیوی کے بھائی محمود ربانی کو سفارت خانے میں عہدہ مل گیا۔ پھر ظفر اللہ خاں نے اپنی خاص مجلس میں دمشق کے معزز احمدیوں سے کہا کہ میں اس لڑکی کو خوش نصیب اور اس خاندان کو خوشحال بنا دوں گا۔ عرض کیا گیا کہ لڑکی اپنے خالہ زاد بھائی سے منسوب ہوچکی ہے۔ جو خلیج فارس کے ایک ملک میں دولت کمانے گیا ہوا ہے۔ تاکہ لڑکی کو رخصت کر کے
٦
لے جائے۔ سر ظفر اللہ نے برہم ہو کر کہا یہ کتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے نازک پھول کو اس خوفناک کانٹے کی گود میں ڈال دیا جائے۔ عرض کیا گیا مگر دونوں کا نکاح بھی ہو چکا ہے۔ ظفر اللہ خاں نے اور زیادہ خفگی سے کہا طلاق کا بندوبست کر دو۔ عرض کیا گیا۔ ممکن ہے خود لڑکی آپ کی عمر کے آدمی سے رشتہ جوڑنا پسند نہ کرے اور کہے کہ آپ کی بیوی بھی موجود ہے اور اولاد بھی۔ ظفر اللہ خاں نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں گا اور انہوں نے یہی کیا بھی، تاکہ بشریٰ کو حاصل کر سکیں۔ دوسرے دن حضرت لڑکی کے گھر ہی پہنچے اور جب وہ چائے لے کر آئی ...... بشریٰ تو کیا کہتی ہے۔ دیکھ ظاہری شکل پر نہ جانا۔ میں آج بھی گھوڑا بنا ہوا ہوں اور طاقت سے بھرپور، بشریٰ کی نظریں شرم سے جھک گئیں اور چہرہ گلابی ہو گیا۔ پھر آہستہ سے کہنے لگی مالک میں تو حضور کی محض کنیز ہوں۔ یہ سنتے ہی ظفر اللہ خاں نے جیب سے ایک ڈبیہ نکالی اور ہیرے کا کنٹھا نکال کر خود اپنے ہاتھ سے لڑکی کے گلے میں ڈال دیا۔ پھر اس کی انگلیوں پر ٹکٹکی باندھ دی۔ وہ سمجھ گئی اس نے ہاتھ آگے بڑھایا اور انگلی سے میرے نکاح کی انگوٹھی اتار دی۔ تین دن بعد ظفر اللہ خاں لاہائی (ہالینڈ) جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ جہاں وہ بین الاقوامی عدالت کے جج ہیں۔ جاتے وقت بشریٰ کی ماں اور بھائی کے ہاتھ میں ایک بڑی رقم دیتے ہوئے حاکمانہ انداز سے فرمانے لگے۔ دیکھو بشریٰ کی طلاق کا معاملہ جلد سے جلد انجام پا جانا چاہئے۔ خرچ کی پرواہ نہ کرنا۔ آج میری عقل کچھ کام نہیں دیتی۔ اب تک سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ کیا ہوا؟ اور سمجھ میں آئے بھی کیسے۔ میں نے اپنے وجود سے محبت کی تھی اور حق الیقین تھا کہ بشریٰ بھی مجھے سچے دل سے چاہتی ہے۔ ہم دونوں گھڑیاں گن رہے تھے کہ رخصتی کا دن آجائے اور ہم دونوں ایک جان ہو جائیں۔ میں خلیج فارس کے ایک علاقہ میں بہت دور تھا۔ مگر بشریٰ کے محبت بھرے خطوط سے ڈھارس بندھی رہتی تھی۔ بشریٰ ہر ہفتے کئی کئی خط لکھتی، تصویروں کے تراشے بھی بھیجتی۔ یہ دیکھئے تراشے میں ایک جوڑے کی تصویر ہے جو عروسی لباس پہنے ہیں اور یہ عبارت تراشے پر خود بشریٰ کے قلم نے لکھی ہے۔ اللہ ہم دونوں کو کب ایسا ہی جوڑا پہنائیں گے۔ یہ دوسرا تراشہ ہے دو بچے کھڑے ہیں اور بشریٰ نے اس پر لکھا ہے۔ خدا ہمیں بھی ایسے ہی بچے دے گا۔ بہت سے خط سنا کر بد نصیب شوہر چپ ہو گیا اور کسی گہرے سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر قہقہہ اس کے منہ سے پھوٹ پڑا اور اس نے کہنا شروع کیا کوئی خیال بھی کر سکتا تھا کہ بشریٰ کے یہ سب جذبات سراسر فریب تھے اور وہ میرے دل سے صرف کھیل رہی تھی۔ کیا دولت کی طمع اس پر غالب آگئی۔ میں کیوں کر مان لوں۔ اس نے مجھے اس وقت قبول کیا تھا۔ جب میں بالکل فقیر تھا۔ میں قادیانی نہیں تھا۔ محض بشریٰ کو حاصل
٧
کرنے کے لئے قادیانیت میں نے قبول کر لی۔ کیونکہ بشریٰ اور اس کا خاندان قادیانی بن چکا تھا۔ ظفر اللہ خاں قادیانی مذہب کے ایک بڑے رکن ہیں اور میرے دل میں وہم بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ یہی ظفر اللہ خاں میرے دل کو اس طرح گھائل کر کے کچل ڈالیں گے اور قادیانیت کے امام اور امیر المؤمنین اپنے ایک مرید و معتقد کی زندگی اس بیدردی سے اجاڑ کر رکھ دیں گے۔ بیشک اس قسم کی کوئی بات بھی خیال نہیں آ سکتی تھی۔ محمود قزاق نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہ ١٩٥٢ء میں میں نے کتنی کوشش کی کہ لبنان میں کوئی روزگار مل جائے۔ مگر کامیابی نہ ہونے پر میں شام چلا آیا اور ایک سکول میں مدرسی مل گئی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی خالہ سے ملنے دمشق آیا اور خالہ کی لڑکی بشریٰ کو دیکھتے ہی دل دے بیٹھا۔ دوسرے دن بشریٰ کے ساتھ سینما گیا فلم میں ہیرو اور ہیروئین کی شادی دکھائی جا رہی تھی۔ بشریٰ میرے کان میں کہنے لگی یہ خوشی ہمیں کب نصیب ہو گی۔ ١٩٥٤ء میں ہمارا نکاح ہو گیا۔ میں پھر خلیج فارس کی ایک ریاست میں چلا گیا تا کہ جلد سے جلد بہت سا روپیہ جمع کر کے لوٹوں اور اپنی دلہن کو رخصت کر لاؤں۔ بشریٰ کے خط دسمبر کے مہینے سے بند ہو گئے۔ آخر ایک خط بہت دنوں کے بعد آیا۔ اس کی عبارت یہ تھی۔
مولانا امیر المؤمنین دمشق آئے۔ ظفر اللہ خاں بھی تھے۔ کس قدر چاہتی تھی کہ تم بھی یہاں موجود ہوتے اور حضرت ظفر اللہ کی زیارت کرتے۔ بشریٰ کے خط نے میرا دماغ اور بھی خراب کر دیا اور میں طرح طرح کے مطلب نکالنے لگا۔ دمشق پہنچتے ہی سیدھا خالہ کے گھر گیا۔ مگر بشریٰ کی انگلی میرے عقد کی انگوٹھی سے خالی تھی۔ میں نے کہا انگوٹھی اور چوڑیاں غائب ہیں۔ بشریٰ میں آزاد ہوں۔ تم میرے خالہ کے بیٹے ہو اس لئے تم سے شادی منظور نہیں کر سکتی۔ اس کے بھائی محمود نے مجھ سے کہا بشریٰ تمہیں پسند نہیں کرتی۔ تم طلاق کیوں نہیں دے دیتے۔ میں بے اختیار چلا اٹھا۔ ابھی قاضی کے پاس چلو طلاق نامہ لکھے دیتا ہوں۔ قاضی نے جب معاملہ سنا تو خفا ہوئے۔ میں تو غصہ سے بیخود ہو ہی رہا تھا۔ کہا گیا قاضی صاحب نکاح، فرضی یا (غرضی) تھا اور میں بشریٰ کو طلاق دے چکا ہوں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ظفر اللہ خاں نے ٤٥ ہزار پونڈ میں بشریٰ کو خرید لیا ہے اور تیس ہزار پونڈ میں بشریٰ کے خاندان کے لئے ایک مکان دمشق کے محلہ بستان الحجری میں مول لے دیا ہے۔ پھر سنا ظفر اللہ چند ہی دنوں میں دمشق آ رہے ہیں تا کہ بشریٰ سے شادی رچائیں اور میں نے طے کر لیا کہ اس شخص کو قتل کر ڈالوں گا۔ میں نے پستول خرید لیا۔ مگر بشریٰ کے خاندان نے ظفر اللہ کو بھی خبر کر دی اس پر جلسے کا پروگرام روک دیا گیا اور آدھے گھنٹہ کے اندر ہی ظفر اللہ خاں نکاح کر کے ہوائی جہاز سے بھاگ گئے۔
(اخبار الیوم مصر)
٨
خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عبرتناک موت
جناب فرزند توحید صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
انتساب
اس سر ظفر اللہ کے نام جو پاکستان کی اسلامی حکومت کو کفر کی سلطنت سمجھتا ہے اور یہاں مرزائیوں کی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور جس نے قائد اعظم کی نماز جنازہ اس لئے نہیں پڑھی کہ وہ مرزا قادیانی کو پیغمبر نہ ماننے کی وجہ سے کافر تھے۔ (نعوذ باللہ) فرزند توحید، مرزائیوں کا خیرخواہ!
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
”الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ“
قادیانی لنکا میں چھوٹے بڑے کی کوئی تمیز نہیں۔ دجل وفریب اور کذب وافتراء کے لحاظ سے ہر مرزائی باون گزاہی ہے۔ لیکن خلافت مآب کی بارگاہ میں عزت وتوقیر اس مرزائی کی ہوتی ہے اور تنخواہ میں اضافہ بھی اسی کا ہوتا ہے جو مغالطہ دہی اور کذب بیانی میں یدطولیٰ رکھتا ہو۔ اس دور میں ہر قادیانی مبلغ ہر مدرس، ہر مفتی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش میں لگارہتا ہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپا قبر میں لے جانے والی بیماری، قیامت کی باز پرس اور جہنم کی دہکتی آگ کے شعلوں کا خیال بھی ان کے لئے سدراہ نہیں ہوتے۔ مرزائیوں کا ستر بہتر سالہ مفتی محمد صادق (برعکس نام نہند زنگی کافور) قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے اور محمود کو خوش کرنے کے لئے اپنے نامہ اعمال کو افتراء وکذب بیانی کے باعث تاریک سے تاریک تر کرتا چلا جارہا ہے۔ چنانچہ قادیانی نبوت کے سرکاری آرگن ”الفضل“ میں مفتی کاذب نے مخالفین احمدیت کی غلط بیانی کے عنوان سے ایک مضمون دہر گھسیٹا ہے۔ آپ رقمطراز ہیں۔
”آج کل مخالفین سلسلۂ حقہ نے دروغ گوئی کے ساتھ ہمارے خلاف جو باتیں پھیلانی شروع کی ہیں۔ ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ مرزا قادیانی مرض ہیضہ سے فوت ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات لاہور میں ہوئی تھی اور میں اور دیگر احباب اس وقت
٢
حضور کے پاس موجود تھے۔ حضور چہ اسہال کا مرض ہو جاتا تھا۔ چنانچہ لاہ دماغی محنت کے باعث آپ کی طبیع مرض کے علاج کے لئے جو ڈاکٹر بلایا نے اس وقت بھی یہ شور مچایا تھا کہ آ دیا کہ آپ کو ہیضہ نہیں ہوا اور وفات اگر ہیضہ ہوتا تو ریل والے نعش مبارک حضور ہیضہ سے فوت ہوئے۔“
(مفتی محمد صادق
قادیانی مفتی نے کس قد ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ وہ مرزا کوشش نہ کرے۔ خود جھوٹ کا مرتکب ہے۔ ان کی یہ چال بازی ان کے و ہے۔ انگریز کی بخشی ہوئی نبوت میں دیکھتا۔ جائز و ناجائز جو چاہیں کرتے مرزائیوں کے راز ہائے دروں پردہ کو
مجھ سے کہاں
مرزا قادیانی کے مرض م اسہال کا لبادہ اوڑھا دیا اور یہ نہ سمجھا مفتی صاحب نے اسہال کا ذکر تو کر
حضور کے پاس موجود تھے۔ حضور جب کبھی دماغی محنت کیا کرتے تھے تو عموماً آپ کو دوران سر اور اسہال کا مرض ہو جاتا تھا۔ چنانچہ لاہور جب حضور اپنے لیکچر کا مضمون تیار کر رہے تھے تو کثرت دماغی محنت کے باعث آپ کی طبیعت خراب ہوگئی اور دوران سر اور اسہال کا مرض ہو گیا اور اس مرض کے علاج کے لئے جو ڈاکٹر بلایا گیا تھا وہ انگریز لاہور کا سول سرجن تھا اور چونکہ بعض مخالفین نے اس وقت بھی یہ شور مچایا تھا کہ آپ کو ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس لئے صاحب سول سرجن نے یہ لکھ دیا کہ آپ کو ہیضہ نہیں ہوا اور وفات کے بعد آپ کی نعش مبارک ریل میں بٹالہ تک پہنچائی گئی۔ اگر ہیضہ ہوتا تو ریل والے نعش مبارک کو بک نہ کرتے۔ پس مخالفین کا یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ حضور ہیضہ سے فوت ہوئے۔“
(مفتی محمد صادق ربوہ مورخہ ٢٢؍ جنوری ١٩٥١ء، الفضل مورخہ ١١؍ فروری ١٩٥١ء ص ٥)
قادیانی مفتی نے کس قدر جسارت اور دیدہ دلیری سے ایک مسلمہ حقیقت پر خاک ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ وہ مرزائی ہی کیا ہوا جو حق کو کذب بیانی کے پردہ میں چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ خود جھوٹ کا مرتکب ہونا اور الزام دوسروں پر لگانا قادیانیوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ان کی یہ چال بازی ان کے دجل وفریب اور کذب وافتراء کی غمازی کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ انگریز کی بخشی ہوئی نبوت میں بیٹھ کر قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مستور ہیں۔ ہمیں کوئی نہیں دیکھتا۔ جائز و ناجائز جو چاہیں کرتے چلے جائیں۔ انہیں کیا معلوم کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام مرزائیوں کے راز ہائے دروں پردہ کو مرزائیوں سے زیادہ جانتے ہیں۔
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
مرزا قادیانی کے مرض موت ہیضہ کو چھپانے کے لئے مفتی کاذب نے دوران سر اور اسہال کا لبادہ اوڑھا دیا اور یہ نہ سمجھا کہ ان کے حضرت کے اسہال ہیضہ کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے اسہال کا ذکر تو کر دیا۔ لیکن ظلی و بروزی مصلحت کے پیش نظر اپنے مسیح موعود کی
٣
قے کو ہضم کر گئے۔ حالانکہ مرتے وقت مرزا قادیانی کے گرد قے اور دست دونوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی کی اہلیہ اور مرزا محمود احمد قادیانی کی والدہ مکرمہ نے فرمایا۔ مرزا بشیر احمد ایم۔اے ابن مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سوگئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کا اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے۔ اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔“
(سیرت المہدی طبع دوم ص ١١، حصہ نمبر ١، روایت نمبر ١٢)
مرزائیو! بتاؤ کہ دست اور قے دونوں تھے یا نہیں؟ اگر آپ اس قادیانی معجون مرکب کو ہیضہ کے نام سے موسوم نہیں کرتے تو فرمائیے کہ مرزائی نبوت کی اصطلاح میں دست و قے کی اس مہلک بیماری کا کیا نام ہے؟ رہا قادیانی مفتی صاحب کا یہ فرمان کہ:
- الف ....... انگریز ڈاکٹر نے لکھ دیا کہ ہیضہ نہیں ہوا۔
- ب ....... اگر ہیضہ سے موت ہوتی تو ریل والے نعش کو بک نہ کرتے۔
یہ دونوں عذر لنگ ہیں۔ نہ معلوم قادیانی مفتی نے بہتر سالہ عمر کس جنت الحمقاء میں بسر فرمائی ہے۔ از راہ کرم تکلیف فرما کر اپنے امیرالمومنین خلیفۃ المسیح ہی سے دریافت فرما لیتے کہ
٤
سفارشات و رشوت سے کیسے کیسے سخت اور مشکل کام فوراً انجام پذیر ہو سکتے ہیں۔ معمولی قادیانیوں کا کیا ذکر۔ جب ان کے بڑے حضرت نے محترمہ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کروانے کے لئے محمدی بیگم کے حقیقی ماموں کو رشوت یا انعام کا لالچ دے کر نکاح کرانے سے دریغ نہ کیا تو چھوٹے حضرتوں نے انگریز ڈاکٹر اور انگریز اسٹیشن ماسٹر کو رشوت یا انعام دے کر مرزا قادیانی کی نعش کو دجال کے گدھے پر لدوا دیا۔ تو کون سے تعجب کی بات ہے؟
- ١۔ مرزا قادیانی زندیق کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم۔ اے لکھتے ہیں۔ ’’بیان کیا مجھ سے
میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان احمد بیگ سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم ص١٩٢، ١٩٣، روایت نمبر ١٧٩)
یہ گھر کی شہادت بآواز بلند اعلان کر رہی ہے کہ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرانے کے لئے مرزا قادیانی محمدی بیگم کے ماموں کو انعام یا رشوت دینے کے لئے تیار تھے۔ مرزائیو! اللہ کے لئے غور کرو کہ پہلے اللہ تعالیٰ کے نام سے محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی شائع کرنا۔ انعام، رشوت اور روپے کے لالچ سے نکاح کی کوشش کرنا کسی راست باز انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ جیسا کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے۔ ’’ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسا مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیش گوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے اپنے مکر سے اور اپنے فریب سے ان کے پورے ہونے کے لئے کوشش کرے اور کروائے۔‘‘
(سراج منیر ص ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧)
مرزائیو! اب اپنے پادری غلام احمد کے بارے میں خیال کرتے ہو۔
- ٢۔ مرزائی ریل گاڑی کو دجال کا گدھا کہتے ہیں۔ گدھا دجال کا اور اس پر نعش
مرزا قادیانی کی۔ کیا ہی صحیح مقولہ ہے۔ حق بحقدار رسید!
٥
اگر ایسی ہی شہادتوں سے آپ اپنے مسیح موعود کی صداقت پیش کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو دنیا میں ہزاروں فرنگی ایسے مل جائیں گے جو انعام یا رشوت لے کر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ قادیانی مسیحیت کا ڈھنڈورا پیٹ دیں۔
مفتی جی! آپ اپنے مسیح موعود، ام المؤمنین، اور قادیانی خاندان نبوت کو چھوڑ کر فرنگی گواہوں کی پناہ کیوں لے رہے ہیں؟
عیسائیوں سے ساز باز تو نہیں کر رکھی؟ جب مرزا قادیانی کی اہلیہ صاحبہ فرماتی ہیں اور صاحبزادہ بشیر احمد مشتہر کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی آنجہانی کی موت دست و قے سے ہوئی تو کیا ہیضہ کے سر پر سینگ ہوا کرتے ہیں؟
اگر لفظ ہیضہ سے آپ کی تسلی و تشفی نہیں ہو سکتی تو لیجئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے خسر مرزا محمود احمد کے نانا میر ناصر نواب کے واسطہ سے خود مرزا قادیانی نے اپنے مرض موت کا جو نام ہیضہ تجویز فرمایا۔ سن لیجئے!
اور قادیانی غلو کی عینک اتار کر مندرجہ ذیل عبارت پڑھئے اور سوچ سمجھ کر بتائیے کہ مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے ہوئی یا نہیں؟ مرزا غلام احمد قادیانی کے خسر میر ناصر نواب خود نوشت سوانح حیات میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی صاف بات میرے خیال میں تو نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ ایک طرف تو ہم پر آپ کے انتقال کی مصیبت پڑی تھی۔ دوسری طرف لاہور کے شورہ پشت اور بدمعاش لوگوں نے بڑا غل غپاڑہ اور شور و شر بپا کیا تھا اور ہمارے گھر کو گھیر رکھا تھا کہ ناگہاں سرکاری پولیس ہماری مخالفت کے لئے رحمت الٰہی سے آن پہنچی۔“
(حیات ناصر ص ١٤)
٦
آخری فیصلہ
لطف یہ ہے کہ م اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ ” ہوئے لکھا ہے۔ ”اگر میں ای پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں کامل اور صادق خدا اگر مولوی تیری جناب میں دعاء کرتا ہو طاعون، ہیضہ وغیرہ امراض م مرزا قادیانی کے امرتسری کے لئے طاعون اور ہ مگر اللہ تعالیٰ نے م متنبی قادیان کی طرف پھیر د سمیت اگلے جہاں کی طرف کو وفات لکھی ہے۔
١ طاعون نے بھی م مدراسی کو لکھا۔ ”اس طرف طا ہوئی ہیں۔ چند روز ہوئے ہیں ہوئے۔ مگر پھر خدا تعالیٰ کے فضل طاعون جوڑوں میں ہوتی ہے۔
آخری فیصلہ
لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار بعنوان ’’مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ شائع کیا تھا۔ اس اشتہار میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں۔ تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا…… مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعاء کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون، ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا الفاظ اعلان کر رہے ہیں کہ مرزا قادیانی مولانا ثناء اللہ امرتسری کے لئے طاعون اور ہیضہ کی دعا کرتے تھے۔
مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے قبولیت دعا کا رخ مولانا ثناء اللہ کی بجائے خود متنبی قادیان کی طرف پھیر دیا اور ہیضہ نے مرزا قادیانی کو آ دبوچا اور وہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ سمیت اگلے جہاں کی طرف کوچ کر گئے۔ کسی زندہ دل شاعر نے مرزا قادیانی آنجہانی کی تاریخ وفات لکھی ہے۔
لے طاعون نے بھی مرزا قادیانی سے دست پنجہ لیا تھا۔ جیسا کہ انہوں نے سیٹھ عبدالرحمٰن مدراسی کو لکھا۔ ’’اس طرف طاعون کا بہت زور ہے۔ سنا ہے ایک دو مشتبہ وارداتیں امرتسر میں بھی ہوئی ہیں۔ چند روز ہوئے ہیں میرے بدن پر بھی ایک گلٹی نکلی تھی۔ پہلے کچھ خوفناک آثار معلوم ہوئے۔ مگر پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا زور جاتا رہا۔ ایک ہاتھ میں غدود پھول گئے تھے اور یہ طاعون جوڑوں میں ہوتی ہے۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج ٥ حصہ اوّل ص ١٥)
٧
اور تو زندہ ہیں خود ہی مرگیا
اس کے بیماروں کا ہو گا کیا علاج
کالرہ ١ سے خود مسیحا مر گیا
(١٣٢٦ھ)
مرزائیوں کی ماں
نصرت جہاں بیگم یعنی مرزا قادیانی زندیق کی بیوی بھی اپنے دجال اور کذاب شوہر کی طرح ہیضہ سے ہلاک ہو گئی۔ مگر اپنی مرتد ذریت مرزا محمود قادیانی کو بیسویں صدی کے مسیلمہ کذاب کی صورت میں پیچھے چھوڑ گئی جو اپنی پوری طاقت سے کفر اور ارتداد پھیلا رہا ہے اور امت مسلمہ کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ مرزائیوں نے اپنی ماں کے مرض موت ہیضہ کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ جس طرح اس کے گرو گھنٹال خاوند مرزا قادیانی کے مرض موت ہیضہ کو چھپانے کی کی تھی اور ساتھ ہی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس مرتد کا مرتے وقت تعارف کراتے ہوئے بھی فریب سے کام لیا گیا ہے اور مطلق شرم و حیا نہیں محسوس کی کہ اس نے اپنی شب عروسی چارپائی کے پائے پکڑ کر کیوں گذار دی۔ اگر کوئی اس کا راز معلوم کرنا چاہتا ہے تو اسے مرزائیوں کی ماں نصرت جہاں بیگم کا وہ خط مطالعہ کرنا چاہئے جو اس نے شادی کے دوسرے دن اپنے والد کو لکھا تھا۔ جس میں یہ لکھا تھا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ خودکشی کرلوں۔ کیونکہ شادی کے وقت نصرت جہاں کی عمر ١٦ سال کی تھی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی عمر تقریباً ٤٥ سال تھی اور وہ نامردی کا علاج کرواتے پھرتے تھے۔ مرزا قادیانی کے خطوط کی نقل ہمارے پاس موجود ہے۔
١ انگریزی میں کالرہ ہیضہ کو کہتے ہیں۔
٨
خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
ربوے کا راسپوٹین یا
مذہبی آمر
جناب فرزند توحید صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
قارئین
یہ کتابچہ جس کا آپ ابھی مطالعہ کریں گے۔ حوالہ جات کی صحت کا اس حد تک خیال رکھا گیا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی مستند کتب کے اقتباسات کو ہی نقل کیا گیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے بیٹے مرزا محمود قادیانی کے گندے چال چلن کے متعلق گواہ ان کے گھر سے پکڑ کر لایا ہوں۔ مثل مشہور ہے:
مرزا محمود قادیانی کے چال چلن کا تو یہ حال ہے۔ ان کے اپنے پہرے دار جو محلاتی زندگی کے اردگرد ان کے گناہوں پر پردہ ڈالے ہوئے تھے وہ خود ان کے محل کو زنا کا اڈہ بتلانے لگے۔ خیر یہ ان کے گھر کی بات ہے۔ ہم اس میں کیوں دخل دیں۔
ہمارا تو مرزا محمود قادیانی سے ایک ہی سوال ہے۔ یہ آپ کے مریدان باصفا آپ کے محل کو راجہ اندر کا اکھاڑہ کیوں کہتے ہیں اور آپ اس زانیہ گونگی کی طرح ”ہو، ہی، ہو“ کیوں کر رہے ہیں۔ مثل اس شعر کے
مرزا محمود قادیانی کی طویل خاموشی ہی اپنے گناہوں کے اعتراف کے لئے کافی ہے۔ زنا جیسے گھناؤنے فعل کے سیاہ اور بد نما داغ کو دھونے کا ہم ایک ہی مشورہ دے سکتے ہیں۔ ان گناہوں کا فراخ دلی سے اقرار کرو اور ان تمام لونڈے اور لونڈیوں سے مل کر ایک ایک سے معافی مانگو اور ان مقاموں پر لے جا کر معافی مانگو۔ جہاں جہاں لے جا کر انہیں استعمال کیا تھا۔
صرف اعجاز سے قصر خلافت میں دو دفعہ معافی مانگو۔ اس کو آپ نے ڈلہوزی پہاڑ اور قصر خلافت میں استعمال کیا تھا۔ ڈلہوزی پہاڑ نہرو کے پاس ہے۔ شاید وہاں جانے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ وہ ٣١٣ جاسوس جو آپ نے قادیان میں چھوڑے ہوئے ہیں۔ ان کے توسط سے ڈلہوزی جاسکیں تو آپ دیر نہ کریں۔ ویسے مرزا محمود قادیانی اپنے باپ کے مقابلہ میں کامیاب رہے۔ ان کے باپ مرزا غلام احمد قادیانی پوری زندگی محمدی بیگم کی شلوار دھوبی کے گھر سے لا لا کر سونگھتار ہا اور آخر ناکامی کی حالت میں ہاتھ مل مل کر اس جہاں سے ١٩٠٨ء میں جہنم کی طرف کوچ کر گیا۔
مرزا محمود قادیانی اس لئے کامیاب رہے۔ بقول عبدالرحمن مصری بورڈنگ جدید کا مرزا محمود قادیانی کو بڑا فائدہ یہ پہنچا کہ لڑکے اور لڑکیاں جمع شدہ مل جاتے ہیں۔ تلاش نہیں کرنے پڑتے۔
٢
مرزائیوں کی پیشین گوئی
تمام مرزائیوں کے نز پیشین گوئی پوری ہو جائیں تو وہ اس ہو جائیں تو نصف ، بارہ والے کو یہ اور یہ لوگ پیشین گوئی مرنے کے بعد خوب ڈینگیں مار
خدا خصوصاً
میری پیشین گوئی بھی ہر مرز سنا ہے تمہارا خلیفہ محمود لی ہے۔ اب بولنے کی قوت بھی سلب اس کی اس بدترین لاش دو گے۔ گڑھے میں ڈالنے کے بعد اور تمہارے گورگھنٹال مرزا غلام احمد یاد رکھ
چیلنج
میں نے جو الزامات مر قدر بھروسہ ہے کہ مرزائیوں کا کوئی کر لیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہر ضلع ک
نوٹ خاص
مجھے افسوس ہے کہ وقت لئے مجھے مرزائیوں کی کتب کے ضرورت تھی۔ اس ضرورت کے جگہوں پر دس دس دن لگا کر اسے
مرزائیوں کی پیشین گوئی
تمام مرزائیوں کے نزدیک نبوت کا معیار پیشین گوئی ہے۔ اگر کسی مرزائی کی اتفاقیہ تین پیشین گوئی پوری ہو جائیں تو وہ اپنے آپ کو پاؤ، پیغمبر سمجھنے لگ جاتا ہے اور چھ پیشین گوئی کسی کی پوری ہو جائیں تو نصف ، بارہ والے کو یہ مکمل پیغمبر سمجھ کر ایمان لے آتے ہیں۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی پر۔ اور یہ لوگ پیشین گوئی بھی مریض کو نزع کی حالت میں دیکھ کر کیا کرتے ہیں۔ اس کے مرنے کے بعد خوب ڈینگیں مارا کرتے ہیں۔
خصوصاً قادیاں کے انبیاء سے
میری پیشین گوئی بھی ہر مرزائی یاد رکھے
سنا ہے تمہارا خلیفہ محمود اندھا اور بہرا ہو چکا ہے۔ خدا نے ہلنے جلنے کی قوت بھی سلب کر لی ہے۔ اب بولنے کی قوت بھی سلب ہونے والی ہے۔ اس کی اس بدترین لاش کو زمین لینے پر آمادہ نہیں ہوگی۔ لیکن تم اسے جبراً گڑھا کھود کر ڈال ہی دوگے۔ گڑھے میں ڈالنے کے بعد تمہاری پوری امت خلافت کے معاملہ میں جنگلی سؤر کی طرح لڑے گی اور تمہارے گرو گھنٹال مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا فتنہ ١٥ ویں صدی اسی گڑھے میں دفن ہو جائے گی۔
چیلنج
میں نے جو الزامات مرزا محمود قادیانی اور اس کے باپ پر لگائے ہیں۔ ان کی صحت پر اس قدر بھروسہ ہے کہ مرزائیوں کا کوئی پادری پاکستان کے کسی بھی ضلع کمشنر کی نگرانی میں مجھ سے مناظرہ کرلیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہر ضلع کمشنر سے ان کے کامیاب زانی ہونے کا سرٹیفکیٹ دلا دوں گا۔
فقط : فرزند توحید ، مرزائیوں کا خیر خواہ!
نوٹ خاص
مجھے افسوس ہے کہ وقت کی قلت کے سبب اس کتابچہ کو طویل نہ کر سکا۔ پھر بھی اس کے لئے مجھے مرزائیوں کی کتب کے دس ہزار سے زائد صفحات کا مطالعہ کرنا پڑا۔ مجھے تنہائی کی شدید ضرورت تھی۔ اس ضرورت کے لئے میں نے تاج ہوٹل بہاولنگر اور دہلی مسلم ہوٹل لاہور ، ہر دو جگہوں پر دس دس دن لگا کر اسے مکمل کیا ہے۔
٣
قادیانی پیغمبر کا لونڈا (لڑکے کا نام سندر لال تھا)
مرزائی برادری عوام کا یہ شک رفع کرنے میں ٥٥ سال سے ناکام ہے۔ مرزا قادیانی نے ہندوؤں کا ایک لڑکا (سندر لال) خصوصی طور پر اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ معترضوں نے جب اس کا تعارف کرنا چاہا کہ یہ لڑکا کون ہے تو مرزا قادیانی نے فرمایا کہ یہ میرا کاتب الوحی ہے۔ وحی بعض دفعہ سنسکرت میں یعنی ہندی زبان میں نازل ہو جاتی ہے اور یہی لڑکا اس کا ترجمہ سناتا ہے۔ تف ہے ان لوگوں پر جو ایسے آدمی پر ایمان لائے ہیں۔ جو شرافت کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا اور اس شیطانی الہام کو سمجھنے کی قوت سے بھی محروم ہیں۔ جس کے لئے ان کا دعویٰ ہے کہ یہ وحی الٰہی ہے۔
نوٹ خاص
مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد اب اس کے بیٹے مرزا محمود کے کرتوت ملاحظہ کریں۔
- ١...... خلیفہ قادیان کا ایک سابق مرید محمد زاہد ایڈیٹر اخبار مباہلہ قادیان اس شخص نے
خلیفہ قادیان مرزا محمود احمد کو غیر فطری بدچلنی کے تمام الزامات لگا کر مباہلہ کا چیلنج دیا اور خلیفہ صاحب نے اس چیلنج کا کبھی جواب نہیں دیا۔
- ٢...... مباہلہ نامی اخبار قادیان میں ایک بیان احمدی قادیانی خاتون کا شائع ہوا۔
جس میں اس نے بیان دیا۔ میرے والد صاحب جو بڑے مخلص احمدی ہیں۔ ہر کام کی اجازت خلیفہ صاحب سے لیا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے رقعہ دے کر خلیفہ کے پاس بھیجا۔ خلیفہ صاحب نے اپنی عیاری سے کمرے کے دروازے بند کر لئے اور میرے ساتھ زبردستی زنا کیا۔
- ٣...... بیگم صاحبہ ڈاکٹر عبداللطیف صاحب ہم زلف خلیفہ ربوہ فرماتی ہیں کہ میں
نے خلیفہ ربوہ کو زنا کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ میں اپنے دونوں بیٹوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتی ہوں۔
- ٤...... علی حسین صاحب نے حلفیہ بیان دے کر کہا کہ میری والدہ خلیفہ ربوہ کے
ہاں رہا کرتی تھی۔ اس نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ خلیفہ صاحب جوان نامحرم لڑکیوں پر عمل مسمریزم کر کے انہیں سلا دیا کرتے تھے۔ پھر کئی جگہ ہاتھ سے کاٹتے تو انہیں ہوش نہیں ہوتا تھا اور ایک دفعہ میں سیڑھیوں پر چڑھ رہی تھی۔ اوپر سے حضرت صاحب اتر رہے تھے جب میرے مقابل پہنچے تو میری چھاتی پکڑی ، میں نے زور سے چھڑوائی۔
- ٥...... محمد یوسف صاحب ناز نے حلفیہ بیان دیا کہ مرزا محمود قادیانی نے خود اپنے
سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کرا دیا۔
٤
- ٦...... مرزا منیر احمد نصیر نے حلفیہ بیان دیا کہ خلیفہ ربوہ زانی اور اغلام باز ہے۔
(فاعل مفعول) ہر فن مولا ہے۔
- ٧...... منیر احمد حلفیہ بیان دے کر کہتے ہیں کہ خلیفہ صاحب کو میں نے اپنی آنکھ
سے زنا کرتے دیکھا ہے اور میرے ساتھ بھی بدفعلی کی ہے۔
- ٨...... محمد عبداللہ احمدی سیمنٹ فرنیچر ہاؤس مسلم ٹاؤن لاہور کہتے ہیں کہ میرے
سامنے قرآن پاک ہاتھ میں لے کر عبدالرحمن مصری کے بڑے لڑکے حافظ بشیر احمد نے کہا کہ موجود خلیفہ نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے۔
- ٩...... جناب غلام حسین صاحب احمدی فرماتے ہیں کہ: ”میں نے حبیب احمد
اعجاز کو قسم دے کر دریافت کیا تو انہوں نے قسم کھا کر مجھے بتلایا کہ حضرت مرزا قادیانی نے دومرتبہ مجھ سے لواطت کی ہے۔ ایک دفعہ قصر خلافت میں اور دوسری دفعہ ڈلہوزی پہاڑ پر میں نے جب ان سے تحریر مانگی تو نامکمل لکھ کر دی۔“
١٠...... ایک راز کی بات بتاؤ
خلیفہ صاحب آپ کے جو مرید آپ کے گناہوں کو ڈھانپنے کے لئے آہنی دیوار بنے ہوئے تھے۔ اب وہ آپ کے رازوں سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے خلیفہ صاحب نے جن عورتوں اور لڑکوں کو استعمال کیا ہے۔ ان کا شمار کسی طرح ہزار سے کم نہیں ہے۔ وہ آدمی کون خوش نصیب تھا جب آپ آرام فرما رہے تھے۔ اس نے دو مرتبہ آپ کا کمر بند کھولا اور دونوں مرتبہ آپ نے شک کی بناء پر بے نیازی کا مظاہرہ کیا۔ تیسری مرتبہ جب وہ اچھی طرح لگ گیا تو آپ کو یقین ہو گیا اس کی نیت بد تھی اس کا جواب ضرور دو۔
مرزائیو! اب بتلاؤ مزید کتنی شہادتیں درکار ہیں۔
مجھ سے چھپ سکیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
جناب کے راز داں! فرزند توحید!
١١...... ایک زانی کو خلیفہ ماننے والو...... تمہیں مبارک ہو
سیدہ ام صالحہ بنت ابرار حسین نے انٹرویو دیتے ہوئے بتلایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور دیگر عورتوں سے خلیفہ صاحب کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے ایک دفعہ خلیفہ صاحب سے عرض کیا۔ حضور یہ کیا معاملہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن اور حدیث میں اس کی اجازت ہے۔ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک!
٥
١٢...... قادیانی مذہب کے خلیفہ محمود
قادیانی مذہب کے خلیفہ محمود ان دنوں موت وزندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ان کی صورت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ اب وہ پہچانے بھی نہیں جاتے۔ ان کے چہرے سے خوف آتا ہے۔ اس قدر ڈراؤنی شکل ہو گئی ہے کہ بڑے سے بڑا عقیدت مند خلیفہ کے قریب جانے سے خوف محسوس کرتا ہے۔
ان حالات نے قادیانی جماعت کے اندر اس قدر انتشار پیدا کر دیا ہے کہ ہر قادیانی خلیفہ محمود کا جانشین بننے کی فکر میں ہے۔ چنانچہ اس وقت مرزا محمود کا بھائی اور لڑکا یہ تو گھر کے دو آدمی ہیں جو خلافت کے امیدوار ہیں۔ باہر سے جن لوگوں نے خلافت پر نظریں جما رکھی ہیں۔ ان میں حکیم نور الدین خلیفہ اوّل مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ پیش پیش ہیں۔
جہاں تک باقی تین امیدواروں کا تعلق ہے۔ ہم انہیں نہیں جانتے لیکن سر ظفر اللہ خاں ایک ایسا امیدوار ہے جسے ساری دنیا جانتی ہے کہ اس نے قادیانی جماعت کی کس قدر خدمات سرانجام دیں۔ پاک و ہند کو چھوڑ کر وسط ایشیاء اور یورپین ممالک میں ان کی خدمات کے سائن بورڈ لٹک رہے ہیں اور پاکستان کا ہر سفارت خانہ تبلیغ مرزائیت کا اڈا بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اخلاقی طور پر کتنے اونچے ہیں۔ اس کے لئے ہم مصر کے مشہور روز نامہ اخبار الیوم کا ایک اقتباس نقل کر رہے ہیں۔ (نوٹ: چونکہ وہ طویل اقتباس بناسپتی پیغمبر کے صحابہ نامی پمفلٹ میں شائع ہو چکا ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا گیا ہے۔ مرتب!)
١٣...... بیٹی کی عصمت پہ ہاتھ ...... لعنتی باپ کا پاپ
الٰہی کفر گاہ ربوہ تباہ کیوں ہو نہیں جاتا
محمد صالح نور واقف زندگی کارکن تحریک جدید ربوہ نے حلفیہ بیان دیا کہ ہم نے خلیفہ ربوہ کی صاحبزادی امت الرشید بیگم زوجہ میاں عبدالرحیم سے ملاقات کی۔ انہوں نے خلیفہ صاحب کے بدچلن و بدقماش و بدکردار ہونے کی تصدیق کی تو میں نے امت الرشید بیگم سے کہا کہ آپ کے خاوند کو ان حالات کا علم ہے۔ جواب میں انہوں نے کہا صالح نور محمد صاحب آپ کو کیا بتاؤں کہ ہمارا (باپ) ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے۔ اگر یہ تمام واقعات میرے خاوند کے علم میں آجائیں تو وہ مجھے ایک منٹ کے لئے بھی گھر میں نہ رکھے، تو پھر میں کہاں جاؤں گی؟ یہ کہہ کر امتہ الرشید بیگم کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور یہ لرزہ خیز بات سن کر میں بھی ضبط نہ کر سکا۔
٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مسخروں کی محفل یا
قادیانی انبیاء
جناب فرزند توحید صاحبؒ
بسم الله الرحمن الرحيم!
آغاز
مرزا قادیانی کی تحریک کا فتنہ جب تک بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک نہیں دیا جاتا ہمارے رسول نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کی حرمت سے کھیلنے والے دندناتے پھرتے رہیں گے۔ مرزا قادیانی نے بددیانتی جھوٹ مکر وفریب اور خودساختہ نبوت کے جس درخت کی آبیاری کی اس کی شاخیں پھیلتی جا رہی ہیں اور اس دریدہ دہن کے نقش قدم پر چلنے والوں کی کھیپ در کھیپ چلی آ رہی ہے۔ میں مدت سے قادیانی فتنے کے خلاف نبردآزما ہوں۔ میں نے اپنی جوانی کے شب و روز اپنے اور دنیا بھر کی امت مسلم کے آخری نبی ﷺ کی حرمت و تقدیس کی حفاظت کے لئے وقف رکھے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت میں نبوت کے ان جھوٹے دعوے داروں کا پول کھولنا چاہتا ہوں۔ جو مرزا قادیانی کی تعلیمات سے متاثر ہو کر دعویٰ دار نبوت بن گئے۔ لیکن یہ پول خود مرزا قادیانی کی زبانی ہی کھولے جائیں گے۔ بھلا وہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی متنبی ان کے مقابل پر ہو۔ مرزا قادیانی کو اپنی زندگی میں ٥ جماعتوں سے سابقہ پڑا۔ (١) پہلی جماعت تو وہ تھی جو شروع سے تاڑ گئی اور مخالف رہی۔ (٢) دوسری جماعت وہ جو شروع میں معتقد رہی۔ لیکن مسیح موعود کے دعویٰ پر بھڑک اٹھی اور منحرف ہوگئی۔ (٣) تیسری جماعت نے مسیح موعود کا تو دعویٰ قبول کر لیا۔ لیکن نبوت کے دعویٰ کو ٹال دیا۔ (٤) چوتھی جماعت نے نبوت کے دعویٰ کو نہ صرف تسلیم کیا۔ بلکہ زور و شور سے اس کی اشاعت بھی کی اور (٥) پانچویں وہ جماعت ہے جس نے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو مان کر خود بھی فائدہ اٹھایا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اس آخری جماعت کو اس کتابچے میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ مرزا قادیانی کے جن پیروکاروں نے اپنے متنبی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ انہیں مرزا قادیانی نے ٹھکرا دیا اور ان کی قدر نہ کی۔ حالانکہ:
بہر حال مرزا قادیانی کے جو حوصلہ مند مرید نبوت کے دعویدار بنے ان میں سے مختصراً ذیل میں پیش ہیں۔ قادیانی امت میں نبوت کی کیسی برکت ہے۔
مرزائیوں کا خیر خواہ ، فرزند توحید!
٢
مرزا محمود کا واویلا
”دیکھو! ہماری جماعت م سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیا میں ابتداء میں انہیں الہام ہوئے اور ب انہوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غل اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان د خدائے تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ ب مخلصانہ تھی۔ ان کے الہاموں کا ایک ح الہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا اور ٹھوکر کھا ایک آدمی یہاں آیا جو احمدی تھا۔ کہنے ل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ک دیے جاتے ہیں۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام ک ابراہیم علیہ السلام کی طرز کا کلام اور پ جیسے معارف اور لطائف روحانی آپ کو کچھ نہیں جاتا صرف کہا جاتا ہے۔ حضر نہیں کیا کرتا۔ وہ جب کسی کو کوئی نام دی ہوتے ہیں ان کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو ت لیتے ہو اور غلطی سے اس کا مخاطب اپنے ا ہے جو تمہیں دھوکہ دے رہا ہے۔ دیتا تو خ وہ بات کہتا ہے جو تم میں نہیں پائی جاتی ت
( تقریر میاں محمود احمد قادیانی مندرجہ
مولوی یار محمد قادیانی کی نبوت ک
”ایک میرے استاد تھے جو ب بن گئے ۔ ان کا نام مولوی یار محمد تھا۔ انہو کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا دو
مرزا محمود کا واویلا
’’دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعی نبوت کھڑے ہوگئے ہیں۔ ان میں سے سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ نہیں بولتے۔ واقعہ میں ابتداء میں انہیں الہام ہوئے اور کوئی تعجب نہیں۔ اب بھی ہوتے ہوں مگر نقص یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔ ان میں سے بعض سے مجھے ذاتی واقفیت ہے اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان میں اخلاص پایا جاتا تھا۔ خشیت اللہ پائی جاتی تھی۔ آگے خدائے تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ خیال کہاں تک درست ہے۔ مگر ابتداء میں ان کی حالت مخلصانہ تھی۔ ان کے الہاموں کا ایک حصہ خدائی الہاموں کا تھا۔ مگر نقص یہ ہو گیا کہ انہوں نے الہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا اور ٹھوکر کھا گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ایک آدمی یہاں آیا جو احمدی تھا۔ کہنے لگا مجھے الہام ہوتے ہیں کہ تو موسیٰ ہے، ابراہیم ہے، محمد ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بتاؤ جب تمہیں موسیٰ کہا جاتا ہے تو اس قسم کے نشان بھی دیے جاتے ہیں۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے۔ یا جب ابراہیم کہا جاتا ہے تو کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرز کا کلام اور برکات بھی دیئے جاتے ہیں؟ یا جب محمد ﷺ کہا جاتا ہے تو جیسے معارف اور لطائف روحانی آپ کو دیئے گئے وہ تمہیں بھی دیئے جاتے ہیں؟ وہ کہنے لگا دیا تو کچھ نہیں جاتا صرف کہا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ دیکھو! خدا کسی سے مخول نہیں کیا کرتا۔ وہ جب کسی کو کوئی نام دیتا ہے تو اس کے ساتھ برکات بھی دیتا ہے۔ تمہیں جو الہام ہوتے ہیں ان کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو یہ کہ وہ کلام کسی اور کے لئے نازل ہوتا ہے۔ جسے تم بھی سن لیتے ہو اور غلطی سے اس کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھ لیتے ہو۔ یا پھر یہ خدا کا کلام نہیں، شیطان کا کلام ہے جو تمہیں دھوکہ دے رہا ہے۔ دیتا تو کچھ نہیں مگر کہتا ہے تم یہ بن گئے، وہ بن گئے۔ گویا وہ تمہیں وہ بات کہتا ہے جو تم میں نہیں پائی جاتی۔‘‘
(تقریر میاں محمود احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج١٥ نمبر٧٦، ٧٧، مورخہ ٣٠؍مارچ ١٩٢٨ء)
مولوی یار محمد قادیانی کی نبوت
’’ایک میرے استاد تھے جو اسکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان کا نام مولوی یار محمد تھا۔ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آ گیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی
٣
نقص ہو۔ مگر ہم نے یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود الصلوٰۃ والسلام کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر پیش گوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم جنوری ١٩٢٥ء)
احمد نور کابلی قادیانی کی نبوت
”لا الہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اب آسمان کے نیچے اللہ کا دین میری تابعداری ہے اور اللہ کا مخاطب رسول زندہ موجود دنیا پر میں ہوں۔ میرا مان لینا اللہ کا دین ہے اور میرے خلاف اور نہ مان لینا اللہ کے دین سے اخراج ہے اور دنیا پر میرا وقت رسالت کا ہے اور اللہ کے دین کی رسی صرف میرے اور رحمٰن کے ہاتھ میں ہے۔ میری وحی اللہ کی طرف سے ہے۔ جیسا کہ تمام انبیاء کی وحی اللہ سے ہے۔ میں اللہ کی طرف سے رحمۃ للعالمین ہوں۔ میں تمام انبیاء کا مظہر ہوں اور قرآن کو ستاروں سے لایا ہوں۔“
(لکل امۃ اجل ص ٢،١، مصنفہ احمد نور کابلی قادیانی)
”سید احمد نور کابلی (قادیانی)...... ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار آدمی ہیں۔ پس ان کا کام ہماری طرف کس طرح منسوب کیا جا سکتا ہے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢٢ نمبر ٥٨ ، مورخہ ١١ نومبر ١٩٣٤ء)
عبداللطیف قادیانی کی نبوت
”چونکہ خدا تعالیٰ نے نو سال سے مجھے کل دنیا کی ہدایت کے لئے اور اسلام کو ہر رنگ میں تمام ادیان پر غالب کرنے کے لئے اپنا نبی اور رسول اور امام مہدی بنا کر مبعوث کیا ہے اور میرے دعوےٰ کے دلائل کتاب چشمہ نبوت کے ذریعہ پانچ سال سے شائع ہو چکے ہیں۔ لیکن میاں محمود احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے میرے دعوےٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ وہ ان کو سزا دے گا اور ان کے اسی انکار اور سرکشی کی پاداش میں خدا کا غضب میاں محمود احمد قادیانی پر اور ان کے ساتھیوں پر اور ان کی بستی پر کسی سخت مصیبت اور عذاب شدید عبرتناک کی صورت میں عنقریب نازل ہونے والا ہے اور اس عذاب شدید کے بعد جماعت احمدیہ کے بقیہ اور منتشر لوگ پھر خدا کے حکم سے میرے ہاتھ پر جمع ہوں گے۔ اس عذاب کے ٹلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جماعت احمدیہ قادیان قوم یونس کی طرح میرے دعوےٰ پر ایمان لاکر مجھے قبول کریں۔ اس کے سوا اور کوئی صورت اس عذاب کے ٹلنے کی نہیں۔“ (مورخہ ٥ /مارچ ١٩٣٠ء ، عبداللطیف خدا کا نبی اور رسول اور امام مہدی گنا چور، ضلع جالندھر)
٤
چراغ دین جموی قادیانی کی نبوت
چراغ دین جموی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔ ”نزل بہ الجبیز کہ یہ کتے کی طرح آبیٹھا تو اسے ٹکڑا ڈال دیا گیا۔ اس میں بھلا کیا الہام کے قابل تھا۔ مگر ہمارے دروازہ پر آبیٹھا۔ اس لئے اس پر الہام تو نازل کر دیا گیا مگر وہ ایسا ہی تھا جیسے کتے کو ٹکڑا ڈال دیا جائے۔ چراغ دین تو مرتد ہو گیا۔ کیونکہ جبیز کو اس نے اعلیٰ چیز سمجھ لیا اور اس پر اترانے لگا۔ لیکن اگر پیچھے پڑنے سے پہلے جبیز ہی نازل ہو اور انسان اس پر متکبر نہ ہو۔ بلکہ دعاؤں میں لگا رہے تو اس کے لئے اعلیٰ چیز بھی نازل ہوگی۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلے پہل معمولی چیز ملتی ہے۔ لیکن جب تعلقات بڑھ جاتے ہیں اور دوستی ترقی کر جاتی ہے تو دعوتیں ہونے لگتی ہیں۔ پس اگر کسی کو خدا تعالیٰ خوانِ نعمت پر نہیں بلاتا اور دعوت نہیں دیتا تو بھی اسے کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ خواہ جبیز ہی مل جائے۔“
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ١٨ نمبر ٥٩، مورخہ ١٥؍ نومبر ١٩٣٠ء)
”چونکہ اس شخص (چراغ دین) نے ہمارے سلسلہ کی تائید کر کے دعویٰ کر کے اور اس بات کا اظہار کر کے کہ میں فرقہ احمدیہ میں سے ہوں جو بیعت کر چکا ہوں طاعون کے بارہ میں شاید ایک یا دو اشتہار شائع کئے ہیں اور میں نے سرسری طور پر کچھ حصہ ان کا سنا تھا اور قابلِ اعتراض حصہ ابھی سنا نہیں گیا تھا۔ اس لئے میں نے اجازت دی تھی کہ اس کے چھپنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر افسوس کہ بعض خطرناک لفظ اور بیہودہ دعویٰ جو اس کے حاشیہ میں تھے اس کو میں کثرت لوگوں اور دوسرے خیالات کی وجہ سے سن نہ سکا اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے کے لئے اجازت دی گئی۔ اب جو رات اس شخص چراغ دین کا ایک اور مضمون پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک اور زہریلا اور اسلام کے لئے مضر ہے اور سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولوالعزم اور اپنا کام یہ لکھا ہے کہ تاکہ عیسائیوں اور مسلمانوں میں صلح کرادے اور قرآن و انجیل کا تفرقہ باہمی دور کر دے اور ابن مریم (غالباً مرزا قادیانی) کا ایک حواری بن کر یہ خدمت کرے اور رسول کہلاوے۔“
(دافع البلاء ص١٩، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٩)
یہ بھی کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں۔ کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتک عزت ہے۔ گویا رسالت اور نبوت بازیچہ اطفال ہے۔ نادانی سے یہ نہیں سمجھتا کہ گو پہلے زمانوں میں بعض رسولوں کی تائید میں اور رسول بھی ان کے زمانہ میں ہوئے تھے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت ہارون علیہ السلام۔ لیکن خاتم الانبیاء اور خاتم الاولیاء اس طریق سے مستثنیٰ ہیں اور
٥
جیسا کہ آنحضرتﷺ کے ساتھ دوسرا کوئی مامور اور رسول نہیں تھا اور تمام صحابہ ایک ہی ہادی کے پیرو تھے۔ اسی طرح اس جگہ بھی (یعنی قادیان میں ) ایک ہی ہادی کے سب پیرو ہیں۔ کسی کو دعوٰی نہیں پہنچتا کہ وہ نعوذ باللہ رسول کہلاوے۔‘‘
(دافع البلاء ص ٢١،٢٢ خزائن ج ١٨ ص ٢٤١،٢٤٢)
’’نفس امارہ کی غلطی نے اس (چراغ دین) کو خود ستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے۔ جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعوٰی سے ہمیشہ کے لئے مستعفی نہ ہوجائے...... ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسے انسان سے قطعاً پرہیز کریں۔ اس کی تحریروں سے ہمیں پوری واقفیت نہیں تھی۔ اس لئے اجازت طبع دی تھی۔ اب ایسی تحریروں کو چاک کرنا چاہئے ۔‘‘
(دافع البلاء ص ٢٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٢)
غلام محمد قادیانی کی نبوت
’’جس طرح تمام نبی ماموریت سے پہلے بالکل خاموش گم شدہ معمولی اور بے علم محض ہوتے ہیں۔ ایسا ہی میرا حال تھا میری زبان اور قلم وعظ کے لئے بہت کم اٹھی۔ میری تمام توجہ اپنے ذاتی فرائض منصبی کی تکمیل، اپنی ذاتی مکمل اصلاح اور تلاش محبوب میں منہمک رہی اور جوں ہی کہ میں مراد کو پہنچ گیا تو ایک ہی لیلۃ القدر کی مشہور رات کے بعد میں بڑے شور و غل کے ساتھ غار حرا یا غار ثور سے باہر نکل آیا۔ جس کی کوئی مثال موجودہ دنیا پیش نہیں کر سکتی۔ ایک ہی رات میں وہ عظیم الشان تبدیلی مجھ میں ظہور میں آگئی کہ میں عالم بھی ہو گیا، مصنف بھی ہو گیا، امام بھی ہو گیا اور مصلح بھی ہو گیا اور یہ سب کچھ علم وعمل کے اتحاد کے ساتھ ظہور میں آیا۔ مجھے جس انجمن نے اپنی تجارت میں بطور کارندہ ملازم رکھا ہوا تھا وہ انجمن حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی طرح عنقریب میری زوجیت میں بخوشی آنے والی ہے۔ اس کے بعد میں خدائے واحد اسلام کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اور جو تمام زمین و آسمان کا واحد مالک اور خالق ہے۔ اس کے نام عزت و جلال کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ (مرزا قادیانی کے) مندرجہ بالا تمام الہامات و مکاشفات میں تمام شاہانہ تصویر اور اس کے متعلقہ کاروبار میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف میں ہی ان سب کا مصداق اور مدعی صادق ہوں۔ میں خدا کے فضل سے (مرزا قادیانی کے) ٣٠؍ مئی ١٩٠٦ء کے الہام کا بھی مصداق ہوں جو حسب ذیل ہے۔
’’خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں ۔‘‘
٦
”خلیفہ جماعت قادیان (میاں محمود احمد قادیانی) کے نام مخصوص آسمانی چٹھی آپ کو معلوم ہوگا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی فرزندیت میں آسمانی با برکت مصلح موعود وقدرت ثانی کی آسمانی خلافت و ماموریت کا دعویٰ ہے۔ جس کے مقابل آپ کو حضور کے جسمانی فرزند ہونے اور زمینی مصلح موعود و زمینی خلافت کا بغیر مخصوص وحی اور روح کے دعویٰ ہے۔ لیکن آپ سے معلوم ہوتا ہے مجھے کوئی معمولی انسان خیال کر کے تکبر سے منہ پھیر لیا ہوا ہے۔ جس میں آپ نے مجھے ہی نہیں ٹھکرایا اور جواب دیا بلکہ اپنے محسن باپ کو ٹھکرایا اور جواب دے دیا۔ جس کی شاہی گدی پر آپ نے زبردستی بیٹھ کر ہزاروں آرام کے دن دیکھ چکے ہیں۔ میری طرف سے اس لاپروائی کی سزا میں آپ کو سر دست طرح طرح کی ہلکی سزاؤں میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ جن کا سب کا تعلق صرف میری ذات ہے۔ جس کی اطاعت سے الگ رہنے کی صورت میں آپ کے کام کو ٹھنڈا کر دیا جانے والا ہے۔ پس میں ہی بشیر الدولہ اور قطعی بہشتی ہوں۔ جس نے اپنے آپ کو گذشتہ دوشنبہ کی ٢٧ رجب ١٣٥٣ھ میں شب معراج میں شجرۃ المنتہیٰ پر شدید القویٰ کی مخصوص وحی وقرب کے ساتھ آسمان روحانیت کی جنت پر دیکھا ہے۔“
(رسالہ نیر اعظم منجانب شیخ غلام محمد بشیر الدولہ روحانی فرزند ارجمند مسیح موعود ومہدی مسعود سلطان القلم)
عبداللہ تیماپوری قادیانی کی نبوت
”فی زمانہ حضرت غلام احمد مجدد چودھویں صدی نے علوم ظاہری سے تمام ادیان باطلہ پر دین حق کا غلبہ ظاہر کر کے راز تصوف میں مرتبہ شہود کا سبق پڑھایا۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی تعلیم دی۔ انہیں کے خادم اس عاجز مامور من اللہ کے ذریعہ سے تعلیم میں ترقی کرتے ہوئے دنیا کو دین کے رنگ میں لانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔“
(ام العرفان ص ٩)
”اللہ پاک نے اس عاجز پر اپنے صحیفہ آسمانی کا نزول فرما کر سلسلہ آسمانی کی طرف مخلوق کو دعوت دینے کی تاکید کی ہے۔ بائیس سال کا عرصہ گزرتا ہے۔ خاکسار خدا سے وحی پا کر اس کام کو انجام دے رہا ہے۔“
(ام العرفان ص ٩)
ناظرین! یہ وہی تفسیر کبیر ہے۔ (یعنی تیماپوری قادیانی کی تصنیف) جس کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ایک رویا (خواب) میں دیکھا ہے۔ آپ کے ملفوظات کے سنہری چوغہ کو شیطان لوگوں کی نظروں سے غائب کرنے کے لئے لے بھاگا تھا۔ یہ خاکسار شیطان سے چھین کر واپس لایا۔ اس کی تعبیر خود حضرت (مرزا قادیانی) نے یہ کی ہے کہ وہ تفسیر ہمارے (مرزا قادیانی کے) لئے موجب عزت وزینت ہوگی۔ الحمدللہ ! اس تفسیر
٧
مبارک سے حضور کی رویائے صادقہ روحانی وجسمانی طریق میں مجسم بن کر پوری ہوئی۔ یہ خاکپائے غلامان رسول اللہ آپ ہی کے اتباع کی برکت سے مردگی سے زندہ ہوکر ایک قاش عرفان الٰہی اور عشق ونبوت محمدی کی آپ ہی کے ہاتھوں سے کھایا ہے۔ جس کی خوشخبری براہین کے حاشیہ در حاشیہ ص ٢٤٨ میں دی گئی ہے اور اس عاجز کی زندگی کے ساتھ دین اسلام کی تروتازگی وترقی منظور الٰہی ہے۔ میرے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی صداقت زور آور حملوں کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوگی۔‘‘ (اتنی عجلت! شاباش للمؤلف)
(تفسیر آسانی ص ١)
اسی تفسیر کے سلسلہ میں جیماپوری قادیانی الرحمن الرحیم سے نکتے پیدا کرتے ہیں۔ جس کی مرزا قادیانی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کہ مردن خویش آمدن پیش بغور ملاحظہ ہو۔
”رحمٰن و رحیم۔ یا باسم محمد و احمد۔ یہ ایک تخم کی دو پھانک ہیں۔ یہ دونوں شقوں کے درمیان سے نور اللہ کا موڑ بذریعہ عشق نکلا۔ پھر نیاز کی زمین سے ناز کا درخت بلند ہوا۔ اس کی شاخیں آسمان سے جالگیں۔ اس کی ایک شاخ و ڈالی میں توحید کے خوشنما پھول لگے۔ یوں وحدت کثرت میں آکر اپنا جلوہ دکھائے اور استعداد زمانہ کی وجہ سے وحدت الوہیت کا تاج کثرت کے سر پر رکھا جاتا ہے تو خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔ چونکہ وہ ذات اپنی الوہیت میں شرکت پسند نہیں کرتی۔ لہذا اس کی اصلاح کے لئے مامور من اللہ آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ فی زمانہ حضرت مسیح ناصری کو خدا کے نادان بندوں نے اس کی خدائی میں شریک گردانا، ہمیشہ کے لئے مسیح کو زندہ مانا۔ حقیقی پرندوں کے پیدا کرنے والے، مردوں جلانے والے یقین کرلیا۔ اس مشرکانہ عقیدت کو مٹانے کے لئے اللہ پاک نے اپنے ایک برگزیدہ غلام احمد کو مسیح احمد بنا کر بھیجا۔ پھر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پھر وہی بادشاہ زمین و آسمان نے اس عاجز کو چن لیا تاکہ زور آور حملوں سے غلام احمد کی سچائی کو ظاہر کرے اور اس کے ذریعہ سے بذریعہ الہام ایک نور حق کے آنے کی پیش گوئی بھی سنائی۔ جو اس عاجز کے وجود سے پوری ہوئی وہ یہ ہے۔
”وجآءك النور وهو افضل منك“ (یعنی آئے گا تیرے پاس ایک نور اور وہ تجھ سے بھی افضل ہوگا) اس نور کی بزرگی میں بطور استعارہ یہ الہام نازل ہوا ۔”کان الله نزل من السماء“ یہ مرتبہ خاتم ولایت محمدی کی طرف اشارہ ہے اور الہام ”پائے محمدیاں برمنار بلندتر محکم افتاد“ میں ظاہر ہونے والے راز کو کھولا ہے۔ غرض ایک وجہ سے مرتبہ احمدیت مرتبہ محمدیت کا ظل ہے اور ایک وجہ سے مرتبہ محمدیت مرتبہ احمدیت کا ظل ہے۔ لہذا آپ (مرزا قادیانی) خاتم ولایت احمدی ہوئے اور اس عاجز کے وجود سے یہ کشف مرتبہ ناز روحانی میں ظل رحمانی کے درجہ پر
٨
یوں پورا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح احمد جمال کا غلبہ زیادہ تھا اور جلال اس میں عاجز آپ کے پیچھے اور ساتھ میں مر بآخر بست دارد‘ کا دورہ پورا ہو کر قد ہے۔ مرتبہ راز اللہ ہی اللہ ہے۔ خدائی
(مولوی جیماپوری صاحب میں بھی مرزا قادیانی ہی کا نام روشن میاں محمود احمد قادیانی نے فیصلہ فرمادیا ہوں اور جس کے شاگرد استاد سے پا نکلا۔ بہرحال جیماپوری صاحب بھی قسمت کی بات ہے۔ للمؤلف)
عبداللہ پر قادیانی فیضان کا منتخب ذیل میں درج ہیں۔
- ١...... ام العرفان۔
- ٣...... طوفان کفر، میزان ح
- ٥...... تفسیر آسانی حصہ اوّل
- ٧...... توحید آسمانی۔
- ٩...... قدرت ثانی، مرسل بر
- ١١...... شناخت آسمانی۔
- ١٣...... رحمت آسمانی۔
- ١٥...... محاکمہ آسمانی۔
- ١٧...... تبلیغ آسمانی۔
- ١٩...... فرامین اسلام۔
گل تازہ شگفت
”اگر میں احمدیوں کا مامور ١٩٢٤ء میں آیا۔ اگر میاں (محمود احمد
یوں پورا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح احمد از روئے تولد روحانی مظہر جمال تھے۔ آپ کے وجود میں جمال کا غلبہ زیادہ تھا اور جلال اس میں پوشیدہ تھا۔ اس معنی میں جمالی رنگ میں آپ کا تولد ہوا اور یہ عاجز آپ کے پیچھے اور ساتھ میں مرتبہ جلال و جمال پر تولد پا کر خاتم ولایت محمدی ہوا ہے۔ ”اوّل بآخر نسبت دارد“ کا دورہ پورا ہو کر قدرت ثانی کا دوسرا دور دورِ محمدی کا آغاز ہوا۔ یہ مرتبہ ظلِ رحمانی ہے۔ مرتبہ راز اللہ ہی اللہ ہے۔ خدا ہی جانے کیا سے کیا ہونے والا ہے۔“
(تفسیر آسمانی ص ٦٧، ٦٩)
(مولوی تیمارپوری صاحب کا مرزا قادیانی سے غالباً مرتبہ بلند ہونے والا ہے اور اس میں بھی مرزا قادیانی ہی کا نام روشن ہونے والا ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی کے صاحبزادے میاں محمود احمد قادیانی نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ دنیا میں وہی استاد لائق کہلاتا ہے جس کے شاگرد لائق ہوں اور جس کے شاگرد استاد سے بازی لے جائیں اس کی استادی کا کیا کہنا۔ استادوں کا استاد نکلا۔ بہر حال تیمارپوری صاحب بھی مرزا قادیانی سے کچھ کم حوصلہ مند نہیں ہیں۔ کامیابی ناکامی قسمت کی بات ہے۔ للمؤلف)
عبداللہ پر قادیانی فیضان کا واقعی خوب سیلاب آیا۔ آپ کی تصانیف بھی کثیر ہیں۔ منتخب ذیل میں درج ہیں۔
- ١....... ام العرفان۔ ٢....... ارشادات آسمانی۔
- ٣....... طوفان کفر، میزان حشر۔ ٤....... شان نورِ خداوندی۔
- ٥....... تفسیر آسمانی حصہ اول، دوم۔ ٦....... صحیفہ آسمانی، الہامات الٰہی مہدی موعود۔
- ٧....... توحید آسمانی۔ ٨....... حقیقت وحی اللہ، صداقت کلام اللہ۔
- ٩....... قدرت ثانی، مرسل یزدانی۔ ١٠....... تقدیر آسمانی، تدابیر انسانی۔
- ١١....... شناخت آسمانی۔ ١٢....... انجیل قدسی۔
- ١٣....... رحمت آسمانی۔ ١٤....... راز آسمانی۔
- ١٥....... محاکمہ آسمانی۔ ١٦....... خلافت آسمانی۔
- ١٧....... تبلیغ آسمانی۔ ١٨....... نہج المصلیٰ۔
- ١٩....... فرامین اسلام۔ ٢٠....... انجیل و قرآن کا مقابلہ۔
گل تازہ شگفت
”اگر میں احمدیوں کا مامور موعود نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے جو عین وقت میں یعنی ١٩٢٤ء میں آیا۔ اگر میاں (محمود احمد قادیانی) کے مامور ہونے کا انتظار ہے تو وہ بالبداہتہ غلط
٩
ہے۔ پہلے تو اسی بناء پر غلط ہے کہ مامور کبھی ایک زبردست جماعت کا خلیفہ نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ مامور کے ساتھ ہونے والوں کو ایمان بالغیب اور امتحانات میں سے گذرنا پڑتا ہے اور سوائے اس کے حضرت (مرزا قادیانی) نے یوسف موعود کے لئے نطفہ اور علقہ لکھا ہے اور لکھا ہے کہ وہ معمولی انسان ہوگا۔ تمہاری نظریں دھوکہ کھا جائیں گی اور یہی سنت اللہ ہے۔ ایسی صورت میں نہ خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ مولانا محمد علی اور نہ میاں (محمود احمد قادیانی)۔ یہ کل مشہور انسان ہیں۔ اگر یہ لوگ اس کام کے لئے مامور ہو جائیں تو خدا کی سنت میں فرق آتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ جل شانہ اپنی سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کے ابتلاء کے زمانہ میں صدیق کا انتخاب کیا۔ ”دیر آمدہ زراہ دور آمدہ“ کا وعدہ پورا کیا۔ اس کا تفصیل وار ذکر آئندہ آئے گا۔
ہر لفظ پیش گوئی کا فقیر پر چسپاں ہوتا ہے۔ پہلے تو یہ نشان کہ وہ نطفہ علقہ کی طرح ہے۔ اس کو دیکھ کر لوگوں کی نظر دھوکہ کھائے گی۔ وہ اس طرح کہ پیدائش کے لحاظ سے بھی میرا یہ حال ہے کہ میں حد درجہ کا کمزور پیدا ہوا تھا۔ رونے کی آواز تک نہیں نکلتی تھی۔ والد نے کہا کہ یہ بچہ کیا جیتا ہے۔ کوڑے پر پھینک دو۔ والدہ نے کہا کہ ابھی جان ہے۔ ذرا ٹھہرو! اللہ اس جماعت کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پھر دوبارہ فضل ہوا ہے۔ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ جب تک کوئی روح حق پا کر کھڑا نہ ہو سب مل کر کام کرو۔ اس روح حق والے کی طرح ہو جاؤ اور وہ صدیقی رنگ میں ہے۔ نطفہ اور علقہ کی طرح بے حقیقت نظر آئے گا۔ دھوکہ نہ کھانا۔ غرض اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے وعدے پورے ہو رہے ہیں۔“
(خادم خاتم النبیین ص ١٨)
اسی طرح حضرت صاحب نے جو پیش گوئی کی وہ بھی بلا تاویل ہے اور اس وقت اس پیش گوئی کے سنے ہوئے لوگ کافی موجود ہیں اور صاف الفاظ میں ہے۔ ایک مدت حمل میں ظاہر ہوگا۔ جس کے دوسرے الفاظ میں یہ معنی ہوئے کہ ١٩٢٤ء مطابق ١٣٤٣ھ میں ظاہر ہوگا۔ ایسی صورت میں احمدیوں پر حجت ہے۔ اگر میں نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے۔ یہ قطعی فیصلہ ہے۔ اس سے بھاگنا اور بے بنیاد اعتراض کرنا ایمانداری نہیں اور کوئی کج طبع آدمی اس کی مخالفت بھی کرے گا تو وہ انشاء اللہ چند روز میں پکڑا جائے گا۔“
(خاتم النبیین ص ٢٠)
مرزا قادیانی کی پیش گوئی
حضرت مرزا (غلام احمد قادیانی) نے ٨/ اپریل ١٨٨٦ء میں یہ اعلان کیا کہ ایک مامور قریب میں پیدا ہونے والا ہے۔ یعنی آج سے ایک مدت حمل میں دنیا میں آئے گا۔ وہ روح حق سے بولے گا۔ اس کا نزول گویا خدا کا آنا ہے۔ وہ ایک عظیم الشان انسان ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
١٠
مرزا قادیانی نے جب یہ اعلان نے فقیر کی پیدائش کی تاریخ ٢٣ پیدائش ٢٤ رمضان بروز دوشنبہ میں لکھی ہوئی ہے۔ کوئی آج کی ہے۔ اسی لحاظ سے مرزا قادیانی ہی ہوا ہے۔“
”اب حق آگیا۔ اس روح القدس سے تائید پا کر کوئی ک میں نجات ہے۔ اس کام کے ظہور عید م منتظر جم
”میری اس ماموری میں نہیں ہوں تو دوسرا کوئی پیش کر
تین کو چار کرنے والا
١...... ”میں ہم چوتھا ہوں۔ چھوٹوں میں بھی چوتھا ٢...... پیدائش بعد ہزار کے چوتھی ہے۔ سال چو
قادیانی نشان
”١٩٢٥ء جولائی کے نے بطور نشان بے موسم بارش بجھ طرح کہ ایک رات کے اندر اط کم پانی راستہ پر ران برابر ٹھہر ہ اتنی بارش آئی ہو اور اس بارش
مرزا قادیانی نے جب یہ اعلان کیا تھا رجب کا مہینہ تھا ١٣٠٣ھ مطابق ١٨٨٦ء تھی۔ گویا انہوں نے فقیر کی پیدائش کی تاریخ ١٣٠٣ھ مطابق ١٨٨٦ء بتائی تھی۔ ان کل بشارتوں کے مطابق میری پیدائش ١٤؍ رمضان بروز دوشنبہ ١٣٠٣ھ مطابق ٧؍ جون ١٨٨٦ء ہے۔ یہ تاریخ اسکولوں اور دفاتر میں لکھی ہوئی ہے۔ کوئی آج کی بنائی ہوئی تاریخ نہیں ہے اور رشد کا زمانہ چالیسویں سال میں آتا ہے۔ اسی لحاظ سے مرزا قادیانی نے میرے ظہور کی تاریخ ١٣٤٣ھ مطابق ١٩٢٤ء بتائی ہے۔ ویسا ہی ہوا ہے۔“
(خادم خاتم النبیین ص١٦)
”اب حق آگیا۔ اس کی طرف حضرت (مرزا قادیانی) نے اشارہ کیا تھا کہ جب تک روح القدس سے تائید پا کر کوئی کھڑا نہ ہو تم سب مل کر کام کرو۔ اس کے بعد اس کی اتباع کرنا۔ اسی میں نجات ہے۔ اس کام کے ظہور کے لئے اپنی جماعت میں رات دن دعا کرنے کے لئے کہا تھا۔
منتظر جس کے تھے تم آج وہ موعود آیا
(خادم خاتم النبیین ص٩)
”میری اس ماموریت کے انکار کی صورت میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر وہ موعود میں نہیں ہوں تو دوسرا کوئی پیش کرے۔“
(خادم خاتم النبیین ص٥٩)
تین کو چار کرنے والا
- ١...... ”میں بھائیوں کے لحاظ سے بھی چوتھا ہوں اور بہنوں کے لحاظ سے بھی
چوتھا ہوں۔ چھوٹوں میں بھی چوتھا ہوں اور بڑوں میں بھی چوتھا ہوں۔
- ٢...... پیدائش کی گھڑی چوتھی ہے۔ دن چوتھا ہے۔ تاریخ چوتھی ہے۔ صدی
بعد ہزار کے چوتھی ہے۔ سال چوتھا ہے۔ یعنی ١٤؍ رمضان پیر کا دن ١٣٠٣ھ میں پیدا ہوا۔“
(خادم خاتم النبیین ص٥٩)
قادیانی نشان
”١٩٢٥ء جولائی کے ماہ میں جب میں قادیان گیا ہوا تھا وہاں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے بطور نشان بے موسم بارش بھیجا۔ (جولائی میں بارش تو واقعی سراسر بے موسم تھی للمؤلف) وہ اس طرح کہ ایک رات کے اندر اطراف قادیان جل تھل ہو گیا۔ ٹمٹم اور تانگے بند ہوگئے اور کم سے کم پانی راستہ پر ران برابر ٹھہرا تھا۔ لوگوں کی زبانی سنا گیا کہ شاید ہی کسی زمانہ میں ایک رات میں اتنی بارش آئی ہو اور اس بارش میں مزید نشان یہ ہوا کہ قادیان کا مشہور کتب خانہ جس میں
١١
ہزارہا روپیہ کی نایاب کتب ہیں۔ ایک حصہ دیوار مع چھت گر گیا اور رات کا وقت تھا، بارش زور کی تھی۔ کوئی شخص خبر نہ لے سکا۔ آخر صبح تک تمام الماریاں کیچڑ میں لدی ہوئی، تمام کتابیں بری طرح بھیگی ہوئی، صبح یہ نظارہ اپنے زبان حال سے پکار کر کہہ رہا تھا کہ جو کتب خانہ قادیان کی علمیت کے فخر کا باعث تھا۔ جن بسوء شعور کے تصرفات نے اس علم پر پانی پھیر دیا۔ لطف یہ کہ وہ کل کتب دوپہر کے وقت جب دھوپ میں کھول کر ڈالی گئیں تو وہیں ڈالی گئیں جہاں فقیر نے تکیہ لگایا تھا۔ فقیر بیٹھا ہوا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا اور خدائے قدیر کے احسان کا مزا اٹھا رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ کتب زبان حال سے یہ پکار کر کہہ رہی ہیں۔ اے صدیق! قادیان والوں نے ہمارے الفاظ کے غلط معنی کر کے دنیا میں دھوم مچائی ہے۔ ہم آپ کے پاس فریاد لائے ہیں۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار لهم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا والاخرۃ“
(خادم خاتم النبیین ص ٣٥)
ایک قادیانی یوسف
”مرزا قادیانی کی بشارت میں جتنی صفتیں یوسف موعود کی آئی ہیں وہ کل کمال درجہ پر مجھ پر صادق آئی ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ کہ مرزا قادیانی کی بشارت میں مجھے بار بار یوسف کیوں کہا گیا۔ یہ قصہ طویل ہے مگر بہت دلچسپ اور بڑی حقیقت ہے۔ خدا کے الفاظ کس طرح پورے ہوتے ہیں۔ صاحب دل جانتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام کی خصوصیات میں سے پہلی خصوصیت زلیخا کے مقابلہ میں آپ کی عصمت ہے۔ دوسرا آپ کا حلم ہے۔ تیسرا آپ کا عفو کا مادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے علم یوسف اس کمال کا دیا ہے کہ اگر واقعات بیان کروں تو ایک دفتر ہو جائے۔
اب رہا عصمت کا معاملہ۔ ایسے تو کئی موقعے ہوئے ہیں (جن سے یوسف موعود صاحب ہی واقف ہیں۔ از مولف) مگر ایک واقعہ جو ہمارے خاندان میں مشہور ہے۔ بہت عجیب ہے۔ یوسف زلیخا کے قصہ سے بھی اہم ہے۔ اس کو مختصر طور پر بیان کرتا ہوں۔ اس میں اس بات کی ضرور احتیاط کروں گا کہ یہ راز اس وقت کھلنے پر فساد کا باعث نہ ہو جائے۔ کیونکہ وہ عورت جس سے میرے نفس کی آزمائش کی گئی۔ وہ اب غیر کے قبضہ میں ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ قصہ عام ہو جائے گا۔ تب اس کا جواب دار میں نہیں ہوں۔ اب یہ بات صرف ہمارے خاندان تک ہی محدود ہے۔
غرض وہ لڑکی بہتر سے بہتر لباس پہنی ہوئی، پھول اور عطر میں بسی ہوئی رات کے دو بجے میری چادر میں گھس کر لپٹ گئی اور منہ پر منہ رکھا۔ ساتھ ہی آنکھ کھل گئی۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ وہی لڑکی ہے۔ شیطان کے پورے قبضے ہو چکے تھے۔ صرف اس غفور الرحیم خدا نے مجھ پر رحم کیا کہ میں نے اس کو دور کرنے کی کوشش کی اور وہ بھی نزدیک ہوئی۔ میں نے اٹھ کر اس کو دھکیل دیا اور وہ لڑکی اپنے حجرہ
١٢
میں چلی گئی۔ جب رات کے اس لڑکی کے چاچا نے مجھے بلایا اور تھا کہ کیا سوال ہوگا۔ جب دونوں نہیں تھی کہ میرا خط ملا ہوا ہے مرجاؤں گی۔ تب انہوں نے کہا میں نے یہ بات سنی فوراً ہی اپنی میں نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ کیا کہ مجھے بچایا۔ یہ بھی میں نے ہوں۔ میری عصمت پر دھبہ آ وہاں سے نکل گیا۔ رفتہ رفتہ پھر الہام میں ”وکذالک مننا ع آپ نے آخر زمانہ میں یہ لکھا ہے باغ میں آئی - آرہی۔ گو کہو غرض اللہ تعالیٰ نے اس کو احسن القصص کہا ہے اور دیئے۔ جس وقت فقیر کے نفس کی میری عمر ٣٠ سالہ تھی۔ یہ واقعہ ہے وہ اس طرح کہ: زلیخا بوڑھی یوسف غلام عزیز مصر کا خوف زلیخا بجائے والدہ م زلیخا غیر کی منکوحہ وہاں دن کا وقت
میں چلی گئی۔ جب رات کے دس بجے میں کھانا کھا کر دیوان خانہ میں سونے کے لئے گیا۔ وہاں اس لڑکی کے چچا نے مجھے بلایا اور سڑک پر لے گئے۔ وہاں ان کے والد کھڑے تھے۔ میں حیران تھا کہ کیا سوال ہوگا۔ جب دونوں ملے تو چچا نے کہا کہ یہ واقعہ صرف آپ کے لئے ہوا۔ مجھے خبر نہیں تھی کہ میرا خط ملا ہوا ہے۔ میں نے کہا واقعی بات ٹھیک ہے۔ بی بی کہتی تھی کہ میں زہر کھا کر مر جاؤں گی۔ تب انہوں نے کہا کہ آپ کی مراسلت ہم کو مل گئی۔ اس وجہ سے زہر کھایا ہے۔ جب میں نے یہ بات سنی فوراً ہی اپنی بریت کی کوشش کرنا چاہا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ میری نیت بری ہے۔ میں نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ پنجشنبہ کی رات کو بی بی دو بجے میری گود میں آ کر سوگئی۔ مگر خدا نے رحم کیا کہ مجھے بچایا۔ یہ بھی میں نے آپ سے اس وجہ سے کہا کہ میں ایک کنواری لڑکی کی طرح حیا دار ہوں۔ میری عصمت پر دھبہ آتا ہے۔ اس وجہ سے میں نے اظہار کیا ہے۔ غرض دوسرے دن وہاں سے نکل گیا۔ رفتہ رفتہ پھر یہ واقعہ عام ہونے لگا۔ اسی مماثلت کے لحاظ سے مرزا قادیانی کے الہام میں ”وكذالك مننا على يوسف نصرف عنه السوء والفحشاء“ آیا ہے اور آپ نے آخر زمانہ میں یہ لکھا ہے۔
آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار
آ رہی ہے اب تو خوشبو اپنے یوسف کی مجھے
گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار
غرض اللہ تعالیٰ نے سورۂ یوسف میں صرف یوسف علیہ السلام کا ذکر رہنے کی وجہ سے اس کو احسن القصص کہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو اس خوبی کے باعث مراتب دیئے۔ جس وقت فقیر کے نفس کی آزمائش کی جارہی تھی۔ اس وقت اس عورت کی عمر ١٧ سالہ اور میری عمر ٣٠ سالہ تھی۔ یہ واقعہ بعض وجوہات سے یوسف زلیخا والے واقعہ سے اہمیت زیادہ رکھتا ہے وہ اس طرح کہ:
زلیخا بوڑھی یہاں جوان یوسف غلام یہاں آزاد عزیز مصر کا خوف یہاں کوئی خوف نہیں زلیخا بجائے والدہ پرورش کی تھی یہاں مقابلہ کی زندگی زلیخا غیر کی منکوحہ یہاں غیر کی منسوبہ در حقیقت اپنے نام کی وہاں دن کا وقت یہاں رات کا وقت
١٣
اس واقعہ کے بعد پھر میرے دل میں نفس کے جذبات بکلی ٹھنڈے ہو گئے۔ دوستوں نے اور عزیزوں نے جب یہ واقعہ سنا۔ میری ہمت پر آفرین کہا۔‘‘
(خادم خاتم النبیین ص ٥٨، لغایۃ ص ٦٨)
ویر بسنت اور چن بسویشور
’’مختصر حال یہ ہے کہ یوں تو فقیر ١٩١٠ء میں بھی قادیان گیا تھا۔ اس وقت اس سلسلہ کی طرف زیادہ توجہ نہ ہوئی۔‘‘ (خادم خاتم النبیین ص ٥)
’’میری نیک نیتی اور خلوص دیکھو۔ میں نے تلاش حق میں خود میاں (محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان) کی خلافت مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور قادیان پہنچا اور نیک نیتی سے تحقیقات کرتا رہا اور ان کا عقائد میں غلو کرنا پسند نہ آیا۔ دعائیں کیں۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو بچانا چاہتا تھا۔ وہاں سے نکلا۔ بیعت فسخ کر دی اور لگاتار اس عقیدے کی تردید میں ١٢ سال کام کیا اور بڑے شدومد سے کام کیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے فقیر کی دعا کو سنا اور ان کی (یعنی قادیانیوں کی) جماعت کا منتظر موعود بنا دیا۔ اس سے وہی کام محض اپنے رحمانی تقاضہ کے ماتحت لے رہا ہے جو اس سے پیشتر بزرگان دین سے کام لیا تھا اور کثرت سے نشانات ظاہر کئے اور قدرت کو کمال درجہ پر ہمارے ساتھ کر دیا۔‘‘ (خادم خاتم النبیین ص ٢٥)
’’میں اس فاضل اجل کی ہر لعنت ملامت کو اطمینان سے سنتا رہا۔ جب وہ مجھے دنیا دار سمجھ کر ریاست کا بت سامنے لائے۔ میں فوراً سیدھا ہو گیا اور کہا کہ دوات قلم لاؤ، میں ابھی لکھ دیتا ہوں۔ ہزار دفعہ لکھ دیتا ہوں کہ میں پکا قادیانی ہوں۔ کاغذ لے کر ذیل کی تحریر لکھ دی۔ صدیق دیندار چن بسویشور پکا احمدی ہے۔ قادیانی سلسلہ قادیان سے میاں محمود نے جو جاری کیا ہے اس کا سخت دشمن ہوں اور عقائد جو میاں محمود نے جاری کئے ہیں ان کی بیخ کنی کرتا رہا اور کرتا رہوں گا۔ صدیق دیندار چن بسویشور۔‘‘ (خادم خاتم النبیین ص ٣٩)
’’اس بات کے گواہ تقریباً تمام دکن کی اقوام ہیں۔ ان کی عبارتوں میں یہ بات چلی آ رہی ہے کہ ویر بسنت (اولوالعزم محمود) ظاہر ہوگا۔ اس کے خیالات سے عالم پریشانی ہوگی۔ لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔ اس کے دور کرنے کے لئے چن بسویشور (صدیق دیندار) ظاہر ہوگا۔ ان بزرگوں نے ان دونوں وجود کی جو تاریخ ظہور و نشانات بتائے ہیں اس کی کوئی تردید کر دے تو میں ہر شرط منظور کرنے کو تیار ہوں۔ گویا پیش گوئیوں نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑ کے بتا دیا ہے کہ یہ چن بسویشور ہے اور یہ ویر بسنت۔ چن بسویشور کے حالات سے آپ لوگوں کو ایک حد
١٤
تک علم ہوا ہے۔ صرف اب ویر بسنت کے نشانات بطور حجت دوبارہ پیش کر کے چیلنج دیتا ہوں کہ اگر ان نشانات والا ویر بسنت میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کے سوا دوسرا کوئی ہے تو ثابت کر دے تو ایسی صورت میں ہر شرط منظور۔ ویر بسنت (اولوالعزم محمود) والی ایک علیحدہ کتاب تیار ہے۔ اس میں تفصیل وار بیان ہے۔ ان نشانات کے علاوہ اور بھی بہت سے نشان ہیں۔ مگر اب میں جماعت قادیان اور تمام عالم سے سوال کرتا ہوں کہ ادھر قدیم کتب اولیاء ہیں۔ یہ پیش گوئیاں موجود اور ادھر موعود انسان (یعنی میاں محمود احمد خلیفہ قادیان) موجود ہے۔ پھر آپ کو شک میں ڈالنے والی وہ کون سی چیز ہے۔ ان پیش گوئیوں کے ساتھ ہی لکھا ہے۔ یہ ویر بسنت مسلمانوں کو قرآن کریم کے الفاظ کے غلط معنی کر کے بتائے گا اور ایشور اوتار جس کو رحمتہ اللعالمین کہتے ہیں۔ ان کی ہتک کرے گا۔
(خادم خاتم النبیین ص ٨)
”اور ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ ایسا شخص عقائد میں غلطی پر رہے گا۔ اس کی اصلاح صدیق دیندار چن بسویشور سے ہوگی اور صاف لکھا ہے کہ ویر بسنت (اولوالعزم محمود) قرآن کے الفاظ کے غلط معنی بیان کرے گا اور لکھا ہے کہ چن بسویشور کے عقائد درست رہیں گے اور چن بسویشور کے ذریعہ سے ویر بسنت کے عقائد کی اصلاح ہوگی۔“
(خادم خاتم النبیین ص ١٠)
”فقیر (صدیق دیندار چن بسویشور) جانتا ہے کہ وہ (میاں محمود احمد قادیانی ویر بسنت خلیفہ قادیان) ایک متقی مرد ہے اور بڑے بشارتیں والا ہے۔ ان سے ہمارا جھگڑا صرف مذہبی چند فروعات میں ہے۔ جس کی غفلت سے اصولی ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ اسی وجہ سے میں نے مخالفت کی۔ اب کوئی مخالفت نہیں ہے۔ کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے کہ وہ قریب میں ہمارے عقیدے کے ساتھ ہو جائیں گے۔ جس کے آثار گذشتہ چند ماہ سے ظاہر ہو رہے ہیں۔“
(خادم خاتم النبیین ص ز، مورخہ یکم جون ١٩٢٧ء)
”اے جماعت احمدیہ کے فریس اور دانش مند لوگو! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہ نسبت دوسرے فرقوں کے بہت بڑی ذمہ داری دی ہے۔ اس امانت کو ضائع مت کرو۔ ” ما یاتیہم من رسول الا كانوا به يستهزؤن “ میں داخل مت ہو۔ چن بسویشور اور ویر بسنت کو اللہ تعالیٰ نے صرف خدمت خاتم النبیین کے لئے انتخاب کیا ہے۔ چونکہ میاں صاحب مامور نہیں ہیں۔ اس وجہ سے اس کا علم ان کو نہیں۔ وہ میرے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ ان کا انتظار و بمبئی میں ویسا ہی ہے جیسا میرا انتظار تھا۔ ہم دونوں کا وجود ہی دکن کی اقوام پر حجت ہے۔“
(خادم خاتم النبیین ص ٢٨)
”میں میاں محمود احمد قادیانی کو دکن کی بشارتوں کی بناء پر خلیفۂ جماعت احمدیہ مانتا
١٥
ہوں۔ گو لاہور کی جماعت مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ میری سمجھ میں نہیں آتا جس کا ظہور ہو چکا اس کا انکار کیسا۔"
(خادم خاتم النبیین ص ٧٣)
"مولانا محمد علی امیر جماعت احمدیہ نے ایک خط سے مجھے اطلاع دی ہے کہ آپ سے ہماری جماعت کا ہر فرد خوش ہے اور حال میں ایک خط قادیان سے آیا ہے وہ حسب ذیل ہے۔
مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ مجلس مشاورت کے بعد آئندہ سال کے پروگرام میں دکن کی طرف وفد بھیجنے اور آپ کے کام میں دلچسپی پیدا کرنے کی خاص کوشش کی جائے گی۔ دہلی میں دیوان میسور سے ملاقات کرنے پر معلوم ہوا۔ بہر حال آپ کام کرتے جاویں۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے اپنے وقت پر ضرور پورے ہوں گے۔ مزید برآں یہ عرض ہے کہ بوجہ مالی تنگی اس علاقہ کی طرف توجہ نہیں ہوسکی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ کام کی رپورٹ براہ کرم ضرور بھیج دیا کریں اور مشکلات سے اور نتائج سے آگاہ فرماتے رہا کریں۔ والسلام!"
دستخط: عبد الرحیم نیر نائب ناظر دعوت و تبلیغ قادیان
(خادم خاتم النبیین ص ٧٨)
لندن میں نبوت کا دعویدار قادیانی
لندن میں قادیانی فرقے نے اپنی جڑیں خاصی پھیلا رکھی ہیں وہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور دھیرے دھیرے نہایت چالاکی اور مکاری سے اپنے مذہب کی اشاعت کرتے ہیں۔ لیکن جولائی ١٩٦٥ء میں وہاں اس فتنے نے ایک نئے رنگ میں سر اٹھایا اور ایک شخص خواجہ محمد اسماعیل کو نئے نبی کے روپ میں پیش کر دیا۔ شیخ اسماعیل کی نبوت کی تشہیر کے لئے قادیانی جماعت کی لندن شاخ باقاعدہ کام کر رہی ہے۔ اس شخص کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی حیثیت صرف پیشرو کی تھی۔ وہ اس کی نبوت کے لئے راہ ہموار کرنے آئے تھے۔ اب راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس لئے یہ حضرت پیدا ہو گئے۔ شیخ اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر کینڈی، جواہر لال نہرو، کمنٹ اور جنرل قاسم اس کی بددعا کے نتیجے میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔
مرزا قادیانی کا یہ چیلا شیخ اسماعیل قادیانی تحریک کے لندن مشن میں ملازم تھا۔ اپنی بداعمالیوں کی بناء پر وہاں سے نکال دیا گیا اور جب اس نے دھمکی دی کہ وہ قادیانی مشن کے راز کھول دے گا تو قادیانیوں نے اسے نبوت کے سنگھاسن پر بٹھا دیا اور اس کی نبوت کی تشہیر شروع کر دی۔ حد تو یہ ہے کہ شیخ اسماعیل انتہائی بے باکی اور بے حیائی سے کذاب کو برحق مانتا ہے اور کہتا ہے
١٦
کوئی سمجھ میں نہیں آتا جس کا ظہور ہو چکا اس کا
(خادم خاتم النبیین ص ٧٣)
ایک خط سے مجھے اطلاع دی ہے کہ آپ سے قادیان سے آیا ہے وہ حسب ذیل ہے۔
آئندہ سال کے پروگرام میں دکن کی طرف وفد کی کوشش کی جائے گی۔ دہلی میں دیوان میسور کرتے جاویں۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے اپنے ہے کہ بوجہ مالی تنگی اس علاقہ کی طرف توجہ نہیں براہ کرم ضرور بھیج دیا کریں اور مشکلات سے دستخط: عبدالرحیم نیر نائب ناظر دعوۃ وتبلیغ قادیان
(خادم خاتم النبیین ص ٧٨)
یہ خاصی پھیلا رکھی ہیں وہ اسلام کے نام پر نہایت چالاکی اور مکاری سے اپنے مذہب کی اس فتنے نے ایک نئے رنگ میں سر اٹھایا اور شروع کر دیا۔ شیخ اسماعیل کی نبوت کی تشہیر کے رہی ہے۔ اس شخص کا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد اس کے لئے راہ ہموار کرنے آئے تھے۔ اب شیخ اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر کینڈی، کے نتیجے میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ تحریک کے لندن مشن میں ملازم تھا۔ اپنی اس نے دھمکی دی کہ وہ قادیانی مشن کے راز سے اٹھا دیا اور اس کی نبوت کی تشہیر شروع کر حوالے سے کذاب کو برحق مانتا ہے اور کہتا ہے
کہ رسول اکرم ﷺ اب اس کی ذات میں حلول کر کے لندن میں آگئے ہیں۔ شیخ اسماعیل کے اس بیان اور دعوے کو ایک پاگل کی بڑ اور دماغ کا خلل جان کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ لیکن جب یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی تشہیر پر قادیانی جماعت باقاعدہ حصہ لے رہی ہے اور اسے اچھالنے کے لئے وہ لاکھوں روپے خرچ کرنے پر تلی ہوئی ہے تو خاموشی از خود گناہ بن جاتی ہے۔
قادیانی لٹریچر کے ذریعے شیخ اسماعیل کے دعوے عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ جن کے مطابق پاکستان میں چند برسوں سے جو سماوی آفات آرہی ہیں سمندری طوفانوں سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں اور ہزاروں لاکھوں مکان ڈھے رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس کی نبوت کا ثبوت ہے۔ ”فاعتبروا یا اولو الابصار“
یار محمد وکیل ہوشیار پوری
اس کا دعویٰ ہے کہ محمدی بیگم میں ہوں۔ نکاح سے مراد بیعت میں میرا داخلہ ہے اور مرزا قادیانی کے بعد گدی کا حقدار میں ہوں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ قدرت ثانیہ کا مظہر وہ ہوگا جو میری خوبیوں پر ہوگا۔ چنانچہ یہ علامت مج مجھ میں سب سے بڑھ کر پائی جاتی ہے۔ مرزا محمود قادیانی کے مقابلہ میں تقریباً پچاس رسالے لکھ چکا ہے۔ جس میں وہ خلافت کا مطالبہ کرتا ہے۔ مگر مسند خلافت پر چونکہ مرزا محمود قابض ہے۔ اس لئے اس کی تبلیغ معرض وجود میں نہیں آئی۔
محمد بخش قادیانی
پہلے پہل مخالف رہا پھر بیعت مرزا قادیانی میں داخل ہو گیا اور بہت جلد ترقی کر کے الہامات شائع کر دیئے۔ جن میں سے ایک الہام یہ بھی ہے کہ آئی۔ ایم وٹ وٹ !
نبی بخش معراجکے
ضلع سیالکوٹ کا باشندہ ہے۔ اس کا دعویٰ کہ مرزا قادیانی کے طریق پر میں بھی اس وقت کا نبی ہوں۔ کسی ظریف نے اس کے جواب میں لکھ بھیجا تھا کہ:
تم خواہ مخواہ کیوں نبی بن گئے
ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی
بیس سال تک مرزائی رہ کر خود مدعی رسالت بن بیٹھا۔ قرآن شریف کی تفسیر لکھی اور رسالہ ذکر الحکیم جاری کیا اور مرشد کی ہلاکت کے متعلق اس نے ایک الہام شائع کیا کہ ٤؍ اگست
١٧
١٩٠٨ء تک مرزا قادیانی مرجائیں گے۔ مرزا قادیانی نے اس کے مقابلہ پر الہام شائع کیا تھا کہ وہ میری زندگی میں تباہ ہو جائے گا۔ مگر وہ ایسا سخت جان مرید نکلا کہ مرشد کے مرنے کے بعد سات سال تک زندہ رہا۔
احمد سعید سکھڑیالی ضلع سیالکوٹ
مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ میں جون بدل بدل کر آؤں گا۔ اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس مدعی قدرت ثانیہ ہوا اور اپنا لقب یوسف موعود رکھا۔ اپنے الہامات اس نے رسائل ’’براہین یوسفی‘‘ میں جمع کئے۔ جس میں اس نے ظاہر کیا تھا کہ میں نہایت غم کی حالت میں رو رہا تھا کہ مریم علیہ السلام نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا بچہ رو نہ۔ یہی الہام امرتسر چوک فرید میں بیان کیا تو لوگوں نے اسے سنگ سار کرنا شروع کیا تو بھاگ گیا اور بچوں نے بچہ رو نہ بچہ رو نہ کہہ کر چھیڑنا شروع کیا۔ وہ اپنی ایک تصنیف میں لکھتا ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ رشتہ داریاں سب ناجائز ہیں اور وہ ولدالزنا ہیں۔ آئندہ کے لئے حکم دیتا ہوں کہ ہندوؤں کی طرح غیر قوموں سے رشتہ کریں۔ اس کے گلے میں ایک گلٹی ہے۔ اپنی امت کو کہتا ہے یہ مہر نبوت ہے۔
ایوبی دور کا نیا پیغمبر
چند برس پہلے گوجرانوالہ میں بھی ایک پیغمبر پیدا ہوا۔ وہ دن بھر شہر کے گلی بازاروں میں اپنی نبوت کی تشہیر کرتا رہا اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا رہا کہ اس پر باقاعدہ وحی نازل ہوتی ہے اور اسے پاکستانی مسلمانوں کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ لیکن لوگوں نے اسے پاگل قرار دے کر نظر انداز کر دیا۔ بعض نے پولیس تک رسائی بھی کی کہ اس نبوت کے دعویدار سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔ مگر کوئی بھی ٹس سے مس نہ ہوا۔ آخر ایک روز اسے انوکھی بات سوجھی۔ اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اسے الہام کے ذریعے صدر مملکت بننے کا حکم بھی ملا ہے۔ اس لئے کہ صدر ایوب صدارت کا اہل نہیں ہے اور وہ جلد ہی راولپنڈی جا کر ایوان صدارت پر قبضہ کرے گا اور خود حکومت کرے گا۔ پولیس کے کان میں یہ الہام پڑا تو وہ فوراً حرکت میں آگئی اور اسے گرفتار کر لیا۔
افسوس صد افسوس
ہماری اسلامی مملکت جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی ہے۔ اس میں توہین رسالت ممنوع نہیں ہے۔ توہین صدارت ممنوع ہے۔
١٨
میرے بعد کوئی نبی نہیں انا خاتم النبيين لا نبي بعدي میں آخری نبی ھوں
حکومت مغربی پاکستان کے
پانچ سوال
اور
ان کا جواب
جناب فرزند توحید صاحبؒ
بسم الله الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!
ساری حمد و ستائش خداوند کریم کے لئے جس نے مخلوقات کی ہدایت کے لئے انبیاء کرام بھیجے اور درود و سلام آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر کہ جن کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اما بعد! گذارش یہ ہے کہ یہ کتابچہ نہ تو میری فکر و کاوش کا نتیجہ ہے اور نہ ہی میں نے اس کے لئے کچھ زیادہ کوشش کی ہے۔ بلکہ یہ ایک حادثے کے تحت منصہ شہود پر آ گیا۔ حقیقت میں یہ قدرت الٰہیہ کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ ہے۔
میں نے ایک کتابچہ ١٩٦٣ء میں بہ عنوان ”مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ ترتیب دیا اور شائع کیا۔ جس کا محرک راولپنڈی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج محمد اکبر صاحب کا وہ تاریخی فیصلہ تھا۔ جو انہوں نے اس سلسلے میں ایک مقدمہ میں صادر فرمایا تھا اور وہ مقدمہ یہ تھا کہ مسمی کرم الٰہی نے اپنی لڑکی (امتہ الکریم) کی شادی لیفٹیننٹ نذیر الدین کے ساتھ بالعوض مبلغ دو ہزار روپے کر دی۔ کچھ دنوں کے بعد اختلاف عقائد کی وجہ سے زوجین کے تعلقات خراب ہو گئے اور جب نذیر الدین کو واضح طور پر معلوم ہو گیا کہ امتہ الکریم مرزائی ہے تو اس نے کہا کہ اسلام غیر مسلم لڑکی (مرزائی) سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا اور اس کے اور بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا نذیر الدین نے مرزائی لڑکی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ لڑکی والوں نے حق مہر کے لئے عدالت سے رجوع کیا۔ یہ مقدمہ ایک مدت تک چلتا رہا اور بالآخر محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی نے فیصلہ دیا کہ ”مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ اور نذیر الدین حق مہر کی ادائیگی کا پابند نہیں رہا۔ پاکستان کے مروجہ قانون کے تحت ایک ذمہ دار عدالت کا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج فیصلہ دیتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے مسلمان نہیں ہیں اور مرزائی لڑکی کا نکاح مسلمان کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ ہم بحیثیت پاکستانی مسلم شہری کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج محمد اکبر کا یہ فیصلہ صحیح اور واجب العمل تسلیم کرتے ہیں۔
مذکورہ بالا فیصلہ میں نے متعدد بار شائع کیا کہ جب ١٩٦٤ء میں میں نے یہ کتابچہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں صاحب بالقابہ کے نام نامی اور اسم گرامی سے معنون کیا اور اس میں چوہدری سر ظفر اللہ کی غیر ذمہ دارانہ حرکات کا ذکر کیا اور مملکت خداداد پاکستان میں اس کی ریشہ دوانیوں کی نشان دہی کی تو نہ جانے قانون کی پیشانی پر کیوں بل آ گیا۔
٢
ادھر سے ہم چلے پتھر ادھر سے
حالانکہ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہ تھی۔ چوہدری سر ظفر اللہ کا اقوام متحدہ میں دوبارہ منتخب ہونا پاکستان کے لئے کوئی نیک فال نہ تھا اور نہ ہی صدر مملکت کے لئے فخر مباہات کی بات تھی اور مسلمان تو سر ظفر اللہ کے بارے میں ١٩٥٣ء میں اپنا فیصلہ دے چکے تھے۔ بحیثیت ایک پاکستانی شہری کے ہم اپنے صدر محترم سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ پھر نہ جانے اس بات کو کیوں افسانہ بنا دیا گیا۔
کوئی جانے تو کیا جانے کوئی سمجھے تو کیا سمجھے
مجھے گھر بیٹھے مجرم قرار دے دیا گیا اور اسی وجہ سے متعلقہ حکام کراچی کے مختلف دفاتر مجھے بار بار حاضری کے لئے مجبور کرتے رہے اور احتساب کتاب کے سلسلے میں حکام کراچی نے متعدد سوالات کئے۔ اس سوال و جواب میں بھی تقریباً دو سال لگ گئے کہ اچانک ذوالفقار انڈسٹریز (کراچی) میں کہ جس سے میری کاروباری وابستگی ہے۔ ایک رجسٹرڈ لیٹر ڈپٹی کمشنر (کراچی) کی طرف سے فیکٹری کے جنرل منیجر کے نام پہنچا۔ جس میں میرے متعلق یہ ہدایت تھی کہ میں جیسے ہی کراچی پہنچوں تو ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کروں۔ ذوالفقار انڈسٹریز (کراچی) کے مالکان اپنے وسیع کاروبار کی طرح وسیع ظرف کے بھی مالک ہیں۔ میرے ان کے کاروباری مراسم کی عمر تقریباً بارہ سال ہے۔ اس دوران میں مجھ سے بتقاضائے بشریت اکثر کوتاہیاں بھی ہوئیں۔ سید رؤف علی صاحب مالک ذوالفقار انڈسٹریز نے شرافت، نیکی اور محنت کا سلیقہ اپنے والد مرحوم سے ورثے میں پایا ہے۔ انہوں نے مجھ سے کبھی باز پرس نہیں کی۔ حالانکہ کاروباری سلسلے میں ایسا کرنے کا وہ پورا حق رکھتے ہیں۔ ان کے اخلاق عالیہ کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے کسی ملازم سے بھی جواب طلب نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ حسن اخلاق کا پورا پورا مظاہرہ کرتے ہیں۔
جب انہیں ڈپٹی کمشنر (کراچی) کا مذکورہ بالا حکم نامہ میرے متعلق ملا کہ میں کراچی پہنچ کر متعلقہ حکام سے ملوں تو انہوں نے بلا کر یہ حکم نامہ مجھے دے دیا۔ حالانکہ کاروباری اعتبار سے وہ اس سلسلے میں مجھ سے باز پرس بھی کر سکتے تھے مگر نہیں۔
میں ٣ اگست ١٩٦٧ء کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچا، تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنے کے بعد مجھے شرف باریابی حاصل ہوا۔
اور ڈپٹی کمشنر کے حضور کے بجائے مجھے ڈی۔ایم کے حضور میں جانا پڑا۔ جنہوں نے ڈپٹی کمشنر کا مندرجہ ذیل حکم نامہ دیا۔
- ١....... میں (فرزند توحید) بحکم سرکار تیس یوم تک کراچی کے حدود سے باہر نہ جاسکوں گا۔
- ٢....... پانچ ہزار روپے کی ضمانت پیش کروں۔
- ٣....... ایس پی صاحب سے مل کر اپنا ذاتی پتہ دوں کہ بوقت ضرورت وہ مجھ سے رابطہ قائم کر
سکیں۔
اپنی تمام کاروباری ذمہ داریوں کے باوجود میں نے ان احکام کی پابندی اور پاسداری کی کہ اس دوران میں ٢٦ اگست ١٩٦٧ء کا مجھے حکومت مغربی پاکستان کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ایک مراسلہ ٨ ستمبر ١٩٦٧ء کو وصول ہوا جو حسب ذیل ہے۔
”ہرگاہ کہ یہ ہمارے علم میں ہے کہ مسمی فرزند توحید کا پیش کردہ کتابچہ الموسوم بہ ’مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں‘ جو کہ مقبول عام پریس سے پرنٹ کیا گیا ہے کے پیرا جات نمبر ٥ تا ٩ متعلقہ پیرا جات منسلک ہیں۔ ویسٹ پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس ١٩٦٣ء کی دفعہ نمبر ٥ جی اور جے کے تحت آتے ہیں۔ جن کی وجہ سے کتابچہ مذکور قابل ضبطی گردانا جاتا ہے۔ لہٰذا میں آرڈیننس مذکورہ کی دفعہ نمبر ٧ کے تحت حکم دیتا ہوں کہ نوٹس ہذا ملنے کے دس یوم کے اندر وجہ بتائی جائے کہ تمہاری مذکورہ کتاب بحق سرکار ضبط کیوں نہ کر لی جائے ۔“
علاوہ ازیں اگر تم چاہتے ہو کہ ہوم سیکرٹری کو کسی تفصیل سے آگاہ کرو تو ١٨ ستمبر ١٩٦٧ء کو ایک بجے بعد دوپہر دفتر میں ملو۔ گورنر مغربی پاکستان کے حکم سے جاری ہوا۔
سی ۔ اے سعید (پی ۔سی ۔ایس ) ڈپٹی سیکرٹری حکومت مغربی پاکستان
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے
میں اس کتابچہ ”مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ کے متنازعہ انتساب پر کبھی کبھی
٤
تنہائی میں غور کرتا تھا کہ کاش مجھے صدر مملکت شرف باریابی بخشیں اور کہیں کہ: ”ارے او فرزند توحید! تو نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ پر جو الزامات لگائے ہیں۔ بتا تیرے پاس اس کے کیا دلائل ہیں اور اس کا کیا ثبوت ہے؟“
تو میں خدمت عالی میں عرض کروں۔ جی ہاں! ان الزامات کے ثبوت و دلائل تو حکومت کے پاس بھی موجود ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ حکومت بعض مصالح کی وجہ سے ان حقائق سے چشم پوشی کرے اور ان کا اظہار مناسب نہ سمجھے۔
نکل جاتی ہو جس کے منہ سے سچی بات مستی میں
میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ حکومت پاکستان کا مندرجہ بالا نوٹس مجھے ملا اور میں بلیوں اچھلا اور خوشی و مسرت نے مجھے عقل سے بیگانہ کر دیا۔
وگرنہ ہم زمانہ بھر کو سمجھانے کہاں جاتے
میں حکومت مغربی پاکستان کا مرہون منت ہوں کہ اس کے حکم نامے کی وجہ سے قدرت نے مجھ سے وہ کلام لے لیا جس کا شاید مجھے عمر بھر بھی احساس نہ ہوتا۔
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
بلاشبہ ١٩٥٣ء کے بعد سے مرزائیت دنیا بھر میں آشکارا ہو چکی ہے اور کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہے۔ تاہم اگر واقعی میرے محترم گورنر مغربی پاکستان کو اس انگریز کے خانہ زاد کی حقیقت سے واقفیت نہیں ہے تو مجھے اور خوشی ہوئی کہ ان کے سوالات کے ضمن میں جو جوابات میں عرض کر رہا ہوں۔ اس سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح آشکارا ہو جائے گی اور اس سے نہ صرف پاکستان کے مسلمان مستفید ہوں گے۔ بلکہ دنیا بھر کے ملت اسلامیہ مرزائیوں کے اصل خدوخال سے واقف ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو وطن کے استحکام اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔
دعا: میں اس حقیر سی کوشش کے عوض میں مسلمانوں سے دعا کا طالب ہوں کہ وہ میرے حق میں دعائے خیر کریں کہ میں نہ صرف اپنی کوشش میں ثابت قدم رہوں بلکہ مجھے خدمت دین کا مزید موقع ملے۔ آمین! فرزند توحید
٥
مکرمی جناب ڈپٹی سیکرٹری صاحب
ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت مغربی پاکستان لاہور
Ref: 4/1-H-SPL iii/65 D/26 Aug 1967
جناب عالی!
بحوالہ مندرجہ بالا جناب کی خدمت میں اپنا بیان مورخہ ٣ نومبر ١٩٦٧ء ارسال خدمت کر چکا ہوں۔ چونکہ کاتب صاحب سے اس میں کچھ املاء کی غلطیاں ہو گئی تھیں اور کچھ الفاظ رہ گئے تھے۔ لہٰذا دوبارہ تحریر کر کے منسلک ہذا روانہ خدمت ہے۔ براہ کرم اسے اس سابقہ بیان کی جگہ دے دی جائے اور اس کو مسترد سمجھا جائے۔ فقط: آپ کا خیراندیش مورخہ ١٣ نومبر ١٩٦٧ء
مکرمی جناب ڈپٹی سیکرٹری صاحب ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت مغربی پاکستان لاہور
آپ کا گرامی نامہ نمبر 4/1-H-SPI iii/65 مجریہ ٢٦ اگست ١٩٦٧ء مورخہ ٨ ستمبر ١٩٦٧ء کو موصول ہوا۔
جناب عالی!
آپ نے اپنے اس خط میں میرا کتابچہ بعنوان ”مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ کے متعلق چند آئینی سوالات دریافت فرمائے ہیں۔ محترم! بلاشبہ آپ کو اپنی آئینی پوزیشن کے سبب ایسا کرنا ہی چاہئے۔ لیکن حالات و واقعات کا جائزہ لئے بغیر ایسے سوالات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جب کہ مدعاعلیہ حقیقت کی تحقیق کئے بغیر ایسی عمارت تعمیر کرتا ہے جس کی بنیاد ریت پر ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ موجودہ حکومت میں مرزائی یا احمدی اس حد تک دخیل ہیں کہ آپ جیسے ذمہ دار آفیسر بھی غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے۔ حالانکہ میرے کتابچہ کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیفات اور سابق سیشن اینڈ ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی محمد اکبر مرحوم کے فیصلے کی تشریح ہے۔ جو انہوں نے مرزائی اور مسلمان دو فریقوں کے متعلق صادر کیا تھا اور عملی طور پر پاکستان کی عدلیہ نے اسے تسلیم کیا تھا۔ جس کی واضح، قوی اور مدلل دلیل یہ ہے کہ نہ ہی حکومت پاکستان نے کسی بھی طور پر مداخلت کی اور نہ ہی آج تک مرزائیوں نے انفرادی یا جماعتی طور پر بالخصوص راولپنڈی کے مرزائی فریق کو سابق سیشن اینڈ ڈسٹرکٹ جج مرحوم کے فیصلے کے بعد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی جرأت ہو سکی۔ چنانچہ مقدمے میں دونوں فریقوں کا ازدواجی تعلق نکاح نہیں۔ بلکہ ایک مسلم اور کافر سے نکاح کے نام پر غیر قانونی اور شرعی تعلق قرار دیتے ہوئے مہر اور نان نفقہ کے بارے میں مسلمان فریق کے حق میں فیصلہ کر دیا گیا۔ جیسا کہ مقدمہ کے مطبوعہ کتابچہ ”مرزائی دائرہ اسلام
٦
سے خارج ہیں‘ میں موجود ہے۔ مرزائی اور مسلمان کے درمیان نکاح فسخ ہو جانے کی وجہ سے طے پایا کہ مسلمان اور مرزائی دو علیحدہ علیحدہ قومیں ہیں۔ برایں وجہ یہ ظاہر ہوا کہ حکومت پاکستان، عدلیہ اور قانون کے نزدیک یہ فیصلہ ہر حیثیت سے مصدقہ اور مسلمہ ہے۔ ورنہ یہ نکاح قانونی طور پر کبھی فسخ نہ ہوتا اور امتہ الکریم بنت کرم الٰہی مہر کی رقم سے محروم نہ ہوتی۔ میں نے جو کچھ بھی تحریر کیا ہے۔ وہ ہماری اختراع نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی۔ اس کے جانشین مرزا بشیر الدین محمود اور اس کی جماعت کے مبلغ اعظم اور سیاسی سرغنہ ظفر اللہ خان وغیرہ جیسے مصنفین کے مضامین، تقاریر، جید ارکان کی تحریروں اور ملک کے مشہور مسلم لیگی اخبارات و رسائل سے اخذ شدہ اقتباسات ضبط تحریر کئے ہیں۔ جنہیں بطور ثبوت کتاب کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی چیز قابل ضبط گردانی جاسکتی ہے تو ہماری ان تحریروں کی بنیاد کے طور پر سب سے پہلے ان تقریروں، مضامین اور اخبارات کے لاکھوں مطبوعہ صفحات کو ماخذ و منبع کی حیثیت میں جو مسلسل پچھتر سال سے مرزائیوں کی طرف سے شائع ہوئی ہیں۔ اگر جناب کسی ضابطہ کے تحت قابل ضبطی سمجھتے ہیں تو لازمی طور پر پہلے اس کے ماخذ و منبع کی ضبطی ضروری ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر میری تصنیف ان اقتباسات کی تشریح ہے۔ میری من گھڑت اور فرضی چیز نہیں۔ اگر میں آپ کی وساطت سے مملکت پاکستان یعنی اپنی مسلمان حکومت کے مقتدر حاکم اعلیٰ جناب گورنر مغربی پاکستان محمد موسیٰ خاں کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ آپ اپنے ذمہ دار منصب کے تحت پوری حوصلہ مندی اور تدبر سے غور فرما کر قومی حقوق کے تحفظ کے جذبہ اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں اس مملکت خداداد پاکستان کا وفادار شہری ہونے کی حیثیت اور موجودہ آئین اور قانون کے ذریعہ ملے ہوئے آزادی تحریر و تقریر اور تبلیغ سے جائز افادے کا پورا موقعہ دیں۔ تاکہ ہمارے اسلامی عقائد کی تکمیل کے راستہ میں حکومت کی طرف سے کسی بھی تحریری یا قانونی عملی اقدام کے ذریعہ کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور مرزائیوں یا ان جیسی کسی دوسری غیر مسلم اقلیت کو فرضی شکایات بازی اور الزام تراشی کا موقعہ نہ ملے۔ میں اپنی سابقہ مجمل تحریر کی تفصیل کے طور پر اپنے جواب کے لئے دلائل منسلک کر کے بھیج رہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ مطمئن ہو گئے ہوں گے اور میں یوم تک اپنی رائے عالی سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں گے۔ تاکہ میں اس کو کتابی شکل میں شائع کر سکوں۔
فقط والسلام۔
فرزند توحید، ناشر: ”مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ بیت التوحید نمبر ١٣٧E، آصف کالونی کراچی نمبر ١٦
٧
اعتراض نمبر ٥۔ حکومت مغربی پاکستان
”اس ملک کا سرکاری نمائندہ اپنے عہدہ سے اس طرح کی غیر مذہبی غلطیاں اگر کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری اس پر کم اور آپ پر زیادہ ہے۔ کیونکہ آپ نے ابھی تک اس حرکت سے باز پرس نہیں کی۔“
جواب
ناشر فرزند توحید کتابچہ بعنوان ”مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ چوہدری ظفر اللہ کی غیر مذہبی غلطیاں اظہر من الشمس ہیں۔ اس مختصر سی عرضداشت میں ان واقعات کو تفصیل سے بیان کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔ بطور نمونہ چند واقعات پیش خدمت ہیں۔ محترم! کون نہیں جانتا کہ چوہدری ظفر اللہ نے اپنی پوزیشن سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام پاکستانی سفارت خانوں کو ربوے کا ایڈیشن بنا کر رکھ دیا۔ چنانچہ تمام ممالک میں اس نے مرزائیت کا ڈھنڈورہ اس رنگ میں پیٹا ہے کہ اس سے غیر ممالک پر یہ تاثر قائم ہو کر رہ گیا کہ پاکستانی عوام نعوذ باللہ اسلام کے مرکزی اور بنیادی مسئلہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔ جس کی بناء پر ممالک عربیہ اور افغانستان ایک طویل عرصہ تک پاکستان کی نسبت بھارت کو ترجیح دیتے رہے۔ محترم! اس حقیقت کو کون نہیں جانتا کہ چوہدری ظفر اللہ نے جب ایک کتاب قادیانی عقائد پر تصنیف کی تو ایک مسلم حکومت نے اس کو اسلام کے خلاف قرار دے کر اس کی ضبطی کے احکامات صادر کر دیئے۔ چنانچہ روزنامہ ”مشرق لاہور“ نے حکومت پاکستان کو توجہ دلاتے ہوئے اس امر کی فرمائش کی کہ فوری طور پر حکومت کی طرف سے اس حکومت کو اس امر کا یقین دلانا چاہئے کہ چوہدری ظفر اللہ قادیانی ہونے کی وجہ سے سواد اعظم کے ساتھ منسلک نہیں۔ روزنامہ ”مشرق“ نے اس امر کا بھی اظہار کر دیا تھا کہ اگر حکومت پاکستان کی طرف سے اس کے ازالہ کی کوئی کوشش نہیں کی گئی تو ممالک اسلامیہ میں پاکستان کے خلاف بھارت کو مزید غلط فہمیاں پیدا کرنے کا بہانہ مل جائے گا۔
جناب والا! چوہدری ظفر اللہ کے منحوس دور کی روشن مثال ہے کہ جب تک وہ وزارت خارجہ کی گدی پر متمکن رہے۔ انہوں نے پاکستان کو مغربی سامراج کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بنا کر رکھ دیا اور ظفر اللہ خاں ہی کی مہربانیوں سے افغانستان سے ہمارے تعلقات روز بروز کشیدہ ہوتے چلے گئے۔ یہ امر کسی وضاحت کا محتاج نہیں کہ اگر ان حالات میں ہمارا بھارت ایسے دشمن سے سامنا ہو جاتا تو پاکستان کا حشر یقیناً مشرق وسطیٰ سے کسی صورت میں بھی مختلف نہ ہوتا۔ ہمیں افسوس ہے کہ
٨
اس کے بعد بھی ہم سے دریافت فرمایا جا رہا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کی غیر مذہبی غلطیاں کیا تھیں؟ ہمارے صدر محترم اگر چہ ظفر اللہ خاں کی غیر مذہبی غلطیوں کے براہ راست ذمہ دار نہیں۔ مگر بحیثیت سربراہ مملکت ان کا دامن کس طرح بچ سکتا ہے کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ چوہدری ظفر اللہ اور فرقہ قادیانیہ کی اشتعال انگیز اور جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ہی ١٩٥٣ء میں ملک گیر فسادات ظہور پذیر ہوئے۔ اگر اس میں ذرا شک ہو تو منیر انکوائری رپورٹ کی زندہ شہادت موجود ہے۔ چوہدری ظفر اللہ کی غیر مذہبی کاروائیوں کو اگر موجودہ حکومت کی چشم پوشی مصلحتاً نتیجہ قرار دیا جائے تو لازمی طور پر سر براہ مملکت بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکار دو عالم ﷺ کے اس واضح ارشاد ’’الا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته فالامام الذى على الناس راع وهو مسئول عن رعيته (مشکوٰۃ ص ٣٢٠) ‘‘ کے مطابق نہ صرف ظفر اللہ بلکہ پاکستان کے جملہ اہل کاروں کے حسن کارکردگی کی ذمہ داری کے متعلق قیامت کو صدر محترم سے بھی سوال کیا جائے گا۔ اس لئے ناشر رسالہ کی تحریر صدر محترم کی خیر خواہی اور ہمدردی پر محمول کی جاسکتی ہے۔
اس دلدوز حقیقت کا انکشاف کر دینا ضروری ہے کہ چوہدری ظفر اللہ کی غیر مذہبی غلطی کی واضح مثال ’’ضلع گورداسپور کی بھارت میں شمولیت‘‘ رسوائے عالم کا مقام حاصل کر چکی ہے۔ واضح تحریروں کے مطابق چوہدری ظفر اللہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کی طرف سے بطور وکیل مقرر کئے گئے تھے۔ چوہدری ظفر اللہ نے اپنی ذاتی اور جماعتی منفعت کی خاطر جو کیس باؤنڈری کمیشن میں پیش کیا گیا تھا۔ وہ ’’مارشل لاء سے مارشل لاء تک‘‘ کے مصنف کے ارشاد کے مطابق تحصیل پٹھانکوٹ کو سنہری طشتری میں رکھ کر بھارت کے حضور میں پیش کیا گیا۔ فاضل مصنف رقمطراز ہے۔ ’’ریڈ کلف اپنے سامنے پیش ہونے والے مقدمہ کے اس خاص نقطہ میں پیشگی دلچسپی لے رہا تھا۔ جس علاقہ پر پرواز کرنا چاہتا تھا وہ وہی علاقہ تھا جس کا ضلع گورداسپور کی تقسیم سے تعلق تھا۔ جسٹس دین محمد اور جسٹس محمد منیر اس خاص نکتے کی اہمیت سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے ریڈ کلف کا رویہ انہیں خاص طور پر معنی خیز معلوم ہوتا تھا۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی یہ تھی کہ کمیشن کے بچانے کے لئے وہ اتنی دور دراز کی باتیں سوچ رہے تھے اور استعفیٰ پیش کرنے کی تجویز پیش کر رہے تھے۔ مسلم لیگ کے مقدمہ کی پیروی کرنے والے وکیل اسے خود ہی چاندی کی طشتری میں رکھ کر بھارت کو پیش کر رہے تھے۔ ریڈ کلف کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کے مقدمہ کی پیروی کرنے کی ذمہ داری صوبائی لیڈروں کے ذمہ تھی۔ جب ان کا مرتب کیا ہوا میمورنڈم جو عرضی دعویٰ
٩
کی حیثیت رکھتا تھا۔ کمیشن کے سامنے آیا تو مسلمان جج اسے پڑھ کر حیران ہو گئے۔‘‘
(بحوالہ مارشل لاء سے مارشل لاء تک ص ٣١٧، ٣١٨)
’’جسٹس دین محمد کو مسلم لیگ کے میمورنڈم کا مطالعہ کرنے کے تھوڑی دیر بعد کسی تقریب میں چوہدری ظفر اللہ خاں سے (جو مسلم لیگ کے وکیل تھے) ملنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے علیحدگی میں چوہدری صاحب کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی کہ میمورنڈم میں مسلم لیگی مطالبات کو عجیب طرح پیش کیا گیا تھا۔ جس کا نتیجہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ مسلم لیگ نے مجھے اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔ مطالبات مرتب کرنا مسلم لیگ کا کام تھا۔ وکیل کا فرض موکل کے مطالبات کی وکالت کرنا ہے۔‘‘
(بحوالہ مارشل لاء سے مارشل لاء تک ص ٣١٧، ٣١٨)
حضور محترم! اس ساری سازش کا پس منظر یہ ہے کہ اس وقت مرزا قادیانی کی جماعت نے بھارت سے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ قادیان بھارت میں شامل ہو گیا تو حکومت انڈیا مرزائی جماعت کو قادیان سے ملک بدر نہیں کرے گی۔ ایسی صورت میں ضلع کی بجائے تحصیل کو یونٹ قرار دے کر نواب ممدوٹ کو جو اس وقت مسلم لیگ کے پریذیڈنٹ تھے۔ ریاست ممدوٹ کے تحفظ کا یقین اور چوہدری ظفر اللہ نے اپنی مقامی پوزیشن کے پیش نظر کہ ہم قادیان ہی میں رہیں گے۔ تحصیل پٹھانکوٹ کو عبوری حد مقرر کر کے بھارت کی آرزوؤں کی تکمیل کر دی۔ اس کا ایک مقصد تو بھارت کو مطمئن کرنا تھا اور دوسرا اپنی تبلیغی سرگرمیوں کے لئے کشمیر کی وسیع وعریض سلطنت کو اپنی تبلیغ کا میدان بنانا تھا۔ یہ صرف ہماری سخن سازی کا مرقع نہیں بلکہ کتاب مذکورہ میں فاضل مصنف بھی تحریر فرماتے ہیں کہ : ’’حد بندی کے مسئلہ میں ریڈکلف کی پیشگی دلچسپی کو بعض دوسرے واقعات کے سیاق وسباق میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن غالباً تین جون کے پلان کی منظوری سے پہلے ہی پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ کم از کم اس حد تک پختہ وعدہ کر چکا تھا کہ گورداسپور کے پورے ضلع کو ( جو مسلم اکثریت کا ضلع تھا) پاکستانی پنجاب میں شامل کرنے کی بجائے اس طرح تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کم از کم پٹھان کوٹ کی تحصیل بھارتی علاقہ میں شامل ہو جائے۔ تحصیل پٹھان کوٹ کی خاص جغرافیائی اہمیت یہ تھی کہ اس کا ایک سرا ریاست جموں وکشمیر کے علاقے سے ملحق تھا۔ لہٰذا اگر یہ تحصیل بھارت کا حصہ بن جائے تو بھارت کی
١٠
سرحدیں ریاست سے جاملتی تھیں اور بھارت کو اس ریاست تک پہنچ جانے کا راستہ مل جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بھارت اور اس ریاست کے درمیان کوئی جغرافیائی تعلق نہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ ریاست کی باقی ماندہ سرحد پنجاب کے جن اضلاع (سیالکوٹ، جہلم، گجرات، راولپنڈی) کے ساتھ ملتی تھی۔ وہ بہت ہی ٹھوس مسلم اکثریت کے اضلاع تھے۔‘‘ (ایضاً) حاصل کلام یہ ہوا کہ ان ہر دو اقتباسات سے یہ واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کے پیش کردہ میمورنڈم اور پنڈت جواہر لال نہرو کی آرزوؤں کی تکمیل کے لئے ایک منظم طور پر پلان مرتب کیا جا چکا تھا۔ ورنہ مرزا محمود کا باؤنڈری کمیشن میں آخر تک شامل رہنا کسی غلط فہمی کی بناء پر نہ تھا اور نہ ہم اس حد تک انہیں مرفوع القلم سمجھتے ہیں۔ نیز مسلم لیگ کے وکیل کی موجودگی میں مرزائیوں کا اپنی طرف سے وکیل شیخ بشیر احمد کو مقرر کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ کوئی گہری سازش تھی۔ تاکہ تحصیل پٹھان کوٹ کو چاندی کی طشتری میں رکھ کر پیش کر دیا جائے اور ان کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ چنانچہ مرزائیوں کے مشہور مبلغ جلال الدین شمس کتابچہ ”قیام پاکستان اور جماعت احمدیہ“ میں رقم طراز ہیں۔ مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے کے لئے سر ظفر اللہ خاں لندن سے لاہور پہنچے اور خود امام جماعت احمدیہ بھی تمام کارروائی دیکھنے اور سننے کے لئے عدالت میں موجود تھے اور مناسب ہدایات دیتے رہے۔ علاوہ ازیں لندن اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر مسٹر سپیٹ کی جو باؤنڈری ایکسپرٹ تھے۔ خدمات حاصل کی گئیں اور ان کے تمام اخراجات جماعت احمدیہ نے برداشت کئے۔
(بحوالہ قیام پاکستان اور جماعت احمدیہ ص ٥٢)
اس امر کا اظہار از حد ضروری ہے کہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے میمورنڈم پیش کرنے کا لازمی نتیجہ گورداسپور ضلع کو از خود بھارت کے سپرد کرنے کے مترادف ثابت ہوا۔ مطلب نکل جانے کے بعد جب پنجاب میں فسادات کا طوفان امڈ آیا تو بھارت نے قادیان کو تحفظ دینے سے انکار کر دیا۔ جواہر لال نہرو کو تاروں پر تار ارسال کئے گئے۔ وفد کی صورت میں وعدوں پر ایفاء کا مطالبہ کیا گیا۔ مگر بھارت نے حالات کے پیش نظر حفاظت سے صاف انکار کر دیا۔ قادیان کے اردگرد چونکہ سکھ اکثریت میں تھے۔ سردار بلدیو سنگھ کے ذریعہ بالآخر بات یہاں تک پہنچی کہ سکھ ننکانہ میں اپنے گرنتھی رکھ لیں اور مرزائی قادیان میں اپنے درویش ...... اس کے علاوہ روزنامہ ”مشرق“ مورخہ ١٥ فروری ١٩٦٤ء کا ایڈیٹوریل جن حقائق کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ اس سے
١١
بھی ظفر اللہ خاں کی حسن کارکردگی کا حدود اربعہ بحسن وجوہ بالکل واضح ہو کر منظر عام پر آ جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے :
”بھارت کے مشہور اخبار ”ہندوستان ٹائمز“ میں بھارت کے سابق کمشنر مسٹر سری پر کاش کی قسط وار خود نوشت سوانح عمری چھپ رہی ہے۔ جس میں انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور عالمی عدالت کے جج سر محمد ظفر اللہ خان کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ ١٩٤٧ء میں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بیوقوف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو اس سے ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ مسٹر سری پرکاش نے مزید لکھا ہے کہ کچھ عرصہ بعد جب کراچی میں سر ظفر اللہ سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ اب قائد اعظم اور پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا میرا جواب اب بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا۔ مسٹر سری پرکاش کی یادداشت کے اس حصہ کی طرف جب چوہدری ظفر اللہ کی توجہ مبذول کرائی گئی تو انہوں نے اس کی تردید کی اور یہ کہا کہ قائد اعظم تو مجھے اپنا سیاسی بیٹا سمجھتے تھے اور مجھ پر آخری دم تک مہربان تھے۔“ مشرق میں راجہ غضنفر علی خان مرحوم کی سرگزشت شائع ہورہی ہے۔ جسے سید نور احمد نے مرتب کیا ہے۔ اس سرگزشت میں بھی سر محمد ظفر اللہ خان پر ایک سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے : ”ضلع گورداسپور کے سلسلہ میں ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے۔ اس کے متعلق سر محمد ظفر اللہ خاں (جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے) خود بھی ایک افسوس ناک حرکت کر چکے تھے۔ انہوں نے قادیانی جماعت کا نقطۂ نظر عام مسلمانوں سے جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی جدا گانہ حیثیت سے پیش کیا۔ جس سے مسلمانوں کا کیس کمزور ہو گیا۔ سر محمد ظفر اللہ خاں کو اس الزام کا جواب بھی دینا چاہئے۔ اب رہا یہ سوال کہ موصوف نظریہ پاکستان کے حامی تھے یا نہیں؟ اور وہ قائد اعظم کو کیا سمجھتے تھے؟ تو اس کا اندازہ اس ناقابل تردید واقعہ سے کیا جاسکتا ہے کہ سر محمد ظفر اللہ خان نے کراچی میں موجود ہوتے ہوئے قائد اعظم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ اسی طرح لاہور میں ہوتے ہوئے حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ انتہاء یہ ہے کہ انہوں نے اپنے محسن سر فضل حسین کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کی۔ محض اس وجہ سے کہ وہ مسلمان تھے اور موصوف کے عقیدے کے مطابق کوئی احمدی کسی مسلمان کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کر سکتا۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سر ظفر اللہ خان جس مذہب سے تعلق رکھتے
١٢
ہیں۔ اس کی پنڈت جواہر لال نہرو اس و کا قبلہ حجاز کی زمین نہیں بلکہ گورداسپور ہ اس ہندوستانی اسلام والے نظریئے پر ا سے قادیانی حضرات کی ناراضگی کا بڑا س تمام احسانات کے باوجود سر ظفر اللہ خا تھے۔ اگر ان کے بارے میں ان کی ح جنازہ میں ضرور شرکت کرتے۔“ (ادارہ سابقہ اثر ورسوخ کے استعمال میں اب ک برطانیہ کے زیرسایہ یورپی قادیانیوں کی تھا۔ اس میں یہ مسئلہ خاص کر زیر بحث آ ہوگا۔ یادر ہے کہ یہ کانفرنس ٣ تا ٧ اگس بعد ٦؍ ستمبر ١٩٦٥ء کو بھارت نے پاکستا رپورٹ ملاحظہ ہو۔
جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونش
لندن ٣؍ اگست (نمائندہ ج مرکز میں منعقد ہورہا ہے۔ جس میں تمام کا افتتاح گذشتہ روز ہیک کی بین الاقو تک جاری رہے گا۔ جماعت نے مختلف جماعت کے اٹھارہ مرکز قائم ہوچکے ہی اگر احمدی جماعت برسر اقتدار آ جائے جائے اور سود پر پابندی لگادی جائے او
(روزنامہ جنگ راولپ
ربوے کے ڈکٹیٹر مرزا محم میں کوئٹہ میں خطبہ دیا۔ (بلوچستان میں
ہیں۔ اس کی پنڈت جواہر لال نہرو اس لئے حامی تھے کہ وہ اسے ہندوستانی اسلام سمجھتے تھے۔ جس کا قبلہ حجاز کی زمین نہیں بلکہ گورداسپور میں واقع ہے۔ حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے پنڈت نہرو کے اس ہندوستانی اسلام والے نظریئے پر ایک دو مضامین میں بڑی شدید گرفت کی تھی۔ علامہ اقبالؒ سے قادیانی حضرات کی ناراضگی کا بڑا سبب یہی مضامین تھے۔ قائد اعظم کے بارے میں ان کے تمام احسانات کے باوجود سر ظفر اللہ خاں کی رائے کبھی اچھی نہیں ہوئی۔ کیونکہ قائد اعظم مسلمان تھے۔ اگر ان کے بارے میں ان کی رائے اچھی ہوتی اور وہ ان کو اپنا باپ سمجھتے تو ان کی نماز جنازہ میں ضرور شرکت کرتے۔‘‘ (اداریہ روزنامہ مشرق ١٥؍فروری ١٩٦٤ء) نیز چوہدری ظفر اللہ نے سابقہ اثر و رسوخ کے استعمال میں اب کون سی کمی رہ گئی ہے کہ زمانہ قریب تر میں اپنے برطانیہ کے زیر سایہ یورپی قادیانیوں کی ایک کنونشن بلائی۔ جس کا کرتا دھرتا چوہدری موصوف ہی تھا۔ اس میں یہ مسئلہ خاص کر زیر بحث آیا کہ اگر قادیانی حکومت قائم ہو جائے تو نظام حکومت کیا ہوگا۔ یادرہے کہ یہ کانفرنس ٣ تا ٧؍اگست ١٩٦٥ء کو منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس سے ٹھیک ایک ماہ بعد ٦؍ستمبر ١٩٦٥ء کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا۔ راولپنڈی کے موقر جریدہ روزنامہ جنگ کی رپورٹ ملاحظہ ہو۔
جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن...... سر ظفر اللہ نے افتتاح کیا
لندن ٣؍اگست (نمائندہ جنگ) جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن جماعت کے لندن مرکز میں منعقد ہورہا ہے۔ جس میں تمام یورپی ممالک کے احمدیہ مشن شرکت کررہے ہیں۔ کنونشن کا افتتاح گذشتہ روز ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے جج سر ظفر اللہ نے کیا۔ یہ کنونشن ٧؍اگست تک جاری رہے گا۔ جماعت نے مختلف پچھڑے ممالک میں اپنے مشن قائم کرلئے ہیں۔ برطانیہ میں جماعت کے اٹھارہ مرکز قائم ہوچکے ہیں۔ کنونشن میں شریک مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر احمدی جماعت برسر اقتدار آجائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں اور دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے اور سود پر پابندی لگادی جائے اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے۔
(روزنامہ جنگ راولپنڈی ٤؍اگست ١٩٦٥ء، فرسٹ ایڈیشن و چناب ایڈیشن ج ٧ ص ٣٠٩)
ربوہ کے ڈکٹیٹر مرزا محمود قادیانی کی بھی سنئے۔ آپ نے الفضل ١٣؍اگست ١٩٣٨ء میں کوئٹہ میں خطبہ دیا۔ (بلوچستان میں تو صرف پانچ چھ لاکھ انسان بستا ہے۔ اس میں بڑی مشکل
١٣
سے دو تین ہزار احمدی ہیں۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں) پاکستان میں یہ اسرائیلیوں کی طرح اپنی حکومت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
اکھنڈ ہندوستان رہے گا اور پاکستان کا وجود عارضی ہے
”حضور نے اپنا ایک رویا بیان فرمایا جس میں ذکر تھا کہ گاندھی جی آتے ہیں اور ایک چارپائی پر لیٹنا چاہتے ہیں اور ذرا سی دیر لیٹنے پر اٹھ بیٹھے اس کی تعبیر میں حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ساری قومیں متحد ہوں۔ تاکہ احمدیت اس وسیع زمین پر ترقی کرے۔ چنانچہ اس رویا میں اسی طرف اشارہ ہے۔ ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو۔ (اسی لئے جماعت احمدیہ کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا وجود عارضی ہے) اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں گی۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد دور ہو جائے۔
(الفضل، مغربی پاکستان حکومت کا اعتراض نمبر ٢ ص ٦)
خدا جانے وہ کون سی قوت حاکمہ ہے جو آپ کو مجبور کرتی ہے کہ آپ چوہدری ظفر اللہ کو ہی اتنی بڑی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ اقوام عالم ہمارے متعلق کیا رائے قائم کریں گی کہ جس ملک نے ١٩٥٣ء میں اپنے ہزاروں عوام کا خون بہا کر سر محمد ظفر اللہ خاں کو اس عہدہ سے الگ کرایا تھا۔ آپ نے پھر اقوام متحدہ کا نمائندہ بنا کر از سر نو ایک نئے فساد کی بنیاد رکھی۔
(جواب نمبر ٢ ص ٦، ناشر فرزند توحید و کتابچہ بعنوان مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں)
یہ عبارت خاص طور پر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ناشر رسالہ اس کو بہت ہی تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ سابقہ حکومتوں کے متعلق تو یہ قیاس آرائی کی جاسکتی تھی کہ ان کا رکوع و سجود، قیام و قعود امریکہ اور برطانیہ کے چشم وابرو کا رہین منت تھا۔ جس کے متعلق سردار بہادر خان کی شہادت نہایت واضح ہے کہ ١٩٥٨ء تک امریکہ پاکستانی سیاستدانوں کو کٹھ پتلی کا ناچ نچاتا رہا۔ ورنہ یہ کوئی وجہ نہ تھی کہ خواجہ ناظم الدین مرحوم اپنے مخصوص معتقدات کی بناء پر جو سواد اعظم کے ساتھ سو فیصدی مطابقت رکھتے تھے اور وہ مدعی نبوت کاذبہ کو صدق دل سے اسلام کی مرکزیت کے خلاف گردانتے تھے۔ انکوائری کورٹ میں مرحوم نے اپنے عقائد کا جس دریا دلی کے ساتھ اعتراف کیا ہے۔ اس کے متعلق جسٹس منیر رقم طراز ہیں۔
”خواجہ صاحب کا اپنا عقیدہ یہ تھا کہ اگر نوے فیصد علماء اس پر اتفاق کر لیں کہ مرزا غلام
١٤
احمد قادیانی کو ماننے والا کافر ہے سر تسلیم خم کر دیں گے۔“
خواجہ صاحب کے ا باوجود چونکہ پاکستان کی تکمیل ا کے متفقہ مطالبات کو نظر انداز کر ”خواجہ ناظم الدین نے وفد کو بتلایا کہ میرے لئے ان مطالبات کو ت سے کہا کہ اگر میں نے چوہدری ظفر ایک دانہ بھی نہیں ملے گا۔“ ناشر رسالہ
جس رزق س
کے قائل نہ تھے۔ ناشر ر نے اس خود دارانہ اصول کو ایک شہرہ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ بھی سواد اعظم کے طریقہ عمل اختیار کرنے کے لئے تیا حاشیہ نشینوں کو پاکستان کے ہر ایک احساسات آئے دن ان لوگوں کی طر کوئی حقیقت محض اس والا کوئی نہ ہو۔ حقیقت بہر حال حقیق ہیں کہ مذکورہ بالا کیفیت نے عوام ا اگر مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغ پر کوئی پا کبھی مبارک ثابت نہ ہوں گے۔ میں ١٩٥٣ء کے حالات پیدا ہو کر ر مفصل روئیداد مندرجہ ذیل سطور سے ”احمدی براہ راست ق
احمد قادیانی کو ماننے والا کافر ہے اور اس کو سنگسار کر کے ہلاک کر دیا جائے تو وہ اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیں گے۔"
(منیر انکوائری رپورٹ ص٣١٣)
خواجہ صاحب کے اعتقادات مندرجہ بالا عبارت سے بالکل واضح ہیں۔ اس کے باوجود چونکہ پاکستان کی نکیل امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھ میں تھی۔ اس لئے انہوں نے سواد اعظم کے متفقہ مطالبات کو نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ جسٹس منیر انکوائری رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”خواجہ ناظم الدین نے وفد کو بتلایا کہ میں نے اس مسئلہ پر بہت غور کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میرے لئے ان مطالبات کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔ جنوری ١٩٥٣ء میں انہوں نے ارکان وفد سے کہا کہ اگر میں نے چوہدری ظفر اللہ کو کابینہ سے برطرف کر دیا تو پاکستان کو امریکہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں ملے گا۔" ناشر رسالہ کے نزدیک خواجہ ناظم الدین مرحوم؎
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
(اقبالؒ)
کے قائل نہ تھے۔ ناشر رسالہ اس جگہ تعجب انگیز طریقہ سے اظہار کر رہا ہے کہ صدر محترم نے اس خود دارانہ اصول کو ایک شہرہ آفاق کتاب کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ بھی سواد اعظم کے جذبات اور احساسات کے متعلق ناظم الدینؒ سے کوئی مختلف طریقہ عمل اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کے ازلی اور ابدی حاشیہ نشینوں کو پاکستان کے ہر ایک شعبہ میں مسلط فرما دیا ہے اور عامۃ المسلمین کے جذبات اور احساسات آئے دن ان لوگوں کی طرف سے مجروح کئے جا رہے ہیں۔
کوئی حقیقت محض اس لئے نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہوتی کہ اس کو تسلیم کرنے والا کوئی نہ ہو۔ حقیقت بہرحال حقیقت ہے۔ ہم اس امر کو واضح الفاظ میں ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ مذکورہ بالا کیفیت نے عوام الناس میں اضطراب و ہیجان کی ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ اگر مرزائیوں کی جارحانہ تبلیغ پر کوئی پابندی عائد نہ کی گئی تو اس کے نتائج ملک و قوم اور ملت کے لئے کبھی مبارک ثابت نہ ہوں گے۔ بہت ممکن ہے کہ مرزائی جماعت کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجہ میں ١٩٥٣ء کے حالات پیدا ہو کر رہ جائیں۔ وہ حالات کس طرح پیدا کئے گئے تھے۔ اس کی مفصل روئیداد مندرجہ ذیل سطور سے بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے۔ ملاحظہ ہو انکوائری رپورٹ۔
”احمدی براہ راست فسادات کے ذمہ دار نہ تھے۔ کیونکہ فسادات حکومت کے اس
١٥
اقدام کا نتیجہ تھے۔ جو حکومت نے اس پروگرام کے خلاف کیا تھا۔ جو ڈائریکٹ ایکشن کی قرارداد کے ماتحت آل مسلم پارٹیز کنونشن نے اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن مطالبات کا تعلق احمدیوں سے تھا اور وہ مطالبات اس لئے وجود میں آئے تھے کہ احمدیوں کے بعض عقائد اور ان کی سرگرمیاں مخصوص انداز کی تھیں اور وہ دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ اور ممیز ہونے پر زور دے رہے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مطالبات احمدیوں کے عقائد اور ان کی سرگرمیوں ہی کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ لہٰذا یہ متعین کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آیا فسادات کے اشتعال میں احمدیوں کا بھی کوئی حصہ تھا۔ عامتہ المسلمین کے ساتھ ان کے اختلافات نصف صدی سے زیادہ مدت سے چلے آ رہے تھے اور تقسیم سے پیشتر وہ کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے پروپیگنڈے اور اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ تاہم قیام پاکستان سے صورت حال بالکل بدل گئی۔ اس کے بعد اگر احمدی یہ سمجھتے تھے کہ اب اسلام کے علاوہ دوسرے مذہب کی تلقین یا اسلام کے اندر فرقہ وارانہ عقائد کی تبلیغ کی اجازت جن حدود کے اندر دی جائے گی۔ ان کے متعلق اگر وہ کوئی پالیسی وضع نہ کریں گے جب بھی ان کی سرگرمیوں کے خلاف کوئی برہمی پیدا نہ ہوگی اور نئی مملکت میں ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔ تو وہ گویا اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے تھے۔ تاہم بدلے ہوئے حالات کے مطابق ان کی سرگرمیوں اور ان کی جارحانہ نشر و اشاعت میں کوئی تغیر پیدا نہ ہوا اور غیر احمدی مسلمانوں کے خلاف دل آزار باتیں برابر کہی جاتی رہیں۔ کوئٹہ میں مرزا محمود احمد قادیانی نے جو تقریر کی وہ نہ صرف نامناسب بلکہ غیر مآل اندیشانہ اور اشتعال انگیز تھی۔ اس تقریر میں انہوں نے بلوچستان کے صوبے کی پوری آبادی کو احمدی بنا لینے اور اس صوبے کو مزید جدوجہد کے مرکز کی حیثیت سے استعمال کرنے کی علی الاعلان حمایت کی۔ اس طرح جب انہوں نے اپنے پیروؤں کو یہ ہدایت کی کہ تبلیغ احمدیت کے پروپیگنڈے کو تیز کر دیں۔ تا کہ ١٩٥٢ء کے آخر تک پوری مسلم آبادی احمدیت کے آغوش میں آ جائے۔ تو گویا مسلمانوں کو تبدیلی مذہب کی سرگرمیوں کا کھلا نوٹس دے دیا اور جب مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کے متعلق دشمن یا مجرم یا محض مسلمان کے الفاظ استعمال کئے گئے تو جن لوگوں کی توجہ ان اشارات کی طرف مبذول کرائی گئی ان کا مشتعل ہو جانا لازمی تھا۔ احمدی افسروں نے لوگوں کو احمدی بنا لینے کی مہم میں از سر تا پا مصروف ہو جانا اپنا مذہبی فریضہ خیال کیا۔ ان کے اس رویہ کی وجہ سے احمدیوں کو اس امر کا حوصلہ ہوا کہ جہاں کہیں انہیں افسروں کی حمایت تھی یا حاصل ہونے کی توقع تھی۔ وہاں اپنے مقصود کے حصول میں زور شور سے مصروف ہو جائیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اگر ضلع منٹگمری کا حاکم اعلیٰ احمدی نہ ہوتا تو احمدیوں کو ١٦
ہرگز جرات نہ ہوتی کہ غیر احمدی پ کوئی سرکاری افسر اپنے فر افسروں نے کیا تو اس کا نتیجہ ا ایک فرد فریق ہو۔ ان میں اس دیانتدارانہ ہو۔ لیکن اگر وہ اس اس کو یہ یقین دلانا غیر ممکن ہے افسروں کا طرز نہایت افسوس ن ہیں۔ جس کے ماتحت کسی افسر احمدی براہ راست فسادات کے طرز عمل نے بہم پہنچایا۔“
اعتراض نمبر ٤٣
اگر آپ مسلماناں ہمارے سروں پر مسلط رکھنا چاہ قرار دیا جائے۔
جواب نمبر ٣ ص ٤٨
اس عبارت کا ہر گز کے جذبات کو مجروح کر رہے ہ کسی عہدہ پر متمکن رہنے دیتے چوہدری ظفر اللہ کو کسی خصوصی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا میں مسلمانوں کے تمام فرقے ‘اب میں جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا دو ٹوک فیصلہ کر چکی ہے۔
اعتراض نمبر ٤٤
اگر چہ صحیح بات کا
جواب نمبر ٤ ص ٩٠٨ : ناشر فرقہ
ہرگز جرات نہ ہوتی کہ غیر احمدی دیہات کے علاقے میں کھلم کھلا اپنے تبلیغی مشن پر روانہ ہوتے۔ جب کوئی سرکاری افسر اپنے فرقہ وارانہ عقائد کا علی الاعلان اظہار کرتا ہے۔ جیسے کہ بعض احمدی افسروں نے کیا تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ جن تنازعات میں اس کی جماعت کا کوئی ایک فرد فریق ہو۔ ان میں اس کی غیر جانبداری پر کسی کو اعتماد نہیں رہتا۔ اس کا فیصلہ کتنا ہی صحیح اور دیانتدارانہ ہو۔ لیکن اگر وہ اس فریق کے خلاف ہو جو اس افسر کی جماعت سے تعلق نہ رکھتا ہو، تو اس کو یہ یقین دلانا غیر ممکن ہے کہ اس کو فرقہ وار وجوہ کی بناء پر ناانصافی کا شکار نہیں بنایا گیا۔ لہٰذا ان افسروں کا طرز نہایت افسوس ناک تھا اور اس امر کا مظہر تھا کہ وہ اس اصول کے فہم سے بالکل قاصر ہیں۔ جس کے ماتحت کسی افسر کو اپنا ظاہری رویہ معین کرنا چاہئے۔ لہٰذا ہمیں یقین ہے کہ اگرچہ احمدی براہ راست فسادات کے ذمہ دار نہیں، لیکن ان کے خلاف عام شورش کا موقع خود ان ہی کے طرز عمل نے بہم پہنچایا۔“
(ماخوذ انکوائری رپورٹ فسادات پنجاب ١٩٥٣ء اردوایڈیشن)
اعتراض نمبر ٣ ص ٧،٦ ، حکومت مغربی پاکستان اگر آپ مسلمانان عالم کے جذبات کو مجروح کر کے چوہدری ظفر اللہ خاں کو ہی ہمارے سروں پر مسلط رکھنا چاہتے ہیں تو اس کی آسان صورت یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
جواب نمبر ٣ ص ٧،٦، ناشر فرزند توحید کتابچہ بعنوان مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس عبارت کا ہرگز ہرگز یہ منشاء نہیں کہ صدر محترم خدانخواستہ دیدہ و دانستہ مسلمانان عالم کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ کو بحیثیت ”مسلمان کسی عہدہ پر متمکن رہنے دینا مسلمانان عالم کے جذبات کو مجروح کر دینے کے مترادف ہے۔ اگر چوہدری ظفر اللہ کو کسی خصوصی تعلق کی بناء پر رکھنا چاہتے ہیں تو اس کی آسان ترکیب یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے اور جس حد تک قادیانیوں کے غیر مسلم قرار دینے کا تعلق ہے اس میں مسلمانوں کے تمام فرقے متفق الرائے ہیں۔ حکیم الامت حضرت اقبالؒ نے پنڈت نہرو کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ تمام دنیا پر ظاہر ہے۔ پنجاب مسلم لیگ اپنے ایک اجلاس میں اس کا دوٹوک فیصلہ کر چکی ہے۔
(ملاحظہ ہو منیر رپورٹ ص ٢٨٢، مفصل ریزولیشن موجود ہے)
اعتراض نمبر ٤ ص ٩،٨، حکومت مغربی پاکستان۔ اگر چہ صحیح بات کا ماننا آپ کے پادری مرزا غلام احمد قادیانی کے بس کا روگ نہیں ہے۔
جواب نمبر ٤ ص ٩،٨، ناشر فرزند توحید کتابچہ بعنوان مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں
١٧
اس میں اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو پادری لکھا گیا ہے تو اس میں کون سی تعجب و توہین کی بات ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو پادریوں کے رنگ میں پیش کیا ہے، تحریر فرماتے ہیں: ”یہ دعا گو جو دنیا میں عیسیٰ مسیح کے نام پر آتا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٥)
اور نیز اسی کتاب کے (ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢) پر تحریر فرماتے ہیں۔ ”چونکہ اس نے مجھے یسوع کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی۔“
نیز ملاحظہ ہو (ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣) ”میں وہ شخص ہوں۔ جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔“ نیز اپنی کتاب (تریاق القلوب ص ١٣٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٩) میں تحریر کرتے ہیں۔ ”سو ایسا ہی میں بھی مخلوق کی بھلائی کے لئے صلیب سے پیار کرتا ہوں۔ اس خدا کی تعریف جس نے مجھے مسیح ابن مریم بنایا۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
مندرجہ بالا تحریر سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیحیت کے اتنا قریب ہے اور زندگی کے ہر گوشہ میں اپنے آپ کو مسیح ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ۔ایسے حالات و واقعات کی موجودگی میں مرزا غلام احمد قادیانی کو پادری کہنا کوئی جرم نہیں۔
اعتراض نمبر ٥ ص ٩، حکومت مغربی پاکستان۔
اب ملک کے تمام مرزائیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے نام بھی مسلمانوں والے نہ رکھیں۔ بلکہ اگنی لال، دونی لال، چونی لال اور اٹھنی لال رکھیں اور مسلمانوں جیسے حلیے بھی نہ بنائیں تا کہ ہر دیکھنے والا آپ کو مسلمان سمجھ کر دھوکہ سے بچ جائے۔
جواب نمبر ٥ ص ٩ ناشر فرزند توحید کتابچہ بعنوان مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اگنی لال، دونی لال وغیرہ ۔ ان جملوں کا سوائے اس کے کوئی مطلب نہیں کہ تمام عالم اسلام متفقہ طور پر مدعی نبوت کاذبہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے چکا ہے اور پاکستان کی متعدد باوقار عدالتیں قانونی طور پر غیر مسلم ٹھہرا چکی ہیں تو پھر اس کے سوا آخری چارہ کار اور کیا ہے کہ انہیں ہندوؤں کے نام اختیار کر لینے چاہئیں۔ کیونکہ عدالتوں کے واضح اعلان کے بعد مسلم نام رکھنے کی کوئی وجہ جواز موجود نہیں۔ پھر ہندوؤں کے سے نام رکھنے میں ان کے نزدیک اور بھی کئی ایک پہلو ہیں۔ جنہیں تقدیس کی دولت حاصل ہے۔ مثال کے طور پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ”یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)
١٨
”ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما ہو استتی گیتا میں موجود ہے۔“
(تذکرہ ص٤٢٠، روایت نمبر ٢١٨)
ایک دفعہ الہام ہوا۔ ”امین الملک جے سنگھ بہادر۔“
(تذکرہ ص٦٧٢، روایت نمبر ١٤٤٣)
ایک دفعہ مرزا قادیانی نے ”ایک حاکم سے دستخط کرائے اور فرمایا۔ یہ مکھن لال ایک فرشتہ ہے۔“
(تذکرہ ص٥٦١، روایت نمبر ١٠٢٦)
ایک فرشتہ نے مرزا قادیانی کو روپے عنایت فرمائے۔ ”اس فرشتہ کا نام ٹیچی ٹیچی تھا۔ یعنی عین وقت پر آنے والا۔“
(حقیقۃ الوحی ص٣٣٢، خزائن ج٢٢ ص٣٤٦، ٣٣٥)
مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے۔ ”مرزا غلام احمد کی جے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص٢٤، روایت نمبر ١٤٤٥)
جبکہ خود خدائے تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو کرشن رودر گوپال جے سنگھ بہادر کے نام موسوم فرمائے اور مرزا قادیانی کے فرشتوں کے نام ٹیچی ٹیچی اور مکھن لال اور خیراتی وغیرہ ہیں۔ علاوہ ازیں مرزائیوں کے خلیفہ اوّل مرزا محمود قادیانی خود بھی مسلمانوں کے سے نام رکھوا کر خوش نہیں۔ جیسا کہ درج ذیل بیان سے ظاہر ہے۔ مرزا محمود ابوسعید سپرنٹنڈنٹ ریلوے پولیس کو ایک سکھ نے قتل کر دیا تھا۔ اس پر مرزا محمود گلفشانی فرماتے ہیں۔ ”قاتل نے اس تحریک کا اثر لیا۔ جو سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف پیدا کی جا رہی ہے اور سمجھا جس پر حملہ کرنے لگا ہوں وہ ابوسعید ہے۔ یہ نہ سمجھا کہ احمدی ہے۔ اس نے مسلمان سمجھ کر قتل کر دیا۔ اگر سکھ کو یہ معلوم ہوتا کہ یہ احمدی ہے مسلمان نہیں ہے تو پھر قتل نہ کرتا۔“
(بیان مرزا محمود الفضل مورخہ ١٥؍ جون ١٩٢٦ء)
مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں۔ میرے کاتب الوحی کا نام سندر لال ہے۔ اکثر لوگوں نے جب اس پر اعتراض کیا کہ مرزا قادیانی سندر لال سے اس قدر مانوس کیوں ہیں اور یہ ان کے ساتھ کیوں رہتا ہے۔ جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ بعض دفعہ مجھے وحی سنسکرت میں آتی ہے۔ لہٰذا سنسکرت کو سمجھنے کے لئے ایک ہندو کاتب الوحی کا میرے ساتھ ہونا ضروری ہے۔
مندرجہ بالا دلائل کی موجودگی میں کیا ہماری یہ رائے درست نہیں کہ مرزائی اپنے نام وہی تجویز کر لیں جن کا ذکر ہم اپنے کتابچہ میں کر آئے ہیں۔ یعنی اکنی لال، دونی لال، چونی لال اور اٹھنی لال۔
جب کہ مرزا محمود قادیانی اپنے ٢١؍ اگست ١٩١٧ء کے ایک بیان میں فرما رہے ہیں۔ ہمارا مسلمانوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں۔ مسلمانوں کا اسلام اور ہمارا اسلام اور۔ ان کا خدا اور ہمارا خدا اور۔ ہمارا حج اور ان کا اور۔ غرض اسی طرح ہمارا اختلاف ہر بات میں ہے۔
١٩
یقین کامل ہے کہ گذشتہ صفحات میں جو کچھ احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔ اس سے آپ پورے طور پر مطمئن ہوگئے ہوں گے۔ اب آخر میں آپ کو تفریح طبع کے لئے مرزا قادیانی کے کچھ اور دعوٰی زینت قرطاس کئے دے رہا ہوں اور جن کے لئے عرض ہے۔ بقول شخصے
- ......١ "میں خدا کا باپ ہوں۔"
(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
- ......٢ "خدا کا بیٹا ہوں۔"
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- ......٣ "خدا کا نطفہ ہوں۔"
(اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)
- ......٤ "خدا کی بیوی ہوں۔"
(اسلامی قربانی ص ١٢)
- ......٥ "خدا نے میرے ساتھ رجولیت کا اظہار فرمایا اور اس عمل سے میری
حالت ناقابل بیان ہوگئی۔"
(اسلامی قربانی ص ٣٤)
- ......٦ "خدا کے مانند ہوں۔"
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣ حاشیہ)
- ......٧ "میرا بیٹا مثل خدا ہے۔ گویا خدا ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)
- ......٨ "مونث ہوں مجھے حیض آتا ہے۔"
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٤٥٠)
- ......٩ "مذکر ہوں مجھے شہوت ہوتی ہے۔"
(تذکرہ ص ١٩٧)
- ......١٠ "کرم خاکی ہوں۔"
(براہین احمدیہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)
- ......١١ "آدم بھی ہوں۔ یعنی پیغمبر۔"
- ......١٢ "اولادِ آدم بھی نہیں ہوں۔"
(براہین احمدیہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)
- ......١٣ "بشر کی جائے نفرت ہوں۔"
(براہین احمدیہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)
- ......١٤ "انسانوں کی عار ہوں۔"
(براہین احمدیہ پنجم ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ١٢٧)
- ......١٥ "پچاس مردوں کی قوت باہ رکھتا ہوں۔"
- ......١٦ "نامرد ہوں۔"
(تریاق القلوب ص ٣٦، خزائن ج ١٥ ص ٤٠٢)
- ......١٧ "مجھے روزانہ سو سو دفعہ پیشاب آتا ہے۔"
(اربعین نمبر ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣١)
٢٠
- ......١٨ "تیرا نام
- ......١٩ "رووے
- ......٢٠ "کہ مٹی
- ......٢١ "اسراء
- ......٢٢ "میں
- ......٢٣ "وہاں
اور لیجئے مرزا غلام احمد فرما لیجئے۔
بدکار عورتوں کی اولاد "کل مسلمانوں کنجریوں اور بدکار عورتوں کی او
میرا مخالف
"جو شخص میرا مخالف
حرامزادے کی نشانی
"جو شخص ہماری شوق ہے۔ حرامزادے کی نشانی
جنگلوں کے خنزیر
"بلاشک ہمارے گئیں۔"
یہ بات یقیناً آپ اور ممنوع ہے اور ان ممالک جمہوریہ مصر اور افغانستان کے
- ١٨...... ”برہمن ہوں۔“
(تذکرہ ص ٦٥٣)
- ١٩...... ”رودر گوپال ہوں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)
- ٢٠...... ”کرشن ہوں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)
- ٢١...... ”اسرائیلی ہوں یعنی یہودی۔“
- ٢٢...... ”میں چمکتا ہوا ستارہ ہوں۔“
(تذکرہ ص ٢٠)
- ٢٣...... ”تین لاکھ معجزات ہیں۔“
(نصرۃ الحق ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
اور لیجئے مرزا غلام احمد قادیانی کی تہذیب، شرافت اور اخلاق کے بھی چند نمونے ملاحظہ فرمائیے۔
بدکار عورتوں کی اولاد
”کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کی ہے۔ مگر کنجریوں اور بدکار عورتوں کی اولاد نے مجھے نہیں جانا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)
میرا مخالف
”جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی ہے۔“
(نزول المسیح ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٢)
حرامزادے کی نشانی
”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔ حرامزادے کی نشانی یہی ہے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١، ٣٢)
جنگلوں کے خنزیر
”بلاشک ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بھی بڑھ گئیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
یہ بات یقیناً آپ کے علم میں ہوگی کہ ترکی، ایران اور مصر میں بناسپتی نبوت قانوناً جرم اور ممنوع ہے اور ان ممالک میں ایسے لوگوں کا داخلہ بھی ممنوع ہے۔ مقام شکر ہے کہ متحدہ عرب جمہوریہ مصر اور افغانستان کے علاوہ دیگر کئی اسلامی ملک ایسے ہیں۔ جہاں کے باغیرت وحمیت
٢١
مسلمان ارباب اقتدار نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اجراء نبوت رسالت کا ناپاک دعویٰ کرنے والی جماعت احمدیہ، مرزائیہ، قادیانیہ کو برطانوی سامراج کی جاسوس ہونے کے جرم میں خلاف قانون قرار دے رکھا ہے اور یہ ملک ایسے ہیں جن میں نہ تو کوئی مرزائی تبلیغ کے بہانے جاسکتے ہیں اور نہ اپنے دفاتر قائم کرسکتے ہیں۔
”یہاں پر اس بات کا تذکرہ بھی بے محل نہ ہوگا کہ مرزائی جماعت کو جب مصر میں خلاف قانون قرار دیا گیا اور ان کے دفاتر سربمہر کر دیئے گئے تو انہوں نے مصر سے نکل کر اسرائیل میں پناہ لی اور اب بھی اس جماعت کا اسرائیل میں باقاعدہ دفتر موجود ہے اور مرزائی مبلغ سامراج جاسوسوں اور استعماری ایجنٹوں کی حیثیت سے اسلامیاں عرب کے خلاف پراسرار سازشوں میں مصروف کار ہیں۔“
(بحوالہ اسرائیل اور جماعت اسلامی ص ٩٣)
لیکن بصد افسوس یہ تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ ان ممالک کے برعکس ہماری مملکت خداداد پاکستان میں جو کہ ایک اسلامی مملکت ہے اور جسے اسلام کے نام پر ہی حاصل کیا گیا ہے۔ یہاں جس کا دماغ خراب ہو جاتا ہے وہ نبوت کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے اور اس کا کوئی سدباب نہیں کیا جاتا۔
مارشل لاء کے بعد گوجرانوالہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔ ایک صاحب ماسٹر عبدالحمید نے سیالکوٹ میں نبوت کا رنگ چڑھایا اور ایک پاکستانی قادیانی نے تو انگلستان میں جا کر اپنی نبوت کا جھنڈا گاڑ دیا اور ڈنکے کی چوٹ اعلان کر دیا کہ جو لوگ مجھ پر ایمان نہ لائیں گے وہ تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ وہ اپنے ہی فرقے کے لوگوں یعنی قادیانیوں کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب بھی ہوگیا۔ یہ شخص قادیانی فرقہ کے تبلیغی مشن میں ملازم تھا۔ ملازمت اور تبلیغ کرتے کرتے مرزا غلام احمد قادیانی کا ظل اور بروز بن گیا۔
اسی طرح ماہ اگست ١٩٦٧ء میں فقیر والی ضلع بہاولنگر کے ایک پاگل نے بھی نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا اور اس نے اپنا منشور یعنی آمد کا مقصد بھی شائع کر دیا تھا۔ فقیر والی کے دیندار مسلمانوں نے سمجھ بجھا کر اس کی اصلاح کی اور وہ دوبارہ مسلمان ہو گیا۔
نوٹ: امید ہے کہ میرے جملہ بیان سے آپ کی تشفی ہو گئی ہوگی۔ براہ کرم بیس یوم تک آپ اپنی رائے عالی سے مطلع فرماویں۔ تاکہ بندہ اس جواب کو کتابی شکل دے دے۔ فقط:
والسلام!
٢٢
وت کا تحفظ کرتے ہوئے حضرت خاتم پاک دعویٰ کرنے والی جماعت احمدیہ، کے جرم میں خلاف قانون قرار دے رکھا بنائے جاسکتے ہیں اور نہ اپنے دفاتر قائم
وگا کہ مرزائی جماعت کو جب مصر میں گئے تو انہوں نے مصر سے نکل کر اسرائیل ہ دفتر موجود ہے اور مرزائی مبلغ سامراج ں عرب کے خلاف پراسرار سازشوں
(بحوالہ اسرائیل اور جماعت اسلامی ص ٩٣)
ممالک کے برعکس ہماری مملکت خداداد نام کے نام پر ہی حاصل کیا گیا ہے۔ ر بیٹھتا ہے اور اس کا کوئی سدباب نہیں
نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔ ایک صاحب ف پاکستانی قادیانی نے تو انگلستان میں لیا کہ جو لوگ مجھ پر ایمان نہ لائیں گے یعنی قادیانیوں کو اپنا ہم خیال بنانے میں میں ملازم تھا۔ ملازمت اور تبلیغ کرتے
ہونگر کے ایک پاگل نے بھی نبوت کا شائع کر دیا تھا۔ فقیر والی کے دیندار لمان ہو گیا۔
اکٹھی ہو گئی ہوگی۔ براہ کرم بیس یوم تک کتابی شکل دے دے۔ فقط: والسلام!
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
علامہ اقبالؒ کا پیغام
ملت اسلامیہ کے نام
جناب فرزند توحید صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
علامہ اقبال کا پیغام ...... ملت اسلامیہ کے نام
ماڈرن ریویو کلکتہ میں پنڈت جواہر لال نہرو کے تین مضامین شائع ہونے کے بعد سے مجھے اکثر مسلمانوں نے جو مختلف مذہبی و سیاسی مسلک رکھتے ہیں۔ متعدد خطوط لکھے ہیں۔ ان میں سے بعض کی خواہش ہے کہ میں احمدیوں کے بارے میں مسلمانان ہند کے طرز عمل کی مزید توضیح کروں اور اس طرز عمل کو حق بجانب ثابت کروں۔ بعض یہ دریافت کرتے ہیں کہ میں احمدیت میں کسی مسئلہ کو تنقیح طلب سمجھتا ہوں۔ اس بیان میں ان مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہوں۔ جن کو میں بالکل جائز تصور کرتا ہوں اور اس کے بعد ان سوالات کا جواب دینا چاہتا ہوں جو پنڈت جواہر لال نہرو نے اٹھائے ہیں۔ بہر حال مجھے اندیشہ ہے کہ اس بیان کا ایک حصہ پنڈت جی کے لئے دلچسپ نہ ہو گا۔ لہٰذا ان کا وقت بچانے کے لئے میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ ایسے حصوں کو نظر انداز کردیں۔
میرے لئے یہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ پنڈت جی کو مشرق کے بلکہ ساری دنیا کے ایک عظیم الشان مسئلہ سے جو دلچسپی ہے میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میری رائے میں یہ پہلے ہندوستانی قوم پرست قائد ہیں جنہوں نے دنیائے اسلام کی موجودہ روحانی بے چینی کو سمجھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس بے چینی کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ ردعمل کے مدنظر ہندوستان کے ذی فکر سیاسی قائدین کو چاہئے کہ اس وقت قلب اسلام میں جو چیز ہیجان برپا کر رہی ہے۔ اس کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
بہر حال میں اس واقعہ کو پنڈت جی اور قارئین سے پوشیدہ رکھنا نہیں چاہتا کہ پنڈت جی کے مضامین نے میرے ذہن میں احساسات کا ایک دردناک ہیجان پیدا کر دیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ پنڈت جی ایک ایسے انسان ہیں جو مختلف تہذیبوں سے وسیع ہمدردی رکھتے ہیں۔ میرا ذہن اس خیال کی طرف مائل ہے کہ جن سوالات کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ بالکل خلوص پر مبنی ہے۔ تاہم جس طریقہ سے انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس سے ایسی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے جس کو پنڈت جی سے منسوب کرنا میرے لئے دشوار ہے۔ میں اس خیال کی طرف مائل ہوں کہ میں نے قادیانیت کے متعلق جو بیان دیا تھا (جس میں ایک مذہبی نظریہ کی محض جدید
٢
اصولوں کے مطابق تشریح کی گئی اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ استحکام کو پسند نہیں کرتے۔ یہ ایک نے احساس حقائق کو کچل دیا ہے احساس خود مختاری پیدا ہو۔ میر ملک کی مختلف تہذیبوں کو مٹادی ایک ترقی پذیر اور پائیدار تہذیب کا نتیجہ عجز یا بہیمی تشدد اور نفی کے سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے کی ترقی سے ان کا یہ مقصد یقیناً ایک نئی امت تیار کریں۔ حیرت کروں کہ ہندوستان کی تاریخ میں کس قدر ضروری ہے اور ان ا تحریکات کے بھیس میں پیش ہو سے ہمدردی کریں۔
بہر کیف میں پنڈت جو لوگ قادیانیت کے متعلق عام لئے میں ڈیورنٹ کی کتاب الف معلوم ہو جائے گا کہ قادیانیت جماعت بدر کئے جانے سے مت قارئین کا خیال غ بانی احمدیت میں کسی قسم کا م ہے۔ ”خدا مست“ اسپینوزا پر ایمان نہ لائے یہودیت کی عبارت یہودیوں کے طر
اصولوں کے مطابق تشریح کی گئی تھی) اس سے پنڈت جی اور قادیانی دونوں پریشان ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ کی بناء پر دونوں اپنے دل میں مسلمانان ہند کے مذہبی اور سیاسی استحکام کو پسند نہیں کرتے۔ یہ ایک بدیہی بات ہے کہ ہندوستانی قوم پرست جن کی سیاسی تصوریت نے احساس حقائق کو کچل دیا ہے۔ اس بات کو گوارا نہیں کرتے کہ شمالی مغربی ہند کے مسلمانوں میں احساس خود مختاری پیدا ہو۔ میری رائے میں ان کا یہ خیال غلط ہے کہ ہندوستانی قومیت کے لئے ملک کی مختلف تہذیبوں کو مٹا دینا چاہئے۔ حالانکہ ان تہذیبوں کے باہمی عمل و اثر سے ہندوستان ایک ترقی پذیر اور پائیدار تہذیب کو نمود دے سکتا ہے۔ ان طریقوں سے جو تہذیب نمو پائے گی اس کا نتیجہ بجز باہمی تشدد اور تلخی کے اور کیا ہوگا۔ یہ بات بھی بدیہی ہے کہ قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے سیاسی نفوذ کی ترقی سے ان کا یہ مقصد یقیناً فوت ہو جائے گا کہ پیغمبر عرب کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی ایک نئی امت تیار کریں۔ حیرت کی بات ہے کہ میری یہ کوشش کہ مسلمانان ہند کو اس امر سے متنبہ کروں کہ ہندوستان کی تاریخ میں جس دور سے وہ گزر رہے ہیں۔ اس میں ان کا اندرونی استحکام کس قدر ضروری ہے اور ان انتشار انگیز قوتوں سے محترز رہنا کس قدر ناگزیر ہے۔ جو اسلامی تحریکات کے بھیس میں پیش ہوتی ہیں۔ پنڈت جی کو یہ موقع دیتی ہے کہ ایسی تحریکوں (احمدیت) سے ہمدردی کریں۔
بہر کیف میں پنڈت جی کے محرکات کی تحلیل کے ناگوار فرض کو جاری رکھنا نہیں چاہتا۔ جو لوگ قادیانیت کے متعلق عام مسلمانوں کے طرز عمل کی توضیح چاہتے ہیں۔ ان کے استفادہ کے لئے میں ڈیورنٹ کی کتاب افسانہ فلسفہ کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ جس سے قارئین کو واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ قادیانیت میں امر تنقیح طلب کیا ہے۔ ڈیورنٹ نے فلسفی اعظم اسپینوزا کے جماعت بدر کئے جانے سے متعلق یہودی نقطہ نظر کو اختصار کے ساتھ چند جملوں میں بیان کیا ہے۔
قارئین یہ خیال نہ کریں کہ اس اقتباس کے پیش کرنے سے میرا مطلب اسپینوزا اور بانی احمدیت میں کسی قسم کا موازنہ کرنا عقل و سیرت کے لحاظ سے ان دونوں کے مابین بعد عظیم ہے۔ ”خدا مست“ اسپینوزا نے یہ کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ کسی جدید تنظیم کا مرکز ہے اور جو یہودی اس پر ایمان نہ لائے یہودیت سے خارج ہے۔ اسپینوزا کے جماعت بدر کئے جانے کے متعلق ڈیورنٹ کی عبارت یہودیوں کے طرز عمل پر اس قدر منطبق نہیں ہوتی۔ جس قدر کہ قادیانیت کے متعلق
٣
مسلمانوں کے طرز عمل پر ہوتی ہے۔ یہ عبارت حسب ذیل ہے۔
”علاوہ بریں اکابر یہود کا خیال تھا کہ مسٹرڈم میں ان کی جو چھوٹی سی جماعت تھی۔ اس کو انتشار سے بچانے کا واحد ذریعہ مذہبی وحدت ہے اور یہودیوں کی جماعت کو جو دنیا میں بکھری ہوئی ہے۔ برقرار رکھنے اور ان میں اتفاق پیدا کرنے کا آخری ذریعہ بھی یہی ہے۔ اگر ان کی اپنی کوئی سلطنت، کوئی ملکی قانون اور دنیاوی قوت وطاقت کے ادارے ہوتے جن کے ذریعے وہ اندرونی استحکام اور بیرونی احترام حاصل کرتے تو زیادہ روادار ہوتے۔ لیکن ان کا مذہب ان کے لئے ایمان بھی تھا اور حب الوطن بھی۔ ان کا معبد ان کی عبادت اور مذہبی رسوم کے علاوہ ان کی سماجی اور سیاسی زندگی کا بھی مرکز تھا۔ ان حالات کے تحت انہوں نے الحاد کو غداری اور رواداری کو خودکشی تصور کیا۔
مسٹرڈم میں یہودیوں کی حیثیت ایک اقلیت کی تھی۔ اس لحاظ سے وہ اسپینوزا کو ایسی انتشار انگیز ہستی سمجھنے میں حق بجانب تھے۔ جس سے ان کی جماعت کے بکھر جانے کا اندیشہ تھا۔ اسی طرح مسلمانان سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ تحریک قادیانیت جو تمام دنیائے اسلام کو کافر قرار دیتی ہے اور اس سے معاشی مقاطعہ کرتی ہے۔ مسلمانان ہند کی حیات ملی کے لئے اسپینوزا کی اس مابعد الطبیعیات سے زیادہ خطرناک ہے جو یہود کی حیات ملی کے لئے تھی۔ میرا خیال ہے کہ مسلمانان ہند ان حالات کی مخصوص نوعیت کو عملی طور پر محسوس کرتے ہیں۔
رواداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ حقیقی رواداری عقلی و روحانی وسعت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ رواداری ایسے شخص کی ہوتی ہے جو روحانی حیثیت سے قوی ہوتا ہے اور اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کو روا رکھتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے۔ ایک سچا مسلمان ہی اس قسم کی رواداری کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خود اس کا مذہب اختلافی ہے۔ اس وجہ سے وہ بہ آسانی دوسرے مذاہب سے ہمدردی رکھ سکتا ہے اور ان کی قدر کر سکتا ہے۔ ہندوستان کے شاعر اعظم امیر خسرو نے ایک بت پرست کے قصہ میں اس قسم کی رواداری کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
ہم زوئے آموز پرستش گری
٤
خدا کا ایک سچا پرستار پرستش کا تعلق ایسے ارباب سے ہ شخص پر عدم رواداری کا الزام لگ کرتا ہے۔ اس طرز عمل میں وہ م طرز عمل میں حیاتیاتی قدر و قیمت کی بناء پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ا تو ان کے مدافعانی طرز عمل کو حیا لحاظ سے کرنی چاہئے کہ اس میں کے متعلق جو ملحد قرار دیا گیا ہو کس ہے کہ یہ حیات افروز ہے یا حیات مذہبی اصولوں پر قائم ہوتی ہے۔ م سے ایک محکمہ قائم ہوا تھا۔ جو لوگو سائنس کو اس محکمہ نے نذر آتش ک صحیح ہو سکتی ہے۔ لیکن تاریخ اس اسلامی کے گذشتہ تیرہ سو سال م قرآن واضح طور پر ایسے ادارے بھائیوں کی چغلی نہ کھاؤ۔ پنڈت ج عیسائی اپنے وطن کے مذہبی تشد اسلام کی عقلی عمارت قائم ہے دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہ ہے جن سے نظام اجتماعی خطرہ م گی۔ لیکن ایسی صورت میں ریاس میں اس بات کو اچھی طرح محسو ایسی جماعت میں ہوئی ہے جس
خدا کا ایک سچا پرستار ہی عبادت و پرستش کی قدر و قیمت کو محسوس کر سکتا ہے۔ خواہ اس پرستش کا تعلق ایسے ارباب سے ہو جن پر وہ اعتقاد نہیں رکھتا۔ رواداری کی تلقین کرنے والے اس شخص پر عدم رواداری کا الزام لگانے میں غلطی کرتے ہیں۔ جو اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس طرز عمل میں وہ غلطی سے اخلاقی کمتری خیال کرتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اس کے طرز عمل میں حیاتیاتی قدر و قیمت مضمر ہے۔ جب کسی جماعت کے افراد جبلی طور پر یا کسی عقلی دلیل کی بناء پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس جماعت کی اجتماعی زندگی خطرہ میں ہے۔ جس کے یہ رکن ہیں تو ان کے مدافعاتی طرز عمل کو حیاتیاتی معیار پر جانچنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں ہر فکر و عمل کی تحقیق اس لحاظ سے کرنی چاہئے کہ اس میں حیات افروزی کس قدر ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ ایسے شخص کے متعلق جو ملحد قرار دیا گیا ہو کسی فرد یا جماعت کا رویہ اخلاقاً صائب ہے یا غیر صائب۔ سوال یہ ہے کہ یہ حیات افروز ہے یا حیات کش ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو خیال کرتے ہیں کہ جو جماعت مذہبی اصولوں پر قائم ہوتی ہے۔ وہ محکمہ احتساب (قرون وسطی میں Inquisition) کے نام سے ایک محکمہ قائم ہوا تھا۔ جو لوگوں کے عقائد مذہبی کی تحقیق و تفتیش کرتا تھا۔ برونو وغیرہ جیسے علماء سائنس کو اس محکمہ نے نذر آتش کر دیا۔) کے قیام کو مستلزم ہے۔ تاریخ مسیحیت کے متعلق یہ بات صحیح ہو سکتی ہے۔ لیکن تاریخ اسلام پنڈت جی کی منطق کے خلاف یہ ثابت کرتی ہے کہ حیات اسلامی کے گذشتہ تیرہ سو سال میں اسلامی ممالک محکمہ احتساب سے بالکل نا آشنا رہے ہیں۔ قرآن واضح طور پر ایسے ادارے کی ممانعت کرتا ہے۔ دوسروں کی کمزوریوں کی تلاش نہ کرو اور بھائیوں کی چغلی نہ کھاؤ۔ پنڈت جی کو تاریخ اسلام کے مطالعے سے معلوم ہو جائے گا کہ یہودی اور عیسائی اپنے وطن کے مذہبی تشدد سے تنگ آ کر اسلامی ممالک میں پناہ لیتے تھے۔ جن دو قضایاء پر اسلام کی عقلی عمارت قائم ہے وہ اس قدر سادہ ہیں کہ ان میں ایسا الحاد ناممکن ہے۔ جس سے ملحد دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب کوئی شخص ایسے ملحدانہ نظریات کو رواج دیتا ہے جن سے نظام اجتماعی خطرہ میں پڑ جاتا ہو تو ایک آزاد اسلامی ریاست یقیناً اس کا انسداد کرے گی۔ لیکن ایسی صورت میں ریاست کا فعل سیاسی مصلحتوں پر مبنی ہو گا نہ کہ خالص مذہبی اصولوں پر۔
میں اس بات کو اچھی طرح محسوس کرتا ہوں کہ پنڈت جی جیسا شخص جس کی پیدائش اور تربیت ایک ایسی جماعت میں ہوئی ہے جس کی سرحدیں متعین نہیں ہیں اور جس میں اندرونی استحکام بھی مفقود
٥
ہے۔ اس امر کا بمشکل تعقل کر سکتا ہے کہ ایک مذہبی جماعت ایسے محکمہ احتساب کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے جو حکومت کی جانب سے عوام کے عقائد کی تحقیقات کے لئے قائم کیا جاتا ہے۔ یہ بات کارڈنل نیومن کی اس عبارت سے بالکل واضح ہو جاتی ہے جو پنڈت جی پیش کر کے حیرت کرتے ہیں کہ میں کارڈنل کے اصول کو کس حد تک اسلام پر قابل اطلاق سمجھتا ہوں۔ میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی اندرونی ہیئت ترکیبی اور کیتھولک مسیحیت میں اختلاف عظیم ہے۔ کیتھولک مسیحیت کی پیچیدگی اس کی فوق العقلی نوعیت اور تحکمی عقائد کی کثرت نے جیسا کہ تاریخ مسیحیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ ملحدانہ تاویلات کے لئے راستہ کھول دیا ہے۔ اسلام کا سیدھا سادہ مذہب دو قضایا پر مبنی ہے۔ خدا ایک ہے اور محمد ﷺ اس سلسلۂ انبیاء کے آخری نبی ہیں جو وقتاً فوقتاً ہر ملک اور ہر زمانہ میں اس غرض سے مبعوث ہوئے تھے کہ نوع انسان کی رہنمائی صحیح طرز زندگی کی طرف کریں۔ جیسا کہ بعض عیسائی مصنفین خیال کرتے ہیں کہ کسی تحکمی عقیدے کی تعریف اس طرح کی جانی چاہئے کہ وہ ایک فوق العقلی قضیہ ہے اور اس کو مذہبی استحکام کی خاطر اور اس کا مابعد الطبیعی مفہوم سمجھے بغیر مان لینا چاہئے تو اس لحاظ سے اسلام کے ان دو سادہ قضایا کو تحکمی عقیدے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ان دونوں کی تائید نوع انسان کے تجربے سے ہوتی ہے اور ان کی عقلی توجیہہ بخوبی کی جاسکتی ہے۔ ایسے الحاد کا سوال جہاں یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ آیا اس کا مرتکب دائرہ مذہب میں ہے یا اس سے خارج ہے۔ ایسی مذہبی جماعت میں جو ایسے سادہ قضایا پر مبنی ہو اس صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ ملحد ان قضایا میں سے کسی ایک یا دونوں سے انکار کر دے۔ تاریخ اسلام میں ایسا واقعہ شاذ ہی وقوع پذیر ہوا ہے اور ہونا بھی یہی چاہئے۔ کیونکہ جب اس قسم کی کوئی بغاوت پیدا ہوتی ہے تو ایک اوسط مسلمان کا احساس قدرتی طور پر مشتعل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ایران کا احساس بہائیوں کے خلاف اس قدر شدید تھا اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانان ہند کا احساس قادیانیوں کے خلاف اس قدر شدید ہے۔
یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی فرقے فقہ اور دینیات کے فروعی مسائل کے اختلاف کی وجہ سے اکثر و بیشتر ایک دوسرے پر الحاد کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ دینیات کے فروعی مسائل کے اختلاف میں اور نیز الحاد کی ایسی انتہائی صورتوں میں جہاں ملحد کو جماعت سے خارج کیا جاتا ہے۔ لفظ کفر کے غیر محتاط استعمال کو آج کل کے تعلیم یافتہ مسلمان جو مسلمانوں کے دینیاتی
٦
مناقشات کی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں۔ ملت اسلامیہ کے اجتماعی و سیاسی انتشار کی علامت تصور کرتے ہیں۔ یہ ایک بالکل غلط تصور ہے۔ اسلامی دینیات کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروعی مسائل کے اختلاف میں ایک دوسرے پر الحاد کا الزام لگانا باعث انتشار ہونے کے بجائے دینیاتی تفکر کو متحد کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ پروفیسر ہرخورنجی کہتے ہیں کہ جب ہم فقہ اسلامی کے نشو و نما کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک طرف تو ہر زمانہ کے علماء خفیف سے اشتعال پر ایک دوسرے کی مذمت یہاں تک کرتے ہیں کہ ایک دوسرے پر کفر کا الزام عائد ہو جاتا ہے اور دوسری طرف یہی لوگ زیادہ سے زیادہ اتحاد عمل کے ساتھ اپنے پیشروؤں کے اختلافات کو رفع کرتے ہیں۔ اسلامی دینیات کا معلم جانتا ہے کہ مسلم فقہاء اس قسم کے الحاد کو اصطلاحی زبان میں کفر دون کفر تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی ایسا کفر جس میں مرتکب جماعت سے خارج نہیں ہوتا۔ بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ملاؤں کے طبقہ جن کا عقلی تعطل دینیاتی تفکر کے ہر اختلاف کو قطعی سمجھتا اور اختلاف میں اتحاد کو نہیں دیکھ سکتا۔ خفیف سا الحاد فتنہ عظیم کا باعث ہو جاتا ہے۔ اس فتنہ کا انسداد اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم مدارس دینیات کے طلبہ کے سامنے اسلام کی ایقانی روح کا واضح ترین تصور پیش کریں اور ان کو یہ بتلائیں کہ منطقی تضاد دینیاتی تفکر اصول حرکت کا کام کرتا ہے۔ یہ سوال کہ الحاد کبیرہ کس کو کہتے ہیں اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ کسی مفکر یا مصلح کی تعلیم مذہب اسلام کی سرحدوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے قادیانیت کی تعلیم میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بتلا دینا ضروری ہے کہ تحریک احمدیت دو جماعتوں میں منقسم ہے جو قادیانی اور لاہوری جماعتوں کے نام سے موسوم ہے۔ اوّل الذکر جماعت بانی احمدیت کو نبی تسلیم کرتے ہیں۔ آخر الذکر نے اعتقاداً یا مصلحتاً قادیانیت کی شدت کو کم کر کے پیش کرنا مناسب سمجھا۔
بہر حال یہ سوال کہ آیا بانی احمدیت ایک نبی تھا اور اس کی تعلیم سے انکار کرنا الحاد کبیرہ کو مستلزم ہے۔ ان دو جماعتوں میں متنازعہ فیہ ہے۔ احمدیوں کے ان گھریلو مناقشات کے محاسن کو جانچنا میرے پیش نظر مقصد کے لئے غیر ضروری ہے۔ میرا یقین ہے جس کے وجوہ میں آگے چل کر بیان کروں گا کہ ایک نبی کا تصور جس سے انکار کرنے سے منکر کافر ہو جاتا ہے۔ احمدیت کا ایک لازمی عنصر ہے اور لاہوری جماعت کے امام کے مقابلہ میں قادیانیوں کے موجودہ پیشوا تحریک احمدیت کی روح سے بالکل قریب ہیں۔
٧
ختم نبوت کے تصور کی تہذیبی قدر و قیمت کی توضیح میں نے کسی اور جگہ کر دی ہے۔ اس کے معنی بالکل سلیس ہیں۔ محمد ﷺ کے بعد جنہوں نے اپنے پیرووں کو ایسا قانون عطاء کر کے جو ضمیر انسانی کی گہرائیوں سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ آزادی کا راستہ دکھا دیا ہے کسی اور انسانی ہستی کے آگے روحانی حیثیت سے سر نیاز خم نہ کیا جائے۔ دینیاتی نقطۂ نظر سے اس نظریہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ وہ اجتماعی اور سیاسی تنظیم جسے اسلام کہتے ہیں مکمل اور ابدی ہے۔ محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں ہے جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو۔ جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔ قادیانیوں کا اعتقاد ہے کہ تحریک احمدیت کا بانی ایسے الہام کا حامل تھا۔ لہٰذا وہ تمام عالم اسلامی کو کافر قرار دیتے ہیں۔ خود بانی احمدیت کا استدلال جو قرون وسطیٰ کے متکلمین کے لئے زیبا ہو سکتا ہے۔ یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا نبی نہ پیدا کر سکے تو پیغمبر اسلام کی روحانیت نامکمل رہ جائے گی۔ وہ اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں کہ پیغمبر اسلام کی روحانیت میں پیغمبر خیز قوت تھی۔ خود اپنی نبوت کو پیش کرتا ہے۔ لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ آیا محمد ﷺ کی روحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ خیال اس بات کے برابر ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی نہیں ہیں۔ آخری نبی میں ہوں۔ اس امر کے سمجھنے کے بجائے کہ ختم نبوت کا اسلامی تصور نوع انسانی کی تاریخ میں بالعموم اور ایشیاء کی تاریخ میں بالخصوص کیا تہذیبی قدر و قیمت رکھتا ہے۔ بانی احمدیت کا خیال ہے کہ ختم نبوت کا تصور ان معنوں میں کہ محمد ﷺ کا کوئی پیرو نبوت کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ خود محمد ﷺ کی نبوت کا نامکمل ثابت کرتا ہے۔ جب میں بانی احمدیت کی نفسیات کا مطالعہ اس کے دعوئیٰ نبوت کی روشنی میں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیغمبر اسلام کی روحانیت کی تخلیق قوت کو صرف ایک نبی یعنی تحریک احمدیت کے بانی کی پیدائش تک محدود کر کے پیغمبر اسلام کے آخری نبی ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ نیا پیغمبر چپکے سے اپنے روحانی مورث کی ختم نبوت پر متصرف ہو جاتا ہے۔
اس کا دعویٰ ہے کہ میں پیغمبر اسلام کا بروز ہوں۔ اس سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا بروز ہونے کی حیثیت سے اس کا خاتم النبیین ہونا درحقیقت محمد ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ہے۔ پس یہ نقطۂ نظر پیغمبر اسلام کی ختم نبوت کو مسترد نہیں کرتا۔ اپنی ختم نبوت کو پیغمبر اسلام کی ختم
٨
نبوت کے متماثل قرار دے کر بانی احمدیت نے ختم نبوت کے تصور کے زمانی مفہوم کو نظر انداز کر دیا ہے۔ بہر حال یہ ایک بدیہی بات ہے کہ بروز کا لفظ مکمل مشابہت کے مفہوم میں بھی اس کی مدد نہیں کرتا۔ کیونکہ بروز ہمیشہ اس شے سے الگ ہوتا ہے۔ جس کا یہ بروز ہوتا ہے صرف اوتار کے معنوں میں بروز اور اس شئے میں عینیت پائی جاتی ہے۔ پس اگر ہم بروز سے روحانی صفات کی مشابہت مراد لیں تو یہ دلیل بے اثر رہتی ہے۔ اگر اس کے برعکس اس لفظ کے آریائی مفہوم میں اصل شئے کا اوتار مراد لیں تو یہ دلیل بظاہر قابل قبول ہوتی ہے۔ لیکن اس خیال کا موجد مجوسی بھیس میں نظر آتا ہے۔
ہسپانیہ کے برگزیدہ صوفی محی الدین ابن عربی کی سند پر یہ مزید دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان ولی کے لئے اپنے روحانی ارتقاء کے دوران میں اس قسم کا تجربہ حاصل کرنا ممکن ہے جو شعور نبوت سے مختص ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ شیخ محی الدین ابن عربی کا یہ خیال نفسیاتی نقطہ نظر سے درست نہیں۔ لیکن اگر اس کو صحیح فرض کر لیا جائے تو تب بھی قادیانی استدلال شیخ کے موقف کی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ شیخ ایسے تجربہ کو ذاتی کمال تصور کرتے ہیں۔ جس کی بناء پر کوئی ولی یہ اعلان نہیں کر سکتا کہ جو شخص اس پر (یعنی ولی پر) اعتقاد نہیں رکھتا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس میں شک نہیں کہ شیخ کے نقطہ نظر سے ایک ہی زمانہ اور ملک میں ایک سے زیادہ اولیاء موجود ہو سکتے ہیں اور شعور نبوت تک پہنچ سکتے ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ نفسیاتی نقطہ نظر سے ایک ولی کا شعور نبوت تک پہنچنا اگرچہ ممکن ہے۔ تاہم اس کا تجربہ اجتماعی اور سیاسی اہمیت نہیں رکھتا اور نہ اس کو کسی نئی تنظیم کا مرکز بناتا ہے اور نہ یہ استحقاق عطاء کرتا ہے کہ وہ اس نئی تنظیم کو پیروان محمد ﷺ کے ایمان یا کفر کا معیار قرار دے۔
اس صوفیانہ نفسیات سے قطع نظر کر کے فتوحات کی متعلقہ عبارتوں کو پڑھنے کے بعد میرا یہ اعتقاد ہے کہ ہسپانیہ کا یہ عظیم الشان صوفی ، محمد ﷺ کی ختم نبوت پر اسی طرح مستحکم ایمان رکھتا ہے جس طرح کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان رکھ سکتا ہے۔ اگر شیخ کو اپنے صوفیانہ کشف میں یہ نظر آ جاتا کہ ایک روز مشرق میں چند ہندوستانی جنہیں تصوف کا شوق ہے۔ شیخ کی صوفیانہ نفسیات کی آڑ میں پیغمبر اسلام کی ختم نبوت سے انکار کر دیں گے تو وہ یقیناً علمائے ہند سے بہت پہلے مسلمانان عالم کو ایسے غداران اسلام سے متنبہ کر دیتے۔
٩
اب احمدیت کی روح پر غور کرنا ہے۔ اس کے ماخذ اور اس امر کی بحث کہ قبل اسلام مجوسی تصورات نے اسلامی تصوف کے ذریعہ بانی احمدیت کے ذہن کو کس طرح متاثر کیا۔ مذاہب مقابلہ کے نقطہ نظر سے بے حد دلچسپ ہوگی۔ لیکن میرے لئے اس بحث کو اٹھانا ممکن نہیں۔ یہ کہہ دینا کافی ہے کہ احمدیت کی اصل حقیقت قرون وسطیٰ کے تصوف اور دینیات کی نقاب میں پوشیدہ ہے۔ علمائے ہند نے اس کو محض ایک دینیاتی تحریک تصور کیا اور دینیاتی حربوں سے اس کا مقابلہ کرنے نکل آئے۔ بہرحال میرا خیال ہے کہ اس تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ طریقہ موزوں نہیں تھا۔ اسی وجہ سے علماء کو کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ بانی احمدیت کے الہامات کی اگر دقیق النظری سے تحلیل کی جائے تو یہ ایک ایسا مؤثر طریقہ ہوگا جس کے ذریعہ سے ہم اس کی شخصیت اور اندرونی زندگی کا تجزیہ کر سکیں گے۔ اس سلسلہ میں اس امر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مولوی منظور الٰہی نے بانی احمدیت کے الہامات کا جو مجموعہ شائع کیا ہے۔ اس میں نفسیاتی تحقیق کے لئے متنوع اور مختلف مواد موجود ہے۔ میری رائے میں یہ کتاب بانی احمدیت کی سیرت اور شخصیت کی کنجی ہے اور مجھے امید ہے کہ کسی دن نفسیات جدید کا کوئی متعلم اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے گا۔ اگر وہ قرآن کو اپنا معیار قرار دے (اور چند وجوہ سے اس کو ایسا کرنا ہی پڑے گا جن کی تشریح یہاں نہیں کی جاسکتی) اور اپنے مطالعے کو بانی احمدیت اور اس کے ہم عصر غیر مسلم صوفیاء جیسے رام کرشنا بنگالی کے تجزیوں تک پھیلائے تو اس کو اس تجربہ کی اصل ماہیت کے متعلق بڑی حیرت ہوگی۔ جس کی بناء پر بانی احمدیت نبوت کا دعویدار ہے۔
عامی آدمی کے نقطہ نظر سے ایک مؤثر اور مفید طریقہ یہ ہے کہ ١٧٩٩ء سے ہندوستان میں اسلامی دینیات کی جو تاریخ رہی ہے۔ اس کی روشنی میں دینیات کے اصل مظروف کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ دنیائے اسلام کی تاریخ میں ١٧٩٩ء بے حد اہم ہے۔ اسی سال ٹیپو کو شکست ہوئی۔ اس کی شکست کے ساتھ مسلمانوں کو ہندوستان میں سیاسی نفوذ حاصل کرنے کی جو امید تھی اس کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اسی سال جنگ نوارینو وقوع پذیر ہوئی۔ جس میں ترکی بیڑہ تباہ ہوگیا۔ جو لوگ سرنگا پٹم گئے ہیں ان کو ٹیپو کے مقبرہ پر یہ تاریخ وفات کندہ نظر آئی ہوگی۔
(ہندوستان اور روم کی عظمت ختم ہوگئی)
ان الفاظ میں مصنف نے پیش گوئی کی تھی۔ پس ١٧٩٩ء میں ایشیاء میں اسلام کا ١٠ انحطاط انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔ لیکن ہوا۔ کہا جا سکتا ہے کہ اسی طرح مسائل معرض ظہور میں آئے چند مسائل کی طرف مبذول کرا بعد اسلامی ہند میں پیدا ہوئے
کیا اسلام میں خلیفہ مسلمان جو ترکی سلطنت دارالخلافہ ہے؟ قرآن کی ایک آیت میں اطاعت کا کیا مفہوم ہے؟ احادیث ہے؟ یہ اور اسی قبیل کے دوسر مسلمانان ہند سے تھا۔ اس کے کے ساتھ تسلط حاصل کر رہی تھی پیدا ہوئے وہ اسلامی ہند کی تاری مسلمان اور ارباب سیاست جن کی پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئے مناسب ہو۔ لیکن محض منطق سے کے قلوب پر حکمران تھے۔ ایسے قرآن وحدیث کی نئی تفسیر کے رہتا ہے۔ مسلمان عوام کو جن کی کر سکتی ہے اور وہ ربانی سند میں جو دینیاتی نظریات مضمر ہیں ہوا ایک الہامی بنیاد ضروری تھی ہے کہ برطانوی شہنشاہیت کی الہام کو ایسے دینیاتی خیالات
انحطاط انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔ لیکن جیسا کہ دنیا میں جرمنی کی شکست کے بعد جدید جرمن قوم کا نشو و نما ہوا۔ کہا جاسکتا ہے کہ اسی طرح ١٨٩٩ء میں اسلام کی سیاسی شکست کے بعد جدید اسلام اور اس کے مسائل معرض ظہور میں آئے۔ اس امر میں آگے چل کر بحث کروں گا۔ فی الحال میں قارئین کی توجہ چند مسائل کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو ٹیپو کی شکست اور ایشیاء مغربی شہنشاہیت کی آمد کے بعد اسلامی ہند میں پیدا ہوئے ہیں۔
کیا اسلام میں خلافت کا تصور ایک مذہبی ادارے کو مستلزم ہے؟ مسلمانان ہند اور وہ مسلمان جو ترکی سلطنت دارالحرب ہے۔ یا دارالاسلام؟ اسلام میں نظریہ جہاد کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ قرآن کی ایک آیت میں لفظ ”تم میں سے“ کے کیا معنی ہیں؟ خدا رسول اور اولوالامر کی اطاعت کا کیا مفہوم ہے؟ احادیث سے آمد مہدی کی جو پیش گوئی کی جاتی ہے۔ اس کی نوعیت کیا ہے؟ یہ اور اسی قبیل کے دوسرے سوالات جو بعد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق بداہتہً صرف مسلمانان ہند سے تھا۔ اس کے علاوہ مغربی شہنشائیت کو بھی جو اس وقت اسلامی دنیا میں سرعت کے ساتھ تسلط حاصل کر رہی تھی۔ ان سوالات سے گہری دلچسپی تھی۔ ان سوالات سے جو مناقشات پیدا ہوئے وہ اسلامی ہند کی تاریخ کا نیا باب ہے۔ یہ حکایت دراز ہے اور ایک طاقتور قلم کی منتظر۔ مسلمان ارباب سیاست جن کی آنکھیں واقعات پر جمی ہوئی تھیں۔ علماء کے ایک طبقہ کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ دینیاتی استدلال کا ایسا طریقہ اختیار کریں جو صورتحال کے مناسب ہو۔ لیکن محض منطق سے ایسے عقائد پر فتح پانا آسان نہ تھا جو صدیوں سے مسلمانان ہند کے قلوب پر حکمران تھے۔ ایسے حالات میں منطق یا تو سیاسی مصلحت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتی ہے یا قرآن و حدیث کی نئی تفسیر کے ذریعہ۔ ہر دو صورتوں میں استدلال عوام کو متاثر کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ مسلمان عوام کو جن میں مذہبی جذبہ بہت شدید ہے۔ صرف ایک ہی چیز قطعی طور پر متاثر کر سکتی ہے اور وہ ربانی سند ہے۔ راسخ عقائد کو مؤثر طریقے پر مٹانے اور متذکرہ صدر سوالات میں جو دینیاتی نظریات مضمر ہیں ان کی نئی تفسیر کرنے کے لئے جو سیاسی اعتبار سے موزوں ہو ایک الہامی بنیاد ضروری سمجھی گئی۔ اس الہامی بنیاد کو احمدیت نے فراہم کیا۔ خود احمدیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ برطانوی شہنشاہیت کی یہ سب سے بڑی خدمت ہے جو انہوں نے انجام دی ہے۔ پیغمبرانہ الہام کو ایسے دینیاتی خیالات کی بنیاد قرار دینا جو سیاسی اہمیت رکھتے ہیں گویا اس بات کا اعلان کرتا
١١
ہے کہ جو لوگ مدعی نبوت کے خیالات کو قبول نہیں کرتے اول درجہ کے کافر ہیں اور ان کا ٹھکانہ نار جہنم ہے۔ جہاں تک میں نے تحریک کے منشاء کو سمجھا ہے۔ احمدیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ مسیح کی موت ایک عام فانی انسان کی موت تھی اور رجعت مسیح گویا ایسے شخص کی آمد ہے جو روحانی حیثیت سے اس کا مشابہ ہے۔ اس خیال سے اس تحریک پر ایک طرح کا عقلی رنگ چڑھ جاتا ہے۔ لیکن یہ ابتدائی مدارج ہیں۔ اس تصور نبوت کے جو ایسی تحریک کے اغراض کو پورا کرتا ہے جس کو جدید سیاسی قوتیں وجود میں لائی ہیں۔ ایسے ممالک میں جو ابھی تمدن کی ابتدائی منازل میں ہیں۔ منطق سے زیادہ سند کا اثر ہوتا ہے۔ اگر کافی جہالت اور زود اعتقادی موجود ہو اور کوئی شخص اس قدر بے باک ہو کہ حامل الالہام ہونے کا دعویٰ کرے جس سے انکار کرنے والا ہمیشہ کے لئے گرفتار لعنت ہو جاتا ہے تو ایک محکوم اسلامی ملک میں ایک سیاسی دینیات کو وجود میں لانا اور ایک ایسی جماعت کو تشکیل دینا آسان ہو جاتا ہے۔ جس کا مسلک سیاسی محکومیت ہو۔ پنجاب میں مبہم دینیاتی عقائد کا فرسودہ جال اس سادہ لوح دہقان کو آسانی سے مسخر کر لیتا ہے جو صدیوں سے ظلم و ستم کا شکار رہا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو مشورہ دیتے ہیں کہ تمام مذاہب کے راسخ العقیدہ لوگ متحد ہو جائیں اور اس چیز کی مزاحمت کریں جس کو وہ ہندوستانی قومیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ طنز آمیز مشورہ اس بات کو فرض کر لیتا ہے کہ احمدیت ایک اصلاحی تحریک ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ جہاں تک ہندوستان میں اسلام کا تعلق ہے۔ احمدیت میں اہم ترین مذہبی اور سیاسی امور تنقیح طلب مضمر ہیں۔ جیسا کہ میں نے اوپر تصریح کی ہے۔ مسلمانوں کے تفکر کی تاریخ میں احمدیت کا وظیفہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی غلامی کی تائید میں الہامی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ خالص مذہبی امور سے قطع نظر سیاسی امور کی بناء پر بھی پنڈت جواہر لال نہرو کی شایان شان نہیں کہ وہ مسلمانان ہند پر رجعت پسند اور قدامت پرست ہونے کا الزام لگائیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ احمدیت کی اصل نوعیت کو سمجھ لیتے تو مسلمانان ہند کے اس رویہ کی ضرور تعریف و تحسین کرتے۔ جو ایک مذہبی تحریک کے متعلق اختیار کیا گیا ہے۔ جو ہندوستان کے تمام آفات و مصائب کے لئے الہامی سند پیش کرتی ہے۔
پس قارئین کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ اسلام کے رخساروں پر اس وقت احمدیت کی جو زردی نظر آ رہی ہے وہ مسلمانان ہند کے مذہبی تفکر کی تاریخ میں کوئی ناگہانی واقعہ نہیں ہے۔ وہ خیالات جو بالآخر اس تحریک میں رونما ہوئے ہیں۔ بانی احمدیت کی ولادت سے بہت پہلے دینیاتی مباحث
١٢
میں نمایاں رہ چکے ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ بانی احمدیت اور اس کے رفقاء نے سوچ سمجھ کر اپنا پروگرام تیار کیا ہے۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ بانی احمدیت نے ایک آواز سنی۔ لیکن اس امر کا تصفیہ کہ یہ آواز خدا کی طرف سے تھی۔ جس کے ہاتھ میں زندگی اور طاقت ہے یا لوگوں کے روحانی افلاس سے پیدا ہوئی اس تحریک کی نوعیت پر منحصر ہونا چاہئے جو اس آواز کی آفریدہ ہے اور ان کا افکار و جذبات پر جو اس آواز نے اپنے سننے والوں میں پیدا کئے ہیں۔
قارئین یہ نہ سمجھیں کہ میں استعارات استعمال کر رہا ہوں۔ اقوام کی تاریخ حیات بتلاتی ہے کہ جب کسی قوم کی زندگی میں انحطاط شروع ہو جاتا ہے تو انحطاط ہی الہام کا ماخذ بن جاتا ہے اور اس قوم کے شعراء فلاسفہ اولیاء مدبرین اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور مبلغین کی ایک ایسی جماعت وجود میں آ جاتی ہے جس کا مقصد واحد یہ ہوتا ہے کہ منطق کی سحر آفریں قوتوں سے اس قوم کی زندگی کے ہر اس پہلو کی تعریف و تحسین کرے۔ جو نہایت ذلیل اور قبیح ہوتا ہے۔ یہ مبلغین غیر شعوری طور پر مایوسی کو امید کے درخشاں لباس میں چھپا دیتے ہیں۔ کردار کے روایتی اقتدار کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اس طرح ان لوگوں کی روحانی قوت کو مٹا دیتے ہیں۔ جو ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی قوت آزادی پر ذرا غور کرو۔ جنہیں الہام کی بنیاد پر یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اپنے سیاسی ماحول کو اٹل سمجھو۔ پس میرے خیال میں وہ تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامہ میں حصہ لیا ہے زوال اور انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ لوح کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔ ایران میں بھی اس قسم کا ایک ڈرامہ کھیلا گیا تھا۔ لیکن اس میں وہ سیاسی اور مذہبی امور پیدا ہوئے اور نہ ہو سکتے تھے جو احمدیت نے اسلام کے لئے ہندوستان میں پیدا کئے ہیں۔ روس نے بابی مذہب کو روا رکھا ہے اور بابیوں کو اجازت دی کہ اپنا پہلا تبلیغ مرکز عشق آباد میں قائم کریں۔ انگلستان نے بھی احمدیوں کے ساتھ رواداری برتی اور ان کو اپنا پہلا تبلیغی مرکز وکنگ میں قائم کرنے کی اجازت دی۔ ہمارے لئے اس امر کا فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ آیا روس اور انگلستان نے ایسی رواداری کا اظہار شہنشاہی مصلحتوں کی بناء پر کیا، یا وسعت نظر کی وجہ سے۔ اس قدر تو بالکل واضح ہے کہ اس رواداری نے اسلام کے لئے پیچیدہ مسائل پیدا کر دیئے۔ اسلام کی اس ہیئت ترکیبی کے لحاظ سے جیسا کہ میں نے اس کو سمجھا ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اسلام ان دشواریوں سے جو اس کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ زیادہ پاک و صاف ہو کر نکلے گا۔ زمانہ بدل رہا ہے۔ ہندوستان کے حالات ایک نیا رخ
١٣
اختیار کر چکے ہیں۔ جمہوریت کی نئی روح جو ہندوستان میں پھیل رہی ہے۔ وہ یقیناً احمدیوں کی آنکھیں کھول دے گی اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ ان کی دینیاتی ایجادات بالکل بے سود ہیں اور اسلام قرون وسطیٰ کے اس تصوف کی تجدید کو روا رکھے گا۔ جس نے اپنے پیروں کے صحیح رجحانات کو کچل کر ایک مبہم تفکر کی طرف ان کا رخ پھیر دیا تھا۔ اس تصوف نے گزشتہ چند صدیوں میں مسلمانوں کے بہترین دماغوں کو اپنے اندر جذب کر کے امور سلطنت کو معمولی آدمیوں کے ہاتھ میں چھوڑ دیا تھا۔ جدید اسلام کے اس تجربہ کو دہرا نہیں سکتا اور نہ وہ پنجاب کے اس تجربے کے اعادے کو روا رکھ سکتا ہے۔ جس نے مسلمانوں کو نصف صدی تک ایسے دینیاتی مسائل میں الجھائے رکھا۔ جن کی زندگی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسلام جدید تفکر اور تجربہ کی روشنی میں قدم رکھ چکا ہے اور کوئی ولی یا پیغمبر اس کو قرون وسطیٰ کے تصوف کی تاریکی کی طرف واپس نہیں لے جا سکتا۔
اب میں پنڈت جواہر لال کے سوالات کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ پنڈت جی کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام یا انیسویں صدی کے اسلام کی مذہبی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں۔ انہوں نے شاید میری تحریرات کا بھی مطالعہ نہیں کیا ہے۔ جن میں ان کے سوالات پر بحث کی گئی ہے۔ میرے لئے یہاں ان تمام خیالات کا اعادہ کرنا ممکن نہیں۔ جن کو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ انیسویں صدی کے مسلمانوں کی مذہبی تاریخ کو پیش کرنا بھی یہاں ممکن نہیں ہے۔ جس کے بغیر دنیائے اسلام کی موجودہ صورتحال کو پوری طرح سمجھنا دشوار ہے۔ ترکی اور جدید اسلام کے متعلق سینکڑوں کتابیں اور مضامین لکھے گئے ہیں۔ میں اس لٹریچر کے بیشتر حصہ کا مطالعہ کر چکا ہوں اور غالباً پنڈت جواہر لال نہرو بھی اس کا مطالعہ کر چکے ہوں گے۔ بہر حال میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ان میں سے ایک مصنف نے بھی ان نتائج یا ان اسباب کی اصل ماہیت کو نہیں سمجھا جو ان نتائج کا باعث ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کے تفکر کے مخصوص رجحانات کو جو انیسویں صدی کے ایشیا میں پائے جاتے تھے اجمالی طور پر بیان کر دینا ضروری ہے۔
میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ ١٧٩٩ء میں اسلام کا سیاسی زوال اپنی انتہاء کو پہنچ چکا تھا۔ بہر حال اسلام کی اندرونی قوت کا اس واقعہ سے بڑھ کر کیا ثبوت مل سکتا ہے کہ اس نے فوراً ہی محسوس کر لیا کہ دنیا میں موقف ہے۔ انیسویں صدی میں سرسید احمد خاں ہندوستان میں، سید جمال الدین افغانی افغانستان میں اور مفتی عالم جان روس میں پیدا ہوئے۔ یہ حضرات غالباً محمد ابن
١٤
عبد الوہاب سے متاثر ہوئے تھے۔ و وہابی تحریک کے بانی تھے۔ جس کو صیح م ہے۔ سرسید احمد خاں کا اثر بہ حیثیت م مسلمان تھے جنہوں نے آنے والے و دور کی خصوصیت ہے۔ انہوں نے نیز م تعلیم کو قرار دیا۔ مگر سید احمد خان کی ح ہیں۔ جنہوں نے اسلام کو جدید رنگ م ہو گئے۔ ہم ان کے مذہبی خیالات سے م جا سکتا کہ ان کی حساس روح نے سب س
مسلمانان ہند کی انتہائی تھ خاں کے مذہبی نقطہ نظر کے حقیقی مفہوم ک میں جو ابھی تہذیب کی ابتدائی منزل م زیادہ مسلط ہے۔ سرسید کی تحریک کے م اور آریائی تصوف کی عجیب و غریب آ تصوف کے اصولوں کے مطابق نہیں ا انتظار کو تشفی دی جاتی تھی۔ اس سح دلائے۔ بلکہ اس کا کام یہ تعلیم دینا ہے ک دیں۔ اس ردعمل ہی کے اندر ایک نا ہے۔ لیکن اس قوت ارادی کو فنا کرو ک
. مولانا سید جمال الدی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ مذہبی مفی مسلمان افغانستان میں پیدا ہوتا ہ واقف تھے۔ ان کی فصاحت و بلاغت ن اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی م
عبدالوہاب سے متاثر ہوئے تھے۔ جن کی ولادت ١٧٠٠ء میں بمقام نجد ہوئی تھی اور جو اس نام نہاد وہابی تحریک کے بانی تھے۔ جس کو صحیح طور پر جدید اسلام میں زندگی کی پہلی تڑپ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ سرسید احمد خاں کا اثر بہ حیثیت مجموعی ہندوستان ہی تک محدود رہا۔ غالباً یہ عصر جدید کے پہلے مسلمان تھے جنہوں نے آنے والے دور کی جھلک دیکھی تھی اور یہ محسوس کیا تھا کہ ایجابی علوم اسی دور کی خصوصیت ہے۔ انہوں نے نیز روس میں مفتی عالم جان نے مسلمانوں کی پستی کا علاج جدید تعلیم کو قرار دیا۔ مگر سید احمد خان کی حقیقی عظمت اس واقعہ پر مبنی ہے کہ یہ پہلے ہندوستانی مسلمان ہیں۔ جنہوں نے اسلام کو جدید رنگ میں پیش کرنے کی ضرورت محسوس اور اس کے لئے سرگرم عمل ہوگئے۔ ہم ان کے مذہبی خیالات سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی حساس روح نے سب سے پہلے عصر جدید کے خلاف ردعمل کیا۔
مسلمانان ہند کی انتہائی قدامت پرستی جو زندگی کے حقائق سے دور ہوگئی تھی۔ سید احمد خاں کے مذہبی نقطہ نظر کے حقیقی مفہوم کو سمجھ نہ سکی۔ ہندوستان کے شمال مغربی حصہ میں ایسے حصہ میں جو ابھی تہذیب کی ابتدائی منزل میں ہے اور جہاں دیگر اقطاع ہند کے مقابلے میں پیر پرستی زیادہ مسلط ہے۔ سرسید کی تحریک کے خلاف احمدیت کی تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک میں سامی اور آریائی تصوف کی عجیب و غریب آمیزش تھی اور اس میں کسی فرد کا روحانی احیاء قدیم اسلامی تصوف کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوسکتا تھا۔ بلکہ مسیح موعود کی آمد کو پیش نظر کر کے عوام کی کیفیت انتظار کو تشفی دی جاتی تھی۔ اس مسیح موعود کا فرض یہ نہیں تھا کہ کسی فرد کو موجودہ پستی سے نجات دلائے۔ بلکہ اس کا کام یہ تعلیم دینا ہے کہ لوگ اپنے روح کو غلامانہ طور پر پستی و انحطاط کے سپرد کر دیں۔ اس ردعمل ہی کے اندر ایک نازک تضاد مضمر ہے۔ یہ تحریک اسلام کے ضوابط کو برقرار رکھتی ہے۔ لیکن اس قوت ارادی کو فنا کردیتی ہے۔ جس کو اسلام مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
مولانا سید جمال الدین افغانی کی شخصیت کچھ اور ہی تھی۔ قدرت کے طریقے بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ مذہبی فکر و عمل کے لحاظ سے ہمارے زمانے کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان افغانستان میں پیدا ہوتا ہے۔ جمال الدین افغانی دنیائے اسلام کی تمام زبانوں سے واقف تھے۔ ان کی فصاحت و بلاغت میں سحر آفرینی ودیعت تھی۔ ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی اور اس نے ایران، مصر اور ترکی کے ممتاز
١٥
ترین افراد کو متاثر کیا۔ ہمارے زمانے کے بعض جلیل القدر علماء جیسے مفتی محمد عبدہ اور نئی پود کے بعض افراد جو آگے چل کر سیاسی قائد بن گئے۔ جیسے مصر کے زغلول پاشا وغیرہ۔ انہیں کے شاگردوں میں سے تھے۔ انہوں نے لکھا کم اور کہا بہت، اور اس طریقہ سے ان تمام لوگوں کو جنہیں ان کا قرب حاصل ہوا چھوٹے چھوٹے جمال الدین بنا دیا۔
انہوں نے کبھی نبی یا مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ پھر بھی ہمارے زمانہ کے کسی شخص نے روح اسلام میں اس قدر تڑپ نہیں پیدا کی جس قدر کہ انہوں نے کی تھی۔ ان کی روح اب بھی دنیائے اسلام میں سرگرم عمل ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ ان کی انتہاء کہاں ہوگی۔ بہر حال یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ان جلیل القدر ہستیوں کی غایت کیا تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے دنیائے اسلام پر تین مخصوص قوتوں کو حکمران پایا اور ان قوتوں کے خلاف بغاوت پیدا کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت کو مرتکز کر دیا۔
- .......١ ملائیت: علماء ہمیشہ اسلام کے لئے ایک قوت عظیم کا سرچشمہ رہے ہیں۔
لیکن صدیوں کے مرور کے بعد خاص کر زوال بغداد کے زمانہ سے وہ بیحد قدامت پرست بن گئے اور آزادی اجتہاد (یعنی قانونی امور میں آزاد رائے قائم کرنا) کی مخالفت کرنے لگے۔ وہابی تحریک جو انیسویں صدی کے مصلحین اسلام کے لئے حوصلہ افروز تھی۔ درحقیقت ایک بغاوت تھی۔ علماء کے اس جمود کے خلاف پس انیسویں صدی کے مصلحین اسلام کا پہلا مقصد یہ تھا کہ عقائد کی جدید تفسیر کی جائے اور بڑھتے ہوئے تجربے کی روشنی میں قانون کی جدید تعبیر کرنے کی آزادی حاصل کی جائے۔
- .......٢ تصوف: مسلمانوں پر ایک ایسا تصوف مسلط تھا جس نے حقائق سے
آنکھیں بند کر لی تھیں۔ جس نے عوام کی قوت عمل کو ضعیف کر دیا تھا اور ان کو ہر قسم کی توہم میں مبتلا کر رکھا تھا۔ تصوف اپنے اس اعلیٰ مرتبہ سے جہاں وہ روحانی تعلیم کی ایک قوت رکھتا تھا۔ نیچے گرے عوام کی جہالت اور زود اعتقادی سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بن گیا تھا۔ اس نے بتدریج اور غیر محسوس طور پر مسلمانوں کی قوت ارادی کو کمزور اور اس قدر نرم کر دیا تھا کہ مسلمان اسلامی قانون کی سختی سے بچنے کی کوشش کرنے لگے تھے۔ انیسویں صدی کے مصلحین نے اس قسم کے تصوف کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور مسلمانوں کو عصر جدید کی روشنی کی طرف دعوت دی۔ یہ نہیں کہ یہ
١٦
مصلحین مادہ پرست تھے مادہ سے گریز کرنے کے ب
- .......٣ ملو
اپنے اس مفاد کی حفاظت ک الدین افغانی کا مقصد خاص پر آمادہ کیا جائے۔
مسلمانوں کے تفصیلی بیان یہاں ممکن نہی پاشا مصطفیٰ کمال اور رضا ش تفسیر، توجیہہ توضیح کی۔ لیکن رجحانات پر اعتماد کر کے جرأ تقاضا تھا اس کو جبر وقوت سے بتلاتی ہے کہ ان کی غلطیاں بھ
ان کے اندر منظم کے لئے مضطرب، بے چین رہ الدین افغانی اور ان کے پیک بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے و روحانی فضا میں سانس لی تھ پڑا ہے۔ لیکن جس تاریخ کا کہ ترکی میں جو انقلاب ظہو ہونے والا ہے۔ بالکل اندری دیکھتا ہے۔ صرف وہی شخص ہ قوتوں کا رہین منت ہے۔ ج
کیا ہندوستان
مصلحین مادہ پرست تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اسلام کی اس روح سے آشنا ہو جائیں جو مادہ سے گریز کرنے کے بجائے اس کی تسخیر کی کوشش کرتی ہے۔
- ٣...... ملوکیت: مسلمان سلاطین کی نظر اپنے خاندان کے مفاد پر جمی رہتی تھی اور
اپنے اس مفاد کی حفاظت کے لئے وہ اپنے ملک کو بیچنے میں پس و پیش نہیں کرتے تھے۔ سید جمال الدین افغانی کا مقصد خاص یہ تھا کہ مسلمانوں کو دنیائے اسلام کے ان حالات کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا جائے۔
مسلمانوں کے فکر و تاثر کی دنیا میں ان مصلحین نے جو انقلاب پیدا کیا ہے۔ اس کا تفصیلی بیان یہاں ممکن نہیں ہے۔ بہر حال ایک چیز بہت واضح ہے۔ ان مصلحین نے زغلول پاشا مصطفیٰ کمال اور رضا شاہ جیسی ہستیوں کی آمد کے لئے راستہ تیار کر دیا۔ ان مصلحین نے تعبیر، تفسیر، توجیہہ توضیح کی۔ لیکن جو افراد ان کے بعد آئے۔ اگر چہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ تھے۔ تاہم اپنے صحیح رجحانات پر اعتماد کر کے جرأت کے ساتھ میدان عمل میں کود پڑے اور زندگی کی نئی ضروریات کا جو تقاضا تھا اس کو جبر و قوت سے پورا کیا۔ ایسے لوگوں سے غلطیاں بھی ہوا کرتی ہیں۔ لیکن تاریخ اقوام بتلاتی ہے کہ ان کی غلطیاں بھی بعض اوقات مفید نتائج پیدا کرتی ہیں۔
ان کے اندر منطق نہیں بلکہ زندگی ہیجان برپا کر دیتی ہے اور اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے مضطرب بے چین رہتی ہے۔ یہاں یہ بتلا دینا ضروری ہے کہ سید احمد خاں، سید جمال الدین افغانی اور ان کے سینکڑوں شاگرد جو اسلامی ممالک میں تھے مغرب زدہ مسلمان نہیں تھے۔ بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے قدیم مکتب کے ملاؤں کے آگے زانوئے ادب تہ کیا تھا اور اسی عقلی و روحانی فضا میں سانس لی تھی۔ جس کی وہ از سر نو تعمیر کرنی چاہتے تھے۔ جدید تخیلات کا اثر ضرور پڑا ہے۔ لیکن جس تاریخ کا اجمالی طور پر اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی میں جو انقلاب ظہور پذیر ہوا اور جو جلد یا بدیر دوسرے اسلامی ممالک میں بھی ظہور پذیر ہونے والا ہے۔ بالکل اندرونی قوتوں کا آفریدہ تھا۔ جدید دنیائے اسلام کو جو شخص سطحی نظر سے دیکھتا ہے۔ صرف وہی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ دنیائے اسلام کا موجودہ انقلاب محض بیرونی قوتوں کا رہین منت ہے۔
کیا ہندوستان سے باہر دوسرے اسلامی ممالک، خاص کر ترکی نے اسلام کو ترک کر دیا
١٧
ہے؟ پنڈت جواہر لال نہرو خیال کرتے ہیں کہ ترکی اب اسلامی ملک نہیں رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو محسوس نہیں کرتے کہ یہ سوال کہ آیا کوئی شخص یا جماعت اسلام سے خارج ہو گئی۔ مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے ایک خالص فقہی سوال ہے اور اس کا فیصلہ اسلام کی ہیئت ترکیبی کے لحاظ سے کرنا پڑے گا۔ جب تک کوئی شخص اسلام کے دو بنیادی اصولوں پر ایمان رکھتا ہے۔ یعنی توحید اور ختم نبوت تو اس کو ایک راسخ العقیدہ ملا بھی اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں کر سکتا۔ خواہ فقہ اور آیات قرآنی کی تاویلات میں وہ کتنی ہی غلطیاں کرے۔ غالباً پنڈت جواہر لال نہرو کے ذہن میں وہ مفروضہ یا حقیقی اصلاحات ہیں جو اتا ترک نے رائج کی ہیں۔ اب ہم تھوڑی دیر کے لئے ان کا جائزہ لیں گے۔ کیا ترکی میں ایک عام مادی نقطۂ نظر کا نشو و نما اسلام کے منافی ہے؟ مسلمانوں میں ترک دنیا کا بہت رواج رہ چکا ہے۔ مسلمانوں کے لئے اب وقت آگیا ہے کہ وہ حقائق کی طرف متوجہ ہوں۔ مادیت مذہب کے خلاف ایک بڑا حربہ ہے۔ لیکن ملا اور صوفی کے پیشوں کے استیصال کے لئے ایک مؤثر حربہ ہے۔ جو عمدہ لوگوں کو اس غرض سے گرفتار حیرت کر دیتے ہیں کہ ان کی جہالت اور زود اعتقادی سے فائدہ اٹھائیں۔ اسلام کی روح مادے کے قرب سے نہیں ڈرتی۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ تمہارا دنیا میں جو حصہ ہے اس کو نہ بھولو۔ ایک غیر مسلم کے لئے اس کا سمجھنا دشوار ہے۔ گذشتہ چند صدیوں میں دنیائے اسلام کی جو تاریخ رہی ہے۔ اس کے لحاظ سے مادی نقطۂ نظر کی ترقی تحقق ذات کی ایک صورت ہے۔ کیا لباس کی تبدیلی یا لاطینی رسم الخط کا رواج اسلام کے منافی ہے؟ اسلام کا بہ حیثیت ایک مذہب کے کوئی وطن نہیں اور بہ حیثیت ایک معاشرہ کے اس کی کوئی مخصوص زبان ہے اور نہ کوئی مخصوص لباس۔ قرآن کا ترکی زبان میں پڑھا جانا تاریخ اسلام میں کوئی نئی بات نہیں۔ اس کی چند مثالیں موجود ہیں۔ ذاتی طور پر میں اس فکر و نظر کو ایک سنگین غلطی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ عربی زبان و ادب کا متعلم اچھی طرح جانتا ہے کہ غیر یورپی زبانوں میں اگر کسی زبان کا مستقبل ہے تو وہ عربی ہے۔ بہر حال اب یہ اطلاعیں آ رہی ہیں کہ ترکوں نے ملکی زبان میں قرآن کا پڑھنا ترک کر دیا ہے۔ تو کیا کثرت ازدواج کی ممانعت یا علماء پر لائسنس حاصل کرنے کی قید منافی اسلام ہے؟ فقہ اسلام کی رو سے ایک اسلامی ریاست کا امیر مجاز ہے کہ شرعی اجازتوں کو منسوخ کر دے۔ بشرطیکہ اس کو یقین ہو جائے کہ یہ اجازتیں معاشری فساد پیدا کرنے کی طرف مائل ہیں۔ رہا علماء کا لائسنس حاصل کرنا۔ آج مجھے اختیار ہوتا تو یقیناً میں
١٨
اس اسلامی ہند میں نافذ کی ایجادات کا نتیجہ ہے۔ قوم تما ابن تیمیہ یا شاہ ولی اللہ کا دائر درج ہے۔ جس کی رو سے شخص یا اشخاص کو حاصل ہے حیرت انگیز بات ہے کہ اس عمل کو کس طرح منور کر دیا سنگین غلطی ہے۔ جو جوش و ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہ سے نجات حاصل کرنے کی جس کا اس قوم کو کوئی تجربہ نہ ان معاشی پہلوؤں کو ابھی ہم تعبیر کرتا ہے۔ کیا تنسیخ خلا روح کے لحاظ سے شہنشاہی سلطنت بن گئی تھی۔ اسلام ک کے اجتہاد کو سمجھنے کے لئے ہمیں القدر فلسفی مؤرخ اور تاریخ جدید‘‘ کا اقتباس پیش کرتا ہو ’’ابن خلدون ال ممتاز نقاط نظر پیش کرتا ہے ہے۔ (٢) اس کا تعلق محض ت آخر الذکر خیال کو خارجیوں کہ جدید تر کی پہلے خیال کی خیال کی طرف کہ عالمگیر خلا
اس اسلامی ہند میں نافذ کر دیتا۔ ایک اوسط مسلمان کی سادہ لوحی زیادہ تر افسانہ تراش ملا کی ایجادات کا نتیجہ ہے۔ قوم کی مذہبی زندگی سے ملاؤں کو الگ کر کے اتاترک نے وہ کام کیا جس سے ابن تیمیہ یا شاہ ولی اللہ کا دل مسرت سے لبریز ہو جاتا۔ رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث مشکوٰۃ میں درج ہے۔ جس کی رو سے وعظ کرنے کا حق صرف اسلامی ریاست کے امیر یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کو حاصل ہے۔ خبر نہیں اتاترک اس حدیث سے واقف ہیں یا نہیں۔ تاہم یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ اس کے اسلامی ضمیر کی روشنی نے اس اہم ترین معاملہ میں اس کے میدان عمل کو کس طرح منور کر دیا ہے۔ سوئز قانون اور اس کے قواعد وراثت کو اختیار کر لینا ضرور ایک سنگین غلطی ہے۔ جو جوش اصلاح کی وجہ سے صادر ہوئی ہے اور ایک ایسی قوم میں جو سرعت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ ایک حد تک قابل معافی ہے۔ پیشوایان مذہب کے پنجۂ استبداد سے نجات حاصل کرنے کی مسرت ایک قوم کو بعض اوقات ایسی راہ عمل کی طرف کھینچ لے جاتی ہے جس کا اس قوم کو کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ ترکی اور نیز تمام دنیائے اسلام کو اسلامی قانون وراثت کے ان معاشی پہلوؤں کو ابھی منکشف کرنا ہے جن کو فان کریمر ”فقہ اسلام کی بے حد اچھی شارع“ سے تعبیر کرتا ہے۔ کیا تنسیخ خلافت یا مذہب وسلطنت کی علیحدگی منافی اسلام ہے؟ اسلام اپنی اصلی روح کے لحاظ سے شہنشاہیت نہیں ہے۔ اس خلافت کی تنسیخ میں جو بنوامیہ کے زمانہ سے عملاً ایک سلطنت بن گئی تھی۔ اسلام کی روح اتاترک کے ذریعہ کار فرما رہی ہے۔ مسئلہ خلافت میں ترکوں کے اجتہاد کو سمجھنے کے لئے ہمیں ابن خلدون کی رہنمائی حاصل کرنی پڑے گی۔ جو اسلام کا ایک جلیل القدر فلسفی مؤرخ اور تاریخ جدید کا ابوالآبا گزرا ہے۔ میں یہاں اپنی کتاب ”اسلامی تفکر تشکیل جدید“ کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔
”ابن خلدون اپنے مشہور ”مقدمہ تاریخ“ میں عالمگیر اسلامی خلافت سے متعلق تین ممتاز نقاط نظر پیش کرتا ہے۔ (١) عالمگیر خلافت ایک مذہبی ادارہ ہے۔ اس لئے اس کا قیام ناگزیر ہے۔ (٢) اس کا تعلق محض اقتضائے وقت سے ہے۔ (٣) ایسے ادارے کی ضرورت ہی نہیں۔ آخرالذکر خیال کو خارجیوں نے اختیار کیا تھا۔ جو اسلام کے ابتدائی جمہورین تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جدید ترکی پہلے خیال کے مقابلہ میں دوسرے خیال کی طرف مائل ہے۔ یعنی معتزلہ کے اس خیال کی طرف کہ عالمگیر خلافت محض اقتضائے وقت سے تعلق رکھتی ہے۔ ترکوں کا استدلال یہ ہے
١٩
کہ ہم کو اپنے سیاسی تفکر میں اپنے ماضی کے سیاسی تجربے سے مدد لینی چاہئے۔ جو بلاشک وشبہ اس واقعہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ عالمگیر خلافت کا تخیل عملی صورت اختیار کرنے سے قاصر رہا۔ یہ تخیل اس وقت قابل عمل تھا جب کہ اسلامی ریاست برقرار تھی۔ اس ریاست کے انتشار کے بعد سے کئی آزاد سلطنتیں وجود میں آگئی ہیں۔ اب یہ تخیل بے اثر ہو گیا ہے اور اسلام کی تنظیم جدید میں ایک زندگی بخش عنصر کی حیثیت سے کارگر نہیں ہو سکتا۔
مذہب وسلطنت کی علیحدگی کا تصور بھی اسلام کے لئے غیر مانوس نہیں ہے۔ امام کی ”غیبت کبریٰ“ کا نظریہ ایک مفہوم میں ایک عرصہ پہلے شیعی ایران میں اس علیحدگی کو رو بعمل لا چکا ہے۔ ریاست کے مذہبی وسیاسی وظائف کی تقسیم کے اسلامی تصور کو کلیسا اور سلطنت کی علیحدگی کے مغربی تصور سے مخلوط نہ کرنا چاہئے۔ اوّل الذکر تو محض وظائف کی ایک قسم ہے۔ جیسا کہ اسلامی ریاست میں شیخ الاسلام اور وزراء کے عہدوں کے تدریجی قیام سے واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن آخر الذکر روح اور مادہ کی مابعد الطبیعی ثنویت (دوئی) پر مبنی ہے۔ مسیحیت کا آغاز ایک نظام رہبانیت سے ہوتا ہے۔ جسے دنیاوی امور سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسلام ابتدا ہی سے ایک نظام معاشری رہا ہے۔ جس کے قوانین بالطبع معاشری ہیں۔ اگرچہ ان کا ماخذ الہامی ہے۔ مابعد الطبیعی ثنویت نے جس پر مذہب و سلطنت کی علیحدگی کا مغربی تصور مبنی ہے۔ مغربی اقوام میں تلخ ثمرات پیدا کئے۔ کئی سال ہوئے امریکہ میں ایک کتاب لکھی گئی تھی۔ جس کا عنوان تھا ”اگر مسیح شکاگو آئیں“ اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک امریکی مصنف کہتا ہے کہ مسٹر اسٹیڈ کی کتاب سے ہمیں جو سبق حاصل کرنا ہے یہ ہے کہ اس وقت نوع انسان جن برائیوں میں مبتلا ہے وہ ایسی برائیاں ہیں جن کا ازالہ صرف مذہبی تاثرات ہی کر سکتے ہیں۔ ان برائیوں کا ازالہ ایک بڑی حد تک ریاست کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ لیکن خود ریاست فساد انگیز سیاسی مشقتوں میں دب گئی ہے۔ یہ مشین ان برائیوں کا ازالہ کرنے کے لئے نہ صرف تیار نہیں بلکہ وہ اس قابل بھی نہیں ہیں۔ پس کروڑ ہا انسانوں کو تباہی اور خود ریاست کو انحطاط سے بچانے کے لئے بجز اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ شہریوں میں اپنے اجتماعی فرائض کا مذہبی احساس پیدا کیا جائے۔“
مسلمانوں کے سیاسی تجربے کی تاریخ میں مذہب وسلطنت کی علیحدگی محض وظائف کی علیحدگی ہے نہ کہ عقائد کی۔ اسلامی ممالک میں مذہب وسلطنت کی علیحدگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو
٢٠
تماعی تجربہ سے مدد لینی چاہئے۔ جو بلا شک و شبہ اس وقت کا تخیل عملی صورت اختیار کرنے سے قاصر رہا۔ یہ ی ریاست برقرار تھی۔ اس ریاست کے انتشار کے ند اب یہ تخیل بے اثر ہو گیا ہے اور اسلام کی تنظیم جدید ر نہیں ہو سکتا۔ صور بھی اسلام کے لئے غیر مانوس نہیں ہے۔ امام کی عرصہ پہلے شیعی ایران میں اس علیحدگی کو رو بعمل لا چکا تقسیم کے اسلامی تصور کو کلیسا اور سلطنت کی علیحدگی کے ر کو محض وظائف کی ایک قسم ہے۔ جیسا کہ اسلامی ی کے تدریجی قیام سے واضح ہو جاتا ہے۔ لیکن آخر ہوئی) پر مبنی ہے۔ مسیحیت کا آغاز ایک نظام رہبانیت نہیں تھا۔ اسلام ابتدا ہی سے ایک نظام معاشری رہا گرچہ ان کا ماخذ الہامی ہے۔ مابعد الطبعی معنویت نے ورت اختیار کی ہے۔ مغربی اقوام میں تلخ ثمرات پیدا کئے۔ کئی ۔ جس کا عنوان تھا ”اگر مسیح شکاگو آئیں“ اس کتاب ہے کہ مسٹر اسٹیڈ کی کتاب سے ہمیں جو سبق حاصل کرنا ہی میں مبتلا ہے وہ ایسی برائیوں میں جن کا ازالہ صرف کا ازالہ ایک بڑی حد تک ریاست کے سپرد کر دیا گیا میں دب گئی ہے۔ یہ مشین ان برائیوں کا ازالہ کرنے بھی نہیں ہیں۔ پس کروڑ ہا انسانوں کو تباہی اور خود بچانے کے اور کوئی چارہ نہیں کہ شہریوں میں اپنے اجتماعی
طح میں مذہب وسلطنت کی علیحدگی محض وظائف کی مذہب وسلطنت کی علیحدگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو ٢٠
سکتا کہ مسلمانوں کی قانون سازی عوام کے ضمیر سے بے تعلق ہو جائے۔ جو صدیوں سے اسلامی روحانیت کے تحت پرورش و نمو پاتا رہا ہے۔ تجربہ خود بتلا دے گا کہ یہ تخیل جدید ترکی میں کس طرح عملی صورت اختیار کرتا ہے۔ ہم صرف یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ یہ ان برائیوں کا باعث نہ ہوگا جو یورپ اور امریکہ میں پیدا ہو گئی ہیں۔
متذکرہ صدر اصلاحات پر میں نے جو اجمالی بحث کی ہے اس میں میرا روئے سخن پنڈت جواہر لال نہرو سے زیادہ مسلمانوں کی طرف تھا۔ پنڈت جی نے جس اصلاح کا خاص طور پر ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ ترکوں اور ایرانیوں نے نسلی اور قومی نصب العین اختیار کر لیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایسا نصب العین اختیار کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ترکوں اور ایرانیوں نے اسلام کو ترک کر دیا ہے۔ تاریخ کا معلم اچھی طرح جانتا ہے کہ اسلام کا ظہور ایسے زمانہ میں ہوا جب کہ وحدت انسانی کے قدیم اصول جیسے خونی رشتہ اور ملوکیت ناکام ثابت ہو رہے تھے۔ پس اسلام نے وحدت انسانی کا اصول گوشت اور پوست میں نہیں بلکہ روح انسانی میں دریافت کیا۔ نوع انسان کو اسلام کا اجتماعی پیام یہ ہے کہ نسل کے قیود سے آزاد ہو جاؤ یا باہمی لڑائیوں سے ہلاک ہو جاؤ۔ یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں کہ اسلام فطرت کی نسل سازی کو ٹیڑھی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے مخصوص اداروں کے ذریعہ ایسا نقطۂ نظر پیدا کر دیتا ہے جو فطرت کی نسل ساز قوتوں کی مزاحمت کرتا ہے۔ انسانی برادری قائم کرنے کے سلسلہ میں اسلام نے جو اہم ترین کارنامے ایک ہزار سال میں انجام دیئے ہیں وہ مسیحیت اور بدھ مت نے دو ہزار سال میں بھی انجام نہیں دیئے۔ یہ بات ایک معجزے سے کم نہیں کہ ایک ہندی مسلمان نسل اور زبان کے اختلاف کے باوجود مراکش پہنچ کر اجنبیت محسوس نہیں کرتا۔ تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام نسل کا سرے سے مخالف ہے۔ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے معاشری اصلاح کو زیادہ تر اس امر پر مبنی رکھا کہ بتدریج نسلی عصبیت کو مٹایا جائے اور ایسا راستہ اختیار کیا جائے جہاں تصادم کا کم سے کم امکان ہو۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ: ”ہم نے تم کو قبائل میں اس لئے پیدا کیا ہے کہ تم پہچانے جا سکو۔ لیکن تم میں سے وہی شخص خدا کی نظر میں بہترین ہے جس کی زندگی پاک ہے۔“ اگر اس امر کو مدنظر رکھا جائے کہ مسئلہ نسل کس قدر زبردست ہے اور نوع انسان سے نسلی امتیازات مٹانے کے لئے کس قدر وقت درکار ہے تو مسئلہ نسل کے متعلق صرف اسلام ہی کا نقطۂ نظر (یعنی خود ایک نسل ساز عنصر بنے۔ بغیر نسلی ٢١
امتیازات پر فتح پانا) معقول اور قابل عمل نظر آئے گا۔ سر آرتھر کیتھ کی چھوٹی سی کتاب مسئلہ نسل میں ایک دلچسپ عبارت ہے۔ جس کا اقتباس یہاں پیش کرنا نامناسب نہ ہوگا۔
”اب انسان میں اس قسم کا شور پیدا ہو رہا ہے کہ فطرت کا ابتدائی مقصد یعنی نسل سازی جدید معاشی دنیا کی ضرورت کے منافی ہے اور وہ اپنے دل سے پوچھتا ہے کہ مجھ کو کیا کرنا چاہئے؟ کیا نسل سازی کو ختم کر کے جس پر فطرت اب تک عمل پیرا تھی دائمی امن حاصل کیا جائے؟ یا فطرت کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنی قدیم راہ عمل اختیار کرے۔ جس کا لازمی نتیجہ جنگ ہے؟ انسان کو کوئی ایک راہ عمل اختیار کرنی پڑے گی۔ کوئی درمیانی راستہ ممکن نہیں۔“
لہٰذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر اتا ترک اتحاد تورانیت سے متاثر ہے تو وہ روح اسلام کے خلاف اس قدر نہیں جا رہا ہے۔ جس قدر کہ روح عصر کے خلاف۔ اگر وہ نسلوں کے وجود کو ضروری سمجھتا ہے تو اس کو عصر جدید کی روح شکست دے دے گی۔ کیونکہ عصر جدید کی روح بالکل روح اسلام کے مطابق ہے۔ بہر حال ذاتی طور پر میں خیال کرتا ہوں کہ اتا ترک اتحاد تورانیت سے متاثر نہیں ہے۔ میرا یقین ہے کہ اس کا اتحاد تورانیت ایک سیاسی جواب ہے۔ اتحاد سلاف یا اتحاد المانویت، یا اتحاد انگلو سیکسن کا۔
اگر مندرجہ بالا عبارت کا مفہوم اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو قومی نصب العین سے متعلق اسلام کے نقطۂ نظر کو سمجھنے میں دشواری نہ ہوگی۔ اگر قومیت کے معنی حب الوطنی اور ناموس وطن کے لئے جان تک قربان کرنے کے ہیں تو ایسی قومیت مسلمانوں کے ایمان کا ایک جزو ہے۔ اس قومیت کا اسلام سے اس وقت تصادم ہوتا ہے جب کہ وہ ایک سیاسی تصور بن جاتی ہے اور اتحاد انسانی کا بنیادی اصول ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اسلام شخصی عقیدے کے پس منظر میں چلا جائے اور قومی زندگی میں ایک حیات بخش عنصر کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔ ترکی، ایران، مصر اور دیگر اسلامی ممالک میں قومیت کا مسئلہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ ان ممالک میں مسلمانوں کی زبردست اکثریت ہے اور یہاں کی اقلیتیں جیسے یہودی، عیسائی اور زرتشتی اسلامی قانون کی رو سے یا تو اہل کتاب ہیں یا اہل کتاب سے مشابہ ہیں۔ جن سے معاشی اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا اسلامی قانون کے لحاظ سے بالکل جائز ہے۔ قومیت کا مسئلہ مسلمانوں کے لئے صرف ان ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔ جہاں وہ اقلیت میں ہیں اور جہاں قومیت کا یہ تقاضا ہو کہ وہ
٢٢
اپنی ہستی کو مٹا دیں۔ جن ممالک میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اسلام قومیت سے ہم آہنگی پیدا کر لیتا ہے۔ کیونکہ یہاں اسلام اور قومیت عملاً ایک ہی چیز ہے۔ جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں مسلمانوں کی یہ کوشش کہ ایک تہذیبی وحدت کی حیثیت سے خود مختاری حاصل کی جائے۔ حق بجانب ہوگی۔ دونوں صورتیں اسلام کے بالکل مطابق ہیں۔
سطور بالا میں دنیائے اسلام کی صحیح صورتحال کو اجمالی طور پر پیش کر دیا گیا ہے۔ اگر اس کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو یہ امر واضح ہو جائے گا کہ وحدت اسلامی کے بنیادی اصولوں کو کوئی بیرونی یا اندرونی قوت متزلزل نہیں کر سکتی۔ وحدت اسلامی، جیسا کہ میں نے پہلے توضیح کی ہے، مشتمل ہے۔ اسلام کے دو بنیادی عقائد پر جن میں پانچ مشہور ارکان شریعت کا اضافہ کر لینا چاہئے۔ وحدت اسلامی کے یہ اساسی عناصر ہیں جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ سے اب تک قائم ہیں۔ گو حال میں بہائیوں نے ایران میں اور قادیانیوں نے ہندوستان میں ان عناصر میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہی وحدت دنیائے اسلام میں یکساں روحانی فضا پیدا کرنے کی ضامن ہے۔ یہی وحدت اسلامی ریاستوں میں سیاسی اتحاد قائم کرنے میں سہولت پیدا کرتی ہے۔ خواہ یہ اتحاد عالمگیر ریاست (مثالی) کی صورت اختیار کرے یا اسلامی ریاستوں کی ایک جمعیت کی صورت یا متعدد آزاد ریاستوں کی صورت۔ جن کے معاہدات اور میثاقات خالص معاشی و سیاسی مصلحتوں پر مبنی ہوں گے۔ اس طرح اس سیدھے سادھے مذہب کی عملی ہیئت ترکیبی رفتار زمانہ سے ایک تعلق رکھتی ہے۔ اس تعلق کی گہرائی قرآن کی چند آیتوں کی روشنی میں سمجھ میں آ سکتی ہے۔ جس کی تشریح پیش نظر مقصد سے ہٹے بغیر یہاں ممکن نہیں۔ سیاسی نقطہ نظر سے وحدت اسلامی اس وقت تک متزلزل ہو جاتی ہے جب کہ اسلامی ریاستیں ایک دوسرے سے جنگ کرتی ہیں اور مذہبی نقطہ نظر اس وقت متزلزل ہوتی ہے۔ جب کہ مسلمان بنیادی عقائد یا ارکان شریعت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ اس ابدی وحدت کی خاطر اسلام اپنے دائرے میں کسی باغی جماعت کو روا نہیں رکھتا۔ اسلام کے دائرے سے باہر ایسی جماعت کے ساتھ دوسرے مذاہب کے پیروں کی طرح رواداری برتی جا سکتی ہے۔ میرے خیال میں اسلام اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ وہ سیاسی وحدت کی ایک صورت سے کسی دوسری صورت کی طرف جو ابھی متعین نہیں ہوئی ہے۔ اقدام کر رہا ہے۔ دنیائے جدید میں حالات اس سرعت کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ مستقبل کے متعلق پیشین گوئی تقریباً ناممکن ہے۔ اگر دنیائے اسلام سیاسی وحدت حاصل کر لے۔ اگر ایسا ممکن ہو تو غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کا رویہ کیا ہوگا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ٢٣
صرف تاریخ ہی دے سکتی ہے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جغرافی حیثیت سے یورپ اور ایشیاء کے درمیان واقع ہونے کے لحاظ سے اور زندگی کے مشرقی و مغربی نصب العین کے ایک امتزاج کی حیثیت سے اسلام کو مشرق و مغرب کے مابین ایک طرح کا نقطہ اتصال بننا چاہئے۔ لیکن اگر یورپ کی نادانیاں اسلام کو ناقابل مفاہمت بنادیں تو کیا ہوگا؟ یورپ کے روز مرہ حالات جو صورت اختیار کر رہے ہیں ان کا اقتضاء یہ ہے کہ یورپ اپنے اس طرز عمل کو کلیتہ بدل دے جو اس نے اسلام کے متعلق اختیار کیا ہے۔ ہم صرف یہ توقع کر سکتے ہیں کہ سیاسی بصیرت پر معاشی لوٹ اور شہنشاہی ہوس کا پردہ نہیں پڑے گا۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے۔ میں یقین کامل کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانان ہند کسی ایسی سیاسی تصوریت کا شکار نہیں بنیں گے جو ان کی تہذیبی وحدت کا خاتمہ کر دے گی۔ اگر ان کی تہذیبی وحدت محفوظ ہو جائے تو ہم اعتماد کر سکتے ہیں کہ وہ مذہب اور حب الوطنی میں ہم آہنگی پیدا کرلیں گے۔
ہزہائینس آغا خاں کے متعلق میں دو ایک لفظ کہنا چاہتا ہوں۔ میرے لئے اس امر کا معلوم کرنا دشوار ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے آغا خاں پر کیوں حملے کئے۔ شاید وہ خیال کرتے ہیں کہ قادیانی اور اسماعیلی ایک ہی زمرے میں شامل ہیں۔ وہ اس بات سے بداہتہ بے خبر ہیں کہ اسماعیلیوں کی دینیاتی تاویلات کتنی ہی غلط ہوں۔ پھر بھی وہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اسماعیلی تسلسل امامت کے قائل ہیں۔ لیکن ان کے نزدیک امام حامل وحی نہیں ہوتا۔ وہ محض قانون کا مفسر ہوتا ہے۔ کل ہی کی بات ہے کہ ہزہائینس آغا خاں نے اپنے پیروؤں کو حسب ذیل الفاظ سے مخاطب کیا تھا۔
(دیکھو اسٹار الہ آباد مورخہ ١٢/ مارچ ١٩٣٤ء)
”گواہ رہو کہ اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ کعبہ سب کا قبلہ ہے۔ تم مسلمان ہو اور مسلمانوں کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ مسلمانوں سے السلام علیکم کہہ کر ملو۔ اپنے بچوں کے اسلامی نام رکھو۔ مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھو۔ پابندی سے روزے رکھو۔ اسلامی قانون نکاح کے مطابق اپنی شادیاں کرو۔ تمام مسلمانوں سے اپنے بھائیوں کی طرح برتاؤ کرو۔“
اب پنڈت جواہر لال نہرو کو اس امر کا تصفیہ کرنا چاہئے کہ آیا آغا خاں اسلامی وحدت کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں۔
٢٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی زندیق
اور
حکومت برطانیہ
جناب فرزند توحید صاحبؒ
بسم الله الرحمن الرحیم!
عرض ناشر
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبین محمدﷺ تک جس قدر انبیاء ورسول دنیا میں تشریف لائے سب نے اپنے وقت کی طاغوتی طاقتوں سے ٹکر لی اور انہیں حق کا پیغام سنایا اور انہیں خدا کے سامنے جھکانے کی پوری کوشش کی۔ حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کی خدائی کو ختم کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دریائے نیل میں غرق کیا اور آنحضرتﷺ نے کفار مکہ اور دیگر باغی طاغوتی حکومتوں کو خدا کے سامنے جھکنے کے لئے مجبور کیا۔ مگر انگریز نے قادیان میں ایک ایسی نبوت کو جنم دیا جس کا پیغام کفر و باطل کی اطاعت کروانا تھا۔
آئیے! میں آپ کو مرزائیوں کے جاپانی نبی مرزا قادیانی کی نبوت کی سیر کراتا ہوں۔ حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے ایک ہی شعر میں اس نبوت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ فرماتے ہیں؎
جس میں نہیں کچھ قوت و شوکت کا پیام
آئندہ صفحوں پر اس انگریزی نبوت پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ میں صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس دجال نے اپنی تمام مساعی صرف مسلمانوں سے انگریز کی اطاعت کروانے پر ہی مرکوز رکھیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے خود اپنی کتابوں میں یہ تحریر کیا کہ میں نے مسلمانوں سے انگریز کی اطاعت اور فرمانبرداری کروانے کے لئے اس قدر کتابیں، رسالے اور اشتہار شائع کئے کہ اگر ان سب کو اکٹھا کیا جائے تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ انگریز کی چوکھٹ پر خود سجدہ کرنے اور مسلمانوں کو ان کی اطاعت پر رضا مند کرنے کے لئے اسے بہت سے پاپڑ بیلنے پڑے۔ یہاں تک کہ جہاد جیسے سب سے بڑے اور مقدم اسلامی فریضہ کو بھی حرام قرار دینا پڑا۔ چنانچہ کہا کہ دین کے لئے حرام ہے۔ اب جنگ اور قتال اور پھر کہا کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اسلام کو بدنام کرنے والا کوئی مسئلہ نہیں۔ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کے نزدیک اسلام میں بہت سے مسئلے ایسے ہیں جو اسلام کو بدنام کرنے والے ہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ اسلام کو بدنام کرنے والا مسئلہ جہاد کا ہے۔
٢
بحضور عالی شان قیصرہ ......١ نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکت اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسا کے آنے سے ہم نے اور ہما ہے۔ اس لئے میں اپنے تما قیصرہ ہند دام ملکها کو دیر گاہ ت اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما
......٢ اس خوشخبری کو پہنچانے کے ل تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت او اور دیگر ممالک میں قائم کیا سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہن امن اور آسودگی کا برخلاف ا کے عہد مبارک میں اپنی طر جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی ام
......٣ کامرانی سے ہمارے دلوں ک سے بھرا ہوا ہے۔ مسیح موعو امن پسندی اور حسن انتظام
......٤ رہے ہیں اور تیری نیک جاتا ہے۔ اس لئے تیرے ظہور کے لئے موزوں ہ
بحضور عالی شان قیصرہ ہند ملکہ معظمہ شہنشاہ ہندوستان وانگلستان دام اقبالہا
- .......١ ”مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی
نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا۔ بعد میں اس قدر خدمت کر کے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں۔ اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا۔ کیونکہ مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے۔ اس لئے میں اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعاء کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیرگاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ١١٤)
- .......٢ ”اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں
اس خوشخبری کو پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے۔ تاکہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے۔ ایسا ہی اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہنشاہ مبارکہ قیصرہ ہند کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے جو عدل اور امن اور آسودگی کا بڑھانا اور رفع فساد اور تہذیب اخلاق اور وحشیانہ حالتوں کو دور کرنا ہے۔ اس کے عہد مبارک میں اپنی طرف سے اور غیب سے اور آسمان سے کوئی ایسا روحانی انتظام قائم کرے جو حضور ملکہ معظمہ کے دلی اغراض کو مدد دے۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ١١٦)
- .......٣ ”اے قیصرہ مبارکہ خدا تجھے سلامت رکھے اور تیری عمر اور اقبال اور
کامرانی سے ہمارے دلوں کو خوشی پہنچاوے۔ اس وقت تیری عہد سلطنت میں جو نیک نیتی کے نور سے بھرا ہوا ہے۔ مسیح موعود کا آنا خدا کی طرف سے یہ گواہی ہے کہ تمام سلاطین میں سے تیرا وجود امن پسندی اور حسن انتظام اور ہمدردی رعایا اور عدل اور داد گستری میں بڑھ کر ہے۔“
(ستارہ قیصرہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٦)
- .......٤ ”اے ملکہ معظمہ تیرے وہ پاک ارادے ہیں جو آسمانی مدد کو اپنی طرف کھینچ
رہے ہیں اور تیری نیک نیتی کی کشش سے جس سے آسمان رحمت کے ساتھ زمین کی طرف جھکتا جاتا ہے۔ اس لئے تیرے عہد سلطنت کے سوا اور کوئی بھی عہد سلطنت ایسا نہیں جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے موزوں ہو۔ سو خدا نے تیرے نورانی عہد میں آسمان سے ایک نور نازل کیا۔ کیونکہ
٣
نور نور کو اپنی طرف کھینچتا اور تاریکی تاریکی کو کھینچتی ہے۔ اے مبارک اور بااقبال ملکہ زمان جن کتابوں میں مسیح موعود کا آنا لکھا ہے ان کتابوں میں صریح تیرے پرامن عہد کی طرف اشارات پائے جاتے ہیں۔“
(ستارہ قیصره ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١١٧)
- ٥.......
”تو اے ملکہ معظمہ اپنی تمام رعیت کی نجات اور بھلائی اور آرام کے لئے دردمند ہے اور رعیت پروری تدبیروں میں مشغول ہے۔ اسی طرح خدا بھی آسمان سے تیرا ہاتھ بٹاوے سو یہ مسیح موعود جو دنیا میں آیا تیرے ہی وجود کی برکت اور دلی نیک نیتی اور سچی ہمدردی کا ایک نتیجہ ہے۔ خدا نے تیرے عہد سلطنت میں دنیا کے دردمندوں کو یاد کیا اور آسمان سے اپنے مسیح کو بھیجا اور وہ تیرے ہی ملک میں اور تیری ہی حدود میں پیدا ہوا۔ تا دنیا کے لئے یہ ایک گواہی ہو کہ تیری زمین کے سلسلہ عدل نے آسمان کے سلسلہ عدل کو اپنی طرف کھینچا اور تیرے رحم کے سلسلہ نے آسمان پر ایک رحم کا سلسلہ پیدا کیا اور چونکہ اس مسیح کا پیدا ہونا حق اور باطل کے لئے دنیا پر ایک آخری حکم ہے،،
(ستارہ قیصره ص ٨، خزائن ج ١٥ ص ١١٨، ١١٩)
- ٦.......
”اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند خدا تجھے اقبال اور خوشی کے ساتھ عمر میں برکت دے۔ تیرا عہد حکومت کیا ہی مبارک ہے کہ آسمان سے خدا کا ہاتھ تیرے مقاصد کی تائید کر رہا ہے۔ تیری ہمدردی رعایا اور نیک نیتی کی راہوں کو فرشتے صاف کر رہے ہیں۔ تیرے عدل کے لطیف بخارات بادلوں کی طرح اٹھ رہے ہیں۔ تا تمام ملک کو رشک بہار بنا دیں۔ شریر ہے وہ انسان جو تیرے عہد سلطنت کی قدر نہیں کرتا اور بدذات ہے وہ نفس جو تیرے احسانوں کا شکر گذار نہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ تحقیق شدہ ہے کہ: دل را بدل راہے است! اس لئے مجھے صرف نہیں کہ میں اپنی زبان کی لفاظی سے اس بات کو ظاہر کروں کہ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور میرے دل میں خاص طور پر آپ کی محبت اور عظمت ہے۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کے لئے آبِ رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہوکر آپ کے مطیع ہیں۔ بلکہ آپ کی انواع واقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں۔ جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے جس پر تیرا ہاتھ ہے۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ آمین!“
(ستارہ قیصره ص ٨، ٩، خزائن ج ١٥ ص ١١٩، ١٢٠)
انگریزی سلطنت نے دوبارہ اسلام پیدا کیا
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں
٤
نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ میں اس سلطنت کا بدخواہ ہوتا یا کوئی ناجائز باغیانہ منصوبے اپنی جماعت میں پھیلاتا۔ جب کہ میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعت گورنمنٹ انگریزی کی دیتا رہا اور اپنے مریدوں میں یہی ہدایتیں جاری کرتا رہا تو کیونکر ممکن تھا کہ ان تمام ہدایتوں کے برخلاف کسی بغاوت کے منصوبے کی میں تعلیم کروں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے میری اور میری جماعت کی پناہ اس سلطنت کو بنا دیا ہے۔ یہ امن جو اس سلطنت کے زیر سایہ ہمیں حاصل ہے نہ یہ امن مکہ معظمہ میں مل سکتا ہے۔ نہ مدینہ میں اور نہ سلطان روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ میں پھر میں خود اپنے آرام کا دشمن بنوں۔ اگر اس سلطنت کے بارے میں کوئی باغیانہ منصوبہ دل میں مخفی رکھوں اور جو لوگ مسلمانوں میں سے ایسے بدخیال جہاد اور بغاوت کے دلوں میں مخفی رکھتے ہوں میں ان کو سخت نادان بدقسمت ظالم سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ اسلام کی دوبارہ زندگی انگریزی سلطنت کے امن بخش سایہ سے پیدا ہوئی ہے۔ تم چاہے دل میں مجھے کچھ کہو گالیاں نکالو یا پہلے کی طرح کافر کا فتویٰ لکھو۔ مگر میرا اصول یہی ہے کہ ایسی سلطنت سے دل میں بغاوت کے خیالات رکھنا یا ایسے خیال جن سے بغاوت کا احتمال ہو سکے سخت بدذاتی اور خدا تعالیٰ کا گناہ ہے۔ بہتیرے ایسے مسلمان ہیں جن کے دل کبھی صاف نہیں ہوں گے۔ جب تک ان کا یہ اعتقاد نہ ہو کہ خونی مہدی اور خونی مسیح کی حدیثیں تمام افسانہ اور کہانیاں ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥،١٥٦)
بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ
”صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتۂ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت
٥
شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار کی پوری عنایات اور خصوصیات توجہ کی درخواست کریں۔ تا ہر ایک شخص بیوجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔ اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١، ٢٢)
گورنمنٹ کی توجہ کے لائق
”خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہ کیا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے۔ درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسرے کا چھوڑنا لازم آ جاتا ہے۔ بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست، وحشی مسلمان؟
”میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مباحثات بھی کیا کرتا ہوں اور ایسا ہی پادریوں کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا رہا ہوں اور میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائیوں مشنریوں کی تحریر سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے۔ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صد ہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور با ایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا
٦
ہے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے مرا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولتمدار درخواست کریں۔ تا ہر ایک شخص بیوجہ ہماری آبروریزی اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١، ٢٢)
ورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور لازم آجاتا ہے۔ بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں ہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ فرض اور واجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ سچ کہتا مکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ہیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے سلطنت حکومت برطانیہ ہے ۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
مانہ درخواست ، وحشی مسلمان ؟
مگر میں نیک نیتی سے دوسرے مذاہب کے لوگوں زل کے مقابل پر بھی مباحثات کی کتابیں شائع کرتا اندیشہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائیوں مشنریوں کی بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی ﷺ کی غلیظ اکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صد ہا پرچوں میں یہ تھا اور با ایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا
اس کا کام تھا۔ تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔ تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بد زبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ کیونکہ میرے کانسئنس نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں۔ ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔ کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ نہیں رہتا۔ سو یہ میری پیش بینی کی تدبیر صحیح نکلی اور ان کتابوں کا یہ اثر ہوا کہ ہزارہا مسلمان جو پادری عمادالدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے۔ یک دفعہ ان کے اشتعال فرو ہوگئے۔ کیوں انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا۔ یہی ہے کہ حکمت عملی سے وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیر خواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ پر بنا دیا ہے۔ (١) اوّل والد مرحوم کے اثر نے۔ (٢) اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (٣) خدا تعالیٰ کے الہام نے ۔“
(تریاق القلوب ص ب، ج ،خزائن ج ١٥ص٤٨٩ تا ٤٩١)
دینی جہاد اور مسیح موعود
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے استوار
لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے
ہم اپنا فرض و دستور اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا
(تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧ تا ٨٠)
٧
جہاد قطعاً موقوف
”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مؤاخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)
جہاد حرام
”تیسرے وہ گھنٹہ جو اس مینارۃ المسیح کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا۔ اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے کہ تا لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں۔ یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازے کے کھلنے کا وقت آگیا ہے۔ اب سے زمینی جہاد بند کئے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لئے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ب، ت، خزائن ج ١٦ ص ١٧)
جہاد قطعاً حرام
”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے۔ ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٣٣٢، خزائن ج ١٥ ص ٥١٧، ٥١٨)
جماعت احمدیہ کی تلوار
”حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ میں مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (بغداد) سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ٦ نمبر ٧٢)
٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
مسئلۂ ختم نبوت
علم و عقل کی روشنی میں
حضرت مولانا محمد اسحٰق صدیقیؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
حرف آغاز
الحمد لله وكفى والصلوۃ علیٰ عبادہ الذی اصطفیٰ ، امابعد! اسلام ایک عزیز و عظیم امانت ہے اور امت مسلمہ اس دین مبین کی امین اور ہم اگر اس کی حفاظت میں کوتاہی کریں تو یقیناً یہ بہت بڑی خیانت ہوگی۔ جس کی پاداش میں روز قیامت ہم گرفتار عذاب الیم ہوں گے۔
اس گراں بہا امانت کی حفاظت کے معنی یہ ہیں کہ اس کا ایک ایک جزو اسی طرح باقی رہے۔ جس طرح اللہ کے آخری رسول ﷺ نے امت کو عطاء فرمایا تھا اور اس میں ذرا سی بھی تبدیلی، تحریف یا کمی بیشی کو گوارا نہ کیا جائے۔
حفاظت دین کا تقاضا
حفاظت دین ایک اہم فریضہ ہے۔ جو پوری امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ پر عموماً اور اس کے علماء و قائدین پر خصوصیت کے ساتھ عائد ہوتا ہے۔ اس کا بدیہی تقاضہ یہ ہے کہ جو لوگ دین میں تبدیلی و تحریف کی کوشش کریں۔ ان کی گمراہی کو علیٰ رؤس الاشہاد واضح اور دلائل و براہین کی روشنی میں ان کے دجل و فریب کو آشکارا کیا جائے۔
گمراہی کے مختلف درجات ہیں اور ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم کسی فرد یا گروہ کو گمراہ یا جادۂ استقامت سے منحرف کہتے وقت، یہ بھی واضح کر دیں کہ اس کی گمراہی کا درجہ اور دین حق سے اس کے انحراف کی نوعیت کیا ہے؟۔
یہ درحقیقت دین کے اس جز کے درجہ و مرتبہ پر موقوف ہے۔ جس کے انکار کا جرم اس گمراہ گروہ یا فرد نے کیا ہے۔ اجزاء دین میں سب سے بڑا درجہ ضروریات دین کا ہے۔ جن کا انکار کفر و ارتداد کے مترادف ہے۔ ضروریات دین میں سے کسی جز کا انکار اسلام کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا اور اس معاملہ میں کوئی تاویل بھی منکر کو کفر و ارتداد سے نہیں بچاسکتی۔ یہاں اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل غیر ضروری بھی ہے اور موجب طوالت بھی۔ لیکن ہم اتنا ضرور کہیں گے کہ ایسے لوگوں کو جو اسلام کے کسی ضروری عقیدے کے منکر ہوں (خواہ یہ انکار کسی تاویل ہی پر مبنی کیوں نہ ہو) اسلام میں داخل سمجھنا خود اسلام پر ایک اتہام و بہتان اور ظلم کے مرادف ہے۔
٢
عقیدہ ختم نبوت
عقیدہ ختم نبوت بھی ضروریات دین میں داخل ہے اور اس کا انکار یقیناً کفر و ارتداد ہے۔ جس سے کوئی تاویل نہیں بچا سکتی۔ اہل سنت کے نزدیک یہ ایک مسلمہ مسئلہ ہے۔ اس کے متعلق زیادہ تفصیل بخوف طوالت ترک کر کے ہم صرف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا طرز عمل پیش کرتے ہیں جو انہوں نے منکرین ختم نبوت کے ساتھ اختیار کیا تھا۔ منصف مزاج اور سمجھدار مسلمان کے لئے یہ ایسی بدیہی دلیل ہے کہ جس کے بعد اسے کسی مزید دلیل و برہان کی احتیاج باقی نہیں رہتی۔
نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد سب سے پہلے جس فتنہ عظیمہ سے صحابہ کرام کو مقابلہ کرنا پڑا وہ یہی انکار ختم نبوت کا فتنہ تھا۔ اس کے متعلق یہ واقعہ پیش نظر رکھئے کہ مدعیان نبوت اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب اور ان کے متبعین کلمہ گو اور اسلام کے مدعی تھے۔ وہ توحید کے بھی مقر تھے اور رسالت محمدیہ ﷺ کے بھی۔ مگر صحابہ کرام کی پوری جماعت نے اجتماعی طور پر انہیں خارج از اسلام اور مرتد قرار دیا اور اس وقت تک چین نہ لیا جب تک اس مرتد گروہ کا قلع قمع نہ کر دیا۔
صحابہ کرام جنہوں نے براہ راست معلم اعظم ﷺ سے دین کی تعلیم اور اس کی فہم حاصل کی تھی۔ ہمارے لئے نمونہ ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل ایک طرف تو اس حقیقت کو اور زیادہ روشن کر دیتا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت ضروریات دین میں داخل اور اس کا بہت ہی اہم جز ہے۔ جس کی حفاظت کرنا بہت ہی اہم فریضہ ہے۔ دوسری طرف یہ بھی بتا رہا ہے کہ اس کے منکرین کو قطعی طور پر خارج از اسلام قرار دیا جائے گا اور اس سلسلہ میں کسی تاویل و توجیہہ کو قابل سماعت نہ سمجھا جائے گا۔
تعجب خیز ہے طرز عمل ان حضرات کا جو صحابہ کرام کے اس طرز عمل سے واقف ہوتے ہوئے بھی قادیانیوں کی حمایت فرماتے رہتے ہیں اور انہیں مسلمان کہتے ہیں۔ حد ہو گئی کہ یہ حضرات خود مرزا قادیانی کو باوجود ان کے کھلے ہوئے دعوئی نبوت کے دائرہ اسلام میں داخل سمجھتے ہیں اور اس کے لئے ان کی طرف سے عجیب و غریب تاویلات کرنے کی سعی لا حاصل کرتے ہیں۔ یہ طریقہ صحابہ کرام کے مندرجہ بالا اجتماعی مسلک کے خلاف ہونے کے علاوہ آیت کریمہ ”ولا تکن للخائنین خصیما“ کے بھی صراحۃً مخالف ہے۔
اس کے ساتھ یہ طرز امت کے لئے سخت ضرر رساں بھی ہے۔ ناواقف مسلمان جب
٣
قادیانی گروہ کو بھی ایک اسلامی فرقہ سمجھیں گے اور ان کے اختلاف کو زیادہ اہمیت نہ دیں گے تو ان کا لٹریچر بھی پڑھیں گے اور ان کی گمراہ کن تقریریں بھی سنیں گے۔ اس اختلاط کا نتیجہ ان لوگوں کے حق میں جو دین سے بہت کم واقف ہیں اور فہم دین بھی کم ہی رکھتے ہیں۔ بعض اوقات ارتداد وضلال کی صورت میں نکلے گا۔ یہ محض عقلی احتمال نہیں ہے بلکہ اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ حیدر آباد دکن (ہند) کے ایک وکیل کا واقعہ ابھی چند ماہ کا ہے جو اسی طرح قادیانی لٹریچر دیکھ کر اسلام کو چھوڑ کر قادیانیت کی دلدل میں پھنس گئے۔ یہ واقعہ مشہور ہے اور اخبارات میں آچکا ہے۔
فتنہ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت
انکار ختم نبوت کا فتنہ بہت ہی شدید فتنہ ہے۔ اس کی شدت کی نسبت سے اس کے مقابلہ کا فریضہ بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس فریضہ کی ادائیگی میں کوتاہی کریں گے تو کل دربار الٰہی میں ذلیل و خوار اور خاتم النبیین ﷺ کے سامنے نادم و شرمسار ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ مقابلہ کی ایک ہی شکل ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کو دلائل وبراہین کی روشنی میں دلنشین انداز میں پیش کیا جائے اور اس قسم کے لٹریچر کو حتی الامکان ہر مسلمان تک پہنچایا جائے۔ یہ کتاب اسی مقصد کے لئے ایک کوشش ہے۔ جسے جہد المقل کہنا موزوں ہے۔
کتاب کا موضوع عقیدہ ختم نبوت ہے نہ کہ ردّ قادیانیت۔ اگرچہ اس سے خود بخود ان کے مذہب باطل کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ اس عقیدہ کے نورانی چہرے سے حجابات کو اٹھا دیا جائے تاکہ اس کی تابناکی کی وجہ سے ظلمت قادیانیت خود بخود پارہ پارہ ہو کر معدوم وفنا ہو جائے۔ منصف مزاج قادیانی بھی اس سے ہدایت حاصل کر کے قادیانیت کے ضلال سے نجات پاسکتے ہیں اور ناواقف مسلمان بھی اس تریاق کے ذریعہ سے دشمنان ختم نبوت کے زہر سے محفوظ ہو سکتے ہیں۔ دونوں مقصد پیش نظر ہیں۔ لیکن نتیجہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
موضوع کی تخصیص کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خاتم النبیین ﷺ سے غداری کرنے والوں نے اب یہ چال چلنا شروع کی ہے کہ اپنے متنبی کے دعوائے نبوت کی دعوت دینے سے پہلے امت مسلمہ کے دین سے ناواقف افراد خصوصاً جدید تعلیم یافتہ طبقہ کو عقیدۂ ختم نبوت سے منحرف یا کم از کم اس کے بارے میں شک وشبہ میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ ایک کفر و ضلال دوسرے کفر و ضلال کے لئے زمین ہموار کر دے۔
٤
یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں مسئلہ پر زیادہ تر عقلی نقطۂ نظر سے بحث کی گئی ہے۔ تاکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ زیادہ مستفید ہو سکے۔ کیونکہ یہی طبقہ اس خطرے میں زیادہ مبتلا ہے۔ اگرچہ نقلی دلائل نقل کرنے میں بھی کوئی کمی نہیں کی گئی۔ ان کی تعداد بھی خاصی اور بالکل کافی وشافی ہے۔ بلکہ اگر قوت اور تسکین بخشی کے زاویہ سے غور کیجئے تو ان سے ہر ایک دلیل کافی نظر آئے گی۔ بقیہ کا درجہ ضرورت کی بجائے تبرع اور تقویت مزید کا قرار پائے گا۔
مجلس الدعوۃ والتحقیق الاسلامی پاکستان کا شکر گزار ہوں جو اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کر رہی ہے۔ پہلے ایڈیشن میں کتابت وطباعت کی غلطیاں بکثرت تھیں۔ اس مرتبہ ان کی اصلاح کر دی گئی بہت کم مقامات پر تھوڑا سا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
”ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم . وتب علينا انك انت التواب الرحيم“
احقر: محمد اسحاق صدیقی ندوی عفی عنہ ناظم شعبہ تصنیف وتالیف مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی ١٥ / جمادی الاخریٰ ١٣٩٤ھ
مقدمہ
بسم الله الرحمن الرحيم . الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على خاتم النبيين . الذى لا نبى بعده وعلى اله واصحابه وازواجه اجمعين . اما بعد!
مہر عالمتاب کی تابانی ماہ منور کی نور افشانی، انجم نوری کی ضیاء باری، خاکدان ارضی کی تیرگی دور کرنے میں ناکام رہیں۔ تا آنکہ مطلع ہدایت سے نور نبوت کی شعاع نور افروز طلوع ہوئی۔ دنیا کی قسمت بیدار ہوئی اور ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام نے فرش خاک کو اپنے قدم مبارک سے اعزاز افلاک بخشا، یہ صبح سعادت دنیا کی سب سے پہلی صبح صادق تھی۔
گردش لیل ونہار کے ساتھ نجوم نبوت کا طلوع وغروب بھی جاری رہا۔ حضرات نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، ایوب، سلیمان، اسحق، اسماعیل علیہم السلام اور ان کے علاوہ بہت سے حضرات کے اسماء گرامی سے ہم اور آپ واقف ہیں۔ مگر بکثرت ایسے بھی ہیں جن کے ناموں سے ہم بالکل ناواقف ہیں۔ ہاں! یہ جانتے ہیں کہ ان کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے۔ جو یکے بعد دیگرے
٥
آتے رہے اور یہ سلسلہ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے ساتھ جاری رہا۔ یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے آفتاب رسالت طلوع ہوا۔ محفل انجم برخاست ہو گئی اور سلسلۂ نبوت ورسالت سید المرسلینﷺ پر ختم کر دیا گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ ایک سوال ہے جس نے اس زمانہ میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر لی ہے۔
اہمیت کی وجہ
قرآن مجید نے بہت صفائی کے ساتھ اس واقعہ کا اعلان کر دیا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور قرآن مجید انسان کے لئے آخری اور مکمل ہدایت نامہ ہے۔ سید المرسلینﷺ کے بعد قیامت تک اب کسی شخص کو مرتبہ رسالت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح قرآن حکیم کے بعد کوئی کتاب ہدایت قیامت تک نہیں بھیجی جائے گی۔ یوم آخر تک ساکنان دنیا کے لئے دو ہی نوری مینار ہیں۔ جن سے وہ رضاء الٰہی کا راستہ پاسکتے ہیں۔ ایک قرآن مبین اور دوسرا سیرت مقدسہ۔ قرآن حکیم کے علاوہ خود نبی کریمﷺ نے بہت وضاحت کے ساتھ اس کا اعلان واظہار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ آئے گا اور نوع انسانی میں نبوت ورسالت کا شرف واعزاز کسی جدید شخص کو نہیں دیا جائے گا۔ قرآن وصاحب قرآن کے ان روشن بیانات کے بعد اس مسئلہ میں کسی اختلاف کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ قرن اوّل میں اس کے بارے میں کسی ادنیٰ شک وشبہ کا بھی وجود نہ تھا اور صحابہ کرامؓ کے نزدیک اس بارے میں دو رائیں ہونے کی ذرہ برابر بھی گنجائش نہ تھی۔
صحابہ کرامؓ کے دور مسعود کے بعد شیعیت نے تحریک کا لباس اتار کر مذہب و فرقہ کا جامہ پہنا تو اس کی بنیاد مسئلہ امامت پر رکھی۔ اس مسئلہ کی اختراع ختم نبوت کے خلاف سب سے پہلی بغاوت تھی۔ انہوں نے اپنے ائمہ کی طرف اوصاف ولوازم نبوت بتمام وکمال منسوب کئے۔ بلکہ ان میں بعض ایسے کمالات کے قائل ہوئے جو انبیاء ومرسلین کے لئے بھی ثابت نہیں ہیں۔ لیکن باوجود اس کے انہیں صراحۃً نبی ورسول کہنے کی جرأت نہ کر سکے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ ختم نبوت کا عقیدہ اہل اسلام میں اس قدر مستحکم اور اس قدر مشہور تھا کہ کوئی شخص اس کا صریح انکار کر کے زمرۂ مسلمین میں داخل رہنے کا دعویٰ ہی نہ کر سکتا تھا۔ نہ کوئی شخص اس کا تصور کر سکتا تھا کہ سید المرسلین کو خاتم النبیین تسلیم کئے بغیر کسی کا اسلام قائم رہ سکتا ہے۔
یہ دور بھی گزر گیا اور وہ وقت آگیا کہ عقیدہ امامت نے انکار ختم نبوت کو جو پودا نصیب کیا تھا وہ درخت کی شکل اختیار کر کے برگ و بار لے آئے۔ اس وقت کو قریب لانے میں ٦
یہود ونصاریٰ کی سازشوں کو اور امت محمدیہ علیہ الف الف سیاسی و معاشی مقاصد حاصل کر کی پوری پوری کوشش کی ۔ لے کر نبوت کا دعویٰ کرنے و ایک سلسلہ جاری ہو گیا۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی آنجہا
قادیانیت
یہود کی پشت پنا مستشرقین میں سے ایک خاص ہوئے ہے اور اپنی طاقت اس عقیدہ ختم نبوت کی شمع فروزاں متزلزل کر دے۔ پائے استقلا ساتھ گرا سکتی ہے اور الحاد و زندقہ وفاداری کا محور بدلنے، توحید و کے ساتھ چلنے کا رجحان پیدا ہو وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مسال نبوت میں شک و شبہ دراصل جو شخص قرآن حکیم اور سنت رسو روشنی میں حل کرنا چاہتا ہے ل ہو سکتا۔ کیونکہ وہ اس حقیقت کو اور دور رس ہے کہ عالم کے آئ اس روشنی میں ہر راہ رو جس کی کے نہایت سہولت و آسائش اللہ تعالیٰ کا راستہ روشن کر دیا کے سودائے خام کا اثر ہو سکتا
یہود و نصاریٰ کی سازشوں کو بھی بہت کچھ دخل ہے۔ جنہوں نے سیدالانبیاءﷺ کی عظمت کو گھٹانے اور امت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ میں افتراق، بے راہ روی اور لامرکزیت پیدا کرنے نیز اپنے سیاسی و معاشی مقاصد حاصل کرنے کی غرض سے اس عقیدہ میں رخنہ ڈالنے اور اسے متزلزل کرنے کی پوری پوری کوشش کی۔ یہ کوشش بڑے سلیقہ کے ساتھ مسلسل کی گئی۔ یہاں تک کہ اسلام کا نام لے کر نبوت کا دعویٰ کرنے والوں اور خاتم النبیین سے بیوفائی کر کے ان کی اتباع کرنے والوں کا ایک سلسلہ جاری ہو گیا۔ جس کی مجموعی تعداد خاصی ہے۔ ہمارے قریبی دور میں ان مدعیان کاذب میں مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی شخصیت بہت نمایاں ہے۔
قادیانیت
یہود کی پشت پناہی اور حکومت برطانیہ کی سرپرستی میں اس گروہ نے ترقی کی۔ مغربی مستشرقین میں سے ایک خاصا گروہ، خصوصاً اس کا یہودی عنصر اس جماعت کو اپنا آلہ کار بنائے ہوئے ہے اور اپنی طاقت اس ناپاک مقصد پر مرکوز کئے ہوئے ہے کہ اہل اسلام کے دلوں میں عقیدہ ختم نبوت کی شمع فروزاں کو گل کر کے نبی کریم ختم المرسلینﷺ کے ساتھ ان کی وفاداری کو متزلزل کر دے۔ پائے استقامت کی یہ لغزش انہیں قادیانیت کے مہلک غار میں بھی آسانی کے ساتھ گرا سکتی ہے اور الحاد و زندقہ کی طرف بھی سہولت کے ساتھ لے جا سکتی ہے۔ روشن بات ہے کہ وفاداری کا محور بدلنے، توجہ، امامت ختم ہونے اور اعتماد میں تزلزل پیدا ہونے کے بعد ہر راہ رو کے ساتھ چلنے کا رجحان پیدا ہو جانا طبعی چیز ہے۔ طبیعت کے اس تلون سے بہت سے ابلیس، آدم رو فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مسافروں کو وادی حیرت کے راستہ سے قعر ضلال تک پہنچا سکتے ہیں۔ ختم نبوت میں شک و شبہ دراصل نبی امی ارواحنافداہ کی نبوت پر اعتماد واطمینان کی کمی کی علامت ہے۔ جو شخص قرآن حکیم اور سنت سیدالاولین والآخرین پر پورا اعتماد رکھتا ہے اور مسائل زندگی کو ان کی روشنی میں حل کرنا چاہتا ہے اسے قیامت تک کسی دوسرے نبی یا کسی دوسری کتاب کا انتظار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ اس حقیقت کا مشاہدہ کر لیتا ہے کہ ہدایت کے ان آفتابوں کی روشنی اس قدر تیز اور دور رس ہے کہ عالم کے آخری دن تک راہ حیات کی ہر تاریکی اس سے گریزاں ہو جاتی ہے اور اس روشنی میں ہر راہ رو جس کی بینائی باقی ہے۔ صراط مستقیم پر بے خوف و خطر بغیر کسی دوسرے رہبر کے نہایت سہولت و آسائش کے ساتھ چل کر منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ انوار کتاب وسنت نے اللہ تعالیٰ کا راستہ روشن کر دیا ہے۔ راہ روشن پر روز روشن میں چراغ کی تلاش صرف بے اعتمادی کے سودائے خام کا اثر ہو سکتا ہے۔
٧
منصب نبوت سے بے خبری
ختم نبوت کے بارے میں شک وشبہ کی وادی پر خار میں پھنسانے والی یا قعر انکار میں گرانے والی ایک نفسی بیماری ہے جو کبھی کتاب وصاحب کتاب پر بے اعتمادی کے واسطہ سے اور کبھی بلاواسطہ اس ہلاکت آفرین بے راہ روی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ ہے منصب نبوت سے بے خبری اور جہالت۔ نئے نبی کی تلاش کرنے والوں کی کوتاہ بینی اور پست نظری اس مرتبہ بلند کو دیکھنے سے مانع ہوتی ہے جو حق تعالیٰ جل شانہ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو عطاء فرمایا ہے۔
انہیں یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہر وہ شخص جو ان کی دانست میں سوسائٹی کی اصلاح کے لئے کوشاں ہو اور اپنے ذہن کی بلندی یا کردار کی خصوصیت کی وجہ سے معاصرین میں ایک ممتاز درجہ حاصل کرے۔ منصب نبوت کا اہل ہوسکتا ہے۔ حالانکہ صرف اصلاحی کام ہی نہیں بلکہ انقلابی کام بھی اس منصب عظیم کی اہلیت وصلاحیت سے ادنیٰ تعلق بھی نہیں رکھتا ہے۔ نبوت نہ تو محض فکری بلندی کا نام ہے۔ نہ عملی صلاحیتوں کا۔ بے شک انبیاء علیہم السلام ذہن وفکر کے لحاظ سے ساری دنیا سے ممتاز ہوتے ہیں اور اخلاق وکردار نیز عملی صلاحیتوں اور استعداد کے اعتبار سے ان کے کاخ بلند تک عوام کا طائر خیال بھی نہیں پہنچ سکتا۔ مگر یہ مرتبہ عظمیٰ ذہن وفکر یا علم وعمل کی بلند پروازی سے بہت بلند اور ان کی دسترس سے باہر ہے۔ یہ ایک وہبی مرتبہ اور انتخابی درجہ ہے۔ جس پر وہی حضرات ممتاز اور فائز ہوتے ہیں۔ جنہیں رب العالمین کی رحمت خاصہ نے اس عہدے کے لئے منتخب کر لیا اور اپنے خطاب سے مشرف فرمایا۔ وحی ربانی ان کی خصوصیت خاصہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انتخاب ان کا حقیقی امتیاز ہے۔ جب تک کسی شخص میں یہ دو خصوصیتیں روز روشن کی طرح واضح نہ ہوں اور ناقابل تردید ثبوت انہیں روشن نہ کر دے۔ اس وقت تک اسے مرتبہ نبوت پر فائز سمجھنا ایک ہلاکت خیز جسارت اور اللہ تعالیٰ پر افتراء وبہتان ہے۔
عصمت
بے داغ زندگی اور مثالی کردار جسے اصطلاح شریعت میں عصمت سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس مرتبہ عظمیٰ کے لوازم میں داخل ہے جو ارتقاء انسانیت کا آخری درجہ اور بلند ترین مقام ہے۔ ان امور پر نظر کئے بغیر کسی مدعی نبوت ورسالت کے دعوٰی کی طرف التفات کرنے والے عقلی وروحانی خودکشی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ مستحق ملامت ہیں نہ کہ مستحق تعزیت۔
مقام نبوت سے بے خبر، سید الانبیاء کے مرتبہ عظیمہ سے کیا واقف ہوسکتے ہیں؟ انہیں
٨
شک و شبہ کی وادی پر خار میں پھنسانے والی یا قعر انکار میں کتاب وصاحب کتاب پر بے اعتمادی کے واسطہ سے اور گمراہی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ ہے منصب نبوت سے بے نے والوں کی کوتاہ بینی اور پشت نظری اس مرتبہ بلند کو جل شانہ نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو عطاء فرمایا ہے۔ ان کی دانست میں سوسائٹی کی اصلاح کے لئے کوشاں ہو نیت کی وجہ سے معاصرین میں ایک ممتاز درجہ حاصل ہے۔ حالانکہ صرف اصلاحی کام ہی نہیں بلکہ انقلابی کام بھی کوئی شخص بھی نہیں رکھتا ہے۔ نبوت نہ تو محض فکری بلندی کا انبیاء علیہم السلام ذہن و فکر کے لحاظ سے ساری دنیا سے صلاحیتوں اور استعداد کے اعتبار سے ان کے کاخ بلند مگر یہ مرتبہ عظمیٰ ذہن و فکر یا علم و عمل کی بلند پروازی سے ہے۔ یہ ایک وہبی مرتبہ اور انتخابی درجہ ہے۔ جس پر وہی رب العالمین کی رحمت خاصہ نے اس عہدے کے لئے فرمایا۔ وحی ربانی ان کی خصوصیت خاصہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی جب تک کسی شخص میں یہ دو خصوصیتیں روز روشن کی طرح روشن نہ کر دے۔ اس وقت تک اسے مرتبہ نبوت پر فائز نبی پر افتراء و بہتان ہے۔
جسے اصطلاح شریعت میں عصمت سے تعبیر فرمایا گیا ہے جو ارتقاء انسانیت کا آخری درجہ اور بلند ترین مقام اور رسالت کے دعویٰ کی طرف التفات کرنے والے عقلی مستحق ملامت ہیں نہ کہ مستحق تعریف ۔
انبیاء کے مرتبہ عظیمہ سے کیا واقف ہو سکتے ہیں؟ انہیں
٨
کیا معلوم کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ہستی سب انبیاء و ملائکہ اور اللہ تعالیٰ کے ہر بندے سے زیادہ افضل و برتر ہے۔ ان کی لائی ہوئی کتاب کامل ترین وافضل ترین کتاب ہے اور جس دین کی انہوں نے دعوت دی ہے۔ وہ کامل ترین وافضل ترین دین ہے۔ کامل ترین نبی، کامل ترین کتاب اور کامل ترین دین کے بعد کسی نئے نبی یا نئے دین یا نئی کتاب کا انتظار ایسا ہی ہے جیسے کوئی جوان عالم شباب کے بعد سن طفولیت کے عود کرنے کا انتظار کرے۔ یا کوئی شخص مقوی ولذیذ غذا کھانے کے بعد شیر مادر پینے کی خواہش کرے۔
دینی مزاج کا فساد
عرض کیا جا چکا ہے کہ اسلام کے دور اوّل میں مسئلہ ختم نبوت میں اختلاف کی گنجائش ایک ناقابل فہم شے تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دور کے مسلمانوں کے ایمان بالرسالت میں شائبہ ضعف بھی نہ تھا۔ نبی اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر اعتماد بلند ترین درجہ کا تھا۔ اس قوت و اعتماد کا راز ان کے صحیح دینی مزاج میں پنہاں تھا۔ ایک مدت کے بعد جب دوسرا دور شروع ہوا اور امت مسلمہ میں بکثرت نئے افراد داخل ہوئے۔ جن کی دینی تربیت کا کوئی مناسب انتظام نہ ہو سکا تو بحیثیت مجموعی امت کا یہ دینی مزاج فاسد ہو گیا اور اس فساد نے کتاب اور صاحب کتاب پر اعتماد کم کر دیا۔ جس نے رفتہ رفتہ عقیدہ ختم نبوت میں اختلاف و شک کا دروازہ کھول دیا۔
دو سبب
یہ فساد مزاج کیوں پیدا ہوا؟ اسے سمجھ لینا بہت مفید ہے۔ اس کی روشنی میں ہم ان تحریکوں کی ساخت اور ان کے مزاج و مقصد کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ جو عقیدہ ختم نبوت کے خلاف وقتاً فوقتاً اٹھتی رہیں یا اس وقت چل رہی ہیں اور ہم ان کی شکلوں سے فریب کھائے بغیر ان کی روح تک سہولت کے ساتھ پہنچ سکتے ہیں۔ تفصیل میں تو بہت طوالت ہو گی۔ اجمالی طور پر ہمارے نزدیک اس کے دو سبب ہیں۔
- اوّل ...... یہود کی مساعی اور ان کے اثرات۔
- دوم ...... دین میں فلسفہ کی آمیزش۔
یہود کی کوششیں
اقوام عالم میں یہود کو اپنے مزاج قومی اور کردار اجتماعی کے لحاظ سے ایک خصوصیت و امتیاز حاصل ہے۔ قرآن نے ان کے خصوصیات کو مختلف مقامات پر واضح فرمایا ہے۔ من جملہ ان
٩
کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ بر بناء بغض وعناد کسی شخص یا قوم کو گمراہی وضلال کی دلدل میں پھنسا دینا ان کا محبوب طریقہ ہے۔
"ودت طائفة من اهل الكتب لو يضلونكم (آل عمران:٦٩) "﴿اہل کتاب کا ایک گروہ (یہود) پسند کرتا ہے کہ تمہیں گمراہ کردے۔﴾
موجودہ مسیحیت کی گمراہی بھی اسی مغضوب علیہم قوم کی رہین منت ہے۔ بلکہ پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت جو مسیحیت موجود ہے وہ درحقیقت یہودیت ہی کی ایک شاخ ہے۔ اسلام ورسول اسلام سے عداوت اور نسلی تعصب وعداوت کی بناء پر انہوں نے یہی طریقہ مسلمانوں کے ساتھ اختیار کیا اور مسلمانوں کو جادہ حق سے ہٹانے کے لئے طرح طرح کی تدبیریں کرتے رہے اور کر رہے ہیں۔
محمد عربی ﷺ کی بے مثال عظمت، نسلی عصبیت کی بناء پر یہود کی نظروں میں خار کی طرح کھٹکتی رہتی تھی۔ حسد کی آگ نے ان کے سینوں کو آتش کدہ نمرود بنا دیا تھا۔ جس میں وہ فرزند خلیل اللہ کی عظمت کو جلانا چاہتے تھے۔ انہیں یہ غم کھائے جارہا تھا کہ نبی آخر الزمان نے تشریف لاکر ہمیشہ کے لئے بنو اسرائیل کو شرف نبوت سے محروم کردیا۔ حالانکہ سیادت وبنی زادگی کا غرور اس سے پہلے انہیں بہت پختہ یقین دلاتا رہتا تھا کہ شرف نبوت صرف ان کے خاندان اور ان کی قوم کا حصہ ہے اور خاتم النبیین کا مرتبہ عظمی کسی اسرائیلی ہی کو حاصل ہوگا۔ اس شرف عظیم سے محرومی نے انہیں آتش زیر پا کر دیا۔ ان کی ایک جماعت نے تو عقل ودانش سے کام لے کر اسلام قبول کرلیا اور اس عظمت وشرف کو نسلی تعلق کے بجائے ایمانی تعلق کے ذریعہ سے حاصل کرلیا۔ لیکن اکثریت کی عقل وبصیرت، غرور وحسد کی آتش سوزاں میں جل کر خاک سیاہ ہوگئی اور انہوں نے ہر اس کوشش کو اپنا مقصد حیات بنالیا۔ جو (خاکم بدہن) بظاہر نبی عظیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے ماہ عظمت وجلالت پر خاک ڈالنے کے مترادف ہو۔
اسی سلسلہ کی ایک کوشش یہ تھی کہ اہل اسلام کے عقیدہ ختم نبوت پر ضرب لگائی جائے۔ عقیدہ امامت بھی اسی لئے اختراع کیا گیا کہ اس عقیدہ کی دیوار میں رخنہ پیدا کردیا جائے اور اس طرح آنحضور ﷺ کی بے مثال عظمت کو دلوں سے مٹایا جائے۔ غالباً بارہ کا عدد بھی بارہ نقباء واسباط کی وجہ سے اختیار کیا گیا ہے جو عقیدہ امامت کے یہودی الاصل ہونے کی غمازی کر رہا ہے۔
١٠
امت میں ضعف آنے کے بعد یہ کوشش تیز تر ہوگئی اور یہودیت سے متاثر ہونے والے مدعیان اسلام کو اپنی نبوت کے اعلان یا مدعیان نبوت پر کھلم کھلا ایمان لانے کی جرأت پیدا ہوئی۔
سید الانبیاء ﷺ اور دین اسلام کی عداوت کے علاوہ خود فریبی بھی یہود کے دلوں میں کسی نئے نبی کا انتظار پیدا کرنے کا ایک قوی سبب ہے۔ اس متن کی شرح یہ ہے۔ یہود مدینہ کے علماء خوب سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ وہی نبی ہیں۔ جن کی آمد کی پیشین گوئی توراۃ میں فرمائی گئی ہے۔
"الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوباً عندہم فی التورة والانجیل (الاعراف: ١٥٧)" ﴿ جو لوگ ان نبی امی کی پیروی کریں گے۔ جنہیں وہ تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ ﴾
پیشین گوئی اس قدر واضح اور علامات ایسے صاف تھے کہ یہود آنحضور ﷺ کو بغیر کسی شک و شبہ کے پہچانتے تھے۔
"یعرفونہ کما یعرفون ابناء ہم (البقرة: ١٤٦)" ﴿ یہ لوگ آنحضور ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں۔ جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ ﴾
"اولم یکفہم آیۃ ان یعلمہ علماء بنی اسرائیل (الشعراء: ١٩٧)" ﴿ کیا ان کے لئے یہ نشانی کافی نہیں کہ آنحضور کو علماء بنی اسرائیل پہچانتے ہیں۔ ﴾
لیکن حسد وعناد، حب جاہ، حب مال نے دیگر امراض نفسانی سے مل کر اس عرفان کو ایمان وایقان کے درجہ تک پہنچنے سے محروم رکھا۔ محرومی کا یہ زخم کوئی معمولی نہ تھا۔ اس کی ٹیس جانگداز اور اس کا صدمہ جانکاہ تھا۔ اندمال کی صورت تو صرف یہ تھی کہ نبی امی ﷺ کی شفقت ورحمت کا مرہم اس پر لگایا جاتا۔ جس کے اثر کے لئے دواء ایمان کا پینا شرط اولین تھا۔ یہی وہ چیز تھی جو ان کے نفس مریض پر پہاڑ سے زیادہ گراں تھی۔ اسی حالت میں انہوں نے وہی کیا جو ناسمجھ معالج یا علاج سے گریزاں ناعاقبت اندیش مریض کیا کرتے ہیں۔ یعنی الم جراحت کا علاج صرف وقتی مسکنات ومخدرات سے کر دیا جائے۔ خواہ زخم بڑھتے بڑھتے ناسور کی شکل اختیار کرلے اور سمیت ایک دن ہلاکت تک پہنچادے۔ مگر اپنے نفس کو فریب دیا جائے کہ زخم مندمل ہوگیا۔ تمناؤں اور تخیلات کی باہمی اعانت سے انہوں نے امیدوں کا وہ قصر موہوم تعمیر کیا جس کی ہر منزل
١١
میں آل داؤد علیہ السلام میں سے ایک خیالی نبی جلوہ افروز تھا۔
مشکوٰۃ شریف میں ایک واقعہ کا تذکرہ ہے کہ ایک دن کچھ یہود آنحضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور چند سوالات کئے۔ صحیح جوابات ملنے پر انہوں نے نبی کریم ﷺ کے پائے مبارک کو بوسہ دیا اور عرض کیا کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ جب باوجود اس اعتراف کے ایمان و اتباع سے گریزاں ہونے کی وجہ پوچھی گئی تو کہہ دیا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل میں کوئی نہ کوئی نبی ضرور ہوتا رہے گا۔ اگر ہم آپ کی پیروی کریں گے تو ان نبی موعود کی بعثت کے وقت دشواری پیش آئے گی۔ کیونکہ اگر آپ کے وفادار رہیں گے تو ان سے جنگ مول لینا پڑے گی اور اگر جنگ سے بچنا چاہیں گے تو آپ کا دامن چھوڑنا پڑے گا۔
سلسلۂ انبیاء کے جاری رہنے اور بنو اسرائیل میں نبوت کا شرف باقی رہنے کا ایک وہمی عقیدہ جس کی بنیاد دلیل و برہان کے بجائے محض وہم و تمنا پر تھی۔ یہود عرب میں تو آتش حسد و عناد سے پیدا ہونے والی سوزش جاں گداز کو کم کرنے کے لئے اختراع کیا گیا تھا۔ لیکن دوسرے مقامات کے یہود میں جو نبی کریم ﷺ سے براہ راست واقف نہ تھے۔ یہ عقیدہ شاید یہود عرب سے پہنچا ہو۔ یہود کا یہ تمنائی عقیدہ ایک نسل تک تو خود فریبی کے ایک شاہکار کی حیثیت میں رہا اور دوسری نسل میں قومی سرمایہ اور ذہنی ترکہ بن کر تقدیس کی منزل پر پہنچ گیا۔
اہل اسلام کے عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ یہود کو جو ایک خاص عداوت اور دشمنی ہے۔ اس کی دوسری وجہ ان کا یہی تمنائی عقیدہ ہے۔ اس قوم کو جسے قرآن مجید نے مغضوب علیہم کا لقب دیا ہے۔ جن مصائب اور آلام کا سامنا کرنا پڑا اور مختلف ادوار و انقلاب میں یہ جس پستی، ذلت، مسکنت اور تکلیف دہ حالات سے گزرتے رہے۔ اس کی داستان عبرت انگیز ہے۔ غلامی و محکومی ان کے لئے ایسی لازم ہوگئی کہ آزادی کا تصور بھی ان کے ذہن سے جاتا رہا۔ مسیحیوں نے انہیں محکوم بنا کر کچلا اور پیسا۔ ذلیل و رسوا کیا۔ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ۔ لطیفہ یہ ہے کہ یہ وہی مسیحیت تھی جو خود یہود کی اختراع کی ہوئی تھی۔ صدیوں کے اس ظلم و ستم کے بعد مذہب کا جذبہ یورپ کے دل میں کمزور پڑ گیا تو یہود کو اپنی گلو خلاصی کی توقع ہوئی۔ مگر اس قوم کی بدنصیبی اور شامت اعمال نے نسلی عصبیت کو مذہبی عصبیت سے بھی زیادہ بڑھا دیا۔ سامی النسل یا دوسرے الفاظ میں عربی الاصل ہونے کی وجہ سے ہٹلر نے انہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اس وقت اس کا ستارہ عروج پر ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ عارضی وقفہ ہو اور جلد ہی انہیں ان کے مفسدانہ طرز عمل کی سزا دی جائے۔ مختصر یہ کہ یہود قومی حیثیت سے اسلام کے بعد سخت آلام و مصائب ظلم و ستم اور ذلت
١٢
بھی جلوہ افروز تھا۔ کا تذکرہ ہے کہ ایک دن کچھ یہود آنحضورﷺ کی ملاقات کے۔ صحیح جوابات ملنے پر انہوں نے نبی کریمﷺ کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ جب باوجود اس ایمان نہ لانے کی وجہ پوچھی گئی تو کہہ دیا کہ حضرت داؤد علیہ السلام ہے۔ اگر ہم آپ کی پیروی کریں گے تو ان نبی موعود کی بلکہ اگر آپ کے وفادار رہیں گے تو ان سے جنگ مول تو آپ کا دامن چھوڑنا پڑے گا۔
بنی اسرائیل میں نبوت کا شرف باقی رہنے کا ایک وہمی محض وہم و تمنا پر تھی۔ یہود عرب میں تو آتش حسد و عناد کرنے کے لئے اختراع کیا گیا تھا۔ لیکن دوسرے سے براہ راست واقف نہ تھے۔ یہ عقیدہ شاید یہود عرب تک تو خود فریبی کے ایک شاہکار کی حیثیت میں رہا اور آخر تقدیس کی منزل پر پہنچ گیا۔
کے ساتھ یہود کو جو ایک خاص عداوت اور دشمنی ہے۔ ہے اور اس قوم کو جسے قرآن مجید نے مغضوب علیہم کا لقب دیا ہے اور مختلف ادوار و انقلاب میں یہ جس پستی ، ذلت ، بسر کر رہے۔ اس کی داستان عبرت انگیز ہے۔ غلامی و محکومی کا تصور بھی ان کے ذہن سے جاتا رہا۔ مسیحیوں نے انہیں کیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ۔ لطیفہ یہ ہے کہ یہ وہی عیسائی ہیں۔ صدیوں کے اس ظلم وستم کے بعد مذہب کا جذبہ میں اپنی گلو خلاصی کی توقع ہوئی۔ مگر اس قوم کی بد نصیبی اور ذہنیت سے بھی زیادہ بڑھا دیا۔ سامی النسل یا دوسرے نے انہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اس وقت اس کا ستارہ مقدر ہوا اور جلد ہی انہیں ان کے مفسدانہ طرز عمل کی سزا اسلام کے بعد سخت آلام ومصائب ظلم وستم اور ذلت ١٢
ورسوائی کا شکار رہے۔ ایسے ہمت شکن اور صبر آزما حالات میں اس عقیدے کو زندگی کا عام سہارا اور ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کا ذریعہ بنا لینا بالکل طبعی اور نفسیاتی ، اصول پر مبنی ہے۔
وہ قومیں جو عزت و وقار کی بلندیوں سے ذلت و ادبار کی پستیوں میں پہنچ گئی ہوں۔ اپنی قوت حیات کی تقویت اور حرارت قومی کو برقرار کے لئے اس قسم کے وہمی عقیدوں کا بطور دوا سہارا لیا کرتی ہیں اور اس طرح کی موہوم امیدوں کے سہارے جیا کرتی ہیں۔
ایسے نبی کا انتظار جو بنو اسرائیل کی ذلت کو عزت ، پستی کو رفعت اور غم و اندوہ کو مسرت سے بدل دے۔ ان کی شکستہ اور افسردہ زندگی کا آخری سہارا اور ظلمت یاس میں امید کا چراغ ہے۔
ختم نبوت کا تصور ان کے لئے اجتماعی موت کا پیغام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ برابر ایک نئے نبی کے آنے کے امکان اور سلسلہ نبوت جاری رہنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے۔ اسلام سے بے خبر یا ذوق اسلامی سے محروم مسلمان بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے اور ان کی آواز میں آواز ملانے لگے۔
یہود کے یہ فساد انگیز اثرات امت مسلمہ پر تین طریقوں سے ہوئے۔
- ١...... بعض یہود نے منافقانہ طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا اور عقائد باطلہ اختراع کر کے اہل
اسلام میں ان کی ترویج کی کوشش کی۔ ان میں وہ عقائد بھی شامل ہیں جن کی زد ختم نبوت پر پڑتی ہے۔ عقیدہ امامت کی ترویج اسی صورت سے ہوئی۔
- ٢...... اس قسم کا پروپیگنڈہ کیا گیا جس سے ضعیف الایمان اور دین سے ناواقف مسلمان
متاثر ہوئے۔ یہ صورت آج بھی جاری ہے۔ امریکہ اس کا خاص مرکز ہے۔ جہاں یہود باوجود صرف چھ فیصدی ہونے کے بہت زیادہ اثر و نفوذ رکھتے ہیں۔
- ٣...... اختلاط ومحبت کی وجہ سے امت مسلمہ کے ضعیف الایمان اور دین سے ناواقف
افراد غیر شعوری طریقہ سے متاثر ہوئے۔ یہ صورت بھی بعض مقامات پر اب تک قائم ہے۔
عجیب بات ہے کہ خود یہود میں بھی جو عقیدہ ختم نبوت کے دشمن ہیں اور اپنی نشاۃ ثانیہ کے لئے کسی اسرائیلی نبی کے منتظر رہتے ہیں۔ متعدد مدعیان نبوت پیدا ہوتے رہے ، اور ان کے باطل خیالات وافکار کے اثرات سے امت مسلمہ میں بھی یہ فساد پیدا ہوا۔
١۔ OUR JEWISH HERITAGE مصنفہ RABBI WOLF اور GAIR ١٣
دین میں فلسفہ کی آمیزش
شیر شیریں میں زہر کے چند قطروں کی آمیزش اسے مہلک اور خطرناک بنا دیتی ہے۔ دین میں کسی فلسفہ کی آمیزش بھی اس کے مزاج کو فاسد بنا دیتی ہے۔ وہ دین نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا فلسفہ بن جاتا ہے۔ جسے دین کا لباس پہنا دیا گیا ہو۔
نبی کریم ﷺ کے بعد ایک مدت تک اسلام کی فطری سادگی قائم رہی اور مسلمان عام طور پر اسی طریق فکر پر قائم رہے۔ جس کی تعلیم قرآن مجید اور حدیث نبوی ﷺ نے دی۔ مگر آہستہ آہستہ عجم سے اختلاط کی وجہ سے صحیح طرز فکر بدلا اور اس کی جگہ فلسفیانہ طریق فکر نے لے لی۔ ایک گروہ تو قرآنی طرز فکر اور نبوی طریق تدبیر پر قائم رہا۔ دوسرے گروہ نے اس راستہ کو چھوڑ کر ارسطو اور افلاطون وغیرہ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی۔ فلسفی عام طور پر کج فہمی اور ژولیدہ فکر کے مہلک مرض میں گرفتار ہوتے ہیں۔ یونانی فلسفی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے۔ ان کج فہموں کی پیروی کر کے بہت سے اسلام کے نام لیوا بھی اس متعدی بیماری کا شکار ہو گئے اور شکوک و شبہات، عقائد باطلہ اور فہم دین سے تہی دستی میں مبتلا ہو کر راہ حق سے بھٹک گئے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں، جنہیں ہم اسلام کے فرق باطلہ اور احزاب ضالہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ ان میں باہم شدید اختلافات ہونے کے باوجود اسلامی فطری طرز فکر اور نبوی و قرآنی طرز تدبر سے بے اعتنائی و محرومی مشترک نظر آتی ہے۔ ان میں اکثر فرقے ایسے ہیں۔ جن کے طرز استدلال اور عقائد باطلہ کو دیکھ کر ہر صاحب فہم اس نتیجے پر پہنچے گا کہ انہیں یونان، انگلستان، روس، امریکہ یا اور کسی جگہ کے فلسفہ کے سانپ نے ڈس لیا ہے۔ اسی زہر کا اثر ہے کہ یہ باطل کی تلخی کو شیریں اور حق کی شیرینی کو تلخ محسوس کرتے ہیں۔ ان کی گمراہی کے دوسرے اسباب بھی ہیں۔ مثلاً غیروں سے، خصوصاً یہود سے تاثر مگر ان کا فلسفیانہ طرز فکر سب سے زیادہ ان کے لئے گمراہ کن ہے۔
فلسفہ سراب تخیلات ہے۔ دین، آب حیات، فلسفہ مصنوعات ذہن کو فریب کارانہ طریق سے حقائق کا لباس پہناتا ہے۔ دین، حقائق کو بے نقاب کر کے روشناس کراتا ہے۔ فلسفہ شکوک و اوہام کا مجموعہ۔ دین، اذعان و یقین کا مخزن، فلسفہ اضطراب و تشویش کا سرچشمہ۔ دین، اطمینان و سکون کا منبع۔ دونوں کے راستے اور دونوں کی فطرتیں بالکل الگ الگ ہیں۔ ان دونوں کا اختلاط بالکل بے جوڑ اور خلاف فطرت ہے۔ وہ مذہب جو فلسفہ اور دین سے مرکب ہو وہ کسی درجہ میں فلسفہ تو کہا جا سکتا ہے۔ مگر اسے دین کہنا دین کے مفہوم سے مکمل ناواقفیت اور اس پر ظلم کے مترادف ہے۔
١٤
فساد کے وقت نبی کا آنا؟
مسئلہ ختم نبوت میں جن لوگوں نے شک کیا ہے۔ ان میں سے بکثرت اسی فلسفیانہ طرز فکر کی وجہ سے اس ورطۂ ضلال میں مبتلا ہوئے ہیں۔
فلسفہ کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ ان مسائل کو بھی محض عقل سے حل کرنا چاہتا ہے۔ جن میں درحقیقت نقل اور وحی ربانی کی احتیاج ہے۔ سلسلۂ نبوت جاری رہنے کا مسئلہ بھی اسی قسم کا ہے۔ اس کے بارے میں عقل محض ہماری رہنمائی سے قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت، وحی ربانی اور تعلیم نبوی کی احتیاج تو ایسی چیزیں ہیں، جن کی طرف عقل خالص رہنمائی کرتی ہے۔ لیکن اس سے آگے نقل صحیح کی امداد کے بغیر وہ قدم نہیں بڑھا سکتی۔ منکرین ختم نبوت کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اس کے بعد کے مسائل کو جو خالصتاً نقل صحیح کے محتاج ہیں، محض عقل سے سمجھنا چاہا۔ یہ ان کے زیغ وضلال کی ابتدا تھی جو عقل سلیم کو فلسفہ کے پاس رہن رکھ دینے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ بیشک عقل سلیم بتاتی ہے کہ رب العالمین نے انسان کو عقل وشعور کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے اور نیک اور بد کے دو راہے پر اسے کھڑا کیا ہے۔ تو یقیناً اس کی رہنمائی کا سامان بھی فرمایا ہوگا اور اس رہنمائی کے لئے کسی انسان ہی کو منتخب فرمایا ہوگا۔ کیونکہ فطرتاً انسان انسان ہی سے سیکھتا ہے۔ لیکن اگر ہادی حقیقی نے اس قسم کا ایک رہنما بھی کسی زمانہ میں بھیج دیا ہے تو عقل کسی دوسرے نبی کی ضرورت بطور خود سمجھنے سے قاصر ہے۔
اگر بالفرض حضرت نوح علیہ السلام کے بعد حق تعالیٰ کسی کو نہ بھیجتے تو عقل ہرگز یہ نہ بتاتی کہ اب کسی دوسرے نبی کا آنا حق تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا تقاضہ ہے۔ بلکہ اس کے برخلاف تسلیم کرتی کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بھیج دینے کے بعد ربوبیت کا تقاضا پورا ہو گیا۔ یعنی حق تعالیٰ نے انسان کو وہ راستہ بتا دیا جو حق تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کی طرف جاتا ہے۔ اس راستہ پر چلنا اور آئندہ نسلوں کو اس پر لے چلنا یہ حضرت نوح علیہ السلام کے اصحاب اور شاگردوں کا کام تھا۔ ان کے بعد یہ ذمہ داری ان کے بعد آنے والوں کی طرف منتقل ہونا چاہئے۔ وعلیٰ ہذا القیاس ہر ماقبل کی نسل کا فرض تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی لائی ہوئی ہدایت اور ان کے عطا فرمائے ہوئے دینی سرمائے کو امانت کی طرح محفوظ کر کے آنے والوں تک پہنچاتی رہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا اور اسے عقلاً جاری رہنا چاہئے تھا تو محض عقلی اعتبار سے ان کے بعد کسی دوسرے نبی کے آنے کی کیا ضرورت باقی رہتی؟ اگر بعد کی نسلوں نے تعلیمات نوحی اور وحی ربانی کو بھلا دیا تو یہ
١٥
ان کا جرم عظیم تھا۔ جس پر وہ مستحق عذاب ہوئے نہ کہ مستحق رحمت۔ ان کی اس نالائقی اور ناقدر شناسی اور ناشکری پر بجائے عذاب کے یہ کرم وعنایت فرمانا کہ ان میں کسی نبی جدید کو بھیج کر یاد دہانی کا سامان فرمایا جائے۔ اس کا لزوم کسی عقلی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا۔
مسئلہ کو ایک دوسرے زاویہ سے بھی دیکھئے۔ اگر زیغ وضلال کے وقت کسی نبی کا بھیجنا صفت ربوبیت یا رحمت کا ناگزیر تقاضا ہے یا عقلاً ضروری ہے تو ماننا پڑے گا کہ ہر ایسے زمانہ میں جب کفر وضلال عام ہو گیا ہو کوئی نہ کوئی ضرور آیا ہو۔ بلکہ لازم آئے گا کہ حیات عالم کا کوئی حصہ بھی نبی کے وجود سے خالی نہ رہے۔ اس لئے کہ دنیا کبھی ضلال و گمراہی سے خالی نہیں رہی اور غالباً قیامت تک نہ رہے گی۔ حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ یہ لازم بالکل باطل اور خلاف واقعہ ہے۔ تاریخ عالم بتاتی ہے کہ بعض اوقات صدیوں تک ساری دنیا کفر وضلالت کا ظلمت کدہ بنی رہی ہے اور کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کے درمیان چھ صدیوں کا فاصلہ ہے۔ یہ چھ صدیاں ظلم و فساد، کفر وضلال، شر و طغیان کے لحاظ سے تاریخ کی پیشانی پر نمایاں داغ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر باوجود اس کے ان میں کسی نبی ورسول کی بعثت کا پتہ نہیں چلتا۔
عقل کی حیرانی و آبلہ پائی اسی منزل پر ختم نہیں ہو جاتی۔ اسے اپنی عاجزی کا مکرر اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ جب ہم زمان ومکان کے اعتبار سے مسئلہ بعثت پر غور کرتے ہیں۔ ایک ہی زمانہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی قوم میں دو دو نبی مرسل فریضہ تبلیغ و تعلیم ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ، حضرت ہارون علیہم السلام کا زمانہ ایک ہی ہے اور امت بھی ایک۔ حضرت عیسیٰ وحضرت یحییٰ علیہ السلام دونوں کی بعثت ایک ہی دور میں ہوئی ہے اور دونوں کی امت بھی ایک ہی ہے۔ محل تبلیغ و تعلیم کے لحاظ سے بھی ان سب میں وحدت پائی جاتی ہے۔ کیا اس کی کوئی عقلی توجیہ ممکن ہے؟ کیا عقل محض ان خصوصیات کے ساتھ ان سب کی ضرورت بتانے کے لئے کافی ہو سکتی ہے؟ حیرت کی کوئی انتہاء نہیں رہتی۔ جب اس واقعہ کے ساتھ اس حقیقت کو بھی سامنے رکھئے کہ کئی کئی صدیوں تک دنیا نور نبوت سے محروم نظر آتی ہے اور خود اس دور میں بعض وہ قومیں جو تعداد وقومیت کے لحاظ سے بنو اسرائیل سے زیادہ تھیں۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے محروم رہیں۔
حاصل یہ ہے کہ اوّل تو عقل محض ایک نبی کے آنے کے بعد کسی دوسرے نبی کی
١٦
ضرورت معلوم کرنے سے جائے تو انبیاء کے زمان و مکا بدندان نظر آتی ہے۔
ایسی حالت میں بغیر محض عقلی استدلال کے اور دور میں نبی کی ضرورت جولان کرنا عقل اور ان مسا کرنے کا جو الہیات کی طر نے اس مغالطہ کی بیخ کنی فرما رسالته (الانعام: ١٢٤) تـ نبی اور رسول کو ا اپنی مرضی سے معین فرماتے کرسکے۔ ”اھم یقسمون لوگ تقسیم کرتے ہیں؟﴿
کیا یہ کہنا کہ ہم بکثرت ہوئے جو وحی ربانی امت محمدیہ علیہ الف الف تحی محروم رہنا اس کی نکبت و ذلا فلسفیانہ جہالت اور کج فہمی ہ میں گرا دیا اور یہی وہ جاہلی مع
سطور بالا کا ماحا سے بالکل عاجز ہے۔
- اول ...... کسی نبی کی بعث
ہے جس میں
- دوم ...... کسی قوم میں ا
ضرورت معلوم کرنے سے بالکل قاصر ہے اور اگر اسے اس کے حدود استطاعت میں فرض بھی کر لیا جائے تو انبیاء کے زمان و مکان اور امت کے تعین کے بارے میں تو وہ بالکل سرمہ در گلو اور انگشت بدنداں نظر آتی ہے۔
ایسی حالت میں مسئلہ اجرائے نبوت کو محض عقل سے سمجھنے کی کوشش کرنا نقل کی امداد کے بغیر محض عقلی استدلال کے بھروسہ پر یہ دعویٰ کرنا کہ سلسلہ نبوت کو جاری رہنا چاہئے یا فلاں زمانہ اور دور میں نبی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یا بالفاظ مختصر عقل کے اسپ لنگ کو اس میدان میں جولان کرنا عقل اور ان مسائل دونوں پر سخت ظلم ہے۔ یہ نتیجہ ہے دین میں فلسفیانہ طرز فکر اختیار کرنے کا جو الٰہیات کی طرح نبوات میں بھی بالکل غلط، گمراہ کن اور مغالطہ انگیز ہے۔ حق تعالیٰ نے اس مغالطہ کی بیخ کنی فرمائی ہے اور صاف صاف فرمایا ہے کہ ”الله اعلم حيث يجعل رسالته (الانعام:١٢٤)“ ﴿اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جانتے ہیں کہ کسے رسول بنائیں۔﴾
نبی اور رسول کون ہو؟ اور کب ہو؟ ان سب باتوں کو اللہ علیم و بصیر ہی جانتے ہیں اور اپنی مرضی سے متعین فرماتے ہیں کہ کسی کی عقل وخرد کو حق نہیں کہ ان امور کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے۔ ”اهم يقسمون رحمة ربك (الزخرف:٣٢)“ ﴿کیا آپ کے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟﴾
کیا یہ کہنا کہ بنو اسرائیل میں سلسلہ نبوت مدت دراز تک جاری رہا اور ایسے اشخاص بکثرت ہوئے جو وحی ربانی اور بلا واسطہ ہدایت الٰہی کے شرف سے مشرف ہوئے۔ اس لئے امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ میں ایسے اشخاص کا وجود ناگزیر ہے۔ یا یہ کہنا کہ امت کا اس سے محروم رہنا اس کی نکبت وذلت ہے۔ کیا تقسیم رحمت رب کا جاہلی ادّعا باطل نہیں ہے؟ یہی وہ فلسفیانہ جہالت اور کج فہمی ہے جس نے مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کو کفر وارتداد کے قعر عمیق میں گرا دیا اور یہی وہ جاہلی مغالطہ ہے جس میں آج بھی بہت سے اشخاص مبتلا ہیں۔
سطور بالا کا ماحاصل یہ ہے کہ عقل محض مندرجہ ذیل مسائل کو بغیر اعانت نقل صحیح سمجھنے سے بالکل عاجز ہے۔
- اول ...... کسی نبی کی بعثت کی کس وقت اور کس زمانہ میں احتیاج ہوتی ہے؟ اور فلاں زمانہ ایسا
ہے جس میں نبی ورسول کی بعثت ناگزیر یا کم از کم قابل ترجیح ہے۔
- دوم ...... کسی قوم میں نبی کا مبعوث ہونا مناسب یا ضروری ہے۔
١٧
- سوم...... کسی امت یا دنیا کی کسی خاص حالت میں نبی کی بعثت ضروری یا راجح ہے۔
- چہارم..... سلسلہ نبوت کا تھوڑے تھوڑے وقفوں یا بلا توقف جاری رہنا لازم یا قابل ترجیح ہے
اور اس وقفہ کی مقدار اتنی ہونی چاہئے۔
یہ مسائل قطعاً عقلی نہیں بلکہ خالصتاً نقلی ہیں۔ اللہ علام الغیوب ہی جانتے ہیں کہ کب کہاں اور کن حالات میں بعثت انبیاء علیہم السلام مفید اور ضروری معلوم ہوئی۔ حکیم وعلیم کی حکمت جب اور جن حالات میں جس امت کے لئے اس نعمت کی متقاضی ہوئی۔ اسی وقت اور ایسے ہی حالات میں اس امت میں نبی ورسول کو مبعوث فرمایا گیا۔ عقل بشری بغیر اعانت نقل صحیح ان امور کے دریافت کرنے سے عاجز وقاصر ہے۔
اس اصول کے نتیجہ صریح کے طور پر ہم یہ ماننے پر بھی مجبور ہیں کہ عقل انسانی کا فطری رجحان یہ ہے کہ جب تک کسی قطعی ویقینی دلیل نقلی سے کسی نبی کی ضرورت نہ ثابت ہوجائے اس وقت تک وہ اس کی بعثت کو بے ضرورت سمجھے اور اس کی احتیاج کا بالکل احساس نہ کرے۔ گویا کسی نبی کی بعثت کو غیر ضروری سمجھنا عقل سلیم کا تقاضا اور اس کا فطری رجحان ہے۔ اتنی بات معلوم کرنے کے لئے اسے نقل کی کوئی احتیاج نہیں۔ نفی بعثت نبی عقلی شئے ہے۔ جس کا فیصلہ عقل محض بھی کرسکتی ہے۔ مگر اثبات بعثت نبی یا اس کی ضرورت وحاجت یا تعین محل اور شخصیت وزمانہ وغیرہ عقلی مسائل نہیں ہیں۔ جن کا ادراک عقل محض کر سکے۔ اس لئے انہیں صرف عقلی دلائل سے دریافت اور ثابت کرنے کی کوشش کرنا سخت قسم کی کج فہمی اور بنیادی غلطی ہے۔
ہاں ! ختم نبوت کا قائل ہونا خواہ اس کے لئے کوئی نقلی دلیل ہو یا نہ ہو۔ عقلی بلکہ فطری شئے ہے۔ یا بالفاظ دگر اگر بالفرض کوئی آیت قرآنی یا حدیث نبوی نہ ملے جس سے محمد رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ثابت ہو تو بھی سلامت عقل کا تقاضا اور فہم کا فطری رجحان یہی ہے کہ ہم آنحضور ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کریں اور اس وقت تک آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت کا امکان تسلیم نہ کریں جب تک مندرجہ ذیل امور قطعی ویقینی دلائل شرعیہ نقلیہ یعنی نص قرآنی یا نص حدیث متواتر سے نہ ثابت ہوجائیں۔
- اولاً...... امت محمدیہ میں کسی مرحلہ ومنزل پر کوئی نیا نبی مبعوث ہوگا۔
- ثانیاً...... اس نبی کی فلاں فلاں نشانیاں اور علامتیں ہوں گی جس سے اس کی نبوت
ورسالت بالکل واضح ہوگی۔
١٨
ان دونوں باتوں کا بہت صراحت و وضاحت کے ساتھ مذکور ہونا اور دلائل شرعیہ قطعیہ سے ثابت ہونا لازم ہے۔ ظنی دلیل کا عقائد کے بارے میں کوئی اعتبار نہیں۔ ان نصوص کتاب یا سنت میں دو وصفوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ یعنی قطعی الثبوت ہونا اور قطعی الدلالتہ ہونا محض مبہم اشارات یا اخبار آحاد جو ظنی الثبوت ہیں۔ اس مقصد کے لئے کافی نہیں ہو سکتے۔ جب تک ایسی یقینی قطعی دلیل شرعی موجود نہ ہو اس وقت تک عقل سلیم اس امت میں قیامت تک کسی نئے نبی کی بعثت کا امکان تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی اور محمد رسول اللہ ﷺ کو یقینی طور پر آخری نبی سمجھنے پر مجبور ہے۔ عقل کے اس رویہ کی تائید مزید اس حجت کو پیش نظر رکھنے سے بھی ہوتی ہے کہ کسی نبی کا مبعوث ہونا امت کے لئے امتحان و ابتلاء ہوتا ہے۔ ناممکن و محال ہے کہ حق تعالیٰ امت کو تعلیم کے بغیر امتحان میں ڈال دیں اور بغیر کسی تیاری کے پرچہ امتحان حل کرنے پر مجبور کریں۔ یہی وجہ ہے کہ سب انبیاء مرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم اپنے بعد آنے والے نبیوں کے بارے میں پیش گوئی فرماتے رہے۔ قرآن حکیم کا بیان ہے: ”واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب وحکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران:٨١)“ ﴿اور جب ہم نے انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں علم اور کتاب عطاء کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو اس چیز کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی امداد کرنا۔﴾
مندرجہ بالا بحث سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ مسئلہ ختم نبوت میں عقلاً و شرعاً بار ثبوت کلیتہً ان لوگوں پر ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد سلسلۂ نبوت و رسالت جاری رہنے کے مدعی ہیں۔ ختم نبوت کا عقیدہ رکھنے والوں کے ذمہ کسی چیز کا ثابت کرنا نہیں ہے۔ ہم یعنی خاتم النبیین ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرنے والے، ان مدعیان باطل سے اتنا کہہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ”هاتوا برهانکم ان کنتم صادقین (البقرۃ:١١١)“
اس کے ساتھ ہم جانتے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس تار عنکبوت کے برابر بھی کوئی دلیل ان کے عقیدہ باطلہ کی نہیں۔ اس لئے ہم ان سے کہتے ہیں۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا. فاتقوا النار التی وقودها الناس والحجارة (البقرۃ:٢٤)“
ہندوستان کی خصوصیت
عام طور پر جو چیزیں ختم نبوت کے انکار یا اس میں شک و شبہ کی گمراہی میں مبتلاء ہیں۔
١٩
ان کا تذکرہ ہم نے اوپر کے صفحات میں تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ یہ اس قعر ضلال میں گرنے کے عام اسباب ہیں جو کسی ملک یا قوم کے ساتھ مخصوص نہیں۔ لیکن ہندوستان (مع پاکستان) کی ایک خصوصیت ایسی بھی ہے جس نے گمراہی و ضلال کے اس شجرہ خبیثہ کے لئے اس ملک میں خصوصیت کے ساتھ نشو و نما پانے کا بہت مناسب موقع فراہم کر دیا۔ یہ خصوصیت یہاں کا دینی وفکری مزاج ہے۔ ہندوستان (مع پاکستان) میں اسلام کے قدم آنے سے پہلے دین کا کوئی صحیح تصور موجود نہیں تھا۔ بلکہ فلسفہ کا نام دین تھا۔ اسلام کی تاثیر اور مسلمانوں کے اختلاط کی وجہ سے دین وفلسفہ میں کسی قدر امتیاز پیدا ہوا مگر یہ امتیاز بالکل ناقص اور غیر مفید ثابت ہوا۔ اس لئے کہ جو ادیان ومذاہب خود اس سرزمین میں پیدا ہوئے۔ ان سب کی بنیاد فلسفوں پر قائم ہے۔ وحی ربانی اور نبوت کا تصور ان میں سے کسی ایک میں بھی نہیں پایا جاتا۔ ان سب مذاہب وادیان کی انتہاء زیادہ سے زیادہ الہام وکشف پر ہوتی ہے اور بڑی سے بڑی شخصیت رشی (ولی اللہ) یا اوتار کو قرار دیا جاتا ہے۔ اوتار کا قدیم تصور تو تقریباً خدا کے مرادف تھا۔ مگر نیا تصور اسے ایک لیڈر یا مصلح کے ہم معنی قرار دیتا ہے۔ علم و شخصیت کے یہی دو تصور ہیں۔ جن پر باوجود کثیر اختلافات ہندوستان کے کل مذاہب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی وحی ربانی اور نبی کے مرادف و ہم معنی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت کا مسئلہ سمجھنا ہندوستان (مع پاکستان) کی غیر مسلم قوموں کے لئے بہت دشوار ہے۔ نبوت کی حقیقت اور اس کے درجہ علیاء سے ناواقف لوگ اگر ختم نبوت کے مسئلہ کو نہ سمجھ سکیں تو کیا تعجب ہے؟ وہ نبی کو زیادہ سے زیادہ ایک رشی یا اوتار کا مرتبہ دے سکتے ہیں۔ حالانکہ مقام نبوت سے ان تصورات کو کوئی بھی نسبت وتعلق نہیں۔ اسی طرح وہ وحی ربانی کو زیادہ سے زیادہ الہام یا کشف کے ہم معنی سمجھ سکتے ہیں۔ حالانکہ وحی ربانی کا درجہ کشف والہام سے بدرجہا زیادہ بلند و برتر اور ان سے کلیتہ ممتاز ہے۔
مقام نبوت سے بے خبری کا نتیجہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ ان کی فہم کی گرفت میں نہیں آتا۔ بلکہ اس کے بجائے وہ کسی نئے اوتار کے منتظر رہتے ہیں اور بعض بڑی اور اولوالعزم شخصیتوں کو جنہیں وہ اپنے خیال میں مصلح سمجھتے ہیں۔ مرتبہ نبوت پر فائز یا اپنے الفاظ میں اوتار سمجھنے لگتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اوتار کے تصور کا در حقیقت اسلام میں نام ونشان بھی نہیں اور نبوت کی حقیقت کو اس اوتار کے مفہوم سے ذرہ برابر بھی تعلق نہیں۔ یہ عام ماحول ہے۔ لیکن ہندو طبقہ میں جو لوگ وحدت ادیان کے مبلغ ہیں۔ اس کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ وہ ختم نبوت کے اسلامی عقیدے کو بہت حیرت و ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ عقیدہ
٢٠
وہ سنگ گراں ہے جو وحدت ادیان کا راستہ روک دیتا ہے اور اسے قدم بڑھانے سے مانع ہوتا ہے۔ اس لئے قدرتاً ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے دل و دماغ سے اس عقیدہ کا اقتدار اٹھ جائے تا کہ وحدت ادیان کے لئے میدان ہموار ہو جائے۔ جس سے تبلیغ مذہب کے علاوہ بہت سی سیاسی مصلحتیں بھی وابستہ ہیں۔ بہت سے دین سے ناواقف، مقام نبوت سے بے خبر اور عظمت نبوی سے نا آشنا مسلمان اس ماحول سے متاثر ہو کر ختم نبوت کے بارے میں شک و شبہ یا ان سے انکار کا شکار ہو جاتے ہیں اور مرزا قادیانی آنجہانی کو ایسے لوگوں کو اپنے دام میں اسیر کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسی ماحول کا اثر ہے کہ ختم نبوت کے مسئلہ میں ہندوستان (مع پاکستان) میں مسلمانوں کی طرف سے جس قدر کمزوری کا اظہار کیا گیا ہے۔ یا جس قدر مدعیان نبوت یہاں پیدا ہوئے اس کی نظیر شاید کسی اسلامی ملک میں نہ مل سکے۔
خلاصہ کلام
ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ ایک واضح عقیدہ ہے۔ جس کی طرف خود فطرت انسانی مائل ہے۔ بخلاف اس کے سلسلۂ نبوت کا جاری رہنا محتاج دلیل و برہان ہے اور جب تک اس کے اوپر کوئی دلیل نقلی قطعی و یقینی قائم نہ ہو۔ اس وقت تک اجراء نبوت کے امکان یا وقوع کا دعویٰ کرنا ایک مغالطہ ہے۔ جو عقلاً ہی نہیں بلکہ نقلاً بھی ناقابل تسلیم اور گمراہی ہے۔
ختم نبوت سے انکار کا اصل سبب نبی کریم ﷺ پر بے اعتمادی اور ایمان بالرسالت کی کمزوری ہے۔ مقام نبوت سے بے خبری، دین میں فلسفیانہ طرز فکر، یہود کی وسوسہ اندازی، ہندوستانی ماحول اور ان کے پروپیگنڈے سے تاثر، دین سے جہالت اور ناواقفیت، یہ وہ اسباب ہیں جنہوں نے بہت سے مسلمانوں کے دلوں اس عقیدے کے بارے میں شک و شبہ پیدا کر دیا۔ لیکن اوپر کے بیان سے آفتاب کی طرح یہ بات روشن ہو چکی ہے کہ یہ شک و شبہ بالکل بے بنیاد اور دلیل سے قطعاً محروم و تہی دست ہے۔ یہ بیماری اپنی پیدا کی ہوئی ہے۔ جس کی ذمہ داری تنہا مریض پر ہے جن لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے جراثیم دوسروں کے دل و دماغ سے لے کر اپنے دل و دماغ میں داخل کر لئے اور ان کی پرورش کر رہے ہیں۔ اس کا علاج بھی انہیں کے اختیار میں ہے۔ اس زہر کو جس طرح انہوں نے اپنے دل و دماغ پر مسلط کر لیا ہے۔ اسی طرح وہ اسے باہر بھی نکال سکتے ہیں۔ اگر وہ نہیں نکالتے تو نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔ لیکن مسلمانوں کی خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم محض ادائے فرض پر اکتفاء نہ کریں۔ بلکہ اس مہلک زہر کا
٢١
کچھ تریاق بھی مہیا کردیں۔ جو بعض مسلمانوں کی روحانی موت کا باعث ہو رہا ہے۔ یعنی ختم نبوت کے عقیدے پر دلائل و براہین بھی قائم کردیں جو دینی مسائل میں صحیح نتیجہ پر پہنچاتا ہے اور غیروں کی گمراہ کن تشکیک سے ذہن کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر میں نے بحث کو دو حصوں میں منقسم کر دیا ہے۔ یعنی عقلی اور نقلی۔
حصہ اوّل! میں خالص عقلی دلائل سے ختم نبوت کی صداقت و حقانیت کو واضح کیا گیا ہے۔ دوسرے حصہ! میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ خاتمہ میں میں نے ان مغالطوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ جن کا سہارا اجراء نبوت کے مدعی لیتے ہیں۔ محمد اسحاق صدیقی عفی اللہ عنہ!
حصہ اوّل ...... عقیدہ ختم نبوت عقل کی روشنی میں
باب اوّل
خاتم النبیین کے بعد کسی دوسری نبوت کی ضرورت نہیں۔
ابر رحمت اس وقت برستا ہے جب زمین کے لب خشک صدائے العطش بلند کرتے ہیں۔ بادِ بہاری چمن کے لئے حیات تازہ کا پیام اس وقت تک لاتی ہے جب وہ بیداد خزاں سے عاجز آکر سراپا فریاد و الغیاث بن جاتا ہے۔ مہر عالم افروز اپنا رخ انور اس وقت بے نقاب کرتا ہے جب کہ تیرگی شب حد سے گزر جاتی ہے اور ردائے ظلمت میں دنیا کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ دنیا کے حوادث و تغیرات پر غور کرو۔ تم دیکھو کہ ان میں سے کوئی بھی بغیر احتیاج و ضرورت کے وجود میں نہیں آتا تو کیا عقل سلیم یہ باور کر سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی و رسول اس خاکدان عالم میں اس وقت آیا ہوگا یا آسکتا ہے۔ جب یہاں اس کی کوئی احتیاج و ضرورت نہ ہو؟
مقام نبوت، انسانیت کی آخری معراج اور ارتقاء انسانی کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔ اس اعلیٰ منزلت کی شخصیت ایسے وقت اور ایسے ظروف و احوال میں بھیجی جائے جب کہ اس کی کوئی احتیاج و ضرورت نہ ہو۔ یہ بات بالکل عقل و فہم کے خلاف ہے۔
کیا خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی شخص کو تاج نبوت سے سرفراز فرمایا گیا ہے۔ یا قیامت تک اس کا امکان ہے کہ کسی کو یہ خلعت اکرام عطاء فرمایا جائے؟ یہ دونوں مسئلے سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے۔ جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ سید المرسلین کے تشریف لانے کے بعد دنیا کے لئے کسی نبی کا احتیاج و ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔
٢٢
ظاہر ہے کہ اس کا بار ثبوت منکرین ختم نبوت پر ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس باب میں ہم نے یہ اسلوب نہیں اختیار کیا ہے۔ بنا بریں ہم ان اسباب کو بیان کرتے ہیں۔ جن کا وجود یقینی طور پر کسی نبی کی آمد و بعثت کی ضرورت کو معدوم کر دیتا ہے۔ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہدایت خلق اللہ کے لئے مبعوث ہوتے ہیں۔ ان کی تشریف آوری کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں ہوتا کہ وہ بندوں کا تعلق ان کے معبود حقیقی کے ساتھ قائم و مستحکم کر دیں۔
انبیاء علیہم السلام اس عظیم مقصد کو تین طریقوں سے حاصل کرتے ہیں:
- ٭....... کتاب الٰہی کی تعلیم و تشریح سے۔
- ٭....... خود اپنے افعال و اعمال سے۔
- ٭....... اپنی شخصیت عظیمہ سے۔
انبیاء علیہم السلام کتاب الٰہی کا مفہوم اور اس کے مقاصد واضح فرماتے ہیں۔ اس کے کلیات کو جزئیات پر منطبق فرما کر اور جزئیات سے کلیات اخذ فرما کر نہج استنباط و اجتہاد روشن فرماتے ہیں۔ اپنے اقوال و افعال سے کتاب الٰہی کے احکام کی عملی شکل متعین فرماتے ہیں۔ مجموعی طور پر کتاب الٰہی جس طرز زندگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کا عملی نمونہ پیش فرماتے ہیں۔ انہیں اقوال و اعمال کے مجموعہ کا نام سنت ہے۔ ان کی شخصیت و ذات کا اصل فائدہ ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو نبی کی شاگردی کا شرف براہ راست حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح انبیاء ایک ایسا گروہ تیار کر دیتے ہیں جو ان کے علوم و معارف کا حامل ہو کر آئندہ نسلوں تک انہیں منتقل کر سکے۔ ایک ایسی جماعت تیار کرنے کے بعد انبیاء کا کام ختم ہو جاتا ہے اور وہ اس امانت الہیہ کو اپنے صحابہ کے سپرد کر کے بحکم الٰہی اس عالم دنیا سے سفر کر جاتے ہیں۔ تاریخ پر نظر ڈالو۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے متعلق حق تعالیٰ کا یہی طرز عمل پاؤ گے اور معاند سے معاند بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو کہ خاتم النبیین ﷺ سے پہلے بھی زمانہ کے بکثرت بلکہ اکثر ایسے حصے ملتے ہیں جو نبی کی شخصیت سے بالکل خالی رہے اور ان میں ہدایت عالم کا ذریعہ صرف کتاب وسنت رہی۔ کتاب وسنت کی موجودگی ناکافی ہوتی اور شخصیت نبی کا موجود ہونا ہر زمانہ میں ناگزیر ہوتا تو یقیناً کوئی زمانہ بھی ایسی شخصیت سے خالی نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھئے کہ کیا نبی کے زمانہ حیات میں بھی ہر شخص ان کی شخصیت عظیمہ سے براہ راست استفادہ کرتا ہے یا کر سکتا ہے؟ کیا بنو اسرائیل کے لاکھوں افراد میں ہر فرد حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام کا حاشیہ نشین اور ان کے نفوس قدسیہ سے براہ راست مستفید ہوا
٢٣
تھا؟ ہمارے نبی کریم ﷺ کے مقدس زمانہ میں اسلام پورے عرب پر چھا گیا تھا۔ اس کی سرعت رفتار کا اندازہ حق تعالیٰ کے اس ارشاد سے ہوسکتا ہے: ”و رأيت الناس يدخلون في دين الله افواجا (النصر: ٢) ”﴿اور آپ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہو رہے ہیں۔﴾
مسافت کے لحاظ سے اسلام کی رفتار دو سو میل یومیہ سے زائد تھی۔ مگر کیا عرب کا ہر مسلم باشندہ شرف صحابیت حاصل کرسکا تھا؟ یا معلم اعظم ﷺ کے سامنے بلا واسطہ زانوئے تلمذ تہ کرسکا تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اگر کتاب وسنت کا وجود ہدایت کے لئے کافی نہ ہوتا بلکہ نبی کی شخصیت سے براہ راست وابستگی لازم ہوتی تو دور افتادہ لوگوں نیز مابعد کی نسلوں کا اسلام ہی صحیح نہ ہوتا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ لازم تھا کہ ہادی حقیقی کی طرف سے اس قسم کا کوئی انتظام ہوتا کہ کم از کم نبی کے دور حیات میں ہر شخص ان کی شخصیت عظیمہ سے براہ راست مستفید ہوسکتا۔
ان بدیہی دلائل سے صراحتاً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کتاب وسنت موجود و محفوظ ہو تو ہدایت اور قرب الہی حاصل کرنے کے لئے نبی کی شخصیت کی کوئی احتیاج باقی نہیں رہتی۔ صراط مستقیم کو معلوم کرنے کے لئے یہ دو ذریعے کتاب وسنت تو مستقل ہیں اور تیسرا ذریعہ یعنی نبی کی شخصیت غیر مستقل، بالفاظ دیگر یوں کہئے کہ رشد و ہدایت کے لئے تعلیمات نبوی ناگزیر اور کافی ہیں۔ جب تک یہ موجود ہوں اس وقت تک ان سے ہر زمانہ میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ خواہ خود نبی موجود ہوں یا نہ ہوں۔ یہ ایسا واقعہ ہے کہ جس کا ثبوت مشاہدہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھئے کہ ذات نبوی سے وابستگی بھی اس وقت تک مفید نہیں ہوسکتی جب تک تعلیم نبوی پر عمل نہ کیا جائے۔ اگر کوئی شخص کسی نبی کو دیکھنے پر بھی ایمان نہ لائے اور اس کی دعوت و تعلیم کو رد کر دے تو کیا نبی کی خدمت میں حاضری اور ان کی زیارت اسے ذرہ برابر بھی فائدہ پہنچا سکتی ہے؟ بخلاف اس کے جو شخص احکام نبوی کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو خواہ نبی کی زیارت سے مشرف ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ یقیناً ہدایت یافتہ اور فائز المرام ہے۔
الحاصل جس پہلو سے بھی غور کیجئے یہ حقیقت روز روشن سے بھی زیادہ روشن ہو جاتی ہے کہ ہدایت ورشد کا پائدار و مستقل ذریعہ کتاب وسنت یا بالفاظ دیگر نبی کی تعلیم ہوتی ہے۔ خود نبی کی موجودگی کی ضرورت اس وقت تک رہتی ہے جب تک ایک جماعت ایسی نہ پیدا ہوجائے جو اسی کے علم وطریق کو عملاً وعلماً محفوظ کرلے اور اسے دوسروں تک منتقل کرنے کا کام کرسکے۔ ایسی
٢٤
جماعت تیار کرنے کے بعد نبی کا کام اس کام کی تکمیل کے بعد دنیا سے اٹھا یہاں بحث یہ ہے کہ خا ہے یا نہیں؟ اوپر کی سطروں میں ہم مسئلہ پر منطبق کیجئے۔ آفتاب نصف ا بعد قیامت تک کسی نبی کی بعثت کی کوئی ہمارے نبی کریم ﷺ کی تیرہ و تار کو منور فرماتے رہے۔ اس کے حضور میں تشریف لے گئے۔ اپنے فر یعنی قرآن کریم، اپنی سنت سنیہ، یعنی یعنی ایک لاکھ سے زائد ایسی منورہ ن مستفید ہوئیں اور ان کے علوم عالیہ کی نبویہ کو دوسروں تک پہنچانے کی حریص کہ اس کا ایک ایک حرف ایک ایک تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں اور جو طری مجبور ہے کہ اللہ کا یہ کلام تاقیام قیام ایسی ہوگی کہ معاند سے معاند غیر مسلم تحریف سے پاک رہے گا۔ اس کی ح تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ قرآن ک زیادتی۔ نہ اس کے الفاظ یا آیتوں کی رسول اکرم ﷺ پر نازل ہوا تھا الفا قرآن مجید کا ایک ایک حرف متواتر متواتر ہے۔ اگرچہ اس کے سب ا تعامل نیز اس کی قوت اور دیگر اسباب ١؎ تقریرات تقریر کی سامنے کیا گیا ہو اور آپ نے اس پ
جماعت تیار کرنے کے بعد نبی کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام عموماً اس کام کی تکمیل کے بعد دنیا سے اٹھالئے گئے۔
یہاں بحث یہ ہے کہ خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اوپر کی سطروں میں ہم نے ایک عام اصول بیان کیا ہے۔ اسے اس خاص اور جزئی مسئلہ پر منطبق کیجئے۔ آفتاب نصف النہار کی طرح یہ بات واضح ہو جائے گی کہ محمد عربی ﷺ کے بعد قیامت تک کسی نبی کی بعثت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ہمارے نبی کریم ﷺ تئیس سال تک اپنے وجود مسعود اور انفاس قدسیہ سے اس عالم تیرہ و تار کو منور فرماتے رہے۔ اس کے بعد اس عالم دنیا سے عالم آخرت میں اپنے رب کریم کے حضور میں تشریف لے گئے۔ اپنے ترکہ میں تین چیزیں آپ نے چھوڑیں۔ اللہ کی نورانی کتاب یعنی قرآن کریم، اپنی سنت سنیہ یعنی اپنے اقوال وافعال و تقریرات ١؎ تیسری چیز جماعت صحابہؓ، یعنی ایک لاکھ سے زائد ایسی منور، ربانی اور پاکیزہ شخصیتیں جو براہ راست معلم اعظم ﷺ سے مستفید ہوئیں اور ان کے علوم عالیہ کی حامل ومحافظ اور ان کا عملی نمونہ تھیں۔ یہی نہیں بلکہ اس امانت نبویہ کو دوسروں تک پہنچانے کی حریص تھیں۔ قرآن کریم سینوں اور سفینوں میں اس طرح محفوظ رہا کہ اس کا ایک ایک حرف ایک ایک شوشہ آج تک محفوظ ہے اور اس کی حفاظت کے جو اسباب حق تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں اور جو طریقے مقرر فرما دیئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہر شخص یقین کرنے پر مجبور ہے کہ اللہ کا یہ کلام تا قیام قیامت محفوظ اور ہر قسم کی تحریف سے پاک رہے گا۔ اس کی حفاظت ایسی ہوگی کہ معاند سے معاند غیر مسلم بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ قرآن مجید ہر قسم کی تحریف سے پاک رہے گا۔ اس کی حفاظت ایسی ہوگی کہ معاند سے معاند غیر مسلم بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ قرآن مجید ہر قسم کی تحریف سے مبرا ہے نہ اس میں کمی ہوئی ہے نہ زیادتی۔ نہ اس کے الفاظ یا آیتوں کی ترتیب میں کوئی فرق پڑا۔ اس کا ایک ایک حرف وہی ہے جو رسول اکرم ﷺ پر نازل ہوا تھا اور جو آنحضور ﷺ نے قبل از وفات امت کے سپرد فرمایا تھا۔ قرآن مجید کا ایک ایک حرف متواتر ہے۔ سنت کو اگرچہ یہ بات حاصل نہیں مگر مجموعی طور پر سنت بھی متواتر ہے۔ اگر چہ اس کے سب اجزاء متواتر نہیں۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ سنت نبوی بھی محفوظ ہے اور تعامل پریس کی قوت اور دیگر اسباب نے اسے قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔
١؎ تقریرات تقریر کی جمع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کام آنحضور ﷺ کے سامنے کیا گیا ہو اور آپ نے اس سے منع نہ فرمایا ہو۔
٢٥
کتاب وسنت کی موجودگی کی صورت میں کسی نبی کی بعثت کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ رشد و ہدایت کے یہ دو سر چشمے موجود ہیں اور سارے عالم اسلام کو سیراب کرنے کے لئے بالکل کافی و وافی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ کسی نبی کی بعثت کی بھی ضرورت ہے۔ ایک سفیہانہ بات ہے۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ دین قیامت تک باقی رہے گا۔ ظاہری اسباب بھی یہی بتا رہے ہیں کہ اسلام دائمی اور ابدی دین ہے اور کتاب وسنت ہدایت کے ایسے سرچشمے ہیں جو کبھی خشک نہیں ہو سکتے۔ آب حیات کے ان لافانی اور ابدی چشموں کے ہوتے ہوئے کسی نبی کے وجود کی پیاس جھوٹی پیاس ہے۔ جو دل ودماغ کی بیماری اور عقل وفہم کی خطرناک علالت کی علامت ہے۔ اگر ہم کسی نئے نبی کی بعثت فرض کریں تو فطرتاً یہ سوال پیدا ہوگا کہ اس کا کیا کام ہوگا؟ وہ شریعت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کو منسوخ کر کے کسی نئی شریعت کی تعلیم دے گا؟ یا اسی شریعت کا اجراء کرے گا؟ کسی نئی کتاب اور نئی سنت سے قرآن مجید اور سنت محمدیہ ﷺ کو منسوخ کرے گا یا اسی کتاب اور اسی سنت کی تشریح وتفصیل کرے گا؟ اگر پہلی صورت فرض کی جائے تو پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ضرورت کیا ہے؟ قرآن وسنت سراپا ہدایت ہیں۔ ان میں کیا کمی ہے جس کی تکمیل کسی نئی کتاب اور نئے نبی کے ذریعہ سے کی جائے۔
جو شخص بھی اسلام کا مدعی ہے ہرگز یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتا کہ قرآن وحدیث ہدایت کے لئے ناکافی ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کسی غیر مسلم کے لئے بھی یہ بات کہنا مشکل ہے جو شخص ایسا کہتا ہے اس کے ذمہ ہے کہ وہ قرآن وحدیث کو ہدایت کے لئے ناکافی یا ناقص ثابت کرے۔ کوئی مشکل سے مشکل مسئلہ جس کا تعلق دین کے ساتھ ہو قرآن مجید اور حدیث نبوی کے سامنے پیش کرو۔ تم دیکھو گے کہ وہ مشکل کیسی آسان ہو جاتی ہے اور مسئلہ کا کیا عمدہ واعلیٰ حل نکل آتا ہے۔ البتہ فہم سلیم اور علم صحیح کی احتیاج ہے۔
١؎ شیعہ، تحریف قرآن کے قائل ہیں اور اسے ناقص سمجھتے ہیں۔ اہل سنت کے ذخیرہ احادیث کو صحیح نہیں تسلیم کرتے۔ لیکن اوّل تو ان کا دعویٰ اسلام قابل تسلیم نہیں ہے۔ اس لئے ان کے کسی قول وفعل کی ذمہ داری ہمارے اوپر عائد نہیں ہوتی۔ دوسرے وہ بھی اپنے عقیدہ تحریف ونقص قرآن کو چھپاتے ہیں اور برملا اس کے اظہار کی جرأت نہیں کرتے۔
٢٦
دوسری شق اختیار کرنے پر بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی تشریح و تفصیل کے لئے کسی نبی ہی کے آنے کی کیا حاجت ہے؟ اگر امتی اس بیان و تشریح سے عاجز و قاصر ہیں تو ہر زمانہ میں کسی نہ کسی نبی کا وجود لازم ہے۔ حالانکہ یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے جس کی غلطی مشاہدے سے ثابت ہے۔
علاوہ بریں نبی کی موجودگی کی صورت میں عادۃً بھی یہ ناممکن و محال ہے کہ وہ ہر شخص کے سامنے پیش آنے والے ہر جزئی مسئلہ کے متعلق قرآن و حدیث کا بیان اور اس کی تشریح پیش کرے۔ ذرائع خبر رسانی کی اتنی ترقی کے باوجود ایک شخص کے لئے یہ ناممکن ہے کہ کروڑوں سوالات کا جواب روزانہ دیتا رہے۔ خود نبی کریم ﷺ کے مبارک دور میں بہت سے مسائل و جزئیات کے متعلق مسلمانوں کو اجتہاد کرنا پڑا۔ اگرچہ اس قسم کے مسائل کی تعداد قلیل ہے۔ مگر پھر بھی خاصی ہے جن میں صحابہ کرامؓ نے خود اجتہاد کیا اور نصوص کا بیان اپنی فہم سے کیا ہے۔ یہ صرف صحابہ کرامؓ کا فعل ہی نہیں بلکہ خود نبی کریم ﷺ نے اس طریق کار کی تعلیم دی ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجتے وقت آنحضور ﷺ نے نص صریح کی عدم موجودگی کی صورت میں انہیں اجتہاد و استنباط کی ہدایت فرمائی تھی۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہر جزئی مسئلہ کی تشریح کے لئے نبی کی احتیاج نہیں۔ بلکہ نبی کے بیان کی احتیاج ایک خاص دائرہ تک محدود ہے۔ اس دائرے کی وسعت کے متعلق عقل خالص پہلے سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔ مگر نبی کے تشریف لے جانے کے بعد وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اس کے حدود ختم ہو چکے ہیں اور اس کے بعد کسی دوسرے نبی کا اس مقصد سے آنا بالکل بے ضرورت ہے اور جب تک کسی دلیل شرعی قطعی و یقینی سے کسی نبی کی ضرورت و احتیاج نہ ثابت ہو جائے۔ اس وقت تک وہ اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہو سکتی۔ ظاہر ہے کہ اگر امت بعض مسائل کے متعلق قرآن و حدیث کی تشریح خود کرسکتی ہے۔ تو کل غیر منصوص مسائل میں سے ایسا کرنے سے کون مانع ہے؟ اور اس کی اس استطاعت کے بعد کسی نبی کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟
اس برہان روشن سے بھی عقیدہ ختم نبوت واضح اور روشن ہو جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت کی کوئی ضرورت و احتیاج نہیں ہے۔ بلکہ قرآن و حدیث کی رہنمائی قیام قیامت تک کافی و وافی ہے۔
٢٧
ایک دوسرا زاویہ
بعثت محمدی ﷺ کے بعد کتاب وسنت کی موجودگی، ہدایت کی ضمانت، ختم نبوت کی یقینی علامت اور کسی نبی کی بعثت سے مستغنی کرنے والی شے ہے۔ یہ وہ روشن حقیقت ہے جس کی نقاب کشائی پچھلے صفحات میں کی جا چکی۔ اس کا تابندہ چہرہ ہر صحیح زاویہ سے صاف نظر آتا ہے۔ ایک زاویہ نظر سے آپ نظر کر چکے۔ اب دوسرے سے اس کا نظارہ کیجئے۔
کیسے؟ کیوں؟ اور کہاں؟ یہ تین سوالات ہیں جو فطرت انسانی میں اس طرح آمیز کر دیئے گئے ہیں کہ انسان کے لئے ان پر غور کرنا ناگزیر ہے۔ ہم کیسے وجود میں آئے؟ خود بخود یا کسی خالق کے حکم سے؟ بصورت ثانیہ اس خالق کے کیا اوصاف ہیں؟ ہمارے وجود اور ہماری حیات مستعار کا مقصد کیا ہے؟ اور ہمارا انجام کیا ہے؟ یا بالفاظ دیگر ہمیں مرنے کے بعد کہاں جانا ہے؟ دنیا کا کوئی انسانی ذہن جو بالکل ناکارہ نہیں ہو چکا ہے۔ ان سوالات سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ مسائل ہیں جنہیں امہات المسائل کہا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ زندگی وموت کے متعلق ہزاروں مسائل انہیں کی نسل اور انہیں کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں۔
ان مسائل سے چشم پوشی ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے بھی ان سوالات کا جواب دیا ہے۔ فلسفیوں نے بھی ان سے بحث کی ہے۔ ان ادیان وملل نے بھی ان سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی ہے۔ جنہوں نے انبیاء سے مستفید ہونے کے بعد ان کی تعلیمات سے انحراف کیا ہے اور وہ ادیان بھی ان سے اپنا دامن نہیں بچا سکے۔ جن کی بنیاد تعلیمات انبیاء یا کتب الہیہ کے بجائے کسی فلسفہ یا کشف یا اشراق پر قائم کی گئی ہے۔ صحیح جواب صرف نبی ہی کی زبان فیض ترجمان واضح کرتی ہے۔ بقیہ جوابات غلط اور حقیقت سے منحرف ہوتے ہیں۔
ہر زمانہ کے نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ ان سوالات کا صحیح جواب دے کر مخاطبین کی فطری پیاس کو تسکین دے اور اس جوہر تابندہ کو اس طرح پیش کرے کہ اس دور کے غلط جوابات کے خزف ریزوں کی جھوٹی اور مصنوعی تابندگی اس کے سامنے خود بخود ماند پڑ جائے اور ان کا باطل ہونا بالکل واضح ہو جائے۔ نبی کا راستہ سیدھا اور بے خطر ہوتا ہے۔ جو حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے۔ ادیان باطلہ اور فلسفوں کے راستوں کا اصل مقصد سے انحراف اور ان کی ہلاکت خیزی اس صراطِ مستقیم کو دیکھ کر واضح ہو جاتی ہے۔ وہ ایسی روشنی لے کر آتے ہیں جو صراطِ مستقیم کو روشن
٢٨
کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیڑھے اور مقصد سے دور کرنے والے رضاء الٰہی کے بجائے عذاب الٰہی کی طرف لے جانے والے راستوں کو بھی ظاہر کر دیتی ہے۔ گویا وہ چشمۂ آب حیات تک پہنچانے کے ساتھ سراب کے فریب و خطرات سے بھی آگاہ کر دیتے ہیں۔ تاکہ کوئی شخص ان کی طرف رخ نہ کرے اور زیغ و ضلال میں مبتلا ہو کر عذاب آخرت کا مستحق نہ ہو جائے۔ گویا انبیاء علیہم السلام کے دو کام ہوتے ہیں۔
- ☆...... ہدایت و رشد اختیار کرنے کی تعلیم۔
- ☆...... زیغ و ضلال سے بچنے کی تعلیم۔
جو شخص بھی انبیاء کرام کے حالات سے واقف ہے وہ اس منہاج نبوت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اس تمہید کے بعد کچھ دیر کے لئے خاتم النبیین کے مبارک دور پر ایک غائر نظر ڈال لیجئے۔ نبی اکرمﷺ کی بعثت ایسے وقت میں ہوئی جب مندرجہ بالا سوالات کا وہ جواب دنیا کے سامنے آچکا تھا۔ جہاں تک بغیر امداد وحی ربانی تنہا عقل انسانی کی رسائی ہوسکتی تھی۔ یا آج ہوسکتی ہے۔ فلسفی اپنی ذہانت کا ذخیرہ ختم کر چکے تھے۔ وہ مذاہب جن کی تعمیر وحی ربانی کے بجائے کسی فلسفہ کی بنیاد پر ہوئی ہے اور جن کی حیثیت اوّل کسی نہ کسی قسم کا فلسفہ ہے۔ اپنے بسیط اقسام ختم کر چکے تھے۔ محرف شدہ آسمانی مذاہب کی کھلی نمائندگی مسخ شدہ یہودیت و نصرانیت کر رہی تھیں۔ جنہیں فلسفوں کی آمیزش نے اصل محور سے بہت دور کر دیا تھا اور اب درحقیقت ان کی گردش تورات و انجیل کے بجائے فلاسفہ یونان و روما کے اقوال کے گرد ہورہی تھی۔ ان کی کتابیں محرف ہو چکی تھیں اور ہدایت ان لوگوں کی بے مروتی و ناقدر شناسی سے دل شکستہ ہو کر ان کی طرف سے منہ موڑ چکی تھی۔ مجوسیت، صابیت، بدھ ازم، برہمیت، سب درحقیقت فلسفے تھے۔ جنہوں نے مختلف اسباب کی بنا پر دین و مذہب کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ان سب کے لئے دین سے زیادہ فلسفہ کا لفظ موزوں ہے۔ یہودیت و نصرانیت میں فلسفہ کی کثیر آمیزش کے باوجود دینی عنصر ان مذاہب سے زیادہ باقی رہ گیا تھا۔ تاہم فلسفہ کا اژدھا ان کا بھی بڑا حصہ نگل چکا تھا۔ ان امور پر نظر کیجئے تو آپ اس حقیقت کو روز روشن سے زیادہ روشن پائیں گے کہ مندرجہ بالا سوالات میں سے ہر ایک کا ہر عقلی جواب ختم ہو چکا تھا اور ان میں ہر جواب محض باطل اور غلط تھا۔ دنیا کو صحیح جواب کا انتظار تھا۔ جو بالکل مفقود تھا۔ دنیا شدید تشنگی کی حالت میں سراب کی طرف دوڑ رہی تھی۔ جس کی طرف یہ فلسفے اور ادیان اشارہ کر
٢٩
رہے تھے اور ہدایت و حقیقت کے آب شیریں سے محروم و محجوب تھی کہ ابر رحمت، محمد رسول اللہ ﷺ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ جس نے صحیح جوابات کے آب حیات سے مردہ دلوں کو نئی زندگی، بے چین روحوں کو حقیقی تسکین اور فطرت انسانی کو شگفتگی و مسرت سے ہمکنار کیا۔
زمانہ کی عمر میں ساتویں صدی مسیحی اس کا ممتاز ترین حصہ ہے۔ خاتم النبیین ﷺ ہدایت و صداقت کا آخری صحیفہ لے کر تشریف لائے۔ جس کے انوار نے ظلمت کدہ عالم کو روشن کر دیا۔ لیکن یہی حصہ اس اعتبار سے بھی خصوصی امتیاز رکھتا ہے کہ اس میں کفر و باطل کی ساری ظلمتیں جمع ہوگئی تھیں۔ جاہلیت کوس ’لِمَنِ الْمُلْک‘ بجا رہی تھی اور جنود ابلیس شرق سے غرب تک مہبط آدم (علیہ السلام) کو پامال کر رہے تھے۔
کیسے؟ کیوں؟ اور کہاں؟ اور تینوں سوالات میں سے ہر ایک کو باری باری سامنے لائیے اور دیکھئے کہ اس کے جواب میں اس وقت دنیا کس قدر گمراہی میں مبتلا تھی۔
یہ کائنات خود بخود وجود میں آگئی یا کوئی اس کا پیدا کرنے والا ہے؟ عقلاً اس کے صرف دو جواب ہو سکتے ہیں۔ جن کی مختصر تعبیر ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ خدا کا وجود ہے یا نہیں؟ مابعد الطبیعات (Meta Physics) کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کا سلسلۂ نسب بالواسطہ یا بلاواسطہ مسئلہ وجود باری تک نہ پہنچتا ہو۔ اس کے متعلق وحی ربانی کی اتباع کے بغیر عقل گمراہ جس قدر احتمالات نکال سکتی ہے وہ سب اس وقت تک نکل چکے تھے اور کوئی نہ کوئی ان کا قائل موجود تھا۔ فلسفی بھی اپنا زور ختم کر چکے تھے اور ادیان باطلہ بھی۔
خدا کی منکر دہریت یا مادیت جس نے ڈیمقراطیس کی گود میں شیر خوارگی کا زمانہ بسر کیا۔ ایپیکورس کی سرپرستی میں پیروں چلنے لگی۔ لیوکریٹس کے آغوش عاطفت میں پل کر بلوغ کو پہنچ چکی تھی۔ دور حاضر کے دہری فلاسفہ ہابس، اسپنسر، لڈوک وغیرہ نے اس کی سرپرستی صرف اس حد تک کی ہے کہ اس کے لئے نئی ضرورتوں اور نئے مذاق کی مناسبت سے غذائیں اور فیشن ایبل لباس مہیا کرتے رہے۔ بیسویں صدی کے مشہور فلسفیوں اور حامیان دہریت مثلاً برٹرینڈ رسل، جارج سنٹایانا وغیرہ کی تحریروں کو دیکھ جاؤ۔ سوائے اس کے کچھ نہ ملے گا کہ انہوں نے اسی قدیم دہریت کو جس کی پیدائش کے متعلق تاریخ بالکل خاموش ہے۔ نئے لباس میں پیش کیا ہے۔ نظریہ کا اصل جوہر یعنی بغیر خدا کے کائنات کا وجود اور اس کے نظام کا جاری رہنا ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی
٣٠
تبدیلی نہیں ہوئی نہ اس وقت تک ہو سکتی ہے۔ جب تک دہریت دہریت ہے۔
دوسرا جواب دینیت (Theism) کے نام سے موسوم ہے۔ یہ نام اگرچہ صحیح نہیں مگر مشہور ہے۔ اس کا حاصل وجود الٰہی کا اقرار ہے۔ مگر صرف اس اقرار پر معاملہ ختم نہیں ہو جاتا۔ وہ فلاسفہ جو وجود باری کے معتقد ہیں ایک ایسے خدا کا اقرار کرتے ہیں جو ان کے ذہن کا ساختہ پرداختہ اور نظام عالم میں تقریباً بے اثر ہے۔ افلاطون اور ارسطو کی ثنویت (Dualism) میں بھی ان کے مزعومہ خدا کی وہی بے چارگی نظر آتی ہے۔ جو اسپینوز کے وحدة الوجود میں ہے۔ یہ وحدة الوجود بھی کوئی اسپینوزا کی جدت فکر نہیں ہندوستان میں تو یہ فلسفہ اس سے بہت پہلے مذہبی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔
(Story of Philosophy)
دینیت کی دوسری شکل تشبیہ اس زمانہ میں پورے شباب پر تھی۔ خدا کو صفات و کردار کے لحاظ سے انسانوں جیسا سمجھنا بہت سے مذاہب و ادیان کا جوہر تھا۔ صرف ان ادیان کا نہیں جو وحشت ناک صحراؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ بلکہ بعض ان ادیان کا بھی جن کی تخم ریزی تمدن کی زمین میں ہوئی اور جن کی آبیاری فلسفہ سے کی گئی تھی۔
تعطیل و تشبیہ کے علاوہ مذاہب کی ایک شکل اور باقی رہ جاتی ہے جس کا نام شرک ہے۔ اس کی جتنی شکلیں اس وقت پائی جاتی تھیں۔ ان میں شاید اب تک کوئی اضافہ نہیں ہو سکا اور ہو بھی جائے تو اتنی شکلیں دیکھ لینے کے بعد اس کی غلطی کا سمجھ لینا معمولی جمع و تفریق کا سوال لگا لینے سے بھی زیادہ آسان ہے۔ ستارہ پرستی، آفتاب پرستی، نور پرستی، ظلمت پرستی، حجر پرستی، شجر پرستی، آب پرستی، نار پرستی، حیوان پرستی، انسان پرستی، وطن پرستی، ہیرو پرستی اور اسی طرح کی بہت سی پرستشیں کثرت کے ساتھ رائج تھیں۔ یہی نہیں بلکہ چین میں تو آبا پرستی و ارواح پرستی بھی پوری قوت کے ساتھ قدم جمائے ہوئے تھی۔
توراة و انجیل میں تحریف ہو چکی تھی۔ حقیقی یہودیت فلسفہ کی آمیزش کی وجہ سے نہ صرف اپنی شکل بلکہ اپنا جوہر بھی کھو چکی تھی۔ نصرانیت، یہودیت سے اصطباغ لے کر اپنے اصلی رنگ سے محروم ہو چکی تھی۔ پولوس نے اسے یہودیت کی ایک شاخ بنایا۔ رومی سلطنت نے اس کی سرپرستی کر کے اس میں بت پرستی کی قلم لگائی۔ یونان نے اس میں فلسفہ کی آمیزش کی۔ اس طرح خاتم النبیین کے عہد مبارک میں حقیقی مسیحیت مفقود ہو کر اپنے بجائے یہودیت، شرک اور فلسفہ کے ایک مجموعہ کو
٣١
چھوڑ گئی تھی۔ جس کا نام مسیحیت بدستور باقی رکھا گیا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ”مسیح اور مسیحیت“ مولفہ شرر مرحوم)
کہنا یہ ہے کہ بعثت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ کے وقت منکرین وجود باری بھی موجود تھے۔ اس کا اقرار و اعتراف کرنے والوں میں عقلاً جس قدر گمراہیاں ہو سکتی ہیں وہ سب موجود تھیں ۔ فلسفیانہ ضلال بھی اپنی انتہاء کو پہنچ چکا تھا اور مذہبی بداعتقادی اور گمراہی بھی سب مراحل طے کر چکی تھی۔ زیر بحث فطری سوال کے متعلق عقل انسانی کوئی ایسا احتمال پیدا نہیں کر سکتی جو اس وقت موجود نہ ہو اور کوئی ایسا پہلو نکالنا اس کی قدرت سے باہر ہے جو اس وقت تک ظاہر نہ ہو چکا ہو اور اپنے جوہر کے لحاظ سے جدید کہا جاسکے۔ گویا شیطان ، زیغ وضلال کا نقشہ مکمل کر چکا تھا۔ اس کے بعد صرف رنگ بھرنے کا کام رہ گیا جو قیامت تک جاری رہے گا۔
اخلاقیات (Ethics) کا سنگ بنیاد کیوں ہے۔ معلم اعظم ﷺ کی بعثت مقدسہ جس زمانہ میں ہوئی ہے اس میں عقل اس عمارت کی تکمیل کر چکی تھی۔ یعنی اس موضوع کے متعلق جتنی گمراہیاں عقلاً ہو سکتی ہیں۔ ان سب کی بنیادیں پڑ چکی تھیں۔ بلکہ در حقیقت دیواریں بھی تعمیر ہو چکی تھیں اور فلسفیانہ ادیان نے اپنے حسب منشاء چھتیں بھی قائم کر لی تھیں۔ بعد کے فلسفیوں نے اس پر صرف پلستر کیا ہے یا نقش و نگار بنانے میں اپنی ذہانت دکھائی ہے۔
در حقیقت اخلاقیات کی روح صرف دو مسئلے میں معیار اخلاق اور محرک دونوں کے متعلق اپیکورس کی لذتیت (Hedonism) اور مل ہابس وغیرہ کی افادیت (Utilitarianism) میں حقیقت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔ اگر فرق ہے تو طرز بیان، اسلوب نگارش اور عنوان کا جو قابل اعتنا نہیں جیسا کہ خود مل نے اعتراف کیا۔
(Utilitarianism مصنفہ جان اسٹوارٹ مل)
ہیوم یا آدم اسمتھ نے ضمیر (Conscience) پر یورپ کے دورِ جدید میں زور دیا۔ مگر انہیں اس نظریہ کا باوا آدم سمجھنا غلط ہے۔ ارسطو کے نظریہ عدل کو اس کے وجدان کے برابر بٹھا کر دیکھئے تو ضمیر کا پردہ اٹھ جائے گا۔
رواقیہ (Stoics) کی جذبات کشی اور عقل پرستی مدت دراز تک رومہ پر حکمرانی کر چکی تھی۔ افلاطون اور ارسطو نے درحقیقت اس پر غاصبانہ تصرف کر کے اس کی تیزی وحدت میں
٣٢
کی پیدا کر دی۔ اس کے بعد اسے اپنے نظریہ کی شکل میں پیش کیا۔
(The History of European Morales از ایڈورڈ ہارٹ پورلیکی)
اس کے یہاں بھی ضمیر کی تصویر بغور دیکھنے سے نظر آتی ہے۔ شاید واقعیت کی خشکی اور عقل پرستی کے بالمقابل عملیت یا نتائجیت (Pragmatism) کا نظریہ ہے۔ اسے بھی جدید سمجھنا غلطی ہے۔ ولیم جیمس کو (جو اس کا بہت حامی ہے) اقرار ہے کہ یہ بہت قدیم نظریہ ہے۔ اسے امریکی فلسفہ کہنا غلط ہے۔ بلکہ فلسفہ کے دور میں اس کا سراغ ملتا ہے۔
(Typs of Philosophy.)
شبہ ہو سکتا ہے کہ مارکس کا نظریہ اخلاق بشرطیکہ اسے کوئی نظریہ بھی کہا جا سکے جو پورے نظام اخلاق کو معاشی حالات کے تابع اور دل و دماغ کے بجائے معدہ وامعاء کی پیداوار قرار دیتا ہے۔ سرور عالمﷺ کے زمانہ میں یا آپؐ سے پیشتر کہاں موجود تھا؟ لیکن درحقیقت یہ شبہ بے بنیاد ہے۔ مارکس کے اس بیان میں جدت صرف طرز بیان تک محدود ہے۔ ورنہ یہ بھی نظریہ افادیت ہی کی ایک شکل ہے۔ جسے اس نے مذاق زمانہ کے مطابق نئے طرز پر پیش کیا ہے۔ شراب کہنہ ہے۔ مگر ساغر جدید ہے جو کہنگی کی وجہ سے تیز تر اور ذوق گمراہ کے لئے لذیذ تر ہوگئی ہے۔ مغالطہ جدت کی بنیاد بھی یہی ہے۔
فلسفوں کے مقابلے میں دینی اخلاقیات ہے جس میں سب سوالوں کا جواب صرف اعتقاد آخرت سے دیا جاتا ہے۔ یہودیت و نصرانیت اسی نظریہ کی حامل تھیں۔ مگر یہ تصور اس قدر دھندلا ہو چکا تھا اور اس کی تفصیلات میں اس قدر غلطیاں واقع ہوئی تھیں کہ عملاً اس کا وجود اس کے عدم کے برابر تھا۔ یہود کے ایک طبقہ میں تو آخرت کا عقیدہ بھی مفقود ہو چکا تھا۔ مسیحیت میں بھی یہ نقش بہت ہی دھندلا ہو چکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اپنی حقیقی شکل بدل چکا تھا۔
درحقیقت یہودیت و مسیحیت دونوں اپنی حقیقی صورت میں معدوم ہو چکی تھیں۔ فلسفوں کی آمیزش نے ان کے جوہر کو فنا کر دیا تھا۔ انہیں نہ فلسفہ کہا جا سکتا تھا نہ دین۔ تاہم دین کے بجائے فلسفہ کا لفظ ان کے لئے زیادہ موزوں تھا۔ وہ خود بھی اسی میں فخر محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ حکماء یونان کی طرف انتساب اپنے لئے باعث عزت سمجھتے تھے۔ مثلاً فیثا غورث کو مجنون یہودی اور افلاطون کو ایک اسرائیلی پیغمبر کا صحابی مشہور کر کے اپنے محرف دین کا اعزاز بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔
(The History Europeon Morales.)
٣٣
کہاں؟ کے جواب میں بھی عقل ہر غلط راستے پر تگ و دو کر چکی تھی۔ موت کو مکمل فنا کے مرادف سمجھنے والا گروہ بھی اس وقت موجود تھا۔ قرآن مجید دیکھو تو جگہ جگہ اس کی تردید ملے گی۔ نظریہ تناسخ کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے۔ اس کے ماننے والے خالص فلسفی بھی تھے اور بعض ایسے مذاہب کے پیرو بھی جو درحقیقت فلسفے ہی تھے۔ لیکن مرور زمانہ اور توارث کی وجہ سے ادیان ومذاہب کی صورت اختیار کر چکے تھے۔ فلسفیوں کی سرزمین یونان میں ایک طرف تو مابعد الموت کا تصور بہت ہیبت ناک پایا جاتا تھا جو ان کے قصص الاصنام (Myt Holo Gy) کا ایک باب تھا۔ دوسری طرف ارسطو افلاطون اور بعض فلاسفہ نے اس عامیانہ تصور میں ترمیم کر کے فلسفیوں اور فلسفہ کی فوقیت و تقدیس کا نقشہ تیار کر لیا تھا۔ یعنی حیات بعد الممات کو ایک ارتقاء نفسی عقلی کے مرادف قرار دے کر ان کی عظمت کو دائمی بنانا چاہا تھا۔ بلکہ سچ پوچھئے تو انہیں بھی مرتبہ الوہیت تک پہنچانے کی فکر تھی۔ آج کے فلسفی بھی زیادہ تر منکر آخرت اور کمتر مثلاً بعض ھنود اسے ایک ارتقاء روحانی سے تعبیر کرتے ہیں۔ گویا نظریہ کا جو ہر وہی ہے محض شکل بدلی ہوئی ہے اور عقلاً اب کوئی ایسا نظریہ وجود میں بھی نہیں آسکتا جو اصل وجوہر کے لحاظ سے مندرجہ بالا نظریات سے جدا ہو اور اس میں شامل نہ ہو جاتا ہو۔ خیر یہ لوگ تو فلسفی تھے۔ غضب تو یہ تھا کہ یہودیت و نصرانیت بھی جن کی بنیاد وحی ربانی پر قائم کی گئی تھی۔ تعلیمات انبیاء سے بیگانہ ہو کر یقین آخرت کا سرمایہ بالکل برباد کر چکی تھیں۔ عالم آخرت کا ایک دھندلا سا تصور ان میں ضرور موجود تھا۔ مگر اس تصور کا رنگ اس قدر پھیکا پڑ چکا تھا کہ بڑی سے بڑی طاقت کی خورد بین بھی اسے واضح نہ کر سکتی تھی۔ تفصیلات میں بے راہ روی اور گمراہی تو حد سے تجاوز کر چکی تھی۔ وجہ ظاہر ہے، کتاب الٰہی غیر محفوظ اور محرف ہو چکی تھی۔ محض متوارث تصورات باقی رہ گئے تھے۔ ان میں فلسفہ کی آمیزش اور انہیں فلاسفہ کے اقوال کے مطابق بنانے کا جذبہ اس کے ساتھ کشف والہام کو علم کا ذریعہ سمجھ لینا بلکہ وحی ربانی پر اسے فوقیت دینا یہ سب امور تھے۔ جنہوں نے یہود و نصاریٰ کو عالم آخرت کے متعلق صحیح علم و یقین سے محروم کر دیا تھا۔
غور کیجئے! زندگی کے وہ سب مسائل جن سے دین کی بحث ہوتی ہے۔ انہیں تین مسئلوں کے تحت داخل ہو جاتے ہیں۔ ان مسائل کے متعلق جس قدر گمراہیاں ہو سکتی ہیں وہ سب اس وقت مجتمع تھیں۔ آج کی کسی دینی گمراہی کو لے لو۔ اس کا سلسلہ انہیں جاہلی تصورات تک پہنچے گا ٣٤
جو بعثت محمدی ﷺ کے وقت پائے جاتے تھے۔ ضلال اور باطل کی شکلیں بدلتی رہیں گی۔ مگر جوہر وہی ہوگا لباس بدلتے رہیں گے۔ مگر جسم نہ بدلے گا۔ رنگ بدلیں گے مگر اصل شے اس سے مختلف نہ ہوگی۔ فلسفوں کا جائزہ لو ادیان کا مطالعہ کرو۔ یا تو وہی گمراہیاں اور ظلمتیں ان میں اپنی اصل اور بسیط حالت میں پاؤ گے جو بعثت خاتم النبیین کے وقت موجود تھیں یا ان کی حقیقت انہیں میں سے چند کی ترکیب کی مرہون منت دیکھو گے۔ کامل جدت و ندرت بہر حال مفقود ہوگی۔ اس لئے کہ عقل ان سے زائد سوچ ہی نہیں سکتی اور سچ تو یہ ہے کہ اطاعت انبیاء سے سرکشی اور ان کی تعلیمات سے آنکھیں بند کر کے عقل معاد ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ دور جاہلیت کے جاہل بدوی عربوں کے معتقدات کا یورپ کے اور امریکہ کے بڑے سے بڑے فلسفیوں کے عقائد و نظریات سے مقابلہ کرو۔ تم دیکھو گے کہ ان فلسفیوں کی ذہنی سطح ان مسائل میں جاہلوں اور گنواروں سے ایک سوت برابر بھی بلند نہیں ہے۔ دونوں کی عقل معاد ایک ہی سطح پر ہے۔ فرق صرف طرزِ بیان کا ہے۔ جب عالم ہر قسم کی گمراہیوں سے پر ہو چکا۔ جب شیطان اپنا ترکش خالی کر چکا۔ جب دنیا ”ظلمات بعضها فوق بعض“ کی مصداق بن چکی تو آفتاب ختمِ نبوت طلوع اور خاتم الکتب کا مہر عالمتاب افق پر جلوہ آرا ہوا۔ خلاقِ عالم اور اس کے صفات ماوراء موت اور اس کے حالات اخلاق اور ان کے حسنات وسیئات ان میں کون سا موضوع ایسا ہے جس کے بارے میں راہِ حق قرآن وحدیث میں روشن نہ کر دی گئی ہو اور ان کے بارے میں کون سا وہ غلط اور مہلک راستہ ہے جس پر خطرے کا نشان خاتم الرسل نے نہ لگا دیا ہو۔ الہیات کے ذیل میں عقائد کا عظیم ذخیرہ آجاتا ہے جو ذات وصفات وافعالِ الہیہ پر مشتمل ہے اور اس میں ان مسائل کے بارے میں ہر اس گمراہی وضلال کی بیخ کنی کر دی گئی ہے جو عقلی طور پر ممکن ہے۔ عبادات کا شعبہ اعتقادات سے مربوط اور نور علی نور کا مصداق ہے۔ جس کی روشنی ہر باطل اور غلط امکانی طریقِ عبادت کا پردہ فریب چاک کر دیتی ہے۔ اخلاق کا معیار ایسا نمایاں اور واضح اور اس کے ضوابط واصول ایسے باطل شکن کہ اس کے مقابلے میں قیامت تک جو اخلاقی نظریہ و نظام لایا جائے گا منہ کی کھائے گا اور ذلیل وخوار ہوگا۔ معاشرت اور تہذیب بھی اخلاق سے بہت قریبی تعلق رکھتی ہے۔ اس بارے میں تعلیماتِ محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کی یہ شانِ امتیازی نمایاں ہے کہ قیامت تک کوئی غیر اسلامی تہذیب وثقافت و معاشرت اس کے اوپر منطبق نہیں ہو سکتی۔ یہ سب سے جدا گانہ اور برتر واعلیٰ ٣٥
ثابت ہوگی۔ معاملات، سیاسیات، اجتماعیات وغیرہ ہر شعبہ زندگی کا یہی حال ہے۔ ہر ایک کے متعلق قرآن میں اور سنت خاتم النبیین میں ایسے اصول وضوابط بیان فرما دیئے گئے ہیں جو قیام قیامت تک رہنمائی کے لئے بالکل کافی اور وافی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایسے معیار ہمارے ہاتھ میں دیئے گئے ہیں۔ جن سے ہم قیامت تک ہونے والے ہر نظام کی صحت و غلطی معلوم کر سکتے ہیں۔
غرض یہ کہ دین کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جسے خاتم المرسلین ﷺ نے ناقص چھوڑا ہو یا جس میں کسی ترمیم وتنسیخ کی گنجائش ہو۔ بلکہ ہر شعبہ کامل ومکمل اور ہر زمانہ کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہے۔ اس کے بعد کسی نبی ورسول کی بعثت بالکل بیکار ہو جاتی ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی جدید پیغمبر کا آنا بالکل بے معنی اور بے ضرورت ہو جاتا ہے۔ یہی معنی ختم نبوت کے ہیں۔
تیسرا زاویہ
تاریخ کی رفاقت میں ماضی کا سفر اگرچہ بہت دور تک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ تھوڑا ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد صعوبت سفر اس رفیق کو رفاقت سے روک دیتی ہے۔ مگر باوجود اس کے یہ سفر دلچسپ بھی ہے اور مفید بھی۔ ایک مرتبہ اس رفیق کو لے کر ماضی میں جہاں تک ممکن ہو پہنچئے اور آخری منزل سے پھر حال تک مراجعت فرمائیے۔ اس سفر کی انتہاء جس قلمرو پر ہوگی وہاں سے واپسی میں پہلی منزل جذبات کی آئے گی اور آخری عقلیت کی۔
اجتماع انسانی پر ان تینوں قوتوں یعنی حواس، جذبات اور عقل کا باری باری غلبہ ہر اس شخص کے سامنے واضح ہو سکتا ہے جو تاریخ عالم کا مطالعہ ذرا غائر نظر سے کرے اور اسے محض حوادث کے ایک سلسلہ کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے اس نظر سے دیکھے کہ اس کے کس دور میں حیات اجتماعی کا رخ متعین کرنے کا کام بحیثیت مجموعی اغلب و اکثر کے اعتبار سے انسان کی کس فطری قوت وطاقت کے ہاتھ میں رہا ہے۔
تمدن کی ابتدائی حالت میں انسان کی سب سے زیادہ رہنمائی اس کے حواس ظاہرہ نے کی۔ اس کا مظاہر فطرت سے واسطہ تھا اور ان کی تاثیر سب سے پہلے حواس پر ہوئی تھی۔ اولین تاثیر اور شدت کے ساتھ عقل ابھی شیر خوار تھی۔ اس جواب پر کیسے قابو پاسکتی تھی۔ علاوہ بریں اجتماعی حافظہ حواس کے ذریعہ معلومات کی ذخیرہ اندوزی میں مصروف تھا۔ تاکہ عقل انسانی کا
٣٦
افلاس دور ہوا، اور وہ اس سرمایہ معلومات کو تفکر و استدلال کے کاروبار میں لگا کر منافع حاصل کر سکے۔ ان اسباب نے بعض غلطیوں سے مل کر دینی زندگی میں بھی انسان کو اس مغالطہ میں مبتلا کر دیا کہ محسوسات ہی حقائق ہیں۔ عقل وخرد نے حواس کے سامنے سپر ڈال دی اور حواس جو دنیوی زندگی کے رہنما تھے۔ دینی زندگی کے لئے رہزن بن گئے۔
دوسرا دور جذبات کے شباب کا ہے۔ عقل اجتماعی پوری طاقت نہیں حاصل کر سکی تھی کہ جذبات اس سے بہت زیادہ طاقتور ہوگئے اور اس پر حکمرانی کرنے لگے۔ محبت، عداوت، عظمت، دہشت، مسرت وغیرہ جذبات عقل خالص پر غالب اور فہم اجتماعی کے رہنما بن گئے۔ یہ بھی طبعی بات تھی۔ جذبات کی قوت نمو، عقل و فہم کی قوت نمو سے طبعاً بہت زائد اور قوی تر ہے۔ پھر کیا تعجب ہے کہ جو اس دور میں بنی نوع انسان کی دینی گمراہی بھی سب سے زیادہ اسی بے پناہ قوت کی رہین منت ہو۔
تیسرا دور محض تخیل کی نظر سے بہت مبارک دکھائی دے گا۔ کیونکہ دور عقلیت کے معنی ہی یہ ہیں کہ نوع انسانی کی اجتماعی زندگی میں عقل و فہم کا سکہ رواں ہو۔ کاش ایسا ہوتا ! مگر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک دینی زندگی کا تعلق ہے۔ اس دور کو اس کا بدترین دور کہا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل و خرد نے حواس و جذبات کے مقابلہ سے پریشان ہو کر ان پر غلبہ حاصل کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا اور اس کے بجائے مصالحت کی راہ اختیار کی۔ شرائط صلح کچھ نامناسب طے پائے۔ جن کی پابندی نے عقل و فہم کو بڑی حد تک جذبات و حواس کا محکوم بنا دیا اور اس کے بدلے میں صرف محسوسات و وجدانات کا خراج قبول کر لیا۔ یہ دور آج بھی موجود ہے اور دنیا کی زندگی کا آخری دور ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ انسان کی سب فطری قوتیں اجتماع زندگی پر باری باری حکمرانی کر چکی ہیں۔ عقل کے بعد کوئی ایسی قوت باقی نہیں رہی جو اس کی جانشینی کی مستحق ہو۔
عقلیت کی خصوصیت اس کے نام سے ظاہر ہے۔ ہمیں صرف دینی زندگی سے بحث ہے۔ اس پر اس کے اثرات دو لفظوں میں ظاہر کر سکتے ہیں۔ یعنی ہدایت و ضلال دونوں چیزیں عقل ہی کی راہ سے نفس انسان تک پہنچتی ہیں۔
تاریخ کی یہ سہ گانہ تقسیم تاریخ یونان میں خوب نمایاں ہے۔ اس کے زمانہ ماقبل تاریخ میں جن بتوں کی پرستش ہوتی تھی۔ وہ سب مظاہر فطرت کے نمائندے سمجھے جاتے تھے۔ مثلاً
٣٧
زئیس کو کرہ ہوائی کا حاکم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اپالو سورج اور پواسی ڈن سمندر اور جنگلوں کا نفسیاتی نظر دیکھ سکتی ہے کہ ان کی تہ میں حواس ظاہرہ سے محسوس ہونے والے مظاہر فطرت سے تاثیر کام کر رہا ہے۔ لیکن چند صدیوں بعد اسی یونان کے معبودوں میں ہم کیوپڈ عشق و محبت کے دیوتا، ہائجییا صحت و تندرستی کی دیوی اور انہیں کی طرح جذبات و کیفیات کے نفسی دیوتاؤں اور دیویوں کا اضافہ پاتے ہیں۔ پہلا دور حسیت کا تھا تو دوسرا جذباتیت کا ، سقراط ، ارسطو ، افلاطون وغیرہ تک پہنچنے سے پہلے ہی عقلیت کا دور شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ شرک کی فلسفیانہ شکلیں سامنے آنے لگیں۔ مثلاً دیوتاؤں کی جگہ عقول مجردہ اور نفوس افلاک نے لے لی اور الہ حق کو چھوڑ کر ان لوگوں نے ان عقول ونفوس کو کارساز عالم سمجھ لیا۔ یہ بھی شرک تھا۔ مگر ایسا شرک جس پر عقلیت کا نظر فریب ملمع کر دیا گیا تھا اور جسے عقل کی گمراہی نے پیدا کیا تھا۔ غالباً رواقین کا ظہور بھی حسیت و جذباتیت کے خلاف عقل کی بغاوت کا رہین منت تھا۔ مصر، ہندوستان، چین، یورپ وغیرہ کی تاریخ دیکھئے تو وہاں بھی آپ کو اس کے یہی تین حصے ملیں گے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ دنیا کے ہر ملک یا اس کی ہر قوم میں یہ ادوار ثلاثہ بالکل متوازی طور پر پائے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ مختلف اقوام وممالک میں ان کے زمانے مختلف ہوں۔ اس طرح یہ بھی واضح رہنا چاہئے کہ ان میں سے لاحق دور سابق دور کو کلیتہً فنا نہیں کر سکا۔ جذباتیت نے حسیت کو مغلوب کر کے اپنا سکہ رواں کیا۔ مگر حسیت بھی باقی رہی۔ اسی طرح عقلیت نے ان دونوں سے مصالحت کرلی۔ چنانچہ دور عقلیت میں تینوں قسم کی گمراہیاں جمع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ آج بھی آپ تینوں کو موجود پاتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر دوسرے دور میں ضلال بسیط نے ضلال مرکب کی صورت اختیار کر لی۔ یہ بات بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ ہم نے ادوار ثلاثہ کی گمراہیوں کا تذکرہ صرف عبادت یا اعتقاد الہ کے بارے میں محض بطور نمونہ کیا ہے۔ ورنہ زندگی کے ہر شعبہ مثلاً اخلاقیات ، معاشرت، تہذیب وغیرہ سب ہی اس کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
تاریخ کے ادوار ثلاثہ میں سے ہر دور میں انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور انہوں نے ان قوائے ثلاثہ کے حدود متعین کئے۔ ان کے زیغ وضلال سے آگاہ کیا۔ ان کے حد سے گزرے ہوئے اقتدار پر ضرب لگائی اور اس ناجائز اقتدار کے ہولناک نتائج سے آگاہ کر کے ان سے اور ان کے اسباب یعنی ان امراض روحانی اور ان کے علاج کی تعلیم دی جو ان قوتوں کے بے
٣٨
محل اور ناروا اقتدار وتسلط سے خاتم المرسلین ﷺ تاریخ میں ممتاز اور نمایاں موجود تھیں اور پورے شباب بھی اپنے نقطہ عروج (climax) اس طرح کہ اپنی کابینہ میں کرنے کے بجائے ان کی ا سید المرسلین ﷺ ونہج سے آگاہ کیا۔ ان کی غ ترکیب کی غلطیوں پر بھی م دی جو مزاج صالح کو وجود م ہیں۔ اس کے بعد زیغ وض کوئی ایسی قسم نہیں باقی رہتی کیونکہ ان تین کے علاوہ کو کی دعویدار ہو۔ ظاہر بات ہ کے ماتحت داخل نہ ہو اور ن ہو۔ اسی طرح ان کے مقابل جاتی ہے جس کی تعلیم کے ب کے بعد کسی نبی ورسول کی ض کرنے کے لئے تعلیمات ن پھیلا کر اور ان کا نفاذ کر ک کی روشنی میں ہر زمانہ میں م کر لیجئے کہ بلا ضرورت بع اور سفیہانہ فعل ہے۔ بصور آنحضور ﷺ کے بعد کسی ن
محل اور ناروا اقتدار و تسلط سے پیدا ہوئے ہیں یا خود اس ناروا اقتدار کا سبب بن جاتے ہیں۔
خاتم المرسلین محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ایک مخصوص دور میں ہوئی جو عالم کی پوری تاریخ میں ممتاز اور نمایاں ہے۔ اس دور میں ایک طرف تینوں قسم کی گمراہیاں بسیط صورت میں موجود تھیں اور پورے شباب پر تھیں۔ دوسری طرف ان کی ترکیب سے پیدا ہونے والی گمراہیاں بھی اپنے نقطۂ عروج (Climax) تک پہنچ چکی تھیں۔ عقل میدان میں فاتحانہ داخل ہوئی۔ مگر اس طرح کہ اپنی کابینہ میں جذبات و احساسات کو بہت نمایاں اور اہم حصہ دیا اور ان پر حکومت کرنے کے بجائے ان کی وکالت کرنے لگی۔
سید المرسلین ﷺ نے ان تینوں قوتوں کے درجات و حدود متعین کئے۔ ان کے حسن و قبح سے آگاہ کیا۔ ان کی گمراہیوں اور ان کے ہولناک نتائج سے مطلع کیا۔ یہی نہیں بلکہ ان کی ترکیب کی غلطیوں پر بھی مطلع فرمایا۔ نفس انسانی میں ان کی ترکیب میں ان کے صحیح تناسب کی تعلیم دی جو مزاج صالح کو وجود میں لائے اور ان غیر مناسب ترکیبوں پر متنبہ کیا جو فاسد مزاج پیدا کرتی ہیں۔ اس کے بعد زیغ و ضلال کفر و الحاد، بد اخلاقی و بے راہ روی کی کوئی نوع اور ہدایت و رشد کی کوئی ایسی قسم نہیں باقی رہتی۔ جس کے واضح کرنے کے لئے کسی دوسرے نبی کی بعثت ضروری ہو۔ کیونکہ ان تین کے علاوہ کوئی چوتھی قوت انسان کو نہیں ملی ہے جو اس کے کاروان حیات کی رہنمائی کی دعویدار ہو۔ ظاہر بات ہے کہ ان اصول ضلال کے بعد کون سی گمراہی ایسی باقی رہتی ہے جو ان کے ماتحت داخل نہ ہو اور جس سے نجات دلانے کے لئے کسی نبی کے مبعوث ہونے کی حاجت ہو۔ اسی طرح ان کے مقابلہ میں ہدایت و رشد کے اصول بتانے کے بعد ان کی کون سی قسم ایسی رہ جاتی ہے جس کی تعلیم کے لئے کسی نبی کی بعثت ناگزیر ہو؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی و رسول کی بعثت کی حاجت نہیں ہے۔ بلکہ قیامت تک ہر گمراہی سے نجات حاصل کرنے کے لئے تعلیمات محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کافی ہیں۔ افراد امت ان اصول و تعلیمات کو پھیلا کر اور ان کا نفاذ کر کے قیامت تک ہر گمراہی و ضلال کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور ہر شخص ان اصول کی روشنی میں ہر زمانہ میں حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے راستہ پر چل سکتا ہے۔ اس اصول کو پھر یاد کر لیجئے کہ بلا ضرورت سلسلۂ نبوت کے جاری رہنے کا قائل ہونا فطرت انسانی کے بالکل خلاف اور سفیہانہ فعل ہے۔ بطور نتیجہ صریح ہم یہ عقیدہ رکھنے پر مجبور ہیں کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آنحضور ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت تا قیامت تک نہیں ہو سکتی۔
٣٩
باب دوم ....... ختم نبوت کی ضرورت و مصلحت
نبوت کی برکت کا اقرار کرنے کے بعد ختم نبوت کی برکتوں سے ناواقفیت، درحقیقت خود نبوت کی برکتوں سے جہالت کے مرادف ہے۔ نبوت رسالت منبع برکات وانوار مگر ختم نبوت اس کا تمام وکمال ہے۔ اگر نبوت ختم نہ ہوتی تو اس کے معنی یہ تھے کہ برکات نبوت بھی کمال کو نہ پہنچتے اور نوع انسانی کبھی اس کے اعلیٰ مدارج کو نہ پاسکتی۔
اگر عالم دائمی اور ابدی نہیں اور یقیناً نہیں ہے۔ اگر اس خاکدان کا خاک میں بھی ملنا لابدی ہے اور قطعاً لابدی ہے۔ اگر قیامت کا آنا برحق ہے اور بیشک برحق ہے تو نبوت کا ختم ہونا بھی یقینی، قطعی، لابدی اور ناگزیر ہے۔ کوئی احمق ہی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ جب حضرت اسرائیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دیا جائے گا اس وقت بھی کوئی نبی مبعوث ہوگا۔ اس وقت سے پہلے جس نبی کو فرض کرو گے کیا اسے خاتم النبیین نہ کہو گے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ ختم نبوت ایک ناگزیر شئے ہے۔ جس کا ہونا اسی طرح لازم اور ضروری ہے جس طرح آج کے بعد کل کا منکرین ختم نبوت کو بھی بالآخر ختم نبوت کا قائل ہونا پڑے گا۔ مگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ ختم نبوت یعنی نبوت کے اعلیٰ ترین درجہ کے برکات وانوار سے فائدہ اٹھانے والا کوئی نہ ہو یا ہوں تو بہت قلیل اشخاص، بخلاف اس کے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس نعمت عظمیٰ اور حق تعالیٰ کی رحمت کاملہ سے فائدہ اٹھانے والے نوع انسانی کے کثیر افراد ہوں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کیا جائے۔ ارحم الراحمین کی رحمت کا تقاضہ یہی ہے کہ نوع انسانی کے کثیر افراد کو ایک طویل مدت تک نبوت ورسالت کے اعلیٰ ترین برکات سے فیضیاب ہونے کا موقع دیا جائے۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم نہ ہو جاتی تو اس کا موقع دنیا کو کس طرح اور کب ملتا؟ اور نوع انسانی کا یہ انتہائی عروج روحانی عملی صورت میں کیسے جلوہ گر ہوتا؟
نوع انسانی کے ارتقاء روحانی کی آخری منزل نبوت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو جو شرف عطا فرمایا گیا تھا وہ ان کی ذات کے لئے محدود نہ تھا۔ بلکہ ان کے واسطے سے اور طفیلی کی حیثیت سے پوری نوع انسانی بحیثیت مجموعی اس شرف عظیم سے مشرف ہوئی۔ اس شرف وعظمت کو سمجھنے کے لئے اس مثال پر غور کیجئے کہ کسی قوم میں چند ناموروں کا پیدا ہو جانا پوری قوم کے وقار میں اضافہ کر دیتا ہے اور اسے نامور قوم بنا دیتا ہے۔ کیا جرمنی کا ہر شخص لبنز اور آئن سٹائن ہوتا ہے؟ لیکن اس قسم کے چند جرمن نژاد اعلیٰ پایہ کے سائنسدانوں نے جرمنی کے سائنسدانی کے شہرہ آفاق میں پھیلا دیا اور پوری جرمن قوم کو نامور وممتاز بنا دیا۔
٤٠
اسی طرح انبیاء و مرسلین ہی کی ذوات قدسیہ ہیں۔ جنہوں نے اپنے وجود سے پوری نسل انسانی کے سر پر تاج کرامت رکھا۔ وہ انسانیت کا جوہر اور نوع انسانی کا شرف ہیں۔ اس فیض رسانی اور تقسیم شرف و کرامت میں سب انبیاء شریک و سہیم ہیں۔ ہر نبی انسانیت کے سرتاج اور اس کی حیات حقیقی کا منبع ہے۔ لیکن کتاب الٰہی ناطق ہے۔ ”تلك الرسل فضلنا بعضهم علی بعض (البقرة:٢٥٣)“ ”ان رسولوں میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔“
اس لئے تسلیم کرنا پڑے گا کہ عظمت و فضیلت کے لحاظ سے ان کامل انسانوں اور عظیم شخصیتوں میں باہم فرق مراتب ہے اور اسی فرق کے تناسب سے ان کی فیض رسانی کے مدارج میں بھی فرق کرنا پڑے گا۔
مراتب و مدارج کا یہ فرق اشارہ کر رہا ہے کہ جس طرح نوع انسانی کے شرف کی تکمیل مرتبہ نبوت سے کی گئی۔ اسی طرح کمال نبوت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ختم نبوت کو بنایا گیا۔ ہر نبی کامل تھے لیکن کمال نبوت کے سامنے بھی منازل ارتقاء تھے اور اسے ایک فرد اکمل تک پہنچنا تھا اور یہ فرد اکمل و اعظم خاتم النبیین کے نام سے موسوم ہے۔
ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ختم نبوت ایک ناگزیر اور لابدی شئے ہے۔ سلسلۂ نبوت و رسالت کو لا انتہاء نہیں فرض کیا جاسکتا۔ کسی نہ کسی کو تو خاتم النبیین تسلیم کرنا ہی پڑے۔ خواہ اس کی شخصیت جو بھی فرض کی جائے اور اس کے لئے عمر عالم کا جو بھی حصہ تجویز کیا جائے۔ یہ بھی لازم ہے کہ جسے خاتم النبیین کہا جائے اسے کمالات نبوت و رسالت کا اعلیٰ ترین فرد سمجھا جائے اور نوع انسانی کے لئے اس کے فیوض و برکات کو بہترین اور اعلیٰ ترین فیوض و برکات تصور کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس نبی اکمل کے ذریعہ سے نوع انسانی کو بحیثیت نوع جو کمالات روحانیہ حاصل ہوں گے۔ ان کی نظیر امم سابقہ میں مفقود ہوگی۔ پھر کیا یہ ضروری نہیں کہ ان بے نظیر کمالات سے نوع انسانی کے انتفاع استفادے کی مدت طویل ہو تا کہ کثیر سے کثیر افراد ان کمالات سے مستفید ہو کر روحانیت و انسانیت کے اعلیٰ مدارج حاصل کر سکیں اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس حد تک قرب الٰہی کے منازل ارتقاء طے کر سکیں۔ جس حد تک کوئی امتی پہنچ سکتا ہے۔
اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ سلسلۂ نبوت قیامت تک جاری رہے گا تو خاتم النبیین کو عمر
٤١
عالم کے آخری حصہ میں فرض کرنا پڑے گا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ بنی نوع انسان کی ایک بہت ہی قلیل تعداد اس نعمت عظمیٰ سے بہرہ یاب ہوسکے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ شئے نوع انسانی کی مصلحت کے بالکل خلاف اور ارحم الرحمین کی رحمت سے بعید ہے۔
بے شک عقل یہ بات بتانے سے بالکل قاصر ہے کہ فلاں وقت پر نبی کو مبعوث ہونا چاہئے۔ لیکن نبی کی بعثت کے بعد عقل اس حقیقت کا ادراک کرسکتی ہے کہ فلاں نبی کی بعثت مناسب ترین وقت پر ہوئی تھی اور اس وقت کے انتخاب میں فلاں مصلحت تھی۔ اس قاعدے کے تحت ہم کہہ سکتے ہیں کہ عقلی طور پر خاتم النبیین محمدﷺ کی بعثت ایسے وقت پر ہوئی جو ختم نبوت کے لئے موزوں ترین وقت تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب انسانیت عقلی اعتبار سے حالت بلوغ کو پہنچ چکی تھی۔ بنو اسرائیل کی دینی امامت ختم ہوچکی تھی۔ مگر انبیاء بنی اسرائیل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات نے انسان کی عقل معاد (یعنی دینی امور اور آخرت کے متعلق مسائل کی فہم اور سمجھ) میں ایسی صلاحیت پیدا کردی تھی کہ وہ دین کامل کو سمجھ سکے اور اس پر عمل پیرا ہوسکے اور عقل معاش (یعنی دنیاوی امور کی سمجھ بوجھ) بھی اس درجہ پر پہنچ چکی تھی۔ جس کے بعد اس کی رفتار ارتقاء میں برابر تیزی پیدا ہوتی گئی اور وہ جمود و توقف سے حرکت و تکمیل کی طرف مائل ہورہی تھی۔ اس وقت شدید ضرورت اس بات کی تھی کہ انسان کو دین کامل کی تعلیم دی جائے تاکہ عقل معاد، عقل معاش کی رہنمائی کرتی رہے اور اسے حدود متجاوز ہونے سے محفوظ رکھے۔ اگر اس وقت نبوت ختم نہ ہو جاتی تو عقل معاد کمال کو نہ پہنچتی اور تیز رفتار عقل معاش کا ساتھ نہ دے سکتی۔ جب عقل معاش کی ترقی کا کوئی نیا دروازہ کھلتا تو عقل معاد تھک کر کھڑی ہو جاتی اور اس کا ساتھ دینے کے لئے کسی نبی کا انتظار کرتی۔
نئے مسائل کے معادی پہلو بالکل تاریک رہتے۔ اس تاریکی میں عقل معاش، اس قدر دور نکل جاتی کہ عقل معاد اس کی رہنمائی کے بجائے اس کی اتباع پر مجبور ہو جاتی۔ یہ حالت انسانیت کے لئے کس قدر ہلاکت خیز ہوتی؟ اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت ختم نبوت کی وجہ سے کمالات ختم نبوت اور اس کے فیضان کے ظہور کے لئے انسان کے عقلی شباب و پیری کا پورا زمانہ ملتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ انسانی زندگی میں یہی دو زمانے بہت طویل ہوتے ہیں اور خاتم الرسل کے فیضان کے لئے ایسے طویل ہی زمانہ کی حاجت ہے۔ ابھی تو شباب بھی ختم نہیں ہوا ۔ اس وقت ختم نبوت کے بارے میں شک کرنا بالکل ہی بے معنی ہے۔
٤٢
ختم نبوت اور عقل معاش کا ارتقاء
حضرت آدم علیہ السلام سے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ تک تاریخ عالم میں دینی و مذہبی ابواب تو بکثرت ہیں۔ یہاں تک کہ (جیسا کہ باب اوّل میں ثابت کیا جا چکا ہے) باطل ادیان و مذاہب کی عقلاً جتنی صورتیں نکل سکتی تھیں۔ وہ سب بعثت محمدی ﷺ تک ختم ہو چکی تھیں اور عالم کو ایسے حق کا انتظار تھا جس کی روشنی ہر قسم کے باطل کی تاریکی دور کر دے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ عقل معاد اپنے انتہائی عروج و کمال کی طالب اور انسانیت کو اس کے کمال کی سخت احتیاج تھی۔
لیکن عقل معاش نے اس وقت تک موجودہ دور کے لحاظ سے بہت کم مدارج ارتقاء طے کئے تھے۔ یہ صحیح ہے کہ انسانیت دنیاوی فہم و فراست کے لحاظ سے بھی سن بلوغ کو پہنچ چکی تھی۔ لیکن یہ اس کے بلوغ کا بالکل ابتدائی دور تھا۔ دور شباب ابھی دور تھا، غور کیجئے کہ اٹھارویں صدی عیسوی سے بیسویں صدی تک عقل معاش نے جس قدر ترقی کی ہے۔ اس کا سواں حصہ بھی اس سے پیشتر نہ حاصل کر سکی۔ ان دو ڈھائی صدیوں کے ارتقاء عقل معاش سے اس سے پہلے کی ترقی کو کوئی نسبت بھی ہے؟
نکتہ یہ ہے کہ علوم معاش کی رفتار ارتقاء اس وقت تک تیز نہیں ہو سکتی تھی۔ جب تک علوم معاد اپنے عروج و کمال کو نہ پہنچ جائیں۔ جس طرح ایک انسانی فرد کی سب طبعی قوتیں متوازی طور پر ایک ساتھ ترقی نہیں کرتیں۔ مثلاً پہلے انسان کا ذہنی نشوونما ایک خاص درجہ کمال کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی قوت تولید نسل ترقی کرتی ہے۔ جسے عرف عام میں بلوغ کہتے ہیں۔ یہ بلوغ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک قوائے ذہنیہ عقلیہ ایک درجہ تک ترقی نہ کر جائیں۔ جس کے بعد وہ صرف معلومات و تجربات کی غذا سے ترقی کرتے ہیں۔ خود ان کا ذاتی نشوونما رک جاتا ہے۔ جب تک عقل اس درجہ تک پہنچ نہ جائے۔ اس وقت تک اس میں قوت تولید نسل نہیں پیدا کی جاتی۔ اسی لئے بلوغ کو کمال عقل کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا اور بلوغ عقل سے پہلے بلوغ عرقی شروع ہو جاتا تو ایسا شخص عموماً فہم کی خامی اور عقل و خرد کی کوتاہی میں مبتلا ہوتا اور یہ کمزوری عمر بھر رفع نہ ہوتی۔ اس قانون فطرت کا دوسرا مظہر خود قوائے عقلیہ ہی کی ترقی کا فطری منہاج ہے۔ بچپن میں معلومات کی ساری غذا قوت حافظہ کے حصے میں آتی ہے اور متخیلہ اپنی ترقی کے لئے شباب کا انتظار کرنے پر مجبور ہے۔ بلوغ کے بعد متخیلہ کا دور عروج شروع ہو جاتا ہے۔ مگر یہ اس
٤٣٤
وقت شروع ہوتا ہے جب حافظہ اپنے نقطہ کمال پر پہنچ چکتا ہے۔ اس قانون کے ماتحت انسان کا نوعی ذہن بھی اس کا محتاج تھا کہ پہلے اس کی عقل معاد اپنے عروج و کمال کو پہنچ جائے تاکہ اس کے بعد اس کی دوسری قوت یعنی عقل معاش کو ترقی کا موقع ملے۔
خاتم النبیین ﷺ کی بعثت کے وقت انسان کے ذہن نوعی میں پوری صلاحیت اس چیز کی پیدا ہو چکی تھی کہ وہ اعلیٰ علوم معاد میں کمال حاصل کر سکے اور اس کی عقل معاد درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بالکل تیار ہو چکی تھی۔ معلم اعظم رسول اکرم ﷺ نے آکر اپنی تعلیم سے اسے درجہ کمال عطا فرمایا اور ایسے علوم حقہ ربانیہ سے بھر دیا۔ جس کی طلب و صلاحیت اس میں پورے طور پر پیدا ہو چکی تھی۔ ایک نابالغ بچہ ازدواجی تعلقات کے متعلق مسائل کو بالکل نہیں سمجھ سکتا۔ بلوغ کے بعد ان کے سمجھنے کی صلاحیت کاملہ پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اس موضوع کے متعلق طب یا حیاتیات یا نفسیات کے مسائل خود بخود سمجھنے لگتا ہے۔ بلکہ اس صلاحیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے یہ مسائل سمجھائے جائیں تو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اگر نہ سمجھائے جائیں تو ان سے ناواقف رہے گا۔
اس مثال سے مندرجہ بالا بیان عیاں ہے۔ نبی کریم ﷺ کے دور اقدس میں عقل معاد شباب کو پہنچ چکی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں پوری پوری صلاحیت معادی مسائل کو سمجھنے کی پیدا ہو گئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ خاتم النبیین کے علوم ربانیہ کو خوب سمجھ سکتا تھا۔ اگر انسان کی صلاحیت کامل نہ ہوتی تو وہ علوم ختم نبوت کو سمجھ نہ سکتا اور اس کا حامل نہ بن سکتا اور اگر خاتم النبیین نہ تشریف لاتے تو عقل معاد کامل نہ ہو سکتی بلکہ علوم حقیقیہ سے محروم رہنا اس کے لئے لازم ہوتا اور حق یہ ہے کہ اگر انسانیت میں علوم ختم نبوت کی صلاحیت کاملہ موجود نہ ہوتی تو خاتم النبیین کی بعثت ہی نہ ہوتی اور عقل معاش کی ترقی کا دور بھی شروع نہ ہوتا۔ کیونکہ نوع انسانی اپنے نوع ذہن کی ایک قوت کی تکمیل میں مصروف رہتی اور اس کی تکمیل کے بغیر دوسرے قوت یعنی عقل معاش کی تکمیل نہ مصروف ہو سکتی۔
اس نظریہ کی مزید وضاحت کے لئے اس تاریخ اور واقعی حقیقت پر غور کیجئے کہ بعثت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ سے پہلے بلکہ آنحضور ﷺ کے زمانہ تک دنیا کی صاحب فکر ذہن اور ترقی یافتہ قوموں میں سب سے زیادہ جس علم کا رواج اور چرچا ملتا ہے وہ الٰہیات اور اخلاقیات ہے۔
٤٤
خواہ وہ فلسفہ کی صورت میں ہو یا دینیات کی شکل میں ۔ مابعد الطبعیات کو جو اہمیت دی گئی ۔ اس کی نصف بھی اس کی کسی شاخ کو حاصل نہ ہوئی۔ مگر باوجود دقیقہ رس عقل و فہم کے ان قوموں میں سائنس کا نام بھی نہیں ملتا۔ کیا یہ اس کی علامت نہیں کہ نوع انسانی کی عقل معاد اپنی بالیدگی پر تھی تو اس کی عقل معاش کا نشوونما رکا ہوا تھا۔ انسان مادی علوم کا پیاسا تھا اور ان سے سیراب ہونا چاہتا تھا۔ لیکن علوم معاش کی پیاس اس میں اس شدت کے ساتھ نہیں پیدا ہوئی تھی۔ خاتم النبیین نے تشریف لاکر آب حیات سے اسے سیراب کیا۔ جس نے پیا اس کی عقل معاد کمال کو پہنچی۔ جس نے اس سے روگردانی کی اس کی عقل معاد سراب سے دھوکہ کھا کر ہلاک ہوئی اور محروم کمال رہی۔ یہ تقسیم افراد کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ انسان بحیثیت نوع کی عقل معاد خاتم النبیین کی تعلیمات سے ترتیب پا کر بام عروج و کمال پر پہنچی۔ اس کی تکمیل کے بعد نوع کی عقل معاش میں بھی نشوونما اور بلوغ کے آثار پیدا ہوئے۔ تا آنکہ اس کی رفتار ترقی روز بروز تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ اگر ختم نبوت سے عقل معاد کی تکمیل نہ ہو گئی ہوتی تو عقل معاش ہر گز میدان ترقی میں گامزن نہ ہوتی۔
یہ بھاپ اور برق کی قوتوں کی دریافت، یہ بحر و بر کی تسخیر، یہ دوش ہوا کی سواری، یہ ذرات و توانائی کے حیرت خیز آثار، یہ صوت وصورت کے محیر العقول شاہکار، یہ عجیب و غریب ایجادات واختراعات، عقل معاش کے تعجب خیز ارتقاء کے بدیہی آثار و دلائل ہیں۔ لیکن سب در حقیقت ختم نبوت کے طفیل میں دنیا نے حاصل کئے ہیں۔ اگر نبوت ختم نہ ہوتی، اگر محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی و رسول نہ ہوتے۔ جن کی تعلیمات اور جن کے فیوض و برکات نے عقل معاد کی تکمیل فرمائی۔ علوم معاد کو ان کے انتہائی عروج پر پہنچایا اور نوع انسانی کو اپنی دوسری قوت کی طرف متوجہ ہونے کے لئے اس طرف سے مطمئن و فارغ کر دیا تو ہرگز ہرگز ان ترقیات کا نام ونشان بھی نہ ہوتا۔ بے شک محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی نبی و رسول کی بعثت نہ ہوئی ہے نہ کبھی ہوگی۔
ابتلاء عظیم سے حفاظت
قرآن مجید نے امم سابقہ کے حالات کو عبرت و نصیحت کے لئے بیان فرمایا ہے۔ عاد وثمود، اصحاب الایکہ، قوم تبع وغیرہ بہت سی قومیں اور امتیں عذاب الہی میں گرفتار ہو کر صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح محو کر دی گئیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ان کی تباہی کا راز کیا تھا ؟ شرک وکفر ؟
٤٥
نہیں! اس کی سزا کا مقام آخرت ہے اور علیم وحلیم رب العالمین صدیوں تک اس جرم کی دنیاوی سزا نہیں دیتے۔ آج دنیا میں اس جرم کی کتنی کثرت ہے۔ مگر مجرم قومیں تباہی و بربادی اور مکمل استیصال سے محفوظ ہیں۔ پھر کیا فسق و فجور؟ یہ بھی نہیں! کیا آج فاسق و فاجر قومیں دنیاوی عیش و عشرت سے بہرہ یاب نہیں؟ اور کیا صدیوں سے ارتکاب جرائم کرنے کے بعد بھی ابھی تک مٹنے سے محفوظ نہیں؟ جس شخص کو حق تعالیٰ نے اپنی کتاب کا ذرا بھی ذوق عطا فرمایا ہے وہ بہت آسانی سے معلوم کر سکتا ہے کہ جن امم سابقہ پر ہلاکت و بربادی نازل ہوئی وہ وہی تھیں جنہوں نے انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کو دیکھا۔ مگر ان کی دعوت کو ٹھکرایا ان کی بات کو جھٹلایا ان کی شان میں بے ادبیاں کیں اور ان کے دل کو توڑا۔
یہ واقعہ قرآن مجید کے عبرت خیز و حکمت آمیز قصص میں روح مشترک کا درجہ رکھتا ہے اور اس چیز کو روشن کر رہا ہے کہ بے شک انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کا تشریف لانا انسانیت کے لئے ہزاروں رحمتوں اور برکتوں کا سبب ہے۔ لیکن دوسری طرف سخت امتحان، شدید آزمائش اور ابتلاء عظیم بھی ہے۔
باران رحمت، مردہ زمین کی حیات اور روح شجر و نبات ہے۔ مگر اسی کے ساتھ کمزور پودوں کے لئے باعث ممات بھی، نجوم ہدایت کا طلوع تنویر بصر و بصیرت کا سبب، مگر خیرہ چشموں کی خیرگی اور بیمار دلوں کی موت کا بھی باعث ہے۔ نبی کا دیدار ایمان والوں کے لئے قرب الٰہی کا اقرب ترین راستہ، مگر منکروں کے لئے حجت الٰہی کا اتمام ہونا عذاب الیم کا پیام۔
اگر محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت و رسالت ختم نہ ہوگئی ہوتی اور سلسلۂ نبوت جاری رہتا جیسا کہ امم سابقہ میں رہا تو امت محمدیہ علیہا الف الف تحیۃ ہر نبی کی بعثت کے وقت سخت امتحان وابتلاء کے دور سے گزرتی۔ بار بار اس کے سامنے ایمان و کفر کا سوال پیدا ہوتا۔ کسی نبی سے انکار کے معنی سب انبیاء کے انکار کے ہیں۔ اس لئے بہت سے ایسے ہوتے جو ایک لمحہ میں عمر بھر کی دینی کمائی کھو بیٹھتے اور عبادات اور ریاضت کے باوجود عذاب دائمی کے مستحق ٹھہرتے۔
حق تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے ”رحمۃ للعالمین“ کی امت کو اس ابتلاء عظیم اور پر خطر امتحانوں سے محفوظ رکھا اور سید المرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کو خاتم النبیین کا مرتبہ عطا فرما کر سلسلۂ نبوت کو آنحضور ﷺ کے بعد بند فرما دیا حق تعالیٰ کا یہ احسان عظیم اسی امت پر ہے جس کا
٤٦
زیادہ سے زیادہ شکر بھی کم سے کم انسانی سے باہر اور غیر ممکن ہے۔ منکرین ختم نبوت، ا عظیم کی قدر کرنے کے بجائے سلسل وابتلاء کے طالب ہیں۔ جس سے کے معنی عذاب دائمی میں مبتلا ہو بریں
عقل معاد کا ارتقاء
ایک ڈاکٹر کسی میڈیکل کا نہیں ملتا کہ وہ آزادی کے ساتھ رائے ہے؟ میرے خیال میں اس کتنا ہی ممتاز کیوں نہ ہو۔ عملی اعتبا اساتذہ کی امداد و مشاورت سے بے مبتدی ہونے کا احساس ہوگا۔ ایک مگر تجربہ اس سے زائد رکھتا ہو اس ڈاکٹری ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہو جو عملی پہلو بھی رکھتا ہو ان کا یہی پر آزادی کے ساتھ منطبق نہ کریں سکتے۔ اس قسم کے حصول کمال میں ہر تفریح کو بہت بڑا دخل ہے۔ اس اس اصول کی روشنی میں آتی ہے۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ حجۃ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی آخری ارتقائی درجات کے دو چار زینہ
زیادہ سے زیادہ شکر بھی کم سے کم ہے اور اس کے شکر واجب کا کروڑوں حصہ ادا کرنا بھی طاقت انسانی سے باہر اور غیرممکن ہے۔
منکرین ختم نبوت، احسان فراموش، ناقدر شناس اور کافران نعمت ہیں جو اس احسان عظیم کی قدر کرنے کے بجائے سلسلۂ نبوت جاری رکھنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ گویا اس شدید امتحان و ابتلاء کے طالب ہیں۔ جس سے رب رحیم نے انہیں مستثنیٰ و محفوظ فرمادیا ہے اور جس میں ناکامی کے معنی عذاب دائمی میں مبتلا ہونے کے ہوئے۔
عقل معاد کا ارتقاء
ایک ڈاکٹر کسی میڈیکل کالج کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرتا ہے۔ مگر اسے کوئی موقع اس قسم کا نہیں ملتا کہ وہ آزادی کے ساتھ مطب کر سکے۔ ایسے ڈاکٹر کی مہارت فن کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ میرے خیال میں اس مسئلہ میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ ایسا ڈاکٹر علمی اعتبار سے خواہ کتنا ہی ممتاز کیوں نہ ہو۔ عملی اعتبار سے کوئی ترقی نہیں کرسکتا۔ جب وہ مریض کا علاج اپنے اساتذہ کی امداد و مشاورت سے بے نیاز ہوکر شروع کرے گا تو اسے اپنی مہارت کے بجائے اپنی مبتدی ہونے کا احساس ہوگا۔ ایک ایسا ڈاکٹر جو اس سے جونیئر اور بلحاظ معلومات اس سے کمتر ہو۔ مگر تجربہ اس سے زائد رکھتا ہو اس سے بہتر اور زیادہ سہولت کے ساتھ کامیاب علاج کرسکے گا۔ ڈاکٹری ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ انجینئر، وکیل، میکانک اور جن اشخاص کا مضمون کوئی ایسا علم ہو جو عملی پہلو بھی رکھتا ہو ان کا یہی حال ہوتا ہے۔ اس قسم کے اشخاص جب تک اپنے علم کو عملی مسائل پر آزادی کے ساتھ منطبق نہ کریں۔ اس وقت تک وہ اس علم میں ترقی کر کے درجۂ کمال کو نہیں پہنچ سکتے۔ اس قسم کے حصول کمال میں ذہن کی آزادی یا بالفاظ دیگر اصول کی آزادانہ تطبیق اور ان کی بنا پر تفریع کو بہت بڑا دخل ہے۔ اس لئے کہ انسان مشین نہیں۔ بلکہ ایک صاحب فکر ہستی ہے۔
اس اصول کی روشنی میں ختم نبوت انسان کی ذہنی و فکری زندگی کے لئے آب حیات نظر آتی ہے۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی نہ ہوتے اور شریعت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی آخری شریعت نہ ہوتی تو انسان کی عقل معاد جامد ہوکر رہ جاتی اور اپنے ارتقائی درجات کے دو چار زینوں سے زیادہ کبھی نہ طے کرسکتی۔
٤٧
خاتم النبیین نے جس امت کی تاسیس و تعمیر فرمائی۔ اسے اپنے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں اس ماحول سے باہر دیکھنے کی نوبت نہیں آئی جو نبی کریم ﷺ کا بنایا ہوا تھا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد فوراً ہی اسے ان ممالک و اقوام سے سابقہ پڑا جن کا ایک مخصوص تمدن تھا اور جن کے ممتاز نظریات و اصول حیات تھے۔ معتقدات و نظریات سے لے کر معاشرت و معاملات تک گویا سر سے پیر تک زندگی کے یہ نظامات امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کے لئے بالکل نئے اور اجنبی تھے۔ نبی امی ، فداہ ابی وامی نے انہیں جو ثقافت سکھائی تھی جس نظام اخلاق و معاملات کی تعلیم اور جس معاشرت و طرز حیات کی تربیت دی تھی۔ اس کی بنیاد ایمان و یقین اور تصور آخرت پر قائم تھی۔ ان کا پورا نظام حیات معاشی کے بجائے معادی تھا اور ان کے افکار و اعمال کا سرچشمہ عقل معاد تھی نہ کہ عقل معاش یہ وہ نظام زندگی اور طرز حیات تھا جو ساری دنیا میں صرف انہیں کے ساتھ مخصوص تھا۔
جن قوموں سے انہیں واسطہ پڑا تھا۔ مثلاً رومی و ایرانی، ان کا پورا نظام حیات دنیا کے محور پر گردش کر رہا تھا۔ ان کی ثقافت و تہذیب، ان کا تمدن و طرز حیات ان کے معاملات و اخلاق، ان کی معاشرت و سیاست، خلاصہ یہ کہ زندگی کا ہر پہلو تصور آخرت کے اثر سے محروم اور حب دنیا کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ ایران کے مذاہب تو سراسر فلسفے تھے۔ جنہوں نے مرور زمانہ اور دیگر اسباب کی وجہ سے دین و مذہب کی شکل اختیار کر لی تھی۔ روم مسیحیت کا حلقہ بگوش تھا۔ مگر کون مسیحیت؟ جس سے مسیح علیہ الصلوۃ والسلام بالکل بری ہیں جو وہاں پہنچ کر مسیحیت کے بجائے شرک آمیز فلسفہ مسیحیت بن چکی تھی۔ بے شک اس میں آخرت کا تصور موجود تھا۔ مگر بہت ہی مبہم بالکل غیر واضح اور بیحد دھندلا ، اسی کے ساتھ رومہ کی عملی زندگی سے اسے دور کا بھی کوئی تعلق نہ تھا۔ ان کے افکار خالص عقل معاش کے رہین منت تھے اور عقل معاد کسمپرسی کے عالم میں تھی۔ خاتم المرسلین کے اولین شاگردوں کو اس نظام حیات سے واسطہ پڑا جو ان کے نظامات حیات سے نسبت تضاد رکھتے تھے اور ان کے لئے بالکل اجنبی تھے۔ واسطہ قوموں ہی سے نہ تھا۔ بلکہ انہیں بالکل جدید اور اجنبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا حل کرنا بحیثیت ہادی اور بحیثیت حکمران ان کے اوپر واجب تھا۔ اگر نبوت ختم نہ ہو جاتی تو اس موقعہ پر مسلمان آگے بڑھنے کے بجائے ٹھٹک کر کھڑے ہو جاتے اور عقل معاد سے کام لینے کے بجائے کسی نئے نبی کے آنے کا انتظار کرتے۔ یہ ختم نبوت کا
٤٨
عقیدہ ہی تھا۔ جس نے انہیں اجتہاد واستنباط پر آمادہ کیا اور عقل معاد کی قوتوں سے کام لے کر انہوں نے دین کی بنیادوں پر ان مشکل اور اجنبی مسائل کو بہت آسانی کے ساتھ حل کر لیا۔ اس کے بعد بھی امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کو ایسے مسائل سے سابقہ پڑا۔ لیکن ہمیشہ اس کے علماء اور صلحاء نے ان مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں حل کر لیا۔ اگر نبوت ختم نہ ہو گئی ہوتی تو امت کی عقل معاد ہرگز آزادی کے ساتھ عمل نہ کر سکتی تھی۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ معطل اور جامد ہو جاتی۔ جس کے بعد اس میں انحطاط وزوال شروع ہو جاتا۔ بلکہ ممکن تھا کہ ایک طویل مدت جمود کے بعد یہ انحطاط پوری امت کو ارتداد تک پہنچا دیتا۔
امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کے سیاسی زوال کی تاریخ بہت دردناک ہے۔ مگر اس کا یہ پہلو بہت روشن ہے کہ اس نے بے کسی کے عالم میں بھی دین کو محفوظ رکھا۔ فتنہ تاتار ہسپین میں خلافت بنوامیہ کے زوال کے بعد مسلمانوں کی مظلومانہ حالت، افریقہ، ہندوستان وغیرہ میں ان کا انحطاط یہ سب اپنی جگہ ہر مسلمان کے لئے بہت ہی دردناک اور رنجیدہ واقعات ہیں۔ لیکن ان نازک حالات میں بھی مسلمان نے شریعت اسلامیہ کو کبھی خاموش نہیں پایا اور کبھی اس کی طرف سے مایوس نہیں ہوا۔ بلکہ ان سخت حالات کے احکام بھی اس کی لسان مقدس سے سنے اور ان پر عمل کر کے فائدہ اٹھایا۔ یہ صرف ختم نبوت کا کرشمہ تھا۔ اگر یہ عقیدہ نہ ہوتا اور ختم نبوت ایک حقیقت نہ ہوتی تو اس موقع پر امت اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتی۔ نئے نبی کے انتظار میں شریعت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ سے سوال ہی نہ کرتی یا سوال کرتی تو اسے ساکت وصامت اور کسی نئے نبی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاتی۔
کیا منکرین ختم نبوت، امت کو اس عظیم الشان قوت محرکہ سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ جس کی زبردست تحریک اس چیز کی ضمانت ہے کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی کبھی اس کے دینی وشرعی ذہن میں جمود وتعطل نمودار نہیں ہو سکتا۔ جو یاس وناامیدی کی تہ بہ تہ تاریکیوں میں بھی اس کی شمع امید کو روشن اور اس کے معادی ذہن و دماغ کو فکر واجتہاد کی روشنی سے منور رکھتی ہے اور جو علوم دینیہ میں اس کی بے نظیر وبے مثال ذہانت وطباعی کی روح رواں اور حل مشکلات کی بے پناہ قوت کا سرچشمہ ہے۔
نوع انسانی کا فکری ارتقاء
سند (Authority) یا دلیل (Reason) ان دونوں میں سے کون علم انسان کا
٤٩
سرچشمہ ہے؟ یہ سوال وہ سنگ میل ہے جس نے نوع انسانی کو ارتقاء فکری و ذہنی کا راستہ دکھایا۔ یہ سوال مدت دراز تک یورپ کی مذہبی، عمرانی، معاشی اور سیاسی کشمکش کی بنیاد بنا رہا۔ بالآخر دلیل کی فتح ہوئی اور سند زینت طاق نسیاں بنادی گئی۔ اسی یوم فتح کو یورپ کے ارتقاء کی فکری صبح صادق کہنا چاہئے۔
یورپ، علوم انبیاء اور ان کی نقل صحیح سے تہی دست تھا۔ کتاب الٰہی بھی اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ مگر باوجود اس تہی دستی و محرومی کے مدت دراز سے اپنی مصنوعی تقدس کی قوت سے کلیسا عوام کے ذہن کو غلط اور خلاف حقیقت اسناد کی زنجیروں میں اسیر کئے ہوئے تھا۔ اس بے جا پابندی کا ردعمل بہت شدید ہوا۔ یورپ، معاد و معاش کے درمیان اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ عقلیت کا طوفان عقل معاد کو بہا لے گیا۔ اس کی عقل معاش نے خوب ترقی کی مگر عقل معاش اس جگہ سے ایک انچ آگے نہیں بڑھی۔ جہاں زمانہ جاہلیت کے ایک بدوی عرب کی عقل و فہم تھی۔ اسلام نے یورپ کو دلیل کا راستہ دکھایا۔ مگر شاگرد نے استاد کی پوری بات نہ مانی۔ جتنی مانی اس سے آج تک فائدہ اٹھا رہا ہے۔ جس سے روگردانی کی اس سے محرومی کا خسارہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔ مگر احسان مند ہونے کے بجائے شاگرد استاد کا جانی دشمن ہو گیا اور اس کی مخالفت میں حق کا بھی مخالف ہو گیا۔
خیر اس جملہ معترضہ کو اسی جگہ چھوڑیے۔ اصل مقصود کی راہ پر قدم بڑھائیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دلیل کو دلیل راہ بنانے کا رجحان دنیا میں اس قدر تاخیر کے ساتھ کیوں پیدا ہوا؟ یہ صحیح ہے کہ تقلید کے بجائے استدلال و استنتاج اور غور و فکر کی دعوت سب سے پہلے قرآن حکیم اور محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے پیش کی گئی۔ لیکن یہ تعلیم سب انبیاء مرسلین اور سب کتب الہیہ نے دی ہے۔ ہر نبی اور ہر کتاب نے اپنے زمانہ کی قوت فکریہ کو بیدار کرنے کے لئے جھنجوڑا ہے اور فکر و استدلال کا راستہ دکھایا ہے۔ اس لئے یہ سوال بدستور باقی رہتا ہے کہ باوجود انبیاء و کتب الہیہ کی مسلسل تعلیم یہ مذاق و رجحان چند افراد یا مخصوص اقوام میں تو پیدا ہوا وہ بھی عارضی طور پر مگر عام دنیا کا رجحان بدستور دلیل و فکر کے بجائے سند پر اعتماد کرنے کی جانب رہا۔
خاتم المرسلین سے پہلے دنیا میں بہت سے انبیاء بھی تشریف لائے اور حق تعالیٰ نے ان کے توسط سے اپنی کتابیں بھی بھیجیں۔ ان کے علاوہ فلسفی، منطقی، ریاضی داں، مقنن، مفکر بھی بکثرت ہوئے۔ گویا علم کے دو سلسلہ متوازی طور پر جاری رہے۔
٥٠
تاریخ کے پردہ سیمیں پر ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ پہلے سلسلہ میں خود نبی کے زمانہ میں کبھی چند افراد اور کبھی ایک جماعت یا قوم میں تقلید محض کے بجائے اتباع دلیل کا ذوق و رجحان پیدا ہوا اور انہوں نے امور معاد کو دلیل نقلی یعنی نبی و کتاب کے ذریعہ اور معاش کو دلیل عقلی سے حاصل کرنے کو منہاج فکر قرار دیا۔ مگر نبی کا سایہ سر سے اٹھنے کے بہت تھوڑے عرصہ کے بعد یہ مذاق فاسد ہو گیا۔ معاد و معاش دونوں کے مسائل کا ماخذ رسم و رواج کو بنا لیا گیا۔ تقلید آباء و اکابران کا منہاج فکر بن گیا اور انبیاء و کتب الہیہ سے منہ پھیر کر قائدین اور پیشروؤں نیز عام قومی روایات کو علم و دانش کا سرچشمہ تسلیم کر لیا گیا۔ دین کی کشتی رسوم کے سیلاب میں بہہ گئی۔ دلیل ذلیل ہوئی اور غیر مستند سند کا دور دورہ شروع ہو گیا۔
مسیحیت نے اس جنون میں مبتلاء ہو کر معلوم نہیں کتنے صاحبان کمال کے خون میں اپنے ہاتھ رنگے۔ یہودیت کی آستین بھی اس لہو سے رنگین ہے۔ یہ نمونے ہمارے بیان کے بہت قابل اعتماد شاہد ہیں۔ تاریخ یورپ کا طالب علم ان مفکرین پر کلیسا کی چیرہ دستیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ جو اسلامی طریق سے متاثر ہو کر اپنی عقل کو دشمن عقل کلیسا کی قید سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ یہ وہ جرم عظیم تھا جسے کلیسا ناقابل عفو سمجھتا تھا۔ اس کے نزدیک سارے فسق و فجور قابل معافی تھے۔ یہاں تک کہ بے گناہوں کا قتل بھی معمولی جرم تھا۔ مگر زمین کو گول کہہ دینا یا کہکشاں کو ستاروں کا مجموعہ کہنا، ایک شیطانی تصور اور مسیحیت سے کفر و ارتداد صریح تھا۔ جس کی معافی کی کوئی صورت نہ تھی۔ مسئلہ خواہ ہیئت کا ہو یا ہندسہ کا، طبیعیات کا یا کیمیاء کا اس کے علم کا سرچشمہ کلیسا تھا۔
دوسرا سلسلہ ان لوگوں کا تھا جو اپنے علوم و افکار میں وحی ربانی اور تعلیمات انبیاء کی ہدایت سے محروم تھے۔ ان کا حال بھی وہی تھا یعنی تاریخ صرف معدودے چند افراد کو یہ سند عطاء کرتی ہے کہ انہوں نے دلیل و حجت کو دلیل راہ بنایا۔ بقیہ سب افراد بلکہ اقوام کی مسند علم کا تکیہ سند ہی پر تھا۔ فرق یہ ہے کہ مسیحی یا یہودی اپنے احبار و رہبان کے اقوال و اعمال کو معیار حق اور علم کا منبع سمجھتے تھے اور یہ لوگ سقراط، زینو، فلاطون، ارسطو، سولن وغیرہ فلسفیوں، مقننوں، لیڈروں، ہیروؤں کے اقوال کو علم و دانش گردانتے تھے اور ان کی مخالفت کو جرم عظیم سمجھتے تھے۔
یہ واقعات ہیں۔ انہیں بنظر غائر دیکھ کر آپ ان کے اسباب و علل تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہمیں یہاں جملہ علل و اسباب کا استقصاء نہیں کرنا ہے۔ صرف ایک سبب پر ہم روشنی ڈالنا چاہتے ہیں جس کا تعلق ہمارے موضوع سے ہے۔
یہ سچ ہے کہ اتباع انبیاء کے مدعیوں میں یہ غلط رجحان تعلیم انبیاء سے انحراف کا نتیجہ تھا۔
٥١
مگر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ نفسیاتی اعتبار سے اس بارے میں اس واقعہ کو بھی بہت بڑا دخل ہے کہ سلسلۂ نبوت جاری رہنے کی وجہ سے طبعاً و عادتاً وہ ہر قسم کے علم میں نبی کی تعلیم کا انتظار کرتے تھے۔ ان کی قوتِ فکریہ اس چیز کی عادی ہو گئی تھی کہ ہر قسم کا علم کسی معتمد ہستی پر اعتماد سے حاصل ہو اور قوت فکریہ پر تفحص و جستجو کا بار نہ پڑے۔
اگر نبوت ختم نہ ہو جاتی اور محمد رسول اللہ ﷺ آخری نبی و رسول کی حیثیت سے کسی دوسرے نبی کی امید منقطع کر کے دنیا کی عادتِ انتظار کو زائل نہ کر دیتے تو قیامت تک دلیل کو دلیل راہ بتانا دنیا کی سمجھ میں نہ آتا اور علم و دانش کا یہ دروازہ کبھی مفتوح نہ ہوتا۔ اگر ہوتا تو صرف اتنے دن جتنے دن کوئی نبی دنیا میں تشریف رکھتے، علم کا یہ منہاج اور فکر و دانش کا یہ راستہ جس نے ایک طرف امیوں کی عقل معاد کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ دوسری طرف عقل معاش کو راہِ ارتقاء پر گامزن کر کے اسے علوم و فنون کے قیمتی خزانوں سے مالا مال کر دیا۔ یہ خاتم النبیین، سید المرسلین محمد عربی ﷺ کا طفیل اور عقیدۂ ختم نبوت کا اثر ہے۔ اسی سچے عقیدے نے پہلے اہل اسلام خصوصاً صحابہ کرام کو سند کے موقع پر سند اور دلیل کو سرچشمۂ علم و حکمت قرار دینے پر آمادہ کیا۔ پھر ان کے اثر اور ان کی تعلیمات و طرزِ فکر کی روشنی نے غیر مسلموں کی آنکھیں بھی کھول دیں اور انہیں بھی دلیل و حجت کی راہ نظر پڑی اور علم کا وہ راستہ بھی انہیں نظر آ گیا جس سے وہ بالکل آشنا نہ تھے اور اگر دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا وجود نہ ہوتا تو قیامت تک ان کا ذہن علم و دانش کے اس راستہ تک نہ پہنچ سکتا۔ علوم و فنون ٹھٹھر کر رہ جاتے اور ارتقاء کے بامِ بلند تک ان کا پہنچنا محال ہو جاتا۔
اجتماعیات سے مناسبت
عمرانیات (SOCIOLOGY) کا طالب علم جانتا ہے کہ خاندان نے قبیلہ کی شکل اختیار کی اور قبائل نے قوم و سلطنت کی تعمیر کی تاریخ شاہد ہے کہ انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف ترقی کا رجحان نوع انسانی میں دور گذشتہ میں برابر بڑھتا رہا ہے اور نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت بھی انسانیت اسی راہ پر تیزی کے ساتھ گامزن تھی۔ لیکن اس کے بعد اس کی رفتار اور بھی تیز ہو گئی۔ یہاں تک کہ آج انسان کا رجحان اجتماعیت ایسے مقام پر ہے جہاں کوئی فرد واحد انفرادیت و علیحدگی کا تصور بھی بمشکل کر سکتا ہے یہی نہیں بلکہ کوئی قوم بھی دوسری اقوام سے علیحدگی و استغناء کا تصور نہیں کر سکتی۔ انسان کا طبعی رجحانِ اجتماع ان کا اصل سبب ہے۔ مگر تمدن کی ترقی نے اس رجحان کو دو چند قوی اور اس کی رفتار کو تیز سے تیز کر دیا۔ رسل و رسائل اور حمل و نقل کی روز افزوں سہولتوں کی وجہ سے زمین کی طنابیں کھینچ گئی ہیں اور پورا کرۂ ارض گویا ایک ملک بن چکا ہے۔
٥٢
نوع انسانی کا طبعی ر حکمت ہے کہ ختم المرسلین کی بعثت اور روز افزوں ترقی کر رہا تھا۔ اس اجتماع و اختلاط دوسرے پر اپنے اخلاق و عادات انسانی کا ایک خاص مزاج تیار ہو بھی ہو سکتا ہے اور فاسد بھی اس کی انھیں ہونے کی وجہ سے اس ا اقوام و ممالک کو ایک مرکز پر جمع کر اگر سلسلۂ نبوت جاری جاتی ۔ عقیدۂ ختم نبوت اس اجتماع لئے ایک ناگزیر شئے ہے۔ توضیح مزید یہ ہے کہ اگر آنحضور بعض لوگ اس پر ایمان لاتے اور مذکورہ اجتماعی مزاج پر اثر انداز ہو وسعت کا سہارا لیتے ۔ اس کشمکش کی
ختم نبوت یا ختم امت
امت محمدیہ علیہ التحیۃ ایران ، توران ، ایشیاء، یورپ ، ام ہے۔ یہ اس امت کی ایسی خصو مختلف المزاج اقوام کے اس قافل قدر صعوبتیں برداشت کی ہیں ۔ وادیوں کو طے کرنے کے علاوہ ڈالے گئے ہیں اور باوجو د اس کو باقی رکھا۔ وہ اپنی جگہ پر خد اور حیر خیز معجزہ بھی ہے۔ بلکہ
نوع انسانی کا طبعی رجحان اجتماع ختم نبوت کے ساتھ خاص مناسبت رکھتا ہے۔ یہی حکمت ہے کہ ختم المرسلین کی بعثت ایسے وقت میں ہوئی۔ جب یہ رجحان قوی سے قوی تر ہو چکا تھا اور روز افزوں ترقی کر رہا تھا۔
اس اجتماع واختلاط کا ایک ضروری ولابدی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کی مختلف قومیں ایک دوسرے پر اپنے اخلاق وعادات اور اپنی تہذیب وثقافت کا اثر ڈالیں اور اس تاثیر و تاثر سے نوع انسانی کا ایک خاص مزاج تیار ہو جو دنیا گیر اور سب اقوام وممالک کا مشترکہ سرمایہ ہو۔ یہ مزاج صحیح بھی ہو سکتا ہے اور فاسد بھی اس کی اصلاح کے لئے ایسے ہی نبی کی اتباع مفید ہو سکتی ہے۔ جو خاتم النبیین ہونے کی وجہ سے اس بین الاقوامی مزاج سے مناسبت رکھتا ہو اور جس کی جامعیت سب اقوام و ممالک کو ایک مرکز پر مجتمع کرنے میں معاون ثابت ہو۔
اگر سلسلۂ نبوت جاری رہتا تو ہر نبی اس مزاج پر اثر انداز ہوتا اور اس کی وحدت ختم ہو جاتی۔ عقیدۂ ختم نبوت اس اجتماعیت کے ساتھ خصوصی مناسبت رکھتا ہے اور اس کے وجود وبقا کے لئے ایک ناگزیر شئے ہے۔
توضیح مزید یہ ہے کہ اگر آنحضور ﷺ کے بعد العیاذ باللہ کوئی دوسرا نبی مبعوث ہوتا تو اس وقت کے بعض لوگ اس پر ایمان لاتے اور بعض نہ لاتے۔ منکرین بھی کتاب وسنت پر عملدرآمد کرتے اور مذکورہ اجتماعی مزاج پر اثر انداز ہو کر اسے اپنی طرف کھینچتے۔ مقرین بھی یہی کرتے۔ دونوں کتاب وسنت کا سہارا لیتے۔ اس کشمکش کی وجہ سے بین الاقوامی اجتماعی اتحاد پارہ پارہ ہو جاتا۔
ختم نبوت یا ختم امت
امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ رنگ، نسل، وطن کے قیود سے آزاد ہے۔ عرب، عجم، ایران، توران، ایشیاء، یورپ، امریکہ، دنیا کے ہر خطہ اور ہر ملک ہر رنگ اور ہر نسل کا اس سے تعلق ہے۔ یہ اس امت کی ایسی خصوصیت خاصہ ہے جو اس سے پہلے کسی امت کو نصیب نہیں ہوئی۔ مختلف المزاج اقوام کے اس قافلہ نے کتاب وسنت کو رہنما بنا کر اپنے ١٤ سو برس کے سفر میں اس قدر صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ جن کی نظیر امم سابقہ میں بحیثیت مجموعی نہیں مل سکتی۔ سنگلاخ و پر پیچ وادیوں کو طے کرنے کے علاوہ جیسے جیسے رہزنوں سے اسے واسطہ پڑا ہے اور جتنے ڈاکے اس پر ڈالے گئے ہیں اور باوجود اس کے جس طرح اس نے اپنی متاع عزیز کی حفاظت کی اور اپنے وجود کو باقی رکھا۔ وہ اپنی جگہ پر نہ صرف یہ کہ دنیا کی تاریخ میں بے نظیر واقعہ ہے۔ بلکہ ایک حیرت انگیز اور تحیر خیز معجزہ بھی ہے۔ ہلاکت خیز سیلابوں نے اس سے سر ٹکرایا اور اپنا سر پھوڑ کر پسپا ہو گئے۔
٥٣
بلا خیز طوفان نے اسے آزمایا اور شرمندگی کے ساتھ اعتراف شکست کیا۔ بجلیوں نے اسے تاکا مگر جز اضطراب کچھ ہاتھ نہ آیا۔ کیا یہ قرآن وصاحب قرآن کا ایک معجزہ نہیں؟ یہ اعجاز اس وقت آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتا ہے۔ جب ہم سابق امتوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں جو اس قسم کی آزمائشوں کے مقابلہ میں شکست کھا کر صرف راہ ہدایت ہی نہیں بلکہ اپنے رہنماؤں کو بھی چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر گئیں اور بحیثیت امت اپنے وجود ہی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ بطور مثال یہود ونصاریٰ کو لیجئے۔ جن کا وجود بنی اسرائیل تک محدود تھا۔ اس لئے ان کے لئے آزمائش کے وقت اپنی ملی وجود کو برقرار رکھنا اور دین حق پر قائم رہنا، بہ نسبت امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کے طبعاً آسان تھا۔ مگر ہوا کیا؟ وہ دین حق پر اندرونی وبیرونی حملوں کی تاب نہ لاسکیں اور اس کی آزمائش میں پوری نہ اترسکیں۔ بلکہ وہ خاتم النبیین ﷺ کی بعثت سے کئی صدیاں پہلے ہی اپنے دین کو بالکل گم کر کے اور اپنی کتاب وسنت انبیاء سے ہاتھ دھو کر بحیثیت امت اپنا وجود ختم کر چکی تھیں۔ آج صرف یہودیت اور نصرانیت کا نام موجود ہے۔ مگر صحیح معنی میں امت تو کیا ساری دنیا میں کوئی فرد ایسا نہیں نکل سکتا جسے صحیح معنی میں یہودی یا نصرانی کہا جاسکے۔
قرآن مجید اور سنت محمدیہ ﷺ کا اعجاز دیکھو کہ یہ امت جس کے آغوش عاطفت میں پوری دنیا کی قومیں پرورش پارہی ہیں اور رنگ، نسل، مزاج کے اختلافات اس پرورش میں ذرہ برابر بھی مانع نہیں ہوتے۔ سینکڑوں آزمائشوں اور ہزاروں اندرونی وبیرونی فتنوں سے مقابلہ کرتی ہوئی اپنے رہبروں (کتاب وسنت) کے پیچھے اطمینان کے ساتھ راہ ہدایت پر گامزن ہے اور اپنے وجود میں کمی کے بجائے برابر اضافہ کر رہی ہے۔
اس امت کی اس بے نظیر اور معجزانہ استقامت کا اور اس کی بقاء کا راز کیا ہے؟ جو شخص تاریخ امت اور اجتماعی نفسیات سے ذرا بھی واقف ہے اور غور وفکر کی صلاحیت رکھتا ہے وہ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس کا راز عقیدہ ختم نبوت ہے۔ فلسفیوں کی مغالطہ انگیزیاں یہود ونصاریٰ کی ریشہ دوانیاں اور فریب کاریاں، فاسقانہ تمدنوں کی سحر طرازیاں سب نے اسے دعوت ضلال دی۔ مگر اس نے کسی طرف التفات نہ کیا۔
یہ خارجی حملے تھے۔ داخلی دشمنوں کی دسیسہ کاریاں اس سے بڑھ کر تھیں۔ منافقوں کے ایک گروہ نے خاتم النبیین ﷺ کی عظمت کو گھٹانے اور آنحضور ﷺ کے ساتھ امت کی وفاداری کو متزلزل کرنے کے لئے عقیدۂ امامت اختراع کیا اور ایک دو نہیں پورے بارہ اشخاص کو خاتم النبیین کے مقابلہ میں لاکر ختم نبوت کے عقیدہ پر پشت کی جانب سے وار کرنے کی کوشش کی۔
٥٤
لیکن امت محمد ﷺ کی وفاداری میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا اور عقیدۂ امامت کو اس نے نہایت حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ جھوٹے اور مفتری مدعیان نبوت سے بھی اسے بکثرت واسطہ پڑا مگر اس نے ان کے ہفوات ولغویات کے اوپر کان بھی نہ دھرا۔ صرف اتنا ہی ہوا کہ امت کے وہ افراد جن کے دل نفاق کے زہر سے مسموم و ماؤف ہو چکے تھے اور جو امت کے جسم کے فضلات یا خبیث مادے اور بدگوشت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مفسدوں اور فتنہ انگیزوں کے دام فریب میں مبتلا ہو کر امت سے خارج ہو گئے۔ لیکن بحیثیت مجموعی امت کا جسم بدستور سلامت رہا اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس کی وفاداری میں ذرہ برابر فرق نہ آیا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ امت، نبی کریم، محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین اور آخری نبی سمجھتی ہے۔ قرآن مجید کو خاتم الکتب اور اللہ تعالیٰ کا آخری ہدایت نامہ جانتی ہے۔ اس لئے اسے کبھی کسی نئے ہادی یا ہدایت کا انتظار نہیں رہا اور اگر کسی نئے داعی نے اسے اپنی طرف بلانا چاہا تو اسے اس کی صداقت کا ادنیٰ احتمال بھی نہ پیدا ہوا۔ بلکہ اس نے اس کی آواز سنتے ہی اسے کذاب اور مفتری سمجھ لیا اور اس کی گمراہ کن باتوں سے ذرہ برابر بھی متاثر نہ ہوئی۔ بلکہ کتاب وسنت کے ساتھ اس کی وابستگی اور زیادہ قوی ہو گئی۔
امم سابقہ میں چونکہ ختم نبوت کا عقیدہ نہیں تھا اور نہ ہو سکتا تھا۔ اس لئے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ ان کی وابستگی اور وفاداری اس قدر مستحکم اور قوی نہ تھی، نہ ہو سکتی تھی۔ انہوں نے جس طرح ہادیوں کی اتباع کی۔ اسی طرح رہزنوں کی آواز پر بھی لبیک کہا۔ یہاں تک کہ اپنی کتابیں بھی گم کر دیں اور اپنے انبیاء کی سنت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس طرح اجتماعی خود کشی کر کے صفحہ ہستی سے محو ہو گئیں۔
امت محمدیہ کی خاتم الکتب اور خاتم النبیین سے وفاداری اور امم سابقہ کی بے وفائی دونوں باتیں اجتماعی نفسیات کے صحیح اور یقینی اصول پر مبنی ہیں اور ان کا راز ختم نبوت کے عقیدے میں پنہاں ہے۔ یہ نتیجہ بالکل واضح ہے کہ اس امت کی بقاء اس کے عقیدۂ ختم نبوت سے وابستہ ہے۔ اگر یہ عقیدہ نہ ہوتا تو یہ امت بھی باقی نہ رہتی۔
بقائے امت کے ساتھ اس عظیم الشان اور اہم عقیدے کے گہرے اور قوی تعلق پر ایک دوسرے پہلو سے بھی نظر کیجئے۔ ایک جانی اور مانی ہوئی حقیقت ہے کہ اپنی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کی حفاظت اور بقاء کے لئے جیسی کوشش اور جیسا اہتمام امت محمدیہ (علیہ الف الف تحیہ) نے کیا ہے۔ اس کی نظیر بلکہ اس کی چوتھائی کی نظیر بھی کسی امت اور کسی قوم میں نہیں مل سکتی۔ جس کا اثر یہ ہے کہ کتاب وسنت اس طرح محفوظ ہیں کہ گویا آج ہی محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ امانت
٥٥
ہمارے سپرد فرمائی ہے۔ اپنے ذہن سے پوچھئے کہ امت کی اس خصوصیت کی وجہ کیا ہے؟ کیا امم سابقہ مثلاً یہودونصاریٰ کو اپنی کتابیں اور اپنے انبیاء عزیز نہ تھے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے اس کا چوتھائی اہتمام بھی ان کے تحفظ کے لئے نہ کیا؟ اس کا جواب بھی یقیناً آپ کو عقیدہ ختم نبوت کے جلی عنوان کے تحت ملے گا۔ دوسری امتوں نے یہ اہتمام اس لئے نہیں کیا کہ انہیں دوسرے انبیاء کے آنے کی توقع تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ ہدایت گم ہو جائے گی تو دوسری ہدایت آجائے گی۔ یہ نبی نہ رہیں گے تو دوسرے نبی آجائیں گے اور وہی کتاب کی حفاظت بھی کریں گے۔ اگر یہ کتاب گم ہو جائے گی تو دوسری کتاب آجائے گی۔ یا دوسرے نبی اس کتاب کی بازیافت کریں گے اس اطمینان کی وجہ سے انہوں نے اس سرمایہ کی حفاظت کا اہتمام نہیں کیا۔ بخلاف اس کے امت محمد ﷺ کو یقین تھا کہ آخری کتاب آچکی۔ آخری نبی ظاہر ہوچکے۔ اگر ہم اس کتاب کو یا اس نبی کی سنت کو گم کردیں گے تو کبھی ہدایت نہ پاسکیں گے۔ اس لئے انہوں نے ان دونوں کی حفاظت وبقاء کے لئے اپنی پوری قوت صرف کردی اور اتنا اہتمام کیا اور ان دونوں کی ایسی حفاظت کی جو آپ اپنی نظیر ہے۔ اگر ختم نبوت کا عقیدہ نہ ہوتا تو یہ امت بھی کتاب وسنت کی حفاظت کا ایسا اہتمام نہ کرتی اور امم سابقہ کی طرح ان رہبروں سے محروم ہوکر وادی ہلاکت میں برباد ہوجاتی۔ بے شک اگر محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم نہ ہوجاتی تو یہ امت بھی ختم ہوجاتی۔
نبی کریم ﷺ کے ساتھ وفاداری
مندرجہ بالا دلیل کا یہ نتیجہ صریح بھی قابل ذکر ہے کہ امت محمدیہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا اور اس کا وجود ختم نبوت کی ضرورت وحکمت کی برہان جلی ہے۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم نہ ہوجاتی اور باب نبوت آنحضور ﷺ کے بعد بالکل بند نہ ہوجاتا تو امت میں یہ جذبہ وفاء اس قدر طاقتور نہ ہوتا اور یہ امت بھی باقی نہ رہتی۔ رحمت کردگار کا تقاضا یہی ہوا کہ امت کو جو مختلف النسل، مختلف المزاج، مختلف الوطن اقوام وافراد کا مجموعہ ہے۔ اپنے نبی اور اپنی کتاب کے ساتھ وفاداری کا اس قدر قوی جذبہ عطاء کیا جائے جو اسے قیامت تک جادۂ استقامت پر قائم رکھے۔ حکمت الٰہیہ نے تجویز فرمایا کہ اسے خاتم النبیین ﷺ کی امت بنادیا جائے اور باب نبوت کو ان کے بعد بالکل مسدود ومقفل کردیا جائے۔ تاکہ اس امت کی وفاداری کا جذبہ منقسم ہوکر کمزور نہ ہونے پائے اور طاقتور سے طاقتور طوفان اس کوہ استقامت کو جنبش نہ دے سکے۔ یہودیت اور نصرانیت بنواسرائیل کے ساتھ مخصوص تھیں اور ہر نبی کے ساتھ ان کی وابستگی کا محرک صرف دین نہیں بلکہ ہم نسلی کا رابطہ بھی تھا۔ مگر باوجود اس کے بکثرت انبیاء کی
٥٦
آمد و رفت کی وجہ سے ان کی وفاداری منقسم ہو کر کمزور ہو گئی ۔ یہاں تک کہ وہ دین ہی کو ضائع کر بیٹھے ۔ پھر یہ امت جسے محمد رسول اللہ ﷺ سے درحقیقت صرف روحانی اور دینی تعلق ہے۔ جادۂ وفا پر کس طرح مستقیم رہ سکتی تھی۔ اس وفاداری کو قوی بنانے اور قائم رکھنے کا ذریعہ صرف یہی تھا کہ خاتم النبیین کا تاج کرامت محمد عربی ﷺ کے سر اقدس پر رکھ دیا جائے اور آپ ﷺ کے بعد بعثت کا دروازہ بند کر دیا جائے ۔ یہی وہ شے ہے جو امت کے جذبہ وفاداری کو غذا دے کر اسے زندہ قومی رکھتی ہے اور یہی جذبہ وفاء ہے ۔ امت کے لئے سامان بقاء ہے۔
اس نفسیاتی اصول کا تذکرہ جس کی صداقت کی شہادت تاریخ کے ساتھ مشاہدہ بھی دیتا ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ جس طرح کسی مملکت کے ساتھ اس کے شہریوں کی وابستگی محض عقلی بنیادوں پر مستحکم و پائیدار نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح کسی دین کے ساتھ کسی امت کی وابستگی اور اس کی اطاعت میں استقامت محض عقلی دلائل کی بنیاد پر دیر پا نہیں ہو سکتی۔ جذبہ وفاداری جس کے خمیر میں عقلی عناصر بھی شریک ہوتے ہیں۔ لیکن جس کا وجود محبت کی حرارت کا رہین کرم ہوتا ہے۔ استقامت و پائیداری کے لئے ناگزیر شے ہے۔ چمن وفاء کو امت محمدیہ (علیہ الف الف تحیہ ) میں سدا بہار رکھنے کے لئے ناگزیر تھا کہ اس کی آبیاری صرف رحمۃ للعالمین کے ابر کرم کی رہین منت ہو اور قیامت تک اسے کسی دوسرے کی طرف دیکھنے کی حاجت درپیش نہ ہو۔ گویا ختم نبوت اس امت کے مخصوص مزاج کا تقاضا اور اسے خاتم النبیین کی امت بنا کر نبوت کا دروازہ بالکل بند کر دینا حکمت و رحمت الہی کا اقتضاء ہے۔
حصہ دوم ...... عقیدہ ختم نبوت نقل کی روشنی میں
باب اوّل
اس اہم اور مہتم بالشان مسئلہ کے متعلق عقل سلیم کا فیصلہ گذشتہ صفحات میں واضح کیا جا چکا ، اور یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو چکی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بایں معنی تسلیم کرنا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی نبی و رسول کی بعثت نہ ہوئی ہے نہ قیامت تک ہوگی ۔ عقلاً واجب ولازم ہے۔ یہی جمہور اہل اسلام کا عقیدہ ہے جو خلفاً عن سلف متوارث اور اجماعی ہے۔ اس سے اختلاف کرنا امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کی مخالفت ، عقل و خرد سے بغاوت اور فہم و فراست سے عداوت کے مرادف ہے۔
لیکن اس پیکر حق و صداقت عقیدے کی بنیاد صرف عقل و فہم پر قائم نہیں بلکہ قرآن مجید
٥٧
اور احادیث نبویہ نے صاف صاف اس کا اعلان و اظہار فرمایا ہے اور اہل اسلام کے عقیدہ ختم نبوت کی حقیقی بنیاد یہی تصریحات ہیں۔ ان کی تفصیل کتاب کے اس حصہ میں پیش کی جائے گی۔ مگر پہلے اس بات کو پھر ایک بار ذہن میں مستحضر کر لیجئے کہ اگر یہ تصریحات کلیتہً مفقود بھی ہوتیں ۔ تو بھی ہم بحیثیت مسلمان محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین ہی سمجھنے پر مجبور ہوتے۔ عقیدہ ختم نبوت ہی اسلامی عقیدہ رہتا اور اس کی مخالفت زیغ و ضلال میں داخل ہوتی۔
بدیہی بات ہے کہ اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت ہادی حقیقی کو منظور ہوتی تو یقیناً اس کی اطلاع قرآن وحدیث میں تصریح اور وضاحت کے ساتھ دی جاتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ حق تعالیٰ امت محمدیہ علیہ الاف من التحیۃ کو اس قدر سخت آزمائش میں بغیر کسی ہدایت و رہنمائی کے ڈال دیں؟ اگر سلسلہ نبوت جاری رکھنا حق تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یقیناً قرآن مجید آئندہ آنے والے نبی کی اطلاع بہت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں دیتا اور یقیناً نبی کریم ﷺ اس کی پیشین گوئی بالکل صاف و صریح عنوان سے فرماتے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ مخالفین ختم نبوت اپنی پوری کوشش سے کام لے کر بھی اس کی قدرت نہیں رکھتے کہ ایک آیت یا ایک حدیث بھی اس مضمون کی پیش کر سکیں۔ جس میں نبوت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کے بعد کسی دوسرے نبی کی بعثت کی خبر دی گئی ہو یا تفصیل نہ سہی اجمالی ہی طور پر یہ بیان کیا گیا ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی سلسلہ نبوت جاری رہے گا۔ یقیناً ایسی کوئی آیت یا حدیث موجود نہیں۔ قرآن وحدیث کا اس مضمون سے خالی ہونا اس بات کی قطعی و یقینی دلیل ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین اور آخری نبی و رسول ہیں اور آپ پر سلسلہ نبوت ورسالت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ قرآن مجید بھی اس اصول کی طرف ہدایت کر رہا ہے۔ مندرجہ ذیل آیت مقدسہ پر نظر کیجئے۔
”واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدّق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال أاقررتم واخذتم علی ذالکم اصری قالوا اقررنا قال فاشہدوا وانا معکم من الشہدین (آل عمران:٨١) “ اور جب کیا اللہ تعالیٰ نے عہد انبیاء سے کہ جو کچھ میں نے تمہیں دیا۔ کتابیں اور علم پھر آئے تمہارے پاس کوئی رسول جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو اس رسول پر ایمان لاؤ گے اور اس کی امداد کرو گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر میرا عہد قبول کیا۔ سب نے کہا کہ ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو اب گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ ﴾
٥٨
یہ عہد صاف صاف بتا رہا ہے کہ ہر نبی نے اپنے مابعد آنے والے کی بھی نصرت کی ہے۔ جس طرح اپنے معاصر یا اپنے ماقبل انبیاء کی نصرت و تصدیق کی ہے اور یہ نصرت ان پر واجب اور ان کے کارِ منصبی میں شامل تھی۔ ظاہر ہے کہ بعد میں آنے والے نبی کی نصرت یہی ہے کہ اس کے متعلق پیشین گوئی کی جائے۔ اس کی علامتوں و نشانیوں کو اچھی طرح واضح کیا جائے اور اس کی تصدیق و اتباع کی وصیت اپنی امت کو کر دی جائے۔ اس آیت کے بعد کسی تاریخی شہادت کا بیان بیکار ہے۔ تاہم واقعہ یہی ہے کہ تاریخ انبیاء بھی یہی بتا رہی ہے کہ ہر نبی نے اپنے بعد آنے والے نبی کی پیشین گوئی اور ان کی تصدیق و اتباع کی ہدایت و وصیت فرمائی۔ انبیاء کا یہ عام قاعدہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سلسلۂ نبوت ہنوز جاری ہے تو خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ نے انبیاء سابقین کے طریق اور حکم الٰہی کے خلاف اس قاعدے کی خلاف ورزی کیوں فرمائی؟ اور ایک بار بھی صراحت کے ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ کوئی دوسرا نبی بھی آئے گا۔
قرآن اور صاحب قرآن کا یہ سکوت دلیل واضح اور برہان لائح ہے۔ اس بات کی کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر بابِ نبوت بند ہو چکا اور اب آنحضور ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا۔
اجرائے سلسلۂ نبوت کے متعلق سکوت ہی عقیدہ ختم نبوت کی صداقت کے لئے کافی تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس سکوت پر اکتفاء نہیں کیا گیا۔ بلکہ قرآن مجید اور حدیث نبوی نے واضح طور پر عقیدہ ختم نبوت کو بیان کر کے خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی نبی کے مبعوث ہونے کی کلیتہً نفی کر دی ہے۔
آیت ختم نبوت
اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہماری نظر مندرجہ ذیل آیت کریمہ پر جاتی ہے جو آیت ختم نبوت کے نام سے موسوم ہے۔
”مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلٰكِن رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (الاحزاب:٤٠)“ (محمد ﷺ) تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخری نبی و رسول ہیں اور اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔﴾
٥٩
یہ مقدس آیت اس باب میں نص قطعی اور برہان جلی ہے جو صراحت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی اور انبیاء کا ختم کرنے والا ظاہر کر رہی ہے۔ عربی زبان میں خاتم کے معنی یہی ہیں۔
”خاتمهم وخاتمهم آخرهم (بكسر الميم وبفتح الميم) ومحمد رسول الله ﷺ خاتم الانبياء على وعليهم الصلوة والسلام وخاتم آخر القوم كالخاتم ومنه قوله تعالى خاتم النبيين اى آخره (لسان العرب ج٤ ص٢٥) “
﴿کسی جماعت کے خاتم یا خاتم دونوں کے معنی ان کے آخر کے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ انبیاء علیہم السلام کے خاتم ہیں۔ خاتم قوم اور خاتم دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ یعنی قوم کا آخری فرد اور خاتم النبیین کے بھی یہی معنی ہیں۔ (یعنی آخری نبی)﴾
دوسرے لغات میں بھی یہی معنی مذکور ہیں۔ اس کے علاوہ قراء سبعہ میں سے متعدد کی قرأت خاتم بکسر التاء بصیغہ اسم فاعل ہے۔ جس کے معنی عربی کا ایک مبتدی بھی سمجھ سکتا ہے کہ ختم کرنے والے یا آخری کے ہیں۔ دوسری آیتوں نیز احادیث واقوال مفسرین بلکہ اجماع امت سے بھی یہی معنی متعین ہوئے ہیں۔ جس کی تفصیل ہم غیر ضروری سمجھ کر بخوف طوالت نظر انداز کرتے ہیں۔
آیت کی یہ تاویل کہ خاتم بمعنی مصدق ہے۔ ایک غلط اور لغو تاویل ہے جو درحقیقت لغوی تحریف کے مرادف ہے۔
اولاً...... اس لئے کہ یہ لغت کے خلاف ہے۔ کسی لفظ کے حقیقی معنی چھوڑ کر کوئی دوسرے معنی بغیر کسی قوی قرینہ کے مراد لینا عقل ولغت وقواعد زبان کے لحاظ سے بالکل غلط ہے۔ خاتم کے حقیقی معنی وہی ہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اس کو مصدق کے معنی میں لینا مجاز ہوگا۔ جس کے لئے قرینہ صارفہ کی احتیاج ہے اور یہاں اس قسم کا کوئی بھی قرینہ موجود نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے حقیقی معنی کو کیوں ترک کیا جائے؟ اور دوسرے معنی کیوں مراد لئے جائیں؟ اس کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ خاتم اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے اور اسے مصدق کے معنی میں لینا غلط ہے۔
ثانیاً...... اس لئے کہ خاتم کو مصدق کے معنی میں لینے سے آیت کے اس جز کو اس کے دوسرے اجزاء سے مناسبت نہیں باقی رہتی۔
٦٠
آیت کا پہلا جز بتا رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے کوئی اولاد نرینہ موجود نہیں۔ یہ جز آیت کے دوسرے جز یعنی مضمون ختم نبوت کے لئے ایک دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ ازمنہ سابقہ میں سلسلۂ نبوت انبیاء کی اولاد ہی میں جاری رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے جب اولاد نرینہ کا موجود ہی نہیں تو سلسلۂ نبوت کیسے جاری رہ سکتا ہے؟ بنات صالحات کی موجودگی اس کے لئے کافی نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ نسب کا تعلق شرعاً وعرفاً باپ سے ہوتا ہے نہ کہ ماں سے۔ اولاد اپنے باپ کی طرف منسوب کی جاتی ہے نہ کہ نانا کی جانب۔ اس تمہید کے بعد یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اولاد نرینہ باقی نہ رہنے میں یہ حکمت ہے کہ آنحضور ﷺ کو خاتم النبیین کا مرتبہ عطاء فرمایا گیا ہے اور سلسلۂ نبوت آپ پر ختم کر دیا گیا ۔ اس لئے وہ چیز ہی باقی نہیں رکھی گئی جس سے آپ کے بعد سلسلۂ نبوت جاری رہنے کا ذرہ برابر بھی وہم و گمان ہو سکتا۔
اگر ہم لغت عرب اور قواعد لسان کے خلاف خاتم کو بمعنی مصدق فرض کریں تو آیت کے ان دونوں حصوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ظاہر ہوتی ۔ ظاہر ہے کہ ابوت رجال یا اولاد نرینہ کے فقدان کے مضمون اور تصدیق انبیاء کے مضمون میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ منکرین ختم نبوت کے باطل دعویٰ کے لئے یہ آیت مقدسہ پیام موت و ہلاکت ہے۔ اس لئے وہ غرق سے بچنے کے لئے ایک دوسرے تنکے کا سہارا لینا چاہتے ہیں ۔ اگرچہ ظاہر ہے کہ تنکا انہیں غرق ہونے سے کیسے بچا سکتا ہے؟ وہ کمزور تنکا ایک دوسری غلط مہمل اور مضحک تاویل کا ہے۔ یعنی وہ النبی میں الف لام عہد کا لیتے ہیں اور اس سے مراد بعض انبیاء لیتے ہیں ۔ اس تاویل رکیک کا باطل ہونا بہ چند وجوہ اظہر من الشمس ہے۔
اولاً ...... اس لئے کہ عربی زبان کے قاعدے سے الف لام میں اصل یہی ہے کہ وہ استغراق کے لئے ہو۔ جس کی تفصیل رضی کی شرح کافیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ثانیاً ...... اس لئے کہ اگر الف لام کو عہد کے لئے لیا جائے تو وہ معہود انبیاء کون ہوں گے؟ سیاق و سباق سے ان کی تعیین نہیں ہوتی ۔ ایسی صورت میں یہ ایک مبہم فقرہ ہو جائے گا۔
ثالثاً ...... اس لئے کہ یہ کہنا کہ آنحضور ﷺ بعض نبیوں کے خاتم ہیں۔ یعنی ان کے آخر ہیں۔ کوئی مفید وقابل ذکر مضمون نہیں ۔
اس لئے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد دو نبیوں کو چھوڑ کر ہر نبی کو اس معنی کے لحاظ سے خاتم النبیین کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ بعض نبیوں کے آخر میں تھے۔ اس میں آنحضور ﷺ کی خصوصیت وفضیلت کیا ظاہر ہوگی؟ اسی طرح یہ تو ایک بدیہی اور معلوم ومعروف بات تھی کہ آپ
٦١
انبیاء ماسبق کے آخر میں تشریف لائے ہیں۔ اس کے ذکر سے فائدہ کیا؟ یہ تو ایک لغو بات ہوگی۔ جیسے کوئی شخص دن کے وقت دھوپ میں کھڑے ہوکر اپنے قریب کے کسی آنکھوں والے سے کہے کہ اس وقت دن ہے۔ ظاہر بات ہے کہ قرآن مجید لغو سے پاک ہے۔
رابعاً...... اس لئے کہ اگر آیت کا یہ مفہوم لیا جائے تو لازم آتا ہے کہ ہدایت اور ضلال خلط ملط ہو جائیں اور ایک ضروری عقیدہ مخفی ہو جائے۔ کیونکہ اس مفہوم کو لینے کے بعد بھی کم از کم اتنا احتمال تو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ النبیین میں سب انبیاء داخل ہوں۔ ایسی صورت میں آیت سے عقیدہ ختم نبوت اسی طرح سمجھ میں آئے گا۔ جس طرح مسلمانوں نے سمجھا ہے۔ ایسی صورت میں ایک اہم اور بنیادی عقیدہ کے بارے میں ابہام ہوگا اور یہ بات قرآن مبین اور حق تعالیٰ کی شان سے بعید ہے کہ وہ ایسے اہم عقیدے کے متعلق جس پر کفر و ایمان کا مدار ہے۔ ابہام واشتباہ کا طرز اختیار کریں۔ اگر حق تعالیٰ کی مراد یہی ہوتی جو مخالفین بیان کرتے ہیں تو الفاظ مختلف ہوتے۔ مثلاً خاتم بعض الانبیاء یا خاتم الانبیاء الذین سبقوا وغیرہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ یہاں پر الف لام کو عہد کے لئے لینا بالکل غلط اور باطل ہے اور آیت کا مفہوم یہی ہے جو اہل سنت کا مسلک وعقیدہ ہے۔ یعنی آنحضور ﷺ سب انبیاء کے خاتم ہیں اور آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آسکتا۔
آیت ختم نبوت آپ دیکھ چکے ہیں۔ یہ تو اس مسئلے میں نص جلی اور برہان روشن ہے۔ لیکن قرآن مجید نے اس پر اکتفا نہیں فرمایا۔ بلکہ اللہ رب العالمین نے اس عظیم الشان مضمون کو اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر مختلف عنوانات سے واضح فرمایا ہے۔ پیرایہ بیان مختلف ہے۔ مگر یہ مضمون ثابت اور روشن ہے۔
آیت اظہار دین
سورۂ فتح کھولئے۔ یہ آیت آپ کی آنکھیں روشن کردے گی۔ ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين کله وکفی بالله شهيدا (الفتح:٢٨)“ ”اللہ کی ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین لے کر بھیجا۔ تاکہ اسے ہر دین پر غالب فرمادے اور اللہ کو گواہی کافی ہے۔“
ظاہر ہے کہ الدین میں الف لام استغراق کے لئے ہے۔ کلہ کا لفظ اس کی کھلی ہوئی دلیل ہے۔ علاوہ بریں کوئی دین معہود مراد لینے کی کوئی دلیل اور وجہ بھی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلیم کیا ہوا دین ہر دین پر غالب رہے گا اور چونکہ اس غلبہ سے کسی وقت معین
٦٢
و مخصوص میں غلبہ مراد نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ کسی مخصوص وقت کا غلبہ کوئی ایسا کمال بھی نہیں جس کا خصوصیت و اہتمام کے ساتھ تذکرہ فرمایا جائے۔ خصوصاً مقام انعام و امتنان میں اس لئے یقیناً و قطعاً آیت کا مفہوم یہی ہوگا کہ دین محمدی ﷺ سب ادیان عالم پر قیامت تک غالب رہے گا۔ یہاں یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ اس غلبہ سے کیا مراد ہے۔ غلبہ کا ایک مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ سیاسی اعتبار سے صرف دین اسلام کو دنیا میں اقتدار حاصل رہے۔ لیکن آیت سے یہ مراد لینا صحیح نہیں۔ نزول آیت کے زمانہ میں بھی سیاسی اقتدار صرف اہل اسلام کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔ بلکہ دنیا میں دوسرے مذاہب کے متبعین کی بھی بڑی بڑی سلطنتیں قائم تھیں اور اب تک یہی حالت ہے۔ اس لئے آیت کی یہ تفسیر بالکل خلاف واقعہ ہوگی۔ دوسرا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ دین اسلام دلیل و برہان کے اعتبار سے سب ادیان عالم پر غالب و فائق رہے گا۔ آیت کی یہی تفسیر صحیح اور واقعہ کے بالکل مطابق ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اسلام کی حقانیت اور اس کے علاوہ ہر دین و مذہب کا باطل و غلط ہونا آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن اور ظاہر ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آیت میں تو ہر دین و ملت پر دین محمدی ﷺ کا غلبہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اگر ہم فرض کریں کہ کوئی دوسرا نبی مبعوث ہوتا ہے تو اس کا ایک مستقل دین ہوگا اور وہ حق ہی ہوگا۔ اس لئے کہ نبی بہرحال دین حق لے کر آئے گا۔ ایسی صورت میں اس کے دین پر دین محمدی ﷺ کے غلبہ کے کیا معنی ہوں گے۔ یہ معنی تو اس پر چسپاں نہیں ہو سکتے۔
اس مقام پر ختم نبوت کا مسئلہ سامنے آ جاتا ہے۔ اس حالت میں دین محمدی ﷺ کے غلبہ کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ اس کا دین کبھی رائج نہیں ہو سکتا اور قرب و رضاء الٰہی کی نعمت اس پر عمل کرنے سے نہیں حاصل ہو سکتی۔ بلکہ رواج دین محمدی ﷺ ہی کو ہوگا اور یہی دین اللہ تعالیٰ کے قرب اور ان کی رضا کے حصول کا تنہا ذریعہ رہے گا۔ جب یہ صورت ہے تو کسی دوسرے نبی کے مبعوث ہونے سے فائدہ ہی کیا ہو سکتا ہے۔ جس کے معنی دوسرے الفاظ میں یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی اور آنحضور ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کی بعثت تا قیام قیامت نہیں ہو سکتی۔
”وکفیٰ باللہ شہیداً“ کا جملہ اس مسئلہ کو اور بھی روشن کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شہادت کے معنی کتاب اللہ کی شہادت کے ہیں۔ یعنی قرآن مجید کا قیامت تک محفوظ رہنا، اس بات کی برہان جلی ہے کہ صاحب کتاب کی بعثت کے بعد نہ کسی دوسرے نبی کی بعثت ہوگی نہ اس کی احتیاج۔ اس لئے کہ اس کتاب کی ہدایت دائمی و ابدی ہے۔
٦٣
آیت اکمال دین
اس سے مندرجہ ذیل آیت مقدسہ کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (المائدہ:٣) ”آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کرلیا۔“
آیت کریمہ متعدد طریقوں سے ختم نبوت کے مضمون کو ظاہر کررہی ہے۔ دین جب کامل ہوگیا تو کسی دوسرے نبی کی بعثت کی کیا حاجت باقی رہی؟ بے شک ہر نبی کا دین کامل تھا۔ ناقص کوئی بھی نہ تھا۔ مگر ان کا کمال علی الاطلاق نہیں تھا۔ بلکہ ان کے زمانہ اور ایک محدود وقت کے لئے تھا۔ دین محمدﷺ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کامل علی الاطلاق ہے اور اس کے کمال کو کسی خاص زمانہ اور وصف کے ساتھ مقید نہیں فرمایا گیا ہے۔ بلکہ مطلقاً بغیر قید زمانہ اور حالات اکملت لکم دینکم فرمایا گیا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ہر زمانہ اور ہر حالت میں کامل ہے اور تاقیام قیامت اس کے کمال کو زوال نہ ہوگا۔ ایسے دین کامل کی موجودگی میں کسی دوسرے نبی کی بعثت ہو تو آخر اس کا مقصد و مفاد کیا ہوگا؟
خاتم النبیین سے پہلے انبیاء کا سلسلہ صرف اس لئے جاری رہا کہ ہر نبی کا دین ایک محدود زمانہ کے لحاظ سے کامل تھا۔ اس دور کے گزرنے کے بعد وہ مصالح امت کے لحاظ سے نا کافی ثابت ہوا۔ اس لئے دوسرے نبی کی بعثت کی احتیاج ہوئی۔ محمد رسول اللہﷺ کو جو دین عطا فرمایا گیا وہ ابدی و سرمدی ہے۔ اس کا کمال دائمی اور تاقیام قیامت ہر زمانہ میں یہ مصالح امت کا کفیل ہے۔ اس لئے آنحضورﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت کی حاجت نہیں رہتی اور سلسلۂ نبوت آنحضورﷺ پر ختم فرما دیا گیا۔
دوسری وجہ دلالت اکملت لکم کی ضمیر خطاب سے ظاہر ہے۔ اس ضمیر سے خطاب کن لوگوں کو ہے؟ اس کے بارے میں عقلاً صرف تین احتمالات نکلتے ہیں۔
- الف ....... مخاطب صرف وہ مسلمان ہوں جو نزول آیت کے وقت موجود تھے۔ ان
کے بعد آنے والے مسلمان نہ ہوں۔
- ب ....... ان مسلمانوں کے علاوہ بعد کے آنے والے مسلمان بھی مخاطب ہوں۔ مگر
قیامت تک آنے والی پوری امت محمدیہﷺ مخاطب نہ ہو۔ کسی خاص اور محدود زمانہ تک ہونے والے مسلمان مخاطب ہوں۔
٦٤
ج ...... پوری امت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ مخاطب ہو۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا اور دوسرا احتمال بالکل غلط ہے اور صحیح صرف تیسرا احتمال ہے۔ احتمال اوّل کی غلطی مندرجہ ذیل دلائل سے روشن ہو جاتی ہے۔
اوّلاً ...... اگر پہلا احتمال صحیح ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ دین کا کمال صحابہ کرام تک محدود تھا اور دور صحابہؓ گزرنے کے بعد ہی معاذ اللہ اسلام ناقص اور ہدایتِ امت کے لئے ناکافی ہو گیا۔ اگر ایسا ہے تو دور صحابہؓ کے فوراً بعد کسی نبی کو مبعوث ہونا چاہئے تھا۔ حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔
ثانیاً ...... اس وجہ سے کہ صورتحال کے صحیح ہونے کی صورت میں حقائق اور واقعات سے انکار لازم آتا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ دور صحابہؓ کے بعد بھی دین محمدی ﷺ مصالح امت اور ہدایتِ خلق اللہ کے لئے کفایت کرتا رہا اور کسی موقع پر بھی اس کی تنگ دامانی کا ظہور نہیں ہوا۔ اگر لکم کے مخاطب صرف صحابہ کرامؓ تھے تو ان کے بعد صدیوں تک اس دین کے کمال کا ظہور کیوں ہوتا رہا اور کسی نئے نبی کی ضرورت کیوں نہ محسوس ہوئی؟
ثالثاً ...... اس بناء پر کہ کمالِ دین کو دورِ صحابہؓ کے ساتھ مخصوص سمجھنے سے لازم آتا ہے۔ معاذ اللہ قرآن مجید اور خود صاحبِ قرآن ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے راستہ کو پوشیدہ رکھا۔ کیونکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ اس مضمون کو صاف صاف کیوں نہ بیان فرمایا گیا؟ اور اس کی تصریح کیوں نہ فرمائی گئی کہ اس دین کا دور فلاں امت تک ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد آنے والے مسلمانوں کو نئی ہدایت کا انتظار کرنا چاہئے؟ ان سب دلائل سے آفتابِ نصف النہار کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ روشن ہے کہ آیت کی تفسیر احتمال اوّل کی بناء پر کرنا بالکل غلط اور تفسیر بالباطل ہے۔ احتمال ثانی (ب) کا باطل اور غلط ہونا بھی بالکل ظاہر و باہر ہے۔ کمال دین کو کسی مخصوص زمانہ کے ساتھ مقید و محدود کرنا اور کسی محدود زمانہ کے مسلمانوں کو اس کا مخاطب قرار دینا ایک ایسا دعویٰ ہے جو دلیل و ثبوت سے بالکل تہی دست اور قطعاً بے بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث میں ادنیٰ اشارہ بھی اس کے متعلق نہیں مل سکتا۔ عقلی دلیل اس معاملہ میں موجود بھی ہوتی تو ناکافی و غیر معتبر ہوتی۔ چہ جائیکہ یہ اس سے بھی قطعاً محروم ہے۔ مختصر یہ کہ تارِ عنکبوت کے برابر بھی کوئی عقلی یا نقلی دلیل اس باطل مدعا پر قائم نہیں ہو سکتی۔ ایسی حالت میں اس احتمال کے قائل ہونے کو ادعائے باطل اور جرأت بے جا کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی پیدا ہو گا کہ وہ زمانہ کتنا ہے؟ اس کا تعین بھی دلیل شرعی کا محتاج ہو گا۔ پھر اگر تعین بھی فرض کر لیا جائے تو اس زمانہ کی کیا ایسی خصوصیت ہے جس
٦٥
کی وجہ سے اسے اس نعمت عظمیٰ کے لئے مخصوص فرمایا گیا؟ اس کے ساتھ یہ سوال بھی باقی رہے گا کہ اس مضمون کو صاف اور غیر مبہم الفاظ میں کیوں نہ واضح فرمایا گیا؟ اس سے روشن ہو جاتا ہے کہ یہ احتمال بھی قطعاً باطل اور غلط ہے۔
ان دونوں احتمالات کے باطل ہونے کے بعد اس چیز میں ذرہ برابر بھی خفا نہیں رہتا کہ آیت کی تفسیر میں تیسرا یہی احتمال (ج) صحیح اور حق ہے۔
یعنی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ لکم میں ضمیر خطاب کے ذریعہ سے زمانہ نزول آیت سے لے کر قیامت تک آنے والی پوری امت محمدیہﷺ کو خطاب کیا جارہا ہے اور یہ مژدہ سنایا جا رہا ہے کہ ہم نے تمہیں ایک ایسا دین عطاء فرمایا ہے جس کی مدت محدود نہیں ہے۔ بلکہ عمر عالم کی آخری ساعت تک یہ تمہاری ہدایت اور تمہاری اخروی و دنیاوی مصالح و فلاح کے لئے بالکل کافی و شافی ہے۔ یہ ایک سدا بہار چمن ہے۔ جس میں خزاں کا گزر بھی نہیں ہوسکتا۔ اس میں ترمیم وتنسیخ کی کوئی گنجائش کبھی نہیں نکل سکتی۔ اس دین کامل کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے دین کی ضرورت و حاجت بلکہ گنجائش ہی کہاں رہتی ہے؟ اور جب کسی نئے دین کی احتیاج نہیں تو کسی نئی بعثت و نبوت کی کیا حاجت باقی رہتی ہے؟ گویا تکمیل دین کے معنی یہ ہیں کہ نبوت و رسالت محمد رسول اللہﷺ پر ختم ہو گئی اور آنحضورﷺ کے بعد قیامت تک کسی نبی و رسول کی بعثت نہیں ہو سکتی۔
٣...... ” اتممت علیکم نعمتی“ کا فقرہ بھی ختم نبوت کو روشن کر رہا ہے۔ خطاب پوری امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کو ہے۔ ”لکم“ کو خطاب عام تسلیم کرنے کے بعد ”علیکم“ میں بھی خطاب عام ہی ماننا پڑے گا۔ اس کے بعد ختم نبوت کی طرف اشارہ بہت واضح ہو جاتا ہے۔ عربی زبان میں کسی چیز کے تمام اور تام ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس پر مزید اضافہ کی گنجائش نہ رہے۔ اس مفہوم کی روشنی میں آیت کی شرح یہ ہوگی کہ عطا نعمت کی جو آخری حد بنی نوع انسان کے لئے مقرر تھی ختم ہو چکی اور اس آخری مکمل ترین اور اعلیٰ ترین نعمت سے امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کو نوازا جا چکا۔ اب نعمت کا کوئی ایسا درجہ باقی نہیں رہا جو اور کسی کو دیا جائے۔
معلوم ہے کہ اس نعمت سے کوئی دنیاوی نعمت نہیں مراد ہو سکتی۔ بلکہ اخروی نعمت ہی مراد ہوگی۔ اس میں محمد رسول اللہﷺ کا اعلیٰ ترین درجہ نبوت پر فائز ہونا بھی داخل ہے اور اس امت کا بہترین درجات اخرویہ کا مستحق ہونا بھی۔ اسی طرح اس دین کا کامل ترین دین ہونا بھی دوسرے
٦٦
الفاظ میں امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کو حق تعالیٰ نے اس آخری کمال پر فائز کر دیا ہے۔ جو انہوں نے ازل میں نوع انسان کے اخروی و روحانی ارتقاء کے لئے مقرر فرمایا تھا۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد اولاد آدم کو اگر نعمت اخروی عطاء فرمائی جائے گی تو وہ موجودہ عطاء فرمودہ نعمت سے فروتر ہی ہوگی۔ کریم مطلق جل شانہ کسی امت کو اعلیٰ درجات پر فائز فرما کر ادنیٰ درجات کی طرف واپس کریں۔ یہ عقل کے بھی خلاف ہے اور حق تعالیٰ کی شان کرم کے بھی۔ جائے غور ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اگر کسی نئے نبی کی بعثت ہوگی تو ان کا درجہ بعثت خاتم النبیین ﷺ سے کم اور فروتر ہوگا اور ان کی تعلیمات محمدیہ علیہ الف الف تحیہ سے درجہ و مرتبہ میں فروتر ہوں گی۔ جس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ان سے وہ روحانی ترقی نہ حاصل ہو سکے گی جو تعلیمات محمدیہ علیہ الف الف تحیہ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں ان نبی کی اتباع کر کے امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کو نفع کے بجائے خسارہ، ترقی کے بجائے تنزل اور عروج کے بجائے ہبوط و نزول ہوگا۔ کیا کسی کی عقل سلیم اس چیز کو ایک لمحہ کے لئے بھی صحیح سمجھ سکتی ہے کہ امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ اس ترقی معکوس میں مبتلا کی جائے؟ اور کسی نبی کی بعثت ایسی صورت میں ہو جو مفید ہونے کے بجائے مضر ثابت ہو؟ ہاں ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ وہ موہوم نبی کسی مزید تعلیم کے لئے مبعوث نہ ہوں بلکہ صرف تعلیمات محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کی تبلیغ و اشاعت فرمائیں۔ لیکن یہ محض ایک منطقی احتمال ہے جو حقیقت سے بہت دور ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ان نبی کی بعثت سے فائدہ کیا ہوگا؟ اور کیا یہ بات قرین عقل و قیاس ہے کہ حق تعالیٰ جل شانہ امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کو بغیر کسی فائدے کے بلکہ انحطاط و ہبوط کے مقصد سے اس قدر شدید آزمائش اور خطرناک امتحان میں مبتلا کردیں۔ اتنا کام تو علماء امت بھی انجام دے سکتے ہیں۔ بلکہ انجام دیتے رہتے ہیں۔ ان کی مخالفت بھی اگرچہ گناہ ہے۔ مگر کفر تو نہیں۔ نبی کی مخالفت تو کفر ہے۔ جس کی سزا ابدالآباد کا عذاب جہنم ہے۔ ایک ایسے کام کے لئے جسے علماء دین انجام دے سکتے ہیں۔ نبی کو مبعوث کر کے امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کو عذاب ابدی کے خطرۂ عظیمہ میں مبتلا کرنا حق تعالیٰ کی شان کرم سے بعید بے ضرورت اور عقل و خرد کے بالکل خلاف ہے۔ اس تفصیل کے بعد یہ تصریح غیر ضروری ہے کہ آیت کا یہ جز بھی اپنے ماسبق جز کی طرح اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے کہ نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کسی نبی کی بعثت الی یوم القیام ناممکن ہے۔ ٦٧
آیت خیریت امت
اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے آخری نبی ورسول محمد مصطفےٰ ﷺ کو خیر الانبیاء والرسل اور افضل الخلائق بنایا۔ اسی طرح آپ کی امت کے سر پر خیر الامم ہونے کا تاج کرامت رکھا۔ ارشاد الٰہی ہے: ”كنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله (آل عمران: ١١٠) ﴿تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔﴾
آیت مقدسہ نے امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کے اس شرف عظیم کا اعلان فرمانے کے ساتھ خیر الانبیاء والرسل پر سلسلہ نبوت ورسالت ختم ہونے کی طرف بھی بلیغ اشارہ فرمایا ہے۔ دونوں مضمونوں کی لطیف مناسبت ارباب ذوق پر مخفی نہیں ۔ کمالات نبوت ورسالت سید دو عالم ﷺ پر ختم فرمادیئے گئے۔ اس لئے وہ خیر الانبیاء والرسل ہیں۔ اسی طرح امتیوں کے کمالات ان کی امت پر ختم فرمادیئے گئے۔ اس لئے وہ خیر الامم ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ امت کے کمالات روحانی اپنے نبی کے کمالات کا عکس ہونے کی وجہ سے اسی کے طفیل میں حاصل ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ امت خیر الرسل والانبیاء کی امت ہے ۔ جنہیں اعلیٰ ترین اور انتہائی کمالات نبوت عطاء فرمائے گئے ہیں۔ یعنی مرتبہ نبوت ورسالت کے لئے جو انتہائی کمالات اللہ تعالیٰ نے مقرر ومقدر فرمائے وہ سب آپ کو عطاء فرمادیئے گئے۔ جو کسی دوسرے نبی کو نہیں حاصل ہوئے۔ اس لئے اس کا انعکاس آپ کی امت میں ہونا لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ ان کمالات کی حامل ہے جو کسی دوسری امت کو نہیں عطاء فرمائے گئے اور جس پر امتیوں کے کمالات روحانیہ اور ارتقاء نفسی کی انتہاء ہوتی ہے یہ ایک ظاہر اور مسلمہ حقیقت ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت اسی لئے ہوتی ہے کہ ان کے توسط اور ان کی تعلیم کی برکت سے نوع انسانی روحانی کے مدارج ارتقاء طے کر کے قرب الٰہی کے وہ مراتب حاصل کرے جو اس کے لئے ازل میں مقدر فرمائے گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کی اس اعلیٰ ترین منزل پر پہنچ جائے۔ جس کے اوپر کوئی منزل باقی نہیں رہتی۔ یہی معنی اس کی تکمیل کے ہیں۔ امم عالم میں سے جو امت اس درجہ علیا اور کمال اعلیٰ پر فائز ہو جائے اسی کو ”خير امة یا خير الامم“ کہہ سکتے ہیں۔ اس مرتبہ عظمیٰ اور فوزِ کبریٰ تک رسائی کے بعد کسی نبی کی بعثت کی کیا حاجت وضرورت باقی
٦٨
رہ جاتی ہے اور کسی نئے نبی کا کام ہی کیا باقی رہتا ہے؟ افضل الانبیاء کی تعلیم دینی و روحانی تعلیم کی اعلیٰ ترین اور انتہائی منزل ہے۔ کسی دوسرے نبی کی تعلیم اس کے مساوی نہیں ہو سکتی اور نہ افادیت و کمال کے لحاظ سے تعلیمات محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کے مساوی ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں کسی دوسرے نبی کے آنے سے کیا فائدہ؟ بلکہ کسی دوسرے نبی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا اور تعلیمات محمدیہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نظر انداز کرنا تو بجائے مفید ہونے کے مضر ہوگا۔ بایں معنی کہ وہ امت کو اس مرتبہ کمال سے تنزل وہبوط پر مجبور کرے گا۔ جو تعلیمات محمدیہﷺ پر عمل کی وجہ سے اسے حاصل تھا یا حاصل ہو سکتا تھا۔ اس کی مثال یہ ہوگی کہ جیسے ایم اے پاس اشخاص کو آٹھویں یا نویں درجہ کا نصاب تعلیم پڑھایا جائے اور اس مقصد سے کسی ٹیچر کو مقرر کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ ترقی معکوس کسی طرح قرین عقل و فطرت نہیں ہو سکتی۔
آیت مقدسہ نے امت محمدیہﷺ کو خیر الامم کی سند عطا فرما کر اس نکتہ لطیفہ کی طرف بہت واضح اشارہ فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ: ”خیر امۃ یا خیر الامم“ ہونے کی وجہ سے اب تمہیں علم کے لئے خیر الانبیاءﷺ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف دیکھنے اور کسی دوسرے نبی کا انتظار کرنے کی احتیاج نہیں۔ علم و دانش کا بہترین خزینہ عامرہ تمہیں مل چکا۔ اب کسی دوسرے نبی کا انتظار کرنے کے بجائے اس خزانہ سے فائدہ اٹھاؤ اور متعلم کے بجائے معلم بنو۔ یعنی تم کمال کو پہنچ گئے۔ اب تمہارا کام یہ ہے کہ تعلیمات محمدیہﷺ کو دوسروں تک پہنچاؤ۔ خود عالم باعمل بن کر دوسروں کو عالم باعمل بناؤ۔ تم کامل ہو چکے۔ اب دوسروں کو مرتبہ کمال تک پہنچانے کا کام انجام دو اور اپنے نبی اکرمﷺ کے سچے جانشین بنو۔
آیت مقدسہ نے ”خیر امۃ“ کے لفظ ہی سے ختم نبوت کی طرف اشارہ فرما دیا۔ لیکن ”اخرجت للناس“ کا فقرہ تو اس مضمون کی تنویر و تشریح میں نور علی نور کا مصداق ہے۔
١؎ اس سے یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہئے کہ کسی نبی کی تعلیم فی نفسہ (معاذ اللہ) ناقص تھی۔ جیسا کہ بہت سے بے ادب اور ناسمجھ واعظین کہہ دیا کرتے ہیں۔ ہر نبی کی تعلیم اس کے دور اور اس کی امت کے لحاظ سے بالکل کامل اور مفید ترین تھی۔ مقصد صرف یہ ہے کہ بعثت محمدیﷺ کے بعد اور امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کے لئے کسی نبی کی تعلیم اس قدر مفید اور کامل نہیں جس قدر محمد رسول اللہﷺ کی تعلیم مفید اور کامل ہے۔
٦٩
”الناس“ کا لفظ اس پوری انسانی جماعت کو بتارہا ہے جو بعثت محمدﷺ کے وقت سے قیامت تک وجود میں آئی یا آئے گی۔ یعنی پوری نوع انسانی کی تعلیم و تربیت امت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ کے سپرد کی گئی ہے اور اسے اس کار نبوت میں شریک و سہیم بنا دیا گیا ہے۔ یہ اس امت کی خصوصیت خاصہ ہے کہ اسے اس مرتبہ عظمیٰ پر فائز فرما دیا گیا جو پچھلی امتوں میں سے کسی کو بھی نہیں عطاء فرمایا گیا۔ امم سابقہ میں دعوت دین کے لئے ایک نبی کے بعد دوسرے نبی کی بعثت ہوتی تھی۔ لیکن کسی امت کی بحیثیت امت اس مقصد عظیم کے لئے بعثت نہیں ہوئی۔ ”اخرجت للناس “ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس تاج کرامت سے صرف امت محمدیہ علیہ الصلوٰۃ والتحیہ کو سرفراز فرمایا ہے اور یہ امت بحیثیت مجموعی دین کو پھیلانے اور دوسروں کی تعلیم و تربیت دینے پر مامور ہے۔ یہی اس کے وجود میں لانے کا مقصد ہے اور اسی کے لئے یہ حجاب عدم سے نکالی گئی۔ یا باہر لائی گئی ہے یا دوسرے الفاظ میں مبعوث فرمائی گئی ہے۔
نبی کا کام امت کے سپرد ہو جانے کے بعد کسی نئے نبی کی بعثت بالکل غیر ضروری ہو جاتی ہے۔ اس لئے کہ جس کے لئے نبی کی بعثت ہوتی ہے وہ کام اس امت کے سپرد کر دیا گیا جو اسے انجام دیتی رہتی ہے۔ اب کسی نبی کی بعثت آخر کس کام اور کس مقصد کے لئے ہوگی؟
”تأمرون بالمعروف “ الآیہ نے اس مسئلہ کو اور بھی صاف اور بے غبار کر دیا۔ بعثت انبیاء کے مقصد کا خلاصہ دو لفظوں میں کیا جاسکتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ کام اس امت کے سپرد کر دیا گیا اور یہ بھی فرما دیا گیا کہ تم ان دونوں مقاصد کو پورا کر رہے ہو۔ اس کے بعد کسی نبی کی بعثت کا تصور کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ کسی نئے نبی کی بعثت سے یہ اندیشہ ہے کہ امت اس منصب عظیم سے معزول کر دی جائے۔ اگر بالفرض کفرض المحال کوئی نبی مبعوث ہو یا اس کی بعثت کی توقع ہو تو بہت قوی اندیشہ ہے کہ امت بحیثیت مجموعی اس کام کو چھوڑ بیٹھے۔
١؎ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ الف لام میں اصل استغراق ہے۔ یعنی جس لفظ پر الف لام داخل ہو اس سے اس کے سب افراد مراد ہوتے ہیں۔ مخصوص افراد مراد لینے کے لئے کسی خاص دلیل کی ضرورت ہے جو یہاں مفقود ہے۔ بلکہ اس کے خلاف ایک دلیل یہ موجود ہے کہ بعض مخصوص انسان مراد لینے سے ”خیر امۃ “ کی کوئی خاص فضیلت اور خصوصیت نہیں ظاہر ہوتی۔ علاوہ بریں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مخصوص انسان کون ہیں۔ جن کے لئے اس امت کی بعثت ہوئی؟ اور ان کی خصوصیت کی وجہ کیا ہے؟ گویا آیت میں خواہ مخواہ ابہام کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ جس کی کوئی دلیل نہیں بلکہ قرآن مجید کی صفت مبین کے تقاضہ کے خلاف ہے۔
٧٠
اس لئے کہ جو چیز نفس پر گراں ہو انسان کا فطری میلان اس کے ترک کی جانب ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی طبعی ہے کہ جب کسی کام کا اعلیٰ ذمہ دار موجود ہو یا اس کے وجود کی توقع ہو تو ادنیٰ ذمہ داری رکھنے والے ہاتھ پاؤں ڈال دیتے ہیں اور کام کو اس کے سپرد کر دیتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید و حدیث شاہد ہے کہ پچھلی امتوں میں انسان کی یہ طبعی کمزوری ہلاکت آفریں اثرات دکھا چکی ہے۔ بنو اسرائیل کا بار بار گمراہ ہونا اور بار بار عذاب الٰہی میں مبتلا ہونا اسی سبب کا رہین منت تھا کہ انہوں نے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا اور اس کے بجائے ان کے صلحاء ضلالِ عام کے وقت کسی نئے نبی کی بعثت کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے تھے۔ اگر سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے بعد کسی نئے نبی کی بعثت کا امکان ہوتا تو اس امت کا بھی یہی حال ہوتا اور یہ ”خیر امت“ کے لقب سے کبھی ممتاز نہ ہوتی۔ اسے تکمیل مقاصد نبوت کا ذمہ دار بنانے اور اس منصب کا مستحق قرار دینے کے معنی ہی یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد قیامت تک کسی نبی کی بعثت نہ ہوگی اور سلسلۂ نبوت آنحضور ارواحنا فداہ پر ختم کر دیا گیا۔
آیت شہادت امت
اس سے ہماری مراد مندرجہ ذیل آیت ہے۔ ”وکذالک جعلناکم امۃ وسطاً لتکونوا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا (البقرہ:١٤٣)“ ﴿اور ایسے ہی ہم نے تمہیں بہترین امت (خیر الامم) بنایا تا کہ تم سب لوگوں پر گواہ ہو اور رسول (ﷺ) تم پر گواہ ہوں۔﴾
یہ آیت بھی ختم نبوت کو بہت واضح طریقہ سے بیان کر رہی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وجہ استدلال ذکر کرنے سے پہلے اس واقعہ کا تذکرہ کر دیا جائے۔ جس کی طرف آیت میں اشارہ ہے۔ جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔ اگر چہ استدلال و تفسیر اس تذکرہ پر موقوف نہیں۔ مگر اس سے توضیح مزید ہوگی اور بات صاف ہو کر سامنے آجائے گی۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن دوسرے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ایمان نہ لانے والی امتیں اس بات سے انکار کر دیں گی کہ ان کے انبیاء نے انہیں دین کی دعوت دی تھی۔ اس وقت امت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ انبیاء کی جانب سے شہادت دے گی کہ بے شک وہ سچے ہیں اور انہوں نے ان منکرین کو دعوت دی تھی۔ مگر یہ لوگ ایمان نہ لائے۔ اپنی امت کی صداقت کی شہادت خود نبی کریم ﷺ دیں گے۔ اب وجہ استدلال ملاحظہ ہو۔
٧١
- ١...... وسط، عربی میں بہترین کے معنی میں آتا ہے۔ ”خیر امۃ“ سے جس
طرح استدلال کیا گیا تھا اسی طرح اس سے بھی ہوسکتا ہے۔
- ٢...... اس امت کو سب امتوں پر شاہد اور گواہ فرمایا گیا ہے۔ اگر کوئی دوسرا نبی
آئے گا تو اس کی امت آخر میں ہونے کی وجہ سے شاہد ہوگی۔ نہ کہ امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری امت ہے اور محمدﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔ جس کی امت کو آخری امت کہا جاسکے۔
- ٣...... سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ: ”الرسول“ سے مراد بداہۃً محمد رسول
اللہ ﷺ ہیں۔ اگر ان کے بعد بھی انبیاء کی بعثت ہو سکتی تو سب شہید اور گواہ ہوتے اور عبارت یوں ہوتی۔ ”ویکون الرسل ، علیکم شہیدا“ واحد کا صیغہ صاف طور پر بتا رہا ہے کہ آنحضورﷺ آخری رسول اور نبی ہیں۔
- ٤...... اسی طرح اگر آنحضورﷺ کے بعد اور کوئی نبی مبعوث ہوسکتا تو
”ولتکونوا شہداء علی الناس“ کے بجائے ”ولتکونوا مع النبی اومع النبیین شہداء علی الناس“ ہوتا۔ یعنی ان انبیاء کا تذکرہ بھی ضرور ہوتا۔ نبی کی اہم ہستی کو ہرگز ترک نہ فرمایا جاتا۔ ان دلائل سے صاف ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی نبی یا رسول کی بعثت نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک ہو سکتی ہے۔
تنبیہ ! ان آیات کے علاوہ بکثرت آیات اس مضمون کو بیان کر رہی ہیں۔ مگر ہم بخوف طوالت انہیں پر اکتفاء کرتے ہیں۔
حدیث
اگرچہ قرآن مجید کی ان آیات باہرہ اور براہین قاصرہ کے بعد حدیث سے استدلال کی احتیاج باقی نہیں رہتی۔ لیکن ہم تبرکاً حدیث نبوی کی روشنی میں بھی اس عقیدے پر نظر ڈالتے ہیں۔ ختم نبوت کا عقیدہ قرآن مجید کی طرح حدیث میں بھی صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ بخاری شریف کی مندرجہ ذیل روایت پر نظر کیجئے۔
”عن ابی هریرة ان رسول الله ﷺ قال ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنى بيتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فانا
٧٢
اللبنة وانا خاتم النبيين (بخاری ج ١ ص ٥٠١، باب خاتم النبیین) ﴿ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے مکان بنایا اور اسے خوب سنوارا لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس میں گھومنے پھرنے لگے اور اس کی خوبی پر تعجب کرنے لگے۔ یہ اینٹ کیوں نہ لگادی گئی۔ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ) میں وہ (آخری) اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ﴾
حدیث بہت صفائی اور صراحت کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین اور آخری نبی ظاہر کر رہی ہے۔
دوسری حدیث
"عن جبير بن مطعم ان النبى ﷺ قال انا محمد انا احمد وانا الماحى الذى يمحوا الله به الكفر وانا الحاشر الذى يحشر الناس على عقبى وانا العاقب الذى ليس بعده نبى (بخاری ص ٥٠٠، کتاب المناقب باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ ﷺ، مسلم ص ٢٦١، باب فی اسمائه ﷺ، ابونعیم فی الدلائل) "
﴿ حضرت جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں محمد اور احمد ہوں۔ میں ماحی ہوں یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹادیں گے اور میں حاشر ہوں یعنی حشر میرے بعد ہی برپا ہوگا اور میں عاقب ہوں اور عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نہ ہو۔ (یعنی میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا) ﴾
اس حدیث کا مضمون بھی ظاہر ہے۔ اور دونوں حدیثیں بہت صفائی اور صراحت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی تعلیم دے رہی ہیں۔ اس مضمون کی اور متعدد حدیثیں ہیں۔ جنہیں ہم نے بخوف طوالت ذکر نہیں کیا۔ طالب حق کے لئے اسی قدر بہت کافی ہے۔
اجماع امت
کتاب وسنت کے بعد اجماع امت بھی ایک قوی دلیل شرعی ہے۔ جب ہم اس مسئلہ پر اس حیثیت سے نظر کرتے ہیں تو بغیر کسی کدوکاوش کے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ صحابہ کرامؓ سے لے کر اس وقت تک ہمیشہ پوری امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کا اجماع اس بات پر رہا ہے کہ
٧٣
محمد رسول اللہﷺ آخری نبی ہیں اور آنحضورﷺ کے بعد قیامت تک کسی نبی کی بعثت نہیں ہو سکتی۔ صحابہ کرامؓ کا اس مسئلہ پر اجماع ایک بدیہی واقعہ ہے۔ مسیلمہ کذاب اگرچہ کلمہ گو تھا اور محمد رسول اللہﷺ کی نبوت ورسالت کو تسلیم کرتا تھا۔ مگر باوجود اس کے محض انکار ختم نبوت اور ادعائے نبوت کی وجہ سے صحابہ کرامؓ نے اسے مرتد قرار دے کر اس کے خلاف جہاد فرمایا۔ اگر انہیں اس کا ادنیٰ خیال بھی ہوتا کہ اب کوئی دوسرا نبی آسکتا ہے تو کم از کم اس کی تحقیق ضرور کرتے۔ لیکن تحقیق وتفتیش کی ضرورت نہ سمجھنا اس کی روشن دلیل ہے کہ انہیں خاتم النبیین کے بعد کسی نبی کے آنے کا ادنیٰ خیال بھی نہ تھا۔ ١؎ اس کے علاوہ ختم نبوت کے بارے میں ان کی تصریحات بھی بکثرت منقول ہیں۔
اجماع کے متعلق چند نقول درج ذیل ہیں۔ ”لانه اخبر انهﷺ خاتم النبيين ولا نبى بعده واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره (شفاء قاضی عیاض ج ٢ ص ٢٤٧)“ ﴿اس لئے کہ آنحضورﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آنحضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں مبعوث ہوگا۔ نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہری معنی میں محمول ہے۔ (یعنی آپﷺ آخری نبی ہیں اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں مبعوث ہوں گے )﴾
علامہ ابن حجر مکیؒ اپنے فتاویٰ حدیثیہ میں تحریر فرماتے ہیں : ”ومن اعتقد وحيا بعد محمدﷺ كفر باجماع المسلمین“ ﴿جو شخص محمد رسول اللہﷺ کے بعد بھی نزول وحی کا عقیدہ رکھے وہ باجماع مسلمین کافر کہا جائے گا۔﴾
١؎ بعض قادیانی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے اسود و مسیلمہ کے خلاف جہاد اس لئے کیا کہ انہوں نے بغاوت کی تھی۔ ان کے دعوائے نبوت کی وجہ سے جہاد نہیں کیا۔ اس کا جواب حدیث سے ظاہر ہے۔ موٹی سی بات ہے کہ اگر ان میں ان لوگوں کی نبوت کا احتمال بھی ہوتا تو تحقیق واقعہ کے بغیر ان کے خلاف جنگ کی ہمت نہ کرتے۔ اس احتمال کی بنیاد پر بغاوت کے بھی کوئی معنی نہیں۔ بالفرض اگر معاذ اللہ وہ نبی ہوتے تو خلیفہ کو ان کی اطاعت کرنا چاہئے تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کا پختہ عقیدہ تھا کہ آنحضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور اب قیامت تک جو شخص نبوت پانے کا مدعی ہو وہ مرتد اور کذاب ہے۔ اس لئے انہوں نے بلا تامل مسیلمہ وغیرہ مدعیان نبوت کو مرتد قرار دے کر ان کے خلاف جہاد فرمایا۔
٧٤
اسی طرح ملا علی قاریؒ (شرح فقہ اکبر ص٢٠٢) میں ارشاد فرماتے ہیں: ”ودعوة النبوة بعد نبيناﷺ كفر بالاجماع “ ﴿نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی کریم (محمد)ﷺ کے بعد بالاجماع کفر ہے۔﴾ آیات واحادیث اجماع ان سب دلائل شرعیہ کی روشنی میں یہ بات بالکل قطعی ویقینی طریقہ سے آفتاب نصف النہار کی طرح واضح ہوگئی کہ سید المرسلین محمد رسول اللہﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کسی نبی ورسول کی بعثت نہیں ہوئی۔ اسی طرح قیامت تک کسی نبی ورسول کی بعثت نہیں ہو سکتی۔ جو شخص اس کا انکار کرتا ہے یا اس میں شک کرتا ہے وہ یقیناً اسلام سے خارج اور زمرۂ مسلمین سے باہر ہے۔ جن لوگوں نے آنحضورﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کیا یا جو آئندہ اس قسم کا دعویٰ کریں خواہ وہ اپنے باطل دعویٰ پر ظلی وبروزی نبوت کی خانہ ساز اصطلاح کا پردہ ڈالیں یا اصلی نبوت کے مدعی بنیں، دونوں صورتوں میں وہ کذاب، کافر مرتد، خارج از اسلام قرار دیئے جائیں گے اور دشمنان دین مبین کے زمرہ میں داخل ہوں گے۔ آخرت میں ان کے لئے ابدالآباد کے جہنم کے سوا اور کوئی ٹھکانا نہیں۔ ایسے لوگوں کا کافر مرتد اور کذاب ہونا بالکل قطعی اور یقینی ہے۔ اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بات بھی واضح کر دینا مفید ہے کہ جو آیتیں اور حدیثیں ہم نے نقل کی ہیں۔ ان کے علاوہ بکثرت آیات اور حدیثیں ہیں جو ہمارے مدعا کو روز روشن کی طرح روشن کر رہی ہیں۔ جیسا کہ آنحضرتﷺ کی وہ حدیث کہ میرے بعد اگر نبی آنے والا ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے۔
اجماع سلف کا اظہار کرنے والے واقعات تو ان سے بھی زائد ہیں۔ لیکن اثبات مدعیٰ کے لئے ایک قوی دلیل بھی کافی ہوتی ہے۔ اس لئے اوّل تو اختصار کے لئے ہم نے سب دلائل نقل نہیں کئے۔ دوسرے ہمارا خاص مقصد اس کتاب میں مسئلہ پر عقلی نقطۂ نظر سے بحث کرنا ہے۔ اس لئے دلائل نقلیہ میں ہم نے اختصار سے کام لیا ہے تاہم جو دلائل ذکر کئے ہیں ان میں سے ہر ایک بالکل کافی وشافی اور قطعی ویقینی ہے۔
باب دوم ...... نزول مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام
ارشادات قرآنی اور احادیث صحیحہ کثیرہ سے جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔ نیز اجماع امت سے ثابت ہے کہ عمر دنیا کے اختتام کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں
گے اور امت محمدیہ علیہ الف تحیہ میں شامل ہو کر اپنے برکات و فیوض سے امت کو مستفیض فرمائیں گے۔
ہو سکتا ہے کہ کسی کو یہ اشکال پیش آئے کہ یہ صورت واقعہ تو ختم نبوت کے منافی معلوم ہوتی ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ پر سلسلۂ نبوت ختم ہو جانے کے بعد کسی نبی کے تشریف لانے کے کیا معنی؟۔
بادی النظر میں یہ اشکال کچھ وقیع نظر آتا ہے۔ لیکن غور کیجئے تو صرف سطح بینی اور قلت فکر کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ پچھلے صفحات ملاحظہ فرمائیے ہم نے ختم نبوت کی تشریح کے سلسلہ میں ہمیشہ یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت نہیں ہو سکتی۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی نئے شخص کو ابتداءً یہ منصب عظیم عطاء فرما کر اور سند نبوت دے کر نہیں بھیجا جاسکتا۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ انبیاء سابقین میں سے کوئی نبی بھی دوبارہ دنیا میں نہیں تشریف لاسکتے۔ بعثت کے معنی یہ ہیں کہ حق تعالیٰ نے اپنے کسی بندے کو تاج نبوت سے سرفراز فرما کر ہدایت خلق اللہ کا کام سپرد فرمائیں۔ جو پہلے ہی منصب نبوت پر سرفراز ہو چکے ہوں۔ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دینے کو بعثت نہیں کہتے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے ہو چکی اور وہ بنی اسرائیل میں اپنا کام انجام دے کر زندہ آسمان پر تشریف لے گئے۔ نہ انہیں طبعی موت آئی نہ شہید کیا جاسکا۔ جیسا کہ قرآن مجید سے صاف عیاں ہے۔ اب اگر وہ دوبارہ آسمان سے دنیا میں تشریف لائیں تو یہ ختم نبوت کے منافی کیوں ہے؟ اور اس سے سلسلۂ نبوت کا جاری رہنا کس طرح لازم آتا ہے؟
مثال ذیل جواب کی مزید توضیح کردے گی۔ ایک شخص کسی ملک کی سول سروس میں داخل ہو کر کسی صوبہ کا گورنر مقرر ہوتا ہے اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد کسی دوسرے ملک چلا جاتا ہے۔ کچھ مدت کے بعد وہ اسی صوبہ میں پھر آتا ہے۔ مگر گورنر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام شہری کی حیثیت سے تو کیا اس سے موجودہ گورنر کے عہدہ اور اعزاز میں کوئی فرق پیدا ہو جائے گا؟ یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس صوبہ میں اس وقت دو گورنر موجود ہیں؟ اس کے ساتھ سابق گورنر کے پاس جو سند سول سروس کی ہے وہ بھی باقی رہے گی اور اس کے اس اعزاز میں بھی کوئی فرق نہیں آسکتا۔ اسی
٧٦
طرح حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی سند نبوت بھی بدستور برقرار رہے گی۔ مگر اس سے محمد رسول اللہ ﷺ کے منصب ختم نبوت میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آئے گا۔
اسی مقام سے ہمیں اصل اشکال کے ایک دوسرے جواب کی طرف بھی رہنمائی ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری بحیثیت نبی کے نہ ہوگی۔ بلکہ خاتم النبیین ﷺ کے ایک امتی کی حیثیت سے ہوگی۔ وہ نہ تو کوئی نئی کتاب لائیں گے نہ کوئی دوسری شریعت بلکہ قرآن مجید اور شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ ہی پر عمل فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ انجیل جو خود ان پر نازل ہوئی تھی۔ اسے بھی لے کر نہیں تشریف لائیں گے نہ اس پر عمل پیرا ہوں گے بلکہ اس کے بجائے قرآن مجید ہی پر عمل کریں گے۔ ایسی حالت میں اس کا وہم کرنا بھی نادانی ہے کہ ان کا تشریف لانا ختم نبوت محمد ﷺ کے منافی ہے۔ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان کی تشریف آوری ہرگز ختم نبوت کے منافی نہیں۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کا خاص مقصد مسیح دجال کو قتل کرنا اور اس کے شر سے امت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی سلطان کسی خاص مجرم کو سزا دینے کے لئے کسی شخص کو مامور کرے۔ اس مدت کے لئے اس شخص کے کسی حصہ ملک میں جانے سے اس حصہ کے حاکم کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔ یہ جب تک اس حصہ میں ہے اس وقت تک اسی حاکم کے ماتحت سمجھا جائے گا اور اسے حاکم کسی حالت میں بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام فتنہ دجال کے استیصال کے لئے تشریف لائیں گے۔ اس حالت میں ان کی حیثیت امت محمدیہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک فرد کی ہوگی۔ اس سے آنحضور ﷺ کے منصب خاتم النبیین ﷺ پر ذرہ برابر بھی کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔
نزول مسیح دلیل ختم نبوت
جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے بصیرت کی نعمت سے نوازا ہے اور جو تفکر کی راہ ایمان کی روشنی میں طے کرتا ہے وہ اگر فہم و تامل سے کام لے تو اسے نظر آئے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری ختم نبوت محمدیہ (ﷺ) کے منافی ہونے کے بجائے اس کی مزید تائید کر رہی ہے اور عقیدہ ختم نبوت کی ایک مستقل دلیل و برہان ہے۔
٧٧
اپنے ذہن سے سوال کیجئے کہ قتل دجال اور اس کے فتنہ کے استیصال کے لئے مخصوص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی کیا ضرورت ہے؟ اگر اس کار عظیم کے لئے نبوت ہی کی معجزانہ قوت درکار تھی تو کسی نئے نبی کی بعثت سے بھی یہ فائدہ حاصل ہو سکتا تھا؟ مسیح بن مریم علیہا السلام کا نزول ہی اس کے لئے کیوں تجویز فرمایا گیا؟
سوال خود مفتاح جواب ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک قدیم نبی کو بھیجنے سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا منظور ہے کہ باب نبوت بند ہو چکا ہے۔ یہ منصب عظیم اپنے جن بندوں کے لئے ملک علام نے مقدر فرمایا تھا وہ اس پر فائز ہو چکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اہم جزئی کام کے لئے جو نبوت کی معجزانہ قوت کا محتاج تھا کسی نئے نبی کے بجائے ایک قدیم ہی نبی کو دوبارہ بھیجا جا رہا ہے۔
دوسری طرف اس حقیقت کی نقاب کشائی فرمادی گئی کہ خاتم النبیین ﷺ کا مرتبہ اس قدر بلند و برتر ہے اور خاتم النبیین کا تاج کرامت آپ ﷺ کے سر اقدس پر اس قدر موزوں ہے کہ اگر کوئی قدیم نبی بھی آپ ﷺ کے بعد تشریف لائیں تو وہ بھی آنحضور ﷺ کے ایک امتی کی حیثیت اختیار کر لیں گے اور ان کو بھی آنحضور ﷺ کی اتباع کرنا پڑے گی۔
یہ مفید اور دلچسپ نکتہ بھی یاد رکھئے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو عالم دنیا سے جانے کے بعد بھی اعلیٰ درجہ کی حیات طیبہ حاصل رہتی ہے۔ شہداء کی صریح طریقہ سے قرآن حکیم نے احیاء یعنی زندہ کہا ہے۔ بلکہ انہیں مردہ کہنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ صدیقین کی حیات ان سے بھی اعلیٰ اور قوی تر ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام کی حیات مقدسہ سے سب سے زیادہ اعلیٰ و قوی تر ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے سب انبیاء علیہم السلام از حضرت آدم علیہ السلام تا خاتم النبیین محمد مصطفے ﷺ زندہ ہیں۔ چنانچہ حدیث معراج سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات نے نبی کریم محمد مصطفے ﷺ کی اقتداء بھی مسجد اقصیٰ میں کی تھی اور آنحضور ﷺ نے نماز میں امامت فرمائی تھی تو کیا ان کا وجود ختم نبوت کے منافی ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ثانی بھی ختم نبوت کے نہ منافی ہے نہ سلسلہ نبوت جاری رہنے کا کوئی ثبوت ہم نے ظہور ثانی کا لفظ قصداً استعمال کیا ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کی طرح موجود اور زندہ تو وہ اب بھی ہیں۔ لیکن اس دنیا کے اشخاص کے سامنے ظاہر نہیں ہیں۔ ان کا ایک ظہور ہو چکا ہے اور دوسرا ظہور قیامت کے قریب
٧٨
ہوگا۔ جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔ محض دوبارہ ظہور سے یہ کسی طرح لازم نہیں آتا کہ نبی کریم محمد مصطفےٰ ﷺ پر نبوت ختم نہیں ہوئی یا سلسلۂ نبوت جاری ہے۔ اگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے کہ ختم نبوت کے معنی صرف یہ ہیں کہ کسی نئے شخص کو مرتبہ نبوت پر سرفراز نہ فرمایا جائے گا تو کوئی اشکال پیدا ہی نہیں ہوتا۔
قبل یا بعد
جی چاہتا ہے کہ آپ اس مسئلہ پر کچھ دیر اور غور کریں۔ تاکہ ایک مغالطہ سے نجات حاصل کر لیں۔ جو نظر کی غلطیوں کی طرح ذہنی بصیرت کی غلطی کا رہن منت ہے۔ بیشک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس وقت ہوگا جب دنیا اپنی حیات ناپائیدار کے آخری دن بسر کر رہی ہوگی۔ لیکن کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام بعثت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ کے بعد ہوگا؟ آپ فرمائیں گے کہ ہاں میں کہوں گا۔ نہیں بلکہ یہ ایک مغالطہ اور نظر کی غلطی ہے۔ جس میں عام لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ مگر حقیقت اس کے خلاف ہے۔ یعنی نبی کریم ﷺ کا زمانہ ظہور یقیناً ظہور عیسوی کے بعد ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آنحضور ﷺ پر زمانہ کے لحاظ سے مقدم کہنا چاہئے۔ اگر یہ نظریہ جو بادی النظر میں بہت عجیب معلوم ہوتا ہے صحیح ہے اور میں ثابت کروں گا کہ صحیح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ زمانہ کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ہیں۔ اس کے بعد ختم نبوت کے بارے میں جو اشکال نظر کی سطحیت سے پیدا ہوا تھا وہ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اس اجمال کی تفصیل درج ذیل ہے۔
قرآن مجید کا بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت جسمانی طاری نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کی حیات طیبہ جس کی ابتداء ان کی پیدائش کے وقت سے ہوئی تھی۔ آج تک مستمر ہے اور اس وقت تک مستمر رہے گی۔ جب تک وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لاکر عام انسانوں کی طرح جسمانی طور پر بھی انتقال نہ فرما جائیں۔ ان کا دنیا میں تشریف لانے کا زمانہ جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ان کی اس عمر طویل کا ایک حصہ ہوگا نہ کہ کوئی جدید پیدائش۔ ان کی اس طویل عمر کے ایک حصہ میں خاتم النبیین ﷺ کی بعثت ہوئی اور دوسرے حصہ میں آنحضور ﷺ کی وفات کا سانحہ پیش آیا۔ ان کی پیدائش بھی آنحضور ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہوئی اور ان کی بعثت بھی بعثت محمدی ﷺ پر مقدم ہے تو کیا کوئی
٧٩
سمجھدار شخص کہہ سکتا ہے کہ محض طولِ عمر کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام محمد رسول اللہ ﷺ سے بہ لحاظ زمانہ مؤخر ہیں؟
حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید میں واضح طور پر مذکور ہے۔ جن پر موت طاری کر دی گئی تھی اور ایک سو سال کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کیا گیا۔ سو سال کی مدت بہت ہوتی ہے۔ اس میں حضرت عزیر علیہ السلام کی اولاد اور اولاد در اولاد کا خاصا سلسلہ وجود میں آ گیا۔ کیا کوئی عقلمند یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت ممدوح کی یہ اولاد ان سے عمر میں بڑی تھی؟ یا ان پر زمانہ کے اعتبار سے مقدم تھی؟ یا ان کا وجود ان کی اولاد کے بعد ہوا؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ تو اس سے زیادہ صاف ہے۔ ان پر تو موت بھی نہیں طاری ہوئی۔ وہ اسی حیات قدیمہ کے ساتھ اب بھی موجود ہیں۔ انہیں نبی کریم ﷺ کے بعد آنے والا کہنا کھلی غلطی ہے۔ یقیناً وہ خاتم النبیین سے پہلے ہیں اور ان کا یہ تقدم اس وقت بھی قائم رہے گا۔ جب وہ قیامت کے قریب آسمان سے دنیا کی طرف نزول فرمائیں گے۔ مگر چونکہ یہ زمانہ نزول و وفات خاتم النبیین ﷺ کے بعد کا ہوگا۔ اس لئے یہ وہم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضور ﷺ کے بعد بھی تشریف لائیں گے۔ حالانکہ حقیقت کے لحاظ سے وہ بعد میں نہیں بلکہ قبل ہیں۔ ان کی پیدائش بعثت دعوت ہر چیز کو نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کی پیدائش، بعثت اور دعوت سے پہلے ماننے کے بعد محض ان کی عمر طویل کی وجہ سے انہیں مؤخر کہنا ایک مغالطہ ہے۔ جس کی غلطی اظہر من الشمس ہے۔
اس حقیقت واقعی کی وضاحت کے بعد سرے سے اشکال کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے اور نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا بالکل بے غبار اور مثل آفتاب نصف النہار روشن و تاباں ہو جاتا ہے۔ ختم نبوت پر حرف صرف اس صورت میں آ سکتا ہے جب نبی کریم ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی پیدائش، یا بعثت کا ثبوت مل سکے اور یہ ایسی ناممکن بات ہے جس کا ثبوت قیامت تک نہیں مل سکتا۔
نزول مسیح کی حکمت
اگرچہ بحیثیت مسلمان ہمیں اس جستجو کی کوئی حاجت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے میں کیا راز اور حکمت ہے؟ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس کی خبر پر ایمان لائیں اور
٨٠
یہ یقین کریں کہ رب حکیم لئے کچھ ضروری نہیں۔ مطابق سمجھ میں آ رہی ہو تو قرآن مجید تھی ان میں ایک نمایاں ”وَاِذْ قَالَ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَ (الصف:٦) “ تمہارے پاس اللہ کا رسو والا اور اس رسول کی بشا (ﷺ) ﴾ کی تکذیب کی عزم کر لیا۔ اٹھا لیا۔ یہود ناپا سے بھی جن کی بشارت ارشاد ہے: ”لَتَجِدَ (المائدہ:٨٢) “ آسمان پر دیتے رہے اور اپنے زمانہ میں بھی اس دنیا میں کہ اس صورت میں وہ ٹو دعوت دیتے۔ گویا ان کی تھی وہ یہی ہیں۔ یہی خاتم النبیی بشارت دینے کا موقعہ
یہ یقین کریں کہ رب حکیم و علیم کے نزدیک اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوگی جس کا علم ہمارے لئے کچھ ضروری نہیں۔ لیکن اگر کوئی حکمت قرآن وحدیث میں غور کرنے کے اصول دین کے مطابق سمجھ میں آرہی ہو تو اس کا اظہار صرف جائز ہی نہیں بلکہ انشاء اللہ بہت نافع بھی ہوگا۔
قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت جن مقاصد کے لئے ہوئی تھی ان میں ایک نمایاں مقصد خاتم النبیین ﷺ کی آمد آمد کی بشارت و خوشخبری دینا بھی تھا۔
"وإذ قال عيسى بن مريم يا بني إسرائيل إني رسول الله إليكم مصدق لما بين يدى من التوراة ومبشراً برسول يأتي من بعدي اسمه أحمد (الصف:٦) " ﴿اور جب حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں اس حالت میں کہ میں تورات شریف کی تصدیق کرنے والا اور اس رسول کی بشارت دینے والا ہوں۔ جو میرے بعد آنے والا ہے اور جس کا نام احمد ہے (ﷺ)﴾
یہ بشارت آپ نے دی مگر آپ کی سماعت کرنے والے اقل قلیل تھے۔ یہود نے آپ کی تکذیب کی اور صرف تکذیب نہیں کی بلکہ آپ کے جانی دشمن ہو گئے اور آپ کو شہید کر دینے کا عزم کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کی سازش کو ناکام بنا دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ یہود ناکام و نامراد رہے۔ مگر ان کی عداوت میں کمی نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ خاتم النبیین ﷺ سے بھی جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی انہیں سخت عداوت ہوگئی۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لتجدن اشد الناس عداوة للذين آمنوا اليهود والذين اشركوا (المائده:٨٢) " ﴿آپ اہل ایمان کے سب سے بڑے دشمن یہود اور مشرکین کو پائیں گے۔﴾
آسمان پر جانے سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام برابر خاتم النبیین ﷺ کی بشارت دیتے رہے اور اپنے اس مقصد بعثت کو پورا کرتے رہے۔ اگر بالفرض وہ خاتم النبیین ﷺ کے زمانہ میں بھی اس دنیا میں ہوتے تو وہ اپنے اس مقصد بعثت کو کس طرح پورا کرتے؟ ظاہر ہے کہ اس صورت میں وہ لوگوں کو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے اور اسلام محمدی پر عمل کرنے کی دعوت دیتے۔ گویا ان کی تشہیر کا عنوان یہ ہوتا کہ لوگو! میں نے جن نبی کی تم سے پیشین گوئی کی تھی وہ یہی ہیں۔
یہی خاتم النبیین ہیں ان پر ایمان لاؤ اور ان کی شریعت پر عمل کرو۔ اس عنوان سے بشارت دینے کا موقعہ حضرت مسیح علیہ السلام کو اب تک نہیں ملا۔ قیامت کے قریب جب فتنہ دجال
٨١
ظاہر ہو گا تو حق تعالیٰ کی طرف سے اس کا موقع عطا فرمایا جائے گا کہ وہ اپنے مقاصد بعثت میں سے اس مقصد عظیم کی تکمیل فرمائیں اور سید المرسلین ﷺ کے متعلق اس عنوان سے بشارت دے سکیں کہ لوگو خاتم النبیین وسیدالاولین والآخرین محمد ﷺ پر ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو۔ انہیں کے متعلق میں نے تم سے پیشین گوئی کی تھی اور انہیں کی اتباع اس وقت رضاء الٰہی کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ خود اہل ایمان کو بھی اس وقت بشارت کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ وہ دجال کی کامیابیوں اور اس کی شدید فتنہ انگیزی کی وجہ سے جن کا مقابلہ ان کے بس سے باہر ہوگا بہت دل شکستہ ہوں گے۔ ایسی حالت میں مسیح علیہ السلام کی بشارت ان میں نئی روح پھونکے گی۔ ان کا ایمان تازہ اور قوی ہوگا اور انہیں سکون قلب حاصل ہوگا۔ ادھر ان کا یہ فائدہ ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک فریضہ رسالت سے عہدہ برآ ہوں گے۔ احادیث میں فتنہ دجال کے متعلق جو کچھ وارد ہوا اس پر غور کرنے سے نزول مسیح علیہ السلام کا ایک دوسرا راز بھی کھلتا ہے۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال یہود میں سے ہوگا اور اس فساد عظیم کا سرچشمہ بھی اسی مفسد اور مغضوب علیہم قوم میں ہوگا۔ جنہیں ”الا انہم ھم المفسدون (البقرہ)“ ﴿خبردار ہو جاؤ کہ یہی لوگ مفسد ہیں۔﴾ کی سند قرآن مجید نے دی ہے۔
ان کی فساد انگیزی اور فتنہ پردازی کا آخری اور کامل ترین مظہر دجال ہوگا۔ یہود کو جو دشمنی وعداوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے یہی چیز مناسب معلوم ہوتی ہے کہ ان کے اس آخری فتنہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے دست مبارک سے خاک میں ملوایا جائے تا کہ یہ ذلیل ومفسد قوم انتہائی ذلیل وخوار ہو۔
کاروانِ خیال اسی راہ سے ایک تیسری حکمت کی منزل تک جا پہنچتا ہے۔ یہود مدعی ہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دے کر شہید کردیا۔ قرآن مبین کا ارشاد ہے۔ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (النساء:١٥٧)“ ﴿یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہ کر سکے نہ انہیں سولی دے سکے بلکہ انہیں اشتباہ ہو گیا۔﴾
موجودہ عیسائیت بھی یہودیت کی ایک شاخ ہے۔ اس لئے وہ بھی صلیب مسیح کی تعلیم دیتی ہے۔ دنیا کے آخری دور میں جو کہ اتمام حجت کا دور ہوگا؛ قرآن مجید کی اس صداقت اور یہود ونصاریٰ کی اس غلطی وگمراہی کے اظہار واثبات کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بہ نفس نفیس تشریف لانا بہت ہی مناسب پر از حکمت اور موجب ہدایت ہے۔ ممدوح کی آمد قرآن مجید کی تصدیق اور نبوت محمدیہ علیہ الف الف تحیۃ کی ایک دلیل وبرہان کے طور پر ہوگی۔
٨٢
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ صلیب مسیح علیہ السلام کا عقیدہ موجودہ محرف مسیحیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو یہود کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے مسیحیوں میں رائج ہو گیا۔ اسی پر عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہے۔ جس نے اس قوم میں آخرت فراموشی کا مرض پیدا کر دیا۔ مسیح علیہ السلام کا تشریف لانا خود اس عقیدہ باطلہ کی صلیب دینے کے مرادف ہے۔ اس برہان جلی بلکہ مشاہدے کے بعد ان ضالین اور کجرو لوگوں کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہتا اور اسلام محمدی ﷺ قبول کرنا ان کے لئے ضروری و لازم ہو جاتا ہے۔
منکرین ختم نبوت کے مغالطے
اس بات کی وضاحت بار بار کی جا چکی ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ انسان کے فطری رجحان سے ہم آہنگ اور دین کی ایک بدیہی اور ضروری حقیقت ہے۔ اگر اس کی ایک دلیل بھی موجود نہ ہو تو بھی اس کی حقیقت و صداقت آفتاب نصف النہار کی طرح روشن اور ثابت رہے گی۔ جب تک اس کے خلاف کوئی برہان جلی نقلی و شرعی قائم نہ ہو۔ چہ جائیکہ اس کی تائید میں بکثرت عقلی و نقلی براہین قاطعہ اور دلائل قاہرہ قائم ہیں۔ جیسا کہ پچھلے ابواب سے روشن ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ بار ثبوت درحقیقت ان لوگوں پر ہے جو سلسلہ نبوت کے جاری رہنے کے مدعی ہیں اور اس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین یعنی آخری نبی و رسول تسلیم کرنے سے گریز اور انکار کرتے ہیں۔ انہیں یہ ثابت کرنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی کسی نبی کی بعثت ہوئی یا ہوگی یا بالفاظ دیگر سلسلہ نبوت اب بھی جاری ہے۔ دلیل نقل شرعی قطعی اور یقینی ہونا لازم ہے۔ اس لئے کہ عقیدہ خصوصاً اتنا اہم عقیدہ جس پر اسلام و کفر اور جنتی و جہنمی ہونے کا دارو مدار ہو۔ دلیل قطعی کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتا۔ محض عقلی دلیل بھی اس کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے کہ عقائد کا مدار کتاب وسنت پر ہے نہ کہ عقل پر۔ نقلی دلیل بھی صریح اور واضح ہونا چاہئے۔ ایچ پیچ اور تاویلات سے عقائد نہیں ثابت ہوتے۔ عقیدہ کا مأخذ صرف صریح نصوص کتاب مبین یا نصوص احادیث متواترہ ہو سکتی ہیں۔ موضوع کا تقاضا تو یہ ہے مگر حالت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے باغی۔ یعنی منکرین ختم نبوت کے پاس ان کے باطل مدعا کو ثابت کرنے کے لئے تار عنکبوت کے برابر بھی کوئی دلیل نہیں ہے۔ دلیل و برہان سے تہی دستی انہیں مغالطوں کا سہارا لینے پر مجبور کرتی ہے۔ جن کے ذریعہ سے وہ ناواقفوں اور سادہ لوحوں کو اپنے دام فریب میں مبتلا کر کے مرتد بنا لیتے ہیں۔
٨٣
سطور ذیل میں اس فریب کار گروہ کے بعض ایسے مغالطوں کا تذکرہ کر کے ان کی پردہ دری کی جاتی ہے۔ جن کا استعمال یہ لوگ اکثر کرتے ہیں۔ سمجھ دار آدمی ان نمونوں کو دیکھ کر ان کے دوسرے مغالطوں کا حل بھی آسانی کے ساتھ معلوم کر سکتا ہے اور ان کی دھوکہ بازیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہ مغالطے دو قسم کے۔ عقلی اور نقلی!
عقلی مغالطے
پہلا مغالطہ...... آپ کی امت میں نبی ہوں؟
عام طور پر یہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ ”سرور انبیاء ﷺ کی بے مثال فضیلت کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ آپ کی امت میں بھی انبیاء مرسلین پیدا ہوں۔ کیونکہ آنحضور ﷺ سے پہلے جو جلیل القدر انبیاء گزرے ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ، حضرت داؤد علیہما السلام ان کی امتوں میں ان سے کم درجہ کے انبیاء ہوتے رہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ افضل الانبیاء کو اس فضیلت سے محروم کیا جائے ۔“
اس مہمل اور سرتا پا فریب استدلال سے یہ لوگ اکثر ناواقفوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آئندہ سطریں بتائیں گی کہ حقیقت کے لحاظ سے یہ محض فریب نظر مغالطوں کا مجموعہ ہے۔
پہلا مغالطہ تو یہ ہے کہ کسی نبی کی امت میں دوسرے نبی کا مبعوث ہونا اوّل کے لئے فضیلت ظاہر کیا گیا ہے۔ حالانکہ فی نفسہ یہ کوئی فضیلت نہیں۔ انبیاء علیہم السلام اجتباء کے طریقہ سے مبعوث ہوتے ہیں اور ہر نبی کا اجتباء انتخاب براہ راست حق تعالیٰ جل شانہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ کسی نبی کی امت میں ہونے کو اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”الله يعلم حيث يجعل رسالته (الانعام:١٢٤)“ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کس کو نعمت رسالت عطاء فرمائیں۔
دوسرے یہ کہ اگر ہم فضیلت بھی تسلیم کر لیں تو ایک جزئی فضیلت ہوئی۔ کیا ضروری ہے کہ یہ فضیلت آنحضور ﷺ کو بھی حاصل ہو؟ آنحضور ﷺ سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یہ فضیلت نہیں حاصل ہوئی اور ان کی امت میں بھی کوئی نبی نہیں ہوا۔ اس سے ان کے فضائل میں کیا کمی ہو گئی؟ آنحضور ﷺ کو سب انبیاء پر فضیلت کلی حاصل ہے۔ اگر بعض انبیاء کو آپ پر
٨٤
بالفرض فضیلت جزئی حاصل ہو جائے تو اس سے آنحضور ﷺ کی شان اقدس اور فضیلت کلی میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔
تیسرے یہ کہ کسی شخص کو کسی فضیلت سے محروم اس وقت قرار دیا جاسکتا ہے جب اس فضیلت کی ضد جس سے وہ شخص متصف ہے۔ اس کے برابر یا اس سے اعلیٰ فضیلت نہ ہو۔ لیکن یہاں یہ بات نہیں بیشک آنحضور ﷺ کی امت میں نہ کوئی نبی و رسول مبعوث ہوا نہ قیامت تک ہوگا۔ لیکن آنحضور ﷺ ختمِ نبوت کا تاج کرامت سرِ اقدس پر پہنے ہوئے ہیں۔ یہ فضیلت اتنی عظیم الشان ہے کہ اس کے مقابلہ میں اس فضیلت کا درجہ پست ہو جاتا ہے۔
چوتھے یہ کہ اگر اسے فضیلت بھی تسلیم کر لیا جائے تو بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات کبار انبیاء کے فیوض و برکات ان کے انتقال کے بعد عام امت تک براہ راست نہیں پہنچ سکتے تھے اور ان کا تعلق اپنی امت سے کمزور ہو گیا تھا۔ جسے قائم رکھنے کے لئے دوسرے انبیاء کی وساطت کی حاجت تھی۔ بخلاف اس کے خاتم النبیین کا تعلق اپنی امت سے اس قدر قوی ہے اور آنحضور ﷺ کے انوارِ روحانیہ و قلبیہ کا فیضان اتنا قوی و کثیر ہے کہ بغیر کسی واسطہ کے قیامت تک یکساں پہنچتا رہے گا۔ اب غور کیجئے کہ دونوں باتوں میں سے کس میں زیادہ فضیلت ہے؟ ہر سمجھدار آدمی یہی کہے گا کہ نبی کی قوت فیضان کا زیادہ ہونا اور امت سے اس کے ربط کا قوی تر ہونا ایک افضل و برتر وصف ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ درحقیقت آنحضور ﷺ کی امت میں کسی دوسرے نبی کا مبعوث نہ ہونا اور سلسلۂ نبوت کا آنحضور ﷺ پر ختم ہو جانا اعلیٰ فضیلت ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بعد کو سلسلۂ نبوت جاری رہنے میں زیادہ فضیلت ہے وہ بے بصیرت اور معرفتِ حقیقت سے محروم ہیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ ہم ان مغالطہ انگیزی کرنے والوں سے دریافت کرتے ہیں کہ خاتم النبیین کے درجہ پر فائز ہونا بڑی فضیلت ہے یا بعد کو سلسلۂ نبوت جاری رہنا؟ اگر شق اوّل اختیار کرتے ہو تو تمہارے استدلال و مغالطہ کے تار و پود خود ہی بکھر جاتے ہیں اور تمہارا فلسفہ مسمار ہو کر ھباءً منثوراً ہو جاتا ہے۔ اگر دوسری شق اختیار کرتے ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ محض امت محمدیہ (علیہ الف الف تحیہ) میں چند انبیاء کی بعثت سے آنحضور ﷺ کو سب انبیاء کے مساوی فضیلت کیسے حاصل ہو جائے گی؟ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت اسحق علیہم السلام اور بعض دیگر انبیاء کی اولاد میں انبیاء ہوتے رہے۔ حالانکہ آنحضور ﷺ کی اولادِ نرینہ زندہ ہی نہ رہی اور صاحبزادیوں کی اولاد میں بھی بالاتفاق، کوئی نبی نہیں ہوا۔ اگر امت میں نبی ہونا
٨٥
فضیلت ہے تو اولاد میں نبی ہونا بدرجہ اولیٰ فضیلت ہوگی۔ پھر یہ فضیلت آنحضور ﷺ کے لئے کس طرح ثابت کرو گے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ تم اجماع امت کے خلاف مذکور الصدر انبیاء کو آنحضور ﷺ سے افضل سمجھتے ہو؟
مندرجہ بالا تنقید پر نظر کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ منکرین ختم نبوت کا اجراء سلسلۂ نبوت پر مندرجہ بالا استدلال محض ایک مغالطہ ہے جو سرتا پا باطل اور لغو ہے اور جس سے جاہلوں اور کم فہموں کو تو دھوکا دیا جاسکتا ہے مگر کوئی سمجھ دار انسان اس سے متاثر نہیں ہوسکتا۔
دوسرا مغالطہ ...... تغیرات زمانہ میں نبوت ناگزیر
سب سے بڑا دام فریب جس کے ذریعہ سے منکرین ختم نبوت ناواقفوں اور کم فہموں کو اسیر کرتے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات اور زمانہ کے تغیرات میں انبیاء کی بعثت ناگزیر ہے۔ تاکہ ان حالات کے لحاظ سے انسان کی ہدایت و تربیت کی جائے اور جو نئے مسائل پیدا ہوگئے ہوں۔ انہیں وحی ربانی کی روشنی میں حل کیا جائے۔ یہ مغالطہ صرف مسلم نما منافقوں ہی کی طرف سے نہیں پیش کیا جاتا بلکہ بہت سے متجدد غیر مسلم بھی اس فریب میں مبتلا ہیں اور دوسروں کو مبتلا کرتے ہیں۔
کتاب کے باب اول ہی کے دیکھنے سے اس فریب کا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔ بلکہ مقدمہ ہی سے اس مغالطہ کی غلطی و مہملیت واضح ہو جاتی ہے اعادے اور تکرار کی احتیاج نہیں۔ یہاں ہم صرف اتنی بات کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر اس غلط اصول کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ کم از کم زمانہ کے ہر عظیم تغیر و انقلاب کے بعد کسی نبی کی بعثت ضرور ہوئی ہوگی اور یہ ایسی چیز ہے جسے یہ منکرین ختم نبوت قیامت تک نہیں ثابت کرسکتے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ بعثت خاتم النبیین ﷺ کے صدیوں کے بعد دنیا میں صنعتی انقلاب پیدا ہوا جس نے بہت سے ذہنی و عملی امور کے اقدار میں تغیر عظیم پیدا کردیا۔ کیا اس وقت کسی نبی کی بعثت ہوئی؟ اس کے بعد جمہوری انقلاب ہوا۔ کیا اس وقت کسی نبی مبعوث کا نام تم بتا سکتے ہو؟ انسان نے برق کو اسیر کیا اور دنیا کی نگاہ برقی انقلاب سے خیرہ ہوگئی۔ کیا اس وقت کوئی نیا پیغمبر آیا؟ اس برق غضب نے بہت سی انسانی عقلوں میں آگ لگا کر اشتراکی انقلاب کا شعلہ تیار کیا۔ اس وقت کون نبی آیا؟ آج ہم برق پر قابو پا کر ایٹمی دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ ایسے تغیر عظیم کے باوجود کسی نئے نبی کا نشان نہیں ملتا۔ بلکہ مشاہدہ یہ ہے کہ ان سب ادوار میں قرآن حکیم جو سید المرسلین ﷺ لے کر تشریف لائے تھے اور سنت جو خاتم النبیین ﷺ کے اقوال و افعال کا مجموعہ ہے یہی دونوں دنیا میں پیش آنے
٨٦
والے ہر نئے مسئلہ کو حل کرتے رہے اور ہر سوال کا جواب دیتے رہے۔ ان کے ہوتے ہوئے نہ کبھی نئے نبی کی ضرورت محسوس ہوئی نہ کسی نئے رسول کی۔
مغالطے کا جواب اور اس کی لغویت کی توضیح تو ختم ہو گئی۔ مگر بات میں بات نکلتی ہے۔ دوران تحریر ذہن ایک اور نکتہ تک جا پہنچا۔ جس کا تذکرہ مفید بھی ہے اور مقام کے مناسب بھی۔ اس لئے سپرد قلم کرتا ہوں۔ منکرین ختم نبوت کے علاوہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی ایک خاصی جماعت اس مغالطہ میں مبتلا ہے کہ صدیوں پرانا دین زمانہ کے نئے تقاضوں کو کس طرح پورا کر سکتا ہے اور نئے نئے مسائل کا حل کیسے پیش کر سکتا ہے؟ گذشتہ ابواب میں اس سوال کا تشفی بخش اور مسکت جواب پیش کیا جا چکا ہے۔ لیکن یہاں ہمیں یہ دکھانا ہے کہ در حقیقت اس سوال کی کوئی ٹھوس اور مضبوط بنیاد ہی موجود نہیں۔ زمانہ کے جن تغیرات کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ انہیں اصول واحکام اسلام کے اعتبار سے کوئی بھی اہمیت حاصل نہیں۔ بلکہ اس اعتبار سے وہ کالعدم اور بالکل غیر اہم ہیں۔ ہم پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ خاتم النبیین ﷺ کے مقدس دور کے بعد سے اب تک زمانہ میں کوئی ایسا انقلاب و تغیر نہیں ہوا اور نہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔ جس کا لحاظ کتاب وسنت میں پہلے ہی سے نہ کر لیا گیا ہو۔ احکام اسلام کا لحاظ کیجئے تو ان انقلابات وتغیرات کی حیثیت جزئی تغیرات کی باقی رہ جاتی ہے جو ایک زمانہ میں بھی ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ بطور مثال فرض کیجئے کہ ایک بصیر اور دور اندیش انجینئر نے ایک ایسی عمارت تعمیر کی جس میں ہر موسم کی رعایت رکھی گئی ہے موسم سرما میں اس میں سرد ہوا کے تھپیڑوں کو روکنے کا پورا انتظام ہے۔ دیوار اور چھت کا حجم ایسا رکھا گیا کہ موسم سرما میں برف باری اور موسم گرما میں دھوپ کی تپش عمارت کے اندر کوئی اثر نہ کر سکے۔ کھڑکیوں اور دروازوں کی ساخت ایسی رکھی گئی ہے کہ دھوپ کے آنے اور روکنے کا پورا بندوبست ہو جائے۔ بارش سے تحفظ کا بھی پورا سامان ہے۔ ایسی عمارت پر موسمی تغیرات کا کیا اثر ہوگا؟ بالفرض وہ عمارت دنیا کے اس حصہ میں تھی جہاں گرمی زیادہ پڑتی تھی۔ لیکن طبعی اسباب نے کروٹ لی اور موسم میں تغیر عظیم نمایاں ہوا۔ یعنی وہ خطہ گرم کے بجائے سرد ہو گیا اور باد سموم کی جگہ برف باری نے لے لی۔ دوسرے مکانات کے لحاظ سے یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا۔ جو انہیں ناقابل رہائش بنا دے گا۔ مگر اس عمارت کے اعتبار سے کوئی تغیر ہی نہیں ہوا۔ اس لئے کہ موسم کی اس حالت کی رعایت اس میں پہلے ہی کر لی گئی تھی۔ دوسرے مکانوں کے مکین مبتلائے مصیبت و پریشانی ہوں گے مگر اس عمارت کو آباد کرنے والے بدستور سابق آرام واطمینان سے زندگی گزار رہے ہوں گے۔
٨٧
اسلام بھی ایک ایسی ہی عمارت ہے جس کا نقشہ مصور حقیقی کا بنایا ہوا ہے اور جس کی تعمیر خالق حقیقی نے فرمائی ہے۔ اس عظیم وحکیم ذات نے اس تعمیر میں قیامت تک آنے والے ہر انقلاب وتغیر کی رعایت رکھی ہے اور یہ عمر عالم کے آخری لمحہ تک پیدا ہونے والے ہر مسئلہ کا تشفی بخش جواب ہے۔
ہماری تقریر سے ہرگز یہ غلط فہمی نہ ہونا چاہئے کہ ہم دنیا کے تغیرات وانقلابات کا انکار کر رہے ہیں۔ بدیہیات کے انکار کی جرات کسے ہوسکتی ہے؟ ہمیں جس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ جن انقلابات کو دنیا نے اہمیت دی ہے وہ درحقیقت اس اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔
دراصل وہ ایک عظیم الشان اور اصولی انقلاب کے فروع اور ایک کلی انقلاب کے جزئیات ہیں اور قیامت تک جتنے انقلابات بھی ہوں گے۔ سب اسی کے جزئیات ہوں گے۔ اسلام نے اس کلی واصلی انقلاب کو ملحوظ رکھ کر اپنی دعوت و تعلیم کی تبلیغ کی۔ اس لئے اس کی تعلیم دائمی وابدی ہے۔ اس میں کسی قسم کے تغیر و انقلاب سے تغیر وتبدیلی کی احتیاج نہیں ہوسکتی۔ وہ اصلی و کلی انقلاب کون ہے؟ اس کے لئے ذرا تفصیل کی حاجت ہے۔ ہدایت وضلال کے نقطۂ نظر سے تاریخ عالم پر نظر ڈالئے۔ آپ اسے دو بڑے حصوں پر منقسم کر سکتے ہیں۔ مندرجہ بالا اعتبار سے اس کے دو دور ہیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حد فاصل آپ کو نظر آئے گی۔ دور قدیم اور دور جدید کی اصطلاح مقرر کرنے سے بیان میں سہولت ہوجائے گی۔ حد فاصل کو درمیانی دور کہنا مناسب ہے۔
دور قدیم کی انتہاء بعثت خاتم النبیین ﷺ پر ہوتی ہے اور دور جدید خیرالقرون کی کچھ مدت کے بعد شروع ہوتا ہے۔ دور قدیم میں ہم انبیاء علیہم السلام کا ایک نورانی سلسلہ دیکھتے ہیں جو نور ہدایت پھیلانے اور ظلمت وضلال کو دور کرنے کے لئے مبعوث ہوئے۔ ان کے مقابلہ میں آئمہ ضلال بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔ جو شیطان کے کارندوں کی حیثیت سے عالم میں ضلال و گمراہی پھیلاتے رہے۔ دونوں چیزیں ہمیں پہلو بہ پہلو نظر آتی ہیں۔ لیکن اس دور کے ضلال میں ہم ایک سذاجت اور سادگی پاتے ہیں۔ گمراہی اور ہدایت سے محرومی کی وہ ہی صورتیں اس طویل زمانہ میں ملی ہیں۔ ضد اور ہٹ دھرمی یا جہالت وبد فہمی مبلغین ضلال و گمراہی اٹھتے تھے تو عوام کی خواہشوں اور جذبات کو برانگیختہ کرتے تھے یا اپنے علمی تفوق یا اقتدار کی وجہ سے اپنی گمراہیوں کو ان کی طرف منتقل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ عوام اپنی حماقت یا مغلوبیت کی بناء پر ان کی
٨٨
رہنمائی کو قبول کر لیتے تھے کا زبردست محافظ بن جاتا
قرآن مجید کا مطا دانست میں جو سب سے بڑا اور بدوی قسم کی بنیاد ہے۔
بخلاف اس کے بلکہ دجل وفریب اس کی روح نام سے موسوم کریں گے۔ یہ امتیازی نشان ہے۔
دور جدید کے اہم مع خاتم النبیین ﷺ کی اعلیٰ تعلیم پینترا بدلا ہے اور خیر خالص سے بنایا ہے۔ جس میں جنگی چالیں روح دجل ہے۔ دلیل و برہان اچھے اچھے اہل نظر کو اس پر حق ظلم کو ایسا لباس فریب پہناتا ک پر ظلم کا گمان ہو۔ مصیبت کا لبا اس طرح مسخ کرنا کہ آدمی ہر باطل تحریک اور ہر ضلال
شرک پہلے بھی تھا اور کھلم کھلا اپنے شرک کا اقرا کے تیشہ سے کام لیتا ہے۔ بتوں کی پرستش آج بھی رائج شرک، دجالی شرک ہے جس کر کے دنیا کو جنگ بنا دیا نظام سرمایہ داری اور صنعتی
ہے جس کا نقشہ مصور حقیقی کا بنایا ہوا ہے اور جس کی تعمیر م ذات نے اس تعمیر میں قیامت تک آنے والے ہر عالم کے آخری لمحہ تک پیدا ہونے والے ہر مسئلہ کا تشفی
م ہونا چاہئے کہ ہم دنیا کے تغیرات وانقلابات کا انکار کر کیسے ہو سکتی ہے؟ ہمیں جس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ہے لی ہے وہ درحقیقت اس اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ ر اصولی انقلاب کے فروع اور ایک کلی انقلاب کے ن بھی ہوں گے۔ سب اسی کے جزئیات ہوں گے۔ مگر اپنی دعوت و تعلیم کی تبلیغ کی۔ اس لئے اس کی تعلیم انقلاب سے تغیر و تبدیلی کی احتیاج نہیں ہو سکتی۔ وہ ا، تفصیل کی حاجت ہے۔ ہدایت و ضلال کے نقطۂ نظر بڑے حصوں پر منقسم کر سکتے ہیں۔ مندرجہ بالا اعتبار درمیان ایک حد فاصل آپ کو نظر آئے گی۔ دور قدیم ان میں سہولت ہو جائے گی۔ حد فاصل کو درمیانی دور
نﷺ پر ہوتی ہے اور دور جدید خیر القرون کی کچھ م انبیاء علیہم السلام کا ایک نورانی سلسلہ دیکھتے ہیں جو کرنے کے لئے مبعوث ہوئے۔ ان کے مقابلہ میں ان کے کارندوں کی حیثیت سے عالم میں ضلال پہلو بہ پہلو نظر آتی ہیں۔ لیکن اس دور کے ضلال میں اور ہدایت سے محرومی کی دو ہی صورتیں اس طویل ند بھی مبلغین ضلال و گمراہی اٹھتے تھے تو عوام کی علمی تفوق یا اقتدار کی وجہ سے اپنی گمراہیوں کو ان ک، عوام اپنی حماقت یا مغلوبیت کی بناء پر ان کی
رہنمائی کو قبول کر لیتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد رواج یا تقلید آباء کا سادہ جذبہ ان باطل عقائد و اعمال کا زبردست محافظ بن جاتا تھا۔
قرآن مجید کا مطالعہ کرو۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے مقابلہ میں اہل باطل نے اپنی دانست میں جو سب سے بڑی دلیل پیش کی ہے وہ تقلید آباء ہے جو ضلال و گمراہی کی بہت ہی سادہ اور بدوی قسم کی بنیاد ہے۔
بخلاف اس کے دور جدید کی ضلالت و گمراہی میں وہ سادگی اور سذاجت نہیں ہے۔ بلکہ دجل و فریب اس کی روح اور اس کی حقیقت ہے۔ اس دور کو ہم بالکل بجا طور پر دجالی دور کے نام سے موسوم کریں گے۔ یہ عنوان اس کی حقیقت کا ترجمان اور دور قدیم کے مقابل میں اس کا امتیازی نشان ہے۔
دور جدید کے اہم حوادث و انقلابات اور مذہبی رجحانات کو دیکھو تو تمہیں نظر آئے گا کہ خاتم النبیینﷺ کی اعلیٰ تعلیمات اور واضح ہدایت کا مقابلہ کرنے کے لئے شیطان نے بالکل نیا پینترا بدلا ہے اور خیر خالص سے جنگ کرنے کے لئے بالکل نیا نقشۂ جنگ (Warstrategy) بنایا ہے۔ جس میں جنگی چالیں (Tactics) بھی نئی استعمال کر رہا ہے۔ مگر ان سب کی مشترک روح دجل ہے۔ دلیل و برہان کے محاذ پر شکست کھانے کے باوجود باطل کو اس طرح پیش کرنا کہ اچھے اچھے اہل نظر کو اس پر حق کا دھوکا ہو جائے اور حق کی ایسی تصویر کھینچنا کہ وہ باطل دکھائی دے۔ ظلم کو ایسا لباس فریب پہنانا کہ وہ عین عدل نظر آئے اور عدل کے چہرے کو اس طرح بگاڑنا کہ اس پر ظلم کا گمان ہو۔ مصیبت کا ایسا میک اپ کرنا کہ لوگ اسے عین راحت خیال کریں اور راحت کو اس طرح مسخ کرنا کہ آدمی اس کی تصویر سے بھی ڈریں۔ مختصر یہ کہ دجالیت و فریب کاری اس دور کی ہر باطل تحریک اور ہر ضلال کا عامل غالب (Dominant factor) ہے۔
شرک پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔ مگر دور قدیم کا مشرک سنگین بتوں کی پرستش کرتا تھا اور کھلم کھلا اپنے شرک کا اقرار کرتا تھا۔ آج کا مشرک پتھروں کے بت نہیں تراشتا۔ بلکہ وہم و خیال کے تیشہ سے کام لیتا ہے۔ وطن، قوم، ملک، انسانیت، نیچر وغیرہ کے ناموں سے نہ معلوم کتنے بتوں کی پرستش آج بھی رائج ہے۔ لیکن کسی کی کیا مجال جو ان مشرکوں کو مشرک کہہ دے۔ ماڈرن شرک، دجالی شرک ہے جس کے ساتھ مشرک توحید کا بھی دعویدار ہوتا ہے۔ آخرت سے روگردانی کر کے دنیا کو جنگ بنا دینے کی دجالی خواہش، دور جدید میں جنون کے حدود میں پہنچ گئی ہے۔ پہلے نظام سرمایہ داری اور صنعتی انقلاب نے اس منزل تک پہنچانے کا بلند بانگ دعویٰ کیا۔ مگر کچھ مدت
٨٩
کے بعد ثابت ہوا کہ یہ محض دھوکہ اور سراب کو آب سمجھنا تھا۔ یہ نظام آج بھی موجود ہے۔ مگر دولت پرستی کا یہ سیلاب کچھ دینے کے بجائے سکون واطمینان قلب کو بھی بہا لے گیا اور ان کے بجائے طرح طرح کے مصائب کو اپنے ساتھ لے آیا۔
اس کے بعد نظام اشتراکی بڑے زور وشور کے ساتھ اٹھا اور کھوئی ہوئی فردوس ارضی کی بازیافت کا دعویٰ کر کے دنیا کو اپنی طرف دعوت دی۔ وہ بھی موجود ہے مگر اس کا نتیجہ جنت ارضی کے بجائے جہنم ارضی نکلا۔ اس نے آدمی کو مشین اور پیٹ کو اس کا ڈائنمو بنا دیا۔ سکون وراحت دونوں کا منہ کالا کیا اور اس کی جگہ مصیبت اور ماڈرن غلامی کو دی۔
مغربی تہذیب کو دیکھئے۔ ابتداء میں کتنا خوبصورت لباس پہن کر اور کیسا غازہ مل کر سامنے آئی تھی۔ کچھ ہی مدت کے بعد نظر آیا کہ یہ تہذیب نہیں تعذیب ہے۔ راحت نہیں مصیبت ہے۔
یہ چند نمونے ہیں جنہیں دیکھ کر سمجھدار آدمی پورے دورِ جدید کی روحِ عصری (Sprit of Theage) کو پہچان سکتا ہے۔ جس کی تعبیر کے لئے دجل سے زیادہ موزوں ومناسب کوئی لفظ نہیں اور اس دور کا صحیح نام، دجالی دور ہو سکتا ہے۔ یہی وہ عظیم ترین اور کلی انقلاب ہے جو اپنے تمام جزئیات میں روحِ رواں کی طرح بطورِ قدرِ مشترک موجود ہے اور قیامت تک ہر باطل نظریہ اور باطل انقلاب میں موجود رہے گا۔ اگر اس ضلالِ اکبر اور تغیرِ کلی سے حفاظت اور اسے شکست دینے کی تدبیر بتادی جائے تو اس کے جزئیات وفروع کے متعلق علیحدہ علیحدہ احکام وتدابیر بتانے کی کوئی حاجت نہیں باقی رہتی اور اسلام نے یہی کیا ہے۔
خاتم النبیین محمد مصطفےٰ ﷺ کا عہد مبارک خیر القرون کے نام سے موسوم ہے۔ تاریخ عالم کا یہ روشن ترین اور بہترین دور دورِ قدیم اور دورِ جدید کے درمیان تھا۔ دورِ قدیم ختم ہو رہا تھا اور دورِ جدید کی آمد آمد تھی۔ نبی کریم ﷺ نے ایک طرف ضلالتِ ساذجہ پر کاری ضرب لگائی تو دوسری طرف فتنۂ دجال سے مکمل آگاہی بخشی۔ اس کی فریب کاریوں سے آگاہ فرمایا۔ اس سے بچنے کی تدبیریں ارشاد فرمائیں۔ اس دور کے احکام وقوانین بیان فرمائے۔ اس کے مقابلہ کا طریقہ بتایا۔ اس فتنۂ عظیمہ کے بہت سے جزئیات کو اس طرح بیان فرمایا کہ جب وہ فتنہ سامنے آیا تو ایسا وہم ہوا کہ گویا فلاں آیت ابھی نازل ہوئی ہے۔ یا فلاں حدیث اسی وقت سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے۔ یہاں تک کہ دجال اکبر کے فتنہ کو بھی اس تفصیل سے بیان فرمایا کہ اس کی تصویر آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتی ہے۔ دجالی دور کے احکام وتدابیر اور دیگر مضامین متعلقہ قرآن مبین
٩٠
میں بھی ملتے ہیں اور احادیث نبویہ میں بھی۔ اجتہاد وتفکر کا طریقہ مزید تفصیلات وجزئیات تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد اس دجالی فتنہ کے ایک ایک جزئی کے متعلق احکام وتدابیر بیان کرنے کے لئے کسی نئے دین وآئین کی ضرورت کیا باقی رہ جاتی ہے؟ کتاب وسنت کا مطالعہ کرنے کے بعد اگر کوئی شخص جزئی انقلاب کے لئے کسی نئی کتاب یا کسی نئے دین یا کسی نئے نبی کا منتظر رہے تو یہ اس کی انتہائی سفاہت وحماقت کی دلیل ہوگی۔ فتنہ دجال یا دجالی دور آنحضورﷺ کی حیات طیبہ ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ آنحضورﷺ نے خبر دی تھی کہ اس امت میں دجل فی النبوت کرنے والے تیس پیدا ہوں گے۔ یعنی یہ سب کے سب نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے۔ ان کذابوں اور دجالوں سے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے تو آنحضورﷺ کے زمانہ ہی میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ فتنہ ابن سباء نے حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں سر اٹھایا۔ اس کے بعد دینی فتنوں کا تانتا بندھ گیا۔ ان سب میں قدر مشترک وہی دجالیت ہے جس سے پوری پوری آگاہی آنحضورﷺ نے بخشی ہے اور جس کی انتہاء دجال اکبر کے فتنہ عظیمہ پر ہوگی۔ آج کی باطل دعوتوں اور مختلف الالوان ضلالتوں اور اس زمانہ کی دعوتوں اور ضلالتوں میں صرف قالب کا فرق ہے۔ ورنہ روح اور نوعیت سب کی ایک ہے۔ یعنی دجل اس لئے سب کو دجالی فتنہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں اور سب کے لئے علاج کلی ایک ہی ہوگا۔ جس کی تطبیق متفرق جزئیات پر صرف معمولی غور وفکر کی محتاج ہے۔
فتنہ دجال سرمایہ داری کی صورت میں آئے یا اشتراکیت کی شکل میں۔ شخصیت کا لباس پہنے یا جمہوریت کا، تشدد کی تلوار لے کر آئے یا عدم تشدد کا جال۔ مختصر یہ کہ وہ قیامت تک جس شکل ولباس میں آئے اسلام اس سے بزبان حال یہی کہتا ہے اور کہتا رہے گا کہ ؎
من انداز قدت را می شناسم
دین محمدیؐ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت اور ہمہ آن تیار ہے اور قیامت تک تازہ دم اور مستعد رہے گا۔ اس کے ہوتے ہوئے انسانیت وروحانیت کو کسی دین اور کسی دوسرے نبی کی بعثت کی کوئی حاجت نہیں۔
یہاں پہنچ کر ختم نبوت کی اس حکمت کا تذکرہ بھی نافع ہوگا کہ اس دجالی دور میں سلسلۂ نبوت کا جاری رہنا اور مختلف انبیاء کا مبعوث ہونا یقیناً بڑے اختلال کا باعث ہوتا۔ دجل وفریب کی فراوانی اور قوت وشدت کی وجہ سے خصوصاً جب سائنس کی ترقیوں نے دجالیت کی نئی نئی اور پیچیدہ
٩١
راہیں نکال دی ہیں۔ نبوت کے مدعی صادق و مدعی کاذب کے درمیان امتیاز معمولی عقل و فہم رکھنے والے کے لئے کس قدر مشکل ہوتا اور اشتباہ کا کس قدر شدید خطرہ لاحق ہوتا۔ سلسلۂ نبوت بند کر کے ارحم الراحمین نے اس امت کو اس عظیم خطرے سے بچا لیا اور انہیں ایک دائمی و ابدی دین سے نواز کر سہولت کے ساتھ امم سابقہ پر انہیں فضیلت بھی عطاء فرمائی۔
اس کے علاوہ ضلال سادہ کا مقابلہ آسان ہے۔ اس کے لئے قوت فکریہ پر زیادہ بار ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن دجالی ضلالت سے نبرد آزمائی آسان نہیں یہ قوت فکریہ کی بڑی مقدار کی محتاج ہوتی ہے۔ جس کے لئے توجہ و یکسوئی لازم ہے۔ اگر سلسلۂ نبوت جاری رہتا تو امت کی قوت فکریہ منقسم ہو جاتی اور اس کے اوپر دہرا بار پڑتا۔ سچے نبی کو پہچاننا اور دجالیت کا مقابلہ کرنا دونوں کاموں میں فکر کی بڑی مقدار صرف کرنا پڑتی۔ یکسوئی مفقود اور فکر کمزور ہو جاتی۔ نتیجہ غلبہ کے بجائے مغلوبیت کی ہلاکت آفریں صورت میں نکلتا۔ نبی سے روگردانی عین ضلال ہے۔ جس کا مآل جہنم ہوتا۔ حکمت و رحمت کا تقاضا ہوا کہ اس امت کی قوت فکریہ تقسیم کر کے اسے اس خطرہ عظیمہ میں نہ ڈالا جائے بلکہ اس میں یکسوئی باقی رکھ کر ہدایت و نجات کا راستہ آسان بنا دیا جائے۔
اس دجالی دور یا دور جدید کی ایک اور خصوصیت ہے جو اسے دور قدیم سے ایک قسم کا امتیاز عطا کرتی ہے۔ اس دور میں باطل کی دعوتوں کی جتنی فراوانی ہے۔ اس کی نظیر دور قدیم میں نہ مل سکے گی۔ باطل نظریات اس زمانہ میں بھی موجود تھے۔ مگر ان کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے حاملین اکثر و بیشتر داعی نہ تھے۔ دعوتی مزاج نہ رکھتے تھے۔ خود ان باطل نظریات کے معتقد تھے اگر اقتدار حاصل ہو جاتا تھا تو دوسروں کو جبر و ظلم سے انہیں عملاً تسلیم کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ لیکن ان کی طرف دعوت نہ دیتے تھے۔ قوت سے کسی شئے کو کسی پر مسلط کر دینا دوسری چیز ہے اور دلائل کی بنیاد پر کسی کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرنا جس کا نام دعوت ہے دوسری چیز ہے۔ قوم عاد و ثمود وغیرہ کا تذکرہ آپ قرآن مجید میں پڑھتے ہیں۔ یہ مشرک اور بت پرست قومیں تھیں۔ لیکن ان کے اعمال سیئہ کی فہرست میں دوسری قوموں کو دعوت شرک دینے کا نام کہیں نہیں ملتا۔ قبطی باوجود یکہ بنو اسرائیل کو غلام بنائے ہوئے تھے۔ مگر آخر تک کہیں اس کا پتہ نہیں چلتا کہ انہوں نے اسرائیلیوں کو اپنے باطل مذہب کی دعوت دی ہو اور انہیں اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی ہو۔ آریوں نے ہندوستان کے اصل باشندوں، دراوڑوں وغیرہ کو غلام بنالیا اور اپنے بہت سے قوانین کا پابند بنایا۔
٩٢
لیکن اپنے اصل مذہب سے انہیں دور رکھا نہ اس کی انہیں دعوت دی۔ نہ تعلیم بلکہ اس کی تعلیم کو ان کے لئے ممنوع قرار دیا۔
فلسفی عام طور پر اپنے آپ کو عوام سے بالاتر رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر ان میں سے کسی نے دعوت بھی دی تو بہت محدود طبقہ کو۔ دعوت عام کا ان کے یہاں بھی پتہ نہیں چلتا۔
لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ دور قدیم باطل دعوتوں سے خالی تھا۔ ہم صرف ان کی اضافی فراوانی کی نفی کر رہے ہیں۔ ورنہ فی نفسہ اس دور میں بھی بکثرت باطل دعوتیں پائی گئیں۔ مثلاً مزدکیت کی دعوت یا مسخ شدہ اور محرف مسیحیت کی دعوت وغیرہ۔ دور جدید کی خصوصیت ان کی فراوانی ہے۔ ان کے ساتھ بیک وقت بکثرت دعوتوں کا وجود، مثال کے طور پر دیکھ لیجئے کہ اس زمانہ ہی میں دنیا میں کتنے ازموں کی دعوتیں موجود ہیں دعوتوں کی اس کثرت وفراوانی سے ذہنوں میں جو ایک الجھاؤ پیدا ہوتا ہے یہ دور دجالی کی ایک ممتاز خصوصیت ہے۔ دور قدیم میں یہ الجھاؤ مجموعی حیثیت سے پیدا ہی نہ ہوتا تھا اور اگر ہوتا بھی تھا تو اس قدر شدید نہ ہوتا تھا۔ اس کی ایک وجہ دعوتوں کی قلت تھی اور دوسری ذرائع رسل ورسائل اور اسباب حمل ونقل کی کمی۔ اس وقت حمل ونقل اور رسل ورسائل کے ذرائع کی فراوانی نے دنیا کو سمیٹ دیا ہے۔ مشرق کی دعوت چند لمحوں میں مغرب تک پہنچ جاتی ہے اور انسان کے ذہن ودماغ میں الجھن کا باعث بن جاتی ہے۔ غور کیجئے کہ ذرائع کے اس ارتقاء کی ابتداء آنحضورﷺ کے زمانہ مبارک کے کچھ ہی مدت کے بعد ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ آج یہ اس منزل پر ہے جہاں ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے کثیر التعداد دعوتوں کا مقابلہ کوئی نئی مشکل اور الجھن نہیں ہے جو صرف آج ہی کی خصوصیت سمجھی جائے۔ بلکہ امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ تو شروع ہی سے اس مشکل کا کامیاب مقابلہ کر رہی ہے۔
اجتماعی نفسیات کے نقطۂ نظر سے ایسے وقت جب مختلف محاذوں پر ذہنی وفکری مقابلہ درپیش ہو تو کامیابی بلکہ تحفظ کے لئے بھی یہ امر ناگزیر ہے کہ مقابلہ کرنے والا اپنے دین کی جانب سے مطمئن ہو اور اسے اس میں کسی ترمیم وتنسیخ کا احتمال نہ ہو۔
ایک مسلمہ اصول جنگ ہے کہ سرحد پر وہی فوج دلیری اور حوصلہ کے ساتھ جنگ کر سکتی ہے جو اپنے مرکز کی طرف سے مطمئن ہو۔ جس شخص کو اس کا کھٹکا لگا ہو کہ وہ جن عقائد واعمال کی آج نصرت وحمایت کر رہا ہے اور جن کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ ممکن ہے کہ کل اس میں کوئی تبدیلی ہو جائے۔ وہ ہرگز جم کر دجالی دعوتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دفاع سے زیادہ مشکل خود دعوت
٩٣
دینا ہوگا۔ اس لئے کہ داعی کو اپنی دعوت پر بہت زیادہ اعتماد کی ضرورت ہے۔ خصوصاً اس لئے کہ دعوت کا کام صرف قول سے نہیں ہو سکتا بلکہ عمل و کردار سب سے بڑا داعی ہے۔ اگر سلسلۂ انبیاء جاری رہے اور اعمال میں تبدیلیاں ہوتی رہیں تو عمل کی قوت تاثیر یقیناً کم ہو جائے گی۔ جس سے دعوت پر بریک لگ جائے گی۔
ضلال ساذج کے مقابلہ میں تو یہ کمی زیادہ نمایاں ہوگی۔ مگر اس وقت خاص طور پر ظاہر ہوگی۔ جب کہ مقابلہ پر دور قدیم کی طرح سادی اور بسیط ضلالت نہ ہو۔ بلکہ دورِ جدید کی دجالی ضلالت ہو نیز دعوتوں اور نظریات کی کثرت اور ان کے بیک وقت اجتماع کی وجہ سے الجھاؤ اس کمی کو اور بھی زیادہ کردیں گے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر سلسلۂ نبوت دور جدید میں بھی جاری رہتا تو شاید دین حق دنیا کے کسی ایک گوشہ گمنامی میں پڑا ہوتا۔ اس کی دعوت ٹھٹھر کر رہ جاتی اس کے پیرو زیادہ تر دجالی گمراہیوں کا شکار ہو جاتے اور اس کے مقابلہ سے عاجز ہوتے۔
خاتم النبیین ﷺ اس معنی کے لحاظ سے بھی سراپا رحمت ہیں کہ ختم نبوت کا تاج کرامت زیب سر فرما کر امت کو ان مشکلات و خطرات سے محفوظ کردیا۔ یہ حق تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے جو امت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ پر مبذول اور اس کے ساتھ مخصوص ہے۔ ”وذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم (الحديد: ٢١) “
نقلی مغالطے
پہلا مغالطہ
منکرین ختم نبوت کے عقلی مغالطوں کا تذکرہ پچھلے صفحات میں کیا جاچکا۔ اس سے ان کی کمزوری اور دلیل و برہان سے تہی دستی روز روشن سے زیادہ عیاں ہو جاتی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کے نقلی مغالطوں کا نمونہ بھی پیش کردیں تا کہ نا واقفیت کی وجہ سے کوئی ان کے مکروہ فریب کا شکار ہو کر گمراہ نہ ہو۔ ”الله يجتبى اليه من يشاء ويهدى اليه من ينيب (الشوری: ١٣) “
ظلی و بروزی
عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث سے اس قدر واضح طور پر ثابت ہے کہ معاندین منکرین بھی اس کے سامنے ” فبهت الذی کفر “ کے مصداق بن جاتے ہیں اور لب کشائی کی جرأت نہیں کر سکتے کہ قرآن وحدیث میں عقیدہ ختم نبوت کو بیان نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ تاویل کی
٩٤
عنکبوتی پناہ گاہ میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ظلی و بروزی نبی کی ایک خانہ ساز اصطلاح ہے ۔ جو در حقیقت بالکل بے بنیاد قطعاً لغو اور کلیۃً مہمل شئے ہے۔
ان کا کہنا یہ ہے کہ آیات واحادیث میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت کی جو نفی کی گئی ہے وہ صرف حقیقی اور مستقل نبی کے متعلق ہے۔ نبی کی ایک دوسری قسم بھی ہے جو حقیقی اور مستقل نبی نہیں ہوتا۔ بلکہ جس کا نام ظلی و بروزی نبی ہے۔ یعنی وہ کسی مستقل نبی کا تابع ہوتا ہے۔ جسے اس کا ظہور ثانی کہہ سکتے ہیں۔ یہ مغالطہ اگر چہ جاہلوں اور ناواقفوں کے لئے گمراہ کن ہے۔ مگر در حقیقت بیت عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور، انتہائی بے جان، بے اصل اور لغو ہے۔ متعدد وجوہ سے اس کا باطل ہونا ظاہر ہے۔
- .......١ اس میں پہلا سقم تو یہی ہے کہ یہ ایک من گھڑت اور اختراعی تقسیم جس کی
کوئی سند قرآن وحدیث میں نہیں ملتی۔ ایک بدیہی بات ہے کہ نبوت کی قسمیں نکالنے اور اس کی نئی نئی تعریفیں اختراع کرنے میں ہم آزاد نہیں ہیں۔ اس کے علم کا ذریعہ تو صرف وحی ربانی یعنی قرآن وحدیث ہی ہے۔ جب تک قرآن وحدیث سے صراحتاً یہ نہ ثابت ہو جائے کہ بعض انبیاء ظلی و بروزی بھی ہوتے ہیں اور ان کی نبوت کی حقیقت وہی ہوتی ہے جو یہ منکرین ختم نبوت بیان کرتے ہیں۔ اس وقت تک یہ تقسیم بالکل غلط، بے اصل اور لغو قرار پائے گی۔ دوسری طرز سے یوں سمجھنا چاہئے کہ کسی نبی کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ ظلی نبی ہے یا یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ نے ظلی نبی بھی دنیا میں بھیجے ہیں۔ نبوت کے متعلق ایک اہم عقلی وساوس واحتمالات پر جہاں تک قرآن وحدیث کا تعلق ہے ان مدعیان باطل کو اپنے اس باطل دعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے صراحت تو کیا ادنیٰ اشارہ بھی نہیں مل سکتا۔
ظلی و بروزی نبوت کے باطل ہونے اور اصلی وظلی کی اس تقسیم کے لغو مہمل ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم قرآن مجید کے الفاظ میں ان ظلی و بروزی والوں سے کہہ دیں کہ: ”هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين (البقره: ١١١)“ ہمارا مزید احسان ہوگا اگر ہم انہیں یہ بھی سمجھا دیں کہ: ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة اعدت للكافرين (البقره: ٢٤)“
تاہم اگر اس لغو لاطائل اور بے سند، خیال کی غلطی ومہملیت کچھ اور واضح کر دی جائے تو انشاء اللہ مفید ہوگا۔
- .......٢ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں جہاں جہاں خاتم النبیین ﷺ کے بعد
٩٥
سلسلہ نبوت ورسالت جاری رہنے کی نفی فرمائی گئی وہ نبوت کی نفی علی الاطلاق فرمائی گئی ہے۔ نبوت ورسالت کی اس تقسیم اور کسی خاص قسم کی نبوت ورسالت کی نفی کی طرف ان آیات واحادیث میں اشارہ تک نہیں ملتا۔ صراحت تو درکنار، اگر بالفرض یہ تقسیم صحیح بھی ہو اور ظلی و بروزی نبی و رسول کے نام کی کوئی چیز دنیا میں پائی بھی جاتی ہو تو ان آیات واحادیث سے ان کی بعثت کی بھی نفی ہو جاتی ہے اور صاف طور پر سمجھ میں آتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت ورسالت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور قیامت تک کوئی نبی ورسول مبعوث نہیں ہو سکتا۔ خواہ اس کی نبوت اصلی ہو یا اسے ظلی و بروزی کا مہمل و بے معنی لقب دیا جائے۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بے معنی و بے سند تقسیم اگر بالفرض کفرض المحال صحیح بھی ثابت ہو جائے تو بھی منکرین ختم نبوت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
- ٣...... ایک فطری اور ناگزیر سوال ہے کہ اگر واقعی حق تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ خاتم
النبیین کے بعد بھی منکرین کے خانہ ساز ظلی و بروزی انبیاء کا سلسلہ جاری رہے تو کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اس ضروری اور نہایت مہتم بالشان مسئلہ کو صراحت و صفائی کے ساتھ بیان نہیں فرمایا گیا؟ ایسا مسئلہ جس پر کفر و ایمان اور جہنم و جنت کا دارومدار ہو، جس میں ذرا سی غلطی انسان کو ہلاکت دائمی اور عذاب ابدی میں مبتلا کرنے والی ہو۔ اس کے متعلق قرآن مجید بلکہ احادیث نبویہ میں بھی صراحت تو کیا اشارہ تک موجود نہ ہو؟ حالانکہ اس سے کم درجہ کے مسائل کی تفصیل کی جائے۔ فیاللعجب! اس کے صاف اور صریح معنی یہ ہیں کہ ظلی و بروزی نبی ایک لفظ بے معنی اور خیال باطل ہے۔ جس کی درحقیقت کوئی اصلیت ہی نہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ورسول مبعوث ہوا ہے نہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔
- ٤...... یہ سوال بھی ناگزیر ہے کہ لفظ ظلی و بروزی نبی کے معنی کیا ہیں؟ عقلاً اس
کے مندرجہ ذیل معنی سمجھے جا سکتے ہیں۔
- الف...... اس نبی کو کہتے ہیں جس پر براہ راست وحی نازل نہ ہوئی ہو۔ بلکہ وہ کسی
دوسرے نبی کی وحی کی پیروی اور اس کی تعلیمات کی اتباع کرتا ہو۔
یہ مفہوم تناقض و تضاد کا حامل ہے۔ اس لئے کہ نبی اسی شخص کو کہتے ہیں جس پر وحی ربانی نازل ہو۔ جس پر وحی نہ آئے وہ سرے سے نبی ہی نہیں ہوتا۔ اسے ظلی و بروزی یا اور کسی قسم کا نبی کہنا حماقت و جہالت ہے۔
٩٦
ب...... دوسرا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ اس پر وحی ربانی بھی آتی ہو لیکن وحی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا انتخاب براہ راست نہ فرمایا ہو بلکہ کسی دوسرے اصلی نبی نے اسے منتخب کیا ہو۔
یہ مفہوم بھی غلط مہمل اور تناقض پر مشتمل ہے۔ نبی کے معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی وحی کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ ہر نبی اللہ تعالیٰ کا منتخب کیا ہوا ہوتا ہے۔ کسی شخص کو ایک طرف نبی اور مہبط وحی کہنا اور دوسری طرف یہ کہنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا منتخب کیا ہوا نہیں ہے۔ صریح تناقض بیان ہے!۔
ج...... تیسرے معنی کے لحاظ سے اس لفظ کا مصداق ایسے شخص کو قرار دیا جا سکتا ہے جو صاحب وحی بھی ہو اور منجانب اللہ منتخب بھی۔ مگر کوئی مستقل شریعت لے کر نہ آئے بلکہ کسی دوسرے نبی کی شریعت کا اتباع اور اسکی تبلیغ کرے۔
اس معنی کے لحاظ سے بھی یہ لفظ بے معنی ہی رہتا ہے اور ظلی و بروزی کا لفظ اس مفہوم سے اباء و انکار کرتا ہے۔ اس کا لغوی مفہوم تو یہ بتاتا ہے کہ وہ شخص مستقل نبی نہ ہو۔ لیکن مندرجہ بالا شخصیت کو یقیناً مستقل نبی کہنا پڑے گا۔ کیونکہ نبوت کی حقیقت صرف منجانب اللہ انتخاب اور مہبط وحی ہونے پر ختم ہو جاتی ہے۔ جس شخص میں یہ دونوں باتیں موجود ہوں کیا وجہ ہے کہ اس کی نبوت کو مستقل اور اصلی نہ کہا جائے۔ مستقل اور علیحدہ شریعت نہ لانے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ صاحب شریعت نہیں ہے۔ لیکن نبوت کو غیر مستقل اور ظلی و بروزی کہنا بالکل غلط اور تناقض بیان ہے۔ اس کے علاوہ اگر محض دوسری شریعت کی اتباع اور تبلیغ کی بناء پر کسی نبی کو غیر مستقل اور ظلی و بروزی کہنا صحیح ہو تو بکثرت ایسے انبیاء اس کے حدود میں داخل ہو جائیں گے جن کا مستقل نبی ہونا ایک مسلمہ مسئلہ ہے۔
مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں دعائیں اور مناجاتیں ملتی ہیں احکام بہت کم ملتے ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے شریعت یعقوبی کی پیروی فرماتے تھے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بعض جزئی ترمیمات کر کے تورات ہی کی پیروی کی اور اسی طرف دعوت دی۔ کیا یہ دونوں حضرات ظلی و بروزی نبی تھے؟ کیا انہیں مستقل نبی نہ کہا جائے گا؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام کون سی مستقل شریعت لائے تھے جو شریعت ابراہیمی سے علیحدہ کہی
١۔ حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ ہونا چاہئے۔ ان کا انتخاب بھی اللہ تعالیٰ ہی نے فرمایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صرف دعاء کی تھی اور انتخاباً انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع کر دیا گیا تھا۔ ورنہ فی نفسہ وہ مستقل نبی اور مہبط وحی تھے۔
٩٧
جاسکتی ہو؟ کیا وہ بھی مستقل اور اصل نبی نہ تھے اور دور کیوں جائیے۔ خود خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ کو شریعت ابراہیمی (علیہ السلام) کی پیروی اور اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا گیا۔ بلکہ ابتدائی مکی زندگی میں جہاں عملی احکام بہت کم نازل ہوئے تھے اور ایمانیات کی زیادہ تفصیل فرمائی گئی تھی۔ آنحضور کا عمل زیادہ تر شریعت ابراہیمی پر رہا گویا مستقل شریعت تو آپ کو مدینہ طیبہ تشریف لانے سے کچھ مدت پہلے عطاء فرمائی گئی۔ مگر اس میں بھی خاصی تعداد شریعت ابراہیمی کے اجزاء کی ہے تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ قیام مکہ معظمہ کے ابتدائی زمانہ میں سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی نبوت معاذ اللہ ظلی و بروزی تھی؟ اور آنحضور مستقل اور اصلی نبی نہ تھے؟ یا یہ کہ جس حد تک شریعت محمدیہ علیہ الف الف تحیہ میں شریعت ابراہیمی (علیہ السلام) کے اجزاء داخل ہیں۔ اس حد تک معاذ اللہ آنحضور ﷺ کی نبوت ورسالت اصلی نہیں بلکہ ظلی وبروزی ہے؟ ایسی بات کہنے والا اسلام سے خارج ہے اور کسی دشمن اسلام کے سوا کسی کی زبان سے یہ بات نہیں نکل سکتی۔ ”اعاذنا اللہ من ھذا الکفر“
حقیقت یہ ہے کہ ہر نبی کی شریعت میں سابقہ ربانی شریعت کے مناسب اجزاء باقی رکھے گئے اور ایسے انبیاء بھی ہوئے ہیں۔ جنہوں نے کلیتہ کسی دوسرے نبی کی شریعت پر عمل فرمایا اور اسی کی پیروی کی طرف دعوت دی۔ مگر اس سے ان کی نبوت ورسالت کے استقلال پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں پڑتا۔ بلکہ حقیقت کے لحاظ سے یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ انہوں نے دوسرے نبی کی شریعت پر عمل کیا۔ مقام نبوت پر فائز ہونے کے بعد وہ اس شریعت پر اس لئے عمل کرتے ہیں کہ وحی ربانی انہیں اس کی اتباع کا حکم دیتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ وحی کی اتباع کرتے ہیں نہ کہ دوسرے کی شریعت کی۔
مفہوم کی اس بحث سے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کہ لفظ ظلی و بروزی ایک بے معنی اور مہمل مجموعہ اصوات ہے۔ جس کا مصداق عنقاء کی طرح دنیا میں آج تک نہیں پایا گیا اور قیامت تک کبھی نہیں پایا جاسکتا۔ منکرین ختم نبوت ان مہمل اور بے معنی الفاظ کو بار بار استعمال کر کے لفظی مغالطہ دینا چاہتے ہیں۔
دوسرا مغالطہ
مثل مشہور ہے۔ ”خوئے بد را بہانہ بسیار“ اس کا مصداق کامل منکرین ختم نبوت بھی ہیں۔ قرآن حکیم کے سامنے عاجز ہو کر یہ لوگ بعض آیات قرآن حکیم میں تحریف معنوی کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے صحیح مفہوم سے اعراض کر کے اپنی خواہش کے مطابق اس کی تفسیر کر کے
٩٨
نہ تھے اور دور کیوں جائیے۔ خود خاتم النبیین محمد کی پیروی اور اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا احکام بہت کم نازل ہوئے تھے اور ایمانیات کی زیادہ شریعت ابراہیمی پر رہا گویا مستقل شریعت تو آپ کو عطاء فرمائی گئی۔ مگر اس میں بھی خاصی تعداد شریعت ہے کہ قیام مکہ معظمہ کے ابتدائی زمانہ میں سید المرسلین بروزی تھی؟ اور آنحضور مستقل اور اصلی نبی نہ تھے؟ یا کے نتیجہ میں شریعت ابراہیمی (علیہ السلام) کے اجزاء مکہ کی نبوت ورسالت اصلی نہیں بلکہ ظلی وبروزی ہے اور کسی دشمن اسلام کے سوا کسی کی زبان سے یہ المکفر“
کے بعد میں سابقہ ربانی شریعت کے مناسب اجزاء باقی رسول نے کلیتہً کسی دوسرے نبی کی شریعت پر عمل فرمایا یہ ہے ان کی نبوت ورسالت کے استقلال پر ذرہ برابر کہنا بھی صحیح نہیں کہ انہوں نے دوسرے نبی کی شریعت بھی اس شریعت پر اس لئے عمل کرتے ہیں کہ وحی ربانی فرماتے ہیں کہ وہ وحی کی اتباع کرتے ہیں نہ کہ دوسرے
اظہر من الشمس ہو گئی کہ لفظ ظلی و بروزی ایک بے معنی جس کی طرح دنیا میں آج تک نہیں پایا گیا اور قیامت باطل اور بے معنی الفاظ کو بار بار استعمال کر کے لفظی
”ہتھیار“ اس کا مصداق کامل منکرین ختم نبوت بھی میں آیات قرآن حکیم میں تحریف معنوی کی کوشش کر کے اپنی خواہش کے مطابق اس کی تفسیر کر کے
٥١٣ اپنے باطل دعوے پر استدلال کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ نمونہ ملاحظہ ہو: قرآن حکیم کا ارشاد ہے: ”یا بنی آدم امّا یأتینّکم رسل منکم یقصّون علیکم آیٰتی فمن اتّقٰی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (الاعراف: ٣٥) “ ”اے اولاد آدم اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے تو جو شخص پرہیز رکھے اور درستی کرے ایسے لوگوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ اس آیت میں پوری اولاد آدم علیہ السلام سے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے پاس انبیاء آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک نسل انسانی موجود ہے اس وقت تک یہ سلسلہ نبوت جاری رہے گا۔
سچ یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ استدلال اس قدر غلط اور مہمل ہے کہ اس کا جواب دینا اس کی عزت افزائی ہے۔ لیکن ناواقفوں کو گمراہی سے بچانے کے لئے ہم اس کی غلطی اور لغویت کی توضیح کرنا چاہتے ہیں۔
امور ذیل پر نظر کیجئے تو ان کے استدلال کا باطل ہونا اظہر من الشمس ہو جائے گا۔ پہلی بات تو یہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو یہی بتانا منظور تھا کہ سلسلہ نبوت قیامت تک جاری رہے گا تو اسے صاف صاف کیوں نہ فرما دیا۔ ابہام اور اگر مگر کے ساتھ بیان کرنے میں کیا حکمت تھی؟ تعجب ہے کہ اتنا اہم مسئلہ اور اس قدر ابہام کے ساتھ بیان کیا جائے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کو یہ یقیناً بیان فرمانا منظور نہیں کہ سلسلہ نبوت جاری رہے گا نہ اس مضمون کو کوئی تعلق آیت سے ہے۔
- ٢...... استدلال میں دوسری کمزوری سخن شناسی کا فقدان ہے۔ آیت میں ہرگز
کوئی خبر اس قسم کی نہیں دی جارہی ہے کہ تمہارے پاس انبیاء ومرسلین آتے رہیں گے۔ بلکہ شرط جزا کی صورت میں جیسا کہ لفظ اما اور ف سے ظاہر ہے یہ مضمون بیان کیا جارہا ہے کہ اگر تمہارے پاس انبیاء ومرسلین آئیں تو ان کی اطاعت کرنا۔ اس جملہ شرطیہ کا اقتضاء صرف یہ ہے کہ اولاد آدم علیہ السلام کے پاس انبیاء ومرسلین آئیں۔ لیکن یہ اقتضاء ایک محدود زمانہ تک انبیاء ومرسلین کے آنے سے پورا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ پورا ہو چکا۔ بکثرت انبیاء زمانہ ماضی میں تشریف لا چکے۔ سلسلہ رسالت ونبوت کا قیامت تک جاری رہنا کسی طرح اس سے لازم نہیں آتا اور آیت کریمہ سے یہ مضمون کسی طرح بھی نہیں نکل سکتا۔ اس مضمون کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے۔ ایک شخص آپ سے کہتا ہے کہ اگر میں تمہیں خط لکھوں تو جواب ضرور دینا تو کیا اس کے معنی آپ یہ سمجھیں گے کہ وہ
٩٩
زندگی بھر آپ کو خط لکھتا رہے گا؟ اس سے زیادہ سے زیادہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ایک آدھ خط لکھے گا۔ اگر وہ صرف ایک ہی خط لکھے تو بھی اس جملہ کا تقاضا پورا ہو جاتا ہے۔ دو چار خط لکھنا بھی اس سے لازم نہیں آتا۔ چہ جائیکہ دوام!
ان زندیقوں نے آیت مقدسہ میں تحریف معنوی کی ناپاک اور لاحاصل کوشش کی ہے۔ یعنی شرط و جزا کے معنی کو بالکل نظر انداز کر کے اپنی خواہش کے مطابق اسے وہ معنی پہنانے کی کوشش کی جو کسی طرح بھی اس سے سمجھ میں نہیں آتے۔
- ٣...... منکرین کے اس بیتِ عنکبوت کو جس کا نام انہوں نے استدلال رکھا ہے
ایک تیسرے زاویئے سے بھی دیکھ لیجئے۔ یہاں سے بھی آپ یہی دیکھیں گے کہ سید المرسلین کے یہ باغی آیت میں تحریف معنوی کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں اور ناواقفوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے انہوں نے آیت کی تفسیر اس کے سیاق و سباق سے بالکل اعراض کر کے کرنا چاہی۔ حالانکہ یہ آیت ایک سلسلہ مضمون کا حصہ ہے۔ چند آیات پیشتر حضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے نکلنے کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس کے بعد ان نصیحتوں اور ہدایتوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ جو زمین پر آنے کے بعد اولادِ آدم علیہ السلام کو فرمائی گئی تھیں۔ اسی سلسلۂ ہدایت کی ایک کڑی پیشِ نظر آیت مقدسہ بھی ہے جو ہبوط آدم علیہ السلام کے وقت خطاب کی حکایت ہے نہ کہ کوئی نیا خطاب۔ خطاب اولادِ ابوالبشر علیہ السلام کو ہے نہ کہ امت سید البشر ﷺ کو۔ بالفاظ دیگر حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں ان کی اولاد سے فرمایا گیا تھا کہ تم میں انبیاء و مرسلین آئیں تو تم ان کی اتباع اور پیروی کرنا۔ اس سے جو وعدہ سمجھ میں آتا ہے وہ پورا ہو چکا۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تک بکثرت انبیاء و مرسلین تشریف لائے۔ لیکن ان کا سلسلہ آنحضور ﷺ پر ختم ہو گیا۔ اس سے یہ کہاں نکلتا ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ آنحضور ﷺ کے بعد بھی جاری رہے گا؟ آیت کے کس لفظ سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ سلسلہ رسالت و نبوت قیامت تک جاری رہے گا؟ امت محمدیہ علیہا الف الف تحیہ اس کی مخاطب ہی کب ہے جو وہ کسی نئے نبی و رسول کا انتظار کرے؟ منکرینِ ختمِ نبوت کا اس آیت سے استدلال جس کا ادنیٰ ربط بھی مسئلہ ختمِ نبوت سے نہیں۔ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ لوگ اپنے باطل دعویٰ پر دلیل قائم کرنے سے بالکل عاجز ہیں اور محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس قسم کے کمزور سہارے تلاش کرتے ہیں۔
- ٤...... اس سلسلہ میں ایک اور بات بھی سنتے چلئے۔ منکرینِ ختمِ نبوت نے پیش نظر
١٠٠
سے زیادہ سے زیادہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ایک آدھ خط سے بھی اس جملہ کا تقاضا پورا ہو جاتا ہے۔ دو چار خط لکھنا بھی
رصہ میں تحریف معنوی کی ناپاک اور لاحاصل کوشش کی نداز کر کے اپنی خواہش کے مطابق اسے وہ معنی پہنانے کی بھی نہیں آتے۔
وایت عنکبوت کو جس کا نام انہوں نے استدلال رکھا ہے یہاں سے بھی آپ یہی دیکھیں گے کہ سید المرسلین کے یہ پاتی میں مصروف ہیں اور ناواقفوں کی آنکھوں میں دھول بغیر اس کے سیاق وسباق سے بالکل اعراض کر کے کرنا کا حصہ ہے۔ چند آیات پیشتر حضرت آدم علیہ السلام کے تو اس کے بعد ان نصیحتوں اور ہدایتوں کا تذکرہ فرمایا گیا علیہ السلام کو فرمائی گئی تھیں۔ اسی سلسلۂ ہدایت کی ایک ملاً آدم علیہ السلام کے وقت خطاب کی حکایت ہے نہ کہ السلام کو ہے نہ کہ امت سید البشر ﷺ کو۔ بالفاظ دیگر کی اولاد سے فرمایا گیا تھا کہ تم میں انبیاء و مرسلین آئیں تو جو وعدہ سمجھ میں آتا ہے وہ پورا ہو چکا۔ یعنی محمد رسول لائے۔ لیکن ان کا سلسلۂ آنحضور ﷺ پر ختم ہو گیا۔ اس سلسلۂ آنحضور ﷺ کے بعد بھی جاری رہے گا؟ آیت سلسلہ رسالت و نبوت قیامت تک جاری رہے گا؟ امت کا کب ہے جو وہ کسی نئے نبی ورسول کا انتظار کرے؟ شخص کا ادنیٰ ربط بھی مسئلہ ختم نبوت سے نہیں۔ اس بات کی پر دلیل قائم کرنے سے بالکل عاجز ہیں اور محض ضد تارے تلاش کرتے ہیں۔
ار بات بھی سنتے چلئے۔ منکرین ختم نبوت نے پیش نظر
١٠٠
آیت مقدسہ میں جس تحریف معنوی کی کوشش کی ہے۔ اس بناء پر ان سے سوال ہو سکتا ہے کہ کیا تمہارے نزدیک ہر زمانہ میں کسی نبی کی موجودگی ضروری ہے؟ تمہاری تشریح سے تو یہ بات بداہتہ لازم آتی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس سے قائل تم بھی نہیں ہو سکتے اور اگر از راہِ بے حیائی اور ڈھٹائی تم قائل بھی ہو جاؤ تو بداہت تمہاری تکذیب کرے گی۔ اس وقت سوال یہ ہوگا کہ بتاؤ اس وقت کون نبی موجود ہے؟ اور آنحضور ﷺ کے بعد فلاں فلاں صدیوں میں کون نبی رہا؟ ہر زمانہ میں کسی نہ کسی نبی کی بعثت و موجودگی ثابت کرو اور یہ وہ چیز ہے جسے تمہارے اولین و آخرین مل کر بھی ثابت نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس دعویٰ کی جرات بھی صرف اس شخص کو ہو سکتی ہے جو بے حیائی کے سب ریکارڈ توڑ چکا ہو۔ دونوں باتوں میں لزوم بالکل واضح حقیقت ہے۔ اگر آیت سے یہ نکلتا ہے کہ سلسلہ نبوت ہمیشہ جاری رہے گا تو پھر کسی زمانہ کی تخصیص کے کیا معنی؟ اور کس دلیل کی بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ فلاں زمانہ میں نبی مبعوث ہوئے اور فلاں زمانہ میں نہیں مبعوث ہوئے؟ یا ایک زمانہ میں مبعوث ہونا چاہئے اور دوسرے میں نہ ہونا چاہئے؟
یہ غلط نتیجہ محض آیت کی اس غلط اور بے اصل تشریح کی وجہ سے نکلا جو ان منکرین نے اختراع کی ہے۔ جس کے صریح معنی یہ ہیں کہ ان کی تشریح بالکل غلط اور لغو ہے۔
تیسرا مغالطہ
منکرین ختم نبوت کا گروہ کج فہمی کے ساتھ بے حیائی، خیانت اور دروغ بانی میں بھی اپنی نظیر آپ ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ پر افتراء کرنے اور ناواقفوں کو دجل وفریب میں مبتلا کر کے گمراہ کرنے میں انہیں ذرہ برابر بھی باک نہیں ہوتی۔ نہ اس قسم کے افعال شنیعہ کے ارتکاب میں انہیں شرم آتی ہے۔ اس کا ایک نمونہ مثیل مسیح کا مہمل ولغو نظریہ یہ بھی ہے جسے یہ لوگ دوسروں کی آنکھوں میں دھول کی طرح جھونکنے کی سعی لاحاصل کیا کرتے ہیں۔
اس غلط اور مفتریانہ نظریہ میں ان لوگوں نے نزولِ مسیح علیہ السلام کے عقیدے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی ناکام کوشش کی ہے اور دلیل و برہان سے اپنی تہی دستی کی توثیق مزید کر دی۔
صفحات ماسبق میں گزر چکا ہے کہ اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور مسیح دجال کو قتل کر کے دین اسلام پھیلائیں گے۔
ان دشمنان دین نے اس عقیدے کا تغلب (Expoloitation) کر لیا اور اس میں تحریف کر کے فوراً مسیح کی تفسیر مثیل مسیح کے ساتھ کر ڈالی۔ ان کے نزدیک احادیث میں حضرت
١٠١
عیسیٰ علیہ السلام شخصی طور پر مراد نہیں ہیں۔ بلکہ ایک ایسے شخص کی بعثت مراد ہے جو اوصاف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ ہوگا۔ اس کے بعد میدان کذب وافتراء میں دوسرا قدم یہ اٹھایا گیا کہ ایک کذاب ومفتری مدعی نبوت کو مثیل عیسیٰ علیہ السلام قرار دے کر اس قسم کی حدیثوں کا مصداق قرار دے دیا۔ حالانکہ اگر یہ لوگ اتنا ہی سوچتے کہ:
تو شاید اپنی ابلہی اور حماقت سے باز آ جاتے۔ عقل ونقل کی نگاہ میں یہ مثیل مسیح کا خانہ ساز نظریہ سرتاپا باطل ہے۔ اس میں سچائی اور حقیقت کا شائبہ بھی نہیں۔
- ١...... اس کے لغو اور باطل ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ زبان و بیان اور
عقل ونقل کے کسی اصول سے بھی لفظ مسیح و عیسیٰ کے معنی مثیل مسیح و عیسیٰ قرار دینا صحیح نہیں ثابت ہوسکتا۔ اگر بغیر کسی قرینہ اور قاعدے کے کسی لفظ کے معنی حقیقی کو ترک کر دینا اور معنی مجازی مراد لے لینا جائز ہو تو فہم مراد مشکل اور افہام و تفہیم ناممکن ہو جائے۔ خصوصاً قرآن وحدیث کو تو سمجھنا اور بھی محال ہو جائے۔ کیونکہ ہر لفظ سے ہمیشہ اس کے معنی حقیقی ہی مراد لئے جاتے ہیں۔ سوا اس صورت کے کہ جب کوئی قرینہ صارفہ معنی مجازی مراد لینے کو ترجیح دے رہا ہو۔ منکرین ختم نبوت کے اولین وآخرین مل کر بھی کوئی قرینہ اس قسم کا پیش نہیں کر سکتے۔ جو معنی مجازی کی طرف اشارہ کر رہا ہو۔ قرینہ سے اس تہی دستی کے باوجود معنی مجازی یعنی مسیح و عیسیٰ سے مثیل مسیح و عیسیٰ مراد لینا اول درجہ کی ضد اور افتراء پردازی ہے۔
قاعدہ ہے کہ انسان ایک جھوٹ چھپانے کے لئے دس جھوٹ اور بولتا ہے۔ منکرین نے اس اصول کے ماتحت قرینہ و دلیل سے اپنی بے مائیگی کا احساس کر کے اس گرتی ہوئی دیوار باطل کو سہارا دینے کے لئے یہ جھوٹ تراشا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس لئے حدیث میں عیسیٰ سے مراد مثیل عیسیٰ ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح انہوں نے قرآن مجید کی مزید تکذیب کر کے اپنے کفر وطغیان میں اور اضافہ کر لیا۔ ان کا یہ نظریہ قرآن وحدیث کی نظر میں بالکل باطل ولغو ہے۔ کتاب مبین اور احادیث صحیحہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور اس وقت بھی زندہ موجود ہیں۔ متعارف موت ان پر نہیں طاری ہوئی۔ لیکن اس سے قطع نظر ان لوگوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ افتراء پردازی اور دروغ بانی کا دوسرا عنکبوتی جال تان کر بھی ان کا مدعائے باطل عنقاء ہی رہا۔ کیا نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ مردے کو زندہ کر دینے پر بھی قادر ہیں؟ خصوصاً انبیاء علیہم السلام کو تو ایک قسم کی حیات حاصل ہی رہتی ہے۔ اس میں کیا بعید از قیاس
١٠٢
بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نظریہ کے لئے تو اس افر
- ٢......
یہ محتاج دلیل ہونے کے باو جواب نہیں ہے کہ آخری ن
- ٣......
زیادہ روشن ہے۔ سوال اختیار فرمانے کی ضرورت کے بجائے کسی مثیل عیسیٰ ظہور ہوگا؟ رسالت ونبوت ایمان کو خطرے میں ڈ بلکہ ہر نبی و رسول کی ب احادیث نبویہ کا مفہو قرآن مسئلہ کو خصوصاً جس کا صاف ہے کہ انبیاء علیہم السلا لاتے ہیں۔ کتب الہیہ ایمانیات کے بارے میں کریں جو بجائے ہدایت رسالت کا مسئلہ دین کا بنیا تعالیٰ کو کسی جدید نبی کو بھیج فرما دیا گیا ہوتا کہ میرے مثل ہوں گے تاکہ امت کی مستحق اور جہنم سے محفو پاک ہیں۔ اس کے معنی
بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ کر کے دوبارہ بھیج دیں۔ مثیل مسیح کے مہمل نظریئے کے لئے تو اس افتراء پردازی کے بعد بھی کوئی جگہ نہیں نکل سکتی۔
- ٢...... مثیل مسیح کے نظریہ کی غلطی اور لغویت کی ایک دوسری بدیہی دلیل یہ ہے کہ
یہ محتاج دلیل ہونے کے باوجود محروم دلیل ہے۔ مدعیان باطل کے پاس اس سوال کا کوئی معقول جواب نہیں ہے کہ آخر مسیح سے مثیل مسیح کیوں مراد لیا جائے؟
- ٣...... اس افتراء خالص کے افتراء باطل ہونے کی تیسری دلیل بھی آفتاب سے
زیادہ روشن ہے۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس اہم مسئلہ میں استعارے کا اسلوب اختیار فرمانے کی ضرورت ہی کیا پیش آئی تھی؟ اگر آنحضور ﷺ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بجائے کسی مثیل عیسیٰ کے نزول کی خبر دینا تھی تو صاف صاف یہی کیوں نہ فرما دیا کہ ایک مثیل کا ظہور ہوگا؟ رسالت ونبوت کے اس اہم مسئلہ میں یہ گول مول انداز بیان اختیار کرنا اور امت کے ایمان کو خطرے میں ڈال دینا کیا منصب رسالت سے ادنیٰ مناسبت بھی رکھتا ہے؟ نبی کریم ﷺ بلکہ ہر نبی ورسول کی شان اس قسم کے اقوال واعمال سے بہت بلند وبرتر ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ احادیث نبویہ کا مفہوم کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ جو مرتدین کا یہ گروہ بیان کرتا ہے۔
قرآن مجید اور حدیث پر نظر کرو تمہیں ایک نظیر بھی اس کی نہ مل سکے گی کہ کسی اہم دینی مسئلہ کو خصوصاً جس کا تعلق بنیادی عقائد سے ہو اجمال یا ابہام کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہو۔ بات صاف ہے کہ انبیاء علیہم السلام لوگوں کو جنت کا راستہ دکھانے اور جہنم سے بچانے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔ کتب الہیہ بھی اسی مقصد سے نازل ہوئیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عقائد اور ایمانیات کے بارے میں ابہام سے کام لیں اور انہیں استعارے کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کریں جو بجائے ہدایت کے گمراہی کا سبب بن جائے۔ علم دین کا ابجد خوان بھی جانتا ہے کہ رسالت کا مسئلہ دین کا بنیادی اور اہم ترین مسئلہ ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے حق تعالیٰ کو کسی جدید نبی کو بھیجنا ہوتا یا بقول ان منکروں کے مثیل مسیح کو بھیجنا ہوتا تو صاف الفاظ میں فرما دیا گیا ہوتا کہ میرے بعد ایک نبی آئے گا جو اوصاف و کمالات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مثل ہوں گے تاکہ امت کسی اشتباہ میں نہ پڑتی اور ایسے نبی کے آتے ہی ان پر ایمان لاکر جنت کی مستحق اور جہنم سے محفوظ ہو جاتی۔ لیکن مثیل مسیح کی مہمل اصطلاح سے قرآن وحدیث دونوں پاک ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ نظریہ قطعا لغو و مہمل و باطل ہے۔ جس کی کوئی اصل نہیں۔
١٠٣
- ٤....... چوتھی بات یہ کہنا ہے کہ خاتم النبیین ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
دوبارہ تشریف لانے کے متعلق جو پیشین گوئی فرمائی ہے اس میں ذرہ برابر بھی ابہام نہیں۔ آنحضورﷺ نے اس مسئلہ کی اہمیت کا حق ادا فرما دیا اور اس وقت کے احوال و واقعات نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوصاف کا ایسا واضح نقشہ کھینچ دیا ہے کہ کسی سمجھ دار آدمی کو اشتباہ باقی ہی نہیں رہ سکتا۔ جس وقت ممدوح الشان نزول فرمائیں گے اس وقت اہل ایمان کے سامنے آفتاب نصف النہار کی طرح یہ بات روشن ہو جائے گی کہ یہی حضرت مسیح ہیں۔ جن کے نزول کی خبر سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے دی تھی۔ جو شخص اس مسئلہ کے متعلق احادیث پر نظر کرے گا اسے کسی دوسرے شخص پر مسیح موعود ہونے کا شبہ بھی نہیں ہوسکتا۔ نہ وہ مثیل مسیح نام کے کسی عنقاء کو تلاش کر سکتا ہے۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے چند علامات واحوال جو حدیث میں وارد ہوئے ہیں درج ذیل ہیں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مسیح دجال کے خروج کے بعد ہوگا۔ یہ دجال اکبر ایک شخص معین ہوگا نہ کہ کوئی قوم۔ یہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کی پیشانی پر ک، ف، ر تحریر ہوگا۔ یہ الوہیت کا دعویٰ کرے گا۔ اس سے عجیب وغریب خوارق عادات سرزد ہوں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد عام طریقہ سے نہ ہوگی۔ یعنی دوبارہ کسی عورت کے بطن سے پیدا نہ ہوں گے۔ بلکہ حالت شباب ہی میں ایک خارق عادت اور معجزانہ طریقہ سے آسمان سے بیت المقدس کے منارے پر اتریں گے۔ جہاں تک ان کی سانس پہنچے گی وہاں تک کوئی کافر زندہ نہ بچے گا۔ دجال انہیں دیکھ کر راہ فرار اختیار کرے گا۔ مگر اسے باب لد (واقع فلسطین) میں اپنے نیزے سے واصل جہنم کر دیں گے۔ اس وقت یہود کو شکست عظیم ہوگی اور چن چن کر قتل کئے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے پناہ لے گا تو پتھر مسلمان کو آواز دے گا کہ یہاں یہ یہودی چھپا ہوا ہے۔ اسے قتل کر دو۔ یہ اور اس قسم کی بہت سی علامتیں بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد وغیرہ حدیث کی معتبر کتابوں میں مندرج ہیں۔ انہیں دیکھنے کے بعد کوئی احمق ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ مسیح سے مراد مثیل مسیح ہے یا اس قسم کی کوئی شخصیت پیدا ہوچکی ہے۔
ہر سمجھدار اور منصف مزاج اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ بلاشبہ آیات احادیث میں نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خبر سو فیصد حقیقت ہے۔ جس میں مجاز کا شائبہ نہیں ہے اور مثیل مسیح ہونے کا ہر مدعی کذاب، مفتری، مرتد اور ابدالآباد جہنم میں رہنے کا مستحق ہے۔
تمت بالخیر !
١٠٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
آخری نبی
حضرت مولانا محمد اسحاق صدیقی
بسم الله الرحمن الرحيم !
الحمدلله رب العالمين وافضل الصلوة على افضل المرسلين خاتم النبيين محمّد الذى لا نبي بعده وعلى اهل بيته امهات المؤمنين وعلى اصحابه الذين هم ائمة المؤمنين وسادة المسلمين وعلى ذريته الطيبة اجمعين وعلى آله المشتمل على كل مؤمن الى يوم الدين . اما بعد!
اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی پیدائش کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے فرمائی اور انہیں تاج نبوت سے سرفراز فرمایا۔ پھر حوا علیہا السلام کو پیدا کر کے ان کی زوجہ بنایا اور ان کی نسل دنیا میں پھیلائی جو آدمی کہلائی۔ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو دین اسلام سکھایا۔ ایمان اور اعمال صالحہ، عبادت وطاعت الٰہی کی تعلیم دی۔ گناہوں سے بچنے اور مسلم یعنی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ بن کر رہنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ سکھایا۔ اس کے ساتھ تمدن کے بھی ضروری طریقے مثلاً لباس تیار کرنے، کھانا پکانے، جانور پالنے وغیرہ کے طریقے سکھائے۔
حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں تشریف لائے تھے۔ ان کے بعد ان کی اولاد کی ہدایت کے لئے انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے اور ان پر کتابیں نازل فرمانے کا انتظام فرمایا گیا۔ اس نظام ہدایت کی اطلاع حضرت آدم علیہ السلام کو بذریعہ وحی فرما کر ان کی اولاد کو تنبیہ و ہدایت فرمائی گئی کہ: ”يا بني آدم اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم آياتي فمن اتقى واصلح فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون . والذين كذبوا بايتنا واستكبروا عنها اولئك اصحاب النار هم فيها خالدون (الاعراف: ٣٥، ٣٦) “اے اولادِ آدم اگر تمہارے پاس تمہاری جنس سے رسول آئیں جو تمہیں میری آیتیں سنائیں تو جو شخص صلاح وتقویٰ اختیار کرے گا (یعنی) ان پر ایمان لاکر ان کی پیروی کرے گا تو ایسے لوگوں کے لئے کوئی ڈر نہیں اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے (یعنی آخرت) اور ہماری آیتوں کی تکذیب اور ان سے تکبر کرنے والے جہنمی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ﴾
یہ ہدایت حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کو حضرت آدم علیہ السلام ہی کے زمانے میں کی گئی تھی۔ اس وجہ سے ان کے بعد بکثرت انبیاء آنے والے تھے۔ اسی لئے ”یا بنی آدم “ (اے اولادِ آدم) فرما کر خطاب فرمایا۔ کیونکہ اس وقت انسانوں کی اس جماعت کا کوئی خاص لقب
٢
مقرر نہیں ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سب کے سب ایک ہی دین یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کے پیرو تھے۔ سب مسلم اور مومن تھے۔ کفر و شرک وغیرہ گمراہیوں کا کوئی تصور ہی نہ کر سکتا تھا۔ اس لئے ان لوگوں کے لئے کسی امتیازی لقب کی ضرورت ہی نہ تھی۔
اس ہدایت اور اعلان کے بموجب حضرت آدم علیہ السلام کے بعد بکثرت انبیاء علیہم السلام، آدم علیہ السلام کی اولاد یعنی آدمیوں کے پاس ان کی ہدایت کے لئے آتے رہے۔ جنہوں نے ان کی تصدیق کی ۔ فلاح و سعادت پائی اور مستحق جنت ابدی ہوئے اور انہیں جھٹلانے والے نامراد اور دائمی عذاب جہنم کے مستوجب قرار پائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ نبی پر ایمان لانے والا ہمیشہ ہمیش کے لئے جنت میں جائے گا اور انہیں جھٹلانے والا ہمیشہ کے لئے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اپنی نبوت ثابت کرنے کے لئے بہت صاف اور طاقتور دلیلیں اور نشانیاں عطاء فرمانے کے علاوہ یہ انتظام بھی فرمایا کہ ہر نبی اپنے سے پہلے آنے والے نبیوں کی سچائی اور نبوت کی تصدیق اور اپنے بعد آنے والے نبی کی آمد و بعثت کی صاف صاف پیشین گوئی کرتا رہا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”واذ اخذاللہ میثاق النبیین لما آتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن به ولتنصرنہ (آل عمران: ٨١) ” ﴿اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے عہد لیا تھا کہ میں جو کچھ تمہیں کتاب و حکمت عطاء کروں پھر تمہارے پاس کوئی ایسا رسول آئے جو اس کتاب کی جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہو تصدیق کرنے والا ہو تو تم اس پر ضرور ایمان لانا اور اس کی مدد بھی کرنا۔﴾
سب انبیاء مرسلین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے بعد آنے والے نبی کی صاف اطلاع دیتے رہے۔ یہاں یہ بات قابل تذکرہ ہے کہ ہمارے نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی پیشین گوئی ہر نبی ورسول نے کی ۔ یہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کی خصوصیت ہے۔ دوسرے انبیاء کو یہ بات نہیں حاصل ہوئی۔ یعنی ہر نبی کی بعثت کی پیشین گوئی اس سے پہلے آنے والے نبی نے کی۔ مگر ہمارے نبی کریم ﷺ کے آنے کی خبر ہر نبی نے دی۔ چنانچہ قرآن مجید میں بکثرت انبیاء علیہم السلام کی اس پیشین گوئی کا مختصر بیان فرمانے کے علاوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واضح اور تفصیلی پیشین گوئی اور بشارت کا تذکرہ اس طرح فرمایا گیا۔
” ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد (الصف:٦)“ ﴿اور
٣
خوشخبری سنانے والا ہوں اس رسول کی (آمد کی) جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد (ﷺ) ﴾
سب جانتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کا ایک اسم گرامی ”احمد“ بھی ہے۔ پہلے یہ واقعہ یاد رکھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ہمارے نبی اکرم ﷺ کے درمیان باتفاق اہل اسلام و یہود و نصاریٰ کوئی نبی نہیں مبعوث ہوا۔ اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ”من بعدی“ فرمایا۔ یعنی میرے بعد۔ اگر بیچ میں کوئی اور نبی آنے والا ہوتا تو میرے بعد کے بجائے اس کے بعد فرماتے۔ یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جن دجالوں اور گمراہوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور اس میں مشہور ہوئے۔ ان میں سے کسی کا نام احمد نہیں تھا۔ تقریباً ایک صدی گذری کہ قادیان کے ایک شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور اپنے دجل و فریب سے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ مگر اس کا نام بھی غلام احمد تھا۔ احمد نہ تھا۔ غلام احمد اور احمد کا فرق ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ غلام اور آقا یکساں نہیں ہوتے اور احمد کے غلام کا نام احمد نہیں ہو سکتا۔
خاتم النبیین
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور پیشین گوئی اوپر قرآن سے نقل کی جا چکی۔ آنحضرت ﷺ نے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی بعثت و آمد کی خوشخبری دی اور پیشین گوئی فرمائی۔ انجیل شریف حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ وہ تحریف کی وجہ سے اگر چہ اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں۔ پھر بھی اس میں محمد رسول اللہ ﷺ سے متعلق پیشین گوئی موجود ہے جو منصف مزاج کے لئے صاف اور واضح ہے۔ مگر ہٹ دھرم اور ضدی کے لئے بے فائدہ۔
پیشین گوئی اور تصدیق کے اس سلسلہ کو ذہن میں رکھ کر پورا قرآن مجید دیکھ جائیے۔ آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کی پیش گوئی نظر نہ آئے گی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اچھا قرآن مجید سے قطع نظر کر کے احادیث کا پورا ذخیرہ کھنگال ڈالئے۔ آپ کو ایک حدیث بھی ایسی نہ ملے گی جس کا یہ مضمون ہو کہ میرے بعد کوئی اور نبی آئے گا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ ہمارے نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں۔ آنحضور ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک ہوگی۔ اس لئے
٤
آمد کی) جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام
یم محمد رسول اللہ ﷺ کا ایک اسم گرامی ”احمد“ بھی السلام اور ہمارے نبی اکرم احمد ﷺ کے درمیان مبعوث ہوا۔ اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے میں کوئی اور نبی آنے والا ہوتا تو میرے بعد کے لحاظ ہے کہ خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کیا اور اس میں مشہور ہوئے۔ ان میں سے کسی کا ان کے ایک شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور تھا۔ مگر اس کا نام بھی غلام احمد تھا۔ احمد نہ تھا۔ غلام تو یکساں نہیں ہوتے اور احمد کے غلام کا نام احمد
اور پیشین گوئی اوپر قرآن سے نقل کی جاچکی۔ عثت و آمد کی خوشخبری دی اور پیشین گوئی فرمائی۔ ہے۔ وہ تحریف کی وجہ سے اگرچہ اپنی اصلی حالت سے متعلق پیشین گوئی موجود ہے جو منصف مزاج تلاشی کے لئے بے فائدہ۔ ذہن میں رکھ کر پورا قرآن مجید دیکھ جائیے۔ پیشین گوئی نظر نہ آئے گی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ وغیرہ کھنگال ڈالئے۔ آپ کو ایک حدیث بھی اور نبی آئے گا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ النبیین ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے آخری نبی مکمل ہوئی اور نہ قیامت تک ہوگی۔ اس لئے
قرآن عظیم اور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بعد کسی نبی کی بعثت کی خبر نہیں دی۔ قرآن مجید میں اصول دین کے ساتھ بہت سے فرعی مسائل مثلاً خرید و فروخت، نکاح و طلاق، غسل و وضو کا بیان بھی موجود ہے۔ مگر آنحضور ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت کی طرف اشارہ تک نہیں۔ اگر آنحضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونے والا ہوتا تو یقیناً اس کی واضح پیشین گوئی قرآن مجید میں ہوتی۔ ایک کیا کئی آیتوں میں اسے بیان کیا جاتا۔ کیونکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے۔ جس کے ماننے نہ ماننے پر جنتی اور دوزخی ہونے کا دارومدار ہے۔ ایسے اہم معاملہ کا تذکرہ نہ ہونا اس بات کی قطعی اور یقینی دلیل ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا اور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔
علیٰ ہذا حدیث شریف کا بھی اس کے تذکرے اور پیشین گوئی سے خالی ہونا اس کی دلیل مزید ہے۔ آنحضور ﷺ نے زندگی کے سب شعبوں کے متعلق ہدایتیں فرمائیں اور احکام الٰہیہ بیان فرمائے۔ عقائد اسلامیہ کی نہایت واضح تشریح فرمائی۔ انبیاء سابقین کی تصدیق فرمائی۔ یہاں تک کہ بعض سابق انبیاء مرسلین کی شکل وصورت بھی بیان فرمائی۔ اپنے بعد قیامت تک ہونے والے بکثرت واقعات و حوادث، خصوصاً علامات قیامت وقرب قیامت کی پیشین گوئیاں فرمائیں۔ مگر یہ کبھی ارشاد نہیں فرمایا کہ میرے بعد فلاں نبی کی بعثت ہوگی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آنحضور ﷺ نے ایسے اہم مسئلہ کو نظر انداز کر دیا ہو۔ اس سے مہر نیمروز کی طرح روشن ہو جاتا ہے کہ نبی کریم، محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا اور آنحضرت ﷺ خاتم النبیین یعنی اللہ کے آخری نبی ورسول ہیں اور قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ اس کے بعد کوئی کتاب قیامت تک نازل نہیں ہو سکتی۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے یا کسی نئی کتاب الٰہی کے نزول کی خبر دے وہ جھوٹا اور کافر ہے اور اسے نبی یا مجدد سمجھنے والے بھی کافر ہیں۔
ختم نبوت کا اعلان
سید المرسلین محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ اس حقیقت کے یقین کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ قرآن وحدیث میں آنحضور ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت کا کوئی تذکرہ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت وکرم کا تقاضا ہوا کہ اس حقیقت کی تصریح کر کے اور اسے مثبت انداز میں ذکر کر کے اس طرح روشن کر دیا جائے کہ کسی قسم کا شک وشبہ اس کے قریب بھی
٥
نہ آسکے۔ اس لئے قرآن کریم اور حدیث شریف میں عقیدۂ ختم نبوت صاف صاف بیان فرمایا گیا ہے۔ قرآن کریم کی بکثرت آیتیں اس سچے عقیدے کی تعلیم دے رہی ہیں۔ اس طرح متعدد حدیثوں میں یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم اس وقت بغرض اختصار ایک آیت اور ایک حدیث نقل کرتے ہیں۔
آیۃ خاتم النبیین
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين ، وكان الله بكل شئ عليما (الاحزاب:٤٠)“ محمد (ﷺ) تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ (یعنی سلسلۂ نبوت آنحضورﷺ پر ختم ہو گیا) اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے۔
آیت نے بات بالکل واضح کر دی اور صاف صاف بتا دیا کہ ہمارے نبی اکرم محمد رسول اللہﷺ ”خاتم النبیین“ یعنی آخری نبی و رسول ہیں۔ آنحضورﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک ہوگی۔ ”خاتم“ (تا کے زبر کے ساتھ) عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی چیز کو ختم کیا جائے۔ اسی لئے مہر کو عربی میں خاتم کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ تحریر کے آخر میں تحریر کے ختم کرنے کے لئے لگائی جاتی ہے۔ مہر کر دینے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس کے بعد کچھ نہیں لکھا جائے گا۔ ”خاتم النبیین“ کے معنی یہ ہیں کہ آنحضورﷺ نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ یعنی سلسلۂ نبوت آنحضورﷺ پر ختم ہو گیا۔ اب کسی شخص کو نبی بنا کر مبعوث نہیں کیا جائے گا۔
آیت میں ایک متواتر قرأت ”خاتم“ (تا کے کسرے یعنی زیر کے ساتھ) بھی ہے۔ اس کے معنی تو اس سے بھی زیادہ واضح ہیں۔ معمولی عربی جاننے والے اردو دان بھی جانتے ہیں کہ خاتم کے معنی (ختم کرنے والا) ہیں۔ اس کا ترجمہ بھی یہی ہوگا کہ آنحضورﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ یعنی سلسلۂ نبوت و رسالت آنحضورﷺ پر ختم ہو گیا۔ آنحضورﷺ کے بعد کسی شخص کو نبوت کا منصب نہیں دیا گیا اور نہ قیامت تک دیا جائے گا۔ بطور لطیفہ سن لیجئے کہ مرزائیو! ویسے اس آیت کا کوئی جواب نہیں بن پڑا اور ہٹ دھرمی انہیں حق بات قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو گھبرا کر یہ لغو بات کہنے لگتے ہیں کہ ”خاتم النبیین“ کا مطلب نبیوں کی مہر
٦
ہے اور مہر تصدیق کے کرنے والے ہیں۔ ان بات کہتے ہوئے انہیں شر نہ تھی۔ مگر جھوٹوں کو مگر
- اول :
ہے اور مرزا کی مہر بہر حال آخری ن انبیاء کی مہر ہیں
- دوم :
کیا ظاہر ہوئی؟ ہر نبی میں کیا خصوصیت ہے بیان فرمایا گیا ہے۔
- سوم :
نہیں باقی رہے گی تا کہ کہ آنحضورﷺ پر سلسل جائے گا۔ اس لئے آخ جوڑ اور ان کی باہمی مناس معنی لئے جائیں تو آیت درمیان کوئی مناسبت نہی اس گفتگو سے دن چڑھے النبیین کا وہی مطلب آخری نبی و رسول ہیں او بلکہ قرآن کریم میں تح ص ٤٩١، کتاب الانبیاء میں یہ حدیث ہے۔ ”ع تسوسهم الانبي
ہے اور مہر تصدیق کے لئے لگائی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آنحضورﷺ سب نبیوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ ان کی اس لغو بات پر ہنسی آتی ہے اور تعجب ہوتا ہے کہ ایسی رکیک اور مہمل بات کہتے ہوئے انہیں شرم کیوں نہ آئی۔ ایسی لغو اور بے جان بات کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہ تھی۔ مگر جھوٹوں کو گھر تک پہنچانے کے لئے اس کا جواب درج ذیل ہے۔
اول...... اگر بقول مرزائی خاتم بمعنی مہر لیا جائے تو بھی تو ہمارا مدعا ثابت ہی رہتا ہے اور مرزائی مدعا مفقود۔ کیونکہ مہر خواہ تصدیق کے لئے لگائی جائے یا توثیق کے لئے۔ لگائی تو بہر حال آخر ہی میں لگائی جاتی ہے۔ مطلب وہی رہتا ہے کہ انبیاء کی فہرست ختم اور آنحضورﷺ انبیاء کی مہر ہیں۔ اس لئے آخر میں ہیں آنحضورﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا۔
دوم...... اگر اس کا مطلب تصدیق انبیاء ہے تو اس میں نبی اکرمﷺ کی خصوصیت کیا ظاہر ہوئی؟ ہر نبی نے اپنے سے پہلے انبیاء کرام کی تصدیق کی ہے۔ آنحضورﷺ ہی کی اس میں کیا خصوصیت ہے۔ البتہ آخری نبی ہونا ایک عظیم الشان خصوصیت ہے۔ آیت میں یقیناً اس کو بیان فرمایا گیا ہے۔
سوم...... آیت میں پہلے یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ محمدﷺ کے کوئی اولاد نرینہ نہیں باقی رہے گی تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ آنحضورﷺ کی نسل میں کوئی دوسرا نبی ہوگا۔ پھر بتایا گیا کہ آنحضورﷺ پر سلسلۂ نبوت ورسالت ختم ہو گیا اور آنحضرتﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔ اسی لئے آنحضرتﷺ کی اولاد نرینہ نہیں باقی رکھی گئی۔ اس طرح دونوں مضمونوں کا جوڑ اور ان کی باہمی مناسبت سمجھ میں آجاتی ہے۔ لیکن اگر یہ معنی نہ لئے جائیں اور نبیوں کی مہر کے معنی لئے جائیں تو آیت کے دونوں مضمونوں میں کوئی جوڑ نہیں سمجھ میں آتا اور دونوں حصوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں معلوم ہوتی اور ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام بے جوڑ نہیں ہو سکتا۔
اس گفتگو سے دن چڑھے آفتاب سے بھی زیادہ یہ حقیقت روشن ہو گئی کہ آیت مذکورہ میں خاتم النبیین کا وہی مطلب ہے جو اس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ محمد رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں اور مرزائیوں نے اس کی جو تاویلیں کی ہیں۔ وہ بالکل غلط لچر اور پوچ ہیں۔ بلکہ قرآن کریم میں تحریف معنوی کے مرادف اور سراپا گمراہی ہیں۔ بخاری شریف جلد اوّل ص ٤٩١، کتاب الانبیاء باب ما ذکر عن بنی اسرائیل اور مسلم شریف ج ٢ ص ١٢٦، کتاب الامارت میں یہ حدیث ہے۔ ”عن ابی ہریرۃ یحدث عن النبی ﷺ کانت بنو اسرائیل تسوسہم الانبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون
٧
خلفاء فیکثرون ”حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ ارشاد گرامی نقل فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل کی سیاست انبیاء کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ جب ایک نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو دوسرے نبی ان کے قائم مقام ہو جاتے تھے اور بیشک میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور عنقریب کثیر تعداد میں خلفاء ہوں گے۔“
حدیث محتاج تشریح نہیں نبی اکرمﷺ نے صاف صاف فرمادیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ جو شخص نبی کریمﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ یقیناً جھوٹا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء اور خاتم النبیین محمد رسول اللہﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرتا ہے۔ ایسا شخص قطعاً کافر ہے۔ اور جو شخص اسے نبی سمجھے بلکہ جو شخص اسے اس کے کفر کے باوجود مسلمان سمجھے وہ بھی کافر خارج از اسلام ہے۔ اسی لئے علماء دین کا اتفاق ہے کہ مرزائی (قادیانی ہوں یا لاہوری) بالکل کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
نزول عیسیٰ علیہ السلام
ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طبعی موت نہیں آئی۔ نہ انہیں صلیب دی گئی۔ بلکہ وہ زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے اور قیامت کے قریب خروج دجال کے زمانہ میں آسمان سے دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کر کے ادیان باطلہ کو ختم کریں گے۔ اس عقیدے کی وجہ سے قادیانی مبلغین مسلمانوں کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ دیکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا اعتقاد عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہے۔
قادیانیوں کے اس مغالطے کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ اس دنیا میں آنا ختم نبوت کے خلاف نہیں۔ سلسلۂ نبوت محمد رسول اللہﷺ پر ختم ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی کو نبوت کا مرتبہ نہیں دیا جاسکتا۔ یہ مطلب نہیں اور نہ ہو سکتا ہے کہ جو انبیاء گزر چکے ہیں۔ العیاذ باللہ ان کی نبوت بھی چھین لی جائے یا وہ کبھی دنیا میں دوبارہ نہ آسکیں۔ ہاں کسی شخص کو نئے سرے سے نبوت نہیں دی جاسکتی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے سے نبی ہیں اور آج بھی اللہ کے رسول اور نبی ہیں۔ ان کے دوبارہ تشریف لانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں نئے سرے سے نبی بنایا جا رہا ہے۔ وہ تو پہلے ہی سے نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بعض مصلحتوں اور حکمتوں سے انہیں دوبارہ دنیا میں بھیجیں گے اور وہ نبی اکرمﷺ کے ایک امتی کی حیثیت سے آسمان چہارم سے اتر کر دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ کیونکہ ان پر موت نہیں طاری ہوئی۔ بلکہ جب یہود
٨
نے انہیں صلیب پر چڑھانا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے دشمن ناکام و نامراد ہوئے۔ جیسا کہ قرآن کریم سے روشن ہے۔ پھر قیامت کے قریب جب دجال خروج کرے گا اس وقت وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ جیسا کہ بکثرت صحیح احادیث میں صاف صاف بیان فرمایا گیا ہے۔ وہ جب آئیں گے تو شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیہ ہی کی پیروی کریں گے اور آنحضور پرنور ﷺ کے ایک امتی بن جائیں گے۔ اس لئے ان کا آنا ختم نبوت کے خلاف نہیں۔ مزید وضاحت کے لئے اس مثال پر غور کیجئے۔ ایک شخص جو سول سروس کی اعلیٰ ڈگری رکھتا ہے کسی صوبہ کا گورنر مقرر ہوتا ہے۔ اس کے ریٹائر ہونے کے بعد دوسرا گورنر مقرر ہو جاتا ہے۔ اس کے زمانہ میں اگر اسی صوبہ میں سابق گورنر بحیثیت ایک عام شہری کے آتا ہے تو کیا یہ بات دوسرے گورنر کی گورنری کے خلاف ہے؟ اور کیا اس سے اس کے عہدے پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ اور کیا گورنری سے ریٹائر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ڈگری بھی سلب ہو جاتی ہے؟ بات صاف ہے کہ سابق گورنر جب بحیثیت ایک عام شہری کے آیا تو اس سے موجودہ گورنر کے عہدہ پر ادنیٰ اثر بھی نہیں پڑا۔ اس کے ساتھ سابق گورنر کی سول سروس کی ڈگری بھی بدستور باقی رہی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور خاتم النبیین سید المرسلین محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک امتی کی حیثیت سے آئیں گے اور ان کا مرتبہ نبوت بدستور باقی رہے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا نبی اکرم محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے کی ایک مستقل دلیل ہے۔ کیونکہ نزول مسیح علیہ السلام سے یہ بات بالکل روشن ہو جائے گی کہ خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی بعثت تو کیا ہوتی۔ اگر قدیم انبیاء بھی آ جائیں تو وہ بھی بحیثیت نبی کوئی کام نہ کریں گے۔ یعنی ان کا کار نبوت باقی نہ رہے گا۔ بلکہ وہ بھی امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیہ میں داخل ہو کر آنحضور ﷺ کے ایک امتی کی حیثیت سے آنحضور ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل اور اس کی خدمت و نصرت کریں گے۔
تنبیہ ضروری
عقیدہ ختم نبوت ضروریات دین میں داخل ہے اور اس کا منکر یا اس میں شک و شبہ کرنے والا کافر ہے۔ جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی بعثت کا قائل ہونا اس عقیدے کے خلاف اور کفر ہے۔ اسی طرح آنحضور ﷺ کے زمانہ میں کسی اور کی نبوت کا قائل ہونا بھی عقیدہ ختم نبوت کے خلاف اور کفر ہے۔ اسی طرح آنحضور ﷺ کی نبوت اور وحی میں کسی کو
٩
شریک سمجھنا کہ آنحضورﷺ کے زمانہ میں یا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی اور کو بھی ہدایت خلق اللہ کا براہ راست حکم دیا تھا یا اس مقصد سے مخصوص طور پر براہ راست مامور فرمایا تھا۔ ختم نبوت کا کھلا ہوا انکار ہے جو یقینا کفر کے حدود میں داخل ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہوگی کہ نبی اکرمﷺ کے بعد بارہ اماموں پر کتاب نازل ہونے اور وحی آنے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے مقرر ہونے اور اس وجہ سے ان کی اطاعت واجب ہونے کا عقیدہ بالکل باطل اور عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف ہونے کی وجہ سے حد کفر میں داخل ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امام مقتدیٰ اور پیشوا کو کہتے ہیں۔ جیسے نماز میں امام ہوتا ہے ان معنی کے لحاظ سے ہزاروں امام ہو چکے ہیں، ہوتے رہیں گے۔ امامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر شدہ کسی منصب کا نام نہیں۔ اس لئے بارہ امام کا عقیدہ بالکل غلط اور باطل ہے اور عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف ہونے کی وجہ سے حد کفر میں داخل ہے۔ اسی طرح یہ بھی باطل اور غلط ہے کہ جب نبی کریمﷺ عبادت کے لئے غار حرا تشریف لے جایا کرتے تھے تو حضرت علیؓ بھی آنحضورﷺ کے ہمراہ ہوتے تھے۔ اس بات کی لغویت تو اسی سے ظاہر ہے کہ اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں۔ شیعوں کی روایت قابل اعتماد نہیں۔ علاوہ بریں حضرت علیؓ اس وقت بچہ تھے۔ آنحضورﷺ کے ساتھ کیا جاتے؟ اور اگر بالفرض گئے بھی ہوں تو اس سے کیا حاصل؟ کیونکہ فرشتہ کو دیکھنے یا براہ راست وحی کا ادراک و شعور کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے تھے۔ اس لئے وہاں جاتے بھی تو کیا فائدہ اٹھا سکتے تھے؟ نبی کریم خاتم النبیینﷺ پر بعض اوقات ایسی حالت میں وحی نازل ہوتی تھی۔ جب آنحضورﷺ مجمع عام میں ہوتے تھے۔ مگر کسی کو اس وحی کی ذرہ برابر بھی اطلاع نہ ہوتی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قصہ بالکل بے اصل قطعا غلط اور منافقوں کا وضع کیا ہوا ہے۔ نبی اکرمﷺ تنہا غار حرا تشریف لے جاتے تھے۔ کوئی بھی آپ کے ہمراہ نہ ہوتا تھا۔
مرزائیوں کو خیر خواہانہ مشورہ
ہم مرزائیوں کو خیر خواہانہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ پر خود غور کریں۔ مہر نیمروز سے زیادہ روشن بات ہے کہ اگر محمد رسول اللہﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی بعثت ہونے والی ہوتی تو اس کی صاف صاف پیشین گوئی قرآن کریم میں ضرور ہوتی یا کسی حدیث متواتر میں مذکور ہوتی۔ جب دونوں باتیں مفقود ہیں تو مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا بالکل واضح ہے۔ مرزائیوں کو چاہئے کہ مرزا قادیانی کے کاذب اور جھوٹے ہونے کا اقرار کریں اور ختم نبوت پر ایمان لا کر اسلام میں داخل ہوں۔
وما علینا الا البلاغ!
١٠
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مطبوعات
تاریخی قومی دستاویز 1974 قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مکمل کارروائی
رئیس قادیان قادیانیت کے بانی کے خاندانی حالات
تحفہ قادیانیت مکمل سیٹ (6 جلدیں) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
علمی و تحقیقی مقالات کا مجموعہ تجلیات ختم نبوت مولانا اللہ وسایا
رد قادیانیت احتساب قادیانیت
عیسائیت کے موضوع پر اردو زبان میں ایک معرکہ الآراء کتاب تحریف بائبل بجواب بائبل
مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر جامع کتاب قادیانی شبہات حیات عیسیٰ علیہ السلام
قادیانیت کے خلاف علماء امت کی متفقہ دستاویز آئینہ قادیانیت اندرون ملک و بیرون ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء کے مشترکہ فتووں کا مجموعہ مرتبہ : مولانا اللہ وسایا
مسئلہ ختم نبوت پر لاجواب کتاب خاتم النبیین اردو حصہ اول مولانا محمد ادریس کاندھلوی
فتاویٰ ختم نبوت جلد اول مرتبہ مولانا مفتی محمد ...
مقدمہ قادیانی مذہب قادیانی کٹہرے میں اول، دوم پروفیسر محمد الیاس برنی مرحوم سابق بانی و صدر شعبہ معاشیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن
قادیانیت علمی محاسبہ پروفیسر محمد الیاس برنی مرحوم سابق بانی و صدر شعبہ معاشیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان فون: 4514122-4583486-061