احتساب قادیانیت جلد 17 · مولانا عبدالغنی پٹیالوی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 17 · Maulana Abdul Ghani Patalvi
PDF 1

رَدِّ قادیانیّت

رسائل

مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالغنی پٹیالوی رحمۃ اللہ علیہ

مناظر اسلام حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ

احتساب قادیانیت

ہفدہم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

PDF 2

رَدّ قادیانیت

رسائل

مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالغنی پٹیالویؒ

مناظر اسلام حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوریؒ

احتساب قادیانیت

حصہ دہم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4514122

PDF 3

بسم الله الرحمن الرحيم!

احتساب قادیانیت جلد سترہ (١٧) حضرت مولانا عبدالغنی پٹیالویؒ حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوریؒ

٦٣٢

٢٠٠ روپے اصغر پریس لاہور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر دفتر حضوری باغ روڈ ملتان

خاتم النبیین

لا نبي بعدي

هداية الممترى

عن غواية المفترى

یعنی

اسلام اور قادیانیت

ایک تقابلی مطالعہ

مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالغنی پٹیالوی

صفحہ ٤

مقدمۂ ناشر

بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى! علمائے امت نے قادیانی فتنہ کے کسی پہلو کو تشنہ بحث نہیں چھوڑا، بلکہ اس کے جلی و خفی تمام گوشوں کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ تا کہ اللہ تعالیٰ کی حجت اس کے بندوں پر قائم ہو جائے اور کوئی شخص کل میدانِ محشر میں یہ نہ کہہ سکے کہ اہلِ علم کے ذمہ ہماری رہنمائی کا جو فریضہ عائد تھا وہ انہوں نے ادا نہیں کیا۔

قادیانیت پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں سے یہ کتاب، جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں اسلام اور قادیانیت کا تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قادیانیت نے کن کن امور میں اسلام سے خروج و انحراف کا راستہ اختیار کیا ہے اور اسلامی عقائد بالخصوص عقیدۂ ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے قطعی دلائل و براہین سے آراستہ کیا ہے کہ ایک سلیم الفطرت آدمی کو اسلامی عقائد کی حقانیت میں ذرا بھی شبہ نہیں رہ جاتا۔

”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی جانب سے ”رئیس قادیان“ مؤلفہ ابوالقاسم رفیق دلاوری مرحوم، ”خاتم النبیین“ (فارسی، اردو) مؤلفہ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ از حضرت کشمیریؒ، ”مغلقات مرزا“ از مولانا نور محمد خان، ”مجموعہ رسائل“ از مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری اور دیگر بہت سے رسائل شائع ہو چکے ہیں۔ الحمدللہ کہ احباب کی فرمائش پر آج ہم مولانا عبدالغنی صاحب پٹیالوی کی اس کتاب کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

مقام مسرت ہے کہ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ، کے مدرسہ ”جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی نمبر ٥“ میں یہ کتاب شامل نصاب کر لی گئی ہے۔ ہم دیگر اکابر سے بھی یہ توقع رکھیں گے کہ وہ اس طرف بطور خاص توجہ فرمائیں۔ والحمدلله اولاً وآخراً!

محمد یوسف لدھیانوی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان ١٢ محرم الحرام ١٣٩٩ھ

صفحہ ٥

عرض مرتب و تعارف کتب و رسائل

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

نحمده ونصلي علیٰ رسوله الكريم، امابعد! احتساب قادیانیت کی اس ١٧ ویں جلد میں حضرت مولانا عبدالغنی پٹیالوی اور حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوری کی چھ کتب و رسائل شامل اشاعت ہیں۔

پٹیالوی نے ١٩٢٧ء میں هداية الممترى عن غواية المفتری کے نام سے یہ کتاب تالیف کی۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کتاب میں اسلام اور قادیانیت کا تقابل کر کے قادیانی کفر کو واشگاف الفاظ میں مدلل ومبرہن طور پر ثابت کیا ہے۔ دسمبر ١٩٧٨ء اور جنوری ١٩٨٨ء میں اس کے دو ایڈیشن اشاعت اوّل کا عکس لے کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے ”اسلام اور قادیانیت ایک تقابلی مطالعہ“ کے نام پر شائع کئے گئے۔ ١٩٨٦ء میں کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی انڈیا سے اس کو شائع کیا۔

مصنف مرحوم بہت بڑے عالم دین اور بزرگ رہنما تھے۔ مدرسہ عین العلم شاہجہان پور کے صدر مدرس اور مدرسہ امینیہ دہلی میں مدرس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ آپ کے تبحر علمی پر یہ کتاب ”شاہد عدل“ ہے۔ آج تک اس کتاب کے تمام ایڈیشن اس طرح شائع ہوتے رہے کہ ایک صفحہ کے دو کالم بنا کر پہلا دایاں کالم اسلامی عقیدہ اور دوسرا بایاں کالم قادیانی عقیدہ کے لئے مختص کر کے تقابل پر شائع کیا گیا۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اس کتاب کے نہ صرف معترف ومداح بلکہ قدردان تھے۔ ہر وہ شخص جس نے اس کتاب کے بالاستیعاب مطالعہ کا شرف حاصل کیا وہی اس کتاب کا گرویدہ ہو گیا اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اس کی ہر بحث فیصلہ کن اور لاجواب و بے مثال ہے۔ جامعہ خیرالمدارس ملتان کے استاذ التفسیر حضرت مولانا محمد عابد صاحب مدظلہ کا عرصہ سے اصرار تھا کہ اسے کمپیوٹر پر شائع کیا جائے اور بجائے دو کالموں کے عام مروجہ کتابوں کی طرح پہلے ایک بحث (عقیدہ اسلامی نمبر ١) مکمل ہو جائے اور پھر قادیانی عقیدہ نمبر ١ کو درج کیا جائے۔ ہمارے مخدوم حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی نے بھی اس تجویز کی تائید وتصویب فرمائی۔ ہر چند کہ یہ کام خاصہ مشکل اور عرق ریزی کا طالب تھا۔ اشاعت اوّل جولائی ١٩٢٧ء سے آج ٢٠٠٦ء تک مکمل اسی (٨٠) سال بعد کے حوالجات کو جدید قادیانی کتب ورسائل سے تخریج کر کے کمپوز کرانے کا مرحلہ، کے۔ٹو کی چوٹی سر کرنے کے مترادف تھا۔ لیکن محض اللہ تعالیٰ کی عنایت، فضل و کرم، احسان و توفیق سے کمر باندھ لی اور آج اس عمل سے فارغ ہوئے۔ پروف پڑھنے میں یقیناً کمی وکوتاہی ہوئی ہوگی۔ لیکن اپنی طرف سے تصحیح وتخریج میں

صفحہ ٦

امکانی حد تک جان کھپائی ہے۔ بایں ہمہ اس میں جو غلطی نظر آئے اس سے قارئین مطلع فرمائیں تو یہ کار خیر میں تعاون ہوگا۔ بالکل کتاب کی یہ نئی ترتیب انشاء اللہ مفید ہوگی اور اس سے استفادہ پہلے کی نسبت بہت آسان ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسا ہی فرمادیں۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز !

ہیں ۔جن کے نام اور سن اشاعت یہ ہے۔

آخرالذکر رسالہ کو ہم ”فتاویٰ ختم نبوت ج ٣ ص ٢١٥ تا ص ٢٤٤“ میں شائع کر چکے ہیں۔ اس لئے اس جلد میں یہ شامل اشاعت نہیں۔ باقی رسائل ١ تا ٥، اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ، دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم واستاذ الحدیث حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم نے اختلافات مرزا (تناقضات مرزا) کی اشاعت دیوبند ١٩٨٦ء کے مقدمہ میں مصنف مرحوم کے ساتویں رسالہ ”امراض مرزا“ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ وہ ہمیں میسر نہیں آسکا۔ تلاش بسیار کے باوجود اسے شامل نہیں کرسکے۔

مصنف رسائل ھذا ! حضرت مولانا نور محمد صاحب ٹانڈویؒ بہت بڑے مناظر، مدرس اور مبلغ تھے۔ مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور سے ١٣٣٤ھ میں دورہ حدیث شریف سے فراغت حاصل کی۔ برکۃ الہند حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا عبداللطیف سہارنپوریؒ کے فاضل اجل شاگرد تھے۔ سیاسیات میں حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے پیرو تھے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ممتاز رہنما تھے۔ ١٩٣٠ء میں حضرت مدنیؒ کے ہاتھ پر جان کی بیعت کی۔ متعدد بار قید وبند کے مراحل سے گزرے۔ فتنہ قادیانیت کا تحریر و تقریر کے ذریعہ مقابلہ کیا۔ کراچی سے خیبر، دہلی سے بمبئی تک قادیانی فتنہ کے خلاف آپ نے جدوجہد کی۔ ملایا، سنگاپور، فرانس، کینیا، افریقہ تک قادیانیت کا تعاقب کیا اور خوب کیا۔ اپنے دور میں ردقادیانیت کا آپ عنوان تھے۔ یگانہ روزگار، فاضل اجل، مناظر اسلام کے رشحات قلم کو شائع کرنے کی سعادت پر اللہ رب العزت کا لا تعد ولا تحصیٰ شکر بجا لاتے ہیں۔ فللّٰہ الحمدُ اوّلاً وآخراً اللہ رب العزت، حضرت مولانا عبدالغنی پٹیالویؒ، حضرت مولانا نور محمد خان ٹانڈویؒ ہر دو حضرات کی قبور پر اپنی رحمتوں کی موسلا دھار بارش نازل فرمائیں اور کل روز جزاء ان کی رفاقت کا ہم مسکینوں کو شرف نصیب فرمائیں۔

خاکپائے ہر دو اکابر ! فقیر اللہ وسایا، ملتان ٢٣؍ شوال ١٤٢٧ھ، ١٦؍ نومبر ٢٠٠٦ء

صفحہ ٧

ایں ہمہ اس میں جو غلطی نظر آئے اس سے قارئین مطلع فرمائیں تو یہ اب کی یہ نئی ترتیب انشاء اللہ مفید ہوگی اور اس سے استفادہ پہلے کی اللہ تعالیٰ ایسا ہی فرماویں۔ وما ذالك على الله بعزيز! ب کے علاوہ باقی پانچ رسائل حضرت مولانا نور محمد خان ٹانڈوی کے یہ ہے:

ت مرزا ٥؍ ربیع الاول ١٣٥٢ھ ٢٩؍ جون ١٩٣٣ء ت مرزا ٢٤؍ ربیع الاول ١٣٥٢ھ ١٨؍ جولائی ١٩٣٣ء ت مرزا ٥؍ ذی الحجہ ١٣٥٢ھ ٢٢؍ مارچ ١٩٣٤ء ت مرزا ٢٠؍ ذی قعدہ ١٣٥٣ھ ٢٥؍ فروری ١٩٣٥ء ادیانی ٣؍ صفر ١٣٥٤ھ ٧؍ مئی ١٩٣٥ء وعن حکم الارتداد "فتاویٰ ختم نبوت ج ٣ ص ٢١٥ تا ص ٢٢٣" میں شائع کرچکے ہیں۔ اس نہیں۔ باقی رسائل ثلاثہ، اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر نبوت کے ناظم اعلیٰ، دار العلوم دیوبند کے نائب مہتمم و استاذ الحدیث حب منصوری پوری دامت برکاتہم نے اختلافات مرزا (تناقضات مرزا) مقدمہ میں مصنف مرحوم کے ساتویں رسالہ "امراض مرزا" کا بھی ذکر تلاش بسیار کے باوجود اسے شامل نہیں کرسکے۔

! حضرت مولانا نور محمد صاحب ٹانڈوی بہت بڑے مناظر، مدرس اور مبلغ سے ١٣٣٢ھ میں دورہ حدیث شریف سے فراغت حاصل کی۔ برکۃ الہند لّٰہ اور حضرت مولانا عبد اللطیف سہارنپوری کے فاضل اجل شاگرد تھے۔ مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے پیرو تھے۔ جمیعۃ علماء ہند کے ممتاز رہنما تھے۔ م پر جان کی بیعت کی۔ متعدد بار قید و بند کے مراحل سے گزرے۔ فتنہ مقابلہ کیا۔ کراچی سے نیپال، دہلی سے بمبئی تک قادیانی فتنہ کے خلاف آپ انس، کینیا، افریقہ تک قادیانیت کا تعاقب کیا اور خوب کیا۔ اپنے دور میں یگانہ روزگار، فاضل اجل، مناظر اسلام کے رشحات قلم کو شائع کرنے کی کا ! لا تعد ولا تحصیٰ شکر بجا لاتے ہیں۔ فللہ الحمد اولاً وآخراً اللہ رب پٹیالویؒ، حضرت مولانا نور محمد خان ٹانڈویؒ ہر دو حضرات کی قبور پر اپنی رحمتوں ش اور کل روزِ جزاء ان کی رفاقت کا ہم مسکینوں کو شرف نصیب فرمائیں۔ نے ہر دو اکابر ! فقیر اللہ وسایا، ملتان ٢٣؍ شوال ١٤٢٧ھ، ١٦؍ نومبر ٢٠٠٦ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!

اجمالی فہرست جلد ہفدہم

یعنی اسلام اور قادیانیت ایک تقابلی مطالعہ حضرت مولانا عبدالغنی پٹیالوی ٣

صفحہ ٩

تفصیلی فہرست کتاب اسلام اور قادیانیت

مقدمہ ناشر ص ٤ عرض مرتب ص ٥ دیباچہ ص ١٣ مسلمانوں کا عقیدہ نمبر ١...... ختم نبوت ص ١٧ قرآن کریم کی آیت...... ختم نبوت ص ١٧ ختم نبوت پر ١٦ آیات قرآنی ص ١٩ خاتم النبیین کی لغوی تحقیق ص ٢٤ خاتم النبیین کی تفسیری شہادتیں ص ٢٧ ختم نبوت پر دس احادیث ص ٣٣ ختم نبوت اور ظلی شہادت ص ٣٩ قادیانی وساوس کے جوابات ص ٣٩ وسوسہ اول...... مہر سے نبی بنیں گے ص ٣٩ وسوسہ دوم...... پہلے نبیوں کے خاتم ص ٤٣ وسوسہ سوم...... الف لام عہد ص ٤٣ وسوسہ چہارم...... استغراق عرفی ص ٤٤ وسوسہ پنجم...... روحانی توجہ نبی تراش ص ٤٤ وسوسہ ششم...... اما یاتینکم رسل ص ٥١ وسوسہ ہفتم...... الله یصطفی ص ٥٢ وسوسہ ہشتم...... اهدنا الصراط المستقيم ص ٥٢ وسوسہ نہم...... و آخرين منهم ص ٥٣ وسوسہ دہم...... لا نبي بعدى میں لا نفى كمال ص ٥٥ وسوسہ یازدہم...... چھیاسیواں حصہ ص ٥٥ وسوسہ دوازدہم...... قول عائشہؓ ص ٥٦ وسوسہ سیزدہم...... فلا کسری بعدہ ص ٥٧ وسوسہ چہاردہم...... لو عاش ابراهيم ص ٥٨ ختم نبوت پر اجماع امت کے حوالہ جات ص ٦٢

جھوٹے مدعی نبوت کافر و دجال صحابہؓ کے حوالہ جات ضروریات دین کا علم دعویٰ نبوت سے پہلے مرزا کا عقیدہ ختم نبوت اور مجدد الف ثانیؒ ختم نبوت اور شاہ اسماعیل شہیدؒ ختم نبوت اور مولانا نانوتویؒ ختم نبوت اور مولانا عبدالحئی لکھنویؒ ختم نبوت اور پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ

مرزا کے دعوے

مرزا قادیانی کے دعویٰ کے سنین مرزا قادیانی کی دعویٰ نبوت میں پالیسی مرزا قادیانی کی دعویٰ نبوت میں تدریجی چال مرزا قادیانی کے ١٨٩١ء کے اقوال مرزا قادیانی کے ١٨٩٢ء کے اقوال مرزا قادیانی کے ١٨٩٤ء کے اقوال مرزا قادیانی کے ١٨٩٦ء کے اقوال مرزا قادیانی کے ١٨٩٧ء کے اقوال مرزا قادیانی کے ١٨٩٩ء کے اقوال ١٩٠١ء کے بعد صریح دعویٰ نبوت ظلی و بروزی کی قادیانی تشریح نبوت مرزا قادیانی اور مرزا محمود قادیانی مرزا قادیانی کا اقراری کفر الہامات مرزا قادیانی مرزا قادیانی کے عجیب الہامات و مکاشفات مرزا قادیانی کے عربی الہام کا فلسفہ و خوش فہمی مرزا قادیانی کی فقیرانہ زندگی کا نمونہ مرزا قادیانی کی درفشانی دیگر جھوٹے مدعیان نبوت

صفحہ ٩

آپ کے بعد مدعی نبوت کافر و دجال ص ٦٨ اجماع پر مزید حوالہ جات ص ٦٨ منکر ضروریات دین کا حکم ص ٦٩ دعویٰ نبوت سے پہلے مرزا کا عقیدہ ص ٧٤ ختم نبوت اور مجدد الف ثانیؒ ص ٧٥ ختم نبوت اور شاہ اسماعیل شہیدؒ ص ٧٧ ختم نبوت اور مولانا نانوتویؒ ص ٧٨ ختم نبوت اور مولانا عبدالحئی لکھنویؒ ص ٨٠ ختم نبوت اور ابن عربیؒ، علامہ شعرانیؒ ص ٨١ نبوت و رسالت میں فرق ص ٩٧ قادیانی عقیدہ نمبر١.......اجرائے نبوت ص ١٠٢ مرزا قادیانی کے دعویٰ کے سنین ص ١٠٣ مرزا قادیانی کی دعویٰ نبوت میں پالیسی ص ١٠٣ مرزا قادیانی کی دعویٰ نبوت میں تدریجی چال ص ١٠٣ مرزا قادیانی کے ١٨٩١ء کے اقوال ص ١٠٤ مرزا قادیانی کے ١٨٩٢ء کے اقوال ص ١٠٦ مرزا قادیانی کے ١٨٩٤ء کے اقوال ص ١٠٧ مرزا قادیانی کے ١٨٩٦ء کے اقوال ص ١٠٧ مرزا قادیانی کے ١٨٩٧ء کے اقوال ص ١٠٨ مرزا قادیانی کے ١٨٩٩ء کے اقوال ص ١٠٩ ١٩٠٠ء کے بعد صریح دعویٰ نبوت ص ١١٣ ظلی و بروزی کی قادیانی تشریح ص ١١٧ نبوت مرزا قادیانی اور مرزا محمود قادیانی ص ١٢١ مرزا قادیانی کا اقراری کفر ص ١٤٤ الہامات مرزا قادیانی ص ١٤٧ مرزا قادیانی کے عجیب الہامات و مکاشفات ص ١٤٩ مرزا قادیانی کے عربی الہام کا فلسفہ و خوش فہمی ص ١٥٣ مرزا قادیانی کی فقیرانہ زندگی کا نمونہ ص ١٥٤ مرزا قادیانی کی درفشانی ص ١٥٨ دیگر جھوٹے مدعیان نبوت ص ١٥٩

صفحہ ١٠

اسلامی عقیدہ نمبر ٢...... انقطاع وحی نبوت ص ١٦٣ مرزائی عقیدہ نمبر ٢...... وحی نبوت جاری ص ١٦٥ انگریزی میں الہام ص ١٦٧ ہندی میں الہام ص ١٦٧ اسلامی عقیدہ نمبر ٣...... مدار نجات آنحضرت ﷺ کی تعلیمات ص ١٦٨ مرزائی عقیدہ نمبر ٣...... مدار نجات مرزا کی تعلیمات ص ١٦٩ اسلامی عقیدہ نمبر ٤...... آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ص ١٧٠ مرزائی عقیدہ نمبر ٤...... مرزا قادیانی نبی تھا ص ١٧٠ اسلامی عقیدہ نمبر ٥...... معجزات حقہ ص ١٧١ مرزائی عقیدہ نمبر ٥...... مرزا صاحب معجزہ تھے ص ١٧٢ اسلامی عقیدہ نمبر ٦...... آنحضرت ﷺ تمام مخلوقات سے افضل ص ١٧٢ مرزائی عقیدہ نمبر ٦...... مرزا قادیانی کی فضیلت ص ١٧٣ اسلامی عقیدہ نمبر ٧...... غیر نبی، نبی سے افضل نہیں ہو سکتا ص ١٧٧ مرزائی عقیدہ نمبر ٧...... مرزا قادیانی کی فضیلت ص ١٧٩ اسلامی عقیدہ نمبر ٨...... توقیر انبیاء فرض ص ١٨٠ آیات قرآنی ص ١٨٠ احادیث ص ١٨١ کتب عقائد ص ١٨٢ مرزائی عقیدہ نمبر ٨...... تحقیر مسیح علیہ السلام، (معاذ اللہ) ص ١٨٢ اسلامی عقیدہ نمبر ٩...... قرآنی آیات کا مصداق آنحضرت ﷺ ہیں ص ١٩٢ مرزائی عقیدہ نمبر ٩...... قرآنی آیات کا مصداق مرزا ہے ص ١٩٣ اسلامی عقیدہ نمبر ١٠...... انبیاء کی تمام پیش گوئیاں صحیح ص ١٩٣ مرزائی عقیدہ نمبر ١٠...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں غلط ص ١٩٤ اسلامی عقیدہ نمبر ١١...... جہاد جاری ص ١٩٤ مرزائی عقیدہ نمبر ١١...... جہاد حرام ص ١٩٦ اسلامی عقیدہ نمبر ١٢...... معجزات مسیح علیہ السلام حق ص ١٩٦ مرزائی عقیدہ نمبر ١٢...... معجزات مسیح علیہ السلام کا انکار ص ١٩٨ اسلامی عقیدہ نمبر ١٣...... احیاء موتی ص ٢٠١

١١ مرزائی عقیدہ نمبر ١٣...... انکار احیاء موتی اسلامی عقیدہ نمبر ١٤...... معراج جسمانی حق مرزائی عقیدہ نمبر ١٤...... انکار معراج جسمانی اسلامی عقیدہ نمبر ١٥...... قیام قیامت حق مرزائی عقیدہ نمبر ١٥...... قیام قیامت کا انکار اسلامی عقیدہ نمبر ١٦...... وجود ملائکہ مرزائی عقیدہ نمبر ١٦...... انکار نزول ملائکہ آتھم کے متعلق پیش گوئی مولانا ثناء اللہ امرتسری کے متعلق پیش گوئی طاعون کی پیش گوئی مرزا کے جھوٹ انا اعطیناک کی تفسیر وما کنا معذبین کا جواب اسلامی عقیدہ نمبر ١٨...... حضور علیہ السلام کے بعد دعویٰ نبوت کفر ہے مرزائی عقیدہ نمبر ١٨...... مرزا تمام انبیاء کا مظہر ہے اسلامی عقیدہ نمبر ١٩...... حیات مسیح علیہ السلام حیات مسیح علیہ السلام پر حیات مسیح علیہ السلام پر حیات مسیح علیہ السلام پر حیات مسیح علیہ السلام پر حیات مسیح علیہ السلام پر حیات مسیح علیہ السلام پر حیات مسیح علیہ السلام پر اور امام بخاری کا مذہب

صفحہ ١١

یت ص ١٦٣ ی ص ١٦٥ ص ١٦٧ ص ١٦٧ آنحضرت ﷺ کی تعلیمات ص ١٦٧ مرزا کی تعلیمات ص ١٦٩ کے بعد مدعی نبوت کافر ص ١٧٠ نبی تھا ص ١٧٠ ص ١٧١ معجزہ تھے ص ١٧٢ تمام مخلوقات سے افضل ص ١٧٢ کی فضیلت ص ١٧٦ سے افضل نہیں ہوسکتا ص ١٧٧ کی فضیلت ص ١٧٩ فرض ص ١٨٠ ص ١٨٠ ص ١٨١ ص ١٨٢ السلام (معاذ اللہ) ص ١٨٢ کا مصداق آنحضرت ﷺ ہیں ص ١٩٢ کا مصداق مرزا ہے ص ١٩٣ ام پیش گوئیاں صحیح ص ١٩٣ ی علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں غلط ص ١٩٤ ص ١٩٤ ص ١٩٦ ص ١٩٦ یح علیہ السلام حق ص ١٩٨ یح علیہ السلام کا انکار ص ٢٠١ موتی

مرزائی عقیدہ نمبر ١٣..... انکار احیاء موتی ص ٢٠٣ اسلامی عقیدہ نمبر ١٣..... معراج جسمانی حق ص ٢٠٣ مرزائی عقیدہ نمبر ١٤..... انکار معراج جسمانی ص ٢٠٧ اسلامی عقیدہ نمبر ١٥..... قیام قیامت حق ص ٢٠٨ مرزائی عقیدہ نمبر ١٥..... قیام قیامت کا انکار ص ٢١٢ اسلامی عقیدہ نمبر ١٦..... وجود ملائکہ ص ٢١٣ مرزائی عقیدہ نمبر ١٦..... انکار نزول ملائکہ ص ٢١٦ اسلامی عقیدہ نمبر ١٧..... مفتری علی اللہ کافر ہے ص ٢١٨ مرزائی عقیدہ نمبر ١٧..... مرزا کا افتراء علی اللہ والرسول ص ٢١٩ منکوحہ آسمانی کی پیش گوئی ص ٢١٩ عبداللہ آتھم کے متعلق پیش گوئی ص ٢٢٠ مولانا ثناء اللہ امرتسری کے متعلق پیش گوئی ص ٢٢٢ طاعون کی پیش گوئی ص ٢٢٣ مرزا کے جھوٹ ص ٢٢٨ اذا العشار عطلت کی تفسیر ص ٢٣١ وما کنا معذبین کا جواب ص ٢٣٢ اسلامی عقیدہ نمبر ١٨..... حضور علیہ السلام کے بعد دعویٰ نبوت کفر ہے ص ٢٣٦ مرزائی عقیدہ نمبر ١٨..... مرزا تمام انبیاء کا مظہر ہے ص ٢٣٧ اسلامی عقیدہ نمبر ١٩..... حیات مسیح علیہ السلام ص ٢٤٠ قرآن کریم سے ثبوت نمبر ١ ص ٢٤٠ رفع الی السماء ص ٢٤١ دوسری آیت حیات مسیح علیہ السلام پر ص ٢٥٢ تیسری آیت حیات مسیح علیہ السلام پر ص ٢٦١ چوتھی آیت حیات مسیح علیہ السلام پر ص ٢٦٣ پانچویں آیت حیات مسیح علیہ السلام پر ص ٢٦٤ چھٹی آیت حیات مسیح علیہ السلام پر ص ٢٦٥ ساتویں آیت حیات مسیح علیہ السلام پر ص ٢٧٦ اجماع امت حیات مسیح علیہ السلام پر ص ٢٨٣ آثار صحابہؓ و امام بخاری کا مذہب ص ٢٨٦

صفحہ ١٢

جمیع صوفیاء کرام کا مذہب ص ٢٩٠ اہل بیت کا مذہب ص ٢٩٤ مرزا قادیانی کے اصول مسلمہ سے ثبوت ص ٢٩٩ انجیل سے حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت ص ٢٩٩ آسمان سے اترنے کی تصریح اور دیگر علامات مسیح علیہ السلام ص ٣٠١ نزول مسیح علیہ السلام کے منکر کا شرعی حکم ص ٣١٢ عمر مسیح علیہ السلام از روئے احادیث ص ٣١٤ قادیانی شبہات کے جوابات ص ٣١٦ شبہ اوّل...... قد خلت کا جواب ص ٣١٦ شبہ دوم...... آنحضرت ﷺ کی وفات پر بحث رفع مسیح ص ٣١٨ شبہ سوم...... مادمت فیہم کا جواب ص ٣١٩ شبہ چہارم...... مسیح علیہ السلام کا نزول اور ختم نبوت ص ٣٢١ شبہ پنجم...... مسیح علیہ السلام کا نزول علماء امتی کا جواب ص ٣٢٢ شبہ ششم...... آنحضرت ﷺ کی وفات اور مسیح علیہ السلام کی حیات؟ ص ٣٢٣ شبہ ہفتم...... شب معراج فوت شدہ انبیاء میں شامل ص ٣٢٤ شبہ ہشتم...... کانا یاکلان الطعام ص ٣٢٥ شبہ نہم...... منکم یتوفی ومنکم ارذل العمر ص ٣٢٧ شبہ دہم...... یاکلون الطعام ص ٣٢٩ شبہ یازدہم...... ولکم فی الارض مستقر ص ٣٢٩ شبہ دوازدہم...... فیہا تحیون وفیہا تموتون ص ٣٣٠ شبہ سیزدہم...... اموات غیر احیاء ص ٣٣١ شبہ چہار دہم...... اوصانی بالصلوۃ والزکوۃ ص ٣٣٣ شبہ پانزدہم...... جسم عنصری کا آسمان پر جانا مشکل ص ٣٣٥ شبہ شانزدہم...... نزول سے مثیل کا نزول ص ٣٣٨ شبہ ہفدہم...... لو کان موسی وعیسی حییین ص ٣٤٢ مرزائی عقیدہ نمبر ١٩...... حیات مسیح کا عقیدہ شرک ص ٣٤٤ اسلامی عقیدہ نمبر ٢٠...... مسیح ومہدی علیحدہ شخصیات ص ٣٥١ مرزائی عقیدہ نمبر ٢٠...... مسیح ومہدی ایک شخصیت ص ٣٥٧ اسلامی عقیدہ نمبر ٢١...... درباره دجال ص ٣٥٨ مرزائی عقیدہ نمبر ٢١...... بابت دجال ص ٣٦١

صفحہ ١٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

دیباچہ

الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفے ۔ اما بعد فقد قال رسول اللہ ﷺ انه سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلھم یزعم انه نبی انا خاتم النبیین لا نبی بعدی!

(جامع ترمذی ج٢ ص ٤٥ باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون)

ختم نبوت کا عقیدہ اسلام میں ایک ایسا معروف و مشہور اور مسلم عقیدہ ہے کہ اس میں کسی شخص کو چون و چرا کی گنجائش نہیں۔ قرآن کریم وحدیث اور اجماع امت ناطق ہے کہ سید الاولین والآخرین جناب محمد رسول اللہ ﷺ خدا کے آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ حدیث مذکورہ بالا میں اس کا بھی بیان ہے کہ امت محمدیہ میں تیس کذاب شخص ایسے ہوں گے جن میں سے ہر ایک اپنے آپ کو غلط طور پر نبی کہے گا۔ حالانکہ (بنص قطعی) حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی بھی منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کی صاف وصریح نصوص کے ہوتے ہوئے چاہئے تو یہ تھا کہ ہر شخص حضور ﷺ ہی کی اتباع میں اپنی سعادت یقین کرتا اور دین حنیف کامل سے اعراض کر کے اپنے واسطے کوئی دوسرا راستہ نہ تلاش کرتا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہی ہوئے۔ جنہوں نے باوجود ادعائے اسلام حضور ﷺ کے بعد نہایت بلند آہنگی کے ساتھ اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور کمال دلیری اور جرات کے ساتھ اس کا اعلان کیا کہ بدون ہم پر ایمان لائے کسی کی نجات نہیں ہو سکتی۔ ہندوستان میں جن لوگوں نے اس قسم کے دعوے کئے۔ ان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی خاص طور پر قابل تذکرہ ہیں۔

مرزا قادیانی کے مختصر حالات

مرزا قادیانی کا وطن مالوف قصبہ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب ہندوستان ہے۔ ان کے والد حکیم غلام مرتضیٰ قصبہ کے رئیس تھے۔ اردو، فارسی، عربی کے علاوہ انگریزی وغیرہ سے مرزا قادیانی کو واقفیت نہ تھی۔ ابتداء میں سیالکوٹ کی کچہری میں محرر ہونے کی حیثیت سے پندرہ روپیہ ماہوار کے ملازم تھے۔ اس کے بعد ترقی کرنے کے شوق میں جب مختار کاری کا امتحان دیا تو اس میں فیل ہو گئے۔ رد و قدح اور بحث ومناظرہ سے ان کو خاص دلچسپی تھی۔ آریوں اور عیسائیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے۔ حریف کے بمقابل پیشین گوئیاں کرنے میں مرزا قادیانی نہایت جری اور دلیر تھے۔ بڑے سے بڑا دعویٰ کر لینے میں بھی ان کو کچھ تامل نہ ہوتا تھا۔

صفحہ ١٤

بددعا: کرنے سے مرزا قادیانی کو خاص ذوق تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ اسوہ حسنہ کو ملحوظ کر اپنے مخالفین کے لئے رشد و ہدایت کی دعا کرتے، زلزلے اور طوفان آنے طاعون اور وبائی امراض میں مبتلاء ہونے کی بددعا کرتے رہتے تھے۔ ڈپٹی عبداللہ آتھم، مولوی ثناء اللہ امرتسری، منکوحہ آسمانی محمدی بیگم وغیرہ کے متعلق جو مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں ہیں وہ سب اسی قسم کی ہیں۔ زلزلوں اور وباؤں کے پھیلنے اور مری پڑنے کی خبر سے بے حد مسرور ہوتے تھے۔ خواہ کسی وجہ سے بھی کسی ملک میں طوفان آئیں، مرزا قادیانی یہی ظاہر کرتے کہ میری تکذیب یا عدم تصدیق سے ایسا ہوا۔

فحش گوئی اور بد زبانی: کرنے سے مرزا قادیانی کو کچھ عار نہ تھی۔ علمائے اسلام وغیرہ پر انہوں نے جو سخت کلامی اور سب وشتم کیا تھا۔ اس کو بعض لوگوں نے چھوٹے چھوٹے رسالوں میں جمع کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو عصائے موسیٰ وغیرہ)

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٤، ١٥، خزائن ج٢٢ ص٤٤٥، ٤٤٦) پر مرزا قادیانی نے ایک شخص کے متعلق کچھ عربی اشعار مع ترجمہ شائع کئے ہیں۔ ان میں سے تین شعر مندرجہ ذیل ہیں ملاحظہ ہوں۔

ومن اللئام ارىٰ رجيلاً فاسقاً عولاً لعيناً نطفة السفهاء
شكس خبيث مفسد ومزور نحس يسمّی السعد فی الجهلاء
اذيتنى خبثا فلست بصادق ان لم تمت بالخزى يا ابن بغاء
اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں
کہ ایک شیطان ملعون ہے۔ سفیہوں کا نطفہ
بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا
منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے
تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دکھ دیا ہے پس میں سچا نہیں ہوں گا
اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو (اے حرامی)

عجب نہیں کہ مرزا قادیانی بھی محسوس کرتے ہوں کہ یہ اشعار تہذیب وشائستگی اور ان کے منصب نبوت کے منافی ہیں۔ شاید اسی وجہ سے انہوں نے تیسرے شعر کے آخر میں جو لفظ ابن بغاء ہے۔ اس کے ترجمہ کو چھوڑ دیا۔ عربی لغت میں ابن لڑکے کو کہتے ہیں اور بغاء کے معنی زنا ہیں۔ اس لحاظ سے ابن بغاء کے جو معنی ہوئے ان کو ہم نے بغرض آگاہی ترجمہ میں بین القوسین اضافہ کر دیا ہے۔ مکرر دیکھ لیا جائے۔ (نجم الہدیٰ ص١٠، خزائن ج١٤ ص٥٣) میں لکھتے ہیں کہ:

صفحہ ١٥
ان العدا صار خنازير الفلا
ونساؤهم من دونهن الاكلب
دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں

راست گوئی اور ایفاء وعدہ: کا یہ حال تھا کہ براہین احمدیہ وسراج منیر وغیرہ کی طباعت واشاعت کے واسطے متعدد مرتبہ ہزار ہا روپیہ وصول کئے۔ مگر جس غرض کے لئے روپیہ لیا تھا۔ وہ مرزا قادیانی نے پوری نہ کی۔

غلط حوالہ جات اور کذب بیانی: بھی مرزا قادیانی کے کلام میں بکثرت ہے۔ صحائف رحمانیہ، مونگیر اور آئندہ کتاب میں اس موضوع پر کافی مواد موجود ہے۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں نمونہ کے طور پر دو ایک باتیں یہاں بھی درج کی جاتی ہیں۔

(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤) پر لکھتے ہیں کہ : ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن واحادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو علمائے اسلامی کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا اور وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا‘‘ اور (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں ہے ”احادیث نبویہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا۔ جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔ (تنبیہ) قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ میں یہ دونوں مضمون کسی جگہ نہیں ہیں۔ محض کذب بیانی ہے۔

دینداری: کی یہ کیفیت تھی کہ باوجود رئیس اعظم ہونے کے تمام عمر زیارت نبوی ﷺ اور حج فرض ادا کرنے کی نوبت نہ آئی۔ شریعت محمدیہ ﷺ میں تصویر کشی پر سخت سے سخت وعیدیں آئی ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ہمیشہ اپنی تصویر کھچواتے اور شائع کرتے رہے۔

دیانت داری اور معاملات : کے متعلق مرزا قادیانی کی قلبی حالت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ خود اپنی بابت (حقیقت الوحی ص ٢٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٤) میں لکھتے ہیں کہ: ”بعض غیر قابض جدی شرکاء نے جو قادیان کی ملکیت میں ہمارے (مرزا قادیانی) شریک تھے۔ جب دخلیابی کا دعویٰ عدالت گورداسپور میں کیا تب میں نے (مرزا قادیانی) دعا کی کہ وہ اپنے مقدمہ میں ناکام رہیں ۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اجیب کل دعائك الا فی شرکائك یعنی میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا۔ مگر شرکاء کے بارہ میں نہیں‘‘ کسی شخص

صفحہ ١٦

کو اس کے جائز حق سے محروم کرنے کے واسطے دعا کرنا کہاں تک قرین انصاف اور شان نبوت کے مناسب ہے؟۔ اس کا فیصلہ خود ناظرین کرلیں۔

ولادت و وفات: مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی اور ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں فوت ہوکر قادیان دفن کئے گئے۔ بتدریج مرزا قادیانی نے متعدد دعوے کئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے دعویٰ کرنے میں اس قدر دجل وفریب اور چالاکی سے کام لیا ہے کہ ان کی دو چار کتابوں کو دیکھ کر یہ معلوم کر لینا کہ وہ کون اور کیا تھے؟۔ ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کی تالیفات تلبیس اور متضاد باتوں سے پر ہیں۔ جب تک کہ اسلامی تعلیم سے کماحقہ واقفیت نہ ہو اور تیقظ وتدبر کے ساتھ ان کی کافی کتابوں کا مطالعہ نہ کیا جائے۔ ان کے دعوؤں اور دلائل کی حقیقت منکشف نہیں ہوسکتی۔ چونکہ مرزا قادیانی نے ملک کے سامنے اپنے آپ کو باکمال لوگوں کی صورت میں پیش کیا تھا۔ اس وجہ سے تمام چیزیں کراماتی رنگ میں ظاہر کرتے تھے۔ حامی سنت ماحی بدعت جامع منقول ومعقول حاوی فروع واصول حضرت مولانا مولوی عبدالحی خان صاحب پٹیالوی صدر مدرس مدرسہ عین العلم شاہ جہاں پور کی اس جدید تالیف کو جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ پڑھ لینے کے بعد انشاءاللہ تعالیٰ ہر فہیم پر روزِ روشن کی طرح واضح ہوجائے گا کہ شرعی نقطۂ نظر سے مرزا قادیانی کی حیثیت کیا ہے؟۔ مولانا موصوف نے اس کتاب میں مرزا قادیانی کے دعوؤں اور ان کے اصولی عقائد سے محققانہ بحث کی ہے۔ ١٩٢٧ء میں محلہ تارین ٹکلی شاہ جہان پور کی مسجد پر مرزائیوں اور مسلمانوں میں جو مقدمہ درپیش تھا۔ جس میں کہ اہل اسلام ہائیکورٹ الہ آباد تک کامیاب رہے۔ اس میں آپ گواہ تھے اس سلسلہ میں آپ کو مرزا قادیانی کی تصنیفات اور دیگر موافق ومخالف کتابوں کے مطالعہ کا اتفاق ہوا۔ تمام چھان بین کے بعد آخر میں جس نتیجہ پر پہنچے اس کو مولانا موصوف نے بغرض افادہ عام اس کتاب ١؎ میں حوالہ قلم فرمایا ہے۔ مسلمانوں اور مرزائیوں کے عقائد علیحدہ علیحدہ درج ہیں۔ اسلامی عقائد کے ثبوت میں قرآن وحدیث اور اکابر امت کی تصریحات پیش کی گئی ہیں اور مرزائی عقائد کے بیان میں مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ وغیرہ کی عبارات منقول ہیں۔ اس طریق سے ناظرین کو ہر دو فریق کے عقائد بیک وقت معلوم

١؎ کتاب کے نام میں ہدایت کے صلہ میں عن تضمین معنی ابعاد کی وجہ سے ہے۔ ”کمافی قولہ تعالیٰ وما انت بھادی العمی عن ضلالتھم (النمل:٨١)“

صفحہ ١٧

کرنے میں بے حد سہولت ہوگی ۔ کتاب اس قدر جامع ہے کہ اس کو پڑھ لینے کے بعد ناظرین بیسیوں کتابوں کے مطالعہ سے مستغنی ہو جائیں گے۔

مرزائی مذہب کی تنقیح اور جانچ پڑتال میں کوئی بحث ایسی نہ ہوگی جس پر اس میں کافی روشنی نہ ڈالی گئی ہو۔ ختم نبوت اور حیات مسیح کی بحث خاص طور پر قابل دید ہے۔ ممکن ہے کہ بعض صاحبان کو کتاب ضخیم نظر آئے لیکن جن حضرات نے مرزائی رسائل اور ان کے قیل وقال کا مطالعہ کیا ہے وہ یقیناً اس کو مختصر قرار دیں گے ۔ حضرت مولانا نے عموماً مرزائیوں کے دلائل کا چھوٹے چھوٹے جملوں سے ابطال کیا ہے ۔ بعض جگہ محض اشارات پر بھی اکتفاء کیا گیا ہے ۔ ناظرین کو چاہئے کہ کتاب کا بغور مطالعہ فرمائیں ۔ مرزائی صاحبان بھی نیک نیتی اور انصاف کے ساتھ اس کو پڑھیں اور حق واضح ہو جانے پر سچائی کو قبول کرلیں ۔ خدا و رسول ﷺ کے مقابلہ میں ضد اور نفسانیت پر قائم رہنا مردودیت کی بات ہے۔ والله الموفق والمعین!

کتبہ الاحقر محمد کفایت اللہ غفر لہ ولوالدیہ مدرس مدرسہ سعیدیہ جامع مسجد شاہ جہانپور

مسلمانوں کا عقیدہ نمبر ١... ختم نبوت

السلام کے ختم کرنے والے اور آخر الانبیاء ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت ورسالت عطاء نہیں کیا جاسکتا ۔ باب نبوت ورسالت مطلقاً مسدود ہے ۔ مدعی نبوت ورسالت کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

قرآن کریم سے ثبوت

وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں ۔ ﴾

نوٹ ! یہ صریح نص ہے اس بات پر کہ آنحضرت ﷺ تمام نبیوں سے آخر اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں ۔ اب آپؐ کے بعد کسی کو منصب نبوت پر فائز نہ کیا جائے گا۔ یہ منصب منقطع ہو چکا ۔

صفحہ ١٨

ختم نبوت کی تائید میں اس آیت کی دوسری قراءت

ہے جس میں صاف اعلان ہے کہ آپ ایسے نبیﷺ ہیں جن نے تمام نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔

نوٹ! جاہلیت میں عرب کی قبیح رسموں میں سے ایک رسم تبنّی یعنی لے پالک بیٹے کی بھی تھی اور لے پالک کو حقیقی نسبی بیٹا سمجھتے تھے۔ اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔ وراثت، رشتہ ناتا، حلت وحرمت کے تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس میں اختلاط نسب غیر وارث کو اپنی طرف سے وارث بنانا۔ ایک حلال کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا اور دیگر مفاسد کو مشتمل تھا۔ اسی رسم کی بناء پر نزول حکم سے پہلے حضور علیہ السلام نے بھی زید بن حارثؓ کو متبنیٰ بنایا تھا۔ رسم عرب کے مطابق زید بن محمد کہہ کر پکارے جاتے تھے۔ جب اس رسم کو توڑا گیا تو حکم ہوا ۔ ”ادعوهم لآبائهم (احزاب : ٥) “ لے پالکوں کو انہی کے باپوں کی نسبت سے پکارا جائے اور ممانعت کی گئی کہ زید بن محمدؐ مت کہو۔ بلکہ زید بن حارثؓ کہو۔ کیونکہ محمدﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ چونکہ اس میں بظاہر یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ اس سے پہلے نازل ہو چکا ہے۔ ”ازواجه امهاتهم (احزاب : ٦) “ کہ حضورﷺ کی ازواج امت کی مائیں ہیں۔ جس سے حضورﷺ کا باپ ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ تو پھر یہ ابوت کی کیسے نفی کی جا رہی ہے اور جب آپ امت کے باپ نہیں تو امت پر شفیق بھی نہیں ہو سکتے اور نیز جب ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے تو یہاں ابوت کی نفی سے نبوت کی نفی کا ابہام پیدا ہوتا تھا۔ جس کا ازالہ ولكن رسول الله وخاتم النبيين! سے بطور استدراک کیا گیا کہ آپ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں۔ ہاں اللہ کے رسول ہیں اور رسول امت کا روحانی باپ ہوتا ہے اور اپنی اولاد پر نسبی باپ سے بھی زیادہ شفیق ہوتا ہے۔ اس کے بعد اسی کمال شفقت کو بیان کرنے کے لئے فرمایا وخاتم النبيين ! یعنی اوّل تو ہر نبی اپنی امت کا باپ اور امت پر شفقت کرنے والا ہوتا ہے۔ لیکن یہ رسولﷺ تو خاتم النبیین ہیں۔ جن کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں ان کی شفقت کی کیا انتہا ہوگی؟۔ امت کی ہدایت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے۔ کیونکہ وہ رسل جن کے بعد دوسرے انبیاء آنے والے ہیں۔ اگر ان سے کوئی چیز رہ جائے تو بعد میں آنے والے اس کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ لیکن جس کی اولاد کا قیامت تک اور کوئی سہارا نہ ہو تو باپ کی شفقت میں کس قدر ہیجان ہوگا؟۔ اور نیز یہ لفظ عام ہے۔ جیسے ختم زمانی پر دلالت کرتا ہے ختم مرتبی پر بھی دلالت کرتا ہے۔ یعنی حضورﷺ باعتبار زمانہ و باعتبار مرتبہ ہر طرح خاتم النبیین ہیں۔ جیسے آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ایسے ہی تمام مدارج و مراتب نبوت

صفحہ ١٩

اس آیت کی دوسری قراءت

رت عبداللہ بن مسعودؓ کی قراءت میں ولكن نبيا ختم النبيين! ہے کہ آپ ایسے نبیﷺ ہیں جن نے تمام نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔ قبیح رسموں میں سے ایک رسم متبنیٰ یعنی لے پالک بیٹے کی بھی تھی اور سمجھتے تھے۔ اسی کا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔ وراثت، رشتہ ناتا، حلت حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس میں اختلاط نسب غیر وارث کو اپنی طرف کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا اور دیگر مفاسد کو مشتمل تھا۔ اسی رسم کی اور علیہ السلام نے بھی زید بن حارثؓ کو متبنیٰ بنایا تھا۔ رسم عرب کے ے جاتے تھے۔ جب اس رسم کو توڑا گیا تو حکم ہوا: "ادعوهم لے پالکوں کو انہی کے باپوں کی نسبت سے پکارا جائے اور ممانعت کی گئی زید بن حارثؓ کہو۔ کیونکہ محمدﷺ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ چونکہ کہ اس سے پہلے نازل ہو چکا ہے۔ ”ازواجه امهاتهم پؐ کی ازواج امت کی مائیں ہیں۔ جس سے حضورﷺ کا باپ ہونا بھی ت کی کیسے نفی کی جارہی ہے اور جب آپ امت کے باپ نہیں تو امت یز جب ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے تو یہاں ابوت کی نفی ہوتا تھا۔ جس کا ازالہ ولكن رسول الله وخاتم النبيين! سے آپؐ کسی مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں۔ ہاں اللہ کے رسول ہیں اور رسول ہے اور اپنی اولاد پر نسبی باپ سے بھی زیادہ شفیق ہوتا ہے۔ اس کے بعد نے کے لئے فرمایا وخاتم النبيين ! یعنی اوّل تو ہر نبی اپنی امت کا نے والا ہوتا ہے۔ لیکن یہ رسولﷺ تو خاتم النبیین ہیں۔ جن کے بعد حالت میں ان کی شفقت کی کیا انتہا ہو گی؟ ۔ امت کی ہدایت میں کوئی کہ وہ رسل جن کے بعد دوسرے انبیاء آنے والے ہیں۔ اگر ان سے ں آنے والے اس کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ لیکن جس کی اولاد کا قیامت پ کی شفقت میں کس قدر ہیجان ہوگا؟ ۔ اور نیز یہ لفظ عام ہے۔ جیسے ختم ر نبی پر بھی دلالت کرتا ہے۔ یعنی حضورﷺ باعتبار زمانہ و باعتبار مرتبہ جیسے آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ ایسے ہی تمام مدارج و مراتب نبوت

کے سلسلے بھی آپ پر ختم ہو گئے۔ لہٰذا آپ سے بڑھ کر کوئی نبی امت پر شفیق نہیں ہو سکتا اور نہ آپ کے بعد کسی نبی کی گنجائش باقی۔

ختم نبوت کی تائید میں قرآن مجید کی دیگر آیات

الدين كله (صف:٩)“ ﴿اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے اپنے رسول محمدﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ تمام ادیان پر بلند اور غالب کرے۔﴾

نوٹ! غلبہ اور بلند کرنے کی یہ صورت ہے کہ حضورﷺ ہی کی نبوت اور وحی پر مستقل طور پر ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے کو فرض کیا ہے اور تمام انبیاء کی نبوتوں اور وحیوں پر ایمان لانے کو اس کے تابع کر دیا ہے اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ آپ کی بعثت سب انبیاء سے آخر ہو اور آپ کی نبوت پر ایمان لانا سب نبیوں پر ایمان لانے کو مشتمل ہو۔ بالفرض اگر آپ کے بعد کوئی نبی با عتبار نبوت مبعوث ہو تو اس کی نبوت پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا فرض ہوگا۔ جو دین کا اعلیٰ رکن ہوگا۔ تو اس صورت میں تمام ادیان پر غلبہ متصور نہیں ہو سکتا بلکہ حضورﷺ کی نبوت پر ایمان لانا اور آپ کی وحی پر ایمان لانا مغلوب ہوگا۔ کیونکہ آنحضرتﷺ پر اور آپ کی وحی پر ایمان رکھتے ہوئے بھی اگر اس نبی اور اس کی وحی پر ایمان نہ لایا تو نجات نہ ہوگی۔ کافروں میں شمار ہوگا۔ کیونکہ صاحب الزمان رسول یہی ہوگا۔ حضورﷺ صاحب الزماں رسول نہ رہیں گے۔

ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران:٨١) “ ﴿یعنی جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ جب بھی میں تم کو کتاب اور نبوت دوں پھر تمہارے پاس ایک وہ رسول آجائے جو تمہاری کتابوں اور وحیوں کی تصدیق کرنے والا ہو گا یعنی اگر تم اس کا زمانہ پاؤ تو تم سب ضرور ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور ان کی مدد فرض سمجھنا۔﴾

اس سے بکمال وضاحت ظاہر ہے کہ اس رسول مصدق کی بعثت سب نبیوں سے آخر میں ہوگی اور وہ آنحضرتﷺ ہیں۔

﴿ہم نے تم کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا۔﴾

(اعراف:١٥٨) “ ﴿فرما دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسولﷺ ہوں۔﴾

صفحہ ٢٠

نوٹ! یہ دونوں آیتیں صاف اعلان کر رہی ہیں کہ حضورﷺ بغیر استثناء تمام انسانوں کی طرف رسولﷺ ہو کر تشریف لائے ہیں۔ جیسا کہ خود حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ انــــــا رسول من ادركت حيا ومن يولد بعدى!

(کنزالعمال ج ١١ ص ٤٠٤، حدیث نمبر ٣١٨٨٥، وخصائص کبریٰ ج ٢ ص ١٨٨)

پس ان آیتوں سے واضح ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ قیامت تک آپؐ ہی صاحب الزمان رسول ہیں۔ بالفرض اگر آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو حضورﷺ کافہ ناس کی طرف اللہ تعالیٰ کے صاحب الزمان رسول نہیں ہو سکتے۔ بلکہ براہ راست مستقل طور پر اسی نبی پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا اور اس کو اپنی طرف اللہ کا بھیجا ہوا اعتقاد کرنا فرض ہوگا۔ ورنہ نجات ممکن نہیں اور حضورﷺ کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا اس کے ضمن میں داخل ہوگا۔

کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔﴾

نوٹ! یعنی حضورﷺ پر ایمان لانا تمام جہان والوں کی نجات کے لئے کافی ہے۔ پس اگر بالفرض آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو آپؐ کی امت کو اس پر اور اس کی وحی پر ایمان فرض ہوگا اور اگر آنحضرتﷺ پر ایمان کامل رکھتے ہوئے بھی اس کی نبوت اور اس کی وحی پر ایمان نہ لائے تو نجات نہ ہوگی اور یہ رحمۃ للعالمین کے منافی ہے کہ اب آپؐ پر مستقلاً ایمان لانا کافی نہیں۔ آپؐ صاحب الزمان رسول نہیں رہے۔

لكم الاسلام ديناً (مائده:٣)“ ﴿آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام ہی پسند کیا۔﴾

نوٹ! گو ہر نبی کا دین اپنے اپنے زمانہ کے اعتبار سے کافی تھا۔ مگر ہر نبی بعد کو مبعوث ہونے والے اپنی نبوت اور اپنی وحیوں پر ایمان لانے کو دین میں اضافہ کر کے دین کی تکمیل کرتے چلے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ حضورﷺ مبعوث ہوئے اور آپؐ کی بعثت سے آپؐ کی وحیوں کے نزول کے اختتام پر دین کا اکمال کر دیا کہ آپؐ کی نبوت اور وحیوں پر ایمان لانا تمام نبیوں کی نبوتوں اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے کو مشتمل ہے۔ اسی لئے اس کے بعد ” واتممت عليكم نعمتى “ فرمایا نہ ” فیكم “ یعنی نعمتِ نبوت کو میں نے تم پر تمام کر دیا۔ لہٰذا دین کے

صفحہ ٢١

اکمال اور نعمت نبوت کے اتمام کے بعد کسی کو منصب نبوت نہیں مل سکتا کہ جس کی نبوت اور وحی پر ایمان لایا جائے۔ ورنہ دین کامل نہ ہوگا اور نہ نعمت نبوت کا اتمام ہوگا۔ کیونکہ اس کے بعد ایک نبی کی نبوت اور وحی پر ایمان لانے کا اور اضافہ ہوگا۔ جو دین کا اعلیٰ رکن ہوگا۔ اسی وجہ سے ایک یہودی نے حضرت عمرؓ سے کہا تھا کہ اے امیر المومنین قرآن کی یہ آیت اگر ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے (رواہ البخاری ج ٢ ص ٦٦٣ ، باب الیوم اکملت لکم دینکم) اور حضور ﷺ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ٨١ دن زندہ رہے اور اس کے نزول کے بعد کوئی حکم حلال و حرام نازل نہیں ہوا۔

نذيرا (فرقان:١) “ ﴿ مبارک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ محمد ﷺ پر قرآن کریم نازل فرمایا تا کہ تمام ہی عالم والوں کے لئے نذیر بنے۔ ﴾

جہان والوں کے لئے تذکیر ہے۔ ﴾

(انعام:١٩) “ ﴿ میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تا کہ اس کے ذریعہ میں تم کو اور جن کو بھی یہ قرآن کریم پہنچے ڈراؤں۔ ﴾

نوٹ! یہ تینوں آیتیں صاف ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔ کیونکہ حضور ﷺ ہی تمام جہان کے انسانوں کے لئے جن کو قرآن کے نزول کی خبر پہنچے نذیر ہیں اور سب کے لئے یہی قرآن حجت ہے۔ اب حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔ قیامت تک تمام انسانوں کے لئے حضور ﷺ ہی نبی ہیں اور حضور ﷺ ہی کی شریعت ہے۔

گے تو بس نجات اور ہدایت پا جاؤ گے۔ ﴾

نوٹ! یہ آیت ختم نبوت پر صاف دلیل ہے کیونکہ اس آیت میں صرف حضور ﷺ کی اطاعت کو مدار نجات فرمایا ہے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مقرر ہو کر آئے تو اس وقت حضور ﷺ کی اطاعت مدار نجات نہ ہوگی۔ بلکہ نبی جدید صاحب الزمان کی اطاعت میں نجات ہوگی۔ یعنی جب تک اس نبی اور اس کی وحی پر ایمان نہ لائے گا۔ باوجود کمال اتباع حضور ﷺ کے بھی نجات نہ ہوگی۔

صفحہ ٢٢

على رسوله والكتاب انزل من قبل (نساء:١٣٦) ”اے ایمان لانے والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور اس کتاب پر جس کو اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور ان کتابوں پر جو ان سے پہلے نازل کی گئیں۔﴿

نوٹ ! یہ آیت بڑی وضاحت سے ثابت کر رہی ہے کہ ہم کو صرف حضور ﷺ کے نبوت اور آپ ﷺ کی وحی اور آپ ﷺ سے پہلے انبیاء علیہم السلام اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اگر بالفرض حضور ﷺ کی بعد کوئی بعہدہ نبوت مشرف کیا جاتا تو ضرور تھا کہ قرآن کریم اس کی نبوت اور وحی پر ایمان لانے کی بھی تاکید فرماتا۔ معلوم ہوا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔

وبالآخرة هم يوقنون . اولئك على هدى من ربهم واولئك هم المفلحون (بقرہ: ٤، ٥) ”جو ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو آپؐ پر نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپؐ سے پہلے نازل کی گئی اور دن آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ خدا کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔﴿

انزل اليك وما انزل من قبلك (نساء:١٦٢) ”لیکن ان میں سے راسخ فی العلم اور ایمان لانے والے لوگ ایمان لاتے ہیں۔ اس وحی پر جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی اور جو آپؐ سے پہلے انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئی۔﴿

نوٹ ! یہ دونوں آیتیں ختم نبوت پر صاف طور سے اعلان کر رہی ہیں بلکہ قرآن کریم میں سینکڑوں جگہ اس قسم کی آیتیں ہیں۔ جن میں ماقبل کے نبیوں کی نبوت اور ان کی وحی پر ایمان رکھنے کے لئے حکم فرمایا گیا۔ لیکن مابعد کے نبیوں کا ذکر بھی نہیں آیا۔ ان دو آیتوں میں صرف حضور ﷺ کی وحی اور حضور ﷺ سے پہلے نبیوں کی وحی پر ایمان لانے کو کافی اور مدار نجات فرمایا گیا ہے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی بنایا جائے اس کی وحی پر بھی ایمان لانا مدار نجات ہوگا۔ حالانکہ قرآن کریم کے یہ احکام اور وعدے کبھی منسوخ نہیں ہو سکتے۔

صفحہ ٢٣

(اعراف:٣) “ ﴿اتّباع کرو اس وحی کا جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور نہ اتباع کرو اس کے سوا کسی اور رفیقوں کا۔﴾

نوٹ! یہ آیت کریمہ صاف طور سے اعلان کر رہی ہے کہ صرف حضور ﷺ ہی کی وحی کا اتباع اہل عالم کے لئے فرض ہے اور اس وحی کے علاوہ اور کسی وحی کا اتباع جائز نہیں۔ پس اگر آپؐ کے بعد بھی کوئی وحی نبوت خدا کی طرف سے آنے والی تھی تو اس کی اتباع سے کیوں روکا جاتا ہے اور پھر اس وحی کے نازل کرنے اور نبی کے دنیا میں بھیجنے سے کیا فائدہ ہے۔

غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم ، وساءت مصيراً (النساء:١١٥) “ ﴿ہدایت کے ظاہر ہونے کے بعد جو کوئی رسول اللہ ﷺ کے خلاف کرے اور مسلمانوں کے رستہ کے علاوہ غیر کی پیروی کرے ہم اس کو متوجہ کریں گے جدھر متوجہ ہو اور دوزخ میں اس کو ڈالیں گے اور دوزخ برا ٹھکانا ہے۔﴾

نوٹ! اس آیت میں خداوند عالم تمام اہل عالم کو سبیل مؤمنین پر چلنے کی ہدایت فرماتے ہیں اور سبیل مؤمنین سے ہٹنے پر عذاب جہنم کی سخت وعید فرماتے ہیں۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو وہ بھی اپنی اطاعت نہیں کر سکتا بلکہ سبیل مؤمنین کا اتباع کرنا اس پر فرض ہوگا اور یہ نبوت کے خلاف ہے۔ ”ما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله (نساء:٦٤) “ اور اس کی بعثت محض بے کار۔

ہم نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔﴾

نوٹ! خداوند عالم نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ ہم خود قرآن کریم کی حفاظت فرمائیں گے۔ یعنی محرفین کی تحریف اور متغیرین کے تغیر سے اس کو بچائے رکھیں گے۔ قیامت تک کوئی شخص اس میں ایک حرف اور ایک نقطہ کی بھی کمی زیادتی نہیں کر سکتا اور نیز اس کے احکام کو بھی قائم اور برقرار رکھیں گے۔ اس کے بعد کوئی شریعت نہیں جو اس کو منسوخ کردے۔ غرض قرآن کریم کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔ نہ صاحب شریعت جدیدہ اور نہ ایسا نبی جو کتاب سابق کے متغیر اور محرف اور اصل تعلیم مٹ جانے کے بعد شریعت سابقہ کی وحی کر کے اسی شریعت و کتاب سابق کی اقامت کے لئے مبعوث کیا جاتا ہے۔

صفحہ ٢٥

تنبیہ ! یہ سولہ آیتیں بطور اختصار کے ختم نبوت کے ثبوت اور تائید میں پیش کر دی گئی ہیں ورنہ قرآن کریم میں سو (١٠٠) سے زیادہ آیتیں ختم نبوت پر واضح طور پر دلالت کرنے والی موجود ہیں۔

لفظ خاتم النبیین کی لغوی تحقیق کتب لغت سے

(مفردات القرآن امام راغب اصفہانیؒ کے ص ١٣٢) میں ہے۔ ”وخاتم النبيين لا نه ختم النبوة اى تممها بمجيئه “ ﴿حضورﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا ہے کہ آپﷺ نے نبوت کو ختم کر دیا ہے۔ یعنی آپﷺ نے تشریف لا کر نبوت کو تمام فرمایا۔﴾

والخيتام والخاتام كله بمعنى والجمع الخواتيم وخاتمة الشئ آخره ومحمدﷺ خاتم الانبياء عليهم السلام “ ﴿خاتم ت کی زبر کے ساتھ اور خاتم ت کی زیر کے ساتھ اور خیتام اور خاتام سب کے ایک ہی معنی ہیں اور خواتیم جمع آتی ہے اور خاتمہ کے معنی آخر کے ہیں اور اسی معنی سے محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔﴾

لان الخاتم اخر القوم قال الله تعالى ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين “ ﴿ہمارے نبیﷺ کا نام خاتم الانبیاء اس لئے رکھا ہے کہ خاتم آخر قوم کو کہتے ہیں۔ قول الله تعالى ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین ! کے یہی معنی ہیں۔﴾

عاقبته واخره “ ﴿خاتم اور خاتمة ہر شے کے انجام اور آخر کو کہتے ہیں۔﴾

(منقول از لسان العرب ج ٤ ص ٢٥)

النبیﷺ وفى التنزيل العزيز ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين ...... از لسان العرب ج ٤ ص ٢٥ “ ﴿خاتم اور خاتم نبی کریمﷺ کے ناموں میں سے ہیں اور قرآن میں آیت خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین یعنی سب نبیوں میں آخری نبی کے ہیں۔﴾

عن اللحيانى ومحمدﷺ خاتم الانبياء عليه وعليهم الصلوة والسلام “

خاتم القوم ت کے زبر اور اور محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ (تاج العروس شرح قاموس ج ١٦ المختتم والخات

آخرهم وبالكسر اسم زیر کے ساتھ اسم ہے۔ آخر

(صفحہ ١٦٥) میں ہے ”خاتم النبی بمعنى الطابع اى شئی کے ساتھ ختم اور تمام کرنے والا کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں۔﴾

عليه وعليهم اجمعين (صراح: ٤٦٧) خاتم الانبياء بالفتح کے بھی یہی مع تنبیہ ! خلاصہ یہ ہے کہ معتبر کتب لغات دونوں کے ساتھ ایک ہی معنی ہیں اور جب ک میں اس کے معنی آخر کے ہی ہوتے ہیں۔

صفحہ ٢٥

آیتیں بطور اختصار کے ختم نبوت کے ثبوت اور تائید میں پیش کر دی گئیں ورنہ اس سے زیادہ آیتیں ختم نبوت پر واضح طور پر دلالت کرنے والی موجود ہیں۔

لغوی تحقیق کتب لغت سے

تتمها بمجيئه“ ﴿حضور ﷺ کو خاتم النبیین اس لئے کہا ہے کہ آپ پر...... یعنی آپ نے تشریف لاکر نبوت کو تمام فرمایا۔ ﴾

وختام كله بمعنى والجمع الخواتيم وخاتمة الشئ آخره ومحمد ﷺ خاتم الانبیاء عليهم السلام“ ﴿خاتم ت کی زیر کے ساتھ اور خاتم ت کی زبر کے ساتھ اور ختام سب کے ایک ہی معنی ہیں اور خواتیم جمع آتی ہے اور خاتمہ کے معنی آخر کے ہیں، اس لئے محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ ﴾

لما قال الله تعالى ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ ﴿ہمارے نبی ﷺ کا نام خاتم الانبیاء اس لئے رکھا ہے کہ خاتم الانبیاء کے متعلق قال الله تعالى ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين کے یہی معنی ہیں۔ ﴾

عاقبته وآخره“ ﴿خاتم اور خاتمہ ہر شے کے انجام اور آخر کو کہتے ہیں۔ ﴾

(منقول از لسان العرب ج ٤ ص ٢٥)

النبي ﷺ وفى تنزيل العزيز ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين...... الخ“ ﴿خاتم اور خاتم نبی ﷺ کے اسماء میں سے ہیں اور قرآن میں آیت خاتم النبیین کے معنی آخر النبیین یعنی سب نبیوں کے آخر کے ہیں۔ ﴾

محمد ﷺ خاتم الانبیاء عليه وعليهم الصلوة والسلام“

﴿خاتم القوم اور خاتم القوم ت کے زیر اور زبر دونوں کے ساتھ آخر قوم کے ہیں یہ معنی لحیانی سے نقل کئے ہیں اور محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ ﴾

اسمائه عليه السلام الخاتم والخاتم وهو الذى ختم النبوة بمجيئه“ ﴿حضور ﷺ کے اسماء میں سے الخاتم اور الخاتم بھی ہے اور خاتم وہ شخص ہے جس نے اپنے تشریف لانے سے نبوت کو ختم کر دیا ہو۔ ﴾

واخرته كخاتمته واخر القوم كالخاتم“ ﴿خاتم بالکسر کے معنی انجام و آخرت ہر شے مثل خاتمہ کے اور آخر قوم کے ہیں۔ مثل خاتم بالفتح کے۔ ﴾

اور اس کی شرح (تاج العروس ج ٦ ص ١٩٠) میں ہے۔ ”الخاتم اخر القوم كالخاتم ومنه قوله تعالى وخاتم النبيين اى اخرهم“ ﴿یعنی خاتم اور خاتم کے معنی آخر قوم کے ہیں اور اسی سے خاتم النبیین ہے یعنی آخر نبیوں کے۔ ﴾

ﷺ بالفتح اسم ای آخرهم وبالكسر اسم فاعل“ ﴿خاتم اور خاتم حضور ﷺ کے ناموں میں سے ہیں۔ زبر کے ساتھ اسم ہے۔ آخر کے معنی ہیں اور زیر کے ساتھ اسم فاعل ہے۔ یعنی ختم کرنے والا ۔ ﴾

اور (ج ٢ ص ١٥) میں ہے۔ ”خاتم النبوة بكسرة التاء اى فاعل الختم وهو الاتمام وبفتحها بمعنى الطابع اى شئی يدل على انه لا نبى بعده“ ﴿خاتم النبوة ت کی زیر کے ساتھ ختم اور تمام کرنے والا اور زبر کے ساتھ یہ معنی ہیں کہ وہ شئے جو اس پر دلالت کرے کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ﴾

الله عليه وعليهم اجمعين (صراح : ٤٦٧)“ ﴿خاتمة الشئ کے معنی آخر شئے کے ہیں اور محمد ﷺ خاتم الانبیاء بالفتح کے بھی یہی معنی ہیں ۔تلك عشرة كاملة! ﴾

تنبیہ! خلاصہ یہ ہے کہ معتبر کتب لغات سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ لفظ خاتم کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ ایک ہی معنی ہیں اور جب کبھی قوم یا جماعت کی طرف مضاف ہو تو لغت عرب میں اس کے معنی آخر کے ہی ہوتے ہیں۔ اس کے سوا اور کوئی معنی نہیں آتے اور لغت

صفحہ ٢٦

عرب میں لفظ خاتم اور خاتم کا زبر اور زیر دونوں کے ساتھ اکثر اور زیادہ تر پانچ معنے میں استعمال ہے تین معنی مشترک ہیں ۔

تمیز ہوگا۔ اگر اضافت نہ ہو تو من سے استعمال ہوگا۔ ولو خاتماً من حديد اور اضافت لامیہ میں مفرد مفرد کی طرف اور جمع جمع کی طرف مضاف ہوگا۔ کخاتم زید وخواتیم قوم ورنہ لام کا اظہار ضروری ہو گا رفعاً للالتباس انه كالخاتم للقوم لا خاتم قوم وخاتم الخلفاء!

پتھر وغیرہ کی چیز جس پر نام وغیرہ کندہ کئے جاتے ہیں یعنی مہر۔

(لسان العرب ج ٤ ص ٢٤، تاج العروس ج ١٦ ص ١٨٩ منتہی الارب ج ١ ص ٣٥٩)

ج ٤ ص ٢٤ وغیرہ) پس آیت خاتم النبیین میں دوسرے اور پانچویں معنی تو کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتے اور پہلے معنی ہر دو قرأت پر صحیح اور درست ہیں اور چوتھے معنی صرف خاتم بالکسر کے ساتھ مخصوص ہیں اور تیسرے معنی حقیقت کے اعتبار سے تو مراد ہو ہی نہیں سکتے اور باجماع علمائے لغت جب تک حقیقی معنی درست ہوسکیں اس وقت تک مجاز کو اختیار کرنا باطل ہے۔ اگر مجازی معنی ہی لئے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ حضور ﷺ انبیاء علیہم السلام پر مہر ہیں۔ جس کا مطلب پہلے معنی کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیونکہ عرب میں الختم یعنی مہر لگانے کے معنی کسی چیز کو بند کر دینا اور روک دینے کے ہیں۔

عام محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے فلاں چیز پر مہر کر دی قرآن کریم میں ہے۔ ”خَتَمَ اللهُ عَلى قلوبهم (بقرہ:٧)“ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی۔ یعنی اب قلوب میں ایمان نہ داخل ہوگا اور متنبی کہتا ہے۔

اروح وقد ختمت على فؤادى
بحبك ان لا يحل به سواك
صفحہ ٢٧

٭ میں تیرے یہاں سے اس طرح جا رہا ہوں کہ تو نے میرے قلب پر اپنی محبت سے مہر لگا دی ہے تا کہ اس میں تیرے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے۔ ﴿ پس خاتم النبیین ﷺ کے وہ نئے معنے جو مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) کے حاشیہ میں اور (ص ٢٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩) میں بیان کئے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”آپ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت مل سکتی ہے۔ آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔“ محاورات عرب کے بالکل خلاف ہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ خاتم القوم کے بھی یہ معنی ہوں کہ اس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور خاتم الاولاد کے معنی یہ ہوں کہ اس کی مہر سے اولاد بنتی ہے اور ختم اللہ علی قلوبھم کے معنی بالکل مہمل ہوں۔ غرض جو معنی مرزا قادیانی نے اختراع کئے عرب میں ہرگز ہرگز مستعمل نہیں خود مرزا قادیانی کا وسوسہ ہے اور بس اور نیز خود مرزا قادیانی (تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩) میں لکھتے ہیں کہ : ”میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“ (براہین حصہ ٥ ص ٨٦، خزائن ج ٢١ ص ١١٣ مضمون واحد ) ٹھیک اسی طرح خاتم النبیین ﷺ کے معنی ہیں کہ حضور ﷺ آخر الانبیاء ہیں آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا اور (ازالہ اوہام ص ٦١٤ ، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) میں ہے۔ ”مـــــا کـــــان مــحــمــد ابــا احــد مـن رجـالكم ولـكـن رسـول الله وخـاتم النـبـيـيـن یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔“

ائمہ تفسیر کی تفاسیر سے ختم نبوت کی تحقیق

رســول الله وخــاتم النـبـيـيـن الـذى خـتـم النـبـوة فـطـبـع عـلـيـهـا فـلا تـفـتـح لاحـد بـعـده الـى قـيـام الـسـاعـة “ ؎١ لیکن آپ اللہ کے رسول ﷺ اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی وہ شخص جس نے نبوت کو ختم کر دیا اور اس پر مہر لگا دی پس وہ قیامت تک آپ کے بعد کسی کے لئے نہ کھولی جائے گی۔ ﴿

؎١ خبر دار کوئی قادیانی عجمیوں کے دستور سے دھوکا نہ دے دے کہ حضور ﷺ نے جب عجمیوں کی طرف تبلیغی خطوط روانہ فرمانے کا ارادہ فرمایا تو بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ اعاجم جس خط پر مہر نہ لگی ہو اس کو نہیں پڑھتے .... الخ یہ عجمیوں کا دستور تھا۔ عربیت میں قابل حجت نہیں۔

(بخاری شریف ج ٢ ص ٨٧٣ باب اتخاذ الخاتم ليختم به )

صفحہ ٢٨

نص فى انه لا نبى بعده واذا كان لا نبى بعده فلا رسول بالطريق الاولى والاخرى لان مقام الرسالة اخص من مقام النبوة فان كل رسول نبى ولا ينعكس وبذلك وردت الاحاديث المتواترة عن رسول الله من حديث جماعة من الصحابة رضى الله تعالى عنهم“ ﴿یہ آیت اس بات میں نص صریح ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور جب کوئی نبی نہ ہوگا تو رسول بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا۔ کیونکہ رسالت کا مرتبہ نبوت کے مرتبہ سے خاص ہے ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں اور ختمِ نبوت پر آنحضرتﷺ کی احادیث متواترہ صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت سے منقول ہو کر وارد ہوئے ہیں۔﴾

بفتح التاء بمعنى الطابع وبكسرها بمعنى الطابع وفاعل الختم وتقويه قرأة عبدالله بن مسعود ولكن نبياً ختم النبيين فان قلت كيف كان آخراً لانبياء وعيسى عليه السلام ينزل فى آخر الزمان قلت معنى كونه آخر الانبياء انه لا ينبأ احد بعده وعيسى ممن نبى قبله“ ﴿خاتم کے زبر کے ساتھ بمعنی آلہ مہر اور زیر کے ساتھ بمعنی مہر کرنے والا اور ختم کرنے والا اور اس معنی کی تقویت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت ولكن نبیا ختم النبیین کرتی ہے۔ پس اگر تم یہ کہو کہ حضورﷺ آخر الانبیاء کس طرح ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہوں گے تو میں کہوں گا کہ آخر الانبیاء کے یہ معنی ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جو حضورﷺ سے پہلے نبی بنا کر بھیجے گئے ۔﴾

” ولا يقدح فيه نزول عيسى بعده عليه السلام لان معنى كونه خاتم النبيين انه لا ينباء احد بعده وعيسى ممن نبى قبله “ ﴿حضورﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حضورﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے خلاف نہیں۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جو حضورﷺ سے پہلے نبی بنا کر بھیجے گئے ۔﴾

صفحہ ٢٩

تفسیر (ابن کثیر ج ٢ ص ٣٨١) زیر آیت ایضاً میں ہے۔ ”فہذہ الایۃ نص فی انہ لا نبی بعدہ واذاکان لا نبی بعدہ فلا رسول بالطریق الاولیٰ لان مقام الرسالۃ اخص من مقام النبوۃ فان کل رسول نبی ولا ینعکس وبذالک وردت الاحادیث المتواترۃ عن رسول اللہ من حدیث جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم“ ﴿یہ آیت اس بات میں نص صریح ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا اور جب کوئی نبی نہ ہوگا تو رسول بدرجہ اولیٰ نہ ہوگا۔ کیونکہ رسالت کا مرتبہ نبوت کے مرتبہ سے خاص ہے ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔ ختم نبوت پر آنحضرتﷺ کی احادیث متواترہ صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت کی روایت سے وارد ہوئے ہیں۔﴾

تفسیر (کشاف ج ٣ ص ٥٣٤، ٥٣٥) زیر آیت ایضاً میں ہے۔ ”خاتم النبیین بفتح التاء بمعنی الطابع وبکسرہا بمعنی الطابع وفاعل الختم وتقویہ قرأۃ عبداللہ بن مسعود ؓ ولکن نبیاً ختم النبیین فان قلت کیف کان آخر الانبیاء وعیسیٰ ینزل فی آخر الزمان قلت معنی کونہ آخر الانبیاء انہ لا ینبأ احد بعدہ وعیسیٰ ممن نبئ قبلہ“ ﴿خاتم کے زبر کے ساتھ بمعنی آلہ مہر اور زیر کے ساتھ بمعنی مہر کرنے والا اور ختم کرنے والا اور اس معنی کی تقویت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت ولکن نبیاً ختم النبیین کرتی ہے۔ پس اگر تم یہ کہو کہ حضورﷺ آخر الانبیاء کس طرح ہوئے؟ درآنحالیکہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہوں گے تو میں کہوں گا کہ آخر الانبیاء کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنا کر بھیجے گئے ۔﴾

تفسیر (کبیر ج ٢٥ ص ٢١٤) زیر آیت ایضاً میں بھی اس مضمون کی تائید ہے۔

تفسیر (ابوالسعود ج ٧ ص ١٠٦) زیر آیت ایضاً میں بھی یہی مضمون ہے۔ ”..... وان نزول عیسیٰ بعدہ علیہ السلام لان معنی کونہ خاتم ینبأ احد بعدہ وعیسیٰ ممن نبئ قبلہ “ ﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حضورﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے خلاف نہیں۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے نبی بنا کر بھیجے گئے۔﴾

ہے۔ ”خاتم النبیین بفتح التاء عاصم بمعنی الطابع ای اخرہم یعنی لا ینبأ احد بعدہ وعیسیٰ علیہ السلام ممن نبی قبلہ...... وغیرہ بکسر التاء بمعنی الطابع وفاعل الختم و تقویہ قرأۃ عبداللہ بن مسعود ؓ “ ﴿خاتم النبیین عاصم کی قرأۃ میں ت کے زبر کے ساتھ بمعنی آلہ مہر جس سے مراد آخر ہے یعنی آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام آپ سے پہلے نبی بنائے گئے۔ اس لئے ان کے نزول سے کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا اور عاصم کے علاوہ سب قاریوں کے نزدیک ت کے زیر کے ساتھ بمعنی مہر کرنے والا اور ختم کرنے والا اور اس کی تائید حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قرأت بھی کرتی ہے۔﴾

ختم اللہ بہ النبوۃ فلا نبوۃ بعدہ ای ولا معہ “ ﴿خاتم النبیین یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبوت کو ختم کردیا۔ پس نہ آپ کے بعد نبوت ہے اور نہ آپ کے ساتھ کسی کو حاصل۔﴾

الانبیاء والمرسلین کماقال تعالیٰ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ای اخرہم الذی ختمہم او ختموا بہ علی قرأۃ عاصم بالفتح...... قیل من لا نبی بعدہ یکون اشفق علی امتہ وہو کوالد لولد لیس لہ غیرہ ولا یقدح نزول عیسیٰ علیہ السلام بعدہ لا نہ یکون علی دینہ مع ان المرادانہ آخر من نبی “ ﴿اور آنحضرتﷺ کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ سب انبیاء اور رسل کے ختم کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین یعنی آخر النبیین جس نے انبیاء کو ختم کیا یا عاصم کی قراۃ کی رو سے جو زبر کے ساتھ ہے یہ معنی ہیں کہ جس پر سب انبیاء ختم کئے گئے...... کہا جاتا ہے کہ جس نبی کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو وہ اپنی امت پر بہت زیادہ شفیق ہوگا اور وہ اس باپ کے مثل ہے کہ جس کی اولاد کی اس کے بعد کوئی نگرانی کرنے والا اور تربیت کرنے والا نہ ہو اور حضورﷺ کے بعد نزول عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول کے آپ کے دین پر ہوں گے۔ علاوہ اس کے ختم نبوت کے یہ معنی ہیں کہ آپ سب سے آخر میں نبی بنا کر بھیجے گئے۔﴾

آلہ...... مآلہ آخرالنبیین...... وخاتم بکسر التاء علی انہ اسم فاعل ای الذی

صفحہ ٣٠

ختم النبيين والمراد به آخرهم ايضاً ...... والمراد بالنبي ماهو اعم من الرسول فيلزم من كونه ﷺ خاتم النبيين كونه خاتم المرسلين ...... والمراد بكونه عليه الصلوة والسلام خاتمهم انقطاع حدوث وصف النبوة في احد من الثقلين بعد تحليه عليه الصلوة والسلام بها في هذه النشأة ولا يقدح في ذلك ما اجمعت الامة عليه واشتهرت فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ التواتر المعنوى ونطق به الكتاب على قول ووجب الايمان به واكفر منكره كالفلاسفة من نزول عيسى عليه السلام آخر الزمان لانه كان نبياً قبل تحلى نبينا ﷺ بالنبوة في هذه النشأة خاتم ت کے زبر کے ساتھ اسم آلہ ہے۔ ..... جس کا مآل آخر النبیین ﷺ ہے اور خاتم ت کی زیر کے ساتھ اسم فاعل کا صیغہ یعنی وہ نبی جس نے نبیوں کو ختم کر دیا اور اس سے مراد بھی آخر النبیین ہے اور نبی رسول سے عام ہے۔ لہٰذا حضور ﷺ کا خاتم النبیین ہونا خاتم المرسلین ہونے کو لازم ہے اور حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپؐ کے اس عالم میں وصف نبوت کے ساتھ متصف ہونے کے بعد وصف نبوت کا پیدا ہونا بالکل منقطع ہو گیا۔ جن و انس میں سے کسی کو اب یہ وصف نبوت عطا نہ کیا جائے گا اور یہ مسئلہ ختم نبوت اس عقیدے کے ہرگز خلاف نہیں جس پر امت نے اجماع کیا ہے اور جس میں احادیث شہرت کو پہنچی ہوئی ہیں۔ شاید درجہ تواتر معنوی کو پہنچ جائیں اور جس پر قرآن نے ایک قول کی بناء پر تصریح کی ہے اور جس پر ایمان لانا واجب ہے اور اسکے منکر مثلاً فلاسفہ کو کافر سمجھا گیا ہے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آخر زمانہ میں نازل ہونا کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس عالم میں نبوت ملنے سے پہلے وصف نبوت کے ساتھ متصف ہو چکے تھے۔

........ ١٠ ........ اور تفسیر (درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤) زیر آیت ایضاً میں صحابہؓ اور تابعینؒ اور ائمہ مفسرین کے اقوال کو جمع کر کے آیت مذکور کی تفسیر وہی قرار دی ہے۔ جو مذکور ہو چکی کہ آنحضرت ﷺ آخر النبیین ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا۔ تلک عشرة كاملة!

نوٹ! یہ اختصاراً دس تفسیروں کے حوالے پیش کئے گئے اور صرف چند مشہور اور مستند مفسرین کے اقوال ہدیہ ناظرین کئے گئے ہیں۔ ورنہ متقدمین اور متاخرین علماء میں سے جس کی تفسیر کو دیکھو گے یہی مضمون پاؤ گے اور سب نے اسی مضمون کو واضح بیان فرمایا ہے۔

صفحہ ٣٠

غرض آخر الانبیاء اور خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا۔ جیسے خود رسول اکرم ﷺ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا: ”اطمئن ياعم فانك خاتم المهاجرين فى الهجرة كما اناخاتم النبيين فى النبوة (كنز العمال ج١١ ص٦٩٩ حديث نمبر ٣٣٣٨٧ وفي رواية عن سهل بن الساعدي قد ختم بك الهجرة كما ختم بي النبيون رواه الطبرانی، ج٦ ص١٥٤ حدیث ٥٨٢٨ وابونعيم وابو يعلی وابن عساكر وابن النجار)“ یعنی اطمینان رکھ اے چچا آپ خاتم المہاجرین ہو ہجرت میں، جیسے میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں ہجرت آپ پر ختم ہو گئی۔ جیسے نبوت مجھ پر ختم ہو گئی۔ کیا کوئی ذی عقل اس کے یہ معنی سمجھ سکتا ہے کہ تمام مہاجرین اس وقت تک مر چکے تھے کوئی باقی نہ رہا تھا بلکہ یہ معنی ہیں کہ آپ آخر المهاجرين ہیں۔ آپ کے بعد مکہ سے کوئی ہجرت نہ کرے گا اور وصف ہجرت مکہ سے کوئی موصوف نہ ہوگا۔ لا هجرة بعد الفتح یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت مکہ سے نہ ہو گی یا مثلا کوئی شخص کہے فلاں خاتم الاولاد کہ کوئی عقلمند اس کے یہ معنی سمجھے گا کہ اس کی سب اولادیں مرگئیں۔ صرف یہ ایک باقی رہ گیا بلکہ باتفاق اہل عربیت اور باجماع عقلاء دنیا اس کے یہی معنی سمجھے جاتے ہیں کہ یہ سب سے آخر میں پیدا ہوا اس کے بعد کسی بچہ کی ولادت نہیں ہوئی۔ ”مثل ذلك آخر الفاتحين ، آخر المجالسين، آخر الخلفاء، آخر القضاة “ وغیرہ وغیرہ غرض ان سب میں انقطاع وصف ہوتا ہے نہ انقطاع ذات خواہ حقیقتاً جیسے کلام الہی میں آخر سورہ یا جیسے کلام شعراء میں خواہ ادعاءاً جیسے مبالغہ حسن ظن میں اور کس طرح آخر باعتبار امر ذی حقیقۃ یا مبالغہ یا ادعاء اور نیز خود مرزا قادیانی نے (خزائن القلوب ص١٥٧ خزائن ج١٥ ص٢٧٠ ایام الصلح ص٨٦ خزائن ج١٤ص٣١١) میں اس معنی کی تصریح کی ہے جو پہلے عرض کر چکا۔ چنانچہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آدم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا۔ ”من هذا“ کون ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا آخر ولدك من الانبياء (كنز العمال ج١١ ص٤٥٥ حديث ٣٢١٣٩) اور حضور ﷺ نے فرمایا آخر هم فی البعث (كنز العمال ج١١ ص٤٥٢ حديث ٣٢١٢٦) یعنی میں بعثت میں سب نبیوں سے آخر ہوں۔ تفسیر (ابن کثیر ج٦ ص٣٣٢) اسی وجہ سے کشاف ابوالسعود مدارک شرح مواہب زرقانی روح المعانی وغیرہ وغیرہ تفاسیر میں ہے معنے کونه آخر الانبياء انه لا ينباء احد بعده وعيسى ممن نبئ قبله ! یعنی آخر الانبیاء ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حضور ﷺ

المراد به آخرهم ايضاً... والمراد بالنبي ما هو اعم من ن كونه ﷺ خاتم النبيين كونه خاتم المرسلين... والمراد صلوة والسلام خاتمهم انقطاع حدوث وصف النبوة في احد د تحليه عليه الصلوة والسلام بها في هذه النشأة ولا يقدح عت الامة عليه واشتهرت فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ ونطق به الكتاب على قول ووجب الايمان به واكفر منكره ن نزول عيسى عليه السلام آخر الزمان لانه كان نبياً قبل ﷺ بالنبوة في هذه النشأة ٭ ”خاتم“ ت کے زیر کے ساتھ اسم آلہ خاتم النبیین ﷺ ہے اور ”خاتم“ ت کی زبر کے ساتھ اسم فاعل کا صیغہ یعنی وہ نبی ردیا اور اس سے مراد بھی آخر النبیین ہے اور نبی رسول سے عام ہے۔ لہذا ن ہونا خاتم المرسلین ہونے کو لازم ہے اور حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پ کے اس عالم میں وصف نبوت کے ساتھ متصف ہونے کے بعد وصف منقطع ہو گیا۔ جن وانس میں سے کسی کو اب یہ وصف نبوت عطا نہ کیا جائے گا عقیدے کے ہرگز خلاف نہیں جس پر امت نے اجماع کیا ہے اور جس میں وئی ہیں۔ شاید درجہ تواتر معنوی کو پہنچ جائیں اور جس پر قرآن نے ایک قول ہے اور جس پر ایمان لانا واجب ہے اور اسکے منکر مثلاً فلاسفہ کو کافر سمجھا گیا ہے آخر زمانہ میں نازل ہونا کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس عالم میں نبوت ت کے ساتھ متصف ہو چکے تھے۔ ٭ اور تفسیر (درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤) زیر آیت ایضاً میں صحابہؓ اور تابعینؒ اور ائمہ و جمع کر کے آیت مذکور کی تفسیر وہی قرار دی ہے۔ جو مذکور ہو چکی کہ مبیین ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا۔ تلك ختصراً دس تفسیروں کے حوالے پیش کئے گئے اور صرف چند مشہور اور مستند یہ ناظرین کئے گئے ہیں۔ ورنہ متقدمین اور متاخرین علماء کی جس کی تفسیر کو وگے اور سب نے اسی مضمون کو واضح بیان فرمایا ہے۔

صفحہ ٣٢

کے بعد کون نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جن کو منصب نبوت پہلے عطا کیا جا چکا ہے بے شک حضورﷺ آخر الانبیاء ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر نہیں آ سکتا۔ نیا ہو یا پرانا اور نہ آپؐ کے بعد وحی نبوت ہو سکتی ہے خواہ نئے احکام نازل ہوں خواہ شریعت اسلام ہی کے مطابق دوبارہ شریعت نازل ہو اور قیامت تک حضورﷺ ہی صاحب الزمان رسول ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے کے نبی ہیں جو اپنے زمانہ میں منصب نبوت کی ڈیوٹی پر قائم تھے اور ان کی بعثت اپنے زمانہ میں بھی صرف بنی اسرائیل کی طرف تھی نہ تمام عالم کی طرف جیسا کہ آیہ کریمہ ”رسولاً الی بنی اسرائیل (آل عمران: ٤٩)“ سے ظاہر ہے۔ لیکن حضورﷺ کی بعثت کافہ عامہ سے ان کی یہ ڈیوٹی بھی ختم ہو گئی۔ اب آخر زمانہ میں ان کا نزول فرمانا بحیثیت نبوت یعنی نبی ہونے کی حیثیت سے نہ ہو گا یعنی امت محمدیﷺ کی طرف رسول بن کر تشریف نہ لائیں گے گو وہ عند اللہ بعد نزول بھی ویسے ہی اولوالعزم نبی ہوں گے۔ جیسے قبل رفع اور قبل نزول تھے۔ بلکہ بحیثیت امامت اور خلافت تشریف لائیں گے اور اسی شریعت کے پابند ہوں گے۔ ”ینزل فیکم ابن مریم حکما مقسطا (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ بن مریم)“

”فی حدیث ابن عساکر الا ان ابن مریم لیس بینی وبینہ نبی ولا رسول الا انہ خلیفتی فی امتی من بعدی (فتاوی ابن حجر مکی ص ......)“ یعنی ابن عساکر کی حدیث میں ہے کہ ابن مریم اور میرے درمیان کوئی نبی اور رسول نہیں ہوا۔ لیکن وہ میری امت میں میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔ لیکن یہ بات اچھی طرح یاد رہے کہ اس کے یہ معنی نہیں کہ اس وقت نبوت سے معزول ہو جائیں گے۔ بلکہ آپ کا اس وقت اس امت میں تشریف لانا بالکل ایسا ہو گا جیسے ایک صوبہ کا گورنر دوسرے صوبہ میں جہاں اس کا تقرر نہ ہو۔ بغرض زیارت والدین اور خبر گیری اہل وعیال جائے تو اگرچہ بحیثیت گورنری وہ اس وقت نہیں ہوتا اور اس کا اس صوبہ میں ورود بحیثیت گورنر ہونے اس کے صوبہ کے نہ ہو گا۔ بلکہ وہاں کے قانون کی پابندی کرے گا۔ لیکن یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ گورنری سے معزول ہو گیا۔ اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے نبی بعد نزول بھی ہوں گے یہ نہیں کہ وہ نبوت سے معزول ہو گئے۔ بلکہ اس وقت حضورﷺ نبی صاحب الزمان کے زمانہ میں حضورﷺ ہی کا اتباع کرنا ہو گا اور وحی شریعت کو لازم نبوت ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر وقت اور ہر آن اس

پر وحی شریعت نازل ہوتی ہے۔ اگر جب وحی نازل ہو تو نبی ہوا اور جب و برابر قائم رہے گا۔ اس ایجاد بندہ سے معزول ہوتے ہوں گے۔ کیونکہ کتنی میں تین سال وحی کا آنا موقوف رہا ت ہوں گے؟۔ معاذ اللہ! بے شک عیسیٰ قرآنی ”اکملت لکم دینکم بلاضرورت کام کرنا شان خداوندی نزول کے بعد ان پر وحی الہام ہوگی عیسیٰ علیہ السلام قوم بنی اسرائیل کی ط عامہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب الزمان رسول ہیں۔ پس ج ہو حضورﷺ کے بعد ہرگز نہیں ہو سکت مرزا قادیانی موافق عقیدے مسلما اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) اوّل درجہ کی پیشین گوئی ہے۔ جس گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گو درجہ اس کو حاصل ہے۔“ انشاء اللہ

رسول اکرمﷺ کی احاد

کے منصب نبوت

النبیﷺ کانت بنواسرائ لا نبی بعدی وسیکون خل اسرائیل، مسلم ج ٢ ص ٢٦

صفحہ ٣٣

میں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جن کو منصب نبوت ملتا ہے بے شک حضور ﷺ آخر الانبیاء ہیں۔ آپ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت ہو پاتا اور نہ آپ کے بعد وحی نبوت ہو سکتی ہے خواہ نئے احکام نازل ہوں خواہ نبی کے مطابق دوبارہ شریعت نازل ہو اور قیامت تک حضور ﷺ ہی صاحب اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے کے نبی ہیں جو اپنے زمانہ میں منصب نبوت کی اور ان کی بعثت اپنے زمانہ میں بھی صرف بنی اسرائیل کی طرف تھی نہ تمام عالم کی کہ یہ ”رسولاً الیٰ بنی اسرائیل (آل عمران:٤٩)“ سے ظاہر ہے۔ کی بعثت کافہ سے ان کی یہ ڈیوٹی بھی ختم ہو گئی۔ اب آخر زمانہ میں ان کا نبوت یعنی نبی ہونے کی حیثیت سے نہ ہو گا یعنی امت محمدی ﷺ کی طرف یف نہ لائیں گے گو وہ عند اللہ بعد نزول بھی ویسے ہی اولو العزم نبی ہوں گے۔ ل نزول تھے۔ بلکہ بحیثیت امامت اور خلافت تشریف لائیں گے اور اسی شریعت ے۔ ”ینزل فیکم ابن مریم حکماً مقسطاً (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب مریم، مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ بن مریم)“ ی حدیث ابن عساکر الا ان ابن مریم لیس بینی وبینہ نبی ا انه خلیفتی فی امتی من بعدی (فتاوی ابن حجر مکی ں ابن عساکر کی حدیث میں ہے کہ ابن مریم اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں لیکن وہ میری امت میں میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔ لیکن یہ بات اچھی طرح یاد یہ معنی نہیں کہ اس وقت نبوت سے معزول ہو جائیں گے۔ بلکہ آپ کا اس وقت شریف لانا بالکل ایسا ہوگا جیسے ایک صوبہ کا گورنر دوسرے صوبہ میں جہاں اس کا ں زیارت والدین اور خبر گیری اہل وعیال جائے تو اگرچہ بحیثیت گورنری وہ اس اور اس کا اس صوبہ میں ورود بحیثیت گورنر ہونے اس کے صوبہ کے نہ ہوگا۔ بلکہ کی پابندی کرے گا۔ لیکن یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ گورنری سے معزول ہو گیا۔ ت عیسیٰ علیہ السلام اپنے زمانہ کے نبی بعد نزول بھی ہوں گے یہ نہیں کہ وہ نبوت گے۔ بلکہ اس وقت حضور ﷺ ہی صاحب الزمان کے زمانہ میں حضور ﷺ ہی کا ر وحی شریعت لوازم نبوت ہے۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر وقت اور ہر آن اس

پر وحی شریعت نازل ہوتی ہے۔ اگر نازل نہ ہو تو وہ نبوت سے بھی علیحدہ ہو جائیں۔ ورنہ نبی پر جب وحی نازل ہو تو نبی ہوا اور جب وحی نہ ہو تو نبوت سے معزول۔ گویا بحالی اور معزولی کا سلسلہ برابر قائم رہے گا۔ اس ایجاد بندہ سے تو حضور ﷺ بھی کبھی عہدہ نبوت پر بحال اور کبھی اس سے معزول ہوتے ہوں گے۔ کیونکہ کتنی کتنی مدت تک جیسے قصہ افک میں ایک ماہ برابر، ابتداء وحی میں تین سال وحی کا آنا موقوف رہا تھا تو کیا حضور ﷺ بھی نبوت کے عہدہ سے معزول ہو جاتے ہوں گے؟۔ معاذ اللہ! بے شک عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وحی نبوت نہ لائیں گے۔ کیونکہ بحکم قرآنی ”اکملت لکم دینکم (مائدہ:٣)“ دین کامل ہے اور وحی نبوت کی حاجت نہیں بلا ضرورت کام کرنا شان خداوندی کے خلاف ہے۔ اس سے قبل ان پر وحی نبوت نازل ہو چکی۔ نزول کے بعد ان پر وحی الہام ہوگی۔ نہ وحی نبوت۔ الغرض حضور ﷺ کی بعثت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام قوم بنی اسرائیل کی طرف صاحب الزمان رسول تھے اور حضور ﷺ کی بعثت کافہ عامہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب الزمان رسول نہیں رہے۔ قیامت تک حضور ﷺ ہی صاحب الزمان رسول ہیں۔ پس ہر قسم کا نبی جو منصب نبوت کی ڈیوٹی پر فائز اور صاحب الزمان ہو حضور ﷺ کے بعد ہرگز نہیں ہو سکتا۔ باقی رہا مسیح بن مریم علیہ السلام کے آنے کا عقیدہ سو خود مرزا قادیانی موافق عقیدہ مسلمانوں کے اس کو تواتر کا اوّل درجہ مان چکے ہیں۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠) میں لکھتے ہیں۔ ”مسیح بن مریم کے آنے کی پیشین گوئی ایک اوّل درجہ کی پیشین گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔“ انشاء اللہ اس کا ثبوت عقیدہ نمبر ١٩ میں لکھوں گا۔

رسول اکرم ﷺ کی احادیث متواترہ سے ختم نبوت کا ثبوت کہ حضور ﷺ

کے منصب نبوت کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا نہ ہوگا

النبی ﷺ کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون (بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، مسلم ج ٢ ص ١٢٦ باب وجوب الوفاء ببیعة الخلیفة الاوّل فالاوّل)“

صفحہ ٣٤

❁ ابوہریرہؓ رسول کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو ان کے بعد دوسرا نبی آتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں یعنی حضورﷺ کے منصب کے بعد کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا۔ نہ آپ کے زمانہ حیات میں اور نہ بعد ممات، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ ❁ نوٹ! یہ حدیث بڑے زور سے اعلان کر رہی ہے کہ آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے کسی قسم کا بھی نبی نہ ہوگا اور آپ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطاء نہ ہوگا۔ تشریعی یا غیر تشریعی ظلی بروزی بھی، اگر بقول مرزائیوں کے کوئی نبی کی قسم ہے تو وہ یقیناً لا نبی بعدی کی نفی کے تحت میں داخل ہے اور اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اس امت میں ایسے انبیاء علیہم السلام بھی نہیں آسکتے جیسے انبیاء بنی اسرائیل جو شریعت مستقلہ لے کر نہ آتے تھے۔ بلکہ بنی اسرائیل کی سیاست یعنی توریت کے صحیح احکام کی پابندی کرانے کے لئے آتے تھے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری شرح صحیح بخاری ج ٦ ص ٣٦٠) میں لکھتے ہیں: ”تسوسهم الانبياء اى انهم كانوا اذا ظهر فيهم فساد بعث الله لهم نبياً يقيم لهم امرهم ويزيل ما غيروا من احكام التوراة “ یعنی بنی اسرائیل میں جب فساد ظاہر ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی نبی بھیج دیتا تھا۔ جو ان کے امور کو درست کرے اور ان تحریفات کو دور کرے جو انہوں نے توریت میں کی ہیں۔ ❁

٢...... (بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب خاتم النبیین و مسلم ج ٢ ص ٢٤٨ باب ذکر کونہﷺ وخاتم

النبیین) میں ہے ۔ ”عن ابی هریرة ان رسول الله ﷺ قال ان مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتاً فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة . قال فانا اللبنة وانا خاتم النبيين . وفي رواية آخر لمسلم فانا موضع اللبنة جئت فختمت الانبياء عليهم السلام وفي رواية فختم بی الانبياء وفي رواية مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه وترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة لا يعيبون غيرها فكنت انا سددت موضع تلك اللبنة . فتم بی البنيان وختم بی الرسل (كنز العمال ج ١١ ص ٤٥٣ حدیث نمبر ٣٢١٢٧) “ ❁ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میری اور انبیاء سابقین کی ایسی مثال

صفحہ ٣٥

ہے ۔ جیسے ایک شخص نے ایک مکان بنایا اور بہت خوبصورت اور عمدہ بنایا ۔ مگر اس میں کسی زاویہ میں صرف ایک اینٹ کی کسر باقی تھی۔ لوگ اس میں گھومتے اور دیکھ دیکھ کر تعجب کرتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پس وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں اب قصر نبوت تمام ہو گیا اور مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے پس وہ خالی اینٹ کی جگہ میں ہوں ۔ میں آیا اور انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ میں نے پورا اور ختم کر دیا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ مجھ پر ختم کر دیا گیا ۔﴾

نوٹ! حدیث کی اس تمثیل میں مکان سے مراد ایوان رسالت و نبوت ہے اور آنحضرت ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء ہو چکے ہیں ۔ ان سب کو اس ایوان کی اینٹوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کے اس عالم میں تشریف لانے سے پہلے ایوانِ نبوت ورسالت میں صرف ایک اینٹ کی کمی تھی جو آنحضرت ﷺ کی بابرکت بعثت سے پوری ہوگئی ۔ اب ایوان نبوت میں کسی اینٹ کی گنجائش نہیں اور اب اس میں کسی دعویٰ کرنے والے کی جگہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا یہ دعویٰ ہی اس کے کذب کی بیّن دلیل ہے۔

اسی لئے (صحیح مسلم ج١ ص١٩٩ کتاب المساجد) میں ایک دوسری روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو تمام انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے منجملہ ان چھ کے یہ ہیں۔ وارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبیون! یعنی مجھ سے پہلے نبی ایک ایک قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے۔ لیکن مجھ کو تمام ہی خلق کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ مگر افسوس آج کی کوشش ہے کہ اس فضیلت کو حضور ﷺ سے چھین کر کسی کاذب کے حوالہ کردیں۔

.......٣ (ابوداؤد ج٢ ص١٢٧ باب ذکر الفتن ودلائلھا، ترمذی ج٢ ص٤٥ باب ماجاء لاتقوم الساعة حتی یخرج کذابون) میں ہے۔ ” عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ انه سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لانبی بعدی (وبمعناه فی البخاری ج١ ص٥٠٩ باب علامات النبوة فی الاسلام، ج٢ ص١٠٠٤ باب، وفی مسلم ج٢ ص٣٩٧ فصل فی قوله ﷺ ان بین یدی الساعة کذابین قریباً من ثلاثین، وابی داؤد ج٢ ص١٣٦ باب فی خبر ابن صیاد، عن ابی ھریرة)“ ﴾حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔

صفحہ ٣٦

میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا اور اس حدیث کے معنی میں بخاری نے بھی مسلم اور ابوداؤد نے ابو ہریرہؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ حضورﷺ کے بعد قریب تیس کے جھوٹے دجال مدعی نبوت پیدا ہوں گے۔ ﴾

نوٹ! اس حدیث میں آپؐ کے بعد مدعی نبوت کو دجال و کذاب فرمایا ہے۔ کیا ایسی صاف صاف احادیث و ارشادات نبویہ کے بعد بھی مسئلہ ختم نبوت کا کوئی پہلو خفا میں رہتا ہے؟۔ علامہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (فتح البارى شرح صحيح بخارى ج ٦ ص ٤٠٠ باب علامات النبوة فى الاسلام) میں لکھتے ہیں۔ ”وليس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقاً فانهم لايحصون كثرة لكون غالبهم ينشأ لهم ذالك عن جنون وسوداء انما المراد من قامت له الشوكة (وكذافى عمدة القارى ج ٧ ص ٥٠٠ مصرى)“ یعنی اس حدیث میں مطلقاً مدعی نبوت مراد نہیں اس لئے کہ ایسے بے شمار ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ بے بنیاد دعویٰ عموماً جنون ١؎ اور سودائیت سے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ بلکہ اس حدیث میں جن تیس دجالوں کا ذکر ہے وہ وہی ہیں۔ جن کی شوکت قائم ہو جائے۔ متبع زیادہ ہوں ان کا مذہب چلے اور فی امتی فرما کر یہ بھی بتلا دیا کہ وہ مدعی نبوت مراد ہیں۔ جو امتی بن کر اور امتی کہہ کر دعویٰ نبوت کریں گے۔

٢؎.......(بخارى ج ٢ ص ٦٣٢ باب غزوة تبوك وهى غزوة العسرة، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب من فضائل علی بن ابی طالبؓ) میں ہے۔ ”عن سعدؓ بن ابی وقاصؓ قال قال رسول الله ﷺ لعلىؓ انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لانبى بعدى . وفى رواية المسلم انه لا نبوة بعدى“ ﴿حضورﷺ نے علیؓ سے فرمایا کہ تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارونؑ کو موسیٰ علیہ السلام سے نسبت تھی۔ مگر میری نبوت کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ مگر میری نبوت کے بعد نبوت نہیں ہے۔﴾ لہٰذا ہارون کی طرح منصب نبوت میں شریک نہیں ہو سکتے۔

١؎ چنانچہ (تاریخ الخلفاء ص ٤٠٩ طبع مکة المكرمة) معتضد باللہ ابوالفتح کے ذکر میں ہے کہ مصر میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ میں آسمان پر بلایا جاتا ہوں۔ خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور مجھ کو خدا کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ عوام کی ایک کثیر جماعت نے اس کو مانا اور اس کے معتقد ہو گئے۔ مجلس قاضی میں اس سے توبہ لی گئی اس نے توبہ کرنے سے انکار کیا۔ قاضی نے بشرطِ صحتِ عقل قتل کا حکم دیا۔ لیکن اطباء کی ایک جماعت نے مختل العقل بتایا۔ لہٰذا اس کو بیمارستان میں بھیج دیا گیا۔

صفحہ ٣٧

م نبی نہیں ہوسکتا اور اس حدیث کے معنی میں بخاری نے بھی مسلم اور ابوداؤد یث روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد قریب تیس کے جھوٹے دجال مدعی

س حدیث میں آپؐ کے بعد مدعی نبوت کو دجال وکذاب فرمایا ہے ۔ کیا ایسی ت وارشادات نبویہ کے بعد بھی مسئلہ ختم نبوت کا کوئی پہلو خفا میں رہتا ہے؟۔ قلانی (فتح الباری شرح صحیح بخاری ج ٦ ص ٤٥٥ باب علامات میں لکھتے ہیں ۔ ”وليس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقاً ن كثرة لكون غالبهم ينشأ لهم ذالك عن جنون وسوداء انما ه الشوكة (وكذا فى عمدة القارى ج ٧ ص ٥٥٥ مصرى) “ یعنی اس نبوت مراد نہیں اس لئے کہ ایسے بے شمار ہو سکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ بے بنیاد دعویٰ انیت سے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ بلکہ اس حدیث میں جن تیس دجالوں ۔ جن کی شوکت قائم ہو جائے ۔ متبع زیادہ ہوں ان کا مذہب چلے اور فی امتی وہ مدعی نبوت مراد ہیں ۔ جو امتی بن کر اور امتی کہہ کر دعویٰ نبوت کریں گے ۔ (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ باب غزوة تبوك وهى غزوة العسرة، مسلم ن فضائل على بن ابى طالب) میں ہے ۔ ” عن سعد بن ابی وقاص ه ﷺ لعلی انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى ة المسلم انه لا نبوة بعدى “ ﴿حضور ﷺ نے علیؓ سے فرمایا کہ تم مجھ ہ جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے نسبت تھی ۔ مگر میری نبوت کے بعد کوئی نبی ا ایک روایت میں ہے ۔ مگر میری نبوت کے بعد نبوت نہیں ہے ۔ ﴾ لہٰذا نبوت میں شریک نہیں ہو سکتے ۔

تاریخ الخلفاء ص ٢٠٩ طبع مکتبہ المکرمہ ) معتضد باللہ ابوالفتح کے ذکر میں ہے کہ مصر ا کیا کہ میں آسمان پر بلایا جاتا ہوں ۔ خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور مجھ کو عوام کی ایک کثیر جماعت نے اس کو مانا اور اس کے معتقد ہو گئے ۔ مجلس لی گئی اس نے توبہ کرنے سے انکار کیا ۔ قاضی نے بشرط صحت عقل قتل کا حکم جماعت نے مختل العقل بتایا ۔ لہٰذا اس کو بیمارستان میں بھیج دیا گیا ۔

نوٹ ! یہ حدیث بہت صفائی سے اعلان کر رہی ہے کہ آپؐ کے منصب کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا نہ کیا جائے گا ۔ ماہیت نبوۃ منقطع ہو چکی آپؐ کے بعد کسی میں حقیقت نبوت نہیں پائی جاسکتی ۔

بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب ابی حفص عمر بن خطاب) “ ﴿ حضور ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن الخطاب ہوتے ۔ ﴾ نوٹ ! لفظ لو عربی زبان میں اس لئے آتا ہے کہ شرط کے موجود نہ ہونے سے مشروط بھی موجود نہ ہو ۔ یعنی چونکہ خداوند عالم نے مجھ کو خاتم النبیین کیا ہے ۔ اب کسی کو میرے منصب کے بعد منصب نبوت نہیں مل سکتا ۔ اسلئے عمرؓ نبی نہیں ہو سکتے ۔ ورنہ عمرؓ اس منصب کے قابل ہیں ۔ امت محمدیہ ﷺ کمالات نبوت سے اس قدر مالا مال ہے کہ تمام پہلی امتوں سے بہت آگے ہے ۔ چنانچہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن امم سابقہ ہمارا احترام کریں گی اور کہیں گی ۔ ”تقول الامم كادت هذه الامة ان تكونوا انبياء كلها (مسند ابوداود طيالسی ج ٤ ص ٤٣٢ حديث نمبر ٢٨٣٤ ) “ ﴿یعنی یہ امت تو سب کے سب باعتبار کمالات نبوت انبیاء ہونے کے قریب ہیں ۔ ﴾ لیکن چونکہ منصب نبوت منقطع ہو چکا تھا ۔ لہٰذا کسی کو عہدہ نبوت نہیں ملا اور حضور ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت کا نہ ملنا حضور ﷺ کی شان کو بڑھاتا ہے کہ قیامت تک حضور ﷺ ہی صاحب الزمان رسول ﷺ ہیں اور امت کے لئے فخر ہے کہ آپؐ کی کمال اتباع میں سواء منصب نبوت وہبی کے سب ہی کمالات کسبیہ کو حاصل کر لیتا ہے جو اور کسی کی اتباع میں حاصل نہیں کر سکتا ۔

الذى ليس بعدى نبى (ترمذى ج ٢ ص ١١١ باب ماجاء تغير الاسماء، وفى البخارى ج ١ ص ٥٠١ باب ماجاء فى اسماء رسول الله ﷺ ، انا العاقب وفى المسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فى اسمائه ﷺ ، ليس بعده نبى ) “ ﴿ حضور ﷺ نے فرمایا میں عاقب ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور بخاری میں ہے کہ میں عاقب ہوں اور مسلم کی روایت یوں ہے کہ میں عاقب ہوں اور عاقب وہ نبی ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ﴾

صفحہ ٣٨

الانبياء وانتم أخر الامم (ابن ماجه ص ٢٩٧ باب فتنة الدجال فی حدیث طویل )“ ﴿حضور ﷺ نے فرمایا میں آخر الانبیاء ہوں اور تم آخر الامم ہو۔﴾ نوٹ ! اس حدیث میں کس وضاحت سے حضور ﷺ نے اعلان فرمایا ہے کہ میں سب سے آخر نبی ہوں میرے بعد کسی کو منصب نبوت نہیں ملے گا اور تم آخری امت ہو تمہارے بعد کوئی اور امت نہ ہوگی۔ پس سلسلہ منصب نبوت ختم ہو گیا۔

اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح الآية قال كنت اوّل النبيين في الخلق واخرهم فی البعث (رواه ابن ابی حاتم وابن مردویه وابو نعيم في الدلائل ص ٤٢ حدیث نمبر ٣ ، والدیلمی وابن عساکر وابن ابی شيبه وابن جرير وابن سعد، تفسير ابن كثير ج ٦ ص ٣٤٢ ، و درمنثور ج ٥ ص ١٨٤ ، کنز العمال ج ١١ ص ٢٥٢ حديث ٣٢١٢٦)“ ﴿ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے آیت اذ اخذنا من النبيين میثاقهم کی تفسیر میں فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں باعتبار اصل خلقت کے تو پہلا نبی ہوں اور بعثت میں سب سے آخر میں ہوں۔ ﴾

آدم وأخرهم محمد (رواه ابن حبان في صحيحه وتاريخه سنه ١٠ه وابونعیم فی الحلية وابن عساكر والحكيم الترمذى از كنز العمال ج ١١ ص ٤٨٠ حديث نمبر ٣٢٢٦٩)“ ﴿ ابوذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذرؓ نبیوں میں سب سے پہلا نبی آدم علیہ السلام ہے اور سب سے آخری نبی محمد ہے۔﴾

نبی ولا رسول بعدی ولكن بقيت المبشرات قالوا اما المبشرات قال رؤيا المسلمين جزء من اجزاء النبوة (اخرجه ابو یعلی فتح الباری شرح صحيح بخاری ج ١٢ ص ٣٣٢ باب المبشرات )“ ﴿ انسؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی میرے بعد نہ کوئی نبی ہو سکتا ہے نہ رسول لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا مبشرات کیا ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کا خواب جو کہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہیں۔ ﴾

صفحہ ٣٩

نوٹ ! اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبوت اور رسالت کی حقیقت منقطع ہوگئی اور نبوت کی حقیقت کے اجزاء میں سے ایک جز باقی ہے اس میں الہام و کشف تام و مبشرات مادون وحی نبوت سب داخل ہیں۔ کیونکہ وحی نبوت کے مقابلے میں یہ سب بمنزلہ خواب کے ہیں اور نیز الہام وغیرہ اکثر غنودگی کی حالت میں ہوتے ہیں اور باتفاق عقلاء تا وقت یہ کہ کسی شئے کی حقیقت کے تمام اجزاء موجود نہ ہوں وہ حقیقت موجود نہیں ہو سکتی۔ صرف کسی ایک جز کے پائے جانے سے کل نہیں پایا جاسکتا۔ تلك عشرة كاملة !

تنبیہ! بوجہ اختصار میں نے دس حدیثیں پیش کی ہیں اور ایک حدیث صحیح مسلم نمبر ٢ کے ضمن میں آگے ورنہ ختم نبوت میں چونسٹھ صحابہؓ سے تقریباً ١١٥٠ احادیث مروی ہیں۔

عقیدہ ختم نبوت جزو ایمان اور کلمہ شہادت کا جزو ہے

الله ﷺ زید بن حارثہؓ) میں زید بن حارثہؓ سے روایت کیا ہے ۔ ” عن زيد بن حارثة في قصة طويلة له حين جاء ت عشيرته يطلبونه من عندرسول الله ﷺ بعد ما اسلم فقالو اله امض معنا يازيد فقال مااريد برسول الله ﷺ بدلا ولا غيره احد فقالوا يا محمد انا معطوك بهذا الغلام دياتٍ فسئل ماشئت فانا حاملوه اليك فقال اسألكم ان تشهدوا ان له اله الا الله وانى خاتم انبيائه ورسله وارسله معكم “ ﴿ حضرت زید بن حارثہؓ اپنے اسلام لانے کا ایک طویل اور دلچسپ قصہ بیان فرما کر آخر میں فرماتے ہیں کہ جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں آ کر مسلمان ہو گیا تو میرا قبیلہ مجھے تلاش کرتا ہوا حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچا۔ مجھے کہا اے زید ہمارے ساتھ چلو۔ میں نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بدلہ میں کسی چیز کا ارادہ نہیں رکھتا ہوں۔ پھر انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اے محمد ﷺ ! ہم آپ کو اس لڑکے کے بدلہ میں بہت سی دیتیں یعنی اموال دینے کو تیار ہیں۔ جو چاہیں فرما دیجئے ہم ادا کریں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہوں وہ یہ ہے شہادت دو اس کی کہ اللہ کے سوا کوئی پوجا عبادت کے لائق نہیں اور میں سب نبیوں اور رسولوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ اس کے بعد میں اس لڑکے کو تمہارے ساتھ کر دوں گا۔ ﴾

نوٹ ! دیکھئے آنحضرت ﷺ نے عقیدہ ختم نبوت کو کلمہ شہادت میں داخل فرما کر ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔

صفحہ ٤٠

فیقول المیت الاسلام دینی ومحمد نبیی وهو خاتم النبیین فیقولان له صدقت (رواہ ابن ابی الدنیا وابویعلی تفسیر درمنثور ج ٦ ص ١٦٠) “ حضرت تمیم داریؒ ایک طویل حدیث کے ذیل میں سوال قبر کے بارے میں روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ منکر نکیر کے جواب میں مسلمان کہے گا کہ میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمدﷺ ہیں اور وہ خاتم النبیین ہیں۔ منکر نکیر یہ سن کر یہ کہیں گے کہ تو نے سچ کہا۔﴾

نوٹ! اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ عقیدہ ختم نبوت ایمان کا اس قدر اہم جزو ہے کہ قبر کے مختصر سے جواب میں بھی اس کی شہادت دی جاتی ہے۔ خود مرزا محمود قادیانی نے (فہرست حقیقت النبوۃ ص ٢٥٢) میں لکھا ہے کہ ”ہم آنحضرتﷺ کے خاتم النبیین ہونے کو جزو ایمان قرار دیتے ہیں ۔“

مرزا قادیانی کا قبل دعوٰی نبوت کے خود بروئے قرآن وحدیث یہی عقیدہ تھا کہ حضورﷺ آخر الانبیاء ہیں۔ آپ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آسکتا۔

وخاتم النبیین یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا ۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

”قرآن کریم کے بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٧١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)

”میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرتﷺ آدم صفی اللہ علیہ السلام سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)

ہمارے نبیﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا ہو۔“

(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

وماکان ان یحدث سلسلۃ النبوۃ بعد انقطاعها “ ہمارے نبی خاتم النبیین کے بعد اللہ تعالیٰ ہرگز کوئی نبی نہیں بھیجے گا اور بعد انقطاع نبوت کے پھر سلسلہ نبوت کو جاری نہ کرے گا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

صفحہ ٤٠

وخاتم النبيين . الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمى نبينا ﷺ خاتم الانبياء بغير استثناء وفسر نبينا في قوله لا نبي بعدي ببيان واضح للطالبين ولو جوزنا ظهور نبى بعد نبينا ﷺ لجوزنا انفتاح باب النبوة بعد تغليقها وهذا خلف كما لا يخفى على المسلمين وكيف يجيئ نبي بعد رسولنا ﷺ وقد انقطع الوحي بعد وفاته وختم الله به النبيين"

(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

ہم نے محمد ﷺ کو کسی مرد کا باپ نہیں بنایا۔ ہاں وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرت ﷺ نے طالبوں کے لئے بیان واضح سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اگر ہم آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ وحی نبوت کے دروازے کا افتتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی کیوں کر آئے۔ حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہوگئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا ہے۔“

اور نہ سلسلہ وحی نبوت کا منقطع متصور ہوسکتا ہے اور اس میں آنحضرت ﷺ کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن کریم میں مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کریم کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہوچکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢، ٣٩٣)

نوٹ ! مرزا قادیانی کے ١٩٠٠ء سے پہلے کے اقوال آئندہ صفحات میں ملاحظہ ہوں۔ اگرچہ قرآن کریم کی آیت اور احادیث متواترہ نبی ﷺ اور کتب لغت اور عام محاورہ عرب اور آئمہ تفسیر کی تفسیروں اور خود مرزا قادیانی کی تحریروں سے مسئلہ ختم نبوت ایسا روشن اور واضح ہے کہ کسی سلیم الطبع انسان کو وہم اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی مرزا قادیانی نے

”عن تميم الدارى فى حديث طويل فى سوال القبر الاسلام ديني ومحمد نبيي وهو خاتم النبيين فيقولان له من ابى الدنيا وابويعلى تفسير درمنثور ج ٦ ص ١٦٥)“ حضرت تمیم حدیث کے ذیل میں سوال قبر کے بارے میں روایت فرماتے ہیں کہ نبی کہ منکر نکیر کے جواب میں مسلمان کہے گا کہ میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی خاتم النبیین ہیں۔ منکر نکیر یہ سن کر یہ کہیں گے کہ تو نے سچ کہا۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ عقیدہ ختم نبوت ایمان کا اس قدر اہم جزو کے جواب میں بھی اس کی شہادت دی جاتی ہے۔ خود مرزا محمود قادیانی نے ص ٢٥٢) میں لکھا ہے کہ ”ہم آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کو جزو “ قادیانی کا قبل دعویٰ نبوت کے خود بروئے قرآن وحدیث یہی عقیدہ تھا کہ ہیں۔ آپ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آسکتا۔

”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله نبی ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

کریم کے بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول

(ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١)

ماننا ہے کہ وحی رسالت حضرت ﷺ آدم صفی اللہ علیہ السلام سے شروع ہوئی مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١)

”اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا

(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

”ماكان الله ان يرسل نبياً بعد نبينا خاتم النبيين سلسلة النبوة بعد انقطاعها “ ہمارے نبی خاتم النبیین کے بعد رسول بھیجے گا اور بعد انقطاع نبوت کے پھر سلسلہ نبوت کو جاری نہ کرے گا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

صفحہ ٤٢

دعویٰ نبوت کے بعد اپنی نبوت سیدھی کرنے کے لئے آیات قرآنی و احادیث نبوی میں قواعد لغت کے خلاف تحریف پر زور مار کر عوام کے قلوب میں وسوسے ڈالنے چاہے اور مرزائیوں نے اس پر اور حاشیے چڑھائے۔

وسوسہ اوّل

مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠ حاشیہ، حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) وغیرہ میں خاتم النبیین کے یہ معنی قرار دئے ہیں کہ آپ کی مہر و تصدیق سے انبیاء بنیں گے۔

جواب: آزادی کا زمانہ ہے ہر بددین کے ہاتھ میں قلم ہے۔ ایک شخص اٹھتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت کے معنی قواعد لغت کے خلاف خود تصریحات قرآن کے خلاف ڈیڑھ سو احادیث کے خلاف صحابہؓ و تابعین و آئمہ تفسیر کے خلاف علی الاعلان بیان کرتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ قرآن کی یہ مہمل تحریف کون سی لغت کے مطابق ہے۔ کس حدیث سے ثابت ہے۔ کس صحابیؓ کا قول ہے؟۔ اگر مرزا قادیانی اور ان کی امت کو کچھ غیرت ہے تو لغت عرب اور قواعد عربیت سے ثابت کریں کہ خاتم النبیین ﷺ کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔ کلام عرب میں صرف ایک ہی نظیر پیش کر دیں یا کسی ایک لغوی اہل عربیت کے قول میں یہ معنی دکھلا دیں اور یقیناً اس کی ایک نظیر کلام عرب یا اقوال لغویین میں نہ دکھلا سکیں گے۔ لفظ خاتم النبیین کے معنی کی تحقیق گزر چکی وہاں ملاحظہ ہو۔ پس خاتم النبیین کے وہ نئے معنی جو مرزا قادیانی نے خود وضع کئے ہیں۔ محاورات عرب کے بالکل خلاف ہیں۔ ورنہ لازم آئے گا کہ خاتم القوم کے بھی یہ معنی ہوں کہ اس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور خاتم الاولاد کے یہ معنی ہوں گے کہ اس کی مہر سے اولاد بنتی ہے اور ختم اللہ علی قلوبهم کے معنی بالکل مہمل ہوں گے۔ غرض جو معنی مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کے سیدھا کرنے کی دھن میں بیان کئے عرب میں ہرگز ہرگز مستعمل نہیں۔ خود مرزا قادیانی کا وسوسہ ہے اور بس تفسیر (ابن جریر ج ٢٢ ص ١٦) زیر آیت ماکان محمد ...... الخ! میں حضرت قتادہؓ سے خاتم النبیین کی تفسیر یہ منقول ہے۔ ”عن قتادة ولکن رسول الله وخاتم النبیین . ای آخرهم“ اور ١١٥ احادیث میں اس لفظ کی یہی تفسیر فرمائی گئی ہے۔ بعض مرزائی لکھتے ہیں کہ: ”خاتم النبیین بمعنی مصدّق النبیین یعنی تمام انبیاء کی نبوتیں حضور ﷺ کی تصدیق پر موقوف ہیں۔ (بخاری شریف ج ٢ ص ٨٧٣ باب اتخاذ الخاتم لیختم بہ ) میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے عجمیوں کی طرف تبلیغی خطوط روانہ فرمانے کا ارادہ فرمایا تو بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ

صفحہ ٤٣

جو کتاب مختوم نہ ہو اعاجم اس کو نہیں پڑھتے تو آپ نے ایک انگوٹھی پر مہر کندہ کروائی ۔“

جواب : خاتم القوم کے معنی مصدق القوم کسی لغت عربی میں نہیں ہیں اور نہ کسی صحابیؓ کی تفسیر کما مر فیما سبق اور حدیث مذکورہ سے استشہاد بھی عجیب اور مضحکہ ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں یہ عجمیوں کا دستور بتلایا گیا ہے نہ اہل عرب کا۔ لہٰذا عربیت میں کیسے حجت ہو سکتا ہے؟ ۔ اور نیز ہر نبی اپنے سے پہلے کا مصدق ہوتا ہے اور آنے والے کے لئے مبشر۔ جیسے کہ قرآن کریم کی آیات سے ظاہر و باہر ہے کہ چونکہ حضور ﷺ بلا استثناء جمیع انبیاء کے مصدق ہیں اور کسی آنے والے نبی کے لئے مبشر نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ کا آخر الانبیاء ہونا اس معنی سے بھی اظہر من الشمس ہے۔ لغت کے خلاف اعاجم کا دستور لے کر معنی بھی کئے تو وہ بھی خلاف مدعا۔

وسوسہ دوم

خاتم النبیین کے معنی تو آخر النبیین ہی کے ہیں۔ لیکن اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنے سے پہلے نبیوں کے ختم کرنے والے۔

جواب : اگر یہ صورت اختیار کی جائے کہ اپنے سے پہلے نبیوں کے خاتم ، تو ہر نبی آدم علیہ السلام کے علاوہ اپنے سے پہلے انبیاء کا خاتم اور آخر ہے۔ تو خاتم النبیین حضور ﷺ کا وصف مخصوص نہ رہا حالانکہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے تمام انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ان میں سے دو یہ ہیں۔ ” وارسلت الى الخلق كافة وختم بي النبيون (مسلم ج ١ ص ١٩٩ کتاب المساجد ) “ ، یعنی میں تمام خلق کی طرف رسول کر کے بھیجا گیا ہوں اور نبیوں کا سلسلہ مج مجھ پر ختم کر دیا گیا۔ غرض یہ تحریف بھی نصوص صریحہ قرآن اور احادیث اور تفاسیر سلف کے خلاف ہے۔

وسوسہ سوم

خاتم النبیین کے معنی تو آخر النبیین ہی کے ہیں۔ لیکن النبیین میں الف لام عہد کا ہے نہ استغراق کا، معنی یہ ہوں گے کہ آپ انبیاء صاحب شریعت جدیدہ کے آخر ہیں نہ کل نبیوں کے آخر ۔

جواب : اگر الف لام عہد کا ہے تو معہود کلام سابق میں مذکور ہونا چاہئے اور کلام سابق میں خاص انبیاء تشریعی کا کہیں ذکر نہیں بلکہ اگر ذکر آیا ہے تو مطلق انبیاء کا ذکر ہے۔ ہاں نئے قرآن میں جس کی ایک آیت ’انا انزلناه قريباً من القادیان‘ اس میں ہو تو ہو۔ ورنہ نبی عربی ﷺ نے جو قرآن امت کو دیا ہے اس میں اس معہود کا کہیں پتہ نہیں۔

( تذکرہ ص ٧٥ )

صفحہ ٤٤

وسوسہ چہارم

خاتم النبیین میں الف لام استغراق عرفی کے لئے ہے۔ استغراق حقیقی کے لئے نہیں معنی یہ ہیں کہ آپ جمیع انبیاء تشریعی کو ختم کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ آیت ويقتلون النبيين میں استغراق عرفی ہے نہ حقیقی۔

جواب: باتفاق علماء عربیت و اصول استغراق عرفی اس وقت مراد ہوتا ہے کہ جب کہ استغراق حقیقی نہ بن سکتا ہو۔ یا عرفاً اس کے تمام افراد مراد نہ ہو سکتے ہوں اور یہاں استغراق حقیقی بلا تکلف صحیح ہے کہ آپ تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ لہٰذا استغراق حقیقی متعین ہے اور آیت یقتلون النبیین میں کھلی ہوئی بات ہے کہ استغراق حقیقی کے لئے کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ بالکل کذب محض اور غلط خلاف واقع ہو گا کہ بنی اسرائیل نے تمام انبیاء کو جو ان سے پہلے گزر گئے تھے اور جو ان کے زمانہ میں موجود تھے اور جو ان کے بعد آئیں گے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کو بھی انہوں نے قتل کیا بلکہ یہ بھی ثابت نہیں کہ بنی اسرائیل نے اپنے زمانہ کے تمام انبیاء موجودین کو بلا استثناء قتل ہی کر ڈالا ہو۔ قرآن عزیز ناطق ہے۔ ”ففريقاً كذبتم وفريقاً تقتلون (بقره:٨٧)“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے تمام انبیاء موجودین کو بھی قتل نہیں کیا۔ غرض اس آیت میں استغراق حقیقی کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا اور آیت خاتم النبیین میں بلا تکلف صحیح ہے۔

وسوسہ پنجم

ابھی آپ نے (حقیقت الوحی ص ٢٨ و ٩٧ ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠ و ١٠٠) کے حوالہ سے مرزا قادیانی کے آیت خاتم النبیین کے متعلق یہ معنی معلوم کر چکے کہ آپ کی مہر اور تصدیق سے انبیاء بنتے ہیں۔ آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت مل سکتی ہے۔

جواب: اب ہم مرزا قادیانی کا اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ جس میں وہ خاتم النبیین کے معنی انبیاء اور نبوت پر مہر کرنے والا تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ” میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد کے ہونے کے ہے نہ میرے نفس کی رو سے اور یہ مقام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا۔ لہٰذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا ...... لیکن اگر کوئی شخص اس خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد

صفحہ ٤٥

ین میں الف لام استغراق عرفی کے لئے ہے۔ استغراق حقیقی کے لئے نہیں ج انبیاء تشریعی کو ختم کرنے والے ہیں۔ جیسا کہ آیت ويقتلون النبيين ہے نہ حقیقی۔ بِاتفاق علماء عربیت و اصول استغراق عرفی اس وقت مراد ہوتا ہے کہ جب نا سکتا ہو۔ یا عرفاً اس کے تمام افراد مراد نہ ہو سکتے ہوں اور یہاں استغراق کہ آپ تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ لہذا استغراق حقیقی متعین نبیین میں کھلی ہوئی بات ہے کہ استغراق حقیقی کے لئے کسی طرح نہیں ں اور خلط خلاف واقع ہوگا کہ بنی اسرائیل نے تمام انبیاء کو جو ان سے ان کے زمانہ میں موجود تھے اور جو ان کے بعد آئیں گے۔ یہاں تک وں نے قتل کیا بلکہ یہ بھی ثابت نہیں کہ بنی اسرائیل نے اپنے زمانہ کے ا استثناء قبل ہی کر ڈالا ہو۔ قرآن عزیز ناطق ہے۔ ”ففريقاً كذبتم (بقرہ:٨٧) ”جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے تمام انبیاء ا کیا۔ غرض اس آیت میں استغراق حقیقی کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا اور ا تکلف صحیح ہے۔

نے (حقیقت الوحی ص ٢٨ و ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠ و ١٠٠) کے حوالہ سے تم النبیین کے متعلق یہ معنی معلوم کر چکے کہ آپ کی مہر اور تصدیق سے انبیاء عانی نبی تراش ہے۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت مل سکتی ہے۔ ہم مرزا قادیانی کا اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ناظرین کے سامنے پیش ہ خاتم النبیین کے معنی انبیاء اور نبوت پر مہر کرنے والا تسلیم کرتے ہوئے اور رسالت باعتبار محمد اور احمد کے ہونے کے ہے نہ میرے نفس کی رو سے سول مجھے ملا۔ لہذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا ...... لیکن اگر کوئی ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور چہرہ کا انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد

ہے۔ گو ظلی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ہے۔ پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا۔ کیونکہ محمد ثانی اسی محمدﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔“

(اشتہار: ١، ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨، ٢٠٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٣، ٤٣٤)

”جب کہ بروزی طور پر میں آنحضرت ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوں جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا...... کیونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیوں کہ محمدﷺ کی نبوت محمدﷺ تک ہی محدود رہی ...... اس کے یہ معنی ہیں کہ محمدﷺ کی نبوت آخر محمدﷺ ہی کو ملی۔ گو بروزی طور پر ...... تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی ...... میں بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے ...... میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیٰﷺ ہے ...... اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیوں کہ نبوت پر مہر ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨ تا ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢ تا ٢١٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٧ تا ٤٤٢)

نوٹ ! اگر خاتم النبیین کے یہ معنی تھے کہ آپ کی مہر سے انبیاء بنتے تھے تو کسی نبی کے آنے سے مہر ٹوٹنے کا خطرہ کیوں ہے؟۔ بلکہ پھر تو جتنے زیادہ انبیاء پیدا ہوں اس مہر کا کمال ظاہر ہونا چاہئے نہ یہ کہ مہر ٹوٹنے کا خطرہ کی وجہ سے آنے والے نبی کو وہ بھی صرف ایک مرزا قادیانی ہی کو ظلی محمد ہونا ہی ضروری ہو۔ مگر افسوس احادیث کے دفتر میں سے ایک ضعیف سے ضعیف حدیث بھی نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ امت میں کوئی ظلی بروزی نبی ہوگا اور اس پر ایمان لانے کی تاکید فرمائی ہو۔ بلکہ اس امت میں مدعیانِ نبوت کو دجالین میں شمار فرمایا ہے۔ مرزا قادیانی (فتح الاسلام ص ٤٦، خزائن ج ٣ ص ٢١) میں لکھتے ہیں۔ ”آنحضرتﷺ کی جماعت عضو واحد کی طرح ہو گئے تھے ...... ان کے روزانہ برتاؤ اور زندگی اور ظاہر اور باطن میں انوارِ نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا

؎١ ”خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی اور رسولﷺ رکھا ہے اور کہیں ظلی اور بروزی نبی کہا۔ پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریریں جن میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے اور جو نبیوں کی شان ہے۔ اس کو ان الہامات کے ماتحت کریں گے“

(اخبار الحکم قادیان ٢١؍ اپریل ١٩١٤ء منقول از مسیح احمدی مشنری ایسوسی ایشن لاہور ہینڈ بل نمبر ٢ ص ٣)

صفحہ ٤٦

وہ آنحضرتﷺ کی عکسی تصویریں تھے۔“ اور (ایام الصلح ص ٣٥، خزائن ج ١٤ص٢٦٥) میں لکھتے ہیں۔ ”کیوں کہ حضرت عمرؓ کا وجود ظلی طور پر گویا آنحضرتﷺ کا ہی وجود تھا“ اور مرزا قادیانی نے (ازالہ ص ٢٦٢، خزائن ج ٣ ص٢٣٢) میں ”ابن حزم کو فانی الرسول متحد محض کہ حضورﷺ کے وجود میں غائب ہو گئے تھے بتلایا ہے۔“ جب باقرار مرزا قادیانی بعض صحابہ کرامؓ فانی الرسول اور عکسی تصویریں اور ظلی محمد تھے تو پھر کیا وجہ تھی کہ وہ آپؐ کے فیضان سے نبی نہیں بنے۔ دراصل مرزا قادیانی کی یہ اختراع شدہ ظلی نبوت کوئی معمولی اور گھٹیا نبوت نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے نبوت کی ایک ایسی قسم ایجاد کی ہے کہ نبوت میں مرزا قادیانی سب انبیاء سابقین سے علاوہ حضورﷺ کے بڑھ کر اور افضل ہیں۔ دیکھو (الحکم ٢٤؍اپریل ١٩٠٢ء ص ٧، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠) پر۔

مسیح موعود کہتے ہیں۔ ”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریمﷺ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے۔ اس لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے...... پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کی خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔“

(منقول از قول فیصل ص ٦)

اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمام انبیاء بھی حضورﷺ کے خاص خاص صفات میں ظل تھے۔ مگر مرزا قادیانی ان سب سے بڑھ کر اور افضل ہیں کہ حضورﷺ کے تمام ہی صفات میں ظل کامل اور وجود اور نبوت میں متحد محض ہیں۔ جیسا کہ وہ اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں لکھ چکے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ تو سینکڑوں وحیوں میں مرزا قادیانی کو مطلق نبی اور رسول کہہ کر پکارے۔ کہیں بروزی ظلی کی قید نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی ایچ پیچ لگا کر کام نکالتے ہیں۔

(حقیقت الوحی ص ١٥، خزائن ج ٢٢ص ١٧) میں لکھتے ہیں۔ ”اسی طرح جس کو شعلہ محبت الٰہی سر سے پیر تک اپنے اندر لیتا ہے۔ وہ مظہر تجلیات الٰہیہ ہو جاتا ہے۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے بلکہ ایک بندہ ہے۔ پس اسی طرح اگر کوئی فانی الرسول مظہر تجلیات نبوت کا مدعی ہو۔ وہ اپنے فرضی اصطلاح پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نبی ہے۔ بلکہ محض ایک امتی ہے۔“

پھر (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں لکھتے ہیں۔ ”اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں...... نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا دوسرے تمام (اولیاء ابدالؒ واقطابؒ جو پہلے گزر چکے) اس نام کے مستحق نہیں۔“ کثرت کی تعداد معلوم ہونی چاہئے۔ ایسا دعویٰ مجہول پھر قرآن وحدیث سے ثبوت کہ

صفحہ ٤٧

اتنی تعداد حاصل ہو جانے پر نبی بنتا ہے۔ مگر افسوس حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو حضور ﷺ نے دجال فرمایا ہے۔ علاوہ اس کے مرزا قادیانی (براہین احمدیہ حاشیہ نمبر ١١ ص ٥٢١، خزائن ج١ ص ٦٤٧) میں لکھ چکے ہیں ۔ ”حضرت خاتم الانبیاء کے ادنیٰ خادموں اور کمترین چاکروں سے ہزارہا پیش گوئیاں ظہور میں آتی ہیں اور خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے ہیں۔“ پھر کیا وجہ ہوئی کہ حضور ﷺ کے بڑے بڑے خادم جن سے نہ معلوم کس قدر پیش گوئیاں اور خوارق عجیبہ ظاہر ہوئے ہوں گے۔ نبی نہ بنائے گئے ۔

(حقیقۃ الوحی ص ٩٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) میں لکھتے ہیں ۔ ” بنی اسرائیل میں اگر چہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔ اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ۔ بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا۔“ اور (شہادۃ القرآن ص ٢٦، خزائن ج ٦ ص ٣٢٤) میں لکھتے ہیں ۔ ”بہت سے ایسے نبی گذرے ہیں۔ جو کوئی نئی شریعت نہیں لائے بلکہ توریت کے مطابق ہی وہ فیصلہ کیا کرتے تھے اور ان کا کام توریت کو منسوخ کرنا نہ تھا۔ بلکہ اس کی نگرانی اور حفاظت تھا۔

(ملخصاً از حقیقت النبوت ص ٥٩، ٨٠)

جب صحابہ کرام خصوصاً حضرت عمرؓ فانی الرسول اور عکسی تصویریں اور ظلی محمد ﷺ تھے اور ادنیٰ خادموں سے ہزار ہا پیشین گوئیاں اور خوارق عجیبہ ظاہر ہوتے تھے تو پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ساتھ بطور نتیجہ کیوں مبعوث نہیں کیا؟ ۔ اگر صرف یہ جواب ہے کہ اللہ جس کو چاہے اپنی رسالت کے لئے انتخاب کرے تو یہ تو براہ راست نبوت حاصل ہونے کے معنی ہیں کہ جس کو چاہے اپنا نبی اور رسول بنائے ۔ اعطائے رسالت کے لئے ظل ہونا علت موجبہ نہیں رہا اور نہ رسالت کامل پیروی کا نتیجہ ہے اور نہ اس کو کچھ دخل اور نیز یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ انبیاء بنی اسرائیل کی نبوت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا ورنہ کیا وہ قبل اعطاء نبوت مشرک تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر اور ان کی شریعت پر ایمان نہ رکھتے تھے۔ اس پر عمل نہ کرتے تھے؟ ۔ خصوصاً ہارون علیہ السلام کی نبوت جو موسیٰ علیہ السلام کی پیروی واطاعت اور ان کی دعا سے خداوند عالم نے عطاء

میں تعمیم و تخصیص و ترمیم یعنی نسخ جزئی کیا کرتے تھے۔

صفحہ ٤٨

فرمائی تھی۔ ”واجعل لی وزیرا من اھلی ھارون اخی (طہ: ٢٩ ، ٣٠)“ ”واشرکہ فی امری (طہ: ٣٢)“ جبکہ بہت سے انبیاء بنی اسرائیل غیر تشریعی پہلے نبی تشریعی کی شریعت پر عمل کرتے تھے تو ان کو نبی امتی کیوں نہ کہا جائے۔ امتی کے تو معنی یہی ہیں کہ کسی نبی کی شریعت پر عمل کرتا ہو۔ خصوصاً ہارون علیہ السلام جو موسیٰ علیہ السلام کے واسطہ اور دعا سے نبی بنائے گئے۔ اگر اس کے خلاف کچھ اور معنی ہیں تو قرآن وحدیث سے پتہ ملنا چاہئے۔ مگر افسوس حدیث ”یاعلی! انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی (مسلم ج ٢ ص ٢٧٨، باب من فضائل علی ابن ابی طالب) “ سے یہ توقع بھی جاتی رہی۔ دوسرے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے ایسی نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے کسی نبی میں ایسی نبوت نہیں پائی جاتی۔ اب سنئے مرزا قادیانی ہی کا یہ ایک قاعدہ مسلمہ ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤١ خزائن ج ١٧ ص ٩٥) میں ہے۔ ”سچ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی۔“ اور اسی صفحہ میں ہے۔ ”یہ مسلم مسئلہ ہے کہ بجز خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء کے افعال اور صفات نظیر رکھتے ہیں تاکہ کسی نبی کی کوئی خصوصیت مختص بشرک نہ ہو جائے ۔“ تیسرے جب یہ منصب نبوت حضورﷺ کی اتباع کامل پیروی اور فنا فی الرسول ہونے کا نتیجہ ہے تو یہ منصب نبوت کسبی ہوگا نہ موہبی۔ حالانکہ ادھر مرزا قادیانی کو اپنے اس منصب نبوت کے موہبی ہونے کا دعویٰ ہے۔ چنانچہ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، حقیقت النبوت ص ٢٦٤) میں لکھتے ہیں۔ ”نبوت صرف موہبت ہے۔“ اور (حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) میں ہے۔ ”خدا تعالیٰ نے مجھے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر ہی میں مجھے عطاء کی گئی ہے۔“ اور (ص ٦٢، خزائن ج ٢٢ ص ٦٤) میں ہے۔ ”سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کثیر حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔“ پس جب محض خدا تعالیٰ کے فضل سے شکم مادر میں ہی یہ نعمت نبوت ملی ہے تو بے شک مرزا قادیانی نے اپنے لئے ایسی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جو براہ راست منصب نبوت خدا کی موہبت ہے۔

(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ١٣٨، ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦) میں لکھتے ہیں۔ ”وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے۔ ...... سو ایک امتی کو اس طرح

صفحہ ٤٩

کا نبی بنانا سچے دین کی ایک لازمی نشانی ہے۔ پس مرزا قادیانی کے نزدیک یا تو سارے ادیان سماویہ معاذ اللہ لعنتی ٹھہرے یا جمیع انبیاء کو صاحب خاتم مانا جائے۔ (اشتہار ٥؍مارچ ١٩٠٨ء بدر ج ٧ نمبر ٩ ص ٢، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں لکھتے ہیں ۔ ”جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧) میں ہے۔ ”اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں یعنی نبوت پانے کے لئے۔“ اور اسی صفحہ میں ہے۔ ”تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا وہ پیش گوئی پوری ہو جائے۔“ تو کیا ایک ہی فرد سے سلسلہ قائم ہو گیا۔ بدیں اعتبار تو اس دین سے پہلے ادیان اچھے اور یہی دین مردہ ہے پہلے ادیان کے متبع ہزاروں نبی ہوئے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) میں ہے۔ ”صرف میری مراد نبوت سے کثرت مکالمہ و مخاطبت الہیہ ہے۔ جو آنحضرت ﷺ کے اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس صرف یہ لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی جس امر کا نام آپ لوگ مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں ۔ ”ولکل ان یصطلح“ مذکور (بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں ہے۔ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدائے تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ و مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت اور کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بہت کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔“ اور (الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٧) میں لکھتے ہیں۔ ”ما نعنی من النبوة ما یعنى فى الصحف الاولى“ ”یعنی نبوت سے مراد وہ نبوت نہیں لیتا جو پہلی کتابوں قرآن وحدیث وغیرہ میں مراد لیا جاتا ہے۔“

(کما فی تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

ان اقوال میں مرزا قادیانی نے طوعاً وکرہاً تسلیم کر لیا کہ میری نبوت کا ثبوت محض میری اصطلاح ہے۔ قرآن و حدیث و کتب سابقہ میں اس کا کچھ پتہ نہیں۔ قرآن وحدیث سے جو ثبوت پیش کر دیا جاتا ہے وہ جاہلوں کو دام تزویر میں پھانسنے کے لئے محض ڈھکوسلا ہے۔ جب آپ کی یہ نبوت محض آپ کی ایک اصطلاح اور نزاع لفظی ہے اور وہ نبوت مراد نہیں جو قرآن و حدیث اور دیگر کتب سماویہ میں مذکور ہے تو پھر اپنی نبوت کیوں منوائی جاتی ہے۔ آپ کے نبی نہ ماننے والوں کو

صفحہ ٥٠

کافر کیوں بنایا جاتا ہے مکفر و مکذب متردد کے پیچھے نماز کیوں ناجائز و حرام بتلائی جاتی ہے اور اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں نبوت سے انکار کرنے والے کو کیوں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی ہے۔ نبوت کے اس قدر زور و شور سے کیوں دعوے کئے جاتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام پر کیوں اپنی فضیلت ظاہر کی جاتی ہے۔ بلکہ دعوٰی منصب نبوت سے آپ پر کفر لازم آتا ہے اور نیز پھر کیوں آیت خاتم النبیین کے معنی اسقدر موڑ توڑ کر بیان کئے جاتے ہیں؟۔ حالانکہ آپ نے (حقیقت الوحی ص ١٤٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٦) میں تصریح کی ہے کہ: ”ہم اس بات کے مجاز نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنی ایجاد کریں کہ جو قرآن کریم کے بیان کردہ معنوں سے مغائر اور مخالف ہوں۔“ (ملخصاً) اور آپ نے خود (ازالہ اوہام ص ٤٦٧، خزائن ج ٣ ص ٣٥٠) میں تصریح کی ہے۔ ”جو شخص الحاد کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے سیدھی راہ یہی ہے کہ قرآن کریم کے معنی اس کے مروجہ اور مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔“ اور حضور ﷺ نے فرمایا ہے ”من فسر القرآن برأيه فمقعده فی النار اوکماقال (ترمذی بمعناه ج ٢ ص ١٢٢ باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برأيه) “یعنی جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کی اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اب ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ معنے سلف سے خلف تک کسی نے اب تک بیان بھی کئے ہیں یا نہیں یقیناً نہیں کئے اور نہ اب تک اس قسم کی نبوت کا کوئی اس امت سے مدعی ہوا تو یقیناً آپ کی یہ تفسیر تفسیر بالرائے ہوئی اور آپ کا یہ دعوٰی نبوت کاذب محض اصطلاحی فرق اور لفظی نزاع کہہ دینے سے بری نہیں ہو سکتے اور بموجب حکم الٰہی نبوت کا دعوٰی کرنا یہی تو مستقل نبوت کا دعوٰی ہے۔ نزاع لفظی کیسے ہوگا اور (الوصیت ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١) میں ذکر کرتے ہیں۔ ”اور وہی (کثرت مکالمہ و مخاطبہ) دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔“ غرض مرزا قادیانی نے اپنی نبوت سیدھی کرنے کے لئے موقع اور محل دیکھ کر طرح طرح کے حیلے تراشے۔ مگر نبوت سے انکار نہیں کر سکتے۔ نبوت کو ہر طرح سے جس طرح ہو سکے ثابت کریں گے اور قرآن کریم میں یہ تحریفات رکیکہ بھی صرف اس وجہ سے کی جاتی ہیں کہ بھولے بھالے نادان مسلمانوں پر ظاہر ہو کہ مرزا قادیانی قرآن کو کلام اللہ اور محمد ﷺ کو رسول اللہ برحق جانتے ہیں۔ ورنہ ان کی یہ غرض کسی طرح بھی پوری نہیں ہو سکتی تھی۔

الغرض جیسے کہ بموجب تخلقوا باخلاق الله ! اخلاق اللہ کو حاصل کر کے خدا نہیں

صفحہ ٥١

ہے مکفر ومکذب متردد کے پیچھے نماز کیوں ناجائز وحرام بتلائی جاتی ہے اور الہام میں نبوت سے انکار کرنے والے کو کیوں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی ہے۔ نبوت بڑے کیوں دعوے کئے جاتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام پر کیوں اپنی فضیلت بلکہ دعویٰ منصب نبوت سے آپ پر کفر لازم آتا ہے اور نیز پھر کیوں آیت معنی اسقدر موڑ توڑ کر بیان کئے جاتے ہیں؟۔ حالانکہ آپ نے (حقیقت الوحی ص ١٢٦) میں تصریح کی ہے کہ: ”ہم اس بات کے مجاز نہیں کہ اپنی طرف سے رد کریں کہ جو قرآن کریم کے بیان کردہ معنوں سے مغائر اور مخالف آپ نے خود (ازالہ اوہام ص ٤٦٧، خزائن ج ٣ ص ٣٥٠) میں تصریح کی ہے۔ نہیں رکھتا اس کے لئے سیدھی راہ یہی ہے کہ قرآن کریم کے معنی اس کے کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔“ اور حضورﷺ نے فرمایا ہے برائہ فمقعده فی النار اوکماقال (ترمذی بمعناہ ج ٢ ص ١٢٣ ای یفسر القرآن برأیه) ”یعنی جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کیا ہے۔ اب ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ معنے سلف سے خلف تک کسی نے ہیں یا نہیں یقیناً نہیں کئے اور نہ اب تک اس قسم کی نبوت کا کوئی اس امت آپ کی یہ تفسیر تفسیر بالرائے ہوئی اور آپ کا یہ دعویٰ نبوت کاذبِ محض اصطلاحی دینے سے بری نہیں ہو سکتے اور بموجب حکم الٰہی نبوت کا دعویٰ کرنا یہی تو ہے۔ نزاع لفظی کیسے ہوگا اور (الوصیت ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١) میں ذکر کیا ( کثرت مکالمہ ومخاطبہ ) دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم نبیوں کا اتفاق ہے ۔“ غرض مرزا قادیانی نے اپنی نبوت سیدھی کرنے کے طرح طرح کے حیلے تراشے۔ مگر نبوت سے انکار نہیں کر سکتے ۔ نبوت کو ہر ہو سکے ثابت کریں گے اور قرآن کریم میں یہ تحریفات رکیکہ بھی صرف اس بھولے بھالے نادان مسلمانوں پر ظاہر ہو کہ مرزا قادیانی قرآن کو کلام اللہ حق جانتے ہیں ۔ ورنہ ان کی یہ غرض کسی طرح بھی پوری نہیں ہو سکتی تھی۔ کہ بموجب تخلقوا باخلاق الله ! اخلاق اللہ کو حاصل کر کے خدا نہیں

بن جاتا اور ظل اللہ فی الارض ہوکر اللہ نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح کمالات نبوت وراثتاً وظلاً حاصل کر کے نبی نہیں بن جاتا۔ کمالات نبوت کا ظلا حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ مگر نبوت ظلاً حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک بڑا مغالطہ ہے جو دیا جاتا ہے۔ کیونکہ نبوت کا ظل ہی نہیں۔ حضرت مجدد صاحبؒ (مکتوبات ج ١ ص ٢٣٦ مکتوب نمبر ٣٠١) میں فرماتے ہیں۔ ”نبوت عبارت از قرب الٰہی است کہ شائبہ ظلیت ندارد۔“ ورنہ اس امت میں بڑے بڑے محدث، مجدد، اولیاء اللہ، قطب الاقطاب، فنافی الرسل، بروز وظل کامل ہو چکے ہیں اور ہوں گے۔ مگر کسی نے دعویٰ منصب نبوت نہیں کیا اپنے منکر کو کافر نہیں بتلایا آیۂ خاتم النبیین کے معنی کسی نے اسقدر موڑ توڑ کر نہیں بیان کئے۔

وسوسہ ششم

بعض مرزائی یہ آیت پیش کیا کرتے ہیں۔ ”یٰبنیٰ آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقٰی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (اعراف: ٣٥)“ اور اس میں مخاطب امت محمدی ﷺ کو بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس امت میں بھی رسول آئیں گے۔ چنانچہ آیت ”اللہ یصطفیٰ من الملٰئکة رسلاً ومن الناس (الحج: ٧٥)“ میں مضارع یعنی مستقبل ہے ۔

جواب: اس آیت میں آدم علیہ السلام کی زبان سے تمام بنی آدم کو خطاب ہوا ہے اور حضورﷺ کو ارشاد ہوا ہے کہ اس مضمون کو بیان کرو اور اپنی امت کے معلوم کرنے کے لئے سناؤ۔ خود رسول اکرمﷺ کی امت مخاطب نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام قرآن کریم میں اس امت محمدیﷺ کو ” یٰایہا الذین امنوا (نساء: ١٣٦) “ یا قبل ہجرت ” یٰا ایہا الناس (بقرہ: ٢١) “ سے مخاطب فرماتا ہے۔ لفظ یا بنی ادم سے کبھی ہرگز خاص طور پر امت محمدیﷺ کو مخاطب نہیں فرمایا ۔ چنانچہ سورہ اعراف میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے ۔ ”اے فرزندان آدم علیہ السلام ...... الخ ! اس کے حاشیہ میں لکھا ہے ۔ ”بر زبان آدم چنانچہ در سورہ بقرہ اشارت رفت ۔“ چنانچہ یہی مضمون (سورہ بقرہ ٣٧، ٣٨) میں ہے۔ ”فتلقیٰ آدم من ربہ کلمات فتاب علیہ انہ ھو التواب الرحیم قلنا اھبطوا منھا جمیعا فاما یا تینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون “ اور اسی طرح سورہ طہ ١٢٣ میں ہے ۔ ” قال اھبطا منھا جمیعا بعضکم لبعض عدواً فاما یاتینکم

صفحہ ٥٢

منی هدى فمن تبع هدای فلا یضل ولا یشقی “ تفسیر (درمنثور ج ٣ ص٨٢) میں ہے۔ ”اخرج ابن جریر عن ابی یسار السلمی قال ان الله تبارك وتعالی جعل آدم وذريته فی کفہ فقال یابنی آدم امایا یتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایتی فمن اتقی ..... الخ!“ ﴿یعنی ابو یسار سلمی سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کی ذریتہ کو اپنے دست قدرت میں لیا اور اس آیت کا مضمون اور فرمان سنایا۔﴾

نبوت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی پھر نوح علیہ السلام کے بعد نوح علیہ السلام کی اولاد میں رکھی گئی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد پر رکھی گئی اور ان کی اولاد میں نبوت کو حصر کر دیا۔ مثل مظروف کے ظرف میں وجعلنا فی ذریتہ النبوة والکتاب ! پھر اس کے دو شعبے ہوئے۔ بنی اسرائیل جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بہت سے رسول آئے اور بنی اسماعیل اس میں صرف ہمارے رسول خاتم الانبیاء علیٰ دعوۃ ابراہیم پیدا ہوئے اور خاتم النبیین پر سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا۔ اب کوئی مغل بچہ نبی نہیں ہو سکتا۔

وسوسہ ہفتم

اور ”الله یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس (الحج: ٧٥) “ ﴿یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نبوت اور رسالت کے لئے فرشتوں اور انسانوں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔﴾ یعنی کسی کا اس میں استحقاق نہیں ہے۔ یہ نعمت محض وہبی ہے۔ کسی کے کسب پر موقوف نہیں ہے۔ یہ آیت صرف اسی مطلب کے لئے ہے۔ چونکہ کفار مکہ نے حضور ﷺ سے یہ کہا تھا کہ ہم آپ سے رسالت کے لئے زیادہ مستحق ہیں۔ ہم آپ سے عمر میں بڑے ہیں اور مال و دولت میں زیادہ ہیں۔ طاقت میں زیادہ ہیں تو کیا وجہ ہم کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ آپ کو رسول بنائے تو حضور ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہمیشہ قیامت تک رسول بنا کریں گے۔ یہ مضارع مطلق ہے۔ نبوت کو محض موہبہ ظاہر کرنے کے لئے استقبال کے معنے ہرگز نہیں۔ نہ مضارع دوامی ہے۔ جبکہ نبوت کا انقطاع قطعاً ثابت ہو چکا۔ دیگر آیات قرآنیہ سے۔

وسوسہ ہشتم

مسلمان پنجگانہ نمازوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں۔ ”اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم (فاتحہ: ٦ ، ٧) یعنی اے اللہ ! ہمیں سیدھے راستے پر چلا جو ان لوگوں کا راستہ ہے۔ جن پر تو نے انعام فرمایا ہے۔

صفحہ ٥٣

ن تبع هداى فلا يضل ولا يشقى‘‘ تفسیر (درمنثور ج ٣ ص ٨٢) میں ہے۔ جرير عن ابى يسار السلمى قال ان الله تبارک وتعالى جعل آدم نفه فقال يابنى آدم اما يأتينكم رسل منكم يقصون عليكم تى .....الخ!‘‘ یعنی ابو یسار سلمی سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کی ذریتہ کو ت میں لیا اور اس آیت کا مضمون اور فرمان سنایا۔ آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی پھر نوح علیہ السلام کے بعد نوح علیہ السلام کی پھر ابراہیم علیہ السلام کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد پر رکھی گئی اور ت کو حصر کر دیا۔ مثل مظروف کے ظرف میں وجعلنا فی ذريته النبوة ر اس کے دو شعبے ہوئے۔ بنی اسرائیل جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بہت ور بنی اسماعیل اس میں صرف ہمارے رسول خاتم الانبیاء علیٰ دعوۃ ابراہیم پیدا ن پر سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا۔ اب کوئی مغل بچہ نبی نہیں ہو سکتا۔

الله يصطفى من الملئكة رسلا ومن الناس (الحج: ٧٥) ’’یعنی ت اور رسالت کے لئے فرشتوں اور انسانوں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا اس میں استحقاق نہیں ہے۔ یہ نعمت محض وہی ہے۔ کسی کے کسب پر موقوف نہیں ۔ اسی مطلب کے لئے ہے۔ چونکہ کفار مکہ نے حضور ﷺ سے یہ کہا تھا کہ ہم کے لئے زیادہ مستحق ہیں۔ ہم آپؐ سے عمر میں بڑے ہیں اور مال و دولت میں میں زیادہ ہیں تو کیا وجہ ہم کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ آپ کو رسول بنائے تو حضور ﷺ پر ۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہمیشہ قیامت تک رسول بنا کریں گے۔ یہ ۔ نبوت کو محض موہبتہ ظاہر کرنے کے لئے استقبال کے معنے ہرگز نہیں۔ نہ ۔ جبکہ نبوت کا انقطاع قطعاً ثابت ہو چکا۔ دیگر آیات قرآنیہ سے۔

ہ پنجگانہ نمازوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں ۔ ”اهدنا الصراط اط الذين انعمت عليهم (فاتحہ: ٦، ٧)‘‘ یعنی اے اللہ ! ہمیں سیدھے لوگوں کا راستہ ہے۔ جن پر تو نے انعام فرمایا ہے اور جن پر انعام فرمایا ہے۔

ان کا بیان اس دوسری آیت میں یہ ہے۔ ”ومن يطع الله والرسول فاولئک مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين وحسن اولئک رفیقا (النساء: ٦٩)‘‘ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد ﷺ کی اطاعت کرے وہ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔ یعنی نبیین اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کے ساتھ اور یہ لوگ اچھے رفیق ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان نبیین اور صدیقین اور شہداء ہوتے ہیں۔

جواب: اہل علم بلکہ عوام بھی اس نرالی منطق پر ہنسیں گے۔ مگر یہ لوگ ایسے استدلال پیش کرتے ہوئے شرماتے نہیں۔ اس استدلال کا حاصل تو یہ ہوا کہ جو شخص جس کے راستہ پر چلتا ہے وہ وہی بن جاتا ہے۔ خداوند عالم فرماتا ہے۔ ”صراط الله (الشوری: ٥٣)‘‘ تو اب مرزا قادیانی کے تجویز کردہ قانون کے مطابق جو شخص اللہ کے راستے پر چلے گا وہ معاذ اللہ خدا بن جائے گا۔ آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مجھ کو بہت قلق اور رنج لاحق ہو گیا ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کی محبت صرف دنیا میں معدودے چند دن ہے۔ پھر فرقت ہی فرقت ہے۔ حضور ﷺ کا دیدار نصیب نہ ہوگا۔ آپؐ اعلیٰ مقام میں ہوں گے۔ ہماری معمولی مسلمانوں کی وہاں کیسے گذر ہو سکتی ہے۔ اس کی تسلی کے لئے خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مطیع مسلمان جنت میں نبیوں اور صدیقوں اور شہداء کے رفیق ہوں گے فرقت نہ ہوگی۔ اس کو اثبات نبوت سے کیا تعلق ہے؟۔ بلکہ اس آیت سے ختم نبوت ثابت ہے کہ حضور ﷺ ہی کی اطاعت موجب نجات ہے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی اور نبی پیدا ہو تو اس وقت اس کی نبوت پر ایمان لانا اور اس کی وحی اور اس کی تعلیم اور اس کی اطاعت موجب نجات ہوتی اور باوجود کمال اتباع حضور ﷺ کے بھی اگر اس نبی پر اور اس کی وحی پر ایمان نہ لایا تو نجات نہیں اور یہ قرآنی حکم منسوخ ہو جائے گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے (حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں لکھا ہے کہ: ”خدا نے میری وحی اور میری تعلیم میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا۔“

وسوسہ نہم

”هو الذى بعث فى الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم

صفحہ ٥٤

ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفی ضلال مبين . واخرين منهم لما يلحقوابهم وهو العزيز الحکیم (جمعه: ٢) ”یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیش گوئی ہے۔“

( تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٧ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٢)

جواب: آخرین کا عطف امیّین پر ہے۔ یعنی خداوندِ خدا ہے جس نے امیّین میں ان ہی میں کا ایک رسول مبعوث کیا۔ جو ان کو ہماری آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت کی تعلیم کرتا ہے اور بے شک وہ پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے اور ان کے سوا اور لوگوں میں بھی جو اب تک ان سے لاحق نہیں ہوئے۔ یعنی یہ رسول ان لوگوں کا بھی رسول ہے جو بعد میں آنے والے ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ کے بعد فوجاً فوجاً دین اسلام میں داخل ہوئے۔ مقصود یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ایک عامہ اور کافہ نبوت ہے۔ قیامت تک آپؐ ہی معلم اور مُزکّی ہیں۔ قال المفسرون هم الاعاجم يعنون به غیر العرب ای طائفة كانت قاله ابن عباس وجماعة وقال مقاتل یعنی التابعین هذه الامة الذین یلحقون باوائلهم وفى الجملة معنی جميع الاقوال فيه كل من دخل فی الاسلام بعد النبي ﷺ الى یوم القيامة فالمراد بالاميين العرب وبالاخرين سواهم من الامم (تفسیر كبیر ج ٣٠ ص ٤ وهم الذین جاؤا بعد الصحابة الى یوم الدين، تفسیر ابو السعود ج ٨ ص ٢٤٧ قيل هم الذین یأتون من بعدهم الى يوم القيامة، کشاف ج ٤ ص ٥٣٠) ”سب کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابن عباسؓ او ر ایک جماعت مفسرین کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد عجمی ہیں۔ خواہ کوئی ہوں اور مقاتل کہتے ہیں کہ تابعین مراد ہیں۔ سب اقوال کا حاصل یہ ہے کہ امیین سے عرب مراد ہیں اور آخرین سے سواء عرب کے سب قومیں جو حضور ﷺ کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوں گے۔ مراد ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک حدیث ہے جو (بخاری ج ٢ ص ٧٢٧، باب قوله واخرين منهم لمایلحقوابهم ،مسلم ج ٢ ص ٣١٢، باب فضل فارس ، ترمذی ج ٢ ص ١٦٧ ابواب التفسیر ،مشکوة ص ٥٧٦، باب جامع المناقب) میں ان لفظوں سے بیان کی گئی ہے اور سلمان فارسیؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”لوكان الايمان بالثريا لناله رجال من هؤلاء (مسلم ج ٢ ص ٣١٢ باب فضل فارس)“ اگر ایمان ثریا پر ہوتا جب بھی ان کے ہاں کے بہت سے آدمی ایمان کو حاصل کرتے۔ ہٰؤلاءِ یعنی جمع کے صیغہ سے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک جماعت

صفحہ ٥٥

سے تعلق رکھتی ہے اور جن روایتوں میں کہ رجل اور رجال آیا ہے۔ وہ راوی کا شک ہے۔ لیکن بخاری، مسلم، ترمذی کی یہ روایت بلفظ جمع بغیر شک کے ہے۔ معلوم ہوا کہ محفوظ جمع کا صیغہ ہے اور صحیح بھی یہی ہے۔ کیونکہ جس کی یہ تفسیر ہے وہ بھی جمع کا صیغہ ہے۔ یعنی واخرین منھم یعنی عجم یا فارس میں ایک جماعت کثیرہ ایسی ہوگی جو ایمان کو تقویت دے گی اور امور ایمانیہ میں اعلیٰ مرتبہ پر ہوگی اور یہ واقع ہو گیا کہ عجم اور فارس میں بڑے بڑے محدثین و فقہاء و مفسرین و مقتداء عالم ومجددین وصوفیاء کرام اسلام کے لئے باعث قوۃ وشوکت گزرے۔ ہاں اگر مرزا قادیانی جمع کے صیغہ رجال کے مصداق ہوں اپنے اوپر اس کو چسپاں کر لیں تو کچھ بعید بھی نہیں۔ غرض اس آیت اور حدیث کو مسیح ومہدی وظلی بروزی نبی کے لئے پیش گوئی خیال کرنا ایک باطل اور بے دلیل دعویٰ ہے۔ اس کو مہدی و مسیح وظلی بروزی نبی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسوسہ دہم

لا نبی بعدی جو احادیث متواترہ میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس میں نفی کمال کی ہے۔ یعنی کامل نبی صاحب شریعت جدیدہ نہ ہوں گے۔

جواب: اگر یہی اجتہاد اور قیاس ہے تو اگر کوئی بت پرست یہ کہے کہ لا اله الا الله میں بھی نفی کمال کی ہے۔ یعنی کامل اور بالذات معبود اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ ہاں غیر مستقل اور غیر شارع معبود ہو سکتے ہیں۔ جیسے کہ ہمارا عقیدہ ہے تو اس کو کیا جواب دو گے؟۔ اسی طرح اگر کوئی لاریب فیه میں نفی کمال مراد لے۔ یعنی کامل ریب قرآن میں نہیں ہو سکتا۔ ہاں بعض اقسام ریب کے قرآن میں موجود ہیں۔ تو کیا مرزائی جماعت اس کو بھی تسلیم کر لے گی؟۔ پس اگر آپ کے پاس کوئی ایسی دلیل موجود ہے کہ جس کے ذریعہ سے لا اله الا الله میں نفی کمال مراد لینے سے منع کیا جا سکتا ہے تو وہی دلیل ہماری جانب سے لا نبی بعدی میں نفی کمال مراد ہونے پر تصور فرما لیں اور نیز خود مرزا قادیانی نے (ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣) میں لکھا ہے ”اور احادیث لا نبی بعدی میں بھی نبی عام ہے۔“

وسوسہ یازدہم

نبوت کا چھیا لیسواں حصہ جو امت محمدی میں باقی ہے اسی جزو کے اعتبار سے نبوت باقی ہے اور ایسے نبی بھی آ سکتے ہیں۔

جواب: اگر ایک اینٹ کو مکان اور نمک کو پلاؤ اور ایک تاگے کو کپڑا اور ایک رسی کو

صفحہ ٥٦

چار پائی نہیں کہہ سکتے تو نبوت کے ٤٦ / ١، جز کو بھی نبوت نہیں کہہ سکتے اور یہ بدیہی ہے کہ جب تک کسی حقیقت کے جمیع اجزاء موجود نہ ہوں وہ حقیقت موجود نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف مرزائیت کی عقل ہے کہ وہ لوگ اس بدیہی چیز کو بھی نہیں سمجھتے۔

وسوسہ دوازدہم

حضرت عائشہ صدیقہ کا یہ قول مروی ہے کہ: ”قولوا خاتم النبيين ولا تقولو لا نبی بعده (تكملہ مجمع البحار ج ٥ ص ٥٠٢ ، در منثور ج ٥ ص ٢٠٤) ”یعنی خاتم النبیین تو کہو اور لا نبی بعدہ مت کہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث لا نبی بعدہ صحیح نہیں ہے۔ ورنہ انکار کی کون سی وجہ ہے۔

جواب: یہ اثر عائشہ منقطع الاسناد ہے۔ بخاری ومسلم کی احادیث مرفوعہ متواترہ کے مقابلہ میں حجت نہیں اور حدیث لا نبی بعدی اس قدر صحیح ہے کہ (کتاب البریہ حاشیہ ص ١٩٩ ، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧) میں خود مرزا قادیانی مقر ہیں کہ: ”حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور ہے کہ اس کی صحت میں کسی کو کلام نہیں“۔ بناء بر تسلیم جواب یہ ہے کہ یہ باعتبار نزول عیسیٰ علیہ السلام کے فرمایا ہے۔ تا کہ کوئی شخص اپنی سطحی نظر اور کم فہمی سے اجماعی عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار نہ کر بیٹھے کیونکہ عوام کے عقائد کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ اسی (تکملہ مجمع البحار ج ٥ ص ٥٠٦) میں اس کی تصریح موجود ہے اور مرزا محمود قادیانی نے بھی (حقیقت النبوۃ ص ١٩٠) میں حدیث لا نبی بعدی کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے یہی جواب دیا ہے اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس پر ایک باب مستقل باندھا ہے اور (کتاب العلم ج ١ ص ٢٤، باب من خص بالعلم قوماً دون قوم) میں کئی حدیثیں روایت کی ہیں کہ جب اس بات کا اندیشہ ہو کہ قاصر الفہم خرابی میں مبتلا ہو جائیں گے تو امر مختار کے اظہار کو ترک کر دے۔”حدثو الناس بما يعرفون اتحبون ان يكذب الله ورسولہ “ یعنی حضور ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کو ان کے فہم میں آنے والی حدیثیں بیان کرو کیا تم پسند کرتے ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کریں۔ پھر اس کی شاہد دوسری روایت یہ ہے کہ کسی شخص نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کے سامنے کہا تھا۔ ”خاتم الانبیاء لا نبی بعده تو مغیرہ نے فرمایا حسبك ادا قلت خاتم الانبیاء فانا كنا نحدث ان عیسیٰ علیه السلام خارج فان هو خرج فقد كان قبله وبعده (درمنثور ج ٥ ص ٢٠٤)“

صفحہ ٥٧

نہیں کیوں کہ ہم سے حدیث بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ تو وہ آپؐ سے پہلے بھی ہوئے اور بعد میں بھی ہوں گے۔ ﴿ مطلب صاف اور ظاہر ہے کہ کلمہ لا نبی بعدہ سے چونکہ بظاہر یہ ایہام بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ پہلے کا کوئی نبی جو پہلے مبعوث ہو چکے ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد موجود نہیں رہ سکتے اور خاتم النبیین میں یہ ایہام نہیں۔ جیسا کہ مفصل معلوم ہو چکا لہٰذا بوقت اندیشہ ایہام خلاف سے بچنے کے لئے خاتم النبیین پر اکتفاء کرنا مقصود کے ادا کرنے کے لئے کافی ہے کہ آپؐ آخر الانبیاء ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطا نہ ہوگا اس میں ایہام خلاف کا اندیشہ نہیں۔ ورنہ ختم نبوت کے متعلق حضرت عائشہؓ کی صریح اور صحیح حدیث موجود ہے۔

”عن عائشةؓ عن النبی ﷺ انه قال لا یبقی بعدی من النبوة شئی الا المبشرات قالوا یا رسول الله وما المبشرات قال الرؤية الصالحة یراها المسلم او تریٰ له

(کنز العمال ج ١٥ ص ٣٧١ حديث ٤١٤٢٣، بروايت احمد ج ٦

ص ١٢٩ والخطیب)“

حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کوئی جز باقی نہ رہے گا۔ سوائے مبشرات کے، صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اچھی خواب جو کوئی مسلمان خود دیکھے یا اس کے لئے دوسرا دیکھے۔

اور نیز (کنز العمال ج ١٤ ص ٢٧٠ حدیث ٣٩٣٩٩) میں بحوالہ (دیلمی وابن النجار والبزاز) اور حضرت عائشہؓ سے مرفوعاً روایت ہے۔ ”عن عائشةؓ قالت قال رسول الله انا خاتم الانبیاء ومسجدى خاتم مساجد الانبیاء“ ﴿ یعنی حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد انبیاء کے مسجدوں کی خاتم ہے۔ ﴾ اس حدیث سے یہ شبہ بھی جاتا رہا جو ابو ہریرہؓ کی روایت

(مسلم ج ١ ص ٤٦٦، باب فضل الصلوة بمسجدى مكة والمدينة)

میں صرف ”انا آخر الانبیاء ومسجدی آخر المساجد“ کیونکہ اس میں بھی انبیاء علیہم السلام ہی کی مساجد مراد ہے۔

وسوسہ سیزدہم

جیسے حدیث ”اذا هلك كسرى فلا كسرى بعده واذا هلك قيصر فلا قيصر بعده (بخاری ج ٢ ص ٩٨١، باب كيف كان يمين النبى ﷺ، مسلم ج ٢ ص ٣٩٦ فصل فى هلاك كسرى وقيصر ) “ سے یہ مراد ہے کہ اگرچہ قیصر و کسریٰ باقی ہوں گے مگر اسلام

صفحہ ٥٨

کے زیرنگیں ہو کر رہیں گے۔ خود مختار سلطنتیں باقی نہ رہیں گی۔ اسی طرح لا نبی بعدی کو سمجھو کہ حضورﷺ کے بعد مستقل صاحب شریعت جدیدہ نبی نہ ہوں گے ۔ بلکہ آپ کی شریعت کے تابع نبی ہو سکتے ہیں ۔

جواب: جب قریش مسلمان ہوگئے تو ان کو اپنی تجارتوں کا خوف ہوا کہ اب ہمارا یمن اور شام میں داخلہ بند کر دیا جائے گا۔ کیونکہ قریش سردی کے زمانہ یمن اور گرمی کے زمانہ میں شام کا سفر کرتے تھے۔” کما قال الله تعالى رحلة الشتاء والصيف (قريش:٢) “اس پر ان کی تسلی کے لئے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ تمہاری تجارت گاہیں ان کے وجود ہی سے پاک کر دی جائیں گی۔ قیصر و کسریٰ کسی خاص آدمی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ جاہلیت میں فارس اور روم کے کافر بادشاہ کے لقب تھے۔ اگر مملکت فارس قبضہ اسلام میں آجائے تو کسریٰ کا لقب بھی جاتا رہے گا اور مملکت روم کے آجانے سے لقب قیصر بھی جاتا رہے گا۔ اگر چہ وہ بعض دوسرے ممالک کے بادشاہ رہیں ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ کسریٰ وکسرویت کا تو بالکل خاتمہ ہو گیا اور قیصر نے ملک شام چھوڑ کر اور وہاں سے بھاگ کر کسی اور جگہ پناہ لی۔ نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ امام شافعیؒ اور تمام علماء نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ کسریٰ عراق میں اور قیصر شام میں باقی نہ رہے گا۔ جیسا کہ حضورﷺ کے زمانہ میں تھا۔ پس حضورﷺ نے ان کی سلطنت کے انقطاع کی خبر دی کہ ان دونوں اقلیموں میں ان کی سلطنت نہ رہے گی۔ ”قال الشافعی وسائر العلماء معناه لايكون كسرى بالعراق ولا قيصر بالشام كما كان في زمنه ﷺ فاعلمنا بانقطاع ملكهما في هذين الاقليمين......الخ! (مسلم ج ٢ص ٣٩٦ حاشیہ)“ لہٰذا یہ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہی مستعمل ہے۔ اس میں مرزائی دھوکہ کا شائبہ بھی نہیں۔

وسوسہ چہار دہم

(ابن ماجه ص ١٠٨، باب ماجاء فی الصلوة على ابن رسول الله ﷺ ذكر وفاته ) میں حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کے انتقال پر فرمایا تھا۔ ”لوعاش ابراهيم لكان نبياً “یعنی ابراہیم اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ کے بعد نبی ہو سکتا ہے اور چونکہ آیۂ خاتم النبیین بہت برس پہلے نازل ہو چکی تھی۔ معلوم ہوا کہ آپ کے بعد آپ کے تابع نبی کا ہونا خاتم النبیین کے منافی نہیں۔

جواب: علامہ نووی نے تہذیب الاسماء میں اس حدیث کو باطل اور جسارت کہا ہے اور

(انجاح الحاجه علی ابن ماجه ص ١٠٨)

ابن عبدالبر نے اس کا انکار کیا۔

اور علامہ قسطلانی نے اس کو الحدیث ہے۔ (تقریب التہـ ن رسول الله وخاتم النبين، ابن وی محدث دہلویؒ نے بھی لکھا ہے۔” عیسی هو متروك الحديث“ و ان نکلتا ہے تو ”لوکان فیهما الـ ہونے کا امکان لازم آتا ہے اور ’ان کے عرف: ٨١) ”میں خدا کے بیٹا ہو محال ہے اور تعلیق علی المحال، محال ہو ان کا نبی ہونا محال ہوا اور اس پر جو ک یہ کیونکہ معلق علی المحال محال ہے۔ لہٰذا اخواله من القبط وما استرق قط ممتنع الوقوع ہو گئی۔ یعنی ابراہیم کا نبی ہونا کیونکہ لو عربی میں فرض محال کے لئے آتا رجالكم ولكن رسول الله وخاتـ خداوند کے مخالف اور ان میں نفیا و اثباتا کسی بالغ ادمی کے نسبی باپ بھی نہیں۔ آپ ﷺ خاتم النبیین نہیں رہ سکتے ۔ لہٰذا رہتے تو نبی ہوتے تو پھر آپ ﷺ خاتم النبیین کاذب ٹھہرتا ہے۔ جو محال ہے۔ لہٰذا ابرا میں اس روایت سے پیشتر عبداللہ بن اوفی من سمی باسماء الانبیاء) میں بھـ يكون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ثابت ہوگئے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی

صفحہ ٥٩

یں گے۔ خود مختار سلطنتیں باقی نہ رہیں گی۔ اسی طرح لا نبی بعدی کو سمجھو کہ ستقل صاحب شریعت جدیدہ نبی نہ ہوں گے۔ بلکہ آپ کی شریعت کے تابع

جب قریش مسلمان ہو گئے تو ان کو اپنی تجارتوں کا خوف ہوا کہ اب ہمارا یمن بند کر دیا جائے گا۔ کیونکہ قریش سردی کے زمانہ میں اور گرمی کے زمانہ میں شام کا کما قال اللہ تعالیٰ رحلة الشتاء والصیف (قریش:٢) “ اس پر ان کی ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ تمہاری تجارت گاہیں ان کے وجود ہی سے پاک کر روکسریٰ کی خاص آدمی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ جاہلیت میں فارس اور روم کے کافر تھے۔ اگر مملکت فارس قبضہ اسلام میں آجائے تو کسریٰ کا لقب بھی جاتا رہے گا اور جانے سے لقب قیصر بھی جاتا رہے گا۔ اگر چہ وہ بعض دوسرے ممالک کے بادشاہ ہی ہوا کہ کسریٰ و کسرویت کا تو بالکل خاتمہ ہو گیا اور قیصر نے ملک شام چھوڑ کر ت کر کسی اور جگہ پناہ لی۔ نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ امام شافعیؒ مایا ہے کہ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ کسریٰ عراق میں اور قیصر شام میں باقی نہ حضور ﷺ کے زمانہ میں تھا۔ پس حضور ﷺ نے ان کی سلطنت کے انقطاع کی اقلیموں میں ان کی سلطنت نہ رہے گی۔ ”قال الشافعیؒ وسائر العلماء ان کسریٰ بالعراق ولا قیصر بالشام کما کان فی زمنه ﷺ اع ملکهما فی هذین الاقلیمین ...... الخ! (مسلم ج ٢ ص ٣٩٦ حاشیه )“ لہٰذا نے ظاہری معنی پر ہی مستعمل ہے۔ اس میں مرزائی دعوے کا شائبہ بھی نہیں ۔

ماجه ص١٠٨ ، باب ماجاء فی الصلوة علی ابن رسول الله ﷺ میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کے انتقال پر فرمایا تھا۔ هيم لكان نبياً “ یعنی ابراہیم اگر زندہ رہتے تو نبی ہوتے ۔ اس سے معلوم ہوا بعد نبی ہو سکتا ہے اور چونکہ آیت خاتم النبیین بہت برس پہلے نازل ہو چکی تھی۔ کے بعد آپ کے تابع نبی کا ہونا خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ علامہ نووی نے تہذیب الاسماء میں اس حدیث کو باطل اور جسارت کہا ہے اور

(انجاح الحاج علی ابن ماجہ ص ١٠٨)

کا انکار کیا۔

اور علامہ قسطلانی نے اس کو ضعیف بتایا اور اس کا راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان بالکل متروک الحدیث ہے۔ (تقریب التہذیب ج ١ ص ٣١، روح المعانی ج ٢٢ ص ٣١ زیر آیت ولکن رسول الله وخاتم النبیین، ابن ماجه ص ١٠٨ ) کے حاشیہ میں اسی حدیث کے اوپر شاہ عبدالغنی محدث دہلویؒ نے بھی لکھا ہے۔ ”فی سنده ابوشیبه ابراهیم بن عثمان العبسی هو متروك الحدیث“ دوسرے اس حدیث میں اگر آپؐ کے بعد نبوت کے ملنے کا امکان نکلتا ہے تو ”لو کان فیهما الهة الا الله لفسدتا (الانبیاء:٢٢)“ میں بھی دو خدا ہونے کا امکان لازم آتا ہے اور ”ان کان للرحمٰن ولد فانا اول العابدین (زخرف: ٨١)“ میں خدا کے بیٹا ہونے کا امکان بھی لازم آئے گا۔ کیونکہ بعد تقدیر موت کے حیاۃ محال ہے اور تعلیق علی المحال محال ہوتا ہے۔ پس بعد تقدیر موت کے ، حیات ابراہیم محال ہے۔ لہٰذا ان کا نبی ہونا محال ہوا اور اس پر جو بھی معلق کیا جائے گا خواہ فی نفسہ ممکن ہی ہو وہ بھی محال ہوگا۔ کیونکہ معلق علی المحال محال ہے۔ لہٰذا اس کے بعد دوسرا جملہ شرطیہ ”لو عاش لا عتقت اخواله من القبط وما استرق قبطی (ابن ماجه ص ١٠٨ باب ایضاً)“ میں بھی جزاء ممتنع الوقوع ہو گئی۔ یعنی ابراہیم کا نبی ہونا اور قبطیوں کا بھی غلامی میں نہ آنا۔ سب کا وقوع ممتنع ہو گیا کیونکہ لو عربی میں فرض محال کے لئے آتا ہے اور نیز آیت ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ میں چونکہ لا کن کا ماقبل ما بعد کے مخالف اور ان میں نفیاً واثباتاً تغائر ضروری ہے۔ یعنی جبکہ آپؐ خاتم النبیین ہیں تو آپؐ کسی بالغ آدمی کے نسبی باپ بھی نہیں ہو سکتے اور اگر بالفرض کسی بالغ کے نسبی باپ ہوں تو آپ ﷺ خاتم النبیین نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اگر ابراہیم بالفرض زندہ رہتے تو نبی ہوتے تو پھر آپؐ خاتم النبیین نہ رہتے اور جب آپؐ خاتم النبیین نہ رہے تو کلام الٰہی کاذب ٹھہرتا ہے۔ جو محال ہے۔ لہٰذا ابراہیم کا قبل مبلغ رجال موت ضروری تھی۔ تیسرے ابن ماجہ میں اس روایت سے پیشتر عبداللہ بن اوفیٰ کا اثر بیان کیا ہے۔ جس کو (بخاری نے اپنی صحیح ج ٢ ص ٩١٤، باب من سمى باسماء الانبیاء) میں بھی لیا ہے۔ ”قال مات وهو صغیر لوقضیٰ ان یکون بعد محمد ﷺ نبی لعاش ابنه ولکن لا نبی بعده “ یعنی ابراہیم بچپن میں ہی فوت ہو گئے۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی مقدر ہوتا تو وہ زندہ رہتے۔ لیکن حضور ﷺ کے بعد کوئی

صفحہ ٦٠

نبی نہیں ہو سکتا ۔ گو نبی کے بیٹے کو نبی ہونا کوئی ضروری نہیں ۔ مگر جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں خدا تعالیٰ نے نبوت کو منحصر کیا تھا اور ان کو یہ فضیلت عطا کی تھی ۔ ”وجعلنا فی ذریته النبوة (العنکبوت:٢٧)“ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو نبوت کے لئے ظرف بنا دیا ہے تو اسی طرح خداوند عالم کو حضور ﷺ کی زبان سے حضور ﷺ کی بھی یہ فضیلت اور ابراہیم علیہ السلام کا صرف قابلیت مرتبہ ظاہر کرنا مقصود ہے۔ یعنی یہ کلام بطور فرض وقوع کے ہے۔ صرف مرتبہ قابلیت ابراہیم ظاہر کرنا منظور ہے۔ لیکن چونکہ اس صفت کا وقوع حضور ﷺ کی ایک صفت اعلیٰ کے منافی تھا۔ یعنی وصف ختم نبوت کے لہٰذا حضور ﷺ کی یہ فضیلت اور ابراہیم کا یہ مرتبہ وقوع میں نہیں لایا گیا اور موت مقدر کی گئی۔ اس میں آپ کا وصف اعلیٰ خاتم النبیین بھی محفوظ رہا اور ابراہیم کی فضیلت ظاہر ہو گئی۔ ہاں حضور ﷺ کے بعد اگر کسی کو منصب نبوت کا ملنا مقدر ہوتا تو حضور ﷺ کی یہ فضیلت بھی وقوع میں آتی اور صاحبزادے کو نبی بنایا جاتا اور حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں۔ بوقت وفات ابراہیم ”قد کان ملا مهده ولو بقی کان نبياً ولکن لم یبقی لان نبیکم اخر الانبیاء ﷺ (انجاح الحاجه بر ابن ماجه ص١٠٨)“ یا ابوشیبہ متروک الحدیث کی روایت میں الفاظ ٹھیک محفوظ نہیں رہے بلکہ یوں ہوگا ۔ ”لو کان بعدی نبی لعاش ابراهیم“ ورنہ ایک متروک الحدیث کی روایت احادیث متواترہ اور نصوص قطعیہ کے کیسے معارض ہو سکتی ہے اور ایسے معنی جو ختم زمانی کو منفی ہوں ۔ بلاشبہ قطعاً اجماعاً کفر ہیں۔ اس لئے ملا علی قاری نے اپنی (موضوعات ص١٠٠ مطبع نور محمد کراچی) میں لکھا ہے۔ ”وانما الکلام علی فرض الوقوع“ یعنی یہ کلام بطور فرض وقوع کے ہے اور ص٩٩ میں یہ بھی لکھا ”ولو عاش وبلغ اربعین وصار نبیاً لزم ان لا یکون نبینا خاتم النبیین“ یعنی اگر وہ زندہ رہتے اور چالیس برس کو پہنچتے اور نبی ہوتے تو آخر الانبیاء حضور ﷺ کا خاتم النبیین نہ ہونا لازم آجاتا۔ لیکن اس کے بعد جو ملا علی قاری صاحب نے اپنا ایک قیاس ظاہر کیا کہ بعض انبیاء عیسیٰ و خضر و الیاس علیہم السلام حضور ﷺ کے بعد زندہ ہیں اور حضور ﷺ کی امت میں داخل ہیں تو صاحبزادے کا بھی فرضاً ایسا ہی نبی ہونا خاتم النبیین کے مناقض نہ ہوگا۔ مگر یہ قیاس ہرگز صحیح نہیں اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کی بعثت بنی اسرائیل کی طرف حضور ﷺ سے پہلے ہو چکی اب حضور ﷺ کی بعثت عامہ سے ان کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہو گئی ۔ اب وہ اس وقت نبوت کی ڈیوٹی پر نہیں ہیں۔ بلکہ حضور ﷺ خاتم النبیین ﷺ کی امت میں داخل ہیں اور اسی ک معنیٰ وہ نبی جن کی بعثت اور نبوت کی ڈیوٹی حض بعد زندہ اور حضور ﷺ کی امت میں داخل ہیں لازمہ نبوت ہے۔ بغیر شریعت کے کوئی نبی مبعو کے بیان میں آئے گی۔ لیکن صاحبزادے کی خاتم النبیین کے صریح مخالف ہے۔ لہٰذا ملا صا ہے۔ چنانچہ ان کی یہ عبارت ہے۔ ”لو عاش نبياً لكان من اتباعه عليه السلام كعـ يناقض قوله تعالى خاتم النبيين ا ولم يكن من امته ويقوى حديث الاتباعی (موضوعات ص١٠٠)“ دوسری صحیح حدیث لو کان موسیٰ سے نبیؐ السلام وغيرهما مستقل نبوت و بعثت سـ بھی اپنے اپنے زمانہ کے یا غیر تشریعی نبی کہا اتباع لازم ہے اور آپ ﷺ ہی کی قیامت تک نبی ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی اس کو منصب نبوت مل اتبـاعـه ويـنـسـخ ملته وغیرہ بھی تعلیق فرض ہے۔ خواہ پہلی شریعت کے موافق ہو یا مخـ جس امر میں وحی نہ ہوئی ہو یا اس کی وحی کے السلام نے ہارون علیہ السلام سے فرمایا: ”افعـ ہوا ”فبهداهم اقتده (انعام:٩٠)“ ثـم (النحل:١٢٣) ”اگر بعد کے نبی کی شریعت نبی پہلے رسول کی شریعت کا قائم کرنے والا مقـ وقت میں جو نبی ہو گا وہ امتی نہیں جو امتی ہو گا وہ

صفحہ ٦١

کو نبی کے بیٹے کو نبی ہونا کوئی ضروری نہیں۔ مگر جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لی نے نبوت کو منحصر کیا تھا اور ان کو یہ فضیلت عطا کی تھی۔ ”وجـعـلـنـا فـی ذریـتـہ عنکبوت: ٢٧) ”یعنی ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو نبوت کے لئے تو اسی طرح خداوند عالم کو حضور ﷺ کی زبان سے حضور ﷺ کی بھی یہ فضیلت اور م کا صرف قابلیت مرتبہ ظاہر کرنا مقصود ہے۔ یعنی یہ کلام بطور فرضِ وقوع کے ہے۔ ریت ابراہیم ظاہر کرنا منظور ہے۔ لیکن چونکہ اس صفت کا وقوع حضور ﷺ کی ایک منافی تھا۔ یعنی وصف ختمِ نبوت کے لہٰذا حضور ﷺ کی یہ فضیلت اور ابراہیم کا یہ مرتبہ یا گیا اور موت مقدر کی گئی۔ اس میں آپ کا وصف اعلیٰ خاتم النبیین بھی محفوظ رہا اور ت ظاہر ہوگئی۔ ہاں حضور ﷺ کے بعد اگر کسی کو منصبِ نبوت کا ملنا مقدر ہوتا تو فضیلت بھی وقوع میں آتی اور صاحبزادے کو نبی بنایا جاتا اور حضرت انس بن مالکؓ ی وقت وفات ابراہیم ” قـد مـات فـی مـهـده ولـو بـقـی کـان نـبـیـاً ولـکـن لـم یـکـم آخـر الانـبـیـاء ﷺ (انـجـاح الـحـاجـه بـرابـن مـاجـه ص١٠٨) “ یا ابوشیبہ ؓ کی روایت میں الفاظ ٹھیک محفوظ نہیں رہے بلکہ یوں ہوگا ۔ ”لـو کـان بـعـدی نـبـی یـم “ ورنہ ایک متروک الحدیث کی روایت احادیث متواترہ اور نصوص قطعیہ کے کیسے ہے اور ایسے معنی جو ختمِ زمانی کو منفی ہوں۔ بلا شبہ قطعاً اجماعاً کفر ہیں۔ اس لئے ملا نبی (موضوعات ص ١٠٠ طبع نور محمد کراچی ) میں لکھا ہے ۔ ” وانـمـا الـکـلام عـلـی فـرض عـنـی یہ کلام بطور فرضِ وقوع کے ہے اور ص٩٩ میں یہ بھی لکھا ”ولـو عـاش وبـلـغ صـار نـبـیـاً لـزم ان لا یـکـون نـبـیـنـا خـاتـم الـنـبـیـیـن “ یعنی اگر وہ زندہ رہتے اور پہنچتے اور نبی ہوتے تو آخرالانبیاء حضور ﷺ کا خاتم النبیین نہ ہونا لازم آجاتا۔ لیکن ر ملاعلی قاری صاحب نے اپنا ایک قیاس ظاہر کیا کہ بعض انبیاء عیسیٰ و خضر و الیاس علیہم ﷺ کے بعد زندہ ہیں اور حضور ﷺ کی امت میں داخل ہیں تو صاحبزادے کا بھی فرضاً ن خاتم النبیین کے مناقض نہ ہوگا۔ مگر یہ قیاس ہرگز صحیح نہیں اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام نی اسرائیل کی طرف حضور ﷺ سے پہلے ہو چکی اب حضور ﷺ کی بعثت عامہ سے ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ اب وہ اس وقت نبوت کی ڈیوٹی پر نہیں ہیں۔ بلکہ حضور ﷺ خاتم

النبیین ﷺ کی امت میں داخل ہیں اور اسی کو شیخ اکبر محی الدین ابن العربی نبی غیر تشریعی کہتے ہیں یعنی وہ نبی جن کی بعثت اور نبوت کی ڈیوٹی حضور ﷺ کی بعثت سے ختم ہوگئی اور وہ حضور ﷺ کے بعد زندہ اور حضور ﷺ کی امت میں داخل ہیں۔ اب ان پر شریعت نازل نہیں ہوتی ورنہ شریعت تو لازمہ نبوت ہے۔ بغیر شریعت کے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس کی بحث نبوت کی حقیقت کے بیان میں آئے گی۔ لیکن صاحبزادے کی بعثت نبوت حضور ﷺ کے بعد فرض کی جاتی ہے۔ جو خاتم النبیین کے صریح مخالف ہے۔ لہٰذا ملا صاحب کا عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ پر قیاس کرنا بالکل غلط ہے۔ چنانچہ ان کی یہ عبارت ہے۔ ”لو عاش ابراهیم وصار نبیاً وكذا لو صار عمـر نبـيـاً لـکـان مـن اتـبـاعـه عـلـیـه الـسـلام کـعـیـسـی والـخـضـر والـیـاس عـلـیـهـم الـسـلام فـلا یـنـاقـض قـولـه تـعـالـی خـاتـم الـنـبـیـیـن اذ الـمـعـنـی انـه لایـأتـی نـبـی بـعـده یـنـسـخ مـلـتـه ولـم یـکـن مـن امـتـه ویـقـوی حـدیـث لـوکـان مـوسـی عـلـیـه الـسـلام حـیـاً لـمـا وسـعـه الا اتـبـاعـی (مـوضـوعـات ص ١٠٠)“ اگر لـو عـاش سے نبی غیر تشریعی کا امکان نکلتا ہے تو دوسری صحیح حدیث لـو کـان مـوسـی سے نبی تشریعی کا بھی احتمال ہوگا۔ عیسیٰ والیاس علیہم السـلام وغـیـرهـمـا مستقل نبوت و بعثت پر فائز ہو چکے ہیں۔ اس لئے ان کو حضور ﷺ کے بعد بھی اپنے اپنے زمانہ کے یا غیر تشریعی نبی کہا جاسکتا ہے لیکن حضور ﷺ کے بعد جب آپ کا ہی اتباع لازم ہے اور آپ ﷺ ہی کی قیامت تک ڈیوٹی ہے۔ تو حضور ﷺ کے بعد پیدا ہونے والا نبی ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی اس کو منصبِ نبوت مل ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا ملا کے کلام میں لـکـان مـن اتـبـاعـه ویـنـسـخ مـلـتـه وغـیـره بھی تـعـلـیـق عـلـی الـمـحـال ہے۔ کیونکہ نبی کو اپنی ہی وحی کا اتباع فرض ہے۔ خواہ پہلی شریعت کے موافق ہو یا مخالف، دوسرے نبی کی وحی کا اتباع نہیں کرسکتا۔ ہاں جس امر میں وحی نہ ہوئی ہو یا اس کی وحی کے خلاف نہ ہو تو اتباع کرسکتا ہے۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام سے فرمایا: ”افـعـصـیـت امـری (طـه:٩٣)“ اور حضور ﷺ کو ارشاد ہوا ”فـبـهـدا هـم اقـتـده (انـعـام: ٩٠)“ ” ثـم اوحـیـنـا الـیـک ان اتـبـع مـلـة ابـراهـیـم حـنـیـفـاً (الـنـحـل: ١٢٣) “ اگر بعد کے نبی کی شریعت پہلے نبی کی شریعت کے ہر حکم میں موافق ہے تو بعد کا نبی پہلے رسول کی شریعت کا قائم کرنے والا مشرع نہ کہلائے گا۔ ورنہ مشرع جدید ہوگا۔ لہٰذا ایک وقت میں جو نبی ہوگا وہ امتی نہیں جو امتی ہوگا وہ نبی نہیں۔ ” الـضـدان لا یـجـتـمـعـان فـی زمـان

صفحہ ٦٢

واحد كما جاء في“

(ازالۃ اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ص٤١٠)

لیکن باوجود اس بات کے ملا علی قاری ضروریات دین اور متواترات کے خلاف کا ارادہ نہیں رکھتے۔ حضور ﷺ کے بعد منصب نبوت کے دعویٰ کرنے والے کو اجماعاً قطعاً کافر کہتے ہیں۔ یہ تو محض فرض وقوع میں بحث آ پڑی تھی۔ اس میں بھی غلطی کھا گئے ۔ یا ملا کی مراد صرف نام سے مقام نبوت ہے۔ نہ منصب نبوت پر فائز ہونا۔ ورنہ ملا صاحب نے اپنی معتبر کتاب جو خاص عقائد اسلامیہ میں لکھی ہے۔ یعنی (شرح فقہ اکبر ص٢٠٢) میں لکھتے ہیں ۔ ”ودعوی النبوة بعد نبیناﷺ کفر بالاجماع“ اور شفاء قاضی عیاض کی شرح میں ملا نے بڑے زور سے لکھا ہے۔ فلیطالع من شاء اس کے متن یعنی شفاء کی عبارت عنقریب نمبر ٣ میں ذکر کرتا ہوں۔ جس سے مرزائی تحریفات کا راستہ بالکل بند ہو جائے گا۔

ختم نبوت پر اجماع امت اور ختم نبوت کے منکر کا شرعی حکم

اور آئمہ متکلمین کی تصریحیں کہ آیت خاتم النبیین میں تاویل تخصیص کرنے والا اور حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ہے، ہر گز مسلمان نہیں کیونکہ یہ عقیدہ ضروریات اسلام میں سے ہے

لکھتے ہیں۔ ”قد صح عن رسول الله ﷺ واصحابه بنقل الكوائف التي نقلت نبوته واعلامه وكتابه انه اخبر انه لانبی بعده....... فوجب الاقرار بهذا الجملة وصح ان وجود النبوة بعده عليه السلام باطل لايكون البتة “ ﴿جس کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور معجزات قرآن کریم کو نقل کیا ہے۔ اسی کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر کی نقل سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ثابت ہو چکا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ پس اس جملہ کے ساتھ اقرار واجب ہے اور حضور ﷺ کے بعد نبوت کا وجود باطل ہے۔ ہرگز نہیں ہو سکتا۔﴾

اور (الملل والنحل ج ٣ ص ١١٣ ،١١٤) میں ہے۔ ”هذا مع سماعهم قول الله تعالى ولكن رسول الله وخاتم النبيين . وقول رسول اللهﷺ لا نبی بعدی فکیف يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبياً في الارض حاشا ما استثناه

صفحہ ٦٣

(ازالة اوہام ص ٥٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٠)

فی “

باوجود اس بات کے ملا علی قاری ضروریات دین اور متواترات کے خلاف کا حضور ﷺ کے بعد منصب نبوت کے دعویٰ کرنے والے کو اجماعاً قطعاً کافر کہتے ض وقوع میں بحث آ پڑی تھی۔ اس میں بھی غلطی کھا گئے۔ یا ملا کی مراد صوفیانہ ہے۔ نہ منصب نبوت پر فائز ہونا۔ ورنہ ملا صاحب نے اپنی معتبر کتاب جو خاص لکھی ہے۔ یعنی (شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢) میں لکھتے ہیں۔ ”ودعوى النبوة بعد فـر بـالاجماع “ اور شفاء قاضی عیاض کی شرح میں ملا نے بڑے زور سے لکھا م من شاء اس کے متن یعنی شفاء کی عبارت عنقریب نمبر ٣ میں ذکر کرتا ہوں ۔ تاویلات کا راستہ بالکل بند ہو جائے گا۔

تم نبوت پر اجماع امت اور ختم نبوت کے منکر کا شرعی حکم

تکلمین کی تصریحیں کہ آیت خاتم النبیین میں تاویل

کرنے والا اور حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ہے، ہر ن نہیں کیونکہ یہ عقیدہ ضروریات اسلام میں سے ہے

علامہ ابن حزم اپنی (کتاب الفصل فی الملل والنحل ج ١ ص ٩٥ طبع بیروت ) میں صح عن رسول اللہ ﷺ واصحابه بنقل الكافة التي نقلت وكتابه انه اخبر انه لا نبى بعده ...... فوجب الاقرار بهذه الجملة النبـوة بـعـده عـليـه السـلام بـاطـلـة لا تكون البتة “ ﴿جس کثیر جم غفیر نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور معجزات قرآن کریم کو نقل کیا ہے۔ اسی ت اور جم غفیر کی نقل سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ثابت ہو چکا ہے کہ آپ کے نہ ہوگا۔ پس اس جملہ کے ساتھ اقرار واجب ہے اور حضور ﷺ کے بعد نبوت کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ ﴾

مل والنحل ج ٣ ص ٤١١، ٤١٢) میں ہے۔ ”ہـذا مـع سـماعهم قـول الله تعالیٰ ء وخاتم النبيين، وقول رسول الله ﷺ لا نـبـي بـعـدى فكيف ن يثبت بعده عليه السلام نبياً في الارض حاشا ما استثناه

رسول اللہ ﷺ فی الآثار المسندة الثابتة فی نزول عیسی بن مریم علیہ السلام آخر الزمان“ اللہ تعالیٰ کا فرمان رسول اللہ وخاتم النبیین اور حضور ﷺ کا ارشاد لا نبي بعدى سن کر مسلمان کیسے جائز سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد زمین میں کسی نبی کی بعثت ثابت کی جائے سوائے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانہ میں جو رسول کریم ﷺ کی صحیح احادیث مسندہ سے ثابت ہے۔ ﴾

اور (الملل والنحل ج ٢ ص ٢٧٥) میں ہے۔ ”من قـال يـتـنـبـى بـعـد النبـي عـليـه الصلوة والسلام وجحد شيئاً صح عنده بان النبى ﷺ فهو كافر “ ﴿جو شخص نے حضور ﷺ کے بعد کسی کی نبوت کا اقرار کیا یا ایسی شے کا انکار کیا۔ جو اس کے نزدیک ثابت ہو چکا ہو کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے، کافر ہے۔ ﴾

اس سے کچھ پہلے لکھا ہے۔ ”صح الاجماع على ان كل من جحد شيئاً صح عنده بالاجماع ان رسول الله ﷺ اتى به فقد كفر “

(ج ٢ ص ٢٦٩) میں ہے۔ ”واما من قال ان الله عزوجل هو فلان الانسان بعينه وان الله يحل فى جسم من اجسام خلقه او ان بعد محمد ﷺ نبياً غير عيسى بن مريم فانه لا يختلف اثنان فى تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا عـلـى كل احدٍ “ ﴿جس شخص نے کسی انسان معین کو کہا کہ یہ اللہ ہے یا کہا کہ اللہ اپنی خلقت کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے یا کہا کہ محمد ﷺ کے بعد بھی نبی ہے۔ سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے۔ پس ایسے شخص کی تکفیر میں دو آدمیوں کا اختلاف نہیں کیوں کہ ہر ہر بات کے ساتھ ایسے شخص پر حجتہ قائم ہو چکی ہے۔ ﴾

.......٢....... امام غزالی (کتاب الاقتصاد ص ١٣٣) میں فرماتے ہیں ۔ ”ان الامة فهمت من هـذا اللفظ انه لا نبى بعده ابدا...... وانه ليس فيه تاويل ولا تخصيص ومن اوله بتخصيص فكلامه من انواع الهذيانات لا يمنع الحكم بتكفيره لانـه مكذب لهذا النص الذي اجمعت الامة على انه غير مؤول ولا مـخـصـوص “ ﴿امت نے اس لفظ سے یہی سمجھا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کبھی کسی قسم کا نبی نہیں ہو سکتا۔ نہ اس میں تاویل ہے اور نہ کوئی تخصیص اور جس شخص نے کوئی تاویل یا تخصیص کی اس کا کلام بیہودہ اور بکواس ہے۔ یہ تاویل اس کو تکفیر کے حکم سے نہیں بچاسکتی۔ کیونکہ یہ شخص اس نص کا مکذب ہے۔ جس پر تمام امت کا اجماع ہے کہ یہ آیت غیر مؤول اور غیر مخصص ہے۔ ﴾

صفحہ ٦٤

ہیں ۔ ”وكذلك اى نكفر من اعترف من الاصول الصحيحة بما تقدم ونبوة نبیناﷺ من ادعى احد مع نبيناﷺ او بعده ...... وادعى النبوة لنفسه او جوز اكتسابها او البلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها ...... وكذلك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة ...... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون النبيﷺ لا نه اخبرﷺ انه خاتم النبيين ، لا نبى بعده واخبر عن الله تعالى انه خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعاً وسمعاً وكذلك وقع الاجماع على تكفير كل من دافع نص الكتاب او خص حديثاً مجمعا على نقله مقطوعا به مجمعا على حمله على ظاهره “﴿باوجود تمام اصول صحیحہ اور حضورﷺ کی نبوت کے اعتراف کرنے کے بھی جو شخص حضورﷺ کے ساتھ کسی کی نبوت کا یا حضورﷺ کے بعد دعویٰ کرے ...... یا اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا صفائی قلب کے ذریعہ سے نبوت کے مرتبہ تک پہنچنے اور کسب سے اس کے حاصل کرنے کو جائز سمجھے ...... اور ایسے ہی وہ شخص جو یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نبوت آتی ہے۔ اگر چہ صراحتاً نبوت کا دعویٰ نہ کرے ...... پس یہ سب کے سب کفار ہیں اور حضورﷺ کی تکذیب کرنے والے ہیں۔ اس لئے کہ آپؐ نے خبر دی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں اور خدا کی طرف سے قرآن میں یہ خبر دی کہ آپؐ خاتم النبیینﷺ ہیں اور یہ کہ آپؐ تمام عالم کے انسانوں کی طرف رسولﷺ ہیں اور امت نے اجماع کیا ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر حمل کیا جائے اور اس پر کہ اس آیت کا نفس مفہوم ہی مراد ہے۔ بغیر کسی تاویل و تخصیص کے پس ان تمام جماعتوں کے کفر میں کوئی شک نہیں ۔ قطعی طور سے اجماعاً اور نقلاً ثابت ہے اور ایسے ہی اس شخص کی تکفیر پر اجماع واقع ہو چکا ہے۔ جو نص قرآن کی مدافعت کرے یا ایسی حدیث کی تخصیص کرے جس کے نقل پر اجماع ہو اور قطعی ہو اور اس کے ظاہر پر حمل کرنے پر اجماع ہو۔﴾

اور اسی طرح شفاء کی شرح خفاجی اور شرح ملا علی قاری میں بہت تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔

صفحہ ٦٤

عاقل ان يعتقد ان محمداً كان رسول الله والان هو رسول الله ...... وكان خاتم الانبياء عليهم السلام فلا يجوز بعده ان يكون احد نبياً غير نزول عيسى عليه السلام ولان عيسى عليه السلام بعث قبله بالرسالة والشريعة ووفاته تكون بعد...... ومن ادعى النبوة فى زماننا فانه يصير كافر او من طلب منه المعجزات فانه يصير كافر لانه شك فى النص " ﴿جان لو کہ ہر مسلمان عاقل پر یہ اعتقاد واجب ہے کہ محمدﷺ اللہ کے رسول تھے اور اب بھی وہی رسول ہیں۔ (یعنی صاحب الزمان رسولﷺ قیامت تک حضورﷺ ہی ہیں) ...... اور حضورﷺ خاتم الانبیاء تھے۔ پس حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ سوائے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے جو حضورﷺ سے پہلے رسالت اور شریعت پر مبعوث تھے۔ وفات ان کی بعد کو ہوگی ...... جو شخص فی زماننا نبوت کا دعویٰ کرے کافر ہو جائے گا اور جو شخص اس سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہوگا۔ کیوں کہ اس نے نص قرآن میں شک کیا۔﴾

میں اور شیخ عبدالوہاب شعرانی (الیواقیت والجواهر ج ٢ ص ٢٨ مطبوعہ مصر) میں فرماتے ہیں۔ ”فما بقی للاولياء اليوم بعد ارتفاع النبوة الا التعريفات وانسدت ابواب الاوامر الالهية والنواحى فمن ادعاها بعد محمدﷺ فهو مدع شريعة اوحى بها اليه سواء وافق بها شرعنا او خالف فان كان مكلفا ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحاً “ ﴿اب ارتفاع نبوت کے بعد اولیاء اللہ کے لئے سوائے تعریفات کے کچھ باقی نہیں رہا اور اوامر ونواہی الٰہی کے دروازے سب بند ہو گئے۔ پس جو شخص محمدﷺ کے بعد اس کا دعویٰ کرے وہ شریعت کا مدعی ہے۔ جو اس کی طرف وحی کی گئی ہے۔ خواہ ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف ہو۔ پس اگر وہ مکلف یعنی عاقل بالغ ہے۔ تو ہم اس کی گردن ماریں گے اور اگر وہ پاگل ہے تو ہم اس سے کنارہ کشی کریں گے۔﴾ "قال الشيخ اعلم ان الله تعالى قد سدباب الرسالة عن كل مخلوق بعد محمدﷺ الى يوم القيامة (اليواقيت والجواهر ج ٢ ص ٣٨) “ ﴿شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق سے محمدﷺ کے بعد رسالت کا دروازہ قیامت تک بند کر دیا ہے۔﴾

قاضی عیاض (شفاء ج ٢ ص ٢٤٦، ٢٤٧، مکتبہ مصطفی البابی مصر) میں لکھتے ہیں: ”ای نكفر من اعترف من الاصول الصحيحة بما تقدم ونبوة من ادعى احد مع نبيناﷺ او بعده ...... وادعى النبوة لنفسه او ادعى البلوغ بصفاء القلب الى مرتبتها ...... وكذلك من ادعى الوحى اليه وان لم يدع النبوة ...... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبيﷺ لانه اخبرﷺ انه خاتم النبيين . لا نبي بعده واخبر عن الله انه خاتم النبيين وانه ارسل كافة للناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك فى كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا اجماعاً وسمعاً وكذلك وقع الاجماع على تكفير كل من دافع نص الكتاب اوخص حديثاً مجمعا على نقله مجمعا على حمله على ظاهره“ ﴿باوجود تمام اصول صحیحہ اور حضورﷺ کی نبوت کا اقرار کرنے کے بھی جو شخص حضورﷺ کے ساتھ کسی کی نبوت کا یا حضورﷺ کے بعد کسی کی نبوت کا یا اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا صفائے قلب کے ذریعہ سے نبوت کے مرتبہ کو پہنچنے کا دعویٰ کرے یا اس کے حاصل کرنے کو جائز سمجھے ...... اور ایسے ہی وہ شخص جو یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے۔ اگر چہ صراحتاً نبوت کا دعویٰ نہ کرے ...... پس یہ سب کے سب حضورﷺ کی تکذیب کرنے والے ہیں۔ اس لئے کہ آپ نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور خدا کی طرف سے قرآن میں یہ خبر دی کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپ تمام عالم کے انسانوں کی طرف رسولﷺ ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر حمل کیا جائے اور اس پر کہ اس آیت کا نفس مفہوم بغیر کسی تاویل و تخصیص کے پس ان تمام جماعتوں کے کفر میں کوئی شک نہیں ۔ قطعاً اجماعاً اور سمعاً ثابت ہے اور ایسے ہی اس شخص کی تکفیر پر اجماع واقع ہو چکا ہے جو نص قرآنی کی مدافعت کرے یا ایسی حدیث کی تخصیص کرے جس کے نقل پر اجماع ہو اور اس کے ظاہر پر حمل کرنے پر اجماع ہو۔﴾ اسی طرح شفاء کی شرح خفاجی اور شرح ملاعلی قاری میں بہت تفصیل کے ساتھ

صفحہ ٦٦

نوٹ! شیخ اکبر کی عبارت کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی (اربعین نمبر ٣ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٥) کی عبارت بھی دیکھ لی جائے جس میں مرزا قادیانی اقرار فرماتے ہیں کہ ”میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ...... اور اب دیکھو خدا تعالیٰ میری وحی میری تعلیم اور میری بیعت کو ...... مدارِ نجات ٹھہرایا ہے۔“ اب مرزائی امت کو اختیار ہے کہ مرزا قادیانی کو ضربنا عنقہ کے ماتحت داخل کریں۔ یا ضربنا عنہ صفحاً کے تحت میں۔

......٦ (الاشباہ والنظائر ص ١٠٢) میں ہے۔ ”اذا لم یعرف ان محمد ﷺ اخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات“ ﴿جب محمد ﷺ کو آخر الانبیاء نہ جانتا ہو مسلمان نہیں رہتا۔ کیونکہ یہ عقیدہ ضروریاتِ اسلام میں سے ہے۔﴾

ملا علی قاری صاحب (شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢) میں لکھتے ہیں۔ ”ودعوی النبوة بعد نبینا ﷺ کفر بالاجماع“ ﴿ہمارے حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔﴾

......٧ (فتاویٰ عالمگیری ج ٢ ص ٢٦٣) میں ہے۔ ”اذا لم یعرف الرجل ان محمد ﷺ آخر الانبیاء فلیس بمسلم ...... ولو قال انا رسول اللہ یکفر“ ﴿جب کوئی شخص محمد ﷺ کو آخر الانبیاء نہ جانے تو وہ مسلمان نہیں ...... اور اگر کسی نے یہ کہا کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں کافر ہو جائے گا۔﴾

......٨ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٨٢ زیر آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین) میں ہے۔ ”قد اخبر اللہ تبارک وتعالیٰ فی کتابہ ورسولہ ﷺ فی السنة المتواترة عنہ انہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ھذا المقام بعدہ فھو کذاب افاک دجال ضال مضل ولو تخرق وشعبذ واتٰی بانواع السحر والطلاسم والنیرنجیات فکلھا محال وضلال عند اولی الالباب لما اجری اللہ سبحانہ وتعالیٰ علی ید الاسود العنسی بالیمن ومسیلمة الکذاب بالیمامة من الاحوال الفاسدة والاقوال الباردة ما علم کل ذی لب وفھم وحجی انھم کاذبان ضالان لعنھما اللہ تعالیٰ وکذلک کل مدع لذالک الی یوم القیامة حتی یختموا بالمسیح الدجال ...... یخلق اللہ تعالیٰ معہ من الامور ما یشھد العلماء والمؤمنون بکذب من جاء بھا“ ﴿اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے احادیث میں جو متواتر نقل ہوتی آئی ہیں۔ خبر دی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی

صفحہ ٦٧

اکبر کی عبارت کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ کی دیکھ لی جائے جس میں مرزا قادیانی اقرار فرماتے ہیں کہ ”میری وحی میں ........ اور اب دیکھو خدا تعالیٰ میری وحی میری تعلیم اور میری بیعت کو ........ مدار بہر حال امت کو اختیار ہے کہ مرزا قادیانی کو ضربنا عنقہ کے ماتحت بنا عنه صفحاً کے تحت میں۔

(الاشباہ والنظائر ص ١٠٢) میں ہے۔ ” اذالم یعرف ان محمد ﷺ آخر سلم لانه من الضروریات “ ﴿جب محمدﷺ کو آخر الانبیاء نہ جانتا ہو بلکہ یہ عقیدہ ضروریاتِ اسلام میں سے ہے۔ ﴾

صاحب (شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢) میں لکھتے ہیں۔ ”ودعوى النبوة کفر بالاجماع “ ﴿ہمارے حضورﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا

(فتاوی عالمگیری ج ٢ ص ٢٦٣) میں ہے۔ ” اذالم یعرف الرجل ان نبیاء فلیس بمسلم ....... ولو قال انا رسول الله يكفر “ ﴿جب خر الانبیاء نہ جانے تو وہ مسلمان نہیں .... اور اگر کسی نے یہ کہا کہ میں اللہ کا گا۔ ﴾

(تفسیر ابن کثیر ج ٦ ص ٣٨٤ زیر آیت ولکن رسول الله وخاتم النبيين ) ر الله تبارك وتعالى فى كتابه ورسوله ﷺ فى السنة نه لا نبى بعده ليعلموا ان كل من ادعى هذا المقام بعده فهو ل ضال مضل ولو تخرق وشعبذ واتى بانواع السحر يرنجيات فكلها محال وضلال عند اولى الالباب لما اجرى عالى على يد الاسود العنسى باليمن ومسيلمة الكذاب حوال الفاسدة والاقوال الباردة ما علم كل ذي لب وفهم ان ضالان لعنهما الله تعالى وكذلك كل مدع لذالك الى يوم ختموا بالمسيح الدجال ....... يخلق الله تعالى معه من الامور مؤمنون بكذب من جاء بها “ ﴿اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس میں جو متواتر نقل ہوتی آئی ہیں۔ خبر دی ہے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی

پیدا نہ ہوگا تا کہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا، افتراء پرداز، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ اگر چہ خرق عادت اور شعبدہ بازی اور قسم قسم کے جادو اور طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے یہ سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی مدعی نبوت کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کے ہاتھ پر یمامہ میں احوالِ فاسدہ اور اقوالِ باردہ ظاہر کئے۔ جن کو دیکھ کر ہر عقل و فہم و تمیز والا سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت کا حال ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ مسیح دجال پر ختم کر دیئے جائیں گے۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسے امور پیدا فرمادے گا کہ علماء اور مسلمان اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے۔ ﴾

فرماتے ہیں۔ ” اوقال ان النبى ﷺ خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام انه لا يجوز ان يسمى بعده احد بالنبى واما معنى النبوة وهو كون الانسان مبعوثاً من الله تعالى الى الخلق مفترض الطاعة معصوماً من الذنوب ومن البقاء على الخطاء فيما يرى فهو موجود فى الائمة بعده فذالك هو الزنديق وقد اتفق جماهير المتأخرين من الحنفية والشافعية على قتل من يجرى هذه المجرى “ ﴿یا جو شخص یہ کہے کہ بے شک حضورﷺ نبوت کے ختم کرنے والے ہیں۔ لیکن اس کلام کے معنی یہ ہیں کہ حضورﷺ کے بعد کسی کو نبی کہنا اور نبی کا اسم اطلاق کرنا جائز نہیں لیکن نبوت کی حقیقت اور اس کے معنی یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے خلق کی طرف مبعوث ہونا اور مفترض الطاعۃ ہونا اور گناہوں اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا یہ حضورﷺ کے بعد اماموں میں بھی موجود ہے۔ پس ایسا شخص زندیق ہے جو شخص ایسی چال چلے اس کے قتل پر جماہیر حنفیہ اور شافعیہ کا اتفاق ہے۔ ﴾

النبيين ) میں ہے۔ ” وكونه ﷺ خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعى خلافه ويقتل ان اصر “ ﴿آنحضرتﷺ کے آخری نبی ہونے پر کتاب اللہ ناطق ہے اور احادیث نے کھول کر سنادیا اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف جو دعویٰ کرے گا کافر ہو جائے گا اور اگر اصرار کرے قتل کیا جائے گا۔ ﴾

صفحہ ٦٨

قرآن اور احادیث رسول اللہ ﷺ سے ثبوت کہ مدعی نبوت

کافر اور دجال ہے

”فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا اوقال اوحى الى ولم يوح اليه شيئى (انعام:٩٣) “ ﴿جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ حالانکہ کچھ بھی اس کی طرف وحی نبوت نہیں کی گئی اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے۔﴾ مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص١٦٣، خزائن ج٢٢ ص ١٦٧) کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ ”ظالم سے مراد اس جگہ کافر ہے۔“ پس مرزا قادیانی نبوت اور وحی نبوت اور اوامر ونواہی الہیہ کا دعویٰ کر کے مفتری علی اللہ ہوئے جو بلاشبہ کافر ہوئے۔

”قال رسول الله ﷺ انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (ابوداؤدج٢ ص١٢٧ باب ذكر الفتن ودلائلها، ترمذى ج٢ ص٤٥ باب لاتقوم الساعة حتى يخرج كذابون وفى البخارى بمعناه ج٢ ص١٠٥٤ ، و ج١ ص٥٠٩ باب علامات النبوة فى الاسلام، فى المسلم بمعناه ج٢ ص٣٩٧ باب فيقوله ﷺ ان بين يدى الساعة كذابين قريباً من ثلاثين، ابوداؤد ج٢ ص٢٣٦ باب فى خبر ابن صياد، دجالون كذابون) “ ﴿حضور ﷺ نے فرمایا کہ تیس (٣٠) دجال کاذب میری امت میں دعویٰ نبوت کا کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ﷺ ہوں۔﴾ میرے بعد کوئی نہ بنایا جائے گا۔ اس کی تفصیل احادیث کے بیان میں ہوچکی ہے۔

اجماع امت

سے ثابت ہے کہ جب کسی اصل دین اور ضروریات دین کا انکار کیا جائے تو اہل قبلہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ بلکہ وہ اہل قبلہ ہی نہیں خواہ تاویل جہالت سے انکار کرے یا بالکل انکار کرے اور ضروریات اسلام کے غیر میں اختلاف ہوا ہے۔ نہ ضروریات اسلام میں، غیر ضروریات اسلام میں صحیح یہی ہے کہ محتمل تاویل فاسد کرنے والا کافر نہیں۔

”قوله تعالى فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم

ثم لا يجدوا فى نفسهم حرجا مما ق اس آیت میں صراحتاً بیان ک آنحضرت ﷺ کو اپنے تمام معاملات میں حک کرے۔ لہٰذا وہ احکام وعقائد جن کا ثبوت ح حضور ﷺ کا خدا کی طرف سے لانا قطعاً تو ضروریات اسلام واصول دین کہلاتے ہیں معنی سے حضور ﷺ نے خدا کی طرف سے ب هريرة قال قال رسول الله ﷺ ا الا الله ويؤمنوا بى وبما جئت فا الابحقها وحسابهم على الله (مسلم اله الا الله محمد رسول الله ) “ ﴿ابو ہر گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں تاوقتیکہ لائق نہیں اور مجھ پر اور احکام واوامر الہی ک ورسالت اور سب احکام پر ایمان لے آ۔ اسلامی کے ساتھ جو قصاص وحدود کے ذری ”عن عبادة ابن الصـ الامر اهله الا ان تروا كفرا بو مشكوة ص٣١٩كتاب الامارة والقضـ غير معصية وتحريمها فى المعصية، بعدى واموراً تنكرونها) “ ﴿عبادہ بن اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم اہل الامر ک تمہارے پاس دلیل ہو۔﴾

منکر ضروریات دین کا حکم

نوٹ ! ان احادیث سے معل

صفحہ ٦٩

ثم لا يجدوا فى نفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما (نساء: ٦٥)“ اس آیت میں صراحتاً بیان کیا گیا ہے کہ وہ شخص ہرگز مومن نہیں ہو سکتا جو آنحضرت ﷺ کو اپنے تمام معاملات میں حکم نہ بنائے اور آپ کے فیصلہ کو ٹھنڈے دل سے تسلیم نہ کرے۔ لہٰذا وہ احکام وعقائد جن کا ثبوت حضور ﷺ سے یقینی طور پر امت کو معلوم ہو گیا اور ان کو حضور ﷺ کا خدا کی طرف سے لانا قطعاً تواتراً ثابت ہو گیا اور خاص وعام میں شہرت پکڑ گیا۔ وہ ضروریات اسلام واصول دین کہلاتے ہیں ان میں سے کسی امر کا اس معنی سے انکار کرنے والا جس معنی سے حضور ﷺ نے خدا کی طرف سے بیان فرمایا ہے ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ”عن ابی هريرة قال قال رسول الله ﷺ امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله ويؤمنوا بى وبما جئت فاذا فعلوا ذالك عصموا منى دمائهم واموالهم الا بحقها وحسابهم على الله (مسلم ج ١ ص ٣٧ باب الامر بقتال الناس حتى يقولوا لا اله الا الله محمد رسول الله ) “ ﴿ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو امر کیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں تا وقتیکہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں اور مجھ پر اور احکام واوامر الہی کہ میں لایا ہوں ان سب پر ایمان لاویں۔ جب وہ توحید ورسالت اور سب احکام پر ایمان لے آئے تو ان کے خون اور اموال سب محفوظ ہو گئے۔ مگر حق اسلامی کے ساتھ جو قصاص وحدود کے ذریعہ سے ہو اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔﴾

”عن عبادة ابن الصامت بايعنا رسول الله ﷺ على ان لا ننازع الامر اهله الا ان تروا كفرا بواحاً عندكم من الله فيه برهان، (متفق عليه مشكوة ص ٣١٩ كتاب الامارة والقضاء، مسلم ج ٢ ص ١٢٥ باب وجوب طاعة الامراء فى غير معصية وتحريمها فى المعصية، بخارى ج ٢ ص ١٠٤٥ باب قول النبى ﷺ سترون بعدى واموراً تنكرونها)“ ﴿ عبادہ بن الصامتؓ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم اہل الامر کی کبھی مخالفت نہ کریں۔ لیکن جب کفر صریح دیکھو جس پر تمہارے پاس دلیل ہو۔﴾

منکر ضروریات دین کا حکم

نوٹ ! ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو احکام وعقائد آنحضرت ﷺ خدا کی طرف

صفحہ ٧٠

سے لائے ہیں۔ ان سب کی تصدیق کرنا ایمان ہے اور ان امور میں کسی امر کا انکار کرنا کفر ہے۔ لہٰذا وہ احکام وعقائد جن کا ثبوت حضورﷺ کی شریعت میں یقینی طور پر معلوم ہو گیا اور ان کو حضورﷺ کا خدا کی طرف سے لانا قطعاً تواتر او بالاجماع ثابت ہو گیا اور خاص وعام میں شہرت پکڑ گیا۔ وہ ضروریات اسلام اور اصول دین کہلاتے ہیں۔ پس اگر کوئی شخص ضروریات اسلام میں سے کسی امر کا انکار کرے بالاتفاق کافر ہو جاتا ہے۔ کلمہ شہادت محمد رسول اللہ میں بھی اجمالاً و تفصیلاً انہی امور پر ایمان لانے کا اقرار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہی ہیں کہ محمدﷺ کی ان سب امور میں تصدیق کرتا ہوں کہ جو وہ خدا کی طرف سے لائے ہیں۔ ہاں وہ امور جن کا ثبوت قطعی طور پر حضورﷺ کا لانا معلوم نہیں ہوا ہے۔ ضروریات اسلام میں داخل نہیں ایسے امور کے انکار سے عندالمحققین کافر نہیں ہوتا۔ اس لئے فقہاء و متکلمین نے ایمان و کفر کی یہ تعریف کی ہے۔ ”الایمان تصدیق سیدنا محمدﷺ فی جمیع ما جاء بہ من الدین ضرورة ۔ الکفر تکذیب محمدﷺ فی شئی مما جاء بہ من الدین ضرورة (حموی شرح اشباہ نولکشور ص٦٦٣ و نسخہ ج٢ ص٣ وغیرها من کتب العقائد والفقه) “الغرض ضروریات دین میں سے کسی امر ضروری کا کہ جس کا دین سے ہونا ہر خاص وعام مسلمان جانتا ہو انکار کرنا ہی بالاتفاق امت کفر و ارتداد ہے۔ تسلی کے لئے (حقیقت الوحی ص ١٢٣، ١٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٧، ١٦٣) کے اوراق دیکھو مرزا قادیانی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اور چراغ دین جموں والے کو برابر مرتد لکھتے ہیں۔ کیا وہ توحید ورسالت محمدﷺ وقرآن کے قائل نہ تھے یا کلمے کے منکر تھے یا قبلہ کا انکار کر دیا تھا؟۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک ایک ضروری دین کا انکار کیا تھا۔ اس وجہ سے ان کو مرتد ہی کہا۔ دیکھو (نہج المصلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج١ ص٢٦٩) میں ہے۔ ”واعلم ان عملاً من الاعمال لا یفید لاحد من دون ان یعرفنی ویعرف دعوای ودلائلی “ ”یعنی کوئی عمل نماز روزہ وغیرہ بغیر میری اور میرے دعوے کی شناخت کے مفید نہیں“۔ کتب عقائد کا فیصلہ ملاحظہ ہو۔

اللہ (السیر الکبیر لامام محمد ج٥ ص٣٦٨) “ امام محمد سیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ جس نے شرائع اسلام سے کسی امر کا انکار کر دیا۔ اس نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کو توڑ دیا۔

صفحہ ٧١

ان سب کی تصدیق کرنا ایمان ہے اور ان امور میں کسی امر کا انکار کرنا کفر ہے۔ عقائد جن کا ثبوت حضورﷺ کی شریعت میں یقینی طور پر معلوم ہو گیا اور ان کو نبی کی طرف سے لانا قطعاً تواتر او بالاجماع ثابت ہو گیا اور خاص و عام میں شہرت ضروریات اسلام اور اصول دین کہلاتے ہیں۔ پس اگر کوئی شخص ضروریات اسلام میں سے کسی کا انکار کرے بالاتفاق کافر ہو جاتا ہے۔ کلمہ شہادت محمد رسول اللہ میں بھی اجمالاً و مختصراً ان پر یقین لانے کا اقرار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہی ہیں کہ محمدﷺ کی ان سب امور میں تصدیق کرنا جو وہ خدا کی طرف سے لائے ہیں۔ ہاں وہ امور جن کا ثبوت اور قطعی طور پر معلوم نہیں ہوا ہے۔ ضروریات اسلام میں داخل نہیں ایسے امور کے انکار سے کفر نہیں ہوتا۔ اس لئے فقہاء و متکلمین نے ایمان و کفر کی یہ تعریف کی ہے۔ ” الایمان تصدیق بما جاء به محمدﷺ فی جمیع ما جاء به من الدین ضرورة ۔ الکفر تکذیب فی شیئ مما جاء به من الدین ضرورة (حموی شرح اشباه صفحه ٢٦ و شفا، ج ٢، ص ٣ وغیرہا من کتب العقائد والفقه) ‘‘ الغرض ضروریات دین کا امر ضروری کا کہ جس کا دین سے ہونا ہر خاص و عام مسلمان جانتا ہو انکار کرنا ہی کفر و ارتداد ہے۔ تسلی کے لئے (حقیقت الوحی ص ١٤٤، ١٥٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٧، ١٦٣) کے قادیانی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اور چراغ دین جموں والے کو برابر مرتد لکھتے ہیں۔ کیا یہ لوگ قرآن کے قائل نہ تھے یا کلمے کے منکر تھے یا قبلہ کا انکار کر دیا تھا؟ مگر مرزا صاحب کے نزدیک ایک ضروری دین کا انکار کیا تھا۔ اس وجہ سے ان کو مرتد ہی کہا۔ دیکھو (تبلیغ رسالت حصہ دہم ص ٢٦٩) میں ہے۔ ” واعلم ان عملاً من الاعمال لا یفید اذا لم یکن یعرفنی ویعرف دعوای ودلائلی ‘‘ یعنی کوئی عمل نماز روزہ وغیرہ میرے دعوے کی شناخت کے مفید نہیں۔“ کتب عقائد کا فیصلہ ملاحظہ ہو۔ ”من انکر شیئاً من شرائع الاسلام فقد ابطل لا اله الا الله (شرح فقه الاکبر لامام محمد ج ٥، ص ٣٦٨) ‘‘ امام محمد سیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ جس نے کسی اسلامی امر کا انکار کر دیا، اس نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کو توڑ دیا۔ اور شرح تحریر میں ہے۔ ” لا خلاف فی کفر المخالف فی

ضروریات الاسلام ...... وان كان من اهل القبلة (منقول از ردالمحتار ، کتاب الصلوٰۃ ج ١ ص ٤١٤ باب مطلب البدعة ) ” ضروریات اسلام میں خلاف کرنے والے کی تکفیر میں کسی کو خلاف نہیں۔ اگرچہ وہ اہل قبلہ ہی ہو۔ ﴾

تکفیر المخالف فيما كان من اصول الدين وضرورياته كالقول بقدم العالم ونفى حشر الاجساد ونفى العلم بالجزئيات وان الخلاف في غيره (منقول از رد المحتار کتاب البغاة ج ٣ ص ٣٣٩ ) ” ضروریات اسلام واصول دین میں خلاف کرنے والے کی تکفیر پر سب کا اتفاق ہے۔ مثلاً عالم کے قدم کا قائل ہونا ۔ حشر اجساد کا انکار جزئیات کے علم کی نفی کرنا (اللہ تعالیٰ سے ) اور اختلاف ضروریات اسلام کے غیر میں ہے نہ ضروریات اسلام میں۔ ﴾

الاجماع على ان كل من جحد شيئا صح عنده بالاجماع ان رسول الله ﷺ اتى به فقد کفر ‘‘اجماع امت ہے کہ ہر وہ شخص جس نے ایسے امر کا انکار کیا جو اجماعاً ثابت ہو چکا ہو کہ اس امر کو حضورﷺ خدا کی طرف سے لائے ہیں وہ کافر ہے۔﴾

المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الامور التي علم ثبوتها فی الشرع واشتهرت فمن انكر شيئاً من الضروريات كحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله سبحانه بالجزئيات وفرضية الصلوة والصوم لم يكن من اهل القبلة ولو كان مواظبا على الطاعات ‘‘متکلمین کی اصطلاح میں اہل قبلہ اس شخص کو کہتے ہیں۔ جو ضروریات دین کی تصدیق کرے اور ضروریات دین وہ امور ہیں جن کا ثبوت حضورﷺ کی شریعت میں معلوم ہو گیا اور ان کا دین محمدی سے ہونا ہر عام و خاص مسلمان جانتا ہو۔ پس جس نے ضروریات میں سے کسی امر کا انکار کر دیا۔ مثلاً حدوث عالم، حشر اجساد، اللہ سبحانہ کا ہر جزئی کو جاننا ، فرضية الصلوٰة ، وصوم وغیرہ وہ اہل قبلہ نہیں اگرچہ عبادتوں میں خوب کوشش کرنے والا ہو۔﴾

صفحہ ٧٢

الدین او تاویلها “ ﴿کفر کیا ہے ضروریات دین کا انکار کرنا یا ان کی کوئی تاویل کرنا۔﴾

ضروريات الدين لا يدفع الكفر “ ﴿ضروریات دین میں تاویل کرنا کفر کو نہیں روک سکتی۔﴾

والنار او البعث او الحساب او القيامة فهو كافر باجماع للنص عليه واجماع الامة على صحة نقله متواترا وكذلك من اعترف بذالك ولكنه قال ان المراد بالجنة والنار والحشر والنشر والثواب والعقاب معنی غیر ظاهر “ ﴿اور ایسے ہی جو شخص جنت یا دوزخ یا بعث یا حساب یا قیامت کا انکار کرے بالا جماع کافر ہے۔ کیونکہ یہ نص سے ثابت اور اس کے نقل کے تواتر پر اجماع امت ہے اور ایسا ہی وہ شخص بھی کافر ہے جو ان امور کا اعتراف تو کرتا ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ جنت اور دوزخ اور حشر و نشر و ثواب و عقاب سے مراد ظاہر معنی کے غیر ہے۔﴾

” ان اعترف به ظاهراً لكنه يفسر بعض ماثبت من الدين ضرورة بخلاف مافسره الصحابة التابعون واجمعت عليه الامة فهو الزنديق كما اذا اعترف بان القرآن حق ومافيه من ذكر الجنة والنار حق لكن المراد بالجنة الابتهاج الذي يحصل بسبب الملكات المحمودة والمراد بالنار هي الندامة التي تحصل بسبب الملكات المذمومة وليس في الخارج جنة ولا نار فهو زندیق “ ﴿اگر کوئی شخص ضروریات دین کا اعتراف تو کرتا ہے۔ لیکن بعض ضروریات کی تفسیر صحابہ کرام اور تابعینؒ کی تفسیر کے خلاف کرتا ہے۔ جس پر امت نے اجماع کیا ہے۔ وہ زندیق ہے۔ مثلاً اعتراف کرتا ہے کہ قرآن حق ہے اور اس میں جو جنت اور نار کا ذکر آیا ہے حق ہے۔ لیکن جنت سے مراد صرف ابتہاج ہے۔ جو ملکات محمودہ کے سبب سے حاصل ہوگا اور نار سے مراد صرف ندامت ہے جو ملکات مذمومہ کے سبب سے حاصل ہوگی اور خارج میں جنت اور نار کا کوئی وجود نہیں۔ پس یہ شخص زندیق ہے۔﴾

صفحہ ٧٣

اقتلو الزنديق سراً فان توبته لاتعرف “ ”حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ زندیق کو سراً قتل کرو کیونکہ اس کی توبہ نہیں معلوم ہو سکتی۔“

نوٹ! بے شک اہل قبلہ کی تکفیر ناجائز ہے۔ جب تک اصول دین اور ضروریات دین کا انکار نہ کرے اور جب کسی اصل و ضروری دین کا انکار کیا تو پھر اہل قبلہ بھی مسلمان نہیں رہ سکتا۔ بلکہ اہل قبلہ ہی نہیں خواہ کسی تاویل جہالت سے انکار کرے یا بالکل انکار کرے۔ مثلاً صلوٰۃ مفروضہ کا انکار کرے اور یہ تاویل کرے کہ صلوٰۃ میں صلوٰۃ کے معنی صرف دعا کرنے کے ہیں۔ ہم کو دعا کرنے کا حکم ہے نہ ارکان مخصوصہ ادا کرنے کا، اور روزہ کا اس تاویل سے انکار کرے کہ صوموا کے معنی یہ ہیں کہ اپنے نفس کو بری باتوں سے روکو، اور حج کے معنی صرف ارادہ زیارت بیت اللہ کا رکھے نہ سفر مخصوص اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین اور آخرالانبیاء ہونے کا اس تاویل سے انکار کرے کہ بے شک یہ عقیدہ کلمہ شہادت کا جز اور جزو ایمان ہے۔ جیسا کہ رسول اکرم فخر عالم ﷺ کی احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہو چکا اور ایک سو پچاس احادیث متواترہ سے بھی یہ عقیدہ ثابت لیکن اس کے معنی یہ ہیں کہ نئی شریعت لانے والے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ غیر تشریعی نبی حضور ﷺ کے بعد آسکتے ہیں۔ یا خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی مہر سے انبیاء بنیں گے۔ قس علی ھذا! غرض ایسی تاویلیں ضروریات دین میں کفر سے نہیں بچا سکتیں۔ (شرح معانی الاثار ج ٢ ص ٨٧ کتاب الحدود باب حد الخمر ) اور (فتح الباری ج ٨ ص ٢٠٩ باب ليس على الذين امنو وعملو الصلحت جناح) میں ہے کہ اہل شام کی ایک جماعت نے آیت ”ليس على الذين امنو وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا“ کی تحریف کر کے شراب کو حلال قرار دیا۔ حاکم شام یزید بن سفیان نے گرفتار کر کے حضرت فاروق اعظمؓ کے پاس بھجوادئے۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ و تابعینؒ سے مشورہ کیا بالاتفاق یہ رائے ہوئی کہ پہلے ان سے توبہ لی جائے اگر توبہ کرلیں تو اسی اسی درے لگائے جائیں ورنہ ان زندیقوں کو قتل کیا جائے۔ اس مسئلہ کو نہایت شرح وبسط کے ساتھ شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا مولوی محمد انور شاہ صاحب صدر المدرسین مدرسہ عربیہ دیوبند نے اپنے رسالہ اکفار الملحدین میں بیان فرمایا ہے۔

صفحہ ٧٤

قبل صریح دعویٰ نبوت شریعت کے یعنی ١٩٠٠ء سے پہلے مرزا قادیانی

بھی آنحضرت ﷺ کے بعد مطلقاً مدعی نبوت کو کافر کہتے تھے

ورسالت کو کاذب و کافر جانتا ہوں۔"

(حقیقت النبوۃ ص ٨٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

بقوم کافرین (حمامة البشریٰ ١٨٩٤ء ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) "مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں کی جماعت میں جاملوں۔"

کریم پر ایمان رکھتا ہوں تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی اور اگر دوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے۔ جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن کریم کو مانتا ہوں۔ کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن کریم پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ کیا ایسا وہ شخص جو قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہے اور آیت "ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین" کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے۔"

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً ١٨٩٦ء)

"آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے۔ انہی مجازی معنوں کے رو سے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔"

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اور نہ سلسلہ وحی نبوت کا منقطع متصور ہو سکتا ہے ..... اور اس میں آنحضرت ﷺ کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن کریم کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن کریم میں مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے

کا تو کہیں بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت کا ب عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خا اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی۔ پ

نوٹ! مرزائیوں کے چاہئے نبوت ورسالت کافر ہے۔ مسلمان ہرگز حضور ﷺ کی شان کا استخفاف اور نص ص نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور حدیث اور مجازی اصطلاح پر دھوکہ نہ کھائیں۔ لغ دھوکہ لگتا ہے۔ مگر افسوس مرزائی بے چارے

حضرت شیخ اکبر محی وحضرت مجدد الف ثانی وحضرت مولانا محمد قاسم صا صاحبؒ "سب متفق ہوچکا ہے۔ آپ کے بعد ک غرض تمام صوفیاء اہل کشف چونکہ مرزائی امت ان پا کے عوام مسلمانوں کے سا لہٰذا انہی کی عبارتیں اس عق

عقیدہ حضرت مجدد الف ثانی

صفحہ ٧٥

دعویٰ نبوت شرعیہ کے یعنی ١٩٠٠ء سے پہلے مرزا قادیانی

آنحضرت ﷺ کے بعد مطلقاً مدعی نبوت کو کافر کہتے تھے

”سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت کو کافر جانتا ہوں۔“ (حقیقت الوحی ص ٨٩، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

”ماکان لی ان ادعی النبوة واخرج عن الاسلام والحق

(حمامة البشریٰ ١٨٩٩ء ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”مجھ سے یہ نہیں

ہو سکتا کہ دعویٰ کر کے اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں کی جماعت میں جاملوں۔“

”اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن مانتا ہوں تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے۔ جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی ہوں، یا میری یہ دوسری رائے غلط ہے ۔ جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں قرآن کریم کو مانتا ہوں۔ کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرے، قرآن کریم پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ کیا ایسا وہ شخص جو قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً ١٨٩٦ء)

”آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبانِ مقدس حضرت نبوی سے نبی رکھا گیا ہے وہ مجازی معنوں کے رو سے جو صوفیا کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

”آپ کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آجائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے بلکہ وحی منقطع مقصود ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ اور اس میں آنحضرت ﷺ کی شان کا استخفاف اور قرآن کریم کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن کریم میں مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے

کا تو کہیں بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے۔۔۔۔۔ اور حدیث لا نبی بعدی بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات ردیہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢، ١٨٩٩ء)

نوٹ! مرزائیوں کو چاہئے کہ ان اقوال کو غور سے پڑھیں کہ حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت و رسالت کافر ہے۔ مسلمان ہر گز نہیں۔ قرآن کریم پر ہرگز اس کا ایمان نہیں۔ اس میں حضور ﷺ کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن کریم میں ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے اور صوفیاء کے لغوی اور مجازی اصطلاح پر دھوکہ نہ کھائیں۔ لغوی طور پر استعمال کرنا بھی پسندیدہ نہیں۔ عام مسلمانوں کو دھوکہ لگتا ہے۔ مگر افسوس مرزائی بے چارے کیا کریں خود مرزا قادیانی ہی بدل گئے۔

حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربی صاحب فتوحات مکیہ

وحضرت مجدد الف ثانی وحضرت مولانا شاہ اسماعیل دہلویؒ وحضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ وحضرت مولانا محمد عبدالحی صاحب لکھنویؒ سب متفق ہیں کہ حضور ﷺ پر منصب نبوت ختم ہو چکا ہے۔ آپؐ کے بعد کسی کو منصب نبوت عطاء نہ کیا جائے گا۔ غرض تمام صوفیاء اہل کشف کا بھی اس عقیدہ پر اجماع ہے۔ مگر چونکہ مرزائی امت ان پانچوں حضرات کی عبارتیں قطع و برید کر کے عوام مسلمانوں کے سامنے پیش کر کے اغوا کیا کرتے ہیں۔ لہٰذا انہی کی عبارتیں اس عقیدہ میں پیش کرتا ہوں

عقیدہ حضرت مجدد الف ثانی

”باید دانست کہ منصب نبوت ختم بر خاتم الرسل

صفحہ ٧٦

شده است عليه وعلى اله الصلوة والتسليمات (مکتوبات ج ١ ص ٤٤٨ ، مکتوب ٢٦٠ ) ” جان لینا چاہئے کہ منصب نبوت حضرت خاتم الرسل محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگیا ہے۔ ﴿

ظلیت ندارد و عروجش رو بحق دارد نزولش رو بخلق این قرب بالاصالة نصیب انبیاء است و این منصب مخصوص باین بزرگوران و خاتم این منصب سید البشر است حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول متابع شریعت خاتم الرسل خواهد بود (مکتوب ٣٠١ ج ١ ص ٦٣٦ ) ” نبوت قرب الٰہی جل شانہ کا نام ہے۔ جس میں ظلیت کا شائبہ تک نہیں ہوتا ہے۔ اس کے عروج کا منہ خدا کی طرف ہے اور اس کے نزول کا منہ خلق کی طرف ہوتا ہے۔ یہ قرب بالاصالۃ انبیاء کا حصہ ہے اور یہ منصب انہی بزرگوں کے ساتھ مخصوص ہے اور اس منصب کے ختم کرنے والے حضور سید البشر ﷺ ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد حضور خاتم الرسل ﷺ کی شریعت پر چلیں گے۔ ﴿

بعدی نبی لکان عمر ۔ یعنی لوازم وکمالاتیکه در نبوة در کار است همه را عمر دارَد اما چون منصب نبوة بخاتم الرسل ﷺ ختم شده است بدولت منصب نبوة مشرف نگشت (مکتوب ٢٤ ج ٢ ص ٣٢٧ ، ٣٢٨) ”نیز اسی مکتوب میں ہے ۔” مقرراست هیچ ولی امتی بمرتبه صحابی آن امت نرسد فکیف به نبی آن امت “ حضور ﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ کی شان میں فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے ۔ یعنی نبوت کے تمام کمالات عمرؓ میں موجود ہیں ۔ لیکن چونکہ منصب نبوت حضور خاتم الرسل ﷺ پر ختم ہو گیا ہے۔ منصب نبوت کے ساتھ مشرف نہیں ہو سکتے۔ ﴿

اور (ج ٣ ص ٣٢٨) میں ہے۔ ﴿ یہ امر محقق ہے کہ کسی امت کا کوئی ولی اس امت کے صحابیؓ کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ چہ جائیکہ اس امت کے نبی ﷺ کے مرتبہ کو۔ ﴿

تبعیت و وراثت لازم نمی آید که آن بعض نبی باشد یا مساوات بانبی پیدا

صفحہ ٧٧

علیه وعلى آله الصلوة والتسليمات (مکتوبات ج ١ ص ٤٤٨ ، ) ” ﴿ جان لینا چاہئے کہ منصب نبوت حضرت خاتم الرسل محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم

”نبوت عبارت از قرب الهی است جل سلطانه که شائبه د وعروجش روبحق دارد نزولش رو بخلق این قرب بالاصالة اء است واین منصب مخصوص بایں بزرگواراں وخاتم ایں د البشر است حضرت عیسی علیه السلام بعد از نزول متابع م الرسل خواهد بود (مکتوب ٣٠١ ج ١ ص ٤٣٦) ” ﴿ نبوت قرب الہی ہے۔ جس میں ظلیت کا شائبہ تک نہیں ہوتا ہے۔ اس کے عروج کا منہ خدا کی طرف زول کا منہ خلق کی طرف ہوتا ہے۔ یہ قرب بالا صالۃ انبیاء کا حصہ ہے اور یہ منصب ساتھ مخصوص ہے اور اس منصب کے ختم کرنے والے حضور سید البشر ﷺ ہیں اور السلام نزول کے بعد حضور خاتم الرسل ﷺ کی شریعت پر چلیں گے۔ ﴾

”در شان حضرت فاروق فرموده است ﷺ لوکان کان عمرؓ ، یعنی لوازم وکمالاتیکه در نبوة در کار است همه را لچوں منصب نبوة بخاتم الرسل ﷺ ختم شده است بدولت مشرف نگشت (مکتوب ٢٤ ج ٣ ص ٣٢٧ ، ٣٢٨ ) ”نیز اسی مکتوب میں ت ہیچ ولی امتی بمرتبه صحابی آن امت نرسد فکیف به نبی حضور ﷺ نے حضرت عمر فاروق کی شان میں فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی یعنی نبوت کے تمام کمالات عمرؓ میں موجود ہیں۔ لیکن چونکہ منصب نبوت حضور پر ختم ہو گیا ہے۔ منصب نبوت کے ساتھ مشرف نہیں ہو سکتے۔ ﴾ (ج ٣ ص ٣٢٨) میں ہے۔ ﴿ یہ امر محقق ہے کہ کسی امت کا کوئی ولی اس امت کے تبہ تک پہنچ سکتا ۔ چہ جائیکہ اس امت کے نبی ﷺ کے مرتبہ کو۔ ﴾

”حصول کمالات نبوت مر بعضے افراد امت را بطریق نت لازم نمی آید که آن بعض نبی باشد یا مساوات با نبی پیدا

کند چه حصول کمالات نبوة ديگر است وحصول منصب نبوة ديگر چنانچه تحقیق این معنی به تفصیل در مکتوبات قدسی آیات حضرت ایشان (حضرت مجدد الف ثانی) مسطور است (مکتوبات خواجه محمد معصوم ص ٢٧٦ ) ” ﴿ بعض افراد امت کو وراثتاً کمالات نبوت حاصل ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ بعض نبی ہو جائے یا نبی کے درجہ کے برابر پہنچ جائے۔ کیونکہ کمالات نبوت کا حاصل ہونا اور ہے اور منصب نبوت کا حاصل ہونا اور ہے۔ چنانچہ اس کی تحقیق بہ تفصیل حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات میں مسطور ہے۔ ﴾

عقیدہ حضرت مولانا اسماعیل شہیدؒ

بالنبوة (عبقات ج ١ ص ١٥٩ ) ” ﴿ کمالات نبوت کے حاصل ہو جانے سے منصب نبوت سے متصف ہونا لازم نہیں آتا۔ ﴾

امتیازے ظاهر نخواهد شد الا به نفس مرتبه نبوة پس درحق مثل ایں شخص توان گفت که اگر بعد خاتم الانبیاء کسے بمرتبه نبوة فائز میشدی هر آئینه همین اکمل الکاملین فایز میگردید چنانکه درحدیث شریف وارد شده لوکان بعدی نبی لكان عمر (منصب امامة ص ٥٤، ٥٥ ) ” ﴿ پس اس امام اکمل اور انبیاء اللہ میں بظاہر کچھ امتیاز معلوم نہیں ہوتا۔ مگر صرف منصب نبوۃ کا پس ایسے شخص کے حق میں کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد منصب نبوت کے ساتھ فائز کیا جاتا تو بے شک یہی اکمل الکاملین فائز ہوتا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں عمر فاروقؓ کی شان میں وارد ہے۔ کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ ﴾

نوٹ! اور یہ بھی یاد رہے کہ کمالات نبوت سے مراد مشابہ کمالات نبوت ہیں۔ کیونکہ نبوت کے معنی تو یہ ہیں کہ جو کمالات منصب نبوت کے ساتھ مخصوص ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ نبی کے سوا دوسرے کو حاصل نہیں ہو سکتے ۔ حضرت مجدد صاحبؒ فرماتے ہیں ۔ ”کمالات حضرات شیخین شبیه بکمالات انبیاء است علیهم الصلوة والتسلیمات (مکتوب ٢٥١

صفحہ ٧٨

ج ١ ص ٤١١) ”اور یہ بھی یاد رہے کہ کمالات نبوت متعدد اور انواع مختلفہ سے ہیں اس لئے نبوت کو جامع ولایت بھی کہا گیا ہے۔ پس وہ کمالات نبوت جو من وجہ کمالات ولایت بھی ہیں۔ قیامت تک وراثتاً جاری ہیں۔ مگر وہ وہی کمالات نبوت جو مختصات بمنصب نبوت ہیں بکلی مسدود ہیں۔ پس وہ جمیع کمالات نبوت جو کمالات ولایت بھی ہیں۔ اولیاء اللہ علیٰ حسب مراتب وہ بھی وراثتاً حاصل فرماتے ہیں۔ نہ وہ وہی کمالات نبوت جو مختصات بمنصب نبوت ہیں۔ اسی لئے مجددؒ صاحب نے فرمایا ہے۔ ”نبوت عبارت از قرب الهی است جل شانہ که شائبه ظلیت ندارد (مکتوب ٣٠١ ج ١ ص ٦٣٦)“ یعنی نبوت میں ظلیت کا شائبہ نہیں۔ پس جب نبوت وراثتاً وظلاً حاصل نہیں ہو سکتی تو وہ وہی کمالات نبوت جو منصب نبوت کے ساتھ مخصوص ہیں۔ کیوں کر وراثتاً وظلاً و کسباً حاصل ہو سکتے ہیں۔

تنبیہ ! کمالات نبوت کا مع نبوت کے باسرہا تسلیم کرنا اصل و فروع میں امتیاز اٹھا دینا ہے اور درحقیقت یہ ایک زہر ہے۔ جو ظل کا بہانہ کر کے مرزا قادیانی نے ایک غلطی کا ازالہ میں مسلمانوں کو پلانا چاہا ہے۔ ورنہ ایسا شخص دعویٰ نبوت کے علاوہ اصل میں نبی کریم ﷺ سے مساوات کا مدعی ہے۔

نبوت کسبی نہیں

(الیواقیت والجواہر ج ١ ص ١٦٤، ١٦٥) میں ہے۔ ”لیست النبوة مكتسبة حتى يتوصل اليها بالنسك والرياضات كماظنه جماعة من الحمقى ...... وقد افتى المالكية وغيرهم بكفر من قال ان النبوة مكتسبة“

(شفاء قاضی عیاض ج ٢ ص ٢٤٧) میں بھی اس قسم کا مضمون ہے۔ ﴿یعنی نبوت کسبی نہیں تا کہ عبادت اور ریاضتیں کر کے اس تک پہنچ سکے۔ جیسا کہ احمقوں کی ایک جماعت نے کہہ دیا مالکی مذہب اور غیر ہم نے ایسے شخص پر جو نبوت کو کسبی بتائے کفر کا فتویٰ دیا ہے۔﴾

عقیدہ جناب مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ

”سو اگر اطلاق اور عموم ہے تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے۔ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل ”انت منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدى اوكما قال “ جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی ۔ کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے۔ پھر اس پر اجماع بھی منعقد

ہو گیا۔ گو الفاظ مذکور بسند تواتر منقول نہ ہوں، ہوگا۔ جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیر جیسا کہ اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منک اللہ ﷺ کسی اور نبی ہونے کا احتمال نہیں جو اس

تنبیہ! مولانا مرحوم خاتم النبیین ﷺ ختم رتبی اور ختم زمانی و مکانی سب کو شامل ہوں لے کر ختم زمانی کو اس آیت سے التزاما اور اص ہیں۔ اس صورت میں صرف مفہوم ختم رتبی (بالفرض بتلارہا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ اجماع سے ثابت ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ خاتمیت رتبی میں کچھ فرق نہ آئے گا ۔“ کیو نبوت کے سلسلے آپ ﷺ پر ختم ہو گئے اور خاتم لیکن مولانا مرحوم نے ختم مرتبی کے ساتھ ختم زم

قوله! ”اور ایسے ہی ختم نبوت بمعنی معروض کو ا

”بلکہ بناء خاتمیت اور بات پر۔ لازم آجاتا ہے اور فضیلت نبی ﷺ دوبالا ہو

جیسے حضور ﷺ کے ختم زمانی پر تو الانبیاء علیہم السلام ہونے اور ختم ذاتی اور مرتب

کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ محققین کے نزدیک اور خاتم مرتبی بھی ہیں اور آپ ﷺ کو فقط ا صرف نفس خاتمیت زمانی میں کچھ فضیلت نہیں

الغرض مولانا مرحوم ختم زمانی کو و یا بدلالت التزامی منطوق مانتے ہوئے ایک ۔ تمام امت کا اجماع بھی ہے۔ افسوس مرزا ق

صفحہ ٧٩

ہوگیا۔ گو الفاظ مذکور بسند تواتر منقول نہ ہوں سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا۔ جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجود یہ کہ الفاظ مُشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا کہ اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔“ (تحذیر الناس ص ١٣، ١٤) ”بعد رسول اللہ ﷺ کسی اور نبی ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے کافر سمجھتا ہوں۔“

(مناظرہ عجیبہ ص ١٠٣)

تنبیہ! مولانا مرحوم خاتم النبیین ﷺ کے اول تو وہ عام معنی فرماتے ہیں جو ختم ذاتی اور ختم رتبی اور ختم زمانی و مکانی سب کو شامل ہوں ورنہ اس آیت کو ختم ذاتی اور رتبی میں بالمعنی المطابقی لے کر ختم زمانی کو اس آیت سے التزاماً اور احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت فرماتے ہیں۔ اس صورت میں صرف مفہوم ختم رتبی کا بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”اگر بالفرض (بالفرض بتلا رہا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ثابت کر چکے کہ ختم زمانی بھی نص قطعی اور تواتر اور اجماع سے ثابت ہے اور اس کا منکر کافر ہے ) بعد زمانہ نبی ﷺ کے بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت رتبی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ کیونکہ ختم مرتبی کے یہ معنی ہیں کہ تمام مدارج و مراتب نبوت کے سلسلے آپ ﷺ پر ختم ہو گئے اور خاتمیت زمانی اس کے معنے مطابقی میں داخل نہیں ہے۔ لیکن مولانا مرحوم نے ختم مرتبی کے ساتھ ختم زمانی کو اسی آیت سے التزاماً مدلل ثابت فرمایا ہے کہ:

قولہ! ”اور ایسے ہی ختم نبوت بمعنی معروض کو تاخر زمانی لازم ہے۔“

(تحذیر ص ١١)

”بلکہ بناء خاتمیت اور بات پر ہے۔ جس سے تاخر زمانی اور سد باب مذکور خود بخود لازم آ جاتا ہے اور فضیلت نبی ﷺ دوبالا ہو جاتی ہے۔“

(تحذیر ص ٥)

جیسے حضور ﷺ کے ختم زمانی پر تمام امت کا اجماع ہے۔ ایسے حضور ﷺ کے اشرف الانبیاء علیہم السلام ہونے اور ختم ذاتی اور مرتبی پر اجماع ہے۔ اسی لئے (تحذیر ص ٥) میں لکھتے ہیں کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ محققین کے نزدیک تو آپ ﷺ جیسے خاتم زمانی ہیں۔ ویسے ہی خاتم ذاتی اور خاتم مرتبی بھی ہیں اور آپ ﷺ کو فقط خاتم زمانی کا اعتقاد کرنا یہ تو عوام کا خیال ہے۔ کیونکہ صرف نفس خاتمیت زمانی میں کچھ فضیلت نہیں۔

الغرض مولانا مرحوم ختم زمانی کو واجب الایمان اور آیت خاتم النبیین کا بدلالت مطابقی یا بدلالت التزامی منطوق مانتے ہوئے ایک دوسرے معنی بھی ظاہر فرماتے ہیں۔ جس پر علیحدہ طور پر تمام امت کا اجماع بھی ہے۔ افسوس مرزائیوں کا اس میں کیا نفع ہے۔ جو مولانا کی عبارت پیش کر

صفحہ ٨٠

دیتے ہیں۔ یہ تو ایشان کی تبرکات رہے ہیں اور حضورﷺ کے بعد اگر کسی نبی کے ہونے کا قائل کرے اس کو بھی کافر فرما رہے ہیں۔

عقیدہ مولانا عبدالحئی صاحب لکھنویؒ

مولانا زجرالناس میں لکھتے ہیں کہ: "لکن ختم نبیناﷺ علیٰ جمیع الانبیاء جميع الطبقات بمعنى انه لم يعط النبوة لاحد فى طبقة ...... لا شبهة فى بطلان الاحتمال الثانى وهو ان يكون وجود الخاتم فى تلك الطبقات بعده بما ورد انه لا نبى بعده وثبت فى مقره انه خاتم الانبياء على الاطلاق والاستغراق " لیکن ہمارے نبیﷺ نے جمیع طبقات کے جمیع انبیاء علیہم السلام کو ختم کر دیا۔ یعنی آپﷺ کے بعد کسی طبقہ میں بھی کسی کو منصبِ نبوت نہ دیا جائے گا ...... زمین کے طبقات تحتانیہ میں حضورﷺ کے بعد کسی نبی کا اپنے طبقہ کے انبیاء علیہم السلام کے خاتم ہونے کا احتمال بھی باطل ہے۔ اس کے بطلان میں کچھ شبہ نہیں۔ کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور اپنی جگہ (یعنی آیۃ خاتم النبیین میں) یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپﷺ علی الاطلاق والاستغراق یعنی بغیر استثناء تمام انبیاء علیہم السلام کے ختم کرنے والے ہیں۔

تنبیہ! (رسالہ دافع الوسواس ص ١٤، ١٣) کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں طبقات تحتانیہ میں ایسے انبیاء علیہم السلام کا موجود ہونا محال نہیں جو حضورﷺ سے پہلے مبعوث ہو چکے ہوں اور حضورﷺ کے زمانہ میں بھی باقی رہے ہوں۔ لیکن حضورﷺ کی بعثت عامہ سے ان کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہوگئی ہو۔ وہ اس وقت نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں۔ بلکہ حضورﷺ خاتم النبیین کی امت میں داخل ہوں اور ان پر شریعت نازل نہ ہوتی ہو۔ یعنی صاحب شرع جدید نہ ہوں۔ بلکہ حضورﷺ کی شریعت کے متبع ہوں۔ کیونکہ حضورﷺ کے زمانہ کے بعد کسی پہلے نبی کا موجود ہونا محال نہیں۔ ہاں حضورﷺ کے بعد کسی نئے نبی کا مبعوث ہونا یا پرانا نبی ہی اس امت میں نبی ہونے کی حیثیت سے دوبارہ مبعوث ہو محال ہے اور ص٣ میں اس احتمال کو باطل قرار دیا ہے کہ طبقات تحتانیہ کے انبیاء علیہم السلام حضورﷺ کے زمانہ کے بعد ہوں اس احتمال کے متعلق لکھا ہے کہ احتمال اول بنصوص متعددہ باطل ہے۔ اس میں کوئی تفریق نہیں کہ کسی قسم کے نبی حضورﷺ کے بعد نہیں ہو سکتے۔ مرزائی خوب جانتے ہیں کہ ان حضرات کی تحریروں سے ہمارا مطلب نہیں نکل سکتا۔ محض اغواء جاہلین مقصود ہوتا ہے۔

صفحہ ٨١

فتنہ کی جڑ کاٹ رہے ہیں اور حضورﷺ کے بعد اگر کسی نبی کے ہونے کا قائل کافر فرما رہے ہیں۔

عقیدہ مولانا عبدالحی صاحب لکھنویؒ

زاجر الناس میں لکھتے ہیں کہ: ”لكن ختم نبيناﷺ الى جميع الطبـ قات بمعنى انه لم يعط النبوة لاحد فى طبقة...... لا شبهة فى احـ تمال الثانى وهو ان يكون وجود الخاتم فى تلك الطبقات بعده لا نبى بعده وثبت فى مقره انه خاتم الانبياء على الاطلاق “ ﴿لیکن ہمارے نبیﷺ نے جمیع طبقات کے جمیع انبیاء علیہم السلام کو ختم کر دیا۔ آپﷺ کے بعد کسی طبقہ میں بھی کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا...... زمین کے طبقات میں آپﷺ کے بعد کسی نبی کا اپنے طبقہ کے انبیاء علیہم السلام کے خاتم ہونے کا احتمال بھی باطل ہے اس کے بطلان میں کچھ شبہ نہیں۔ کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور دوسری جگہ (یعنی آیۃ خاتم النبیین میں) یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپﷺ علی الاطلاق بغیر استثناء تمام انبیاء علیہم السلام کے ختم کرنے والے ہیں۔﴾

(رسالہ دافع الوسواس ص١٣،٣) کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے تحتانیہ میں ایسے انبیاء علیہم السلام کا موجود ہونا محال نہیں جو حضورﷺ سے پہلے مبعوث ہوں اور حضورﷺ کے زمانہ میں بھی باقی رہے ہوں۔ لیکن حضورﷺ کی بعثت سے ان کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہوگئی ہو۔ وہ اس وقت نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں۔ بلکہ حضورﷺ کی امت میں داخل ہوں اور ان پر شریعت نازل نہ ہوتی ہو۔ یعنی صاحب شرع جدید نہ ہوں بلکہ آپﷺ کی شریعت کے متبع ہوں۔ کیونکہ حضورﷺ کے زمانہ کے بعد کسی پہلے نبی کا آنا محال نہیں۔ ہاں حضورﷺ کے بعد کسی نئے نبی کا مبعوث ہونا یا پرانا نبی ہی اس امت کی حیثیت سے دوبارہ مبعوث ہو محال ہے اور ص٣ میں اس احتمال کو باطل قرار دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام حضورﷺ کے زمانہ کے بعد ہوں اس احتمال کے متعلق لکھا ہے کہ یہ نصوص متعددہ باطل ہے۔ اس میں کوئی تفریق نہیں کہ کسی قسم کے نبی حضورﷺ کے بعد آتے۔ مرزائی خوب جانتے ہیں کہ ان حضرات کی تحریروں سے ہمارا مطلب نہیں کہ وہ جاہلین مقصود ہوتا ہے۔

عقیدہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربی وشیخ عبدالوہاب شعرانی

وانسدت ابواب اوامر الالهية والنواهي فمن ادعاها بعد محمدﷺ فهو مدع شريعة اوحى بها اليه سواء وافق بها شرعنا او خالف فان كان مكلفا ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحاً (فتوحات باب ٣١٠ ج ٣ ص ٣٩ وهكذا فى اليواقيت والجواهر للشيخ عبد الوهاب الشعرانى ج ٢ ص ٣٨ مبحث ٣٥ مطبوعه مصر)“ ﴿ارتفاع نبوت کے بعد آج سوائے معرفتوں کے اولیاء اللہ کے لئے کچھ باقی نہیں رہا اور امر الٰہیہ اور نواہی کے دروازے بند کر دئے گئے۔ پس جو شخص محمدﷺ کے بعد اس کا دعویٰ کرے وہ شریعت کا مدعی ہے۔ جو اس کی طرف وحی کی گئی پھر برابر ہے کہ وہ ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف۔ پس اگر وہ مکلف یعنی عاقل بالغ ہے تو اس کی گردن ماریں گے اور نہیں تو (اگر کوئی پاگل ہے تو) اس سے کنارہ کشی کریں گے۔﴾

به الملك على غير قلب نبى اصلا ولا يأمر غير نبى بامر الهى جملة واحدة فان الشريعة قد استقرت تبين الفرض والواجب والمندوب والحرام والمكروه والمباح فانقطع الامر الا لهى بانقطاع النبوة والرسالة (از یواقیت مبحث ٣٥ ج ٢ ص ٣٨) “ ﴿شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ٣١٠ میں فرمایا ہے کہ: جان تو کہ ہرگز ہرگز غیر قلب نبی پر فرشتہ وحی لے کر نہیں نازل ہوتا اور غیر نبی کو امر الٰہی کا ایک جملہ بھی امر نہیں ہوتا اس لئے کہ شریعت مقرر ہو چکی اور فرض، واجب، مندوب، حرام، مکروہ، مباح سب واضح طور پر بیان ہوچکے۔ پس انقطاع نبوت اور رسالۃ کے ساتھ امر الٰہی کا بھی انقطاع ہو گیا۔﴾

الفتوحات من قال ان الله تعالى امره بشئي فليس ذلك بصحيح انما ذالك تلبيس لان الامر من قسم الكلام وصفة وذالك باب مسدود دون الناس...... وان كان صادقاً فيما قال انه سمعه فليس ذالك عن الله وانما هو من ابليس فظن انه عن الله لان ابليس قد اعطاه الله تعالى ان يصور عرشاً وكرسياً

صفحہ ٨٢

وسماء يخاطب الناس منه كما مرّ فى مبحث خلق الجن (اليواقيت ج٢ ص٣٨ مبحث ٢٥) ”شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ٣١٠ میں فرمایا ہے کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو فلاں شئے کا امر کیا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں۔ یہ محض دھوکہ ہے۔ اس لئے کہ امر کلام کی قسم اور اس کی صفت ہے اور لوگوں پر اس کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اگر وہ اپنے قول میں سچا ہی ہے کہ اس نے امر الٰہی کو سنا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ سے ہرگز نہیں بلکہ ضرور ابلیس لعین سے ہے۔ اس نے اس امر ابلیس کو اللہ تعالیٰ کا امر سمجھا۔ کیونکہ شیطان عرش و کرسی و آسمان متمثّل کراتا ہے اور پھر وہاں سے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے۔ جیسا کہ مبحث خلق الجن میں اس کی بحث گزر چکی۔ ﴿

يجئنى بذلك ملك وانما امرنى الله تعالى به من غير واسطه وقلنا له هذا اعظم من الاوّل فانك اذن ادعيت ان الله تعالى كلمك كما كلم موسىٰ عليه الصلوٰة والسلام ولا قائل بذالك لا من علماء النقل ولا من علماء الذوق (اليواقيت ج٢ ص٣٨ مبحث ٢٥) ”شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ٣١٠ میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ شخص یہ دعویٰ کرے کہ میرے پاس امر الٰہی فرشتہ نہیں لایا۔ بلکہ اللہ نے بلا واسطہ امر کیا ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ تو پہلے دعویٰ سے بھی بڑھ کر دعویٰ ہے۔ کیونکہ اس وقت تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ نے اس سے بات چیت کی جیسے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا اور اس کائنات کا کوئی قائل نہیں نہ علماء نقل اور علماء ذوق۔ ﴿

عليه السلام يقظة ومشافهة واما وحى الاولياء فيكون على لسان ملك الالهام (یواقیت ج٢ ص٨٣ مبحث ٤٦) “

”فان قلت هل ينزل ملك الالهام على احد من الاولياء بامر او نهى فالجواب ان ذالك ممتنع كما قاله الشيخ فى الباب العاشر وثلثمائة فلا ينزل ملك الالهام على غير نبى بامر ونهى ابداً وانما للاولياء وحى المبشرات وهو الرؤياء الصالحة يراها الرجل او ترى له وهى حق ووحى غالباً لانها غير معصومة (یواقیت ج٢ ص٨٥ مبحث ٤٦) “شیخ عبدالوہاب شعرانی

صفحہ ٨٣

ب الناس منه كما مر فى مبحث خلق الجن (از یواقیت ج ٢ ص ٣٨

”شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ٢١ میں فرمایا ہے کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اں شئے کا امر کیا ہے یہ ہرگز صحیح نہیں۔ یہ محض دھوکہ ہے۔ اس لئے کہ امر کلام ت ہے اور لوگوں پر اس کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اگر وہ اپنے قول میں سچا ہی ی کو سنتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ سے ہرگز نہیں بلکہ ضرور ابلیس لعین سے ہے۔ اس نے فانی کا امر سمجھا۔ کیونکہ شیطان عرش و کرسی و آسمان متمثل کراتا ہے اور پھر وہاں بات چیت کرتا ہے۔ جیسا کہ مبحث خلق الجن میں اس کی بحث گزر چکی۔ ﴾

”قال فى الباب العاشر وثلثمائة ...... فان قال لم ك وانما امر فى الله تعالى به من غير واسطه وقلنا له هذا فانك اذن ادعيت ان الله تعالى كلمك كما كلم موسى عليه لام ولا قائل بذالك لا من علما النقل ولا من علماء الذوق ٣٨ مبحث ٣٥) “ ﴿شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ٣١٠ میں یہ بھی فرمایا عویٰ کرے کہ میرے پاس امر الٰہی فرشتہ نہیں لایا۔ بلکہ اللہ نے بلا واسطہ امر کہ یہ تو پہلے دعویٰ سے بھی بڑھ کر دعویٰ ہے۔ کیونکہ اس وقت تو یہ دعویٰ کرتا سے بات چیت کی جیسے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تھا اور اس کائنات کا نقل اور علماء ذوق۔ ﴾

”اعلم ان وحی الانبیاء لا يكون الاعلى لسان جبرئيل ة ومشافهة واما وحى الاولياء فيكون على لسان ملك الالهام مبحث ٤٦) “

ئلت هل ينزل ملك الالهام على احد من الاولياء بامر اونهى لك ممتنع كما قاله الشيخ فى الباب العاشر وثلثمائة فلا ام على غير نبى بامر ونهى ابدا وانما للاولياء وحى الرؤياء الصالحة يراها الرجل اوترى له وهى حق ووحى صومة (يواقيت ج ٢ ص ٨٥ مبحث ٤٦) “ ﴿شیخ عبدالوہاب شعرانی

فرماتے ہیں کہ انبیاء کی وحی بذریعہ جبرئیل علیہ السلام یقظۃً ومشابہۃً ہوتی ہے اور وحی اولیاء ملك الالہام کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ (ص ٨٣) پھر لکھتے ہیں کہ اگر تو کہے کہ کیا کسی ولی اللہ پر ملك الالہام امر ونہی لے کر بھی نازل ہو سکتا ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ یہ ممتنع ہے۔ جیسا کہ شیخ نے فتوحات کے باب ٣١٠ میں فرمایا ہے کہ ملک الہام غیر نبی پر امر و نہی لے کر کبھی نازل نہیں ہوسکتا۔ اولیاء اللہ کو تو صرف وحی مبشرات ہوا کرتی ہے اور یہ اچھے خواب ہیں۔ (کیونکہ الہام غنودگی کی حالت میں نازل ہوا کرتے ہیں) جو خود آدمی دیکھتا ہے یا اس کے لئے کوئی دوسرا دیکھتا ہے اور یہ وحی حق ہے غالباً کیونکہ یہ غیر معصوم ہے۔ ﴾

خالف ماجاء ت به الرسل فالجواب حكمه الردفان الولى اذا اتى فى كشفه بما يخالفه ماكشف الرسل وجب علينا الرجوع الى كشف الرسل وعلمنا ان ذالك الولى قد طرا عليه فى كشفه خلل (يواقيت ج ٢ ص ٩١ مبحث ٤٧) “ ﴿اگر تو کہے کہ اگر ہم اولیاء کے الہاموں کو تسلیم کر لیں تو کیا حکم ہوگا۔ جب رسولوں کی وحیوں کے خلاف ہو تو جواب یہ ہے کہ ایسے الہاموں کا حکم یہ ہے کہ رسولوں کی وحیوں کے مقابلہ میں رد کر دیئے جائیں۔ کیونکہ جب ولی کا کشف رسولوں کی کشف کے خلاف واقع ہو تو ہم پر رسولوں کے کشف کی طرف رجوع کرنا واجب ہے اور یقین ہے کہ ولی کے کشف میں خلل طاری ہو گیا ہے۔ ﴾

الحجاب ويقم الله تعالى له مظهراً محمدياً فيسمع فيه امر الحق ونهيه لمحمد ﷺ فيظن ، ان الحق تعالى كلمه هو وانما كلم روح محمد ﷺ فيكون ذالك من باب التعريف بالاحكام الشرعية لا شرعا جديدا فان ذالك باب قد اغلق بموت رسول الله ﷺ (يواقيت ج ٢ ص ٨٥ مبحث ٤٦ ) “

﴿ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض اولیاء کے قلب سے پردہ کھول دے اور مظہر محمدی کو اس کے لئے قائم کرے اور امر و نہی الٰہی کو جو محمد ﷺ کی طرف نازل ہو رہے ہیں ان کو سنے اور یہ گمان کرے کہ حق تعالیٰ نے مجھ سے کلام کیا۔ حالانکہ روح محمد ﷺ سے کلام کیا ہے۔ پس یہ باب تعریف سے ہے۔ جس میں احکام شرعیہ کی معرفت ہوتی ہے نہ شرع جدید اس لئے کہ اس کا دروازہ حضور ﷺ کی موت کے بعد بند ہو چکا۔ ﴾

صفحہ ٨٤

النبی الذی لیس برسول ھو شخص یوحی اللّٰہ الیہ بامر یتضمن ذلک شریعۃ یتعبد بھا فی نفسہ فان بعث بھا الی غیرہ کان رسولا ایضاً...... وھذا باب اغلق بعد موت محمد ﷺ فلا یفتح لاحد الی یوم القیامۃ ولا کن بقی للاولیاء وحی الالھام الذی لا تشریع فیہ...... قال ولو ان الوحی علی لسان جبریل علیہ السلام کان باقیاً بعد محمد ﷺ لکان عیسیٰ علیہ السلام اذا نزل لا یحکم بشریعۃ محمد ﷺ انما یحکم بشرعہ الذی یوحی الیہ جبریل علیہ السلام (الیواقیت مبحث ٣٥ ج ٢ ص ٣٧، ٣٨) “ شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ١٤ میں فرمایا ہے کہ: جان تو نبی کی حقیقت یہ ہے کہ نبی وہ شخص ہے۔ جس کی طرف اللہ تعالیٰ ایسے امر کی وحی کرے جو شریعت کو متضمن ہے۔ جس پر وہ عبادت کرے اور اگر غیر کی طرف مبعوث کیا جائے تو وہ رسول بھی ہوگا...... اور یہ دروازہ محمدﷺ کی موت کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔ قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھولا جائے گا، لیکن اولیاء کے لئے وحی الہام باقی ہے۔ جس میں تشریع نہیں ہوتی...... اور کہا کہ اگر محمدﷺ کے بعد وحی بذریعہ جبرئیل باقی رہتی تو عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد شریعت محمدﷺ کے ساتھ حکم نہ کرتے بلکہ اپنی شرع کے ساتھ حکم کرتے جو بذریعہ جبرائیل علیہ السلام ان کی طرف وحی کی جاتی۔ ﴾

یواقیت میں ہے کہ ”النبوۃ الشرعیۃ خاصۃ من کان قبل بعثت نبینا ﷺ وھم الذین یکونون کالتلامذہ بین یدی الملک فینزل علیھم الروح ، الامین بشرعیۃ من اللہ تعالیٰ فی حق نفوسھم یتعبّدھم بھا یحل لھم ما شاء ویحرم ماشاء ولا یلزمھم اتباع الرسل وھذا المقام لم یبق لہ اثرہ بعد محمد ﷺ ، ص مذکور “ ﴿نبوت شرعیہ ان نبیوں ؑ کے ساتھ مخصوص ہے جو کہ حضورﷺ کی بعثت سے پہلے مبعوث ہو چکے اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرشتے کے روبرو شاگردوں کی طرح ہوتے تھے اور ان پر جبرئیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے حق میں شریعت لاتا تھا۔ اس شریعت کے ذریعہ سے وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ان کے لئے حرام اور حلال کرتا ان پر رسولوں کی اتباع کرنی لازم نہیں ہوتی۔ یہ منصب حضورﷺ کے بعد باقی نہیں رہا۔ ﴾

صفحہ ٨٥

.......”قال فی الباب الرابع عشر من الفتوحات اعلم ان حقيقة يس برسول هو شخص يوحى الله اليه بامر يتضمن ذلك شريعة فى نفسه فان بعث بها الى غيره كان رسولا ايضاً....... وهذا باب موت محمد ﷺ فلا يفتح لاحد الى يوم القيامة ولكن بقى ى الالهام الذى لا تشريع فيه....... قال ولو ان الوحى على لسان يه السلام كان باقياً بعد محمد ﷺ لكان عيسى عليه السلام حكم بشريعة محمد ﷺ انما يحكم بشرعه الذى يوحى اليه ه السلام (ازیواقیت مبحث ٣٥ ج ٢ ص ٣٨،٢٧) ” شیخ اکبر نے فتوحات فرمایا ہے کہ: جان تو نبی کی حقیقت یہ ہے کہ نبی وہ شخص ہے۔ جس کی طرف ر کی وحی کرے جو شریعت کو متضمن ہے۔ جس پر وہ عبادت کرے اور اگر غیر کی ا جائے تو وہ رسول بھی ہوگا۔ اور یہ دروازہ محمدﷺ کی موت کے بعد بند کر دیا گیا ت کسی کے لئے نہیں کھولا جائے گا۔ لیکن اولیاء کے لئے وحی الہام باقی ہے۔ جس ہوتی....... اور کہا کہ اگر محمدﷺ کے بعد وحی بذریعہ جبرئیل باقی رہتی تو عیسیٰ علیہ بعد شریعت محمدﷺ کے ساتھ حکم نہ کرتے بلکہ اپنی شرع کے ساتھ حکم کرتے جو لیہ السلام ان کی طرف وحی کی جاتی۔ ﴾

ت میں ہے کہ ”الـنـبـوة الـشـرعـيـة خـاصـة مـن كـان قـبـل بـعـثـت م الذين يكونون كالتلا مذه بين يدى الملك فينزل عليهم الروح . عية من الله تعالى فى حق نفوسهم يتعبدهم بها يحل لهم ما شاء ـاء ولا يلزمهم اتباع الرسل وهذا المقام لم يبق له اثره بعد ـں مذكور ” نبوت شرعیہ ان نبیوں ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے جو کہ حضور ﷺ ے مبعوث ہو چکے اور یہ وہ لوگ ہیں جو فرشتے کے روبرو شاگردوں کی طرح ہوتے ئیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے حق میں شریعت لاتا تھا۔ اس شریعت کے کی عبادت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ان کے لئے حرام اور حلال کرتا ان پر روی لازم نہیں ہوتی۔ یہ منصب حضور ﷺ کے بعد باقی نہیں رہا۔ ﴾

.......٩ ”قال فی الباب ٣٥٣ اعلم انه لم یجئى لنا خبر الهی ان بعد رسول اللہ ﷺ وحی تشریع ابداً انما لنا وحی الالہام قال تعالیٰ ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک ولم یذکر ان بعدہ وحیاً ابداً وقد جاء الخبر الصحیح فی عیسیٰ علیہ السلام وکان ممن اوحی الیہ قبل رسول اللہ ﷺ انه اذا نزل اخر الزمان لا يؤمنا الا بنا اى بشريعتنا وسنتنا مع ان له الکشف التام اذا نزل زيادة على الالهام الذى يكون له كما لخواص هذه الامة (یواقیت مبحث ٤٦ ج ٢ ص ٨٤) ” شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ٣٥٣ میں فرمایا ہے کہ جان تو اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہر گز خبر نہیں دی کہ حضور ﷺ کے بعد کبھی وحی تشریعی نازل ہوگی۔ صرف ہمارے لئے وحی الہام ہے اور بس، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وَلَقَد اوحی الیک والی الذین من قبلک“ اور نہیں ذکر کیا کہ آپ کے بعد بھی کبھی وحی آئے گی اور حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آخر زمانہ میں نازل ہوں گے تو ہماری شریعت اور سنت کے ساتھ ہماری خلافت اور امامت کریں گے۔ حالانکہ حضور ﷺ سے پہلے ان پر وحی کی جاتی تھی اور نزول کے بعد صرف ان کو الہام سے زیادہ کشف تام ہوگا۔ جیسا کہ اس امت کے خواص کو ہوتا ہے۔ ﴾

.......١٠ ”وكذلك عيسى عليه السلام اذا نزل الى الارض لا يحكم فينا الابشريعة نبينا محمد ﷺ و اله واصحابه وسلم يعرفه الحق تعالى بها على طريق التعريف وان كان نبيا (يواقيت مبحث ٣٥ ج ٢ ص ٣٨) ”ایسے ہی بعد نزول عیسیٰ علیہ السلام پر بھی وحی نہ کی جائے گی۔ جب زمین پر نازل ہوں گے تو ہمارے نبی ﷺ کی شریعت کے ساتھ حکم کریں گے۔ حق تعالیٰ بطریق تعریف احکام شریعت محمدیہ کی معرفت کرائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے زمانہ کے نبی ہیں۔ ﴾

.......١١ ”فأخبر رسول الله ﷺ ان الرؤيا جزء من اجزاء النبوة فقد بقى للناس فى النبوة هذا وغيره ومع هذا لايطلق اسم النبوة ولا النبى الاعلى المبشرات خاصة فحجر هذا الإسم لخصوص وصف معين فى النبوة (فتوحات مکیه ج ٢ ص ٣٧٦ باب ١٨٨ ) ”رسول اکرم ﷺ نے خبر دی ہے کہ رویاء نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ پس لوگوں کے لئے نبوت کے اجزاء میں سے صرف رؤیا وغیرہ باقی ہے۔ لیکن باوجود اس کے نبوت اور نبی کا اطلاق خاص صاحب شریعت پر ہی ہے۔ لہٰذا یہ نام روک دیئے گئے۔ نبوت کے خاص اس وصفِ معین کی وجہ سے۔ ﴾

صفحہ ٨٦

النبوة وان لم يكن صاحب المبشرة نبياً فتيقن لعموم رحمة الله فما تطلق النبوة الا لمن اتصف بالمجموع فذالك النبى وتلك النبوة التي حجرت علينا وانقطعت فأن من جملتها التشريع بالوحى الملكى فى التشريع وذالك لايكون الا لنبى خاصة (فتوحات مكيه ج ٣ ص ٥٩٨ ) " ﴿مثل اس شخص کے جس کو مبشرات میں وحی کی جائے اور یہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ اگرچہ صاحب المبشرات نبی نہیں ہے۔ پس یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کس قدر عام ہے۔ پس نبوت کا اطلاق اسی شخص پر ہوگا جو مجموعہ اجزاء کے ساتھ متصف ہو اور یہ نبی اور یہ نبوت ہم سے روک دی گئی اور منقطع ہو چکی ہے۔ اس کے جملہ اجزاء میں سے ایک جز تشریع ہے جو بذریعہ فرشتہ کے شریعت کی وحی کی جاتی ہے اور یہ خاص کر نبی کے سوا احد کسی کو حاصل نہیں اور (فتوحات ج ٢ ص ٦٣ ) میں ہے کہ : اسم النبى زال بعد رسول الله ﷺ! ﴾

الاولياء والذى اختص به النبى من هذا دون الوحى بالتشريع ولا يشرع الا النبى ولا يشرع الا الرسول (فتوحات مكيه ج ٢ ص ٤١٧ )" ﴿وحی کی یہ سب قسمیں اولیاء اللہ میں بھی موجود ہیں۔ لیکن وہ وحی جو نبیوں کے ساتھ مخصوص ہے اور ولیوں میں نہیں پائی جاسکتی وہ وحی تشریع ہے۔ نبی اور رسول کے سوا اور کسی پر وحی تشریع نازل نہیں ہوتی ۔﴾

(فتوحات باب ١٥٥ ج ٢ ص ٣٣٤) میں ہے کہ : " انما انقطع الوحى الخاص بالرسول والنبى من نزول الملك على اذنه وقلبه وتحجر لفظ اسم النبى والرسول " ﴿اس میں شبہ نہیں کہ جو وحی انبیاء اور رسولوں پر آتی تھی۔ وہ موقوف ہو گئی اور کسی کو نبی اور رسول کہنا بند ہو گیا۔﴾

الانبياء بالتشريع قال تعالى يلقى الروح من امره على من يشاء من عباده فجاء بمن وهى نكرة لينذر يوم التلاق فجاء بماليس بشرع ولا حكم بل بانذار فقد يكون الولى بشيرا ونذيراً ولا كن لا يكون مشرعاً (فتوحات مكيه ج ٢ ص ٣٧٦ )" ﴿پس یہ اولیاء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں کیونکہ خبر میں ان

کے شریک ہیں اور انبیاء اللہ علیہم السلام سر ہوتے ہیں۔ لیکن مشرع نہیں ہوتے۔ ﴿

والرسالة بعد موت محمدﷺ ( مبحث ٧٢ ) " ﴿جان لو کہ حق تعالیٰ انقطاع کر دینے سے اولیاء اللہ کی پیٹھ کو توڑ د

كما انه خاتم النبيين (يواقيت ج ٢ ص خاتم المرسلین ہونے پر اجماع ہے ایسے ہی خا

تقدم الى العين التي يأخذ منها ا الله تعالى قد سدباب الرسالـ القيامة وانه لا مناسبة بيننا وبـ تكون لنا وقال في شرحه لتر لنا دخوله وغاية معرفتنا به من في اسفل الجنة الى من هو في كواكب السماء وقد بلغنا عن ا قدر خرم ابرة تجلياً لادخولا مبحث ٧٢ ) " ﴿ ولایت کی انتہا نبوت کی ا بڑھے۔ جس سے انبیاء علیہم السلام لیتے ہیں کہ جان تو کہ اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے بـ ہے اور ہم کو محمدﷺ سے کوئی مناسبت نہیں۔ حاصل ہونا ممکن نہیں اور شیخ نے ترجمان الا داخل ہونا ہمارے لئے ممتنع ہے۔ انتہاء معر مقام نبی کی طرف نظر کرنا ہے۔ جیسے کوئی آ

صفحہ ٨٧

......"لكن يوحى اليه فى المبشرات وهى جزء من اجزاء ن لم يكن صاحب المبشرة نبياً فتيقن لعموم رحمة الله فما تطلق لمن اتصف بالمجموع فذالك النبى وتلك النبوة التى حجرت نقطعت فان من جملتها التشريع بالوحى الملكى فى التشريع ون الانبى خاصة (فتوحات مكيه ج ٣ ص ٥٩٨) "مثل اس شخص کے ت میں وحی کی جائے اور یہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ اگر چہ صاحب نہیں ہے۔ پس یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کس قدر عام ہے۔ پس نبوت کا اطلاق گا جو مجموعہ اجزاء کے ساتھ متصف ہو اور یہ نبی اور یہ نبوت ہم سے روک دی گئی اور ہے۔ اس کے جملہ اجزاء میں سے ایک جز تشریع ہے جو بذریعہ فرشتہ کے شریعت کی ہے اور یہ خاص کر نبی کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں اور (فتوحات ج ٢ ص ٦٤) میں ہے بی زال بعد رسول اللہ ﷺ! ﴿

......"هذا كله (يعنى اقسام الوحى) موجود فى رجال الله من لذى اختص به النبى من هذادون الوحى بالتشريع ولا يشرع لا يشرع الا الرسول (فتوحات مکیه ج ٢ ص ٤١٧ ) "وحی کی یہ سب للہ میں بھی موجود ہیں۔ لیکن وہ وحی جو نبیوں کے ساتھ مخصوص ہے اور ولیوں میں نہیں حی تشریع ہے۔ نبی اور رسول کے سوا اور کسی پر وحی تشریع نازل نہیں ہوتی۔ ﴿

توحات باب ١٥٥ ج ٢ ص ٣٣٣) میں ہے کہ: " انما انقطع الوحى الخاص والنبى من نزول الملك على اذنه وقلبه وتحجر لفظ اسم النبى "اس میں شبہ نہیں کہ جو وحی انبیاء اور رسولوں پر آتی تھی۔ وہ موقوف ہو گئی اور کسی کو نا بند ہو گیا۔ ﴿

......"فهم ورثة الانبياء لا شتراكهم فى الخبر وانفراد التشريع قال تعالى يلقى الروح من امره على من يشاء من عباده ن وهى نكرة لينذر يوم التلاق فجاء بما ليس بشرع ولا حكم بل ، يكون الولى بشيراً ونذيراً ولا كن لا يكون مشرعاً (فتوحات ٣٧٦) "یہ علماء باللہ واولیاء اللہ انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں کیونکہ خیر میں ان

کے شریک ہیں اور انبیاء اللہ علیہم السلام صرف وحی تشریع میں منفرد ہیں۔ ولی و علماء بھی بشیر و نذیر ہوتے ہیں۔ لیکن مشرع نہیں ہوتے۔ ﴿

١٥......"اعلم ان الحق تعالى قصم ظهور الاولياء بانقطاع النبوة والرسالة بعد موت محمد ﷺ (فتوحات مکیه باب ١٤، از یواقیت ج ٢ ص ٧٢ مبحث ٤٢) "جان لو کہ حق تعالیٰ نے حضور ﷺ کی موت کے بعد نبوت اور رسالت کے انقطاع کر دینے سے اولیاء اللہ کی پیٹھ کو توڑ دیا۔ ﴿

١٦......"اعلم ان الاجماع قد انعقد على انه ﷺ خاتم المرسلين كما انه خاتم النبيين (یواقیت ج ٢ ص ٣٧ مبحث ٣٥) "جان لو کہ جیسے حضور ﷺ کے خاتم المرسلین ہونے پر اجماع ہے ایسے ہی خاتم النبیین ﷺ ہونے پر بھی اجماع ہے۔ ﴿

١٧......"فلا تلحق نهاية الولاية بداية النبوة ابدا ولو ان ولياً تقدم الى العين التى يأخذ منها الانبياء لاحترق ...... وقال الشيخ اعلم ان الله تعالى قد سد باب الرسالة عن كل مخلوق بعد محمد ﷺ الى يوم القيامة وانه لا مناسبة بيننا وبين محمد ﷺ لكونه فى مرتبة لا ينبغى ان تكون لنا وقال فى شرحه لترجمان الاشواق اعلم ان مقام النبى ممنوع لنا دخوله وغاية معرفتنا به من طريق الارث النظر اليه كما ينظر من هو فى اسفل الجنة الى من هو فى اعلى عليين وكما ينظر اهل الارض الى كواكب السماء وقد بلغنا عن الشيخ ابى يزيد انه فتح له من مقام النبوة قدر خرم ابرة تجلياً لا دخولا فكاد ان يحترق (اليواقيت ج ٢ ص ٧١، ٧٢ مبحث ٤٢) "ولایت کی انتہا نبوت کی ابتداء کو کبھی نہیں پاسکتی۔ اگر کوئی ولی اس چشمہ کی طرف بڑھے۔ جس سے انبیاء علیہم السلام لیتے ہیں۔ تو جل کر خاکستر ہو جائے اور شیخ اکبر نے فرمایا ہے کہ جان تو کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے بعد قیامت تک تمام مخلوق پر رسالت کا دروازہ بند کر دیا ہے اور ہم کو محمد ﷺ سے کوئی مناسبت نہیں۔ کیونکہ حضور ﷺ ایسے مرتبے میں ہیں کہ ہمارے لئے حاصل ہونا ممکن نہیں اور شیخ نے ترجمان الاشواق کی شرح میں کہا ہے کہ جان تو کہ مقام نبی میں داخل ہونا ہمارے لئے ممتنع ہے۔ انتہاء معرفت جو بطریق ارث ہم حاصل کر سکتے ہیں وہ صرف مقام نبی کی طرف نظر کرنا ہے۔ جیسے کوئی اسفل جنت سے اعلیٰ علیین والوں کی طرف یا زمین پر

صفحہ ٨٩

رہنے والا آسمان کے تاروں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے اور شیخ ابویزید کے متعلق یہ واقعہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ ان کو سوئی کے ناکے کے برابر صرف تجلی مقام نبوت سے منکشف ہوئی تھی۔ وہ جلتے جلتے بچ گئے۔ مقام نبوت میں داخل ہونا تو ممکن ہی نہیں۔ ﴿

١٨...... ”اعلم انه لاذوق لنا فى مقام النبوة لنتكلم عليه وانما نتكلم على ذالك بقدر ما اعطينا من مقام الارث فقط فانه لا يصح منا دخول مقام النبوة (يواقيت ج ٢ ص ٧٢ مبحث ٤٢ )“ ﴿جان لو کہ ہم کو مقام نبوت میں کچھ ذوق نہیں ہے کہ اس کے متعلق کچھ کلام کر سکیں ہم تو صرف اس پر اس قدر کلام کر سکتے ہیں۔ جس قدر ہم کو مقام ارث سے عطاء کیا گیا ہے۔ کیونکہ مقام نبوت میں ہمارا داخل ہونا ممکن نہیں۔ ﴿

نوٹ! شیخ اکبر محی الدین ابن العربی اور شیخ عبد الوہاب شعرانی کے ان اقوال سے اظہر من الشمس ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت اور رسالت کا دروازہ بند ہے اور قیامت تک اوامر و نواہی الہیہ کے دروازے مسدود، اب فرشتہ امر الٰہی کا ایک فقرہ بھی لے کر نازل نہیں ہو سکتا اور نبی کی حقیقت میں وحی تشریع کا لانا داخل ہے۔ نبی اور نبوت کا اطلاق جب ہی ہو گا جب وحی تشریع اس پر نازل ہو۔ ولی اور نبی کی وحی میں یہی فرق ہے کہ نبی پر وحی تشریع ہوتی ہے اور ولی اولیاء میں تشریع نہیں۔ حضور ﷺ کے بعد نبی کا نام زائل ہو چکا۔ جو حضور ﷺ کے بعد امر و نہی، شریعت، نبوت کا دعویٰ کرے اس کی گردن مارنی چاہئے۔ محض دھوکہ باز ہے یا ابلیس لعین سے ہمکلام ہوتا ہے۔ شیطان اس کی طرف وحی کرتا ہے۔ ان الشيطين ليوحون الى اوليائهم! اب وحی الہام، وحی مبشرات، تعرفات، کشف تام کے سوا اور کچھ باقی نہیں رہا۔ جن میں امر و نہی کچھ نہیں ہوتا۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام پر بھی بعد نزول وحی الہام، کشف تام ہو گا اور بطریق تعریف معانی کلام اللہ حاصل کریں گے۔ باوجود یہ کہ وہ اپنے زمانہ کے نبی ہیں اور حضور ﷺ سے پہلے وحی تشریع نازل ہوتی تھی۔ لیکن بعد نزول وحی تشریع نازل نہ ہو گی۔ کیونکہ وہ نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں گے۔ حضور ﷺ کی بعثت عامہ سے ان کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہو گئی۔ اب امت محمدی کی طرف رسول ہو کر تشریف نہ لائیں گے۔ بلکہ خلیفہ اور امام کی حیثیت سے ہوں گے۔ لہٰذا ہر دو اعتبار کا لحاظ کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بعد نزول کے بلکہ حضور ﷺ کی بعثت کے بعد سے نبی غیر تشریع بھی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی وہ نبی جس کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہو گئی۔ اب اپنی نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہو اسی وجہ سے اس پر وحی تشریع نازل نہیں کی جاتی۔ بلکہ صاحب

فرمان رسول ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے۔ وہ ا صول یعنی اس زمانہ میں نبوت کی ڈیوٹی پر نہیں ہوں ۔ لازمی ہے بلکہ منصب نبوت کی حقیقت میں داخل ہے۔ بوقت وحی شریعت نہ ہونے سے ان کا نبوت سے معزول معلوم کر چکے۔ یہ تو مرزائیت کی عقل کا نتیجہ ہے اور بس رسولوں کے حضور ﷺ کے بعد زندہ رہنے کے قائل ہی والیاس علیہ السلام فتوحات کے باب ٣٦٧ میں معراج اذا بعيسى عليه السلام بجسده عينه فا الى هذه السماء واسكنه بها (از يواقيت ج ٢ ص اور (فتوحات کے باب ٧٣) میں لکھتے ہیں کہ الرسل الاحياء باجسادهم في هذه الدار الد ہے۔ لہٰذا شیخ اکبر ان تینوں کو نبی غیر تشریع سے تعبیر فرم نبوت کی ڈیوٹی پر قائم رہ چکے ہیں ان پر وحی شریعت ناز ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی (الحکم ١٠ اپریل ١٩٠٣ء) میں جو تصریح فرماتے ہیں کہ ”محی الدین ابن العربی نے لکھ ہے۔ مگر میرا اپنا یہ مذہب ہے کہ ہر قسم کی نبوت کا در مرزائیوں کی عقل پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس سے ہیں۔ کیونکہ محی الدین ابن العربی حضور ﷺ کے بعد ت قادیانی بھی حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے نبوت کی ڈیو اب حضور ﷺ کی بعثت عامہ سے نبی غیر تشریع بھی رہ گئے

البتہ اہل کشف، نبوت اور رسالت کو اس مراتب ساری ہے۔ اپنے خاص رنگ میں استعمال کر نہیں کہ نبی اور رسول کو غیر انبیاء پر اطلاق کرنا جائز ہو اور اس کی تکفیر نہ کی جائے۔ شیخ اکبر فتوحات کے باب النبوة التى هى الاخبار عن شئى سار والوجود لكنه لا يطلق على احد منهم

صفحہ ٨٩

الزمان رسول ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے۔ وہ اپنے زمانہ کے نبی ہیں۔ صاحب الزمان رسول یعنی اس زمانہ میں نبوت کی ڈیوٹی پر نہیں ہوں گے۔ ورنہ منصب نبوت کے لئے شریعت لازمی ہے بلکہ منصب نبوت کی حقیقت میں داخل ہے۔ نبوت کی ڈیوٹی ختم ہو جانے سے اور اس وقت وحی شریعت نہ ہونے سے ان کا نبوت سے معزول ہو جانا لازم نہیں آتا۔ جیسا کہ ہم مفصل معلوم کر چکے۔ یہ تو مرزائیت کی عقل کا نتیجہ ہے اور بس، چونکہ شیخ اکبر محی الدین ابن العربی تین رسولوں کے حضور ﷺ کے بعد زندہ رہنے کے قائل ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام و ادریس علیہ السلام والیاس علیہ السلام فتوحات کے باب ٣٦٧ میں معراج کے بیان میں لکھتے ہیں کہ: ”فلما دخل اذا بعیسى عليه السلام بجسده عينه فانه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذه السماء واسکنه بها (اليواقيت ج ٢ ص ٣٤ مبحث ٣٤)“

اور (فتوحات کے باب ٧٣) میں لکھتے ہیں کہ:” ابقی الله بعد رسول الله من الرسل الاحياء باجسادهم فى هذه الدار الدنيا ثلثة “ اس کے بعد تینوں نبیوں کا ذکر ہے۔ لہٰذا شیخ اکبر اُن تینوں کو نبی غیر تشریع سے تعبیر فرماتے ہیں۔ مدت تک اپنے اپنے زمانہ میں نبوت کی ڈیوٹی پر قائم رہ چکے ہیں ان پر وحی شریعت نازل ہوتی تھی۔ مگر اب ان کی ڈیوٹی ختم ہوگئی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی (الحکم ١٠؍اپریل ١٩٠٣ء) میں جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل تھے۔ تصریح فرماتے ہیں کہ ”محی الدین ابن العربی نے لکھا ہے کہ نبوت تشریعی جائز نہیں دوسری جائز ہے۔ مگر میرا اپنا یہ مذہب ہے کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔“ لیکن اس کے بعد مرزا اور مرزائیوں کی عقل پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس سے الحاد کا رستہ نکالا کہ مرزا قادیانی نبی غیر تشریعی ہیں۔ کیونکہ محی الدین ابن العربی حضور ﷺ کے بعد نبی غیر تشریعی کو جائز مانتے ہیں۔ بھلا کیا مرزا قادیانی بھی حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے نبوت کی ڈیوٹی پر فائز ہو چکے ہیں اور پہلے کے نبی ہیں اور اب حضور ﷺ کی بعثت عامہ سے نبی غیر تشریعی رہ گئے؟۔ معاذ اللہ !

البتہ اہل کشف ، نبوت اور رسالت کو اس کے لغوی معنی میں بھی جو تمام خلق میں علی قدر مراتب ساری ہے۔ اپنے خاص رنگ میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی اس کا قائل نہیں کہ نبی اور رسول کو غیر انبیاء پر اطلاق کرنا جائز ہو اور حضور ﷺ کے بعد کوئی شخص مدعی نبوت ہو اور اس کی تکفیر نہ کی جائے۔ شیخ اکبر فتوحات کے باب ١٥٥ میں فرماتے ہیں کہ:” اعـــلــــم ان النبوة التي هى الاخبار عن شئ سارية فى كل موجود عند اهل الكشف والوجود لكنه لا يطلق على احد منهم اسم نبى ولا رسول الا على الملئكة

صفحہ ٩٠

الذين هم رسل فقط (كبريت الاحمر على حاشية يواقيت ج ١ ص ١١٨) ” ﴿جان لو کہ نبوت جس کے معنی مطلق خبر دینے کے ہیں وہ اہل کشف کے نزدیک تمام موجودات میں ساری ہے۔ (کیونکہ ہر مخلوق کم از کم اپنے صانع واجب الوجود کی ہستی کی خبر دے رہا ہے ) لیکن کسی پر نبی اور رسول کے اسم کا اطلاق نہیں کر سکتے ۔ البتہ فرشتوں پر صرف رسل کا اطلاق آیا ہے۔﴾

اور (فتوحات ج ٢ ص ١٠٠) میں ہے کہ: ”فالنبوة سارية الى يوم القيامة فى الخلق وان كان التشريع قد انقطع فالتشريع جزء من اجزاء النبوة “ ﴿یعنی لغوی نبوت تو قیامت تک تمام خلق میں ساری ہے۔ ہاں تشریع منقطع ہو گئی اور تشریع حقیقی نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے ۔ یعنی حقیقت نبوت کا آخری جز تشریع ہے۔﴾

پھر ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ: ”وهذه النبوة سارية فى الحيوان مثل قوله واوحى ربك الى النحل“ یعنی یہ نبوت حیوان میں بھی ساری ہے۔ جیسا کہ کلام مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی غرض لغوی معنی کے رو سے نبوت غیر تشریعی ہر مخلوق میں موجود ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی کون سی تخصیص ہے؟ ۔ اور تمام کمالات اور اوصاف نبوت صدق، دیانت، امانت، تقویٰ، عبادت، زہد، توکل، رویائے صالحہ، الہام وغیرہ وغیرہ قیامت تک باقی رہیں گے ۔ یہ سب لغوی نبوت کے اعلیٰ افراد ہیں۔ بلکہ حقیقی نبوت کے اجزاء میں سے ہیں ۔ لیکن پھر بھی حقیقت نبوت شرعیہ ندارد ہے۔ کیونکہ حقیقت نبوت کا آخری جز تشریع ہے اور تشریع منقطع ہو چکی اور جب تک کسی شے کے جمیع اجزاء موجود نہ ہوں وہ شے موجود نہیں ہو سکتی۔

(فتوحات کے باب ٣٨) میں ہے کہ: ”لما اغلق الله تعالى باب الرسالة بعد رسول الله ﷺ كان ذالك من اشد ما تجرعت الاولياء مرارته ...... فابقى عليهم اسم الولى ...... ولما علم رسول الله ﷺ ان فى امته من تجرع كاس انقطاع الوحى والرسالة فجعل لخواص امته نصيبا من الرسالة فقال ليبلغ الشاهد الغائب فامرهم بالتبليغ ليصدق عليهم اسم الرسل (كبريت على حاشية يواقيت مبحث ٤٦ ج ٢ ص ٨٦ ) ﴿جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے بعد رسالت کے دروازے کو بند کر دیا تو اولیاء پر اس کا مزہ سخت کڑوا گذرا ...... پس ان پر اسم ولی باقی رکھا اور جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ میری امت میں انقطاع وحی اور رسالت کا پیالہ پیئے گی تو خواص امت کے لئے رسالت کا ایک شعبہ مقرر کیا ۔ پس ان کو تبلیغ کا حکم دیا تا کہ اسم رسل کے مصداق بن جائیں ۔ اگر چہ اس شعبہ کی بناء پر اطلاق نا جائز ہے۔﴾

شیخ اکبر فصوص الحکم فص عزیزی ص ٤٠ العامة اللتى لا تشريع فيها ...... نبينا ﷺ فلا نبي بعده مشرعا او مشـ عامہ کو لوگوں کے لئے باقی رکھا ہے ۔ لیکن نبو ہو چکی۔ پس آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ مشرع ہی ہوتا ہے۔﴾

نوٹ! شیخ اکبر کا (قول نمبر ٨) میں م کہتے ہیں۔ جس پر امر و نہی یعنی شریعت جدیدہ کیا گیا تو مشرع یعنی رسول ہے۔ یعنی شریعت صرف اسی کے لئے شریعت نازل کی گئی۔ جـ بہر حال یہ شریعت جدیدہ پہلی شریعت کی ناسـ حالت میں لوگوں کو بھی اسی نبی کی شریعت پر سکتے ۔ خواہ یہ شریعت اس شریعت کے موافق ہو

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں کہ: ”ختم به النبيون اى لا على الناس“ یعنی حضور ﷺ کے بعد ا کرے یہی معنی خاتم النبیین کے ہیں کیونکہ نبی الہام و مبشرات کو۔ الغرض بعض اہل کشف و وجو د نبو۔ الادیان کی، یعنی مطلق نبوت جو لا بشرہ بشرط لا تشریع یعنی نبوت عامہ ومـ نبوت بشرط تشریع یعنی نبوت خاصہ شرعیہ ۔ ۔ ہوگئی ہے اور یہ اصطلاح شریعت کے کچھ بھی نـ

شیخ اکبر ( فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٦٤ ) : الله ﷺ من الوحى الرؤيا فكان لا يـ التي ابقى الله على المسلمين

صفحہ ٩١

شیخ اکبر فصوص (الحکم فص عزیری ص ١٤٠) میں لکھتے ہیں کہ: ” فابقى لهم النبوة العامة التی لا تشريع فيها...... اما نبوة التشريع والرسالة منقطعة فی نبيناﷺ فلا نبى بعده مشرعا او مشرعا له ولا رسوله وهو المشرع “ نبوت عامہ کو لوگوں کے لئے باقی رکھا ہے۔ لیکن نبوت و رسالت تشریع ہمارے حضورﷺ میں منقطع ہو چکی۔ پس آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ خواہ مشرع ہو یا مشرع لہ اور نہ رسول ہو سکتا ہے اور یہ مشرع ہی ہوتا ہے۔ ﴾

نوٹ ! شیخ اکبر کا (قول نمبر ٨) میں معلوم کر چکے کہ نبی رسول سے عام ہے اور نبی اس کو کہتے ہیں۔ جس پر امر و نہی یعنی شریعت جدیدہ نازل ہو تا کہ وہ عبادت کرے۔ اگر تبلیغ کا بھی امر کیا گیا تو مشرع یعنی رسول ہے۔ یعنی شریعت کو غیر تک پہنچانے والا ورنہ مشرع لہ ہوگا۔ یعنی صرف اسی کے لئے شریعت نازل کی گئی۔ جس پر وہ عبادت کرے تبلیغ کرنے کا حکم نہیں ہوا۔ بہر حال یہ شریعت جدیدہ پہلی شریعت کی ناسخ ہوگی۔ کیونکہ صرف اس نبی کو یا رسول ہونے کی حالت میں لوگوں کو بھی اسی نبی کی شریعت پر عمل واجب ہے۔ پہلے نبی کی شریعت پر عمل نہیں کر سکتے۔ خواہ یہ شریعت اس شریعت کے موافق ہو یا مخالف جیسے نمبر ١ میں معلوم کر چکے۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (تفہیمات الہیہ کے تفہیم نمبر ٥٣ ج ٢ ص ٧٢، ٧٣) میں لکھتے ہیں کہ: ” ختم به النبيون ای لا يوجد من يامره الله سبحانه بالتشريع علی الناس “ یعنی حضورﷺ کے بعد ایسا کوئی شخص نہیں ہو سکتا جس کو تشریع کا اللہ تعالیٰ امر کرے یہی معنی خاتم النبیین کے ہیں کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں جس پر وحی تشریع ہو۔ نہ صاحب وحی الہام و مبشرات کو۔

الغرض بعض اہل کشف و وجد نبوت لغویہ کی تقسیم کرتے ہیں نہ نبوت مصطلحہ فی الادیان کی، یعنی مطلق نبوت جو لا بشرط شے کے درجہ میں ہے۔ اس کے دو فرد ہیں۔ نبوت بشرط لا تشریع یعنی نبوت عامہ و مطلقہ یہ علیٰ قدر مراتب تمام مخلوق میں موجود ہے۔ دوسرا نبوت بشرط تشریع یعنی نبوت خاصہ شرعیہ۔ یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے اور یہی مرتفع ہو گئی ہے اور یہ اصطلاح شریعت کے کچھ بھی خلاف نہیں۔

شیخ اکبر (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٦٤) میں لکھتے ہیں کہ: ” اول ما بدی به رسول الله ﷺ من الوحی الرؤیا فکان لا یری رؤیا الا خرجت مثل فلق الصبح وهی التی ابقی الله علی المسلمین وهی من اجزاء النبوة فما ارتفعت النبوة

صفحہ ٩٢

بالكلية ولهذاء قلنا انما ارتفعت نبوة التشريع فهذا معنى لانبى بعده “

٭ ابتداء میں سب سے پہلے جو وحی حضورﷺ کی ہوئی ہے وہ رؤیا تھی جو خواب دیکھتے صبح روشن کی طرح ظاہر ہوتے تھے اور یہ نوع وحی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں باقی رکھی ہے اور یہ نبوت حقیقت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ پس نبوت جمیع اجزاء مرتفع نہیں ہوئی۔ (یعنی تمام کمالات واوصاف نبوت صدق، دیانت، امانت، تقویٰ، عبادت، زہد، توکل، رویاء، کشف، الہام وغیرہ دنیا سے نہیں اٹھ گئے ) ہاں حقیقت نبوت کا آخری جز تشریع یعنی اعطاء منصب نبوت و وحی شریعت من اللہ مرتفع ہے۔ پس یہی معنی لا نبی بعدہ کے ہیں۔ کیونکہ جب تک حقیقت نبوت کے جمیع اجزاء موجود نہ ہوں نبوت موجود نہیں ہو سکتی۔ لہذا حضورﷺ کے بعد جز تشریع مرتفع ہو جانے کی وجہ سے کوئی نبی بھی نہیں ہو سکتا۔ ٭

اسی لیے شیخ نے اس کے بعد اسی (ص ٢٧٢ ج٢) میں تصریحاً یہ بھی فرما دیا ہے کہ: ”اسم النبى زال بعد رسول الله ﷺ“ یعنی حضورﷺ کے بعد نبی کا اسم ہی زائل ہو گیا ہے۔ کیونکہ حقیقت میں حضورﷺ کے بعد نبی تو اسی شخص کو کہہ سکتے ہیں جو حضورﷺ کے بعد منصب نبوت کی ڈیوٹی پر فائز ہو۔ ہاں عیسیٰ علیہ السلام و ادریس علیہ السلام والیاس علیہ السلام جو حضورﷺ سے پہلے اپنے اپنے زمانہ کے نبی، منصب نبوت کی ڈیوٹی پر فائز تھے اب وہ حضورﷺ کے بعد عندالشیخ زندہ موجود ہیں۔ ان کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہو گئی۔ لہٰذا ان کو نبی غیر تشریعی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی وہ نبی جن کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہو گئی کیونکہ اب صاحب الزمان نبی دوسرے ہیں۔ اسی وجہ سے شیخ نے (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٦٤) میں لکھا ہے کہ: ”فعلمنا انه قوله لانبی بعده اى لا مشرع خاصة لا انه لايكون بعده نبى “یعنی ہم نے جان لیا کہ لانبی بعدہ کے یہ معنی ہیں کہ کوئی حضورﷺ کے بعد منصب نبوت کی ڈیوٹی پر صاحب شرع ہو کر نہیں آ سکتا۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی زندہ موجود ہی نہیں رہے گا اور اسی طرح (فتوحات مکیہ باب ٧٣ ج ٢ ص ٣) میں فرماتے ہیں کہ: ” ابقى الله بعد رسول الله ﷺ من الرسل الاحياء باجسادهم فی هذه الدار الدنيا ثلثة وهم ادریس عليه السلام بقى حياً بجسده واسكنه الله في سماء الرابعة ...... وابقى فی الارض ايضاً الياس وعيسى كلاهما من المرسلين “ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ: ” النبوة التي انقطعت بوجود رسول الله ﷺ انما هى نبوة التشريع لا مقامها فلا شرع يكون ناسخاً لشرعه ﷺ ولا يزيد في

صفحہ ٩٣

لهذا قلنا انما ارتفعت نبوة التشريع فهذا معنى لانبي بعده “ سب سے پہلے جو وحی حضورﷺ کی ہوئی ہے وہ رؤیا تھی جو خواب دیکھتے صبح روشن کی طرح سچے ہوتے تھے اور یہ نوع وحی ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں باقی رکھی ہے اور یہ نبوت حقیقت نبوت کے اجزاء سے ایک جز ہے۔ پس نبوت بجمیع اجزاء مرتفع نہیں ہوئی۔ (یعنی تمام کمالات نبوت مثلاً، صدق ، دیانت، امانت، تقویٰ، عبادت، زہد، توکل، رویاء، کشف، الہام وغیرہ دنیا میں باقی ہیں) ہاں حقیقت نبوت کا آخری جز تشریع یعنی اعطاء منصب نبوت و وحی شریعت من جانب اللہ مرتفع ہے۔ پس یہی معنی لا نبی بعده کے ہیں۔ کیونکہ جب تک حقیقت نبوت کے جمیع اجزاء یعنی کمالات نبوت موجود ہیں۔ حقیقت نبوت معدوم نہیں ہو سکتی۔ لہذا حضورﷺ کے بعد جز تشریع مرتفع ہو جانے کی وجہ سے کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ ﴿

اسی لئے شیخ نے اس کے بعد اسی (ص ج ٢ ص ٦٤ ) میں تصریحاً یہ بھی فرما دیا ہے کہ: اسم زال بعد رسول الله ﷺ “ یعنی حضورﷺ کے بعد نبی کا اسم ہی زائل ہو گیا ہے تو اس امت میں حضورﷺ کے بعد نبی تو اسی شخص کو کہہ سکتے ہیں جو حضورﷺ کے بعد کسی اور کی ڈیوٹی پر فائز ہو۔ ہاں عیسیٰ علیہ السلام و ادریس علیہ السلام والیاس علیہ السلام جو حضورﷺ سے پہلے اپنے اپنے زمانہ کے نبی، منصب نبوت کی ڈیوٹی پر فائز تھے اب وہ حضورﷺ کے بعد عنداللہ زندہ موجود ہیں۔ ان کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ لہٰذا ان کو نبی غیر تشریعی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی وہ نبی جن کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہوگئی کیونکہ اب صاحب الزمان حضورﷺ ہیں۔ اسی وجہ سے شیخ نے (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٦٤) میں لکھا ہے کہ : ”فعلمنا انه لا نبى بعده اى لا مشرع خاصة لا انه لا يكون بعده نبى “یعنی ہم نے جان لیا کہ لا نبی بعدہ کے یہ معنی ہیں کہ کوئی حضورﷺ کے بعد منصب نبوت کی ڈیوٹی پر فائز ہو کر شریعت نہیں لا سکتا۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی زندہ موجود ہی نہیں ہے۔ اسی طرح (فتوحات مکیہ باب ٧٣ ج ٢ ص ٣) میں فرماتے ہیں کہ:” ابقى الله بعد رسول الله ﷺ من الرسل الاحياء باجسادهم فى هذه الدار الدنيا ثلثة ادريس عليه السلام بقى حياً بجسده واسكنه الله فى السماء وابقى فى الارض ايضاً الياس وعيسى كلاهما من المرسلين “ نیز فرماتے ہیں کہ:” النبوة التي انقطعت بوجود رسول الله ﷺ انما هى نبوة التشريع لا مقامها فلا شرع يكون ناسخاً لشرعه ﷺ ولا يزيد فى

شرعه حكما اخر وهذا معنى قوله ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى اى لا نبى بعدى يكون على شرع يخالف شرعى بل اذا كان يكون تحت حكم شريعتى “ ﴿ وہ نبوت حقیقت جو حضورﷺ کی بعثت سے منقطع ہو گئی ہے۔ وہ نبوت تشریع ہے۔ جس میں امر و نہی الٰہی نازل ہوا کرتے ہیں نہ مقام نبوت، پس حضورﷺ کے بعد شریعت نازل نہیں ہو سکتی۔ جو حضورﷺ کی شریعت کے لئے ناسخ بنے اور نہ آپ کی شریعت میں کوئی حکم زیادہ ہو سکتا ہے۔ رسالت اور نبوت کے منقطع ہونے اور حضورﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہ ہونے کے یہی معنی ہیں۔ یعنی میرے بعد کوئی ایسا نبی جس پر شریعت نازل ہو جو بہر حال میری شریعت کے خلاف ہوگی، نہ ہوگا۔ تو حضورﷺ ہی کی شریعت کے تحت میں داخل ہوگا۔ جیسے الیاس و ادریس و عیسیٰ علیہم السلام ۔ ﴾

اور (فتوحات مکیہ ج ١ ص ٥٦٩) میں لکھتے ہیں کہ:”لا يكون بعد رسول الله ﷺ فى امته نبى يشرع الله له خلاف شرع محمد ولا رسول وما منع المرتبة ولا حجرها من حيث لا تشريع ولا سيما قال عليه السلام فى من حفظ القرآن ان النبوة ادرجت بين كتفيه وقال فى المبشرات انها جزء من اجزاء النبوة فوصف بعض امتى بانهم قد حصل لهم المقام وان لم يكونوا على شرع يخالف شرعه وقد علمنا بما قال ﷺ ان عيسى عليه السلام ينزل فينا حكماً مقسطاً عدلاً فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ولا يشك قطعا انه رسول الله ونبيه وهو ينزل فله عليه السلام مرتبة النبوة بلاشك عندالله وما له مرتبة التشريع عند نزوله فعلمنا بقوله عليه السلام انه لا نبى بعدى ولا رسول ان النبوة قد انقطعت والرسالة انما يريد بهما التشريع “ ﴿ حضورﷺ کے بعد حضورﷺ کی امت میں کوئی نبی اور رسول نہیں ہو سکتا۔ جس پر شریعت محمدیہ کے خلاف شریعت نازل ہو ہاں مقام نبوت جس میں تشریع نہیں ہوتی۔ ممنوع اور مہجور نہیں۔ جبکہ حضورﷺ نے قرآن کریم کے حافظ کے متعلق فرما دیا ہے کہ اس کے پہلو میں نبوت درج کر دی گئی اور مبشرات کے متعلق فرمایا کہ یہ بھی نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ پس حضورﷺ کی امت کو مقام نبوت حاصل ہے۔ اگر چہ شریعت محمدیہ کے خلاف شریعت نازل نہیں ہو سکتی اور پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ امت محمدی میں عیسیٰ علیہ السلام حاکم اور خلیفہ ہو کر نزول فرمائیں گے۔ صلیب کو توڑنے اور خنزیر کے قتل کرنے کا حکم دیں گے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ

صفحہ ٩٤

بے شک اللہ کے رسول اور نبی ہیں اور بلا شک عند اللہ ان کو مرتبہ نبوت حاصل ہے لیکن نزول کے وقت مرتبہ تشریع نہ ہوگا۔ یعنی نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں گے تا کہ امر ونہی نازل ہو۔ پس معلوم ہوگیا کہ حضور ﷺ کے ارشاد کے یہ معنی ہیں کہ منصب نبوت اور رسالت تشریعیہ منقطع ہو گئی نہ مقام نبوت لغویہ جو علی قدر مراتب سب میں موجود ہے۔ نبی غیر صاحب الزمان وصاحب تعریفات ومقام نبوت وقابل نبوت و حافظ قرآن وصاحب وحی الہام ورؤیا صالحہ بلکہ صاحب وحی مطلقہ شہد کی مکھی وغیرہ اور صاحب نبوت عامہ جو تمام مخلوقات میں ساری ہے۔ ﴿

شیخ نے ایک دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ: ” قال فی حدیث من حفظ القرآن فقد ادرجت النبوة بين جنبيه انما لم يقل فقد ادرجت النبوة في صدره او بين عينيه او في قلبه لان ذلك رتبة النبى لارتبة الولی (کبریت علی حاشیه يواقيت ج٢ ص ٨) ﴿ ” حضور ﷺ نے حدیث میں حافظ قرآن کے متعلق یہ فرمایا کہ اس کے پہلو میں نبوت داخل کر دی گئی۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کے سینہ میں یا اس کی آنکھوں کے سامنے یا اس کے قلب میں نبوت رکھ دی گئی ۔ اس لئے کہ یہ مرتبہ نبی کا ہے نہ ولی کا۔﴿

شیخ اکبر نے (فتوحات مکیہ باب ٣ کے جواب ٢٥) میں لکھا ہے کہ: ” اعلم ان النبوة لم ترفع مطلقاً بعد محمد ﷺ انما ارتفع نبوة التشريع فقط وقد كان الشيخ عبد القادر الجيلى يقول ادنى الانبياء اسم النبوة واوتينا اللقب ای حجر علينا اسم النبى مع ان الحق تعالى يخبرنا في سرائرنا بمعانی كلامه وكلام رسوله ﷺ صاحب هذا المقام من انبياء الاولياء فغاية نبوتهم التعريف بالا حكام الشريعة حتى لا يخطئوا فيها لا غير (از یواقیت ج ٢ ص ٣٩) ﴿ ” جان تو کہ حضور ﷺ کے بعد مطلق نبوت (جو بمعنی خبر دادن کے ہے) مرتفع نہیں صرف نبوت تشریعیہ مرتفع ہے ۔ ( جو ادیان میں مصطلحہ ہے) حضرت پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کو اسم نبوت اور منصب نبوت دیا گیا اور ہم اولیاء امت کو صرف لقب دیا گیا۔ یعنی باوجود اللہ تعالیٰ ہم کو بطریق تعریف وبذریعہ وحی الہام کلام اللہ اور کلام رسول اللہ ﷺ کے معنی کی خبر دیتا ہے۔ مگر نبی کا اطلاق ہم پر ممنوع ہے۔ ایسے اولیاء جو اس مقام کے صاحب ہوں ان کو انبیاء الاولیاء کہا جاتا ہے۔ ﴿ یعنی یہ اولیاء انبیاء کے مشابہ ہیں ان کی نبوت یہی ہے جو احکام شرعیہ قرآن وحدیث کو بطریق تعریف و وحی الہام حاصل کرتے ہیں۔ جس میں خطا واقع نہیں ہوتی۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ نہ یہ کہ ان پر

کلام مجید کی آیات اور اس کے اوامر نازل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قاد حضرت مجدد الف ثانی ( وکمالاتیکه در نبوة درکار بخاتم الرسل ختم شده است

اور ( مکتوبات ٢٥١ ج ١ ص ١

شبیه کمالات انبیاء عليهم الـ ہیں کہ: ”ایں ہر دو بزرگور معدود اند “ یعنی کمالات میں دونو

اور (فتوحات کبیر ج ٢ ص ٢

کا اطلاق خاص صاحب وحی تشریع ا کہ مجموع اجزاء نبوت سے متصف ہی زائل ہو چکا۔ نبی اور ولی میں یگـ ہوتی ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ صوفـ ہے جو علی قدر مراتب تمام مخلوقات مـ بتلائیے اس میں کس کو خلاف ہو سکتـ

(فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٦٩

الاولياء اى انبياء الاولياء اولیاء اللہ کے مقام کو دریافت کر اور یہی وہ نبوت ہے جسے ہم کہـ مرزا قادیانی قبل صریح دعویٰ نبوت ”آنے والے مسیح موعود کا نام جو حـ وہ انہی مجازی معنوں کے رو سے الہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے

اور ( حاشیہ انجام آتھم

استعمال کرنا اور لغت کے عام معنـ

صفحہ ٩٤

کلام مجید کی آیات اور اس کے اوامر ونواہی و دیگر اوامر جدیدہ بطریق وحی نبوت و خطاب من اللہ نازل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور اس کی امت قائل ہے۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ (مکتوب ٣٢ ج ٣ ص ٣٢٧) میں فرماتے ہیں کہ: ”لوازم وکمالاتیکہ در نبوة درکار است ہمہ راعمرؓ دارد اماچوں منصب نبوة بخاتم الرسل ختم شدہ است بدولت منصب نبوة مشرف نگشت“

اور (مکتوبات ٢٥١ ج ١ ص ٤١١) میں فرماتے ہیں کہ: ”کمالات حضرت شیخینؓ شبیہ کمالات انبیاء علیہم السلام است“ اور اس کے بعد اسی مکتوب کے آخر میں لکھتے ہیں کہ: ”ایں ہر دو بزرگوران درکلانی وبزرگی درانبیاء علیہم السلام معدوداند“ یعنی کمالات میں دونوں خلیفہ ابوبکرؓ وعمرؓ انبیاء علیہم السلام کے مشابہ ہیں۔

اور (فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٢٩٥، ج ٣ ص ٥٦٨) سے پہلے یہ نقل کر چکا ہوں کہ نبوت اور نبی کا اطلاق خاص صاحب وحی تشریع پر ہے اور تشریع نبوت کے اجزاء میں سے آخر جز ہے تا وقت یہ کہ مجموع اجزاء نبوت سے متصف نہ ہو، نبی کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا حضور ﷺ کے بعد نبی کا اسم ہی زائل ہو چکا۔ نبی اور ولی میں یہی فرق ہے کہ نبی پر وحی تشریع ہوتی ہے اور ولی پر وحی تشریع نہیں ہوتی۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ صوفیاء کرام نبوت اللغویہ کی تقسیم کرتے ہیں۔ نبوت عامہ غیر تشریعی ہے جو علیٰ قدر مراتب تمام مخلوقات کو حاصل ہے اور دوسرے نبوت تشریعیہ یہی مخصوص بالانبیاء ہے۔ بتلائیے اس میں کس کو خلاف ہو سکتا ہے؟۔

(فتوحات مکیہ ج ٢ ص ٦٩) میں ہے کہ: ”وان كان سؤاله عن مقام الانبياء من الاولياء اى انبياء الاولياء وحى النبوة التى قلنا انها لم تنقطع“ یعنی اگر کوئی ان اولیاء اللہ کے مقام کو دریافت کرے جو مقام نبوت تک پہنچے ہیں۔ جن کو انبیاء الاولیاء کہا جاتا ہے اور یہی وہ نبوت ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ وہ منقطع نہیں ہوئی۔ قیامت تک باقی رہے گی۔ خود مرزا قادیانی قبل صریح دعویٰ نبوت (حاشیہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں لکھتا ہے کہ: ”آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبانِ مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے۔ وہ انہی مجازی معنوں کے رو سے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلّم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔“

اور (حاشیہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ہے کہ: ”غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں

کے رسول اور نبی ہیں اور بلاشک عند اللہ ان کو مرتبہ نبوت حاصل ہے لیکن نزول کے منع نہ ہوگا۔ یعنی نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں گے تاکہ امر و نہی نازل ہو۔ پس معلوم ہو گیا کے ارشاد کے یہ معنی ہیں کہ منصب نبوت اور رسالت تشریعیہ منقطع ہو گئی نہ مقام علیٰ قدر مراتب سب میں موجود ہے۔ نبی غیر صاحب الزمان وصاحب تعریفات قابل نبوت و حافظ قرآن و صاحب وحی الہام ورؤیا صالحہ بلکہ صاحب وحی مطلقہ شہد کی وصاحب نبوت عامہ جو تمام مخلوقات میں ساری ہے۔ ؎

تا نے ایک دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ: ”قال فى حديث من حفظ القرآن ت النبوة بين جنبيه انما لم يقل فقد ادرجت النبوة فى صدره ه اوفى قلبه لان ذلك رتبة النبى لارتبة الولى (كبريت على حاشيه ٢ ص ٨)“ ؎ حضور ﷺ نے حدیث میں حافظ قرآن کے متعلق یہ فرمایا کہ اس کے داخل کر دی گئی۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کے سینہ میں یا اس کی آنکھوں کے سامنے یا اس نبوت رکھ دی گئی۔ اس لئے کہ یہ مرتبہ نبی کا ہے نہ ولی کا۔ ؎

اکبر نے (فتوحات مکیہ باب ٣۔ کے جواب ٢٥) میں لکھا ہے کہ: ”اعلم ان النبوة مطلقاً بعد محمد ﷺ انما ارتفع نبوة التشريع فقط وقد كان القادر الجيلى يقول ادنى الانبياء اسم النبوة واوتينا اللقب اى بنا اسم النبى مع ان الحق تعالى يخبر نافى سرائرنا بمعانى لام رسوله ﷺ صاحب هذا المقام من انبياء الاولياء فغاية ريف بالا حكام الشريعة حتى لا يخطئوا فيها لا غير (از يواقيت “ ؎ جان تو کہ حضور ﷺ کے بعد مطلق نبوت (جو بمعنی خبر دادن کے ہے) مرتفع وت تشریعیہ مرتفع ہے۔ (جو ادیان میں مصطلحہ ہے) حضرت پیرانِ پیر شیخ نی قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کو اسم نبوت اور منصب نبوت لیاء امت کو صرف لقب دیا گیا۔ یعنی با وجود اللہ تعالیٰ ہم کو بطریق تعریف و بذریعہ اللہ اور کلام رسول اللہ ﷺ کے معنی کی خبر دیتا ہے۔ مگر نبی کا اطلاق ہم پر ممنوع یاء جو اس مقام کے صاحب ہوں ان کو انبیاء الاولیاء کہا جاتا ہے۔ ؎ یعنی یہ اولیاء ہ ہیں ان کی نبوت یہی ہے جو احکام شرعیہ قرآن وحدیث کو بطریق تعریف و وحی تے ہیں۔ جس میں خطاء واقع نہیں ہوتی۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ نہ یہ کہ ان پر

PDF 96

اسکو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔‘‘ اور دعویٰ نبوت کے بعد لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج١٠ ص ١٢٧، بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء)

اور (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج٢٢ ص٤٠٦) میں صاف لکھ دیا ہے کہ: ’’اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی کے نام پانے کا مستحق نہیں گذرا۔‘‘ اور (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص١١، خزائن ج١٨ ص٢١٥) میں ہے کہ: ’’اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔‘‘ نبوت صرف موہبت ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ منصب نبوت جو وہبی ہے۔ جس میں وحی تشریع کا نازل ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ وحی تشریع حقیقت نبوت میں داخل ہے۔ وہ حضور ﷺ کی بعثت عامہ کے بعد منقطع ہے۔ لیکن مقام نبوت لغویہ اور کمالات نبوت جو کسبی ہیں اور حقیقت نبوت شرعیہ کے بعض اجزاء ہیں۔ وہ باقی ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی حقیقت کے جمیع اجزاء موجود نہ ہوں وہ حقیقت موجود نہیں ہو سکتی۔ البتہ نبوت لغویہ عامہ یہ تمام مخلوقات میں علی قدر مراتب ساری ہے۔ لیکن باوجود اس کے نبی کا اطلاق کرنا۔ اس معنی پر ممنوع ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کو بعد نزول کے جو نبی کہا گیا ہے۔ وہ بے شک حقیقتاً اپنے زمانہ کے نبی ہیں۔ حضور ﷺ سے پہلے منصب نبوت پر بعثت ہو چکی۔ اپنے زمانہ میں صاحب الزمان رسول تھے۔ لیکن حضور ﷺ کی بعثت عامہ کے بعد صاحب الزمان رسول نہیں رہے اور اس امت کے لئے رسول ہو کر تشریف نہیں لائیں گے۔ بلکہ ان پر صاحب الزمان رسول یعنی حضور ﷺ کی شریعت کا اتباع واجب ہو گا اور ان پر وحی نبوت نہ ہو گی۔ اب مرزا قادیانی کے دعویٰ کو ملاحظہ کر لو۔ سب سے آخری مکتوب میں لکھتے ہیں کہ: ’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔‘‘ ایک غلطی کا ازالہ میں محدثیت سے انکار کر کے اس سے بڑھ کر وہی نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیح موعود نے لکھا ہے کہ: ’’خدا نے مجھے منصب نبوت پر پہنچایا ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٠)

اور (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں لکھتے ہیں کہ: ’’یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ...... اور ایسا ہی جب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔‘‘ اور اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ: ’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو

میرے پر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشت ٹھہرایا۔‘‘ اور شیخ اکبر و شیخ عبدالوہاب شعران عنقه کا فتویٰ صادر فرمایا ہے تو پھر ان مرزائی امت بہت کوشش کرتی ہے کہ شیخ ا عبث نکلا۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ جگہ افتراء کیا ہے۔ اس لئے قابل استناد نہیں الشيخ قدس الله سره فيجب صدر امر سلطانی با النهی ص ٣٥٨، کتاب الجهاد باب المرتد مدسوس کہا ہے۔ جمال الدین نامی ایک شخص

نبی اور نبوت اور و

اور نبی کے معن

قرآن کریم نے سب نبیوں ہے۔ چنانچہ سورہ انعام کے ساتویں رکو اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام ایوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، مو علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، الیاس علیہ السلام، لوط علیہ السلام۔ اس کے بعد ہے کہ: ”اولئک (انعام: ٨٩) ‘‘یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن علیہ السلام کے متعلق ہے جن کو مرزا قاد موسى وهارون (الصافات: الكتاب المستبين (الصافا کتاب روشن دی اور سورہ انبیاء میں ہے

صفحہ ٩٧

میں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔‘‘ اور دعویٰ نبوت ہیں کہ : ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧، بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء)

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں صاف لکھ دیا ہے کہ : ”اس وقت تک کوئی اور شخص نبی کے نام پانے کا مستحق نہیں گذرا۔‘‘ اور (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢١٥) میں ہے کہ : ”اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔‘‘ نبوت سے وغیرہ وغیرہ۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ منصب نبوت جو وحی ہے۔ جس میں نزل ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ وحی تشریع حقیقت نبوت میں داخل ہے۔ وہ حضور ﷺ کے بعد منقطع ہے۔ لیکن مقام نبوت لغویہ اور کمالات نبوت جو کسبی ہیں اور حقیقت بعض اجزاء ہیں۔ وہ باقی ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی حقیقت کے جمیع اجزاء وہ حقیقت موجود نہیں ہوسکتی۔ البتہ نبوت لغویہ عامہ یہ تمام مخلوقات میں علی قدر مراتب ان باوجود اس کے نبی کا اطلاق کرنا۔ اس معنی پر ممنوع ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کو بعد نبی کہا گیا ہے۔ وہ بے شک حقیقتاً اپنے زمانہ کے نبی ہیں۔ حضور ﷺ سے پہلے پر بعثت ہوچکی۔ اپنے زمانہ میں صاحب الزمان رسول تھے۔ لیکن حضور ﷺ کی بعد صاحب الزمان رسول نہیں رہے اور اس امت کے لئے رسول ہوکر تشریف نہیں مگر ان پر صاحب الزمان رسول یعنی حضور ﷺ کی شریعت کا اتباع واجب ہوگا اور ان ہوگی۔ اب مرزا قادیانی کے دعویٰ کو ملاحظہ کرلو۔ سب سے آخری مکتوب میں لکھتے خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔‘ ایک غلطی کا ازالہ میں محدثیت سے انکار کر کے اس ہی نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسیح موعود نے لکھا ہے کہ : ”خدا نے مجھے منصب نبوت پر

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٠)

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں لکھتے ہیں کہ : ”یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا نے وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ...... اور ایسا ہی جب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ۔‘‘ اور اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ : ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو

میرے پر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام موسوم کیا...... اب دیکھو خدا تعالیٰ نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔‘‘ اور شیخ اکبر و شیخ عبدالوھاب شعرانی نے جو رئیس المکاشفین ہیں۔ ایسے شخص پر ضربنا عنقه کا فتویٰ صادر فرمایا ہے تو پھر ان کے کلام میں الحاد کے امداد کی کون صورت نکل سکتی ہے؟۔

مرزائی امت بہت کوشش کرتی ہے کہ شیخ اکبر کی فتوحات مکیہ سے کچھ سہارا مل جائے مگر یہ خیال محض عبث نکلا۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ شیخ اکبرؒ نے فتوحات اور دیگر کتب میں بعض یہود نے بعض جگہ افتراء کیا ہے۔ اس لئے قابل استناد نہیں۔ ”لکنا تيقناً ان بعض اليهود افتراها على الشيخ قدس الله سره فيجب الاحتياط به ترك مطالعة تلك الكلمات وقد صدر امر سلطانى با النهى فيجب الاجتناب من كل وجه (درمختار ج ١ ص ٣٠٨، کتاب الجهاد باب المرتد) اور شیخ شعرانیؒ نے بھی دیباچہ یواقیت میں کتب شیخ کو مدسوس کہا ہے۔ جمال الدین نامی ایک شخص نے گڑ بڑ کر دیا ہے۔

نبی اور نبوت اور وحی نبوت کی تعریف اور رسول

اور نبی کے معنی میں اصطلاحی شرعی فرق

قرآن کریم نے سب نبیوں کے لئے کتاب اور شریعت اور نبوت کو ثابت فرمایا ہے۔ چنانچہ سورہ انعام کے ساتویں رکوع میں اٹھارہ نبیوں کا ذکر آیا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام، یعقوب علیہ السلام، نوح علیہ السلام، داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، الیاس علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، الیسع علیہ السلام، یونس علیہ السلام، لوط علیہ السلام۔

اس کے بعد ہے کہ : ”اولئك الذين آتيناهم الكتاب والحكم والنبوة (انعام: ٨٩)‘‘ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت دی ہے۔ خود ہارون علیہ السلام کے متعلق ہے جن کو مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی بتلاتے ہیں۔ ”ولقد مننا على موسى وهارون (الصافات: ١١٤)‘‘ پھر ان احسانات کا بیان ہے۔ ”واتينا هما الكتاب المستبين (الصافات:١١٧)‘‘ ہم نے ان دونوں موسیٰ و ہارون علیہم السلام کو کتاب روشن دی اور سورہ انبیاء میں ہے۔ ”ولقد اتينا موسى وهارون الفرقان

صفحہ ٩٨

وضیاء و ذكراً للمتقين (الانبياء:٤٨) ‘‘حالانکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے وزیر اور شریک فی النبوۃ تھے۔ ’’واجعل لی وزیراً من اهلی هارون اخی (طه ٣٠، واشركه فی امری (طه:٣٢) ‘‘

’’واذ اخذ الله ميثاق النبيين لما اتيتكم من كتاب وحكمة (آل عـمــران:٨١) ‘‘یعنی جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تم کو کتاب اور شریعت دوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب اور شریعت نبیوں کو دی گئی ہے۔ ’’كان الناس امة واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفو فيه (بقره:٢١٣) ‘‘ اس آیت میں تصریح ہے کہ تمام نبیوں پر کتاب نازل ہوتی ہے اور مرزا محمود قادیانی نے (حقیقۃ النبوۃ ص ١٤٩) میں یہی لکھا ہے۔ پھر اسی طرح قرآن کریم میں کتب پر ایمان لانے کا حکم ہے اور مفصل بتایا گیا ہے کہ الٰہی احکام اور اس کے شرائع کا نام کتاب ہوتا ہے۔ ’’قوله تعالى شرع لكم من الدين ماوصى به نوحا والذين اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى ان اقيمو الدين ولا تتفرقوا فيه (شوریٰ:١٣) ‘‘اس سے واضح ہے کہ تمام انبیاء کا ایک ہی دین مشروع ہوا ہے۔ البتہ کچھ فروعی اختلاف ہوتا ہے اور بس۔ ’’ان ہــذا لــفــی الــصــحف الاولى (الاعلیٰ:١٨) ‘‘یعنی یہ قرآنی تعلیم اور اس کے احکام پہلے انبیاء کی کتب میں بھی موجود ہیں۔ ’’ثم اوحينا اليك ان اتبع ملة ابراهيم حنيفا (النحل:١٢٣) ‘‘ یعنی ملت ابراہیمی اور ملت محمد ﷺ ایک ہی ہے۔ ’’وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحى اليه انه لااله الا انا فاعبدون (انبياء:٢٥) ‘‘ یعنی ہم نے آپؐ سے پہلے جو کوئی رسول بھیجا اس کو یہی وحی کی کہ کوئی بندگی کے لائق نہیں میرے سوا۔ میری ہی بندگی کرو۔ ’’ولـقـد اوحی اليك والى الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخسرين (زمر:٦٥) ‘‘ ﴿آپؐ کی طرف اور آپؐ سے پہلے جس قدر انبیاء آئے سب کی طرف یہ وحی کی گئی کہ اگر تم بھی شرک کرو تو تمہارے بھی سارے عمل تباہ ہو جائیں اور تم خاسرین میں داخل ہو جاؤ۔ ﴾

’’ما يقال لك الا ما قد قيل للرسل من قبلك ان ربك لذومغفرة وذوعقاب الیم (حـم سـجده:٤٣) ‘‘ ﴿آپؐ سے وہی کہا جاتا ہے جو سب رسولوں سے آپؐ سے پہلے کہا گیا ہے کہ تیرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور بڑا ہی دردناک عذاب دینے والا ہے۔ ﴾

نوٹ! ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ توحید کی تعلیم و تبلیغ کی وحی اور شرک کرنے سے نہی اور

صفحہ ٩٩

عقیدہ مغفرت وعقاب کی تعلیم ہر نبی پر ہوئی ہے۔ جو شریعت کے اعلیٰ رکن ہیں اور فاعبدونی کہہ کر سب کو عبادت کرنے کی تبلیغ کا امر ہو رہا ہے اور پھر ہر نبی پر ایمان لانا اجزاء ایمان میں داخل ہے۔ بغیر ان پر اور ان کی وحی پر ایمان لائے ایمان معتبر نہیں ہوتا۔ ’’ما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله (النساء:٦٤)‘‘ لہٰذا ہر نبی نبوت کا دعویٰ کر کے کم از کم اپنے اور اپنی وحی پر ایمان لانے کی طرف بلاتا ہے۔ وہ ایمان کے اجزاء میں ایک اور جزو اعلیٰ کو یعنی اپنے اور اپنی وحی لانے کو پہلی شریعت پر زیادہ کرتا ہے۔ پس اس سے بڑھ کر اور کون سا حکم نبوت تشریعی کا ہو سکتا ہے ١؎ ۔ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢) میں لکھتے ہیں کہ: ’’رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے۔‘‘ اور (ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧) میں لکھتے ہیں کہ: ’’حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔‘‘ (ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١) میں ہے کہ: ’’رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے کہ: ’’الله اعلم حيث يجعل رسالته (انعام:١٢٤)‘‘ یعنی اللہ ہی جانتا ہے کہ اپنی پیغمبری کا سلسلہ کہاں قائم کرے گا۔ یعنی پیغمبری کا منصب عطاء کرنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ منصب محض وہبی ہے۔ کسی

١؎ جیسا کہ مرزا قادیانی پر وحی ہوئی۔ ’’قل یا ایها الناس انی رسول الله الیکم جمیعاً‘‘

(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠، البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)

’’قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله‘‘

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٧٠)

’’قل انما انابشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد‘‘

(حقیقت الوحی ص ٨٢،٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)

’’واتل ما اوحى اليك من ربك‘‘

(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

’’انا ارسلنا اليكم رسولا شاهداً عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولاً‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

’’انا ارسلنا احمد الى قومه فاعرضوا وقالو كذاب اشر‘‘

(اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٤)

’’يا ايها النبى اطعم الجائع والمعتر ٠ حقيقة النبوة ص ٢٠٠‘‘

صفحہ ١٠٠

نہیں ۔ جس ١؎ کو اللہ اپنا رسول مقرر کرے وہ رسول ہوگا۔ دوسرے اس میں یہ ہوگا کہ خدا کے احکام بندوں تک پہنچائے گا۔ جو اس پر ایمان لا کر عمل کرے گا۔ نجات پائے گا اور جو ایمان نہ لایا معذب ہوگا۔ اسی وجہ سے انبیاء علیہم السلام کو بشیر ونذیر فرمایا گیا ہے۔ ”وما ارسلنک الا كافۃ للناس بشيراً ونذيراً (سبا: ٢٨)“ ”وما نرسل المرسلين الا مبشرين ومنذرين (الکہف: ٥٦)“ یعنی ایمان والوں کے لئے بشير بالجنۃ ہیں اور کافروں کے لئے نذیر عن النار ہیں اور ”ما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي (الحج: ٥٢)“ اور ”ما علينا الا البلاغ (یسین: ١٧)“ سے ظاہر ہے کہ رسول اور نبی دونوں تبلیغ اوامر کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ ”قل انما انا بشر مثلكم يوحى الی (حم سجدہ : ٦)“ سے ثابت ہے کہ انبیاء بھی بشر ہوتے ہیں۔ انبیاء میں اور غیر انبیاء میں مابہ الامتیاز وحی نبوت ہی ہے۔

اب شریعت اسلام کی رو سے نبی کی یہ تعریف ہے۔ نبی وہ خاص انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ منصب نبوت ٢؎ عطا فرما کر اپنے احکام یعنی شریعت کے اوامر ونواہی وعقائد اس پر وحی کر کے اس کو قوم کی طرف مبعوث فرمائے اور اس کی اطاعت اور اس کی شریعت کی تعمیل ایک خاص وقت تک فرض قرار دے اور وہ اپنی نبوت کا اعلان کرے خدا کے حکم سے یہ عام ہے۔ خواہ یہ احکام جديدة النزول جن کی تبلیغ کا ان کو امر ہے اور ان کی تعمیل لوگوں پر واجب ہے۔ پہلی شریعت کے موافق نازل ہوں یا مخالف، وحی امور غائبہ یعنی عقائد متعلقہ معاد و ایمانیہ سب نبیوں میں ایک ہے اور مشترک ہیں۔ ان میں اختلاف اور نسخ نہیں ہو سکتا۔ جب کہ نبی واجب الاطاعت ہے اور اسی کی شریعت واجب التعمیل ہے۔ تو یہ شریعت جدیدہ پہلی شریعت کی ناسخ ہوگی ۔ کیونکہ اس حیثیت

١؎ (حقیقت النبوۃ حاشیہ ص٧٤) میں ہے نبی وہی ہے۔ ”جس کا نام خدا نبی رکھے اور اس کے حکم سے وہ اپنی نبوت کا اعلان کرے۔“ نوٹ ! امور غائبہ کی وحی جو لازم نبوت ہے وہ وہی امور آخرت حشر ونشر وحساب اعمال و جنت و دوزخ و عذاب قبر و وجود باری و توحید وملائکہ اللہ و احکام شرعیہ وغیرہ ہیں۔ جن کا وجود ہم سے غائب ہے اور ان پر ایمان لانا ہر مکلف پر فرض ہے اور ان کی تبلیغ بر طبق وحی الٰہی ہر نبی کا اولین فرض ہے۔ نہ نجومیوں اور رمالوں کی طرح محض واقعات آئندہ کی پیش گوئی کرنا۔ ٢؎ نبوت کی تعریف یہ ہے۔ ”هو منصب من الله تعالى لتبليغ الاحكام الالهية الى قومه“ یہ وحی نبوت کی تعریف ہے۔ ”هو اعلام الشريعة من الله تعالى لنبيه“

صفحہ ١٠١

سے کہ اس نبی کی شریعت ہے۔ واجب التعمیل ہے نہ اس حیثیت سے کہ پہلے نبی کی شریعت ہے۔ جس کی ڈیوٹی ختم ہوگئی اور اگر یہ شریعت جدیدہ ناسخہ پہلی شریعت کے بالکل موافق ہے۔ یعنی اس نبی نے پہلے نبی کے جملہ احکام کو بحالہ قائم رکھا سوائے جدید دعویٰ نبوت ووحی شریعت واجب الایمان کے اور سوائے ان بعض احکام کے جو پہلی شریعت کے مخالف ومغائر ہر نبی پر خاص نبی کے عمل وعبادت کے لئے نازل ہوا کرتے ہیں۔ ”ولا یلزمھم اتباع الرسل “ کہ ان میں تبلیغ کا امر نہیں ہوتا۔ تو پہلی شریعت کا مقرر نبی کہلاتا ہے۔

یحکم بہ النبیون میں داخل ہوگا۔ کیونکہ جب شریعت سابقہ کی تعلیم جس کا اجراء تا ہنوز منظور الٰہی ہے مٹ جاتی تھی اور اس میں تحریف کر دی جاتی تھی۔ تو دوسرا نبی مبعوث فرما کر بعینہ وہی شریعت اس پر وحی کر کے تبلیغ کا امر کیا جاتا تھا اور ان تحریفات کو زائل کر دیا جاتا تھا اور اگر یہ نئی شریعت جس کی تبلیغ کا امر کیا گیا۔ بعض احکام میں شریعت سابقہ کے مخالف ومغائر ہے اور ناسخ کلی ہے۔ یا مبلغ الیھم کے اعتبار سے بالکل نئی شریعت ہے۔ جیسے شریعت حضرت اسماعیل علیہ السلام قبیلہ جرہم کے لئے تو یہ رسول کہلائے گا۔

اور اولوالعزم رسل وہ ہیں جن پر اخلاقی، تمدنی، معاشرتی، سیاسی سب ہی قسم کے جامع احکام نازل ہوئے۔ اگر چہ صاحب کتاب وصحف سب ہی انبیاء ورسل علیہم السلام ہیں۔ مگر حقیقت صاحب کتاب اولو العزم رسل ہیں۔ اسی وجہ سے ابو ذرؓ کی حدیث میں ہے کہ ”ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ہوئے ہیں اور تین سو پندرہ رسول ہوئے۔ جن میں اوّل آدم علیہ السلام اور آخر محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔“ (رواہ احمد مشکوٰۃ ص٥١١، باب الخلق وذکر الانبیاء علیہم السلام، کنز ص ١٢٠، ١٣١، ج ٦)

اور ایک حدیث میں رسولوں کی تعداد زیادہ فرمائی اور رسولوں سے کتابوں کی تعداد کم یعنی تین سو تیرہ رسول اور ایک سو چار کتابیں۔ (حاشیہ شرح عقائد نسفی ص١٤، مجتبائی) اور خاتم النبیین وہ اولو العزم رسول اور نبی الانبیاء ہیں۔ جو تمام خلق کی طرف تمام نبیوں کے آخر میں شریعت جامع کل شرائع وکامل واکمل دے کر مبعوث کیا جائے اور تمام نبیوں نوح وابراہیم، وموسیٰ علیہم السلام وغیرہم الوالعزم رسولوں پر بھی فرض قرار دیا گیا ہو اور سخت عہد لے لیا گیا ہو کہ اگر ان کا زمانہ پائیں تو ضرور ضرور ان پر ایمان لائیں اور ان کی شریعت کی اتباع کو اور ان کی نصرت کو اپنا فرض سمجھیں ١؎ ۔

١؎ حسب تحریر مرزا محمود، مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ میں خاتم الانبیاء ہوں۔ (حاشیہ حقیقت الوحی ص ١٩٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٠) میں ہے کہ ”میں صرف پنجاب ہی کے لئے نہیں مبعوث ہوا بلکہ تمام دنیا کے لئے ۔“

صفحہ ١٠٢

بسم الله الرحمن الرحیم

مرزائیوں کے عقائد

مرزائی عقیدہ نمبر١...... اجرائے نبوت

مرزائیوں کے نزدیک آنحضرت ﷺ آخری نبی نہیں ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد بھی نئے نبی ہو سکتے ہیں اور آپ کے بعد بھی منصب نبوت ملتا رہے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی انبیاء سابقین کی طرح منصب نبوت ورسالت کے مدعی ہیں۔ ان کے منکر کافر ہیں، ہرگز مسلمان نہیں۔

مرزا قادیانی کے دعاوی کی ابتداء کس کس سنہ سے ہے

’’دعویٰ الہام ١٨٨٠ء میں شائع کیا اس کے بعد ٢٨ سال زندہ رہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ٤٩)

’’دعویٰ مسیحیت ١٨٩١ء میں کیا اس کے بعد ١٧ سال چند ماہ زندہ رہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ٥١)

’’اس عقیدہ میں ١٩٠٠ء کے بعد تبدیلی ہوئی۔ ١٩٠٠ء کے بعد دعویٰ نبوت کیا۔ (بلکہ ١٩٠٠ء میں) پس مسئلہ نبوت کے متعلق جب بحث ہو تو ہمیں ان تحریرات کو اصل قرار دینا ہو گا۔ جو ١٩٠١ء سے لے کر وفات تک شائع ہوئیں۔ (بلکہ ١٩٠٠ء سے) اور پہلی تحریرات (جن میں دعویٰ نبوت نہیں بلکہ دعویٰ نبوت سے انکار ہے اور محدثیت یا جزئی نبوت یا مجازی نبوت وغیرہ الفاظ ہیں) منسوخ ہیں اور تریاق القلوب ١٨٩٩ء کی ہے۔ جو بعض موانعات کی وجہ سے ١٩٠٢ء میں شائع ہوسکی۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ٥٥، ١٢٠، ١٢١)

’’١٩٠٠ء کے بعد سے جزوی نبوت یا محدثیت منسوخ ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ١٦١)

مرزا قادیانی کی پالیسی دعویٰ نبوت میں

١٩٠٠ء سے پہلے مرزا قادیانی کا مجدد، امام الوقت، محدث، مہدی معہود، مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا اور بظاہر ختم نبوت کا اقرار کرتے تھے اور بڑے شدومد کے ساتھ ختم نبوت پر اپنا ایمان ظاہر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہر قسم کی نبوت آپ پر ختم ہوگئی ہے اور نبوت کی کوئی نوع باقی نہیں رہی۔ چنانچہ موجبہ کلیہ سے بیان کرتے تھے۔

ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر نبوت را بروشد اختتام

(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)

صفحہ ١٠٣

اور دعویٰ منصب نبوت سے قطعی انکار ظاہر کرتے تھے۔ کیونکہ قرآن میں نص قطعی ہے اور احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور ضروریات اسلام میں داخل ہے اور کوئی تاویل بھی نہیں سوجھتی تھی۔ دعویٰ نبوت میں مسلمان تو کیا ان کے مرید بھی ہاتھ سے جاتے رہتے یک لخت کوئی یہ دعویٰ مان لینے کے لئے تیار نظر نہیں آیا۔ لہٰذا کچھ کچھ شوشے لگانے شروع کئے کہ محدث بھی جزئی نبی ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ سے نبی ہی ہوتا ہے۔ مجازاً لغوی معنی کی رو سے نبی کہہ سکتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک پسندیدہ نہیں کہ عام مسلمان کو دھوکہ لگ جانے کا خوف ہے۔ پھر خوب کثرت سے اس لفظ کا استعمال شروع ہو گیا کہ میں بوجہ مامور ہونے کے مجبور ہوں ۔ جب دیکھا کہ اب مریدوں کے کان ان الفاظ کو سن کر بدکتے نہیں اور قلوب پر مہر لگ چکی ہے تو یہ سب قیدیں اڑادیں اور کھلے بندوں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔

(بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

اگر کوئی مرید نبوت سے انکار کرتا ہے تو اس کی جان کو آجاتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اپنے ایک مرید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہو (ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦) اس بیچارے کو خواہ مخواہ کس قدر ڈانٹ رہے ہیں۔ چونکہ شریعت محمدیہ کے بعد کسی نبی کا آنا تو بہت مشکل امر تھا تو پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے درپے ہوئے اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول تواتر سے ثابت ہے۔ لہٰذا مسیح موعود، محدث بنے اور پھر چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے لگاؤ ہے تو پھر کیا تھا۔ بس راستہ کھل گیا۔

دعویٰ نبوت میں مرزا قادیانی کی تدریجی چال

١٩٠٠ء سے پہلے صرف محدث ہونے کا دعویٰ تھا اور یہ دعویٰ بھی خدا کے حکم سے کیا گیا تھا اور بظاہر لفظوں میں ختم نبوت کے اقراری تھے اور مدعی نبوت کو کافر بتلاتے تھے۔ اس پر بھی نبی بننے اور کہلانے کا بہت شوق تھا۔ اسی لئے محدثیت کو مجازی، جزئی، لغوی نبوت سے تعبیر کرنے کے علاوہ حقیقت نبوت کو اپنے لئے خوب ثابت اور ظاہر کرتے تھے۔ مثلاً محدثیت انواع نبوت سے ایک نوع ہے۔ محدثیت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں ۔“

(توضیح المرام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠ )

”محدث کا حمل نبی پر جائز ہے۔ یعنی کہہ سکتے ہیں ۔ المحدث نبی!“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٨، خزائن ج ٥ ص ٢٣٨)

١٨٩٣ء الہامات میں ”میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

صفحہ ١٠٤

لہٰذا بعض علماء نے اس پر فتویٰ کفر دیا کہ اس شخص نے دعویٰ حقیقت میں نبوت کا کر لیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے انکار کیا کہ میں مدعی نبوت نہیں ان الفاظ کو ترمیم شدہ اور کاٹا ہوا تصور فرمالیں اور اس کی جگہ محدث کا لفظ سمجھ لیں۔ لیکن پھر بھی مرزا قادیانی نے ان الفاظ کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ ١٩٠١ء میں ایک اشتہار بعنوان (ایک غلطی کا ازالہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣١) لکھ کر آپ نے نبوت کی ایک خام بنیاد رکھ ہی دی۔ بالآخر اس کے بعد بڑے شدومد کے ساتھ کھلم کھلا دعویٰ نبوت و رسالت کیا۔

(دیکھو بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ص ١٢٧)

لیکن اس صاف دعویٰ کے ساتھ ہی غیرت الٰہی جوش میں آئی اور دفعتاً موت نے آپ کو آ پکڑا۔ ١٨٩١ء سے ١٩٠٠ء تک کے اقوال ملاحظہ ہوں۔

١٨٩١ء کے اقوال

وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١، ١٨٩١ء)

نبوت لانے سے منع کیا گیا اور اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر چہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرائیل علیہ السلام لاویں اور پھر چپ ہو جائیں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١١، ١٨٩١ء)

”اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤١٣)

وعقائد دین جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٨٧)

صفحہ ١٠٥

جبرائیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لا الہ الا الله محمد رسول الله ! کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور باتباع آنجناب ﷺ اولیاء اللہ کو ملتی ہے۔ اس کے ہم قائل ہیں اور اس سے زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگائے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

مرزا محمود نے (حقیقت النبوۃ ص ٢٩٠) میں لکھا ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود نے نزول جبرائیل کو نبوت کے لئے شرط ٹھہرایا...... پس خدا تعالیٰ نے الہام میں آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام کے آنے کی خبر دی ہے۔“

مرزا قادیانی نے اس کی بھی تصریح کی ہے کہ ایک رسول کسی دوسرے رسول کا مطیع اور تابع نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ (ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧) میں ہے ۔ ”ما ارسلنا من رسول الا ليطاع بإذن الله ! یعنی ہر ایک رسول مطاع بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو ۔“ یعنی ہر نبی اپنی وحیوں کی اتباع کرے گا۔ دوسرے نبیوں کی وحیوں کی اتباع نہیں کر سکتا۔ اگر دونوں کی وحیوں میں ہر حکم میں توافق ہے تو بعد کا نبی پہلے رسول کی شریعت کا قائم کرنے والا کہلائے گا۔ ورنہ شارع جدید ہوگا۔ ہاں جس امر میں وحی نہ ہوئی ہو یا ان کی وحی کے خلاف نہ ہو تو ایک دوسرے کی اتباع بھی کرتے ہیں۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام سے فرمایا۔ ”هل عصيت امرى اور حضور ﷺ کو ارشاد ہوا۔ ”فبہداہم اقتدہ (انعام:٩٠)“ ”ثُم أوحينا اليك ان اتبع ملة ابراهيم حنيفاً

(النحل:١٢٣)“

مدعی نبوہ اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)

ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر

صفحہ ١٠٦

وغیرہ سے منکر، بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣٠)

رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا الله محمد رسول الله کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(آسمانی فیصلہ ص٣، خزائن ج٤ ص٣١٣، حقیقت النبوۃ ص٩٢)

١٨٩٢ء کے اقوال

ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب ﷺ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا اور قرآن کریم کا ایک شوشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔ ہاں محدث آئیں گے۔‘‘

(نشان آسمانی ص٣٠، خزائن ج٤ ص٣٩٠)

الاسلام و توضیح المرام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کے رو سے بیان کئے گئے ہیں ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ اگر مسلمان ان لفظوں سے ناراض ہیں۔ تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں اور اس لفظ کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔.... میری نیت میں جس کو اللہ تعالیٰ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں بلکہ صرف محدث مراد ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٣١٣، حقیقت النبوۃ ص٩١)

١٨٩٣ء کے اقوال

کان ان يحدث سلسلۃ النبوۃ بعد انقطاعھا‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٧٧، خزائن ج٥ ص ایضاً)

یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نبی بھیجے اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انقطاع کے بعد پھر سلسلہ نبوت کا حادث کرے۔

صفحہ ١٠٧

لمہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت ہے ۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

"اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله! کا کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام ہوں۔"

(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٣١٤، حقیقت النبوۃ ص ٩٢)

قوال

"اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب ﷺ کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے رقرآن کریم کا ایک شوشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔ ہاں محدث آئیں گے۔"

(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

"تمام مسلمانوں کی خدمت میں گذارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح ام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر ف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کے رو سے بیان کئے گئے ہیں ورنہ حاشا و کلا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ اگر مسلمان ان لفظوں سے ناراض ہیں ، تو وہ ان الفاظ کو ا کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں اور اس لفظ کو کاٹا ہوا میری نیت میں جس کو اللہ تعالیٰ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد بلکہ صرف محدث مراد ہے۔"

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣، حقیقت النبوۃ ص ٩١)

اقوال

"ماكان الله ان يرسل نبياً بعد نبينا خاتم النبيين وما سلسلۃ النبوة بعد انقطاعها "

( آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ہو سکتا ہے کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نبی بھیجے اور نہ یہ عانی انقطاع کے بعد پھر سلسلہ نبوت کا حادث کرے۔

"میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں تا کہ

دین مصطفیٰ ﷺ کی تجدید کروں اور اس نے مجھے صدی کے سر پر بھیجا۔"

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

١٨٩٢ء کے اقوال

"الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمّى نبيناﷺ خاتم الانبياء بغير استثناء وفسره نبينا فى قوله لا نبى بعدى ببيان واضح للطالبين ولو جوزنا ظهور نبى بعد نبينا ﷺ لجوزنا انفتاح باب وحى النبوة بعد تغليقها وهذا خلف كما لا يخفى على المسلمين وكيف يجيئ نبى بعد رسولناﷺ وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين "

(حمامة البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

"کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی ﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرت ﷺ نے طالبوں کے لئے بیان واضح سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور اگر ہم آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ وحی نبوہ کے دروازے کا انفتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی کیوں کر آوے۔ حالانکہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہو گئی ہے اور آپ ﷺ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔"

"ماكان لى ان ادعى النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم كافرين "(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) " مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں کی جماعت میں جاملوں۔"

١٨٩٧ء کے اقوال

"اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے۔ جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی ہوں اور اگر دوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے۔ جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولكن رسول الله وخاتم النبيين کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے

صفحہ ١٠٨

کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٢٦)

٢....... ”لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جل شانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں ۔ جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا ۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا ۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٦، ٢٧)

٣....... ”آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبانِ مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلّم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا ۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

نوٹ: حضرت محی الدین ابن عربیؒ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بعد نزول نبی غیر تشریعی فرمایا ہے۔ یعنی حضور ﷺ کی نبوت عامہ کے بعد چونکہ وہ صاحب شریعت نہیں رہے ان کی ڈیوٹی ختم ہوگئی ہے۔ لیکن وہ تاہنوز زندہ ہیں۔ لہٰذا ان کو نبی غیر تشریعی کہہ سکتے ہیں۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی (الحکم ٧؍ اپریل ١٩٠٣ء) میں تصریح فرماتے ہیں ۔ ’’محی الدین ابنِ عربی نے لکھا ہے کہ نبوت تشریعی جائز نہیں دوسری جائز ہے۔ مگر میرا اپنا یہ مذہب ہے کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔“

١٨٩٧ء کے اقوال

”ہم اس بات کے قائل اور معترف ہیں کہ نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے بعد آنحضرت ﷺ نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے اور نہ پرانا ، قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے۔ مگر مجازی معنوں کے رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے۔۔۔۔۔۔ میرے پر یہ بھی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبیین ﷺ کے بعد

صفحہ ١٠٩

بالکل بند ہیں۔ اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کی رو سے اور نہ کوئی قدیم نبی آ سکتا ہے۔“

(سراج منیر ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٥)

١٨٩٩ء کے اقوال

اور نہ سلسلہ وحی نبوت کا منقطع متصور ہو سکتا ہے اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حضرت عیسیٰ امتی ہو کر آئیں گے تو شان نبوت تو ان سے منقطع نہیں ہو گی۔ گو امتیوں کی طرح وہ شریعت اسلام کی پابندی بھی کریں۔ مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے علم میں نبی نہیں ہوں گے اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں وہ نبی ہوں گے تو وہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی دنیا میں آ گیا اور اس میں آنحضرت ﷺ کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن شریف کی تکذیب لازم آتی ہے۔ قرآن شریف میں مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔ لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے اور نئے کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢، ٣٩٣)

آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیۂ کریمہ ’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

(کتاب البریہ حاشیہ ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ١٣ ص ٢١٧، ٢١٨)

پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہو گی۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣)

ہے۔ لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت ہے۔...... سوچو کہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں۔ اسلام میں فتنہ پڑتا

صفحہ ١١٠

ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد نکلتا ہے۔ اس لئے اپنی جماعت کو معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں لانے چاہئیں اور دلی ایمان سے سمجھنا چاہئے کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہوگئی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ اس آیت کا انکار کرنا یا استخفاف کی نظر سے دیکھنا درحقیقت اسلام سے علیحدہ ہونا ہے۔ .... مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں۔ یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خداوند تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں۔“

(مکتوبات احمدیہ ص ٥ نمبر چہارم ص ١٠١ تا ١٠٣، اخبار الحکم نمبر ٢٩ ج ٣، ٧ اگست ١٨٩٩ء از رسالہ

جماعت لاہوری اتمام حجت نمبر ٦ ماہ صفر ١٣٤١ھ ص ٧، اشاعت از سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام احمدیہ

بلڈنگس لاہور)

نوٹ ! مرزا قادیانی نے ان عبارتوں میں کس قدر زور سے آنحضرت ﷺ کو آخر الانبیاء بغیر استثناء کہا ہے کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی اس امت کے لئے آ ہی نہیں سکتا۔ نفی عام ہے ورنہ نص صریح قرآن کی تکذیب اور حضور ﷺ کی شان کا استخفاف لازم آئے گا۔ قرآن میں ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے۔ قرآن کریم بعد خاتم النبیین ﷺ کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر جانتا ہے۔ حضور ﷺ کے بعد صرف محدث آئیں گے۔ مدعی نبوت مسلمان ہرگز نہیں رہ سکتا۔ قرآن کریم پر ہرگز اس کا ایمان نہیں صوفیاء کے لغوی مجازی اصطلاح پر بھی جو ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ اس کو بول چال میں لانا پسند نہیں کرتا۔ عام مسلمانوں کو دھوکا لگتا ہے۔ میں مدعی نبوت ہرگز نہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔ جہاں کہیں ایسے الفاظ صرف سادگی سے لغوی معنی کی رو سے نکل گئے اور اللہ جل شانہ میری نیت کو خوب جانتا ہے کہ ان الفاظ سے صرف محدث مراد ہے۔ حاشا و کلا مجھے نبوت کا ہرگز دعویٰ نہیں ان الفاظ کو کاٹتا ہوں اقالہ فرمالیں اور بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ لیکن پھر اس کے بعد لکھتے ہیں مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے۔ جن مکالمات میں لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے۔ ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ مگر افسوس مرزائی بیچارے کیا کریں خود مرزا قادیانی ہی ١٩٠٠ء کے بعد بدل گئے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک اس امت میں ظلی طور انبیاء علیہم السلام کے جمیع کمالات پانے والا نبی

صفحہ ١١١

کا نتیجہ سخت بد نکلتا ہے۔ اس لئے اپنی جماعت کو معمولی بول چال اور دن رات کے یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں اور دلی ایمان سے سمجھنا چاہئے کہ نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین “اس آیت کا استخفاف کی نظر سے دیکھنا درحقیقت اسلام سے علیحدہ ہونا ہے۔...... مگر چونکہ اسلام کی سے نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں۔ یا بعض احکام تہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ خداوند تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی

( مکتوبات احمدیہ ج ٥، نمبر چہارم ص ١٠١ تا ١٠٣، اخبار الحکم نمبر ٢٩، ج ٣، ١٧ اگست ١٨٩٩ء از رسالہ دی اتمام حجت نمبر ٦ ماہ صفر ١٣٤١ھ ص ٧، اشاعت از سیکرٹری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام احمدیہ (

نوٹ ! مرزا قادیانی نے ان عبارتوں میں کس قدر زور سے آنحضرت ﷺ کو آخر استثناء کہا ہے کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی اس امت کے لئے آہی نہیں سکتا۔ نفی عام ہے مع قرآن کی تکذیب اور حضور ﷺ کی شان کا استخفاف لازم آئے گا۔ قرآن میں ختم ال تصریح ذکر ہے۔ قرآن کریم بعد خاتم النبیین ﷺ کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر جانتا ہوں۔ حضور ﷺ کے بعد صرف محدث آئیں نبوت مسلمان ہرگز نہیں رہ سکتا۔ قرآن کریم پر ہرگز اس کا ایمان نہیں صوفیاء کے لغوی لاح پر بھی جو ایک معمولی محاورہ مکالمات الہیہ کا ہے۔ اس کو بول چال میں لانا پسند عام مسلمانوں کو دھوکا لگتا ہے۔ میں مدعی نبوت ہرگز نہیں یہ نہیں، ہوسکتا کہ میں نبوت کا اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں سے جاملوں ۔ جہاں کہیں ایسے الفاظ صرف سادگی تی کی رو سے نکل گئے اور اللہ جل شانہ میری نیت کو خوب جانتا ہے کہ ان الفاظ سے ی مراد ہے۔ حاشا و کلا مجھے نبوت کا ہرگز دعویٰ نہیں ان الفاظ کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں اور کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ لیکن پھر اس کے بعد لکھتے ہیں مگر مجازی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا مرسل کے لفظ سے یاد کرے۔ جن لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے۔ ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سوس مرزائی بیچارے کیا کریں خود مرزا قادیانی ہی ١٩٠٠ء کے بعد بدل گئے۔ کے نزدیک اس امت میں ظلی طور انبیاء علیہم السلام کے جمیع کمالات پانے والا نبی

نہیں بلکہ اس کا نام محدث ہے۔

اس کا معاملہ اس عالم سے وراء الوراء ہو جاتا ہے اور تمام ہدایتوں اور مقامات عالیہ کو ظلی طور پر پالیتا ہے۔ جو اس سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو ملے تھے اور انبیاء اور رسل کا وارث اور نائب ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقت جو انبیاء میں معجزے کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔ اس میں کرامت کے نام سے ظاہر ہو جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں عصمت کے نام سے نامزد کی جاتی ہے۔ اس میں محفوظیت کے نام سے پکاری جاتی ہے اور وہی حقیقت جو انبیاء میں نبوت کے نام سے بولی جاتی ہے۔ اس میں محدثیت کے پیرایہ میں ظہور پکڑتی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٣٧، خزائن ج ٥ ص ٢٣٧)

عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے۔“ اور یہ تصریح مرزا قادیانی بہ نص حدیث شیخین ”رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء (بخاری ج ١ ص ٥٢١، باب مناقب عمر بن الخطاب) “ محدث نبی نہیں ہوتا۔ اس لئے جزوی نبوت اور مجازی نبوت وغیرہ الفاظ کو کٹوا کر محدثیت کو قائم رکھواتے ہیں۔ جیسا کہ تحریرات سابقہ سے معلوم ہوا ہوگا۔ لیکن ١٩٠٠ء کے بعد صریح نبوت کا دعویٰ کر کے لفظ جزئی نبوت اور محدثیت کا انکار کر کے محدث کے نام کو ترک کر دیا۔ چنانچہ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥) میں صاف لکھتے ہیں۔ ” اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔“ اور (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں صاف لکھ دیا کہ: ”اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی کے نام پانے کا مستحق نہیں گزرا۔“ حالانکہ محدث گذرے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ محدث سے بڑھ کر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہاں تک کہ پہلے تحریرات کو دیکھ کر اگر کوئی شخص نبوت سے انکار کرتا ہے تو مرزا قادیانی اس کی جان کو آ جاتے ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں اپنے ایک مرید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اس بیچارے کو کس قدر ڈانٹ رہے ہیں اور اپنی نبوت کی نوعیت کو سمجھا رہے ہیں۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ١٨ ص ٢٠٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣١)

تنبیہ : اگر بروزی اور ظلی نبوت دین میں کوئی شے معتبر ہے۔ جس کا دعویٰ کیا جا سکتا

صفحہ ١١٢

ہے تو کسی ایک حدیث کو ہی مرزائی پیش کر دیں جس میں ظلی یا بروزی کا لفظ آیا ہو۔ کیوں کہ جب امت محمدیہ میں بقاء محدثیت شرعاً بھی ایک مسلم امر ہے اور محدث بھی ظلی نبی ہوتا ہے۔ (بقول لاہوری مرزائیاں ) تو پھر ضرور کہیں اس کا پتہ ملنا چاہئے اور اگر یہ مجرد اختراع ہی ہے۔ جیسا کہ ولکل ان یصطلح سے متبادر ہے تو ایسی اصطلاح کے ماننے پر جس کا دین میں کہیں پتہ نہ ہو دوسروں کو کیوں کر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ خصوصاً جب کہ وہ اصطلاح شریعت محمدیہ کے مخالف بھی ہو۔ بلکہ ممنوع ہو تعجب ہے کہ جب ایک شخص کو خدا نے محدث بنایا ہے۔ نبی نہیں بنایا تو پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس منصب کو جو اسکو حاصل نہیں ہے۔ مجاز اور استعارہ کی آڑ لے کر اپنے لئے ثابت کرتا ہے۔ ایسے شخص کا سوائے عوام کے دھوکہ دہی کے اور کوئی مقصود نہیں ہو سکتا۔ خود مرزا قادیانی (حاشیہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧) میں بیان کر چکے ہیں کہ: ”میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔“ اور (حقیقت الوحی ص ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٧) میں لکھتے ہیں: ”اسی طرح جس کو شعلہ محبت الٰہی سر سے پیر تک اپنے اندر لیتا ہے وہ مظہر تجلیات الٰہیہ ہو جاتا ہے۔ مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے بلکہ ایک بندہ ہے۔“ بالکل اسی طرح ہے کہ اگر کوئی شخص مظہر تجلیات نبویہ ہو جانے کا مدعی ہو تو اسے فقط لکل ان یصطلح کے تحت میں نبی نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ وہ ایک امتی ہوگا۔ علاوہ ازیں ہر لفظ کو اگر مجازاً اطلاق کیا جا سکتا ہے تو پھر یہ تو شرک کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ملائکہ کو بنات اللہ ، مقربین کو ابناء اللہ ، صالحات کو ازواج اللہ ، بھی کہا جا سکے گا اور ظلی طور پر خدا بھی بن سکیں گے۔ العیاذ باللہ ، قرآن تو ان ساری باتوں کی جڑ نکالتا ہے۔ اگر یہی قرآن وحدیث کو چھوڑ کر مجاز کی پابندی رہی تو کچھ بزرگوار نبی اللہ کا دعویٰ کریں اور ان کی اہلیہ شریفہ زوج اللہ ہونے کا، اور ان کے پسر ابن اللہ کا، اور اس طور سے مدعین نبوت خوب اپنے گھر کو رونق دے سکیں گے اور اس طور سے بیچارے مظلوم جاہلوں کے لئے ہر نبی کاذب کی تصدیق کا ایک باب واسع کھل جائے گا۔ للہ امت کے حال پر رحم کھاؤ اور وہ راہیں مت ایجاد کرو جس سے صادق اور کاذبوں کا رہا سہا فرق بھی اٹھ جائے۔ کیونکہ اس کے بعد امت کے ہاتھ میں پھر کوئی ذریعہ صادقین کی شناخت کا نہیں رہے گا۔ افسوس ہے کہ خدا کے سچے پیغمبر نے کاذبین کی ایک موٹی علامت اپنی امت کو بتلائی تھی۔ یعنی دعویٰ نبوت ، مگر آج کوشش ہے کہ اس علامت کو ہم سے چھین کر ہم کو اندھیرے ہی میں چھوڑ دیا جائے۔

صفحہ ١١٣

١٩٠٠ء اور اس کے بعد مرزا قادیانی نے بڑے زور شور سے

صریح طور پر دعویٰ نبوت کیا

جاہل مسلمانوں کے بہکانے کے لئے کبھی فرمایا کہ ”قرآن وحدیث پر میرا ایمان ہے۔ مگر خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی مہر سے انبیاء بنتے ہیں۔“

(خلاصہ حقیقت الوحی ص ٢٨،٢٧، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠،٢٩)

اور کبھی فرماتے ہیں کہ ”آیت کے معنی تو بے شک یہی ہیں کہ آپ نے نبوت پر مہر کر دی مگر بوجہ نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے بروزی ظلی طور پر پیغمبر مہر توڑنے کے نبی ہو سکتا ہے۔ پس اس وجہ سے میں نبی اور رسول ہوں۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٤) میں مفصل دیکھو اور کبھی کہا کہ صرف نبوت تشریعی یعنی نئی شریعت والی ختم ہوئی ہے اور میری نبوت غیر تشریعی یعنی بغیر شریعت جدیدہ کے ہے اور کہیں لکھا کہ مستقل نبوت ختم ہوئی ہے اور میری نبوت غیر مستقل ہے اور ”کہیں صاحب الشریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

شریعت محمدیہ کے بہت سے عقائد کو مسخ کر کے شریعت جدیدہ کے دراصل مدعی ہیں۔ جیسے کہ کسی آئندہ فصل میں انشاء اللہ مفصل معلوم ہو جائے گا۔

”مرزا قادیانی پر

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٧٠)

اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی کہ ہم نے احمد مرزا کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ پس قوم نے اعراض کیا اور کہا بڑا جھوٹا بڑا شریر ہے۔“

دین حق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٤١٦، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٦٤)

چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی ...... اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے

صفحہ ١١٤

وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا...... اب دیکھو خدا تعالیٰ نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے جس کے کان ہوں سنے۔“

(حاشیہ اربعین ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ٢١١)

”میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیوں کر رد کر دوں“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥، ١٩٠١ء مندرجہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦٢)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٦)

میں ایسے لفظ رسول، مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیوں کر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں...... اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣١)

صفحہ ١١٥

بینہم ! اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧)

آیت کا مصداق ہے کہ: ھو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ !“

(اعجاز احمدی ص ٧ ، خزائن ج ١٩ ص ١١٣، ١٩٠٢ء)

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

”قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠، ١٩٠٢ء)

اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم ﷺ کے ظل ہیں۔“

(الحکم ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء ، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠)

اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣، ١٩٠٧ء)

”صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا ۔“

(حقیقت الوحی ص ٥٠ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

”انا ارسلنا الیکم رسولا شاهداً عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولا ! ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اس رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥، ١٩٠٧ء مرزا قادیانی کی وحی)

”يس ۔ انك لمن المرسلين ! اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔“

(مرزا قادیانی کی وحی از حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠، ١٩٠٧ء)

”یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں

صفحہ ١١٦

دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧)

١٣...... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧، حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢، ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء سنہ وفات مرزا قادیانی)

١٤...... ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“ (مرزا قادیانی کا آخری مکتوب ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء از شہر لاہور مندرجہ اخبار عام منقول از حقیقت النبوۃ ص ٢٧٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

١٥...... پگٹ جو انگلستان کا ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس کے خلاف اشتہار لکھا اور اس کے آخر جہاں راقم مضمون کا نام لکھا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے یہ الفاظ لکھے۔ The Prophet Mirza Ghulam Ahmad یعنی اللہ کا نبی مرزا غلام احمد۔

(از حقیقت النبوۃ ص ٢٠٩)

١٦...... ”قل يايها الناس انی رسول الله اليكم جميعاً“ (اشتہار معیار الاخیار منقول از البشریٰ ج ٢ ص ٥٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠) ”اے مرزا! کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تمہاری سب کی طرف رسول اللہ ہو کر آیا ہوں۔“

”يايها النبی اطعم الجائع والمعتر“ (تذکرہ ص ٧٤٩، از حقیقت النبوۃ ص ٢٠٠) ”اے نبی! بھوکوں اور محتاجوں کو کھانا کھلا۔“

١٧...... ”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔ اسی کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا۔ ”فاجاءها المخاض الى جذع النخلة قالت يليتنی مت قبل هذا وكنت نسياً منسياً“ (نصرۃ الحق براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٦٨ ، ١٩٠٨ء) اور علاوہ اس کے اور مشکلات یہ معلوم ہوئیں کہ بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کر سکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی ہے۔ بلکہ صریح معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طرف سے وحی کے دعوے پر تکفیر کا انعام ملے گا۔

صفحہ ١١٧

نوٹ! مرزا قادیانی اس عبارت میں اپنے دعویٰ کی تبلیغ کے مشکلات کے ضمن میں صاف طور پر بتلا رہے ہیں کہ قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ میری وحی غیر تشریعی اور نبوت کے دعوے کو بھی تسلیم کریں۔ چہ جائیکہ بعض ایسے امور جو ہرگز امید نہیں کہ قوم ان کو قبول کرے۔ یعنی چہ جائیکہ میری وحی نبوت کے بعض جدید اوامر ونواہی کو مان جائے۔ کیونکہ بعض دیگر اوامر ونواہی تو ایسے بھی ہیں کہ قرآن کریم و احادیث رسول اللہ ﷺ میں موجود ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی قوم اپنے طور پر مانی ہوئی ہے۔ ورنہ دعوے نبوت سے بڑھ کر کون سے وہ امور ہیں جن کا قوم پر قبول کرنا اثقل ہے؟۔ قبولیت کی امید نہیں۔ وحی الہام میں تو کسی مسلمان کو اعتراض نہیں۔ وحی نبوت غیر تشریعی کے مرزا قادیانی علی الاعلان مدعی ہیں۔

مرزا قادیانی نے ظلی بروزی نبوت کی تفسیر کیا کی ہے؟۔

حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کہتے ہیں۔ ”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے ۔ اس لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔....... پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کی ظل ہیں ۔“

(الحکم ٢٤؍ اپریل ١٩٠٢ء ص ٧، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠، منقول از تحفۃ الاذہان ص١٠، ١١ ج١٠ ص١٣ بقول فیصل ص٦)

نوٹ! مرزا قادیانی نے (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢) میں ظلی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا قادیانی نے اس میں تصریح کر دی کہ ”تمام انبیاء بھی نبی کریم کے ظل تھے۔ مگر میں ان سب میں بڑھ کر ہوں ۔“

مرزا قادیانی کو کس پایہ کی نبوت کا دعویٰ ہے؟۔

پر افضلیت کا دعویٰ ہے اور حضور ﷺ کے ماسوا تمام انبیاء پر فضیلت کا دعویٰ ہے اور حضور ﷺ سے برابری کا صرف ظلی اور اصلی کا برائے نام فرق رکھا ہے۔ کیونکہ بعد حصول جمیع کمالات نبوت معہ منصب نبوت کے فرق نہیں رہتا۔

سے ہوں۔ اسقدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے ۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢، ١٩٠٨ء)

صفحہ ١١٨
من بعرفان نکمترم زکسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروے یقین
ہرکہ گوید دروغ است ولعین

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

نوٹ ! مرزا قادیانی نے اس میں صاف تصریح کردی کہ میں عرفان میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں اور یقیناً بغیر استثناء کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔

اتنکر“ (ترجمہ از مرزا قادیانی) اس کے لئے (یعنی حضورﷺ کے لئے ذرا ترجمہ کا ادب قابل لحاظ ہے) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا کیا تو انکار کرے گا۔ ﴾

(قصیدہ اعجازیہ ص٧١، خزائن ج١٩ ص١٨٣)

نوٹ ! اس میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر بالتشخیص حضورﷺ پر فضیلت بیان کی ہے اور شق القمر کے معجزے کو خسوف قمر بتاتے ہیں۔

معجزات کی تعداد ٣ ہزار لکھی ہے اور اپنے معجزات کی تعداد (حصہ ٥ براہین احمدیہ ص٥٦، خزائن ج٢١ ص٧٢) پر دس لاکھ بتلائی ہے۔ عبارت معجزہ کے بیان میں مذکور ہوگی۔

تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نصِ قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرتﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بنسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔ اس لئے تلوار اور لڑنے والے گروہ کی محتاج نہیں اور اس لئے خدائے تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لئے صدیوں کے شمار کو رسول کریمﷺ کی ہجرت سے بدر کی راتوں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا تا وہ شمار اس مرتبہ پر جو ترقیات کے تمام مرتبوں سے کمالِ تام رکھتا ہے دلالت کرے۔“

(خطبہ الہامیہ ص١٧١، خزائن ج١٦ ص٢٧١، ٢٧٢)

صفحہ ١١٩
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نکمترم زکسے
آنچہ داداست ہر نبی راجام
دادآں جـــــــام رامـــــرابتمــــــام
م نیم زاں ہمـــــہ برویـــــہ یقیـــــن
کــــہ گویــــد دروغ است ولعیــــن

(نزول المسیح ص٩٩،خزائن ج١٨ص٤٧٧)

مرزا قادیانی نے اس میں صاف تصریح کردی کہ میں عرفان میں کسی نبی سے کم یا بغیر استثناء کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔

”لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان (ترجمہ از مرزا قادیانی) اس کے لئے (یعنی حضورﷺ کے لئے ذرا ترجمہ کا ادب دیکھئے) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا کیا تو انکار کرے

(قصیدہ اعجازیہ ص٧١،خزائن ج١٩ص١٨٣)

اس میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر با تخصیص حضورﷺ پر فضیلت بیان کی معجزے کو خسوف قمر بتاتے ہیں۔

(تحفہ گولڑویہ ص٤٠،خزائن ج١٧ص١٥٣) پر جناب رسول اللہﷺ کے ٣ ہزار لکھی ہے اور اپنے معجزات کی تعداد (حصہ ٥ براہین احمدیہ ص٥٦،خزائن ج٢١ بتلائی ہے۔ عبارت معجزہ کے بیان میں مذکور ہوگی۔

”جس نے اس بات کا انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار ہے کہ آنحضرتﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔ نے والے گروہ کی محتاج نہیں اور اس لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے شمار کو رسول کریمﷺ کی ہجرت سے بدر کی راتوں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا ، جوترقیات کے تمام مرتبوں سے کمال تام رکھتا ہے دلالت کرے۔“

(خطبہ الہامیہ ص١٧١،خزائن ج١٦ص٢٧١،٢٧٢،١٩٠٢ء)

نوٹ! مرزا قادیانی نے اس میں بعثت ثانی یعنی اپنی بعثت کو بعثت اوّل یعنی حضرت نبی کریمﷺ کی بعثت سے افضل شان میں بتایا ہے اور اپنی بعثت کو بدر چودھویں رات کے چاند اور حضورﷺ کی بعثت کو ہلال سے نسبت دی ہے۔ ظلّ اصل سے بڑھ گیا اگر کوئی یہ عقیدہ نہ رکھے وہ نص قرآنی کا منکر ہوگا؟۔

دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ سبحان الذی اسری بعبدہ“

(خطبہ الہامیہ ص٢٨٨،خزائن ج١٦ص٢٨٨)

نوٹ! اس میں بھی ظاہر ہے کہ اپنی فتح اور غلبہ کی فضیلت حضورﷺ کے فتح اور غلبہ پر بیان کی ہے۔ مرزا قادیانی کی فتح مبین حضورﷺ کی فتح مبین سے بہت بڑی اور اغلب ہے۔

ہیں ۔ بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں ۔“

(نزول المسیح ص٨٢،خزائن ج١٨ص٤٦٠)

ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص١٤٩،١٥٠،خزائن ج٢٢ص١٥٣)

”پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسولﷺ نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو ۔“

(حقیقت الوحی ص١٥٥،خزائن ج٢٢ص١٥٩)

(براہین حصہ ٥ ص٧٦،خزائن ج٢١ص٩٩)

ذی روح من الانس والجان کما یفہم من آیۃ اسجدو الادم ثم ازلہ الشیطان واخرجہ من الجنان ورد الحکومۃ الی ہذہ الثعبان ومس آدم ذلۃ وخزی

صفحہ ١٢٠

في هذا الهرب والهوان وان الهرب سجال وللأتقياء مال عند الرحمن فخلق الله المسيح الموعود ليجعل الهزيمة على الشيطان فى اخر الزمان وكان وعداً مكتوباً فى القرآن “

(حاشیہ در حاشیہ خطبہ الہامیہ ص ٣١٢، خزائن ج ١٦ ص ٣١٢)

”اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ہر ذی روح جن وانسان پر سید حاکم امیر بنایا۔ جیسا کہ آیت اسجدو الادم سے مفہوم ہوتا ہے۔ پھر شیطان نے اس کو جنت سے نکالا اور حکومت شیطان کے ہاتھ میں آئی اور آدم کو ذلت اور رسوائی نصیب ہوئی۔ مگر مآل اتقیاء کے لئے ہوتا ہے۔ پس اللہ نے آخر زمانہ میں شیطان کو ہزیمت دینے کے لئے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پیدا کیا اور یہ وعدہ الٰہی قرآن میں لکھا ہوا تھا۔“

نوٹ! اس میں صریحاً اپنی فضیلت آدم علیہ السلام پر بیان کی ہے۔ بلکہ تمام انبیاء پر یہاں تک کہ حضورﷺ پر بھی فضیلت ظاہر کی کہ تمام انبیاء علیہ السلام شیطان کے مقابلہ میں ہزیمت خوردہ اور مغلوب رہے اب اخیر زمانہ میں مرزا قادیانی نے شیطان کو ہزیمت دی ہے۔ طرفہ یہ کہ یہ قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے۔ شاید مرزا قادیانی کی یہی فتح مبین ہے۔ جو نمبر ٧ میں مذکور ہوئی اور حضورﷺ کی فتح مبین سے بڑھ چڑھ کر ہے۔

ہوں....... میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰﷺ ہے....... مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے....... تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی....... جب کہ بروزی طور پر میں آنحضرت ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں ۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوں جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢، از مواضع متفرقہ)

نوٹ! مرزا قادیانی نے ان عبارتوں میں حضورﷺ سے برابری کا دعویٰ کیا ہے۔ صرف ظلی اور اصلی کا برائے نام فرق رکھا ہے۔ کیونکہ بعد حصول جمیع کمالات حضورﷺ کے کوئی فرق نہیں رہتا۔ ظلی بروزی نبوت کی تفسیر جو مرزا قادیانی نے (الحکم ٢٤؍اپریل ١٩٠٢ء ص ٧، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠) پر خود بیان کی ہے۔ جو پہلے نقل کر چکا ہوں اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام بھی حضورﷺ کے ظل تھے۔ خاص خاص صفات میں مگر مرزا قادیانی ان سب سے بڑھ کر اور افضل ہیں کہ حضورﷺ کے تمام ہی صفات میں ظل کامل اور وجود اور نبوت میں متحد محض ہیں۔

صفحہ ١٢١

معراج میں جو آنحضرت ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے۔“

(اشتہار منارۃ المسیح ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)

نوٹ ! یعنی معاذ اللہ خود حضور ﷺ قادیان کی مسجد میں تشریف لائے ہیں اور یہی حضور ﷺ کی معراج ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی بعثت میں حضور ﷺ کی ترقی ہوئی ورنہ کیا حضور ﷺ شب معراج میں قادیان کی مسجد میں تشریف لائے تھے۔ جس کا اس وقت نام و نشان بھی نہ تھا۔ (اخبار الفضل قادیان ج ٣ نمبر ٣٨، ٣٩، مورخہ ١٩، ٢١؍ستمبر ١٩١٥ء ص ٦ کالم ١) میں ہے۔ ”جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا (النبیین میں سب انبیاء علیہم السلام شریک ہیں۔ کوئی نبی مستثنیٰ نہیں آنحضرت ﷺ بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں ) کہ جب کبھی میں تم کو کتاب اور حکمت دوں (یعنی کتاب سے مراد توریت اور قرآن ہے اور حکمت سے مراد سنت اور منہاج نبوت وحدیث شریف ) پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے مصدق ہو ان سب چیزوں کا جو تمہارے پاس کتاب و حکمت سے ہیں۔ (یعنی وہ رسول مسیح موعود (مرزا قادیانی ) ہیں جو قرآن وحدیث کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں ) لتؤمنن بہ میں جو نون ثقیلہ ہے اہل علم جانتے ہیں کہ سخت تاکید کے معنوں میں آتا ہے۔ یعنی اے نبیو تم سب ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر ایک طرح سے مدد فرض سمجھنا۔ جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجھ (مسیح موعود ) پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا ان کا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں ۔“

(منقول از عقائد محمودیہ نمبر ١ ص ١٧، ١٨)

مرزا قادیانی کو ان کے خلف الرشید مرزا محمود قادیانی

کس درجہ کا نبی مانتے ہیں؟

ہے کہ وہ پہلے بہت سے انبیاء علیہم السلام سے یا آنحضرت ﷺ کے سوا باقی سب انبیاء سے افضل ہو۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٤٠)

صاحب (مرزا قادیانی ) ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ مگر بغیر شریعت جدیدہ کے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)

صفحہ ١٢٢

حضرت ابراہیم، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے چنانچہ ایک تو آیت مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے۔"

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٨)

نبوت ملی ہو۔ یہ بات تو ہم صرف اپنی عقل سے معلوم کرتے ہیں۔ ورنہ قرآن کریم نے صریح الفاظ میں ہرگز کہیں نہیں فرمایا کہ کل نبیوں کو نبوت بلاواسطہ ملی ہے ...... اور قرآن کریم نے کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں فرمایا کہ پہلے کل انبیاء علیہم السلام براہ راست نبوۃ حاصل کرتے تھے یا یہ کہ نبی وہی ہوسکتا ہے جو براہ راست نبوۃ پائے۔"

(حقیقت النبوۃ ص ٦١)

(حقیقت النبوۃ ص ٦٢)

سے ان کی کئی اقسام ہیں ...... باقی رہیں خصوصیات ان کے لحاظ سے سینکڑوں اقسام کی نبوۃ ہوسکتی ہے۔ جیسے سب آدمی آدمیت کے لحاظ سے تو ایک ہیں۔ لیکن خصوصیات کو لو، تو انسانوں کی ہزاروں قسمیں بن جاتی ہیں۔"

(حقیقت النبوۃ ص ٢٢٧)

اصطلاحات (مستقل نبی، حقیقی نبی، ظلی بروزی نبی، امتی نبی، تشریعی، غیر تشریعی نبی) نبوت کی تشریح کے لئے مقرر فرمائی ہیں۔ لیکن وہ اصطلاحات قرآن کریم یا حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے لوگوں کو نبوت کے اقسام سمجھانے کے لئے خود وضع فرمائی ہیں۔"

(حقیقت النبوۃ ص ١٥٨)

نوٹ ! مرزا محمود قادیانی نے حقیقت النبوۃ میں بہت تفصیل سے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی نبوۃ سمجھانے کے لئے نبوۃ شرعیہ کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک وہ نبی جو شریعت جدیدہ اور نئے احکام لاتے ہیں۔ ان کا حقیقی نبی تشریعی نام رکھا ہے۔ دوسرے وہ نبی جو نئی شریعت نہیں لاتے اور بغیر کسی نبی کی اقتداء کئے ہوئے اور بغیر فیض پہلے نبی کا حاصل کئے براہ راست نبی بنائے گئے۔ ان کا مستقل غیر تشریعی نبی نام رکھا ہے۔ تیسرے وہ نبی جو پہلے نبی کی اقتداء اور فیض حاصل کرنے کے بعد خداوند تعالیٰ نے ان کو رسول اور نبی بنا کر قوم کی طرف مبعوث کیا ہو۔ ان کا نام امتی

نبی یا ظلی بروزی نبی غیر تشریعی نام رکھا ہے۔ میں داخل ہیں۔

میں ہے۔ "یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔"

زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔"

نوٹ ! اس جزوی فضیلت کو ف یا کیسی مصلحت وقت پر مبنی ہے کہ مرزا قادیا بعدہ مرزا قادیانی نے نبوۃ تشریعہ اور شریعت کا دعویٰ ہی صراحۃً قطعیات اسلام کے خ "ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین لئے مرزا قادیانی کو اس دعویٰ میں تیرگی اور ا نبی اور کہیں غیر تشریعی نبی اور کہیں صاف ق اختیار کئے یا دعاوی بدلے وہ سب محض بھو تا کہ وہ بدکنے نہ پائیں کہیں حضور ﷺ کے مرزا قادیانی نے صراحۃً نبی ص

اس آیت کا مصداق ہے کہ: ”ھو الذی علی الدین کلہ"

الاخلاق لتنذر قوماً ما انذر آبائ خزائن ج ١٧ ص ٢٧٢، اربعین نمبر ٣ ص ٣٥، خ رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق او

صفحہ ١٢٣

ہم، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے چنانچہ ایک تو آیت مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ نے احمد رکھا ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٨)

”قرآن کریم میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ ایسا نبی کوئی نہیں گذرا جسے بالواسطہ نبی بنایا گیا ہو یہ بات تو ہم صرف اپنی عقل سے معلوم کرتے ہیں۔ ورنہ قرآن کریم نے صریح الفاظ میں یہ کہیں نہیں فرمایا کہ کل نبیوں کو نبوت بلاواسطہ ملی ہے ...... اور قرآن کریم نے کہیں بھی اس امر سے منع نہیں فرمایا کہ پہلے کل انبیاء علیہم السلام براہ راست نبوۃ حاصل کرتے تھے یا یہ کہ نبی وہی ہوتا ہے جو براہ راست نبوۃ پائے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٦١)

”نبوۃ کے مفہوم میں بالواسطہ نبوت کا پانا یا بلاواسطہ پانا داخل ہی نہیں ۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٦٤)

”نفس نبوۃ کے لحاظ سے تو سب نبی نبی ہیں۔ لیکن بعض خصوصیات کی وجہ سے ان کی کئی اقسام ہیں۔... باقی رہیں خصوصیات ان کے لحاظ سے سینکڑوں اقسام کی نبوۃ ہو سکتی ہے۔ نبوۃ تو ایک ہی آدمیت کے لحاظ سے تو ایک ہیں۔ لیکن خصوصیات کو لو، تو انسانوں کی ہزاروں اقسام بن جاتی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٣٧)

”یاد رہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے بے شک بعض جگہ اپنا نام نبی ، مستقل نبی ، حقیقی نبی ، ظلی بروزی نبی ، امتی نبی ، تشریعی ، غیر تشریعی نبی (نبوت کی اقسام) کے الفاظ مقرر فرمائی ہیں۔ لیکن وہ اصطلاحات قرآن کریم یا حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے لوگوں کو نبوت کے اقسام سمجھانے کے لئے خود وضع کی ہیں۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٥٨)

نوٹ! مرزا محمود قادیانی نے حقیقت النبوۃ میں بہت تفصیل سے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کو سمجھانے کے لئے نبوۃ شرعیہ کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک وہ نبی جو شریعت جدیدہ لانے والے ہوتے ہیں۔ ان کا حقیقی نبی تشریعی نام رکھا ہے۔ دوسرے وہ نبی جو نئی شریعت نہیں لاتے بلکہ پہلے نبی کی اقتداء کئے ہوئے اور بغیر فیض پہلے نبی کا حاصل کئے براہ راست نبی بنائے گئے ہوں ان کا ظلی غیر تشریعی نبی نام رکھا ہے۔ تیسرے وہ نبی جو پہلے نبی کی اقتداء اور فیض حاصل کر کے خدا وند تعالیٰ نے ان کو رسول اور نبی بنا کر قوم کی طرف مبعوث کیا ہو۔ ان کا نام امتی

نبی یا ظلی بروزی نبی غیر تشریعی نام رکھا ہے۔ لیکن نبوۃ میں سب برابر ہیں۔ مرزا قادیانی تیسری قسم میں داخل ہیں۔

میں ہے۔ ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے۔ جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔“

(قادیانی ریویو بابت ماہ جون ١٩٢٩ء)

نوٹ! اس جزوی فضیلت کو ذرا غور سے مطالعہ کیجئے۔ مرزا محمود قادیانی کی یہ گہری پالیسی مصلحت وقت پر مبنی ہے کہ مرزا قادیانی نے تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ حالانکہ کھلے بندوں مرزا قادیانی نے نبوۃ تشریعیہ اور شریعت جدیدہ کا صراحتاً دعویٰ کیا ہے۔ لیکن چونکہ مطلقاً نبوۃ کا دعویٰ ہی صراحۃً قطعیات اسلام کے خلاف تھا اور جانتے تھے کہ قرآن کریم کھلا ہوا فرمان ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب :٤٠)“ مدعی کے منہ پر مہر رکھ دے گا۔ اس لئے مرزا قادیانی کو اس دعویٰ میں نیرنگی اور ایچ پیچ سے کام لینا پڑا۔ کہیں مجازی نبی بنے اور کہیں ظلی نبی اور کہیں غیر تشریعی نبی اور کہیں صاف تشریعی نبی ہونے کے دعوے کئے ہیں جو کچھ عنوانات اختیار کئے یا دعاوی بدلے وہ سب محض بھولے بھالے نادان مسلمانوں کو پھانسنے کے لئے ہیں۔ تا کہ وہ بدکنے نہ پائیں کہیں حضور ﷺ کے شاگرد اور نائب بنے اور کہیں افضل۔

مرزا قادیانی نے صراحۃً نبی صاحب الشریعہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے

اس آیت کا مصداق ہے کہ : ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره علی الدین کله““

(اعجاز احمدی ص ٧ ، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

الاخلاق لتنذر قوماً ماانذر ابائهم ولتدعو قوماً آخرين“ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٧٢، ٧٣، اربعین نمبر ٣ ص ٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) ”خدا وہ خدا ہے کہ جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

صفحہ ١٢٤

نوٹ! مرزا قادیانی نے اپنی اس وحی میں صاف صاف رسول صاحب شریعت ہونے اور دین حق لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ جو تمام ادیان پر غالب ہے اور علاوہ اس کے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس آیت شریفہ قرآنیہ کے جناب رسول اللہ ﷺ مصداق نہیں ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی ہیں۔ جو قطعاً کفر ہے۔

ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام قل للمومنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذالک ازکی لھم یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر ٢٣ برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے۔ جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابرهیم وموسیٰ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے۔ کیونکہ اگر توریت یا قرآن کریم میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ تھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦)

احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ...... اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

نوٹ! مرزا قادیانی نے ان عبارات میں تصریح کر دی ہے کہ میں صاحب الشریعت نبی ہوں۔ مجھ پر احکام و امر ونواہی نازل ہوتے ہیں۔ یہی شریعت وہ دین حق ہے جس کے ساتھ مرزا قادیانی بھیجے گئے۔ جو نمبر ١، ٢ میں مذکور ہوا، اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ میری وحی اور میری تعلیم کو سب انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی شریعت پر عمل اور اعتقاد نہ کیا گیا تو نجات نہیں۔

الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠، سب کی طرف رسول اللہ ہو کر آیا ہو

واحد“ ”ان کو کہہ دیجئے کہ میں ایک خدا ہے۔“

کی طرف سے تیرے پر وحی نازل گے۔“

نوٹ! ان تینوں آخری علاوہ مرزا قادیانی کی وحی میں اوا مرزا قادیانی کی نبوت کا عقیدہ جو تمام فرائض سے مقدم اور مدار نجا

نوٹ! اس سے صاف مرزا قادیانی کی وحی کا تابع ہے اور صحف ابرهیم وموسیٰ (الشعرا: ١٩٦) “ فرمایا ہے ت میں بھی موجود ہے تو جیسے پہلے انبیا میں قرآن کریم موجود ہے جو ایک شریعت ہوئے اور بعض احکام و مرزا قادیانی کی وحی میں ایک جگہ پر م اور یقینی اور ان پر ایمان لانا فرض کے دعوے میں کیا شک باقی رہا؟

صفحہ ١٢٥

الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠، براہین پنجم خزائن ج ٢١ ص ٤٢٠) ”کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ ہو کر آیا ہوں ۔“

واحد “ ”ان کو کہہ دیجئے کہ میں تو ایک انسان ہوں میری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٨١، ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٤، ٨٥)

کی طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی ہے وہ ان لوگوں کو سنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٤ ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

نوٹ! ان تینوں آخری نمبروں میں صاف ظاہر ہے کہ دعویٰ نبوت اور بعثت عامہ کے علاوہ مرزا قادیانی کی وحی میں اوامر اور عقیدہ توحید الٰہی نازل ہوئے جو عین شریعت ہے اور مرزا قادیانی کی نبوت کافہ کا عقیدہ اور ان کی وحی پر ایمان لانا، شریعت مصطفویہ پر ایک اور نیا فرض جو تمام فرائض سے مقدم اور مدار نجات ہے اضافہ کیا گیا۔

(اعجاز احمدی ص ٣١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

نوٹ! اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم مرزا قادیانی کی وحی میں آ کر مرزا قادیانی کی وحی کا تابع ہے اور قرآن شریف کو خدا تعالیٰ نے ”انہ لفی الصحف الاولی صحف ابراھیم وموسیٰ (الاعلیٰ: ١٨، ١٩) “ اور ” وانہ لفی زبر الاولین (الشعراء: ١٩٦) “ فرمایا ہے یعنی یہ قرآن اور اس کی تعلیم توریت اور صحف اولیٰ اور پہلی کتابوں میں بھی موجود ہے تو جیسے پہلے انبیاء صاحب شریعت تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی وحی بھی جس میں قرآن کریم موجود ہے جو ایک شریعت مستقلہ ہے شریعت ہوئی اور مرزا قادیانی رسول صاحب شریعت ہوئے اور بعض احکام وعقائد جو اضافہ کئے گئے ۔ وہ احکام جدیدہ ہوں گے اور جب مرزا قادیانی کی وحییں ایک جگہ مرتب ہیں اور مثل قرآن اور توریت اور انجیل مقدسہ وغیرہ کے قطعی اور یقینی اور ان پر ایمان لانا فرض تو اب مرزا قادیانی کے صاحب کتاب جدید پیغمبر و رسول ہونے کے دعوے میں کیا شک باقی رہا؟۔

صفحہ ١٢٦

میں سے ہیں۔ ”ولا حل لکم بعض الذی حرم علیکم (آل عمران: ٥٠)“ ”یحکم اہل الانجیل بما انزل الله فیه (مائده: ٤٧)“ ”اولو العزم من الرسل (احقاف: ٣٥)“ تو جو شخص عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے اور فضیلت کلی کا مدعی ہے۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، ١٥٥ کی تلخیص وغیرہ، حقیقت النبوۃ ص ١٥، ١٦) وہ نبوت اور صاحب شریعت ہونے کا پہلے مدعی ہے۔

بعثت کو حضور ﷺ کی بعثت سے افضل واکمل شان میں بتلایا ہے اور وہ وجود باجود ہلال کی مانند ظاہر ہوا تھا اور معاذ اللہ مرزا قادیانی بدر کامل تھے اور (اشتہار منارۃ المسیح و خطبہ الہامیہ ضمیمہ ص ٢٢، ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ایضاً) میں اپنی بعثت کو حضور ﷺ کے لئے معراج بتلائی۔ اب غور کرو کہ وہ ہلال تو صاحب الشریعت ہو اور بدر کامل صاحب شریعت نہ ہو۔ ایں چہ بوالعجبی است!

القادیان“ (حقیقۃ الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١) ”ابراہیم علیہ السلام کی جگہ کو قبلہ بناؤ اور مصلی ٹھہرا لو ہم نے اس کو قادیان کے قریب نازل کیا ہے۔“

نوٹ! اس میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر قادیان اپنی جگہ کو قبلہ مقرر کیا ہے اور ابراہیم سے خود مرزا قادیانی مراد ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١) میں اپنا ایک الہام لکھا ہے۔ ”آخر زمانہ میں ایک ابراہیم (یعنی مرزا قادیانی) پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“ ایسی حالت میں مرزا قادیانی کی وحی ”فاتخذوا من مقام ابراهیم مصلی “ پر عمل نہ کرنا ۔ مرزا محمود صاحب کی غلطی نہیں تو کیا ہے؟۔

تمام “ (نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) ”خدا نے جو پیالہ ہر نبی کو دیا ہے وہ پیالہ مجھ کو بتمامہ دیا ہے۔“

نوٹ! اس سے ظاہر ہے کہ جو کچھ پہلے نبیوں کو ملا ہے اس کے علی وجہ الاتم ملنے کے خود مرزا قادیانی مدعی ہیں تو کیا شریعت جدیدہ پیچھے رہ گئی۔ کیونکہ سینکڑوں نبی صاحب شریعت جدیدہ ہوچکے ہیں۔

صفحہ ١٢٧

.......... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اولوالعزم اور صاحب شریعت انبیاء علیہم السلام - " ولا حل لكم بعض الذى حرم عليكم (آل عمران: ٥٠) " " يحكم جيل بما انزل الله فيه (مائده: ٤٧) " " اولو العزم من الرسل ف : ٣٥) " تو جو شخص عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے اور فضیلت کلی کا مدعی ہے۔ (ص ١٤٩، ١٥٠ ، ١٥٥ کی تلخیص و غیرہ، حقیقت النبوۃ ص ١٥، ١٦) وہ نبوت اور صاحب شریعت ہونے کا پہلے مدعی ہے۔

ذات کو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے افضل واکمل شان میں بتلایا ہے اور وہ وجود باجود ہلال کی مانند ظاہر ہوا جو اپنے ہی زمانہ میں بدر کامل تھے اور (اشتہار منارۃ المسیح ، خطبہ الہامیہ تلخیص ٢٢، ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ٢٧١) اپنی بعثت کو حضور ﷺ کے لئے معراج بتائی۔ اب غور کرو کہ وہ ہلال تو صاحب شریعت ہو اور بدر کامل صاحب شریعت نہ ہو۔ این چہ بوالعجبی است !

القاديان " (حقیقت الوحی ص ٨٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٩١) "ابراہیم علیہ السلام کی جگہ کو قبلہ بناؤ اور مصلیٰ مقرر کرو، ہم نے اس کو قادیان کے قریب نازل کیا ہے ۔"

نوٹ ! اس میں مرزا قادیانی نے صاف طور پر قادیان اپنی جگہ کو قبلہ مقرر کیا ہے اور مقام ابراہیم سے خود مرزا قادیانی مراد ہیں ۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١) میں اپنا ایک الہام لکھا ہے ۔ " آخر زمانہ میں ایک ابراہیم (یعنی مرزا قادیانی ) پیدا ہوگا اور مخالفین کے فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا ۔" ایسی حالت میں مرزا قادیانی کی وحی " فاتخذوا من مقام ابراهيم مصلی " پر عمل نہ کرنا ۔ مرزا محمود صاحب کے عمل میں تو کیا ہے؟ ۔

تمام " ( نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) " خدا نے جو پیالہ ہر نبی کو دیا ہے وہ پیالہ مجھ کو پورا دیا ہے۔"

نوٹ! اس سے ظاہر ہے کہ جو کچھ پہلے نبیوں کو ملا ہے اس کے علیٰ وجہ الاتم ملنے کے مرزا قادیانی مدعی ہیں تو کیا شریعت جدیدہ پیچھے رہ گئی ۔ کیونکہ سینکڑوں نبی صاحب شریعت ہیں ۔

قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں جس کی حق الیقین پر بنا ہے۔"

(اربعین نمبر ٣ ص ١٩ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٥)

" اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کرے۔"

(اربعین نمبر ٣ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٠١ ، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١)

مگر ہم با ادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حکم کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت صحیح بخاری میں آیا ہے۔ اس کے ذرا معنی تو کریں ہم تو اب تک یہی समझते تھے کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے، ناطق سمجھا جائے۔"

(اعجاز احمدی ص ٢٩ ، خزائن ج ١٩ ص ١٣٩)

" اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں ۔ جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں"

(اعجاز احمدی ص ٣٠، ٣١ ، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

" جابجا خدا تعالیٰ نے میری وحی میں قرآن کریم کو پیش کیا ہے۔"

(اعجاز احمدی ص ٣١ ، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

" قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود (مرزا قادیانی ) دونوں خدا تعالیٰ کے کلام ہیں ۔ دونوں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے قرآن کو مقدم رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں وہ حدیث کی روایت سے معتبر ہیں ۔ کیونکہ حدیث ہم نے آنحضرت ﷺ کے منہ سے نہیں سنیں۔"

(اخبار قادیان الفضل ج ٢ نمبر ١٣٣ ص ٦، ٣٠ اپریل ١٩١٥ء، تلخیص)

(منقول از رسالہ جماعت لاہوری پمفلٹ نمبر ٢ ص ١٣، احمدیہ مشنری ایسوسی ایشن لاہور)

نوٹ ! ان عبارتوں میں دعویٰ نبوت تشریعی ظاہر ہے ۔ کیونکہ شریعت محمدیہ ﷺ کے وہ احکام جو حدیثوں سے ثابت ہیں مرزا قادیانی کی وحی کے مقابلہ میں ساقط اعتبار ہیں اور قرآن کریم مرزا قادیانی کی وحی میں آ کر ان کی وحی کا تابع اور قرآن کریم بھی اس معنی میں معمول بہ ہے ۔ جو معنی مرزا قادیانی بیان فرمائیں۔

صفحہ ١٢٨

ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان نہ لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت قطعا جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

”میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود ہوں خدا نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میں جہاد کروں اور دین کے لئے لڑائیاں کروں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٨)

”کافروں کے ساتھ لڑنا مجھ پر حرام کیا گیا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ایضاً ضمیمہ)

”یہ بات تو بہت اچھی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کی جائے اور جہاد کے خراب مسئلہ کے خیال کو دلوں سے مٹایا جائے۔“

(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤٤)

نوٹ! مرزا قادیانی نے کیسی وضاحت سے لکھا ہے کہ جہاد کا حکم جو رسول اللہ ﷺ پر مشروع ہوا تھا وہ حکم مرزا قادیانی کی شریعت میں موقوف اور حرام کیا گیا۔ کیا اب بھی مرزا قادیانی کے صاحب شریعت جدیدہ ناسخہ ہونے میں کچھ شبہ ہو سکتا ہے۔ جب جہاد منسوخ ہو گیا تو احکام غنیمت و فئے وخمس وجزیہ وغیرہ سب منسوخ ہو گئے۔

کریم پر۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

”میں خدا تعالیٰ کی ٢٣ برس کی متواتر وحی کو کیوں کر رد کر سکتا ہوں میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں۔ اسی طرح میں کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

صفحہ ١٢٩

موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان نہ لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا۔ شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف مواخذہ جزیہ نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد حرام کر دیا گیا۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

”میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود ہوں خدا نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میں جہاد دین کے لئے لڑائیاں کروں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٨)

”کافروں کے ساتھ لڑنا مجھ پر حرام کیا گیا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ایضاً ضمیمہ)

”یہ بات تو بہت اچھی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کی جائے اور جہاد کے خراب مسئلہ کو لوگوں سے مٹایا جائے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٤، خزائن ج ١٩ ص ١٤٢)

نوٹ! مرزا قادیانی نے کیسی وضاحت سے لکھا ہے کہ جہاد کا حکم جو رسول اللہ ﷺ پر تھا وہ حکم مرزا قادیانی کی شریعت میں موقوف اور حرام کیا گیا۔ کیا اب بھی مرزا قادیانی کی شریعت جدیدہ ناسخہ ہونے میں کچھ شبہ ہو سکتا ہے۔ جب جہاد منسوخ ہو گیا تو احکام قصاص و جزیہ و غیرہ سب منسوخ ہو گئے۔

پر۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤)

”میں خدا تعالیٰ کی ٢٣ برس کی متواتر وحی کو کیوں کر رد کر سکتا ہوں میں اس کی اس پاک وحی پر ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوئیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

”مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جس طرح قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں ۔ اسی طرح میں کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے ۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں ۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)

”اور میں جیسا کہ قرآن کریم کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣٥، ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

”یہ مکالمات الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے ۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے ...... اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں ۔ جیسا کہ خدا کی کتاب پر ۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢، حقیقت الوحی ص ٧٥)

”میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی ۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦)

”مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

نوٹ ! جب مرزا قادیانی کی وحییں ایک جگہ (تذکرہ) مرتب ہیں اور ان میں احکام اوامر و نواہی وعقائد بھی موجود ہیں اور مثل قرآن، توریت، انجیل مقدسہ کے قطعی اور یقینی کلام اللہ، اور ان پر ایمان لانا فرض تو اب مرزا قادیانی کے صاحب کتاب جدیدہ اور شریعت جدیدہ رسول ہونے کے دعوے میں کیا شک باقی رہا، تاوقتیکہ مرزا قادیانی کی وحیوں پر ایمان نہ لایا جائے گا، مسلمان نہیں ہو سکتا اور اس میں شک کرنے سے کافر ہو جائے گا۔

”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے الہامات میں شک کرنا کفر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٥)

”قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود (مرزا قادیانی) دونوں خدا تعالیٰ کے کلام ہیں۔ دونوں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے قرآن کو مقدم رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“

(الفضل ج ٢ نمبر ١٣٣ ص ٦، ٣٠ اپریل ١٩١٥ء)

ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)

نوٹ ! اس سے ظاہر ہے کہ شریعت محمدیہ ﷺ کی تعلیم و تعمیل جو تیرہ سو برس سے چلی آ رہی ہے۔ منسوخ ہے اور شریعت مرزائیہ پر اب عمل کرنا ضروری ہے۔ تیرہ سو برس کی شریعت محمدیہ سورج کی کرنوں کے مشابہ ہے اور شریعت مرزائیہ چاند کی ٹھنڈی روشنی کے مشابہ ہے۔ کیا

صفحہ ١٣٠

اس سے بڑھ کر بھی شریعت جدیدہ ناسخہ کا دعویٰ ہوسکتا ہے؟۔

١٧...... ”الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٦٢)

”خدا نے میری وحی اور میری تعلیم میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے جس کے کان ہوں سنے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

”آخر زمانہ میں ایک ابراہیم (مرزا قادیانی) پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں سے وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

”مبارک ہے وہ شخص جس نے مجھے پہچانا میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہوں اور میں اس کے سب نوروں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“

(کشتی نوح ص ٥٦، خزائن ج ١٩ ص ٦١)

”اس بات کو قریباً نو برس کا عرصہ گذر گیا کہ جب میں دہلی گیا تھا اور میاں نذیر حسین غیر مقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی تھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٤١ حاشیہ)

مرزا قادیانی نے جو ڈاکٹر عبدالحکیم خان کو خط لکھا تھا اس میں ہے:۔

”بہر حال جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔ (منقول از سچ المصلے مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ص ٢٠٧، ٢٠٨، مضمون واحد) میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

خود ہی اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ: ”جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا...... جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے۔ اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

”کفر دو قسم پر ہے ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام ہی سے انکار کرتا ہے اور آنحضرتﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے

صفحہ ١٣١

کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

”مگر ہم قرآن کے نص کی رو سے اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اس بات پر ایمان لائیں کہ آخری خلیفہ اسی امت میں سے ہوگا اور وہ عیسیٰ علیہ السلام کے قدم پر آئے گا اور کسی مومن کی مجال نہیں کہ اس کا انکار کرے۔ کیونکہ یہ قرآن کریم کا انکار ہے اور جو کوئی قرآن کریم کا منکر ہے وہ جہاں جائے گا عذاب کے نیچے یعنی کسی طرح اس کی نجات نہیں ہے۔“

(خطبۃ الہامیہ ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

مرزا محمود وغیرہ نے بھی بہت تصریح سے لکھا ہے کہ: ”مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے۔ قرآن کریم میں انبیاء کے منکرین کو کافر کہا گیا ہے اور ہم لوگ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی اللہ مانتے ہیں۔ اس سے ہم آپ کے منکروں کو کافر کہتے ہیں ...... ہر ایک جو مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہو چکا کافر ہے۔ جو حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔ آپ نے (مرزا قادیانی نے) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے۔ مگر مزید اطمینان کے لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر ٹھہرایا ہے۔“

(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٣٠، ١٤١، بابت ماہ اپریل ١٩١١ء)

”مرزائیوں کے سوا دنیا بھر کے سب مسلمان خواہ ان کو مرزا قادیانی کی خبر ہوئی یا نہیں سب کافر ہیں۔“ (انوار خلافت ص ٩٠) میں تصریح دیکھو کہ: ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اطاعت میں ہی نجات ہے۔“

(فہرست حقیقۃ النبوۃ ص ١٥٦)

نوٹ ! ان تمام عبارتوں سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی کی وحی نبوت اور ان کی تعلیم تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ہے۔ ان ہی کی اطاعت میں نجات ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں۔ اس پر ایمان لاؤ اور جس کو مرزا قادیانی کی دعوت پہنچی اور ان کو نبی اللہ قبول نہ کیا یا توقف کیا یا انکار کیا وہ کافر ہے مسلمان نہیں۔ مرزا قادیانی کا منکر خدا اور محمد رسول اللہ ﷺ اور سب نبیوں کا منکر ہے۔ قرآن کریم کی نص کا بھی منکر ہے۔ اس کی کسی طرح نجات نہیں۔ یہ تو بالکل سفید جھوٹ اور افتراء علی اللہ ہے کہ قرآن کریم میں نصاً موجود ہے کہ مرزا قادیانی نبی اللہ اور آخری خلیفہ ﷺ ہو کر مبعوث ہوں گے۔ معاذ اللہ ! البتہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت تشریعی سے پہلے خود تصریح کی ہے۔ ”یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں

صفحہ ١٣٢

کی شان ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں۔ ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“

(حاشیہ تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ص ٤٣٢)

اس سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے نبوت تشریعی اور احکام جدیدہ کے دعوے کرنے کے بعد اپنی نبوت کے منکر کو کافر اور اپنی وحی اور تعلیم کو مدار نجات کہا ہے۔ کیونکہ نبی صاحب شریعت جدیدہ کے ماسوا کسی کا منکر کافر نہیں۔ لیکن جب نبوت تشریعیہ جدیدہ کا دروازہ کھل گیا تو اب منکر کے کافر نہ ہونے کے کیا معنی؟۔ ورنہ کیا اس سے پہلے انکار کرنے سے مفتری قرار دینا لازم نہیں آتا تھا اور مفتری قرار دے کر مکفر نہیں بنتا تھا؟۔ ہاں مگر صاف صاف دعویٰ کرنا ابھی مناسب موقع نہ تھا۔ لہٰذا ایچ پیچ سے جواب دیا گیا اور پھر آخر میں صاف لکھ دیا اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں اور نیز ہر نبی کے انکار سے جو کافر بنتا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ سچے نبی کو مفتری قرار دیتا ہے۔ اگر نبی کو اس کے دعویٰ میں سچا یقین کرتا ہے تو انکار کی کوئی وجہ ہی نہیں اور یہ بھی خوب کہی کہ میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔ جبکہ کوئی شخص عقائد اسلامیہ صحیحہ رکھتا ہے تو کسی کی تکفیر سے کافر کیسے بن جاتا ہے؟۔ ہاں کسی مسلمان صحیح العقیدہ کو اس کے عقائد اسلامیہ کی بناء پر کافر کہے تو ضرور وہ شخص خود کافر ہے کہ اس نے عقائد حقہ اسلامیہ کو کفر سمجھا، نہ کہ اس کے عقائد باطلہ کفریہ خلاف عقائد اسلامیہ کی بناء پر کافر کہنے سے کافر ہو جاتا ہے۔ اگر چہ غلط فہمی ہی سے کافر کہے اور اگر بلاوجہ بھی کہے تو بھی سخت گناہ ہے۔ اس کا وبال خود اسی پر پڑے گا، نہ کفر ہے۔

ماننے اور ان پر ایمان نہ لانے کی وجہ کافر کہا ہے۔ (حاشیہ اربعین نمبر ٣ص ٢٨، خزائن ج ١٧ص ٤١٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تمہارے اوپر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔“ اور (حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٦٤) میں بھی اسی طرح ہے اور مرزا قادیانی پر ایمان لانے والے کو زندہ اور نہ ایمان لانے والوں کو مردے سے تشبیہ دے کر لکھتے ہیں کہ: ”کیا زندہ مردے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ سوال ہوا کہ کسی جگہ امام نماز حضور (مرزا قادیانی) کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر تو ہے نہ تصدیق کرے اور نہ تکذیب تو

نوٹ! پہلے ہر مسلمان کے مکروہ کی بحث تھی۔ لیکن مرزا قادیانی مرزا قادیانی کو نبی اللہ نہ مانے اور ان مرزائیوں کے سوا کسی مسلمان کے ”وارکعوا مع الراکعین“ بروفاجر (رواہ الدار قطنی وا مستحل لقتلها، عن ابي هريرة ض سے بڑھ کر شریعت جدیدہ کا اور کیا لکھتے ہیں کہ: ”وہ نکاح یعنی مرزا کیو

ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق پہنچتے ہیں۔“

”ہاں اگر یہ اعتراض ہ گا کہ میں معجزات دکھا سکتا ہوں بلکہ دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس ق نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں ہے کہ باستثناء ہمارے نبیﷺ ۔ ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے کرے یا نہ کرے۔“

”اور خدا تعالیٰ میر۔ وہ نشان دکھائے جاتے تو وہ لوگ ”در حقیقت یہ خرق

صفحہ ١٣٣

واقف کرو پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے اور نہ تکذیب تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٨٢)

نوٹ! پہلے ہر مسلمان کے پیچھے بشرطیکہ مسلمان ہو نماز پڑھنی جائز تھی۔ مکروہ وغیر مکروہ کی بحث تھی۔ لیکن مرزا قادیانی کی شریعت میں تقریباً تمام دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان مرزا قادیانی کو نبی اللہ نہ ماننے اور ان پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے کافر ہوگئے۔ لہٰذا اب بحکم الٰہی مرزائیوں کے سوا کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ بلکہ حرام ہے اور قرآن کریم کا حکم ”وارکعوا مع الراکعین (بقرہ:٤٢)“ اور حدیث کا فرمان ”صلوا خلف کل بر وفاجر (رواہ الدار قطنی والبیہقی ج ٤ ص ٢٩، باب الصلوۃ علی من قتل نفسہ غیر مستحل لقتلھا، عن ابی ہریرۃ شرح فقہ اکبر ملا علی قاری ص ٩١)“ منسوخ ہوگیا۔ اس سے بڑھ کر شریعت جدیدہ کا اور کیا دعویٰ ہوسکتا ہے اور مرزا محمود قادیان (برکات خلافت ص ٧٣) پر لکھتے ہیں کہ: ”وہ نکاح یعنی مرزائیوں کی لڑکی کا نکاح مسلمانوں کے ساتھ جائز ہی نہیں۔‘‘

ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

”ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں ہیں تو میں صرف یہی جواب نہ دوں گا کہ میں معجزات دکھلا سکتا ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبیﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔ اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

”در حقیقت یہ خرق عادت نشان ہیں اور اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ

صفحہ ١٣٤

احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔‘‘

(براہین حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

”اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں جن کی کثرت کی خبر بھی قبل از وقت گمنامی کی حالت میں دی گئی تھی تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے گا۔ مگر ہم صرف مالی مدد اور بیعت کنندوں کی آمد پر کفایت کر کے ان نشانوں کو تخمیناً دس لاکھ نشان قرار دیتے ہیں۔“

(براہین پنجم ص ٥٨، خزائن ج ٢١ ص ٧٥)

”یہ امر پوشیدہ نہیں ہے کہ میری تائید میں خدا کے کامل اور پاک نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں…… اور اگر ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کے گواہ اکھٹے کئے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٠)

”اس جگہ اکثر گذشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ بلکہ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں۔“

(نزول المسیح ص ٨٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٠)

”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

”مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

نوٹ! ان عبارتوں سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری نبوت ثابت کرنے کے لئے تین لاکھ بلکہ دس لاکھ بلکہ ساٹھ لاکھ بلکہ کروڑ تک معجزات دکھائے ہیں۔ معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ بعض گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات کو ان معجزات سے کچھ نسبت ہی نہیں۔ اگر نوح کے زمانہ میں دکھلائے جاتے تو وہ لوگ کبھی غرق نہ ہوتے۔ میرے معجزات سے ہزار نبیوں کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔

اور حضرت سرور کائنات ﷺ کی نبوت ثابت کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے تین ہزار معجزات دکھلائے ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی کے معجزے تمام انبیاء بلکہ حضور ﷺ کے معجزات سے بھی بہت زیادہ ہیں۔ صرف کبھی مصلحت وقت سے حضور ﷺ کا استثناء کر دیا ہے۔

الحاصل مرزا قادیانی کی نبوت کا اثبات خداوند عالم کو اس قدر مطلوب اور مہتم بالشان تھا کہ کسی نبی کی نبوت کا اثبات ایسا مطلوب نہیں۔ پھر تعجب غایۃ تعجب ہے کہ ایسی نبوت مطلوبہ مہتمم

صفحہ ١٣٥

بالشان نبوت تشریعیہ نہ ہو اور جن نبوتوں کا اثبات اس قدر اہم نہیں وہ نبوتیں تشریعیہ ہوں۔ مرزا محمود قادیانی کی یہ ناقدر شناسی نہایت تعجب انگیز ہے۔

الہ الا اللہ پر بھی ایمان ہے۔ جیسے آدم علیہ السلام کو صفی اللہ اور نوح علیہ السلام کو نجی اللہ اور ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ اور موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ اور عیسیٰ علیہ السلام کو روح اللہ اور محمد ﷺ کو حبیب اللہ وغیرہ وغیرہ خطاب الٰہی ہیں۔ ایسے ہی مرزا قادیانی کو اپنے لئے جری اللہ کا خطاب حاصل ہونے کا دعویٰ ہے۔ تو پھر لا الہ الا اللہ اور غلام احمد قادیانی جری اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے کلمہ لا الہ الا اللہ غلام احمد جری اللہ کا انکار چہ معنی دارد؟۔

مرزائیوں کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ مسلمان لا الہ الا اللہ عیسیٰ روح اللہ یا رسول اللہ اور لا الہ الا اللہ موسیٰ کلیم اللہ یا رسول اللہ وغیرہ۔ انبیاء علیہم السلام سابقین کے کلمہ توحید و رسالت پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن تاوقتیکہ محمد ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ لائیں۔ مسلمان نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح مرزائیوں کے نزدیک تاوقتیکہ مرزا قادیانی کی نبوت اور ان کی وحی پر ایمان نہ لائے مسلمان نہیں اب صرف کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ مسلمان ہونے کے لئے کافی نہیں۔ تاوقتیکہ لا الہ الا اللہ غلام احمد رسول اللہ کا بھی اقرار نہ کریں۔ ہاں مرزا قادیانی کی وحی یاد آ گئی۔

”محمد رسول اللہ ﷺ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٧، مندرجہ حقیقت النبوۃ ص ٢٦١، ٢٦٢)

لہٰذا کلمہ توحید و رسالت میں عند التوریہ اور وقت مصلحت کے تغیر لفظی کی ضرورت نہیں انہی الفاظ اور اسی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں مرزا قادیانی کی رسالت کا اقرار اور ان کی نبوت کا ارادہ ہو سکتا ہے۔ یقیناً تمام مرزائیوں کا یہی مطمح نظر ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ سے مرزا رسول اللہ مراد لیتے ہیں۔ ورنہ کیا مرزا محمود اس کی شہادت دے سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے بعد صرف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار مسلمان بنا سکتا ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی کی نبوت کا منکر ہو۔ بے شک جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی نہ ماننے سے یہودی کافر ہوئے اور عیسائی ایک مذہب الگ شمار ہوا تو مرزا قادیانی جو بزعم خود پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں افضل ہیں۔ ان کی نبوت کے انکار سے مسلمان کیسے کافر نہ ہوں گے۔ (وہ بھی ٢٠ کروڑ ترقی اسلام خوب کی ) اور یہ ایک نیا مذہب اسلام کے غیر کیوں شمار نہ ہو۔

صفحہ ١٣٦

نوٹ ! بعض جگہ جو مرزا قادیانی نے پالیسی سے یہ لکھا ہے کہ: ”میں بغیر کسی جدید شریعت کے نبی ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

محض غلط اور دھوکہ ہے۔ چنانچہ (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) کی عبارت سے خوب واضح ہو چکا کہ صاحب الشریعت نبوت کے مدعی ہیں۔ ہر نبی جو شریعت لاتا ہے وہ وحی شریعت ہوتی ہے۔ جو من جانب اللہ بذریعہ جبرائیل علیہ السلام اس نبی پر نازل ہوتی ہے۔ یہی شریعت جدیدہ ہے۔ خواہ شریعت سابقہ کے موافق ہو یا مخالف اور چونکہ اس وقت یہی نبی صاحب الزمان ہیں اور انہی کی نبوت اور وحی پر ایمان لا کر اس نبی کی شریعت پر عمل کرنا فرض ہوگا۔ خواہ شریعت سابقہ کے موافق ہو یا مخالف ہر صورت میں یہی شریعت واجب العمل ہے۔ لہذا یہ شریعت شریعت سابقہ کی ناسخ ہوگی اور براہ راست نبوت حاصل ہونے کے متعلق وہ خود (حقیقت الوحی ص ٦٧ ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) میں لکھ چکے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ نے مجھے ...... وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطاء کی گئی ہے۔“

اور (ص ٦٢ ، خزائن ج ٢٢ ص ٦٤) میں ہے کہ: ”سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کثیر حصہ پایا ہے۔ جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔“

اور (ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠) میں ہے کہ نبوت صرف موہبت ہے۔

(مندرجہ ہدیۃ المہدیین ص ٢٦٤)

مرزا قادیانی نے (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦) میں لکھا ہے کہ: ”شریعت کا لانا اس کے لئے (یعنی نبی کے لئے) ضروری نہیں۔“ مرزا قادیانی اپنی نبوت کے نشہ میں بے حواس ہو گئے نہیں سمجھتے کہ جب میری وحی میں برابر خدا کی طرف سے اوامر ونواہی نازل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ (اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦) کی عبارت سے واضح ہے تو یہ شریعت نہیں تو اور کیا ہے؟۔

مرزائیو ! نبوت بغیر شریعت کے کوئی بھی نبوت نہیں۔ یہ تو تم کو مرزا قادیانی دفع الوقتی کا سبق دے گئے ہیں اور نیز یہ تو تم کو خوب معلوم ہے کہ ہر نبی پر ایمان لانا اجزاء ایمان میں داخل ہے۔ بغیر ان پر ایمان لائے ایمان معتبر نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو دعویٰ نبوت کر کے لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی طرف بلاتا ہے۔ وہ ایمان کے اجزاء میں ایک اور اہم جز کو یعنی اپنے اوپر ایمان لانے کو پہلی شریعت پر زیادہ کرتا ہے اور یہ ایمان بالرسالۃ تمام فرضوں سے بڑھ کر فرض

صفحہ ١٣٧

ہوگا۔ پس اس سے بڑھ کر اور کون سا حکم نبوت تشریعی کا ہو سکتا ہے؟۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٤ ص ٦ کے حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں بآواز بلند پکار دیا کہ: ”کہ اب میری تعلیم اور میری وحی کو خدا تعالیٰ نے مدارِ نجات ٹھہرایا ہے۔“ اور اشتہار معیار الاخیار میں اپنی وحی کا عام اعلان کر دیا ۔ ”قل یا ایھا الناس انی رسول اللّٰہ الیکم جمیعاً“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠ از البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)

دیکھئے اس وحی میں امر ہو رہا ہے کہ عام اعلان کر دیجئے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ اس میں شریعتِ جدیدہ بھی ہے اور وہ بھی نیا حکم جو پہلی شریعت میں نہیں ۔ بلکہ شریعتِ سابقہ پر ایک اہم فرض واجب الایمان کا اضافہ کیا گیا ۔ برخلاف نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے کہ اہلِ اسلام ان کی رسالت پر ایمان پہلے لا چکے ہیں اور بواسطہ حضورﷺ ایمان کامل ہو چکا ہے ۔ اب وہ بعد نزول نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں گے ۔ یعنی اس امت کے لئے نبی ہو کر تشریف نہ لائیں گے اور اہلِ اسلام بعد نزول ان پر ایمان پھر سے نہیں لائیں گے اور نہ وہ اہلِ اسلام کو اپنے اوپر ایمان لانے کی طرف مدعو کریں گے ۔ بلکہ اہلِ اسلام کو ان کی معرفت میں بھی شبہ پیش نہ آئے گا ۔ ہاں نصاریٰ ان کے واسطہ سے محمدﷺ پر ایمان لا کر اسلام قبول کر کے کامل الایمان ہو جائیں گے ۔ البتہ یہود انکاری ہیں اور بعض یہود اس وقت بھی منکر ہوں گے ۔ جن کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور مسلمان بنا کر ایمان لانے کی طرف بلائیں گے ۔ جو مسلمان نہ ہوگا ہلاک و تباہ کیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے تو صاف صاف اپنی شریعت سے شریعت محمدیہﷺ کے بعض احکام کو منسوخ اور بعض احکام میں ترمیم و تغیر و تبدل کیا ہے۔ جیسے ابھی آپ بعض نمبروں میں مرزا قادیانی کی شریعت کے بعض احکام معلوم کر چکے ان کے علاوہ اور بہت سے احکام ہیں ۔ چنانچہ مرزائی قادیانی پارٹی مرزا قادیانی کو صاحب الشریعت نبی ناسخ شریعت محمدیہ مانتی ہے ۔

مرزا قادیانی کی شریعت جدیدہ کے احکام و عقائد جدیدہ کی مختصر فہرست جو شریعت محمدیہ کے لئے ناسخ یا مخالف قرار دئے گئے ہیں ۔

مرزا قادیانی کی شریعت میں اب جب تک مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہ لائے مسلمان نہیں۔

صفحہ ١٣٨

ایمان لانا فرض تھا۔ لیکن مرزائی شریعت میں مرزا قادیانی پر نازل شدہ کلام اللہ پر بھی ایمان لانا فرض ہے منکر کافر ہے۔

کے لئے مدارِ نجات ہے۔ لیکن مرزائی شریعت میں اب مرزا قادیانی کی وحی اور تعلیم کو خدائے تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے مدارِنجات قرار دیا ہے۔

ہے۔ لیکن اب مرزائی شریعت میں مرزا قادیانی کی وحی ’ ’ فاتخذوا من مقام ابرھیم مصلی ‘ ‘ (حقیقت الوحی ص ٨٩ ، خزائن ج ٢٢ ص ٩١) کے رو سے قادیان قبلہ ہے۔ چنانچہ مرزائی اروپی پارٹی کا اس پر عمل ہے۔ قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو اولیٰ قرار دیتے ہیں۔

(رسالۃ المبارک ص ٤ ظہیر الدین اروپی رئیس پارٹی و حاشیہ حق المبین ص ٣٢)

تھا۔ لہٰذا یہ کلمہ اقرار توحید و رسالت کے لئے مقرر ہوا ۔ ”لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ“ لیکن اب چونکہ مرزائی شریعت میں جب تک مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہ لائے مسلمان نہیں۔ لہٰذا مرزائی شریعت میں کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ مرزا رسول اللّٰہ“ وغیرہ متعین ہوگا۔ جیسا کہ مرزائی اروپی پارٹی مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ (حاشیہ رہنمائے محمود ص ١) پس محمودی پارٹی کا جب کہ مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان کامل ہے تو کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ مرزا رسول اللّٰہ“ کا انکار چہ معنی دارد!

میں مرزائیوں کے غیر کے پیچھے نماز قطعی حرام اور ناجائز ہے۔

قرآن کریم کا حکم ”وارکعوا مع الراکعین (بقرہ: ٤٣)“ اور حدیث کا فرمان ”عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہﷺ الصلوۃ واجبۃ علیکم خلف کل مسلم برا کان او فاجراً (رواہ ابوداؤد ج ١ ص ٦٢، باب امامۃ البر و الفاجر ، مشکوٰۃ ص ١٠٠ باب الامامۃ)“ منسوخ کر دیا۔

بحکمِ قرآنی ہر مسلمان مرد کا نکاح ہر مسلمان عورت سے جائز ہے۔ لیکن مرزائی شریعت میں منسوخ ، ”احمدی (یعنی مرزائی) عورت کا نکاح غیر احمدی مسلمان سے صحیح نہیں ہے۔“

(برکات خلافت ص ٧٣)

کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا منصب نبوت ملا جو سب نبیوں سے

قرآنی اور منکر احادیث متواترہ ہوئے۔ پہلا عقیدہ کفریہ خیال اور

مسدود ہے۔ لیکن شریعت مرزائی اترتی تھی۔“

الانبیاءﷺ پر ختم ہو چکی۔ لہٰذا سل ج ١ ص ١٧٥) میں ہے۔ ”وقد للعادۃ مقرون بالتحدی بالتحدی ھو الدعوی لا (تمہید ابو شکور سلمی ص ١٠٥) قلمی میں ومن طلب منہ المعجز مرزائیہ میں حضورﷺ کے بع مدعی ہیں۔ بلکہ ایک کروڑ ۔

”کتب علیکم القتال (ب وعدًا علیہ حقًا فی ا اللّٰہ ﷺ والذی نفسہ ثم احیی ثم اقتل ثم اح ومن تمنی الشہادۃ ، مشکو ”قال رسو

صفحہ ١٣٩

تھا۔ لیکن مرزائی شریعت میں مرزا قادیانی پر نازل شدہ کلام اللہ پر بھی ایمان لانا فرض ہے۔

شریعت محمدیہ میں قیامت تک حضورﷺ ہی کی وحی اور تعلیم تمام انسانوں کے لئے مدارنجات قرار دیا ہے۔ لیکن مرزائی شریعت میں اب مرزا قادیانی کی وحی اور تعلیم کو خدائے تعالیٰ کے لئے مدارنجات قرار دیا ہے۔

شریعت محمدیہ میں حالت اختیار میں نماز کے لئے سمت کعبہ کو قبلہ مقرر کیا زائی شریعت میں مرزا قادیانی کی وحی ”فاتخذوا من مقام ابراھیم مصلی“ ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١) کے رو سے قادیان قبلہ ہے۔ چنانچہ مرزائی اروپی پارٹی کا قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو اولیٰ قرار دیتے ہیں۔

(رسالہ المبارک ص ٤ ظہیر الدین اروپی رئیس پارٹی وحاشیہ حق المبین ص ٣،٢)

شریعت محمدیہ میں چونکہ محمدﷺ آخری نبی پر ایمان لاکر مسلمان ہوجاتا ہے اور توحید ورسالت کے لئے مقرر ہوا ۔”لا اله الا الله محمد رسول الله“ مرزا قادیانی کی شریعت میں جب تک مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہ لائے بذاتہ مرزائی شریعت میں کلمہ ”لا اله الا الله مرزا رسول الله“ وغیرہ متعین زائی اروپی پارٹی مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھتے ہیں ۔ (حاشیہ رہنمائے محمود ص ١) پس جب کہ مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان کامل ہے تو کلمہ ”لا اله الا الله مرزا کا انکار چہ معنی دارد!

شریعت محمدیہ میں ہر مسلمان کے پیچھے نماز جائز ہے۔ لیکن مرزائی شریعت کے غیر کے پیچھے نماز قطعی حرام اور ناجائز ہے۔ آن کریم کا حکم ”وارکعوا مع الراكعين (بقره:٤٢)“ اور حدیث کا فرمان ريرة قال قال رسول الله ﷺ الصلوة واجبة عليكم خلف كل ن اوفاجراً (رواه ابوداؤد ج ١ ص ٦٢، باب امامة البر والفاجر، مشكوة لامامة) ”منسوخ کر دیا“۔

قرآنی ہر مسلمان مرد کا نکاح ہر مسلمان عورت سے جائز ہے۔ لیکن مرزائی شریعت مدی (یعنی مرزائی) عورت کا نکاح غیر احمدی مسلمان سے صحیح نہیں ہے۔“

(برکات خلافت ص ٧٣)

کسی کو منصب نبوت نہ دیا جائے گا۔ لیکن شریعت مرزائیہ میں حضورﷺ کے بعد مرزا قادیانی کو منصب نبوت ملا جو سب نبیوں سے افضل شان میں ہیں۔

(حقیقت النبوۃ ص ٢٣٢)

قرآنی اور منکر احادیث متواترہ ہے۔ لیکن شریعت مرزائی میں یہ حکم منسوخ اب مرزا قادیانی نبی ہوئے۔ پہلا عقیدہ کفریہ خیال اور لعنتی عقیدہ ہو گیا۔

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٦، ١٨٧)

مسدود ہے۔ لیکن شریعت مرزائیہ میں یہ باطل ہے۔ مرزا قادیانی پر ”وحی نبوت بارش کی طرح اترتی تھی۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

الانبیاءﷺ پر ختم ہو چکی۔ لہٰذا سلسلۂ معجزات بھی ختم ہو گیا اور مدعی معجزہ کافر ہے۔ (یواقیت مبحث ٢٩ ج٢ ص ١٥٧) میں ہے۔ ”وقد حد جمهور الاصوليين المعجزة بانها امر خارق للعادة مقرون بالتحدى مع عدم المعارضة من المرسل الیهم....... والمراد بالتحدى هوالدعوى للرسالة“ اور (شرح عقائد نسفی ص ١٤، ٩٨) میں بھی اسی طرح ہے اور (تمہید ابو شکور سلمی ص ١٠٥) قلمی میں ہے۔ ”ومن ادعى النبوة فى زماننا فانه يصير كافراً ومن طلب منه المعجزات فانه يصير كافراً لانه شك فى النص“ لیکن شریعت مرزائیہ میں حضورﷺ کے بعد مرزا قادیانی اپنے لئے سب نبیوں سے زیادہ دس لاکھ معجزات کے مدعی ہیں۔ بلکہ ایک کروڑ ۔

”کتب علیکم القتال (بقرہ: ٢١٦)“ ”يقاتلون فى سبيل الله فيقتلون ويقتلون وعدًا عليه حقاً فى التوراة والانجيل والقرآن (توبه: ١١١)“ ”قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیده لوددت ان اقتل فى سبيل الله ثم احيى ثم اقتل ثم احيى ثم اقتل ثم احيى ثم اقتل (بخاری ج ٢ ص ١٠٧٣، باب ماجاء فى التمنی ومن تمنى الشهادة، مشكوة ص ٣٢٩ كتاب الجهاد)“ ”قال رسول الله ﷺ لن يبرح هذا الدين قائماً يقاتل عليه عصابة

صفحہ ١٤٠

من المسلمین حتی تقوم الساعۃ (رواہ مسلم ج ٢ ص ١٤٣ ، باب قولہ ﷺ لا تزال طائفۃ من امتي ظاہرین علی الحق، مشکوۃ ص ٣٣٠ کتاب الجہاد ) ’’لیکن شریعت مرزائیہ میں یہ حکم قطعا منسوخ ہوگیا۔

شریعت مرزائیہ اسے حرام اور خراب مسئلہ بتاتی ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٣٤، خزائن ج ١٩ ص ١٤٤)

جب جہاد منسوخ ہوگیا تو احکام غنیمت و فئے و خمس و جزیہ وغیرہ سب منسوخ ہوگئے۔

عنہ فانتہوا (الحشر :٧)‘‘ ’’ما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی (النجم :٣)‘‘ جس طرح قرآن مجید فرض عین ہے۔ ویسے ہی حدیث صحیح پر عمل واجب ہے۔ لیکن شریعت مرزائیہ میں یہ حکم منسوخ ہے۔ جو حدیث صحیح مرزا قادیانی کے الہام کے خلاف ہو۔ اس کو ردی کی طرح پھینک دینا چاہئے۔

اللہ کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔ ’’فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول (النساء:٥٩)‘‘ لیکن شریعت مرزائیہ میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ اب ہر امر شرعی میں مرزا قادیانی کو حکم قرار دینا فرض ہے۔ گو ہزار حدیث صحیح کو موضوع قرار دیں۔

مرزائیہ میں مرزا قادیانی خاتم النبیین ہیں۔ ’’اب تمام دنیا بے دست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)

’’اب ان کے بعد پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں کے مشابہ ہوں گے۔‘‘

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٤ ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣)

ہے۔ لہٰذا یقینی اور مخصوص طور پر کرشن جی کو نبی اعتقاد کرنا شریعت محمدیہ کے خلاف ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ نبی ہوں یا نہ ہوں۔ لہٰذا فلا تصدقوا ولا تکذبوا میں داخل ہیں۔ شریعت مرزائی میں کرشن جی یقینی طور پر نبی ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو اپنی وحی نبوت سے معلوم ہوچکا ہے۔ پس مرزا قادیانی نے شریعت محمدیہ پر یہ عقیدہ زیادہ کیا ہے۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١، تحفہ گولڑویہ ص ١٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٣١٧ حاشیہ)

صفحہ ١٤١

ين حتى تقوم الساعة (رواه مسلم ج ٢ ص ١٤٣ ، باب قوله ﷺ لا تزال ظاهرين على الحق ، مشكوة ص ٣٣٠ كتاب الجهاد ) ’’لیکن شریعت مرزائیہ منسوخ ہو گیا۔

شریعت محمدیہ میں جہاد کا مسئلہ ایک پاک مسئلہ اور عمدہ چیز ہے۔ لیکن یاے حرام اور خراب مسئلہ بتاتی ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٣٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤٣)

ب جہاد منسوخ ہو گیا تو حکام غنیمت و فئے و خمس و جزیہ وغیرہ سب منسوخ ہو گئے ۔

قرآن حکیم کا حکم ہے کہ: ”ما اتاكم الرسول فخذوه وما نهكم وا (الحشر:٧)“ ”ماينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى جس طرح قرآن مجید فرض العمل ہے۔ ویسے ہی حدیث صحیح پر عمل واجب ہے۔ رزائیہ میں یہ حکم منسوخ ہے۔ جو حدیث صحیح مرزا قادیانی کے الہام کے خلاف کی طرح پھینک دینا چاہئے ۔

قرآن حکیم کا حکم ہے کہ اگر تم میں شریعت کے کسی امر میں جھگڑا ہو تو اس کو ﷺ کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔ ”فان تنازعتم في شئی فردوه الى ل (النساء:٥٩)“ لیکن شریعت مرزائیہ میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ اب ہر امر شرعی کو حکم قرار دینا فرض ہے۔ گو ہزار حدیث صحیح کو موضوع قرار دیں۔

قرآن کریم شریعت بتاتا ہے کہ خاتم النبیین حضور ﷺ ہیں۔ لیکن شریعت اقادیانی خاتم النبیین ہیں۔ ”اب تمام دنیا بے دست وپا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ب ان کے بعد پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں کے مشابہ ہوں گے ۔“

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٤ ص ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣)

شریعت محمدیہ یعنی قرآن کو حدیث میں سری کرشن کا نبی ہونا کہیں مذکور نہیں ر مخصوص طور پر کرشن جی کو نبی اعتقاد کرنا شریعت محمدیہ کے خلاف ہے ۔ ہاں ممکن نہ ہوں ۔ لہذا فلا تصدقوا ولا تكذبوا میں داخل ہیں۔ شریعت مرزائی میں ور پر نبی ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو اپنی وحی نبوت سے معلوم ہو چکا ہے۔ پس شریعت محمدیہ پر یہ عقیدہ زیادہ کیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٣١، تحفہ گولڑویہ ص ١٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٣١ حاشیہ)

سلف وخلف امتہ کا اس پر اجماع ہے۔ شریعت مرزائیہ میں اب یہ عقیدہ شرک عظیم ہے۔

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠ ، دافع البلا ص ١٨ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)

اور امام محمد بن عبداللہ مہدی موعود اور کانا دجال وغیر ہما کے عقیدے میں بھی تغیر وتبدل وترمیم کی ہے۔

کر کے خلاف نہیں کرتا اور انبیاء اللہ علیہم السلام جو خدا کے حکم سے کوئی پیشین گوئی کرتے ہیں۔ وہ جھوٹی نہیں ہوسکتی ۔ ”ما يبدل القول لدى (ق:٢٩)“ ”من اصدق من الله قيلاً (نساء:١٢٢)“ ”ان الله لا يخلف الميعاد (آل عمران:٩)“ ”ان الله لا يخلف وعده رسله، فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزيز ذوانتقام (ابراهیم:٤٧)“ ”يستعجلونك بالعذاب ولن يخلف الله وعده (الحج:٤٧)“ قرآن کریم ناطق ہے اور توریت کی پانچویں (کتاب استثناء کے باب ١٨، آیت ٢٢،٢٠) میں بھی یہ ارشاد ہے ۔ ”لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے۔ جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا۔ تو وہ نبی قتل کیا جاوے اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیوں کر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کہے اور جو اس نے کہا واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی ۔ بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔“

یعنی توریت میں یہ سیاسی حکم ہے کہ جھوٹا نبی قتل کر دیا جائے اور جھوٹے نبی کی شناخت یہ ہے کہ جو اس نے خدا کے نام سے کہا وہ واقع یا پورا نہ ہو۔ لیکن شریعت مرزائیہ میں اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو قطعی وعدہ دے کر تحدی اور معیار صداقت کا حکم لگا کر خلاف کر جاتا ہے اور وعید کی پیشین گوئی کو ٹال دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے بھی بہت سے وعدے کر کے تحدی اور معیار صداقت کا حکم دے کر پورے نہیں کئے ۔ (حقیقت الوحی ص ١٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی میں کوئی شرط بھی نہیں تھی۔ تب بھی تو بہ واستغفار سے اس کی قوم بچ گئی۔ حالانکہ اس کی قوم کی نسبت خدا تعالیٰ کا قطعی وعدہ تھا کہ وہ ضرور چالیس دن کے اندر ہلاک ہو جائے گی۔ مگر کیا وہ اس پیشین گوئی کے مطابق چالیس دن کے اندر ہلاک ہو گئے ۔“

صفحہ ١٤٢

اور (ص ١٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٧) میں ہے کہ: ”سچا رسول جو وعید کی پیش گوئیاں یعنی عذاب کی پیش گوئیاں کرتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ سب کی سب ظہور میں آجائیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ بعض ان میں سے ظہور میں آجائیں۔“

(تتمۃ حقیقۃ الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٧) میں ہے کہ: ”حالانکہ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیش گوئی میں کسی شرط کی بھی ضرورت نہیں وہ ٹل سکتی ہے۔“

اور (ص ١٤٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧) میں ہے کہ: ”اور وعید یعنی عذاب کی پیش گوئی ٹلنے کے بارے میں تمام نبی متفق ہیں۔“

اور (ص ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٨) میں ہے کہ: ”پس نص قرآنی سے یہ ثابت ہے کہ عذاب کی پیش گوئی کا پورا ہونا ضروری نہیں۔“

اور (تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥) میں ہے کہ: ”یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشین گوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔“

اور (حقیقۃ الوحی ص ١٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٦) میں ہے کہ: ”پس اگر اس صورت پر وعید کی پیشین گوئی ضروری الوقوع ہے تو میں بیسیوں دفعہ جھوٹا بن سکتا ہوں۔“

نوٹ ! چونکہ خداوند تعالیٰ اپنے نبی کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے پیشین گوئی کا حکم بطور تحدی واظہار صداقت دیتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کرنے سے نبی کی صداقت پر دھبہ آئے گا۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) میں لکھتے ہیں کہ: ”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

خدا تعالیٰ قطعی پیشین گوئی کا حکم اپنے نبی کو جب ہی دیتا ہے۔ جب کہ اس کے علم میں یقینی اس کا وقوع مقدر ہوتا ہے اور ان کو توبہ نصیب نہیں ہوتی اور اگر خدا کے علم میں ان کا توبہ کرنا اور ایمان لانا مقدر ہے۔ تو کبھی ہرگز ان کے عذاب کی قطعی پیشین گوئی کا بطور تحدی حکم دے کر پھر اس کے خلاف کر کے اپنے نبی کو جھوٹا نہ کرے گا۔ مرزا قادیانی خدا اور رسول ﷺ پر افتراء لگاتے ہوئے اور قرآن کریم کی دانستہ تحریف کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں جھجکتے۔

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١) میں لکھتے ہیں کہ: ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف طور جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“

صفحہ ١٤٣

اور (ص ١٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٧) میں ہے کہ: ”سچا رسول جو وعید کی پیش گوئیاں یعنی پیش گوئیاں کرتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ سب کی سب ظہور میں آ جائیں۔ ہاں یہ کہ بعض ان میں سے ظہور میں آ جائیں۔“

(تتمۃ حقیقۃ الوحی ص ١٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٧) میں ہے کہ: ”حالانکہ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ عذاب کی پیش گوئی میں کسی شرط کی بھی ضرورت نہیں وہ ٹل سکتی ہے۔“

اور (ص ١٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧١) میں ہے کہ: ”اور وعید یعنی عذاب کی پیش گوئی ٹلنے میں تمام نبی متفق ہیں۔“

اور (ص ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٨) میں ہے کہ: ”پس نصّ قرآنی سے یہ ثابت ہے کہ پیش گوئی کا پورا ہونا ضروری نہیں ۔“

اور (تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥) میں ہے کہ: ”یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیشین گوئی بغیر شرط توبہ اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔“

اور (حقیقۃ الوحی ص ١٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٦) میں ہے کہ ”پس اگر اس طرح پر وعید کی ضروری الوقوع ہے تو میں بیسیوں دفعہ جھوٹا بن سکتا ہوں۔“

نوٹ! چونکہ خداوند تعالیٰ اپنے نبی کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے پیشین گوئی کا حکم اظہار صداقت دیتا ہے۔ لہٰذا اس کے خلاف کرنے سے نبی کی صداقت پر دھبہ آئے گا۔ مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١) میں لکھتے ہیں کہ: ”جب ایک نبی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

خدا تعالیٰ قطعی پیشین گوئی کا حکم اپنے نبی کو جب ہی کرتا ہے۔ جب کہ اس کے علم میں وقوع مقدر ہوتا ہے اور ان کو توبہ نصیب نہیں ہوتی اور اگر خدا کے علم میں ان کا توبہ کرنا اور ٹلنا مقدر ہے۔ تو کبھی ہرگز ان کے عذاب کی قطعی پیشین گوئی کا بطور تحدی حکم دے کر پھر اس سے پھر کر اپنے نبی کو جھوٹا نہ کرے گا۔ مرزا قادیانی خدا اور رسول ﷺ پر افتراء لگاتے قرآن کریم کی دانستہ تحریف کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں جھجکتے۔

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١) میں لکھتے ہیں کہ: ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف طور جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر عقدہ کو حل کر سکے۔“

اور اپنے لئے (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) میں لکھ چکے ہیں کہ: ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔“ فتدبر، افسوس محمدی بیگم کی حسرت قبر میں ہی لے گئی۔ حالانکہ یہ تو وعدہ الٰہی تھا، نہ وعید۔

رکھتے ہیں۔ بعض اپنے مستقر (ہیڈ کوارٹر) آسمان سے تعمیل حکم کے لئے زمین پر بھی نازل ہوتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام فرشتہ حامل وحی خدا کی طرف سے احکام لے کر انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتا ہے۔ لیکن شریعت مرزائیہ میں یہ بالکل باطل ہے۔ ”فرشتہ ارواح کواکب کا نام ہے۔ وہ کبھی زمین پر اپنا مستقر چھوڑ کر نہیں آتے۔ نہ جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر زمین پر آتا ہے۔ صرف ارواح کواکب کی تاثیر کا نام نزول وحی ہے۔“

(توضیح المرام ص ٣٧ تا ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٧٠، ٧١)

اس کی بحث فہرست مفصل میں آئے گی۔

کر حساب کتاب کے لئے میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ صور پھونکا جائے گا۔ زمین و آسمان بدلے جائیں گے۔ تمام خلق اللہ زلزلۃ الساعۃ سے پریشان ہوں گے۔ اعمال کا وزن ہوگا۔ پل صراط قائم ہوگا۔ اس پر سے ہر شخص عبور کرے گا۔ ”ان منکم الا واردها (مریم:٧١)“ ہول قیامت سے انبیاء علیہم السلام بھی نفسی نفسی پکاریں گے۔ تمام انبیاء علیہم السلام شفاعت سے انکار کریں گے۔ سرور کائنات سرور عالم ﷺ اس منصب کو قبول فرمائیں گے اور بعض جہنمی شفاعت سے اور بعض بلا شفاعت خارج کر کے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ ”وغیــر ہــا مــن التفاصیل“ لیکن شریعت مرزائیہ میں مردے قبروں سے نکل کر میدان محشر میں جمع نہ ہوں گے بلکہ ہر شخص مرنے کے بعد ہی جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر قیامت کے دن کسی کو جنت و دوزخ سے نہ نکالا جائے گا۔ ہاں ایک درجہ سے دوسرے اعلیٰ درجہ میں ترقی کرتا ہے۔ یہی حشر اجساد ہے۔ گویا حشر اجساد بھی روحانی طور پر ہوگا۔

(خلاصہ ازالہ ص ٣٦٩ تا ٣٧١، خزائن ج ٣ ص ٢٨٨ تا ٢٩٢)

لفظوں میں حشر اجساد و حساب و یوم آخرۃ سب کا اقرار ہے۔ لیکن حقیقت میں عقائد اسلامیہ کے بالکل خلاف ہے۔

نوٹ! علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے بعض انبیاء علیہم السلام کی شان میں سخت توہین کی ہے۔ بعض انبیاء علیہم السلام سے اپنی شان کو بڑھایا۔ حضور ﷺ سے کہیں برابر بنے اور کبھی اپنے کو

صفحہ ١٤٤

حضور ﷺ سے افضل بتلایا۔ (تفصیل گذر چکی)

اور قرآن کریم میں خودغرضی سے بہت سی آیات میں تحریفات کیں۔ مثلاً ”مبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه احمد (الصف:٦)“ میں بشارت عیسیٰ علیہ السلام سے خود اپنے مراد لی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٨٨)

اور آیت ”هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدین كله (التوبه: ٣٣)“ کا مصداق خود کو ٹھہرایا۔

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

قرآن کریم میں مذکور ہے کہ اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے دنیا میں مرے ہوؤں کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی ان نصوص قرآنیہ کا انکار کر کے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”مرنے کے بعد کوئی شخص زندہ نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔“

(ازالہ ص ٦٤٠، خزائن ج ٣ ص ٤٤٥، حقیقت الوحی ص ٣٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢)

قرآن کریم میں مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہت سے معجزے ظاہر ہوئے۔ جن میں سے احیاء موتى وخلق طيور باذن الله بہت مشہور اور قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نص صریح کا انکار کر کے ان معجزات کے منکر ہیں اور ان کو لہو ولعب وسحر مذموم ومکروہ و قابل نفرت بتاتے ہیں۔

(ازالہ ص ٢٩٨، ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢، ٢٦٣، حقیقت الوحی ص ٣٢٩، ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢، ٤٠٥)

قرآن کریم اور احادیث رسول اللہ ﷺ میں مذکور ہے کہ حضور ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی تھی اور باقرار مرزا قادیانی تقریباً صحابہ کا یہی عقیدہ تھا۔

(ازالہ ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٧)

لیکن پھر بھی مرزا قادیانی اس کے منکر ہیں کہ ”یہ معراج جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا اور صرف کشف بتاتے ہیں اور کہتے ہیں اس قسم کے کشفوں میں مجھ کو تجربہ ہے۔“

(ازالہ حاشیہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

”سبحان الذى اسرى بعبده لیلا“ خود مرزا قادیانی پر بھی وحی ہوئی ہے۔“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

اور مرزا قادیانی نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر بہت سی افتراء پردازیاں کیں اور علماء باللہ کو گندی گالیاں سنائیں۔ ان سب کی قدرے تفصیل فہرست مفصل میں ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا قادیانی پر اقراری کفر

نے اپنی وحی کے ذریعہ کس قدر احکام و نصوص قرآنیہ کو منسوخ قرار دیا ہے اور ان میں کس قدر تغیر

و تبدل کیا ہے اور احادیث رسول کے لئے کہا ہے۔ اب مرزا قادیا

.......١ ”ہم پر خاتم کتب سماوی ہے اور یک دفعہ ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے نزدیک جماعت مومنین سے خار

.......٢ ..........کافر ہے ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی اتبا پھر اس شخص کا کیا حال جو کوئی نئی شر تغیر و تبدل کرے یا کسی حکم کو منسو دیتا ہے۔ وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ادھورا رہ جاتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ ایک دن قرآن کو بھی چھوڑنا پڑ

مرزا قادیانی (ا محمد ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی د

اور مرزا قادیانی (ا اور نبی ہیں۔“

اور فہرست (حقیقت مجھے منصب نبوت پر پہنچایا۔“ جـ جب آپ کے نبی ہونے سے کسی

نتیجه! وہ خود (حمامۃ لى ان ادعى النبوة وا نہیں کر سکتا کہ نبوت کا دعویٰ کر دام میں صیاد آ گیا۔

.......٣ ادعاء نـ

صفحہ ١٤٥

وتبدل کیا ہے اور احادیث رسول اللہ ﷺ کو تو اپنی وحی کے مقابلہ میں ردی کی طرح پھینک دینے کے لئے کہا ہے۔ اب مرزا قادیانی کا خود فتویٰ سنئے قبل دعویٰ نبوت شریعت جدیدہ کے لکھتے ہیں۔

خاتم کتب سماوی ہے اور یک شمہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا۔ جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو۔ ہاں اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

(ازالہ ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی اتباع سے روگردانی کرنے والا ہی ہمارے نزدیک جب کافر ہے تو پھر اس شخص کا کیا حال جو کوئی نئی شریعت لانے کا دعویٰ کرے یا قرآن اور سنت رسول اللہ ﷺ میں تغیر وتبدل کرے یا کسی حکم کو منسوخ جانے ...... یاد رکھو کہ جو شخص احادیث کو ردی کی طرح پھینک دیتا ہے۔ وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اسلام کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو بغیر مدد احادیث ادھورا رہ جاتا ہے۔ جو کہتا ہے کہ مجھے احادیث کی ضرورت نہیں۔ وہ ہرگز مومن نہیں ہو سکتا۔ اسے ایک دن قرآن کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔

مرزا قادیانی (اشتہار ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء) میں مطلقاً لکھتے ہیں کہ: ”سیدنا و مولانا حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

اور مرزا قادیانی (البدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء) میں لکھتے ہیں کہ: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ١٤٧)

اور فہرست (حقیقت النبوۃ ص ٢١٨، ٢١٩) میں ہے کہ: ”مسیح موعود نے لکھا ہے کہ خدا نے مجھے منصب نبوت پر پہنچایا۔“ جب آپ پر اعتراض ہوا کہ آپ نبوت کے مدعی ہیں تو فرمایا ہاں۔ جب آپ کے نبی ہونے سے کسی نے انکار کیا تو اسے خوب ڈانٹا۔

نتیجہ! وہ خود (حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) میں لکھ گئے ہیں کہ: ”ماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج عن الاسلام والحق بقوم کافرین “ یعنی میں یہ نہیں کر سکتا کہ نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔“ لو اپنے دام میں صیاد آ گیا۔

صفحہ ١٤٦

البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”اور اگر ہم آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ وحی نبوت کے دروازے کا انفتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی کیونکر آوے۔ حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہوگئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا ہے“

اور (ازالہ اوہام ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١١، ٤١٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”اب جبرائیل علیہ السلام بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا......اور اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن کریم پر عمل کر تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرائیل علیہ السلام لائیں اور پھر چپ ہو جائیں۔ یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے۔“

اور (ازالہ اوہام ص ٧٦١، خزائن ج ٣ ص ٥١١) میں لکھتے ہیں کہ: ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل علیہ السلام ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل علیہ السلام بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے۔ مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔“

نتیجہ اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا نبوت اور رسالت کا دعویٰ ہے اور یہ بھی ممتنع ہے کہ رسول تو ہوں۔ مگر وحی رسالت نہ ہو اور یہ بھی معلوم ہوچکا کہ یہ امر ختم نبوت کے منافی ہے۔ جو قرآن کریم کی آیت خاتم النبیین میں نص ہے۔ لہٰذا ادّعاء وحی نبوت و رسالت قرآن کی تعلیم کے خلاف ہوا۔ پس جیسا کہ خود دعویٰ رسالت و نبوت کفر ہے۔ یہ ادّعاء وحی نبوت بھی کفر ہے۔

تنبیہ! مرزا قادیانی کی وحی میں جبرائیل علیہ السلام بھی آتے تھے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦) میں ہے کہ: ”جاء نی اثیل و اختار“ اس جگہ آثیل خدائے تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“

اور مرزا محمود قادیانی نے (حقیقت النبوۃ ص ٢٩٠) میں لکھا ہے کہ: ”حضرت مسیح موعود نے نزول جبرائیل علیہ السلام کو نبوت کے لئے شرط ٹھہرایا ہے...... پس خدا تعالیٰ نے الہام میں آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام کے آنے کی خبر دی ہے۔“

اور مرزا قادیانی (اربعین نمبر ٤ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٦) میں لکھتے ہیں کہ: ”میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“

صفحہ ١٤٧

مرزا قادیانی نے نبوت سے بھی بڑھ کر اپنے لئے وحی الٰہی سے وہ مرتبے ثابت کئے ہیں ۔ جو حضور ﷺ اشرف الانبیاء علیہم السلام کو بھی وحی الٰہی سے یہ مرتبے حاصل نہیں ۔

الہامات مرزا قادیانی

"انت منی بمنزلة توحیدی وتفریدی" ”تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید و تفرید ۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٢)

"انت منی وانا منك" ”خاص مرزا قادیانی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ میں سے ہوں۔“

(دافع البلاء ص ٧ ، ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧، ٢٢٨)

"اسمع ولدى" ”اے میرے بیٹے سن ۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)

نوٹ ! بعض مرزائی اس کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسمع وارے تھا۔ مؤلف نے غلطی سے لکھا ہے۔ مگر تعجب یہ ہے کہ ترجمہ کیسے غلط لکھا گیا اور طرفہ یہ کہ مدعی سست گواہ چست مؤلف سے اب تک انکار ثابت نہیں ہوا۔ چاہئے تھا کہ غلط نامہ شائع کرتے اور ممکن ہے کہ قرأۃ ثانیہ ہو۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے الہام میں بھی کئی کئی قرائتیں ہیں ۔ ورنہ "انت منی بمنزلة ولدی" تو یقینی وحی مسلم ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

"انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون" ”اے مرزا تیرا یہ مرتبہ ہے کہ تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے ہو جاتی ہے۔ یعنی خدائی مرتبہ حاصل ہے۔“

(حصہ پنجم براہین ص ٩٥، خزائن ج ٢١ ص ١٢٣)

”ایک دفعہ کشفی رنگ میں میں نے دیکھا کہ میں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا اور پھر میں نے کہا کہ آؤ اب انسان کو پیدا کریں۔“

(چشمہ مسیحی ص ٥٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٧٥)

”میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ..... تو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا ..... اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں ۔ پھر میں آسمان دنیا کو پیدا کیا ..... خدا میرے وجود میں داخل ہو گیا ۔ الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥ تا ٨٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣ تا ١٠٥، آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نوٹ! یہ مدعی نبوت کا کشف اور وحی ہے۔ جس میں غلطی کا احتمال نہیں ۔ کسی ولی کا کشف یا الہام نہیں۔ جو سکر یا غلطی کا احتمال ہو۔ دیکھتے نہیں اس میں کس قدر اول سے آخر تک

صفحہ ١٤٨

میں میں کی بھر مار ہے اور انانیت کا مقام برابر چلا آتا ہے۔

لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند"

(حاشیہ اربعین نمبر ٣، ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣ و حاشیہ ضمیمہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦١)

(اربعین نمبر ٢ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٦)

کیا۔﴾

(اربعین نمبر ٢ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٥)

لام تخصیص اور ضمیر خطاب مفرد ہے۔ ضمیر جمع نہیں تا کہ شمولیت غیر مرجع کے بطور کنایہ ممکن ہو۔

ساتھ ایسے ہیں جیسا کہ میرے ساتھ ۔﴾

(اربعین نمبر ٢ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٣)

آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔﴾

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)

دوسرے لوگ فشل سے (خشک مٹی سے )۔﴾

(اربعین نمبر ٢ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)

ہے۔﴾

(تذکرہ ص ٧٠٦)

ہوں ۔﴾

(تذکرہ ص ٢٥٩)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥١٣ حاشیہ) میں لکھتے ہیں کہ: ”یہ استعارہ ہے۔ جیسے تردد کا لفظ حدیث میں۔“

ہاتھ سے کئی پیشین گوئیاں لکھیں۔ جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئے تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا ..... اور جو کچھ میں نے چاہا بلا

صفحہ ١٤٩

ہے اور انانیت کا مقام برابر چلا آتا ہے۔

”دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں کہتے ہیں ۔خدا کی مانند“

(حاشیہ اربعین نمبر ٣،ص٢٥،خزائن ج ١٧ص٤١٣ وحاشیہ ضمیمہ گولڑویہ ص ٢١،خزائن ج١٧ص٦١)

”انت اسمى الاعلى“ ﴿ تو میرا سب سے بڑا نام ہے۔﴾

(اربعین نمبر ٢ص ٣٤،خزائن ج١٧ص ٣٨٢)

”خلقت لك ليلاً ونهارا“ ﴿ تیرے لئے میں نے رات اور دن پیدا

کئے۔﴾ (اربعین نمبر ٢ص ٨،خزائن ج١٧ص ٣٥٥)

یہاں ہر ضمیر خطاب مفرد ہے۔ ضمیر جمع نہیں تا کہ شمولیت غیر مرجع کے بطور کنایہ

”الارض والسماء معك كما هو معى“ ﴿ زمین و آسمان تیرے

ساتھ ہیں جیسا کہ میرے ساتھ۔﴾ (اربعین نمبر ٢ص ٦،خزائن ج١٧ص ٣٥٣)

”لولاک لما خلقت الا فلاك “﴿ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو

آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔﴾ (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٥،خزائن ج٢٢ص٧١٢)

”انت من مائنا وهم من فشل“ ﴿ تو ہمارے پانی سے ہے اور

وہ خشکی (خشک مٹی سے)۔﴾ (اربعین نمبر ٢ص ٣٦،خزائن ج١٧ص ٣٨٥)

”كل لك ولا مرك “﴿ سب تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے

ہے۔﴾ (تذکرہ ص ٧٠٦)

”اخطی واصیب “ ﴿ کبھی میں خطا کرتا ہوں اور کبھی صواب کو پہنچتا

ہوں۔﴾ (تذکرہ ص ٦٥٩)

(حقیقت الوحی ص ٦٦،خزائن ج٢٢ص٧٠٦ حاشیہ) میں لکھتے ہیں کہ : ” یہ استعارہ ہے۔ بحث میں۔

”ایک دفعہ کشفی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے منوتیاں لکھیں۔ جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں تب میں نے ان کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی سے دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا ..... اور جو کچھ میں نے چاہا بلا

توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے ..... اس نے میرا کرتا بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا۔ جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥،خزائن ج٢٢ص ٢٦٧)

مرزا قادیانی کے عجیب و غریب الہامات و مکاشفات کا نمونہ

قریباً من القادیان“ جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی مرزا غلام قادر قادیانی قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ’انا انزلناہ قریباً من القادیان“ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر دیکھا تو معلوم ہوا فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج

ہے۔“ (ازالہ حاشیہ ص ٦٧٧،خزائن ج٣ص١٤٠)

نوٹ ! یہ کشف بالبداہۃ غلط اور خلاف واقع ہے۔

رکھتا تھا وہ ناامیدی سے ہلاک ہو گیا۔“ (البشریٰ ج ٢ص ٧٧)

یہ الہام کسی مخالف کے حق میں بتایا ہے۔ مگر جب عبداللطیف کابل میں سنگسار کئے گئے تو فوراً اس الہام کو اس مخلص پر چسپاں کر دیا کہ یہ صریح وحی مولوی صاحب کے مارے جانے کے

بارے میں ہے۔ (تذکرہ الشہادتین ص ٧٣ حاشیہ،خزائن ج ٢٠ص ٧٥)

راز فاش کر دیا۔ یعنی مرزا قادیانی کو حکومت برطانیہ کے متعلق یہ الہام ہوا تھا۔

سلطنت برطانيه تاهفت سال
بعد ازاں باشد خلاف واختلال

اور اپنے خاص مریدوں کو سنایا۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم کو ایک اخص الخواص مرید نے جا کر یہ الہام بتا دیا۔ مولوی صاحب مرحوم نے اس الہام کو شائع کر دیا۔ تو پھر کیا

صفحہ ١٥٠

تھا جناب کو سخت قلق اور اضطراب دامنگیر ہوا۔ جس پر فوراً رسالہ ”کشف الغطاء“ میں بہت ہی عاجزانہ عرض کے ساتھ گورنمنٹ پر ظاہر کیا کہ ایسا کوئی الہام ہرگز شائع نہیں کیا اور اس شخص اور اس کے ہم خیال لوگوں کی میرے ساتھ کچھ آمد و رفت اور ملاقات نہیں تا میں نے ان کو زبانی کچھ کہا ہو۔ دیکھو کیسے ہوشیاری کی ۔

اور (مواہب الرحمٰن ص ٦٦ ، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٤) پر لکھتے ہیں کہ : ”مرسل کو خوف نہیں“

”خدا تعالیٰ نے اس الہام میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے کہ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے ۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا ۔ درد زہ ہوا ۔ درد زہ مجھے بیت لحم کی طرف لے گیا اور آخر کئی مہینے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا“

( خلاصہ کشتی نوح ص ٤٦ ، ٤٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٥٠ )

دیکھے ..... اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا اور ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے ۔“

( تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

پلیڈر اپنے ( ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم بہ اسلامی قربانی ص ١٢ مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر ) میں لکھتے ہیں کہ: ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا سمجھنے والے کے واسطے اشارہ کافی ہے ۔“استغفر الله !

”ایک دفعہ کشفی طور پر ٢٤ یا ٢٣ روپے مجھے دکھلائے گئے ۔ پھر اردو میں الہام ہوا کہ ماجھے خاں کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لاہور بھیجنے والے ہیں ۔“

( تریاق القلوب ص ٧٣ ، خزائن ج ١٥ ص ٢٩٥)

”ایک کاغذ دکھائی دیا۔ اس پر لکھا ہوا تھا آتش فشاں“

( مکاشفات ص ٣٤ ، تذکرہ ص ٥٦٣)

صفحہ ١٥١

قلق اور اضطراب دامنگیر ہوا۔ جس پر فوراً رسالہ ’’کشف الغطاء‘‘ میں بہت ہی ساتھ گورنمنٹ پر ظاہر کیا کہ ایسا کوئی الہام ہرگز شائع نہیں کیا اور اس شخص اور اس سال کی میرے ساتھ کچھ آمد ورفت اور ملاقات نہیں تا میں نے ان کو زبانی کچھ کہا ہوتا۔

مواہب الرحمٰن ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٤) پر لکھتے ہیں کہ: ’’مرسل کو خوف نہیں‘‘ مرزا قادیانی پہلے مریم تھے پھر مریم سے ابن مریم کیسے ہوئے؟۔

تعالیٰ نے اس الہام میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب گئے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں یا۔ در دزہ ہوا۔ در دزہ مجھے تنے کھجور کی طرف لے گیا اور آخر کئی مہینے بعد جو دس مہینے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا‘‘

(خلاصہ کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

”يريدون ان يروا طمثك“ بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض یں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا اور ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی یار محمد صاحب بی۔ اے۔ ایل۔ نمبر ٣٤ موسوم بہ اسلامی قربانی ص ١٢ مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر) میں لکھتے ہیں کہ: یح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کو سلب فرما لیا سلئے اشارہ کافی ہے۔ ’’استغفر اللہ !

یا روپے دفعہ کشفی طور پر ٢٤ یا ٢٣ روپے مجھے دکھلائے گئے۔ پھر اردو میں الہام ہوا کہ شمس الدین پٹواری ضلع لاہور بھیجنے والے ہیں۔“

(تریاق القلوب ص ٧٣، خزائن ج ١٥ ص ٢٩٥)

فشاں کاغذ دکھائی دیا۔ اس پر لکھا ہوا تھا ”آتش فشاں“

(از مکاشفات ص ٤٤، تذکرہ ص ٥٦٣)

’’ایک کتاب دکھائی گئی۔ جس پر لکھا تھا لائف‘‘

(از مکاشفات ص ٤٨، تذکرہ ص ٥٩٣)

’’٢٤؍فروری ١٩٠٥ء حالت کشفی میں جب کہ حضرت کی طبیعت ناساز تھی۔ ایک شیشی دکھائی گئی۔ جس پر لکھا ہوا تھا خاکسار پیپر منٹ‘‘

(از مکاشفات ص ٣٨، تذکرہ ص ٥٤٧)

’’ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے۔‘‘

(از البشریٰ ج ٢ ص ١٣٢، تذکرہ ص ٧٢٥)

’’کشفی رنگ میں مغز بادام دکھائے گئے اور کشف کا اس قدر غلبہ تھا کہ میں اٹھا کہ بادام لوں‘‘

(از مکاشفات ص ٦٠، تذکرہ ص ٧٢٤)

’’دیکھا کہ میرے مقابل پر کسی آدمی نے یا چند آدمیوں نے پتنگ چڑھائی ہے اور وہ پتنگ ٹوٹ گئی اور میں نے اس کو زمین کی طرف گرتے دیکھا۔ پھر کسی نے کہا غلام احمد قادیانی کی ہے یعنی فتح‘‘

(از مکاشفات ص ٦٠، تذکرہ ص ٧٢٣)

’’مرحوم امیر خاں کی بیوہ جس دن اس کا خاوند فوت ہوا میں نے دیکھا کہ اس بیوہ کی پیشانی پر ٥ یا ٦ یا ٧ کا عدد لکھا ہوا ہے۔ میں نے وہ مٹا دیا اور اس کی جگہ اس کی پیشانی پر ٦ کا عدد لکھ دیا۔‘‘

(از مکاشفات ص ٦١، تذکرہ ص ٧٣٨)

’’رویاء میں دیکھا کہ ایک لفافہ ہے۔ جس میں کچھ پیسے ہیں۔ کچھ پیسے اس میں سے نکل کر باہر سامنے بھی پڑے ہیں۔ اس کے بعد الہام ہوا تیرے لئے میرا نام چمکا۔‘‘

(بدر جلد ١ نمبر ١٨، ١٩٠٥ء، تذکرہ ص ٥٥٨)

’’ورڈ اینڈ ٹو گرلز یہ الہام انگریزی میں ہوا اور ساتھ ہی اس کا ترجمہ بھی یعنی یہ کہ ایک کلام اور دو لڑکیاں‘‘

(از مکاشفات ص ٤٨، تذکرہ ص ٥٩٣)

صفحہ ١٥٢

١٧...... الہام

”ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس اس کے کچھ معنی نہیں کھلے۔“

(از البشریٰ ج ١ ص ٣٦، تذکرہ ص ٩١)

١٨...... الہام

”ربنا عاج ہمارا رب عاجی ہے عاجی کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔“

(حاشیہ براہین ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤، ٦٦٣، البشریٰ ج ١ ص ٤٣، تذکرہ ص ١٠٢)

١٩...... الہام

”ھوشعنا نعسایہ الہام شاید عبرانی ہے۔ جس کے معنی نہیں کھلے۔“

(حاشیہ براہین ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤، البشریٰ ج ١ ص ٤٣، تذکرہ ص ١٠٢)

٢٠...... الہام

”یکم ستمبر ١٩٠٣ء کو الہام ہوا فیر مین معقول آدمی۔“

(از البشریٰ ص ٨٢ ج ٢، تذکرہ ص ٤٨٤)

٢١...... الہام

”چودھری رستم علی“

(٢٦ مارچ ١٩٠٥ء از البشریٰ ج ٢ ص ٩٤، تذکرہ ص ٥٣٢)

٢٢...... الہام

”٣؍ستمبر ١٨٩٨ء غثم غثم غثم“

(از البشریٰ ج ٢ ص ٥٠، تذکرہ ص ٣١٩)

٢٣...... الہام

”آج حاجی ارباب محمد لشکر خاں کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے۔“

(از البشریٰ ج ١ ص ١٧، تذکرہ ص ٥٧)

٢٤...... الہام

”بست و یک روپیہ آنے والے ہیں۔ بست و یک روپے آئے ہیں۔ بست و یک آئے ہیں۔“

(براہین ص ٥٢٢، ٥٢٣، خزائن ج ١ ص ٢٦٢، ٢٦٥، تذکرہ ص ١١٠)

٢٥...... الہام

”الہام ہوا تھا کہ عورت کی چال ایلی ایلی لما سبقتانی بریت واذ کففت عن بنی اسرائیل“

(از البشریٰ ج ٢ ص ٧٠، تذکرہ ص ٥٩٧)

صفحہ ١٥٣

٢٦...... الہام

”پریشن عمر براطوس یا پلاطوس نوٹ ! آخری لفظ پرطوس ہے یا پلاطوس ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور نمبر ٢ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں ۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٥١، مکتوبات ج ١ ص ٦٨، تذکرہ ص ١١٥)

٢٧...... الہام

”آئی لو یو۔ آئی ایم ود یو ۔ آئی شیل ہیلپ یو ۔ آئی کین وہٹ آئی ول ڈو۔ وی کین وہٹ وی ول ڈو۔ ان الہامات کے نزول کے وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہو کر بول رہا ہے۔“

(البشریٰ ج ١ ص ١٧، براہین ج ٤ ص ٤٨٠، خزائن ج ١ ص ٥٧١، ٥٧٢، تذکرہ ص ٦٣)

مرزا قادیانی کا ایک الہام اور خوش فہمی

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٢ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٧١) میں مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں۔

”بعض نادان کہتے ہیں کہ عربی میں کیوں الہام ہوتا ہے۔ اس کا یہی جواب ہے کہ شاخ اپنی جڑ سے علیحدہ نہیں ہو سکتی۔ جس حالت میں یہ عاجز نبی کریم ﷺ کی کنار عاطفت میں پرورش پاتا ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کا یہ الہام بھی اس پر گواہ ہے کہ تبارک من علم وتعلم بہت برکت والا وہ انسان ہے۔ جس نے اس کو فیض روحانی سے مستفیض کیا یعنی سیدنا رسول اللہ ﷺ اور دوسرا بہت برکت والا یہ انسان ہے۔ جس نے اس سے تعلیم پائی۔ تو پھر جب معلم اپنی زبان عربی رکھتا ہے ایسا ہی تعلیم پانے والے کا الہام بھی عربی میں چاہئے۔ تا مناسبت ضائع نہ ہو۔“

عربی میں الہام ہونے کی وجہ یہ تحریر فرماتے ہیں کہ چونکہ مرزا قادیانی کی نبوت اور رسالت آنحضرت ﷺ کی نبوت اور رسالت کی شاخ ہے اور مرزا قادیانی کے الہامات حضور ﷺ کے الہامات کی شاخ ہیں۔ اس لئے ہو نہیں سکتا کہ اصل تو عربی زبان رکھتا ہو اور اس کا ظل دوسری زبان میں ملہم ہو۔ لفظ یہی حصر کے لئے ہے اور ’نہیں ہو سکتی۔‘ غیر ممکن ہونے پر دال ہے۔

پس مرزا قادیانی کے وہ الہامات جو اردو، ہندی، فارسی، پنجابی، انگریزی اور مختلف زبان اور ایسی زبان میں ہیں جو سمجھنے میں نہ آئے ۔ وہ آنحضرت ﷺ کے الہامات کی شاخ نہیں ہیں۔ بلکہ وہ کسی اور نبی ہندی یا انگریزی یا اردو یا مخلوط زبان یا غیر مفہوم زبان رکھنے

صفحہ ١٥٤

والے کے الہام کی شاخ ہوں گے؟۔ یا محض وسوسہ نفسانی کیونکہ آنحضرت ﷺ کے الہام کی شاخ ہونے کے لئے عربی ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ شاخ جڑ سے علیحدہ نہیں ہو سکتی۔ ” فتبارک من علم وتعلم “ (تذکرہ ص ٤٥) اس الہام میں اوّل تو من اسم موصول زائد ہے۔ جس کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ ایک اسم موصول کافی ہے۔ یعنی ” الذی تبارک الذی علم وتعلم “ میں علم وتعلم دونوں معطوف الیہ و معطوف الذی کے صلہ ہیں اور اسم موصول صلہ سے مل کر فاعل تبارک کا پس معلوم ہوا کہ علم وتعلم ایک ہی فاعل کے فعل اور ایک ہی کے ساتھ قائم ہیں۔ یعنی اگر الذی علم سے مراد حضور ﷺ ہوں گے تو صفت تعلم بھی انہیں کے واسطے ثابت ہوگی۔ معنی یہ ہوں گے بہت برکت والا ہے وہ شخص جس نے سکھایا اور سیکھا۔ (یعنی حضور ﷺ ) اور مرزا قادیانی الذی کو تبارک کا فاعل قرار دے کر اس کے صلہ کے دو ٹکڑوں کو دو شخصوں کی صفت بتاتے ہیں۔ یعنی علم سے مراد حضور ﷺ لیتے ہیں اور تعلم سے خود ذات شریف (ترجمہ انہوں نے یہ کیا کہ: ”پس بڑا مبارک ہے وہ جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی “) کوئی ان حضرات سے پوچھے کہ اس ترجمہ کے موافق تعلم کا عطف الذی پر ہوگا اور تبارک کا فاعل بنانا ہوگا۔ حالانکہ فعل مسند الیہ نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ تعلم تبارک کا فاعل کیسے ہو گیا اور یہ بھی بتائیں کہ تعلم کا فاعل کون ہے۔ اگر ضمیر ہے تو کس کی طرف راجع ہے اور اگر اسم ظاہر ہے تو کہاں غائب ہو گیا اور بصورت ضمیر ہونے کے اگر الذی کی طرف راجع ہے تو ایک ہی الذی سے دو شخص کیسے مراد ہو گئے۔ مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے کہ میرے مقابلہ میں کوئی عربی فصیح نہیں لکھ سکتا۔ لیکن ایک الہامی جملہ میں ایسی فاش غلطی ان کے دعوے کی روشن دلیل ہے۔

قادیانی فقیرانہ زندگی کا نمونہ

سرکاری ملازمت: ”آپ کے والد قلیل پینشن پاتے تھے۔ آپ کے والد کی بہت خواہش تھی کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اور کم عمری میں آپ کی شادی ہو گئی تھی۔ عنفوان جوانی میں سلطان احمد و فضل احمد وغیرہ پیدا ہو گئے تھے۔ چنانچہ آپ سیالکوٹ کچہری میں قلیل تنخواہ (یعنی پندرہ روپے ماہوار) پر ملازم ہو گئے۔“

(از سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٤٣ روایت نمبر ٤٩ ص ١٥٦ روایت نمبر ١٥٠) اور وہاں مختاری کا امتحان بھی دیا مگر فیل ہو گئے۔

١٨٩٥ء میں مریدوں کی تعداد جن کے دستخط موجود ہیں۔ چار ہزار لکھی جاتی ہے۔ قولہ ” اور یہ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ ہماری جماعت صرف پندرہ آدمی ہیں۔ بلکہ وہ کئی ہزار اہل علم اور

صفحہ ١٥٥

عقل آدمی ہیں۔ اگر ہم پندرہ سے سو گناہ زیادہ پیش کر دیں تو کیا آتھم صاحب سے قسم دلا دیں گے۔ یا نہیں...... کیا ہزار یا دو ہزار یا تین ہزار یا چار ہزار آدمی کے دستخط پر ان کا پندرہ کا دعویٰ باطل ہو جائے گا۔"

(تبلیغ رسالت جلد چہارم ص ٥٩، ٦٠، دسمبر ١٨٩٥ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٠٣)

اب سنئے ١٨٩٦ء میں مریدوں کی تعداد آٹھ ہزار ہو جاتی ہے۔ قولہ ”مباہلہ سے پہلے میرے ساتھ تین سو چار سو آدمی ہوں گے۔ اب آٹھ ہزار سے زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جاں فشاں ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠، ١٨٩٦ء)

خدا کی قدرت کہ ١٨٩٨ء میں انکم ٹیکس کا معاملہ پیش آ گیا۔ مرزا قادیانی کو انکم ٹیکس معاف کرانے کی فکر ہوئی۔ چنانچہ معاملہ کی تفتیش کرنے والے تحصیلدار کے سامنے مریدوں کی فہرست بھی پیش کرنی پڑی۔ اس سارے قصہ کا ذکر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔

(ضرورة الامام ص ٤٢، ٤٣، خزائن ج ١٣ ص ٥١٤ ستمبر ١٨٩٨ء) میں تحصیلدار صاحب کی رپورٹ میں ہے۔ ”اس فرقہ میں حسب فہرست منسلکہ ہذا ٣١٨ آدمی ہیں۔“

اور (ص ٤٥، خزائن ج ١٣ ص ٥١٦) میں ہے۔ ”مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے حلفی بیان میں لکھایا ہے کہ اس کو تعلقہ داری زمین و باغ کی آمدنی ہے۔ تعلق داری کی سالانہ تخمیناً بیاسی روپے۔ زمین کی تخمیناً ٣٠٠ روپیہ سالانہ باغ کی تخمیناً دو سو روپے۔ چار سو روپے اور حد پانچ سو روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو کسی قسم کی اور آمدنی نہیں ہے اور مرزا قادیانی نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کو تخمیناً پانچ ہزار دو سو روپے سالانہ مریدوں سے اس سال پہنچا ہے۔ ورنہ اوسط سالانہ آمدنی قریباً چار ہزار روپے کی ہوتی ہے۔ وہ پانچ مدوں میں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ (اول مہمان خانہ۔ دوم مسافر، یتیم، بیوہ۔ سوم مدرسہ۔ چہارم سالانہ اور دیگر جلسہ جات۔ پنجم خط و کتابت مذہبی ص ٤٤) خرچ ہوتی ہے اور اس کے ذاتی خرچہ میں نہیں آتی۔ خرچہ اور آمدنی کا حساب باضابطہ کوئی نہیں ہے۔“

مگر آپ ١٨٩٦ء میں کیا ارشاد فرما چکے ہیں۔ ”پانچ مدات میں سے صرف لنگر خانہ کا خرچ کم از کم ٢٠٠٠ ہزار سالانہ ہے۔ دیگر مدات کا کیا ذکر قولہ ”اور جسمانی نعمتیں جو مباہلہ کے بعد میرے پر وارد ہوئیں وہ مالی فتوحات ہیں۔ جو اس درویش خانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے کھول دیں۔ مباہلہ کے روز سے آج تک ٥٠٠٠ روپے کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا جو اس سلسلہ کے ربانی مصارف میں خرچ ہوا۔ جس کو شک ہو وہ ڈاک خانہ کی کتابوں کو دیکھ لے اور دوسرے ثبوت ہم

صفحہ ١٥٦

سے لے لے اور رجوع خلائق کا اس قدر مجمع بڑھ گیا کہ بجائے اس کے کہ ہمارے لنگر میں ساٹھ یا ستر روپے ماہوار کا خرچ ہوتا اب اوسط خرچہ کبھی پانچ سو کبھی چھ سو روپے ماہوار تک ہو گیا‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٤، ١٨٩٦ء)

طرفہ یہ کہ مرزا قادیانی نے ٢٥/ جون ١٨٩٨ء میں رجسٹری کروائی اور اپنی تمام زمین اپنی زوجہ ثانیہ کے پاس رہن رکھ کر چار ہزار روپے کا زیور اور ایک ہزار نقد وصول کیا اور میعاد رہن تین سال رکھی تھی اور صاف الفاظ میں لکھا کہ اب تمام آمدنی میری زوجہ کی ہوگی ۔

(سیرۃ المہدی روایت نمبر ٣٦٦ ج ٢ ص ٥٣)

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٣٣ روایت نمبر ٤١) میں صاحبزادہ بشیر احمد نے مفصل لکھا ہے کہ ”سلطان احمد اور فضل احمد کی ماں سے مرزا قادیانی کو اوائل ہی سے بے تعلقی تھی۔ ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ ہاں آپ اخراجات باقاعدہ دیا کرتے تھے (اپنی پندرہ روپے تنخواہ سے) مرزا قادیانی نے جب دوسری شادی کر لی اور تمام جائداد رہن بنام زوجہ ثانیہ رکھ کر اطمینان حاصل کر لیا۔ تو زوجہ اولیٰ کو طلاق دے دی اور سلطان احمد اور فضل احمد کو عاق کر دیا گیا۔ صرف اس قصور کی بناء پر کہ محمدی بیگم منکوحہ آسمانی کے نکاح سے کیوں مخالف ہیں اور سلطان احمد نے کیوں اپنی زوجہ کو جو والدین محمدی بیگم کی بہت قریبی رشتہ دار تھی۔ میرے کہنے سے طلاق نہیں دی۔ جب کہ انہوں نے مرزا قادیانی کی درخواست کو نامنظور فرما کر محمدی بیگم کا دوسری جگہ نکاح کر دیا ۔“

مرزا قادیانی کے ایک مرید نے ایک ٹریکٹ بعنوان ”خطوط امام بنام غلام“ شائع کیا ہے۔ اس کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں ۔

خدمت میں ارسال ہیں۔ آپ دو تولہ مشک خالص دو شیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی تولہ تولہ ارسال فرمائیں۔“

(خطوط بنام امام ص ٣٢)

پی بھیج دیں۔ ضرور بھیج دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٣)

شرطی ہو تو بہتر ورنہ اپنی ذمہ داری پر بھیج دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٥)

نہ ہوں اور تازہ و خوشبودار ہو۔ بذریعہ و ہے۔“

ساتھ لائیں۔“

ہی ایک تولہ مشک خالص جس میں چھیچھ پے اسہل کرا کر بھیج دیں۔ جس قدر قیم جیسا کہ عمدہ اور تازہ مشک میں تیز خوشبو

خیمہ خریدنے کے لئے بھیجتا ہوں۔ چ تجربہ کار ہوں بہت عمدہ خیمہ معہ قناتو بیچنے والوں میں سے یہ خیال پیدا نہ ہ نوابوں سے دو چند سہ چند مول لیتے ہ

مرزا قادیانی کی قلیل آمد سے بچنے کے لئے فرضی رہن رکھی گئی مشک اور عنبر اور دیگر مفرحات اور ریشمی کئی کئی بیویاں ، کئی کئی ملازم ، ملازمہ او تسلسل یہاں تک کہ ” دن بھر میں سو

ان بیماریوں کا علاج مع ”فَاعْتَبِرُوا یَاولِی الاَبْصَ ڈیڑھ لاکھ کی جائیداد بروئے ب ١٩٢٠ء ۔ مرزا اکرم بیگ ولد مرزا

صفحہ ١٥٧

اور رجوع خلائق کا اس قدر مجمع بڑھ گیا کہ بجائے اس کے کہ ہمارے لنگر میں ساٹھ یا وار کا خرچ ہوتا اب اوسط خرچہ کبھی پانچ سو کبھی چھ سو روپے ماہوار تک ہو گیا“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٢، ١٨٩٦ء)

مگر یہ کہ مرزا قادیانی نے ٢٥ جون ١٨٩٨ء میں رجسٹری کروائی اور اپنی تمام زمین کے پاس رہن رکھ کر چھ ہزار روپے کا زیور اور ایک ہزار نقد وصول کیا اور میعاد رہن لکھی اور صاف الفاظ میں لکھا کہ اب تمام آمدنی میری زوجہ کی ہوگی۔

(سیرۃ المہدی روایت نمبر ٣٦٦ ج ٢ ص ٥٣)

سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٣٣ روایت نمبر ٤١) میں صاحبزادے بشیر احمد نے مفصل لکھا ہے حمد اور فضل احمد کی ماں سے مرزا قادیانی کو اوائل ہی سے بے تعلقی تھی۔ ان سے کر دی تھی۔ ہاں آپ اخراجات باقاعدہ دیا کرتے تھے (اپنی پندرہ روپے تنخواہ قادیانی نے جب دوسری شادی کر لی اور تمام جائداد رہن بنام زوجہ ثانیہ رکھ کر اطمینان زوجہ اولیٰ کو طلاق دے دی اور سلطان احمد اور فضل احمد کو عاق کر دیا۔ صرف اس محمدی بیگم منکوحہ آسمانی کے نکاح سے کیوں مخالف ہیں اور سلطان احمد نے کیوں دین محمدی بیگم کی بہت قریبی رشتہ دار تھی۔ میرے کہنے سے طلاق نہیں دی۔ جب زا قادیانی درخواست کو نامنظور فرما کر محمدی بیگم کا دوسری جگہ نکاح کر دیا۔“

قادیانی کے ایک مرید نے ایک ٹریکٹ بعنوان ”خطوط امام بنام غلام“ شائع کیا ر اقتباسات ملاحظہ ہوں:۔

ل ہیں۔ آپ دو تولہ مشک خالص دوشیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی تولہ تولہ ارسال

(خطوط بنام امام ص ٢، ٣)

پی بھیج دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٣)

پنی ذمہ داری پر بھیج دیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٥)

نہ ہوں اور تازہ و خوشبودار ہو۔ بذریعہ ویلو پے ایبل ارسال فرمائیں کیونکہ پہلی مشک ختم ہو چکی ہے۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

ساتھ لائیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

ہی ایک تولہ مشک خالص جس میں چھچھڑا نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ چاہئے خوشبودار ہو۔ ضرور ویلو پے ایبل کرا کر بھیج دیں۔ جس قدر قیمت ہو مضائقہ نہیں۔ مگر مشک اعلیٰ درجہ کی ہو۔ چھچھڑا نہ ہو اور جیسا کہ عمدہ اور تازہ مشک میں تیز خوشبو ہوتی ہے۔ ویسی اس میں ہو۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٦)

(خطوط امام بنام غلام ص ٨)

خیمہ خریدنے کے لئے بھیجتا ہوں۔ چاہتے کہ آپ اور دوسرے چند دوست داروں کے ساتھ جو تجربہ کار ہوں بہت عمدہ خیمہ معہ قناتوں اور دوسرے سامانوں کے بہت جلد روانہ کریں اور کسی کو بیچنے والوں میں سے یہ خیال پیدا نہ ہو کہ کسی نواب صاحب نے یہ خیمہ خریدا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ نوابوں سے دو چند سہ چند مول لیتے ہیں۔“

(خطوط امام بنام غلام ص ٤)

مرزا قادیانی کی قلیل آمدنی آپ پہلے معلوم کر چکے وہ ٣٠ سال تک دین مہر زوجہ مطلقہ سے بچنے کے لئے فرضی رہن رکھی گئی اور مریدوں کی آمدنی ان کے ذاتی خرچہ میں نہیں آتی اور مشک اور عنبر اور دیگر مفرحات اور ریشمی پارچات اور رئیسانہ ٹھاٹھ کی یہ بہتات، کثیر العیال والا والد کئی کئی بیویاں، کئی کئی ملازم ملازمہ اور نوکر چاکر اور پھر زور کے بیمار سلس البول اور دیگر بیماریوں کا تسلسل یہاں تک کہ دن بھر میں سو سو دفعہ پیشاب آتا تھا۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ص ٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

ان بیماریوں کا علاج معالجہ یہ قلیل آمدنی ان اخراجات کو کیسے برداشت کر سکتی ہے۔ ”فأعتبروا یاولی الابصار“ دیکھئے مرزا قادیانی کے بعد ان کے صاحبزادے نے ڈیڑھ لاکھ کی جائیداد بروئے بیعانہ مورخہ ٢١ جون ١٩٢٠ء رجسٹری شدہ مورخہ ٥ جولائی ١٩٢٠ء۔ مرزا اکرم بیگ ولد مرزا فضل بیگ و خاتون سردار بیگم بیوہ مرزا فضل بیگ ساکنان

صفحہ ١٥٨

قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور سے خریدی۔

قادیانی درفشانی کا نمونہ

افسوس تم اس سے پہلے مر جاتے تو اچھا ہوتا۔“

(ضیاء الحق ص ٤٣، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)

(ضیاء الحق ص ٤٦، خزائن ج ٩ ص ٢٩٤)

کے ہمراہیو! عیسائیوں کی فتح کیا ہوئی کہ تمہاری ایسی تیسی ۔“

(حاشیہ اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

(اشتہار مذکور ص ١٣، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨)

(اشتہار مذکور ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٧)

(انوار الاسلام ص ٣١، خزائن ج ٩ ص ٣٢)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٤)

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣٢)

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٩٠، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٣٨ ، ١٣٩)

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١١٨، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤٥)

(نزول المسیح ص ٦٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٤١)

صفحہ ١٥٩

بٹالہ ضلع گورداسپور سے خریدی گئی ۔

ثانی کا نمونہ

”اے شریر مولویو اور ان کے چیلو! فرعون کے ناپاک سگو تمہاری حالت پر سے پہلے مر جاتے تو اچھا ہوتا ۔“

(ضیاء الحق ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٢٩١)

”ابولہب سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی ہے ۔“

(ضیاء الحق ص ٤٦، خزائن ج ٩ ص ٢٩٤)

”بعض مخالف مولوی نام کے مسلمان اے بے ایمانو! نیم عیسائیو! دجال عیسائیوں کی فتح کیا ہوئی کیا تمہاری ایسی تیسی ۔“

(حاشیہ اشتہار انعامی تین ہزارص ٥ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩)

”اے احمق! دل کے اندھے دجال تو تو ہے ہی ۔اے مردار ۔“

(اشتہار مذکورص ١٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨)

”ہزار لعنت کا رسہ ان پادریوں کے گلے میں ۔حرام خور آدمی ۔“

(اشتہار مذکورص١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٧)

”بجز اس کے کیا کہیں کہ ایک خطاء و خطا سوم مادر بخطا ۔“

(انوار الاسلام ص ٣١، خزائن ج ٩ ص ٣٢)

”یا ابن البغا، یعنی اے حرامی زانیہ کے بیٹے ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٣)

”اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

”حرام زادے کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے ۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣٢)

”دزد منش روباہ باز ..... نجاست کا بھرا لٹھ“

(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٨٧، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٣٩، ١٣٨)

”بے عزت، دیوث ۔“

(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٨٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥)

”صرفی نحوی غلطی کا الزام گوہ کھانا ہے ۔“

(نزول المسیح ص ٦٣، خزائن ج ١٨ ص ٤٤١)

نوٹ! مرزا قادیانی کا خود تو یہ عمل ہے اور اپنی امت کو فرماتے ہیں ۔ ”یاوہ گوئی کے مقابلہ پر یاوہ گوئی نہ کریں اور گالیوں کے مقابلہ میں گالیاں نہ دیں ۔“

(راز حقیقت ص ١، خزائن ج ١٤ ص ١٥٣)

مرزا قادیانی کی یہ گالیاں بھی الہامی ہیں ۔ کیونکہ مرزا قادیانی پر وحی ہو چکی ہے ۔ ”ما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحى“

(تذکرہ ص ٣٧٨)

مرزا قادیانی کی طرح اس امت میں جھوٹے مدعی نبوت و مسیحیت ہمیشہ آتے رہے ہیں۔ کما جاء فی الحدیث!

مسیلمہ کذاب

پانچ ہفتہ میں اس کے ایک لاکھ سے زیادہ آدمی مرید ہو گئے تھے ۔ صحابہؓ کے زمانہ میں مارا گیا۔ (دبستان مذاہب مطبوعہ نولکشور ص ٢٩٧) میں لکھا ہے کہ ١٠٥٣ھ تک مسیلمہ کذاب کے پیرو پائے گئے ۔ ان کا مذہب یہ ہے کہ ”بر مسلم واجب است که مسیلمه را مخبر صادق و پیغمبر داند وگرنه اسلام او مسلم نیست ...... مسيلمه در نبوت با حضرت رسالت پناہ محمدی شریک بود چنانچه هارون با موسیٰ ...... و آنچه محمد ﷺ آورده همه حق است و مسیلمه هم بران راہ سپربود“ (تاریخ طبری ج ٢ ص ٢٧٦ طبع بیروت ٢٠٠١ء) میں بھی اسی طرح ہے اور لکھا ہے کہ اذان میں کلمہ شہادت بھی پڑھتے ہیں۔ مسیلمہ کے معجزات بھی بہت سے بیان کئے جاتے ہیں ۔

اسود عنسی

اس کے بھی بہت سے پیرو ہو گئے تھے ۔ اس کاذب کی جماعت کا ایسا غلبہ ہوا کہ اس نے شہر صنعاء پر قبضہ کر لیا ۔ ان دونوں جھوٹوں کا احادیث میں ذکر ہے۔

طلیحہ بن خویلد

اس نے مرتد ہو کر حضور ﷺ ہی کے زمانہ میں دعویٰ نبوت کیا ۔

(المساوی والمحاسن ج ١ ص ٢٣)

صالح بن طریف

صالح نے ١٢٧ھ میں دعویٰ نبوت و مہدی اکبر کا کیا ۔ دعویٰ نبوت سے بادشاہ بن گیا

صفحہ ١٦٠

اس کے خاندان میں ٣٠٠ برس بادشاہت رہی۔ مدت دعویٰ نبوت ٢٧ برس، اپنی موت سے مرا۔

(خلدون ج ٢ ص ٢٠٩ طبع بیروت ١٩٩٩ء)

اور اس کے زمانہ میں رمضان ١٦١ھ میں چاند اور سورج کو گہن لگا اور طریف کے دعویٰ کے زمانہ میں بھی رمضان ١٢٧ھ میں گہنوں کا اجتماع ہوا تھا۔

ابو منصور عیسیٰ

اس نے ٣٤١ھ میں دعویٰ نبوت کیا اور رمضان ٣٤٦ھ میں گہنوں کا اجتماع ہوا۔ دعویٰ نبوت ٢٣ برس کے بعد مارا گیا۔

(خلدون ج ٦ ص ٢١٠ طبع بیروت)

فارس بن یحییٰ

اس نے مصر کے علاقہ میں نبوت اور عیسیٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ کیا اور طلسم وغیرہ سے مردہ بھی زندہ کر کے دکھایا۔

(کتاب المختار منقول از افادۃ الافہام ج ١ ص ٣٢١)

اسحاق اخرس

یہ شخص قرآن، توریت، انجیل کا ماہر اور حافظ تھا۔ بڑا گویا اور لسان تھا۔ اقصیٰ مغرب میں پہنچا اور کئی برس خود کو گونگا مادر زاد مشہور کیا۔ ایک دن نہایت فصیح و بلیغ خطبہ پڑھا کہ بڑے بڑے عالم فاضل متحیر ہو گئے۔ پوچھا گیا کہ آپ تو مادر زاد گونگے تھے۔ اس قدر گویائی اور فصاحت و بلاغت کہاں سے رات ہی رات میں حاصل ہو گئی۔ بہت اصرار کے بعد جواب دیا کہ آج رات فرشتے وحی و نبوت لے کر آئے اور کہا خدا نے تم کو رسول بنایا ہے۔ اسحاق نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ حق تعالیٰ محمدﷺ کو خاتم النبیین بنا دیا ہے۔ فرشتوں نے کہا سچ ہے۔ مگر محمد رسولﷺ ان نبیوں کے خاتم ہیں۔ جو نئے احکام لاتے ہیں اور تم اسی ملت کے نبی ہو، میں نے کہا مجھ سے یہ دعویٰ نہیں ہو سکتا۔ میرے تصدیق کون کرے گا۔ پس مجھ کو یہ معجزہ دیا گیا۔

(کتاب المختار از افادۃ الافہام ج ١ ص ٣٢١)

لا متنبی

ایک شخص نے لا اپنا نام مدتوں مشہور کیا اور پھر نبوت کا دعوے دار بنا اور یہی حدیث متواتر لا نبی بعدی اپنی نبوت کے استشہاد میں پیش کی اور اسی حدیث کو اپنی نبوت کا گواہ بنالیا اور یہ معنی کرتا تھا کہ مسمی لا میرے بعد نبی ہوگا۔

(حج الکرامہ ص ٤٣٧)

ایک عورت متنبیہ

ایک عورت نے مصر مقابلہ میں پیش کیا اس نے جواب بعد کوئی مرد نبی نہ ہوگا۔ لا نبية بع

بہاء اللہ

بہاء اللہ نے نبوت اور کے مرا۔ بہاء اللہ مرزا قادیانی ا اصول سب اسی سے ماخوذ ہیں۔ ا نوٹ! حضورﷺ کے رہے ہیں۔ لیکن آیت خاتم النبیین سکندری کی طرح حائل تھی۔ اس سے ہر شخص نے اپنے اپنے فہم کے کی لایعنی تحریفات کب کھپ سکتی ساتھ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کی ت

سید محمد جونپوری

اور سید محمد جونپوری حیدرآباد گجرات و ماڑواڑ میں بکثر

عبیداللہ مہدی

عبیداللہ مہدی نے ا چوبیس سال، اپنی موت سے مرا

صفحہ ١٦١

ایک عورت متنبیہ

ایک عورت نے مغرب میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ لوگوں نے لا نبی بعدی! کا فرمان مقابلہ میں پیش کیا اس نے جواب دیا کہ حضورﷺ نے لا نبی بعدی! فرمایا ہے۔ یعنی میرے بعد کوئی مرد نبی نہ ہوگا۔ لا نبية بعدی! نہیں فرمایا کہ میرے بعد کوئی عورت بھی نبی نہ ہوگی۔

(حج الکرامہ ص٤٣٧)

بہاء اللہ

بہاء اللہ نے نبوت اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور چالیس برس نبوت کا اعلان کر کے مرا۔

(الکواکب رسالہ بہائیہ ٢٥؍جون ١٩٢٤ء ص٣)

بہاء اللہ مرزا قادیانی کا ہمعصر ہے۔ مرزا قادیانی سے پہلے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مرزائی اصول سب اسی سے ماخوذ ہیں۔ الا قليلاً!

نوٹ! حضورﷺ کے فرمان کے مطابق اس امت میں جھوٹے مدعی نبوت ہمیشہ آتے رہے ہیں۔ لیکن آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی! اس کے اثبات دعویٰ میں سد سکندری کی طرح حائل تھی۔ اس لئے سب کی نظر عنایت ان کی تحریف پر تلی رہی ہے اور ان میں سے ہر شخص نے اپنے اپنے فہم کے مطابق ان کی تحریف میں کوشش کی۔ لیکن امت محمدیہ میں اس قسم کی لایعنی تحریفات کب کھپ سکتی تھیں۔ امت نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ایک مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کی تحریفات مرزائی تحریفات سے زیادہ دلچسپ تھیں۔

سید محمد جونپوری

اور سید محمد جونپوری نے ٩٠١ھ میں مہدویت کا دعویٰ کیا۔ جس کے مرید آج تک حیدرآباد گجرات و ماڑواڑ میں بکثرت ہیں۔

عبید اللہ مہدی

عبید اللہ مہدی نے افریقہ میں خروج کیا اور طرابلس ومصر کو فتح کرلیا۔ مدۃ مہدویت چوبیس سال، اپنی موت سے مرا۔

(ابن اثیر ج٧ ص٩٩ طبع بیروت)

صفحہ ١٦٢

محمد علی باب

محمد علی باب نے ایران میں مہدویت کا دعویٰ کیا اور اس کے زمانہ ١٢٦٧ھ میں گہنوں کا اجتماع ہوا۔

نوٹ! مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢) میں فرماتے ہیں کہ ”اگر یہ ظالم مولوی اس قسم کا خسوف و کسوف کسی اور مدعی کے وقت میں پیش کر سکتے ہیں تو پیش کریں اس سے بے شک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔“

تنبیہ! یہ خسوف و کسوف تو ١٣، ٢٨ تاریخ ماہ رمضان ١٣١١ھ میں ہوا اور ١٣١٢ھ میں امریکہ میں جہاں ڈاکٹر ڈوئی مدعی تھا، خسوف و کسوف واقع ہوا۔

نوٹ! (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٥٦) میں مرزا قادیانی نے لوتقول علینا بعض الاقاویل! کو اپنی نبوت کی صداقت کے لئے معیار بنایا ہے کہ جھوٹے نبی کو ٢٣ برس کی مہلت نہیں دی جاتی۔ بلکہ اس کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس آیت سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ اس آیت میں جو بعض کا لفظ آیا ہے وہ جھوٹے ملہموں کو سزا سے خارج کر دیتا ہے۔ کیونکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سچا ملہم اگر بفرض محال اپنے سچے الہاموں کے ساتھ بعض جھوٹے الہام بھی بیان کر دے تو اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کی ہے کہ ہم اس کو بری طرح ذبح کر ڈالیں۔ غرض بعض الاقاویل کی قید نے نہایت صفائی سے جھوٹے ملہم کو اس آیت سے نکال دیا اور نیز حالانکہ ہزاروں سچے نبی شہید کر دئیے گئے۔

”یقتلون النبیین بغیر الحق (بقرہ: ٦١)“ ”فریقاً کذبتم ففریقاً تقتلون (بقرہ: ٨٧)“ ”وقتلهم الانبیاء بغیر حق (آل عمران: ١٨١)“ بہت سی آیات ناطق ہیں۔ کیا وہ سب معاذ اللہ! جھوٹے تھے؟۔ اور حالانکہ بیسیوں نے جھوٹے دعوے کے ساتھ یہ مہلت پائی کیا وہ سچے نبی ہوئے؟۔ اور پھر تعجب ہے کہ جب حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں تو آپؐ کے بعد معیار نبوت کیسا؟۔ اور پھر مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کے بعد ٢٣ برس کی مہلت کہاں پائی؟۔ ١٩٠٠ء کے بعد دعویٰ نبوت کیا ١٩٠٨ء میں انتقال ہوا۔ کل آٹھ برس زندہ رہے۔ اگر دعویٰ مسیحیت کو بھی لیا جائے تو بھی یہ مدت نہیں ملی۔ کیونکہ ”دعوٰی مسیحیت ١٨٩١ء میں کیا ۔“ اس کے بعد ١٧ سال چند ماہ زندہ رہے۔

(حقیقت النبوۃ ص ٥١، ٥٥، ١٢٠، ١٢١)

کیونکہ لوتقول میں وحی نبوت ہی کا تقول مراد ہے۔

صفحہ ١٦٣

اسلامی عقیدہ نمبر٢... انقطاع وحی نبوت

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد کسی پر وحی نبوت نازل نہیں ہوسکتی ۔ حضور ﷺ کے بعد مدعی وحی نبوت قطعا کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

وخاتم النبیین (احزاب : ٤٠) " ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے آخری نبی ہیں ۔﴾

نوٹ ! جب حضور ﷺ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ مسدود ہے تو لا محالہ وحی نبوت و رسالت کا بھی دروازہ بند ہے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ کسی پر وحی نبوت تو ہو اور وہ نبی نہ ہو۔

لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین (الزمر : ٦٥) " ﴿آپ کی طرف اور آپ سے پہلے جس قدر انبیاء آئے سب کی طرف یہ وحی کی گئی کہ اگر تم بھی شرک کرو تو تمہارے بھی سارے عمل تباہ ہو جائیں اور تم خاسرین میں داخل ہو جاؤ۔﴾

نوٹ! اس آیت سے بالکل صاف واضح ہے کہ حضور ﷺ کے بعد وحی نبوت نہیں ۔ اگر حضور ﷺ کے بعد وحی نبوت باقی رہتی تو یہ فرمایا جاتا کہ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے جس قدر انبیاء علیہم السلام آئے اور آپ کے بعد جس قدر انبیاء آئیں گے ......الخ ! حالانکہ توحید اور اجتناب شرک کی وحی ہر نبی پر لازمہ نبوت ہے۔

وبالآخـرة هـم یـوقـنـون ٠ اولـئک علـى هـدى مـن ربـهـم واولـئک هـم المفلحـون (بقرہ : ٤ ، ٥) " ﴿جو ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو آپ پر نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپ سے پہلے نازل کی گئی اور دن آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ خدا کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔﴾

نوٹ! قرآن کریم میں بیسیوں جگہ اس قسم کی آیتیں ہیں جن میں بس پہلے نبیوں کی وحی نبوت پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ لیکن حضور ﷺ کے بعد وحی نبوت کا کہیں ذکر بھی نہیں ۔ اگر حضور ﷺ کے بعد بھی وحی نبوت نازل ہوتی تو اس پر ایمان لائے بغیر ہدایت اور فلاح ممکن نہیں ۔

صفحہ ١٦٤

لہٰذا حصول فلاح اور ہدایت کے لئے وحی ما بعد پر ایمان لانے کا بھی ذکر ضروری تھا۔ معلوم ہوا آپؐ کے بعد وحی نبوت نہیں۔ ہاں وحی غیر نبوت باقی ہے۔ مبشرات، الہام، تعریفات، رویاء صادقہ وغیرہ وغیرہ۔ ورنہ مطلق وحی تو شہد کی مکھی کی طرف بھی ہوتی ہے۔ ”واوحی ربک الی النحل (النحل:٦٨)“ اور شیاطین اپنے اولیاء کی طرف وحی کرتے ہیں۔ ”ان الشیطین لیو حون الی اولیائہ (انعام:١٢١)“

اقوال صحابہؓ

الدین (مشکوٰۃ ص ٥٥٦، باب مناقب ابی بکرؓ)“ ﴿ حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ فرمایا ابوبکرؓ نے تحقیق وحی نبوت منقطع ہوگئی اور دین تمام ہو چکا۔ ﴿

باب الشہد او العدول وقول الله)“ ﴿ عمرؓ سے روایت ہے کہ وحی نبوت منقطع ہو چکی ہے۔ ﴿

کتب عقائد

”فما بقى للاولياء اليوم بعد ارتفاع النبوة الا التعريف وانسدت ابواب الاوامر الالٰہیہ والنواہی فمن ادعاها بعد محمد ﷺ فهو مدع شريعة اوحى بها اليه سواء وافق بها شرعنا او خالف فان كان مكلفاً ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحاً (فتوحات مکیہ باب ٣١٠ ج ٣ ص ٣٩، مثله في اليواقيت مبحث ٣٥ ج ٢ ص ٣٨، مطبوعہ مصر)“ ﴿ آج نبوت کے انقطاع کے بعد اولیاء اللہ کے لئے سوائے معرفتوں کے کچھ باقی نہیں رہا اور اوامر و نواہی الٰہیہ کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ پس جو شخص محمد ﷺ کے بعد اس کا دعویٰ کرے وہ شریعت کا مدعی ہے۔ جو اس کی طرف وحی کی گئی برابر ہے۔ ہماری شریعت کے موافق ہو یا مخالف پھر اگر وہ مکلف یعنی عاقل بالغ ہے تو اس کی گردن ماریں گے اور اگر مکلف نہیں یعنی کوئی پاگل ہے تو اس سے پہلو تہی کریں گے۔ ﴿

”وكذالك من ادعى منهم انه يوحى اليه وان لم يدع النبوة...... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبى ﷺ (شفاء قاضی عياض ج ٢ ص ٢٤٧)“ ﴿ ایسے ہی وہ شخص بھی کافر ہے جس نے دعویٰ کیا کہ میری طرف وحی نبوت ہوتی ہے۔ اگرچہ نبوت کا دعویٰ نہ کرے۔ پس یہ کل کے کل کافر ہیں اور مکذب نبی کریم ﷺ کے۔ ﴿

”فمن اظلم م شئ (انعام:٩٣)‘ یعنی کچھ وحی نہیں کی گئی۔ اس سے خود مرزا قادیانی سے مراد اس جگہ کافر ہے۔“

کسی زمانہ میں ”میرا یقین ہے جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ”وحی نبوت پر ”اب جبرائیل سے منع کیا گیا ۔“ ”اگر چہ ایک جبرائیل علیہ السلام لاویں

مرزائی اور بارش کی طرح اترتی تھ میں کبھی عبرانی میں اور

اے لوگو ! میں تم سب ک

کہ ان کو کہہ دے کہ ت ہے۔ ﴿

صفحہ ١٦٥

”فمن اظلم ممن افترى على الله كذباً اوقال اوحى الى ولم يوح اليه شئ (انعام:٩٣)“ ”یعنی جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ حالانکہ کچھ وحی نہیں کی گئی۔ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے۔“

خود مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص١٦٣، حاشیہ خزائن ج٢٢ ص١٦٧) میں لکھتا ہے کہ ”ظالم سے مراد اس جگہ کافر ہے۔“

کسی زمانہ میں مرزا قادیانی کا بھی حضورﷺ کے بعد انقطاع وحی نبوت پر ایمان تھا۔

”میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہﷺ پر ختم ہو گئی۔“

(مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٣١)

”وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔“

(ازالہ ص٥٣٤، خزائن ج٣ ص٣٨٧)

”اب جبرائیل علیہ السلام بعد وفات رسول اللہﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا۔“

(ازالہ ص ٥٧٧، خزائن ج٣ ص٤١٢)

”اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جاوے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرائیل علیہ السلام لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٥٧٧، خزائن ج٣ ص٤١١)

مرزائی عقیدہ نمبر ٢... وحی نبوت جاری

مرزائی اور مرزا غلام احمد قادیانی معتقد ہیں کہ مرزا قادیانی موصوف پر وحی نبوت بارش کی طرح اترتی تھی۔ کبھی عربی میں کبھی اردو میں کبھی ہندی میں کبھی فارسی میں کبھی انگریزی میں کبھی عبرانی میں اور کبھی ایسی زبان میں جو سمجھ میں نہ آوے۔

اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔﴾

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٠)

﴿ان کو کہہ دے کہ میں تو ایک انسان ہوں۔ میری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔﴾

(حقیقت الوحی ص٨١، ٨٢، خزائن ج٢٢ ص٨٤)

صفحہ ١٦٦

طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی ہے۔ وہ لوگوں کو سنا۔﴾

(حقیقت الوحی ص ٧٤ ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

(تذکرہ ص ٧٤٦)

القادیان“﴿ابراہیم (مرزا قادیانی) کی جگہ کو قبلہ بناؤ اور مصلیٰ ٹھہراؤ ہم نے اس کو قادیان کے قریب نازل کیا ہے۔﴾

(حقیقت الوحی ص ٨٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)

اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی ۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٦ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھے ہوئی ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠ ، حقیقت النبوۃ ص ٢٦٤)

دے کہ اگر تم کو اللہ سے کچھ لو ہے تو تم میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت رکھے گا۔﴾

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١ ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

(خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان نہ لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا ۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ، ص ١٣ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

صفحہ ١٦٧

جس پر وحی نازل کی گئی ہے۔ وہ لوگوں کو سنا۔ ﴾

(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)

”بها النبی اطعم الجائع والمعتر“

(تذکرہ ص ٧٤٦)

”فاتخذوا من مقام ابراهیم مصلی انا انزلناه قریباً من (مرزا قادیانی) کی جگہ کو قبلہ بناؤ اور مصلیٰ ٹھہرا لو ہم نے اس کو قادیان کے ۔ ﴾

(حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)

”مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی..... اور ایسے ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

”اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر ایک ذرہ فرق کے اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں۔ جو مجھے ہوئی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، حقیقت النبوۃ ص ٢٦٤)

”قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله “ کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تم میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت رکھے گا۔ ﴾

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٧٠)

”یہ سچ بات ہے کہ کافروں کے ساتھ لڑنا مجھ پر حرام کیا گیا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان نہ لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور عورتوں اور بوڑھوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر عذاب سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت قطعاً جہاد موقوف کر دیا گیا۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ٤، ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

انگریزی میں الہام

آئی لو یو، آئی ایم ود یو، آئی شیل ہیلپ یو، آئی کین وہٹ آئی ول ڈو، وی کین وہٹ وی ول ڈو، ان الہامات کے نزول کے وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا بول رہا ہے۔“

(البشریٰ ج ١ ص ١٧، از براہین ج ٣ ص ٤٨٠، خزائن ج ١ ص ٥٧١، ٥٧٢، حاشیہ)

ہندی میں الہام

”ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)

مختلط الہام

”ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے۔“

(تذکرہ ص ٧٢٥، البشریٰ ج ٢ ص ١٤٢، از بدر ج ٦ نمبر ٣١ ص ٤، یکم اگست ١٩٠٧ء)

”الہام ہوا تھا کہ عورت کی چال ایلی ایلی لما سبقتانی برینت واذ کففت عن بنی اسرائیل“

(تذکرہ ص ٥٩٧ طبع سوم)

وہ الہام جو سمجھنے میں نہیں آئے

”ھوشعنانعسایہ الہام شاید عبرانی ہے۔ جس کے معنی نہیں کھلے“

(البشریٰ ج ١ ص ٤٣، تذکرہ ص ١٠٢)

”پریشن عمر براطوس با پلاطوس“ نوٹ! آخری لفظ پڑطوس ہے یا پلاطوس ہے بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا..... اس جگہ براطور اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٥١، از مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٦٨، تذکرہ ص ١١٥)

اسلامی عقیدہ نمبر ٣... مدار نجات آنحضرت ﷺ کی تعلیمات

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ ہی کی وحی نبوت تمام انسانوں کے لئے تا قیامت مدار نجات ہے۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کی وحی مدار نجات نہیں ہو سکتی۔

صفحہ ١٦٨

نذیراً (فرقان:١) ”﴿مبارک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے محمدﷺ پر قرآن کریم نازل فرمایا تاکہ تمام ہی جہان والوں کے لئے نذیر بنے۔﴾

عالم والوں کے لئے تذکیر ہے۔﴾

﴿میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو اور تمام انسانوں کو جن کو قرآن کے نزول کی خبر پہنچے ڈراؤں ۔﴾

نوٹ! یہ تینوں آیتیں صاف اعلان فرما رہی ہیں کہ قیامت تک تمام انسانوں کے لئے حضورﷺ ہی نبی ہیں اور حضورﷺ ہی کی شریعت ہے اور سب کے لئے یہی قرآن حجت ہے اور یہی وحی مدار نجات ہے۔

کرو گے تو بس نجات اور ہدایت پا جاؤ گے۔﴾

نوٹ! اس آیت میں صاف فرمایا ہے کہ حضورﷺ کی وحی مدار نجات ہے۔ اگر حضورﷺ کے بعد کوئی اور وحی نبوت مدار نجات مقرر ہو کر آئے تو اس وقت حضورﷺ کی وحی کی اطاعت مدار نجات نہ ہوگی۔ کیونکہ اگر اس وحی نبوت پر ایمان نہ لائے گا اور اس کی اطاعت نہ کرے گا تو باوجود کمال اتباع وحی حضورﷺ کے پھر بھی نجات نہ ہوگی اور قرآن کا یہ حکم منسوخ ہو جائے گا اور نہ قرآن کریم تمام انسانوں کے لئے نذیر اور نہ ذکر ہوگا اور نہ حضورﷺ صاحب الزمان رسول تمام انسانوں کے لئے رہیں گے۔ (معاذ اللہ )

وبالاخرۃ ھم یوقنون . اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون (بقرہ: ٤، ٥)“ ﴿یہ آیت بڑی وضاحت سے بتا رہی ہے کہ حصول فلاح و نجات کے لئے بس حضورﷺ کی وحی اور آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی وحی پر ایمان لانا ضروری ہے۔﴾

(اعراف: ٣)“ ﴿یعنی اتباع کرو اس وحی کا جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور نہ اتباع کرو اس کے سوا کسی اور رفیقوں کا۔﴾

صفحہ ١٦٩

نوٹ! یہ آیت کریمہ صاف طور سے اعلان کر رہی ہے کہ صرف حضورﷺ ہی کی وحی کا اتباع اہل عالم کے لئے فرض ہے اور کسی کی وحی کا اتباع جائز نہیں۔ پس اگر آپ کے بعد بھی کوئی وحی نبوت مدار نجات خدا کی طرف سے آنے والی تھی تو اس کی اتباع سے کیوں روکا جاتا ہے اور پھر اس وحی مدار نجات نازل کرنے سے کیا فائدہ ہوگا۔ حضورﷺ کے بعد مطلقاً وحی نبوت اور نبوت کا مدعی ہی کافر ہے اور جو حضورﷺ کی شریعت کو منسوخ اور اپنی وحی نبوت کو مدار نجات بتلائے وہ اکفر ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا اقرار پہلے گزر چکا۔

مرزائی عقیدہ نمبر٣... مدار نجات مرزا کی تعلیمات

مرزائی اور مرزا غلام احمد قادیانی آنحضرتﷺ کے بعد مرزا قادیانی کی وحی نبوت اور تعلیم کو مدار نجات تمام انسانوں کے لئے کہتے ہیں۔

احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ...... اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم کو میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں۔ دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔"

(حاشیہ اربعین نمبر٤ ص٦، خزائن ج١٧ ص ٤٣٥)

میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔"

(اربعین نمبر٣ ص٣٢، خزائن ج١٧ ص٤٢١)

کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔"

(انجام آتھم ص٦٢، خزائن ج١١ ص ایضاً)

ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں۔"

(اربعین نمبر٤ ص١٤، خزائن ج١٧ ص٤٤٥)

نوٹ! اس سے ظاہر ہے کہ شریعت محمدیہ کی وحی و تعلیم جو تیرہ سو برس سے چلی آ رہی ہے۔ سورج کی کرنوں کے مشابہ ہے قابل برداشت نہیں۔ منسوخ ہے اور شریعت مرزائیہ کی اب ضرورت ہے جو چاند کی ٹھنڈی روشنی کے مشابہ ہے۔

صفحہ ١٧٠

کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے اور اسے مدار نجات ٹھہرایا ہے۔“ اور اس کی فہرست میں لکھتے ہیں کہ: ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اطاعت میں ہی نجات ہے۔“

اسلامی عقیدہ نمبر ٤... آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ہے

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد مطلقاً مدعی منصب نبوت یا مدعی وحی نبوت دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

مدعی نبوت کا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونا اور مدعی وحی نبوت کا کافر، دائرہ اسلام سے خارج ہونا مذکور ہو چکا ملاحظہ ہو مع اقرار مرزا قادیانی قبل از دعویٰ نبوت۔

مرزائی عقیدہ نمبر ٤... مرزا قادیانی نبی تھا

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی منجانب اللہ منصب نبوت پر فائز تھے اور وحی نبوت ان پر نازل ہوتی تھی۔ جو شخص یہ عقیدہ نہ رکھے جہنمی اور کافر ہے اور ختم نبوت کا عقیدہ لعنتی اور مردود عقیدہ ہے۔

(اشتہار ٥؍مارچ ١٩٠٨ء مندرجہ حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے...... سو ایک امتی کو اس طرح کا نبی بنانا سچے دین کی ایک لازمی نشانی ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٣٨، ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

تنبیہ! پس یا تو سارے ادیان سماویہ معاذ اللہ لعنتی ٹھہرے یا جمیع انبیاء علیہم السلام کو صاحب خاتم مانا جاوے۔

تک آنحضرت ﷺ کی غلامی نہ اختیار کرے۔ ورنہ نبوت کا دروازہ مسدود نہیں اور جبکہ باب نبوت کھلا ہوا ہے تو مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی ضرور نبی ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٣٨، از محمود)

صفحہ ١٧١

زا محمود قادیانی (حقیقت النبوۃ ص ١٥٦) میں لکھتے ہیں کہ: ”آپ (مرزا) ضروری قرار دیا ہے اور اسے مدار نجات ٹھہرایا ہے۔“ اور اس کی فہرست د (مرزا قادیانی) کی اطاعت میں ہی نجات ہے۔“

... آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ہے

یدہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد مطلقا مدعی منصب نبوت یا مدعی وحی نبوت افر اور دائرہ اسلام سے خارج ہونا اور مدعی وحی نبوت کا کافر، دائرہ و چکا ملاحظہ ہو مع اقرار مرزا قادیانی قبل از دعویٰ نبوت۔

انی عقیدہ نمبر ٤ ... مرزا قادیانی نبی تھا

مرزائیوں کا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی منجانب اللہ منصب نبوت پر فائز ں ہوتی تھی۔ جو شخص یہ عقیدہ نہ رکھے جہنمی اور کافر ہے اور ختم نبوت کا ہے۔

س دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔“

(اشتہار ٥ / مارچ ١٩٠٨ء مندرجہ حقیقت النبوۃ ص ٢٢٧، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

ہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور متی کو اس طرح کا نبی بنانا سچے دین کی ایک لازمی نشانی ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٣٨، ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

سارے ادیان سماویہ معاذ اللہ لعنتی ٹھہرے یا جمیع انبیاء علیہم السلام کو

خاتم النبیین کے معنی بھی یہی ہیں کہ کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ جب نہ اختیار کرے۔ ورنہ نبوت کا دروازہ مسدود نہیں اور جبکہ باب نبوت اقادیانی) بھی ضروری ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٢٣٢، از محمود)

مطلب ہے کہ آنحضرتؐ نے دنیا کو فیض نبوت سے روک دیا اور آپؐ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس نام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سے آنحضرتؐ رحمۃ للعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف نعوذ باللہ من ذالک اگر اس عقیدہ کو تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی اور مردود ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٦، ١٨٧)

دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“

(ملخص مصلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٢٧، ٣٠٨، تذکرہ ص ٦٠٧)

لوگ مسیح موعود کو نبی اللہ مانتے ہیں اس سے ہم آپ کے منکروں کو کافر کہتے ہیں۔ ہر ایک جو مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہو چکا کافر ہے۔ جو حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔ آپ (مرزا قادیانی) نے اس شخص کو بھی جو اس کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لئے اس بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے۔ بلکہ اس کو بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر ٹھہرایا ہے۔“

(ملخص تشحیذ الاذہان ج ١ نمبر ٦ ص ١٣٠، ١٤١، بابت ماہ اپریل ١٩١١ء)

اسلامی عقیدہ نمبر ٥... معجزہ اب کسی کو نہیں مل سکتا

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی شخص سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ اس کے معجزات حضور ﷺ کے معجزات سے بڑھ جائیں۔

چونکہ معجزہ خصائص نبوت سے ہے اور نبوت خاتم الانبیاء ﷺ پر ختم ہو چکی۔ لہٰذا سلسلہ معجزات بھی ختم ہو گیا اور دعویدار معجزہ کافر ہے۔ (یواقیت مبحث ٣٩ ج ١ ص ١٥٧) میں ہے کہ: ”وقد حد جمهور الاصوليين المعجزة بانها امر خارق للعادة مقرون بالتحدي مع عدم المعارضة من المرسل اليهم ...... والمراد بالتحدي هو الدعوى للرسالة “ (جمہور اصولیوں نے معجزہ کی یہ تعریف کی ہے کہ وہ تحدی کے ساتھ یعنی دعویٰ رسالت کے ساتھ رسول سے امر خارق عادت ظاہر ہو اور کوئی اس کا معارضہ نہ کر سکے۔ )

صفحہ ١٧٢

(شرح عقائد نسفی ص ١٤، ٩٨) میں بھی اسی طرح ہے۔ (تمہید ابو شکور سلمی ص ١٢٤ قلمی) میں ہے

کہ : ” ومن ادعى النبوة في زماننا فانه يصير كافر أو من طلب منه المعجزات فانه يصير كافر لانه شك فى النص “ جو شخص فی زمانہ نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہو جائے اور جو شخص اس سے معجزات طلب کرے وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے نص قرآنی میں شک کیا۔ ﴾

نیز اس میں دعویٰ نبوت بھی ہوتا ہے۔ ”بغیر دعویٰ نبوت کے معجزہ نہیں۔“

(دیکھو آئینہ کمالات ص ٢٣٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مرزائی عقیدہ نمبر ٥ ... مرزا قادیانی صاحب معجزہ تھے

مرزا قادیانی اپنے نشانات یعنی معجزات کو دس لاکھ بتاتے ہیں اور حضور ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتاتے ہیں۔

ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں۔ جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢)

سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

نبی ﷺ سے ظہور میں آئے ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

نوٹ! تفصیل پہلے گذر چکی ہے ملاحظہ ہو۔

اسلامی عقیدہ نمبر ٦... آنحضرت ﷺ تمام مخلوقات سے افضل ہیں

مسلمانوں کا عقیدہ جناب رسالت مآب سرور کائنات ﷺ کی بابت یہ ہے کہ مخلوق میں کوئی آپ ﷺ کے برابر نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ آپ ﷺ سے افضل ہو آپ ﷺ مصداق ہیں

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
صفحہ ١٧٣

(احزاب: ٤٠) “ ﴿اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔﴾

نوٹ! خاتم النبیین عام ہے باعتبار زمانہ بھی تمام نبیوں کے خاتم ہیں اور باعتبار مرتبہ بھی، یعنی حضور ﷺ پر نبوت کے مراتب اور درجات ختم ہیں۔ حضور ﷺ کے اوپر نبوت کا کوئی درجہ نہیں۔ آپ ﷺ نبی الانبیاء ہیں۔ تمام نبیوں سے عہد لیا گیا کہ اگر تم حضور ﷺ کا زمانہ پاؤ تو حضور ﷺ پر ایمان لاؤ اور ان کی نصرت واجب جانو۔ ’لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران:٨١)“

فخر (رواه الدارمى ج ١ ص ٢٧، باب ما اعطى النبى ﷺ من الفضل، مشكوة ص ٥١٤، باب فضائل سيد المرسلين ﷺ) “ ﴿حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تمام رسولوں کا پیشرو ہوں بلا فخر کے ۔﴾

ولا فخر ...... انا اكرم الاولين والآخرين ولا فخر (رواه الدارمى ج ١ ص ٢٦، باب ما اعطى النبى ﷺ من الفضل، مشكوة ص ٥١٣، ٥١٤، باب فضائل سيد المرسلين ﷺ) “ ﴿حضور ﷺ نے فرمایا میں لواء الحمد کا اٹھانے والا ہوں۔ قیامت کے دن اس کے نیچے آدم علیہ السلام اور ماسوا ان کے سب ہوں گے۔ میں تمام پہلوں اور پچھلوں سے افضل ہوں بلا فخر کے ۔﴾

مرزائی عقیدہ نمبر ٦... مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کا ہم پلہ

بلکہ ان سے افضل ہے

مرزائیوں کے عقیدہ میں مرزا قادیانی ،حضور ﷺ کے برابر ہیں۔ حضور ﷺ کے تمام ہی کمالات مع نبوت کے مرزا قادیانی کو حاصل ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی حضور ﷺ سے بڑھ کر شان رکھتے ہیں۔ (معاذ اللہ )

صفحہ ١٧٤

میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمﷺ سے ظلی طور پر ہم (مرزا) کو عطاء کئے گئے ۔اس لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح ،داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریمﷺ کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں ۔“

(الحکم ٢٤؍ اپریل ١٩٠٢ء ص ٧، ملفوظات ج ٣ ص ٦٧)

مجھے آنحضرت کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ بروز میں دوئی نہیں ہوتی ۔ جب کہ بروزی طور پر میں آنحضرت ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوں ۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

انبیاء اگرچہ بودہ اندبسے
من بعرفاں نہ کمترم زکسے
آنچہ داداست ہر نبی راجام
داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعیں

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)

اتنکر ٭“ (ترجمہ مرزا قادیانی) اس کے لئے (حضورﷺ کے لئے ذرا ترجمہ کا ادب قابل ملاحظہ ہے) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا کیا تو انکار کرے گا۔

(قصیدہ اعجازیہ ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

معجزات کی تعداد تین ہزار بتاتے ہیں اور اپنے معجزات کی تعداد (حصہ پنجم براہین احمدیہ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) پر دس لاکھ بتائی ہے۔ عبارت معجزے کے بیان میں مذکور ہو چکی ہے۔

صفحہ ١٧٥

میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم ﷺ سے ظلی طور پر ہم (مرزا) کو عطا کئے گئے۔ اس لئے ہمارا نام، آدم، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ آنحضرت ﷺ کی خاص خاص صفات ہیں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔“

(الحکم ٢٤؍ اپریل ١٩٠٤ء ص٧، ملفوظات ج٣ص٢٧٠)

اس کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ بروز میں دوئی نہیں ہوتی۔ جب کہ بروزی طور پر میں محمد ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوں۔ جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص٨، خزائن ج١٨ ص٢١٢)

من بعرفاں نہ کمترم زکسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعیں

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ص٤٧٨)

٭ (ترجمہ مرزا قادیانی) اس کے لئے (حضور ﷺ کے لئے ذرا ترجمہ کا ادب قابل غور ہے) چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا کیا تو انکار کرے گا۔“

(قصیدہ اعجازیہ ص٧١، خزائن ج١٩ ص١٨٣)

تعداد تین ہزار بتاتے ہیں اور اپنے معجزات کی تعداد (حصہ پنجم براہین احمدیہ ص٥٦، خزائن ج٢١ ص٧٢) پر دس لاکھ بتائی ہے۔ عبارت معجزے کے بیان میں مذکور ہو چکی ہے۔

تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی۔ پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بنسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔ اسی لئے تلوار اور لڑنے والے گروہ کی محتاج نہیں اور اس لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لئے صدیوں کے شمار کو رسول کریم کی ہجرت سے بدر کی راتوں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا تا وہ شمار اس مرتبہ پر جو ترقیات مرتبہ میں کمال تام رکھتا ہے۔ دلالت کرے۔“

(خطبہ الہامیہ ص٢٧١، ٢٧٢، خزائن ج١٦ص ایضاً)

”ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو، اسی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ ”سبحن الذی اسری بعبدہ“

(خطبہ الہامیہ ص٢٨٨، خزائن ج١٦ص ایضاً)

نوٹ! مرزا قادیانی نے اس میں بعثت ثانی یعنی اپنی بعثت کو بعثت اول یعنی حضرت نبی کریم ﷺ کی بعثت سے افضل شان میں بتایا ہے اور اپنی بعثت کو چودھویں رات کے چاند یعنی بدر اور حضور ﷺ کی بعثت کو ہلال سے نسبت دی ہے اور مرزا قادیانی کی فتح مبین حضور ﷺ کی فتح مبین سے بہت بڑی اور اغلب ہے۔ اگر کوئی یہ عقیدہ نہ رکھے وہ نص قطعی کا منکر ہوگا۔ اصل سے ظل بڑھ گیا۔

معراج میں جو آنحضرت ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے۔“

(اشتہار منارۃ المسیح ، مجموعہ اشتہارات ج٣ص٢٨٩ حاشیہ)

نوٹ! یعنی معاذ اللہ خود حضور قادیان کی مسجد میں بطور معراج تشریف لائے ہیں۔ یعنی مرزا قادیان کی بعثت میں حضور ﷺ کی ترقی ہوئی، ہلال سے بدر ہوئے۔ ورنہ کیا حضور ﷺ شب معراج میں قادیان کی مسجد میں تشریف لائے تھے؟۔ جس کا اس وقت نام و نشان بھی نہ تھا۔

ہے کہ: ”جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا۔ (النبیین میں سب انبیاء شریک ہیں کوئی نبی

صفحہ ١٧٦

مستثنیٰ نہیں۔ آنحضرتﷺ بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں) کہ جب کبھی میں تم کو کتاب اور حکمت دوں (کتاب سے مراد توریت اور قرآن ہے اور حکمت سے مراد سنت اور منہاج نبوت وحدیث شریف) پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے۔ مصدق ہو ان سب چیزوں کا۔ جو تمہارے پاس کتاب وحکمت سے ہیں۔ (وہ رسول مسیح موعود ہیں جو قرآن وحدیث کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں) لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ میں جو نون ثقیلہ ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ سخت تاکید کے معنوں میں آتا ہے۔ یعنی اے نبیو! تم سب ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر طرح سے مدد فرض سمجھنا۔ جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔“

(منقول از عقائد محمودیہ نمبر ١ ص١٧، ١٨)

نوٹ! کیا اب بھی کچھ کسر رہ گئی۔ معاذ اللہ مرزا قادیانی کو نبی الانبیاء بنا دیا۔ تمام انبیاء اور حضور خاتم النبیینﷺ بھی مرزا قادیانی کی امت میں داخل ہیں۔ پہلے مرزا قادیانی کو حضورﷺ سے برابری کا دعویٰ تھا۔ کمالات میں بعینہ وہی خاتم الانبیاءﷺ تھے۔ حضورﷺ کی طرح تمام لوگوں کی طرف رسول اللہ ہو کر مبعوث ہوئے۔ ”قل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعاً“

(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٠، البشریٰ ج٢ ص٥٦)

وحی نبوت سے کوثر بھی عطاء کی گئی۔ ”انا اعطينك الكوثر“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٧١٣)

مقام محمود کا بھی وعدہ کیا گیا۔ ”اراد الله ان يبعثك مقاماً محموداً“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٧١٣)

باعث ایجاد خلق ہوئے۔ ”لولاک لما خلقت الافلاک“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص٨٥، خزائن ج٢٢ ص٧١٢)

”خلقت لك ليلا ونهاراً“ یعنی تیرے لئے میں نے رات اور دن کو پیدا کیا۔

(اربعین نمبر٣ ص٨، خزائن ج١٧ ص٣٥٥)

معراج بھی ہوئی۔ ”سبحن الذى اسرى بعبده ليلا...... الخ!“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص٨١، خزائن ج٢٢ ص٧٠٧)

”دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی“

(حقیقت الوحی ص٧٦، خزائن ج٢٢ ص٧٠٩)

اور جب افضلیت کا دروازہ کھلا تو وہ وسعتیں ہوئیں۔ جو پہلے مذکور ہوئیں۔ جن میں

صفحہ ١٧٧

ضرتﷺ بھی اتم النبیین کے لفظ میں داخل ہیں) کہ جب کبھی میں تم کو کتاب کتاب سے مراد توریت اور قرآن ہے اور حکمت سے مراد سنت اور منہاج نبوت پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے۔ مصدق ہو ان سب چیزوں کا۔ جو تمہارے ت سے ہیں۔ (وہ رسول مسیح موعود ہیں جو قرآن وحدیث کی تصدیق کرنے والا شریعت جدیدہ نہیں) لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ میں جو نون ثقیلہ ہے۔ اہل علم جانتے ہیں معنوں میں آتا ہے۔ یعنی اے نبیو! تم سب ضرور اس پر ایمان لانا اور ہر طرح ا۔ جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اور اس کی وا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔"

(منقول از عقائد محمودیہ نمبر ١ ص ١٧، ١٨)

کیا اب بھی کچھ کسر رہ گئی۔ معاذ اللہ مرزا قادیانی کو نبی الانبیاء بنادیا۔ تمام انبیاء نبیینﷺ بھی مرزا قادیانی کی امت میں داخل ہیں۔ پہلے مرزا قادیانی کو رابری کا دعویٰ تھا۔ کمالات میں بعینہ وہی خاتم الانبیاءﷺ تھے۔ حضورﷺ کی طرف رسول اللہ ہو کر مبعوث ہوئے۔ ”قل يايها الناس اني رسول اً”

(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠، البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)

ت سے کوثر بھی عطا کی گئی۔ ”انا اعطينك الكوثر“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)

مود کا بھی وعدہ کیا گیا۔ ”اراد الله ان يبعثك مقاماً محموداً“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)

ایجاد خلق ہوئے۔ ”لولاک لما خلقت الافلاك“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٢)

نت لك ليلا ونهاراً“ یعنی تیرے لئے میں نے رات اور دن کو پیدا کیا۔

(اربعین نمبر ٢ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٥)

بھی ہوئی۔ ”سبحن الذی اسرى بعبده ليلا ...... الخ!“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

فتدلى فكان قاب قوسین او ادنی“

(حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)

ب افضلیت کا دروازہ کھلا تو وہ وحیں ہوئیں۔ جو پہلے مذکور ہوئیں۔ جن میں

نبوت سے بڑھ کر دعویٰ ہے۔ کیا اس وقت بھی معاذ اللہ حضورﷺ سے افضل نہ ہوں۔ وہی غلامی یا برابری کا دم بھرتے رہیں؟۔ ہاں مصلحت وقت کا تقاضا دوسری چیز ہے۔

اسلامی عقیدہ نمبر ٧... غیر نبی! نبی سے افضل نہیں ہو سکتا

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اس امت میں کوئی شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام و دیگر انبیاء علیہم السلام سے افضل نہیں ہو سکتا۔ غیر نبی کو نبی پر فضیلت کلی حاصل نہیں ہو سکتی۔

چونکہ حضورﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو قیامت تک منصب نبوت عطاء نہ کیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر اور برابر عنداللہ کسی کا رتبہ نہیں۔ لہٰذا آنحضرتﷺ کے بعد کوئی شخص قیامت تک انبیاء اللہ کے ہم رتبہ بھی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ مرزا محمود قادیانی نے مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ (حقیقت النبوۃ ص ١٥) میں مرزا قادیانی کی کتاب سے نقل کیا ہے۔ ”حضرت صاحب نے تریاق القلوب میں کہا ہے کہ غیر نبی کو نبی پر فضیلت نہیں ہو سکتی ...... حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ غیر نبی! نبی سے افضل کیوں کر ہو سکتا ہے۔“

اور (حقیقت النبوۃ ص ٢٢٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”جو شخص کسی نبی سے افضل ہو گا وہ ضرور نبی ہو گا اور چونکہ مسیح موعود نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل کہا ہے۔ اس لئے آپ واقع میں نبی تھے نہ کہ آپ کا نام اسی طرح نبی رکھ دیا گیا۔ جس طرح آدمی کو شیر کہہ دیتے ہیں۔“

غرض یہ کہ بعض انبیاء علیہم السلام پر فضیلت کلی کا دعویٰ مرزا قادیانی کے مسلمہ اصول پر بھی منصب نبوت کے دعویٰ کو مستلزم ہے اور آنحضرتﷺ کے بعد یقیناً منصب نبوت کا دعویٰ کفر ہے۔ لہٰذا فضیلت علی بعض الانبیاء کا دعویٰ بھی کفر ہے۔ ہاں فضیلت جزئی بحث سے خارج ہے۔ جیسا کہ (حج الکرامہ ص ٣٨٦) میں ابن سیرین کا قول منقول ہے کہ امام مہدی تو بعض وجوہ میں انبیاء سے بھی افضل ہیں اور (ہدیہ مہدویہ ص ٦٥ بحوالہ بدائع) لکھا ہے۔ ”يجوز فضل الجزئى اولى على النبى “ پھر ص ٦٨ پر مجدد الف ثانی کا قول لکھا ہے۔ ”ایں قسم فضل ولی برنبی جائز داشته اند که جزئی است که مجال معارضه بکلی ندارد“

.......١ ”كَذَا نقول ورسول الله ﷺ حيي افضل أمة النبى ﷺ بعده ابوبكر ثُم عمر ثُم عثمان (رواه ابوداؤد ج ٢ ص ١٦٦، باب في التفضيل، مشکوٰۃ ص ٥٥٥، باب مناقب ابي بكر) “ رسول اللہ بقید حیات تھے اور ہم صحابہؓ یہ

صفحہ ١٧٨

عقیدہ ظاہر کیا کرتے تھے کہ حضورﷺ کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکرؓ پھر عمرؓ پھر عثمانؓ ہیں۔

٢...... ”عن علیؓ مرفوعا قال خير هذه الامة بعد نبيها ابوبكرؓ وعمرؓ (رواہ ابن عساکر، کنز العمال ج ١١ ص ٥٦٧ حدیث نمبر ٣٢٦٨٤)“

٣...... ”عن الزبيرؓ مرفوعاً خير امتى بعدى ابوبكرؓ وعمرؓ (رواہ ابن العساکر، کنز العمال ج ١١ ص ٥٦٣ حدیث نمبر ٣٢٦٦٣) “ علیؓ اور زبیرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میری امت میں سب سے افضل ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں۔

٤...... ”عن علیؓ قال قال رسول الله ﷺ اتانی جبرئيل عليه السلام فقلت من يهاجر معى قال ابوبكرؓ وهويلى امر امتك من بعدك وهو افضل امتك من بعدك (رواہ الديلمی، کنز العمال ج ١١ ص ٥٥١ حديث ٣٢٥٨٨)“

٥...... ”عن سلمانؓ قال قال رسول الله ﷺ لما خلق الله العرش كتب عليه بقلم من نور طول القلم ما بين المشرق والمغرب لا اله الا الله محمد رسول الله وبه اخذ وبه اعطى وامته افضل الامم وافضلها ابوبكرؓ (رواہ الرافعی، کنز العمال ج ١١ ص ٥٥٠ حدیث نمبر ٣٢٥٨١)“ جب تمام امت سے افضل ابوبکرؓ وعمرؓ بھی نبی نہ بنایا گیا تو چودہویں صدی میں ایک مغل بچہ کو یہ فضیلت مل کہاں سے حاصل ہو گئی؟۔

٦...... ”ابوبكرؓ وعمرؓ خير الاولين وخير الاخرين وخير اهل السموات وخير اهل الارض الا النبيين والمرسلين (كنز العمال ج ١١ ص ٥٦٠ حدیث نمبر ٣٢٦٤٥)“

٧...... ”ابوبكرؓ وعمرؓ خير اهل السموات والارض وخير من بقى الى يوم القيامة (كنز العمال ج ١١ ص ٥٦٧ حديث نمبر ٣٢٦٨٦)“

٨...... ”ابوبكرؓ خير الناس بعدى الا ان يكون نبى (كنز العمال ج ١١ ص ٥٤٩ حديث نمبر ٣٢٥٧٨)“

”وفى رواية ابوبكرؓ افضل هذه الامة الا ان يكون نبى (كنوز

حقائق ج ١ ص ١٢ حدیث نمبر ٨٢ میں موجود ہیں جیسے عیسیٰ و ادریس والیاس

مرزائی عقیدہ نمبر :

مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسیح اسرائیل سے افضل و برتر بتاتے ہیں اور ابن مریم اس سے

اينك منم ك
عیسیٰ کج

١...... ”یہ بات ایک و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی حصہ کثیرہ وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس ا سے پہلے اولیاء اور ابدال واقطاب اس نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نا اس نام کے مستحق نہیں۔“

٢...... ”میں سچ سچ ک (دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣،

٣...... ”اوائل میں نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین می میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پ

صفحہ ١٧٩

الحقائق ج ١ ص ١٢ حدیث نمبر ٨٢) ”یعنی ابوبکرؓ اس امت میں سب سے افضل ہیں۔ مگر وہ جو نبی موجود ہیں جیسے عیسیٰ و ادریس و الیاس علیہم السلام۔

مرزائی عقیدہ نمبر ٧....... مرزا قادیانی کی فضیلت

مرزا قادیانی اپنے آپ کو صحابہ کرامؓ وحضرت حسنینؓ وعیسیٰ علیہ السلام و دیگر انبیاء بنی اسرائیل سے افضل و برتر بتاتے ہیں اور فضیلت کلی کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ:۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

اينك منم كه حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تابنھد پابمنبرم

(ازالہ ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاءؒ اور ابدال و اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣، اعجاز احمدی مضمون واحد ص ٥٢، ٦٩، ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٤٣، ١٨١، ١٩٣)

نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

صفحہ ١٨٠

شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح بن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩)

سے ہوں اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢، از حقیقت النبوۃ ص ٢٩٣)

اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم ﷺ کے ظل ہیں۔“

(الحکم ٢٤؍اپریل ١٩٠٢ء ص ١٧، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠)

نوٹ! مرزا قادیانی نے اس میں صاف تصریح کردی کہ میں تمام نبیوں سے بڑھا ہوا ہوں اور نبی کریم کے پہلو بہ پہلو کھڑا ہوں۔

معنی نہیں کہ وہ پہلے سب انبیاء سے گھٹیا ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے بہت سے انبیاء سے یا آنحضرت ﷺ کے سوا باقی سب انبیاء سے افضل ہو۔“

اسلامی عقیدہ نمبر ٨...... توقیر انبیاء علیہم السلام فرض ہے

مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق تعظیم وتوقیر انبیاء علیہم السلام فرض ہے۔ ان کی تحقیر وتوہین مطلقاً کفر ہے۔

آیات قرآن کریم

صفحہ ١٨١

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

”اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٧٦، خزائن ج ٢١ ص ٩٩)

”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢، از حقیقت النبوۃ ص ٢٩٣)

”پہلے تمام انبیاء علیہم السلام ظل تھے۔ نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور یہ عاجز تمام صفات میں نبی کریمﷺ کے ظل ہیں۔“

(القلم ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء ص ٧، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠)

مرزا قادیانی نے اس میں صاف تصریح کر دی کہ میں تمام نبیوں سے بڑھا ہوا ہوں اور سب کے پہلو بہ پہلو کھڑا ہوں۔

مرزا محمود قادیانی (حقیقت النبوۃ ص ٤٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”امتی نبی کے یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے سب انبیاء سے گھٹیا ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے بہت سے انبیاء سے یا پھر تمام نبیوں کے سوا باقی سب انبیاء سے افضل ہو۔“

اسلامی عقیدہ نمبر ٨ ..... توقیر انبیاء علیہم السلام فرض ہے

مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق تعظیم و توقیر انبیاء علیہم السلام فرض ہے۔ ان کی تحقیر کفر ہے۔

قرآن کریم

”لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ (فتح: ٩)“

﴿اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر اور رسول ﷺ کی عزت اور وقار کرو۔﴾

بالقول كجهر بعضكم لبعض (الحجرات: ٢)“ ﴿اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند مت کرو اور ایسی بلند آواز سے باتیں مت کرو جیسا کہ آپس میں کرتے ہو۔﴾

هزواً (كهف: ١٠٦)“ ﴿جنہوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کا استہزاء کیا ان کا بدلہ جہنم ہے۔﴾

قد كفرتم بعد ايمانكم (توبه: ٦٥)“ ﴿کہہ دے کہ کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزاء کرتے تھے۔ اب عذر مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے۔﴾

احادیث

من فضائل موسى عليه السلام مشكوة ص ٥٠٧، باب بداء الخلق وذكر الانبياء)“ ﴿انبیاء اللہ میں آپس میں فضیلت مت دو۔ (مبادا توہین کا رنگ پکڑ جائے)﴾

آثار صحابہؓ

ثم قال عمر من سب الله تعالى او سب احداً من الانبياء فاقتلوه (الصارم المسلول لابن تيميه ص ١٤٤، كنز العمال ج ١٢ ص ٤٢٠ حديث ٣٥٤٦٥)“ ﴿حضرت عمرؓ کے پاس ایک شخص لایا گیا۔ جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی۔ حضرت عمرؓ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ پھر فرمایا جو شخص، اللہ کو یا کسی نبی کو گالی دے اس کو قتل کرو۔﴾

الانبياء فقد كذب رسول الله ﷺ وهى ردة يستتاب فان رجع (فبها) والا قتل (الصارم المسلول ص ١٤٤) “ ﴿ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جس کسی مسلمان نے اللہ یا کسی نبی کو گالی دی اس نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی اور یہ ردۃ ہے۔ یعنی وہ مرتد ہو گیا۔ اس سے توبہ لی جائے۔ اگر توبہ کرلے تو فبھا ورنہ قتل کیا جائے۔﴾ اگر زیادہ تفصیل دیکھنا چاہو تو صارم مسلول اور شرح شفاء ملا علی قاری ج ٢ ص ١٨٨ تا ١٩٧ وغیرہ میں ملاحظہ کرو۔

صفحہ ١٨٢

کتب عقائد

منهم فهو مرتد (شفاء ج٢ ص٢٦٢)“ ﴿ ”جس کسی نے کسی نبی کی تکذیب کی یا تنقیص کی یا کسی نبی سے بری ہوا وہ مرتد ہے۔“ ﴾

او صغره...... ویکفر به نسبة الانبیاء الی الفواحش (اشباہ والنظائر ص١٠٦)“ ﴿ کافر ہو جاتا ہے جب کسی نبی کے صدق میں شک کرے یا گالی دے یا تنقیص شان کرے یا تصغیر سے نام لے...... اور فواحش کو انبیاء علیہم السلام کی طرف نسبت کرنے سے کافر ہو جاتا ہے۔ ﴾

اسمه مريداً تحقيره او جوز نبوة احد بعد وجود نبیناﷺ و عیسیٰ علیه السلام نبی قبل فلا یرد (تحفہ شرح منہاج ص٢٤١)“ ﴿ کافر ہو جاتا ہے اگر کسی رسول یا نبی کی تکذیب کرے یا کسی قسم کی تنقیص کرے۔ تحقیراً تصغیر سے نام لے یا حضور ﷺ کی نبوت کے بعد کسی کے لئے منصب نبوت کو جائز سمجھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو حضور ﷺ سے پہلے منصب نبوت دیا جا چکا ہے۔ اس پر کچھ شبہ وارد نہیں ہو سکتا۔ ﴾

اور خود مرزا قادیانی (ضمیمہ چشمہ معرفت ص١٨، خزائن ج٢٣ ص٣٩٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے۔“

مولانا رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی نے ازالۃ الاوہام میں اور مولانا آل حسن صاحب نے استفسار میں عیسائیوں کو بطریق حجت الزامی محرف کتابوں سے (بزعم خود انبیاء علیہم السلام کو ان عیوب سے منزہ ظاہر کرتے ہوئے) حوالہ دے کر جواب دئے ہیں۔ مرزا قادیانی کی طرح ان غلط واقعات اور ناملائم قصوں کو حق اور صحیح نہیں بتلاتے مرزائی محض شوخ چشمی سے قطع و برید کر کے ان کی عبارتیں پیش کیا کرتے ہیں اور اپنے نبی کی دریدہ دہنی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

مرزائی عقیدہ نمبر ٨...... تحقیر مسیح علیہ السلام (معاذ اللہ)

مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سخت توہین کی ہے اور ان کی بابت متعدد

مقامات پر اپنی تصانیف :

رکھا۔“

نوٹ! مرزا

میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے حرکات جائے افسوس نہیں تھے۔“

نوٹ! مرزا

ہو سکتا ہے؟۔

پیش گوئیوں کا اپنی ذات کا نام و نشان نہیں پایا۔

کہلاتی ہے۔ یہودیہ ہے۔“

رہتے تھے اور ان کو

کہ آپ سے کوئی

نوٹ

معجزہ نہیں ہوا اور ہم نے عیسیٰ بن م

صفحہ ١٨٣

مقامات پر اپنی تصانیف میں تحقیر آمیز جملے استعمال کئے ہیں۔

رکھا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

نوٹ ! مرزائیو! کیا نادان اسرائیلی کا لفظ کوئی الزامی جواب ہو سکتا ہے؟۔

میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

نوٹ ! مرزائیو! لفظ ”میرے نزدیک“ کو دیکھو اور سوچو کہ کیا اب بھی الزامی جواب ہو سکتا ہے؟۔

پیش گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

کہلاتی ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا میری تعلیم ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

نوٹ ! مرزائیو! مرزا قادیانی کے نزدیک تو حق یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور قرآن فرماتا ہے۔ ”واتینا عیسیٰ ابن مریم البینات (بقرہ: ٨٧)“ یعنی ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بہت سے بیّن معجزے دئیے۔“

صفحہ ١٨٤

ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک کنجری (کسبی) کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

نوٹ ! پہلے مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کیا کرتے تھے اور اولوالعزم رسولوں میں شمار کیا کرتے تھے۔ مگر جب ان پر بارش کی طرح وحی نازل ہونے لگی تو بہانے ڈھونڈ ڈھونڈ کر بے نقط سنائیں اور عیب لگائے اور اسم گرامی سن کر طیش میں آ جاتے تھے اور اپنے کو افضل و بہتر بتاتے۔ غالباً منشاء یہ تھا کہ مسلمانوں کے دل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وقعت جاتی رہے اور ان کے نزول کا شوق و انتظار دلوں سے فرو ہو جائے۔ افضل کو چھوڑ کر ادنیٰ کا خیال بھی نہ آئے۔ چنانچہ

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

ہر مرزائی کی زبان پر ہے۔ ان عبارات میں جو عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہیں۔ خود مرزا قادیانی نے یہ عذر بنایا ہے۔ ”اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ڈاکو اور بٹمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی

صفحہ ١٨٥

کے وجود سے انکار کیا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔ پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) حاصل یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں نہیں دی گئیں۔ بلکہ یسوع کو جو کوئی دوسرا شخص مدعی الوہیت ہے۔ اس فریب کو ملاحظہ کیا جائے۔ قرآن مجید میں نصاریٰ ہی کو سمجھا ہے۔ جو عیسیٰ علیہ السلام کو خدا مانتے اور ثالث ثلثہ قرار دیتے ہیں وہ یسوع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں ہے۔

حالانکہ مرزا قادیانی خود (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”دوسرے مسیح بن مریم جس کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

اور (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح بن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔“

اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ: ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“ معاذ اللہ!

(حاشیہ کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

یہاں یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام کو مرزا قادیانی ایک ہی شخص بتاتے ہیں۔ پھر یسوع کے نام سے مغلظات گالیاں دے کر یہ عذر فرماتے ہیں کہ یسوع کوئی اور ہے۔ جس کا قرآن کریم میں کہیں ذکر نہیں اور یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ لفظ عیسیٰ یسوع ہی کا معرب ہے اور پادریوں کا یسوع کی طرف غلط باتیں نسبت کرنا اس سے یسوع پر تو کوئی الزام نہیں آتا۔ یہ کہنا چاہئے کہ یہ امور ان کی طرف غلط نسبت کئے گئے ہیں۔ نہ کہ ان کو گالیاں دینا اور پھر کسی کتاب کا حوالہ دے کر ان کے مسلمات کی رو سے ان پر الزام نہیں لگایا گیا تا کہ الزامی جواب سمجھا جاوے۔ بلکہ یہودیوں کی طرح یہودیوں سے لے کر گالیاں دی ہیں اور کبھی مرزا قادیانی یہ عذر فرماتے ہیں کہ جب پادریوں نے حضورﷺ کی شان میں سخت گستاخی کی تو ہم نے بھی مجبور ہو کر عیسیٰ علیہ السلام کی خبر لے لی اور ان کے نبی کے واقعات یہودیوں سے لے کر ان کے سامنے پیش کر دیئے۔ یہ عذر پہلے سے بھی رکیک ہے۔ اگر پادریوں نے حضورﷺ کو گالیاں دی تھیں تو کچھ تعجب نہیں۔ وہ حضورﷺ کی نبوت پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔ لیکن جو قرآن کریم کو

PDF 186

کلام الٰہی جانتا ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام کو جن کی نبوت قطعی یقینی طور پر قرآن کریم سے ثابت ہے اور مسلمانوں پر ان کی نبوت پر ایمان لانا واجب ہے۔ کیسے گالیاں دے سکتا ہے؟۔ جب مرزائیوں نے دیکھا کہ مرزا قادیانی کا عذر گناہ بدتر از گناہ ہے تو یہ جواب دیا جاتا ہے کہ الزامی طور پر عیسائیوں کے مقابلہ میں فرضی عیسیٰ کو لکھا گیا ہے۔ نہ واقعی طور پر حقیقی عیسیٰ علیہ السلام کو۔ مگر یہ جواب بالکل غلط ہے۔ اوّل تو اس وجہ سے کہ عباراتِ مذکورہ سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی، عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جن امور کو منسوب فرماتے ہیں ان کو الزاماً نہیں کہتے۔ بلکہ ان کے نزدیک حق بھی یہی ہے۔ دوسرے یہ ہے کہ شدید ترین فحش گالی مرزا قادیانی نے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عبارت نمبر ٨ میں دی ہے۔ اسی فحش اور شنیع امر کو مرزا قادیانی، عیسیٰ علیہ السلام کی طرف (دافع البلاء کے مقدمہ ص ٣، ٤۔ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٢١٩، ٢٢٠) میں نسبت کر کے قرآن کریم کی آیت کی تفسیر میں بیان فرما کر ان عذرات واہیہ اور تاویلات رکیکہ کو غلط فرما گئے نہ وہاں پادری مخاطب ہیں نہ یسوع کا نام ہے اور نہ قرآن کریم ان پر حجت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ عیسائی ہم پر بطور حجت الزام قرآن کو پیش کر سکتے ہیں اور نہ یہاں پر کوئی تصریح ہے اور نہ قرینہ ہے کہ کسی عیسائی کو الزامی طور پر ہی لوٹ کر جواب دیا ہو۔ بلکہ مرزا قادیانی اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو تو قرآن کریم میں صرف 'وجیھاً فی الدنیا والآخرة ومن المقربین (آل عمران: ٤٥)' فرمایا گیا ہے اور یحییٰ علیہ السلام کو اس کے مقابلہ میں حصور فرمایا گیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو حصور کیوں نہ فرمایا گیا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام ایک ہی زمانہ کے ہیں۔ انہی دونوں میں مقابلہ فرمایا ہے۔ وجیھاً فی الدنیا والآخرة کا مطلب ظاہر کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ علیہ السلام نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن کریم میں یحییٰ علیہ السلام کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء مقدمہ ص ٤، حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

نوٹ! اس سے صاف مع کے ماسوا اور اسی قسم کے قصے لفظ حصو نزدیک تو صحیح ہیں ہی، اللہ تعالیٰ بھی ا حصور نہ فرمایا۔ اس میں مرزا قادیانی اقدس پر بھی ہاتھ صاف کر دیا۔ یعنی ا کے نزدیک بھی کوئی پرہیزگار آدمی نہ ر رسول بھی اور اولوالعزم رسول بھی اور مق سے نہ کوئی نبی قابل اعتبار رہتا ہے نہ السلام کی ہیں۔ جہاں عیسائی اور پادر

قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر خ ماسواہ اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے پیشین گوئیوں پر جس قدر اعتراض ا خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے وہ وہیں کرتا۔“

(کشتی نوح ص ٥، خزا

صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کور نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔ تو نتیجہ صاف ہے کہ ح ہے اور خود مرزا قادیانی (چشمہ معرفت کی تحقیر کفر ہے۔“

صفحہ ١٨٧

نوٹ! اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک یہ تمام شنیعہ امور اور اس کے ماسوا اور اسی قسم کے قصے لفظ حصور کے اطلاق سے عنداللہ مانع ہوئے یہ قصے مرزا قادیانی کے نزدیک تو صحیح ہیں ہی، اللہ تعالیٰ بھی ان قصوں کو صحیح حق جانتا ہے۔ جن کی بناء پر عیسیٰ علیہ السلام کو حصور نہ فرمایا۔ اس میں مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دی ہی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی جناب اقدس پر بھی ہاتھ صاف کر دیا۔ یعنی ایسے لوگ بھی جو رنڈیوں سے ایسا میل رکھیں جو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی کوئی پرہیز گار آدمی نہ رکھ سکے۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نبی بھی ہوتے ہیں اور رسول بھی اور اولوالعزم رسول بھی اور مقرب بھی اور وجیهاً فی الدنیا والاخرة بھی؟۔ اس سے نہ کوئی نبی قابل اعتبار رہتا ہے نہ قرآن نہ خدا۔ اس کے علاوہ اور عبارات بھی توہین عیسیٰ علیہ السلام کی ہیں۔ جہاں عیسائی اور پادری مخاطب نہیں۔ بلکہ علمائے اسلام مخاطب ہیں۔

قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہ سکیں۔ ماسوا اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں۔ تو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات اور پیشین گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ١٠٥، ١٠٦)

صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣١)

اگر (کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥) کی یہ عبارت بھی ملائی جائے کہ: ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔“

تو نتیجہ صاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی نہیں ہیں یہ توہین کے علاوہ دوسرا کفر ہے اور خود مرزا قادیانی (چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے۔“

صفحہ ١٨٨

لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے اور بعض پہاڑی خواتین کے قبیلوں میں لڑکیوں کا اپنے منسوب لڑکوں کے ساتھ اس قدر اختلاط پایا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ لڑکیاں نکاح سے پہلے ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔“

(ایام الصلح ص ٢٦، حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠)

”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا ...... مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض“

(دعوۃ الایمان عرف کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

پس صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی بھی یہودیوں کی طرح حضرت مریم علیہا السلام کو زانیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ناجائز تعلقات کی پیدائش سمجھتے تھے۔ ھذا بھتان عظیم! کیونکہ اسی (حاشیہ کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨) سے معلوم ہو چکا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے چار بھائی حقیقی اور دو بہنیں حقیقی تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔ اس سے معلوم ہوا یہ حمل یوسف نجار ہی کا تھا۔ (ازالۃ الاوہام ص ٥) جو تردید عیسائیت میں حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی کی تصنیف کردہ ہے میں ابتداء دیباچہ میں ہی لکھ چکے ہیں ۔ ”پس بنا چاری در جواب ایں فرقہ ادلہ ہائے الزامی بھماں تقریر نقل کردہ شدند و روایات کتب مقدسہ شاں ھم بطور مشتے نمونہ خروارے علیحدہ آوردہ شدند و ھا شاو کلا کہ اعتقادِ ھجو و مذمت کدامی نبی از انبیاء علیہم السلام باشدیا اہانت شریعت مقرر فرمودہ شاں مدنظر بود بلکہ بہزار زبان تبرا از ھمچو امور مینمایم و اعتقاد رسولاں برحق من جملہ عقائد ما است سیوم آنکہ دریں کتاب التزام ساختہ کہ حتی الوسع دلیلہائے الزامی از عہد عتیق و عہد جدید معہ حوالہ باب در ھرجا و حوالہ آیت در بعض جائے نقل برداشت“

یہودا یکی فرزندان یعقوب علیہ السلام کہ فرزند کلاں بہ کنیزک پدر

ہمبستر شدند و فرزند دوم زناکہ بقصد بود، ندانست یعنی کہ او حاملہ از من است یعنی اقرار نکوکار بودنِش و زجر ہم بصاحبزادہ والا تبا فارص کہ از شکم تامار نکو السلام ومسیح علیہ السلام اند مسیح علیہ السلام مرقوم است

السلام) از زوجہ پسر خود آباؤ اجداد داؤد و سلیمان و درباب سی و چہارم وباب سـ مفصل مرقوم است ونقل کتاب گذشت“

آنہا اکنون گذشت صاف واضـ و ہمراہ جناب مسیح بسیـ ندوزنان فاحشہ پائیہائے آنـ علیہ السلام را دوست مـ کساں عطا می فرمودند چنان

غرض مولانا مرحوم سب ہیں اور خود ہزار زبان سے تبرا فرماتے توریت و اناجیل میں یقینی تحریف واقـ ”تیرھواں استفسار ...... صرف بموجب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضر

صفحہ ١٨٩

ہمبستر شدند و فرزند دوم زوجہ پسرا در آغوش کرد بود دریں وقت زناکہ بقصد بود، ندانست کہ زوجہ پسر من است و قبل از اطلاع ایں . معنی کہ او حاملہ از من است حکم سوختن آں فرمودند و بعد اطلاع ایں معنی اقرار نکوکار بودنش فرمودند یعقوب عزم سزا را چہ ذکر ملامت وزجرہم بصاحبزادہ والا تبار و آں زن نکوکار نکردند واو در اولاد ہمیں فارض کہ از شکم تامار نکوشعار بآمد داؤد علیہ السلام و سلیمان علیہ السلام ومسیح علیہ السلام اند چنانچہ درباب اوّل متی درنسبنامہ جناب مسیح علیہ السلام مرقوم است“

(ازالہ اوہام ص ٣٤، ٣٥ مصنفہ مولانا رحمت اللہ)

السلام) از زوجـہ پـسـر خـود زناکردو حـامـلـہ گشت وفـارض راکـہ از آباؤ اجداد داؤد و سلیمان وعیسیٰ علیہ السلام بودزائید ..... ہمہ حال درباب سی و چہارم وباب سی و پنجم وباب سی و ہشتم از کتاب پیدائش مفصل مرقوم است و نقل عبارات ابواب مذکورہ درفائدہ اوّل از مقدمہ کتاب گذشت“

(ازالہ اوہام ص ٣٥، مصنفہ مولانا رحمت اللہ)

آنہا کنوں گذشت صاف واضح است کہ جناب مسیح اقرار می فرمایند ..... وہمراہ جناب مسیح بسیارزناں براہ میگشتندومال خود می خورانید ند وزنان فاحشہ پائے ہائے آں جناب را می بوسیدند و آں جناب مرثا ومریم علیہ السلام رادوست می داشتند و خود شراب برائے نوشیدن ودیگر کساں عطامی فرمودند چنانچہ در باب دہم یوحنا مفصل مشروح است“

(ازالہ اوہام ص ٣٧، ٣٨ مصنفہ مولانا رحمت اللہ)

غرض مولانا مرحوم سب جگہ اسی طرح حوالہ دے کر الزامی حجت پیش فرماتے جاتے ہیں اور خود ہزار زبان سے تبرا فرماتے ہیں اور ان کو ان خرافات سے مبرا اعتقاد کرتے ہیں۔ کیونکہ توریت وانجیل میں یقینی تحریف واقع ہوئی ہے۔ (استفسار بر حاشیہ ازالۃ الاوہام ص ١٢٣) میں ہے کہ: ”تیرھواں استفسار ...... صرف بموجب ارشاد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ہم ایمان لائے اس پر کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انبیاء علیہم السلام بنی اسرائیل سے بھی

صفحہ ١٩٠

معجزے صادر ہوئے ہیں اور بدون تصدیق آنجناب کے کوئی سبیل ایمان لانے انبیاء علیہم السلام بنی اسرائیل کے معجزات پر نہیں ہے۔ اس لئے کہ بائبل کی ایک بھی سند صحیح موافق قاعدہ مصرحہ استفسار گذشتہ کے کوئی نہیں بتاتا ہے۔ پس وہ تو ایسی ہی ہے۔ جیسے حاتم کی ہفت سیر مبنا بعضی روایتیں معجزات کی اس میں ایسی ہیں کہ ان معجزات کا اعجاز بھی نہیں ثابت ہوتا۔ از انجملہ پیدائش کے چھٹے باب کے تیسرے درس سے ظاہر ہے کہ خدا نے ...... اسی طرح لفظ از انجملہ اور عیسائیوں کی کتاب کا ...... بیان کرتے ہوئے کتاب (استفسار بر حاشیہ ازالۃ الاوہام ص ١٣٣) پر لکھتے ہیں کہ : ”از انجملہ کلیتہ یہ بات ہے کہ اکثر پیشین گوئیاں انبیاء علیہم السلام بنی اسرائیل اور حواریوں کی ایسی ہیں۔ جیسے خواب اور مجذوبوں کی بڑ اور تصدیق میرے اس دعوٰی کی خود ان کتابوں سے اور بطور مشتے نمونہ جابجا اس کتاب سے ظاہر ہوتی ہے۔ پس اگر انہیں باتوں کا نام پیش گوئی ہے تو ہر ایک آدمی کے خواب اور ہر دیوانے کی بات کو ہم پیش گوئی ٹھہرا سکتے ہیں۔ یہ سب شبہے جو میں نے انبیاء علیہم السلام کی پیش گوئیوں پر کئے تو میں نے اپنے دل سے نہیں کئے بلکہ میں ہزار دل سے بیزار ہوں۔ اس لئے کہ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ایسا کہا ہے یا نہیں اور اگر کہا ہے تو ان کا مطلب نہیں کیا ہوگا۔ بلکہ یہ شبہے صرف پادریوں کی تقریروں پر مبنی کئے ہیں۔ یعنی جس بنیاد پر وہ ناحق شہادت بیان کر کے لوگوں کو گمراہ کیا کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ شبہے انبیاء بنی اسرائیل پر عائد ہوتے ہیں۔“

(ص ١٣٣)

”چودھواں استفسار ...... بالاتفاق ثابت ہے اور سب عقلاء جانتے ہیں کہ بہت سی اقسام سحر کی مشابہ ہیں۔ معجزات سے خصوصاً معجزات موسویہ علیہ السلام اور عیسویہ علیہ السلام سے مثلاً خروج کی ساتویں باب کے بیسویں اور اکیسویں درس میں جو معجزہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا لکھا ہے سو اسی باب کے بائیسویں درس میں لکھا ہے کہ ساحروں نے ویسے ہی کر دکھایا اور اس میں مغلوب نہیں ہوئے اور اسی کتاب کے آٹھویں باب میں جو معجزہ موسویہ علیہ السلام لکھا ہے۔ سو اسی باب کے ساتویں درس میں لکھا ہے کہ ساحروں نے بھی ویسے ہی کر دکھایا اور اس میں وہ مغلوب نہیں ہوئے اور اشعیاء اور ارمیاء اور عیسٰی علیہم السلام کی سی غیب گوئیاں قواعد نجوم اور رمل سے بخوبی نکل سکتی ہیں۔ بلکہ اس سے بہتر یعنی یہ تعیین زمان و مکان اور ذات وصفات معلوم ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ بعضے ہمنے خود دیکھیں اور اکثر اسی طرح پر ہیں کہ جس طرح بائبل کی ایک خبر بھی کسی کو تحقیق نہیں ہوئی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کا معجزہ احیاء میت کا بعضے بھان متی کرتے پھرتے ہیں۔ ...... بلکہ انجیل دوم کے باب نہم کی درس سی و ششم سے ظاہر ہے کہ ایک آدمی حضرت عیسٰی علیہ

صفحہ ١٩١

السلام کے وقت میں دیو بھوت جھاڑتا تھا اور نہ وہ نبی تھا اور نہ عیسیٰ علیہ السلام کا شاگرد۔ اب بتائیے کہ مابہ الفرق حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں اور ساحروں اور نجومیوں اور رمالوں کے کاموں میں کون چیز ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ لوگ کچھ بتا نہ سکیں گے۔ اس لئے کہ آپ معجزے کی حقیقت سے نہیں مطلع ہیں اور نہ اس بات سے مطلع ہیں کہ معجزات سے ثبوت نبوت کا الزام کیوں کر تمام ہوتا ہے۔"

(استفسار ص ٣٣٦، ٣٣٧)

"چوتھی خبر اشعیاہ کی کتاب کے اکیسویں باب میں ایک کلام واقع ہے۔ اسی میں تین نسخوں سے لکھتا ہوں اور اسی طرح کے لکھنے سے چار باتیں معاً ثابت کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ اشعیاہ نبی کی پیش گوئیاں اکثر ایسی ہی ہیں۔ یعنی حضرات مجاذیب کا سا کلام۔"

(استفسار ص ٢١٩)

(استفسار ص ٤) میں ہے کہ : "ہم کہتے ہیں کہ بے شک توریت اور اناجیل میں تحریف واقع ہوئی ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہ بات ثبوت کو نہیں پہنچتی"

پہلے چاروں استفسار محض تثلیث کی گفتگو میں ہیں اور ٥ سے ١١ تک بالاصالۃ تحریف کی گفتگو ہے۔ پہلا استفسار ص ١٨ سے شروع ہوا اس میں ایک برہان عقلی کے رو سے تثلیث کا مسئلہ باطل ٹھہرایا ہے اور پہلے یہ بتایا ہے کہ مبدأ کل کائنات کی یہ شانیں ہوتی ہیں۔ مثلاً محدود نہ ہونا مبدأ کل کائنات ہونا۔ واجب بالذات ہونا وغیرہ وغیرہ۔

لکھنے کے بعد ص ٢٠ پر لکھتے ہیں کہ: "الغرض اگر یہ تقریر ہماری درست ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبدأ کل نہیں ہو سکتے اس لئے کہ اپنے مرتبہ ظہور میں وہ مشخص اور محدود ہیں اور اگر مشخص اور محدود ہونا ان کا نہ تسلیم کیا جائے تو ان کے موجود ہونے کے کچھ معنی نہ ہوں گے اور جب وہ محدود اور متعین ہوئے تو مبدأ کل کائنات نہیں ہو سکتے اور اگر یہ تقریر درست نہیں ہے تو کسی دلیل سے یہ جائز نہیں ہو سکتا کہ ہر ولایت کا یا ہر ایک نوع موجودات کا بلکہ ہر ایک شخص کا خدا علیحدہ ہو اور کیا سبب کہ ہر ایک چیز پر احتمال خدا ہونے کا نہ ہو سکے اور کیا وجہ کہ مریم علیہ السلام کا بیٹا خدا ہو اور کوسلیا کا بیٹا خدا نہ ہو"

(استفسار ص ٢٠، ٢١)

غرض مولانا مرحوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام بنی اسرائیل کے تقدس اور معجزات اور پیشین گوئیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن چونکہ توریت و اناجیل میں تحریف یقینی ہے۔ لہٰذا ان واہی باتوں سے ان کا محرف ہونا ثابت فرماتے ہیں اور خود ہزار دل سے بیزار ہیں کہ واقعی کوئی شبہ ان پر پیش کریں۔

صفحہ ١٩٢

اسلامی عقیدہ نمبر ٩...... قرآنی آیات کا مصداق آنحضرتؐ ہیں

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آیت قرآنیہ مندرجہ ذیل کے مصداق صرف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔

الله اليكم مصدقا لما بين يدى من التورات ومبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه احمد ٠ فلما جاء هم بالبينات قالوا هذا سحر مبين (الصف:٦)“ ﴿جب کہا تھا کہ عیسیٰ بن مریم نے کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں تصدیق کرنے والا ہوں۔ پہلی کتاب تورات کی اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول ﷺ کی جو میرے بعد آئے گا نام نامی اس کا احمد ﷺ ہوگا۔ پس جب وہ احمد ﷺ ان کے پاس معجزات لے کر آگیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلے جادو ہیں۔﴾

الدين كله (التوبہ:٣٣)“ ﴿اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنا رسول، ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے۔﴾

احادیث

اسماء انا محمد ﷺ وانا احمد (مسلم ج٢ ص٢٦١ باب فى اسمائه ﷺ، مشكوة ص٥١٥ باب اسماء النبى ﷺ) “ ﴿حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ﷺ ہوں اور میں احمد ﷺ ہوں۔﴾

ساخبركم باول امرى دعوة ابراهيم وبشارة عيسى عليه السلام ورؤياء امى (شرح السنة ج٧ ص١٣ حديث نمبر ٣٥٢٠ باب فضائل سيد الاولين والآخرين محمد ﷺ، مشكوة ص٥١٣ باب فضائل سيد المرسلين ﷺ) “ ﴿حضور ﷺ نے فرمایا میں تم کو اپنے اوّل امر کی خبر دیتا ہوں۔ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔﴾

حکمِ شرعی: ”اليوم تجزون عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير

صفحہ ١٩٣

الحق وکنتم عن ایته تستکبرون (انعام:٩٣)“ ﴿آج (قیامت کے دن) سخت ذلت کا عذاب ان کو دیا جائے گا کہ کیوں تم اللہ پر جھوٹ لگاتے تھے اور اللہ کی آیات سے اینٹھتے تھے۔﴾

حدیث: ”عن ابن عباس عن النبی ﷺ ومن قال فی القرآن برأیه فلیتبوأ مقعدہ من النار (ترمذی ج٢ ص ١٢٣ باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برأیه)“ ﴿ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے قرآن کریم میں اپنی رائے سے کہا اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالینا چاہئے۔﴾

اجماع امت: ”کذالک وقع الاجماع علی تکفیر کل من دافع نص الکتاب (شفاء ج٢ ص ٢٤٧)“ ﴿ایسا ہی اس شخص کی تکفیر پر اجماع ہے جو نص کتاب اللہ کو رد کرے۔﴾

مرزائی عقیدہ نمبر ٩...... قرآنی آیات کا مصداق مرزا ہے

مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں کا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی مذکورہ ان آیات کے مصداق ہیں۔

تو ہی اس آیت کا مصداق ہے هو الذی ارسل رسوله بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج١٩ ص ١١٣)

ابراہیم، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک تو آیت مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد! سے ثابت ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٨)

اسلامی عقیدہ نمبر ١٠...... کسی نبی کی کوئی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی

گز خلاف نہیں کرتا۔﴾

صفحہ ١٩٤

(الحج : ٤٧) ”﴿آپ سے جلدی عذاب مانگتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ اپنے وعدہ کے ہرگز کبھی خلاف نہ کرے گا۔﴾

انتقام (ابراھیم : ٤٧) “ ﴿اللہ تعالیٰ جو اپنے رسولوں سے وعدہ کر لیتا ہے۔ اس کے ہرگز خلاف نہیں کرتا۔ ضرور اللہ غالب انتقام لینے والا ہے۔﴾

ہوسکتا ۔﴾

سچا ہوگا۔﴾

نوٹ! یہ بھی صریح نص قرآن کے انکار کرنے کی وجہ سے اجماعاً کفر ہے۔ ”کذالک وقع الاجماع علی تکفیر کل من دافع نص الکتاب (شفاء ج ٢ ص ٢٤٧) “ ﴿یعنی ایسا ہی اس شخص کی تکفیر پر اجماع ہے جو نص کتاب اللہ کی مدافعت کرے۔﴾

مرزائی عقیدہ نمبر ١٠...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی

تین پیشین گوئیاں جھوٹی نکلیں

”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣١)

اسلامی عقیدہ نمبر ١١...... جہاد

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جہاد کا مسئلہ جو قرآن میں موجود ہے ایک پاک مسئلہ ہے جو قیامت تک فرض رہے گا۔ علیٰ وجود الشرائط۔

فرض کیا گیا ہے۔﴾

صفحہ ١٩٥

لهم الجنة ٠ يقاتلون فى سبيل الله فيقتلون ويقتلون وعداً عليه حقاً فى التورة والانجيل والقرآن (توبه:١١١)“ ﴿تحقیق اللہ نے مومنین سے ان کے نفسوں اور مالوں کو خرید لیا ہے۔ اس امر کے ساتھ کہ ان کو جنت ملے وہ اللہ کے رستہ میں جہاد کرتے ہیں۔ پس قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ اس پر یہ وعدہ تورایت وانجیل اور قرآن کریم میں ثابت ہے۔﴾

فى سبيل الله ثم احيى ثم اقتل ثم احيى ثم اقتل ثم احيى ثم اقتل (متفق عليه بخارى ج٢ ص١٠٠٣ ، باب ماجاء فى التمنى ومن تمنى الشهادة، مشكوة ص٣٢٩ کتاب الجهاد) “ ﴿فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے خدا کی میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے رستہ میں قتل کیا جاؤں۔ پھر زندہ ہوں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ ہوں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ ہوں پھر قتل کیا جاؤں۔﴾

عليه عصابة من المسلمين حتى تقوم الساعة (رواه مسلم ج٢ ص١٤٣، باب قوله ﷺ لا تزال طائفة من امتى ظاهرين على الحق، مشكوة ص٣٣٠) “ ﴿حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہمیشہ یہ دین قائم رہے گا۔ ایک جماعت مسلمانوں کی قیامت تک جہاد کرتی رہے گی۔﴾

نوٹ! یہاں مرزا قادیانی نے صاف طور پر شریعت جدیدہ کا دعویٰ کیا ہے۔ جو خود ان کے مسلمہ سے کفر ہے باقرار خود کافر ہیں۔

قبل دعویٰ نبوت تشریعیہ (ازالہ اوہام ص ١٣٧، ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠) میں لکھتے ہیں۔ ”اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا۔ جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“ جب جہاد کا حکم منسوخ کر دیا تو خمس اور غنیمت کے احکام بھی منسوخ ہوگئے اور آیت خمس ما غنمتم وغیرہ سب کو منسوخ کر دیا۔

صفحہ ١٩٦

مرزائی عقیدہ نمبر ١١...... جہاد حرام

مرزا قادیانی اور مرزائی اس عقیدہ کے منکر ہیں اور مسئلہ جہاد کو خراب مسئلہ بتاتے ہیں۔ کیونکہ شریعت مرزائیہ میں یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے۔

ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا اور شیر خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور بوڑھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر مواخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا پھر مسیح موعود کے وقت قطعا جہاد کا حکم موقوف کر دیا گیا۔"

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

(خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

کے خراب مسئلہ کے خیال کو دلوں سے مٹایا جائے۔"

(اعجاز احمدی ص ٤٤، خزائن ج ١٩ ص ١٤٢)

اسلامی عقیدہ نمبر ١٢...... معجزات مسیح علیہ السلام حق ہیں

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہت سے معجزے ظاہر کئے جن میں سے احیاء موتی اور خلق طيور باذن اللہ بہت مشہور اور قرآن میں بھی مذکور ہیں اور ان کی صداقت وحقانیت پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔

وَالِدَتِكَ...... وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِى فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْراً بِاِذْنِى...... وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِى (مائده:١١٠) " ﴿جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ علیہ السلام یاد کر میری نعمت کو جو تجھ پر اور تیری والدہ پر ہوئیں...... اور جب تو بنائے مٹی سے میرے حکم سے پرندے کی شکل پھر اس میں پھونک مارے۔ پس وہ میرے حکم سے پرندہ ہو جائے گا...... اور زندہ کرے تو مردے کو میرے حکم سے۔ ﴾

صفحہ ١٩٧

مرزائی عقیدہ نمبر ١١...... جہاد حرام

مرزا قادیانی اور مرزائی اس عقیدہ کے منکر ہیں اور مسئلہ جہاد کو خراب مسئلہ بتاتے ہیں۔ مرزائیہ میں یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے۔

”جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں اس قدر شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں خوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں بچوں اور توں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر نجات پانا قبول کیا گیا پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر دیا

(حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٣)

”کافروں کے ساتھ لڑنا مجھ پر حرام کیا گیا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ١٧، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

”یہ بات تو بہت اچھی ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کی جائے اور جہاد کے خیال کو دلوں سے مٹایا جائے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٤، خزائن ج ١٩ ص ١٤٤)

اسلامی عقیدہ نمبر ١٢...... معجزات مسیح علیہ السلام حق ہیں

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بہت سے معجزے سے احیاء موتی اور خلق طیور باذن اللہ بہت مشہور اور قرآن میں بھی مذکور ہیں اور ان پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔

”اذقال الله يعيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى فتنفخ فيها فتكون طيراً تخرج الموتى باذنى (مائده: ١١٠) ” ﴿جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ علیہ ت کو جو تجھ پر اور تیری والدہ پر ہوئیں...... اور جب تو بنائے مٹی سے میرے حکم پھر اس میں پھونک مارے۔ پس وہ میرے حکم سے پرندہ ہو جائے گا...... اور مردوں کو میرے حکم سے۔﴾

كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله...... واحيى الموتى باذن الله (آل عمران: ٤٩) ” ﴿اے قوم میں تمہارے خدا کی طرف سے معجزے اور نشان صداقت لایا ہوں کہ تحقیق میں بناؤں گا مٹی سے مثل ہیئت پرندے کے پھر پھونک ماروں گا۔ پس وہ اللہ کے حکم سے پرندہ ہو جائے گا اور اللہ کے حکم سے مردے زندہ کروں گا۔﴾

(بقرہ: ٨٧) ”﴿ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بین معجزے دیئے اور روح القدس سے ان کی تائید کی۔﴾

الله) میں ہے کہ: ”بعض مردے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے زندہ ہوئے تھے۔ بعد زندہ ہونے کے ان سے اولادیں ہوئیں۔ کفار نے کہا کہ نئے مردوں کو زندہ کیا ہے۔ شاید سکتہ میں ہوں گے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سام بن نوح علیہ السلام کو زندہ کیا اور باتیں کیں۔ تفسیر کشاف میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے ٤ ہی اشخاص زندہ ہوئے تھے اور حزقیل کے معجزے سے آٹھ ہزار۔“

(کشاف ج ١ ص ٣٠٧)

نوٹ! معجزات خارق عادت ہوتے ہیں۔ جو خدا تعالیٰ اپنے نبی کی صداقت پر حجت قائم کرتا ہے۔ یہ عادت مستمرہ و قانون قدرت کلیہ سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٤٩، ٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”اس قدر زور سے صدق اور وفا کی راہوں پر چلتے ہیں کہ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہو جاتی ہے۔ گویا ان کا خدا ایک الگ خدا ہے۔ جس سے دنیا بے خبر ہے اور ان سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں۔ جو دوسروں سے وہ ہرگز نہیں کرتا۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام“

مثلاً یہ قانون کلی ہے ۔ ” انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج (الدهر : ٢)“ یعنی ہم انسان کو نطفہ مختلط سے پیدا کرتے ہیں۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام وحوا کو بغیر ماں باپ کے کیا۔ کوئی مسلمان اس قانون قدرت عامہ کو دیکھ کر قرآن کریم کی ان باتوں کا کبھی انکار کر دے گا۔

حکم شرعی

﴿ہماری آیات معجزات کا کوئی انکار نہیں کرے گا۔ مگر بدعہد ناشکرے۔﴾

صفحہ ١٩٨

النار هم فيها خالدون (اعراف:٣٦)" ﴿وہ لوگ جو اللہ کے معجزات کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں وہ دوزخی ہیں۔ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔﴾

الذين يصدفون عن اياتنا سوء العذاب بما كانوا يصدفون (انعام:١٥٧)" ﴿اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ کے معجزوں کو جھٹلائے اور ان سے اعراض کرے۔ جو ہمارے معجزات اور آیات سے اعراض کرتے ہیں۔ ہم ان کے اعراض کرنے کی وجہ سے ان کو سخت عذاب کا بدلہ دیں گے۔﴾

حديث: "عن ابن عباسؓ عن النبى ﷺ ومن قال فى القرآن برأيه فليتبؤا مقعده من النار (ترمذی ج٢ ص ١٢٣، باب ماجاء فى الذى يفسر القرآن برأيه)" ﴿حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی اس کو اپنی جگہ دوزخ میں بنانا چاہئے۔﴾

کتبِ عقائد: "كذالك وقع الاجماع على تكفير كل من دافع نص الكتاب (شفاء ج٢ ص ٢٤٧)" ﴿ایسے ہی اس شخص کی تکفیر پر اجماع ہے جو نص کتاب اللہ کی مدافعت کرے۔﴾

مرزا قادیانی کے اقوال

(ازالہ ص٥٤١، خزائن ج ٣ص ٣٩٠)

کریم کے معنی اس کے مروجہ اور مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔"

(ازالہ ص ٤٦٧ ، خزائن ج ٣ص ٣٥٠)

مرزائی عقیدہ نمبر ١٢......معجزات مسیح علیہ السلام کا انکار واستہزاء

مرزا قادیانی اور ان کی ذریت ان معجزات کے منکر ہیں اور ان کو لہو ولعب ومکروہ و قابل نفرت بتاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ایسے کھیل کھلونے کلکتہ اور بمبئی میں بہت بنتے اور بکتے ہیں۔ یہ قرآن کریم کی نص صریح کا انکار ہے۔

صفحہ ١٩٩

کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا۔ جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔"

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی در حقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ"

(حاشیہ ازالہ ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

نوٹ ! مرزا قادیانی روح القدس کی تاثیر تالاب میں تو تسلیم فرماتے ہیں اور اس سے کوئی شرک لازم نہیں آتا اور اپنے لئے (براہین حصہ ٥ ص ٩٥، خزائن ج ٢١ ص ١٢٤) میں مرتبہ کــــــن فیکون کا یعنی ”انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون “ یعنی اے مرزا تیری شان یہ ہے کہ جب تو کسی شئے کا ارادہ کرے اور کن کہے فوراً ہو جائے گی۔ ثابت کریں تو بھی شرک نہ ہو ۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام سے وہی فعل بطریق معجزہ جو فی الحقیقت فعل اللہ ہوتا ہے نہ فعل نبی ، اور نیز قرآن کریم میں بِاِذْنِ اللہ بھی موجود ہے۔ صادر ہو تو شرک ہے۔ دوسرے قرآن مجید کی بھی توہین کی کہ ایسے کھیل کھلونوں کو آیات بینات بتاتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کی شان مرزا قادیانی کے نزدیک معاذ اللہ ایک مداری تماشا کرنے والے کے برابر ہوئی اور جیسے سامری کا گوسالہ بتا کر صاف اس معجزے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں ۔

اس کو خیال کرتے ہیں ۔ اگر یہ عاجز اس عمل مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا۔ کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔"

(حاشیہ ازالہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

نوٹ ! افسوس یہ معجزات تو خدا کے حکم سے دکھلاتے تھے۔ نہ اپنی رائے سے اور خود مرزا قادیانی نے بھی (ازالہ حاشیہ ص ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں لکھ دیا ہے کہ "عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فعل باذن الٰہی اختیار کیا تھا ۔" تو خود خدا ہی اس فعل مکروہ کا مرتکب ہوا ؟ ۔ معاذ اللہ !

سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو ۔ جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو ۔ جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔ یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔

صفحہ ٢٠٠

کیونکہ حضرت مسیح بن مریم اپنے باپ یوسف (معاذ اللہ ) کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں ..... اور ایسا معجزہ دکھلانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں ۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بکتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہیں ۔“

(ازالہ ص ٣٠٣،٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائی کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے ہے۔“

(حاشیہ ازالہ ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنا رفیق بنایا ہے۔ گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا۔ پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔“

(حاشیہ ازالہ ص ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

نوٹ ! یہ قرآن کریم کی تحریف ہے۔ جب مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہدایت کے کام میں ناکام بتاتے ہیں تو ایسے معنی لینے کی ضرورت کیا پڑی صرف یہ کہ مرزا قادیانی باوجود دعویٰ مسیحیت ان میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا۔ جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔ لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوراق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔“

(حاشیہ ازالہ ص ٣٢١، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔“

(ازالہ ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

کہ حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل ہوئے تھے۔ کیونکہ الیسع کی لاش زندہ ہو گیا۔ مگر چوروں کی لاشیں تـ جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تـ

نوٹ ! اس کلام میں ہونا بھی کہہ دیا۔ جو ماصلبوہ کے سـ

کہ یہ واقعہ جو قرآن شریف میں خفیف امر مراد ہے۔ جو بہت دقـ

قرآن کریم میں ہوئے کو دوبارہ زندہ کیا ہے

....... ١ انى يحيى هذه الله بـ لبثت يوما او بعض یـ لم يتسنه . وانظـ

صفحہ ٢٠١

و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع سے درجہ کمال سے کم رہے ہوئے تھے۔ کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی وہ معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا۔ مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہو سکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔“

(حاشیہ ازالہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

نوٹ! اس کلام میں قرآن کریم کے بالکل خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مصلوب ہونا بھی کہہ دیا۔ جو صلبوہ کے صریح خلاف ہے اور یقینی کفر ہے۔

کہ یہ واقعہ جو قرآن شریف میں مذکور ہے۔ اپنے ظاہری معنوں پر محمول نہیں بلکہ اس سے کوئی خفیف امر مراد ہے۔ جو بہت وقعت اپنے اندر نہیں رکھتا۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٥)

دیکھا کہ وہ تین گھنٹے میں خارق عادت کے طور پر اسحاق کا تپ اتر گیا اور غشیوں کا نام و نشان نہ رہا...... یہی ہے احیاء موتیٰ ۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ کے احیاء موتیٰ میں اس سے ایک ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا اب لوگ جو چاہیں ان کے معجزات پر حاشیہ چڑھائیں۔ مگر حقیقت یہی تھی کہ جو شخص حقیقی طور پر مر جاتا ہے اور اس دنیا سے گزر جاتا ہے اور ملک الموت اس کی روح کو قبض کر لیتا ہے وہ ہرگز واپس نہیں آتا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢)

اسلامی عقیدہ نمبر ١٣...... احیاء موتیٰ

قرآن کریم میں مذکور ہے کہ اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے دنیا میں مرے ہوئے کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں کئی ہزار کا تذکرہ ہے۔

اَنّٰى يُحْيِىْ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ . قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ . قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ . وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ

صفحہ ٢٠٢

ننشزها ثم نكسوها لحما ، فلما تبين له قال اعلم ان الله على كل شئی قدير (بقره : ٢٥٩) ٭ یا جیسے وہ شخص (عزیر علیہ السلام) کہ ایک شہر (بیت المقدس جب بخت نصر نے تباہ و برباد کر دیا تھا) پر گزرا جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا۔ وہ بولا اللہ مر جانے کے بعد کیسے زندہ کرے گا۔ پس خدا نے اس کو موت دی سو برس تک مردہ رہا۔ پھر اسے زندہ کر کے اٹھایا اور پوچھا تو کتنی دیر ٹھہرا بولا ایک دن یا کچھ کم خدا نے فرمایا نہیں تو سو برس تک مرا رہا ہے۔ پس دیکھ اپنے کھانے اور پینے کی چیز کو کہ وہ سڑی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ تجھ کو لوگوں کے لئے نشان بنائیں دیکھ ہم ہڈیوں کو کیسے ابھارتے ہیں اور پھر کس طرح ان ہڈیوں کے اوپر گوشت کو پہناتے ہیں۔ پس جب اس شخص پر یہ کچھ ظاہر ہوا تو کہا کہ میں جانتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ ٭

(تفسیر بیضاوی انوار التنزیل واسرار التاویل ج ١ ص ١١٩) میں ہے کہ ’انه اتى قومه على حماره وقال انا عزير فكذبوه فقرأ التورات من الحفظ ولم يحفظها احد قبله فعرفوه بذالك وقالوا هوا بن الله ...... لما رجع الى منزله كان شاباً واولاده شيوخاً‘ یعنی حضرت عزیر علیہ السلام سو برس کے بعد زندہ ہو کر اپنے گدھے پر سوار ہو کر قوم میں آئے اور کہا میں عزیر ہوں لوگوں نے باور نہ کیا۔ حضرت عزیر نے تورات کو اپنے حفظ سے سنایا اور ان سے پہلے تورات کا کوئی حافظ نہ ہوا تھا۔ پس اس سے لوگوں نے ان کو پہچانا اسی واقعہ کی وجہ سے یہود حضرت عزیر کو ابن اللہ کہنے لگے ...... جب حضرت عزیر اپنے گھر کو لوٹ کر آئے تو وہ خود تو جوان تھے اور ان کی اولاد بوڑھی اور (مستدرک ج ٢ ص ٢٧٨ حدیث نمبر ٣١٧١ کتاب التفسیر باب قصۃ عزیر علیہ السلام) حدیث علی میں ہے کہ سب سے پہلے ان کی آنکھیں پیدا کی گئیں وہ اپنی ہڈیوں کو گوشت پہناتے اور پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے تھے۔

الموت ، فقال لهم الله موتوا ثم احياهم (بقره : ٢٤٣)“ کیا تو نے ان لوگوں کو جو موت سے ڈر کر (جب ان میں وبا پڑی تھی) اپنے شہروں سے بھاگ نکلے تھے اور وہ کئی ہزار تھے۔ اللہ نے ان سے فرمایا مر جاؤ پھر ان کو زندہ کیا۔ ٭

(جلالین ص ٣٧) میں اس آیت کے تحت میں ہے کہ : ”ثم احياهم بعد ثمانية ايام او اكثر بدعاء حزقيل ...... فعاشوا دهراً“ ”پھر ان کو آٹھ دن یا کچھ زیادہ کے بعد حزقیل کی دعا سے زندہ کیا اور پھر مدت تک زندہ رہے۔“

صفحہ ٢٠٣

اور خود مرزا قادیانی (ازالۃ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”المسیح کی لاش سے ایک مردہ زندہ ہو گیا۔ اب سوائے عناد کے انکار کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ غرض اس میں بھی صریح نص قرآن کا انکار ہے جو اجماعاً کفر ہے۔

مرزائی عقیدہ نمبر ١٣...... انکار احیاء موتی

مرزا قادیانی اور مرزائی اس نص کے منکر ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی شخص مرنے کے بعد زندہ نہیں کیا جاسکتا۔

الموت اس کی روح کو قبض کر لیتا ہے۔ وہ ہرگز واپس نہیں آ سکتا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢)

مردہ زندہ ہو گیا اور دنیا میں واپس آیا“

(ازالۃ اوہام ص ٦٢٠، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)

اسلامی عقیدہ نمبر ١٤....... معراج جسمانی حق ہے

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جناب سرور کائنات ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی ہے۔

المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ (الاسراء: ١) ”پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو یعنی رسول اللہ ﷺ کو ایک رات میں مسجد الحرام مکہ سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی۔ ﴾

اسریٰ بہ (بخاری شریف ج ١ ص ٥٥٠ باب المعراج) ”ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ معراج میں جو کچھ واقعات حضور ﷺ نے دیکھے وہ اسی آنکھ سے دیکھے ہیں۔ ﴾

عدم موجودگی کی وجہ سے سخت پریشان ہوئیں اور نیند جاتی رہی۔

(دیکھو تفسیر ابن کثیر ج ٥ ص ٣٨)

کہہ کر آوازیں دیتے تھے۔“

(دیکھو تفسیر روح المعانی ج ١٥ ص ٦)

صفحہ ٢٠٤

٥...... ”عن ابى بكر من رواية شداد بن اوس عنه انه قال للنبى ﷺ ليلة اسرى به طلبتك يا رسول الله البارحة فى مكانك فلم اجدك فاجابه ان جبريل عليه السلام حملنى الى المسجد الاقصى (شفاء ج١ ص ١١٠)“ ٭یعنی ابوبکرؓ نے عرض کی یارسول اللہ! میں نے آپ کو کل رات (معراج کی رات) آپ کے مکان پر تلاش کیا آپ کو موجود نہ پایا حضور ﷺ نے جواب دیا کہ مجھ کو جبرئیل علیہ السلام مسجد اقصیٰ کی طرف اٹھا کر لے گیا تھا۔ ٭

٦...... ”(اخرج الحاكم وصححه ج ٤ ص ٥ حديث نمبر ٤٤٦٣ وابن مردويه والبيهقى فى الدلائل ج ٢ ص ٣٦١، باب الاسراء برسول الله من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى) عن عائشة قالت لما اسرى بالنبى ﷺ الى المسجد الاقصى اصبح يتحدث الناس بذلك فارتد ناس ممن كانوا آمنوا به وصدقوه وسعوا بذلك الى ابى بكر فقالوا هل لك الى صاحبك يزعم انه اسرى به ليلة الى بيت المقدس قال اوقال ذالك؟ قالوا نعم قال لان كان قال ذلك لقد صدق قالوا اوتصدقه انه ذهب ليلة الى بيت المقدس وجاء قبل ان يصبح قال نعم انى اصدقه فيما هو ابعد من ذلك اصدقه بخبر السماء فى غدوة او روحة فلذلك سمى ابابكر صديق (تفسير ابن كثير ج ٥ ص ٣٨)“ ٭اس حدیث کی حاکم نے تخریج کی اور تصحیح کی ہے اور ابن مردویہ نے اور بیہقی نے بھی دلائل میں تخریج کی ہے کہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ عائشہؓ نے کہا کہ جب حضور ﷺ کو مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی گئی تو صبح کو حضور ﷺ نے لوگوں سے بیان فرمایا۔ اس واقعہ کو سن کر بہت سے لوگ مرتد ہو گئے اور دوڑتے ہوئے ابوبکرؓ کے پاس آئے (اور ابوبکرؓ ابھی تک حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے تھے) اور کہا کہ کیا تم اب بھی محمد ﷺ کی تصدیق کرو گے وہ کہتے ہیں کہ آج رات مجھ کو بیت المقدس تک سیر کرائی گئی؟۔ ابوبکرؓ نے کہا کہ یہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا بے شک! ابوبکرؓ نے کہا۔ اگر حضور ﷺ نے فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے۔ لوگوں نے کہا تو کیا تم تصدیق کرتے ہو کہ رات بھر میں بیت المقدس گئے اور پھر صبح سے قبل لوٹ آئے ابوبکرؓ نے کہا بے شک! میں اس سے زیادہ ابعد کی تصدیق کر رہا ہوں اور صبح وشام کی آسمانی خبروں کی تصدیق کرتا ہوں۔ پس اسی وجہ سے حضور ﷺ نے ابوبکرؓ کا نام صدیق رکھا۔ ٭

صفحہ ٢٠٥

ہوا ہے۔ ”فان العبد عبارة عن مجموع الروح والجسد (ابن کثیر ج ٥

ص ٤١)“

”فان الله انما اخبر فی كتابه انه اسرى بعبده ولم يخبرنا انه اسرى بروح عبده وليس جائز لاحد ان يتعدى ما قال الله تعالى الى غیره ...... ولا دلالة تدل على ان المراد اسرى بروح عبده (ابن جریر ج ١٥ ص ١٧)“ یعنی عبد مجموعہ روح اور جسد کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسری بعبده فرمایا ہے۔ بروح عبدہ نہیں فرمایا اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ اللہ کے قول کے خلاف اور معنی لے اور روح عبد مراد لینے پر کوئی دلالت نہیں ہے۔

پھر صبح لوٹ بھی آئے اور پھر قریش کا بیت المقدس کی علامات پوچھنا اور حضور ﷺ کا تمام علامتوں کو بتانا ( متفق علیہ مشکوۃ ص ٥٣٠) اور بہت سے ضعیف الایمان لوگوں کا مرتد ہو جانا اور قریش کے دو قافلوں کا صحیح صحیح نشان اور پتہ بتانا یہ سب واقعات بتا رہے ہیں کہ یہ اسریٰ جسد اطہر کے ساتھ ہوا تھا۔ اگر محض خواب یا کشف ہوتا تو یہ واقعات ہرگز پیش نہ آتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس اسریٰ جسمی کے علاوہ ٣٣ اور معراجیں روحی بھی ہوئی ہیں۔ جیسا کہ شیخ اکبر محی الدین ابن العربی نے (فتوحات کے باب ٣٦٧ ج ٣ ص ٣٤٢، ٣٤٣) میں لکھا ہے۔ یعنی معراج کے بیان میں ہے۔

”ولوكان الاسراء بروحه وتكون رؤيا رآها كما يراه النائم في نومه ما انكره احد ولا نازعه وانما انكروا عليه كونه اعلمهم ان الاسراء كان بجسمه فى هذه المواطن كلها وله ﷺ أربعة وثلاثون مرة الذى أسرى به منها اسراء واحد بجسمه والباقى بروحه رؤيا رآها....... وبهذا زاد على الجماعة رسول الله ﷺ باسراء الجسم“ یعنی اگر اسراء روحی ہوتا اور کشف ہوتا تو کوئی شخص انکار نہ کرتا۔ کفار نے انکار تو اس وجہ سے کیا کہ ان کو حضور ﷺ نے اسراء جسمی کی خبر دی تھی....... حضور ﷺ کو ٣٤ مرتبہ اسریٰ ہوا ہے۔ ایک اسریٰ بجسمہ اور باقی اسریٰ روحی اور کشفی ہوئی ہیں ....... حضور ﷺ کو اسریٰ جسمی کے ساتھ انبیاء علیہم السلام کی جماعت پر فضیلت ہے۔ یعنی اس اسریٰ جسمی میں حضور ﷺ مخصوص ہیں۔

صفحہ ٢٠٦

اور (یواقیت ج ٢ ص ٣٥) میں بھی شیخ سے اسی طرح منقول ہے۔ مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٢٤٧، خزائن ج ٣ ص ٣٦٣) میں لکھتے ہیں کہ ”سلف خلف کے لئے بطور دلیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں ۔“ جب یہ بات ہے تو سنئیے کہ اس اسراء جسمی پر اکیس صحابہ جلیل القدر کی فہرست (شفاء ج ١ ص ١١٣ تا ١١٨) میں موجود ہے اور حضرت شیخ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب (خصائص الکبریٰ ج ١ ص ٢٧٧ باب خصوصیت بالاسراء) میں ٤٥ صحابہؓ سے یہ حدیث روایت فرمائی ہے۔ پھر انکار کی کون سی وجہ ہے؟۔

حکم شرعی

”في كتاب الخلاصة من انكر المعراج ينظر ان انكر الاسراء من مكة الى بيت المقدس فهو كافر ولو انكر المعراج من بيت المقدس لا يكفر وذلك لان الاسراء من الحرم الى الحرم ثابت بالاية وهى قطعية الدلالة والمعراج من بيت المقدس الى السماء ثبت بالسنة وهى ظنية الرواية والدراية (شرح فقه اكبر ملاعلی قاری ص ١٣٠)“ ”کتاب الخلاصہ میں ہے کہ جس نے معراج کا انکار کیا دیکھا جائے ۔ اگر مکہ سے بیت المقدس تک کے اسراء کا انکار کیا ۔ تو وہ کافر ہے اور اگر بیت المقدس سے آگے کا انکار کیا تو کافر نہ ہوگا۔ کیونکہ مکہ سے بیت المقدس تک کا اسراء تو آیت قطعی قرآنیہ سے ثابت ہے اور معراج بیت المقدس سے آسمان تک یہ سنت سے ثابت ہے۔ جو ظنی ہے۔“

”واجمعنا على ان من انكر المعراج الى بيت المقدس يصير كافرا ثم ههنا ثلثة اشياء الاسراء والمعراج والاعراج فاما الاسراء من مكة الى بيت المقدس فهذا مما لا ينكره المعتزلة ومن انكر يصير كافرا لان هذا ثبت بالنص (تمهيد ابو شكور سلمى قلمى ص ١٢٧)“ ”اس پر اجماع امت ہو چکا ہے کہ جس نے انکار کیا معراج کا بیت المقدس تک کافر ہو جائے گا۔ پھر اس جگہ تین باتیں ہیں۔ اسراء، معراج، اعراج۔ لیکن اسراء مکہ سے بیت المقدس تک اس کا معتزلہ بھی انکار نہیں کرتے اور جو شخص اس کا انکار کرے گا، کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ نص سے ثابت ہے۔“

باقی رہا حضرت عائشہؓ کا قول ”ما فقدت (اوما فقد) جسد رسول اللہ ﷺ (شفاء ج ١ ص ١١٣)“ یعنی میں نے جسم رسول اللہ ﷺ کو گم نہ کیا تھا۔ یا جسم رسول اللہ ﷺ گم نہ

صفحہ ٢٠٧

کیا گیا تھا۔" جو مرزا قادیانی نے بیان کیا۔ وہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ یہ معراج شروع زمانہ بعثت میں مکہ میں ہوئی ہے اور عائشہؓ اس وقت حضورﷺ کے نکاح میں بھی نہ آئی تھیں۔ بلکہ پیدا ہی نہ ہوئی تھیں۔ چنانچہ ملا علی قاری نے (شرح فقہ اکبر ص ١٣٥) میں لکھا ہے ۔ " والصحیح ان المعراج كان بمكة في اوائل البعثة حين لم تولد عائشة " اور زرقانی نے (شرح مواہب الدنیہ ج ٨ ص ٤) میں لکھا ہے کہ یہ قول عائشہؓ ما فقدت موضوع ہے۔ صحیح احادیث کے رد کرنے کے لئے کسی نے اس کو وضع کیا ہے۔ ” هذا حديث لا يصح وانما وضع رداً للحديث الصحيح ....... هذا حديث موضوع عليها “

دوسرے حضرت عائشہؓ کی صحیح حدیث میں اوپر نقل کر چکا۔ جس میں خاص اسراءِ جسمی متعین ہے اور اگر قول عائشہؓ کو بالفرض صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ قول یقیناً اس اسراء کے متعلق نہیں۔ بلکہ کسی معراج روحی کے متعلق ہے۔ جو عائشہؓ کی موجودگی میں مدینہ میں ہوئی ہوگی۔ کیونکہ آپ کو ٣٣ معراجیں روحی بھی ہوئی ہیں اور ما فقد جسد رسول اللہ ﷺ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ آپ کا جسم روح سے الگ نہ کیا گیا تھا۔ یعنی جسم سمیت معراج ہوئی اور حضرت معاویہؓ بھی اس زمانہ میں ایمان نہیں لائے تھے۔ بہت بعد میں لائے تھے۔

مرزائی عقیدہ نمبر ١٤...... انکار معراج جسمانی

مرزا قادیانی اور مرزائی معراج جسمانی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ معراج جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ ایک قسم کا کشف تھا اور اس قسم کے کشفوں میں خود مرزا قادیانی کو خوب تجربہ ہے اور سبحن الذی اسرى بعبده ليلاً “ ( تذکرہ ص ٧٥، ٣٧٩) مرزا قادیانی پر بھی وحی ہوئی ہے۔

اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے ۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ )

شب معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہؓ کا یہی اعتقاد تھا۔...... لیکن پھر بھی حضرت عائشہؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ وہ روحانی تھی ۔“

(ازالہ ص ٤٨٩، ٤٩٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٦، ٣٥٧)

صفحہ ٢٠٨

معراج کے دونوں ٹکڑوں کی نسبت یہی رائے ظاہر کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ جسم کے ساتھ نہ بیت المقدس میں گئے نہ آسمان پر۔ بلکہ وہ ایک رویاء صالحہ تھی۔"

(ازالہ اوہام ص ٤٢٩، خزائن ج ٣ ص ٣٥٠)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

"یعنی مرزا قادیانی کو بھی معراج ہوئی ہے۔" (حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)

اسلامی عقیدہ نمبر ١٥....... قیام قیامت

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن مردے قبروں سے نکل کر حساب کتاب کے لئے میدان محشر میں جمع ہوں گے۔ صور پھونکا جائے گا۔ زمین و آسمان بدلے جائیں گے۔ تمام خلق اللہ زلزلۃ الساعۃ سے پریشان ہوں گے۔ اعمال کا وزن ہوگا۔ پل صراط قائم ہوگا۔ اس پر سے ہر شخص عبور کرے گا۔ "ان منکم الا واردھا" (مریم: ٧١) ہول قیامت سے انبیاء علیہم السلام بھی نفسی نفسی پکاریں گے۔ تمام انبیاء علیہم السلام شفاعت سے انکار کریں گے۔ سرور عالم ﷺ اس منصب کو قبول فرمائیں گے اور بعض جہنمی شفاعت سے اور بعض بلا شفاعت خارج کر کے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ وغیرھا من التفاصیل!

مرنے کے بعد صرف روح کے لئے جنت یا دوزخ کی کھڑکی تا قیامت کھولی جاتی ہے۔ علی قدر مراتب اور روح کا جسم کے ساتھ تعلق رہتا ہے۔ کامل طور پر قطع نہیں ہوتا۔

"یایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی (فجر: ٢٧ تا ٣٠) "اے روح اطمینان والی اپنے رب کی طرف آ۔ میرے بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں داخل ہو۔"

قیامت کے دن مردے قبروں سے اٹھیں گے اور دوبارہ زندہ ہوں گے۔

(یسین: ٥١) "صور پھونکا جائے گا۔ اس وقت سب کے سب اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چلیں گے۔"

صفحہ ٢٠٩

انشاها اول مرة وهو بکل خلق علیم (یسین:٧٨)“ ﴿کہا کہ کون بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرے گا۔ کہہ دے کہ جس نے پہلی مرتبہ زندہ کر دکھایا وہی دوبارہ زندہ کرے گا اور وہ ہر خلق کو خوب جانتا ہے۔﴾

(طه:٥٥)“ ﴿تم کو ہم نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں لوٹائیں گے اور پھر اسی سے دوبارہ نکالیں گے۔﴾ حساب کے بعد پھر جسم کے ساتھ کامل طور پر جنت میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ رہیں گے۔ اب اس کے بعد جنت سے نہیں نکالے جائیں گے۔

الارض (زمر:٦٨)“ ”الى قوله وسیق الذین اتقوا ربهم الى الجنة زمراً، حتى اذا جآؤها وفتحت ابوابها وقال لهم خزنتها سلام علیکم طبتم فادخلوها خالدین (زمر:٧٣)“ ﴿اور صور پھونکا جائے گا۔ پس سب جو زمین اور آسمان میں ہیں۔ بیہوش ہو جائیں گے اور چلائے جائیں گے متقی لوگ جنت کی طرف گروہ در گروہ جب جنت کے قریب پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھولے جائیں گے تو فرشتے خازن جنت کہیں گے۔ تم پر سلامتی ہو۔ خوش رہو جنت میں داخل ہو ہمیشہ کے لئے۔﴾

ذلک یوم الخلود (ق:٣٤)“ ﴿اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی وہ دن ہے جس کا وعدہ کیا تھا...... داخل ہو جنت میں سلامتی کے ساتھ یہ ہے دن ہمیشہ رہنے کا۔﴾

اما الذین سعد واففی الجنة خالدین فیها مادامت السموت والارض الا ماشاء ربک عطاء غیر مجذوذ (هود:١٠٨،١٠٥)“ ﴿یعنی قیامت کے دن...... لیکن وہ لوگ جو نیک بخت ہوں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ بقدر مدت اس زمانہ کے کہ جس قدر زمین و آسمان قائم رہے تھے۔ غیر اس مدت کے جو اللہ نے چاہی ہے۔ (یعنی ہمیشگی) یہ بخشش ہے غیر منقطع۔﴾

نوٹ! ان آیات سے معلوم ہوا ہے کہ قیامت کے دن حساب کتاب کے بعد......

صفحہ ٢١٠

میں داخل ہوں گے اور پھر ہمیشہ رہیں گے۔ وماهم منها بمخرجین (الحجر: ٤٨) ”اس موقع پر ہے ورنہ حضرت آدم وحوا علیہم السلام جنت میں ٹھہرائے جانے کے بعد جنت سے کیسے نکالے گئے۔ یآدم اسکن انت وزوجک الجنة (بقره: ٣٥) ”ہاں قیامت سے پہلے دخول روحی تھا اور روح کا جسم کے ساتھ کچھ معمولی تعلق تھا اور قیامت کے بعد دخول جسمی ہوگا اور روح کا جسم کے ساتھ کامل تعلق ہوگا۔ جیسا کہ اب دنیا میں ہے۔ ورنہ قیامت کے بعد جنت میں رہتے ہوئے ان کو ادخلوا الجنة کہنا صحیح نہ ہوگا۔ جیسا کہ کوئی شہر میں ہے اور اس کے کسی خاص گھر میں جانا چاہے تو اس کو ادخلو البلد نہیں کہہ سکتے۔

حدیث شریف میں ہے کہ: ”وانا اوّل من یقرع باب الجنة (رواه مسلم ج ١ ص ١١٢، باب اثبات الشفاعة واخراج الموحدین من النار) ”سب سے پہلے جو جنت کے دروازے کو کھٹکھٹائے گا حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ میں ہوں۔

”انا اول من یحرک حلق الجنة فیفتحها اللہ لی (رواه الترمذی، مشکوة ص ٥١٣، باب فضائل سید المرسلین صلوٰة الله وسلامه دارمی ج ١ ص ٢٦ کیف کان اول شان النبی) ”حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں سب سے پہلے جنت کی کنڈی ہلاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ میرے لئے کھولے گا۔

”اتی باب الجنة یوم القیامة فاستفتح فیقول الخازن من انت فاقول محمد فیقول بک امرت لا افتح لا حد قبلک (مسلم ج ١ ص ١١٢، باب اثبات الشفاعة واخراج الموحدین من النار) ”میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا۔ خازن جنت پوچھے گا تو کون ہے۔ میں کہوں گا محمد ﷺ پھر کہے گا آپ ہی کے لئے مجھ کو امر ہوا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے نہ کھولوں۔

میدان محشر خود جنت و دوزخ نہیں ہے۔ بلکہ جنت دوزخ سے خارج ہے۔

ص ٤٨٧، باب الحساب والقصاص والميزان) ”حضور ﷺ نے فرمایا لوگ قیامت کے دن ایک میدان واحد میں جمع کئے جائیں گے۔

كقرصة النقى ليس فيها معلم لا حد متفق عليه (بخارى ج ٢ ص ٩٦٥، باب يقبض الله الارض) ”حضور ﷺ نے فرمایا لوگ قیامت کے دن ایک میدان سفید میدے

صفحہ ٢١١

میں جمع کئے جائیں گے جو مثل چپاتی کے ہموار اور صاف ہوگا۔ اس میں کسی کی کچھ علامت نہ ہوگی۔﴾

تبدل الارض غير الارض والسموت فاين يكون الناس يومئذٍ قال على الصراط (رواه مسلم، مشكوة ص ٤٨٢، باب النفخ في الصور) "﴿عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے اس آیت کا مطلب پوچھا کہ جس دن زمین و آسمان بدلے جائیں گے۔ لوگ اس دن کہاں ہوں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا پل صراط پر۔ جو جہنم کی پشت پر ہے۔ لوگ اس سے گزر کر جنت میں داخل ہوں گے۔﴾

نوٹ! ان احادیث سے معلوم ہوا کہ میدانِ حشر خود جنت و دوزخ نہیں ہے۔ بلکہ جنت و دوزخ سے خارج شے ہے۔ اگر اپنے اپنے فکر اعمال کی وجہ سے جو حالت طاریہ ہوگی اس کا نام جنت و دوزخ رکھنے کی ٹھہرے تو پھر دنیا میں بھی ایک قسم کا جنت اور دوزخ ماننا چاہئے۔ کیا دنیا میں ایسی کچھ حالتیں طاری نہیں ہوتیں۔ علاوہ ازیں حدیث شریف میں ہے کہ: "عن عائشة قالت سمعت رسول الله ﷺ يقول يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا قلت يا رسول الله ، الرجال والنساء جميعاً ينظر بعضهم بعضا فقال يا عائشة الامر اشد من ان ينظر بعضهم الى بعض (متفق عليه مشكوة ص ٤٨٢ باب الحشر) "﴿حضور ﷺ فرماتے تھے کہ لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں ننگے بدن بے ختنہ اٹھا کر جمع کئے جائیں گے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مرد عورتیں سب بعض بعض کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا عائشہؓ وہاں کی حالت اس سے زیادہ اشد ہوگی کہ بعض بعض کی طرف نظر اٹھائے۔ صحیحین بلکہ صحاح ستہ میں حدیث شفاعت مکرر سہ کر کئی جگہ آئی ہے۔ دیکھو ہولِ قیامت سے انبیاء علیہم السلام بھی نفسی نفسی پکاریں گے اور پل صراط کے عبور کے وقت سب مبہوت ہوں گے۔ سوائے انبیاء علیہم السلام کے کوئی کلام نہ کرے گا۔ ان کا کلام بھی اللهم سلم سلم ہوگا۔﴾

(بخاری ج ٢ ص ١١٠٢)

تو کیا معاذ اللہ! سب دوزخ میں ہوں گے۔ غرض مرزا قادیانی نے جو محض خود غرضی کی بناء پر (بحوالہ ص ٣٤٩، خزائن ج ٣ ص ٢٧٨ میں ظاہر کی، کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام بہشت میں داخل

صفحہ ٢١٢

ہو چکے اب دوبارہ نہیں آ سکتے اور مسیح موعود میں خود ہوں) قرآن کریم کی تحریف کی مسلمانوں کے اجماعی عقیدہ کے خلاف کیا اور بہت ہوشیاری سے حشر کا انکار کر دیا۔ بجز لفظی اقرار اور حقیقی انکار کے کچھ نتیجہ نہیں۔

مرزائی عقیدہ نمبر ١٥....... قیام قیامت کا انکار

مرزائی اور مرزا قادیانی اس عقیدہ کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ مردے قبروں سے نکل کر میدان محشر میں جمع نہیں ہوں گے۔ بلکہ ہر شخص مرنے کے بعد ہی جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر قیامت کے دن کسی کو جنت و دوزخ سے نہ نکالا جائے گا۔ ہاں ایک درجہ سے دوسرے درجہ میں ترقی کرتا ہے۔ یہی حشر اجساد ہے۔ یعنی حشر اجساد بھی روحی طور پر ہوگا۔ لفظوں میں حشر اجساد و حساب و یوم آخرت سب کا اقرار ہے۔ لیکن حقیقت میں عقائد اسلامیہ کے بالکل خلاف ہے۔

مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ٣٥٠، خزائن ج ٣ ص ٢٧٩) میں لکھا ہے کہ: ”اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو طلبی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور اس لق و دق جنگل میں جہاں تخت رب العالمین بچھایا گیا ہے۔ حاضر ہونا پڑے گا۔ ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہوا ہے۔“

پھر خود مرزا قادیانی نے (ازالہ ص ٣٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٨٠) میں پہلے یہ ثابت کیا کہ جو شخص بہشت میں داخل کیا جاتا ہے پھر وہ اس سے کبھی خارج نہیں کیا جاتا۔

اور (ص ٣٥٤، خزائن ج ٣ ص ٢٨١) میں یہ ثابت کیا کہ مومن کو فوت ہونے کے بعد بلا توقف بہشت میں جگہ ملتی ہے۔

اور پھر (ص ٣٥٧، خزائن ج ٣ ص ٢٨٢) میں جنت اور جہنم کے تین درجے بیان کئے۔

پھر (ص ٣٦٠، خزائن ج ٣ ص ٢٨٤) میں لکھا ہے کہ: ”اب حاصل کلام یہ ہے کہ ان تینوں مدارج میں انسان ایک قسم کی بہشت یا ایک قسم کی دوزخ میں ہوتا ہے اور جب کہ یہ حال ہے تو اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ ان مدارج میں سے کسی درجہ پر ہونے کی حالت میں انسان بہشت یا دوزخ میں سے نکالا نہیں جاتا۔ ہاں جب اس درجہ سے ترقی کرتا ہے تو ادنیٰ درجہ سے اعلیٰ درجہ میں آ جاتا ہے۔“

صفحہ ٢١٣

اسلامی عقیدہ نمبر ١٦...... وجود ملائکہ

مسلمانوں کے عقیدہ میں فرشتے خدا کے مکرم فرمانبردار بندے ہیں۔ جو جسم نورانی لطیف رکھتے ہیں۔ اشکال مختلف میں متشکل ہو سکتے ہیں۔ بعض اپنے مستقر ( ہیڈ کوارٹر ) آسمان سے تعمیل حکم کے لئے زمین پر بھی نازل ہوتے ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام فرشتہ حامل وحی خدا کی طرف سے احکام لے کر انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتا ہے۔

يعملون (انبياء:٢٦،٢٧) " "لا يعصون الله ما امرهم ويفعلون ما يؤمرون (تحريم:٦)" ﴿بلکہ وہ اللہ کے بندے ہیں عزت دئے گئے وہ قول میں اللہ سے پیشدستی نہیں کرتے اور وہ اللہ کے حکم سے عمل کرتے ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے نافرمانی نہیں کرتے اور وہی عمل کرتے ہیں جس کا ان کو حکم ہوتا ہے۔﴾

والے تین تین بازو والے چار چار بازو والے۔﴾ (بخاری ج ١ ص ٤٥٨، باب ذکر الملائکہ ) میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے: ”انه ﷺ رأى جبرائيل عليه السلام له ست مائة جناح کہ حضور ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کو اصلی صورت میں دیکھا اس کے ٦٠٠ بازو ہیں ۔

میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ اس سے زیادہ مرتبہ ملاقات کیا کیجئے تو یہ آیت نازل ہوئی خدا تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام کی زبان سے فرماتا ہے کہ ہم بغیر حکم خدا کے نازل نہیں ہوتے۔

الملائكة مردفين ...... اذ يوحى ربك الى الملئكة انى معكم فثبتوا الذين امنوا سالقى فى قلوب الذين كفروا الرعب فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منهم كل بنان (انفال:١١، ١٢ )" ﴿جب تم لگے فریاد کرنے اپنے رب سے تو پہنچا تمہاری پکار کو کہ میں مدد بھیجوں گا۔ تمہاری ہزار فرشتے لگاتار آنے والے ...... جب حکم بھیجا تیرے رب نے فرشتوں،

صفحہ ٢١٤

کو، کہ میں ساتھ ہوں تمہارے سو تم دل ثابت کرو مسلمانوں کے میں ڈال دوں گا۔ دل میں کافروں کے دہشت ، سو مارو اوپر گردنوں کے اور کاٹو ان کے پور پور (موضح) ﴾

(بخاری ج ٢ ص ٥٦٩ ، باب شہود الملائکۃ بدرا) میں ہے کہ: ”جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تم بدریوں کو کیسے جانتے ہو۔ فرمایا افضل المسلمین جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ ہم فرشتے بھی ان فرشتوں کو جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔ دوسرے فرشتوں سے افضل جانتے ہیں ۔ اور انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ گویا میں جبرائیل علیہ السلام کے لشکر کا غبار بنی غنم کے کوچہ میں اڑتا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔

(بخاری ج ١ ص ٤٥٧ ، باب ذکر الملائکۃ)

عليه السلام آخذ براس فرسه عليه اداة الحرب

(بخاری ج ٢ ص ٥٧٠ ، باب

شہود الملائکۃ بدر : ١) ﴿ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے بدر کے دن فرمایا۔ یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں ۔ اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہوئے ہتھیار پہنے ہوئے ۔ ﴾

احد ومعه رجلان يقاتلان عنه عليهما ثياب بيض كاشد القتال ما رأيتهما قبل ولا بعد يعنى جبرائيل عليه السّلام وميكائيل عليه السلام

(مسلم ج ٢

ص ٢٥٦ ، باب اكرامه ﷺ بقتال الملائكة معه ﷺ ۔ بخاری ج ٢ ص ٥٨٠ ، باب غزوۃ احد ) ﴿سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ احد کے دن میں نے حضورﷺ کے ساتھ دو آدمیوں کو سخت قتال کرتے ہوئے دیکھا۔ سفید کپڑے پہنے ہوئے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔ یعنی جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام ۔ ﴾

رأينا يوم بدر ان احدنا يشير بسيفه الى المشرك فيقطع راسه قبل ان يصل اليه سيفه

(از کمالین بر حاشیہ جلالین ص ١١٤ مطبوعه نظامی دهلی)“

﴿سہیل بن حنیف کہتے ہیں کہ ہم نے بدر کے دن دیکھا کہ جب کوئی تلوار سے مشرک پر حملہ کرتا تھا تو قبل تلوار پہنچنے کے سر قطع ہو جاتا تھا ۔ ﴾

”مثله عن ابن عباس فى قصة حيزوم

(مسلم ج ٢ ص ٩٣ ، باب

الامداد بالملائكة فى غزوة بدر واباحة الغنائم)“

صفحہ ٢١٥

رمضان فيدارسه القرآن (بخاری شریف ج١ ص٤٥٧، باب ذكر الملائكة) “ رمضان شریف میں ہر رات جبرائیل علیہ السلام حضور ﷺ سے ملاقات کرتے تھے اور قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے۔ ﴾

جبرائيل عليه السلام فامنى فصليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه ثم صليت معه (بخاری شریف ج١ ص٤٥٧، باب ذكر الملائكة) “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے نازل ہو کر مجھ کو پانچوں نمازیں پڑھائیں۔ ﴾

عند النبى ﷺ سمع نقيضا من فوقه فرفع راسه فقال هذا باب من السماء فتح اليوم لم يفتح قط الا اليوم فنزل منه ملك فقال هذا ملك نزل الى الارض لم ينزل قط الا اليوم فسلم (مسلم ج١ ص٢٧١، باب فضل الفاتحه وخواتم سورة البقرة) “ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دروازے کھلنے کی آواز اوپر سے سنی سر اٹھایا اور کہا کہ آسمان کا یہ ایک دروازہ کھولا گیا ہے۔ جو آج تک کبھی نہیں کھلا۔ اس سے ایک فرشتہ اترا، کہا یہ فرشتہ آج ہی زمین پر اترا ہے۔ اس سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ پھر اس فرشتہ نے سلام کیا ﴾

الله ﷺ) میں حدیث ہے کہ حضور ﷺ کے پاس پہلے غار حرا میں جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور تین دفعہ آپ کو بھینچا اور پھر اقراء باسم ربک! نازل فرمائی۔

الايمان والاسلام والاحسان) میں حدیث ہے کہ تمام صحابہؓ کے روبرو جبرائیل علیہ السلام بہت سفید لباس پہنے حضور ﷺ کی خدمت میں دوزانو بیٹھے اور چند سوال کئے۔ آپ ﷺ نے جواب دیئے پھر اٹھ کر چلے گئے اور غائب ہوگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے تم کو دین سکھلانے آئے تھے۔

صفحہ ٢١٦

میں فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تین آدمیوں کے پاس (یعنی ابرص، اقرع، اندھے کے پاس) ایک فرشتہ بشکل سائل اللہ تعالیٰ نے بطور ابتلاء بھیجا تھا۔

نوٹ ! غرض بہت سی آیات و احادیث سے ثابت ہے کہ فرشتے باذن اللہ آسمان سے زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی محض خود غرضی سے انکار کے درپے ہیں اور تحریف پر تلے ہوئے ہیں۔ صرف مقصود یہ ہے کہ نزول و رفع عیسیٰ علیہ السلام کے امکانی رستے مسدود ہو جائیں۔ شیخ عبد الوہاب شعرانی نے (میزان الکبریٰ ص ٦٠ تا ٦٤) میں لکھا ہے کہ آئمہ اربعہ کے نزدیک ظاہر نص سے عدول کرنا بلا کسی دلیل شرعی کے قطعی حرام ہے اور جمہور اہل سنت کا اجماعی مسئلہ ہے کہ ”النصوص تحمل علی ظواھرھا والعدول عنھا الحاد“ چنانچہ مرزا قادیانی نے خود اس کو تسلیم کیا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٥٤٠، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠)

اور (ازالہ اوہام ص ٤٦٦، ٤٦٧، خزائن ج ٣ ص ٣٥٠) کی عبارتیں میں نقل کر چکا۔

حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے قرآن کریم کی تفسیر اپنی رائے سے کی اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔

(ترمذی ج ٢ ص ١٢٣، باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن برأیہ)

اور نیز مرزا قادیانی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”اگر قرآن اور حدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہر گز اسکو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔“

(ازالہ ص ٨٣٥، خزائن ج ٣ ص ٥٥٢)

مرزائی عقیدہ نمبر ١٦...... انکار نزول ملائکہ

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے عقیدہ میں یہ بالکل باطل ہے۔ ملائک ارواح کواکب کا نام ہے وہ کبھی زمین پر اپنا مستقر چھوڑ کر نہیں آسکتے۔ نہ جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر زمین پر آ سکتا ہے۔ صرف روح کواکب نیر کی تاثیر کا نام نزول وحی ہے اور بس!

کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں اور خیال بہ بداہت باطل بھی ہے۔ کیونکہ اگر یہ ہی ضروری ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجا آوری کے لئے اپنے اصلی وجود کے ساتھ زمین پر اترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بداہۃً در بداہۃً محال تھا۔“

(توضیح المرام ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ٦٦)

صفحہ ٢١٧

سے مقرر ہیں ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وما منا الا له مقام معلوم ط وانا لنحن الصافون پس اصل بات یہ ہے جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی اور روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کا نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور مواحدانہ طریق سے ملائکۃ اللہ کا لقب دیں۔ در حقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے ۔“

(توضیح المرام ص ٣٢، ٣٣، خزائن ج ٣ ص ٦٧، ٦٨)

بعض وہ نفوس طیبہ جو ملائک سے موسوم ہیں ۔ ان کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں۔...... پس اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری وہ نفوس طیبہ ان روشن اور نورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے ۔ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں ...... روشن ستاروں کے ساتھ ایک مجہول الکنہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگر ان نفوس طیبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے تو پھر ان کے تمام قوٰی میں فرق پڑ جائے گا ۔۔۔ وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجودیہ میں بکلی فساد راہ پا جانا لازمی و ضروری امر ہے ۔“

(توضیح المرام ص ٣٧، ٣٨، خزائن ج ٣ ص ٧٠)

سماویہ سے یا عناصر یا دخانات سے ایسا تعلق رکھتے ہیں۔ جیسے جان کا جسم سے تعلق ہوتا ہے۔ صرف ملائک یا جنات کے نام سے موسوم کیا ہے ۔“

(توضیح المرام ص ٤٣، خزائن ج ٣ ص ٧٣)

ایک نہایت روشن نیر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں۔ انہیں خدمات کے موافق جو اس کے نیر سے لے جاتی ہیں۔ سو وہ فرشتہ اگرچہ ہر ایک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے۔ جو وحی الٰہی سے مشرف کیا گیا ہو۔ (نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہئے) لیکن اس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہو جاتا ہے ۔“

(توضیح المرام ص ٦٨، خزائن ج ٣ ص ٨٦)

صفحہ ٢١٨

پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے۔ تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نام ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبرائیل علیہ السلام ہی ہوتا ہے۔ یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے۔ تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا ہے۔ سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے۔ بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٧٠، خزائن ج ٣ ص ٨٧)

اسلامی عقیدہ نمبر ١٧...... مفتری علی اللہ کافر ہے

مسلمانوں کے عقیدہ میں خدا اور رسول ﷺ پر افتراء کرنے والا، وحی الٰہی کے نزول اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا قطعی کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

ولم يوح اليه شئی (انعام: ٩٣)“ ﴿جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ حالانکہ کچھ وحی نہیں کی گئی۔ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے۔﴾

نوٹ! مرزا قادیانی (حاشیہ حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) میں خود اقرار کرتا ہے کہ ظالم سے مراد اس جگہ کافر ہے۔

خاب من افترى (طہ: ٦١)“ ﴿تم پر افسوس اللہ پر افتراء اور جھوٹ نہ لگاؤ ورنہ تم کو سخت عذاب سے ہلاک کرے گا اور جس نے افتراء کیا محروم رہے گا۔﴾

﴿ہرگز خیال مت کر کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔﴾

باقی آیات عقیدہ نمبر ١ میں گزر چکیں۔

حدیث متواتر

”عن على والزبير وانس وابن الاكوع والمغيرة بن شعبة وابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ من كذب على متعمداً فليتبوأ مقعده من النار (بخاری ج ١ ص ٢٠، باب اثم من كذب على النبی ﷺ، مسلم ج ١ ص ٧، باب تغليظ الكذب على رسول الله ﷺ، ابن ماجه ص ٥، باب التغليظ في تعمد الكذب على

رسول اللہ ﷺ، ابوداؤد و نسائی) “﴿ ٹھکانا دوزخ ہے۔﴾

مرزائی عقیدہ نمبر ١٧...

مرزا قادیانی نے متعدد جگہ خدا قطعا جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ بطور نمونہ ملاحظہ ہو

منکوحہ آسمانی

تمہارے نکاح میں آئے گی اور کوشش کرین خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور سکے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن

من ربك فلا تكونن من الممترين شک کرتا ہے۔“

سے وہ پیشین گوئی جو مسلمانوں کی قوم ـ اجزاء یہ ہیں۔ ١...... مرزا احمد بیگ ہوشیا داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوـ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوـ بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہـ ہونے تک فوت نہ ہو۔ ٦...... اور پھر واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“

کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور مـ

صفحہ ٢١٩

رسول اللہ ﷺ، ابوداؤد ونسائی) ”حضورﷺ نے فرمایا جس نے مجھ پر جھوٹ لگایا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔“

مرزائی عقیدہ نمبر ١٧.....مرزائی افتراء علی اللہ والرسول

مرزا قادیانی نے متعدد جگہ خدا تعالیٰ اور رسول اللہﷺ پر افتراء کیا ہے اور وحی الٰہی کا قطعاً جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ بطور نمونہ ملاحظہ ہو۔

منکوحہ آسمانی

تمہارے نکاح میں آئے گی اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

اور (ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦) میں لکھا ہے کہ: ”مجھے الہام ہوا، الحق من ربك فلا تكونن من الممترين یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔“

سے وہ پیشین گوئی جو مسلمانوں کی قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔١.......مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔٢.......اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔٣.......پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔٤.......اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔٥.......اور پھر یہ کہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک فوت نہ ہو۔٦.......اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“

کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظاری کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“

صفحہ ٢٢٠

اور (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں لکھتے ہیں کہ: ”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری خبر (یعنی موت داماد احمد بیگ اڑھائی سال کے اندر ) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔“

ہیں کہ: ”ومن ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم ومن نہ گفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبر دادہ شدم“

مر جائے گا اور اس کی بیوی میرے نکاح میں آ جائے گی) تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

نوٹ! ان پیشین گوئیوں کا جھوٹا ہونا اظہر من الشمس ہے۔ چنانچہ ١٨٩٢ء میں اس کا نکاح ہوا اور ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی بے نیل و مرام مرے اور وہ دونوں میاں بیوی ہونے کی حالت میں زندہ رہے اور کاذب ہونے کا نتیجہ وہ خود لکھ چکے اور احمد بیگ کے مرنے سے وسوسہ نہ ہو کیونکہ اصل پیشین گوئی نکاح کی تو پوری نہ ہوئی یہ تو اس کا تتمہ تھا۔ دوسرے مرکب صادق و کاذب سے کاذب ہے اور یوں کثیراً اتفق کوئی شخص دس پیشین گوئی کر دے۔ تو کسی نہ کسی کا واقع ہو جانا اتفاقی بات ہے دلیل صدق نہیں۔ طرفہ یہ کہ حضور ﷺ کو بھی جھوٹا بنایا۔ (معاذ اللہ )

کیونکہ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”محمدی بیگم سے میرا نکاح ہونے اور اس سے ایک خاص لڑکا ہونے کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے پیشین گوئی کی ہے۔ یعنی یتزوج ویولد!“

پیشین گوئی بابت آتھم

”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ

صفحہ ٢٢١

کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“

(جنگ مقدس ص ٢١٠، ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)

اور (کرامات الصادقین آخر صفحہ، خزائن ج ٧ ص ١٦٢) میں آتھم کی موت کے متعلق الہام درج ہے کہ: ”ومنها ما وعدنی ربی اذ جادلنی رجل من المتنصرین الذی اسمه عبدالله اتہم ..... فاذا بشرنی ربی بعد دعوتی بموته الی خمسة عشر شهرا من یوم خاتمة البحث “ ﴿ان میں سے ایک یہ ہے جو میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ جب ایک نصرانی آدمی نے جس کا نام عبداللہ آتھم ہے۔ مجھ سے مجادلہ کیا ..... پس میرے رب نے میری دعا کے بعد اس کی موت کی مجھ کو بشارت دی کہ بحث کے ختم ہونے کے دن سے ١٥ ماہ کے عرصہ تک مر جائے گا۔﴾

نوٹ! یہ پیشین گوئی ٥؍ جون ١٨٩٣ء میں ہوئی اور ٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء کو یہ مدت پوری ہوگئی۔ لیکن آتھم نہیں مرا۔ جس پر عیسائیوں نے بہت خوشیاں منائیں اور آتھم کئی سال بعد ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور اپنی موت سے مرا۔ اس پیشین گوئی اور الہام کے جھوٹے نکلنے پر مرزا قادیانی کو بذریعہ اشتہارات خوب ہی ذلیل کیا گیا کہ جس کو خیال کرنے سے آج بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے جھوٹ نکلنے کے بعد مرزا قادیانی نے بے سود اور متضاد مختلف تاویلیں کیں۔ مگر سب غلط!

(انوار الاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص ٢)

مختصراً علاوہ صریح جھوٹ ہونے کے آتھم کے ساتھ ان سب عیسائیوں کا بھی ١٥ ماہ کے اندر مرنا ثابت کرنا پڑے گا۔ جو اور بھی جھوٹ ہوگا۔

لئے پیشین گوئی کے رو سے نہیں مرا۔“

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦ مختصراً)

افسوس پھر آپ نے جلسہ کے بعد پیشین گوئی کیوں کی تھی۔

صفحہ ٢٢٢

کے دل کو پکڑ لیا تھا۔ یہی اصل ہاویہ تھا۔

(انوار الاسلام ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٥ مختصراً)

مدت کا اعتبار نہیں۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے لہٰذا پیشین گوئی پوری ہو گئی۔

(حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣ مختصراً)

سے پہلے مر گیا۔

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦ مختصراً)

جھوٹی بھی نکلی ہیں۔ تفصیل پہلے گذر چکی ہے۔

مولوی ثناء اللہ امرتسریؒ کے متعلق پیشین گوئی

’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں۔ تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت وحسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔..... پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی ہی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں..... اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین ! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔..... اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے..... اب میں تیری ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت

صفحہ ٢٢٣

کبھی کہتے ہیں کہ پیشین گوئی پوری ہو گئی۔ کیونکہ ہول اور خوف نے اس تھا۔ یہی اصل بادیہ تھا۔

(انوارالاسلام ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٥ مختصراً)

مدت کے بعد جب وہ اپنی موت سے مرا تو پھر بہت خوش ہوئے اور کہہ دیا کہ نفس واقعہ پر نظر چاہئے لہٰذا پیشین گوئی پوری ہو گئی۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣ مختصراً)

کبھی کہتے ہیں کہ پیشین گوئی یہ تھی جو جھوٹا ہو گا ۔ وہ پہلے مرے گا ۔ سو وہ مجھ

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦ مختصراً)

آخر میں مجبور ہو کر مسئلہ ایجاد کیا کہ معاذ اللہ ! نبیوں کی بعض پیشین گوئیاں رہیں۔ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

ثناء اللہ امرتسریؒ کے متعلق پیشین گوئی

اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ کرتے ہیں۔ تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت وحسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے .... پس اگر وہ سزا جو دشمنوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک پر میری زندگی ہی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں .... اگر یہ ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو وقت کو خوش کر دے۔ آمین ! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ میرے آقا اور میرے بھیجنے والے .... اب میں تیری ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت

میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔‘‘ الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود۔

(اشتہار مرقومہ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)

مرزائیوں کا عذر کہ یہ اشتہار الہامی نہیں، غلط ہے

اخبار بدر کا ایڈیٹر مرزا قادیانی کی ڈائری میں لکھتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ: ’’زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی گمان نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس طرف ہوئی اور رات کو الہام ہوا۔ اجیب دعوۃ الداع!‘‘

(اخبار بدر ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء، ملفوظات ج ٩ ص ٢٦٨)

نوٹ ! بے شک خدا تعالیٰ نے مفسد اور کذاب کو صادق کی زندگی میں ہی اٹھا لیا۔ یعنی مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں مرچکے۔ جس کو تقریباً اٹھارہ سال کا عرصہ ہورہا ہے اور مولوی ثناء اللہؒ تاہنوز زندہ موجود ہیں۔ (١٩٢٨ء کے بعد سرگودہا پاکستان میں وصال فرمایا۔ فقیر مرتب!)

قادیان میں اور مرزا قادیانی کے گھر میں طاعون نہ آنے

اور مرزائیوں کے طاعون سے نہ مرنے کی بابت پیشین گوئی

(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٤)

بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)

القرية ! یہاں طاعون کیوں نہیں آتا بلکہ جو کوئی آدمی باہر کا قادیان میں آ جاتا ہے وہ بھی اچھا ہو جاتا ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦ تلخیص)

صفحہ ٢٢٤

اس گھر کی چار دیواری کے اندر ہیں۔ سب کو میں طاعون سے بچاؤں گا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١١١، خزائن ج٢٢ ص ٥٤٧)

کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا۔ وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔“

(کشتی نوح ص ٢، خزائن ج١٩ ص ٢)

میرے اس خاک وخشت کے گھر میں بود و باش رکھتے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں۔ میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔“

(کشتی نوح ص١٠، خزائن ج١٩ ص١٠)

(کشتی نوح آخر ص ٧٦، خزائن ج١٩ ص ٨٦)

نوٹ ! یہ پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی اور قادیان میں بڑے زور وشور سے طاعون پھیلا۔ خود مرزا قادیانی کے گھر میں طاعون آئی۔ جس کا خود مرزا قادیانی بایں الفاظ اقرار کرتے ہیں۔

شریف احمد بیمار ہو گیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج٢٢ ص ٨٧)

”قادیان میں طاعون نے صفائی شروع کر دی ہے۔“

میں طاعون آیا دو ماہ میں ٣٨٠٠ کی آبادی میں ٣١٣ آدمی مرے اور مرزا قادیانی کے گھر میں ان کے خاص الخاص مرید عبدالکریم سیالکوٹی بھی ہلاک ہوئے۔ اگر ان الہامات اور پیشین گوئیوں کی زیادہ تحقیق منظور ہو تو مولوی ثناء اللہ صاحب کا رسالہ الہامات مرزا ملاحظہ ہو۔

ڈاکٹر عبدالحکیم خاں پٹیالوی کی بابت پیشین گوئی

”مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں پٹیالوی کو خدا ہلاک کرے گا۔“

(چشمہ معرفت ص٣٢٢، خزائن ج٢٣ ص ٣٣٧)

نوٹ! خود مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب سے بہت پہلے مرے اور ڈاکٹر صاحب

صفحہ ٢٢٥

مرزا قادیانی کے بعد برسوں زندہ رہے اور اپنی موت سے مرے۔ خود ڈاکٹر صاحب سلامتی کے شہزادے بنے رہے۔ کیونکہ ١٦؍ اگست ١٩٠٦ء کو مرزا قادیانی نے ڈاکٹر صاحب کے مقابلہ میں اردو اخبارات میں اشتہار شائع کیا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”میں سلامتی کا شہزادہ ہوں۔ کوئی مجھ پر غالب نہیں آسکتا۔ بلکہ خود عبدالحکیم خاں میرے سامنے آسمانی عذاب سے ہلاک ہو جائے گا۔

(منقول از رسالہ اعلان الحق ص ٤، ٥، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٩)

اس اشتہار کی پیشانی تھی کہ ”خدا سچے کا حامی ہو“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٥٧)

پھر ٥؍ نومبر ١٩٠٧ء کو تبصرہ شائع کیا۔ جس میں یہ الفاظ تھے کہ: ”دشمن (عبدالحکیم خاں) جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے سامنے اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١، الحکم و البدر ریویو بابت نومبر ١٩٠٧ء، منقول از اعلان الحق ص ٣٦)

افتراء علی الرسول

جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو علماء اسلام کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتویٰ دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا ۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٥٣)

نوٹ! قرآن کریم کی کسی آیت میں یہ مضمون نہیں اور نہ کسی حدیث میں ہے، محض افتراء علی اللہ والرسول ہے۔

میں سے ایک شخص پیدا ہوگا۔ جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

نوٹ! کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں آیا محض افتراء علی الرسول ہے اور پھر وہ شخص جو پیدا ہوگا اور اپنے تئیں نبی و عیسیٰ و ابن مریم کہلائے گا ۔ کیا وہ جھوٹا ہوگا۔ کیونکہ در حقیقت نہ ہوگا بلکہ کہلائے گا ۔ حدیث موضوع گھڑ کر افتراء علی الرسول بھی کیا لیکن پھر بھی خود غرضی پردۂ خفا میں رہی۔

(البدر ١٩؍ دسمبر ١٩٠٧ء، ملفوظات ج ٧ ص ٤٢٧)

صفحہ ٢٢٦

نوٹ! کسی روایت سے ثابت نہیں بالکل جھوٹ افتراء علی الرسول ہے۔

جو وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفہ کی نسبت خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ هذا خليفة الله المهدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ میں ہے۔"

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

نوٹ! یہ صریح جھوٹ ہے۔ صحیح بخاری میں ہرگز یہ حدیث نہیں آئی۔ اپنی خود غرضی سے بخاری کی طرف نسبت کر ڈالی۔

صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی کرعہ میں جو قادیان کا محرف ہے پیدا ہوگا۔ (کرعہ یمن میں ایک بستی ہے نہ قادیان) اور یہ کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔ جس میں اس کے ٣١٣ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ چنانچہ یہ پیشین گوئی آنحضرت ﷺ کی پوری ہوگئی۔ میرے پاس چھپی ہوئی کتاب ہے اور اس میں ٣١٣ اصحاب کے نام بھی مندرج ہیں۔"

نوٹ! اس مضمون کی کوئی صحیح حدیث نہیں اور نہ جواہر الاسرار کوئی معتبر کتاب حدیث کی دنیا میں مشہور ہے۔ جس کی طرف مرزا قادیانی نے نسبت کی محض افتراء علی الرسول ہے اور بس!

ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے۔ جو زمین پر رہتے ہوں گے۔"

نوٹ! یہ بھی محض افتراء علی الرسول ہے۔

احادیث سے ثابت ہے کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس کی ہے اور آخری آدم (جو مثل آدم اول کے ہوگا) چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہونے والا ہے۔"

نوٹ! یہ بھی محض افتراء علی الرسول ہے کسی حدیث میں نہیں آیا۔

ہدایت میں لکھتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر

صفحہ ٢٢٧

کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں ۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ٦ نمبر ٩ ص ٣٦٥ ستمبر ١٩٠٧ء)

نوٹ ! یہ بھی صریح افتراء علی الرسول ہے ۔ حضورﷺ نے کسی حدیث میں نہیں فرمایا ۔

” احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ شیطان لعین نے عیسیٰ علیہ السلام کے قلب میں وسوسہ ڈالا تھا ۔ اس قصہ میں جو اناجیل میں مذکور ہے ۔“

نوٹ ! یہ بھی محض افتراء علی الرسول ہے ۔ کسی حدیث میں نہیں آیا خود ہی حدیث وضع کر لی ۔ جیسے کہ :

کی ہے کہ : ”حضورﷺ نے فرمایا كـان فـى الهـنـد نـبـيـاً اسـود اللـون اسـمـه كـاهـنـاً یعنی ہند میں ایک نبی گذرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن یعنی کنہیا تھا ۔“

نے یونس علیہ السلام نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل ہونے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا ۔ جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی ۔ جیسا کہ تفسیر کبیر کے ص ١٦٢ اور امام سیوطی کی تفسیر درمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے ۔ مگر وہ وعدہ پورا نہ ہوا ۔“

نوٹ ! یہ بھی محض افتراء پر افتراء ہے ۔ نہ کسی حدیث صحیحہ میں منجانب اللہ چالیس دن کا وعدہ قطعی پورا نہ ہونا مذکور اور نہ تفسیر کبیر و در منثور میں کسی جگہ ثابت حالانکہ تفسیر کبیر و روح المعانی وغیرہ میں صاف طور سے مذکور ہے کہ اگر ایمان نہ لائیں گے تو ان پر عذاب آئے گا اور ان پر عذاب کا آنا عذاب دیکھ کر ان کا ایمان لانا پھر عذاب مرتفع ہو جانا قرآن کریم سے ظاہر ہے ۔

گوئی وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی ۔“

نوٹ ! یہ محض افتراء ہے حضورﷺ نے مکہ میں بے خوف داخل ہونے کے لئے کوئی مدت مقرر نہیں فرمائی تھی ۔ چنانچہ دوسرے سال یہ پیشین گوئی بڑے زور و شور سے پوری ہوئی ۔ مرزا قادیانی نے محض اپنی غلط پیشین گوئیوں پر پردہ ڈالنے کی غرض سے یہ افتراء کیا ہے ۔

(بخاری ج ١ ص ٣٨٠، باب الشروط فی الجہاد)

صفحہ ٢٢٨

نوٹ ! اگر مرزا قادیانی کے جھوٹ دیکھنا چاہو تو خانقاہ مونگیر سے شائع شدہ رسائل کا مطالعہ کرو ان میں کئی سو جھوٹ گنائے گئے ہیں۔ (الحمد للہ وہ تمام رسائل احتساب قادیانیت کی ج ١٥ اور ٧ میں شائع ہو چکے۔ فللّٰہ الحمد فقیر مرتب!)

مرزا قادیانی کے بعض اعلانیہ جھوٹ اور حیرت انگیز تعلیاں

بطور نمونہ چند جھوٹ بیان کرتا ہوں۔

علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ وہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)

نوٹ ! یہ صریح کذب ہے بتاؤ کہاں اور کس کتاب میں ایسا لکھا ہے۔ مولوی غلام دستگیر کی کتاب مدت سے شائع ہو چکی ہے۔ دیکھو کس دلیری سے لکھتے ہیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔

(اشتہار انعامی پانچ سو ص ٧، اربعین نمبر ٣ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٦)

نوٹ ! الحمد للہ مولانا قصوری مرحوم کی کتاب بھی احتساب قادیانیت کی ج ١٥ میں بھی شائع ہو چکی ہے۔ (فقیر مرتب)

ہیں کہ ”جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے سامنے آئے سب کے سب ہلاک ہوئے۔“

نوٹ ! یہ دعویٰ بھی محض غلط اور بڑا بھاری جھوٹ ہے۔ صوفی عبدالحق صاحب کے سوا کسی سے مرزا قادیانی نے مباہلہ نہیں کیا اور وہ زندہ رہے۔ اور مرزا قادیانی ان کے سامنے برسوں پہلے مر گئے۔ صوفی صاحب نے مرزا قادیانی سے مباہلہ کے پندرہ ماہ بعد ١٣١٢ھ میں اس کے اثر کا اشتہار دیا۔ اس کی شروع کی عبارت یوں ہے۔ ”کیوں مرزاجی ! مباہلہ کی لعنت اچھی طرح پڑ گئی یا کچھ کسر ہے۔“ مگر مریدوں کی کذب پرستی کا یہ حال ہے کہ اپنے مرشد کے اس دعویٰ کو سچ مان کر بڑے زور سے اب تک یہی دعویٰ کر رہے ہیں۔

ہیں کہ: ”قرآن نے میری گواہی دی ہے رسول اللہ ﷺ نے میری گواہی دی ہے۔ پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور قرآن نے بھی میرے آنے کا زمانہ

صفحہ ٢٢٩

متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے بھی گواہی دی ہے اور زمین نے بھی اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا۔“

نوٹ ! یہ کل دعوے محض غلط اور صریح جھوٹ ہیں۔ اگر اس کا مطلب یہ کیا جائے کہ قرآن وحدیث نے جھوٹے ہونے کی گواہی دی ہے تو ہم اس قول کو نہایت سچا سمجھیں گے۔ مگر مرزا قادیانی کا مقصد تو یہی ہے کہ مختلف طور سے اپنا افضل الانبیاء ہونا ثابت کریں۔

٤.......... ”میرے ہی زمانہ میں ملک پر موافق احادیث صحیحہ اور قرآن کریم اور پہلی کتابوں کے طاعون آئی۔“

(حقیقت الوحی ص ٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨)

٥.......... ”اور میری نسبت اور میرے زمانہ کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف کسوف ہوگا اور زمین پر سخت طاعون پڑے گی۔“

(دافع البلاء ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨)

نوٹ! قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں ہرگز ہرگز کوئی ایسی خبر نہیں ہے کہ جو مرزا قادیانی کی نسبت اور ان کے زمانہ کی نسبت دی گئی ہو۔ یہ محض غلط اور صریح جھوٹ ہے۔ آسمان پر معمولی خسوف کسوف کا واقع ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔ خاص رمضان بتاریخ ١٣۔ ٢٨ کو کئی مدعیوں کے زمانہ میں خسوف کسوف واقع ہوا۔

دارقطنی کے اثر ضعیفہ ١؎ کا مطلب مرزا قادیانی کے صریح خلاف ہے

”حدثنا یونس بن بکیر عن عمر بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمہدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض ینکسف

١؎ (التعلیق المغنی حاشیہ دارقطنی ج ٢ ص ٦٥) میں ہے کہ ”عمر بن شمر عن جابر کلا ہما ضعیفان لا یحتج بہما “ اور شرح مسند امام اعظمؒ ملا علی قاری میں ہے کہ ”قدروی الترمذی فی کتاب العلل من الجامع الکبیر حدثنا محمد بن غیلان عن جریر عن یحیی الجمانی قال سمعت ابا حنیفۃ یقول مارأیت اکذب من جابر الجعفی ولا افضل من عطاء بن رباح ۔ وفی المیزان الذہبی سمعت أبا حنیفۃ یقول ما رأیت افضل من عطاء ولا اکذب من جابر الجعفی ما اتیتہ بشئ الا جاء نی فیہ بحدیث وزعم ان عندہ کذا وکذا الف حدیث لم یظہرہا“ اور ( تقریب التہذیب ج ٢ ص ٦٨٦) میں ہے کہ یونس بن بکیر بن واصل بن ۔ شیبانی صدوق یخطئ

صفحہ ٢٣٠

القمر فى اول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى نصف منه ولم يكونا منذ خلق الله السموات والارض (دار قطنی ج ٢ ص ٦٥، باب صفة صلوة الخسوف والكسوف وجہتہما) ’’مہدی کی دو علامتیں ہیں جب سے آسمان اور زمین پیدا کئے گئے یہ ظاہر نہیں ہوئیں۔ رمضان کی پہلی تاریخ چاند گہن لگے گا اور رمضان کی ١٤ کو سورج گہن لگے گا۔ جب سے اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا یہ واقعہ ظاہر نہیں ہوا۔ یعنی اس روایت میں بطور خرق عادت برخلاف اہل نجوم اول شب اور ١٤ تاریخ خسف اور کسف کے لئے مراد ہے۔ جب سے زمین و آسمان پیدا کئے گئے۔ یہ کسف اور خسف نہیں ہوئے اور خود قرآن کریم کے محاورہ میں قمر کا لفظ ہلال اور بدر کو عام ہے۔ ﴿

”والقمر قدرناہ منازل حتی عاد كالعرجون القديم (يسين: ٣٩)“

”وقدرناہ منازل لتعلموا عدد السنين والحساب (یونس: ٥)“ علامہ زمخشری جو مرزا قادیانی کے نزدیک ”لغت کے بے مثل امام ہیں۔ جس کے مقابل پر کسی کو چون و چرا کی گنجائش نہیں ۔“

(براہین حصہ پنجم ص ٢٠٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٨١)

(تفسیر کشاف ج ٢ ص ١٦ زیر آیت والقمر قدرناہ منازل) میں لکھتے ہیں کہ: ”وهي ثمانية وعشرون منزلا ينزل القمر كل ليلة فى واحد منها لا يتخطاه ولا يتقاصر ....... من ليلة المستهل الى الثمانية والعشرين ثم يستتر ليلتين او ليلة ! “ ﴿ یہ ٢٨ منزلیں ہیں ہر رات قمر ایک منزل میں نازل ہوتا ہے۔ نہ اس سے تجاوز کرتا ہے اور نہ کوتاہی ..... پہلی رات سے ٢٨ تک پھر دو رات یا ایک رات مستتر ہوتا ہے۔ ﴾

اور (مکتوبات مجدد ج ٢ مکتوب ٦٧ ص ١٩٠، ١٩١) میں ہے کہ: ”و در زمان ظہور سلطنت او (مهدی) در چهار دهم شهر رمضان كسوف شمس خواهد شد و در اول آن ماہ خسوف قمر برخلاف عادت زمان و برخلاف حساب منجمان “ ﴿مہدی کی سلطنت ظاہر ہونے کے زمانہ میں رمضان کی ١٤ کو سورج گرہن اور اوّل تاریخ کو چاند گرہن بطور خرق عادت حساب منجمین کے برخلاف واقع ہوں گے۔ ﴾

اور قرآن کریم میں تو اس علامت کا کچھ ذکر ہی نہیں ۔ یہ محض افترا علی اللہ ہے اور بس ! باقی رہا طاعون یہ بالکل افترا علی اللہ ہے کہ قرآن کریم میں مرزا قادیانی کے زمانے میں طاعون آنے کا ذکر ہے۔ معاذ اللہ ! کس قدر افتراء ہے۔ یا مہدی یا نزول مسیح کی علامت ہی بتلائی ہو۔ اپنے جی سے جو چاہتے ہیں قرآن کریم پر افتراء کرتے ہیں اور احادیث صحیحہ میں بھی طاعون کو کہیں

مہدی یا نزول مسیح کی علامت نہیں آیا ہے اور ہو گا طاعون نے شہر۔ زمانہ میں طاعون ہوئی۔ تین دن

اذا العشار عطلت کی

مرزا قادیانی اس آ متعلق پیشین گوئی ہے۔ یعنی ج ریل جاری ہو گئی ہے۔ لہٰذا یہ ع یہ معنی جو مرزا قادیانی نے خود ط وجہ سے غلط ہے ۔

ہی مرغوب مال ہے۔ بیکار چھ ڈوبے ہوں گے۔ یعنی قیامت اور ان کا خیال اور ان کی پرو ہو گی۔ مال کو کون پوچھے ۔

”قال ابن عباس اظل تفسیر کبیر ج ٣١ ص ٦٦ اور کشاف اور کے نیچے گرا دیا جائے گا اور واقعہ ہے ۔

فیہ ہیں۔ یعنی جب کہ آقا پہاڑ اکھیڑ کر اڑا دئے جا اور جبکہ سب وحوش آدمی

صفحہ ٢٣١

مہدی یا نزول مسیح کی علامت نہیں فرمایا۔ ویسے طاعون کا ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے اور ہوگا طاعون نے شہر کے شہر صاف کر دیئے۔ تواریخ کا مطالعہ کرو چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں طاعون ہوئی۔ تین دن میں ستر ہزار آدمی مرے۔

(حاشیہ بخاری ج ١ ص ٤٥٠)

اذا العشار عطلت کی تفسیر

مرزا قادیانی اس آیت سے بیان کرتے ہیں کہ ”یہ آیت مسیح موعود کے ظہور کے متعلق پیشین گوئی ہے۔ یعنی جب اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی ان پر کوئی سوار نہ ہوگا۔ اب ریل جاری ہو گئی ہے۔ لہٰذا یہ پیشین گوئی پوری ہو گئی ۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٦٤، خزائن ج ١٧ ص ١٩٤) یہ معنی جو مرزا قادیانی نے خودغرضی سے بیان کئے اور قرآن کریم کی تفسیر رائے سے لگائی۔ کئی وجہ سے غلط ہے۔

(تفسیر خازن ج ٧ ص ١٧٧، تفسیر کبیر ج ٣١ ص ٦٧ وغیرہ)

ہی مرغوب مال ہے۔ بیکار چھوڑ دی جائیں گی۔ کسی کو ان کا فکر نہ رہے گا۔ اپنی جان کے فکر میں ڈوبے ہوں گے۔ یعنی قیامت کے خوف اور دہشت سے اپنے پیارے مالوں کو چھوڑ بیٹھیں گے اور ان کا خیال اور ان کی پروا نہ کریں گے اور یہ کیوں محض اس وجہ سے کہ ان کو اپنی جان کی پڑی ہوگی۔ مال کو کون پوچھے۔

(دیکھو تفسیر کبیر ج ٣١ ص ٦٧ عن ابن عباسؓ)

”قال ابن عباس اظلمت وغورت (خازن ج ٧ ص ١٧٧ القیت ورمیت عن الفلک، تفسیر کبیر ج ٣١ ص ٦٦ ابوالسعود ج ٩ ص ١١٤)“

اور کشاف اور مدارک سب میں ایک ہی مطلب ہے۔ یعنی جب آفتاب دھندلا کر کے نیچے گرا دیا جائے گا اور یہ قیامت کا واقعہ ہے۔ تو اذا العشار عطلت بھی قیامت کا واقعہ ہے۔

فیہ ہیں۔ یعنی جب کہ آفتاب دھندلا کر کے گرا دیا جائے گا اور جبکہ ستارے ٹوٹ پڑیں گے اور جبکہ پہاڑ اکھیڑ کر اڑا دیئے جائیں گے اور جبکہ حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔ کسی کو رغبت نہ رہے گی اور جبکہ سب وحوش آدمیوں کے ساتھ جمع کئے جائیں گے اور جبکہ نفوس بدنوں کے ساتھ ملائے

صفحہ ٢٣٢

جائیں گے۔ (وغیرہ وغیرہ واقعات) ان سب کا معاً جواب اور حاصل یہ ہے کہ: ”علمت نفس ما احضرت (تکویر: ١٤) ”یعنی اس وقت ہر شخص اپنے کئے کو جان لے گا۔ پس یہ سب واقعات انسان کے اعمال کو جاننے اور ان کی سزا و جزا معلوم کرنے کے وقت کے ہیں۔ نہ مسیح علیہ السلام کے ظاہر ہونے کے۔

اسی طرح اس کے آگے آنے والے معطوف بھی صریح دلالت کرتے ہیں کہ یہ واقعات قیامت کے ہیں۔ صرف اوّل و آخر کا تھوڑا سا فرق ہے۔ مثلاً ”اذا الموؤدة سئلت (تکویر: ٨) ”یعنی اور جبکہ زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سوال کی جائے گی۔“ بایّ ذنب قتلت (تکویر: ٨) ”یہ کس گناہ پر قتل کی گئی۔ اب حضور ﷺ کی تفسیر سنئے ”عن ابی ھریرة قال قال رسول الله ﷺ الشمس والقمر مكوران يوم القيامة (رواه البخارى ج ١ ص ٤٥٤، باب صفة الشمس والقمر بحسبان، مشكوة ص ٤٨٢ ، باب النفخ في الصور )“

”عن ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ من سره ان ينظر الى يوم القيامة كانه راى عين فليقرا اذا الشمس كورت ٠ واذا السماء انفطرت واذا السماء انشقت (رواه احمد ج ٢ ص ٣٦ والترمذى ج ٢ ص ١٧١ ، ابواب التفسير (سورۃ اذا الشمس كورت) ، مشكوة ص ٤٨٤ ، باب الحشر ) “ یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو قیامت کو اس طرح دیکھنا چاہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے تو وہ اذا الشمس کورت ! اور اذا السماء انفطرت ! اور اذا السماء انشقت ! کو پڑھ لے۔ کیوں جناب کیا اب بھی کوئی احتمال رہ گیا ، اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام میں جو حدیث آیا ہے۔ ”ویترکن القلاص ولا يسعى اليها (كنز العمال ج ١٤ ص ٦١٧ حديث نمبر ٣٩٧٢٢) “ اس کے معنی یہ ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بوجہ کثرت مال اونٹ چھوڑ دئیے جائیں گے۔ کوئی ان سے بار برداری کے ذریعہ سے مزدوری نہ کرے گا۔ يفیض المال اس پر قرینہ ہے۔ مرزا قادیانی پر سخت افسوس ہے کہ اپنی خود غرضی میں اس قدر منہمک ہیں کہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی سینکڑوں علامات میں سے صرف اس وضعی علامت سے اپنا مسیح موعود ہونا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

وما كنا معذبين حتى نبعث رسولاً

مرزا قادیانی اور مرزائی اس آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ آیت مسیح موعود کی نسبت کھلی کھلی پیشین گوئی ہے۔ یعنی چونکہ دنیا پر عذاب آ رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کی موجودگی میں

صفحہ ٢٣٣

زلزلے، قحط، طاعون وغیرہ آتے رہے اس لئے اس پیشین گوئی کے مطابق ضرور رسول آنا چاہئے۔

(خلاصہ حقیقۃ الوحی ص ٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٩)

جواب!

بعد کوئی نبی اور رسول آئے گا اور قرآن کریم کی آیت ”خاتم النبیین (احزاب:٤٠)“ اور احادیث متواتر ”لانبی بعدی (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ باب غزوة تبوك وهي غزوة العسرة)“ سے قطعاً ثابت ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

عذاب نہیں بھیجا۔ جب تک کہ کوئی رسول نہیں بھیج دیا اور مرزا قادیانی غلط معنی کرتے ہیں جو استمرار لیتے ہیں۔

کہ ”قرآن کریم بعد خاتم النبیین ﷺ کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔“

نے انکار کیا۔ اس وجہ سے اس کے بعد ہم نے ان پر عذاب بھیجا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب عذاب آتا ہے تو کسی رسول کے انکار ہی کی وجہ سے آتا ہے۔ ہاں رسولوں کے انکار کی وجہ سے بھی عذاب آتا ہے۔ ورنہ اگر مرزائی مطلب تسلیم کر لیا جائے تو حضور ﷺ کے بعد سینکڑوں رسول آگئے ہوتے۔ کیونکہ مرزا قادیانی سے پہلے سینکڑوں طرح کے عذاب آچکے ہیں۔ مختصراً فہرست ملاحظہ ہو۔ ٢٣٤ھ میں سخت زلزلہ آیا کہ موصل میں پچاس ہزار آدمی ہلاک ہوئے اور ٢٤٠ھ میں خلاط میں اور ٢٤٥ھ میں مصر کے قریب ایک سخت آواز آسمان سے سنائی دی۔ جس سے خلق کثیر مر گئی اور عراق میں مرغی کے انڈے برابر اولے گرے اور مغرب میں ١٣ شہر خسف ہوئے۔ ٢٤١ھ میں آسمان پر تاروں میں تموج ہوا اور بے شمار تارے ٹوٹے ۔ جیسے ٹڈیوں کے دل ۔٢٤٢ھ میں سخت زلزلہ ہوا کہ بڑے بڑے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور زمین میں بڑے بڑے غار ہو گئے ۔ کہ آدمی چھپ جاتے تھے اور مصر کے قریب قریہ سویداء میں آسمان سے دس دس رطل کے پتھر برسے اور حلب میں ایک سفید چڑیا رمضان میں چیختی تھی۔ یا معشر الناس اتقو اللہ اللہ اللہ! چالیس

صفحہ ٢٣٤

آوازیں دے کر اڑ جاتی تھی۔

(تاریخ الخلفاء ص ٢٩٠، ٢٩١ ، ذكر المتوکل علی اللہ طبع مکتبه نزار مصطفی مکه مکرمه)

اور ایک سال شوال میں رات کو چاند گرہن ہوا اور دنیا میں فجر تک سخت اندھیرا رہا پھر ایک کالی ہوا چلی تہائی رات تک رہی اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیا اکثر شہر تباہ ہو گئے۔ غاروں میں سے ایک لاکھ پچاس ہزار آدمی نکالے گئے اور ایک سال ایسا قحط پڑا کہ لوگوں نے مردار کھائے۔

(تاریخ الخلفاء ص ٣٠٨، ذکر المعتضد بالله احمد)

اور ٣٤١ھ میں سخت زلزلے بہت جگہ آئے اور کئی جگہ خسف ہوئے۔ شہر طالقان سب خسف ہو گیا۔ تیس آدمی بچے اور رئے میں ١٥٠ گاؤں خسف ہو گئے اور حلوان میں اس سے زیادہ اور بڑے بڑے مردے زمین نے پھینک دیئے اور چشمے بہہ پڑے اور ایک قصبہ کا قصبہ مع انسانوں اور حیوانوں اور شجر وحجر کے نصف النہار تک آسمان اور زمین میں معلق رہا۔ پھر خسف کر دیا گیا اور اس قدر زمین پھٹی کہ اس سے سخت بدبودار پانی اور دخان عظیم نکلا۔

(تاریخ الخلفاء ص ٣٢٩ ، ذكر المطيع لله ابوالقاسم)

اور ٥٢٣ھ میں ایک بادل اٹھا اور موصل میں پانی کی جگہ آگ برسی جس سے بہت سے مواضع اور گھر جل کر خاکستر ہو گئے۔

(تاریخ الخلفاء ص ٣٥٤)

اور ٥٤٥ھ میں یمن میں بالکل خون کی بارش ہوئی۔ جس سے تمام زمین خون سے تر ہو گئی۔

(تاریخ الخلفاء ص ٣٥٧)

اور ٥٦٩ھ میں سواد میں نارنجی کے برابر اولے گرے کہ گھر اور مواشی اور بہت خلقت مر گئی اور تباہ ہو گئی۔

(تاریخ الخلفاء ص ٣٦٣)

اور ٥٩٣ھ میں ایک تارا عظیم ٹوٹا اس کے ٹوٹنے سے بڑی دہشت ناک کڑک ہوئی کہ تمام مکان ہل گئے ۔

(تاریخ الخلفاء ص ٣٦٩)

اور ٥٩٦ھ میں ایسا سخت قحط پڑا کہ آدمیوں نے مردار اور آدمیوں کو کھایا اور قبروں کو کھود کر مردوں کو کھایا اور مارے بھوک کے بہت خلقت مر گئی اور گاؤں کے گاؤں ہلاک ہو گئے۔ چلنے والوں کے قدم اور نگاہ مردوں پر پڑتی تھی اور ٥٩٩ھ میں محرم کی آخر تاریخوں میں اس قدر تموج ہوا۔ صبح تک جیسے ٹڈیوں کا دل اڑتا ہو۔

(تاریخ الخلفاء ص ٣٦٩)

اور (ازالہ اوہام ص ٣٧، ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢١، ١٢٢) میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جب

صفحہ ٢٣٥

خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میرے پر کھول دیا ہے۔ یہ ہے کہ مسیح موعود کے دوبارہ دنیا میں آنے کا قرآن شریف میں تو کہیں ذکر نہیں قرآن شریف تو ہمیشہ کے لئے اس کو دنیا سے رخصت کرتا ہے۔ البتہ بعض حدیثوں میں جو استعارات سے پر ہیں۔ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کے لئے بطور پیشین گوئی بیان کیا گیا ہے..... وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔“

دوسری آیت میں تحریف

”قال رجل من آل فرعون يكتم ايمانه اتقتلون رجلاً ان يقول ربى الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم وان يك كاذباً فعليه كذبه وان يك صادقاً يصبكم بعض الذى يعدكم“

مرزا قادیانی نے (حقیقت الوحی ص ١٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٧) اور (حقیقت الوحی ص ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧) میں اس آیت کو پیش کر کے لکھا ہے کہ ”نص قرآنی سے یہ ثابت ہے کہ عذاب کی پیشین گوئی کا پورا ہونا ضروری نہیں“ اور پانچ چھ نصوص قرآنیہ کو ٹھکرا دیا۔

اور (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧١) میں لکھا ہے کہ: ”عذاب کی پیشین گوئی ٹلنے کے بارے میں تمام نبی متفق ہیں۔“

اور (تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥) میں ہے کہ: ”یہ تمام دنیا کا مانا ہوا مسئلہ اور اہل اسلام اور نصاریٰ اور یہود کا متفق علیہ عقیدہ ہے۔“

معاذ اللہ! مرزا قادیانی نے احکام الہیہ نصوص قرآنیہ قطعیہ کو بنی اسرائیل کے ایک مسلمان کے قول سے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نقل فرمایا ہے رد کر دیا اور نص قرآنی سے ثابت ہونے کا دعویٰ کر دیا اور خدا تعالیٰ اور تمام انبیاء علیہم السلام کو کاذب بنا دیا اور پھر وہ مسلمان بھی جو آل فرعون سے تھا۔ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کہ مبادا میرا مسلمان ہونا فرعون پر ظاہر نہ ہو جائے اور پھر موقعہ یہ تھا کہ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ وہ مسلمان اپنے نبی کو قتل سے بچانے میں مضطر تھا تو بناء بر تنزل توریہ کر کے منصفانہ فرعون سے گفتگو فرمائی ہے۔ چنانچہ ترجمہ یہ ہے: ”آل فرعون سے ایک مسلمان اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔ اس نے کہا کہ تم ایسے آدمی کو قتل کرو گے جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ خدا کی طرف سے معجزات لایا ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہے تو بعض عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ

PDF 236

دنیا میں آنے کا وعدہ کرتا ہے ۔ ضرور تم کو پہنچے گا ۔“ یعنی مجموعہ عذاب دنیا و آخرت کہ بعض جو دنیا کا عذاب ہے ۔ فتفکر !

اسلامی عقیدہ نمبر ١٨..... حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر ہے

تقریباً چالیس کروڑ مسلمانان عالم کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز ہرگز نبی نہیں بلکہ قطعی مفتری، کافر، دائرہ اسلام سے خارج اور موافق فرمان حضور ﷺ خاتم النبیین کے ان اشخاص میں سے ہیں ۔ جن کا ذکر ذیل کی احادیث میں ہے اور قرآن کریم واحادیث وفقہ واجماع امت چاروں سے بالیقین ثابت ہے کہ مرزا قادیانی مخالف اسلام ہے اور بغرض فریب دہی اپنے کو مسلمان ہی کہتے تھے ۔

سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبی بعدی (وفی البخاری ج١ ص٥٠٩، باب علامات النبوة فى الاسلام، وفى المسلم ج٢ ص٣٩٧، باب كتاب الفتن واشراط الساعة، وفى ابى داؤد ج٢ ص١٣٦، باب فی خبر ابن صياد، وفى الترمذی ج٢ ص٤٥، باب ماجاء لا تقوم الساعة بخرج كذابون) “

”عن ابى هريرة كذابون دجالون قريب من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله “ یعنی ثوبان اور ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس دجال کاذب مدعی نبوت ہوں گے ۔ حالانکہ میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

اخرالزمان دجالون كذابون ياتونكم من الاحاديث بما لم تسمعوا انتم ولا ابائكم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم (رواه مسلم ج١ ص١٠، باب النهى عن الرواية عن الضعفاء ولا حتياط في تحملها، مشكوة ص٢٨، باب الاعتصام بالكتاب والسنة) “ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ آخر زمانہ میں دجال کذاب پیدا ہوں گے۔ ایسی باتیں بیان کریں گے کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے کبھی نہیں سنی ہوں گی ۔ بچو بچو کہیں تم کو گمراہ نہ کردیں۔ فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔

نوٹ! مرزا قادیانی... سے دعویٰ کیا ۔ جیسا کہ پہلے صفحات قطعی کافر دائرہ اسلام سے خارج

مرزائی عقیدہ نمبر ١٨...

فرماتے ہیں کہ: ”میں آدم ہوں، ہوں ۔ میں اسماعیل ہوں۔ میں ہوں، میں عیسیٰ ہوں۔“

(کمالات متفرقہ ج

حضرت رسول کریم ﷺ میں ای کریم ﷺ سے ظلی طور پر ہم ک یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیر خاص صفات میں، اور اب ہم

(ملفوظات ج٣

میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ پرورش پائی اور پردہ میں نشو کے حصہ چہارم ص ٤٩٦ میں کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہر کے جو سب سے آخر براہین گیا ۔ پس اس طور سے میں کی طرف لے آئی ۔“

صفحہ ٢٣٧

نوٹ! مرزا قادیانی نے نبوت اور رسالت اور وحی نبوت و رسالت کا بڑے زور شور سے دعویٰ کیا۔ جیسا کہ پہلے صفحات میں مذکور ہوا اور حضورﷺ کے بعد مدعی منصب نبوت بالاتفاق قطعی کافر دائرہ اسلام سے خارج ہے ہرگز ہرگز مسلمان نہیں۔

مرزائی عقیدہ نمبر ١٨..... مرزا قادیانی تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ہے

فرماتے ہیں کہ: ”میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں اسماعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء علیہم السلام میں پائے جاتے تھے۔ وہ اب وہ سب حضرت رسول کریمﷺ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے ۔ اس لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح ، داؤد یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔ پہلے تمام انبیاء علیہم السلام ظل تھے۔ نبی کریمﷺ کی خاص خاص صفات میں، اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمﷺ کے ظل ہیں۔“

(ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠، الحکم اپریل ١٩٠٢ء، تشحیذ الاذہان نمبر ١٠، ١١ ج ١٠ ص ٣١، قول فیصل ص ٦)

میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے کہ دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص ٤٩٦ میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم نمبر ٥٥٦ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا ..... پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ مجھے کھجور کی طرف لے آئی ۔“

(کشتی نوح ص ٤٦، ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠، ٥١)

(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧، بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء)

صفحہ ٢٣٨

”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔“

(آخری مکتوب ٢٣؍مئی ١٩٠٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

(یأتی قمر الانبیاء!) ”قمر الانبیاء ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٩)

(اشتہار معیار الاخبار از البشریٰ ج ٢ ص ٥٦ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)

انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ ، حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

بیعت میں داخل نہیں ہوئے وہ کافر ہو گئے۔ مسلمان نہیں رہے۔

(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٣٠، ١٤١، بابت ماہ اپریل ١٩١١ء)

(نزول المسیح ص ٩٩ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

بعثت سے شان میں افضل ہے۔ بدر اور ہلال کی نسبت ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ١٧٢، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

نبیوں سے عہد لیا گیا۔ جس میں حضور ﷺ بھی داخل ہیں کہ مسیح موعود پر ضرور ایمان لانا۔

(اخبار الفضل ج ٣ نمبر ٣٨، ٣٩، مورخہ ١٩، ٢١، ستمبر ١٩١٥ء ص ٦ کالم ٢)

(اربعین نمبر ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣ حاشیہ)

صفحہ ٢٣٩

(اربعین نمبر ٣، ص ٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٥)

(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

(دافع البلاء ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٨)

نوٹ! مفصل بحث پہلے گزر چکی۔

زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا بادشاہ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)

اب میں بحیثیت کرشن ہونے کے آریہ صاحبوں کو ان کی چند غلطیوں پر تنبیہ کرتا ہوں۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)

ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“

(اربعین نمبر ٤، ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)

نوٹ! یعنی شریعت محمدیہ سورج کی کرنوں کے مشابہ ہے اور شریعت مرزائیہ چاند کی ٹھنڈی روشنی کے مشابہ ہے۔ لہٰذا اب شریعت محمدیہ جو تیرہ سو برس سے چلی آ رہی ہے۔ منسوخ ہے۔ قابل برداشت نہیں اور شریعت مرزائیہ پر اب عمل کرنا ضروری ہے۔

انزلناہ قریبا من القادیان“

(حقیقت الوحی ص ٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٩١)

یعنی ابراہیم کی جگہ کو مصلیٰ اور قبلہ ٹھہرا لو ہم نے اس کو قادیان کے قریب نازل کیا ہے۔ نوٹ! ابراہیم سے مراد خود مرزا قادیانی ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٣، ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١) میں اپنا ایک الہام لکھا ہے۔ ”آخر زمانہ میں ایک ابراہیم (مرزا قادیانی) پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“ مرزا قادیانی کی اس وحی پر لاہوری پارٹی برابر عمل کرتی ہے اور محمودی پارٹی کا ایسی صریح وحی پر عمل نہ کرنا غلطی نہیں تو اور کیا ہے؟۔

صفحہ ٢٤٠

اسلامی عقیدہ نمبر ١٩...... حیات مسیح علیہ السلام

اسلامی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نا ہنجار کے ہاتھوں سے محفوظ صحیح و سالم بچا کر اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھالیا ہے اور اب تک زندہ ہیں اور قیامت کے قریب زمین پر پھر دوبارہ تشریف لائیں گے اور وہ وقت ابھی نہیں آیا ہے۔

قرآن کریم سے ثبوت

١........ ”وقولهم انا قتلنا المیسح عيسى بن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم وان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا ، بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيماً (نساء: ١٥٧، ١٥٨) “ اور (ہم نے یہود پر لعنت کی) بوجہ ان کے اس قول کے، کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ انہوں نے قتل کیا اور نہ سولی پر لٹکایا۔ لیکن ان کو اشتباہ میں ڈال دیا گیا اور جو اس معاملہ میں اختلاف رکھتے ہیں وہ خود شک میں ہیں۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ لیکن اٹکل کرتے ہیں اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ﴿

توضیح ١؎ !

چونکہ قرآن کریم یہود و نصاریٰ میں حکم اور قول فیصل ہو کر نازل ہوا ہے۔ لہٰذا اس آیت میں یہود اور نصاریٰ کے باہمی اختلاف میں فیصلہ فرماتے ہیں۔ یہود کا متفقہ قول ہے کہ انا قتلنا المسیح یعنی ہم نے مسیح کو قتل کیا۔ پھر یہود میں دو فریق ہیں۔ ایک فریق کا قول تھا کہ پہلے قتل کیا۔ پھر تشہیر اور اہانۃً سولی پر لٹکائے گئے۔ دوسرے فریق کا قول تھا کہ پہلے سولی پر چار میخ کئے گئے پھر قتل کر دیئے گئے۔

١؎ کیونکہ جب وما قتلوہ پہلے آچکا ہے۔ تو پھر دوبارہ وما قتلوہ محض تکرار اور لغو ہوگا۔ یہ پہلی آیت میں قتل کی نفی کے ساتھ صلب کی نفی ماصلبوہ سے کی گئی۔ مگر دوسری آیت میں ماصلبوہ نہیں لائے اور جبکہ پہلی آیت میں یہود کا متفقہ قول ہے۔ انا قتلنا المسیح تو پھر دوسری آیت میں ان الذین اختلفوا فیہ سے قتل میں باہم اختلاف کرنے والے کون لوگ ہیں۔

صفحہ ٢٤١

رفع الی السماء کس وقت ہوا؟

چنانچہ مرزا قادیانی نے بھی اس اختلاف کو ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٦٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٧) میں لکھا ہے اور تسلیم کیا ہے۔ اللہ جل شانہ فیصلہ فرماتے ہیں اور دونوں قولوں کی تغلیط فرماتے ہیں ۔ "ماقتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم" اور نصاریٰ متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ۔ لیکن رفع میں دو فریق تھے ایک فریق کہتا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام سولی پر قتل کئے گئے اور تمام امت کی جانب سے کفارہ ہو گئے ۔ پھر تین دن بعد زندہ کر کے آسمانوں پر اٹھائے گئے ۔ قیامت میں نازل ہوں گے اور دوسرا فریق کہتا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے ہاتھ سے محفوظ صحیح سالم بچا کر آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا گیا اور دوسرا شخص ان کی جگہ مصلوب ہوا۔ پھر قیامت میں نازل ہوں گے۔ جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ نے الجواب الصحيح لمن بدل دین المسيح وغیرہ میں خوب تفصیل سے لکھا ہے ۔ بعض عبارتیں آئندہ نقل کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے۔ ماقتلوه يقينا بل رفعه الله الیه ! یعنی قاتلین قتلِ غلطی پر ہیں۔ ان کو کچھ علم نہیں۔ محض تخمینہ اور اٹکل کرتے ہیں۔ صرف یہ صحیح ہے کہ اللہ نے ان کو آسمانوں پر اٹھا لیا ہے۔ پس یہود کے ہر دو فریق کے اقوال کو بالکلیہ غلط فرمایا اور نصاریٰ کے جس فریق کا قول غلط تھا اس کو غلط فرما کر نفی کر دی ، اور جو صحیح تھا اس کو صحیح رکھا۔ پس اگر رفع عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ غلط اور مشرکانہ عقیدہ اور خلاف واقعہ ہوتا تو واجب تھا کہ اس عقیدہ کی نفی فرمائی جاتی اور بہت زور سے نفی کی جاتی۔ جیسا کہ نصاریٰ کے دوسرے غلط اور مشرکانہ عقیدوں کی تردید زور سے فرمائی گئی ہے نہ کہ وہی عقیدہ ثابت کیا جائے اور صحیح بتلایا جائے اور وہی لفظ رفع عیسیٰ علیہ السلام کا استعمال فرمایا جائے۔ بلکہ واجب تو یہ تھا کہ ایسے موقعہ پر لفظ موہم بھی استعمال نہ کیا جائے ۔ صاف بل اماته الله کا لفظ استعمال کرنا چاہئے تھا۔

شانہ علی وجہ الترقی فرماتے ہیں کہ میں نے تو ان کا ایسا اکرام کیا ہے کہ رفع روح تو رفع روح ، میں نے ان کے جسم کو بھی رفع کر لیا۔ بل جو ترقی کے لئے آیا ہے اس کا پورا مفہوم جب ہی واضح ہوگا۔ جبکہ رفع سے رفع جسمانی مراد ہو، ورنہ ماقتلوہ وما صلبوہ اور رفعہ اللہ الیه کا مفہوم ایک ہی ہے۔ ان دونوں کے درمیان لفظ بل چسپاں نہ ہوگا۔ کیونکہ رفع روحانی کے انکار کی وجہ ان کے مصلوب ہونے کو قرار دیا جاتا ہے اور وہ ماصلبوہ سے نفی کر دی گئی۔

صفحہ ٢٤٢

وہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے غائب ہو جانے سے غلطی میں پڑ گئے اور یہ منشاء رفع جسمانی ہی ہو سکتا ہے نہ کہ طبعی موت اور شبہ لھم لام سے فرمایا شبہ علیھم سے نہیں فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ یہ اشتباہ عیسیٰ علیہ السلام کی صیانت کے لئے مقدر کیا گیا نہ اتفاقی طور پر وقوع میں آیا۔ جیسا کہ اکثر ایسا ہو جاتا ہے اور وما قتلوہ یقیناً اسے مراد تو لاریب یہی ہے کہ جس وقت یہود قتل کرنے کے در پے تھے اس وقت قتل سے ان کو محفوظ رکھا اور وہ قتل نہ کر سکے اور بل رفعہ الله اليه بعینہ اسی وقت کی جگہ واقع ہوا نہ کہ ٨٧ برس کے بعد کشمیر میں۔

تضاد ہونا چاہئے۔ حالانکہ عقلاً ونقلاً تضاد نہیں کیونکہ بے گناہ ظلماً قتل کئے جانے سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ رفع درجات نہیں ہوا۔ ورنہ شہادت کوئی چیز ہی نہ رہی۔ توریت کا حوالہ خود گنہگار واجب القتل کے لئے ہے۔ توریت کی عبارت کتاب استثناء باب ٢١ میں یہ ہے۔ (٢٢) اور اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے اور تو اسے درخت میں لٹکا دے۔ (٢٣) تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے۔ بلکہ تو اسی دن گاڑ دے۔ کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے۔ خدا کا ملعون ہے۔

(کتاب مقدس ص ١٧٩، برٹش اینڈ فارن انارکلی لاہور ١٩٢٧ء)

اور توریت میں جھوٹے مدعی نبوت کی سزا پھانسی ہے۔ جیسا کہ (کتاب استثناء باب ١٨ آیت ٢٠، ٢١، ٢٢) میں ارشاد ہے۔

”لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے۔ جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا تو وہ نبی قتل کیا جائے اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیوں کر جانوں کہ یہ بات خداوند تعالیٰ نے نہیں کہی۔ بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔“

(کتاب مقدس ص ١٧٤)

یعنی توریت میں یہ سیاسی حکم ہے کہ جھوٹا نبی قتل کر دیا جائے اور جھوٹے نبی کی شناخت یہ ہے کہ جو اس نے خدا کے نام سے کہا وہ واقع یا پورا نہ ہوا۔ ورنہ قرآن کریم کی اس آیت سے پہلے یہ آیت بھی ہے۔ ”قتلهم الانبیاء بغیر حق (نساء: ١٥٥)“ اور دوسری جگہ ”ويقتلون النبيين بغير الحق (بقره: ٦١، آل عمران: ٢١)“ اور دوسری جگہ ہے۔ ” ففريقاً كذبتم وفريقاً تقتلون (بقره: ٨٧)“ لہٰذا رفع جس سے وہ قتل نہ کر سکے اور قتل کا متضاد ہوا وہ رفع جسمانی ہی ہو سکتا ہے۔ نہ رفع روحانی۔

صفحہ ٢٤٣

رفع من حيث الدرجات والعزة اعطاء منصب نبوت کے وقت سے حاصل ہے۔ کان وجیھاً فی الدنیا والآخرة ومن المقربین (آل عمران : ٤٥) لہذا یہ رفع ہر وقت وعدہ ”یعیسی انی متوفیک ورافعک الی (آل عمران : ٥٥)“ موجود ہے ۔ جو بالکلیہ تحصیل حاصل ہوگا اور رفع درجات تو کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص بھی نہیں۔ بلکہ رفع درجات تو ہر مومن کو حاصل ہے۔ يرفع الله الذين امنوا منكم والذين أوتوا العلم درجت (مجادله : ١١) پس وہ رفع مراد ہو سکتا ہے۔ جو ہر وقت وعدہ حاصل نہ تھا اور وہ رفع جسمی ہی ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ مطہرک اور توفی کا وعدہ تھا اور وہ حاصل نہ تھے ۔ کیونکہ وعدہ اسی چیز کا دیا جاتا ہے۔ جو موعود کے پاس موجود نہ ہو۔

کے ہے۔ اس صورت میں رفع روح یعنی موت قبل واقعہ قتل کے ہونی چاہئے ۔ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اس کے کب قائل ہیں کہ موت واقعہ صلیب اور قتل سے پہلے ہوئی ہے اور پھر جملہ كان الله عزيزاً حكيماً کو کچھ ربط نہیں رہتا۔ کیونکہ اس قسم کا کلام جب بولا جاتا ہے کہ جہاں دشوار اور نادر امر کو آسان اور سہل بتلانا مد نظر ہو اور بطور خرق عادت ظاہر کرنا منظور ہو اور ظاہر ہے کہ رفع روح یعنی موت کوئی دشوار اور انوکھا و نادر امر نہیں بخلاف رفع جسمانی کے۔

ہے کہ قتل کا مورد جسم ہے تو رفع کا مورد بھی جسم ہی ہے۔ دوسرے ضروری ہے کہ بل سے پہلے جس کے لئے قتل کی نفی کی گئی ہے اسی کے لئے اثبات رفع ہو وہ جسم مع روح ہے۔ کیونکہ جھگڑا جسم کا ہے۔ یہودی جسم کو صلیب کا عذاب دینا چاہتے تھے اور انہوں نے تجویز کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر کے طرح طرح کے عذاب دے کر قتل کریں اور خدا نے تجویز کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچائے ، اللہ غالب تجویز والا ہے۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے ۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسماً بچائے ۔ کیونکہ روح کو تو نہ کوئی پکڑ سکتا ہے اور نہ صلیب دے سکتا ہے۔ یہ سب تجویزیں جسم کے واسطے ہو رہی تھیں ۔ یہودی جسم کو عذاب دے کر ذلیل کرنا چاہتے تھے اور خدا تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کو صلیب کے عذابوں سے بچانا چاہتا تھا۔ اللہ کی تجویز غالب رہی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا رفعہ اللہ۔ پس جب جسم بچایا گیا تو رفع جسمانی ثابت ہوا۔ کیونکہ جس جسم نے قتل ہونا تھا اور صلیب دیا جانا تھا وہی اٹھایا گیا۔ اور اسی کا رفع ہوا اور روح نہ تو قتل کی جا

صفحہ ٢٤٤

سکتی ہے اور نہ صلیب پر لٹکائی جاسکتی ہے۔ پس رفع روح یا رفع روحانی کے معنی کرنا بالکل غلط ہیں اور نیز اس رفع کے مقابلہ میں احادیث نبویہ میں لفظ نزول آیا ہے۔ اگر رفع سے رفع عزت مراد ہوتو نزول سے نزول ذلت مراد ہوگا۔ معاذ اللہ! اور یہ باطل ، لہٰذا رفع جسمی مراد ہے اور احادیث میں نزول جسمی۔ لاغیر!

جیسے اماموں اور خطیبوں کا رفع علی المنابر اور حضور ﷺ کی معراج۔ نہ صرف رفع مکانی جیسے مزدوروں اور معماروں وغیرہ کو ہوتا ہے۔ غرض یہاں رفع مکانی جو رفع رتبی کو متضمن ہے۔ مراد ہے یہ کوئی نہ سمجھے کہ اس میں عزت ملحوظ ہی نہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٢٩ تا ٧٥) میں مفصل مذکور ہے اور امام نے اثبات رفع جسمانی میں کئی صفحے خرچ کئے ہیں اور لکھا ہے۔ (اکرمہ بان رفعه الی السماء ج ٨ ص ٧١ اور ج ١١ ص ١٠٤ زیر آیت بل رفعه الله الیه ) میں لکھتے ہیں کہ رفع عیسیٰ علیہ السلام الی السماء ثابت بھذہ الایۃ “ اور (تفسیر روح المعانی ج ١ص ٣٣١) میں ہے۔ جعل ذالك رفعاً اليه للتفخيم والتعظيم! یہ مرزائیوں کی حیا اور ان کا تدین ہے یا قلۃ فہم ہے جو اس سے محض رفع رتبی ہی سمجھے اور (مفردات راغب ص ١٩٩) کی عبارت کا بھی مطلب یہی ہے۔

تھیں تو اللہ تعالیٰ سلک جرائم یہود کے بیان میں ”کما قال الله فبما نقضهم ميثاقهم، وكفرهم بايات الله وقتلهم الانبياء بغير حق، وقولهم قلوبنا غلف (نساء: ١٥٥) “ ”وبكفرهم وقولهم علی مریم بھتاناً عظیماً (نساء: ١٥٦)“ ”وقولهم انا قتلنا المسیح (نساء:١٥٧) “ صرف وقولہم فرما کر غلط بیانی ہی کو منجملہ جرائم شمار کرتا ہے۔ مقتضی مقام کا یہ تھا کہ ان کی ایذارسانی کو بھی ضروری ذکر کیا جاتا۔ وصلبہم المسیح ورنہ یہود کے مردود ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب قوی واجب الذکر کو ترک کرنا خلاف بلاغت ہوگا۔

کہ طمانچے مارے گئے۔ کانٹوں کا تاج سر پر رکھا گیا۔ ہاتھوں پاؤں میں میخیں ٹھوک دی گئیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت میں اپنی نعمت واحسان کا ذکر فرمائے گا ۔”اذ كففت بنی اسرائيل عنك (مائده:١١٠) “ یعنی یاد کرو اس واقعہ کو جب میں نے بنی

صفحہ ٢٤٥

ب پر لٹکائی جاسکتی ہے۔ پس رفع روح یا رفع روحانی کے معنی کرنا بالکل غلط ہیں کے مقابلہ میں احادیث نبویہ میں لفظ نزول آیا ہے۔ اگر رفع سے رفع عزت مراد ل ذلت مراد ہوگا۔ معاذ اللہ! اور یہ باطل، لہٰذا رفع جسمی مراد ہے اور احادیث غیر! اور نیز یہ بھی معلوم ہو کہ یہاں پر رفع جسم بھی علی وجہ الاکرام والدرجہ ہے۔ ولیوں کا رفع علی المنابر اور حضورﷺ کی معراج۔ نہ صرف رفع مکانی جیسے وں وغیرہ کو ہوتا ہے۔ غرض یہاں رفع مکانی جو رفع رتبی کو متضمن ہے۔ مراد ، اس میں عزت ملحوظ ہی نہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٦٩ تا ٧٥) میں مفصل مذکور ہے رفع جسمانی میں کئی صفحے خرچ کئے ہیں اور لکھا ہے۔ (اکرمہ بان رفعه الی ا اور ج ١١ ص ١٠٣ زیر آیت بل رفعه الله الیه ) میں لکھتے ہیں کہ ”رفع سلام الى السماء ثابت بهذه الا یة “ اور (تفسیر روح البیان ج ١ ص ٣٣١) لك رفعاً اليه للتفخيم والتعظيم ! یہ مرزائیوں کی حیا اور ان کا تدین جو اس سے محض رفع رتبی ہی سمجھے اور (مفردات راغب ص ١٩٩) کی عبارت کا بھی

اگر مسیح علیہ السلام کو یہود نے صلیب پر چڑھایا تھا اور سخت تکلیفیں پہنچائیں جرائم یہود کے بیان میں ”کما قال الله فبما نقضهم ميثاقهم ، ات الله وقتلهم الانبياء بغير حق ، وقولهم قلوبنا غلف بكفرهم وقولهم على مريم بهتانا عظيما (نساء:١٥٦) “ نا المسيح (نساء:١٥٧) “صرف و قولہم فرما کر غلط بیانی ہی کو مجملہ جرائم ام کا یہ تھا کہ ان کی ایذا رسانی کو بھی ضروری ذکر کیا جاتا۔ وصلبهم کے مردود ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب قوی واجب الذکر کو ترک کرنا

اور پھر ایسی صورت میں جب کہ مسیح علیہ السلام کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا ہو کانٹوں کا تاج سر پر رکھا گیا۔ ہاتھوں پاؤں میں میخیں ٹھوک دی گئیں۔ یہ الی عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت میں اپنی نعمت واحسان کا ذکر فرمائے گا ۔ ”اذ ائیل عنک (مائده:١١٠) “ یعنی یاد کرو اس واقعہ کو جب میں نے بنی

اسرائیل کو تجھ سے روک لیا تھا اور ان کو تجھ تک پہنچنے نہیں دیا۔ کیا یہی نعمت ہے کہ سب گت بنوا دیئے یہ کیسا کف ہے؟۔

ورافعک الی (آل عمران:٥٥) “ معاذ اللہ ! یہ تو دھوکہ بازی ہوئی کیونکہ اس کا ثمرہ یہی نکلا کہ یہود کے ہاتھ پکڑوا کر صلیب پر لٹکا دینے کے بعد تیرا دم نکلنے نہ دوں گا اور تجھے قریب المرگ بنا دوں گا۔ یہاں تک کہ یہود مردہ جان کر اور اپنی دانست میں مار کر چھوڑ جائیں گے۔ کیا اطمینان وہی اسی کا نام ہے؟۔

عمران:٥٤) “ میں یہی اللہ کی تدبیر کا غلبہ ہے۔

معنی عربی میں پیٹھ کے ہیں۔ بلکہ یہ صلب صلیب سے ماخوذ ہے۔ جو چلیپا کا معرب ہے۔

(کمافی مجمع البحار ج ٢ ص ٣٤٢، والمنجد ص ٢٨٥، لسان العرب)

جس کے معنی خون اور چربی کے ہیں اور سولی پر چڑھانے اور چار میخ کرنے سے بھی چونکہ خون اور چربی بہتی ہے۔ لہٰذا اس شخص کو جو سولی پر چڑھایا جائے مصلوب کہا جاتا ہے اور یہ نہیں کہ مصلوب کا اطلاق اس کے مر جانے کے بعد ہوگا اور قبل از مقتولیت نہیں ہو سکتا۔ (منجد ص ٢٨٥) میں ہے۔ ”صلبه وصلب علقه على الصليب استخرج ودكها اى ما يسيل منها “ یعنی صلبہ اور صلبہ کے معنی سولی پر لٹکانے کے ہیں کہ اس سے چربی اور خون بہے۔ ہاں سولی پر چڑھانا بھی چونکہ منجملہ اسباب قتل کے ہے اس وجہ سے صلب کا اطلاق سبب یعنی قتل پر بھی آتا ہے۔ چنانچہ (لسان العرب ج ٧ ص ٣٨١) میں ہے۔ الصلب القتل المعروفہ ! اور آیت میں چونکہ مطلقاً قتل کی نفی پہلے وما قتلوہ سے ہو چکی ہے۔ جس میں قتل صلیبی بھی داخل ہے۔ بلکہ قتل سے مراد ہی اس جگہ قتل صلیبی ہے۔ لہٰذا و ما صلبوہ سے معنی قتل کے مجازی طور پر بھی نہیں لے سکتے۔ ورنہ کلام الٰہی لغو ہوا جاتا ہے۔ بلکہ آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا اور نہ صلیب پر لٹکایا۔

جسمانی ہی کے ہوتے ہیں۔ ”قال الراغب فى المفردات الرفع يقال تارة فى الاجسام الموضوعة اذا أعليتها من مقرها نحوور فعنا فوقكم الطور وقوله

صفحہ ٢٤٦

تعالى الله الذى رفع السموات بغير عمد ترونها ۔ وتارة فى البناء اذا طولته نحو قوله تعالى واذ يرفع ابراهيم القواعد من البيت واسماعيل وتارة فى الذكر اذا مدحته نحو قوله تعالى ورفعنا لك ذكرك ۔ وتارة فى المنزلة اذا شرفتها نحو قوله تعالى رفعنا بعضهم فوق بعض درجات ۔ نرفع درجت من نشاء ۔ رفيع الدرجات انتهى كلامه (تاج العروس ج ١١ ص ١٧١ ، ١٧٢ ، مفردات ص ١٩٩) ”امام راغب نے مفردات میں فرمایا ہے کہ رفع کا کبھی جسم میں استعمال ہوتا ہے۔ جس کو تو اس کی جگہ سے اوپر اٹھائے جیسے ”رفعنا فوقكم الطور (بقرہ:٦٣)“ یعنی ہم نے تمہارے اوپر طور کو اٹھا لیا اور ”قوله تعالى الذى رفع السموات بغير عمد (رعد:٢)“ یعنی وہ ذات جس نے بغیر ستون کے آسمانوں کو اٹھا لیا اور کبھی بنا میں استعمال ہوتا ہے جس کو تو طویل کرے۔ جیسے ”اذ يرفع ابراهيم القواعد من البيت واسماعيل (بقرہ:١٢٧)“ یعنی جب ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام بیت اللہ شریف کی بنیاد کو اٹھاتے تھے اور کبھی ذکر میں استعمال ہوتا ہے۔ جب تو اس کی مدح کرے اور اس کو شہرت اور عزت دے اور جیسے ”رفعنا لك ذكر (انشراح:٤)“ یعنی ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا اور کبھی مرتبہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جب تو کسی کو بلند درجہ عطاء کرے یا بلند درجہ بیان کرنا چاہے۔ جیسے ”رفعنا بعضهم فوق بعض درجت (زخرف:٣٢)“ یعنی ہم نے بعض کے مرتبہ کو بعض پر بلند کیا ۔ ”نرفع درجت من نشاء (یوسف:٧٦)“ یعنی ہم جس کو چاہتے ہیں درجہ بلند کرتے ہیں ۔ ”رفيع الدرجت (غافر:١٥)“ بلند مرتبہ والا ۔ لہٰذا آیت ”رفعه الله اليه“ میں کہیں درجات کا لفظ تک نہیں اور نہ کوئی قرینہ صارفہ ہے۔ محض اپنی خود غرضی سے روح یا درجہ کا رفع مراد لینا نصوص قطعیہ سے اعراض ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ:

حاجت کے لئے اپنا کپڑا نہیں اٹھاتے تھے۔ یہاں تک کہ زمین کے قریب ہوتے تھے۔ ٭

(مجمع البحار ج ٢ ص ٣٥٧)

انتظار وحی میں اکثر اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۔ ٭

(مجمع البحار ج ٢ ص ٣٥٨)

صفحہ ٢٤٧

باب الجنائز ص ١٥٠) ”﴿یعنی لڑکے کو حضورﷺ کی طرف اٹھا کر لایا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا اور تیز حرکت کر رہا تھا۔﴾

اپنے ہاتھ میں لے کر بلند کیا تا کہ لوگ اس کو دیکھیں۔﴾

(مجمع البحار ج ٢ ص ٣٥٦)

﴿یعنی حضورﷺ نے عورتوں سے فرمایا تھا کہ اپنے سروں کو سجدے سے مت اٹھایا کرو یہاں تک آدمی برابر سیدھے بیٹھ جائیں۔﴾

(مجمع البحار ج ٢ ص ٣٥٦)

ص ١٠١١، باب احکام اهل الذمه) ”﴿یعنی عبداللہ بن سلام نے یہودی سے فرمایا کہ اپنا ہاتھ تو اٹھا اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اس کے نیچے آیت رجم نکلی ۔﴾

کی طرف اٹھا جانا درج ہے۔ ”قال لقد رأيته بعد ما قتل فرفع الى السماء حتى انى لانظر الى السماء بينه وبين الارض ثم وضع (بخاری شریف ج٢ ص ٥٨٧، باب غزوة الرجيع ورعل وذکوان) ”﴿یعنی میں نے قتل ہو جانے کے بعد ان کو دیکھا کہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ یہاں تک کہ میں نے ان کو زمین و آسمان میں معلق دیکھا پھر رکھے گئے۔﴾

نماز پڑھی۔”فاذا ركع وضعها واذا رفع رفعها “ ﴿یعنی جب رکوع کو جاتے اتار دیتے تھے اور جب سجدہ سے فارغ ہو کر اٹھتے تھے تو امامہ کو کندھے پر اٹھا لیتے تھے۔﴾

ص ١٠٥٥) ”﴿یعنی اچانک قیامت قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص لقمہ منہ کی طرف اٹھائے گا وہ اس کو کھا نہیں سکے گا۔﴾

المفسرین کی تفسیر سنئے ۔ ”عن ابن عباس قال لما اراد الله ان يرفع عيسى عليه السلام الى السماء خرج الى اصحابه وفي البيت اثناء عشر رجلا من

صفحہ ٢٤٨

الحواريين يعنى فخرج عليهم من عين فى البيت ورأسه يقطر ماء فقال ان منكم من يكفر بى اثنتى عشرة مرة بعد ان آمن بى قال ثم قال ايكم يلقى عليه شبهى فيقتل مكانى ويكون معى فى درجتى...... فقام الشاب فقال انا فقال هو انت ذاك فالقى عليه شبه عيسى ورفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء هذا اسناد صحيح الى ابن عباس (رواه النسائى فى السنن الكبرى ج ٦ ص ٤٨٩ ، باب كتاب التفسير)“

”عن ابی کریب عن ابی معاویة بنحوہ وکذا ذکر غیرہ واحد من السلف (تـفـسـيـر ابـن کـثـيـر ج ٢ ص ٣٩٨، زیر آیت وما قتلوه وما صلبوہ ولكن شبه لـهـــــــم) “ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لینے کا ارادہ فرمایا تو عیسیٰ علیہ السلام اپنے اصحاب کی طرف نکلے اور گھر میں بارہ حواری تھے۔ گھر میں جو چشمہ تھا اس سے غسل فرما کر نکلے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا تم میں بعض ایسے بھی ہیں کہ مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ دفعہ کفر کریں گے۔ پھر فرمایا تم میں کون ہے کہ جس پر میری شبیہ ڈالی جائے اور میری جگہ قتل کیا جائے۔ وہ جنت میں میرا رفیق بنے...... ایک جوان کھڑا ہوا اس نے کہا وہ میں ہوں۔ آپ نے فرمایا بے شک تو ہی اس کا مستحق ہے۔ چنانچہ اس پر شبیہ عیسیٰ علیہ السلام کی ڈالی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام گھر کے روزن سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ یہ اسناد ابن عباسؓ تک بالکل صحیح ہے اور نسائی نے بھی بواسطہ ابی کریب ابو معاویہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسی طرح بہت سے سلف نے ذکر کیا ہے۔

ذیل کی ان سب تفاسیر میں رفع جسم الی السماء ہے۔

(ابن جریر ج ٦ ص ١٢، ١٣، کشاف ج ١ ص ٥٨٧، کبیر ج ١١ ص ١٠٠، ١٠١، ابی السعود ج ٢ ص ٢٥١، ٢٥٢)

نوٹ! اس آیت سے جیسا کہ نصاً بلا کسی قرینہ کے بھی صاف طور سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ یہود نے قتل کیا اور نہ صلیب پر لٹکایا اور نہ کوئی اور گزند پہنچا سکے۔ بلکہ محفوظ وصحیح و سالم یہود سے بچا کر اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمانوں میں اٹھا لیا ہے۔ اسی طرح ان پندرہ دلائل قویّہ سے بھی ثابت ہوا ہے کہ ’رفعه الله اليه ‘ میں صرف رفع عزت یا طبعی موت یا رفع روح ہرگز ہرگز مراد نہیں ہوسکتا یہ محض مرزا قادیانی کی خود غرضی کا کرشمہ ہے اور بس ! ’اخـــــــــــــرج الـبـيـهـقـى عـن حـاطـب بـن ابـی بـلـتـعـة ان الله تـعـالـى رفـع عـيـسـى فـى الـسـمـاء (خـصـائـص الكبرى ج ٢ ص ١٣٩، ماوقع عند كتابيه الى المقوقس) “ یعنی حاطب بن

صفحہ ٢٤٩

ابی بلتعة سے روایت ہے کہ اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا ہے۔ ﴾

ایک شبہ کا ازالہ

مرزائی مجبور ہو کر کہا کرتے ہیں کہ ”رفعہ الله الیہ“ اور رافعک الی میں آسمان کا لفظ کہاں ہے۔ بلکہ ان میں تو یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ کیا خدا تعالیٰ آسمانوں میں محدود ہے۔

جواب!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے تو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی ...... جہاں جہاں رافعک یا بل رفعہ الله الیہ ہے اس سے مراد ان کی روح کا اٹھایا جانا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٦٢، خزائن ج ٣ ص ٢٣٣)

اور لکھتے ہیں کہ: ”ہم بھی کہتے ہیں کہ مسیح بھی مع جسم آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ مگر اس جسم کے ساتھ جو اس عنصری جسم سے الگ ہے ..... اس قسم کے جسم کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان پر جانا، ہمیں دل و جان منظور ہے۔“

(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ٢١٤، ٢١٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٩٠)

جس جگہ سے مرزا قادیانی نے آسمان کو سمجھا ہے وہیں سے اہل اسلام بھی لیتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی وحی ہے کہ: ”انا نبشرك بغلام مظهر الحق والعلى كأن الله نزل من السماء“ ﴿یعنی ایک لڑکے کی ہم تجھے بشارت دیتے ہیں۔ گویا آسمان سے خدا اترے گا۔ پس اگر خدا آسمان پر نہیں تو یہ الفاظ لغو اور مہمل ہیں۔﴾

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٨، ٩٩)

بكم الارض (الملک: ١٦)“ ﴿یعنی کیا تم اس ذات سے بے خوف ہو گئے جو آسمان میں ہے کہ تم کو زمین میں خسف کر دے۔﴾

”ثم استوى على العرش (اعراف: ٥٤)“ ﴿یعنی پھر اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہوا۔﴾

حدیث شریف میں ہے کہ: ”فقال لها اين الله قالت في السماء قال من انا

صفحہ ٢٥٠

قالت انت رسول الله فقال اعتقها فانها مؤمنۃ (صحیح مسلم ج ١ ص ٢٠٤، باب تحریم الکلام فى الصلوۃ ونسخ ماکان من اباحتہ) ”یعنی ایک لونڈی کو حضور ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ حضور ﷺ نے لونڈی سے پوچھا اللہ کہاں ہے۔ لونڈی نے جواب دیا اللہ آسمان کے اوپر ہے۔ پھر حضور ﷺ نے پوچھا میں کون ہوں لونڈی نے جواب دیا آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور ﷺ نے لونڈی کے مالک سے کہا آزاد کر دے یہ لونڈی مؤمنہ ہے۔ ﴿

”عن عبدالله بن مسعودؓ انہ قال والله فوق العرش لا یخفی علیہ شئ من اعمالکم (رواہ البیہقی باسناد صحیح فى کتاب الاسماء والصفات ص ٤٠١، باب ماجاء فى العرش والکرسی، وکذا رواہ ابن المنذر وعبداللہ بن احمد بن حنبل وابوالقاسم الطبرانی ج ٩ ص ٢٠٦ حدیث نمبر ٨٩٨٧) ”وغیر ہما کما قال الذہبی فى کتاب العرش منقول (از فتاوی مولانا عبدالحی ج ١ ص ٣٠) ”یعنی عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فوق العرش پر ہے۔ تمہارا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں۔ ﴿

تمہید میں ہے کہ: ”قال ابو مطیع البلخی سألت ابا حنیفۃ فیمن قال لا ادری این الله فقال ابو حنیفۃ انہ یکفر لانہ...... خالف النص (ابو شکور سلمی ص ٧٦) ”یعنی ابو مطیع بلخی نے ابو حنیفہ سے پوچھا ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے کہا کہ میں نہیں جانتا اللہ کہاں ہے ابوحنیفہؒ نے جواب دیا وہ کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے نص کی مخالفت کی۔ ﴿ (فتاوی مولانا عبدالحی ج ١ ص ٤٢، ٣٤، ٣٣) میں امام مالکؒ وامام شافعیؒ وامام احمد بن حنبلؒ سے منقول ہے کہ اللہ عرش کے اوپر ہے اور اس کا علم اور اس کی قدرت ہر جگہ ہے۔) عقائد الہیہ میں ہے کہ: ”رب العرش فوق العرش لاکن...... بلا وصف التمکن واتصال“ یعنی رب العرش فوق العرش ہے۔ لیکن بغیر وصف تمکن اور اتصال کے۔

اور امام غزالی (کیمیائے سعادت ترجمہ اکسیر ہدایت ص ٦٠ بیان اعتقاد اہلسنت) میں لکھتے ہیں کہ: ”و ہر چہ در عالم است ہمہ زیر عرش است وعرش زیر قدرت او مسخر است و وی فوق عرش است نہ چنانکہ جسمی فوق جسمی باشد کہ وی جسم نیست وعرش حامل وبردارندہ وی نیست بلکہ عرش وحملۂ عرش ہمہ برداشتہ ومحمول لطف وقدرت وی اند و امروز ہم باں صفت است کہ

صفحہ ٢٥١

انت رسول الله فقال اعتقها فانها مؤمنة (صحيح مسلم ج ١ ص ٢٠٧، باب م الكلام في الصلوة ونسخ ماكان من اباحته) ”یعنی ایک لونڈی کو حضور ﷺ کی میں لایا گیا۔ حضور ﷺ نے لونڈی سے پوچھا اللہ کہاں ہے۔ لونڈی نے جواب دیا اللہ کے اوپر ہے۔ پھر حضور ﷺ نے پوچھا میں کون ہوں لونڈی نے جواب دیا آپ ﷺ اللہ ہیں۔ حضور ﷺ نے لونڈی کے مالک سے کہا آزاد کر دے یہ لونڈی مؤمنہ ہے۔ ﴾

”عن عبدالله بن مسعود انه قال والله فوق العرش لا يخفى عليه ن اعمالكم (رواه البيهقى باسناد صحيح في كتاب الاسماء والصفات ص ٤٠١، جاء في العرش والكرسى، وكذا رواه ابن المنذر وعبدالله بن احمد بن حنبل م الطبراني ج ٩ ص ٢٠٢ حديث نمبر ٨٩٨٧)“ ”وغير هما كما قال الذهبي ب العرش منقول (از فتاوی مولانا عبدالحی ج ١ ص ٣٠) “ یعنی عبداللہ بن مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فوق العرش پر ہے۔ تمہارا کوئی عمل اس سے ﴾

تمہید میں ہے کہ: ”قال ابو مطيع البلخى سألت ابا حنيفة فيمن قال لا ن الله فقال ابو حنيفة انه يكفر لانه ...... خالف النص (ابو شكور ٤٢) “ یعنی ابو مطیع بلخی نے ابو حنیفہ سے پوچھا ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے میں جانتا اللہ کہاں ہے ابوحنیفہ نے جواب دیا وہ کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس نے نص کی ﴾ (فتاوی مولانا عبدالحی ج ١ ص ٢٧، ٣٢، ٣٣) میں امام مالکؒ و امام شافعیؒ و امام احمد بن قول ہے کہ اللہ عرش کے اوپر ہے اور اس کا علم اور اس کی قدرت ہر جگہ ہے۔ ) عقائد کہ: ”رب العرش فوق العرش لاكن ...... بلا وصف التمكن واتصال“ رش فوق العرش ہے۔ لیکن بغیر وصف تمکن اور اتصال کے۔

ر امام غزالیؒ (کیمیاء سعادت ترجمہ اکسیر ہدایت ص ٦٠ بیان اعتقاد اہلسنت) میں لکھتے ہیں چه درعالم است همه زیر عرش است وعرش زیر قدرت ست و وے فوق عرش است نه چنانکه جسمے فوق جسمے باشد که یست وعرش حامل وبردارنده و نیست بلکه عرش وحمله عرش ته ومحمول لطف وقدرت وے اند و امر وے ہم باں صفت است که

درازل بود پیش از انکه عرش را آفرید (از فتاوی مولانا عبدالحی ج ١ ص ٣٠) اور ابن ہمام مسائرہ میں لکھتے ہیں کہ: ”نؤمن انه تعالى مستو على العرش مع الحكم بان استواءه ليس كاستواء الاجساد من التمكن والمماسة والمحاذاة بل بمعنى يليق به وهو اعلم به (از فتاوى مولانا عبدالحی ج ١ ص ٢٣، ٢٤)“ یعنی ہم ایمان لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے۔ لیکن اس کا عرش پر ہونا اس طرح نہیں ہے۔ جیسے اجسام کا تمکن اور ان کی مماستہ اور محاذات ہوتی ہے۔ بلکہ اس طرح پر جو اس کی شان کو لائق ہے اور وہ خوب جانتا ہے۔

نوٹ! غرض قرآن کریم اور احادیث رسول اللہ ﷺ وائمہ مجتہدین وعلماء محققین کی عبارات سے معلوم ہوا کہ متقدمین اور سلف صالحین سب کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فوق العرش ہے۔ لیکن بلا کیف یعنی جسم اور تمکن اور حدود اور اطراف اور احتیاج اور جہات اور اتصال ومحاذات ومماستہ وغیرہ سے مبرا اور منزہ ہے اور کیفیت مجہول ہے۔ ہم اس کی کنہ اور اٹک نہیں کر سکتے۔ جب کیفیت مجہول کہی گئی اور خیال ’لیس کمثله شئی (شوری: ١١)‘ کا بھی رہا اور تنزیہ تمام کی گئی محدودیت اور تجسم کسی طرح سے لازم نہیں آتا اور جمہور متکلمین متاخرین نے ان سب کی تاویل کی ہے اور منشاء تاویل کا صرف اس قدر ہے کہ جب مجسمہ نے اس قسم کی آیات اور احادیث سے خیال تجسم کا کیا تو علماء نے ان کے الزام واسکات کے واسطے محاورات عرب کے مطابق ایک دوسرے معنی ظاہر کئے نہ اس غرض سے کہ یہی معنی مأول مراد ہیں ۔ بلکہ اس غرض سے کہ شبہ تجسم دفع ہو جائے ۔ پس اگر متاخرین کا مذہب پسند ہے تو جیسے انہوں نے دیگر آیات واحادیث کی تاویلیں کیں ۔ اسی طرح اس آیت ”رفعه الله اليه ورافعك الی“ کی تاویل ہے۔

اللہ کی عبادت اور اس کے احکام بجالانے کے لئے وہاں ہجرت کی جاتی ہے۔ جیسے خانہ کعبہ کو بیت اللہ کہا جاتا ہے۔ اور مسجدوں کو اللہ کے گھر کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت کے وقت فرمایا تھا کہ: ”انی مهاجر الی ربی (عنکبوت: ٢٦)“ ”انی ذاهب الی ربی (الصافات: ٩٩)“ یعنی میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ ٹھیک اسی طرح جب عیسیٰ علیہ السلام کو بطور ہجرت آسمان کی طرف رفع کیا گیا تو ”رفعه الله اليه“ فرمایا گیا۔

صفحہ ٢٥٢

ہے ۔ لہٰذا آسمانوں کو اپنی جگہ فرمایا ہے۔

سمائہ“ اللہ نے ان کو اپنے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ مضاف کو محذوف کر کے تعظیماً اس کی اپنی طرف نسبت کر دی۔

دعا مانگنے والوں کا قبلہ ہے۔ کیونکہ جب داعی دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف منہ اٹھاتا ہے۔ لہٰذا داعین کے لئے وہ بیت اللہ ہے۔ پس جب عیسیٰ علیہ السلام نے یہود کی تکالیف سے بچنے کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرما کر اپنی طرف اٹھا لیا۔ یعنی آسمان پر جو داعین کے لئے بیت اللہ ہے۔ بہر حال یہ آیت نص ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے نہ قتل کیا اور نہ صلیب پر لٹکایا۔ اللہ نے ان کو اپنی طرف یعنی آسمان پر اٹھا لیا ہے اور رفعہ اللہ الیہ میں الیٰ بمعنی جانب ہے۔ چنانچہ امام فخر الدین رازیؒ اپنی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں کہ : ”رفع عیسیٰ علیہ السلام الی السماء ثابت بھذہ الآیۃ اکرمہ بان رفعہ الی السماء (تفسیر کبیر ج٨ ص ٧١) “ ﴿یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا اس آیت سے ثابت ہے۔ اللہ نے ان کا ایسا اکرام کیا کہ ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔﴾

دوسری آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

القیامۃ یکون علیہم شہیدا (نساء : ١٥٩) “ ﴿اور کوئی اہل کتاب نہیں۔ مگر البتہ ضرور ایمان لائیں گے۔ عیسیٰ پر عیسیٰ کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔﴾

توضیح!

کیونکہ اس رکوع میں سات آٹھ ضمیریں پے در پے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں اور بہ اور موتہ کی ضمیر بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ لہٰذا بہ کی ضمیر خدا کی طرف یا آنحضرت ﷺ کی طرف یا اور کسی طرف راجع کرنا صحیح نہیں۔ کیونکہ اس رکوع میں خدا تعالیٰ کی طرف جتنی بھی ضمیریں راجع کی گئی ہیں وہ سب ضمائر متکلم ہیں۔ ”فعفونا، رفعنا، قلنا، قلنا دو دفعہ اخذنا، حرمنا، اعتدنا، سنوتیہم“ لہٰذا بہ کی ضمیر خدا کی طرف راجع نہیں

ہو سکتی اور آنحضرت ﷺ کے لئے تمام ضمیریں ر الیك، من قبلك “ لہٰذا یہ ضمیر حضور ﷺ کی ط صورتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ م منافر اور قتل کی طرف راجع کرنا بھی صحیح نہیں۔ ا ہیں۔ کیونکہ قتل حیات سے ہے اور ایمان بمعن اور محاورہ قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے۔ ع ایسی جگہ لفظ یقین استعمال کیا جاتا ہے۔ فلا ی موقن یقتل فلان کہا جاتا ہے۔ البتہ ایما ان المسلمین مؤمنون بعدم مو بحیاتہ علیہ السلام اور اگر یہی معن رکھتے ہیں۔ تو کیا یہود نصاریٰ کے ہم عقیدہ ایمان رکھتے ہیں۔ اگر قبل موتہ کی ضمیر اہل ک نے (ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ٢٣٤، خزائن ج ٢١ ص شخص جو اہل کتاب میں سے ہے وہ اپنی مو السلام پر ایمان لے آئیں گے۔

روح کے وقت ایمان لاتے ہیں تو یہ شرعاً ای چنانچہ سورہ بقرہ میں ہی ٦٠ جگہ ایمان کا لفظ آ

اور مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام الحاد کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے سیدھے م مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر ب

اور (حقیقت الوحی ص ١٤٢، خزائن ج کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنی ایجاد کرن مخالف ہوں۔“

صفحہ ٢٥٣

ہو سکتی اور آنحضرت ﷺ کے لئے تمام ضمیریں خطاب کی لائی گئی ہیں۔ "يسألك ان تنزل، اليك، من قبلك" لہٰذا یہ ضمیر حضور ﷺ کی طرف راجع کرنا صحیح نہیں۔ علاوہ ازیں ان دونوں صورتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ سے کوئی ربط نہیں رہے گا۔ سیاق و سباق کے بالکل منافر اور قتل کی طرف راجع کرنا بھی صحیح نہیں۔ جیسا کہ بعض مرزائی مرزا قادیانی کے خلاف کہتے ہیں۔ کیونکہ قتل حسیات سے ہے اور ایمان بمعنی اذعان کا تعلق حسیات سے نہیں ہوا کرتا اور عرف لغوی اور قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے اور قتل کے لئے ایمان کا استعمال بھی عجیب ہے۔ بلکہ ایسی جگہ لفظ یقین استعمال کیا جاتا ہے۔ فلان مؤمن بقتل فلان نہیں کہا جاتا۔ بلکہ فلان موقن بقتل فلان کہا جاتا ہے۔ البتہ ایمان کا اطلاق غائب عن الوجود پر ہوا کرتا ہے۔ مثلاً ان المسلمين مؤمنون بعدم موته عليه السلام يا ان المسلمين مؤمنون بحياته عليه السلام اور اگر یہی معنی کئے گئے کہ یہودی عیسیٰ علیہ السلام کے قتل پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو کیا یہود نصاریٰ کے ہم عقیدہ ہو گئے۔ کیونکہ نصاریٰ بزعم کفارہ قتل کو پسند کر کے ایمان رکھتے ہیں۔ اگر قبل موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرائی جائے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے (ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ٢٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٩) میں ضمیر کتابی کی طرف پھرائی ہے کہ ہر ایک شخص جو اہل کتاب میں سے ہے وہ اپنی موت سے پہلے آنحضرت ﷺ پر یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔

.............................. ١ .............................. ایمان سے ایمان غیر شرعی بلاوجہ و قرینہ مراد لینا ہوگا۔ کیونکہ اگر زہوق روح کے وقت ایمان لاتے ہیں تو یہ شرعاً معتبر نہیں اور قرآن عزیز کے استعمال کے خلاف ہوگا۔ چنانچہ سورہ بقرہ میں ہی ٦٠ جگہ ایمان کا لفظ آیا ہے اور سب جگہ ایمان شرعی مراد ہے۔

اور مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ٣٨٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٠) میں لکھا ہے کہ ”جو شخص الحاد کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے سیدھی راہ یہی ہے کہ قرآن کریم کے معنی اس کے مروجہ اور مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔“

اور (حقیقت الوحی ص ١٤٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٤٦) میں ہے کہ: ”ہم اس بات کے مجاز نہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنی ایجاد کریں کہ جو قرآن کریم کے بیان کردہ معنوں سے مغائر اور مخالف ہوں۔“

.............................. ٢ .............................. ایسے موقعہ پر بجائے لفظ قبل موتہ کے عند موتہ یا حین موتہ چاہئے تھا۔ اس

صفحہ ٢٥٤

موقعہ قبل موتہ بالکل خلاف بلاغت ہوگا۔

آتے ہیں تو یہ بالبداہتہ غلط ہے۔ کیونکہ واقعہ کے خلاف ہے اور نیز یہ قید بھی لغو ہوگی۔ اس کے لانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ محض لاطائل ہے۔ جیسا کہ کوئی شخص کہے میں نے اپنے مرنے سے پہلے نماز پڑھی یا روزہ رکھا۔

رہتا۔ جس پر تمام نحویوں کا اجماع ہے۔ (شرح جامی کا حاشیہ تکملہ عبدالحکیم ص ١٦١، مطبوعہ نولکشور) میں ہے ۔ ”ان النون تخلص المضارع للاستقبال“

راجع ہوگی۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ ضمیر تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہے۔ اور آٹھ ضمیریں اس کے قبل بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں۔ تو پھر یہ انتشار ضمائر لازم آتا ہے۔

کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے اور معنی میں تحریف کی ای قبل ایمانہ بموتہ جس کا خلاصہ یہ ہے۔ یعنی کوئی اہل کتاب نہیں مگر البتہ ضرور ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح یقینی طور پر صلیب کی موت سے نہیں مرا صرف شکوک وشبہات ہیں۔ ان کی طبعی موت پر ایمان لانے سے پہلے مرزا قادیانی نے اس میں مضارع مؤکد کو جو استقبال کے لئے ہے حال بنایا اور قبل موتہ میں ایمان مقدر نکالا اور ایک مہمل مطلب نکالا اور پھر بھی غلط اور خلاف واقع ہے۔ کیونکہ وہ یہود جو حضور ﷺ کے زمانہ میں تھے اور اس وقت تک ہیں۔ قتل کو یقینی جانتے ہیں یہ استغراق اور کلیہ غلط ہو گیا۔ طرفہ یہ کہ پھر بھی یہ مطلب نکل سکتا ہے کہ ان کا یہ اتباع ظن عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ہے۔ لیکن قرب موت کے زمانہ میں جب عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مشاہدہ کر لیں گے۔ تو ان کو ظاہر ہو جائے گا کہ ہمارا ظن غلط تھا۔ بعض مرزائیوں نے اپنے نبی کی غلطی کی اصلاح کی ہے اور بہ کی ضمیر قتل کی طرف راجع کرتے ہیں اور محاورہ قرآن کے خلاف ایمان سے ایمان لغوی یعنی غیر شرعی مراد لیتے ہیں اور مضارع موکد بنون ثقیلہ کو بمعنی حال کے جو باجماع نحاۃ خالص استقبال کے لئے ہے اور تمام ضمیروں میں انتشار ڈالتے ہیں۔ یعنی بہ کی ضمیر قتل کی طرف اور موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف اور یکون کی ضمیر عیسیٰ کی طرف۔ یعنی کوئی اہل کتاب نہیں۔ مگر ضرور ایمان رکھتا ہے۔ عیسیٰ

صفحہ ٢٥٥

علیہ السلام کے قتل پر اپنی موت سے پہلے اور عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث میں قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع فرمائی گئی ہے جو مرفوع بھی ہے۔ ”عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم عدلا يقتل الدجال ويقتل الخنزير ويكسرالصليب ويضع الجزية ويفيض المال حتى يكون السجدة الواحدة لله رب العالمين واقروا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ...... الخ! ثم يعيدها أبو هريرة ثلث مرات (مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عيسى عليه السلام حاكـمـا بشريعة نبينا ﷺ، تفسير ابن كثير ج ٢ ص ٤٠٤، زير آيت ان من اهل الكتاب، درمنثور ج ٢ ص ٢٤٢)“ ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں ابن مریم خلیفہ اور امیر عادل ہو کر نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے اور خنزیر کے قتل کا اور صلیب کے توڑنے کا حکم دیں گے اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے اور مال کو بہا دیں گے۔ یہاں تک کہ سجدہ ایک اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہو جائے گا۔ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ یعنی ہر اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ایمان لائے گا۔ پھر ابو ہریرہؓ اس کو تین دفعہ دہراتے تھے۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ خود حضور ﷺ نے حدیث نزولِ عیسیٰ علیہ السلام فرمانے کے بعد استشہاداً یہ آیت تلاوت فرمائی ہے۔ پھر اس کو ابو ہریرہؓ بھی دہراتے تھے اور بخاری ومسلم وغیرہ کی روایتوں میں یہ لفظ جن میں ابو ہریرہؓ پر موقوف ہے۔ وہ بھی مرفوع ہی کے حکم میں ہے۔ بلکہ مرفوع ہی ہے۔

کیونکہ امام طحاوی نے ابن سیرین سے لکھا ہے۔ ”عن محمد بن سيرين انه كان اذا حدث عن ابى هريرة فقيل له عن النبى ﷺ فقال كل حديث ابي هريرة عن النبى ﷺ (شرح معانى الآثار ج ١ ص ١٩، باب سور الهرة) “ محمد بن سیرین سے ہے کہ جب یہ ابو ہریرہؓ سے حدیث بیان کرتے تو ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ سے ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں۔ ابن سیرین نے کہا کہ ابو ہریرہؓ کی ہر حدیث نبی ﷺ سے ہے۔

٢...... ”عن ابى هريرة مرفوعاً ليس بينى وبين عيسى عليه السلام نبى وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض ينزل بين الممصرتين كأن راسه يقطر وان لم يصبه بلل

صفحہ ٢٥٦

فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصلب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال فيمكث فى الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون (اخرج ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥، باب خروج الدجال) ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور تحقیق وہ نازل ہوں گے ۔ جب ان کو دیکھو پہچان لو وہ ایک آدمی متوسط سرخ سفید ہوں گے۔ دو چادروں میں نازل ہوں گے گویا کہ سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ تری نے مس نہیں کیا۔ اسلام پر جہاد کریں گے۔ صلیب کو توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا حکم دیں گے اور جزیہ کو موقوف کریں گے۔ ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام دینوں کو ہلاک کر دے گا اور ان کے زمانہ میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ چالیس برس زمین میں رہیں گے پھر وفات ہو گی۔ مسلمان نماز جنازہ پڑھیں گے۔﴾

اور حضرت ابن عباسؓ کی صحیح روایت میں ہے کہ: ﴿قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ علیہ السلام (تفسیر ابن جریر ج ٦ ص ١٨، ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١)﴾ یعنی قبل موتہ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہے۔﴾

اور علامہ حافظ ابن جریرؒ لکھتے ہیں کہ: ﴿وانما قوله لیؤمنن بہ فی سیاق ذکر عیسیٰ اوامه والیہود فغیر جائز صرف الکلام عماھو فى سیاقه الى غيره الا بحجة يجب التسليم لها من دلالة ظاهر التنزيل اوخبر عن الرسول تقوم به الحجة فاما الدعاوى فلا تعذر على احدفتاويل الاية اذاكان الامر على ماوصفت وما من اهل الكتاب الا لیؤمنن بعيسى قبل موت عيسىٰ (تفسر ابن جریر ج ٦ ص ٢٣)﴾ بے شک قول باری تعالیٰ لیؤمنن بہ قبل موتہ سیاق ذکر عیسیٰ یا ان کی ماں اور یہود میں ہے۔ پس سوق کلام سے غیر کی طرف کلام کو پھیرنا غیر جائز ہے۔ لیکن حجت کے ساتھ جس کا تسلیم کرنا واجب ہو ظاہر تنزیل کی دلالت سے یا حدیث رسول اللہﷺ سے جو اس پر حجت قائم ہو۔ لیکن محض دعاوی کرنا تو کسی پر مشکل نہیں ہیں۔ پس جب امر ایسا ہے جیسا تو نے وصف کیا تو آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ نہیں کوئی اہل کتاب مگر البتہ ضرور ایمان لائیں گے عیسیٰ علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے۔﴾

صفحہ ٢٥٧

اور علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”هو الصحيح لانه المقصود من سياق الاية هذا القول هو الحق (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠٦) “ یعنی یہی صحیح ہے۔ آیت کے سیاق سے یہی مقصود ہے اور یہی قول حق ہے۔﴾

اور حافظ حدیث علامہ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ: ”هذا مصير من أبي هريرة الى ان الضمير ..... في قوله قبل موته يعود على عيسى عليه السلام اى الا ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد بن جبير عنه باسناد صحيح ومن طريق أبي رجاء عن الحسن قال قبل موت عيسى عليه السلام والله انه الان لحى ولا كن اذا نزل آمنوا به اجمعون ونقله عن اكثر اهل العلم (شرح صحيح بخارى ج٦ ص٣٠٧، باب واذكر في الكتاب مريم) “ یہ حدیث ابو ہریرہؓ سے ظاہر کرتی ہے کہ بہ اور موتہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ یعنی لیکن ہر اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ایمان لائے گا اور اسی پر ابن عباسؓ نے جزم کیا ہے۔ اس روایت میں جو سعید بن جبیر کے طریق سے اسناد صحیح کے ساتھ ان سے مروی ہے اور ابی رجاء کے طریق سے حسن بصری سے روایت ہے کہ قبل موت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ اللہ کی قسم عیسیٰ علیہ السلام اس وقت تک زندہ ہیں۔ لیکن جب نازل ہوں گے تو سب کے سب ایمان لائیں گے اور اس کو اکثر اہل علم سے نقل کیا ہے۔﴾

(عینی شرح صحیح بخاری ج٧ ص٢٥٤، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج١٠ ص٢٣١، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، تفسیر کبیر ج١١ ص١٠٤، تفسیر ابی السعود ج٢ ص٢٥٢، ٢٥٣، تفسیر در منثور ج٢ ص٢٤١) وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے اور شہید کے صلہ میں علیٰ اس وجہ سے ہے کہ شہید معنی رقیب کو متضمن ہے۔ پس اس کے صلہ میں بھی علیٰ آجاتا ہے۔ جیسے کہ اس آیت میں ہے۔ ”وكذلك جعلنكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيداً (بقره:١٤٣) “حالانکہ اس سے قبل جو مذکور ہوئے وہ خیار امت ہیں۔ جن پر حضور ﷺ شہید ہوں گے اور ”كنت عليهم شهيداً ما دمت فيهم (مائده:١١٧) “

قبل موتھم کی قرأت شاذ ہے

قرأت شاذہ بالاتفاق قرآن کریم نہیں بلکہ قرأت متواترہ قرآن ہے اور اس کی تینوں روایتیں غیر صحیح اور منکر اور ضعیف ہیں۔

صفحہ ٢٥٨

الاعتدال ج ٥ ص ١٦٣ مطبوعہ بیروت) میں ہے کہ: ”قال احمد بن حنبل له (اى لعلىّ بن طلحه) اشياء منكرات وقال دحيم لم يسمع على بن طلحه عن ابن عباس“ یعنی امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ علی بن طلحہ کی بہت سی روایتیں منکر ہیں اور دحیم فرماتے ہیں کہ علی بن طلحہ نے ابن عباس سے کچھ سنا ہی نہیں اور (تہذیب التہذیب ج ٥ ص ٧٠١) میں ہے کہ: ”روی علی بن طلحه عن ابن عباس ولم يسمع عنه بينهما مجاهد“ اور (ج ٥ ص ٧٠٢) میں ہے کہ: ”قال يعقوب بن سفيان ضعيف الحديث منكر ليس بمحمود المذهب“ یعنی علی بن طلحہ ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سے سماع حاصل نہیں ان دونوں کے درمیان مجاہد کا واسطہ ہے اور یعقوب بن سفیان نے کہا کہ علی بن طلحہ ضعیف الحدیث منکر ہے۔ اس کا مذہب اچھا نہیں۔

اور (تقریب التہذیب ج ١ ص ٤١٥) میں ہے کہ: ”على بن طلحه ارسل عن ابن عباس ولم يره“ یعنی علی بن طلحہ ابن عباسؓ سے روایت کرتا ہے۔ حالانکہ علی بن طلحہ نے ان کو دیکھا تک نہیں۔

یحییٰ بن ہانی کی پہلا بالکل ضعیف اور دوسرا مجہول (میزان اعتدال ج ٤ ص ٥٦٢) میں ہے کہ: ”تکلم فيه احمد وضعفه الترمذى وقال ابن خزيمه لا يحتج به“ یعنی امام احمد نے اس میں کلام کیا اور ترمذی نے اس کو ضعیف کہا اور ابن خزیمہ نے کہا کہ اس کی روایت سے حجت نہ پکڑی جائے اور (تقریب التہذیب ج ٢ ص ٧١٠) میں ہے کہ: ”ابو حذيفه غير منسوب شيخ يحيى بن هانى مجهول“

ص ١٢٦، ١٢٧) میں ہے کہ: ”قال ابن شيبة كثير المناكير وقال البخارى فيه نظر وكذبه ابوزرعه...... وعن الكوسج قال اشهد انه كذاب وقال صالح كنا نتهم ابن حميد فى كل شئی يحدثنا ما رايت اجرى على الله منه كان ياخذ احاديث الناس فيقلب بعضه“ یعنی ابن شیبہ نے فرمایا کہ محمد بن حمید کثیر منکر بیان کرنے والا ہے۔ بخاری نے کہا اس میں نظر ہے۔ ابو زرعہ نے اس کو جھوٹا کہا کوسج نے کہا میں شہادت

دیتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ صالح نے کہا کرتے تھے۔ میں نے کسی کو اس سے بڑھ الٹ پلٹ کر دیتا تھا۔ علاوہ ازیں قراۃ شاذہ کو قرأت ہے۔ نہ کہ قرآۃ متواترہ کو قراۃ شاذہ پر محمول کتاب اپنی موت سے پہلے یعنی قوم یہود لائیں گے۔ گو اس وقت بہت قلیل ایمان لائیں گے۔ اوّل زہوق روح کے وقت مذہبی موت سے پہلے سب کے سب ایما حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام مانتے ہو معنی میں مغالطہ کھایا ہے۔

ایک شبہ کا ازالہ

قرآن کریم کی اس آیت ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں نہ یہودیت رہے گی نہ نصرانیت۔ چنانچہ اور عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کفا اس سے تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اللہ کہنے والا نہ رہے گا۔ ان پر صور پھونکا ”لا تقوم الساعة الا ع الزمان)“ ”عن انس قال قال رس الارض الله الله . لا تقوم السا باب ذهاب الايمان اخر الزمان)“ لیکن آیت ”اغرينا ب (مائدہ:١٤) “ یعنی ہم نے یہود میں باہ اور آیت ”والقينا بي (مائدہ:٦٤) “ یعنی ہم نے نصاریٰ میں

صفحہ ٢٥٩

دیتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ صالح نے کہا کہ ہم ابن حمید کو ہر حدیث میں جو بیان کرتا متہم سمجھا کرتے تھے۔ میں نے کسی کو اس سے بڑھ کر دلیر نہیں دیکھا۔ حدیث کو لیتا تھا اور اس کے بعض کو الٹ پلٹ کر دیتا تھا۔

علاوہ ازیں قراۃ شاذہ کو قرأت متواترہ اور احادیث متواترہ کے معنی پر محمول کرنا واجب ہے۔ نہ کہ قرآۃ متواترہ کو قراۃ شاذہ پر لہٰذا اس قراۃ شاذہ کی رو سے یہ معنی ہوں گے کہ سب اہل کتاب اپنی موت سے پہلے یعنی قوم یہود اپنے فنا ہونے سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔ گو اس وقت بہت قلیل ایمان لاتے ہیں یا سب اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔ اوّل زہوق روح کے وقت جو معتبر اور مفید نہیں، نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اپنی مذہبی موت سے پہلے سب کے سب ایمان لائیں گے۔ علامہ نووی باوجود احادیث متواترہ سے حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام مانتے ہوئے صرف اس قراۃ شاذہ ضعیفہ کی وجہ سے اس آیت کے معنی میں مغالطہ کھایا ہے۔

ایک شبہ کا ازالہ

قرآن کریم کی اس آیت سے اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے کہ قریب قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں سوائے اسلام کے سب دین ہلاک کر دئے جائیں گے۔ نہ یہودیت رہے گی نہ نصرانیت۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں۔

اور عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کفر و شرک پھیلے گا یہاں تک کہ ایک قسم کی ٹھنڈی ہوا چلے گی اس سے تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور دنیا میں سب مشرکین اور کافر رہ جائیں گے کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا۔ ان پر صور پھونکا جائے گا اور دنیا کا خاتمہ ہوگا۔

”لا تقوم الساعة الا على شرار الناس (ابن ماجه ص٢٩٢، باب شدة الزمان)“ ”عن انس قال قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتى لا يقال فی الارض الله الله . لا تقوم الساعة على احد يقول الله الله (مسلم ج١ ص٨٤، باب ذهاب الايمان اخر الزمان)“

لیکن آیت ”اغرينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيمة (مائدہ:١٤)“ یعنی ہم نے یہود میں باہمی بغض و عداوت قیامت تک ڈال دی۔

اور آیت ”والقينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيامة (مائدہ:٦٤)“ یعنی ہم نے نصاریٰ میں باہمی بغض و عداوت قیامت تک ڈال دی۔

صفحہ ٢٦٠

اور آیت ”جاعل الذین اتبعوك فوق الذین کفروا الی یوم القیامة (آل عمران:٥٥) ، یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام میں تیرے متبعین کو کافروں پر قیامت تک غالب رکھنے والا ہوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ قیامت تک رہیں گے۔

”قال رسول اللہ ﷺ لن یبرح ھذا الدین قائماً یقاتل علیہ عصابة من المسلمین حتی تقوم الساعة (صحیح مسلم ج٢ ص١٤٣، باب قولہ ﷺ لا تزال طائفة من امتی ظاھرین علی الحق مشکوة ص ٤٢٠، کتاب الجھاد)“

”اخرج مسلم عن جابر قال سمعت النبی ﷺ یقول لا تزال طائفة من امتی یقاتلون علی الحق ظاھرین الی یوم القیامة قال فینزل عیسیٰ علیہ السلام بن مریم (مسلم ج١ ص٨٧، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مشکوة ص ٤٨٠، باب قرب الساعة) “

”وقال معاذ وھم بالشام (بخاری ج١ ص٥١٤) “

”وفی حاشیتہ ان فی مسلم حتی یاتیھم الساعة “ یعنی یہ دین اسلام قیامت تک رہے گا۔ مسلمانوں کی ایک جماعت قیامت تک اسلام پر جہاد کرتی رہے گی۔ پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان بھی قیامت تک رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر قیامت آئے گی۔ الی یوم القیمة سے مراد زمانہ نزول عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام یوم القیامہ کی ایک بڑی علامت ہیں اور ان کا نزول بالکل قیامت کے قریب ہی ہے۔ چنانچہ درمنثور میں بہت آثار لکھے ہیں۔ ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے نعمان بن بشیر سے یہ حدیث روایت کی اور اس کے بعد نعمان بن بشیرؓ نے استشہاداً یہ آیت پڑھی ”جاعل الذین اتبعوك فوق الذین کفروا الی یوم القیٰمة “ اور (کنزالعمال ج١٤ ص٢٥، ٤٧ حدیث نمبر ٣٨٩١، ٣٨٩٦) میں بھی ہے۔ اور ابن عساکر نے معاویہؓ سے اس حدیث کا اخراج کیا اور معاویہؓ نے اس کے بعد اس آیت کو پڑھا۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے کہ: ”ان المراد بقیام الساعة ساعتھم وان المراد بالذین یکونون ببیت المقدس الذین یحصرھم الدجال اذا خرج فینزل عیسیٰ علیھم فیقتل الدجال ویظھر الدین فی زمن عیسیٰ ثم بعد موت عیسیٰ تھب الریح المذکوره “ قیامت سے مراد خاص ان کی قیامت مراد ہے اور وہ لوگ جو بیت المقدس میں ہوں گے ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو

صفحہ ٢٦١

دجال محاصرہ کرے گا جب وہ نکلے گا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام ان پر نازل ہوں گے اور دجال کو قتل فرمائیں گے اور ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ دین کو غالب کرے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد ٹھنڈی ہوا چلے گی۔ جس سے تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے۔ غرض عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں سب یہود و نصاریٰ فنا ہو جائیں گے اور ان پر قیامت آ جائے گی اور عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد مسلمان بھی ہلاک ہو جائیں گے اور ان پر قیامت آ جائے گی۔ پھر قیامت کبریٰ شرارالناس پر قائم ہوگی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یوم القیامہ کے حقیقی معنی تو یہاں متصور ہی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یوم القیامہ کے حقیقی معنی یہ ہیں۔ قبروں سے اٹھنے کا دن اور فنا کے دن کو تو مجازاً قیامت کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس وقت تک جب کہ کوئی بھی دنیا میں موجود نہ ہوگا۔ یہود اور نصاریٰ میں بغض اور عناد اور کافرین پر غلبہ کیسے متصور ہو سکتا ہے؟۔ بہرحال یوم القیامہ کے مجازی معنی لئے جائیں گے۔

فحوائے حدیث ”من مات فقد قامت قیامتہ“ یعنی خاص ان کی قیامت مراد ہے۔ جو صغریٰ قیامت ہے۔ لہٰذا آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے یہود اور نصاریٰ میں ان پر قیامت قائم ہونے تک بغض اور عناد ڈال دیا اور ان پر قیامت قائم ہونے کا زمانہ، زمانہ نزول عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں کو ان پر قیامت قائم ہونے تک کافروں پر غالب رکھے گا اور ان پر قیامت قائم ہونے کا زمانہ ٹھنڈی ہوا چلنے کا زمانہ ہے۔

یا الی یوم القیامۃ سے مراد زمانہ نزول عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام یوم القیامہ کی ایک بڑی علامت ہیں۔ اور ان کا نزول بالکل قیامت کبریٰ کے قریب ہی ہے اور قیامت کی علامات کبریٰ کا یوم القیامہ میں ہی شمار ہے۔ کیونکہ اس وقت صغریٰ قیامتیں شروع ہو جائیں گی۔ یعنی ایک ایک نوع کا فنا ہونا اور ان پر قیامت قائم ہونا۔

تیسری آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

مستقیم (زخرف:٦١)“ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں مذکور ہے۔ چنانچہ ابن عباسؓ اور ابو ہریرہؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں بلکہ یہ تفسیر حکماً مرفوع ہے۔ خود حضور ﷺ نے بیان فرمائی ہے۔ ”وانہ لعلم للساعۃ قال ابن عباس ای خروج عیسیٰ بن مریم علیہما السلام قبل یوم القیامۃ (واخرجہ فتح البیان ج ٨ ص ٣١١، الحکم ج ٢

صفحہ ٢٦٢

”وابن مردويه عنه مرفوعا وعن ابي هريرة نحوه اخرجه ص ٤٤٨)‘‘ عبدبن حميد‘‘

”اخرج الفريابي وسعيد بن منصور ومسدد عبدبن حميد وابن ابی حاتم وطبرانی من طرق عن ابن عباس في قوله وانه لعلم للساعة قال خروج عیسیٰ قبل یوم القیامة (تفسیر درمنثور ج ٦ ص ٢٠) ‘‘

﴿ابن عباسؓ نے کہا کہ انه لعلم للساعة یعنی عیسیٰ بن مریم کا قیامت سے پہلے ظہور فرمانا۔ حاکم اور ابن مردویہ نے ابن عباسؓ سے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے اور اسی طرح ابو ہریرہؓ سے عبد بن حمید نے روایت کی ہے۔﴾

”الصحيح انه عائد على عيسى عليه السلام فان السياق فى ذكره ، ثم المراد بذلك نزوله قبل يوم القيامة كماقال تبارك وتعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه السلام ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا ويؤيد هذا المعنى القراة الاخرى وانه لعلم للساعة اى امارة دليل على وقوع الساعة قال مجاهد وانه لعلم للساعة اى اية للساعة خروج عیسیٰ عليه السلام قبل يوم القيامة وهكذاروى عن ابى هريرة وابن عباس وابى العاليه وابى مالك وعكرمه والحسن وقتادة وضحاك وغيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه خبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة اماماً عادلاً وحكماً مقسطاً (تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ٢١٧)‘‘ ﴿صحیح یہ ہے کہ ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ کیونکہ آیت کا سیاق انہی کے ذکر میں ہے۔ پھر اس سے ان کا قیامت سے پہلے نزول مراد ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ‘‘یعنی سب اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے اور اس معنی کی دوسری قراۃ بھی تائید کرتی ہے۔انه لعلم للساعة یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے وقوع پر دلیل اور علامت ہیں اور مجاہد نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا خروج قیامت کی علامت ہے اور اسی طرح ابو ہریرہؓ و ابن عباسؓ اور ابو العالیہ اور ابو مالک اور عکرمہ اور حسن اور قتادہ اور ضحاک وغیرہم سے مروی ہے اور رسول اللہ ﷺ سے احادیث تواتر کو پہنچ گئیں کہ حضور ﷺ نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ امام عادل اور حاکم عادل ہو کر۔﴾

صفحہ ٢٦٣

(تفسیر معالم التنزیل ج ٤ ص ٥٠، تفسیر کشاف ج ٤ ص ٢٦١، تفسیر مدارک ج ٤ ص ٩٣، تفسیر خازن ج ٦ ص ١١٦، تفسیر روح المعانی ج ٢٥ ص ٨٧، ٨٨، تفسیر کبیر ج ٢٧ ص ٢٢٢، تفسیر ابی السعود ج ٨ ص ٥٢، ٥٣، بیضاوی ج ٢ ص ٢٩٤، جلالین ص ٤٠٧، درمنثور ج ٦ ص ٢٠) ”سب میں اسی طرح ہے۔

اور بعض نے جو ضمیر کو قرآن کریم یا محمد ﷺ کی طرف عائد کیا ہے بالکل غیر صحیح اور خلاف ظاہر ہے۔ کیونکہ ان کا پہلے کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ بلا مرجع ضمیر کیسے عائد کی جاسکتی ہے۔ مرجع کا صریحاً، ضمناً، حکماً مقدم ذکر ضروری ہے۔ جیسا کہ: ”انا انزلناہ فی لیلۃ القدر (قدر:١)“ اس میں ضمیر منزل یعنی قرآن کی طرف راجع ہے۔ جو انزلنا میں منزل ضمناً مذکور ہے اور ”قل ھو اللہ احد (اخلاص:١)“ میں حکماً۔ واضح ہو کہ جب صحابہ کرامؓ نے بلکہ خود حضور ﷺ نے جیسا کہ ان تفسیروں کا حکماً مرفوع ہونا ثابت ہو گیا۔ یہ تفسیر فرما دی ہے تو اب کسی کو حق نہیں ہے کہ صحابہ کرامؓ بلکہ حضور ﷺ کے خلاف کوئی دوسری تفسیر کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کی نشانی اور علامت ہے۔ وہ قیامت سے پہلے ضرور تشریف لائیں گے۔ قیامت کے وقوع میں ہرگز شک مت کرو ضرور واقع ہو کر رہے گی اور فرما دیجئے کہ اتباع میری کرو یہی صراطِ مستقیم ہے۔ اسی پر قائم رہو کیونکہ میرا دین منسوخ نہ ہوگا۔ قیامت تک رہے گا۔ کیونکہ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس امت میں نبی ہونے کی حیثیت سے نہ ہوگا۔

چوتھی آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

٤...... ”اذ کففت بنی اسرائیل عنک (مائدہ: ١١٠)“ ﴿اے عیسیٰ علیہ السلام یاد کر اس واقعہ کو کہ جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روک دیا تھا۔﴾

نوٹ! اس آیت سے خوب ظاہر ہے کہ یہود عیسیٰ علیہ السلام کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔ ایذا رسانی تو کجا۔ جبکہ مسیح علیہ السلام کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا ہو کہ طمانچے مارے گئے کانٹوں کا تاج سر پر رکھا گیا۔ ہاتھوں پاؤں میں میخیں ٹھوک دی گئیں۔ یہود اپنی دانست میں مار کر چھوڑ گئے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو قیامت میں اپنی نعمت و احسان کا ذکر فرمائے گا کہ بنی اسرائیل کو تجھ تک پہنچنے نہیں دیا۔ کیا یہی نعمت ہے کہ سب گت بنوا دئے۔ یہ کیسا کف ہے؟۔ کہ یہود کے ہاتھ پکڑوا کر صلیب پر لٹکا دینے کے بعد تیرے سب کپڑے اتروا دوں گا۔ پر

صفحہ ٢٦٤

تیرا دم نکلنے نہ دوں گا اور تجھے جاں بلب بنا دوں گا۔ مرزا قادیانی کے مدعا کا سارا گورکھ دھندا اسی میں ہے اور اس آیت نے اس گورکھ دھندھے کو پاش پاش کر دیا۔ لفظ کف اور پھر بنی اسرائیل کو مفعول بنانا اور اس کے صلہ میں لفظ عنک لانا اسی لئے ہے اور معنی ہیں کہ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ تک پہنچنے سے روک لیا اور دوسرے کے یہ معنی ہیں کہ میں نے تجھ کو بنی اسرائیل سے بچا لیا۔ اوّل صورت میں ایذا رسانی ممکن ہی نہیں ورنہ اس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تجھ سے بچا لیا اور ان کو تجھ سے روک لیا اور لفظ اعتصام میں بھی یہ بات نہیں ہے۔

(صحيح مسلم ج ٢ ص ١١٦، باب قول الله تعالى وهو الذى كف ايديهم عنكم)

میں انس بن مالک اور سلمہ بن اکوع سے مروی ہے کہ اہل مکہ سے ٨٠ آدمی مسلح جبل التنعیم سے اترے اور نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب پر غفلت میں حملہ کرنا چاہا فاخذهم سلماً ان کو صلح سے بلا قتال پکڑ لیا۔ حضورﷺ نے معاف فرما کر سب کو چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ”وهو الذی كف ایدیهم عنكم وايدیكم عنهم ببطن مكة من بعد ان اظفركم عليهم (فتح:٢٤)“ یعنی اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک لیا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا بطن مکہ میں بعد اس کے کہ میں نے تم کو ان پر فتح مند کیا۔ اس آیت میں گو کف ہے اور ہر ایک دوسرے سے بلا ایذا رسانی بچائے گئے۔ لیکن جو بات کففت بنی اسرائیل عنک میں ہے وہ اس میں بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں بنی اسرائیل کا کف ہے۔ ذات عیسیٰ علیہ السلام سے جس کے یہ معنی ممکن نہیں کہ میں نے بنی اسرائیل کو عیسیٰ سے بچا لیا اور روک لیا۔ فافہم!

پانچویں آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

﴿انہوں نے تجویز خفی کی اور اللہ نے بھی تجویز خفی کی اور اللہ کی تجویز سب پر غالب ہے۔﴾

توضيح!

کے عذاب دے کر قتل کریں اور خدا نے تجویز کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچائے اللہ غالب تجویز والا ہے۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسماً بچائے۔ کیونکہ روح کو تو نہ کوئی پکڑ سکتا ہے اور نہ صلیب دے سکتا ہے۔ یہ سب تجویزیں جسم واسطے ہو

صفحہ ٢٦٥

رہی تھیں۔ کیونکہ جھگڑا جسم کا ہے۔ یہودی جسم کو صلیب کے عذاب دے کر ذلیل کرنا چاہتے تھے اور خدا تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کو صلیب کے عذابوں سے بچانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی تجویز غالب رہی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا اور جس جسم نے قتل ہونا اور صلیب دیا جانا تھا وہی اٹھا لیا گیا۔ یہی اللہ کی تجویز تھی۔

ہیں اور اعادہ نکرہ سے ثانیہ نکرہ غیر اول ہوتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہود کی تجویز اور اللہ کی تجویز مغائر تھی جو جمع نہیں ہوسکتی۔ اگر رفع روحانی مراد لیا جائے تو قتل کے ساتھ جمع ہوتا ہے اور نہ اس کا مغائر ہے تو معلوم ہوا کہ رفع جسمانی ہے۔ جو بالکل قتل کے منافی ہے۔

ہلاکت کئے گئے تو یہ تجویز خفی کیسے ہوگی اور خداوند عالم خیر الماکرین کیسے ہوگا؟۔ مطلب یہ ہوا کہ ”مکروا ای بالقتل“ یعنی انہوں نے طرح طرح کے عذاب دے کر قتل کرنے کی تجویز کی۔ ومکر اللہ ای بالرفع الی السماء یعنی اللہ نے بھی تجویز کی کہ ان کو یہود سے بچا کر آسمان پر رفع کرلیا۔

(تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ٢٨٩، ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩، کبیر ج ٨

ص ٦٩، ٧٠، ابی السعود ج ٢ ص ٤٢، وروح المعانی ج ٣ ص ١٥٧، کشاف، ج ١

ص ٣٦٦، ومدارک التنزیل ج ١ ص ١٢٤، وبیضاوی ج ١ ص ١٤٠، جلالین ص ٥٠)

وغیرہ سب میں یہی مطلب مذکور ہے۔

چھٹی آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمة (آل عمران: ٥٥) ”جب کہ کہا اللہ نے اے عیسیٰ تحقیق میں تم کو پورا پورا اپنے قبضہ میں یعنی یہود سے بچا کر اپنی حفاظت میں رکھنے والا ہوں اور تم کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تم کو ان کافروں سے پاک کردینے والا ہوں اور تیرے متبعین کو کافروں پر فوق کرنے والا ہوں۔ قیامت کے روز تک۔﴿

صفحہ ٢٦٦

توضیح!

توفی کا مادہ وفا ہے اور وفا کے معنی پورا دینا اور پورا کرنا ہے اور توفی باب تفعل سے جس کے معنی پورا بہ تمامہ لینے کے ہیں اور توفی المیت کا لفظ عربی میں ایسا ہے جیسا کہ اردو میں وصال اور انتقال کے معنی کنایۃً موت کے لئے جاتے ہیں۔ حالانکہ اصلی حقیقی معنی موت کے نہیں۔ چنانچہ (اساس البلاغت ج ٢ ص ٣٤٠) میں علامہ زمخشری نے جن کی بابت مرزا قادیانی (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٠٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٨٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ زبان عرب کا ایک بے مثل امام جس کے مقابل پر کسی کو چون و چرا کی گنجائش نہیں ۔“ یعنی علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ: ”واوفاه واستوفاه وتوفاه استكمله ومن المجاز توفى وتوفاه الله ادركته الوفات “ یعنی پورا پورا لینے کے ہیں اور مجاز سے ہے۔ توفی یعنی مرگیا۔ اس کو موت نے پالیا اور توفاہ اللہ یعنی اللہ نے اس کو موت دی۔

”واوفاه فاستوفاه وتوفاه اى لم يدع منه شيئا فهم مطاوعان لا وفاه ووفاه وافاه ومن المجاز ادركته الوفاة اى الموت والمنية (تاج العروس شرح قاموس ج ٢٠ ص ٣٠١) “ یعنی استوفا اور توفاہ کے معنی کسی چیز کو پورا پورا لینا کہ کوئی چیز اس سے چھوٹنے اور رہنے نہ پائے اور موت کے معنی مجازی ہیں۔

”(التوفی) الاماتة وقبض الروح وعليه استعمال العامة او لاستيفاء وأخذ الحق وعليه استعمال البلغاء (كليات ابی البقاء ص ١٢٩) “ یعنی توفی کے معنی موت دینا اور قبض روح کے ہیں اور اس پر عام لوگوں کا استعمال ہے۔ یا پورا پورا لینے اور اخذ حق کے ہیں اور اس پر بلغاء کا استعمال ہے۔

”التوفے وهو جنس تحته انواع بعضها بالموت وبعضها بالاصعاد الى السماء (تفسير كبير ج ٨ ص ٧٢) “ یعنی توفی جنس ہے۔ اس کے نیچے کئی انواع ہیں۔ بعض کی توفی موت کے ساتھ ہوتی ہے اور بعض کی توفی آسمان پر اٹھا لینے کے ساتھ ہوتی ہے۔

”قل يتوفاكم ملك الموت يستوفى نفوسكم لا يترك منها شيئا من اجزائها ولا يترك شيئا من جزئياتها ولا يبقى احد منكم واصل التوفى اخذ الشئ بہ تمامہ (روح المعانی ج ٢١ ص ١١٢) “ یعنی یتوفاکم ملک الموت کے یہ معنی ہیں کہ

صفحہ ٢٦٧

ملک الموت تمہارے نفوس کو پورا پورا لے گا۔ اس کے اجزاء میں سے کوئی جز اور جزئیات میں سے کوئی جزئی نہیں چھوڑے گا۔ اور تم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا اور اصل توفی کے معنی کسی شے کو پورا بتمامہ لینا ہے۔

نوٹ! معلوم ہوا کہ لغت عرب میں توفی کے معنی حقیقی پورا پورا بتمامہ کسی شے کو لینے کے ہیں۔ خواہ جسم ہو خواہ روح ہو خواہ کوئی اور شے ہو۔ چنانچہ عرب کا محاورہ مشہور ہے۔ توفیت المال، (لسان العرب ج ١٥ ص ٣٥٩ اور منجد ص ٧٢١، شرح قاموس) میں ہے۔ انت بوفاء اى فى طول العمر اور توفی کا لفظ موت کے معنی میں حقیقی نہیں۔ بلکہ کنایۃً اس کی ایک نوع میں استعمال ہوتا ہے اور بلغاء کا استعمال اسی معنی میں ہے کہ کسی چیز کو پورا پورا بتمامہ لینا لم یدع منہ شئی کہ کوئی چیز اس سے رہنے اور چھوٹنے نہ پائے اور امام فخر الدین رازیؒ نے فرمایا ہے کہ بعض کی توفی آسمان پر اٹھا لینے کے ساتھ ہوتی ہے۔

”عن مطر الوراق فى قول الله انى متوفيك قال متوفيك من الدنيا وليس بوفات موت (تفسير ابن جرير ج٣ ص٢٩٠ اور ابن كثير ج٢ ص٣٩) “ یعنی مطر الوراق سے ہے کہ متوفیک کے معنی وفات موت کے نہیں بلکہ زمین سے اٹھا لینے کے ہیں۔

”عن كعب الاحبار انى متوفيك ورافعك الىٰ وليس من رفعته عندي ميتاً وانى سابعثك على الاعور الدجال فتقتله (تفسير ابن جرير ج٣ ص٢٩٠) “ یعنی کعب الاحبار سے ہے کہ مار کر اٹھانا مراد نہیں بلکہ میں اعور دجال پر تم کو بھیجوں گا اور تو اس کو قتل کرے گا۔

”قال ابن زيد لم يمت بعد حتى يقتل الدجال وسيموت. (ابن جرير ج٣ ص٢٩٠) “ یعنی ابن زید نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی مرے نہیں یہاں تک کہ دجال کو قتل فرمائیں گے اور پھر مریں گے۔

”عن الحسن والله انه لحی الان عند الله ولاكن اذ انزل امنوا به اجمعون (ابن كثير ج٢ ص٤٠١) “ یعنی حسن سے مروی ہے کہ اللہ کی قسم تحقیق عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ ہیں۔ لیکن جب نازل ہوں گے تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے۔ پس مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ توفی کے معنی حقیقی موت کے ہیں، ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی نے دیکھا کہ کسی انسان کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا آسمان پر اٹھائے جانے کا

صفحہ ٢٦٨

قطعی ثبوت اور توفی کا اس صورت میں استعمال تو مل نہیں سکتا۔ لہٰذا یہ قاعدہ اختراع کیا کہ توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور ذی روح مفعول ہو تو وہاں موت کے ہی معنی ہوں گے۔ ایسی صورت میں اس کے سوا اور کوئی معنی نہیں۔ (ازالۃ اوہام ص ٣٣٢، ٣٣٤، ٣٤٦، ٨٨٥، ٨٨٦، خزائن ج ٣ ص ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧١، ٥٨٣، ضمیمہ براہین پنجم ص ٢٠٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٩) میں مرزا نے لکھا۔

”اور قرآن کریم میں اوّل سے آخر تک توفی کے معنی روح کو قبض کرنے اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے ہیں۔“ مرزا قادیانی سے کوئی پوچھے کہ صاحب آپ نے یہ قاعدہ لغات کی کس کتاب میں لکھا دیکھا ہے۔ اگر صرف یہ قاعدہ آپ ہی کا اختراع ہے تو ہماری طرف سے بھی یہ ایک قاعدہ سن لیجئے کہ اگر فعل توفی رفع کے ساتھ مستعمل ہو اور فاعل دونوں کا اللہ اور مفعول جسم ذی روح ذات واحد ہو تو وہاں صرف اخذ جسم مع رفع جسم ہی کے معنی ہوں گے۔ حالانکہ تمہارا یہ قاعدہ مخترعہ بھی غلط ہے۔ خود قرآن کریم میں موجود ہے کہ : ”وہو الذی یتوفاکم باللیل (انعام:٦٠)“ اللہ فاعل ذی روح مفعول فعل توفی اور معنی نیند کے ہیں۔ اور باب تفعیل سے تو بہت جگہ قرآن میں پورا لینے کے معنی میں آیا ہے۔

عمران:١٦١)“

(النحل:١١١)“

عمران:٢٥)“

واللہ لا یحب الظلمین (آل عمران:٥٧)“ غرض قرآن میں کسی جگہ بھی توفی کے معنی موت کے حقیقتاً نہیں۔ لفظ اپنے مادہ سے الگ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ سب جگہ مادہ کا مفہوم ماخوذ ہے۔ چونکہ توفی وفا سے ہے۔ لہٰذا ہر جگہ پورا لینے کا مفہوم ہوگا۔ کہیں روح کا پورا لینا جو کنایہ ہے۔ موت سے اور اگر مع الارسال ہو تو نیند مراد ہے اور کہیں جسم و روح وغیرہ کا پورا لینا مراد ہے اور خود مرزا قادیانی بھی قبل دعویٰ کے موت کے معنی نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ (براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠) میں اسی آیت کا ترجمہ لکھتے ہیں کہ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔

صفحہ ٢٦٩

قرآن کریم سے ثبوت کہ توفی کے حقیقی معنی موت کے نہیں

کہیں مقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ توفی کو مادمت فیہم وغیرہ کے مقابلہ میں رکھا ہے۔ معلوم ہوا توفی کے معنی موت کے نہیں۔

عمران:٢٧)“

(بقرہ:١٥٤)“

اور توفی کو مادمت فیھم کے مقابلہ میں رکھا ہے۔ ”وکنت علیھم شھیدا مادمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (مائدہ:١١٧)“

ان میں موجود ہونے کے مقابلہ میں ان میں موجود نہ ہونا ہے اور یہی توفی کے معنی ہیں۔

صفحہ ٢٧٠

غیر اللہ کی طرف ہرگز نہیں کی اور توفی کی اسناد ملائکہ کی طرف بھی اکثر ہوتی ہے۔ ”حتی اذا جاء احدکم الموت توفته رسلنا (انعام:٦١)“ معلوم ہوا کہ توفی اور اماتت غیر غیر ہیں۔

نفسوں کا استیفاء کرتا ہے۔ یعنی استیفاء نفس کے معنی ہیں اور نہیں صحیح ہے کہ اس کے معنی یمیتھا ہو۔ اس لئے کہ نفس کو موت نہیں۔

کے معنی یمیتھن الموت کے کس قدر رکیک ہیں۔ کلام اللہ اور یہ رکاکت؟۔

فيمسك الله التى قضى عليه الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمیٰ (زمر:٤٢)“ ﴿اللہ تعالیٰ نفسوں کو لے لیتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان نفسوں کو جو نہیں مرے۔ ان کو نیند میں لے لیتا ہے۔ پس وہ نفس کو جس پر موت وارد ہوئی روک لیتا ہے اور دوسرے کو مدت مقرر تک چھوڑ دیتا ہے۔ پہلے جملہ میں توفی نفس کو حین موتھا کے ساتھ مقید کیا ہے۔ معلوم ہوا توفی عین موت نہیں اور توفی کو منقسم کیا ہے۔ موت اور منام کی طرف پس نصاً معلوم ہوا کہ توفی موت کے مغائر ہے۔ يجامعه ويفارقه ! اور توفی کی صورت منام کو لم تمت کے ساتھ بیان کیا ہے معلوم ہوا کہ توفی کا اطلاق منام پر موت کے قائم مقام کرنے کے اعتبار سے نہیں۔ بلکہ حقیقتاً توفی کی انواع میں سے ایک نوع ہے اور توفی بالموت بھی مجموعہ بدن اور روح پر واقع ہوتی ہے۔ کیونکہ بدن تحت التراب مدفون اور غائب ہو جاتا ہے۔ لیکن لغویین نے بوجہ عدم خفا و وضوح مراد کے روح پر اقتصار کیا۔ ورنہ کسی نے روح کے ساتھ بدن کی نفی نہیں کی۔﴾

حضرت علیؓ کی قرأۃ بصیغہ معروف کے ساتھ یعنی تم میں سے وہ لوگ جو اپنی عمر پوری پوری کر لیتے ہیں اور اپنے بعد بیویوں کو چھوڑتے ہیں۔

دیکھو اس میں اماتت کے معنی ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ صیغہ معروف ہے۔ بلکہ استیفاء عمر کے معنی میں متعین ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ توفی کبھی اپنے معنی موضوع لہ میں مقصوداً مستعمل ہوتا ہے اور کبھی اپنی موضوع لہ میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن موت کے معنی کنایۃً مراد ہوتے ہیں۔ جب مرزا قادیانی نے دیکھا کہ موت دینے کے معنی اس آیت میں کچھ صحیح نہیں معلوم ہوتے۔

صفحہ ٢٧١

کیونکہ متوفی کا لفظ جو مرنے کے قریب ہو اس پر بولا جاتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کو کشمیر میں ٨٧ برس کے قریب زندہ رکھنا منظور ہے تو (ازالہ اوہام ص ٤٩٣، خزائن ج ٣ ص ٣٠٣، ضمیمہ براہین پنجم ص ٢٠٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٧) پر اقرار کیا کہ یہ آیت وعدہ وفات ہے۔ یعنی دلیل و خبر وفات نہیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب یہود نے گھیر لیا تھا اور بدرگاہ رب العزت یہود نامسعود کے عذابوں سے بچنے کی دعا کی تو خدا تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت بطور تسلی اور اطمینان دہی کے نازل فرمائی تھی۔ پس مرزا قادیانی کے معنی کی رو سے لفظ متوفیک ( میں تم کو موت دینے والا ہوں ) سے تسلی دینا بھی ایسے وقت میں جو اپنے سامنے موت کے سامان دیکھ رہا ہو اور وہ بھی اس طرح پر کہ خوب گت کروا کر جان بلب بنا کر سولی پر چار میخ کرا کر اس وقت مرنے نہ دوں گا۔ بلکہ ٨٧ برس کے بعد خود موت دوں گا۔ عجیب بلاغت ہے۔ ایسے موقعہ دل دہی اور اطمینان پر ایسے لفظ کا استعمال دنیا کی کسی زبان میں بھی مستعمل نہیں ہے۔ سننے سے کان بھی نفرت کرتے ہیں۔

نہیں بلکہ یہود ہیں یا یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ مجھ پر موت وارد نہ ہوگی اور ”کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران:١٨٥)“ پر ایمان نہ رہا تھا۔ جس کا خدا کو متوفیک سے جواب دینا پڑا اور ان کے خیال کو توڑنا پڑا کہ میں تم کو موت دینے والا ہوں۔

ایمان تھا۔ تو پھر بقول مرزا قادیانی لعنتی موت کا خیال ہی کیوں آسکتا۔ یا کیا عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی مخالفت دیکھ کر اپنے نبی ہونے میں شک ہو گیا تھا یا سلب ایمان کا ڈر۔ معاذ اللہ! حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی پیدائش کے وقت ہی معلوم ہو گیا تھا کہ میں لعنتی موت سے ہرگز نہ مروں گا۔ بلکہ سلامتی کی موت سے مروں گا۔ ”وسلام علیّ یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم:٣٣)“

احمدیہ پنجم ص ٢٠٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”معلوم رہے کہ زبان عرب میں لفظ توفی صرف موت دینے کو نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ طبعی موت دینے کو کہتے ہیں۔“

اس بناء پر لکھا ہے کہ: ”توفی المیت استیفاء مدته التي وفيت وعدد ايامه وشهوره واعوامه في الدنيا (لسان العرب ج ١٥ ص ٣٥٩، تاج العروس ج ٢٠

صفحہ ٢٧٢

ص ٣٠١) ” یعنی مرنے والے کی توفی سے یہ مراد ہے کہ اس کی مدت مقررہ اور دن اور مہینے اور سال سب کا پورا پورا ہونا۔ دیکھئے اس میں صاف معنی حقیقی مراد لئے گئے کہ استیفاء مدت پھر یہ ایام مقررہ خواہ قرب قیامت تک پورے ہوں خواہ صلیب پر پورے ہو جائیں۔ کیونکہ شریعت میں طبعی موت کی کوئی خاص مدت مقرر نہیں ہے اور چونکہ یہ توفی المیت یعنی مرنے والے کی توفی کے معنی بتلائے جاتے ہیں۔ یعنی نوع ثانی توفی بالموت کے لہٰذا اس موقعہ تسلی عیسیٰ علیہ السلام کے جب کہ وہ بقید حیات محصور یہود تھے۔ بغیر کنایہ کے مقصوداً حقیقی طور پر موت کے معنی لینا کچھ بھی مناسب نہیں۔ ہاں استیفاء ایام عمر کی طرف کنایہ ہو سکتا ہے۔ ورنہ کیا عیسیٰ علیہ السلام یہ خیال کر بیٹھے تھے کہ مدت مقررہ سے پہلے یہود مجھ کو مار ڈالیں گے اور ”اذا جاء اجلهم لا یستاخرون ساعة و لا یستقدمون (اعراف:٣٤)“ پر ایمان نہ رہا تھا؟۔ اور پھر اس طبعی موت کو مکر و تدبیر یہود سے نجات دینے میں کیا دخل وہ تو اجل مقررہ ہے۔ ان کے مکر کے رد کرنے میں موت کچھ محل فائدہ نہیں ہے اور نیز اگر تطہیر سے مراد کفار سے علیحدگی اور تخلیص ہے تو یہ توفی اور یا رفع روح یا رفع درجہ سے مقدم ہے اور اگر تہمت یہود سے تطہیر مراد ہے جو بقول مرزا قادیانی قرآن کی آیات سے ہوئی تو یہ ”جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا“ سے مؤخر ہے۔ جو بقول مرزا قادیانی ”حضرت مسیح کے بعد اسلام کے ظہور تک بخوبی پوری ہو گئی۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٤٥، خزائن ج ٣ ص ٣٣٠)

بہر حال ترتیب الٹ گئی جو بقول مرزا قادیانی یہودیانہ تحریف ہے اور پھر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں ٨٧ برس کے قریب کفرستان میں زندہ رہے۔

(ضمیمہ براہین پنجم ص ٢٢٥، خزائن ج ٢١ ص ٤٠١)

تو یہ ”مطهرك من الذین کفروا“ کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ کافروں کی تہمتوں سے پاک کرنے والا ہوں۔ یہ معنی اور مطلب بالکل غلط ہیں۔ اوّل تو تہمتوں کا لفظ اپنی طرف سے لگادیا۔ قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔ دوسرے کافر تو صلیب دینا چاہتے تھے اور طرح طرح کے عذاب سے قتل کرنا چاہتے تھے۔ تہمتوں کا کہاں ذکر ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ”یعیسی انی متوفیک ثم رافعک الی ثم مطهرک“ ثم سے فرماتے تو وعدوں میں تراخی مطلوب ہوتی۔ مگر باوجود اس کے واو سے فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدے ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں پورے کرنے کا ارادہ تھا۔ جو پورے کئے گئے۔ پس مرزا قادیانی نے جو اپنے دعوے کے دھن میں خود

صفحہ ٢٧٣

معترض نے اس آیت کے معنے اور اس کا مطلب بیان کیا ہے بالکل غلط ہے۔ صحیح معنی یہ ہیں کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تم کو پورا پورا اپنے قبضہ میں یعنی یہود سے بچا کر اپنی حفاظت میں رکھنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور کفار سے تم کو پاک کر دینے والا ہوں اور تیرے متبعین کو کفار پر فوق کرنے والا ہوں۔ قیامت کے روز تک ”ومعناہ اني عاصمک من ان یقتلک الکفار ومؤخرک الی اجل کتبتہ لک (کشاف ج ١ ص ٣٦٦)“ دیکھئے کس قدر صاف اور صریح معنی ہیں اور موقعہ کے بھی مناسب ہیں۔ ایک اور بلاغت دیکھئے کہ لفظ متوفیک اختیار کیا گیا اور حافظک یا عاصمک اختیار نہ کیا گیا۔ تا کہ رداً للیہود ایہاماً وکنایۃً معلوم ہو جائے کہ حفاظت الٰہی کی انتہا پوری عمر اور موت مقرر تک ہے۔ جس کی مدت بہت طویل ہے۔ ”اتت بوفاء ای فی طول العمر (منجد)“ یہ لفظ ان دونوں سے زیادہ ابلغ اور افصح ہو گیا۔ دوسرے اس لفظ سے ایہاماً وکنایۃً معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آخر موت آئے گی اور ان کی عمر کا پیالہ بھی لبریز اور پورا ہوگا۔ تا کہ رداً للنصاری الوہیت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ابطال ہو جائے کہ جو فانی و ہالک ہو وہ کیسے خدا بن سکتا ہے۔ غرض اس لفظ کے یہاں پر حقیقی طور پر موت دینے کے مقصوداً معنی مراد لینا بالکل غلط ہیں۔ بلکہ اپنے موضوع لہ اور حقیقی معنی میں مقصوداً مستعمل ہے اور استیفاء ایام عمر کی طرف کنایہ ہی مقصود ہو سکتا ہے؟۔ جیسا کہ تبت یدا ابی لہب میں معنی تو ایک خاص شخص کے علم کے ہی مقصود اور مراد ہیں۔ لیکن ترکیب اضافی سے جو دوسرے معنی ہیں جہنمی ہونے کی طرف کنایہ بھی مقصود ہے۔

نوٹ ! متبعین حقیقی اب مسلمان ہی ہیں۔ کیونکہ یہ صفت حضورﷺ کی بعثت سے امت محمدی میں منتقل ہو آئی۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ یہود نے مکر کیا تھا کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑیں اور طرح طرح کے عذاب دے کر ان کو قتل کریں اور پھر خوب بے حرمت اور رسوا اور ذلیل کریں اور اس ذریعہ سے ان کے دین کو فنا کردیں کہ کوئی متبع اور نام لیوا بھی نہ رہے اور انہی چاروں چیزوں کا اندیشہ طبعاً عیسیٰ علیہ السلام کو بھی لاحق ہوا تھا۔ جن سے بچنے کے لئے دعا کی اور ان کی ہر تجویز کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی تجویزیں ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے وحی فرما کر عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دی اور ان کی دعا قبول فرما کر ان کو اطمینان دلایا۔ ”انی متوفیک ورافعک الی“ یعنی ان کے پکڑنے کے مقابلہ میں انی متوفیک یعنی میں خود ان کو بہ تمامہ بھر پور لینے والا ہوں اور میری حفاظت میں

صفحہ ٢٧٤

ہیں اور ارادہ ایذاء قتل کے مقابلہ میں رافعك الی یعنی رفع الی السماء میں آسمان پر اٹھالوں گا اور رسواء تشہیر و بے حرمت کرنے کے مقابلہ میں ”مطهرك من الذين كفروا“ یعنی میں تم کو ان یہود نامسعود سے ہی پاک کردوں گا۔ رسوائی بے حرمتی کجا اور اعدام امت اور اعدام دین کے مقابلہ میں ”جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا “ یعنی تیرے رفع کے بعد تیرے متبعین کو ان کفار پر فوق کردوں گا۔

بالفرض اگر توفی بالموت ہی کے معنی تسلیم کر لئے جائیں تو علماء امت تقدیم و تاخیر کے قائل ہوئے ہیں۔ کیونکہ کسی وجہ سے از روئے بلاغت قرآن میں لفظاً تقدیم و تاخیر بہت ہے اور حضرت ابن عباسؓ اور آئمہ تفسیر اس کو جائز مانتے ہیں۔

”اخرج ابن عساكر واسحاق بن بشر عن ابن عباس قال قوله تعالىٰ يعيسى انى متوفيك ورافعك الى قال انى رافعك ثم متوفيك فى آخر الزمان (تفسیر درمنثور ج ٢ ص ٣٦) “ یعنی ابن عساکر اور اسحاق بن بشر نے بروایت صحیح ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ میں آپ کو اٹھا لینے والا ہوں اپنی طرف۔ پھر آخر زمانہ میں بعد نزول آپ کو موت دینے والا ہوں۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر پر بڑا زور ہے کہ متوفیک کی تفسیر ممیتک فرمائی ہے۔ حالانکہ یہ تفسیر کسی طرح ہمارے مدعا کے خلاف نہیں اور ان کے لئے کچھ بھی حجت نہیں۔ اول تو معلوم ہوگیا کہ ابن عباسؓ تقدیم و تاخیر اس آیت میں مانتے ہیں اور آئمہ تفسیر بھی اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ ﴿ (معالم التنزيل ج ١ ص ١٦٢، ابن كثير ج ٢ ص ٣٩، تفسير كبير ج ٨ ص ٧١، وخازن ج ١ ص ٢٥٦، ابو السعود ج ٢ ص ٢٨٦، کشاف ج ١ ص ٣٦٦، فتح البيان ج ٢ ص ٤٩، مجمع البحار ج ٣ ص ٤٥٤ ) وغیرہ دیکھو۔

قرآن میں تقدیم و تاخیر

”واسجدى واركعى مع الراكعين (آل عمران: ٤٣)“ حالانکہ رکوع سجود پر بالا جماع مقدم ہے۔ ایک جگہ قرآن میں ہے کہ: ”ادخلو الباب سجداً وقولوا حطة (بقره: ٥٨)“ دوسری جگہ ہے کہ: ”قولوا حطة وادخلوا الباب سجدا (اعراف: ١٦١)“ اگر واؤ میں ترتیب ہو تو ان دونوں میں تعارض لازم آتا۔ ”واوحينا الى ابراهيم

صفحہ ٢٧٥

واسماعيل واسحاق ويعقوب والاسباط وعيسى وايوب ويونس وهارون وسلیمان (نساء:١٦٣) ”حالانکہ حضرت ایوب، حضرت یونس، حضرت ہارون، حضرت سلیمان علیہم السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مقدم ہیں ۔“قال تعالیٰ ما هی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیی (الجاشیه:٢٤) ”حالانکہ حیاة موت پر مقدم ہے۔“قولہ تعالیٰ حتى تستانسوا وتسلموا ”حالانکہ شرعاً سلام مقدم ہوتا ہے۔ استیذان پر اور ”ان الصفا والمروة من شعائر الله “ جب نازل ہوئی تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ پہلے صفا کا طواف کریں یا مروہ کا تو حضورﷺ نے فرمایا صفا سے اگر واؤ ترتیب کے لئے موضوع ہوتا تو اس سوال کی کوئی حاجت نہ تھی اور جمیع نحاۃ کا اتفاق ہے کہ واو ترتیب کے لئے نہیں ہے۔ مطلق جمع کے لئے ہے۔ ہاں از روئے بلاغت حسب موقع مناسب ترتیب ہونا چاہئے سو وہ یہاں ہے۔ یعنی یہاں پر رد للنصارى رداً لليهود متوفیک کو مقدم لانا مہتم بالشان ہے اور الی یوم القیامۃ کو چاروں وعدوں کے ساتھ تعلق ہے۔ یعنی یہ چاروں وعدے قیامت تک پورے ہوں گے اور مرزا قادیانی کے معنی میں لاعلاج تقدیم و تاخیر ہے۔ لہٰذا خود یہودیانہ تحریف کرتے ہیں۔

دوسرے یہ اثر ابن عباسؓ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ ابن عباسؓ کے نزدیک بھی متوفی کے حقیقی معنی ہی مراد ہیں۔ صرف مقصوداً استیفاء مدت عمر کی طرف کنایہ ہونا ظاہر فرما رہے ہیں۔ نہ حقیقتاً معنی موت کے مراد لیتے ہیں اور لفظ ممیتک کے ساتھ جو تفسیر ابن عباس علی بن طلحہؓ سے مروی ہے۔ دیکھو (سند تفسیر ابن جریج ج ٣ ص ٢٩٠) میں بالکل غیر صحیح ہے۔ کیونکہ اس کا ضعیف منکر غیر محمود المذہب ہونا اور حضرت ابن عباسؓ کو اس نے دیکھا بھی نہیں میں پہلے لکھ چکا اور ان کا صحیح مذہب تین آیات کی تحت میں معلوم ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان پر اٹھائے گئے اور قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔

علاوہ اس کے مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٦٤٠، خزائن ج ٣ ص ٤٤٥) میں لکھتے ہیں کہ: ”مات کے معنی لغت میں نام کے بھی ہیں ۔“پس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ میں آپ کو سلا دینے والا ہوں۔ پھر اپنی طرف اٹھالینے والا ہوں۔ (تفسیر خازن) وغیرہ میں اور (تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ٢٨٩) میں آثار صحیحہ کثیرہ سے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نیند کی حالت میں اٹھالیا۔ ”متوفيك اى منيمك “ تا کہ آپ کو خوف لاحق نہ ہو۔ پس مرزا قادیانی کے بیان کے رو سے بھی اس آیت سے نیز تفسیر منکرہ ابن عباسؓ سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت

صفحہ ٢٧٦

نہیں ہو سکتی اور قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں توفی کے معنی سلا دینا ہی ہے۔ ”هو الذى يتوفكم بالليل (انعام: ٦٠)“ اب مرزا قادیانی کے پاس کیا حجت رہی۔

ساتویں آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

٧........ ”واذقال الله يـعيسى بن مريم ء انت قلت للناس وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئی شهید (المائده: ١١٧،١١٦)“ ”یعنی جب قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی امت کے شرک کے بارے میں سوال ہوگا تو یہ ارشاد فرمائیں گے کہ جب تک میں ان میں موجود رہا اس وقت تک تو میں نگہبان رہا اور جب تو نے مجھے بہ تمامہ بھر پورا لے لیا۔ یعنی ان سے علیحدہ کر کے اپنی حفاظت میں آسمان پر اٹھا لیا تھا۔ اس وقت آپ نگہبان تھے۔﴾

”فلما توفيتنى المرادبه وفاة الرفع الى السماء من قوله انى متوفيك ورافعك الى (تفسیر كبير ج١٢ ص١٣٥)“

”فلما توفيتنى بالرفع الى السماء كما في قوله تعالى انى متوفيك ورافعك فان التوفى اخذالشئ وافيا والموت نوع منه (تفسير ابى السعود ج٣ ص١٠١)“

”فلما توفيتني يعنى فلما رفعتنى فالمرادبه وفاة الرفع لا وفاة الموت (تفسیر خازن ج١ ص٥٤٢)“

”فلما توفيتني بالرفع الى السماء والتوفى اخذ الشيئى وافياً (جامع البيان برحاشيه جلالین ص١١١)“

”فلما توفيتنى اى قبضتنى بالرفع الى السماء كما يقال توفيت المال اذا قبضته (تفسیر روح المعانی ج٧ ص٦٠)“

”انما المعنى فلمار فعتنى الى السماء واخذتنى وافيا بالرفع (تفسير فتح البيان ج٣ ص١٣٣)“

اور (تفسير معالم التنزيل ج١ ص٣٠٨، تفسير مدارك ج١ ص٢٤٢، تفسير بيضاوی ج١ ص٢٥٣، تفسير درمنثور ج٢ ص٣٤٩) میں بھی اسی طرح ہے۔ سب کا مطلب یہ ہے کہ توفی کے معنی بہ تمامہ بھر پور لینے کے ہیں اور توفيت المال عرب کا محاورہ

صفحہ ٢٧٧

مشہور ہے اور فلما توفیتنی کے معنی یہ ہیں کہ جب تو نے مجھے آسمان پر اٹھا کر بہ تمامہ بھر پور لے لیا تھا جیسا کہ انی متوفیک ورافعک الی سے ثابت ہو چکا اور توفی مادمت فیھم کے مقابلہ میں ہے۔ یعنی موجودگی کے مقابلہ میں عدم موجودگی کے معنی میں ہے۔ اسی لئے مادمت حیاً نہیں فرمایا۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی امت میں موجود نہ ہونے کی دونوں صورتوں کو شامل ہے۔ یعنی بعد رفع کے بھی اور بعد موت کے بھی یعنی میری عدم موجودگی میں تو ہی نگہبان تھا اور اسی طرح مادمت فیھم یعنی ان کا موجود ہونا قبل رفع اور بعد نزول دونوں کو شامل ہے۔

مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٦٠٢، خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) میں لکھتے ہیں کہ: ”اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے۔ جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ہے۔ یعنی فلما توفیتنی وہ بھی صیغہ ماضی ہے۔“

اس سے پہلے لکھتے ہیں کہ: ”تعجب ہے کہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔“

ناظرین! اس آیت میں مرزا قادیانی کس قدر شد و مد کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ قصہ ماضی ہے اور علماء کو شرم دلاتے ہیں۔ لیکن خود ہی اسی آیت کی نسبت بڑے شد و مد کے ساتھ یہ دعویٰ کر دیا کہ مضارع کے معنی میں ہے اور قیامت کا واقعہ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی اس وحی پر اعتراض ہوا۔ ”عفت الدیار محلھا ومقامھا“ (ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ٤، خزائن ج ٢١ ص ١٥٦) یہ مصرع لبید کا ہے اس نے گذشتہ زمانہ کی خبر دی ہے کہ خاص خاص مقام ویران ہوگئے۔

اس کا جواب (ضمیمہ براہین پنجم ص ٦، خزائن ج ٢١ ص ١٥٩، ١٦٠) میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جس شخص نے کافیہ یا ہدایۃ النحو بھی پڑھی ہوگی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنی پر بھی آجاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں۔ تا کہ اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”ونفخ فی الصور ، واذ قال اللہ یعیسیٰ بن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ ، ولو تری اذ وقفوا علی ربھم“ وغیرہ اب معترض صاحب فرمائیں کہ کیا قرآنی آیات ماضی کے صیغہ ہیں۔ یا مضارع

صفحہ ٢٧٨

کے اور اگر ماضی کے صیغہ ہیں تو ان کے معنی اس جگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے جھوٹ بولنے کی سزا تو اس قدر کافی ہے کہ آپ کا حملہ صرف میرے پر نہیں بلکہ یہ تو قرآن کریم پر بھی ہو گیا۔ گویا صرف ونحو آپ کو معلوم ہے۔ خدا کو معلوم نہیں اسی وجہ سے خدا نے جا بجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا۔‘‘

اور (حقیقت الوحی ص ٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٣٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”قرآن کریم کی انہیں آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال (أنت قلت للناس) حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ہوگا۔“

اس کا قرینہ کہ یہ قیامت کا واقعہ ہے۔ اوّل ”یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم (مائده:١٠٩)“ شروع رکوع ہے۔

دوسرا ”هٰذا یوم ینفع الصادقین صدقہم (مائده:١١٩)“ اسی آیت میں ہے اور خود حضور ﷺ نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے۔ ”روى ابن عساکر عن ابی موسیٰ الاشعری قال قال رسول اللہ ﷺ اذا كان یوم القیامة دعى الانبیاء واممہم ثم یدعی بعیسى فیذکرہ اللہ نعمة علیک فیقرأ بہا فیقول یعیسى ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتك الایة ثم یقول وأنت قلت للناس اتخذونی وامی الهین من دون اللہ فینکر ذلک (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٢٠٩، کنز العمال ج ٢ ص ٢٠ حدیث نمبر ٢٩٧٩)“ ابن عساکر نے ابی موسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جب قیامت کا دن ہوگا۔ تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی امت کو پکارا جائے گا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کو پکارا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو یاد دلائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام اقرار فرمائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا ءانت قلت للناس یعنی کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھ کو اور میری ماں کو معبود بناؤ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انکار فرمائیں گے کہ میں نے ہر گز ایسا نہیں کہا۔

لیکن مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ میں نے اردو خوانوں کے لئے اسی آیت کو جال بنا کر پھیلا یا تھا اور اب اس کو قیامت کا واقعہ کہہ دیا تو دوسرے طریقہ سے استدلال بنایا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے...... تو وہ قیامت کو خدا تعالیٰ کے حضور میں کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ جب تو نے مجھے وفات دی تو

صفحہ ٢٧٩

اس کے بعد مجھے کیا علم ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ١٨، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠ ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ١١٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٢)

یعنی جب قیامت سے پہلے زمین پر آ کر اپنی امت کی ضلالت اور تثلیث پرستی پر واقف ہو جائیں گے تو پھر قیامت کے دن اپنی لاعلمی کہ مجھے کچھ علم نہیں کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ۔ کیا جھوٹ بولیں گے؟ ۔ افسوس مرزا قادیانی اپنے دعوے کے دھن میں بے تاب ہیں اور چاہتے ہیں کہ پھندے میں پھنسے ہوؤں کو کچھ اطمینان دلایا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرچکے۔ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کے بگڑنے کی قیامت تک کوئی خبر نہیں ہوئی۔ لہذا قیامت کے دن لاعلمی ظاہر فرمائیں گے۔ مگر اس کے برخلاف ملاحظہ ہو۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”اور میرے پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی۔ تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی ۔“

(ص ٣٤١، خزائن ج ٥ ص ایضاً مضمون واحد)

”پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاریٰ میں دجالیت کی صفت اتم اور اکمل طور پر آ گئی ۔“

(ص ٣٤٢،٣٤٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ کے گذرنے کے بعد کہ خیر اور صلاح اور غلبہ توحید کا زمانہ ہو گا۔ پھر دنیا میں فساد اور شرک اور ظلم عود کرے گا ...... اور دوبارہ مسیح کی پرستش شروع ہو جائے گی ...... تب پھر مسیح کی روحانیت سخت جوش میں آ کر جلالی طور پر اپنا نزول چاہے گی۔ تب اک قہری شبیہ میں اس کا نزول ہو کر اس زمانہ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تب آخر ہوگا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔“ تیسری مرتبہ نزول

(آئینہ کمالات ص ٣٤٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی امت کی ہر گمراہی کی اطلاع دی جاتی تھی۔ اب جب کہ حسب زعم مرزا قادیانی ، عیسیٰ علیہ السلام قبل از قیامت اپنی امت کے احوال پر مطلع ہو چکے تھے تو پھر قیامت کے دن یہ کہنا مجھے ان کے حال کا کیا علم تھا کیا صریح کذب نہیں؟ ۔ والعیاذ باللہ! حالانکہ یہاں لاعلمی کا کوئی جواب ہی نہیں ہے ۔ محض قرآن کی تحریف ہے ۔ سوال خداوندی تو صرف یہ ہے۔ ”ءَ انت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اللہ“ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بناؤ اللہ

صفحہ ٢٨٠

کے سوا، اس کا صراحۃً اصل جواب تو قلت یا ماقلت (میں نے کہا ہے یا نہیں کہا ہے) ہی ہوسکتا ہے ۔ مگر رعایت ادب سے اوّل جواب سے پہلے اللہ جل شانہ کی ایسے ناپاک خیال سے پاکیزگی ظاہر کی۔ سبحانک ! پھر اس کے بعد قبل صریح جواب کے خود اپنا بھی ایسے عقائد اور افعال سے بیزار ہونا بتلایا۔ ”مايكون لى ان اقول ماليس لى بحق ٠ ان كنت قلته فقد علمته...... انك انت علام الغيوب (مائده:١١٦)“ میں ہرگز ناحق بات نہیں کہہ سکتا۔ اگر میں نے کہا ہے تو تو جانتا ہی ہے...... اس کے بعد اصل صریح جواب دیا۔ ”ماقلت لهم الا ما امرتنى به ان اعبدو الله ربى وربكم (مائده:١١٧)“ میں نے ہرگز ان کو ایسا نہیں کہا۔ میں نے ان کو وہی کہا ہے جس کا تو نے مجھ کو امر کیا کہ ایک اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”كنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم (مائده:١١٧)“ اوّل تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا اس وقت تک تیرا شہید اور تیری طرف سے ان کے افعال کا گواہ تھا۔ میں نے ان کو ہرگز ایسا نہیں کہا۔ میں ایسی بات کیوں کر کہہ سکتا تھا۔ رہا بعد کا معاملہ جو میری عدم موجودگی میں ہوا سو میری شہادت سے خارج ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ مجھے اس کا علم نہیں میں بے خبر ہوں۔ اور دوسرے اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی امت کے اعمال خیر و شر پر بطور سرکاری گواہ کے ہوں گے۔ ”فكيف اذاجئنا من كل امة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا (نساء:٤١)“ اور خود عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہے کہ: ”ويوم القيمة يكون عليهم شهيدا (نساء:١٥٩)“ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کی شہادت میں بطور اعتذار کے یہ فرماتے ہیں اور اس کے بعد سفارش آمیز کلمات بھی فرماتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اپنی امت کی گمراہی کا علم ہے۔ ”فان تعذبهم فانهم عبادك (مائده:١١٨)“ اب ظاہر ہے کہ یہ جملہ جواب اس سوال کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ الگ اپنی امت کے نیک و بد پر ادائے شہادت ہے۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ضرور ہے۔ جمیع مقولوں کو جواب سمجھنا سخت نادانی ہے۔ خدا تعالیٰ تو پوچھے ”ء انت قلت للناس “ اور جواب دیا جائے ”كنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم “ بالکل بے ربط ہے یہ سوال تھوڑا ہی تھا کہ تم کو اس کا علم ہے یا نہیں۔ یا تم اس بات پر گواہ ہو یا نہیں ورنہ مشرکوں کے لئے غفران کیسا۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام اس عقیدے سے ناواقف اور بے خبر تھے کہ شرک کے بعد ان تغفر لهم بھی

صفحہ ٢٨١

ہوسکتا ہے اور مادمت فیہم میں زمانہ بعد نزول بھی داخل ہے۔ لہٰذا ان پر گواہی دیں گے۔ ”ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیداً“ اور نفی شہادت زمانہ عدم موجودگی میں ہے اور حدیث ”اقول کما قال العبد الصالح“ کا مطلب آگے بیان ہوگا وہاں دیکھو۔

مرزا قادیانی ( ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص٢٢٦، خزائن ج٢١ ص٤٠٢) میں بحوالہ بعض مورخ اور (حاشیہ انجام آتھم ) میں بحوالہ ڈریپر صاحب قبول کر چکے ہیں کہ عیسائی مذہب عیسیٰ علیہ السلام کے ٣٠٠ برس کے بعد بگڑا اور ( ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص١٧، خزائن ج٢١ ص٢٨٢ اور نصرۃ الحق ص٤٠، خزائن ج٢١ ص٥١) میں لکھتے ہیں کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کی توفی یعنی موت کے بعد ہی بگڑے ہیں۔ نصاریٰ کا بگڑنا ان کی موت کی دلیل ہے۔ جب تک زندہ رہے نہیں بگڑے ان کا صراط مستقیم پر ہونا عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی تک وابستہ ہے۔

پوری نعمت دینے کے کرتے ہیں اور (ازالہ اوہام اور توضیح المرام و براہین احمدیہ پنجم) وغیرہ میں موت کے معنی۔

علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے اور (ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص٢٣٤، خزائن ج٢١ ص٤٠٩) میں کتابی کی طرف۔

قرآن کریم کی طرف اور (حمامۃ البشریٰ ص٩٠، خزائن ج٧ ص٣١٦) میں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف۔

ص٣١٦) میں قیامت ہے اور (اعجاز احمدی ص٢١، خزائن ج١٩ ص١٣٠) میں ہے کہ اس سے مراد عذاب بنی اسرائیل ہے۔ جو بعد مسیح کے آیا تھا۔

ج٧ ص٢٥٦) میں ہے کہ رفعہ اللہ الیہ میں رفع روح مراد ہے طرف آسمان کے۔ پھر رفع درجات مراد لی گئی۔ مرزائی رفع درجات کو رفع روحانی اور دوسرے کو رفع بروح سے تعبیر کیا کرتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا مرنے کے بعد زندہ کر کے آسمان پر اٹھایا جانا جمہور مسلمانوں کا مذہب نہیں ہے بلکہ بالکل غیر صحیح اور نصاریٰ کا مذہب ہے؟۔

صفحہ ٢٨٢

توفاه سبع ساعات ثم احياه (تفسير ابن کثير ج٢ ص٣٩ زير آيت يعيسى انى متوفيك)“ ﴿ابن اسحاق صاحب مغازی نے فرمایا کہ نصارٰی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سات ساعت موت دے کر پھر عیسٰی علیہ السلام کو زندہ کیا تھا۔﴾

توفيت المال اذا قبضته وروى هذا عن الحسن وعليه الجمهور وروى عن الجبائى امتنى وادعى ان رفعه عليه السلام الى السماء كان بعد موته واليه ذهب النصارى (تفسير روح المعانى ج٧ ص٦٠)“ ﴿توفيتنى کے معنی یہ ہیں کہ جب تو نے آسمان پر اٹھا کر مجھ کو قبضہ میں لے لیا۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ توفيت المال جب تو مال پر قبضہ کرے یہ حسن سے مروی ہے اور جمہور مسلمان اسی پر ہیں اور جبائی سے منقول ہے کہ توفيتنى کے معنی امتنی کے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ عیسٰی علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا بعد موت کے تھا اور نصارٰی اسی طرف گئے ہیں۔﴾

اسحاق انها من زعم النصارى وهم فى هذا المقام كلام تقشعر منه جلود ويزعمون انه فى الانجيل وحاشا لله ما هو الا افتراء وبهتان عظيم (تفسير روح المعانى ج٣ ص١٥٨، زير آيت يعيسى انى متوفيك)“ ﴿اس حکایت کو کہ اللہ تعالیٰ نے عیسٰی علیہ السلام کو سات ساعت موت دی ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ یہ نصارٰی کا زعم ہے اور اس مقام میں نصارٰی کا ایسا قول ہے کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے بدن کانپ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ انجیل میں ہے۔ حاشا للہ یہ محض افتراء اور بہتانِ عظیم ہے۔﴾

وفيه ضعف (تفسير فتح البيان ج٢ ص٤٩)“ ﴿کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین ساعت موت دی پھر اٹھا لیا یہ ضعیف ہے۔﴾

يرفعه وليس بشئ لان الاخبار قد تظافرت بانه لم يمت وانه بات فى السما على الحيوة التى كان عليها فى الدنيا حتى ينزل الى الارض آخر الزمان

(فتح البيان ج٣ ص١٣٣) لینے کے موت دی تھی یہ محض السلام مرے نہیں وہ آسمان پر میں زمین پر نازل ہوں گے۔ مرزا قادیانی نے ۔ کے آسمان پر اٹھائے جانے کا بہکانے کے لئے دروغ آمیز داد دی کہ حیات مسیح علیہ السلام بعض موت کے بھی قائل ہیں م حیات عیسٰی علیہ السلام پر خلفاء اربعہؓ اور صح تشریف لاکر دجال کو قتل فرمائ

شرح السنۃ ج٧ ص٣٥٤، باب نزو وعمرؓ وغیرہما جب ابن صیاد کی نے اجازت چاہی کہ یا رسول هو فلست صاحبه انم تقتل رجل من اهل (رواه فى شرح السنة) عیسٰی بن مریم ہوگا اور اگر دج غير بالغ وكان فى ص٧٠) ”معلوم ہوا کہ حضر بذاتہ نزول فرمائیں گے۔ و میں مر چکے، قتل کرنے کون آ

صفحہ ٢٨٣

”کہا جاتا ہے کہ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل اٹھا

(فتح البیان ج ٣ ص ١٣٣)

لینے کے موت دی تھی یہ محض غلط ہے۔ کیونکہ احادیث متواترہ سے یہ ثابت ہو چکا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ آسمان پر اسی حیات پر باقی ہیں۔ جس پر دنیا میں تھے یہاں تک کہ آخر زمانہ میں زمین پر نازل ہوں گے ۔“

مرزا قادیانی نے دیکھا کہ شاذ و نادر بعض نصاریٰ کی طرح موت کے بعد پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ پس پھر کیا تھا مرزا قادیانی نے اس سے جاہلوں کا بہکانے کے لئے دروغ آمیز یہ فائدہ اٹھایا اور خيانة فی النقل اور خیانت فی الفھم کی پوری داد دی کہ حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر اہل اسلام کا اجماع نہیں ہے۔ بلکہ اختلافی مسئلہ ہے۔ بعض موت کے بھی قائل ہیں کہ وہ مر چکے۔ اب دوبارہ تشریف نہیں لائیں گے ۔یا للعجب!

حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع امت ہے اور اہل اسلام کا اتفاق ہے

خلفاء اربعہؓ اور صحابہؓ کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ پھر دوبارہ تشریف لا کر دجال کو قتل فرمائیں گے اور کسی صحابیؓ نے اختلاف نہیں کیا۔

شرح السنۃ ج ٤ ص ٤٥، باب ذکر ابن صیاد) سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ مع جماعت صحابہ ابوبکرؓ وعمرؓ وغیر ہما جب ابن صیاد کی طرف تشریف لے گئے ۔ طویل حدیث کے بعد ہے کہ حضرت عمرؓ نے اجازت چاہی کہ یا رسول اللہ ﷺ میں اس کو قتل کر دوں ۔حضور ﷺ نے فرمایا ”ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ بن مریم والا یکن ھو فلیس لك ان تقتل رجل من اھل العھد فلم یزل رسول اللہ ﷺ مشفقاً ھو الدجال ”یعنی اگر ابن صیاد دجال ہے تو تو اس کو قتل نہیں کر سکتا۔ اس کا قاتل

(رواہ فی شرح السنۃ)

عیسیٰ بن مریم ہوگا اور اگر دجال نہیں تو ایک نابالغ ذمی کے مارنے میں خیر نہیں ۔“ لا نه كان غیر بالغ وكان فی ایام مھادنة الیھود وحلفائھم (حاشیہ بخاری ج ٤ ص ٧٠) ”معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ جماعت صحابہؓ سب کا یہی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام بذاتہ نزول فرمائیں گے۔ ورنہ ابوبکرؓ وعمرؓ و دیگر صحابہؓ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کشمیر میں مر چکے ، قتل کرنے کون آئے گا۔

صفحہ ٢٨٤

يقتل الله تعالى الدجال بالشام على عقبة يقال لها عقبة افيق لثلاث ساعات يمضين من النهار على يدى عيسى بن مريم (كنز العمال ج ١٤ ص ٦١٤، حديث نمبر ٣٩٧٠٩) ”یعنی حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کے ہاتھ سے دجال کو شام میں تین ساعت دن چڑھے ایک گھاٹی پر جس کو افیق کی گھاٹی کہا جاتا ہے قتل کرے گا۔

ونحن نتذاكر الساعة فقال ماتذاكرون قالوا نذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى عليه السلام (مسلم ج ٢ ص ٢٩٣، كتاب الفتن واشراط الساعة، ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٤، باب امارات الساعة) ”یعنی حذیفہ بن اسید غفاریؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم صحابہؓ قیامت کا ذکر کر رہے تھے کہ حضور ﷺ ہم پر تشریف لے آئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم کیا ذکر کرتے ہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہرگز قیامت نہ آئے گی۔ یہاں تک کہ اس کے قبل دس علامتیں نہ دیکھ لو۔ پھر دخان، دجال، دابۃ، مغرب سے سورج کا نکلنا، نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا۔ اس حدیث سے اجماع صحابہؓ ثابت ہے۔ کیونکہ ان سب کا یہی عقیدہ تھا کہ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصالۃً ہوگا۔ ورنہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ ﷺ عیسیٰ علیہ السلام تو کشمیر میں مدفون ہیں۔ وہ کس طرح آ سکتے ہیں ۔

الله ﷺ يقول يقتل ابن مريم الدجال بباب لد (وفى الباب وعن عمران بن حصين ونافع ابن عتبه وابى برزه وحذيفة بن اسيد وابى هريرة وكيسان وعثمان ابى العاص وجابر وابى امامة وابن مسعود وعبدالله بن عمر وسمرة بن جندب والنواس بن سمعان وعمر بن عوف وحذيفة بن اليمان هذا حديث صحيح ترمذى ج ٢ ص ٤٩، باب ماجاء فى قتل عيسى بن مريم الدجال) ”یعنی سولہ صحابہؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول الله ﷺ سے سنا کہ عیسیٰ بن مریم دجال کو باب لد کے قریب عقب (افیق پر) قتل فرمائیں گے۔

فذكرنا نوحاً بطول عبادته وابراهيم بخلته وموسى بتكليم الله اياه وعيسى برفعه الى السماء وقلنا رسول الله افضل لانه بعث الى الناس كافة

صفحہ ٢٨٥

غفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر وهو خاتم الانبیاء فدخل عليه السلام فقال فيم انتم فذكرنا له فقال لا ينبغی لاحد ان يكون خيراً من يحيى بن زكريا عليه السلام فذكر انه لم يعمل سيّئة قط ولم يهم بها (كشاف خرج بعضه فی الدر المنثور ج ٤ ص ٢٦٢ ، من المعجم الكبير للطبرانى ج ١٢ ص ١٦٨، ١٦٩ ، حديث نمبر ١٢٩٤٨) ”یعنی ابن عباسؓ سے ہے کہ ہم صحابہؓ مسجد میں فضیلت انبیاء کا ذکر کرتے تھے کہ نوح علیہ السلام کو طول عبادت کے ساتھ اور ابراہیم علیہ السلام کو خلت کے ساتھ اور موسیٰ علیہ السلام کو کلیم اللہ کے ساتھ اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھائے جانے کے ساتھ فضیلت دی اور ہم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ان سب سے افضل ہیں۔ تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے۔ آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ حضور ﷺ داخل ہوئے حضور ﷺ نے پوچھا تم کیا ذکر کرتے تھے۔ ہم نے بتایا حضور ﷺ نے فرمایا کسی کے لئے مناسب نہیں کہ نبی کو یحییٰ علیہ السلام سے بھی بہتر کہے۔ پھر ان کی فضیلت بیان کی کہ انہوں نے کبھی بدی نہیں کی اور نہ کبھی اس کا قصد کیا۔“

...... ٦ ......

عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ينزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء (كنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ ، حديث نمبر ٣٩٧٢٦) ”یعنی ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرا بھائی عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوگا اور ابن عباسؓ کی تفسیر پہلی تین آیتوں میں صحیح روایت کے ساتھ نقل کر چکا اور تفسیر ابن عباسؓ متوفيك اى مميتك ! اوّل تو غیر صحیح ہے۔ دوسرے تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ اس کی مفصل بحث بیان کر چکا۔ اگر کہا جائے کہ بخاری نے اپنی صحیح میں اس تفسیر کو تعلیقات میں ذکر کیا ہے۔ اگر یہ تفسیر صحیح نہ ہوتی تو اپنی صحیح میں ہرگز نہ لاتے۔ جواب یہ ہے کہ بخاری کو اپنی تعالیق اور آثار کی صحت پر اقرار نہیں۔ صرف احادیث صحیحہ مسندہ پر اقرار ہے۔ چنانچہ (فتح المغیث کے ص ٢٠) پر ہے کہ: ”قول البخارى ما ادخلت فى كتابى الا ما صح على مقصود به هو الاحاديث الصحيحة المسندة دون التعاليق والاثار الموقوفه على الصحابة فمن بعدهم والاحاديث المترجم بها ونحو ذلك “ یعنی بخاری کا یہ کہنا کہ میں نے اپنی کتاب میں نہیں داخل کیا۔ مگر صحیح حدیث کو وہ حدیثیں مراد ہیں۔ جو مسندہ ہیں۔ نہ تعالیق اور آثار موقوفہ اور احادیث ترجمہ باب وغیرہ ...... اور ٧٤ حدیثوں اور ٢٧ آثار سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ ٢٨٦

السلام زندہ ہیں اور قرب قیامت میں پھر دوبارہ تشریف لائیں گے۔ اگر تفصیل منظور ہو تو رسالہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح مرتبہ حضرت شیخ الحدیث مولانا انور شاہ صاحب مدرس اوّل مدرسہ دیوبند ملاحظہ ہو۔

آئمہ اربعہ اور امام بخاریؒ کا مذہب یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں

اور اصالتاً نزول فرمائیں گے

یہ کتاب امام اعظمؒ کی تصنیف ہے ۔ ’’نزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ماوردت الاخبار الصحيحة حق كائن (شرح فقه اكبر ملا على قارى ص١٣٧،١٣٦)‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور باقی تمام علامات قیامت جیسے کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے، ضرور ہوں گی اور امام مالکؒ اپنی کتاب عتیبیہ میں لکھتے ہیں کہ: ”وفى العتبية قال مالك بينما الناس قيام يستصفون لا قامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا عيسى قد نزل (عبارة صحيح مسلم مع شرح اكمال اكمال المعلم ج١ ص٤٤٦، طبع دار الكتب بيروت)‘‘ یعنی عتیبیہ میں مالکؒ نے لکھا ہے کہ ایسی حالت میں کہ لوگ کھڑے ہوئے نماز کی تکبیر سنتے ہوں گے۔ بادل ان کو گھیر لے گا۔ پس اچانک عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صاحب مجمع البحار کو اصل کی طرف رجوع کا اتفاق نہیں ہوا ورنہ تاویل کے ہرگز محتاج نہ ہوتے ۔ ”لعله اراد رفعه على السماء او حقيقتاً ويحيى اخر الزمان لتواتر خبر النزول (مجمع البحار ج١ ص ٥٣٤)‘‘ یعنی شاید امام مالکؒ نے موت سے مراد رفع علی السماء لیا ہے یا حقیقتاً مرنے کے بعد زندہ کئے گئے اور آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے۔ کیونکہ نزول عیسیٰ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔

لعلم للساعة قال اى خروج عيسى بن مريم عليهما السلام قبل يوم القيامة“ یعنی ابن عباسؓ سے ہے کہ آیت انه لعلم للساعة میں ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا ظاہر ہونا ہے۔

صفحہ ٢٨٧

اور (مسند امام احمد بن حنبلؒ ج ١ ص ٣٧٥) میں ہے کہ: ”وصححه الحاكم كمافى الفتح عن ابن مسعود عن رسول الله ﷺ قال لقيت ليلة اسرى به ابراهيم وموسى وعيسى عليهم السلام قال فتذكروا امر الساعة فردوا امرهم الى ابرهيم فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى موسى فقال لا علم لى بها فردوا امر الى عيسى فقال اما وجبتها فلا يعلم بها احد الا الله وفيما عهد الى ربى عزوجل ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا رانى ذاب كما يذوب الرصاص (وفی ابن ماجة ص٢٩٩، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم) قال فانزل فاقتله فيرجع الناس الى بلادهم (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠٦، زیر آیت وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به، مستدرك ج٤ ص٦٨٧، حديث نمبر٨٥٤٩، ج٥ ص٧٥٦، حدیث نمبر٨٦٨٢) ”عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں معراج کی رات میں ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملا اور قیامت کے متعلق ذکر کیا۔ پہلے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا۔ انہوں نے کہا مجھ کو اس کا علم نہیں۔ پھر یہ امر موسیٰ علیہ السلام کے حوالہ کیا گیا۔ انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔ پھر آخر میں یہ امر عیسیٰ علیہ السلام پر ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا قیامت کے واقع ہونے کا اصل علم تو خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ مگر میرے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ جب دجال نکلے گا تو میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا اور مجھ کو دیکھ کر رانگے کی طرح پگھلے گا۔“

اور دوسرے تمام علماء ومحدثین اور تمام خاص و عام مقلدین امام شافعی کا یہی مذہب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام شافعی کا یہی مذہب ہے۔

کا مستقل باب باندھا ہے اور اس کے تحت حدیث ابی ہریرہؓ لائے ہیں۔ جس میں قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی گئی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں اور قبل قیامت نزول فرمائیں گے اور ان کی موت سے پہلے سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ ”روى البخارى فى تاريخه والطبرانى عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله ﷺ وصاحبيه فيكون قبره رابعاً (درمنثور ج٢

صفحہ ٢٨٨

ص ٢٤٥، ٢٤٦ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٠٩) ”یعنی بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی نے بھی عبداللہ بن سلام سے روایت کی کہ عیسیٰ بن مریم حضورﷺ کے ساتھ مدفون ہوں گے اور ابوبکرؓ وعمرؓ کے ساتھ اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔

حیات مسیح اور ان کے نزول پر اہل اسلام کا اتفاق ہے کسی کا اختلاف نہیں معتزلہ بھی متفق ہیں۔ کیونکہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ صرف فلاسفہ اور ملاحدہ کا اختلاف ہے۔

السماء (کتاب الابانة للشيخ الاشعری ص ٥٣ طبع دار بن حزم بيروت) “ ﴿امت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ عزوجل نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا ہے۔﴾

انه رفع ببدنه حياً وانما اختلفوا هل مات قبل ان يرفع او نام (تلخيص الحبير لا بن حجر ج ٣ ص ٤٦٢، كتاب الطلاق طبع بيروت) “ ﴿لیکن رفع عیسیٰ علیہ السلام تمام محدثین اور مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان کو زندہ بجسمہ اٹھایا گیا۔ ہاں اس میں اختلاف ہوا ہے کہ موت دے کر زندہ کر کے اٹھائے گئے یا سوتے سے اٹھائے گئے۔﴾

الارض (تفسير النهر المعاد ج ٢ ص ٤٧٣) “ ﴿تمام امت کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں اور زمین پر نازل ہوں گے۔﴾

عيسى في السماء حيي وانه ينزل في اخر الزمان (بحر المحيط ج ٢ ص ٧٥٦، زير آیت اذقال الله يعيسى اني متوفيك) “ ﴿تمام امت کا اس پر اجماع ہے۔ جو احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں ہیں اور آخر زمانہ میں نزول فرمائیں گے۔﴾

الدجال ويؤيد الدين“ (تفسير جامع البيان تلخيص ابن كثير كے حاشيہ تفسير وجيز جو خود اسی مصنف کی ہے ص ٥٢ پر ہے) ﴿اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں اور نازل ہوں گے اور دجال کو قتل فرمائیں گے اور دین کی تائید فرمائیں گے۔﴾

صفحہ ٢٨٩

الشوكاني في مؤلف مستقل يتضمن ما ورد في المهدي المنتظر والدجال والمسيح وذكره في غيره وصحح الطبرى هذا القول وورد بذلك الاحاديث المتواترة (فتح البيان ج ٢ ص ٣٤٤) ”عیسیٰ علیہ السلام کے جسماً نازل ہونے میں احادیث متواترہ وارد ہیں۔ علامہ شوکانی نے ایک مستقل رسالہ جو مہدی موعود اور دجال ومسیح کے بارے میں ہے۔ وضع کیا ہے اور اس کے غیر میں بھی اس کو بیان کیا ہے اور اس قول کی طبری نے تصحیح کی اور اس کے بارے میں احادیث متواترہ وارد ہیں۔“

والاحاديث الواردة فى نزول عيسى بن مريم متواترة انتهى كلام الشوكانى واما الاجماع فقال السفاريني فى اللوامع قد اجتمعت الامة على نزوله ولم يخالف فيه احد من اهل الشريعة وانما انكر ذلك الفلاسفة والملاحدة ممن لا يعتد بخلافه وقد انعقد اجماع الامة على انه ينزل ويحكم هذه الشريعة المحمدية وليس ينزل بشريعة مستقلة عند نزوله من السماء وان كانت النبوة قائمة به وهو متصف بها (كتاب الاذاعه ص ٧٧) ”پس ثابت ہو چکا کہ وہ احادیث جو مہدی موعود کے بارے میں وارد ہیں متواتر ہیں اور وہ احادیث جو نزول عیسیٰ بن مريم کے بارے میں وارد ہیں متواتر ہیں۔ انتہیٰ کلام الشوکانی۔ لیکن اجماع پس سفارینی نے لوامع میں فرمایا کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر امت کا اجماع ہے۔ کسی نے اہل شریعت میں سے اس میں خلاف نہیں کیا۔ بس صرف فلاسفہ اور ملاحدہ نے انکار کیا ہے۔ جن کے خلاف کا کچھ اعتبار نہیں اور تحقیق امت کا اجماع منعقد ہوا کہ وہ نازل ہوں گے اور شریعت محمدیہ پر حکم کریں گے اور آسمان سے نزول کے زمانہ میں شریعت مستقل لے کر نازل نہ ہوں گے۔ اگرچہ نبوت ان کے ساتھ قائم ہے اور وہ نبوت کے ساتھ متصف ہوں گے۔“

آخر الانبياء وعيسى عليه السلام ينزل فى آخر الزمان قلت معنى كونه آخر الانبياء انه لا ينباء احد بعده وعيسى ممن نبئ قبله (تفسير كشاف ج ٢ ص ٥٤٤، ٥٤٥، زير آيت ما كان محمد ابا احد) ”اگر تو کہے کہ حضور ﷺ آخر الانبیاء کیسے ہوئے حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہوں گے میں کہوں گا کہ آخر الانبیاء ہونے کے

صفحہ ٢٩٠

معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جن کو نبوت پہلے مل چکی ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ معتزلہ بھی اس عقیدہ میں خلاف نہیں ہیں۔ جیسا کہ عقیدہ سفارینی میں مذکور ہے۔ صرف ملاحدہ اور فلاسفہ خلاف ہیں اور بعض علماء نے جو لکھا ہے کہ معتزلہ اس کے خلاف ہیں۔ وہ وہی معتزلہ ہیں جو فلسفی العقیدہ ہو کر ملاحدہ میں جاملے۔ یہ بالکل لایعبا بہ ہیں۔ اجماع میں ان کے خلاف سے کچھ خلل لازم نہیں آتا۔

جمیع صوفیاء کرام اور عارفین اور اہل کشف سب متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام

بجسدہ آسمانوں پر زندہ ہیں اور آخر زمانہ میں بذاتہ نزول فرمائیں گے

الله عزوجل عيسى بن مريم الى السماء فيه (غنية الطالبين عربي ج٢ ص٥٥ طبع مصر)“ یعنی نویں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم کو آسمان پر اٹھایا یوم عاشورہ میں۔

فرماتے ہیں کہ: ”فلما دخل اذا بعيسى عليه السلام بجسده عينه فانه لم يمت الى آلان بل رفعه الله الى هذه السماء واسكنه بها (فتوحات مکيه ج٢ ص٣٤١، باب ٣٦٧)“ اور شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ نے بھی (یواقیت والجواہر ج٢ ص٤٢) میں شیخ اکبر کی یہی عبارت تحریر فرمائی ہے۔ ﴿جب اس آسمان میں حضور ﷺ داخل ہوئے تو عیسیٰ علیہ السلام کو بعینہ اسی جسم کے ساتھ دیکھا کیونکہ وہ اس وقت تک مرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آسمان پر اٹھایا اور اس آسمان میں ان کو ٹھہرایا ہے۔﴾

اور لکھتے ہیں کہ: ”ان عيسى عليه السلام نبى ورسول وانه لا خلاف انه ينزل فى أخرالزمان حكما مقسطاً عدلاً بشرعنا (فتوحات مكيه ج٢ ص٣ باب٧٣)“ یعنی بے شک عیسیٰ بن مریم نبی اور رسول ہیں اور بے شک اس میں خلاف نہیں کہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور ہماری شریعت کے ساتھ نہایت عدل کے ساتھ حکومت کریں گے۔

”ابقى الله تعالى بعد رسول الله ﷺ من الرسل الاحياء باجسادهم فى هذه الدار الدنيا ثلاثة وهم ادريس عليه السلام بقى حياً بجسده واسكنه الله فى السماء الرابعة والسموات سبع هن من عالم الدنيا....... وابقى

صفحہ ٢٩١

فی الارض ايضاً الياس وعيسى وكلاهما من المرسلين (فتوحات مكيه ج٢ ص٥، باب ٧٣) ’’یعنی رسول اللہ ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں تین رسولوں کو ان کے انہی جسموں کے ساتھ زندہ رکھا ہے۔ ایک ادریس علیہ السلام جو بجسدہ چوتھے آسمان پر زندہ سکونت پذیر ہیں اور ساتوں آسمان عالم دنیا میں ہیں...... اور زمین میں الیاس علیہ السلام کو اور عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھا ہے۔ حالانکہ دونوں رسول ہیں۔

٣٥٣) میں لکھا ہے کہ: ”وقد جاء الخبر الصحيح فى عيسى عليه السلام وكان ممن اوحى اليه قبل رسول الله ﷺ انه اذا نزل آخرالزمان لا يؤمنا الا بنا اى بشريعتنا وسنتنا مع اوله الكشف التام اذا نزل زيادة على الالهام الذى يكون له كما لخواص هذه الامة (یواقیت ج٢ ص٨٤) ’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں صحیح حدیث آچکی ہے کہ حضور ﷺ سے پہلے ان پر وحی کی جاتی تھی۔ لیکن جب آخر زمانہ میں نازل ہوں گے تو ہماری شریعت اور سنت پر حکومت و امامت فرمائیں گے اور جب نازل ہوں گے تو الہام سے بڑھ کر ان کو کشف تام ہوگا۔

نزول عيسى عليه السلام من القرآن فالجواب الدليل على نزوله قوله تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى حين ينزل ويجتمعون عليه وانكرت المعتزلة والفلاسفة واليهود والنصارى عروجه بجسده الى السماء وقال تعالى فى عيسى عليه السلام وانه لعلم للساعة قرى لعلم بفتح اللام والعين والضمير فى انه راجع الى عيسى عليه السلام بقوله تعالى ولما ضرب ابن مريم مثلا ومعناه ان نزوله علامة القيامة وفى الحديث فى صفة الدجال فبينما هم فى الصلوة اذ بعث الله المسيح ابن مريم فنزل عندالمنارة البيضاء شرقى دمشق ...... فقد ثبت نزوله عليه السلام بالكتاب والسنة وزعمت النصارى ان ناسوته صلب ولا هوته رفع والحق انه رفع بجسده الى السماء والايمان بذلك واجب قال تعالى بل رفعه الله اليه (یواقیت ج٢ ص١٤٦) ’’اگر کہا جائے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن سے دلیل کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ

صفحہ ٢٩٢

ان کے نزول پر ایک تو یہ قول باری تعالیٰ دلیل ہے۔ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن قبل موتہ ! یعنی جب نازل ہوں گے تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے اور معتزلہ اور فلاسفہ اور یہود اور نصاریٰ ان کے آسمان پر اُٹھائے جانے سے انکار کرتے ہیں اور دوسرا یہ قول باری تعالیٰ دلیل ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ وانه لعلم للساعة ! یعنی ان کا نزول قیامت کی علامت ہے۔ تیسرے حدیث دجال کے بیان میں ہے کہ اس حالت میں کہ لوگ نماز کی تیاری میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو دمشق کے شرقی منارے سفید کے پاس نازل فرمائیں گا...... پس عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ان کے ناسوت کو سولی دی گئی اور ان کے لاہوت کو اٹھا لیا گیا اور حق یہ ہے کہ ان کو بجسدہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور اس پر ایمان واجب ہے۔ بقولہ تعالیٰ بل رفعه الله اليه !﴾

٥....... اور شیخ محمد اکرم صابری تحریر فرماتے ہیں کہ: ”يك فرقه برآں رفته اند که مهدی آخر الزمان عیسی بن مریم است و ایں روایت بغایت ضعیف است زیرا کہ اکثر احادیث صحیح ومتواتر از حضرت رسالت پناہ ﷺ ورود یافته که مهدی از بنی فاطمه خواهد بود عیسی بن مریم باو اقتداء کرده نماز خواهد گذارد و جمیع عارفان صاحب تمکین برایں متفق اند چنانچه شیخ محی الدین ابن عربی قدس سره در فتوحات مکی مفصل نوشته است که مهدی آخر الزمان از آل رسول ﷺ من اولاد فاطمه زهراء ظاهر شود واسم او اسم رسول الله ﷺ باشد (اقتباس الانوار ص ٧٢)“

مرزائی صرف دجل کی رو سے اتنا نقل کرتے ہیں کہ: ”بعضے برانند که روح عیسیٰ علیه السلام در مهدی بروز کند و نزول عبارت از ایں بروز است مطابق ایں حدیث لا مهدی الا عیسیٰ بن مریم (اقتباس الانوار ص٧٢)“

حالانکہ اس کے بعد یہ بھی لکھا ہے کہ : ”و ایں مقدمه بغایت ضعیف است“

٦....... حضرت مجدد الف ثانیؒ لکھتے ہیں کہ: ”وخاتم ایں منصب سید البشر است حضرت عیسیٰ علیه السلام بعد از نزول متابع شریعت خاتم الرسل ﷺ خواهد بود (مکتوب ج ١ ص ٦٣٦ مکتوب نمبر ٣٠١)“

”حضرت عیسیٰ علیه السلام که از آسمان نزول خواهد فرمود

متابعت شریعت خات ص ٣٠٥)“

نوٹ! مرزا قادیانی کا تو اس کشف کے جھوٹ یا غلط ہو رفع بجسده الى السماء بریں متفق اند اور مرزا قادیانی

فائدہ

حضرت عمرؓ نے سعد انصاری کو حلوان عراق کی طرف بھیجا فتح کے بعد ایک پہاڑ کے قر آتی تھی۔ جب ثعلبہ اذان فرشتہ ہے یا جن یا کوئی اللہ کا نیک بھی دکھا دے۔ ہم سب لشکر ر ایک سفید ریش اور سر پہاڑ کی چ کون ہے؟۔ جواب دیا میں ح نے مجھے اس پہاڑ میں ساکن ک آسمان سے نازل نہ ہوں اور نزوله من السماء کا لفظ چنانچہ سلام پہنچایا گیا۔ حضر پہاڑ پر جاؤ اور میر اسلام کہو۔ دن وہیں اذان کہہ کر نماز پڑ

مکاشفات عم ص ٢٢٣، ٢٢٤، باب نمبر ٤٦)

حضرت عمرؓ اور چار ہزار مہا

صفحہ ٢٩٣

متابعت شریعت خاتم الرسلﷺ خواهد نمود (مکتوب١٧ دفتر سوم ص٣٠٥)“

نوٹ! مرزا قادیانی کا کشف اور الہام جب تمام اہل کشف کے اجماع کے خلاف ہے تو اس کشف کے جھوٹ یا غلط ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ اہل کشف تو فرما چکے ہیں کہ: ”انه رفع بجسده الى السماء والايمان بذلك واجب “ اور جمیع عارفان صاحب تمکین بریں متفق اند اور مرزا قادیانی اس کو شرک بتلاتے ہیں۔

فائدہ

حضرت عمرؓ نے سعد بن ابی وقاصؓ کو جو قادسیہ میں حاکم تھے۔ لکھا کہ نضلہ بن معاویہ انصاری کو حلوان عراق کی طرف جہاد کے لئے روانہ کر، چنانچہ سعد نے نضلہ کو تین سو سوار کے ساتھ بھیجا فتح کے بعد ایک پہاڑ کے قریب نماز کے لئے اذان کہنا شروع کی پہاڑ سے اجابت کی آواز آتی تھی۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو سب لوگ یہ کہنے لگے کیا اس پہاڑ میں کوئی فرشتہ ہے یا جن یا کوئی اللہ کا نیک بندہ۔ پکار کر آواز دی، اے! اللہ کے بندے! ذرا اپنی صورت بھی دکھادے۔ ہم سب لشکر رسول اللہ کے اور عمرؓ خلیفہ وقت کے بھیجے ہوئے ہیں۔ پس اسی وقت ایک سفید ریش اور سر پہاڑ کی شگاف میں سے نکلا اور السلام علیکم کہا۔ سب نے جواب دیا۔ پوچھا تو کون ہے؟۔ جواب دیا میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا وصی، زریب بن برثملا ہوں اس نے مجھے اس پہاڑ میں ساکن کیا ہے اور میرے لئے دعا کی ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل نہ ہوں اور آپ سے دوبارہ نہ ملوں زندہ رہوں۔ (اس حدیث میں الی حین نزوله من السماء کا لفظ ہے) اور میری طرف سے عمرؓ کو سلام کہدو اس کے بعد کچھ نصیحتیں کیں۔ چنانچہ سلام پہنچایا گیا۔ حضرت عمرؓ نے پھر سعدؓ کو لکھا کہ اپنے ساتھ مہاجرین اور انصار کو لے کر اسی پہاڑ پر جاؤ اور میرا سلام کہو۔ چنانچہ سعدؓ چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ساتھ وہاں گئے اور چالیس دن وہیں اذان کہہ کر نماز پڑھتے رہے۔ مگر پھر وہ نظر نہ آئے۔“

(ازالة الخفاء ج٢ ص١٦٧، ١٦٨)

مکاشفات عمرؓ میں یہ موجود ہے اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے (فتوحات مکیہ ج١ ص٢٢٣، ٢٢٤، باب نمبر ٣٦) میں اس کی اسناد کو کشفی طور پر صحیح کہا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہو گیا کہ حضرت عمرؓ اور چار ہزار مہاجرین اور انصار صحابہؓ سب کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بقید

صفحہ ٢٩٤

حیات ہیں اور قرب قیامت میں نزول فرمائیں گے۔ ورنہ تمام صحابہؓ واقعہ سن کر اور جنہوں نے دیکھا دیکھ کر یہ فرماتے کہ یہ غلط کہہ رہا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو بنصوص قطعیہ قرآن و احادیث سے ثابت ہے کہ وہ کشمیر میں مر چکے ہیں یہ تو شرکیہ عقیدہ ہے۔ بلکہ تمام صحابہؓ ربیت بن شملہ کی ملاقات کے شوق میں تشریف لے گئے اور سب نے اس کے بیان کو صحیح سمجھا۔

خاندان رسالت کا عقیدہ یعنی امام حسنؓ اور امام زین العابدینؓ اور امام باقرؓ اور امام جعفرؓ اور امام محمد بن الحنفیہؒ سب کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔

.......١ ”عن جعفر عن ابيه عن جده قال قال رسول الله ﷺ....... كيف تهلك امة انا اولها والمهدى وسطها والمسيح اخرها (رواه رزین مشکوٰة ص٥٥٣، باب ثواب هذه الامة، ويسمى مثل هذا السند سلسلة الذهب، ازمرقاۃ ج١١ ص٤٦٧، باب ثواب هذه الامة الفصل الثالث فى حاشيتها)“ حضرت امام جعفرؒ صادق نے اپنے والد حضرت امام محمد باقرؒ سے اور حضرت امام محمد باقرؒ نے اپنے دادا حضرت امام حسنؓ سے روایت کی کہ حضور ﷺ نے فرمایا....... کیونکر ہلاک ہو سکتی ہے یہ امت۔ اس کے اوّل میں ہوں اور درمیان میں مہدی اور آخر میں مسیح علیہم السلام۔ ﴿اس حدیث کی سند کو سلسلۃ الذہب کہا جاتا ہے۔ یعنی سونے کی لڑی۔

.......٢ ”اخرج عبدالله بن حميد وابن المنذر عن شهر بن حوشب وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته عن محمد بن على بن ابى طالب يعنى ابن الحنفيه....... ان عيسى لم يمت وانه رفع الى السماء وهونازل قبل ان تقوم الساعة (درمنثور ج٢ ص٢٤١)“ یعنی محمد بن الحنفیہ حضرت علیؓ کے صاحبزادے اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور وہی اتریں گے۔ قیامت سے پہلے۔﴾

مرزا قادیانی نے جن علماء باللہ پر موت مسیح کا اتہام لگایا ہے وہ سب حیات مسیح کے قائل ہیں۔

صفحہ ٢٩٥

ولكن رسول اللهﷺ وخاتم النبيين وقول رسول اللهﷺ لا نبي بعدى فكيف يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبياً فى الارض حاشا ما استثناه رسول اللهﷺ فى الاثار المسندة الثابتة فى نزول عيسى بن مريم عليهما السلام فى آخر الزمان (كتاب الفصل فى الملل والنحل ج٣ ص ١١٣، ١١٤ طبع بيروت) ”قول باری تعالیٰ ولكن رسول الله وخاتم النبيينﷺ اور حضورﷺ کا فرمان لا نبی بعدی سن کر کوئی مسلمان حضورﷺ کے بعد کسی نبی کے ثبوت کو کیسے جائز تسلیم کرسکتا ہے۔ سوائے نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے آخر زمانہ میں جو رسول اللہﷺ نے احادیث صحیحہ مسندہ میں اس کا استثناء فرمایا ہے۔“

اور لکھتے ہیں کہ: ”واما من قال ان الله عزوجل هو فلان لانسان بعينه او ان الله يحل فى جسم من اجسام خلقه او ان بعد محمدﷺ نبياً غير عيسى بن مريم فانه لايختلف اثنان فى تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا على كل احد (كتاب الفصل فى الملل والنحل ج٢ ص ٢٦٩ طبع بيروت) ”جس شخص نے کسی انسان معین کو کہا کہ یہ اللہ ہے۔ یا کہا کہ اللہ اپنی خلقت کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے۔ یا کہا کہ محمدﷺ کے بعد بھی نبی ہے۔ سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے۔ پس ایسے شخص کی تکفیر میں دو آدمیوں کا اختلاف نہیں۔ کیونکہ ہر ہر بات کے ساتھ ہر ایسے شخص پر حجت قائم ہوچکی ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ علامہ ابن حزمؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں۔ یہ مرزا قادیانی کی کمال دیانت ہے یا خود غرضی میں انہماک ہے کہ بغیر اصل کی طرف رجوع کئے ہوئے ادھر ادھر سے تمسک پکڑتے ہیں۔

یعنی نصاری یکی آنست که جزم میکنند که حضرت عیسیٰ علیه السلام

صفحہ ٢٩٦

مقتول شده است وفى الواقعہ درقصہ عیسیٰ علیہ السلام اشتباہے واقع شده بود رفع برآسمان راقتل گمان کردند وکابراً عن کابر ہماں غلط را روایت نمودند خدا تعالیٰ در قرآن شریف ازالہ شبہ فرمودہ کہ وماقتلوہ وما صلبوہ ولکن شبّہ لھم (فوز الکبیر ص ١١) ”اور شاہ صاحب ترجمہ قرآن میں فلما توفیتنی کے معنی لکھتے ہیں کہ: پس ھر گہ کہ برداشتی مرا!

قد ثبت فى امر المسيح عيسى بن مريم عليه السلام فانه صعد الى السماء وسوف ينزل الى الارض وهذا مما يوافق النصارى عليه المسلمين فانهم يقولون ان المسيح صعد الى السماء ببدنه وروحه كما يقوله المسلمون ويقولون انه سوف ينزل الى الارض ايضاً كما يقوله المسلمون وكما اخبربه النبى ﷺ فى الاحاديث الصحيحة لا كنّ كثيراً من النصارى يقولون انه صعد بعد ان صلب وانه قام من القبر وكثير من اليهود يقولون انه صلب ولم يقم من قبره واما المسلمون وكثير من النصارى فيقولون انه لم يصلب ولا كن صعد الى السماء بلا صلب والمسلمون ومن رافقهم من النصارى يقولون انه ينزل الى الارض قبل القيامة وان نزوله من اشراط الساعة كما دل على ذلك الكتاب والسنة وكثير من النصارى يقولون ان نزوله هو يوم القيامة وانه هو الله الذى يحاسب الخلق

(الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح ج ٤ ص ١٦٩، ١٧٠)“

اور لکھتے ہیں کہ: ”هذا تفسير قوله تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى يؤمن بالمسيح قبل ان يموت حين نزوله الى الارض وحينئذٍ لا يبقى يهودى ولا نصرانى ولا يبقى دين الا دين الاسلام وهذا موجود فى نعته عند اهل الكتاب (ج٣ ص ٣٢٥، فصل الديانات السابقة - بشرت بمحمد والمسيح)“ آدمی کا بدن سمیت آسمان کی طرف صعود عیسیٰ علیہ السلام کے امر میں ثابت ہو چکا۔ کیونکہ وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر زمین پر نازل ہوں گے اور اس عقیدے میں نصاریٰ بھی مسلمان کے موافق ہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کی طرح نصاریٰ بھی کہتے ہیں

صفحہ ٢٩٧

کہ مسیح علیہ السلام ببدنہ وروحہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ پھر زمین پر اتریں گے۔ جیسا کہ حضورﷺ نے احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے۔ لیکن بہت سے نصارٰی کہتے ہیں کہ بعد صلیب کے اٹھائے گئے اور قبر میں سے اٹھے اور بہت سے یہود کہتے ہیں کہ وہ صلیب دئے گئے اور قبر سے نہیں اٹھے۔ لیکن مسلمان اور بہت سے نصارٰی کہتے ہیں کہ وہ ہرگز صلیب پر نہیں لٹکائے گئے۔ بلکہ بلاصلیب آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر مسلمان اور بعض نصارٰی جو مسلمانوں کے موافق ہیں کہتے ہیں کہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامت ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم اور سنت رسول اللہﷺ سے ثابت ہے اور بہت سے نصارٰی کہتے ہیں کہ ان کا نزول ہی قیامت کا دن ہے اور وہی اللہ ہیں جو خلقت سے حساب کتاب لیں گے اور (ج ٣ ص ٣٢٥) میں ہے کہ یہی تفسیر ہے اس قول باری تعالیٰ کی وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ! یعنی مسیح پر ایمان لائیں گے۔ جب وہ زمین پر اتریں گے۔ ان کے مرنے سے پہلے اور اس وقت نہ کوئی یہودی باقی رہے گا اور نہ نصرانی اور نہ کوئی دین باقی رہے گا۔ مگر دین اسلام۔

السماء (هداية الحيارى من اليهود والنصارى ج ٢ ص ٦٣)“ یعنی مسیح علیہ السلام آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔

اور لکھتے ہیں کہ: ”ان المسيح نازل من السماء فيكم بكتاب الله وسنة رسوله (ص ١٠٤)“ یعنی بے شک مسیح آسمان سے تمہارے اندر اتریں گے اور کتاب اللہ وسنت رسول اللہﷺ پر عمل کریں گے۔

اور اسی میں ہے کہ: ”ومسيح المسلمين الذى ينتظرونه هو عبدالله ورسوله وروحه وكلمته القاها الى مريم العذراء البتول عيسى بن مريم اخو عبدالله ورسوله محمد بن عبدالله فيظهر دين الله وتوحيده ويقتل اعداءه عباد الصليب الذين اتخذوه وامه الهين من دون الله واعداءه اليهود الذين رموه وامه بالعظائم فهذا هو الذى ينتظره المسلمون وهو نازل على المنارة الشرقية بدمشق واضعاً يديه على منكبى ملكين يراه الناس عيانا بابصارهم نازلا من السماء فيحكم بكتاب الله وسنة رسوله....... وتعقد الملل كلها فى زمانه ملة واحدة“

صفحہ ٢٩٨

اور دوسری جگہ ہے کہ: ”وان ربه تعالى اكرم عبده ورسوله ونزهه وصانه ان ينال اخوان القردة منه مازعمته النصارى انهم نالوه منه بل رفعه الله اليه مؤيداً منصوراً لم يشكه اعداءه فيه بشوكة ولا نالته ايديهم باذى فرفعه اليه واسكنه سماءه وسيعيده الى الارض ينتقم به من مسيح الضلال واتباعه ثم يكسر به الصليب ويقتل به الخنزير ويعلى به الاسلام ينصر به ملة اخيه واولى الناس به محمد عليه الصلوة والسلام (منقول از عقيدة الاسلام ص ١٠٩ ، ١١٠) ” ﴿اور جس مسیح علیہ السلام کے مسلمان منتظر ہیں وہ وہی ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں۔ جو مریم بتول کنواری کی طرف اس کو ڈالا۔ یعنی عیسیٰ بن مریم حضور رسول اللہ ﷺ کے بھائی وہ دین اور توحید الٰہی کو غلبہ دیں گے اور اللہ کے دشمن صلیب پرستوں کو جنہوں نے ان کو اور ان کی ماں کو اللہ کے سوا معبود بنایا قتل کریں گے اور اللہ کے دشمن یہود کو جنہوں نے ان کو اور ان کی ماں کو بڑے بڑے عیب لگائے۔ یہ ہیں وہ جن کے مسلمان منتظر ہیں اور وہ دمشق کے شرقی منارہ پر دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ لوگ ان کو آسمان سے اترتے ہوئے کھلم کھلا آنکھوں سے دیکھیں گے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر حکم کریں گے ...... اور ان کے زمانہ میں تمام مذہب مٹ کر ایک مذہب اسلام رہ جائے گا۔﴾

﴿ترجمہ عبارت ثانی: بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول کو اکرام دیا اور ان کو یہودی بندروں کے بھائی کی ایذا سے محفوظ رکھا۔ جس کو نصاریٰ نے گمان کیا ہے کہ آپ کو یہود نے ایذا دی بلکہ اللہ نے ان کو مؤید اور منصور اپنی طرف اٹھا لیا کہ دشمن ایک کانٹا بھی نہ چبھو سکے اور نہ ہاتھوں سے کوئی ایذا پہنچا سکے۔ پس اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اپنے آسمان میں ان کو ساکن کیا اور پھر زمین کی طرف لوٹائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے دجال مسیح ضلال اور اس کے گروہ کو ہلاک کر دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور اسلام کو بلند کرے گا اور حضور ﷺ کے مذہب اسلام کو مدد کرے گا۔ ﴾

مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئی اوّل درجہ کی پیشین گوئی ہے اور صحاح ستہ میں مذکور ہے۔ اس کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی

صفحہ ٢٩٩

پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں کہی گئی ہیں کوئی پیشین گوئی اس کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔

(ازالۃ الاوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)

مرزا قادیانی ہی کے اصول مسلمہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہے

مرزا قادیانی ایک عادت الہیہ لکھتے ہیں کہ: ”خدا ان کو موت نہیں دیتا جب تک وہ کام پورا نہ ہو جائے۔ جس کے لئے وہ بھیجے گئے ہیں اور جب تک پاک دلوں میں ان کی قبولیت نہ پھیل جائے تب تک البتہ سفر آخرت ان کو پیش نہیں آتا۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٤٤٨، خزائن ج ٣ ص ٣٣٨)

اور اس سے قبل لکھا ہے کہ: ”گو حضرت مسیح علیہ السلام جسمانی بیماروں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعے سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٣١٠، ٣١١، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨ حاشیہ)

ان دونوں فقروں کے ملانے سے ظاہر ہے کہ چونکہ عیسیٰ علیہ السلام ہدایت کرنے میں ناکام رہے اور عادت الہیہ ہے کہ جب تک وہ کام کہ جس کے لئے وہ بھیجے گئے پورا نہ ہو موت نہیں دی جاتی۔ لہٰذا وہ زندہ ہیں۔ قرب قیامت میں نازل ہو کر ہدایت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اس کے بعد سفر آخرت پیش آئے گا۔ ہاں حضورﷺ چونکہ خاتم النبیین اور کافۃ للناس رسول اللہ ہیں اور حضورﷺ ہی کے احکام قیامت تک رہیں گے اور آپ کی بعثت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی ڈیوٹی ختم ہوچکی۔ لہٰذا اب ان کا ہدایت میں کامیاب کرنے کی یہی صورت ہوسکتی ہے کہ نزول کے بعد بحیثیت خلیفہ نبی صاحب الزمان محمدﷺ کے اپنی قوم کو ان کی تمام شرکیات کو مٹا کر اور کسر صلیب کر کے موحدوں میں داخل فرمادیں اور یہودیت کو بھی فنا کردیں۔

انجیل سے بھی ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام

آسمان پر زندہ اٹھائے گئے اور پھر آئیں گے

کی نظروں سے چھپا لیا اور وہ اس کو آسمان پر جاتے ہوئے تاکتے ہی تھے کہ دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس آکھڑے ہوئے اور بولے اے جلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی

صفحہ ٣٠٠

طرف دیکھتے ہو۔ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے اسی طرح پھر آئے گا ۔“

(انجیل اعمال باب ١ آیات ١١،١٠،٩ کلام مقدس حصہ دوم ص ١٥٢، طبع سوسائٹی آف سینٹ پال روما ١٩٥٨ء)

ہوں ۔“

(انجیل یوحنا باب ١٤ آیت ٢٨ از کلام مقدس حصہ دوم ص ١٤١ طبع ایضا)

ڈالے گا اور اس بناء پر مجھ کو اس بات کا یقین ہے کہ جو شخص مجھے بیچے گا۔ وہ میرے ہی نام سے قتل کیا جائے گا اس لئے کہ اللہ مجھ کو زمین سے اوپر اٹھائے گا اور بے وفا کی صورت بدل دے گا۔ یہاں تک کہ ہر ایک خیال کرے گا کہ میں ہوں۔ مگر جب مقدس محمد رسول اللہ ﷺ آئے گا وہ اس بدنامی کے دھبہ کو مجھ سے دور کر دے گا۔“

(انجیل برنباس ص ٢١٨، باب ١١٢ آیت ١٤،١٣، ١٥، ١٦، کشمیر بک ڈپو منٹگمری ١٩١٦ء)

عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کا نزول احادیث متواترہ سے ثابت ہے

خبر متواترہ وہ خبر ہے۔ جس کے نقل کرنے والوں کی تعداد اس کثرت سے پائی جائے کہ ان کی کثرت و حیثیت کو دیکھ کر عقل کو یہ گنجائش نہ ہو کہ ان سب کا جھوٹ پر متفق ہو جانا تسلیم کرلے۔ مثلاً بغداد کو ہم نے دیکھا نہیں۔ سکندر و دارا کو ہم نے دیکھا نہیں۔ لیکن ان کے وجود کا علم بوجہ خبر متواتر یقینی اور قطعی ہے۔ اسی طرح حدیث متواتر کو سمجھنا چاہئے کہ جس حدیث کو آنحضرت ﷺ سے روایت کرنے والے آپ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک اس کثرت سے ہوں کہ ان کا کسی خلاف واقعہ بات پر اتفاق کر کے جھوٹ بولنا محال ہو وہ حدیث متواتر ہے۔ اس کے کلام نبوی ہونے کا یقین بالکل بدیہی ہوتا ہے اور اسی لئے تمام امت کا اجماعی فیصلہ ہے کہ حدیث متواترہ پر ایمان لانا قرآن کی طرح فرض اور اس کا انکار کفر صریح ہے۔ کیونکہ وہ در حقیقت ایک حدیث کا انکار نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار اور آپ کے صدق و دیانت پر حملہ ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں ہو سکتا کہ آپ کے حلیہ شریف اور آپ کی جسمانی کیفیات پر ایمان لائے۔ بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں ہو سکتا کہ ان کے ہر قول پر جو یقیناً معلوم ہو جائے کہ نبی نے فرمایا ہے۔ یقین کرے۔ اس میں کوئی شک بھی نہ کرے۔ اس کے بعد یہ معلوم کر

صفحہ ٣٠١

لینا کوئی دشوار نہیں کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متواتر المعنی ہیں چنانچہ حضرت مولانا مولوی انور شاہ صاحب کشمیری صدر المدرسین مدرسہ عالیہ دیوبند نے رسالہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح میں ٧٣ حدیثیں اور ١٢٧ آثار صحابہؓ حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات و نزول کے متعلق لکھی ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے چند حدیثیں یہاں بیان کرتا ہوں۔

آسمان سے اتریں گے

"عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل اخی عیسیٰ بن مریم من السماء (کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩، حدیث نمبر ٣٩٧٢٦)“ ”ابن عباسؓ نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میرا بھائی عیسیٰ علیہ السلام مریم علیہا السلام کا بیٹا آسمان سے اترے گا۔“

"عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم من السماء وامامکم منکم (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ٤٢٤)“ ”ابو ہریرہؓ نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تمہارا کیا ہی حال ہوگا۔ جب کہ تمہارے اندر مریم علیہا السلام کے بیٹے آسمان سے اتریں گے درانحالے کہ تمہارا امام بعض تمہارا ہوگا۔ (یعنی امام مہدی)“

اس حدیث ابو ہریرہؓ میں یہ بھی ہے کہ: ”اذ انزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم (بخاری ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام . ابوداؤد ترمذی ج ٢ ص ٤٧، باب ماجاء فی نزول عیسیٰ بن مریم)“

نزول کا معنی

اور دیگر بعض احادیث میں ینزل فیکم ابن مریم وغیرہ الفاظ ہیں۔ لیکن نزول کے معنی بالکل رفع کے خلاف ہیں۔ جو آیت رفعہ اللہ الیہ میں ہے۔ کیونکہ اس کے مقابلہ میں ہے۔ پس اگر رفع کے معنی بقول مرزا قادیانی رفع عزت ہے تو یہاں نزول کے معنی نزول ذلت ہوں گے معاذ اللہ ! ..... اور اگر رفع کے معنی رفع جسمانی ہے تو نزول سے بھی مراد نزول جسمانی ہے۔ لہٰذا سب جگہ نزول من السماء ہی مراد ہے اور امامکم منکم کے معنی یہ بھی

صفحہ ٣٠٢

ہو سکتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام تمہارے امام ہوں گے۔ تم میں سے ہو کر یعنی قرآن وسنت کی اقتداء کریں گے۔ لیکن مرزائی معنی کہ تم میں پیدا ہوں گے۔ اس کا سوائے خود غرضی کے اور کوئی منشاء صحیح نہیں ۔ کیونکہ ”قد انزلنا علیکم لباسا (اعراف:٢٦)“ اور ”و انزلنا الحدید (حدید:٢٥)“ اور ”انزل لکم من الانعام ثمانیۃ ازواج (الزمر:٦)“ وغیرہ سب میں یہ مطلب ہے کہ ہم نے اس چیز کو اتارا جو پیدائش رزق یا لباس یا لوہا یا چار پائے وغیرہ کے اسباب ہیں۔ جیسے اردو کا محاورہ ہے کہ جب پانی برستا ہے تو کہتے ہیں اناج برس رہا ہے۔ (تفسیر کبیر دیکھو)

اور حدیث میں دجال کے متعلق جو ینزل آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ احد کے پیچھے اپنے گدھے سے اتر کر ٹھہرے گا۔ منزل کو منزل بھی اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ اکثر مسافر اپنی سواری سے اپنے سامان کو اتارتے ہیں۔ ”قد انزل اللہ الیکم ذکراً رسولاً (طلاق:١٠)“ میں اوّل ذکر مصدر رسولاً اس کا مفعول ہے۔ یعنی ذکر رسول اللہ ﷺ کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا یا ذکر سے مراد قرآن یا جبرائیل علیہ السلام ہے اور رسول اللہ ﷺ اس سے بدل ہے۔ یا ”انزل اللہ ذکراً وارسل رسولا (کشاف ج٤ ص٥٦٠، کبیر ج٣٠ ص٣٨، بیضاوی ج٢ ص٣٨٣)“

اور پھر یہ نزول رفع کے مقابلہ میں واقع نہیں ہے اور نہ نزول کی وہ صورت ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے لئے حدیث صحیح میں ہے کہ دمشق کے مشرقی منارہ سفید پر دو چادریں پہنے ہوئے دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے زمین پر اتریں گے۔

زمین پر اتر کر ٤٠، ٤٥ برس زندہ رہیں گے

مدینہ طیبہ میں حضور ﷺ کے پاس دفن کئے جائیں گے

عیسیٰ بن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکرؓ وعمرؓ (رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء ص ٨٣٢ باب فی حشر عیسیٰ بن مریم مع نبینا، مشکوۃ ص٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)“ عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ عیسیٰ علیہ السلام بیٹا مریم علیہا السلام کا زمین پر اترے

صفحہ ٣٠٣

گا۔ پس نکاح کرے گا اس کے اولاد ہوگی ۔ ٤٥ برس رہیں گے پھر مریں گے۔ میرے قبرستان میں میرے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ بن مریم ایک ہی قبرستان سے ابوبکرؓ و عمرؓ کے بیچ میں اٹھیں گے۔﴾

تاریخ الخمیس جلد اوّل کے ص ٣٦ پر ہے کہ: ”وفی ربیع الابرار عن ابی ھریرۃؓ عن النبی ﷺ اذا اهبط الله عيسى فانه يعيش فى هذه الامة ماشاء الله ثم يموت بمدينتى هذه ويدفن الى جانب قبر عمرؓ فطوبى لا بى بكرٍ وعمرؓ فانهما يحشران بين نبيين٠ انتهیٰ“

”واخرج البخارى فى تاريخه والطبرانى عن عبدالله بن سلام قال يدفن عيسىٰ بن مريم مع رسول الله وصاحبيه فيكون قبره رابعاً (درمنثور ج٢ ص٢٤٠، مجمع الزوائد ج٨ ص٢٠٩) “ ﴿بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی نے عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صاحبینؓ (ابوبکرؓ اور عمرؓ) کے ساتھ دفن کئے جائیں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔﴾

اور ترمذی میں ہے کہ: ”عن عبدالله بن سلام مكتوب فى التوراة صفة محمد وعيسىٰ بن مريم يدفن معه وقال ابومودود وقد بقى فى البيت موضع قبر (ترمذی ج٢ ص٢٠٢، ابواب المناقب) “ ﴿عبداللہ بن سلام سے ہے کہ حضور ﷺ کی صفت تورات میں لکھی ہوئی ہے اور عیسیٰ بن مریم حضور ﷺ کے پاس مدفون ہوں گے اور ابو مودود نے کہا کہ گھر میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔﴾

٤....... (منتخب کنز العمال برحاشیہ مسند امام احمد ج٦ ص٥٧ اور کنز العمال ج١٤ ص٢٢٠، حدیث نمبر ٣٩٧٢٨) میں حدیث ہے کہ حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ مجھ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ پس آپؐ اجازت فرمادیں کہ آپؐ کے پہلو میں دفن کی جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس سوائے میری قبر اور ابوبکرؓ وعمرؓ وعیسیٰ بن مریم کی قبر کے کسی کی گنجائش نہیں۔

نوٹ! حضرت عائشہؓ کی زندگی میں ان کے حجرے میں تین ہی چاند گرے۔ لہٰذا حضرت عائشہؓ کا خواب یہی صحیح ہے۔ لیکن عیسیٰ علیہ السلام عائشہؓ کے انتقال کے سینکڑوں برس بعد مدفون ہوں گے۔ جب کہ حجرہ عائشہؓ نہ ہوگا۔ کیونکہ نسبت ملکیت ان کی زندگی تک ہے۔ فافہم!

صفحہ ٣٠٤

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک مرے نہیں

دوبارہ خود تشریف لائیں گے پھر مریں گے

امهاتهم شتی ودینهم واحد وانا اولی الناس بعیسی بن مریم لانه لم یکن نبی بینی وبینه وانه نازل (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٥، مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧)“ ﴿ حضورﷺ نے فرمایا کہ تمام انبیاء علیہم السلام آپس میں علاّتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہے۔ یعنی فروعات میں اختلاف ہے اور اصول سب کے متحد ہیں اور میں عیسیٰ بن مریم سے زیادہ قریب ہوں۔ کیونکہ ان کے درمیان اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہ نازل ہوں گے ۔ ﴾

اتوا النبیﷺ فخاصموا النبیﷺ الی ان قال الستم تعلمون ان ربنا حیّ لا یموت وان عیسی یأتی علیه الفنا (تفسیر درمنثور ج ٢ ص ٣، تفسیر کبیر ج ٧ ص ١٦٦، تفسیر ابی السعود ج ٢ ص ٣)“ ﴿ ربیع سے روایت ہے کہ نصاریٰ وفد نجران حضورﷺ کی خدمت میں آئے اور حضورﷺ سے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جھگڑا کیا۔ یہاں تک کہ آپؐ نے ان سے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب حی لا یموت ہے اور عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی ۔ ﴾

السلام لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة (تفسیر ابن کثیر بسند صحیح ج ٢ ص ٤٠)“ ﴿ حسنؓ نے کہا کہ حضورﷺ نے یہود سے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے ۔ ﴾

ف : حضرت حسن بصری کی مراسیل معتبر ہیں ۔ کیونکہ سوال کرنے پر انہوں نے فرمایا تھا کہ : ”انی فی زمان کما تریٰ وکان فی عمل الحجاج سمعتنی کل شئ اقول قال رسول اللهﷺ فهو عن علیّ بن ابی طالب غیرانی فی زمان لا استطیع

صفحہ ٣٠٥

ان انکر علیاً (خلاصۃ التھذیب حاشیہ ص٧٧) ”یعنی ہر حدیث جس میں بلاواسطہ صحابی کے قال رسول اللہ ﷺ کہوں وہ حدیث حضرت علیؓ سے ہے۔ لیکن سلطنت موجودہ حضرت علیؓ کے سخت مخالف ہے اور سخت فتنہ کا زمانہ ہے۔ اس وجہ سے علیؓ کا نام نہیں ذکر کرتا اور وہ زمانہ حجاج اور مروان کا تھا۔

دمشق کے مشرقی منارہ کے پاس اتریں گے

اللہ المسیح بن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء الشرقی دمشق بین مھروذتین واضعاً یدیہ علی اجنحۃ ملکین (مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال، ترمذی ج٢ ص٤٨، باب ماجاء فی فتنۃ الدجال، ابوداؤد ج٢ ص١٣٥، باب خروج الدجال، ابن ماجہ ص٢٩٧، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم) ”نواس بن سمعان سے ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ مسیح بیٹے مریم کو بھیجے گا۔ پس وہ دمشق کے مشرقی منارے سفید کے پاس دو چادریں اوڑھے ہوئے دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے اور اسی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بعد نزول کے یہ معجزہ عطا کیا جائے گا کہ ان کے منہ کی ہوا سے کافر مرجائیں گے اور منہ کی ہوا حد بصر تک پہنچے گی۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت امام مہدی محمد بن عبداللہ

نماز پڑھاتے ہوں گے

من امتی یقاتلون علی الحق ظاھرین الی یوم القیامۃ قال فینزل عیسیٰ بن مریم فیقول امیرھم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ اللہ تعالیٰ ھذہ الامۃ (مسلم ج١ ص٨٧، باب نزول عیسیٰ بن مریم، مشکوۃ ص٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) ”جابرؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک طائفہ ہمیشہ حق پر لڑتا رہے گا۔ قیامت تک غالب رہے گا۔ فرمایا پھر عیسیٰ علیہ السلام مریم علیہا السلام کا بیٹا اترے گا۔ مسلمانوں کا امیر کہے گا۔ آئیے نماز پڑھائیے جواب دیں گے کہ نہیں اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ بزرگی دی ہے کہ تمہارا بعض پر بعض امیر ہو۔“

PDF 306

ف: یہ جملہ ایک فائدہ زائدہ کے لئے فرمایا ہے کہ یہ امت اپنی ولایت پر ہے اور میں خود بھی امتی ہو کر آیا ہوں ۔ اس کو عملاً ظاہر کرنے کے لئے اس وقت امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور زبان سے بھی ظاہر فرمادیں گے ۔ اس کے بعد پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام نماز ہوں گے ۔

عيسى بن مريم عليهما السلام فرجع ذلك الامام يمشى القهقرى لتقدم عيسىٰ فيضع يده عيسىٰ بين كتفيه ثم يقول تقدم فصل فانها لك اقيمت فيصلى بهم امامهم (ابن ماجه ص٢٩٨، باب فتنة الدجال وخروج عيسىٰ بن مريم)“ مسلمانوں کا امام ایک مرد صالح ہوگا۔ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے گا۔ اچانک عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ وہ امام پچھلے قدم لوٹے گا ۔ تاکہ عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھیں ۔ پس عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ امام علیہ السلام کی پیٹھ پر رکھیں گے پھر کہیں گے آگے بڑھئے نماز پڑھائیے ۔ تمہارے لئے اقامت کہی گئی ہے۔ پس وہ امام نماز پڑھائیں گے ۔ ﴾

القارى ج ٧ ص ٤٥٣ وفى كتاب الفتن لابی نعيم ج ٢ ص ٥٧٧ ، حدیث نمبر ١٦١٤، باب نزول عيسىٰ بن مريم عليه السلام) “ ابو نعیم نے کتاب الفتن میں کعب سے یہی حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اس کے بعد پھر عیسیٰ علیہ السلام امام ہوں گے ۔ ﴾

الصلوٰة فينزل عيسىٰ بن مريم فيؤمهم (مسلم ج ٢ ص ٣٩٢ ، کتاب الفتن واشراط الساعة، ابن كثير ج ٢ ص ٤٠٦) “ جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی اس وقت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے۔ پھر مسلمانوں کی امامت فرمائیں گے ۔ ﴾

ف : یہاں امامت کبریٰ مراد ہے ۔ کیونکہ اس امت میں اماماً عادلاً ہوں گے اور اگر امام نماز مراد لی جائے تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔ کیونکہ حدیثوں سے ثابت ہو چکا ہے کہ مہدی کا نماز پڑھانا صرف ایک ہی وقت ہوگا۔ وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ عین نماز پڑھانے کی حالت میں تشریف لائیں گے اور قولاً و فعلاً اس امت کو اپنی ولایت پر ہونا ثابت کرنا منظور ہوگا ۔ تو اس کو کالعدم شمار کیا گیا ۔ لہٰذا اس کا ذکر نہیں کیا اور پھر عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ نماز پڑھائیں گے تو فرمایا فيؤمهم!

كيف تهلك امة انا اولها والمهد رزین مشکوٰة ص ٥٨٣، باب ثواب حضرت امام محمد باقر سے اور انہوں نے فرمایا کیوں کر ہلاک ہو سکتی ہے امت ا علیہ السلام ۔ ﴾ اس حدیث کی سند کو سلم

ف: اس حدیث میں بھی ظا نزول فرمانے کے بعد حج بھی

بيده ليهلن ابن مريم بفج الحج ج ١ ص ٤٠٨، باب جواز ا اللہ ﷺ نے قسم ہے اس ذات کی ج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام

عدلاً واماماً مقسطاً ويـ قبرى حتىٰ يسلم علىٰ و ص ٢٠٥، در منثور ج ٢ ص ٥ نمبر ٤٢١٨، باب هبوط عیسیٰ مرفوعاً روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ اتریں گے اور ضرور حج یا عمرہ کے تک کہ مجھ پر سلام کہیں گے اور میں نزول کے بعد حضرت گے۔ سوائے دین اسلام کے سب قتل کا حکم دیں گے اور مال بہتا دجال کو مقام لد کے قریب قتل کر سے سب ہلاک ہو جائیں گے ۔

صفحہ ٣٠٧

كيف تهلك امة انا اولها والمهدى وسطها والمسيح عليه السلام أخرها (رواه رزين مشكوة ص ٥٨٣، باب ثواب هذه الامة)“ ﴿حضرت امام جعفر صادقؒ نے اپنے والد حضرت امام محمد باقرؒ سے اور انہوں نے اپنے دادا حضرت امام حسنؓ سے روایت کی کہ حضور ﷺ نے فرمایا کیوں کر ہلاک ہو سکتی ہے امت اس کے اول میں ہوں اور درمیان میں مہدی اور آخر میں مسیح علیہ السلام۔﴾ اس حدیث کی سند کو سلسلۃ الذہب کہا جاتا ہے۔ یعنی سونے کی لڑی۔ ف: اس حدیث میں بھی ظاہر ہے کہ مہدی اور مسیح علیہ السلام الگ الگ ہستیاں ہوں گی۔

نزول فرمانے کے بعد حج بھی کریں گے

بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجاً أو معتمراً أوليثنينهما (مسلم كتاب الحج ج١ ص٤٠٨، باب جواز التمتع فى الحج والقرآن)“ ﴿ابوہریرہؓ نے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ مریم علیہا السلام کا بیٹا فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔﴾

عدلاً واماماً مقسطاً ويسلكن فجاً حاجاً او معتمراً أو يثنيهما وليأتين قبرى حتى يسلم على ولاردن عليه (عون المعبود شرح أبى داؤد ج٤ ص٢٠٥، درمنثور ج٢ ص٢٤٥، الحاكم فى المستدرك ج٣ ص٤٩٠، حديث نمبر ٤٢١٨، باب هبوط عيسى عليه السلام وقتل الدجال)“ ﴿حاکم نے ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ضرور عیسیٰ بن مریم امام اور حاکم عادل ہو کر اتریں گے اور ضرور حج یا عمرہ کے لئے رستہ چلیں گے اور ضرور میری قبر پر آئیں گے۔ یہاں تک کہ مجھ پر سلام کہیں گے اور میں ان کو سلام کا جواب دوں گا۔﴾

نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام جہاد فرمائیں گے اور کفار سے قتال کریں گے۔ سوائے دین اسلام کے سب دین فنا ہو جائیں گے۔ صلیب کے توڑنے کا اور خنزیر کے قتل کا حکم دیں گے اور مال بہتا بہتا پھرے گا۔ کوئی زکوٰۃ کا مال قبول کرنے والا نہ ملے گا اور دجال کو مقام لد کے قریب قتل کریں گے اور ان کے زمانہ میں قوم یاجوج ماجوج ان کی بددعا سے سب ہلاک ہو جائیں گے۔

صفحہ ٣٠٨

١٦...... ”(اخرج البخاری ج١ ص٤٩٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، مسلم ج١ ص٨٧، باب نزول عیسیٰ بن مریم، والترمذی ج٢ ص٤٧، باب ماجاء فی نزول عیسیٰ بن مریم) عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما مقسطاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ اویضع الحرب ویفیض المال حتیٰ لا یقبلہ احد صدقتہ (مشکوٰۃ ص٤٦٥، باب الملاحم و زکوٰۃ مالہ، مشکوٰۃ ص٤٦٩، باب اشراط الساعۃ) حتیٰ تکون السجدۃ الواحدۃ خیراً من الدنیا ومافیھا ثم یقول ابوھریرۃؓ اقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (مشکوٰۃ ص٤٧٩، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)“

لفظ اقرؤا ان شئتم مرفوع بھی ہے۔ ”عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ یوشک ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلا یقتل الدجال ویقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویضع الجزیۃ ویفیض المال وتکون السجدۃ واحدۃ للّٰہ رب العالمین قال ابوھریرۃ اقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ موت عیسیٰ بن مریم ثم یعیدھا ابوھریرۃ ثلاث مرات (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠٤، درمنثور ج٢ ص٢٤٢)“ ”ابو ہریرہؓ نے کہا کہ فرمایا رسول اللّٰہ ﷺ نے کہ قسم ہے۔ اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ عنقریب تمہارے اندر ابن مریم حاکم عادل ہو کر اتریں گے۔ صلیب کے توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا حکم دیں گے اور جزیہ کو موقوف کریں گے یا لڑائی کو موقوف کر دیں گے۔ کیونکہ کوئی کافر ہی نہ رہے گا۔ کما قال اللّٰہ تعالیٰ تضع الحرب اوزارھا ! اور مال بہتا بہتا پھرے گا۔ کوئی صدقہ اور زکوٰۃ قبول کرنے والا نہ ملے گا۔ جو مال کی زکوٰۃ قبول کرے اور دجال کو بھی قتل کریں گے۔ یہاں تک کہ ایک اللہ ہی کے لئے سجدہ ہو گا اور ایک سجدہ دنیا اور مافیھا سے بہتر ہوگا۔ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کہ ہر اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے گا۔ پھر ابو ہریرہؓ اس کو تین دفعہ دہراتے ۔﴾

ف: حضرت عیسیٰ علیہ السلام بذاتہ بھی صلیب کو اسی طرح توڑ سکتے ہیں۔ جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بتوں کو توڑا تھا۔ مگر یہاں اسناد اولی الامر کی بنا پر فرمایا گیا ہے۔ بنی الامیر المدینۃ کی طرح جو ہر زبان کا عام محاورہ ہے۔ یعنی نصرانیت کے

صفحہ ٣٠٩

مٹانے کی غرض سے صلیب کو توڑنے کا اور خنزیر کے قتل کا حکم دیں گے۔ جیسے حضور ﷺ نے کتوں کو قتل کرایا تھا۔ چونکہ مرزا قادیانی کو عوام مسلمانوں کا اغواء ہی مقصود ہے۔ خود ہی مطلب بناء کر حضور ﷺ کی حدیث صحیح پر تمسخر اڑاتے ہیں کہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے۔ معاذ اللہ! کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ اب تک کسی مسلمان نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا ہے۔ جس پر یہ تمسخر اڑایا جاتا ہے۔

١٧....... ”عن ابی ھریرة مرفوعاً لیس بینی وبینہ نبی یعنی عیسٰی وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرة والبیاض بین الممصرتین کأن راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علی الاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الا الاسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنة ثم یتوفی فیصلی علیہ المسلمون (اخرج ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥، باب خروج الدجال)“ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ عیسٰی علیہ السلام اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں اور تحقیق وہی اتریں گے۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لو کہ وہ ایک آدمی متوسط قد سرخ سفید دو زرد چادریں اوڑھے ہوئے اتریں گے۔ گویا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ اگرچہ ان کو پانی نے نہیں مس کیا ہوگا۔ پس لوگوں سے اسلام پر مقاتلہ اور جہاد کرے گا۔ صلیب کو توڑے اور خنزیر کو قتل کرنے کا حکم دے گا اور جزیہ کو موقوف کردے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں تمام ملل کو ہلاک کردے گا۔ سوائے اسلام کے یعنی جب تمام مذاہب اسلام کے سوا ہلاک ہو جائیں گے تو جزیہ کس سے لیا جائے گا۔ یہی وضع جزیہ کے معنی ہیں یا پہلے بوجہ کثرت مال مسلمانوں کو جزیہ لینے کی حاجت نہ ہوگی۔ اس وجہ سے جزیہ موقوف کر دیا جائے گا۔ پھر سب مسلمان ہی رہ جائیں گے اور ان کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ پس وہ زمین میں چالیس برس رہیں گے۔ پھر وفات دیئے جائیں گے۔ مسلمان ان پر نماز پڑھیں گے۔ ﴾

ف: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ نازل ہونے والے مسیح علیہ السلام کا حلیہ سرخ سفید ہوگا اور سیدھے بال والے ہوں گے۔ ”کما جاء فی حدیث مسلم رأیت عیسٰی بن مریم مربوع الخلق الی الحمرة والبیاض سبط الرأس (مسلم ج ١ ص ٩٦، باب الاسراء برسول، بخاری ج ١ ص ٤٥٩، باب اذا قال احدکم آمین والملائکة فی السماء)“

صفحہ ٣١٠

اور دوسری حدیث (بخاری ج١ ص٤٨٩، باب قول الله عزوجل واذكر فى الكتاب مريم) میں فاحمر جعد عريض الصدر ہے۔ یہاں جعد جعودة الجسم سے مشتق ہے۔ یعنی سرخ رنگ پر گوشت چوڑے سینے والے اور ایک روایت (مسلم ج١ ص٩٦، باب الاسراء برسول الى السموات وفرض الصلوت) میں آدم حسن ماترى من ادم الرجال ...... رجل الشعر ہے۔ یعنی گندمی رنگ تمام گندمیوں سے احسن اور سیدھے بال، ظاہر ہے کہ ان دونوں حلیوں میں ہرگز اختلاف نہیں۔ جب تمام گندمیوں سے احسن ہوں گے تو وہ احمر ہی ہوں گے۔ یعنی سرخ سفید مگر اس میں سفیدی بہق نہ ہوگی۔ بلکہ ملاحت کے ساتھ مائل الى الادمتہ ہوگی۔ اسی لئے تمام گندمیوں سے احسن ہوں گے نہ بالکل مرزا قادیانی کی طرح پنجابی گندمی وہ بھی معمولی ، اور جعد کے معنی یہاں پر گھنگروالے بال غلط ہیں۔ اگر بالفرض جعد کے معنی گھنگروالے بال مراد لئے جائیں تو بھی کچھ اختلاف نہیں۔ کیونکہ نہ ایسے سیدھے ہی بال ہیں اور نہ بالکل گھنگروالے۔ لہٰذا دونوں صادق آسکتے ہیں اور اس اختلاف سے یہ استدلال غلط ہے کہ جن کے حلیہ میں راویوں کے اختلاف بیان کی وجہ سے اختلاف ہو وہ دو یا تین شخص سمجھے جائیں اس طرح تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی دو ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ابن عباسؓ والی حدیث میں ان کے حلیہ میں جعد مذکور ہے۔

(بخاری ج١ ص٣٧٣ اور مسلم ج١ ص٩٦،٩٥،٩٤، بــاب الاســراء بـرسـول ﷺ الى السموات وفرض الصلوت اور ذكر الانبياء) میں جو حدیث ہے۔ اس میں رجل الشعر ہے۔ (بخاری ج١ ص٤٨١، باب قول الله عزوجل وهل اتاك حديث موسى، عن ابن عمر سبط الراس ج١ ص٤٨٩، باب قول الله عزوجل واذكر فى الكتاب مريم عن ابى هريرة، مسلم ج١ ص٩٥، باب الاسراء برسول الله ﷺ الى السموات وفرض الصلوت) تو کیا اس اختلاف سے حضرت موسیٰ علیہ السلام دو ہوگئے۔ ہرگز نہیں تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کیسے دو ہوگئے۔

١٨...... ”(اخرج احمد ج١ ص٣٧٥ وابـن مـاجـه ص٢٩٩، بـاب فتنة الـدجـال وخـروج عيسى بـن مريـم وصححه الحاكم ج٣ ص١٤٠، حديث نمبر٣٥٠٠، مذاكرة الساعة بين الانبياء فى ليلة الاسراء فى الفتح ج٢ ص٣٨٤) عـن ابـن مسعـودؓ عــن رســـول الله ﷺ قــال لـقـيـت لـيـلـة اســـرى بـى ابـراهـيـم ومـوسـى وعـيسـى عليهم السلام فتذاكروا امر الساعة فردوا امرهم الى ابراهيم فقال لا علم لى

صفحہ ٣١١

بها فردوا امرهم الى موسى فقال لا علم لى بها ٠ فردوا امرهم الى عيسى فقال اما وقتها فلا يعلم بها احد الا الله وفيما عهد الیّ ربی عزوجل ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا رانى ذاب كما يذوب الرصاص (وفی ابن ماجه ص ٢٩٩، باب ایضاً فذكر خروج الدجال) قال فانزل فاقتله فيرجع الناس الى بلادهم قال يهلكه الله اذا رانى حتى ان الشجر والحجر يقول يا مسلم ان تحتى كافر فتعال فاقتله فيهلكهم الله ثم يرجع الناس الى بلادهم واوطانهم فعند ذالك يخرج ياجوج وماجوج (تفسیر ابن كثير ج ٢ ص ٤٠٦)‘‘

﴿ عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں معراج کی رات ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملا اور قیامت کے متعلق ذکر کیا۔ پہلے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا۔ انہوں نے کہا مجھ کو اس کا علم نہیں۔ پھر یہ امر موسیٰ علیہ السلام کے حوالہ کیا گیا۔ انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔ پھر آخر میں یہ امر عیسیٰ علیہ السلام پر ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا قیامت کے واقع ہونے کا اصل علم تو خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ مگر میرے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ جب دجال نکلے گا تو میں اتر کر اسے قتل کروں گا اور میرے ساتھ دو قطع کرنے والی تلواریں ہوں گی اور وہ مجھ کو دیکھ کر رانگے کی طرح پگھلے گا۔ یہاں تک کہ شجر و حجر بول اٹھیں گے کہ اے مسلم میرے نیچے کافر چھپا ہوا ہے۔ آ قتل کر! پس اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کر دے گا۔ پھر لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ پھر اسی زمانہ میں قوم یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا ”فيرغب نبى الله عيسىٰ واصحابه الى الله فيرسل الله عليهم اى ياجوج وماجوج النغف فى رقابهم فيصبحون فرسى كموت نفس واحدة (مسلم ج ٢ ص ٤٠٢، باب ذكر الدجال)‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی دعا مانگیں گے۔ پس اللہ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا۔ جس سے وہ نفس واحدہ کی طرح مر جائیں گے۔”فـاذا راه عـدو الله ذاب كمـا يـذاب الملح فى الماء فلو تركه لا نذاب حتى يهلك ولا كن يقتله الله بيده فيريهم دمه فى حربته (مشكوة ص ٤٦٦، باب الملاحم، مسلم ص ٣٩٢، کتاب الفتن واشراط الساعة) “یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام کو دجال، اللہ کا دشمن دیکھے گا تو ایسا پگھلے گا جیسے نمک پانی میں اگر ویسے ہی چھوڑ دیں تو پگھل کر ہلاک ہو جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔ پس مسلمانوں کو نیزے میں اس کا خون لگا ہوا دکھائیں گے۔ ﴾

صفحہ ٣١٢

ف: معلوم ہوا کہ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے اپنے ہاتھ سے دجال کو قتل فرمائیں ورنہ وہ تو ویسے بھی نفس کے معجزے سے ہلاک ہوجاتا۔ جیسا کہ پہلے قادر مطلق عز شانہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نفس میں احیاء موتی کا معجزہ ظاہر فرمایا تھا۔ اسی طرح بعد نزول، اماتت کفار کا معجزہ ان کے نفس سے ظاہر فرما کر اپنی قدرت کاملہ ظاہر فرمائے گا۔

الله ﷺ يقول يقتل ابن مريم الدجال بباب لد (وفی الباب عن عمران بن حصین ونافع بن عتبة وابی برزة وحذيفة بن اسيد وابى هريرة وكيسان وعثمان بن ابی العاص وجابر وابي امامه وابن مسعود وعبدالله بن عمر وسمرة بن جندب والنواس بن سمعان وعمر بن عوف وحذيفة بن اليمان هذا حديث صحيح ترمذی ج٢ ص٤٠٩، باب ماجاء فی قتل عیسی بن مریم الدجال)“ ﴿مجمع بن حارثہ الانصاری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ فرماتے تھے کہ ابن مریم باب لد کے قریب دجال کو قتل کریں گے اور اس باب میں ١٥ دیگر صحابہؓ سے بھی روایت ہے۔﴾

الله ﷺ عصابتان من امتی حرزهما الله من النار عصابة تغزو الهند وعصابة تكون مع عيسى بن مريم عليهما السلام (نسائی ج٢ ص٥٢، کتاب الجهاد غزوة الهند)“ ﴿ثوبانؓ مولی رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ میری امت کے دو جماعتوں کو دوزخ سے محفوظ رکھے گا۔ ایک وہ جماعت جو ہند پر غزوہ کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوگی۔﴾

ف: خلفاء اربعہ اور صحابہؓ کے اجماع میں دو حدیثیں ایک (مشكوة ص٤٧٨، ٤٧٩) میں متفق علیہ حدیث بخاری ومسلم سے اور شرح السنہ سے اور دوسری (مسلم ج٢ ص٢٩٣ وابوداؤد ج٢ ص٢٤٤) سے نقل کرچکا ہوں۔

نزول عیسیٰ علیہ السلام کے منکر کا شرعی حکم

بحث ما تقدم سے خوب واضح ہوچکا ہے کہ قرآن کریم کی کئی آیات سے حیات ونزول مسیح علیہ السلام منصوص قطعی ہے اور جس قدر آیات میں احتمالات رکیکہ نکالے جاتے ہیں۔ سب مدفوع ہیں۔ اگر بالفرض ہم ان آیات کو محتمل المعانی بھی مان لیں تو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔ کیوں کہ احادیث متواترہ اور اجماع صحابہؓ اور اجماع امت سے یہ آیات اپنے معنی منصوصہ میں قطعی الدلالۃ ہوگئیں ۔ یعنی حیات ونزول عیسیٰ عل الدلالۃ نہیں۔ لیکن احادیث متواترۃ ا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء آیت بل رفعہ اللہ الیہ (نس عمران:٥٥) وغیرہ کی تفسیریں ہیں او

الكتاب او خص حديثا م ظاهره (شفاء ج٢ ص٢٤٧، ف شخص کی تکفیر پر بھی اجماع واقع ۔ کرے جس کے نقل پر اجماع قطعی ہ

شياً مجمع عنده بالاجماع ان ص٢٧٥، فصل الكلام فيمن يكف ایسی شے کا انکار کیا جو ہمارے نزدی کافر ہوگیا ۔ ﴾

بالكتاب والسنة وزعمت انه رفع بجسده الى السماء (یواقیت ج٢ ص١٤٦) ” ﴿جو ثابت ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ ان کو بجسده آسما رفعہ اللہ الیہ ۔ ﴾

فيه الاخبار ولعلها با قول ووجب الايمان بـ السلام اخر الزمان لا ذ

صفحہ ٣١٣

ہوگئیں۔ یعنی حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام قرآن مجید سے قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ ہے قطعی الدلالۃ نہیں۔ لیکن احادیث متواترۃ المعنی جو سب دراصل آیت وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩) اور آیت انه لعلم للساعة (زخرف: ٦١) اور آیت بل رفعه الله اليه (نساء: ١٥٨) اور آیت انی متوفيك ورافعك الى (آل عمران: ٥٥) وغیرہ کی تفسیریں ہیں اور اجماع امت سے قطعی الدلالۃ بھی ہوگیا۔

الكتاب اوخص حديثا مجمعاً على نقله مقطوعا به مجمعا على عمله على ظاهره (شفاء ج٢ ص٢٤٧، فصل فی بیان ماهو من المقالات كفر)“ ﴿اور ایسے ہی اس شخص کی تکفیر پر بھی اجماع واقع ہے جو نص قرآن کی مدافعت کرے یا ایسی حدیث کی تخصیص کرے جس کے نقل پر اجماع قطعی ہو۔ اس کے ظاہر معنی پر عمل کرنے پر اتفاق ہو۔﴾

شياً صح عنده بالاجماع ان رسول الله ﷺ اتى به فقد كفر (كتاب الفصل ج٢ ص٢٧٥، فصل الكلام ليمن يكفر ولا يكفر)“ ﴿اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ ہر وہ شخص جس نے ایسی شئے کا انکار کیا جو ہمارے نزدیک اجماعاً ثابت ہو چکا ہو کہ اس شئے کو حضور ﷺ لائے ہیں وہ کافر ہو گیا۔﴾

بالكتاب والسنة وزعمت النصارى ان ناسوته صلب ولا هوته رفع والحق انه رفع بجسده الى السماء والايمان بذلك واجب قال تعالى بل رفعه الله اليه (يواقيت ج٢ ص١٤٦)“ ﴿پس عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ان کے ناسوت کو سولی دی گئی اور ان کی لاہوت کو اٹھا لیا گیا اور حق یہ ہے کہ ان کو بجسدہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور اس پر ایمان واجب ہے۔ بقولہ تعالیٰ بل رفعہ اللہ الیہ۔﴾

فيه الاخبار ولعلها بلغت مبلغ التواتر المعنوی ونطق به الكتاب على قول ووجب الايمان به واكفر منكره كالفلاسفة من نزول عيسى عليه السلام اخر الزمان لانه كان نبياً قبل تحلى نبينا ﷺ فی هذه النشاة

صفحہ ٣١٤

(تفسیر روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢، زیر آیت ولکن رسول الله وخاتم النبیین) “

﴿ اور آپ کا آخر الانبیاء ہونا اس عقیدے کے ہرگز معارض نہیں جس پر قرآن کریم نے ایک محل پر تصریح کی اور جس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے منکر مثلاً فلاسفہ کو کافر سمجھا گیا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آخر زمانہ میں نازل ہونا کیونکہ حضور ﷺ کی نبوت سے پہلے اس عالم میں ان کو نبوت مل چکی ہے۔ ﴾

فائدہ جلیلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر میں از روئے احادیث

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کے چار حصے ہیں۔ بعثت نبوت سے پہلے، زمانہ بعثت نبوت، زمانہ رفع، زمانہ بعد نزول، قبل از بعثت کا زمانہ اور اس کی تعیین کا ذکر حدیثوں میں کہیں نہیں اور زمانہ رفع کا بھی بوجہ غیر متعلق ہونے کے احادیث میں ذکر نہیں اور زمانہ بعثت نبوت کا ذکر احادیث میں آیا ہے کہ: ”اخرج ابن سعد عن ابراهيم النخعی قال قال رسول الله ﷺ يعيش كل نبی نصف عمر الذی قبله وان عيسى مكث فى قومه اربعين عاماً (خصائص الكبرى وكنز العمال ج ١١ ص ٤٧٨ حدیث نمبر ٣٢٢٦٠) يا فاطمة انه لم يبعث نبى الا عمر الذی بعده نصف عمره وان عيسى بن مريم بعث رسولاً لاربعين وانى بعثت لعشرين (كنز العمال ج ١١ ص ٤٧٨ حدیث نمبر ٣٢٢٥٩) “ یعنی ہر نبی کی عمر بعثت پہلے نبی کی عمر بعثت سے نصف ہوتی ہے۔ چنانچہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مبعوث ہو کر چالیس برس اپنی قوم میں ٹھہرے اور میں بیس برس کے لئے مبعوث ہوا ہوں اور نزول کے بعد کا زمانہ بھی احادیث میں مذکور ہے۔ ”عن ابی ھریرة مرفوعاً وانه نازل ...... فیمکث فی الارض اربعین سنة ثم یتوفی (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥، باب خروج الدجال) عن عبدالله بن عمر قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسی بن مریم الی الارض ...... ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت (رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفاء ص ٨٣٢، باب فی حشر عیسی بن مریم، مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسی علیہ السلام) “

اور حضرت ابن عمرؓ سے ایک دوسری روایت بھی ہے۔ ”عن ابن عمر فیبعث الله عیسیٰ ابن مریم ...... ثم یمکث فی الناس بعد نزولہ سبع سنین لیس بین اثنین عداوة (مشکوٰۃ ص ٤٨١، باب لاتقوم الساعة الا علی شرار الناس، مسلم ج ٢

صفحہ ٣١٥

ص ٤٠٣ باب ذكر الدجال ) ”یعنی عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول بحساب شمسی ٤٠ برس اور حساب قمری سے جبر کسر کے ساتھ ٤١ برس زمین پر رہیں گے اور ان چالیس میں ٧ برس دجال کے قتل کرنے کے بعد اور ملۃ واحدہ ہونے کے بعد جیسا کہ صفت لیس بین اثنین عداوۃ دلالت کرتی ہے۔ زمین پر رہیں گے جیسے کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ بعثت ٤٠ برس تھا اور حضور ﷺ کا اس کے نصف ٢٠۔ کیونکہ بعد کے نبی کا زمانہ بعثت پہلے نبی کے زمانہ بعثت سے نصف ہوتا ہے۔ ایسے ہی کل عمر کے متعلق بھی جو زمین پر گزری اور گزرے گی احادیث میں ہے جو یہی اختلاط بین الناس کا زمانہ ہے۔ ”انه لم يكن نبى كان بعده نبى الا عاش نصف عمر الذى قبله وان عيسى بن مريم عاش عشرين ومائة وانى لا ارانى الا ذاهباً على رأس الستين (كنز العمال ج ١١ ص ٤٧٩ حديث نمبر ٣٢٢٦٢) ”یعنی بعد کے نبی کا زمانہ بعثت پہلے نبی کے زمانہ بعثت سے نصف ہوتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ بعثت ایک سو بیس برس ہوا اور میرا خیال ہے کہ میں ٦٠ برس کے شروع پر انتقال کرنے والا ہوں اور عمر عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ٣٣ برس کی روایت تو مرفوعاً کہیں ثابت نہیں۔ بلکہ اس کو قول نصاریٰ بتلایا گیا ہے۔ چنانچہ (شرح مواہب جلد ١ ص ٢٥ وزاد المعاد وجمل) میں صاف لکھا ہے اور جلال الدین سیوطیؒ نے جلالین میں ٣٣ برس لکھا اور مرقاۃ الصعود میں اپنا رجوع نقل کرتے ہیں اور لفظ عاش ماضی لانے کی یہ وجہ ہوئی کہ دیگر انبیاء کے حق میں تو ماضی ہی صادق تھا اور بحق عیسیٰ علیہ السلام دو حصوں یعنی زمانہ قبل از بعثت اور زمانہ بعثت قبل از رفع کے اعتبار سے تو صادق ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضور ﷺ کو صرف تنصیف عمر بیان کرنی منظور تھی۔ لہٰذا حصہ ثالثہ یعنی زمانہ بعد نزول کو ماضی ہی میں لپیٹ دیا تا کہ بیان تنصیف عمر میں تطویل لا طائل نہ اختیار کرنی پڑے اور تنصیف کل عمر اور تنصیف عمر نبوت ہر دو اعتبار سے معہ رعایت اختصار مستقیم ہو جائے اور سلسلۂ نظم عبارت بھی بحال رہے۔ سبحان اللہ کس قدر بلاغت ہے۔ جب کہ یہ بات صاف ہوگئی کہ کل عمر جو زمین پر گزرے گی وہ ایک سو بیس برس ہے اور چالیس برس بحذف کسر بعد نزول زمین پر رہنے کی مدت ثابت ہے اور چالیس برس بعثت کے زمانہ کی بھی ثابت ہے۔ یہ ٨٠ برس تو احادیث سے معلوم ہوگئے باقی رہے چالیس معلوم ہوا کہ یہ زمانہ قبل بعثت کا ہے۔ کیونکہ آپ کی چالیس برس کی میں بعثت ہوئی ہے جو کہ یہی عمر انبیاء ورسل کے بعثت کے مقرر ہے۔ جیسا کہ (شرح مواہب ص ٦٤ ج ١) پر مذکور ہے اور جب یہ معلوم ہو گیا تو اب یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ کا رفع اسی (٨٠) برس کی عمر

صفحہ ٣١٦

میں ہوا۔ چنانچہ صحابہ میں سعید بن مسیب سے اسی طرح مذکور ہے اور چالیس برس بعد نزول رہ کر ١٢٠برس ہوئے یہ سب عمریں بحذف کسر ہیں اور بعض علماء نے ١٢٠برس میں رفع فرمایا ہے اور ٤٠برس جو بعد نزول ہوگا اس کو نظر انداز کیا۔ کیونکہ یہ حصہ عمر بحیثیت خلافت و امامت گزرے گا رسالت و نبوت کی ڈیوٹی پر نہ ہوں گے۔ افسوس مرزائی امت جس حدیث کو پیش کیا کرتے ہیں وہ تو انہی کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ کیونکہ جب کہ بعد کے نبی کی عمر پہلے نبی کی عمر سے نصف ہوتی ہے تو مرزا قادیانی کدھر سے نبی ہو گئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی عمر تو بجائے نصف کے حضورﷺ کی عمر سے زیادہ ہے۔ بلکہ ان حدیثوں سے ہی یہ معلوم ہو گیا کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اگر کوئی نبی مبعوث ہوگا تو اس کی عمر حضورﷺ کی عمر کے نصف یعنی ٣٠برس کی ہوگی۔ حالانکہ یہ عمر عمر بعثت ہی نہیں بلکہ ١٠برس زمانہ مدت بعثت نکال کر ٢٠ برس کی عمر میں بعثت ہوگی۔

وهو باطل!

مرزائیوں کے بعض شبہات کے جوابات

شبہ اوّل ....... ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل فان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم (آل عمران:١٤٤) ”نہیں محمد مگر ایک رسول ان سے پہلے بہت سے رسول ہوچکے۔ پس اگر مرجائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم اپنے پچھلے قدموں لوٹ جاؤ گے۔“

جواب! معلوم ہو کہ یہ آیت جنگ احد میں نازل ہوئی تھی۔ رسول کریمﷺ اس جنگ میں زخمی ہو کر کشمکش کے اندر ایک غار میں گر پڑے تھے۔ شیطان نے پکار دیا کہ محمدﷺ مارے گئے یہ سنتے ہی مسلمانوں کا تمام لشکر بجز خواص اصحابؓ کے بھاگ نکلا اور جہاد کرنے سے رک گئے کہ اب محمدﷺ تو رہے نہیں جہاد کس لئے کیا جائے؟۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ احکام شریعت کی تعمیل صرف اس وقت تک کی جاتی ہے جب تک نبی اپنی امت میں بہ نفس نفیس موجود ہے۔ یہ تمہارا خیال غلط ہے۔ ذرا خیال کرو کہ کس قدر نبی اور رسول ہوچکے ہیں۔ کیا وہ سب اپنی امت میں موجود ہیں؟۔ یا ان کی امت نے اپنا دین محض اس وجہ سے ترک کر دیا ہے؟۔ اور جب کسی نے بھی ایسا نہیں کیا تو کیا تم ایسا کرو گے؟۔ اس میں موت مسیح علیہ السلام کی کون سی دلیل ہے؟۔ ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل ٠ فسيخلو كما خلوا وكما ان اتباعهم بقوا متمسكين بدينهم بعد خلوهم فعليكم ان تتمسكوا بدينه بعد

خلوه لان الغرض مـ بين اظهر قومهم ابـ الالزام فان موسى زعموا ان عيسى عـ

(تفسير كبير ج٩ ص

ص ١٤٤ ...... فتح البا

ص ٤٢٣ ...... ابن جريـ

جیسے کہ دوسرے رسول ان اپنے دین پر تمسک پکڑتے تمسک پکڑو۔ کیونکہ بعثت میں ہمیشہ رہنا منافی مـ گئے۔ ان کی امت اپنے د قتل کئے گئے۔ لیکن وہ ا دوسرے قد خلت من خلت من قبله الرسل الرسل“ ”میں بھی سارے رسول عیسیٰ علیہ ا حالانکہ ان سارے رسولوں معلوم ہوا الرسل جمیع افرا صدیق اکبرؓ اور کل صحابہؓ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق

خلت کا مردوں زند

عمران: ١١٩)“

صفحہ ٣١٧

خلوه لان الغرض من بعثة الرسل تبليغ الرسالة والزام الحجة لا وجودهم بين اظهر قومهم ابدا...... فان محمد مات اوقتل...... ان هذا ورد على سبيل الالزام فان موسى عليه السلام مات ولم ترجع امته من ذلك والنصارى زعموا ان عيسى عليه السلام قتل وهم لا يرجعون عن دينه فكذا ههنا (تفسير كبير ج ٩ ص ٢١...... وهکذا فی الخازن ج ١ ص ٣٠٨...... والمدارک ج ١ ص ١٤٤...... فتح البيان ج ٢ ص ١١٧...... ابن کثیر ج ٢ ص ١١٢...... کشاف ج ١ ص ٤٢٣...... ابن جرير ج ٤ ص ١١١،١١٠) ”پس آپ بھی ان میں موجود نہ رہیں گے۔ جیسے کہ دوسرے رسول ان میں موجود نہیں رہے اور جیسے کہ ان کے اتباع ان کی عدم موجودگی میں اپنے دین پر تمسک پکڑتے رہے تم پر بھی لازم ہے کہ حضورﷺ کی عدم موجودگی میں اپنے دین پر تمسک پکڑو۔ کیونکہ بعثت رسل سے غرض تبلیغ رسالت اور الزام حجت ہے نہ خود رسولوں کا اپنی قوم میں ہمیشہ رہنا اَفَاِنْ مَاتَ اَوْ قُتِلَ یہ بطریق الزام کے وارد ہوا ہے۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام مر گئے۔ ان کی امت اپنے دین سے نہیں لوٹ گئی اور نصاریٰ کے اعتقاد کے بموجب عیسیٰ علیہ السلام قتل کئے گئے۔ لیکن وہ ان کے دین سے نہیں پھرے۔ پس یہاں بھی اسی طرح ہونا چاہئے۔ دوسرے قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام داخل ہی نہیں کیونکہ یہی ”قد خلت من قبله الرسل آیت ما المسيح ابن مريم الا رسول ٠ قد خلت من قبله الرسل“ میں بھی موجود ہے۔ اگر الف لام استغراق کے لئے لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ سارے رسول عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے مر چکے ہیں اور خود عیسیٰ علیہ السلام ان سے مستثنیٰ ہیں۔ حالانکہ ان سارے رسولوں میں حضورﷺ بھی ہیں۔ جو عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تشریف لائے۔ معلوم ہوا الرسل جمیع افراد رسل کو محیط نہیں اور صحابہؓ اہل لسان کا جرح نہ کرنا اس پر دلیل ہے کہ صدیق اکبرؓ اور کل صحابہؓ متفق تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام خارج ہیں۔ ورنہ اسقدر متواتر احادیث نزول عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق صحابہؓ روایت نہ کرتے۔ طرفہ یہ کہ ابن عباسؓ کی قرأت میں رسل ہے۔

خلت کا مردوں زندوں دونوں میں استعمال ہے

عمران: ١١٩)“

صفحہ ٣١٨

خلت من قبلكم من الجن والانس في النار (اعراف:٣٨)“

محاورہ ہے۔ غرض لغت عرب میں زمانہ کی صفت کے لئے آتا ہے اور اہل زمانہ کے لئے مجازاً۔ پس آیت قـد خـلـت مـن قـبـلـه الـرسـل میں خلت کا سیدھا اثر رسالت پر ہے۔ نہ ذات رسولوں پر یعنی آپ سے پہلے بہت سے رسول بنفسہ رسالت کر چکے ہیں ورنہ قـد مـاتـت مـن قبلہ الرسل ہوتا۔“

اس امت سے پہلے جو امتیں ہو چکی ہیں نہ یہ کہ وہ سب مر چکے ہیں حالانکہ پہلے بعض نبیوں کی امتیں اب بھی موجود ہیں۔

شبہ دوم...... حضرت رسول کریم ﷺ کے انتقال پر شدت قلق کی وجہ سے صحابہ کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ کوئی کہتا تھا کہ یہ موت نہیں بلکہ وحی کی وہ حالت ہے جو ہمیشہ سے پیش آتی رہتی تھی۔ کوئی کہتا تھا کہ حضور ﷺ ہرگز نہیں مرے۔ موت نبوت کے منافی ہے اور حضرت عمرؓ کی یہ حالت تھی کہ تلوار اٹھائے پھرتے تھے کہ جس شخص نے کہا کہ حضور ﷺ مر گئے ہیں۔ اس کو قتل کر دوں گا اور چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع سب کا تسلیم شدہ تھا۔ اس لئے حضور ﷺ کی عدم موت پر بوجہ اضطراب وقلق اور کچھ نہیں بن پڑتا تھا۔ مگر یہی کلمہ رفع کما رفع عيسى بن مريم اور اصل منشاء عدم موت تھا۔ یہ صرف اس وجہ سے کہ شدت قلق سے ان میں یہ حالت پیدا ہو گئی تھی کہ حضور ﷺ ہرگز نہیں مرے بھلا انبیاء بھی کیا مرتے ہیں اور جو شخص موت کا قائل ہوا اس نے حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کیا۔ اس وجہ سے واجب القتل ہے۔ چنانچہ (ازالۃ الخفاء کے مقصد دوم) میں ہے۔ چـوں آنـحـضـرت ﷺ از عـالـم دنـيـا بـرفـيـق اعـلـى انـتـقـال فـرمـود تشويشها بيشمار بخاطر مردم راه یافت ظن بعضے آنکہ ایں موت نیست

صفحہ ٣١٩

حالتیست که عند الوحی پیش می آید وگمان بعضی انکه موت منافی مرتبه نبوت است حضرت عمرؓ کے اس خیال طاریہ کی تردید کے لئے اور تشویش اور قلق کو زائل کر کے اطمینان قلب و تسکین خاطر کی غرض سے صدیق اکبرؓ نے ایها الرجل اربع علی نفسک یعنی اے شخص اپنے نفس پر آسانی کر، کہہ کر فرمایا ”فان رسول الله ﷺ قد مات الم تسمع الله یقول انك میت وانهم میتون ٠ وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد “ حضور ﷺ وفات پاچکے، کیا نہیں سنا کہ اللہ فرماتا ہے کہ تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔ ہم نے تم سے پہلے کسی کو ہمیشگی نہیں دی۔ پھر منبر پر چڑھ کر بعد حمد و ثناء فرمایا ”ایها الناس ان كان محمد الهکم الذین تعبدون فانه قد مات وان كان الهكم الذی فی السماء فان الهکم لم یمت“ اے لوگو! اگر محمد تمہارا خدا ہے جس کی تم عبادت کرتے ہو وہ تو مر چکے اور اگر تمہارا خدا وہ ہے جو آسمان میں ہے وہ تمہارا خدا نہیں مرا۔ پھر یہ آیت پڑھی ”ومــا مــحــمــد الا رسول ٠ قد خلت من قبله الرسل فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم (کنز العمال ج ٧ ص ٢٣٤ حدیث نمبر ١٨٧٥٨)“ پس عمرؓ کا خیال کہ حضور ﷺ مرے نہیں۔ فانہ قدمات سے زائل فرمایا اور یہ خیال کہ موت منافی نبوت ہے۔ انك ميت وانهم میتون سے زائل کیا اور اس آیت میں فان مات او قتل سے موت اور قتل کو منافی نبوت نہ ہونے پر استدلال لائے ہیں۔ کہ دیکھو حضور ﷺ کی موت یا قتل نبوت کے منافی نہیں اور قــد خــلــت سے تو کچھ بھی استدلال نہیں فرمایا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں۔ ”حـتـی اهـویـت الی الارض وعرفت حين سمعته تلها ان النبى ﷺ قد مات (كنز العمال ج ٧ ص ٢٢٦)“ یعنی میں یہ سن کر کہ حضور ﷺ مرگئے۔ بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ غرض حضور ﷺ کے رفع کی نفی فرماتے ہیں۔ نہ رفع عیسیٰ علیہ السلام کی اور فــرجــع الـقـوم الـى قـولـه کے یہ معنی ہیں کہ سب صحابہؓ نے صدیق اکبرؓ کی طرح موت کو منافی رسالت نہ سمجھا اور حضور ﷺ کی وفات شریف کو تسلیم کرلیا اور اس آیت کے معنی وہی ہیں جو پہلے بیان کر چکا کہ آپ ﷺ سے پہلے بہت سے رسول رسالت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ کوئی نئے رسول نہیں ہوئے۔ یہ آیت پہلے کے سب نبیوں کے مر جانے پر ہرگز دلالت نہیں کرتی۔ بلکہ ممکن ہے کہ پہلے کے بعض رسول زندہ تو ہوں۔ مگر حضور ﷺ کی بعثت عامہ سے ان کی ڈیوٹی ختم ہو چکی ہو۔ (اس کے بعد زریت بن یشمل کا قصہ جو پہلے گزر چکا ہے مدنظر رہے۔)

شبہ سوم....... ”انـه يـجـاء بـرجـال مـن امتی فـیـوخـذ بـهـم ذات

صفحہ ٣٢٠

الشمال فاقول یارب اصحابی فیقال انک لاتدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیہم شہیداً مادمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم

(بخاری ج١ ص٦٦٠ باب قولہ وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم) “

٭ میری امت کے بعض لوگ پکڑے جائیں گے اور بائیں طرف یعنی جہنم کی طرف ان کو چلایا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ کہا جائے گا کہ آپ کو اس کا علم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کچھ کیا۔ پس میں ویسے ہی کہوں گا۔ جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان پر گواہ تھا اور جب تو نے مجھے بہ تمامہ بھر پور لے لیا تھا اس وقت آپ نگہبان تھے۔ ٭

یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی توفی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کی ایک ہی صورت ہے اور یہ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ تو مدینہ منورہ میں مدفون ہیں۔ آپ ﷺ کا آسمان پر رفع نہیں ہوا تو پھر عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی طرح وفات پاچکے اور دوسرے آپ ﷺ نے اقول کما قال العبد یعنی ماضی کے صیغہ سے فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس حدیث کے بیان کے وقت یہ قول عیسیٰ علیہ السلام کا ہوچکا ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔

جواب ! یہ تو پہلے قرآن کے اس رکوع سے اور حدیث رسول اللہ ﷺ سے حتیٰ کہ مرزا قادیانی کے قول سے معلوم ہوچکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ قیامت کے دن ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن فرمائیں گے اور حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی اسی حدیث میں ظاہر ہے کہ قیامت کے دن حوض پر فرمائیں گے۔ اب رہا کہ یہ صیغہ ماضی کا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے لئے قال اور اپنے لئے اقول ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا قول قیامت میں پہلے ہوچکے گا اور حضور ﷺ کا یہ واقعہ بعد کو پیش آئے گا۔ تو حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں ویسے ہی کہوں گا جیسا کہ اس سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا یعنی قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے قول کی ماضی حضور ﷺ کے قول کے اعتبار سے ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ نے جب یہ حدیث بیان فرمائی تھی تو سورۃ مائدہ جس میں یہ حکایت مذکور ہے پہلے نازل ہوچکی تھی اور تمام صحابہؓ نے اس حکایت کو سن لیا تھا۔ اب حضور ﷺ اس حکایت کو محکیاً عنہ بنا کر بیان فرماتے ہیں۔ یعنی فاقول کما قال العبد الصالح فی سورۃ المائدۃ ....... یہ غلط ہے کہ حضور ﷺ کی توفی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی ایک ہی صورت کی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو حضور ﷺ یہ فرماتے

صفحہ ٣٢١

فلقول ماقال العبد الصالح حالانکہ فاقول کما قال حضورﷺ نے فرمایا ہے۔ یعنی اسی قسم کا قول میں بھی کہوں گا نہ یہ کہ وہی قول کہوں گا۔ مشبہ اور مشبہ بہ میں تغائر ضروری ہے۔ اس حدیث کا صرف یہ مطلب ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی غیر حاضری کا عذر کریں گے میں بھی اپنی غیر حاضری کا عذر کروں گا نہ کہ وہی الفاظ کہوں گا۔ جو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کہے ہوں گے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، بقول مرزا قادیانی جس سوال کا یہ جواب ہے یہ سوال ہوگا۔ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین اور حضورﷺ سے ہرگز یہ سوال نہ ہوگا۔ تو پھر یہ بعینہ جواب بھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ حضورﷺ عیسیٰ علیہ السلام کے قول کے مانند کہیں گے اور غیر حاضری کا عذر دونوں فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی یعنی غیر حاضری وعدم موجودگی بطور اصعاد الی السماء ہوئی اور حضورﷺ کی توفی یعنی غیر حاضری وعدم موجودگی بطور توفی بالموت کے، تشبیہ کے لئے اس قدر بھی تغائر کافی ہے۔ اگر کوئی عیسائی اعتراض کرے کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو کوڑے پٹوائے گئے اور طمانچے مارے گئے۔ صلیب پر چار میخ کر کے عذاب دئے گئے اور صلیب پر اس کی جان نکلی تھی جیسا کہ اناجیل میں ہے کہ یسوع نے بڑے زور سے چلا کر جان دی اور اس کی توفی وقوع میں آئی اسی طرح نعوذ باللہ محمدﷺ کی توفی ہوئی ہوگی اور یہی آپ کی دلیل پیش کرے کہ جیسے کہ مسیح علیہ السلام کی توفی ہوئی۔ اسی طرح محمدﷺ کی توفی وقوع میں آئی۔ کیونکہ محمدﷺ کی توفی اور عیسیٰ علیہ السلام کی توفی ایک ہی صورت کی تھی۔ تو مرزا قادیانی اور مرزائی بتادیں کہ اس عیسائی کو وہ کیا جواب دیں گے؟ ۔ آیا ایسی تذلیل اور عذاب جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہوئے ویسے ہی حضرت خلاصۂ موجودات افضل الرسل کے واسطے ہونے قبول کریں گے۔ یا اپنی اس دلیل کی اصلاح کریں گے کہ دونوں کی توفی ایک ہی قسم کی نہ تھی۔

شبہ چہارم...... ’’اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اصالتاً تشریف لائیں گے تو وحی نبوت لائیں گے یا نہ لائیں گے۔ اگر لائیں گے تو ختم نبوت ٹوٹے گی اور اگر وحی نبوت نہ لائیں گے تو نبوت اور وحی سے معزول ہوں گے۔

جواب !حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وحی نبوت نہ لائیں گے۔ کیونکہ بحکم قرآنی اکملت لکم دینکم دین کامل ہے اور وحی نبوت کی حاجت نہیں۔ بلاضرورت وحی نبوت بھیجنا شان خداوندی کے خلاف ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معزولی آپ لوگوں نے خوب سمجھی کہ اگر کسی نبی پر وحی رسالت نہ آوے تو وہ نبوت سے معزول سمجھا جاتا ہے۔ نعوذ باللہ آپ کی اس

صفحہ ٣٢٢

ایجاد بندہ سے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی کبھی عہدہ نبوت پر بحال اور کبھی اس سے معزول ہوں گے۔ کیونکہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ کتنی کتنی مدت تک وحی کا آنا موقوف رہتا تھا۔ اس وقت مرزا قادیانی حضور ﷺ کو نبوت کے عہدہ سے معزول سمجھتے ہوں گے؟۔ افسوس

رئیس المکاشفین حضرت شیخ اکبر لکھتے ہیں کہ: ”اعلم انه لم يجئ لنا خبر الی ان بعد رسول الله ﷺ وحی تشریع ابداً انما لنا وحى الالهام قال تعالى ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلك ولم يذكر ان بعده وحياً ابداً وقد جاء الخبر الصحيح فى عيسى عليه السلام وكان ممن اوحى اليه قبل رسول الله ﷺ انه اذا نزل اخر الزمان لا يؤمنا الا بنا اے بشريعتنا وسنتنا مع ان له الكشف التام اذا نزل زيادة على الالهام الذى يكون له كما لخواص هذه الامة (از یواقیت مبحث ٤٦ ج ٢ ص ٨٤...... فتوحات ج ٣ ص ٢٣٨، باب ٣٥٣) “

اور لکھتے ہیں کہ: ”وكذلك عيسى عليه الصلوة والسلام اذ انزل الى الارض لا يحكم فينا الا بشريعة نبينا محمد ﷺ يعرفه الحق تعالى بها على طريق التعريف وان كان نبياً (يواقيت مبحث ٣٥ ج ٢ ص ٣٨) “ حاصل یہ ہے کہ قرآن کی نص سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کبھی وحی نبوت نہ ہوگی ۔ ہاں وحی الہام باقی ہے اور حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جب آخر زمانہ میں زمین پر نازل ہوں گے تو ہمارے نبی ﷺ کی شریعت پر چلیں گے۔ حالانکہ حضور ﷺ سے پہلے ان پر وحی کی جاتی تھی۔ اور نزول کے بعد صرف ان کو کشف تام ہوگا اور حق تعالیٰ بطریق تعریف احکام شریعت محمدیہ ﷺ کی معرفت کرائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے زمانہ کے نبی ہیں۔ اس کی مفصل بحث گزر چکی۔

شبہ پنجم...... کیا اس بات میں امت محمدیہ کی جو خیرالامت ہے اور اس کی شان میں ہے۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ہتک نہیں ہے کہ اصلاح امت محمدیہ ﷺ کے لئے ایک نبی کو محفوظ رکھا جائے اور امت میں کوئی لائق نہیں کہ اصلاح کرے اور خدا کو نبی بھیجنا پڑے۔ کیا یہ کام امت محمدیہ ﷺ کا مجدد نہیں کرسکتا۔

جواب! چونکہ نبی امتی بن کر آتا ہے۔ جیسا کہ حدیثوں میں مذکور ہے۔ یہ امت محمدی کا فخر اور عزت ہے کہ اس میں ایک اولوالعزم پیغمبر شامل ہوتا ہے اور دعا سے شامل ہوتا ہے۔ دیکھو انجیل برنباس ”اے رب بخشش کرنے والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم (عیسیٰ علیہ السلام) کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔“

(فصل ١٢ ص ١٤٢)

صفحہ ٣٢٣

اب بتاؤ کہ یہ امت محمدیہ کی ہتک ہے یا علو درجہ کا ثبوت ہے؟۔ کہ ایک نبی دعا کرتا ہے کہ اے خدا مجھ کو امت محمدی میں ہونا نصیب فرما۔ دوم کسقدر عالی مرتبہ اس امت کا ہے کہ عیسائیوں کا خدا اس کا ایک فرد ہو کر آتا ہے۔ مگر تعصب بھری آنکھ کو یہ عزت ہتک نظر آتی ہے۔ یہ نظر کا قصور ہے۔ آہ! کس قدر کج فہمی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے تو ہتک ہے اور مرزا قادیانی کو حضور ﷺ کے بعد نبی بنانے سے ہتک نہیں؟۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی علت غائی احکام دین اسلام کی تنسیخ یا شریعت محمدی کی کمی پوری کرنا نہیں۔ حدیثوں میں بصراحت موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے قتل کے واسطے اور صلیب کے توڑنے کے لئے آئیں گے۔ جس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود اور نصاریٰ کی اصلاح کے واسطے آئیں گے۔ نہ کہ دین اسلام اور امت محمدی کی اصلاح کے واسطے دیکھو قرآن مجید فرما رہا ہے کہ: ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء: ١٥٩)“ یعنی مسیح کی موت سے پہلے اہل کتاب اس پر ایمان لائیں گے۔ چونکہ مجدد اسلامی امت کا وہ صرف ایک فرد ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا کہنا صرف مسلمانوں پر اثر کر سکتا ہے اور ارادہ خداوندی میں کسر صلیب اور اصلاح یہود ہے۔ اس لئے اسی پیغمبر کو جسے ایک گروہ ان کو خدا بنا کر گمراہ ہوا اور دوسرے گروہ نے نبوت سے انکار کر کے ان کو جھوٹا نبی کہا اور اپنی دانست میں ان کو طرح طرح کے عذاب دے کر صلیب پر قتل کر چکے۔ خداوند تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کے زعم توڑنے اور کذب ظاہر کرنے اور امت محمدی کا رتبہ بڑھانے اور ان کی دعا قبول کرنے اور لیؤمننہ ولینصرنہ کا مصداق بنانے کے لئے ان کو مقدر کیا کہ جب وہ خود ہی زندہ اتر کر ان کے سب زعم باطل کر دے گا تو آسانی سے سمجھ جائیں گے اور ایسا کھلا معجزہ اور کرشمہ قدرت دیکھ کر اور دجال کو اور اس کے ہمراہیوں کو قتل کرنے کے بعد آخر کار سب اہل کتاب یہود اور نصاریٰ ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ امت محمدی کی اصلاح کے واسطے آئیں گے۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کا صرف یہ مطلب ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے نبی تبلیغ دین کرتے تھے۔ اسی طرح میرے علماء امت تبلیغ دین کیا کریں گے۔ کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ نہیں کہ علماء امت بنی اسرائیل کے نبیوں کے ہم رتبہ ہوں گے یا کسی قسم کی نبوت کے مدعی ہوں گے۔

شبہ ششم...... یہ اعتراض بالکل بے بنیاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

صفحہ ٣٢٤

آسمان پر زندہ ہونے کی وجہ سے ہمارے رسول خاتم النبیین ﷺ سے افضل ہو گئے۔ کیونکہ یہ فضیلت جزئی فضیلت کلی کو مانع نہیں ورنہ اس کے علاوہ عیسیٰ علیہ السلام میں اور کئی فضیلتیں ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ کو ثابت نہیں آپؐ جو تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں تو منصب اور مرتبہ اور قرب الہی میں افضل ہیں۔ نہ ہر ہر خصوصیات ذاتیہ میں مثلاً حضرت مریم والدہ مسیح افضل نساء العالمین ہیں نہ حضور ﷺ کی والدہ ، حضرت مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے نہ حضور ﷺ ، حضرت مسیح علیہ السلام پر مائدہ آسمان سے اتارا گیا۔ حضور ﷺ پر نہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے پیدا ہوتے ہی کلام فرمائی اور اپنی نبوت کی خبر دی۔ لیکن حضور ﷺ سے یہ ثابت نہیں۔ ایسے ہی طول عمر بھی کوئی افضلیت کی دلیل نہیں۔ ہاں تعجب یہ تھا کہ حضور ﷺ کے لئے تو موت ہو اور دیگر انبیاء موت سے مستثنیٰ ہوں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہیں۔ ”وما جعلنا لبشر من قبلك الخلدا فان مت فهم خالدون (انبیاء: ٣٤)“ مگر کیا کسی مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے خلد ہے وہ موت سے مستثنیٰ ہیں۔ بھلا یہ تو بتلائیے کہ آپ کے بزرگ آپ کو یا کسی ادنیٰ آدمی کو چھت وغیرہ پر چڑھائیں تو اس میں آپ کے بزرگ کی توہین ہوگی یا نہیں۔ کعبہ شریف میں جب حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے کاندھے پر چڑھایا تھا اور نیز جب صحابہؓ نے حضور ﷺ کو قبر میں رکھا اور آپ سب اوپر رہے تو اس میں حضور ﷺ کی توہین ہوئی یا نہیں؟۔ بھلا یہ تو بتائیے کہ آپ خود بھی کبھی اونچی جگہ پر چڑھے ہیں یا نہیں۔ اگر چڑھے ہیں تو تمام پیغمبروں کی جو زیر زمین مدفون ہیں توہین ہوئی یا نہیں؟۔ خدارا ایسا اعتراض نہ کیا کرو جو مضحکہ خیز ہو۔

شبہ ہفتم ....... حضور ﷺ نے شب معراج میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوسرے انبیاء جو مردے تھے ان میں شامل دیکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ بھی مردے ہیں۔

جواب! سبحان اللہ کیا استدلال ہے کس نے دیکھا حضور ﷺ نے ، تو پھر حضور ﷺ بھی اس جماعت مردوں میں شامل تھے تو کیا آپ بھی مردے تھے؟۔ جب آپؐ مردے نہیں تھے تو عیسیٰ علیہ السلام کی موت بھی اس سے ثابت نہیں ہو سکتی۔

شبہ ہشتم ....... کانا یاکلان الطعام یعنی وہ دونوں ماں بیٹے عیسیٰ علیہ السلام ومریم علیہ السلام کھانا کھایا کرتے تھے اور ”ماجعلناهم جسداً لا ياكلون الطعام (انبیاء: ٨)“ یعنی ہم نے انبیاء علیہم السلام کو ایسا جسم نہیں بنایا۔ جو کھانا نہ کھائیں۔ پس اگر وہ زندہ ہیں تو آسمان پر کیا کھاتے ہیں۔

صفحہ ٣٢٥

جواب! کان تو ماضی کے لئے ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ کھانا کھایا کرتے تھے جو منافی الوہیت ہے اور اسی لئے یہ دوسری آیت بھی ہے جو الوہیت کو باطل کرنے کے لئے ہے۔ یعنی جو کھانے پینے کے محتاج رہ چکے ہوں وہ کیسے خدا ہو سکتے ہیں۔ غرض یہ آیتیں الوہیت عیسیٰ علیہ السلام کو باطل کرنے کے لئے ہیں۔ ان کو موت وحیات عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسرے اصحاب کہف کا قصہ یاد کرو کہ بغیر کھائے پئے کس طرح زندہ ہیں۔ اصحاب کہف کے بارے میں ہے۔ ”ولبثوا فی کهفهم ثلاث مائة سنین وازدادوا تسعا (کہف:٢٥)“ یعنی ٣٠٩ برس غار میں سوتے رہے اور ان کی زیست اور خواب کا حال اور بھی زیادہ قانون قدرت کلیہ کو پاش پاش کرتا ہے۔ ”وترى الشمس اذا طلعت تزاور عن كهفهم ذات اليمين واذا غربت تقرضهم ذات الشمال وهم في فجوة منه . ذلك من آيات الله . من يهدى الله فهو المهتد ، ومن يضلل فلن تجدله ولياً مرشدا . وتحسبهم ايقاظا وهم رقود ونقلبهم ذات اليمين وذات الشمال (کہف:١٧)“ اور دیکھے تو سورج کو کہ جب طلوع کرتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب ہٹ کر طلوع کرتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وہ غار کے کشادہ میدان میں ہیں یہ اللہ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دیتا ہے۔ وہی ہدایت یافتہ ہے اور جس کو گمراہ کرتا ہے۔ اس کے لئے کوئی ولی اور رہبر نہ پائے گا اور تو ان کو جاگتا ہوا گمان کرے۔ حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بھی دلوا دیتے ہیں۔ تیسرے یہ کیسے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کھاتے پیتے نہیں۔ اول تو ان کی غذا تسبیح اور تہلیل ہے۔

رئیس المکاشفین حضرت عبدالوہاب شعرانی اس کا جواب لکھتے ہیں کہ: ”فان قیل فما الجواب عن استغنائه عن الطعام والشراب مدة رفعه فان الله تعالى قال وما جعلنا هم جسداً لا ياكلون الطعام فالجواب ان الطعام انما جعل قوتاً ان يعيش في الارض لانه مسلط عليه الهواء الحار والبارد فينحل بدنه فاذا انحل عوضه الله تعالى بالغذاء اجراء لعادته في هذه الخطة الغبراء واما من رفعه الله الى السماء فانه يلطفه بقدرته ويغنيه عن الطعام والشراب كما اغنى الملائكة عنهما فيكون حينئذ طعامه التسبيح وشرابه التهليل كما قال ﷺ اني ابيت عند ربي يطعمنى ويسقينى وفى الحديث مرفوعاً ان بين

صفحہ ٣٢٦

يدى الدجال ثلاث سنين ، فكيف بالمؤمنين حينئذ فقال يجزئهم مايجزى اهل السماء من التسبيح والتقديس (اليواقيت والجواهر ج ٢ ص ١٤٦) " اگر کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ رفع میں کھانے پینے سے مستثنیٰ ہونے کا کیا جواب ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔" ماجعلنا هم جسدا لاياكلون الطعام (انبیاء:٨)" جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طعام کو زمین پر معیشت پوری کرنے کے لئے قوت بنایا ہے۔ کیونکہ یہاں اس پر ہوا گرم اور سرد مسلط ہے۔ اس کے بدن کو تحلیل کرتی ہے۔ جب تحلیل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ غذا سے اس کا عوض پیدا کرتا ہے۔ اس زمین میں اس کی یہ عادت جاری ہے۔ لیکن وہ شخص جس کو اللہ نے آسمان پر اٹھالیا اس کو اپنی قدرت سے نوازتا ہے اور کھانے پینے سے بے پرواہ کرتا ہے۔ جیسے فرشتوں کو بے پرواہ کیا۔ پس اس وقت اس کا طعام تسبیح اور پانی اس کا تہلیل ہوگا۔ جیسے حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کھلا پلا دیتا ہے۔ اور حدیث میں مرفوعاً روایت ہے کہ دجال سے تین برس پہلے قحط پڑے گا اسی حدیث میں ہے کہ حضورﷺ سے عرض کیا گیا کہ اس وقت جب مسلمانوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ ہوگا کیا حال ہوگا۔ حضورﷺ نے فرمایا ان کو کفایت کرے گا وہ کھانا جو آسمان والوں کو کفایت کرتا ہے۔ یعنی تسبیح اور تقدیس۔ حضرت شیخ نے پہلے فلسفی دلیل سے سمجھایا اور پھر حدیث مرفوع بھی بیان کردی کہ دجال کے زمانہ میں مومنین کو اہل سماء کی طرح صرف تسبیح و تقدیس ہی غذا کا کام دے گی۔

حضرت شیخ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ایک بزرگ خلیفۃ الخراط نامی کا جو بلاد مشرق کے شہروں میں ایک شہر ابہر میں رہتے تھے ذکر فرمایا کہ اس نے ٢٣ سال سے برابر کچھ نہیں کھایا تھا اور دن اور رات عبادت الٰہی میں مشغول رہتا تھا اور کسی طرح کا ضعف بھی لاحق نہیں ہوا تھا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تسبیح و تہلیل کی غذا ہونے میں کیا تعجب ہے۔" قال الشيخ ابوالطاهر وقد شاهدنا رجلاً اسمه خليفة الخراط كان مقيماً بابهر من بلاد المشرق مكث لا يطعم طعاماً منذ ثلاث وعشرين سنة وكان يعبد الله ليلا ونهاراً من غير ضعف فاذا علمت ذلك لم يبعد ان يكون قوت عيسى عليه السلام التسبيح والتهليل والله اعلم بجميع ذلك (يواقيت ج ٢ ص ١٤٦)"

مرزا قادیانی نے یہ کیونکر سمجھ لیا کہ ایک غذا کے بدلنے سے فوت ہونا لازم آتا ہے۔ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ تمام حیوان ماں کے پیٹ میں خون سے پرورش پاتے ہیں اور خون ہی طعام

صفحہ ٣٢٧

ان کا ہوتا ہے۔ جب ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہیں تو صرف دودھ ان کی غذا و طعام اور وجہ پرورش ہوتی ہے اور جب اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں تو اناج وگھاس ومیوہ جات ان کا طعام وغذا ہوتے ہیں۔ کیا کوئی باحواس آدمی کہہ سکتا ہے کہ ماں کے پیٹ سے باہر آکر انسان یا دیگر حیوانات فوت ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ کانا یاکلان الطعام نہیں رہتے۔ اس لئے کہ خون کی غذا بند ہو جاتی ہے اور صرف دودھ ہی ملتا ہے۔ جب دودھ ملتا ہے تو کیا مر جاتے ہیں۔ یا دودھ کا موقوف ہونا وفات کی دلیل ہے۔ ہرگز نہیں کیونکہ مشاہدہ ہے کہ غذا کے بدلنے سے کوئی فوت نہیں ہوتا۔ جب یہ امر ثابت ہے کہ غذا کے بدلنے سے کوئی فوت نہیں ہوتا۔ جب یہ امر ثابت ہے کہ غذا کے بدلنے سے موت لازم نہیں ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غذائے زمینی سے غذائے آسمانی کیونکر باعث موت ہوسکتی ہے؟۔ یہ کیونکر مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طعام وغذا نہیں ملتی۔ جب قرآن کریم سے ثابت ہے کہ لگایا گیا خوان آسمان سے بنی اسرائیل کی درخواست اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اترا دیکھو قرآن میں کس طرح مفصل ذکر ہے۔ تو پھر مومن قرآن کریم کا انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی آسمانوں پر کھانا ملنا محال ہو۔ کیا ان کو میوہ جات جنت بھی خدا تعالیٰ نہیں پہنچا سکتا۔

شبہ نہم...... ”ومنکم من یتوفیٰ ومنکم من یرد الیٰ ارذل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیئاً (حج:٥)“ اور نیز دیگر آیات ہم معنی۔

جواب! یہ آیت بھی وفات مسیح پر ہرگز دلالت نہیں کرتی اور نہ مسیح سے یہ متعلق ہے۔ قرآن کریم کا ١٧ پارہ رکوع ٨ دیکھنا چاہئے۔ یہ آیت قیامت کے منکرین کو سمجھا رہی ہے کہ وہ خدا جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفہ سے، پھر علقہ بنایا، پھر مضغہ بنایا، پھر ماں کے پیٹ میں جگہ دی اور پھر اپنے ارادے سے وہاں سے طفل بنا کر نکالا۔ پھر جوان کیا پھر تم میں سے کوئی تو مار دیا جاتا ہے اور کوئی بڑھاپے کی طرف لوٹا کر لایا جاتا ہے کہ پھر اس کو کوئی علم نہیں رہتا۔ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو جو عقلی دلائل کے نقصان سے قیامت کا انکار کرتے اور عقلا محال سمجھتے ہیں ان کو سمجھاتا ہے کہ تم پہلے اپنی ہی پیدائش کے حالات اور مختلفہ منازل کی طرف دیکھو کس طرح ہم نے تم کو نیست سے ہست کیا اور جب ہم نے تم کو مختلفہ منازل طے کراتے ہوئے عدم سے بنا کھڑا کیا۔ تو اب تمہارا دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔ جیسے ہم پہلے عدم سے وجود میں لائے۔ ایسے ہی ہم دوبارہ بھی کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی مرزائی صاحبان کہیں کہ یہ آیات حضرت مسیح کے حالات پر

صفحہ ٣٢٨

حاوی ہیں اور حضرت مسیح بھی اسی سنت اللہ اور قانون فطرۃ کے تابع ہیں تو ہم زور سے کہتے ہیں کہ کوئی مرزائی اپنے مرشد کی حمایت میں حضرت مسیح علیہ السلام کو قانون فطرۃ کلیہ کے ماتحت نہیں لاسکتا۔ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں قانون فطرۃ عامہ بتایا ہے۔ مگر مسیح علیہ السلام باتفاق فریقین بغیر نطفہ باپ کے پیدا ہوئے جب پہلے ہی مسیح علیہ السلام کو اس قانون فطرۃ سے مستثنیٰ کرکے بغیر مس مرد کے صدیقہ مریم علیہا السلام کے پیٹ میں خلاف قانون فطرۃ متذکرہ بالا آیات پیدا کیا تو پھر یہ آیت مسیح کے حق میں ہرگز صادق نہیں آسکتی۔ دوسرے نطفہ انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ عمر کی درازی سے ضعیف ہوجاتا ہے۔ یعنی مادی ہونے کے باعث زمین کی تاثیرات سے متاثر ہوکر ضعیف ہوجاتا ہے۔ مگر آسمان کی تاثیرات ایسی ہیں کہ اجرام فلکی کا بدل ما تحلل ساتھ ہی ساتھ ہوتا جاتا ہے اور وہ ضعیف نہیں ہوتے۔ پس مسیح علیہ السلام بھی تاثیرات فلکی سے ارذل عمر کے ضعف سے بچے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ فرشتے، ستارے، آفتاب، مہتاب وغیرہ ایک ہی حالت پر رہتے ہیں۔ لہٰذا حضرت مسیح بھی آسمان پر درازی عمر سے نکمے نہیں ہوسکتے اور نہ زمین کی آب وہوا کی طرح آسمان کی آب وہوا ہے کہ مسیح علیہ السلام کو ارذل عمر ملے اور چونکہ مسیح علیہ السلام کی پیدائش نفخ روح سے تھی اور روح درازی عمر سے ضعیف اور ارذل نہیں ہوتی۔ اس لئے مسیح علیہ السلام کے واسطے ارذل عمر کا ضعف لازم بھی نہیں۔ کیونکہ وہ روح مجسم تھے۔ صرف وہ جسم ضعیف وارذل ہوتا ہے۔ جو نطفہ امشاج وغیرہ کی ترکیب سے بنایا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ”رأیت عیسیٰ بن مریم شاباً (مسند احمد ج ١ ص ٣٧٤ ...... کنز العمال ج ١٠ ص ٣٢٣ ج ٦ ص ٣٠٧ ...... الخصائص ج ١ ص ٢٩٨) “ یعنی حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو جوان دیکھا۔ تیسرے جب خدا تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں فرماتے ہیں کہ وہ نہ صلیب دیئے گئے اور نہ قتل کئے گئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا تو کیا وہ قادر مطلق ان کو انسانی ارذل عمر اور ضعف پیری سے ایسا ہی مستغنی نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ ان کو ان کی ولادت میں قانون فطرۃ عامہ سے مستثنیٰ کردیا تھا۔ کہ بغیر نطفہ مرد کے پیدا کیا۔ دیکھو اصحاب کہف کا قصہ کہ ٣٠٩ برس سوتے رہے نہ بھوک لگی نہ پیاس۔ جب خود بیدار ہوئے تب بھوک محسوس ہوئی اور ان کے جسم میں کسی طرح کا تغیر بھی پیدا نہ ہوا تھا اور حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ پڑھو کہ سو برس کے بعد زندہ کئے گئے۔ بیضاوی شریف میں لکھا ہے کہ جب اپنے گھر لوٹ کر آئے تو آپ جوان تھے اور ان کی اولاد بوڑھے تھے۔ ”لمارجع الیٰ منزلہ کان

شاباً واولادہ شیوخاً

ص ٦٧٨ حدیث نمبر ١٧١

گئیں۔ وہ اپنی ہڈیوں کو گ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”فا اور پانی کو کہ وہ سو برس کی دکھلائے گئے اور ہم کو قرآن کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اقوام سے خدمت لیں گے۔ ہو۔ عوج بن عنق کی عمر ٣ ہز اور قرآن کریم

شبہ دہم ...... کلون الطعام ويمشون پہلے رسول مکروہ کھانا بھی کھا

جواب ! یہ منکر يأكل الطعام ويمش بغرض خرید وفروخت چلت رسول نہ تھے۔ با ایں ہمہ عرب کے، مرزا قادیانی مرسلین کو لازم حال نہیں گے۔ بلکہ یہ من جملہ صف اس کے تتبع اور تحلیل حض پر کچھ بھی دلیل نہیں ہے

شبہ یازدہم وقلنا اهبطوا بعض (بقرہ:٣٦) ”فَا

صفحہ ٣٢٩

شاباً واولاده شيوخاً (انوار التنزيل واسرار التاويل ج ١ ص ١١٩ مستدرک ج٢ ص ٦٧٨ حدیث نمبر ٣١٧١) ’’یہ حدیث عزیرؑ میں ہے کہ سب سے پہلے ان کی آنکھیں پیدا کی گئیں۔ وہ اپنی ہڈیوں کو گوشت پہناتے اور پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے تھے اور اسی قصہ میں خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’فانظر الی طعامک وشرابک لم يتسنه‘ ،یعنی دیکھ اپنے کھانے اور پانی کو کہ وہ سو برس کی مدت تک سڑے نہیں ۔ افسوس جب اسی جگہ یہ قدرت کے کرشمے دکھلائے گئے اور ہم کو قرآن کریم میں سنائے گئے تو مومن قرآن کے دل میں تو یہ شبہ ہی نہیں آسکتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتنی عمر پا کر بالکل نکمے ہو جائیں گے۔ وہ آ کر کیا خدمت کریں گے۔ الٹا ہم سے خدمت لیں گے۔ معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی درازی عمر سے کیوں گھبراتے ہو۔ عوج بن عنق کی عمر ٣ ہزار کے قریب تھی۔

(مطلع العلوم ص ٣٠٨)

اور قرآن کریم میں ثابت ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قریب ایک ہزار برس کے عمر تھی۔

شبہ دہم ...... ”وما ارسلنا من قبلك من المرسلين الا انهم ليا کلون الطعام ويمشون فی الاسواق (فرقان:٢٠) ”اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر وہ کھانا بھی کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔﴾

جواب ! یہ منکرین رسالت کو جواب ہے کہ جو کہا کرتے تھے کہ ’وما لهذا الرسول يأكل الطعام ويمشي فی الاسواق‘ ،یعنی کھانا کھانا اور اپنی حوائج کے لئے بازاروں میں بغرض خرید و فروخت چلنا پھرنا رسالت کے منافی نہیں۔ پہلے سب رسولوں میں یہ بات تھی کیا وہ رسول نہ تھے۔ با ایں ہمہ بعض کی نبوت کا یقین بھی رکھتے ہیں۔ جیسے یہود اور نصاریٰ اور بعض قبیلے عرب کے، مرزا قادیانی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ طعام کھانا اور بازاروں میں اپنی حوائج کے لئے جانا مرسلین کو لازم حال نہیں ورنہ ہر وقت ہر لمحہ بازاروں میں چلنے اور کھانا کھانے سے منفک نہ ہوں گے۔ بلکہ یہ من جملہ صفات بشری کے ایک صفت ہے۔ جو بعض اوقات نہیں بھی پایا جاتا۔ علاوہ اس کے تسبیح اور تہلیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غذا ہے۔ غرض ان آیات میں موت مسیح علیہ السلام پر کچھ بھی دلیل نہیں ہے۔

شبہ یازدہم ...... ”فازلهما الشيطن عنها فاخرجهما مما کانا فيه وقلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو ٠ ولكم فی الارض مستقر ومتاع الی حين (بقرہ: ٣٦) ”پس شیطان نے آدم علیہ السلام کو جنت سے پھسلایا اور ان دونوں کو اس مقام

صفحہ ٣٣٠

اور عزت سے جس میں وہ تھے نکالا اور ہم نے ان تینوں کو کہا کہ اتر جاؤ درانحالیکہ تمہارا بعض بعض کا دشمن ہوگا۔ اور زمین میں تمہارے لئے قرارگاہ اور نفع ہے ایک زمانہ تک۔﴾

جواب اس آیت میں ولکم کے مخاطب آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام اور شیطان ہیں ۔ اگر لام تخصیص کے لئے ہے تو انہیں تینوں کی تخصیص ہو سکتی ہے۔ مستقر کے معنے ہیڈ کوارٹر اور صدر مقام کے ہیں۔ اسی لئے تخت گاہ کو مستقر الخلافۃ کہتے ہیں۔ پس زمین کا مستقر اور ہیڈ کوارٹر ہونا اس کا مانع نہیں کہ دوسری جگہ عارضی طور پر بھی نہ جاسکے اور نیز بنا بر تخصیص یہ لازم آئے گا کہ بجز انسان کے اور کوئی مخلوق زمین پر نہیں رہتی اور بطلان اس کا ظاہر ہے۔ کیونکہ یہ تخصیص زمین انسان ہی کے لئے مستقر نہیں ہے۔ بلکہ جمیع حیوانات ونباتات و جمادات کے لئے ہے۔

شبہ دوازدہم ...... ”فیها تحیون وفيها تموتون ومنها تخرجون (اعراف: ٢٥) زمین میں تم زندہ رہو گے اور اسی میں تم مرو گے اور پھر اسی سے نکالے جاؤ گے۔﴾

جواب! اس میں بھی مخاطب آدم علیہ السلام ، حوا علیہا السلام ، شیطان تینوں ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا کچھ بھی ذکر نہیں اور نیز اگر مطلقا حصر مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ انسان کی حیات جنت اور دوزخ میں بھی نہ ہو سکے۔ کیونکہ جنت دوزخ زمین سے خارج ہیں۔ حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں۔ اگر کہا جائے کہ اس حصر سے زمان آخرہ مستثنیٰ ہے ہم کہیں گے ۔ تم پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی بوجہ نصوص واجماع حیات آسمان مستثنیٰ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ فیھا میں تقدیم الارض بوجہ اہتمام ارض ہے۔ جو یہاں بوجہ عتاب وبعد عن الملکوت کے مہتم بالشان ہے۔ لاغیـــــر، مرزا قادیانی نے ان چند آیتوں میں تعمیم پر بہت زور دیا ہے۔ اگر دوسری آیت تخصیص بھی کردے تو بھی ہرگز اعتبار نہیں کریں گے ۔”انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج (الدھر:٢)‘‘ یعنی ہم نے انسان کو مرد اور عورت کے نطفہ مختلط سے پیدا کیا ہے۔”خلق من ماء دافق يخرج من بين الصلب والترائب (طارق:٦)‘‘ یعنی انسان کو ٹپکنے والے پانی سے جو پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے پیدا کیا گیا ہے۔”اولم ير الانسان انا خلقناه من نطفة فاذا هو خصيم مبين (یسین: ٧٧)“ یعنی کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا۔ پس اچانک وہ کھلا جھگڑالو ہے۔ کیا ان آیات میں بھی تعمیم مان کر آدم علیہ السلام ، حوا علیہا السلام ، عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش خارقہ سے انکار کریں گے اور کیا نبیوں کو بھی خصیم مبین قرار دیں گے۔ اگر تخصیص کی یہاں کوئی وجہ ہے تو ان میں بھی یہی وجہ ہے۔

صفحہ ٣٣١

شبه سیزدہم ...... ” والذين يدعون من دون الله لايخلقون شيئاً وهم يخلقون ٠ اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون ٠ الهكم اله واحد ٠ فالذين لايؤمنون بالاخرة قلوبهم منكرة (نحل: ٢٠ تا ٢٢) ﴿اور وہ لوگ جن کو کفار مکہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی شے کو پیدا نہیں کر سکتے ۔ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ وہ بالکل مردے ہیں نہ ذی روح اور وہ نہیں جان سکتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ تمہارا معبود ایک معبود ہے۔ پس وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکاری ہیں۔﴾

جواب! یہ آیت کفار عرب کے حق میں ہے اور کفار عرب مخاطب ہیں جو آخرت کے قائل نہیں تھے کہتے تھے کہ ”ان هى الا حياتنا الدنيا نموت ونحيى وما نحن بمبعوثين (المؤمنون: ٣٧) “ یعنی ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے اور بس جب مر گئے مٹی ہو گئے ۔ قصہ ختم ہو گیا ۔ لہٰذا سباق سیاق سے صاف ظاہر ہے کہ یہ آیت بتوں کے بارے میں نازل ہے۔ اموات غیر احیاء ان کی صفت ہے۔ یعنی مردے ہیں ۔ کبھی زندہ اور ذی روح نہ تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب حیات تھے اصنام میں شامل ہی نہیں تھے۔ کیونکہ یہ کفار مکہ کے حق میں ہے اور کفار مکہ بت پوجتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلکہ کسی انسان کی بھی پرستش نہیں کرتے تھے۔

دوسرے اس آیت کے بعد فرمایا ہے۔ لايؤمنون بالاخرة کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اب سوچو کہ مسیحی مسیح علیہ السلام کے پوجنے والے تو آخرت کے قائل تھے۔

تیسرے لا يخلقون شیئاً مضارع کے ساتھ ہے کہ وہ فی الحال یا آئندہ پیدا نہیں کر سکتے۔ اگر مر چکے تھے تو ان کی نسبت یہ فرمانا سیاق کلام کے خلاف ہے اور نیز جب وہ مر چکے تھے پھر ان کی نسبت یہ فرمانا کیسے صحیح ہوگا کہ وہ پیدا نہیں کر سکتے وہ ہیں کہاں جو پیدا کریں۔

چوتھے وهم يخلقون جملہ اسمیہ سے بیان کیا ۔ جو باعتبار استمرار کے تینوں زمانوں پر دلالت کرتا ہے۔ بتاؤ کیا کسی مرزائی کا یہ مذہب ہے کہ مسیح پیدا کئے جائیں گے اور پیدا ہوتے رہیں گے ۔

پانچویں اموات فرمایا یہ بھی جملہ اسمیہ ہے۔ یعنی هم اموات یعنی وہ ہمیشہ سے بے شعور و بے حس ہیں اور رہیں گے، موت ان کے واسطے بالدوام ہے۔ بھلا کیا مسیح علیہ السلام کبھی زندہ نہ تھے ۔ ہمیشہ سے مردہ ہیں اور ہمیشہ مردہ رہیں گے۔ معاذ اللہ !

صفحہ ٣٣٢

چھٹے یہ کہ اموات کی تفسیر غیر احیاء کے ساتھ فرمائی کہ موت کی نوعیت متعین ہو جائے کہ موت سے وہ موت مراد ہے۔ جس سے پہلے اور پیچھے زندگی نہیں ورنہ اگر ایسی موت مراد نہ ہوتی تو غیر احیاء کے بیان فرمانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ یہ مقصود تو اموات سے بھی حاصل تھا کہ وہ مردہ ہیں۔ پس اگر ان معبودوں سے مراد انسان ہوتے اور ان کا مردہ ہونا بیان فرمانا مقصود ہوتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور مرزائی کہتے ہیں تو یوں فرمایا جاتا۔ ”ان الـــذیـــن یـدعون من دون الله لم يخلقوا شيئاً وهم خلقوا، وماتوا، ہم ليسوا احیاء“ یعنی جن کو کفار مکہ خدا کے سوا پکارتے ہیں انہوں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا یا نہیں کر سکے۔ وہ خود پیدا کئے گئے تھے اور مر گئے زندہ نہیں ہیں۔

اور آیت کلام اللہ کے یہ معنی ہیں کہ وہ بت جن کو کفار مکہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ ہرگز کسی شے کو پیدا نہ کر سکتے اور نہ پیدا کر سکیں گے اور وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ (پجاری ان کو تراش کر بناتے ہیں) اور ہوتے بھی رہیں گے۔ وہ بالکل ہمیشہ سے مردے ہیں۔ نہ ذی روح (یعنی بالکل بے جان ہیں کہ کبھی زندہ ہی نہ تھے ان میں حیات رکھی ہی نہیں گئی تھی) وہ وقت بعث ان کے سے بالکل بے خبر ہیں۔ (پھر اپنے عابدین کو کیا خاک جزا و سزا دے سکتے ہیں۔ یا خود کفار اپنے بعث کے وقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ کیونکہ قیامت کے منکر ہیں) بھلا اس آیت میں وفات مسیح علیہ السلام کی کون سی دلیل ہے؟ ۔ مرزا قادیانی نے کفار مکہ کا طرز اختیار کیا ہے۔ کیونکہ جب قرآن کریم میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” انکم ومـــا تـعـبـدون من دون الله حصب جہنم (انبیاء:٩٨)“ یعنی تم اور اللہ کے سوا تمہارے معبود سب دوزخ کا ایندھن ہیں۔ تو کفار نے کہا لیجئے اس میں تو ان کے عیسیٰ علیہ السلام نبی بھی داخل ہیں۔ وہ بھی جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا ۔ ” ماضربوه لك الا جدلا بل هم قوم خصمون ان هو الا عبد انعمنا عليه (زخرف: ٥٨، ٥٩)“ یعنی وہ لوگ جن کو ہم پہلے سے ہی مستثنیٰ کر چکے وہ کیوں جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔ یہ قوم محض جھگڑالو ہے۔ بطور جدل کے کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ہمارے نیک بندے ہیں۔ جن پر ہم نے انعام کئے۔ تمہاری ندامت اور حسرت بڑھانے کو ڈالے جائیں گے۔ دوسرے اموات جمع میت بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی سب مرنے والے فناء ہونے والے ہیں۔ لائق عبادت نہیں۔ یعنی سوائے اللہ کے سب معبود خواہ فرشتے ہوں خواہ روح القدس خواہ کوئی جن یا انسان سب مرنے والے ہیں اور زندہ رہنے والے

نہیں ہیں۔ ورنہ اگر یہ معنی کئے جائیں کہ القدس بلکہ چاند اور سورج بھی سب فنا ہو

تنبیہ ! قرآن کریم میں بتوں تاکہ کلام بت پرستوں کے معتقدات کے

شبہ چہار دہم ..... ”وا (مریم: ٣١)“ یعنی مجھ کو خدا تعالیٰ نے صلو

جواب ! ہر شخص جانتا ہے کہ نم اپنی شرطوں اور اوقات اور محل اور تفاصیل کے مامور ہیں۔ کیا ہم ہر وقت ہر آن ادا شرطیں پائی جاتیں ہیں۔ ان شرطوں پر دوسرے انبیاء علیہم السلام کا بھی قبروں میں ص ٩٦، باب الاسراء بر سـول اللہ بیت المقدس میں آپ نے سب انبیاء پڑھنے سے کیوں تعجب ہوتا ہے۔ اس حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر شرائ بلکہ حضور ﷺ کے بوجہ زیارت و محبت کو” واذا اخـذ الله ميثاق النبي رسول مصدق لما معکم لـتـؤمـ بننے والے ہیں۔

اور زکوٰۃ کے لئے شرط گذر جائے اور یہ شرط آسمان پر حضر فرض نہ ہونے کے زکوٰۃ نہ دیتے تھے۔

رسول الله ﷺ قال ان كل ما العمال ج ١٢ ص ٤٥١ حديث ن جانتے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ کھلائے پہنائے دوسرے صلوٰۃ اور

صفحہ ٣٣٣

نہیں ہیں۔ ورنہ اگر یہ معنی کئے جائیں کہ سوا اللہ کے سب معبود مر چکے تو چاہئے کہ فرشتے اور روح القدس بلکہ چاند اور سورج بھی سب فنا ہوگئے ہوتے؟۔

تنبیہ ! قرآن کریم میں بتوں کے لئے صیغے اور ضمائر ذوی العقول کے بھی آتے ہیں۔ تاکہ کلام بت پرستوں کے معتقدات کے مطابق جاری کی جائے۔

شبہ چہارم ..... ”واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیاً (مریم:٣١)“ یعنی مجھ کو خدا تعالیٰ نے صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا امر کیا ہے۔ جب تک میں زندہ رہوں۔

جواب ! ہر شخص جانتا ہے کہ نماز کے لئے اور زکوٰۃ کے لئے چند شرطیں بھی ہیں۔ ان کو اپنی شرطوں اور اوقات اور محل اور تفاصیل کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ دیکھو ہم بھی صلوٰۃ اور زکوٰۃ کے مامور ہیں۔ کیا ہم ہر وقت ہر آن ادا کرتے رہتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ پس اوّل یہ کہ جو جو وہاں شرطیں پائی جاتیں ہیں۔ ان شرطوں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نماز پڑھتے ہیں۔ بلکہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کا بھی قبروں میں نماز پڑھنا ثابت ہے۔ دیکھو (صحیح مسلم ج ١ ص ٩٦، باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السموات وفرض الصلوت) اور معراج میں بیت المقدس میں آپ نے سب انبیاء علیہم السلام کو نماز پڑھائی ہے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے نماز پڑھنے سے کیوں تعجب ہوتا ہے۔ اب چونکہ حضور ﷺ خاتم النبیین کی بعثت عامہ ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر شرائع محمدی کے پابند ہیں اور آپ کی امت میں داخل ہیں۔ بلکہ حضور ﷺ کے بوجہ زیارت وصحبت لیلۃ المعراج کے صحابی بھی ہیں اور ایمان لا کر حضور ﷺ کو ”واذا اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ (آل عمران: ٨١)“ کے مصداق بننے والے ہیں۔

اور زکوٰۃ کے لئے شرط ہے کہ نصاب کے قدر صاحب مال ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے اور یہ شرط آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو زمین پر بھی بوجہ فرض نہ ہونے کے زکوٰۃ نہ دیتے تھے۔ ”فقال لہم عمر انشدکم باللہ الم تعلموا ان رسول اللہ ﷺ قال ان کل مال النبی صدقة الا ما اطعمہ اہلہا وکساہم (کنز العمال ج ١٢ ص ٤٥١ حدیث نمبر ٣٥٥٤٢)“ یعنی عمرؓ نے کہا تمہیں اللہ کی قسم کیا تم نہیں جانتے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ نبی کا مال سب صدقہ ہوتا ہے۔ مگر جس قدر اپنے اہل کو کھلائے پہنائے دوسرے صلوٰۃ اور زکوٰۃ کی صورتیں عرف قرآن میں ہر عالم اور ہر مخلوق اور

صفحہ ٣٣٤

بحسب مواقع اور محل کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ دیکھو پرندوں کے لئے صلوٰۃ ثابت ہے۔ ”والطير صافات کل قد علم صلوتہ وتسبیحہ (النور:٤١)“ کیا یہاں نماز عرفی کے معنی ہیں؟۔ ہرگز نہیں اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے حق میں ہے۔ ”واتیناہ الحکم صبیاً وحنانا من لدنا وزکوۃ (مریم:١٢، ١٣)“ یعنی ہم نے ان کو بچپن میں ہی حکم اور نرم دلی اور پاکیزگی عنایت کی۔ کیا یہاں بھی کوئی زکوٰۃ عرفی کے معنی لے سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ پس عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں صلوٰۃ اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اس محل کے اعتبار سے اور مناسب مقام کے جیسے فرشتے ادا کرتے ہیں۔ یعنی تسبیح وتہلیل وحمد وثناء وغیرہ اس مقام اور محل کی صلوٰۃ ہے اور تطہیر نفس وہاں کی زکوٰۃ ہے۔

(بیضاوی ج٢ص٢٦) میں ہے۔ ”ای زکوۃ المال ان ملکتہ اوتطہیر النفس عن الرذائل (وہکذافی مدارک ج٢ ص٢٧..... ابن کثیر ج٥ ص١٩٢..... فتح البیان ج٦ ص١٨..... ابوالسعود ج٢ ص٢٥٩)“ وغیرہ۔ تیسرے معنی باعتبار تبلیغ امت کے بھی مخاطب ہوتے ہیں۔ جیسے حضور ﷺ کو حکم ہوا ”والرجز فاہجر“ ۔

شبه پانزدهم...... مرزا قادیانی کے نزدیک کسی جسم عنصری کا آسمان پر جانا محال اور ناممکن ہے۔ ایک جسم عنصری طبقہ ناریہ اور زمہریریہ سے کس طرح صحیح و سالم گزر سکتا ہے۔ جیسا کہ (ازالہ اوہام ص٤٧،خزائن ج٣ص١٣٦) میں ہے۔ ”از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔“

جواب ! اہل علم پر پوشیدہ نہیں کہ محققین فلاسفہ کی ایک جماعت طبقہ ناریہ کے متعلق ہلیلجی یا شبیہ الہلیلجی کی قائل ہے۔ یعنی دونوں قطبین کے متصل کچھ فاصلہ تک آگ کی حرارت کا کچھ اثر نہیں ہے۔ تسلی کے لئے تصریح اور شرح چغمینی دیکھو۔ دوسرے عقلاء خوب جانتے ہیں کہ اوّل تو ایک عنصر کا دوسرے عنصر کی طرف احالہ بھی جائز ہے اور پھر طبقوں کی حرارت اور برودت کی کوئی خاص مقدار ذاتیات سے نہیں ہے۔ جس کا انفکاک محال ہو۔ بلکہ عوارض میں سے ہے اور عوارض کا سلب باتفاق عقلاء ممکن ہے۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ سے حرارت سلب کرلی گئی تھی۔ ”قلنا یا نار کونی بردا وسلاما علی ابراہیم (انبیاء:٦٩)“ اور موسموں کے اعتبار سے ان میں تشکیک شدت وضعف ہونا ذاتیات کے نہ ہونے پر کھلی دلیل ہے۔ تیسرے علاوہ اس کے اگر حرکت اسقدر سریع ہو کہ یہ طبقے اپنی برودت اور حرارت کا اثر نہ ڈال سکیں۔ بلکہ جسم

صفحہ ٣٣٥

تیزی سے گزر جائے تو ہرگز کوئی استحالہ نہیں۔ بلکہ صحیح تجربہ کے موافق ہے۔ باقی رہا اس قدر سریع الحرکت ہونا کسی جسم کا ممکن بھی ہے یا نہیں۔ تو حکماء کی تحقیق سنئے جتنی دیر میں شمس اس کنارے سے دوسرے کنارے تک طلوع کرتا ہے اتنی دیر میں فلک اعظم کی حرکت (٥١٩٦٠٠) لاکھ فرسخ ہے۔ یعنی ١٥٥٨٨٠٠ میل، (روح المعانی ج ٣ ص ١٤١) اور حکماء جدید کی تحقیق ہے کہ بجلی ایک منٹ میں ٥٠٠ سو مرتبہ زمین کے گرد گھوم سکتی ہے اور بعض ستارے ایک ساعت میں آٹھ لاکھ اسی ہزار میل حرکت کرتے ہیں۔ (پیسہ اخبار ٩؍ جمادی الثانی ١٣٢٠ھ ) دور کیوں جاؤ مرزا قادیانی ہی کا تلون دیکھو کہ ازالۃ اوہام میں تو محال اور ناممکن بتاتے ہیں اور (چشمہ معرفت کے حصہ دوم میں ص ٢١٩، خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٧) پر لکھتے ہیں کہ: ”پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن کریم پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں لکھا ہے کہ عیسیٰ مسیح مع گوشت پوست آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ ہماری طرف سے یہ جواب کافی ہے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے۔“

اور (ازالۃ اوہام ص ٢٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٣٨) میں اپنے ایک مطلب کے ثبوت میں تورات کی عبارت استدلالاً پیش کرتے ہیں۔ جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ”ایلیا نبی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور چادر اس کی زمین پر گر پڑی۔“

اور (ازالۃ اوہام ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”باوجود یہ کہ آنحضرت ﷺ کے رفع جسمی کے بارہ میں کہ وہ جسم سمیت شب معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہؓ کا یہی اعتقاد تھا۔ لیکن پھر بھی حضرت عائشہؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ رویاء صالحہ تھی۔“

حضرت عائشہؓ ہرگز معراج جسمی کی منکر نہیں۔ معراج کا مفصل بیان معراج کے بیان میں مذکور ہوچکا۔ کیا صحابہ کرامؓ معاذ اللہ اس قدر بے عقل تھے کہ محال عقلی اور ممکن میں بھی تمیز نہ کرسکتے تھے۔ ایک باطل ناممکن بات پر عقیدہ جمالیا اور پھر صحابہ کرامؓ نے قرآن کریم کے خلاف کیسے عقیدہ جمالیا۔ قرآن کریم تو بقول مرزا قادیانی اس کو خلاف سنت اللہ فرماتا ہے۔ اب مرزا قادیانی کے کچھ فہم میں آیا کہ بے شک آسمان پر اٹھایا جانا ممکن ہے۔ لیکن یہ تو دعوے کی جڑ کاٹ دے گا۔ لہٰذا ایک دوسری پچر لگائی۔ یعنی (ازالۃ اوہام ص ٦٢٥، خزائن ج ٣ ص ٤٣٧) میں لکھتے ہیں: ”یہ عادت اللہ نہیں کہ کسی جسم خاکی کو آسمان پر لے جائے۔“ اور آیت ”اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَاءِ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتَاباً نَّقْرَؤُهٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَراً رَّسُولاً (الاسراء:٩٣)“ کو اپنی حجت ٹھہرایا ہے۔ یعنی یا کہ آپ آسمان پر

صفحہ ٣٣٦

چڑھ جائیں اور صرف ہم آپ کے چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ جب تک کہ آپ ہم پر نوشتہ لے کر نہ آئیں۔ جس کو ہم پڑھ لیں۔ فرما دیجئے کہ میں بذات خود تو بشر اور رسول ہوں ایسے امور کی مجھ میں قدرت نہیں۔ مگر خداوند عالم اور میرا رب عجز سے منزہ ہے۔ مرزا قادیانی سے کوئی پوچھے صاحب اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ آسمان پر لے جانا عادت اللہ نہیں؟۔ بلکہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوا کہ آسمان پر چلا جانا انسانی قدرت سے تو بالا تر ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ قادر ہے۔ اگر کسی نبی کو چاہے آسمان پر لے جا سکتا ہے بھلا یہ مسلمان کب کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ آسمان پر جابیٹھے۔ مسلمانوں کا تو یہ عقیدہ ہے۔ بل رفعہ اللہ الیہ اللہ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے اٹھایا ہے۔ ہاں شاید یہ شبہ ہو کہ تو پھر کیوں کفار کے مطالبہ کے موافق یہ معجزہ حضورﷺ سے ظاہر نہ کیا گیا تا کہ وہ ایمان لے آئے۔ کفار کے مطالبہ کو کیوں روکا گیا۔ کیا وہ یہ کہتے تھے کہ تم اپنی ہی قدرت سے یہ کرشمہ دکھلاؤ ان کا ہرگز یہ خیال نہ تھا کہ یہ جواب دے دیا جاتا کہ بذات خود مجھ میں یہ قدرت نہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کفار مکہ کے یہ سوالات کسی غرض صحیح اور تحقیق حق پر مبنی نہ تھے۔ بلکہ محض تعنت اور عناد پر مبنی تھے ان کے ظاہر ہونے پر ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا۔ چنانچہ سوال ہوتا ہے کہ: ”او تاتی باللہ والملئکۃ قبیلا (الاسراء:٩٢) “ یعنی اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے گواہ لاؤ۔ جو محال قطعی ہے۔ پھر سوال ہوتا ہے کہ ہمارے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھیں۔ لیکن کفار ہمارے رسول کے آسمان پر چڑھ جانے کے معجزے کی درخواست پر جمے نہیں رہے۔ بلکہ اس کے ساتھ یہ چاہا کہ پھر ہمارے سامنے آسمان سے اترو اور ہر ایک کے نام خدا کی طرف سے نوشتہ اور کتاب لے کر آؤ کہ ہم اس کو پڑھیں ۔ یعنی ہم پر بھی خدا کی کتاب نازل کر، کہ اے فلاں بن فلاں محمد پر ایمان لاؤ۔ یعنی گویا رسول بنادے۔ حالانکہ یہ خدا کا کام ہے۔ کہہ دے کہ میں تو بشر اور خود اس کا رسول ہوں۔ کسی کو نبی اور رسول بنانا اور خدا کی طرف سے اس کے نام کتاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ مگر میرا اللہ پاک ہے کہ ایسے گندے اور ناپاک روحوں کو اپنا نوشتہ اور اپنی کتاب بھیج کر رسول بنائے یا ان کے سامنے شہادت دینے آئے معاذ اللہ ! جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ”قالوا لن نؤمن حتى نؤتى مثل ما اوتى رسل اللہ قل اللہ يعلم حيث يجعل رسالتہ“ یعنی کفار مکہ نے کہا ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ یہاں تک کہ ہم کو بھی دیا جائے مثل اس کے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ یعنی رسالت و وحی و کتاب و معجزے وغیرہ۔ فرما دیجئے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنی رسالت کو رکھے۔ یعنی تمہارے جیسے گندے اور ناپاک

اور خبیث النفس رسالت کے کب قا کئے تھے جو پہلے رسولوں سے ظاہر ہو ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا۔ جیسے شق ا ارشاد خداوندی ہے ۔ ” مـامـنـعـنـ (الاسراء:٥٩) “

”قولہ تعالیٰ واقسم قل انما الايات عند اللہ و افئدتہم وابصارہم کما لم یؤ کو کہ ہم معجزوں کو بھیجیں۔ مگر اس بات تاکید ہے، کہ اگر ان کو ایک معجزہ چ پاس ہیں اور تم مسلمان کیا خبر رکھتے الٹ دیں گے ان کے دل اور آنکھیں مبنی تھے۔ لیکن اگر ان فرمائشی معجزات ہوتا کہ پھر وہ بالکل تباہ اور برباد کرد نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پہلی امتوں کے

اگر کہا جائے گو آسمانی سکتا ہے۔ کیونکہ خدا کے نزدیک کو کے خلاف ہے۔ مگر یہ مرزا قادیانی ص ٥٢) میں لکھتے ہیں کہ : ”اس قد خدا کی ایک الگ عادت ہو جاتی اور ان سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملہ علیہ السلام۔“ پس جب انبیاء عل دوسروں سے نہیں۔ ان کے ساتھ و زیادتی عمر بلا ارذل عمر پر کیوں تعج عمران: ٥٩) ” جب آدم علیہ ال عیسیٰ علیہ السلام کا زمین سے آسما

صفحہ ٣٣٧

اور خبیث النفس رسالت کے کب قابل ہیں؟۔ اور بعض سوال ممکن بھی تھے اور وہی معجزے طلب کئے تھے جو پہلے رسولوں سے ظاہر ہوچکے۔ لیکن محض تعنت اور عناد پر مبنی تھے۔ ان کے ظاہر ہونے پر ایمان لانا ہرگز مقصود نہ تھا۔ جیسے شق القمر کا معجزہ ظاہر کیا گیا۔ مگر انہوں نے پھر بھی جھٹلایا۔ چنانچہ خود ارشاد خداوندی ہے۔ ”مامنعنا ان نرسل بالایات الا ان کذب بها الاولون (الاسراء:٥٩)“

”قوله تعالیٰ واقسموا بالله جهد ايمانهم لئن جاءتهم اية ليؤمنن بها قل انما الايات عند الله وما يشعركم انها اذا جاءت لا يؤمنون ونقلب افئدتهم وابصارهم كما لم يؤمنوا به اوّل مرة (انعام:١٠٩، ١١٠)“ ﴿نہیں روکا ہم کو کہ ہم معجزوں کو بھیجیں۔ مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ جھٹلا چکے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ کی تاکید سے، کہ اگر ان کو ایک معجزہ پہنچے تو البتہ اس پر ایمان لائیں۔ فرمادیجئے کہ معجزے تو اللہ کے پاس ہیں اور تم مسلمان کیا خبر رکھتے ہو کہ جب معجزے آئیں گے تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور آنکھیں جیسے ایمان نہیں لائے۔ پہلی بار﴾ غرض یہ سوال محض عناد پر مبنی تھے۔ لیکن اگر ان فرمائشی معجزات کو پورا بھی کر دیا جاتا تب بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پھر وہ بالکل تباہ اور برباد کر دئے جاتے۔ کیونکہ اقتراحی معجزے کے بعد امہال اور استدراج نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ پیش آچکا ہے۔

اگر کہا جائے کہ آسمان پر چڑھایا جانا ممکن تو ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ خدا کے نزدیک کوئی چیز انہونی نہیں۔ لیکن یہ عام سنت جاریہ اور عام عادت اللہ کے خلاف ہے۔ مگر یہ مرزا قادیانی ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ (حقیقت الوحی ص ٤٩، ٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢) میں لکھتے ہیں کہ: ”اس قدر زور سے صدق اور وفا کی راہوں پر چلتے ہیں کہ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہو جاتی ہے۔ گویا ان کا خدا ایک الگ خدا ہے۔ جس سے دنیا بے خبر ہے اور ان سے خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے وہ ہرگز نہیں کرتا۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام۔“ پس جب انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وہ معاملات ہوتے ہیں جو دوسروں سے نہیں۔ ان کے ساتھ خدا کی ایک الگ عادت ہوتی ہے۔ تو پھر رفع عیسیٰ علیہ السلام و زیادتی عمر بلا ارذل عمر پر کیوں تعجب ہے؟ ۔ ”ان مثل عيسى عند الله كمثل ادم (آل عمران:٥٩)“ جب آدم علیہ السلام زمین سے جنت میں پھر جنت سے زمین پر آچکے ہیں۔ ایسے عیسیٰ علیہ السلام کا زمین سے آسمان پر پھر آسمان سے زمین پر آنا ہوگا۔

صفحہ ٣٣٨

حیات مسیح اور عقل؟

بعض نیم مرزائی کہتے ہیں کہ گو قرآن کی چند آیتوں سے اور ٧٣ حدیثوں سے اور ٢٧ آثار صحابہ و تابعین سے اور اجماع امت سے یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور اصالتاً نزول فرمائیں گے۔ لیکن عام عقلوں میں نہیں سماتا۔ اس کے جواب میں ان کے مرشد کا یہ حکم سنا دینا چاہئے کہ (ازالہ اوہام ص ٨٣٥، خزائن ج ٣ ص ٥٥٦) میں ہے کہ: ”اگر قرآن وحدیث کے مقابل پر ایک جہانِ عقلی دلائل کا دیکھو ہرگز اسکو قبول نہ کرو اور یقیناً سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩٣) میں ہے کہ: ”سلف خلف کے لئے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔“ اگر کہا جائے کہ خدا نے خود فرمایا ہے۔ ”لن تجد لسنة الله تبديلا (فاطر: ٤٣)“ ہم اپنی سنتِ جاریہ کے خلاف نہیں کرتے تو میں کہوں گا کہ اگر سنۃ اللہ کے یہ معنی ہیں تو بتائیے کہ پہلے سب مخلوق محض عدم میں تھے۔ پھر پیدا کر کے کیوں سنت کو بدلا؟۔ اور پھر پیدا کر کے مار ڈالنے سے سنت کو بدلا اور پھر قیامت کو زندہ کر کے اپنی سنت کو بدل ڈالے گا اور نیز آدم علیہ السلام و حوا کو بے ماں و باپ کے پیدا کیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو بے باپ کے جو یہ بھی سنتِ جاریہ کے خلاف ہے اور انبیاء علیہم السلام کے معجزات سب خارقِ عادت ہی ہوتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ یہ مجموعہ حالت کا من حیث المجموع سنۃ اللہ ہے تو میں کہوں گا کہ کسی کو مار کر زندہ نہ کرنا اور بعض کو بطور خرقِ عادت زندہ کرنا اور کسی کو آسمان پر نہ اٹھانا اور بعض کسی کو اٹھا لینا یہ مجموعہ بھی سنۃ اللہ ہے۔ چنانچہ (بخاری شریف ج ٢ ص ٥٨٧) میں عامر بن فہیرہؓ کا بئر معونہ کے دن شہید ہونے کے بعد بجسد عنصری آسمان کی طرف اُٹھ جانا پھر زمین پر آجانا درج ہے۔ ”قال لقد رائیته بعد ما قتل رفع الی السماء حتی انی لانظر الی السماء بینه وبین الارض ثم وضع“ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ تو سنۃ اللہ کے بدل دینے کو نہیں پاسکتا۔ یعنی ہماری سنت کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ ”لا مبدل لکلمات اللّٰه (انعام: ٣٤)“ ہاں وہ خود بدل سکتا ہے اور سنت سے مراد سنتِ قولی یعنی وعدۂ نصرت بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی ہم اپنے وعدۂ نصرت کو نہیں بدلتے۔ ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کو نصرت ہی دی ہے۔ ”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله (ابراهيم: ٤٧)“ اور نیز آیات اللہ اور سنۃ اللہ میں فرق ہے۔ آیات اللہ جس جگہ قرآن کریم میں آیا ہے خارقِ عادت ہے اور سنۃ اللہ عادتِ اکثر یہ مراد ہے۔ فافہم!

شبه ششم...... جیسے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئی

صفحہ ٣٣٩

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بعثت سے پوری ہوئی تھی۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئی کسی دوسرے مدعی کی بعثت سے ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام اسرائیلی ہی نازل ہوں۔ بلکہ مثیل مراد ہے۔ کیونکہ پیشین گوئی میں اکثر استعارہ ہوتا ہے۔

جواب! اوّل تو یہی غلط ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق پیشین گوئی کی ہے۔ کیونکہ پیش گوئی اس کو کہتے ہیں جو کسی وجود کی ظہور سے پہلے خبر دی جائے۔ چونکہ یہود اور نصاریٰ کا باہمی اختلاف تھا۔ عیسائی کہتے تھے کہ مسیح علیہ السلام اب آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ دوبارہ اخیر زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور یہود کہتے تھے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ: ”وماقتلوه وما صلبوه بل رفعه الله اليه (نساء:١٥٧) ”ان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩)“ اور ایسا ہی احادیث میں بکثرت موجود ہے۔ یہ بالکل غلط ہے کہ حیات و نزول مسیح علیہ السلام کا مسئلہ پیش گوئی ہے اور پیش گوئیاں استعارہ کے رنگ میں ہوتی ہیں۔ بلکہ حضور ﷺ نے حیات و نزول مسیح کا فیصلہ فرمایا ہے نہ کہ پیشین گوئی کی ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور سرور عالم ﷺ سے چھ سو برس پہلے دنیا میں آ کر آسمان پر جا چکے تھے اور یہود اس کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے ان کو قتل کر ڈالا ہے۔ یہود اور نصاریٰ میں یہی جھگڑا تھا۔ اس لئے حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر یہ فیصلہ دیا کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ اخیر زمانہ میں دوبارہ آئیں گے۔ پس اس فیصلہ نبوی ﷺ کے سامنے تمام امت کا سر خم چلا آیا ہے اور تیرہ سو برس سے اس پر اجماع امت ہے۔ اگر نصاریٰ کا عقیدہ اصالتاً نزول عیسیٰ علیہ السلام کا شرک تھا یا کم از کم غیر صحیح تھا تو قرآن کریم دوسرے عقائد ابن اللہ وغیرہ کی طرح اس کو بھی خوب صراحتاً رد فرما دیتا، اور حضور ﷺ کی حدیث میں اس کا رد بکثرت پایا جاتا نہ کہ برعکس قرآن کریم اور احادیث اس عقیدے کے ہم نوا ہوں، اور یہ بھی خوب کہی کہ پیشین گوئیاں استعارہ کے رنگ میں ہوتی ہیں۔ تا کہ کوئی کاذب متنبّی بھی جھوٹا نہ ہو سکے۔ جب چاہے جس پر چاہے گڑ بڑ کر کے مر سکے۔ دمشق سے مراد قادیان لے سکے۔ حالانکہ خود حضور ﷺ نے بتاکید منع فرمایا ہے کہ: ”ان النبي ﷺ نهى عن الاغلوطات (رواه ابوداؤد، مشكوة ص ٣٥، كتاب العلم فصل ثانی) ”ہاں خوابوں کی تعبیر ہوا کرتی ہے نہ صریح وحی کی۔ دوسرا تعجب یہ ہے کہ مرزا قادیانی شریعت محمدی میں تو کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتے محرف کتابوں سے اپنی تائید کرنا چاہتے ہیں کہ شاید کوئی اسی سے دھوکہ میں آ جائے۔ حالانکہ وہ خود اس کو رد بھی کر چکے ہیں۔

صفحہ ٣٤٠

چنانچہ (حصہ پنجم براہین احمدیہ ص ٣٢، ٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٤٢، ٤٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”پہلے نبیوں نے مسیح کی نسبت یہ پیشین گوئی کی تھی کہ وہ نہیں آئے گا۔ جب تک کہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہ آجائے۔ مگر الیاس نہ آیا اور یسوع بن مریم نے یونہی مسیح معہود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ حالانکہ الیاس دوبارہ دنیا میں نہ آیا اور جب پوچھا گیا تو الیاس موعود کی جگہ یوحنا یعنی یحییٰ نبی کو الیاس ٹھہرا دیا تا کسی طرح موعود بن جائے۔ پہلے نبیوں اور تمام راست بازوں کے اجماع کے برخلاف الیاس آنے والے سے مراد یوحنا اپنے مرشد کو قرار دے دیا اور عجیب یہ کہ یوحنا اپنے الیاس ہونے سے خود منکر ہے۔ مگر تاہم یسوع بن مریم نے زبردستی اس کو الیاس ٹھہرا ہی دیا۔“

اب ہم مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے نزدیک معاذ اللہ ان دو نبیوں میں کون جھوٹا ہے۔ یوحنا خود منکر ہیں کہ میں ہرگز الیاس نہیں ہوں اور عیسیٰ زبردستی ان کو الیاس ٹھہراتے ہیں کہ تو ہی وہ الیاس ہے۔ یہاں پر مرزا قادیانی کا روئے سخن اور التفات جس طرف بھی ہو مگر اہل حق جانتے ہیں کہ دونوں سچے نبی ہیں۔ قصہ جھوٹا ہے کتاب اللہ میں تحریف کر دی ہے۔ اسی وجہ سے حضورﷺ نے فرمایا ہے۔ ”لا تصدقوا اهل الكتاب ولا تكذبوهم (بخاری ج ٢ ص ١٠٩٧، باب قول النبي ﷺ لا تسئلو اهل الكتاب ان اهل الكتاب بدلو كتاب الله وغيروه وكتبوا بايديهم الكتاب وقالو اهو من عند الله، بخاری ایضاً)“

اور حکیم نور الدین صاحب جو مرزا قادیانی کے اول جانشین تھے۔ (فصل الخطاب ج ٢ ص ١١٥، بار دوم ١٩٢٤) میں لکھتے ہیں کہ: ”یوحنا اصطباغی کا ایلیا نبی ہونا بالکل ہندوؤں کے مسئلہ آواگون کے ہم معنی یا اسی کا نتیجہ ہے۔“ افسوس یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنے دعوے کے اثبات میں اس قدر شوق ہے کہ جس بات کو ایک جگہ ثابت کرتے ہیں۔ دوسری جگہ خود ہی اس کو رد کر دیتے ہیں۔ جیسا موقعہ مناسب سمجھتے ہیں۔ اسی پر زور دیتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی مومن قرآن کریم اس قصہ کی تصدیق کے لئے آمادہ کبھی ہو۔ کیونکہ قرآن نے خود اس قصہ کی تکذیب کر دی ہے۔ قرآن شریف میں ہے کہ: ”يا زكريا انا نبشرك بغلام اسمه يحيىٰ لم نجعل له من قبل سمياً (مریم: ٧)“ ترجمہ مرزا قادیانی...... ”یعنی یحییٰ علیہ السلام سے پہلے ہم نے کوئی اس کا مثیل یعنی جس کا نام کسی پر بوجہ مماثلت اطلاق کر سکیں دنیا میں نہیں بھیجا۔ (ازالہ ص ٥٣٩، خزائن ج ٣ ص ٣٩٠) تو پھر کیسے پہلے نبی کا نام یعنی ایلیا کا نام یحییٰ پر اطلاق کیا جا سکتا ہے؟“

بروز کا بیان

اوّل بروز کے معنی ہدیہ ناظرین ہیں۔ بعد اس کے خود ہی انصاف فرما سکتے ہیں۔ اہل

صفحہ ٣٤١

کمون اور بروز کی اصطلاح میں بروز اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص کامل کی روح دوسرے شخص مبروز فیہ میں بصفات خود ظہور کرے۔ چنانچہ امام ربانی مجدد الف ثانی جلد دوم مکتوب ٥٨ ص ١٦٥، ١٦٦ میں فرماتے ہیں کہ ”در بروز تعلق نفس به بدن دیگر از برائے حصول حیات نیست که این مستلزم تناسخ است بلکه مقصود ازیں تعلق حصول کمالات است مرآں بدن را ...... چنانکه جنی بفرد انسانی تعلق پیدا کندو در مشخص او بروز نماید ...... چیز یکه ازیں تعلق دروے حادث میشود ظہور صفات وحرکات ایں جن است ومشائخ مستقيم الاحوال بعبارت کمون وبروز هم لب نمی کشایند وناقصاں رادر بلاو فتنه نمی اندازند مختصراً ...... بعضی دیگر بنقل ارواح قائل اند ...... وآنکه بنقل روح قائل است ...... نزد فقیر قول بنقل روح از قول بتناسخ هم ساقط تر است ...... اهل كمال تماشائی نیستند ...... وايضاً درنقل روح اماتت بدن اوّل است واحيا بدن ثانی است پس بدن اوّل را از حصول احکام برزخ چاره نبود از عذاب وثواب قبر نگذرند وبدن ثانی راچوں حیات ثانی اثبات نمایند حشر درحق او دردنیا ثابت گشت نه انگارم که معتقداں نقل روح معلوم نیست که بعذاب وثواب قبر قائل باشند وبحشر ونشر معتقد بودند افسوس هزار افسوس ایں قسم بطلان خودر ابمسند شیخ گرفته اند و مقتدائے اہل اسلام گشته ۔ ضلوا فاصلوا“

پس اوّل صورت کے رو سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت خاتم النبین ﷺ کے صفات وحرکات مرزا قادیانی میں بالکل مفقود تھے۔ کیونکہ مجدد صاحبؒ نے جن کی مثال دے کر یہ لکھا ہے کہ : ”چیزے کہ ازیں تعلق دروے حادث میشود ظهور صفات و حرکات آں جن است “اور پھر جب مشائخ مستقیم الاحوال اس کو مکروہ جانتے ہیں۔ تو کجا انبیاء علیہم السلام خصوصاً عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام وخاتم الانبیاء علیہم السلام ۔ فتدبر !

پھر اس پر سوال یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام میں سے صرف عیسیٰ علیہ السلام ہی اس بروز کے لئے مختص ہیں، تو کیوں؟۔ اور اگر مختص نہیں تو کیوں؟۔ احادیث متواترہ میں ذکر اُولاً فقط انہی کو خاص کیا گیا۔ کسی دوسرے نبی اور رسول کا کیوں ذکر نہیں آیا کہ وہ بھی فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے دمشق کے شرقی منارے کے قریب یا کسی اور جگہ نازل ہوں گے اور نزول کے

صفحہ ٣٤٢

بعد اسلام کی اس طرح امداد فرمائیں گے اور زمین پر اتنی مدت ٹھہریں گے اور حج کریں گے۔ یا نہیں اور کہاں مدفن ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔

اور نیز یہ سب کچھ سہی لیکن پھر بھی بروز مظہر اتم ہو کر بھی مبروز فیہ نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نبوت کا دعویٰ کفر اور صریح غلط ہے۔ شیخ اکبر فتوحات مکیہ میں لکھتے ہیں کہ: ”ویمکن ان بعض الاولیاء یکشف اللہ عن قلبہ الحجاب ویقیم اللہ تعالیٰ لہ مظہرا محمدیاً فیسمع فیہ امر الحق ونہیہ لمحمد ﷺ فیظن ان الحق تعالیٰ کلمہ ہـو وانـمـا کـلـم روح محمد ﷺ فیکون ذلک من باب التعریف بالاحکام الشرعیۃ لاشرعاً جدیداً فـان ذالک بـاب قـد انـغـلـق بموت رسول اللہ ﷺ (از یواقیت مبحث ٤٦ ج ٢ ص ٨٥) ” یہاں یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض اولیاء کے قلب سے پردہ کھولدے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے مظہر محمدی کو قائم کرے اور امر ونہی الہیٰ کو جو محمد ﷺ کو ہو رہے ہیں۔ ان کو سنے اور یہ گمان کرے کہ حق تعالیٰ نے مجھ سے کلام کی حالانکہ روح محمد ﷺ سے کلام کی ہے۔ پس یہ باب تعریف سے ہے۔ جس میں احکام شرعیہ کی معرفت ہوتی ہے۔ نہ شرع جدید اس لئے کہ اس کا دروازہ حضور ﷺ کی موت کے بعد بند ہو چکا ۔ ﴾

اور مرزا قادیانی ایجاد بندہ بروز بالکل تناسخ ہے۔ ملاحظہ ہو عبارت

(تریاق القلوب

ص ٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٠) ”آدم صفی اللہ کے لئے جس قدر بروزات کا دور ممکن تھا وہ تمام مراتب بروزی وجود کے طے کر کے آخری آدم پیدا ہوا ہے اور اس میں اتم واکمل بروزی حالت دکھائی گئی ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کے ص ٥٠٥ میں میری نسبت ایک یہ خدا تعالیٰ کا کلام اور الہام ہے کہ خلق آدم فاکرمہ یعنی خدا نے آخری آدم علیہ السلام کو پیدا کر کے پہلے آدمیوں پر ایک وجہ کی اس کو فضیلت بخشی۔ اس الہام اور کلام الہیٰ کے بھی یہی معنی ہیں کہ گو آدم صفی اللہ کے لئے کئی بروزات تھے جن میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تھے۔ لیکن یہ آخری بروز اکمل واتم ہے۔“

شبہ ہفتدہم ....... مرزائی ایک حدیث لو كان موسى وعيسى حيين لما وسعهما الا اتباعی زیادتی ذکر عیسیٰ کے ساتھ

(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ١٥٩ اور یواقیت ج ٢ ص ٢٢)

سے نقل کرتے ہیں۔

جواب! تمام طرق اور متابعات اور شواہد دلالت کرتے ہیں کہ اس حدیث میں ذکر عیسیٰ علیہ السلام کی کچھ اصل نہیں ہے اور کتب حدیث میں جہاں مسند روایتیں روایت کے ساتھ نقل کی جاتی ہیں۔ کہیں اس لفظ کا پتہ نہیں۔ صرف موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ ”

(فتح الباری ج ١٣

صفحہ ٣٤٣

ص ٢٨١، باب قوله ﷺ لا تساءلوا اهل الكتاب عن شئ ...... وهو في المسند احمد ج ٣ ص ٣٣٨ ...... عن جابر واخرجه أبونعيم عن عمر ذكره في الخصائص ج ٣ ص ١٤٢ ...... وكنز العمال ج ١ ص ٢٠١ حديث نمبر ١٠١٠ ...... عن كتب عديدة وحاشية ابی داؤد للمغربي من الملاحم وشرح المواهب ج ٥ ص ٢٦٩ ...... وشرح الشفاء للقاری فی مواضع ج ١ ص ١١٥ ...... والدر المنثور ج ٢ ص ٤٨ ...... تحت آية الميثاق ...... مسند الدارمی، مشكوة ص ٣٠، باب الاعتصام بالكتاب والسنة) ”پس یہ قطعاً سهو ناسخین اور زلة قلم اور سبقت السنہ سے ہے۔ جیسے (کتاب الابریز کے ص ٩٥ میں فتح الباری) کے حوالہ سے ہے۔ حالانکہ اس میں پتہ نہیں اور یواقیت للشعرانی میں فتوحات کے دسویں باب سے ہے اور فتوحات کے اس باب میں پتہ نہیں۔ ایسا ہی جس میں باب ٦٩ اور باب ٤٢ سے نقل کیا ۔ حالانکہ ان میں اس کا پتہ نہیں اور شعرانی کی کتاب الجواہر والدر ص ٢١٢ میں اس کے خلاف ذکر ہے۔ غرض یہ لفظ نزول عیسیٰ بے سند وارد ہے۔ زلة قلم ناسخین سے نقل ہوا ہے۔ اس کا مسند احادیث میں کہیں پتہ نہیں۔ مرزائیوں کی حالت پر افسوس آتا ہے کہ اپنے دعوے کے خلاف بخاری و مسلم کی مسند روایتوں کو بھی رد کر دیتے ہیں اور اپنے دعویٰ کے موافق بے سند روایتوں سے بھی حجت پکڑتے ہیں۔ اور علامہ ابن القیم کی عبارت (مدارج السالکین ج ٢ ص ٢٤٤) میں اس طرح مذکور ہے ۔ یہ حدیث نہیں ہے۔ بلکہ علامہ کی عبارت ہے ۔ ” ومحمد ﷺ مبعوث الى جميع الثقلين فرسالته عامة للجن والانس في كل زمان ولوكان موسى وعيسى عليهما السلام حيين لكانا من اتباعه واذا نزل عيسى بن مريم عليهما السلام فانما يحكم بشريعة محمد ﷺ فمن ادعى انه مع محمد ﷺ كالخضر مع موسى او جوز ذلك لاحد من الامة فليجدد اسلامه وليتشهد شهادة الحق فانه مفارق لدين الاسلام بالكلية فضلا عن ان يكون من خاصة اولياء الله وانما هو من اولياء الشيطان وخلفائه ونوابه وهذا الموضع مقطع ومفرق بين زنادقة القوم وبين اهل الاستقامة منهم“ اور محمد ﷺ جمیع ثقلین کی طرف مبعوث ہیں ۔ پس آپ کی رسالت تمام جن وانس کے لئے ہر زمانہ میں عام ہے اور اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو آپ کے متبعین میں ہوتے اور جب عیسیٰ ، مریم کے بیٹے اتریں گے تو شریعت محمدیہ ہی کے ساتھ حکم فرمائیں گے ۔ پس جو شخص دعویٰ کرے کہ وہ محمد ﷺ کے ساتھ ایسے ہوں گے جیسے خضر ،موسیٰ کے ساتھ یا امت میں سے کسی کے لئے یہ جائز رکھے تو نئے

صفحہ ٣٤٤

سرے سے اسلام لائے اور حج کی گواہی دے۔ کیونکہ یہ دین اسلام سے بالکل جدا ہو گیا۔ چہ جائیکہ وہ خاص اولیاء اللہ میں سے ہو۔ بلکہ وہ اولیاء شیطان میں سے ہے اور اس کا خلیفہ اور اس کا نائب ہے اور اسی جگہ سے زندیق اور مستقیم کا پتہ چلتا ہے۔ غرض اس سے مراد یہ ہے کہ لــوکــان موسى حيا وعيسى موجوداً على الارض ! یعنی اگر موسٰی زندہ ہوتے اور عیسٰی زمین پر موجود ہوتے۔ ان دونوں کو ایک لفظ میں اختصاراً علیٰ وجہ التغلیب جمع کر دیا ہے۔ جیسے عمرین اور قمرین میں جمع کر دیا جاتا ہے۔

الطوائف) میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے قبر کے کتبہ کی یہ عبارت نقل کی گئی ہے کہ ”ھــذا قـبـر رسول الله عيسى ابن مريم الى اهل هذه البلاد“

(جواب کتاب الوقاب ٣) میں قصہ حجر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: فــاخــرجــت اليهما الحجر فقراه فاذا فيه انا عبدالله الاسود رسول رسول الله عيسى بن مريم الى أهل قرى عرينة ۔ اور باب ٧ فصل ٤ میں ہے کہ: روى الزبير عن موسى بن مـحـمـد عـن ابـيـه قـال وجد قبر آدمى على راس جماء ام خالد مكتوب فيه انا اسود بن سوادة رسول رسول الله عيسى بن مريم الى اهل هذه القرية وعن ابـن شـهـاب قـال وجـد قبر على جماء ام خالد اربعون ذرا عافى اربعين ذرا عـامـكـتـوب فـى حـجـر فـيـه انـا عبدالله من اهل نينوى رسول رسول الله عيسى بـن مـريـم عـلـيـهـمـا السـلام اے اهل هذه القرية فادركني الموت فاوصيت ان ادفن فى جماء ام خالد ! پس معلوم ہوا کہ یہ کسی حواری عیسٰی علیہ السلام اسود بن سوادہ نامی کی قبر ہے اور اس پتھر پر رسول رسول اللہ عیسٰی بن مریم لکھا ہے۔ لیکن تاریخ طبری میں قلم ناسخ سے لفظ رسول مضاف ساقط ہو گیا ہے اور مرزائیوں کا اس سے ایمان ساقط ہو گیا اور اس کو موت عیسٰی پر حجت بنالیا۔ العجب كل العجب !

قادیانی عقیدہ نمبر ١٩...... حیات مسیح کا عقیدہ شرک

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام مر چکے ان کو زندہ سمجھنا شرک ہے۔ اور قیامت کے قریب وہ ہرگز تشریف نہ لائیں گے اور جو عیسٰی بن مریم نازل ہونے

صفحہ ٣٤٥

والے ہیں۔ وہ میں عیسیٰ علیہ السلام بن مریم ہوں۔

(ازالہ ص ٦٩٢، خزائن ج ٣ ص ٥١٣)

اس کی قبر ہے‘‘

(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)

مدفون ہوئے۔‘‘

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ٩، خزائن ج ٣ ص ١٦١)

(حاشیہ ازالہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

یہ صریح منطوق کے خلاف ہے۔

مرزا قادیانی کے نزدیک حیات مسیح کا عقیدہ شرک عظیم ہے

موقعہ مل گیا ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہتا کسی طرح حضرت مسیح بن مریم کو موت سے بچائیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنا دیں۔ بڑی جان کاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)

(اور خود نبوت کا دعویٰ کر کے خاتم الانبیاء بن بیٹھے۔)

میں لکھتے ہیں کہ ’’حضرت اقدس نے پہلے خود مسیح کے آسمان سے آنے کا عقیدہ ظاہر فرمایا اور بعد کی تحریروں میں لکھا ہے کہ یہ ایک شرک ہے۔‘‘ اور (حقیقت النبوۃ ص ١٤٢) پر لکھتے ہیں کہ ’’جب حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم سے وفات مسیح ثابت کر دی اور حیات مسیح کے عقیدے کو مشرکانہ ثابت کر دیا تو اب جو شخص حیات مسیح کا قائل ہو وہ مشرک اور قابل مواخذہ ہے۔‘‘ اور مرزا قادیانی (الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠) میں لکھتے ہیں کہ ’’فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ ما مات ان ھو الا شرک عظیم .‘‘ یعنی حیات مسیح کا عقیدہ تو ایک شرک عظیم ہے۔

صفحہ ٣٤٦

مرزا قادیانی نے ١٨٩١ء میں دعویٰ مسیحیت کیا اس سے پہلے

حیات مسیح کے قائل تھے یعنی مشرک تھے

سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣ ص ٣٩٨، ٣٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

بیٹھے“

(براہین احمدیہ حاشیہ نمبر ٣ ص ٣٦١، خزائن ج ١ ص ٤٣١)

مریم آسمان سے نازل ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣)

سے آنے کا عقیدہ ظاہر کیا اور بعد کی تحریروں میں لکھا ہے کہ یہ ایک شرک ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٥٣)

”اب یہ سخت شرک ہو گیا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ٥٣)

برس براہین احمدیہ کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ مجھے مسیح موعود بناتی تھی ...... اور خدا تعالیٰ کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

”در حقیقت میرے دل کو اس وحی الٰہی کی طرف سے غفلت سی رہی۔ جو میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں براہین احمدیہ میں موجود تھی۔ اس لئے میں نے ان متناقض باتوں کو براہین احمدیہ میں جمع کر دیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ١١٤)

مریم انی نازل فی منزلہ ولاکن اخفیتہ نظراً الی تاویلہ بل ما بدلت عقیدتی وکنت علیہا من المتمسکین وتوقفت فی الاظہار عشر سنین“ ”اللہ کی قسم میں بہت عرصہ سے جانتا تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم بنایا گیا ہے اور میں ان کی جگہ پر نازل ہوا ہوں۔ لیکن میں تاویل کر کے چھپاتا رہا بلکہ میں نے اپنا عقیدہ نہیں بدلا اور اسی پر تمسک کرتا رہا اور اس دعوے کے اظہار میں میں نے دس برس توقف کیا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٥١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

صفحہ ٣٤٧

٧....... مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔ حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ مسیح بنا چکا تھا۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کے الہامات سے ثابت ہے۔ لیکن آپ کے اس فعل کو مشرکانہ نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ یہ ایک نبیوں کی سی احتیاط ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص١٤٢)

نوٹ! قرآن کریم میں ہے کہ: ”لا ينال عهدي الظلمين (بقره:١٢٤)“ یعنی یہ نبوت کا عہد ظالموں کو حاصل نہ ہوگا اور شرک تو سب سے بڑا ظلم ہے۔ ”ان الشرك لظلم عظيم (لقمان:١٣)“ جب مرزا قادیانی سن بلوغ سے ١٨٩١ء تک ظالم مشرک حیات مسیح کے معتقد تھے تو اللہ تعالیٰ ایسے ظالم مشرک کو عہدہ نبوت کے لئے ہرگز پسند نہیں فرماتا اور پھر ایسے غبی کہ ١٠ سال وحی الٰہی کو جو مسیح موعود بناتی تھی نہ سمجھ سکے۔ بلکہ وحی الٰہی کی مخالفت کرتے رہے اور شرک میں مبتلا رہے۔ کوئی ایسا نبی نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے۔ جو مشرک رہا ہو اور نہ ایسا غبی اور نہ صریح وحی الٰہی کی مخالفت کرنے والا۔ صاحبزادے نے اپنے نبی کی کیا اچھی احتیاط ظاہر فرمائی ہے۔ معاذ اللہ ! نبی عقیدہ شرک سے مبرا ہوتے ہیں۔ ہاں البتہ احکام عملی میں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب تک کسی خاص فعل کے متعلق نبی پر وحی نہ آئی ہو اس فعل میں پہلے نبی کے حکم و شریعت پر عمل کرے۔

مسیح بن مریم کیسے بنے؟۔

”خدا تعالیٰ نے اس الہام میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا...... پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردِ زہ تہہ کھجور کی طرف لے آئی۔“

(کشتی نوح ص٤٦، ٤٧، خزائن ج١٩ ص٥٠)

”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“

(ازالہ اوہام ص١٩٠، خزائن ج٣ ص١٩٢)

مرزا قادیانی کے دعویٰ میں متعارض اقوال اور اضطراب

١...... ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ ناموجود ہونے کسی نمونے کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت

صفحہ ٣٤٨

کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیتہ کما ہی ظاہر فرمائی گئی ..... تو کچھ تعجب کی بات نہیں ۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٦٩١ ،خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

اور لکھتے ہیں کہ: ”انبیاء غلطی پر نہیں رکھے جاتے ہیں ۔“

(اعجاز احمدی ص ٤٤ ،خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

(ازالہ ص ١٤٢ ،خزائن ج ٣ ص ١٧٢)

(ازالہ ص ١٤٢ ،خزائن ج ٣ ص ١٧٢)

ظہور فرمانے کا ایک اجماعی اعتقاد تھا ۔ کس قدر ان بزرگوں پر تہمت ہے ۔“

(ازالہ ص ٢٣٩ ،خزائن ج ٣ ص ٢٢١)

جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں کہی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی ۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے ۔“

(ازالہ ص ٥٥٧ ،خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)

عقم سرایت کرے گی ۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحہ عالم سے مفقود ہو جائے گی ۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے نہ حرام کو حرام ۔ پس ان پر قیامت قائم ہوگی ۔“

(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٤ ص ١٥٩ ،خزائن ج ١٥ ص ٤٨٣)

بھی آئے اور بعض احادیث کے رو سے وہ موجود بھی ہو اور کوئی ایسا دجال بھی آئے جو مسلمانوں میں فتنہ ڈالے ۔ مگر میرا مذہب یہ ہے کہ اس زمانہ کے پادریوں کی مانند کوئی اب تک دجال پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک ہوگا ۔“

(ازالہ ص ٤٨٨ ،خزائن ج ٣ ص ٣٦٢)

ہے کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے ۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار مثیل مسیح بھی آجائیں ۔ ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور

صفحہ ٣٤٩

دوسرے کی انتظار بے سود ہے۔۔۔۔۔۔ ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے۔ جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آ سکیں۔“

(ازالہ ص ١٩٩، ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔“

(ازالہ ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

(ازالہ ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

اور لکھتے ہیں کہ: ”کشمیر محلہ خانیار سری نگر میں مدفون ہیں ۔“ (حاشیہ راز حقیقت ص ٩، خزائن ج ١٤ ص ١٦١، کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦، ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ١٠٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٢)

اور حاشیہ (اتمام الحجہ ص ١٩، خزائن ج ٨ ص ٢٩٧) میں ہے کہ: ”بیت المقدس کے کنیسہ عظیمہ میں دفن کئے گئے ۔“

تکملہ

مرزا قادیانی اپنے بیان سے مسیح موعود بھی نہیں ہو سکتے۔ بلکہ اپنے اقوال سے جھوٹے ثابت ہوئے۔

دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راستبازی ترقی کرے گی ۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)

آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے۔ کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا۔ کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا وہ اسی میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ تو فانہ محمدی کے آخر حصہ میں ڈالدی جو قریب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی امت میں سے

صفحہ ٣٥٠

ایک نائب مقرر کیا۔ جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اسی کا نام، خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت ﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو۔ جب تک وہ پیدا نہ ہولے۔ کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔

نوٹ! ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے جو پروگرام مسیح کا قبل دعویٰ بیان کیا تھا۔ جب مرزا قادیانی خود ہی اس عہدہ پر فائز ہو کر انچارج ہوئے تو اس پروگرام میں کوئی تبدیلی کمی و بیشی کی نہیں فرمائی بلکہ اس کی مزید تشریح کر کے صاف اعلان فرمایا۔

"اگر سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہو اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرنا ضروری ہے۔ یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آئے۔ یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ شان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنی تئیں کاذب خیال کرلوں گا۔"

یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جائے گا۔“

اور پھر اسی کتاب (شہادۃ القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١، اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق) لکھتے ہیں کہ: ”ہاں مسیح آ گیا اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام چندر پوجا جائے گا نہ کرشن اور نہ حضرت مسیح۔“

جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہو بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آ اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ انجام کو نہ دکھایا جو مسیح موعود مہدی موعود کو کرنا چاہئے رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔"

کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ : "جس کو انہوں آخر میں مشتہر کیا ہے ہم سے پہلے۔" "میر عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اس ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ رک نہیں سکت

نوٹ! ان عبارتوں سے کامل ذریعہ سے تمام دنیا میں اسلام کا پھیل جانا کیا جانا اور عیسائیت رام چندر و کرشن مرزا قادیانی کی زندگی میں پورا ہو جائے گ موعود کی جو علامت انہوں نے بیان کی او قول سے جھوٹے ثابت ہوئے اور مرزا مسلمانوں کو بھی کافر بنایا جو مرزا قادیانی مرزا قادیانی کو مطلقاً مانا ہی نہیں نہ ہندوؤ تسلیم کیا۔ ہاں کچھ مسلمانوں کو دام تزویر ہونے کا دعویٰ اور دو چار عیسائیوں کا بھی بنا دیا۔ مسیح موعود اسی لئے آئے تھے؟۔

اسلامی عقیدہ نمبر ٢٠...

جمہور مسلمانان عالم کا از رو مریم اور امام مہدی محمد بن عبداللہ دو الگ

صفحہ ٣٥١

جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کروں پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ انجام کو نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

٧۔ ....... مرزا قادیانی کا اپنے (الہامی اعلان ص١٦، ١٧، خزائن ج٢٢ ص٤٢٧، ٤٢٨) کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ: ”جس کو انہوں نے اپنی کتاب حقیقت الوحی مطبوعہ ١٥ مئی ١٩٠٧ء کے آخر میں مشتہر کیا ہے تتمہ سے پہلے۔“ ”میں کامل یقین سے کہتا ہوں کہ جب تک وہ خدمت جو اس عاجز کے حصہ میں مقرر ہے پوری نہ ہو اس دنیا سے اٹھایا نہ جائے گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے وعدے ٹل نہیں جاتے اور اس کا ارادہ رک نہیں سکتا۔“

نوٹ ! ان عبارتوں نے کامل طور سے فیصلہ کر دیا کہ مسیح موعود کا جو کام ہے یعنی ان کے ذریعہ سے تمام دنیا میں اسلام کا پھیل جانا ملل باطلہ کا ہلاک ہو جانا تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جانا اور عیسائیت رام چندر وکرشن پرستی سب کا فنا ہو جانا بس اسلام ہی کا بول بالا ہونا مرزا قادیانی کی زندگی میں پورا ہو جائے گا۔ مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ پورا نہ ہوا اور ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود کی جو علامت انہوں نے بیان کی اور خاص علت غائی بتلائی وہ ان میں نہیں پائی گئی اور اپنے قول سے جھوٹے ثابت ہوئے اور مرزا قادیانی نے اسلام کو ایسی ترقی دی کہ تقریباً ٤٠ کروڑ مسلمانوں کو بھی کافر بنایا جو مرزا قادیانی کو نبی اور مسیح موعود نہیں مانتے اور ہندو اور عیسائی قوم نے تو مرزا قادیانی کو مطلقاً مانا ہی نہیں نہ ہندوؤں نے مرزا قادیانی کو کرشن تسلیم کیا۔ نہ عیسائیوں نے مسیح تسلیم کیا۔ ہاں کچھ مسلمانوں کو دام تزویر میں پھانسا ہے۔ افسوس کس قدر افسوس ہے کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ اور دو چار عیسائیوں کو بھی تو مسلمان نہ بنا سکے۔ مگر چالیس کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا دیا۔ مسیح موعود اسی لئے آئے تھے؟ ۔

اسلامی عقیدہ نمبر ٢٠...... مسیح و مہدی علیحدہ علیحدہ دو شخصیات

جمہور مسلمانان عالم کا از روئے احادیث صحیحہ متواترہ یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم اور امام مہدی محمد بن عبداللہ دو الگ الگ مقدس ہستیاں ہیں۔

صفحہ ٣٥٢

١....... ”عن جعفر عن ابيه عن جده قال قال رسول الله ﷺ....... كيف تهلك امة انا اولها والمهدى وسطها والمسيح اخرها (رواه رزين مشكوة ص ٥٨٢، باب ثواب هذه الامة، ويسمى مثل هذا السند سلسلة الذهب، از مرقاة برحاشيه ج ١١ ص ٤٦٧)“ حضرت امام جعفر صادقؒ نے اپنے والد حضرت امام باقرؒ سے اور انہوں نے اپنے دادا حضرت امام حسنؓ سے روایت کی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا۔ کیوں کر ہلاک ہوسکتی ہے امت۔ اس کے اوّل میں ہوں اور درمیان میں مہدی اور آخر میں مسیح علیہ السلام اس حدیث کی سند کو سلسلۃ الذہب کہا جاتا ہے۔ یعنی سونے کی لڑی۔﴾

٢....... (مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول المسيح بن مريم، ابن ماجه ص ٢٩٨، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم، عمدة القارى ج ٧ ص ٤٥٣) سے تین حدیثیں نقل کر چکا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ایک رجل صالح امیر المسلمین یعنی امام مہدی صبح کی نماز کی امامت کے لئے آگے بڑھے گا۔ اچانک عیسیٰ علیہ السلام اتر آئیں گے۔

٣....... ”عن ام سلمةؓ قالت سمعت رسول الله ﷺ يقول المهدى من عترتى من ولد فاطمةؓ (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١، كتاب المهدى، ابن ماجه ص ٣٠٠، باب خروج المهدى، مشكوة ص ٤٧٠، باب اشراط الساعة)“ ﴿ام سلمہؓ سے ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا کہ فرماتے تھے کہ مہدی میری عترت سے ہوگا۔ یعنی اولاد فاطمہؓ سے۔﴾

٤....... ”عن علىؓ قال قال رسول الله ﷺ سيخرج من صلبه رجل يسمى باسم نبيكم يشبهه فى الخُلق ولا يشبهه فى الخَلق ثم ذكر يملاء الارض عدلًا (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١، كتاب المهدى، مشكوة ص ٤٧١، باب اشراط الساعة)“ ﴿حضرت علیؓ نے کہا کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ اس کی صلب سے ایک شخص نکلے گا تمہارے نبیﷺ کے نام سے موسوم ہوگا اور خلق میں مشابہ ہوگا۔ مگر خلقت میں نہیں زمین کو عدل سے بھر دے گا۔﴾

٥....... ”فى رواية عن عبدالله بن مسعودؓ يملك العرب رجل من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى واسم ابيه ابى هذا الحديث حسن صحيح (ترمذى ج ٢ ص ٤٧، باب ماجاء فى المهدى، ابوداؤد ج ٢ ص ١٣١، باب كتاب المهدى، مشكوة ص ٤٧٠، باب اشراط الساعة)“ ﴿حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میری اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا مالک اور بادشاہ ہوگا۔ اس کا نام میرے نام کے

صفحہ ٣٥٣

اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہوگا۔﴾

الساعة حتى تملاء الارض ظلماً وجوراً وعدواناً ثم يخرج من اهل بيتي من يملأها قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلماً وعدواناً (رواه الحاكم في المستدرك ج٥ ص ٧٧١، باب حلية المهدي عليه السلام وقال صحيح على شرط الشيخين) “ ﴿ابوسعید خدریؓ سے ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہ آئے گی۔ یہاں تک کہ زمین ظلم سے بھر جائے گی۔ پھر میرے اہل بیت میں سے ایک شخص نکلے گا۔ جو زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ جیسے کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی تھی۔﴾

ص ١٣١، کتاب المهدی، مشکوة ص٤٧١، باب اشراط الساعة) “ ﴿یعنی سات برس سلطنت کرے گا اور دو برس عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ رہیں گے۔ اسی وجہ سے بعض روایات میں ٩ برس بھی ہے۔﴾

موت خليفة فيخرج رجل من اهل المدينة هارباً الى مكة فياتيه ناس من اهل مكة فيخرجونه وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام ويبعث اليه بعث من الشام فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة فاذا رأى الناس ذالك اتاه ابدال الشام وعصائب اهل العراق فيبايعونه (ابوداؤد ج٢ ص ١٣١، کتاب المهدی، مشکوة ص٤٧١، باب اشراط الساعة) “ ﴿ام سلمہؓ سے ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف واقع ہوگا۔ پس اہل مدینہ سے ایک شخص مدینہ سے نکل کر مکہ کو بھاگے گا۔ پس مکہ کے لوگ اس کے پاس آئیں گے اور رکن اور مقام کے درمیان اس سے بیعت کریں گے اور وہ اپنے خلیفہ ہونے کو مکروہ سمجھے گا۔ پھر شام سے اسی کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ پس وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان خسف کر دیا جائے گا اور جب لوگ اس واقعہ کو دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور عراق کے سردار کے پاس آئیں گے اور بیعت کریں گے۔﴾

فاتوها فان فيها خليفة الله المهدى (رواه احمد ج٥ ص٢٧٧ والبيهقي في دلائل

صفحہ ٣٥٤

النبوة ج٦ ص ٥١٦، باب ماجاء فى الاخبار عن خلل، مشكوة ص ٤٧١، باب الشراط الساعة) ﴿حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سیاہ جھنڈے خراسان کی جانب سے اٹھتے دیکھو۔ پس آؤ کیونکہ ان میں خلیفۃ اللہ مہدی ہوں گے۔ یعنی ابتداء میں مدینہ میں ہوں گے پھر مکہ میں اور خراسان میں بھی تشریف لائیں گے۔ یا یہ لوگ متبعین مہدی ہوں گے۔ کماسیاتی!﴾

النهر يقال له الحارث حراث على مقدمته رجل يقال له منصور يوطن او يمكن لال محمد كما مكنت قريش لرسول الله وجب على كل مؤمن نصره او قال اجابته (رواه ابوداؤد ج٢ ص ١٣١، كتاب المهدی، مشكوة ص ٤٧١، باب اشراط الساعة) ﴿حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص ماوراء النہر سے ظاہر ہوگا۔ جس کا نام حارث حراث ہوگا اور اس کے مقدمۃ الجیش پر ایک شخص جس کا نام منصور ہوگا وہ آل محمد ﷺ یعنی مہدی علیہ السلام کی مدد کرے گا۔ جیسے قریش نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی ہر مومن پر اس کی مدد واجب ہے۔﴾

وہ احادیث جو مہدی موعود کے بارے میں وارد ہیں متواتر ہیں

متواترة والاحاديث الواردة فى نزول عيسى بن مريم متواترة (الشوكانى كتاب الاذاعه ص ٧٧) ﴿پس ثابت ہو چکا کہ وہ احادیث جو مہدی موعود کے بارے میں وارد ہیں ۔ متواتر ہیں اور وہ احادیث جو نزول عیسیٰ بن مریم کے بارے میں وارد ہیں متواتر ہیں۔﴾

تواترت الاخبار بان المهدى من هذه الامة وان عيسى يصلى خلفه ذكر ذالك ردا للحديث الذى اخرجه أبن ملجه عن انسؓ وفيه ولا مهدى الا عيسىٰ (فتح البارى شرح بخارى ج٦ ص ٣٥٨، باب قول الله تعالى واذكر فى الكتاب مريم، مطبوعه بيروت) ﴿ابو الحسن الخسعی الابدی نے مناقب شافعیؒ میں فرمایا ہے کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ مہدی اس امت میں سے ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے (ایک دفعہ نزول کیوقت) نماز پڑھیں گے۔ یہ اس حدیث کے رد کرنے کو ذکر کیا ہے۔ جس کو ابن ماجہ نے انسؓ سے روایت کیا ہے۔ لا مهدى الا عيسىٰ!﴾

حدیث لا مهدی الا عیسی موضوع اور منکر ہے احادیث متواترہ کے خلاف ہے

صفحہ ٣٥٥

قابل حجت نہیں۔ یہ حدیث ابن ماجہ میں اس طرح مذکور ہے۔ ”حدثنا يونس بن عبدالاعلى حدثنا محمد بن ادريس الشافعى حدثنى محمد بن خالد الجندى عن ابان بن صالح عن الحسن عن انس بن مالك ان رسول الله ﷺ قال لا تقوم الساعة الا على شرار الناس ولا مهدى الا عيسى بن مريم (ابن ماجه ص ٢٩٢، باب شدة الزمان)“

.......١ اول تو یہ حدیث موضوع ومنکر احادیث متواترہ کے خلاف ہے۔ قابل حجت نہیں ۔ ”قال الصنعانى لا مهدى الا عيسى بن مريم موضوع (مجمع البحار ج ٥ ص ٢٤٧)“

علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ : ”هذا خبر منكر تفردبه يونس بن عبدالاعلى عن الشافعى ومحمد بن خالد قال الازدى منكر الحديث وقال الحاكم مجهول وكذا قال ابن الصلاح فى اماليه وقد وثقه يحيى بن معين وروى ثلاثة رجال سوى الشافعى....... قال محمد بن الحسين الابزى الحافظ فى مناقب الشافعى قد توارت الاخبار...... فى المهدى وانه من اهل بيته وانه يملك سبع سنين...... وانه يخرج مع عيسى بن مريم فيساعده على قتل الدجال بباب لد...... ومحمد بن خالد الجندى وان كان يذكر عن يحي بن معين انه وثقه فانه غير معروف عند اهل الصناعة من اهل العلم والنقل (ميزان الاعتدال ج ٧ ص ٣١٧ ، هكذا قال الشاه عبدالغنى المحدث الدهلوى فى حاشية علی ابن ماجه ص ٢٩٢)“ ﴿یہ حدیث منکر ہے۔ اس حدیث کو صرف یونس بن عبدالاعلیٰ ہی نے شافعیؒ سے روایت کیا ہے اور محمد بن خالد ازدی نے کہا کہ یہ منکر الحدیث ہے اور حاکم نے کہا مجہول ہے اور ایسا ہی ابن الصلاحؒ نے کہا ہے اور یحییٰ بن معین نے اس کی توثیق کی ہے۔ شافعیؒ کے سوا صرف تین اور آدمی اس سے روایت کرتے ہیں اور بس۔ محمد بن حسین آبزی حافظ نے مناقب شافعیؒ میں کہا ہے کہ مہدی کے ذکر میں حدیثیں متواتر ہیں کہ وہ حضور ﷺ کے اہل بیت میں سے ہوگا۔ سات برس سلطنت کرے گا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نکلے گا۔ پس قتل دجال میں باب لد پر ان کے ساتھ موافقت کرے گا...... اور محمد بن خالد جندی اگر چہ ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کی یحییٰ بن معین نے توثیق کی ہے۔ لیکن اس فن کے اہل علم اور اہل نقل کے نزدیک یہ شخص غیر معروف

صفحہ ٣٥٦

ہے ۔ ﴿دوسرے اس حدیث میں مہدی کے لغوی معنی مراد ہیں۔ لا تقوم الساعة الا على شرار الناس ! اس پر قرینہ ہے۔ یعنی شرار الناس پر قیامت قائم ہوگی اور سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی اس زمانہ میں ہدایت یافتہ نہ ہوگا۔ چنانچہ ان کے بعد شرار الناس پر قیامت آجائے گی۔ تیسرے اہل اسلام کے نزدیک جیسے محمد بن عبداللہ مہدی ہوں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی اس امت کے مہدی اکبر ہوں گے۔ چنانچہ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ مہدی اکبر اور کامل عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے۔ چوتھے لا مہدی الا عیسیٰ کا محمل کمال قرب واتحاد زمانہ کے ثابت کرنے کے لئے ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ: ”عمران بیت المقدس خراب یثرب وخراب یثرب خروج الملحمه وخروج الملحمه فتح القسطنطنیه وفتح القسطنطنیه خروج الدجال (رواہ ابوداؤد ج ٢ ص ٤٣٢، باب فی امارات الملاحم، مشکوۃ ص٤٦٧، باب الملاحم) “یعنی زمانہ مہدی اور زمانہ عیسیٰ علیہ السلام گویا بالکل ایک ہی ہے۔

حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی شیخ عبدالوہاب شعرانی

اور شیخ محمد اکرم صابری کا مذہب

خروج المهدى عليه السلام...... من ولد فاطمة...... واعلم ان المهدى اذا خرج يفرح به جميع المسلمين خاصتهم وعامتهم (فتوحات مکیه ج ٣ ص ٣٢٧، باب ٣٦٦، از یواقیت للشعرانی ج٢ ص ١٤٣) ” ﴿جان لو کہ مہدی علیہ السلام کا خروج ضروری ہے...... اور وہ اولاد فاطمہؓ سے ہوگا...... اور جان لو کہ جب مہدی علیہ السلام کا خروج ہوگا تو تمام مسلمان خاص و عام خوش وخرم ہوں گے۔﴾

اور ہے کہ:”ثم قال واعلم ان ظهور المهدی علیه السلام من اشراط (قرب الساعة یواقیت ج ٢ ص١٤٤) “یعنی جان لو کہ مہدی علیہ السلام کا ظہور علامات قرب قیامت سے ہے۔

”يك فرقه بر آن رفته اندکه مهدی آخر الزمان عیسیٰ بن مریم است و ایں روايۃ بغايۃ ضعيف است زيراكه اکثر احادیث صحیح ومتواتر از حضرت رسالت پناه ﷺ ورود یافته که مهدی علیه السلام از بنی

فاطمة خواهد بود وعي گذارد وجميع عارفان صا الدين بن عربی قدس مهدی آخر الزمان از آل شود واسم او اسم رسول الـ مرزا کی صرف دجل کی بـ برآنند که روح عیسیٰ در مطابق این حدیث لا مهدی ا حالانکہ اس کے بعد یہ بھـ

مرزائی عقیدہ نمبر

عام طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ حقیقی آنے کی بشارت انجیل اور قرآن لئے وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ میں ہی ہـ

ہے کہ مہدی کے بارے میں جس میں سے جرح سے خالی نہیں ۔“ نوٹ! یہ بالکل غلط ہیں ۔ بلکہ اس حدیث پر بہت ہی اور مرزا قادیانی لکھتـ

احادیث مہدی کو مجروح ضعیف

صفحہ ٣٥٧

فاطمه خواهد بود وعیسى علیه السلام بوے اقتدا کرده نماز خواهد گذارد و جمیع عارفان صاحب تمکین بریں متفق اند چنانچه شیخ محی الدین بن عربی قدس سره درفتوحات مکی مفصل نوشته است که مهدی آخر الزماں از آل رسول ﷺ من اولاد فاطمه زهراء ظاهر شود واسم او اسم رسول الله ﷺ باشد“

مرزائی صرف وہم کی رو سے ص ٥٢ سے صرف اتنا نقل کرتے ہیں کہ : ”بعضی برآنند که روح عیسیٰ درمهدی بروز کندونزول عبارت ازیں بروز است مطابق ایں حدیث لا مهدی الا عیسیٰ بن مریم!“

حالانکہ اس کے بعد یہ بھی لکھا ہے کہ : ”و ایں مقدمہ بغایت ضعیف است“

مرزائی عقیدہ نمبر ٢٠.......مسیح ....... مہدی ........ دونوں ایک

عام طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ حقیقی اور واقعی مسیح موعود جو وہی درحقیقت مہدی بھی ہے۔ جس کے آنے کی بشارت انجیل اور قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور احادیث میں بھی ان کے آنے کے لئے وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ میں ہی ہوں۔ مگر بغیر تلواروں اور بندوقوں کے۔“

(مسیح ہندوستان میں ص١٣، خزائن ج١٥ ص ایضا)

ہے کہ مہدی کے بارے میں جس قدر احادیث ہیں بجز حدیث عیسیٰ مہدی کے کوئی ان حدیثوں میں سے جرح سے خالی نہیں۔“

(حاشیہ چشمہ معرفت مقدمہ، خزائن ج٢٣ ص٢)

نوٹ! یہ بالکل غلط ہے کیونکہ مہدی کی اکثر احادیث اعلیٰ درجہ کی صحیح علیٰ شرط الشیخین ہیں ۔ بلکہ اس حدیث پر بہت ہی جرح ہے اور منکر ہے۔

اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اور ممکن ہے امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو۔“

(ازالہ اوہام ص٥١٩، خزائن ج٣ ص٣٧٩)

احادیث مہدی کو مجروح ضعیف بلکہ اکثر کو موضوع اور افتراء کی ٹھہراتے ہیں اور کہتا ہے کہ : ”بخاری

صفحہ ٣٥٨

ومسلم نے ان احادیث کا ذکر نہ کر کے اس امر کی گواہی دی ہے۔ ”وان في هذا لثبوتاً لاولى النهي وتلك شهادة عظمى“، یعنی عقلمندوں کے لئے اس میں بڑا ثبوت ہے اور یہ بڑی بھاری گواہی ہے۔“

نوٹ ! مگر افسوس حدیث لا مهدی الا عیسیٰ کا بھی بخاری ومسلم میں ذکر تک نہیں ہے۔

کے لئے آواز آئے گی ۔ هذا خليفة الله المهدى ! اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ یا مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

نوٹ ! خیر حدیث مہدی صحیح بخاری میں تو نکلی۔

اسلامی عقیدہ نمبر ٢١...... دربارہ دجال

جمہور اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ دجال معہود ایک کانا شخص یہودی النسل ہوگا اور یہودی اس کی اتباع کریں گے جو آخر زمانہ میں بڑا فتنہ برپا کرے گا۔ خدائی کا دعویٰ کرے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتر کر اسے قتل کریں گے اور یاجوج ماجوج دو مخصوص قومیں ہیں۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے سب یک لخت مر جائیں گے۔ تمام جہان میں تعفن اور ان کی لاشوں کی بدبو پھیل جائے گی ۔ (الی آخر الحدیث مسلم ج ٢ ص ٤٠٢)

اني قد حدثتكم عن الدجال حتى خشيت ان لا تعقلوا ان مسيح الدجال رجل قصير افحج جعد اعور مطموس العين ليس بناتئة ولا حجراء فان لبس عليكم فاعلموا ان ربكم ليس باعور (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٤، باب خروج الدجال)“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تحقیق میں نے تم کو دجال کے متعلق بہت بیان کیا۔ یہاں تک کہ میں ڈرا کہ تم سمجھ نہ سکو گے۔ تحقیق مسیح دجال ایک آدمی پستہ قد ٹانگیں پھیلا کر چلنے والا گھنگر والے بال، کانا ، سپاٹ آنکھ والا ، نہ ابھری ہوگی نہ بیٹھی۔ اگر اشتباہ واقع ہوتو جان لو کہ تمہارا خدا کانا نہیں۔

نوٹ ! دجال کی دائیں آنکھ ابھری ہوئی انگور کی طرح ہو گی ۔ ”اعور عين اليمني كان عينه طافية (مشكوة ص ٤٧٦، باب العلامات بين يدى الساعة)“ اور بائیں مطموس العین یعنی بالکل سپاٹ ہوگی اس پر ناخنہ سا ہوگا۔ ”عليه ظفرة غليظة (مشكوة

صفحہ ٣٥٩

ص ٤٧٣، باب العلامات بين يدى الساعة)“

سبعون الفا عليهم الطيالسة (مسلم ج ٢ ص ٤٠٥، باب فى بقية من احاديث الدجال)“ یعنی ستر ہزار یہودی صرف اصفہان سے دجال کے ساتھ ہوں گے اور احادیث علامات قیامت میں مذکور ہے کہ مسلمان اور یہودیوں میں جنگ ہوگی۔ مسلمان ان پر غلبہ حاصل کریں گے اور ان کو قتل کریں گے۔

”لاتقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون اليهود فيقتلهم المسلمون (رواہ مسلم ج ٢ ص ٣٩٦، کتاب الفتن واشراط الساعة، مشکوٰة ص ٤٦٦، باب الملاحم، بخاری ج ١ ص ٤١٠، باب قتال اليهود)“ اور دجال بھی یہودی قوم سے ہوگا۔

”عن ابي سعيد الخدری قال قال لی ابن صیاد...... مالی ولکم یااصحاب محمد الم يقل نبى الله ﷺ انه يهودى وقد اسلمت ولا يولدله وقد ولد لی (مسلم ج ٢ ص ٣٩٨، باب ذکر ابن صیاد)“ یعنی ابو سعید خدریؓ نے کہا کہ مجھ سے ابن صیاد نے کہا کہ اے اصحاب محمد ﷺ تم کو کیا ہوا کہ مجھ کو دجال خیال کرتے ہو۔ کیا نبی اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ وہ یہودی ہوگا اور میں تو مسلمان ہو گیا ہوں اور کیا نہیں فرمایا کہ اس کے اولاد نہ ہوگی اور میرے تو اولاد ہے۔

”نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بیان میں ہے۔ فيدركه عند باب لد الشرقی فيقتله فيهزم الله اليهود (ابن ماجه ص ٢٩٨، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مریم)“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام دجال کو لد کے دروازہ شرقی کے قریب قتل کریں گے۔ پس اللہ تعالیٰ یہود کو ہزیمت دے گا۔ جیسا کہ وعدہ ہے۔ ”جاعل الذین اتبعوك فوق الذين كفروا الى یوم القيٰمة (آل عمران: ٥٥)“ یہودی عقائد سے نکل کر خدائی دعویٰ کرے گا۔

”ان من فتنته ان يقول للاعرابی ارأيت ان بعثت لك اباك وامك اتشهد انی ربك (ابن ماجه ص ٢٩٨، باب فتنة الدجال وخروج عيسى بن مريم)“ یعنی دجال کے فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ ہے کہ گنوار لوگوں سے کہے گا کہ اگر تیرے ماں باپ کو زندہ کردوں تو پھر گواہی دے گا کہ میں تیرا رب ہوں۔

”فيمثل له الشياطين نحو ابيه ونحو اخيه (مشکوٰة ص ٤٧٧، باب لايدخل الدجال المدينة، باب الدجال)“ یعنی پھر شیاطین کو اس کے ماں باپ بھائی وغیرہ

صفحہ ٣٦٠

کی شکل میں سامنے لا کھڑا کرے گا اور ایسے ہی اور دیگر تصرفات شیاطین کے ذریعہ سے کر دکھلائے گا۔

اور ہے کہ: ”فیقتله ثم يحييه (بخاری ج ٢ ص ١٠٥٦...... مسلم ج ٢ ص ٤٠٢ ، باب ذكر الدجال)“ یعنی ایک مسلمان کو قتل کر کے زندہ کرے گا۔ ثم لا يسلط عليه لیکن دوبارہ پھر اس پر قادر نہ ہو سکے گا۔

مفصل مذکور ہو چکا۔

رئیس المکاشفین شیخ اکبر کا دجال کے بارے میں کشف اور ان کی تحقیق

اشراط قرب الساعة كذلك خروج الدجال فيخرج من خراسان من ارض الشرق موضع الفتن يتبعه الاتراك واليهود ويخرج اليه من اصبهان وحدها سبعون الفا مطيلسين وهو رجل كهل اعور العين اليمنى كان عينه عنبة طافية مكتوب بين عينيه ك،ف،ر (منقول از یواقیت ج ٢ ص ١٤٤)“ ﴿پھر شیخ نے کہا جان تو کہ مہدی علیہ السلام کا ظہور علامات قرب قیامت سے ہے اور ایسا ہی دجال کا نکلنا ہے اور وہ جانب مشرق فتنوں کی جگہ سے خراسان سے نکلے گا۔ ترک اور یہود اس کی اتباع کریں گے اور صرف اصفہان سے ستر ہزار یہودی طیلسان پہنے ہوئے اس کے ساتھ ہوں گے اور وہ ایک ادھیڑ آدمی ہے۔ دائیں آنکھ کانی ہے۔ گویا آنکھ اس کی انگور کی طرح اٹھی ہوئی ہے۔ اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہے۔﴾

جهة الشمال وهى الجزيرة التي فيها الدجال (از یواقیت ج ٢ ص ١٣٧)“ ﴿شیخ نے کہا وہ اس وقت سمندر جو جانب شمال کے متصل ہے اس کے ایک جزیرہ میں ہے یہ وہ جزیرہ ہے جس میں دجال ہے۔﴾

وانما هى امور متخيلة يفتن بها ضعفاء العقول بخلاف ما يقع على يد الانبياء فانها امور حقيقية (از یواقیت ج ١ ص ١٥٧)“ ﴿دجال کے ہاتھ سے جس قدر شعبدات ظاہر ہوں گے امور حقیقت نہ ہوں گے۔ بلکہ وہ محض امور مخیلہ ہوں گے۔ ان سے ضعیف العقل

صفحہ ٣٦١

لوگ فتنہ میں پڑیں گے۔ کیونکہ معمولی عقل رکھنے والے کے لئے اس کا حلیہ ہی اس کے دعویٰ خدائی کو رد کر دے گا۔ بخلاف معجزات کے جو انبیاء علیہم السلام سے ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ امور حقیقیہ واقعیہ ہوتے ہیں۔ ﴾

مرزائی عقیدہ نمبر ٢١...... دربارہ دجال

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ دجال عیسائی پادریوں کا گروہ ہے اور یاجوج ماجوج انگریز اور روس ہیں اور مسیح موعود میں ہوں۔

ٹڈی کی طرح تمام دنیا میں پھیل گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)

البرطانية“

(حاشیہ حمامۃ البشریٰ ص ٢٨، خزائن ج ٧ ص ٢٠٩)

”تحقیق یاجوج ماجوج نصاریٰ ہیں۔ روس اور قوم برطانیہ سے۔“

آخری زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤١)

مرزا قادیانی کی دجال کے متعلق عجیب تحقیقات

ہونے کسی نمونہ کے سو وہ منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ظاہر فرمائی گئی..... تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

”انبیاء علیہ السلام غلطی پر نہیں رکھے جاتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

(ازالہ حاشیہ ص ٢٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢١١)

صیاد ہی تھا۔“

(ازالہ ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢١٠)

صفحہ ٣٦٢

(ازالہ ص ٢٢٣، خزائن ج ٣ ص ٤٨٩)

(ازالہ ص ٢٢٤، خزائن ج ٣ ص ٤٢٠)

سچا مسیح ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے۔“

(ازالہ ص ٢١٧، خزائن ج ٣ ص ٤٨٨)

دجال معہود ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی آخر کار یقین کر لیا۔“

(ازالہ ص ٢٢٥، خزائن ج ٣ ص ٤١٣)

آخر میں یہ رائے بدل گئی تھی۔“

(ازالہ ص ٦٨٩، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)

بھی ہو اور بعض احادیث کی رو سے وہ موجود بھی ہو اور کوئی ایسا دجال بھی آوے جو مسلمانوں میں فتنہ ڈالے۔ مگر میرا مذہب یہ ہے کہ اس زمانہ کے پادریوں کی مانند کوئی اب تک دجال پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک ہوگا۔“

(ازالہ ص ٤٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٦٢)

طرف اشارہ ہے کہ جب دجال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے۔ تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔

(ازالہ ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢)

بھی۔“

(ازالہ ص ٧٠٧، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)

آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھا اور پھر آخری زمانہ میں بڑی قوت کے ساتھ خروج کرے گا اور اب تک وہ زندہ کسی جزیرہ میں موجود ہے۔ مگر یہ خیال کہ اب تک وہ زندہ ہے۔ ہرگز صحیح نہیں ہے۔“

(ازالہ ص ٣٨٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٨)

بعض مرزائی شبہات کے مختصر جوابات

فتنة الدجال وخروج عيسى بن مریم مشکوۃ ص ٤٧٣، باب ذكر الدجال) “یعنی شام

صفحہ ٣٦٣

عراق کے درمیان سے ملتقٰی بحرین یعنی دجلہ وفرات کے ملتقٰی سے جو دونوں ایک ہی ہیں اور جانب مشرق ہے اور اس کے بعد خراسان سے گذرتا ہوا خروج کرے گا۔

ج٢ ص ١٠٥٦، باب ذکر الدجال)“ یعنی اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا۔ ہر پڑھا بے پڑھا اس کو پڑھ لے گا۔ یہ بخاری ومسلم کی متفق علیہ حدیث ہے۔ بے شک خداوند عالم ہر مومن کو دجال کے فتنہ سے بچانے کے لئے علم وجدانی پیدا کر دے گا۔ کیا بعید ہے کہ ہاتھ پاؤں کو زبان کی طرح گویا کر کے شہادت لے گا اور دجال کی پیشانی پر قدرتی طور پر لفظ کافر کا لکھا ہونا کہ ہر مومن اپنے علم وجدانی سے پڑھ سکے۔ کوئی مستبعد نہیں۔

چیزیں وافر ہوں گی۔ یہاں تک کہ: ”معه مثل الجنۃ والنار (مشکوۃ ص ٤٧٣، باب ذکر الدجال)“ اس کا بہشت اور دوزخ بھی ہوگا۔ چونکہ لوگ کئی سال سے سخت قحط زدہ ہوں گے۔ یہ سب چیزیں باعث فتنہ ہوں گی۔ مگر جب اپنے مصدقین کو اپنے بہشت میں داخل کرے گا تو اس کے لئے وہ حقیقتاً عذاب ہوگا اور جب منکرین کو اپنے دوزخ میں ڈالے گا تو اس کے لئے وہ حقیقتاً آرام دہ ہوگا۔ غرض حقیقتاً تو اس کا بہشت مثل دوزخ اور دوزخ اس کا مثل بہشت ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس متخیل ہوں گے اور اس کے علاوہ اس کے ہاتھ سے طرح طرح کی خرق عادات ظاہر ہوں گی۔ حالانکہ وہ محض شعبدے اور امور متخیلہ ہوں گے۔ نہ امور حقیقیہ واقعیہ اور وہ زمانہ بھی خرق عادات کا ہوگا۔ اکثر عادت مستمرہ کے خلاف اللہ تعالیٰ واقعات کو ظاہر فرمائے گا۔ یتخرق العادات الحدیث۔ اسی وجہ سے نوح علیہ السلام سے لے کر ہمارے حضورﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام دجال سے ڈراتے آئے ہیں۔ باوجود اس کے وہ کانا بدشکل ہوگا۔ جو اس کے دعوٰی کے بطلان پر بدیہی حجت ہوگی۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ ابتداء دنیا سے قیامت تک دجال سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہے۔ پادری لوگ تمہارے دجال صدیوں سے برابر اسلام کے ساتھ معاندانہ مقابلہ کرتے چلے آئے ہیں۔ سپین، غرناطہ، شام میں ان پادریوں کے طفیل لاکھوں مسلمانوں کی گردنیں ماری گئیں۔ صدیاں گزر گئیں اس کا گدھا بھی چل نکلا۔ یاجوج ماجوج آپ کے روس وانگریز یہ دونوں سلطنتیں ہزاروں برس سے قائم ہیں اور ان کی سطوۃ اور غلبہ قائم ہونے کے زمانہ کو بھی سینکڑوں سال ہو چکے۔ مگر تعجب ہے اس وقت مسیح نہ نکلا۔

ال معبود ہے۔“

(ازالۃ ص ٢٣٧، خزائن ج ٣ ص ٤٨٩)

ٹا سراسر غلط ہے۔“

(ازالۃ ص ٢٣٧، خزائن ج ٣ ص ٤٢٠)

معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی

(ازالۃ ص ٧٢١، خزائن ج ٣ ص ٤٨٨)

س اس بات میں اب شک نہیں کہ یہی یا۔“ (ازالۃ ص ٢٢٥، خزائن ج ٣ ص ٢١٣) خیال تھا کہ ابن صیاد دجال ہے۔ مگر

(ازالۃ ص ٦٨٩، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)

مکن ہے میرے بعد کوئی اور ابن مریم سیا دجال بھی آوے جو مسلمانوں میں مانند کوئی اب تک دجال پیدا نہیں ہوا

(ازالۃ ص ٤٨٨، خزائن ج ٣ ص ٣٦٢)

ا جھگڑنے والے ہوں یہ اس بات کی پہنچ جائیں گے۔ تب مسیح موعود ظہور

(ازالۃ ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٢)

اتحاتی کا قائل ہوگا۔ بلکہ بعض انبیاء کا

(ازالۃ ص ٧٣٠، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣)

کہتے آئے ہیں کہ دجال معہود کا بڑی قوت کے ساتھ خروج کرے گا ر اب تک وہ زندہ ہے۔ ہرگز مسیح نہیں

(ازالۃ ص ٤٨٠، خزائن ج ٣ ص ٣٥٨)

عراق (ابن ماجہ ص ٢٩٧، باب ٤٧، باب ذکر الدجال) “ یعنی شام

صفحہ ٣٦٤

گیا تھا۔ یعنی پہلے صرف اتنا بتلایا گیا تھا کہ وہ یہودی النسل ہوگا۔ فتنہ برپا کرے گا۔ تیس برس تک اس کے ماں باپ کے اولاد نہ ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ اور یہ چند اوصاف ابن صیاد یہودی میں بھی پائے گئے۔ جیسا کہ (ترمذی ج٢ ص٥٠، باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد) میں یہ قصہ مذکور ہے۔ صحابہ کرام کو جب ابن صیاد کا پتہ چلا تو وہ علامتیں دیکھ کر خیال کیا کہ شاید دجال یہی ہو کہ عمر طویل پا کر آخر زمانہ میں خروج کرے۔ کیونکہ خارق عادت بعض امور بھی اس میں تھے۔ مثلاً (صحیح مسلم ج٢ ص٣٩٩، باب ذکر ابن صیاد) میں ہے کہ ایک دفعہ خفا ہوا اور اتنا پھولا کہ گلی بھر گئی۔ مگر حضور ﷺ نے کبھی اپنی زبان سے ہی نہیں فرمایا کہ یہ وہی دجال ہے۔ بلکہ بالکل ساکت رہے۔ جس سے محتمل رہا۔ پہلے حضرت عمرؓ کو ظن غالب ہو گیا تھا اور چونکہ حضور ﷺ نے بھی بالکل صراحۃً انکار نہیں فرمایا تھا۔ اسی ظن غالب پر عمرؓ نے قسم کھائی جو جائز تھی۔ لیکن اس کے بعد ایک دفعہ حضور ﷺ اور شیخین اور کچھ صحابہ ابن صیاد کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے ابن صیاد کی شناخت کر کے فرمایا کہ: ”اخسأ فلن تعدوا قدرك (مسلم ج٢ ص٣٩٧، باب ذکر ابن صیاد) “ذلیل رہ ہرگز کبھی اپنے اندازے سے نہیں بڑھے گا۔ کہانت کو نبوت سے ملتبس نہیں کر سکے گا۔ یعنی اشارے سے فرمایا کہ وہ دجال نہیں یہ تو ذلیل رہے گا۔ کوئی فتنہ برپا نہ کر سکے گا اور جب حضرت عمرؓ نے قتل کے لئے اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ان یکن هو فلست صاحبه انما صاحبه عیسی بن مریم (شرح السنة ج٧ ص٤٥٤، باب ذکر ابن صیاد) “یعنی اگر یہ دجالِ معہود ہے تو اس کو قتل نہیں کر سکتا۔ اس کے قاتل عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے اور اگر یہ دجال نہیں تو ایک نابالغ ذمی کے قتل میں خیر نہیں۔ حضور ﷺ نے جب ان لفظوں سے حضرت عمرؓ اور سب صحابہ کرام کو یہ فرمان سنا دیا تو حضرت عمرؓ اور سب کا ظن غالب ٹوٹ گیا۔ ہاں بعضوں کا خیال شک کے درجہ میں رہا کہ حضور ﷺ نے صراحۃً نفی نہیں فرمائی۔ بلکہ ایک احتمال دجال ہونے کا بھی قائم رکھا۔ لیکن اس کے بعد جب حضور ﷺ نے باطلاع الٰہی اور بہت سی علامتیں بتلائیں جو پہلے یہ علامتیں نہیں بتلائی گئی تھیں۔ مثلاً زمین مشرق شام و عراق کے درمیان سے خراسان ہوتا ہوا نکلنا۔ اولاد کا نہ ہونا، مکہ مدینہ داخل نہ ہوسکنا، پیشانی پر کافر لکھا ہونا، دائیں آنکھ انگور کی طرح اوپر اٹھی ہوئی ، بائیں آنکھ ممسوح یعنی سپاٹ ہوگی وغیرہ وغیرہ اور پھر تمیم داریؓ کے قصے اور حضور ﷺ کی تصدیق نے اور آپ ﷺ کے صریح فرمان نے کہ آپ ﷺ نے منبر پر خطبہ میں عام اعلان فرمایا۔ سب کو یقین دلایا کہ ابن صیاد ہرگز دجال معہود نہیں ہے۔ بلکہ وہ دجال معہود ایک جزیرہ میں ہے۔ وقت معینہ پر خروج کرے گا۔

صفحہ ٣٦٥

ہاں یہ بہت ممکن ہے کہ صرف دو صحابی جابرؓ وعبداللہ بن عمرؓ جو اس وقت حاضر نہ ہوں گے۔ وہ اسی خیال پر قائم رہے ہوں کہ ابن صیاد دجال ہے۔ دیکھو (ابوداؤد ج٢ ص١٣٦، باب فی خبر ابن صیاد) اور حضرت عمرؓ کی قسم سے جو بحضور ﷺ سن چکے تھے۔ استدلال کرتے رہے ہوں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ابن صیاد ہرگز نہیں مرا۔ بلکہ وہ تو یوم الحرہ میں کہیں لاپتہ ہو گیا اور وہ وقت معینہ پر خروج کرے گا۔

سوار ہوگا اور یہ کیا ناممکن ہے کہ قادر مطلق اس زمانہ میں ایک عجیب الخلقت ایسا گدھا قد و قامت والا اور تیز رفتار دجال کے لئے پیدا کرے اور ریل کی سواری تو کوئی پادریوں کے لئے مخصوص نہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی اور مرزائی بھی دجال کے گدھے پر خوب سوار ہوتے ہیں۔

علیھا مائة سنة وھی حیا یومئذ (مسلم، مشکوٰة ص٤٨٠)“ الارض میں الف لام تخصیص کے لئے ہے۔ یعنی زمین عرب میں آج کے دن سے سو برس تک کوئی نفس موجود زندہ نہ رہے گا۔ دجال زمین عرب سے خارج ہے۔ دوسرے ہو سکتا ہے کہ اس وقت دجال پانی پر ہو نہ زمین پر۔ حدیث اس کا محتمل ہو اور نیز اس کے یہ معنی ہیں کہ سو برس تک یہ قرن ختم ہو جائے گا اور زمانہ کا نیا رنگ ہو جائے گا۔ گو شاذ و نادر اور بہت قلیل بعض لوگ اس قرن کے زندہ بھی رہیں۔ چنانچہ اس حدیث کے راوی نے خود یہی مطلب بیان کیا ہے۔ ”یرید بذلک انھا تخرم ذلک القرن (بخاری ج١ ص٨٦، باب السمر فی الفقه والخیر بعد العشاء)“

کشھر ویوم کجمعة وسائر ایامه کایا مکم قلنا یارسول اللہ فذلک الیوم الذی كسنة اتكفينا فيه صلوة یوم قال فاقدروا له قدره (صحیح مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال، ابوداؤد ج٢ ص١٣٥، باب خروج الدجال، ترمذی ج٢ ص٤٨، باب ماجاء فی فتنۃ الدجال اور ابن ماجہ ص٢٩٦، ٢٩٧، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم)“ یعنی صحابہؓ نے عرض کیا کہ دجال کا کتنی مدت ٹھہرنا ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا چالیس دن، ایک دن مثل ایک برس کے ہوگا اور دوسرا دن مثل ایک مہینے کے اور تیسرا دن مثل ایک ہفتہ کے اور باقی دن مثل ایام معروفہ کے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ دن جو مثل برس کے ہوگا۔ کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہوگی۔ حضور ﷺ نے

صفحہ ٣٦٦

فرمایا نہیں اندازہ کر کے نماز پڑھو۔ اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ ایام کی طوالت واقعی اور حقیقتاً متخیل ہوگی ورنہ ایک دن کی نماز ایک دن میں کافی ہوتی۔ اندازہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم نہ فرماتے اور بے شک ایام طوال باعتبار تخیل تاخیر کثیرہ مدت طلوع و غروب شمس کے چالیس متخیل ہوں گے۔ لیکن ایک سال ڈھائی مہینے کی نمازیں پڑھی جائیں گی اور (مشکوٰۃ ص ٤٧٧، باب العلامات بین یدی الساعۃ میں شرح السنۃ ج ٧ ص ٤٢٤ حدیث نمبر ٤١٥٩) سے اسماء بنت یزید بن السکنؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دجال زمین پر چالیس برس ٹھہرے گا۔ سال مثل مہینے کے اور مہینہ مثل ہفتہ کے اور ہفتہ مثل ایک دن کے اور دن مثل شعلہ آگ کے ہوگا اور یہی مضمون (مشکوٰۃ ص٤٧٠، باب اشراط الساعۃ) میں بروایت ترمذی انسؓ سے مرفوعاً قرب قیامت کی علامت بتلائی گئی ہے اور (ابن ماجہ ص ٢٩٨، باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم) میں ان الفاظ سے مروی ہے کہ: ”ان ایامہ اربعون سنة السنة كنصف السنة والسنة كالشهر والشهر كالجمعة واخر ايامه كالشرره يصبح احدكم على باب المدينة فلا يبلغ بابها الآخر حتى يمسى ...... يارسول الله كيف نصلى في تلك الايام القصار قال تقدرون فيها الصلوة كما تقدرون في هذه الايام الطوال“ یعنی دجال کا زمانہ چالیس برس کا ہوگا۔ سال مثل نصف سال کے اور سال مثل مہینے کے اور مہینہ مثل ہفتہ کے اور اس کا آخری دن مثل شعلہ آگ کے ہوگا کہ ایک تمہارا شہر کے اس دروازہ پر صبح کرے گا۔ پس دوسرے دروازہ پر نہ پہنچنے پائے گا کہ شام ہو جائے گی حضور ﷺ سے عرض کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم ان ایام قصار میں کیسے نماز پڑھیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جیسے کہ ایام طوال میں تم نماز کے وقتوں کا اندازہ کر کے پڑھو گے۔ ایسے ہی ایام قصار میں اندازہ کر کے پڑھنا۔ یعنی یہ دن باعتبار تخیل سرعت طلوع و غروب آفتاب کے چالیس برس متخیل ہوں گے۔ یعنی تخیل میں دنوں کی یہ درازی اور ایسا ہی دوسرے وقت میں یہ کمی بطور خرق عادت متخیل ہوگی ۔ نمازوں میں ان کی درازی اور کمی کا کچھ اعتبار نہیں ۔ بلکہ معہود دنوں کا اور وقتوں کا اندازہ کر کے نماز پڑھنا ہوگی۔ غرض ان ایام قصار کا وقت اور ہوگا۔ یعنی شروع خروج سے دعویٰ خدائی تک۔ اور ایام طوال دوسرے وقت یعنی دعویٰ خدائی سے قتل تک فقط ۔

احقر محمد عبدالغنی غفرلہ مدرس مدرسہ عربیہ عین العلم شاہ جہانپور (یو۔پی) ١٩٢٧ء

PDF 367

خاتم النبيين لا نبي بعدي

مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

اختلافات مرزا

مناظر اسلام حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوری

صفحہ ٣٦٨

بسم الله الرحمن الرحيم!

الحمدلله وحده والصلوٰۃ علی من لا نبی بعدہ وعلیٰ الہ واصحابہ اجمعین!

خدائے علام الغیوب کے علم ازلی میں یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بے نظیر عروج وتقرب کو دیکھ کر رذیل و خبیث طبائع رسالت و نبوت کا بہروپ بدلیں گی اور ان الہامات و مکاشفات کو جن میں سراسر شیطان لعین کی کارفرمائیاں جلوہ گر ہونگی اسکو خداوند تعالیٰ کی جانب منسوب کر کے اپنے اغراض فاسدہ کو پورا کریں گی اور ختم نبوت جیسے صاف و صریح مسئلہ کو اپنی طبع زاد تاویلوں و من گھڑت توجیہوں میں الجھا دیں گی۔ تا کہ سادہ لوح مسلمانوں کو ان کے دام فریب میں آنے کا موقع ملے۔

اس لئے ضرورت تھی کہ قدرتی طور پر اسکی حفاظت کے اسباب وعلل اور خصوصیات و علامات مقرر ہوں تا کہ اسی معیار و اصول کے مطابق کھروں کو کھوٹوں سے اور سچوں کو جھوٹوں سے علیحدہ کرنے میں آسانی و سہولت رہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں منجملہ دیگر معیار و علامت نبوت کے ایک یہ بھی علامت و معیار کا ذکر ہے۔

لوكان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً! ترجمہ :...... ”اگر یہ قرآن کسی غیر اللہ کے پاس سے ہوتا تو لوگ اس میں بڑا اختلاف پاتے ۔“

یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ خدا کے کلام اور انبیاء علیہ السلام کے الہامی کلام میں نہ اختلاف ہوتا ہے اور نہ اس میں بے ربط و بے جوڑ باتیں پائی جاتی ہیں اور جس کلام میں اختلاف و انتشار ہو تو نہ وہ کسی درجہ میں الہامی ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس متکلم کا دعویٰ الہام صحیح و درست اور جس مدعی الہام کا کلام تعارض و تخالف سے ملوث ہو اور اس کو وہ الہامی بھی کہتا ہو تو اس کے مفتری علیٰ اللہ و کافر ہونے کے لئے کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی۔

موجودہ صدی کے مدعی الہام مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ کے بے اصل دعووں کی اس معیار کی روشنی میں یہی جانچ کی گئی تو بالیقین یہ حقیقت آشکارا ہوگئی کہ آپ کے دعاوی اس معیار کی رو سے بھی غلط اور کذب و افتراء کی گندگی سے ملوث ہیں کیونکہ مرزا قادیانی کا کلام و دعویٰ کیا ہے۔ اختلافات و متعارضات کا ایک بے پناہ ذخیرہ اور تعارض وتخالف کا ایک بے نظیر مجموعہ۔

٢

صفحہ ٣٦٩

اس لئے ایک عقلمند انسان جو مرزا قادیانی کے اقوال پر سطحی نظر بھی رکھتا ہے۔ وہ کبھی آپ کے دعوؤں کو کذب و دروغ اتہام و افتراء سے الگ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ سب سے پہلے آپ ان کے ان مختلف دعووں کو جن کے وہ مدعی تھے دیکھئے ۔ تو ان کی دماغی کیفیت و صداقت کی خوفناک و ننگی تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ:

١...... میں محدث ہوں۔ ٢...... مجدد ہوں۔ ٣...... مسیح موعود ہوں۔ ٤...... مثیل مسیح ہوں۔ ٥...... مہدی ہوں۔ ٦...... ملہم ہوں۔ ٧...... حارث موعود ہوں۔ ٨...... رجل فارسی ہوں۔ ٩...... کرشن اوتار ہوں۔ ١٠...... خاتم الانبیاء ہوں۔ ١١...... خاتم اولیاء ہوں۔ ١٢...... خاتم الخلفاء ہوں۔ ١٣...... چینی الاصل ہوں۔ ١٤...... مجنون مرکب ہوں۔ ١٥...... یسوع کا ایلچی ہوں۔ ١٦...... مسیح ابن مریم سے بہتر ہوں۔ ١٧...... حسین سے بہتر ہوں۔ ١٨...... رسول ہوں۔ ١٩...... مظہر خدا ہوں۔ ٢٠...... خدا ہوں۔ ٢١...... مانند خدا ہوں۔ ٢٢...... خالق ہوں۔ ٢٣...... خدا کا نطفہ ہوں۔ ٢٤...... خدا کا بیٹا ہوں۔ ٢٥...... خدا کی بیوی ہوں۔ ٢٦...... خدا کا باپ ہوں۔ ٢٧...... بروزی محمد و احمد ہوں۔ ٢٨...... تشریعی نبی ہوں۔ ٢٩...... حجر اسود ہوں۔ ٣٠...... ذوالقرنین ہوں۔ ٣١...... آدم ہوں۔ ٣٢...... نوح ہوں۔ ٣٣...... ابراہیم ہوں۔ ٣٤...... یوسف ہوں۔ ٣٥...... موسیٰ ہوں۔ ٣٦...... داؤد ہوں۔ ٣٧...... سلیمان ہوں۔ ٣٨...... یعقوب ہوں۔ ٣٩...... تمام انبیاء کا مظہر ہوں۔ ٤٠...... تمام انبیاء سے افضل ہوں۔ ٤١...... احمد مختار ہوں۔ ٤٢...... اسمہ احمد کا میں ہی مصداق ہوں۔ ٤٣...... مریم ہوں۔ ٤٤...... میکائیل ہوں۔ ٤٥...... بیت اللہ ہوں۔ ٤٦...... آریوں کا بادشاہ ہوں۔ ٤٧...... امام الزمان ہوں۔ ٤٨...... شیر ہوں (قاتلین کے) ۔ ٤٩...... محی ہوں (زندہ کرنے والا) ۔ ٥٠...... ممیت ہوں (مارنے والا) ۔

١...... ان تمام دعووں کو ذیل کے حوالوں میں دیکھئے: (١)...... توضیح المرام ص ١٧، ١٨۔ (٢)...... حمامۃ البشریٰ ص ١١١۔ (٣)...... ازالۃ الاوہام ص ٦٨٦ ۔ (٤)...... تبلیغ رسالت ص ٢١ ج ١۔ (٥)...... تذکرۃ الشہادتین ص ٢، ٣۔ (٦)...... تریاق القلوب ص ٦٨۔ (٧)...... ازالہ اوہام حاشیہ ج ١ ص ٧٩۔ (٨)...... تحفہ گولڑویہ ص ٢٩۔ (٩)...... لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣۔ (١٠)...... ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص ١٠٨۔ (١١)...... خطبہ الہامیہ ص ٣٥۔ (١٢)...... تریاق القلوب ص ١٥٩۔ (١٣)...... تحفہ گولڑویہ ص ٣٩۔ (١٤)...... تریاق القلوب ص ٦٤۔ (١٥)...... تحفہ قیصریہ ص ٢٣۔ (١٦)...... دافع البلاء ص ٢٠۔ (١٧)...... دافع البلاء ص ١٣۔ (١٨)...... دافع البلاء ص ٢٠۔ (بقیہ حاشیہ صفحہ ٤ پر)

٣

صفحہ ٣٧٠

جس شخص کے اس قدر مختلف دعاوی ہوں وہ ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ دنیائے اسلام عقل میں قدم رکھ سکے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی بھی کہتا ہے کہ ”کسی سچے اور عقلمند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔“ (ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ص ١٤٢) اور ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١، خزائن ج ٢١ص ٢٧٥) اس لئے لا محالہ ایسے مختلف دعاوی کے مدعی کے قلب و زبان سے وہی باتیں پیدا ہوں گی۔ جو پاگلوں، مجنونوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ سچ ہے ”ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہے“۔

(چشمہ معرفت ص ٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٩)

چنانچہ مرزا قادیانی کے زبان وقلم نے ایسے گلہائے رنگا رنگ پیدا کئے کہ اگر ایک کی خوشبو سے دماغ معطر ہو جاتا ہے۔ تو دوسرے کی بدبو سے دماغ پراگندہ و خراب اور نیز اس سے ایسی ایسی مختلف و متناقض باتیں نکلی ہیں کہ جو لوگ عقل و خرد سے خالی ہو چکے ہیں۔ وہ بھی مرزا قادیانی کے سامنے شرمندہ و نادم ہیں۔

سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ روح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دم بلافصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔... اور انوار دائمی اور استعانت دائمی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا یہ سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے۔“

(دفع الوسواس ص ٩٣ حاشیہ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ کا)(١٩)...... حقیقت الوحی ص ١٥٤۔ (٢٠)...... آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤۔ (٢١)...... اربعین حاشیہ ص ٢٥۔ (٢٢)...... نصرۃ الحق ص ٩٥۔ (٢٣)...... اربعین ٣ ص ٢٩۔ (٢٤)...... حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٤١۔ (٢٥)...... نصرۃ الحق ص ٦٠۔ (٢٦)...... نصرۃ الحق ص ٦٢۔ (٢٧)...... نصرۃ الحق ص ٨٦۔ (٢٨)...... ایضاً ص ٨٧۔ (٢٩)...... ایضاً ص ٨٨۔ (٣٠)...... ایضاً ص ٨٨۔ (٣١)...... ایضاً ص ٨٩۔ (٣٢)...... ایضاً ص ٨٩۔ (٣٣)...... درثمین ص ٨٥۔ (٣٤)...... نصرۃ الحق ص ٩٠۔ (٣٥)...... درثمین فارسی ص ٢٨٧۔ (٣٦)...... ایضاً۔ (٣٧)...... القول الفصل بحوالہ ازالہ اوہام ص ٦٧٣۔ (٣٨)...... حقیقت الوحی ص ٢٣٨ حاشیہ۔ (٣٩)...... حاشیہ اربعین ٣ ص ٢٥۔ (٤٠)...... حاشیہ اربعین ٤ ص ١٥۔ (٤١)...... حقیقت الوحی ص ١٥٥۔ (٤٢)...... ضرورۃ الامام ص ٢٤۔ (٤٣)...... کرامات الصادقین ص ٥٤۔ (٤٤)...... خطبہ الہامیہ ص ٢٣۔ (٤٥)...... ایضاً۔

٤

صفحہ ٣٧١

خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٤)

اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“

(ازالہ ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کو یہ دعویٰ ہے کہ ہماری ہر تقریر اور ہر تحریر بلکہ ہر ہر لفظ خدائی الہام کے سرچشمہ میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور روح القدس کی اعانت زبان اور قلم کو ہر قسم کی غلطیوں اور عیبوں سے پاک و صاف کر کے اس سے وحی الٰہی کے انوار نکالتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مشاہدات اور واقعات مرزا قادیانی کے دعاوی کی پر زور تردید کر رہے ہیں۔ کیونکہ آپ کا ہر قول دوسرے قول سے بری طرح ٹکراتا ہے۔ جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ مگر بایں ہمہ مرزا قادیانی کا ان کو الہامی کہنا سراسر افتراء و دروغ ہے۔ اس لئے ہم تمام مسلمان قطعی ویقینی طور پر مرزا قادیانی (مع ان کی امت کے) کو اسلام سے خارج مفتری علی اللہ، ظالم، کاذب کہتے ہیں:

رسول قادیانی کی رسالت
جہالت ہے جہالت ہے جہالت

اختلافات مرزا

بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا وہ پریشان نکلا

محدث ہونے کا اقرار

”یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے۔“ (توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠، ازالہ ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧، آئینہ کمالات اسلام ص ٣٧٧ و ٥٢٧، حمامۃ البشریٰ ص ٣٤، ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٣٣، ٢٩٧، شہادۃ القرآن ص ٦١، خزائن ج ٦ ص ٣٥٧) میں مرزا قادیانی کو اپنی محدثیت کا اقرار ہے۔ اب اسکے برخلاف دیکھئے۔

٥

صفحہ ٣٧٢

محدث ہونے سے انکار

"اگر غیب کی خبر پانے والے کا نبی نام نہ رکھا تو بتلاؤ کس نام سے اسے پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب کے نہیں ہیں۔ مگر نبوت کے معنی اظہار غیب ہے۔" (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩ اور حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میں محدثیت کی بجائے دعویٰ نبوت موجود ہے۔

مہدی ہونے کا اقرار

"یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں"۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١٠١، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤ اور خطبہ الہامیہ حاشیہ ص ٢٣، خزائن ج ١٦ ص ایضاً، تذکرۃ الشہادتین ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣) میں مہدویت کا اقرار ہے۔

مہدی ہونے سے انکار

"میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمة لا من عترتی وغیرہ ہے۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)

مسیح موعود ہونے کا اقرار

وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ عاجز (مرزا قادیانی) ہی ہے۔"

(ازالہ ص ٦٨٢، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)

موعود میں ہی ہوں ۔" (ازالہ ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢، اور ازالہ ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩، اتمام الحجۃ ص ٣، شہادت القرآن ص ٦٩، خزائن ج ٦ ص ٢٧٥، و خطبہ الہامیہ ص ٢٤، خزائن ج ١٦ ص ایضاً، کشتی نوح ص ٤٧ تحفۃ الندوہ ص ٤٠ دافع البلاء ص ٦ میں دعویٰ مسیحیت مذکور ہے)

مسیح موعود ہونے سے انکار

"اس عاجز (مرزا قادیانی) نے جو مثیل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ (الی ان قال) میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں" (ازالہ ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢، نشان آسمانی ص ٣٧، خزائن ج ٤ ص ٣٩٧) میں بھی مسیحیت کا انکار ہے۔

٦

صفحہ ٣٧٣

نبی ہونے کا اقرار

(ملفوظات ج١٠ ص ١٢٧، اخبار بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء)

خزائن ج١٨ ص ٢٣١، تتمہ حقیقت الوحی ص٦٨، خزائن ج٢٢ ص ٥٠٣، تجلیات الٰہیہ ص٢٥ اربعین ص٣٤، حاشیہ حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج٢٢ ص ٧٦، تریاق القلوب ص٦٨، خزائن ج١٥ ص ٢٨٣) میں بھی نبوت کا اقرار کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے مرزا محمود خلیفہ قادیان معہ اپنی جماعت کے مرزا قادیانی کو ’’سچا حقیقی نبی و رسول مانتے ہیں۔‘‘ دیکھو (حقیقت النبوۃ ص١٧٤، انوار خلافت ص٥٩) وغیرہ۔

نبی ہونے سے انکار

منکر۔‘‘ (اشتہار مورخہ ٢؍اکتوبر ١٨٩١ء مجموعہ اشتہارات ج١ ص ٢٥٥) ’’اور خدا کی پناہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں نبوت کا مدعی بنوں۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص ٢٩٧)

دعویٰ نہیں ۔‘‘ (ازالہ ص ٤٢١، خزائن ج٣ ص٣٢٠، تحفہ بغداد ص٢٧، خزائن ج٧ ص ٢٩، حمامۃ البشریٰ ص٧٩، خزائن ج٧ ص ٣٢٣، ایام الصلح ص١٤٦، خزائن ج١٤ ص٢٨٩، حاشیہ انجام آتھم ص٢٨، خزائن ج١١ ص ایضاً، حاشیہ کتاب البریہ ص١٩٩) میں پر زور الفاظ میں نبوت کا انکار کیا گیا ہے۔

مرزا قادیانی کے ان اقوال و دعاوی کو دیکھ کر مسٹر محمد علی لاہوری مرزا قادیانی کی نبوت کے منکر ہیں اور ان کے مجدد ہونے کے قائل اور اس کے لئے آپ نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد و پارٹی الگ بنائی ہے اور لطف یہ کہ ان دونوں پارٹیوں میں شدید عداوت و تکفیر بازی کا ایک محبوب مشغلہ جاری ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں کی تمام تر عداوت و فساد کے واحد ذمہ دار مرزا قادیانی کی ذات گرامی ہے۔ سچ ہے کہ:

سارے جہاں میں مجھے بدنام کر دیا
نکلا تمہارے منہ سے نہ کوئی سخن درست

نبی تشریعی و حقیقی ہونے کا اقرار

’’ماسوا اس کے یہ بھی سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے ۔ جس نے اپنی وحی کے

٧

صفحہ ٣٧٤

ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔‘‘

(اربعین ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

احکام کی تجدید ہے۔‘‘

(حاشیہ اربعین ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

١ ؎ اگرچہ مرزا قادیانی کے دعویٰ تشریعی نبوت کے ثابت کرنے کے لئے خود مرزا قادیانی کے الفاظ کافی سے زائد ہیں۔ تاہم میں آپ کو یہ بھی دکھلانا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی اپنی امت کی نظر میں کون و کیسے تھے۔ چنانچہ ظہیر الدین اروپی مرزا قادیانی کو نبی مستقل رسول حقیقی اور صاحب الشریعت والکتاب مانتے ہیں اور لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ ان کا کلمہ طیبہ ہے اور قادیانی مسجد اقصیٰ اور قادیان کو قبلہ عبادت سمجھتے ہیں۔

(دیکھو رسالہ المبارک)

اور مرزا محمود خلیفہ قادیانی معہ اپنی ذریت کے مرزا قادیانی کو نبی تشریعی اور رسول حقیقی جانتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:

نبی رکھا۔ پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس کے معنی سے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤، عقائد محمودیہ نمبر ١ ص ٢٥)

رسول رکھا اور کہیں بروزی وظلی نہیں کہا پس ہم خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ کی تحریریں جن میں انکساری و فروتنی کا غلبہ ہے اور جو نبیوں کی شان ہے۔ اس کو ان الہامات کے ماتحت کریں گے۔‘‘

(اخبار الحکم ٢١؍ اپریل ١٩١٤ء)

اور اس کے علاوہ (اخبار الفضل قادیان ج ٢ نمبر ٤٨، ص ٦، ٤؍ جون ١٩١٥ء، کلمۃ الفصل نمبر ٣ ج ١٤ ص ٣٣١، عقائد محمودیہ ص ١٤، رسالہ تحفۃ الاذہان ج ١٠ ص ٢٣ نمبر ٢ ماہ فروری ١٩١٥ء حاشیہ النبوۃ فی القرآن باب اوّل ص ٧٤ اور حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٧٦، ١٧٧، ١٨١، ١٨٩، ١٩٠، ١٩١، انوار خلافت ص ٣٨، ٥٠) میں بھی مرزا قادیانی کو حقیقی وتشریعی نبی تسلیم کیا گیا ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت تشریعی پر کافی روشنی پڑتی ہے۔

٨

صفحہ ٣٧٥

نبی تشریعی وحقیقی ہونے سے انکار

”جس جس جگہ آپ نے نبوت یا رسالت کا انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانیوالا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“ اسکے معنی صرف اسقدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، اخبار بدر ١٩٠٨ء ص ٣)

مسیح موعود کی نبوت کا اقرار

حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا کہ وہ نبی بھی ہوگا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩ اور تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٠ اور ازالۃ اوہام ص ٥٣٤، خزائن ج ٣ ص ٣٩٢) میں مسیح موعود کی نبوت کا اقرار موجود ہے۔

مسیح موعود کی نبوت کا انکار

”وہ ابن مریم جو آنے والا ہے۔ کوئی نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ فقط امتی لوگوں میں ایک شخص ہوگا۔“ (ازالۃ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٢٤٩، اتمام الحجۃ ص ١٧، خزائن ج ٨ ص ٢٩٣، ایام الصلح ص ١٤٦، ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٣، توضیح المرام ص ٩، خزائن ج ٣ ص ٥٦، تحفہ بغداد ص ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٣٣) میں بھی مسیح موعود کی نبوت کا انکار کیا گیا ہے۔

مرزا قادیانی کے علاوہ اور مسیح بھی آ سکتا ہے

”اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آسکتا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آ سکتا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٩٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥١)

مرزا قادیانی کے علاوہ اور کوئی مسیح نہیں آسکتا

”پس میرے سوا اور دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٣٣، خزائن ج ١٦ ص ایضا)

٩

صفحہ ٣٧٦

عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا اقرار اور ان کے صعود و نزول سماوی سے انکار

١...... ”قرآن شریف میں تیس کے قریب ایسی شہادتیں ہیں جو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت بین کر رہی ہیں۔ غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔“

(ازالہ ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

٢...... ”بلکہ قرآن شریف کے کئی مقامات میں مسیح کے فوت ہو جانیکا صریح ذکر ہے۔“ (ازالہ ص ٤٦، خزائن ج ٣، ص ١٢٥، ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٩٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢، کشتی نوح ص ١٥، ٦٠، خزائن ج ١٩ ص ١٦، ٦٥، الاستفتاء ص ٣٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٥) میں وفات مسیح کا ذکر کیا گیا ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے انکار اور ان کے صعود و نزول کا اقرار

١...... ”اب ہم پہلے صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اس وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع کہتے ہیں۔ ان دونوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے ہوئے دیکھو گے۔ ان ہی کتابوں سے کسی قدر الفاظ ملتے جلتے احادیث نبویہ میں پائے جاتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

٢...... ”اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

٣...... ”اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔“ (براہین احمدیہ حاشیہ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١) اور اس کے علاوہ (ازالہ ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢) میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول و حیات کا اقرار کیا گیا۔

حضرت مسیح علیہ السلام سے کلی فضیلت کا اقرار

١...... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھیجا۔ جو اس پہلے مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

صفحہ ٣٧٧

ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“ (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠، حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٥٤، ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٨، ١٥٩، ازالہ ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤، کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧، تذکرۃ الشہادتین ص ٢١، چشمہ مسیحی ص ٢٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٤) میں مرزا قادیانی نے اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تمام شان میں افضل قرار دیا ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام سے کلی فضیلت کا انکار

ہے۔ کیونکہ یہ ایک جزوی فضیلت ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٤٨١)

فضیلت حاصل ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٠، حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، سراج منیر ص ٤، خزائن ج ١٢ ص ٦)

حضرت مسیح علیہ السلام صاحب معجزہ تھے

”ہمیں مسیح علیہ السلام کے صاحب معجزات ہونے سے انکار نہیں بے شک ان سے بھی بعض معجزات ظہور میں آئے ہیں ..... قرآن کریم سے بہر حال ثابت ہوتا ہے کہ بعض نشان ان کو دیئے گئے۔“

(شہادۃ القرآن حاشیہ ص ٧٧، خزائن ج ٦ ص ٣٧٣)

اس کے برخلاف

”مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ..... اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠، ٢٩١ حاشیہ، اس کے علاوہ ازالہ اوہام ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨، حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢ میں نہایت مسخرہ پن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار کیا گیا ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کی چڑیوں کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے

”اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یہ کہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

١١

صفحہ ٣٧٨

اس کے برخلاف

”یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بہ پایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧ حاشیہ)

حضرت مسیح علیہ السلام مسمریزم میں کامل تھے

”اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧ حاشیہ)

اس کے برخلاف

(مسمریزم) میں مشق تھی مگر کامل نہیں تھے۔“

(توضیح المرام ص ٢٤)

بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩)

حضرت مسیح علیہ السلام متواضع و نیک تھے

”حضرت مسیح تو ایسے خدا کے متواضع وحکیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے۔ جو انہوں نے یہ بھی روا نہ رکھا جو کوئی ان کو نیک آدمی کہے۔“

(براہین احمدیہ ص ١٠٣، خزائن ج ١ ص ٩٤ حاشیہ)

اس کے برخلاف

”یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہ کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی، کبابی اور خراب چال چلن ہے۔“

(ست بچن حاشیہ ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

نوٹ ! پہلے حوالہ میں مسیح کے نیک نہ کہنے کی وجہ تواضع حلم عاجزی و بے نفسی کو قرار دیا ہے اور دوسرے میں شراب نوشی بدچلنی بتائی ہے۔ مرزا جیو! کہو یہ کون دھرم اور کیسا نبی ہے؟۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا بوقت مصیبت قبول ہوئی

”جب مجھ کو یقین ہو گیا کہ یہ خبیث یہودی میری جان کے دشمن ہیں اور مجھے نہیں

١٢

صفحہ ٣٧٩

چھوڑتے تب وہ ایک باغ میں رات کے وقت جاکر زار زار رویا اور دعا کی کہ یا الٰہی اگر یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے۔ تو تجھ سے بعید نہیں تو جو چاہتا ہے کرتا ہے...... اس قدر رویا کہ دعا کرتے کرتے اس کے منہ پر آنسو رواں ہوگئے ...... ایک دعا سنی گئی۔‘‘

(تذکرہ الشہادتین ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٢٨)

اس کے برخلاف

”حضرت مسیح علیہ السلام نے ابتلاء کی رات میں جس قدر تضرعات کیں وہ انجیل سے ظاہر ہیں۔ تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان غم سے ٹوٹتی ہے۔ غم واندوہ سے ایسی حالت ان پر طاری تھی۔ وہ ساری رات رورو کر دعا کرتے کہ وہ بلا کا پیالہ کہ جو ان کے لئے مقدر تھا ٹل جائے۔ پھر باوجود اس قدر گریہ وزاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی کیونکہ ابتلاء کے وقت کی دعا منظور نہیں ہوا کرتی۔‘‘

(تبلیغ رسالت ص ١٣٢، ١٣٣، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٧٥، حاشیہ)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب اولاد تھے

سفر کے مسیح یعنی بڑا سیاح بھی کہلایا۔ چنانچہ سرحد پشاور پر عیسیٰ خیل و عیسیٰ اقوام اسی کی اولاد معلوم ہوتی ہیں۔‘‘

(اخبار الحکم ص ٨ مورخہ ١٧؍دسمبر ١٩٠٦ء)

رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت مسیح ہی کی اولاد ہوں۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص ٧، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

اس کے برخلاف

کوئی آل نہیں تھی۔‘‘

(تریاق القلوب حاشیہ ص ٩٩، خزائن ج ١٥ ص ٣٦٣)

کی فکر میں تھے۔ مُجردی کی عمر میں اٹھائے گئے ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام حاشیہ ص ٥٩٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

١٣

صفحہ ٣٨٠

تبلیغ رسالت ص ١١٤ ج ١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٥ حاشیہ اس کے علاوہ الحکم ١٠؍اپریل ١٩٠٥ء ص ٢، ٥، منظور الٰہی ص ١٦٦، اعلام الناس ص ٥٩ ج ١، الفضل ٧؍جولائی ١٩١٧ء ص ٥، تشحیذ الاذہان ص ٤ ماہ نومبر ١٩١١ء میں حضرت مسیح علیہ السلام کی اولاد کا انکار کیا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی تھے

نزدیک مسیح اسرائیل نبی کے واپس آنے کے لئے ابھی ایک کھڑکی کھلی ہے۔ پس جب قرآن کے بعد ایک حقیقی ١؎ نبی آ گیا اور وحی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تو کہو کہ ختم نبوت کیوں کر اور کیسے ہوا ۔"

(سراج منیر ص ٤،٣، خزائن ج ١٢ ص ٦،٥)

شریعت اور نبوت منسوخ ہو جائے گی۔"

(اخبار الحکم ١٤؍جولائی ١٩٠٨ء ص ١٢)

(التاویل الحکم ص ٧٥)

اس کے برخلاف

تورات کو پورا کرنے آئے تھے۔"

(اخبار الحکم ج ٧ نمبر ٤ ص ٣، ٧؍جنوری ١٩٠٣ء اور منظور الٰہی ص ٢٩٢)

(اخبار الحکم ١٠؍فروری ١٩٠٤ء ج ٨ ص ٣ نمبر ٥)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے

ہے۔"

(کشتی نوح ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٧٦)

١؎ مرزا قادیانی کی اصطلاح میں حقیقی نبی کے معنے تشریعی نبی کے ہیں۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں کہ "لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت ہے۔ جس سے انسان خود صاحب شریعت کہلاتا ہے۔"

(اخبار الحکم ١٧؍اگست ١٨٩٩ء ج ٣ ص ٤، ضمیمہ الندوة ص ٣٩)

١٨

صفحہ ٣٨١

اس کی قبر ہے۔“

(کشتی نوح ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦)

اس کے علاوہ کشتی نوح حاشیہ ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٧٥، تذکرہ الشہادتین ص ٢٧، اعجاز احمدی ص ١٩، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧، گولڑویہ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠، حاشیہ، ست بچن ص ١٦٢، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٥، راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ١٧٢ میں لکھا ہے کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہے۔“

اس کے خلاف

نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔ سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ در حقیقت وہ قبر عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔“

(حاشیہ ص ١٦٤، ست بچن، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٥)

اس میں ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ تمام گرجوں سے بڑا ہے۔ اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے۔...... اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں۔“

(اتمام الحجۃ حاشیہ ص ٢٠، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)

مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کے ایلچی تھے

نے مجھے دیا۔ ان تمام امور نے مجھے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع مسیح کی طرف سے ایلچی ہو کر باادب التماس کروں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥)

ہوا ہوں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤، تبلیغ رسالت ص ٢١، ٢٢ ج ٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٢)

١٥

صفحہ ٣٨٢

اس کے برخلاف

ہے۔“

(کشتی نوح ص١٦،خزائن ج١٩ ص١٧)

مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“

(حقیقت الوحی ص١٤٨،خزائن ج٢٢ ص١٥٢)

اس کے علاوہ کشتی نوح ص١٣،خزائن ج١٩ ص١٤، حقیقت الوحی ص١٥٥،خزائن ج٢٢ ص١٥٩، تریاق القلوب ص١٥٧،خزائن ج١٥ ص٤٨١، سراج منیر ص٢،خزائن ج١٢ ص٦ میں مرزا قادیانی نے افضلیت عیسیٰ کا دعویٰ کر کے امّتی ہونے سے انکار کیا ہے۔

مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین نہیں کی

کے حق میں حقارت واِستخفاف کے کلمات بولتا ہوں۔“

(حمامتہ البشریٰ ص٨،خزائن ج٧ ص١٨٢)

(حمامتہ البشریٰ ص١٧٧،خزائن ج٧ ص٢٩٤)

خدا تعالیٰ کا نبی سمجھتے ہیں۔“ (مقدمہ چشمہ مسیحی ص ج،خزائن ج٢٠ ص٣٣٦، کشتی نوح ص١٦،خزائن ج١٩ ص١٧، سراج منیر ص٤،خزائن ج١٢ ص٦)

اس کے برخلاف

متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج٣ ص٢٢)

(چشمہ مسیحی ص١١،خزائن ج٢٠ ص٣٤٦)

آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“

(اعجاز احمدی ص١٤،خزائن ج١٩ ص١٢١)

١٦

صفحہ ٣٨٣

عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح ص ٦٥، خزائن ج ١٩ ص ٧١، حاشیہ)

ہونے کے باعث ازواج سے بچے اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨)

اور اس کے علاوہ حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢ تا ١٥٥، دافع البلاء ص ١٢، ٢٠، ٢١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣، ٢٤٠، ٢٤١، حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ تا ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ تا ٢٩٣ میں مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وجود مقدس پر ایسی ناپاک گالیاں و گندگیاں اپنے منہ سے اچھالی ہیں کہ جس کے اظہار سے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ و الی اللہ المشتکی ، واللہ عزیز ذو انتقام!

آنحضرت ﷺ کے بعد لفظ نبی کا استعمال جائز نہیں

”آنحضرت ﷺ کے بعد کسی پر لفظ نبی کا اطلاق جائز نہیں۔“

(حاشیہ تجلیات الہیہ ص ٩، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠١)

اس کے برخلاف

بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء ”اور اس بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول رکھا۔“

(ضمیمہ حقیقت النبوۃ نمبر ٣ ص ٢٧٢)

اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ نبوت اس قدر شہرت پذیر ہو چکا ہے کہ اب حوالہ کتب کی ضرورت نہیں ہے۔

آنحضرت ﷺ کے بعد نزول وحی و جبرئیل کا اقرار

اترتی ہے اور وحی کے اترنے میں ولی کی طرف ہو یا نبی کی طرف کوئی فرق نہیں۔“

(تحفہ بغداد حاشیہ ص ١٧، ٢٠، ٢١، خزائن ج ٧ ص ٢١ تا ٢٨)

١٧

صفحہ ٣٨٤

لیا۔ اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦، آئینہ کمالات اسلام ص ١٠١، خزائن ج ٥ ص ایضاً، حاشیہ)

رسول اور جس سے چاہے کلام کرے۔ خواہ نبی ہو یا محدثوں میں سے ہو۔“

(تحفۃ بغداد حاشیہ ص ١٧، خزائن ج ٧ ص ٢١)

اس کے برخلاف

رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ باتیں سچ اور صحیح ہیں۔“

(ازالہ ص ٥٧٧، خزائن ج ٣ ص ٤١٢)

(ازالہ ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣٢)

تحفہ گولڑویہ ص ٨٣ میں نزول وحی و جبرائیل کا انکار لکھا ہے۔

دعویٰ نبوت سے نبوت محمدی کی ہتک ہے

”مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا ہے۔ کیونکہ نبوت کاملہ تامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔“

(الوصیت ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣١١)

اس کے برخلاف

متمتع کر دے۔“

(چشمہ مسیحی ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٨)

خیر البریہ ﷺ کی نبوت کا کمال ثابت ہو۔“ (حاشیہ الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٧)

مرزا قادیانی کے کمالات وہبی ہیں کسبی نہیں

١٨

صفحہ ٣٨٥

نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمتیں بخشی ہیں جو میری کوشش سے نہیں۔ بلکہ شکم مادر ہی میں سے مجھے عطاء کی گئی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

اس کے برخلاف

آنحضرتﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

متابعت اپنے نبیﷺ کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔“

(ازالہ ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

(چشمہ مسیحی ص ١٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥١، حقیقت الوحی ص ١٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧)

حضورﷺ کی معراج جسمانی نہیں تھی

محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرتﷺ کا معراج اس جسم کے ساتھ کیوں کر جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔ جس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہئے۔“

(حاشیہ ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

اس کے برخلاف

میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے۔ تقریباً تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا۔“

(ازالہ ص ٢٨٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٧)

دکھلایا گیا تو میں نے اس میں اکثر عورتیں دیکھیں۔“

(ازالہ ص ٣٥٤، خزائن ج ٣ ص ٢٨١)

جسم عنصری آسمان پر جاسکتا ہے

١٩

صفحہ ٣٨٦

کہ عیسیٰ مسیح معہ گوشت پوست آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ ہماری طرف سے یہ جواب کافی ہے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان معہ جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے ۔“

(چشمہ معرفت ص ٢١٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٧، ٢٢٨)

زمین پر گر پڑی ۔“

(ازالہ ص ٢٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٣٨)

وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں ۔ ایک یوحنا جن کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں ۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

اس کے برخلاف

محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زمہریر تک بھی پہنچ سکے ۔ بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوتی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں پس اس جسم کا کرہ ماہتاب یا کرہ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے ۔“

(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

کے ساتھ اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔“

(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے ہزاروں نبی ہوئے

(اخبار الحکم ص ٥ ج ٦ کالم ٣ مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء)

اس کے برخلاف

”اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کا نتیجہ نہ تھی۔ بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی

٢٠

صفحہ ٣٨٧

پیروی کا اس میں ایک ذرہ کا کچھ دخل نہ تھا۔

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

قادیان میں طاعون نہیں آئے گا

بہر حال جب تک طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔“

(دافع البلاء ص ٥، ٧، ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥ تا ٢٣٠)

اس کے برخلاف

میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

چڑھ گیا اور سخت گھبراہٹ شروع ہوگئی اور دونوں طرف بن ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٢، اخبار بدر ١٩؍ دسمبر ١٩٠٢ء، ریویو بابت ماہ اکتوبر ١٩٠٧ء ص ٣٨٧)

مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے

کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

یہ (مرزا قادیانی) خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“ نہج المصلی ج ١ ص ٣٠٨، از تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٣٥ نمبر ١، اسکے علاوہ حقیقت الوحی ص ١٦٣، ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، ١٦٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥ میں مرزا قادیانی نے

٢١

صفحہ ٣٨٨

اپنے منکر و دشمن کو کافر و جہنمی قرار دیا ہے۔

اور آپ کے صاحبزادے مرزا محمود قادیانی خلیفہ قادیان و دیگر دام افتادوں نے تقسیم کفر میں اس سخاوت سے کام لیا ہے کہ مرزا قادیانی کی زد سے امت محمدیہ کا اگر کوئی فرد باقی رہ گیا تھا۔ تو وہ صاحبزادوں و غلام زادوں کے تیر سے زخمی ہوا۔ چنانچہ مرزا محمود قادیانی ان تمام مسلمانوں اور مومنوں کو جو حضرت رسول خداﷺ کے دامن عاطفت میں پناہ گزین ہیں اور مرزا قادیانی کی خانہ ساز نبوت کے منکر ہیں۔ یا متردد و متوقف ہیں۔ بیک جنبش قلم اسلام سے خارج کر کے اسلام کے واحد اجارہ دار بنے بیٹھے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ:

بھی کافر ہے۔"

(تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٣٠ نمبر ٤ ، از عقائد محمودیہ ص ١٤، اپریل ١٩١١ء)

مزید اطمینان کے لئے ابھی بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے۔"

(تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٤٠ نمبر ٤، ماہ اپریل ١٩١١ء، عقائد محمودیہ نمبر ١ ص ٤)

سبحان اللہ یہ کارگذاریاں اس مسیح کی ہیں جو دنیا میں اسلام کی اشاعت کے لئے آئے تھے سچ ہے : ع

جب مسیحا دشمن جان ہو تو کیا ہو زندگی
راہ کیوں کر مل سکے جب خضر بھٹکانے لگیں

اس کے برخلاف

شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔"

(تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢)

کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت و احکام جدید لاتے ہیں۔"

(تریاق القلوب حاشیہ ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢)

٢٢

صفحہ ٣٨٩

نوٹ! اور یہ معلوم ہے کہ مرزا قادیانی بقول خود نبوت تشریعی کے مدعی تھے اس لئے ان کا منکر کافر ہے۔

الہام ملہم کی زبان میں ہوتا ہے

اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“

(چشمہ معرفت ص٢٠٩،٢١٠، خزائن ج٢٣ ص٢١٨، ملفوظات احمدیہ ص٤٢)

اس کے برخلاف

واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول المسیح ص٥٧، خزائن ج١٨ ص٤٣٥)

ہیں اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔ پھر بعد اس کے دو فقرے انگریزی میں جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں۔ آئی۔لو۔یو، آئی۔شیل۔گو یو، لارج پارٹی آف اسلام چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اس کے پورے معنی کھلے ہیں۔ اس لئے بغیر معنوں کے لکھا گیا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص٥٥٧، خزائن ج١ ص٦٦٤)

مرزائیو! دیکھتے ہو کہ تمہارا رنگیلا نبی کیسی غیر معقول اور بیہودہ باتوں میں مبتلا ہے۔ کچھ تدبیر رہائی سوچ کر حق نمک ادا کرو۔

رسول قادیانی کی رسالت
جہالت ہے جہالت ہے جہالت

حضرت مسیح کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی

”حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی لیکن

٢٣

صفحہ ٣٩٠

تمام یہود و نصاریٰ کے اتفاق سے صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا تھا۔ جب کہ ممدوح کی عمر تینتیس برس کی تھی اس دلیل سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب سے بفضلہ تعالیٰ نجات پاکر باقی عمر سیاحت میں گزاری تھی۔“

(راز حقیقت حاشیہ ص ٢، ٣ خزائن ج ١٤ ص ١٥٤، ١٥٥)

اس کے بر خلاف

سو بیس سال کی عمر پائی۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٧، خزائن ج ٢٠ ص ٢٩)

فرمایا مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے۔“

(مسیح ہندوستان ص ٥٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٥)

مرزا قادیانی چھٹے ہزار برس میں آئے

آگیا۔ جو بموجب آیت ”ان یوما عند ربک کالف سنة مما تعدون“ چھٹے دن کے قائم مقام ہے سو ضرور تھا کہ اس چھٹے دن میں آدم پیدا ہوتا جو اپنی روحانی پیدائش کی رو سے مثیل مسیح ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس عاجز (مرزا قادیانی) کو مثیل مسیح اور نیز آدم الف ششم کر کے بھیجا۔“

(ازالہ ص ٤٥٥، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢، ٤٢٣)

مبعوث ہوکر اہل دنیا کو ضلالت بربادی سے بچائے گا۔ چنانچہ میں (مرزا قادیانی) اسی چھٹے ہزار میں مبعوث ہوا ہوں ۔“ ملخصاً از عربی رسالہ ما الفرق بين آدم والمسيح والموعود۔ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١٠٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٦١ میں تصریح کی ہے کہ میں دنیا کے چھٹے ہزار برس مبعوث ہوا ہوں۔

اس کے بر خلاف

سے ہے وہ یہ کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود (مرزا قادیانی) کے ماننے سے انکار کیا ہے۔ جو تمام

٢٤

صفحہ ٣٩١

نبیوں کی پیش گوئی کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص١٢،خزائن ج١٨ص٢٣٢)

کے سر پر آئے گا۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص٨،خزائن ج٢٠ص٢٠٩)

ناظرین کرام! مرزا قادیانی کے ان بے شمار مختلف ومتعارض اقوال میں سے (جن کی وسعت پچاس سے زائد الماریوں کو بھی شرمندہ کررہی ہے) یہ چند مختلف اقوال مشتے از خروار سے پیش کئے گئے جو قرآن کریم کی مشہور آیت ’’لو کـان مـن عـنـد غـیـر اللّٰہ لوجدوا فیہ اختـلافـاً کثیراً‘‘ ﴿مگر یہ قرآن کسی غیر اللہ کے پاس سے ہوتا تو لوگ اس میں بڑا اختلاف پاتے﴾ کی رو سے الہامی نہیں ہو سکتے اور جو شخص اس کو الہامی یا منجانب اللہ کہے اس کے مفتری وظالم اور کافر ہونے میں کیا شک ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کے تمام تر دعاوی پیوند زمین ہوجاتے ہیں۔ لیکن ضرورت تھی کہ خود مرزا قادیانی اپنے بلند بانگ دعاوی کی تکذیب وتفنید کرتے ہوئے نظر آئیں تو اس کے متعلق ذیل کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:

اس قدر تناقض ہے اور اس قدر بعض بیانات بعض سے متناقض پائے جاتے ہیں کہ ایک عقلمند کے لئے بجز اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اس حصہ کو جو غیر معقول اور قریب قیاس باتوں سے متضاد ہے۔ پایہ اعتبار سے ساقط کرے۔‘‘

(ست بچن ص٢٥،خزائن ج١٠ص١٣٧)

(ست بچن حاشیہ ص٢٩،خزائن ج١٠ص١٤١)

ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘

(ست بچن ص٣١،خزائن ج١٠ص١٤٣)

ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل، اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو اس کا کلام بے شک متناقض ہوجاتا ہے۔‘‘

(ست بچن ص٣٠،خزائن ج١٠ص١٤٢)

اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔‘‘

(ست بچن حاشیہ ص٢٩،خزائن ج١٠ص١٤١)

٢٥

صفحہ ٣٩٢

کا بیان بھی تناقض سے بھرا ہوا ہے۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور تمام اہل علم کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جھوٹے شخص کی کلام میں تناقض ہوتا ہے۔"

(عقائد احمدیہ ص ١٤٠ از مدثر شاہ گیلانی پشاوری)

دعوے میں اضطراب اور تناقض ہو وہ عدالت شرعی اور قانون میں کبھی بھی قابل سماعت وقبولیت نہیں ہو سکتا۔"

(از اخبار پیغام صلح ص ٤ مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٩٢٠ء)

ان حوالوں کی روشنی میں مرزا قادیانی بقول خود پرلے درجہ کے جاہل، پاگل، مجنوں، منافق، کذاب، تیرہ درون، غیر معتبر ثابت ہوتے ہیں۔ جس سے ان کی نبوت بلکہ انسانیت و دیگر دعاوی کی سر بفلک عمارت مسمار ہو کر تودہ ریت ہو جاتی ہے۔ فھو المراد!

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

اور مرزا قادیانی نے کیا ہی سچ کہا ہے کہ "قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا کا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیا سخت دل مجرموں کو سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے۔ سو وہ لوگ اپنی ذلت وتباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں۔"

(استفتاء ص ٨ کا حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ١١٦)

ایک حیرت انگیز شبہ

مرزا قادیانی کے اس قسم کے اختلافات کا دیکھنے والا انسان سخت متحیر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جیسی شخصیت کا مالک جن کی پرواز سماء نبوت سے گزر کر عرش الوہیت تک پہنچی ہوئی ہو۔ اور جو بخیال خود تمام کمالات و اوصاف کے واحد اجارہ دار ہوں ان سے ایسے اختلافات کا صدور جو پاگلوں اور مجنونوں سے بھی ممکن نہیں کیوں کر ہوا۔ تو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ درحقیقت مرزا قادیانی دماغی امراض دوران سر، مراق، جنون میں فطرتی طور پر مبتلا تھے کہ وہ اپنے دماغی توازن وصحت کو قائم نہ رکھ سکے۔ جس سے ان بے سروپا دعاوی اور مختلف باتوں کا ان کے دماغی کشت زار سے پیدا ہونا ضروری تھا۔ جو نہ لائق تعجب ہیں اور نہ باعث حیرت جیسا کہ منشی احمد حسین غلمدی فرید آبادی ایسے لوگوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ "پیسہ اخبار کے پچھلے پرچہ میں قاضی عبد العزیز

٢٦

صفحہ ٣٩٣

تھا تیسری نے اس امر کا اعلان کیا کہ میں خلیفہ وقت ہوں ۔ جب میں نے اس شخص کا یہ مضمون پڑھا تو ہنس کر ٹال دیا کہ ایسے مراقی اور کمزور طبع آدمی کی بے ربط اور بے سر و پا باتوں کا کیا نوٹس لیا جائے ۔“

(اخبار بدر ٦؍ دسمبر ١٩٠٦ء)

اس لئے ناظرین کرام بھی اسی اصول کے موافق مرزا قادیانی جیسے مراقی و کمزور طبع کے مختلف اقوال و بے اصل دعاوی کو دیکھ کر فرمائشی قہقہہ لگائیں اور یہ کہیں کہ:

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تری کبریائی کی

مرزا قادیانی مراقی تھے

ہوں ۔ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کی دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک اس کام کو کرتا رہتا ہوں ۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے ۔“

(منظور الٰہی ص ٣٤٨)

طرح وقوع میں آئی آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا ۔ دو چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی ۔ تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی ۔ یعنی مراق اور کثرت بول ۔“

(ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥، اخبار بدر ١٧؍ جون ١٩٠٦ء ص ٥، رسالہ تشحیذ الاذہان ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٥)

علاوہ رسالہ احمدی خاتون ج ٢ ص ٣٠٣ نمبر ٤، حقیقت الوحی ص ٤٤٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٢٠، ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١، سیرت المہدی ص ١٣١، ریویو نمبر ٨ ج ٢٥ ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦ میں مراق و دوران سر کا تذکرہ کیا ہے ۔

ان تینوں حوالوں سے روز روشن کی طرح مرزا قادیانی کا بقول خود مراقی دوران سر و خلل دماغ کا مریض ہونا ثابت ہو گیا ۔ لیکن اب یہ بتانا ضروری ہے کہ مراقی اور دماغی امراض کا مریض نہ نبوت کے رفیع مرتبہ پر فائز ہو سکتا ہے اور نہ دعویٰ الہام کر سکتا ہے ۔

مراقی نبی و مدعی الہام نہیں ہو سکتا

٢٧

صفحہ ٣٩٤

کاسہ لیسوں ہی کی شہادت پیش کرتا ہوں تا کہ اس گھر کو گھر کے چراغ سے آگ لگ جائے اور شہد شاهد من اهلھا کی گواہی دہان دوز بن جائے۔

چنانچہ چوہدری ڈاکٹر شاہ نواز خان مرزائی لکھتے ہیں کہ: ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اسکو ہسٹریا ، مالیخولیا ، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر اور کسی ضرب کی ضرورت نہیں رہتی ۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔‘‘

(رسالہ ریویو نمبر ٨ ج ٢٥ ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٧،٦)

(ریویو نمبر ٥ ج ٢٦ ص ٣٠ ماہ مئی ١٩٢٧ء)

’’اور اس مرض مراق میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات و خیالات پر قابو نہیں رہتا۔‘‘

(ریویو نمبر ٨ ج ٢٥ ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦)

ناظرین کرام اسی اصول کے موافق اس گھر کے بھیدی نے مرزائیت کی لنکا کو اس طرح سے ڈھایا ہے کہ مرزا قادیانی کی صداقت دعوٰی کی سر بفلک عمارت بیخ و بن سے مسمار ہو کر ہموار زمین ہو گئی ۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی مراقی تھے اور جو مراقی ہوتا ہے تو اس کے دعوے الہام ونبوت کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی اور اس کمزور دماغ و مراقی انسان کے دماغ سے ایسی بے جوڑ و بے ربط باتیں پیدا ہوتی ہیں کہ سوائے اس کے کہ ہنس کر ٹال دیا جائے ۔ اس پر توجہ التفات کرنا انسانی عقل و تدبر کی ہتک ہے۔ یہی وجہ تھی کہ مرزا قادیانی کے اپنے نا ہموار دماغ سے ایسی بے سروپا باتیں پیدا ہوئیں کہ اس زمانہ کے پاگل و مجنوں بھی شرمندہ ہیں اور مراق کی عینک میں کچھ اس انداز سے بے پر کی باتیں اڑائی ہے کہ دنیا ان کو ایک صحیح الدماغ انسانوں اور عقلمندوں کی صف میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ چہ جائیکہ نبوت و رسالت کے درجہ پر فائز ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تمام مسلمان مرزا قادیانی ہی کے فرمائے ہوئے القاب، پاگل، مجنوں، منافق ،سیاہ دل سے ان کو معتقدانہ حیثیت سے یاد کرتے ہیں۔ قطعہ:

مجھ سا احمق جہاں میں کہیں پاؤ گے نہیں
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ مرزا لے کر

فقط ! خادم اسلام: محمد نجم مبلغ و مناظر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ! ٥ ربیع الاول ١٣٥٢ھ

٢٨

PDF 395

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

کفریات مرزا

مناظر اسلام حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوری

صفحہ ٣٩٦

بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمدللہ وحدہ والصلوۃ علیٰ من لا نبی بعدہ وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین!

یوں تو مہدی بھی ہو عیسیٰ بھی ہو سلمان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

مرزا غلام احمد قادیانی مقام قادیان ضلع گورداسپور (پنجاب) میں پیدا ہوئے اور سن بلوغ کے بعد سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار کی ملازمت کی۔ لیکن اس پر بھی آپ کو خوردونوش کی الجھنوں اور پریشانیوں سے نجات نہیں ملی۔ تو آپ نے مختار کاری کا امتحان دیا بد قسمتی سے اس میں بھی آپ کو ناکامی ہوئی۔ تو جلب منفعت و طلب زر کی چلتی ہوئی تدبیر یہ نکالی کہ ایک اشتہار اس عنوان کا شائع کیا کہ حقانیت اسلام پر ایک کتاب لکھی جاوے گی جو ایک اشتہار ایک مقدمہ اور چار فصل اور ایک خاتمہ اور تین سو محکم دلائل پر مشتمل ہو گی اور قیمت اس کی پانچ روپے اور دس روپے فی جلد پیشگی ہو گی۔ (اشتہار براہین احمدیہ در دیباچہ) مسلمانوں نے خدمت اسلام سمجھ کر مرزا قادیانی کی آواز پر لبیک کہا اور چہار طرف سے روپے کی بارش ہو گئی اور مرزا قادیانی مالا مال ہو گئے۔ جب مرزا قادیانی کی منہ مانگی مراد حاصل ہو گئی تو تین سو بے نظیر دلائل کے بجائے اپنی تعلیوں اور بلند پروازیوں کو حاشیہ در حاشیہ میں لکھ کر ایک پشتارہ براہین احمدیہ کے نام سے تیار کر دیا اور جلد چہارم (اگر اس کو کوئی عقلمند چہارم کہہ سکے) کے آخر میں یہ لکھ کر کہ ”اب براہین کی تکمیل خدا نے اپنے ذمہ لے لی ہے“ اس کی اشاعت بند کر دی۔ جب لوگوں نے اپنے روپے کا تقاضا کیا تو ان کو ”دنی الطبع کمینہ سفیہ“ وغیرہ مہذب الفاظ سے ڈانٹ دیا اور سارا روپیہ ہڑپ کر گئے۔

(ایام الصلح ص ١٧٣، خزائن ج ١٤ ص ٤٢٢)

اس اثناء میں مرزا قادیانی کو خوردونوش کی پریشانیوں سے نہ صرف نجات ملی بلکہ ایک دولت مند و متمول رئیس ہو گئے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:

”مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپے ماہوار بھی آئیں گے مگر خدائے تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آ چکا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤١٠، اربعین نمبر ٢ حاشیہ ص ٥،

خزائن ج ١٧ ص ٣٥١)

٢

صفحہ ٣٩٧

مرزا قادیانی جیسے آزاد روش وملون المزاج اس بے فکری وتمول میں ایسے سرشار وبدمست ہوئے کہ بڑے بڑے رفیع مراتب ووقیع منازل کے پریشان خواب دیکھنے لگے۔ چنانچہ آپ اتنے مختلف دعاوی کے مدعی ہوئے ہیں کہ ”بقول شخصے ڈاڑھی سے مونچھیں بڑی“ فرماتے ہیں کہ: ١......محدث ہوں۔ ٢......مجدد ہوں۔ ٣......مسیح موعود ہوں۔ ٤......مثیل مسیح ہوں۔ ٥......مہدی ہوں۔ ٦......ملہم ہوں۔ ٧......حارث موعود ہوں۔ ٨......رجل فارسی ہوں۔ ٩......کرشن اوتار ہوں۔ ١٠......خاتم الانبیاء ہوں۔ ١١......خاتم الاولیا ہوں۔ ١٢......خاتم الخلفاء ہوں۔ ١٣......چیم الاصل ہوں۔ ١٤......معجون مرکب ہوں۔ ١٥......یسوع کا ایلچی ہوں۔ ١٦...... مسیح ابن مریم سے بہتر ہوں۔ ١٧......حسین سے بہتر ہوں۔ ١٨......رسول ہوں۔ ١٩......مظہر خدا ہوں۔ ٢٠......خدا ہوں۔ ٢١......مانند خدا ہوں۔ ٢٢......خالق ہوں۔ ٢٣......خدا کا نطفہ ہوں۔ ٢٤......خدا کا بیٹا ہوں۔ ٢٥......خدا کی بیوی ہوں۔ ٢٦......خدا کا باپ ہوں۔ ٢٧......بروز احمد ومحمد ہوں۔ ٢٨......تشریعی نبی ہوں۔ ٢٩......حجر اسود ہوں۔ ٣٠......ذوالقرنین ہوں۔ ٣١......ادم ہوں۔ ٣٢......نوح ہوں۔ ٣٣......ابراہیم ہوں۔ ٣٤......یوسف ہوں۔ ٣٥......موسیٰ ہوں۔ ٣٦......داؤد ہوں۔ ٣٧......سلیمان ہوں۔ ٣٨......یعقوب ہوں۔ ٣٩......تمام انبیاء کا مظہر ہوں۔ ٤٠......تمام انبیاء سے افضل ہوں۔ ٤١......احمد مختار ہوں۔ ٤٢......بشارت اسم احمد کا میں ہی مصداق ہوں۔ ٤٣......مریم ہوں۔ ٤٤......میکائیل ہوں۔ ٤٥......بیت اللہ ہوں۔ ٤٦...... آریوں کا بادشاہ ہوں۔ ٤٧......امام الزمان ہوں۔ ٤٨......شیر ہوں۔ ٤٩......(قائلین کے) محی ہوں۔ (زندہ کرنے والا) ٥٠......ممیت ہوں۔ (مارنے والا) ١؎۔

١؎ ان دعاوی کو ذیل کے حوالوں میں ملاحظہ فرمائیے:۔ ١......توضیح المرام ص١٧، ١٨۔ ٢......حمامۃ البشریٰ ص١١١۔ ٣......ازالہ اوہام ص٦٨٦۔ ٤......تبلیغ رسالت ج١ ص٢١۔ ٥...... تذکرۃ الشہادتین ص٣٠٢۔ ٦......تریاق القلوب ص٦٨۔ ٧......ازالہ اوہام ج١ ص٨٩ حاشیہ۔ ٨......تحفہ گولڑویہ ص٢٩۔ ٩......لیکچر سیالکوٹ ص٣٣۔ ١٠......ایک غلطی کا ازالہ ضمیمہ النبوت فی الاسلام ص١٠٨۔ ١١......خطبہ الہامیہ ص٣٥۔ ١٢......تریاق القلوب ص١٥٩۔ ١٣......تحفہ گولڑویہ ص٣٩۔ ١٤......تریاق القلوب ص٦٤۔ ١٥......تحفہ قیصریہ ص٢٣۔ ١٦......دافع البلاء ص٢٠۔ ١٧......دافع البلاء ص١٣۔ ١٨......دافع البلاء ص٢٠۔ ١٩......حقیقت الوحی ص١٥٤۔ ٢٠......آئینہ کمالات اسلام ٥٦٤۔ ٢١......اربعین حاشیہ ص٢٥۔ ٢٢......نصرت الحق ص٩٥۔ ٢٣......اربعین نمبر٢ ص٢٩۔ ٢٤......حقیقت الوحی ص٨٦۔ ٢٥......تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٤۔ (بقیہ صفحہ ٣٩٨ پر)

٣

صفحہ ٣٩٨

مرزا قادیانی کے ان کفر آمیز بلند بانگ دعاویٰ مختلفہ کی طویل فہرست پر سرسری نظر ڈال کر ہر عقلمند انسان اس امر کے اظہار پر مجبور ہو گا کہ آپ کا قلب ایمان سے اور دماغ عقل سے یکسر خالی تھا اور اس قابل بھی نہیں تھے کہ صحیح الدماغ انسانوں کی صف میں کھڑے ہوسکیں۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”راست باز اور عقلمند کے کلام میں تناقض نہیں ہوتا۔“ (ست بچن ص ١٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢) اور ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥) اس لئے مرزا بتلائے کہ مرزا قادیانی بقول خود کون تھا؟۔

آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

اور ان دعاوی باطلہ کے ساتھ مرزا قادیانی کے اس فرمان کو پڑھئے کہ ”کیونکہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے ۔“

(ازالۃ الاوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کے ان مذکورۃ الصدر دعاوی مختلفہ کی بنیاد معاذ اللہ خدائی القاء والہام پر ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم والہام کے مطابق رسالت ونبوت ۔ حتیٰ کہ خدائی کا دعویٰ کیا۔ اس کو دیکھ کر ملت اسلامیہ کا ہر فرد اس امر کا یقین کرے گا کہ مرزا قادیانی (مع اپنی امت کے )مومن و مسلمان نہیں تھے اور جو کچھ آپ پر الہام ہوتا تھا وہ سب شیطان لعین کی کارفرمائیاں تھیں۔ کیونکہ خدائے برتر اس قسم کی بکواس ومتضاد خیالات سے منزہ اور ورا الوراء ہے۔

(بقیہ گذشتہ صفحہ کا) ٢٦.......حقیقت الوحی ص ١٤٣۔ ٢٧.......حقیقت الوحی حاشیہ ص ٧٢۔ ٢٨.......اربعین نمبر ٤ ص ٧۔ ٢٩.......ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٤١۔ ٣٠.......نصرت الحق ص ٩٠۔ ٣١.......نصرت الحق ص ٨٥۔ ٣٢.......نصرت الحق ص ٨٦۔ ٣٣.......نصرت الحق ص ٨٧۔ ٣٤.......نصرت الحق ص ٨٨۔ ٣٥.......نصرت الحق ص ٨٨۔ ٣٦.......نصرت الحق ص ٨٩۔ ٣٧.......نصرت الحق ص ٨٩۔ ٣٨.......درثمین ص ٨٥۔ ٣٩.......نصرت الحق ص ٩٠۔ ٤٠.......درثمین فارسی ص ٢٨٧۔ ٤١.......درثمین فارسی ص ٢٨٧۔ ٤٢.......القول الفصل بحوالہ ازالۃ الاوہام ص ٢٧٣۔ ٤٣.......حقیقت الوحی حاشیہ ٣٢٨۔ ٤٤.......حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص ٢٥۔ ٤٥....... حاشیہ اربعین نمبر ٤ ص ١٥۔ ٤٦.......حقیقت الوحی ص ١٥٥۔ ٤٧.......ضرورت الامام ص ٢٤۔ ٤٨.......کرامات الصادقین ص ٥٤۔ ٤٩.......خطبہ الہامیہ ص ٢٣۔ ٥٠.......خطبہ الہامیہ ص ٢٣۔

٤

صفحہ ٣٩٩

کفریات مرزا

ابنیت و شرک کا ایک بھیانک مظاہرہ

شریعت اسلامیہ کا ایک امتیازی مسلمہ مسئلہ ہے کہ باری تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں ایسا بے نظیر و بے مثل ہے کہ کوئی ہستی اس کی مماثلت و مشارکت کا وہم بھی نہیں کر سکتی اور وہ انسانی عقل و ادراک سے وراالورا اور انسانی عیوب و ہر قسم کے نقائص سے مبرہ ومنزہ ہے۔ چنانچہ اس مستحکم مسئلہ توحید الہی پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کا حرف حرف بلکہ مسلمان کا بچہ بچہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کہتا ہوا شاہد عدل ہے۔ اب جو الہام و کشوف اور اقوال وافعال توحید الہی اور قرآن وحدیث کے مسلمہ اصول کے خلاف ہوں گے۔ وہ شیطانی الہامات وکشوف کہلائیں گے اور جس پر وہ شیطانی الہامات نازل ہوتے ہیں شریعت اسلامیہ میں اس کے ساتھ شیطان جیسا برتاؤ رکھا جائے گا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

مجتہد ہی کیوں نہ ہو۔ سمجھ لینا چاہیے کہ شیطان اس سے کھیلتا ہے۔ (الی ان قال) جو الہام وکشف رسول اللہ ﷺ کے طریق کے برخلاف ہو وہ شیطانی القاء ہے۔“

(آئینہ کمالات ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

سکتا۔“

(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢٥، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٥)

اسی معیار پر مرزا قادیانی کے چند الہامات کی جانچ کی جاتی ہے۔ اگر شریعت اسلامیہ کے اصول پر صحیح اتر آئے تو فبہا ورنہ وہ الہامات شیطانی ہیں۔ وہ شیطان مرزا قادیانی سے کھیل کر رہا ہے اور یہ دونوں نامور و مشہور ہستیاں مخلوق خدا کو گمراہ کرنے میں مساویانہ طور پر جدوجہد کر رہی ہیں ۔ پس مسلمان دونوں کو اسلام سے خارج ، کافر، ملعون ماننے پر مجبور وحق بجانب ہیں۔

مرزا قادیانی خدا کے بیٹے تھے

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ مجھ پر یہ الہام ہوا:

(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)

٥

صفحہ ٤٠٠

ہے ۔

(حقیقت الوحی ص ٨٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں اور ایسا ہی یہ وہ مقام عالیشان ہے کہ گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہٰذا کے ظہور کو خدا تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے اور اس کا آنا خدا تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے ۔“

(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤)

کون نہیں جانتا کہ اسلام میں عقیدہ ابنیت وولدیت کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر توحید الٰہی کی بنیادیں خوب مستحکم ومضبوط کر دی گئی ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم کی سورہ اخلاص ودیگر آیات اور اسلام کا مشہور کلمہ لا الہ الا اللہ اس پر شاہد ہے۔ لیکن اس کے باوجود مرزا قادیانی ولدیت وابنیت کا اعلان کر رہے ہیں تو اسلامیہ شریعت میں مرزائیت کو وہی درجہ حاصل ہے جو عیسائیت کا ہے۔ یعنی ان دونوں کے پیرو اسلام میں داخل نہیں ہیں ۔

کفریہ الہام

”انما امرک اذا اردت شیئا ان تقول لہ کن فیکون“

(حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)

”اے مرزا جب تیرا اختیار یہ ہے کہ جب تو کسی کام کو ”ہو جا“ کہے تو ہو جاتا ہے ۔“

(رسالہ ریویو نمبر ٣ ج ٤ ص ١٣٠ بابت مارچ ١٩٠٥ء)

”اے غلام احمد اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے اور وہ صرف کہہ دے کہ ہو جا۔ وہ چیز ہو جاتی ہے ۔“

(اخبار بدر مورخہ ٢٣؍ فروری ١٩٠٥ء)

قرآن کریم میں یہ صفت کن فیکونی صاف صاف ”انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون ۔ یسین ٨٢“ باری تعالیٰ اسی کے لئے خصوصیت سے بیان کی گئی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے حق میں اس کو چسپاں کرتے ہیں تو حسب اصول شریعت یہ الہام شیطانی اور باطل ہے اور مرزا قادیانی اس الہام پر عقیدہ واعتقاد رکھنے کی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں اور جو لوگ باوجود اس کفر کے مرزا قادیانی کو مسلمان وغیرہ تصور کرتے ہیں ان کے لئے بھی اسلام میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔

٦

صفحہ ٤٠١

(دافع البلاء ص ٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

(البشریٰ ج ١ ص ٤٦)

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)

مندرجه بالا ہر ایک الہام اسلام کے مایہ ناز مسئلہ وحدانیت کے سراسر مخالف اور کفر وشرک سے لبریز ہے۔ اس لئے اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ یہ الہامات شیطانی اور مرزا قادیانی (جو اس کے ملہم ہیں) شیطان لعین کے پیروکار ہیں۔ اسلام کے نہیں:

ہر کہ شک آرد کافر گرد

کو فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ٥٥ ، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زندہ کرنا اور مارنا خدائے تعالیٰ کی صفت خاص ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی ہوس رانی وکفر گوئی ملاحظہ فرمائیے کہ ”احیا وافناء کا مالکانہ“ اختیار آپ کو حاصل ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں مرزا قادیانی کا دعویٰ نمرود کے دعوے ”انا احی وامیت“ (البقرہ ٢٥٨) کے دوش بدوش ہے۔ اس لئے ہم تمام مسلمانوں کا یہ قطعی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی اور نمرود دونوں ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔

مرزا قادیانی نے مے پی کر یہ کیسی چال کی
محتسب سے جا ملے رندوں کے مخبر بن گئے

(دافع البلاء حاشیہ ص ٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)

(خزینۃ المعارف ج ١ ص ١٥٦)

جو جی چاہے کر میں نے سب گناہ ترے بخش دئے۔ ٦...... مرزا تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے۔

٧

صفحہ ٤٠٢

مرزائیو ! تم کو مبارک ہو کہ تمہارا گرو، پیر مرزا قادیانی کی بیعت خدا تعالیٰ کی بیعت ہے۔ جب ہی تو مرزا قادیانی کی بزم میں حاضر ہوا۔ ناظرین فرمائیے ایسے شخص کے متعلق کیا فیصلہ ہے:

میرے دل کو دیکھ کر میری وفا دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

(البشریٰ ج ٢ ص ٥٦)

لڑتے ہیں۔“

(کشتی نوح ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٧٦)

ایک پر لطف الہام اور ملاحظہ فرمائیے کہ خداوند تعالیٰ مرزا قادیانی کے گھر میں جنم لے رہا ہے کہ: ”انا نبشرک بغلام مظھر الحق والعلی کان اللہ نزل من السماء“

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٨)

یعنی ہم تجھے ایک ایسے بیٹے کی بشارت دیتے ہیں جو سچائی ظاہر کرنے والا ہوگا۔ گویا خود خدا آسمان سے اترے گا۔ گویا معاذ اللہ خدا مرزا قادیانی کے گھر میں جنم لے کر انکا بیٹا بنا۔ حاشا وکلا! اگر ایسے لوگوں کے لئے بھی اسلام میں کوئی درجہ ہو سکتا ہے تو نہیں معلوم کفر کیا چیز ہے اور کافر کس کو کہتے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، خزائن ج ٢١ ص ٦٦٢ حاشیہ)

مرزائیو ! عاج کے معنی تمہارے گرو مرزا قادیانی کو معلوم نہیں ہوئے لیکن میں بتاتا ہوں کہ لغت میں اس کے معنی ہاتھی دانت، استخوان فیل، گوبر (منتخب اللغات ص ٣٠٤) وغیرہ ہیں۔ لہٰذا اس الہام کی روشنی میں اپنے خدا کو ہاتھی دانت، استخوان گوبر، لید سمجھ سکتے ہو۔ جیسی گدھی دیوی ویسے اس کے اوت پجاری۔

مرزا قادیانی خود خدا تھے (معاذ اللہ )

مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ عنقریب خدائی کا دعویٰ کروں گا اور میری امت اس کی تصدیق کرے گی۔ چنانچہ آپ خدا بن بیٹھے۔ لیکن افسوس ان کی امت نے اس دعویٰ خدائی کی تصدیق نہیں کی۔ مگر اہل اسلام ان کو فرعون و نمرود جیسا خدا تسلیم کرتے ہیں:

٨

صفحہ ٤٠٣

اسلام ص٥٦٤، خزائن ج٥ ص ایضاً) میں (مرزا قادیانی) نے خواب میں دیکھا کہ ہو بہو اللہ ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔

لفظی معنی میکائیل کے ہیں۔ خدا کے مانند اور مثل۔“ (اربعین نمبر٣ حاشیہ ص٢٥، خزائن ج١٧ ص٤١٣)

قرآن مجید بلند آواز سے کہہ رہا ہے۔ ”لیس کمثلہ شئی“ (الشوریٰ ١١) وہ بے مثل ہے۔ مگر چودہویں صدی کے مجدد کفر و بدعت مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں خدا کے مانند ہوں۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نہایت قطع ویقین سے کہتے ہیں کہ میں خدا ہوں۔ مرزائی دنیا میں مرزا قادیانی کا دعویٰ خدائی کچھ اچھی نظروں سے نہیں دیکھا گیا۔ تو ان کے کاسہ لیسوں و عقیدت کیشوں نے اس دعویٰ کی اس طرح سے مرمت کی کہ یہ دعویٰ خواب کا ہے جیسا کہ عبارت مرزا قادیانی میں خود موجود ہے کہ میں نے خواب میں ...... الخ! اس لئے اس دعوے کی نہ کچھ حقیقت ہے اور نہ اعتبار کے قابل۔ اگرچہ امت مرزائیہ نے مرزا قادیانی کو زبردستی مرتبہ ربوبیت والوہیت سے گرا کر بندوں اور انسانوں کے زمرے میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے اس دعویٰ خدائی کی طنابیں کچھ ایسی نہیں تھیں جو ڈھیلی ہو جاتیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”نبی کی خواب ایک قسم کی وحی ہوتی ہے۔“

(ازالہ ص٢١١، خزائن ج٣ ص٢٠٤)

نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“ (ازالہ ص١٩٨، خزائن ج٣ ص١٩٧)

اور آپ کا مشہور الہام ”وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی“ کہ مرزا قادیانی تو اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ بلکہ وحی والہام کے موافق بولتا ہے۔

(اربعین نمبر٣ ص٣٦، خزائن ج١٧ ص٤٢٦)

اور مرزا قادیانی (بقول خود) نبی ورسول اور ملہم ہیں اور امت مرزائیہ مرزا قادیانی کی نبوت ورسالت اور الہام پر ایمان رکھتی ہے اور اسی کو سرمایہ نجات سمجھتی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ الوہیت منامی و خیالی نہیں بلکہ حقیقی و قطعی ہے۔ حیرت اور افسوس ہے اس مرزائی خدا کے نافرمان وسرکش بندوں پر جو اس کی الوہیت کے کنگروں کے مسمار کرنے میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ مگر ہم تمام مسلمان مرزا قادیانی کے اس دعویٰ خدائی کی قدر کرتے ہوئے یہ قطعی عقیدہ رکھتے

٩

صفحہ ٤٠٤

ہی کہ آپ کا یہ دعویٰ فرعون کے دعوائے ”انا ربکم الاعلیٰ“ النازعات ٢٤ کے دوش بدوش ہے اور یہ دونوں ناپاک ہستیاں ایک ہی سلسلہ کی دو کڑیاں ہیں۔ مرزائیو سنتے ہو:

مجھ سا مشتاق جہاں میں کہیں پاؤ گے نہیں
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ مرزا لے کر

اور لطف یہ کہ اس قسم کے تمام تر شرکیہ و کفریہ اقوال کے متعلق مرزا قادیانی کا خیال یہ ہے کہ اس کی بنیاد وحی الٰہی والہام ازلی پر ہے کہ جس طرح قرآن کریم کا لفظ لفظ وحی الٰہی ہے اور ہر قسم کی غلطیوں وعیبوں سے پاک ہے اسی طرح ہمارے یہ الہامات ہیں کیونکہ حضور ﷺ کی طرح میں بھی ”وما ینطق عن الھویٰ“ کے ماتحت بولتا ہوں اور اپنی طرف سے کسی قسم کی کوئی دلیری نہیں کرتا۔

آنچہ من بشنوم ز وحی خدا
بخدا پاک دانمش ز خطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں ست ایمانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ص ٤٧٧)

ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ خدا کی کتاب قرآن کریم اور دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن کریم کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوتا ہے خدا تعالیٰ کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ص ٢٢٠)

اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ص ١٥٤)

ان خرافات و کفریات کو کلام الٰہی سمجھنا اور اس پر ایمان و اعتقاد رکھنا ہی مرزائیت کے فتنۂ کفر اور بے دینی کی ایک نہ مٹنے والی علامت ہے۔ کیونکہ مرزائی دنیا میں خدا ایک ایسی ذات تسلیم کی گئی ہے کہ جس نے سابقہ وحیوں اور کلاموں میں اپنی وحدانیت اور الوہیت کو مدلل کر کے جزو ایمان و باعث نجات قرار دیا اور ان مذاہب و ادیان کو جنہوں نے توحید و الوہیت کے خلاف آواز بلند کی ان کو باطل پرست کفر نواز مشرک قرار دے کر اخروی نجات سے محروم کر دیا۔ لیکن اسی

١٠

صفحہ ٤٠٥

خدا کی جدت نوازی و تجدد پسندی ملاحظہ فرمائیے کہ اپنی وحدانیت و بے نظیری پر پانی پھیر دیتا ہے اور مرزائیت کے آسمانی دولہا کو مسند الوہیت پر بٹھا کر اپنا شریک و سہیم بنا لیتا ہے۔ (معاذ اللہ) ”ایں چہ بوالعجبی است“ جب مسلمان مرزا قادیانی کے اس قسم کے کفریات و خرافات پیش کر کے ان کو دائرہ اسلام سے باہر اور ان کی نبوت ورسالت وغیرہ کو خاکستر کر دیتے ہیں تو مرزائیت کے کاسہ لیسوں میں ایک عجیب قسم کی سراسیمگی و کھلبلی پڑ جاتی ہے اور ایک فریب وعذر لنگ، اسلام و نبوت مرزا کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے جس قدر الہامات واقوال بظاہر شریعت اسلامیہ کے خلاف معلوم ہوتے ہیں۔ وہ سب حالات وجد و جذب کے ہیں۔ جیسا کہ اسلام میں بہت سے مقتدر بزرگان سلف مثل بایزید بسطامی ، منصور، امام شبلی وغیر ہم کے ایسے مشہور اقوال ہیں جن کو شریعت اسلامیہ سے کچھ لگاؤ نہیں بلکہ ظاہراً سراسر کفر و شرک ہیں۔ لیکن علمائے اسلام ان کے متعلق حالت سکر و جذب کا عذر پیش کر کے ان بزرگوں کو معذور سمجھتے ہیں جس سے ان کے اسلام و ایمان میں تو درکنار کرامت و بزرگی میں بھی فرق نہیں آتا ہے۔ اسی طرح سے مرزا قادیانی کے یہ اقوال والہامات بھی مجذوبانہ حالت میں صادر ہوئے ہیں۔ اس لئے آپ کے اسلام و ایمان پر بھی کوئی ضرب نہیں پڑے گی۔

ناظرین! امت مرزائیہ کا یہ ایک چلتا ہوا فریب وہ منتر ہے جو سادہ لوح و ناواقف مسلمانوں کو قابو میں لانے کے لئے تراشا گیا ہے۔ ورنہ اس کی حقیقت نقش برآب سے بھی بالاتر ہے۔ اوّل تو اس لئے کہ صوفیائے کرام نے اپنی وجدانی حالت میں جو کچھ فرمایا ہے۔ اس کی بنیاد وحی الٰہی و نبوت خداوندی پر نہیں رکھی یعنی انہوں نے نہ دعویٰ نبوت کیا اور نہ یہ کہا کہ یہ منجانب اللہ الہام و وحی الٰہی ہے۔ بخلاف مرزا قادیانی کے وہ مدعی نبوت تھے اور ان تمام تر اقوال والہامات کو وحی الٰہی کہتے تھے اور نبی وہ ہے جو اپنے اقوال و جذبات پر قابو رکھتا ہے۔ اس پر جذب و سکر طاری نہیں ہوتا۔ اس لئے مرزا قادیانی کی حالت کو صوفیائے کرام کی حالت پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔

ثانیاً صوفیائے کرام کے ایسے اقوال کو شرعی حیثیت سے کچھ وقعت نہیں دی گئی۔ بلکہ خود انہوں نے اپنی غیر وجدانی حالت میں شریعت کو ملحوظ رکھ کر اس سے نفرت کا اظہار کیا ہے اور نادم ہو کر استغفار کیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اقوال صوفیا کی اصطلاح میں شطحیات کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ جو نہ عقائد کے مدار کار ہیں۔ نہ اعمال کے اور نہ اس کے انکار کرنے والے کافر فاسق ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کو دیکھئے کہ اپنے ان اقوال کو الہام و وحی کی صورت میں پیش کر کے نہ صرف

11

صفحہ ٤٠٦

اس کے منکر کو بلکہ متردد کو بھی کافر قرار دیتے ہیں۔ توبہ واستغفار تو درکنار بڑی بے باکی سے اسی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کے یارو غار ، شریک و سہیم تو ایسے بلند پایہ حقائق کی طرفہ روزگار تاویلیں فرما کر سراہتے ہیں کہ اس سے توبہ بھلی۔

ثالثاً علمائے اسلام نے ایسے اقوال کی وجہ سے ان کو بھی کافر قرار دیا ہے اور جب تک وہ تائب نہیں ہو گئے ان کو سزائیں بھی دی گئیں۔

بہرحال چونکہ مرزا قادیانی مدعی نبوت وملہم من اللہ ہے۔ اس لئے ان کے حالات والہامات کو صوفیائے کرام کے احوال واقوال پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے اس لئے مرزا قادیانی اپنے ان کفریہ الہامات کی وجہ سے اسلام میں داخل نہیں ہوسکتے۔

حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایک شرمناک حملہ

دعوائے نبوت

مسئلہ توحید باری عزاسمہ کے ساتھ ساتھ اس امر کا قطعی اقرار کرنا ضروری و ناگزیر ہے کہ جناب رسول خدا ﷺ پر سلسلہ نبوت ختم ہو گیا آپ دنیا کے ایک آخری نبی ہیں جس کے بعد کسی قسم کا تشریعی وغیر تشریعی ، ظلی و بروزی ، جنگلی و کوہی کوئی نبی بھی نہیں آسکتا ہے اور اس مسئلہ ختم نبوت کی تمام تر بنیاد قرآن کریم کی بے شمار آیات واحادیث کے بے پایاں ذخیرے پر ہے۔ جس میں صاف صاف اس امر کا ذکر موجود ہے کہ ختم نبوت، ایمان واسلام کا ایک ایسا جزو ہے جس کے انکار سے ایمان واسلام قائم ہی نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ ان آیات واحادیث کی روشنی و تابانی کی وجہ سے جن جن لوگوں نے اپنی نبوت کی داغ بیل ڈالی شاہان اسلام نے ان کی نہ صرف اس مصنوعی نبوت کو بلکہ ان کی ذات کو موت کے گھاٹ اتار کر اسلامی فضا کو خس وخاشاک سے پاک وصاف کر دیا ہے اور خود مرزا قادیانی کا بھی مدعی نبوت کے متعلق یہی خیال ہے لکھتے ہیں کہ:

نبوت اور رسالت کو کافر اور کاذب جانتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥)

اس کے بعد مرزا قادیانی کی نبوت ورسالت کے دعاوی ملاحظہ فرمایئے:

١٢

صفحہ ٤٠٧

(ملفوظات ج١٠ ص ١٢٧، اخبار بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء)

(دافع البلا ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

اسی نے مجھے بھیجا ہے اور میرا نام نبی رکھا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

اس کے علاوہ تجلیات الٰہیہ ص٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢، اربعین نمبر ٤ ص١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤ وغیرہ میں دعویٰ نبوت موجود ہے۔ مرزا قادیانی کے نبوت ورسالت کے ان دعاوی کو دیکھ کر ہر شخص یقین کر لے گا کہ ختم نبوت کے خلاف یہ دعوٰی کفر اور اس کا مدعی کافر و خارج از اسلام ہے۔ اس لئے از روئے اصول شریعت اور مرزا قادیانی بقول خود اس کفریہ دعوے کی وجہ سے اسلام سے خارج ہیں۔

مرزا قادیانی تشریعی نبوت اور شریعت جدیدہ کے مدعی تھے

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ:

تجدید بھی ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے وجہ سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

اس آیت کا مصداق ہے۔...... ہوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

کے مثیل ہونے کی طرف یہ اشارہ ہے...... ومبشرا برسول یاتی من بعد اسمه احمد“

(ایام الصلح ص ١٦٣، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦)

صفحہ ٤٠٨

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیش گوئی ”ومبشرا برسول یاتی من بعد اسمه احمد“ کا میں ہی ہوں ۔“

(القول الفصل ص ٢٧)

ہیں نہ اور کوئی ۔“

(انوار خلافت ص ٣٣)

اسلامی دنیا کا کوئی فرد اس سے بے خبر نہیں ہے کہ آیت ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ، التوبه ص ٣٣“ اور بشارت اسمہ احمد خاص حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی شان اقدس میں نازل ہوئی جو دنیا میں اسلام جیسا دین اور قرآن کریم جیسی کتاب لے کر مخلوق خدا کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے اور تمام ادیان ومذاہب پر اسلام کو بلند کیا ۔ لیکن مرزا قادیانی کی آنکھوں میں سردار دوعالم ﷺ کا وصف خاص کانٹوں کی طرح کھٹکا اور رشک وحسد وجاہ پرستی کی چنگاریوں نے مرزا قادیانی کے تمام جسم میں آگ لگا دی ۔ تو آپ نے یہ کہہ کر کہ ”ان اوصاف خاصہ کا مصداق صرف میں ہی ہوں ۔“ اپنی ان حاسدانہ چنگاریوں پر پانی کا کچھ چھینٹا ڈال دیا اور اپنی جاہ پرور اور ہوس ران زندگی کے لئے قدرے سامان مہیا کر لیا ۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی کے یہ دعاوی ان کے لئے دنیوی ذلتوں واخروی عذابوں کے باعث بن گئے ۔ اس لئے اس بے حقیقت وکفریہ دعوے سے حضور ﷺ کی رسالت ومقصد بعثت کو ناکام اور اپنے تئیں پیغمبر اعظم ﷺ سے برتر و بہتر ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی گئی ہے ۔ پھر ایسے مدعی کو وہی شخص مومن ومسلم کہہ سکتا ہے جو خود بھی اسلام وایمان کے دامن سے وابستہ نہ ہو اور مرزا قادیانی کے ان ادعائے باطل کی وجہ سے آپ کے ایک مرید ظہیر الدین اروپی مرزا قادیانی کو نبی مستقل ورسول حقیقی اور صاحب شریعت وصاحب کتاب مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ کی جگہ ”لا اله الا الله احمد (مرزا قادیانی) جری الله“ پڑھتے ہیں اور قادیانی مسجد اقصیٰ اور قادیان کو قبلہ عبادت جانتے ہیں ۔ (مفہوم از رسالہ المبارک) اور مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان بھی (مع اپنی جماعت کے) مرزا قادیانی کو حقیقی نبی تسلیم کرتے ہیں کہتے ہیں کہ:

”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں، بلکہ حقیقی نبی ہیں ۔ حقیقت النبوۃ ص ١٧٤، اخبار الفضل مورخہ ٢٩/جون ١٩١٥ء، کلمتہ الفصل ص ١٠٥، عقائد محمودیہ ص ١٤، النبوۃ فی القرآن حاشیہ ص ٧٤

١٤

صفحہ ٤٠٩

وغیرہ میں امت مرزائیہ نے اپنے گرو مرشد مرزا قادیانی کو صاحب کتاب و تشریعی نبی تسلیم کیا ہے ۔ جو قرآن وحدیث کے نصوص صریحہ اور اسلام کے صحیح اصول و عقائد کے سراسر خلاف ہے ۔ اس لئے مرزا قادیانی مع اپنی امت کے اسلام میں ہرگز داخل نہیں ہیں ۔

قرآن کریم کی حرمت و حفاظت پر نا پاک حملہ

اگر چہ مرزا قادیانی نے اپنے دعاوی باطلہ کی وجہ سے قرآن شریف کا انکار کر کے اس کی عزت وحرمت پر بہت کچھ حملہ کئے ہیں ۔مگر آپ کو اس پر بھی صبر نہ آیا تو صاف صاف یوں گویا ہوئے کہ:

واقع ہو گئی ہیں ۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢)

(ازالۃ الاوہام حاشیہ ص ٢٧٢، خزائن ج ٣ ص ٤٩٤)

قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن کریم پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ تو میں نے سن کر نہایت تعجب سے کہا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن کریم کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن کریم میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن کریم میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا تھا۔“

(ازالۃ الاوہام حاشیہ ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

(حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

حسب وعدہ الٰہی ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون الحجر: ٩ “ قرآن مجید جس طرح حضور ﷺ پر نازل ہوا تھا۔ بعینہ اسی طرح بغیر کسی تغیر وتبدل کے اب تک محفوظ و مامون ہے اور قیامت تک بحفاظت باقی رہے گا اور ہر قسم کی غلطیوں و تحریفوں سے اپنے متکلم (اللہ تعالیٰ) کی طرح منزہ و مبرہ ہے اور رہے گا۔ حتیٰ کہ کسی مفسر کی تفسیری غلطیوں سے بھی اس

١٥

صفحہ ٤١٠

میں غلطی کا امکان محال ہے۔ وہ ایک ایسا خورشید درخشاں ہے جو گردوغبار سے دھندلا نہیں ہو سکتا۔ بایں ہمہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میں اس کی غلطیاں درست کرنے کے لئے آیا ہوں۔ وہ زمین سے اٹھ گیا تھا۔ اس کو آسمان سے لایا ہوں۔ یا اس میں واقعی طور پر یہ تحریفی عبارت ”ان انزلناہ قریباً من القادیان“ تحریر ہے۔ سراسر کفر اور قرآن عظیم کی توہین وتحریف ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مسلمانوں کے موجودہ قرآن مجید میں نہ تو قادیانی کا نام درج ہے اور نہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ ہے۔ اس لئے ہم تمام مسلمان اس راسخ عقیدہ کے رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ مرزا قادیانی کے الہامات کفرنواز اور شیطانی ہیں اور خود مرزا قادیانی پکے کافر اور نمبری جھوٹے تھے۔ کوئی قادیانی، محمودی، لاہوری، ستاپوری، اروپی، نبی بخشی، معراجکی، گناچوری، کابلی، چنگا بنگوی ہے؟۔ جو مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا الہام کو واقعات ومشاہدات کی روشنی میں صحیح ثابت کر کے اپنی نمک حلالی کا ثبوت دے گا۔ اسی وجہ سے امت مرزائیہ کی نگاہوں میں قرآن کریم کا وقار واحترام نہیں باقی ہے۔ کیوں کہ مرزائیوں کے حکیم الامت حکیم نور الدین قادیانی خلیفہ اوّل قادیان کہتے ہیں کہ ناپاکی وجنابت کی حالت میں بھی قرآن کریم پڑھنا جائز ہے۔ لکھتے ہیں کہ:

”جنبی بحالت جنب درود واستغفار بلکہ قرآن کریم بھی پڑھ سکتا ہے۔“

(مجموعہ نہج المصلیٰ، فتاویٰ احمدیہ ج١ ص٣١)

لطف یہ ہے کہ حکیم قادیانی اسی کتاب کے صفحہ مذکورہ میں لکھتے ہیں کہ جنابت کی حالت میں مسجد میں جانا جائز نہیں ہے گویا مرزائی شریعت میں قرآن عزیز کا مرتبہ واعزاز مسجد سے کم اور گرا ہوا ہے۔ مرزائیت کے گرو حکیم نور الدین قادیانی و مہا گرو (مرزا قادیانی) نے قرآن مجید کے ساتھ جو شوخ چشمانہ طنز وتوہین آمیز طریقہ روا رکھا ہے اس کو منتقم حقیقی جل شانہ کی غیرت وحلم نے برداشت نہ کیا اور اس نے مرزا قادیانی (جو کلام اللہ کی غلطیاں نکالنے کے لئے آئے تھے) کے قوت حافظہ کو سلب کر کے نسیان وفراموشی کی بھول بھلیاں میں مبتلا کر دیا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ ”حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا۔“ (ریویو ج٢ نمبر٤، ماہ اپریل ١٩٠٣ء حاشیہ ص١٥٣) ”اور مجھے مراق ہے۔“

(ریویو ج٢٥ نمبر٨، اگست ١٩٢٦ء ص٦)

مرزا جی! کیا مراقی ونسیانی بھی نبی ہوتے ہیں؟۔ اگر ہوتے ہیں تو ایسا بھلکڑ نبی تمہیں مبارک۔ چنانچہ اس مراق ونسیان کا یا خدائی انتقام کا یہ اثر ہوا کہ مرزا قادیانی نے اپنی مصنفات کے اکثر وبیشتر جگہوں میں آیات قرآنی غلط لکھ کر اپنی نبوت ودعویٰ باطلہ کو اپنے ہی ہاتھوں دفن کر دیا اور لطف یہ کہ مرزا قادیانی کی وہ نمک خوار امت جو نبوت مرزا کے ثبوت میں زمین وآسمان کے

١٦

صفحہ ٤١١

قلابے ملانے اور جھوٹ کو سچ کرنے میں طاق و یکتا ہے۔ اس کو بھی آج تک ان آیات کی تصحیح کرنے کی توفیق اور اب تک یکے بعد دیگرے طباعت واشاعت کے بعد بھی وہ غلطیاں موجود ہیں۔ چونکہ گرو اور چیلا دونوں کی نگاہوں میں قرآن کریم کی عظمت و حرمت باقی نہیں ہے۔ اس لئے ان کی صحت و حفاظت کی خدمت قدرتی طور پر چھین لی گئی۔ عبرت! عبرت!! سچ ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ۔ اب کتب مرزا قادیانی سے وہ آیات قرآنی لکھتا ہوں جو قادیانی نے غلط لکھیں اور آج تک لکھی ہوئی ہیں۔ ناظرین ملاحظہ فرما کر مرزائی نبوت کی داد دیں گے۔

الفاظ مرزا قادیانی

وان لم تفعلوا ولن تفعلوا“ (سرمہ چشم آریہ حاشیہ ص ١٢ طبع قادیان دسمبر ١٨٨٣ء، براہین احمدیہ

ص ٣٩٥، ٥٣٦ طبع لاہور، نور الحق ج ١ ص ١٠٩ طبع لاہور ١٣١١ھ)

آیت قرآنی

”وان کنتم فی ریب مما نزلنا على عبدنا فاتو بسورة من مثله وادعوا شهدائکم من دون الله ان کنتم صادقین فان لم تفعلوا ولن تفعلوا . بقرہ ٢٣“

الفاظ مرزا قادیانی

(سرمہ چشم آریہ ص ١١ طبع قادیان دسمبر ١٨٨٣ء، نور الحق ج ١ ص ١٠٩ طبع لاہور ١٣١١ھ )

آیت قرآنی

”قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان یأتوا . الاسراء ٨٨“

الفاظ مرزا قادیانی

آیت قرآنی

”قد انزل الله الیکم ذکرا رسولا یتلوا علیکم آیات الله . طلاق ١١“

١٧

صفحہ ٤١٢

الفاظ مرزا قادیانی

(اربعین ص ٢٥ نمبر ٣، سراج منیر حاشیہ ص ٢٩ طبع قادیان مئی ١٨٩٧ء)

آیت قرآنی

”امنت انه لا الا الذی امنت به بنواسرائیل ، یونس ٩٠“

الفاظ مرزا قادیانی

(حقیقت الوحی ص ١٥ طبع قادیان دسمبر ١٩٣٢ء)

آیت قرآنی

”هل ینظرون الا ان یأتیهم الله فی ظلل من الغمام ، بقره ٢١٠“

الفاظ مرزا قادیانی

(نور الحق ج ١ ص ٢٦ طبع لاہور ١٣١١ھ، تبلیغ رسالت ص ١٩٤، ١٩٥ ج٣)

آیت قرآنی

”ادع الى سبیل ربک بالحكمة ولموعظة الحسنة وجادلهم بالتی هی احسن ، النحل ١٢٥“

اس کے علاوہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨٥، ایام الصلح ص ١٦١، ازالہ حصہ دوم ص ٢٧٥ طبع قادیان ستمبر ١٩٢٩ء میں آیات قرآنیہ غلط لکھی ہیں۔ ایسے غلط گو و غلط کار انسان کے عجیب و غریب دعاوی پر وہی شخص کان دھر سکتا ہے جو خود گمراہیوں کی گتھیوں میں الجھا ہوا ہو۔ اللہ اکبر! اس غلط کاری و غلط گوئی کے باوجود ادعائے نبوت و رسالت۔

اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں
بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

ملائکہ کے وجود سے انکار

اسلامی دنیا کا ہر فرد اس سے واقف ہے کہ شریعت اسلامیہ فرشتوں کے وجود کو نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ جزوایمان قرار دیتی ہے اور قرآن کریم میں ان کے وجود کے ساتھ نزول وصعود

١٨

صفحہ ٤١٣

اترنے و چڑھنے و کارہائے دنیا کے انتظامی امور کی سپردگی کو صاف لفظوں میں بیان کیا بلکہ اس سے بڑھ کر مزید شرف ملائکہ کو یہ عطاء کیا گیا کہ ان کی دشمنی و عداوت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی دشمنی و عداوت بتائی ہے۔ ذیل کے حوالوں سے ملائکہ کے وجود نزول و تقرب کا اندازہ کیجئے:

الله . البقره ٩٧“

الله عدو للكافرين . البقره ٩٨“

الملئكة منزلين . آل عمران ١٢٤“

ان آیات قرآنیہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرزا قادیانی کے اقوال ملاحظہ فرمائیے جس میں ملائکہ کو ستاروں کی ارواح مانتے ہیں اور ان کے وجود نزولی سے منکر ہو کر اپنے لئے کفر کی قبر کھودی ہے:

پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیت سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائکۃ اللہ کا ان کو لقب دیں۔“

(توضیح المرام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦٧)

(توضیح المرام ص ٣٠، خزائن ج ٣ ص ٦٦، ٦٧)

(توضیح المرام ص ٣٠، خزائن ج ٣ ص ٦٦، ٦٧)

ہیں اور ان سے ایک لحظہ کے لئے بھی جدا نہیں ہو سکتے۔“

(توضیح المرام ص ٣٨، خزائن ج ٣ ص ٧٠)

(توضیح المرام ص ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٧١)

١٩

صفحہ ٤١٤

کی رو سے شریعت غرا نے استعارہ کے طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں میں ملائکہ کا واسطہ ہونا ایک ضروری امر ہے۔“

(توضیح المرام ص ٢١، خزائن ج ٣ ص ٧٢)

ہے۔“

(توضیح المرام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ٩٢)

ہر مسلمان مرزا قادیانی کے ان ہفوات کو دیکھ کر اس امر کا اقرار کرے گا کہ مرزا قادیانی اور ان کی ذریت کو اسلام سے ایک رائی کے دانے کے برابر بھی تعلق نہیں اور نہ ایمان کی روشنی ان کے دماغوں اور دلوں میں موجود ہے۔

حضورﷺ کی ہمسری بلکہ برتری کا دعویٰ

مرزا قادیانی کے مذکورہ الصدر عجیب وغریب دعاوی نبوت رسالت وشریعت جدیدہ ہی میں اس امر کی کافی روشنی موجود ہے کہ آپ معاذ اللہ حضرت سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ کے نہ صرف ہم مرتبہ ہیں بلکہ برتر وبہتر بھی ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے اپنے اس کفریہ وگستاخانہ دعوے کو مجمل نہ رکھا بلکہ مفصل صاف صاف بیان کیا کہ وہ خصائص وفضائل جس کو قرآن کریم نے صرف ذات اقدسﷺ کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔ ان سب میں مرزا قادیانی انفرادی یا مشترکہ حیثیت سے حصہ دار ہیں۔ یعنی بعض محاسن وفضائل تو ایسے ہی کہ اگرچہ اصل میں وہ محاسن صرف آنحضرتﷺ کے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی بغیر شرکت غیرے انفرادی حیثیت سے اس پر قابض ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ اس میں مرزا قادیانی بھی شریک ہیں۔

مثلاً بشارت اسمہ احمد اور آیت ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ (التوبہ ٣٣) کا صحیح مصداق آنحضرتﷺ ہیں۔ مگر مرزا قادیانی زبردستی اس وصف کو اپنے اوپر چسپاں کرتے ہوئے کہتا ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ اس کے مصداق وموصوف نہیں تھے۔ جیسا گذشتہ صفحہ میں بیان ہوا اور جناب رسول اللہﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار بتائی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

اور اپنے معجزات ونشانات کی تعداد تین لاکھ۔ (حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠، تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣) اور دس لاکھ (براہین احمدیہ ج ٥ ص ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) اور ساٹھ لاکھ...... بلکہ اتنے زیادہ جو دنیا کے کسی بادشاہ کی فوج اس کے برابر نہیں ہوسکتی۔ (اعجاز

٢٠

صفحہ ٤١٥

احمدی ص٧١، خزائن ج١٩ ص١٠٧، ١٠٨) معلوم ہوا کہ آپ کا مرتبہ (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ سے کئی گنا بلند ہے اور جناب رسول ﷺ کے لئے بطور نشان صرف چاند گہن ہوا اور میرے لئے چاند وسورج گہن دونوں ہوئے۔

لہ خسف القمرالمنیر وان لی
غسا القمران المشرقان اتنکر

(اعجاز احمدی ص٧١، خزائن ج١٩ ص١٨٣)

اور مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ ”اب خدا تعالیٰ نے میری وحی میری تعلیم اور میری بیعت کو……مدار نجات ٹھہرایا ہے۔“

(اربعین نمبر٤ ص٦ حاشیہ، خزائن ج١٧ ص٤٣٥)

اس کے صاف معنی یہ ہوئے کہ اب آنحضرت رسول خدا ﷺ کی تابعداری وفرمانبرداری باعث نجات نہیں اور نہ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں حضور پرنور علیہ السلام کی اتباع کی ضرورت ہے۔ اور مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:

”آتانی مالم یؤت احدا من العالمین“

(حقیقت الوحی ص١٠٧، خزائن ج٢٢ ص١١٠)

خدا نے مجھے (مرزا قادیانی کو ) وہ چیز دی ہے جو جہاں کے لوگوں میں کسی کو نہیں دی۔ ”لولاک لما خلقت الافلاک“ اے مرزا! اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان نہ پیدا کرتا۔

(حقیقت الوحی ص٩٩، خزائن ج٢٢ ص١٠٢)

ناظرین انصاف سے فرمائیں کہ مرزا قادیانی ان ہفوات کے باوجود بھی اس قابل ہیں کہ واجب القتل کافر قرار نہ دیئے جائیں؟۔ تو بتائیے کہ شریعت اسلامیہ میں وجوہ کفر کیا ہیں اور کافر کون ہے؟۔ اس کے بعد وہ محامد ومحاسن جو حضور ﷺ کے قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں بھی اس میں شریک ہوں یا وہ میرے ہی لئے مخصوص ہے۔

ایدیھم قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم الہ واحد“

(دافع البلاء حاشیہ ص٦، ٧، خزائن ج١٨ ص٢٢٦، ٢٢٧)

(حقیقت الوحی ص٨٢، خزائن ج٢٢ ص٨٥)

٢١

صفحہ ٤١٦

(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

(اربعین ص ٣٦ نمبر ٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)

(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)

وماتأخر"

(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧١١)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٥)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨١، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٨)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٩)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)

(استفتاء ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧١٣)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٣)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٧)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٨)

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٣، خزائن ج ٢٢ ص ٨٦)

٢٢

صفحہ ٤١٧

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٣)

(ازالہ ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦)

(براہین احمدیہ ص ٢٢٦، خزائن ج ١ ص ٢٥٠)

فرعون رسولا“

(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)

(حقیقت الوحی ص ١٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)

(انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

در اصل یہ تمام تر آیات قرآنیہ جناب رسول خدا ﷺ کی شان اقدس میں نازل ہوئی تھیں۔ لیکن مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان آیات کا مصداق میں ہوں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ نعوذ باللہ مرزا قادیانی بقول خود حضرت افضل الانبیاء ﷺ سے افضل و بہتر ہیں اور غالباً اسی وجہ سے خلیفہ قادیان اپنے ابا مرزا قادیانی کو افضل المرسلین مانتے ہیں اور قادیانی گزٹ اخبار الفضل ج ١٥ نمبر ٩٦، ٩٧ ص ١٥ کالم ٣، ١٤ جون ١٩٢٨ء جو امت مرزائیہ کا واحد ترجمان ہے۔ لکھتا ہے کہ: ”انبیائے عظام حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خادموں میں پیدا ہوں گے۔“ ایسا شخص جو سید الانبیاء افضل الرسل ﷺ کی ذات اقدس پر ایسے ناپاک حملے کر کے نبوت و شان رسالت کے بجھانے و مٹانے میں سعی لا حاصل کر رہا ہو وہ شریعت اسلامیہ کے نزدیک کافر بلکہ دجال کافر اور واجب القتل ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی اور ان کی امت اس فعل شنیع کی بدولت کافر اور اسلام سے خارج ہیں۔

مسلمانو! اگر کوئی ہندو حضور ﷺ کی عزت و آبرو پر کوئی ناپاک حملہ کرتا ہے تو تم ضبط و تحمل کی چادر کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہو اور اس کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہو۔ لیکن اسی آسمان کے نیچے مرزائیت و قادیانیت کے ہاتھوں افضل الرسل ﷺ کی توہین و تضحیک ہو رہی ہے مگر آپ کی غیرت و حمیت میں اس قدر بھی حرارت پیدا نہیں ہوتی کہ آپ ان قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے خدا کی اس وسیع زمین کو ان پر تنگ کر دو اور بتا دو کہ دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنے والوں کی کم سے کم یہ سزا ہے۔

٢٣

صفحہ ٤١٨

توہین انبیاء کا ایک شرمناک مظاہرہ

مرزا قادیانی (معاذ اللہ) تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل تھے لکھتے ہیں۔

١؎ باستثنا ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٦، خزائن ج ٢٢ص٥٧٤)

آدمم نیز احمد مختار
در برم جامہ ہمہ ابرار
آنچہ دادست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، درثمین فارسی ص ٢٨٧)

اس کا وجود ایک جامع وجود ہو جائے گا اور تمام نبیوں سے افضل ہوگا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٦٦، خزائن ج ٢٠ص٣٨١)

(اعجاز احمدی ص ٥٨، خزائن ج ١٩ص١٧٠)

گذشتہ انبیاء کے سرچشمے گندے ہو گئے اور ہمارا (مرزا قادیانی کا) چشمہ قیامت تک گندلا نہیں ہوگا۔

(خطبہ الہامیہ ص ٧٠، خزائن ج ١٦ص ایضاً)

یہ میرا قدم ایک ایسے منارے پر ہے کہ اس پر ہر ایک بلندی ختم ہو گئی ہے۔

نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ص٥٧٥)

١؎ یہ استثنا صرف دکھلانے کے لئے ہے۔ ورنہ اس کی حقیقت گذشتہ صفحہ میں ظاہر ہو چکی ہے۔ ١٢

٢٤

صفحہ ٤١٩

مرزا قادیانی نے ان تمام حوالہ جات میں حضرات انبیاء علیہم السلام کے مقدس گروہ کی توہین و تنقیص کرتے ہوئے اپنے لئے ان سے افضلیت و برتری ثابت کی ہے۔ اس لئے شریعت اسلامیہ کی روشنی میں مرزا قادیانی اس قابل نہیں رہے کہ اسلام کی نسبت ان کی جانب کی جاسکے۔ کیونکہ مرزا قادیانی بھی فرماتے ہیں کہ ”توہین انبیاء کفر ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٣٥)

”سنو میرے نزدیک وہ بڑا ہی خبیث ملعون اور بدذات ہے جو خدا کے برگزیدہ ومقدس لوگوں کو گالیاں دے۔“

(البلاغ المبین ص ١٩ بتقریر مرزا مرتبہ اکمل قادیانی ومثلہ ملفوظات ج ١٠ ص ٤١٩)

اب اگر ہم مرزا قادیانی کے فرمودہ الفاظ سے آپ کو توہین انبیاء کے باعث یاد کرتے ہیں تو حق بجانب ہے اور مرزائیت کا آگ بگولا ہونا ناحق و بے جا ہے۔

ایک نیا انکشاف

اخبار الفضل ج ١٤ نمبر ٥٢/٧٣ ص ١٢، ٣١/ دسمبر ١٩٢٦ء، ٤/جنوری ١٩٢٧ء میں مرزا قادیانی کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ شائع ہوا ہے۔ جس کے دو شعر اس طرح ہیں۔

اس (مرزا) کی نگاہ جانفزا اس کا نفس حیات زا
اس کا کلام بے بہا اس کی دعا فلک رسا
ختم تمکین اولیا ظل مبین انبیاء
ساری ادائیں دلربا نور خدا خدا نما

اس شعر میں مرزا قادیانی کے اوصاف میں سے ایک وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ظل مبین انبیاء ہیں یعنی انبیاء علیہ السلام کی توہین کرنے والے جتنے لوگ فرعون، ہامان، نمرود، شداد، ابوجہل، ابولہب، وغیرہ گذرے ہیں مرزا قادیانی ان کے ظل و عکس ہیں۔ گویا امت مرزائیہ کا مرزا قادیانی کے متعلق یہ عقیدہ ہے۔

غضب کے فتنہ زا ہو اور عدو اولیاء تم ہو
مہین انبیاء ہو اور معین اشقیاء تم ہو

اس پر ہم مسلمانوں کا بھی صاد ہے جیسا کہ گذشتہ اوراق سے ظاہر ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں مرزائے قادیانی کی بدگوئی

حقائق و مشاہدات کی سچی روشنی میں یہ حقیقت مسلم اور ناقابل انکار ہوچکی کہ حضرت

٢٥

صفحہ ٤٢٠

عیسیٰ علیہ السلام ایک اولوالعزم ذی اقتدار محترم نبی و رسول اللہ گزرے ہیں اور قرآن کریم کی آیات واحادیث نبوی نے آپ کی سچی نبوت و رسالت تقدس و تقرب پر ناقابل رد شہادت دی ہے۔ جس سے ہر مسلمان نہ صرف واقف بلکہ آپ کی محبت و عزت میں سرشار ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی ناوک زبان سے جہاں باری عزاسمہ کا وجود ، افضل الانبیاءﷺ ، انبیاء علیہم السلام ، قرآن کریم وغیرہ زخمی ہوئے وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود مقدس بھی محفوظ نہ رہ سکا کہ آپ کے دامن تقدس پر ایسی ناپاک گالیاں و بدترین گندگیاں اپنے منہ سے اچھالی ہیں کہ جس کے اظہار سے بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور حلیم سے حلیم شخص بھی دامن صبر و تحمل کے چاک کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگرچہ مرزائیت کے نمک خواروں و کاسہ لیسوں نے اپنے آقا (مرزا قادیانی) کی ان فحش کاریوں اور گندگیوں پر پردہ ڈالنے کی عجیب و غریب طفلانہ کوششیں کیں۔ مگر اس پر بھی عذر گناہ بدتر از گناہ کا ہی مصداق رہا۔ منجملہ ازاں ایک عذر لنگ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ان تمام الزامات و اتہامات اس شخص کے متعلق ہیں جس کو عیسائی خدا کہتے ہیں اور یسوع کے نام سے پکارتے ہیں۔ لیکن قادیانیت کے ان غلاموں یا عقلمندوں سے کوئی پوچھے کہ کیا اس اختلاف حیثیت و تبدیل سے کسی شخص کی ذات بدل جاتی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام وہی ایک شخص ہیں جن کو مسلمان اولوالعزم پیغمبر اور عیسائی (بخیال فاسد) خدا یسوع کہتے ہیں۔ بہر حال اگر مرزا قادیانی نے عیسائیت کی آڑ میں ان فحش کاریوں کا ارتکاب کیا ہے تو اس سے مرزا قادیانی کی پیشانی سے یہ سیاہ داغ دور نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بہر صورت یہ مرزائی گالیاں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی کے لئے ہوں گی۔ خواہ وہ کسی دروازہ سے آئیں۔

بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش
من انداز قدت را مے شناسم

علاوہ ازیں خود مرزا قادیانی نے (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢، تحفہ قیصریہ از ص ٢٠ تا ٢٥، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢ تا ٢٧٧، ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٨٧ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٨، کشتی نوح ص ٦١ ، خزائن ج ١٩ ص ٦٦) میں یسوع مسیح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد لیا ہے لیکن میں مرزائیت کی دہان دوزی اور عذرات باردہ کی بربادی کے لئے اس جگہ مرزا قادیانی کی صرف وہ عبارتیں نقل کرتا ہوں جس میں مرزا قادیانی نے صاف صاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام و مسیح علیہ السلام و عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نام لے کر صد ہا گھناؤنی گالیاں دی ہیں اور اپنے نامۂ اعمال کو سیاہ کیا ہے۔ ناظرین ملاحظہ فرما کر اخلاق مرزا قادیانی کی داد دیں۔

٢٦

صفحہ ٤٢١

یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح حاشیہ ص ٦٥، خزائن ج ١٩ص ٧١)

غلطیاں ہیں اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ص ١٣٥)

درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو کرنا سکھایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا۔“

(چشمہ مسیحی ص ١٠، خزائن ج ٢٠ص ٣٤٦)

گوئیاں صاف طور جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر دے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ص ١٢١)

کہ آپ نے ایک فاحشہ عورت سے عطر کیوں ملوایا انہوں نے کہا کہ دیکھ تو پانی سے میرے پاؤں دھوتا ہے اور یہ آنسوؤں سے۔“

(اخبار بدر ٤ مئی ١٩٠٨ء)

ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے بچے اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨)

کا پرستار متکبر خود بین خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣)

اس کے علاوہ ازالہ ص ٢٩٩ تا ٣٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٢ تا ٢٦٣، حقیقت الوحی ص ١٤٨ تا ١٥٠، دافع البلاء ص ١٣، ٢٠، ٢١، حاشیہ، ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ تا ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ تا ٢٩٣ میں مرزا قادیانی نے اپنے سڑے ہوئے سنڈاس سے بہت سی گندگیاں نکال کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس ذات و مطہر ناموس پر پھینکنے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ اپنے اسلام و انسانیت کو عالم آشکارا کیا ہے۔

٧

صفحہ ٤٢٢

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر جن کو قرآن کریم میں روح اللہ، کلمۃ اللہ، رسول اللہ، ”وجعلنی مبارکا، مریم ٣١، وجیہا فی الدنیا والآخرۃ، آل عمران ٤٥“ کے الفاظ سے سراہا گیا ہے۔ ان کی شان و ناموس پر جس بدتہذیبی سے ناپاک و شرمناک حملہ کیا گیا ہے اس سے مرزائیت کا اسلام و ایمان خود بخود درگور اور دفن ہو گیا۔ اب ابطال مرزائیت کسی دوسرے ضرب و زد کا شرمندہ احسان نہیں رہا البتہ اس مقولہ مرزا کا اور اضافہ کر لیجئے کہ ”توہین انبیاء کفر ہے۔“ (انوار الاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٤٥) تاکہ بوقت ضرورت سند رہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار

دنیائے اسلام کا ہر ہر فرد اس امر سے واقف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حسب دستور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ زندہ کرنے اور کوڑھیوں کے اچھا کرنے اور اندھوں کو بینا کرنے کا ایک عظیم الشان معجزہ عنایت فرمایا تھا۔ چنانچہ اس کا تذکرہ قرآن مجید کی سورہ مائدہ و آل عمران میں صاف صاف موجود ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے جس تمسخر و استہزاء سے معجزات بلکہ قرآنی آیات کا انکار کیا ہے۔ اس سے بالیقین معلوم ہوتا ہے کہ آنجہانی علیہ ما علیہ کے دل میں اسلام و ایمان کی بالکل روشنی نہیں تھی اور بے دینی و بے ایمانی سے تیرہ و تار تھا۔ ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں:

کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا...... اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ بلکہ صرف عمل الترب تھا۔ جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا ہو۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم سے تھا اور وہ مٹی در حقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گئو سالہ۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح بن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

٢٨

صفحہ ٤٢٣

ثابت نہیں ہوتا۔“

(ازالۃ الاوہام حاشیہ ص ٣٠٧، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی توہین وتذلیل بلکہ آیات قرآنی کا انکار اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس لئے تمام مسلمان اور حق پسند حضرات انصاف وغیرت ایمانی کو سامنے رکھ کر فرمائیں کہ کیا ایسے فرقہ ضالہ ومضلہ کہ جس نے آیات قرآنی و معجزات انبیاء علیہم السلام کے پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اس کے لئے بھی اسلام کا دروازہ کھل سکتا ہے؟۔ نہیں تو پھر کیوں مرزائیت کے کفر میں شک کیا جاتا ہے۔

حضرت مریم صدیقہ ومطہرہ کی عصمت وطہارت پر ناپاک اتہامات

حضرت مریم کی پاک دامنی وعفت مآبی وطہارت شعاری، پرہیزگاری وزاہدانہ وعابدانہ زندگی پر قرآن کریم نے شہادت دی اور آپ کو سیدۃ النساء کا معزز لقب عنایت فرمایا ذیل کی آیات تلاوت فرمائیے:

واصطفك على نساء العلمين ٠ آل عمران ٤٢ “

المسيح عيسى بن مريم ٠ آل عمران ٤٥ “

الانبياء ٩١ “

روحنا وصدقت بكلمت ربها وكتبه وكانت من القانتين ٠ تحريم ١٢ “

ان آیات میں حضرت مریم صدیقہ کی عصمت وطہارت وفضیلت اور بزرگی بیان کی گئی ہے اور اس وجہ سے ان لوگوں کا دل جو مومن بالقرآن ہیں۔ حضرت مریم کے محاسن ومناقب سے معمور ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی نے جس بے باکی وگستاخی سے مریم صدیقہ کے دامن عصمت کو

١؎ اور لطف یہ کہ خود مرزا قادیانی ایک دوسری جگہ ان پرندوں کی پرواز کو قرآن کریم سے ثابت مانتے ہیں فرماتے ہیں کہ ”حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یہ کہ معجزے کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی ہی تھی۔“ فرمائیے ایسے متضاد ومختلف اقوال کے قائل بھی نبی ہو سکتے ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٢٩

صفحہ ٤٢٤

داغدار بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس کو دیکھ کر ایک مسلمان لرزہ براندام ہو جاتا ہے اور مرزائیت کے ایمان کی دھجیاں فضائے آسمانی میں بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔

لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠)

عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات عین حمل میں کیوں کر کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بی بی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آئے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔‘‘

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

اور حقیقی بہن بھائی تھے۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔‘‘

(کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

ناظرین کرام! مرزا قادیانی نے جس دریدہ دہنی واتہام طرازی سے حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کی عصمت وناموس پر حملہ کیا ہے اس سے مرزا قادیانی کی ایمانی کیفیت خود بخود روشن ہورہی ہے اور مرزائیت کے کفر وارتداد میں یہ شہادت کافی سے زیادہ ہے۔

حضرت امام حسینؓ کی شان اقدس میں

مرزا قادیانی کی گستاخیاں

حضرت امام حسینؓ کی جلالت قدر وعظمت ومرتبت اس قدر اظہر من الشمس ہے کہ نہ محتاج دلیل ہے اور نہ کسی مسلمان کا دل آپ کی محبت ورفعت سے ویران ہے۔ مگر یہ معلوم ہے کہ

صفحہ ٤٢٥

مرزا قادیانی کے تیر و سناں سے کسی مقدس گروہ و مقدس ہستی کی عزت و آبرو محفوظ نہیں رہ سکی۔ اس لئے یہ غیر ممکن تھا کہ مرزا قادیانی حضرت ممدوح الصدر کی توہین و تذلیل سے اپنے نامہ اعمال کی سیاہی میں اضافہ نہ کرتے چنانچہ آپ نے جن الفاظ میں حضرت امام ممدوح کو یاد کیا ہے۔ آپ کے اسلام کے لئے قطعی فیصلہ ہے۔ لکھتے ہیں کہ:

صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)

سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا قادیانی ) اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

سیظہر“ اور انہوں نے کہا کہ اس (مرزا قادیانی) نے امام حسن اور امام حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ہی ظاہر کر دے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)

وانصر“ اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

تبکون فانظروا“ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرو۔ اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

فانظروا“ اور بخدا (امام حسین ) مجھ سے کچھ زیادہ نہیں اور میرے خدا کی گواہیاں ہیں پس تم دیکھ لو۔

اجلی واظہر“ اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

٣١

صفحہ ٤٢٦

ناظرین کرام! مرزا قادیانی کی اس عبارت کو بغور ملاحظہ فرمائیں تا کہ آپ کو ان کے متعلق فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ لکھتے ہیں کہ: ”غرض یہ امر نہایت درجہ شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسینؓ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسینؓ یا کسی اور بزرگ کی جو ائمہ مطہرین میں سے ہو تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے۔ وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٥)

اس لئے مرزا قادیانی معاً اپنی امت کے خارج از ایمان ہوئے۔

احادیث نبوی ﷺ کی توہین

حضرت رسول خدا ﷺ و دیگر انبیاء و مقدس ہستیوں اور قرآن مجید کی توہین کے بعد یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ مرزا قادیانی ان ارشادات گرامی واحادیث نبوی پر جو مسلمانوں کے لئے حرز جان ورہنمائے ایمان ہیں حملہ نہ کرتے۔ چنانچہ آپ کے اخلاقی الفاظ بغیر کسی فرق وامتیاز کے احادیث کے متعلق یہ ہیں۔

سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔“

(ضمیمہ حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١)

(اعجاز احمدی ص ٣٠، خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)

کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٩، خزائن ج ١٩ ص ١٣٩)

(مرزا قادیانی) نے فرمایا ہے تمہاری حدیثوں کی میرے قول کے مقابل میں کیا حقیقت ہے۔ مسیح موعود اگر ہزار حدیث کو بھی غلط قرار دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ وہ خدا کے نور سے حاصل کرتا ہے اور احادیث انسانی روایت ہیں۔“

(الفضل نمبر ٢ ج ١٨ ص ٣٠٩، جولائی ١٩٣٠ء)

ناظرین! وہ احادیث و ارشادات جو مسلمانوں کے لئے رہنمائے ایمان ہیں اور جن کی عظمت وجلالت بیش از بیش ہے ان تمام کو بغیر فرق وامتیاز موضوع قرار دیتے ہیں۔ بلکہ ردی

٣٢

صفحہ ٤٢٧

کی...... ٹوکری میں پھینک رہے ہیں۔ فرمائیے کیا یہ احادیث کا توہین آمیز انکار نہیں ہے اور کیا یہ حضور ﷺ کی عظمت پر حملہ نہیں ہے؟ ۔ بے شک ہے اس لئے مرزا قادیانی مع اپنے بال و پر کے اسلام سے خارج ہے۔

تمام مسلمان مرزا قادیانی کے نزدیک کافر ہیں (معاذ اللہ)

ملت اسلامیہ کے تمام وہ افراد جو توحید باری ورسالت محمدی کلام الٰہی و دیگر ضروریات دین پر ایمان راسخ رکھتے ہیں اور حضرت رسول اللہ ﷺ وصحابہ کرام وبزرگان عظام کے محمود ومسنون طریقوں اور راستوں پر چل کر اپنے دین کے سنوارنے میں مصروف عمل ہیں اور ہر اس باطل و شیطانی قوت کو جو قرآن کریم واحادیث وطریقہ صحابہ وآئمہ کرام سے ٹکراتی ہو اس کے نابود کرنے میں ہمہ تن آمادہ ہیں۔ چنانچہ اسی نظریہ کے مطابق مرزا قادیانی کے ان باطل دعاوی کو جو اسلام کے خلاف مرزائیت کی دکان چمکانے کے لئے کئے گئے ہیں اسلام کا ہر ہر فرد اس کے پامال و روندنے میں سرگرم عمل نظر آرہا ہے۔ ایسے شیفتگان محمد ﷺ وابستگان اسلام کی مجموعی تعداد و تمام دنیا میں مرزا قادیانی کے نزدیک ”نوے (٩٠) کروڑ“ (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ٦٧ ، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٠) اور امت مرزائیہ کے نزدیک ”٦٦ کروڑ ٢٠ لاکھ ٧٠ ہزار ٣٣٦“ ہے۔“

(ریویو بابت ماہ اگست ١٩٣٢ء ص ١٣)

مرزائیو! ” احد کما کاذب “ ان دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی ان ٩٠ کروڑ یا ٦٦ کروڑ مسلمانوں ومومنوں کو جو حقیقی معنوں میں دامن رسالت سے وابستہ اور شیدائے اسلام ہیں محض اس وجہ سے کہ ان کی مصنوعی نبوت کے منکر ہیں۔ بیک جنبش قلم کافرو جہنمی قرار دیتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے ۔ لکھتے ہیں کہ:

آنحضرت رسول اللہ ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور پہچاننے کے بارے میں خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے۔ کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٣٣

صفحہ ٤٢٨

دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔"

(نہج المصلی ج ١ ص ٣٠٨، منقول از تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٣٥)

ہو سکتا ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)

مرزا محمود خلیفہ قادیان کے عقائد

ہے۔"

(عقائد محمودیہ نمبر ١ ص ٤ ، تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٣٠، اپریل ١٩١١ء)

مزید اطمینان کے لئے ابھی بیعت میں توقف کرتا ہے کافر ٹھہرایا ہے۔"

(عقائد محمودیہ نمبر ١ ص ٤ ، تشحیذ الاذہان ج ٦ ص ١٤٠ نمبر ٤ بابت ماہ اپریل ١٩١١ء)

نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں میرے یہ عقائد ہیں۔"

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

ناظرین کرام! جب مرزائیت کے نزدیک تمام وہ مسلمان جو مرزا قادیانی کی مصنوعی و خود ساختہ نبوت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کا انکار کرتے ہیں کافر اور اسلام سے خارج ہوئے تو اس کے صاف معنی یہ ہوئے کہ توحید باری و رسالت نبی و دیگر ضروری عقائد جو اسلام کے سنگ بنیاد ہیں۔ وہ ایک بے کار اور لا شے ہے کیوں کہ نجات اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک مرزائیت کے بت کی پرستش نہ کی جائے اور کیا مسلمان اپنے کلیجہ پر پتھر کی سل رکھ کر بھی اس امر کے تسلیم پر آمادہ ہو سکتے ہیں اور کیا ملت اسلامیہ کے ہزار ہا اولیاء، اقطاب، ابدال، صوفیاء، مشائخ، علماء، کو مرزائیت کے تیر کفر سے زخمی ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں؟۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ اس لئے مرزائیت کفر کے اس انتہائی طبقے میں پہنچ چکی ہے جہاں سے اس کو سوائے کفر اور کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ بالکل ٹھیک ہے۔ الاناء یترشح بما فیہ!

بعض ناواقف مسلمانوں میں یہ غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے کہ مرزائی مسلمانوں جیسی نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں۔ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ قرآن کریم پڑھتے ہیں۔ دیگر احکام اسلامیہ کی پابندی کرتے ہیں اور اشاعت و تبلیغ اسلام کا کام جس مستعدی تندہی سے ہندوستان و دیگر ممالک

٤٤

صفحہ ٤٢٩

انگلستان، امریکہ وغیرہ میں کر رہی ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کا کوئی طبقہ اس میں حصہ نہیں لے رہا ہے۔ اس لئے ان کو کافر بے ایمان کہنا تنگ نظری، فرقہ پرستی، و تعصب پر مبنی ہے۔ اگر ایسے پابند و محافظ اسلام بھی کافروں بے ایمانوں میں شمار کئے جائیں گے تو نہیں معلوم مسلمان کس طبقہ زمین پر آباد ہیں۔ نہیں معلوم یہ فریب آمیز غلطی ان ناواقف مسلمانوں نے مرزائیوں کے ظاہری اعمال وافعال سے اخذ کیا ہے۔ یا قادیانیوں کی کارفرمائیوں کا نتیجہ ہیں۔ جو اپنے گندے عقائد کے پوشیدہ رکھنے کے لئے کیا گیا ہے۔ موخر الذکر کی تائید حالات و واقعات کر رہے ہیں۔ اس لئے میں ان مسلمانوں کو بتانا چاہتا ہوں ۔ جو اب تک اس غلطی میں مبتلا ہیں اور مرزائیوں کو اسلام میں داخل مانتے ہیں کہ شریعت اسلام میں یہ قانون ہے کہ وہ شخص جو بظاہر احکام اسلامیہ کا پابند ہے اور اشاعت اسلام میں جان توڑ کر کوشش کرتا ہے۔ لیکن اسلام کے بنیادی امور و ضروری عقائد مثلاً حشر و نشر توحید و ختم نبوت کا منکر ہے یا اس میں کچھ ایسی تاویل و توجیہ کرتا ہے جس سے وہ عقائد درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ یا وہ شخص ایسے امور کا مرتکب ہے جو شریعت کی نظروں میں موجبات و علامات کفر ہیں۔ (مثلاً بت پرستی، اہانت انبیاء، احکام شرعی کی تضحیک توہین ) تو ایسے شخص کو دین اسلام اپنے حدود سے باہر سمجھتا ہے۔ جیسا کہ مستند اسلامی کتب میں یہ قانون مذکور ہے اور حضرت مولانا شاہ محمد انور صاحب مدظلہ العالیٰ نے ان تمام عبارات واقوال کو اپنی کتاب ”اکفار الملحدین“ میں جمع کر دیا ہے ملاحظہ فرمائیے۔

”ولا نزاع فی کفر اہل القبلۃ المواظب طول العمر علی الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفی الحشر ونفی العلم بالجزئیات ونحو ذالك وکذا بصدور شی من موجبات الکفر عنہ“

(شرح مقاصد ج ٢ ص ٢٦٨ تا ٢٧٠ ، از اکفار ص ١٧ طبع کراچی )

”فمن انکر شیئا من ضروریات لم یکن اہل القبلۃ ولو کان مجاہدا بالطاعات وکذا من باشر شیئا من امارات التکذیب کسجود الصنم والاہانہ بامر شرعی والاستہزاء علیہ فلیس من اہل القبلۃ“

(ردالمحتار از اکفار ص ١١)

جو شخص اسلامی احکام کی پابندی وبجا آوری دائمی طور پر کرتا ہو۔ لیکن حدوث عالم، قیامت توحید الہیٰ وغیرہ جیسے ضروریات دین کا منکر ہے یا موجبات کفر توہین انبیاء تحریف وغیرہ کا مرتکب ہے تو ایسا شخص مسلمان نہیں ہے۔ ملخصاً !

٣٥

صفحہ ٤٣٠

اب ان مرزائیوں کے عقائد و اعمال نامہ کو دیکھنا چاہئے جو بظاہر نہ صرف مسلمان کہلاتے ہیں۔ بلکہ اسلام و ایمان کے واحد اجارہ دار ہیں کہ اس میں کفر کی گندگی تو نہیں بھری ہوئی ہے تو اس کے لئے میں ناظرین سے عرض کروں گا کہ اس کتاب کے گذشتہ اوراق پر نظر ڈالئے جس میں مرزائی عقائد کے چند ایسے نمونے دکھلائے گئے ہیں جس میں توحید الٰہی و ختم نبوت، وجود ملائکہ کے انکار اور انبیاء علیہ السلام و سید الرسل ﷺ کی توہین و تنقیص کا ایک شرمناک مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس لئے مرزائیوں کا یہ ظاہری ایمان و اسلام اور اس کی اشاعت ان کو گہوارہ کفر سے نکالنے میں کچھ بھی مؤثر نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ اگر کسی گلاس کے صاف و شفاف ٹھنڈے پانی میں ایک قطرہ پیشاب کا ڈال دیا جائے تو اس پانی کی صفائی اور ٹھنڈک و شیرینی اس کو نجاست سے باہر نہیں کر سکتی۔ اسی طرح مرزائیوں نے جو اپنے عقائد کی گندگی اسلام میں ڈال دی ہے اس کی وجہ سے خود ان کا ہی ایمان و اسلام گندہ و نجس ہو کر رہ گیا ہے اور تاوقتیکہ اپنے گندے عقائد سے تائب نہ ہوں۔ دنیائے کفر میں ان کی موت و زیست رہے گی۔

ممکن ہے کہ فرنجیت و نئی روشنی کے دلدادگان اس رسالہ کو (جو کفریات مرزا کا آئینہ ہے) دیکھ کر علمائے حق پر اپنی پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہو جائیں اور ان کی یہ بدگمانی و غلط فہمی کہ علماء شب و روز تکفیر بازی کے مکروہ مشغلہ میں مصروف رہتے ہیں۔ کہیں یقین کی صورت نہ اختیار کرے۔ لہٰذا ایسے مسلم دوستوں کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ آپ حضرات ناحق بلا تامل اپنے متاع اخلاق کو علمائے حق کی شان میں گستاخی کر کے ضائع کرتے ہیں۔ کیونکہ علماء حق جب کسی کو کافر بے ایمان خارج از اسلام کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ شخص جو اپنے افعال و اقوال کے باعث کافر بن چکا۔ دنیائے اسلام میں اس کے کفر کو ظاہر کرتے اور بتاتے ہیں۔ الغرض علمائے حق از خود کسی کو کافر نہیں بناتے بلکہ کافر کے کفر کو عیاں کرتے ہیں۔ مثلاً مرزائیوں کے عقائد باطلہ و کفریات کو ظاہر کر کے دنیائے اسلام پر یہ امر روشن کیا گیا ہے کہ یہ نام نہاد مسلمان قادیانی اپنے عقائد و اعمال کے سبب حدود اسلام سے باہر ہو چکے ہیں۔ ان کے دام فریب میں مت آؤ اور ان کے ظاہری اسلام سے دھوکا مت کھاؤ اور بس۔

والسلام علی من اتبع الہدیٰ! خادم الاسلام! نور محمد خان مبلغ و مناظر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور! ٢٤؍ ربیع الاول ١٣٥٢ھ

٣٦

PDF 431

خاتم النبیین لا نبی بعدی

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین

کذبات مرزا

مناظر اسلام حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوری

صفحہ ٤٣٢

بسم الله الرحمن الرحیم!

نذر عقیدت

میں اپنے شبانہ روز کی سخت محنت کی اس ناچیز کاوش کو انتہائی عقیدت و تمنائے دلی کے ساتھ بطل جلیل ، مجاہد اکبر، کامل العلوم والفنون ، جامع معقول و منقول، فخر المحدثین، رأس المفسرین حضرت مولانا الحاج الحافظ المولوی حسین احمد صاحب مدظلہم شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبند کے نام نامی واسم گرامی سے منسوب کر کے فخر سرخروئی وعزت حاصل کرتا ہوں ۔

گر قبول افتد زہے عزوشرف

عقیدت کیش! نور محمد از مظاہر علوم سہارنپور ...... ٢١ محرم ١٣٥٢ھ

بسم الله الرحمن الرحیم! الحمد لله وحده والصلوة والسلام علیٰ من لا نبی بعده ٠ وعلیٰ اله واصحابه اجمعین!

مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت ابن آدم کے عدو مبین کی طرح اس قدر شہرت پذیر ہو چکی ہے کہ اب محتاج تعارف نہیں ۔ جب آپ کو اشاعت اسلام کی نام نہاد و سحر طراز تدبیر کے باعث خوردونوش کی الجھنوں و پریشانیوں سے نجات ملی تو کہنے لگے کہ میں رسول ہوں ، مسیح موعود ہوں ، مہدی معہود ہوں ، کرشن اوتار ہوں ، مجنون مرکب ہوں ، حجر اسود ہوں ، بیت اللہ ہوں اور چنیں و چناں ہوں ۔ غرض یہ کہ آپ اتنے لمبے لمبے واس قدر چوڑے چوڑے رنگ برنگ غیر معمولی دعاوی کے مدعی بنے کہ عالم میں باطل پرستی کا ایک ہنگامہ بپا ہو گیا اور وہ روحیں جو ازل سے شقاوت و بدبختی کا جامہ پہن کر دنیا میں آئی تھیں مرزائیت کے دلفریب و طلسمی جال میں پھنس کر حضرت رسول اللہ ﷺ کے کنار عاطفت و ظل رحمت سے الگ ہوگئیں ۔ مرزائیت کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب و گمراہ کن فتنہ کی تخریب واستیصال کے لئے مسلمانان عالم و علمائے حق کے مقدس گروہ نے ایسی سرفروشی و تندہی کے ساتھ سعی بلیغ و جدوجہد کی ہے کہ اگر استعماری طاقتیں پشت پناہ نہ بن جاتیں تو کب کا یہ فرقہ ملعونہ دریا برد و پیوند زمین ہو گیا ہوتا ۔ لیکن قدرت الہی کا غیر مرئی

٢

صفحہ ٤٣٣

و پوشیدہ ہاتھ ایسے مفسدوں، ظالموں، کاذبوں، مفتریوں، باطل پرستوں کی تکذیب وابطال کے لئے اندر ہی اندر اتنا و ایسا سامان مہیا کر دیتا ہے کہ اس کے فناء وموت کے واسطے بیرونی حملوں وخارجی ضربوں کی احتیاج باقی نہیں رہتی اور اس گھر کو گھر کے چراغ ہی سے آگ لگ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کاذب و مفتری کا پرشکوہ قصر خاکستر ہو کر عبرت گاہ عالم بن جاتا ہے۔ سچ ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں۔

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینہ کے داغ سے
اور اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

مرزا قادیانی بھی اس کی تائید کرتے ہیں لکھتے ہیں کہ: ’’قانون قدرت صاف گواہی دیتا ہے کہ خدا یہ فعل بھی دنیا میں پایا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بے حیاء سخت دل مجرموں کی سزا ان کے ہاتھ سے دلواتا ہے سو وہ لوگ اپنی ذلت و تباہی کے سامان اپنے ہاتھ سے جمع کر لیتے ہیں۔‘‘

(استفتاء اردو حاشیہ ص ٨، خزائن ج ٢٢ ص ١١٦)

چنانچہ اسی قانون قدرت کے مطابق مرزا قادیانی کی زندگی کے گوشہ گوشہ کی خانہ تلاشی کی گئی تو معلوم ہوا کہ قدرت نے مرزائیت کی تباہی و بربادی کا خود مرزا قادیانی کے ہاتھوں سے اتنا سامان و ذخیرہ جمع کرایا ہے کہ اس گمراہ فرقہ و شجرہ خبیثہ کے استیصال وابطال کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے خانہ زندگی میں کہیں تو کفریات و اختلافات کا ناہموار انبار ہے اور کہیں کذبات واتہامات کا ایک بد نما ڈھیر اور کہیں ہفوات وخرافات کا ایک تودہ ریت تو پھر ایسے اسباب و سامان کے ہوتے ہوئے مرزائیت کے دفن کرنے کے لئے کسی اور طرف متوجہ ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

صیاد نے لگائے ہیں پھندے کہاں کہاں
سارے بھید عیاں ہیں اسی سبز باغ میں

جیسا کہ اس سے پہلے مرزا قادیانی کے چند کفریات و اختلافات کو دو مستقل رسالوں کفریات مرزا، اختلافات مرزا کے نام سے شائع کر کے مرزائیت کی موت کا سامان مہیا کر چکا ہوں۔ ایسا ہی آج اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے ذخیرہ حیات میں سے چند ایسے کذبات واتہامات کو منظر عام پر لا رہا ہوں ۔ جو مرزائیت کی تکفین وتدفین میں بہت کچھ سہولتیں بہم پہنچائیں گے اور مسلمانوں کو اس کے دام تزویر سے بچائیں گے۔

٣

صفحہ ٤٣٤

مگر اس سے پہلے کہ آپ مرزائیت کے سبز باغ کے کذبات واتہامات کو ملاحظہ کریں اس مسلمہ ومتفقہ حقیقت کو بھی پیش نظر رکھیں کہ جھوٹ اور جھوٹ بولنے کی مذمت وبرائی اس قدر ظاہر ہے کہ ہر قوم ہر جماعت ہر مذہب ہر ملت کے افراد و انسان نے جھوٹ کو ایک بدترین لعنت و بدترین معصیت کہا اور جھوٹ بولنے والے کو ملعون مردود بتایا ہے۔ چنانچہ مقدس اسلام نے بھی مفتری و کاذب کو کافر و بے ایمان ملعون و مردود ذلیل و نامراد قرار دیا اور خصوصیت سے اس شخص کو مغضوب و معتوب اور ابدی جہنمی و دوزخی کہا ہے۔ جو اللہ و رسول پر افتراء کرے اور جھوٹی باتیں ان کی جانب منسوب کرے۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی جن کی زبان و قلم جھوٹ کی گندگی میں آلودہ ہے۔ وہ بھی اس کی مذمت میں تمام قوموں و ملتوں کی ہمنوائی کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص١٣، خزائن ج١٧ ص٥٦)

(تتمہ حقیقت الوحی ص٢٦، خزائن ج٢٢ ص٢٥٩)

(حقیقت الوحی ص٢٠٦، خزائن ج٢٢ ص٢١٥)

بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص٢٢٢، خزائن ج٢٣ ص٢٣١)

کم ہو جاتا ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٥، خزائن ج٢٢ ص٥٧٣)

(انجام آتھم ص٤٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)

عیسائیوں میں نہ یہودیوں میں۔“

(انجام آتھم ص٣١، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص٤، خزائن ج١٧ ص٤١)

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٢، خزائن ج٢٢ ص٥٨١)

م

صفحہ ٤٣٥

(نور الحق ص ١٠٤، خزائن ج ٨ ص ١٤٧)

کریں اس کی پلید زبان پر کون سی تھیلی چڑھاویں۔“ (انجام آتھم ص ٣٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(مرزا قادیانی نے) کہا کہ بے شک جھوٹوں پر لعنت وارد ہوگی۔“

(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٨)

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٠، حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٦)

(ایام الصلح ص ٩١، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٨)

(ازالۃ اوہام ص ٨٢٦، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)

نجاست ہے۔“ (اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٨)

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

ان حوالہ جات مذکورہ کے ساتھ اب مرزا قادیانی کے ان کذبات واتہامات کو ملاحظہ فرمائیں جو آپ کی زبان وقلم سے نکلے ہیں۔ تاکہ دعاوی مرزا کی حقیقت گورِ ابطال میں مدفون ہو جائے اور مرزائیت کے طلسمی جال کا کوئی تار باقی نہ رہ جائے۔

پڑا فلک کو کبھی دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے خاک نہ کر دوں تو داغ نام نہیں

٥

صفحہ ٤٣٦

کذبات مرزا

دروغ آدمی را کند شرمسار
دروغ آدمی را کند بے وقار

مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں جابجا احادیث صحیحہ ، احادیث متواترہ، صحیح حدیثوں روایات صحیحہ، آثار نبویہ کے پر شوکت الفاظ و قابل اعتبار حوالے اس لئے پیش کئے ہیں تا کہ ان کی مصنوعی نبوت و علمی عزت کی ساکھ قائم رہے اور سادہ لوح و ناواقف مسلمانوں کا طبقہ ان پر زور الفاظ سے مبتلائے فریب ہو کر قادیانیت کی پرستش کرنے لگے۔ اس لئے کہ آپ نے جن مضامین کو احادیث صحیحہ و متواترہ کے حوالوں سے بیان کیا ہے۔ ان میں سے بعض مضامین تو صرف مرزا قادیانی ہی کے کشت زار دماغ کی پیداوار اور آپ ہی کے زائیدہ خیال ہیں۔ احادیث کی کتب معتبرہ میں ان کا نام و نشان تک نہیں اور بعض میں اس قدر رد و بدل و قطع برید کی گئی ہے کہ وہ تمام و کمال احادیث صحیحہ و متواترہ میں تو درکنار کسی ایک صحیح مرفوع حدیث میں بھی نہیں پائے جاتے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کو واضعین حدیث کے سر برآوردہ بزرگوں میں سے سمجھنا اور ان کو حسب ارشاد نبی بشارت خاص کا مستحق کہنا کسی طرح سے ناجائز نہیں ہے۔ اگر غلمدیت کے دام افتادہ و نمک خوار ان افتراء پردازیوں و اتہام سازیوں کو دیکھ کر بلبلا اٹھیں اور ان اتہامات و افترات کو صدق و صحت کے قالب میں ڈھالنے اور اپنے کرشن اوتار کو صادق و سچا ثابت کرنے کی سعی لا حاصل میں مصروف ہوں تو ان کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ لفظ احادیث، حدیثوں، روایات، آثار کی جمعی حالت اور اس کی صحت و تواتر کو پیش نظر رکھ کر مرزا قادیانی کے بیان کردہ مضامین کو تمام و کمال بغیر کسی ترمیم وتغیر کے سینکڑوں و ہزاروں ایسی صحیح مرفوع متصل حدیثوں میں دکھلائیں۔ جو امام بخاریؒ کے شرائط پر ہوں۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک اس قسم کے قیود نہ صرف مسلم بلکہ اپنے مخالفین سے اس طرح کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:

سے زائد سینکڑوں ہزاروں پر دلالت کرتا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٤٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٧)

٦

صفحہ ٤٣٧

(تحفہ گولویہ طبع دوم ص ٣٣، خزائن ج ١٧ ص ١١٩)

مقدار ثبوت تک پہنچ گئی ہو۔ جو عند العقل مفید یقین قطعی ہو جائے اور صرف شک کی حد تک محدود نہ رہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٤٦، خزائن ج ٣ ص ٣٨٨)

اس لئے مجھ کو بھی بساط مرزائیت کے شطرنجی مہروں سے ان قیود کے ساتھ اس طرح سے مطالبہ دلیل کا بجا طور پر حق ہے۔ لیکن مرزائیوں وغلامدیوں کی قابل رحم وعاجزانہ حالت کو دیکھ کر سینکڑوں و ہزاروں احادیث کے مطالبہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس امر کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان مضامین مرزا کو بتمام و کمال کم از کم تین ایسی صحیح مرفوع متصل متواتر حدیثوں میں جو امام بخاریؒ کے شرائط کے موافق ہوں دکھلائیں اور اپنے مصنوعی نبی کی پیشانی سے کذب وافتراء کے داغ کو دور کریں۔

غلامدیو! اگرچہ تم کو اپنے پیغمبر کے جھوٹ پر سچائی کے رنگ چڑھانے کے خوب کرتب یاد ہیں۔ لیکن اس مطالبہ سے پورا کرنے میں چھٹی کا دودھ اگل دو گے اور ایڑی و چوٹی کا زور صرف کرو گے۔ مگر یہ مطالبہ پورا نہیں ہو سکے گا۔ ”ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا“

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں

لہٰذا ہم حضورﷺ کی مشہور حدیث ”من کذب علی متعمداً فلیتبؤ مقعدہ من النار“ (مشکوٰۃ ص ٣٢ کتاب العلم) کے رو سے مرزا قادیانی اور ان کی امت کو وعید جہنم کی خوشخبری سنانے پر مجبور ہیں۔

گا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)

علامت ہے کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔“

(نصرت الحق ص ٩١، خزائن ج ٢١ ص ١١٨)

لگایا جائے گا۔ سو وہ بھی سب لکھا ہوا پورا ہوا۔“

(سراج منیر ص ٧٣، خزائن ج ١٢ ص ٧٥)

صفحہ ٤٣٨

جھوٹ نمبر ٤...... ”حدیثوں میں صاف طور پر یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود کی بھی تکفیر ہوگی اور علمائے وقت اس کو کافر ٹھہرائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کیا مسیح ہے اس نے تو ہمارے دین کی بیخ کنی کر دی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٤٢، خزائن ج ١٧ ص ٢١٣ حاشیہ)

جھوٹ نمبر ٥...... ”لیکن ضرور تھا کہ قرآن کریم واحادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)

ناظرین کرام! قرآن کریم میں اس قسم کا نہ کوئی مضمون ہے اور نہ کوئی پیش گوئی اس لئے لعنۃ اللہ علی الکاذبین پڑھ کر مرزا قادیانی کی روح کو ثواب پہنچا دیجئے۔

جھوٹ نمبر ٦...... ”اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

جھوٹ نمبر ٧...... ”بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے اور آخری آدم (مرزا قادیانی) پہلے آدم کے طرز ظہور پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے۔ پیدا ہونے والا سو وہ یہی ہے جو پیدا ہو گیا۔“ (یعنی مرزا قادیانی)

(ازالۃ اوہام ص ٦٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)

جھوٹ نمبر ٨...... ”مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے (مرزا قادیانی) کافر کہتے اور میرا نام دجال رکھتے کیوں کہ احادیث صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا گیا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کو کافر کہیں گے اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ٣٣٢)

جھوٹ نمبر ٩...... ”اگر حدیث کے بیان پر اعتماد ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی خبر دی گئی ہے۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی۔ ھذا خلیفۃ اللہ المہدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو اسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

٨

صفحہ ٤٣٩

بخاری شریف دنیا میں ایک کثیر مقدار میں شائع و موجود ہے۔ کیا مادر مرزائیت کا کوئی سپوت اور اپنے روحانی باپ (مرزا قادیانی) کا کوئی لال ہے جو اس حدیث کو بخاری شریف میں دکھلا کر مرزا قادیانی کو کاذبوں، مفتریوں، ملعونوں کی قطار سے نکال دے اور حق نمک بلکہ حق پدری ادا کرے۔ غلمدیت کے نمک خوار مولوی اللہ دتہ جالندھری ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے آقا و مولیٰ مرزا قادیانی کے ہر سفید جھوٹ کو سچ بنانے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ اس فن کے استاد کامل اور بڑے مشاق ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کے سامنے وہ بھی عاجزانہ حالت کے ساتھ سرنگوں ہو گئے اور نہایت دبی زبان سے مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کا ان الفاظ میں اقرار کرتے ہیں کہ ”بخاری کے حوالہ کا ذکر سبقت قلم ہے۔ اسے کذب قرار دینا ظلم ہے۔“

(تجلیات رحمانیہ ص ٨٩)

ایک وفادار نمک خوار سے یہی توقع ہے کہ وہ اپنے آقا کی غلط گوئی و کذب بیانی کو بالفاظ دیگر سبقت قلم کا نتیجہ قرار دے ورنہ اس کی صاف گوئی بے وفائی و نمک حرامی میں شمار کی جائے گی۔

بات وہ کہئے کہ جس بات کے ہوں سو پہلو
کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لئے

جھوٹ نمبر ١٠...... ”اور ایک حدیث میں ہے کہ مہدی کے وقت یہ (یعنی چاند گرہن اور سورج گرہن) دو مرتبہ واقع ہوں گے۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٤ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٩)

جھوٹ نمبر ١١...... ”ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کی فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی۔ تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

جھوٹ نمبر ١٢...... ”ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور چودہویں صدی کا مجدد ہوگا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩)

جھوٹ نمبر ١٣...... ”لیکن بڑی توجہ دلانے والی یہ بات ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے ایک مہدی کے ظہور کا زمانہ وہی قرار دیا ہے جس میں ہم ہیں اور چودہویں صدی کا اس کو مجدد قرار دیا ہے۔“

(نشان آسمانی ص ١٠، خزائن ج ٤ ص ٣٧٠)

٩

صفحہ ٤٤٠

جھوٹ نمبر ١٣...... ”اور اس میں ایک اور عظمت یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی پیش گوئی بھی اس کے پورا ہونے سے پوری ہوگئی۔ کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ عیسائیوں اور اہل اسلام میں آخری زمانہ میں ایک جھگڑا ہوگا۔ عیسائی کہیں گے کہ ہم حق پر ہیں اور مسلمان کہیں گے کہ حق ہم میں ظاہر ہوا اس وقت عیسائیوں کے لئے شیطان آواز دے گا کہ حق آل عیسیٰ کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کے لئے آسمان سے آواز آئے گی کہ حق آل محمد کے ساتھ ہے۔ سو یاد رہے کہ یہ پیش گوئی آنحضرتﷺ کی آتھم کے قصہ سے متعلق ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨،٢٨٧)

جھوٹ نمبر ١٥...... ”پس حضرت رسول اللہﷺ نے خبر دی کہ سورج گہن مہدی کے ظہور کے وقت ایام کسوف کے نصف میں ہوگا۔ یعنی آٹھائیسویں تاریخ میں دوپہر سے پہلے۔“

(نور الحق ج ٢ ص ٦٩، خزائن ج ٨ ص ٢٠٩)

جھوٹ نمبر ١٦...... ”آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“ (ریویو ج ٦ نمبر ٦ ص ٢٦٥ بابت ستمبر ١٩٠٧ء)

جھوٹ نمبر ١٧...... ”اور جیسا کہ ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا ہے یہ گہن وہ مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے۔ اوّل اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں انہیں تاریخوں میں ہوا ہے۔ جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ١٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٢)

جھوٹ نمبر ١٨...... اور حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ ”ما زنا زان وہو مؤمن وما سرق سارق وہو مؤمن“ (حقیقۃ الوحی ص ١٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٩)

جھوٹ نمبر ١٩...... ”ایک مرتبہ آنحضرتﷺ سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ: ”کان فی الهند نبیاء اسود اللون اسمہ کاھنا“ یعنی ہند میں ایک نبی گزرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢)

نور! گذشتہ زمانہ میں ملک کے اندر ایک ایسا گروہ بھی تھا جو اپنے اظہار تقدس واغراض کے لئے جھوٹی حدیثیں بنا بنا کر لوگوں میں مشہور کیا کرتا اور کہتا کہ اس کو آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ایسے گروہ کو اسلامی دنیا میں واضعین حدیث کے برے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ان لوگوں کو آنحضرتﷺ نے اپنے مشہور فرمان ”من کذب علی متعمدا فلیتبؤ

١٠

صفحہ ٤٤١

مقعـدہ من النـار“ (مشکوٰۃ ص ٣٢، کتاب العلم) میں جہنم و دوزخ کی خوشخبری دی ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اس فن وضع حدیث میں گذشتہ واضعین کے بھی کان کتر لئے ہیں۔ کیونکہ مذکورہ بالا عربی عبارت جو حضور ﷺ کی جانب منسوب کی گئی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس کا وجود احادیث کے ذخیرہ میں نہیں ہے بلکہ از روئے اصول نحو بھی یہ غلط ہے اس لئے یہ ایک جھوٹی بناوٹی مصنوعی حدیث ہے جس کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرنا آپ پر اتہام اور آپ کی توہین ہے۔ جس کی سزا دارین کی روسیاہی و سرنگونی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتی۔ اگر امت مرزائیہ کو اپنے آقا و مولیٰ مرزا قادیانی کی نگو ساری و ذلت خواری دیکھنا گوارا نہیں ہے۔ تو اپنی اولین و آخرین اور دلائل و براہین کو لے کر اٹھے اور اس کو حدیث صحیح ثابت کرے تاکہ مرزائیت کے باوا آدم کی کچھ تو اشک شوئی ہوجائے۔

جھوٹ نمبر ٢٠......”اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٥)

جھوٹ نمبر ٢١......”اور حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس مسیح موعود کی تیرہویں صدی میں پیدائش ہوگی اور چودہویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔“

(ریویو نمبر ١١، ١٢ ج ٢ ص ٤٣٧، بابت ماہ نومبر، دسمبر ١٩٠٣ء)

جھوٹ نمبر ٢٢......”پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہوگا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہوجائے گا اور نابالغ بچے نبوت کریں گے اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔“

(ضرورت الامام ص ٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥)

نوٹ! جن نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں یہ مضمون لکھا ہوا ہے۔ اگر مرزائیت کے علمبردار اس کا پتہ دیں گے تو ایک من مٹھائی پیش خدمت کی جائے گی۔ نہیں تو جھوٹے کا ذلیل و خوار ہونا ایک مسلم امر ہے۔

جھوٹ نمبر ٢٣......”قرآن نے میری گواہی دی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے میری گواہی دی ہے۔ پہلے نبیوں نے میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے کہ جو یہی زمانہ ہے اور قرآن نے بھی میرے آنے کا زمانہ متعین کر دیا ہے۔ جو یہی زمانہ ہے اور میرے لئے آسمان نے گواہی دی اور زمین نے بھی اور کوئی نبی نہیں جو میرے لئے گواہی نہیں دے چکا۔“

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦)

١١

صفحہ ٤٤٢

نور! مرزا قادیانی نے اس عبارت میں منہ بھر کر جھوٹ اگلے ہیں اور اپنی عزت و وقار کو ملیا میٹ کیا ہے۔ کیا کسی مرزائی میں اتنی ہمت ہے۔ جو قرآن وحدیث، آسمان و زمین اور تمام انبیاء علیہم السلام کی مذکورہ بالا شہادتیں کسی معتبر کتاب میں دکھلائے اور اپنے پیشوا کی خاک آلودہ عزت کو صاف کرے؟۔

جھوٹ نمبر ٢٤.......”اور میرا یہ بیان ہے کہ میرے تمام دعاوی قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور اولیاء گذشتہ کی پیش گوئیوں سے ثابت ہیں۔“

(آئینہ کمالات ص ٣٥٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

جھوٹ نمبر ٢٥.......”خدا نے آدم کو چھٹے دن بروز جمعہ بوقت عصر پیدا کیا توریت اور قرآن اور احادیث سے یہی ثابت ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٩٨، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٠ حاشیہ)

جھوٹ نمبر ٢٦.......”احادیث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے وقت عیسائی قوم کثرت سے دنیا میں پھیل جائے گی۔“

(حاشیہ تتمہ حقیقت الوحی ص ٦١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٦)

جھوٹ نمبر ٢٧.......”دوسری طرف ایسی احادیث بھی ہیں جو یہ بتلاتی ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں تقریباً تمام زمین پر عیسائی سلطنت قوت اور شوکت رکھتی ہوگی۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٩٦)

جھوٹ نمبر ٢٨.......”حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت میں ملک میں طاعون بھی پھوٹے گی۔“

(ایام الصلح ص ١١٠، خزائن ج ١٤ ص ٣٤٧ حاشیہ)

جھوٹ نمبر ٢٩.......”چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔ جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤)

جھوٹ نمبر ٣٠.......”کبھی فاسق اور فاجر اور بدکار بھی سچی خواب دیکھ لیتا ہے۔ یہ سب روح القدس کا اثر ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے۔“

(دافع الوسواس حاشیہ ص ٨٠، خزائن ج ٥ ص ٨٠)

جھوٹ نمبر ٣١.......”سو یہ عاجز عین وقت پر مامور ہوا اس سے پہلے صدہا اولیاء نے اپنے الہام سے گواہی دی تھی کہ چودہویں صدی کا مجدد مسیح موعود ہوگا اور احادیث نبویہ پکار پکار کر کہتی ہیں کہ تیرہویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

١٢

صفحہ ٤٤٣

نور! صدہا اولیاء کے وہ شہادت آمیز الہامات اور احادیث نبویہ کی پکار کو ہم بھی سننا چاہتے ہیں۔ نیز ان سینکڑوں اولیاء کے اسماء گرامی اور ان کے الہامات جن کتابوں میں مندرجہ ہوں اس کی زیارت کے لئے ہماری آنکھیں بے چین ہیں۔ دیکھئے قادیانیت کا کون فرزند سعید ہے جو اس خدمت سے اپنے روحانی باپ کا حق ادا کرتا ہے؟۔

جھوٹ نمبر ٣٢..... ”اور آپ سے پوچھا گیا کہ کیا زبان فارسی میں بھی خدا نے کلام کیا ہے۔ تو فرمایا کہ ہاں خدا کا کلام زبان پارسی میں بھی اترا ہے۔“ جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے۔ ”ایں مشت خاک را گرنہ بخشم چہ کنم“

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٦٦)

نور ! احادیث کی کن کتابوں میں یہ ارشاد نبوی ہے شرائط مذکورہ کے موافق اس کو ثابت کرو۔ نیز یہ بتاؤ کہ یہ الہام کس پر اترا تھا۔ حالانکہ ”اصول مرزا“ کی بناء پر الہام کا غیر زبان ملہم میں اترنا غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے۔ جس سے اس ”دروغ“ کی اور پختگی ہو جاتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو اور کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

جھوٹ نمبر ٣٣..... ”ایسا ہی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩١، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٥)

جھوٹ نمبر ٣٤..... ”حالانکہ بالاتفاق تمام احادیث کے رو سے عمر دنیا کل سات ہزار برس قرار پایا تھا..... جبکہ احادیث صحیحہ متواترہ کے رو سے عمر دنیا یعنی حضرت آدم سے لے کر اخیر تک سات ہزار برس قرار پائی تھی۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ٩٣، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٧، ٢٤٨)

جھوٹ نمبر ٣٥..... ”امر واقعی اور صحیح یہی ہے کہ بعثت نبی ہزار ششم کے آخر میں ہے۔ جیسا کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ بالاتفاق گواہی دے رہی ہیں۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ٩٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٦)

جھوٹ نمبر ٣٦..... ”لیکن پھر بھی جب ہم حدیثوں پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کافی حصہ اس قسم کی حدیثوں کا موجود ہے۔ جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک سو بیس برس عمر لکھی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)

١٣

صفحہ ٤٤٤

جھوٹ نمبر ٣٧..... ”اور سب سے بڑھ کر حدیثوں کے رو سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا تھا کہ گذشتہ تمام نبی جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی داخل ہیں سب کے سب فوت ہو چکے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥)

جھوٹ نمبر ٣٨...... ”اور علاوہ نصوص صریحہ قرآن شریف اور احادیث کے تمام اکابر اہل کشف کا اس پر اتفاق ہے کہ چودہویں صدی وہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح موعود ظاہر ہوگا۔ ہزارہا اہل اللہ کے دل اسی طرف مائل رہے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩١، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٣،٢٤٤)

نوٹ! قرآن کریم کے نصوص صریحہ و احادیث اور تمام اکابر اہل کشف کا اتفاق و ہزارہا اہل اللہ کے میلان قلبی کی زیارت ہم بھی کرنا چاہتے ہیں۔ کیا قادیانیت کا کوئی فرزند رشید ہے جو ان چیزوں کی زیارت کا سامان مہیا کر کے اپنے روحانی باپ کو صادق القول ثابت کرے ورنہ ”جھوٹے پر ہزار لعنت نہ سہی تو پانچ سو سہی۔“

(ازالہ اوہام ص ٨٦٦، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)

جھوٹ نمبر ٣٩...... ”حدیث صحیح سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ انہوں نے ایک سو بیس برس عمر پائی اور واقعہ صلیب کے بعد ستاسی برس اور زندہ رہے۔“

(ایام الصلح ص ٣٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٧)

جھوٹ نمبر ٤٠....... ”کیونکہ بموجب آثار صحیحہ سے مسیح موعود کا صدی کے سر پر آنا ضروری ہے۔“

(ایام الصلح ص ٨٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٥)

جھوٹ نمبر ٤١....... ”ہمارا حج تو اس وقت ہوگا جب دجال بھی کفر اور دجال سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا...... آخر ایک گروہ دجال کا ایمان لا کر حج کرے گا۔ موجب دجل کو ایمان اور حج کے خیال پیدا ہوں گے۔ وہی دن ہمارے حج کے ہوں گے۔“

(ایام الصلح ص ١٦٨، ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦)

غلمدیو! اوّل تو حسب شرائط مذکورہ وہ حدیث صحیح دکھلاؤ جس میں مسیح موعود کے حج کا وہ وقت مقرر ہو کہ جب دجال کفر اور دجل سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا۔ نیز دجال کا کون سا گروہ ایمان لا کر حج کو گیا اور کیا خود مرزا قادیانی بھی اس نعمت سے مشرف ہوئے۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ نہ دجال کا کوئی گروہ ایمان لا کر حج کو گیا اور نہ مرزا قادیانی ہی نے باوجود دعویٰ پیغمبری حج کی سعادت حاصل کی اور کیوں نہیں ہوا اس لئے کہ ”دروغگو کو خدا تعالیٰ اس جہاں میں ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١)

جھوٹ نمبر ٤٢...... ”میں نے حدیثوں کے رو سے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ مسیح اور مہدی جو آنے والا ہے عیسائی سلطنت کے وقت میں اس کا آنا ضروری ہے۔“

(ایام الصلح ص ٧٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٤)

١٤

صفحہ ٤٤٥

جھوٹ نمبر ٤٣...... ”اس پیش گوئی (آتھم والی) کی نسبت تو رسول اللہ ﷺ نے بھی خبر دی تھی اور مکذبین پر نفرین کی تھی۔“

(ایام الصلح ص ١٦٩، ١٧٠، خزائن ج ١٤ ص ٤١٨)

نور! اگر بالفرض مرزا قادیانی کی یہ بات سچی ہو تو (معاذ اللہ) لازم آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی غلط و جھوٹی ہو جائے۔ کیونکہ آتھم مرزا قادیانی کے مقرر کردہ وقت پر نہیں مرا۔ اسی وجہ سے خود مرزا قادیانی اور ان کی امت اس سلسلہ کی بھول بھلیوں میں سراسیمہ و پریشان ہو کر مبتلا ہے۔

جھوٹ نمبر ٤٤...... ”حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجال شیطان کا نام ہے۔“

(ایام الصلح ص ٦١، خزائن ج ١٤ ص ٢٩٦)

جھوٹ نمبر ٤٥...... ”یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہو گی جو صبح اور شام کے وقت چلے گی اور تمام مدار اس کا آگ پر ہوگا اور صد ہا لوگ اس پر سوار ہوں گے۔“

(ایام الصلح ص ٧٨، خزائن ج ١٤ ص ٣١٣)

جھوٹ نمبر ٤٦...... ”قرآن کریم اور احادیث اور پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ اس زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہو گی۔ جو آگ سے چلے گی...... سو وہ سواری ریل ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٢، خزائن ج ٢٠ ص ٢٥)

نور! احادیث نبوی کے ثبوت کے سلسلہ میں قرآن کریم وصحف انبیاء علیہم السلام کو خصوصیت سے ظاہر کیا جائے۔ ورنہ مرزائیو دیکھو کہ ”ایک زور کے ساتھ دروغگوئی کی نجاست ان کے منہ سے بہہ رہی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

جھوٹ نمبر ٤٧...... ”احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ (صلیب) کے بعد عیسیٰ ابن مریم نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی اور پھر فوت ہو کر اپنے خدا کو جا ملا۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٧، خزائن ج ٢٠ ص ٢٩)

جھوٹ نمبر ٤٨...... ”اور ان دونوں گرہنوں کی انجیلوں میں بھی خبر دی گئی ہے اور قرآن کریم میں بھی یہ ہے اور حدیثوں میں بھی ۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣)

نور! احادیث صحیحہ کے ساتھ قرآن کریم کی وہ آیت جس میں اس خاص کسوف وخسوف کا ذکر ہو پیش کر کے فرمائے کہ اس آیت کی اس کسوف وخسوف کے ساتھ کن کن بزرگوں نے تفسیر کی ہے ورنہ بغیر اس کے آگ کے انگاروں سے کھیلتا ہے۔

١٥

صفحہ ٤٤٦

جھوٹ نمبر ٤٩...... ”میں وہ شخص ہوں جو عین وقت پر ظاہر ہوا۔ جس کے لئے آسمان پر رمضان کے مہینہ میں چاند اور سورج کو قرآن اور حدیث اور انجیل اور دوسرے نبیوں کی خبروں کے مطابق گرہن لگا اور میں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں تمام نبیوں کی خبر اور قرآن شریف کی خبر کے موافق اس ملک میں خارق عادت طور پر طاعون پھیل گئی اور میں وہ شخص ہوں جو حدیث صحیحہ کے مطابق اس زمانہ میں حج سے روکا گیا۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص٣٤، خزائن ج٢٠ ص٣٥،٣٦)

نور! احادیث صحیحہ کے ساتھ قرآن کریم اناجیل اربعہ و صحف انبیاء و اخبار قرآنی کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔

جھوٹ نمبر ٥٠...... ”اور ممکن ہے کہ شیطان لعین نے حضرت مسیح کے دل میں اس قسم کے خفیف وسوسہ ڈالنے کا ارادہ کیا ہو اور انہوں نے قوت نبوت سے اس وسوسہ کو رفع کر دیا ہو اور ہمیں یہ کہنا اس مجبوری سے پڑا ہے کہ یہ قصہ صرف انجیلوں ہی میں نہیں ہے بلکہ ہماری احادیث صحیحہ میں بھی ہے۔“

(ضرورۃ الامام ص١٥، خزائن ج١٣ ص٤٨٥)

جھوٹ نمبر ٥١...... ”ایسا ہی احادیث میں بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ مہدی موعود ایسے قصبہ کا رہنے والا ہوگا جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہوگا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدعہ دراصل قادیان کے لفظ کا مخفف ہے۔“

(کتاب البریہ حاشیہ ص٢٤٢، ٢٤٣، خزائن ج١٣ ص٢٦٠،٢٦١)

نور! اوّل تو حدیث ہی موضوع ہے (دیکھو میزان الاعتدال ج٢ ص١٦٠) دوسرے مغالطہ دہی و دروغگوئی کی بدترین مثال اور کم علمی و جہالت کی مکروہ تصویر ہے۔ اس لئے کہ اس موضوع وضعیف روایت میں ”نہ کدعہ“، ”نہ قدہ“ اور ”نہ کدیہ“ بلکہ لفظ ”کرعہ“ ہے۔ جس کو مرزائیت کے مجدد کی جدت طراز طبع نے کدعہ کو مخفف قادیان بنا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہا ہے۔

جھوٹ نمبر ٥٢...... ”احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح نے مختلف ملکوں کی (بعد واقعہ صلیب) بہت سیاحت کی ہے...... لیکن جب کہا جائے کہ وہ کشمیر میں بھی گئے تھے تو اس سے انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ جس حالت میں انہوں نے مان لیا کہ حضرت مسیح نے اپنی نبوت کے ہی زمانہ میں بہت سے ملکوں کی سیاحت بھی کی تو کیا وجہ کہ کشمیر جانا ان پر حرام تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص١٣، خزائن ج١٧ ص١٠٧)

جھوٹ نمبر ٥٣...... ”اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں (قادیان) کا نام موجود ہے۔“

(ریویو ج٢ نمبر١١، ١٢، بابت ماہ نومبر، دسمبر ١٩٠٣ء ص٤٣٧)

١٦

صفحہ ٤٤٧

جھوٹ نمبر ٥٤...... ”آیا ایں ادلہ و براہین در اثبات دعاوی من کفایت نمیکند کہ قرآن کریم جمیع قرائن وعلامات را مذکور ساختہ بلکہ نام مرا نیز بیان نمودہ و در احادیث از ایراد لفظ کہ در نام قریۂ من (قادیان) درج فرمودہ و در دیگر احادیث مسطور است کہ بعثت ایں مسیح موعود (مرزا قادیانی) برسر قرن چہار دہم خواہد بود۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

جھوٹ نمبر ٥٥...... ”بلکہ در احادیث صحیحہ مسطور است کہ مسیح موعود در ہند مبعوث خواہد گردید۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

جھوٹ نمبر ٥٦...... ”اور بعض (احادیث) بتاتی ہیں کہ مسیح حکم عدل امام اور خلیفۃ اللہ ہوکر آئے گا اور سب معاملہ اس کے اختیار میں ہوگا اور بجز اس وحی کے جو چالیس برس تک ہوتی رہے گی اور کسی کا اتباع نہ کرے گا اور اس وحی سے قرآن کریم کے بعض احکام منسوخ کر دے گا اور کچھ زیادہ کرے گا۔“

(حمامتہ البشریٰ حاشیہ ص ٢٢، خزائن ج ٧ ص ٢٠٣)

نور! جن احادیث میں یہ تمام مضمون مذکور ہے اگر ان کو شرائط مذکورہ کے موافق بیان کرو تو ایک من مٹھائی بطور شکریہ حاصل کرو۔

جھوٹ نمبر ٥٧...... ”حدیثوں سے صاف طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ آخری زمانہ میں آنحضرت ﷺ بھی دنیا میں ظاہر ہوں گے۔“

(نزول المسیح حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٤)

جھوٹ نمبر ٥٨...... ”ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔“

(ایام الصلح ص ٤٢، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٣)

نور! حدیث کی کسی مستند کتاب میں لفظ عیسیٰ علیہ السلام کی زیادتی کے ساتھ یہ حدیث نہیں ہے بلکہ حدیث کی مخرج ومسند کتابوں اور صحیح مرفوع متصل حدیثوں میں بلازیادتی لفظ عیسیٰ علیہ السلام یہ الفاظ ہیں۔ ’لوکان موسی حیاً ماوسعه الا اتباعی‘ (دیکھو مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٧، مشکوٰۃ ص ٣٠، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، مرقاۃ ج ١ ص ٢٥١، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، عمدۃ القاری ج ١١ ص ٥٠٧) اس لئے اس دروغ میں مرزا قادیانی کی خودغرضی ومطلب پرستی کے ساتھ آپ کی کم علمی وجہالت بھی روشن ہے۔

جھوٹ نمبر ٥٩...... ”اے عزیز تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزا قادیانی) کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)

١٧

صفحہ ٤٤٨

نور! جن بہت سے پیغمبروں نے مرزا قادیانی کی زیارت کی تمنا ظاہر کی ہے اور جن تمام نبیوں نے مرزا قادیانی کے زمانہ اور وقت کی بشارت دی ہے ان کے اسماء گرامی کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جائے کہ وہ تمنائیں وبشارتیں کس صحیفہ و کتاب میں ہیں؟۔ امید ہے کہ امت مرزائیہ اپنے پیغمبر کو اس امر میں ضرور سچا ثابت کرے گی۔ ورنہ پھر ہماری طرف سے ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ کا ابدی تحفہ قبول کرے۔

جھوٹ نمبر ٦٠...... ”ہاں میں (مرزا قادیانی) وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں ۔“

(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٥١)

نور! جن سارے نبیوں کے زبانی وعدہ پر مرزا قادیانی تشریف فرما عالم ہوئے ہیں وہ وعدہ کس کتاب میں ہے اور کیا ہے۔ اگر مرزائیت اپنے نبی کی لاج کو خاک آلود نہیں دیکھنا چاہتی تو فوراً سارے نبیوں کے زبانی وعدہ کو منصہ شہود پر لائے:

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

جھوٹ نمبر ٦١...... ”میرے خدا نے عین صدی کے سر پر مجھے (مرزا قادیانی) مامور فرمایا اور جس قدر دلائل میرے سچا ماننے کے لئے ضروری تھے۔ وہ سب دلائل تمہارے لئے مہیا کرائے اور آسمان سے لے کر زمین تک میرے لئے نشان ظاہر کئے اور تمام نبیوں نے ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں ۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٣، خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)

نور! کیا ان تمام نبیوں کی وہ خبریں جو مرزا قادیانی کی آمد وصداقت کے متعلق ہیں کسی معتبر کتاب میں مع حوالہ عبارت دکھلائی جاسکتی ہیں۔ غلمدیو! اگر کچھ ہمت ہو تو اٹھو اور اپنے رسول کی عزت و آبرو رکھ لو۔

جھوٹ نمبر ٦٢...... ”صاحب تفسیر (تفسیر ثنائی) لکھتا ہے کہ ابوہریرہؓ فہم قرآن میں ناقص تھا اور اس کی درائت پر محدثین کو اعتراض ہے۔ ابوہریرہؓ میں نقل کرنے کا مادہ تھا اور درائت و فہم سے بہت ہی کم حصہ رکھتا تھا۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٣٤، خزائن ج ٢١ ص ٣١٠)

نور! اگر اس تفسیر ثنائی سے مراد مرزا قادیانی کے سخت جان حریف مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری ہیں۔ تو یہ ایک اعجازی جھوٹ ہے اور اگر اس سے مراد تفسیر مظہری مصنفہ قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی ہے۔ تو یہ کراماتی جھوٹ ہے۔ بہر حال دونوں صورتوں میں یہ ایسا جھوٹ جو اعجاز و کرامت کے حدود سے باہر نہیں ہوسکتا۔

١٨

صفحہ ٤٤٩

جھوٹ نمبر ٦٣...... ”انبیاء علیہم السلام گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی ہے کہ وہ (مرزا قادیانی) چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا نیز پنجاب میں ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٧١)

نور! جن گذشتہ نبیوں کے کشوف نے مرزا قادیانی کے زمانہ پیدائش کو چودہویں صدی کے سر اور جائے پیدائش کو پنجاب مقرر کر کے قطعی مہر لگا دی ہے۔ غلمدیو! اگر کچھ ایمانی غیرت کی جھلک موجود ہے تو اٹھو اور انبیاء علیہم السلام گذشتہ کے کشوف مذکورہ کو منظر عام پر لا کر اپنے کرشن اوتار کو سرنگونی و ذلت وخواری سے بچاؤ۔

جھوٹ نمبر ٦٤...... ”خدا کی تمام کتابوں میں خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پھیلے گی اور حج روکا جائے گا اور ذوالسنین ستارہ نکلے گا اور ساتویں ہزار کے سر پر وہ موعود ظاہر ہوگا۔“

(اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

مرزائیو! خدا کی تمام کتابوں سے اس مضمون کو ثابت کر کے اپنے حضرت صاحب کے دامن سے کذب و دروغ کی نجاست دور کرو۔ نہیں تو ”خدا کی لعنت ہے ان لوگوں پر جو جھوٹ بولتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)

جھوٹ نمبر ٦٥...... ”تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن کریم سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لے کر آخیر تک تمام دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٦، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٧)

نور ! تمام نبیوں کی جن کتابوں اور قرآن کریم کی آیتوں میں یہ مضمون موجود ہے اس کی صحیح عبارت مستند طریق سے پیش کر کے مرزائیت کی پیشانی سے اس اتہام کی سیاہی کو دور کرو۔

جھوٹ نمبر ٦٦..... ”کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٧، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٨)

نور ! تمام نبیوں کی ایسی شہادت کن کن آسمانی و غیر آسمانی کتابوں میں درج ہے۔ معہ حوالہ صفحہ و کتاب و عبارت مدلل طور پر بیان کی جائیں۔

جھوٹ نمبر ٦٧....... ”غرض یہ تمام نبیوں کی متفق علیہ تعلیم ہے کہ مسیح موعود ہزار ہشتم کے سر پر آئے گا۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٨، خزائن ج ٢٠ ص ٢٠٩)

نور ! تمام نبیوں کی یہ متفق علیہ تعلیم جن آسمانی کتابوں میں درج ہو ان کے نام وعبارت کی زیارت کے ہم بھی مشتاق ہیں۔ ورنہ کاذبوں، مفتریوں پر بے شمار لعنت۔

١٩

صفحہ ٤٥٠

جھوٹ نمبر ٦٨...... ”القصہ میری سچائی پر یہ ایک دلیل ہے کہ میں نبیوں کے مقرر کردہ ہزار میں ظاہر ہوا ہوں۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص ٨، خزائن ج٢٠ ص٢٠٩)

نور ! مرزا قادیانی جن نبیوں کے مقرر کردہ ہزار میں ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ ان کے اسماء گرامی اور تقرر کردہ ہزار جن کتابوں وصحیفوں میں تحریر ہو اس کو بیان کرو نہیں تو افترا علی الانبیاء علیہم السلام کی سزا جہنم کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے؟۔

جھوٹ نمبر ٦٩...... ”سو جیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کی سیر کی ہوگی اور پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے۔ چونکہ مسیح ایک سرد ملک کے آدمی تھے۔ اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالباً وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہوں گے اور اخیر مارچ یا اپریل کے ابتداء میں کشمیر ہی کی طرف کوچ کیا ہوگا اور چونکہ وہ ملک بلادشام سے بالکل مشابہ ہے اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل کر لی ہوگی اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی اولاد ہوں۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٧٠، خزائن ج ١٥ ص ٧٠)

نور ! مرزا قادیانی نے اس عبارت میں ایسے صاف وصریح دس جھوٹ پیٹ بھر کر اگلے ہیں کہ دنیا کے کاذب ومفتری بھی اس کو دیکھ کر متحیر وششدر ہیں۔ کیا مرزائیت ان امور بالا میں اپنے ”مرشد اعظم“ کو راست باز ثابت کرے گی۔ دیدہ باید

جھوٹ نمبر ٧٠...... ”اور ان کی (یعنی اہل کشمیر کی) پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلادشام کی طرف سے آیا تھا۔ جس کو قریباً انیس سو برس آئے ہوئے گذر گئے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)

نور ! یہ بھی مرزا قادیانی کا طبع زاد افسانہ ہے جس کی تمام تر بنیاد کذب وافتراء پر ہے۔ اس لئے اگر قادیانیت اپنے رہنما اکبر کی صداقت کو نمایاں کرنا چاہتی ہے۔ تو اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں کے نام وعبارت سے ملک کو روشناس کرائے ورنہ پھر وہی تحفہ پیش خدمت کیا جائے گا۔ جو قدرت نے کاذبوں ومفتریوں کے لئے مخصوص کیا ہے۔

جھوٹ نمبر ٧١...... ”اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی ہیں کہ کسی دوسرے نبی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں۔ ایک یہ کہ

٢٠

صفحہ ٤٥١

انہوں نے کامل عمر پائی یعنی ایک سو پچیس برس زندہ رہے۔ دوم یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی اس لئے نبی سیاح کہلائے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٥)

نور! یہ بھی مرزا قادیانی کا ایک سفید مگر اعجازی جھوٹ ہے۔ اگر غلمدیت اپنے پیغمبر کو جہنم کے انگاروں سے بچانا چاہتی ہے تو فی الفور اسلام کے تمام فرقوں کی کتب معتبرہ سے ان دو مسلم ومتفق علیہ باتوں کو پیش کرے ورنہ ”کاذب ومفتری کا انجام ذلت ورسوائی ہے۔“

(ملخصاً حقیقت الوحی ص ٢٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٣)

جھوٹ نمبر ٧٢...... ”غرض تمام صحابہ کا اجماع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر تھا۔ بلکہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر اجماع ہو گیا تھا۔ ..... اس اجماع کی وجہ سے تمام صحابہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل تھے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧)

نور! مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک ایسا اعجازی جھوٹ ہے کہ اگر مرزائیت کے اولین و آخرین بھی جمع ہو کر ایڑی و چوٹی کا زور صرف کر دیں۔ لیکن اس کو کہ تمام صحابہ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر اجماع تھا اور تمام صحابہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل تھے۔ ہرگز ہرگز نہیں ثابت کر سکتے اس لئے مفتری وکاذب پر اللہ ورسول ﷺ اور تمام مسلمانوں کی ابدی لعنت ہو اور لطف یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنے اس بے نظیر جھوٹ کو اپنی متعدد تصانیف ”ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٥، تحفہ گولڑویہ ص ٦، ٤٦، ٥٧، خزائن ج ١٧ ص ٩٥، ١٤٤، ١٨٤، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١١٨، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٥، براہین احمدیہ ص ١١٩، ٢٠٣، نصرۃ الحق ص ٢٣، خزائن ج ٢١ ص ٥٥“ میں بیان کیا ہے جو مستقل کئی ایک جھوٹ شمار کئے جا سکتے ہیں۔

جھوٹ نمبر ٧٣...... ”عرب اور عجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس پیش گوئی کا ظہور ہے۔ جو قرآن وحدیث میں ان لفظوں سے بیان کی گئی تھی۔ جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٩، تحفہ گولڑویہ ص ٦٤، خزائن ج ١٧ ص ١٩٥)

نور! کتاب اعجاز احمدی ١٩٠٢ء کی مطبوعہ ہے لیکن اس وقت سے لے کر آج تک مکہ ومدینہ کے درمیان ریل کی تیاری تو درکنار پیمائش بھی نہیں ہوئی۔ لیکن مرزا قادیانی کا الہامی کذب ملاحظہ فرمائے کہ لکھتے ہیں ”مدینہ اور مکہ کے درمیان ریل تیار ہو رہی ہے۔“ اس سلسلہ میں ناظرین کرام کی ضیافت طبع کے لئے مرزا قادیانی کے چند پیغمبرانہ لطائف پیش خدمت کئے جاتے ہیں۔ امید کہ مرزا قادیانی کو قوت حافظہ ومدعی دماغ کی داد دیں گے۔

٢١

صفحہ ٤٥٢

”مکہ و مدینہ میں بڑی سرگرمی سے ریل تیار ہو رہی ہے۔“ اور تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، خزائن ج ١٧، ص ١٦٥ کے حاشیہ میں فرماتے ہیں کہ:

خزائن ج ١٧ ص ١٩٥“ میں ہے۔

عمل میں آ رہا ہے۔“

ہو جائے گی اور اس صفحہ میں ہے۔ ”وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی۔ وہی مکہ معظمہ میں آئے گی۔“ اور اسی صفحہ میں چند سطروں کے بعد یہ لکھتے ہیں۔

اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہو جائے۔“ اور چشمہ معرفت حاشیہ ص ٧١، خزائن ج ٢٣ ص ٨٢ میں جو مرزا قادیانی کے انتقال کرنے سے چھ روز پیشتر ٢٠؍ مئی ١٩٠٨ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں لکھتے ہیں۔

گی۔“ حالانکہ آپ ١٩٠٢ء ہی میں مکہ و مدینہ کے درمیان ریل جاری کر چکے ہیں اور یہاں ١٩٠٨ء تک بھی اس کا اجراء نہیں ہوا۔ یہ اعجازی کرامت نہیں ہے تو اور کیا ہے اور اسی کتاب کے ص ٣٠٦، خزائن ج ٢٣ ص ٣٢١، ٣٢٢ میں ہے۔

جاری کر دی جائے۔“ اور اربعین نمبر ٢ ص ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٥ حاشیہ میں لکھتے ہیں۔ جو چشمہ معرفت سے تقریباً آٹھ سال پیشتر شائع ہو چکی ہے کہ:

ہوا ہے۔.... پس یہ کس قدر بھاری پیش گوئی ہے جو مسیح کے زمانہ کے لئے اور مسیح موعود کے ظہور کے لئے بطور علامت تھی۔ جو ریل کی تیاری سے پوری ہو گئی۔“ اور اسی کتاب اربعین نمبر ٣ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٩ میں فرماتے ہیں کہ:

٢٢

صفحہ ٤٥٣

٩...... ”مکہ اور مدینہ میں بڑی سرگرمی سے ریل تیار ہورہی ہے۔“

اب نو اقوال سے کوئی ایک بھی قول پورا ہوا؟۔

جھوٹ نمبر ٧٤...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔“

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

نور! مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جس کذب بیانی و دروغ گوئی سے توہین کی ہے۔ اس کے ثبوت میں مرزا قادیانی کی تصنیفات کا حرف حرف شاہد ہے اور اس مقولہ مذکورہ کے دروغ بے فروغ ہونے پر خود مرزا قادیانی کی دوسری تحریر شہادت دے رہی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ”ہم نہیں کہہ سکتے کہ نعوذ باللہ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اخلاق فاضلہ سے بے بہرہ تھے۔“

(ضرورۃ الامام ص ٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

مرزائیو! مرزا قادیانی کے ان دونوں مختلف قولوں میں سے ایک یقینی طور پر جھوٹ ہے۔ اس لئے کہ تمہارے پیشوا کہتے ہیں۔ ”دروغگو ہونے پر اختلاف و تناقض بھی شاہد ہے۔“ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ١٩، اور ”تناقض سے لازم آتا ہے کہ دو متناقض باتوں میں سے ایک جھوٹی ہو یا غلط ہو۔“ چشمہ معرفت ص ١٨٨، خزائن ج ٢٣ ص ١٩٦۔ سچ ہے دروغ گو را حافظہ نباشد اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے اپنے متعلق فرمایا ہے۔ ”حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا“

(نسیم دعوت حاشیہ ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٩، ریویو ج ٢ نمبر ٤ ص ١٥٣ حاشیہ، اپریل ١٩٠٣ء)

جھوٹ نمبر ٧٥...... ”یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔“

(حاشیہ ست بچن ص ١٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)

نور! مرزا قادیانی نے ”توضیح مرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢، دعوۃ الحق ملحقہ تتمہ حقیقت الوحی ص ٨، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٠، نصرۃ الحق ص ٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٤٣، تحفہ گولڑویہ ص ١٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٩، انجام آتھم ص ٤٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً“ میں یہ تسلیم کیا ہے کہ یسوع عیسیٰ مسیح ابن مریم دراصل ایک ہی ہیں۔ اس لئے اس عبارت کے یہ معنی ہوئے کہ معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرگی کے باعث دیوانہ تھے۔ جو سراسر جھوٹ اور بدترین گستاخی ہے۔ مرزائیو! کیا ایک سچا نبی مرگی و دماغی امراض میں مبتلا ہو کر شرعی و عقلی حیثیت سے نبوت کے فرائض انجام دے سکتا ہے؟۔ دلائل قطعیہ اور واقعات سے ثبوت پیش کرو نہیں تو اللہ کی لعنت کاذب و مفتری پر۔

٢٣

صفحہ ٤٥٤

جھوٹ نمبر ٧٦...... ”مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

نور! حضرت مجدد صاحبؒ کی عبارت مذکورہ میں مرزا قادیانی نے جس خیانت مجرمانہ و چراغداشتہ جرأت سے کام لیا ہے اس پر قیامت تک علمی دنیا لعنت ونفرت کا وظیفہ پڑھ کر مرزا قادیانی کی روح کو ایصال ثواب کرے گی۔ کیا کوئی غامدی جرأت کر سکتا ہے کہ متذکرہ عبارت مکتوبات امام ربانیؒ میں دکھلا کر اپنے پیشوا کو خائنوں وکذابوں کی قطار سے علیحدہ کر دے۔

جھوٹ نمبر ٧٧...... ”بٹالوی صاحب کا رئیس المکفرین ہونا صرف میرا ہی خیال نہیں بلکہ کثیر گروہ مسلمانوں کا اس پر شہادت دے رہا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نور! مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جو مرزائیت کے شجرہ خبیثہ کے پھلنے پھولنے میں ایک حد تک مانع رہے۔ اس لئے مرزائیت کے پیغمبر کے لئے یہ ضروری تھا کہ ان کو رئیس المکفرین کہہ کر مسلمانوں کے ایک کثیر گروہ کے ذمہ جھوٹی شہادت کا الزام لگائے۔ کیا مرزائیت اپنے پیغمبر اعظم کو راست باز ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کے کثیر گروہ کی ان شہادتوں کو منظر عام پر لائے گی۔ جن کا ذکر مرزا قادیانی نے کیا ہے۔

جھوٹ نمبر ٧٨...... ”مگر خدا نے ان کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) پیدائش میں بھی اکیلا نہیں رکھا بلکہ کئی حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں ان کی ایک ہی ماں سے تھیں۔“

(حاشیہ ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٠٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٢)

نور! مرزا قادیانی کا حضرت مریم صدیقہؒ کی طہارت و عصمت پر کس قدر گھناؤنا و گندہ اتہام ہے کہ انسان اس کے تصور سے بھی کانپ اٹھتا ہے۔ آہ وہ صدیقہ وطاہرہ جس کی پاکدامنی وعفت شعاری پر قرآن کریم نے شہادت دی ہے۔ آج اس فرقہ ملعونہ کے قائد اعظم کے ہاتھوں معاذ اللہ داغدار بن رہی ہے۔ تفو اے چرخ گردوں تفو! مسلمانو! کیا اب بھی تم کو مرزائیت کے ایمان واسلام میں شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ مرزا قادیانی ایک ”پیغمبر“ کہلا کر یہ افتراء اور یہ تحریف، اور یہ خیانت، اور یہ جھوٹ، اور یہ دلیری، اور یہ شوخی ان باتوں کا تصور کر کے بدن کانپتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١٣، ١١٤، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٨)

٢٤

صفحہ ٤٥٥

جھوٹ نمبر ٧٩ ...... ”دوسری گواہی اس حدیث (ان لمهدینا آیتین) کے صحیح اور مرفوع متصل ہونے پر آیت ”فلا یظهر علی غیبه احد الا من ارتضے من رسول“ میں ہے کیونکہ یہ آیت ...... علم غیب محیط اور صاف کا رسولوں پر حصر کرتی ہے۔ جس سے بالضرورت متعین ہوتا ہے کہ ان لمهدینا کی حدیث بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ١٣٥ حاشیہ، حقیقت الوحی ص ١٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٤)

نوٹ ! مرزا قادیانی نے بڑی دیدہ دلیری و جرأت کے ساتھ ایک غیر مرفوع روایت بلکہ قول کو مرفوع متصل حدیث قرار دے کر سراسر کذب وافتراء کا ارتکاب کیا۔ اس لئے کہ خود ہی اس روایت کو مجروح و غلط کہتے ہیں کہ:

الف ...... ”مہدی کی حدیثوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی جرح سے خالی نہیں اور کسی کو صحیح حدیث نہیں کہہ سکتے ۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٢٠٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٧)

ب ...... ”میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں۔ تمام مجروح و مخدوش ہیں اور ایک بھی ان میں صحیح نہیں اور جس قدر افتراء ان حدیثوں میں ہوا ہے۔ کسی اور میں ایسا نہیں ہوا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)

بایں ہمہ مرزا قادیانی کا ان لمهدينا آيتين کو حدیث مرفوع متصل قرار دینا کذب وافتراء کی بدترین مثال ہے۔ لہٰذا غلمدیو ! اگر اپنے پیشوا اکبر کو جہنم کے انگاروں سے بچانا چاہتے ہو تو اس کو حدیث مرفوع متصل ثابت کرو۔ مگر پھر بھی مرزا قادیانی کا دامن کذب کی آلودگی سے صاف نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ پھر اس کو مخدوش و مجروح و غیر صحیح کہنا جھوٹ ہوگا۔

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز قدت را مے شناسم

جھوٹ نمبر ٨٠ ...... ”اور یہ روایتیں (حضرت مسیح کے ایک سو پچیس برس زندہ رہنے اور دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کرنے کی) نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں۔ بلکہ تمام مسلمانوں کے فرقوں میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں ۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٦، خزائن ج ١٥ ص ٥٦)

نوٹ ! ایسی روایتیں حدیث کی جن معتبر و قدیم کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔ ان کے نام وعبارت کے اظہار کی ضرورت ہے اور یہ روایتیں جو تمام مسلمانوں کے فرقوں میں درجہ تواتر وشہرت حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی شہرت و تواتر کو تمام اسلامی فرقوں کی کتب معتبرہ سے ثابت کرو ورنہ ”لعنة الله على الكاذبين“

٢٥

صفحہ ٤٥٦

(ضمیمہ تریاق القلوب ص ١٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٥)

نور! کیا مرزائیت کے کسی لال میں یہ ہمت ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت سے آدم علیہ السلام کا توام (جوڑا) پیدا ہونا دکھلا کر اپنے مہا گرو کی دروغ گوئی کا قفل توڑ دے۔

مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٢٢٠، خزائن ج ٣ ص ٢١٠،٢٠٩)

نور! مرزا قادیانی کا امام بخاری پر یہ اتہام ہے کہ امام موصوف نے اس حدیث کو ضعیف سمجھ کر چھوڑ دی ہے کیوں کہ امام بخاری نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ میں اس کو ضعیف سمجھ کر چھوڑ رہا ہوں۔ ورنہ مرزائیت کا یہ مذہبی فرض ہے کہ مرزا قادیانی کو اس امر میں سچا ثابت کرے۔

یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیش گوئیاں ٹل جائیں۔“

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

مرزائیو! اگر کچھ ہمت ہے تو اس مضمون کو قرآن کریم کی کسی آیت میں دکھلاؤ اور اپنے پیشوائے اعظم کے چہرہ سے اس جھوٹ کی سیاہی کو دور کرو۔

علیہ عقیدہ ہے کہ وعید یعنی عذاب کی پیش گوئی بغیر شرط توبہ اور استغفار اور خوف کے بھی ٹل سکتی ہے۔“

(تحفہ غزنویہ ص ٥، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٥)

نور! اس متفق علیہ عقیدہ کی مجھے بھی تلاش ہے امید کہ مرزائیت اس کا پورا پتہ بتا کر اپنے کرشن کا حق نمک ادا کرے گی۔

ہوئے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٩٩ )

تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا تھا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٨٦، خزائن ج ٢٣ ص ٢٩٩)

٢٦

صفحہ ٤٥٧

نور! مرزا قادیانی نے جس دلیرانہ حیثیت سے اس گندہ جھوٹ سے اپنی زبان وقلم کو آلودہ کیا ہے وہ رہتی دنیا تک ان کے لئے باعث ننگ وعار ہے۔ اگر قادیانیت اپنے مقدس رسول کو سرنگوں و نگونسار دیکھنا گوارا نہیں کر سکتی تو اپنے کیل کانٹوں سے درست ہو کر اس امر کو تاریخ کی سچی روشنی میں ثابت کرے کہ آنحضرت ﷺ کے گیارہ بیٹے پیدا ہو کر فوت ہو گئے تھے۔ ورنہ ’لعنة الله علی الکاذبین‘ اور مشہور حدیث کی وعید جہنم سے مرزا قادیانی کا بچنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔

جھوٹ نمبر ٨٦....... ”اور علم نحو میں صریح یہ قاعدہ مانا گیا ہے کہ توفی کے لفظ میں جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہو۔ ہمیشہ اس جگہ توفی کے معنی مارنے اور روح قبض کرنے کے آتے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٦٢)

نور! مرزائیو! اگرچہ تم کو اپنے مرشد اکبر کے جھوٹ کو سچ کر دکھانے کا جادو گروں و طلسم سازوں سے بھی زائد کمال حاصل ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے اس اعجازی جھوٹ کو علم نحو کی کسی چھوٹی سی چھوٹی کتاب میں بھی نہیں دکھلا سکتے ہو۔ اگر کچھ سچائی و ایمان کی جھلک موجود ہے۔ تو اٹھو اور اپنے مسیح موعود کو سیلاب لعنت سے بچاؤ۔

جھوٹ نمبر ٨٧....... ”ہم نے صدہا طرح کے ظہور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔“

(براہین احمدیہ ج ٢ ص ب ، خزائن ج ١ ص ٦٢)

جھوٹ نمبر ٨٨....... ”ہم نے کتاب براہین احمدیہ کو تین سو براہین قطعیہ وعقلیہ پر مشتمل ..... تالیف کیا ہے۔“

(اشتہار مندرجہ براہین احمدیہ ج ٢ ص ٥ ، خزائن ج ١ ص ٦٦ ، ٦٧)

نور! مرزا قادیانی نے جو براہین احمدیہ میں صداقت اسلام کے تین سو مضبوط اور محکم دلائل قطعیہ عقلیہ لکھے ہیں۔ اس کی زیارت ہم بھی کرنا چاہتے ہیں۔ امت مرزائیہ سے امید ہے کہ ان تین سو دلائل کو براہین احمدیہ میں دکھلا کر اپنے پیغمبر کو کذب و دروغ کی آلودگی سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ دیدہ باید!

جھوٹ نمبر ٨٩....... ”ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں ہیں۔“

(براہین احمدیہ ج ٤ ص ٥١٢ ، خزائن ج ١ ص ٦١١)

نور! مرزا قادیانی جن بیرونی شہادتوں کا سبز باغ دکھایا ہے کیا کوئی ہے کہ جو براہین احمدیہ میں سے قرآن کریم کی حقیقت وافضلیت کی بیرونی شہادتیں نکال کر دکھائے اور مرزا قادیانی کو کذب وافتراء کی زد سے بچائے۔

صفحہ ٤٥٨

جھوٹ نمبر ٩٠....... ”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٥)

نور! مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی نے یہ مضمون اپنی کس کتاب میں تحریر کیا ہے۔ کتاب کا نام معہ تعین صفحہ و عبارت کے پیش کرو اور اپنے رسول برحق کو کذب وافتراء کی وعید سے بچاؤ۔

جھوٹ نمبر ٩١....... ”جواب شبہات الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح جو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی خرافات کا مجموعہ ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٩٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٧١)

نور! مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک ایسا اعجازی جھوٹ ہے جس کی سچائی کے لئے مرزائیت کے تمام فرزندوں میں سراسیمگی وعاجزی پھیلی ہوئی ہے اور طلسم سازی کے تمام اوزار واسباب بیکار ہو گئے ہیں۔ کیونکہ رسالہ مذکورہ حضرت حکیم الامت مولانا الشاہ اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہ العالی کا تصنیف کردہ ہے اور رسالہ کے سرورق پر جلی حرفوں سے آپ کا اسم گرامی بحیثیت مصنف کے لکھا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی پیغمبرانہ نگاہ کو نہیں معلوم کیا ہو گیا تھا۔ جو ایسی صاف وصریح شئے بھی نظر نہیں آئی اور ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کی زندہ مثال پیش کر دی۔ مرزائیو! دیکھتے ہو کہ تمہارے مہدی موعود دریائے کذب میں کس طرح غوطہ لگا رہے ہیں ہمت ہو تو نکالو۔

جھوٹ نمبر ٩٢....... ”جتنے لوگ مباہلہ کرنے والے ہمارے سامنے آئے سب ہلاک ہوئے۔“

(اخبار بدر ج ٢ نمبر ٥٢ ص ٥، مورخہ ٢٧؍ دسمبر ١٩٠٦ء، چشمہ معرفت ص ٣١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٣)

نور ! کیا غلمدیت کے حاشیہ نشین ان سب ہلاک ہونے والوں کی فہرست اسماء شائع کر کے مرزا قادیانی کو سچا ثابت کریں گے۔ حالانکہ صوفی عبدالحق صاحب امرتسری نے ١٨٩٣ء میں بمقام امرتسر مرزا قادیانی کے ساتھ مباہلہ کیا۔ جس کی وجہ سے مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں مرے اور صوفی صاحب موصوف ان کے بعد فوت ہوئے۔ غلمدیو! کہو یہ کون سا دھرم ہے

جھوٹ نمبر ٩٣....... ”خدا تعالیٰ نے یونس علیہ السلام نبی کو قطعی طور پر چالیس دن تک عذاب نازل کرنے کا وعدہ دیا تھا اور وہ قطعی وعدہ تھا۔ جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی۔ جیسا کہ تفسیر کبیر ص ١٦٤ اور امام سیوطیؒ کی تفسیر درمنثور میں احادیث صحیحہ کی رو سے اس کی تصدیق موجود ہے۔“

(انجام آتھم ص ٣٠ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٢٨

صفحہ ٤٥٩

جھوٹ نمبر ٩٤..... ”جس حالت میں خدا اور رسول اور پہلی کتابوں کے شہادتوں کی نظیریں موجود ہیں کہ وعید کی پیش گوئی میں بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈالدی جاتی ہے تو پھر اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی و بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔“

(انجام آتھم ص ٤١، ٤٢ حاشیہ، خزائن ج١١ ص ایضاً)

مرزائیو! نزول عذاب کا قطعی وغیر مشروط خدائی وعدہ قرآن کریم کے کس پارہ وسورہ میں ہے اور وہ احادیث صحیحہ واجماعی عقیدہ بھی نقل کرو۔ تاکہ تمہارے مجدد صاحب کی راست بازی کی قلعی کھل جائے۔

جھوٹ نمبر ٩٥...... ”اس کی مثال ایسی ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیش گوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہ ہوئی۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

نور! یہ بالکل رنگین جھوٹ اور حضور ﷺ پر شرمناک افتراء ہے کہ آپ نے حدیبیہ کی پیش گوئی کے پورا ہونے کی تعیین کر دی تھی۔ کیا غلمدیت کا کوئی فرزند اس امر کو معتبر کتب سے مدلل کر کے اپنے پیشوا کے ناحیہ سے اس تاریک داغ کو دور کر سکتا ہے۔

جھوٹ نمبر ٩٦..... ”وعید یعنی عذاب کی پیش گوئیوں کی نسبت خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ خواہ پیش گوئی میں شرط ہو یا نہ ہو تضرع اور توبہ اور خوف کی وجہ سے ٹال دیتا ہے۔“

(تحفہ غزنویہ ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ٥٣٦)

نور! وعید کی پیش گوئیوں کے تخلف وٹال دینے کو سنت الہیہ قرار دینا دروغ بے فروغ ہے کیا مرزائیت کے خواجہ تاشوں میں اتنی غیرت ہے کہ اس سنت الہی کو کسی معتبر ومستند کتاب میں دکھلا کر اپنے امام الزمان کو کذب ودروغ کی ذلت سے بچائیں گے۔

جھوٹ نمبر ٩٧..... ”کیا یونس علیہ السلام کی پیش گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا۔ حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا اس پر مشکل تھا کہ اس طرح نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ٹال دے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠، ٥٧١)

نور! مرزا قادیانی کا اپنی نکاح والی جھوٹی پیش گوئی کو حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کے ہم پلہ و یکساں قرار دینا اور پھر اس دلیری سے یہ کہنا کہ آسمان پر فیصلہ ہو چکا تھا ....الخ!

٢٩

صفحہ ٤٦٠

اور ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا گیا۔ درحقیقت منہ بھر کر صاف جھوٹ بولنا ہے۔ کیونکہ نہ تو اس ناطق فیصلہ کا کسی آسمانی کتاب میں ذکر ہے اور نہ اس کی منسوخی کا اور اسی طرح یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں کوئی شرط نہیں تھی۔ سفید جھوٹ ہے۔ ”ھاتوا برهانكم ان كنتم صادقين“

جھوٹ نمبر ٩٨ ...... ”میں نے نبیوں کے حوالے بیان کر دئیے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

نور! مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کے سلسلہ میں جن جن آسمانی کتابوں اور حدیثوں کو آگے رکھ دیا تھا۔ ان کے اسماء کے ساتھ ساتھ ان کی صحت و اعتبار کو بھی پیش کیا جائے ورنہ بغیر اس کے انگاروں سے کھیلنا ہے۔

جھوٹ نمبر ٩٩...... ”اس پیش گوئی (نکاح محمدی بیگم) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے اس سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ’ ’ يتزوج ويولد له ‘ ‘ یعنی موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے۔ اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے۔ جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ حاشیہ )

نور! دنیا جانتی ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے یہ پیش گوئی مرزا قادیانی کے نکاح محمدی بیگم کی تصدیق کے لئے ہرگز نہیں فرمائی تھی۔ بلکہ درحقیقت یہ پیش گوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا اس کو اپنے نکاح کے لئے کہنا سراسر افتراء و کذب ہوا۔ دوسرے یہ کہ جب مرزا قادیانی کا نکاح باوجود سعی بسیار محمدی بیگم سے نہیں ہوا اور مرزا قادیانی داغ مفارقت و حسرت و حرمان لئے ہوئے پیوند زمین ہو گئے۔ تو اس سے (معاذ اللہ ) یہ لازم آتا ہے کہ حضرت صادق مصدوق ﷺ کی پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ جو آنحضرت ﷺ پر مرزا قادیانی کا ایک ناپاک اتہام وافتراء ہے۔ جس کی سزا علاوہ روسیاہی و خواری کے نار جہنم بھی ہے۔

نکاح آسمانی ہو مگر بیوی نہ ہاتھ آئے
رہے گی حسرت دیدار تا روز جزا باقی

٣٠

صفحہ ٤٦١

جھوٹ نمبر ١٠٠...... ”قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری دنیا میں دست بدست سزا پا لیتا ہے۔ خدائے قادر و غیور اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

جھوٹ نمبر ١٠١...... ”ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٦٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

نور! قرآن کریم کی جن نصوص قطعیہ سے یہ مضمون صاف طور ثابت ہو رہا ہے۔ اس کی زیارت کے ہم منتظر ہیں اور خصوصاً مرزا قادیانی کی وہ نہایت کامل تحقیقات کی جانب بھی ہماری آنکھیں لگی ہوئی ہیں۔ اگر غلمدیت ان نصوص و کامل تحقیقات کو صاف صاف بیان کرے تو بہت ممکن ہے کہ ...... کے ناصیہ کاذبہ سے اس دروغ کی سیاہی دھل جائے۔

جھوٹ نمبر ١٠٢...... ”آنحضرت ﷺ نے صاف طور پر فرما دیا تھا کہ میری وفات کے بعد میری بیویوں میں سے پہلے وہ مجھ سے ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے روبرو ہی بیویوں نے باہم ہاتھ ناپنے شروع کر دیئے۔ چونکہ آنحضرت ﷺ کو بھی اس پیش گوئی کی اصل حقیقت سے خبر نہ تھی اس لئے منع نہ کیا کہ یہ خیال تمہارا غلط ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٠٠، ٤٠١، خزائن ج ٣ ص ٣٠٧)

جھوٹ نمبر ١٠٣...... ”جب آنحضرت ﷺ کی بیویوں نے آپ کے روبرو ہاتھ ناپنے شروع کئے تھے۔ تو آپ کو اس غلطی پر متنبہ نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٨٨، خزائن ج ٣ ص ٤٧١)

نور! مرزا قادیانی کا یہ بھی سراسر کذب و افتراء ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روبرو بیویوں نے ہاتھ ناپنے شروع کر دیئے تھے اور آپ ﷺ نے دیکھ کر بھی منع نہیں فرمایا کیونکہ حدیث نبوی میں نہ یہ الفاظ ہیں اور نہ آپ ﷺ کی یہ رائے تھی۔ بلکہ یہ صرف نبوت کے بہروپ بدلنے والے مرزا قادیانی کے دماغ کی مجددانہ پیداوار ہے اور نیز یہ کہنا کہ آپ ﷺ (معاذ اللہ) اس غلطی پر تاحیات قائم رہے اور آپ ﷺ کو متنبہ نہیں کیا گیا۔ یہ ایک ایسا گستاخانہ حملہ و شرمناک افتراء ہے جس سے انسان حدود ایمان و اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ پیغمبر سے اگر چہ اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے۔ مگر اس غلطی پر وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی فرماتے ہیں کہ ”انبیاء علیہم السلام غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

٣١

صفحہ ٤٦٢

جھوٹ نمبر ١٠٤...... ”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر با آواز بلند قرآن کریم پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن کریم کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن کریم میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا تھا۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

نور! دنیا پر یہ امر روشن ہے کہ قرآن کریم کا ایک ایک نقطہ اور ایک ایک حرف مسلمانوں کے سینوں وسفینوں میں منقوش ہے۔ مگر بایں ہمہ مرزا قادیانی کا مجدّدانہ شان سے یہ کہنا کہ واقعی طور پر یہ الہامی عبارت ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ اور قادیان کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن کریم میں موجود ہے۔ سفید جھوٹ اعجازی دروغ نہیں ہے تو کیا ہے؟۔ اگر غلمدیت کے نمک خواروں وخواجہ تاشوں کو اپنے امام الزمان کی نگو ساری دیکھنا گوارا نہیں ہے تو اٹھیں اور مسلمانوں واسلام کے موجودہ قرآن کریم میں قادیان کا نام اور وہ الہامی عبارت دکھلائیں اور اگر انہوں نے اس قرآن کریم میں دکھلایا ”جو مرزا قادیانی کے منہ کی باتیں ہیں؟۔“ (حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) تو اس سے کذب کی سیاہی نہیں دور ہو سکتی۔

جھوٹ نمبر ١٠٥...... ”دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑہا اس کے ارادہ سے پیدا ہو جاتے ہیں اور کروڑہا اس کی مرضی سے فقیر سے امیر اور امیر سے فقیر ہو جاتے ہیں۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٤١)

نور! مرزائیو! اگر ہمت ہو تو اپنے نبی مرزا قادیانی کے اس مبالغہ آمیز کذب کو واقعات اور حقائق کی روشنی میں ثابت کرو ورنہ اپنے مسیح موعود کے فرمان کو یاد رکھو کہ ”خدائے غیور کی لعنت اس شخص پر ہے جو مبالغہ آمیز باتوں سے جھوٹ بولتا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

جھوٹ نمبر ١٠٦...... ”میں نے چالیس کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعویٰ کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں۔ وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے

٣٢

صفحہ ٤٦٣

چھوٹے رسالوں کے ہیں۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ٤١٨، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٦٦)

نور! مرزا قادیانی کے جس قدر شائع کردہ اشتہارات تھے۔ وہ سب تبلیغ رسالت نامی کتاب میں جمع کر دئے گئے ہیں جن کی کل تعداد ٢٦١ ہے۔ لیکن آپ ان کو ساٹھ ہزار چھوٹے چھوٹے رسالوں کی شکل میں بتلا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔ ورنہ مرزائیت کے خواجہ تاشوں کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ ان ساٹھ ہزار اشتہارات کو جو چھوٹے چھوٹے رسالوں کی شکل میں ہیں واقعات کی روشنی میں ثابت کر کے مرزا قادیانی کی دروغگوئی کو دور کریں۔

جھوٹ نمبر ١٠٧...... ”مشبہ اور مشبہ بہ میں مشابہت تامہ ضروری ہے۔“

(ست بچن حاشیہ متعلقہ ص ١٦٤ ص ب، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٢)

قادیانیو مولوی فاضلو !

اٹھو اور اپنے سلطان العلوم کے اس صریح جھوٹ کو سچ ثابت کر کے حق نمک ادا کرو اور بتاؤ کیا ”زید کالاسد“ میں مشابہت تامہ ضروری ہے؟ ۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے نبی مرزا قادیانی کے علم وعقل کا بھی دیوالہ نکل چکا تھا۔ کیونکہ خود ہی اس کے بر خلاف لکھ کر اپنی کذب بیانی پر مہر کر دیتے ہیں۔ ”مشابہت کے ثابت کرنے کے لئے پوری مطابقت ضروری نہیں ہوا کرتی۔ جیسا کہ اگر کسی آدمی کو کہیں کہ یہ شیر ہے تو یہ ضروری نہیں کہ شیر کی طرح اس کے پنجے اور کھال ہو اور دم بھی ہو اور آواز بھی شیر کی رکھتا ہو ۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٨ حاشیہ، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩، ازالہ اوہام ص ٦٧، ٦٨ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٥، ١٣٦، تحفہ گولڑویہ ص ٦٣، خزائن ج ١٧ ص ١٩٣)

جھوٹ نمبر ١٠٨...... ” اب تک میرے ہاتھ پر ایک لاکھ کے قریب انسان بدی سے توبہ کر چکا ہے۔“

(ریویو ج ١ نمبر ٩ ص ٣٣٩، بابت ماہ ستمبر ١٩٠٢ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠٥)

مرزا قادیانی اس کے تین سال پانچ ماہ تقریباً گیارہ روز کے بعد تحریر فرماتے ہیں۔

جھوٹ نمبر ١٠٩...... ”میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے معاصی اور گناہوں اور شرک سے توبہ کی۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٩٧)

نور! اس سے یقینی طور پر یہ امر ثابت ہوا کہ ستمبر ١٩٠٢ء سے مارچ ١٩٠٦ء تک تین لاکھ انسانوں نے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا قادیانی متواتر ساڑھے تین سال تک صبح چھ بجے سے لے کر شام چھ بجے تک پے در پے بارہ گھنٹہ بیعت لینے میں مصروف رہتے تھے اور ایک مہینہ میں ٧١٤٣ اور ایک دن میں ٢٣٨ اور ایک گھنٹہ میں ١٩ اور ہر تین

صفحہ ٤٦٤

منٹ میں ایک انسان کو اپنے دس شرائط بیعت مندرجہ ازالہ اوہام ص ٨٥٢، ٨٥٣، خزائن ج ٣ ص ٥٦٢،٥٦٣ سنا کر اور اس سے عمل کا وعدہ لے کر اپنے دام نبوت میں پھنساتے رہے۔

مرزائیو! ایمان سے بتاؤ کیا تمہارے پیشوائے اعظم کی مشغولیت کی بالکل یہی حالت تھی۔ ورنہ پھر یہ مبالغہ گوئی وکذب بیانی مرزا قادیانی کے وقار اعتبار کو خاک آلود کر رہی ہے۔ صفائی کی فکر کرو۔

جھوٹ نمبر ١١٠...... ”اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٧٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

نور! مرزا قادیانی کا یہ بھی کرامتی جھوٹ ہے۔ اس لئے کہ قرآن کریم سے ان پرندوں کا پرواز کرنا ثابت ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود اس امر کے معترف ہیں۔ فرماتے ہیں کہ:

”حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یہ کہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨، خزائن ج ٥ ص ٦٨)

مرزائیو! تناقض واختلاف کی وجہ سے ان دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹ ہے۔ (دیکھو انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ١٩، چشمہ معرفت ج ٣ ص ١٨٨، خزائن ج ٢٣ ص ١٩٦) تعجب ہے کہ پھر ایسے کو نبی، مسیح، مہدی ماننے میں تمہیں غیرت دامن گیر نہیں ہوتی۔

جھوٹ نمبر ١١١...... ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے ہیں اور میری تائید میں ظہور میں آئے۔ اگر ان کے گواہ ایک جگہ اکٹھے کئے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا نہ ہوگا جو اس کی فوج ان گواہوں سے زائد ہو۔“

(اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

نور! مرزا قادیانی کے اس مبالغہ آمیز جھوٹ کی وہی تصدیق کرے گا جو ایمان کے ساتھ عقل سے بھی خالی ہو۔ لیکن جس کا دل ودماغ ایمان وعقل سے آراستہ ہے۔ وہ اس عبارت کی پر زور تکذیب کر کے مرزا قادیانی کو...... تاجدارِ بادشاہ تسلیم کرے گا۔

جھوٹ نمبر ١١٢...... ”قرآن کریم خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

نور! جس طرح یہ سچ ہے کہ قرآن کریم خدا کی کتاب ہے اسی طرح یہ جھوٹ ہے کہ قرآن کریم مرزا قادیانی کے منہ کی باتیں ہیں۔ مرزائیو! یہ منہ اور مسور کی دال۔ ”حلوہ خور دن روئے باید“

٤٤

صفحہ ٤٦٥

جھوٹ نمبر ١١٣...... ”ہمارے نبی ﷺ کو بعض پیش گوئیوں میں خدا کر کے پکارا گیا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦)

نور! جن پیش گوئیوں میں حضور ﷺ کو خدا کر کے پکارا گیا ہے۔ ان کی صحیح عبارت معہ حوالہ کتب معتبرہ کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ امت مرزائیہ نقل کر کے اپنے رسول کا حق نمک ادا کرے گی۔

جھوٹ نمبر ١١٤...... ”جیسا کہ تمام محدثین کہتے ہیں میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں۔ تمام مجروح ومخدوش ہیں اور ایک بھی ان میں سے صحیح نہیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)

جھوٹ نمبر ١١٥...... ”اکابر محدثین کا یہی مذہب ہے کہ مہدی کی حدیثیں سب مجروح اور مخدوش بلکہ اکثر موضوع ہیں اور ایک ذرہ ان کا امتیاز نہیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٨٦، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)

نور! مرزا قادیانی نے تمام محدثین واکابر محدثین کا نام لے کر نہ صرف دھوکہ دیا ہے بلکہ حضرات محدثین کے مقدس گروہ پر ایک شرمناک اتہام باندھا ہے۔ نیز مہدی کی تمام احادیث کو موضوع غیر معتبر مجروح مخدوش قرار دینا سراسر جھوٹ ہے۔ ورنہ پھر آپ نے اپنی خانہ ساز مہدویت کے ثبوت میں روایت ان لمہدینا آیتین کو حدیث مرفوع متصل بنا کر کیوں پیش کی؟۔

جھوٹ نمبر ١١٦...... ”میں اس بات کو صاف صاف بیان کرنے سے رہ نہیں سکتا کہ یہ قرآن کریم کی تفسیر کر کے شائع کرنا میرا کام ہے۔ دوسرے سے ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ جیسا مجھ سے۔“

(ازالۃ اوہام ج ٢ ص ٣١٥، خزائن ج ٣ ص ٥١٨)

نور! کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کوئی تفسیر قرآن کریم کی شائع کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ اس کے کلام میں غلمدیت کے جراثیم پیوست کئے جائیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کو اس میں بھی ناکام و نامراد کیا۔ جیسا کہ مرزائیت کے سعادت مند فرزند منشی قاسم علی لکھتے ہیں کہ ”تفسیر اگرچہ فی نفسہ اسلام کی ایک خدمت ہے۔ مگر وہ تفسیر ہرگز تفسیر نہیں کہلا سکتی جس کا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو اشتیاق تھا۔“

(اخبار فاروق ٧؍ نومبر ١٩٢٩ء)

٣٥

صفحہ ٤٦٦

جھوٹ نمبر ١١٧......... الف........ ’’اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور تمام ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی۔‘‘

(ایام الصلح اردو ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٨١)

ب....... ’’کیونکہ وحدت قومی اسی نائب النبوت (مرزا قادیانی) کے عہد سے وابستہ کی گئی....... یہ عالم گیر غلبہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)

نوٹ! یہ امر مسلم ہے کہ مرزا قادیانی بقول خود مسیح موعود اور اس عہدے کے انچارج تھے۔ تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ تمام ملل باطلہ ہلاک ہو جاتیں اور ہر چہار طرف صرف اسلام ہی اسلام نظر آتا۔ مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسا ہوا؟۔ بلکہ مرزائیت کے اصول پر تمام ملل باطلہ کا ہلاک ہونا اور ایک ہی مذہب کو سب لوگوں کا قبول کر لینا ناممکن ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ’’یہ تو غیر ممکن ہے کہ تمام لوگ مان لیں کیونکہ بموجب آیت ’وكذلك خلقهم‘ اور بموجب آیت ’وجاعل الذين اتبعوك....... الخ!‘ سب کا ایمان لانا خلاف نص صریح ہے۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٧٤)

’’اور یہ خیال کرنا کہ کوئی ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ تمام لوگ اور تمام طبائع ملت واحدہ ہو جائیں گی یہ غلط ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٢١٨، خزائن ج ١٧ ص ٣١٩)

اور مرزائیت کے نقار خانہ کی طوطی اپنے مالک کے خلاف اس طرح سے چہک رہی ہے کہ ’’ابناء آدم کا ایک عقیدہ پر جمع ہو جانا نہ صرف خلاف قرآن اور خلاف اسلام ہے۔ بلکہ خود عقل اور سنت الٰہیہ کے خلاف ہے۔‘‘

(الفضل ج ٧ نمبر ٩٩ ص ٩، ٢٠؍مئی ١٩٣٠ء)

جھوٹ نمبر ١١٨...... ’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہارات شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)

نوٹ! ناظرین کرام! مرزا قادیانی کی عمر کا اکثر حصہ اور پچاس الماریوں کو پیش نظر رکھ کر فرمائیے کہ اس نبی (یعنی مرزا قادیانی) کی دروغگوئی و لاف زنی میں کچھ شبہ ہو سکتا ہے اور اسی سے مرزا قادیانی کی ان بلند بانگ تبلیغی سرگرمیوں کا پول کھل رہا ہے۔ جن کو ان کی امت در بدر اچھالتی پھرتی ہے۔ اس لئے کہ جب مرزا قادیانی نے اپنی گرانمایہ عمر کے اکثر حصہ یاجوج ماجوج

٣٦

صفحہ ٤٦٧

دجال اعظم قوم انگریزی کی حمایت واعانت میں صرف کی اور بقیہ عمر کو اپنی مسیحیت ونبوت و دیگر دعاوی کی شکست وریخت کی درستگی میں لگائی تو اسلامی تبلیغ کا افسانہ شیخ چلی کا افسانہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اللہ اکبر یہ وہ مسیح موعود ہیں جو عیسائیت کے ستون کو گرانے آئے تھے۔ لیکن اس کے استیصال وتخریب کے بجائے خود ہی اپنی عمر کے اکثر حصہ کو اس کی حمایت واعانت میں فخر ومباہات کے ساتھ صرف کرتے ہیں۔

وہ اور شور عشق میرے جی میں بھر گئے
کیسے مسیح تھے کہ جو بیمار کر گئے

کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی کل تصانیف اسی (٨٠) کے قریب ہیں۔ پیغام صلح ص٢، ١٧؍اگست ١٩٣٢ء اور ١٢٦١ اشتہارات ہیں۔ (تبلیغ رسالت) اگر ان میں سے مرزا قادیانی کی خانہ ساز نبوت ومصنوعی مسیحیت ودیگر اختراعی دعاوی کے مکر و دسیسہ پُر مضامین ودلائل کے انبار اور ان کی تعلیوں و شیخیوں کے پشتارہ کو دور کر دیا جائے اور اس طرح آپ نے اپنے مخالفین کو جو کچھ تلخ تر جوابات وانبیاء علیہم السلام، علماء اسلام کو گالیاں مرحمت فرمائی ہیں۔ ان سب کو علیحدہ کر لیا جائے تو پھر ان پچاس الماریوں وعمر کا اکثر حصہ کا سربستہ راز طشت از بام ہوکر مرزا قادیانی اور ان کی امت کی ذلت وخواری کا باعث ہو جاتا ہے۔

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یہ رسوائیاں ہوتیں

جھوٹ نمبر ١١٩...... ”میں وہ شخص ہوں جس کے ہاتھ پر صد ہا نشان ظاہر ہوئے۔“

(ملخصاً تذکرۃ الشہادتین ص٣٤، خزائن ج٢٠ ص٣٦، اکتوبر ١٩٠٣ء)

نوٹ! اور اسی کتاب کے اسی صفحہ میں دو سطر کے بعد ہی آپ کی کذب آمیز اعجازی ترقی نے ”ان صد ہا نشان کو دو لاکھ سے زائد نشان بنادیا۔“ مگر اسی پر بس نہیں بلکہ اس کتاب کے ”ص٤١، خزائن ج٢٠ ص٤٣، ٦٣، ٦٥“ میں آپ نے بیک جست ”دس لاکھ“ سے زیادہ نشان حاصل کر لئے۔ مگر بایں ہمہ مرزا قادیانی کی ان معجز نما ڈینگی ترقیوں نے آپ کی کذب بیانی ولغو گوئی پر مہر لگادی ہے۔

جھوٹ نمبر ١٢٠...... ”پھر ہزار چہارم کے دور میں ضلالت نمودار ہوئی اور اسی ہزار چہارم میں سخت درجہ پر بنی اسرائیل بگڑ گئے اور عیسائی مذہب تخم ریزی کے ساتھ خشک ہو گیا اور اس کا پیدا ہونا اور مرنا گویا ایک ہی وقت میں ہوا۔“

(لیکچر سیالکوٹ ص٦٧، خزائن ج٢٠ ص٢٠٧)

٣٧

صفحہ ٤٦٨

نور! مرزائیو! اگر اپنے گرو کو راست باز دیکھنا چاہتے ہو تو تاریخ اور واقعات کی سچی روشنی میں اس امر کو ثابت کرو کہ عیسائی مذہب ہزار چہارم میں تخم ریزی کے ساتھ خشک ہو گیا۔

جھوٹ نمبر ١٢١..... ”اس فقرہ میں دان ایل نبی بتلاتا ہے کہ اس نبی آخر الزمان کے ظہور سے جو محمد مصطفیٰ ﷺ ہے جب بارہ سو نوے ١٢٩٠ برس گزریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور تیرہ سو پینتیس ١٣٣٥ ہجری تک اپنا کام چلائے گا۔ یعنی چودہویں صدی میں سے پینتیس برس برابر کام کرتا رہے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٩١، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٢، حاشیہ)

نور! مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی کے مطابق ١٣٣٥ھ تک زندہ رہنا ضروری تھا۔ لیکن آپ نے اس قدر عجلت کی ہے کہ ١٣٢٦ھ میں وقت مقررہ سے نو برس پیشتر تشریف لے گئے تا کہ دنیا اس امر کا مشاہدہ کر لے کہ ”دروغگو کو خدا تعالیٰ اسی جہان میں ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤١)

چنانچہ اس کے باعث مرزائیت کچھ ایسی شرمسار و سراسیمہ ہورہی ہے کہ کچھ بنائے نہیں بنتی۔

جھوٹ نمبر ١٢٢..... ”اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کی آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ” یوماً یأتی ربک فی ظلل من الغمام “ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور اپنا چہرہ دکھلائے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)

نور! یہ عربی عبارت جو آیت قرآنی کے حوالہ سے لکھی گئی ہے۔ سراسر جھوٹ ہے۔ اس لئے کہ موجودہ قرآن کریم میں یہ آیت نہیں ہے۔ البتہ اگر اس قرآن کریم میں ہو جو مرزا قادیانی کے ”منہ کی باتیں ہیں“ تو بعید از قیاس نہیں دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ اس جھوٹی و مصنوعی آیت کو اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں اس کا بھی ذکر نہیں۔

جھوٹ نمبر ١٢٣..... ”پس اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ ہزار پنجم میں یعنی الف خامس میں ظہور فرما ہوئے نہ کہ ہزار ششم میں اور یہ حساب بہت صحیح ہے کیونکہ یہود اور نصاریٰ کے علماء کا تواتر اسی پر ہے اور قرآن کریم اسی کا مصداق ہے۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ١٥١، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٧)

٣٨

صفحہ ٤٦٩

نور! یہود ونصاریٰ کے علماء کا تواتر اور قرآن کریم کی تصدیق پیش کر کے مرزا قادیانی کو راست باز ثابت کرو۔ حالانکہ مرزا قادیانی اس کے برخلاف اسی کتاب کے (حاشیہ ص ١٥٠، خزائن ج ١٧ص ٢٣٦) میں تحریر فرما چکے ہیں کہ ”امر واقعی اور صحیح یہ ہے کہ بعثت نبوی ہزار ششم کے آخر میں ہے۔ جیسا کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ بالاتفاق گواہی دے رہی ہیں۔“ قادیانیو! اپنے مجدد کا فرمان سنو کہ ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

جھوٹ نمبر ١٢٤...... ”بہر حال ہمارے بھائی مسلمانوں پر لازم ہے کہ گورنمنٹ (برطانیہ) پر ان کے دھوکوں سے متاثر ہونے سے پہلے بے حد طور پر اپنی خیر خواہی ظاہر کریں۔ جس حالت میں شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے۔ جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں قطعی حرام ہے۔“

(ضمیمہ شہادۃ القرآن ص ١٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٩، حاشیہ)

نور! غلمدیت کے حلقہ بگوش شریعت اسلام کے اس واضح مسئلہ اور تمام مسلمانوں کے اتفاق کو وضاحت سے ثابت کر کے اپنے نبی (مرزا قادیانی) کے ناموس نبوت کو پاک وصاف کریں۔

جھوٹ نمبر ١٢٥...... ”چنانچہ جس قیصر کو ہمارے نبی ﷺ نے خط لکھا تھا۔ جس کا ذکر صحیح بخاری میں پہلے صفحہ میں ہی موجود ہے۔“

(انجام آتھم ص ٣٩، خزائن ج ١١ ص ٣٩ حاشیہ)

نور! قیصر کا ذکر بخاری شریف کے پہلے صفحہ میں نہیں اس لئے جھوٹ ہے۔

جھوٹ نمبر ١٢٦...... ”اور نبیوں کی پیش گوئیوں میں تھا کہ امام آخر الزمان میں یہ دونوں صفتیں (روح القدس سے تائید یافتہ اور مہدی ہونا) اکٹھی ہو جائے گی۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٩ حاشیہ)

جھوٹ نمبر ١٢٧...... ”جس شخص (مرزا قادیانی) کو تمام نبی ابتداء دنیا سے آنحضرت ﷺ تک عزت دیتے آئے۔...... بلکہ خدا کی کتابوں میں اس کی عزت انبیاء علیہم السلام کے ہم پہلو رکھی گئی ہے۔“

(اربعین ص ٢٢ نمبر ٢، خزائن ج ١٧ ص ٣٦٩)

جھوٹ نمبر ١٢٨...... ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں ۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥، تذکرہ ص ٥٩١)

٣٩٠

صفحہ ٤٧٠

نور! مرزا قادیانی جس جگہ اور جس حالت میں مرے ہیں وہ دنیا پر روشن ہے کہ آپ نے بمرض ہیضہ بمقام لاہور پاخانہ میں جان دی۔ مرزا قادیانی نے سچ فرمایا کہ ”ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے..... ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٢٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

قادیانی ممبرو! کہو یہ کون سا دھرم ہے؟۔

جھوٹ نمبر ١٢٩: ”اور یہ بالکل صحیح ہے کہ ہم کہیں کہ داؤد علیہ السلام کرشن تھا یا کرشن داؤد علیہ السلام تھا۔“

(نصرۃ الحق ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧)

نور! حضرت داؤد علیہ السلام کو ہندو کرشن کا مصداق بتانا یا ان کو حضرت داؤد علیہ السلام کہنا یہ صرف مرزا قادیانی ہی کی پیغمبرانہ جرات و بیباکی یا مجددانہ کذب وافتراء ہے۔ مرزائیو! اس کو یاد رکھو کہ ”جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہ سہی پانچ سو سہی۔“

(ازالہ ص ٨٦٦، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)

جھوٹ نمبر ١٣٠: ”اگر میرے رسالہ تحفہ گولڑویہ اور تحفہ غزنویہ کو ہی دیکھو..... جن کو آپ لوگ صرف دو گھنٹہ کے اندر بہت غور اور تامل سے پڑھ سکتے ہیں۔“

(اربعین نمبر ٢ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٣٧٠)

نور! تحفہ گولڑویہ جو ٢٠×٢٦ کی تقطیع کے دوسواڑتیس (٢٣٨) صفحوں میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر صفحہ میں تیس سطریں ہیں۔ صرف وہی دو گھنٹہ کے اندر تامل و غور سے نہیں پڑھی جاسکتی اور اگر تحفہ غزنویہ کو بھی شامل مطالعہ و غور کر لی جائے تو اس کا کذب عظیم ہونا اور بھی عیاں ہو جاتا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی یہ مبالغہ آمیز کذب بیانی جو واقعات کے سراسر مخالف ہے۔ ان کی نبوت کے پردہ کو چاک کر رہی ہے۔ مرزائیو! رفو کی فکر کرو۔

جھوٹ نمبر ١٣١: ”اور چونکہ یہ بات مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہے کہ آخری زمانہ میں ہزارہا مسلمان کہلانے والے یہودی صفت ہو جائیں گے اور قرآن کریم کے کئی ایک مقامات میں بھی یہ پیش گوئی موجود ہے۔“

(کشتی نوح ص ٤٣، ٤٤، خزائن ج ١٩ ص ٤٧)

نور! غلمدیو! قرآن کریم کی ایسی پیش گوئیوں کو جو حسب تحریر مرزا قادیانی ایک دو جگہ نہیں بلکہ کئی ایک مقامات میں موجود ہیں۔ نقل کر کے بتاؤ کہ کیا ان آیتوں سے اس مضمون کی پیش گوئی کو حضورﷺ وصحابہ کرامؓ واکابر ملت نے بھی استنباط فرمایا ہے۔ کیونکہ تمہارے پیغمبر تحریر کرتے

٤٠

صفحہ ٤٧١

ہیں کہ ”قرآن کی جو تاویل و تفسیر نہ خدا اور رسول ﷺ کے علم میں ہو اور نہ صحابہؓ و تابعین واولیاء وابدال کے علم میں ہو وہ قابل اعتبار نہیں ۔“

(ملخصاً آئینہ کمالات اسلام حاشیہ ص ٢٢٧، خزائن ج ٥ ص ٢٢٧)

نیز یہ بات مسلمانوں کا عقیدہ کیوں کر ہوئی اسلام کی معتبر کتب سے اس کا ”عقیدہ“ ہونا ثابت کرو نہیں تو اس بات کو یاد رکھو کہ ”دروغگو انسان کتوں و بندروں سے بھی بدتر ہوتا ہے۔“

(ملخصاً ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٢٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

جھوٹ نمبر ١٣٢...... ”چنانکہ در قرآن کریم مسطور است وانبیاء علیہم السلام سابقین ہم ازاں خبر دادہ اند کہ وبائے مہلک (طاعون) دراں جزء زماں آنچناں پدید گردد کہ ہیچ قصبہ یا قریہ ازاں مستثنی نخواہد ماند!“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣، خزائن ج ٢٠ ص ٤)

نور ! مرزائیت کی پوجا کرنے والے بتائیں کہ قرآن کریم کی کس آیت میں اس کا ذکر ہے اور کیا آنحضرت ﷺ و صحابہ کرامؓ واکابر امت نے اس آیت کی ایسی تفسیر کی ہے۔ و نیز جن انبیاء سابقین نے اس خبر سے مرزا قادیانی کو مطلع فرمایا ہے۔ اس سے بھی صفحہ قرطاس کو مزین کریں۔ ورنہ مرزا قادیانی کے پردہ نبوت کا تار تار الگ ہو رہا ہے۔

جھوٹ نمبر ١٣٣..... ” در قرآن کریم و کتب احادیث و دیگر صحف مسطور است کہ دراں ایام یک مرکب جدید حادث گردد کہ بزور آتش حرکت نماید...... پس آں مرکب در عرف ہندوستان ریل نامند!“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٥)

نور! قرآن کریم وصحف انبیاء کی جن آیتوں میں یہ امر مسطور ہے اس کو پیش کر کے بتاؤ کہ کن کن صحابیوں اور بزرگوں نے ان آیتوں کی یہ تفسیر کی ہے۔ نہیں تو ”خدا کے جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لئے لعنت ہے۔ بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٩٨)

یہ اصل عبارت یہ ہے کہ ”سید صاحب (سرسید احمد خان صاحب)...... اس کی (قرآن کریم کی) تعلیم اور اس کی ہدایتوں سے ایسے دور جاپڑے کہ جو تاویلیں قرآن کریم کی نہ خدا تعالیٰ کے علم میں تھیں نہ اس کے رسول کے علم میں نہ صحابہؓ کے علم میں نہ اولیاء اور قطبوں اور غوثوں اور ابدال کے علم میں...... وہ سید صاحب کو سوجھیں۔“

(حاشیہ آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٤١

صفحہ ٤٧٢

جھوٹ نمبر ١٤٤..... ”حضرت حق سبحانہ وعم برھانہ مرا برسرقرن چہار دہم مامور فرمودہ است ودلائل وبراہین لاتعد ولا تحصے متعلق تصدیق من بجہۃ بصیرت شما مہیا گردانیدہ وازفوق آسمان تاسطح زمین بردعاوى من آيات بينات خويشتن را ہویدا ساخت چنانچہ جميع انبياء کرام علیہم السلام بربعثت من خبردادہ اند!“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٣، خزائن ج ٢٠ ص ٦٤)

جھوٹ نمبر ١٤٥..... ”یہ تین نبی یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اور مسیح علیہ السلام اور یونس علیہ السلام قبر میں زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی اس میں رہے اور زندہ ہی نکلے۔“

(ست بچن حاشیہ ص ١٦٢، خزائن ج ١٠ ص ٣١٠)

نور! مرزائیت کی پرستش کرنے والوں کا یہ فرض ہے اس قول میں مرزا قادیانی کو سچا ثابت کر کے ان کی نبوت کی لاج رکھیں نہیں تو ”دروغگو کا انجام ذلت ورسوائی ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٣)

جھوٹ نمبر ١٤٦..... ”لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔“

(حمامۃ البشریٰ ص ٢١، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢)

نور! صرف یہی ایک سفید و سیاہ جھوٹ مرزا قادیانی کی مصنوعی نبوت کے تار تار کو الگ کرنے کے لئے کافی سے زائد ہے۔ اس لئے کہ دو صحیح حدیثوں میں نزول ”من السماء“ کا لفظ موجود ہے۔ مگر مرزائیت کے پیغمبر اعظم کی پیغمبرانہ نگاہیں کچھ اس قدر دھندلی اور غبار آلود تھیں کہ اس کو رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں آسمان کا لفظ تک نظر نہ آیا اور اس علمی بے بضاعتی وکوتاہ نگاہی کے باوجود آپ کے کمالات وخیالات کی ان بلند پروازیوں اور وسعت علمی ودعویٰ ہمہ دانی کی شیخیوں اور تعلیوں پر نظر ڈالئے۔ جو آپ کی یا امت مرزائیہ کی کتابوں میں خود رو گھاس کی طرح پھیلی ہوئی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک مافوق الفطرت کمالات وفضائل کے مالک ہیں۔ حالانکہ واقعات وحالات آپ کے مسیلمۃ الکذاب ہونے میں تو شک وشبہ کو راہ نہیں دیتے البتہ انسانیت کو مشتبہ بناتے ہیں۔

وہ حدیث جس میں آسمان کا لفظ موجود ہے ملاحظہ فرما کر مرزا قادیانی کی دروغگوئی پر یہ کہئے کہ ”جھوٹے پر اگر ہزار لعنت نہیں تو پانچ سو سہی۔“

(ازالۃ اوہام ص ٨٦٦، خزائن ج ٣ ص ٥٧٢)

٤٢

صفحہ ٤٧٣

ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم “

(بیہقی کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤ طبع بیروت)

سبعون الفاً من الیہود علیہم السیجان (الی قولہ) قال ابن عباس قال رسول اللہ ﷺ فعند ذالك ینزل أخی عیسی بن مریم من السماء!

(کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث نمبر ٣٩٧٢٦)

اور خود مرزا قادیانی بھی اس لفظ آسمانی کی تصدیق و تائید کرتے ہیں کہ: ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٤٢)

”آپ (آنحضرت ﷺ) نے فرمایا تھا کہ مسیح علیہ السلام آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔“

(تشحیذ الاذہان ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٥ ج ١ نمبر ٦)

قادیانیو! مرزا قادیانی مسیح موعود (نبی) کہلا کر یہ افتراء اور یہ تحریف اور یہ خیانت اور جھوٹ اور یہ دلیری اور یہ شوخی ان باتوں کا تصور کر کے بدن کانپتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١١٣، ١١٤، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٨)

”لامہدی الا عیسی“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)

نوٹ! بالکل جھوٹ ہے اس لئے کہ محدثین کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے۔ ”الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ٢٣٦، طبع جدہ“ میں ہے کہ ”مما ورد فی بعض الحدیث انہ لا مہدی الا عیسی بن مریم مع کونہ ضعیفاً عند الحفاظ یجب تاویلہ ...... انہ حدیث ضعیف خالف احادیث صحيحه “

ہے ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت ہی لئے گئے ہیں۔“

(ازالہ ص ٤٢٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٤٤)

نوٹ! مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک سفید جھوٹ ہے اس لئے کہ مندرجہ ذیل آیتوں میں توفی کے معنی موت کے نہیں ہیں۔

٤٣

صفحہ ٤٧٤

١...... ”وهوالذى يتوفكم بالليل ويعلم ماجرحتم بالنهار“

(الانعام ٦٠)

٢...... ”الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها“

(الزمر ٤٢)

جھوٹ نمبر ١٣٩..... ”علم لغت میں یہ مسلم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہے۔ وہاں بجز مارنے اور کوئی معنے توفی کے نہیں آتے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٣، خزائن ج ١٧ ص ٩٠)

نور! اگر قادیانیت کے پوجاری اس مسلم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ کو علم لغت کی کسی چھوٹی سے چھوٹی یا بڑی سے بڑی کتاب میں دکھائیں تو بہت ممکن ہے کہ ان کے ”کرشن جی کا دلفریب مندر“ منہدم و مسمار ہونے سے محفوظ رہ جائے۔ نہیں تو مرزا قادیانی کے اس فرمان کو یاد رکھو کہ ”اے مفتری نابکار کیا اب بھی ہم نہ کہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

جھوٹ نمبر ١٤٠..... ”پھر اس کے بعد تیرہ سو برس تک کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٩٢)

جھوٹ نمبر ١٤١..... ”الغرض جب کہ میں نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال آئمہ اربعہ اور وحی اولیائے امت محمدیہ اور اجماع صحابہ میں بجز موت مسیح علیہ السلام کے اور کچھ نہیں پایا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٩، ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ٩٢، ٩٥، ٩٩)

نور! مرزا قادیانی کا حضرات صحابہ کرامؓ آئمہ اربعہ اور اولیائے امت محمدیہؒ پر ایک لعنتی افتراء و اتہام ہے۔ اس لئے کہ اجماع امت مسلمہ اور احادیث صحیحہ متواترہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کو مدلل کر رہی ہے۔ جن کو بصارت کے ساتھ بصیرت بھی ملی ہے وہ دیکھیں اور غور کریں۔

١...... ”روى عن ابى هريره وابن عباس وابى العالية وابى مالك وعكرمة والحسن وقتادة والضحاك وغيرهم قد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسىٰ عليه السلام قبل يوم القيمة اماما عادلا وحكما مقسطاً...... وقد ذكر الحافظ فى الفتح تواتر نزوله عليه السلام عن ابى الحسين الابرى وقال فى التلخيص الخبير ج ٣ ص ٤٦٢ من

٤٤

كتاب الطلاق واما رفـ ببدنه حيا...... وقال وهو حى على الصحيح

﴿حضرت ابو صحابہ کرامؓ سے مروی ہے قیامت سے پہلے امام عادل میں ابوالحسین آبری سے موصوف تلخیص الخبیر کتاب ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ الباری میں حضرت ادریس حضرت عیسیٰ علیہ السلام بم

٢...... المتواتر من ان عيس

﴿تمام امت ہیں اور قیامت کے قریب ہیں۔﴾

٣...... الى الارض“

﴿اور تمام ا پر موجود ہیں اور زمیں پر

٤...... الامة على نزوله سفة والملاحدة ويحكم بهذه الشر السماء وان كانت التـ

صفحہ ٤٧٥

کتاب الطلاق واما رفع عیسٰی فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انه رفع ببدنه حیا...... وقال فی الفتح من باب ذکر ادریس لان عیسیٰ ایضاً قدرفع وهو حی علی الصحیح“

(عقیدۃ الاسلام طبع کراچی ص ٨)

﴿حضرت ابو ہریرہ وابن عباس، وابوالعالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک و دیگر صحابہ کرامؓ سے مروی ہے کہ اس بارہ میں احادیث نبویہ متواتر ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے امام عادل اور منصف حاکم ہوکر نازل ہوں گے...... اور حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں ابوالحسین آبری سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متواتر نقل کی ہیں اور حافظ صاحب موصوف تلخیص الخبیر کتاب الطلاق میں فرماتے ہیں کہ تمام محدثین ومفسرین کا اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی جسم عصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور فتح الباری میں حضرت ادریس علیہ السلام کے ذکر کے سلسلہ میں یہ فرمایا ہے کہ بنابر صحیح مذہب کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ آسمان پر موجود ہیں۔﴾

......٢ ”قال ابن عطیه واجمعت الامة علی ما تضمنه الحدیث المتواتر من ان عیسٰی فی السماء حی انه ینزل فی آخر الزمان“

(بحر المحیط ج ٢ ص ٥٦٧، زیر آیت انی متوفاکم......الخ!)

﴿تمام امت کا اس پر اجماع ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ جیسا کہ احادیث متواترہ اس کی شہادت دے رہی ہیں۔﴾

......٣ ”واجمعت الامة علی ان عیسیٰ حی فی السماء وینزل الی الارض“

(النہر الماد ج ٢ ص ٤٧٣)

﴿اور تمام امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور زمین پر نزول فرمائیں گے۔﴾

......٤ ”واما الاجماع فقال السفارینی فی اللوامع قد اجتمعت الامة علی نزوله ولم یخالف فیه احد من اهل الشریعة وانما انکر ذلک الفلا سفة والملاحدة ممن لا یعتد بخلافه وقد انعقد اجماع الامة علی انه ینزل ویحکم بهذه الشریعة المحمدیه ولیس ینزل بشریعة مستقلة عند نزوله من السماء وانکانت النبوة قائمة به وهو متصف بها“

(کتاب الاذاعة ص ٧٧)

٤٥

صفحہ ٤٧٦

امام سفارینی فرماتے ہیں کہ تمام امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہو گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور نازل ہوں گے اور بجز ملحدوں فلسفیوں بددینوں (قادیانیوں) کے اور کوئی اس کا مخالف نہیں ہے اور ان لوگوں کا اختلاف کرنا نا قابل اعتبار ہے اور اس پر بھی تمام امت محمدیہ متفق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر شریعت محمدیہ کی اتباع کریں گے اور کوئی مستقل شریعت لے کر نہ آئیں گے۔ اگر چہ وہ صفت نبوت سے موصوف ہوں گے۔

جھوٹ نمبر١٤٢...... ”قرآن کریم کے رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے۔“

(کشتی نوح حاشیہ ص ٦٨، خزائن ج ١٩ ص ٧٥)

نور! قرآن کریم کی کس آیت کا یہ مضمون ہے اور کیا کسی نے اس آیت سے اس مضمون کو سمجھا ہے۔ نہیں تو ”دروغگو کا انجام ذلت و رسوائی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٣)

جھوٹ نمبر١٤٣...... ”مسیح کا منارہ جس کے قریب اس کا نزول ہوگا۔ دمشق سے شرقی طرف ہے اور یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے جولا ہور سے گوشۂ مغرب اور جنوب میں واقع ہے۔“

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ٢٢، خزائن ج ١٦ ص ایضاً، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٨٨)

نور! حالانکہ قادیان لاہور سے شمال و مشرق کی طرف واقع ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی جغرافیہ دانی ملاحظہ فرمائیے کہ آپ اس کو گوشۂ مغرب اور جنوب میں واقع کر رہے ہیں تا کہ پنجاب کے پرائمری اسکول کے طالب علم قادیانی پیغمبر کے علم وعقل پر تمسخر و استہزاء کریں اور یہ کہیں کہ:

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

اور مرزا قادیانی کا خود اپنے متعلق کیا ہی بہترین فیصلہ ہے کہ ”ممکن ہے (بلکہ واقع ہے) کہ کئی لوگ میری ان باتوں پر ہنسیں گے یا مجھے پاگل اور دیوانہ قرار دیں۔“

(کشف الغطاء ص ١٢، خزائن ج ١٤ ص ١٩٣)

جھوٹ نمبر١٤٤...... ”عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ کے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

٤٦

صفحہ ٤٧٧

نور! مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک ایسا صاف وصریح توہین آمیز جھوٹ ہے جس سے مذہبی دنیا کا کوئی فرد انکار نہیں کرسکتا۔ بالخصوص وہ اسلامی فرقہ جس کا ایمان ویقین قرآن کریم کے متعلق ہے اور اس کے سامنے قرآن کریم کے وہ صفحات کھلے ہوئے ہیں۔ جن میں صاف لفظوں میں معجزات کا ذکر موجود ہے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ ”ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کے صاحب معجزات ہونے سے انکار نہیں ۔ بے شک ان کے بھی بعض معجزات ظہور میں آئے ہیں ..... قرآن کریم سے بہر حال ثابت ہوتا ہے کہ بعض نشان ان کو دیئے گئے تھے ۔“

(شہادۃ القرآن حاشیہ ص ٧٦، خزائن ج ٦ ص ٣٧٣)

الحمدللہ کہ مرزا قادیانی نے خود ہی اپنی حق بات کو ناحق بتا کر کاذب بن گئے ہیں۔

(فہو المراد)

جھوٹ نمبر ١٤٥ ...... ”عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے مگر ان پڑھے لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہیں دے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ١١٩)

نور! مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی ١٣٠٨ھ میں کی تھی۔ جس کو آج ٤٣ برس ہوچکے ہیں۔ مگر کیا مرزائیت کا کوئی سپوت اس امر کو بتا سکتا ہے کہ تعلیم یافتہ ہندوؤں میں کمی ہے بلکہ ان میں ایسی روز افزوں ترقی ہے کہ دوسری قومیں ان کو نگاہ رشک سے دیکھ رہی ہیں۔ کچھ عجب نہیں کہ قدرت نے ہندوؤں میں تعلیم کی ترقی صرف مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط کرنے کے لئے کی ہو۔ خدارا! ایمان سے بتاؤ کہ کیا اب تمام ہندوستان میں کوئی پڑھا لکھا ہندو نظر نہیں آرہا ہے اور بالخصوص تمہارے کرشن اوتار کے استھان ( قادیان) میں اب کوئی پڑھا لکھا ہندو نہیں دکھائی دیتا۔

لعنة الله على الكاذبين!

جھوٹ نمبر ١٤٦ ...... ”ایک دفعہ حضرت مسیح زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہوگئے۔ دوبارہ آکر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہشمند ہیں۔“

(اخبار بدر ج ٦ نمبر ١٩ ص ٥، ٩ مئی ١٩٠٧ء)

نور! مرزائیو! اس امر کا ثبوت پیش کرو کہ کئی کروڑ انسانوں کا مشرک ہونا حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کا نتیجہ تھا۔ ورنہ جھوٹے و مفتری پر خدا کی لعنت۔

٤٧

صفحہ ٤٧٨

جھوٹ نمبر ١٤٧....... ”آیات کبریٰ تیرہویں صدی میں ظہور پذیر ہوں گی۔ اس پر قطعی اور یقینی دلالت کرتی ہے کہ مسیح موعود کا تیرہویں صدی میں ظہور یا پیدائش واقع ہو...... لہٰذا علماء کا اسی بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ بعد المائتین سے مراد تیرہویں صدی ہے اور الآیات سے مراد آیات کبریٰ ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٨)

نور! مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ صریح جھوٹ ہے کہ علماء کا اس امر پر اتفاق ہو گیا ہے کہ ”الآیات بعد المائتین“ سے مراد تیرہویں صدی ہے جو مسیح موعود کے ظہور کے لئے مقرر ہے۔ ورنہ امت مرزائیہ کا اولین فرض ہے کہ اس اتفاقِ علماء کو حقیقت کی روشنی میں دکھائے۔

جھوٹ نمبر ١٤٨....... ”اسی وجہ سے سلف صالحین میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودہویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہ کی بھی یہی رائے ہے....... ہاں تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔“

(ازالہ ص ١٨٤، ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩)

نور! مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک کراماتی جھوٹ بلکہ انوکھا اتہام ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی جانب منسوب کر کے ان کی رائے بلکہ ایک اجماعی عقیدہ کہا گیا ہے۔ مرزائیت کے خواجہ تاشوں میں اگر کچھ ہمت اور ایمانی صداقت موجود ہے تو حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ مرحوم کی یہ رائے ان کی کتاب سے اور اجماعی عقیدہ کی اسلامی معتبر کتاب سے دکھا کر اپنے گرو کو راست باز ثابت کریں گے اور ان کی پیشانی سے اس سیاہ داغ کو دور کریں گے۔

جھوٹ نمبر ١٤٩....... ”اب جاننا چاہئے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک لمی اور انی دلیل اس کو کہتے ہیں کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگالیں۔ جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا۔“

(چشمہ معرفت ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ٢٣ ص ٦٣، ٦٤)

نور! مرزا قادیانی نے دلیل لمی کی اس تعریف و تمثیل سے نہ صرف عربی طلباء کے لئے سامان تفریح و تضحیک مہیا کیا بلکہ اپنی پیغمبرانہ قابلیت و سلطان المتکلمی کا ایسا بہترین مظاہرہ کیا ہے کہ منطقیوں و متکلموں کی روحیں بھی وجد میں آ گئی ہوں گی۔

قادیانی فاضلو! دلیل لمی کی یہ تعریف و تمثیل علم کلام و منطق کی کس کتاب میں ہے۔ دیکھیں اپنی سلطان المتکلمین کے اس سفید جھوٹ کو کس طرح کے قالب میں ڈھالتے ہو۔

اللہ رے ایسے حسن پہ یہ بے نیازیاں
بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں

٤٨

صفحہ ٤٧٩

جھوٹ نمبر ١٥٠...... ”تاہم مسلمانوں کے لئے صحیح بخاری نہایت متبرک اور مفید کتاب ہے۔ یہ وہی کتاب ہے جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گئے۔“

(کشتی نوح ص ٦٠، خزائن ج ١٩ ص ٦٥)

نور! بخاری شریف کی وہ حدیث جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ۔ مرزائیت کے نمک خواران ازلی کا فرض منصبی ہے کہ اس کو صاف طور پر دکھا کر مرزا قادیانی کو عذاب اخروی و رسوائی سے بچائیں۔

جھوٹ نمبر ١٥١....... ”اے نادان کیا تو یونس علیہ السلام کے قصہ سے بھی بے خبر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ تب بھی تو بہ واستغفار سے اس کی قوم بچ گئی ۔ حالانکہ اس کی قوم کی نسبت خدائے تعالیٰ کا قطعی وعدہ تھا کہ وہ ضرور چالیس دن کے اندر ہلاک ہو جائے گی ۔ مگر کیا وہ اس پیش گوئی کے مطابق چالیس دن کے اندر ہلاک ہوگئی ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٤)

نور! کس دلیری و بے باکی سے خداوند تعالیٰ پر یہ افتراء کیا گیا ہے کہ اس نے اس قوم کو چالیس دن کے اندر ہلاک کرنے کا قطعی وعدہ کیا تھا مگر بایں ہمہ اس نے اس قوم کو ہلاک نہیں کیا اور اپنے قطعی وعدہ پر پانی پھیر دیا۔ مرزائیو! تمہارے پیغمبر نے جس جرات سے اس اتہام سازی وکذب گوئی کا ارتکاب کیا ہے یہ صرف انہیں کا حصہ تھا۔

نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری ظلم کیشی کو
بہت سے ہو چکے ہیں گرچہ تم سے فتنہ گر پہلے

اس لئے تمہارے ذمہ نمک حلالی کے سلسلہ میں یہ ضروری ہے کہ اوّل تو اس قطعی وعدہ کو قرآن کریم میں دکھاؤ ۔ دوسرے کیا خدا کا قطعی وعدہ جھوٹا ہوسکتا ہے۔ نہیں تو مرزا قادیانی کے دروغگو و مفتری ہونے میں کیا شک ہے اور کیوں ہے۔

جھوٹ نمبر ١٥٢...... ”وقد جاء في القرآن ذکر فضائلی، وذکر ظھوری عندفتن تثور “ اور میرے (مرزا قادیانی) فضائل کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے اور میرے ظہور کا ذکر بھی پر آشوب زمانہ میں ہونا لکھا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٨، خزائن ج ١٩ ص ١٧٠)

نور! مرزا قادیانی کے فضائل و ظہور کا ذکر قرآن کریم کی کس سورت و کس آیت میں ہے۔ اگر مرزائیت کے کاسہ لیس اس کو دکھائیں تو ایک من تازہ مٹھائی بطور شکریہ پیش کی جائے گی ۔ ورنہ مفتری و کاذب پر خدا کی لعنت۔

٤٩

صفحہ ٤٨٠

جھوٹ نمبر ١٥٣..... ”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی (٨٠) برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)

اسی کتاب کے صفحہ مذکور میں مرزا غلام احمد قادیانی اس الہام کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں کہ ”اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو ٧٤، ٨٦ برس کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔“

مرزائیت کے نقارخانہ کی طوطی اخبار الفضل مورخہ ١١؍ جون ١٩٣٣ء ص ٢ پر اپنے مالک کی تائید میں چہک کر کہتی ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) کے اس الہام میں دو زبردست پیش گوئیوں کا ذکر ہے۔ اوّل یہ کہ آپ کی عمر ٧٤ برس سے کم نہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ ٨٦ برس سے زیادہ نہ ہوگی۔

حالانکہ مرزا قادیانی ٦٨، ٦٩ برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوکر کاذب ومفتری بنے اس لئے کہ ”کتاب البریہ حاشیہ ص ١٥٩، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧، رسالہ ریویو آف ریلیجنز ، ج ٥ نمبر ٦ ص ٢١٩، بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ، بدر ج ٣ نمبر ٣٠، ٨؍ اگست ١٩٠٤ء ص ٥، الحکم مورخہ ٢١، ٢٨؍ مئی ١٩١١ء ج ١٥ نمبر ١٥ تا ٢٠ ص ٤، کتاب حیات النبی ج ١ ص ٤٩“ میں مرزا قادیانی اپنی پیدائش کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی۔“ اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ آپ ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو دنیا سے رخصت ہوئے۔ (عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٦١٤) پس اس پختہ ومسلّم حساب سے مرزا قادیانی کی عمر ٦٩ سال میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔ جو آپ کی کذب بیانی پر نہ ٹوٹنے والی مہر ہے۔

لیکن ناظرین کرام کے لطف طبع کے لئے اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز کرشمہ یہ سنانا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی کل عمر گیارہ سال سے بھی کم ہوئی تھی۔ کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:

برس رہتے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩٥، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٢)

صدی کا (یعنی چودہویں صدی کا) سر بھی آ پہنچا۔“

(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)

٥٠

صفحہ ٤٨١

٭ ...... ”ضرور ہے کہ مہدی اور مسیح موعود ...... چودہویں صدی کے سر پر ظاہر ہو کیونکہ یہی صدی ہزار ششم کے آخری حصہ میں پڑتی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص٩٢، خزائن ج١٧ ص٢٥٠)

اور چونکہ چودہویں صدی چھٹے ہزار میں واقع ہے اور مرزا قادیانی اسی ہزار ششم میں سے گیارہ سال رہتے ہوئے پیدا ہوئے اور اسی صدی میں فوت ہو گئے۔ تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی کل عمر گیارہ سال سے بھی کم ہوئی۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی کے انتقال کے وقت ہزار ششم باقی تھا۔ جل جلالہ !

ناظرین! مرزا قادیانی کا کتنا معجز نما کمال ہے کہ گیارہ سال میں کیا کیا بنے اور کیا بنایا۔

مگر پھر بھی ہزار ششم کے گیارہ سال ختم نہ ہوئے۔ مرزا نیو! سچ ہے کہ:

ایں کرامت ولی ما چہ عجب
گربہ شاشید گفت باراں شد

جھوٹ نمبر ١٥٤...... ”میں کسی عقیدہ متفق علیہ اسلام سے منحرف نہیں ہوں۔“

(دفع الوسواس ص ٣١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نوٹ! مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت، وفات مسیح و تکفیر جمیع مسلمین اور ختم نبوت و دیگر اصول اسلام و ضروریات دین کے انکار کے باوجود یہ کہنا کہ میں کسی متفق علیہ عقیدہ سے منحرف نہیں ہوں۔ صریح کذب بیانی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔

جھوٹ نمبر ١٥٥...... ”نبی کریم ﷺ نے نہ ایک دلیل بلکہ بارہ مستحکم دلیلوں اور قرائن قطعیہ سے ہم کو سمجھا دیا تھا کہ عیسیٰ بن مریم فوت ہو چکا اور آنے والا مسیح موعود اسی امت سے ہے۔“

(دفع الوسواس ص ٣٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نوٹ! غلمدیت! اگر اپنے روحانی باپ کی صدق مقالی سے دنیا کو روشناس کرانا چاہتی ہے تو ان بارہ مستحکم دلیلوں و قطعی قرینوں کو اسلامی کتب سے نکال کر منظر عام پر پیش کرے۔

جھوٹ نمبر ١٥٦...... ”اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کریم میں اس بات کی کہاں تشریح یا اشارہ ہے کہ روح القدس مقربوں میں ہمیشہ رہتا ہے اور ان سے جدا نہیں ہوتا تو اس کا یہ جواب ہے کہ سارا قرآن کریم ان تصریحات اور اشارات سے بھرا پڑا ہے۔“

(دفع الوسواس ص ٧٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٥١

صفحہ ٤٨٢

نور! نفس مسئلہ کی صحت وسقم سے قطع نظر کرتے ہوئے مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ سارا قرآن کریم ان تصریحات واشارات سے بھرا پڑا ہے۔ مبالغہ گوئی ولاف زنی ہے جو کذب ودروغ کی حدود سے باہر نہیں ہوسکتا۔

جھوٹ نمبر ١٥٧...... ’’اور نبی کی اجتہادی غلطی بھی درحقیقت وحی کی غلطی ہے۔ کیونکہ نبی تو کسی حالت میں وحی سے خالی نہیں ہوتا...... پس چونکہ ہر ایک بات جو اس کے منہ سے نکلتی ہے وحی ہے۔ اس لئے جب اس کے اجتہاد میں غلطی ہو گئی تو وحی کی غلطی کہلائے گی نہ اجتہاد کی غلطی ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٥٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نور! مرزا قادیانی کے اس دروغ بے فروغ کے ثبوت میں آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ سے اغماض کرتے ہوئے مرزا قادیانی ہی کا ایک دوسرا قول پیش کرتا ہوں۔ تاکہ غلمدیت کے گھر کو گھر کے چراغ ہی سے آگ لگ جائے اور اس کے پھپھولے سینہ کے داغ سے جل اٹھے۔ ارشاد ہے ’’ایک نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے مگر خدا کی وحی میں غلطی نہیں ہوتی ۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٣)

جھوٹ نمبر ١٥٨...... ’’ایسا ہی دو زرد چادروں کی نسبت بھی وہ معنی کئے جائیں کہ جو برخلاف بیان کردہ آنحضرت ﷺ واصحابؓ و تابعین وتبع تابعین وائمہ اہل بیت ہوں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٠٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٧٤)

نور! حدیث نبوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ جو آیا ہے کہ آپ دو زرد رنگ کی چادروں میں ملبوس ہو کر آسمان سے نازل ہوں گے۔ تو مرزا قادیانی نے ان دو چادروں سے اوپر اور نیچے کی دو بیماریاں مراد لے کر یہ فرمایا ہے کہ میں ان اوپر اور نیچے کے دونوں بیماریوں یعنی ’’دوران سر و ذیا بیطس میں مبتلا ہوں ۔‘‘ ”دیکھو اخبار بدر ٧؍ جون ١٩٠٦ء ص ٥، منظور الہی ص ٣٢٨، ضمیمہ اربعین نمبر ٣ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠“ اور اپنی اسی مراد کو آنحضرت ﷺ وصحابہ کرام وتابعین وتبع تابعین وائمہ اہل بیت کا فرمودہ بیان کیا ہے جو سراسر کذب وافتراء ہے۔ اس لئے مرزائیت کے فرزندوں کا یہ فرض ہے کہ اس امر کو ثابت کریں ۔ ”آنحضرت ﷺ وصحابہ کرام وتابعین وتبع تابعین وائمہ اہل بیت نے کس جگہ یہ فرمایا ہے کہ زرد رنگ کی دو چادروں سے مراد اوپر نیچے کی دو بیماریاں ہیں۔ ورنہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٤) کو خوب یاد رکھو۔

٥٢

صفحہ ٤٨٣

جھوٹ نمبر ١٥٩ ...... ”سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔ انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٤٠٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٢٠)

نور! مرزائیت اپنے پیغمبر اعظم کو سچا ثابت کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام کے اس اتفاق کو جو زرد چادر کے متعلق ہوا ہے صحف آسمانی یا کم از کم کتب اسلامی میں دکھلائے کہ کب اور کہاں اور کتنے انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہوا ہے۔ اللہ اکبر نبی کہلا کر ”یہ افتراء اور یہ جھوٹ اور یہ دلیری اور یہ شوخی ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١١٣، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٨)

جھوٹ نمبر ١٦٠ ...... الف ...... ”سورہ تحریم میں یہ صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس امت کا نام مریم رکھا گیا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٨٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٦١)

جھوٹ نمبر ١٦١ ...... ب ...... ”اور اسی واقعہ کو سورہ تحریم میں بطور پیش گوئی کمال تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس امت میں اس طرح پیدا ہوگا کہ پہلے کوئی فرد اس امت کا مریم بنایا جائے گا اور پھر بعد اس کے اس مریم میں عیسیٰ علیہ السلام کی روح پھونک دی جائے گی۔“

(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٩)

نور! سورہ تحریم میں یہ مضمون نہ صریح طور پر اور نہ اشارہ کے طور پر بیان کیا گیا اور نہ بطور پیش گوئی کمال تصریح کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک دلیرانہ و بیباکانہ جھوٹ ہے اور لطف یہ کہ پہلے حوالے:

الف ...... میں تو آپ اس مضمون مذکور کا تعلق زمانہ ماضی سے کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”بعض افراد اس امت کا نام مریم رکھا گیا ہے“ اور دوسرے حوالے:

ب ...... میں زمانہ مستقبل سے متعلق کر کے ارشاد ہے کہ ”بطور پیش گوئی یہ بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس امت میں اس طرح پیدا ہوگا ۔“ مرزا قادیانی نے سچ فرمایا کہ ”جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے۔“

(نور الحق ج ١ ص ١٠٤، خزائن ج ٨ ص ١٤٧)

جھوٹ نمبر ١٦٢ ...... ”اسلام کے تمام اولیاء کا اس پر اتفاق تھا کہ اس مسیح موعود کا زمانہ چودہویں صدی سے تجاوز نہیں کرے گا۔“

(چشمہ معرفت ص ٣١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٣)

نور! تمام اولیاء کے اس اتفاق کی زیارت میں بھی کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ

٥٣

صفحہ ٤٨٤

غلمدیت اس کا پتہ بتا کر اپنے بانی سلسلہ کو کذب و دروغ کی آلائش سے پاک کرے گی۔ ”ورنہ ایسا کھلا کھلا جھوٹ بنانا ایک بڑے بدذات اور لعنتی کا کام ہے۔“

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ٣٩، خزائن ج ٢٣ ص ٤٠٨)

جھوٹ نمبر ١٦٣...... یہ عجیب بات ہے کہ: ”چودہویں صدی کے سر پر جس قدر بجز میرے لوگوں نے مجدد ہونے کے دعوے کئے تھے جیسا کہ نواب صدیق حسن خان بھوپال اور مولوی عبدالحی لکھنوی وہ سب صدی کے اوائل دنوں میں ہی ہلاک ہو گئے ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی حاشیہ ص ٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٢)

نور! حضرت مولانا مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی اور جناب نواب صدیق حسن صاحب بھوپالی کا دعویٰ مجددیت کس کتاب میں ہے؟۔ غلمدیوں سے امید ہے کہ اس کا پتہ بتا کر اپنے مجدد صاحب کو سچا ثابت کریں گے۔

جھوٹ نمبر ١٦٤...... ”سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٩٥)

نور! چونکہ سچ اور جھوٹ کی یہ نشانیاں مرزا قادیانی کے خاص مراقیا نہ دماغ کی پیداوار ہیں۔ اس لئے ناممکن تھا کہ وہ کذب و دروغ کی نجاست سے پاک ہوں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے قول کے مطابق لازم آتا ہے کہ باری تعالیٰ حضرت رسول مقبول ﷺ قرآن کریم، دین اسلام وغیرہ جو بے نظیر و مثال ہیں۔ وہ سب کے سب جھوٹ ہوں (معاذ اللہ ) اور خود مرزا قادیانی ہی معجزہ و خارق عادت کی دوسری جگہ ایسی تعریف کرتے ہیں جس سے ان نشانیوں کی تکذیب ہوتی ہے۔ ”خارق عادت اسی کو تو کہتے ہیں کہ اس کی نظیر دنیا میں نہ پائی جائے ۔“

(حقیقت الوحی ص ١٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٤)

حقیقت یہ ہے کہ چونکہ اس قول اور خود مرزا قادیانی جیسے پیغمبر و متنبی کا بھی کوئی نظیر نہیں ہے۔ اس لئے دونوں کے کاذب ہونے میں کچھ شک نہیں۔

جھوٹ نمبر ١٦٥...... ”یاد رہے کہ اکثر صوفی جو ہزار سے کچھ زیادہ ہیں۔ اپنے مکاشفات کے ذریعہ سے اس بات کی طرف گئے ہیں کہ مسیح موعود تیرہویں صدی میں یعنی ہزار ششم کے آخر میں پیدا ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٣، خزائن ج ١٧ ص ٢٨٦)

نور! مرزائیو! وہ اکثر صوفیاء کرام جن کی تعداد حسب شمار مرزا قادیانی ہزار سے کچھ زیادہ ہیں۔ ان کے اسماء گرامی کی تفصیل اور مکاشفات جن جن کتابوں میں درج ہیں۔ ان کو منظرِ

٥٤

صفحہ ٤٨٥

عام پر لاؤ ”اور کچھ زیادہ ہیں“ کا ابہام دور کرو۔ نہیں تو مرزا قادیانی کے اس فرمان کو یاد رکھو کہ ”جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لئے لعنت ہے۔ بلکہ قیامت تک لعنت ہے۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٨)

جھوٹ نمبر ١٦٦....... ”اور جو کتابیں اسلام کے رد میں لکھی گئیں۔ اگر وہ ایک جگہ اکٹھی کی جائیں تو کئی پہاڑوں کے موافق ان کی ضخامت ہوتی ہے۔“

(چشمہ معرفت ج ٢ ص ٣١٣، خزائن ج ٢٣ ص ٣٢٧)

نور! مرزا قادیانی کا یہ قول بھی مبالغہ آمیزی و لاف زنی کی وجہ سے کذب و دروغ ہے ورنہ مرزائیوں کو چاہئے کہ واقعات کی سچی روشنی میں اس کو سچ کر دکھائیں۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کے چند پیغمبرانہ لطائف بھی سن لیجئے۔

قریب کتاب اور رسالے تالیف ہو چکے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠٣، خزائن ج ١٧ ص ٢٦٦)

گئی۔“

(ایام الصلح ص ٨٩، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٥)

ان کی تعداد سات کروڑ تک نوبت پہنچ گئی تھی۔“

(ایام الصلح ص ٢٧، خزائن ج ١٤ ص ٢٥٥)

شبہات کے پھیلانے کے لئے اب تک تقسیم کردی۔“

(ازالہ ص ٥٣٦، خزائن ج ٣ ص ٤٩٦)

مرزائیو! مرزا قادیانی کو اس فرمان کی روشنی میں دیکھو کہ ”جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے۔“

(نور الحق ج ١ ص ١٠٤، خزائن ج ٨ ص ١٣٧)

جھوٹ نمبر ١٦٧....... ”عیسائیوں کی طرف سے جہاں پچاس ہزار رسالے اور مذہبی پرچے نکلتے ہیں ہماری طرف سے بالالتزام ایک ہزار بھی ماہ بماہ نکل نہیں سکتا۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٨٣)

نور! عیسائیوں کے ان پچاس ہزار رسالوں اور مذہبی پرچوں کا ثبوت پیش کرو کہ کب اور کن جگہوں سے ماہانہ نکلتے ہیں؟۔

جھوٹ نمبر ١٦٨....... ”خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں تمام خبیث مرضوں سے بھی تجھے بچاؤں گا۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٩)

٥٥

صفحہ ٤٨٦

نور ! واقعہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے باقرار خود دوران سر، مراق، خلل دماغ، ذیابیطس، سلسل البول جیسے خبیث امراض ١؎ میں مبتلا ہو کر خداوند تعالیٰ پر افتراء کیا اور جھوٹ بولے ۔ قادیانیو ! بتاؤ تمہارے نبی برحق اپنے اس ارشاد کے رو سے کون ہوئے کہ ”ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے ..... ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٤٦، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٢)

اور اگر قادیانیت ان امراض کی خباثت سے انکار کرے تو اس کا یہ مذہبی فرض ہے کہ ان کی پاکی و طہارت دلائل و حقائق کی روشنی میں ثابت کرے ورنہ بغیر اس کے مرزا قادیانی کا دامن کذب وافتراء سے پاک نہیں ہو سکتا۔

جھوٹ نمبر ١٦٩..... ” یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں آنا اجماعی عقیدہ ہے۔ یہ سراسر افتراء ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٠، ٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢ تا ٣٤)

نور ! مرزا قادیانی کا نزول مسیح کے اجماعی مسئلہ کو سراسر افتراء کہنا در حقیقت یہ شرمناک کذب وافتراء ہے۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول پر نہ صرف امت مسلمہ کا اجماع ہی ہے بلکہ اس بارہ میں احادیث صحیحہ نبویہ متواتر ہیں۔ تفسیر بحر المحیط ج ٢ ص ٤٥٦ میں ہے ” واجمعت الامة علی ما تضمنہ الحدیث المتواتر من ان عیسیٰ فی السماء حی وانہ ینزل فی آخر الزمان .......الخ ! یعنی تمام امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ موجود ہیں اور قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث متواتر سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ”تلخیص الحبیر ج ٣ ص ٤٦٢، فتح البیان ج ٢ ص ٣٤٤، الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٦، المبحث الخامس والستون، الابانہ عن اصول الدیانہ ص ٥٣ بطبع بیروت، کتاب الاذاعہ ص ٧٧“ میں الفاظ کے جزوی اختلاف کے ساتھ اجماع امت احادیث متواترہ کا ذکر ہے۔

جھوٹ نمبر ١٧٠..... ” جیسے بت پوجنا شرک ہے ویسے ہی جھوٹ بولنا شرک ہے۔“

(الحکم ج ٩ نمبر ١٣، ١٧؍ اپریل ١٩٠٥ء ص ١٣)

(کشتی نوح ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨)

١؎ ضمیمہ اربعین نمبر ٣،٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، اخبار بدر قادیان ١٧؍ جون ١٩٠٦ء، منظور الہی ص ٣٢٨

٥٦

صفحہ ٤٨٧

نور! جھوٹ کو شرک قرار دینا نہ صرف اسلامی وغیر اسلامی دنیا کے نزدیک جھوٹ ہے۔ بلکہ خود مرزا قادیانی بھی اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ کیونکہ شرک کی تعریف میں فرماتے ہیں ”خدا کی ذات یا صفات یا اقوال وافعال یا اس کے استحقاق عبودیت میں کسی دوسرے کو شریکانہ دخل دینا گو مساوی طور پر یا کچھ کم درجہ پر یہی شرک ہے۔“

(دفع الوسواس ص ٤٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ناظرین کرام! شرک کی اس تعریف کو پیش نظر رکھ کر فرمائیے قول مذکور گندہ جھوٹ ہے یا نہیں؟۔

مرزائیو! یہ چونکہ تمہارے پیغمبر مرزا قادیانی کذب و دروغ اور افتراء و اتہام کے ڈھالنے میں ہر وقت منہمک و مستغرق رہتے تھے اس لئے جھوٹ کی بھی جھوٹی تعریف کر گئے۔

جھوٹ نمبر ١٧١...... ”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“

(ازالہ ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

نور! بے شک یہ تو صحیح ہے کہ آپ کو مسیح ابن مریم کہنے والا سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ لیکن یہ بالکل جھوٹ ہے کہ آپ نے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس لئے کہ ”ازالہ ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢“ میں تحریر ہے کہ ”وہ مسیح موعود میں ہی ہوں ۔“ اور ”ازالہ ص ٥٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٠٩“ میں آپ کو یہ الہام ہوا ”جعلناك المسيح ابن مریم“ اور اس کی تشریح اس طرح سے کی ہے کہ ”اس سلسلہ کا خاتم باعتبار نسبت تامہ وہ (مرزا قادیانی) مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔ جو اس امت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیح صفات سے رنگین ہو گیا ہے اور فرمان ”جعلناك المسيح ابن مریم“ نے درحقیقت اس کو (مرزا قادیانی) کو وہی بنادیا ہے۔“

(ازالہ ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

اسی کو ”حمامۃ البشریٰ ص ٨، خزائن ج ٧ ص ١٨٢“ میں لکھ کر فرماتے ہیں: ”پس یہی (عیسیٰ ابن مریم ہونے کا) میرا دعویٰ ہے۔ جس میں میری قوم مجھ سے جھگڑتی ہے۔“ اور ”ازالہ ص ٥٤٦، خزائن ج ٣ ص ٣٩٤“ میں ابن مریم ہونے کا دعویٰ موجود ہے۔ بہرحال مرزا قادیانی کا مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ موجود ہے۔ اس لئے آپ بقول خود بھی مفتری و کذاب ہوئے۔ فهو المراد!

جھوٹ نمبر ١٧٢...... ”اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہؓ کا اسی بات پر اجماع ہو گیا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔“

(ازالہ ص ٢٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢١١ حاشیہ)

٥٧

صفحہ ٤٨٨

نور! مرزائیو! ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر صحابہ کا اجماع معتبر ومستند اسلامی کتب سے ثابت کرو ورنہ یاد رکھو کہ ”جھوٹ بولنا شرک ہے اور مشرک سرچشمہ نجات سے بے نصیب ہے۔“

(کشتی نوح ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨)

جھوٹ نمبر ١٧٣....... ”غرض ابن عباس کا یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔“

(ازالۃ ص ٢٤٧، خزائن ج ٣ ص ٢٢٤)

نور! مرزا قادیانی کا یہ قول نہ صرف دروغ ہی ہے بلکہ حضرت ابن عباس جیسے جلیل القدر صحابی پر ایک ناپاک اتہام وافتراء ہے۔ اس لئے کہ آپ کا صحیح مذہب و پختہ عقیدہ یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ جیسا کہ ”ابن جریر نے (جو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے۔“ چشمہ معرفت ص ٢٥٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١) بسند صحیح حضرت ابن عباس کا مذہب حیات مسیح کا نقل کر کے اس کی توثیق وتصدیق کی ہے۔ دیکھو فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧، باب قولہ واذکر فی الکتاب مریم، ابن جریر، ج ٦ ص ١٩، ٢٠، زیر آیت ”وان من اھل الکتاب .......“ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٠١، مرقاۃ ج ١٠ ص ٢٣٢، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام، عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٥٢، روح المعانی ج ٦ ص ١٤، اور جس روایت سے مرزا قادیانی نے آنکھ بند کر کے ابن عباس کا یہ اعتقاد نکالا ہے وہ روایت ضعیف ومنقطع ہے۔ اس لئے حجت نہیں ہو سکتی۔ افسوس کہ مرزا قادیانی کی خودغرضیوں نے ان کی علمیت کے پردہ کو بھی چاک کر دیا۔

جھوٹ نمبر ١٧٤....... ”فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سب سے پیارے خدا کی جناب میں وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔ پوچھا گیا غریب کے کیا معنی ہیں کہا وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ مسیح کی طرف دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٦، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

نور! یہ عبارت دروغ آمیز فریب ہے یا فریب دہ دروغ اس لئے کہ مرزا قادیانی نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے حدیث کے ان الفاظ کا (جن کو مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے ) غلط ومن گھڑت ترجمہ ہے۔

جھوٹ نمبر ١٧٥....... ”ہر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ١٠٦، حاشیہ)

صفحہ ٤٨٩

نور! بالکل جھوٹ ہے۔ اس لئے کہ اس کا ثبوت نہ قرآن کریم میں ملتا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔ مرزائیو یہ بتاؤ کہ تمہارے نبی مرزا قادیانی نے بھی ہجرت کی تھی یا نہیں یا ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہی ہوتے ہیں؟۔

جھوٹ نمبر ١٧٦...... ”اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“

(ازالہ اوہام ج ٣ ص ٦٨٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)

نور! اس کے سفید جھوٹ ہونے کی خود مرزا قادیانی بنفس نفیس شہادت دیتے ہیں کہ ”شیخ محمد طاہر صاحب مصنف مجمع البحار کے زمانہ میں بعض ناپاک طبع لوگوں نے محض افتراء کے طور پر مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٣)

اور ”بہاء اللہ ایرانی نے ١٢٦٩ھ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔“

(دیکھو اخبار الحکم ٢٤؍اکتوبر ١٩٠٤ء ص ٢)

جھوٹ نمبر ١٧٧...... ”اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسیٰ علیہ السلام اور کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ (مرہم عیسیٰ) کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے تیار کیا تھا۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٧، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

نور! مرزا قادیانی کی یہ بات بھی کذب و دروغ کی عفونت سے آلودہ ہے۔ کیونکہ یہ کسی نے نہیں لکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے اس نسخہ مرہم عیسیٰ کو تیار کیا تھا۔ سچے ہو تو دلیل لاؤ۔ ورنہ ”دروغگوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔“

(نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠)

جھوٹ نمبر ١٧٨...... ”اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٤)

”اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔“

(کشتی نوح ص ٤٩، خزائن ج ١٩ ص ٥٣)

٥٩

صفحہ ٤٩٠

نور! مرزا قادیانی کو حضرت مسیح علیہ السلام سے کسی پہلو سے مشابہت نہیں تھی۔ دیکھو رسالہ ”مسیح موعود کی پہچان“ مرزائیو! اگر کچھ ہمت ہے تو اٹھو اور اپنے مرزا قادیانی کا مسیح ابن مریم میں ہر ایک پہلو سے مشابہت تامہ دکھلا کر راست باز ثابت کرو ورنہ ہماری طرف سے وہی پرانا تحفہ پیش خدمت ہے کہ ”جیسے بت پوجنا شرک ہے ویسے ہی جھوٹ بولنا شرک ہے۔“

(الحکم ج ٩ نمبر ١٣، ١٧؍ اپریل ١٩٠٥ء ص ١٣)

جھوٹ نمبر ١٧٩....... ”پہلے پچاس حصے (براہین احمدیہ کے) لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

نور! مرزا قادیانی کا پچاس حصوں کے وعدہ کو صرف پانچ حصوں پر اکتفا کر کے پورا کرنا حقیقت اور واقعیت سے دور ہونے کے باعث ایک مبالغہ آمیز دروغ ہے۔ اس لئے یہ معزز ہدیہ کہ ”خدائے غیور کی لعنت اس شخص پر ہے جو مبالغہ آمیز باتوں سے جھوٹ بولتا ہے۔“ (اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١) عطائے تو بلقائے تو کہہ کر پیش خدمت کیا جا رہا ہے قبول فرمائیے۔

جھوٹ نمبر ١٨٠....... ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی یہ وہ مقام عالیشان ہے کہ گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہذا (مرزا قادیانی) کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے اور اس کا آنا خدا تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤)

نور! جن گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر مرزا قادیانی کا یہ بلند مرتبہ بیان فرمایا اور ٹھہرایا ہے ان کے اسماء گرامی کے ساتھ یہ بتاؤ کہ یہ بیان و تقرر کن کن مستند اسلامی کتابوں میں موجود ہے؟۔

جھوٹ نمبر ١٨١....... ”مسلمانوں کے قدیم فرقوں کو ایک ایسے مہدی کی انتظار ہے جو فاطمہ مادر حسین کی اولاد سے ہو گا اور نیز ایسے مسیح کی بھی انتظار ہے۔ جو اس مہدی سے مل کر مخالفان اسلام سے لڑائیاں کرے گا۔ مگر میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ سب خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں۔“

(کشف الغطاء ص ١٢، خزائن ج ١٤ ص ١٩٣)

نور! الف....... بلکہ مرزا قادیانی کے یہ خیالات لغو اور باطل اور جھوٹ ہیں کیونکہ علاوہ اس امر کے کہ وہ اسلامی شریعت کا ایک واضح و متفق علیہ مسئلہ ہے۔ ”دیکھو ترمذی ج ٢ ص ٤٨، باب فتنة الدجال ، بذل المجہود ج ٥ ص ١٠٢، باب ذکر المہدی“ خود مرزا قادیانی ہی

٦٠

صفحہ ٤٩١

اپنی دروغ گوئی پر مہر لگا رہے ہیں کہ ”وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی پھیلنے کے زمانہ میں..... تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا۔ جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریمﷺ نے دی تھی۔ وہ میں ہی ہوں۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٢٤)

ب....... ”میں خدا سے وحی پا کر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب اس حدیث کے جو کنز العمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں اور حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“

(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ج ١ ص ٢٦٦، حاشیہ)

جھوٹ نمبر ١٨٢..... ”اور سچ یہ ہے کہ بنی فاطمہ سے کوئی مہدی آنے والا نہیں اور ایسی تمام حدیثیں موضوع اور بے اصل اور بناوٹی ہیں۔“

(کشف الغطاء ص ١٢، خزائن ج ١٤ ص ١٩٣)

نوٹ! مرزا قادیانی کی یہ سچی بات ایسی جھوٹی و بناوٹی بات ہے جس کی نظیر گذشتہ کاذبوں ومفتریوں کے کلام میں بھی نہیں ملتی۔ اس لئے کہ ترمذی ج ٢ ص ٤٨، بذل المجہود ج ٥ ص ١٠٢ میں بسند صحیح حدیث نبوی موجود ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنے والا امام مہدی اولاد فاطمہ اور عترت رسول اللہﷺ سے ہوگا۔ چنانچہ ازالہ اوہام ص ١٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٧٥ پر مرزا قادیانی نے خود اس کی تصدیق کی ہے۔

جھوٹ نمبر ١٨٣..... ”خدا تعالیٰ کی کتابوں میں بہت تصریح سے بیان کیا گیا ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے زمانہ میں ضرور طاعون پڑے گی۔“

(نزول المسیح ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٦)

جھوٹ نمبر ١٨٤..... ”بلاشبہ یہ امر تواتر کے درجہ پر پہنچ چکا ہے کہ مسیح موعود کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے وقت میں اور اس کی توجہ اور دعا سے ملک میں طاعون پھیلے گی۔ آسمان اس کے لئے چاند اور سورج کو رمضان میں تاریک کرے گا۔“

(نزول المسیح ص ١٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٧)

جھوٹ نمبر ١٨٥..... ”غرض عام موتوں کا پڑنا مسیح موعود کی علامات خاصہ میں سے ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام گواہی دیتے آئے ہیں۔“

(نزول المسیح ص ١٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٧)

نوٹ! خدا کی کتابوں اور تمام انبیاء علیہم السلام کی شہادتوں کو مستند اسلامی کتب سے اس طرح صراحت سے بیان کرو کہ جو شک کے حدود سے نکل کر یقین و تواتر کا درجہ حاصل کر لے نہیں تو یاد رکھو کہ ”دروغگوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں ۔“

(نزول المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠)

٦١

صفحہ ٤٩٢

جھوٹ نمبر ١٨٦....... ”غرض تمام نبیوں کے نزدیک زمانہ یاجوج و ماجوج زمان الرجعت کہلاتا ہے۔ یعنی رجعت بروزی۔“

(حاشیہ نزول المسیح ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٣)

نوٹ! اس امر کا قطعی ثبوت اصول اسلام سے پیش کرو ورنہ ”جھوٹ جو ایک نہایت پلید اور ناپاک ہے۔“ (نزول المسیح ص ١٤، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٢) اس سے تمہارے اولوالعزم پیغمبر کی زبان آلودہ ہو رہی ہے۔

جھوٹ نمبر ١٨٧...... ”بلاشبہ قرآنی شہادت سے اب یہ حدیث (ان لمهدینا آیتیں) مرفوع متصل ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ١٣٥)

نوٹ! مرزا قادیانی کی یہ عادت شریف ہے کہ جب کسی آیت یا حدیث اور یا کسی امام بزرگ کے بے بنیاد قول میں اپنے مطلب برآری کا کروڑوں حصہ یا اس سے بھی کمتر کی گنجائش دیکھتے ہیں یا بخیال خود سمجھ لیتے ہیں تو بس اس پر غلط استدلال کی ملمع کاریوں و ناجائز تاویل کی رنگ آمیزیوں میں ایسے سرشار ہو کر مصروف ہوتے ہیں کہ بنا بنایا کھیل بگڑ جاتا ہے اور اس میں اپنی کچھ ایسی سچائی دکھلاتے ہیں کہ آپ کی نبوت کا پول کھل جاتا ہے۔ مثلاً اسی ان لمهدینا آیتین کو بشہادت قرآنی مرفوع متصل کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ اسی کتاب کے اسی صفحہ میں اس کو غیر مرفوع مان چکے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ روایت اصول حدیث کے مطابق بالکل موضوع و ضعیف ہے۔ کیونکہ اس میں ایک راوی عمرو بن شمر ہے اور دوسرا جابر جعفی ہے۔ دونوں کے متعلق فن رجال کے علماء فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹے منکر الحدیث جھوٹی حدیث بنانے والے متروک الحدیث تبرائی رافضی جولکڑ ہیں۔ دیکھو میزان الاعتدال ج ٥ ص ٣٢٤ حرف عین، تہذیب التہذیب ج ٢ ص ١٣ تا ١٥ حرف جیم پھر ایسی موضوع روایت کو مرفوع متصل کہنا سراسر کذب وافتراء نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔

جھوٹ نمبر ١٨٨...... ”پس خدا تعالیٰ کی صفات قدیمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے نہ شخصی طور پر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے۔ ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتا چلا آیا ہے۔ سو اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن کریم نے ہمیں سکھایا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ١٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٦٨)

نوٹ! مرزا قادیانی اور ان کی امت کا آریوں کی طرح یہ عقیدہ ہے کہ خداوند تعالیٰ کے ساتھ عالم بھی قدیم ہے۔ خیر جب وہ اسلام سے علیحدہ ہو گئے تو اب ان کو اختیار ہے کہ وہ آریوں کے ہمنوا ہو جائیں یا عیسائیوں کے لیکن یہ کہنا کہ قرآن کریم یہی سکھاتا ہے سراسر کذب وافتراء ہے جس کے ثبوت سے مرزائیت عاجز ولا چار ہے۔

٦٢

صفحہ ٤٩٣

جھوٹ نمبر ١٨٩ ...... ”خدا کا کلام انسانی نحو سے ہر ایک جگہ موافق نہیں ہوتا۔ ایسے الفاظ اور فقرات اور ضمائر جو انسانی نحو سے مخالف ہیں، قرآن کریم میں بھی پائے جاتے ہیں۔“

(حاشیہ چشمہ معرفت ص ٣١٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣١)

نور ! قرآن کریم میں کوئی جملہ اور کوئی ضمیر صرف ونحو بلاغت و فصاحت کے اصول کے خلاف نہیں ہے۔ ورنہ اہل عرب ایک منٹ کے لئے چین نہ لینے دیتے۔ مگر باوجود اشتعال انگیز چیلنجوں کے ان کا خاموش رہنا بلکہ اس کی اعجازی کیفیت کا اعتراف کرنا کلام اللہ کا صرف ونحو کے موافق ہونے کی کھلی دلیل ہے اور مرزا قادیانی کے مجرمانہ وافتراء کا بین ثبوت ۔

جھوٹ نمبر ١٩٠ ...... ”پھر اس کے بعد کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٩٢)

نور! جب کہ تمام امت محمدیہ کا حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات پر اجماع ہو چکا ہے۔ پھر اس کے بعد مرزا قادیانی کے اس قول کی کذب و دروغ کے برابر بھی وقعت نہیں رہتی۔

جھوٹ نمبر ١٩١ ...... ”امام مالک بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور مر گئے اور امام اعظمؒ اور امام احمدؒ اور امام شافعیؒ ان کے قول کو سن کر اور خاموشی اختیار کر کے اسی قول کی تصدیق کر رہے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٦، خزائن ج ١٧ ص ١٦٤)

نور ! مرزا قادیانی نے اپنی مختلف تصانیف میں متعدد جگہ بار بار اس امر کا ذکر کیا ہے کہ امام مالکؒ وابن حزم وفات مسیح کے قائل تھے اور اسی میں خوب رنگ بھر بھر کر اپنی زندگی میں مرزا قادیانی اچھالتے رہے۔ اس کے بعد ان کی امت اب تک باوجود ادعائے علم وفضل اسی لکیر کو پیٹتی چلی آرہی ہے۔ لیکن حقیقت واقعہ یہ ہے کہ یہ دونوں بزرگ بھی مثل جمہور علماء وامت اسلامیہ کے حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔ جیسا کہ اُبی نے کتاب عتبیہ میں امام مالکؒ ہی سے آپ کا صحیح مذہب حیات مسیح نقل کیا ہے اور اسی طرح ابن حزم نے بھی اپنی کتاب ملل میں اپنا مسلک حیات مسیح کا بیان کیا ہے۔

(دیکھو عقیدۃ الاسلام ص ١١ طبع کراچی )

البتہ مرزا قادیانی اور ان کی امت مجمع البحار کی اس عبارت ”قال مالک مات“ سے مبتلائے فریب ہو کر اور اسی کو سرمایہ استدلال سمجھ کر سادہ لوح انسانوں کو فریب میں مبتلا کرنے کی سعی بلیغ کر رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قول کو صحیح تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ

٦٣

صفحہ ٤٩٤

امام مالکؒ اس امر کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر رفع سے پہلے چند منٹ کے لئے عارضی طور پر موت طاری ہوگئی تھی۔ نہ یہ کہ آپ دائمی موت کے قائل ہیں۔ غرض یہ کہ لفظ ”مات“ سے ”موت مطلق“ مراد ہے نہ ”مطلق موت“ ورنہ اس امر کے اظہار میں کچھ باک نہیں ہے کہ صاحب مذہب کے بیان کے مقابل قول غیر قابل حجت و استدلال نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا قادیانی نے اس بناء فاسد پر یہ قصر تعمیر کیا کہ آئمہ ثلاثہ امام اعظمؒ، امام احمدؒ، امام شافعیؒ نے بھی اپنی خاموش زبان سے وفات مسیح کی تائید کی ہے۔ سو یہ بھی کذب و افتراء کی بدترین مثال ہے۔

جھوٹ نمبر ١٩٢...... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک زندہ رسول ماننا ...... یہی وہ جھوٹا عقیدہ ہے جس کی شامت کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس زمانہ میں مرتد ہو چکے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٩٤)

نور ! بلکہ ارتداد مسلم کی علت حیات مسیح کو بنانا یہ خیال باطل اور جھوٹا عقیدہ ہے ورنہ مرزائیت اپنے قائد اکبر کے دامن سے دروغگوئی کی نجاست کو دور کرنے کی فکر کرے۔

جھوٹ نمبر ١٩٣...... ”قرآن کریم اور اسی کتاب میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ صاف گواہی دی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور اس شہادت میں صرف امام بخاریؒ منفرد نہیں بلکہ امام ابن حزم اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا امت کے اکابر کا قائل ہونا ہے۔“

(ایام الصلح ص ٣٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٩)

نور ! اوّل تو مرزا قادیانی کا یہی ایک مجرمانہ اتہام ہے کہ امام بخاریؒ، امام مالکؒ، امام ابن حزمؒ موت مسیح کے قائل تھے۔ دوسرے اگر بالفرض یہ صحیح بھی ہو تو اس سے تمام اکابر امت کا قائل ہونا کیوں کر و کیسے لازم آ گیا ہے؟۔ مرزائیو ! سچ تو یہ ہے کہ تمہارے پیغمبر مرزا قادیانی مخلوق خدا کو صرف فریب و دھوکہ میں مبتلا کرنے آئے تھے۔

جھوٹ نمبر ١٩٤...... ”سلف صالحین نے اس مسئلہ (حیات مسیح) میں مفصل کچھ نہیں کہا بلکہ اجمالی رنگ میں ایمان لاتے تھے کہ مسیح مر گیا۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ١٨، خزائن ج ٧ ص ١٩٨)

نور ! مرزائیت کے جنم داتا کا سلف صالحین پر یہ بھی ایک گندہ افتراء ہے اس لئے کہ سلف صالحین تفصیلی و اجمالی ہر طرح سے حیات مسیح پر ایمان رکھتے تھے۔ دیکھو رسالہ عقیدۃ الاسلام، شہادت القرآن وغیرہ اور رسالہ ہذا:

٦٤

صفحہ ٤٩٥

جھوٹ نمبر ١٩٥..... ”صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔“

(ازالہ اوہام ص ٨١، خزائن ج ٣ ص ١٣٢)

غور! مرزا قادیانی کو افتراء پردازی و دروغگوئی میں کچھ اس درجہ کمال حاصل تھا کہ بڑے سے بڑا مفتری و کذاب بھی ان باتوں کو دیکھ کر آپ کو اس فن کا استاد کامل ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ کیونکہ صحیح مسلم کی کسی حدیث میں یہ لفظ موجود نہیں ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اتریں گے..... الخ! بلکہ یہ صرف مرزا قادیانی ہی کے پیغمبرانہ دماغ کی پیداوار ہے۔ جیسا کہ وہ خود اپنے اس قول کی تکذیب کر کے اپنا کاذب و مفتری ہونا ثابت کر رہے ہیں کہ ”کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ٢١، خزائن ج ٧ ص ٢٠٢)

مرزائیو! تم ایڑی چوٹی کا زور اس امر میں صرف کر دو کہ مرزا قادیانی کا دامن کذب کی نجاست سے صاف ہو جائے تو یہ غیر ممکن ہے اس لئے یہ سچ ہے کہ ”جھوٹا آدمی ایک گیند کی طرح گردش میں ہوتا ہے۔“

(نور الحق ص ١٠٢، خزائن ج ٨ ص ١٣٧)

جھوٹ نمبر ١٩٦..... ”کچھ شک نہیں کہ استقراء بھی ادلہ یقینیہ میں سے ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٨٨٨، خزائن ج ٣ ص ٥٨٤)

قادیان کے مولوی فاضلو! ایمان سے بتاؤ کہ کیا اب بھی اس میں شک ہے کہ مرزا قادیانی جیسے مراقی الطبع کے علم و عقل کا دیوالیہ نہیں نکل چکا؟۔ اس لئے کہ استقراء کو یقینی دلیل کہنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو علم و عقل سے محروم اور دماغی امراض سے مالا مال ہوں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے چیلین و چیلان کے ساتھ سلطان المتکلمین وسلطان العلوم کے القاب نادرہ سے بھی موصوف ہیں۔ مگر باوجود اس کے یہ علمی و عقلی دروغگوئیاں ومضحکہ خیزیاں جو منظر عام پر آرہی ہیں تاکہ دنیا سمجھ لے کہ دروغگو کا انجام ذلت ورسوائی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٣)

جھوٹ نمبر ١٩٧..... ”جس حالت میں وہ (مولانا ثناء اللہ صاحب) دو دو آنہ کے لئے در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

غور! چونکہ مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مرزا قادیانی کے سخت جان حریف ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی جس قدر ان پر اتہام وافتراء باندھیں وہ کم ہے۔ مگر یہ کس قدر ذلیل و گندہ جھوٹ اور گھناؤنا افتراء ہے کہ ان کا ذریعہ معاش مردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں کو قرار دیا ہے۔ مرزائیو!

٦٥

صفحہ ٤٩٦

اگر اپنے پیشوائے اعظم کو راست باز دیکھنا چاہتے ہو تو اس کو واقعات کی روشنی میں سچ کر دکھاؤ۔ مگر یاد رہے کہ مولانا ثناء اللہ صاحب ابھی ماشاء اللہ مرزائیت کے بخیہ ادھیڑنے کے لئے موجود ہیں۔ لیکن چونکہ خود مرزا قادیانی کا گزارہ مردوں وزندوں کے چندوں پر تھا اس لئے ایسا ہی وہ اپنے دشمنوں کو بھی سمجھتے تھے۔ کیونکہ ”نجاست خور انسان ہر ایک انسان کو نجاست خور ہی سمجھتا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٠٢، خزائن ج٥ ص ایضاً)

جھوٹ نمبر ١٩٨....... ”خدا کا کلام قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) مر گیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”وَآوَیْنَا ہُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِیْنٍ“ یعنی ہم نے عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ پر پہنچا دیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفیٰ پانی کے چشمے اس میں جاری تھے۔ سو وہی کشمیر ہے اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح مفقود ہے۔“ (حقیقۃ الوحی حاشیہ ص ١٠١، خزائن ج٢٢ ص١٠٢)

نوٹ! مرزا قادیانی کا آیت ”وَآوَیْنَا ہُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِیْنٍ“ سے کشمیر مراد لینا اور قرآن کریم کی شہادت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مار کر سری نگر کشمیر میں قبر بنا دینا سراسر کذب وافتراء ہے۔ ورنہ امت مرزائیہ کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ اپنے بانی سلسلہ کی اس تفسیر کو احادیث، آثار صحابہ، اقوال ائمہ و ابدال واقطاب کی روشنی میں مدلل کر کے یہ بتائیں کہ حضور ﷺ یا سلف صالحین میں سے کسی نے اس آیت سے اس مضمون کو استنباط فرمایا ہے؟ نہیں تو ہماری طرف سے لعنت کے چند پھول مرزا مقدس پر چڑھا دیجئے۔ نیز اسی طرح یہ کہنا کہ حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں ۔ باقرار مرزا جھوٹ ہے۔ اس لئے کہ: آپ فرماتے ہیں اور ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں علیحدہ علیحدہ ہیں۔“

(اتمام الحجۃ حاشیہ ص١٩، ٢٠ ملخصاً، خزائن ج٨ ص٢٩٧)

جھوٹ نمبر ١٩٩....... ”اور یہ کہ مسیح مختلف ملکوں کا سیر کرتا ہوا آخر کشمیر میں چلا گیا اور تمام عمر وہاں بسر کر کے آخر سری نگر محلہ خانیار میں بعد وفات مدفون ہوا۔ اس کا ثبوت اس طرح پر ملتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوز آسف نام ایک نبی جس کا زمانہ وہی

صفحہ ٤٩٧

زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا اور دراز سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا ہے اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اس ملک کا وہ باشندہ تھا۔“

(ریویو آف ریلیجنز ج ٢ نمبر ٩، ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٨)

نور! مرزا قادیانی کا یہ بھی ایک مفتریانہ کذب ہے اس لئے کہ عیسائیوں اور مسلمانوں کا اس بات پر ہرگز اتفاق نہیں۔ مرزائیو! ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر ہے ۔“ یاد ہے نہیں تو دیکھو

(حقیقۃ الوحی ص ٢٠٦، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)

جھوٹ نمبر ٢٠٠....... ”سنت جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام محمد مہدی فوت ہو گئے ہیں اور آخری زمانہ میں انہی کے نام پر ایک اور امام پیدا ہوگا۔“

(ازالہ ص ٤٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)

نور! اہل سنت والجماعت کا یہ مذہب ہرگز نہیں ہے یہ صرف مرزا قادیانی کی جدت طبع کا ایک گندہ افتراء ہے۔ مرزائیو! ”اے مفتری نابکار کیا اب بھی ہم نہ کہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

جھوٹ نمبر ٢٠١....... ”امام محمد اسماعیل صاحب جو اپنی صحیح بخاری میں آنے والا مسیح کی نسبت صرف اس قدر حدیث بیان کر کے چپ کر گئے کہ ’امامکم منکم‘ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دراصل حضرت اسماعیل بخاری صاحب کا یہ مذہب تھا کہ وہ ہرگز اس بات کے قائل نہ تھے کہ سچ مچ مسیح ابن مریم آسمان سے اتر آئے گا۔“

(ازالہ ص ٩٦، خزائن ج ٣ ص ١٥٣)

نور! امام بخاریؒ پر بانی مرزائیت کا ایک ناپاک اتہام وقابل شرم افتراء ہے۔ بالخصوص یہ کہنا کہ ’امامکم منکم‘ صاف ثابت ہوتا ہے بتلا رہا ہے کہ قادیانی پیغمبر علم وعقل سے بالکل برہنہ تھے۔ حتی کہ ان کو امام بخاریؒ کے صحیح نام لکھنے کی تمیز نہ تھی کہ کہیں امام محمد اسماعیل صاحب اور کہیں حضرت اسماعیل بخاری صاحب تحریر کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کا نام محمد تھا۔ نہ محمد اسماعیل اور نہ اسماعیل۔

جھوٹ نمبر ٢٠٢....... ”حالانکہ تیرہویں صدی کے اکثر علماء چودہویں صدی میں اس کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا) ظہور معین کر گئے ہیں اور بعض تو چودہویں صدی والوں کو بطور وصیت یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اگر ان کا زمانہ پاؤ تو ہمارا السلام علیکم انہیں کہو۔“

(ازالہ اوہام ص ١٥٥، خزائن ج ٣ ص ١٧٩)

نور! تیرہویں صدی کے جن اکثر علماء نے چودہویں صدی کو حضرت مسیح کے ظہور کا زمانہ معین فرمایا ہے۔ ان کی اکثریت کو ثابت کرتے ہوئے ان کے اسماء گرامی سے روشناس

٦٧

صفحہ ٤٩٨

کرائیے بعد ازاں جن کتابوں میں انکا یہ مضمون مندرج ہے ان کو بتلائیے نہیں تو ”ایسا کھلا کھلا جھوٹ بنانا ایک بڑے بدذات اور لعنتی کا کام ہے۔“

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ٢٩، خزائن ج ٢٣ ص ٤٠٨)

جھوٹ نمبر ٢٠٣....... ”اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں صاف فرما دیا ہے کہ یہ دو قسم (قہری نشانوں اور تلوار کا عذاب) کے عذاب ایک وقت میں جمع نہیں ہو سکتے۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٠)

نور! قرآن کریم کی جس آیت میں صاف وصراحت سے بغیر تاویل وتوجیہ کے یہ مضمون ذکر کیا گیا ہو اس کو بیان کر کے بتاؤ کہ اس کو صرف مرزا قادیانی ہی نے سمجھا ہے یا اکابر سلف میں سے کسی نے استنباط کیا ہے۔ ورنہ ”خدا کی لعنت ان لوگوں پر جو جھوٹ بولتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)

جھوٹ نمبر ٢٠٤....... ”میرے آنے کے دو مقصد ہیں: ١....... مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں۔ وہ ایسے سچے مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے۔ ٢....... اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے دنیا اس کو بھول جائے۔“

(الحکم ص ١٠، ١٧ جولائی ١٩٠٥ء)

جھوٹ نمبر ٢٠٥....... ”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کردوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے پس میں جھوٹا ہوں....... اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(بدر ج ٢ نمبر ٢٩ ص ٢، ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)

نور! مرزا قادیانی جن دو عظیم الشان مقاصد کو اپنے آغوشِ نبوت میں لے کر رونق افروز بزم قادیان ہوئے تھے۔ افسوس وحسرت کے ساتھ اس امر واقعی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ آپ اس مقصد عظیم میں بری طرح ناکام و نامراد ہوئے اور بہت بے آبرو ہو کر اس کوچہ سے نکلے ہیں اور تمام مسلمانان عالم کو اپنے دروغ گو و جھوٹے ہونے پر شاہد عادل بنا کر چلتے بنے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا پہلا مقصد تو یہی تھا کہ مسلمانوں کو تقویٰ وطہارت سے آراستہ کر کے ان کو صحیح وسچے معنوں میں مسلمان بنائیں۔ مگر اس مقصد کی دردناک ناکامی اس سے ظاہر ہے کہ مسلمان دہریت والحاد کے تباہ کن سیلاب میں بہے چلے جا رہے اور ان کی اخلاقی وعملی حالت اس درجہ تنزل پذیر ہے کہ

٦٨

صفحہ ٤٩٩

معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے ان کو کچھ تعلق نہیں۔ علاوہ ازیں خود مرزا قادیانی نے مسلمان بنانے کے بجائے یہ گمراہ کن راستہ اختیار کیا کہ اپنی مٹھی بھر جماعت کے سوا دنیا کے ان تمام مسلمانوں و مومنوں کو جو ان کی دیسی نبوت و سودیشی مسیحیت کے آستانہ پر جبیں سائی کرنے سے منکر ہیں۔ یا متردد کافر و مرتد بے ایمان بنا کر اسلام کے واحد اجارہ دار بن بیٹھے ہیں۔

(دیکھو حقیقت الوحی ص ١٦٣، ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨، ١٦٧، انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

خیال تھا کہ وہ لوگ جو حضرت رسول اقدس ﷺ کے سایہ رحمت سے نکل کر مرزائیت کے آغوش میں خوش فعلیاں کر رہے ہیں اور بہشتی مقبرہ کے حرص میں قادیانی دیوتا کی پرستش، یقینی طور پر وہ تقوے و طہارت کی چلتی پھرتی تصویریں دیانت و امانت کے عملی پیکر ہوں گے۔ مگر ”خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا“ اس لئے کہ خود بانی سلسلہ آنسو بہا بہا کر ان کی اخلاقی حالت و پرہیز گاری کا مرثیہ خوان ہے۔

”ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور قلبی محبت باہم پیدا نہیں کی سو میں (مرزا قادیانی) دیکھتا ہوں ...... کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیکم نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور میں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بگریباں ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں ...... یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں درندوں میں ہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٩٩، خزائن ج ٦ ص ٣٩٥، ٣٩٦)

ناظرین کرام! مرزا قادیانی اپنے عظمت مآب مقصد میں جس شاندار پسپائی سے پسپا و نامراد ہوئے ہیں اس کا اجمالی خاکہ آپ کے سامنے ہے۔ اس کے بعد دوسرے مقصد عظیم کی المناک ناکامیوں و جگر خراش نامرادیوں کو ملاحظہ فرمائیے کہ کہنے و فریب دینے کے لئے تو قادیانی پیغمبر عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے اور صلیب کو ریزہ ریزہ کرنے آئے تھے۔ مگر برعکس اس کے اسی عیسائیت کے سب سے بڑے تاجدار بادشاہ برطانیہ (جو بقول ان کے دجال اعظم و یاجوج

٦٩

صفحہ ٥٠٠

ماجوج بھی ہے) کی حمایت ونصرت میں اسی صلیب شکن کے مقدس ہاتھوں سے اس قدر اشتہارات و کتابیں لکھی گئیں جو پچاس الماریوں کی بے پناہ وسعت وفراخی کو بھی تنگ کر رہی ہیں۔ علاوہ ازیں اس وقت اکنافِ عالم میں عیسائیت وصلیب پرستی جیسی کچھ روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔ وہ تعلیم یافتہ طبقہ پر بالکل عیاں ہے۔ تاہم اس داستانِ لطف کو مرزائیت ہی کے ایک نامور غلام جس کو اپنے آقائے نامدار کی طرح کسرِ صلیب میں مبالغہ آمیز دعویٰ کے ساتھ بہت کچھ مہارت وکمال حاصل ہے اس کی زبان سے سنئے۔ تاکہ قادیانی پیغمبر کی شاندار نامرادی پر دہان دوز شہادت بن جائے۔ لاہوری مرزائیوں کا ترجمان پیغام صلح لکھتا ہے کہ:

سے زیادہ نہ تھی۔ آج پچاس لاکھ کے قریب ہے۔"

(پیغام صلح ٢؍مارچ ١٩٢٨ء ص ٥)

زبانوں میں بائبل کے شائع کئے ہیں۔"

(پیغام صلح مورخہ ١٣؍مارچ ١٩٢٨ء)

ریاستوں میں عیسیٰ پرست عیسائیوں کی تعداد ٦٢٤٨٨٨٨ ہے اور دس سال میں ٣٢ فیصدی کے حساب سے ان میں اضافہ ہوا اور روز بروز عیسائیت ترقی کرتی جا رہی ہے۔"

صلیب پرستی کی روز افزوں ترقی کا یہ حال صرف اس ہندوستان میں ہے جہاں کہ ایک صوبہ کے ایک گاؤں میں دہقانی پیغمبر قادیانی مسیح اور بادعائے کسرِ صلیب نزولِ اجلال فرما کر قبل از وقت اس واسطے تشریف لے گئے تا کہ دنیا ان کے دروغ گو نامراد ومفتری ہونے میں شک وشبہ نہ کر سکے۔ اسی سے مغربی ممالک کے متعلق اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں عیسائیت کا کس قدر بے پناہ غلبہ ووسعت پذیر ہوگا۔ تاہم اس کو بھی اسی عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے والے قادیانی مسیح کے وفادار غلام پیغام صلح کی زبانی سے سنئے۔

"مسٹر ایف ڈی واکر ایک انگریزی مسیحی مشنری نے مسلم ورلڈ میں اپنے ذاتی تجربات کی بناء پر یہ اعلان کیا ہے کہ سیرالیون، مینڈیلینڈ گولڈ کوسٹ اور اشانتی، نائجیریا اور فرانسیسی نو آبادیوں اور ڈرہومی ٹوگو اور آئیوری کوسٹ میں مجھ پر یہ پورے طور آشکارا ہو چکا ہے کہ اسلام کی رفتار ترقی قطعاً رکتی چلی جا رہی ہے اور آج افریقی لوگوں کو نبی اسلام کا پیرو بنانے میں جس قدر کامیابی مسلمانوں کو حاصل ہوئی ہے۔ اس سے بہت زیادہ تعداد کو ہم مسیحیت کا حلقہ بگوش بنانے میں کامیاب ہیں۔"

(پیغام صلح ص ٣ کالم ١، ٢٤؍مئی ١٩٢٩ء)

٧٠

صفحہ ٥٠١

عیسائیت کی یہ روز افزوں ترقی اور بے پناہ غلبہ اس قادیانی مسیح دیسی نبی کے بعد ہو رہا ہے۔ جو بادعائے خود عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑنے اور عیسائیت کو فنا کرنے کے لئے آئے تھے۔ مگر آہ! افسوس مرزائی مسیح آیا اور بحسرت و یاس نامراد و ذلیل ہو کر قبل از وقت دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس لئے ہم تمام مسلمان ان کے کذاب ومفتری ہونے کی شہادت دیتے ہیں اور ان کی تربت پر لعنتی بدبودار پھول چڑھانے کی عزت حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ ”ہر ایک چیز اپنی علت غائی سے شناخت کی جاتی ہے۔“

(ازالہ ص ٥٥٣ خزائن ج ٣ ص ٣٩٨)

بالآخر ہر وہ انسان جس کا دماغ علم وعقل کی روشنی سے منور ہے وہ یقینی طور پر اس امر کا اظہار کرے گا کہ مرزا قادیانی بڑی شان وشوکت و آب و تاب کے ساتھ اپنے ان دو عظیم الشان مقصد میں ناکام و نامراد ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور ان کی زندگی کا ہر ہر گوشہ دروغ گوئیوں، اختلاف بیانیوں، مبالغہ آمیزیوں، افتراء پردازیوں، اتہام سازیوں، خیانت کاریوں، سرقہ بازیوں، گستاخیوں، شیخیوں، بلند خیالیوں، گالیوں میں اس طرح سے الجھا ہوا ہے کہ امت مرزائیت کا ناخن تدبیر بھی سلجھانے سے عاجز ہے۔

مصیبت میں پڑا ہے سینے والا چاک داماں کا
جو یہ ٹانکا تو وہ ادھڑا جو یہ ادھڑا تو وہ ٹانکا

اور مرزائیت کے بانی سلسلہ کی زندگی ان بیشمار سازیوں و بازیوں کا ایک معجون مرکب ہے۔ جس میں سے ایک جز دروغ گوئی و اتہام سازی کو مشتے از خروارے۔ اس رسالہ میں دوسو کی تعداد میں جمع کیا گیا ہے تاکہ مرزا قادیانی کی خانہ ساز نبوت و خود ساختہ مسیحیت اور دیگر طویل وعریض ہنگامہ خیز دعاوے کی پر تزویر حقیقت پاش پاش ہو کر غبار روزگار بن جائے اور مرزائیت کے اولوالعزم قادیانی پیغمبر کی ذلت و رسوائی اور تباہی و بربادی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رہ جائے۔ در حقیقت قدرت الہیہ کا یہ کرشمہ لطف ہے کہ اس نے مرزا قادیانی جیسے مدعی نبوت کی دوکان کو ویران و تباہ کرنے کے لئے دروغ گوئیوں و افتراء پردازیوں کا اتنا ذخیرہ جمع کر دیا ہے کہ مرزائیت کے مستحکم قلعہ کو بیخ و بن سے مسمار و منہدم کرنے کے لئے کسی اور آلہ حرب و ضرب کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔

چونکہ دروغ گو کا خصوصی شعار و امتیازی نشان حافظہ نباشد بھی ہے۔ اسی معیار پر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ٣، ماہ اپریل ١٩٠٣ء حاشیہ ص ١٥٣)

١٧

صفحہ ٥٠٢

لہٰذا اس اعتراف کے بعد ہم کو دخل در معقولات کی کیا ضرورت ہے:

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا ہے

تاہم مندرجہ ذیل حوالہ جات کو بھی محفوظ رکھئے تا کہ داشتہ کارآمد ہو سکے۔

(مسیح ہندوستان ص٢١، خزائن ج ١٥ص ایضاً)

(ریویو ماہ جنوری ١٩٢٩ء ص ٨)

(ریویو ماہ جنوری ١٩٣٠ء ص ٢٦)

(ریویو ماہ ستمبر ١٩٢٩ء ص ٤)

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٠)

انتباہ!

چونکہ مرزائیت کے بانی مرزا قادیانی کے کذبات کو پیش کر کے ان کے دعاوی پر جائز نکتہ چینی کی گئی ہے۔ اس لئے امت قادیانیہ نعل در آتش و آگ بگولہ ہو کر طرح طرح کی تاویلوں و رنگین توجیہوں سے اس کو پوشیدہ کرنے کی لا حاصل سعی کرے گی۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کذبات کو تاویل و توجیہ کے شکنجے پر چڑھائے بغیر حقائق و واقعات کی روشنی میں ثابت کیا جائے ورنہ بغیر اس کے انگاروں سے کھیلنا اور اپنے علم و عقل کی نمائش کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو مرزائیوں کے لئے مشعل راہ ہدایت بنائے تا کہ وہ کاذب کا دامن چھوڑ کر حضرت صادق مصدوق ﷺ کے آغوش رحمت میں آ جائیں اور احقر کو اس فتنہ عمیاء کے قلع قمع کرنے کی بیش از بیش توفیق عطا فرمائے۔

واخر دعوانا ان الحمدلله رب العالمين!

والسلام!

نور محمد مبلغ و مناظر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور

٥؍ ذی الحجہ ١٣٥٢ھ ، ٢٢؍ مارچ ١٩٣٤ء

٧٢

PDF 503

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

سید الانبیاء والمرسلین شفیع المذنبین

مغالطات مرزا

مناظر اسلام حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوری

صفحہ ٥٠٤

بسم الله الرحمن الرحیم!

نذر عقیدت

فتنہ مرزائیت کے قلع قمع میں مجاہد ملت، شیر اسلام حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری، امیر شریعت (پنجاب) نے جس ہمت و استقلال عزیمت و ایثار کا مظاہرہ کیا ہے اور مسلمانان ہند کو اس گمراہ فرقہ کے دجل وفریب سے آگاہ کرنے کے لئے جیسی سعی بلیغ و جدوجہد فرمائی ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں اپنی اس ناچیز تالیف کو انتہائی عقیدت اور دلی تمنا سے آپ کے نام نامی واسم گرامی سے منسوب کر کے افتخار حاصل کرتا ہوں:

گر قبول افتد زہے عز و شرف

عقیدت کیش : نور محمد از مظاہر علوم سہارنپور ١٠ محرم ١٣٥٤ھ ...... ١٥ اپریل ١٩٣٥ء

تقریظ !

فخر الاماثل کامل العلوم والفنون، جامع المعقول والمنقول حضرت اقدس استاذ المکرم مولانا الشیخ عبدالرحمن صاحب مدظلہ العالی صدر المدرسین مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ۔

نحمده ونصلی علی رسوله الکریم!

یہ ناکارۂ خلائق اہل اسلام کی خدمت میں عرض رساں ہے کہ مرزائیوں کا گمراہ فرقہ اپنے گمراہ کن خیالات کے زہریلے اثرات کی اشاعت میں جس سرعت کے ساتھ مصروف ہے اس کو دیکھتے ہوئے میرے محترم عزیز جناب مولانا نور محمد خان صاحب مدرس و مبلغ و مناظر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور نے اس فتنہ عمیا کے قلع قمع کے لئے ایک کامیاب و مؤثر طریقہ اختیار کیا کہ خارجی و بیرونی حملوں کو چھوڑ کر اس کے استیصال میں اندرونی و داخلی ضربوں کی طرف توجہ مبذول فرمائی اور عزیز موصوف نے مرزا قادیانی مسیلمہ ثانی کی بہت سی کتابوں کا مطالعہ کر کے مرزا کی ان کفریات ، اختلافات، کذبات جن کو قدرت نے خود مرزا قادیانی کے ہاتھوں سے جمع کرا دیا تھا۔ بڑی محنت و جستجو سے منظر عام پر لاکر مرزا قادیانی کی نبوت و دیگر دعاوی کا ایسا بھانڈا پھوڑا کہ بہت

٢

صفحہ ٥٠٥

کی سعادت مند طبائع کو مرزائیت کے دام فریب سے نکلنے کا ذریعہ دستیاب ہو گیا۔ اسی طرح مولانا موصوف نے مرزا قادیانی کی تمام غیر مہذب و مرصع گالیوں، بدگوئیوں، پیغمبرانہ یاوہ گوئیوں کو ان کی مختلف کتابوں سے جمع کر کے ”مغلظات مرزا“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ یہ تو تالیف رسالہ حقیقت میں مرزا قادیانی کی تہذیب واخلاق کا ایک ایسا آئینہ ہے۔ جس میں غلمدیت کے نومولود نبی کی اخلاقی تصویر اس طرح عریاں ہو رہی ہے کہ ہر غیرت مند انسان اس کو دیکھ کر نفرت و حقارت کرے گا اور ایسے غیر مہذب متنبی مرزا قادیانی کو اس قابل نہیں سمجھے گا کہ وہ شرافت و انسانیت کے بھی حامل تھے۔ چہ جائے کہ نبوت ورسالت کے۔

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

اللہ تعالیٰ موصوف کی مساعی کو مشکور فرما کر علم وعمل میں ترقی عطا فرمائیں۔ امید ہے کہ حضرات اہل اسلام عموماً و علماء کرام خصوصاً مولانا موصوف کی مساعی کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے آپ کی مقبول عام تالیفات کی اشاعت میں کوشش کریں گے۔

عبدالرحمن کامل پوری ....... خادم مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ....... ٢٨ محرم ١٣٥٤ھ

تقریظ!

عالم بلیغ و فاضل لوذعی ادیب کامل جامع العلوم والفنون حضرت استاذ محترم مولانا اسعد اللہ صاحب مدرس مظاہر علوم سہارنپور!

الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم والصلوة والسلام على من بعث لیتمم مكارم الاخلاق وانه لعلى خلق عظيم اما بعد! میں عزیز محترم جناب مولانا مولوی حافظ نور محمد خان صاحب مبلغ و مناظر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کو عرصہ سے جانتا ہوں اور آپ کی ملی و قومی خدمات کو احترام کی نگاہوں سے دیکھتا ہوں۔ آپ نے مذاہب باطلہ کے مقابلہ میں کامیاب قلم اٹھایا ہے۔ آجکل آپ کی خصوصی توجہات مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین کی جانب مصروف ہیں۔ اس سلسلہ میں اب تک جو رسائل مثلاً کفریات مرزا، اختلافات مرزا، کذبات مرزا، آپ نے ملک کے سامنے پیش فرمائے ہیں۔ وہ ایک خاص حد تک انصاف پسند

٣

صفحہ ٥٠٦

طبائع سے خراج تحسین وصول کر چکے ہیں اور ان کی معقول اشاعت ان کی مقبولیت کی صاف شہادت دے رہی ہے۔ آپ کی جدید تالیف ”مغلظات مرزا“ پیش نظر ہے۔ آپ کی محنت و کاوش اور عرق ریزی و دماغ سوزی کا اندازہ صرف کتاب دیکھنے ہی سے ہو سکتا ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے مرزا قادیانی کے یکجائی کلام سے کسی نتیجہ کا نکالنا کوہ کندن و کاہ برآوردن کا مصداق ہے۔ چہ جائے کہ مختلف مضامین میں بکھرے ہوئے فقروں کو جمع کیا جائے۔ آپ نے تمام اہل اسلام کے لئے عموماً اور مناظرین کے لئے خصوصاً بہت سہولت پیدا کر دی ہے۔ مغلظات میں اولاً وہ تمام گالیاں جمع کر دی گئی ہیں۔ جو مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی ہیں۔ اس کے بعد ان عذرات کی مکمل و مدلل تردید فرمائی گئی ہے۔ جو فریق ثانی کی جانب سے ان گالیوں کے سلسلہ میں پیش کئے جاتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ یہ تردید بھی مرزائی لٹریچر ہی سے کی گئی ہے۔ ایسے ہی اعذار کے متعلق کہا گیا ہے کہ عذر گناہ بدتر از گناہ۔ پھر وہ گستاخیاں لکھی گئی ہیں۔ جن کو حضرات انبیاء علیہم السلام وعترت کرام و صحابہ عظام کی شان میں روا رکھا گیا ہے۔ بعد ازیں اس سب وشتم کو جمع کیا گیا ہے۔ جس کو عامتہ المسلمین وحضرات علماء کے لئے جائز رکھا گیا ہے۔ اخیر میں عیسائیوں اور آریوں کو جو مغلظات سنائی گئی ہیں یکجا کر دیا ہے۔ کتاب کے ختم پر آپ نے ان تمام گالیوں کی جو مغلظات جمع فرمائی ہیں ردیف وار ایک مکمل فہرست بھی لکھ دی ہے۔ جس سے نہایت آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے فلاں گالی کس کتاب میں کس صفحہ پر دی ہے۔ چونکہ جناب مصنف مجھ سے محبت فرماتے ہیں۔ اس لئے میں نے امتثالاً لامر یہ سطور لکھ دیں ورنہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ تصانیف علماء پر تقریظ لکھوں۔

اسعد اللہ عفا اللہ ...... مدرس مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور

قطعہ تاریخ از مولانا اسعد اللہ صاحب

خان صاحب مولوی نور محمد نے لکھی جب کتاب جامع اشتات و کافر ماجرا
لکھ دی یہ تاریخ اسعد نے قلم برداشتہ اجتماع فن دشنام جناب مرزا
١٣٥٤ھ
صفحہ ٥٠٧

بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمدلله وحده والصلوة والسلام على نبي لا نبي بعده ٠ وآله واصحابه اجمعين !

ایک مصلح ورہبر قوم جس کا فرض منصبی قوموں وجماعتوں کی اصلاح وتعلیم ہو اس کے لئے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ وہ تہذیب واخلاق سے موصوف اور صبر وتحمل حلم وعفو سے آراستہ ہو تا کہ وہ برگشتہ قوم کو اپنی شیریں زبانی ونرم خوئی کے ذریعہ راہ راست پر لائے اور ان کو رذائل وخبائث سے پاک کر کے محاسن ومکارم کا حامل بنادے۔ چنانچہ دیکھئے انبیاء علیہم السلام ودیگر مصلحین امت میں کس قدر اخلاق حسنہ کی فراوانی تھی۔ خصوصاً سردار انبیاء حضرت محمد رسول ﷺ تو مکارم اخلاق کے ایک بے نظیر پیکر اور صبر وتحمل حلم وعفو کے ایک بے مثال مجسمہ بن کر رونق افروز عالم ہوئے تھے کہ دوستوں کے علاوہ ان جانی دشمنوں کے لئے بھی جن کا شب و روز آپکو تکلیف پہنچانا شیوہ خاص تھا۔ سراپا رحمت تھے کہ زبان مبارک سے ان کے لئے بھی کوئی برا کلمہ نہیں نکالا اور اس نرمی وشیریں بیانی سے گفتگو فرماتے تھے کہ دشمن کا سخت دل بھی پانی پانی ہو جاتا تھا اور دل دکھانے والے سخت الفاظ سے دشمنوں کو بھی یاد کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔

اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے مکارم اخلاق کے متعلق ”انك لعلى خلق عظيم . القلم:٤“ فرمایا۔ لیکن پنجاب کی نبوت خیز سر زمین ضلع گورداسپور کے ایک غیر معروف گاؤں قادیان میں غلام احمد قادیانی نامی ایک شخص پیدا ہوا اور کچھ پڑھ لکھ کر سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپیہ ماہوار کے گرانقدر مشاہرہ پر محرر ہوگئے۔ اس کے بعد آپ کا اپنے متعلق یہ یقین ہوگیا کہ میں ”مصلح اعظم“ مسیح موعود نبی ورسول ہوں ۔ بلکہ کامل اتباع وفنافی الرسول کے باعث ”محمد ثانی“ ہوں۔ اس لئے یہ لازم تھا کہ آپ بھی اعلیٰ اخلاق، بہترین تہذیب، حلم وعفو، شیریں کلامی، سنجیدگی ودیگر اخلاقی کمالات سے نہ صرف موصوف ہی ہوتے بلکہ اس میں وہ یکتائے روزگار ہوتے۔ لیکن افسوس کہ ”مصلح اعظم“ بننے والے اور نبوت ورسالت کے دعویٰ کرنے والے مرزا قادیانی کے ظرف میں اخلاق حسنہ کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ بلکہ وہ سراسر اخلاقی کمزوریوں، نکتہ چینیوں، بدگوئیوں، بدکلامیوں سے لبریز تھا اور یہاں تک اپنے اس فن دشنام دہی میں ترقی کی تھی کہ اس کو دیکھ کر اور سن کر بداخلاقی اور بدتہذیبی بھی شرم وندامت سے سرنگوں ہو جاتی ہے۔ اس لئے اگر ان کو اس فن کا پیغمبر اعظم کہا جائے تو کچھ بے جا نہیں۔

٥

صفحہ ٥٠٨

ناظرین! نگاہ عبرت سے دیکھئے کہ خداوند تعالیٰ کو یہ بھی گوارا نہیں ہے کہ اس کے مقدس حبیب ﷺ کی نبوت کا روپ بدلنے والے دنیا میں مہذب وخلیق بن کر زندگی بسر کریں۔ اس لئے اس پنجابی نبی کی تصنیفات وتحریرات کو ملاحظہ کیجئے تو جابجا بدکلامی و بدگوئی کی نجاست وغلاظت بکھری ہوئی نظر آئے گی۔ چنانچہ میں نے اپنے اس رسالہ میں ان تمام بکھری ہوئی ومنتشر فحش کلامیوں وبدزبانیوں کو بادل نخواستہ جمع کیا ہے۔ تاکہ نبوت کے بھیس بدلنے والے مرزا قادیانی کی اخلاقی روش آشکارا ہو جائے اور کم از کم ان لوگوں کو جو مرزائیت کے دلفریب کھلونے کے پیچھے اپنے متاع ایمان کو برباد کرچکے ہیں یا برباد کرنے پر آمادہ ہیں۔ یا اس جماعت کو کسی درجہ میں پسندیدہ نظروں سے دیکھتے ہیں یہ معلوم ہوجائے کہ کیا ایک مصلح وریفارمر کو ایسا ہی خلیق ومہذب ہونا چاہئے جیسا کہ مرزا قادیانی تھے کہ بات بات میں اپنے مخالف کو گالی دینا اور اس کی تذلیل وتوہین کرنا ان کا شیوہ کار تھا۔ اگرچہ مرزا قادیانی نے تہذیب واخلاق کے متعلق اپنے منہ میاں مٹھو بننے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی اور زبانی جمع وخرچ بہت کچھ کیا ہے کہ میں حلیم وبردبار، متحمل وصابر، مہذب وخلیق ہوں۔ مگر حقیقت میں ان کو اس سے دور کی بھی نسبت نہیں تھی۔ اس لئے مناسب ہے کہ سب سے پہلے مرزا قادیانی کی نصیحت پرور اخلاقی تعلیمات ملاحظہ کریں اس کے بعد اخلاق مرزا کی تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تاکہ آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ کرشن قادیانی کس درجہ خلیق ومہذب تھے۔ قادیانیو!

آپ ہی اپنے ذرا جور ستم کو دیکھو
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

نوع کے سخت الفاظ کو اپنے مخاطب کے لئے پسند رکھیں۔ یا کوئی دل دکھانے والا لفظ اس کے حق میں یا اس کے کسی بزرگ کے حق میں بولیں کیونکہ یہ طریق علاوہ خلاف تہذیب ہونے کے ان لوگوں کے لئے مضر بھی ہے جو مخالف رائے کی حالت میں فریق ثانی کی کتاب کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ جب کسی کتاب کو دیکھتے ہی رنج پہنچ جائے تو پھر برہمی طبیعت کی وجہ سے کس کا جی چاہتا ہے کہ اس دل آزار کتاب پر نظر بھی ڈالے۔“

(شحنہ حق ص الف خزائن ج٢ ص ٤٢٢)

الاخلاق“، یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز (مرزا قادیانی) کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب الاخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر٣ ص٣٥، خزائن ج١٧ ص٤٢٥)

٦

صفحہ ٥٠٩

دشمنوں کے دل کو بھی تنگ کرنا نہیں چاہتے۔“

(شحنہ حق ص ٤، خزائن ج٢ ص ٣٤٦)

رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

(دافع الوساوس ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(ازالہ حاشیہ ص ٢٦، خزائن ج ٣ ص ١١٥)

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٧١)

بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی تحمل نہ ہو سکے اور جو امام زماں کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح امام زماں نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر آیت ”انك لعلی خلق عظیم“ کا پورے طور پر صادق آجانا ضروری ہے۔“

(ضرورت الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)

رائے یا اختلاف مذہب کی وجہ سے عمدہ اخلاق کو بھی چھوڑ دے۔ اختلاف رائے اور چیز ہے اور اخلاق اور چیز۔ بلکہ اس انسان کو با اخلاق نہیں کہا جا سکتا جس کے اخلاق محض اپنے ہم مشربوں تک ہی محدود ہیں۔ انسانی اخلاق کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ باوجود اختلاف رائے عمدہ اخلاق سے پیش آئے اور اظہار اختلاف کے وقت کوئی اخلاقی کمزوری نہ دکھائے ......... مذہب انسان کو کیا سکھاتا ہے۔ مذہب تو اس لئے ہوتا ہے کہ انسان کے اخلاق وسیع ہوں اور وہ اعلیٰ درجہ کا با اخلاق بنے۔ مذہب یہی تعلیم دیتا ہے کہ انسان اپنے اخلاق کو خدا کے اخلاق کی طرح کرے۔ پس دیکھ لو کہ خدا کے اخلاق کیسے وسیع ہیں۔ کوئی ہزاروں گالیاں اسے دے وہ فی الفور اس پر پتھر برسا کر اس

٧

صفحہ ٥١٠

کو ٹکڑے ٹکڑے نہیں کر ڈالتا۔ پس اسی طرح حقیقی تہذیب والا انسان بہت تحمل اور برداشت والا ہوتا ہے اور تنگ ظرف نہیں ہوتا۔ تنگ ظرف انسان خواہ ہندو ہو یا مسلمان یا عیسائی وہ اپنے بزرگوں کو بھی بدنام کرتا ہے....... غرض جس قدر تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اس کا باعث وہی لوگ ہیں جنہوں نے زبانوں کو تیز کرنا سکھایا ہے اور اس حقیقت مذہب سے ناواقف ہیں۔“

(ریویو نمبر ١٠ ج ٣ از ص ٣٤٨ تا ٣٥٢ بابت ماہ اکتوبر ١٩٠٤ء، زیر عنوان ”مصلح کا پہلا فرض کیا ہونا چاہئے“)

اور بدزبانیوں پر صبر نہ کرو تو پھر تم میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہوگا...... سو چونکہ تم سچائی کے وارث ہو ضروری ہے کہ تم سے بھی دشمنی کریں سو خبردار رہو نفسانیت تم پر غالب نہ آئے۔ ہر ایک سختی کی برداشت کرو ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو...... تمہیں چاہئے کہ آریوں کے رشیوں اور بزرگوں کی نسبت ہرگز سختی کے الفاظ استعمال نہ کرو...... یاد رکھو کہ ہر ایک جو نفسانی جوشوں کا تابع ہے ممکن نہیں کہ اس کے لبوں سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے۔ بلکہ ہر ایک قول اس کا فساد کے کیڑوں کا ایک انڈا ہوتا ہے۔ بجز اس کے اور کچھ نہیں پس اگر تم روح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو تب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے...... تمسخر سے بات نہ کرو اور ٹھٹھے سے کام نہ لو اور چاہئے کہ سفلہ پن اور اوباش پن کا تمہارے کلام پر کچھ رنگ نہ ہو۔ تا حکمت کا چشمہ تم پر کھلے...... لیکن تمسخر اور سفاہت کی باتیں فساد پیدا کرتی ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکے سچی باتوں کو نرمی کے لباس میں بتاؤ تا سامعین کے لئے موجب ملال نہ ہوں۔ جو شخص حقیقت کو نہیں سوچتا اور نفس سرکش کا بندہ ہو کر بدزبانی کرتا ہے۔ اور شرارت کے منصوبے جوڑتا ہے۔ وہ ناپاک ہے اس کو کبھی خدا کی طرف راہ نہیں ملتی اور نہ کبھی حکمت اور حق بات اس کے منہ پر جاری ہوتی ہے...... بدی کا جواب بدی کے ساتھ مت دو نہ قول سے نہ فعل سے۔“

(نسیم دعوت ص ٥٤، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٢، ٣٦٥)

اپنی خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل پر تمسخر کی باتیں کرو یا گالی کے مقابل پر گالی دو۔ کیونکہ اگر تم نے یہ راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٨٢٦، خزائن ج ٣ ص ٥٤٧)

(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١٢)

٨

صفحہ ٥١١

اگرچہ مرزا قادیانی اپنے منہ خوب میاں مٹھو بنتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ میں گالیوں بدگوئیوں کے عوض میں نہ گالیاں دیتا ہوں اور نہ بدگوئیاں کرتا ہوں۔ بلکہ دعائیں دیتا ہوں اور باوجود جوش غضب کے کبھی دل دکھانے والے الفاظ نہ بولتا ہوں اور نہ لکھتا ہوں۔ غرض یہ کہ مرزا قادیانی کی ان اخلاقی بلند آہنگیوں ونصیحت پرور عبارتوں کو دیکھ کر بھلا کون انسان یہ گمان کر سکتا ہے کہ ایسا شخص بھی بدزبان و بد گو ہوگا۔ جس کو ( کہنے کے لئے ) اپنے غیظ وغضب پر اس قدر قابو ہے کہ وہ گالیاں سن کر دعائیں دیتا ہے اور دشمنوں کے دل کو بھی تنگ نہیں کرتا اور ہر کس وناکس سے حسن اخلاق سے پیش آتا ہے۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی ومقولات کی بنیاد ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور“ پر ہوتی ہے اور ہمیشہ آپ کے قول وفعل میں وہی نسبت رہتی ہے۔ جو زمین و آسمان میں یا مشرق ومغرب میں ہے۔ اس لئے باتیں تو بڑی دل خوش کن ونہایت دلفریب ہوتی ہیں۔ لیکن عملی تصویر نہایت خوفناک و برہنہ ہوتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ان اخلاق پرور دعاوی ونصیحت آمیز مقولات کو آپ ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اب عمل کی تصویر ملاحظہ فرمائیے کہ جس طرح قول کی تصویر دلفریب ودیدہ زیب روح نواز ہے۔ اسی طرح عمل کی تصویر خوفناک گندگی وغلاظت سے بھری ہوئی ہے۔ جس کو میں طوعاً وکرہا نذر ناظرین کرتا ہوں تا کہ قادیان کے نومولود نبی کی اخلاقی روش تہذیب ومتانت کے ہنگامہ پرور دعاوی کی حقیقت بے نقاب ہو جائے اور قادیانی مذہب کا پول کھل جائے اور دنیا عبرت کی نگاہوں سے دیکھ لے کہ مرزا قادیانی نے گندگی وغلاظت کے پوٹ پر کس طرح اخلاق وتہذیب کا ”روغن قاز“ مل کر مخلوق خدا کی آنکھوں میں خاک جھونکنے اور ان کو بیوقوف بنانے کی کیسی بیہودہ کوشش کی ہے۔

اہانت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھیانک منظر

تہذیب واخلاق کے دعوے دار مرزا قادیانی کا یہ دستور العمل تھا کہ اپنے باطل عقیدہ سے اختلاف رکھنے والوں کو خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، سب وشتم کرتے، گالیاں دیتے خوفناک بددعاؤں سے دھمکاتے۔ چنانچہ مرزائیت کے باوا آدم کا یہ نرالا قابل نفرت کارنامہ تھا کہ اسلامی دنیا کے تمام کلمہ گو مسلمانوں کو محض اپنی مصنوعی نبوت کے انکار کی وجہ سے بیک جنبش قلم کافر ومرتد بددین و بے ایمان بنا ڈالا۔ حتیٰ کہ یہ کہہ دیا کہ جو مسلمان مجھ کو نہ مانے وہ حرام زادہ ہے۔ (معاذ اللہ ) اس کے بعد مسلمانوں میں سے جو مسلمان یا علماء کرام کے مقدس گروہ میں جو عالم ومولوی ان کے چلتے ہوئے دعاوی میں حارج و مانع ہوا اس کو تو ایسی کوری کوری بے نقطہ گالیاں

٩

صفحہ ٥١٢

سنائی ہیں کہ تہذیب و متانت بھی لرزہ براندام ہو جاتی ہے اور انسانیت و شرافت عرق انفعال میں غرق۔ اسی سلسلہ میں آپ کی زبان یہاں تک دراز ہوئی کہ مسلمانوں و علماء اسلام سے گزر کر انبیاء علیہم السلام کی مقدس جماعت پر بھی حملہ آور ہوئی۔ خصوصیت سے مرزا قادیانی نے اس معصوم مقدس جماعت میں سے اللہ کے پیارے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سب وشتم ولعن وطعن کی خوب بارش کی۔ بلکہ اپنی تمام تر اخلاقی کمزوریوں و بدتہذیبیوں کا آپ ہی کو آماجگاہ بنایا۔ جس کو دیکھ کر ایک حلیم سے حلیم شخص بھی اپنے جوش غضب پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ اس لئے سب سے پہلے اخلاقی دیوتا بننے والے، تہذیب و اخلاق کے دعوے کرنے والے، گالیوں کے عوض دعائیں دینے والے، مرزا قادیانی کی وہ بدزبانیاں، گالیاں، ژاژ خائیاں، افتراء پردازیاں، یاوہ گوئیاں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان مبارک میں روا رکھتے ہیں۔ اس کو اپنے کلیجے پر سل رکھ کر ملاحظہ کیجئے، اور انصاف سے فرمائیے کہ اس قادیانی رسول کے منہ سے رحمت بہہ رہی ہے یا غلاظت۔

مسلمانوں کا زندہ رسول)...... اس درماندہ انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے لڑائیاں ہوں گی...... پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٤، حاشیہ، خزائن ج١١ ص٢٨٨)

اور عوام الناس کی طرح مرگی کو بیماری نہ سمجھتے تھے۔ جن کا آسیب کا خیال کرتے تھے۔ ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص٥، خزائن ج١١ ص٢٨٩)

نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہ دیا تھا یا اس استاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا بہر حال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص٦، خزائن ج١١ ص٢٩٠)

١٠

صفحہ ٥١٣

بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفا خانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ (اور مسلمان رسول کہتے ہیں) آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔...... پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائے کہ اس کو نبی قرار دیں۔“

(کتاب مذکور ص ٨،٩ خزائن ج ١١ ص ٢٩٢، ٢٩٣)

پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے۔ جو اس عقدہ کو حل کر سکے...... غرض حضرت مسیح کا یہ اجتہاد غلط نکلا اصل وحی صحیح ہوگی مگر سمجھنے میں غلطی کھائی افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہادات میں غلطیاں ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔ شاید خدائی کے لئے یہ بھی ایک شرط ہوگی ۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤ تا ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٢١ تا ١٣٥)

عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم “

(ازالہ ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“

(ازالہ حاشیہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

(مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔ گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔...... مگر یاد رکھنا

١١

صفحہ ٥١٢

چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز (مرزا قادیانی) اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

(ازالہ حاشیہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘

(ازالہ حاشیہ ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)

پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کا جانور بنا دیتا تھا۔ بلکہ صرف عمل الترب (مسمریزم) تھا۔‘‘

(ازالہ حاشیہ ص ٣٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)

لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ...... اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠، ٢٩١)

غلطیاں ہیں۔ اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)

درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو کرنا سکھایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

کیا کہ آپ نے ایک فاحشہ عورت سے عطر کیوں ملوایا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھ تو پانی سے میرے پاؤں دھوتا ہے اور یہ آنسوؤں سے۔‘‘

(بدر ٣ مئی ١٩٠٨ء)

(حاشیہ ست بچن ص ١٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥)

١٢

صفحہ ٥١٥

ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی ۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ٤، بابت اپریل ١٩٠٣ء ص ١٤٩، نسیم دعوت ص ٦٩ ، خزائن ج ١٩ ص ٣٤٥)

افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا بلکہ مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟ اور پیش گوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے۔..... زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔“

(ازالہ ص ٧٠٦ ، خزائن ج ٣ ص ١٠٥، ١٠٦)

اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“

(حاشیہ کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

تھا۔ کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“

(حاشیہ کشتی نوح ص ٦٥ ، خزائن ج ١٩ ص ٧١)

پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣، ٢٤)

بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اس وجہ سے خدا نے قرآن کریم میں یحییٰ کا نام ”حصور“ رکھا مگر مسیح کا نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)

١٣

صفحہ ٥١٦

٢٤...... ”جن لوگوں نے ان کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کو خدا بنایا ہے۔ جیسے عیسائی یا وہ جنہوں نے خواہ مخواہ خدائی صفات انہیں دی ہیں ۔ جیسا کہ ہمارے مخالف اور خدا کے مخالف نام کے مسلمان وہ اگر ان کو اوپر اٹھاتے اٹھاتے آسمان پر چڑھا دیں یا عرش پر بٹھا دیں یا خدا کی طرح پرندوں کا پیدا کرنے والا قرار دیں۔ تو ان کو اختیار ہے انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کرے لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی ۔“

(دافع البلاء حاشیہ ،خزائن ج١٨ ص ٢١٩)

٢٥...... ”آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا۔ کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧،خزائن ج١١ ص٢٩١)

٢٦...... ”مسیح ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا۔ جب استاد کے سامنے اس کے حسن جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اس کو عاق کر دیا یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح وہ مسیح ابن مریم نوجوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔“

(الحکم ٢١؍فروری ١٩٠٢ء)

٢٧...... ”(عیسائی) اس شخص کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) تمام عیبوں سے مبرا سمجھتے ہیں۔ جس نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں اور جس نے شراب خوری، قمار بازی اور کھلے طور دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اور اس کو یہ موقع دے کر کہ اس کے بدن سے بدن لگائے اپنی تمام امت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں سے کوئی بھی حرام نہیں۔“

(انجام آتھم ص ٣٨،خزائن ج١١ ص ایضاً)

٢٨...... ”کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں ! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب ہونے کے باعث ازدواج سے بچے اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“

(مکتوبات احمدیہ ج٣ ص٢٨)

١٤

صفحہ ٥١٧

٢٩....... ”جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ حضرت آدم بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قوٰی سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٧، ٢٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٦)

٣٠....... ”اگر آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کس قدر اعتراض ہوں گے۔ جنہوں نے ایک اسرائیلی فاضل سے توریت کا سبقاً سبقاً پڑھا تھا اور یہودیوں کی تمام کتابوں تالمود وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا اور جن کی انجیل درحقیقت بائبل اور طالمود کی عبارتوں سے پر ہے۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٧)

٣١....... ”حضرت مسیح کی سخت زبانی تمام نبیوں سے بڑھی ہوئی ہے۔“

(ازالہ ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ١١٠)

٣٢....... ”میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل ہوا۔ ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا۔ اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں۔ میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق دیکھتا ہوں بلکہ ان سے زیادہ۔“

(چشمہ مسیحی ص ٣٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٢)

٣٣....... ”اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ۔“

(حاشیہ ست بچن ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦)

٣٤....... ”لوگوں نے اس سے پہلے خارق عادت امر کا عیسیٰ بن مریم میں نتیجہ نہیں دیکھ لیا جس نے کروڑہا انسانوں کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنا دیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٠٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٢)

٣٥....... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک زندہ رسول ماننا .......... یہی وہ جھوٹا عقیدہ ہے جس کی شامت کی وجہ سے کئی لاکھ مسلمان اس زمانہ میں مرتد ہو چکے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٩)

٣٦....... ”غرض جس قدر جھوٹی کرامتیں اور جھوٹے معجزات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ کسی اور نبی میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ عجیب تر یہ کہ

١٥

صفحہ ٥١٨

باوجود ان تمام فرضی معجزات کے ناکامی اور نامرادی جو مذہب کے پھیلانے میں کسی کو ہو سکتی ہے۔ وہ سب سے اولیٰ نمبر پر ہیں۔ کسی اور نبی میں اس قدر نامرادی کی نظیر تلاش کرنا لاحاصل ہے۔“

(نصرت الحق ص ٤٥، خزائن ج ٢١ ص ٥٨)

السلام کی طرف منسوب کئے ہیں۔ وہ سنت اللہ سے سراسر خلاف ہیں۔“

(نصرت الحق ص ٤٤، خزائن ج ٢١ ص ٥٦)

توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا۔“

(نزول المسیح ص ٦٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٨)

ناکام رہے شاید اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات میں بہت ہی کم ملے گی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٠٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

دی گئیں۔ جو مجھے (مرزا قادیانی) کو دی گئیں....... اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧)

کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٩)

( دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

گئے ہیں اس کی نظیر کسی اور نبی میں نہیں پائی جاتی....... اور اصلاح مخلوق میں تمام نبیوں سے ان کا گرا ہوا نمبر تھا۔“

(نصرت الحق ص ٣٧، ٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٤٧، ٤٨)

١٦

صفحہ ٥١٩

طرف ایسے معجزات منسوب کرتے ہیں جو قرآن کریم کی بیان کردہ سنت کے مخالف ہیں۔“

(نصرت الحق ص ٤٨، خزائن ج ٢١ ص ٤٩)

زیادہ مصروف تھی۔ اس لئے ان کی امت میں یہ اثر ہوا کہ رفتہ رفتہ دین سے تو وہ بکلی بے بہرہ ہو گئے۔“

(ایام الصلح حاشیہ ص ١٥٧، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٤)

بعض راست بازی اور تعلق باللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی افضل اور اعلیٰ ہوں۔“

(دافع البلاء حاشیہ ص ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢١٩)

یوحنا کہتے ہیں۔ جو پیچھے ایلیا بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور ان کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے۔“

(دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ حاشیہ )

کو ناحق آسمان پر بٹھایا گیا۔ کس قدر ظلم ہے خدا...... ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)

بات پر قائم رہتے کہ میری بادشاہت دنیا کی بادشاہت نہیں مگر نفسانی جذبات کی وجہ سے صبر نہ کر سکے اور اپنے پہلے پہلو میں ناکامی دیکھ کر ایک اور چال اختیار کی اور پھر جب باغی ہونے کے شبہ میں پکڑے گئے ۔ تو پھر اپنے تئیں بغاوت کے الزام سے بچانے کے لئے وہی پہلا پہلو اختیار کرلیا دعویٰ خدائی کا اور پھر یہ چالبازیاں جائے تعجب ہے۔“

(انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

مرزا قادیانی نے ان مذکورہ بالا عبارتوں میں جس قدر سخت و گندے الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں استعمال کر کے اپنے اخلاق و تہذیب کی نمائش کی ہے اور اپنے متاع ایمان کو برباد کیا ہے ان کو برائے تفنن طبع حروف تہجی کے لحاظ سے ردیف وار پیش کرتا ہوں۔ ان میں سے بعض الفاظ تو بعینہ فرمودہ مرزا ہیں اور بعض ماخوذ و مفہوم ہیں ۔ امید کہ ملاحظہ کر کے قادیانی رسول کے اخلاق کی داد دیں گے اور اس کا ثواب ان کی روح کو بخش دیں گے۔

١٧

صفحہ ٥٢٠

الف اُس نادان اسرائیل ۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ اول درجہ ناکام و نامراد ۔ نصرۃ الحق ص ٤٥ خزائن ج ٢١ ص ٥٨ اجتہادات میں عدیم النظیر غلطیاں کرنے والا ۔ اعجاز احمدی ص ٢٥ خزائن ج ١٩ ص ١٣٥ ب بد زبان ۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ بد اخلاق ۔ چشمہ مسیحی ص ١١ خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦ بد چلن ۔ حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١ بد معاش ۔ حاشیہ ست بچن ص ٧٢ خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦ باعث عذاب ۔ حقیقت الوحی ص ٣٠٩ خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٢ بے وقوف ۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ باپ والا ۔ ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٣ خزائن ج ٣ ص ٢٥٤ بد کار ۔ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٨ خزائن ج ١١ ص ٣٨ پ پیٹو ۔ مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤ ج جھوٹا ۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٨٩ جھوٹی پیش گوئیوں والا ۔ اعجاز احمدی ص ١٣ تا ٢٥ خزائن ج ١٩ ص ١٢١ تا ١٣٥ چ چالباز ۔ انجام آتھم ص ١٣ خزائن ج ١١ ص ١٣ ح حقیقی بھائی والا ۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ حقیقی بھائی بہنوں والا ۔ کشتی نوح حاشیہ ص ١٧ خزائن ج ١٩ ص ١٨ حرام کی کمائی کا تیل ڈلوانے والا ۔ انجام آتھم ص ٣٨ خزائن ج ١١ ص ٣٨ خ خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔ مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤ خود بین ۔ مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤ خلل دماغ ۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ خراب چال چلن والا ۔ ست بچن ص ١٧٢ حاشیہ خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦ خراب نسب والا ۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١ ١٨ د ..... درماندہ انسان دنیا دار ۔ دیوانہ ۔ ر، ز ..... راست بازوں س ..... سادہ لوح ۔ سخت زبان ۔ ش ..... شریر آدمی ۔ شرابی ۔ ع ..... عقل بہت عورت کا غا علم و عمل میں غ ..... غلط گو ۔ غلط پیش گو غلط اجتہا غصہ ور ۔ ف ..... فاحشہ عور فطری ط فتنہ پردا فرعونی ۔ ق ..... قمار با ک ..... کنجر کم ہم کہانی

صفحہ ٥٢١

د ....... درماندہ انسان۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ دنیا دار۔ ایام صلح حاشیہ ص ١٥٧، خزائن ج ١٤ ص ٤٠٤ دیوانہ۔ ست بچن حاشیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥ ر، ز ....... راست بازوں کے دشمن۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ س ....... سادہ لوح۔ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ سخت زبان۔ ازالہ اوہام ص ١٥، خزائن ج ٣ ص ١١٠ ش ....... شریر آدمی۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ شرابی۔ نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٥ ع ....... عقل بہت موٹی۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ عورت کا عاشق۔ الحکم ٢١؍فروری ١٩٠٢ء علم وعمل میں کچے۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ غ ....... غلط گو۔ اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣ غلط پیش گوئی کرنے والا۔ اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣ غلط اجتہاد کرنے والا۔ اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١ غصہ ور۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ ف ....... فاحشہ عورتوں سے تعلق رکھنے والا۔ دافع البلاء ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠ فطری طاقتوں سے بے نصیب۔ حقیقت الوحی ص ١٥٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٧ فتنہ پرداز۔ دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥ فریبی۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ ق ....... قمار باز۔ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣٨ ک ....... کنجریوں سے آشنائی کرنے والا۔ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ کم مرتبے والا۔ ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠ کبالی۔ ست بچن حاشیہ ص ١٧٢، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٦

١٩

صفحہ ٥٢٢

کھاؤ۔

مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣

گ ....... گناہ گار۔

دافع البلاء ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨، حاشیہ ص ٢٤٠

گالیاں دینے والا۔

ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩

ل ....... لاف وگزاف کہنے والا۔

انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ١٣

م ....... مردہ خدا۔

ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨

موٹی عقل والا۔

ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩

متکبر۔

مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤

مسمریزم میں کامل۔

ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧

معجزات سے خالی۔

ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠

مرگی والا۔

ست بچن حاشیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٠ ص ٢٩٥

محض سادہ لوح۔

ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠

مکار۔

ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١

ن ....... نادان اسرائیلی۔

ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨

ناپاک خیال۔

ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٤

ناکام۔

ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣١٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨

نامراد۔

نصرت الحق ص ٤٥، خزائن ج ٢١ ص ٥٨

ناحق کا پرستار۔

مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤

نامرد۔

مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨

نجاری۔

ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥

ناحق بددعا دینے والا۔

چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦

نہ زاہد

مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٣

نہ عابد

مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٤

ھ ....... ہجوا۔

مکتوبات احمدیہ ج ٣ ص ٢٨

٢٠

صفحہ ٥٢٣

عذر گناہ بدتر از گناہ

مرزا قادیانی نے مندرجہ بالا اپنے بیہودہ اقوال وحیا سوز کلمات میں جس شدید گندہ دہنیوں، بازاری گالیوں، فحش کلموں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم سچے پیغمبر کی توہین و تنقیص کی ہے اس پر شرافت و انسانیت تہذیب و متانت رہتی دنیا تک لرزہ براندام ہو کر مرثیہ خواں و ماتم کناں رہے گی اور اس کو دیکھ کر حلیم سے حلیم شخص بھی ضبط و تحمل کی چادر کو چاک کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ مقدس اسلام کی دانش و حکمت سے لبریز تعلیم نے تمام انبیاء علیہم السلام کی عزت وعظمت توقیر و تعظیم کو نہ صرف ضروری تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اس کو ایمان و اسلام کا نہ جدا ہونے والا ایک ایسا جزو بنا دیا ہے کہ کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ تا وقتیکہ اس کے لوح دل پر انبیاء علیہم السلام کی تصدیق اور ان کی محبت وعظمت کا غیر فانی نقش ثبت نہ ہو مگر جب مرزا قادیانی نے باوجود ادعائے تہذیب واخلاق نبوت و رسالت حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے رفیع المرتب پیغمبر کی شان برتر میں مغلظات، ناپاک اتہامات کو استعمال کر کے اپنی تہذیب و اخلاق کی نمائش کی ، تو اس مکروہ فعل سے اسلامی طبقہ میں غیظ و غضب کی لہر دوڑ گئی اور ہر طرف سے اس مدعی نبوت پر نفرت و حقارت کی بارش شروع ہو گئی۔ تو حلقہ بگوشان مرزائیت میں جو دانشمند و سعادت مند تھے مرزا قادیانی کی ان ناجائز کارروائیوں سے متاثر ہو کر علیحدہ ہونے لگے۔ اس پر مرزا قادیانی کو اپنی روٹی کی کمی کا زبردست خطرہ محسوس ہوا اور غیرتمند مسلمانوں کے جوش انتقام کا خوف دامنگیر ہو گیا۔ تو اپنی ان گندہ دہنیوں و ناپاک گالیوں پر عجیب و غریب شطرنجی چالبازیوں وفریب دہ حیلہ سازیوں سے پردہ ڈالنے کی سعی لا حاصل کی تا کہ مسلمانوں کا جوش غضب فرو ہو جائے اور مرزائیت کے دام فریب میں جو لوگ اپنی سادہ لوحی سے پھنس گئے ہیں اور اہانت عیسیٰ علیہ السلام کی اس بھیانک تصویر سے متردد و متذبذب ہو گئے ہیں۔ ان کے لئے سامان جمعیت و استقامت مہیا ہو جائے اور چونکہ آج کل ان کی امت اپنے بانی سلسلہ کے ان حیلہ سازیوں و چالاکیوں کو نہایت بے باکی سے اچھالتی پھرتی ہے اور اپنے پیشوا اکبر کے دامن سے اس سیاہی کو دور کرنے کے لئے اگر چہ عذر گناہ بدتر از گناہ کا ارتکاب کر رہی ہے۔ تاہم ضرورت ہے کہ مرزائیوں کی ان نامعقول تاویلات و غلط جوابات کا پردہ چاک کر کے اصل حقیقت ظاہر کر دی جائے تا کہ اہانت عیسیٰ علیہ السلام کا ناپاک مسئلہ عیاں ہو کر مرزائیت کے لئے سوہان روح ہو جائے اور اسلامی طبقہ مرزائیت کے فریب میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہے۔

٢١

صفحہ ٥٢٤

عذر گناہ کی تصویر

مرزائیت کے فرزند بڑی بے باکی و جرات سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کسی قسم کی توہین و تنقیص نہیں کی۔ البتہ اس یسوع کی اہانت کی ہے جو عیسائیوں کا خدا ہے اور جس کا ذکر نہ قرآن میں ہے اور نہ اس کے اوصاف واحوال انبیاء و ابرار جیسے ہیں اور وہ دونوں ایسی دو جداگانہ ہستیاں ہیں جن کو باہمی کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل اقوال اس کی تائید کرتے ہیں۔

ادب کا لحاظ نہیں رکھا۔ جو سچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہئے...... پڑھنے والوں کو چاہئے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ سمجھ لیں۔ بلکہ وہ کلمات یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں۔ جس کا قرآن وحدیث میں نام ونشان نہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٦)

دعویٰ کیا اور نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء ﷺ کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ یہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔“

(انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

سب مخالفوں کا افتراء ہے ہاں چونکہ درحقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گذرا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے اور آنے والے خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو اور حضرت موسیٰ کو ڈاکو کہا ہو۔ اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کی ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں راستباز نہیں ٹھہر سکتا۔“

(حاشیہ تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٣٠٥)

عذرات مرزا کی تنقیح

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ان مغالطات پر پردہ ڈالنے کے لئے جو عذرات باردہ تراشے ہیں میں ان کی اس وجہ سے تنقیح کرتا ہوں۔ تا کہ ناظرین کو جوابات کے سمجھنے میں آسانی ہو اور عذرات کے تار تار کی علیحدگی اس طرح سے ہو جائے کہ جس میں مدعی نبوت کا چہرہ بالکل صاف نظر آنے لگے۔

٢٢

صفحہ ٥٢٥

کچھ بھی تعلق نہیں۔

بلکہ ایک فرضی شخص ہے۔ اس لئے بفرض محال اس کے حق میں فحش گوئی کی گئی۔

جوابات!

مرزا قادیانی کا توہین یسوع کے اقرار کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی توہین سے انکار کرنا ایسا ہی لغو باطل ہے جیسا کہ کسی مجرم کا اقبال جرم کے بعد اس کا انکار ہے۔ یعنی جس طرح سے کسی مجرم کے اقبال جرم اور اس کے ثبوت کے بعد اس کے انکار کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اسی طرح سے مرزا قادیانی کا توہین یسوع کے اقرار کے بعد توہین عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرنا ایک بے حقیقت ولاشئی ہے۔ کیونکہ ابھی آپ کے سامنے خود مرزا قادیانی ہی کے بیانات سے یہ حقیقت الم نشرح ہوئی جاتی ہے کہ دراصل یسوع وعیسیٰ دونوں ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔ اس لئے توہین یسوع کے اقرار کے بعد توہین عیسیٰ سے انکار کرنا باختلاف الفاظ یہ کہنا ہے کہ آفتاب طلوع ہے اور سورج نہیں نکلا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی مذکورہ بالا حوالہ جات کے نمبر ١١ تا ١٤، ١٩، ٢١، ٢٦، ٢٨ تا ٣٢، ٣٤ تا ٣٨ میں ابن مریم کو نہایت احترام واکرام کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مسیح علیہ السلام، مسیح ابن مریم، حضرت مسیح کہا ہے اور اس کے بعد گندی گالیاں وفحش کلمے ان کی شان مبارک میں استعمال کر کے اپنی باطنی کیفیتوں، اندرونی حالتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ سچ ہے کہ: ”ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ٧١ خزائن ج ٢٣ ص ٨١) باوجود اس کے مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ حضرت مسیح کے حق میں کوئی کلمہ بے ادبی کا میرے منہ سے نہیں نکلا ۔ چوری اور سینہ زوری کا زندہ ثبوت اور بے ایمانی بددیانتی کی بدترین مثال ہے۔ تاہم دروغ گورا تا خانہ رسانید کے سلسلہ میں خود مرزا قادیانی کی تحریرات سے یہ ثابت کرتا ہوں کہ یسوع اور عیسیٰ دونوں ایک ہیں۔

یسوع، مسیح، عیسیٰ، تینوں ابن مریم ہی کے نام ہیں

مندرجہ بالا عنوان کے ثبوت میں خود مرزا قادیانی ہی کی شہادتیں پیش کی جاتی ہیں کہ یہ تینوں نام ابن مریم ہی کے ہیں۔ اہل اسلام ان کو عیسیٰ یا مسیح کہتے ہیں اور عیسائی یسوع یا یسوع مسیح کے نام سے پکارتے ہیں۔ سنئے مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:

٢٣

صفحہ ٥٢٦

حدیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا ..... اور دوسرا مسیح ابن مریم۔ جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

نوٹ! جب مرزا قادیانی اس عبارت میں صاف اقرار کر رہے ہیں کہ مریم صدیقہ علیہا السلام کے اکلوتے صاحبزادے مسیح کو عیسیٰ یسوع بھی کہتے ہیں اور وہ ایک ایسے مقدس نبی ہیں جو اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ تو پھر انصاف سے کہئے کہ کیا مرزا قادیانی نے اپنے عذر کی دھجیاں خود اپنے ہاتھوں سے نہیں اڑا دیں اور اس حقیقت کو بھی عالم آشکارہ کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر تشریف لے گئے ہیں اور وہاں اب تک زندہ موجود ہیں۔ اس کے باوجود امت مرزائیہ کا وفات مسیح پر ہنگامہ آرا ہونا اپنے نئے نبی کی صریح خلاف ورزی کرنا ہے۔

تمام عمر خاوند نہ کرے لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ بعد مریم کے بیٹا پیدا ہوا اور وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“

(چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٥)

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد عین چودہویں صدی میں مدعی نبوت ہوا تھا۔“

(حاشیہ ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٨٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٩)

جائے گا۔ وہ نبی یسوع یعنی عیسیٰ ابن مریم ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٢٩٩)

نے مسیح کو بھیجا اور اس محبت کو یاد دلاتا ہوں اور قسم دیتا ہوں جو آپ لوگ اپنے زعم میں حضرت یسوع مسیح ابن مریم سے رکھتے ہیں۔“

(دعوت حق ملحقہ حقیقۃ الوحی ص ٨، خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٠)

حجت یہ ہے کہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام“

(ایام الصلح ص ١١٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٣)

٢٤

صفحہ ٥٢٧

سے لکھا جاتا ہے۔ اگر یہ سچ ہوتا کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام درحقیقت خدا کا فرزند ہوتا یا خدا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی پرستش کرتا۔ لیکن اے عزیزو (یعنی دجالو) خدا تم پر رحم کرے اور تمہاری آنکھیں کھولے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا نہیں وہ صرف ایک نبی ہے...... اس نے مجھے بتلایا کہ سچ یہی ہے کہ یسوع ابن مریم نہ خدا ہے نہ خدا کا بیٹا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ مسیح کی تعریف میں لوگ حد سے بڑھ گئے۔ یہاں تک کہ ان کو خدا بنا دیا۔“

(دعوت حق ملحقہ حقیقت الوحی ص ٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤١٧، ٤١٨)

میں وہ ناکام رہے۔ کیونکہ وہ لوگ اس مماثلت کا کچھ ثبوت نہ دے سکے اور یہ تو ان کے دل کا خیالی پلاؤ ہے کہ یسوع نے گناہوں سے نجات دی۔“ (اس پر مرزا قادیانی یہ حاشیہ لکھتے ہیں) کہ: ”ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دوسرے نبیوں کی طرح حتی الوسع قوم کے بعض لوگوں کی اصلاح کی مگر اصلاح کرنا ان سے کچھ خاص نہیں تمام نبی اصلاح کے لئے ہی آتے ہیں۔“

(ایام الصلح حاشیہ ص ٦٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٠١)

نوٹ! مرزا قادیانی نے اس عبارت میں حسب عقیدہ اہل اسلام یسوع کے منجی ہونے سے انکار کر کے بتایا کہ وہ یسوع جن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں چونکہ وہ نبی تھے اس لئے منجی تو نہیں البتہ مصلح ضرور تھے۔

الیاس آنے والے سے مراد یوحنا اپنے مرشد کو قرار دیا...... مگر تاہم یسوع ابن مریم نے زبردستی اس کو الیاس ٹھہرا ہی دیا۔“

(نصرت الحق ص ٣٣، خزائن ج ٢١ ص ٤٣)

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٧٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٤٤)

صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔ چند دلیلیں لکھی ہیں جس میں ابن مریم کو عیسیٰ، مسیح، یسوع کے نام سے یاد کیا ہے۔ چنانچہ عنوان بالا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہا اور پہلی دلیل لکھ کر فرماتے ہیں کہ: ”سو یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ ہرگز مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔“ دوسری دلیل میں بجائے مسیح علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام لکھا۔ اور تیسری میں حضرت مسیح۔ چوتھی میں پھر مسیح

صفحہ ٥٢٨

اور پانچویں میں بجائے عیسیٰ ومسیح کے ”یسوع صلیب پر نہیں مرا“ لکھا۔ اور چھٹی میں بھی یسوع لکھا کہ: ”جب یسوع کے پہلو میں ایک خفیف سا چھید دیا گیا“ اور ساتویں میں بھی یہ ہے کہ یسوع کی ہڈیاں توڑی نہ گئیں اور آٹھویں میں بھی یہی ہے کہ یسوع صلیب سے نجات پا کر پھر اپنے حواریوں کو ملا۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر بھی نسخہ مرہم عیسیٰ۔“

(ایام الصلح ص ١١٣ تا ١١٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٥١، ٣٥٢، تحفہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ١٠٧)

غور! مرزا قادیانی نے ان مذکورہ بالا حوالہ جات میں اس امر کا صاف اقرار کیا ہے کہ ابن مریم کو عیسیٰ، مسیح، یسوع کہتے ہیں اور ان کو یہ بھی تسلیم ہے کہ میں نے یسوع کی توہین وتذلیل کی ہے۔ اس لئے اب نتیجہ بالکل ظاہر ہو گیا ہے کہ وہ تمام گالیاں وفحش کلامیاں جو مرزا قادیانی نے یسوع کے حق میں استعمال کی ہیں۔ بغیر کسی فرق وامتیاز کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی نے جو یسوع کے پردہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے مقدس نبی کی ذات گرامی کو اپنے اخلاقی گندگیوں سے ملوث کرنے کی لاحاصل سعی کی تھی اور اس کے لئے نئے نئے عذر وحیلے تراشے تھے۔ الحمدللہ کہ وہ خود ”موعود“ نبی کے ہاتھوں سے پیوند زمین ہوگئے اور مرزا قادیان ہی کی متعدد شہادتوں سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی زبردست توہین کی ہے۔ کیا اس کے بعد بھی مرزا قادیانی اور ان کی امت کا ایمان سلامت ہے۔ اگر ہے تو: ”ایں طرفہ تماشہ بیں دریا بحباب اندر۔“

ایک اور طرح

اس امر کا ثبوت پیش کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی عیسیٰ، مسیح اور یسوع کو ایک ہی مانتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ ہے کہ یوز آسف دراصل عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہ یوز آسف یسوع کا مخفف اور بگڑا ہوا ہے۔ لہٰذا یسوع اور عیسیٰ دونوں ایک ہیں۔ فہوالمراد۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ:

...... ١ ...... ”ماسوا اس کے وہ لوگ شاہزادہ نبی کا نام یوز آسف بیان کرتے ہیں۔ یہ لفظ صریح معلوم ہوتا ہے کہ یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔ آسف عبرانی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو قوم کو تلاش کرنے والا ہو چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی اس قوم کو تلاش کرتے کرتے جو بعض فرقے یہودیوں میں سے گم تھے۔ کشمیر میں پہنچے تھے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا اور یوز آسف کی کتاب میں صریح لکھا ہے کہ یوز آسف پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انجیل اتری تھی۔ پس باوجود اس قدر دلائل واضح کے کیوں کر اس بات سے انکار کیا جائے کہ یوز آسف دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٢٨، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٤)

صفحہ ٥٢٩

نام سے مشہور ہوا ہے۔ یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا ہے۔ یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٩، خزائن ج١٧ ص١٠٠)

السلام ہیں اور کوئی نہیں اور یسوع کے لفظ کی صورت بگڑ کر یوز آسف بننا قرین قیاس ہے کیونکہ جب کہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی ...... بنالیا ہو تو یوز آسف میں ...... زیادہ تغیر نہیں۔“

(حاشیہ رازحقیقت ص١٥، خزائن ج١٤ ص١٦٧)

سے نجات پاکر ضرور ہندوستان کا سفر کیا ہے اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تبت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے ...... اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور عوام کی غلط بیانی سے یوز آسف نبی کے نام سے مشہور ہوگئے۔“

(رازحقیقت ص٩ حاشیہ، خزائن ج١٤ ص١٦١)

بگڑا ہوا ہے۔ آسف بھی حضرت مسیح کا عبرانی میں ایک نام ہے جس کا ذکر انجیل میں بھی ہے اور اس کے معنی ہیں متفرق قوموں کو اکٹھا کرنے والا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٩٧، تبلیغ رسالت ج٩ ص١٨، ١٩)

کرتے ہیں کہ:

یوز آسف ہے۔ جو مخفف اور مرکب ہے دو ناموں سے یعنی یسوع بن یوسف۔“

(ریویو ج٢٤ نمبر٨، ماہ اگست ١٩٢٥ء ص٣٦)

”س“ کے آگے ”و“ حذف ہوچکی ہے۔ پس اصل میں ”یوسو“ تھا۔ جو سریانی میں عیسیٰ کو کہتے ہیں اور آج کل یسو کہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اصل نام عبرانی میں ”یوسع“ ہو کیونکہ عبرانی میں اس وقت یہ نام عام مروج تھا اور بائبل میں ایسے نام آج بھی ہم کو نظر پڑتے ہیں۔ پس یوسع کا

٢٧

صفحہ ٥٣٠

یوز بن جانا آسان ہے اور یوز آ سے یوسا بنا ہے اور صف یا آصف یا سف اور اسف مخفف ہے یوسف کا پس سارا نام یوز آصف مخفف ہے۔ یوسو یوسف کا جس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع بن یوسف چونکہ یوسف اس شخص کا نام تھا جس کے ساتھ حضرت مریم صدیقہ کا نکاح ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف کے ربیب تھے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بیٹا ہی کہتے تھے۔ چنانچہ انجیل اس بات کی شہادت دیتی ہے۔“

(ریویو ج ٢٣ نمبر ١٢، ماہ دسمبر ١٩٢٥ء ص ٣٢)

میں قدیم سے ایک ضرب المثل مشہور چلی آتی ہے کہ: ”ایسو کول تے کچھ نہ پھول“ غالباً مرور زمانہ سے اور اصلیت مثل کے بھولنے سے کول کا لفظ بدل کر گول بن گیا اور اصل یوں تھا کہ ایسو کول یعنی یسوع ہمارے پاس ہی ہے۔ پنجاب کے متصل کشمیر میں مدفون ہے۔ لیکن کچھ اس کی بابت کھول کر دریافت نہ کرو۔ کیونکہ یہ امر پردے میں رکھنے کے لائق ہے کہ یسوع اہل پنجاب کے پاس ہی ہے۔“

(اخبار فاروق مورخہ ١١، ١٨، ٢٥، مئی ١٩١٦ء ص ١١)

نجات پا کر پنجاب کی طرف گئے اور پھر کشمیر میں پہنچے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی۔ اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ یوز آصف کی تعلیم اور انجیل کی تعلیم ایک ہے اور دوسرے یہ قرینہ کہ یوز آصف اپنی کتاب کا نام انجیل بیان کرتا ہے۔ تیسرا قرینہ یہ کہ اپنے تئیں شہزادہ نبی کہتا ہے۔ چوتھا قرینہ یہ کہ یوز آصف کا زمانہ اور مسیح کا زمانہ ایک ہی ہے۔ بعض انجیل کی مثالیں اس کتاب میں بعینہ موجود ہیں۔ جیسا کہ ایک کسان کی مثال۔“

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٨، ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٦٦)

کتاب اکمال الدین جس میں یوز آصف کا ذکر ہے اس کو حضرت مسیح نہیں سمجھتے بلکہ ہندوستان کے شاہزادوں سے ایک شاہزادہ سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی یوز آصف کے نام کا شہزادہ بھی ہو چکا ہو جس کا نام ”مسیح“ کے اسی کے نام پر رکھا گیا ہو۔“

(رسالہ المعتقد ص ٢٥)

نے یہ بھی لکھا ہے کہ سفر نصیبین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آپ کی والدہ اور حواری بھی تھے اور ان میں سے تین حواریوں کا نام یعقوب، توما، شمعون بتایا ہے۔ واضح ہو کہ یہ توما حواری جس کا ذکر روضتہ الصفا میں لکھا ہے جو سفر نصیبین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ وہی

٢٨

صفحہ ٥٣١

تہوما حواری ہے جس کی نسبت انسائیکلو پیڈیا ببلیکا میں لکھا ہے کہ وہ ہندوستان میں آیا جیسا کہ ہم اوپر دکھلا چکے ہیں۔ اب جب تو مان یا تہوما حواری اس مہاجرانہ سفر میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ تھا اور اس کی یعنی تہوما کی نسبت یہ امر مسلم ہے کہ وہ ہندوستان میں آیا تو ایسی حالت میں عقلاً یہ امر واجب التسلیم قرار پاتا ہے کہ ملک کشمیر میں پہنچ کر خانیار میں وفات پانے والے یوز آسف فی الحقیقت یسوع آسف ہے نہ کوئی اور۔“

(کشف الاسرار ص ٣٨)

صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا اور شاہزادہ کہلاتا تھا۔ کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر میں آگیا اور بہت بڑھا ہو کر فوت ہوا اور اس کو عیسیٰ صاحب بھی کہتے تھے اور شاہزادہ نبی بھی اور یوز آسف بھی۔ اب بتلاؤ کہ اسقدر تحقیقات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے میں کسر کیا رہ گئی۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)

نوٹ! ان دس حوالہ جات میں مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی تحریرات سے اس امر پر کافی روشنی پڑ گئی کہ یوز آسف جو یسوع کا مخفف و متغیر ہے دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اس لئے یسوع اور عیسیٰ، مسیح درحقیقت ابن مریم ہی کے دو نام ہیں۔

ایک اور طرز سے

اس امر کا ثبوت پیش کرتا ہوں کہ یسوع مسیح دونوں ایک ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی اور ان کی امت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہیں اور دراصل یہ قبر یوز آسف کی ہے جو یسوع کا مخفف ہے اور اس کو عیسیٰ علیہ السلام بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے کہ:

درحقیقت بلا شک و شبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔“

(راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ١٧٢، کشتی

نوح ص ١٥، ٥٣، ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٦، ٥٨، ٧٥، دافع البلاء ص ١٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٥)

ہے۔ اس بارے میں پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں۔ جو اس قبر کا حال بیان کرتی ہیں۔ پرانے کتبہ کے دیکھنے والے بھی شہادت دیتے ہیں کہ یہ یسوع مسیح کی قبر ہے۔“

(ریویو ج ١ ص ٤١٩ نمبر ١٠، بابت ماہ اکتوبر ١٩٠٢ء)

٢٩

صفحہ ٥٣٢

نبی کہلاتا تھا۔ اسی کی قبر محلہ خانیار میں ہے جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٢٧، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٤)

شہزادہ نبی تھا۔ اپنی کتاب کا نام انجیل رکھا تھا۔ سو اس کتاب کے خاص سری نگر میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے ایسے پرانے نسخے اور تاریخی کتابیں پائی گئی ہیں جن میں لکھا ہے کہ یہ نبی جس کا نام یوز آسف ہے اور اسے عیسیٰ نبی بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ یہ نبی اسرائیلی نبیوں میں سے ایک نبی ہے جو اس پرانے زمانے میں کشمیر میں آیا تھا۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ٩ ص ٣٣٩، بابت ماہ ستمبر ١٩٠٣ء)

یوز آسف نبی کی قبر کہتے ہیں۔ اس نام پر ایک سرسری نظر کر کے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہو گا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے۔ کیونکہ یہ لفظ عبرانی زبان سے مشابہ ہے۔ مگر ایک عمیق نظر کے بعد نہایت تسلی بخش طریق کے ساتھ کھل جائے گا کہ دراصل یہ لفظ یسوع آسف ہے۔ یعنی یسوع غمگین، آسف اندوہ اور غم کو کہتے ہیں۔ چونکہ مسیح نہایت غمگین ہو کر اپنے وطن سے نکلے تھے۔ اس لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملا لیا۔ مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب سے پھر اجنبی زبان میں بکثرت استعمال ہو کر یوز آسف بن گیا۔ مگر میرے نزدیک یسوع اسم با سمیٰ ہے۔“ (ست بچن حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٦، نورالقرآن حاشیہ ص ٧٠، ٧١، تبلیغ رسالت ج ٣ ص ٨٦، طبع جون ١٩٢١ء)

اب تک نبی شہزادہ کے نام پر کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے اور لوگ بہت تعظیم سے اس کی زیارت کرتے ہیں اور عام خیال ہے کہ وہ ایک شہزادہ نبی تھا۔ جو اسلامی ملکوں کی طرف سے اسلام سے پہلے کشمیر میں آیا تھا اور اسی شہزادہ کا نام غلطی سے بجائے یسوع کے کشمیر میں یوز آسف کر کے مشہور ہوئے۔ جس کے معنی ہیں یسوع غمناک۔“

(مقدمہ کتاب البریہ ص ٢، خزائن ج ١٣ ص ٢٠)

من بنى اسرائيل وكان اسمه يوز آسف....... واشتهر بين عامتهم ان اسم

٣٠

صفحہ ٥٣٣

الاصل عیسیٰ صاحب وكان من الانبياء وهاجر الى كشمير...... ثم معذلك كان يوذ آسف سمى كتاب الانجيل وماكان صاحب الانجيل الا عیسیٰ“

(الہدیٰ ص ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٦١)

وہاں سیر کر کے آخر سری نگر محلہ خانیار میں بعد وفات مدفون ہوا۔ اس کا ثبوت اس طرح پر ملتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوز آسف نام ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا۔ دور دراز سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شاہزادہ بھی کہلاتا ہے اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا۔ اس ملک کا وہ باشندہ تھا اور اس کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ٩ ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٨)

یوز آسف کی قبر کا نقشہ بنایا ہے اور اس کی پیشانی پر جلی حرفوں سے یہ عبارت لکھی ہوئی ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ جو یسوع یا یوز آسف کے نام سے مشہور ہیں۔“

بلاتے اور جو کتاب ان پر اتاری گئی تھی اس کا نام بشریٰ تھا۔ جو انجیل کا عبرانی نام ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت یوز آسف حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کا ہی دوسرا نام ہے اور دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں جس پر بشریٰ انجیل اتاری گئی تھی۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ١١، ١٢ ص ٤٧٢، بابت ماہ نومبر، دسمبر ١٩٠٣ء)

نوٹ: مذکورہ بالا ان دس حوالہ جات سے بھی یہ امر قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ حسب عقیدہ مرزا قادیانی سری نگر محلہ خانیار میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ جو یوز آسف یا یسوع کے نام سے مشہور ہیں اور درحقیقت یہ دونوں نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے ہیں۔ اب یہ حقیقت عالم آشکارا ہو گئی کہ مرزا قادیانی نے یسوع کے پردہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بے انتہا توہین وتذلیل کی ہے۔ اس لئے کہ حسب تحریرات مرزا یسوع وعیسیٰ دونوں ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی اور ان کی امت کا یہ عذر لنگ کہ بے ادبی وگستاخی کے کلمات یسوع کے متعلق ہیں ۔عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہیں سراسر لغو وباطل ہے۔

٣١

الاصل عیسیٰ صاحب وكان من الانبياء وهاجر الى كشمير...... ثم معذلك كان يوذ آسف سمى كتاب الانجيل وماكان صاحب الانجيل الا عیسیٰ“

(الہدیٰ ص ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٦١)

وہاں سیر کر کے آخر سری نگر محلہ خانیار میں بعد وفات مدفون ہوا۔ اس کا ثبوت اس طرح پر ملتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوز آسف نام ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا۔ دور دراز سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شاہزادہ بھی کہلاتا ہے اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا۔ اس ملک کا وہ باشندہ تھا اور اس کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ٩ ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٨)

یوز آسف کی قبر کا نقشہ بنایا ہے اور اس کی پیشانی پر جلی حرفوں سے یہ عبارت لکھی ہوئی ہے کہ: ”حضرت عیسیٰ جو یسوع یا یوز آسف کے نام سے مشہور ہیں۔“

بلاتے اور جو کتاب ان پر اتاری گئی تھی اس کا نام بشریٰ تھا۔ جو انجیل کا عبرانی نام ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت یوز آسف حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کا ہی دوسرا نام ہے اور دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں جس پر بشریٰ انجیل اتاری گئی تھی۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ١١، ١٢ ص ٤٧٢، بابت ماہ نومبر، دسمبر ١٩٠٣ء)

نوٹ: مذکورہ بالا ان دس حوالہ جات سے بھی یہ امر قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ حسب عقیدہ مرزا قادیانی سری نگر محلہ خانیار میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ جو یوز آسف یا یسوع کے نام سے مشہور ہیں اور درحقیقت یہ دونوں نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کے ہیں۔ اب یہ حقیقت عالم آشکارا ہو گئی کہ مرزا قادیانی نے یسوع کے پردہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بے انتہا توہین وتذلیل کی ہے۔ اس لئے کہ حسب تحریرات مرزا یسوع وعیسیٰ دونوں ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی اور ان کی امت کا یہ عذر لنگ کہ بے ادبی وگستاخی کے کلمات یسوع کے متعلق ہیں ۔عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہیں سراسر لغو وباطل ہے۔

٣١

صفحہ ٥٣٤

ایک اور طرح

مرزا قادیانی کی تحریرات سے اس کو ثابت کیا جاتا ہے کہ عیسیٰ مسیح یسوع دونوں ایک ہیں ۔ کیونکہ یہ امر ظاہر ہے کہ عیسائی اسی ابن مریم کو بخیال فاسد خدا و منجی کہتے ہیں ۔ جو بن باپ کے پیدا ہوئے اور حسب عقیدہ اہل اسلام اللہ کے نیک بندہ و مقدس رسول و صاحب کتاب تھے۔ چنانچہ اسی ابن مریم کو مرزا قادیانی نے کہیں عیسیٰ بن مریم و حضرت عیسیٰ علیہ السلام لکھ کر عیسائیوں کا خدا و نجات دہندہ بتایا ہے اور کہیں یسوع ابن مریم ، یسوع مسیح لکھا ہے ۔ جس سے یسوع و عیسیٰ کا ایک ہونا بالکل عیاں ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے ذیل کی ان عبارتوں میں تحریر فرمایا ہے کہ عیسائی جن کو خدا کہتے ہیں ان کا نام عیسیٰ علیہ السلام ہے۔

تھے۔ مگر ان کو خدا کہنا (جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں) اس سچے خدا کی توہین ہے جس نے ہمیں پیدا کیا سچ یہ ہے کہ وہ انسان تھے۔ خدا نہیں تھے۔“

(ایام الصلح ص ١٢٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٦٩)

ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا بنائے گئے۔“

(چشمہ معرفت ج ٢ ص ٢٥٤، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦٦)

(حقیقت الوحی ص ٨٦ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)

عیسیٰ علیہ السلام ہی کامل خدا ہیں۔“

(نسیم دعوت ص ١٥، خزائن ج ١٩ ص ٣٧٦)

چھوڑ کر اس کو خدا بنا دیا تھا۔“

(حقیقت الوحی حاشیہ ص ٣١٠، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٣)

اس کے علاوہ گذشتہ حوالہ جات کے نمبر ٨ تا ١١، ١٣، ٢٠ میں بھی مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے کہ عیسائیوں نے جن کو خدا بنایا ہے ان کا نام پاک عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ اب ذیل کی عبارت میں ان کو عیسیٰ مسیح ، یسوع بن مریم کہتے ہیں۔ جو ظاہر کر رہا ہے کہ عیسیٰ و یسوع دونوں ابن مریم ہی کے نام ہیں۔ لکھتے ہیں کہ :

٣٢

صفحہ ٥٣٥

ہے نہ خدا کا بیٹا...... جیسا کہ حضرت عیسیٰ مسیح کی تعریف میں لوگ (عیسائی) حد سے بڑھ گئے ۔ یہاں تک کہ ان کو خدا بنا دیا ۔"

(دعوت ملحقہ حقیقت الوحی ص ٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٦١٨)

موافق عیسیٰ مسیح کی آمد ثانی کا یہی زمانہ ہے۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٣١٩، ٣٢٠)

ہیں ۔"

(اعجاز احمدی ص ٢٢ ، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

ایک اور ثبوت

عیسیٰ مسیح، یسوع کے ایک ہونے کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام مسیح بھی ہے۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں کہ: "اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام مسیح یعنی نبی سیاح ہونا بھی ان کی موت پر دلالت کرتا ہے ۔"

(ایام الصلح ص ٤٤ ، خزائن ج ١٤ ص ٢٧٣)

اس کے بعد مرزا قادیانی نے عیسائیوں کے دوسرے عقیدہ کفارہ و نجات کو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہے اسی مسیح ابن مریم کے نام سے ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ:

چکے ہیں ۔"

(کشتی نوح ص ٩ ، خزائن ج ١٩ ص ٩)

(چشمہ معرفت ص ٢٩٩ ، خزائن ج ٢٣ ص ٣١٢)

نوٹ! مرزا قادیانی کی ان تحریرات سے یہ بات بالکل ظاہر ہو گئی کہ عیسائی جن کو منجی و کفارہ قرار دے چکے ہیں ۔ ان کو عیسیٰ مسیح کہتے ہیں ۔ اب مرزا قادیانی کی ایک دوسری تحریر ملاحظہ فرمائیے جس میں آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم (جن کو عیسائی نجات دہندہ و کفارہ بنا چکے ہیں ) کا تیسرا نام یسوع رکھ کر عیسائیوں کے کفارہ و نجات کی تردید کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ: "اس میں کیا شک ہے کہ یسوع کا منجی ہونا عیسائیوں کا صرف ایک دعویٰ ہے جس کو وہ دلائل عقلیہ کے رو سے ثابت نہیں کر سکتے ۔" (اس پر آپ حاشیہ چڑھاتے ہیں ) "اگر عیسائیوں کا یہ خیال ہو کہ یسوع نے روحانی طور پر لوگوں کو گناہوں سے نفرت دلائی تو اس بات میں یسوع کی کچھ خصوصیت نہیں تمام نبی اسی غرض سے آیا کرتے ہیں۔ حتی الوسع لوگوں کی اخلاقی، عملی اور اعتقادی حالت کی اصلاح کریں اور ان کے کوششوں کے اثر بھی ضرور ہوتے ہیں اور اگر یہ دعویٰ ہے کہ گناہوں کی سزا

٣٣

صفحہ ٥٣٦

صرف یسوع کے ذریعہ سے ملی تو اس پر کوئی دلیل نہیں۔"

(ایام الصلح ص ٥٨، خزائن ج ١٤ ص ٢٩٢ حاشیہ)

غور! جبکہ مرزا قادیانی کی تحریری شہادت سے یہ امر یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا نام یسوع بھی ہے تو پھر اس کے بعد یہ کہنا کہ مسیح کی شان میں کوئی کلمہ گستاخی کا نہیں کہا گیا۔ سراسر کذب بیانی اور نفاق پرور ایمان کا بدترین مظاہرہ کرنا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔ علاوہ ازیں جب قادیان کے یہ نئے نبی قادیانی یسوع کو ایک مقدس نبی مانتے ہیں جیسا کہ حوالہ بالا کی عبارت سے ظاہر ہے تو اس صورت میں باوجود یسوع اور عیسیٰ کی تفریق کے یسوع کی توہین کرنا اضاعت ایمان کا سبب اور غضب الٰہی کا باعث ہے۔ لہٰذا بہر صورت مرزا قادیانی اور ان کی امت کا ایمان سلامت نہیں رہ سکتا۔ فہو المراد:

بہر رنگے کہ خواہی جامه میپوش
من انداز قدت را می شناسم

ایک اور ثبوت

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (معاذ اللہ) پیدائش میں بھی اکیلے نہیں تھے۔ بلکہ ان کے ایک ہی ماں سے کئی ایک حقیقی بھائی و بہنیں تھیں۔

ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زخم تو قبول کر لیتے ہیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مجروح اور زخمی ہونا ان کی شان سے بلند تر سمجھتے ہیں اور شور ڈالتے ہیں کہ ان کی نسبت ایسا کیوں کہتے ہو اور ان کو تمام دنیا سے الگ ایک خصوصیت دینا چاہتے ہیں۔ وہی آسمان پر چڑھ کر پھر زمین پر اترنے والے وہی اس قدر لمبی عمر پانے والے مگر خدا نے ان کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو پیدائش میں اکیلا نہیں رکھا بلکہ کئی حقیقی بھائی اور کئی حقیقی بہنیں ان کی ایک ہی ماں سے تھیں۔"

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٠٠ حاشیہ خزائن ج ٢١ ص ٢٦٢)

غور! مرزا قادیانی نے عبارت بالا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جو بعقیدہ اہل اسلام مقدس رسول اور اپنی ماں کے اکلوتے بیٹے اور زندہ آسمان پر موجود ہیں) پر یہ افتراء کیا کہ آپ کے کئی حقیقی بھائی و بہنیں تھیں مگر ذیل کے حوالہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے یسوع کا نام لکھ کر بتایا کہ عیسیٰ اور یسوع دونوں ایک ہیں۔ فہو المراد فرماتے ہیں کہ: "یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں

٣٤

صفحہ ٥٣٧

تھیں ۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں ۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔‘‘

(کشتی نوح حاشیہ ص ١٦،خزائن ج ١٩ ص ١٨)

ایک اور ثبوت

مرزا غلام احمد قادیانی نے بعض جگہ ابن مریم کا عیسیٰ مسیح نام رکھ کر فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا نہ خدائی کی دلیل ہوسکتی ہے اور نہ اس میں کچھ ان کی خصوصیت ہے۔ لکھتے ہیں کہ:

خصوصیت کے بارے میں صرف ایک بات پیش کی تھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوا ہے تو خدا تعالیٰ نے فی الفور اس کا جواب دیا اور فرمایا: ”اِنّ مثل عیسیٰ عند اللّٰہ کمثل اٰدم“ یعنی خدا تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام کی مثال ہے۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٢١، خزائن ج ٢١ ص ٣٩٧)

یہ خدائی کی دلیل ہے۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ٧١، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٨)

نوٹ ! مندرجہ بالا حوالہ جات میں ابن مریم کا نام حضرت عیسیٰ و مسیح صاف طور پر لکھا ہے۔ ذیل کی عبارت میں عیسیٰ علیہ السلام کی بجائے یسوع لکھتے ہیں۔ جو عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع کی وحدت شخصی پر دلالت کر رہا ہے۔ فرماتے ہیں کہ:

”اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ”اِنّ مثل عیسیٰ عند اللّٰہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک آدم علیہ السلام کی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٧)

ناظرین کرام! جب مرزا قادیانی اور ان کی امت کے سر برآوردہ لوگوں کی متعدد شہادتوں اور اس کی مختلف نوعیتوں سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کے اکلوتے صاحبزادے ہی کو عیسیٰ، مسیح اور یسوع کہتے ہیں۔ تو پھر یہ عذر لنگ پیش کرنا کہ یسوع کی توہین کی گئی ہے اور عیسیٰ کی نہیں یا یہ دونوں الگ الگ دو مختلف شخص ہیں۔ سراسر بے ایمانی و بد دیانتی نہیں ہے تو کیا ہے؟ ۔ اور جبکہ حسب اقرار مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں مغلظات استعمال کی گئیں اور نہایت گھناؤنے و گندے الزامات ان پر لگائے گئے تو اب کسی طرح

٣٥

صفحہ ٥٣٨

سے بھی مرزائیوں کے رسول کا ایمان سلامت نہیں رہا۔ کیونکہ قادیانی رسول کہتے ہیں کہ: ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے ...... اور کسی نبی کی اشارے سے تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص ١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)

یسوع کا ذکر قرآن میں

پیش کرتے ہیں کہ یہ بدگوئیاں و فحش کلامیاں اس یسوع کے حق میں کی گئیں جس کا ذکر قرآن کریم میں نہیں۔ اگر چہ مرزا قادیانی کی تحریرات و تصریحات سے اس امر کے ثابت ہو جانے کے بعد کہ یسوع اور عیسیٰ علیہ السلام ایک ہیں۔ اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ یسوع کا ذکر قرآن کریم میں ثابت کیا جائے۔ اس لئے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر مبارک قرآن کریم میں متعدد جگہ ہے تو پھر کیوں کر کہا جا سکتا ہے کہ یسوع کا ذکر قرآن کریم میں نہیں۔ تاہم دروغگورا حافظہ نباشد کے سلسلہ میں خود قادیانی نبی کی تحریر سے اس امر کا ثبوت پیش کیا جا رہا ہے کہ یسوع کا ذکر قرآن کریم میں ہے ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں کہ: ”اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے یسوع کی پیدائش کی مثال بیان کرنے کے وقت آدم کو ہی پیش کیا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ”ان مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب “ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی مثال خدا تعالیٰ کے نزدیک آدم کی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢١٨، خزائن ج ٢٣ ص ٢٢٧)

نہیں ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”یہود کو پختہ ظن سے اس بات کا دھڑکا تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا چنانچہ اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ بھی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وماقتلوه يقيناً یعنی یہود قتل مسیح کے بارے میں ظن میں رہے۔“

(ایام الصلح ص ١١٥، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٢)

یسوع کی ولادت کے بارے میں زبان بند کر دی اور ان کو تعلیم دی کہ تم بھی کہو کہ وہ بے باپ پیدا ہوا۔“

(ریویو ج ١ نمبر ٤، اپریل ١٩٠٢ء ص ١٥٩)

یوز آسف یا یسوع کے نام سے مشہور ہے وہ بلاشک وشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ جیسا کہ تحریرات مرزا سے اس کا ثبوت گزر چکا ہے اور اسی یسوع یا یوز آسف والی قبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ثابت کرتے ہوئے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ خدا کا کلام قرآن شریف

٣٦

صفحہ ٥٣٩

گواہی دیتا ہے کہ وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر گیا) اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "وآوینا ھما الی ربوۃ ذات قرار ومعین" یعنی ہم نے عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ میں پناہ دی جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفّے پانی کے چشمے اس میں جاری تھے۔ سو وہی کشمیر ہے۔"

(حقیقت الوحی ص١٠١ حاشیہ، خزائن ج٢٢ ص١٠٤)

ان تمام حوالہ جات سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ یسوع کا ذکر قرآن میں ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی اور ان کی امت کا یہ کہنا کہ یسوع کا ذکر قرآن میں نہیں سراسر لغو باطل خلاف دیانت وامانت ہوا۔ اگر بالفرض اس امر کو تسلیم کر لیا جائے کہ یسوع کا ذکر قرآن کریم میں نہیں تو اس سے کیا مرزا قادیانی کو شرعی واخلاقی حق حاصل ہو گیا کہ وہ یسوع پر گونا گوں عیوب والزامات لگائیں اور طرح طرح کی مغلظات ان کی شان میں استعمال کریں؟۔ ہرگز نہیں کیونکہ کسی کو راست باز وصادق نبی ماننے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کا ذکر قرآن کریم میں ہو جیسا کہ مرزا قادیانی کرشن کو نبی مان کر ان کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں۔ "ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے۔"

(تتمہ حقیقت الوحی ص٨٥، خزائن ج٢٢ ص٥٢١)

حالانکہ قرآن کریم میں نہ کرشن کا ذکر ہے اور نہ ان کی نبوت کا، اور احادیث سے ثابت ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں۔ مگر قرآن کریم میں صرف چند انبیاء علیہم السلام کا ذکر کیا گیا ہے۔ تو اس سے کیا جائز ہے کہ باقی انبیاء کی اس وجہ سے توہین و تحقیر کی جائے کہ ان کا نام اور ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے؟۔ اور مرزا قادیانی کا عیسائیوں کے بیان کردہ احوال وصفات کی وجہ سے حضرت یسوع کو برا بھلا، سب وشتم کرنا نہ صرف اصول اسلامی واخلاقی کے خلاف ہے۔ بلکہ اپنے قواعد وضوابط کے بھی خلاف ہے۔ فرماتے ہیں کہ: "منجملہ ان اصولوں کے جن پر مجھے قائم کیا گیا ہے۔ ایک یہ ہے کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ دنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت مذہب پھیل گئے ہیں اور استحکام پکڑ گئے ہیں اور ایک حصہ دنیا پر محیط ہو گئے ہیں اور ایک عمر پاگئے ہیں اور ایک زمانہ ان پر گزر گیا ہے۔ ان میں سے کوئی مذہب بھی اپنی اصلیت کی رو سے جھوٹا نہیں اور نہ ان نبیوں میں سے کوئی نبی جھوٹا ہے۔"

(تحفہ قیصریہ ص٤، خزائن ج١٢ ص٢٥٦)

اس کے آگے لکھتے ہیں کہ: "اس قاعدہ کے لحاظ سے ہمیں چاہئے کہ ہم ان تمام لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو سچا سمجھیں۔ جنہوں نے کسی زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا پھر وہ دعویٰ اس کا زور پکڑ گیا اور ان کا مذہب دنیا میں پھیل گیا اور استحکام پکڑ گیا اور ایک عمر پا گیا۔"

٣٧

صفحہ ٥٤٠

اس کے آگے لکھتے ہیں کہ: ”پس یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑ ہا دلوں میں ان کی عزت و عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔ یہی اصول ہے جو قرآن حکیم نے ہمیں سکھلایا اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آ گئی ہے۔ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٦، ٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٨، ٢٥٩)

مرزا قادیانی کے اس اصول کے رو سے عیسائیوں کے یسوع بھی سچے اور راست باز وصادق ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ صدہا سال سے آپ کے پیرو کار چلے آتے ہیں اور ایک حصہ دنیا پر آپ کا مذہب محیط ہے اور کروڑ ہا دلوں میں آپ کی عظمت ومحبت ثبت ہے اور عیسائی مذہب کے ایک مقدس پیشوا ہیں۔ اس لئے اگر چہ یسوع کا ذکر قرآن میں نہیں۔ مگر اس لحاظ سے وہ عیسائیوں کے ایک مقدس پیشوا ہیں ہر طرح کی تکریم و تعظیم کے لائق تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”ہم ہر مذہب کے پیشوا کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں۔“ لیکن آپ کی عزت کی نگاہوں کا حشر یہ ہے کہ خیرہ چشم جرأت کے ساتھ عیسائیوں کے برگزیدہ پیشوا یسوع کی علی الاعلان توہین کرتے ہیں اور ایسے گندے وسڑے الفاظ ان کے حق میں استعمال کرتے ہیں کہ ایک غیرت مند انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ با ہمہ مرزائیت کے نمک خوار اپنے نئے رسول کی بدگوئیوں وگالیوں کو پوشیدہ کرنے میں اس ڈھٹائی وبے باکی سے مصروف ہیں کہ کیا مجال ہے کہ ان کی جبین حمیت پر عرق انفعال کا کوئی قطرہ نمودار ہو جائے۔ حالانکہ توہین انبیاء علیہم السلام کا ان کے چہرہ پر ایک ایسا بدنما داغ ہے کہ وہ اس دنیا میں منہ دکھانے کے لائق نہ تھے۔ مگر ہر چہ خواہی کن کے تحت توجیہات باطلہ میں اس طرح سے الجھے ہوئے ہیں۔ جس سے گلو خلاصی قیام قیامت تک ممکن نہیں۔

عیسائیوں کے بیان کردہ صفات کے لحاظ سے بھی یسوع فرضی نہیں حقیقی ہے

مرزا قادیانی کے عذر لنگ کا تیسرا حصہ یہ تھا کہ عیسائیوں اور پادریوں نے جو صفات یسوع کے بیان کئے ہیں۔ اس کے رو سے کوئی یسوع حقیقی نہیں بلکہ فرضی ہے۔ اس لئے جو کچھ

٣٨

صفحہ ٥٤١

بدزبانیاں وسخت کلمے استعمال کئے گئے ہیں۔ ایک فرضی شخص کے حق میں ہیں۔ جو کسی طرح قابلِ اعتراض نہیں لیکن خود مرزا قادیانی ہی اپنے ہاتھوں سے اس عذر کو بھی دفن کرتے ہیں:

کہ درحقیقت یسوع خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے۔ اور ان میں سے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔ لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے ہاں خدا سے واصل ہے ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)

دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ حق ہے کیونکہ میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے اور یسوع کی مجھ میں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٥)

غور! مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا عبارت خود ان کے اس عذر لنگ کو کہ: ”یہ بدگوئیاں ایک فرضی یسوع کے حق میں ہیں۔“ خاک میں ملا رہی ہے۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ عیسائی جس یسوع کو خدا بنا کر اس سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہی یسوع مسلمانوں کے نزدیک ایک برگزیدہ ومقبول بندہ ہے اور وہ بھی اسی سے محبت کرتے ہیں۔ گویا بلحاظ محبت وعزت یسوع مسیح مسلمانوں وعیسائیوں میں ایک مشترک جائیداد ہیں کہ ہر دو مذہب کے پیروکار یسوع مسیح کی تکریم وتعظیم میں مساویانہ طور پر حصہ دار وشریک کار ہیں۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی بقول خود یسوع سے بہت زیادہ مانوس تھے اور ان میں باہمی خوب محبت والفت تھی۔ اس لئے خصوصیت سے آپ ان کی عزت ومحبت تعظیم وتکریم میں زیادہ حق رکھتے تھے۔ جس کا نتیجہ ان گندی گالیوں کی شکل میں نمودار ہوچکا ہے۔ جس کو ہر غیرتمند انسان دیکھ کر لرزہ براندام ہوجاتا ہے۔

جفائیں ہم پہ کیں اتنی مہربانی کی حالت میں
خدا جانے اگر تم خشمگیں ہوتے تو کیا کرتے

جبکہ مرزا قادیانی عیسائیوں کے اس یسوع کو بھی لائق تکریم وتعظیم مانتے ہیں۔ جس کی جانب بہت سے باطل امور منسوب کئے گئے ہیں۔ تو پھر آپ کا عیسائیوں کے اس یسوع کو فرضی شخص سمجھ کر اس کی توہین وتنقیص کرنا مضحکہ خیز اختلاف بیانی اور رسوائے عالم بے ایمانی کی ایک ایسی بدترین مثال ہے جو سلسلہ دنیا کے کسی حصہ میں (سوائے قادیان کے) نہیں پائی جاتی۔ غرض

٣٩

صفحہ ٥٤٢

یہ کہ مرزا قادیانی کا یہ عذر بارد بھی کسی طرح سے قابل پذیرائی ولائق التفات نہیں رہا۔ علاوہ ازیں چونکہ مرزا قادیانی عیسائیوں کے یسوع سے عشق ومحبت کا دم بھرتے تھے۔ اس لئے وہ از راہ محبت عیسائیوں کی ان تمام ناجائز باتوں کو جو ان کی طرف منسوب تھیں کس طرح گوارا نہ کرسکے اور ان تمام انتسابات سے اپنے محبوب یسوع کو پاک وبری قرار دے کر کہا کہ وہ ایک مقدس ومعزز خدا کے مقبول بندے ہیں۔ جن کی عزت وناموس پر حملہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس لئے باوجود عیسائیوں کے بیان کردہ صفات کے یسوع لائق تعظیم وتکریم ہے۔ سنئے فرماتے ہیں کہ:

مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں اور نہ یہ کہ اس کو برے الفاظ سے یاد کریں۔ بلکہ چاہئے کہ صرف اس قوم کے موجودہ دستور العمل پر اعتراض کریں اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کروڑہا انسانوں میں عزت پایا اور صدہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے۔ یہی پختہ دلیل اس کے منجانب اللہ ہونے کی ہے۔ اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اس قدر عزت نہ پاتا۔“

(تحفہ قیصریہ ص٨، خزائن ج١٢ ص٢٦٠)

بدچلنیوں میں گرفتار مشاہدہ کریں تو ہمیں نہیں چاہئے کہ وہ سب داغ ملامت ان مذاہب کے بانیوں پر لگائیں۔ کیونکہ کتابوں کا محرف ہو جانا ممکن ہے اجتہادی غلطیوں کا تفسیروں میں داخل ہو جانا ممکن ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص٦، خزائن ج١٢ ص٢٥٨)

مرزا قادیانی کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے اس اصول کی پابندی کرتے اور یسوع کو عیسائیوں کے ان تمام بیان کردہ صفات سے حسب تحریر خود پاک سمجھ کر ان کی عزت کرتے۔ مگر اللہ رے دلیری وشوخ چشمی کہ مرزا قادیانی کی زبان مبارک بڑی تیزی سے دیدہ ودانستہ یسوع کی بدگوئیوں میں مصروف ہے اور اپنے لئے ثواب آخرت کا ذخیرہ کر رہی ہے اور شرم وندامت کی جھلک تک نہیں پائی جاتی۔ مرزا قادیانی ایک پیغمبر کہلا کر یہ افتراء اور یہ تحریف اور یہ خیانت اور یہ جھوٹ اور یہ دلیری اور یہ شوخی ان باتوں کا تصور کر کے بدن کانپتا ہے اور جب کہ مرزا قادیانی کا یہ بیان ہے کہ میں کئی مرتبہ یسوع مسیح سے ملاقات کرچکا ہوں اور عیسائیوں کے عقائد وغیرہ کی لغویت خود یسوع کی زبانی سن چکا ہوں۔ تو اس کے بعد یسوع اور بھی قابل عزت ولائق احترام ہو جاتے ہیں۔ لیکن باایں ہمہ خود ان کی زبان فحش گوئیوں میں مصروف رہی۔ تا کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ:

”ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔“

(چشمہ معرفت ص١٥، خزائن ج٢٣ ص٣٨٦)

٤٠

صفحہ ٥٤٣

فرماتے ہیں کہ:

١...... ”خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہے ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اس کے اصل دعویٰ اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔ یہ ایک بڑی بات ہے جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیث اور ابنیت ہے۔ ایسے متنفر پائے جاتے ہیں۔ گویا ایک بھاری افتراء جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ص ٢٧٣)

٢...... ”میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آج کل عیسائیت کے بارہ میں سکھلایا جاتا ہے حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہیں کر سکتے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٢٢، خزائن ج ١٢ص ٢٧٤)

جب مرزا قادیانی کو اپنی کشفی بیداری میں یسوع کی زبان سے سن کر یہ معلوم ہو گیا تھا کہ یسوع عیسائیوں کے بیان کردہ احوال وصفات سے بالکل پاک و بری ہے۔ تو وہ ہر طرح سے اکرام و اعزاز کے لائق تھے اور مرزا قادیانی کا یہ اخلاقی و شرعی فرض تھا کہ ان کی تکریم و تعظیم کرتے اور مدح و ثنا میں رطب اللسان رہتے۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے دیدہ و دانستہ عیسائیوں کے یسوع کو گالیاں دے کر توہین و تحقیر کی ہے تو کیا یہ انتہائی فتنہ انگیزی و بے ایمانی اور امن و صلح کے ساتھ دشمنی کرنا نہیں ہے جیسا کہ خود تحریر کرتے ہیں کہ: ”پس ایسے عقیدہ والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر برا کہتے ہیں۔ ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں۔ کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز کوئی اور بات نہیں۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٨، خزائن ج ١٢ص ٢٦٠)

الحمدللہ کہ مرزائیت اور اس کے بانی کے وہ تمام اعذار جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اہانت کے سلسلہ میں یسوع و عیسیٰ کی تفریق کے ساتھ پیش کر کے اپنی گندہ دہنیوں کو پوشیدہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ خود حریف ہی کے ہتھیاروں سے پاش پاش کر دئیے گئے جس سے اصل حقیقت اہانت عیسیٰ کی معہ اپنے خط و خال کے منصہ شہود پر آگئی البتہ اس سلسلہ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ پادریوں نے حضور ﷺ کی شان اقدس میں نہایت ناپاک الفاظ استعمال کئے تھے اور شب و روز آنحضرت ﷺ کی توہین و تنقیص میں مصروف رہتے تھے اور مرزا قادیانی نے عشق محمدی و حب نبوی میں اتنا بڑا کمال حاصل کیا تھا کہ بروز محمد بن گئے تھے۔ اس مجبوری سے آپ نے ترکی

٤١

صفحہ ٥٤٤

کٹر عیسائیوں کو جواب دیا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی کہتے ہیں:

انہوں نے ناحق ہمارے نبیﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔ چنانچہ اسی پلید نالائق قبیح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے آنحضرتﷺ کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت گالیاں دی ہیں۔ پس اسی طرح اس مردار اور خبیث فرقہ نے جو مردہ پرست ہے۔ ہمیں اس بات کے لئے مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کس قدر حال لکھیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، ٨ حاشیہ ،خزائن ج ١١ ص ٢٩٢، ٢٩٣)

نبی کریمﷺ کو گالیاں نہیں نکالیں گے تو ہم بھی عہد کریں گے کہ آئندہ نرم الفاظ کے ساتھ ان سے گفتگو ہوگی۔ ورنہ جو کچھ کہیں گے اس کا جواب سنیں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٦٥، اشتہار واجب الاظہار ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٦٦)

مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئیں اور حد اعتدال سے بڑھ گئیں اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے نہایت تند تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبیﷺ کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ یہ شخص ڈاکو تھا، چور تھا، زنا کار تھا اور صدہا پرچوں میں یہ شائع کیا کہ یہ شخص اپنی لڑکی پر بدنیتی سے عاشق تھا اور با ایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا۔ تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے۔ ان کلمات سے سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو تب میں نے ان جوشوں کے ٹھنڈا کرنے کے لئے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کو دبانے کے لئے حکمت یہی ہے کہ ان تحریرات کا کس قدر سختی سے جواب دیا جائے تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بد زبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی۔ ....... کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا۔“

(ضمیمہ نمبر ٣ تریاق القلوب ص ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠)

٤٢

صفحہ ٥٤٥

جواب ! مرزا قادیانی اور ان کی امت کا یہ عذر بھی سراسر غلط اور غیر معقول اور اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ کیونکہ اسلام نہ صرف تمام انبیاء علیہم السلام کی تعظیم و تکریم کی تعلیم دیتا ہے۔ بلکہ کافروں کے باطل معبودوں اور بتوں کو برا بھلا و سب و شتم سے بھی روکتا ہے۔ اگر عیسائیوں نے از راہ جہالت و خباثت حضور ﷺ کے شان اقدس میں بدزبانی و گندہ دہنی سے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا تو کسی مسلمان کو یہ حق ہرگز نہیں حاصل ہے اور نہ اسلام اس کی تعلیم دیتا ہے کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں بدزبانی کر کے اپنے متاع ایمان کو برباد کر دے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ: ”مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے رسول اللہ ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی ﷺ سے محبت رکھتے ہیں ویسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔“

(ضمیمہ نمبر ٣ تریاق القلوب ص ٤، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)

بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی اس طریق جواب کو جاہلانہ و سفیہانہ حرکت بلکہ ”کت پن“ کہتے ہیں۔

بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ حضرت امام حسین کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت امام حسین علیہ السلام بوجہ اس کے کہ اس نے خلیفہ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔ لعنة الله علی الکاذبین“ مجھے امید نہیں کہ میری جماعت کے کسی راست باز کے منہ سے ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں۔ مگر ساتھ اس کے مجھے یہ بھی دل میں خیال گذرتا ہے کہ چونکہ اکثر شیعہ نے اپنے ورد تبرے اور لعن و طعن میں مجھے بھی شریک کر لیا ہے۔ اس لئے کچھ تعجب نہیں کسی نادان بے تمیز نے سفیہانہ بات کے جواب میں سفیہانہ بات کہہ دی ہو۔ جیسا کہ بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر جو وہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“

(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٠٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٤)

نہ کاٹ کھایا؟۔ اس نے جواب دیا بیٹی انسان سے ”کت پن“ نہیں ہوتا۔ اس طرح جب کوئی شریر

٤٣

صفحہ ٥٤٦

گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی سگ پن کی مثال لازم آئے گی۔“

(تقریر مرزا در جلسہ قادیان ١٨٩٧ء رپورٹ ص ٩٩، ملفوظات ج ١ ص ١٠٣)

اس کے علاوہ مرزا قادیانی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ: ”ہمارا ہرگز یہ طریق نہیں کہ مناظرات و مجادلات یا اپنی تالیفات میں کسی نوع کے سخت الفاظ کو اپنے مخاطب کے لئے پسند رکھیں یا کوئی دل دکھانے والا لفظ اس کے حق میں یا اس کے کسی بزرگ کے حق میں بولیں۔“

(شحنہ حق، خزائن ج ٢ ص ٤٣٢)

”راستی کو تہذیب اور نرمی سے بیان کرنا ہمارا شیوہ ہے۔۔۔۔۔ بخدا! ہم دشمنوں کے دلوں کو بھی تنگ نہیں کرنا چاہتے۔“

(شحنہ حق، خزائن ج ٢ ص ٤٣٦)

٣....... ”عیسائیوں کی کتاب امہات المومنین نے دلوں میں سخت اشتعال پیدا کیا ہے۔۔۔۔۔ اور دل دکھانے والی گالیاں ہمارے پیغمبر ﷺ کو دی گئیں۔ ہمارا حق تھا کہ ہم مدافعت کے طور پر سختی کا سختی سے جواب دیتے۔ لیکن ہم نے محض اس حیا کے تقاضا سے جو مومن کی صفت لازمی ہے ہر ایک تلخ زبانی سے اعراض کیا۔“

(ٹائٹل ایام الصلح، خزائن ج ١٤ ص ٤٢٨)

اس دعویٰ کے ساتھ ہی ساتھ قادیان کا مصلح اعظم اپنی جماعت کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ: ”(اے مرزائیو!) تمہارے فتح مند اور غالب ہو جانے کی یہ راہ نہیں کہ تم اپنی خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل پر تمسخر کی باتیں کرو یا گالی کے مقابل پر گالی دو۔ کیونکہ اگر تم نے یہ راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے۔“

(ازالۃ الاوہام ص ٨٢٦، خزائن ج ٣ ص ٥٤٧)

٤....... ”کسی کو گالی مت دو۔ گو وہ گالی دیتا ہو۔“

(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)

اس دعویٰ ونصیحت کے بعد مرزا قادیانی کا یہ حق نہیں تھا کہ وہ گالی کے جواب میں گالی دیتے یا سختی کے مقابل میں سختی کرتے۔ مگر بایں ہمہ آپ نے اس خطرناک و جاہلانہ روش کو اختیار کر کے اپنے اصول وقواعد کے بھی خلاف کیا اس لئے یہ عذر لنگ بھی ناقابل پذیرائی ہے۔ بلکہ ایک فریب دہی وحیلہ سازی ہے۔

مرزائی جماعت تنگ آ کر یہ بھی کہتی ہے کہ مرزا قادیانی نے جو کچھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہا ہے وہ سب عیسائیوں کو الزام دینے کے لئے کہا ہے۔ جیسا کہ قادیانیت کے شمس مولوی جلال الدین اپنی کتاب مقدمہ بہاولپور ص ١٤١، طبع نومبر ١٩٣٢ء میں لکھتے ہیں کہ: ”پس متکلمین کا یہ طریق ہے کہ وہ مد مقابل کے عقائد کو مدنظر رکھ کر الزامی جواب دیا کرتے ہیں اور

٤٤

صفحہ ٥٤٧

یہی طریق حضرت مسیح موعود نے اختیار کیا۔“ چنانچہ فرمایا اس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا۔ جیسا کہ وہ ہمارے مقابل کرتے ہیں۔ مگر مرزائیت کا یہ بھی ایک دلفریب حیلہ ہے جو اپنے پیغمبر کے بدزبانیوں کو پوشیدہ رکھنے کے لئے تراشا گیا ہے۔ کیونکہ الزامی جوابات میں مخاطب کے مسلمہ اصول وعقائد کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور اس کو اس طرز بیان، انداز گفتگو، قرائن تکلم سے پیش کیا جاتا ہے کہ معلوم ہو جائے کہ اس میں متکلم کے عقائد واصول کو کچھ بھی دخل نہیں اور محض مخاطب کو اس کے مسلمات سے الزام دینا مقصود ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی وہ تمام توہین آمیز تحریرات جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہیں نہ تو اس میں عیسائیوں کے مسلمات کا ذکر ہے اور نہ آپ کا انداز بیان ہی کچھ شگفتہ و شستہ ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ متکلم اپنے عقیدہ کو بغض و عناد کے ماتحت پیش کر رہا ہے۔ ورنہ مرزائیت کا یہ مذہبی فرض ہے کہ اپنے بانی کے ان گندے و گھناؤنے الزامات کو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں تراشے گئے ہیں۔ حقائق ودلائل کی روشنی میں ثابت کریں کہ عیسائیوں کے یہ مسلم عقیدے ہیں۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح معاذ اللہ شرابی، کاذب، بھڑوے اور ان کی نانیاں دادیاں زنا کار تھیں۔ اسی طرح وہ تمام تر الزامات جو گذشتہ صفحات میں ذکر کئے گئے وہ عیسائیت کے عقیدہ میں داخل ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کی ان بدزبانیوں و فحش گوئیوں کو کیوں کر الزامی جوابات کا رنگ دیا جا سکتا ہے؟“

مرزا قادیانی نے اپنی مایہ ناز کتاب اعجاز احمدی میں (جو مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری ودیگر علمائے اسلام کے مقابلہ میں اپنی شکست چھپانے کے لئے لکھی ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جیسی کچھ توہین وتذلیل کی گئی ہے۔ اس کے متعلق یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ہفوات الزامی ہیں۔ کیونکہ اس میں صرف وہ علمائے اسلام مخاطب ہیں جن کے مسلمات و عقائد میں سے وہ امور ہرگز نہیں ہیں۔ بلکہ بعض جگہ سیاق و سباق و انداز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے مذہبی عقیدہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ آپ لکھتے ہیں کہ: ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

ناظرین! انصاف سے فرمائیے کہ مرزا قادیانی جس بات کو حق کہہ رہے ہیں یا یہ الزام ہے یا اظہار عقیدت ؟ ۔ اسی طرح ازالہ اوہام میں جتنی کچھ توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ٤٥

صفحہ ٥٤٨

توہین کی ہے۔ اس میں بھی اسلامی علماء وصوفیاء وسجادہ نشین ہی مخاطب ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کی یہ ژاژ خائیاں و بد گوئیاں کیسے الزامی جوابات پر محمول ہوسکتی ہیں؟۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا رقیب خیال کر رکھا تھا۔ اس وجہ سے یہ تمام باتیں بغض وعناد کے ساتھ عقیدے کے رنگ میں ظاہر ہوئیں۔ چنانچہ عیسائی مذہب کے مسلم مناظر پادری عبدالحق صاحب پروفیسر امریکن کالج سہارنپور نے مرزا قادیانی کے تمام بہتانات کی تردید میں ”ردّ بہتان قادیانی“ لکھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ان بہتانوں سے برأت کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ الزامات صرف مرزا قادیانی کے دماغ کی پیداوار ہیں۔ عیسائیت ویسی گندگیوں سے پاک ہے اور ایسے بدگو پر لعنت بھیجتی ہے۔

جب مرزائیت کی یہ حیلہ سازیاں وفریب کاریاں جن کو اپنے پیغمبر کی پاک دامنی وعصمت کے برقرار رکھنے کے لئے تراشی تھیں۔ پادر ہوا ہوئیں تو عاجز ومجبور ہو کر مگر بڑی جرأت وجسارت سے یوں گویا ہوئی کہ یہودیوں کا وہ نامسعود فرقہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عدوّ مبین اور بدترین دشمن ہے۔ اس نے جو کچھ الزامات واتہامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذاتِ مقدس پر لگائے تھے۔ اس کو مرزا قادیانی نے یہودیت کا روپ بدل کر عیسائیوں پر بطور حجت والزام کے پیش کیا ہے۔ جیسا کہ فرماتے ہیں کہ: ”ہمارے قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔“

(حاشیہ چشمہ مسیحی ص ٢ خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)

حالانکہ یہ عذر لنگ بھی سب سے بدتر اور کرشن قادیانی کے اخلاقی گناہوں و بدزبانیوں کے سربمہر لفافے کو برسرِ راہ چاک کر رہا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو بھی اس امر کا اقرار ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شدید دشمن ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”اور عیسیٰ علیہ السلام کے دو گروہ دشمن تھے۔ ایک اندرونی گروہ یعنی وہ یہودی جنہوں نے اس کو صلیب دے کر مارنا چاہا۔“

(تحفہ گولڑویہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٠٤)

”اور یہودیوں کا بڑا واقعہ...... یہی واقعہ تھا جو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کافر ٹھہرایا اور اس کو ملعون اور واجب القتل قرار دیا اور اس کی نسبت سخت درجہ پر غضب اور غصے میں بھر گئے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٢٨)

اور اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”یہود کے مغضوب علیہم ہونے کی بڑی وجہ جس کی

٤٦

صفحہ ٥٤٩

سزا ان کو قیامت تک دی گئی اور دائمی ذلت اور محکومیت میں گرفتار کئے گئے یہی ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ کے نشان بھی دیکھ کر پھر بھی پورے عناد اور شرارت اور جوش سے ان کی تکفیر اور توہین اور تفسیق اور تکذیب کی اور ان پر ان کی والدہ صدیقہ پر جھوٹے الزام لگائے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ١٩٨)

اس کے ساتھ ہی کرشن قادیانی کا یہ بھی ارشاد ہے کہ: ”جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٤)

اس لئے مرزا قادیانی یہودیت کا بھیس بدل کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن یہودیوں کے ناقابل اعتبار الزامات و بے بنیاد اتہامات کو ان عیسائیوں اور مسلمانوں کے سامنے پیش کرنا جن کے نزدیک اس کی حقیقت پرکاہ ونقش برآب سے بھی گئی گذری ہے۔ پرلے درجے کی بے ایمانی و مجرمانہ خیانت کاری ہے اور اپنی خبث باطنی و گندہ ذہنی کا ناقابل انکار ثبوت ہے۔

علاوہ ازیں جبکہ خود مرزا قادیانی یہودیوں کی ان ناجائز تہمتوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پاک و بری سمجھتے ہیں اور ان کو غیر معتبر وتمسخر کہتے ہیں تو اس کے بعد پھر آپ کا ان الزامات واتہامات کو ایسی قوم کے سامنے بطور حجت والزام کے پیش کرنا جو کسی طرح اس کو مسلم نہیں دانستہ ایمان سوز کاروائیاں و خیانت کاریاں نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟ لکھتے ہیں کہ:

پر آپ (مسیح) عاشق ہو گئے تھے۔ لیکن جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔ آپ خدا کے مقبول اور پیارے تھے۔ خبیث ہیں وہ لوگ جو آپ پر تہمتیں لگاتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٤)

لیکن مرزائیو! جو ان تہمتوں کو بار بار نقل کرے وہ کون ہے؟۔

اعتراض کرنا بیہودہ پن ہے۔“

(بدر ٤؍مئی ١٩٠٨ء)

میں آتے رہے ہیں کہ جو نادانوں کی نظر میں سخت بیہودہ اور شرمناک کام ہے۔..... جیسا کہ حضرت مسیح کا کسی فاحشہ کے گھر میں چلے جانا اور اس کا عطر پیش کردہ جو حلال وجہ سے نہیں تھا استعمال کرنا..... پھر اگر کوئی تکبر اور خودستائی کی راہ سے..... حضرت مسیح کی نسبت یہ زبان پر لائے کہ وہ طوائف کے گندہ مال کو اپنے کام میں لایا تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی

٤٧

صفحہ ٥٥٠

فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٧، ٥٩٨، خزائن ج ٥ ص ٥٩٧، ٥٩٨)

ناظرین کرام! مرزائیوں کے رسول نے اپنے مکروہ ونفرت خیز فعل، اہانت عیسیٰ علیہ السلام کو چھپانے کے لئے جس قدر عذرات باردہ و توجیہات باطلہ تراشے تھے وہ سب کے سب مرزا قادیانی ہی کے ہاتھوں پیوند زمین کر دیئے گئے۔ اب یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوگئی کہ تہذیب واخلاق کے دعویٰ کرنے والے قادیانی رسول نے دیدہ و دانستہ از روئے عقیدہ ان اخلاق سوز کاروائیوں و متعفن گالیوں و گھناؤنی بدکلامیوں کا ارتکاب کیا تھا۔ اس لئے آپ ہی کے فرمودہ الفاظ میں عطائے تو بلقائے تو کہہ کر یہ نذرانہ پیش کرتا ہوں کہ: ”ایسے خبیث کی (جو عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرے) نسبت کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان ناپاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

کچھ توہین آمیز جملے فقرے لکھے ہیں۔ اس کو دیکھ کر مرزا قادیانی فرط غضب سے بلبلا اٹھے اور یہ کہا کہ: ”پنڈت دیانند نے اس خدا ترس بزرگ کی نسبت اس گستاخی کے کلمے اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لکھے ہیں جس سے ہمیں (مسلمانوں کو) ثابت ہو گیا کہ درحقیقت یہ شخص دل سیاہ اور نیک لوگوں کا دشمن تھا۔..... مگر ایسے جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ اپنی بڑائی کی پگڑی جمانا اسی میں دیکھتے ہیں کہ ایسے بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں اور اس ناحق شناس اور ظالم پنڈت نے باوا صاحب کی شان میں ایسے سخت اور نالائق الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو پڑھ کر بدن کانپتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے اور اگر کوئی باوا صاحب کی پاک عزت کے لئے ایسے جاہل بے ادب کو درست کرنا چاہتا تو تعزیرات ہند کی دفعہ ٥٠٠ اور ٢٩٨ موجود تھی۔“

(ست بچن ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠)

کے بکواس کرنا شروع کر دیا اور اپنے خبیث مادہ کی وجہ سے سخت کلامی اور بدزبانی اور غصے اور ہنسی کی طرف مائل ہو گیا۔“

(ست بچن ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ١٢١)

بدگوئی کے مکروہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔“

(ست بچن ص ١٢٦، خزائن ج ١٠ ص ٢٥٠)

٤٨

صفحہ ٥٥١

ناظرین کرام! کو صرف اس قدر عبارت بالا میں ترمیم کی تکلیف دوں گا کہ پنڈت دیانند کے بجائے مرزا قادیانی کو اور باوا صاحب کی جگہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رکھ کر عبارت ملاحظہ کریں تاکہ لطف دوبالا ہو جائے۔

بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سنے
ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے

توہین انبیاء علیہم السلام کا اقراری بیان

”تم کہتے ہو میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک کی ہے۔ یادرکھو میرا مقصد یہ ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت قائم کروں۔ اوّل تو یہ ہے ہی غلط کہ میں کسی نبی کی ہتک کرتا ہوں۔ ہم سب کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا کرنے میں کسی کی ہتک ہوتی ہے تو بے شک ہو۔ میں نے جو دعوے کئے وہ اپنی عظمت و شان کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی شان کی بلندی کے اظہار کے لئے کئے ہیں۔ مجھے خدا کے بعد بس وہی پیارا ہے۔ لیکن اگر تم اسے کفر سمجھتے ہو تو مجھ جیسا کافر تم کو دنیا میں نہیں ملے گا۔ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی اتباع میں میں بھی کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ چلائیں کہ فلاں بات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی عزت قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا کسی اور کی ہتک ہوتی ہو تو ہمیں ہرگز اس کی پرواہ نہیں ہوگی۔ بے شک آپ لوگ ہمیں سنگسار کریں یا قتل کریں آپ کی دھمکیاں اور ظلم ہمیں رسول اللہ ﷺ کی عزت کے دوبارہ قائم کرنے سے نہیں روک سکتے۔“

(تقریر میاں محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ٢٠ مئی ١٩٣٤ء)

اہانت حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام

لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے۔“

(ایام الصلح حاشیہ ص ٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠)

عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ

٤٩

صفحہ ٥٥٢

سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنی تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آئے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔‘‘

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ص ١٨)

مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ص٢٥٤)

اور حقیقی بہن تھے۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔‘‘

(کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ص ١٨)

عمر خاوند نہ کرے۔ لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کے بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ص ٣٥٦، ٣٥٥)

(نور الحق ص ٥٠، خزائن ج ٨ص ٦٨)

اہانت حضرت نوح علیہ السلام

’’اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ص ٥٧٥)

اہانت حضرت موسیٰ علیہ السلام

’’حضرت موسیٰ نے کئی لاکھ بے گناہ بچے مار ڈالے۔‘‘

(نور القرآن حاشیہ ص ٢٤، خزائن ج ٩ص ٣٥٣)

٥٠

صفحہ ٥٥٣

تمام انبیاء علیہم السلام کی اہانت

انبیاء گرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم زکسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آن جام مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(درثمین ص ٢٨٧، ٢٨٨ ، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

اہانت آنحضرت ﷺ

مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت و ادعائے شریعت جدیدہ ہی اس امر کی کافی ضمانت ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) آنحضرت ﷺ کے ہمسر و ہم رتبہ ہو کر آنحضرت ﷺ کی سخت توہین کی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم میں جس قدر آیات آنحضرت ﷺ کے اوصاف حسنہ و پاکیزہ اخلاق و عظمت و جلال کے متعلق ہیں ان میں سے بعض آیات کے متعلق آپ (مرزا قادیانی) کا یہ خیال ہے کہ صرف میں ہی ان آیات کا مصداق ہوں۔ حضور ﷺ نہیں ہیں۔ مثلاً آیت ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ “ آنحضرت ﷺ کی شان مقدس میں نازل ہوئی تھی۔ مگر مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ اس کا مصداق میں ہوں آپ ﷺ نہیں ہیں۔ لکھتے ہیں کہ:

اس آیت کا مصداق ہے کہ ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

اسی طرح بشارت اسمہ احمد آنحضرت ﷺ کے لئے تھی۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں اس کا مصداق میں ہوں اور کوئی نہیں۔

کے مثیل ہونے کی طرف یہ اشارہ ہے۔ ”ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“

(ازالہ ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

مرزا محمود قادیانی خلیفہ قادیان اس قول کی شرح کرتے ہیں

اصل مصداق اس پیش گوئی ” ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد “ کا میں ہی ہوں۔“

(القول الفصل ص ٢٧)

صفحہ ٥٥٤

٤....... اور مرزا قادیانی نے اپنے ”معجزات ونشانات کی تعداد تین لاکھ بتائی ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٤) نہیں ”دس لاکھ سے زائد ۔“ (براہین احمدیہ ص ٥٦ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ٧٢) نہیں ”ساٹھ لاکھ ۔“ (اعجاز احمدی ص ١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) نہیں ”بلکہ اس قدر جو دنیا کے کسی بادشاہ کی فوج اس کے برابر نہیں ہو سکتی ۔“ (اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨) اور حضور ﷺ کے معجزات کے متعلق فرماتے ہیں کہ: ”صرف تین ہزار ہوئے ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

اس کا صاف وصریح مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی، آنحضرت ﷺ سے مجد وشرف میں کئی گنا بڑھے ہوئے ہیں۔ (معاذ اللہ)

٥....... ”حضور ﷺ کے لئے بطور تصدیق ونشان صرف چاند گرہن ہوا اور مرزا قادیانی کی تصدیق نبوت کے لئے چاند گہن وسورج گہن دونوں واقع ہوئے:

”له خسف القمر المنير وان لي ٠ خسفا القمران المشرقان اتنكر“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

٦....... مرزا قادیانی کہتے ”دیکھو اب خدا تعالیٰ نے میری وحی میری تعلیم اور میری بیعت کو مدار نجات ٹھہرایا ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

اس کا یہ مطلب ہوا کہ نہ تو اب آنحضرت ﷺ کی تابع داری وفرمانبرداری باعث نجات ہے اور نہ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں حضور ﷺ کی اتباع کی ضرورت۔ (معاذ اللہ)

٧....... ”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گذر گیا اور دوسری فتح مبین باقی رہی کہ پہلی سے غلبہ میں بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا وقت ہو ۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٨٨، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

٨....... ”آنحضرت ﷺ کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہؓ کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی ۔“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٦٦)

٩....... ”آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کا بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے مو بمو منکشف نہ ہوئی اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی اور نہ

١٥٢

١٥

صفحہ ٥٥٥

یاجوج و ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الہی نے اطلاع دی اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما حقہ ظاہر فرمائی گئی۔“ مگر مرزا قادیانی پر یہ تمام حقائق منکشف ہو گئے ہیں؟۔

(ازالۃ اوہام ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

نبی ﷺ کا زمانہ زمان التائیدات ودفع الآفات تھا۔“

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ٢٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٩٢ حاشیہ)

”ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقی کا انتہاء تھا۔ بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت (بز مانہ مرزا) پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ٢٦٦، خزائن ج ٢١ ص ایضاً)

نوٹ! عبرت کی نگاہوں سے مذکورہ بالا عبارتوں کو دیکھئے کہ مرزا قادیانی کس بیباکی سے جامع الکمالات دافع الغوائل سید الرسل ﷺ پر اپنی فضیلت اور روحانی تفوق ظاہر کر کے آپ کی توہین و تحقیر کر رہے ہیں۔ (العیاذ باللہ )

اہانت حضرت ابوبکر صدیقؓ

”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ابوبکرؓ تو کیا وہ بعض انبیاء علیہم السلام سے بہتر ہے۔“

(اشتہار معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٣٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

اہانت حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ

”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

(اخبار الحکم قادیان نومبر ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٢ ص ١٤٢)

اہانت حضرت امام حسینؓ

١...... کربلا یست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

٥٣٠

صفحہ ٥٥٦

سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا قادیانی) حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

تئیں اچھا سمجھا میں کہتا ہوں کہ ہاں میرا خدا عنقریب ہی ظاہر کر دے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)

تبكون فانظروا“ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

فانظروا“ اور بخدا امام حسین مجھ سے کچھ زیادہ نہیں اور میرے پاس خدا کی گواہیاں۔ پس تم دیکھ لو۔

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

اجلى واظهر“ اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

خدا نے جو غیور ہے ہر ایک مراد سے نومید کیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

بعض صحابہ کرام کی اہانت

(ازالہ ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٦)

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥)

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

٥٤

صفحہ ٥٥٧

علمائے کرام اور مسلمانوں کو گالیاں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام باوجود اس امر کے کہ مرزا قادیانی کے کسی چلتے ہوئے دعوٰی میں نہ مانع ہوئے اور نہ مرزا قادیانی کو کچھ برا بھلا کہا۔ مگر چونکہ آپ ان کے جلیل القدر عہدے مسیحیت کے مدعی بن کر آئے تھے اس لئے آپ نے ان کو اپنا رقیب سمجھا اور پھر تو اس بری طرح سے ان کو گالیاں دی ہیں کہ بھٹیاریوں کو بھی مات کر دیا ہے۔ جیسا کہ آپ گزشتہ صفحات میں بادل نخواستہ ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اب ان مسلمانوں ومقدس علمائے اسلام کی باری آتی ہے جنہوں نے مرزا قادیانی کے دعاوی سے نہ صرف انکار ہی کیا بلکہ اس کا پردہ چاک کر کے ان کی فریب کاریوں، حیلہ سازیوں، چالاکیوں سے لوگوں کو آگاہ کر دیا اور بتایا کہ مرزا قادیانی کے اعتقادات وتعلیمات خلاف شرع و باطل ہیں۔ پس جب علمائے اسلام کی مساعی کی بدولت مرزا قادیانی کی دوکان ویران ہوگئی اور سوائے چند عقل کے دشمنوں اور آنکھ کے اندھوں کے کوئی بھی گاہک نہ رہا اور ایمان فروشی میں بہت کچھ کمی ہو گئی۔ تو مرزا قادیانی نے اس سے اپنی روٹی کی کمی کا زبردست خطرہ محسوس کیا اور فرط غضب سے چہرہ تمتما اٹھا۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوگئیں۔ خون کھولنے لگا اور منہ سے تکفیر ولعنت ”لعن وطعن“ سب وشتم کا جھاگ اس زور سے بہنے لگا کہ سارا کپڑا تر ہو گیا۔ لیکن پھر بھی بعض عقل کے پورے اس سے برکت ڈھونڈنے کے خواہش مند ہیں اور علمائے کرام اور عام مسلمانوں کو اسی حالت میں ایسی ٹکسالی ہفت رنگی گالیاں دی ہیں کہ تہذیب وشرافت بھی اپنا سر پیٹ لیتی ہیں۔ ”سچ ہے جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے کہے۔ کون اس کو روک سکتا ہے۔“ (نگاہ دیکھئے اور قادیانی پیغمبر کے پیغمبرانہ اخلاق کی داد دیجئے)

(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)

(مفہوم ایام الصلح ص ٨٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٢)

(ایام الصلح ص ٨٠، خزائن ج ١٤ ص ٣١٦)

(ایام الصلح ص ٨٢، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٠)

بھی تقویٰ ہو ایسے افتراء نہیں کرسکتا۔“

(ایام الصلح ص ٨٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٢، ٣٢٣)

٥٥

صفحہ ٥٥٨

(ایام الصلح ص ٨٩، خزائن ج ١٤ ص ٣٢٦)

مولویوں۔“ (ایام الصلح ص ١١٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٤) ”نادان علماء۔“ (ایام الصلح ص ١١٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٥٥) ”ذلیل ملاؤں، پلید ملاؤں، ناپاک طبع مولویوں، پلید طبع مولوی...... خدا کا ان مولویوں پر غضب ہوگا۔“ (ایام الصلح ص ١٦٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١٣) ”مولوی...... چھنالوں سے بدتر اور پلید تر، پلید جاہلوں۔“ (ایام الصلح ص ١٦٦، خزائن ج ١٤ ص ٤١٤) ”نذیر حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے۔“

(دافع البلاء ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨)

تھے۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

(ضمیر انجام ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

(ضمیر انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

جرح کیا ہے یہ قول سراسر حماقت ہے...... ایسے لوگ چارپائے ہیں نہ آدمی...... پس یہ نہایت بے ایمانی اور بددیانتی ہے۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ١٠، خزائن ج ١١ ص ٢٩٤)

نہیں آئی...... علماء اور فقراء کے دل تاریک ہو گئے...... مگر ہمارے وہ علماء اور فقراء جو شمس العلماء اور بدر العرفاء کہلاتے ہیں۔ وہ آج تک اپنی کسوف خسوف میں گرفتار ہیں۔“

(ضمیر انجام آتھم ص ١١، خزائن ج ١١ ص ٢٩٥)

(ضمیر انجام آتھم ص ١٢، خزائن ج ١١ ص ٢٩٦)

(ضمیر انجام آتھم ص ١٧، خزائن ج ١١ ص ٣٠١)

٥٦

صفحہ ٥٥٩

معارف کو سنتے ہی جلد بول اٹھتے ہیں کہ یہ کچھ حقیقت نہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

”لیکن یہ جاننا چاہئے کہ یہ سب شیاطین الانس ہیں...... یہ جہلا کی غلطیاں ہیں کہ جو قلت تدبر سے ان کے نفس امارہ پر محیط ہو رہی ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢)

منکر یا مکذب ہیں وہ تمام اس کامل نعمت مکالمہ الہیہ سے بے نصیب ہیں اور محض یاوہ گو اور ژاژ خا ہیں۔..... کذابین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے۔“ (حاشیہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣)

یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔..... مگر یہ دل کے مجذوم اور اسلام کے دشمن یہ نہیں سمجھتے...... دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے۔ مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں...... اے مردار خورو مولویو اور گندی روحو تم پر افسوس...... اے اندھیرے کے کیڑو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

رکھتے ہیں...... مگر اب تک بعض بے ایمان اور اندھے مولوی اور خبیث طبع عیسائی اس آفتاب ظہور حق سے منکر ہیں۔ افسوس یہ لوگ مولوی کہلانے کا تو بہت شوق رکھتے ہیں مگر تقویٰ اور دیانت سے ایسے دور ہیں کہ جیسے مشرق سے مغرب...... اور ان کے (پادریوں) ہم سرشت مولوی اور پلید طبع بعض اخبار والے گالیاں دیتے تھے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٢، ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٦، ٣٠٧)

حسین بٹالویؒ) جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں...... اور تمام مخالفوں کا منہ کالا ہوا...... اور مخالفوں اور مکذبوں پر وہ لعنت پڑی جو اب دم نہیں مار سکتے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)

کو ظاہر کیا...... اے اندھو اب سوچو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)

گروہ ۔ غرض سب کو بلند آواز سے اس بات کے لئے مدعو کیا...... میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی

٥٧

صفحہ ٥٦٠

نہ آیا اور اپنی جہالت پر جو تمام ذلتوں کی جڑ ہے مہر لگا دی...... اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہئے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندر ہی پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ص٣١١)

٢١...... ”اس کے (مرزا قادیانی) مقابل پر صرف عبدالحق کیا بلکہ کل مخالفوں کی ذلت ہوئی ہر ایک خاص و عام کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ صرف نام کے مولوی ہیں۔ گویا یہ لوگ مر گئے عبدالحق کے مباہلہ کی نحوست نے اس کے اور رفیقوں کو بھی ڈبو دیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ص٣١٢)

٢٢...... ”مگر اس کی (مولانا عبدالحق صاحب) بدبختی سے وہ دعویٰ بھی باطل نکلا اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا...... پھر کیسے خبیث وہ لوگ ہیں جو اس مباہلہ کو بے اثر سمجھتے ہیں...... میں نے اس روز بددعا نہیں کی کیونکہ وہ (مولانا عبدالحق صاحب) نا سمجھ اور غبی تھا......... عبدالحق غزنوی نے ٣؍ شعبان ١٣١٤ء کو اس لعنت کی سیاہی کو دھونے کے لئے جو اس کے منہ پر جم گئی ہے ایک اشتہار دیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٢ حاشیہ، خزائن ج ١١ص٣١٧)

٢٣...... ”عبدالحق اور عبدالجبار غزنویان وغیرہ مخالف مولویوں نے بھی وہ نجاست کھائی...... سو ان لوگوں نے اسلام کی کچھ پرواہ نہ کی اور کچھ بھی حیاء شرم اور تقویٰ سے کام نہ لیا اسی لئے تو آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کا نام یہودی رکھا...... عبدالحق بار بار لکھتا ہے کہ پادریوں کی فتح ہوئی ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ اے بدذات یہودی صفت پادریوں کا اس میں منہ کالا ہوا اور ساتھ ہی تیرا بھی اور پادریوں ایک آسمانی لعنت پڑی اور ساتھ ہی وہ لعنت تجھ کو بھی کھا گئی۔ اگر تو سچا ہے تو اب ہمیں دکھلا کہ آتھم کہاں ہے۔ اے خبیث کب تک تو جیئے گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ص٣٢٩)

٢٤...... ”مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعنۃ اللہ الف الف مرۃ اپنے ناپاک اشتہار میں نہایت اصرار سے کہتا ہے کہ یہ پیش گوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔ اے پلید دجال پیش گوئی تو پوری ہو گئی لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ص٣٣٠)

٢٥...... ”ان احمقوں نے یہ معنے کس لفظ سے سمجھ لئے۔ اے نادانو! آنکھوں کے اندھو! مولویت کو بدنام کرنے والو! ذرہ سوچو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ص٣٣٠)

٥٨

صفحہ ٥٦١

یہودیوں کے لئے خدا نے اس گدھے کی مثال لکھی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ مگر یہ خالی گدھے ہیں...... جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے نہ انسان۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج١١ص٣٣١)

کر سکتے ہیں تو پیش کریں...... اے اسلام کے عار مولویو! ذرہ آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ کس قدر تم نے غلطی کی ہے۔ جہالت کی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج١١ص٣٣٢)

کسوف میں بھی ایک امر خارق عادت رکھا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج١١ص٣٣٢)

کی اس حدیث کے بعض راویوں پر جرح کیا ہے۔ اس لئے یہ حدیث صحیح نہیں۔ لیکن اس احمق کو سمجھنا چاہئے کہ حدیث نے اپنی سچائی کو آپ ظاہر کر دیا ہے...... پس اس صورت میں جرح سے حدیث کا کچھ نقصان نہیں ہوا۔ بلکہ جنہوں نے جرح کیا ہے ان کی حماقت ظاہر ہوئی...... اے کسی جنگل کے وحشی خبر معاینہ کے برابر نہیں ہو سکتی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج١١ص٣٣٣)

جھوٹ کا گوہ کھایا...... پس اے بدذات خبیث دشمن اللہ رسول کے تو نے یہ یہودیانہ حرکت اسی لئے کی کہ تا یہ عظیم الشان معجزہ پیغمبر خدا ﷺ کا دنیا پر مخفی رہے۔ جابر اور عمرو بن شمر کا جھوٹ تو ہرگز ثابت نہیں ہوا۔ بلکہ سچ ثابت ہوا۔ مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا...... اب جو شخص ان بزرگوں کو (جابر جعفی و عمرو بن شمر) جھوٹا کہے...... وہ بدذات خود جھوٹا اور بے ایمان ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج١١ص٣٤٣)

نوٹ! مرزا قادیانی کی یہ بدزبانی معاذ اللہ حضرات محدثین کو جھوٹا اور بے ایمان ثابت کر رہی ہے۔ کیونکہ دراصل ان حضرات نے جابر جعفی وغیرہ (جو مرزا قادیانی کے بزرگوں میں سے ہیں) کی تکذیب و تضعیف کی ہے اور مولانا عبدالحق صاحب تو صرف ناقل ہیں۔

بھی اس نابکار کی تزویر اور تلبیس ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج١١ص٣٣٢)

٥٩

صفحہ ٥٦٢

٣٢....... ”سوچا چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گو ہری ظاہر نہ کرتے...... ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کردیں گے ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

٣٣....... ”یہ اعتراض کیسی بے ایمانی ہے جو تعصب کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

٣٤....... ”اس جگہ (الہام مرزا قادیانی میں) فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی ہے اور ہامان سے مراد نو مسلم سعد اللہ ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٤٠)

٣٥....... ”اب دیکھو شریر مولوی کب تک اور کہاں تک انکار کریں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

٣٦....... ”قمت یا عبد الشیطان الموسوم بعبد الحق“......کمال افسوس ہے جو میں نے (مرزا قادیانی) سنا ہے کہ اسلام کے بدنام کرنے والے غزنوی گروہ امرتسر میں رہتے ہیں...... یہ سیاہ دل فرقہ غزنویوں کا کس قدر شیطانی افتراؤں سے کام لے رہا ہے۔ بد بخت مفتریو...... نہ معلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم اور حیا سے کام نہیں لیتا...... اور پھر خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے موافق آتھم کو فی النار کر کے پادریوں اور مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا...... کیا اب تک عبد الحق غزنوی کا منہ کالا نہیں ہوا۔ کیا اب تک غزنویوں کی جماعت پر لعنت نہیں پڑی۔ بے شک خدا نے ان لوگوں کو ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق کر دیا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

٣٧....... ”اور غزنوی افغانوں کی جماعت جو ناپاک خیالات اور تکذیب کی بلا میں گرفتار ہیں...... کہ عبد الحق غزنوی اور عبد الجبار جو اپنی شرارت اور خباثت سے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٣٤٣)

٣٨....... ”آسمانی گواہ جس سے ہمارے نابینا علماء بے خبر ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦١، خزائن ج ١١ ص ٣٤٥)

٣٩....... ”اور میرے مخالف مولویو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٣، خزائن ج ١١ ص ٣٤٧)

٤٠....... ”نادان بٹالوی محمد حسین اپنے پرچہ اشاعت السنہ میں ہم پر یہ اعتراض کرتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٦٠

صفحہ ٥٦٣

آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“

(انجام آتھم حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

یہودی سیرت مولوی سخت ذلیل ہو گئے۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

سراسر افتراء ہے۔“

(انجام آتھم ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

نظر سے نہیں دیکھتے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

ہے۔ لیکن اس ہندو زادہ (منشی سعد اللہ صاحب) کی خباثت فطرتی....... سب سے بڑھ کر ہے۔“

(حاشیہ انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٦٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٦٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

بود۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٢٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٢٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٣٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

وجارغوى يقال له محمد حسين وقد سبق الكل فى الكذب والمين....... حتى قيل انه امام المتكبرين ورئيس المعتدين وراس القادين“

(انجام آتھم ص ٢٣١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٦١

صفحہ ٥٦٤

(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

شيخك الضال الكاذب نذير المبشرين ثم الدهلوى عبد الحق رئيس المتصلفين...... ثم سلطان المتكبرين وآخرهم الشيطان الاعمى والغول الاغوى يقال له رشيد الجنجوهى وهو شقى كالا مروهى ومن الملعونين“

(انجام آتھم ص ٢٥١، ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

لعجما...... والعلماء السفها“

(انجام آتھم ص ٢٥٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

من الغاوين الجاهلين...... واتهم من الجاهلين المعلمين“

(انجام آتھم ص ٢٥٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٦٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٣، خزائن ج ١١ ص ٢٧٨)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

دعویٰ کو فروغ دے رہے ہیں ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٤٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ہیں ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٩٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(آئینہ کمالات اسلام ص ١١١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢١٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٦٢

صفحہ ٥٦٥

ہوگا:......١...... لعنت ۔٢...... لعنت ۔٣...... لعنت ۔٤...... لعنت ۔٥...... لعنت ۔٦...... لعنت ۔ ٧...... لعنت ۔٨...... لعنت ۔٩...... لعنت ۔١٠...... لعنت ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص٢٩٥، خزائن ج٥ ص ایضاً)

شیطنت کی بدبو سے بھرا ہوا ہے...... اے کج طبع شیخ خدا جانے تیری کس حالت میں موت ہوگی ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٠١، خزائن ج٥ ص ایضاً)

ہیں ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٠٤، خزائن ج٥ ص ایضاً)

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٠٦، خزائن ج٥ ص ایضاً)

بہرہ اور ایک غبی اور پلید آدمی ہیں ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص٣٠٨، خزائن ج٥ ص ایضاً)

تھا ۔ یہ آپ ہی نے...... اس کے اخیر وقت اور لب بام ہونے کی حالت میں ایسی مکروہ سیاہی اس کے منہ پر مل دی کہ اب غالباً وہ گور میں ہی اس سیاہی کو لے جائے گا۔‘‘

(کتاب مذکورہ ص٣٠٩، خزائن ج٥ ص ایضاً)

(کتاب مذکورہ ص٤٠٢، خزائن ج٥ ص ایضاً)

معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے۔ لیکن رنڈیوں و زنا کاروں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی وہ مجھے قبول نہیں کرتے ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج٥ ص ایضاً)

الملکوت کا خاصہ ہے۔ جو آپ کا قرین دائمی ہے ۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص٥٩٨، خزائن ج٥ ص ایضاً)

٦٣

صفحہ ٥٦٦

٧٣...... ”بٹالوی صاحب کا رئیس المتکبرین ہونا صرف میرا ہی خیال نہیں بلکہ ایک کثیر گروہ مسلمانوں کا اس پر شہادت دے رہا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٧٤...... ”ایک زور کے ساتھ دروغگوئی کی نجاست ان کے منہ سے بہہ رہی ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٧٥...... ”یہ بے چارہ نیم ملا گرفتار عجب و پندار بٹالوی ...... یہ حاطب اللیل باوجود اپنے بے جا تکبر او کذب صریح ...... اور خبث نفس سے علماء وفضلاء کا حقارت سے نام لیتا ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٧٦...... ”اور حضرت بٹالوی صاحب اوّل درجہ کا کاذب اور دجال اور رئیس المتکبرین ہیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠١، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

٧٧...... ”اے اس زمانہ کے ننگ اسلام مولویو ...... اے کوتاہ نظر مولوی ذرا نظر کر۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦، خزائن ج ٥ ص ٦٠٨)

٧٨...... ”اب نادان اور اندھے دشمن دین مولوی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ح، خزائن ج ٥ ص ٦٠٩)

٧٩...... ”نذیر حسین خشک معلم کے پاس دہلی جائیں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ز، خزائن ج ٥ ص ٦١١)

٨٠...... ”ہمارے ظالم طبع مخالفوں نے اس قدر جھوٹ کی نجاست کھائی ہے کہ کوئی نجاست خور جانور اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ ان میں سے جھوٹ بولنے کا سرغنہ پیسہ اخبار کا ایڈیٹر ہے۔“

(نزول المسیح ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٣٧٨، ٣٨٦)

٨١...... ”بدقسمت ایڈیٹر نے اس گندے جھوٹ سے خود اپنے تئیں پبلک کے سامنے اور نیز گورنمنٹ کے سامنے ایک دروغ گو اور مفتری ثابت کر دیا ہے۔“

(نزول المسیح ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠)

٨٢...... ”دروغ گو بے حیا کا منہ ایک ہی ساعت میں سیاہ ہو جاتا۔“

(نزول المسیح ص ٦٢، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٠)

٨٣...... ”اس سے زیادہ کوئی دیوانہ اور پاگل نہیں ہوتا۔“

(نزول المسیح ص ٦٤، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢)

٦٤

...... ٨٤ ڈال رہے ہیں اور وہ نہ صرف

...... ٨٥ رکھ دی۔“

...... ٨٦ حقیقت سیف کی، ہم کروای

...... ٨٧

...... ٨٨

...... ٨٩

...... ٩٠

...... ٩١ ہامان قرار دیا۔“

...... ٩٢ بیہودہ گوئی اور حماقت۔

...... ٩٣ ہے۔ سفیہوں کا نطفہ۔ جاہلوں نے سعد اللہ رک

...... ٩٤

...... ٩٥ مغرور و گمراہ۔“

صفحہ ٥٦٧

٨٤...... ”پیر مہر علی شاہ صاحب محض جھوٹ کے سہارے سے اپنی کورمغزی پر پردہ ڈال رہے ہیں اور وہ نہ صرف دروغگو ہیں بلکہ سخت دروغ گو ہیں ۔“

(نزول المسیح ص ٦٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤)

٨٥...... ”اس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ میں رکھ دی ۔“

(نزول المسیح ص ٧٠ ، خزائن ج ١٨ ص ٤٤٨)

٨٦...... ”مر گیا بد بخت اپنے وار سے ، کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے ۔ کھل گئی ساری حقیقت سیف کی ، کم کرو اب ناز اس مردار سے ۔“

(نزول المسیح ص ٢٢٤ ، خزائن ج ١٨ ص ٦٩٢)

٨٧...... ”ایہا الجہلاء والسفہاء“

(نور الحق ج ٢ ص ٥٦ ، خزائن ج ٨ ص ٢٥٣)

٨٨...... ”اے نفسانی مولویو! اور خشک زاہدو۔“

(ازالہ ص ٥ ، خزائن ج ٣ ص ١٠٥)

٨٩...... ”اے خشک مولویو اور پر بدعت زاہدو۔“

(ازالہ حاشیہ ص ١١٦ ، خزائن ج ٣ ص ١٥٧)

٩٠...... ”کیسی بد ذاتی اور بد معاشی اور بے ایمانی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١٢ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٢)

٩١...... ”اس الہام میں خدا تعالیٰ نے دو مولویوں کو جو تکفیر کے بانی تھے فرعون اور ہامان قرار دیا ۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٥٤ ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٦٧)

٩٢...... ”اسی جگہ قاموس وغیرہ کا ابتر کے معنی کے بارے میں حوالہ دینا صرف بیہودہ گوئی اور حماقت ہے۔“

(تتمہ ص ٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٧)

٩٣...... ”لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے۔ سفیہوں کا نطفہ بد گو ہے اور خبیث اور مفسد جھوٹ کو جمع کرنے والا منحوس ہے۔ جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔...... تیرا نفس ایک خبیث گھوڑا ہے۔ اے حرامی لڑکے ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤ ، ١٥ ، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٦ ، ٤٤٥)

٩٤...... ”ایسا شخص بڑا خبیث اور پلید اور بد ذات ہوگا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٠ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٣٣)

٩٥...... ”اس پر (الٰہی بخش پر) اس کی لعنت کی پڑی مار...... عجب نادان ہے وہ مغرور و گمراہ ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥ ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٥١)

٦٥

صفحہ ٥٦٨

(حاشیہ تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥)

قدر طمانچہ کھا کر پھر سامنے آتے ہیں۔“

(حاشیہ تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧)

خود بینی رکھتا تھا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ٦٠٢)

(براہین احمدیہ ص ١٣، ٢٧، خزائن ج ٢١ ص ١٦٦، ١٨٢)

بٹالوی) آج آپ نے تحریف کرنے میں یہودیوں کے بھی کان کاٹے۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٠٢ تا ١٠٨، خزائن ج ٢١ ص ٢٦٧ تا ٢٧٢)

شرم نہ آئی۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١١١، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

دلیری اور یہ شوخی۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١١٣، خزائن ج ٢١ ص ٢٧٨)

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٢٠، خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥)

جانتے۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٤٢، ١٤٣، خزائن ج ٢١ ص ٣١٠، ٣١١)

نادان قوم۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٤٤، ١٤٥، خزائن ج ٢١ ص ٣١٢، ٣١٣)

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٤٩، خزائن ج ٢١ ص ٣١٧)

٦٦

صفحہ ٥٦٩

مارے غصہ کے جب ان کو حضرت عیسیٰ کے مرنے کی خبر دی گئی ۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٥٢، ١٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٠، ٣٢١)

کون ہوگا۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٥٨، ١٥٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٢٤، ٣٢٥)

ایک کیڑا۔ اے دروغ آراستہ کرنے والے۔“

(ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٦٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢)

(چشمہ معرفت ج ٢ ص ٣٢١ ،خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦)

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٦٦ ،خزائن ج ١٧ ص ١٩٩)

نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٧٠ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٢٠٥)

(مواہب الرحمٰن ص ١٠٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٢٩)

تو اے نادان“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣١، خزائن ج ١٩ ص ٣٥١)

کردی“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣١، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢)

الغوی“

(مواہب الرحمٰن ص ١٣٨، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩)

(شہادت القرآن ص ٩، خزائن ج ٦ ص ٣٠٥)

ہے۔“

(شہادت القرآن ص ٨٤، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)

٦٧

صفحہ ٥٧٠

مخالف ہیں۔ یہ نادان خود پسند ہیں اور محبت اور خیر خواہی خلق اللہ کی سرمو ان میں نہیں ۔"

(شہادۃ القرآن ص ٨٥، خزائن ج ٦ ص ٣٨١)

(شہادۃ القرآن ص ٨٦، خزائن ج ٦ ص ٣٨٢)

(شہادۃ القرآن ص ٨٧، خزائن ج ٦ ص ٣٨٣)

سے عاری ہے اور اس کے پیرو اسی کی مانند ہیں ۔ جو بعض جہل اور حمق سے اس کے پیچھے ہوئے ۔"

(نورالحق مترجم ج ١ ص ٣، خزائن ج ٨ ص ٤)

اور معطل ہو گئے اور ان کی عقلیں مسلوب ہو گئیں اور ان کی دماغی قوتیں گم ہو گئیں اور ان کی راؤں پر تاریکی چھا گئی اور آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ۔"

(نورالحق ج ١ ص ٦، خزائن ج ٨ ص ٨)

کاٹتا ہے اور سانپوں کی طرح زبان ہلاتا ہے۔"

(نورالحق ج ١ ص ٢٣، خزائن ج ٨ ص ٣٢)

بعض مسلمان خیال کرتے ہیں ۔"

(نورالحق ج ١ ص ٤٨، خزائن ج ٨ ص ٦٦)

(نورالحق ج ١ ص ٥٣، خزائن ج ٨ ص ٧٤)

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٦)

ہو گئے ۔"

(اعجاز احمدی ص ٢٢، خزائن ج ١٩ ص ١٣١)

شرمندہ ہیں ۔ کیونکہ اسلام میں ہی ایسے یہودی موجود ہیں ۔"

(اعجاز احمدی ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ١٣٦)

٦٨

فوراً مرزا قادیانی نے "ا صاحب پر دس لعنت برسا کر اپنے پیغمب

ثناء اللہ ہے۔"

ثناء اللہ جو ہوا و ہوس کا بیٹا تھا ...... حالا مچھر پر کہ کرگس بننا چاہتا ہے ۔"

چھوڑ دے ۔"

گندہ پانی ہے۔ اے اغوا کرنے وا

کی طرح نیش زن میں نے کہا کہ ہوگئی۔"

بولا۔"

سانپوں کتوں کی شکل میں بدل دیا۔

صفحہ ٥٧١

نوٹ! مرزا قادیانی نے ”اعجاز احمدی ص ٣٨، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩“ میں مولانا ثناء اللہ صاحب پر دس لعنت برسا کر اپنے پیغمبرانہ اخلاق کا ثبوت پیش کیا ہے۔

ثناء اللہ ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج ١٩ ص ١٥١)

ثناء اللہ جو ہوا و ہوس کا بیٹا تھا...... حالانکہ ثناء اللہ کو علم اور ہدایت سے ذرہ مس نہیں پس تعجب ہے اس مچھر پر کہ کرگس بننا چاہتا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٤٣، خزائن ج ١٩، ص ١٥٤، ١٥٥)

چھوڑ دے۔“

(اعجاز احمدی ص ٤٨، ٥١، ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٠، ١٦٣، ١٦٤)

گندہ پانی ہے۔ اے اغوا کرنے والے محمد حسین۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٧، خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)

کی طرح نیش زن میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٥، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨)

بولا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨، ١٨٩)

(اعجاز احمدی ص ٧٧، خزائن ج ١٩ ص ١٩٠)

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

(اعجاز احمدی ص ٨٣، خزائن ج ١٩ ص ١٩٦)

سانپوں کتوں کی شکل میں بدل دیا۔“

(حمامة البشریٰ ص ١٤٢، خزائن ج ٧ ص ٣٠٨)

(ازالہ ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

٦٩

صفحہ ٥٧٢

سے کینہ رکھے۔“

(ازالہ ص ٥٠٩، خزائن ج ٣ ص ٣٧٢)

کھائی۔“

(ازالہ ص ٥٩٦، خزائن ج ٣ ص ٤٢٢)

رفعتی لیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٠٠، خزائن ج ٣ ص ٤٢٤)

(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦)

(مقدمہ چشمہ مسیحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٩)

از مردک بے حیا وبے شرم احدیرا ازاں گریز نیست!“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠)

علوم عربیہ سے بالکل بے بہرہ ہے اور معہ ذالک دجال اور مفتری۔“

(کرامات الصادقین ص ٣، خزائن ج ٧ ص ٤٥)

(کرامات الصادقین ص ٦ تا ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٤٨ تا ٦٢)

دین و دیانت سے دور ہیں...... اور ایسا ہی وہ تمام مولوی جن کے سر میں تکبر کا کیڑا ہے...... اس شیخ کی خیرگی اور بے حیائی...... یہ نادان شیخ۔“

(کرامات الصادقین ص ٢١، خزائن ج ٧ ص ٦٣)

شیخ...... شیخ چال باز۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٢، ٢٤، خزائن ج ٧ ص ٦٤ ، ٦٥)

مولوی کے نام سے مشہور ہو گئے...... ان متکبر مولویوں۔“

(کرامات الصادقین ص ٢٤، ٢٥، خزائن ج ٧ ص ٦٦ ، ٦٧)

٧٠

صفحہ ٥٧٣

(کرامات الصادقین ص ٢٧، خزائن ج ٧ ص ٦٩)

(کرامات الصادقین ص ٤، خزائن ج ٧ ص ١٥٢)

سے نکالنے کے لئے چھوڑ دیا۔“

(آسمانی فیصلہ ص ١٤، خزائن ج ٤ ص ٣٢٤)

گئے...... ان جلد باز مولویوں...... ان لوگوں کو نجاست خوری کا کیوں شوق ہو گیا۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣١، خزائن ج ٤ ص ٣١)

کی۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣٢، خزائن ج ٤ ص ٣٢)

سے اے سفلہ دشمن۔“

(الھدیٰ والتبصرہ ص ٨، ١٠، ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٥٣، ٢٥٥، ٢٥٨)

(الھدیٰ والتبصرہ ص ١٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٠)

ہے۔“

(الھدیٰ والتبصرہ ص ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٦٢)

(الھدیٰ والتبصرہ ص ٩٦، خزائن ج ١٨ ص ٣٣٦)

(ضمیمہ استفتاء، خزائن ج ١٢ ص ١٠٨)

صفت...... ان ظالموں...... مخبوط الحواس نذیر حسین۔“

(استفتاء ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ١٢٨)

نخوت نے اندھا کر دیا...... یہ شخص نہایت درجہ کا مفسد اور دشمن حق ہے۔“

(استفتاء ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ١٣٥)

٧١

صفحہ ٥٧٤

١٦٥...... ’’اے احمق دل کے اندھے دجال تو تو ہی ہے۔ دجال تیرا ہی نام ثابت ہوا...... آخر اے مردار دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا۔ اے عدو اللہ تو مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے لڑ رہا ہے۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار ص١٤، مجموعہ اشتہارات ج٢ص٧٨، ٧٩)

١٦٦...... ’’اے بے ایمانو! نیم عیسائیو، دجال کے ہمراہیو، اسلام کے دشمنو...... تو عیسائیوں کی فتح کیا ہوئی کیا تمہاری ایسی کی تیسی ہے۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ ص٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ص٢٩)

١٦٧...... ’’اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا...... سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے۔ جو میں نے پیش کی ہے ورنہ حرام زادہ کی یہ نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔‘‘

(انوار الاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ص٣٢)

١٦٨...... ’’اے ہماری قوم کے اندھو۔ نیم عیسائیو! کیا تم نے نہیں سمجھا کہ کس کی فتح ہوئی۔‘‘

(اشتہار انعامی چار ہزار ص٢، مجموعہ اشتہارات ج٢ص١٠٥)

١٦٩...... ’’واضح ہو کہ بعض مخالف ناخدا ترس جن کے دلوں کو زنگ بخل، تعصب نے سیاہ کر رکھا ہے۔ ہمارے اشتہار کو یہودیوں کی طرح محرف ومبدل کر کے اور کچھ کے کچھ معنی بنا کر سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں...... لیکن ساتھ ہی ہم افسوس بھی کرتے ہیں کہ ان بے عزتوں اور دیوثوں کو بباعث سخت درجہ کے کینہ اور بخل اور تعصب کے اب کسی کی لعنت ملامت کا بھی کچھ خوف اور اندیشہ نہیں اور جو شرم اور حیاء اور خدا ترسی لازمہ انسانیت ہے۔ وہ سب نیک خصلتیں ایسی ان کی سرشت سے اٹھ گئی ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ نے ان میں وہ پیدا ہی نہیں کیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج٣ص٨٢، مجموعہ اشتہارات ج١ص١٢٥)

١٧٠...... ’’ہزار لعنت کا رسہ ہمیشہ کے لئے ان پادریوں کے گلے میں پڑ گیا۔‘‘

(اشتہار انعامی ٣ہزار ص١٠، مجموعہ اشتہارات ج٢ص٧٧)

١٧١...... ’’بعض نام کے مسلمان جن کو نیم عیسائی کہنا چاہئے۔‘‘

(انوار الاسلام ص٢٢، خزائن ج٩ص٢٤)

١٧٢...... ’’اگر کوئی مولویوں میں سے کہے کہ ثابت نہیں تو اگر وہ اس بات میں سچا اور حلال زادہ ہے تو عبداللہ آتھم کو اس حلف پر آمادہ کرے۔‘‘

(انوار الاسلام ص٢٤، خزائن ج٩ص٢٥)

٧٢

صفحہ ٥٧٥

١٧٣....... ”مسلمان کہلا کر بے وجہ عیسائیوں کو غالب قرار دینا اور سراسر ظلم کے رو سے ان کا فتح یاب رکھنا یہ حلال زادوں کا کام نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٢٤، خزائن ج ٩ ص ٢٦)

١٧٤....... ”اور بعضوں کے گلے میں ہزار لعنت کی ذلت کا رسہ پڑ گیا۔“

(انوار الاسلام ص ٢٤، خزائن ج ٩ ص ٢٥)

١٧٥....... ”اے امرت سر کے مسلمانو مگر اسلام کے دشمنو! اور اے لدھیانہ کے سخت دل مولویو اور منشیو!“

(انوار الاسلام ص ٢٥، خزائن ج ٩ ص ٢٦)

١٧٦....... ”اے نادان ہندوزادہ نام کا نو مسلم سعد اللہ نام جو عیسائیوں کی فتح یابی ثابت کرنے کے لئے اس قدر اپنی فطرتی شیطنت سے ہاتھ پیر مار رہا ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٢٦ حاشیہ، خزائن ج ٩ ص ٢٧)

١٧٧....... ”اس سے بھی عیسائیوں کی صداقت پر ایک دلیل سمجھنا صرف ایک خباثت ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ٩ ص ٢٨)

١٧٨....... ”اے عدو اللہ جھوٹ اور افتراء سے باز آجا۔“

(انوار الاسلام ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٩ ص ٢٩)

١٧٩....... ”پھر بھی اگر کوئی تحکم سے ہماری تکذیب کرے اور اس معیار کی طرف متوجہ نہ ہو...... تو بے شک وہ ولد الحلال اور نیک ذات نہیں ہوگا۔“

(انوار الاسلام ص ٢٩، خزائن ج ٩ ص ٣١)

١٨٠....... ”اور یہ بھی یاد رکھو کہ ہمیں ان کے لئے جو عیسائیوں کو غالب قرار دیتے ہیں اور اس پیش گوئی (آتھم والی) کو جھوٹی سمجھتے ہیں۔ دل کی آہ سے یہ کہنا پڑا کہ اگر وہ ولد الحرام نہیں ہیں اور حلال زادہ ہیں تو اس مضمون کو پڑھتے ہی اس فیصلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔“

(انوار الاسلام ص ٣٧، خزائن ج ٩ ص ٣٨)

١٨١....... ”ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں میں سے کون بلا توقف اس فیصلہ کے لئے سعی کرتا ہے اور کون ولد الحرام بننے پر راضی ہوتا ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٣٧، خزائن ج ٩ ص ٣٩)

١٨٢....... ”واہ رے شیخ چلی کے بڑے بھائی۔“

(انوار الاسلام ص ٢٩، خزائن ج ٩ ص ٤٠)

١٨٣....... ”آپ کا منہ ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ کالا ہو چکا ہے۔“

(انوار الاسلام ص ٣٨، خزائن ج ٩ ص ٣٩)

٧٣

صفحہ ٥٧٦

١٨٤...... ’’ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یہ پادری ہی دجال ہیں۔ پھر جن لوگوں نے دجال کی ہاں کے ساتھ ہاں ملا دی یہ وہی یہودی ہیں جن کی نسبت صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ وہ قریب ستر ہزار کے دجال کے ساتھ ہو جائیں گے۔‘‘

(انوار الاسلام ص ٤٤، خزائن ج ٩ ص ٤٦، ٤٧)

١٨٥...... ’’مگر جواب مولویوں اور ان کے ناقص العقل چیلوں نے ان پادری دجالوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملائے۔‘‘

(انوار الاسلام ص ٤٨، خزائن ج ٩ ص ٥٠)

١٨٦...... ’’پس اس کھلی کھلی اور فاش شکست سے (آتھم کے متعلق) انکار کرنا نہ صرف حماقت بلکہ پرلے درجہ کی بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہے۔‘‘

(اشتہار انعامی تین ہزار ص ١٠، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٦)

١٨٧...... ’’ورنہ نہ یوں ہی اسلامی بحث پر (آتھم والی پیش گوئی) مخالفانہ حملہ کرنا اور زبان سے مسلمان کہلانا کسی ولد الحلال کا کام نہیں۔ مگر میاں سعد اللہ صاحب نے ...... اپنے پر دانستہ وہ لقب لے لیا جس کو کوئی نیک طینت لے نہیں سکتا...... اے احمق تیری کیوں عقل ماری گئی۔‘‘

(اشتہار مذکور ص ١٣، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٨٠)

١٨٨...... ’’رجوع کا لفظ دونوں احتمالوں (پوشیدہ اسلام لانا یا ظاہر طور پر) پر مشتمل ہے اور ایک شق میں اس کو محصور کرنا ایسی بے ایمانی ہے جس کو بجز ایک خبیث النفس کے اور کوئی شریف الطبع استعمال نہیں کر سکتا۔‘‘

(ضیاء الحق ص ١١، خزائن ج ٩ ص ٢٥٩)

١٨٩...... ’’تم نے چند خود غرض مولویوں کے پیچھے لگ کر ایک دینی معاملہ میں پادریوں کی وہ حمایت کی۔‘‘

(ضیاء الحق ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٢٧٨)

١٩٠...... ’’اب وہ دنیا پرست مولوی جو عیسائیوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں، ہمیں جواب دیں کہ انہوں نے کیوں ہماری عداوت کے لئے اپنا منہ کالا کیا...... افسوس کہ ہمارے بعض مولویوں اور ان کے نالائق چیلوں نے جو نام کے مسلمان تھے۔ اس جگہ اپنی فطرتی بدذاتی سے بار بار حق کی تکذیب کی اور اسلام کی مخالفت میں یہ سیہ دل اور شریر مولوی عیسائیوں سے کچھ کم نہ رہے۔‘‘

(ضیاء الحق ص ٣٧، خزائن ج ٩ ص ٢٨٥)

١٩١...... ’’شیخ بٹالوی یا اس کے دوست ہندو زادہ لدھیانوی کو جو سیہ دلی سے عیسائیوں کے قریب قریب جا پہنچے ہیں۔‘‘

(ضیاء الحق ص ٤١، خزائن ج ٩ ص ٢٨٩)

٧٤

صفحہ ٥٧٧

لو کہ ایک عیسائی کے بدیہی جھوٹ کو سچ کر کے ظاہر کرنا اور پادریوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملانا اور اسلام کا دعویٰ کر کے نصرانیت کا حامی ہونا کیا یہ نیک بختوں کا کام ہے یا ان کا جو آخری زمانہ کے دین فروش ہیں اے شریر مولویو اور ان کے چیلو اور غُرفی کے ناپاک سکھو...... اب بٹالوی اور لدھیانوی ہندوزادہ کچھ حیا اور شرم کو کام میں لا کر کہیں کہ ان کی یہ آوازیں جو عیسائیوں کی حمایت میں ہوئیں...... یہ سب شیطانی آوازیں ہیں یا نہیں۔‘‘

(ضیاء الحق ص ٤٤،٤٣، خزائن ج ٩ ص ٢٩١، ٢٩٢)

(ضیاء الحق ص ٤٦، خزائن ج ٩ ص ٢٩٤)

گھر کے مسمار کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘

(ضیاء الحق ص ٤٨، خزائن ج ٩ ص ٢٩٦)

(ضیاء الحق ص ٥٠، خزائن ج ٩ ص ٢٩٨)

(ضیاء الحق ص ٥٢، خزائن ج ٩ ص ٣٠٠)

خمیر بھی موجود ہے۔ ورنہ یہ کسی نیک بخت آدمی کا کام نہیں۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص ١٤، خزائن ج ٨ ص ٢٩١)

خیانت پیشہ مولویوں کی کہاں تک نوبت پہنچتی ہے۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص ١٨، خزائن ج ٨ ص ٢٩٥)

صاحب) کی شاگردی اختیار کرے...... افسوس کہ آج کل کے ہمارے مولویوں میں بیہودہ مکاریاں پائی جاتی ہیں۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص ٢٢، خزائن ج ٨ ص ٣٠١)

شریر مولویو...... تمہارے نزدیک صرف چند فتنہ انگیز مولوی جو اسلام کے لئے عار ہیں مسلمان ہیں۔‘‘

(اتمام الحجۃ ص ٢٣، خزائن ج ٨ ص ٣٠٢، ٣٠٣)

٧٥

صفحہ ٥٧٨

٢٠١...... ”اور یہ لوگ در حقیقت مولوی بھی تو نہیں ہیں تبھی تو ہم نے ان لوگوں کے سرگروہ اور امام الفتن اور استاذ شیخ محمد حسین بٹالوی ...... اور زور سے کہتے ہیں کہ شیخ اور یہ تمام اس کے ذریات محض جاہل اور نادان اور علوم عربیہ سے بے خبر ہیں۔ کیونکہ وہ جھوٹے اور کاذب اور مفتری اور جاہل اور نادان ہیں۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٤، خزائن ج ٨ ص ٣٠٣)

٢٠٢...... ”یہ حق کے مخالف نام کے مولوی...... ان کے لئے یہی ہوگا کہ خسر الدنیا والاخرۃ وسواد للوجہ فی الدارین!“

(اتمام الحجۃ ص ٢٥، خزائن ج ٨ ص ٣٠٤)

٢٠٣...... ”شیخ محمد حسین بٹالوی یا ایسا ہی کوئی زہر ناک مادہ والا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر ہو جائے ......مگر ایسے بخیلوں سیہ دلوں کی ظالمانہ بد دعائیں کیوں کر اس جناب میں قبول ہوں ......گورنمنٹ ایسی کم فہم تھوڑی تھی کہ ان چالاک حاسدوں کے دھوکہ میں آجاتی ہے۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢٦، خزائن ج ٨ ص ٣٠٦،٣٠٥)

عیسائیوں کو گالیاں

٢٠٤...... ”یہ مردہ پرست لوگ کیسے جاہل اور خبیث طینت ہیں۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)

٢٠٥...... ”اس مردار اور خبیث فرقہ جو مردہ پرست ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

٢٠٦...... ”چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے۔“

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٨، خزائن ج ١١ ص ٢٩٢)

٢٠٧...... ”اور خبیث طبع عیسائی اور آفتاب ظہور حق (پیش گوئی آتھم) سے منکر ہیں ......اور ناپاک فرقہ نصرانیوں کا طوائف کی طرح کوچوں اور بازاروں میں ناچتے پھرتے تھے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٧)

٢٠٨...... ”ایک پلید ذریت شیطان فتح مسیح ......پس اسی طرح اگر اندھے پادریوں نے یا یک چشم مولویوں نے آتھم کے مقدمہ کی حقیقت اچھی طرح نہ سمجھا اور بد زبانی کی تو اس غلط فہمی کی واقعی ذلت انہیں کو پہنچی اور اس خطاء کی سیاہی انہی کے منہ پر لگی اور سچائی کے چھوڑنے کی لعنت انہیں پر برسی ......پس آتھم کی نسبت جس قدر پلیدوں اور نابکاروں نے خوشیاں

٧٦

صفحہ ٥٧٩

کیں ۔ وہی خوشیاں ندامت اور حسرت کا رنگ پکڑ گئیں ...... اے اندھو میں کب تک تمہیں بار بار بتلاؤں گا ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٤، خزائن ج ١١ ص ٣٠٨)

نجاست کھائی ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٤٥، خزائن ج ١١ ص ٣٢٩)

پر اگر نہ آؤ اور اس سڑے گلے مردہ کا میرے خدا کے ساتھ مقابلہ نہ کرو ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٣٤٦)

(انجام آتھم ص ٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور اصل میں شریر بھیڑیے ہوتے ہیں ۔“

(انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

موت سے بچ نہ سکا ۔“

(انجام آتھم ص ١٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ١٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٣٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٤٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

افتاد !“

(انجام آتھم ص ٢٠٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٧٧

صفحہ ٥٨٠

(انجام آتھم ص ٢٠٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(حقیقت الوحی ص ٣١٠ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٤)

منصوبے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣١١، خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٤)

موجود ہیں۔“

(چشمہ معرفت ج ١ ص ٧٨، خزائن ج ٢٣ ص ٨٦)

(چشمہ معرفت ج ٢ ص ٣٣١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٧)

(نور الحق مترجم ج ١ ص ٥٩، خزائن ج ٨ ص ٨٢)

(نور الحق ج ١ ص ٦٠، خزائن ج ٨ ص ٨٣)

خسیس بن خسیس جاہل کو دیکھتا ہوں...... اے بخیل بدخلق اور حریص...... تو اس طرح زبان ہلاتا ہے۔ جیسے سانپ اور کمینوں اور سفلوں کی طرح بکواس کرتا ہے۔“ (نور الحق ج ١ ص ٦٤، خزائن ج ٨ ص ٨٧، ٨٨)

اور نادان اور سفیہ اور جلد باز ہے۔“

(نور الحق مترجم ج ١ ص ٧٦، خزائن ج ٨ ص ٩٦)

(نور الحق ج ١ ص ٨٨، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

(نور الحق ص ٨٩، خزائن ج ٨ ص ١٢٠)

٧٨

صفحہ ٥٨١

(ملحمۃ النور ملحق ص ٩٤، خزائن ج ٨ ص ١٢٦)

(نور الحق ص ٩٩، خزائن ج ٨ ص ١٣٢)

(نور الحق ص ١٠١، ١٠٢، خزائن ج ٨ ص ١٣٣، ١٣٧)

(نور الحق ص ١١١، ١١٣، خزائن ج ٨ ص ١٣٩، ١٥٠)

اپنی تہذیب کا ثبوت پیش کیا ہے۔“

(خزائن ج ٨ ص ١٥٨ تا ١٦٢)

سے نہیں ہیں۔“

(نور الحق ص ١٢٣، خزائن ج ٨ ص ١٦٣)

(ازالۃ اوہام ص ٤٨٨، خزائن ج ٣ ص ٣٦٢)

(چشمہ مسیحی ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٩)

جمع رکھتے تھے۔“

(آریہ دھرم ص ٤١، خزائن ج ١٠ ص ٤٦)

تئیں مولوی نام رکھتے ہیں اور درحقیقت جاہل اور نادان ہیں اور نیز اس صورت میں وہ ہزار لعنت بھی ان پر پڑے گی۔“

(انوار الاسلام ص ٨، خزائن ج ٩ ص ٩)

آئندہ کسی کے آگے منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔“

(انوار الاسلام ص ٩، خزائن ج ٩ ص ٩)

ایسے شخص کا نام بجز نادان متعصب کے اور کیا رکھ سکتے ہیں۔“

(انوار الاسلام ص ١٠، خزائن ج ٩ ص ١٠)

٧٩

صفحہ ٥٨٢

٢٤٥...... ”میں ایسے لوگوں کو مطلع کرتا ہوں کہ یہ تو فتح ہے اور کامل فتح اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا۔ مگر خبیث القلب۔“

(انوار الاسلام ص ٢١، خزائن ج ٩ ص ٢٣)

٢٤٦...... ”اے نادانو اور اندھو۔“

(انوار الاسلام ص ٢٢، خزائن ج ٩ ص ٢٣)

٢٤٧...... ”کیا پادری عمادالدین کے گلے میں ہزار لعنت کا رسہ نہیں پڑا...... بے شک وہ نہایت ذلیل ہوا اور اس کا کچھ باقی نہ رہا اور اس کی علمی آبرو نجاست کے بودار گڑھے میں جاپڑی۔ اگر وہ باغیرت آدمی ہوتا تو اس ذلت کی وجہ سے کچھ کھا پی کر مر جاتا۔“

(انوار الاسلام ص ٣١، خزائن ج ٩ ص ٣٢)

٢٤٨...... ”نادان پادریوں کی تمام یاوہ گوئی آتھم کی گردن پر ہے۔“

(ضیاء الحق ص ٢١، خزائن ج ٩ ص ٢٦٩)

٢٤٩...... ”اس مکار دنیا پرست نے یہ جھوٹ محض اس لئے باندھا ہے۔“

(ضیاء الحق ص ٢٨، خزائن ج ٩ ص ٢٧٦)

٢٥٠...... ”ناحق ایک بدذات عیسائی نے اس بے چارہ کے عیال اور دوستوں کو مصیبت میں ڈالا۔“

(ضیاء الحق ص ٥٢، خزائن ج ٩ ص ٣٠٠)

آریوں کو گالیاں

٢٥١...... ”کیا قادیان کے احمق اور جاہل اور کمینہ طبع بعض آریہ۔“

(نزول المسیح ص ٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٧)

٢٥٢...... ”ان لوگوں (آریوں) کے نزدیک جھوٹ بولنا شیر مادر ہے شیاطین ہیں نہ انسان۔“

(نزول المسیح ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٣٨٩)

٢٥٣...... ”الا اے دشمن نادان و بے راہ۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠١)

٢٥٤...... ”پس اے آریو...... اے بے خوف اور سخت دل قوم...... وہ اوّل درجہ کا خبیث فطرت اور ناپاک طبع ہوتا ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٦، خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٤)

٢٥٥...... ”سفلہ طبع لیکھرام، افسوس کہ یہ بے باکی اور بدگوئی کا تخم بدقسمت دیانند اس ملک میں لایا...... لیکھرام پشاوری جو محض نادان اور ابلہ تھا۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٠٢، خزائن ج ٢٣ ص ١١،١٠)

٨٠

صفحہ ٥٨٣

٢٥٦....... ”اس قسم کی شوخی چشمی اور بدزبانی اور بے باکی خاص آریوں کے حصہ میں ہے ۔“

(چشمہ معرفت ص ٥، خزائن ج٢٣ ص١٣)

٢٥٧....... ”چوروں اور خیانت پیشہ لوگوں ۔“

(آریہ دھرم ص ١١، خزائن ج ١٠ ص ١٦)

٢٥٨....... ”ایسے سفلہ پن کے گندے الفاظ منہ پر لا کر پھر ہمارے اشتہار پر رد کیا ۔“

(آریہ دھرم ص٢١، خزائن ج ١٠ ص ٢٥)

٢٥٩....... ”مہاراج شریر النفس بولے شریر پنڈت۔“

(آریہ دھرم ص٢٦، ٢٩، خزائن ج ١٠ ص ٣١، ٣٤)

٢٦٠....... ”یہ کمینہ طبع لوگ نکتہ چینی کے لئے تو حریص تھے ہی اس پر چند شریر اور نادان عیسائیوں کی کتابیں ان کو مل گئیں اور شیطانی جوش نے یہ تلقین دی کہ یہ سب سچ ہے۔ لہٰذا اس روسیاہی اور ندامت کا انہوں نے بھی حصہ لیا۔ جواب نادان پادریوں کے منہ پر نمایاں ہے۔“

(آریہ دھرم ص٤٢، خزائن ج ١٠ ص ٤٧)

٢٦١....... ”ورنہ بے ایمان اور خیانت پیشہ ہے۔“

(آریہ دھرم ص ٥٥، خزائن ج ١٠ ص ٦٢)

٢٦٢....... ”اے نادان آریو کسی کنوئیں میں پڑ کر ڈوب مرو۔“

(آریہ دھرم ص ٥٦، خزائن ج ١٠ ص ٦٤)

٢٦٣....... ”لیکھرام کی طبیعت میں افتراء اور جھوٹ کا مادہ بہت تھا۔“

(استفتاء ص ٧، خزائن ج ١٢ ص ١١٥)

٢٦٤....... ”یہ نالائق ہندو وہی شخص ہے جس نے اپنے پنڈت ہونے کی شیخی مار کر باوا صاحب کو نادان اور گنوار کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ یہ کیسی ناپاک طینت ہے کہ پاک دل لوگوں کو جھٹ زبان پھاڑ کر برا کہہ دیا جائے..... لہٰذا کوئی نیک طینت انسان اس کو اچھا نہیں کہتا۔“

(ست بچن ص ٦، خزائن ج ١٠ ص ١١٨)

٢٦٥....... ”وہ نعوذ باللہ دیانند کی طرح جہالت اور بخل کی تاریکی میں مبتلا نہ تھے۔“

(ست بچن ص ٧، خزائن ج ١٠ ص ١١٩)

٢٦٦....... ”در حقیقت یہ شخص (دیانند ) سخت دل سیاہ اور نیک لوگوں کا دشمن تھا..... اس ناحق شناس اور ظالم پنڈت نے۔“

(ست بچن ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠)

٨١

صفحہ ٥٨٤

٢٦٧...... ”اسی نادان پنڈت کی اشتعال دہی کی وجہ سے یہ حق رکھتا ہے...... یہ خشک دماغ پنڈت، بکلی بے نصیب اور بے بہرہ تھا...... وہ نہایت ہی موٹی سمجھ کا آدمی اور بوجہ غلبۂ سودا اول درجہ کا متکبر بھی تھا۔“

(ست بچن ص ٩، خزائن ج١٠ص١٣١)

٢٦٨...... ”مگر دیانند نے نہ چاہا کہ اس پلید چولے بخل اور تعصب کو اپنے بدن پر سے دفع کرے۔ اس لئے پاک چولا اس کو نہ ملا اور سچے گیان اور سچی ودیا سے بے نصیب رہا...... یہ موقع ایسے پنڈت کو کہاں مل سکتا تھا۔ جو ناحق کے تعصب اور فطرتی غباوت میں غرق تھا...... اور اس سے باوا صاحب کی جہالت ثابت کرنا نہایت سفلہ پن کا خیال ہے...... اس زود رنج پنڈت نے ایک ادنیٰ لفظی تغیر پر اس قدر احمقانہ جوش دکھلایا۔“

(ست بچن ص١٢، خزائن ج١٠ص١٣٤)

٢٦٩...... ”وہ خود ایسے موٹے خیالات اور غلطیوں میں گرفتار تھا کہ دیہات کے گنوار بھی اس سے بمشکل سبقت لیجاسکتے تھے۔“

(ست بچن ص١٣، خزائن ج١٠ص١٣٥)

٢٧٠...... ”شریر انسانوں کا طریق ہے کہ ہجو کرنے کے وقت پہلے ایک تعریف کا لفظ لے آتے ہیں۔ گویا وہ منصف مزاج ہیں۔“

(حاشیہ ست بچن ص١٣، خزائن ج١٠ص١٣٥)

٢٧١...... ”لیکن دیانند ایسے زمانہ میں بھی نابینا رہا جب کہ انگلستان اور جرمن وغیرہ میں ویدوں کے ترجمے ہوچکے تھے۔“

(ست بچن ص١٩، خزائن ج١٠ص١٤١)

٢٧٢...... ”اے نالائق آریوں۔“

(ست بچن ص٤١، خزائن ج١٠ص١٦١)

نوٹ! مرزا قادیانی کے دہان مبارک کی نکلی ہوئی گندگیوں وگالیوں کو بلحاظ حروف تہجی نہ صرف ضیافت طبع کے لئے بلکہ عبرت آموزی کے لئے پیش کرتا ہوں۔ تاکہ ناظرین عبرت کی نگاہوں سے ملاحظہ کریں کہ یہ گل افشانیاں و اخلاقی پھلجڑیاں اس شخص کے منہ سے برآمد ہوئی ہیں جو بقول خود رسول بھی تھا۔ وہ اخلاقی دیوتا بھی اور کہنے کے لئے رحمۃ للعالمین بھی تھا اور افضل الانبیاء بھی اور نام کے لئے سب کچھ بھی تھا۔ وہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں اور ذرا غور سے دیکھیں کہ اس نومولود نبی کے دہان سے شیریں کلامی کا تار نکل رہا ہے یا غلاظت کا جھاگ۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی تہذیب و اخلاق کا پیکر بھی ہیں اور صبر وتحمل کے مجسمہ بھی۔

جنوں کا نام خرد رکھ دیا خرد کا جنوں
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

٨٢

ایا اے زود رنج ایا ان حاسد ایا اے بدقسمت، بدگمانو و اے مردار خور مولویو ے اندھیرے کے کیڑو اندھے و اے اندھو لیا اے بدذات لیا اے خبیث لیا اے پلید دجال ان احمقو اے نادانو آنکھوں کے اندھو اسلام کے عار احمق اے نابکار او میرے مخالف اے بدذات فرقہ اعدی الاعداء امام المستکبرین اعمی اغوی

صفحہ ٥٨٥

ق رکھتا ہے......یہ خشک آدمی اور ہاضمہ اول

ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ١٢١)

تعصب کو اپنے بدن پر ے بے نصیب گیا ...... ت میں غرق تھا ......اور ۔ اس زود رنج پنڈت

١١، خزائن ج ١٠ ص ١٢٤)

تھا کہ دیہات کے

خزائن ج ١٠ ص ١٢٥)

لے ایک تعریف کا لفظ

خزائن ج ١٠ ص ١٢٥)

ان اور جرمن وغیرہ

زائن ج ١٠ ص ١٣١)

زائن ج ١٠ ص ١٦١)

لحاظ حروف تہجی نہ ظرین عبرت کی ے برآمد ہوئی ہیں ھی تھا اور افضل سے دیکھیں کہ ں پر طرہ یہ ہے

الف......

اے زود رنج ایام الصلح ص ٨٤ خزائن ج ١٤ ص ٣٢٠ اے حاسد ایام الصلح ص ٨٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٢٢ اے بدقسمت، بدگمانو ایام الصلح ص ١٠٣ خزائن ج ١٤ ص ٣٣١ اے مردار خور مولویو ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ اندھیرے کے کیڑو ضمیمہ انجام آتھم ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ اندھے ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٦ اے اندھو ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣١٠ اے بدذات ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥ خزائن ج ١١ ص ٣٢٩ اے خبیث ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥ خزائن ج ١١ ص ٣٢٩ اے پلید دجال ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ ان احمقو ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ اے نادانو ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ آنکھوں کے اندھو ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ اسلام کے عار ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ احمق ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٣٣٣ اے نابکار ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤ او میرے مخالف ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٣ خزائن ج ١١ ص ٣٤٧ اے بدذات فرقہ انجام آتھم ص ١ خزائن ج ١١ ص ٢١ اعدی الاعداء انجام آتھم ص ٥٩ / ح خزائن ج ١١ ص ٥٩ امام المتکبرین انجام آتھم ص ٢٣١ خزائن ج ١١ ص ٢٣١ اعمیٰ انجام آتھم ص ٢٥٢ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢ اغویٰ انجام آتھم ص ٢٥٢ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢

٨٣

صفحہ ٥٨٦

الانعام انجام آتھم ص ٢٦٥ خزائن ج ١١ ص ٢٦٥ استخوان فروش آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨ خزائن ج ٥ ص ٣٠٨ اے بدبخت اور بدقسمت قوم ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ١٤٤ خزائن ج ٢١ ص ٣١٢ اے سست ایمانو ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ١٤٤ خزائن ج ٢١ ص ٣١٢ الو ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٦٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢ الغوی مواہب الرحمٰن ص ١٣٨ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩ ایمانی دیانت سے عاری نور الحق ج ١ ص ٣ خزائن ج ٨ ص ٥ اس فرومایہ اعجاز احمدی ص ٧٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨٨ اے دیو اعجاز احمدی ص ٧٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨٩ ان شریروں الہدی التبصرہ ص ١٦ خزائن ج ١٨ ص ٢٦٠ آگ کے لا دو ٹوڈو الہدی التبصرہ ص ١٦ خزائن ج ١٨ ص ٢٦١ اے دروغ گو نور الحق ج ١ ص ٨٩ خزائن ج ٨ ص ١٢٠ ابلہ چشمہ معرفت ج ص ٣ خزائن ج ٢٣ ص ١١ اے مردار ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ اے احمق اشتہار انعامی ص ١٣ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨ اسلام کے دشمنو اشتہار انعامی ص ٥ / ح مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩ ابولہب ضیاء الحق ص ٤٦ خزائن ج ٩ ص ٢٩٤ اسلام کے عار اتمام الحجہ ص ٢٣ خزائن ج ٨ ص ٣٠٣ امام الفتن اتمام الحجہ ص ٢٣ خزائن ج ٨ ص ٣٠٣ اوّل درجہ کا متکبر ست بچن ص ٩ خزائن ج ١٠ ص ١٢١ انسانوں سے بدتر پلید تر ایام الصلح ص ١٦٦ خزائن ج ١٤ ص ٤١٤ اسلام کے دشمن ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ اسلام کے بدنام کرنے والے ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ ٨٤

اے بدبخت مفتریو ضمیمہ انجام آتھم اے ظالم انجام آتھم ص ایہا المکذبون الضالون انجام آتھم ص اے شیخ احمقان انجام آتھم ایہا الشیخ الضال انجام آتھم اے بدقسمت انسان آئینہ کمالات اوّل درجہ کے کاذب آئینہ کمالات اے اس زمانہ کے ننگ اسلام آئینہ کمالات اے کوتاہ نظر آئینہ کمالات اے نفسانی ازالہ اوہام اے خشک ازالہ اوہام اے اندھے ضمیمہ براہین اے دیوانہ ضمیمہ براہین اے دروغ آراستہ کرنے ضمیمہ براہین والے اے غبی مواہب اے مسکین مواہب انسانیت کے پیرایہ سے بے نور الحق بہرہ اور برہنہ اغوا کرنے والے محمد حسین اعجاز ا اکڑ باز الہدی اے بے ایمانو اشتہا اندھے پادریوں ضمیمہ

صفحہ ٥٨٧

اے بدبخت مفتریو ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ اے ظالم انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٢١ ایہا المکذبون الضالون انجام آتھم ص ٢٤٢ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ اے شیخ احمقان انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ ایہا الشیخ الضال انجام آتھم ص ٢٥١ خزائن ج ١١ ص ٢٥١ اے بدقسمت انسان آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٦ خزائن ج ٥ ص ٤٠٦ اوّل درجہ کے کاذب آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠١ خزائن ج ٥ ص ٦٠١ اے اس زمانہ کے ننگ اسلام آئینہ کمالات اسلام ص دال خزائن ج ٥ ص ٦٠٨ اے کوتاہ نظر آئینہ کمالات اسلام ص دال خزائن ج ٥ ص ٦٠٨ اے نفسانی ازالہ اوہام ج ١ ص ٥ خزائن ج ٣ ص ١٠٥ اے خٹک ازالہ اوہام ص ١١٧/ ح خزائن ج ٣ ص ١٧٥ اے اندھے ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٣ خزائن ج ٢١ ص ١٦٦ اے دیوانہ ضمیمہ براہین احمدیہ ص ١٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٣٢٤ اے دروغ آراستہ کرنے ضمیمہ براہین پنجم ص ١٦٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢ والے اے غبی مواہب الرحمن ص ١٣١ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢ اے مسکین مواہب الرحمن ص ١٣٨ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩ انسانیت کے پیرایہ سے بے نور الحق ج ١ ص ٣ خزائن ج ٨ ص ٤ بہرہ اور برہنہ اغوا کرنے والے محمد حسین اعجاز احمدی ص ٥٧ خزائن ج ١٩ ص ١٦٩ اکڑ باز الہدی والتبصرہ ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٥٣ اے بے ایمانو اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩ اندھے پادریوں ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤/ ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٨

٨٥

صفحہ ٥٨٨

ب، پ ...... پلید ملاؤں ایام الصلح ص ١٦٥ خزائن ج ١٤ ص ٤١٣ پلید جاہلوں ایام الصلح ١٦٦ خزائن ج ١٤ ص ٤١٤ پلید طبع مولوی ایام الصلح ص ١٦٥ خزائن ج ١٤ ص ٤١٣ بد اخلاق اور بدظنی میں غرق ایام الصلح ص ٨٢ خزائن ج ١٤ ص ٣٤٠ ہونے والو بدقسمت بدگمانو ایام الصلح ص ١٠٣ خزائن ج ١٤ ص ٣٤١ بدتر ایام الصلح ص ١٦٦ خزائن ج ١٤ ص ٤١٣ پلیدتر ایام الصلح ص ١٦٦ خزائن ج ١٤ ص ٤١٣ پلید دل ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ بے ایمانی بددیانتی ضمیمہ انجام آتھم ص ١٠ خزائن ج ١١ ص ٢٩٤ بدبخت ضمیمہ انجام آتھم ص ١١ خزائن ج ١١ ص ٢٩٥ بے وقوف اندھے ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢ /ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٦ بے ایمان اور اندھے ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢ خزائن ج ١١ ص ٣٠٦ بدذات ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥ خزائن ج ١١ ص ٣٢٩ پلید دجال ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ بے نصیب ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣١ بے بہرہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣١ بدگو، بری ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ بے وقوفوں ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ بندروں ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ باطل پرست بطالوی انجام آتھم ص ٥٩ /ح خزائن ج ١١ ص ٥٩ بطال انجام آتھم ص ٢٥١ خزائن ج ١١ ص ٢٥١

٨٦

صفحہ ٥٨٩

بدذات ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠ بیہودہ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١ خزائن ج ٥ ص ٣٠١ بلید آدمی آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨ خزائن ج ٥ ص ٣٠٨ بے چارہ آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠ خزائن ج ٥ ص ٦٠٠ بدقسمت ایڈیٹر نزول المسیح ص ١٢ خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠ بے حیاء نزول المسیح ص ٦٢ خزائن ج ١٨ ص ٤٤٠ پاگل نزول المسیح ص ٦٢ خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢ پر بدعت زاہد ازالہ اوہام ص ١١٧ / ح خزائن ج ٣ ص ١٥٧ بدمعاشی، بدذاتی، بے ایمانی حقیقت الوحی ص ٢١٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٢ بدگو تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥ بدکار آدمی شہادت القرآن ص ١٠ خزائن ج ٦ ص ٣٨٠ برہنہ نور الحق ص ٣ ج ١ خزائن ج ٨ ص ٤ بھیڑیے اعجاز احمدی ص ٢٩ خزائن ج ١٩ ص ١٥٠ پلنگ اعجاز احمدی ص ٤٣ خزائن ج ١٩ ص ١٥٤ بچھو اعجاز احمدی ص ٧٥ خزائن ج ١٩ ص ١٨٨ بے حیاء تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨ خزائن ج ٢٠ ص ٤٠ بالکل جاہل کرامات الصادقین ص ٣ خزائن ج ٧ ص ٤٥ بالکل بے بہرہ کرامات الصادقین ص ٣ خزائن ج ٧ ص ٤٥ پلیدوں ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٨ بے باک اور بے شرم انجام آتھم ص ١٨ / ح خزائن ج ١١ ص ١٨ پلید فطرت انجام آتھم ص ٣٦ خزائن ج ١١ ص ٣٦ بد اطوار انجام آتھم ص ٢٠٤ خزائن ج ١١ ص ٢٠٤ بد خلق نور الحق ج ١ ص ٦٤ خزائن ج ٨ ص ٨٨

٨٧

صفحہ ٩١

بے ایمانو اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥/ح مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩

بے عزتوں تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٤ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥

بخیل طبع ضیاء الحق ص ٣٨ خزائن ج ٩ ص ٣٠٠

بد بخت انجام آتھم ص ٢٨ خزائن ج ١١ ص ٢٨

بڑا خبیث تتمہ حقیقت الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ٥٤٣

بخیلوں اتمام الحجۃ ص ٢٦ خزائن ج ٨ ص ٣٠٦

بے راہ حقیقت الوحی ص ٢٨٨ خزائن ج ٢٢ ص ٣٠١

بے خوف تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٤

ت……

تفقہہ سے سخت بے بہرہ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨ خزائن ج ٥ ص ٣٠٨

تجھ سے زیادہ بد بخت کون ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٦٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٢٥

توضیح کو الو کی طرح اندھا ہو جاتا ہے ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٦٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢

تو ملعون اعجاز احمدی ص ٧٥ خزائن ج ١٩ ص ١٨٨

تجھ پر ویل اعجاز احمدی ص ٨١ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣

تکبر کا کیڑا کرامات الصادقین ص ٢١ خزائن ج ٧ ص ٦٣

تمہاری ایسی تیسی ہے اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥/ح مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٠

تکفیر کا بانی دافع البلا ص ١٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨

تقویٰ و دیانت سے دور ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣/ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٧

تزویر و تلبیس ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤

٨٨

ث...

ثناء اللہ کو علم اور ہدایت سے ذرہ مس نہیں اعجاز احمدی ص

ثناء اللہ تجھے جھوٹ کا دودھ پلایا گیا اعجاز احمدی ص

ج، ر

جاہل ایام الصلح ص

چار پائے ہیں نہ آدمی ضمیمہ انجام آ

جاہل سجادہ نشین ضمیمہ انجام آ

جہلاء ضمیمہ انجام آ

جھوٹے انجام آتھم ص

جنگل کے وحشی ضمیمہ انجام آ

جھوٹا ضمیمہ انجام آ

جار غوی انجام آتھم

جاہلین انجام آتھم

جانور نزول المس

جاہل مخالف نور الحق ج

جنگلوں کا غول اعجاز احمدی

چارپایوں درندوں حمامۃ البش

چال باز کرامات ا

جلد باز مولویوں آسمانی فیص

جنگ جو نور الحق ص

چوروں آریہ دھر

صفحہ ٥٩١

ث...... ثناء اللہ کو علم اور ہدایت سے اعجاز احمدی ص ٤٣ خزائن ج ١٩ ص ١٥٥ ذرہ مس نہیں ثناء اللہ تجھے جھوٹ کا دودھ اعجاز احمدی ص ٥١ خزائن ج ١٩ ص ١٦٣ پلایا گیا ج، چ...... جاہل ایام الصلح ص ١١٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٤ چارپائے ہیں نہ آدمی ضمیمہ انجام آتھم ص ١٠ خزائن ج ١١ ص ١٢٩ جاہل سجادہ نشین ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ جہلاء ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨/ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ جھوٹے انجام آتھم ص ٢٨ خزائن ج ١١ ص ٢٨ جنگل کے وحشی ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٣٣٣ جھوٹا ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤ جاغوی انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ جاہلین انجام آتھم ص ٢٥٤ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢ جانور نزول المسیح ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦ جاہل مخالف نور الحق ج ١ ص ٤٨ خزائن ج ٨ ص ٦٦ جنگلوں کا غول اعجاز احمدی ص ٨١ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣ چارپایوں درندوں حمامۃ البشریٰ ص ١٤٢ خزائن ج ٧ ص ٣٠٨ چال باز کرامات الصادقین ص ٢٣ خزائن ج ٧ ص ٦٥ جلد باز مولویوں آسمانی فیصلہ ص ٣١ خزائن ج ٤ ص ٣٤١ جنگ جو نور الحق ص ٨٩ خزائن ج ٨ ص ١٢٠ چوروں آریہ دھرم ص ١١ خزائن ج ١٠ ص ١٢ ٨٩

ہزار مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥ خزائن ج ٩ ص ٣٠٠ خزائن ج ١١ ص ٢٨ خزائن ج ٢٢ ص ٥٤٣ خزائن ج ٨ ص ٣٠٦ خزائن ج ٢٢ ص ٣٠١ خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٤ ١ خزائن ج ٥ ص ٣٠٨ ٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٢٥ ٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢ خزائن ج ١٩ ص ١٨٨ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣ خزائن ج ٧ ص ٦٣ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨ خزائن ج ١١ ص ٣٠٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤

صفحہ ٥٩٢

جاہل اخبار نویس | ضیاء الحق ص ٤٨ | خزائن ج ٩ ص ٢٩٦ چالاک حاسدوں | اتمام الحجہ ص ٢٦ | خزائن ج ٨ ص ٣٠٦ جھوٹ کا گوہ کھایا | ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ | خزائن ج ١١ ص ٣٣٤ جاہلوں | آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٤ | خزائن ج ٥ ص ٤٠٤ جھوٹ بولنے کا سرغنہ | نزول المسیح ص ٩ | خزائن ج ١٨ ص ٣٨٧

ح......

حاسد | ایام الصلح ص ٨٦ | خزائن ج ١٤ ص ٣٢٢ حرامی | شہادۃ القرآن ص ٨٤ | خزائن ج ٦ ص ٣٨٠ حرام زادہ | انوار الاسلام ص ٣٠ | خزائن ج ٩ ص ٣٢ حق پوش | شہادۃ القرآن ص ٨٧ | خزائن ج ٦ ص ٣٨٣ حیوانات | اعجاز احمدی ص ٢٢ | خزائن ج ١٩ ص ١٣١ حاسدوں | الہدی والتبصرہ ص ٨ | خزائن ج ١٨ ص ٢٥٣ حریص | نور الحق ج ١ ص ٦٤ | خزائن ج ٨ ص ٨٨ حرص کے جنگل کے شیطان | نور الحق ج ١ ص ٨٩ | خزائن ج ٨ ص ١٢٠ حرص کی وجہ سے مکار | نور الحق ج ١ ص ٩٢ | خزائن ج ٨ ص ١٢٤ حلال زادہ نہیں | انوار الاسلام ص ٣٠ | خزائن ج ٩ ص ٣١ حاطب اللیل | آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠ | خزائن ج ٥ ص ٦٠٠ حق کے مخالف | اتمام الحجہ ص ٢٥ | خزائن ج ٨ ص ٣٠٤

خ......

خبیث طبع | ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١/ ح | خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ خنزیر سے زیادہ پلید | ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١/ ح | خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ خالی گدھے | ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ | خزائن ج ١١ ص ٣٣١ خشک زاہد | ازالہ اوہام کلاں ج ١ ص ٥ | خزائن ج ٣ ص ١٠٥

٩٠

٩٣ خشک ملاؤں | ضمیمہ براہین ج خبیث نفس | شہادت القرآ خوف پسند | شہادت القرآ خیانت پیشہ | آریہ دھرم ص خبیث طینت | ضمیمہ انجام آ خبیث فرقہ | ضمیمہ انجام آ خناسوں | انجام آتھم ص خسیس ابن خسیس | نور الحق ج ١ ص خراب عورتوں اور دجال کی | نور الحق ج ١ ص نسل خبیث النفس | ضیاء الحق ص خود غرض مولویوں | ضیاء الحق ص خبیث القلب | انوار الاسلا خشک دماغ | ست بچن ص خدا کا ان مولویوں پر غضب | ایام الصلح ص ہوگا خسر الدنیا والاخرۃ | اتمام الحجہ ص خبیث فطرت | تتمہ حقیقت خنک معلم | آئینہ کمالا

ذلیل | ایام الصلح دل کے مجذوم | ضمیمہ انجا دشمن | ضمیمہ انجا

صفحہ ٥٩٣

خشک ملاؤں ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٣٢ خزائن ج ٢١ ص ٣١٠ خبیث نفس شہادت القرآن ص ٨٦ خزائن ج ٦ ص ٣٨٢ خود پسند شہادت القرآن ص ٨٥ خزائن ج ٦ ص ٣٨١ خیانت پیشہ آریہ دھرم ص ١١ خزائن ج ١٠ ص ١٢ خبیث طینت ضمیمہ انجام آتھم ص ٨ خزائن ج ١١ ص ٢٩٢ خبیث فرقہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ / ح خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ خناسوں انجام آتھم ص ١٧ / ح خزائن ج ١١ ص ١٧ خسیس ابن خسیس نور الحق ج ١ ص ٦٢ خزائن ج ٨ ص ٨٧ خراب عورتوں اور دجال کی نسل نور الحق ج ١ ص ١٢٣ خزائن ج ٨ ص ١٦٣ خبیث النفس ضیاء الحق ص ١١ خزائن ج ٩ ص ٢٥٩ خود غرض مولویوں ضیاء الحق ص ٣٠ خزائن ج ٩ ص ٢٧٨ خبیث القلب انوار الاسلام ص ٢١ خزائن ج ٩ ص ٢٣ خشک دماغ ست بچن ص ٩ خزائن ج ١٠ ص ١٢١ خدا کا ان مولویوں پر غضب ہوگا ایام الصلح ص ١٦٥ خزائن ج ١٤ ص ٤١٣ خسر الدنیا والاخرۃ اتمام الحجۃ ص ٢٥ خزائن ج ٨ ص ٣٠٤ خبیث فطرت تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٥ خشک معلم آئینہ کمالات اسلام ص ز خزائن ج ٥ ص ٦١١ ...... د ...... ذلیل ایام الصلح ص ١٦٥ خزائن ج ١٤ ص ٤١٣ دل کے مجذوم ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ دشمن ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ خزائن ج ١١ ص ٣٠٥

٩١

صفحہ ٥٩٤

دجال ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ دشمن اللہ ورسول ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤ ذلت کے سیاہ داغ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ دیانت ودین سے دور انجام آتھم ص ١٩٨ خزائن ج ١١ ص ١٩٨ دشمن عقل و دانش انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ دشمن دین آئینہ کمالات اسلام ص ٥ خزائن ج ٥ ص ٦١١ دروغ گو نزول المسیح ص ١٢ خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠ دیوانہ نزول المسیح ص ٦٤ خزائن ج ١٨ ص ٤٤٢ دنیا کے کیڑے براہین پنجم ص ١٤٣ خزائن ج ٢١ ص ٣١١ دلوں کے اندھو براہین پنجم ص ١٤٤ خزائن ج ٢١ ص ٣١٢ دروغگو مخبر شہادت القرآن ص ٨٦ خزائن ج ٦ ص ٣٨٢ دورنگی اختیار کرنے والا شہادت القرآن ص ٨٧ خزائن ج ٦ ص ٣٨٣ دیو اعجاز احمدی ص ٧٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨٩ درندوں حمامۃ البشریٰ ص ١٤٢ خزائن ج ٧ ص ٣٠٨ دابۃ الارض ازالہ اوہام کلاں ج ٢ ص ٥١٠ خزائن ج ٣ ص ٣٧٣ ذباب الہدیٰ والتبصرہ ص ٩٦ خزائن ج ١٨ ص ٣٣٦ دنیا کے کتے استفتاء ص ٢٠ خزائن ج ١٢ ص ١٢٨ دشمن حق استفتاء ص ٢٧/ ح خزائن ج ١٢ ص ١٣٥ ذریت شیطان ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٨ دجال اکبر انجام آتھم ص ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٤٧ دشنام دہ نورالحق ج ١ ص ٨٨ خزائن ج ٨ ص ١٢٠ دل کے اندھے اشتہار انعامی تین ہزار مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨ ص ٥ / ح

٩٢

صفحہ ٥٩٥

دجال کے ہمرائیو اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ / ح مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩ دیوثوں تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨٢ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥ دنیا پرست ضیاء الحق ص ٣٧ خزائن ج ٩ ص ٢٨٥ دین فروش ضیاء الحق ص ٤٢ خزائن ج ٩ ص ٢٩١ دیوانے درندوں ضیاء الحق ص ٤٨ خزائن ج ٩ ص ٢٩٦ ذلت کی روسیاہی کے اندر غرق ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٩ خزائن ج ١١ ص ٣٣٣ درندہ طبع الہدیٰ والتبصرہ ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٥٥ دجال فربہ انجام آتھم ص ٢٠٢ خزائن ج ١١ ص ٢٠٢ دروغ آراستہ کرنے والے ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٦٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢ دل کے اندھے اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ / ح مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٨ دجال کمینہ انجام آتھم ص ٢٠٦ خزائن ج ١١ ص ٢٠٦

ر، ز......

ژاژ خا ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٣ زیادہ پلید ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ رئیس الدجالین ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ رئیس المعتدین انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ راس الغاوین انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ رئیس المتصلفین انجام آتھم ص ٢٥١ خزائن ج ١١ ص ٢٥١ رنڈیوں کی اولاد آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٨ خزائن ج ٥ ص ٥٤٨

٩٣

صفحہ ٥٩٦

رئیس المتکبرین آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٩ خزائن ج ٥ ص ٥٩٩ زود رنج ایام الصلح ص ٨٤ خزائن ج ١٤ ص ٣٢٠ زمانہ کے ظالم ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ زمانہ کے بدذات آئینہ کمالات اسلام خزائن ج ٥ ص ٢١٦ ص ٣١٦ ح رسول اللہ کے دشمن آئینہ کمالات اسلام ص ١١١ خزائن ج ٥ ص ١١١ زمانہ کے ننگ اسلام آئینہ کمالات اسلام ص و خزائن ج ٥ ص ٦٠٨ زیادہ بد بخت براہین ج ٥ ص ١٧٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٢٥ روحانیت سے بے بہرہ ضمیمہ استفتائ ص ٢ خزائن ج ١٢ ص ١٠٨

س، ش .....

شیطانوں ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ شتر مرغ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ شیاطین الانس ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ سوروں ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ سیاہ داغ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ شریر ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧ خزائن ج ١١ ص ٣٤١ سیاہ دل ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ شیخ نجدی انجام آتھم ص ١٩٨ خزائن ج ١١ ص ١٩٨ سگان قبیلہ انجام آتھم ص ٢٢٩ خزائن ج ١١ ص ٢٢٩ شیخ احمقان انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ شیخ الضال انجام آتھم ص ٢٥١ خزائن ج ١١ ص ٢٥١ سلطان المتکبرین انجام آتھم ص ٢٥١ خزائن ج ١١ ص ٢٥١ شقی انجام آتھم ص ٢٥٢ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢

٩٤

سفہاء انجام شغال آئینہ شیطنت کی بدبو آئینہ سفلہ پن آئینہ شیخ نامہ سیاہ آئینہ سفہیوں کا نطفہ تحفہ شریر تحفہ سخت دل ظالم ض سانپوں نو سادہ لوح ا سخت جاہل ا سخت نادان سخت نالائق شیخ مضل شیخ مزور شیخی باز سفلہ دشمن شریروں سفلہ دشمنوں شریر بھیڑیے سفیہ شرابیوں سخت دل مولو یو نشیو

صفحہ ٥٩٧

سفہاء انجام آتھم ص ٢٥٣ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢ شغال آئینہ کمالات اسلام ص ٢٩٥ خزائن ج ٥ ص ٢٩٥ شیطنت کی بدبو آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١ خزائن ج ٥ ص ٣٠١ سفلہ پن آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٢ خزائن ج ٥ ص ٣٠٢ شیخ نامہ سیاہ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٦ خزائن ج ٥ ص ٣٠٦ سفیہوں کا نطفہ تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥ شریر تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٨ / ح خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥ سخت دل ظالم ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١١١ خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥ سانپوں نور الحق ج ١ ص ٢٣ خزائن ج ٨ ص ٣٢ سادہ لوح ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ سخت جاہل ازالہ اوہام ص ٥٠٩ خزائن ج ٣ ص ٣٧٣ سخت نادان ازالہ اوہام ص ٥٠٩ خزائن ج ٣ ص ٣٧٣ سخت نالائق ازالہ اوہام ص ٥٠٩ خزائن ج ٣ ص ٣٧٣ شیخ مضل کرامات الصادقین ص ٢٧ خزائن ج ٧ ص ٦٩ شیخ مزور کرامات الصادقین ص ٣٠ خزائن ج ٧ ص ٧٢ شیخی باز الہدیٰ والتبصرہ ص ١٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٥٥ سفلہ دشمن الہدیٰ والتبصرہ ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٥٨ شریروں الہدیٰ والتبصرہ ص ١٦ خزائن ج ١٨ ص ٢٦٠ سفلہ دشمنوں الہدیٰ والتبصرہ ص ١٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٦٢ شریر بھیڑیے انجام آتھم ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٩ سفیہ نور الحق ج ١ ص ٧٢ خزائن ج ٨ ص ٩٦ شرابیوں نور الحق ج ١ ص ٩٩ خزائن ج ٨ ص ١٣٢ سخت دل مولویو فقیہو انوار الاسلام ص ٢٥ خزائن ج ٩ ص ٢٦

٩٥

صفحہ ٥٩٨

شیخ چلی کے بڑے بھائی انوار الاسلام ص ٣٩ خزائن ج ٩ ص ٤٠ شریر مولویو ضیاء الحق ص ٢٤ خزائن ج ٩ ص ٢٩١ سخت ذلیل انجام آتھم ص ٢٤/ ح خزائن ج ١١ ص ٢٤ شیخ ضال بطالوی انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ سخت دروغ گو نزول المسیح ص ٦٦ خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤ سست ایمانو ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٤٢ خزائن ج ٢١ ص ٣١٢ شیخ الضالہ اعجاز احمدی ص ٧٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨٨ شیخ چال باز کرامات الصادقین ص ٢٣ خزائن ج ٧ ص ٦٥ سواد الوجہ فی الدارین اتمام الحجۃ ص ٢٥ خزائن ج ٨ ص ٣٠٤ (دنیا آخرت میں روسیاہ) سڑے گلے مردہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٢ خزائن ج ١١ ص ٣٤٦ سخت بدذات انجام آتھم ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٩ سخت بے باک انجام آتھم ص ١٨/ ح خزائن ج ١١ ص ١٨ سودائی انوار الاسلام ص ١٠ خزائن ج ٩ ص ١٠ شیاطین نزول المسیح ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٩ سخت دل قوم تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٩٤ شریر النفس آریہ دھرم ص ٢٦ خزائن ج ١٠ ص ٣١ شریر پنڈت آریہ دھرم ص ٢٩ خزائن ج ١٠ ص ٣٢ ص،ض...... ضال بطالوی انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ ضال نور الحق ج ١ ص ٧٢ خزائن ج ٨ ص ٩٦ ضلالت پیشہ حقیقت الوحی ٣١١ خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٤ صریح بے ایمانی ایام الصلح ص ٨٩/ ح خزائن ج ١٤ ص ٣٢٦ ٩٦

دار ظالم طبع غم ظالم اثر ظالم مولویو بما ظالم معترض اج ظالموں طوائف ت ظالم طبع مخالفوں

علیہم نعال لعنۃ اللہ الف الف مرۃ عبدالشیطان غاوون غوی فی البطالۃ غاوین غول غبی عجب ناداں عجیب بے حیا غدار زمانہ عورتوں کے عار غول البراری عدو اللہ

صفحہ ٥٩٩

……ط، ظ……

ظالم طبع دافع البلاء ص ١٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٨ ظالم ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٨ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ ظالم مولویو انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٢١ ظالم معترض براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٧ خزائن ج ٢١ ص ١٨٦ ظالموں استفتاء ص ٢٠ خزائن ج ١٢ ص ١٢٨ طوائف ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٧ ظالم طبع مخالفوں نزول المسیح ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦

……ع، غ……

علیہم نعال لعن اللہ الف الف ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ مرۃ عبد الشیطان ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ غالون انجام آتھم ص ٢٢٤ خزائن ج ١١ ص ٢٢٤ غوی فی المطالبہ انجام آتھم ص ٢٣٠ خزائن ج ١١ ص ٢٣٠ غاوین انجام آتھم ص ٢٥٤ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢ غول انجام آتھم ص ٢٥٢ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢ غبی ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٣ خزائن ج ١١ ص ٣١٧ عجب ناداں تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٥ خزائن ج ٢٢ ص ٥٥١ عجیب بے حیا تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٩ / ح خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٧ غدار زمانہ اعجاز احمدی ص ٧٧ خزائن ج ١٩ ص ١٩٠ عورتوں کے عار اعجاز احمدی ص ٨٣ خزائن ج ١٩ ص ١٩٦ غول البراری کرامات الصادقین ص ٩ خزائن ج ٧ ص ١٥٢ عدو اللہ اشتہار انعامی تین ہزار ص ١٢ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٩

٩٧

صفحہ ٦٠٠

غزنی کے ناپاک سکھ ضیاء الحق ص ٤٣ خزائن ج ٩ ص ٢٩١ عبدالحق کا منہ کالا ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ غزنویوں کی جماعت پر لعنت ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ علم اور درایت اور تفقہ سے سخت بے بہرہ آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠٨ خزائن ج ٥ ص ٣٠٨

ف ، ق .......

فقیری اور مولویت کے شتر مرغ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ فرعون ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ قسیس یا عبد الشیطان ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٣٢ فاسق آدمی تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥ فریبی اعجاز احمدی ص ٤٨ خزائن ج ١٩ ص ١٦٠ فرومایہ اعجاز احمدی ص ٧٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨٨ قوم کے خناسوں انجام آتھم ص ١٧ / ح خزائن ج ١١ ص ١٧ فتنہ انگیز اتمام الحجہ ص ٢٣ خزائن ج ٨ ص ٣٠٣

ک ، گ .......

کوتاہ اندیش علماء ایام الصلح ص ٨٠ خزائن ج ١٤ ص ٣١٦ گندے اخبار نویس ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ گندی روحو ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ کیڑو ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ کتے استفتاء ص ٢٠ خزائن ج ١٢ ص ١٢٨ گدھے ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣١ کذاب انجام آتھم ص ٥٩ / ح خزائن ج ١١ ص ٥٩

٩٨

کج طبع آئینہ ک گرفتار عجب و پندار آئینہ ک کوتہ نظر مولوی آئینہ ک کور مغزی نزول گمراہ تتمہ کذاب گدھوں کیڑا کینہ ور گندہ زبان گرگ کمینگی کم سمجھ کرگس گندہ پانی کج دل کمینوں کمینہ گمراہی اور حرص کے جنگل کے شیطان کمینہ طبع کتوں کالا نام

صفحہ ٦٠١

خزائن ج ٩ ص ٢٩١ ٥ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ ٥ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ ٣٠٨ خزائن ج ٥ ص ٣٠٨

خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٥ خزائن ج ١٩ ص ١٦٠ خزائن ج ١٩ ص ١٨٨ خزائن ج ١١ ص ١٧ خزائن ج ٨ ص ٣٠٣

خزائن ج ١٤ ص ٣١٦ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ خزائن ج ١٢ ص ١٢٨ خزائن ج ١١ ص ٣٣١ خزائن ج ١١ ص ٥٩

کج طبع آئینہ کمالات اسلام ص ٣٠١ خزائن ج ٥ ص ٣٠١ گرفتار عجب و پندار آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠ خزائن ج ٥ ص ٦٠٠ کوتہ نظر مولوی آئینہ کمالات اسلام ص د خزائن ج ٥ ص ٦٠٨ کوڑھ مغزی نزول المسیح ص ٦٦ خزائن ج ١٨ ص ٤٤٤ گمراہ تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٥ خزائن ج ٢٢ ص ٥٥١ کذاب تتمہ حقیقت الوحی ص ١٢٨ / ح خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٥ گدھوں ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٥٦ خزائن ج ٢١ ص ٣٢٠ کیڑا ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٦٥ خزائن ج ٢١ ص ٣٣٢ کینہ ور چشمہ معرفت ج ٢ ص ٣٢١ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦ گندہ زبان چشمہ معرفت ص ٣٢١ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦ گرگ مواہب الرحمن ص ١٣١ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢ کمینگی مواہب الرحمن ص ١٣١ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢ کم سمجھ اعجاز احمدی ص ١٨ خزائن ج ١٩ ص ١٢٦ کرگس اعجاز احمدی ص ٤٣ خزائن ج ١٩ ص ١٥٥ گندہ پانی اعجاز احمدی ص ٧٥ خزائن ج ١٩ ص ١٦٩ کج دل کرامات الصادقین ص ٦ خزائن ج ٧ ص ٤٨ کمینوں الہدی و التبصرہ ص ١٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٦٢ کمینہ انجام آتھم ص ٢٠٦ خزائن ج ١١ ص ٢٠٦ گمراہی اور حرص کے جنگل کے نور الحق ج ١ ص ٨٩ خزائن ج ٨ ص ١٢٠ شیطان کمینہ طبع آریہ دھرم ص ٤٦ خزائن ج ١٠ ص ٤٧ کتوں ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥ خزائن ج ١١ ص ٣٠٩ کالانعام انجام آتھم ص ٢٦٥ خزائن ج ١١ ص ٢٦٥

٩٩

صفحہ ٦٠٢

کاذب آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠١ خزائن ج ٥ ص ٦٠١ گمراہ حقیقت الوحی ص ٣١٠ / ح خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٣ ل، م .....: مغرور فقراء ضمیمہ انجام آتھم ص ١٢ خزائن ج ١١ ص ٢٩٦ مردار خور ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ مولوی جاہل ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦ خزائن ج ١١ ص ٣١٠ مولویت کو بدنام کرنے والے ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ خزائن ج ١١ ص ٣٣٠ منحوس چہروں ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ مفتریو ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ منافق مولوی انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٤٩ مولویان خشک انجام آتھم ص ٦٩ خزائن ج ١١ ص ٦٩ متکبرین انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ معتدین انجام آتھم ص ٢٤١ خزائن ج ١١ ص ٢٤١ ملعونین انجام آتھم ص ٢٥٢ خزائن ج ١١ ص ٢٥٢ مخنثوں آئینہ کمالات اسلام ص ٤٠٢ خزائن ج ٥ ص ٤٠٢ معلم الملکوت آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٨ خزائن ج ٥ ص ٥٩٨ مفتری نزول المسیح ص ١٢ خزائن ج ١٨ ص ٣٩٠ مردار نزول المسیح ص ٢٤٤ خزائن ج ١٨ ص ٦٠٢ لئیموں تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥ ملعون تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥ مفسد تتمہ حقیقت الوحی ص ١٦ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥ متعصب نادان ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٧ خزائن ج ٢١ ص ١٨٢ مفتری نابکار ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١١١ خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥ ١٠٠

لاف و گزاف کے بیٹے متعفن مسکین مارسیرت مضل جماعت مچھر مٹی سیاہ متعصب متکبر مولویوں مضل مزور مگس طینت مولویوں لادو وٹوؤں مخبوط الحواس مردہ پرست مردار مکار مخذول ناقص الفہم ناحق شناس موٹی سمجھ

صفحہ ٦٠٣

لاف و گزاف کے بیٹے ضمیمہ براہین احمدیہ ج٥ خزائن ج٢١ ص٣٧١ ص ١٤٩ متعفن تحفہ گولڑویہ ص ٧١ ح خزائن ج١٧ ص٢٠٥ مسکین مواہب الرحمن ص ١٣٨ خزائن ج١٩ ص٣٥٩ مار سیرت نور الحق ج١ ص٢٣ خزائن ج٨ ص٣٢ مضل جماعت نور الحق ج١ ص٥٣ خزائن ج٨ ص٧٣ مچھر اعجاز احمدی ص٤٤ خزائن ج١٩ ص١٥٥ مٹی سیاہ اعجاز احمدی ص٥٧ خزائن ج١٩ ص١٦٩ متعصب کرامات الصادقین ص٦ خزائن ج٧ ص٤٨ متکبر مولویوں کرامات الصادقین ص٢٥ خزائن ج٧ ص٦٧ مضل کرامات الصادقین ص٢٧ خزائن ج٧ ص٦٩ مزور کرامات الصادقین ص٣٠ خزائن ج٧ ص٧٢ مگس طینت مولویوں آسمانی فیصلہ ص٣٢ خزائن ج٤ ص٣٤٢ لادو ٹوؤں الہدی والتبصرہ ص١٦ خزائن ج١٨ ص٢٦١ مخبوط الحواس استفتاء ص٢٠ خزائن ج٢٢ ص١٢٨ مردہ پرست ضمیمہ انجام آتھم ص٩/ ح خزائن ج١١ ص٢٩٣ مردار ضمیمہ انجام آتھم ص٩/ ح خزائن ج١١ ص٢٩٣ مکار نور الحق ص٩٢ خزائن ج٨ ص١٢٤ مخذول نور الحق ص١٠١ خزائن ج٨ ص١٣٢ ناقص الفہم کرامات الصادقین ص٣ خزائن ج٧ ص٤٥ ناحق شناس ست بچن ص٨ خزائن ج١٠ ص١٢٠ موٹی سمجھ ست بچن ص٩ خزائن ج١٠ ص١٢١

١٠١

صفحہ ٦٠٤

مولوی تمام روئے زمین کے ایام الصلح ص ١٦٦ خزائن ج ١٣ ص ٤١٣ انسانوں سے بدتر اور پلید تر مخالفوں کا منہ کالا ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ مولویوں کی ذلت انجام آتھم ص ٢٨/ ح خزائن ج ١١ ص ٣١٢ مولوی سخت ذلیل انجام آتھم ص ٢٤/ ح خزائن ج ١١ ص ٤٤ مکذبوں ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢٤ خزائن ج ١١ ص ٢٤٤ منحوس تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤ خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٥ مغرور تتمہ حقیقت الوحی ص ١١٥ خزائن ج ٢٢ ص ٥٥١ معمولی انسان ازالہ ص ٥٩٦ خزائن ج ٣ ص ٤٢٢ مجنون درندہ آسمانی فیصلہ ص ١٤ خزائن ج ٤ ص ٣٢٤ محجوب مولوی آسمانی فیصلہ ص ٣١ خزائن ج ٤ ص ٣٤١ ن...... نادان علماء ایام الصلح ص ١١٧ خزائن ج ١٣ ص ٣٥٥ ناپاک طبع ایام الصلح ص ١٦٥ خزائن ج ١٣ ص ٤١٣ نااہل ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١/ ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ ناسمجھ ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٣ خزائن ج ١١ ص ٣١ نابکار ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤ نادان ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ نابینا علماء ضمیمہ انجام آتھم ص ٦١ خزائن ج ١١ ص ٣٤٥ نادان بطالوی انجام آتھم ص ٢٠/ ح خزائن ج ١١ ص ٢٠ نالائق انجام آتھم ص ٢٤/ ح خزائن ج ١١ ص ٢٤ نفاق زدہ انجام آتھم ص ٢٤/ ح خزائن ج ١١ ص ٢٤ نالائق نذیر حسین انجام آتھم ص ٢٥ خزائن ج ١١ ص ٢٥

١٠٢

نیم ملا ننگ اسلام نجاست خور نفسانی مولویو ناواقف نادانوں نابکاروں نیم عیسائیو ناخدا ترس نادان ہندوزادہ نہایت پلید طبع ناسعادت مند شاگرد محمد حسین نابینا نذیر حسین خشک معلم نادان صحابی نادان قوم ناقص العقل چیلوں نالائق چیلوں نادان غبی ناپاک فرقہ نادان پادریوں نالائق متعصب

صفحہ ٦٠٥

نیم ملا آئینہ کمالات اسلام ص ٦٠٠ خزائن ج ٥ ص ٦٠٠ ننگ اسلام آئینہ کمالات اسلام ص ٧ خزائن ج ٥ ص ٦٠٨ نجاست خور نزول المسیح ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٦ نفسانی مولویو ازالہ اوہام ج ١ ص ٥ خزائن ج ٣ ص ١٠٥ ناواقف مقدمہ چشمہ مسیحی ص ب خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٥ نادانوں مقدمہ چشمہ مسیحی ص ٥٧ خزائن ج ٢٠ ص ٣٨٩ نابکاروں ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٤ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٣٠٨ نیم عیسائیو اشتہار انعامی تین ہزار ص ٥ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٩ ناخدا ترس تبلیغ رسالت ج ١ ص ٨ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٥ نادان ہندوزادہ انوار الاسلام ص ٢٦ / ح خزائن ج ٩ ص ٢٧ نہایت پلید طبع ضیاء الحق ص ٥٠ خزائن ج ٩ ص ٢٩٨ ناسعادت مند شاگرد محمد حسین انجام آتھم ص ٤٥ خزائن ج ١١ ص ٤٥ نابینا ست بچن ص ١٩ خزائن ج ١٠ ص ١٣١ نذیر حسین خشک معلم آئینہ کمالات اسلام ص ز خزائن ج ٥ ص ٦١١ نادان صحابی ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٢٠ خزائن ج ٢١ ص ٢٨٥ نادان قوم ضمیمہ براہین ج ٥ ص ١٤٥ خزائن ج ٢١ ص ٣١٣ ناقص العقل چیلوں انوار الاسلام ص ٤٨ خزائن ج ٩ ص ٥٠ نالائق چیلوں ضیاء الحق ص ٣٧ خزائن ج ٩ ص ٢٨٥ نادان غبی اتمام الحجۃ ص ٢٢ خزائن ج ٨ ص ٣٠١ ناپاک فرقہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٣ / ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٧ نادان پادریوں انجام آتھم ص ٢ خزائن ج ١١ ص ٢ نالائق متعصب آئینہ کمالات اسلام ص ٤٣ خزائن ج ٥ ص ٤٣

١٠٣

صفحہ ٦٠٦

......و وہ گندے اخبار نویس ضمیمہ انجام آتھم ص ٥ خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ وہ گدھا ہے نہ انسان ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٧ خزائن ج ١١ ص ٣٣١ وحشی ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٣٣٣ وہ بذات ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤ ہامان ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦ خزائن ج ١١ ص ٣٤٠ ہندوزادہ انجام آتھم ص ٥٩ ح خزائن ج ١١ ص ٥٩ ہوا و ہوس کا بیٹا اعجاز احمدی ص ٢٣ خزائن ج ١٩ ص ١٥٢ واشی نور الحق ج ١ ص ٧٢ خزائن ج ٨ ص ٩٦ والغی المخذول نور الحق ج ١ ص ١٠١ خزائن ج ٨ ص ١٣٢ ولد الحرام انوار اسلام ص ٣٠ خزائن ج ٩ ص ٣١ ہزار لعنت کا رسہ اشتہار انعامی تین ہزار ص ١٠ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٧ ولد الحلال نہیں انوار اسلام ص ٢٩ خزائن ج ٩ ص ٣١ واہ رے شیخ چلی کے بڑے انوار اسلام ص ٣٨ خزائن ج ٩ ص ٤٠ بھائی ہٹ دھرم اشتہار انعامی تین ہزار ص ١٠ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٦ والدجال البطال انجام آتھم ص ٢٥١ خزائن ج ١١ ص ٢٥١ آنکھوں کے اندھے اشتہار انعامی ٤ ہزار ص ١٠ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٦ ہمچو گرگ مواہب الرحمن ص ١٣١ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢ ہمچو جنین مواہب الرحمن ص ١٣٨ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩ ......ی،ے یہودی صفت ضمیمہ انجام آتھم ص ٣ خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ ١٠٤

یاوہ گوہ ضمیمہ انجام آ یہودی سیرت انجام آتھم یہ شخص منافق شہادت القر یہ نادان خون پسند شہادت القر یہ لوگ حیوانات اعجاز احمدی یہودی ضمیمہ انجام یا شیخ الضلالتہ اعجاز احمدی یک چشم ضمیمہ انجا یاجوج ماجوج اور دجال چشمہ معرف یورپین قوموں یہ جہلاء ضمیمہ انجا یہودیت کا خمیر ضمیمہ انجا یہ دل کے مجذوم ضمیمہ انجا یہ سب مولوی جاہل ضمیمہ انجا یہ شریر ضمیمہ انجا یہ سیاہ دل ضمیمہ انجا یہ جاہل ضمیمہ انجا یہ منافق انجام آ یا غول البراری! کرامات ناظرین کرام! آپ نے ملا کو فتنہ نہ بقیہ دورنگی، بوقلمونی، سہ رنگی، پنج مقدس علماء کرام کی تواضع کی گئی ہے۔ اساطین واکابر ہیں اور لطف یہ کہ یہ یاو

صفحہ ٦٠٧

خزائن ج ١١ ص ٢٨٩ خزائن ج ١١ ص ٣٣١ خزائن ج ١١ ص ٣٣٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٤ خزائن ج ١١ ص ٣٤٠ خزائن ج ١١ ص ٥٩ خزائن ج ١٩ ص ١٥٤ خزائن ج ٨ ص ٩٦ خزائن ج ٨ ص ١٣٢ خزائن ج ٩ ص ٣١ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٧ خزائن ج ٩ ص ٣١ خزائن ج ٩ ص ٤٠

مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٦ خزائن ج ١١ ص ٢٥١ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٧٦ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٢ خزائن ج ١٩ ص ٣٥٩

ائن ج ١١ ص ٢٨٧

یاوہ گوہ ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩/ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٣ یہودی سیرت انجام آتھم ص ٢٤/ح خزائن ج ١١ ص ٢٤ مخبط منافق شہادت القرآن ص ٨٧ خزائن ج ٦ ص ٣٨٣ یہ نادان خون پسند شہادت القرآن ص ٨٥ خزائن ج ٦ ص ٣٨١ یہ لوگ حیوانات اعجاز احمدی ص ٢٢ خزائن ج ١٩ ص ١٣١ یہودی ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٥ خزائن ج ١١ ص ٣٢٩ یا شیخ الضالۃ اعجاز احمدی ص ٧٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨٨ یک چشم ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٤/ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٨ یا جوج ماجوج اور دجال چشمہ معرفت ج ١ ص ٧٨/ح خزائن ج ٢٣ ص ٨٦ یورپین قوموں یہ جہلاء ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨/ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ یہودیت کا خمیر ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١/ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ یہ دل کے مجذوم ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١/ح خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ یہ سب مولوی جاہل ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦ خزائن ج ١١ ص ٣١٠ یہ شریر ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧ خزائن ج ١١ ص ٣٤١ یہ سیاہ دل ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ یہ جاہل ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢ یہ منافق انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٤٩ یا غول البراری! کرامات الصادقین ص ٥ خزائن ج ٧ ص ١٥٢

ناظرین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کیسی کھری کھری، نپی تلی، کوری کوری تراشیدہ کوفتہ نہ پختہ دورنگی، بدرنگی، سہ رنگی، پنج رنگی ہفت رنگی گالیوں فحش کلامیوں سے مسلمانوں اور ان مقدس علماء کرام کی تواضع کی گئی ہے۔ جن کا مرتبہ انبیاء بنی اسرائیل کے جیسا امت وملت کے اساطین واکابر ہیں اور لطف یہ کہ یہ یاوہ گوئیاں و ژاژ خائیاں اس شخص سے برآمد ہوئی ہیں۔ جو

١٠٥

صفحہ ٦٠٨

بقول خود رسول بھی تھے اور نبی بھی اور مسیح زمان بھی تھے۔ کلیم خدا بھی، مجتبیٰ بھی تھے، مصطفیٰ بھی، مصدر لطف و کرم بھی تھے، و مخزن تہذیب و اخلاق بھی۔ غرض یہ کہ آپ سب کچھ بھی تھے اور کچھ بھی نہیں اور قادیان کے خانہ ساز پیغمبر کے ان اخلاقی نمونوں، اصلاحی تجویزوں، مسیحائی چٹکلوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قادیان کے پیغمبر کس ظرف کے مالک تھے اور کس شرافت کے حامل اور کیسی زرفشاں آپ کی نبوت تھی اور کیسی در انداز مسیحیت اور کس درجہ کے آپ مجدد تھے اور کس انداز کے مہدی۔ کیونکہ خود ہی فرماتے ہیں کہ: ”جس طرح گندے کنوئیں کے پانی کے ایک قطرہ سے اس کے تمام کثافت ثابت ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ان کے گندے خیالات اپنے برے نمونہ سے پہچانے جاتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٤٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٩)

اور لطف بر بالائے لطف یہ کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ : ”جو کچھ میں کہتا ہوں وہ منجانب اللہ ہوتا ہے اور میری ہر بات وحی الہی سے رنگین ہوتی ہے۔“ جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥، خزائن ج ١ ص ٤)

خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی اردو میں لکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥٦، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٢)

سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

قدسیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ لا فصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے....... اور انوار دائمی اور استعانت دائمی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا یہ سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے۔“

(دافع الوسواس ص ٩٣، ٩٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ان حوالہ جات سے یہ معلوم ہوا کہ قادیانی رسول نے اپنی ان فحش کلامیوں، گالیوں، بدگوئیوں کو معاذ اللہ وحی الہی میں رنگ کر اور روح القدس کی امداد و استعانت سے اس میں انوار و برکات بھر کر علماء کرام و مسلمانان عالم کے سامنے پیش کیا ہے۔ لیکن امت مسلمہ نے ان ناپاک

١٠٦

صفحہ ٦٠٩

چیزوں کی کچھ قدرومنزلت نہ کی بجز اس کے کہ ان گالیوں کے حق ایجاد کا ثواب مرزا قادیانی کی روح کو بخش دیتی ہے البتہ امت مرزائیہ سے یہ امید ہے کہ وہ اپنے پیغمبر اعظم کی ان پیغمبرانہ گالیوں و پاک ومطہر گندگیوں اور معاذ اللہ وحی الٰہی والہام خدائی سے دھلی ہوئی غلاظتوں کو اپنے لئے حرز جان بنائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ ان گالیوں و یاوہ گوئیوں کو دیکھ کر مرزا قادیانی کی خانہ ساز انگریزی نبوت و دیسی مسیحیت بازاری مجددیت پر وہی لوگ ایمان لے آئیں گے۔ جو عقل وخرد سے محروم اور دانش وحکمت سے بے نصیب رشد و ہدایت سے تہی دست ہیں۔ لیکن شقاوتوں وبدبختیوں سے مالامال اور بداخلاقیوں و بدگوئیوں سے لبریز ہیں۔ لیکن ایک حد تک مرزا قادیانی بھی اس قسم کے اخلاقی گناہوں کے ارتکاب پر اس وجہ سے مجبور تھے کہ: ”ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے۔ جو اس کے اندر ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ١١ خزائن ج ٢٣ ص ٩)

رکھنے کے لئے یہ کہتی ہے کہ مرزا قادیانی نے جس قدر گالیاں اپنی زبانِ فیض ترجمان سے فرمائی ہیں۔ یہ حقیقت میں اسلامی علماء کی گالیوں و گستاخیوں کے جواب میں ہیں۔ لہٰذا عوض معاوضہ را گلہ ندارد کا صحیح نقشہ پیش کیا گیا۔ اگر اس کو بالفرض تسلیم بھی کر لیا جائے تو کسی طرح سے بھی مرزا قادیانی کے ان اخلاقی باقیات الصالحات کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ آپ کہتے ہیں کہ: ”بدی کا جواب بدی کے ساتھ مت دو نہ قول سے نہ فعل سے۔“

(نسیم دعوت ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٥)

گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں اُن لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

(دافع الوسواس ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

ایک گالی کا نرمی سے جواب دو۔“

(نسیم دعوت ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٤)

(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)

اس لئے مرزا قادیانی کا ان اقوال ودعاویٰ کی موجودگی میں کسی طرح سے علمائے اسلام کے سخت الفاظ کے جواب میں سخت و سوقیانہ الفاظ کہنا جائز نہیں تھا۔ کیونکہ فرماتے ہیں:

اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“

(آریہ دھرم ص ١١، خزائن ج ١٠ ص ١٣)

١٠٧

صفحہ ٦١٠

(ست بچن ص٢١، خزائن ج١٠ ص١٣٢)

(ضمیمہ اربعین نمبر٤، ص٥، خزائن ج١٧ ص٤٧١)

کاٹ کھایا؟۔ اس نے جواب دیا بیٹی انسان سے کت پن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی کت پن کی مثال لازم آئے گی۔“

(تقریر مرزا در جلسہ قادیان ١٨٩٧ء، ملفوظات ج١ ص١٠٣)

اس کے علاوہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اگرچہ عیسائیوں نے اپنی نادانی و جہالت سے حضرت رسول اللہ ﷺ کی شان مبارک میں نہایت مکروہ و سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ مگر میں نے اپنی فطری حیاء و اخلاق سے ہر ایک تلخ زبانی و بدگوئی سے اعراض کیا اور عیسائیوں کے خلاف کوئی سخت لفظ نہیں کہا سنئے فرماتے ہیں کہ: ”عیسائیوں کی کتاب امہات المومنین نے دلوں میں سخت اشتعال پیدا کیا ہے۔..... اور دل دکھانے والی گالیاں ہمارے پیغمبر ﷺ کو دی گئیں۔ ہمارا حق تھا کہ ہم مدافعت کے طور پر سختی کا سختی سے جواب دیتے۔ لیکن ہم نے محض اس حیاء کے تقاضا سے جو مومن کی صفت لازمی ہے ہر ایک تلخ زبانی سے اعراض کیا۔“

(ٹائٹل ایام الصلح، خزائن ج١٤ ص٢٣١)

جب مرزا قادیانی محض اپنی فطری حیاء و غیرت سے حضور ﷺ کو گالیاں دینے والوں کو مدافعانہ طور پر بھی سخت الفاظ نہیں کہے تو پھر عام مسلمانوں و علماء اسلام کے حق میں حیاء جیسی صفت لازمی سے عریاں ہو کر کیوں سخت و دلخراش الفاظ استعمال کئے کیا اس لئے کہ: ”بے حیاء کا منہ نہیں بند کیا جا سکتا ہے۔“

(ملخصاً انجام آتھم ص٢٩ حاشیہ، خزائن ج١١ ص ایضاً)

مرزا قادیانی کے ان پیغمبرانہ اخلاق مجددانہ شرافت کے نتیجوں و نمونوں کو جو کتاب ہذا کے اوراق میں پھیلے ہوئے ہیں۔ دیکھ کر مرزا قادیانی کے متعلق نہ میں خود کوئی رائے قائم کرتا ہوں اور نہ ناظرین کتاب کو اس امر کی تکلیف دوں گا۔ بلکہ اس معاملہ میں بھی خود مرزا قادیانی ہی کی شہادت پیش کرتا ہوں۔ فرماتے ہیں کہ:

١٠٨

صفحہ ٦١١

ہوتا۔ خدا کی غیرت اس کے ان پیاروں کے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔ پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں۔"

(خاتمہ چشمہ معرفت ص ١٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٦)

بدزبانی کرتا ہے اور شرارت کے منصوبے جوڑتا ہے وہ ناپاک ہے۔ اس کو کبھی خدا کی طرف راہ نہیں ملتی اور نہ کبھی حکمت اور حق کی بات اس کے منہ پر جاری ہوتی ہے۔"

(نسیم دعوت ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٣٦٥)

سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے۔ بلکہ ہر ایک قول اس کا فساد کے کیڑوں کا ایک انداز ہوتا ہے۔ بجز اس کے اور کچھ نہیں۔"

(حوالہ مذکور)

معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی بقول خود ان اخلاقی گناہوں کی وجہ سے اس لائق بھی نہ تھے کہ مہذب وشریف انسانوں کے صف میں کھڑے ہوسکیں۔ چہ جائے کہ وہ نبوت کے جلیل القدر عہدہ پر مامور ہوں اور وہ خود اپنی زبان کی بدتر چھری سے اس قدر مجروح وزخمی ہو چکے تھے کہ: خود کردہ را علاجے نیست" کے علاوہ مرہم و پٹی کے باوجود بھی اندمالِ زخم کی کوئی توقع نہیں تھی۔

گل و گلچیں کا گلہ بلبل خوش لہجہ نہ کر
تو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث

افسوس کہ گالیاں دینے والا، وبائیں پھیلانے والا ، بددعائیں کرنے والا ، مسیح آیا اور گندگیوں و غلاظتوں سے بھرا ہوا لٹریچر اپنے لئے باقیات السیئات بنا کر اور اپنی زبان کا ہرا بھرا زخم لئے ہوئے پیوند زمین ہو گیا۔

مرزا قادیانی نے سچ کہا ہے کہ:

بدتر ہر ایک بد سے ہے جو بدزبان ہے
جس دل میں ہے نجاست بیت الخلاء وہی ہے

(درثمین ص ٨٢)

مرزا قادیانی کے ان اخلاق حسنہ کے ہوتے ہوئے بھی ان کے نمک خوار اس طرح حق نمک ادا کرتے ہیں۔ "انک لعلی خلق عظیم" راقم مضمون ہذا (سردار مصباح الدین قادیانی) کے ذوق کے مطابق "حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کے عظیم الشان معجزات میں سے

١٠٩

صفحہ ٦١٢

ایک معجزہ حضور کے اخلاق کا بھی ہے۔ جس بلند پایہ اخلاق کا آپ سے ظہور ہوا اس کی مثال سوائے آپ کے متبوع ومقتدیٰ، حضرت محمد ﷺ کی ذات بابرکات کے دنیا کے کسی انسان کی زندگی میں نہیں ملتی۔ (ذکر حبیب از مصباح الدین قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان خاص نمبر ٢١؍مئی ١٩٣٢ء)

١...... مسٹر اکبر مسیح مشہور عیسائی مصنف اپنی کتاب ضربت عیسوی کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ: ”جن لوگوں کو ضرورتاً مرزاجی کی تصانیف پڑھنے کا ناگوار اتفاق ہوا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ مناظرہ میں فحش بیانی سخت کلامی بدزبانی بلکہ گالی کو سننے کا مرزاجی نے سرکار سے ٹھیکہ لے لیا ہے۔ آپ اس فن کے جگت استاد مانے جاتے ہیں۔ ہر مذہب کے بزرگوں کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ آپ دست و زبان سے کسی مؤمن کو امان نہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ آپ ہی کی انشاء پردازی سے گبر و مسلمان کا چلن بگڑا۔“

٢...... مولوی چراغ دین جموی جو مرزا قادیانی کے دام فریب میں پھنس کر نکل آئے تھے۔ لکھتے ہیں کہ: ”ہندوستان میں جو شخص دینی مباحثہ میں اپنی بدزبانی اور دریدہ دہنی بلکہ فحش کلامی کے لئے شہرہ آفاق ہوا۔ جس کی نسبت اہل الرائے کی یہ مستقل رائے ہے کہ دینی مناظرہ میں گندگی اور خباثت کے چلن کو اس نے رواج دیا۔ جو اس فن کا استاد اور موجد ہے۔ وہ مرزا قادیانی ہے۔“

(رسالہ تجلی ١٩٢٧ء، از کفریات مرزا ص ٢٩)

یہ مخالف اور موافق کی رائیں ہیں۔ لیکن اخلاق مرزا قادیانی کا نمونہ آپ کے سامنے ہے۔ جس سے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ کیا ایسے ہی تھے۔ جیسے کہ ان کو ان کے نمک خوار مرید کہتے ہیں:

میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو مرزائیوں کے لئے مشعل راہ ہدایت بنائیں۔ تا کہ وہ ایک بدگو، بدزبان کا دامن چھوڑ کر حضرت خاتم النبیین رحمۃ للعالمین ﷺ کے نور فگن سایہ رحمت میں آجائیں اور اللہ تعالیٰ ان گندم نما جو فروشوں کے مکر و فریب و دجل و کید سے تمام مسلمانان عالم کو محفوظ رکھے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین! فقط

خادم السلام! نور محمد مبلغ و مناظر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ٢٠؍ ذیقعدہ ١٣٥٣ھ، ٢٥؍ فروری ١٩٣٥ء

١١٠

PDF 613

خلاق کا آپ سے ظہور ہوا اس کی مثال ات بابرکات کے دنیا کے کسی انسان کی

(اخبار الحکم قادیان خاص نمبر ٢١ مئی ١٩٣٤ء)

۔ اپنی کتاب ضربت عیسوی کے دیباچہ ۔ پڑھنے کا ناگوار اتفاق ہوا ہے وہ خوب گالی کو سننے کا مرزاجی نے سرکار سے ٹھیکہ ۔ ہر مذہب کے بزرگوں کو ایک آنکھ نہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ آپ ہی کی انشاء

قادیانی کے دام فریب میں پھنس کر نکل یشہ میں اپنی بدزبانی اور دریدہ دہنی بلکہ نے کی یہ مستقل رائے ہے کہ دینی مناظرہ جو اس فن کا استاد اور موجد ہے۔ وہ

(رسالہ تجلی ١٩٢٧ء، از کفریات مرزا ص ٢٩)

مرزا قادیانی کا نمونہ آپ کے سامنے ۔ جیسے کہ ان کو ان کے نمک خوار مرید

وفا کو دیکھ کر لو دیکھ کر سا راہ ہدایت بنائیں۔ تا کہ وہ ایک نین ﷺ کے نور فگن سایہ رحمت میں سا دکھ سے تمام مسلمانان عالم کو محفوظ ط

خادم السلام! مبلغ و مناظر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ذیقعدہ ١٣٥٣ھ، ٢٥ فروری ١٩٣٥ء

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم لا نبی بعدی

کرشن قادیانی

آریہ تھے یا عیسائی؟

مناظر اسلام حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوری

صفحہ ٦١٤

بسم الله الرحمن الرحیم!

مقدمہ

نحمده ونصلى على رسوله الكريم .

الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى . امابعد! برادران اسلام! جماعت مرزائیہ نے ١٠/مارچ ١٩٣٥ء کو اہل ہنود میں یوم تبلیغ مقرر کیا تھا۔ اس سلسلے میں ہماری طرف سے ایک ٹریکٹ بعنوان ”کرشن قادیانی آریہ تھے“ شائع ہوا تھا۔ جس میں نہایت صراحت سے مولانا مولوی نور محمد خان صاحب مبلغ و مناظر مدرسہ مظاہر العلوم نے ثابت کیا تھا کہ حقیقتاً قادیان کے بروزی نبی آریہ تھے اور یہ سب کچھ مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ کی کتب سے ثابت کیا گیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے آریہ مذہب اور ویدوں کے متعلق لکھا ہے۔ لیکن بجائے اس کے کہ قادیانی مباحثے ہمارے مشکور ہوتے۔ بالعکس اس کے دو ماہ کے بعد اپنی شوریدہ سری اور مخبوط الحواسی کے ثبوت میں ہمارے رسالہ کا جواب معاندانہ طرز میں ایک خودرو وجود یعنی ضیاع الحق نے اپنی بے کار کوشش، بے علمی کی وجہ سے مرزائیت کا فریب طشت از بام کیا اور جماعت مرزا جواب ضیاع کو اپنی ہدایت کا سرمایہ بے مایہ سمجھی۔ جس کے پہلے صفحہ پر مرزا قادیانی کی ایک نظم لکھی گئی ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے۔ مؤلف رسالہ نے مرزا قادیانی کی یہ مقدس نظم نہیں دیکھی۔ جو مرزا قادیانی کے اعلیٰ اخلاق کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ چنانچہ منشی اسعد اللہ صاحب لدھیانوی کی شان میں فرماتے ہیں۔ وهو هذا ! .

ایک سگ دیوانہ لدھیانہ میں ہے آج کل وہ خر شترخانہ میں ہے
بد زبان بد گوہر وبد ذات ہے اس کی نظم ونثر واہیات ہے
آدمیت سے نہیں ہے اس کو مس ہے نجاست خوار وہ مثل مگس
سخت بد تہذیب اور منہ زور ہے منہ پر آنکھیں ہیں مگر دل کور ہے
حق تعالیٰ کا وہ نافرمان ہے آدمی کا ہے کو ہے شیطان ہے
چیختا بے حد ہے مثل حمار بھونکتا ہے مثل سگ وہ بار بار
جہل میں بوجہل کا سردار ہے بولہب کے گھر کا برخوردار ہے
سخت دل نمرود یا شداد ہے جانور ہے یا کہ آدم زاد ہے

٢

صفحہ ٦١٥

دوسرے صفحہ سے مؤلف رسالہ کے آباجان المعروف ”شیخ گجراتی“ برخوردار کے آگے آگے بدحواسی کے عالم میں نہایت پھنسے پھنسے الفاظ میں مجلس احرار اسلام کے مجاہدانہ اقدام کا رونا رو رہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری نبی کی سرکاری امت کے دماغ کی چولیں ڈھیلی پڑ گئی ہیں۔ کیونکہ یہ جماعت احرار ہی ہے جس نے ان کے راز ہائے درون پردہ کا تار پود بکھیر کر رکھ دیا۔ ان کے عقائد باطلہ کی حقیقت و اصلیت سے دنیائے اسلام کو آگاہ کیا۔ ان کے دجل و فریب کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اڑا دیں۔ ان کی قادیانی حکومت کے عریان نظارے منظر عام پر آگئے۔ اس لئے یہ جس قدر بھی روئیں اور بسوریں حق بجانب ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس جماعت کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ ختم اللّٰہ علی قلوبہم کا مصداق بن چکے ہیں۔ کیونکہ جب بھی علماء حق کی طرف سے ان کو تبلیغ کی جاتی ہے۔ تو یہ لوگ دلخراشی پر محمول کرتے آئے ہیں۔ بجائے راہ راست اختیار کرنے کے ان کو کفر بھی عین اسلام نظر آتا ہے۔ حق کو ناحق اور ناحق کو حق سمجھتے ہیں۔ چاہے کوئی نعوذ باللہ خدا وحدہ لا شریک کو اپنا باپ کہے اور چاہے اپنا بیٹا۔ چاہے ایک قوم کو خود ہی دجال کہے اور اس کی ایجاد کردہ سواری کو خر دجال بتا کر اس پر سوار بھی ہو۔ خود اپنے گریبان میں منہ ڈال کر نہیں دیکھتے کہ دنیائے جہاں کی کونسی گالی ہے۔ جو مرزا قادیانی نے علمائے اسلام کو نہ دی ہو۔ ذریۃ البغایا جیسی ہزاروں گالیاں تصنیف کر ڈالیں۔

لیکن اس بے حسی کا علاج؟ کوئی علاج نہیں۔ جن کو خود اپنے منہ کی گندگی محسوس نہیں ہوتی۔ واہ کیا خوب مرزا قادیانی اپنے حق میں اپنے قلم سے لکھ گئے ہیں۔

بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزبان ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے

(درثمین ص٨٢)

اب ناظرین! کی توجہ اصل مضمون کی طرف دلاتا ہوں کہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت تسلیم کرتی ہے کہ وید الہامی ہیں۔ اس لئے یہ مذہب حق ہے کہ اس کے احکام اسلام کے

٣

صفحہ ٦١٦

احکام جیسے ہیں۔ (اس پر دعویٰ اسلام ہے؟۔ اس لئے مرزا قادیانی آریہ اپنے عقیدہ کی بناء پر ثابت ہوگئے) اور یہی حضرت مولانا نور محمد خان صاحب نے ثابت کیا تھا۔ کیونکہ از روئے شریعت آسمانی کتب صرف توریت، انجیل اور زبور ہیں اور ساتھ ہی قرآن کریم نے ان کو محرف بھی بیان کر دیا ہے۔ باقی صحائف نازل ضرور ہوئے۔ لیکن نہ ان کا وجود ہے اور نہ شریعت نے ان کے وجود کا حکم دیا۔ لہذا اس حکم شرعی کی روشنی میں مرزا قادیانی کے اقوال ویدوں کے متعلق ملاحظہ فرمائیں۔ پس جو لوگ مرزا قادیانی کی تائید کرتے ہیں اور شریعت کو تسلیم نہیں کرتے۔ دراصل وہ یہی جماعت ہے جو ثم قست قلوبهم کی مصداق ہے اور ختم الله علی قلوبهم جن پر چسپاں ہوتا ہے۔

میرے حل طلب معمہ کو حل کرنے کے لئے مؤلف رسالہ اور ان کے ہونہار باپ ”شیخ گجراتی“ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ابوالفضل نے حل طلب معمہ میں آریہ زبان استعمال کر کے اپنے آریہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ماشاء اللہ چشم بدور کیا پیاری منطق ہے؟۔ ناظرین! یہ ہے ان کی ہمہ دانی کا ثبوت کہ اپنے خود ساختہ نبی کو الزام مذکور کی بنا پر خود ہی آریہ تسلیم کر لیا۔ وہ اس طرح کہ مرزا قادیانی کو سنسکرت میں بھی الہام ہوتے تھے۔ اگر سنسکرت کے بولنے اور لکھنے سے مسٹر فضل حق کے نزدیک کوئی آریہ ہو جاتا ہے۔ تو پھر مرزا قادیانی کو سنسکرت میں الہام ہونے کی وجہ سے کیوں نہ آریہ کہا جائے۔ یہ ہے آریہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت۔

دوسرے مرزا قادیانی مدعی ہیں کہ میں کرشن ہوں اور میں ہی مسیح موعود ہوں۔ لہذا اس دلیل سے آپ کو آریہ یا عیسائی کہا جائے تو ہرگز غلط نہیں۔

علاوہ ازیں جس قدر مذاہب ہیں اپنے اپنے پیشواؤں کی تعلیم کے لحاظ سے (مسلمان) یہودی اور آریہ وغیرہ کہلاتے ہیں۔ کسی پیشوا کے نام کی مناسبت سے کوئی محمدی یا موسوی، دیانندی وغیرہ نہیں کہلاتا۔ لہذا تمہارا خود کو احمدی لکھنا یہ گمراہی اور انتہائی جہالت کا ثبوت ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے جو تعلیم پیش کی ہے اس کے لحاظ سے تمہیں خود کو آریہ یا عیسائی لکھنا چاہئے۔

تمہید کے آخر میں مسٹر فضل حق، المعروف شیخ گجراتی اپنا نام صرف فضل احمدی لکھتے ہیں معلوم ہوتا ہے۔

٤

صفحہ ٦١٧
راہ راست پر ہیں وہ کچھ آتے جاتے
تعلی سے اپنی ہیں شرماتے جاتے
بزرگی کے دعوؤں سے پھرنے لگے ہیں
وہ خود اپنی نظروں سے گرنے لگے ہیں

مصنوعی ابوالنور والشمس پر تبصرہ اور ضیاء کی جان کنی

میری حقیقی کنیت بھی تمہیں ناگوار گزری، ورنہ اس میں برا منانے کی کوئی بات نہ تھی۔

برخوردار: یہ نور یوں نہیں ملتا خانہ بخشد خداء بخشندہ! اگر میں نے اپنی کنیت ابوالمبارک یا ابوالخیر لکھی ہوتی۔ اس وقت اگر دون کی لیتے تو کچھ بے جا نہ تھا۔

یاد رکھو! ہمارا طریقہ بددیانتی اور گالیاں دینا نہیں۔ جیسا کہ تمہاری جماعت کا شعار ہے۔ اس وجہ سے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے نام کی کچھ تحقیق کر کے ناظرین کو بتایا جائے تاکہ میرا مخاطب ضیاع الحق سمجھے کہ ان کی ضیاء میں ہمزہ حذف کے ساتھ موعود ساز کی عین کی تابعداری کی بناء پر اضافہ عین (ع) حق بجانب ہے۔

لہٰذا سمجھ لیجئے آج سے ضیاع کے ساتھ انضمام حق پر الزام حق کا ثبوت ہوگا۔ فافہم تافہم !

جان من ! یہ تمہاری قسمت کہاں تھی کہ ابوالنور والشمس بنتے۔ تم کو تو خود تمہارے قلم نے ابوجہل وابولہب بنادیا۔

پڑا تمہیں ابھی دل جلوں سے کام نہیں
جلا کر خاک نہ کر دوں تو شمس نام نہیں

محترم ناظرین! یہ تو ایک قادیانی کی ہرزہ سرائی کا جواب تھا۔ اس کے بعد مولانا نور محمد خان صاحب کا جواب الجواب معہ اصل رسالہ ”کرشن قادیانی آریہ تھے“ پیش ناظرین کیا جاتا ہے۔ امید ہے کہ بنظر تعمق ملاحظہ فرمائیں گے اور اس جماعت کے دجل و زور سے بچیں گے۔

والسلام!

احقر العباد ابوالفضل شمس النبی امروہوی ١٢؍مئی ١٩٣٥ء

٥

صفحہ ٦١٨

بسم الله الرحمن الرحيم!

مرزا قادیانی آریہ تھے

١٠؍ مارچ ١٩٣٥ء کو قادیانی مسیح کے حواریوں نے دجل و کید کی تقسیم کے لئے برعکس نام نہند زنگی کافور یوم تبلیغ مقرر کیا ہے۔ جس میں سادہ لوح اور ناواقف مسلمانوں کے ایمان پر مہذب وغیر مہذب طریقہ سے غارتگری کی جائے گی اور اس امر کی کوشش کی جائے گی کہ مسلمانوں کو حضرت صادق مصدوق ﷺ کے ظل عاطفت سے نہایت فریب آمیز ذریعہ سے نکال کر ایک کاذب مکذوب کے ظلمت فگن سایہ میں کھڑا کر دیا جائے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ مرزائیت کے باوا آدم کے مکر و فریب کا پردہ چاک کر کے اصل حقیقت آشکارا کر دی جائے تاکہ مسلمان ایسے لوگوں سے محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ مرزا قادیانی باقرار خود مسلمان نہیں تھے۔ بلکہ آریہ اور پکے آریہ تھے۔ لہٰذا ان کو اور ان کی امت کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں میں اپنے آریانہ اور ہندوانہ مذہب و ایمان کی تبلیغ کریں۔ کیونکہ جب فتنہ مرزائیت کے بانی منشی غلام احمد قادیانی کو اپنی روٹی کی فکر سے نجات ملی تو کہنے لگے کہ:

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)

(کشف الغطاء ص ١٢، خزائن ج ١٤ ص ١٩٢)

(نجم الہدیٰ ص ١٦، خزائن ج ١٤ ص ٨٩، ٩٠)

(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)

(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)

(تریاق القلوب ص ١٥٧، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٧)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

(تذکرہ ص ٣٨١)

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١٣٠، خزائن ج ١٧ ص ٣١٦)

(مزید تفصیل کتاب کفریات مرزا میں دیکھئے)

٦

صفحہ ٦١٩

مگر وہ مرزا قادیانی جو بقول خود سب کچھ بنے اور اسلام کے واحد اجارہ دار بن کر اپنی مٹھی بھر جماعت کے علاوہ تمام ان مسلمانوں کو جو اس آسمان کے نیچے آباد ہیں اور حضرت رسول اللہ ﷺ کے دامن سے اپنی نجات و ایمان کو وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ کافر و بے ایمان حرامزادے کہتے ہیں۔ (معاذاللہ) آج میں ایسے ایماندار کے ایمان کی حقیقت کو عریاں کرتا ہوں کہ وہ از روئے عقیدہ ایک آریہ تھے۔ اسلام سے ان کو کچھ بھی تعلق نہیں تمہاری وجہ سے وہ آریہ بن کر آریوں کے بادشاہ بنے۔ چنانچہ آپ اپنی سلسلہ تصنیف کی آخری کڑی پیغام صلح جیسی معتبر کتاب میں اپنے آریہ ہونے کا ناقابل تردید ثبوت پیش کرتے ہیں۔ غور سے ملاحظہ فرمائیے۔

اور مقدس سمجھتے ہیں..... اور وید ایک ایسی مجمل کتاب ہے کہ یہ تمام فرقے اسی میں سے اپنے اپنے مطلب نکالتے ہیں۔ تاہم خدا کی تعلیم کے موافق ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ وید انسان کا افتراء نہیں۔“

(پیغام صلح ص ٢٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٣)

کئی کروڑ آدمی ہزار ہا برسوں سے اس کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور ممکن نہیں کہ یہ عزت کسی ایسے کلام کو دے جائے۔ جو کسی مفتری کا کلام ہو اور پھر جبکہ ہم باوجود ان تمام مشکلات کے خدا سے ڈر کر وید کو کلام خدا جانتے ہیں۔“

(پیغام صلح ص ٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٤)

میں پیدا ہوگی جب کہ آپ لوگ وید اور وید کے رشیوں کو سچے دل سے خدا کی طرف سے قبول کر لو گے۔“

(پیغام صلح ص ٢٩، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٨)

ایسی تعلیم شائع کی ہو جو نہ صرف خلاف عقل ہو۔ بلکہ پرمیشر کی پاک ذات پر بخل اور پکش پات کا داغ لگاتی ہو۔“

(پیغام صلح ص ١٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٨)

اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے۔ وہ تعلیم ویدک تعلیم کی کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔“

(پیغام صلح ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٥)

٧

صفحہ ٦٢٠

ناظرین کرام! مرزا قادیانی نے مذکورہ بالا حوالہ جات میں بڑی صفائی سے وید کو الہامی اور اس کی تعلیمات کو اسلامی تعلیمات تسلیم کر کے اپنے آریہ ہونے کا ناقابل انکار ثبوت پیش کیا ہے۔ جس سے علاوہ ہٹ دھرم مرزائیوں کے ہر منصف مزاج شخص یقین کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی واقعی پکے آریہ تھے اور اگر کوئی یہ کہے کہ مرزا قادیانی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ: ”وید ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٦٩ ، خزائن ج ٢٣ ص ٧٧)

”وید خدا کا کلام نہیں اور قانون قدرت کے خلاف ہے۔“

(ملخصاً چشمہ معرفت ص ٩٤ ، خزائن ج ٢٣ ص ١٠١)

تو اس کے جواب میں یہ گذارش ہے کہ: ”آخری عمر کے قول اور فعل قابل اعتبار ہیں اور اس کے مخالف ردی۔“

(ست بچن ص ٩١، خزائن ج ١٠ ص ٢١٥)

لہٰذا مرزا قادیانی کے اس سے پہلے کے تمام اقوال جو مخالف ہیں وہ ردی اور ناقابل اعتبار ہیں اور مرزا قادیانی آریہ اور پکے آریہ ہیں۔

ایک اور طرح سے مرزا قادیانی کے آریہ ہونے کا ثبوت

ہم تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا کا ذرہ ذرہ حادث و مخلوق ہے اور اگر بفرض اس دنیا کے پہلے دنیا ہو تو وہ بھی حادث و مخلوق ہے۔ غرض یہ کہ دنیا اور اس کا سلسلہ (اگر ہو) سب کا سب حادث ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی زمانہ ضرور ایسا گزرا ہے کہ اس وقت خدا تھا اور کوئی مخلوق نہ تھی۔ یہی معنی آیت خالق کل شئی اور حدیث ”كان اللہ ولم يكن معه شئی“ کے ہیں۔ لیکن آریہ دھرم کا اصل اصول یہ ہے کہ چونکہ روح اور مادہ قدیم ہیں۔ اس لئے سلسلہ دنیا قدیم اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی وقت بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ تو ہو اور مخلوق محض روح و مادہ نہ ہو۔ مختصر یہ کہ آریہ دھرم کے نزدیک ”روح و مادہ کی قدامت کی وجہ سے سلسلہ دنیا قدیم ہے۔“

(دیکھو ستیارتھ پرکاش ب ٨ ص ٤٣)

لیکن یہ معلوم کر کے ہمارے ناظرین کو بڑی حیرت ہوگی کہ مرزا قادیانی بھی آریوں کے اس عقیدہ قدامت سلسلہ دنیا کے قائل ہیں۔ جس سے ان کے آریہ ہونے کا پہلو خوب روشن ہو جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں کہ: ”ہم جانتے ہیں کہ خدا کے تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہوئے اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضروری ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ١٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٦٩)

٨

صفحہ ٦٢١

مرزا قادیانی کی اس عبارت کی کامل وضاحت ان کے سالے میر محمد اسحاق کی زبان سے سنئے فرماتے ہیں :۔

وہ ہمیشہ سے خالق بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سے پیدا کرتا اور فنا کرتا چلا آیا ہے۔ ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی مخلوق اس کے ساتھ چلی آرہی ہے۔“

(حدوث روح و مادہ ص ٣)

اور ابد تک پیدا کرتا رہے گا۔“

(حدوث روح و مادہ ص ٧)

واقفیت نہیں رکھتے۔ سلسلۂ کائنات کی ابتدا مانتے ہیں اور خدا کی صفت خلق کا ایک خاص وقت سے کام شروع کرنا تسلیم کرتے ہیں ..... خدا کے خلق کرنے کی کوئی ابتدا نہیں۔ بلکہ جب سے خدا ہے (اور وہ ہمیشہ سے ہے) تب ہی سے وہ مخلوق پیدا کرتا چلا آیا ہے اور جب تک وہ رہے گا اور وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس وقت تک وہ مخلوق پیدا کرتا چلا جائے گا۔ نہ خدا کے خلق کرنے کی ابتداء ہے نہ انتہاء، کوئی پہلی مخلوق گزری ہے نہ آخری مخلوق پیدا ہوگی۔ بلکہ ہر مخلوق کے بعد مخلوق ہوگی اور سلسلہ پرواہ سے انادی ہے۔“

(حدوث روح و مادہ ص ٢٤٤)

مختصر یہ کہ مرزا قادیانی آریوں کی طرح سلسلۂ کائنات کو قدیم اور وید کو الہامی کتاب مانتے ہیں اس لئے وہ پکے آریہ تھے۔ مرزا قادیانی کے امتیو! یہ تو بتلاؤ کہ جب تمہارے پیغمبر وید کو الہامی اور اس کی تعلیمات کو اسلامی تسلیم کرتے ہیں اور سلسلۂ کائنات کو قدیم کہتے ہیں۔ تو اب تمہارا آریوں کے مقابلہ میں الہام وید وغیرہ پر مناظرہ کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟۔ اور کیا یہ مرزا قادیانی کی کھلی نافرمانی نہیں۔ جس کی سزا مرزا قادیانی کی وحی میں جہنم ہے۔ تو تیلی بھی کیا اور روکھا بھی کھایا۔ اللہ اکبر! مرزا قادیانی بقول خود وہ مسیح موعود ہیں۔ جو کفر و شرک مٹانے کے لئے اور ترقی اسلام اور توحید الٰہی کو اپنے مخصوص انداز میں پھیلانے کے لئے دنیا میں رونق افروز ہوئے تھے مگر افسوس کہ:

مرزا قادیانی نے مے پی کر یہ کیسی چال کی
محتسب سے جاملے رندوں کے مخبر بن گئے

٩

صفحہ ٦٢٢

صداقت احمدیت کا جواب

ہمارے رسالہ کی اشاعت کا لازمی نتیجہ تھا کہ قصر مرزائیت میں زلزلہ آ جائے اور کرشن قادیانی کے پجاریوں و پنڈتوں میں صف ماتم بچھ جائے اور وہ منہ بسور بسور کر بیاس کے کنارے خیمہ زن قادیانی مستورات کی طرح سوگوارانہ حیثیت سے آنسو بہائیں۔ چنانچہ خردجال (ریل گاڑی) کے گارڈ مسٹر فضلہ اور ان کے برخوردار ضیاع الحق جملہ مرزائی اسلحہ سے مسلح ہو کر سامنے آئے اور اپنے بزرگوار کی طرح گالیوں اور گندگیوں اور بدکلامیوں کا ایک دفتر ”صداقت احمدیت“ کے نام سے پیش کیا۔ ان ابوجہل وابولہب کی گالیوں و دریدہ دہنیوں کے جواب میں وہی عرض کروں گا کہ جو میرے سچے رہنماء و سرکار دوجہاں ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”اللهم اهد قومی فانهم لا یعلمون او کما قال“ مرزائیت کے خردار و برخوردار تو اپنے باوا جی کی سنت پر عمل کر رہے ہیں کہ ان کے بزرگوار کی دشنام آلود تیر سے نہ خالق محفوظ رہا نہ مخلوق۔

اور میں اپنے پیغمبر اعظم ﷺ کی سنت حسنہ پر عمل کروں گا۔ جو گالیوں کے معاوضہ میں دعائیں فرماتے تھے۔ انشاء اللہ عنقریب میرا رسالہ ”مغلظات مرزا“ نامی منصہ شہود پر آنے والا ہے۔ جس میں منشی غلام احمد قادیانی کی بے شمار گالیوں کو یک جا کر کے ان کی اخلاقی تصویر کو عریاں کیا گیا ہے۔ جس سے مرزائیت کے نومود نبی جی کے ایمان واسلام کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام کی فریب کاریاں بھی ظاہر ہو جائیں گی۔ میں نے اپنے رسالہ میں مرزا قادیانی کے آریہ ہونے کے ثبوت میں دو چیزیں پیش کی تھیں۔

اوّل! یہ کہ مرزا قادیانی پیغمبر نے آریوں کے وید کو خدا کی ایسی الہامی کتاب مانا ہے۔ جو ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہے اور اسلام کی تمام تر تعلیمات ویدک مت کے کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔ تو اس اقرار و تسلیم کا لازمی نتیجہ یہ ہی ہو گا کہ وید ایسی الہامی کتاب ہے جس کی رہبری و رہنمائی میں انسان نہ صرف خدا پرست بن سکتا ہے۔ بلکہ الہامی کتاب اور اسلامی تعلیم کی موافقت کی وجہ سے انسان خدا پرست بنے گا۔ اگرچہ مرزا جی اپنی مشہور بدحواسی کی وجہ سے یہ بھی کہہ گئے کہ ”وید خدا کا کلام نہیں اور قانون قدرت کے خلاف ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٨٩ ملخصاً، خزائن ج ٢٣ ص ٩٧)

”اور وید ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے۔“ (حوالہ مذکور ص ٦٩، خزائن ج ٢٣ ص ٧٧) مگر مرزائیت کے اس مصنوعی رسول کی مضحکہ انگیز اختلاف بیانی سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف اس حقیقت کو آشکارا کرنا منظور ہے کہ غلمدیت کا آسمانی دولہا وید کو الہامی ماننے اور ١٠

صفحہ ٦٢٣

سرق سارق وهو مؤمن“

(حقیقت الوحی ص ١٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٩)

ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث کہاں ہے؟۔

گنگوہی کی خرافات کا مجموعہ ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٩٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٧١)

حضرت مولانا گنگوہیؒ کی یہ کتاب تصنیف کردہ نہیں ہے۔

علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ کاذب ہے۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٥)

سہارنپور میں نجاست پھیلانے والے غلمدیو! بتاؤ یہ مضمون موصوف الصدر مولوی صاحبان نے اپنی کس کتاب میں لکھا ہے؟۔ اگر تطویل مانع نہ ہوتی تو تمہارے کرشن اوتار کی فریب کاریوں، تحریف سازیوں، مغالطہ دہیوں کو پورے طور پر لکھ کر بتایا جاتا کہ اے ابو جہل وابولہب تیرے پیغمبر کی یہ پیغمبرانہ کاروائیاں ہیں۔ اگر کچھ شرم و ندامت ہے تو ڈوب مرو۔

ابولہب یہ بھی کہتا ہے کیا آپ یا آپ کی طرح تمام مسلمان جو حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت کے مصدق اور تورات کو خدا کی طرف سے ماننے والے ہیں۔ سب کے سب یہودی ہیں۔

الجواب! تورات کی الہامیت اور حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت کی تصدیق کرنا اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معین کر کے فرمایا کہ حضرت موسیٰ ؑ نبی ہیں اور ان پر ایک کتاب تورات نازل ہوئی ہے۔ جو اس وقت محرف موجود ہے۔ بخلاف اس امر کے کہ اللہ تعالیٰ نے وید کے الہامی ہونے اور اس کے رشیوں کی نبوت کی تعیین کر کے مسلمانوں کو تصدیق کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔ لہٰذا جو شخص فرمودہ الٰہی کے خلاف جزم و یقین کے ساتھ وید کو خدا کی کتاب مانے اور اس کی تعلیمات کو اسلام کی تعلیمات کے موافق کہے۔ اس کے آریہ ہونے میں کیا شک ہے اور ”ولکل قوم هاد ، الرعد ٧ ، وان من امة الا خلا فيها نذير ، فاطر ٢٤“ کے رو سے آریوں کے رشیوں کی نبوت اور وید کی الہامیت جزم و یقین کے ساتھ یقین نہیں ہو سکتی۔ البتہ ممکن ہے کہ اس قوم میں بھی ہادی و رہنما آئے ہوں۔ فافترقنا! اس لئے محض اس طرح سے کہنے میں نہ کوئی

١١

صفحہ ٦٢٤

ہر قسم کی غلطیوں سے پاک سمجھنے اور اس کو اسلامی تعلیم کا مرقع سمجھنے کی وجہ سے آریہ تھے۔ اس وجہ کی جوابدہی میں مرزائیت کے کاسہ لیس ابولہب برخودار نے حسب سنت مرزا آئیں بائیں شائیں کر کے اپنے حجر اسود کے آریہ پن کو چھپانے کی اس طرح کوشش کی کہ ان کا آریہ ہونا خود برخودار کے ہاتھوں ظاہر ہو گیا۔ کیونکہ ابولہب برخودار کو یہ تسلیم ہے کہ ہمارے قادیان کے ابا جان وید کو خدا کی کتاب مانتے ہیں۔ مگر یہ کہتے ہیں کہ وید کی تعلیم پورے طور پر کسی فرقے کو خدا پرست نہیں بنا سکتی اور نہ بنا سکتی تھی۔ لیکن اس ارشاد مرزا قادیانی کے ساتھ ہی اس عبارت کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا کہ: ”جس قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے وہ تعلیم ویدک تعلیم کے کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔“

(پیغام الصلح ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٥)

جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اسلام کی تمام تعلیمات کا ذخیرہ ویدک مت کی صرف ایک شاخ میں موجود ہے۔ تو پھر کیوں ایسی کتاب خدا پرست نہیں بنا سکتی اور غور تو کرو کہ تمہارے نبی مرزا قادیانی وید کو الہامی کتاب ماننے کے باوجود بھی یہ کہتے ہیں کہ خدا پرست نہیں بنا سکتی اور نہ بنا سکتی تھی۔ کیا کوئی الہامی کتاب ایسی بھی ہے جس کی تعلیم نے کبھی کسی کو خدا پرست نہیں بنایا اور نہ بنا سکی؟۔

ناظرین! مرزا قادیانی کے ان الفاظ ”نہیں بنا سکتی اور نہ بنا سکتی تھی“ کو انصاف سے دیکھیں کہ یہ صحیح ہے یا صرف مراقی دماغ کی پیداوار ہے۔ مرزائیت کے بت کے پجاریو! اسی برتے پر سامنے آئے ہو یا درکھو مرزا قادیانی کو آریہ مت سے نکالنا آگ کے انگاروں پر کھیلنا ہے۔

برخودار ابولہب نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے مرزا قادیانی کی عبارتوں میں تحریف کی ہے۔ مگر یاد رکھو میں اور میرا قلم اس قسم کی تحریف سازیوں سے پاک اور بالکل پاک ہے۔ البتہ دیکھو کہ یہ قادیان کے ”معجون مرکب“ کی تحریف سازیوں نے کس قدر دھوم مچا رکھی ہے کہ آپ کی یہودیانہ خصلتوں سے نہ قرآن کریم محفوظ رہا نہ احادیث کا مقدس ذخیرہ، نہ اولیاء کی کتابیں، نہ علماء کے نوشتہ جات۔ اب اپنے پیغمبر کی تحریفات سنو۔

وقت وہ نشان دکھائے گا۔ جو اس نے کبھی دکھائے نہیں۔ گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا۔ جیسا کہ فرماتا ہے کہ: ”ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام“

(حقیقت الوحی ص ١٥٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٨)

بتاؤ یہ عربی عبارت قرآن کریم میں کس جگہ ہے؟۔

١٢

صفحہ ٦٢٥

آریہ ہو سکتا اور نہ ہندو۔ بلکہ مرزا قادیانی کی جو حیثیت اس سلسلہ میں پیش کی گئی ہے۔ وہ نرالی ہے اور ان کے آریہ ہونے کے لئے کافی و زائد ہے۔

دوسری وجہ یہ پیش کی گئی تھی کہ مرزا قادیانی بھی آریوں کی طرح سلسلہ دنیا کو قدیم وازلی مانتے ہیں۔ جیسا کہ رسالہ ہذا کے اوّل سے ظاہر ہے اور سالے صاحب نے بھی اپنے بہنوئی کی اس معاملہ میں تائید کی ہے۔ اس پر ابو جہل کے برخوردار ابولہب نے وہ لکھا کہ جس سے ان کی لہابت و جہالت نقش کالحجر ہوگئی دیکھئے کس منطقیانہ انداز میں کہتے ہیں کہ لفظ مخلوق خود بتا رہا ہے کہ یہ قدامت کا مقتضی نہیں ۔ اس کے معنی یہ ہی ہوئے کہ مخلوق میں قدیم ہونے کا اقتضاء نہیں ہے۔ بہت اچھا درست ہے لیکن آگے اپنے علم و خرد کی نمائش اس طرح کرتے ہیں ۔ ”بلکہ مخلوق جس صفت قدیم کا نتیجہ ہے۔ اس پر نظر کر کے اگر اس کی قدامت نوعی تسلیم کی جائے تو کیا پھر مخلوق مخلوق نہیں رہتی ۔“

جبکہ مخلوق میں قدامت کی نہ صلاحیت ہے نہ اقتضاء تو پھر کیسے وہ قدیم ہو سکتی ۔ مجھے یقین کامل ہے کہ برخردار نے قدامت نوعی کے معنی بالکل نہیں سمجھے اسی وجہ سے یہ بھول بھلیاں میں مبتلا ہیں ۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”مخلوق کی قدامت نوعی (نہ کہ قدامت حقیقی) تسلیم کی ہے ۔“

(چشمہ معرفت ص ١٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٦٩)

اس بے چارے ابولہب ابو جہل اور اسی طرح اور بھی جو یہاں شیخ نجدی وغیرہ موجود ہیں۔ کسی کی سمجھ میں یہ مضمون نہیں آیا اور بغیر سمجھے بوجھے گھوڑے دوڑائے ہیں ۔ چنانچہ ایک اور ابولہبی لطیفہ سنئے ”پس جب سے صفت خلق ہے تبھی سے مخلوق ہے اور چونکہ صفت خلق مخلوق نہیں۔ بلکہ قدیم ہے مگر مخلوق حادث ہے۔ پس صفت کی قدامت کو مدنظر رکھتے ہوئے مخلوق کی قدامت نوعی تسلیم کی جاسکتی ہے ۔“ (ص ١٨) اوّل جملہ میں صفت خلق کے ساتھ مخلوق کا ہونا بتایا گیا ہے۔ مگر پھر یہ کہا کہ مخلوق حادث بایں ہمہ اس کی قدامت تسلیم کی جاسکتی ہے۔ یہ مضحکہ انگیز اختلاف بتا رہا ہے کہ لکھنے والے کا دماغی پرزہ خراب ہو چکا ہے۔

علاوہ اس اختلاف و افتراق مضامین کے مرزائیوں کے خلیفہ کے بھی خلاف ہے۔ خلیفہ مرزا کہتا ہے۔ ”لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے قدامت نوعی کا بھی وہ مفہوم نہیں لیا جو دوسرے لوگ لیتے ہیں۔ جو یہ ہے کہ جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے۔ یہ ایک بیہودہ عقیدہ ہے اور مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس کے قائل نہیں۔ یہ کہنا کہ

١٣

صفحہ ٦٢٦

جب سے خدا ہے تب سے مخلوق ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ جو دونوں باطل ہیں۔‘‘

(مسیح موعود کے کارنامے ص ٣٩)

تعطل صفات کا مسئلہ تم بے چارے تو کس کھیت کے مولی ہو۔ تمہارے نبی مرزا قادیانی اور ان کے دسترخوان کے ریزہ چینوں کے دماغ میں نہیں آیا۔ اسی وجہ سے وہ قدامت مخلوق کے قائل ہیں۔ سنو! علم کلام میں یہ مسئلہ مکمل طور پر بیان کیا گیا ہے کہ صفت خلق وملک وغیرہ اللہ تعالیٰ کی صفات اضافی ہیں۔ جن میں یہ صفت تو قدیم ہے۔ مگر اس کا تعلق حادث ہوتا ہے۔ اس لئے صفت خلق قدیم مگر اس کا تعلق (مخلوق) حادث ہے۔ اس سلسلہ میں میں چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے چند مجذوبانہ لطائف ناظرین کے تفنن طبع کے لئے پیش کروں۔

(چشمہ معرفت ص ١٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٦٩)

صفت بھی ہے کیونکہ اس کی ذات کے لئے کسی دوسری چیز کا وجود ضروری نہیں۔ اس لئے وہ بھی زمانہ آئے گا کہ خدا کل نقش موجودات مٹادے گا۔ تا اپنی وحدت کی صفت کو ثابت کرے اور ایسا ہی پہلے بھی زمانہ آچکا ہے۔“

(چشمہ معرفت حاشیہ ص ١٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٦٩)

غور! ان دونوں عبارتوں کا مطلب یہ ہوا کہ باری تعالیٰ کی صفات کبھی نہ کبھی ضرور معطل ہوگی۔ مگر مرزا قادیانی کا یہ فرمانا غلط ہو گیا کہ ”خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضروری ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ١٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ١٦٩)

میں کہتا ہوں کہ جب آپ نے خدا کی وحدت محضہ ثابت کرنے کے لئے صفات کا تعطل جائز رکھا ہے۔ اسی طرح ممکن ہے کہ صفت خالقیت معطل ہو اور سلسلہ دنیا پیدا نہ ہو۔ پھر قدامت نوعی کیسی اور کیوں؟۔ اسی کی موافق ایک اور حوالہ سنئے جس کو میں ہندسے لگا کر فقروں میں تقسیم کرتا ہوں۔

ضروری۔“

١٤

دور آجاتا ہے تو صفت ایجا

دفعہ ظہور کیا۔ بلکہ یہ دور قدیم اور غیر تقدم زمانی ہے۔“

خدا نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان

حضرات! غور فرمائیے اختلاف بیانیوں میں مبتلا ہے اور ک قدامت نوعی کا قائل ہے۔ ”الاہ

ان ہیں۔ اسی طرح خدا کے صفات

صفحہ ٦٢٧

دور آ جاتا ہے تو صفت ایجاد ایک میعاد تک معطل رہتی ہے۔"

دفعہ ظہور کیا۔ بلکہ یہ دور قدیم اور غیر متناہی ہے۔ بہر حال صفت وحدت کے دور کو دوسری صفات پر تقدم زمانی ہے۔"

خدا نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان میں ہے پیدا کیا۔"

(چشمہ معرفت ص٦٣، ٦٤ خزائن ج٢٣ ص٢٧٥)

حضرات! غور فرمائیے ایک ہی حوالہ میں قادیان کا سلطان المتکلمین کیسی مضحکہ انگیز اختلاف بیانیوں میں مبتلا ہے اور کیا کوئی ان حوالہ جات کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے ان کا لکھنے والا قدامت نوعی کا قائل ہے۔ 'الا من سفه نفسه' اس کے خلاف ملاحظہ فرمائیے۔

(چشمہ مسیحی ص٢٧، خزائن ج٢٠ ص٣٨٣)

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص١٨٤، خزائن ج٢١ ص٣٥٥)

ان سب کے خلاف ایک اور حوالہ سنئے۔

ہیں۔ اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغناء ذاتی کے پرتوہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پرتوہ اس پر پڑتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 'کل یوم ہو فی شان' "

(چشمہ مسیحی ص٢٨، خزائن ج٢٠ ص٣٦٩)

نوٹ! ناظرین کرام! ان اختلاف بیانیوں کے باوجود بھی کرشن قادیانی اپنے آرین

١٥

صفحہ ٦٢٨

عقائد کے رو سے آریہ اور پکے آریہ تھے۔ خردجال کے محافظ اور اس کے حاشیہ نشین تو بے چارے کیا اس گورکھ دھندے کو درست کر سکتے ہیں۔ اگر پنڈت نورالدین، پنڈت محمود، پنڈت محمد علی۔ بلکہ خود ان کے مہا گرو بھی اپنی پوری قوت صرف کر دیں تو اس الجھی ہوئی گتھی کو نہیں سلجھا سکتے ہیں۔ اگر ہمت ہو تو اپنے اولین و آخرین کو لیکر آؤ اور پیغمبر مرزا قادیانی کو آریہ ہونے سے نکالو۔

اسی آریہ ہونے کی وجہ سے مرزا قادیانی کی زندگی میں بزبان ہندی ایک منظوم رسالہ ”کرشن اوتار“ نامی قادیان سے شائع ہوا تھا۔ جس میں مرزا قادیانی اور ان کے دم چھلوں کے محاسن بیان کئے گئے تھے اور مرزا قادیانی کے اول یار کے حق میں یہ شعر تھا۔

پہلے پریم پنتھ جو رانچے
نور دین پنڈت واہو سانچے

اس لئے غلمدیت کے تمام پجاریوں کو پنڈت لکھنے اور کہنے میں ہم حق بجانب ہیں۔

کرشن قادیانی عیسائی تھے

اب میں ناظرین کی معلومات کے لئے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتا ہوں کہ کرشن قادیانی عیسائی تھے۔ اس لئے کہ عیسائیوں کا اصل اصول عقیدہ تثلیث ہے۔ جس کے مرزا قادیانی قائل تھے۔ دوسرے مرزا قادیانی عیسائیوں کی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ان کو یہودیوں نے مصلوب کیا اور مردہ سمجھ کر دفن کر دیا تھا۔ مگر حقیقت میں وہ صلیب پر مرے نہیں تھے بلکہ مردہ جیسے ہو گئے تھے۔ اسی وجہ سے موجودہ عیسائی مرزا قادیانی اور ان کے تمام حواریوں کو اپنی برادری میں شامل سمجھتے ہیں۔

پاک تثلیث مرزا

١...... ”اگر یہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوت روحانی میں یہ عاجز اور مسیح ابن مریم مشابہت رکھتے ہیں۔ وہ کیا شئے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے۔ جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے۔ جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دل سوزی اور غمخواری خلق اللہ ہے۔ جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قویٰ ایمان سے ملی ہوئی ہے۔ جو اول بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر ان دونوں محبتوں کے ملنے

١٦

صفحہ ٦٢٩

سے جو در حقیقت نر اور مادہ کا حکم رکھتی ہیں۔ ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے۔ سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ خدا تعالیٰ اپنے ارادۂ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کر دیتا ہے اور اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو بارادہ الٰہی اب محبت سے بھر گئی ہے۔ ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اسی وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدا تعالیٰ کی روح سے جو نارِ محبّت ہے استعارہ کے طور پر ابنیّت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے۔ جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے۔ جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرہ امکان کو جو ”ھالکۃ الذات باطلۃ الحقیقۃ “ ہے حضرت اعلیٰ واجب الوجود کے ساتھ برابر ٹھہرا دیا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٢١، ٢٢ خزائن ج ٣ ص ٦١ ، ٦٢)

ناظرین کرام! مرزا قادیانی نے اپنی پاک تثلیث کی ایسی خوبی سے تشریح کی ہے کہ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی! مرزا قادیانی کے اس عقیدہ پاک تثلیث اور دوسرے امر مذکور کو دیکھ کر عیسائیوں نے مرزائیوں کو اپنی برادری میں شامل کرکے یہ اعلان کیا۔

پادری اور پیروؤں کو عیسائی اور تمام احمدیہ جماعت کو مسیحی امت کہتے ہیں؟۔ جواب یہ ہے کہ آج تک مسلمان یہ مانتے رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے صلیب نہیں دی۔ مگر مرزائی کہتے ہیں کہ ان کو یہودیوں نے مصلوب کیا اور یہ سمجھ کر دفن بھی کر دیا کہ وہ مر گئے۔ مگر دراصل وہ صلیب پر مرے نہ تھے۔ بلکہ مردہ سا ہو گئے۔ یعنی مسیحیوں کا سارا عقیدہ مان گئے۔ صرف سولی کسر رہ گئی۔ اب ہمیں مسلمانوں کو یہ منوانا سہل ہو گیا کہ حضرت مسیح مصلوب ہو گئے اور اسی پر تمام مسیحی دین کا دارو مدار ہے۔ کیونکہ پولوس رسول فرماتے ہیں کہ اگر مسیح مصلوب نہیں ہوا تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہے۔ ٤٠ کروڑ مسلمانانِ عالم کو مسیح کی مصلوبیت منواتے پنجابی نبی خدا جانے کس منہ سے کہتے پھرے کہ میرے دم سے عیسائیت کا نام و نشان مٹ جائے گا۔“

(مسیحی رسالہ المائدہ بابت ماہ مارچ ١٩٣٥ء ص ١٤ لاہور)

١٧

صفحہ ٦٣٠

امرتسری کو ایک خط لکھا ہے۔ جس کو مولانا موصوف نے اپنے اخبار اہلحدیث مورخہ ٣ مئی ١٩٣٥ء میں درج کیا ہے۔ اس جگہ اخبار مذکور سے وہ خط نقل کیا جاتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ”ہم ہیں اصل عیسیٰ مسیح کے ماننے والے۔ اصلی مسیحی، اور الفضلی اور پیغامی ہیں نقلی و جعلی مسیح موعود کے پیرو، یعنی نقلی و فرضی مسیحی ہم اپنے اماموں کو پادری کہتے ہیں۔ اس لئے ہماری مناسبت سے انہیں بھی پادری کہنا اور پادری کہلانا ضروری ہے۔“

نور ! ان دونوں بھائیوں عیسائیوں و مرزائیوں میں جو اصل و نقلی عیسائی و مسیحی ہونے میں جھگڑا ہے تو اس میں ہم مسلمانوں کو دخل در معقولات کا کوئی حق نہیں۔ لیکن اگر ناگوار خاطر نہ ہو تو میں عیسائی دوستوں سے یہ گذارش کروں گا کہ مرزائی صاحبان آپ کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اگر چھوٹا بھائی ناراض ہو گیا ہے تو بڑے بھائی کو چاہئیے کہ اپنے لطف و کرم سے اس کو راضی کرے۔ مگر یہ سن کر بڑی مسرت ہوئی کہ آپ دو بھائیوں میں صلح وصفائی کے تمام مراحل طے ہو گئے ہیں۔ صرف ایک سا کی کسر رہ گئی ہے۔ خدا کرے یہ سا بھی مٹ جائے اور دونوں بھائیوں میں حقیقی برادرانہ سلوک پیدا ہو جائے۔ آمین !

بہر حال اللہ کے فضل و کرم سے یہ حقیقت آشکارا ہوگئی کہ کرشن قادیانی آریہ تھے یا عیسائی ۔ اسلام میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں۔

میرے پہلو سے گیا پالا ستم گر سے پڑا
مل گئی اے دل تجھے کفران نعمت کی سزا

نوٹ ! اگر کوئی خر دجال کے ( ریل گاڑی ) ”گارڈ“ یا یاجوج ماجوج کے پوسٹ آفس کے کلرک یا نئے نبی مرزا قادیانی کے کوئی نئے امتی یا دندان ساز ...... وغیرہ اپنے پیغمبر مرزا قادیانی کے آریہ پن اور ہندوانہ مذہب اور انگشتی نبوت کی کرشمہ سازیوں کو دیکھ کر بلبلا اٹھیں اور باوجود سعی بسیار اس کے جواب دینے کی پھر ہمت کریں تو یہ ضروری ہے کہ وہ دیکھ لیں سامنے کون ہے کیونکہ:

سنبھل کے رکھنا قدم دشت خار میں مجنوں
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

خادم اسلام ! نور محمد از مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور ٧؍مئی ١٩٣٥ء ...... ٣؍صفر ١٣٥٤ھ

١٨

ما عالی مجلس تحفظ ختم نبو ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا و طباعت اور رنگین ٹائیٹل ، ان صد روپیہ ، منی آرڈر بھیج کر دفتر مرکزیہ عالمی مجل