رَدِّ قادیانیت
رسائل
جناب بابو پیر بخشؒ لاہوری
احتسابِ قادیانیّت
یازدہم
عَالمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122
رَدّ قادیانیت
رسائل
جناب بابو پیر بخشؒ لاہوری
احتساب قادیانیت
یازدهم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 514122
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ١٤٠٤
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ
وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَظِيْم
مُحَمَّدؐ باپ نہیں کسی کا تمھارے مَردوں میں سے، لیکن رَسُول ہے اللہ کا اور مُہر سب نبیوں پر
Muhammad is not the father of any one of your men, but the
Messenger of ALLAH (God) and the Seal upon all the Prophets.
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم
ترجمہ: قطب العالم شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن قدس سرہ
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ
میں "خاتم النبیین" ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
تعارف !
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم، امابعد!
محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم توفیق و عنایت سے ”احتساب قادیانیت“ کی گیارھویں جلد پیش خدمت ہے۔ یہ جلد جناب بابو پیر بخش لاہوری مرحوم کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہے۔ محترم جناب بابو پیر بخش صاحب بھاٹی دروازہ لاہور کے رہنے والے تھے۔ گورنمنٹ کے محکمہ ڈاک میں ملازم تھے۔ فروری ١٩١٢ء میں پوسٹ ماسٹر کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ پائی۔ آپ نے لاہور میں انجمن تائید الاسلام کی بنیاد رکھی۔ اسی نام سے ایک ماہوار رسالہ بھی شائع کرتے رہے۔ اچھرہ کی معروف فیملی میاں قمر الدین مرحوم ان کے دینی کاموں میں بہترین مددگار ثابت ہوئے۔ محترم بابو پیر بخش کے انتقال کے بعد ماہنامہ تائید الاسلام کے چند شمارے شائع ہوئے۔ جن کے ایڈیٹر ہمارے استاذ محترم مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ رہے۔ محترم بابو پیر بخش صاحب کی مندرجہ ذیل کتب و رسائل اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں:
- ١...... معیار عقائد قادیانی سن تصنیف ١٩١٢ء
- ٢...... بشارت محمدی فی ابطال رسالت غلام احمدی " ١٩١٨ء
- ٣...... کرشن قادیانی " ١٩٢٠ء
- ٤...... مباحثہ حقانی فی ابطال رسالت قادیانی " ١٩٢٣ء
- ٥...... تفریق درمیان اولیائے امت اور کاذب مدعیان نبوت و رسالت " ١٩٢٦ء
- ٦...... اظہار صداقت (کھلی چٹھی بنام محمد علی و خواجہ کمال الدین لاہوری) " ......
- ٧...... تحقیق صحیح فی تبریج " ١٩٣٢ء
- ٨...... قادیانی کذاب کی آمد پر ایک محققانہ نظر " ......
- ٩...... مجدد وقت کون ہو سکتا ہے؟ " ......
فقیر ..... اللہ وسایا! ١٤ محرم الحرام ١٤٢٥ھ 6 مارچ 2004ء
اشاعت اول : اپریل ٢٠٠٤ء قیمت ٢٠٠ روپے
بسم الله الرحمن الرحيم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حمد بے حد مدح بے عدد اس ذات ستودہ صفات پر جس کی قدرت کاملہ سے تمام کائنات نے ایک حرف کُن سے ظہور پکڑا اور جس نے اپنی حکمت بالغہ سے انسان کو زیور عقل سے آراستہ کر کے قوت تمیز عطا فرمائی۔ جس کے ذریعہ سے حق و باطل میں تمیز کر سکتا ہے جس کی ذات بے چون و بے چگون میں کسی وجود جنسی کو امکان شرکت نہیں اور جس کی ذات پاک میں جزو و کل جسم و روح کو دخل نہیں تشبیہہ و مثال سے پاک ہے یا جو کچھ ذہن وہم و خیال میں انسان کے آئے۔ اس کی ذات اس سے منزہ ہے۔
درود بے حد و نعت نامعدود اس کامل انسان پر کہ جس کی شان
متمم مکارم الاخلاق محمد رسول اللہ ﷺ کی مبارک ذات پر ہو کہ جس نے اپنی اکمل و اتم تعلیم سے گم گشتگان کوئے ضلالت کو راہ راست توحید بتایا اور انسانوں کو کفر و شرک سے نکال کر ایسی کامل تعلیم دی کہ جس میں گم گشتگی کا ہرگز احتمال نہیں اور معاش اور معاد کی تعلیم ایسے حد اعتدال پر فرمائی کہ دنیا بھر کی سیاسی و تمدنی تعلیم پر سبقت رکھتی ہے۔
مقام عبودیت والوہیت کو ایسا الگ الگ رکھا کہ شرک فی الذات وصفات و عبادات نام تک نہیں۔ اس سلطان رسل و افضل انبیاء کی تعلیم پاک اس قدر اکمل ہے کہ اس کے بعد نہ کسی نبی کی ضرورت ہے۔ نہ کسی مرسل کی۔ سچا رہنما اور دستور العمل قرآن مجید اس کا زندہ جاوید معجزہ ہماری اور آئندہ نسلوں کی ہدایت کے واسطے کافی ہے جو کہ ہر تنازعہ کے وقت ہر ایک زمانہ میں سچے منصف و جج کا کام دیتا ہے۔ اللّٰہم صلی علیٰ محمد و آلہ و اصحابہ واہل بیتہ اجمعین برحمتک یا ارحم الرحمین۔
اما بعد احقر العباد پیر بخش پوسٹماسٹر حال گورنمنٹ پنشنر ساکن لاہور بھاٹی دروازہ۔ برادران اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ مجھ کو بہت مدت سے مرزا قادیانی کی صفات سن کر اشتیاق تھا کہ ان کی تصنیفات کا مطالعہ کروں اور ممکن فائدہ اٹھاؤں مگر چونکہ
یہ کام فرصت کا تھا اور مجھ کو ملازمت کی پابندی تھی اور میرا محکمہ ڈاک بھی ایسا تھا کہ مجھ کو فرائض منصبی سے بہت کم فرصت ہوتی تھی جو کہ ضروریات انسانی میں بھی ملتوی نہ تھی۔ اسی واسطے میں اپنے شوق کو پورا نہ کر سکا۔ مگر اب مجھ کو بفضل خدا تعالیٰ بتقریب پینشن ماہ فروری ١٩١٢ء سے فرصت تھی۔ میں نے مرزا قادیانی کی تصانیف دیکھیں اور ان کی کتابیں فتح اسلام توضیح المرام ازالہ اوہام حقیقۃ الوحیٰ براہین احمدیہ پڑھیں۔ قریباً تمام کو دعویٰ مسیح موعود اور آسمانی نشانات سے مملو پایا۔ مجھ کو ان سے کچھ بحث نہیں اور نہ پیشگوئیوں کے صدق و کذب سے کچھ غرض، کیونکہ ہر ایک شخص کی تعلیم اس کی صداقت کا اصلی معیار ہے۔ اگر اس کی تعلیم کامل اور اصول اسلام کے مطابق ہے تو اس کے دوسرے دعاوی کو ماننے میں کچھ عذر نہیں ہو سکتا اور اگر تعلیم ناقص اور اصول اسلام کے برخلاف ہے تو سب دعوے باطل، ہر ایک عمل کی جڑ اعتقاد اور ایمان ہے۔ جب اعتقاد اور ایمان درست نہ ہوں تو اعمال کیا درست ہوں گے؟
میں نے ان کی تعلیم دیکھی ہے کہ مرزا قادیانی کیا سکھاتے ہیں اور ان کی تعلیم موجودہ زمانہ کی رمز شناس ہے یا نہیں؟ اور جہاں تک مجھ کو نظر آیا ہے ان کی تحریر دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک تفریط عقلی دوسرا افراط عقلی۔ تفریط عقلی میں تو وہ اپنی تعریف میں حد شریعت سے تجاوز کر کے شرک ذات باری تعالیٰ تک پہنچ گئے ہیں اور افراط عقلی میں معجزات انبیاء علیہم السلام اور وجود ملائکہ نزول و صعود مسیح علیہ السلام میں نیچریت بلکہ سر سیّد احمد کی تقلید تک پہنچے ہیں اور دعویٰ مسیحیت میں ایسے محو ہیں کہ آیات قرآنی اور احادیث نبوی کے معانی میں بہت کچھ تصرف کیا ہے اور اپنے مفید مطلب معنی کیے ہیں۔ چاہے سیاق و سباق اور نظم قرآن اس کے مخالف ہو۔ اس لیے یہ ایک مختصر رسالہ مرزا قادیانی کی تعلیم پر بغرض تحقیق حق لکھا ہے۔ جس سے یہ غرض ہے کہ اہل اسلام علی العموم و جماعت قادیانی علی الخصوص اپنی اپنی جگہ غور فرمائیں اور دیکھیں اگر یہ تعلیم قرآن اور حدیث کے موافق اور مطابق پائیں تو بیشک عمل فرمائیں۔ ورنہ اس ٹھوکر سے بچنے کی کوشش کریں۔ ایسا نہ ہو کہ بجائے ترقی ایمان کے قعر ضلالت شرک میں پھنس کر شریعت کو ہاتھ سے دے بیٹھیں۔ ہر ایک صاحب اپنے آپ اللہ کا خوف دل پر لا کر اپنے ضمیر سے فتویٰ لے کہ جس تعلیم کو ہم ذریعہ نجات خیال کرتے ہیں۔ وہ ہم کو دلدل شرک میں پھنسا کر ہلاک کرنے والی تو نہیں ہے؟ صرف خوابوں اور الہاموں پر جو کہ شرعی حجت نہیں ہے۔ مائل ہونا معقول نہیں ہے اور نہ اسباب نجات آخرت ہے۔ آئندہ آپ کا
اختیار ہے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيْن.
تمہید اوّل
ہر ایک مصلح قوم کی تعلیم دیکھی جاتی ہے اگر اس کی تعلیم قوم کی حالت اور مذہب کے مطابق ہے تو اس کے دعویٰ کو ماننے میں ہرگز عذر نہ ہونا چاہیے اور اگر اس کی تعلیم اصول اسلام کے برخلاف یعنی قرآن اور حدیث کے موافق نہیں تو قابل تسلیم نہیں اور نہ کسی شخص کے خود تراشیدہ معانی آیات قرآنی کی جو قرآن وحدیث کے برخلاف ہو کچھ وقعت ہے۔ اہل اسلام کے پاس ایک معیار ہے۔ جس پر وہ ہر ایک کھری اور کھوٹی تعلیم کو پرکھ سکتے ہیں اور کسی شخص کے دعویٰ اور بلند پروازیوں پر یقین نہیں کر سکتے۔ چاہے وہ سچ مچ رسی کے سانپ بنا کر دکھا دے یا ہوا پر اُڑے اور پانی پر چلے۔ اگر اس کا کوئی قول یا فعل شریعت حقہ کے برخلاف ثابت ہو تو ہرگز ماننے کے قابل نہیں ہے۔ خواہ وہ کیسا ہی اپنے آپ کو من جانب اللہ یا فنا فی اللہ یا بقا باللہ بتا دے۔ امتحان شرعی کے بغیر اس پر ایمان نہ لانا چاہیے۔ رسولِ عربیﷺ پر ایمان اسی واسطے رکھتے ہیں کہ آپﷺ کی تعلیم خالص ہے اور اس میں کسی قسم کے شرک وکفر وغیرہ شکوک کو دخل نہیں ہے اور آپﷺ کا استمراری معجزہ قرآن شریف ہماری ہدایت کے واسطے اور آئندہ نسلوں کے واسطے ہمارے ہاتھ میں ہے۔ قرآن پاک کی تعلیم تمام مذاہب سے افضل واکمل اسی واسطے ہے کہ اس میں وجود باری تعالیٰ اور اس کی الوہیت وصفات میں کسی دوسرے کی شراکت روا نہیں رکھی گئی برخلاف دوسرے مذاہب کے انھوں نے الوہیت وعبودیت میں اشتراک جائز رکھا اور انسان کو خدائی کے مرتبے تک پہنچایا اور طرح طرح کی تاویلات سے لوگوں کو گمراہی میں ڈالا اور خالص توحید کو ہاتھ سے کھو دیا۔ ایک دین اسلام ہی ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ کی ذات پاک کو شرک کے شائبہ سے پاک رکھا ہوا ہے اور یہی فضیلت اس کو دوسرے دینوں پر ہے۔ اہل اسلام کا ہمیشہ سے قاعدہ چلا آیا ہے کہ اگر کسی شخص کی تصنیف یا فعل انھوں نے اصول اسلام کے برخلاف پایا تو فوراً اس پر حد شرع لگا کر بغرض سلامتی دین اسلام گندے عضو کی طرح کاٹ کے الگ پھینک دیا اور جس شخص کی تعلیم کو مطابق اصول اسلام اور شرک و بدعت سے پاک پایا۔ اس کی عزت کی اور اس کو امام و پیشوا مانا اور پیروی کی۔ ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ پہلے اس کے کہ وہ کسی شخص کے ہاتھ پر ہاتھ دے۔ یعنی بیعت کرے اس شخص کی تعلیم کو دیکھے کہ اس کو راہ
راست اسلام کے اصولوں سے گمراہی میں ڈالنے والی تو نہیں ہے۔ پہلے امتحان کرے اور پھر اس کی بیعت کرے۔ ایسا نہ ہو کہ بغیر امتحان تعلیم شرک و کفر میں جا پھنسے اور شریعت حقہ کو ہاتھ سے دے کر خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ کا مورد ہو۔ ہر ایک شخص کی تعلیم کو پرکھنے کے واسطے اہل اسلام نے چند اصول مقرر کیے ہوئے ہیں اور یہی ادلہ عادلہ ہیں۔ اگر کوئی تعلیم ان اصولوں کے برخلاف پاتے ہیں تو ہرگز نہیں مانتے کیونکہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب کوئی تنازعہ تم میں اٹھے تو میری کلام اور رسول ﷺ کی کلام پر فیصلہ کرو۔
- (اوّل)...... تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ چاہے کوئی کیسے ہی دعاوی کرے اور ہوا پر
اڑے اور پانی پر چلے۔ اگر قرآن شریف اور احادیث نبوی ﷺ کے برخلاف تعلیم دیتا ہے تو اس کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔
- (دوم)...... شرک فی النبوۃ جائز نہیں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ یعنی
رسالت محمد ﷺ میں کسی دوسرے شخص کی شرکت نہیں ہے کیونکہ وہ خاتم النبیین تھے۔
- (سوم)...... نصوص شرعیہ یعنی قرآن و حدیث کے مقابلہ میں کشف و الہام حجت شرعی نہیں
ہے۔
- (چہارم)...... وحی مشرع و امر و نواہی خاصہ انبیاء علیہم السلام ہے۔ عوام پر اس کا نازل ہونا
ممتنع الوقوع ہے کیونکہ نبی کی فطرت دوسرے اشخاص سے بالکل جدا ہوتی ہے۔
- (پنجم)...... ادلہ عادلہ صرف قرآن مجید و احادیث نبوی، اجتہاد ائمہ اربعہ و اجماع امت
ہے۔ اس کے سوا دلائل کشفی و الہامی جن کا تمسک قرآن اور حدیث سے نہ ہو حجت شرعی مستند نہیں۔ ان اصول متذکرہ بالا سے ہر ایک پیر یا امام یا مرشد کی تعلیم اور عمل کو امتحان کرنا چاہیے۔ اگر اس معیار شرعی پر کھری معلوم ہو تو بلا عذر ماننا چاہیے اور اگر اس کے برخلاف ہو تو ہرگز کورا تقلید نہ کرنی چاہیے یہ کوئی معقول دلیل نہیں ہے کہ چونکہ اس کے بہت پیرو ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے ہو جانا چاہیے۔
ناظرین! اگر ہم اس فانی زندگی کے آرام کے واسطے کوئی چیز خرید کرتے ہیں۔ تو کیا پہلے اس کی جانچ پڑتال کرتے ہیں؟ مگر کیسے افسوس کی بات ہے کہ ہم غیر فانی اور آخرت کے اسباب کے خریدنے میں کوئی احتیاط عمل میں نہ لائیں اور صرف اسی دلیل پر کہ چونکہ بہت لوگ اس شخص کے مرید ہو رہے ہیں۔ ہم بھی ہو جائیں اور مواخذہ آخرت کی پرواہ نہ کریں۔ مسیلمہ کذاب کے قلیل عرصہ یعنی تین چار ہفتہ میں لاکھ سے اوپر پیرو ہو گئے تھے کیا وہ حق پر تھا؟ اور مرید بھی ایسے راسخ الاعتقاد تھے کہ اس کے حکم پر
عزیز جانیں قربان کر دیتے تھے اور جنگ و جدال کرتے تھے۔ جب ہمارے پاس معیار ہے تو ہمارا فرض ہے کہ دیکھیں کہ جو تعلیم ہم ذریعہ نجات آخرت خیال کر کے قبول کرتے ہیں۔ وہ اس معیار شرعی کے برخلاف تو نہیں اور بجائے ہماری نجات کے ہمارے عذاب آخرت کا باعث تو نہیں؟ کیونکہ خدا نے ہم کو نور عقل واسطے تمیز نیک و بد کے دیا ہوا ہے۔ اس روشنی سے ہمارا فرض ہے کہ نیک و بد میں تمیز کر لیں اور پھر تسلیم کریں۔
تمہید دوم
امور غیبیہ پر اطلاع بذریعہ خواب و رویا، کشف، الہام وحی ہوتی ہے۔ ان کے سوا ایک اور باعث بھی ہے۔ وہ کیا؟ کیفیت مزاجیہ جبکہ سوداء حرارت و یبوست مزاج پر غالب ہو یا محاکات متخیلہ یعنی چند صورتیں جو خارجی وجود نہ رکھتی ہوں کسی شخص کو نظر آتی ہوں اور دیگر حاضرین اس کو نہ دیکھ سکیں۔ ہر ایک قسم کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
وحی تو خاصہ انبیا علیہ السلام ہے کیونکہ وحی مشعر بر اوامر و نواہی سوا انبیاء علیہم السلام کے کسی دوسرے کو نہیں ہوتی اور یہ بواسطہ فرشتہ ہوتی ہے۔ فحوائے آیت کریمہ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ (شوریٰ ٥١) یعنی بشر کو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بغیر وحی اور حجاب کے بلاواسطہ کلام کرے اور وحی کا آنا آنحضرت ﷺ کی ذات پاک سے مخصوص تھا۔ چنانچہ امام غزالیؒ مکاشفۃ القلوب باب ١١١ میں رسول اللہ ﷺ کی وفات میں تحریر فرماتے ہیں کہ ”حضرت جبرائیلؑ نے آ کر کہا کہ اے محمد ﷺ یہ میرا زمین پر آخری دفعہ کا آنا ہے۔ اب وحی بند ہو گئی۔ اب مجھے دنیا میں آنے کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ ﷺ کے واسطے میرا آنا ہوا کرتا تھا۔ اب میں اپنی جگہ پر لازم و قائم ہوں گا۔“
حضرت ابو بکر صدیقؓ رسول اللہ ﷺ کے جنازہ پاک پر کھڑے ہو کر درود پڑھنے لگے اور رونے لگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ تمہاری وفات سے وہ بات منقطع ہو گئی جو کسی نبی اور رسول کے مرنے سے منقطع نہ ہوئی تھی۔ یعنی حضرت جبرائیلؑ کا نازل ہونا اور یہ ایک دستور العمل یا قانون الٰہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے واسطے عنایت فرماتا ہے جس میں جھوٹ وساوس شیطانی کا ہرگز احتمال نہیں ہوتا۔ وحی میں پیغمبر کی خواب یا رائے یا کشف وغیرہ کیفیات روحانی کا دخل نہیں ہوتا۔ وہ خالص کلام الٰہی ہوتی ہے۔ جس کو کلام اللہ یا قرآن مجید کہا جاتا ہے۔
رسول پاک کی کلام یا رائے کو حدیث نبوی کہتے ہیں اور کیفیات روحانی نبی ﷺ کو حدیث قدسی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِّنْ اَمْرِ دِیْنِكُمْ فَخُذُوْا بِهِ وَإِذَا اَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِّنْ رَّأیٍ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ (رواہ مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال ما قال شرعا۔ حدیث ٢٣٦٢) ”یعنی میں بھی تو انسان ہی ہوں۔ جب تم کو تمھارے دین کی کسی بات کا حکم ہو تو اس کو مان لو اور جب کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو بیشک میں بھی انسان ہوں ۔“ وحی بذریعہ فرشتہ یعنی حضرت جبرائیلؑ ہوتی ہے کیونکہ قوائی انسانی براہِ راست وحی الٰہی کے متحمل ہونے کے قابل نہیں۔ اگر کوئی شخص غیر نبی دعویٰ وحی کرے تو مسلمان اس کو تسلیم نہیں کر سکتے اور نہ شرعاً مامور ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔ اَلَا وَاِنِّيْ لَسْتُ نَبِيٌّ وَلَا يُوْحَى اِلَيَّ یعنی میں نبی نہیں ہوں اور نہ میری طرف وحی کیا جاتا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ وحی خاصہ نبی ہے۔
خواب و رؤیا: ایک کیفیت ہے جو کہ انسان پر بالطبع واقع ہوتی ہے۔ جس کو نیند یا نیم خواب کہتے ہیں۔ اس حالت میں دماغی قوائے متخیلہ، متفرقہ، متوہمہ، متفظہ، حس مشترک اپنا اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ بظاہر اگر چہ انسان بے حس ہو جاتا ہے۔ یعنی اس کا بدن سو جاتا ہے۔ مگر اس کے دماغ کی سب کلیں چلتی رہتی ہیں اور جس طرح بیداری میں انسان مختلف مقامات جسمانی و روحانی کی سیر کرتا ہے۔ اسی طرح عالم خواب میں بھی بذریعہ دماغی قواء سیر کرتا ہے اور انھیں حواس کے ذریعہ سے مختلف شکلیں اور صورتیں جو اس نے کبھی عالم بیداری میں دیکھی تھیں۔ یا ان کی تعریف کتابوں میں پڑھی یا کانوں سے سنی تھی۔ دیکھتا ہے اور یہ دیکھنا بذریعہ حواس حقیقی نہیں ہوتا۔ صرف خیالی ہوتا ہے کیونکہ انسان حقیقی چیز کبھی خواب میں نہیں دیکھ سکتا یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ خواب میں ہمیشہ وہی صورتیں شکلیں واقعات پیش ہوں گے جو کہ انسان کسی وقت ان کو سن چکا ہے یا دیکھ چکا ہے یا کتاب میں ان کی تعریف پڑھ چکا ہے۔ اسی کا نام رؤیا بھی ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں اس طرح سمجھو کہ حس مشترک پر جو جو اشکال مختلف اور صورت جداگانہ مرتسم ہو چکی ہیں۔ وہی اشکال اور صورتیں خواب میں دکھائی دیتی ہیں اور قوت حافظہ جس قدر ان میں سے یاد رکھ سکتی ہے۔ وہ صبح کو خواب کہلاتے ہیں۔ آگے انسان اپنی اپنی سمجھ کے مطابق خوابوں کی تعبیر کر لیتا ہے۔ حس مشترک پر جو جو خیال مرتسم ہوتے ہیں۔ ضرور دنیاوی حالات اور عملیات سے محدود ہوتے ہیں اور انھیں کے تکرار تصورات اور تخیلات سے خواب بن جاتے ہیں۔ اور انہی سے انسان بطریق فال یا شگون تعبیر کر لیتا ہے اور عقل کے مطابق
کسی نہ کسی خواب پر جس کو وہ بوثوق سچا ہونے کا گمان کرتا ہے اور اس پر بھروسہ کر کے سچا خواب کہہ دیتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ توارد خیالات ہوتا ہے جو کہ اتفاق سے تطبیق کہا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سچی خواب صرف نیکوکار یا پرہیز گار کو ہی نہیں آتیں بلکہ ایک توارد ہے جو کہ اتفاق سے بدکار کو بھی ہوتا ہے۔ بدکار بدکاری کی حالت میں سچا خواب دیکھ لیتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ بدکار یا نیکوکار کا خواب اس کام کے ہو جانے کا باعث ہے جو خواب میں دکھائی دیا تھا۔ یہ صرف توارد کے طور پر ہوتا ہے اور انسان اپنے خواب کو سچا کرنے کے واسطے الفاظ و معانی خواب کو توڑ مروڑ کر مرادی معنے لے کر مطابق بنا لیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص نے ایک کا مر جانا خواب میں دیکھا اور وہ شخص مر بھی گیا۔ تو اس سے یہ ثابت نہیں کہ اس کی مرگ کا باعث خواب ہے۔ یا خواب دیکھنے والے کی بزرگی اس سے ثابت ہوتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عالم بیداری میں انسان کی غالب توجہ جس طرف رجوع ہوتی ہے۔ اسی اہم کام کے اسباب کے خواب بھی اس کو نظر آتے ہیں اور بعض ان میں سے بسبب فتور حافظہ یاد نہیں رہتے اور جو یاد رہتے ہیں۔ ان کی تعبیر اگر موافق کی گئی تو وہ سچ ہوا۔ ورنہ جھوٹ اور یہ بھی چیدہ چیدہ ہوتے ہیں۔ ورنہ ہزارہا خواب روزمرہ دیکھے جاتے ہیں مگر نہ تو تمام کوئی ظاہر کر سکتا ہے اور نہ تمام خوابوں کی تعبیر سچی ہو سکتی ہے صرف گمان و وہم سے انسان جو کچھ خیال کر لے کر سکتا ہے۔ خوابوں کو ذریعہ بزرگی سمجھنا اور نشان ولایت سمجھنا غلطی ہے کیونکہ سچے اور جھوٹے خواب جیسا کہ ایک مسلمان پارسا دیکھتا ہے۔ ویسا ہی ایک لا مذہب بت پرست یہودی و ترسا وغیرہ بھی دیکھتے ہیں۔ جیسے ان کے خواب سچے بھی ہوتے ہیں اور جھوٹے بھی ہوتے ہیں۔ ویسا ہر ایک مسلمان بزرگ کی خوابیں سچی اور جھوٹی ہوتی ہیں۔ تو خواب کو معیار صداقت بنانا کیسی نادانی ہے اور کیسی سخت غلطی ہے۔
چونکہ انسان اپنے مطلب میں محو ہو کر ہر ایک بات سے تفاول کرنے کا عادی ہے اور ہر ایک وقوعہ سے جو پیش آئے یا مہمل حالات یا مبہم الفاظ ہوں۔ ان سے اپنے مفید مطلب معنی نکالنا چاہتا ہے۔ اس لیے خوابوں کو ذریعہ حل مشکلات سمجھ کر استخارہ یا تفاول کر کے اپنی تسلی کرتا ہے اور جو خواب اپنے کام کے مؤید پاتا ہے۔ ان کو خدا کی طرف سے جانتا ہے اور جو مخالف پاتا ہے۔ ان کو وسوسہ شیطانی جان کر رد کر دیتا ہے مگر واضح رہے کہ بعض وقت وساوس شیطانی بھی اتفاق زمانہ سے سچے ہو جاتے ہیں۔
بعض قومیں خوابوں کے علاوہ جانوروں کی آوازوں سے بھی تفاول کرتی ہیں
اور راست پاتی ہیں۔ یعنی جب کسی کام کے واسطے گھر سے نکلتے ہیں تو کوا، گدھا کی آواز میں سے بعض کو سعد اور بعض کو نحس جانتے ہیں اور وہ اس فال کو بعض وقت راست پاتے ہیں۔ غرض خوابوں پر مائل ہونا عقلمندی اور دینداری کے خلاف ہے کیونکہ خوابوں پر اعتبار کر کے انسان گمراہ ہو جاتا ہے اور خواہ مخواہ اس کو اپنی بزرگی کا گمان ہو جاتا ہے اور یہ ایک شیطان کا حربہ ہے۔ ہلاکت ایمان کے واسطے۔
خواب کی دو قسمیں
یہی وجہ ہے کہ حضرت شیخ ابن عربیؒ خواب کی دو قسمیں بیان فرماتے ہیں۔ ایک سچا خواب دوسرا پریشان خواب۔ ویسے ہی بیداری میں جو چیز دیکھی جاتی ہے۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ امر ہے جو محض حقیقی اور نفس الامر میں ہو۔ دوسرا وہ جو محض خیالی ہو اور اس کی کوئی اصلیت نہ ہو۔ ایسے ایسے امور شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ کبھی کبھی اس میں بعض سچی باتوں کو بھی ملا دیتا ہے تاکہ اس صورت کے مشاہدہ کرنے والا راہ حق سے بھٹک جائے۔ اسی واسطے سالک کو مرشد کی ضرورت ہے تاکہ مرشد اس کو راہ راست بتا دے اور مہلکات سے بچائے۔ یہ عبارت شیخ عربیؒ کی ہے۔
مرزا قادیانی کا بھی اقرار ہے کہ بدکاروں کو بھی کبھی کبھی سچی خوابیں آتی ہیں۔
(حقیقۃ الوحی ص ٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥)
پس اس سے ثابت ہوا کہ خواب خواہ سچی ہی ہو معیار صداقت نہیں ہے۔ اب مرزا قادیانی کے خواب اور الہامات کس طرح ان کی بزرگی اور ولایت اور نبوت پر دلیل ہو سکتے ہیں؟ حالانکہ خلاف شریعت ہوں۔ جیسا کہ تو ابن اللہ ہے۔ تو مجھ سے ہے میں تیرے میں ہوں۔ تیرا تخت سب تختوں کے اوپر بچھایا گیا ہے تو خالق زمین و آسمان ہے۔ ناظرین! یہ تو صاف وساوس ہیں کیونکہ یہاں حفظ مراتب عبودیت والوہیت نہیں رہا۔
حضرت شیخ ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ پیر طریقت ہی ایسی خطرناک منزل سے مرید کو نکال سکتا ہے۔ اگر کسی کا مرشد نہ ہو تو وساوس شیطانی اس کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے ہی پیر کی بابت فتوحات میں لکھتے ہیں کہ ان کو بھی شیطان نے وسوسہ میں ڈالا تھا کہ تو عیسیٰ ہے۔ مگر ان کے مرشد نے ان کو بچا لیا۔ اگر مرزا قادیانی کا بھی کوئی مرشد یا پیر طریقت ہوتا تو ان کو بھی وہ اس خطرناک منزل سے نکالتا کیونکہ صوفیاء کرام میں نیچے سے اوپر تک جس قدر بزرگ سلسلہ میں ہوتے ہیں۔ سب سے روحانی فیض مرید کو پہنچتا ہے اور ہر ایک سلسلہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوتا ہے۔ حضرت محبوب
سبحانی سید عبدالقادر جیلانیؒ ایک دفعہ سخت مجاہدہ میں تھے۔ اور عبادت الہی میں مشغول تھے۔ یہاں تک کہ پیاس سے جان بلب ہو گئے۔ اس وقت انھوں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ جنگل میں خوب بارش ہو رہی ہے اور ہوا نہایت سرد چل رہی ہے آواز آئی کہ ”اے میرے پیارے تو نے حق عبادت ادا کیا۔ میں تجھ پر خوش ہوا اور تیری عبادت قبول کر لی۔ پس اب تو اٹھ اور پانی پی۔“ پیر صاحب اٹھے اور پانی پر جا کر پینا چاہتے تھے کہ دل میں خیال آیا کہ شریعت کی حد نگاہ رکھنی چاہیے ایسا نہ ہو کہ وسوسہ شیطانی ہو۔ پس آپ نے لاحول پڑھا تو فوراً وہ طلسم شیطانی ٹوٹ گیا اور دھوپ نکل آئی اور شیطان ہاتھ باندھ کر کہنے لگا کہ عبدالقادرؒ تو ہی ایک ہے کہ میرے اس پھندے سے نکل گیا۔ میں نے ایک لاکھ سے اوپر بزرگوں کی بزرگی اس منزل میں جس میں اب تو ہے کھوئی ہے اور اسی جال میں پھنسا کر ہلاک کیا ہے اگر تو حدود شریعت نگاہ نہ رکھتا اور پانی پی لیتا تو ہلاک ہوتا۔
ناظرین ان خوابوں اور الہاموں اور کشفوں پر اعتبار کر کے دین حق کو ہاتھ سے دے دینا کیسی سخت غلطی ہے؟ کہ یقینی امر یعنی شریعت ظاہرہ کو چھوڑ کر ظنی اور وہمی باتوں پر ایمان لانا اور اپنے خوابوں اور خیالات کو وحی اور الہام کا پایہ دینا کیسی گمراہی ہے؟
مرزا قادیانی تو مرزا قادیانی ان کا ہر ایک مرید بھی ملہم بنا ہوا ہے اور اپنے خوابوں کو ایک دوسرے کو سنا کر اپنی بزرگی کا سکہ دوسروں کے دلوں پر جماتا ہے۔ خواب کیا ہوئے ایک آسمانی سند مل گئی۔ حالانکہ مرزا قادیانی خود قائل ہیں کہ ایسے ایسے خواب چوہڑے چمار، کنجر، ڈوم، شریف، رذیل، کافر، مشرک، غیر مسلم ہر ایک کو ہو سکتے ہیں۔ دیندار اور بے دین دہریہ اور آریہ سب خواب دیکھتے ہیں اور انھیں سے ہماری طرح ان کے بھی سچے اور جھوٹے ہوتے ہیں۔ جب یہ صورت ہے تو پھر خوابوں کو دلیل بزرگی دینا معقول نہیں چند خوابوں کے اتفاقیہ سچا نکل آنے سے اپنے آپ کو ملہم اور منجانب اللہ سمجھنا اور اپنی ذات کے واسطے حجت قرار دینا اور تبلیغ فرض سمجھنا غلطی ہے کیونکہ تبلیغ خاصہ نبی شرعی کا ہے کیونکہ اس کو وحی خالص منجانب اللہ بلا لوث وسوسہ شیطانی بذریعہ جبرائیل علیہ السلام ہوتی ہے اور کلام اللہ ہوتی ہے۔ اسی واسطے اس کی تبلیغ نبی پر فرض ہے اور مرزا قادیانی خود کہتے ہیں کہ میں تشریعی نبی نہیں ہوں پھر تبلیغ کیسی ہے؟
مرزا قادیانی کو چونکہ عیسیٰ ہونے کا خیال پیدا ہو گیا اور وہ اس میں ایسے محو ہو گئے کہ بقول ؎
ایسے تصور عیسیٰ میں سخت مستغرق ہو گئے کہ در و دیوار آسمان و زمین سے اَنْتَ عِیسٰی اَنْتَ عِیْسٰی کی سنائی دینے لگی اور یہ تمام نقشے ان کے اپنے ہی تصورات و خیالات کے دکھائی دیتے تھے جن کو وہ الہام اور وحی کے نام سے نامزد کرنے لگے اور نوبت بہ اینجا رسید کہ لَحْمُکَ لَحْمِیْ وَ جِسْمُکَ جِسْمِیْ پکار اٹھے اور قرآن شریف میں بھی قادیان کا لفظ ١٣ سو سال کے بعد دکھائی دیا اور کان سے سنا گیا۔ پھر کیا تھا، مسیح موعود ہونا، دماغ میں ایسا سمایا کہ خیال، وہم، حافظہ، حس مشترک متصرفہ سب کے سب اسی طرف لگ گئے۔
ہر چہ پیدا میشود از دور پندارم توئی
خواب آئیں تو یہی کہ تو مسیح عیسیٰ ابن مریم کا مثیل ہے۔ بیداری میں بھی یہی خیال کہ کسی طرح میں مسیح موعود ثابت ہو جاؤں اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی موت قرآن سے ثابت کر دوں۔ تو عیسیٰ ہو سکتا ہوں۔ جب اس درجہ کا استغراق ہو اور بیس برس سے زیادہ عرصہ اسی غرض کے واسطے صرف ہو تو پھر غور کرو کہ کونسی عقلی و نقلی دلیل باقی رہ جائیں گی؟ جو مرزا قادیانی کو بصورت وحی و الہام دکھائی نہ دے۔
ناظرین! یہ ہے راز مرزا قادیانی کے الہامات کا اور یہی وجہ ہے کہ بہت الہاموں کا حصہ غلط نکلتا رہا ہے۔ کیونکہ دیوانہ بکار خود ہوشیار پر مرزا قادیانی نے عمل کر کے اپنے خوابوں کی تعبیریں بھی اپنے مفید مطلب کیں اور ان خوابوں کو یقینی سمجھ کر اشتہار دیئے۔ جب وہ خواب و الہام جھوٹے نکلے تو پھر ”عذر گناہ بدتر از گناہ“ پر بھی عمل کر کے ایسی تاویلیں کیں کہ لوگوں میں اپنی ہنسی کرائی مگر وہ اپنے دھن کے ایسے پکے نکلے کہ لوگوں کو دکھا دیا کہ جھوٹی پیشگوئی کو اس طرح رفو کیا کرتے ہیں کہ جائز اور ناجائز سب قلم سے نکالا۔ جب عالموں نے غلطیاں پکڑیں تو علم صرف و نحو سے انکار کر دیا۔ اعجازی شعروں میں غلطیاں پکڑی گئیں تو علم عروض سے بھی انکار کر دیا۔ قرآن کے غلط اور محرف معنے کیے تو کہا ہم تفسیروں کو نہیں مانتے۔ جس طرح چاہا لکھا اور اس کا نام الہامی حقائق و معارف رکھا۔ اب تو مسیح موعود ہو جانا اور ثابت کر دینا کیا مشکل تھا؟ کیونکہ الفاظ و معانی کی قید نہ تھی۔ دمشق کے معنی قادیان ملک پنجاب عیسیٰ ابن مریم و عیسیٰ نبی اللہ کے معنی مرزا غلام احمد قادیانی کے کر دیئے۔
الہام کی تعریف: الہام بیداری میں ہوتا ہے۔ الہام کے لغوی معنی در دل انداختن یعنی
جو نیا خیال دل میں پیدا ہو اس کو الہام کہتے ہیں اور اصطلاح شرع میں سالک کی طبیعت پر بہ سبب صفائی قلب اور توجہ خاص امور غیبیہ کی طرف کرنے سے جو راز منکشف ہو اس کو الہام کہتے ہیں۔ یہ الہام چونکہ ہر ایک شخص کو ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ مکھی کو بھی اس واسطے دین محمدی ﷺ میں حجت شرعی نہیں ہے یعنی کوئی شخص افراد امت میں سے یہ کہہ کر کہ مجھ کو اس مسئلہ میں یہ الہام ہوا ہے۔ شرعی حجت قائم نہیں کر سکتا۔ اگر الہام شرعی حجت قرار دیا جاتا تو دین اسلام میں ایسا فتور واقع ہوتا کہ جس کا فرو کرنا ناممکن ہو جاتا کیونکہ ہر ایک شخص یہ کہتا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ سے یہ حکم بذریعہ الہام ہوا ہے چونکہ الہام حالت قلب ملہم کے مطابق ناقص و کامل ضرور ہوتا ہے۔ اس واسطے اگر الہام حجت ہوتا تو ہر ایک مسئلہ میں اختلاف ہوتا۔ ایک کہتا مجھ کو یہ الہام ہوا ہے دوسرا کہتا مجھ کو اس طرح ہوا ہے۔ تیسرا اپنا الہام پیش کر کے دونوں کی تردید کر دیتا۔ لہٰذا شریعت حقہ میں الہام حجت شرعی نہیں ہے اور نہ دلیل قطعی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ جب رفع سبابہ کرنے لگے تو عوام نے بہت شور اٹھایا کہ آپ کے پیر تو ایسا نہ کرتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ میرے مرشد سنت رسول ﷺ کے بہت حریص و مشتاق تھے۔ چونکہ یہ مسئلہ ان کی زندگی میں نہ معلوم ہوا تھا۔ اس واسطے وہ رفع سبابہ نہ کرتے تھے۔ جس پر لوگوں نے کہا کہ وہ تو اولیاء اللہ تھے اور واصل بحق وہ رسول ﷺ سے بذریعہ الہام دریافت کر سکتے تھے تو اس پر حضرت مجدد صاحب نے فرمایا کہ سب کچھ سچ ہے جو آپ لوگ کہتے ہیں۔ مگر کسی بزرگ کا الہام یا تصدیق مسائل بذریعہ الہام شرعی حجت و دلیل قطعی نہیں ہے۔
عقلاً بھی الہام شرعی حجت قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ الہام ہر ایک طبیعت کے موافق ہوتا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ اختلاف ہے کیونکہ طبائع مختلف المزاج ہیں پھر کس کس کا الہام مانا جاتا؟ اور دین میں شامل کر کے اس کو ایک کھیل بنایا جاتا۔ جس وقت کوئی شخص متوجہ علی المقصود ہو کر دل کو خالی از غیر خیالات کر کے منتظر جواب بیٹھے گا تو اندر سے اس کو کچھ نہ کچھ جواب ضرور ملے گا۔ اس کو خواہ وہ طبیعت کا فعل سمجھے یا خدا کی طرف سے الہام نام رکھے اس کا اختیار ہے۔
کیفیت مزاجیہ سے بھی امور غیبیہ کا انکشاف ہوتا ہے۔ جس وقت سودا یا حرارت یا یبوست کسی مزاج انسانی پر غالب ہوں تو اس وقت بھی کثرت سے خواب آتے ہیں اور جن اشخاص کی غذائیں گرم اور خشک کثرت سے ہوں تو اس وقت خواب پریشان
اور بے سر و سامان بہ سبب یبوست دماغ کے آتے ہیں اور بادی چیزیں کھانے سے مہیب شکلیں اور ڈراؤنی صورتیں نظر آتی ہیں۔ مقوی غذائیں استعمال کرنے سے شہوی قوا میں تحریک پیدا ہو کر مختلف دلربا شکلیں اور نکاح خوانیاں اور وصال معشوقان بلکہ بعض دفعہ احتلام تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور خواب اس کثرت سے آتے ہیں کہ دوسرا شخص اس قدر خواب نہیں دیکھ سکتا اور خواب دیکھنے والا اس حالت میں خوابوں کی بارش اور امور غیبیہ کا انکشاف پاتا ہے کہ اس طوفان بے تمیزی میں اپنے آپ کو برگزیدہ کہتا ہے اور اگر کوئی اتفاق زمانہ سے صادق ہو گیا۔ تو غیب دانی کا دعویٰ کر دیتا ہے اور دوسروں پر اپنا تفوق بتاتا ہے۔
محاکات خیالیہ بھی اظہار امور غیبیہ کا باعث ہوتے ہیں۔ جب کسی شخص پر ایک مرض غالب ہو جائے تو اس کا نفس دوسرے حواسی شغلوں سے فارغ ہو جاتا ہے۔ اس وقت کی صورتیں اور شکلیں اور تحریریں غیب سے اس میں عکس پذیر ہوتی ہیں اور یہ مثالی ہوتی ہیں نہ کہ حقیقی اور نفس جس وقت کمزور ہو جاتا ہے تو قوت متخیلہ مشوش ہو جاتی ہے۔ اس وقت مختلف صورتیں حس مشترک پر منقش ہو جاتی ہیں اور وہی انسان کو دکھائی دیتی ہیں اور سنائی جاتی ہیں یا خود سنتا ہے اور انھیں کو مخاطب کر کے باتیں کرتا ہے جس کو مجذوب کی بڑ یا دیوانہ کی بکواس یا مریض کا ہذیان کہتے ہیں۔ مگر انسان اس بڑ اور بکواس و ہذیان سے بھی تفاول کر کے اپنے مفید مطلب معنی نکال لیتا ہے اور جو ان میں سے اتفاقیہ درست ہو جاتے ہیں۔ یعنی اس تفاول کرنے والے کا کام ہو جائے تو اس کو بھی کرامت مجذوب یا پیشین گوئی دیوانہ خیال کرتا ہے اور لوگوں میں مشہور کرتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔
بنابریں غلبہ وہم یا خوف بھی ظہور امور غیبیہ کا باعث ہوتا ہے۔ جیسا کہ کوئی شخص جنگل اور تاریکی میں اکیلا مہیب شکلیں دیکھتا ہے اور اپنے نام پکارنے والوں کی آوازیں سنتا ہے اور خوف زدہ ہو کر بیہوش ہو جاتا ہے اور اس وقت جن بھوت چڑیلیں وغیرہ مہیب شکلیں دیکھتا ہے اور ان کی آوازیں سن کر جواب دیتا ہے اور بلا کر کہتا ہے کہ یہ دیکھو وہ آیا وہ گیا اور ایسا وہم غالب ہوتا ہے کہ ان مثالی شکلوں کو حقیقی کہتا ہے۔
تمہید سوم
اہل اسلام کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول و صعود و حیات و ممات
جزو ایمان ہے۔ اگر مرزا قادیانی کی بیعت کر کے اگر ہم مشرکانہ اعتقاد بنا لیں تو ہم کو عذاب آخرت کا خوف ہے پس یہ بعید از عقل ہے کہ ہم ایک وہمی اور ظنی امور کے پیرو ہو کر یقینی شریعت کو ہاتھ سے دے کر وارث جہنم بنیں۔ اگر مرزا قادیانی کی تعلیم ہمیں شرک کے دلدل میں پھنسا دے تو کیا ہمارا فرض نہیں ہے کہ ان کی تعلیم سے نفرت کریں؟ اور اگر ان کا فعل خلاف قرآن و حدیث معلوم کریں تو ان سے کنارہ کش ہو جائیں۔ خاص کر جبکہ مرزا قادیانی خود کہتے ہیں کہ مجھ پر ایمان لانا یعنی نزول مسیح ماننا جزو ایمان نہیں کہہ کر خدا تعالیٰ کے سامنے آخرت کے مواخذہ سے بری ہونا چاہیں تو مسلمانوں کی کیوں عقل ماری ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے لگ جائیں جو کہ خود بھی مطمئن نہیں ہے اور ہر ایک اپنی تصنیف میں حیات وممات مسیح کا قصہ بار بار تکرار کر رہا ہے جو کہ صاف دلیل اس بات کی ہے کہ وہ خود اس کو امر فیصل شدہ نہیں سمجھتا اور علمائے اسلام کے سامنے ممات مسیح ثابت نہیں کر سکتا کیونکہ اگر وہ صرف ونحو سے انکار نہ کرتے تو ان کے خود تراشیدہ معانی آیات قرآنی صحیح مانے جاتے۔ مگر اس نے بلا قید صرف و نحو و سباق و سیاق قرآنی بہ تصرف الفاظ یعنی بعض جگہ اپنے پاس سے تقدیم و تاخیر الفاظ قرآنی کر کے اپنے مفید مطلب معنی کر لیے۔ مگر پھر بھی تسلی نہ ہوئی اور صاف صاف لکھ دیا کہ مسیح کا نزول جزو ایمان نہیں اور نہ رکن دین۔
اگر مسیح کے اترنے سے انکار کیا جائے تو یہ امر مستوجب کفر نہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٢٤٢ خزائن ج ٣ ص ٢٣٩) اب تو صاف ثابت ہو گیا کہ اگر کوئی شخص مرزا قادیانی کو مسیح موعود نہ مانے تو وہ مسلمان ہے۔ تو قادیانی جماعت اپنے آپ کو الگ کر کے باعث ضعف جمعیت اہل اسلام کیوں ہو رہی ہے؟
”یہ جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو بلکہ صدہا پیشگوئیوں میں سے ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٤٠ خزائن ج ٣ ص ١٧١)
ناظرین! غور فرمائیں اگر یہ سچ ہے تو پھر مرزا قادیانی نے اپنی جماعت الگ کر کے اسلام کو فرقہ فرقہ کیوں کیا اور قرآن مجید کی تعلیم کے برخلاف کیوں گیا؟ قرآن میں تو فرقہ فرقہ ہونے کی ممانعت ہے وہاں تو اکٹھے ہو کر یعنی مجموعی حالت میں اللہ ہی کی رسی کو پکڑنے کا حکم ہے۔
”جو آیات انسانی عقل کے برخلاف معلوم ہوں یعنی متشابہات ان پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی حقیقت کو حوالہ بخدا کر دینا چاہیے۔ جیسا کہ قرآن مجید کا حکم ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٩٦ خزائن ج ٣ ص ٢٥١)
ناظرین! بقول بالا مرزا قادیانی اب تو کوئی جھگڑا ہی نہیں رہا۔ بشرطیکہ مرزا قادیانی کا عمل بھی ہو کیونکہ جو جو آیات قرآنی انسانی عقل کے برخلاف معلوم ہوں۔ ان پر ایمان لائیں اور ان کی حقیقت حوالہ بخدا کریں۔ پس یہ فیصلہ ان کا اپنا کیا ہوا عمل کا محتاج ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی رفع الی السماء کی آیات پر ایمان لائیں اور تمام اعتراضات محال عقلی کے کہ جسد عنصری آسمان پر نہیں جا سکتا اور نہ زندہ رہ سکتا ہے اور نہ نزول بالجسد کر سکتا ہے۔ جن سے اس کی تمام تصانیف مملو ہیں اور بنائے قیام و علیحدگی جماعت ہے اور وجہ تکفیر علماء اسلام ہے کہ حوالہ بخدا کر کے اپنے مسلمان بھائیوں کے گلے مل جائیں اور شیرازۂ اسلام کی تقویت کا باعث ہو کر عند اللہ ماجور ہوئیں کیونکہ ایسے نازک وقت میں جب کہ اسلام پر چاروں طرف سے ادبار کی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ اتفاق اور یکجہتی اور ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر اب بھی قادیانی جماعت میری اس درخواست کو جو کہ ان کے پیر یعنی مرزا قادیانی کے قول کے مطابق ہے عمل نہ کر کے اتفاق نہ کریں گے تو قیامت کے روز مواخذہ الٰہی میں آئیں گے۔ ہم صدق دل سے کہتے ہیں کہ ہم کو نہایت رنج اور درد ہے کہ ہمارے سابقہ بھائی ہم سے ایک ناچیز اختلاف کے واسطے الگ ہو رہے ہیں۔
فصل اوّل مرزا قادیانی کی تعلیم وجود باری تعالیٰ کے بیان میں
”ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشائے حق کے موافق اسکی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِیْحَ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے ۔“ الخ۔
(کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)
”ہم دونوں (یعنی حضرت مسیح ؑ اور مرزا قادیانی) کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر (خاصیت) رکھی گئی ہے۔ جس کے سلسلے ایک نیچے کو اور ایک اوپر کی طرف کو جاتے ہیں..... اور ان دونوں محبتوں کے کمال سے جو خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر نر و
مادہ کا حکم رکھتی ہے اور محبت الہی کی چمکنے والی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے۔ جس کا نام روح القدس ہے۔ اس کا نام پاک تثلیث ہے۔ اس لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لیے بطور ابن اللہ کے ہے (ملخص توضیح مرام ص ٢١ خزائن ج ٣ ص ٦٢-٦١) مسیح اور اس عاجز (یعنی مرزا قادیانی) کا مقام ایسا ہے جس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٤٠٧)
’’آنجناب ﷺ کا دنیا میں تشریف لانا اور حقیقت خدا تعالیٰ کا ظہور فرمانا۔‘‘
مرزا قادیانی کا شعر
(توضیح مرام ص ٢٨ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٦٥)
آنچناں از خود جدا شد کزمیاں افتادمیم
(توضیح المرام ص ٢٣ خزائن ج ٣ ص ٦٢)
یہ مضمون دیگر شعرا یا چند صوفی خیال اشخاص نے باندھا ہے لیکن چونکہ وہ مدعی تبلیغ وامامت نہ تھے۔ اس لیے ان کا ایسا مضمون باندھنا عقائد اسلام میں خلل انداز نہ تھا۔
مگر ناظرین غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا ایسا مضمون مختلف قسم کا بحیثیت مجدد و دعویٰ تجدید دین کے کس طرح بباعث قطعی خلاف شریعت ہونے کے قابل تسلیم ہو سکتا ہے؟
دوم ان لوگوں کے لیے حالت سکر میں ایسے ایسے کلمات یا اشعار منہ سے نکالے ہیں جو کہ قابل اعتماد نہیں۔ نہ لوگوں پر ان کا اثر پڑتا ہے۔ نہ عوام کے واسطے سند ہے۔ مگر امام وقت ہونے کا مدعی ایسا قول خلاف شرع نہیں کہہ سکتا جیسا بلھے شاہؒ نے کہا ہے ؎
یا شکل انسان میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
مگر علمائے امت میں سے کسی عالم نے ایسے کلمات نہیں کہے۔ اس لیے مرزا قادیانی بحیثیت عالم و سالک (بزعم خود) ہونے کے جوابدہ ہوں گے اور ان کی پیروی باعث کفر و شرک ہے اور حدیث لا تطرونی کما اطرت النصاریٰ عیسیٰ ابن مریم. یعنی مجھ کو قوم نصاریٰ کی مانند خدا کا بیٹا نہ بنانا۔ (بخاری کتاب الانبیاء باب یاہل الکتاب لا تغلوا فی دینکم حدیث ٣٤٤٥ کنز ج ٣ حدیث ٧٩٦٩)
آپ کا عمل اس صحیح حدیث کے برخلاف ہے اور اس پر دعویٰ مجدد ہونے کا یعنی دین میں جو امور بدعی ملاوٹ پا گئے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے آپ تشریف لائے ہیں۔ مگر تعلیم یہ ہے کہ نصاریٰ نے تو اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا کہا مگر مجدد اس کا ظہور
خدا کا ظہور بتاتا ہے۔ یعنی اپنے پیغمبر کو خدا کہتا ہے اور کیوں نہ ہو خود بھی خالق ہے؟ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔
”جب کوئی شخص بھی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے اور خدا کی روح اس کے اندر آباد ہوتی ہے۔ یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقا باللہ کا درجہ حاصل کرتا ہے۔“
(توضیح مرام ص ٥٠ خزائن ج ٣ ص ٧٦)
ناظرین! جب خدا تعالیٰ کی روح انسان میں آباد ہوتی ہے۔ تو انسانی روح کہاں جاتی ہے؟ یا تو خدائی روح میں جذب ہو جاتی ہے اور خدا ہی انسان میں رہ جاتا ہے۔ اس صورت میں انسانی حوائج کھانا‘ پینا‘ سونا‘ جماع‘ وغیرہ کون کرتا ہے؟
”جمیع اجزا اس علت العلل کے کاموں اور ارادوں کے انجام دینے کے لیے سچ مچ اس اعضا کی طرح واقع ہے۔ جو خود بخود قائم نہیں بلکہ ہر وقت اس روح اعظم سے قوت پاتا ہے۔ جیسے جسم کو تمام قوتیں جان کی طفیل سے ہی ہوتی ہیں ...... جب قیوم عالم کوئی حرکت کلی و جزئی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اسکے اعضا میں بھی حرکت پیدا ہونا ایک لازمی امر ہوگا اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انھیں اعضاء کے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا ۔ نہ کسی اور طرح سے ۔“
(توضیح مرام ص ٧٤ ۔ ٧٥ خزائن ج ٣ ص ٩٠ ۔ ٨٩)
ناظرین! خدا کی جزو کل اعضا توجہ کے لائق ہیں۔ خدائی مشین کے پرزے بھی ملاحظہ ہوں۔
کیا اہل اسلام کا یہ اعتقاد نہیں ہے کہ ذات باری تعالیٰ بے چون و بے چگون ہے اور تشبیہ اور تنزیہ سے پاک ہے۔ اس کی ذات پاک کو کسی محسوس وجود سے تشبیہ نہیں دے سکتے ۔ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کا اعتقاد رکھنے والے خدا تعالیٰ کی جزو کل جسم و روح وغیرہ اعضا مان سکتے ہیں اور کیا یہ تعلیم قرآن اور حدیث کے موافق ہے اور معلم اس تعلیم کا مجدد دین مانا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
”پس روحانی طور پر انسان کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں کہ وہ اس قدر صفائی حاصل کرے کہ خدا تعالیٰ کی تصویر اس میں کھینچی جائے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٧)
”دوسرے لفظوں میں جبرائیل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ طبیعت حرکت اس وجود اعظم کے سچ مچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آ جاتا ہے۔ یعنی جب خدا تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے تو حسب
قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے۔ جبرائیل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدا تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے۔ اسطرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے۔ یا یوں کہو کہ خدا کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و بلا ارادہ اسی طور سے جنبش میں آتا ہے۔ اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری ہے....... اور اس کے ساتھ ہی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے نام سے موسوم کرنا چاہئے محبّ صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے۔"
(توضیح المرام ص ٧٩ خزائن ج ٣ ص ٩٢)
ناظرین! خدا تعالیٰ کی عکسی تصویر محبّ کے دل پر سوائے مرزا قادیانی کے ١٤ سو برس تک کسی نے کبھی نہ کھینچی تھی۔ کاش مرزا قادیانی بجائے اپنی عکسی تصویر کے خدا تعالیٰ کی عکسی تصویر جو ان کے دل پر کھنچی ہوئی تھی۔ عوام میں تقسیم فرماتے تاکہ لوگ خدا تعالیٰ کی زیارت کر لیتے۔ جو ابتدائے آفرینش سے کسی نے نہ کی تھی۔
سبحان اللہ خدا تعالیٰ کی ذات پاک بقول شیخ سعدیؒ ۔
واز ہرچہ گفتہ اندو شنیدہ ایم و خواندہ ایم
دفتر تمام گشت بپایاں رسید عمر
ماہمچناں در اوّل وصف تو ماندہ ایم
کی عکسی تصویر کھینچی جاتی ہے اور امام وقت اور مجدد دین کا مدعی ہو کر توحید ذات باری کی بنیاد جو کہ اصل اسلام ہے متزلزل کر کے مریدوں کا ایمان تازہ کرتا ہے۔ یہ تعلیم نہ صرف مشرکانہ ہے بلکہ اس قدر پایہ عقل سے گری ہوئی ہے کہ موجودہ زمانہ کا کم عقل آدمی بھی جانتا ہے کہ تصویر خواہ عکسی ہو یا دستی وجودِ خارجی کی ہوا کرتی ہے۔ موجود ذہنی و خیال حسی وجود کی تصویر ناممکن ہے۔ یعنی جو کچھ کہ خیال یا وہم میں آئے۔ خدا تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے تو بتاؤ تصویر کس وجود کی کھنچی جا سکتی ہے؟ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات تشبیہہ سے پاک ہے تو پھر شبیہ ذات باری کا اعتقاد محال عقلی اور شرک اور کفر ہوا یا اسلام۔
حضرت جبرائیل کو خدا کی سانس اور آنکھ کا نور بتانا مرزا قادیانی کا ہی کام ہے اور اس پر اعتقاد رکھنا اور ایمان لانا قادیانی جماعت کا اسلام ہے۔
قرآن و حدیث و اجماع امت کا اعتقاد تو اس پر ہے کہ حضرت جبرائیلؑ ایک مقرب ملائکہ میں سے ہے۔ جن کے ذریعہ سے انبیاء علیہم السلام پر وحی ہوتی تھی مگر مرزا قادیانی کا اس کے برعکس ہے۔
”اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ وَلَدِیْ یعنی تو میرے سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
ناظرین! خدا تعالیٰ کی ذات پاک کو باپ اور ناچیز انسان کو اسکا بیٹا سمجھنا کس قدر دلیری اور گمراہی ہے؟ اور تعلیم قرآنی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ کے خلاف ہے اور یہی حقائق و معارف ہیں۔ جن کے دلدادہ قادیانی جماعت کے اشخاص مرزا قادیانی کی دلیل من جانب اللہ ہونے کی پیش کرتے ہیں اور اسی شرک بھری تعلیم پر مرزا قادیانی مجدد دین محمدی ﷺ کے دعویدار ہیں ؎
اگر نصارٰی اپنے کامل نبی کو بطریق تعظیم خدا کا بیٹا کہیں تو کافر اور مرزا قادیانی باوجود امتی ہونے کے اور ناقص نبی کے دعویدار ہونے کے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہیں تو مسلمان بلکہ نبی‘ مجدد‘ و مہدی وغیرہ وغیرہ کون سا انصاف ہے ؎
شیخ چپ ہوں تو توکل ٹھہرے
مرزا قادیانی خدا کو صاحب اولاد سمجھیں تو مسلمان اور اگر یہود و نصارٰی یہ اعتقاد کریں تو کافر۔ اس عدالت کی کرسی پر صرف مرزا قادیانی ہی بیٹھ کر حکم فرما سکتے ہیں اور اگر جھوٹ اور سچ میں کوئی تمیز کرنے والا دنیا میں نہ رہے تو مرزا قادیانی کا فیصلہ حق بجانب ہو سکتا ہے۔ ورنہ باطل۔
مرزا قادیانی کے اس وحی و الہام سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا اصل بیٹا بھی ہے۔ جس کے بمنزلہ مرزا قادیانی کو فرمایا گیا کیونکہ جو بناوٹی بیٹا ہوتا ہے اس کا مصنوعی باپ اس کو متبنٰی یا بمنزلہ فرزند کہتا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کا اصلی فرزند بھی ہوتا ہے۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِھِمْ.
ناظرین! مذہب اسلام کو دوسرے دنیا بھر کے مذاہب پر یہی فضیلت تھی کہ اس کی تعلیم پاک نے مقام عبودیت اور الوہیت کو ایسا الگ الگ رکھا ہوا ہے کہ شرک کی بو تک نہیں اور نہ کسی وجود کو ذات پاک خدا تعالیٰ میں ازروئے صفات و ذات شرکت دی اور نہ کسی قسم کے شک و شبہ والی تعلیم دی بلکہ تمام دنیا پر توحید پھیلائی۔ مگر مرزا قادیانی ١٣ سو برس کے بعد اس کے برعکس تعلیم دیتے ہیں کہ مجھ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا مانو اور لطف یہ ہے کہ جب علماء اسلام نے ایسے ایسے کفر کے کلمات اور شرک بھرے الفاظ کی وجہ سے
مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ دیا اور مرزا قادیانی اور ان کے مرید بجائے اس کے کہ وجہ تکفیر اپنے میں سے دور کر کے رجوع اسلام کی طرف کرتے۔ تمام اہل اسلام کو کافر کہنے لگے اور بجائے اس کے کہ خود توبہ کریں۔ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے اس کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ ان کا حال اس شخص کی مانند ہے جو کسی بیوقوفی کی پاداش میں ایک اہل تہذیب کے جلسہ سے خارج کیا گیا ہو۔ مگر وہ متکبر اور بے سمجھ لوگوں میں مشہور کرے کہ میں نے جلسہ کو خارج کر دیا۔ یہی مثال قادیانی جماعت کی ہے کہ مسلمانوں نے ہم کو کافر کہا ہے۔ وہ خود کافر ہیں اور جو اعتراض شرعی وجہ تکفیر تھے ان کا جواب ندارد۔ مسلمان وہ ہے جو قرآن اور حدیث پر چلے۔ پس جس کی تعلیم اس معیار یعنی قرآن اور حدیث کے برخلاف ہو گی وہ کافر ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کیا حاصل؟ دلیل شرعی پیش کریں کہ انسان کو ابن اللہ مان سکتے ہیں۔ کیا اس روشنی کے زمانہ میں ایسے امام ہو سکتے ہیں کہ جن کی تعلیم زمانہ کی نبض شناس نہیں اور خلاف شرع باتیں اور دقیانوسی خیالات ظاہر کر کے تضحیک اسلام کا باعث ہوں بلکہ ایسے وقت میں ایسا امام ہمام ہونا چاہیے تھا جو کھرے کھوٹے میں تمیز کر کے ان مسائل پر جن پر نئی روشنی کے آدمی معترض ہو رہے ہیں اور موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ ان سے انکار کر رہے ہیں۔ اپنے زور قلم اور علم سے روشنی ڈالتا اور دلائل قاطع سے ثابت کرتا کہ تعلیم عقائد اسلام و تعلیم قرآن شرک و کفر سے پاک ہے نہ کہ خالص توحید ذات باری کو شرک کی نجاست سے آلودہ کرتا۔
بھلا غور فرمائیں کہ ایسا شخص امام وقت مانا جا سکتا ہے جو اپنی ہر ایک تصنیف میں سوا خود ستائی اور کچھ نہیں کہہ سکتا؟ بجائے توحید کے شرک کی تعلیم دیتا ہے۔ کہیں محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور خدا کا ظہور کہتا ہے۔ پس احمد بلامیم کہہ رہا ہے۔ کہیں خود ابن اللہ بن بیٹھا ہے کہیں پاک تثلیث کی تعلیم دیتا ہے۔
واضح ہو کہ تثلیث کفر ہے۔ یعنی تین وجود مل کر ایک وجود ہوں۔ جیسا باپ‘ بیٹا‘ روح القدس تینوں مل کر خدا ہیں نصاریٰ کے نزدیک۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی تثلیث کے قائل ہیں۔ یعنی اپنی محبت مسیح کی محبت اور روح القدس پاک کو تثلیث فرماتے ہیں۔ سبحان اللہ! یہ فلسفیانہ زمانے کے مجدد کی عقل ہے کہ تثلیث اور پاک‘ اجتماع نقیضین۔
ناظرین! غور فرمائیں کہ کبھی پاک تثلیث‘ پاک کفر‘ پاک گناہ‘ پاک جھوٹ‘ پاک زنا ہو سکتا ہے؟ یعنی ہر ایک کفر کی ایک پاک قسم ہے اور ایک پلید۔ مرزا قادیانی خود بھی کبھی کبھی پاک جھوٹ بولتے ہوں گے۔ پاک گناہ کرتے ہوں گے۔ پاک کفر کرتے
ہوں گے وغیرہ وغیرہ
کار طفلاں تمام خواہد شد
انصاف فرمائیں کہ ایسی تعلیم کا منبع الہام الٰہی ہے یا وساوس شیطانی؟ کہ ناچیز انسان کو خدائی میں شامل کیا جائے اور وجود باری تعالیٰ کو تیسری جزو خدا کی سمجھی جائے۔ یا خدا کو باپ اور انسان کو اس کا بیٹا...... کیا ایسی روشنی اور ترقی کے زمانہ میں ایسی مہمل تعلیم کی ضرورت ہے؟ اور ایسے پیر کو جس کی یہ تعلیم خلاف توحید ہو۔ مان سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں بھلا تثلیث اور پھر پاک؟
باب دوم
در بیان تعلیم مرزا قادیانی در اعتقاد نبوت
”سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء، ص ١١ خزائن ص ٢٣١ ج ١٨)
”خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑ دے۔“
(دافع البلاء، ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
”یہ طاعون اس حالت میں فرو ہو گی جبکہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے۔“
(دافع البلاء، ص ٩ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
ناظرین! حسب ارادۂ الٰہی ہندوستان کے تمام حصوں میں یکے بعد دیگرے طاعون پڑی اور قادیان بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکی۔ حالانکہ خدا کا فرستادہ اس میں تھا۔ یہ دلیل اس بات کی ہے کہ طاعون سزا یا عتاب کی وجہ سے نہ تھی۔ اگر قادیان میں نہ آتی تو مانا جاتا۔ کلری زمین میں جراثیم طاعون قدرتاً کم ہوتے ہیں۔ چنانچہ ملتان، منٹگمری، مظفر گڑھ وغیرہ اضلاع کئی سال تک محفوظ رہے۔ قادیان بھی محفوظ رہا۔ تب مرزا قادیانی کا الہام تھا کہ قادیان میں طاعون نہ آئے گی۔ جب قادیان میں طاعون پڑی تو پھر الہام کو تاویلات سے مرمت کیا۔ مگر آخر کار قادیان میں طاعون پڑی۔ اور دوسرے شہروں کی طرح حسب معمول جن کی قضا تھی ان کو ہلاک کر کے فرو بھی ہو گئی شرط غلط نکلی کہ جب تک خدا کے فرستادہ کو نہ مانیں گے۔ طاعون فرو نہ ہو گی اور یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی کیونکہ قادیان میں بدستور مخالفین کا زور رہا اور طاعون بھی فرو ہو گئی جس سے صاف ظاہر ہے کہ
یہ خدائی حکم نہ تھا۔
”بجز اس مسیح کے کوئی شفیع نہیں۔“ (دافع البلاء، ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
ناظرین! یہ بھی غلط ہے۔ اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہلانا اور شرک بھری تعلیم دے کر شفیع ہونیکا دعویٰ بھی بلا دلیل ہے۔ دوم طاعون بھی بلا شفاعت فرو ہو گئی۔ یعنی لوگوں نے مرزا قادیانی کو قبول نہ کیا اور طاعون فرو ہو گئی۔ اور خدا نے بھی بلا شفاعت مرزا قادیانی طاعون کو فرو کر دیا۔
”اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے۔ اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزوی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لیے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔“ (توضیح المرام ص ١٨۔١٩ خزائن ج ٣ ص ٦٠)
ناظرین! مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ باب نبوت من کل الوجوہ بند نہیں جزوی طور پر کھلا ہے۔ کس سند شرعی سے ہے؟ قرآن مجید تو خاتم النبیین فرماتا ہے جس کے معنی اگر مہر کے بھی کیے جائیں۔ تب بھی بند ہو جانے کے ہیں۔ جیسا کہ محاورہ ہے کہ لفافہ کو مہر کر دو۔ خریطہ کو مہر کر دو۔ جس کے معنی بند ہونے کے ہیں۔ یعنی ایسا بند ہونا مراد ہے کہ غیر کھول نہ سکے۔ بعض قادیانی کہتے ہیں کہ مہر سے مراد وہ مہر ہے جو فرمان شاہی پر یا عدالت کے کاغذ پر لگتی ہے۔ مراد ہے۔ اگر یہ بھی مانا جائے تب بھی اس کے معنی بند کے ہیں۔ یعنی مہر کے بعد کوئی مضمون اور درج نہیں ہو سکتا۔ مہر اس واسطے لگاتے ہیں تا کہ مہر کے بعد وثیقہ یا اسٹام وغیرہ سندی کاغذات کا مضمون بند ہو جائے۔ پس خاتم النبیین کے معنی بند کرنے والا نبیوں کا ہوا۔ چاہے بذریعہ مہر نبوت ہو۔ یا ختم کرنے والا ہو۔ دونوں قرأتوں کے معنی بند کے نکلتے ہیں کسی آیت قرآنی میں نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوگا۔ صرف مرزا قادیانی کا بلا دلیل فرمانا کہ ”میں کہتا ہوں بالکل بند نہیں ہوا۔ جزوی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔“ کوئی سند قرآنی نہیں ہے اور نہ کوئی تسلیم کر سکتا ہے۔
کہاں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ من کل الوجوہ باب نبوت بند نہیں ہے؟ معمولی عقل کا آدمی بھی جانتا ہے کہ مہر سے بند کرنا من کل الوجوہ ہوا کرتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کچھ حصہ پر مہر لگ جائے اور کچھ حصہ بلا مہر رہ کر غیر کے دخل کے واسطے باقی چھوڑا جائے بلکہ ایسے بند کرنے کو بند کرنا نہیں کہتے۔ اگر دروازہ بند کرنا مقصود ہے تو دونوں دروازے بند کر کے قفل لگاتے ہیں۔ اگر جزوی دروازہ بند ہو تو وہ بند نہیں ہے اور
مہر لگانے سے بھی کلی بند ہونا مقصود ہوتا ہے نہ کہ جزوی۔ قرآن مجید میں ختم کے معنی کلی بند کے ہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ جس کے معنی قلوب کا کلی طور پر بند ہونا مراد ہے کیونکہ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ سے ثابت ہے کیونکہ اگر ختم سے قلوب کفار کلی طور سے بند نہ ہوتے تو عذاب کا وعید مذکور نہ ہوتا پس ثابت ہوا کہ ختم کے معنی مہر کے بھی کریں تو تب بھی کلی بندش کے ہیں۔
- (دوم)...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ یعنی خدا تعالیٰ اور اس کے
رسول ﷺ کی تابعداری کرو۔ اگر بالکل دروازہ مسدود نہ ہوتا تو بجائے رسول واحد کے رسل جمع کا لفظ ہوتا۔
- (سوم)...... اگر کوئی نبی ظلی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد آنا ہوتا تو قرآن مجید میں ضرور
کسی آیت میں مذکور ہوتا۔
یہ عقل بھی قبول نہیں کرتی کہ کامل نبی کے بعد ناقص نبی آئے بلکہ ناقص کے بعد کامل کا آنا معقول ہے کیونکہ ناقص کی تکمیل کامل کرتا ہے۔ ناقص نبی کامل نبی کی تکمیل ہرگز نہیں کر سکتا ہے۔ کامل نبی کی کامل تعلیم چھوڑ کر ناقص نبی کی ناقص تعلیم کون قبول کر سکتا ہے؟
- (چہارم)...... اگر ناقص نبوت کا دروازہ کھلا ہے تو ١٣ سو برس میں کون کون ناقص نبی
ہوا؟ اور کس نے دعویٰ کیا؟ چونکہ کسی نے نہیں کیا اس واسطے ثابت ہے کہ نبوت کا دروازہ رسول اللہ ﷺ کے بعد بند ہے۔
- (پنجم)......الیوم اکملت لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ (مائدہ ٣) سے
صاف ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی قسم کے نبی کی ضرورت نہیں اور قرآن مجید کی کامل تعلیم ہمارے لیے اور آئندہ نسلوں کے لیے کافی ہے۔
- (ششم)...... جب حضرت جبرائیل علیہ السلام کا زمین پر آنا ہی بعد رسول مقبول ﷺ
کے بند ہے جیسا کہ امام غزالیؒ مکاشفۃ القلوب میں تحریر فرماتے ہیں۔ دیکھو باب ١١١ جس کا ذکر تمہید میں کیا گیا ہے۔ دوبارہ ضرورت نہیں۔ اس جگہ یہ اعتراض کہ خدا گونگا ہو جاتا ہے کہ کبھی بولتا ہے اور کبھی نہیں بولتا جس کا جواب یہ ہے کہ وقت کے مطابق خدا تعالیٰ بولتا ہے۔ ہر وقت تو بولتے رہنا اخلاقی کمزوری ہے۔
حکمت ہے اور سنت اللہ یہی ہے۔ مرزا قادیانی خود قائل ہیں کہ خدا تعالیٰ بعد
ہمکلامی عیسیٰ علیہ السلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے ہمکلام ہوا۔ ”خدا کی ہمکلامی پر مہر لگ گئی ہے اور آسمانی نشانوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ پھر تازہ بتازہ معرفت کس ذریعہ سے حاصل ہو ۔“
(حقیقت الوحی ص ٦٠ خزائن ج ٢٢ ص ٦٢)
یہ دلیل کہ بہ سبب پیروی محمد رسول اللہ ﷺ امت مرحومہ سے ظلی نبی ہو سکتا ہے۔ غلط ہے کیونکہ یہ دعویٰ بلا سند شرعی ہے۔
(دوم) ...... پیروی ہر ایک مسلمان محمد رسول اللہ ﷺ کی کرتا رہا ہے اور کرتا ہے اور کرتا رہے گا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے بہتر و بڑھ کر کسی نے پیروی نہیں کی۔ وہ نبی نہ ہوئے جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں۔ اَلَّا وَاِنِّی لَسْتُ بِنَبِیٍّ وَّلَا یُوْحٰی اِلَیَّ اور حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی نبی میرے بعد ہونا ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ ہوگا۔ تو مرزا قادیانی جنھوں نے پیروی بھی پوری نہیں کی۔ نہ کسی جنگ میں حضرت ﷺ کے شریک ہوئے نہ ان کی فرمانبرداری کا امتحان ہوا۔ ترک فریضہ کیا یعنی حج کو نہ گئے۔ مدینہ منورہ سے محروم رہے۔ صرف قلم کے زور سے کس طرح نبی تسلیم ہو سکتے ہیں؟ جزوی اشتراک سے کلی اشتراک نہیں ہو سکتا۔ کرم شب تاب، آفتاب نہیں ہو سکتا کوّا یا کبوتر ، شہباز نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ اشتراک چنگل اور پروں کا رکھتا ہے حافظ شیرازی نے خوب کہا ہے
نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند
لومڑی کبھی شیر نہیں ہو سکتی، نہ چڑی باز، اگرچہ چونچ اور پنجوں میں اشتراک رکھتے ہیں۔ پس مرزا قادیانی بھی چند سچے جھوٹے خوابوں اور الہاموں سے نبی نہیں ہو سکتے۔ اپنے منہ سے جو چاہیں بنیں۔ دعویٰ چیزے دیگر است ۔ ثبوت چیزے دیگر۔
(ہفتم) ...... حدیث شریف میں حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ ”ہوں گے میری امت میں سے جھوٹے تیس کہ گمان کریں گے کہ وہ نبی خدا کے ہیں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں نہیں کوئی نبی بعد میرے ۔ ایک جماعت امت میری میں سے ثابت رہے گی حق پر ۔“ الخ ۔
(روایت کی ابو داؤد اور ترمذی نے تمام حدیث مشکوٰۃ شریف ج ٢ ص ٤٥)
ناظرین ! اس حدیث سے تین امور کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کی ذات نے خود کر دیا ہے۔ (اوّل) ...... خاتم النبیین کے معنی نہیں کوئی نبی بعد میرے۔ صحیح ہیں اور مہر کے معنی نیم کشادہ دروازہ سمجھنا غلطی ہے۔ زبان عربی رسول اللہ ﷺ کی مادری زبان ہے اور جو معنی
حضور ﷺ نے خود حدیث میں کر دیئے۔ وہی درست ہیں۔ مرزا قادیانی خواہ کتنا ہی زور لگائیں۔ اہل زبان نہیں ہو سکتے اور نہ رسول اللہ ﷺ کے معنی غلط ہو سکتے ہیں۔ ان کے مرید اگر ان کو رسول اللہ ﷺ پر ترجیح دیں تو ان کا اختیار ہے۔
(دوم)...... نہیں کوئی نبی بعد میرے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ناقص نبی کا ہونا من گھڑت کہانی ہے۔ ورنہ ہوتا کہ نہیں کوئی تشریعی نبی بعد میرے۔ پس ثابت ہوا کہ کسی قسم کا نبی رسول اللہ ﷺ کے بعد نہیں ہو گا۔ نبوت کی دو قسم مرزا قادیانی کی اپنی ایجاد ہے۔ ورنہ کوئی سند پیش کریں۔
(سوم)...... جو ان جھوٹے تیس مدعیان نبوت کو نہ مانے گا۔ وہی حق پر ہو گا۔ جس سے ظاہر ہے کہ جو جماعت مرزا قادیانی کو نہ مانے گی۔ وہی حق پر قائم رہے گی اور جو مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت مان کر شرک بالنبوۃ کرے گا حق پر نہ ہو گا۔ اب بھی اگر قادیانی جماعت نہ مانے تو اس کی ضد اور ہٹ دھرمی ہے کہ باوجود آیات قرآنی اور احادیث نبوی کے مرزا قادیانی کے قول کو بلاسند مانتے ہیں۔ گویا خدا اور رسول ﷺ سے تمسخر کرتے ہیں کہ ایک امتی کے قول کو خدا اور رسول ﷺ کی کلام پر ترجیح دیتے ہیں اور یہ صریح کفر ہے۔
”ولی پر بھی جبرائیل ہی تاثیر وحی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیا ﷺ کے دل پر بھی وہی جبرائیل تاثیر وحی کی ڈالتا تھا۔“
(توضیح مرام ص ١٧ خزائن ج ٣ ص )
ناظرین ! اس تعلیم سے نبی اور ولی میں کچھ فرق نہیں حالانکہ ولی پر وحی کا بذریعہ حضرت جبرائیل نازل ہونا خلاف نص ہے۔ بفحوائے و نزل بہ الروح الامین علیٰ قلبک۔ (الشعراء ١٩٣۔١٩٤) ”یعنی اتارا اس کو روح الامین نے تیرے دل پر جس سے ثابت ہے کہ وحی بذریعہ جبرائیل خاصہ نبی ہے۔“
”میں نے خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت کامل سے حصہ پایا ہے۔ جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)
”میرے قرب میں میرے رسول کسی دشمن سے ڈرا نہیں کرتے۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
ناظرین ! اس سے صاف طور پر رسول ہونے کا دعویٰ ہے۔ جس میں کسی طرح کا شک نہیں رہتا اور ان کا یہ قول ”من نیستم رسول نیا وردہ ام کتاب“ اس کا متعارض ہے۔ مگر دعویٰ چیزے دیگر است وعمل چیزے دیگر۔ الہاموں پر یقین تو اس قدر کہ قسموں
سے تمام تصانیف پڑ ہیں کہ مجھ کو اپنے الہامات پر ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ لا الہ الا اللہ پر۔ مگر غم یہ ہے کہ خدا تو کہتا ہے کہ ڈر مت اور آپ قادیان سے ڈر کر قدم باہر نہیں رکھتے تھے۔ پنڈت اندرمن و پیر مہر علی شاہ صاحبؒ مناظرہ کے واسطے لاہور آئے اور مرزا قادیانی کا انتظار کر کے بغیر مناظرہ کے واپس چلے گئے۔ باوجودیکہ مرزا قادیانی کے مریدوں نے ان کو یہاں تشریف لانے کے واسطے تاکید کی مگر مرزا قادیانی تشریف نہ لائے۔ دہلی کے مباحثہ میں ایک انگریز کی ذمہ داری لے کر جلسہ میں بصد مجبوری گئے اور مناظرہ ادھورہ چھوڑ کر قادیان تشریف لے گئے جب ملہم خود اپنے الہام پر ایسا عمل کرتا ہے تو پھر دوسروں کا کیا ٹھکانا ہے؟
”اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٩ خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
ناظرین! یہ شرک بالنبوۃ ہے کیونکہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی شان میں اتری تھی۔ جب مرزا قادیانی کوئی اپنی شریعت الگ نہیں لائے تو پھر ان کی پیروی کا خدا کس طرح حکم دے سکتا ہے۔
”اس ابراہیم کے مقام سے عبادت کی جگہ بناؤ۔ ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٨ خزائن ج ٢٢ ص ٩١)
ناظرین! یہ شرک بالمکہ ہے اور اسی واسطے مرزا قادیانی حج کو تشریف نہیں لے گئے۔ ”دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
ناظرین! یہ شرک بالنعوت ہے۔
”اگر تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان کو پیدا نہ کرتا۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٩ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
ناظرین! یہ بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہے اور اب مرزا قادیانی اپنی طرف منسوب کر کے شرک بالنبوۃ کرتے ہیں۔
”اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ وہ دین کو زندہ کرے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠) اب بھی دعویٰ رسالت میں کچھ شک باقی ہے؟
ناظرین! بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید زبانی تو سب فرماتے ہیں کہ وہ پیغمبری اور نبوت کے مدعی نہ تھے مگر ان کی تصانیف اور الہام
اور وحی صاف ظاہر کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو نبی اور ابن اللہ اور مرسل اور خلیفہ سے ملقب کرتا ہے۔ چنانچہ اوپر گزرا ہے کہ تو نبی ہے، مرسل ہے، سردار ہے۔ تیرا تخت سب تختوں سے اونچا بچھایا گیا ہے کس قدر تعجب انگیز ہے کہ کسی جگہ تو تحریر فرماتے ہیں کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا امتی فرمانبردار اور اس کے دین متین کا پیرو اور قرآن و حدیث کا مفتون اور اس کی شریعت کے تابع اس کے حسن کا دیوانہ اور اس کی محبت عشق کا سوختہ۔ اور دوسری جگہ ایسا مقابلہ کرتے ہیں کہ جیسا کوئی مخالف کرتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی وحی اور ولی اللہ کی وحی برابر ہے۔ جس سے مساوات پائی جاتی ہے حالانکہ یہ برخلاف شریعت ہے کیونکہ ولی خواہ کیسا ہی خدا رسیدہ ہو نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کی وحی پیغمبر کی وحی کے برابر ہوتی ہے۔ پھر فرماتے ہیں۔ جس طرح خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ اسی طرح وہی الفاظ میری شان میں بھی فرمائے اور وہی آیتیں دوبارہ مجھ پر نازل ہوئیں جیسا کہ مذکورہ بالا الہامات سے صاف ظاہر ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ پر حکم نازل فرمایا کہ امت محمدی کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ ویسا ہی مجھ کو حکم ہوا لوگوں کو کہہ دے کہ تیری پیروی کریں۔ اگر وہ خدا کی محبت رکھتے ہیں۔ جس طرح ان کی شان میں فرمایا کہ اگر تجھ کو پیدا نہ کرتا تو آسمان کو پیدا نہ کرتا میری شان میں بھی فرمایا۔ جس طرح رسول پاک ﷺ کے اماکن شریفہ کو مطلع فیض ربانی قرار دیا۔ اسی طرح میرے اماکن یعنی قادیان کو بھی مطلع انوار فیوض سبحانی ٹھہرایا۔ جس طرح رسول پاک ﷺ کے ہاتھ سے معجزات و نشان ظاہر فرمائے میرے ہاتھ سے بھی نشان ظاہر فرمائے۔ جس طرح مسجد نبوی اور مقابر مدینہ کو شرف عطا ہوا اسی طرح قادیان کو بھی شرف عطا ہوا۔
ناظرین! غور فرمائیں اور انصاف کریں کہ مرزا قادیانی بایں ہمہ مقابلہ شرک بالنبوۃ و صفات محمد رسول اللہ ﷺ اپنے آپ کو ان کے فرمانبردار اور امتی قرار دیں؟ اور مقابلہ بھی ایسا کہ ١٣ سو برس کے عرصہ میں اگرچہ بڑے بڑے اولیاء اللہ فنا فی اللہ و فنا فی الرسول کے مرتبہ والے گزرے اور بڑے بڑے امام اور مجتہد اس امت مرحومہ میں آئے مگر کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ کا ہرگز مقابلہ نہیں کیا اور نہ اس طرح بے سرو سامان بلا اسناد شرعیہ خود ستائی اور اپنا شرف تمام انبیاء علیہم السلام پر کیا ہے۔ چنانچہ مکہ کے مقابلہ میں قادیان محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں خود مرزا قادیانی، حضرت ابو بکرؓ کے مقابلہ
میں حکیم نور الدین قادیانی و دیگر خلفاء کے مقابلہ میں قادیانی خلفاء حدیث و فقہ کے مقابلہ میں بے سند تکیہ نشینوں برائے نام صوفیہ کی باتیں اور تاویلات بعید از نصوص شرعی۔ یہ مانا کہ آزادی کا زمانہ ہے۔ جو کوئی جو کچھ چاہے بن جائے۔ مگر کیا خوف خدا بھی نہیں کہ منہ سے کہنا کہ ہم مسلمان محمد رسول اللہ ﷺ کی امت اور عمل یہ کہ اس کے مرتبہ میں اور اس کے صحابہ کے مرتبہ میں شریک ہو کر حفظ مراتب ہاتھ سے دے دینا ؎
گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
انصاف تو کریں۔ ١٣ سو برس کے بعد مسلمانان ہند اپنا کعبہ الگ قادیان میں مقرر کر کے ڈھائی اینٹ کی مسجد الگ تیار کریں اور شیرازۂ جمعیت اسلام کو توڑ کر باعث ضعف اسلام ہوں اور صریح نص قرآنی کے برخلاف عمل کریں۔ جس میں حکم ہے۔ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (ال عمران ١٠٣) کہ ”فرقہ فرقہ نہ ہو اور اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو۔“ اور پھر آپ تمام اہل اسلام کو کافر بتا دیں اور خود احمد ﷺ کی بیعت توڑ کر غلام احمد قادیانی کی بیعت کریں اور اس کے قول کو خدا اور رسول ﷺ کی کلام پر ترجیح دیں۔ کیا دینداری ہے۔ سرسید کی تقلید میں بہ تبدیل الفاظ کوئی بات قادیان کی طرف سے آئے یا مرزا قادیانی کی تصنیف میں پائی جائے تو اس کا نام حقائق و معارف و کاشف حجاب قلوب و جلا کنندہ آئینہ دلہا۔ خود ابن اللہ بنیں تو پاک تثلیث۔ خود بت پرستی کریں اور مرزا قادیانی کی فوٹو رکھیں تو موحد۔ خود پیر پرستی کریں اور پیر کے قول کو خدا اور رسول ﷺ کے قول پر ترجیح دیں تو مسلمان۔ اور دوسرے اگر ایسا کریں تو کافر و مشرک یہ قادیانی جماعت کا انصاف ہے؟
باب سوم
تعلیم مرزا قادیانی دربارہ وحی و الہام و ملائکہ
”یعنی یہی نفوس نورانیہ (یعنی ارواح کواکب) کامل بندوں پر بشکل جسمانی متشکل ہو کر ظاہر ہو جاتے ہیں اور بشری صورت سے متمثل ہو کر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تقریر از قبیل خطابیات نہیں بلکہ یہ وہ صداقت ہے جو طالب حق اور حکمت کو ضرور ماننی پڑے گی۔“
(توضیح مرام ص ٤٠ خزائن ج ٣ ص ٧٢)
ناظرین! ارواح کواکب کا بشکل انسان متشکل ہونا اور بشری صورت سے متمثل
ہو کر دکھائی دینا محال عقلی ہے اور مرزا قادیانی محال عقلی کے قائل نہیں۔ اسی واسطے وہ رفع جسمانی حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کا نزول محال عقلی سمجھ کر نہیں مانتے اور ان کے معجزات کو عمل ترب اور سحر سامری اور کل بازی یعنی شعبدہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مگر یہاں اپنے ہی برخلاف تحریر فرماتے ہیں کہ ارواح کواکب بہ شکل بشری متشکل ہو کر دکھائی دیتے ہیں۔ نہ صرف تحریر فرماتے ہیں بلکہ طالب حق کو ضرور ماننے کے واسطے تعلیم دیتے ہیں۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ وہ بشری وجود کس گودام میں سے لے کر آتے ہیں اور ان بشری شکلوں اور وجودوں کا چولہ ارواح کواکب کس طرح پہناتے ہیں؟ جب مرزا قادیانی کا یہ اعتقاد ہے کہ وہ زمین پر نہیں اترتے۔ آسمان سے ہی تاثیر ڈالتے ہیں اور یہاں اپنی ہی تحریر کے متعارض لکھتے ہیں۔ اب کون سا صحیح مانیں اور قانون قدرت کہاں گیا؟
”اس بات کے ماننے کے لیے بھی مجبور ہیں کہ روحانی کمالات اور دل و دماغ کی روشنی کا سلسلہ بھی جہاں تک ترقی کرتا ہے۔ بلاشبہ ان نفوس نورانیہ (یعنی ارواح کواکب) کا اس میں دخل ہے اور اسی دخل کی رو سے شریعت غرا نے استعارہ کے طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں میں ملائکہ کا واسطہ ہونا ایک ضروری امر ظاہر فرمایا ہے۔“
(توضیح مرام ص ٤١ خزائن ج ٣ ص ٧٢)
”اس (انسان) کی بدطینت کے مناسب حال بدکاری کے الہامات اس کو ہوتے رہتے ہیں۔“
(توضیح مرام ص ٦٢ خزائن ج ٣ ص ٨٣)
ناظرین! وساوس شیطانی جو بدکاری کی حالت میں بدکاری کے خیالات یا شہوت اور غضب کی تحریک سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا نام بھی مرزا قادیانی الہام رکھتے ہیں اور انھیں نفوس نورانیہ کے دخل کو ان بدکاری کے خیالات میں مانتے ہیں۔
”روحانی حواس کے لیے محض آسمانی مؤید عطا کیا جاتا ہے۔ جیسے ظاہری آنکھوں کے لیے آفتاب...... جب باری تعالیٰ کا ارادہ اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ اپنا کلام کسی ملہم کے دل تک پہنچائے۔ تو اس کی حرکت متکلمانہ سے معاً جبرائیلی نور میں القاء کے لیے ایک روشنی کی موج یا ہوا کی موج ملہم کی تحریک لسان کے لیے ایک حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے اس حرارت سے بلا توقف وہ کلام ملہم کی آنکھوں کے سامنے لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یا زبان پر وہ الفاظ الہامی جاری ہوتے ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٨١ خزائن ج ٣ ص ٩٣)
ناظرین! یہ مضمون ملائکہ ارواح کواکب کے برخلاف ہے جیسا کہ اوپر لکھ آئے
ہیں کہ ارواح کواکب کی تاثیر کا ملہم کے دل پر اثر ہوتا ہے اور یہاں فرماتے ہیں کہ روشنی و ہوا و حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے جس سے ملہم کو الفاظ الہام سنائی یا دکھائی دیتے ہیں۔ یا اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں اور یہاں جبرائیلی نور کا واسطہ درمیان ملہم و خدا کے مانتے ہیں اور اپنی تحریر کہ روحانی حواس کے لیے آسمانی نور عطا کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ظاہری آنکھوں کے واسطے آفتاب اس کے برخلاف ہے۔
”جبرائیلی نور کا ٤٦ واں حصہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے۔ جس سے کوئی فاسق اور فاجر پرلے درجہ کا بدکار ...... اور فاحشہ عورت یعنی کنجری چاہے یار کی بغل میں خواب دیکھے، کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور تعجب ہے کہ کبھی بادہ پرست عیاشہ بھی کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور سچی نکلتی ہے ..... کیونکہ جبرائیلی نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈکوارٹر ہے۔ تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد ان کے اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو۔ مجذوب بھی جبرائیلی نور کے نیچے جا پڑتے ہیں۔ تو کچھ کچھ ان کی آنکھوں پر اس نور کی روشنی پڑتی ہے۔“
(توضیح المرام ص ٨٤ خزائن ج ٣ ص ٩٥) (ملخص)
ناظرین! اس تحریر سے ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام اور بدکار و کفار و فاجر و فاسق وغیرہ سب کے الہامات کا منبع جبرائیلؑ ہے اور یہ بالکل خلاف قرآن و حدیث ہے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام پر وحی بذریعہ جبرائیلؑ ہوتی ہے اور وہ خاصہ انبیاءؑ ہے۔ عوام پر نزول حضرت جبرائیلؑ ممتنع ہے اور خاتم النبیین کے بعد حضرت جبرائیلؑ کا آنا ہی زمین پر نہیں ہوتا مگر مرزا قادیانی نے اپنے الہامات کی خاطر یہ تمام متعارض اور مہمل تحریر کی۔ مگر ان خود تراشیدہ بیانات و قواعد ایجاد کردہ خود کی کوئی سند قرآن و حدیث و اجتہاد ائمہ اربعہ و اجماع امت وغیرہ سے نہیں دی اور لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو خود یاد نہیں رہتا کہ میں پیچھے کیا لکھ آیا ہوں اور اب کیا لکھ رہا ہوں۔ ایک جگہ فرماتے ہیں ”کہ جبرائیلی نور آفتاب کی طرح تاثیر ڈالتا ہے ۔“ دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ ”خدا اور رسول کے درمیان القاء کرنے والا ہے ۔“ تیسری جگہ لکھتے ہیں کہ ”بشکل انسان متشکل ہو کر آتے ہیں ۔“ چوتھی جگہ لکھتے ہیں کہ ”ارواح کواکب اپنی جگہ سے نہیں ہلتے۔ صرف تاثیر عالم پر ڈالتے ہیں ۔“ پانچویں جگہ لکھتے ہیں کہ ”مجذوب بھی جبرائیلی نور کے نیچے جا پڑتے ہیں ۔“ جس سے معلوم ہوتا ہے جبرائیلی نور ہمیشہ نور افگن رہتا ہے۔ جو شخص اس کے نور کے نیچے آ جائے اس کی باطنی آنکھیں کھل جاتی ہیں حالانکہ خود فرماتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ کسی ملہم تک اپنی کلام پہنچائے۔ تب جبرائیلی نور کو حرکت ہوتی ہے حضرت جبرائیل کو روح مانا ہے اور اس کی جزو یعنی ٤٦ واں حصہ تمام عالم میں پھیلا ہوا
ہے اور یہ نہیں جانتے کہ اس میں عقلاء کا اتفاق ہے کہ روح کی ہستی قابل تقسیم و تجزیہ نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ تقسیم جبرائیلی محال عقلی ہے یہ نہیں فرمایا کہ ٤٥ حصے جبرائیل کے کہاں رہتے ہیں؟
”اس کے کان کو مغیبات کے سننے کی قوت دی جاتی ہے۔ اکثر اوقات وہ فرشتوں کی آواز سنتا ہے...... اسی طرح اسکے رہنے کے مکانات میں بھی خدا عزوجل ایک برکت رکھ دیتا ہے۔ وہ مکان بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے۔ خدا کے فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦ خزائن ج ٢٢ ص ١٨۔١٩)
ناظرین! یہ فرشتے کون ہیں۔ توضیح المرام میں تو مرزا قادیانی ملائکہ کو ارواح کواکب فرما آئے ہیں جو کہ خلاف مذہب اسلام ہے۔ ارواح کواکب کو ملائکہ تسلیم کرنا خلاف قرآن ہے۔ قرآن مجید میں صاف صاف بطور قصہ بیان ہے کہ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ ملائکہ ایک الگ وجود ہے۔ پھر قرآن شریف میں ہے یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰئِکَةُ (النباء ٣٨) جس سے صاف ظاہر ہے کہ روح اور فرشتے یعنی ملائکہ دو الگ الگ وجود ہیں۔ جناب امام فخر الدین رازیؒ اپنی کتاب اسرار التنزیل میں ملائکہ کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ ”فرشتے بالکل نورانی ہیں۔ علوی ہیں‘ قدسی ہیں‘ شہوت غضب نقصان کی صفتوں سے پاک ہیں۔“
انسان کی فطرت سے یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ عالم برزخ میں ہے۔ درمیان ملائکہ اور حیوانات عجم کے۔ عقل بھی اس بات کے ماننے کے لیے مجبور کرتی ہے کہ جس طرح انسان کے ماتحت مخلوق اس سے ناقص ہے۔ اسی طرح اس کے مافوق کوئی مخلوق کامل ضرور ہے کیونکہ کمال انسانی بالاتفاق جمیع مذاہب شہوت و غضب و حرص و بخل و درندگی و بہیمی صفات سے پاک ہو کر لطافت قدوسیت الوہیت کا حاصل کرنا انسانی کمال ہے۔ پس فوق البشر مخلوق کا وجود ماننا پڑے گا۔ اگرچہ وہ بسبب لطافت وجود محسوس در خارج نہ ہو۔ قطعہ
کز فرشتہ سرشتہ و از حیواں
ورکند میل ایں شود بد ازیں
ورکند میل آں شود بہ ازآں
ترجمہ: آدمی کا جنا ہوا ایک عجائب معجون ہے۔ یعنی آدمی کا وجود مرکب ہے کیونکہ فرشتہ اور حیوان کے خواص رکھتا ہے۔ اگر حیوانات کی طرف رجوع کرے۔ ان سے بدتر ہو گا اور اگر فرشتوں کی طرف مائل ہو۔ یعنی ملکوتی کام کرے تو ان سے بہتر ہو گا، جس کی دلیل یہ ہے کہ فرشتوں میں شہوت، غضب، نیند بھوک نہیں اور حیوانات میں عقل و ضمیر و قوت ادراک و ترقی نہیں۔ جس سے نیکی و بدی میں تمیز کر سکے۔ یا کوئی نئی چیز ایجاد کر سکے اور انسان ان سب کا مجموعہ ہے۔ پس جس وقت انسان شہوت و غضب نیند و بھوک کو روک کر رجوع خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف کرے گا اور موانعات سے مجاہدہ کر کے اپنے نفس پر جبر کرے گا تو اس وقت یہ انسان فرشتوں سے افضل ہو گا اور جب باوجود عقل و تمیز ہونے کے روشنی قلب و دماغ و چراغ عقل کو گل کر کے حیوانات کی سی حرکات کرے گا اور شہوت و غضب میں مبتلا ہوگا۔ تب حیوانات سے بدتر ہو گا کیونکہ باوجود ہونے ملکی صفات کے اور موانعات عقلی کے حیوانوں کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ کامل انسان فرشتوں سے افضل ہے اور ناقص انسان حیوانات سے بدتر۔ اکثر لوگ اس جگہ اعتراض کریں گے کہ اگر فرشتوں کا وجود ہے تو نظر کیوں نہیں آتے؟ جس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ وجود لطیف رکھتے ہیں اور لطیف وجود محسوس اور خارج نہیں ہوتا۔ اس لیے فرشتے نظر نہیں آتے۔ یہ مسلمہ امر ہے کہ روح ہر ایک جاندار میں ہے اور اس کے ہونے سے کوئی فرقہ بھی انکار نہیں کرتا۔ مگر روح آج تک کسی کو نظر نہیں آیا۔ ہوا کس قدر قوی ہے کہ اس سے کئی طرح کے کام روزمرہ کیے جاتے ہیں اور اہل سائنس نے تو اس سے بے انتہا کام لیے ہیں اور کئی نئی ایجادات سے عالم کو حیرت میں ڈالا ہوا ہے۔ اور ہم بھی کئی دفعہ دیکھ چکے ہیں کہ بڑے بڑے درخت تموج ہوا سے جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں۔ تمام اقسام کے باجے ہوا کے ذریعہ روح افزا نغمات سے تمام عالم کو مسرور کر رہے ہیں۔ بعض جگہ ہوا کے ذریعہ سے مشینیں چل رہی ہیں۔ پنکھا ہلانے سے آپ کو ہوا تو محسوس ہوتی ہے مگر نظر نہیں آتی۔ کیا آپ اس کے وجود سے بھی انکار کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر فرشتوں کے وجود سے کس طرح؟ صرف اس دلیل سے کہ نظر نہیں آتے۔ انکار کر سکتے ہیں۔ روح تو آپ کے پاس یا اندر ہے۔ کبھی آپ نے دیکھا ہے یا ٹٹولا ہے؟ یا کسی طرح بھی حس کیا ہے۔ جب اپنے پاس کی چیز آپ نہیں دیکھ سکتے تو آسمان کے رہنے والے علوی قدسی لطیف وجود کو ان ظاہری آنکھوں سے کیونکر دیکھ سکتے ہو؟ ان کو تو صرف انبیاءؑ جن کی فطرت ملائکہ سے نسبت رکھتی ہے دیکھ
سکتے ہیں۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس جبرائیلؑ تشریف لاتے اور حضرت عائشہؓ وغیرہ کسی کو نظر نہ آتے۔ جس کی وجہ صرف یہی تھی کہ ان کی فطرت میں وہ نسبت نہ تھی۔ جس کے ذریعہ سے وہ دیکھ سکتے۔
ملائکہ کو ارواح کواکب کہنا پرانی دقیانوسی یونانیوں کے خیالات ہیں۔ جن کے نزدیک تمام مخلوقات ارواح کواکب یا تاثیرات کواکب سے بنی ہوئی ہے اور کواکب حرکات و تغیرات و تبدیلات عناصر سے مرکب ہیں۔ پرانے علم ہیئت میں جو کچھ خیالات یونانی فلاسفروں کے درج ہیں۔ وہ ناظرین کی دلچسپی کے لیے درج کیے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر ایک قسم کی مخلوق ایک خاص سیارہ کی تاثیر سے پیدا ہوئی ہے جیسا کہ وہ نباتات کی نسبت اس طرح کہتے ہیں کہ
پنبہ‘ کتان‘ ہر دو خیار قصب چاند کی تاثیر سے ہوتے ہیں۔ باقلا‘ کشنیز‘ کدو‘ کلک‘ نے عطارد سے‘ انجیر‘ شفتالو‘ انگور و دیگر میوہ ہا زہرہ سے‘ نیشکر‘ عسل‘ ترنجبین و شیرینی آفتاب سے‘ عود بقم‘ سپنداں و پیاز‘ گندنا مریخ سے‘ گندم‘ جو‘ برنج‘ جوز‘ پستہ‘ خرما وغیرہ شیرین اشیاء مشتری سے۔
چونکہ یہاں اختصار منظور ہے۔ اس واسطے تمام تفصیل لکھنی مشکل ہے اسی طرح حیوانات بھی مرغ آبی‘ دراج‘ قمری چاند سے‘ شیر و سگان‘ یوز‘ لومبیہ‘ بوزنہ‘ چرخ‘ طوطی‘ عطارد سے‘ خرگوش‘ ماہی‘ فاختہ‘ ہزار داستان‘ بلبل‘ کبوتر زہرہ سے‘ اسپ گوسپند‘ آہو‘ شیر‘ پلنگ‘ باز‘ شاہین‘ آفتاب سے‘ بز‘ گورخر‘ گرگ‘ شغال‘ افعی‘ عقرب‘ خارپشت مریخ سے‘ گاؤ شتر‘ ہما‘ کبک و مرغان آبی مشتری سے‘ موش‘ مار‘ حشرات وغیرہ زحل سے اور ایسا ہی انسان کی پیدائش بھی سیارہ اور ستارہ کی تاثیرات سے مذکور ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ باید دانست کہ مقصود اصلی طبائع و انجم وجود محض وجود آدم است‘ غرض جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے سب کواکب کے ارواح سے ہو رہا ہے اور یہی خلاصہ تعلیم مرزا قادیانی ہے جو کہ خدا کو بالکل معطل قرار دیتی ہے۔
آپ غور فرمائیں کہ ایسی مضحکہ خیز تعلیم اس روشنی کے زمانہ میں مرزا قادیانی اہل اسلام میں پھیلا کر کیا امید رکھتے ہیں؟ اور ایسے پرانے خیالات جن کی تردید جدید علوم سائنس اور فلکیات سے ہو رہی ہے۔ قوم کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ اور ان کو جن کا ایمان ہے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ارادہ کیا کسی چیز کے پیدا کرنے کا۔ پس کہہ دیا اس کو ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے کیا باعث تقویت ایمان ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ باعث
ضعف ایمان ہے۔
مختلف وحی و الہامات و تعلیم
"قرآن زمین سے اٹھ گیا تھا۔ میں قرآن کو آسمان پر سے لایا ہوں۔"
(ازالہ اوہام ص ٢٥٧ تا ٢٧١ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٤٨٩ ۔ ٤٩٣)
ناظرین! قرآن مجید کا اٹھ جانا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحَافِظُوْنَ (الحجر ٩) نص قرآنی کے برخلاف ہے۔ آسمان سے لاتے ہوئے مرزا قادیانی کو کسی نے نہیں دیکھا بلکہ مرزا قادیانی نے خود دنیا میں آ کر اپنے استاد سے پڑھا۔ البتہ تحریف معنوی قرآن کی مرزا قادیانی نے کی ہے۔ یعنی قرآن کے الفاظ کچھ ہیں اور آپ معنی الٹے کرتے ہیں جس کو عالموں نے روکیا ہے اگر اس کا نام قرآن کا لانا ہے تو ہمارا سلام ہے! ١٣ سو برس کے بعد قادیان قرآن میں لکھوانے خدا کے پاس آسمان پر لے گئے ہوں گے اور قادیان لکھوا کر واپس لائے ہوں گے۔ مگر اب بھی تو قرآن قادیان سے پاک ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ تفسیر عزیزی کے صفحہ ٣١٠ میں تحریر فرماتے ہیں کہ تَلْبِسُوا الحق بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ (ال عمران ٧١) کے معنی یہی ہیں کہ قرآن مجید کے معانی حسب خواہش نفس کے لیے جائیں اور سیاق وسباق قرآن کا لحاظ نہ کر کے اپنے مفید مطلب معنے کیے جائیں اور ضمائر کو خلاف قرینہ عبارت راجع کرنے کو کہتے ہیں۔ اکثر گمراہ فرقے اسلام میں سے کیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ شیعہ معتزلہ قدریہ وغیرہ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی بھی اسی طرح اپنے مفید مطلب معنی کرنے کی خاطر غیر مشہور معنی لغت کے لے کر سباق قرآن کا لحاظ نہیں کرتے اور ضمیر بھی الٹے معنی کے مطابق راجع کرتے ہیں جیسا کہ حیات ممات مسیحؑ میں بلکہ انجیل سے بمقابلہ قرآن تمسک کرتے ہیں جو کہ بالکل خلاف اسلام ہے کیونکہ اگر انجیل مقابل قرآن معتبر ہے تو پھر قرآن کی کیا حاجت ہے؟ دوم حدیث شریف میں ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو فرمایا تھا کہ کیا تم کو قرآن کافی نہیں کہ انجیل دیکھتے ہو؟ مسلمان ہو کر انجیل کو سند پکڑنا مرزا صاحب کا خاصہ ہے۔
"حق الیقین کے درجہ والوں کا خدا ان کو ایسی برکات دیتا ہے کہ ان کے دوستوں کا دوست اور دشمنوں کا دشمن بن جاتا ہے۔"
(حقیقت الوحی ص ٤٨ تا ٤٩ ملخص خزائن ج ٢٢ ص ٥٢،٥١)
ناظرین! خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کے دشمنوں کا دشمن نہیں بنا اور نہ ان کو حسب الہام مرزا قادیانی موت کی سزا دی جیسا کہ عبداللہ آتھم عیسائی، محمدی بیگم منکوحہ آسمانی، والد محمدی بیگم، خاوند محمدی بیگم، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، مولوی عبدالجبار صاحب و مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری، پیر سید مہر علی شاہ صاحب وغیرہ آریہ و عیسائی و برہمو کسی کا خدا تعالیٰ نے کچھ نہیں بگاڑا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ یا تو وہ الہام خدا کی طرف سے نہ تھے۔ یا معاذ اللہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کر کے وفا نہ کی یا مرزا قادیانی خود اس مرتبہ حق الیقین کو پہنچے ہوئے نہ تھے۔
”غرض وحی الہی کے انوار اکمل و اتم طور پر وہی نفس قبول کرتا ہے جو اکمل اور اتم طور پر تزکیہ حاصل کر لیتا ہے۔“ (حقیقت الوحی ص ٢٤ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦)
ناظرین! اگر یہی معیار صداقت ہے تو پھر مرزا قادیانی کا خدا حافظ۔ بیگانے مال کھانے سے تزکیہ نفس خیال محال ہے۔
”اس مرتبہ تک وہ لوگ پہنچتے ہیں جو شہوات نفسانیہ کا چولہ آتش محبت الہی میں جلا دیتے ہیں اور خدا کے لیے تلخی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ آگے موت ہے اور دوڑ کر اسی موت کو اپنے لیے پسند کر لیتے ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٣)
ناظرین! یہ تعلیم دیگراں را نصیحت کا مصداق ہے۔ خود تو مرزا قادیانی ایک مرغی ہر روز کھائیں۔ عنبر کستوری وغیرہ مقوی غذائیں استعمال فرمائیں۔ مرغن و مکلف کھانے کھائیں اور پھر اس پر ترک لذات نفسانی کا دعویٰ عاقلاں خود می دانند۔
موت کے منہ میں جانا اور نہ ڈرنا بلکہ دوڑ کر موت کے منہ میں جانا بھی مرزا قادیانی کا خاصہ ہے۔ خوب! سچ ہے ترک فریضہ کیا یعنی حج بیت اللہ کو ڈر کے مارے نہ گئے۔ تحقیق حق کے واسطے جب کبھی مسلمان نے بلایا۔ قادیان سے قدم باہر نہ رکھا۔ اشتہار بحث کے واسطے خود دے دینا۔ جب کوئی مقابلہ پر آیا تو پہلو تہی کر کے قادیان سے نہ نکلنا اور پھر اس پر دعویٰ یہ کہ نہیں ڈرتے کہاں تک درست ہے؟ اور قول مطابق فعل کے یا فعل مطابق قول کے نہ کرنا رسیدگان خدا کا کام ہے؟
افسوس اتنے پلے کا عالم اور امام ہمام ہونے کا دعویٰ کر کے اپنے فعل کو اپنے قول کے مطابق نہ کرے اور نمونہ بن کر نہ دکھائے اور جھوٹے الہامات کو سچ کرنے میں اس قدر زور دے کہ باعث تضحیک ہو اور اپنی بات پر اڑا جائے۔
صحابہ کرامؓ کو اگر کوئی معمولی آدمی بھی قرآن یا حدیث کے برخلاف پاتا اور ان کو کہہ دیتا تو وہ فوراً مان لیتے اور ضد نہ کرتے حالانکہ وہ خلافت کے اختیارات بھی رکھتے۔ مگر مرزا قادیانی کے دعاویٰ تو اس قدر ہیں کہ زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ مگر خود عمل ندارد۔ کہ اگر کوئی پیش گوئی جھوٹی نکلے تو اس پر اڑے جانا اور اس جھوٹ کے مرمت کرنے میں جائز و ناجائز سب قلم سے نکال دینا اور ایسی ایسی بودی دلیلیں پبلک کے روبرو پیش کرنا کہ باعث شرمساری اہل اسلام ہو۔ سب دنیا کو معلوم ہو گیا کہ عبداللہ آتھم والی پیشین گوئی غلط نکلی اور آپ نے بجائے خاموش رہنے کے ’’عذر گناہ بدتر از گناہ‘‘ پر عمل کر کے لکھا کہ عبداللہ نے چونکہ رجوع اسلام کی طرف کر لیا تھا۔ اس واسطے نہیں مرا۔ حالانکہ وہ دشمن دین اہل اسلام و بزرگان دین کو نہیں مانتا اور اخباروں میں تردید کر رہا ہے بلکہ اس نے نہایت سخت جواب دیا کہ قسم عیسائیوں میں ناجائز اور حرام ہے۔ اس واسطے میں قسم نہیں کھاتا۔ اگر مرزا صاحب سور کا گوشت کھا لیں تو میں قسم کھاتا ہوں کیونکہ مرزا قادیانی کی یہ صرف چال تھی کہ عبداللہ آتھم قسم نہ کھائے گا تو میں سچا سمجھا جاؤں گا مگر وہ بھی استاد نکلا۔ اس پر مرزا قادیانی چپ ہو گئے۔ وہ تاویلیں کیں کہ عقل ہرگز باور نہیں کر سکتی۔ بھلا عبداللہ کو دل میں اسلام کا قائل کہنا حالانکہ دل میں ایمان لانا اور ظاہر نہ کرنا نفاق ہے جو کہ خدا کو منظور نہیں۔ ایسے ایمان سے عذاب الٰہی ہرگز ٹل نہیں سکتا۔
مزید براں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی کے دل کا حال سوا اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ مگر مرزا قادیانی عبداللہ کے دل کا حال جانتے ہیں۔ کونسی معقول دلیل ہے؟ یہ مانا کہ انسان جس وقت ایک بات کو ثابت کرنا چاہے تو بہت زور لگاتا ہے مگر جائز و ناجائز کا تو خیال رکھتا ہے اور کچھ معقولیت بھی مدنظر ہوتی ہے۔ اپنی ضد اور جھوٹی بات پر اڑے جانا نفسانی آدمیوں کا کام ہے۔ نہ خدا کے فرستادوں اور محققین کا۔ اسی طرح نکاح آسمانی اور دشمنوں کی تباہی کے الہامات جھوٹے نکلے اور ناجائز طور پر مرمت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی کو وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (بقرہ٤٢) کہتے ہیں۔
’’غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد ہے اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انھیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ پس بلکہ عمل تراب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لیے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ
معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک ایسی مٹی رہتی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٢٢ خزائن ج ٣ ص ٢٦٣)
ناظرین! یہ ایسی عبارت مہمل اور متعارض ہے کہ جس کی خوبی اور عقلی دلائل مرزا قادیانی کا ہی حصہ ہے ممکن کا جواب تو ممکن سے ہوا کرتا ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ معجزہ ہو اور ممکن ہے کہ مرزا قادیانی غلطی پر ہوں کیونکہ قرآن مجید میں صاف ہے کہ بنا دیتا ہوں تم کو مٹی کی مورت جانوروں کی۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ ہو جائے۔ اڑتا جانور اللہ کے حکم سے۔ اور جلاتا ہوں مردے اللہ کے حکم سے۔ یہ ہے ترجمہ اصل آیات قرآنی کا۔ جس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی اپنے مطلب کے واسطے کس قدر دلیری سے آیات قرآنی میں تصرف کرتے ہیں اور اپنی طبعزاد تقریر سے کس قدر لوگوں کو غلطی میں ڈالتے ہیں۔ مٹی کی مورت کا اڑنا قبول کرتے ہیں اور معجزہ بھی مانتے ہیں کہ وہ عمل الترب تھا۔ اس تالاب کی مٹی میں جس میں روح القدس کی تاثیر تھی۔ جانور بناتے تھے۔ اگر یہ بھی مان لیں تو بھی جانوروں کا پھونک سے اڑنے سے کیا مطلب؟ قرآن تو فرماتا ہے کہ جانور پھونک کے مارنے سے اڑتا جانور ہو جاتا تھا۔ اب آپ انصاف فرمائیں کہ خدا کی قدرت ماننا ایمان ہے یا کہ تالاب کی مٹی کی تاثیر پر ایمان لانا۔ فاسد اور مشرکانہ اعتقاد ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے فرمانے پر کہ میں اللہ کے حکم سے مٹی کی صورت بنا کر پھونک مار کر زندہ کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اعتقاد لانا فاسد اور مشرکانہ اعتقاد ہے۔ یا سحر سامری پر؟ یہ انصاف فرمائیں۔ فعل کا ظہور تو مرزا قادیانی مانتے ہیں مگر خدا کی قدرت سے نہیں بلکہ تالاب کی مٹی کی تاثیر روح القدس یا سحر سامری سے۔ اب بتائیں کہ سحر سامری پر ایمان رکھنے والا کافر ہے یا خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والا اور معجزات کے ماننے والا؟
”کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک کھلونا کل کے دبانے سے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٠٣ خزائن ج ٣ ص ٢٥٢)
ناظرین! کیا مرزا قادیانی نے گردن سے ہاتھ گھما کر ناک کو لگایا۔ افسوس انسان ایسا اپنے مطلب کے وقت از خود رفتہ ہو جاتا ہے کہ سوائے اپنی منزل مقصود کے دوسری طرف سے بالکل آنکھیں بند کر لیتا ہے اور نہیں جانتا کہ اس کے منہ سے کیا نکل رہا ہے؟ یہ تو اقرار کیا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو عقلی طور پر تعلیم دی۔ مگر
معجزہ کہتے ہوئے جھجکتے ہیں۔
حضرت! اگر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو کوئی خاص طریقہ مٹی کی مورت میں پھونک مار کر اُڑا دینا تسلیم کریں گے تو یہی معجزہ ہے۔ پھر آپ کی تمام محنت اور تاویلات ضائع ہوتی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی خصوصیت عوام پر ظاہر کرنی تھی اور اس کا ظہور میں آنا آپ تسلیم کرتے ہیں تو پھر اسی کا نام معجزہ ہے۔ یعنی جس کو عام لوگ نہ کر سکتے تھے۔ باقی رہا کہ مٹی کی مورت میں کسی کل وغیرہ کا ہونا اور منکرین کو اس کا معلوم نہ ہونا یہ آپ کی سمجھ میں آتا ہوگا۔ کوئی عقلمند ہرگز تسلیم نہیں کر سکتا کہ منکر لوگ جو حضرت مسیح علیہ السلام کو جھٹلاتے تھے۔ وہ اندھے نہ تھے کہ کل دباتے حضرت کو نہ دیکھتے اور ایسی تو کوئی کل بھی نہیں ہو سکتی جو پھونک مارنے سے مٹی کی مورت ٹھوس اور وزنی پرواز کرے۔ اگر آپ بجائے مٹی کے کاغذات کی مورت تحریر کرتے تو وہ بھی کچھ امکان ہو سکتا تھا۔ مگر قرآن تو مٹی کی مورت فرماتا ہے جس میں کسی قسم کی کل کا ہونا ممکن نہیں۔ پس آپ کے انکار سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ کے سخت مخالف ہیں کہ اس کو شعبدہ باز دھوکہ دہ اور کھلونے باز خیال فرماتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید اس کی نبوت کی تصدیق فرما رہا ہے اور مسلمانوں کو قرآنی حکم ہے کہ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِه (بقرہ ٢٨٥) مگر آپ رسول کی خوب عزت کرتے ہیں اور دوسری طرف اس کے مثیل ہونے کا دعویٰ ہے؟
ناظرین! انصاف فرماویں کہ نبیوں کی بابت ایسا اعتقاد جیسا کہ مرزا قادیانی کا ہے مشرکانہ ہے۔ یا قرآن کے مطابق ان کے معجزات ماننا مشرکانہ اعتقاد ہے؟
تعجب ہے کہ مرزا قادیانی حضرت ابراہیمؑ کا معجزہ کہ وہ آگ میں سلامت رہے اور آگ ان پر سرد ہو گئی۔ مانتے ہیں مگر حضرت مسیحؑ سے کچھ ایسی رقابت ہے کہ ان کے معجزات سے باوجود شہادت قرآنی کے انکار کرتے ہیں۔ لو اب کھلم کھلا سن لو۔
عیسیٰ کجاست تا بنہد پای منبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
سبحان اللہ! جس کے مثیل ہونے کا دعویٰ اس کی بے ادبی۔ کیا اسلام اسی کا نام ہے کہ انبیاءؑ کے حضور میں گستاخانہ قیل و قال کی جائے اور پاس ادب نہ رکھا جائے؟
دوم یہ بھی غلط ہے کہ حسب بشارات آمدم۔
مرزا قادیانی کی والدہ یا والد نے کوئی بشارت مرزا قادیانی کی نسبت اللہ کی طرف سے نہیں پائی جیسا کہ حضرت مریم کو دی گئی تھی اور نہ قرآن مجید میں آپ کے آنے کی کوئی بشارت ہے جیسا کہ انجیل میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نسبت تھی۔
”انبیاءؑ سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوتے ہیں کہ کسی نے سانپ بنا کر دکھایا اور کسی نے مردہ کو زندہ کر کے دکھایا۔ یہ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٣٣۔٤٣٤ خزائن ج ١ ص ٥١٨۔٥١٩)
ناظرین! غور فرمائیں کہ یہاں تو مرزا قادیانی انبیاءؑ کے معجزات کو مانتے ہیں اور شعبدہ وغیرہ دست بازیوں سے پاک فرماتے ہیں مگر حضرت مسیحؑ کے حق میں جو اوپر درج ہے۔ اپنے ہی بیانات کے مخالف ہے۔ یعنی دست بازی کا الزام حضرت مسیح علیہ السلام کو دیتے ہیں کہ وہ کوئی کل استعمال کرتے تھے۔ تالاب کی مٹی یا سحر سامری سے معجزات دکھاتے تھے حالانکہ قرآن مجید میں ان کے سات معجزات درج ہیں۔
- (اوّل)...... والدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بشارت کا ہونا کہ تجھ کو بیٹا خدا کی طرف
سے عطا ہو گا۔
- (دوم)...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا۔
- (سوم)...... مہد میں کلام کرنا یعنی بحالت شیر خوارگی جبکہ گویائی کی طاقت نہیں ہوتی۔ اپنی
والدہ کی تصدیق فرمائی۔
- (چہارم)...... مٹی کی مورتیں بنا کر ان کو پھونک مار کر اللہ کے حکم سے اُڑانا۔
- (پنجم)...... اندھا مادر زاد کو بینا کرنا۔ کوڑھی کو اچھا کرنا۔ گھر میں جو رکھا ہو یا جو کچھ کوئی
گھر سے کھا کر آئے اس کو بتانا۔
- (ششم)...... مردہ کو زندہ کرنا۔
- (ہفتم)...... زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور کفار کے ہاتھ سے نہ قتل ہونا اور نہ مصلوب ہونا۔
ناظرین! یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مرزا قادیانی معجزات کا اقرار بھی کرتے ہیں اور انبیاءؑ کے معجزات کو شعبدہ و دست بازی سے پاک بھی یقین کرتے ہیں مگر حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دست بازی اور سحر سامری وغیرہ تاویلات کرتے ہیں اسکی وجہ سوا اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو حضرات انبیاءؑ سے یقین نہیں فرماتے۔ یا ان سے کوئی خاص عداوت رکھتے ہیں۔ حیرت کا مقام ہے کہ نصوص قرآنی کے برخلاف اور اپنی بھی تحریر کے برخلاف حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں تحریر فرماتے
ہیں اور تاویلات میں ایسے مطلق العنان ہو جاتے ہیں کہ جائز و ناجائز کلمات کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ بلکہ اپنی ہی تصنیف کے برخلاف چلے جاتے ہیں۔
”کیونکہ دنیا میں بجز انبیاء کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا کرتے ہیں کہ زلزلے آئیں گے۔ وبا پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑے گا۔ ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرے گی۔ یہ ہوگا وہ ہوگا اور بارہا کوئی نہ کوئی خبر سچی بھی نکل آتی ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٧٦ خزائن ج ١ ص ٥٥٨)
ناظرین! بقول مرزا قادیانی معلوم ہو گیا کہ پیشگوئیاں معیار صداقت نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے علاوہ دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں اور ان کی بھی مرزا قادیانی کی مانند بعض اتفاقیہ سچی نکل آتی ہیں اور بعض جھوٹی ہوتی ہیں۔ تو پھر مرزا قادیانی کے پاس اپنے مسیح موعود ہونے کا کیا ثبوت ہے؟
”اس کے اذن خاص سے ملائکہ اور روح القدس زمین پر اترتے ہیں اور خلق اللہ کی اصلاح کے لیے خدا تعالیٰ کا نبی ظہور فرماتا ہے۔“
(براہین احمدیہ ص ٥٣٧ خزائن ج ١ ص ٦٤٣)
ناظرین! یہ مضمون متعارض ہے۔ مضامین توضیح المرام و ازالہ اوہام کے۔ جہاں لکھا ہے کہ میری اور مسیح کی محبت کے سلسلوں کے نر و مادہ سے روح القدس پیدا ہوتا ہے اور ملائکہ ارواح کواکب ہیں اور زمین پر نہیں اترتے۔
”جبرائیلؑ جس کا سورج سے تعلق ہے وہ بذات خود اور حقیقتاً زمین پر نہیں اترتا ہے۔ اس کا نزول جو شرع میں وارد ہے۔ اس سے اس کی تاثیر کا نزول مراد ہے اور جو صورت جبرائیل وغیرہ فرشتوں کی انبیاءؑ دیکھتے تھے۔ وہ جبرائیل وغیرہ کی عکسی تصویر تھی۔ جو انسان کے خیال میں متمثل ہو جاتی تھی۔“
(توضیح مرام ص ٣٠ تا ٦٧ ملخص خزائن ج ٣ ص ٨٦۔٦٦)
ملک الموت بذات خود زمین پر اتر کر قبض روح نہیں کرتا بلکہ اس کی تاثیر سے قبض روح ہوتا ہے۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے نجوم کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔ ملائکہ ستاروں کے ارواح ہیں۔ وہ سیاروں کے لیے جان کا حکم رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ کبھی سیاروں سے جدا نہیں ہوتے۔
ناظرین! یہ وہی پرانی مشرکانہ تعلیم ہے جو یونانی حکماء کے خیال تھے۔ جن کی تردید آج جدید علوم ہیئت اور سائنس سے ہو رہی ہے۔
آفتاب و ماہتاب ستارے و سیارے وغیرہ اجرام سماوی سب کے سب کرے ہیں ۔ جو بذریعہ اسطرلاب ورصد وغیرہ جدید آلات کے پروفیسران جرمن، فرانس، امریکہ نے مشاہدہ کیا ہے کہ ان میں آبادیاں ہیں اور مریخ وغیرہ میں انسان جیسی آبادی ہے۔
سیاروں اور ستاروں اور شہاب ثاقب وغیرہ اجرام سماوی کا وجود مفصلہ ذیل اشیاء سے مرکب پایا گیا ہے۔ لوہا ۔ کانسی، گندھک، سکہ، میکنیشیا، چونا (لائم) اموینا، پوٹاس، سوڈا، اکسائیڈ آف مینگز، تانبہ، کاربن، ماخوذ از ماڈرن جیالوجی مصنفہ ڈاکٹر سیریل کنس صفحہ ٥٥ جو صاحب زیادہ اجرام فلکی کی ترکیب کی تحقیقات کا شوق رکھتے ہوں ۔ اس کتاب کو دیکھیں پھر مرزا قادیانی کا کمال اور علم وفضل و کشف من جانب اللہ معلوم ہو گا۔
تعجب ہے کہ یہ اپنی ہی تحریر کے برخلاف ہے۔ آپ خود براہین احمدیہ میں جب ہندوؤں پر اعتراض کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ ”وہ ٣٣ کروڑ دیوتا کو الوہیت کے کاروبار میں خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ (براہین ٣٩٣ تا ٣٩٣ حاشیہ نمبر ١١ ملخص خزائن ج ١ ص ٤٧١۔٤٦٨) اور اب خود ہی یہاں فرماتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے۔ نجوم کی تاثیرات سے ہو رہا ہے اور ملائکہ ستاروں کے ارواح ہیں اور ملائکہ دیوتا فرشتوں کو کہتے ہیں یعنی ایک ہی ہیں تو جو اعتراض مرزا قادیانی نے ہندوؤں پر کیا تھا کہ وہ ٣٣ کروڑ دیوتا کو خدا کے کاروبار میں شریک کرتے ہیں۔ وہی آپ پر آتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے نجوم کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔ ارواح کواکب اور نجوم کو کاروبار الوہیت میں خود شامل فرماتے ہیں۔
(ازالہ ص ٢٦٢ خزائن ج ٣ ص ٢٣٣) میں تفسیر معالم کا حوالہ دے کر کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت سے فرشتوں کا آنا اور روح کا لے جانا تسلیم کرتے ہیں اور یہاں فرشتوں کا آنا زمین پر نہیں مانتے۔ خود ہی اپنی تردید فرماتے ہیں۔
”مگر اس فلسفی الطبع زمانہ میں جو عقلی شائستگی اور ذہنی تیزی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ دینی کامیابی کی امید رکھنا ایک بڑی بھاری غلطی ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٦٨ خزائن ج ٣ ص ٢٣٥)
ناظرین! معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ کے عقلی دلائل کے خوف سے آپ اپنے دینی مسائل سے انکار کر رہے ہیں اور ناجائز تاویلات سے عقل کے مطابق کرنا چاہتے ہیں تو پھر کیوں سرسید کی تعلیم من کل الوجوہ قبول نہیں کرتے؟ اور اس کی بعض باتیں تو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے۔ کچے نیچری کیوں نہیں ہوتے؟ اور سب ارکانِ اسلام کو رخصت نہیں کرتے؟ کیا یہ معقول ہے کہ خدا تعالیٰ آپ سے باتیں کرتا ہے اور وہ بھی جھوٹی نکلتی ہیں؟ یعنی خدا تعالیٰ آپ کا نکاح آسمان پر پڑھتا ہے اور زمین پر اس کا ظہور نہیں ہوتا۔
- (دوم)...... سحر سامری کا کون قائل ہو سکتا ہے؟
- (سوم)...... حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کا سرد ہونا‘ حضرت اسمعیل کو غیب سے
خوراک کا ملنا‘ جس کے آپ قائل ہیں کون مان سکتا ہے؟
- (چہارم)...... فرشتوں کی آواز کا سننا‘ آسمان کے دروازوں کا کھلنا۔ خدا کی گود میں
بیٹھنا‘ خدا کو دھندلی نظر سے دیکھنا‘ قبور میں دوزخ کی کھڑکیاں کا ہونا‘ قرآن کو آسمان سے دوبارہ لانا‘ یہ کونسی فلاسفی ہے اور کن جدید علوم کے موافق ہے؟
قیامت کے دن حشر بالاجساد پر اس کا ایمان لانا ناممکن ہے کیونکہ جسم گل سڑ گئے ہوں گے۔ بس پھر کھلے کھلے نیچری کیوں نہیں ہوتے؟ پھر سُنّی کی آڑ میں کیوں شکار کھیلتے ہیں؟ کہ ہم قرآن و حدیث کو مانتے ہیں اور نیچریت کے مسائل کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے ناحق قرآن کے مدعی ہوئے ہیں۔
تعلیم و عمل مرزا قادیانی
(حقیقۃ الوحی ص ٧ خزائن ج ٢٢ ص ٩) خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کا لالچ‘ تکبر‘ عجب‘ ریا‘ نفس پرستی اور دوسرے اخلاقی رزائل حقوق اللہ اور حقوق العباد اور طرح طرح کے حجاب شہوات خواہشات نفسانی مانع قابل فیضان مکالمہ اور مخاطبۃ اللہ کا مانع ہے۔
’’بلکہ کمال انسانی کے واسطے اور بہت سے لوازم و شرائط ہیں اور جب تک وہ متحقق نہ ہوں۔ تب تک یہ خوابیں اور الہام بھی مکر اللہ میں داخل ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٨ خزائن ج ٢٢ ص ١١)
ناظرین! اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ مذکورہ بالا بیان رسمی اور معمولی پیروں کی طرح بیان ہی بیان ہے اور دوکانداری ہے یا اس پر انھوں نے خود عمل کر کے وہ مرتبہ حاصل کیا ہے؟ اگر ان کے عمل ان کے بیان کے مطابق ہوں گے تو ان کا مرتبے پر پہنچنا ثابت ہے۔ ورنہ وہی مثال نصیحت برائے دیگراں۔ صادق آئے گی۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختصر نظر ان کے اعمال پر ڈالی جائے کیونکہ پیر کا عمل مرید کے واسطے نمونہ ہوتا ہے۔ جب پیر کا عمل اس کی گفتار کے مطابق نہ ہو گا تو مرید کس طرح اس کی تعلیم پر عمل کر سکتا ہے؟ اب ذرا مختصر حالات عمل مرزا قادیانی گوش ہوش سے سنو۔
ابتداء میں آپ پندرہ روپے کے ملازم ضلع سیالکوٹ میں تھے اور وہاں حکام کی اَن بَن سے تنگ تھے کیونکہ ان کو علم کا غرور تھا۔ اس واسطے نوکری سے بیزار تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح اس بندگی یا غلامی کی زندگی سے نجات ہو کوئی اور کام کیا جائے۔
چنانچہ آپ نے قانون کا امتحان دیا۔ مگر قسمت کی خوبی سے فیل ہو گئے۔ ایک رائے صاحب نے ان کو رائے دی کہ چونکہ آپ کو ابتدا عمر میں یعنی مکتب خانہ میں بھی بحث و مباحثہ کا شوق تھا اور آپ وہاں تحفۃ الہند تحفۃ الہنود خلعت الہنود وغیرہ کتابیں سنی و شیعہ اور عیسائی مذہب کی دیکھا کرتے تھے اور اس فن میں آپ کو مہارت ہے۔ اگر آپ مناظرہ کی کتابیں تالیف کریں اور کل مذاہب کی تردید کی کتابیں لکھ کر فروخت کریں تو چند ہی دنوں میں آپ کی شہرت ہو جائے گی اور آپ کو معقول آمدنی شروع ہو گی۔ جس سے آپ کو نہ نوکری کی پرواہ رہے گی اور نہ کسی اور کارخانہ کے چلانے کی۔ اس رائے سے ان کے دوسرے دوستوں نے بھی اتفاق کیا اور آپ سیالکوٹ سے لاہور تشریف لائے اور مسجد چینیا نوالی میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ملاقی ہوئے اور فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ ایک ایسی کتاب لکھوں کہ کل ادیان کا بطلان کرے اور حقیقت اسلام ظاہر کرے۔ مولوی صاحب نے اتفاق رائے کی اور مرزا قادیانی نے اشتہار جاری فرمایا کہ ایک کتاب ایسی جس میں تین سو دلیل صداقت اسلام پر ہو گی۔ جس کی قیمت دس اور پانچ روپے مد پیشگی قرار پائی۔ چونکہ اس زمانہ میں ایک عجیب رنگ زمانہ کا تھا کہ تمام طرفوں سے اسلام پر ہر مذہب کے لوگ اعتراض کرتے تھے اور صرف ایک سرسید تھے جن کو اسلام کی حفاظت کا عشق تھا اور اس نے اپنی قوت ہمت دولت عزت وغیرہ سب اسلام پر فدا کر کے کمر ہمت ایسی باندھی تھی کہ جس کی نظیر نہیں۔
مرزا قادیانی کا ایسے وقت میں اشتہار ایسا تھا کہ بھوکے کو روٹی یا اندھے کو آنکھ۔ پھر کیا تھا۔ تمام اطراف سے اہل اسلام نے مرزا قادیانی کو ہر طرف سے امداد دینی شروع کی اور جیسے شمع پر پروانہ گرتا ہے مرزا قادیانی پر فدا ہونے لگے۔ اور چاروں طرف سے اہل اسلام نے روپے بھیجنے شروع کیے اور مرزا قادیانی کو ایک اسلامی پہلوان یا مناظر سمجھ کر ان کی امداد فرض سمجھ کر دل و جان سے ان کی طرف متوجہ ہوئے اور مرزا قادیانی کو چاروں طرف سے روپیہ آنا ایسا شروع ہوا کہ مالا مال ہو گئے۔ قرضہ بھی تمام اتر گیا اور خود بھی آسودہ ہو گئے چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ ”جہاں مجھ کو دس روپیہ ماہوار آمدنی کی امید نہ تھی۔ لاکھوں تک نوبت پہنچی۔“ پھر براہین احمدیہ کی جلدیں بھی نکلنی شروع ہوئیں۔ مگر براہین احمدیہ کے لکھتے لکھتے مناظر اسلام سے مجدد و مثیل مسیح و مہدی ہونے کا خیال ہو گیا اور انھوں نے بک جھک کر اپنا دعویٰ شائع کیا اور پھر نبوت کے دعویٰ تک بھی نوبت پہنچی۔ پھر کیا تھا علماء اسلام نے کفر کا فتویٰ دے دیا؟ اور لوگوں نے جن کو دین
اسلام کی حمایت منظور تھی اور انھوں نے اس غرض کے واسطے روپے بھیجے تھے۔ مرزا قادیانی سے برگشتہ ہو گئے کہ مرزا قادیانی تو اپنی نبوت کا سکہ اہل اسلام پر جمانے لگے ہیں۔ کیونکہ مخالفین اسلام میں سے تو ایک بھی مسلمان نہ ہوا اور نہ ان کے مناظرہ سے کچھ فائدہ ہوا۔ صرف مسلمانوں کو ہی بیوقوف سمجھ کر اپنا اُلّو سیدھا کریں گے اور نبوت کا دعویٰ کریں گے چنانچہ پیشگوئی پوری ہوئی اور مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ خواہ ناقص یا ظلی کا لباس اس پر پہنایا۔ یہ لوگ منشی عبدالحق صاحب‘ بابو الٰہی بخش صاحب‘ حافظ محمد یوسف‘ بابو میراں بخش اکاؤنٹنٹ‘ مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ وغیرہ تھے اور وہ لوگ تو پیچھے ہٹ گئے۔ مگر چاروں طرف سے کتاب براہین احمدیہ کی مانگ شروع ہوئی اور تقاضا ہونے لگا کہ کتاب جس کی قیمت وصول کی گئی ہے۔ خریداروں کے پاس پہنچنی چاہیے ورنہ یہ ہو گا وہ ہو گا۔ مگر مرزا قادیانی نے بجائے دلائل صداقت دین وحقیقت اسلام جس کا وعدہ تھا۔ اپنی تعلیم اور اپنے الہامات اپنے دعویٰ کی تصدیق میں تصنیف کر کے جلد پنجم براہین احمدیہ ہے چونکہ اختصار منظور ہے۔ بہت مختصر حالات لکھے جاتے ہیں۔ جس کو زیادہ شوق ہو۔ وہ کتاب چودھویں صدی کا مسیح‘ مطبوعہ سیالکوٹ دیکھ سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی یہ آمدنی بروئے شرع جائز ہے کہ وعدہ تو کیا کہ تین سو دلیل عقلی حقیقت اسلام پر دوں گا؟ اور پھر لکھا کہ چونکہ قیمت کتاب سو روپیہ ہے اور کتاب تین سو جزو تک بڑھ گئی ہے اور اس کے عوض دس یا پچیس روپیہ قرار پائی ہے۔ دیکھو اشتہار پس پشت ٹائٹل (براہین احمدیہ جلد سوم مطبوعہ ١٨٨٢ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٤) اور لوگوں کا روپیہ جس غرض کے لیے انھوں نے دیا تھا۔ وہاں خرچ نہ کیا بلکہ لنگر جاری کر کے معمولی پیروں کی طرح جال پھیلایا اور اسی روپیہ سے اپنے دعویٰ کی تصدیق یعنی اثبات نبوت اور اس کی شہرت میں خرچ کیا اشتہار چھپوائے اور اپنی تالیفات فتح اسلام‘ توضیح المرام‘ حقیقۃ الوحی‘ تحفہ گولڑہ وغیرہ وغیرہ کتب میں صرف کیا اور براہین احمدیہ جس کا وعدہ تھا۔ وہ شائع نہ کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل کوئی کتاب نہ تھی۔ صرف پہلی جلد میں اشتہار‘ دوسری و تیسری جلد میں مقدمہ اور تیسری کی پشت پر اشتہار کہ تین سو جزو تک کتاب بڑھ گئی ہے۔ بالکل غلط اور دھوکا دہی تھی کیونکہ چوتھی جلد میں صرف مقدمہ اور آٹھ تمہیدات ہیں اور صفحات ٥١٢ ہیں۔ تمہیدات کے بعد باب اوّل شروع ہوا ہے۔ جس میں وہ تین سو دلائل جن کا وعدہ دے کر روپیہ جمع کیا تھا۔ ابھی شروع ہوا ہی تھا کہ چہارم جلد کی پشت پر اشتہار دے دیا کہ اب براہین احمدیہ کی تکمیل خدا نے اپنے ذمہ لے
لی ہے اور بیگانہ مال اپنا بنا لیا۔ اب کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ وہ تین سو دلیل اور تین سو جزو کی کتاب کہاں ہے؟ جس کی قیمت پیشگی وصول کی گئی تھی۔ اگر زر چندہ اس غرض پر خرچ نہ کیا جائے۔ جس کے واسطے جمع ہوا تھا۔ بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کیا جائے۔ تو یہ حلال ہے یا حرام؟
اگر کوئی شخص حمایت اسلام کے واسطے روپیہ جمع کرے اور حمایت اسلام نہ کرے بلکہ اسلام کی مخالفت کرے اور شرک بھری تعلیم دے تو وہ روپیہ اس کے واسطے جائز ہے یا ناجائز؟ اور ایسے روپے کھانے سے قلب انسانی سیاہ ہوتا ہے یا روشن؟
مرزا قادیانی اپنے مسیح موعود ہونے کی ایک دلیل یا نشان آسمانی یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں مجھ کو دس روپیہ ماہوار کی آمدنی کی امید نہ تھی۔ اب مجھ کو لاکھوں روپیہ سالانہ آتا ہے اور ابھی تالیفات کی آمدنی الگ ہے اگر فریب سے روپیہ جمع کرنا اور لوگوں کو دھوکا دے کر من جانب اللہ ہونا جائز ہے تو بیشک آپ مرسل وغیرہ جو کہیں ہم مان سکتے ہیں؟ اور اگر یہ دیانت و امانت اور اتقاء اور حقوق العباد کے برخلاف ہے تو کون مان سکتا ہے؟ اگر یہی دلیل صداقت کی ہے تو کئی ڈاکٹر جھوٹے اشتہار دے کر جو پانچ روپیہ سے پانچ لاکھ روپیہ ہو گئے ہیں۔ بدرجہ اعلیٰ من جانب اللہ اور نبی ہونے کے مستحق ہیں؟
(دوم)...... نعمت مکالمہ الٰہی سوا تزکیہ نفس اور جمعیت خاطر حاصل نہیں ہوتی اور یہ ہر ایک شخص جانتا ہے کہ اگر کسی آدمی کی توجہ کسی خاص کام کی طرف لگی ہوئی ہو اور اس کا بوجھ اس کے دل پر ہو تو وہ دوسرے کام کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔ جب مرزا قادیانی کا دعویٰ تمام مذاہب کے برخلاف تھا اور ان کے دل پر تمام مخالفین کے اعتراضات کے جواب دینے اور جرح کرنے کا بوجھ تھا اور روزی بھی ایسی مشکوک تھی جیسا کہ اوپر ذکر ہوا تو پھر ان کا دعویٰ کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے اور مجھ کو ابن اللہ کہتا ہے۔ مرسل کر کے پکارتا ہے اور میرا تخت انبیاء کے اوپر پہنچاتا ہے کہاں تک درست ہے؟
(سوم)...... جو معیار خود انھوں نے مقرر کیا ہے۔ اسی کے رو سے وہ سچے نہیں مانے جا سکتے۔ "کیونکہ وہ (اولیاء اللہ) دنیا کے ذلیل جیفہ خواروں کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتے۔" (براہین احمدیہ ص ٣٠٤ خزائن ج ١ ص ٣٥٤) جس سے صاف ظاہر ہے کہ دنیا کے ذلیل جیفہ خواروں کا کمایا ہوا روپیہ سے دل سیاہ ہوتا ہے پھر اس میں مخاطبہ و مکالمہ اللہ کا ہونا محال ہے۔ پس مرزا قادیانی لوگوں کا بے تحقیق مال کھا کر کیونکر شرف مکالمہ ذات باری پا سکتے ہیں؟
ناظرین! شاعرانہ خیال سے علم تعبیر خواب و علم نجوم ورمل سے کوئی شخص اولیا اللہ نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ نبوت کا مدعی ہو۔ باقی رہی معتقدین کی کہانی سو یہ ظاہر ہے کہ ہر ایک اپنے پیر پر ایسا اعتقاد رکھتا ہے کہ اس کے سوا دوسرے کی بزرگی کا قائل نہیں ہوتا بلکہ سب سے اس کو افضل جانتا ہے۔ بت پرست بھی اپنے اپنے بتوں پر ایسا اعتقاد رکھتے ہیں۔ جیسا کہ پیر پرست اپنے اپنے پیر پر۔ جیسا کہ ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ آٹے کا ٹھاکر بنا کر اس کی پوجا کیا کرتی تھی۔ ایک روز کتا اس ٹھاکر جی کو لے بھاگا۔ اس وقت اس عورت نے بڑ بڑا کر کہا کہ مہاراج تم تو بڑے ہی رحم دل ہو کہ کتے شریر کو بھی سزا نہیں دیتے۔ بجائے اس کے کہ اس عورت کا اعتقاد ٹوٹ جاتا بلکہ اور زیادہ ہوا۔ یہی حال مرزائیوں کا ہے کہ چاہے لاکھ نص قرآنی پیش کرو نہ مانیں گے اور قادیان کی طرف سے سب رطب و یابس بلا دلیل تسلیم کرتے ہیں۔
(چہارم)...... مرزا قادیانی کے ایک خط کو یہاں نقل کرتا ہوں جس سے ان کا انصاف اور تزکیہ نفس اور نفی خواہشات نفسانی و توکل علی اللہ کا پتہ لگتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی:۔ والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک (محمدی) مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتہ ناطہ توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لیے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو۔ اس کو سمجھاؤ اور اگر ایسا نہیں ہو گا تو آج میں نے مولوی نور الدین اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے اور اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لیے طلاق نامہ ہم کو بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنا اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا جس کا مضمون یہ ہو گا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی بیگم کا کسی اور سے نکاح ہو جائے...... اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ تو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں
فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک ذرہ نہیں پا سکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لیے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لیے ہر طرح کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہو گا۔ اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہیں رہے گا۔
(راقم مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٨۔١٢٧)
ایک طرف محمدی کے باپ مرزا احمد بیگ کو خط لکھا تھا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی لڑکی محمدی بیگم سے میرا آسمان پر نکاح ہو چکا ہے اور مجھ کو اس الہام پر ایسا ایمان ہے جیسا کہ لا الہ الا اللہ پر۔ میں قسمیہ کہتا ہوں کہ یہ بات اٹل ہے۔ یعنی خدا کا کیا ہوا ضرور ہو گا۔ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئیں گی اگر آپ کسی اور جگہ نکاح کریں گے تو اسلام کی بڑی ہتک ہو گی کیونکہ میں ١٠ ہزار آدمی میں اس پیشگوئی کو مشتہر کر چکا ہوں۔ اگر آپ ناطہ نہ کریں گے تو میرا الہام جھوٹا ہو گا اور جگت ہنسائی ہو گی۔ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز نہیں بدل سکتا۔ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورے پورے معاون بنیں۔ دوسری جگہ ناطہ غیر مبارک ہو گا۔ الخ۔
(خاکسار غلام احمد ١٧۔ جولائی ١٨٩٠ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥۔١٢٤)
اسی مضمون کا ایک خط مرزا علی شیر کو لکھا۔ جس میں وہی مضمون دھمکی اور لجاجت آمیز فقرے تھے۔ بغرض اختصار نہیں لکھتا۔ یہ خط ٤ مئی کو اقبال گنج سے لکھا تھا۔
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧۔١٢٥)
ناظرین! اب صرف معاملہ غور طلب یہ ہے کہ ان خطوں سے جن کا ایک ہی مضمون ہے۔ کیا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
(اوّل)...... الہام جھوٹ تھا اگر اپنے الہام پر ایمان تھا تو جیسا کہ وہ خود قسم کھا کر لکھتے ہیں تو پھر ایسے خطوط لکھنے اور الہام کو سچا کرانے کی کوشش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ نکاح جو آسمان پر ہوا تھا۔ زمین پر ضروری ہوتا۔
(دوم)...... جھوٹی قسم کھانی ثابت ہوئی کیونکہ اگر خدا کی طرف سے آسمان پر نکاح ہوتا تو زمین پر کیوں نہ ہوا؟ یہ قسم صرف لڑکی کے والدین اور ورثا کو یقین دلانے کے واسطے کھائی تا کہ وہ یقین کر جائیں۔
- (سوم)...... خدا تعالیٰ کا بھروسہ چھوڑ کر انسان عاجز کی منت خوشامد کرنا منافی دعویٰ
نبوت ہے۔
- (چہارم)...... خدا پر بہتان باندھنا کہ اس نے آسمان پر نکاح کیا ہے۔ حالانکہ یہ غلط نکلا۔
- (پنجم)...... انصاف کا خون کر کے ایک بے گناہ عورت کو طلاق دلوانا یعنی عزت بی بی کا
کیا قصور تھا کہ اس کو طلاق ہوتی؟
- (ششم)...... اپنے بیٹے فضل احمد کو انصاف کرنے کے بدلے یعنی اگر وہ بیوی کو طلاق نہ
دے تو اس کو عاق کرنا۔
- (ہفتم)...... الہامات کا راز کھلتا ہے کہ اپنے الہامات وہ اسی طرح سچے کرانے کی کوشش
کرتے رہے اور جو جو الزام ان پر عبداللہ آتھم اور لیکھرام کے متعلق لگائے گئے تھے۔ وزن رکھتے تھے۔
- (ہشتم)...... زبردستی سے برخلاف مرضی ولی محمدی بیگم کے نکاح کی خواہش کرنا۔
- (نہم)...... مرزا قادیانی خدا کے مقبول نہ تھے اور نہ مستجاب الدعوات کیونکہ بقول ان کے
اگر خدا ان کی مانتا تو آسمان پر نکاح کر کے بندوں سے اپنے دوست و رسول کی بے عزتی نہ کراتا اور اس کا الہام نہ جھٹلاتا۔
- (دہم)...... جو جو صفات اپنے فناء فی اللہ اور بقا باللہ والوں کی نسبت تحریر فرماتے ہیں کہ
وہ لوگ خواہشات نفسانی سے پاک ہو کر دنیا و مافیہا سے غافل ہوتے ہیں۔ غلط ہے ایسی ایسی چالیں و منصوبے تو دنیا داروں کو جو ہمہ تن دنیا کے ہوتے ہیں۔ نہیں سوجھتیں۔ جو جو تدابیر مرزا قادیانی نے اس ناطہ کے حاصل کرنے اور اپنے الہام کے سچا کرنے میں کیں۔ خطوط پھر غور سے پڑھو۔
- (یاز دہم)...... فضیلت توکل کو بالکل ہاتھ سے دے دینا اور اپنے نفس کی خواہش نہ
پوری ہونے سے اپنے مولیٰ کی رضا پر راضی نہ ہونا اور معمولی دنیا داروں کی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا جو کہ خلاف قرآن ہے۔
- (دوازدہم)...... وراثت سے محروم کرنے سے فضل احمد کا رازق ہونا کہ اب وہ بھوکا
مرے گا اور اخلاقی کمزوری دکھانا اور نص قرآنی کے برخلاف قطع تعلق قریبی رشتہ داروں سے کرنا۔
ناظرین! اب کوئی شک کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا عمل ان کی تعلیم کے مطابق نہ تھا؟ صرف ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور تھے۔ اس پر اگر
مسلمان ایسے شخص کو امام وقت مانیں تو کس طرح مانیں؟ تحریر میں تو آسمان پر چلا جائے۔ خدا کی گود میں جا بیٹھے احدیت کی چادر میں مخفی ہو جائے ابن اللہ بن بیٹھے نبی اور مرسل ہو مگر عملی ثبوت یہ دے کہ ایک معمولی اخلاق کا آدمی بھی ایسی بے انصافی اور کمزوری ظاہر نہ کرے۔ اب قادیانی جماعت کے لوگ ہمیں فرمائیں کہ کونسا گن ہے۔ جس پر ان کو پیر اور امام مانا جائے اور خاص کر اس روشنی کے زمانہ میں پیری مریدی کی کیا ضرورت ہے؟ کیا آگے خود ساختہ پیروں کے پیچھے لگ کر اسلام کی تھوڑی گت بنی ہے۔ جو اب پیر پرستی شروع کریں۔ اگر کوئی صداقت ہے تو بتاؤ۔ صرف دعویٰ بلا دلیل کون مان سکتا ہے؟
مرزا قادیانی کے مرید کہتے ہیں کہ وہ صوفی المذہب تھے۔ اس واسطے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ذرا صوفیائے کرام کے قول اور فعل سے مرزا قادیانی کے قول اور فعل کا مقابلہ کر کے دیکھیں کہ کیا یہ سچ ہے۔
حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے دو سو پیر کی خدمت کی۔ مجھ کو نعمت فقر، گرسنگی، بے خوابی اور ترک کرنے دنیا اور جو کچھ اس میں ہیں۔ دوست رکھتا تھا اور جو چیز میری آنکھوں میں اچھی معلوم ہوتی تھی۔ ملی ہے۔ مرزا قادیانی نے کسی پیر کی خدمت نہیں کی۔ لذیذ اور مقوی غذائیں کھائیں اور خواب آرام نہیں چھوڑا۔ کبھی ہمہ تن ہو کر خدا کی عبادت میں مشغول نہیں رہے۔ جو شخص تمام دنیا کو چھیڑ کر مخالف بنائے۔ وہ ان کو جواب دے یا مشغول بخدا ہو؟ زبانی تو ہر ایک اولیا ہو سکتا ہے۔
حضرت جنیدؒ فرماتے ہیں کہ اس راہِ فقر کو وہی شخص پاتا ہے کہ کتاب خدا بر دست راست گیرد۔ و سنت مصطفیٰ ﷺ بر دست چپ و در روشنی ایں ہر دو شمع میرود۔ تا نہ در مغاک شبہت افتد و نہ درظلمتِ بدعت۔
مرزا قادیانی نے مسیح موعود بننے کی خاطر صریح قرآن و حدیث و اجماع امت کے خلاف کیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی ممات و حیات میں خلاف قرآن و حدیث تاویلیں کیں۔ معجزات سے انکار کیا۔ ملائکہ کی تحریف ارواح کواکب کی۔ اپنی تصویری بدعت شرک کو جس سے ١٣ سو برس تک اسلام پاک چلا آتا تھا۔ رواج دیا۔
حضرت جنیدؒ فرماتے ہیں کہ ”اگر در نمازے اندیشہ دنیا آمدے۔ آں نماز را قضا کر دے۔ و اگر اندیشہ آخرت در آمدے سجدہ سہو کر دے۔
مرزا قادیانی کو جنھوں نے تمام دنیا کو چھیڑ کر ان کو جواب دینے اور تاویلات
کرنے کا ذمہ لیا تھا کب ایسی نماز نصیب ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
حضرت جنیدؒ فرماتے ہیں ”کہ یک دفعہ دعا برائے شفا کردم ہاتفے آواز داد کہ اے جنید درمیان بندہ و خدا چہ کار داری۔ تو درمیان ما میا بر آنچه فرمودہ اندت مشغول شو۔ در آنچه ترا مبتلا کردہ اند صبر کن۔ ترا بہ اختیار چہ کار؟
ناظرین! حضرت جنیدؒ کے الہام کو دیکھو کہ کس طرح مقام عبودیت و الوہیت کا لحاظ ہے اور مرزا قادیانی کے الہامات سے وزن کرو کہ وہ کیا تعلیم دیتے ہیں؟ کہ اگر تجھ کو پیدا نہ کرتا تو آسمان کو پیدا نہ کرتا تو سردار ہے تیرا تخت سب انبیاء کے اوپر بچھایا گیا ہے۔
حضرت جنیدؒ کے الہام کے مقابلہ میں وساوس ہیں یا نہیں؟ تکبر و خودستائی و خود پسندی ہے جس سے عبودیت والوہیت کا کچھ فرق نہیں پایا جاتا۔ کبھی مرزا قادیانی کو بھی خدا نے ان کی لغزش پر تنبیہ فرمائی۔ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی نے کبھی نہیں لکھا کہ مجھ کو وسوسہ ہوا یا خدا تعالیٰ نے مجھ کو یہ نصیحت کے طور پر فرمایا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ الہام خدائی نہ تھے بلکہ وساوس تھے کہ اسباب غرور نفس تھے۔
حضرت جنیدؒ فرماتے ہیں ”کہ ایک دفعہ میرا پاؤں درد کرتا تھا۔ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھی۔ اور دم کیا ”ہاتفے آواز داد شرم نہ داری کہ کلام ما را در حق نفس خود صرف کنی۔“
اور فرماتے ہیں کہ ”ایک دفعہ مسجد میں کسی درویش نے سوال کیا۔ اور میرے دل میں گزرا کہ یہ شخص تندرست ہے اور سوال کیوں کرتا ہے؟ میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک طبق سرپوش میرے آگے رکھا گیا ہے۔ جب اس سرپوش کو اٹھایا تو وہی درویش مردہ اس میں تھا۔ میں نے کہا کہ یہ مردہ نہ کھاؤں گا جواب دیا گیا کہ ”چرا در مسجد خوردی۔“
ناظرین! مرزا قادیانی کے الہامات تمام خواہش نفس پر مملو ہیں، تو عیسیٰ ہے، تیرے دشمن تباہ ہوں گے۔ خدا تیری مدد کو لشکر لے کر آ رہا ہے۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کس شخص کی وساوس سے حفاظت کرتا ہے کہ ذرا لغزش ہو تو فوراً عتاب کے طور پر متنبہ کر دیا۔ یا خودستائی اور اپنی بڑائی کے الہام تا کہ نفس زیادہ سرکش ہو یا اس کی خواہش کے مطابق نکاح آسمان پر پڑھے جائیں۔ کبھی بھی مرزا قادیانی کو ایسا الہام ہوا ہے کہ تو غلطی پر ہے؟ یا مرزا قادیانی نے فرمایا ہے کہ مجھ کو ایسا وسوسہ ہوا ہے۔
حکایت:۔ کسی شخص نے حضرت جنیدؒ سے شکایت کی کہ میں ننگا اور بھوکا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ:۔ برو ایمن باش کہ خدا برہنگی و گرسنگی بکسے ندہد کہ بروے تشنیع زند۔ و
جہانرا پر از شکایت کند۔ بصدیقاں و دوستاں خود دہد۔‘‘
ناظرین! معلوم ہوا کہ دولت دنیا خدا تعالیٰ صدیقوں اور دوستوں کو نہیں دیتا سچ ہے۔ عاشقان از بے مرادی ہائے خویش باخبر گشتند از مولائے خویش۔
مرزا قادیانی کی ملازمت کا زمانہ اور آخر لاکھوں روپیہ کا مالک اور اس کو نشان صداقت قرار دینا کہاں تک درست ہے؟
حضرت جنیدؒ فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ از بندگان دو علم مے خواہد۔ یکے شناخت علم عبودیت۔ و دوم علم ربوبیت۔ مرزا قادیانی کا علم ان کی تعلیم سے واضح ہو گیا ہے کہ میں اللہ میں سے ہوں اور اللہ میرے میں سے ہے۔ ابن اللہ ہوں۔ احدیت کے پردے میں ہوں وغیرہ جیسا کہ گزر چکا ہے۔
ناظرین! چونکہ حضرت جنید بغدادیؒ کو مرزا قادیانی اور ان کے مرید مانتے ہیں۔ اس واسطے ان کی تعلیم سے مرزا قادیانی کی تعلیم کا مقابلہ کیا ہے۔ انصاف آپ فرمائیں کہ مرزا قادیانی صوفی مذہب کہاں تک تھے۔ وہ لوگ تو دنیا سے یوں بھاگتے تھے۔ جیسا کوئی دشمن سے۔ ان کا قول ہے کہ؎
ایں خیال است و محال است و جنوں
صوفیائے کرام کا اصول ہے کہ چونکہ انسان کا ایک دل ہے۔ اس میں صرف ایک کی محبت کی جگہ ہے۔ خواہ وہ خدا کی محبت کو دل میں جگہ دے یا دنیائے دوں کو۔
حضرت سرمدؒ فرماتے ہیں۔ رباعی
بر مغز چرا حجاب شد پوست ترا
دل بستن بایں واں نہ نیکوست ترا
چوں یک دل داری بس است یک دوست ترا
کیا وہ شخص اپنے دعویٰ میں جھوٹا نہیں ہے کہ زر اور دولت حاصل کرنے کے واسطے فریب کرے جھوٹ بولے دھوکا دے خلاف وعدہ کرے عیش دنیا سے نفس کو لذت دے۔ اپنے دشمنوں کو ڈانٹ بتائے، بعض وقت معمولی اخلاق کو بھی ہاتھ سے دے دے اور پھر منہ سے کہے کہ میں خدا کے لیے لذات نفسانی کی قربانی کر چکا ہوں۔ دنیا جیفہ ہے۔ میں اس سے کنارہ کش ہوں۔ کیا ایسے شخص میں اور معمولی پیروں میں جو مریدوں کو
رات دن اپنی کرامتوں کے پھندے میں پھنسا کر ان کے مال سے مزے اڑاتے ہیں۔ کچھ فرق ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا اس روشنی کے زمانہ میں ان کی تعلیم اور خودستائی کی تصنیف ایک سچے رہبر کا کام دے سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا مرزا قادیانی نے ہم کو معمولی پیروں کے پنجہ سے چھڑا کر قادیان میں ہمارا وہی حال نہیں کیا؟ جو ایک شخص نے ایک بکری کے بچے کو بھیڑیے سے چھڑایا اور خود گھر میں لا کر ذبح کر کے کھا گیا اور کیا ہم اب زبان حال سے نہ کہیں گے کہ۔
چو آخر دیدمت خود گرگ بودی
ضرور کہیں گے اور مناسب حال ہے کیونکہ ہر ایک قادیانی سے ماہواری چندہ وصول ہوتا ہے اور مال مفت دلِ بے رحم کے مصداق سے بے دریغ خانگی خرچ میں آتا ہے اور کالج وغیرہ لنگر میں بھی خرچ ہوتا ہے۔ جیسا ان پیروں نے نذریں لینے کے واسطے اور مریدوں سے زر وصول کرنے کا آلہ لنگر جاری کیا ہوا ہوتا ہے۔ ویسا ہی مرزا قادیانی کا بھی ہے۔ اسی کے ذریعہ سے چندہ وصول ہوتا ہے۔ ان دوکاندار پیروں گدی نشینوں میں اور مرزا قادیانی میں کچھ فرق ہے تو یہ ہے کہ وہ اشتہاری نہیں اور نہ کالج رکھتے ہیں۔ ویسا ہی ان کو چندہ بھی کم ملتا ہے۔
ناظرین! کیا صوفیائے کرام کا یہی طریقہ تھا کہ وہ تو اگر طیب لقمہ نہ ملتا تو فاقہ کشی کرتے مگر بے تحقیق لقمہ ہرگز منہ میں نہ ڈالتے۔
حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں ہے کہ عبادات کے دس حصے ہیں۔ اس میں سے نو حصے فقط طلب حلال ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حلال کا کھانا کھاؤ تا کہ دعا قبول ہو۔ حضرت نے فرمایا ہے کہ دس درہم دے کر کوئی کپڑا خرید کرے اور اس میں ایک درہم حرام کا ہو۔ تو جب تک وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا۔ اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔
حضرت امیر المومنین ابوبکر صدیق ؓ نے ایک غلام کے ہاتھ سے دودھ کا شربت پیا۔ جب پی چکے تو معلوم ہوا کہ یہ شربت وجہ حلال سے نہیں تھا۔ حلق میں انگلی ڈال کر قے کر دی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ اگر تو اتنی نماز پڑھے کہ تیری پیٹھ خمیدہ ہو جائے اور اس قدر روزے رکھے کہ بال کی طرح باریک اور دُبلا ہو جائے تو جب تک
حرام سے پرہیز نہ کرے گا تو روزہ نماز نہ مفید ہو گا اور نہ قبول ہو گا۔
وہب بن الورد کوئی چیز نہ کھاتے تھے۔ جب تک اس کی اصل حقیقت نہ معلوم ہو کہ کیسی ہے اور کہاں سے آئی ہے؟ ایک دفعہ ان کی والدہ نے دودھ کا پیالہ انھیں دیا۔ پوچھا کہ کہاں سے آیا ہے۔ اس کی قیمت تم نے کہاں سے دی ہے کہ کس سے مول لیا ہے؟ بعد دریافت کل حال پوچھا کہ بکری کو چارہ کہاں سے دیا ہے۔ یعنی کس جگہ چری ہے؟ معلوم ہوا کہ بکری ایسی جگہ چری ہے جس جگہ مسلمانوں کا حق نہ تھا۔ پس انھوں نے دودھ واپس دیا اور شبہ میں بحالت پیاس بھی نہ پیا۔ حضرت عمر فاروقؓ کو بھی ایک دفعہ صدقہ کا دودھ پلایا گیا تھا۔ انھوں نے بھی قے کر دی تھی۔
اب ہم بادب تمام دریافت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے پندرہ روپیہ ماہوار کا روزگار چھوڑ کر قناعت سے منہ موڑ کر جو قوم کا روپیہ انھوں نے جس غرض کے واسطے لیا تھا۔ جب وہ غرض پوری نہ ہوئی۔ یعنی نہ تین سو جزو کی کتاب چھپی اور نہ تین سو دلیل مذاہب باطلہ کی بطلان میں شائع ہوئی۔ نہ قوم کو پوری کتاب حسب وعدہ ملی جس کی قوم نے قیمت دی تھی تو اب وہ روپیہ ان کو استعمال کرنا جائز اور حلال تھا؟
- (دوم).......بجائے بطلان ادیان باطلہ مسلمانوں کی ہی تردید عقائد اور شرک و بدعت کی
تعلیم بخلاف وعدہ کی۔ یعنی وعدہ بطلان ادیان باطل کا تھا نہ کہ اسلام حقہ کا۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کے ماننے والوں کو مشرک اور حضرت مسیح علیہ السلام کو شعبدہ باز کہہ کر قرآن کے برخلاف کیا۔
- (سوم)...... جب کبھی رقوم چندہ آتی تھیں کوئی ایسی مثال پیش ہو سکتی ہے یا کوئی قادیانی
جماعت میں سے پیش کر سکتا ہے؟ کہ دہندہ چندہ کی آمدنی کا شرعی امتحان کیا جاتا تھا کہ آیا دہندہ کی آمدنی اور چندہ وجہ حلال سے ہے اور اس میں حرام کا شبہ نہیں۔ یعنی رشوت وغیرہ ناجائز طریقہ سے نہیں اور اگر شبہ ہوا تو زر چندہ کبھی واپس کی گئی؟
ناظرین! اگر جواب نفی میں ہے اور ضرور نفی میں ہو گا تو پھر تزکیہ نفس کیا مذہب صوفیائے کرام کیسا ترک لذات کیسی۔ تمام کارخانہ ہی درہم برہم ہے۔ بھلا لاکھوں روپیہ آئیں اور سب کو ہضم کرنے کے واسطے کچھ وجہ حلال تحقیق نہ کی جائے بلکہ اپنا طریق اس کے حاصل کرنے کا ناجائز ہو یعنی وعدہ کچھ اور کرنا کچھ۔ تو پھر ناجائز روپیہ سے فناء فی اللہ اور بقاء باللہ کا درجہ پانا امر محال بلکہ ناممکن اور مدعی کا دعویٰ قابل تسلیم
نہیں ۔ پس طریق سلامتی ایمان یہی ہے کہ اگر ہم کیونکہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود ماننا ان کے قول سے لازمی نہیں ۔ اگر ہم مرزا قادیانی کو نہ مانیں تو گنہگار نہیں اور نہ ہم پر قطع حجت ہے کیونکہ پیشگوئی میں یعنی حدیث پیشگوئی میں صاف صاف عیسیٰ ابن مریم وعیسیٰ نبی اللہ لکھا ہے اور جائے نزول دمشق ہے۔ پس اگر خدا تعالیٰ ہم سے پوچھے گا کہ تم نے مرزا غلام احمد قادیانی ولد مرزا غلام مرتضیٰ کو عیسیٰ ابن مریم کیوں نہ تسلیم کیا اور قادیان کو دمشق کیوں نہ مانا؟ تو ہم صاف کہہ سکتے ہیں کہ خداوندا ہم کیونکر سمجھتے کہ تیری مراد دمشق سے قادیان اور عیسیٰ ابن مریم سے غلام احمد تھی؟ کیونکہ جب اسم معرفہ ہو تو وہاں استعارہ مراد نہیں ہوتی ہے۔ دوم کلیہ قاعدہ ہے کہ ولدیت خصوصیت کے واسطے ذکر کی جاتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس نام کا دعویٰ نہ کرے۔ اس لیے ولدیت لکھی جاتی ہے۔ غلام احمد کئی شخصوں کا نام ہو سکتا ہے مگر جب ساتھ ہی ولدیت بیان ہو کہ غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ تو اس وقت اسی غلام احمد خاص شخص ہی مراد ہو گی اور اس نام کا دوسرا شخص مراد نہیں ہو سکتی۔ پس عیسیٰ ابن مریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مراد تھی نہ کہ غلام احمد ۔ کیونکہ اگر ابن مریم لفظ نہ ہوتا۔ تو شبہ ہو سکتا تھا اور مرادی معنی لیے جا سکتے تھے۔ مرادی معنی یا استعارہ کے معنی اسم معرفہ پر کبھی نہیں آسکتے ۔ عیسیٰ دمشق دونوں اسم معرفہ ہیں۔ اگر اسم صفات ہوتے تو استعارہ یا مرادی معنی ہو سکتے تھے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ بادشاہ ہمارا ولایت سے چٹھی بھیجے کہ لارڈ جیمس ولد لارڈ سٹورٹ کلکتہ میں فروکش ہو گا۔ اس کا حکم ماننا مگر ایک شخص پشاور میں جا کر کہے کہ میرا نام غلام فرید ہے مجھ کو لارڈ جیمس تسلیم کرو اور بادشاہ کی مراد کلکتہ سے پشاور اور جیمس سے مراد غلام فرید ہے تو کون غلام فرید کی من گھڑت بات مان سکتا ہے؟ پس مرزا قادیانی کے ماننے کے واسطے ہم پر کوئی قطعی حجت نہیں ۔ مرزا قادیانی کی تعلیم ماننے سے ہمارے ایمان اور توحید میں شرک واقعہ ہوتا ہے تو جائز طریق یہی ہے کہ ہم الگ رہیں اور ایمان کی سلامتی کا باعث علیحدگی میں ہے۔ ان کے ماننے میں ہمارا حرج ہے اور نہ ماننے میں کوئی حرج نہیں اور وہ خود ہی مسلمانوں پر قطع حجت کر گئے ہیں کہ میرا ماننا ضروری نہیں۔ جزو ایمان نہیں۔ مانند دیگر صدہا پیشگوئیوں کے ایک پیشگوئی ہے جو رکن دین نہیں۔ تو ہم کیوں اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالیں اور سلامتی کے کنارہ پر کیوں نہ رہیں کیونکہ ان کی تعلیم مشرکانہ ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ معاف نہیں ہو سکتا اور دوسری طرف ان کا ماننا جزو ایمان رکن دین نہیں اور نہ ان کے ماننے میں کوئی حرج اور مواخذہ ہے۔ اس واسطے الگ رہنا ضروری
ہے۔ کیونکہ راہ نجات یعنی قرآن و حدیث چھوڑ کر مشرکانہ تعلیم کے پیچھے پڑنا مواخذہ آخرت اور عذاب الہی کا باعث ہے۔ پس سلامتی ایمان اسی میں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بیعت توڑ کر مرزا قادیانی کی بیعت قبول نہ کریں اور خسر الدنیا والآخرۃ کا مورد نہ بنیں۔ خدا تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو اس فتنہ اور ابتلا سے بچائے اور اس جماعت میں رکھے۔ جو قیامت تک حق پر رہے گی جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ میری امت میں سے تیس آدمی ہوں گے۔ جو جھوٹا دعویٰ نبوت کا کریں گے حالانکہ کوئی نبی میرے بعد نہیں ہے۔ مگر ایک جماعت میری امت میں سے حق پر قائم رہے گی۔ یعنی قرآن اور حدیث پر عمل کرنے والی ہے۔ آمین ثم آمین بحرمت محمد رسول اللہ ﷺ وصحابہ کرام رحم اللہ تعالیٰ اجمعین۔
ناظرین! میں خاتمہ پر چند سوال و جواب واسطے افادہ اہل اسلام کے لکھتا ہوں تاکہ وہ ان مختصر جوابات کو یاد کر کے مقابلہ کے واسطے تیار رہیں کیونکہ مرزا قادیانی کا ہر ایک مرید رات دن تیار ہے اور اسی فکر میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح کسی کو گمراہ کروں اور مسلمان چونکہ تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے ان کے دھوکے میں آ جاتے ہیں۔ وہ مسیح کی موت کا مسئلہ ہر ایک مجلس میں چھیڑ دیتے ہیں اور وہ خود تو طوطے کی طرح اپنے سوال و جواب حفظ کیے ہوتے ہیں اور مسلمان اس سے واقف نہیں ہوتے۔ اس لیے متحیر ہو جاتے ہیں۔
سوال و جواب
سوال: آپ مرزا قادیانی کو مسیح موعود کیوں نہیں مانتے؟ جواب: چونکہ مرزا قادیانی کی تعلیم مشرکانہ ہے اور یہ حضرت مسیح موعود کی شان سے بعید ہے کہ وہ شرک بھری تعلیم دے اس لیے ہم نہیں مانتے کیونکہ مشرک کو نجات ہرگز نصیب نہیں ہوتی اور مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ ”مسیح موعود کا ماننا رکن دین و جزو ایمان نہیں ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ١٤٠ و ٢٧٢۔ خزائن ج ٣ ص ١٧١‘١٧٣)
سوال: توبہ کرو ایسا الزام مت لگاؤ۔ کہاں ان کی تعلیم مشرکانہ ہے؟ جواب: (١) مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں ”کہ میں نے زمین بنائی آسمان بنایا اور میں اس کی خلق پر قادر تھا۔“
(کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٥)
(٢) ”میری اور مسیح کی محبت کے نر و مادہ سے روح القدس پیدا ہوتا ہے اور یہ پاک تثلیث ہے۔“ (توضیح المرام ص ٢١ خزائن ج ٣ ص ٦٢۔٦١) ناظرین! تثلیث کیا اور پاک کیا؟ (٣) ”محمد رسول اللہ ﷺ کا آنا خدا کا آنا تھا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ خود خدا ہی دنیا پر آیا
تھا۔“
(توضیح المرام ص ٢٨۔ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٦٥)
- (٤) ”جب کوئی شخص اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے تو خدا کی روح اس میں آباد ہوتی
ہے۔“
(توضیح المرام ص ٥٠ خزائن ج ٣ ص ٧٦)
- (٥) مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”خدا نے مجھ کو کہا کہ تو میرے سے بمنزلہ بیٹے کے
ہے۔ (یعنی ابن اللہ ہے۔)“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- (٦) ”خدا کی تصویر انسان کے اندر کھینچ جاتی ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٥۔ خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
- (٧) ”انسان احدیت کی چادر میں مخفی ہو جاتا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٥٦ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨)
- (دوم) …… ”مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور انبیاء کی بے ادبی اور ان کے
معجزات سے انکار کرتے ہیں۔
- (٨) ”وہ سچا خدا ہے جس نے قادیان میں رسول بھیجا۔“
(دیکھو دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- (٩) ”خدا نے چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑ دے۔“
(دیکھو دافع البلاء ص ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٩)
- (١٠) ”بجز اس مسیح یعنی مرزا قادیانی کے کوئی شفیع نہیں۔“
(دیکھو دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- (١١) ”میں نے خدا کے فضل سے نہ اپنی کوشش سے اس نعمت سے حصہ پا لیا ہے جو مجھ
سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو اور خدا کے برگزیدہ بندوں کو دی گئی تھی۔“
(حقیقۃ الوحی ٦٢ خزائن ج ٢٢ ص ٦٤)
- (١٢) ”میرے قرب میں میرے رسول کسی سے ڈرا نہیں کرتے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)
- (١٣) ”دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
- (١٤) اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
علاوہ دعویٰ نبوت کے انبیاء کے معجزات سے انکار کرتے ہیں اور جب کبھی ان کی غلطی یا جھوٹی پیشگوئی بتائی جاتی ہے تو نہایت گستاخی سے جھوٹا الزام تمام انبیاء پر لگاتے ہیں کہ ان کی پیشگوئیاں غلط نکلتی رہیں بلکہ ان کی بے ادبی سے حضرت محمد رسول
اللہ ﷺ بھی نہ بچ سکے۔ ان کی بھی ایک پیشگوئی معاذ اللہ جھوٹی نکلی بتا دی حالانکہ محض غلط ہے۔ کوئی پیش گوئی رسول مقبول ﷺ کی غلط نہیں نکلی۔ کیا ایسا شخص امتی ہونے کا دعویٰ کرے تو سچا ہے ہرگز نہیں۔
دیکھو خزائن ج ٣ ازالہ الاوہام صفحہ ٣٢٢۔٣٠٣۔٣٠٤۔١٥٨۔١٧٥ صاف معجزات کے منکر ہیں۔ خاص کر حضرت مسیح علیہ السلام کو شعبدہ باز، سحر سامری کے کرنے والا بتاتے ہیں اور عمل بالترب تاویل کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے کیونکہ تالاب کی مٹی تو کفار بھی لا سکتے تھے اور مٹی کی مورتیں بنا سکتے تھے۔
قادیانی: مرزا قادیانی کامل نبی نہ تھے وہ ناقص اور ظلی نبی تھے۔
جواب: کامل نبی کے بعد ناقص نبی کی کچھ ضرورت نہیں۔ ہماری عقل ماری ہے کہ کامل نبی کو چھوڑ کر ناقص نبی کی ناقص تعلیم مانیں؟ جیسا کہ وہ تثلیث کی تعلیم دیتے ہیں جو کہ قرآن کے برخلاف ہے۔ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ هُوَ الغَنِی الخ (یونس ٦٩)
(دوم)...... نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا۔ وہ محض امی ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کو بطور معجزہ علم عطا کرتا ہے تاکہ عوام یہ نہ کہیں کہ سلف کی کتابوں سے دیکھ کر بتاتا ہے اور مرزا قادیانی استاد سے پڑھے ہیں۔ اس واسطے نبی نہیں ہو سکتے کیونکہ انھوں نے سرسید اور ابن عربیؒ وغیرہ سلف کی تصانیف سے مضامین اخذ کر کے اپنی طرف منسوب کیے ہیں اور حقائق و معارف نام رکھا ہے۔
(سوم)...... کسی نص شرعی سے دو قسم کے نبی کا ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے جس کی تعلیم خدا تعالیٰ نے کامل فرما دی۔ کسی وحی اور نبی کی ضرورت نہیں۔ ناقص کے بعد کامل کو تسلیم کر سکتے ہیں کہ نقص رفع کر کے تعلیم ناقص کی تکمیل کرے۔ مگر کامل کے بعد ناقص کا آنا ناممکن و غیر واجب ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد اگر کوئی ناقص نبی ہوا ہے یا کسی نے دعویٰ کیا ہے۔ تو بتاؤ؟
قادیانی: جھوٹے مدعی کو بھی کبھی فروغ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کے بہت مرید ہو گئے ہیں۔
جواب: مسیلمہ کذاب کے بہت پیرو ہو گئے تھے۔ چنانچہ چند ہی ہفتوں میں لاکھ سے اوپر مرید ہو گئے تھے اور اس کے آگے عزیز جانیں قربان کرتے تھے اور مسلمانوں سے جنگ و جدال کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کو اگر کوئی جنگ پیش آتی تو ایک مرید بھی ساتھ نہ دیتا۔ حسن بن صباح و دیگر مدعیان کا حال روشن ہے کہ ان کے بہت مرید اور پیرو ہو گئے اور آخرکار فنا ہو گئے۔ یہ کوئی دلیل نہیں کہ جس کے مرید بہت ہوں ۔ وہ حق پر ہے تعلیم
معیار ہے اگر تعلیم ناقص ہے تو کوئی نہیں مان سکتا۔ جب مرزا قادیانی کی تعلیم خلاف شریعت محمدی ہے تو کون مان سکتا ہے؟
قادیانی: ہم سے حیات و ممات مسیح میں بحث کر لو۔ اگر قرآن سے حیات مسیح ثابت کر دو تو ہم مان جائیں گے۔
جواب: قرآن فرماتا ہے۔ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ (النساء‘ ١٥٧) اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ وَمُطَہِّرُکَ (آل عمران ٥٥) یہ ضمائر تمام حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف راجع ہیں کہ اے عیسیٰؑ میں تجھ کو اپنے قبضے میں کر لوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور پاک کر دوں گا۔
- (اوّل)...... حضرت عیسیٰؑ جسم اور روح دونوں کو کہا جاتا ہے نہ کہ صرف روح کو۔ کیونکہ
روح تو پہلے ہی سے پاک ہے۔ اس کو کیا پاک کرنا؟
- (دوم)...... اگر رفع روح مانیں تو خصوصیت مسیح کیا ہوئی۔ روح تو ہر ایک مومن کا بعد
مفارقت جسم کے آسمان پر جاتا ہے؟
- (سوم)...... خدا کا وعدہ کہ میں تم کو اپنے قبضہ میں کر لوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا
اور پاک کر دوں گا۔ اس صورت میں سچا ہوتا ہے۔ جب رفع جسمانی ہو اور مسیح سولی پر نہ چڑھایا جائے۔ جب ہم سولی پر چڑھایا گیا مان لیں تو خدا کا وعدہ پورا نہیں ہوتا۔ مار کر یعنی طبعی موت سے مار کر تو خدا ہر ایک نیکو کار کا رفع کرتا ہے۔ پھر مسیح کی خصوصیت اور وعدہ خدا کہ میں تجھ کو اٹھا لوں گا۔ اپنی طرف اور پاک کروں گا۔ بے ربط ہے۔ پھر صاف یہ ہونا چاہیے تھا کہ پہلے تجھ کو ماروں گا اور روح کو اٹھا لوں گا۔ مگر وہاں تو صاف یعنی عیسیٰؑ جو کہ روح اور جسم دونوں کے مرکب کا نام ہے۔ صرف روح کا رفع کہاں لکھا ہے؟ یہ بالکل محال عقلی خیال ہے کہ مسیح سولی پر چڑھایا گیا ہے مگر مرا نہیں۔ جب سولی پر چڑھانا ملعون ہونے کی دلیل ہے تو پھر چاہے جان نکلے یا نہ نکلے۔ وہ ہتک اور بے حرمتی جو ایک نبی کی نہ ہونی چاہیے تھی ہو گئی۔ تو پھر خدا کا وعدہ کیا ہوا؟ دوسرا یہ بالکل بودی دلیل ہے کہ یہودی معہ بادشاہ وقت ایک شخص کو سلطنت کا دشمن یا مدعی سمجھ کر سولی پر لٹکا دیں اور بغیر موت کے اتار لیں اور اگر مسیح ایسا ہی قریب المرگ ہو گیا تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ صلیب کے عذاب سے بیہوش و قریب المرگ ہو گیا تھا۔ مرا نہیں۔ تو یہ بھی علاوہ خلاف عقل ہونے کے خدا کے وعدہ کے برخلاف ہے۔ وہ تو کافروں سے بچانے کا وعدہ تھا۔ جب کافروں نے طرح طرح کے عذاب سے مسیح کو
قریب المرگ کر دیا یا اپنے زعم میں ہلاک کر دیا اور تمام خدائی میں یہ خبر پھیل گئی اور مشہور ہو گیا کہ مسیح سولی پر چڑھایا گیا اور طرح طرح کے عذابوں سے اس کو ہلاک کیا گیا۔ تو پھر خدا کا وعدہ مُطَهِّرُکَ وَرَافِعُکَ نعوذ باللہ جھوٹا نکلا۔ چونکہ خدا کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا اور قرآن نے تصدیق بھی کر دیا کہ مَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا اور اللہ نے کافروں سے داؤ کیا اور اللہ کا داؤ غالب رہا کہ ان کو شبہ میں ڈالا کہ انھوں نے مشبہ مسیح علیہ السلام کو مسیح علیہ السلام سمجھ کر صلیب پر چڑھایا اور مسیح علیہ السلام کو حسب وعدہ بچا لیا اور خدا تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ یہ اس واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسی حکمت سے کام کرتا ہے کہ کوئی تجویز اس پر غالب نہیں آسکتی اور کوئی شخص اس واقعہ کا انکار نہ کرے کہ محال عقل ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مثیل خدا نے بھیج دیا اور مسیح علیہ السلام کو اٹھا لیا کیونکہ وہ غالب حکمت والا ہے۔ یہ اعتقاد بالکل خلاف نص قرآنی اور حدیث نبوی بلکہ اجماع امت ہے کہ مسیح سولی پر چڑھایا گیا اور مرا نہیں۔
بھلا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کو سولی پر لٹکایا جائے اور بموجب رواج امتحان بھی کیا جائے اور ہر ایک قسم کا عذاب بھی دیا جائے۔ مگر مصلوب کی جان نہ نکلے اور اہلکار مردہ اور زندہ میں تمیز نہ کر سکیں۔ چاہے کتنا ہی بے ہوش ہو اور قرب المرگ ہو۔ اس کے سانس کا آنا جانا تو ضرور محسوس ہوتا ہے اور نبض بھی چلتی رہتی ہے۔ علاوہ براں وہاں تو کئی حکیم اور ڈاکٹر شناخت کے واسطے موجود ہوں گے کیونکہ سلطنت کے مدعی کو پھانسی دیا گیا تھا۔ یہ اعتقاد علاوہ نامعقول ہونے کے خلاف واقعہ بھی ہے۔ کیونکہ اس وقت ایک شخص نے مسیح کی پسلی چھید کر امتحان بھی کر لیا تھا کہ مسیح مردہ ہے کیونکہ جس جگہ بھالا مارا وہاں سے لہو اور پانی نکلا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ مصلوب مسیح جو مثیل تھا۔ واقعی مر گیا تھا۔ اگر بفرض محال یہ مان بھی لیں کہ صلیب پر قریب المرگ تھا اور ایسی حالت نازک تھی کہ مردہ اور زندہ میں تمیز نہ ہو سکتی تھی تو مدفون ہو کر تو قبر میں ضرور ہے دم گھٹ کر مر گیا تھا۔ ایسے باغی کی قبر کو بغیر پہرے اور حفاظت چھوڑ دینا کہ کوئی اس کو قبر سے نکال نہ سکے۔ معقول نہیں۔ مزید برآں جب قرآن کی تائید میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
اِنَّ عِيْسٰی لَمْ يَمُتْ وَاِنَّهٗ رَاجِعٌ اِلَيْكُمْ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ. ”عیسیٰ مرا نہیں۔ تحقیق وہ تم میں واپس آنے والا ہے۔ قیامت کے دن سے پہلے۔“
(تفسیر درمنثور ج ٢ ص ٣٦)
پس جو امر قرآن اور حدیث سے ثابت ہے۔ وہ یہودی عقلی دلائل سے کیونکر
مشکوک ہو سکتا ہے؟ اور رسول اللہ ﷺ نے جیسا قرآن سمجھا۔ دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ پس رسول اللہ ﷺ کے معنی جو اخذ کیے گئے ہیں۔ درست ہیں اور جو معنی مُتَوَفِّیْکَ کے تجھ کو ماروں گا کرتے ہیں۔ غلط ہیں۔
قادیانی: قرآن سے حضرت مسیح کی موت ثابت ہوتی ہے۔ دیکھو مُتَوَفِّیْکَ و تَوَفَّيْتَنِى الخ۔
جواب: تَوَفّٰی کے معنی موت کے اس جگہ درست نہیں ہیں۔ اَخْذُ شَیْءٍ وَافِيًا کے ہیں کیونکہ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ. رَافِعُكَ وَمُطَهِّرُكَ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا قرینہ معنی اخذ شے کا ہے اور یہی معنی مترجمان ومفسران نے کیے ہیں اختصار کے طور پر لکھتا ہوں۔
- (١) ترجمہ شاہ ولی اللہؒ صاحب يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ ’’اے عیسیٰ ہر آئینہ
برگیرندہ توام۔ و بردارندہ توام۔ بسوئے خود۔‘‘
- (٢) ترجمہ رفیع الدین صاحبؒ ۔ ’’اے عیسیٰ تحقیق میں لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا
ہوں تجھ کو طرف اپنی۔‘‘
- (٣) ترجمہ شاہ عبدالقادرؒ ۔ ’’اے عیسیٰ میں تجھ کو بھر لوں گا اور اٹھا لوں گا اپنی طرف۔‘‘
- (٤) ترجمہ حافظ نذیر احمد صاحب ایل۔ ایل۔ ڈی۔ ’’عیسیٰ دنیا میں تمہاری مدت رہنے کی
پوری کر کے ہم تجھ کو اپنی طرف اٹھا لیں گے۔‘‘
فائدہ۔ داؤ جس کا مذکور اس آیت میں ہے۔ وہ یہ تھا کہ یہودیوں نے یکا یک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر لیا اور براہ عداوت ان کو سولی پر چڑھایا یہ تو یہودیوں کا داؤ تھا۔ خدا کا داؤ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ ان کا ایک ہم شکل سولی دیا گیا اور وہ صحیح و سلامت آسمان پر اٹھائے گئے۔ نذیر احمد مُتَوَفِّیْکَ کا ترجمہ ماروں گا اور تیرے روح کو اٹھاؤں گا اپنی طرف۔ کسی نے کہیں کیا ہے؟ اگر کسی نے کیا ہے تو بتاؤ۔
مرزا قادیانی کا خود ہی مدعی ہونا اور خود ہی اپنے دعویٰ کے معنی کرنا قابل تسلیم نہیں۔
اب مفسرین نے جو کچھ معنی توفی کے کیے ہیں بیان کیے جاتے ہیں۔
- (١) تفسیر بیضاوی۔ التوفی اخذ شی وافیا والموت نوع منه.
- (٢) تفسیر ابوسعود۔ التوفی اخذ شی وافیا والموت نوع منه و اصله قبض شی
بتمامه بھی آیا ہے۔
- (٣) قسطلانی۔ التوفی اخذ شی وافیا وللموت نوع منه.
- (٤) تفسیر کبیر۔ التوفی اخذ شئ وافیا والموت نوع منه.
یہ کلیہ قاعدہ ہر ایک زبان کا ہے۔ کہ جب ایک لفظ جس کے کئی ایک معنی ہوں
یعنی بہت معنی ہوں۔ تو آگے پیچھے کی عبارت کو دیکھا جاتا ہے اور جو معنی سیاق عبارت کے مطابق ہوں ۔ وہی معنی درست ہوتے ہیں۔ اب قرآن کی پہلی عبارت کی طرف دیکھو کہ کیا قرینہ ہے اور پھر خود فیصلہ ہو جائے گا کہ کون سے معنی درست ہیں؟
حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا پر کہ خدایا مجھ کو ملعون موت سے بچانا۔ پھر خدا تعالیٰ کا وعدہ کہ میں تجھ کو اپنے قبضہ میں کرلوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تجھ کو پاک کر دوں گا ۔ کافروں کے شر سے داؤ کیا کافروں نے اور داؤ کیا اللہ نے۔ پر اللہ کا داؤ غالب رہا کہ کافروں کو شبہ ہوا ۔ مگر مسیح نہ تو قتل ہوا اور نہ مصلوب ہوا بلکہ نہیں قتل ہوا یقیناً۔ اب آپ انصاف اور غور سے فرمائیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام ملعون موت سے نجات مانگتا ہے اور خدا وعدہ دیتا ہے تو پھر متوفیک کے معنی اس موقعہ پر موت کے کرنے کس قدر غلطی ہے؟ اور مذکورہ بالا آیات قرآنی کے ترجمہ کے کس قدر متعارض ہیں۔ یعنی خدا وعدہ فرماتا ہے کہ تجھ کو پاک کروں گا اور اٹھا لوں گا اگر یہ مانیں کہ صلیب پر چڑھایا گیا اور سخت سخت عذاب اس کو دیئے گئے ۔ حتیٰ کہ بیہوش ہو گیا۔ قریب المرگ ہو گیا اور عوام نے اسے مردہ سمجھ لیا تو پھر خدا کا وعدہ کافروں سے پاک کرنے کا اور رفع کرنے کا معاذ اللہ جھوٹا ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ جب بے حرمتی ہوئی۔ ذلت کی موت مشہور ہوئی۔ صلیب پر ملعون موت سے مرنا یہودیوں کو یقین ہو گیا تو پھر وہی مثال کہ گدھے پر چڑھے مگر پاؤں نیچے رہے تھے۔ صادق آتی ہے۔
جب ایک شخص جس بے عزتی سے ڈرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ خدایا مجھ کو اس ذلت سے بچانا اور دعا بھی قبول ہوتی ہے اور وعدہ بھی پاک کرنے اور اٹھائے جانے کا دیا جاتا ہے تو پھر یہ اعتقاد کہ مسیح صلیب پر چڑھایا گیا۔ طرح طرح کے عذابوں سے اس کو تکلیف دی گئی ۔ جن کے باعث وہ بیہوش اور قریب المرگ ہو گیا کیسا وعدہ کے متعارض ہے اور مضحکہ خیز ہے کہ سولی پر بیہوش ہو گیا۔ سانس اور نبض بھی بند ہو گئی اور عوام نے اس کو مردہ بھی سمجھ لیا اور پسلی چھید کر امتحان بھی کر لیا ۔ مگر مرا نہیں۔
کیا مرزا قادیانی کے نزدیک مرنے والے کے سر پر کوئی سینگ ہوتے ہیں کیسی بے دلیل تاویل ہے کہ دیکھنے والے تو مردہ کہتے ہیں اور عذابوں کی سختیوں سے بیہوش اور قریب المرگ ہونا خود مانتے ہیں مگر اپنے دعویٰ میں محو ہو کر بلا دلیل کہے جاتے ہیں کہ مرا نہیں ۔ یہ ایسی مثال ہے کہ ایک عزت دار آدمی اپنے مکان کی نیلامی سے ڈر کر اپنی بے حرمتی سے بچنے کے لیے دعا کرتا ہے کہ خدایا مجھ کو اس ذلت سے بچاؤ اور خدا
وعدہ بھی کرے کہ میں تیری عزت کا پاس رکھوں گا۔ خدا تعالیٰ کے خوش اعتقاد بندے خدا کا وعدہ بھی پورا ہونا مانیں اور یہ بھی کہیں کہ مکان کی نیلامی کا ڈھنڈورا بھی پھروایا گیا اور مکان نیلام بھی ہوا ہر ایک چھوٹے بڑے میں بلکہ تمام عالم میں نیلام مشتہر بھی ہوا اور ہر ایک کو یقین بھی آ گیا کہ مکان نیلام ہوا۔ مگر پھر بھی بلادلیل کہنے والا کہتا ہے کہ شخص مذکور کی نہ تو بے عزتی ہوئی اور نہ مکان نیلام ہوا۔ صرف بولی اور ڈھنڈورا پھروایا گیا تو کیا کوئی عقلمند مان سکتا ہے کہ اس شخص کی عزت بنی رہے اور خدا نے جو وعدہ کیا تھا کہ تجھ کو بے عزت نہ ہونے دوں گا۔ سچا نکلا؟ ہرگز نہیں۔ ہرگز نہیں۔ پس یہی حال مسیح کا ہے کہ بے گناہ صلیب پر چڑھایا گیا۔ سخت سخت عذاب بے گناہ کو دیئے گئے۔ مار پیٹ سے ایسا بیہوش ہوا کہ مر گیا اور دفن بھی کیا گیا۔ مگر ہمارے بہادر مرزائی کہے جاتے ہیں کہ مرا نہیں۔ یہ وہی مثال ہے کہ گدھے پر چڑھایا گیا اور تشہیر بھی ہوا۔ مگر خدا نے اس کی عزت بھی رکھ لی۔
بھلا اجتماع ضدین اس فلسفیانہ زمانہ میں کون مان سکتا ہے؟ قرآنی سیاق عبارت تو یہی چاہتا ہے کہ اس جگہ توفی کے معنی اپنے قبضہ میں لینے اور پناہ دینے کے کیے جائیں نہ کہ موت کے۔ کیونکہ قرینہ موت کا ہرگز نہیں پس جو جو معنی متقدمین مترجمان ومفسران نے کیے ہیں۔ وہی درست ہیں کیونکہ صلیب پر چڑھایا جانا ملعون موت کے الزام سے بچانے کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خدا کا وعدہ تھا۔ وہ اسی صورت میں وفا ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہ چڑھایا جائے اور نہ اس کو صلیب کے عذاب دیئے جائیں۔
مرزا قادیانی نے خود بھی (براہین احمدیہ ص ٥٢٠ حاشیہ نمبر ٣ خزائن ج ١ ص ٦٢٠) میں اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ کا ترجمہ ”اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا“ کیا ہے۔ کیا پوری نعمت سولی پر چڑھانا اور سخت سخت عذاب اور مار پیٹ اور ذلیل کرنے کا نام ہے؟ متوفیک کا ترجمہ میں تجھ کو ماروں گا۔ مرزا قادیانی کے اپنے بھی برخلاف ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٣٣٢) میں مرزا قادیانی نے توفی کے معنی نیند کے خود قبول کیے ہیں فرماتے ہیں کہ اس جگہ توفی کے معنی حقیقی موت نہیں بلکہ مجازی موت ہے جو کہ نیند ہے۔
قرآن مجید میں توفی کے معنی لین دین پورے کے ہیں اور نیند کے بھی ہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو قرآن مجید وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰكُمُ بِالَّيْلِ (انعام ٦٠) پھر
دیکھو قرآن مجید۔ اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰى اِلٰى اَجَلٍ مُّسَمًّى. (زمر ٤٢) ”خدا تعالیٰ موت کے وقت جانوں کو پورا قبض کر لیتا ہے اور جو نہیں مرتے ان کی توفی نیند میں ہوتی ہے یعنی نیند میں پورا قبض کر لیا جاتا ہے پھر ان میں جس پر موت کا حکم لگ چکتا ہے۔ اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور دوسرے کو جس کی موت کا حکم نہیں دیا۔ نیند میں توفی کے بعد ایک وقت تک چھوڑ دیتا ہے۔“
پھر دیکھو قرآن مجید۔ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ (ال عمران ٥٧) ترجمہ: ”جو لوگ ایمان لائے خدا ان کو ثواب پورے پورے دے گا۔“
دیکھو قرآن کریم۔ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ. (ال عمران ١٦١) ترجمہ: ”پھر جس نے جیسا کیا اس کو پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔“ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ (ال عمران ١٨٥) یعنی قیامت کے دن پورا پورا بدلہ دے۔
ناظرین! قرآن مجید میں جس جگہ توفی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے وہاں ہمیشہ پورا لینے یا دینے کا مطلب اور معنی ہیں۔ توفی کے معنی موت کے بھی ایک نوع ہے۔ یعنی ایک قسم ہے جس کے مجازاً معنی موت ہوتے ہیں نہ کہ حقیقی معنی۔ کیونکہ موت بھی اصل میں روح پر قبضہ حاصل کرنا ہے۔ جس کے صاف صاف معنی لینے کے ہیں۔ حقیقی معنی توفی کے پورا لینے کے ہیں اور نیند کے بھی ہیں۔ صرف قرینہ یہ دیکھا جاتا ہے۔ قرآن میں جس جگہ توفی سے مراد موت ہے۔ وہاں ضرور قرینہ ہے۔ توفنا مع الأبرار (ال عمران ١٩٣) یتوفکم ملک الموت (الم سجدہ ١١) توفیہم الملئکۃ (نساء ٩٧) غرض ہر ایک میں قرینہ موت موجود ہے۔ اگر قرینہ نہ ہوتا تو کبھی موت کے معنی نہ ہوتے اور انی متوفیک میں قرینہ موت نہیں ہے۔ پس معنی موت کے غلط ثابت ہوئے۔
قادیانی: یہ تو عقل نہیں مانتی کہ ایک شخص ہمیشہ زندہ رہے اور جسم خاکی آسمان پر جا سکے یا زندہ رہ سکے۔
جواب: حضرت مسیح علیہ السلام کو ہمیشہ زندہ کوئی نہیں مانتا۔ بموجب حدیث شریف کے مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد نزول پینتالیس برس زندہ رہیں گے۔ نکاح کریں گے ان کی اولاد ہو گی۔ پھر فوت ہو کر مدینہ منورہ روضہ رسول اللہ ﷺ میں مدفون ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی قبر ہو گی۔
رفع جسد عنصری معجزہ کے طور پر تھا جس طرح کہ ان کی پیدائش بغیر باپ کے
معجزہ تھی۔ اگر آپ معجزہ سے انکار کرتے ہیں تو ہم عقلی ثبوت دینے کو تیار ہیں۔
قادیانی: میں معجزہ نہیں مانتا۔ عقلی ثبوت دو۔
جواب: محال عقلی انسان اپنے جہل کے باعث کہا کرتا ہے۔ جب اس کو علم ہو جائے تو پھر اسی امر محال کو ممکن مانتا ہے۔
- (١) اربعہ عناصر کے خواص متضاد ہیں۔ یعنی آگ‘ پانی‘ خاک‘ ہوا‘ یہ چاروں ایک ہی
وقت ایک ہی جگہ جمع نہیں ہو سکتے اور انسان اس کو محال عقل کہتا ہے مگر جب اس کو اپنے جسم کی ترکیب کا علم ہو جاتا ہے تو مان لیتا ہے کہ بیشک متضاد عناصر جمع ہو سکتے ہیں۔
- (٢) جسد عنصری میں ہوا‘ آگ عالم علوی سے ہیں۔ پانی اور خاک عالم سفلی سے۔ اور یہ
سائنس کا مسئلہ ہے کہ غالب عنصر مغلوب عنصر کو اپنے میں جذب کر لیتا ہے۔ بس اب غور کرو کہ انسان کے جسد عنصری میں آگ و ہوا پہلے ہی عالم علوی سے ہیں اور تیسرا روح بھی عالم علوی سے ایک لطیف جوہر ہے اور پانی اور خاک دو سفلی عنصر بھی عقلاً مغلوب ہو کر اپنی ہستی دوسرے دو لطیف عناصر میں محو کر سکتے ہیں اور لطیف ہو کر عالم بالا کو جا سکتے ہیں یعنی پانی اور خاک۔ ہوا اور آگ میں تبدیل ہو کر آسمان پر جا سکتے ہیں تو اس میں محال عقلی نہ رہا کیونکہ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ رفع عیسیٰؑ کرے اور کافروں سے بچائے تو حسب وعدہ اس نے قوی عنصر یعنی آگ و ہوا میں ضعیف عناصر یعنی خاک و آب کو محو کر کے اور روح جو پہلے ہی عالم علوی سے تھا۔ قوت صعود عنایت فرمائے تو اس میں محال عقلی کیا ہوا؟ بلکہ عقلاً تو ہو سکتا ہے کہ جسد عنصری آسمان پر جائے اور یہ بھی علم طبیعیات کا مسلمہ مسئلہ ہے کہ خاک اور پانی دو اثر قبول کرنے والے ہیں یعنی یہ جھٹ دوسرے عنصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں جیسا کہ پانی کا ہوا ہو جانا روزمرہ کا مشاہدہ ہے۔ تو پھر رفع جسد عنصری محال عقلی کہنا سخت غلطی ہے۔
قادیانی: مگر ایسا کبھی نہیں ہوا اگرچہ عقلاً ممکن ہے مگر عادتاً محال ہے۔
جواب: (١) عادتاً تو کتب سماوی سے ثابت ہے حضرت ایلیا آسمان پر تشریف لے گئے چنانچہ بائبل باب سلاطین میں لکھتا ہے کہ آتشین رتھ یا بگولے کے ذریعہ حضرت ایلیا آسمان پر اٹھائے گئے جس کو مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں۔
- (٢) حضرت مسیحؑ کا بھی آسمان پر جانا انجیل و قرآن سے ثابت ہے اور وہ بذریعہ ملائکہ
جن کا آسمان سے آنا جانا بلکہ بشکل انسانی متشکل ہونا مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں۔ رفع ہوا ہو گا۔ جس طرح فرشتہ آسمان پر چلا گیا حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی لے گیا۔ اس میں
محال کیا ہے؟ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ پرواز کرنے والا وجود نہ پرواز کرنے والے وجود کو ساتھ لے جا سکتا ہے۔
- (٣) حضرت ادریسؑ کا بھی رفع قرآن مجید میں مذکور ہے کہ ہم نے اس کو اٹھا لیا ہے۔
- (٤) حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا معراج اس جسم عنصری سے جس پر قرآن و حدیث اور
اجماع امت ناطق ہے اور یہ معراج حضرت ﷺ کا آسمان پر جانا بمعیت جبرائیلؑ ہوا تھا۔ یعنی حضرت جبرائیل آپ کے ساتھ تھے اور آپ ایک نوری براق پر سوار تھے۔
قادیانی: آسمان پر تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔
جواب: یہ اعتراض بھی باعث جہل علوم جدیدہ سے ہے۔ میں اس جگہ صرف ایک فرنچ عالم علم ہیئت کی رائے لکھتا ہوں تاکہ آپ کو اپنی غلطی ثابت ہو جائے۔ کیونکہ اب ثابت ہو گیا ہے کہ تمام سیاروں میں آبادیاں ہیں اور وہاں بھی حرارت برودت تری ہوا ہے اور انسان بہ سبب تناسب تاثیرات عناصر وہاں زندہ رہ سکتا ہے بلکہ آسمان کے بروج بھی عناصر ہی کی سی تاثیرات رکھتے ہیں۔
فرنچ عالم علم ہیئت آراگو صاحب اپنی کتاب ڈے آفٹر ڈیتھ ص ١٢ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ کیا سورج میں آبادی ہے تو میں کہوں گا کہ مجھے علم نہیں لیکن مجھ سے یہ دریافت کیا جائے۔ آیا ہم ایسے انسان وہاں زندہ رہ سکتے ہیں تو اثبات میں جواب دینے سے گریز نہ کروں گا۔
قادیانی: جو دنیا سے ایک دفعہ مر کر جاتا ہے پھر نہیں آتا تو حضرت مسیح علیہ السلام کس طرح آسکتے ہیں۔
جواب: اوّل تو مسیح علیہ السلام زندہ ہے۔ جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوا۔
(دوم).....حضرت عزیر علیہ السلام کا دنیا میں آنا قرآن مجید میں مذکور ہے جس کو مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں۔ (ازالۃ الاوہام ص ٤٦٥ خزائن ج ٣ ص ٤٨٧) ”خدا کے کرشمہ قدرت نے ایک لمحہ کے لیے عزیر علیہ السلام کو زندہ کر کے دکھلایا۔“ مگر دنیا میں آنا صرف عارضی تھا۔ جب مرزا قادیانی عارضی طور پر آنا مانتے ہیں تو ناممکن نہ رہا۔ پس نزول حضرت مسیح ابن مریم نبی اللہ کا دمشق میں واقعہ ہو گا۔ یعنی جس کرشمہ قدرت سے خدا تعالیٰ عزیر علیہ السلام کو لایا۔ اسی کرشمہ قدرت سے مسیح علیہ السلام کو لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام بعد نزول شریعت محمدی ﷺ پر عمل کر کے پینتالیس برس زندہ رہ کر طبعی موت سے وفات پا کر مدینہ منورہ میں حضرت ﷺ کے روضہ مقدس میں مدفون ہوں گے۔ جیسا کہ حدیثوں
میں آیا ہے کہ مدینہ میں مقبرہ رسول اللہ ﷺ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی چوتھی قبر ہو گی۔ قادیانی: یہ تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی کسر شان ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر مانیں اور ان کو زمین پر؟ جواب: یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ خدا تعالیٰ جل و علا نے ہر ایک نبی کو الگ الگ رتبہ عطا کیا ہے اور خاص خاص معجزہ عنایت فرمایا۔ ایک نبی کا معجزہ دوسرے نبی سے اکثر نہیں ملتا تو کیا اس میں کسی کی کسر شان ہے؟ ہرگز نہیں حضرت مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور زندہ اٹھائے گئے تو اس میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی کسر شان ہے کہ وہ باپ سے پیدا ہوئے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضا عطا ہوا اور اس کے واسطے دریا پھٹ کیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطے ایسا نہیں ہوا تو کیا اس میں بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی کسر شان مانو گے؟ ہرگز نہیں۔
یہ وسوسہ شیطانی ہے کہ خدا تعالیٰ کے پرحکمت کاموں میں اپنے عقلی دلائل پیش کریں یہ آپ نے کہاں سے سمجھ لیا جو آسمان پر ہے۔ افضل ہے خالی پلہ ترازو کا اوپر ہوتا ہے اور پر نیچے۔ ع
شیطان نے بھی خدا تعالیٰ کے آگے یہ دلیل پیش کی تھی کہ میری پیدائش آگ سے ہے اور آدم کی پیدائش خاک سے ہے اور آپ لوگوں کی طرح سمجھ بیٹھا کہ خاک عالم سفلی سے ہے۔ اس لیے کم رتبہ رکھتی ہے اور آگ عالم علوی سے ہے اور بلند رتبہ رکھتی ہے۔ جس پر وہ کافر ہوا پس آپ بھی خدا کے واسطے لوگوں کو دھوکا دینے کی خاطر ایسی دلیل پیش نہ کریں۔
خدا تعالیٰ نے تو زمین کو شرف بخشا اور خاکی کو نوری سے تعظیم کرائی سجدہ کرایا مگر آپ کسر شان سمجھتے ہیں۔ اس عقیدے سے توبہ کرو اور خدائی حکم کے خلاف مت جاؤ اور مرزا قادیانی کی ہر ایک بات بلا دلیل مت مانو اور مرزا قادیانی کی ایسی تقلید مت کرو کہ قرآن کے مقابلہ میں اسکی تحریر کو ترجیح دو کیونکہ ایسا کرنا خدا اور رسول سے تمسخر کرنا ہے کہ غیر کے قول کو قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں وقعت دی جائے اور ایسا عقیدہ اسلام سے خارج کرتا ہے۔
محمد رسول اللہ ﷺ کی تو اس میں بلندی رتبہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام
باوجود نبی ہونے کے ان کے امتی ہونے کی خاطر آسمان پر وقت نزول کے منتظر ہیں اور بموجب احادیث بعد نزول اشاعت دین محمدی ﷺ کریں گے اور مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ پس اس میں فضیلت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے نہ کہ کسر شان۔
قادیانی: حضرت عیسیٰ آسمان پر بول، براز کرتے ہوں گے۔ حوائج انسانی خوراک وغیرہ ضعف پیری سے مر گئے ہوں گے؟
جواب: اوّل تو آپ کے اس اعتراض سے مرزا صاحب اور آپ کی جماعت کی دینداری معلوم ہوتی ہے کہ خدا اور رسول پر ہنسی اڑاتے ہیں۔ (دوم) بول براز کے ایسے مشتاق ہیں کہ تہذیب کو بھی ہاتھ سے دے دیا۔ یہ اعتراض کسی نص شرعی کے مطابق نہیں ہے۔
اب جواب سنو کہ خدا تعالیٰ جس مخلوق کو جس جگہ رکھتا ہے اپنی حکمت بالغہ سے اس کی طبیعت و حوائج اس جگہ کے مطابق کر دیتا ہے۔ آسمان پر جس قدر مخلوق ہے۔ ان کے حوائج و ضروریات آسمان کی آب و ہوا اور خواص کے مطابق ہیں۔ وہاں کی مخلوق آپ کی طرح نہ روٹی کھاتی ہے نہ پانی پیتی ہے اور نہ بول براز کرتی ہے۔ آپ کوئی موقعہ بتا سکتے ہیں کہ کسی نے آسمان سے آپ پر بول براز کیا ہو؟ ہرگز نہیں تو حضرت مسیح کی نسبت یہ اعتراض کس طرح معقول ہے؟ آپ روزمرہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں غذا بھی لیتا ہے اور پرورش بھی پاتا ہے۔ مگر بول براز نہیں کرتا۔ جب خدا تعالیٰ نے ایک چھوٹی سی جگہ یعنی ماں کے پیٹ میں بول براز کا انتظام کر دیا ہے اور خوراک بھی ماں کے پیٹ میں اس جگہ کے مطابق کر دی ہے تو آسمان پر جس کا ہر ایک ستارہ زمین سے کئی درجے بڑا ہے اور وہاں کی مخلوقات بھی زمین کی مخلوقات سے زیادہ ہے بوجہ احسن انتظام کر سکتا ہے۔ جب انسان کو دانت نہیں ہوتے تو اس کے واسطے دودھ ماں کی چھاتی میں پیدا کر دیتا ہے حالانکہ نر و مادہ یعنی عورت مرد کی نیچر ایک ہی قسم کی ہے۔ تو خدا تعالیٰ جس نے حضرت مسیح کی اس قدر امداد کی کہ کفار کے قبضہ سے نکال کر اپنے قبضہ میں لے لیا اور اس کا ہم شکل بھیج کر کفار کو شبہ میں ڈالا اس کو آسمان پر اٹھا لیا اور اس کو قتل اور صلیب سے حسب وعدہ بچا لیا وہ کوئی انتظام اس کی خوراک وغیرہ کا نہیں کر سکتا ضرور کر سکتا ہے اور اس نے کیا ہے۔ کیا جب وہ دنیا میں تھا تو اس کے واسطے آسمان سے خوان بھجواتا رہا۔ اب اپنے پاس اٹھا کر انتظام نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ مسیح حالت نیند یعنی خواب میں ہے اور تا نزول خواب میں رہیں گے کیونکہ
توفی کے معنی خواب کے بھی ہیں اور حالت خواب میں انسانی حوائج کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ضعف پیری آتا ہے۔ حضرت امام جلال الدین سیوطیؒ تحریر فرماتے ہیں کہ مسیح تا نزول ذکر و تسبیح میں مانند ملائکہ مشغول رہیں گے اور کھانے پینے دیگر حوائج سے پاک ہیں کیونکہ ذکر شغل ذات باری تعالیٰ اس کی غذا ہے۔ حضرت جلال الدین رومیؒ جو کہ صوفیاء کرام میں سے برگزیدہ بزرگ ہیں فرماتے ہیں۔ دیکھو مستزاد جلال الدین؎
عیسیٰ شد و بر گنبد دوار برآمد تسبیح کناں شد
غرض اور مذہبوں کا اتفاق ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر زندہ ہیں اور بعد نزول امت محمدی کی شریعت کے مطابق نکاح کر کے فوت ہو کر مدینہ میں مدفون ہوں گے۔ یعنی نصاریٰ بھی نزول کے قائل ہیں اور مسلمان بھی۔ پس اس صورت میں جس قدر اعتراض مرزا قادیانی نے بابت حوائج انسانی وضعف پیری وغیرہ وغیرہ کیے ہیں۔ سب باطل ہوئے۔ ذکر و تسبیح ذات باری تعالیٰ جب زمین پر یہ تاثیر رکھتی ہے۔ اکثر انسان چالیس دن بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ تک کچھ نہیں کھاتے تو آسمان پر جس کی ہر ایک چیز لطیف ہے۔ بدرجہ اولیٰ انسان کو انسانی حوائج سے پاک رکھ سکتی ہے۔ قصہ اصحاب کہف بھی حوائج انسانی سے عرصہ تک پاک رہنے کا مؤید ہے۔ صرف بصیرت کی آنکھ درکار ہے۔
یہ اعتقاد کہ حضرت مسیح سولی پر چڑھائے گئے اور طرح طرح کے عذاب سے قریب المرگ ہو گئے تھے اور مرے نہیں۔ علاوہ برخلاف قرآن کے، اناجیل کے، بھی جو واقعات کو بتاتی ہیں۔ برخلاف ہے کیونکہ ہر چہار انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح صلیب پر فوت ہو گئے تھے اور بعد امتحان اتار کر دفن کیے گئے اور قبر پر بھاری پتھر رکھا گیا تاکہ کوئی مردہ کو نہ نکال سکے۔ جس سے مرزا قادیانی کی تاویل غلط ثابت ہوتی ہے کہ مسیح مرا نہیں۔ صرف صلیب کی تکالیف سے بیہوش ہو گیا تھا اور یہودیوں کو شبہ ہوا کہ مر گیا ہے اور حقیقت میں مرا نہ تھا۔ یہ تاویل بالکل قابل تسلیم نہیں کیونکہ اگر مسیح ایسا ہی قریب المرگ اور بیہوش ہو گیا تھا کہ زندہ سے مردہ تمیز نہ ہو سکے اور باوجود امتحان بھی زندہ نہ سمجھا جائے اور داروغہ اور محافظان اس کو مردہ یقین کر کے اس کی ٹانگوں کو بھی نہ توڑیں کیونکہ شک کی حالت میں مصلوب کی ٹانگیں توڑی جاتی تھیں اور دونوں چور جو کہ مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ ان کی ٹانگیں توڑیں اور مسیح کو مردہ پا کر چھوڑ دیا۔ صاف دلیل یقین کرنے کی ہے کہ جو مشتبہ مسیح مصلوب ہوا تھا۔ سولی پر مر گیا تھا اور مرزا قادیانی صرف
اپنے دعویٰ کی خاطر غلط تاویل خلاف اناجیل کرتے ہیں جو کہ کسی طرح قابل تسلیم نہیں۔ (انجیل متی باب ٢٧ آیت ٥٠) ’’اور یسوع نے پھر بڑے شور سے چلا کر جان دے دی۔‘‘ (انجیل مرقس باب ١٥۔ آیت ٣٧) ’’تب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر دم چھوڑ دیا۔‘‘ (انجیل لوقا باب ٢٣ آیت ٤٦) ’’اور یسوع نے بڑی آواز سے کہا کہ اے باپ میں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں یہ کہہ کے دم چھوڑ دیا اور صوبہ دار نے یہ حال دیکھ کر خدا کی تعریف کی۔‘‘ (انجیل یوحنا باب ١٩ آیت ٣٠۔٣١) ’’پھر جب یسوع نے سرکہ چکھا تو کہا پورا ہوا اور سر جھکا کے جان دی۔‘‘ (انجیل یوحنا باب ١٩ آیت ٣٣) ’’لیکن جب انھوں نے یسوع کی طرف آ کے دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں۔ پر سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے لہو اور پانی نکلا۔‘‘ یعنی امتحان کر لیا کہ مردہ ہے۔
دیکھو یوحنا باب ١٩ آیت ٣٨۔ اور بعد اس کے یوسف آرمتیا نے جو یسوع کا شاگرد تھا لیکن یہودیوں کے ڈر سے پوشیدگی میں پلاطوس سے اجازت چاہی کہ یسوع کی لاش کو لے جائے اور پلاطوس نے اجازت دی سو وہ آ کے یسوع کی لاش کو لے گیا۔
ناظرین! لاش کے لینے میں بھی وقت لگا ہو گا۔ پھر مرزا قادیانی کا فرمانا کہ مسیح مرا نہیں غلط ہے کیونکہ ایسا قریب المرگ ضرور مر گیا تھا جیسا کہ انجیل سے ثابت ہے اور ممکن نہیں کہ لاش بغیر امتحان کے دی ہو۔
ایضاً آیت ٤٠۔ ٤١۔ ٤٢۔ پھر انھوں نے یسوع کی لاش لے کے سوتی کپڑے میں خوشبویوں کے ساتھ جس طرح سے کہ دفن کرنے میں یہودیوں کا دستور ہے کفنایا اور وہاں جس جگہ اسے صلیب دی گئی تھی۔ ایک باغ تھا اور اس باغ میں ایک نئی قبر تھی۔ جس میں کبھی کوئی نہ دھرا گیا تھا۔ سو انھوں نے یسوع کو یہودیوں کی تیاری کے دن کے باعث وہیں رکھا کیونکہ یہ قبر نزدیک تھی۔‘‘
ناظرین! اناجیل سے تو موت اس مسیح کی جو مصلوب ہوا تھا ثابت ہے اور مرزا قادیانی کی رائے یا خود تراشیدہ تاویل عقلاً و عادتاً غلط۔ کیونکہ واقعات صاف صاف بتا رہے ہیں کہ مصلوب مسیح سولی پر مر گیا اور جیسا کہ مذکورہ بالا آیات اناجیل سے ظاہر ہے اب مرزا قادیانی کی تاویل بمقابل اناجیل بالکل ناقابل اعتبار ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ مصلوب مسیح زندہ رہا ہو۔ اگر وہ بفرض محال بقول مفروضہ مرزا قادیانی صلیب کی سختیوں سے قریب المرگ ہو گیا تھا کہ زندگی کا کوئی نشان باقی نہ رہا تھا تو اسی کا نام موت ہے اور
مرزا قادیانی کی دلیل سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ کیونکر کہتے ہیں کہ مرا نہیں اور پھر وہ قبر میں کیونکر زندہ رہ سکتا ہے؟ جب کہ سانس بند ہو جائے۔ خاص کر ایسے کمزور اور قریب المرگ کا۔ حالانکہ قبر میں دفن ہو اور قبر پر پتھر جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہودیوں کے بادشاہ کی قبر ہے نصب کیا گیا ہو۔ پس یقیناً ثابت ہوا کہ مصلوب مسیح صلیب پر مر گیا تھا اور مرزا قادیانی کی دلیل بودی اور غیر معقول ہے کہ مرا نہیں۔ اب صرف دیکھنا یہ ہے کہ اناجیل میں جو واقعات ہیں۔ وہ مضمون قرآن کے برخلاف ہیں۔
یعنی قرآن تو فرماتا ہے کہ مسیح ؑ نہ قتل ہوا اور نہ مصلوب ہوا اور نہیں قتل ہوا یقیناً اب اس صورت میں مسلمان کون ہے؟ جو قرآن کے فرمودہ پر ایمان لائے یا اناجیل کی تحریر پر ایمان لائے اور اجماع امت ہے کہ قرآن مجید کے فرمودہ پر ایمان لانا چاہیے۔ اگر اناجیل پر ایمان لائیں گے اور مسیح کی موت کے قائل ہوں گے تو یہود و نصاریٰ میں سے ہوں گے نہ کہ اہل اسلام میں سے اور اناجیل کے پیرو کہلائیں گے نہ کہ قرآن کے۔
پس مرزا قادیانی کا یہ اعتقاد کہ حضرت مسیح سولی پر چڑھائے گئے اور طرح طرح کے عذابوں سے قریب المرگ ہو گئے۔ اناجیل کے مطابق ہے۔ اگر آگے جا کے مرزا قادیانی نے ایک قصہ گھڑ لیا کہ مسیح سولی پر مرا نہیں اور اس کے شاگرد لے گئے اور وہ طبعی موت سے مرا اور کشمیر میں مدفون ہے۔ بالکل غلط ہے کیونکہ واقعات اور اناجیل کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی رائے کچھ وقعت نہیں رکھتی۔
خاص کر جب کہ قرآن مجید کا مضمون ان کی رائے کے برخلاف ہو۔ جب مسلمان کسی حدیث متعارض قرآن کے قائل نہیں تو مرزا قادیانی کی رائے کو قرآن کے مقابل کب مان سکتے ہیں؟ پس قرآن مجید کا فرمانا کہ مسیح ؑ نہ مصلوب ہوا اور نہ مقتول ہوا بلکہ خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا درست ہے اور مرزا قادیانی کی خود تراشیدہ کہانی جو کہ اناجیل و قرآن کے برخلاف ہے کہ مسیح کشمیر میں مدفون ہے بالکل غلط ہے۔ کیونکہ سری نگر کشمیر ایسی جگہ ہے کہ وہاں کوئی عیسائی سوائے کشمیری پنڈتوں کے اسلام سے پہلے باشندہ نہ تھا تو حضرت مسیح ؑ جس کو تمام دنیا نے مانا۔ ممکن نہیں جس جگہ وہ خود رہا ہو اور موت سے مرا ہو ایک شخص بھی ایمان نہ لائے اور ایسے نبی صاحب کتاب کی شان سے بعید ہے کہ اس کی قبر جس شہر میں ہو وہاں اس کا کوئی پیرو نہ ہو؟
دوم: ایسے بڑے واقعہ کو کوئی مورخ بیان نہ کرے بلکہ تاریخ میں تو صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ سوا ہندوؤں کے اسلام سے پہلے غیر ہندؤ کی کشمیر میں بود و باش نہ
تھی۔ لہٰذا حضرت مسیح کی قبر کا ہونا غلط ہے۔
کشمیر کی تاریخ میں صاحب زبدہ تحریر فرماتے ہیں کہ ”آبادیش بعد از طوفان نوح است۔ و در زمان سابق رایان ہندو حکمران بودند۔ چہار ہزار سال و سی صد و کسری متصرف ماندند۔ تا آنانکہ در سنہ ہفت صد و بست و پنج ہجری بر دست سلطان شمس الدین مفتوح شد۔ و زیاده بر دو صد سال حکومت در خاندان وے بماند۔“
مفصلہ ذیل مورخین یعنی ابو محمد شعری مؤلف زبدہ، شرف الدین یزدی مولف ظفر نامہ، اخوند میر مؤلف حبیب السیر ۔ امین احمد رازی مؤلف ہفت اقلیم، محمد بن احمد مولف نگارستان، عبداللہ شیرازی مولف وصاف، خاوند شاہ بلخی مولف روضۃ الصفا، میرزا حیدر کاشغری مولف تاریخ رشیدی، شیخ عبدالحق دہلوی مؤلف تاریخ دہلی و دیگر مؤلفان تاریخ سلیمان، طبقات ناصری، آئین اکبری، اقبالنامہ سب نے کشمیر کے حالات لکھے۔ مگر ایک نے بھی مسیح ؑ کی قبر کا حال نہیں لکھا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح ؑ سری نگر کشمیر فوت ہوئے نہ وہاں ان کی قبر ہے۔
دوم: مؤلف خود ساڑھے تین سال خاص سری نگر کشمیر میں رہا ہے اور اس زمانہ میں مرزا قادیانی سے حسن ظن اور کچھ عقیدت بھی رکھتا تھا۔ مگر وہاں نہ تو قبر حضرت مسیح کی پائی اور نہ کسی اہل علم خاندان کے افراد سے سنا بلکہ نقشبندی خاندان اہل علم وہاں مشہور ہے اور بندہ سے واقفیت بھی تھی کسی نے کبھی مسیح کی قبر کا ہونا نہیں فرمایا۔ اگر الہام سے مرزا قادیانی کو پتہ لگا ہے تو یہ الہام بھی عبداللہ آتھم اور آسمانی نکاح وغیرہ الہامات سے ہے کیونکہ اس کے برخلاف قرآن و اناجیل گواہی دیتے ہیں۔
پس ہر حال میں قرآن مجید کا فرمانا ہی اہل اسلام کے لیے معتبر ہے اور قرآن کے مطابق عقیدہ رکھنے والا مسلمان ہے اور مسیح کو مردہ اور اناجیل پر ایمان لانے والا مرتد ہے کہ قرآن سے پھر کر اناجیل کو ماننے لگا اور ان کو قرآن کے مقابل اعتبار دے کر اس پر عمل کرنے لگا۔ جب مسلمانوں نے اناجیل پر عمل کرنا تھا تو پھر قرآن کی کیا ضرورت تھی؟ اور اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ کے کیا معنی؟ یہ قرآن مجید کی صداقت ہے کہ اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت تصدیق کی اور حضرت مریم کی عصمت کی تعلیم دی اور قرآن پاک نے ہی حضرت مسیح ؑ کا نہ مصلوب ہونا اور نہ قتل ہونا اور ملعون موت سے نہ مرنا اور ذلت کی موت یعنی صلیب پر نہ مرنے کا عقیدہ تمام دنیا میں پھیلایا۔ ورنہ عیسائی نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت ثابت کر سکے اور نہ یہودیوں نے جو ملعون و ذلیل
موت سے مارنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مشہور کیا تھا۔ اسکی تردید کر سکے۔ یہ قرآن کا ہی معجزہ ہے کہ ایسے دقیق مسئلہ کو صاف کر دیا کیونکہ اگر بموجب اناجیل حضرت مسیح علیہ السلام کا صلیب پر مرنا مانا جائے تو اس کی نبوت ثابت نہیں ہوتی اور اگر نبوت ثابت کرنا چاہیں تو ملعون موت سے نجات ہو کر ثابت ہو سکتی تھی۔ اس لیے قرآن مجید نے صاف صاف بتا دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نبی اللہ تھے اور وہ نہ مصلوب ہوئے اور نہ مقتول ہوئے بلکہ زندہ اٹھائے گئے آسمان پر۔ اور ان کا مشبہ یعنی ہم شکل صلیب پر لٹکایا گیا اور اس پر مرا جیسا کہ اناجیل نے واقعات بیان کیے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے کہ مصلوب مسیح صلیب پر فوت ہوا اور بعد امتحان مردہ پا کر اس کو یوسف کے حوالہ کیا گیا۔ جس نے اس کو دفن کیا۔ آگے جا کے اناجیل سے رفع حضرت مسیح علیہ السلام ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پھر زندہ ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے اب اناجیل اور قرآن کا صرف فرق یہ ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور اٹھایا گیا اور اناجیل کہتی ہیں کہ صلیب پر فوت ہو کر پھر زندہ ہو کر آسمان پر اٹھایا گیا۔ بہر حال مسیح کی زندگی اور آسمان پر جانے میں تو دونوں مذہبوں کا اتفاق ہے اور نزول پر بھی نصاریٰ اور مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ قرآن صلیب پر چڑھنے اور مرنے کی تردید کرتا ہے اور اناجیل ثابت کرتی ہیں چونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ نبی پھانسی دیا جائے اور اس کی ذلیل موت عوام میں مشہور ہو۔ اس لیے اناجیل کی سند معتبر نہیں کیونکہ ذلیل موت سے مرنا ثابت ہو گیا تو نبی نہ رہا۔ اس لیے قرآن کی تعلیم درست ہے۔
اب اس جگہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح کا مشبہ کون ہوا اور بقول مرزا قادیانی اس نے اس وقت فریاد کیوں نہ کی کہ میں اصل مسیح نہیں ہوں اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جس کام کو کرتا ہے کامل حکمت سے اس کا ہر پہلو کامل کرتا ہے۔ جب حضرت مسیح کی شبیہ جس پر ڈالی گئی تھی تو اس میں تردید کی طاقت ہی نہیں رہی تھی کیونکہ من کل الوجوہ شکل و صورت سے وہ مثیل مسیح ہو گیا تھا۔ اس لیے اس نے صلیب پر ایلی ایلی پکارا اور جان دی۔
اور روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان کے دماغی حواس پر اگر کوئی عارضہ واقع ہو تو وہ اپنی اصلی حالت بیان نہیں کر سکتا تو پھر مسیح کا مشبہ کیونکر کہہ سکتا تھا اور یہ ایک قدرت کا کرشمہ تھا۔
دوم: فرشتوں کا متشکل ہونا اور وجود عنصری میں آنا۔ جب اہل اسلام میں مسلم
ہے اور مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں کہ ملائکہ بہ شکل انسان متشکل ہو کر زمین پر آ جاتے ہیں۔ تو پھر کیا مشکل اور محال ہے کہ خدا تعالیٰ نے حسب وعدہ خود کہ تجھ کو اپنے قبضہ میں کر لوں گا اور کافروں سے پاک کروں گا۔ کسی کو بشکل مسیح بنا دیا اور حضرت مسیح کو اٹھا لیا۔
اب ہمارے بعض معترضین کہیں گے کہ وہ لاش فرشتہ کہاں رکھ گئے آسمان پر گیا تو اس کا جواب یہی ہے کہ جس جگہ سے لایا تھا۔
۔ غرض خدا تعالیٰ نے جس طرح حضرت مسیح کی پیدائش خاص طور پر بطریق معجزہ کی تھی۔ اسی طرح اس کی رفع بطریق معجزہ کی۔ اور خدا تعالیٰ جو چاہے کر سکتا ہے اور اسی شک کے دور کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یعنی اللہ غالب حکمت والا ہے کافروں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھانا چاہا تاکہ اس کی نبوت ثابت نہ ہو مگر خدا نے ان کے ساتھ عجب تجویز کی کہ مشبہ مسیح بھیج دیا اور مسیح کو بچا لیا اور ذلت کی موت سے نجات دی اور یہودیوں کو بزعم خود مسیح کے قتل کا شبہ ہوا جو کہ درست نہیں کیونکہ مَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا میں قرآن نے فیصلہ کر دیا ہے۔
مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”حضرت مسیح صلیب پر چڑھایا گیا ۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٨٠ خزائن ج ٣ ص ٢٩٦) اور قرآن فرماتا ہے کہ صلیب پر نہیں چڑھایا گیا۔ پس اب مسلمانوں کو قرآن ماننا چاہیے۔ یا مرزا قادیانی کا فرمانا؟ جو بلا دلیل ہے۔
قادیانی: مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ تو مسیح موعود ہے اس لیے جب تک مسیح کو فوت شدہ نہ مانیں تو ان کا دعویٰ درست نہیں ہوتا۔
جواب: یہ غلط فہمی ہے کہ موت مسیح ثبوت دعویٰ مرزا قادیانی سمجھی جائے۔ مدعی کو اپنے دعویٰ کا ثبوت ساتھ لانا چاہیے۔ نہ کہ اگر مسیح زندہ ہے تو دعویٰ نہیں اور اگر مسیح فوت ہو گیا ہے تو مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں یہ تو معقول نہیں اگر بفرض محال حضرت مسیح کو فوت شدہ مان لیں تو پھر بھی بار ثبوت مرزا قادیانی پر ہو گا کہ مرزا قادیانی ہی مسیح موعود ہیں اور دوسرا نہیں۔
(دوم)....... الہام تو شریعت میں حجت نہیں کیونکہ اس میں وسوسہ کا احتمال ہے حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ کے مرشد کو بھی الہام ہوا تھا کہ تو عیسیٰ ہے مگر ان کے پیشوا نے ان کو اس وسوسہ سے نکال لیا اگر مرزا قادیانی کا بھی کوئی پیر طریقت ہوتا تو ان کو اس وسوسہ سے نکال لیتا۔
(سوم)....... مرزا قادیانی کے اپنے الہام اپنے ہی دعویٰ کی دلیل نہیں ہو سکتے اگر مدعی عدالت میں دعویٰ پیش کر کے خود ہی گواہی دے کہ میں سچا ہوں تو عدالت ہرگز قبول نہیں
کرسکتی اور نہ ہی مدعی ڈگری پا سکتا ہے۔
(چہارم....... مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ سچے اور جھوٹے خواب و الہام بدکار و فجار‘ مسلم وغیر مسلم‘ چوہڑے‘ چمار‘ کنجر‘ ڈوم‘ سب کو آتے ہیں اور کنجری بدکاری کی حالت میں بھی سچے خواب دیکھ لیتی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ خواب و الہام معیار صداقت نہیں اور نہ ہی دلیل تصدیق دعویٰ مرزا قادیانی ہو سکتی ہے کیونکہ ایک فعل مرزا قادیانی کے واسطے دلیل صداقت ہو اور اگر غیر سے وہی فعل صادر ہو تو دلیل صداقت نہ ہو۔ بعید از انصاف ہے اگر خواب و الہام قابل اعتبار ہیں تو دونوں کے واسطے اور اگر ناقابل اعتبار ہیں تو دونوں کے واسطے۔ چونکہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ مسیح موعود ہونے میں اپنے خواب و الہام پیش کرتے ہیں اور یہ معیار صداقت نہیں۔ اس لیے وہ مسیح موعود نہیں۔
قادیانی: مرزا قادیانی قرآن کے حقائق و معارف و تفسیر لاثانی فرماتے ہیں اور یہ ان کی صداقت کا نشان ہے۔
جواب: قرآن مجید کی تفسیر اور حقائق تو ہر ایک زمانہ میں علمائے وقت کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ درمنثور‘ بیضاوی وکشاف وغیرہ وغیرہ تفاسیر میں حقائق و معارف کیا کم ہیں کیا وہ سب مسیح موعود تھے؟
شیخ فیضی نے بے نقط تفسیر سواطع الالہام لاثانی لکھی تھی۔ جس کا جواب یا مثل آج تک کسی نے نہیں لکھا کیا وہ مسیح موعود تھا؟ سرسید نے قرآن کی تفسیر وحقائق و معارف جن کا اخذ اکثر مرزا قادیانی کی تصانیف میں ہوتا ہے۔ نئے علوم کے موافق تصنیف فرمائی اور ضروری مسائل تقدیر و تدبیر دوزخ بہشت وغیرہ پر روشنی ڈالی۔ خاص کر مسیح ؑ کی حیات وممات پر بحث کی۔ جس کی تقلید مرزا قادیانی نے فرمائی۔ کیا سرسید بھی مسیح موعود تھا؟ ہرگز نہیں تو پھر مرزا قادیانی کیونکر مسیح ہو سکتے ہیں؟
قادیانی: مرزا قادیانی نے قوم کی خدمت کی اور اسلام کی حمایت میں تمام مذاہب کی بطلان کی۔ یہ ان کی صداقت کا نشان ہے۔
جواب: یہ غلط ہے بلکہ اہل اسلام نے مرزا قادیانی کو مناظر و پہلوان اسلام سمجھ کر مالا مال کر دیا۔ اسلام اور قوم کی خدمت سرسید نے کی کہ اپنی کل جائیداد‘ تنخواہ و پنشن وغیرہ سب آمدنی کالج وقوم کی خدمت میں صرف کرتا رہا۔ حتیٰ کہ کفن تک نہ رکھا۔ اس کے مقابل مرزا قادیانی نے قوم کے روپیہ سے قرضہ اتارا۔ جائیداد بنائی۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں کہ جہاں مجھ کو دس روپیہ کی ماہوار آمدنی کی امید نہ تھی۔ اب لاکھوں روپے سالانہ کی
آمدنی ہے۔ جس سے اولاد مزے اُڑا رہی ہے۔ اب غور فرماؤ کہ سرسید زیادہ اہل ہے مسیح موعود ہونے کا یا مرزا قادیانی؟ بلکہ سرسید کو لوگوں نے بغیر دعوت قبول کیا اور مرزا قادیانی نے اشتہاروں سے تمام دنیا ہلا دی مگر کسی نے ان کو قبول نہ کیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے کرشن جی کا روپ بھی دھارا۔ سرسید ایسا عالی حوصلہ تھا کہ اس نے کیا اور کر دکھایا۔ مگر دعویٰ کوئی نہیں کیا اور مرزا قادیانی نے کچھ نہیں کیا۔ صرف دعویٰ نبوت کیا۔
یہ سرسید کی تعلیم ہے جو بہ تبدیل الفاظ مرزا قادیانی اہل اسلام میں پھیلا رہے ہیں تو کیوں نہ اصل یعنی سرسید کو مانا جائے؟ جس سے مرزا قادیانی نے محال عقلی وغیرہ سیکھ کر مسیح ؑ کی حیات وممات ونزول پر بحث شروع کر کے اپنی ایک الگ جماعت بنالی جس کی تہ میں نیچریت ہے اور قرآن اور حدیث کا صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ پس کھلے کھلے نیچری ہونا چاہیے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر نہیں ہونا چاہیے۔
قادیانی: چاند اور سورج کو گرہن رمضان میں ہوا اور یہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کی دلیل ہے۔ جواب: مرزا قادیانی نے اس قول حضرت باقر محمد بن علی ؓ کے غلط معنی کیے ہیں۔ اصل عبارت دیکھو اور اس کے معنی کر کے دیکھو۔ اِنَّ لِمَهْدِيْنَا اٰيَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَّمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِیْ نِصْفٍ مِّنْهُ ترجمہ: ہمارے مہدی کے دو نشان ایسے ہیں کہ جب سے آسمان اور زمین پیدا ہوئے کبھی ایسے نشان نہیں ہوئے یعنی خرق عادت کے طور پر۔ اوّل رات رمضان میں چاند کا گرہن ہوگا اور نصف رمضان میں سورج کا۔‘‘
مرزا قادیانی اوّل کے معنی ١٣ و ١٤ اور نصف کے معنی آخر یعنی ٢٨ و ٢٩ کرتے ہیں جو کسی طرح درست نہیں۔ پرائمری جماعت کا لڑکا بھی جانتا ہے کہ اوّل کے معنی پہلا اور نصف کے معنی آدھا کے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی اس کے برعکس معنی کرتے ہیں۔ یعنی اوّل سے نصف اور نصف سے اخیر کے ہیں۔ جو کسی لغت میں نہیں۔ پس قادیانی جماعت کے آدمی وہ لغت کی کتاب بتا دیں۔ جس میں اوّل بمعنی نصف رمضان اور نصف رمضان بمعنی اخیر رمضان ہو۔ ورنہ ان کے معنی غلط ہیں۔ تمام زمانہ جانتا ہے کہ سو کا نصف پچاس ہے نہ کہ ٩٨ پس یہ غلط ہے کہ رمضان میں چاند وسورج کو گرہن حسب قول رمضان میں ہوا۔
مرزا قادیانی اوّل رمضان میں چاند گرہن خلاف قانون قدرت فرماتے ہیں اور ساتھ اقرار کرتے ہیں کہ رمضان میں خلاف قانون قدرت ہو سکتا ہے یہ منطق مرزا قادیانی خود ہی سمجھیں کہ خدا تعالیٰ اوّل رمضان میں تو خلاف قانون قدرت نہیں کر سکتا
مگر ١٢ و ١٣ رمضان کو خلاف قانون قدرت رمضان میں ہو سکتا ہے۔ قول کے الفاظ قانون قدرت کے برخلاف ہونا بتا رہے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ جب سے آسمان زمین بنائے یعنی بطور نشان خلاف قانون قدرت ہو گا۔ مگر مرزا قادیانی اس قول کو اپنے دعویٰ کے مطابق کرنے کی خاطر الفاظ کے غلط معنی کر کے تطبیق چاہتے ہیں مگر اوّل کے معنی نصف کس لغت سے لا سکتے ہیں؟ صرف مدعی اپنے کہنے سے تو ڈگری نہیں پا سکتا۔ کوئی لغت کی کتاب دکھائیں۔
مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ رمضان میں کبھی پہلے چاند گرہن و سورج گرہن نہیں ہوا غلط ہے۔ نظام قمری کے حساب سے جب چاند و سورج اپنے اپنے دورے کے موافق اس موقعہ پر آئیں گے جس پر یہ اجتماع گرہن ہوا تھا تو ضرور ان کو گرہن لگے گا۔ چنانچہ علم ہیئت سے ثابت ہے کہ نظام قمری کے حساب سے ایک دن جو آج گزرا ہے یعنی جس جس مقام پر چاند آج منازل طے کرے گا۔ وہ دن دو سو دس برس بعد پھر آئے گا۔ جس سے ثابت ہے کہ رمضان میں ہمیشہ بموجب رفتار قمر اس کو گرہن لگتا رہا ہے یعنی دو سو دس برس پہلے لگا تھا اور پھر دو سو دس برس کے بعد لگے گا۔ جیسا کہ ماہ اپریل ١٩١٢ء میں چاند اور سورج کا گرہن ایک ہی مہینہ میں ہوا ہے۔ پھر یہ اقتران گرہن ماہ اپریل میں دو سو دس برس کے بعد ہو گا۔ اب اگر ایک شخص یہ کہے کہ اپریل میں گرہن چاند اور سورج کا میری صداقت کا نشان ہے کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا تو کوئی مان سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پس اسی طرح مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ رمضان میں اقتران گرہن چاند و سورج میری صداقت کا نشان ہے غلط ہے کیونکہ قول میں اوّل رمضان لکھا ہے۔ اوّل رمضان کو گرہن نہیں لگا۔ نہ سورج گرہن نصف رمضان میں واقع ہوا۔
معجزات و خوارق و محالات عقلی کے تو مرزا قادیانی قائل نہیں بلکہ تمسخر اڑاتے ہیں اور یہاں اپنے مطلب کے واسطے وہ امر جو ابتدائے آفرینش سے یعنی جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کا ہونا مانتے ہیں۔ یعنی چاند و سورج کے گرہن کا اجتماع رمضان میں صرف مرزا قادیانی کی خاطر ہوا اور وہ بھی کھینچ تان کر غلط معنی کر کے جو ہرگز قرین قیاس نہیں اور نہ کسی لغت کی کتاب میں ہے تو ہم اب مرزا قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ اب قانون قدرت و محال عقلی کہاں گیا؟ اوّل رمضان میں تو محال عقلی اور خلاف قانون قدرت ہے اور جب سے آسمان و زمین بنے ہیں۔ نہیں ہو سکتا مگر مرزا قادیانی کی خاطر قانون ٹوٹ سکتا ہے۔ یعنی وہ امر جو آسمان و زمین کے پیدا
ہونے کے وقت سے کبھی نہ ہوا تھا اب ہوا۔ یہ فیصلہ مرزا قادیانی کے ہاتھ میں ہے۔ جس طرح چاہیں کر لیں کون پوچھ سکتا ہے؟ مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ اگر دھرم پال کہے کہ میری خاطر اپریل ١٩١٢ء میں اجتماع گرہن ہوا تو قادیانی جماعت مان لے گی؟ کہ بیشک اپریل میں کبھی اجتماع گرہن نہیں ہوا جب سے آسمان زمین بنا ہے اور دھرم پال کے دعوٰی کو بھی مان لیں گے۔ یہاں تو الفاظ کے معنی بھی غلط نہیں کرنے پڑتے جس طرح مرزا قادیانی نے کیے ہیں۔
(دوم)...... حدیث شریف میں حضرت امام جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیونکر گمراہ ہو سکتی ہے وہ امت جس کے اوّل میں ہوں اور درمیان مہدی علیہ الرضوان اور اخیر میں عیسیٰ علیہ السلام جس سے صاف ظاہر ہے کہ مہدی اور مسیح الگ الگ ہیں اور مرزا قادیانی کا دعوٰی مسیح موعود ہونے کا ہے جو کہ مہدی کے بعد آنے والا ہے۔ پس یہ قول کسوف خسوف کا اجتماع مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان نہیں کیونکہ یہ ظہور مہدی کا نشان ہے۔ نہ مسیح موعود کا۔ اس کے مقابلہ میں لَامَھْدِیَ اِلَّا عِیْسٰی ضعیف ہے۔
(سوم)...... اس قول کو کیوں نہیں پیش کرتے۔ مِنْهَا خَسُوْفُ الْقَمْرِ مَرَّتَیْنِ فِیْ رمضان یعنی رمضان میں دو دفعہ چاند گرہن ہو گا چونکہ دو دفعہ نہیں ہوا دعوٰی درست نہیں۔
عَنْ شَرِیْکٍ قَالَ بلغنی انه قبل خروج المہدی ینکشف القمر فی شہر رمضان مرتین رواہ نعیم (الحاوی ج ٢ ص ٨٢) عن ابن عباس لا یخرج مہدی حتی تطلع من الشمس آیۃ یعنی مہدی کا ظہور نہیں ہو گا۔ جب تک آفتاب سے نشان ظاہر نہ ہوں۔ (الحاوی ج ٢ ص ٦٥) عن کعب قال یطلع نجم من المشرق قبل خروج المہدی لہ ذنب یعنی چونکہ یہ نشان ابھی ظاہر نہیں ہوئے۔ اس لیے دعوٰی صادق نہیں ہے۔
(الحاوی ج ٢ ص ٨٢)
مرزا قادیانی کا دعوٰی مسیح موعود ہونے کا ہے اور مہدی کا بھی ہے اور مجدد کا بھی ہے اور کرشن جی کا بھی ہے۔ مگر ان میں علامات اور ثبوت ایک کا بھی نہیں ہے۔ صرف دعوٰی پر کوئی مان سکتا ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ ہر ایک دعوٰی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ جھوٹا اور سچا اور اس میں فرق کرنے والی معیار ہوتی ہے۔ مثلاً سونا اور پیتل ایک ہی دعوٰی رکھتے ہیں۔ مگر جب معیار سے پرکھا جائے تو سونا سونا ہے اور پیتل پیتل، پس اسی طرح جب معیار پیشگوئیاں ہیں اور ان میں علامات بھی ذکر کر دی گئی ہیں تو پھر کوئی جھگڑا ہی نہیں رہتا۔ علامات کو دیکھ لو اور مدعی کو دیکھ لو اگر معیار کھرا ہے تو مانو ورنہ آپ کا اختیار
ہے ۔ اب میں نیچے علامات ہر ایک کی لکھتا ہوں ۔ ناظرین ! اگر وہ علامات مرزا قادیانی میں پائی جائیں تو ماننے میں کچھ عذر نہیں کیونکہ اگر صرف دعویٰ پر ہی ماننا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مہدی جاوا ، مہدی سوڈانی ، مہدی سمالی لینڈ ، مہدی فرانس کو نہ مانا جائے کیونکہ انھوں نے بھی دعویٰ کیا ہے پس بغیر امتحان شرعی صرف دعویٰ اس بنا پر نہیں مان سکتے کہ مدعی کہتا ہے کیونکہ دعویٰ جھوٹا بھی ہوتا ہے اور سچا بھی ۔
یہ آپ کی سخت غلطی ہے کہ آپ جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی کفار نے نہ مانا تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے مرزا قادیانی کی تشبیہ صحیح نہیں ۔ مرزا قادیانی غلام ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ آقا و مالک ۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں ۔ تو غلام جس طرح آقا نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ نہیں ہو سکتے ۔
محمد رسول اللہ ﷺ اپنی صداقت اور نبوت شریعت معجزات کامل وحی بر اوامر و نواہی اپنے ساتھ لائے تھے اور انھوں نے یک لخت دعویٰ نبوت کر کے اپنا پیغمبر صادق ہونا لوگوں کے دلوں پر جما دیا تھا ۔ جنھوں نے معجزات طلب کیے دکھائے اور ان کو نور اسلام سے منور کیا ۔ ایک امتی کی مثال اس کے نبی سے دینی بیدینی و گمراہی و کفر ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنی بدزبانی سے مار کھائے اور کہے کہ پیغمبروں اور نبیوں کو لوگ ستاتے رہے ہیں ۔ پس میں بھی نبی ہوں تو کیا غیر معقول دعویٰ ہو گا اگر ایک قادیانی جھوٹ بولے اور کہے کہ مرزا قادیانی بھی جھوٹ بولتے تھے تو آپ کو کس قدر غصہ آئے گا اور اس کو قادیانی سمجھیں گے؟ ہرگز نہیں ۔ اسی طرح مرزا قادیانی امتی ہو کر محمد رسول اللہ ﷺ نہیں ہو سکتے اور نہ ان کے ساتھ مرزا قادیانی کی مثال صادق ہو سکتی ہے کیونکہ مرزا قادیانی امتی ہیں ۔
کیا محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی حضرت عیسیٰ کا اپنے آپ کو امتی بتایا تھا؟ ہرگز نہیں تو پھر کس ایمان سے کہتے ہو کہ اگر مرزا قادیانی کو جو نہ مانے وہ ان سے ہو گا جنھوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو نہ مانا ۔ کجا بادشاہ کا انکار اور کجا چپراسی و مذکوری کا نہ ماننا؟ جب شان احمد ﷺ شان غلام احمد سے بالاتر ہے ۔ تو غلام احمد کا منکر احمد کا منکر کیونکر ہو سکتا ہے؟ مرزا قادیانی کی مثال حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے ہرگز درست نہیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے ۔ جو نبوت کا دعویٰ
کریں گے اگر ان کو نہ مانیں تو حق پر رہیں گے۔ یا غیر حق پر؟ اگر یہ قاعدہ آپ کا درست ہے کہ جو مدعی نبوت کو نہ مانے ان کفار کی مانند ہے جنھوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو نہ مانا تھا تو آپ فوراً دھرم پال کو جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے مانو۔ اگر نہ مانو گے تو ابو جہل وغیرہ سے ہوگئے۔
دھرم پال تو مرزا قادیانی سے دعویٰ نبوت میں زیادہ دلیر ہے اور ڈرتا بھی نہیں۔ مرزا قادیانی نے تو ڈر کر باقساط دعویٰ نبوت کیا ہے۔ پہلے مناظر اسلام پھر مجدد پھر مثیل مسیح، پھر مسیح موعود پھر مہدی پھر کرشن جی غرض یک انار و صد بیمار ایک جان ہزار دُکھ ایک مرزا قادیانی اور اس قدر دعاوی؟ سوال یہ ہے کہ صرف دعویٰ پر ہی ہر ایک کو مان لینا ہے یا کچھ جھوٹے سچے مدعی کی تمیز بھی درکار ہے؟ جس کا جواب معقول یہی ہے کہ جھوٹے اور سچے میں تمیز کر کے ماننا چاہیے۔ پس مسلمانوں کے پاس پیشگوئیاں مخبر صادق ﷺ کی ہیں ان کے مطابق جو شخص ہوگا۔ وہی سچا ہوگا۔
(اوّل)...... تو مسیح موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں۔ کسی میں بھی پنجاب یا ہندوستان جائے نزول مذکور نہیں اور نہ اس کا نام کرشن ہی بتایا گیا ہے۔ وہاں صاف دمشق ہے۔
(دوم)...... جس قدر یہ پیش گوئی صاف ہے۔ یعنی نام مسیح موعود اس کی والدہ کا نام کیونکہ بغیر باپ پیدا ہوا تھا اور اس کی جائے نزول مذکور ہے تا کہ کسی قسم کا شک مانند حضرت ایلیا نہ رہے اور کوئی جھوٹا مدعی بھی نہ ہو یعنی عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ شرقی منارہ دمشق پر نزول فرماویں گے۔ اگر کوئی پنجاب قادیان کا رہنے والا جس کا باپ بھی ہو اور نام اور باپ کا نام بھی اور رکھتا ہو کیونکر سچا مدعی مانا جا سکتا ہے؟
اگر کہا جائے کہ ان نشانات یعنی جو جو نام صفات حدیثوں میں مذکور ہیں۔ ان کے مرادی معنی ہیں جب کہ مرزا قادیانی نے کیے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرادی معنوں میں کچھ نہ کچھ مناسبت ضرور ہوتی ہے ورنہ بلا مناسبت مرادی معنی تو ہر ایک شخص کر سکتا ہے اور اپنے دعویٰ میں سچا ہو سکتا ہے۔ مثلاً زید مدعی ہے اور مرادی معنیٰ دمشق کے قصور یا لاہور لیتا ہے اور عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ سے مراد زید ولد بکر تو مرزا قادیانی اور اس میں کچھ فرق نہیں۔ اگر مرزا قادیانی نے بلا دلیل شرعی مرادی معنی بغیر مناسبت کے لیے ہیں تو مانے جا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یعنی دمشق سے مراد قادیان کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتا۔ حدیث میں ہندوستان کا نام تک نہیں اور نہ موضع قادیان جو اس وقت آباد بھی نہ
تھا کیونکر دمشق ہو سکتا ہے؟ عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ سے مراد غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ لینا بالکل بے ربط ہے۔ اوّل تو حضرت مسیح کا باپ نہ تھا۔ اس لیے والدہ کا نام مذکور ہوا اور ولدیت سے ہمیشہ مقصود تمیز ہوتی ہے تا کہ کوئی اور شخص اس نام کا دعویٰ نہ کرے۔ جب یہ کہا جائے کہ عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ تو اس سے صاف مراد وہی شخص ابن مریم نبی اللہ ہو گا نہ کوئی اور دوسرا شخص بلا دلیل جو چاہے سو بن بیٹھے۔ مگر خدا تعالیٰ قیامت کے دن جب سوال کرے گا کہ تم نے غلام احمد کو عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ کیوں مانا؟ تو اس وقت کیا جواب ہو گا؟ بجز ندامت کے کچھ نہیں۔ پس اب میں نیچے نمبر وار نشانات و علامات حضرت مسیح و مہدی و مجدد کے لکھتا ہوں۔
ناظرین! غور سے علامات پڑھیں اور مرزا قادیانی میں اگر وہ صفات پائیں تو بے شک مانیں۔ ورنہ ہلاکت سے بچیں۔
- (١) آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے اور عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور وہ تم میں
نزول فرمائیں گے۔ الخ۔
(مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٧)
ناظرین! یہاں غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ نہیں ہے صرف عیسیٰ نبی ہے یعنی وہی عیسیٰ جو نبی اللہ تھے۔ آئیں گے۔
- (٢) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہمیشہ میری امت کی ایک جماعت حق پر قائم رہے گی اور
قیامت تک غالب رہے گی۔ پس عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ امیر جماعت کہے گا آئیے نماز پڑھائیے۔ فرمائیں گے نہیں۔ تم ایک دوسرے کے امام ہو۔ خدا نے اس امت کو یہ بزرگی دی ہے کہ پیغمبر بنی اسرائیل مہدی کے پیچھے اقتدا کریں گے۔ مسلم کی یہ حدیث جو بروایت جابرؓ ہے۔ واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ مسلم کی دوسری حدیث جو بروایت ابو ہریرہؓ مروی ہے۔ كَيْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ؟ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم) یعنی اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ سے دوسرا شخص عیسیٰ ابن مریم کا مغائر مراد ہے نہ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنے مطلب کے لیے وَهُوَ اِمَامُكُمْ نکال کر امام بھی وہی ابن مریم یعنی مثیل ابن مریم ٹھہرایا ہے۔
- (٣) آنحضرت ﷺ نے فرمایا شب معراج میں ابراہیم علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام و
عیسیٰ علیہ السلام سے ملا۔ قیامت کے بارے میں گفتگو ہونے لگی۔ فیصلہ حضرت ابراہیمؑ کے سپرد ہوا۔ انھوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ پر بات ڈالی گئی۔ انھوں نے کہا مجھے اس کی کچھ خبر نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ ؑ پر اس کا تصفیہ رکھا گیا۔ انھوں
نے کہا قیامت کے وقت کی خبر تو خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی نہیں۔ ہاں خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ عہد کیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا اور میرے ہاتھ میں شمشیر برہنہ ہو گی۔ جب وہ مجھے دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا۔ جیسے رانگ پگھل جاتا ہے۔ (ابن ماجہ ص ٢٩٩)
- (٤) آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ مجھے قسم خدا پاک کی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری جان
ہے۔ بیشک قریب ہے کہ ابن مریم تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ کو اٹھائیں گے۔ مال کی کثرت ہو جائے گی اور زر و مال کو کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ تمام دنیا بھر کے مال و متاع سے ایک سجدہ کرنا اچھا معلوم ہو گا۔ ابوہریرہؓ کہتے تھے اگر تم ارشاد نبوی کے ساتھ قرآن سے دلیل چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ (مسلم ج ١ ص ٨٧) اب آیت کے معنی جو مرزا قادیانی کرتے ہیں کہ ”اہلِ کتاب ایمان لے آئے“ غلط ہے۔ آیت کی رو سے حضرت مسیح موعود پر سب اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی فوت بھی ہو گئے اور اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے ایک بھی مسلمان نہ ہوا جس سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہ تھے۔
- (٥) عیسیٰؑ زمین میں چالیس سال قیام فرمائیں گے (التصریح ص ٩٦) اگر وہ پتھریلی زمین
سے کہہ دیں کہ شہد ہو کر بہ جا۔ وہ بہ چلے گی۔
ناظرین! اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح آسمان پر ہیں اور بعد نزول زمین پر چالیس سال رہیں گے۔
سیرت سیّدنا مسیح علیہ السلام
- (اوّل)...... عیسیٰؑ جامع دمشق میں مسلمانوں کے ساتھ نماز عصر پڑھیں گے۔ پھر اہل
دمشق کو ساتھ لے کر طلب دجال میں نہایت سکینہ سے چلیں گے۔ زمین ان کے لیے سمٹ جائے گی۔ ان کی نظر قلعوں کے اندر گاؤں کے اندر تک اثر کر جائے گی۔ مرزا قادیانی قادیان سے کبھی نہیں نکلے۔
- (دوم)...... جس کافر کو ان کی سانس کا اثر پہنچے گا۔ وہ فوراً مر جائے گا مرزا قادیانی کے
سانس سے کافر وہ دلیر ہوئے کہ بزرگانِ اسلام کی ہتک کرتے ہیں اور اعلانیہ گالیاں دیتے ہیں اور یہ مدعی مسیح موعود کی مہربانی ہے کہ قلمی جنگ کر کے شکست کھائی اور کافر دلیر ہوئے۔
- (سوم)...... بیت المقدس کو بند پائیں گے۔ دجال نے اس کا محاصرہ کر لیا ہوگا۔ اس
وقت نماز صبح کا وقت ہوگا۔
ناظرین! مرزا قادیانی نے بیت المقدس دیکھا تک نہیں۔ محاصرہ جنگ کر کے لڑنا پڑتا تو دعوٰی سے دست بردار ہوتے کیونکہ یہ تو قلم کے بہادر ہیں۔ وہ بھی بلا دلیل جب کفار سے جنگ کرتے تو توپوں اور بندوقوں کے مقابلہ میں جدید ایجاد شدہ قلمیں کفار کو دکھاتے تو کفار بھاگ جاتے؟ اب بھی طرابلس میں قلموں کے جہاز روانہ کرنے چاہیے کہ اسلام کی فتح ہو؟
- (چہارم)...... ان کے وقت میں یاجوج و ماجوج خروج کریں گے۔ تمام خشکی و تری پر
پھیل جائیں گے حضرت عیسیٰ مسلمانوں کو کوہ طور پر لے جائیں گے۔
ناظرین! مرزا قادیانی کا کوہ طور قادیان تھا؟
- (پنجم)...... روضہ رسول اللہ ﷺ میں مدفون ہوں گے۔ بموجب حدیث جو امام بخاریؒ
نے تاریخ میں طبرانی اور ابن عساکر سے بیان کی ہے۔ يُدْفَنُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ وَصَاحِبَيْهِ فَيَكُوْنُ قَبْرُهُ رَابِعًا. ترجمہ: یعنی عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ﷺ کے پاس دفن ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔
(درمنثور ج ٢ ص ٢٤٦)
ناظرین! مرزا قادیانی ناگہانی موت سے لاہور میں فوت ہوئے اور قادیان میں دفن ہوئے۔
- (ششم)...... دجال کو باب لد پر قتل کریں گے اس کا خون نیزہ پر لوگوں کو دکھائیں گے۔
ناظرین! مرزا قادیانی نے بجائے قتل دجال کے قلمی اشتہار دے کر جنگ مقدس میں شکست کھائی اور عبداللہ آتھم عیسائی کی موت کی پیشگوئی معیار صداقت ٹھہرا کر شکست کھائی۔ نعوذ باللہ اسلام جھوٹا ثابت کیا۔ سچ ہے دعوے کرنا آسان ہے۔ پر ثبوت دینا مشکل ہے۔
نشانات مہدی علیہ الرضوان مختصر طور پر
- (١) ”مہدی کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا اور فاطمی النسب ہوگا۔“
ناظرین! مرزا قادیانی کا نام غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ قوم مغل ہے۔ مگر ساتھ ہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نکتہ چینی بھی فرماتے ہیں کہ فاطمی ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ حضرت! فاطمی ہونے کی ضرورت اس واسطے ہے کہ بوقت جنگ پشت نہ دکھائے یا جھوٹی تاویل کر کے سیف کا نام قلم نہ رکھے۔
- (٢) مہدی کا ظہور مکہ میں ہو گا۔ مرزا قادیانی کبھی مکے نہیں گئے۔
- (٣) مہدی مقام ابراہیم میں بیعت لیں گے۔ مرزا قادیانی نے قادیان سے قدم باہر
نہیں رکھا اور حج تک نہیں کیا۔
- (٤) رسول اللہ ﷺ کی تلوار وعلم وکرتہ۔ مہدی کے پاس ہو گا مرزا قادیانی کے پاس سوا
تاویلات کے کچھ نہیں۔
- (٥) لوگ مہدی کو بیعت لینے کے واسطے مجبور کریں گے اور وہ انکار کریں گے۔ مرزا
قادیانی اصرار کرتے ہیں اور لوگ انکار۔
- (٦) مہدی کا ظہور ٣١٣ آدمیوں کے ساتھ ہوگا۔ جو سب ابدال ہوں گے رات کو عابد
اور دن کو شیر۔ مرزا قادیانی کے ساتھیوں کی شیری اور عابدی سب کو معلوم ہے۔
- (٧) سفیانی کے ساتھ جنگ کریں گے۔ مرزا قادیانی کو اگر جنگ خواب میں دکھائی دیتی تو
دعویٰ سے دست بردار ہو جاتے۔
- (٨) لائن ٹونس رے وغیرہ میں جنگ کریں گے۔ مرزا قادیانی نے یہ مقامات دیکھے تک نہیں۔
- (٩) کالے جھنڈے پانی پر اتریں گے۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا۔
- (١٠) مہدی کی جنگ روم والوں سے ہو گی۔ مرزا قادیانی کی جنگ سے جان جاتی تھی۔
ناظرین! خود غور فرمائیں کہ کوئی بھی علامت مرزا قادیانی میں عیسیٰ و مہدی کی پائی جاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ مرزا جی تو کرشن جی ہیں اور کرشن جی کسی حدیث میں نہیں آیا ہے۔
مجدد کی بحث
مجدد کا کام دین میں جو امور بدعی مرور ایام سے رواج پا گئے ہوں۔ دور کرنا ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے بجائے دور کرنے کے اضافہ کیا ہے۔ چنانچہ بت پرستی تصویر پرستی کی بنیاد ڈالی جو کہ خلاف قرآن وحدیث ہے۔ یعنی اپنی عکسی تصاویر بنوائیں اور تقسیم کیں اور غیر ممالک میں روانہ کیں۔ جسے ١٣ سو سال سے اسلام پاک چلا آتا تھا چونکہ یہ فعل خلاف قرآن وحدیث و اجماع امت ہے اور مدعی مجدد سے سرزد ہوا ہے اس لیے مجدد مرزا قادیانی نہیں ہو سکتے۔
- (دوم)...... مجالس الابرار مجلس ٨٣ میں مجدد کی تعریف ہے کہ علماء وقت اس کا علم وفضل
و ناقد حدیث ہونا مان کر اس کو مجدد تسلیم کریں۔ نہ کہ وہ اپنے منہ سے کہے کہ میں مجدد ہوں اور علمی لیاقت یہ کہ علمائے وقت نے کم علم اور حدیث کے نہ جاننے والا مان کر کفر کے فتوے، ان کی تصانیف کو خلاف قرآن وحدیث پا کر دیئے۔ جن میں شرک کی تعلیم ہے۔
مجدد کو خود علمائے وقت مانتے ہیں۔ وہ خود دعویٰ نہیں کرتا۔ جیسا کہ امام شافعی، امام رازی، جلال الدین سیوطی، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہم اجمعین۔
مرزا قادیانی کو تو معمولی عالم دینیات بھی کسی عالم نے نہیں مانا۔ پس مرزا قادیانی مجدد نہیں ہو سکتے۔
(سوم)...... مجدد مشرک و کافر کو نبی نہیں مانتا۔
مرزا قادیانی نے کرشن جی کو جو قیامت کے منکر، تناسخ کے قائل اوتاروں کے قائل، حلول ذات باری کے انسانی وجود میں قائل کو نبی مانا ہے اور کرشن جی کی بروزی تاثیر سے تصویر بنوائی اور شرک کی بنیاد ڈالی۔ یہ کام مجدد کا نہیں۔ پس مرزا قادیانی مجدد نہیں ہو سکتے۔
(چہارم)...... مجدد کا کام دین میں جو فتنہ پیدا ہو اس کو دور کرنا ہوتا ہے۔ تعلیم انگریزی وعلم سائنس وغیرہ سے اہل اسلام کے ایمان جو متزلزل ہو گئے تھے اور عقلی جواب دینے سے عاجز ہو کر خود اسلام پر اعتراض کرتے تھے۔ مجدد اپنی علمی لیاقت سے ان کے اعتراضوں کا جواب دیتا اور اصول اسلام کو غالب کر دکھاتا۔ تب مجدد ہو سکتا تھا مگر مرزا قادیانی نے کچھ سرسید سے اخذ کیا۔ کچھ شیخ اکبر محی الدین عربی سے لیا۔ کسی جگہ ملائکہ کو روح کواکب مانا۔ بہشت و دوزخ کی تاویل، حیات و ممات مسیح پر محال عقلی کے اعتراض، کسی جگہ خودستائی ایسی کہ اس فلسفیانہ عقل اور روشنی کے زمانہ میں جگت ہنسائی کا باعث ہے۔ کہیں ابن اللہ ہونا، کہیں خدا میں ہونا اور خدا کا ان میں ہونا۔ کہیں خدا کی گود میں بیٹھنا۔ قرآن کو آسمان سے لانا کہیں محمد رسول اللہ ﷺ کو خدائی کے مرتبہ تک پہنچانا۔ انصاف تو کرو۔ ایسا شخص مجدد ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
یہ کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود مجدد بھی ہو گا اور کرشن بھی ہو گا اور ہندوستان میں ہو گا کوئی نص شرعی ہے تو پیش کرو۔ ورنہ جھوٹے دعوے چھوڑ دو۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
کرشن جی کی تعلیم شرک
ماخوذ از گیتا مترجمہ فیضی
تہی گشتہ از خود خدا گشتہ ام
فنا از من است و بقا از من است
باشجار پیپل بدانی مرا
برگہائے نارو بدانی مرا
اگر گوش داری چہا میشنوی
خدا مے شوی و خدا مے شوی
تناسخ
بہ تقلیب احوال سرگشتہ اند
گرفتار زندان آمد شد اند
ز نادانشی خصم جان خود اند
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
بشارت محمدی
فی ابطال
رسالت غلام احمدی
جناب بابو پیر بخشؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بشارت محمدی ﷺ
فی ابطال رسالت غلام احمدی
تمہید: آج کل قادیانی جماعت کی طرف سے زیادہ زور اکثر اس بات پر دیا جاتا ہے کہ حضرت خلاصۂ موجودات محمد مصطفیٰ ﷺ احمد مجتبیٰ ﷺ کا نام چونکہ والدین نے محمد ﷺ رکھا تھا اس لیے سورۃ صف میں جو بشارت حضرت عیسیٰؑ کی طرف سے ہے کہ يَأْتِيْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُهُ اَحْمَدُ (صف ٦) میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ﷺ ہے۔ اس بشارت کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہے نہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ ۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں ”میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں لیکن اس کے برخلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے ۔“
(انوار خلافت ص ١٨)
اگرچہ اس دعویٰ بے دلیل اور تاویلات باطلہ متعلقہ دعویٰ ہذا کا جواب لاہور کی مرزائی جماعت خود دے رہی ہے اور مرزا قادیانی کی نبوت مستقلہ سے انکار کر کے مجازی و غیر حقیقی نبوت مانتی ہے لاہوری جماعت کا اور ہمارا اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی بے شک غیر حقیقی یعنی کاذب نبی تھے کیونکہ ہم مرزا قادیانی کو بھی ویسا ہی کاذب نبی مانتے ہیں جیسا کہ مذہب اسلام میں ہو کر پہلے بھی کئی اشخاص نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا ہے۔ لاہوری مرزائی جماعت سے ہمارا صرف لفظی تنازعہ باقی ہے۔ اس لیے کہ کاذب نبی مجازی نبی، ظلی نبی، غیر حقیقی نبی سب کے ایک ہی معنی ہیں یعنی ”کاذب نبی“ اور ایسے مدعیان نبوت کا نام حضرت مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ نے کاذب ہی رکھا ہے۔ چنانچہ فرمایا لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ وانہ سیکون فی امتی ثَلَاثُوْنَ كَذَّابًا كُلُّهُمْ يَزْعُمُ اَنَّهُ نَبِيٌّ (ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب لاتقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون) حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ
٢
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تیس کذاب نہ نکل لیں تمام زعم (گمان) یہی کریں گے کہ وہ نبی ہیں۔“
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ نبی و رسول ہونے کا جو شخص دعویٰ کرے خواہ اس کا دعویٰ کیسے ہی ذومعنی اور مغالطہ دہ الفاظ میں ہو وہ جھوٹا نبی ہے یعنی اسی کا نام کاذب نبی ہے کیونکہ ظلی و بروزی نبی کسی شرعی سند سے ثابت نہیں۔ پس مرزا قادیانی کو نبی تو ہم بھی مانتے ہیں مگر کاذب نبی نہ کہ صادق نبی۔ ہاں مرزا قادیانی کے مرید اور بیٹا ان کو سچا نبی تسلیم کریں تو کریں جیسا کہ دوسرے کذابوں کو گمراہوں نے مانا ہے جو مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا قادیانی تک اسی امت محمدی ﷺ میں سے گزرے ہیں ہر ایک اپنے آپ کو امتی اور قرآن و حدیث کا پیرو بھی کہتا تھا اور مدعی نبوت بھی تھا۔ اسی واسطے ہر زمانہ کے علماء اور خلفاء ان کو کاذب نبی کا نام لے کر نابود کرتے آئے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ اسلامی سلطنت کے ماتحت نہ تھے اور نہ ان کو یہ حوصلہ ہوا کہ آپ روم، شام، ایران، افغانستان وغیرہ اسلامی سلطنتوں میں جا کر دعویٰ کرتے اور اپنی صداقت کا ثبوت دیتے کیونکہ خود انہی کا ضمیر انھیں کہتا تھا کہ تو سچا نبی تو ہے نہیں، اسلامی سلطنت میں دوسرے کذابوں کی طرح عدم ثبوت دعویٰ نبوت میں ضرور مارا جائے گا۔ لہٰذا پنجاب سے کبھی باہر نہیں گئے حالانکہ تبلیغ کے لیے ہجرت کرنا سنت انبیاءؑ ہے مگر مرزا قادیانی مارے ڈر کے حج تک کو نہ گئے۔ اس پر دعویٰ کہ میں متابعت تامہ فنا فی الرسول ہو گیا ہوں۔ نبی و رسول کا رتبہ براہ راست حاصل کر لیا ہے اور خبر اتنی نہیں کہ ایک عظیم القدر رکن ہی اسلام کا جب ادا نہیں کیا تو پھر متابعت تامہ کس طرح ہوئی؟ کہ منجملہ پانچ ارکانِ اسلام کے ایک رکن ہی ندارد۔ اس دعویٰ بلا دلیل کو کوئی مسلمان تسلیم نہیں کر سکتا اور یہی وجہ ہے کہ لاہوری مرزائی قادیانی مرزائی جماعت سے اعتقاد میں الگ ہیں۔ ظلی، بروزی، استعاری، مجازی، اشتراکی، مختاری و غیر حقیقی وغیرہ وغیرہ سب کے معنی جھوٹے نبی کے ہیں۔ مثلاً ایک نے کہہ دیا میں مرزا قادیانی کو کاذب نبی مانتا ہوں۔ دوسرے نے کہا میں ان کو غیر حقیقی نبی مانتا ہوں۔ تیسرے نے کہا میں مرزا جی کو مجازی نبی مانتا ہوں۔ چوتھے نے کہا میں مرزا قادیانی کو جھوٹا نبی جانتا ہوں اور پانچویں نے کہا کہ میں انھیں اصلی اور سچا نبی نہیں مانتا۔ تو اہلِ علم و عقل کے نزدیک سب کا مطلب ایک ہی ہے کہ مرزا قادیانی سچے نبی ہرگز نہ تھے۔ اب ظاہر ہے کہ جس وجود میں سچ کی نفی ہو تو پھر جھوٹ کا اثبات ہے، کیونکہ وہ کہتا ہے کہ میں نبی ہوں۔ پس جب نبی ہے اور حقیقی نبی نہیں تسلیم ہوا تو
٣
ضرور جھوٹا نبی ہے اور یہی معنی امتی نبی اور کاذب نبی کے ہیں۔ جس کی تشریح اس حدیث نے کی ہے کہ امتی ہو کر نبوت کا دعویٰ کرنے والا کاذب نبی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لاہوری جماعت مرزائیہ اور دوسرے مسلمانان روئے زمین مرزا قادیانی کو سچا نبی نہیں تسلیم کرتے۔ اب رہا قادیانی مرزائیوں کا اعتقاد کہ وہ مرزا کو مستقل نبی تسلیم کرتے ہیں بلکہ تمام انبیاء سے افضل اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بعض صورتوں میں کم اور بعض میں برابر اور بعض صورتوں میں آپ ﷺ سے بھی افضل مانتے ہیں اور اس قدر غلو کرتے ہیں کہ بسا اوقات اہل علم وعقل کو کامل یقین ہو جاتا ہے کہ ان کے حواس درست نہیں۔ مرزا قادیانی خود لکھ چکے ہیں ع "ہر نبوت بروشد اختتام" (درثمین فارسی ص ١١٤) اور مزید صاف لکھ دیا کہ "مستعار طور پر مجھ کو نبی و رسول کہا گیا ہے"۔ (نزول المسیح ص ٥ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٣) جس کے یہ معنی ہیں کہ حقیقی نہیں تو غیر حقیقی نبی مجھے ضرور کہا گیا ہے مگر اس کا کیا ثبوت ہے کہ واقعی خدا نے کہا ہے یا کسی اور نے دھوکہ سے وسوسہ میں ڈالا ہے تاکہ امت محمدی میں فساد برپا ہو۔ جس آیت میں آنے والے رسول (احمد کی بشارت ہے وہ یہ ہے وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ o (صف ٦) (ترجمہ) (جب مریم کے بیٹے عیسیٰؑ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ کتاب تورات جو مجھ سے پہلے نازل ہو چکی ہے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک اور پیغمبر کی تم کو خوشخبری سناتا ہوں جو میرے بعد آئیں گے انکا نام احمد ﷺ ہوگا۔ پھر جب وہ احمد ﷺ آیا بنی اسرائیل کے پاس کھلے کھلے معجزے لے کر تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔)
قرآن مجید کا یہ معجزہ ہے کہ اس کی اصلی عبارت دیکھنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل مطلب کیا ہے؟ اور دھوکہ دینے والا خود خواہ لاکھ دھوکہ دے غلط بیانی کرے اس کی ایک نہیں چل سکتی۔ اب قرآن شریف کے الفاظ و معانی اور ترکیب نحوی تو صاف بتلا رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ نے تو فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ﷺ ہے۔ یہ پیشینگوئی حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری سے پوری ہو گئی۔ اور آج تک تمام روئے زمین کے مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ احمد ﷺ و محمد ﷺ و فارقلیط جو آنے والا تھا وہ رسول عربی تشریف لا چکے اور آپ کی نبوت و رسالت کا سکہ چار دانگ عالم میں بیٹھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اکناف عالم میں اسی رسول عربی ﷺ کو عملی طور پر اس ٤
پیشنگوئی کا مصداق ثابت کر دکھایا جس کا ثبوت دلائل ذیل سے ظاہر ہے۔ (١) چونکہ حضرت عیسیٰؑ فرماتے ہیں کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ہو گا چونکہ بَعْدِیْ میں ی متکلم کی ہے پس حضرت عیسیٰؑ کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے نہ کہ مرزا غلام احمد جی آئے۔ جب واقعات شاہد ہیں کہ غلام احمد قادیانی، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے ١٣ سو برس بعد آیا تو ثابت ہوا کہ عیسیٰؑ کے بعد آنے والا رسول مرزا غلام احمد قادیانی ہرگز نہیں۔ کیونکہ قرآن میں حضرت عیسیٰؑ کی زبانی بَعْدِیْ کی شرط ہے یعنی جو عیسیٰؑ کے بعد آئے گا وہی رسول موعود ہے اور وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ اسی سورۃ صف میں آگے فرماتا ہے۔ هُوَ الَّذِىْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (صف ٩) (”وہ خدا ہی تو ہے جس نے اپنے رسول (محمد ﷺ) کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکین کو برا ہی معلوم ہو۔“) اب فرمانِ خداوندی سے معلوم ہو گیا کہ وہ رسول آنے والا جس کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی۔ وہ رسول آ گیا اور کس طرح آیا اور کیا کچھ ساتھ لایا۔ اس کی علت غائی کیا تھی؟ اس آیت شریف میں ایک تو اس رسول آنے والے کی یہ صفت ہے کہ وہ ہدایت اور دین حق لے کر آیا اور دوسری صفت اس رسول کی یہ ہے کہ وہ اس دین کو جو ساتھ لایا ہے اسے دوسرے دینوں پر غالب کر دکھائے۔ اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ وہ صفات جو رسول کی قرآن شریف نے بیان فرمائی تھیں کس رسول میں تھیں؟ آیا رسول عربی ﷺ میں یا پنجابی مدعی رسالت میں جس کا نام غلام احمد تھا؟ یہ ظاہر ہے اور تاریخِ اسلام اور احادیث نبوی بلکہ واقعات بتا رہے ہیں کہ رسول عربی ﷺ ہی اپنے ساتھ ہدایت اور دین حق یعنی قرآن مجید لائے اور بیّنات یعنی معجزات بھی ساتھ لائے تا کہ کفار پر حجت قائم کرے۔ چنانچہ بہت سے معجزات دکھائے از آنجملہ شق القمر کا معجزہ خاص تھا جس کو خاص طور پر کفار عرب نے جادو کہا تھا چنانچہ پنجابی کا ایک شعر ہے کہ جب حضرت محمد ﷺ کا نام تورات میں ایک لڑکے نے دیکھا تو یہود سے پوچھا محمد ﷺ کون ہے؟ یہود نے کہا ؎
چن اُتار کرے دو ٹکڑے بھیج دے آسمانی
پس حضرت محمد ﷺ کے معجزات کو کفار عرب نے جادو کہا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک نبی کو معجزہ ایسا دیا گیا جو اس کی ذات سے مخصوص تھا مگر میرا معجزہ
٥
ایسا ہے کہ قیامت تک رہے گا۔ جس سے ثابت ہوا کہ فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنٰتِ جو حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا تھا وہ رسول عربی ﷺ کے آنے سے پورا ہو گیا۔ کیونکہ قرآن سب سے بڑھ کر معجزہ ہے اور نشانات بینات سے پر ہے کیونکہ جَاءَ صیغہ ماضی کا ہے اور اس میں ضمیر مستتر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے جس سے صاف ثابت ہے کہ جس رسول کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی وہ نزول قرآن کی اس آیت کے وقت ہی آ گیا تھا اور کفار نے آپ ﷺ کے معجزات دیکھ کر ہی هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ بھی کہا تھا۔ (٢) دین حق یعنی شریعت ساتھ لایا۔ اس کے مقابل مرزا غلام احمد قادیانی نہ تو کوئی دین حق ساتھ لائے اور نہ کوئی کتاب آسمانی جو دستور العمل ہو سکتا تھا ساتھ لائے نہ صاحب معجزہ تھے۔ صرف رمل و نجوم کے علم سے پیشگوئیاں کرتے اور جب وہ جھوٹی ثابت ہوتیں تو تاویلات باطلہ کر لیا کرتے۔ مرزا جی نے کبھی کوئی معجزہ نہ دکھایا اور نہ قوم نے ان کا معجزہ سحر سمجھ کر انھیں ساحر کہا۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں۔ ع ’’من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب‘‘ (ازالہ اوہام ص ١٧٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٥) یعنی نہ میں رسول ہوں اور نہ کوئی کتاب ساتھ لایا ہوں۔ پس جب رسول کی صفات مرزا قادیانی میں موجود نہیں تو پھر وہ اس قرآنی پیشگوئی کے مصداق کیونکر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ دوم: بفرض محال اگر ہم مان بھی لیں کہ اِسْمُهُ اَحْمَدُ والی پیشگوئی مسیح موعود کے حق میں ہے تو بوجوہات ذیل غلط ہے (الف) مسیح موعود تو وہی عیسیٰ بن مریمؑ ہے جو پیشگوئی کر رہا ہے کہ میرے بعد ایک رسول ایسا دین لے کر آتا ہے کہ سب ادیان پر اسے غالب کر دے گا۔ اگر مسیح موعود سے مراد کچھ اور ہوتی تو اسے یہ کہنا چاہیے تھا کہ میں ہی پھر بروزی رنگ میں آؤں گا نہ یہ کہ میں ایک آنے والے رسول کی بشارت دیتا ہوں۔ اور انجیل میں ہے کہ وہ رسول ایسا ہو گا کہ مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔ جب متکلم کہے کہ مجھ میں اس کی کوئی چیز یعنی صفت نہیں اور وہ کسی دوسرے رسول کی بشارت دے اور یہ بھی کہے کہ سردار آتا ہے۔ انجیل میں سردار کا لفظ موجود ہے جو بتا رہا ہے کہ متکلم کے سوا کوئی اور رسول آنے والا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہے کہ یہ رسول اور ہے اور آنے والا رسول اور ہے۔ پس اِسْمُهُ اَحْمَدُ سے مسیح موعود مراد نہیں ہے کیونکہ وہ تو خود بشارت دے رہا ہے کہ میرے بعد ایک ایسا جلیل القدر رسول آنے والا ہے جس کی مجھ میں کوئی صفت نہیں۔ (ب) اگر یہ تسلیم کر لیں کہ اِسْمُهُ اَحْمَدُ والی پیشگوئی مرزا قادیانی کے حق میں ہے تو اس سے (نعوذ باللہ) محمد ﷺ سچے نبی ثابت نہیں ہوتے، کیونکہ جس رسول کے آنے کی بشارت ٦
تھی وہ تو نہ آیا مگر احمد ﷺ کی جگہ ایک محمد ﷺ نے دعویٰ رسالت کر لیا اور درحقیقت یہ دعویٰ رسالت سچا نہ تھا (معاذ اللہ) کیونکہ بقول جماعت قادیانی اس کا نام احمد نہ تھا اور احمد ہی سچا رسول آنے والا تھا۔ خدا تعالیٰ ایسے فاسد و باطل عقائد سے بچائے کہ غلام احمد کی رسالت ثابت کرتے کرتے محمد ﷺ کی رسالت بھی ہاتھ سے جاتی رہے۔ اگر کوئی آریہ یا عیسائی کہے کہ محمد ﷺ تو احمد ﷺ نہ تھا اس لیے سچا نبی و رسول نہ تھا تو پھر ان قادیانیوں کا کیا جواب ہو سکتا ہے؟ سوائے اس کے کہ بیشک (خاک در دہنش) محمد ﷺ سچا رسول نہ تھا۔ افسوس جو اعتراضات مخالفین اسلام کو نہیں سوجھتے وہ اس خود سر اور نڈر جماعت کو سوجھتے ہیں اور یہ نادان نہیں جانتے کہ اس طرح غلام احمد کی رسالت ثابت کرتے ہوئے تو احمد ﷺ کی رسالت بھی جاتی ہے کیونکہ اب ١٣ سو برس کے بعد ان کو معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰؑ نے جس رسول کی بشارت دی تھی وہ اب آیا ہے اور (نعوذ باللہ) محمد ﷺ یونہی رسول بن بیٹھے تھے (ج) ایسے اعتقاد سے تو قرآن بھی خدا کی کلام نہیں رہتا کیونکہ جو بات اس کی قادیانی مخلوق کو معلوم ہوئی وہ خالق عالم الغیب خدا کو معلوم نہ ہوئی اور وہ غلطی سے محمد ﷺ کو رسول پکار کر فرماتا ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ مَعَهٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ (الفتح ٢٩) یعنی ”محمد رسول اللہ ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں کفار پر بہت سخت ہیں ۔“ اور پھر فرماتا ہے۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ (محمد ٢) یعنی ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایمان لائے اس پر جو نازل ہوا محمد ﷺ پر اور وہی حق ہے پروردگار کی طرف سے۔“ خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے وہ تو تصدیق فرماتا ہے کہ جس رسول کے آنے کی خبر حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی وہ رسول محمد ﷺ ہی ہیں اور خود بشارت دہندہ یعنی خدا تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو احمد موعود قرار دے رہا ہے۔ پھر لفظوں میں ہی نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ کو وہ عملی طاقت بھی بخشی کہ جس دین حق کو وہ لایا تھا تھوڑے ہی عرصہ میں تمام ادیان پر غالب کر کے دکھا دیا۔ مگر مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور اس کی جماعت کا اعتقاد اس پر نہیں بلکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اس پیشگوئی کا مصداق قرار دیتے ہیں۔ ان کی یہ قرارداد یا اعتقاد واقعات، قرآن اور خدا کی مخالفت نہیں تو اور کیا ہے؟ اور دوسری طرف ایک امتی کو جس کا نام غلام احمد ہے اس کی غلامی کی تحریف کر کے احمد بنا کر مصداق اس پیشگوئی کا قرار دیتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ صرف نام کی بحث کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ایک بزدل کا نام اگر رستم رکھ دیا جائے یا بخیل اور کنجوس کا
٧
نام حاتم رکھ دیا جائے یا کسی ظالم کا نام نوشیرواں رکھا جائے تو اس میں شجاعت و سخاوت و عدالت ہرگز ہرگز نہیں آسکتی۔ اسی طرح مرزا قادیانی کا نام احمد نہیں۔ اگر مرزا قادیانی کا نام مجموعہ اوصاف انبیاء ۔ بھی رکھ دو گے تب بھی وہ نبی و رسول ہرگز نہیں ہو سکتے۔ جب تک کوئی ثبوت پیش نہ کرو کیا وہ شخص اس آیت کا مصداق ہو سکتا ہے جو اپنے دعویٰ میں خود ہی مذبذب ہے؟ کبھی کہتا ہے نبی و رسول ہوں اور کبھی کہتا ہے کہ حاشا و کلا میں ہرگز نبی و رسول نہیں۔ میں تو غلامان غلام محمد ﷺ ہوں اور نبوت کا جو دعویٰ کرے اس کو کافر جانتا ہوں۔ ایسا شخص جو دعویٰ میں ہی مستقل نہیں اور نہ کوئی دین لایا نہ کتاب جس سے ٢٣ برس کے عرصہ میں کچھ بھی نہ ہو سکا۔ ایک چھوٹا سا گاؤں قادیان بھی کفر سے پاک نہ کر سکا اس کو آیت بالا کا مصداق سمجھتی ہے۔ افسوس واقعات کے خلاف کہتے خوف خدا بھی نہیں آتا۔
جس روز عبداللہ آتھم والی پیشگوئی جھوٹی ہوئی اور عیسائیوں نے عبداللہ آتھم کو ہاتھی پر بٹھا کر شہر امرتسر میں پھرایا اور پرانے مسیحیوں نے جوش مسرت میں آ کر بہت کچھ بیجا الفاظ بھی بحق اسلام خوشی میں آ کر لکھ مارے۔ دیکھو چودھویں صدی کا مسیح صفحہ ٣٩٩ ۔
اے پُر فتنہ و مکار مرزا
رگ جاں کاٹنے آیا تھا تیری
ستمبر کی چھٹی کا تار مرزا
(مسیح کاذب ص ٣٣)
اور اسلام کی وہ ہتک ہوئی جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی جس کی تصدیق نواب محمد علی صاحب مالیر کوٹلہ والے مرزائی نے اپنی چٹھی میں جو مرزا قادیانی کو اس پیشگوئی کے جھوٹے نکلنے پر لکھی تھی ان الفاظ میں کی ہے۔ ”پس اگر اس پیشگوئی کو سچا سمجھا جائے تو عیسائیت ٹھیک ہے کیونکہ جھوٹے فریق کو رسوائی اور سچے کو عزت ہوگی۔“ اب رسوائی مسلمانوں کو ہوئی میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔“ الخ۔
اب کوئی مرزائی بتائے کہ جب معیار صداقت یہ پیشگوئی قرار پا چکی تھی اور مرزا قادیانی نے اسلام غالب کرنا تھا تو پھر پیشگوئی جھوٹی ہو کر اسلام مغلوب کیوں ہوا؟ پس نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ خدا نے عیسائیت کو سچا کیا اور مرزائی اسلام کو جھوٹا ثابت کر کے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا دنیا پر ثابت کر دیا کیونکہ خود ہی مرزا قادیانی نے اس
٨
پیشگوئی کو معیار صداقت قرار دیا تھا۔ دوسری طرف آریوں نے براہین احمدیہ کے جواب تکذیب براہین احمدیہ اور خبط احمدیہ وغیرہ کتابوں میں اسلام کو اس قدر گالیاں دیں کہ خود مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین صاحب چیخ اٹھے اور تنگ آ کر اخیر صلح کی درخواست کی اور اسلام کی یہاں تک ہتک گوارا کی کہ ہندوؤں کے بزرگوں کے نبی اور ویدوں کو خدا کا کلام مانا حالانکہ آریوں نے مسلمانوں کی کوئی بات تسلیم نہ کی۔ اب کوئی مرزائی بتائے کہ مرزا قادیانی لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ کے مصداق ہیں یا وہ سچا رسول عربی ﷺ جس نے چند ہی سال میں دین حق کا غلبہ تمام عرب میں ثابت کر کے دکھا دیا؟ اور دوست دشمن کا اتفاق ہے بلکہ مخالف عیسائی بھی اقرار کرتے ہیں کہ جس قدر جلد اور تیز رفتاری سے اسلام کا غلبہ دوسرے ادیان پر ہوا کبھی کسی دین کا نہ ہوا تھا۔ سیل صاحب جیسا متعصب پادری بھی اقرار کرتا ہے کہ عقل انسانی حیران ہے کہ اسلام جس تیزی سے دنیا پر پھیلا اور دوسرے ادیان پر غالب آیا۔
اب قادیانی جماعت خدا کو حاضر ناظر جان کر ایمان سے بتا دے کہ دین کا غلبہ کس کے وقت میں ہوا اور اس پیشگوئی کا مصداق کون ثابت ہوا؟ صرف زبان سے کسی زنانہ کو رستم نہیں بنا سکتے جب تک اس میں بہادری کی صفت نہ پائی جائے۔
- (د) مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِي اِسْمُہٗ اَحْمَدُ میں صرف ایک رسول کی
بشارت ہے یعنی حضرت عیسیٰؑ فرماتے ہیں کہ ”میں تم کو ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں。“ اب غور کرو کہ عہدۂ رسالت تو صرف ایک ہے اور دعویدار دو ہیں اور یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ دو میں سے صرف ایک ہی سچا ہو گا۔ دونوں مدعی کسی صورت میں سچے نہیں ہو سکتے۔ پس دعویٰ رسالت میں یا تو مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔ یا (نعوذ باللہ) حضرت محمد ﷺ اپنے دعویٰ رسالت میں سچے نہیں۔ یہ فیصلہ اب ہر مسلمان اپنے دل میں کر سکتا ہے کہ وہ محمد ﷺ کو رسول موعود مانے جس کی بشارت عیسیٰؑ نے دی تھی یا مرزا قادیانی کو۔ دونوں میں سے ایک کو سچا اور دوسرے کو جھوٹا تسلیم کرنا ہو گا اب کسی مسلمان کا ایمان تو ہرگز ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو سچا رسول تسلیم نہ کرے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ مرزا قادیانی ہی سچے رسول نہ تھے اور نہ وہ اِسْمُہٗ اَحْمَدُ والی بشارت کے مصداق تھے۔ اب مسلمان خود فیصلہ کر لیں کہ مرزا بشیر الدین محمود کا یہ لکھنا کہ میرا عقیدہ ہے کہ ”یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں (”انوار خلافت“ ص ١٨) انھیں کہاں تک پہنچاتا ہے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔
٩
- (٥) جب مرزا قادیانی خود احمد کی غلامی کا اقرار کرتے ہیں تو پھر آپ کے
جانشین کا اعتقاد نہ معلوم کیوں ان کے برخلاف ہے؟
جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے
(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٢٧٤ خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٦)
دوسرے شعر میں کہتے ہیں ؎
سب سے بڑھ کر مقام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
مرزا قادیانی خود تو احمد ﷺ کو رسول موعود بلکہ افضل الرسل تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ان کے فرزند رشید ان کے برخلاف یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ محمد ﷺ وہ احمد رسول نہ تھے جن کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی سچ ہے ؎
شرابے گردد آب نیشکر آہستہ آہستہ
اس شعر میں ایک لطیف اشارہ ہے بلکہ پیشگوئی ہے کہ قادیانی جماعت آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہوئی اس حد تک پہنچ جائے گی کہ حلال چیز کو حرام کر دے گی۔ جس طرح گنے کی رس پہلے حلال ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ مختلف شکلیں قبول کرتی ہوئی شراب بن کر حرام مطلق ہو جاتی ہے۔ اسی طرح قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو بڑھاتے بڑھاتے غلام سے آقا اور امتی سے نبی بنا کر باطل عقائد میں گرفتار ہو گئی۔
اب ہم میاں محمود سے پوچھتے ہیں کہ وہ احمد کون تھا جس کے غلام مرزا قادیانی تھے؟ دوم مرزا قادیانی کے والد غلام مرتضیٰ قادیانی نے جو اپنے بیٹے کا نام غلام احمد رکھا وہ کون احمد تھا جس کے خوش اعتقاد امتی نے اپنے نوزائیدہ بچہ کو اس کی غلامی میں دیا؟ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں۔ ”تم سوچو کہ جو لوگ اپنی اولاد کے نام موسیٰ، داؤد اور عیسیٰ وغیرہ رکھتے ہیں اگرچہ ان کی غرض یہی ہوتی ہے کہ وہ نیکی و خیر و برکت میں ان نبیوں کے مثیل ہو جائیں۔“ (ازالہ اوہام ص ٤١١ خزائن ج ٣ ص ٣١٣) پس بقول مرزا قادیانی ان کے والد نے جو ان کا نام غلام احمد رکھا تھا تو ان کی نیت بطور تفاول کے یہی تھی کہ خدا تعالیٰ اس مولود کو احمد کی غلامی نصیب کرے وہ احمد کون تھا؟ آیا وہی رسول عربی ﷺ یا
١٠
یہی احمد؟ اگر کہو یہی احمد تو یہ باطل ہے کیونکہ یہ کسی زبان کا محاورہ نہیں کہ کوئی یہ کہے کہ احمد جو رسول ہے جس کی بشارت عیسیٰؑ نے دی تھی اس کو اس کی غلامی عطا کر۔ یعنی کوئی شخص خود آقا ہو کر خود ہی اپنی غلامی کی دعا یا تفاول کرے کیونکہ تفاول ہمیشہ ادنیٰ درجہ والا اعلیٰ درجے والے کے نام سے کرتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا نام غلام احمد رکھا گیا اور تمام عمر مرزا قادیانی اپنی تصنیف کردہ کتابوں پر غلام احمد ہی لکھتے رہے بلکہ کاغذات نجی و سرکاری میں غلام احمد ہی لکھا جاتا رہا، تو صاف ثابت ہے کہ جس احمد کے غلام مرزا قادیانی تھے وہ وجود پاک رسول عربی ﷺ کا تھا۔ لہٰذا یہ بالکل باطل عقیدہ ہے کہ جس احمد کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی وہ احمد اب ١٣ سو برس کے بعد آیا۔
اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بعد قرآن مجید کے رسول اللہ ﷺ کا فرمانا سند ہے ہم اوپر قرآن سے ثابت کر آئے ہیں کہ آنے والے رسول جس کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی وہ محمد ﷺ کے آنے سے پوری ہو گئی۔ اب ہم حدیثوں سے بتاتے ہیں کہ احمد موعود حضرت مجمع مکارم اخلاق رحمت اللعالمین محمد عربی ﷺ ہی تھے۔ مرزا غلام احمد نہیں بلکہ افراد امت میں سے جن کا نام صرف احمد ہی تھا وہ بھی اس پیشگوئی کے مصداق نہ تھے حالانکہ وہ بھی مدعی نبوت ہو گزرے ہیں۔ مثلاً احمد بن کیال، احمد بن حنفیہ یہ بھی مدعی تھا کہ میں مہدی و مسیح موعود ہوں۔ (مذاہب اسلام ص ٧٢٥) یہ شخص قرآن کے ایسے معارف و حقائق بیان کرتا تھا جس کی نظیر نہیں۔ مختار جو کہتا تھا کہ میں صرف محمد ﷺ کا مختار ہوں۔ اس لیے مختاری نبی ہوں۔ یہ سنت و دستور کذابوں کا چلا آتا ہے کہ وہ اپنی نبوت کا من گھڑت نام رکھ لیا کرتے تھے جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا نام ظلی و بروزی رکھ لیا۔ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا نام ظلی نبوت رکھا ہے حالانکہ ظلی نبوت کسی شرعی سند سے ثابت نہیں۔ یہ بدعت فقط مرزا قادیانی کی ہی ایجاد ہے۔ چنانچہ قادیانی جماعت کے سرگروہ سرور شاہ لکھتے ہیں کہ یہ مرزا قادیانی کی ایجاد ہے۔ اصل عبارت یہ ہے ”حالانکہ حضرت مسیح موعود نے ہی یہ اصطلاح رکھی ہے اور قرآن مجید اور احادیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔“ (القول المحمود ص ٢٥) اور اس کے یہ معنی کیے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے فیض سے اور آپ کے واسطہ سے جو نبوت ملے اس کو ظلی نبوت کہنا چاہیے۔“ اور آگے چل کر اسی صفحہ پر لکھا ہے کہ ”حضرت (مرزا) قادیانی اس اصطلاح کے بانی ہیں۔“ اور یہ خبر نہیں کہ ثلاثون کذابوں والی حدیث نے ایسے مدعیان نبوت کو کاذب کہا ہے کیونکہ تمام کذاب بہر قسم جو مرزا قادیانی سے پہلے گزرے ہیں سب
١١
یہی کہتے تھے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے ماتحت دعویٰ کرتے ہیں اور ہم کو نبوت آنحضرت ﷺ کی وساطت سے ملی ہے۔ تمام کذاب پہلے مسلمان ہوتے تھے اور اسلام کی پیروی کرتے تھے اور ذکر و شغل ذات باری تعالیٰ اسلامی طریقہ پر کرتے کراتے اور پھر ان کو زعم ہو جاتا تھا کہ ہم آنحضرت ﷺ کی وساطت سے مرتبہ نبوت کو پہنچ گئے ہیں اور یہی زعم غلط ہوتا تھا اور وہ کافر سمجھے جاتے تھے۔ مسیلمہ کذاب مسلمان تھا آنحضرت ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرتا تھا اور خود بھی نبوت کا مدعی تھا اس لیے آنحضرت ﷺ نے اس کو کذاب کہا۔ ایسا ہی اسود عنسی مسلمان تھا بعد حج کے اس کو نبی ہونے کا زعم ہوا۔ مرزا قادیانی نے تو حج بھی نہیں کیا اور ان کو نبی ہونے کا زعم ہوا اور ضرور ہونا تھا کیونکہ حبیب خدا محمد ﷺ کی پیشگوئی پوری ہونے والی تھی کہ تیس کاذب امتی نبی ہوں گے۔ یعنی امتی بھی اور نبی بھی۔ سيكون فى امتى ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبين لا نبى بعدى پس محمد ﷺ کے بعد جو شخص دعویٰ نبوت کرے گا وہ کاذب ہے۔ اب ہم ذیل میں وہ حدیثیں نقل کرتے ہیں جنھیں حضورؐ نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ یہ بشارت حضرت عیسٰیؑ نے میرے لیے دی تھی اور میں ہی اس کا مصداق ہوں۔
پہلی حدیث: عن العرباض ابن ساريةؓ عن رسول الله ﷺ انه قال انى عند الله مكتوب خاتم النبيين و ان ادم لمنجدل فى طينته و ساخبركم باول امرى دعوة ابراهيم و بشارة عيسى و رؤيا امى التى رأت حين وضعتنى و قد خرج لها نورا ضاء لها منه قصور الشام رواه فى شرح السنة و رواه احمد عن ابى امامة من قوله ساخبركم الخ۔
(مشکوۃ ص ٥١٣ باب سید المرسلین)
یعنی روایت ہے عرباض بن ساریہؓ سے اس نے نقل کی رسول اللہ ﷺ سے کہ فرمایا تحقیق لکھا ہوا ہوں میں اللہ کے نزدیک ختم کرنے والا نبیوں کا کہ بعد میرے کوئی نبی نہ ہو اس حال میں کہ تحقیق آدم پڑے ہوئے تھے زمین پر اپنی مٹی گوندی ہوئی میں اور اب خبر دوں میں تم کو ساتھ اوّل امر اپنے کے کہ وہ دعا ابراہیم علیہ السلام کی ہے اور نیز بدستور اوّل میرا خوشخبری دینا عیسٰیؑ کا ہے یعنی جیسا کہ اس آیت میں ہے وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِىْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ اَحْمَدُ: اور بدستور اوّل خواب دیکھنا میری ماں کا ہے کہ دیکھا انھوں نے اور تحقیق ظاہر ہوا میری ماں کے لیے ایک نور کہ روشن ہوئے اس نور سے محل شام کے نقل کی یہ بغوی نے شرح السنۃ میں ساتھ اسناد عرباض کے۔ اور روایت کیا
١٢
اس کو احمد بن حنبل نے ابی امامہ سے سَأُخْبِرُكُمْ سے آخر تک۔ ”اب محمد رسول اللہ ﷺ نے خود فیصلہ کر دیا کہ یہ پیشگوئی مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ میرے حق میں ہے۔ پس مرزا محمود قادیانی بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے ہم ہرگز یہ اعتقاد نہیں رکھ سکتے کہ یہ پیشگوئی مرزا قادیانی کے حق میں ہے۔ یہ تو کھلے لفظوں میں صریح محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور سخت ہتک ہے کہ حضورؐ تو فرمائیں کہ میرے حق میں ہے اور ١٣ سو برس کے بعد ایک عام امتی کہے کہ نہیں صاحب یہ پیشگوئی میرے باپ غلام احمد کے حق میں ہے۔
دوسری حدیث: عن جبیر بن مطعم عن ابیہؓ قال سمعت النبی ﷺ یقول ان لی اسماء انا محمد و انا احمد و انا الماحی یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی.
(متفق علیہ بخاری ج ١ ص ٥٠١ باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ)
روایت ہے جبیرؓ سے کہ کہا سنا میں نے آنحضرت ﷺ سے فرماتے کہ تحقیق میرے لیے نام ہیں یعنی بہت سے، اور مشہور ایک نام میرا محمد ہے اور دوسرا احمد اور میرا نام ماحی ہے یعنی مٹانے والا ایسا کہ مٹاتا ہے اللہ میری دعوت کے سبب کفر کو، اور میرا نام حاشر ہے کہ اٹھائے اور جمع کیے جائیں گے لوگ میرے قدم پر، اور میرا نام عاقب ہے اور عاقب وہ ہے کہ نہ ہو پیچھے اس کے کوئی نبی۔ نقل کی یہ بخاری ومسلم نے۔“
اس حدیث سے مفصلہ ذیل امور ثابت ہوئے۔ (١) حضرت خاتم النبیین کا نام صرف محمد ﷺ ہی نہ تھا بلکہ احمدؐ ماحیؐ حاشر عاقب بھی تھا۔ یعنی پانچ نام تھے۔ (٢) یہ کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ اگر بفرض محال یہ مانا جائے کہ مرزا قادیانی وہ رسول ہیں جس کی بشارت آیت مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ میں ہے تو پھر (نعوذ باللہ) خاتم النبیین مرزا غلام احمد قادیانی ہوئے نہ کہ محمد ﷺ اور اس فاسد عقیدہ کا انجام یہ کفر ہوا کہ محمد رسول اللہ خاتم النبیین نہ تھے۔ مرزا قادیانی غلام احمد چونکہ عاقب ہے اس لیے جو خصوصیت آنحضرت ﷺ کو دوسرے انبیاء پر تھی وہ بھی غلط ہو گئی۔ اب افضل الرسل مرزا غلام احمد ثابت ہوا (نعوذ باللہ) اور ایسا اعتقاد درگاہ رسول اللہ ﷺ سے دھکیل کر نکالنے والا ہے۔ اعوذ بک ربی.
تیسری حدیث: و بشر بی المسیح ابن مریم. (ابو نعیم فی الدلائل و ابن مردویہ عن ابن مریم) یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بشارت دی میرے لیے مسیح بیٹے مریم نے۔
١٣
چوتھی حدیث : انا دعوة ابراهیم و بشر بی عیسیٰ ابن مریم. لابن سعد عن عبدالله ابن عبدالرحمن. یعنی میں ابراہیم کی دعا کا نتیجہ اور عیسیٰ بن مریم کی بشارت کا مصداق ہوں۔
پانچویں حدیث : صفى حمد المتوكل الحدیث
(طبرانی عن ابن مسعود)
چھٹی حدیث : انا دعوة ابراهیم و كان اخر من بشربی عیسیٰ بن مریم.
(ابن عساکر عن عبادة بن الصامت)
ساتویں حدیث : اخذ عز وجل منى الميثاق كما اخذ من النبيين ميثاقهم و بشر بی المسيح عيسى ابن مريم ورأت امى فى المنامها انه خرج من بين رجليها سراج اضاء ت له قصور الشام طب ابو نعیم فی الدلائل وابن مردویہ عن ابی مریم الغسانی۔
آٹھویں حدیث : وساخبر كم بتاويل ذلك دعوة ابراهيم و بشارة عيسى.
ناظرین! یہاں پوری احادیث نہیں لکھی گئیں تا کہ طول نہ ہو۔ صرف وہ ٹکڑے حدیث کے نقل کیئے ہیں جن سے ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ خود مدعی ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ بشارت عیسیٰؑ کی میرے حق میں ہے۔ اب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابل میاں محمود قادیانی کی طبعزاد بلا سند شرعی دلائل کچھ وقعت نہیں رکھتیں۔
اب ہم ذیل میں چند حوالہ جات تاریخ اسلام سے نقل کرتے ہیں اس ثبوت میں کہ سلف نے احمد و محمد ﷺ ایک ہی رسول مانا ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی اور کسی ایک کو بھی وہم نہ ہوا کہ یہ تو محمد ﷺ ہے احمد نہیں۔ کیونکہ وہ عربی دان تھے اور جانتے تھے کہ محمد و احمد ایک ہی ہے کیونکہ ان کا مادہ حمد ہے۔
نمبر ١:...... ابو قتادہؓ ذکر کرتے ہیں ابو عبیدہ بن جراحؓ سے حلب (ایک مقام کا نام ہے) فتح اسلام کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی تمھارے احمد ومحمد ﷺ بالضرور وہی ہیں جن کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
(فتوح الشام ص ٣٢٦)
نمبر ٢:...... خالد بن ولیدؓ کا قول ہے لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمد رسول الله بشر به المسيح عيسىٰ
(فتوح الشام ص ٣٢٦)
نمبر ٣:...... افاطمہؓ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہ شعر فرماتے ہیں۔ اما تستحی من احمد۔ یوم القيامة والخصوم یعنی نہیں حیا کرتا تو احمد سے بیچ دن قیامت اور خصومت کے۔
(فتوح الشام ص ٢٥٥)
نمبر ٤:...... محمد رسول اللہ ﷺ کا احمد نام اس قدر مشہور تھا کہ مسلمان، کفار کے اشعار رجز کے مقابلہ میں شعر جو کہتے ان میں بھی احمد ﷺ نام کو ذکر کرتے ۔
١٤ کرتے ۔
١٤
مجاورا لاحمد فى الرفق
یعنی داخل ہوں گا میں بہشت میں آراستہ اور مرتب ہے۔ نزدیک ہوں گا میں احمد سے رفاقت میں۔ (فتوح الشام ص ١٤٢) خالد بن ولیدؓ کا ایک شعر بھی نقل کیا جاتا ہے ؎
وصاحب احمد کریم
اس واسطے میں ستارہ بنی مخزوم کا ہوں اور صحابی احمد کریم کا۔
(فتوح الشام ص ١٤٩ ماخوذ از القول الجمیل)
اب روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ نبی آخر الزمان جس کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی وہی محمد مصطفیٰؐ و احمد مجتبیٰﷺ تھے۔ جیسا کہ قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام سے ثابت کیا گیا ہے۔ اب ہم مرزا محمود کے دلائل نمبر وار درج کر کے ہر ایک کا جواب عرض کرتے ہیں۔ تا کہ معلوم ہو کہ مرزا محمود اور ان کی جماعت کہاں تک حق پر ہے؟ اور کس قدر دلیری سے کلام خدا میں تحریف کرتے ہیں؟ اور يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہِ کے مرتکب ہو کر اجماع امت محمدی سے الگ مسلک اختیار کرتے ہیں اور پھر لطف یہ ہے کہ یہودیت کا الزام ان مسلمانوں پر لگاتے ہیں جو تحریف و تفسیر بالرائے، سے پرہیز کرتے ہیں اور خدا کا خوف کر کے جو معانی و تفاسیر ١٣ سو برس سے چلے آتے ہیں ان پر یقین کرتے ہیں۔
قبل اس کے کہ ہم مرزا محمود قادیانی کے دلائل کا رد کریں مسلمانوں کی تسلی کے واسطے ذیل میں چند تاویلات و مرادی معانی و تفسیر بطور نمونہ ان کذابوں مدعیان مہدویت و مسیحیت کے لکھتے ہیں جنھوں نے مرزا قادیانی سے پہلے دعوے کیے اور ایسی ایسی تاویلیں کرتے آئے ہیں جیسی کہ اب مرزا قادیانی اور مرزائی کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ میاں محمود قادیانی نے کوئی نرالی بات نہیں کی کہ قرآن مجید کی آیات کے غلط معنی کر کے اپنے والد (مرزا قادیانی) کی نبوت و رسالت و احمد ہونا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے مریدوں نے بھی کوئی اچنبا کام نہیں کیا کہ میاں محمود قادیانی کی تحریرات خلاف شرع کو بلاچون و چرا مانتے ہیں کیونکہ پہلے بھی ایسے ایسے سادہ لوح گزرے ہیں کہ سچے اور جھوٹے میں تمیز نہ کر کے انھوں نے اپنے پیشوا اور پیر کی پیروی میں مخالفت شروع کی ہے۔
١٥
نمبر١:....... شواہد الولایت کے اکتیسویں باب میں لکھا ہے کہ مہدی جونپوری نے کہا کہ فرمان حق تعالیٰ کا ہوتا ہے فَاِنْ حَاجُّوْکَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ اور لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَ اور یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اور قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْ اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ۔ یہ تمام من کہ ان آیات میں وارد ہوئے ہیں مراد ذات تیری ہے فقط ولَاغَیْر۔ یعنی خدا تعالیٰ نے جونپوری مہدی کو کہا کہ یہ آیات تیرے حق میں ہیں۔ اب میاں محمود قادیانی اور ان کے والد (مرزا غلام احمد قادیانی) نے اِسْمُہٗ اَحْمَدُ والی آیت کے غلط معنی یعنی ماضی کے صیغے جَاءَ کے معنی بجائے آ گیا کے آئے گا کر ڈالے تو کیا اچنبا کیا؟ مہدی جونپوری نے کتنی آیتیں قرآن مجید کی اپنے حق میں بنالی تھیں۔
نمبر٢:....... باب ٢٩ میں لکھا ہے کہ فرمان حق تعالیٰ کا ہوتا ہے اُولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِمْ الآیۃ (یعنی اے سیّد محمد یہ آیت فقط تیرے گروہ کی شان میں ہے) مرزا قادیانی نے بھی بہت سی آیاتِ قرآن کو اپنے حق میں دوبارہ نازل شدہ بتایا۔ جیسا اِنَّکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ یعنی خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو کہتا ہے کہ اے غلام احمد تو مرسلوں میں سے ہے۔ اور قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی الآیۃ یعنی اے غلام احمد تو کہہ دے کہ میں تمہاری طرح بشر ہوں مگر مجھ کو وحی ہوتی ہے۔ اور ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ الآیۃ میرے (مرزا قادیانی کے) حق میں ہے (حقیقۃ الوحی ص ٧٠ سے ١٠٨ تک خزائن ج ٢٢ ص ٧٣ تا ١١١) یہاں سب الہاموں کی گنجائش نہیں جو چاہے حقیقۃ الوحی مصنفہ مرزا قادیانی دیکھ لے)
نمبر٣:....... پندرہویں باب میں لکھا ہے کہ میراں یعنی مہدی نے خوند میر کو کہا کہ تمہاری خبر حق تعالیٰ نے اپنے کلام میں دی ہے۔ اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ سینہ اخوند میر فِیْھَا مِصْبَاحٌ تجلی حق تعالیٰ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ دل اخوند میر اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُوْقَدُ مِنَ الشَّجَرَۃِ الْمُبَارَکَۃِ ذات بندہ۔ کہ چوتھے آسمان پر بندے کا نام سید مبارک ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی کہا کہ میرا نام آسمان پر ابن مریم و احمد ومحمد و ابراہیم ونوح وغیرہ وغیرہ ہیں۔
نمبر٤:....... باب ١٧میں لکھا ہے کہ میراں یعنی مہدی نے دعویٰ کیا کہ حق تعالیٰ سے میں نے معلوم کیا کہ اسی قسم کی ١٨ آیات بعض حق ذات مہدی میں اور بعض ان کے گروہ کے حق میں ہیں۔ اور وہ مہدی میں ہوں۔ مرزا قادیانی بھی بہت سی آیات اپنے حق میں ١٦
دوبارہ نازل شدہ سمجھ کر نبی و رسول و مہدی و مسیح موعود بن بیٹھتے۔ اگر کوئی آیت خواب میں جیسا کہ بعض مسلمانوں کو خواب میں کوئی آیت قرآن کی زبان پر جاری ہو جاتی ہے) مرزا قادیانی کی زبان پر جاری ہوتی تو مرزا جی اسے دوبارہ نازل شدہ آیت یقین کرتے تھے اور زعم کر بیٹھتے تھے کہ اب میں اس آیت کا مخاطب ہوں۔ اگر آیت میں محمد و احمد کا نام آیا تو زعم کیا کہ اب خدا نے میرا نام احمد و محمد رکھا ہے اور اگر آیت میں نام عیسیٰؑ کا سنائی دیا۔ یا زبان پر جاری ہوا تو زعم کر بیٹھے کہ میں عیسیٰ بن مریم نبی اللہ ہوں۔ یہاں تک کہ اگر مریم کا نام سنا تو مریم بن بیٹھے اور حاملہ ہو کر بچہ بھی نکال دیتے اور یہ نہ سمجھے کہ میں مرد ہو کر عورت کس طرح ہو سکتا ہوں؟ اور یہی زعم ان کی ٹھوکر کا باعث ہوا کہ معمولی خواب کی باتوں کو وحی الہی سمجھتے تھے اور خواب کے وسوسہ کو وحی الہی یقین کرتے تھے حالانکہ معمولی عقل کا آدمی بھی جانتا ہے کہ مرد کو عورت بنانے والا خواب کبھی خدا تعالیٰ عالم الغیب کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔
- نمبر ٥:...... میاں اخوند میر مکتوب ملتانی میں لکھتے ہیں کہ ”حق تعالیٰ درکلام خویش خبرداد
ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ای بلسان المہدی“ اور سورۃ جمعہ میں جو آیات ہیں هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّیِّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اور آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَاللّٰهُ ذُوْالْفَضْلِ الْعَظِيْمِ. سب مہدی جونپوری اور اس کی جماعت کے حق میں ہیں (دیکھو ہدیہ مہدویہ صفحات ١٠٦۔ ١٠٧۔ ١٠٨) مرزا قادیانی نے بھی سید محمد جونپوری مہدی کاذب کی نقل کر کے اسی سورۃ جمعہ کی آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ اپنے اور اپنی جماعت کے حق میں لکھی ہے۔ اصل عبارت یہ ہے۔ ”اس سے ثابت ہے کہ رجل فارسی اور مسیح موعود ایک ہی شخص کے نام ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ یعنی آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں۔ جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اس سے تعلیم و تربیت پائیں۔ پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٧ خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٢ و ٥٠١)
مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کو آخرین منھم سمجھا اور خود نبی بنے۔ اب سوچنا یہ ہے کہ یہی آیت آخَرِيْنَ مِنْهُمْ مہدی جونپوری اپنی جماعت کے واسطے کہتا ہے اور متبع نبی بنتا ہے اور مرزا قادیانی بھی اسی آیت سے نبی بنتے ہیں اور یہ آیت اپنی جماعت کے
١٧
حق میں فرماتے ہیں اور دونوں مہدی ہونے کے مدعی ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ بھی کذابوں کی چال ہے جو مرزا قادیانی چلے اور آیت اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ اپنی جماعت کے حق میں بتائی حالانکہ آیت کا مطلب اور ہے جو ہم آگے چل کر اس کے موقعہ پر بیان کریں گے۔ اب مرزا محمود فرزند مرزا غلام احمد قادیانی کے دلائل اور ثبوت کے جواب ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ وہو ہذا۔
پہلی دلیل: ’’آپ (مرزا قادیانی) کے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا نام احمد تھا اور آپ کا نام احمد ہونے کے مفصلہ ذیل ثبوت ہیں۔ اوّل۔ اس طرح کہ آپ کا نام والدین نے احمد رکھا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کے نام پر ایک گاؤں بسایا ہے۔ جس کا نام احمد آباد رکھا ہے۔ اگر آپ کا نام غلام احمد رکھا گیا تھا تو گاؤں کا نام بھی غلام احمد آباد ہوتا۔‘‘
(انوار خلافت ص ٣٣)
الجواب: گاؤں کا نام رکھتے وقت ہمیشہ اختصار سے کام لیا جاتا ہے۔ صرف ایک جزو نام پر گاؤں کا نام رکھا جاتا ہے کبھی کسی نے تمام نام سے کسی گاؤں کو نامزد نہیں کیا۔ اللہ آباد کسی شخص کا نام غلام اللہ خان یا کریم اللہ خان یا سمیع اللہ خان یا رحیم اللہ وغیرہ ہوگا۔ گاؤں کا نام بنابر اختصار بجائے غلام اللہ خان آباد یا کریم اللہ خان آباد یا سمیع اللہ خان آباد یا رحیم اللہ آباد کے صرف الہ آباد گاؤں کا نام رکھا جاتا ہے۔ گاؤں کا نام الہ آباد رکھنا ہرگز دلیل اس بات کی نہیں کہ الہ آباد گاؤں بسانے والے کا نام یا جس کے نام سے گاؤں بسایا گیا ہے اس کا نام اللہ تھا کیونکہ یہ صریح شرک ہے۔ ایسا ہی اورنگ آباد بسانے والے کا نام صرف اورنگ نہ تھا اور حافظ آباد بسانے والے کا نام صرف حافظ نہ تھا۔ خیر پور کے بسانے والے کا نام صرف خیر نہ تھا۔ بھاولپور بسانے والے کا نام صرف بھاول نہ تھا۔ لہٰذا آپ کی یہ دلیل و ثبوت غلط اور واقعات کے برخلاف ہے کہ اگر مرزا قادیانی کا نام غلام احمد ہوتا تو گاؤں کا نام بھی غلام احمد آباد ہوتا۔ کجا گاؤں کا نام اور کجا ذی روح انسان کا نام۔ باپ بیٹے کا نام اپنی عقیدت کے مطابق رکھتا ہے مرزا قادیانی کے والد نے مرزا جی کا نام رکھتے وقت یہی خواہش اور عقیدت رکھی تھی کہ میرا بیٹا غلام احمد ہوگا۔ یعنی ایسا پابند شریعت اور فرمانبردار محمد رسول اللہ ﷺ کا ہو گا جیسا کہ ایک غلام اپنے آقا کا ہوتا ہے۔ اس واسطے اس نے اپنے بیٹے کا نام غلام احمد رکھا اور اس کو ہرگز اس امر کا وہم و گمان تک نہ تھا کہ میرا بیٹا غلامی چھوڑ کر خود احمد بنے گا اور آقا ہونے کی کوشش کرے گا جیسا کہ اس نے مرزا قادیانی کے بڑے بھائی کا نام غلام قادر رکھا۔ اگر
١٨
مرزا قادیانی کے نام سے پہلا لفظ غلام اُڑا کر صرف احمد بناتے ہو تو مرزا قادیانی کے بڑے بھائی کے نام سے پہلا لفظ غلام اُڑا کر قادر بناؤ اور یہ مناسب بھی ہے اور قادیان کی آب و ہوا کی تاثیر کے مطابق بھی ہو گا کہ اگر چھوٹا بھائی رسول و پیغمبر بنایا جائے تو بڑا بھائی ضرور قادر و خدا بنے تا کہ حق بحقدار رسید کا معاملہ ہو۔ مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ عمر میں چھوٹے تھے جب وہ پیغمبر بن گئے تو غلام قادر جو عمر میں بڑا تھا اور اس کو مرزا قادیانی پر تقدم بالوجود کا شرف بھی حاصل تھا اس لیے وہ خدا بننے کا مستحق ہے۔ اس کے نام سے پہلا لفظ (غلام) اُڑا کر خدا بناؤ۔
دوم: مرزا قادیانی ہمیشہ خود اپنے آپ کو غلام احمد کے نام سے نامزد کرتے رہے۔ دیکھو جس قدر اشتہار و کتابیں مرزا قادیانی نے شائع کیں سب کے اخیر مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے تھے بلکہ غلام احمد قادیانی کے حروف سے بحساب جمل ١٣٠٠ء نکال کر اپنی صداقت کی دلیل قائم کی۔ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ ”میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا نام نہیں۔“ (ازالہ اوہام ص ١٨٦ خزائن ج ٣ ص ١٩٠) اب آپ کو (جو مرزا قادیانی کو صاحب کشف و الہام یقین کرتے ہیں) اس الہامی و کشفی نام غلام احمد کا انکار کرنے کی ہرگز جرأت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات غلطی سے پاک ہے۔ جب خدا تعالیٰ نے کشفی طور پر مرزا قادیانی کا نام غلام احمد قادیانی تصدیق فرما دیا۔ تو آپ کا غلط خیال خدا تعالیٰ کے مقابل کس طرح تسلیم کیا جائے کہ مرزا قادیانی کا نام صرف احمد تھا جبکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ غلام احمد قادیانی تھا۔
تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کے نام پر اس قدر بحث کی جاتی ہے کہ صرف غلام کا لفظ اس کے اوّل آنا بھی میاں صاحب اثبات دعویٰ کے لیے مضر سمجھتے ہیں۔ مگر جب یہ کہا جائے کہ مہدی کا نام محمد بن عبداللہ ہو گا اور وہ فاطمہؓ کی اولاد سے ہو گا تو اس وقت نام کی بحث فضول سمجھی جاتی ہے اور ہر ایک لفظ کے معنی غیر حقیقی یعنی اپنی خواہش کے مطابق مرادی تراش لیے جاتے ہیں جیسے ”قادیان کے معنی دمشق۔ عیسیٰ بن مریم کے معنی غلام احمد قادیانی۔ منارہ مسجد دمشق سے قادیان کا اپنا بنایا ہوا نامکمل منارہ۔ فرشتوں کے معنی نور الدین و محمد احسن امروہی۔ مہدی کے سید ہونے کی کیا ضرورت؟ مغل کو ہی سید سمجھ لیا۔“ اب کیا مصیبت پڑی ہے کہ صرف نام احمد پر بحث ہو رہی ہے۔ جہاں تمام باتیں مجازی و غیر حقیقی ہیں اور ان سے مراد اپنے مطلب کے مطابق لے لی جاتی ہے۔
١٩
غلام احمد کے معنی بھی عیسیٰ بن مریم والے رسول کے تصور کر لیں بحث کی کیا ضرورت ہے۔ جس طرح دوسرا سب کارخانہ بلا ثبوت چل رہا ہے اسے بھی چلنے دو۔ دوسرا ثبوت: ”آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ آپ نے اپنے تمام لڑکوں کے ناموں کے ساتھ احمد لگایا ہے۔“ الخ۔
(انوار خلافت ص ٤٣)
الجواب: آپ کی اس دلیل کا رد تو آپ کے خاندان میں ہی موجود ہے۔ افسوس کہ آپ نے غور نہ کیا۔ مرزا قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے اپنے بیٹے کے نام کے ساتھ احمد لگایا حالانکہ غلام مرتضیٰ کا نام احمد نہ تھا بلکہ ان کے نام کی جزو بھی احمد نہ تھی جس سے ثابت ہوا کہ آپ کا من گھڑت قاعدہ غلط ہے کہ جو شخص اپنے بیٹے کے نام کے پہلے احمد لگائے وہ احمد ہوتا ہے۔
دوم: آپ ہزاروں مسلمان دیکھتے ہیں جنھوں نے اپنے بیٹے کے نام کے اوّل یا آخر احمد لگایا ہے بلکہ بعضوں نے صرف احمد ہی نام رکھے۔ لیکن فقط نام رکھنے سے ہوتا کیا ہے؟ بہت شخصوں نے بیٹوں کے نام بشارت احمد مبارک احمد فضل احمد احمد علی احمد بخش رکھے کیا وہ سب احمد بن گئے؟ یا جنھوں نے سراج الدین احمد و بدر الدین احمد اپنے بیٹوں کے نام رکھے وہ احمد ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر یہ کس قدر ردی دلیل ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے بیٹوں کے نام کے پہلے احمد لگایا اس واسطے وہ احمد تھے۔ مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ ”نام صرف تفاول کے طور پر رکھا جاتا ہے جو لوگ اپنی اولاد کا نام موسیٰ و عیسیٰ داؤد رکھتے ہیں ان کی غرض یہی ہوتی ہے کہ مولود خیر و برکت میں ان نبیوں کے مثیل ہوں۔“
(دیکھو ازالہ اوہام ص ٤١١ خزائن ج ٣ ص ٣١٣)
سوم: مولود کی صفات میں اس کا نام کچھ اثر نہیں رکھتا۔ مشاہدہ ہے کہ بعض لوگوں کے نام بہت اچھے ہوتے ہیں۔ مگر ان کے افعال ایسے ناگفتہ بہ ہوتے ہیں کہ پناہ بخدا بلکہ نام کے معانی سے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ پادری عماد الدین کے والدین نے اس کا نام کیسا اچھا رکھا مگر وہ بجائے عماد (رکن) دین ہونے کے مخرب دین نکلا اور عیسائی ہو گیا اور دین کی اس قدر خرابی کی کہ اسلام کے رد میں کتابیں لکھیں اور ایسے کارہائے نمایاں کیے کہ خاص پادریوں میں شمار ہوتا تھا۔ نام نے اس کی کچھ مدد نہ کی۔ ایسا ہی عبداللہ آتھم عیسائی جس کے مقابل مرزا قادیانی مغلوب ہوئے۔ لہٰذا صرف نام رکھ دینے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک صفات حسنہ نہ ہوں۔ کسی شخص کا نام اگر آپ حاتم طائی ثابت کر دیں یا فلسفی و منطقی دلائل سے یہ ثابت کریں کہ فلاں شخص کا نام والدین
٢٠
نے حاتم طائی رکھا تھا تو کیا اس میں صفت سخاوت بھی آ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ایسا ہی اگر آپ بیجا کوشش کر کے مرزا قادیانی کا نام صرف احمد ثابت کر بھی دیں تاہم وہ احمد رسول ہرگز نہیں ہو سکتے تاوقتیکہ رسول کی صفات مرزا قادیانی میں ثابت نہ کریں۔ آپ ہزاروں مسلمان پائیں گے جن کے نام صرف احمد ہیں مگر وہ احمد کی صفات سے عاری ہیں۔ ایسا ہی مرزا قادیانی میں جب احمد کی صفات نہیں تو پھر صرف احمد ثابت کرنے سے کیا ہوگا؟ اگر کوئی صفت احمد رسول والی مرزا قادیانی میں ہے تو بیان کرو۔ صرف نام کی بحث فضول ہے کسی شخص کا نام رستم رکھ دو گے یا ثابت کر دو گے تو وہ شخص اس نام سے بہادر نہیں ہو سکتا پس یہ ثبوت بھی ردی ہے۔
تیسرا ثبوت : ”حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے کا یہ ہے کہ جس نام پر وہ بیعت لیتے رہے ہیں وہ احمد ہی ہے۔“
(انوار خلافت ص ٣٣)
الجواب : مرزا قادیانی کا احمد سے بھی غلام احمد قادیانی مطلب تھا۔ یعنی اپنی ذات نہ کہ رسول پاک احمد مجتبیٰ ﷺ کی۔ کیونکہ قاعدہ ہے کہ عقلمند انسان اپنا لمبا چوڑا نام اپنے منہ سے کہنا پسند نہیں کرتا اور مختصر نام ظاہر کرتا ہے خاص کر وہ لوگ جو بزرگی میں پاؤں رکھتے ہیں ان کو ضرور کسر نفسی کرنی پڑتی ہے چاہے اصل نہ ہو بناوٹی ہی ہو۔ مریدوں کے طبقے میں پیر اپنا بڑا نام نہیں لیا کرتے صرف مختصر نام لیتے ہیں تا کہ فخر نہ پایا جائے۔ جیسا کہ شبلی، منصور، فرید وغیرہ وغیرہ۔ اسی قاعدہ سے مرزا قادیانی اپنا نام فرضی کسر نفسی ، دجل، کے طور پر احمد ظاہر کرتے تھے نہ کہ احمد رسول اللہ ﷺ ہونے کا ان کو یقین ہوتا تھا۔ کیونکہ احمد رسول مرزا قادیانی کے جسم میں کسی طرح نہیں آ سکتا تھا۔ اگر جسم مبارک آئے تو یہ حلول اور تداخل ہے جو کہ باطل ہے اور اگر روح مبارک مرزا قادیانی کے جسم میں آئے تو یہ تناسخ ہے یہ بھی باطل ہے۔ اگر صفات محمدی کا عکس کہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ جب تک سایہ اور عکس ڈالنے والے کا وجود مقابل نہ ہو عکس نہیں پڑ سکتا اور اگر توارد صفات کہو تو یہ کم و بیش ہر ایک مسلمان میں پایا جاتا ہے مرزا قادیانی کی کوئی خصوصیت نہیں۔ مرزا قادیانی سے بڑھ کر فنا فی الرسول امت میں گزرے ہیں مگر کسی نے نبی و رسول نہیں کہلایا۔ خواجہ اویس قرنیؒ کا حال شاہد حال ہے کہ محبت رسول اللہ ﷺ میں اپنے تمام دانت توڑ ڈالے۔ مرزا قادیانی نے تو کبھی محبت رسول کا ثبوت نہ دیا۔ صرف زبانی دعویٰ کون مان سکتا ہے؟ پس یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی احمد کے نام پر بیعت لیتے تھے۔ چونکہ جب الفاظ بیعت پر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی مراد
٢١
احمد سے اپنی ذات یعنی غلام احمد قادیانی ہوتی تھی کیونکہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی نسبت بیعت لیتے تھے اور ظاہر ہے کہ سلسلہ احمدیہ غلام احمد قادیانی نے نکالا ہے اور یہ سلسلہ احمد رسول اللہ ﷺ سے ١٤٠٠ سال بعد نکلا ہے تو پھر یہ سلسلہ احمدیہ دراصل سلسلہ غلامیہ ہے یا غلمدیہ ہے غلام احمد کی طرف منسوب ہے نہ کہ صرف احمد کی طرف۔ پس یہ ثبوت بھی غلط ہے۔
چوتھا ثبوت: ”آپ (مرزا قادیانی) کے احمد ہونیکا یہ ہے کہ آپ نے اپنی کئی کتابوں کے خاتمہ پر اپنا نام صرف احمد لکھا ہے۔“
(انوار خلافت ص ٣٤)
الجواب: مرزا قادیانی کے سب سے پہلے اشتہار پر جو براہین احمدیہ کا موٹے الفاظ میں تھا اس کے خاتمہ پر غلام احمد لکھا ہوا ہے۔ اور تمام کتابوں اور ہزاروں اشتہاروں کے خاتمہ پر خاکسار غلام احمد قادیانی چھپا ہوا ہے۔ بلکہ جو خطوط محمدی بیگم منکوحہ آسمانی کے حاصل کرنے کے واسطے لکھے تھے سب کے خاتمہ پر غلام احمد تھا۔ رہن نامہ جائیداد یعنی باغ کی رجسٹری جو مرزا قادیانی نے اپنی بیوی کے نام کرائی اس میں صاف لکھا ہے کہ ”منکہ غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ساکن قادیان ضلع گورداسپور۔“ اور دہلی کے مباحثہ میں جتنے رقعے لکھے سب کے خاتمہ پر غلام احمد لکھتے رہے۔ یہ آپ کا فرمانا صحیح نہیں کہ صرف احمد لکھتے تھے۔ لہٰذا یہ دلیل بھی غلط ہے۔ اگر کہیں شاذ و نادر ہو بھی تو وہ سند نہیں، سند وہی ہے جس کی کثرت ہو۔
پانچواں ثبوت: ”یہ ہے کہ محمد علی لاہوری و خواجہ کمال الدین قادیانی (مریدان مرزا قادیانی) مرزا قادیانی کو احمد قادیانی لکھتے رہے ہیں۔“
(انوار خلافت ص ٣٥)
الجواب: اس کا جواب تو محمد علی لاہوری و خواجہ کمال الدین قادیانی دے چکے ہوں گے اور ان کا جواب یہ ہو گا کہ احمد قادیانی سے ان کی مراد ہمیشہ سے غلام احمد قادیانی تھی۔ صرف اختصار کے طور پر احمد قادیانی لکھ دیا جاتا تھا۔ پس یہ کوئی دلیل نہیں۔ دوم حضرت عیسیٰؑ کی بشارت میں صرف احمد ہے نہ کہ غلام احمد قادیانی۔ پس احمد قادیانی سے مراد غلام احمد قادیانی ہو سکتی ہے نہ کہ احمد عربی ﷺ۔ اگر کوئی صرف قادیانی ہی لکھ دے تب بھی مراد غلام احمد قادیانی ہی ہوتی ہے نہ کہ احمد عربی ﷺ۔
چھٹا ثبوت: ”حضرت (مرزا) قادیانی کے الہامات میں کثرت سے احمد ہی آتا ہے ہاں ایک دو جگہ غلام احمد بھی آیا ہے۔“
(انوار خلافت ص ٣٥)
الجواب: آپ کی اس دلیل سے تو مرزا قادیانی کا ملہم من اللہ ہونا بھی جاتا ہے اور معلوم
٢٢
ہوتا ہے کہ الہام کرنے والا مرزا قادیانی کے نام سے واقفیت نہیں رکھتا۔ جب غلام احمد کہتا ہے تو مرزا قادیانی کا صرف احمد ہونا غلط ہوتا ہے اور جب صرف احمد کر کے بلاتا ہے تو غلام احمد قادیانی ہونا غلط ٹھہرتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ الہام کرنے والا عالم کل اور جلی و خفی کے جاننے والا نہیں۔ غلام اور آقا میں ایسا ہی فرق ہے جیسا دن اور رات میں۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی شخص غلام اور آقا نہیں ہو سکتا۔ پس یہ اجتماع نقیضین ہوا اور یہ بعید از شان خداوندی ہے کیونکہ وہ قرآن شریف میں معیار مقرر کر چکا ہے کہ جس کلام میں اختلاف ہو وہ خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا آپ کی اس دلیل سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ سے ہمکلامی کا رتبہ ہرگز حاصل نہ تھا کیونکہ اگر خدا کی طرف سے الہام ہوتا تو اس میں اختلاف ہرگز نہ ہوتا اور آپ اقرار کرتے ہیں کہ کبھی غلام احمد اور کبھی صرف احمد مخاطب کر کے الہام ہوتا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ خدا کی طرف سے وہ الہام نہ تھے کیونکہ ایک ہی شخص کبھی غلام احمد اور کبھی احمد ہرگز درست نہیں۔
دوم: یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اختصار سے کام لینے کے واسطے غلام احمد پورا نام لینے کے عوض کبھی صرف احمد ہی کہہ دیا ہو۔ مگر پھر بھی مراد خداوندی احمد سے غلام احمد ہی ہو سکتی ہے کیونکہ مخاطب غلام احمد ہے۔ پس آپ کی یہ دلیل بھی غلط ہے۔
ساتواں ثبوت: ”پھر آپ (مرزا قادیانی) کے نام احمد ہونے پر حضرت خلیفہ اوّل کی بھی شہادت ہے کہ آپ اپنے رسالہ مبادی الصرف والنحو میں لکھتے ہیں کہ محمد ﷺ خاص نام ہمارے سید و مولیٰ خاتم النبیین کا ہے۔...... احمد نام ہمارے اس امام کا ہے جو قادیان سے ظاہر ہوا۔“
(انوار خلافت ص ٣٦)
الجواب: حکیم نور الدین قادیانی کی جو عبارت آپ نے نقل کی ہے اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی خلیفہ اوّل (حکیم نور الدین) نے محمد ﷺ کے نام کے ساتھ خاص کا لفظ استعمال کیا ہے اور مکہ شہر کے ساتھ بھی خاص کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مگر امام قادیان کا نام خاص نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکیم کے نزدیک احمد قادیانی اور احمد عربی ﷺ میں فرق تھا اور وہ فرق یہ تھا کہ عربی احمد صرف احمد تھا اور قادیانی احمد غلام احمد تھا۔ دوم: جب ہمارے پاس امام کا قول موجود ہے۔ مصرعہ ”جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے“ (حقیقت الوحی ص ٢٧٤ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٦) جس میں وہ صاف غلام احمد کو مسیح الزمان کہہ رہا ہے تو امام کا قول ہوتے ہوئے اس کے خلیفہ کے قول کو تسلیم کرنا گویا اس امام کی ہتک ہے۔ میں مرزا قادیانی کا مرید نہیں تاہم عقل سے بعید سمجھتا ہوں کہ امام کو چھوڑ کر
٢٣٠
اس کے ایک خلیفہ کی بات کو قبول کروں۔ پس آپ کی تاویلات و رد دلائل کے واسطے آپ کے امام کا قول ہی کافی ہے۔ جب خود مسیح موعود احمد کا غلام بنا ہے تو آپ اس کو صرف احمد ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ لہٰذا آپ کی یہ دلیل بھی ردی ہے۔
آٹھواں ثبوت: ”یہ وہی ثبوت ہے جو اوپر گزر چکا ہے کہ احمد کے نام بیعت لیا کریں۔ الخ۔“
(انوار خلافت ص ٣٦)
الجواب: جواب بھی اس کا وہی ہے جو اوپر دیا گیا ہے کہ تمام بیعت لینے والوں کی مراد احمد سے غلام احمد قادیانی ہی ہے نہ کہ احمد عربی ﷺ۔
نواں ثبوت: ”یہ ہے کہ خود آپ نے اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں۔ ”اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس کا مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد ﷺ جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد عیسیٰ اپنے جمالی معنی کے رو سے ایک ہی ہیں۔ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں۔ یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ الخ۔“
(انوار خلافت ص ٣٧)
الجواب: یہ ثبوت پیش کر کے آپ نے خود اپنی تردید کر دی۔ اس عبارت میں کہیں نہیں لکھا کہ آیت مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ کا میں مصداق ہوں بلکہ صاف لکھتے ہیں کہ اس آنے والے کا نام احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ مرزا قادیانی کی یہ عبارت تو ظاہر کرتی ہے کہ آنے والا مسیح موعود مثیل احمد ہو گا نہ کہ اصل احمد۔ اور یہ پیشگوئی اصل احمد کے حق میں ہے جس کا دوسرا نام محمد ﷺ ہے۔ مثیل احمد ہونا جب مرزا قادیانی خود مانتے ہیں تو اصل احمد آپ ان کو کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ یہ ”مدعی سست گواہ چست“ کا معاملہ نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ آپ نے غلط لکھا ہے کہ خود مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق بتایا ہے۔ وہ تو مثیل احمد کہہ رہے ہیں۔ مثیل اور اصل میں جو فرق ہوتا ہے وہی فرق احمد اور غلام احمد میں ہے۔ باقی رہا مرزا قادیانی کا فرمانا کہ میں مثیل احمد ہوں یہ بھی غلط ہے کیونکہ وہ کبھی مسیح کے مثیل بنتے ہیں۔ کبھی عیسیٰ کے اور کبھی مریم کے اور کبھی آدم کے اور کبھی کرشن جی کے۔ پس یہ معجون مرکب کبھی اس قابل نہیں کہ آیت مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ کی مصداق ہو سکے۔ یہ بھی غلط ہے کہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی نام ہے۔ قادیانی مولوی محمد احسن امروہی جن کے پاس مرزا قادیانی کی اسنادِ فضیلت وعلم
٢٤
موجود ہیں وہ ”القول المنجد فی تفسیر اسمہ احمد ص ٧“ میں لکھتے ہیں کہ ”احمد جلالی نام ہے“ اور یہی درست ہے کیونکہ واقعات بتا رہے ہیں اور تاریخ اسلام ظاہر کر رہی ہے آنحضرت ﷺ ایسے بہادر تھے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آپ کی ہیبت سے شجاعانِ کفار کے دل چھوٹ جاتے تھے اور جس جگہ کفار کی تلواروں اور تیروں کا بارش کی طرح زور ہوتا تھا تو ہم آنحضرت ﷺ کے زیر بازو قتال کرتے تھے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھ کو پانچ چیزیں عنایت ہوئی ہیں۔ ازاں جملہ ایک یہ ہے کہ میرا رعب اس قدر غالب ہے کہ کفار میرے سامنے دم نہیں مار سکتے اور یہ صفت جلالی کا ہی خاصہ ہے۔ وہ حدیث یہ ہے عن جابر قال قال رسول اللہ ﷺ اعطیت خمساً لم یعطھن احد قبلی نصرت بالرعب مسیرۃ شھر و جعلت لی الارض مسجداً و طہوراً فایما رجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل وحلت لی الغنائم ولم تحل لاحدٍ قبلی واعطیت الشفاعۃ وکان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ و بعثت الی الناس عامۃ. (متفق علیہ مشکوۃ باب سید المرسلین ص ٥١٢) ترجمہ ”روایت ہے جابرؓ سے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دیا گیا میں پانچ خصلتیں کہ نہیں دیا گیا کوئی نبی پہلے مجھ سے۔ مدد دیا گیا میں دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالنے کے ساتھ کہ ایک مہینہ کی مسافت سے وہ مارے ڈر کے بھاگتے ہیں اور گھبراتے ہیں اور ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ بنائی گئی اور پاک کرنے والی تیمم سے۔ اور حلال کی گئی میرے لیے غنیمت کفار کی جو نہ حلال کی گئی مجھ سے پہلے کسی کے لیے۔ اور دیا گیا مجھ کو مرتبہ شفاعت عظمیٰ عامہ کا کہ شامل ہے تمام مواضع شفاعت کو اور مجھ سے پہلے نبی بھیجا جاتا تھا خاص اپنی ہی قوم کی طرف۔ اور میں بھیجا گیا تمام لوگوں کی طرف۔ نقل کی یہ حدیث بخاری نے۔“
اس حدیث میں پانچ خصلتیں حضرت ﷺ نے اپنی خود بیان فرمائیں۔ اوّل! فتح دیا جانا دشمنوں پر بسبب رعب کے۔ دوم! تمام زمین سجدہ گاہ ہوئی آنحضرت ﷺ کی امت کے لیے۔ سوم! حلال کی گئی غنیمت۔ چہارم! شفاعت کا مرتبہ دیا گیا۔ پنجم! کل جن و انس کے واسطے نبی ہونا۔
پہلی اور دوسری صفات خاص جلالی ہیں اور یہ خاصہ رسول اللہ ﷺ کا ہے کسی امتی کا حق نہیں کہ خاصہ رسول میں اس کو شریک یا مساوی کیا جائے۔ پس اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی ذات جامع صفات جلالی و جمالی تھی اور چونکہ حضرت عیسیٰؑ نے ایک کامل رسول کے آنے کی بشارت دی تھی کہ جو صاحب کتاب و شریعت و
٢٥
حکومت ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ صاحب کتاب و شریعت و حکومت نبی تھے۔ چنانچہ انجیل یوحنا ١٤ و ١٥ و ١٦ میں ہے کہ ”میں حکم نہیں کرتا اور ایک حکم کرنے والا آتا ہے ۔“ تو یہ حکم کرنے والا احمد ﷺ رسول عربی ﷺ تھا نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی۔ جو کہ تمام عمر انگریزوں کی رعیت و غلامی میں رہا اور انجیل برنباس میں تو صاف صاف لکھا ہے کہ ”میری تسلی اس رسول کے آنے میں ہے جو کہ میرے بارے میں ہر جھوٹے خیال کو محو کر دے گا۔“
(انجیل برنباس فصل ٩٧ آیت ٥)
اب غور کرو کہ وہ کون رسول تھا جس نے حضرت عیسیٰؑ کی نسبت جو جھوٹے خیال تھے یعنی ان کا مقتول و مصلوب ہونا۔ حضرت عیسیٰ کا سچا نبی نہ ہونا۔ ان کی ناجائز ولادت کا ہونا وغیرہ الزامات جو یہودی ان پر لگاتے تھے ان الزاموں سے کس رسول نے حضرت عیسیٰؑ کو پاک کیا۔ آیا محمد ۔ احمد ﷺ نے یا مرزا غلام احمد قادیانی نے؟ جس نے حضرت عیسیٰ کی وہ ہتک کی جو یہودیوں نے بھی نہ کی تھی۔ نمونہ کے طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارت لکھتا ہوں۔
- (١) ”حضرت عیسیٰ کنجریوں سے میل جول رکھتا تھا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- (٢) ”حضرت کی دادیاں نانیاں زانیہ تھیں۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
- (٣) ”حضرت عیسیٰ ایک بھلا مانس آدمی بھی نہ تھا چہ جائیکہ اس کو نبی مانا جائے۔“
(انجام آتھم ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
- (٤) ”حضرت عیسیٰ اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ نجاری کا کام کرتا تھا اور عجوبہ نمایاں
عمل الترب یعنی مسمریزم سے کرتا تھا۔“ وغیرہ وغیرہ۔
(دیکھو ضمیمہ انجام آتھم و ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٤‘ ٣٠٥ خزائن ج ٣ ص ٢٥٥‘ ٢٥٦)
اس لیے یہ بشارت خاص آنحضرت ﷺ کے حق میں ہے اور مرزا قادیانی چونکہ نہ کوئی کتاب لائے اور نہ کوئی شریعت لائے اس لیے وہ اس پیشگوئی کے ہرگز مصداق نہ تھے۔ مگر ہم اہلسنت والجماعت کے مذہب میں ایسی ایسی من گھڑت اصطلاحات بدعت ہیں جن سے امت اور دین میں فساد وارد ہوتا ہے اور یہ پہلے کذابوں کی چال ہے جو مرزا قادیانی چلے ہیں کہ نبوت میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے شریک ہونا چاہتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر آج تک کوئی بھی سلف صالحین سے گزرا ہے جس نے کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا ہو؟ ہرگز نہیں۔ البتہ کذاب لوگ ایسے ایسے حیلے کرتے آئے ہیں۔ ایک کاذب نبی کا نام محکم دین تھا اور وہ صاحب ذکر و شغل، الٰہی تھا اور سجادہ نشین بھی تھا اور مسلمان بھی۔ اس کے بہت سے مرید بھی
٢٦
تھے۔ اس کو بھی مرزا قادیانی اور دوسرے کذابوں کی طرح نبی ہونے کا زعم ہوا۔ مگر مرزا قادیانی کی طرح کھلا کھلا دعویٰ کرنے سے ڈرتا بھی تھا کہ کہیں مرید بھاگ نہ جائیں۔ وہ مریدوں کو کہتا تھا کہ میں رسول ہوں اور اپنا کلمہ بھی پڑھواتا تھا۔ یعنی لا الہ الا اللہ محکم دین رسول اللہ۔ یعنی کوئی معبود سوائے اللہ کے نہیں اور محکم دین رسول اللہ ہے یعنی اللہ کا رسول ہے۔ مگر جب اعتراض کیا جاتا تو لاہوری مرزائی جماعت کی طرح جس طرح وہ ظلی و بروزی کی شرط لگا دیتے ہیں اور مرزا قادیانی کی کفریات اور خلاف شرع باتوں کی تاویل کرتے ہیں۔ محکم دین کاذب مدعی نبوت بھی اسی طرح تاویل کرتا تھا کہ دین رسول اللہ کا محکم ہے خام نہیں۔ اس لیے محکم دین رسول اللہ کہنا کفر نہیں کیونکہ اصل مطلب یہ ہے کہ دین محمد ﷺ محکم ہے۔ مگر یہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور تھے۔ محکم دین اور اس کے مرید صرف علماء اور دوسرے اشخاص کو دھوکا دے کر کہتے کہ ہمارے مرشد کا مطلب یہ ہے کہ محکم دین رسول اللہ کا ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ محکم دین نے رسالت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ یہ دعویٰ ہے کہ محمد رسول اللہ کا دین محکم ہے۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کی لاہوری جماعت اپنے مرشد کے دعویٰ نبوت و رسالت کی تاویل کرتی ہے کہ وہ حقیقی و مستقلہ نبوت کے مدعی نہ تھے حالانکہ مرزا قادیانی صاف لکھ چکے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ دیکھو مرتے دم بھی اخبار عام میں آپ نے جو مضمون دیا اس میں صاف لکھا کہ میں نبی و رسول ہوں۔ اصل عبارت یہ ہے۔
- (١) ”اس (خدا) نے میرا نام نبی رکھا ہے سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں ۔“
(مکتوب اڈیٹر اخبار عام ضمیمہ نمبر ٣ حقیقت النبوۃ ص ٢٧٠)
- (٢) ”ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو توریت میں مذکور ہیں میں کوئی نیا نبی
نہیں ہوں پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنھیں تم لوگ سچے جانتے ہو۔“
(اخبار بدر قادیان ٩ اپریل ١٩٠٨ء ملفوظات ج ٩ ص ٢١٧)
- (٣) ”میں اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیمؑ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا
اور پھر اسحاق سے اور اسماعیل اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب سے بعد ہمارے نبی ﷺ سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن و پاک وحی نازل کی ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف بخشا....... اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر ۔“
(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠ ، ١٩ خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢، ٤١١)
٢٧
اب لاہوری مرزائی جماعت ان عبارات اور دعاوی کو کہاں چھپا سکتی ہے اور باوجود مرزا قادیانی کے مرید ہونے کے کس طرح کہتی ہے کہ مرزا قادیانی کو ہم نبی نہیں مانتے اور نہ مرزا قادیانی کا دعوٰی نبوت و رسالت کا تھا؟ یا مرزا قادیانی کا لکھنا غلط ہے یا لاہوری مرزائی تقیہ کرتے ہیں۔
محمد جلالی نام اور احمد جمالی نام کی بدعت مرزا قادیانی نے خود ہی اپنے مطلب کے واسطے ایجاد کی ہے ورنہ شرع محمدی کی کسی کتاب میں نہیں ہے کہ احمد جمالی نام ہے اور نہ کوئی سند شرعی اس پر دلالت کرتی ہے جب تک کوئی سند شرعی قرآن و حدیث و اجتہاد آئمہ دین نہ ہو تب تک قابل تسلیم نہیں۔ پس پہلے کوئی سند شرعی پیش کرو لیکن ہرگز پیش نہ کر سکو گے۔ لَمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا۔ لہٰذا یہ نانویں دلیل بھی ردی ہے۔
دسواں ثبوت: ”یہ ہے کہ انجیل میں لفظ احمد کہیں نہیں آتا۔ پس گو ایک صورت تو یہ ہے کہ انجیل سے یہ لفظ مٹ گیا۔“
(انوار خلافت ص ٣٨)
الجواب: یہ بالکل غلط خیال ہے کہ تحریف سے لفظ احمد مٹ گیا کیونکہ لفظ تو موجود ہے اور چونکہ انجیل عربی زبان میں نازل نہیں ہوئی تھی تو پھر یہ امید ہی فضول ہے کہ احمد کا نام انجیل میں ہوتا۔ ہاں جس لفظ کا ترجمہ احمد و محمد کیا گیا ہے وہ لفظ فارقلیط ہے جس کے معنی اور ترجمہ احمد ہے۔ موجودہ انجیلوں میں بھی لفظ پیری کلیطاس لکھا ہوا موجود ہے اور یہ لفظ یونانی زبان کا ہے چونکہ انجیل عبرانی زبان میں نازل ہوئی تھی، اس لیے عبرانی لفظ فارقلیط تھا جس کے معنی ترجمہ عربی میں احمد ہوا۔ پس یہ کہنا کہ انجیل میں لفظ احمد کا کہیں نہیں آتا غلط بات ہے۔ افسوس پادری تو قبول کریں کہ احمد جس لفظ کا ترجمہ کیا گیا ہے وہ انجیل میں موجود ہے مگر مرزا قادیانی کی امت باوجود دعوٰی اسلام یہ صاف کہہ دیں کہ انجیل میں احمد کا لفظ نہیں اور یہ نہ سمجھے کہ ایسا کہنے سے تو عیسائیوں کو موقعہ دینا ہے کہ وہ محمد ﷺ کی نبوت کا بطلان کریں۔ کیونکہ انجیل میں احمد کا نام نہیں (نعوذ باللہ) قرآن مجید میں غلط لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے احمد رسول کے آنے کی خبر دی۔ تو پھر قادیانی خود غرضی نے نہ صرف محمد ﷺ کی رسالت کو کھویا بلکہ قرآن پر افتراء کا الزام دلایا اور نہ صرف قرآن کو جھٹلایا بلکہ مرزا قادیانی کو بھی جھٹلایا کہ جب آقا کا ہی ثبوت نہیں تو غلام کس باغ کی مولی ہے۔ سچ ہے نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے۔
اب ہم مرزا محمود قادیانی (فرزند مرزا غلام احمد قادیانی) کو بتاتے ہیں کہ پادریوں کا ولیم میور صاحب اپنی تصنیف ”لائف آف محمد“ کی جلد اوّل صفحہ ١٧ میں لکھتے
٢٨
ہیں کہ:۔
”یوحنا کی انجیل کا ترجمہ ابتداء میں عربی میں ہوا اس میں اس لفظ کا ترجمہ غلطی سے احمد کر دیا ہو گا یا کسی خود غرض جاہل راہب نے محمد ﷺ کے زمانہ میں جعلسازی سے اس کا استعمال کیا ہو گا۔“ انتہیٰ۔
اس پادری (سرویلیم میور صاحب) کی زبان سے خدا تعالیٰ نے خود بخود نکلوا دیا کہ کسی راہب نے جعلسازی سے ترجمہ احمد کر دیا۔ جعلسازی کا بار ثبوت پادری صاحب پر ہے اور چونکہ انھوں نے جعلسازی کا کوئی ثبوت نہیں دیا اس لیے ان کا خیال غلط ہوا۔ مگر یہ امر مخالف کی زبان سے ثابت ہوا کہ فارقلیط کے لفظ کا ترجمہ عربی زبان میں احمد ایک راہب نے کیا ہے۔ سبحان اللہ۔ سچ کبھی چھپا نہیں رہتا۔ پادری صاحب کو کیا مصیبت پیش آئی تھی کہ انھوں نے راہب کا نام لیا۔ یہ الزام صرف کسی مسلمان کے سر تھوپ دیتے مگر خدا تعالیٰ نے احمد ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کی خاطر سرویلیم میور کے قلم سے لکھوا دیا کہ فارقلیط کا ترجمہ احمد ہے اور یہ ایک راہب کا ترجمہ ہے کسی مسلمان کا نہیں۔ وللّٰہ الحمد۔
دوسرا الزام پادری صاحب نے یہ لگایا ہے کہ محمد ﷺ کے زمانہ میں یہ ترجمہ ہوا لیکن پادری صاحب نے اس کا ثبوت کچھ نہیں دیا۔ اگرچہ یہ اعتراض بھی قابل اعتبار نہیں مگر ہم اس الزام کو جھوٹا کرنے کے واسطے تاریخی ثبوت پیش کرتے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ پادری صاحب کا یہ الزام بھی غلط ہے کہ فارقلیط کا ترجمہ احمد محمد ﷺ کے زمانہ میں ہوا۔ فتوح الشام کے صفحہ ٧٠ میں مذکور ہے۔ تبع نے قبل ظہور آنحضرت ﷺ کے اشعار نعت کے تصنیف کیے تھے ازاں جملہ ایک شعر نقل کیا جاتا ہے تا کہ معلوم ہو کہ آنے والے رسول کا نام جس کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی، احمد تھا اور احمد ﷺ عربی انجیلوں میں قبل ظہور اسلام ترجمہ ہو چکا تھا۔ وہ شعر یہ ہے؎
”شهدت علی احمد انه رسول من اللّٰه باری النعم“ یعنی گواہی دیتا ہوں میں احمد ﷺ پر کہ تحقیق وہ بھیجے ہوئے خدا کے ہیں جو پیدا کرنے والا جانوں کا ہے۔
دوسری صورت جو آپ نے بیان کی ہے العود احمد کا محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ دوبارہ لوٹنا احمد ہوتا ہے۔ بالکل غلط ہے کیونکہ دوبارہ احمد کبھی نہیں آ سکتا کیونکہ حضورؐ دار فناء سے دار بقاء کی طرف رحلت فرما کر مدینہ طیبہ میں استراحت فرما رہے ہیں۔ آپ ﷺ کا دوبارہ اس دنیا میں تشریف لانا عقیدۂ اہل اسلام کے برخلاف ہے اور نص قرآنی کے صریح مخالف۔ جس میں صاف فرما دیا ہے کہ قیامت سے پہلے کوئی شخص دوبارہ
٢٩
اس دنیا میں نہیں آ سکتا۔ پس اس نص قرآنی سے احمد کے معنی لوٹ کر آنے کے بالکل غلط ہیں۔ باقی رہی آپ کی وہی پرانی رام کہانی کہ مسیح موعود کا آنا گویا دوبارہ احمد کا آنا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے بوجوہات ذیل:۔ نمبر ١:...... حضرت عیسیٰؑ اور حضرت احمد یا محمدﷺ دو الگ الگ وجود ہیں۔ پیشگوئی کرنے والا عیسیٰؑ ہے اور یہ عقلاً باطل ہے کہ احمد کے معنی دوبارہ عود کرنے کے ہوں اور دوبارہ عیسیٰؑ آئے اور اصل احمدﷺ نہ آئے جس کی نسبت بشارت ہے۔ اگر کہو کہ عیسیٰؑ اور احمدﷺ ایک ہی ہیں تو یہ بالبداہت غلط ہے کیونکہ حضرت احمدﷺ حضرت عیسیٰؑ سے چھ سو برس بعد ہوئے۔ اگر عیسیٰ کا دوبارہ آنا یہی معنی رکھتا کہ استعارہ کے طور پر دوسرا رسول اپنا آنا حضرت عیسیٰؑ کا آنا بتائے گا تو حضرت احمدﷺ مسیح موعود کہلاتے اور حضرت محمد رسول اللہﷺ صاف صاف فرماتے کہ میرا آنا مسیح کا دوبارہ آنا ہے کیونکہ میں احمد ہوں اور احمد دوبارہ آنے کو کہتے ہیں۔ مگر حضرت محمدﷺ نے ببانگ دہل اپنی نبوت و رسالت کا الگ دعویٰ کیا اور ہر ایک سے یہی شہادت لی کہ اشہد ان محمد عبدہ و رسولہ ایک شخص تو نکالو کہ جس کو احمدﷺ نے کہا ہو کہ میں دوبارہ دنیا میں آیا ہوں اور میں پہلے عیسیٰؑ تھا۔ جب کوئی ایسا شاہد نہیں ہے اور احمدﷺ کا آنا ایک ہی دفعہ ہوا تو پھر یہ معنی کہ العود احمد دوبارہ آنے کے معنی ہیں۔ غلط ہے۔ نمبر ٢:...... حضرت محمد رسول اللہﷺ جب مبعوث ہوئے اور کل ادیان پر حاکم ہو کر آئے تو جناب کا فرض تھا کہ اختلافی مسائل یہود و نصاریٰ کا فیصلہ کریں چنانچہ آپﷺ نے فیصلہ کیا۔ تثلیث کے عقیدہ کو باطل قرار دیا۔ ابنیت کے مسئلہ کو باطل بتایا۔ الوہیت مسیح کے مسئلہ کو جڑ سے اکھاڑا۔ مسیح کے قتل و صلب کی تردید کی۔ مسیح کے معبود اور الہ ہونے کی تردید کی۔ ازاں جملہ مسیح کی آمد ثانی کا بھی مسئلہ تھا جو کہ انجیل میں اب تک موجود ہے (دیکھو انجیل متی باب ٢٤۔ آیت ٢٧) ”کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندتی ہے اور پچھم تک چمکتی ہے ویسے ہی انسان کے بیٹے کا آنا ہو گا۔‘‘ ٢٨۔ ’’فی الفور ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔‘‘ ٢٩۔ ’’اور اس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا اس وقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے (عیسیٰ) کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔‘‘
٣٠
ناظرین! بادلوں کا لفظ ملاحظہ ہو جو صاف صاف بتا رہا ہے کہ نزول حضرت عیسیٰؑ جسد عنصری سے ہو گا کیونکہ روح کے واسطے بادلوں کی ضرورت نہیں چونکہ نزول فرع ہے صعود کی، پس رفع جسمی حضرت عیسیٰؑ بھی ثابت ہوا کیونکہ وہی جسم نزول کر سکتا ہے جو کبھی اوپر چڑھایا گیا ہو۔
عیسائیوں کے اس انتظار و اعتقاد کا حضورؐ نے کیا فیصلہ کیا؟ ظاہر ہے اس کا فیصلہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ کیا کہ عیسیٰ بیٹا مریمؑ کا جو نبی اللہ و روح اللہ تھا اور نبیوں میں سے ایک نبی تھا وہ قرب قیامت میں ضرور نازل ہو گا اور علامات قیامت میں سے یہ بھی ایک علامت ہے۔ وہ حدیث یہ ہے۔ عن ابن عباسؓ قال قال رسول الله ﷺ فعند ذالک ینزل اخی عیسٰی ابن مریم من السماء۔ (رواہ ابن عساکر فی کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث ٣٩٧٢٦) یعنی ابن عساکر کنز العمال میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نازل ہو گا یعنی اترے گا میرا بھائی عیسٰی بن مریمؑ آسمان سے ...... اور ایک دوسری حدیث میں جو فتوحات مکیہ میں ہے لکھا ہے فانہ لم یمت الی الان بل رفعہ اللّٰہ الی ھذا السماء یعنی فی الواقع عیسیٰؑ نہیں مرے بلکہ خدا نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ یہ دونوں حدیثیں تفسیر ہیں قرآن مجید کی آیات وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَيْهِ اور وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ کی۔ اب رسول اللہ ﷺ کی اس تفسیر کے آگے تمام روئے زمین کے مسلمان کے نزدیک کذابوں مفتریوں مدعیان نبوت و مسیحیت کے من گھڑت معانی اور تفسیر کی کچھ وقعت نہیں رکھتے۔ جو علامات حضرت عیسیٰؑ نے اپنے نزول کی فرمائی ہیں کہ ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی چھوڑ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے وغیرہ علامات قرآن مجید نے بھی تصدیق فرمائی ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰؑ کو وَاِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فرما کر سورۃ تکویر میں بدیں الفاظ انجیل کی تصدیق کی۔ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ یعنی جس وقت کہ سورج لپیٹا جائے گا سورج اپنی روشنی چھوڑ دے گا اور ستارے جھڑ پڑیں گے۔ اس وقت قیامت ہو گی اور حضرت عیسیٰؑ اس وقت نزول فرمائیں گے اور یہ علامت قیامت کی ہو گی جیسا کہ وَاِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ سے ظاہر ہے۔
اور یہ جہالت کے اعتراضات اور علوم دین سے ناواقفیت کی دلیل ہے جو کہا جاتا ہے کہ اصالتاً نزول محالات عقلی و خلاف قانونِ قدرت ہے۔ جب خود قیامت ہی محالات عقلی
٣١
سے ہے کہ گلی سڑی ہڈیاں اور خاک شدہ بدن خدا کی قدرت کاملہ سے زندہ ہو گا اور مردے قبروں سے نکلیں گے۔ یہ سب کچھ محالات عقلی سے ہے۔ جب ایک مومن قیامت کے حشر بالا جساد کے انکار سے کافر ہو جاتا ہے تو نزول عیسیٰ (جو علامات قیامت سے ایک علامت ہے) کا منکر کیوں کافر نہیں ہے؟ پس نزول مسیح کا انکار قیامت کا انکار ہے اور یہ کفر ہے۔ اگر یہ عقیدہ غلط یا شرک ہوتا تو رسول مقبول ﷺ اس کی بھی تردید فرما دیتے جیسا کہ مسائل الوہیت مسیح و ابن اللہ و کفارہ مسیح و مصلوبیت مسیح وغیرہ کی تردید فرمائی تھی ساتھ ہی اس نزول مسیح کے عقیدہ کی بھی تردید فرما دیتے۔ چونکہ رسول مقبول ﷺ نے اصالۃً نزول مسیح کے مسئلہ کو قائم رکھا اور عیسائیوں کے حیات مسیح کے مسئلہ کو بھی جائز رکھا تو اب کس قدر گستاخی و بے ادبی اور ہتک حضور ﷺ کی ہے کہ آپ ﷺ نے شرک کے ایک مسئلہ کو جائز رکھا (معاذ اللہ) اور مسیح کی حیات اس قدر طول طویل عرصہ کی کیوں تسلیم کی اور اپنی امت کو ابتلا میں ڈالا۔ مسئلہ نزول کو بھی کیوں باطل نہ قرار دیا اور کیوں نہ فرما دیا کہ حضرت عیسیٰؑ بھی دوسرے نبیوں کی طرح فوت ہوچکے ہیں اور مردے کبھی اس دنیا میں واپس نہیں آتے اس لیے نزول مسیح کا اعتقاد غلط ہے اور شرک ہے جیسا کہ عیسیٰؑ کا خدا کا بیٹا ہونا یا معبود ہونا شرک ہے ویسا ہی عرصہ دراز تک اس کا زندہ رہنا اور پھر اصالۃً نزول شرک ہے۔ مگر حضور علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا۔ لہٰذا دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو یہ اعتقاد شرک نہیں اس لیے رسول اللہ ﷺ نے جائز قرار دیا اور صحابہ کرامؓ کو اسی عقیدہ پر رکھا۔ چنانچہ دجال والی حدیث میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ابن صیاد کو قتل کرنا چاہا تو محمد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو روک دیا کہ تو دجال کا قاتل نہیں دجال کا قاتل عیسیٰ بن مریمؑ ہے جو بعد نزول اس کو قتل کرے گا۔ (مشکوٰۃ باب قصہ ابن صیاد ص ٤٧٨) پھر دوسری حدیث معراج والی میں فرمایا کہ میں نے جب سب انبیاءؑ کو دیکھا تو قیامت کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ پہلے حضرت ابراہیمؑ پر بات ڈالی گئی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے خبر نہیں۔ پھر حضرت موسیٰؑ پر انھوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔ پھر حضرت عیسیٰؑ پر۔ انھوں نے کہا کہ قیامت کی تو مجھ کو بھی خبر نہیں مگر اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ میں زمین پر نازل ہو کر دجال کو قتل کروں گا اور بعدازاں قیامت آئے گی۔ (ابن ماجہ ص ٢٩٩) الغرض اس مضمون پر بہت حدیثیں ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ اصالۃً نزول فرمائیں گے جیسا کہ قرآن و انجیل سے بھی ثابت ہے اور احادیث میں تواتر سے نزول کی جگہ بھی فرما دی گئی ہے۔ طبرانی میں حدیث ہے ینزل عیسٰی عند ٣٢
المنارة البيضاء شرقی دمشق یعنی حضرت عیسیٰؑ دمشق کے مشرقی سفید مینار پر اتریں گے۔ (ترمذی ج ٢ ص ٤٨ باب ما جاء فی فتنۃ الدجال) چونکہ کذاب مدعیان مسیحیت و نبوت نے بھی ضرور ہونا ہے کیونکہ دو اولوالعزم پیغمبروں کی پیشگوئی ہے یعنی حضرت عیسیٰؑ نے بھی فرمایا کہ جھوٹے مسیح بہت ہوں گے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا کہ میری امت سے تیس جھوٹے نبی ہوں گے اس لیے یہ بھی ضروری تھا کہ کذاب مدعی ہوں تا کہ دونوں مرسل پیغمبروں کی پیشگوئیاں پوری ہوں۔ چنانچہ مفصلہ ذیل اشخاص مرزا قادیانی سے پہلے گزرے ہیں جنھوں نے آنحضرت ﷺ کی تکذیب کی اور نہایت بے باکی سے سچے رسولوں کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ عقلاً جائز نہیں کہ وہی عیسیٰؑ دوبارہ دنیا میں آئیں کیونکہ وہ مرچکے ہیں۔ اصل مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص حضرت عیسیٰؑ کی صفات پر پیدا ہو گا۔ پس وہ شخص یعنی مسیح موعود میں ہوں۔ چنانچہ فارس بن یحییٰ ابراہیم بزلہ شیخ محمد خراسانی بہمک مسٹر وارڈ جزیرہ جمکہ میں ایک حبشی ملک روس میں ایک فرنگی نے دعویٰ کیا۔ (دیکھو عسل مصفّٰی) ملک سندھ میں ایک شخص نے دعویٰ کیا (دیکھو مجمع البحار) یہ نو نام ہیں جنھوں نے عیسیٰ بن مریم مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور بہت لوگ ان کے مرید اور پیرو ہو گئے اور وہ بھی مرزا قادیانی کی طرح کامیاب ہو کر اپنے آپ کو سچا مسیح موعود سمجھنے لگ گئے تھے۔ شاید کوئی مرزائی یہ کہے کہ انھوں نے صرف عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مرزا قادیانی نے عیسیٰ اور مہدی دونوں عہدوں کا دعویٰ کیا ہے اس لیے سچے ہیں۔ تو ہم یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ایک شخص نے جس کا نام احمد بن محمد تھا اس نے مہدی و مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ (دیکھو تاریخ ابوالفدا) اس کا نام احمد تھا نہ کہ غلام احمد۔ پس اس کا دعویٰ بہ نسبت مرزا قادیانی بہت قوی ہے کیونکہ اس کا نام احمد تھا۔ اگر کوئی مرزائی کہے کہ مرزا قادیانی کل انبیاءؑ کے مظہر تھے اس لیے سچے تھے اور ان کے متعدد دعوے تھے تو ہم یہ بھی بتائے دیتے ہیں کہ یہ بھی کذابوں کی چال ہے جو مرزا قادیانی نے متعدد دعوے کیے۔ کرمیتہ مدعی کذاب نے بھی متعدد دعوے کیے تھے جو کہ معتمد کی خلافت میں مدعی نبوت گزرا ہے۔ وہ کہتا تھا کہ میں عیسیٰ ہوں داعیہ ہوں حجت ہوں ناقہ ہوں روح القدس ہوں یحییٰ بن زکریا ہوں مسیح ہوں کلمہ ہوں مہدی ہوں محمد بن حنفیہ ہوں جبریل ہوں (دیکھو غرر الخصائص ص ١٧٥) ایسا ہی اگر مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ میں عیسیٰ ہوں مہدی ہوں مثیل مسیح ہوں رجل فارسی ہوں مجدد ہوں مصلح ہوں آدم ہوں مریم ہوں کرشن ہوں وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ کذابوں کی چال ہے صحابہ کرامؓ سے لے کر تابعین و تبع تابعینؒ ٣٤
میں سے ایک نہ بتا سکو گے کہ جس نے ایسے دعوے کیے ہوں۔ پس جیسے دوسرے مدعیان کاذبہ وہ کاذب تھے ایسے ہی مرزا قادیانی تھے۔ غرض یہ دعاوی ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں اور خلافت اسلامی انھیں مٹاتی آئی ہے۔ ایسا ہی مرزا قادیانی نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صریح تکذیب کی۔ بلکہ نہایت دلیری سے کہا کہ عیسیٰ مرگیا اور قرآن کی ٣٠ آیات غلط معنی کر کے پیش کر دیں کہ عیسیٰ کی وفات قرآن سے ثابت ہے اور رسول مقبول ﷺ کو (نعوذ باللہ) نہ تو قرآن آتا تھا اور نہ حقیقت مسیح موعود معلوم ہوئی تھی آپ ﷺ نے یونہی فرما دیا کہ عیسیٰ میرا بھائی نبی اللہ ابن مریمؑ آسمان سے اترے گا۔ اب ظاہر ہے کہ جیسا نو کذاب مدعیان مسیحیت پہلے گزرے جنھوں نے یہی کہا کہ عیسیٰ اصالتاً نہیں آ سکتا اور ہم بروزی رنگ میں مسیح موعود ہیں۔ ایسے ہی مدعی مرزا قادیانی ہیں اور انہی کذابوں کی طرح اسلامی عقائد کی اُلٹ پلٹ کی۔ اوّل انسان کا خدا ہونا جیسا کہ خود خدا بن گئے۔ دوم خالق زمین و آسمان ہونا۔ سوم خالق انسان ہونا۔ (دیکھو کشف مرزا قادیانی مندرجہ کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) چہارم خدا کا تجسّم یعنی مرزا قادیانی نے اپنی پیشینگوئیوں پر خدا تعالیٰ کے دستخط کرائے اور خدا نے قلم جھاڑا تو سرخی کے قطرے مرزا قادیانی کے کرتہ پر پڑے۔ (دیکھو حقیقۃ الوحی ٨٦ نشان ص ٢٥٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧) پنجم خدا کی اولاد۔ (دیکھو الہام مرزا قادیانی انت منی بمنزلۃ اولادی (حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) ششم خدا کا چہرہ اور خدا کا گھونگھٹ۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ خدا مجھ سے گھونگھٹ اٹھا کر ذرہ چہرہ ننگا کر کے باتیں کرتا ہے۔ (ضرورۃ الامام ص ١٣ خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) ہفتم خدا کا حلول۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ آں خدا اے کہ از وا خلق جہاں بے خبرند۔ برمن جلوہ نمود است گر اہلی بپذیر (درثمین فارسی ص ١١١) یعنی وہ خدا جو جہان کی نظروں سے دور ہے یعنی نظر نہیں آتا اس نے میرے میں جلوہ کیا ہے اگر تم اہل ہو تو قبول کرو۔ ہشتم اوتار کا مسئلہ۔ سیالکوٹ والے لیکچر میں لکھا ہے کہ ”میں کرشن جی کا اوتار ہوں ۔“ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨) غرض یہ بہت طویل مضمون ہے یہاں گنجائش نہیں۔ نبوت و رسالت کے مدعی ہوئے۔ نمازیں جمع کیں۔ اپنے مریدوں کو مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھنے سے روک دیا۔ مسلمانوں کے جنازے پڑھنے سے منع کر دیا۔ رشتے ناطے منع کر دیئے۔ تمام انبیاءؑ اور بزرگوں کی ہتک کی اور ان پر اپنی فضیلت جتائی۔ آپ کا ایک شعر ہے۔ آنچہ داد است ہر نبی را جام ۔ داد آں جام را مرا بتمام (نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧) یعنی جو کچھ نعمت ہر ایک نبی کو دی گئی ہے وہ سب ملا کر مجھ اکیلے کو دی گئی ہے ٣٤
اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ میں کوئی نیا دین نہیں لایا۔ اجی حضرت! یہ نیا دین نہیں تو اور کیا ہے؟ جب نئے اوامر ونواہی اپنے مریدوں کو بتائے تو یہی نیا دین ہے۔
مرزا قادیانی نے اپنے دعوے کی بنیاد حیات مسیح کے انکار پر رکھی کیونکہ اصالۃً نزول کے واسطے حیات ضروری ہے اسی واسطے انجیل، قرآن و احادیث حیات مسیح کے ثبوت میں یک زباں شاہد ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے اس بحث کی بنیاد ایسے طریق پر رکھی کہ جیسے ہر ایک کاذب اپنا ہتھکنڈہ رکھتا ہے اور اناپ شناپ سوال و جواب بنا رکھے ہیں کہ ہر ایک مرید اس میں بحث کرتا ہے اور نصوص شرعی کی صریح مخالفت کرتے ہیں اور طبعزاد ڈھکوسلے لگاتے ہیں حالانکہ کئی دفعہ شکست کھا چکے ہیں اور کچھ جواب نہیں دے سکتے اور نہ قرآن و حدیث سے کوئی سند پیش کی کہ جس میں لکھا ہو کہ عیسیٰؑ مر گئے یا عیسیٰؑ کو خدا نے موت دے دی اور نہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود ثابت کر سکتے ہیں۔ ہر ایک بات استعاری اور مجازی۔ ظلی و بروزی ہے جب کہا جاتا ہے کہ مسیح موعود تو عیسیٰ بن مریم نبی اللہ ہے جس کو رسول اللہ ﷺ نے اپنا بھائی عیسیٰ فرمایا ہے اور مرزا قادیانی اپنے آپ کو کرشن کہتے ہیں کسی حدیث میں نہیں آیا کہ مسیح موعود میں کرشن بھی ہو گا تو جواب ملتا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر ایک مجدد آیا کرتا ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ مجدد بدعتی نہیں ہوتا اور مرزا قادیانی نے اسلام میں بدعتیں نکالی ہیں۔ جیسا کہ ان کے ایجاد کردہ مسائل اوپر درج ہوئے تو کہتے ہیں کہ ایک رجل فارسی کی آمد کی پیشگوئی ہے۔ مرزا قادیانی رجل فارسی تھے حالانکہ وہ حدیث پارسی کے حق میں تھی۔ جس میں محمد رسول اللہ ﷺ نے سلمان فارسی کے حق میں فرمایا تھا کہ یہ شخص ایسا متلاشی حق ہے۔ اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو وہاں سے بھی یہ رجل فارسی ایمان حاصل کرتا۔ یہ پیشگوئی ہرگز نہیں صرف سلمان فارسی کی تعریف ہے کہ وہ نہایت درجہ کا محقق و متلاشی دین تھا۔ جس نے آخر تلاش کر کے کئی ایک دوسرے دین چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔ غرض مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ بھی بااستقلال نہ تھا اور دعاوی بہت کچھ تھے جیسا موقعہ ہوتا ویسا جواب دیتے۔ عود احمد کا ڈھکوسلا آپ نے ایجاد کیا ہے بالکل غلط ہے کیونکہ عود عیسیٰؑ موعود ہے نہ عود غلام احمد اب ذرہ غور تو کرو کہ آنحضرت ﷺ نے عود عیسیٰؑ کا فیصلہ کرنا تھا کہ اس کا عود کرنا درست ہے یا نہیں؟ نہ یہ کہ احمد خود ہی اپنا دوبارہ آنا فیصلہ کر دیتا۔ دعویٰ تو ہو عیسیٰؑ نبی اللہ کی نسبت اور حاکم ڈگری دے کہ میں ہی دوبارہ بروزی رنگ میں یعنی غلام احمد قادیانی بن کر آؤں گا اور یہ میری ہی بعثت ثانی ہو گی۔ اس فیصلہ سے تو تمام حدیثیں نزول عیسیٰؑ کی
٣٥
ردی ہو جاتی ہیں۔ اس فیصلہ میں تو سراسر لغویت اور ہتک محمد رسول اللہ ﷺ ہے کہ دعویٰ کچھ اور ہے اور فیصلہ کچھ اور۔ اگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ مطلب ہوتا کہ میری امت کا کوئی فرد امام ہو گا اور وہی مسیح آخر الزمان ہو گا تو صاف فرما دیتے کہ حضرت عیسیٰ کا دوبارہ آنا باطل ہے کیونکہ وہ فوت ہو چکا ہے اور جو فوت ہو جائے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتا۔ جب سارے انبیاء آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک فوت ہو چکے اور کسی ایک کا نزول نہیں ہوا تو عیسیٰ کی کیا خصوصیت ہے کہ وہ دوبارہ آئے؟ پس یہ باطل عقیدہ ہے کہ نزول مسیح کا مسئلہ جو انجیل میں ہے مانا جائے مسلمانوں کو ہرگز نہ ماننا چاہیے...... مگر چونکہ آنحضرت ﷺ نے ایسا فیصلہ نہیں کیا بلکہ بالکل انجیل کے اس مسئلہ کی تصدیق فرمائی اور وہ اس طرح کہ مسیح فوت نہیں ہوا کیونکہ اگر فوت ہو جاتا تو بموجب نص قرآنی واپس نہ آتا جیسا کہ تمام دوسرے انبیاء میں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا پس عود مسیح کے واسطے حیات مسیح لازمی امر تھا۔ اسی واسطے آنحضرت ﷺ نے حیات مسیح ثابت کی اور فرمایا انہ لم یمت۔ دوم! اسم علم فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم نبی اللہ اور روح اللہ اور اخی فرمایا۔ یعنی اس قدر تمیزی الفاظ استعمال فرمائے کہ اس سے زیادہ ہو نہیں سکتے۔ پہلے عیسیٰ فرمایا اور پھر اس کی والدہ کا نام فرمایا کہ کوئی بروزی عیسیٰ نہ بن بیٹھے اور لوگ دھوکہ کھا جائیں اور ابن مریم اس واسطے فرمایا کہ اس کا باپ نہ تھا اور پھر نبی اللہ فرمایا کہ کوئی امتی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کر بیٹھے اور پھر روح اللہ فرمایا تا کہ معلوم ہو کہ نبی ناصری کا ہی نزول ہو گا جس کا لقب روح اللہ تھا اور پھر اخی کے لفظ سے خاص کر کے امتی سے مستثنیٰ کر دیا کیونکہ امتی محمد رسول اللہ ﷺ کا بھائی نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی دلیری دیکھئے کہ ایک غلام احمد کو نبی اللہ اور برادر محمد بنا کر کس قدر محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک اور تکذیب کی جاتی ہے؟ کہ ہر ایک بات کو جھٹلایا جاتا ہے اور اس کی تاویل بعید از عقل و نقل کی جاتی ہے کہ انجیل و قرآن کا مطلب (نعوذ باللہ) محمد رسول اللہ ﷺ نہ سمجھے اور نہ انھوں نے صحیح فیصلہ کیا۔ صحیح فیصلہ یہ تھا کہ عیسیٰ نے فرمایا کہ میں اب جاتا ہوں اور پھر قیامت کے قریب آؤں گا اور قرآن نے بھی وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فرما کر تصدیق فرما دی تھی سب غلط ہے۔ مطلب تو یہ تھا کہ غلام احمد قادیانی بروزی رنگ میں آیا اور یہی مسیح موعود ہے۔
مسئلہ بروز کی تحقیق
اب ہم مختصر طور پر مسئلہ بروز کی حقیقت لکھتے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ مسئلہ بروز
٣٦
ایسا ہی باطل ہے جیسا کہ مسئلہ اوتار و تناسخ باطل ہے۔ اسلامی مسئلہ ہرگز نہیں۔ شیخ بوعلی سینا نے شفا میں اور قطب الدین شیرازی نے شرح حکمت الاشراق میں لکھا ہے کہ بعض حکما بروز و کمون کے قائل تھے۔ ان کا قول ہے کہ استحالہ فی الکیفیت ممکن نہیں۔ مثلاً پانی گرم کیا جاتا ہے تو یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اس کی برودت جاتی رہی اور بجائے اس کے اس میں کیفیت حرارت آ گئی۔ اس لیے کہ حرارت و برودت وغیرہ کیفیات اولیہ محسوسہ عناصر کی صور نوعیہ ہیں اور ممکن نہیں کہ صور نوعیہ فنا ہونے پر بھی حقائق نوعیہ باقی رہیں۔ پھر پانی جو گرم ہو جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی میں حرارت بھی کامن یعنی پوشیدہ تھی۔ جب حرکت جو باعث حرارت ہے اس کو لاحق ہو یا آگ اس سے متصل ہو تو وہ حرارت ظاہر ہو جاتی ہے جو اسمیں کامن تھی الخ۔
(افادة الافہام حصہ اول ص ٣٠٣)
اس اختصار سے معلوم ہوا کہ بروز مسئلہ اسلامی نہیں بلکہ مادہ پرست حکماء کا مسئلہ ہے مرزا قادیانی نے مسئلہ بروز کو صرف اپنی خاطر مانا ہے اور اسی مسئلہ کی بنا پر خدا بنے۔ رسول بنے بلکہ جملہ انبیاء کے بروز بنے اور آخر کرشن جی بھی بنے۔ مگر حقیقت میں کچھ بھی نہ تھے۔ جیساکہ سابقہ عبارت سے ظاہر ہے ایک وجود سے باہر سے کوئی چیز موثر نہیں ہو سکتی، صرف اس کے اتصال سے کیفیت کا بدلنا عارضی طور پر ہوتا ہے اور جب وہ اتصال دور ہو تو وہ کیفیت بھی دور ہو جاتی ہے۔ مثلاً جب تک لوہا آگ میں رہے گا تب تک اس میں حرارت رہے گی۔ جب آگ سے دور ہوا تو پھر اپنی اصلی صفت و خواص پر آ جاتا ہے۔ پس مرزا قادیانی بھی جب تک اتصال خیالی و وہمی سے رسول و نبی کے قریب ہوئے اس کی صفت عارضی طور پر مرزا قادیانی نے اپنے آپ میں تصور کر لی اور جب وہ تصور دور ہوا تو بروز کے اصول کے مطابق مرزا قادیانی کی بھی کیفیت رسالت و نبوت و مسیحیت و مہدویت جاتی رہی اور پھر مرزا غلام احمد کے غلام احمد رہ گئے۔ پس حقیقی طور پر نہ تو مرزا قادیانی عیسیٰ بن مریم ہوئے اور نہ ابن مریم ہو کر نزول کیا۔ صرف اپنے آپ کو ایک تصوری اور وہمی صفات سے متصف بنا کر مدعی ہوئے جو کہ عارضی طور سے بروزی رنگ میں رنگین ہو کر اس شغال کی طرح جو نیل کے مٹکے میں گر گیا تھا اور اپنے آپ کو عجیب الخلقت تصور کر کے جنگل کا بادشاہ جانتا تھا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی اپنے آپ کو قوت خیالی سے عیسیٰ بن مریم سمجھ کر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ خیال نہ کیا کہ اس میں محمد رسول اللہ ﷺ کی اور انجیل اور حضرت عیسیٰ کی تکذیب ہے، کیونکہ جب ان کا فیصلہ ناطق ہے کہ وہی عیسیٰ بن مریم دوبارہ آئے گا نہ کہ اس کا کوئی مثیل۔
٣٧
اگر مثیل کوئی سچا مسیح موعود ہوتا تو اب تک جو آٹھ نو مدعیان مسیحیت گزرے ہیں کوئی تو سچا نکلتا اور چونکہ مسیح کا عود قیامت کی نشانی تھی تو قیامت بھی آ گئی ہوتی مگر قیامت نہیں آئی۔ دنیا کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے حالانکہ پہلے مدعیان کاذب بڑے بڑے کامیاب بھی ہوئے۔ انھوں نے مثیل ہونے کا ثبوت بھی دیا کہ جو کام خارق عادت حضرت عیسیٰ کرتے تھے وہ کر کے بھی دکھا دیئے۔ چنانچہ کتاب المختار میں لکھا ہے کہ معتز باللہ کے زمانہ میں ایک شخص جس کا نام فارس ابن یحییٰ تھا مصر کے علاقہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے عیسیٰ کا مثیل بن بیٹھا تھا اور کہتا کہ میں مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں اور ابرص اور جذامی و اندھے کو شفا دے سکتا ہوں۔ چنانچہ طلسم وغیرہ تدابیر سے ایک مردہ کو زندہ بھی کر دکھایا۔ اسی طرح برص وغیرہ میں بھی تدابیر سے کام لے کر بظاہر کامیاب ہو گیا۔ الخ۔
(افادۃ الافہام حصہ اوّل ص ٣٦١)
مرزا قادیانی سے تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہ ہو سکا۔ جب عبداللہ آتھم نے مباحثہ میں مرزا قادیانی سے کہا کہ آپ جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مسیح تو بیماروں کو اچھا کرتے تھے آپ بھی ایک آدھ مرض کو اچھا کر کے دکھائیں تا کہ معلوم ہو کہ آپ کی دعا مسیح کی طرح قبول ہوتی ہے اور بغیر دوا کے خدا ان کو شفا دیتا ہے تا کہ آپ کا مثیل مسیح ہونا تصدیق ہو۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ آپ کی انجیل میں لکھا ہے کہ اگر آپ کا ایمان رائی بھر بھی ہو تو آپ پہاڑ کو جگہ سے ہلا سکتے ہیں۔ آپ پہاڑ کو جگہ سے ہلا کر دکھائیں تو میں ان مریضوں کو اچھا کر دوں گا۔ کیا خوب جواب ہے جس کا مطلب صاف یہ ہے کہ جیسے تم جھوٹے عیسائی ہو کہ پہاڑ کو اپنے ایمان کے وسیلہ سے نہیں ہلا سکتے ایسا ہی میں بھی جھوٹا مسیح ہوں کہ مریضوں کو اچھا نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی کو الزامی جواب دینے میں کمال حاصل تھا۔ مگر وہ یہ نہ جانتے تھے کہ الزامی جواب ایک طرح کا اقرار ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے کہ تو کانا ہے اور دوسرا اس کو جواب دیتا ہے کہ تو اندھا ہے اور اس کا اندھا اور کانا ہونا ثابت بھی کر دے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ میں کانا ضرور ہوں مگر تو مجھ سے زیادہ عیب والا ہے۔ اسی طرح الزامی جواب دینے والا اپنے عیب کا اقرار کر کے دوسرے کو الزام دیتا ہے۔ مرزا قادیانی چونکہ خود معجزہ نمائی سے خالی تھے اور دعا کا قبول نہ ہونا یقینی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ نہ ان کی دعا قبول ہو گی نہ مریض شفا پائیں گے لہٰذا عبداللہ آتھم کو الزامی جواب دے کر ٹال دیا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تو بحال رکھا مگر معجزات مسیح ؑ کو مسمریزم کہہ
٣٨
دیا اور ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ اگر میں اس عمل کو مکروہ نہ سمجھتا تو مسیح سے بڑھ کر اعجوبہ نمایاں دکھاتا۔ چونکہ مرزا قادیانی مسمریزم سے بھی کوئی معجزہ نہ دکھا سکتے تھے اس لیے پیشبندی کے طور پر کہہ دیا کہ یہ مکروہ کام ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ حضرت آپ مسمریزم سے ہی کچھ کر کے دکھاؤ۔ مرزا قادیانی کا معجزات مسیح کو ایک مکروہ فعل قرار دینا ایسی بے جا حرکت ہے کہ جس سے حضرت عیسیٰؑ مکروہ کام کرنے کے ملزم ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ ایک اولوالعزم پیغمبر سے مکروہ کام کراتا ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰؑ نے (نعوذ باللہ) مکروہ کام کیا۔ جب رسول و نبی مکروہ کام کرے تو عام لوگوں کا کہاں ٹھکانا ہے؟ دوم! الزام خدا پر آیا کہ اس نے اپنے ایک رسول سے مکروہ کام کرایا اور منع نہ کیا۔ حالانکہ اس سے باتیں کرتا تھا۔ سوم! قرآن مجید نے بھی غلط تصدیق کی کہ فرماتا ہے فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ۔ یعنی حضرت جب احمدﷺ معجزات کے ساتھ آیا تو کفار نے کہا کہ یہ تو جادو ہے کھلا کھلا (نعوذ باللہ) قرآن اور محمدﷺ نے بھی جھوٹ کہا۔ یہ ہے اثر مرزا قادیانی کی دریدہ دہنی کا۔ چونکہ مرزا قادیانی خود خالی تھے اس لیے انبیاءؑ کے معجزات سے بھی انکار کر دیا تا کہ نبوت کا دعویٰ سن کر کوئی معجزہ نہ طلب کرے۔
ان تمام حالات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نہ مسیح موعود تھے۔ نہ احمد تھے اور نہ ان کا من گھڑت دعویٰ کہ میں مظہر جملہ انبیاء ہوں۔ درست تھا۔ اور نہ وہ جلالی محمد اور جمالی احمد تھے۔ مصرعہ۔ ”بناوٹ کی تھی ساری کاریگری“ اب تو ثابت ہوا کہ آپ کی یہ دلیل کہ العود احمد سے مسیح موعود مراد ہے بالکل غلط ہے۔ عود عیسیٰؑ موعود تھا نہ کہ عود احمد (اور اگر مدعیان مسیحیت پر غور کریں تو مرزا قادیانی سے بڑھ کر دعاوی والے اور مرزا قادیانی سے بڑھ کر ایسے کامیاب گزرے ہیں جنھوں نے سلطنتیں اسی دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کی بدولت قائم کر لیں اور اس قدر کامیاب رہے کہ تین سو برس تک ان کے خاندان میں سلطنت قائم رہی۔ دیکھو تومرت‘ و محمد احمد‘ حسن بن صباح جو پچیس و چالیس برس تک دعویٰ نبوت و رسالت و مہدویت کے ساتھ زندہ رہے اور مرزا قادیانی کی دلیل لو تقول والی کو کہ جھوٹے مفتری کو مہلت نہیں ملتی باطل ثابت کر گئے۔ پس یہ دسواں ثبوت بھی آپ کا ردی ہے۔
دوسری دلیل: ”آپ کی اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ۔ پس جب وہ رسول کھلے کھلے نشانات کے ساتھ آئے گا تو لوگ ان دلائل و براہین کو سن کر جو وہ دے گا کہیں گے کہ یہ تو سحر
٣٩
مبین یعنی کھلا کھلا فریب ہے یا جادو۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح موعود سے یہی سلوک ہوا ہے۔“
(انوارِ خلافت ص ٤٠)
الجواب: یہ ترجمہ آیت کا جو آپ نے کیا غلط ہے کیونکہ فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنٰتِ میں جَاءَ ماضی کا صیغہ ہے اور جَاءَ میں جو ضمیر مستتر ہے وہ ایسے رسول کی طرف راجع ہے جو آ چکا ہے نہ کہ آئندہ زمانہ میں آئے گا۔ یہ قرآن شریف کا معجزہ ہے کہ خواہ کوئی خود غرض کیسا ہی دھوکہ دینا چاہے الفاظ قرآن، ترکیب معنوی و ترتیب لفظی فوراً اسے باطل کر دیتی ہے اور دیکھنے والے کو فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ اس جگہ قائل يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِه کا مرتکب ہوا ہے۔
اب ہم قرآن مجید کی پوری آیت لکھتے ہیں اور اس کا صرف لفظی ترجمہ کر دیتے ہیں تاکہ ناظرین خود سوچ لیں اور فیصلہ کر لیں کہ مرزا محمود قادیانی نے کس قدر دلیری کی ہے؟ اور تفسیر بالرأی کے مرتکب ہوئے ہیں جو فرماتے ہیں کہ وہ رسول آئے گا۔
وَإِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اور جب کہا عیسیٰ بیٹے مریم نے يٰبَنِيْ إِسْرَائِيْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰةِ اے بنی اسرائیل تحقیق میں اللہ کا رسول ہوں طرف تمہاری تصدیق کرنے والا تورات کو جو کہ میرے ہاتھ میں ہے وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهُ اَحْمَدُ اور بشارت دینے والا ساتھ ایک رسول کے جو میرے بعد آئے گا نام اس کا احمد ہوگا۔ فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنٰتِ پس جب آیا وہ پاس ان کے ساتھ معجزوں کے قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ. تو کہا انھوں (بنی اسرائیل) نے کہ یہ تو جادو ہے کھلا کھلا۔
اس آیت شریف میں دو ماضی کے صیغے ہیں ایک قَالَ اور دوسرا جَاءَ ان دونوں ماضی کے صیغوں میں جو ضمیریں واحد کی ہیں ان میں سے پہلی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰؑ ہیں جو کہ آیت میں مذکور ہیں۔ دوسری ضمیر کا مرجع رسول ہے جو کہ اسی آیت میں مذکور ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰؑ نے جس رسول کی بشارت دی تھی جب وہ رسول آیا اور معجزات دکھائے تو کفار نے کہا کہ ”یہ جادو ہے کھلا کھلا“ یعنی صاف جادو ہے اس کی باتوں میں اس قدر جادو ہے کہ جو اس سے گفتگو کرتا ہے اس کے دام میں آ جاتا ہے۔ اس کے پاس ایک کتاب ہے وہ کتاب ایسی سحر انگیز ہے کہ جس نے اسے پڑھا وہ فریفتہ ہو گیا۔ الخ۔ چنانچہ محمد ﷺ نے جب عتبہ کو قرآن حٰمٓ تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ. (حم سجدہ ٨) لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ تک
١٤٧
سنایا تو عتبہ کے دل پر کلام ربانی کی وہ تاثیر ہوئی کہ محو ہو کر سنتا رہا اور آخر چپکے سے اٹھ کر چل دیا۔ سرداران قریش جو نتیجہ ملاقات کے سخت منتظر تھے جا کر ان کو عتبہ نے اطلاع دی کہ میں ایسا کلام سن کر آیا ہوں جو نہ تو شعر ہے نہ سحر ہے اور نہ کہانت۔ میں تم کو یہی صلاح دیتا ہوں کہ محمد ﷺ کو کچھ نہ کہو۔ سردار بولے یہ بھی سحر زدہ ہو گیا۔ اس تاریخی واقعہ سے ثابت ہے کہ محمد ﷺ کو کفار ساحر کہتے تھے۔ فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنٰتِ میں جو ضمیر ہے وہ حضرت محمد ﷺ کی طرف راجع ہے اور اسی کو ساحر کہا گیا نہ کہ مرزا قادیانی۔ جن کو کافر دجال، فرعون و ہامان وغیرہ وغیرہ کہا گیا۔
(النبی والاسلام ص ٢٥٨)
خواجہ کمال الدین قادیانی اپنی کتاب اسوۂ حسنہ (ص ١٠٥) میں لکھتے ہیں ”کہ قریش آنے والوں کو اطلاع دیتے کہ محمد نامی ایک ساحر ان میں پیدا ہوا ہے۔“ اب ظاہر ہے کہ جس رسول کی بشارت عیسیٰؑ نے دی تھی اس رسول کو ساحر کہا گیا اور وہ رسول بنی اسرائیل میں آنے والا تھا۔ کیونکہ جَاءَ هُمْ کا ضمیر صاف بتا رہا ہے کہ وہ رسول جس کی بشارت بنی اسرائیل کو حضرت عیسیٰ نے دی تھی جب وہی رسول بنی اسرائیل میں آیا تو انھوں نے قبول نہ کیا۔ مرزا قادیانی اس کے مصداق ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ بنی اسرائیل میں نہیں آئے۔ مرزا قادیانی کے مد مقابل آریہ، عیسائی، سکھ و ہنود وغیرہ ہندوستانی و پنجابی تھے۔ اس واسطے استقبال کے معنی کرنے ہرگز درست نہیں کیونکہ پھر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ”جس وقت کہے گا عیسیٰ بیٹا مریم کا کہ اے بنی اسرائیل میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں۔ تصدیق کرنے والا تورات کا جو میرے ہاتھ میں ہے اور بشارت دینے والا ایک رسول کی جس کا نام احمد ہے اور جس وقت وہ آئے گا تو لوگ کہیں گے (یعنی بنی اسرائیل) کہ یہ تو جادو ہے ظاہر کھلا ہوا۔ ان معنوں سے تو محمد رسول اللہ کی نبوت بھی جاتی ہے۔ نحوی غلطی کو جانے دو اور مفسرین کے اجماع کو بھی بالائے طاق رکھو۔ مگر یہ تو بتاؤ کہ عیسیٰ نے تو ابھی کہا ہی نہیں۔ تو پھر نہ محمد ﷺ رسول ہوئے اور نہ مرزا قادیانی ان کے مظہر ہوئے۔
دوم! آپ اقرار کر چکے ہیں کہ محمد ﷺ بھی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں اور مرزا قادیانی بھی۔ تو یہ صریح غلط ہے کیونکہ ایک رسول کی بشارت ہے نہ کہ دو رسولوں کی۔ پس دونوں میں سے ایک سچا رسول ہوگا۔ سوم! آپ کا یہ فرمانا بھی صحیح نہیں کہ آئندہ کی بات کو بیسیوں جگہ قرآن کریم میں ماضی کے پیرایہ میں بیان فرمایا ہے حتیٰ کہ بعض جگہ دوزخیوں اور جنتیوں کے اقوال کو ماضی کے صیغہ میں ادا کیا ہے۔ کیا خوب؟
٤١
آپ نے خود ہی اس اعتراض کا جواب دے دیا ہے کہ دوزخیوں اور جنتیوں کے اقوال کو ماضی کے صیغوں میں ادا کیا ہے۔ اس سے کس کو انکار ہے۔ مگر یہ طرز قرآن کریم نے صرف قیامت اور روز جزا کے واسطے خاص اختیار کی ہے۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح گذشتہ زمانہ کی باتوں پر یقین ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے آنے اور جزا سزا کا امر یقینی ہے۔ یہ خصوصیت صرف یوم آخرت کے امر یقینی ثابت کرنے کے واسطے ہے۔ جیسا کہ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا (زلزال ٣-١) سے ظاہر ہے نہ کہ ہر جگہ جو ماضی کا قصہ گزرا ہوا ہے اور قرآن شریف اس کو عبرت کے واسطے بیان کرتا ہے وہ بھی خواہ مخواہ ماضی کے قصے استقبال کے سمجھے جائیں۔ کیا وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ کے معنی آپ یہ کرتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ فرشتوں کو آدم کے سجدہ کے واسطے کہے گا یا اَبٰی وَاسْتَكْبَرَ کے معنی یہ کر سکتے ہیں کہ جب شیطان انکار اور تکبر کرے گا۔ ہرگز نہیں۔ تو پھر آپ حضرت عیسیٰؑ کے قصہ میں (جو مذکور ہو رہا ہے) صیغہ ہائے ماضی کے معنی کس طرح مستقبل کے کر کے کہیں کہ ایک رسول آئے گا کہ اس کا نام احمد ہو گا۔ چہارم! یہ بالکل غلط ہے کہ مرزا قادیانی نے کوئی معجزہ دکھایا اور لوگوں نے اسے جادو کہا۔ مرزا قادیانی تو معجزات کو محال عقلی و خلاف قانونِ قدرت کہہ کر انکار کرتے تھے۔ بلکہ مرزا قادیانی تو ایسے زمانہ روشنی علم میں مدعی ہوئے کہ کوئی شخص جادو و طلسم وغیرہ محالاتِ عقلی کا قائل ہی نہیں اور مرزا قادیانی خود بھی نیچری خیالات کے تھے۔ چنانچہ حضرت محمد ﷺ کے معراج جسمی کے باعث اثر نیچریت ہی منکر تھے۔ حضرت ابراہیمؑ کے لیے پرندوں کے زندہ ہونے سے انکار کیا۔ حضرت مسیحؑ کے مردے زندہ کرنے اور مریضوں کو اچھا کرنے سے انکار کیا۔ معجزہ شق القمر کے واقعی ہونے سے انکار کیا اور عقلی معجزہ کہا۔ غرض کہ جب وہ خود معجزات سے انکاری تھے تو پھر ان کا معجزہ دکھانا اور لوگوں کا انکار کر کے سحر مبین کہنا کیا معنی رکھتا ہے؟ مرزا قادیانی سے ایک معجزہ بھی ظہور میں نہیں آیا ہاں البتہ رمل و نجوم سے انھوں نے پیشگوئیاں کیں جو سب جھوٹی نکلیں بلکہ تین پیشگوئیاں مرزا قادیانی نے معیارِ صداقت مقرر کیں۔ محمدی بیگم کے نکاح والی احمد بیگ کے داماد کی وفات والی مولوی ثناء اللہ امرتسری کی وفات والی سب جھوٹی نکلیں۔ یہ بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے کہ مسلمان مرزا قادیانی کے نشان کو جادو کہتے تھے۔ مسلمان آریہ عیسائی جن جن کے متعلق مرزا قادیانی نے پیشگوئیاں کیں اور وہ جھوٹی نکلیں انھوں نے مرزا قادیانی کو کاذب کہا۔ علمائے اسلام نے ان کو کافر کہا مفتری و ٤٢
دجال کہا‘ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں (دیکھو حقیقۃ الوحی ص ٧٣ نشان ١٧٣ خزائن ج ٢٢ ص ٣٨٧) چراغدین جموں والے نے مرزا قادیانی کو دجال کہا۔ ڈاکٹر عبدالحکیم نے مرزا قادیانی کو جو کچھ کہا مرزا قادیانی خود (حقیقۃ الوحی میں ص ٣٩٢ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٩) کے زیر عنوان ”خدا سچے کا حامی ہو“ لکھتے ہیں کہ ”ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذاب‘ مکار‘ شیطان‘ دجال‘ شریر‘ حرام خور رکھا ہے۔“ بابو الٰہی بخش مرحوم نے مرزا قادیانی کو فرعون کہا۔ (حقیقۃ الوحی ص ١٤٢ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨٠) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”بابو الٰہی بخش نے بار بار لکھا کہ مجھ کو الہام ہوتے ہیں کہ یہ شخص یعنی مرزا قادیانی کذاب اور دجال اور مفتری ہے۔ مولوی عبدالرحمٰن محی الدین لکھو کے والے لکھتے ہیں کہ اس عاجز نے دعا کی کہ یَا خَبِیْرُ اَخْبِرْنِیْ یعنی مجھے خبر دیجئے کہ مرزا کا کیا حال ہے تو خواب میں یہ الہام ہوا اِنَّ فِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَجُنُوْدَہُمَا کَانُوْا خَاطِئِیْنَ. یعنی مرزا قادیانی فرعون وہامان اور ان کے لشکر خطا کار ہیں (حقیقۃ الوحی زیر عنوان ”خدا سچے کا حامی ہو“ ص ١٩ خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٠) یہ مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات سے ثابت ہے کہ ان کو ان کے مقابل کے لوگ دجال‘ کذاب‘ شریر‘ حرام خور‘ فرعون وغیرہ وغیرہ کہتے تھے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ مرزا قادیانی نے جادو کر کے یہ کام کر دکھایا۔ انھوں نے تو کچھ کیا ہی نہیں۔ اس مصری مسیح کی طرح اگر کوئی مردہ طلسم سے ہی زندہ کر دکھاتے۔ اندھوں اور لولوں لنگڑوں کو مسمریزم سے ہی شفا دے دیتے تو شاید کوئی دیکھ کر جادوگر کہہ دیتا۔ مگر مرزا قادیانی تو ایسے زمانہ میں مدعی ہوئے کہ علمی روشنی کا زمانہ تھا جس سے متاثر ہو کر خود مرزا قادیانی سحر وطلسم وشعبدہ وغیرہ تعویذ گنڈے کے قائل نہ تھے۔ خلاف قانون قدرت ومحال عقلی امور عجوبہ کو مانتے تک نہ تھے تو پھر آپ کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کو لوگوں نے جادوگر کہا۔ بالکل غلط ہے۔
مرزا قادیانی سے نہ کبھی کوئی معجزہ ظہور میں آیا اور نہ کسی نے ان کو ساحر کہا۔ مرزا قادیانی اپنی سچائی کے ثبوت میں ہمیشہ پیشگوئیاں پیش کرتے رہے جو کہ جھوٹی نکلتی رہیں اور تاویلات بعید از عقل کر کے ابلہ فریبی کرتے رہے۔ ان کے مرید بھی انہی کی پیروی میں خواہ مخواہ الفاظ پیشگوئی کے الٹے پلٹے معنی کر کے کوئی واقعہ یا حادثہ وقوع میں آئے تو مرزا قادیانی کے شاعرانہ تخیلات وعبارات سے نکال کر شورِ محشر برپا کر دیتے ہیں کہ یہ دیکھو مرزا قادیانی نے اتنے برس پہلے یہ پیشگوئی کی تھی جو اب پوری ہوئی۔ انوری نے مرزائیوں کے حق میں کئی سو برس پہلے پیشگوئی کر رکھی ہے وہو ہٰذا ۔
٤٣
گرچہ بر دیگرے قضا باشد
بر زمیں نا رسیدہ مے پرسد
خانہ قادیاں کجا باشد
انوری نے اجتہادی غلطی سے ”خانہ انوری کجا باشد“ لکھا ہے کیونکہ اس کو بہ سبب نہ ہونے نمونہ کے حقیقت حال معلوم نہ تھی۔ اب قادیانیوں کا نمونہ موجود ہے۔ ہم نے اصلاح کر دی ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی نے دجال و مسیح موعود کی اصلاح کی ہے۔ آج کل مرزا قادیانی کی نظم میں سے (جس کے ٢٠٨ شعر ہیں) چند شعر لے کر ان میں سے صرف زار کا لفظ لے لیا ہے۔ کہ زار کا لفظ مرزا قادیانی نے بارہ برس پہلے بتایا تھا حالانکہ مرزا قادیاں نے زار کا لفظ فقط اپنے قافیہ زار کی تجنیس خطی کے لحاظ سے لکھا تھا اور یہ پیشگوئی ١٩٠٥ء میں زلزلہ کی نسبت کی تھی جو کہ حسب معمول پوری نہ ہوئی۔ اب دس بارہ برس کے بعد اتفاقاً جنگ یورپ شروع ہوئی اور حسب معمول جیسا کہ جنگ کے زمانہ میں ہوا کرتا ہے کہ کوئی تخت سے اتارا جاتا ہے اور کوئی بٹھایا جاتا ہے۔ شہنشاہ روس تخت سے علیحدہ کیا گیا یا وہ خود الگ ہوا۔ تو مرزائی صاحبان نے جو موقعہ کے منتظر تھے جھٹ ہندوستان و پنجاب میں شور مچا دیا کہ مرزا قادیانی کی پیشگوئی پوری ہوئی کہ زار کی حالت زار ہوئی۔ حالانکہ مرزا قادیانی زلزلہ کی مصیبت کی گھڑی کی تکالیف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ع ”زار بھی ہوگا اس گھڑی باحال زار“ جیسا کہ اوپر لکھ آئے ہیں کہ ع ”یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے“ یعنی ایک ایسا زلزلہ آئے گا کہ اس گھڑی کی مصیبت کے حال زار سے کوئی نہ بچے گا۔ چاہے اس وقت زار روس ہی ہو تو وہ بھی حال زار میں ہوگا۔ جنگ کی پیشگوئی ہرگز نہ تھی بلکہ مرزا قادیانی تو اپنے آپ کو صلح کا شہزادہ کہتے تھے پھر جنگ کی پیشگوئی کیسے ہو سکتی ہے؟ ہم نے ایک ٹریکٹ میں جس کا نام ”ایک عظیم الشان مغالطہ کا ازالہ“ ہے اس میں مفصل لکھا ہے اور مرزا قادیانی کے اقوال سے ثابت کیا ہے کہ یہ پیشگوئی زلزلہ کی تھی۔ جب ہمارا ٹریکٹ شائع ہو چکا تھا تو میاں محمود قادیانی کا ٹریکٹ پہنچا جس میں وہی پرانی باتیں جو ہزاروں دفعہ وہ لکھ چکے ہیں کہ دنیا میں جب فسق و فجور ہوتا ہے تو نبی آتا ہے اور مرزا قادیانی چونکہ نبی تھے اس لیے یہ پیشگوئی زار روس کی معزولی کی ان کی صداقت پر دلیل ہے۔ اس لیے اس جگہ مناسب ہے کہ میاں محمود قادیانی کا جواب ان کے والد (مرزا غلام احمد قادیانی) کی تحریرات سے
٤٤
ہی دیا جائے۔ تاکہ ان کو معلوم ہو کہ وہ بالکل غلطی پر ہیں اور اس زلزلہ کی پیشگوئی کو جنگ کی پیشگوئی ظاہر کر کے مسلمانوں کو مغالطہ دیتے ہیں۔ جب مرزا قادیانی نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ یہ پیشگوئی زلزلہ کی نسبت ہے اور یہ زلزلہ میری زندگی میں آئے گا اور یہ زلزلہ میری سچائی کی دلیل ہو گا۔ وہ زلزلہ مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ آیا اور مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے اور لطف یہ کہ اپنی ہی مقرر کردہ معیار سے کاذب قرار پائے اور مر بھی گئے۔ ان کے مرنے کے بعد جو جنگ ہو وہ جنگ کیونکر زلزلہ تصور کر کے مرزا قادیانی کو سچا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟ ”مُشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلہ خود باید زد“ کا مصداق ہے۔ مرزا قادیانی خود تو فرمائیں کہ میری زندگی میں زلزلہ آئے گا اور میری صداقت ظاہر ہو گی اور میاں محمود قادیانی اپنے والد کے برخلاف کہیں کہ یہ جنگ کی پیشگوئی تھی مرزا قادیانی کی سخت ہتک اور تکذیب ہے۔ مرزا قادیانی کی اصل عبارت ذیل میں درج کی جاتی ہے تاکہ کسی مرزائی کو کوئی حیل و حجت کرنے کا موقعہ نہ رہے۔ جس کتاب میں یہ پیشگوئی ”زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی باحال زار“ لکھی ہے اسی کتاب میں یہ لکھا ہے۔ اوّل: ”ایسا ہی آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیشگوئی نہیں اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔“ (ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ٩٢ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٣)
اب بتاؤ کہ یہ جنگ مرزا قادیانی کی زندگی میں ہوئی؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر خوف خدا کرو کہ جو جنگ دس برس کے بعد ہوئی وہ زلزلہ کیونکر ہوا اور مرزا قادیانی کیونکر سچے نبی ثابت ہوئے؟ دوم: آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیشگوئی ہے اس کو ایسا خیال کرنا کہ اس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی۔ یہ خیال سراسر غلط ہے ...... کیونکہ بار بار وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیشگوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لیے ظہور میں آئے گی۔ (براہین حصہ پنجم کا ضمیمہ ص ٩٧ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
اب ایمان سے بتاؤ کہ مرزا قادیانی تو کہتے ہیں کہ میرے ملک یعنی پنجاب میں زلزلہ آئے گا اور میری زندگی میں آئے گا اور جنگ ہو یورپ میں۔ یہ خدا کا انصاف ہے کہ انکار تو مرزا قادیانی کا کریں اہل پنجاب، اور پکڑا جائے زار روس۔ ایسی سکھا شاہی تو خدا کی شان سے بعید ہے کسی شاعر نے خوب کہا ہے۔
مرزا قادیانی عدالت ہے بھلا کیا خاک کی
٤٥
تیسرا: کیونکہ ضرور ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آ جائے۔ (براہین حصہ پنجم ص ٩٧ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨) کیا یہ حادثہ مرزا قادیانی کی زندگی میں ہوا؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ دس برس بعد ہوا۔ چوتھا! ہماری رائے تو یہی ہے کہ سو میں سے ٩٠ وجوہ تو یہی بتلاتی ہیں کہ حقیقت میں وہ زلزلہ ہے نہ اور کچھ۔ (ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ٩٩ خزائن ج ٢١ ص ٢٦١) مگر میاں محمود کی رائے مرزا قادیانی کے برخلاف ہے۔ پانچواں! جبکہ صریح اس میں زلزلہ کا نام بھی موجود ہے کہ اس میں ایک حصہ ملک کا نابود ہو جائے گا اور یہ بھی موجود ہے کہ میری زندگی میں ہی آئے گا اور اس کے ساتھ یہ پیشگوئی ہے کہ وہ ان کے لیے نمونہ قیامت ہو گا جن پر یہ زلزلہ آئے گا۔'' (ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص ٩٠ خزائن ج ٢١ ص ٢٥١)
اب قادیانی جماعت خدا کو حاضر ناظر کر کے بتا دے کہ ان کا یہ کہنا کہ یہ پیشگوئی زلزلہ کی جنگ یورپ سے پوری ہوئی کہاں تک غلط اور مرزا قادیانی کے برخلاف ہے؟ مرزا قادیانی تو صاف صاف چار شرطوں سے یہ پیشگوئی مشروط فرماتے ہیں۔
شرط اوّل: مرزا قادیانی کے ملک میں ایسے زلزلہ کا آنا کہ ایک منٹ میں زمین زیر و زبر ہو جائے گی۔ جنگ پنجاب میں نہیں ہوئی یورپ ہوئی۔
شرط دوم: یہ زلزلہ مرزا قادیانی کی زندگی میں ہو گا مگر جنگ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد ہوئی۔
شرط سوم: میرے ملک کا ایک حصہ نابود ہو گا۔ مگر جنگ سے کوئی حصہ ملک کا نابود نہیں ہوا۔ جو مرزا قادیانی کا ملک تھا۔
شرط چہارم: ان لوگوں پر نمونہ قیامت ہو گا جن پر یہ زلزلہ آئے گا۔ نہ کوئی زلزلہ آیا اور نہ مرزا قادیانی کی صداقت ثابت ہوئی۔ جیسے پہلی دروغ بیانیوں سے مرزائی پیشگوئیاں پوری ہوگئیں کہتے آئے ہیں۔ حالانکہ ایک پیشگوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ اب بھی خلاف بیانی سے دھوکہ دیتے ہیں۔ ہم نے اوپر مشہور مشہور پیشگوئیاں جو غلط نکلیں لکھی ہیں۔ تا کہ معلوم ہو کہ مرزا قادیانی ہرگز اپنے دعویٰ نبوت میں سچے نہ تھے اور نہ ان کے الہام خدا کی طرف سے تھے۔ پیشگوئیاں نبی بھی کرتے ہیں اور نجومی، رمال، جوتشی، جفری، قیافہ شناس وغیرہ وغیرہ بھی کرتے ہیں اور خواب بھی امر مشترک ہیں عوام کو بھی فطرت انسانی کے باعث خواب آتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ نبی و رسول کی پیشگوئی غلط نہیں ہوتی اور کبھی خطا نہیں جاتی۔ بخلاف نجومیوں اور رمالوں وغیرہ کے کہ ان کی پیشگوئیاں درست بھی نکلتی ہیں اور غلط بھی۔ مگر نبی کی پیشگوئی کبھی غلط نہیں نکلتی۔ جب مشاہدہ ہے کہ مرزا
٤٦
قادیانی کی پیشگوئیاں غلط نکلتی تھیں اور شاعرانہ لفاظی عبارت آرائی اور مضمون نویسی سے تاویلات کر کے ان کو سچا کرنے کی بے سود کوشش کی جاتی تھی۔ اس لیے ہرگز سچے نبی نہ تھے بلکہ رمل و نجوم سے پیشگوئیاں کرتے تھے کیونکہ سیالکوٹ میں سید ملک شاہ صاحب جو علوم نجوم یا رمل میں کچھ دخل رکھتے تھے اور مرزا قادیانی کو ان سے صحبت و ملاقات تھی اس سے استاد شاگردی کا تعلق تھا اس لیے پیشگوئیاں کرتے۔
(دیکھو اشاعۃ السنۃ جلد ١٥ ص ٢٩)
پس جب مرزا قادیانی نے کوئی عجب کام ہی نہیں دکھایا اور نہ کبھی کسی مخالف نے مرزا قادیانی کو یہ کہا ہے کہ آپ کا یہ کام عجوبہ نمائی کا تھا اور آپ نے یہ کام بذریعہ جادو یا طلسم کیا ہے تو پھر آپ کا کہنا غلط ہے۔ کوئی ایک تو بتاؤ جس نے مرزا قادیانی کو ساحر کہا لیکن نہ بتا سکو گے۔ شاید آپ یہ کہہ دیں کہ مرزا قادیانی کی عربی نظم کا جواب کسی نے نہیں دیا اس لیے جادو ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی عربی میں سے علماء نے صرف و نحو کی غلطیاں نکالیں اور ان کو غلط قرار دیا۔ جیسا کہ مسیلمہ وغیرہ کذابوں کی جنھوں نے قرآن کے مقابل اپنی کلام عربی کو معجزہ کہا تھا اور علمائے عربی دان نے ادبی غلطیاں نکال کر اس کی لغویت ثابت کر دی تھی۔ مرزا قادیانی کی کلام عربی کی بھی علماء نے غلطیاں نکال کر ثابت کر دیا کہ یہ جھوٹی شیخی ہے۔ غلط کلام کبھی معجزہ یا اعجاز نہیں ہو سکتا۔ کسی عالم نے کبھی نہیں کہا کہ مرزا قادیانی کی عربی جادو تھی بلکہ علماء نے عربی میں اس کے جواب لکھے۔ اوّل! ابطال اعجاز مرزا۔ دوم! قصیدہ مرزائیہ کا جواب۔ سوم! رجم الشیاطین بر اغلوطاتِ براہین۔ مصنفہ مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری۔ چہارم! حیات مسیح مولوی رسل بابا امرتسری وغیرہ وغیرہ۔ پس یہ دلیل بھی ردی ہے۔ اگر کسی عالم نے کہا تو اس کا نام بتاؤ۔ لہٰذا آپ کی یہ دوسری دلیل بھی قابل تسلیم نہیں۔
تیسری دلیل: ” وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرىٰ عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا وَهُوَ يُدْعٰى اِلَی الْاِسْلَامِ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ. یعنی ”اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ پر افتراء کرے درانحالیکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کرے وہ تو سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہے۔ پھر اگر یہ شخص جھوٹا ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو اسے ہلاک ہونا چاہیے نہ کہ کامیاب۔ اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں کرتا۔ پھر جو شخص خدا تعالیٰ پر افترا کر کے ظالموں سے بھی ظالم بن چکا ہے اس کو وہ کب ہدایت دے سکتا ہے۔ پس اس شخص کا ترقی پانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ شخص
٧٤
خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جھوٹا نہیں جیسا کہ تم لوگ بیان کرتے ہو۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اس احمد رسول کی ایسی تعیین کر دی ہے کہ یہ احمد رسول کریم ﷺ کے بعد آنے والا ہے اور نہ آپ خود وہ رسول ہیں اور نہ آپ ﷺ سے پہلے کوئی اس نام کا رسول گزرا ہے۔ الخ۔
(انوار خلافت ص ٤١)
الجواب: اس دلیل میں بھی کوئی شرعی ثبوت نہیں بلکہ وہی من گھڑت دلیل ہے جو مرزا قادیانی اور مرزائی ہمیشہ بیان کیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی اگر جھوٹے تھے تو کامیاب کیوں ہوئے؟ ان کا کامیاب ہونا ان کے سچے رسول و نبی ہونے کی دلیل ہے جس کا جواب کئی بار دیا جا چکا ہے کہ یہ دلیل قرآن شریف کے برخلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کافروں و کذابوں کو مہلت دیتے ہیں تا کہ ہمارے عذاب کی حجت کے نیچے آ جائیں جیسا کہ وَاُمْلِیْ لَهُمْ اِنَّ كَيْدِیْ مَتِيْن (سورة القلم ٤٥) و يَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْيَانِهِمْ. يَعْمَهُوْنَ (سورة بقر ١٥) وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَيْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ ط اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِيَزْدَادُوْ اِثْمًا ج وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ (ال عمران ١٧٨) جو لوگ انکار کرتے ہیں۔ اس خیال میں نہ رہیں کہ ہم ان کو ڈھیل دے رہے ہیں یہ کچھ ان کے حق میں بہتر ہے ہم تو ان کو ڈھیل صرف اس لیے دے رہے ہیں کہ اور گناہ سمٹ لیں اور آخر کار ان کو ذلت کی مار ہے یہ نصوص قرآنی قطعی ہیں۔ اب ہم اس طبعزاد دلیل کا واقعات سے جواب دیتے ہیں تا کہ ہر ایک کو یقین ہو جائے کہ یہ بالکل غلط ہے کہ جھوٹے مدعی کو کامیابی نہیں ہوتی۔ صالح بن یوسف کو دیکھو۔ اس نے نبوت و مہدویت کا دعویٰ کیا اور یہاں تک کامیاب ہوا کہ بادشاہ بن گیا اور مہلت بھی اس کو اس قدر دی گئی کہ ٣٥ سال تک دعویٰ نبوت کے ساتھ زندہ رہا اور اپنی موت سے مرا حالانکہ جنگ کرتا رہا مگر قتل نہ ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا یہ خیال باطل ہے کہ جھوٹا مدعی فوراً ہلاک کیا جاتا ہے اور پھر اس پر کامیابی یہ کہ اس کی نسل میں تین سو برس تک بادشاہت رہی (ابن خلدون)۔ اس کے مقابل مرزا قادیانی بالکل ناکامیاب رہے اور تمام عمر غلامی میں بسر کی اور غلامی بھی مخالفین اسلام کی۔ جنھیں آسمانی حربوں کے ساتھ نابود کرنے کا ٹھیکہ آپ نے اللہ میاں سے لے رکھا تھا اور ٢٣ برس کے عرصہ میں کچھ بھی نہ کیا بلکہ مخالفین کی عدالتوں میں اللہ میاں نے انھیں حیران و سرگرداں پھرایا۔ یہ کس قدر ذلت و ناکامیابی ہے کہ آریہ جج کی عدالت میں کھڑے کھڑے اکڑ جائیں اور بیٹھنے نہ پائیں اگر اس کا نام کامیابی ہے تو پھر ذلت و ناکامی کا ڈیرہ دنیا سے کوچ ہے۔
٤٨
اب ہم پہلے کذاب مدعیان نبوت و مہدویت کو چھوڑ کر صرف مرزا قادیانی کے ہمعصروں کا مختصر حال بیان کرتے ہیں تاکہ مرزا قادیانی کی ناکامیابی معلوم ہو جائے۔
جب مسلمانوں میں سے مرزا قادیانی نے اسلام کی حمایت کے واسطے سر اٹھایا تو دوسری طرف سرولیم بوتھ نے عیسائیت کی ترقی کا بیڑا اٹھایا اور ہندوستان و پنجاب میں سوامی دیانند نے اپنے دھرم اور قوم کی ترقی پر کمر باندھی اور راجہ رام موہن نے برہمو سماج کے عقائد ایجاد کیے۔ اب ہم صاحبزادہ مرزا محمود قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ وہ ایمان سے خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ بتائیں کہ سوامی دیانند اور راجہ رام موہن اور جنرل سر ولیم بوتھ کو کامیابی ہوئی یا مرزا قادیانی کو؟ لیکن اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی کو ان کے مقابل کچھ بھی کامیابی نہ ہوئی۔ آریہ سماجیوں کی ترقی و کامیابی تو آریوں کے سکولوں و کالجوں اور یونیورسٹیوں سے دیکھ لو۔ ملازمان سرکاری و عہدیداران کی فہرستیں و رجسٹر دیکھو۔ افسران سول وملٹری کی طرف نظر دوڑاؤ اور ایمان سے بولو کہ کون کامیاب ہے؟ اور پھر اپنی اس دلیل کو مدنظر رکھ کر اپنے نصیبوں کو پیٹو اور زبان حال سے کہو ؎
غرض جو کچھ کہ ہم سمجھے خطا تھا جو کہ ہم سمجھے
آپ کی اس ردی دلیل سے تو ثابت ہوا کہ مسیح موعود سوامی دیانند تھا کیونکہ اس کو خدا نے اس قدر کامیابی دی کہ جس کے آگے مرزا قادیانی کی کچھ ترقی نہیں۔ آریوں کے سالانہ جلسوں کے چندوں کا ہی مقابلہ کرو اور ان کی قومی ہمدردی کا اندازہ لگاؤ۔ دھرم کی اشاعت کے خرچ کو ہی دیکھ لو تو سر پیٹ کر رہ جاؤ گے کہ ان کے لاکھوں روپوں کے سامنے آپ کے سینکڑوں روپے کیا وقعت رکھتے ہیں؟ شاید اس کا جواب جھوٹ مجسم کوئی مرزائی کہہ دے کہ روحانی طور یا استعاری و مجازی طور پر اور بحث مباحثہ میں مرزا قادیانی آریوں پر حجج و دلائل قطعیہ سے کامیاب ہوئے تو یہ بھی غلط ہے اور واقعات کے برخلاف ہے۔ مرزا قادیانی نے آریوں کی بد زبانیوں اور اعتراضوں کے مقابل ہتھیار ڈال دیئے اور صلح کا پیغام دیا کہ آریہ ہمارے بزرگوں کو برا نہ کہیں اور گالیاں نہ دیں ہم ان کے بزرگوں کو نبی و رسول مان لیتے ہیں وہ ہمارے بزرگوں کو نبی و رسول تسلیم کریں۔ چنانچہ کرشن جی اور رام چندر جی کو نبی تسلیم کیا۔ ویدوں کو خدا کا کلام مانا اور کرشن علیہ السلام اور بابا نانکؒ لکھنا اور کہنا شروع کر دیا اور خوشامد میں ایسے حد سے بڑھے کہ پناہ بخدا۔ خواجہ کمال الدین قادیانی نے اپنی کتاب کرشن اوتار میں یہاں تک لکھ
٤٩
دیا کہ پہلے عرب میں کرشن جی نے اوتار لیا اور (نعوذ باللہ) محمد ﷺ ہوئے۔ اور اب قادیان میں اوتار لیا اور مسیح موعود یعنی غلام احمد قادیانی ہوئے۔ اس کے مقابل میں آریوں نے ایک بات بھی مرزائی جماعت کی قبول نہ کی۔ کسی آریہ نے سب نبیوں کی نبوت کا ماننا تو بجائے خود رہا حضرت محمد ﷺ کو ہی نبی مانا؟ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی کا کوئی مرید بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے پیغام صلح کا اثر آریوں اور سکھوں پر ہوا؟ اور مرزا قادیانی اس چال میں کامیاب ہوئے؟ ہرگز نہیں۔
میرے مہربان میاں محمود بڑی شیخی سے مرزا قادیانی کی صداقت مسیح موعود ہونے پر دلیل بیان کرتے ہیں اور یہ وہی دلیل ہے جو مرزا قادیانی کا ورد زبان اور حوالہ قلم تھی کہ میں ایسے سامان کے ساتھ بھیجا گیا ہوں کہ وہ سامان کسی نبی و رسول کو نہ دیئے گئے تھے اب کوئی پوچھے کہ حضرت وہ آسمانی حربے و سامان اب کہاں چلے گئے اور کس دن کے لیے آپ نے رکھے ہوئے ہیں؟ اور وہ آسمانی حربے ایسے ردی ثابت ہوئے کہ آریوں کے زمین والے حربے غالب آ گئے اور ان کی ہر طرح سے کامیابی ہی کامیابی ہے۔ کوئی آریہ آج تک مسلمان ہوا اور مرزا قادیانی کی مسیحیت و مہدویت کا قائل ہوا اور مرزا قادیانی پر ایمان لایا؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ انھوں نے ایسا انتظام کیا کہ آئندہ اسلام میں آریوں کا داخلہ بالکل بند کر دیا بلکہ الٹا مسلمانوں کو آریہ بنایا۔ اب ایمان سے بتاؤ کہ کون کامیاب ہے؟ سوامی دیانند یا مرزا غلام احمد قادیانی؟ اور ایمان سے کہو کہ آپ کی اس نامعقول دلیل سے سوامی دیانند صادق ثابت ہوا یا نہ اور اس کا مذہب بھی سچا ثابت ہوا یا نہیں؟ یا اقرار کرو کہ مرزا قادیانی کی اور آپ کی یہ دلیل کہ مرزا قادیانی اگر سچے نہ ہوتے تو ان کو اس قدر کامیابی نہ ہوتی۔ بالکل لغو اور غلط ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوگا کہ عیسویت سچی ہے کیونکہ تمام دنیا پر غالب ہے اور کامیاب ہے اور ایسی کامیاب ہے کہ تمام دنیا کی مالک بن گئی ہے اور ہندوستان و پنجاب میں آریہ قوم و اہل ہنود ہر محکمہ ہر صیغہ و ہر صنعت و تجارت میں کامیاب ہیں تو سچے ہیں۔ آپ کی اپنی دلیل سے مرزا قادیانی سچے نہیں کیونکہ ان کو اس قدر کامیابی نہیں ہوئی جس قدر آریوں کو ان کے مقابل ہوئی عیسائیوں کی کامیابی اظہر من الشمس ہے بلکہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید خود تسلیم کرتے ہیں۔ عسل مصفےٰ کے صفحہ ٦٠٢ و ٦٠٣ پر مشن کی ترقی کا حال خود مشن کی رپورٹ سے لکھا ہے۔ وہو ہذا۔
”جب ہم چرچ مشن سوسائٹی کی رپورٹ ١٨٩٧ء کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی
٥٠
ہے کہ کس قدر ترقی کر لی ہے اور ہرگز انسان خیال نہیں کر سکتا کہ اس سے بڑھ کر بھی کوئی ترقی تصور ہو سکتی ہے۔“ ناظرین! ١٨٩٧ء میں مرزا قادیانی بھی اپنے مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے اور عیسائیت کے مٹانے کا ٹھیکہ لے کر آئے تھے مگر عیسائیوں کو اس قدر کامیابی ہوئی کہ فاضل مصنف عسل مصفےٰ اقرار کرتا ہے ”١٨٩٧ء میں ایسی حیرت ناک ترقی ہوئی کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ مرزا قادیانی عیسائیت کے مٹانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔“ اب بتاؤ مرزا قادیانی اور آپ کے اس اصول سے کہ جھوٹے کو کامیابی نہیں ہوتی اور کامیاب ہونا صداقت کی دلیل ہے تو پھر (نعوذ باللہ) عیسویت سچی ثابت ہوئی اور پادری لوگ جو کامیاب ہوئے سچے دین کے پیرو ثابت ہوئے۔ جب بجائے کسر صلیب کے ترقی صلیب ہوئی تو مرزا قادیانی کیونکر مسیح موعود ہوئے؟ کیونکہ سچے مسیح موعود کا نشان مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ کسر صلیب کریں گے یعنی عیسویت مٹائیں گے اور مرزا قادیانی کے وقت ١٨٩٧ء میں اس قدر عیسویت کو ترقی ہوئی کہ بقول عسل مصفےٰ اس سے زیادہ ممکن نہیں تو ثابت ہوا کہ مرزائیوں کے اقرار سے مرزا قادیانی سچے مسیح موعود نہ تھے اس جگہ شاید کوئی مرزائی یہ کہہ دے کہ شخص واحد مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کوئی کامیاب نہیں ہوا۔ تو اس کی تسلی کے واسطے ہم نیچے صرف جنرل ولیم بوتھ کی نہایت کامیابی کا حال لکھتے ہیں۔ جس کے مقابل مرزا قادیانی ناکامیاب رہے اور ان کی کارروائیاں بالکل ہیچ ثابت ہیں۔
جنرل ولیم بوتھ نے اشاعت عیسائیت کے واسطے تمام دنیا کا سفر کیا اور کامیاب ہوا ایسا کہ شاہان وقت سے خطابات اور امداد لیتا تھا اور مرزا قادیانی گھر سے کبھی باہر نہ نکلے۔ جنرل ولیم بوتھ ١٨٢٩ء میں پیدا ہوئے۔ ١٨٤٤ء میں اصطباغ حاصل کیا اور وعظ شروع کیا۔ ١٨٥٠ء میں کام کاج چھوڑ کر کلیسائی خدمت اختیار کی۔ ١٨٦٥ء میں لندن کے شرقی گوشہ میں مشن قائم کیا۔ ١٨٧٨ء میں مکتی فوج کی بنیاد ڈالی۔ یعنی اپنے مشن کا مکتی فوج نام رکھا۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب مرزا قادیانی بھی میدان میں نکلے ہوئے تھے اور عیسیٰ پرستی کا مٹانا اپنا فرض منصبی قرار دے رکھا تھا اور یہی اپنی صداقت کا معیار مقرر کیا ہوا تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے خود لکھا کہ ”اگر کروڑ نشان بھی مجھ سے ظاہر ہوں اور وہ کام جس کے واسطے میدان میں کھڑا ہوا ہوں۔ یعنی عیسیٰ پرستی کو مٹانا۔ وہ کام نہ ہوا اور میں مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں ۔“ (اخبار بدر مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء) پھر مرزا قادیانی نے لکھا کہ ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر
٥١
کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راستبازی ترقی کرے گی۔“ الخ۔ (ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٨١) اب واقعات سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی مر بھی گئے اور اسلام کی ترقی کچھ نہ ہوئی اور نہ مذاہب باطلہ ہلاک ہوئے بلکہ مذاہب باطلہ کی ترقی ہوئی اور ان کے مقابل اسلام کو کمی ہوئی۔ یعنی جس قدر روئے زمین پر مسلمان تھے ان میں سے صرف وہ مسلمان جنھوں نے مرزا قادیانی کو نبی و رسول مانا صرف وہی مسلمان رہے۔ باقی سب کے سب کافر ہوئے تو اب انصاف سے بتاؤ کہ تیس کروڑ کی تعداد سے مسلمان تنزل کر کے صرف چند ہزار مرزائی جو مسلمان رہے اور باقی سب کافر ہو گئے تو اسلام بڑھا یا گھٹا؟ ظاہر ہے کہ گھٹا۔ جب اسلام گھٹا تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہ تھے بلکہ اسلام کے واسطے مرزا قادیانی ایک طاعون کی بیماری تھے جو صفایا کر گئے۔
١٨٨٠ء میں جنرل ولیم بوتھ نے امریکہ و آسٹریلیا کی سیاحت کی اور پہلا مدرسہ قائم کیا۔ ٨٢۔١٨٨١ء میں فرانس، ہندوستان، سویڈن، کینیڈا میں اپنے مشن کی پرجوش تحریک کر کے لندن میں ہیڈ کوارٹر قائم کیا۔ ١٨٨٣ء میں جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، سویٹزر لینڈ کی سیاحت کی اور جزیرہ وکٹوریہ میں قیدیوں کی تعلیم و تلقین کا خاص انتظام کیا۔ ١٨٨٦ء میں ایثار نفس کی عام تعلیم کی غرض سے لندن میں انٹرنیشنل کانگرس قائم کی۔ ١٨٨٨ء میں امریکہ و کینیڈا کی سیر۔ ١٨٩٠ء میں انگلینڈ میں ”ڈارک“ (یعنی اندھیرا) ایک کتاب شائع کی۔ ١٨٩١ء میں آسٹریا، جنوبی افریقہ اور ہندوستان کا سفر۔ ١٨٩٤ء میں مکتی فوج کی ٥٠ سالہ جوبلی۔ ١٨٩٧ء میں مسٹر گلیڈ سٹون وزیر اعظم انگلستان سے ملاقات۔ ١٩٠١ء میں تجویز بینک۔ ١٩٠٣ء میں پریذیڈنٹ صوبجات متحدہ یونائیٹڈ سٹیٹ سے ملاقات۔ ١٩٠٤ء میں بکنگم پیلس میں حضور ملک معظم سے مصافحہ کیا۔ ١٩٠٥ء میں ڈی۔ سی۔ ایل کا خطاب حاصل کیا۔ لندن اور ناٹنگہم میں تعلیم و تلقین کی آزادی کا حکم حاصل کرنا۔ ترقی بینک۔ ١٩٠٧ء میں شاہان ناروے و ڈنمارک سے ملاقات۔ جاپان کا سفر اور شہنشاہ جاپان سے ملاقات۔ ١٩٠٨ء میں سات ہزار کے مجمع میں لکچر۔
ناظرین! اس ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی مر گئے اور جنرل ولیم بوتھ زندہ رہا۔ گویا مرزائیوں کی اپنی دلیل سے ثابت ہو گیا کہ کاذب صادق سے پہلے مر گیا۔ حالانکہ مرزا قادیانی سر ولیم بوتھ سے چھوٹے تھے۔ ١٩٠٩ء میں شاہان چین و انگلستان سے ملاقات، سیاحت روس، ٨٠ ویں سالگرہ ١٩١١ء میں بڑی سوشل کانگرس ١٩١٢ء میں انتقال بعمر ٨٤
٥٢
سال۔ اب اس کے فیضان کا اثر یہ باقی ہے کہ ایڈیٹر صاحب ”ادیب“ اپنے ایڈیٹوریل میں لکھتے ہیں کہ ”ہمارے ملک میں بھی مکتی فوج کا بہت کام ہو رہا ہے۔ شرکا کی تعداد لاکھوں تک پہنچی ہے۔ ہندی، اردو، مرہٹی، گجراتی، بنگالی، گورکھی، تامل، تلگو وغیرہ ہندوستانی دیسی زبانوں میں کام ہوتا ہے بہت سے ابتدائی مدارس میں جن میں دس ہزار سے زیادہ بچے تعلیم پاتے ہیں۔ دیہاتوں میں چھوٹے چھوٹے بینک بھی قائم ہیں۔“ (ادیب بابت نومبر ١٩١٢ء)
اب روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہ تھے کیونکہ مسیح موعود کے وقت میں عیسائیت اور دیگر مذاہب محو ہونے تھے اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں وہ ایسی ترقی پر ہوئے کہ اس سے پہلے ایسے کبھی نہ ہوئے تھے۔ پس مرزا قادیانی ہرگز مسیح موعود نہ تھے۔ بجائے کسر صلیب کے صلیب کی ترقی و تقویت ہوئی اور جس جگہ توحید کے جھنڈے لہراتے تھے وہاں صلیب کی پرستش شروع ہوئی (اخبار زمیندار ٨ ستمبر ١٩١٣ء) جس میں لکھا ہے کہ دو اڑھائی لاکھ مسلمان بلقان کی لڑائی میں صرف صوبہ تھرش و مقدونیہ میں عیسائی بنائے گئے۔ پس مرزا قادیانی کو کامیابی ہرگز نہیں ہوئی کیونکہ مخالفین اسلام مرزا قادیانی سے ہزاروں درجہ کامیاب و غالب رہے اور مرزا قادیانی ناکامیاب و مغلوب جن کے وقت میں اسلام گھٹایا گیا اور عیسائی و آریہ وغیرہ بڑھائے گئے۔
رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور فروری ١٩١٣ء میں بحوالہ اخبار وکیل امرت سر لکھا ہے کہ ”پطرس، مولک، مرحصاڑ، سرترا، عثمان جی وغیرہ کے مسلمان باشندوں کو عیسائی مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا گیا اور اس مدعا کے لیے ان کو شرمناک سزائیں دی گئیں۔“
اب بتائیے کہ مرزا قادیانی کی یہ کامیابی ہے یا ناکامیابی؟ اگر مرزا قادیانی سچے مسیح موعود ہوتے تو یہ بدبختی و ادبار کے دن مسلمانوں پر نہ آتے اور نہ ملل باطلہ غالب آتے مگر چونکہ نتیجہ اس کے برعکس ہے لہٰذا اس ناکامیابی کو کامیابی کہتے شرم دامنگیر ہونی چاہیے۔ اگر راستی بھی کوئی چیز ہے۔ ورنہ قلم اور ہاتھ اپنے ہیں جو چاہا لکھ دیا کون پوچھتا ہے؟ مگر یاد رہے آخر مرنا ہے اور احکم الحاکمین کے سامنے کھڑا ہو کر جواب دینا ہے۔ دوم! مرزا قادیانی کی ناکامیابی اظہر من الشمس ہے۔ ایک وقت وہ تھا کہ تمام روئے زمین کے مسلمان ان سے ہمدردی رکھتے تھے جب تک ان کا یہ دعویٰ تھا کہ میں ایک خادم اسلام ہوں اور اسلام کی صداقت ظاہر کرنے کے واسطے ایک مناظر ہوں۔ جب مرزا قادیانی نے حد سے باہر قدم رکھا اور اپنے آپ کو مثیل عیسیٰ اور مظہر محمدﷺ ظاہر کرنا شروع کیا اور مسیحیت و رسالت و نبوت کے مدعی ہوئے تو چاروں طرف سے کفر کے
٥٣
فتوے اور دجال و مسرف و کذاب کے پمفلٹ آنے شروع ہو گئے اور سوائے معدودے چند انسان پرستوں کے (جن میں مسیلمہ پرستی کا مادہ مخفی تھا) اور کوئی مسلمان محمد ﷺ کی امت سے ان کے ساتھ نہ رہا۔ اب انصاف آپ ہی پر ہے کہ یہ ناکامیابی ہے یا نہیں؟ چالیس کروڑ کے قریب مسلمان الگ ہو گئے اور نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ آپ کس دلیل سے مرزا قادیانی کو کامیاب کہتے ہیں۔ پس یہ دلیل بھی ردی ہے اور باطل۔
چوتھی دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِؤُا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ۔ لوگ چاہیں گے کہ اللہ کے نور کو پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی چھوڑے گا اگرچہ کافر لوگ اسے ناپسند ہی کرتے ہوں۔ یہ آیت بھی حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے پر ایک بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس پیشگوئی کے اوّل مصداق نہیں ہیں کیونکہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تلوار سے مٹانے کی کوشش کی جاتی تھی نہ منہ سے۔
(ملخصاً از انوارِ خلافت ص ٤٥)
الجواب: اوّل تو آیت کا ترجمہ ہی غلط کیا ہے کہ ”لوگ چاہیں گے“۔ حالانکہ يُرِيْدُوْنَ کا لفظ صاف بتا رہا ہے کہ محمد ﷺ کو خدا خبر دے رہا ہے کہ یہ کفار ارادہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور (دین اسلام) کو جو بذریعہ وحی تم کو پہنچتا ہے منہ کے پھونکوں (غلط افواہوں) سے بجھا دیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے چھوڑے گا۔ اگرچہ کافروں کو ناپسند ہی ہو۔ اب اس آیت سے یہ سمجھنا کہ چونکہ منہ کے پھونکوں سے بجھانا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس واسطے محمد ﷺ اس کے مصداق نہیں صریح غلطی اور علم معانی سے ناواقفیت کا باعث ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو نور سے تشبیہہ دی تھی تو ضروری تھا کہ نور کے لوازمات بھی بیان فرمائے جاتے تاکہ فصاحت و بلاغت قرآن مجید ثابت ہو۔ اس واسطے لِيُطْفِؤُا کا لفظ فرمایا اور ساتھ ہی بِاَفْوَاهِهِمْ فرمایا۔ تاکہ ارکانِ تشبیہہ پورے ہوں۔ یہ کوئی قاعدہ نہیں کہ نور سے تشبیہہ دے کر بجھانے کے واسطے تلوار یا تیر کا ذکر کیا جاتا۔ اگر اللہ تعالیٰ اس طرح فرماتا کہ کافر لوگ اسلام کے نور کو تلوار سے قتل کرنا چاہتے ہیں مگر اس نور کو ان کفار پر بذریعہ جنگ و جدال پورا کریں گے تو یہ کلام بالکل غلط اور پایہ فصاحت و بلاغت سے گر جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نور کے لفظ کے واسطے بجھانا اور ساتھ ہی پھونکوں کا لفظ استعمال فرمایا تاکہ لوازمات نور پورے بیان ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مائدہ میں قرآن کو نور کہا ہے۔ قَدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ
٥٤
بِاذْنِهِ وَيَهْدِيْهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (مائده ١٦-١٥) ترجمہ (غرض کہ) اللہ کی طرف سے تمھارے پاس نور (ہدایت) اور قرآن آ چکا ہے (جس کے احکام) صاف (اور صریح ہیں) جو لوگ خدا کی رضامندی کے طلبگار ہیں ان کو اللہ قرآن کے ذریعہ سے سلامتی کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے فضل (وکرم) سے ان کو (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی میں لاتا اور ان کو راہِ راست دکھاتا ہے۔“ اللہ تعالیٰ سورۃ الشعرا کے اخیر میں فرماتا ہے مَاكُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنَاهُ نُوْرًا نَّهْدِي بِهِ مَنْ نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (الشعراء ٥٢) ترجمہ ۔ تم نہیں جانتے ایمان کس کو کہتے ہیں مگر ہم نے قرآن کو ایک نور بنا دیا ہے کہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں اس کے ذریعے سے (دین کا) راہ دکھاتے ہیں اور (اے پیغمبر) اس میں شک نہیں کہ تم (لوگوں کو) سیدھا ہی رستہ دکھاتے ہو ۔“ یہ معنی بالکل غلط ہیں کہ کسی آئندہ زمانہ میں نور کو بجھانے کا ارادہ کریں گے کیونکہ نور تو حضرت محمد ﷺ کے وقت ظاہر ہو چکا تھا یعنی قرآن اس وقت تو کفار نے نور کے بجھانے کی کوشش نہ کی اور ١٣ سو برس کے بعد کوشش کریں گے کس قدر خلافِ عقل اور فصاحت سے عاری کلام ہے۔
دوم! یہ بھی غلط ہے کہ مرزا قادیانی کے نور کو علما نے بجھانا چاہا اور مرزا قادیانی کامیاب ہوئے کیونکہ واقعات بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی نہ کوئی نور (دین) لائے اور نہ کسی جلسہ بحث میں کامیاب ہوئے اور نہ ان کا کوئی نور دنیا پر پھیلا۔ اگر یہ کہو کہ لوگ ان کے مرید ہوئے تو بتاؤ کہ کس کاذب مدعی کے مرید نہیں ہوئے؟ تمام کاذب مدعیانِ نبوت کے اس کثرت سے مرید ہوتے رہے کہ مرزا قادیانی کی کامیابی ان کے مقابل ہیچ ہے۔ یہود زندیق کاذب مدعی نبوت کے مرید ٥ کروڑ ٥ لاکھ تھے (دیکھو تذکرۃ المذاہب) مسیلمہ کذاب کو ہی دیکھ لو کہ پانچ ہفتہ کے قلیل عرصہ میں لاکھ سے اوپر اس کے مرید و پیرو ہو گئے اور اس کی کامیابی کا اقرار مرزا قادیانی نے خود بھی (ازالہ اوہام ص ٢٨٣ خزائن ج ٣ ص ٢٤٤) میں کیا ہے۔ لہٰذا صرف مریدوں کا ہونا دلیل صداقت نہیں۔ مرید تو سب کذابوں کے ہوتے آئے ہیں۔ اصلی کامیابی ہم آپ کو بتاتے ہیں اور پھر آپ سے انصاف چاہتے ہیں۔
اصلی کامیابی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوئی کہ ان کے رسول ہونے کو چاروں مخالف مذاہب نے جو مد مقابل اور سخت دشمن تھے مانا اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لائے اور اس کے نور اسلام سے منور ہوئے۔ یہ ہے کامیابی۔ اب اسی
٥٥
قدر مدت مرزا قادیانی کو ملی ہے یعنی ٢٣ برس۔ اور ان کے مد مقابل بھی چار گروہ تھے عیسائی آریہ سکھ برہموں اب ایمان سے بولو اور خدا کو حاضر ناظر کر کے بتاؤ کہ کون کون عیسائی مرزا قادیانی کا مرید ہوا؟ اور کون کون آریہ نے مرزا قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کی؟ اور کس کس سکھ نے مرزا قادیانی کی رسالت قبول کی؟ اور کتنے برہمو سماجی مرزائی ہوئے؟ واقعات بتا رہے ہیں کہ کوئی بھی نہیں۔ اس سے بڑھ کر کیا ناکامیابی اور نامرادی ہو سکتی ہے کہ ایک آریہ ایک برہمو ایک عیسائی ایک سکھ بھی مرزا قادیانی کے سلسلہ میں داخل نہ ہوا اور اگر کوئی ہوا بھی ہے تو شاذ و نادر۔ پھر کس قدر ظلم عظیم ہے کہ کامیابی! کامیابی!! پکار کر فضول دھوکا دیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی اگر کاذب تھے تو کامیاب کیوں ہوئے؟ کیا یہی کامیابی ہے کہ ایک چھوٹا سا گاؤں قادیان بھی کفر سے پاک نہ ہوا اور برابر سکھ آریہ و ہنود ان کی چھاتی پر مونگ دل رہے ہیں اور ان کی ذلت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے وہ مذہب اسلام کی ہتک کرتے ہیں اور مرزائیت کی وہ گت بنتی ہے کہ پناہ بخدا۔ اہل عقل و دانش کے لیے اسی قدر کافی ہے کہ سچے اور جھوٹے رسول میں کیا فرق ہے؟ سچا رسول تھوڑے ہی عرصہ میں تمام ملک عرب کو کفار سے پاک کرتا ہے اور جھوٹے رسول کے وقت میں ایک گاؤں بھی کفر سے پاک نہ ہوا۔ سچے رسول نے مکہ کو کفر سے پاک کر کے دارالامان فرمایا اور جھوٹے نبی سے فقط قادیان بھی کفر سے پاک نہ ہو سکا اور دروغ بیانی سے اس کا نام دارالامان رکھ لیا۔ بھلا خالی نام سے کیا ہوتا ہے؟
سچا رسول اس وقت اپنے دعویٰ نبوت میں پختہ اور دلیر رہا جبکہ کوئی باقاعدہ سلطنت نہ تھی اور اہل ملک ذرا سی مخالفت پر دوسرے کو قتل کر دیتے اور مقتول کے وارث قصاص (خونبہا) میں روپیہ لے کر قاتل کو معاف کر دیتے ایسے وقت میں نبوت کا دعویٰ کرنا سخت مصیبت کا سامنا تھا۔ مگر سچے رسول (محمد ﷺ) نے ہر ایک مجلس میں ہر ایک میلے میں اپنا دعویٰ رسالت ببانگ دہل سنایا اور ایک دفعہ بھی کہیں نہ کہا کہ میں رسول نہیں ہوں بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر موسیٰ ؑ زندہ ہوتا تو میری پیروی کرتا اور سب ادیان کا بطلان سر بازار شروع کر دیا۔ اس وقت سارا عرب دشمن تھا مگر سچا رسول اپنے دعویٰ میں اس قدر پکا تھا کہ چچا جس کے زیر حمایت زندگی کی امید تھی وہ بھی جواب دے دیتا ہے مگر اس وقت بھی وہ حق و صداقت کا مجسم یہ جواب دیتا ہے کہ چچا جان چاہے تو میرا ساتھ دے یا نہ دے میں اپنا فرض رسالت ضرور ادا کروں گا۔ جھوٹے رسول کے وقت ایسا امن قائم ہے کہ وہ خود اقرار کرتا ہے کہ سلطنت انگلشیہ کے زمانہ عدل میں شیر اور
٥٦
بکری ایک گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔ یعنی کوئی شخص تلوار تو کجا زبان سے بھی کسی کو بے جا کہے تو مظلوم کی داد رسی ہوتی ہے۔ ایسے امن کے زمانہ میں اپنے دعویٰ نبوت و رسالت پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اگر ایک جگہ لکھتا ہے کہ میں رسول ہوں تو بیس جگہ لکھتا ہے کہ میں ہرگز رسالت و نبوت کا مدعی نہیں ہوں۔ محمد ﷺ کا غلام و امتی ہوں۔ سچا رسول اپنی زندگی میں ہی اپنے مخالفین پر غالب آیا اور جھوٹا رسول ہمیشہ مغلوب رہا۔ سچا رسول جس کو خلافت کا وعدہ دیا گیا تھا وہ اپنی زندگی میں ہی مسند خلافت کو اپنے بابرکت وجود سے مزین کر کے شہنشاہ عرب کہلا کر دنیا سے رخصت ہوا۔ جھوٹے رسول کو بھی زعم تو ہوا کہ میں خلیفہ مقرر ہوا ہوں مگر تمام عمر غلام و رعیت رہا اور مخالفوں کے سامنے عدالتوں میں مارا مارا پھرا کسی عدالت سے سزا پائی اور کسی سے چھوڑا گیا۔ کیا یہی کامیابی ہے؟ خدا کے واسطے اتنا جھوٹ نہ بولو جو اخیر شرمندہ ہونا پڑے۔ کیا یہ رسول پاک ﷺ کی ہتک نہیں ہے کہ پہلی بعثت میں تو اس قدر کامیاب و بہادر تھا کہ جب اس کو مخالفین نے تلوار کے ساتھ کامیابی سے روکنا چاہا تو نہ رکا اور اس کے نور کو مخالفوں نے زبردستی بجھانا چاہا تو نہ بجھا۔ مگر جب بعثت ثانی میں آیا تو اس قدر ناکامیاب و بزدل رہا کہ ڈپٹی کمشنر کے فیصلہ سے الہام بھی شائع نہیں کر سکتا؟ یہ بالکل غلط ہے کہ محمد ﷺ کے وقت سب کام تلوار سے ہوتا تھا اور تبلیغ وغیرہ صرف تلوار سے ہوتی تھی اور زبانی یا قلمی تبلیغ نہ ہوتی تھی اور نہ تردید حضور ﷺ کی زبان سے ہوتی تھی۔ ہاں۔ سنیے جناب تاریخ اسلام کیا کہتی ہے۔
نبی ﷺ نے حکم ربانی کے موافق تبلیغ کا کام اس طرح شروع فرمایا کہ ایک روز سب کو کھانے پر جمع کیا۔ یہ سب بنی ہاشم ہی تھے ان کی تعداد چالیس یا کچھ کم زیادہ تھی۔ اس روز ابولہب کے بکواس کی وجہ سے نبی ﷺ کو کلام کرنے کا موقعہ ہی نہ ملا۔ دوسری شب پھر انہی کی دعوت کی گئی۔ جب سب لوگ کھانا کھا کر اور دودھ پی کر فارغ ہو گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا۔ اے حاضرین! میں تم سب کے لیے دنیا اور آخرت کی بہبودی لے کر آیا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ عرب بھر میں کوئی شخص بھی اپنی قوم کے لیے اس سے بہتر اور افضل شے لایا ہو مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں آپ لوگوں کو اس کی دعوت دوں۔ بتلاؤ تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا۔
(ماخوذ از رحمۃ للعالمین ج ١ ص ٥٥/٥٦۔ مطبوعہ غلام علی اینڈ سنز لاہور بحوالہ الفدا ص ١١٧)
اب میاں محمود قادیانی فرمائیں کہ یہ زبانی تبلیغ تھی یا تلوار سے؟ اور ابولہب نے زبانی مخالفت کی تھی یا تلوار سے؟ وہ کس طرح لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا ہی زمانہ زبانی
۔ ٧ ۔
تبلیغ کا ہے اور محمد ﷺ مصداق اِسْمُهُ اَحْمَدُ والی بشارت کے نہیں تھے کیونکہ زبانی تبلیغ مرزا قادیانی کے وقت میں ہوئی پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ محمد ﷺ کے وقت نور اسلام کو زبانی بکواس سے بجھانا چاہتے تھے جیسا کہ ابولہب نے کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میری بکواس سے کوئی محمد ﷺ کی بات کو نہ سنے اور کچھ تعجب نہیں کہ اسی واسطے یہ آیت نازل ہوئی ہو کہ یہ لوگ اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں یعنی تیری بات سننے نہیں دیتے لیکن اللہ ضرور اسے پورا کرے گا۔ طارق بن عبداللہ کا بیان ہے کہ میں مکہ کے سوق المجاز میں کھڑا تھا۔ اتنے میں وہاں ایک شخص آیا جو پکار پکار کر کہتا تھا یَاَیُّهَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ تُفْلِحُوْا ”لوگو لا الہ الا اللہ کہو فلاح پاؤ گے۔“ ایک دوسرا شخص اس کے پیچھے پیچھے آیا جو اسے کنکریاں مارتا اور کہتا تھا یَاَیُّهَا النَّاسُ لَا تُصَدِّقُوْا فَاِنَّهُ کَذَّاب۔ لوگو اسے سچا نہ سمجھو یہ جھوٹا شخص ہے۔ (رحمت اللعالمین ص ١٨٧ بحوالہ زاد المعاد ص ٢٦٣) یہ محمد رسول اللہ ﷺ تھے اور جو پیچھے پیچھے جاتا تھا وہ آپ کا چچا عبدالعزٰی تھا (ابولہب کا دوسرا نام عبدالعزٰی تھا) اب غور کرو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کو پھونکوں (زبان) سے بجھانے کی کوشش کی جاتی تھی یا مرزا قادیانی کے نور کو؟ مرزا قادیانی تو کوئی نور لائے ہی نہ تھے پھر اس کا بجھانا کیا معنی رکھتا ہے؟
(٢) ایک روز نبی کریم ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو پکارنا شروع کیا جب سب لوگ جمع ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھے سچا سمجھتے ہو یا جھوٹا سب نے ایک آواز سے کہا ہم نے کوئی بات غلط یا بیہودہ تیرے منہ سے نہیں سنی ہم یقین کرتے ہیں کہ تو صادق اور امین ہے (رحمت اللعالمین ص ٥٦ بحوالہ مناقب ص ١١ و ١٩) مرزا محمود قادیانی فرمائیں کہ یہ تبلیغ کا کام زبانی تھا یا تلوار سے؟
(٣) دربار حبش میں جب حضرت جعفرؓ نے تقریر کی اور اسلام کی خوبیاں بیان فرمائیں تو بادشاہ نے تقریر سن کر کہا کہ مجھے قرآن سناؤ۔ جعفر طیارؓ نے اسے سورۂ مریم سنائی۔ بادشاہ اس قدر متاثر ہوا کہ رونے لگ گیا اور کہا کہ محمد ﷺ تو وہی رسول ہیں جن کی خبر یسوع مسیح نے دی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اس رسول کا زمانہ ملا۔
(رحمت اللعالمین ج ١ ص ٦٣ بحوالہ سیرت بن ہشام ص ١١٦ جلد اوّل)
فرمائیے مرزا محمود قادیانی یہ کونسی تلوار تھی کہ کفار کے دلوں پر کاٹ کرتی تھی اور اپنی صداقت کا سکہ ان کے دلوں پر جماتی تھی؟ کیا سچے رسول محمد ﷺ اور جھوٹے رسول مرزا قادیانی میں اب بھی آپ کو فرق معلوم ہوا یا نہیں؟ کہ ایک عیسائی بادشاہ شہادت دیتا
٥٨
ہے کہ جس رسول کی بشارت عیسیٰؑ نے دی تھی وہ محمد ﷺ ہے۔ دوم! سچا رسول غیر حاضر ہے۔ مگر اس کی وحی نے وہ تاثیر کی کہ عیسائی بادشاہ بمعہ اپنی رعیت بلکہ ملک کا ملک اس پر ایمان لے آیا اور جھوٹے رسول پر ایک عیسائی بھی ایمان نہ لایا۔ اس پر آپ کا یہ فرمانا کہ محمد ﷺ اس آیت کے مصداق نہ تھے بلکہ مرزا قادیانی ہیں کیسا ناپاک جھوٹ ہے؟ دوم! ابن ہشام کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عیسائیوں کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ کے بعد بلافصل کسی اور نبی و رسول کے جو نبی آئے گا وہی مصداق اس آیت مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اِسْمُهُ أَحْمَدُ کا ہے اور وہ محمد ﷺ ہے مگر ١٣ سو برس کے بعد محمد ﷺ کی امت میں سے ہی ایسے پیدا ہو گئے جو کہتے ہیں کہ محمد ﷺ اس پیشگوئی کے مصداق نہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ سچے رسول محمد ﷺ نے حضرت عیسیٰؑ کی تعریف کی اور کامیاب ہوا۔ لاکھوں عیسائی مسلمان کیے۔ جھوٹے رسول نے بخیالِ باطل خود حضرت عیسیٰؑ کی ہتک کر کے کامیاب ہونا چاہا مگر کامیاب نہ ہوا۔
- (٤) ایک دفعہ بدمعاشوں اوباشوں نے نبی ﷺ کو اس قدر گالیاں دیں اور تالیاں
بجائیں کہ خدا کے نبی ﷺ باغ کے احاطہ میں پناہ لینے کے لیے چلے گئے اس مکان میں عداس عیسائی آپ ﷺ پر ایمان لایا اور اس کے ایمان لانے کی یہ وجہ ہوئی کہ حضور ﷺ نے بسم اللہ پڑھی اور انگور کھانے شروع کیے جو عداس لایا تھا۔ عداس نے حیرت سے پوچھا یہ کیسا کلام ہے؟ یہاں کے باشندے ایسا نہیں بولتے۔ نبی ﷺ نے فرمایا تم کہاں کے رہنے والے ہو اور تمہارا مذہب کیا ہے؟ عداس نے کہا میں نینوا کا باشندہ اور عیسائی ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا تم مرد صالح یونس بن متی کے شہر کے باشندے ہو۔ عداس نے کہا کہ آپ کو کیا خبر ہے کہ یونس بن متی کون تھا اور کیسا تھا؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ میرا بھائی ہے وہ بھی نبی تھا اور میں بھی نبی ہوں۔ اللہ اکبر کیسا سچا و پکا مدعی تھا کہ ابھی بدمعاش ستا رہے ہیں مگر آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں بھی نبی ہوں۔ عداسؒ یہ سنتے ہی جھک پڑا اور نبی ﷺ کا سر مبارک، ہاتھ اور قدم چوم لیے۔
(از رحمۃ للعالمین ج ١ ص ٧٣)
مرزا محمود قادیانی بتائیں کہ یہ تلوار تھی یا زبان مبارک اور کفار اس زبان مبارک کے وعظ کو روکتے تھے یا تلوار کو اور کفار جو گالیاں دیتے یا شور کرتے اور تالیاں بجاتے یہ تلوار تھی یا زبان؟
- (٥) مصعبؓ نے اسلام قبول کر کے اپنے قبیلے کے لوگوں کو پکار کر کہا اے بنی عبدالاشہل
تم لوگوں کی میرے متعلق کیا رائے ہے سب نے کہا تم ہمارے سردار ہو اور تمہاری تحقیق
٥٩
ہم سے بہتر اور اعلیٰ ہوتی ہے۔ مصعب بولا کہ سنو! خواہ کوئی مرد ہو یا عورت میں اس سے بات کرنا حرام سمجھتا ہوں جب تک کہ وہ خدا اور خدا کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ اس کے کہنے کا یہ اثر ہوا کہ بنی عبدالاشہل میں شام تک کوئی مرد یا عورت دولت اسلام سے خالی نہ رہا اور تمام قبیلہ ایک ہی دن میں مسلمان ہو گیا۔ (طبری ص ٢٤٤)
اب مرزا محمود قادیانی بتائیں یہ تلوار تھی یا اسلامی نور تھا کہ اپنی تاثیر نور سے عوام کے دلوں کو منور کرتا تھا اور مخالفین اسی نور کے بجھانے کی کوشش کرتے تھے؟
- (٦) طفیل بن عمرو دوسیؓ جو ملک یمن کے حصہ کا فرمانروا تھا مکہ میں مسلمان ہوا اور اس طفیل
کے طفیل اس ملک میں بھی اسلام پھیل گیا۔ ٢٠ کس عیسائی نجران میں مسلمان ہوئے۔
(رحمۃ للعالمین ج ١ ص ٨٦)
اب مرزا محمود قادیانی غور فرمائیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے وقت جو تبلیغ اور وعظ ہوتے تھے اور جوق در جوق غیر مذاہب کے لوگ آ کر داخل اسلام ہوتے تھے۔ وہ نور تھا جس کے بجھانے کی کفار کوشش کرتے تھے اور وہ خرق عادت کے طور پر اللہ تعالیٰ کی امداد سے اپنی خوبیوں کے باعث پھیلا اور کفار کی پھونکوں نے اس کی کچھ روک تھام نہ کی۔ یا مرزا قادیانی کا نور کہ قادیاں میں بھی نہ پھیلا؟ سچے جھوٹے میں تمیز کے واسطے یہی معیار کافی ہے۔ پس مصداق اِسْمُہٗ اَحْمَدُ کے محمد ﷺ ہیں نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی۔
- (٧) محمد رسول اللہ ﷺ دعوت اسلام کرنے والوں کے لیے جو ہدایات فرماتے ان سے
صاف ظاہر ہے کہ تبلیغ بذریعہ وعظ ہوتی تھی نہ کہ بذریعہ تلوار۔ فرمایا کہ لوگوں کو دین خدا کی طرف بلاؤ۔ ان سے نرمی و محبت کا برتاؤ کرو۔ اس دفعہ طفیل کو اچھی کامیابی ہوئی۔ ٥ھ میں وہ دوس کے ٧٠۔٨٠ خاندان جو مسلمان ہوئے تھے مدینہ میں ساتھ لایا ۔ کیا یہ تلوار کا کام ہے؟ ہرگز نہیں۔ (رحمۃ للعالمین ج ١ ص ١٩٢)
پس یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی کے وقت ہی زبانی تبلیغ ہوسکتی ہے اس لیے اس آیت کے مصداق مرزا قادیانی تھے۔
پانچویں دلیل: ”وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے چھوڑے گا گو یہ کفار ناپسند ہی کریں۔ یہ آیت بھی احمد رسول کی ایک علامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے۔ کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ احمد کا وقت اتمام نور کا وقت ہے۔“ الخ (ص ٤٦ انوارِ خلافت)
٦٠
الجواب: میاں محمود قادیانی کا یہ فرمانا کہ اتمامِ دین کا وقت مسیح موعود کا زمانہ ہے مرزا قادیانی کے مذہب کے برخلاف ہے۔ مرزا قادیانی تو ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں کہ ”ہمارے حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ خاتم النبیین کے ہاتھ سے اکمالِ دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی...... جو شخص اس کے برخلاف خیال کرے۔ یعنی اس دین کو ناتمام و نامکمل کہے تو ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے“ (ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ١٣٧ خزائن ج ٣ ص ١٧٠) اب مرزا محمود قادیانی بتائیں کہ وہ سچے ہیں یا ان کا باپ؟ کیونکہ وہ تو نور اسلام کو پورا اور کامل بتاتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ ١٣ سو برس کے بعد وہ نور تمام ہوا۔ دوم۔ میاں محمود قادیانی کا یہ فرمانا تین وجوہ سے بالکل غلط ہے ایک وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِیْ کہ اے محمد میں نے تجھ پر اپنی نعمت پوری کر دی۔ اب اس میں کسی طرح کی تنسیخ و ترمیم کی ضرورت نہیں اور نہ کسی قسم کا نقص اور کمی ہے اور اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِیْ کی سند عطا فرمائی اگر نعوذ باللہ مرزا محمود قادیانی کی یہ بات کوئی مسلمان بدبختی سے مان لے کہ یہ آیت مرزا قادیانی کے حق میں ہے تو گویا اس نے یہ یقین کیا کہ ١٣ سو برس تک اسلام ناقص رہا اور مرزا قادیانی کے آنے سے نور کامل ہوا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں مصادرہ علی المطلوب ہے ابھی مسیح موعود تو مرزا قادیانی ثابت نہیں ہوئے۔ کیونکہ وہ عیسیٰ بن مریمؑ نبی اللہ (جس کا نزول اصالتاً موعود ہے) ہرگز نہ تھے بلکہ وہ تو دس ہزار آنے والے کذاب مسیح میں سے ایک تھے تو یہ آیت مرزا قادیانی کے حق میں کس طرح ہوئی؟ مسیح موعود تو عیسیٰ بن مریم نبی ناصری ہے اور یہاں احمد رسول کی بشارت ہے۔ اگر مرزا قادیانی احمد ہیں تو عیسیٰ بن مریم نہیں اور اگر عیسیٰ بن مریم ہیں تو احمد رسول نہیں۔ دونوں صورتوں میں باطل ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ واقعات بتا رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کا وقت اتمامِ نور کا وقت ہرگز ہرگز ثابت نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی کے وقت میں اسلام پر وہ وہ حملے ہوئے اور نور اسلام کو ایسی تاریک شکل میں مخالفین نے پبلک کے سامنے پیش کیا کہ نورِ اسلام بجائے نور کے ظلمت ثابت ہو۔ مرزا قادیانی نے خود جو اسلام پیش کیا وہ ایسا تاریک اور ناقص کریہہ المنظر مضحکہ خیز ہے کہ اس کو نور کہنا ”برعکس نہند نام زنگی کافور“ کا مصداق ہے۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سنو! مرزا قادیانی کا اسلام کیا ہے؟
- (١) مرزائی خدا، مرزا قادیانی کو کہتا ہے اَنْتَ مِنْ مَّآءِنَا وَهُمْ مِنْ فَشَلٍ یعنی اے غلام احمد
تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور وہ لوگ خشکی سے
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٣ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
٦١
آپ جس اسلام کو ناقص کہتے ہیں وہ ایسے گندے اعتقاد سے پاک ہے اور بتاتا ہے کہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اَللّٰهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ خدا تعالیٰ کی ذات جننے جنانے اور نطفہ اور بیوی سے پاک ہے مگر مرزا قادیانی کا خدا ان کو بیٹا اور بیٹا بھی صلبی قرار دیتا ہے۔ اب انصاف سے کہو کہ یہ نور اسلام پورا ہوا؟ یا مرزا قادیانی کے وقت میں خالص توحید اسلام شرک کی نجاست سے پلید ہوئی؟ مسلمان ہمیشہ خدا کو وحدہ لاشریک علی کل شی قدیر سمجھتے تھے۔ اولاد بننے سے پاک یقین کرتے آئے ہیں۔ اب مرزا قادیانی کے آنے سے معلوم ہوا کہ مرزائی اسلام کا خدا بال بچہ والا ہے اور جس جگہ خدا کا پانی گرا وہ خدا کی بیوی ثابت ہوئی۔ گویا مرزا غلام احمد قادیانی خدا زادے بن گئے اور ان کے والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی مرزا قادیانی کے باپ ہونے میں خدا کے شریک ہو گئے اور مرزا محمود قادیانی اور ان کے بھائی مزے میں رہے کہ خدا کے پوتے ہو گئے۔ (نعوذ باللہ)
- (٢) مرزائی خدا جسم اور اعضا والا ہے چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”میں نے خدا کو تمثیلی شکل میں
متشکل دیکھا اور اس سے اپنی پیشگوئیوں پر دستخط کرائے اور خدا نے قلم جھاڑا تو میرے کرتے پر سرخی کے چھینٹے پڑے کرتہ موجود ہے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٢٥٥ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
قرآن مجید میں خدا تعالیٰ اپنی ذات کی نسبت فرماتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ یعنی کوئی شے اللہ کی تمثیل نہیں ہو سکتی۔ مگر مرزا قادیانی تمثیلی شکل میں انسان کی صورت میں خدا کو دیکھتے ہیں۔ (ضرورۃ الامام ص ١٣ خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) میں لکھتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ ملہم سے بات کرنے کے وقت چہرہ سے ذرا نقاب اتار کر بات کرتا ہے۔“ (نعوذ باللہ) خدا ہے یا کوئی پردہ دار عورت کہ حجاب اٹھا کر مرزا قادیانی سے باتیں کرتی ہے دیدار مینمائی و پرہیز میکنی بازار خویش و آتش تیز میکنی ۔ کا مضمون مرزا قادیانی نے ادا کیا ہے۔ (توضیح المرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٩٣) لکھتے ہیں کہ ”خدا جب بندہ ملہم سے بات کرنے لگتا ہے تو اس کے اعضا میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔“ اب بتاؤ یہ نور کا اتمام ہے یا شک و شبہات کا سیاہ بادل ہے۔ انصاف آپ پر ہے جس مذہب کا خدا ایسا ہو وہ مذہب ناتمام و ناقص ہے یا محمد کا مذہب جس میں توحید کامل ہے اور نور اتم۔
- (٣) رسول کی نسبت مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا اعتقاد۔ ١٣ سو برس تک اہل سنت
والجماعت کا یہ اعتقاد تھا کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ مرزا قادیانی نے نور اسلام میں ترمیم یہ کی کہ آپ خود ہی رسول بن بیٹھے اور مسئلہ
٦٢
نبوت و رسالت کو ایسا مشتبہ کر دیا کہ مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا قادیانی تک تمام کاذب مدعی سچے نبی و رسول ثابت ہوئے کیونکہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دروازہ افراد امت پر کھول دیا ہے اور کہا کہ نبوت کا دروازہ بالکل مسدود نہیں۔ اس میں محمد ﷺ کی ہتک ہے ان کی فضیلت اسی میں ہے کہ پیروی کر کے بہت سے اس جیسے نبی ہوں۔ اور ایک یہ اصطلاح ایجاد کی کہ میں امتی نبی ہوں۔ یعنی امتی بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ میری نبوت محمد ﷺ کے ماتحت ہے اور مرزا جی کو شاید یہ خبر نہیں کہ سارے کذاب مدعیان نبوت نے محمد ﷺ کے ماتحت ہو کر ہی دعویٰ نبوت کیا ہے جب وہ کاذب ہوئے تو میں کیونکر سچا ہو سکتا ہوں؟
- (٤) مختصر طور پر چند مشتبہ باطل اور نامعقول عقائد جو مرزا قادیانی نے خالص نور اسلام
میں داخل کیے درج کیے جاتے ہیں تاکہ میاں محمود قادیانی اور ان کے مریدوں کو معلوم ہو کہ پھونکوں سے یعنی باطل تاویلات سے کس نے نور اسلام کو بجھایا ہے؟ اولاد خدا کا مسئلہ ۔ ظل کا مسئلہ، بروز کا مسئلہ، عود یعنی رجعت یا بعثت ثانی محمد ﷺ کا مسئلہ، عام امتیوں پر نزول وحی کا مسئلہ، اہل قبلہ کو کافر کہنے کا مسئلہ، صفات باری میں شریک ہونے کا مسئلہ (جیسا کہ) ان کا الہام ہے کہ اے غلام احمد قادیانی اب تیرا یہ مرتبہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے صرف اس کو کہہ دے ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔ دیکھو الہام مرزا۔ انما امرک اذا اردت بشئ ان تقول لہ کن فیکون (یعنی مرزا قادیانی کو کن فیکون کے اختیارات حاصل تھے) (حقیقت الوحی ص ١٠٥ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨) خالق زمین و آسمان ہونا، خالق انسان ہونا، خدا ہونا (کتاب البریہ ص ١٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) غرض چشمہ صافی اسلام کو ایسے باطل عقائد سے اہل اسلام نے ١٣ سو برس کے عرصہ میں جو صاف کیا تھا پھر دوبارہ مرزا قادیانی نے داخل کیے۔ مگر دعویٰ یہ ہے کہ مسیح موعود ہوں اور نور اسلام کو تمام کیا ہے اور مجدد ہوں تجدید دین کی ہے۔ اب مسلمان خود غور کر لیں کہ مرزا قادیانی کے وقت نور اسلام تمام و کامل ہوا یا ناقص و مکدر ہوا؟
چھٹی دلیل: ”هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ“ یعنی ”وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو غالب کر دے سب دینوں پر۔“ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح موعود ہی کا ذکر ہے کیونکہ اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے حق میں ہے کیونکہ اس کے وقت میں اسلام کو باقی ادیان پر غلبہ مقدر ہے۔ چنانچہ واقعہ نے بھی
٦٣
اس بات کی شہادت دے دی ہے کیونکہ اس زمانہ سے پہلے اشاعت دین کے ایسے سامان موجود نہ تھے جو اب ہیں۔ مثلاً ریل، تار، دخانی جہاز، ڈاک خانے، مطابع، اخبارات کی کثرت، علم کی کثرت، تجارت کی کثرت جس کی وجہ سے ہر ایک ملک کے لوگ ادھر اُدھر پھرتے ہیں اور ہر ایک شخص اپنے گھر بیٹھا ہوا چاروں طرف تبلیغ کر سکتا ہے۔“
(انوار خلافت ص ٤٦)
الجواب: خدا تعالیٰ نے سچ بات میاں محمود کے منہ سے نکلوا دی ہے جس نے خود ہی مرزا قادیانی کے دعویٰ پر پانی پھیر دیا ہے۔ اس آیت میں صاف لکھا ہے کہ وہ رسول صاحب شریعت ہوگا اور ایک ایسا دین اپنے ساتھ لائے گا کہ جو تمام دینوں پر غالب ہوگا۔ مرزا قادیانی اور تمام مرزائیوں کا (خواہ قادیانی جماعت سے ہوں یا لاہوری جماعت سے) اس بات پر اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی کوئی نیا دین نہیں لائے اور نہ کوئی کتاب ہی ساتھ لائے بلکہ ان کا مذہب یہ تھا کہ وہ اس دین کے تابع تھے جو محمد ﷺ ساتھ لائے تھے۔ چنانچہ وہ خود ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں ؎
بدیں آمدیم و بدیں بگذریم
ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کوچ کریں گے۔ یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ ﷺ خاتم النبیین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہِ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعشہ یا لفظ اس کی شرائع یا حدود اور احکام و اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے۔ اور اب کوئی ایسی وحی یا الہام منجانب اللہ ہو نہیں سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کا تغیر و تبدل کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔
(ازالہ اوہام ص ١٣٧ زیر عنوان ”ہمارا مذہب“ خزائن ج ٣ ص ١٧٠۔١٦٩)
جب مرزا قادیانی کوئی دین ہی ساتھ نہیں لائے اور اسی دین محمدی کو ذریعہ نجات خیال کرتے تھے تو پھر انصاف سے بتاؤ کہ مرزا قادیانی اس آیت میں جو رسول
ہے وہ کس طرح ہوئے وہ تو انکار کر رہے ہیں۔ ع ”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“ کہ میں نہ رسول ہوں اور نہ کوئی کتاب ساتھ لایا ہوں۔ پھر کچھ خوف خدا کرنا چاہیے کہ کس کو رسول بنا رہے ہو جو خود انکاری ہے؟ دوم واقعات بتا رہے ہیں کہ کل ادیان پر غلبہ کس کے دین کا ہوا؟ محمد ﷺ کے دین کا جس کے غلبہ کا اعتراف مخالفین اسلام بھی کرتے ہیں چاہے وہ تعصب سے کہیں کہ تلوار سے غالب آیا۔ مگر غالب آنا ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی کا اول تو کوئی جدید دین ہی نہ تھا اور نہ ان کے وقت دین اسلام کو دوسرے دینوں پر کوئی امتیازی غلبہ حاصل ہوا۔ مرزا قادیانی کے من گھڑت دین کو یعنی مسیح موعود ہونے کو نہ تو کسی آریہ نے مانا نہ کسی عیسائی نہ سکھ نے مانا بلکہ علمائے اسلام سے بھی کسی نے نہ مانا تو پھر غلبہ کے معنی کیا ہوئے؟ اگر مانا تو صرف انھوں نے مانا جنھوں نے قرآن کریم اور محمد ﷺ کو پہلے ہی سے مانا ہوا تھا۔ اس میں مرزا قادیانی کی کوئی خوبی نہیں کیونکہ ان کا جادو صرف انہی لوگوں پر چلا جو قرآن اور محمد ﷺ کو ماننے ہوئے تھے اس لیے اس کو ہرگز غلبہ یا کامیابی نہیں کہہ سکتے۔ غلبہ تب تھا کہ آریہ یا عیسائی مرزا قادیانی کو مانتے۔ پس یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی کے وقت میں غلبہ دین مقدر تھا۔ کیا غلبہ اسی کا نام ہے کہ چار مذاہب مقابل میں سے ایک پر بھی غلبہ نہ ہوا؟ کیا عیسائیوں پر مرزا قادیانی غالب آئے اور عیسائیوں نے ان کا مسیح موعود ہونا مانا؟ ہرگز نہیں۔ کیا کسی برہمو سماجی نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مانا؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر خدا کے لیے بتاؤ کہ غلبہ آپ کس جانور کا نام رکھتے ہیں جو مرزا قادیانی کو حاصل ہوا؟ اگر کہو کہ مرزا قادیانی کو مسلمانوں میں سے بعض شخصوں نے مسیح موعود مانا تو یہ بالکل غلط ہے کیونکہ غلبہ وہ ہے جس کا پلہ بھاری ہو۔ اگر چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے چند کسان جو قرآن اور محمد ﷺ کو پہلے ہی مانتے تھے مرزا قادیانی کو قرآن اور محمد ﷺ کا پیرو سمجھ کر مرزا قادیانی کے مرید ہو گئے تو اس میں مرزا قادیانی کا کچھ غلبہ نہیں اور دوسرے دینوں پر اسلام کے دین کا کوئی غلبہ نہیں ہوا۔ باقی رہا آپ کا یہ کہنا کہ چونکہ ریل‘ تار‘ دخانی جہاز‘ ڈاک خانے‘ مطابع (چھاپے خانے) اخبارات کی کثرت‘ تجارت کی وسعت و دیگر ایجادات وغیرہ کا اجرا مرزا قادیانی کے وقت میں ہوا۔ یا بقول مرزا قادیانی ان کے واسطے خدا نے آسمانی حربے دیئے اس سے تو مرزا قادیانی کی نالائقی ثابت ہوتی ہے کہ یہ اسباب اور حربے تو خدا نے مرزا قادیانی کے واسطے پیدا کیے تاکہ اسلام کو غالب کریں۔ مگر ان اسبابوں اور حربوں سے مخالفین اسلام نے فائدہ اٹھا کر مرزا قادیانی کو ہی مغلوب کیا۔ اس کی مثال
اس نالائق جرنیل کی سی ہے جس کو بادشاہ توپ خانے اور رسالے دے کر دشمن سے لڑنے اور مارنے کے واسطے روانہ کرے اور دشمن اس جرنیل سے وہی توپ خانے اور رسالے چھین لے اور صرف چھین ہی نہ لے بلکہ انہی رسالوں اور توپ خانوں اور سامان جنگ سے اس جرنیل کو شکست فاش دے اور یہ مغلوب ہو کر دشمن سے درخواست صلح کرے۔ بعینہ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بقول میاں محمود قادیانی ریل‘ تار‘ ڈاک خانے‘ اخبارات و چھاپہ خانے مرزا قادیانی کے واسطے بنائے تھے یا یوں کہو کہ مرزا قادیانی کو عطا کیے کہ اپنے دین کو کل دینوں پر غالب کرو۔ مگر آریوں‘ عیسائیوں اور سکھوں اور برہموں نے وہی آلات مرزا قادیانی سے چھین کر مرزا قادیانی پر ہی استعمال کر کے مرزا قادیانی کو ایسا مغلوب کیا کہ سب ہتھیار ڈال کر آریوں کو پیغام صلح دیا اور اس قدر اپنی مغلوبیت ظاہر کی کہ ان کے وید کو خدا کا کلام تسلیم کیا اور ان کے بزرگوں کو نبی مانا۔ صرف زبانی ہی نہیں مانا بلکہ کرشن جی جو تناسخ کے قائل اور قیامت کے منکر تھے اور اعمال کی جزا و سزا بذریعہ اواگون مانتے تھے۔ مرزا قادیانی خود کرشن کا اوتار بن گئے۔ چنانچہ گیتا میں جو کرشن جی کی اپنی تصنیف ہے جس کا ترجمہ فیضی نے کیا ہے لکھا ہے ۔
بانواع قالب دروں آردش
بتنہائے معہود در میروند
بجسم سگ و خوک در میروند
یعنی گناہگاروں کو خدا تعالیٰ قید تناسخ میں لاتا ہے اور قسم قسم کے قالب میں بدلتا ہے حتیٰ کہ کتے اور سور کے جسم میں لاتا ہے (گیتا مترجمہ فیضی ص ١٢٦) پھر صاف لکھا ہے جس طرح انسان پوشاک بدلتا ہے اسی طرح آتما بھی یعنی روح بھی ایک قالب (بدن) سے دوسرے قالب (بدن) کو قبول کرتی ہے (اشلوک ٢٢ ادھیاے ٢ گیتا) مرزا قادیانی کرشن جی کی محبت اور متابعت تامہ میں ایسے فنا فی الکرشن ہوئے کہ کرشن کا اوتار بن گئے۔ ان لفظوں میں کرشن ہونا قبول کیا ہے۔ ”(حقیقت روحانی کے رو سے) میں کرشن بھی ہوں جو ہندوؤں کے اوتاروں میں سے ایک اوتار یعنی نبی تھا۔“ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨) اور اوتار کے معنی نبی کے قبول کیے۔ اب کوئی مرزائی بتائے کہ یہ دین کا غلبہ ہے یا مغلوبیت ہے۔ سبحان اللہ۔ ڈاک خانہ و ریل و تار وغیرہ اسباب ترقی کے ملے تو مرزا قادیانی کو مگر ان سے فائدہ اٹھایا سوامی دیانند صاحب نے جو بانی
٦٦
آریہ سماج تھے اور ان کو انہی اسباب کے ذریعہ وہ کامیابی ہوئی کہ مرزا قادیانی کے خواب میں بھی نہ آئی۔ یعنی اسی ریل‘ تار‘ ڈاک خانہ و چھاپہ خانہ کے ذریعے سے اس قدر کتابیں اور اشتہارات عیسائیوں اور آریوں نے اسلام کی تردید میں شائع کیے کہ مرزا قادیانی سے بدرجہا زیادہ تھے۔ پھر اس ناکامیابی کا نام کامیابی کیونکر درست اور صداقت کا معیار ہو سکتا ہے؟ ”برعکس نہند نام زنگی کافور“ شاید کوئی مرزائی کہہ دے کہ مرزا قادیانی روحانی طور پر غالب آئے اور بحث مباحثہ میں کتابیں لکھیں تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ کتابیں تو عیسائیوں کے رد میں ہمیشہ مسلمان لکھتے چلے آئے ہیں۔ سرسید، مولانا رحمت اللہ مرحوم، مولوی چراغ علی صاحب اور حافظ ولی اللہ مرحوم کے نام بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔ ان بزرگوں کی کتابیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اگر کچھ کیا تو اپنی خاطر کیا کہ وفات عیسیٰؑ ثابت ہو اور خود عیسیٰ بنوں۔ پس مرزا قادیانی نے اپنی ہی ذات کی خدمت کی۔ مرزا قادیانی کی کوئی کتاب نہیں جس میں ان کی اپنی تعریف نہ ہو اور عیسیٰؑ کی وفات کا ذکر نہ کیا ہو اور یہ صاف ہے کہ اس سے اپنی دوکان چلانے کی غرض تھی کہ مسلمان میری بیعت کریں اور چندہ دیں اسے کوئی عقلمند اسلام کی خدمت نہیں کہہ سکتا۔ براہین احمدیہ۔ سرمہ چشم آریہ۔ شحنہ ہند ست بچن کے مقابل آریوں اور عیسائیوں کی طرف سے انہی چھاپہ خانوں ڈاک خانوں اور اخبارات کے ذریعے سے آریوں اور عیسائیوں نے ایسی بدزبانی اور ہتک اسلام کی کہ مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ اوّل حکیم نور الدین قادیانی چیخ اٹھے اور ایسے مغلوب ہوئے کہ صلح کی درخواست کی۔ کیا کسی آریہ نے بھی کسی اسلامی نبی یا کسی اسلامی آسمانی کتاب کو مانا؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر کس قدر طفل تسلی اور سادہ لوحی ہے کہ ہم یہ تسلیم کر لیں کہ مرزا قادیانی سب ادیان پر غالب آئے؟ حالانکہ وہ مغلوب ہوئے اور وہ سچا رسول اللہ ﷺ جس کے غلبے کا ثبوت تمام دنیا میں ظاہر و روشن ہے۔ اور مخالفین بھی اقرار کرتے ہیں کہ وہ غالب آیا اور اپنے دین اسلام کو اس نے غالب کیا اس کی اشاعت اور تبلیغ کو ناقص اور ناتمام بنا دیں اور ایک شخص جس نے کچھ بھی نہیں کیا اور وہ کوئی دین بھی ساتھ نہیں لایا نہ اس نے اپنے دین کو غالب کر کے دکھایا اسے اس آیت کا مصداق بنائیں کور چشمی اور سیاہ دلی نہیں تو اور کیا ہے؟ اور مخلوق پرستی کا جن سر پر سوار نہیں تو اور کیا ہے؟ جو ایسے بلا دلیل دعویٰ کرتا ہے آخر ثبوت دینے سے عاجز ہو کر شرمسار ہوتا ہے۔ بفرض محال اگر یہ تسلیم بھی کر لیں کہ یہ غلبہ عورتوں والا ہی غلبہ تھا کہ جو فریق مخالف کو زیادہ گالیاں دے وہ کامیاب سمجھا ٦٧
جائے تو اس میں بھی مرزا قادیانی ہی مغلوب ثابت ہوئے۔ جیسا کہ صلح کی درخواست سے ظاہر ہے جو انھوں نے مقابلہ سے عاجز آ کر مخالفوں سے کی۔ اور اگر میدان مناظرہ و بحث کی طرف دیکھا جائے تو مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کو مغلوب ہی پاتے ہیں۔ مرزا قادیانی دہلی کے مناظرہ میں مغلوب ہوئے۔ لدھیانہ کے مباحثہ میں مغلوب ہوئے امرتسر کے مباحثہ میں مغلوب ہوئے۔ حضرت خواجہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب ادام اللہ فیوضہم (نور اللہ مرقدہم) کے مقابلہ پر گھر سے ہی نہ نکلے۔ فروری ١٨٩٢ء میں لاہور میں جناب مولانا محمد عبدالحکیم صاحب سے مباحثہ ہوا اس میں عاجز آ کر تحریری اقرار دیا کہ میں آئندہ اپنی کتابوں فتح اسلام و توضیح المرام میں اصلاح کردوں گا کہ میں نبی نہیں ہوں۔
(دیکھو اشتہار مرزا قادیانی ٣ فروری ١٨٩٢ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٣)
اب مرزا محمود قادیانی بتائیں کہ اگر اس کا نام غلبہ ہے تو پھر شکست کس کو کہتے ہیں؟ مرزا قادیانی کے مرید و پیرو جب کبھی بحث کرتے ہیں تو مغلوب ہی ہوتے ہیں۔ میر قاسم علی نے تین سو روپیہ کی شرط ہار کر مغلوبیت ثابت کی۔ مولوی غلام رسول مرزائی نے امرتسر میں مولوی ثناء اللہ سے بحث کر کے مغلوبیت ثابت کی۔ رسالہ ہنڈبل نکالنے میں ایک مرزائی انجمن (ینگ مین ایسوسی ایشن لاہور) ہماری انجمن تائید اسلام لاہور کے مقابل مغلوب ہو کر نیست و نابود ہوگئی۔ عدالتوں میں مقدمات کر کے چیف کورٹ اور ہائی کورٹ تک ناکامیاب ہوئے حال ہی میں مسجد کا ایک مقدمہ ہائی کورٹ بہار میں ہارا اور ناکامیاب ہو کر افتان و خیزاں عدالت سے آئے۔ مگر دروغ بافی و تعلیٰ یہ ہے کہ محمد ﷺ تو کامل طور پر غلبہ دین کا نہ کر سکے اور وہ غلبہ دین مرزا قادیانی کے وقت میں مقدر تھا۔ جو شخص سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سمجھے تو پھر اس کے سوا ہم اسے کیا کہہ سکتے ہیں ؎
دعا دل سے نکلتی ہے کہ اس بت سے خدا سمجھے
تعجب ہے کہ مرزا قادیانی تو اقرار کریں کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ سوائے قرآن اور محمد ﷺ کے کوئی اور راستہ نہیں اور یہی ذریعہ نجات ہے۔ مگر ان کے فرزند رشید مرزا محمود قادیانی ان کی تردید کریں کہ جب تک میرے باپ کو نبی نہ مانو تب تک نہ تم مسلمان ہو اور نہ تمہاری نجات ہے اور نہ ہی وہ اسلام جو ١٣ سو برس سے چلا آیا ہے تمام و کمال ہے اور نہ ہی وہ خدا تک پہنچا سکتا ہے۔ جب تک مرزا قادیانی کو وسیلہ نہ بنایا جائے اور وسیلہ بھی ایسا کہ اگر تین ماہ تک قادیان میں چندہ نہ پہنچے تو بیعت سے خارج
٦٨
اور جماعت (مرزائی) سے علیحدہ سمجھا جائے اور باقی امت محمدیہ کی طرح (نعوذ باللہ من الہفوات) کافر سمجھا جائے۔ یہ تو محمد ﷺ کی صاف معزولی ہے کہ اب ان کی متابعت کچھ فائدہ نہیں دیتی اور نہ ذریعہ نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ قادیانی جماعت پر رحم کرے۔ مذہب اسلام میں ہزاروں فرقے ہوئے اور کئی ایک مدعی رسالت ونبوت ومہدویت بھی ہوئے مگر کسی نے آج تک محمد رسول اللہ ﷺ کو ایسا معزول نہیں کیا تھا جیسا کہ قادیانی جماعت نے (بزعمہم الفاسد) کیا ہے کہ جو مرزا قادیانی کو نبی و رسول نہ مانے خواہ وہ کیسا ہی قرآن وسنت کا پیرو ہو، اس کی نجات نہیں اور وہ کافر ہے کیونکہ (ان کے زعم باطل میں) اسمہ احمد والی پیشگوئی قرآن کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہے اور ١٣ سو برس تک تمام مسلمان غلطی سے محمد ﷺ کو سچا نبی و رسول مانتے چلے آئے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ نے دی تھی وہ اب آیا۔ (نعوذ باللہ)
شفاعت والی حدیث میں جو لکھا ہے کہ جتنی دیر تک خدا تعالیٰ چاہے گا میں سجدہ میں رہوں گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ یا محمد ارفع رأسک سل تعط واشفع تشفع۔ (مسلم ج ١ ص ١١١ عن ابی ہریرۃؓ باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النار) یعنی اے محمد ﷺ سر اٹھاؤ جو مانگو گے ملے گا اور جس کی شفاعت کرو گے قبول ہوگی۔ اور حدیث کے اخیر میں لکھا ہے کہ یہی قائم ہونا ہے مقام محمود میں جس کا وعدہ قرآن میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مقام محمود میں کھڑے ہو کر محمد ﷺ اپنی امت کی شفاعت کریں گے یا غلام قادیانی کی امت کی؟ اور شفاعت کرنے والے محمد ﷺ ہوں گے یا غلام احمد قادیانی ہوگا؟ اگر غلام احمد ہوگا تب تو وہ اس پیشگوئی کا مستحق یہی ہو سکتا ہے اور اگر مقام محمود میں محمد ﷺ کھڑے ہوں گے اور شفاعت کریں گے (اور یقینا وہی ہوں گے جیسا کہ تمام امت محمدیہ کا ایمان ہے) تو پھر اس پیشگوئی کے مصداق بھی وہی ہوں گے نہ کوئی ایرا و غیرا نتھو خیرا۔ پس یہ دلیل بھی ردی ہے۔
ساتویں دلیل: هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ”وہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ اے لوگو تم جو دنیا کی تجارت کی طرف جھکے ہوئے ہو کیا میں تمھیں وہ تجارت بتاؤں جس کی وجہ سے تم عذاب الیم سے بچ جاؤ۔“ یہ آیت بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں تجارت کا بہت زور ہوگا۔ لوگ دین کو بھلا کر دنیا کی تجارت میں لگے ہوں گے۔ چنانچہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیا کی تجارت کی اس قدر کثرت ہے کہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح موعود نے ان الفاظ میں بیعت لی کہ ”کہو میں
٦٩
دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ پس یہ آیت بھی ثابت کرتی ہے کہ ان آیات میں حضرت
(انوار خلافت ص ٤٨)
مسیح موعود کا ہی ذکر ہے۔“
الجواب: اس قسم کی عقل کے لوگ پہلے بھی گزرے ہیں جن کو قرآن کی آیات سے اپنا مطلب ملتا تھا اور ملنا چاہیے۔ ایک شاعر کہتا ہے؎
ہر چہ پیدا میشود از دور پندارم توئی
یعنی اے محبوب تو میرے دل اور آنکھوں میں ایسا سمایا ہے کہ جو کچھ بھی دور سے دکھائی دیتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ تو ہی ہے۔ میاں محمود قادیانی کو اپنے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کی رسالت کا اس قدر ثبوت قرآن سے ملتا ہے کہ ہر ایک آیت سے مرزا قادیانی کی رسالت ثابت ہے اور ہر ایک آیت قرآن مجید مرزا قادیانی کے زمانہ اور ان کی ذات کے واسطے تھی یہ تو پہلے خدا تعالیٰ سے (نعوذ باللہ) غلطی ہوئی کہ ١٣ سو برس پہلے قرآن نازل کر دیا۔ اور جس کی طرف قرآن نازل کرنا تھا وہ پیدا نہ ہوا۔ اس لیے قادیانی خدا کو ١٣ سو برس کے بعد پھر دوبارہ قرآن نازل کرنا پڑا کیونکہ وہ رسول جس کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی اب ١٣ سو برس بعد پیدا ہوا۔ یا خدا نے جان کر عمداً اپنی مخلوق کو گمراہ کیا۔ کیا یہ فرمانا مرزا محمود قادیانی کا اس لطیفہ سے بڑھ کر نہیں ہے کہ ”قرآن تو حضرت علیؓ پر اترا تھا اور رسالت بھی انہی کے واسطے تھی لیکن جبرائیلؑ نے غلطی سے محمد ﷺ کو رسالت دے دی اور قرآن بھی انہی کے حوالہ کر دیا ۔“ اب زمانہ روشنی کا ہے اور الحاد بھی قدرے عقل سے ہو سکتا ہے چونکہ وہ زمانہ سادہ لوحی اور کم عقلی کا تھا اس لیے بجائے خدا تعالیٰ کو الزام دینے کے جبرائیلؑ کو ملزم بنایا گیا حالانکہ اسے بھیجنے والا خدا تعالیٰ تھا۔ لیکن مرزا محمود قادیانی نے اس غلطی کو بھی نکال دیا ہے کہ اصل غلطی کرنے والا (نعوذ باللہ) خدا تعالیٰ ہے کیونکہ مخاطب اور اصل مصداق تو غلام احمد قادیانی تھا مگر اللہ تعالیٰ نے باوجود دعویٰ علام الغیوب کے محمد بن عبداللہ ﷺ کو ١٣ سو برس پہلے خطاب کر دیا ہے۔
اب ہم مرزا محمود قادیانی سے دریافت کرتے ہیں کہ محمد ﷺ کے زمانہ میں جب یہ تعلیم نہ تھی اور محمد ﷺ نے آخرت کی تجارت نہ بتائی تھی صرف مرزا قادیانی نے ہی بتائی اور مرزا قادیانی ہی اس امر پر بیعت لیتے تھے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ تو ١٣ سو برس تک جو اس قدر اولیاء اللہ تارک الدنیا گزرے ہیں انھوں نے کس کے ہاتھ پر بیعت کر کے دین کو دنیا پر مقدم کیا۔ دوم! وہ دین کس طرح کامل ہو سکتا ہے جس میں
٧٠
اس قدر کمی ہے کہ اس کو آخرت کی تجارت کی خبر تک نہیں۔ وہ اپنے تمام پیروؤں کو صرف دنیاوی تجارت کی طرف جھکاتا ہے۔ سوم! اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ جو قرآن میں ہے غلط ثابت ہو گا کیونکہ جو دین تجارت دنیا ہی بتا دے وہ ناقص ہے۔ دین کی نعمت میں اس قدر کمی تھی کہ دنیا پر دین مقدم کرنا نہیں بتایا گیا۔ وہ ١٣ سو برس بعد بتایا جانا تھا تو خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ بھی غلط ہوا۔ چہارم! مرزا قادیانی کا (ازالہ اوہام ص ١٣٧ خزائن ج ٣ ص ١٧٠) میں یہ لکھنا بھی غلط ہے کہ ”اکمالِ دین ہو چکا اور وہ دین محمدﷺ اور قرآن کا دین ہے۔“ مرزا قادیانی کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ میرے آنے سے دین کامل ہوا اور میں نے تعلیم دی کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھو اور ناقص دین کو کامل کیا۔ پنجم! یہ ڈھکوسلا واقعات کے بالکل برخلاف ہے۔ ذیل کے دلائل قاطعہ دیکھو۔ اوّل۔ مرزا قادیانی نے خود پندرہ روپیہ کی ملازمت چھوڑ کر کتابیں تالیف کرنے کی دوکان کھولی اور ان کو رات دن مخالفین کے جواب لکھنے کی فکر رہتی کیونکہ وہ جمعیت خاطر کے دشمن تھے جس کے سبب مرزا قادیانی نمازیں بھی وقت پر نہ پڑھنے پاتے اور جمع صلوٰتین پر عمل کرتے۔ شب بیداری اور ذکر و شغل باری تعالیٰ تو درکنار جو شخص فریضہ نماز بھی وقت پر ادا نہ کرے کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسے شخص نے دین کو دنیا پر مقدم کیا؟ ہرگز نہیں۔ دوم۔ مرزا قادیانی نے پیری و مریدی کی دوکان کھول کر جس قدر روپیہ کمایا اس کا وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ جس جگہ مجھ کو دس روپے ماہوار آمدنی کی امید نہ تھی اب تک تین لاکھ روپیہ آ چکا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١) علاوہ برآں تالیفاتِ کتب کا روپیہ، لنگر خانے کا روپیہ، کالج کا روپیہ، منارے کا روپیہ وغیرہ وغیرہ حیلوں سے جو روپیہ لیا جاتا ہے اور اپنی جائیداد بنائی۔ یہ دین کو دنیا پر مقدم کیا یا دنیا کو دین پر مقدم کیا؟ کوئی دنیاوی تجارت ایسی نہیں کہ تاجر کو ایسی ترقی نصیب ہو۔ کوئی بھی دنیاوی تجارت ایسی بتا سکتے ہو جس میں بغیر زحمتِ سفر و خرید و فروخت صرف گھر بیٹھے کتابوں کی فروخت و فیسِ بیعت سے تاجر مالا مال ہو سکے؟ لطیفہ: ایک ترک مرزا قادیانی کی زیارت کو گیا۔ جب واپس آیا تو لوگوں نے پوچھا کہ وہاں کیا کیا دیکھا؟ اس نے جواب دیا کہ ”پیغمبر کتب فروشان است۔“ ایسی دنیاوی کامیابی تو کسی کسب و تجارت میں نہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کے الفاظ بیعت کا شاید یہ مطلب ہو کہ ”دین کے بہانہ سے دنیا کماؤ۔“ یعنی دنیا کمانے کے لیے بھی دین ہی کو مقدم رکھوں گا گویا کہ دین کے بہانہ سے دنیا کماؤں گا۔ سوم۔ مرزا قادیانی کی خوراک و ١٧
لباس و مکان و رہائش و دیگر تکلفات و اخراجات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دنیاوی آرام کو مقدم رکھتے تھے۔ یہ صرف مریدوں کے واسطے تھا کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں۔ نہ تو یہ عمل مریدوں کا تھا اور نہ ہی خود بدولت (مرزا قادیانی) کا عمل تھا کیونکہ مرزا قادیانی کے سونے کے زیورات جن کی فہرست ذیل میں دی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی کا تارک الدنیا ہونا ثابت نہیں کرتے۔
کڑے طلائی قیمتی ٧٥٠ روپے۔ کڑے خورد طلائی قیمتی ٢٥٠ روپے۔ ٢٤ عدد ڈنڈیاں۔ بالیاں ٢۔ ہنسیاں ٢۔ ریل ٢۔ بالے گھنگرو والے ٢۔ کل قیمتی ٦٠٠ روپے۔ کنگن طلائی ٢٢٠ روپے۔ بند طلائی قیمتی ١٠٠ روپے۔ کنٹھ طلائی ٢٢٥ روپے۔ جھنان خورد طلائی ٣٠٠ روپے۔ پونچیاں طلائی ٤ عدد ١٥٠ روپے جوشن اور موتی ٤ عدد ١٥٠ روپے۔ جھناں کلاں ٣ عدد طلائی ٢٠٠ روپے۔ چاند طلائی ٥٠ روپے۔ بالیاں جڑاؤ سات عدد ١٥٠ روپے۔ نتھ طلائی ٤٠ روپے۔ ٹکہ طلائی خورد ٢٠ روپے۔ حمائل ٢٥ روپے پونچیاں خورد طلائی ٢٢ عدد ٢٥ روپے۔ بندی طلائی ٤٠ روپے۔ سیپ جڑاؤ طلائی ٧٠ روپے۔
(ماخوذ از کلمہ فضل رحمانی بحوالہ نقل رجسٹری ص ١٣٢۔١٣٣)
شیخ سعدیؒ نے خوب فرمایا ہے ؎
خویشتن سیم و غلہ اندوزند
مریدوں سے تو بیعت لی جاتی ہے کہ ”دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“ مگر خود مرزا قادیانی اس سے مستثنیٰ تھے کیونکہ انھوں نے کسی سے بیعت نہیں کی تھی۔ لہٰذا آپ کا عمل ضروری نہ تھا۔
اب حضرت سرور عالم محمد ﷺ کے مختصر حالات لکھے جاتے ہیں۔ (جن کی نسبت مرزا محمود قادیانی کا خیال ہے کہ ان کی تعلیم یہ نہ تھی کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھو) تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ مرزا محمود قادیانی نے یا تو جان بوجھ کر دھوکا دیا ہے یا انھیں علم نہیں۔
- (١) آنحضرت ﷺ کی دعا یہ تھی یَا رَبِّ اَجُوْعُ یَوْمًا وَّاَشْبَعُ یَوْمًا فَاَمَّا الْیَوْمُ الَّذِیْ
اَجُوْعُ فِیْهِ فَاَتَضَرَّعُ اِلَیْکَ وَاَدْعُوْکَ وَاَمَّا الْیَوْمُ الَّذِیْ اَشْبَعُ فِیْهِ فَاَحْمَدُکَ وَاُثْنِیْ عَلَیْکَ. یعنی الٰہی! ایک دن میں بھوکا رہوں اور ایک دن کھانے کو ملے۔ بھوک میں تیرے سامنے گڑگڑا کر رویا کروں اور کھا کر تیری حمد و ثنا کیا کروں۔
(شفا ص ٦٢)
٧٢
(٢) حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں۔ ایک ایک مہینہ برابر ہمارے چولھے میں آگ روشن نہ ہوتی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا کنبہ پانی اور کھجور پر گزارہ کرتا۔
(بخاری کتاب الاطعمہ عن عائشہؓ ص ٨١١)
(٣) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ نے مدینہ آ کر تین دن برابر گیہوں کی روٹی نہیں کھائی۔
(بخاری ج ٢ ص ٨١٥ باب ماکان النبی ﷺ واصحابہ یاکلون ابواب الاطعمہ)
(٤) نبی کریم ﷺ نے انتقال فرمایا تو اس وقت آنحضرت ﷺ کی زرہ بغرض غلہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔
(رحمۃ اللعالمین ج ١ ص ٢٩٠)
(٥) آنحضرت ﷺ نزع کی حالت میں تھے۔ آپ ﷺ نے جو اخیر خطبہ فرمایا اس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔ ”لوگو! مجھے یہ ڈر نہیں رہا کہ تم مشرک بن جاؤ گے لیکن ڈر یہ ہے کہ دنیا کی رغبت اور فتنہ میں کہیں ہلاک نہ ہو جاؤ جیسے پہلی امتیں ہلاک ہو گئیں۔
(از رحمۃ اللعالمین ج ١ ص ٢٨٥ بحوالہ مسلم عن عقبۃ بن عامر)
(٦) تیسری شرط بیعت کی۔ میں امور حق میں نبی کریم ﷺ کی اطاعت بقدر استطاعت کروں گا۔ ناظرین! سچا رسول تو بقدر استطاعت اقرار لیتا ہے مگر جھوٹا رسول بناوٹی طور پر بیعت لیتا ہے کہ دنیا پر دین کو مقدم کروں گا حالانکہ نہ خود اس نے ایسا کیا اور نہ اس کا کوئی مرید کر سکا۔
(٧) خدا اور رسول خدا کی محبت اسے سب سے بڑھ کر ہو۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ دین کو دنیا و مافیہا پر مقدم رکھوں گا۔ ان الفاظ میں رسول اللہ ﷺ بیعت لیتے تھے۔
(٨) عن ابن عمرؓ قال اخذ رسول اللہ ﷺ بمنکبی فقال کن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل۔
(رواہ البخاری حدیث ٦٤١٦ باب قول النبی ﷺ کن فی الدنیا کانک غریب)
روایت ہے ابن عمرؓ سے کہا انھوں نے کہ پکڑا رسول خدا ﷺ نے بعض بدن میرا یعنی دونوں مونڈھے۔ پس فرمایا کہ رہ تو دنیا میں گویا کہ مسافر ہے تو یا گزرنے والا راہ کا اور گن تو اپنے نفس کو مردوں سے کہ قبر میں آسودہ ہیں اور سب سے گزر گئے ہیں اور مشابہت کرنے کے ساتھ زندگی میں بیچ حکم مردہ کے ہے۔“
ناظرین! دیکھا مرزا محمود قادیانی کس قدر دلیر ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ جنھوں نے دنیا و مافیہا کو قبول نہیں کیا اور فقر و فاقہ قبول کیا اور دنیا کو لات ماری۔ اس کو تو (نعوذ باللہ) دین دنیا پر مقدم کرنا نصیب نہ ہوا اور مرزا قادیانی نے (باوجودیکہ ہر حیلہ سے دنیا کمائی اور لاکھوں روپے کی جائیداد چھوڑی) دین کو دنیا پر مقدم کیا؟ حالانکہ دنیا جانتی ہے
٧٣
کہ مرزا قادیانی جیسا طالب دنیا کوئی نہ تھا۔ وکالت کا امتحان انھوں نے اس واسطے دیا تھا کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا؟ شرم!
ایک ضمنی بات: تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ یہ تمھارے لیے اچھی بات ہے اگر تم جاننے والے ہو۔“ (انوار خلافت ص ٤٨)
الجواب: ان آیات کو پیش کر کے تو آپ نے مرزا قادیانی کی رسالت پر بالکل پانی پھیر دیا ہے۔ سچ ہے انسانی منصوبہ نہیں چل سکتا۔ ان آیات میں مال و جان سے جہاد کرنے کا حکم ہے اور وہ سچے رسول کی نسبت تھا جس نے عمل کر کے دکھا دیا۔ جھوٹے رسول نے نقل تو ساری اتاری مگر انگریزوں کے ڈر سے نفسی جہاد سے ایسا حکم عدول ثابت ہوا کہ اس کو حرام کر دیا۔ (دیکھو تحفہ گولڑویہ ص ٢٦ خزائن ج ١٧ ص ٧٧) کہ میں اور میرے مرید جہاد کو حرام سمجھتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ آنے والا رسول محمد عربی ﷺ تھا جس نے جہاد نفسی بھی کیے۔ مرزا قادیانی نے نہ جہاد نفسی کیا نہ اس آیت کے مصداق بنے۔
آٹھویں دلیل: اس کے بعد فرمایا يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّيْنَ مَنْ اَنْصَارِيْ اِلَى اللّٰهِ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّائِفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْ اِسْرَائِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّائِفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظَاهِرِيْنَ (اے وہ لوگو جو رسول پر ایمان لائے ہو۔ اللہ کے دین کے لیے مدد کرنے والے بن جاؤ جیسا کہ عیسیٰ بن مریمؑ نے حوارین کو کہا تھا کہ تم میں سے کون ہے جو انصار اللہ ہو۔ تو انھوں نے کہا کہ ہم سب کے سب انصار اللہ ہیں پس ایمان لایا بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ اور ایک گروہ نے کفر کیا۔ پس ہم نے ان کی مدد کی جو ایمان لائے اوپر ان کے دشمنوں کے پس وہ غالب ہو گئے۔) اس میں یہ دلیل ہے کہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ انصار اللہ بن جاؤ لیکن رسول کریم ﷺ کی یہ آواز نہ تھی ”اے لوگو انصار اللہ بن جاؤ“ بلکہ آپ کے وقت میں مہاجرین و انصار کے دوگروہ تھے۔
(انوار خلافت ص ٤٩)
الجواب: ایک شخص ایک آنکھ سے اندھا یعنی کانا تھا۔ اس کی ایک قرآن دان ملا سے ملاقات ہوئی جو مرزا محمود قادیانی جیسا قرآن دان تھا۔ ملا صاحب نے فرمایا کہ تو کافر ہے۔ کانا بیچارہ گھبرایا اور عرض کی کہ جناب میں کیونکر کافر ہوں؟ میں تو قرآن اور محمد
٧٤
رسول اللہﷺ پر ایمان رکھتا ہوں۔ ملا صاحب نے کہا کہ قرآن میں ہے كَانَ مِنَ الْكَافِرِیْنَ جس کے معنی یہ ہیں کہ کانا آدمی کافروں میں سے ہے۔ میاں محمود قادیانی بھی ایسے ہی قرآن دان ہیں کہ جو کفریات چاہیں قرآن سے نکال لیتے ہیں۔ صریح نص قرآنی خاتم النبیین کے مقابل اپنے والد قادیانی کی رسالت قرآن سے ثابت کرنے کے واسطے قرآن مجید کے معانی و تفسیر سب کو بدل دیا اور رسول گری کی ایسی عینک لگائی ہے کہ ہر ایک آیت سے مرزا قادیانی کی رسالت نظر آتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان مومنوں کو جو محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لائے تھے حکم دیتا ہے کہ اے مسلمانو! تم اللہ تعالیٰ کے انصار یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار بن جاؤ اور آگے تحریص دلانے کے واسطے نظیر کے طور پر حضرت عیسیٰؑ کا قصہ نقل فرمایا جس کو ١٩ سو برس گزر چکے۔ مقصود اس قصہ کے ذکر کرنے کا یہ تھا کہ جس طرح حضرت عیسیٰؑ کی مدد کرنے کے واسطے حوارین تھے اسی طرح محمد رسول اللہﷺ کی مدد کے واسطے تم جو صحابی رسول اللہ ہو حوارین کی طرح مددگار بن جاؤ۔ چنانچہ تاریخ اسلام بتا رہی ہے کہ مسلمانوں اور صحابہ کرام نے اس پر ایسا عمل کر کے دکھایا کہ حضرت عیسیٰؑ کے حواریوں سے بھی نہ ہو سکا تھا۔ اور صحابہ کرام و دیگر انصار نے وہ امداد فرمائی کہ مال و جان و خویش و اقارب غرض جو کچھ تھا محمد رسول اللہﷺ پر قربان کیا اور عزیز جانیں اسلام کی امداد میں لڑا دیں اور دوسرے مسلمانوں کی ایسی امداد کی کہ جس کی نظیر اکناف عالم میں کہیں نہیں ملتی۔ انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مہاجرین مسلمان بھائیوں پر اس طرح مال فدا کیا کہ آنحضرتﷺ کے اشارہ پر ہر ایک انصاری نے اپنا اپنا نصف مال اپنے مسلمان بھائیوں کو دے دیا۔ دنیا میں کسی اور مذہب کے انصار کا ایسا سلوک اور ہمدردی ہے؟ ہرگز نہیں۔ جیسی امداد اور اطاعت رسول کریمﷺ کی انصار نے کی کسی اور قوم کی طرف سے ایسی نظیر پیش ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
مگر ١٣ سو برس بعد میاں محمود قادیانی کو (وہ کارروائی جو ہوئی تھی اور مسلمان جو انصار اللہ ثابت ہوئے) غیر محل نظر آتا ہے کیونکہ رسولﷺ جس کی امداد کے واسطے اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ كُوْنُوْا اَنْصَارَ اللّٰهِ وہ رسول اب ١٣ سو برس کے بعد آیا ہے اور اصلی انصار بھی اب ہی پیدا ہوئے (نعوذ باللہ) جس طرح وہ بناوٹی رسول عربی تھا اسی طرح بناوٹی انصار تھے اصلی رسول اور اصلی انصار تو اب آئے ہیں کیونکہ یہ ایک آیت مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ قرآن کی مرزا قادیانی کے حق میں ہے۔ (معاذ اللہ) یہ ایسی مثال ہے کہ ایک
٧٥
جاہل جس کا نام محمد موسیٰ ہو کہے کہ میرا نام خدا نے محمد اور موسیٰ رکھا ہے اور اصلی محمد اور موسیٰ میں ہوں اور قرآن کی آیت فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنَاتِ جو موسیٰؑ کے حق میں ہے وہ اپنے حق میں بتائے اور کہے کہ میں نبی و رسول ہوں کیونکہ قرآن میں محمد وموسیٰ میرا نام درج ہے۔
کوئی مسلمان اس محمد موسیٰ کی یا وہ گوئی تسلیم کر لے گا؟ تو مرزا محمود قادیانی کا استدلال بھی اس آیت سے وہ مرزا قادیانی کے احمد رسول ہونے کا تسلیم کر سکے گا۔ مگر افسوس قرآن ہے یا خود رائی اور ہوائے نفس کی گھوڑ دوڑ کا میدان ہے؟ اور لطف یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہودی صفت کہا جاتا ہے۔ یہودیوں نے تو اس قدر تحریف کھینچ تان تورات کے معانی وتفسیر میں نہیں کی تھی جیسی کہ میاں محمود قادیانی نے دلیل پیش کی ہے کہ چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ لوگو انصار اللہ بن جاؤ۔ اس آیت سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی چونکہ انصار اللہ ہونے کی درخواست کرتے تھے۔ اس لیے وہ سچے رسول اور اسمہ احمد کے مصداق ہیں کیونکہ ان کو ایک نسبت عیسیٰؑ سے ہے اور یہ نہیں سمجھتے کہ جب مرزا قادیانی کو حضرت عیسیٰؑ سے نسبت ہے تو فنا فی احمد ہونا اور محمد ثانی ہونا باطل ہے۔
مرزا محمود قادیانی کا یہ فرمانا کہ ’’لیکن رسول کریم ﷺ کی یہ آواز نہ تھی کہ ’’اے لوگو انصار اللہ بن جاؤ‘‘ بالکل غلط ہے۔ میں ایک وعظ یا تقریر یا لیکچر آنحضرت ﷺ کا نقل کرتا ہوں جس سے ناظرین کو معلوم ہو جائے گا کہ میاں محمود قادیانی کا یہ کہنا کہاں تک غلط اور راستبازی کے خلاف ہے۔ وہ تقریر آنحضرت ﷺ کی یہ ہے۔
’’اے لوگو! میں تم سب کے لیے دنیا اور آخرت کی بہبودی لے کر آیا ہوں اور میں نہیں جانتا کہ عرب بھر میں کوئی شخص بھی اپنی قوم کے لیے اس سے بہتر اور افضل کوئی شے لایا ہو۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں آپ لوگوں کو اس کی دعوت دوں۔ بتاؤ تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا۔ (یہ بعینہ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ کا ترجمہ ہے) یہ سن کر سب کے سب چپ ہو گئے۔ حضرت علیؓ نے اٹھ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں۔‘‘
(از رحمۃ اللعالمین ج ١ ص ٥٦ بحوالہ ابو الفدا ص ١٧)
اب ہم مرزا محمود قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ یہ کس کی آواز تھی؟ اور یہ واقعہ كُوْنُوْا اَنْصَارَ اللّٰہِ اور نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ کے مطابق ہے یا نہیں؟ دوم! آپ نے خود ہی آگے جا کر ایک قصہ مہاجرین و انصار کا نقل کر کے بتا دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو انصار بہت عزیز تھے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر لوگ ایک وادی میں جائیں اور
٧٦
انصار دوسری وادی میں تو میں اس وادی میں جاؤں گا جس میں انصار گئے ہوں۔ اے خدا انصار پر رحم کر۔“ (بخاری ج ١ ص ٥٣٣ باب مناقب الانصار) کیا سچے رسول ﷺ کے اس ارشاد سے یہ امور ثابت نہیں ہیں؟
- نمبر ١:...... آنحضرت ﷺ کی آواز ثابت ہوئی کہ آنحضرت ﷺ نے انصار کو اپنے دست
بازو ہونے کے واسطے فرمایا تھا تب ہی تو ان لوگوں نے ایسی ہمدردی کی۔
- نمبر ٢:...... آنحضرت ﷺ ہی وہ رسول تھے جن کی بشارت عیسیٰؑ نے دی تھی کیونکہ جیسا
عیسیٰؑ نے فرمایا تھا مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا کہ ”بتلاؤ تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا۔“ جس طرح حواریان عیسیٰؑ نے کہا تھا کہ ”ہم انصار اللہ ہیں“ اسی طرح حضرت علیؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں اٹھ کر عرض کی کہ میں حاضر ہوں۔ یعنی میں انصار اللہ میں سے ہوں۔ چنانچہ حضرت علیؓ اعلیٰ درجہ کے مددگار ثابت ہوئے۔
- نمبر ٣:...... آنحضرت ﷺ کا انصار کے حق میں دعا فرمانا اور یہ فرمانا کہ جس وادی میں
انصار ہوں اسی وادی میں میں رہوں گا۔ انصار کی کمال ہمدردی اور اخلاص کا ثبوت ہے جو حضرت عیسیٰؑ کے حواریوں سے بدرجہا بڑھ کر ہے۔ پس جس رسول کے آنے کی خبر حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی اس کا آنا آنحضرت ﷺ کی ذات سے ثابت ہوا اور اسکے انصار اور انصار کے لیے اس کا آواز کرنا بھی ثابت ہوا۔
مرزا قادیانی کے انصار ایسے تھے کہ مرزا قادیانی خود ان کی نسبت لکھتے ہیں۔ ”ان میں نہ اخلاص ہے نہ ہمدردی‘ درندوں کی خصلتیں رکھتے ہیں اور قادیان میں آ کر کھانے پینے پر لڑتے ہیں اس لیے جلسہ ملتوی کیا جائے۔“
(اشتہار ملحقہ شہادۃ القرآن ص ١٠٠ خزائن ج ٦ ص ٣٩٦)
جیسے رسول بناوٹی ویسے بھی انصاری بناوٹی
پس آپ کا استدلال اس آیت سے بھی غلط ثابت ہوا۔
نویں دلیل: اس سورۃ سے اگلی ہی سورۃ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ o اور اس کے بعد فرماتا ہے وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ اور وہ اس رسول کو ایک اور جماعت میں مبعوث کرے گا جو اب تک تم سے نہیں ملی۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی دو بعثتوں کا ذکر
٧٧
ہے اور چونکہ احادیث سے آپ کے بعد ایک مسیح کا ذکر ہے جس کی نسبت آپ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ ”وہ میری قبر میں دفن ہو گا ۔“ یعنی وہ اور میں ایک ہی وجود ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری بعثت سے مراد مسیح موعود ہے۔ (انوار خلافت ص ٥٠)
الجواب: اس آیت کا ترجمہ بھی عادت کے موافق غلط کیا ہے۔ پہلے ہم صحیح ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ کا لکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ناظرین خود بخود سمجھ جائیں گے کہ یہ آیات مسیح موعود اور اس کی جماعت کے واسطے ہرگز نہیں ھُوَ الَّذِیْ وہ خدا ہے جس نے اٹھایا ان پڑھوں میں ایک رسول اور مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں وہ اس رسول کو ایک اور جماعت میں مبعوث کرے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول ابھی مبعوث نہیں ہوا گویا آئندہ زمانہ میں مبعوث ہو گا۔ چونکہ بَعَثَ کا صیغہ ماضی تھا جس کے معنی ”مبعوث کیا“ یا اٹھایا ہیں۔ اس لیے مرزا محمود قادیانی کو دھڑکہ ہوا کہ ماضی کو استقبال میں بیان کرنا سوائے قیامت کے اس جگہ بالکل غلط ہے۔ تو ماضی کے معنی بھی تسلیم کیے کہ وہ رسول محمد رسول اللہ ﷺ مگر ان کی بعثت پھر دوبارہ ہو گی۔ چونکہ یہ بالکل خلاف علم صرف و نحو اور عقل ہے کہ بَعَثَ ماضی کے صیغے کو استعمال کر کے مانا جائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ دوبارہ مبعوث ہو گا۔ اس لیے مرزا محمود قادیانی کو کوئی سند صرفی و نحوی پیش کرنی چاہیے کہ کس قاعدہ عربیت سے آپ ماضی کے معنی استقبال کے کرتے ہیں۔ یہ قیامت کا ذکر تو نہیں۔
ترجمہ: ”انہی میں کا۔ پڑھتا ان کے پاس اس کی آیتیں اور ان کو سنوارتا اور سکھاتا کتاب اور عقلمندی۔ اور اس سے پہلے پڑے تھے وہ صریح بھلاوے میں اور ایک اور ان کے واسطے انہی میں سے جو ابھی نہیں ملے ان میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا۔“
٭ فائدے میں لکھتے ہیں ان پڑھے عرب لوگ تھے جن کے پاس نبی کی کتاب نہ تھی۔
ہم یہاں حافظ نذیر احمد صاحب کا ترجمہ نقل کرتے ہیں تاکہ ناظرین خوب سمجھ جائیں کہ مرزا محمود قادیانی نے ترجمہ غلط کیا ہے۔ ”وہ خدا ہی تو ہے جس نے عرب کے جاہلوں میں انہی میں سے (محمد ﷺ) پیغمبر بنا کر بھیجا۔ وہ ان کو خدا کی آیتیں پڑھ کر سناتے اور ان کو کفر و شرک کی گندگی سے پاک کرتے اور ان کو کتاب الہی اور عقل کی باتیں سکھاتے ہیں ورنہ اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔ اور نیز خدا نے ان پیغمبر ﷺ کو اور لوگوں کی طرف بھی بھیجا ہے جو ابھی تک ان عرب کے مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے مگر آخر کار ان میں آملیں گے اور خدا زبردست اور حکمت والا ہے۔
(ترجمہ نذیر احمد ص ٧٢١)
٧٨
ف ۔ ان سے مراد اہل فارس اور دوسرے اہل عجم (یعنی عرب کے سوا ساری دنیا کے لوگ ۔ فقط ۔) ملل و نحل میں شہرستانیؒ نے لکھا ہے کہ فرقہ باطنیہ کا عقیدہ ہے۔ ہر ظاہر کے لیے باطن اور ہر تنزیل کے لیے تاویل ہوتی ہے۔ اس لیے وہ ہر آیت قرآن کے ظاہری معنی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے معنی کرتے ہیں۔ مرزا محمود قادیانی بھی غلط معنی کر کے اپنے والد (مرزا غلام احمد قادیانی) کی نبوت اور رسالت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم بعثت ثانی کے مسئلہ پر بحث کر کے ثابت کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ یونانی حکماء و فلسفیوں کا ہے جو کسی دین کے پابند نہ تھے اور مرزا قادیانی اور ان کے فرزند میاں محمود قادیانی نے انہی کی پیروی کی ہے۔ تاریخ فلسفۂ یونان میں لکھا ہے کہ فیثا غورس کا دعویٰ تھا کہ میں کئی دفعہ دنیا میں آیا ہوں۔ چنانچہ بیان کیا کہ اتالیدس کی روح جب اس کے جسم سے نکلی تو اوکوریہ کے جسم میں گئی اور شہر ٹرواڈہ کے محاصرہ میں اس کو مینیلاس نے زخمی کیا۔ پھر اس کے جسم سے نکلی تو ہرموٹیوس کے جسم میں داخل ہوئی۔ پھر ایک صیاد کے جسم میں آئی جس کا نام یورس تھا۔ اس کے بعد اس عاجز کے جسم میں بروز کی جس کو تم فیثا غورس کہتے ہو۔ الخ
(ماخوذ از افادۃ الافہام حصہ اوّل ص ٣٠٥)
مرزا محمود قادیانی مسلمانوں کے ڈر کے مارے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تناسخ نہیں۔ کیا خوب۔ ع ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔“ اسی کو کہتے ہیں۔
اچھا صاحب! محمدﷺ جب پہلے عرب میں مبعوث ہوئے اور پھر بعثت ثانی میں بقول مرزا قادیانی اب آپ قادیان میں رونق افروز ہوئے اور یہ بعثت ثانی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ تناسخ نہیں تو اور کیا ہے۔ کیونکہ دوبارہ دنیا میں آنا نسخ نہیں تو مسخ ہے یا سلخ یا خلع۔ اب ہر ایک کی تشریح سنو۔
نسخ: زائل شدن روح از قالب خود بہ قالب دیگر۔ جس کو تناسخ و اواگون کہتے ہیں۔ یعنی روح کا ایک جسم سے تعلق چھوڑ کر دوسرے جسم میں آنا۔ اس سے تو مرزا قادیانی اور میاں محمود احمد قادیانی کو انکار ہے۔
مسخ: ایک صورت کا دوسری صورت میں تبدیل ہو جانا جیسا کہ زید کی صورت بکر سے بدل جائے۔ جیسے حضرت عیسیٰؑ کی شکل شمعون یا یہودا سے بدل گئی تھی یا کرشن جی کی ایک بوڑھی عورت کے بیٹے سے یا راجہ کنس کی اگرسین سے۔
سلخ: اچھی اور اعلیٰ شکل سے بد اور بری شکل میں آنا۔ یعنی اعلیٰ سے ادنیٰ ہونا جیسا کہ بنی اسرائیل بندر ہو گئے تھے۔ چنانچہ نص قرآنی كُوْنُوْا قِرَدَةً خَاسِئِیْنَ (بقرہ ٦٥) سے ثابت ہے۔
٧٩
خلع : جان خود را بجسم دیگرے انداختن۔ یہ ایک عمل ہوتا ہے کہ جوگی لوگ ریاضت سے کسی مردہ جسم میں اپنا روح لے جاتے ہیں۔ اس کو انتقال روح بھی کہتے ہیں۔ یہ اکثر نام نہاد صوفیوں میں بھی عمل اہل ہنود سے منتقل ہوا ہے۔ اب محمد ﷺ کی رجعت یا بعثت ثانی کس طرح ہوئی؟ اگر کہو کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی روح مبارک مرزا قادیانی کے جسم میں داخل ہوئی تو یہ بدو وجہ باطل ہے۔
پہلی وجہ! یہ ہے کہ روح مبارک آنحضرت ﷺ کا ١٣ سو برس کے بعد خلد بریں اور مقام اعلیٰ علیین سے خارج ہونا ماننا پڑے گا اور یہ نصوص قرآنی کے صریح برخلاف ہے کہ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کی مسیحیت کی خاطر اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کی روح پاک کو دوبارہ اس دارفانی میں رجعت کی تکلیف دے اور دوبارہ اسے شربت مرگ چکھائے اور اسی کا نام تناسخ ہے جو بالبداہت باطل ہے۔
دوسری وجہ! یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی روح بھی مرزا قادیانی کے جسم میں رہے اور روح محمدی بھی مرزا قادیانی کے جسم میں داخل ہو کر نبوت و رسالت کی ڈیوٹی بجا لائے سو یہ بھی باطل ہے کیونکہ ایک جسم میں دو روح مجتمع نہیں رہ سکتے۔ پس روحانی رجعت محال بلکہ ناممکن اور خیال باطل ہے۔ دوم! محمد ﷺ کی سخت ہتک ہے کہ پہلی بعثت میں تو افضل الرسل ہوں اور بعثت ثانی میں ایک امتی غلام بن کر آئیں اور پہلی بعثت میں تو شہنشاہ عرب ہوں اور بعثت ثانی میں عیسائیوں اور آریوں کی عدالتوں میں بحیثیت رعیت و مجرم کے مارا مارا پھرے۔ کسی عدالت سے سزا پائے اور کسی سے معاف کیا جائے۔ اگر کہو کہ محمد ﷺ کا جسم مبارک مرزا قادیانی کے جسم کے ساتھ ایسا متحد الصفات ہو گیا کہ دوئی بالکل دور ہو گئی اور مرزا قادیانی، محمد ﷺ سے بدل گئے اور مرزائیت محمدیت میں فانی ہو کر عین محمد بن گئی۔ جیسا کہ يُدْفَنُ مَعِيَ سے کہتے ہو تو یہ بالبداہت باطل ہے کیونکہ مرزا قادیانی کی شکل محمد ﷺ کی شکل نہ تھی اور نہ جسم پاک محمد ﷺ کا مرزا قادیانی کے جسم سے بدلا تھا۔ پس جسمانی رجعت یا بعثت ثانی کا ڈھکوسلا باطل ہے اور قبر میں دفن ہونا بھی باطل ہے۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی بہ سبب پیروی تام محمد رسول اللہ ﷺ کے رنگ محمدی میں ایسے رنگین ہوئے کہ عین محمد ﷺ بن گئے۔ تو یہ بھی واقعات کے برخلاف ہے۔ ذیل میں ہم اس اجمال کی تفصیل کیے دیتے ہیں۔
جب شرط فوت ہو تو مشروط فوت ہو جاتا ہے۔ جب شرط متابعت تام کی لازم ہے تو پہلے مرزا قادیانی میں متابعت تامہ ثابت کرنی چاہیے۔ متابعت تامہ کے یہ معنی ہیں
٨٠
کہ مراتب متابعت سب کے سب پورے کیے جائیں۔ مگر مرزا قادیانی میں متابعت تامہ ثابت نہیں ہوتی کیونکہ حضورﷺ کی متابعت مرزا قادیانی نے پوری نہیں کی۔ الف۔ حضورﷺ ہمیشہ حج کیا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے ایک حج بھی نہیں کیا۔ ج۔ حضورﷺ نے مکہ سے مدینہ میں ہجرت فرمائی۔ مرزا قادیانی نے ہرگز اپنے گاؤں سے بھی کبھی ہجرت نہیں کی۔ د۔ حضورﷺ نے فقر و فاقہ سے زندگی بسر فرمائی تھی۔ مرزا قادیانی ہمیشہ دنیاوی آسائش و آرام سے رہتے رہے اور مقویات استعمال فرماتے رہے۔ ہ۔ حضورﷺ صدقہ کا مال قبول نہ فرماتے۔ مرزا قادیانی نے ہر قسم کی خیرات و صدقات کو قبول کیا اور کبھی کسی نے تحقیق نہیں کی کہ چندہ آمدہ کس قسم کا ہے اور اسی چندہ سے ان کا ذاتی اور خانگی خرچ ہوتا تھا۔ جب مرزا قادیانی میں مماثلت تامہ کا ثبوت نہیں ہے تو پھر وہ صرف زبانی دعوے فنا فی الرسول سے عین محمدﷺ ہرگز نہیں ہو سکتے اور نہ ان کا وجود حضرت محمد رسول اللہﷺ کا وجود قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ جب شرط فوت ہو تو مشروط بھی فوت ہو جاتا ہے بلکہ اس قاعدہ متابعت تامہ سے تو مرزا قادیانی ایک کامل امتی بھی ثابت نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ امت محمدی میں ہزاروں بلکہ لاکھوں سنت نبوی کے ایسے پیرو گزرے ہیں کہ تمام کام حضورﷺ کی پیروی اور متابعت میں کیے ہیں۔ کئی کئی دفعہ حج کو گئے۔ جہاد کیے فقر و فاقہ میں عمریں بسر کیں۔ مرزا قادیانی کا صرف زبانی دعویٰ بلا ثبوت قابل تسلیم نہیں اگر کہو کہ ان کے اشعار سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کو عشق رسول اللہﷺ کامل طور پر تھا تو یہ کوئی ثبوت محبت نہیں ہے کیونکہ بے انتہا شعر اور نعتیں مدح رسول اللہﷺ میں شاعر ہمیشہ تصنیف کرتے چلے آئے ہیں مگر کسی نے ان میں سے دعویٰ نبوت و رسالت نہیں کیا اور نہ کوئی شاعر نبی ہوا۔ یہاں بعض اشعار بطور نمونہ درج کیے جاتے ہیں۔
نہ دارد ہیچ کافر ساز و سامانے کہ من دارم
ہمدمو! گو ہیں بظاہر مائل زنار ہم
دل سے ہیں مفتون حسن احمد مختار ہم
یہ ایک ہندو کا شعر ہے کیا اس شعر سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندو عاشق رسول اللہﷺ اور فنا فی الرسول تھا؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے بھی اگر شاعرانہ طور سے لکھ دیا ہے۔ بعد از خدا بعشق محمد محمدم۔ گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم۔ (ازالہ اوہام ص ١٧٦ خزائن ج ٣ ص ١٨٥) وغیرہ وغیرہ۔ تو اس سے مرزا قادیانی نہ تو عاشق محمدﷺ ثابت ہوتے
٨١
ہیں اور نہ ان کی پیروی کا ثبوت ملتا ہے۔ مرزا قادیانی سے بڑھ کر شعر لکھنے والے گزرے ہیں تو پھر آپ کے قاعدے سے ان سب میں بعثت ثانی محمدﷺ کی تسلیم کرنی پڑے گی۔ سنو! عراقی صاحب فرماتے ہیں ؎
انفاس اولیاء زنسیم معطرم
برمن تمام گشت نبوت کہ خاتمم
و از من کمال یافت ولایت کہ سرورم
ان اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مرتبہ عشق میں مرزا قادیانی سے ایسا زیادہ تھا کہ خاتم النبیین ہوا لیکن کیا یہ سچ مان لینے کے قابل ہے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر ایک شاعر شاعرانہ کلام سے کس طرح عین محمدﷺ ہو سکتا ہے۔ پس یہ بالکل غلط ہے کہ مرزا قادیانی بہ سبب پیروی تامہ و محبت رسول اللہﷺ کے عین محمدﷺ تھے اور ان کی پیدائش محمدﷺ کی بعثت ثانی تھی۔ جب بعثت ثانی کا ڈھکوسلا بلا دلیل ہے اور واقعات کے برخلاف ہے تو پھر یہ بھی غلط ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت محمدﷺ کے برخلاف نہیں کیونکہ مرزا قادیانی عین محمدﷺ تھے اگر مرزا قادیانی عشق محمدﷺ سے مخمور ہوتے تو پھر مثیل عیسیٰ نہ ہوتے۔ مریم نہ ہوتے۔ ہم ذیل میں مرزا قادیانی کی عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ مرزا قادیانی کو عشق محمدﷺ ہرگز نہ تھا۔ بھلا عشق محمدﷺ کے ہوتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریمؑ اور کرشن جی مہاراج سے کیا نسبت؟ محمدﷺ کا در چھوڑ کر غیروں کا بروز ہونا عدم عشق محمدﷺ کی دلیل ہے، سنیے مرزا قادیانی اپنی کتاب تبلیغ میں لکھتے ہیں۔ ’’حضرت عیسیٰؑ نے اللہ سے ایک نائب کی درخواست کی جو انہی کی حقیقت و جوہر کا متحد و مشابہ ہو اور بمنزلہ انہی کے اعضا و جوارح کے ہو۔ اللہ نے آپ کی یعنی عیسیٰؑ کی دعا قبول فرما کر میرے دل میں مسیح کے دل سے پھونکا گیا تو مجھے توجہات و ارادات مسیح کا ظرف بنایا گیا۔ حتی کہ میرا نسمہ اسی سے بھر گیا اور اب میں وجود مسیح کے سلک میں اس طرح پرویا گیا ہوں کہ ان کا بدن و روح نفس کے اندر عیاں ہے اور ان کا وجود میرے وجود کے اندر پنہاں۔ مسیح کی جانب سے ایک بجلی کود کر آئی اور میری روح نے اس سے کامل طور پر ملاقات کی۔ یعنی وجود مسیح کے ساتھ جو اتصال ہوا ہے وہ تخیل سے بڑھ کر ہے۔ گو میں خود مسیح بن گیا ہوں اور اپنی ہستی سے جدا ہو چکا ہوں۔ میرے آئینہ میں مسیح کا ظہور تجلی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل۔ میرا جگر۔
٨٢
میرے عروق۔ میرے اوتار مسیح ہی سے بھرے ہوئے ہیں اور میرا یہ وجود مسیح کے جوہر وجود کا ایک ہی ٹکڑا ہے۔“
(تبلیغ مصنفہ مرزا قادیانی صفحہ ٧٩ سے ٨٠ تک)
اب میاں محمود قادیانی یا کوئی اور مرزائی (جنھوں نے محبت رسول اللہ ﷺ سے مرزا قادیانی کو مظہر اتم محمد ﷺ پکارنے کا شور مچا رکھا ہے اور ہر ایک تحریر میں بتایا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اس قدر محو ہوئے کہ عین محمد ہی ہو گئے) بتائیں کہ یہ مذکور بالا تحریر کس کی ہے؟ اگر مرزا قادیانی کی ہے اور یقیناً مرزا قادیانی کی ہے تو پھر مرزا قادیانی عین عیسیٰؑ ہوئے نہ کہ عین محمد ﷺ اور (نعوذ باللہ) جو جو برے اوصاف اور ہتک آمیز صفات مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ کی طرف انجام آتھم کے ضمیمہ و دیگر اپنی کتب میں منسوب کی ہیں وہ شاید اپنی ہی تعریف کی ہے۔ مثلاً تین دادیاں یا نانیاں زانیہ و کسبن تھیں۔ کنجریوں سے میل جول رکھتا تھا اور حرام کی کمائی کا عطر ملواتا تھا۔ بدزبانی کے باعث یہودیوں سے طمانچے کھاتا تھا۔ ایک بھلا مانس آدمی بھی نہ تھا۔ موٹی عقل کا آدمی تھا۔ دو دفعہ شیطان کے پیچھے چلا گیا۔“ وغیرہ۔
یہ مرزا قادیانی نے اپنی ہی تعریف بیان کی۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ حضرت عیسیٰؑ نے خود ہی اپنی ہتک کی کیونکہ (بقول مرزا قادیانی) عیسیٰؑ اور مرزا قادیانی ایک ہی وجود کے ٹکڑے تھے۔ اگر کوئی مرزائی کہے کہ مرزا قادیانی نے تو عیسائیوں کے یسوع کو ایسا کہا ہے اور حضرت عیسیٰؑ کو نہیں کہا تو ہم مرزا قادیانی کی تحریر پیش کرتے ہیں۔ جس میں وہ قبول کرتے ہیں کہ یسوع اور عیسیٰؑ ایک ہی ہے۔ ”مسلمانوں کو واضح رہے کہ عیسیٰ اور یسوع ایک ہی ہے۔“ (توضیح مرام ص ٣ خزائن ج ٣ ص ٥٢) پس مرزا قادیانی یسوع بھی تھے۔ اب ثابت ہوا کہ جب مرزا قادیانی خود عیسیٰ و یسوع تھے اور چال چلن بھی ایسا ہی تھا جس کا عکس مرزا قادیانی پر پڑا اور وہ عین یسوع و عیسیٰ ہو گئے۔ تو پھر اسی وجود مرزا قادیانی میں محمد ﷺ کے واسطے کوئی جگہ نہ رہی کیونکہ مرزا قادیانی قبول کرتے ہیں اور خود لکھتے ہیں کہ ”میرا دل‘ میرا جگر‘ میرے عروق‘ میرے اوتار مسیح ہی سے بھرے ہوئے ہیں ۔“ اب بتاؤ کہ محمد ﷺ کے واسطے جب جگہ ہی نہیں اور مرزا قادیانی کے دل اور جگر وعروق وغیرہ پر حضرت مسیح کا پورا پورا قبضہ ہے تو پھر محمد ﷺ کہاں اترے؟ اور مرزا قادیانی عین محمد کس طرح ہوئے اور ان کا دعویٰ نبوت کس طرح درست ہوا؟ مرزا قادیانی جب مسیحؑ کا بروز تھے اور کرشن جی کا بھی بروز تھے اور دوسرے تمام انبیاء علیہم السلام کا بروز تھے اور بروز کے سبب عین عیسیٰؑ اور کرشن جی تھے تو پھر عین
٨٤
محمد ﷺ ہونا باطل ہے۔ اگر عین محمد ﷺ ہونا صحیح ہے تو عیسیٰ اور کرشن وغیرہ ہونا جھوٹ ہے اور جھوٹا آدمی کبھی اس قابل نہیں کہ اس کی کوئی بات تسلیم کی جائے۔ اگر یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی عین عیسیٰ اور عین کرشن تھے تو عین محمد ﷺ ہونا جھوٹ ہے اور اگر عین محمد ﷺ تھے تو عین عیسیٰ اور کرشن ہونا جھوٹ ہے اور جھوٹا کبھی نبی نہیں ہوتا۔ یہ بھی کاذب مدعیان نبوت کی چال ہے جو مرزا قادیانی چلے ہیں۔
سید محمد جونپوری مہدی مرزا قادیانی سے پہلے ٩١٠ ہجری میں متابعت تامہ محمد ﷺ سے مدعی نبوت و مہدویت ہو چکا ہے۔ چنانچہ متابعت میں بھی ایسا کامل تھا کہ حج کو گیا اور مقام رکن میں (جیسا کہ حدیثوں میں ہے) لوگوں سے بیعت بھی لی اور جہاد نفسی بھی کیا اور آخر متابعت تامہ میں نماز وتر محمد ﷺ کی مانند ادا کی اور فوت ہوا۔ چنانچہ فضائل سید محمود میں منقول ہے کہ عادت میراں (مہدی) کی یہ تھی کہ بلا ناغہ نماز جمعہ کے واسطے جایا کرتے تھے۔ ایک جمعہ کو بدستور سابق جامع مسجد میں آ کر نیت نماز وتر کی بآواز بلند باندھی۔ وہاں کے قاضی و خطیب نے سن کر کہا کہ یہ ذات مہدی موعود ہے۔ اس نے متابعت محمد ﷺ کی کی ہے کہ نماز وتر کی ادا کی جمعہ سے رخصت ہوا۔ اس مرد کو دوسرا جمعہ نصیب نہ ہوگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ کہ مراجعت کی۔ اثنائے راہ میں بیماری شروع ہوئی کہ وجود گرم ہوا اور بروز پنجشنبہ نوزدہم ذیقعد ٩١٠ھ اسی ہفتہ میں انتقال ہوا۔ یعنی سید محمد جونپوری متابعت محمد رسول اللہ ﷺ میں ایسا کامل تھا کہ نماز وتر متابعت محمد رسول اللہ ﷺ میں ادا کی اور انتقال بھی بخار کی بیماری سے ہوا جیسا کہ محمد ﷺ کا انتقال بخار سے ہوا تھا۔ اس کے برعکس مرزا قادیانی ہیضہ کی بیماری سے فوت ہو گئے اور لاہور میں فوت ہوئے اور قادیان میں دفن ہوئے۔ حالانکہ نبی کی یہ نشانی ہے کہ جس جگہ فوت ہوتا ہے اسی جگہ دفن ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کی ہر ایک بات محمد ﷺ کے برخلاف ہے۔ مگر دعویٰ متابعت تامہ کا ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ متابعت کے کیا معنی سمجھتے تھے؟ مرزا قادیانی کی متابعت بھی استعاری اور غیر حقیقی ہے کہ ظاہر میں تو محمد رسول اللہ ﷺ کی سخت اور صریح مخالفت کرتے ہیں مگر منہ سے کہتے جاتے ہیں کہ بہ سبب متابعت تامہ عین محمد ﷺ بن گیا ہوں اور میرا دعویٰ نبوت خاتم النبیین وَلَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کے برخلاف نہیں کیونکہ عین محمد ﷺ ہوں بلکہ محمد ﷺ کی قبر میں بھی مدفون ہوں۔ ناظرین! یہ کیسا سچا اور راستبازی کا نمونہ ہے کہ مرے تو مرزا قادیانی لاہور میں اور دفن ہوئے قادیان ضلع گورداسپور میں۔ مگر استعاری و مجازی طور پر محمد ﷺ کے مقبرہ میں بھی مدفون ہو گئے؟ مجاز و استعارہ مرزا قادیانی پر خدا نے دو ایسے فرشتے مامور کیے ہوئے تھے کہ مرزا قادیانی جو
٨٤
کہتے وہ فوراً عمل کر کے مرزا قادیانی کو بنا دیتے۔ اگر مرزا قادیانی کی خواہش ہوئی کہ باوا آدم بن جاؤں۔ استعاری فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے حضرت آدمؑ کی شبیہہ مرزا قادیانی پر مجازی طور پر ڈال دی اور مرزا قادیانی جھٹ باوا آدم بن گئے اور جب چاہا کہ کل انبیاء علیہم السلام کا (جو آدم سے محمد ﷺ تک گزرے ہیں) مجموعہ بن جاؤں تو فوراً مجاز و استعاری کے فوٹوگرافر حاضر ہو گئے اور لفاظی و شاعرانہ مبالغہ کا کیمرہ مرزا قادیانی کے آگے لگا کر قوت وہمی و خیالی کے آئینہ کا عکس ڈال کر مرزا قادیانی کو جھٹ پیغمبران عالم کا ایک گروپ بنا دیا اور اس گروپ کو جو حقیقت میں خودستائی اور خود بینی کا ایک پروردہ پندار تھا۔ مرزا قادیانی ملاحظہ فرما کر ایسے محو حیرت ہوئے کہ سب پیغمبروں کا مجموعہ آپ کو سمجھ بیٹھے اور خاقانی کے اس شعر کا مصداق بنے ؎
زخود در خود شود حیراں کند حیراں بخند انش
یعنی مرزا قادیانی خود پرستی اور خود ستائی میں ایسے محو حیرت ہوئے کہ اپنے آپ کو نہ پہچان سکے۔ مگر جب حیرت کا پردہ اٹھ کر ہوش میں آتے تو پھر وہی پرانا عقیدہ ظاہر فرماتے کہ ؎
مصطفےٰ مارا امام و پیشوا
لیکن پھر مجاز و استعارہ کے فرشتے سایہ ڈالتے اور مرزا قادیانی بلند پروازی کی طرف توجہ فرماتے تو اپنی ہستی کو بھول جاتے اور خود کو کل پیغمبروں کا مجموعہ سمجھ کر بے اختیار فرماتے ؎
دربرم جامہ ہمہ ابرار
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی میں آدم علیہ السلام بھی ہوں اور احمد مختار بھی ہوں اور میری بغلوں میں تمام انبیاءؑ کے لباس ہیں۔ گویا تمام انبیاء کا مجموعہ ہوں۔ ”ہر کہ شک آرد کافر گردد۔“ چنانچہ دوسری جگہ فرماتے ہیں ؎
داد آں جام را مرا بتمام
(ایضاً)
٨٥
یعنی جو نعمت نبوت و رسالت ہر ایک نبی کو دی گئی تھی وہ تمام ملا کر مجھ کو دی گئی ہے۔ مگر جب ثبوت مانگو کہ حضرت! آپ انبیاءؑ کے مجموعہ ہیں تو ان کی صفات کا ثبوت دیجئے۔ یعنی حضرت ابراہیمؑ پر آگ سرد ہو گئی تھی آپ بھی ذرا آگ میں جا کر دکھائیے تو اس وقت فوراً دونوں فرشتے (مجاز و استعارہ) حاضر ہو کر فرماتے کہ آگ سے مراد یہ ظاہری آگ نہیں۔ اور اگر کہا جائے کہ حضرت آپ یدبیضا عصائے موسیٰ ہی دکھائیے تو تاویلی ثبوت معجز بیان یہاں حاضر ہے کہ یدبیضا سے حقیقی معنی مراد نہیں اور نہ لکڑی کا سانپ ممکن ہے ان کے کچھ اور معنی مراد ہیں جو مسلمان اب تک نہیں سمجھے۔ اگر کہا جائے کہ حضرت آپ کا بالخصوص مسیح موعود اور مثیل مسیح کا بھی دعویٰ ہے۔ دم عیسوی کا کوئی ثبوت دیجئے تو فرماتے ہیں پس عیسیٰؑ کی اعجاز نمایاں مسمریزم سے تھیں۔ اگر کہا جاتا کہ اچھا حضرت مسمریزم سے ہی کچھ دکھائیے تاکہ مابہ امتیاز کچھ تو ہو۔ تو جواب دیتے ہیں کہ ایسے معجزے دکھانا مکروہ جانتا ہوں۔ اگر میں مکروہ نہ جانتا تو عیسیٰ سے بڑھ کر دکھاتا۔ مسلمان تعجب سے عرض کرتے ہیں کہ حضرت خدا تعالیٰ اپنے ایک نبی کو مکروہ کام کی اجازت دے سکتا ہے؟ اس سے تو خدا پر بھی اعتراض آتا ہے کہ وہ عوام تو درکنار پیغمبروں سے بھی مکروہ کام کراتا ہے؟ تو خفا ہو کر فرماتے کہ ”انہی باتوں نے یہود کو ایمان سے روکا تم یہودی صفت ہو۔ اپنے ایک بھائی پر حسن ظن کیوں نہیں کرتے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو عذاب مجھ پر ہے تمہارا کیا قصور ہے۔ تم تو یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ والوں کی فہرست میں آ کر داخل بہشت ہو گے۔
(دیکھو ازالہ اوہام مصنفہ مرزا قادیانی)
ناظرین! یہ ہے مماثلت تامہ و متابعت تامہ۔ ہر ایک بات جو پوچھو تو حقیقت ندارد مجاز و استعارہ سے کام چل رہا ہے۔ مگر تعجب ہے کہ کتابوں کی قیمت اور زر چندہ لینے میں مجاز و استعارہ منع تھا۔ وہاں ضرب چہرۂ شاہی خالص چاندی یا سونے کا ہو۔ یا کرنسی نوٹ ہوں ورنہ بیعت سے خارج۔ کیونکہ معاملات میں مجاز و استعارہ ناجائز ہیں۔ جب جونپوری مہدی جس کی سب باتیں حقیقی تھیں اور چند علامات کی کمی سے وہ سچے مہدی نہ مانے گئے تو مرزا قادیانی (جن کی رسالت، مہدویت و مسیحیت کی تمام تر بنیاد مجاز و استعارہ پر ہی رکھی گئی ہے) کیونکر اپنے دعاوی میں سچے تسلیم کیے جائیں۔ باوجودیکہ مرزا قادیانی خود ہی فرماتے ہیں۔ ”اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آ سکتا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٩٣ خزائن ج ٣ ص ٢٥١) مرزا قادیانی کے اس اپنے اقرار سے ثابت ہے کہ مرزا
٨٦
قادیانی مسیح موعود ہرگز نہ تھے جس کا نزول علاماتِ قیامت سے ایک علامت ہے۔ جیسا کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا ہے۔ انہا لن تقوم الساعة حتى تروا قبلها عشر آیات الخ ازانجملہ دخان دجال دابۃ الارض۔ طلوع آفتاب کا مغرب سے۔ اور نزول عیسیٰ بن مریم۔ ظہور یاجوج ماجوج۔ (مظاہر حق جلد ٤ ص ٣٥٧ مشکوٰۃ ص ٤٧٢ باب علامات بین یدی الساعہ) چونکہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے فَسْئَلُوا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النحل ٤٣) یعنی اے لوگو! تم اہل کتاب سے دریافت کر لو جو امر تم نہیں جانتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس امر میں تم کو شک ہو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ کیونکہ دوسری جگہ سورۃ یونس میں فرمایا وَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّا اَنْزَلْنَا اِلَيْكَ فَسْئَلِ الَّذِيْنَ يَقْرَؤُنَ الْكِتَاب (یونس ٩٤) یعنی جو کچھ ہم نے تم پر اتارا ہے اگر اس میں تمہیں کوئی شک ہو تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ یعنی جو وحی تم کو نصاریٰ کے متعلق ہو وہ نصاریٰ سے پوچھو اور جو یہود کے متعلق ہو وہ یہود سے پوچھو۔ اب چونکہ یہ پیشگوئی حضرت عیسیٰؑ کی زبانی قرآن مجید میں منقول ہے اور اگرچہ مسلمانوں کو تو کوئی شک نہیں بلکہ یہود و نصاریٰ نے بھی تسلیم کیا ہوا ہے کہ جس رسول کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی وہ پیشگوئی محمد ﷺ کے آنے سے پوری ہو گئی۔ چنانچہ لب التواریخ میں لکھا ہے کہ محمد ﷺ کے ہمعصر یہود و نصاریٰ ایک نبی کے منتظر تھے۔ انہی بشارات کے بموجب حبشہ کا بادشاہ نجاشی اور جارود بن علاء جو علم تورات کے بڑے عالم و فاضل تھے مسلمان ہو گئے۔ اس سے ثابت ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق محمد ﷺ تھے نہ کوئی غیر۔
انجیل یوحنا باب ١٤ آیت ١٥۔١٦ میں ہے ”میں اپنے باپ سے درخواست کروں گا اور وہ تمہیں دوسرا تسلی دینے والا بخشے گا کہ ہمیشہ تمھارے ساتھ رہے۔“ پس محمد ﷺ کا قرآن پاک ہمیشہ مسلمانوں میں ہے اور وہی مصداق اس پیشگوئی کے ہیں۔ مرزا قادیانی نہ کوئی کتاب لائے اور نہ ہمیشہ رہے گی اس لیے وہ مصداق ہرگز نہیں۔
دوم انجیل یوحنا باب ١٦ آیت ٧ لغایت ١١ میں لکھا ہے۔ ”تمھارے لیے میرا جانا ہی فائدہ ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا تم پاس نہ آئے گا۔ پر اگر میں جاؤں تو میں اسے تمھارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آ کر دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا گناہ سے اس لیے کہ مجھ پر ایمان نہیں لائے۔ راستی سے اس لیے کہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت سے اس لیے کہ اس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔ آیت ١٣ لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے
٨٧
گی تو وہ تمھیں ساری سچائی کی راہ بتا دے گی اس لیے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی وہ تمھیں کہے گی۔ وہ تمھیں آئندہ کی خبریں دے گی اور وہ میری بزرگی کرے گی۔“ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ کی سخت ہتک کی اور گالیاں دیں اس لیے وہ ہرگز مصداق اس بشارت کے نہیں ہو سکتے۔ پھر اسی باب ١٦ کی آیت ١١ میں ہے۔ ”اس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے“ یعنی آنے والا سردار ہے۔ مرزا قادیانی رعیت تھے ہرگز سردار نہ تھے۔ اس لیے مرزا قادیانی اس پیشگوئی کے مصداق نہیں۔ سردار حضرت محمد ﷺ تھے جن کی سرداری کا سکہ تمام جہان پر بیٹھا ہوا ہے۔ انجیل یوحنا باب ١٥ آیت ٢٦ و ٢٧ میں لکھا ہے۔ ”لیکن جب وہ تسلی دینے والا جسے میں تمھارے لیے باپ کی طرف سے بھیجوں گا۔ یعنی روح حق جو باپ سے نکلتی ہے آئے تو میرے لیے گواہی دے گا اور تم بھی گواہی دو گے“ مرزا قادیانی کوئی روح حق یعنی کتاب نہیں لائے اس واسطے وہ مصداق اس پیشگوئی کے نہیں ہیں۔ محمد ﷺ قرآن شریف لائے اور قرآن شریف نے چونکہ حضرت عیسیٰؑ کی رسالت کی تصدیق فرمائی اس لیے محمد و احمد رسول اللہ ﷺ اس پیشگوئی کے مصداق ہیں نہ کوئی اور۔
انجیل متی باب ١٤ آیت ٣٠ میں لکھا ہے ”اس جہان کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔“ الخ اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ آنے والا رسول سردار ہے۔ یعنی صاحب حکومت ہے۔ دوم حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا کہ ”مجھ میں اس کی کوئی بات نہیں۔“ یعنی مجھ میں اس رسول کی صفات نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہونے کے مدعی ہیں۔ اور ازالہ میں لکھتے ہیں۔ ”خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا انت اشد مناسبة بعیسی ابن مریم و اشبه الناس به خلقا و خلقا و زماناً (ازالہ ص ٢٣٣ خزائن ج ٣ ص ١٦٥) یعنی مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں اور الہامی اقرار ہے کہ ”میں خلقاً اشد مناسبت عیسیٰ بن مریم سے رکھتا ہوں“ اور حضرت عیسیٰؑ فرماتے ہیں کہ آنے والا رسول میری صفات کے غیر ہو گا۔ یعنی اس کی صفات عیسیٰؑ میں نہیں ہیں۔ پس یہ پیشگوئی مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ اس رسول کی نسبت ہے جس میں عیسیٰؑ جیسی صفات نہ ہوں اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”مجھ کو اشد مناسبت خلفاء حضرت عیسیٰؑ سے ہے، تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی ہرگز اس بشارت کے مصداق نہ تھے۔ انجیل برنباس میں لکھا ہے ”کاہن نے جواب میں کہا کیا رسول اللہ ﷺ کے آنے کے بعد اور رسول بھی آئیں گے۔ رسول یسوع نے جواب دیا اس کے بعد خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی کوئی نہیں آئیں گے مگر جھوٹے نبیوں کی ایک بڑی بھاری تعداد آئے گی۔“ (باب ٨٨
٩٧ آیات ٦۔٧۔٨۔٩ انجیل برنباس) انجیل برنباس کے اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آنے والا رسول خاتم النبیین ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور خاتم النبیین محمدﷺ ہی ہیں اس لیے اس آنے والے رسول کی بشارت انھیں کے حق میں ہے۔ دوم! حضرت عیسیٰؑ کے فرمانے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنے والے کے بعد بہت سے جھوٹے نبی ہوں گے۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ محمد رسول اللہﷺ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔ کیونکہ ان کے بعد مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا قادیانی تک بہت جھوٹے نبی آئے جو خدا کی طرف سے نہ تھے۔ سوم! مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ میرے بعد دس ہزار اور بھی مسیح آ سکتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اس بشارت کے مصداق نہیں کیونکہ اس رسول کے بعد کوئی رسول نہیں آنا اور مرزا قادیانی کے بعد دس ہزار آئیں گے۔ پس مرزا قادیانی ہرگز ہرگز اس بشارت کے مصداق نہیں۔
حضرت عیسیٰؑ نے یہ بھی صفت آنے والے رسول کی فرمائی ہے کہ اس فارقلیط یعنی روح حق کی پاک وحی ہمیشہ تمھارے پاس رہے گی۔ اس فرمودہ عیسیٰؑ نے بھی ثابت کر دیا کہ محمد رسول اللہﷺ ہی اس بشارت کے مصداق ہیں۔ کیونکہ ان کی وحی رسالت قرآن مجید ہمیشہ موجود ہے۔ مرزا قادیانی نہ کوئی کتاب لائے نہ مصداق اس بشارت کے ہو سکتے ہیں۔
حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا کہ فارقلیط آ کر میرے لیے گواہی دے گا۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس بشارت کے مصداق حضرت محمدﷺ ہی تھے جنھوں نے حضرت عیسیٰؑ کی نبوت ثابت کی۔ ان کا مصلوب اور لعنتی ہونا باطل کیا اور صاف صاف فرمایا۔ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ کہ عیسیٰ نہ قتل ہوا نہ مصلوب ہوا۔ اس کے خلاف مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰؑ کو کاٹھ پر لٹکایا اور مصلوب مانا اور جب کاٹھ پر لٹکانا لعنتی ہونے کا نشان تھا تو حضرت عیسیٰؑ کو (نعوذ باللہ) لعنتی بھی قرار دیا اور ان کی نبوت سے بھی انکار کیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو (یعنی یسوع کو) ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) حضرت عیسیٰؑ نے یہ بھی فرمایا کہ آنے والا رسول سچ کی تمام راہیں بتائے گا۔ مرزا قادیانی نے کوئی سچی راہ نہیں بتائی۔ بلکہ امت محمدیﷺ کو ١٣٠٠ سال کے بعد پھر الٹے راہ چلایا کہ مسئلہ اوتار جو اہل ہنود کا مسئلہ ہے اسے مانا۔ تناسخ کا مسئلہ مانا‘ بروز کا مسئلہ مانا‘ محمدﷺ کا دوبارہ دنیا میں تشریف لانا تجویز کیا‘ ابن اللہ کا مسئلہ مانا‘ خدا کا بیٹا بنے‘ خدا کے نطفہ سے بنے‘ دروازہ نبوت ہمیشہ کے لیے امت محمدی میں کھلا ہے لکھا اور خدا کی محبت سے انسان خدا بن جاتا ہے۔ جیسا کہ
١٩
خود خدا بنے تھے وغیرہ وغیرہ پس ثابت ہوا کہ سچی راہ محمد ﷺ نے بتائی اور وہی اس بشارت کے مصداق ہیں۔ مرزا قادیانی نے چونکہ الٹی راہ بتائی جو ان کو اور ان کے مریدوں کو راہ راست سے بہت دور لے گئی اس لیے وہ اس بشارت کے ہرگز مصداق نہ تھے۔ حضرت عیسیٰؑ نے آنے والے رسول کی یہ بھی علامت فرمائی تھی کہ وہ جو سنے گا وہی کہے گا۔ یعنی جو خبر خدا تعالیٰ اس کو سنائے گا وہی خبر عوام کو سنائے گا۔ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا۔ اس سے بھی ثابت ہے کہ یہ بشارت حضرت محمد ﷺ کے حق میں تھی کیونکہ آپ ہی کی یہ شان ہے۔ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوْحَى یعنی محمد ﷺ جو وحی الٰہی سے سنتا ہے وہی بولتا ہے مگر مرزا قادیانی وحی رسالت سے محروم تھے۔ چنانچہ ازالہ اوہام کے صفحہ ٦١٧ پر خود اقرار کرتے ہیں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی یہ ہے۔ ”اور بعد محمد ﷺ باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔“ جب وحی رسالت بعد محمد ﷺ مسدود ہوئی تو پھر مرزا قادیانی نہ صاحب وحی رسالت ہوئے اور نہ مصداق اس بشارت کے ہوئے کیونکہ مرزا قادیانی کی وحی جھوٹی نکلتی رہی۔
مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی کا حال سنو
مرزا جی لکھتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز (مرزا) پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاما بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمھارے (مرزا کے) نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا۔ اور فرمایا خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔“ الخ
(بلفظہ ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
مرزا قادیانی مر بھی گئے مگر وہ نکاح نہ ہوا۔
اخیر میں انجیل یوحنا باب ١٦ کی آیت اوّل و دوم لکھی جاتی ہے جن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے آنے والے رسول کی امت کی علامات بھی بتا دی ہیں۔ وہ ہذا۔
”میں نے یہ باتیں تمھیں کہیں کہ تم ٹھوکر نہ کھاؤ۔ وہ تم کو عبادت خانوں سے نکال دیں گے۔ بلکہ وہ گھڑی آتی ہے کہ جو کوئی تمھیں قتل کرے گمان کرے گا کہ میں خدا کی بندگی بجا لاتا ہوں۔“
اب تو حضرت عیسیٰؑ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کو خاص کر کے آنے والے رسول کی امت کا کام بھی فرما دیا کہ وہ تم کو عبادت خانوں سے نکال دیں گے۔ عیسائیوں کو ان کے عبادت خانوں سے کس کی امت نے نکالا؟ اور کس کی امت قتل اعدائے دین کر کے خداے وحدہٗ لاشریک کی بندگی بجا لائی؟ میاں محمود قادیانی فرمائیں
٩٠
کہ ان کے والد یا ان کے مریدوں میں سے کسی نے یہ کام کیے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر کس قدر بے جا دلیری اور دروغ بے فروغ ہے کہ اس آیت مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُهٗ أَحْمَدُ کے مصداق مرزا غلام احمد قادیانی (میاں محمود کے باپ) تھے؟ اسی وجہ سے مولوی محمد احسن امروہی قادیانی جو مرزا غلام احمد قادیانی کے بازو بلکہ فرشتہ آسمانی تھے انھوں نے میاں محمود قادیانی کے عقائد باطلہ کی وجہ سے اشتہار شائع کر دیا کہ میں میاں محمود قادیانی کو خلافت سے معزول کرتا ہوں۔ اس اشتہار کا خلاصہ اخبار اہلحدیث نمبر ٩ جلد ١٣ مورخہ ٥ جنوری ١٩١٧ء صفحہ ٣ کالم ٢ سے لے کر یہاں درج کیا جاتا ہے تا کہ عام مسلمانوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے میاں محمود قادیانی کی خلافت کی حقیقت معلوم ہو جائے۔
”میں نے بے خبری میں میاں محمود احمد قادیانی کو خلیفہ بنایا تھا مگر اب اس کے عقائد بہت غلط ثابت ہوئے ہیں اس لیے میں اس کو خلافت سے معزول کرتا ہوں۔“ چنانچہ اس اشتہار کے ضروری الفاظ یہ ہیں۔
”صاحبزادہ صاحب بشیر الدین محمود احمد (قادیانی) بوجہ اپنے عقائد فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک اب ہرگز اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود مرزا قادیانی کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں اور اس لیے میں اس خلافت سے جو محض ارادی ہے سیاسی نہیں صاحبزادہ صاحب کا عزل کر عند اللہ و عند الناس اس ذمہ داری سے بری ہوتا ہوں جو میرے سر پر تھی اور بحکم لا طاعة للمخلوق فی معصیة الخالق اور حسب ارشاد الٰہی قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ اپنی بریت کا اعلان کرتا ہوں اور جماعت احمدیہ کو یہ اطلاع دیتا ہوں کہ صاحبزادہ صاحب کے یہ عقائد کہ:۔
- (١) سب اہل قبلہ کلمہ گو کافر اور خارج از اسلام ہیں۔
- (٢) حضرت مسیح موعود کامل حقیقی نبی ہیں جزوی نبی یعنی محدث نہیں۔
- (٣) اِسْمُهٗ أَحْمَدُ والی پیشگوئی جناب مرزا قادیانی کے لیے ہے اور محمد ﷺ کے واسطے
نہیں اور اس کو ایمانیات سے قرار دینا ایسے عقائد بنانا ہیں جو موجب ایک خطرناک فتنہ کے ہیں جس کے دور کرنے کے لیے کھڑا ہو جانا ہر ایک احمدی کا فرضِ اولین ہے۔ یہ اختلاف عقائد معمولی اختلاف نہیں بلکہ اسلام کے پاک اصول پر حملہ ہے اور مسیح موعود کی تعلیم کو بھی ترک کر دیتا ہے۔
میں یہ بھی اپنے احباب کو اطلاع دیتا ہوں کہ ان عقائد کے باطل ہونے پر حضرت مسیح موعود کی مقرر کردہ معتمدین کی بھی کثرت رائے ہے۔ اب جو بارہ ممبر حضرت
٩١
کے مقرر کردہ زندہ ہیں ان میں سے سات ممبر علی الاعلان ان عقائد سے بیزاری کا اظہار کر چکے ہیں اور باقی پانچ میں بھی اغلب ہے کہ ایک صاحب ان عقائد میں صاحبزادہ کے شامل نہیں۔ الخ۔ وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ۔
خاتمہ
حضرت مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو گمراہی سے بچانے کی خاطر پہلے ہی خبر دے رکھی ہے کہ میری امت میں تیس یا ستر یا اس سے بھی زیادہ کاذب مدعیان نبوت ہوں گے جو اپنے آپ کو نبی و رسول زعم کریں گے اور نبی کہلائیں گے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہ ہو گا۔ حدیث۔ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ ثَلٰثُوْنَ کَذَّابُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہُ نَبِیَّ اللّٰهِ وَ اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ (رواہ ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧ کتاب الفتن والترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون) پھر فرمایا لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ کاذب مدعیان نبوت نے اس کی یہ تاویل کی کہ ”صاحب شریعت نبی بعد خاتم النبیین کے نہ ہو گا۔ مگر غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے۔“ اسی واسطے تمام کاذبوں نے آیت خاتم النبیین پر ضرور بحث کی ہے تاکہ باب نبوت کھول کر خود اس میں داخل ہوں۔ یہ غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ سب سے پہلے مسیلمہ کذاب نے کیا تھا اور وہ کہتا تھا کہ جس طرح موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارون ؑ غیر تشریعی نبی تھا ایسا ہی میں حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان کے ماتحت اور انہی کی شریعت کے تابع نبی ہوں۔
(دیکھو دبستان مذاہب)
ہر ایک کاذب ابتدائی بحث کے لیے کوئی نہ کوئی ہتھکنڈا نکالا کرتا ہے۔ مرزا قادیانی نے وفات مسیح ؑ کا ہتھکنڈا نکالا اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر کے کہا کہ چونکہ مسیح موعود نبی اللہ ہے میں بھی نبی ہوں اور نبوت و رسالت کے مدعی بن بیٹھے۔ مگر اس دعویٰ نبوت و رسالت میں جھجکتے رہے اور ساتھ ساتھ انکار بھی کرتے رہے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے نے صاف صاف کہہ دیا کہ اِسْمُہُ اَحْمَدُ والی پیشگوئی کا مصداق محمد ﷺ نہ تھے بلکہ میرا باپ غلام احمد قادیانی تھا۔ چنانچہ اس کتاب میں یہی بحث ہے۔
فہرست کاذب مدعیان نبوت و رسالت ، مسیحیت و مہدویت
جو ظاہر کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا کوئی انوکھا دعویٰ نہیں کیا بلکہ آنحضرت ﷺ کے حسب فرمان ہمیشہ ایسے کاذب مدعیان نبوت ہوتے چلے آئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ مثلاً۔ (١) مسیلمہ (٢) اسود عنسی (٣) ابن صیاد (٤) طلیحہ بن
٩٢
خویلد (٥) سجاح بنت الحرث (٦) مختار (٧) احمد بن حسین المعروف متنبی شاعر (٨) بہبود (٩) یحییٰ (١٠) سلیمان قرمطی (١١) ابو جعفر (١٢) عیسیٰ بن مہرویہ (١٣) استاذ سیس (١٤) عطاء (١٥) عثمان بن نہیک و (١٦) امیہ (یہ بھی عورت تھی) (١٧) لا (١٨) پوشیا (١٩) مسٹر وارڈ (٢٠) بیسک (٢١) ابراہیم بزلہ (٢٢) شیخ محمد خراسانی (٢٣) محمد بن تومرت (دیکھو مرزائیوں کی کتاب عسل مصفے ص ٥٥٢ تا ٥٦١ جس میں تاریخ کامل ابن اثیر ابن خلکان تاریخ الخلفا وغیرہ اسلامی تاریخی کتب سے لے کر مفصل حالات لکھے ہیں) (٢٤) سید محمد جونپوری (٢٥) محمد عبداللہ (٢٦) محمد احمد سوڈانی (٢٧) شیخ سنوی (٢٨) محمد بن محمد (٢٩) محمد الامین (٣٠) مرزا غلام احمد قادیانی پنجابی (دیکھو مذاہب اسلام ص ٨٤ تا ٨٠٢) مرزا قادیانی کے بعد بھی انڈیا پنجاب کے ضلع لائلپور میں ایک شخص نیل دہاری نے دعویٰ نبوت کیا۔ جس نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے اس کے سر ورق پر لکھا ہے۔ خداوند کریم کے ٣٦٥ احکام جو ماہ اپریل ١٩١٢ء کو نازل ہوئے۔ اس نے بھی ہمیشہ نبیوں کا آنا بتایا ہے جیسا کہ کاذبوں کی چال ہے کہ خاتم النبیین پر ضرور پہلے بحث کرتے ہیں۔ ایک حکم کی نقل کی جاتی ہے۔ دیکھو خدائی زبان اس ملک کے مطابق ہے مرزا قادیانی کی طرح عربی نہیں۔ جس ملک کا نبی اسی ملک کی زبان چاہیے۔ حکم نمبر ٧۔ ”اے نبی بتا میرے بندوں کو میرے نام پر کہ تو ان سے کہو کہ تم جانتے ہو کہ بدلتا رہتا ہے زمانہ ہمیشہ مطابق میری مرضی کے سو بھیجتا ہوں نبی موافق زمانہ کے تم قبول کرو اس کو نہ بنے رہو لکیر کے فقیر۔“ الخ (ص ٦ حکمنامہ مطبوعہ ہندوستان پریس لاہور ١٩١٥ء)
اب قادیانی جماعت غور کرے کہ اگر سعادت اسی میں ہے کہ جو شخص دعویٰ نبوت کرے حسن ظنی سے اسے سچا نبی مان کر اسی کے پیرو ہونے میں نجات ہے تو دوڑیں اب تازہ نبی تازہ وحی اور تازہ کتاب پر ایمان لائیں اور جیسے مرزا قادیانی پر ایمان لائے تھے اس پر بھی ایمان لاکر اپنے سعید الفطرت اور خدا ترس انسان ہونے کا ثبوت دیں۔ ورنہ کاذب نبی (مرزا قادیانی) کی پیروی چھوڑ کر سچے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کا دامن پکڑیں اور آپ کی کتاب و سنت پر عمل کریں اور جھوٹے مدعیوں سے جو رسول اللہ ﷺ کی حیات میں ہی دعویٰ کرنے لگ گئے تھے اور ہمیشہ کرتے رہیں گے باز رہیں۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ ۔ تمام شد۔
خاکسار پیر بخش ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر
٦٣
مسئلہ رفع ونزول مسیح علیہ السلام
از قلم : مولانا عبداللطیف مسعود
سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات‘ رفع ونزول کا قرآن وسنت سے اثبات بے شمار تفسیریں‘ لغوی اور دیگر علمی کتب کے سینکڑوں اقتباسات وحوالہ جات کا مرقع قادیانی مرتد قاضی نذیر کی تعلیمی پاکٹ بک کے حصہ ”حیات مسیح“ کا مکمل ومدلل اور مسکت جواب
حیات عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ملحدین ومنکرین کے تمام اشکالات ومغالطہ جات کا مکمل رد
کتاب کے دو حصے ہیں‘ پہلا حصہ ٤٠٨ صفحات پر مشتمل ہے جو قادیانی مرتد قاضی نذیر کی کتاب کے جواب پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہ جو ١٨٤ صفحات پر مشتمل ہے یہ مرتد اعظم مرزا قادیانی کی کتاب ازالہ اوہام میں پیش کردہ تیس آیات کی تحریف کے رد کو شامل ہے۔ حصہ اول و دوم پانچ سو بانوے صفحات پر مشتمل یکجا مجلد کتابی شکل میں پیش کر دیئے گئے ہیں۔
چہار رنگ کا خوبصورت ٹائٹل □ عمدہ واعلیٰ سفید کاغذ کمپیوٹرائزڈ کتابت □ اعلیٰ وعمدہ نفیس جلد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی روایات ہیں کہ وہ اپنی کتابوں کو لاگت پر سستے داموں پیش کرتی ہے‘ مقصود تبلیغ ہے نہ کہ تجارت! یہ کتاب بھی انہیں روایات کی حامل ہے‘ تمام تر خوبیوں کے باوجود تقریباً چھ سو صفحات کی کتاب کی قیمت صرف ١٢٠ روپے ہے۔ کتاب وی پی نہ ہوگی‘ رقم کا پیشگی منی آرڈر آنا ضروری ہے۔ تمام مقامی دفاتر سے بھی مل سکتی ہے
ملنے کا پتہ : ناظم دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان‘ فون نمبر 514122
خاتم النبيين لا نبي بعدي
سچا آخری نبی عرب ، مسیلمہ پنجاب قادیانی نوسرباز
کرشن قادیانی
جناب بابو پیر بخشؒ
کرشن قادیانی
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم ط
ناظرین! مرزا قادیانی پہلے خدا بن گئے تھے اور پھر کسی نامعلوم وجہ سے عہدۂ خدائی سے معزول ہو کر پیغمبر و رسول بنائے گئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود قرار دیئے گئے تھے۔ پھر مقام محمدی سے گرا کر نائب عیسیٰ علیہ السلام بنائے گئے اور فنا فی الرسول کے مرتبہ عالی سے تنزل کر کے نائب عیسیٰ علیہ السلام ہوئے پھر نائب عیسیٰ علیہ السلام کے مرتبہ سے بھی تنزل کر کے ایک صحابی بنے۔ یعنی حضرت علیؓ بنائے گئے اور خدا تعالیٰ نے اپنی وحی جو مرزا قادیانی کو دی تھی واپس لے لی اور ایسے شخص کا بروز بنایا جو خود فرماتا ہے۔ اَلَا وَاِنِّی لَسْتُ نَبِيًّا وَلَا يُوْحٰی اِلَیَّ یعنی نہ میں نبی ہوں اور نہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی جس شخص کا بروز قرار دیئے گئے۔ جب اس کو وحی نہ ہوئی تھی تو مرزا قادیانی جو اس سے کم مرتبہ میں تھے کیونکہ مثیل ہمیشہ اپنے مماثل سے صفات میں کم ہوا کرتا ہے۔ تو ان کو حضرت علیؓ کے بروز ہونے کی حالت میں وحی الٰہی ہونا بالکل باطل ہے کیونکہ جب حضرت علیؓ کو وحی نہ ہوتی تھی تو مرزا قادیانی جو اس کے بروز و مثیل بنتے ہیں۔ ان کو کس طرح وحی ہوسکتی ہے؟ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے ترقی معکوس کی کہ خدا سے محمد ﷺ بنے اور محمد ﷺ سے نائب عیسیٰ علیہ السلام بنے اور نائب عیسیٰ علیہ السلام سے حضرت علیؓ بنے۔ مگر اس تنزل میں اسلام سے خارج نہ ہوئے تھے اور توبہ کا دروازہ کھلا تھا مگر افسوس مرزا قادیانی نے بجائے توبہ کے ایک ایسا الہام تراشا کہ اسلام ہی سے نکل گئے اور کرشن جی کا روپ دھارا اور تمام انبیاء علیہم
٢
السلام کی تعلیم سے منہ موڑ کر اہل ہنود کا مذہب اختیار کیا اور افسوس ان کا خاتمہ اسلام پر نہ ہوا کیونکہ کرشن جی مہاراج اہل ہنود کے ایک راجہ تھے اور تناسخ کے ماننے والے تھے اور قیامت اور یوم حشر کے منکر تھے۔ چنانچہ تمام گیتا جو کرشن جی کی اپنی تصنیف ہے۔ انھیں مسائل اواگون و اوتار و جزا و سزا بذریعہ تناسخ حلول ذات باری و ممانعت گوشت خوری سے پُر ہے۔ جس کو مرزا قادیانی الہامی کتاب مانتے ہیں اور کرشن کو پیغمبر اور فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو الہام کیا کہ ”ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے“۔ جب گیتا مرزا قادیانی نے خدا کی کلام مان لی تو جو جو مسائل اس میں درج ہیں وہ ضرور ماننے ہوں گے اور چونکہ وہ مسائل بالکل تمام انبیاءؑ کے دین کے برخلاف ہیں۔ اس لیے نہ تو کرشن مسلمان اور پیغمبر ہو سکتے ہیں اور نہ ان کا بروز و اوتار مسلمان کہلا سکتا ہے۔ اب ہم پہلے مرزا قادیانی کی اصل عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ کسی مرزائی کو انکار و تاویل کی گنجائش نہ رہے اور یہ نہ کہے کہ مرزا قادیانی پر بہتان ہے اور جھوٹ لکھا ہے کیونکہ مرزائیوں کا آج کل قاعدہ ہو رہا ہے کہ جس الہام یا عبارت مرزا قادیانی پر اعتراض کیا جائے جھٹ انکار کر دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ایسا نہیں لکھا۔ اصل عبارت دکھاؤ کیونکہ کچھ جواب ان کے الہامات خلاف شرع کا ان سے نہیں بن پڑتا۔ اصل عبارت مرزا قادیانی یہ ہے۔ ”ایسا ہی میں (مرزا قادیانی) راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی ہوں یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے۔ اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ..... اور خدا کا وعدہ تھا کہ آخر زمانہ میں اس کا (کرشن) بروز یعنی اوتار پیدا کرے سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت یہ بھی الہام ہوا تھا کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣-٣٤ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩-٢٢٨)
ناظرین! بہ فحوائے آیۂ کریمہ وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى یعنی پچھلی بات بہتر ہے پہلی سے۔ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی اور الہامات سے یہ آخر کا الہام و دعویٰ بہتر ہے اور ان کی ذات کے واسطے خیر ہے۔ پس مرزا قادیانی محمد ﷺ و عیسیٰؑ و مریم وغیرہ انبیاء علیہم السلام کے دعاوی سے دست بردار ہو کر کرشن جی بنتے ہیں۔ یعنی اسلام چھوڑ کر کفر اختیار کرتے ہیں کیونکہ جب تک محمد ﷺ کے پیرو تھے بروز محمد ﷺ تھے
٣
اب کرشن کے پیرو ہیں اور بروز کرشن ہیں۔ نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ اَعْمَالِنَا۔
ناظرین! یہ دعویٰ مرزا قادیانی کا تمام انبیاء علیہم السلام کے برخلاف ہے اور جس قدر انبیاء حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت خاتم النبیین محمد ﷺ تک ہوئے کسی ایک نے نہ اوتار کے مسئلہ کو حق جانا اور نہ کسی نے رام چندر و کرشن و مہادیو وغیرہ بزرگان اہل ہنود کو سلسلہ انبیاء علیہم السلام میں شمار کیا۔ کیونکہ ان کا مذہب انبیاءؑ کے بالکل برخلاف تھا اور اب تک ان کی تعلیم و عمل کا نمونہ موجود ہے کہ تمام فرقہ ہائے اہل ہنود قیامت و یوم الحساب و حشر اجساد کے منکر ہیں اور اواگون تناسخ مانتے ہیں اور توحید کی بجائے بت پرست ہیں۔ چنانچہ گیتا میں جو کرشن جی کی اپنی تصنیف ہے۔ اس میں تناسخ کی تعلیم ہے اور اوتار کا مسئلہ بھی گیتا میں ہے اور کسی فرقہ اہل اسلام میں سے کسی مسلمان کا یہ اعتقاد نہیں کہ ایک مشرک ہندو راجہ گئو اور برہمن کی پوجا کرنے والا وید و شاستر کا پیرو قیامت کا منکر پیغمبر و رسول ہو سکے۔ اس لیے ہم مرزا قادیانی کے اس الہام اور دعویٰ پر آزادی سے بحث کریں گے اور گیتا سے ہی ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھا۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو ماسبق انبیاءؑ کے موافق ہوتا۔ قرآن شریف میں متقین کی صفت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ ط اُوْلٰۤىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَاُولٰۤىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (بقرہ) ترجمہ ”وہ لوگ جو تحقیق آخرت کا یقین کرتے ہیں وہی لوگ ہدایت پر ہیں اور وہ ہی نجات پانے والے ہیں۔ مگر جو کرشن اور اس کا بروز و اوتار ہونے کا دعویٰ کرے وہ ہرگز مفلحون میں سے نہیں ہو سکتا کیونکہ تناسخ کے ماننے والا قیامت کا منکر ہے۔ اور مرزا قادیانی مان چکے ہیں کہ بغیر متابعت تامہ کے کوئی بروز نہیں ہو سکتا اور میں بسبب پیروی محمد ﷺ کے بروز محمد ﷺ ہوں۔ تو اب ثابت ہوا کہ پیروی کرشن تامہ سے بروز کرشن ہوئے اور محمد ﷺ کی پیروی سے نکل گئے اور کرشن کے پیرو ہوئے اور چونکہ کرشن آخرت کا منکر اور تناسخ کا قائل تھا مرزا قادیانی بھی آخرت کے منکر اور تناسخ کے قائل ثابت ہوئے۔ اس عبارت مرزا قادیانی میں مفصلہ ذیل امور لائق بحث ہیں۔
- (١) میں راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کے رو سے
میں وہی یعنی کرشن ہوں۔
- (٢) وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے۔ اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا۔
- (٣) آخر زمانہ میں کرشن کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے یہ وعدہ میرے آنے سے پورا ہوا۔
٤
- (٤) الہام کہ تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔
اب چاروں امروں پر الگ الگ غور کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ یا تو یہ الہام غلط ہے یا مرزا قادیانی کا خاتمہ اسلام پر نہیں ہوا۔ ١۔ مرزا قادیانی درثمین ص ١٧٢ جو ان کی اپنی تصنیف ہے اس میں لکھتے ہیں ؎
شدہ رنگیں برنگِ یارِ حسین
یعنی میں (مرزا قادیانی) مصطفےٰ کا وارث ہوں اور یقین اور ایمان سے ہوں اور خوبصورت دوست (محمد ﷺ) کے رنگ سے رنگین ہو گیا ہوں۔ لکھتے ہیں...... لیس فی جبتی الا نورہ (محمد ﷺ) ترجمہ ”میری جیب یعنی وجود میں سوائے نور محمد ﷺ کے نہیں ہے۔“ (الاستفتاء ص ١٧ ضمیمہ حقیقت الوحی خزائن ج ٢٢ ص ٦٣٧) پھر لکھتے ہیں۔ ”آخر زمانہ کا آدم درحقیقت ہمارے نبی کریم ﷺ اور میری نسبت اس جناب کے ساتھ استاد اور شاگرد کی نسبت ہے...... اس نبی کریم ﷺ کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا یہاں تک کہ میرا وجود اس کا (نبی کریم ﷺ) وجود ہو گیا۔“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨ خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨) ”پھر اس روحانیت کے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی...... پس میں وہی مظہر ہوں۔ حتیٰ کہ هو الذی ارسل رسولہ کا نام بھی پایا۔“ (خطبہ الہامیہ ص ٢٧١۔٢٦٦ خزائن ج ١٦ ص ایضاً) مرزا قادیانی کی ان عبارات سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود مظہر تھے اور انھیں کے رنگ سے رنگین تھے۔ اگر مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ کے رنگ سے رنگین ہوتے تو پھر کرشن بوجہ اہل ہنود کے رنگ سے کس طرح رنگین ہوئے؟ رنگ عرض ہے جوہر نہیں ایک رنگ کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ جب تک اس کی یک رنگی نہ ہو اور دوسرا رنگ ہرگز اس کے پاس تک نہ آئے۔ ورنہ دونوں رنگ خراب ہو جائیں گے۔ مثلاً اگر سیاہ رنگ ہے تو تب تک ہی سیاہ ہے جب تک اس کے ساتھ سرخ رنگ شامل نہ ہو اور اگر سرخ رنگ سیاہ کے ساتھ شامل ہو جائے تو دونوں رنگوں کی اصلیت جاتی رہتی ہے اور جوہر وجود جس پر وہ رنگ چڑھائے ایک تیسرا رنگ قبول کر لیتا ہے۔ یعنی نہ پہلا رنگ قائم رہتا ہے اور نہ دوسرا بلکہ تیسرا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ اب غور کرنا چاہیے کہ جب مرزا قادیانی محمد ﷺ کے رنگ سے رنگین تھے اور پھر کرشن کے رنگ سے رنگین ہوئے۔ تو محمدی رنگ ان میں نہ رہا اور اسلام سے خارج ہو کر اہل ہنود کا رنگ مرزا قادیانی پر چڑھا۔ مگر افسوس کہ ہندوؤں نے بھی
٥
مرزا قادیانی کو کرشن نہ مانا۔ اب تیسرا رنگ مرزا قادیانی کا یہ ہوا کہ نہ مسلمان رہے نہ ہندو حد اوسط کا رنگ اختیار کیا جس طرح سرخ و سیاہ رنگ مل جائیں تو نسواری تیسرا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کفر و اسلام کے رنگ میں رنگین ہو کر ؎ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے۔ نام کے مسلمان اوتار کے قائل، یعنی حلول ذات باری کے مسئلہ کو مانا بت پرستی کی بنیاد ڈالی اور اپنی تصویر جائز کی۔ گیتا کو خدا کی کلام مانا۔ تناسخ کے مسئلہ کو مانا۔ کس قدر عبرت کا مقام ہے کہ وہی شخص جو تناسخ و اوتار آریہ دھرم کو نابود کر دینے کا ٹھیکیدار بن کر اپنے آپ کو رستم ہند جانتا تھا۔ آج خود ہی کرشن جی بن گیا اور وہ تمام عقائد باطلہ جن کی تردید کرتا تھا۔ خود ہی ماننے لگ گیا اور وہ مسائل نامعقول جو آریہ خود ان سے انکار کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی دیکھا دیکھی ترک کر رہے ہیں۔ وہی جاہلانہ مسائل مسلمانوں میں رواج دینا چاہتا ہے۔ بایں ہمہ بے دینی دعویٰ مجدد و امام الزمان مصرعہ
کیا امام زمان و مجدد و مسیح موعود کی یہی تعریف ہے کہ مسئلہ اوتار مان کر کرشن جی کا بروز یعنی اوتار بنے۔ جب کرشن کا اوتار ہوئے تو حقیقت محمدی سے خالی ہو گئے۔ یا یہ ماننا پڑے گا کہ ایسے الہامات دماغ کی خشکی کا نتیجہ ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ آسمانی صحائف و قرآن میں تو حلول و اوتار کے مسائل کی تردید کرے اور قیامت و توحید کی تعلیم دے اور گیتا میں اس کے برخلاف کہے۔ پس گیتا خدا کی کلام نہیں اور نہ کرشن پیغمبر و رسول ہے۔ اگر کرشن پیغمبر و رسول ہوتا تو اس کی تعلیم دیگر انبیاء علیہم السلام کے مطابق ہوتی، کیونکہ حدیث شریف میں ہے عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ ’’اَلْاَنْبِیَاءُ اِخْوَةُ الْعَلَّاتِ اُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی دِیْنُھُمْ وَاحِدٌ (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب اذکر فی الکتاب مریم) یعنی ابی ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمام انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں کی طرح ہیں کہ فروعی احکام ان کے مختلف ہیں اور دین ان کا ایک ہے یعنی توحید و ایمان بروز جزا و یوم آخرت اور دعوت الی الحق‘‘ جب کرشن جی قیامت کے منکر ہیں اور حلول ذات باری کے قائل ہیں تو پھر وہ انبیاء ؑ میں سے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ مرزا قادیانی نے اپنی پگڑی جمانے کے واسطے ان کو بھی نبی و رسول کہنا شروع کر دیا کہ کسی طرح میں نبی و رسول ثابت ہو جاؤں اور اس بات پر عمل کیا کہ ’’من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو‘‘ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کی چال کارگر نہ ہوئی ایک ہندو نے بھی
٦
نہ مانا کہ مرزا قادیانی کرشن تھے۔ مرزا قادیانی خود ہی پھسل گئے اور اوتاروں کا مسئلہ اہل ہنود کا مان کر مسلمانوں کو گمراہ کر گئے۔ کس قدر غضب الٰہی کی بات ہے کہ تعلیم یافتہ اہل ہنود جن کے آبا و اجداد ہزاروں برسوں سے یہ مسائل مانتے چلے آئے تھے۔ وہ تو نئی تعلیم کے اثر سے اور نئی روشنی سے منور ہو کر انکار کریں کہ یہ محال عقلی ہے کہ خدا تعالیٰ ایک عورت کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہو اور انسانی قالب اختیار کرے مگر مسلمانوں میں ١٣٠٠ برس کے بعد ایک بناوٹی فنا فی الرسول کا مدعی ان کفریات کو اسلام میں داخل کرے ۔
ائے بر عقل مریداں کہ امامش خوانند
مسئلہ اوتار: اب اوتار کے مسئلہ کی بحث شروع ہوتی ہے اور گیتا سے جو مرزا قادیانی کے نزدیک خدا کا کلام ہے اور قرآن کے برابر ہے۔ اسی سے اوتار کا مسئلہ لکھا جاتا ہے۔ ١...... اوتار کے معانی، اوتار لفظ سنسکرت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دنیا میں بشکل آدمی آنا (دیکھو فرہنگ مجموعہ سخن) اوتاروں کا مسئلہ اہل اسلام کے کسی فرقہ نے نہیں مانا اور نہ کوئی سند شرعی ظاہر کرتی ہے۔ ٢...... یہ کہ اوتاروں کا مسئلہ درست نہیں۔ قرآن مجید میں کوئی آیت نہیں جس میں لکھا ہو کہ خدا تعالیٰ کسی انسانی جسم میں حلول کرتا ہے اور جس جسم میں حلول کرے وہ خالق ہر دو جہاں کا اوتار بن جاتا ہے اور نہ کسی حدیث اور اجتہاد ائمہ دین میں یہ مسئلہ اوتار درج ہے۔ یہ مسئلہ اوتار اہل ہنود کا ہے اور ان کے اعتقاد میں خدا تعالیٰ انسانی جامہ پہن کر دنیا میں اپنا ظہور دکھاتا ہے۔ چنانچہ منجملہ دیگر اوتاروں کے کرشن جی کو بھی پرمیشر کا اوتار اہل ہنود نے مانا ہوا ہے اور گیتا میں اس مسئلہ اوتار کا معنی درج بھی ہے۔ چنانچہ گیتا میں لکھا ہے ؎
نمائیم خود را بشکل کسے
(صفحہ ٣٣ مترجم فیضی ادھیائے چہارم)
یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب دنیا میں دھرم کی ابتری ہوتی ہے تو میں کسی شخص کی شکل اختیار کر کے دنیا میں آتا ہوں۔ اور دھرم کی حمایت کرتا ہوں اور ظالموں اور دھرم کے مخالفوں کو تہ تیغ کر کے نابود کرتا ہوں۔ چنانچہ فرماتے ہیں ؎
جہاں را نمائیم دارالاماں
یعنی ہم ظالموں کا خون بہاتے ہیں اور جہان میں امن قائم کرتے ہیں۔ (بھاگوت گیتا مترجم دوار کا پرشاد افق کے ادھیائے ٤ اشلوک ٦) میں خدا نے اپنی تعریف میں لکھا ہے۔ ”مجھے بقا ہے مجھے فنا نہیں۔ کل ذی روحوں کی آتما کل مخلوقات کا ایشور میں ہوں۔ مگر اپنی مایا سے اپنی مرضی کے موافق اوتار لے لیا کرتا ہوں۔“ پھر اشلوک ٧ ادھیائے ٤ ”جس زمانہ میں دھرم کا ستیاناس ہو جاتا ہے دھرم کی گرم بازاری ہونے لگتی ہے۔ اس زمانہ میں میں اوتار لے کر کسی نہ کسی قالب میں دنیا کو جلوہ دکھاتا ہوں۔“ مراد یہ کہ نرا کار اور نرگن روپ سے شگن روپ میں جامہ انسانی قبول کرتا ہوں۔ پھر اشلوک میں لکھا ہے ”ست جگ ترتیا دواپر کلجگ میں سادھو سنتوں کی حفاظت اور بداعمالوں کی سرکوبی کے لیے میرے اوتار ہوا کرتے ہیں۔“ پھر اشلوک ٩ میں لکھا ہے۔ ”میرا جنم اور کرم ایک کرشمہ قدرت ہے۔“ الخ۔
پھر ادھیائے ٧ اشلوک ٢١ میں لکھا ہے ”کوئی کسی اعتقاد سے کسی دیوتا کی سروپ کی پرستش کرے تو میں اس دیوتا کے سروپ میں موجود ہو کر اس کے اعتقاد کو پختہ کرتا ہوں۔“ پھر ادھیائے ٧ اشلوک ٢٤ میں لکھا ہے ”کم عقل لوگوں کو میرے لازوال جلوے کی شناخت نہیں ہو سکتی میرا انباشی و اتم سروپ سب سے جدا ہے۔ ان کو سمجھنے کا وقوف نہیں کہ اس انباشی اور لازوال ذات نے اس قالب میں ظہور فرمایا ہے۔“ ادھیائے ١٠ اشلوک ١ سری کرشن جی ارجن کو فرماتے ہیں۔ ”ارجن میری باتوں کو گوش ہوش سے سنو۔“ اشلوک ٢ ”میری پیدائش سے دیوتا اور بڑے بڑے رشی بھی واقف نہیں۔ وجہ یہ کہ دیوتاؤں اور مہرشیوں کو میں ہی پیدا کرتا ہوں یعنی کرشن ہی خالق ہے۔“ مرزا قادیانی بھی خالق زمین و آسمان بنے۔ کیوں نہ ہو کرشن کا اوتار جو ہوئے۔ اشلوک ٨ ادھیائے ١٠ ”عقل مند بھگت مجھ ہی کو خالق کائنات اور ذریعہ آفرینش یقین کر کے مجھ میں دل لگاتے ہیں۔“ ادھیائے ١٠ اشلوک ١٩ ”سری کرشن جی نے فرمایا میری قدرتوں کا کچھ حساب و شمار نہیں۔“ الخ۔ ادھیائے ١٢ اشلوک ٦ و ٧ ”جس شخص نے اپنے تمام عمدہ کرم میرے ارپن کر دیے اور معاوضہ کا خواہشمند نہ ہوا اور میرے ہی تصور میں لگا رہے میری ہی ذات پر بھروسہ رکھے میں اس کو نجات دے کر موت کے سمندر سے بیڑا پار کر دیتا ہوں۔ برہم کی جو قدرت اور قوت آفرینش ہے۔ وہ میری روشنی ہے۔ اسی روشنی قوت کاملہ کا کام لے کر میں موجودات عالم کو خلعت ظہور پہناتا ہوں“ اشلوک ٣ ادھیائے ١٤ ”تمام انوار قدرت سے جو جو شکلیں نمودار ہوتی ہیں ان میں اصلی جلوہ میرا ہی ہے۔“ اشلوک ٤ ادھیائے ١٤۔
٨
’’برہم اور ابناشی میری ہی ذات ہے۔ پرم آنند سروپ میرا ہی ہے۔ راحت دائمی کا سرچشمہ میں ہی ہوں ۔‘‘ اشلوک ٢٧ ادھیائے ١٤۔ ’’جن کو میری حقیقت سے آگاہی ہے مجھے پر ماتما اور پرشوتم کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔ ہمیشہ ہر حالت میں میرا ہی پوجن کرتے ہیں ۔‘‘ اشلوک ١٩ ادھیائے ١٥۔ ناظرین! صرف خدائی کا دعویٰ نہیں بلکہ اپنی پوجا بھی کرشن کرواتے ہیں اور یہی بت پرستی کی بنیاد ہے کہ بعد میں اسی دیوتا اور اوتار کی مورت پوجی جاتی ہے۔ ’’جو مجھ کو برہم سروپ سرو بیا پک جان لیتا ہے۔ وہ میری ذات میں مل جاتا ہے‘‘ اشلوک ٥٥ ادھیائے ١٨۔ ’’اے ارجن اگر تم مجھ پر سچے دل سے فریفتہ رہو گے۔ تو تمھارے تمام دکھ میری خوشی سے دور ہو جائیں گے۔ اگر خودی و غرور سے میری بات نہ مانو گے تو تباہی و نیستی میں شک نہیں ۔‘‘ اشلوک ٥٨ ادھیائے ١٨۔ ناظرین! مذکورہ بالا حوالہ جات گیتا سے ثابت ہے کہ اوتار کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ رب العلمین خالق ہر دو جہاں قادر مطلق واجب الوجود بے انتہا و بے مانند انسانی قالب میں حلول کرتا ہے۔ یعنی ایک عورت کے پیٹ میں داخل ہو کر اسی راستہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جس راستہ سے دوسرے انسان پیدا ہوتے ہیں اور انسانوں کی مانند حوائج انسانی کا محتاج ہوتا ہے اور لڑکپن کی حالت سے بوڑھا ہوتا ہے اور کھانے پینے بول براز کرنے کے بعد جب مر جاتا ہے تو پھر اپنی خدائی کے تخت پر متمکن ہو جاتا ہے۔ اور مرزا قادیانی بھی بروز بروز پکار رہے ہیں۔ بروز سے بھی ان کا اوتار مطلب ہے، چنانچہ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں۔ ’’خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا (کرشن کا) بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔‘‘ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩) اب مرزا قادیانی نے بروز کے معنی خود کر دیے کہ بروز سے ان کا مطلب اوتار ہے پس بروز و اوتار ایک ہی ہیں۔ اب بحث اس پر ہونی چاہیے کہ اوتار ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اگر کسی امر کا امکان ہی ثابت نہ ہوا تو پھر اس کا ظہور بالبداہت غلط ہوگا۔ پہلے ہم اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ آیا خدائے تعالیٰ کا انسانی جسم میں حلول اور آدمی کے بدن میں سمائی ممکن ہے یا نہیں؟ اگر ممکن ہے تو کرشن جی بھی خدا کا یا پرمیشر کا اوتار ہو سکتے ہیں اور پھر مرزا قادیانی بھی اور اگر ممکن ہی نہیں تو پھر مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی کہ میں راجہ کرشن کا اوتار ہوں۔ دوسرے دعوؤں رسول و نبی و مسیح موعود وغیرہ کی طرح باطل ہے۔
پہلے ہم خدا تعالیٰ کی ذات و صفات جن پر اہل اسلام کا اتفاق ہے اور جن کا یقین کرنا عین جزو ایمان ہے۔ بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ اوتار کا مسئلہ بالکل غلط
٩
اور باطل ہے۔ وہو ہٰذا۔ ١۔ خدا تعالیٰ کی ذات پاک عرض نہیں۔ یعنی اس کا ہونا کسی دوسرے وجود پر موقوف نہیں جیسا کہ رنگ کا قیام کپڑے کی ذات سے وابستہ ہے۔ اگر اوتار ہو کر کسی عورت کے پیٹ میں داخل ہو تو عرض ہو جائے گا۔ اس واسطے اوتار باطل ہے۔ ٢۔ خدا تعالیٰ کی ذات پاک جسم و جسمانی نہیں۔ جس وقت اوتار ہو گا۔ تو جسم اور جسمانی ہو گا۔ پس ثابت ہوا کہ مسئلہ اوتار غلط و باطل ہے۔ ٣۔ خدا تعالیٰ کی کوئی صورت و شکل نہیں۔ جب اوتار بنے گا تو صاحب صورت و شکل ہو گا اور یہ امر صفات خدائی اور شان الوہیت کے برخلاف ہو گا کہ خدا انسانی شکل اختیار کرے۔ پس مسئلہ اوتار باطل ہے کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ ط یعنی اس کے مانند کوئی چیز نہیں۔ ٤۔ خدا تعالیٰ کی حقیقت و ماہیت اس کی اپنی ہی ذات کے ساتھ ہے۔ جب قالب انسانی میں حلول کرے گا تو اس کی ماہیت و حقیقت اس کی ذات کے مغائر ہو گی اور یہ محال ہے کہ خدا کی ماہیت ممکنات یعنی مخلوق میں سے ہو پس ثابت ہوا کہ مسئلہ اوتار و بروز باطل ہے۔ ٥۔ خدا تعالیٰ کا تعلق مخلوقات سے بالذات نہیں ہے۔ صرف خالقیت کا تعلق ہے جیسا فاعل کا فعل سے ہوتا ہے۔ اگر خدا اوتار لے اور انسانی قالب میں داخل ہو تو خالق کا تعلق مخلوق کے ساتھ ذاتی ہو گا اور یہ باطل ہے۔ پس مسئلہ بروز و اوتار باطل ہے۔ ٦۔ خدا تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ نسبتی تعلق نہیں رکھتا جس کو فلسفی لوگ تضائف کہتے ہیں جیسا کہ دو بھائیوں میں نسبت ہوتی ہے کہ ایک کا بھائی ہونا دوسرے اور دوسرے کا بھائی ہونا اس پر منحصر ہوتا ہے یعنی اگر خدا تعالیٰ اوتار لے گا تو دوسرے اور لڑکے جو اسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوں گے۔ وہ خدا کے بھائی ہونے کی نسبت رکھیں گے اور یہ باطل ہے کہ خدا کا کوئی بھائی ہو۔ اسکی ذات تو وحدہٗ لاشریک ہے۔ پس اوتار اور بروز باطل ہے۔ ٧۔ اوتار لینے کی حالت میں خدا تعالیٰ واجب الوجود سے تنزل کر کے ممکن الوجود ہوتا ہے اور یہ محال ہے کہ خدا تعالیٰ خدائی سے تنزل کر کے انسان بنے اور اگر کہو کہ پیٹ میں بھی واجب الوجود تھا تو یہ باطل ہے کہ واجب الوجود ممکن الوجود کا محلول محدود مقید ہو۔ پس مسئلہ بروز و اوتار باطل ہے۔ ٨۔ خدا تعالیٰ کی ذات پاک تغیر سے پاک ہے۔ مگر جب اوتار لے کر انسانی قالب میں آئے گا۔ تو متغیر ہو گا اور یہ باطل ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات کو تغیر ہو۔ یعنی خدا کی ذات میں تبدیلی ممکن نہیں کیونکہ تبدیلی کے واسطے کوئی اور وجود تبدیل کرنے والا ماننا پڑے گا اور خدا تعالیٰ کے اوپر کوئی وجود نہیں۔ اس لیے مسئلہ بروز و اوتار باطل ہے۔ ٩۔ خدا تعالیٰ کے جتنے کام ہیں۔ سب کے
١٠
سب بالواسطہ ہوتے ہیں۔ خود بذاتہ کوئی کام خدا نہیں کرتا۔ انسان پیدا ہوتے ہیں تو ترکیب عناصر سے ہوتے ہیں۔ دیگر تمام مخلوقات اسی طرح امتزاج عناصر سے ہوتی ہے اور یہ ہی سنت اللہ تعالیٰ ہے کہ بلاواسطہ بذات خود کچھ نہیں کرتا۔ چنانچہ مشاہدہ ہے کہ جمادات، نباتات، حیوانات، چرند و پرند میں سے کبھی کسی کو خدا تعالیٰ اپنی خاص ذات میں تغییر دے کر نہیں بناتا تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ کرشن جی کے یا دیگر اوتاروں کے پیدا کرنے کے واسطے اپنی ذات میں تغییر دے کر خود ہی حلول کرے۔ پس مسئلہ بروز و اوتار باطل ہے۔ ١٠۔ خدا تعالیٰ کی ذات پاک جزین نہیں ہو سکتی اگر اوتار کا مسئلہ صحیح مانا جائے تو پھر واجب الوجود یعنی خدا کی ہستی لائق تجزیہ ثابت ہو گی اور یہ باطل ہے کہ خدا تعالیٰ کی کل و جزو ہو۔ مسمات دیوکی والدہ کرشن جی کے پیٹ میں اگر کل خدا آیا تو ناممکن ہے کہ ٩ مہینے بلکہ جب تک کرشن جی زندہ رہے۔ خدائی کون کرتا رہا اور اگر یہ مانیں کہ خدا تعالیٰ اپنی حالت پر بھی رہا اور عورت کے پیٹ میں بھی داخل ہوا تو خدا کی جزین ہوئیں اور یہ باطل ہے۔ پس روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مسئلہ بروز و اوتار بالکل لغو و ناممکن ومحال و باطل ہے اور مدعی اوتار جھوٹا اور اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے کہ میں اوتار ہوں۔ درانحالیکہ وہ اوتار نہیں۔ یہ اوتاروں اور دیوی دیوتاؤں کے مسائل اہل ہنود میں زمانہ جہالت و تاریکی میں مانے جاتے تھے اور اسی اوتار کی بنا پر رام چندر، مہادیو، کرشن جی وغیرہ کے بت بنا کر پوجا کی جاتی تھی۔ مگر اب تو اہل ہنود خود ان مسائل نامعقول کی تردید کر رہے ہیں اور جو شخص ایسے ایسے نامعقول مسائل مانے اس کو جاہل اور کم عقل جانتے ہیں۔ چنانچہ ایک صاحب اہل ہنود میں سے لکھتے ہیں ”کیا کرشن مہاراج پرمیشر کا اوتار ہے۔ سب پرمیشر کو ماننے والے آستک لوگ اس کو سرو ویاپک (سب جگہ حاضر ۔ ناظر) سروشکتی مان (قادر مطلق) اجنما (پیدائش سے بری) امرنا (ناقابل فنا) انادی (ہمیشہ سے موجود) اننت (بے حد) وغیرہ صفات سے موصوف مانتے ہیں۔ پھر ایسی صورت میں یہ مسئلہ کس طرح درست ہو سکتا ہے کہ قادر مطلق پرماتما (خدا) کو اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انسان کا جسم اختیار کرنے کی ضرورت پڑے۔ انسانی جسم میں آنے سے تو وہ محدود ہو جاتا ہے اور سب جگہ میں حاضر ناظر نہیں رہتا۔ کیا ایشور کا اوتار ماننے والے ہم کو یہ بتا سکتے ہیں کہ جس زمانہ میں سری کرشن مہاراج کے جسم میں پرماتما نے اوتار لیا تھا۔ اس زمانہ میں باقی کائنات کا انتظام کون کرتا تھا۔“ الخ۔
(سوانح عمری کرشن مصنفہ لالہ لاجپت رائے فصل ٣٤ ص ٢٢٧)
١١
ناظرین ! کس قدر غضب الٰہی کے وارد ہونے کی بات ہے کہ مشرک و بت پرست و کفار ، بے دین غیر مسلم تو زمانہ حال کی روشنی سے مؤثر و منور ہو کر ایسی مشرکانہ و مجہولانہ عقائد و مسائل سے انکار کریں ۔ جن کے آباؤ اجداد ہزار ہا پشتوں سے ایسے ایسے اعتقاد رکھتے تھے اور اہل اسلام میں ایک ایسا شخص پیدا ہو کہ جس کو بچپن سے توحید سکھائی گئی اور جس کو ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہی اللہ اکبر اللہ اکبر اشہد ان لا الہ الا اللہ کی آواز کان میں ڈالی گئی ہو۔ تیس سپارے قرآن مجید کے اور تمام احادیث کی کتابیں اور فقہ وتصوف کی کتابیں اور تمام انبیاءؑ کے صحیفے اور بزرگانِ دین کے تعامل پکار پکار کر بلند آواز سے حلول ذات باری کسی مخلوقات میں ناجائز و ناممکن ومحال کہہ رہے ہوں اور جو خود پانچ وقت اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر بحالت نماز پڑھتا ہے کہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ط اَللّٰہُ الصَّمَدُ ط لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُواً اَحَدٌ ط ترجمہ ”اللہ ایک ہے اور اللہ پاک ہے نہیں جنا اور نہیں جنا گیا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں“ اور مجدد ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور امام زمان و رسالت و نبوت کا مدعی ہو کر ایسا مشرکانہ جاہلانہ اعتقاد رکھتا ہے اور مسئلہ اوتار کو خود مانتا ہے اور تمام اہل اسلام کو پاکیزہ عقائد اسلام سے مرتد کر کے پھر مشرک ہندو بنانا چاہتا ہے ۔ جو ١٣ سو سال سے مسلمان چھوڑ چکے تھے پھر منواتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ ١٣ کروڑ مسلمان اس واسطے کافر ہیں کہ مجھ کو رسول و نبی نہیں مانتے اور میرے بدعتی عقائد اوتار و ابن اللہ و خالق زمین و آسمان اور میرا خدا کے پانی (نطفہ) سے ہونا نہیں مانتے اور جب تک مسلمان مجھ کو اور میرے الہامات خلاف شرع محمدی نہ مانیں وہ کافر ہیں اور ان کی نجات نہیں ہو گی چاہے قرآن پر عمل کریں اور ارکان اسلام بجا لائیں ۔
اب ہم سورۂ اخلاص جس کو ہم نے اوپر درج کیا ہے کہ مرزا قادیانی پانچ وقت نماز میں جو پڑھتے تھے اس کی تشریح ذیل میں کرتے ہیں ۔ تاکہ معلوم ہو کہ یا تو مرزا قادیانی کا یہ الہام غلط ہے اور وسوسہ شیطانی ہے کہ ”ہے رود ہرگوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے ۔“ اور مرزا قادیانی کا کرشن ہونا باطل ہے ۔ یا مرزا قادیانی دل سے ہندو تھے؟ اور اوپر سے مسلمان بنے ہوئے تھے اور دکھاوے کی نمازیں پڑھتے تھے کیونکہ مسلمان اور عقیدہ اوتار و بروز کا ماننا اجتماع نقیضین ہے ؎
بندۂ نظم و ہفتاد دو ملت معلوم
١٢
جس شخص کے کہنے اور کرنے میں فرق ہے وہ ایسا ہی رہبر اور امام ہے۔ جس کی شان میں ایک شاعر نے کہا ہے ۔
سوئے تبت ہم کو دکھاتے ہیں وہ راہ حجاز
کیا امام زمان و مجدد اسی کا نام ہے کہ بجائے توحید کے شرک سکھائے اور بجائے قرآنی تعلیم اور عقائد کے وید و شاستر کی تعلیم دے اور اوتار کا مسئلہ بہ تبدیل الفاظ بروز کہہ کر در پردہ اسلام کی بیخ کنی کرے اور منہ سے قل ھو الله احد کہے اور دل سے اپنے آپ کو کرشن و رام چندر وغیرہ اوتاروں کو خدائے تعالیٰ قدوس کا کھلوہ ( جائے نزول ) تعین کرے اور مریدوں کو کرا دے اور فنا فی الکرشن ہو کر جس طرح کرشن اپنے آپ کو خدا کہتا تھا امام زمان بھی ہوا اور خدا بھی ہوا۔ دیکھو کشف مرزا قادیانی کہ ”میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔“
(کتاب البریہ ص ٨٥ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
لا حول ولا قوة الا بالله.
ایسا شخص کبھی مجدد و امام زماں مانا جا سکتا ہے؟ مصرعہ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ سورۃ اخلاص میں خدا تعالیٰ نے ایسے ایسے تمام عقائد باطلہ کی تردید فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف حسب ذیل الفاظ میں فرمائی ہے۔
- (١)......(١) احد، (٢) صمد (٣) لم یلد (٤) لم یولد (٥) لم یکن له (٦) كفواً
احد. اوّل خدا تعالیٰ کی ذات پاک احد ہے۔ احد اس کو کہتے ہیں جس کا نصف بھی نہ ہو کیونکہ ایک کی جزو نصف و چوتھائی ہو سکتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی ذات جزین نہیں ہو سکتی اس واسطے احد یہ لفظ فرمایا تاکہ ثابت ہو کہ خدا کی ہستی لائق تجزیہ نہیں ہے۔ جب جز نہیں ہو سکتی تو نصاریٰ کے عقیدہ کی تردید ہو گئی کہ حضرت عیسیٰؑ مسیح بحیثیت الوہیت حضرت مریم کے پیٹ میں تھا چونکہ پیٹ میں سمانے والا کبھی خدا نہیں ہو سکتا۔ اس واسطے الوہیت مسیح کا مسئلہ غلط ہوا۔ اسی طرح احد کے لفظ نے اوتاروں کے مسئلہ کو بھی باطل کر دیا کیونکہ احد یعنی وحدہٗ لا شریک کی شان سے بعید ہے کہ اس کا کچھ حصہ ایک عورت کے پیٹ میں حلول فرما کر پیدا ہو اور باقی حصہ خدائی کرتا رہے۔
- (٢)...... صمد کے لفظ سے خدا تعالیٰ کی ذات پاک کا حوائج سے پاک ہونا ہے۔
حضرت امام جعفر صادق ؒ فرماتے ہیں کہ صمد وہ ہے جو کسی کا محتاج نہ ہو اور سب اس کے
١٣
محتاج ہوں اور وجود کا سلسلہ بغیر ایسی ایک ذات کے جو صمد کی صفت سے موصوف ہو قائم نہیں رہ سکتا۔ جب خدا تعالیٰ کی ذات واجب الوجود ہے اور کسی کی محتاج نہیں تو پھر اوتار کا مسئلہ جو شخص مانتا ہے وہ خدا کو محتاج مانتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے ظہور کے واسطے عورت کے پیٹ کا محتاج ہے اور اسی گندے راستہ کا محتاج جہاں سے گزر کر ہر ایک انسان باہر آتا ہے؟ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی ذات پر اس قسم کے لغو خیالات کہ وہ انسانوں کی طرح گندے مخرجوں سے گزر کرتا ہے اور انسانی قالب میں ظہور پکڑتا ہے۔ یہ قرآن سے انکار نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اوتار کا قائل کافر و مشرک نہیں تو اور کیا ہے؟
- (٣)...... لم یلد سے اس بات کی تردید ہے کہ کوئی وجود خدا تعالیٰ کو پدری نسبت نہیں
دے سکتا۔ یعنی کوئی شخص خدا تعالیٰ کو اپنا باپ قرار نہیں دے سکتا۔ جیسا کہ نصاریٰ خدا تعالیٰ کو حضرت عیسیٰ کا باپ قرار دیتے ہیں کیونکہ اس نسبت پدری سے حضرت مریم خدا کی جورو قرار پاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے۔ کہ اس کی کوئی جورو ہو اس لفظ لم یلد سے خدا تعالیٰ اپنا اختلاط اور حلول ہونا غیر ممکن فرمایا ہے اور ایسا ہی مرزا قادیانی کے الہامات ’’انت منی بمنزلة ولدی‘‘ (حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) ترجمہ تو مجھ سے بمنزلہ بیٹے کے ہے۔ ’’وَاَنْتَ مِنْ مَّاءِ نَا‘‘ ترجمہ تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤) قرآن کریم کے لم یلد کے برخلاف ہیں۔ اس واسطے یہ الہامات وساوس ہیں اور ایسا ہی کرشن کا اوتار بھی ایک مسلمان کا ہونا باطل ہے۔
- (٤)...... لم یولد سے تو خدا تعالیٰ نے صاف صاف مسئلہ اوتار کی تردید کر دی ہے اس
میں تو مرزا قادیانی کی کوئی تاویل نہیں ہو سکتی ہے۔ اوتار کے مسئلہ میں مانا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ شکل انسانی قبول کرنے کے واسطے عورت کے پیٹ میں سے ہو کر پیدا ہوتا ہے جیسا کہ کرشن جی مسماۃ دیوکی زوجہ باسدیو کے آٹھویں گربھ یعنی حمل سے پیدا ہوئے تھے اور پھر قادیان میں وہی کرشن جی مہاراج مرزا قادیانی غلام مرتضیٰ کے گھر میں مرزا قادیانی کی والدہ کے پیٹ میں سے پیدا ہوئے اور غلام احمد قادیانی کے نام سے نامزد ہوئے۔ جب خدا تعالیٰ کا جنم لینا کوئی شخص مانتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ قرآن کا منکر ہے۔ جس میں خدا کی ذات لم یولد بتائی گئی ہے۔ جب قرآن کا منکر ہے تو پھر مسیح موعود و امام زمان و مجدد کس طرح ہوا؟ پس یا تو اوتار کا دعویٰ غلط ہے یا مسلمانی کا دعویٰ غلط ہے۔
- (٥)...... لَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ ط یعنی نہیں ہے کوئی اس کے واسطے برابری کرنے والا
یعنی خدا تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کوئی برابری کا دم نہیں مار سکتا۔ مگر جب اوتار کا مسئلہ
١٦
مانیں گے اور خدا کا بروز انسانی قالبوں میں تسلیم کریں گے تو جس قدر اوتار ہوئے ہیں۔ سب آپس میں برابر ہوں گے اور جس جس عورت کے پیٹ میں خدا تعالیٰ نے حلول کیا اس عورت کے پیٹ سے جس قدر لڑکے لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ سب خدا کے بہنیں اور بھائی ہوئے۔ جیسا کہ پریم ساگر میں لکھا ہے کہ کرشن جی مہاراج آٹھویں گربھ دیوکی سے پیدا ہوئے تو پہلے ٧ بھائی جو کرشن کے پیدا ہونے سے پہلے پیدا ہوئے ضرور سات بھائی خدا کے ساتھ برابر ہوئے۔ کیونکہ بھائی بھائی آپس میں پیدائش میں اور ذات میں برابر ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اوتاروں کا مسئلہ مانتا ہے۔ وہ قرآن کے لَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ کا منکر ہے اور قرآن کا منکر ہرگز مسلمان نہیں۔ پس یا تو مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ میں کرشن ہوں باطل ہے یا یہ دعویٰ باطل ہے۔
مصطفےٰ مارا امام و مقتدا
(درثمین فارسی ص ١١٤)
کیا مصطفےٰ ﷺ نے بھی کسی حدیث میں فرمایا ہے کہ میں کرشن ہوں؟ حالانکہ کرشن ان سے پہلے ہو گزرا ہے اور کہیں محمد ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ میں اپنے اندر حقیقت عیسوی رکھتا ہوں اور نائب عیسیٰؑ ہوں؟ اگر نہیں تو پھر ایسے ایسے الہامات خلاف قرآن و رسول عربی کے برخلاف دماغ کی خشکی سے مانیں گے یا اس خدا کی طرف سے جو قرآن شریف میں ایسے ایسے باطل الہامات کی تردید کر رہا ہے؟ دو باتوں سے ایک ضرور ہے۔ یا تو قرآن مجید جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ یا مرزا قادیانی کے الہامات اسی خدا کی طرف سے نہیں جو محمد ﷺ کا خدا تھا۔ اور جس نے قرآن میں اتخاذ ولد کی نسبت یعنی خدا کا بیٹا مجازی و حقیقی و استعاری ہونا ناجائز قرار دیا تھا کیونکہ قرآن و الہامات مرزا قادیانی آپس میں ضد اور بالکل برخلاف ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ کی کلام میں اختلاف نہیں ہوتا۔ پس مرزا قادیانی کے الہامات خدا کی طرف سے ہرگز نہیں ہو سکتے ہیں۔ جو قرآن میں لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ و اتخاذ ولد اپنی ذات کی نسبت ناجائز قرار دے چکا ہے۔ ہرگز نہیں۔
دوم: روحانی حقیقت کے رو سے اگر مرزا قادیانی کرشن ہوتے تو کرشن کے پیرو ہوتے کیونکہ وہ مان چکے ہیں کہ میں بسبب پیروی محمد ﷺ رسول اللہ کے اپنے اندر حقیقت محمدی رکھتا ہوں۔ اور اب اخیر میں کہتے ہیں کہ میں اپنے اندر حقیقت کرشن رکھتا
١٥
ہوں۔ تو ثابت ہوا کہ اب مرزا قادیانی محمد ﷺ کی پیروی چھوڑ کر اسلام سے روگرداں ہو کر کرشن کی پیروی کر کے کرشن کا بروز و اوتار ہوئے کیونکہ کرشن کی تعلیم محمد ﷺ کی تعلیم کے بالکل برخلاف ہے بلکہ تمام انبیاء کے برخلاف ہے کہ تناسخ و اوتاروں کی تعلیم دیتے ہیں اور دوزخ و بہشت و یوم آخرت و حشر و نشر و حساب آخرت سے انکاری ہیں اور گیتا میں لکھتے ہیں کہ نیک و بد اعمال کی جزا و سزا اسی دنیا میں بذریعہ تناسخ یعنی آواگون ہوتی ہے۔ گیتا وہ کتاب ہے جس کو مرزا قادیانی خدا کی طرف سے مان کر فرماتے ہیں۔ تیری (مرزا قادیانی کی) مہما گیتا میں لکھی گئی ہے اور یہ میرا خیال و قیاس نہیں بلکہ خدا کا وعدہ ہے۔ اس مرزا قادیانی کی عبارت میں صاف ہے کہ یہ خدا کا وعدہ ہے اور وعدہ گیتا میں ہے تو گیتا خدا کی کلام ہے۔ جب خدا کی کلام ہے تو مرزا قادیانی کے اعتقاد میں گیتا و قرآن برابر ہوئے جب گیتا خدا کی کلام ہے تو مرزا قادیانی کا عمل گیتا پر ضرور ہونا چاہیے اور جب گیتا پر عمل ہوا تو مرزا قادیانی اسلام سے خارج ہوئے اور اہل ہنود کے مذہب کے پیرو ہوئے۔ اگر کوئی مرزائی انکار کرے تو ہر ایک مسلمان کا جواب یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کا دعویٰ یہ ہے کہ پیروی محمد ﷺ سے محمد ہوا ہوں۔ تو جب کرشن ہوا اور اپنے اندر حقیقت کرشن رکھتا ہے تو پیروی کرشن لازم ہے۔ ورنہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ میں بہ سبب پیروی تامہ کے محمد و ظلی و بروزی محمد ہوں اور کرشن بھی ہوں کیونکہ جب مرزا قادیانی نے اصول مقرر کیا ہے کہ متابعت محمد ﷺ سے محمد ہوا ہوں۔ تو ضرور ہے کہ اخیر جو کرشن ہوا تو ضرور پیروی کرشن کی کی ہوگی۔ تب ہی تو کرشن کا اوتار بنا اور حقیقت کرشن اس کے اندر بجائے حقیقت محمد ﷺ کے متمکن ہوئی۔ اب اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ یا تو یہ الہام وسوسہ تھا کہ مرزا قادیانی کو اسلام سے خارج کر کے مرزا قادیانی کو اوتار کرشن بناتا ہے۔ یا مرزا قادیانی محمد ﷺ کی پیروی سے نکل کر کرشن کی متابعت تامہ سے کرشن ہوئے۔ دونوں باتوں سے ایک ضرور ہے یا تو مرزا قادیانی محمد ﷺ کی امت و پیرو نہیں رہے یا کرشن کے اوتار نہیں اگر محمد ﷺ کی متابعت میں ہیں اور پیرو محمد ﷺ ہیں تو کرشن سے کیا کام؟ اور اگر کرشن کے پیرو ہیں تو اب محمد ﷺ سے کیا واسطہ؟ جب محمد ﷺ سے واسطہ نہیں تو پھر مسلمان نہ رہے اور جب مسلمان نہ رہے تو پھر کافر ہونے میں کیا شک رہا اور کافر کی بیعت کرنی کسی مسلمان کو جائز نہیں۔ اور نہ کوئی مسلمان کسی کافر کو جو یوم آخرت اور جزا و سزا قیامت سے منکر ہو اور تناسخ و اوتار کا قائل ہو اس کو اپنا پیشوا مرشد و پیر طریقت و امام و مجدد مان سکتا ہے؟
١٦
پس بہر دستی نباید داد دست
اسی واسطے مولانا روم نے کئی سو برس پہلے سے مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے۔ کہ بغیر امتحان شرعی کے کسی شخص کی بیعت نہ کریں۔ پس یا تو مرزائی صاحبان یہ ثابت کریں کہ کرشن مسلمان تھا مگر یہ ہرگز ثابت نہ کر سکیں گے کیونکہ گیتا کرشن کی کتاب تصنیف موجود ہے جس میں اوتار اور تناسخ کا ثبوت بڑے زور سے دیا ہے۔ پھر مرزا قادیانی نے جب کرشن جی کا روپ دھارا تو محمد ﷺ کے دروازہ سے دور جا پڑے۔ اگر کوئی مرزائی جواب دے کہ مرزا قادیانی مسلمان بھی رہے اور کرشن بھی بن گئے تو یہ محال ہے کہ کوئی شخص ایک ہی وقت میں مسلمان بھی ہو اور ہندو بھی ہو۔ جب کوئی شخص قیامت کا منکر اور تناسخ کا قائل ہو تو پھر وہ ہندو ہے کیونکہ جب کرشن جی کا بروز و اوتار ہو گا تو کرشن جی کی تعلیم و عقائد کا جو گیتا میں مندرج ہیں پابند ہو گا اور گیتا میں تناسخ کی تعلیم ہے۔ چنانچہ کرشن جی گیتا میں لکھتے ہیں:
بقعر جہنم برد کار زشت
بقید تناسخ کند داورش
بانواع قالب دروں آردش
بتنہائے معہود در میروند
بجسم سگ و خوک در میروند
(صفحہ ١٢٦۔ ١٢٧ گیتا مترجمہ فیضی) اگر فیضی کے ترجمہ میں کچھ شک ہو تو دیکھو
(گیتا مترجمہ دوارکا پرشاد افق اشلوک ١٣ و ١٤ ادھیائے ٢ بھگوت گیتا) سری کرشن جی ارجن کو فرماتے ہیں۔ ”سوچ لو ہم تم اور سب راجے مہاراجے پیشتر کبھی تھے یا نہیں آئندہ ہم نہ ہوں گے۔ ہم سب گذشتہ جنموں میں بھی پیدا ہوئے تھے اور اگلے جنموں میں بھی پیدا ہوں گے جس طرح انسانی زندگی میں لڑکپن، جوانی، بڑھاپا ہوا کرتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی مختلف قالب قبول کرتا ہے اور پھر اس قالب کو چھوڑ دیتا ہے۔“
(٢) جس طرح انسان پوشاک بدلتا ہے۔ اسی طرح آتما بھی ایک قالب سے دوسرے قالب کو قبول کرتی ہے۔
(اشلوک ٢٢۔ ادھیائے دوم گیتا)
(٣) سری کرشن جی۔ ہمارے تمھارے قالب نامعلوم کتنے بدل چکے ہیں اس امر سے
١٧
میں واقف ہوں تمھیں علم نہیں۔
(اشلوک ٥ ادھیائے ٤)
- (٤) جن جوگیوں نے جوگ میں کمال حاصل نہیں کیا۔ کچا پن ہوتا ہے عرصے تک اچھے لوک میں رہ کر پھر کسی اعلیٰ خاندان میں پیدا ہوتے ہیں۔ خواہ باکمال جوگیوں کے گھرانے میں ان کی پیدائش ہوتی ہے۔ دنیا میں اس طرح کا جنم ملنا بھی مشکل ہے جب وہ یہاں پیدا ہوئے تو اگلے جنم کے مزاولت سے عمدہ عقل پا کر کمالات حاصل کرنے کے لیے کوشش عمل میں لاتے ہیں۔ پچھلے جنم کی مشق اور مزاولت سے نفس ان پر غالب نہیں ہونے پاتا۔ جوگ کی مشق بڑھا کر بید آگیا سے عبور کر جاتے ہیں۔ جوگی جوگ میں محنت کر کے پاپ سے خالی ہو کر مختلف جنموں کے بعد مکتی کا درجہ حاصل کرتے ہیں۔
(اشلوک ٤١ سے ٤٥ تک ادھیائے ٦)
- (٥) متعدد جنموں میں صاف دل اور پاک باطن ہو کر مجھ میں مل جاتے ہیں۔
(اشلوک ١٩۔ ادھیائے ٧)
- (٦) جو صاحب کمال ہو گئے۔ جنھوں نے فضیلتیں حاصل کر لیں اور میری ذات میں مل گئے ہیں۔ ان کو جنمنے مرنے کی تکلیفات سے پھر سابقہ نہیں ہوتا۔
(اشلوک ١٥ ادھیائے ٨)
- (٧) اندھارے اور اجالے پاکھوں کی تاثیر قدیمی ہے۔ ایک پاکھ سے اواگون یعنی جنم مرن کا سلسلہ جاری ہوتا ہے۔
(اشلوک ٢٦ ادھیائے ٨)
- (٨) جن کو اس بدیا یعنی (روح بدیا) کا اعتقاد یا اس سے دلچسپی نہیں ان سے میں بہت دور رہتا ہوں اور ان کو آواگون کے چکر سے نجات نہیں ملتی۔
(اشلوک ٣ ادھیائے ٩)
- (٩) جب مقدس اور معظم بیکنٹھ میں پن کے پھلوں سے عیش و عشرت کا زمانہ گزر جاتا ہے تو انسان کی پھر دنیا میں پیدائش ہوتی ہے۔ خواہشات میں پھنس کر جو تینوں ویدوں کی ہدایات کے موافق جگیا وغیرہ کرتے ہیں ان کو اواگون سے نجات نہیں ہوتی۔
(اشلوک ٢١ ادھیائے ٩)
- (١٠) آتما مختلف قالبوں میں مختلف صورتوں سے ظہور پذیر ہے۔ جس نے ہر قالب میں اس کو یکساں دیکھ لیا۔ اس کو نجات مل گئی۔
(اشلوک ٣١ ادھیائے ١٣)
- (١١) یہی گیان ہے جس کا عامل میرے سروپ کو پہچان کر آواگون سے نجات پا جاتا ہے۔
(اشلوک ٢ ادھیائے ١٤)
- (١٢) جو شخص رجوگن کے غلبے کی حالت میں چولا چھوڑتا ہے۔ اس کی پیدائش نیک افعال لوگوں کے گھرانے میں ہوتی ہے۔ تموگن کی حالت میں مرنے والے کو جانوروں میں قالب
١٨
ملتا ہے۔
(اشلوک ١٥ ادھیائے ١٤)
(١٣) اس قسم کے (مغرور) دنیا ساز بگلا بھگت کے ذلیل نالائق بدمعاش اور بے حیاؤں کو میں راچسوں کی نسل میں پیدا کرتا ہوں۔
(اشلوک ٥ ادھیائے ١٦)
(١٤) کرم کے پھل (اعمال کا بدلہ) تین قسم کے ہوتے ہیں۔ (١) نرگ جونی یعنی انشٹ (٢) دیو جونی یعنی (٣) اشٹ نیس جونی یعنی مرت مراد یہ کہ انسان کرموں سے سرگ میں جاتا ہے۔ یا نرگ میں یا مرت لوگ (دنیا) میں جو اشخاص پھل یا نتیجے کی خواہش و آرزو میں کرم کرتے ہیں ان کو کرموں کی اچھائی برائی کے موافق سرگ ملتا ہے یا نرگ یا مرت۔
(اشلوک ١٢ ادھیائے ١٨)
ناظرین! یہ گیتا کی تعلیم ہے جو قرآن کے بالکل برخلاف ہے اور کرشن کی اپنی تصنیف ہے۔ قرآن تو اعمال کا بدلہ قیامت کے دن بعد حساب و میزان عمل دوزخ و بہشت ہونا فرماتا ہے۔ بلکہ تمام انبیاءؑ قیامت اور توحید کی تعلیم کے واسطے مبعوث ہوتے رہے اور ان کے مقابل کفار قیامت کا انکار اور شرک پر اصرار کرتے آئے اور انبیاءؑ کی یہی تعلیم چلی آئی ہے کہ جو شخص روز جزا کا حشر بالا جساد کا منکر ہو وہ مسلمان نہیں ہے اور تمام قرآن روز آخرت پر ایمان لانے کے واسطے بار بار تاکید فرماتا ہے۔ بلکہ ہر ایک نبی و رسول قیامت کا ہونا برحق بتاتا آیا ہے اور جو قیامت کا منکر اور تناسخ کا ماننے والا ہو۔ اس کو کافر جانتا آیا ہے۔
مگر افسوس آج ١٣ سو برس کے بعد کہ حضرت آدم علیہ السلام سے اس وقت تک کے بعد مرزا قادیانی ایک ہندو راجہ قیامت کے منکر تناسخ کے قائل اور حلول ذات باری اپنے وجود میں ماننے والے اور تعلیم دینے والے کو رسول برحق مان کر اس کے بروز ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگرچہ ہر ایک مسلمان کو معلوم ہے کہ تمام قرآن مجید تعلیم یوم الحساب و قیامت کی اثبات میں بھرا ہوا ہے مگر تھوڑی سی آیتیں لکھی جاتی ہیں تا کہ معلوم ہو کہ مرزا قادیانی در پردہ اسلام کے مخالف ہیں اور طرح طرح کے بیہودہ مسائل کی ملاوٹ سے اسلام کی خالص توحید کو مکدر کرنا چاہتے ہیں اور دینداری کے لباس میں اور فنا فی الرسول کی دھوکہ دہی سے باطل عقائد مسلمانوں کو منواتے ہیں اور گمراہ کرتے ہیں۔ دیکھو قرآن مجید کیا فرماتا ہے۔ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (جمعہ ٨) ترجمہ پھر تم اس خدائے دانا بینا کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے۔ پس جیسے عمل تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ وہ تم کو بتا
١٩
دے گا۔ پھر کیا ہو گا۔ وَلَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (یٰسٓ ٥٤) جیسے جیسے عمل کرتے رہے ہو۔ ان ہی کا بدلہ پاؤ گے۔ ان اعمال کا بدلہ کیسے ملے گا۔ بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (بقرہ ٨٠) وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (بقرہ ٨٢) واقعی بات تو یہ ہے کہ جس نے پلے باندھی برائی اور اپنے گناہ کے پھیر میں آ گیا تو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل (بھی) کیے ایسے ہی لوگ جنتی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے۔
دوسرا امر: وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے۔ اس نے مجھ پر ظاہر کیا۔ یہ غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر خدا کی طرف سے ہوتا تو قرآن کے برخلاف مرزا قادیانی کو اوتار کرشن نہ فرمانا۔ خدا تعالیٰ تو قرآن میں قیامت کا ہونا برحق اور تناسخ کو باطل فرماتا ہے پس یہ خبط ہے کہ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو کرشن جی کا اوتار فرمایا۔
تیسرا امر: یہ میرا خیال نہیں خدا کا وعدہ تھا۔ ناظرین! خدا کا وعدہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ گیتا میں کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے اعتقاد میں گیتا بھی خدا کی کلام ہے۔ جو صریح غلط ہے کہ ”تیری (مرزا قادیانی کی) مہما گیتا میں لکھی گئی ہے“ کیونکہ گیتا میں کوئی ایسا اشلوک نہیں۔ اگر کوئی ہے تو مرزائی صاحبان دکھا دیں۔ مگر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی تامہ کا دعویٰ کرتے ہیں اور عمل ان کے برخلاف کرتے ہیں۔ کبھی محمد ﷺ رسول اللہ نے بھی اوتار کا مسئلہ مانا ہے؟ تناسخ مانا ہے؟ گیتا کو کتب سماوی میں سے بتایا ہے؟ ہرگز نہیں۔ حالانکہ کرشن و گیتا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ہزاروں برس پہلے دنیا میں موجود تھے۔ بس جب مرزا قادیانی حضرت محمد ﷺ کی تعلیم قرآنی کے برخلاف گیتا کی تعلیم مانتے ہیں تو مسلمان کس طرح رہے؟ مسیح موعود نبی و رسول ہونا تو بڑی بات ہے۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ اہل اسلام میں گیتا بھی خدا کی کلام مانی گئی ہے۔ تب تک دعویٰ بلا دلیل ہے۔ پس مرزائی صاحبان گیتا کو خدا کی کلام ثابت کریں اور پھر گیتا میں یہ دکھا دیں کہ راجہ کرشن جیسا ودوان راجہ بزرگ پرمیشر کی بھگتی اور تپ کرنے والا جس کے مذہب میں گوشت خوری بدترین گناہ ہے اور جس نے دھرم کی حفاظت میں کئی جدھ یعنی جنگ کیے اور دشمنان دھرم کو نابود کر دیا۔ وہی کرشن جی اپنی تعلیم و عقائد کے برخلاف بقول اہل ہنود ملیچھ اور دشٹ مسلمانوں کے گھر میں جنم لے کر غلام احمد قادیانی نام پائے گا اور بچپن سے ماس (گوشت) خور ہو
٢٠
گا، پلاؤ، قورمہ، بریانی، گوشت مرغ سے اوقات بسر کرے گا اور ساٹھ برس تک خلاف صفات کرشن و عقائد اہل ہنود تردید کر کے بقول کرشن جی ادنیٰ حیوانات کے جسم میں اس جنم کے پانے کی سزا پائے گا تو ہم مرزا قادیانی کو کرشن مان لیں گے۔ اگر گیتا میں یہ نہ ہو اور یقیناً نہیں ہے کیونکہ میں نے اول سے آخر تک گیتا کو دیکھا ہے کہیں نہیں لکھا کہ کرشن جی مہاراج مسلمانوں کے گھر جنم لیں گے تو پھر مرزا قادیانی کا الہام صریح خلاف واقعہ ہے اور خلاف واقعہ الہام کبھی خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا کیونکہ علام الغیوب اور علی کل شی محیط کی شان سے بعید ہے کہ وہ خلاف واقعہ الہام کرے۔ جب گیتا میں درج نہیں ہے کہ کرشن جی آخر زمانہ میں مسلمانوں کے گھر جنم لیں گے تو پھر مرزا قادیانی نے کس طرح کہہ دیا کہ گیتا میں خدا کا وعدہ تھا؟ جب یہ صورت ہے تو مرزا قادیانی کا یہ الہام بھی کہ تو مسیح موعود ہے کیونکر سچا ہو سکتا ہے؟
دوم ۔ کرشن ہونے کا الہام اس کے بعد ہوا تھا اور یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ پہلے الہام یا حکم کا ناسخ مابعد کا الہام و حکم ہوتا ہے۔ پس جب مرزا قادیانی کرشن جی کے اوتار ہوئے تو مسیح موعود نہ رہے کیونکہ کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ مسیح موعود کرشن کا بروز بھی ہو گا اور مورتی پوجن و تناسخ و گیتا کو مسلمانوں میں رواج دے گا اور اپنی فوٹو مریدوں میں تقسیم کرے گا اور تناسخ و اوتار بروز باطل مسائل کو مانے گا اور مسلمانوں کو منائے گا۔ مرزا قادیانی کو مسئلہ اوتار کا علم نہیں تھا ورنہ وہ ہرگز اوتار ہونے کا دعویٰ نہ کرتے۔ اہل ہنود کے مذہب کے مطابق جب زمین پر بہت ظلم و گناہ اور قتل و خونریزی ہو تو اس وقت پرتھوی گائے کا روپ دھار کر اندر کی سبھا میں سر جھکا کر فریاد کرتی ہے تو اس وقت اندر کے حکم سے دیوی اور دیوتا میں سے کسی کا اوتار ہوتا ہے۔ دیکھو (پریم ساگر صفحہ ادھیائے اوّل)
ناظرین! اصل عبارت میں مضمون طول کے خوف سے اختصار سے کام لیا جاتا ہے راجہ کنس چونکہ بڑا ظالم تھا۔ جب رعایا بہت ستائی گئی اور دھرم کا ستیاناس ہونے لگا۔ تو ہندو دھرم کے اصول کے مطابق اندر کی بارگاہ میں فریاد ہوئی تب برہما دیوتاؤں کو سمجھانے لگے کہ تم سب دیوی دیوتا برج منڈل جائے متھرا نگری میں جنم لو پیچھے چار سروپ دھر نراین اوتار لیں گے۔ باسدیو کے گھر دیوکی کی کوکھ میں کرشن جنم لیں گے۔
اب کرشن کا جنم دیوکی کی کوکھ میں ہوا چنانچہ لکھا ہے کہ سمی بھادوں بدی اشٹمیں بدھ باسر روہنی نچھتر میں آدھی رات کو سری کرشن نے جنم لیا اور باسدیو اور دیوکی کو درشن دیا۔ وہ دیکھتے ہی ان دونوں (ماں باپ) نے ہاتھ جوڑ کر بنتی کر کہا ہمارے بڑے بھاگ جو
٢١
آپ نے درشن دیا اور جنم مرن کا نبیڑا کیا اور جو جو ظلم راجہ کنس نے ان پر کیے تھے۔ تمام بیان کیے۔ تب سری کرشن چندر بولے کہ تم اب کسی بات کی چنتا من میں مت کرو کیونکہ میں نے تمھارے دکھ کے دور کرنے ہی کو اوتار لیا ہے۔
(ادھیائے چوتھا۔ پریم ساگر صفحہ ١٥)
ناظرین! مذکورہ بالا عبارت میں مفصلہ ذیل امور غور طلب ہیں۔
- (١) بالکل اہل اسلام کے مذہب اور اصول کے برخلاف ہے۔ کسی مسلمان کا یہ اعتقاد ہو
کہ دیوی دیوتا خدا کے حضور میں پڑے رہتے ہیں اور اوتار لیتے ہیں۔ اوتار کا مسئلہ مسلمانوں کی کسی کتاب میں نہیں۔ اگر قرآن یا حدیث یا آئمہ اربعہ یا مجتہدین وصوفیائے کرام کی کسی کتاب میں اوتار کا مسئلہ ہے تو مرزائی صاحبان بتا دیں۔ ورنہ دعویٰ مرزا قادیانی کا باطل مانیں۔ مگر مرزائی ہرگز نہ دکھا سکیں گے کیونکہ تمام انبیاءؑ اور محمد رسول اللہ ﷺ بتوں اور دیوی دیوتاؤں کی تردید کرتے رہے پس کوئی شخص مسلمان اوتار کا مسئلہ نہیں مان سکتا۔ جو مانے وہ مسلمان نہیں۔
ناظرین! افسوس کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ آریہ سماجی ہندو ہو کر اور ہندوؤں کی اولاد ہو کر ایسے ایسے لغو اور باطل عقائد چھوڑتے جاتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی ١٣ سو برس کے بعد مسلمانوں کو پھر ہندو بنانا چاہتے ہیں اور ایسے عقائد خلاف عقل مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ آریہ تو اوتاروں کے مسئلہ سے انکار کریں اور مسلمان مانیں کیسا ظلم ہے اور پھر اس پر امام زمان کا دعویٰ اور دین محمدی کی تجدید کی شیخی؟ بیت:
ببری رونق مسلمانی
- دوم: امر یہ کہ مرزا قادیانی کی والدہ ماجدہ کے شکم میں کرشن مہاراج ٩ ماہ رہے اور بعد
گزرنے مدت حمل نو ماہ کے پیدا ہو کر غلام مرتضیٰ کے بیٹے کہلائے اور مسلمانوں کے گھر جنم لے کر گوشت وغیرہ ممنوعات اہل ہنود کھاتے پیتے رہے یہ تو کرشن جی مہاراج کی شان سے بعید ہے کہ کسی مسلمان مغل زمیندار کے گھر پیدا ہوں اور بجائے مندر کے مسجد میں نماز پڑھیں اور مالا چھوڑ کر تسبیح پکڑیں۔ وید و شاستر کی جگہ قرآن پڑھیں اور پھر آریہ اور ہندو دھرم کے برخلاف ہندو مذہب کا کھنڈن کریں کیونکہ کرشن جی کا مذہب وہی تھا۔ جو آج کل کے پرانے اہل ہنود کا ہے جو سناتن دھرم ہے چنانچہ کرشن جی مہاراج فرماتے ہیں۔
”ہمارا یہی کرم ہے کہ کھیتی بیج کریں۔ گؤ برہمن کی سیوا میں رہیں۔ بید کی
٢٢
آ گیا ہے کہ اپنی کل ریت چھوڑے جو لوگ اپنا دھرم تج اور کا دھرم پالتے ہیں۔ سو ایسے ہیں کہ کل برہمو پر پرکھ سے پریت کرے اس سے اب اندر کی پوجا چھوڑ دیجئے اور پربت کی پوجا کیجئے۔ سب پکوان آن مٹھائی لے چلو اور گوبر دہن کی پوجا کرو۔ انتہیٰ۔
(دیکھو صفحہ ٤٢ پریم ساگر مطبوعہ نول کشور کانپور)
مہا بھارت میں لکھا ہے کہ کرشن جی نے دس سال تک تپ کیا۔ کرشن اپنے زمانہ کا پرم ودوان تھا اور وید و شاستر سے خوب واقفیت رکھتا تھا۔
(سوانح عمری کرشن صفحہ ٩٨۔٩٩ مصنفہ لالہ لاجپت رائے)
اب ظاہر ہے کہ ان کرموں میں سے مرزا قادیانی نے ایک بھی نہیں کیا۔ اگر پوشیدہ پوشیدہ چھپ کر گئو اور برہمن اور گوبر دہن کی پوجا کرتے ہوں اور وید و شاستر پر عمل کرتے ہوں تو خبر نہیں ظاہراً تو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھتے تھے جس سے ثابت ہے کہ مرزا جی کرشن جی کا اوتار ہرگز نہ تھے۔
تیسرا امر: کرشن جی بڑے بہادر اور ہندو دھرم کے حمایتی تھے کئی ظالم راجوں کو شکستیں دیں اور مارا اور دھرم کی حفاظت کے لیے جودھ (جنگ) کیے۔ راجہ کنس کو مارا' راجہ جرا سندھ کو شکست دی' راجہ پراگ جوتش کو مارا' راجہ بان والے کرناٹک کو مارا' پونہ راجہ بنارس سے لڑائی کی اور اس کو مارا، جنگلی قومیں پشاج راکشس' دیو' ناگ' اسر' گندھر' یکش' دانو کو مارا دیکھو۔
(سوانح عمری کرشن جی' صفحہ ١١٩ مصنفہ لالہ لاجپت رائے)
مرزا قادیانی بجائے حفاظت دھرم کے ہندو دھرم کی کھنڈن یعنی تردید کرتے رہے تو پھر وہ کرشن کا اوتار کس طرح ہوئے جب ایک صفت بھی کرشن کی مرزا قادیانی میں نہ تھی تو پھر کس قدر غلط ہے کہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ روحانی حقیقت کے رو سے میں کرشن ہوں۔ حالانکہ روحانی حقیقت کے رو سے ہی محمد ﷺ بنے ہوئے تھے۔ (معاذ اللہ)
چوتھا امر: مرزا قادیانی نے اوتار لینے کے وقت اپنی والدہ کو درشن دے کر نہیں بتایا کہ میں کرشن ہوں اور میں نے تمھارے گھر میں اس واسطے اوتار لیا ہے جیسا کہ پہلے اپنی والدہ دیوکی کو کہا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ کرامت مرزا قادیانی کی اخباروں میں شائع ہو جاتی کہ مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی کے گھر میں کرشن جی نے اوتار لیا ہے۔ جیسا کہ باسدیو اور دیوکی کے گھر جنم لینے سے ہوا تھا اور تمام اہل ہنود مرزا قادیانی کے درشن کے واسطے تمام ہندوستان سے آتے۔ مگر یہاں تو بالکل معاملہ برعکس ہوا کہ مرزا قادیانی کو خود پچاس ساٹھ برس تک اپنا کرشن ہونا معلوم نہ ہوا اور وہ بجائے حمایت دھرم کے دھرم کی تردید
٢٣
کرتے رہے اور اوتار کی علت غائی کے برخلاف اور اصول اہل ہنود کے برعکس کبھی مثیل عیسیٰؑ کبھی نائب عیسیٰؑ کبھی بروز محمد ﷺ کبھی حضرت علیؓ کبھی مریم کبھی موسیٰ ؑ کبھی مجدد کبھی رجلِ فارسی، کبھی مصلح، کبھی امام زمان، کبھی خاتم اولیاء، غرض ہندو دھرم کے مقابل جو بزرگ و انبیاءؑ تھے بنتے رہے اور اس نگار خانہ عالم میں آ کر ایسے محو حیرت ہوئے کہ ایک جان اور کئی دعوے اور ثبوت ایک کا بھی نہیں۔ مگر خیر آخری عمر میں خود شناسی ہوئی اور مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ کی منزل طے کر کے کرشن جی بن گئے اور کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ ایسا عظیم الشان دعویٰ تھا کہ پہلے تمام دعوے باطل ہو گئے کیونکہ کفر و اسلام یکجا جمع نہیں ہو سکتے جیسا کہ اجتماع نقیضین محال ہے۔ اسی طرح کفر و اسلام کا اجتماع بھی محال ہے۔ اب کھرے خاصے کرشن بن کر اسلامی دنیا کو درشن دیا ۔
جس جگہ تھا نور ایمان اب وہاں ہے آواگون
مگر افسوس یہ ناموزوں دعویٰ ایک ہندو نے بھی نہ مانا اور جس مطلب کے واسطے یہ الہام تراشا تھا وہ مطلب بھی پورا نہ ہوا۔ غرض تو یہ تھی کہ عیسائیوں اور مسلمانوں کو دام میں لانے کے واسطے تو مسیح موعود و مہدی بنا ہندوؤں کو کس طرح پھنسایا جائے؟ اس واسطے ہندوؤں کی خاطر کرشن جی کا اوتار بنے مگر کام پھر بھی نہ بنا۔ کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ کسی ہندو نے مرزا قادیانی کو کرشن مانا؟ ہرگز نہیں۔ مسلمانوں سے تو کرشن بن کر نکلے اور آگے ہندوؤں نے جگہ نہ دی۔ یہ کس قدر حسرت کا مقام ہے کہ ہندو بھی اپنے اوتار کا مسئلہ بھی مانا تناسخ بھی تسلیم کیا۔ مورتی پوجن کی بھی بنیاد ڈالی اور اپنی فوٹو کھچوائی اور مریدوں میں تقسیم کی مگر مقصود کی گوپی پھر بھی ہاتھ نہ آئی؟ ایک ہندو بھی نہ پھنسا مگر اس پر طرفہ یہ ہے کہ اپنی جماعت الگ کر کے ٣٣ کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو میرے اس الہام خدا کی طرف سے برحق نہ مانے مسلمان نہیں حالانکہ قرآن و شریعت محمدی کے رو سے ایسے الہاموں کا ملہم خود مسلمان نہیں۔
اب ہم نیچے کرشن جی کا نسب نامہ درج کرتے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ کرشن جی پشت در پشت ہندو تھے۔ کوئی مرزائی کسی مسلمان کو دھوکہ نہ دے کہ کرشن جی مسلمان اور رسول و پیغمبر تھے۔ کرشن جی کا نسب نامہ باپ کی طرف سے راجہ یج، پرتھو بدورتہ سوسین، باسدیو۔
(کرشن صفحہ ٨ پریم ساگر دیوکی کے آٹھویں گربھ سے)
کرشن جی ماتا کی طرف سے چند و بنسی نسل سے یادوا کھشتریوں کے
٢٤
دوہترے تھے۔ ماتا کی طرف سے کرسی نامہ حسب ذیل بتایا جاتا ہے۔ روی، ایوں، نہوش، یاتی، یارو، دوربہ، اندہک، اہوک (دیکھو صفحہ ٥٢-٥٣ سوانح عمری کرشن جی مصنفہ لالہ لاجپت رائے)
اب ظاہر ہے کہ سری کرشن جی مہاراج اہل ہنود میں سے تھے اور ان کا مذہب بھی وید شاستر کے مطابق تھا جیسا کہ اوپر درج کیا گیا ہے کہ تناسخ آوا گون کے معتقد تھے اور ان کا اعتقاد تعلیم یہی تھی کہ اعمال کا بدلہ تناسخ کے چکر میں ڈال کر خدا تعالیٰ اسی دنیا میں دیتا ہے دوزخ بہشت روز جزا و سزا کوئی الگ نہیں اور چونکہ یہ تعلیم و اعتقاد تمام انبیاء علیہم السلام کے برخلاف ہے۔ اسلیے کرشن جی مہاراج ہرگز ہرگز پیغمبر و رسول نہ تھے۔ یہ بالکل دھوکہ ہے کہ چونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ (رعد ٧) یعنی ہر ایک قوم کا ہادی و راہبر ہے۔ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرًا (فاطر ٢٤) ہر قوم یا زمانہ میں ایک ڈرانے والا گزر چکا ہے۔ اس پر دلیل دیتے ہیں کہ کرشن جی و رام چندر جی وغیرہ کو رسول نہ مانیں تو قرآن پر اعتراض وارد آتا ہے کہ ہندوستان میں کون کون پیغمبر ہوا؟ مگر اس جگہ دھوکہ یہ دیا جاتا ہے کہ قرآن میں لفظ قوم و امت ہے اور پیش کرتے ہیں ہندوستان جو کہ بالکل غلط ہے یہ کہاں قرآن میں ہے کہ ہم نے ہر ایک ملک میں رسول بھیجا ہے تاکہ ہندوستان میں رسول الگ ہو۔ وہاں تو قوم و امت کا لفظ ہے۔ پس دنیا میں جو جو قومیں و امتیں ہیں مشرک و بت پرست سب میں رسول آئے اور جو انبیاءؑ کی رسالت و نبوت برحق یقین کر کے یوم قیامت یوم آخرت پر ایمان لاتے آئے ہیں۔ وہ مسلم ہیں اور جو جو قومیں و امتیں مشرک و بت پرست قیامت سے انکار کر کے اسی دنیا میں سورگ و نرک مان کر تناسخ کا چکر یقین کرتی آئی ہیں۔ وہ تمام قومیں غیر مسلم چلی آئی ہیں۔ تمام آسمانی کتابیں قیامت کا برحق ہونا بتاتی آئی ہیں اور کفار عرب و ہند، عراق و شام، ترکستان، افغانستان وغیرہ وغیرہ دنیا بھر کے پیغمبروں کے مقابل بت پرستی و تناسخ پر زور دیتے آئے ہیں۔ یعنی صائبین (ستارہ) پرست و منکران قیامت تمام عالم میں اپنا اپنا وعظ کرتے ہیں۔ یہ عظیم دھوکہ دیا جاتا ہے کہ ہند کا پیغمبر کون تھا۔ یہ قرآن میں ہرگز نہیں لکھا کہ ہر ایک دیار یعنی ہر ایک ولایت میں رسول بھیجا ہے۔ اس طرح تو ہر ایک ملک کا پیغمبر الگ ہونا چاہیے تھا۔ اگر ہند کا پیغمبر کرشن و رام چندر جی وغیرہ وغیرہ تھے۔ تو پھر عرب و دیگر ممالک میں بت پرستی کس طرح مروج ہوئی یہ بالکل فاسد عقیدہ ہے کہ چونکہ ہر ایک ملک میں پیغمبر کا ہونا ضروری ہے۔ اس واسطے کرشن جی کو ضرور پیغمبر مان لو۔ حالانکہ کرشن جی کی تعلیم تناسخ و اوتار بتا رہی ہے کہ اوتار و تناسخ ماننے والے وہی
٢٥
پرانے بت پرست و منکر قیامت ہیں۔ جنھوں نے حضرت نوح، ابراہیم سلیمان، موسیٰ وغیرہ انبیاء علیہم السلام کا مقابلہ کیا اور اہل ہنود بھی انھیں میں سے ہیں اور انھیں ملکوں سے ہند میں آ کر آباد ہوئے اور آریہ کہلاتے تھے اور یہی مذہب وید و شاستر و تناسخ کا ساتھ لائے تھے اور جنھوں نے اپنے اپنے وقت کے پیغمبر کو نہ مانا اور تناسخ و بت پرستی پر اڑے رہے۔ ہند کی شمال مغرب کی پہاڑیاں کوہ سلیمان کے نام سے مشہور ہیں۔ (دیکھو تاریخ ہند صفحہ ٦١-٦٢) پس ہند کا پیغمبر حضرت سلیمان ثابت ہوا اور تخت سلیمان و پری محل اب تک حضرت سلیمان کی یادگار کشمیر میں موجود ہے۔ تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے کہ اسلام سے پہلے اہل ہند کا کفار عرب و بت پرستان مکہ سے میل جول تھا۔ چنانچہ اصل عبارت یہ ہے۔ ”براہم ہندوستان پیش از ظہور اسلام جہت زیارت خانہ کعبہ و پرستش اصنام ہمیشہ آمد و شد می کردند و آں موضع را بہترین معابد مے پنداشتند“ (دیکھو مقالہ ٦) پھر تاریخ فرشتہ کے مقالہ اوّل جلد اوّل صفحہ ٣٢ میں لکھا ہے۔ ”کہ در زمان حضرت ختمی پناہ بتے بزرگ را کہ سومنات نام داشت از خانہ کعبہ بر آوردہ و بداں جا آوردہ بنام او آں شہر را بنا کردند“ یعنی سومنات شہر سومنات کی مورتی سے جو کہ مکہ سے لائی گئی تھی۔ اس کے نام پر شہر سومنات آباد اور نامزد ہوا۔
اہل ہنود و آریہ بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ تمام دنیا میں پہلے سب قوم بت پرست و ستارہ پرست تھی اور ہر ایک قوم میں بت پرستی اور تناسخ کا رواج تھا اور قیامت کا انکار تھا۔ اصل عبارت یہ ہے۔ ”اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ مہادیوجی کا مندر تھا اور یہی سبب ہوا کہ سومنات میں مکرر اسی مورتی پوجک لوگوں نے قائم کیا اور پھر بدستور وہی پیروان شیو اس کے پوجارے بنے۔“ (دیکھو حاشیہ ٤٤٢ ثبوت تناسخ)
اب ثابت ہوا کہ ہند کے بت پرست بھی دوسرے ملکوں سے آئے ہیں۔ جن میں وقتاً فوقتاً پیغمبر و رسول آتے رہے۔ تاریخ ہند میں لکھا ہے کہ ”آریہ قوم دوسرے ملکوں سے ہند میں آئی ہے۔“ تاریخ انگلستان کے صفحہ ١١ پر بحوالہ کاہیر صاحب لکھا ہے کہ ”قدیم مصری، یونانی، رومی اور انگریزی تناسخ یعنی آوا گون کو مانتے تھے کیا ایشیا کے ایرانی آریہ چینی، جاپانی اور ترک لوگ اور کیا یورپ کے یونانی، ڈرُوڈ رومی، جرمنی والے کیا افریقہ کے قبطی پائنر اور راج خاندان کے بزرگ اور کیا امریکہ کے تانبے رنگ والے پہلی یعنی سورج بنسی، پیرو، میکسیکو کے پروہت اور اچاریہ اور اپر ہن خاندان کے پیشوا سارے کے سارے تناسخ کو مانتے تھے اور ارواح کو انادی مانتے تھے۔“ (صفحہ ٤٤٠ ثبوت تناسخ)
٢٦
اب روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ اہل ہند انھیں قوموں میں سے ہیں جن میں پیغمبر و رسول آتے رہے اور اسی واسطے قرآن میں فرمایا کہ کوئی قوم نہیں جس میں نذیر نہ آیا ہو اور ظاہر ہے کہ ہر ایک پیغمبر و رسول بت پرستی کے مٹانے کے واسطے اور یوم آخرت سے ڈرانے کے واسطے تشریف فرما ہوتا رہا اور بت پرستوں اور معتقدان تناسخ کے ہاتھوں ظلم و ستم اٹھاتا رہا۔ حضرت نوحؑ خاص بت پرستی کے برخلاف وعظ فرماتے رہے۔ جب بت پرستوں مشرکوں نے نہ مانا تو غضب الٰہی سے عذاب طوفان نازل ہوا اور سب کے سب ہلاک کیے گئے طوفان کے بعد حضرت نوحؑ کی تعلیم و وعظ سے واحد خدا کی پرستش ہوتی رہی اور جن جس جگہ اور ملکوں میں حضرت نوحؑ کی اولاد جا کر آباد ہوئی ان ان ملکوں میں پہلے توحید جاری تھی۔ چنانچہ توریت باب ١٠ پیدائش آیت ٣٢ میں لکھا ہے ”اور طوفان کے بعد قومیں انھیں (نوح کے بیٹوں) سے پھیلیں۔“ آیت ١٨۔١٩۔٢٠ باب ٩ میں لکھا ہے ”نوح کے بیٹے جو کشتی سے نکلے سام۔ حام اور یافث تھے اور حام کنعان کا باپ تھا نوح کے یہی تین بیٹے تھے اور انھیں سے تمام زمین آباد ہوئی۔“ جب حضرت نوحؑ کے بیٹوں میں نوحؑ کی تعلیم تھی اور نوح کے بیٹوں سے تمام قومیں بنیں تو پھر ثابت ہو گیا کہ ہر ایک قوم میں نذیر و ہادی آیا۔ حضرت نوحؑ اور اس کی اولاد میں پھر بت پرستی و انکار قیامت کے مذہب نے رواج پایا اور مرورِ ایام سے جب بہت زور پر ہوا تو پھر پیغمبر کی ضرورت ہوئی اور حضرت ابراہیمؑ آزر بت گر کے گھر پیدا ہوئے اور انھوں نے بت پرستی کو مٹایا اور توحید قائم کی تناسخ کو رد کیا اور یوم الحساب اور جزا پر لوگوں کو یقین دلایا۔ نمرود سے جو بڑا بادشاہ تھا۔ مناظرہ کیا۔ پھر زمانہ کے گزرنے سے بت پرستی و تناسخ کا جب زور ہوا تب ہی وقتاً فوقتاً پیغمبر و رسول مبعوث ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ خاتم النبیین ﷺ تشریف فرما ہوئے۔ ان کے مقابل علاوہ مشرکان و بت پرستان و صابیین کے یہود و نصاریٰ بھی تھے۔ جن کو رحمت اللعالمین ﷺ نے جام توحید پلایا اور بعث بعد الموت کے یقین و ایمان سے دوبارہ زندگی بخشی اور تمام دیار و امصار میں دین اسلام پہنچایا اور ظلمت کفر و شرک کی اسلام کی پاک روشنی سے دور ہوئی اور اہل ہند بھی نور اسلام سے منور ہوئے سامری نے حضرت موسیٰ ؑ کے وقت گوسالہ بنایا اور اس کی پرستش کی بنیاد ڈالی جو کہ اب تک اہل ہند بھی گئو کی پرستش کرتے ہیں۔ جو اسبات کا ثبوت ہے کہ گئو اور بچھڑے کی پرستش کرنے والی قوم اسی ملک اور قوم سے جدا ہو کر آئی جس میں حضرت موسیٰ ؑ مبعوث ہوئے تھے۔ ..... تاریخ مصر کے صفحہ ٤٢ پر لکھا ہے ”فیثا غورث حکیم نے تناسخ کا مسئلہ مصریوں سے لیا تھا۔“ الخ۔ پس مصر سے اہل تناسخ کا آنا ثابت ہوا اور مصر ٢٧
میں حضرت موسیٰؑ پیغمبر ہو کر فرعون کی طرف آئے تھے۔ پس ہندوستان میں جو اہل تناسخ موجود ہیں۔ ان کا پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ثابت ہوئے اور یہ بالکل صحیح ہوا کہ ہر ایک امت و قوم میں نذیر آیا۔ قیامت کا منکر ہرگز نذیر نہیں ہو سکتا۔ پس یہ کہنا کہ اہل ہند کا کوئی پیغمبر نہیں غلطی اور دھوکہ دہی ہے کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت عیسیٰ علیہ السلام و محمد ﷺ سب کے سب اثبات قیامت کا وعظ فرماتے رہے اور تناسخ و بت پرستی کی تردید کرتے رہے۔ اگر کوئی شخص کرشن جی کو رسول صرف اس واسطے کہے کہ کرشن جی اہل ہنود کے لیڈر و پیشوا تھے۔ تو یہ سراسر غلطی ہے کیونکہ نمرود و شدّاد قارون فرعون وغیرہ وغیرہ بھی تو دیگر ممالک اور قوموں کے لیڈر و پیشوا اور حاکم اور راجہ تھے۔ کیا ان کو بھی رسول کہا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر کرشن و رام چندر جی وغیرہ رہبران و پیشوایان و راجگان ہندوستان کو کس طرح رسول کہا جائے اور نبی مان کر ان کا اوتار بن سکے؟ کیونکہ نبی و رسول ہونے کے واسطے ضرور ہے کہ جو تعلیم انبیاءؑ کی تھی وہی تعلیم دوسرے نبی و رسول کی بھی ہو۔ ورنہ سخت فاسد عقیدہ ہے کہ غیر نبی و رسول کو رسول و نبی کہا جائے۔ فَاِذَا جَاءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ (مومن ٧٨) پس یہ سراسر غلط ہے کہ ہندو قوم میں کوئی رسول نہیں آیا پیغمبر و رسول تو آئے مگر ان اقوام نے اپنا پرانا مذہب آباؤ اجداد کو عزیز کر کے پیغمبروں و رسولوں کی تعلیم سے فائدہ نہ اٹھایا اور ہندوستان اور دیگر ممالک میں جا کر آباد ہوئیں۔ چنانچہ اب تک ان اقوام کے نشانات افریقہ ایشیاء یورپ امریکہ چین برہما سیام آسام تبت لنکا چینی تاتار وغیرہ جگہوں میں موجود ہیں ؎
ہمچو نقش کف پا نام و نشانم باقیست
اور یہ اقوام بت پرست تناسخ کے ماننے والی قیامت سے انکار کرنے والی۔ حضرت عیسیٰؑ سے ٦٣٠ برس پہلے مہاتما بدھ کی پیرو بھی تھیں۔ جو کہ قوم سے راجپوت تھا۔ مہاتما بدھ کے پیرو اس وقت بھی دنیا میں کروڑہا موجود ہیں۔ اگر کسی شخص کو اس کے پیروؤں کی کثرت یا اس کے پیشوا ہونے کی حیثیت سے پیغمبر و رسول ماننا ہو سکتا ہے تو پھر مہاتما بدھ کو کیوں رسول و نبی نہ مانا جائے؟ مگر چونکہ مہاتما بدھ کی تعلیم بھی اسلامی تعلیم کے برخلاف تھی۔ اس واسطے وہ نبیوں و رسولوں کی فہرست میں نہیں آسکا۔ حالانکہ یہ شخص حضرت موسیٰؑ و حضرت عیسیٰؑ کے درمیان کے عرصہ میں ہوا ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰؑ سے چھ سو تیس برس پہلے ہوا اور حضرت موسیٰؑ ١٤ سو برس پہلے حضرت عیسیٰؑ سے ہو
٢٨
گزرے تھے۔ مگر نہ حضرت عیسیٰؑ نے گوتم بدھ کی نبوت تصدیق کی اور نہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے گوتم بدھ و کرشن جی وغیرہ کی نبوت بتائی اور نہ تصدیق کی۔ اب اس جگہ ایک لازمی سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و تورات و انجیل و زبور آسمانی کتابوں نے مہاتما بدھ اور سری کرشن جی مہاراج وغیرہم کی نبوت و رسالت کیوں نہیں بیان کی؟ اور حضرت آدمؑ و نوحؑ و ابراہیمؑ و موسیٰؑ و عیسیٰؑ وغیرہم کی کیوں بیان و تصدیق کی اس کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ ان کی تعلیم چونکہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے برخلاف تھی اس واسطے ان کو نبی و رسول کسی زمانہ میں نہیں مانا گیا۔ جس طرح انبیاء علیہم السلام قیامت و توحید کی وعظ حضرت آدمؑ سے لے کر کرتے چلے آئے۔ اسی طرح پیشوایان اہل ہنود بت پرستی اور تناسخ کا وعظ کرتے چلے آئے ہیں۔ جس کا نتیجہ اب تک یہ ہے کہ تمام فرقہ ہائے اسلامی سے دنیا میں ان کی تعداد زیادہ ہے اور یہ ان مہاپرشوں کی تعلیم اور کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج تک بت پرستی اور تناسخ کا اعتقاد اور تعلیم جاری چلی آ رہی ہے۔ اگر کسی اسلامی واعظ نے اثبات قیامت اور روز جزا و سزا سے ڈرایا تو اس کے مقابل حامیان تناسخ نے اس کی تردید شروع کر دی اب دیکھ لو کیا ہو رہا ہے۔ آریہ سماج کی طرف سے کس قدر تناسخ کی تعلیم اور قیامت کے انکار پر زور دیا جاتا ہے اور سوامی دیانند نے کس قدر اہل ہنود میں مذہبی جوش پیدا کیا کہ ایک ترقی یافتہ قوم نظر آتی ہے کیا سوامی جی کے اس کام کو جو انھوں نے اپنی قوم کو زندہ کیا اور تناسخ و انکار قیامت پر تمام زور و وقت و زر خرچ کیا اور اپنی قوم کو ابھارا۔ ان کو نبی و رسول کا لقب دو گے؟ ہرگز نہیں کیونکہ قیامت کا منکر اور تناسخ کا معتقد کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔ ہاں اس کی اپنی قوم جو چاہے اس کو کہے مگر کوئی مسلمان قرآن اور محمد ﷺ پر ایمان رکھنے والا تو ہرگز قیامت کے منکر اور تناسخ کے معتقد کو رسول و نبی نہیں کہہ سکتا اور نہ اس کا بروز ہو سکتا ہے۔ پس کرشن جی مہاراج چونکہ وید و شاستر کے پیرو تھے اور قیامت کے منکر تھے اور تناسخ کے قائل تھے۔ اس واسطے وہ ہرگز ہرگز نبی و رسول نہ تھے۔ کوئی مرزائی مہربانی کر کے مسلمان بھائیوں کو سمجھائے کہ تناسخ ماننے والے روح کو ازلی ابدی ماننے والے قیامت سے انکار کرنے والے کا کوئی شخص اوتار و بروز ہو کر محمد رسول اللہ ﷺ کا بروز کس طرح رہا؟ اور جب حقیقت روحانی کے رو سے کرشن ہو گیا ہے تو اس کی بیعت کس شرعی دلیل سے فرض ہے؟ اور جو شخص کرشن جی کا بروز ہے اور اوتار ہے۔ اس کی بیعت نہ کرنے سے تمام روئے زمین کے مسلمان کس دلیل سے کافر ہیں؟
تمت
٢٩
احتساب قادیانیت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اکابرین کے رد قادیانیت پر رسائل کے مجموعہ جات کو شائع کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ چنانچہ، احتساب قادیانیت جلد اول، مولانا لال حسین اخترؒ، احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہیں۔
احتساب قادیانیت جلد چہارم
مندرجہ ذیل اکابرین کے رسائل کے مجموعہ پر مشتمل ہے
مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ ......... ”دعوت حفظ ایمان حصہ اول و دوم“
مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ..... ”الخطاب المليح في تحقيق المهدی و المسيح، رسالہ قائد قادیان“
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ......... ”الشهاب لرجم الخاطف المرتاب، صدائے ایمان“
مولانا بدر عالم میرٹھیؒ ...... ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، امام مہدی، دجال، نور ایمان، الجواب الفصيح لمنکر حیات المسيح “
ان تمام اکابرین امت کے فتنہ قادیانیت کے خلاف رشحات قلم کا مطالعہ آپ کے ایمان کو جلا بخشے گا۔
رابطہ کے لیے: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان 514122
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
مباحثہ حقانی
فی ابطال
رسالت قادیانی
جناب بابو پیر بخشؒ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ
مباحثہ حقانی
فی
ابطال رسالت قادیانی
یعنی مباحثہ لاہور کی سچی سچی کیفیت جو مابین غلام رسول قادیانی مرزائی آف راجیکی اور سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور جون ١٩٢١ء میں ہوا تھا اور غلام رسول قادیانی نے غلط بیانی کر کے مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالا تھا۔ اس کا جواب الجواب مع شہادات عہدہ داران مسلمہ فریقین۔ انجمن تائید اسلام لاہور کی طرف سے جولائی ١٩٢٢ء کو شائع کیا گیا۔
٢
عہدیداران جلسہ مباحثہ کی شہادتیں!
شہادتِ اوّل: رسالہ مباحثہ لاہور کے ص ٧ و ٨ پر غلام رسول قادیانی مباحث نے جو میری نسبت تحریر فرمایا ہے کہ جلسہ مباحثہ میں میں نے غلام رسول قادیانی کی تقریر سن کر کلمات تحسین و آفرین کہے۔ بالکل غلط ہے۔ خاکسار عبدالکریم مختار عدالت پریذیڈنٹ جلسہ مباحثہ مسلمہ فریقین۔
دوسری شہادت: مولوی حاجی شمس الدین صاحب شائق پریذیڈنٹ جلسہ مباحثہ مسلمہ فریقین۔ غلام رسول قادیانی مباحث نے چونکہ خود میری شہادت طلب کی ہے۔ اس لیے میں بحکم قرآنی سچی شہادت کو چھپا نہیں سکتا اور سچ سچ کہتا ہوں کہ مباحثہ کے آخیر دن ٢٧ جون ١٩٢١ء کو جب میں جلسہ مباحثہ میں حاضر تھا۔ تو غلام رسول قادیانی نے دیروزہ اعتراضات کا جواب دینا شروع کیا اور حضرت پیرانِ پیر کے قصیدے کے اشعار پڑھ کر سنائے اور کہا کہ اگر مرزا قادیانی نے خلاف شرع باتیں کیں تو دوسرے اولیائے اللہ نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ بابو پیر بخش صاحب نے جواب دیا کہ بحث خاتم النبیین ﷺ پر ہے اور اولیاء اللہ میں سے کسی نے بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔ آپ اصل بحث امکان نبی بعد از حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر بحث کریں اور جدید نبی کا پیدا ہونا بعد آنحضرت ﷺ کسی نص شرعی سے ثابت کریں۔ حاضرین جلسہ کی بھی یہی رائے ہے۔ چنانچہ ایک متفقہ آواز اٹھی کہ غلام رسول قادیانی اصل بحث پر آؤ۔ غلام رسول قادیانی نے فرمایا کہ مجھ کو وقت کافی نہیں ملتا اور میں نے باہر جانا ہے۔ میں امکان نبی بعد از حضرت خاتم النبیین پر کتاب لکھوں گا۔ بابو پیر بخش صاحب اس کا جواب دیں۔ اس طرح پبلک کو خود بخود معلوم ہو جائے گا۔ میں نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ چونکہ کج بحثی ہو رہی ہے اور وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ اسی قرارداد پر جلسہ ختم کیا جائے۔ پس اسی قرارداد پر میں نے جلسہ برخاست کر دیا۔
٣
یہ غلام رسول قادیانی نے ٹھیک ٹھیک تحریر نہیں فرمایا کہ میں نے یا اہل مجلس نے غلام رسول قادیانی کی تقریر و علم کی کیسی تعریف کی۔ حق بات تو یہ ہے کہ غلام رسول قادیانی نے کوئی آیت یا حدیث ایسی پیش نہ کی جس سے ثابت ہو سکتا کہ بعد از محمد رسول اللہ نبی آخر الزمان ﷺ کوئی جدید نبی و رسول ہوگا۔ یوں ہی کج بحثی کرتے رہے اور بابو صاحب بھی ایسا ہی تعاقب کرتے رہے بلکہ مولوی حافظ محمد حسین صاحب مسجد چینیا نوالی نے غلام رسول قادیانی کو ایک حدیث کے غلط پڑھنے پر روکا تھا۔
(دستخط مولوی حاجی شمس الدین صاحب شائق بقلم خود)
تیسری شہادت: بابو پیر بخش صاحب اور غلام رسول قادیانی کے درمیان جو مباحثہ ہوا۔ میں اس میں موجود تھا۔ فریقین کے باہمی جو وقت مباحثین کو دیا جانا قرار پایا تھا وہ برابر لیتے رہے۔ غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا غلط ہے کہ ان کو وقت کم ملتا تھا۔ یہ سوال قبل مباحثہ طے ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے۔ ’’مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلہ خود باید زد‘‘
مباحثہ نبوت مرزا اور حضرت رسالتمآب ﷺ کے بعد نبی کے آنے پر تھا۔ مگر غلام رسول قادیانی اپنا وقت دائیں بائیں کی باتوں میں صرف کر کے قلت وقت کی شکایت کرتے تھے۔ جس سے حاضرین جلسہ پر واضح ہو گیا کہ وہ آیت یا حدیث مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے پر نہ لا سکے۔
جس طرح مرزا جی کی مثالیں فرار اور بہانہ جوئی کی سینکڑوں موجود ہیں۔ مثلاً علامہ حضرت خواجہ سید مہر علی شاہ صاحبؒ سے مرزا جی کی فراری والی داستان شہرہ آفاق ہے کہ مرزا نے جملہ شرائط مباحثہ طے کرنے کے بعد جب دیکھا کہ حضرت پیر صاحب مقام مناظرہ (لاہور) آ پہنچے۔ تو کہہ دیا کہ مجھے الہام ہو گیا ہے کہ پیر مہر علی شاہؒ صاحب سے مناظرہ مت کرو۔ ایسے ہی غلام رسول قادیانی نے بھی ان کی اتباع کر کے جواب کتاب میں لکھنا کہہ کر بابو صاحب پیر بخش سے پیچھا چھڑایا۔
دستخط حبیب اللہ صاحب منشی فاضل جو کہ رپورٹ نویس جلسہ مباحثہ تھے۔
چوتھی شہادت: مجھ کو اس مباحثہ میں فریقین نے اپنی اپنی متفقہ رائے سے منصف منظور کیا تھا۔ اس مباحثہ میں غلام رسول قادیانی نے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کسی نبی کے پیدا ہونے کے امکان پر بحث کرنی تھی اور قرار پایا تھا کہ قرآن اور حدیث کے سوا کچھ پیش نہ کیا جائے گا۔ مگر افسوس غلام رسول قادیانی نے عربی شعر مثلاً لا فتی الا علی لا
م
سیف الا ذوالفقار اور قصیدہ غوثیہ اور مرزا قادیانی کے تصنیف کردہ اشعار پیش کر کے سوال از ریسمان و جواب از آسمان کے مصداق بنے اور بابو پیر بخش صاحب نے بھی تعاقب غلام رسول قادیانی میں وقت ضائع کیا۔ آخر غلام رسول قادیانی نے کہا کہ مجھ کو وقت کافی نہیں ملتا۔ جس پر بابو پیر بخش صاحب نے کہا کہ مجھ کو کوئی آپ سے زیادہ وقت نہیں ملتا۔ جب وقت یکساں ہے تو پھر یہ عذر معقول نہیں۔ آخر غلام رسول قادیانی نے وعدہ فرمایا کہ میں امکان نبی بعد از حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر کتاب لکھوں گا اور بابو پیر بخش صاحب اس کا جواب دیں گے۔ اس پر جلسہ ختم ہوا اور سب نے منظور کیا کہ کتاب لکھو مگر افسوس کہ غلام رسول قادیانی نے وعدہ وفا نہ کیا اور کتاب نہ لکھی اور کہلا بھیجا کہ بابو پیر بخش کتاب لکھیں۔ میں جواب دوں گا۔ چنانچہ بابو صاحب موصوف نے عدم امکان نبی پر رسالہ شائع کیا اور قادیانی نے جواب لکھا۔ جس کا جواب الجواب یہ کتاب ہے۔ دستخط محمد ابراہیم صاحب سیکرٹری انجمن مجاہدین لاہور۔
٥
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عرض مرتب
محترم بابو پیر بخش صاحبؒ اور مربی غلام رسول راجیکی قادیانی کے درمیان لاہور ٢٦۔ ٢٧۔ ٢٨ جون ١٩٢١ء کو مناظرہ ہوا۔ مناظرہ میں قادیانی مناظر ملعون راجیکی نے شکست کھائی۔ تو یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ میں اپنے دلائل کتابی شکل میں شائع کروں گا۔ بابو پیر بخش صاحب ان کا جواب لکھیں۔ بعد میں قادیان جا کر کہا کہ پہلے بابو پیر بخش اپنے دلائل لکھیں۔ میں ان کا جواب لکھوں گا۔ چنانچہ ستمبر ١٩٢١ء میں بابو پیر بخش نے اپنے رسالے ماہنامہ تائید الاسلام لاہور میں اپنے دلائل تحریر کیے۔ قادیانی غلام رسول راجیکی نے ”مباحثہ لاہور“ نامی کتابچہ میں ان کا جواب الجواب لکھا۔ محترم بابو پیر بخش صاحب نے مباحثہ لاہور کے جواب میں ”مباحثہ حقانی فی ابطال رسالت قادیانی“ تحریر کی جو پیش خدمت ہے۔ اس میں مباحثہ لاہور کا جواب ہے۔ یاد رہے کہ غلام رسول قادیانی کے دلائل کو ”جواب غلام رسول قادیانی کے“ نام سے پہلے ان کے اعتراض کا خلاصہ درج کرتے ہیں۔ پھر جواب الجواب سے مصنف اپنا جواب تحریر فرماتے ہیں۔ فقیر اللہ وسایا
جواب مباحثہ لاہور
غلام رسول قادیانی کی طرف سے سات ماہ کے بعد جواب شائع ہوا ہے یہ جواب کیا ہے۔ غلام رسول قادیانی کی شرافت حسن اخلاق اور بضاعت علمی کا ثبوت ہے۔ غلام رسول قادیانی نے بجائے جواب دینے کے اپنے پیر و مرشد مرزا غلام احمد قادیانی کے حسب سنت ہمیں گالیاں دے کر اپنا دل خوش کر لیا ہے اور اپنے قابو یافتگان کو حق کے قبول کرنے سے محروم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ میں سب سے پہلے غلام رسول قادیانی کی تہذیب اور حسن خلق کے اظہار کی غرض سے جو کچھ انھوں نے خاکسار کے حق میں گل افشانی کی ہے لکھتا ہوں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ مرزائیوں کے پاس سوائے
٦
گالی گلوچ اور ہتک آمیز اور دل آزار الفاظ کے کوئی اور دلیل نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے، سبیل الرشاد بنائے اور ان کی حالت پر رحم کرے۔ ان کے دلائل علمی شرافت اور حسن اخلاق و تہذیب کے زور دار الفاظ ذیل میں ملاحظہ ہوں جو انھوں نے میری نسبت استعمال فرمائے ہیں۔
تقویٰ اور دیانت کے برخلاف‘ بے باکی کے خوگر‘ خیانت سے کام لیا‘ شرم آفرین‘ خیانت آمیز‘ کذب بیانی‘ محجوب النفس‘ دشمن صداقت‘ خائن طبع‘ بزدلی‘ کھلی جہالت‘ مجسم جہالت‘ جدلہ خوار‘ خرافات‘ ہذیان‘ ژاژ خائی‘ ذلت‘ ہزیمت و شکست‘ لغو وزو صداقت‘ دشمن دیانت‘ علم نا تمام‘ دشمن علم و فضل‘ لچر پوچ‘ فضول‘ جہالت کا نمونہ‘ جہالت کے بعد دوسری جہالت‘ افترا پردازی‘ لعنتی افترا‘ جھوٹا‘ وغیرہ وغیرہ۔
یہ الفاظ کئی کئی بار استعمال کیے ہیں حالانکہ خود ہی لکھتے ہیں۔ ”طرفہ یہ کہ بابو پیر بخش صاحب ایڈیٹر رسالہ تائید الاسلام نے مجھے سلام کہہ کر مصافحہ کرنا چاہا اور میرا ہاتھ پکڑ کر میری تقریر اور میری قوت بیانیہ اور میرے علم کی تعریف کی ۔“ حالانکہ بالکل غلط لکھا ہے میں نے صرف یہ کہا تھا کہ ”آپ کی نسبت جیسا کہ سنا جاتا تھا ویسا ہی پایا ۔ یعنی کج بحث اور خارج از بحث فضول باتوں میں وقت ضائع کرنے والا‘ مگر غلام رسول قادیانی نے یہ الفاظ اپنے پاس سے بڑھا لیے۔ ”میری تقریر‘ میری قوت بیانیہ اور میرے علم کی تعریف کی ۔“ افسوس اگر میں ایسا کرتا تو غلام رسول قادیانی اسے یہوديانہ حرکت کہتے۔ میرا مطالبہ ہے کہ غلام رسول قادیانی قسم کھا کر کہیں کہ میں نے ان کے حق میں یہ الفاظ کہے تھے؟ ورنہ خوف خدا کریں۔ غلام رسول قادیانی نے دھوکہ دہی کی غرض سے یہ بھی بالکل غلط لکھا ہے کہ مباحثہ منشی عبدالکریم صاحب مختار عدالت کے مکان پر ہوا حالانکہ صرف ایک دن مباحثہ منشی صاحب موصوف کے مکان پر ہوا اور دو دن یعنی ٢٧ و ٢٨ جون ١٩٢١ء کو مسجد بلند واقع لکڑ منڈی لاہور میں مباحثہ ہوا تھا لیکن غلام رسول قادیانی نے مسجد کا نام تک نہ لیا کیا غلام رسول قادیانی قسمیہ کہہ سکتے ہیں کہ مسجد میں مباحثہ نہیں ہوا؟ غلام رسول قادیانی نے یہ بھی سفید جھوٹ لکھا ہے کہ ”سامعین نے ان کے علم وفضل و تقریر کی تعریف کی ۔ سامعین تو اس قدر بیزار تھے کہ آپ کی تقریر کا نام یاوہ سرائی اور ژاژ خائی کہہ کر بلند آواز سے کہتے تھے کہ غلام رسول قادیانی اصل بحث کی طرف آؤ اور بیہودہ باتیں نہ کرو۔ مولوی حافظ محمد حسین صاحب نے جب آپ نے حدیث غلط پڑھی تو آپ کی تعریف کی تھی یا ہجو؟ اگر اس کا نام تعریف ہے تو پھر ذلت و رسوائی کس کا نام ہے؟
٧
مشہور ہے کہ ایک مولوی صاحب شاہی دربار میں آئے اور اپنے علم وفضل کی تعریف لکھی اور لکھ دیا کہ ”از قابل آمد ما“ جس کے جواب میں بادشاہ نے لکھا کہ ”قابلیت شما از قاف قابل معلوم شد“ ایسا ہی غلام رسول قادیانی کی قابلیت دیکھئے کہ لکھتے ہیں ”خاکسار ابو البرکات غلام رسول راجیکی تنزیل قادیان“ (مباحثہ لاہور ص ٦٤) یہ تو غلام رسول قادیانی کی عربی میں لیاقت ہے کہ لفظ تنزیل غلط ہے۔ آپ کی اردو دانی بھی ملاحظہ ہو لکھتے ہیں کہ ”منشی صاحب نے مجھے مخاطب ہو کر فرمایا“ گویا دو سے تیسرا لفظ غلط لکھتے ہیں باوجود اس کے اپنی تعریف لکھتے وقت ان کو خیال نہ آیا ہے در ثنائے خود بخود گفتن نزیبد مرد دانا را۔ چو زن پستان خود مالد حظوظ نفس کے یابد۔
اب میں برادران اسلام سے پوچھتا ہوں کہ غلام رسول قادیانی کی شرافت دیکھیں کہ جو شخص ان کی تعریف کرتا ہے یہ اس کو گالیاں دیتے ہیں گویا اپنی شرافت کا ثبوت دیتے ہیں۔ جب غلام رسول قادیانی کی شرافت اراکین انجمن نے دیکھی تو مختلف قسم کی فرمائش مجھ سے کی گئی۔ کوئی کہتا تھا کہ ایسا سخت اور زبردست جواب دو کہ غلام رسول قادیانی کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔ کوئی کہتا تھا کہ نرالی بات نہیں۔ انھوں نے مرزا قادیانی سے یہی سیکھا ہے۔ مرزا قادیانی خود کیا کرتے رہے۔ جھوٹے کا نشان ہی یہ ہے کہ جب لاجواب ہوتا ہے تو بدزبانی پر اُتر آتا ہے۔ کوئی کہتا تھا کہ ؎
کوئی کہتا تھا ”کالائے بد بریش خاوندش باید زد“ کوئی کہتا تھا ہوشیار رہنا غصہ میں آ کر بحث رہ جائے گی اور یہی مرزائیوں کا ہتھکنڈا ہے کہ مخالف گالیوں کا جواب گالیوں میں دے گا اور اصل بحث سے سبکدوشی ہو جائے گی۔ صرف ”عطائے شما بلقائے شما“ کہہ کر اصل بحث پر چلے چلو۔ میرا بھی اتفاق اسی پر ہوا ہے اور شیخ سعدیؒ کا ایک شعر لکھ کر اصل بحث کی طرف آتا ہوں وہ شعر یہ ہے ؎
ولیکن بناید ز مردم سگی
تشریح اس شعر کی یہ ہے کہ ایک زاہد عابد کو کتے نے کاٹ کھایا۔ زاہد بیچارہ درد سے چیختا ہوا گھر آیا اور ہائے وائے کر رہا تھا کہ اس کی لڑکی نے پوچھا بابا جان کیا ہوا ہے؟ زاہد نے کہا کہ مجھ کو کتے نے دانت سے کاٹا ہے۔ تب لڑکی نے کہا کہ ؎
٨
ابا جان کیا آپ کے دانت نہ تھے تو اس کے جواب میں زاہد نے فرمایا تھا کہ : ”کتے کے ساتھ انسان کتا نہیں ہو سکتا۔“ ان سب غصہ اور بدزبانی کی وجہ غلام رسول قادیانی نے یہ بیان کی ہے کہ پیر بخش نے کیفیت مباحثہ لکھنے کے وقت اختصار سے کیوں کام لیا؟ اور غلام رسول قادیانی کی تقاریر جو خارج از بحث تھیں پوری پوری درج نہیں کیں۔ مگر افسوس جو اعتراض و الزام غلام رسول قادیانی نے مجھ پر کیا ہے اسی کے مورد خود بنے ہیں۔ کیونکہ انھوں نے بھی میری تقریریں پوری پوری درج نہیں کیں ذیل میں ان مضامین کی فہرست درج کی جاتی ہے جو غلام رسول قادیانی نے چھوڑ دیئے ہیں۔
- (١) میں نے اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کے جواب میں کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ بھی
تمام نمازوں میں ہر دن رات یہی سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے کیا وہ بھی نبوت مانگتے تھے کیا وہ نبی نہ تھے یا تحصیل حاصل تھی؟ جو کہ باطل ہے۔
- (٢) جب آپ نے لَا فَتٰی اِلَّا عَلِی شعر پڑھا تھا تو میں نے کہا تھا کہ یہ شرائط مسلمہ
فریقین کی دفعہ ٣ کے برخلاف ہے جس میں قرار پایا تھا کہ قرآن اور حدیث کے سوا کچھ اور نہ پیش کیا جائے مگر غلام رسول قادیانی نے شرائط مباحثہ کو بھی درج نہ کیا۔
- (٣) میں نے کہا تھا کہ اگر سورۂ فاتحہ میں دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا ہم کو نبی بنا اور
١٣ سو برس میں کوئی نبی نہ ہوا تو جس مذہب میں کروڑوں بندگانِ خدا کی دعا قبول نہ ہو وہ مذہب ردی ہے۔ یا آپ بتائیں کہ ١٣ سو برس میں کون سچا نبی ہوا؟
- (٤) یہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے کہ امت موسوی میں تو ہزاروں نبی ہوں
اور امت محمدی ﷺ میں صرف ایک ہی نبی ہو۔
- (٥) آپ نے خلاف شرائط مباحثہ مرزا قادیانی کے اشعار پڑھنے شروع کیے تو روکا گیا۔
- (٦) میں نے (بحوالہ حمامۃ البشریٰ ص ٢٠ خزائن ج ٧ ص ٢٠٠) مرزا قادیانی تشریح لَا نَبِیَّ
بَعْدِیْ جس میں مرزا قادیانی نے صاف صاف لکھا ہے کہ ”خدا نے ہمارے نبی ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے“ جس سے ثابت ہو گیا تھا کہ کسی قسم کا نبی بعد محمد ﷺ کے نہ ہوگا۔“
- (٧) آپ نے جو جواب دیا تھا کہ ایک اعلیٰ عہدہ پر پہنچنے سے پہلے کی مرزا قادیانی کی یہ
تحریر ہے۔
- (٨) میرا جواب کہ اگر نبی تھے تو پھر مجدد و مہدی و مریم ہونے کے کیوں مدعی تھے؟
پٹواری سے اگر کوئی ترقی کر کے لاٹ صاحب ہو جائے تو لاٹ صاحب ہونے کی حالت
٩
میں اپنے آپ کو پٹواری نہیں کہہ سکتا۔
- (٩) آپ نے محل نبوت کی تمثیل کے جواب میں جو جواب دیا تھا کہ ایک اینٹ عیسیٰ ؑ کی
کھینچی جائے تو اوپر کی سب اینٹیں گر پڑیں گی اور میں نے جواب دیا تھا کہ محل نبوت گارے اور اینٹوں کا نہیں یہ استعارہ ہے جس پر صدائے آفریں بلند ہوئی اور آپ پر حاضرین نے ہنسی اڑا کر جہالت کا سرٹیفکیٹ دیا۔
- (١٠) میں نے حضرت شیخ پیر عبدالقادر جیلانیؒ کا کشف بیان کر کے مرزا قادیانی کا غلطی
پر ہونا ثابت کیا تھا۔
کیوں جی غلام رسول قادیانی آپ نے ان میں اور اسی قسم کی اور بیسیوں باتوں کا کیوں ذکر نہیں کیا؟ اب مجھے بھی حق تھا کہ آپ کی گت بناؤں۔ مگر میں معاف کرتا ہوں تا کہ اصل بحث دور نہ جا پڑے ورنہ میرے بھی منہ میں زبان ہے اور ہاتھ میں قلم۔ اب میں اصل بحث کی طرف آتا ہوں اور آپ کے اعتراضات کے جواب دیتا ہوں۔
چونکہ آپ نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ میں پہلے دلائل امکان نبی بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے لکھوں گا اور پھر آپ نے وہ نہ لکھے اور پھر کہا کہ تم پہلے لکھو میں جواب میں اپنے دلائل لکھوں گا۔ اس واسطے میں نے تمام تقریریں آپ کی نہ لکھیں کیونکہ آپ نے خود لکھنے کا وعدہ کیا تھا جیسا کہ آپ نے لکھی ہیں۔ اب اس میں میرا کیا قصور کہ آپ نے میری اس قدر ہتک کی اور سخت کلامی اور سخت الفاظی سے میرا دل دُکھایا۔
اب آپ کے جوابوں کے جواب الجواب عرض کرتا ہوں۔
پہلی آیت: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ (احزاب ٤٠) کے جواب میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے خارج از بحث ہے۔ آپ نے میرے استدلال کو درج نہیں فرمایا اور اپنی طرف سے طول طویل عبارت لکھ کر جواب سمجھ لیا ہے اگر میں ایسا کرتا تو آپ اس کا نام بددیانتی رکھتے۔ لہٰذا میں پھر اپنا استدلال لکھتا ہوں اور صحیح جواب طلب کرتا ہوں (دیکھو ص ٨ رسالہ تائید الاسلام ماہ ستمبر ١٩٢١ء) یہ آیت لکھ کر بعد ترجمہ میں نے لکھا تھا کہ یہ آیت قطعی نص ہے کہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کوئی نبی پیدا نہ ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے بیٹے کا نہ ہونا دلیل و علت گردانا ہے خاتم النبیین ﷺ کا یعنی محمد ﷺ جو کسی مرد کا باپ نہیں اس کی علت غائی یہ ہے کہ سلسلہ نبوت اس کی ذات پاک پر ختم ہے اگر بیٹا ہوتا تو وہ بھی نبی ہوتا۔ تب آپ خاتم النبیین نہ رہتے اس واسطے خدا تعالیٰ نے بیٹے کو زندہ نہ رکھا تا کہ سلسلہ نبوت ختم ہو جائے۔‘‘ آپ
١٠
نے اصل استدلال کا تو جواب نہ دیا اور نہ حسب شرط قرآن کی آیت اور حدیث پیش کی۔ جس کے یہ معنی ہوتے کہ سلسلہ نبوت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم نہیں ہوا اور ہمیشہ کے لیے جاری ہے البتہ اپنے قیاس اور رائے سے جواب دیا ہے جو کہ قابل قبول نہیں کیونکہ جب شرط ہو چکی ہے کہ فریقین قرآن اور حدیث سے جواب دیں گے اور قرآن و حدیث کے معانی میں اگر اختلاف ہو گا تو سلف صالحین کے معانی مقبول فریقین ہوں گے۔ لہٰذا میں خاتم النبیین کے معنی جو حضرت ابن عباسؓ نے کیے ہیں لکھتا ہوں تاکہ آپ کی تسلی ہو جائے کہ آپ غلطی پر ہیں۔ قال ابن عباس یرید لو لم اختم بہ النبیین لجعلت لہ ابنا یکون بعدہ نبیا و عنہ قال ان اللہ لما حکم ان لا نبی بعدہ لم یعطہ ولدا ذکرا یصیر رجلا (و کان اللہ بکل شیئ علیما) ای دخل فی علمہ انہ لا نبی بعدہ و ان قلت قد صح ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل فی اخر الزمان بعدہ و ھو نبی قلت ان عیسیٰ علیہ السلام ممن نبی قبلہ و حین ینزل فی آخر الزمان ینزل عاملا بشریعۃ محمد ﷺ و مصلیا الی قبلتہ کانہ بعض امتہ۔
(دیکھو تفسیر خازن ص ٢١٨ جلد ٥ زیر آیت خاتم النبیین)
غلام رسول قادیانی! یہ حضرت ابن عباسؓ وہی ہیں جن کی مرزا قادیانی نے تعریف کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں قرآن فہمی کی دعا کی تھی۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٤٧ خزائن ج ٣ ص ٢٢٥) حضرت ابن عباسؓ نے آپ کے تمام دلائل کا جواب دے دیا ہے اور تردید کر دی ہے کیونکہ اصالۃً نزول حضرت عیسیٰؑ کا ثابت ہے جس سے حیات مسیح بھی ثابت ہوئی کیونکہ فوت شدہ اس دنیا میں دوبارہ نہیں آتے۔ اب ابن عباسؓ کا فیصلہ حسب شرط قبول کرو۔ اب میں آپ کے دلائل اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کر کے جواب حضرت ابن عباسؓ کے فیصلہ سے دوں گا۔
آپ نے زیدؓ اور اس کی بیوی مطلقہ کا قصہ جو شان نزول ہے لکھ کر جو لکھا ہے کہ حضرت ﷺ کا نکاح اس مطلقہ سے کرنا موجب طعن و تشنیع نہیں کیونکہ زید حضور ﷺ کا صلبی بیٹا نہ تھا۔ درست ہے..... مگر یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ ہونے کی حیثیت سے آنحضرت ﷺ کا روحانی باپ ہونا اور اس کے بعد فقرہ خاتم النبیین سے آنحضرت ﷺ کی روحانی ابوت کے سلسلہ کو قیامت تک کے زمانہ تک وسیع اور لمبا کر دیا کیونکہ پہلے نبیوں کے متعلق تو یہ بات تھی کہ جب پہلے نبی اور رسول کے بعد دوسرا نبی و رسول آتا تو پہلے نبی کی ابوت کا سلسلہ ختم ہو جاتا لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی
١١
مستقل اور آپ ﷺ کی شریعت کے ناسخ رسول نے قیامت تک نہیں آنا اب جو نبی بھی آپ کے بعد آئے گا باپ ہو کر نہیں آئے گا۔ ہاں آپ ﷺ کے روحانی فرزندوں سے یعنی آپ ﷺ کی امت کے افراد میں سے آئے گا۔“ (مباحثہ لاہور ص ١٧۔١٦) بالکل غلط ہے اور من گھڑت تفسیر بالرائے ہے جو کہ شریعت اسلامی کی رو سے ناجائز ہے۔ غلط ہونے کی وجوہات یہ ہیں۔
- (اوّل)......قصہ جو شان نزول ہے وہ جسمانی تنازعہ ظاہر کرتا ہے اور آپ نے بھی قبول
کیا ہے کہ زیدؓ آنحضرت ﷺ کا صلبی و جسمانی بیٹا نہ تھا۔ جب صلبی اور جسمانی بیٹے کی بحث ہے تو روحانی بیٹے کا ڈھکوسلا غلط ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سخت ہتک ہے کہ پہلے رسولوں کو خدا نے بیٹے دیئے اور وہ رسول و نبی ہوئے اور آنحضرت ﷺ کو خدا نے بیٹا نہ دیا اور نہ اس کو رسول بننے دیا۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بیٹے کا زندہ نہ رہنا رسولوں کے سلسلہ کے ختم ہونے کی وجہ سے نہیں تو پھر (نعوذ باللہ) آنحضرت ﷺ سب رسولوں سے ادنیٰ درجہ کے ہوئے اور افضل الرسل نہ رہے نہ خاتم النبیین ہونے کی فضیلت آپ کو ملی جس کے باعث آپ کا بیٹا زندہ نہ رہا۔
- (دوم)......اگر روحانی بیٹا زیر بحث فرض کیا جائے تو یہ بھی غلط ہے کہ پھر ہر ایک نبی کی
امت اس کی روحانی اولاد ہے۔ حضور ﷺ کی کچھ خصوصیت و فضیلت نہیں اور فقرہ خاتم النبیین مہمل و بے معنی ہوگا۔
- (سوم)......چونکہ زیدؓ بھی مسلمان تھے اور آنحضرت ﷺ کے روحانی بیٹے تھے اس لیے
خدا کے کلام میں کذب وارد ہوتا ہے جو فرماتا ہے کہ محمد کسی مرد کا باپ نہیں حالانکہ ہزاروں بیٹے روحانی موجود تھے اور محمد ﷺ ان کا روحانی باپ تھا اور زیدؓ بھی ان میں شامل تھا۔
- (چہارم)......روحانی بیٹے تو حضور ﷺ کے ہزاروں لاکھوں موجود تھے جس وقت یہ آیت
نازل ہوئی تھی۔ پھر خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ محمد ﷺ کسی مرد کا باپ نہیں دروغ ثابت ہوتا ہے۔
- (پنجم)......زیدؓ کی مطلقہ سے جو حضور ﷺ نے نکاح کیا تو بقول آپ کے روحانی بیٹی تھی
اور بیٹی سے نکاح حرام ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ روحانی بیٹے اور روحانی اولاد کا ڈھکوسلا غلط ہے۔
آپ کا یہ لکھنا بھی غلط ہے کہ ”خاتم النبیین ہونے سے آنحضرت ﷺ کی ابوت کا سلسلہ دنیا کے آخر تک قائم رہا۔ (مباحثہ لاہور ص ١٧) کیونکہ ابوت جسمانی ہے جس کی تائید حدیث کرتی ہے کہ لَوْعَاشَ ابراھیم لکان صدیقاً نبیا یعنی اگر میرا بیٹا
١٢
ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔ (ابن ماجہ ص ١٠٨ باب ماجاء فی الصلوٰۃ ابن رسول اللہ و ذکر وفاتہ) جب حضور ﷺ نے خود فیصلہ فرما دیا کہ جسمانی بیٹا مراد ہے تو آپ کے روحانی بیٹے کے معنی غلط ہوئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے مقابل آپ کے من گھڑت معنی کچھ وقعت نہیں رکھتے۔
آپ کا یہ لکھنا بھی غلط ہے کہ ”اب جو نبی بھی آپ ﷺ کے بعد آئے گا باپ ہو کر نہیں آئے گا۔“ (مباحثہ لاہور ص ١٧) کیونکہ جب باب نزول جبرائیلؑ جو نبی بنانے والا ہے مسدود ہے تو پھر افراد امت سے جدید نبی کا ہونا باطل ہے اور حدیث لا نبی بعدی کے صریح خلاف ہے۔
آپ کا یہ لکھنا بھی غلط ہے کہ حضرت ابراہیمؑ فرزند رسول ﷺ کے نبی ہونے کے لیے آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا روک نہیں تھا بلکہ اس کی وفات روک تھی۔“ یہ خوب دلیل ہے آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا روک نہیں تو پھر خدا نے زندہ کیوں نہ رکھا؟ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ حضرت خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ اس واسطے ابراہیم کو خدا نے زندہ نہ رکھا۔ اب بتاؤ آپ کے معنی کہ خاتم النبیین روک نہیں غلط ہوئے یا نہیں؟ کیونکہ آپ کی تردید حضرت ابن عباسؓ کر رہے ہیں افسوس آپ بلاسند بڑھ ہانک دیتے ہیں کوئی سند ہے تو پیش کرو کہ سلف صالحین میں سے کوئی آپ کے ساتھ ہے؟
آپ کا یہ لکھنا بھی غلط ہے کہ ”مسیح موعود کی نبوت مسلم کی حدیث سے ثابت ہے جس میں چار دفعہ نبی اللہ کا لفظ استعمال کر کے اسے نبی قرار دیا۔ (مباحثہ لاہور ص ١٧) کیونکہ یہ حدیث حضرت عیسیٰؑ کے اصالۃً نزول کی نسبت ہے مسیح موعود من گھڑت عہدہ ہے اس حدیث میں آپ نے مغالطہ دینا چاہا ہے۔ حدیث میں یہ فقرے ہیں۔ اول! و یحصر نبی اللہ عیسیٰ و اصحابہ۔ دوم! فیرغب نبی اللہ عیسیٰ و اصحابہ۔ سوم! یہبط نبی اللہ عیسیٰ و اصحابہ۔ چہارم! فیرغب نبی اللہ عیسیٰ و اصحابہ الی اللہ۔ (مسلم ج ٢ ص ٤٠١ عن نواس بن سمعان باب ذکر الدجال) اس حدیث میں چار جگہ نبی اللہ کا لفظ ہے اور چار ہی جگہ ساتھ ہی عیسیٰؑ کا نام درج ہے۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ عیسیٰؑ نبی ناصری آخری زمانہ میں آنے والا ہے اس لیے نبی اللہ اسی کو کہا گیا ہے یہ نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اللہ رسول اللہ نے فرمایا ہے۔ میں غلام رسول قادیانی کی تسلی کے واسطے دوسری حدیث جو اس حدیث کی تائید کرتی ہے اس کے
١٣
بھی دو تین فقرے درج کرتا ہوں۔ لیس بینی و بینه نبی و انه نازل. (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال) یعنی میں قریب تر ہوں عیسیٰ بیٹے مریم کے اور تحقیق کوئی نبی نہیں میرے اور اس کے درمیان اور بیشک وہی اترنے والا ہے۔ تیسری حدیث عن عبدالله بن عمرو قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الى الارض فيتزوج ویولد له ويمكث خمساً و اربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا و عيسىٰ ابن مريم فى قبر واحد بين ابی بکر و عمر. (رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفا مشکوٰۃ ص ٣٨٠ باب نزولِ عیسیٰ) ترجمہ روایت ہے عبداللہ بن عمروؓ سے کہ کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے، اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے طرف زمین کی پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کے لیے اولاد اور ٹھہریں گے اس میں پینتالیس برس پھر مریں گے عیسیٰ۔ پس دفن کیے جائیں گے بیچ مقبرے میرے کے۔ پس اٹھوں گا میں اور عیسیٰ علیہ السلام ایک قبر میں سے درمیان ابی بکرؓ وعمرؓ کے جو کہ اس مقبرہ میں مدفون ہیں نقل کی یہ حدیث ابن جوزی نے کتاب الوفا میں۔
غلام رسول قادیانی! اس حدیث سے جس کو مرزا قادیانی بھی مان گئے ہیں۔ (دیکھو ان کی کتاب نزول مسیح ص ٣ حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٣٨١) اس حدیث نے امور ذیل کا فیصلہ کر دیا ہے۔
- (اوّل)...... آنے والا جس کو مسیح موعود کہتے ہو عیسیٰ بیٹا مریم کا ہے نہ کہ غلام احمد ولد
غلام مرتضیٰ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی ابن مریم تھے یہ صریح نص قرآنی کے خلاف ہے۔ (ادعوهم لا بائهم هو اقسط عند الله سورۃ احزاب ٥) یعنی جس کا بیٹا ہو اسی کے نام پر پکارو کیونکہ یہ اللہ کے نزدیک انصاف کی بات ہے پس مرزا قادیانی کو ابن مریم کہنا سخت گناہ ہے۔
- (دوم)...... آسمان سے اترے گا زمین کی طرف جیسا کہ انجیل و قرآن سے ثابت ہے
کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوگا جس طرح مرزا قادیانی ہوئے۔
- (سوم)...... شادی کرے گا اور اس کے اولاد ہوگی مرزا قادیانی نے اگرچہ یتزوج و یولد
کو اپنے اوپر چسپاں کیا اور اس شادی کو اپنی منکوحہ آسمانی سمجھا مگر خدا تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی نہ نبی اللہ عیسیٰ تھے اور نہ مسیح موعود۔ کیونکہ باوجود بتیس برس کی کوشش کے موعودہ شادی ظہور میں نہ آئی۔
- (چہارم)...... حیاتِ عیسیٰؑ بھی ثابت ہوئی کیونکہ اگر حضرت عیسیٰؑ بھی دوسرے نبیوں کی
١٤
طرح فوت ہو جاتے تو رسول اللہ ثم یموت فیدفن معی نہ فرماتے۔
(پنجم)...... آنے والے حضرت عیسیٰ ابن مریم نبی ناصری ہیں جس کے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی۔ جب آنے والے کی خصوصیات اور تشخصات مرزا قادیانی میں نہیں ہیں تو پھر وہ نہ مسیح موعود ہیں اور نہ نبی اللہ اور نہ آپ کا کہنا درست ہے کہ مسلم کی حدیث میں مسیح موعود کو نبی اللہ کہا ہے نبی اللہ تو وہی عیسیٰ بن مریم ہے جس کے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ یعنی وہ نبی جو محمد ﷺ سے چھ سو برس پہلے تھا اور وہ ہی دوبارہ آنے والا ہے جیسا کہ انجیل و قرآن و حدیث سے ثابت ہے جس کو مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ دیکھو اصل عبارت مرزا قادیانی۔ ’’اور جب مسیح ؑ نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔ اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ٥٠٥ خزائن ج ١ ص ٦٠٢۔٦٠١ حاشیہ در حاشیہ)
یہ مرزا قادیانی کا لکھنا الہامی ہے اور مطابق اس حدیث کے فقرے ینزل الی الارض کے ہیں اور حضرت ابن عباسؓ کے مذہب کے مطابق ہے۔ جس کے متعلق لکھا ہے انه راجع الیکم قبل یوم القیامة (در منثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی حضرت عیسیٰؑ اس دنیا میں واپس آئیں گے حاکم عادل ہو کر غرض جس کو حضور ﷺ نے نبی اللہ فرمایا ہے وہ تو وہی نبی اللہ ہے جو مریم کا بیٹا مسیح ناصری ہے جس کو نبوت اور رسالت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے چھ سو برس پہلے مل چکی تھی۔ اُلٹی منطق کہ امت میں سے جو مسیح موعود ہو وہ نبی اللہ ہے۔ غلط ہے۔ اگر یہ آپ کی دلیل درست ہے تو بتاؤ کہ فارس بن یحییٰ جس نے مصر میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور ابراہیم بزلہ جس نے خراسان میں دعویٰ مسیح موعود ہونے کا کیا اور سندھ وغیرہ میں جو مدعیان مسیح موعود ہوئے سب نبی اللہ تھے؟ ہرگز نہیں۔ تو مرزا قادیانی مسیح موعود ہونے کے مدعی ہو کر کیونکر سچے نبی اللہ ہو سکتے ہیں؟ یہ الٹی منطق تو کسی زبان میں بھی جائز نہیں کہ مقرر کردہ خصوصیات و تشخصات ایک غیر شخص مدعی کو بعد دعویٰ حاصل ہوں ہزاروں مثالیں اس قسم کی ہیں کہ آنے والے کی صفات اس کے آنے سے پہلے اس میں ہوتی ہیں نہ کہ بعد میں آ کر وہ صفات اس میں آتی ہیں۔ اگر کہا جائے ڈاکٹر نبی بخش آنے والا ہے تو وہ پہلے سے ہی ڈاکٹر ہوگا۔ یہ نہیں کہ آ کر وہ ڈاکٹر بنے گا۔ ایسا ہی آنے والا نبی اللہ ہے جس کو نبوت محمد ﷺ سے چھ سو برس پہلے مل چکی ہے۔ جس کا قصہ قرآن میں ہے۔ آپ کا یہ لکھنا بھی غلط ہے کہ حدیث میں
١٥
امامکم منکم اپنی امت کے روحانی فرزندوں سے ظاہر کیا کیونکہ حدیث میں یہ ہرگز نہیں لکھا کہ آنے والا امت میں سے ہو گا۔ غلام رسول قادیانی! آپ کو تو فضیلت کا دعوٰی ہے مگر آپ نے حدیث کے کن کن الفاظ سے سمجھا ہے کہ آنے والا امت کے روحانی فرزندوں سے ہو گا؟ یا تحریف کر کے اپنا مطلب نکالنے کے لیے مسلمانوں کو دھوکا دیا ہے حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم و امامکم منکم (رواہ البیہقی فی کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤ باب قول اللہ یعیسٰی انی متوفیک) ترجمہ۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کیا حالت ہو گی تمہاری جب ابن مریم عیسیٰؑ تمھارے میں آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام بھی تم میں سے ہوگا۔ غلام رسول قادیانی! اگر آپ سچے ہوتے تو ساری حدیث نقل کرتے جس سے سارا قادیانی طلسم ٹوٹ جاتا۔ دیکھو ذیل کے دلائل۔
(اوّل)...... ابن مریم کے لیے لفظ ینزل فیکم فرمایا یعنی آسمان سے اترے گا تم میں۔
(دوم)...... امامکم کے لیے منکم فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ بن مریم تمھارے بیچ اترے گا اور امام تمھارے میں سے ہو گا۔ جس سے ثابت ہے کہ عیسیٰؑ اور امام مہدی دو شخص الگ الگ ہوں گے۔ واؤ جو عطف کی ہے ظاہر کر رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ واؤ تفسیری ہے جو شخص نازل ہو گا۔ وہی امام ہو گا، جو کہ بالکل غلط ہے کیونکہ ایک حدیث کی تشریح دوسری حدیث کرتی ہے۔ (عن جابر قال فینزل عیسی ابن مریم فیقول امیرھم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی البعض امراء تکرمة اللہ لہذالامة (رواہ مسلم مسند احمد ج ٣ ص ٣٨٤۔ ٣٨٥ واللفظ لہ) ترجمہ۔ روایت ہے جابرؓ سے کہا اس نے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے پس کہے گا امیر امت کا یعنی امام مہدی، عیسیٰؑ سے۔ آؤ نماز پڑھاؤ (کیونکہ تم نبی و رسول ہو) پس کہیں گے عیسیٰ اس امیر سے یعنی امام مہدی سے کہ نہیں میں امامت کراتا تمہاری بہ سبب بزرگ رکھنے خدا کے اس امت مکرمہ کو نقل کی یہ مسلم نے۔ غلام رسول قادیانی! ...... یہ بتائیں کہ اگر اترنے والا عیسیٰ اور امام مہدی الگ الگ وجود نہیں تو کس نے کہا کہ نماز پڑھاؤ اور کس نے کہا کہ نہیں؟ اس حدیث نے واؤ تفسیری کی بھی تردید کر دی ہے۔
(سوم)...... یہ بھی ثابت ہوا کہ آنے والا پہلے ہی سے نبی اللہ ہے جس کو امام مہدی جماعت کرانے کے واسطے کہیں گے تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ میں مہدی بھی ہوں۔ ایسا ہی غلط ہے جیسا کہ ان کا کرشن ہونا کیونکہ یہ کسی حدیث میں نہیں کہ کرشن
١٦
آخری زمانہ میں بروزی رنگ میں نازل ہو گا۔ آپ کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اگر ان کے نزدیک یعنی مسلمانوں کے آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے ہوتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والے مسیح کا نبی اللہ ہونا مستثنیٰ ہے تو جس طرح ایک استثناء کر کے ایک نبی کے آنے کے لیے گنجائش نکال لی ہے۔ کیوں اسی طرح ایک نبی کے لیے استثنا پیدا کرنا جائز نہیں، جس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ تو آیت خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے نازل ہونے سے چھ سو برس پہلے نبی و رسول ہو چکے تھے۔ دیکھو حضرت ابن عباسؓ نے اس کا جواب دے دیا ہے کہ اگر کہا جائے جیسا کہ حدیثوں میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جو آخر زمانہ میں نازل ہوں گے تو وہ نبی نہیں تو میں جواب دیتا ہوں کہ عیسیٰؑ پہلے سے نبی ہیں اور بعد نزول آخر زمانہ میں شریعت محمدی ﷺ پر عمل کریں گے اور اسی قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔ پس لا نبی بعدی میں کسی قسم کی استثنا نہیں۔
مناظر قادیانی! آپ کے مرشد تو فرماتے ہیں کہ خدا نے ہمارے نبی کریم ﷺ کو بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء قرار دیا ہے جب آپ کے مرشد نے استثنا کی تردید کی ہے تو آپ اپنے مرشد کے برخلاف کس طرح استثنا جائز قرار دے سکتے ہیں؟ مرزا قادیانی چونکہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے پیدا ہوئے۔ اس واسطے ان کے لیے کسی قسم کی استثنا کی گنجائش نہیں اور مسلمانوں کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ خواہ مخواہ ایک امتی کو نبی بنائیں اور استثنا کی تلاش کریں۔ آپ کا یہ لکھنا بھی من گھڑت ہے کہ ”مرزا قادیانی مسیح محمدی کا نبی ہونا بہ سبب روحانی فرزند ہونے کے آنحضرت ﷺ کی شان ختمیت کو دوبالا کرتا ہے۔ (مباحثہ لاہور ص ١٨ ملخص) کیونکہ اس میں سراسر حضرت خاتم النبیین ﷺ کی ہتک ہے کہ ایک ان کا غلام ان کے ہم مرتبہ بنایا جائے حضرت عیسیٰؑ کے آنے سے شاں ختمیت میں کچھ فرق نہیں آتا کیونکہ وہ پہلے نبی ہو چکے تھے اور بطور مقدمتہ الجیش کے تھے۔ جب حضرت خاتم النبیین ﷺ سب کے آخر تشریف لے آئے تو اب جدید نبی کا آنا بالکل ناممکن ہے کیونکہ اگر وہ بھی نبی ہو تو پھر خاتم الانبیاء وہ ہو گا۔ اور جو فضیلت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے وہ ان سے چھن جائے گی اور وہ مرزا قادیانی جدید نبی کو مل جائے گی۔ اس صورت میں افضل الرسل بھی مرزا قادیانی ہی ہوں گے۔ اور یہ باطل ہے کہ محمد ﷺ پر کسی امتی کو فضیلت ہو اور امتی شان فرزندی سے شان ابوت میں آئے۔ پس جس طرح جسمانی بیٹا کبھی باپ نہیں ہو سکتا اسی طرح روحانی بیٹا کبھی روحانی باپ نہیں ہو سکتا۔
١٧
آپ کا یہ لکھنا کہ ”پس خاتم النبیین کی آیت آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے کے لیے مانع ہو سکتی ہے تو وہ ایسے ہی نبیوں کے لیے جو آنحضرت ﷺ کی امت اور آپ کی روحانی اولاد سے نہ ہوں لیکن آپ کے روحانی فرزندوں کے لیے بوجوہ متذکرہ بالا مانع نہیں۔ (مباحثہ لاہور ص ١٨) یہ بھی غلط ہے کیونکہ روحانی فرزندوں کی نسبت آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ سیکون فی امتی ثلثون کذابون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی. (ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب لاتقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون) یعنی میری امت میں یعنی روحانی فرزندوں میں تیس جھوٹے ہوں گے جو کہ گمان کریں گے کہ وہ نبی اللہ ہیں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں کوئی نبی بعد میرے نہیں۔ اس حدیث نے فیصلہ کر دیا ہے کہ امتی محمد جس کا نام آپ نے روحانی اولاد رکھا ہے ان میں سے جو مدعی نبوت و رسالت ہو گا۔ جھوٹا دجال ہے اور تیرہ سو برس سے اسی پر اجماع امت چلا آیا ہے۔ ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں۔ ودعویٰ النبوۃ بعدنبینا محمدﷺ کفر بالاجماع. (شرح فقہ اکبر ص ٢٠٢) یعنی امام ابو حنیفہؒ کا فتویٰ ہے کہ بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے مدعی نبوت اجماع امت سے کافر ہے۔ اگر آپ کا ڈھکوسلا مان لیا جائے کہ روحانی فرزندوں کو نبوت مل سکتی ہے تو پہلا فرزند روحانی مسیلمہ کذاب تھا۔ دوسرا فرزند اسود عنسی تھا۔ جس کے متابعین بھی مرزا قادیانی سے زیادہ تھے کیونکہ اس نے حج بھی کیا تھا۔ تیسرا فرزند طلیحہ بن خویلد تھا۔ چوتھا۔ لا۔ یہ شخص ایسا روحانی فرزند تھا کہ علاوہ قرآن شریف کے حدیثوں کا ایسا پیرو تھا کہ حدیث لا نبی بعدی کی تعظیم کر کے اپنا نام ”لا“ رکھ دیا اور جس طرح مرزا قادیانی نے حدیثوں کا سہارا لے کر مسیح موعود بن کر مدعی نبوت ہوئے اسی طرح ”لا“ نے بھی امت محمدی میں رہ کر دعویٰ نبوت کیا۔ پانچواں روحانی فرزند مختار ثقفی تھا۔ یہ بھی کامل نبی ہونے کا مدعی نہ تھا۔ تابع محمد ﷺ مرزا قادیانی کی طرح نبی بھی تھا اور امتی بھی تھا۔ کہتا تھا کہ میں حضرت محمد ﷺ کا صرف مختار ہوں اور ان کی تابعداری سے نبوت ملی ہے۔ غرض اختصار کے طور پر صرف پانچ نام لکھے ہیں۔
غلام رسول قادیانی! فرمائیں کہ اگر امت کے روحانی فرزند بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے نبی ہو سکتے ہیں تو یہ مدعیان کیوں کاذب سمجھے گئے؟ اور خود حضرت خاتم النبیین ﷺ نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو کیوں کافر فرمایا؟ اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم صادر فرمایا اور صحابہ کرامؓ نے ان کو قتل کیا۔ اس میں تو بقول آپ کے شان ختمیت دوبالا ہوتی تھی۔ جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا حکم اور صحابہ کرامؓ کا عمل اسی پر ہے کہ جو شخص امت محمدی ﷺ میں سے مدعی نبوت ہو اس کو کافر سمجھو تو پھر بموجب
١٨
حدیث ما انا علیہ و اصحابی (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٢٣٠) کے مسلمان جو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کو کافر کہتے ہیں حق پر ہیں یا آپ اقرار کریں کہ سب مدعیان نبوت بعد حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کے مسیلمہ سے لے کر مرزا قادیانی تک سب کے سب سچے نبی اللہ تھے۔ مرزا قادیانی کے بعد ان کے مریدوں نے جو نبوت کا دعویٰ کیا ان کو کیوں کافر کہتے ہو؟ وہ بھی مرزا قادیانی کی شان بقول آپ کے دوبالا کرنے والے ہیں۔
آپ کا یہ لکھنا کہ ”کوئی مسیح محمدی بھی امت محمدی سے ہونے والا تھا۔ (مباحثہ لاہور ص ١٨) غلط ہے۔ ورنہ حدیث ہے تو پیش کرو سب حدیثوں میں ایک ہی شخص مسیح عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ مذکور ہے۔
دوسری آیت: الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی۔ (مائدہ ٣) یہ آیت پہلی آیت کی تائید میں ہے کیونکہ نبی و رسول ضرورت کے وقت آتا ہے اور ضرورت اس وقت ہوتی ہے جبکہ موجودہ مذہب اور دین میں کوئی نقص ہو۔ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت پڑے تو ثابت ہوگا کہ دین اسلام کامل نہیں اور یہ بھی ثابت ہوگا کہ نعمت نبوت بھی پوری نہیں ہوئی کیونکہ جدید نبی کچھ نہ کچھ ضرور لائے گا تو ثابت ہوگا کہ اس چیز کی کمی دین اسلام میں تھی جو جدید نبی لایا ہے کیونکہ جدید نبی کے آنے سے نہ دین کامل رہا اور نہ نعمت نبوت تمام ہوئی۔ انتہیٰ۔
جواب غلام رسول قادیانی راجیکی!
اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ تم لوگ مسیح اسرائیلی کے آنے کے منتظر ہو؟ وہ خدا کے نبی ہیں وہ تمھارے لیے خدمت اسلام کے لیے آئیں گے اور تبلیغ اسلام کریں گے۔ جب خاتم النبیین کے بعد ایک نبی کا آنا مانتے ہو اور ایسا نبی جو اسلام میں کمی بیشی نہ کرے تو ہم تمھیں یقین دلاتے ہیں کہ حضرت مرزا قادیانی کا نبی ہو کر آنا انھیں اغراض و مقاصد کے لیے ہے لاغیر تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسیح اسرائیلی کے آنے سے تو اکمال دین اور اتمام نعمت نبوت میں کچھ فرق نہ آئے اور مسیح محمدی کے آنے سے فرق آجائے۔“
(بطور اختصار مباحثہ ص ١٩)
جواب الجواب: آپ کا جواب کسی قرآن کی آیت سے نہیں اور نہ کسی حدیث سے متمسک ہے آپ نے تو خود مان لیا کہ اگر کوئی نبی بعد آنحضرت ﷺ کے آئے اور دین میں کمی بیشی کرے تو وہ سچا نبی نہیں۔ جب مرزا قادیانی نے دین میں کمی بیشی کی تو وہ
١٩
بقول آپ کے نبی اللہ نہ رہے۔ دیکھو ذیل میں کمی بیشی اسلام میں جو مرزا قادیانی نے کی ہے لکھتا ہوں۔
(اول)...... ابن اللہ کا مسئلہ جس کی تردید قرآن شریف میں ہے مرزا قادیانی کے الہاموں سے دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے دیکھو الہام مرزا قادیانی انت منی بمنزلۃ ولدی (حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) انت منی بمنزلۃ اولادی (اربعین نمبر ٣ ص ١٩ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) انعمت من مائنا وهم من قبل (اربعین نمبر ٣ ص ٣٣ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
(دوم)...... اوتار کا مسئلہ اہل ہنود کا، مرزا قادیانی نے اسلام میں داخل کیا اور خود کرشن جی کا جو ہندو مذہب کا راجہ تھا۔ اس کے اوتار بنے یعنی لکھتے ہیں کہ ”حقیقت روحانی کی رو سے میں کرشن جو ہندو تھا وہ ہوں ۔“ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨) پھر الہام مرزا قادیانی ”برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں ۔“ (حقیقتہ الوحی ص ٩٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٠١) یہاں مرزا قادیانی برہمن اوتار ہیں یعنی ہندو اور برہمن ہیں۔ غلام رسول قادیانی! بتائیں کہ مرزا قادیانی نے کون سے دین کی تبلیغ کی اسلام کی یا عیسائیت کی یا آریہ مذہب کی؟
(سوم)...... جہاد نفسی کو حرام کر دیا (درثمین اردو ص ١٩) اب آپ بتائیں کہ مرزا قادیانی نے جب قرآن میں کمی بیشی کی تو آپ کے اقرار سے نبی اللہ نہ ہوئے کیونکہ ایک آیت قرآن مجید کو منسوخ کر دیا۔
افسوس آپ کا اقرار تھا کہ قرآن و حدیث سے جواب دوں گا۔ مگر آپ نے کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی۔ جس کے معنی یہ ہوں کہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے جدید نبی پیدا ہو گا۔ سوائے نبی عیسیٰؑ کے آنے سے خاتم النبیین ﷺ کی مہر سلامت رہتی ہے کیونکہ وہ پہلے سے نبی ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباسؓ کا جواب پہلے عرض کیا گیا ہے۔
جواب۔ غلام رسول قادیانی
ایت الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی سے اکمال دین اور اتمام نعمت کا سلسلہ صرف قرن اوّل کے مسلمانوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اس کا دامن قیامت تک وسیع ہے اور مسیح کا آنا اسی غرض کی تکمیل کے لیے ہے۔ (مباحثہ لاہور ص ١٩)
جواب الجواب: اس جواب سے غلام رسول قادیانی نے خود کسی جدید نبی کا عدم امکان مان لیا۔ کیونکہ قیامت تک نعمت نبوت ختم ہونے کا سلسلہ وسیع ہے۔ جب قیامت تک آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اثر ہے تو جدید نبی کیوں آئے؟ کیونکہ دین اسلام کی تکمیل جدید نبی کے امکان کی مانع ہے۔
٢٠
تیسرا جواب غلام رسول قادیانی
یہ وہی جواب ہے جو ہر ایک مرزائی نے حفظ کیا ہوا ہے اور مرزا قادیانی کا گھڑنت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ” یہ آیت الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی امت میں امکان نبوت کے امکان اور تحقیق نبوت میں پیش ہو سکتی ہے نہ کہ خلاف اس کے۔ اس طرح کہ پہلے نبیوں کے وقت نہ یہ نعمت تمام ہوئی اور نہ اکمال دین ہوا اور نہ ان کی امتوں کو صدیقیت و شہیدیت و صالحیت کے سوا انعام ملتا تھا، مگر آنحضرت ﷺ کی اطاعت کے صلہ میں آپ کی امت کے لیے انعام علاوہ انعام صدیقیت‘ شہیدیت‘ صالحیت کے نبوت کا انعام زیادہ دینے سے ایک طرف اکمال دین فرمایا تو دوسری طرف اتمام نعمت بھی کر دیا۔“ (مباحثہ لاہور ص ١٩) یہ ہے خلاصہ غلام رسول قادیانی کے تیسرے جواب کا۔
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی کے جواب میں اوّل نقص! تو یہ ہے کہ یہ تفسیر بالرائے ہے کہ آپ اطاعت محمد ﷺ ذریعہ حصول نبوت گردانتے ہیں۔ حالانکہ اس کی کوئی سند پیش نہیں کی کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے نبوت مل سکتی ہے۔ جس آیت سے غلام رسول قادیانی نبوت کا امکان بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں بالکل غلط ہے۔ کیونکہ جب یہ مسلمہ اصول ہے کہ قرآن کی تفسیر کرنے میں قرآن کی دوسری آیتوں کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے تاکہ قرآن میں تعارض نہ ہو۔ کیونکہ جس کلام میں تعارض ہو وہ خدا کی کلام نہیں ہو سکتی۔ پس یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف خدا تعالیٰ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمائے اور دوسری طرف یہ فرمائے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے نبوت مل سکتی ہے تو یہ تعارض ہے حالانکہ آیت پیش کردہ غلام رسول قادیانی میں لکھا ہے کہ امت محمدی کے افراد نبیوں‘ صدیقوں‘ شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوں گے یہ نہیں لکھا کہ نبی ہو جائیں گے۔ مگر غلام رسول قادیانی و حَسُنَ اولئک رفیقا لکھتے تو اس آیت سے کبھی تمسک نہ کرتے ”مع“ کے معنی ”ساتھ“ کے ہیں نہ کہ ہم مرتبہ ہونے کے ان اللہ مع الصابرین یعنی اللہ صابروں کے ساتھ ہے تو کیا غلام رسول قادیانی کے نزدیک صابر ہونے والے خدائی مرتبہ کو پہنچ جاتے ہیں اور خدا کہلاتے ہیں؟ یا خدا من الصابرین بن جاتا ہے ہرگز نہیں۔ تو پھر مع النبیین سے نبی ہونا بھی باطل ہے ایک اعتراض غلام رسول قادیانی نے کیا ہے جو کہ ہر ایک مرزائی کیا کرتا ہے کہ جب امت محمدی میں صدیق شہید اور صالحین ہو سکتے ہیں تو
٢١
نبی کیوں نہ ہو؟ جس کا جواب یہ ہے کہ قرآن شریف نے صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین کا امت محمدی ﷺ کے انعامات میں اجازت دی ہے کہ امت میں صدیق و شہید و صالحین ہوں گے جیسا کہ آیات ذیل سے ثابت ہے دیکھو (١) والذين امنو بالله ورسله اولئك هم الصديقون والشهدا (الحدید ١٩) ترجمہ۔ اور جو لوگ یقین لائے اللہ پر اور سب اس کے رسولوں پر وہی ہیں سچے ایمان والے اور شہدا اپنے رب کے نزدیک۔ (٢) وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْ وَ عَمِلُو الصَّالِحَاتِ لندخلنهم فِی الصَّالِحِینَ. (عنکبوت ٩) مگر چونکہ نبی ہونا متعارض تھا۔ قرآن کی آیت خاتم النبیین کے، اس واسطے امت محمدی ﷺ میں نبی ہونے اور کہلانے کی اجازت نہ دی بلکہ خاتم النبیین فرما کے آئندہ کے لیے دروازہ نبوت بند فرما دیا۔ آپ کوئی آیت پیش کریں جس میں لکھا ہو کہ بعد حضرت محمد ﷺ کے نبی ہوں گے۔
دوسرا نقص! یہ ہے کہ اس آیت کی رو سے جس قدر امت محمدی ﷺ میں صدیق و شہید و صالحین ہوں گے اسی قدر نبی بھی ہونے چاہئیں مگر آپ تو صرف مرزا قادیانی کو نبی بتاتے ہیں۔
تیسرا نقص! یہ ہے کہ نبوت وہبی ہے اور اللہ تعالیٰ بغیر عوض اطاعت کے عنایت فرماتا ہے دیکھو آیت واللّٰہ یختص برحمتہ من یشاء (بقرہ ١٠٥) یعنی نبوت کی نعمت اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ سے دیتا ہے۔ نہ کسی نبی کی اطاعت سے۔ اگر اطاعت سے نبوت ملتی ہے تو جن کی مرزا قادیانی سے بڑھ کر اطاعت ہوگی وہ ہی نبی ہوں گے۔ پھر مرزا قادیانی کو کچھ نہ ملے گا کیونکہ مرزا قادیانی کی اطاعت ناقص ہے انھوں نے نہ جہاد نفسی کیا ہے، اور نہ حج کیا ہے، اور نہ ہجرت کی ہے، پس جسکی اطاعت میں تین نقص ہیں اس کے مقابل جس نے سب رکن دین ادا کیے یعنی جہاد نفسی بھی کیا، حج بھی کیا اور ہجرت بھی کی، وہ مرزا قادیانی سے زیادہ اہل ہیں نبوت کا لقب پانے کے۔ مگر جب صحابہ کرامؓ جن کی اطاعت اکمل تھی وہ نبی نہ ہوئے تو مرزا قادیانی کی کیا حقیقت ہے کہ نبی ہو سکیں؟
چوتھا نقص! یہ ہے کہ آیت کے پہلے من يطع الله ہے یعنی من عام ہے اگر آپ کے معنی درست تسلیم کیے جائیں تو جس قدر امت محمدی ہے اور جو جو اطاعت کرتا ہے نبی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امتی کوئی نہ ہو گا سب نبی ہوں گے۔
اعتراض غلام رسول قادیانی
یہ جو کہا جاتا ہے کہ مع کے معنی ساتھ کے ہیں اور صرف معیت نصیب ہوگی نہ
٢٢
کہ نبوت تو پھر النبیین کے بعد تینوں معطوف یعنی والصدیقین والشہداء والصالحین بھی اپنے معطوف علیہ کے حکم میں ہوں گے یا شہدا و صدیقین و الصالحین کو بھی صرف معیت ہو گی نہ کہ اصل درجہ ملے گا اور توفنا مع الابرار کے معنی بھی معیت ہو گی۔ نہ اصلیت۔
(خلاصہ مباحثہ لاہور ص ٢٠،٢١)
اس کا جواب: ہو چکا ہے کہ نبوت کا عہدہ ملنے کی قرآن میں اجازت نہیں اور شہدا اور صدیقوں اور صالحین کے عہدے ملنے کی اجازت ہے جیسا کہ اوپر آیتیں نقل کی گئی ہیں اگر کسی آیت میں النبیین بھی لکھا ہے تو غلام رسول قادیانی بتائیں۔ غلام رسول قادیانی کا توفنا مع الابرار اس موقع پر پیش کرنا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ بحث عہدہ نبوت میں ہے نہ کہ ابرار میں، ابرار تو ایسا عام لفظ ہے کہ جس کا مستحق ہر ایک مسلمان ہے اور ظاہر ہے کہ نیک تو ہر ایک ہو سکتا ہے مگر نبی چونکہ خاتم النبیین کے متعارض ہے اس واسطے کوئی نہیں ہو سکتا۔
مسلمانوں کے ایک اعتراض کا جواب غلام رسول قادیانی کی طرف سے، یہ جو کہا جاتا ہے کہ اگر بعد حضرت خاتم النبیین کے کوئی نبی بن سکتا ہے تو تیرہ سو سال میں کون کون نبی ہوا اور دعائے سورہ فاتحہ اھدنا الصراط المستقیم میں اگر نبوت کے واسطے دعا سکھلائی گئی ہے تو سب کی دعا کیوں قبول نہ ہوئی اور کیوں نبی نہ بنائے گئے۔
اس کا جواب غلام رسول قادیانی نے یہ دیا ہے کہ انعام نبوت و انعام سلطنت یہ دونوں قسموں کے انعام شخصی انعام نہیں ہوتے اور ایسی طویل عبارت لکھی ہے کہ المعانی فی بطن الشاعر کا مصداق ہے۔ پس آپ کی طویل بیانی اور خارج از بحث باتوں کا کچھ فائدہ نہ ہوا اور کولہو کے بیل کی طرح جہاں سے روانہ ہوئے وہیں آ کھڑے ہوئے ”چو گا ؤیکہ عصار چشمش بہ بست“ کے مصداق ہوئے۔ اب ہم چیدہ چیدہ فقروں کے جواب دیتے ہیں جو ان کے گلِ سبد ہیں اور مایہ ناز اس طویل عبارت میں ہیں۔
فقرہ اوّل: ”انعامِ نبوت شخصی انعام نہیں قومی انعام ہوتے ہیں۔“
(مباحثہ لاہور ص ٢١)
جواب: اگر قومی انعام ہیں تو پھر تمام مسلمان اس انعام کے مستحق ہوئے، آپ نے بجائے تردید کے الٹا ثابت کر دیا کہ کل افرادِ امت یعنی قوم مسلمانان اس انعامِ نبوت کے مستحق ہیں حالانکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ صرف مرزا قادیانی ہی نے یہ انعام پایا اور نبی ہوئے۔
٢٣
دوسرا فقرہ: سورہ مائدہ میں اللہ فرماتا ہے اذا قال موسٰی لقومہ یا قوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذا جعل فیکم انبیاء و جعلکم ملوکا۔ دیکھو اس آیت میں حضرت موسیٰ ؑ قوم کو مخاطب کر کے نبوت اور سلطنت کو قومی انعام بتا رہے ہیں۔
(مباحثہ لاہور ص ٢١)
جواب: یہ ہے اگر نبوت و سلطنت قومی انعام ہے تو مرزا قادیانی کی سلطنت بتاؤ؟ ورنہ ان کو ان لوگوں میں سمجھو جو غیر منعم علیہ ہیں۔
تیسرا فقرہ: جب قومی انعام ہے تو اس امت کو ضرور ملنے کا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ اور حدیث کیف تھلک امۃ انا فی اولھا والمسیح ابن مریم فی آخرھا اسی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے مسیح موعود تک درمیان میں کوئی نبی آنے والا نہیں۔‘‘
(مباحثہ لاہور ص ٢٢)
جواب: یہ ہے کہ اپنے اس استدلال سے آپ خود مان گئے کہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کوئی نبی نہ پیدا ہو گا، صرف مسیح موعود آئے گا۔ اب بحث اصل بحث سے منتقل ہو گئی کہ اگر مرزا قادیانی سچ مچ مسیح ہیں تو نبی اللہ ہیں اور اگر ان کا مسیح موعود ہونا ثابت نہ ہو تو پھر وہ نبی اللہ نہیں۔ الحمدللہ کہ آپ نے خود ہی ہمیشہ رسولوں اور نبیوں کے آنے کی تردید کر دی اب مطلع صاف ہے اگر مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم نبی ناصری نہیں تو آپ کے اقرار سے نبی اللہ بھی نہیں۔ اس کا فیصلہ قرآن شریف کی ایک آیت اور رسول اللہ کی ایک حدیث کرتی ہے جو کہ انجیل کے مضمون رفع نزول عیسیٰ ؑ کی تصدیق میں ہیں۔ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر ویضع الجزیہ و یفیض المال حتی لایقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیراً من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابو ھریرۃ فاقروا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ. (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عیسیٰ بن مریم) ترجمہ۔ ”روایت ہے ابی ہریرہؓ سے کہ کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے قسم ہے اس خدا کی کہ بقائے جان میری اسی کے ہاتھ میں ہے، اتریں گے۔ تم میں عیسیٰ بیٹے مریم کے، درآنحالیکہ حاکم عادل ہوں گے پس توڑیں گے صلیب کو اور قتل کریں گے سور کو اور معاف کر دیں گے ٹیکس اور بخشیں گے مال، یہاں تک کہ نہ قبول کرے گا کوئی یہاں تک کہ ہو گا ایک سجدہ بہتر دنیا اور تمام چیزوں سے جو اس میں ہیں پھر حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ پڑھو۔ اگر چاہو۔ قرآن
٢٤
کی آیت کہ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ نہ ہو گا کوئی اہل کتاب مگر کہ ایمان لائے گا عیسیٰؑ پر عیسیٰؑ کے مرنے سے پہلے، روایت کیا اس کو بخاری اور مسلم نے۔‘‘ اس حدیث نے بالکل فیصلہ کر دیا ہے کہ مسیح موعود وہی مسیح ناصری ہے جس پر انجیل نازل ہوئی اور جس کا رفع آسمان پر ہوا اور قرب قیامت میں نزول زمین پر ہو گا جیسا کہ وہ جاتا ہوا فرما گیا ’’اور وہ یہ کہہ کر ان کے دیکھتے ہوئے اوپر اٹھایا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے ہوئے جب وے آسمان کی طرف تک رہے تھے دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس کھڑے تھے اور کہنے لگے کہ اے جلیلی مردو۔ تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہی یسوع جو تمھارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے اسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کی طرف جاتے دیکھا تھا پھر آئے گا۔‘‘
(اعمال باب ١ آیت ٩ تا ١١)
دوسری جگہ انجیل میں ہے۔ ’’اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آ کے کہا ہم سے کہو کہ یہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور زمانہ کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا۔ خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔‘‘ (متی باب ٢٤ آیت ٣ تا ٥) اس انجیل کے بیانات کی تصدیق قرآن شریف نے وما قتلوہ یقینا (نساء ١٥٧) بل رفعہ اللہ الیہ (نساء ١٥٨) انہ لعلم للساعۃ (زخرف ٦١) وان من اہل الکتاب الالیؤمنن بہ قبل موتہ۔ (نساء ١٥٩) سے فرما دی اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث نے صاف صاف حضرت مسیح ؑ کی صفات اور کام حدیثوں میں فرما دیئے کہ مگر چونکہ ایک اولوالعزم رسول کی پیشگوئی کے بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور جھوٹ کہیں گے کہ وہ مسیح ہیں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے اس واسطے آٹھ شخصوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ازاں جملہ فارس بن یحییٰ۔ ابو محمد خراسانی۔ ابراہیم بزلہ وغیرہ وغیرہ ہیں اور اب مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ جب مرزا قادیانی میں صفات مسیح نہیں اور نہ کام مسیح کے کیے تو جیسے پہلے وہ جھوٹے مسیح گزر چکے ہیں ویسے ہی یہ ہیں جب جھوٹے مسیح ہیں تو سچے نبی کبھی نہیں ہو سکتے۔ چونکہ بحث امکان نبوت بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے مسئلہ میں تھی اور غلام رسول قادیانی نے اپنی عادت کے موافق مسیح کی بحث چھیڑ دی۔ اس لیے مجھ کو بھی تعاقب کرنا پڑا اور ظاہر کرنا پڑا کہ مرزا قادیانی کی نبوت بنائے فاسد علی الفاسد ہے جو کہ اہل علم
٢٥
کے نزدیک باطل ہے کیونکہ مرزا قادیانی مسیح نہیں تو نبی اللہ بھی نہیں۔ اسی طرح غلام رسول قادیانی تقریری مباحثہ میں کج بحثی کرتے رہے اور مسیح موعود کی بحث بیچ لے آئے اور آخر جب مرزا قادیانی پر حملے ہوئے تو گھبرا گئے اور تحریری جواب کا وعدہ کیا کہ خاتم النبیین ﷺ پر بحث لکھوں گا۔ اب پھر ویسا ہی کیا۔ اس واسطے مجھ کو بھی جواب دینا پڑا۔
اب اصل بحث کی طرف پھر آتا ہوں۔
چوتھا فقرہ: غلام رسول قادیانی! مطابق حدیث نبوی جو صحیح بخاری میں کتاب التفسیر میں ہے اسی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ سے مسیح موعود تک درمیان میں کوئی نبی نہیں آنے والا جیسا کہ لیس بینی و بینہ نبی سے ظاہر ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٢٢)
جس کا جواب: یہ ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے لیس بینی وبینہ نبی فرمایا۔ مگر آپ لوگوں کے ہاتھ میں کیا آیا؟ یہ تو الٹا ثابت ہوا کہ آنے والا مسیح وہ ہے جس کے اور میرے درمیان نبی نہیں اور وہ نبی حضرت عیسیٰ نبی ناصری ہیں نہ کہ غلام احمد پنجابی قادیانی۔ مرزا غلام احمد قادیانی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے چھ سو برس پہلے اگر پیدا ہو چکا تھا تو کوئی ثبوت دو؟ ثبوت دیتے ہوئے مسئلہ تناسخ سے ڈرتے رہنا کہیں تناسخ ثابت نہ ہو جائے کہ وہی عیسیٰ نبی ناصری نبی اللہ آ کر قادیان میں پیدا ہوا تو تناسخ ثابت ہو گا۔
غلام رسول قادیانی! آپ کا اور ہمارا اقرار ہے کہ اگر تنازعہ ہو گا تو سلف صالحین کا فیصلہ منظور ہو گا۔ میں ایک حدیث جو اس حدیث کی شرح کرتی ہے لکھتا ہوں اور انصاف چاہتا ہوں اور وعدہ کی وفا کا بھی آپ سے خواہاں ہوں کہ پھر نہ بھولنا اور رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ منظور کرنا۔ عن ابی ھریرۃ ان النبی ﷺ قال الانبیاء اخوۃ العلات امھاتھم شتی و دینھم واحد وانی اولی الناس بعیسیٰ ابن مریم لانہ لم یکن بینی و بینہ نبی وانہ نازل الخ (رواہ و ابو داؤد مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦) ترجمہ یعنی ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمام نبی علاتی بھائیوں کی طرح ہیں فروعی احکام ان کے مختلف ہیں اور دین ان کا ایک ہے اور میں قریب تر ہوں عیسیٰ بن مریم کے اس لیے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہی آنے والا ہے روایت کی احمد و ابو داؤد نے۔
غلام رسول قادیانی! بتاؤ انہ کا ضمیر آپ کی تردید کر رہا ہے کہ مسیح موعود وہ نبی اللہ ہے جو سابقہ انبیاء میں سے نبی ہے جو سب سے آخر اور محمد ﷺ سے پہلے ہے۔ نہ
٢٦
کہ مرزا قادیانی جو تیرہ سو برس بعد میں پیدا ہوئے، جب مرزا قادیانی وہ نبی اللہ نہیں جو کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے چھ سو برس پہلے گزر چکے تو بتاؤ مسیح موعود کس طرح ہوئے؟
پانچواں فقرہ: ’’اور دعائے فاتحہ میں بھی قومی لحاظ رکھا ہے اور بجائے صیغہ واحد کے صیغہ جمع کا استعمال فرمایا ہے ...... امت محمدیہ کی مشترکہ دعا ساری امت کے لیے مفید ہو سکے اب اس صورت میں نبوت کا انعام اس امت کو ملنے کا ہے اور ضرور ملنے کا ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٢٢۔٢١)
جواب الجواب: جب انعام نبوت ساری قوم مانگتی ہے اور دعا کے قبول ہونے کا وعدہ بھی ساری قوم سے ہے اور صیغے بھی جمع کے استعمال ہوئے تو آپ کے اس جواب سے ثابت ہوا کہ تمام افراد امت کو ضرور نعمت نبوت ملنی چاہیے تو پھر مسلمانوں کا اعتراض بحال رہا کہ اگر بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے امت میں ان کی دعا کے مطابق تیرہ سو برس کے عرصہ میں کون کون نبی ہوا؟ اگر کوئی نہیں ہوا اور سچ یہی ہے کہ تیرہ سو برس کے عرصہ میں کوئی سچا نبی نہیں ہوا تو ثابت ہوا کہ آپ کا جواب غلط ہے کہ جمع کے صیغے استعمال ہوئے تو بہت سے نبی ہونے چاہیے تھے۔ مگر کوئی نہ ہوا تو ثابت ہوا کہ سب کی دعا رد ہوئی۔ جس سے ثابت ہوا کہ اسلام سچا مذہب نہیں کہ کروڑوں مسلمانوں نے نبوت مانگی اور کسی کو نہ ملی۔ بلکہ آپ کے اس جمع کے صیغے میں عورتیں بھی شامل ہیں جو سورۃ فاتحہ پڑھتی ہیں۔ ان میں سے بھی نبیہ ہونی چاہئیں۔ یا یہ تسلیم کریں کہ سورۃ فاتحہ میں یہ دعا نہیں کہ خدایا ہم کو نبی بنا۔ آپ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو یہی دعا ہر ایک نماز میں پڑھتے اور نبوت مانگتے تھے تو ثابت ہوا کہ وہ بھی نبی نہ تھے۔ غلام رسول قادیانی مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرتے کرتے حضرت خلاصہ موجودات محمد ﷺ کی نبوت کو بھی کھو بیٹھے (معاذ اللہ)۔
نایافتہ دم دو گوش گم کرد
کے مصداق بنے۔ غلام رسول قادیانی کو بعد میں ہوش آئی کہ یہ تو میں نے الٹا جواب دیا اور بہت سے نبیوں کا آنا تسلیم کر لیا کیونکہ جمع کے صیغے بہت افراد امت کی نبوت ثابت کرتے ہیں تو پہلو بدلا اور لکھتے ہیں ’’لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ کی رعایت کے ماتحت اور حدیث کیف تہلک امۃ انا فی اولھا
٢٧
والمسیح ابن مریم فی اخرها کے مطابق صرف مسیح موعود مرزا قادیانی کو ہی نبوت عطا ہوئی۔“
(ملخص مباحثہ لاہور ص ٢٢)
جس کا جواب : یہ ہے کہ یہ جواب آپ کے پہلے دلائل کی تردید کرتا ہے۔ جس میں آپ نے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ ﷺ کی متابعت سے نبوت ملی ہے۔ دوم حدیث جو آپ نے پیش کی ہے یہ بھی آپ کے مدعا کے برخلاف ہے۔ اگر چہ آپ نے حدیث کے آخری حصہ کو چھوڑ دیا ہے۔ پوری حدیث یوں ہے کیف تھلک امۃ انا فی اولھا والمھدی فی وسطھا (والمسیح اخرھا مشکوۃ ص ٥٨٣ باب ثواب ھذہ الامۃ) یعنی کیونکر ہلاک ہوگی وہ امت جس کے اول میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ اور وسط میں مہدی۔ یہ حدیث ہے جس سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کو اگر عیسیٰ فرض کریں تو ان کے پہلے وسط میں مہدی کوئی نہیں ہے اس لیے مرزا قادیانی نہ مسیح موعود تھے اور نہ نبی ہو سکتے تھے۔ دوم لکھا ہے کہ مسیح کے زمانے میں تمام دین ہلاک ہو جائیں گے اور دجال قتل ہو گا۔ مرزا قادیانی کے زمانے میں یہ بھی نہ ہوا۔ نہ مرزا قادیانی حاکم عادل ہوئے نہ انھوں نے جزیہ معاف کیا۔ پس جب مسیح موعود کے کام اور صفات مرزا قادیانی میں نہ تھے تو مسیح بھی نہ تھے اور جب مسیح نہ تھے تو نبی اللہ بھی نہ تھے۔
غلام رسول قادیانی! کا یہ کہنا کہ ”مسلمان کہلانے والوں کا یہ اعتراض کرنا کہ کیوں آنحضرت ﷺ کے بعد امت محمدیہ میں صرف مسیح موعود ہی نبی ہوا اور کیوں اس کے سوا بہت سے لوگ نبی نہ ہوئے۔ ایسے لوگوں کا اعتراض ہم پر نہیں...... قرآن حدیث پر ہے اور بالفاظ دیگر خدا پر ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٢٢)
جواب یہ ہے: مسلمانوں کا اعتراض نہ خدا پر ہے نہ رسول پر ہے۔ کیونکہ خدا اور رسول نے تو صاف صاف آنے والا عیسیٰ بیٹا مریم کا نبی اللہ جس کے اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں تھا۔ آنے والا فرمایا ہے۔ اعتراض اس پر ہے جو کہتا ہے کہ سلسلہ نبوت بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے جاری ہے اور متابعت خدا اور رسول اللہ ﷺ سے نبوت مل سکتی ہے۔
”اخیر میں غلام رسول قادیانی جواب دینے سے عاجز آ کر تمام مسلمانوں کو یہود صفت کہہ کر جواب دیتے ہیں کہ ”ہماری طرف سے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہم سے کیوں ایسا کہتے ہیں۔ جا کر خدا سے پوچھیں کہ کیوں اس نے ایسا کیا ۔“ (مباحثہ لاہور ص ٢٣) یعنی مرزا قادیانی کو صرف نبوت کا مرتبہ دیا اور دوسرے افراد امت کو ١٣ سو برس
٢٨
میں کسی ایک کو نہ دیا۔“ جواب! یہ ہے کہ جب مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت و مسیحیت کو نہیں مانتے اور آپ نبی کا امکان ہی ثابت کرنے سے عاجز ہیں۔ پس ہم خدا سے کیوں پوچھیں؟ دوم یہود صفت وہ ہے جس میں یہود کی صفتیں ہوں۔ پہلی صفت ...... یہود کی یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ کی نبوت کا انکار کرتے تھے۔ مرزا قادیانی نے بھی حضرت عیسیٰ کی نبوت کا انکار بدیں الفاظ میں کیا۔ ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“ (ضمیمہ انجام ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ حاشیہ) دوسری صفت ...... یہود کی یہ تھی۔ حضرت عیسیٰ کو گالیاں دیتے تھے۔ مرزا قادیانی نے گالیاں بھی دیں اور لکھا کہ ”مسیح کی تین دادیاں نانیاں زنا کار تھیں، شیطان کے پیچھے جانے والا شرابی حرام کی کمائی کا عطر ملوانے والا کنجریوں سے میل جول رکھنے والا۔“ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١) یہاں تک اختصار کی غرض سے تمام عبارات نقل نہیں ہو سکیں۔ تیسری صفت ...... یہود کی یہ تھی کہ مسیح کی وفات کے قائل تھے۔ مرزا قادیانی بھی وفات مسیح کے قائل ہیں اور ان کے مرید بھی۔ چوتھی صفت ...... یہود کی یہ تھی کہ کہتے تھے کہ ہم نے مسیح کو صلیب دی۔ مرزا قادیانی بھی اپنی کتابوں (ازالہ اوہام ص ٣٨ خزائن ج ٣ ص ٢٩٦ و راز حقیقت ص ١٥ حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ١٦٧) وغیرہ میں لکھتے ہیں کہ مسیح صلیب پر لٹکایا گیا۔ پانچویں صفت ...... یہود کی یہ تھی کہ تورات کی تحریف کر کے اپنے مطلب اور ہوائے نفس کے معنی کرتے تھے۔ مرزا قادیانی اور آپ کے مرید بھی بے محل آیات پیش کر کے ہوائے نفس کی تفسیر کر کے تفسیر بالرائے کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ بھی جس قدر آیات اور احادیث پیش کرتے ہیں کسی ایک سے امکان نبی بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ ثابت نہیں اور آپ بھی لا نبی بعدی اور آیت خاتم النبیین کی تفسیر و معانی ہوائے نفس سے کر کے امکان ایک جدید نبی کا ثابت کرنے کی یہودیانہ طریق پر بے سود کوشش کرتے ہیں اور صریح نصوص کا رد کرتے ہیں۔
آخر میں غلام رسول قادیانی نے ایک عجیب جواب دے کر اعتراض کیا ہے جس سے انھوں نے اپنی تمام کوشش کو خاک میں ملا دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ”اگر تم لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ امت محمدیہ میں صرف آج تک کیوں ایک ہی نبی ہوا۔ اسی طرح اعتراض ہو سکتا ہے کہ کیوں امت میں حضرت ابوبکر ہی صدیق ہوئے۔ کیوں عمرؓ اور عثمانؓ اور علیؓ اور سید عبدالقادرؒ ابوبکرؓ کی طرح صدیق نہ ہوئے۔ اسی طرح خلفائے اربعہ کو
٢٩
کیوں مجدد اور مہدی نہ بنایا گیا۔ پس جو جواب اس کا تم دے سکتے ہو۔ وہی ہماری طرف سے ہے۔“ (مباحثہ لاہور ص ٢٣)
جواب! یہ ہے کہ بحث عہدہ نبوت میں ہے نہ کہ عہدہ صدیقیت وغیرہ میں یہ قیاس مع الفارق ہے جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے۔ کجا بحث امکان نبی بعد از خاتم النبیین۔ پہلے یہ بتاؤ کہ بحث کس مسئلہ میں ہے؟ یہ ہمارا مفید مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کسی کو نہیں ملی اور آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا مانع رہا۔ جب صحابہ کرامؓ کو بسبب متابعت تامہ نبوت نہ ملی تو مرزا قادیانی جن کی متابعت بھی ناقص ہے۔ ان کو نبوت کا ملنا ناممکن ہے۔ اور یہی ہمارا مقصود تھا۔ باقی رہا آپ کا یہ سوال کہ تمام مسلمان صدیق وشہید وغیرہ وغیرہ کیوں نہ ہوئے۔ مسلمانوں کا اعتراض تو آپ پر یہ ہے کہ اگر متابعت رسول اللہ ﷺ سے نبوت ملتی ہے تو جو لوگ مرزا قادیانی سے بڑھ کر تابعدار تھے وہ کیوں نبی نہ ہوئے جبکہ نبی ہونے کے واسطے دعا بھی کرتے رہے اور خدا کا وعدہ بھی ہے کہ تم دعا کرو میں قبول کروں گا۔ آپ اس اعتراض کا جواب تو نہ دے سکے اور سوال پر اپنا سوال کر دیا کہ سب صدیق کیوں نہ ہوئے۔ یہ سوال اس وقت ہو سکتا تھا جبکہ مسلمانوں کا سوال یہ ہوتا کہ تمام مسلمان نبی کیوں نہ ہوئے؟ مسلمان تو کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کی مہر مانع ہے ورنہ موسیٰؑ کی امت میں سے جس قدر نبی ہوئے۔ اس سے زیادہ اس امت میں ہوتے کیونکہ یہ امت خیر الامم ہے۔ مسلمان تو خاتم النبیین کے بعد کسی جدید نبی کا آنا ہی جائز نہیں رکھتے آپ جو کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کے بعد جدید نبی آسکتے ہیں۔ آپ جواب دیں۔ صدیق وشہید وصالحین تو ہوئے۔ جیسے جیسے ان کے عمل تھے۔ ان کے مطابق عہدے پائے۔
گر فرق مراتب نکنی زندیقی
چونکہ نبوت و رسالت وہبی ہے اور متابعت سے کوئی نبی کبھی نہیں ہوا۔ اس واسطے امت محمدی میں سے بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہ ہوا، اور آپ کا کہنا غلط ہوا کہ متابعت رسول اللہ سے نبوت ملتی ہے۔ پس آپ جواب نہیں دے سکتے اور مسلمانوں کا اعتراض بحال رہا کہ اگر متابعت سے نبوت ملتی ہے تو امت میں سے تیرہ سو برس کے عرصہ میں کس قدر نبی ہوئے؟ تیسری آیت: وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (جمعہ ٣) کی آیت سے صاف ظاہر ہے
٣٠
کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کے لوگوں کے زمانہ کا یہی معلم اور مزکی ہے کتاب اور حکمت سکھانے والا ہے۔ اس کے بعد کوئی نبی و رسول نہ ہوگا۔ بفرض محال اگر کوئی جدید نبی بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے مانا جائے تو ذیل کے نقص وارد ہوں گے۔
اوّل...... دین اسلام اولین اور آخرین کے واسطے نہ ہوا کیونکہ آخرین کا نبی الگ آیا۔ دوم...... آنحضرت ﷺ آخرین کے مزکی نہ رہے اور جدید نبی کی وحی ذریعہ نجات ہو گی۔ سوم...... ثابت ہو گا کہ آنحضرت ﷺ کی قدسی طاقت محدود ہے کہ آخرین امت کے واسطے الگ نبی و رسول بھیجا۔ چہارم...... خدا تعالیٰ وعدہ خلاف ثابت ہو گا کہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین ﷺ فرما کر آخرین کے واسطے الگ نبی و رسول بھیجا۔ پنجم...... رحمت للعالمین ﷺ کے لقب سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ محروم ہوں گے۔ بلکہ ثابت ہو گا صرف اپنے عالم کے واسطے رحمت تھے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”میاں پیر بخش صاحب کے سب وجوہ پیش کردہ کا ماحصل یہ ہے کہ اگر آخرین کے لیے کوئی جدید نبی آ جائے تو نقائص مذکورہ لازم آتے ہیں۔ جس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ جدید سے تمہاری کیا مراد ہے۔ اگر آپ کی یہ مراد ہے کہ جدید نبی ناسخ شریعت محمدی اور اطاعت سے منحرف کرنے والا اور اس کا معلم کتاب اور حکمت ہونا رسول اللہ ﷺ کے معلم کتاب اور حکمت ہونے کے برخلاف ہو تو ایسے نبی کے ہم بھی قائل نہیں۔ نہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت پھر آپ لوگوں کو ہمارے متعلق ایسی شکایت کیوں؟
(مباحثہ لاہور ص ٢٤ ملخص)
جواب الجواب: افسوس غلام رسول قادیانی نے کسی جدید نبی کے پیدا ہونے کے امکان پر کوئی دلیل نہیں دی اور نہ ہمارے پانچ اعتراضوں کا جواب دیا ہے۔ ہاں کج بحثی کی جو عادت ہے اس کے مطابق دوسری بحث شروع کر دی ہے کہ ایسے نبی کو جو شریعت محمدی ﷺ کے برخلاف ہو تم نبی نہیں مانتے اور نہ ان کی جماعت مانتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ثابت کریں کہ مرزا قادیانی شریعت محمدی ﷺ کے برخلاف ہیں تاکہ معلوم ہو کہ غلام رسول قادیانی کا جواب بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے غلام رسول قادیانی! ذیل کے مسائل جو مرزا قادیانی نے بذریعہ اپنے الہامات اسلام میں درج کیے ہیں۔ شریعت محمدی میں کہاں جائز ہیں؟
٣١
اول اوتار کا مسئلہ
دیکھو الہام مرزا ”ہے کرشن رو در گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٤ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)
دوم ابن اللہ کا مسئلہ
دیکھو الہام مرزا ”انت منی بمنزلۃ ولدی ‘ (حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) انت منی بمنزلۃ اولادی.
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)
سوم تجسم خدا کا مسئلہ
دیکھو مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”انت منی وانا منک“ یعنی اے مرزا تو مجھ سے اور میں تجھ سے۔ جب مرزا قادیانی سے خدا پیدا ہوا تو خدا مجسم ہوا کیونکہ مرزا قادیانی خود مجسم تھے۔
چہارم حلول کا مسئلہ
یعنی مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا۔ دیکھو اصل عبارت ”خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب میرا حلم اور تلخی اور شیرین اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٣ و ٥٦٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
پنجم قرآن مجید کی آیات کو منسوخ کرنا
دیکھو قرآن مجید کی آیت کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ کو منسوخ کر دیا۔ منسوخ ہی نہیں بلکہ لکھتے ہیں کہ ”میں نے جہاد کو حرام کر دیا ہے۔“ (درثمین اردو ص ١٩) خاتم النبیین ﷺ کی آیت کو منسوخ کر کے نبیوں کا سلسلہ تیرہ سو برس کے بعد پھر جاری کر دیا اور خود مدعی نبوت ہوئے۔ غلام رسول قادیانی نے بالکل جھوٹ لکھ دیا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت ناسخ مسائل اسلام نہیں۔
جواب غلام رسول قادیانی
”تمھیں اسلام اور نبی اسلام کے موعود سے جو مسیح موعود اور نبی ہو کر آنے والا ہے اس سے بھی انکار ہے۔ جس کے انکار سے خدا کے رسول حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کا انکار بھی لازم آتا ہے اور یہی وہ سیرت یہود ہے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٢٥)
٣٢
جواب الجواب: یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا منکر وہ ہے جو غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کو مسیح موعود مانتا ہے کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے تو عیسیٰ ابن مریمؑ نبی ناصری جو کہ محمد ﷺ سے چھ سو برس پہلے ہو گزرا ہے۔ جس کا اصالتاً نزول حضور ﷺ نے فرمایا ہوا ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کو نعوذ باللہ سچا نہ سمجھ کر بجائے عیسیٰ بیٹے مریم کے غلام احمد قادیانی بیٹے غلام مرتضیٰ قادیانی کو مسیح موعود سمجھے وہ مکذب رسول اللہ مخبر صادق ﷺ ہے۔ اگر قیامت کو خدا تعالیٰ ہم مسلمانوں سے پوچھے گا کہ تم نے غلام احمد ابن غلام مرتضیٰ کو کیوں مسیح موعود نہیں مانا تو ہم کہیں گے کہ مخبر صادق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا جو کہ رسول صاحب کتاب انجیل تھا۔ آئے گا۔ مگر مدعی ہوا غلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضیٰ قادیانی۔ اس واسطے ہم نے مخبر صادق ﷺ کی پیروی کی اور غلام احمد قادیانی کو نہ مانا۔ مگر جب مرزائیوں سے خدا پوچھے گا کہ تم نے غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کو بجائے عیسیٰ ابن مریمؑ کے مسیح موعود کیوں مانا اور ہمارے رسول ﷺ کو کیوں جھٹلایا؟ تو پھر آپ لوگ کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔
جواب غلام رسول قادیانی
و آخرین منھم سے وہ لوگ مراد ہیں جو کہ فارسی النسل ہیں۔ (مباحثہ لاہور ص ٢٦)
جواب الجواب: مرزا قادیانی فارسی النسل نہ تھے۔ اور مغل چنگیز خان کی اولاد تھے۔ مغل کو جو مسیح موعود مانتا ہے صریح رسول اللہ ﷺ کا مخالف اور منکر ہے غلام رسول قادیانی کا نائب رسول اللہ ﷺ کا ڈھکوسلا بھی غلط ہے کیونکہ نائب اپنے افسر کی تردید نہیں کرتا اور مرزا قادیانی نے تردید کی ہے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تو فرمائیں کہ عیسیٰ بیٹا مریم کا آنے والا ہے اور نائب کہے کہ نہیں جی عیسیٰ تو مر چکا۔ نہ آپ ﷺ کو قرآن آتا ہے اور نہ آپ ﷺ کو حقیقت دجال و مسیح موعود معلوم ہے۔ آنے والا تو میں ہوں۔ بتاؤ یہ شخص نائب ہے یا مکذب و مخالف محمد رسول اللہ ﷺ ہے؟ غرض غلام رسول قادیانی نے امکان نبی بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کا کچھ جواب نہیں دیا۔
چوتھی آیت: ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ. (توبہ ٣٣) اس آیت کے رو سے آنحضرت ﷺ سے وعدہ ہے کہ آپ ﷺ دین اسلام کو سب ادیان باطلہ پر غالب کر دیں گے لیکن اگر کوئی آپ ﷺ کے بعد جدید نبی آئے تو پھر وہ اپنے دین کو غالب کرے گا۔ علیٰ الدین کلہ سے صاف ظاہر ہے کہ دین اسلام کے سوا کوئی دین ذریعہ نجات نہیں۔ جب دین اسلام ذریعہ نجات ہے تو پھر جدید نبی کا
٣٤
آنا باطل ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
اس کا جواب بھی وہی ہے جو آیت سوم کے جواب میں دیا گیا۔
(مباحثہ لاہور ص ٢٧)
جواب الجواب: آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پانچ وجوہ نقص میں سے جو کہ جدید نبی کے آنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔ جب اس آیت کا بھی ویسا ہی جواب ہے تو ثابت ہوا کہ آپ کے پاس جواب اس آیت کا بھی نہیں۔ غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا غلط ہے کہ چونکہ آنحضرتﷺ کے وقت اظہار علی الدین بوجہ عدم اسباب تکمیل اشاعت میسر نہ تھا اس لیے یہ صورت پورے طور پر مسیح موعود کے زمانہ میں ظہور پذیر ہو گی۔ شکر ہے کہ غلام رسول قادیانی نے خود ہی تفسیروں کا نام لے کر زد کے نیچے آگئے۔ اب ان کو تفسیروں کا لکھنا قبول کرنا پڑے گا کہ آخری زمانہ میں کون آنے والا ہے؟ (دیکھو تفسیر کبیر جلد ٨ ص ٦٩ ۔٧٠) بل رفعه الله اليه رفع عيسى الى السماء. یعنی حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھائے گئے۔ (دیکھو تفسیر ابن جریر ج ٦ ص ٢٢) ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ جب عیسیٰ آئے گا تو کل دین اس کے تابع ہو جائیں گے۔ (دیکھو تفسیر نواب صدیق حسن خان، تفسیر ترجمان القرآن) سب اس بات پر متفق ہیں کہ عیسیٰ نہیں مرے بلکہ آسمان پر اسی حیات دنیوی پر باقی ہیں۔ تو غلام رسول قادیانی نواب صدیق حسن خاں اور دیگر مفسرین جن کا نام آپ نے خود لیا ہے فرماتے ہیں کہ وہ ہی مسیح ناصری آخر زمانہ میں آنے والا ہے۔ مرزا قادیانی اقرار کر چکے ہیں کہ ”اگر حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پر زندہ جانا ثابت ہو جائے تو ہمارے سب دعوے جھوٹے۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی لکھی جاتی ہے تاکہ آپ کا عذر کوئی بھی باقی نہ رہے۔ ”اگر حضرت عیسیٰؑ درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور دلائل ہیچ ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ١٠٢ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٢٦٤) غلام رسول قادیانی! اب تفسیروں سے حیات مسیح ثابت ہے۔ پھر مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیح موعود جھوٹا ہے۔ جب وہ مسیح موعود نہیں تو نبی اللہ بھی نہیں۔ جب نبی اللہ نہیں تو پھر ثابت ہوا کہ غلبہ دین بھی حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ کے اصالتاً نزول کے بعد ہو گا۔“
جواب غلام رسول قادیانی
اگر حضرت مسیح موعود جو دین اسلام کے غلبہ کی غرض سے ہی مبعوث ہوئے
٣٤
والے ہیں۔ جب وہ خدمت اسلام اور اسلام کے غلبہ کے لیے ہی آنے والے ہیں اور نجات کا ذریعہ بھی اسلام کو قرار دینے والے ہیں تو پھر اس صورت میں ایسے نبی کا بعد آنحضرت ﷺ کے آنا کیوں کر قابل اعتراض ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٢٨)
جواب الجواب: مرزا قادیانی کے وقت بجائے غلبہ اسلام کے اور سب دینوں پر غالب آنے کے اسلام مغلوب ہوا اور مسلمان دینی اور دنیاوی برکات سے محروم کر دیئے گئے۔ حتیٰ کہ مقامات مقدسہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئے اور اسلامی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نابود کی گئی۔ خلافت اسلامی کو بے اختیار کیا گیا کہ اسلام کی حدود جاری نہ کر سکے۔ عیسائیت اور صلیب کو اس قدر غلبہ ہوا کہ لاکھوں مسلمان بے خانماں ہوئے۔ مسجدیں گرجے بنائے گئے اور عیسائیوں نے اس قدر ظلم و ستم و جبر و تعدی اہل اسلام پر روا رکھی کہ سن کر ہر ایک مسلمان کے بدن میں لرزہ آتا ہے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جنگ بلقان و یورپ میں دین اسلام کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر عیسائی ہو گئے۔ جو عیسائی نہ ہوئے ان کو تلوار کی گھاٹ اتارا گیا۔ یہ ہے سچے اور جھوٹے بناوٹی مسیح موعود میں فرق؟ اگر مرزا قادیانی سچے مسیح ہوتے تو جیسا کہ حدیثوں میں لکھا ہے کسر صلیب ہوتا اور اسلام کا غلبہ ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی کے قدم سے دنیا پر بجائے خیر و برکت کے بیماریاں آئیں۔ قحط اور وبائیں پڑیں اور حضرت مخبر صادق ﷺ کے فرمان کے برخلاف سب کچھ ہوا تو پھر جو مسلمان ایسے شخص کو مسیح موعود کہتا ہے۔ حضرت مخبر صادق محمد رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتا ہے اور اس کو نعوذ باللہ دروغ گو یقین کرتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ تو فرماتے ہیں کہ مسیح حاکم عادل ہو کر آئے گا اور آیا محکوم ہو کر ایسی ذلیل حالت میں کہ عیسائیوں اور آریوں کی عدالتوں میں بحیثیت ملزم مارا مارا پھرتا رہا پس یا تو مرزا قادیانی جھوٹے ہیں یا (نعوذ باللہ) حضرت مخبر صادق ﷺ نے سچی خبر نہیں دی؟ پس جو شخص مرزا قادیانی کو سچا مسیح موعود کہتا ہے اور اس کے ضمن میں نبی اللہ مانتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کو سچا نہیں مانتا۔ اعوذبک ربی۔
جواب غلام رسول قادیانی
مرزا قادیانی نے اسلام کو ذریعہ نجات قرار دیا ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٢٨)
جواب الجواب: یا تو غلام رسول قادیانی کو گھر کی خبر نہیں۔ یا جان بوجھ کر دھوکہ دینے کی غرض سے صریح جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں کہ اب میری وحی پر نجات ہے۔ دیکھو اصل عبارت مرزا قادیانی تاکہ کوئی مرزائی یا غلام رسول قادیانی انکار نہ
٣٥
کر سکیں۔ ’’اب خدا تعالیٰ نے میری وحی میری تعلیم اور میری بیعت کو مدار نجات ٹھہرایا ہے۔‘‘ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ) غلام رسول قادیانی! فرمائیں کہ مرزا قادیانی کی جب وحی ذریعہ نجات ہے تو محمد ﷺ کی وحی منسوخ ہے یا نہیں؟ اور قرآن شریف ناقابل عمل ہوا یا نہیں؟ شریعت محمدی ﷺ عیسائیوں کی طرح لعنت ہوئی یا نہیں؟ کیونکہ مرزا قادیانی کی بیعت سے نجات ملتی ہے جس طرح مسیح کے کفارہ پر نجات عیسائیوں کی ہے۔ پس یہ ناپاک جھوٹ ہے جو کہ غلام رسول قادیانی نے لکھا ہے.................... کہ مرزا قادیانی نے مدار نجات اسلام پر رکھا ہے۔ ’’جب مرزا قادیانی کی اپنی تعلیم ذریعہ نجات ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم تو ذریعہ نجات نہ رہی۔ غلام رسول قادیانی شاید یہ کہہ دیں کہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور مرزا قادیانی کی تعلیم ایک ہی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں کیونکہ محمد ﷺ کی تعلیم ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات پاک، اولاد اور بیوی بچوں سے پاک ہے۔ مگر مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ ’’بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے مگر وہ حیض نہیں بچہ بن گیا ہے اور ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٤٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١) پھر مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ اَوْلَادِیْ۔ (اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) پھر یہ الہام ہے۔ انت من مائنا وهم من فشل کہ اے مرزا تو ہمارے پانی یعنی نطفہ سے ہے (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) جب مرزا قادیانی کے حیض سے خدا کے بیٹے پیدا ہوتے ہیں تو مرزا قادیانی خدا کی بیوی ہوئے۔‘‘ اب غلام رسول قادیانی! مرزا قادیانی کا الہام انت منی بمنزلة اولادی۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١) ساتھ ملا کر بتائیں کہ خدا تعالیٰ نے جو اپنی اولاد کے ساتھ نکاح کیا اور اس سے بچے پیدا ہوئے جو بمنزلہ اطفال اللہ ہیں تو پھر مرزائی تعلیم، تعلیم محمد ﷺ کے کیونکر مطابق ہے؟ کیا محمد ﷺ کرشن بنا تھا اور برہمن اوتار بنا تھا۔ خدا کی بیوی بنا تھا؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر آپ کا یہ کہنا جھوٹ ہوا کہ مرزا قادیانی نائب محمد ﷺ ہیں اس واسطے آپ کی نبوت جائز ہے کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں ’’اور جو شخص حکم ہو کر آتا ہے اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٠ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٥١) اب غلام رسول قادیانی! بتائیں کہ ایسا شخص نائب ہے یا دشمن؟ آخر میں ہم غلام رسول قادیانی کی فرمائش کے مطابق ناظرین کو مرزا قادیانی کی کتابوں کی بھی سیر کراتے ہیں۔ یہ مضمون اس قدر طویل ہو سکتا ہے کہ کئی ٣٦
جلدیں لکھی جائیں مگر مختصر طور پر بطور نمونہ چند ایک نمونے لکھے جاتے ہیں۔
اوّل! خدا تعالیٰ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ کے بارہ میں لکھتے ہیں۔ ”حکیم مطلق نے میرے پر یہ راز سربستہ کھول دیا ہے کہ یہ تمام عالم معہ اپنے جمیع اجزا کے اس علت العلل کے کاموں اور ارادوں کی انجام دہی کے لیے سچ مچ اس اعضاء کی طرح واقع ہے جو خود بخود قائم نہیں بلکہ ہر وقت اس روح وجود اعظم سے قوت پاتا ہے۔ جیسے جسم کی تمام قوتیں جان کی طفیل سے ہوتی ہیں اور یہ عالم جو اس وجود اعظم کے لیے قائم مقام اعضاء کا ہے...... غرض یہ مجموعہ عالم خدا تعالیٰ کے لیے بطور ایک اندام واقعہ ہے۔“
(توضیح المرام ص ٧٤ خزائن ج ٣ ص ٨٩) غلام رسول قادیانی! فرمائیں کہ یہی آریوں کا مذہب ہے یا نہیں جو کہتے ہیں کہ یہ عالم تب سے ہے جب سے خدا ہے اور جب بقول مرزا قادیانی یہ عالم خدا کے اعضاء اور جسم کی طرح ہے تو خدا کے ساتھ ہمیشہ سے ہوئے۔ کیونکہ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کبھی اپنے جسم اندام اور اعضاء سے الگ رہے۔ پس جب سے خدا تب سے عالم۔ تو عالم حادث نہ رہا انادی ہوا۔ کیا قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بھی تعلیم ہے؟ قرآن شریف تو فرماتا ہے۔ خدا کی کوئی مثل نہیں۔ مگر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ، بیشمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوں کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔“ (توضیح المرام ص ٧٥ خزائن ج ٣ ص ٩٠)
غلام رسول قادیانی نے لکھا ہے کہ ”مرزا قادیانی کی کشتی نوح سے ان کی تعلیم دیکھو۔“
(مباحثہ لاہور ص ٢٨) اس لیے ہم مسلمانوں کو کشتی نوح مرزا قادیانی کی بھی سیر کراتے ہیں مگر پہلے غلام رسول قادیانی سے ہم یہ پوچھتے ہیں کہ حمل مرد کو ہوا کرتا ہے یا عورت کو؟
سنیئے مرزا قادیانی فلاسفی جھاڑتے ہیں اور ابن مریم کس طرح بنتے ہیں کہ نواب واجد علی شاہ مرحوم والیٔ لکھنؤ کی یاد تازی ہو جاتی ہے۔ مسلمانو! ہوش بجا کر لو اور اپنی طبیعت کو دوسرے خیالات سے خالی کر کے متوجہ ہو جاؤ اور قادیانی نبی کی کایا پلٹتی دیکھو کہ آپ لکھتے ہیں۔
”گو اس خدا نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں پرورش پاتا رہا پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور
٣٧
استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں ..... بذریعہ الہام مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔“ پھر اسی صفحہ کے اخیر لکھتے ہیں: ”پھر مریم کو جو مراد اس عاجز (یعنی مرزا قادیانی) سے ہے درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔“
(کشتی نوح ص ٤٧۔٤٦ خزائن ج ١٩ ص ٥١۔٥٠)
مرزا قادیانی کے اس بیان میں ایک کمی تھی جو ان کے ایک مرید نے پوری کر دی اور وہ کمی یہ تھی حمل نہیں ہوتا جب تک مرد عورت سے جماع نہ کرے۔ پس اس الہامی واستعاری حمل کی تکمیل اس طرح ایک مرزائی نے کی ہے۔ وہ لکھتا ہے:۔
”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی یہ حالت ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔ دیکھو
(ٹریکٹ موسومہ اسلامی قربانی نمبر ٣٤ ص ١٢ مؤلفہ قاضی یار محمد صاحب مرزائی بی۔ اے پلیڈر نور پور ضلع کانگڑہ)
غلام رسول قادیانی جواب دیں کہ یہ کارروائی خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے ساتھ حالت خواب یعنی کشف میں اسی مریمی حالت میں کی تھی اور عیسیٰ علیہ السلام کی روح پھونکی تھی یا کسی اور موقعہ پر؟ اور یہ بھی فرمائیں کہ وہ جو بار بار لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی تعلیم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے۔ کہاں تک دروغ بے فروغ ہے؟ کیونکہ کسی حدیث یا تاریخ سے ایسی گندی تعلیم رسول خدا ﷺ کی ثابت نہیں اور نہ کہیں ایسا کشف ہے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ نے کسی اپنی مخلوق پر طاقت رجولیت کا اظہار فرمایا۔
پانچویں آیت: وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ. (البقرہ ٤) یہ آیت قطعی فیصلہ کرتی ہے کہ کوئی جدید نبی بعد آنحضرت خاتم النبیین ﷺ کے پیدا نہ ہوگا۔ اگر کوئی جدید نبی بعد آنحضرت ﷺ کے پیدا ہونا ہوتا تو مِنْ قَبْلِکَ کی قید نہ لگائی جاتی یا پھر یوں فرمایا جاتا۔ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ مِنْ بَعْدِكَ. ہم دعوےٰ سے کہتے ہیں کہ الحمد سے والناس تک سارا قرآن مجید دیکھ جاؤ من بعدک کہیں نہیں پاؤ گے۔ سب جگہ مِن قَبلِک ہی لکھا ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”یہ ہے کہ من بعدک کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ بابو پیر بخش کے قول سے من بعدک کا فقرہ لانے کے واسطے مجبور نہیں بلکہ اگر وہ من بعدک کی جگہ اسی مطلب اور مفہوم کو فقرہ بالآخرۃ سے ادا کرنا چاہے تو وہ مختار ہے۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ مَا اُنْزِلَ مِنْ
٣٨
قَبْلِکَ کے بعد اس نے وبالاٰخرۃ کے فقرہ کو لا کر بتا دیا کہ جس طرح قبل والی وحی کے ساتھ ایمان لانا ضروری ہے۔ اسی طرح آخری وحی کے ساتھ ایمان اور ایقان لانا ضروری ہے۔ آپ غور کر کے دیکھ لیں کہ آیت وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ میں زمانہ حال اور ماضی اور مستقبل کا ذکر ہے۔ کہ الیک میں آنحضرت ﷺ کی وحی جو زمانہ حال کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور قبلک سے پہلے انبیاء کی وحی ہے جو زمانہ ماضی سے تعلق رکھتی ہے اور بالاخرۃ سے مسیح موعود کی وحی جو زمانہ مستقبل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور یہ وہم کہ الاٰخرۃ سے مراد قیامت ہے بلحاظ سیاق کلام کے درست نہیں۔ اس لیے کہ قیامت پر ایمان لانا کوئی خدا اور اس کے رسول سے بڑھ کر نہیں الخ۔“ (مباحثہ لاہور ص ٢٩)
جواب الجواب: یہ جواب غلام رسول قادیانی کا من گھڑت ہے۔ غلام رسول قادیانی نے باوجود دعویٰ فضیلت اور عربی دانی کے میاں محمود قادیانی کی تفسیر بالرائے کو پیش کر کے اپنی فضیلت پر بٹہ لگایا۔ قرآن شریف میں ٩٧ دفعہ یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور سوائے آخرت یعنی یوم القیامت اور روز جزا و سزا کے کہیں وحی مسیح موعود مراد نہیں لیے گئے۔ آپ جو وبالاخرۃ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ کے معنی وحی آخرت کرتے ہیں۔ بالکل غلط بلکہ اغلط ہیں کیونکہ آخرت کی (ت) تانیث کی ہے اور وحی مذکر ہے۔ غلام رسول قادیانی! آپ کس قاعدہ عربی سے وحی الٰہی کو مونث بتاتے ہیں اس کتاب کا حوالہ دیں جس میں لکھا ہو کہ وحی مونث ہے۔ دوم! سیاق و سباق یہ بتا رہا ہے کہ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ قرآن شریف سے دیکھو ابتدائی آیات ذَالِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ o ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ o الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ o وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ o اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ. (سورہ بقر ٢ تا ٥) کی ابتداء پہلے ذکر قرآن شریف فرمایا۔ دوم ...... اس کی تعریف کی ذلک الکتب لاریب فیہ. سوم ....... فرمایا کہ ہدایت ہے متقین کے واسطے چہارم ....... مومنین کی تعریف فرمائی کہ وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ پنجم ...... نمازیں پڑھتے ہیں۔ اور جو کچھ کہ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ لوگ ہیں جو قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں اور تیرے سے جو پہلی کتابیں ہیں ان پر ایمان لاتے ہیں۔ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ سے کتاب ہی مراد ہے جس کا ذکر ابتداء میں آچکا ہے۔ بار بار کتاب کتاب کہنا چونکہ غیر فصیح تھا اس لیے اس کا بدل بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ اور اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ سے کیا۔ جیسا کہ ضمیر قائم مقام مرجع کے ہوتا
٣٩
ہے۔ ایسا ہی بما انزل الیک بدل ہے مبدل منہ کا جو کہ کتاب ہے جس کی تعریف ہے لاریب فیہ آخر آیت تک، غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا کہ بالآخرۃ سے آخر کی وحی مرزا قادیانی ہے بوجوہ ذیل غلط ہے اوّل...... چونکہ مرزا قادیانی کوئی کتاب نہیں لائے اور بقول آپ کے غیر تشریعی نبی ہیں اور مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں:۔ مصرعہ۔ من نیستم رسول نیا وردہ ام کتاب (درثمین فارسی ص ٨٢) تو اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی وحی بما انزل الیک وما انزل من قبلک میں شامل نہیں جب مرزا قادیانی کی وحی بما انزل الیک وما انزل من قبلک میں شامل نہیں تو پھر بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ مرزا قادیانی کی وحی، وحی آخرت ہے ۔ کیونکہ میاں محمود قادیانی اور آپ بھی مانتے ہیں کہ مرزا قادیانی نہ کوئی کتاب لائے اور نہ کوئی الگ ہدایت یعنی شریعت لائے ہیں۔ صرف ظلی و بروزی غیر مستقل و غیر تشریعی نبی بنے۔ بقول آپ کے۔ دوم...... جب متقدمین مفسرین جو کہ بعض صحابی اور بعض تابعین اور بعض تبع تابعین سے کسی ایک نے بھی بالاخرۃ ھم یوقنون کے یہ معنی نہیں کیے کہ آخری وحی مسیح موعود ہو گی۔ جس سے تو ثابت ہوا کہ یہ تفسیر بالرائے اور ہوائے نفس ہے اس لیے باطل ہے۔ ورنہ کسی تفسیر کا نام لکھو جس میں ایسا لکھا ہو۔
سوم...... جب اس پر اجماع امت ہے کہ وحی رسالت جس کا دوسرا نام بما انزل الیک وما انزل من قبلک ہے۔ مسیح موعود پر نازل نہ ہو گی اور وہ شریعت محمد ﷺ پر عمل کرے گا اور اس کے تابع ہو گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٧٨١ خزائن ج ٣ ص ٥١١) جب جبرائیل کا آنا ہی مرزا قادیانی مسدود مانتے ہیں تو پھر یہ کہنا غلط ہوا کہ بالآخرۃ سے وحی آخرت مراد ہے کیونکہ جس نے وحی آخرت بقول آپ کے لانی ہے اس کا آنا ہی بعد خاتم النبیین ﷺ کے باجماع امت بمعہ مرزا قادیانی مسدود ہے تو پھر آخرت کی وحی کا ہونا ناممکن ہے۔
چہارم...... مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ مسیح موعود پر ایمان لانا جزو ایمان نہیں اور نہ رکن دین ہے...... تو مرزا قادیانی کی تحریر سے ثابت ہوا کہ بالآخرۃ سے وحی آخرت مسیح موعود مراد نہیں کیونکہ آخرت پر اگر ایمان نہ ہو ایسا شخص مسلمان نہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی تحریر سے ثابت ہے کہ مسیح موعود اور اس کی وحی پر ایمان لانا جزو ایمان و رکن دین نہیں ۔ (ازالہ اوہام ص ١٤٠ خزائن ج ٣ ص ١٧١) تو روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ آخرت کی
٤٠
وحی مراد نہیں۔ آخرت سے قیامت مراد ہے۔
پنجم...... واؤ عطف کی جو ہے، ظاہر کر رہی ہے کہ آخرت پر ایمان بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ کے غیر ہے کیونکہ معطوف اور معطوف الیہ ایک دوسرے کے عین نہیں ہوا کرتے۔ جیسا کہ آگے کی آیت میں ہے۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یقول امنا باللّٰہ وبالیوم الآخر (بقرہ ٨) جیسے کہ اللہ اور یوم الآخر ایک دوسرے کے عین نہیں۔ اسی طرح بما انزل اور آخرۃ ایک نہیں۔ دیکھو بالاخرۃ ھم کفرون۔
(سورہ ہود ١٩)
اولئک الذین لیس لهم فی الاخرۃ الا النار۔
(سورہ ہود ١٦)
غلام رسول قادیانی کا یہ فرمانا بالکل غلط ہے کہ ”جب اللہ اور رسول پر ایمان کے لیے فقرہ بما انزل الیک کافی سمجھا گیا ہے تو کیوں قیامت کے لیے بھی یہی فقرہ کفایت نہیں کر سکتا۔“
(مباحثہ لاہور ص ٢٩‘٣٠)
جس کا جواب یہ ہے کہ سب سے پہلے ایمان کی صفت جو مومن کو تعلیم دی جا تی ہے اس میں قیامت کا اقرار ضروری ہے۔ حالانکہ پہلے امنت باللّٰہ وملائکتہ و کتبہ و رسلہ پر پہلے ایمان ہو چکا ہے مگر والیوم الاخر والبعث بعد الموت کا الگ ذکر ہے۔ ورنہ کہا جا سکتا ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسولوں اور کتابوں پر ایمان ہے تو یوم الآخرۃ کا کیوں الگ ذکر ہوا اور جب یوم الاخرۃ مانا تو پھر بعث بعد الموت کا کیوں الگ ذکر ہوا؟ غرض یہ جاہلانہ حجتیں ہیں جو غلام رسول قادیانی صریح نص لا نبی بعدی کے مقابل پیش کرتے ہیں اور کوئی تسلی بخش قرآن مجید و حدیث سے جواب نہیں دے سکتے اپنے ڈھکونسلے لگاتے ہیں جو کہ غلط ہیں۔ غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ آنے والے مسیح موعود کو۔ جبکہ اس کا آنحضرت ﷺ بعثت میں آخری زمانہ میں ظہور ہو گا اور اسے خدا کی طرف سے وحی ہو گی۔ چنانچہ صحیح مسلم جیسی معتبر کتاب میں وہ حدیث اس طرح آئی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا پہلے جواب ہو چکا۔ مگر غلام رسول قادیانی ایسے گھبرا گئے ہیں کہ بار بار ایک ہی بات دہراتے جاتے ہیں اور جھوٹ کو کھرا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر چونکہ بقول شخصے ؎
تا ثریا میرود دیوار کج
پہلے ہی بنائے فاسد علی الفاسد ہے کہ مرزا قادیانی غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی پنجاب کے رہنے والا عیسیٰ بن مریم آنے والا مسیح موعود ہے۔ اسی بنائے
٤١
فاسد پر یہ دعویٰ باطل کیا کہ اس کو وحی ہو گی جس کا جواب یہ ہے۔ غلام رسول قادیانی جو حدیث پیش کرتے ہیں اسی سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے غلام رسول قادیانی نے حدیث بھی پوری اسی واسطے نقل نہیں کی کہ ڈھول کا پول ظاہر نہ ہو۔ ہم ذیل میں اس حدیث کے فقرات لکھتے ہیں۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی نہ مسیح موعود ہیں اور نہ صاحب وحی۔ سب بنائے فاسد علی الفاسد ہے وہ حدیث یہ ہے۔
اذا اوحی اللّٰہ الی عیسیٰ انی قد اخرجت عباداً لی لا یدان لاحدٍ بقتالہم فحرز عبادی الی الطور.
(مسلم ج ٢ ص ٤٠١ عن نواس بن سمعان باب ذکر الدجال)
خدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کے پاس وحی بھیجے گا۔ میں نے اپنے ایسے بندے نکالے ہیں کہ ان سے لڑائی کی کسی کو طاقت نہیں سو میرے بندوں کو کوہ طور کی طرف پناہ میں لے جا۔‘‘ اس حدیث سے تو ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ جو کہ پہلے رسول اللہ تھا اس کو بعد نزول یہ وحی خاص کی جائے گی کہ میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جاؤ کیونکہ میں ایسی مخلوق نکالنے والا ہوں کہ ان سے کوئی جنگ نہیں کر سکتا۔‘‘ خدا تعالیٰ نے خود آپ کے منہ سے حق بات ظاہر کروا دی کہ آپ نے اس حدیث کو پیش کر دیا۔ ورنہ اگر ہم اس حدیث کو پیش کرتے تو آپ نہ مانتے اور ضعیف وغیرہ کہہ کر ٹال دیتے۔ اس حدیث سے مفصلہ ذیل امور ثابت ہیں۔
- (اوّل)...... آنے والا مسیح موعود عیسیٰ علیہ السلام نبی ناصری ہے جو مریم کا بیٹا ہے نہ کہ
جو مثیل عیسیٰ غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ قادیانی۔
- (دوئم)...... مسیح جنگ و جدال ظاہری اسباب حرب سے کرے گا اور جسمانی جنگ ہو گا
کیونکہ قتال کا لفظ حدیث میں ہے۔ جو غلام رسول قادیانی نے خود نقل کیا ہے مرزا قادیانی نے جب قتال کو حرام ہی کر دیا تو وہ مسیح موعود نہ ہوئے۔ جب مسیح موعود نہ ہوئے تو نبی اللہ بھی نہیں۔
- (سوم)...... مومنوں کو بسبب خروج یاجوج ماجوج کے کوہ طور کی طرف لے جانا۔ مرزا
قادیانی کی زندگی میں نہ تو یاجوج ماجوج نے خروج کیا اور نہ مرزا قادیانی مسلمانوں کو کوہ طور کی طرف لے گئے اور نہ کوئی جسمانی جنگ کیا۔ دیکھا غلام رسول قادیانی! حق یوں ظاہر ہوتا ہے اب ظاہری جسمانی جنگ ثابت ہوا اور مرزا قادیانی اور آپ کا کہنا کہ مسیح قلمی جہاد اور جنگ کرے گا غلط ہوا کیونکہ لکھا ہے کہ ’’ان کے ساتھ کوئی قتال نہ کر سکے گا۔‘‘
٤٢
(چہارم)...... یہ امر ثابت ہوا کہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کسی جدید نبی کو نہ خدا پیدا کرے گا اور نہ اس کو وحی ہو گی کیونکہ حضرت عیسیٰؑ پہلے ہی سے صاحب کتاب انجیل ہیں۔ جن پر وحی آنحضرت ﷺ سے چھ سو برس پہلے نازل ہوتی رہی اور اس میں وحی کی صفت یا ملکہ جو کچھ کہو پہلے ہی سے موجود ہے۔ جدید طور پر اس کو وحی نہ ہو گی۔ افسوس آپ کو اپنے گھر کی خبر نہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ وحی کی طاقت نبی کو رحم مادر میں ہی دی جاتی ہے۔ ’’اوّل یہ کہ جب رحم میں ایسے شخص کے وجود کے لیے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جل شانہ اپنی رحمانیت کے تقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں ہے نئی فطرت بنانا چاہتا ہے تو اس پر اسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبرائیلی نور کا سایہ ڈال دیتا ہے۔ تب ایسے شخص کی فطرت الہامی خاصیت پیدا کر لیتی ہے۔‘‘
(توضیح المرام ص ٨١ خزائن ج ٣ ص ٩٤)
پس جب بقول مرزا قادیانی رحم مادر میں ہی جبریلی نور سے فطرت نبی میں وحی کی طاقت یا صفت دی جاتی ہے تو پھر جب حضرت عیسیٰؑ نازل ہوں گے تو اسی فطرت وحی کے ساتھ نازل ہوں گے۔ جو ملکہ ان کی فطرت میں آنحضرت ﷺ سے چھ سو برس پہلے رکھا گیا تھا تو اس صورت میں مسیح موعود کی وحی آخرت کی وحی ہوگی اور نہ اس کا وحی پانا خاتم النبیین ﷺ کے خلاف ہو گا کیونکہ پرانا رسول نبی اپنی پرانی صفت وحی کے ساتھ نازل ہو گا۔ جب جدید وحی نہ ہو گی تو پھر آخرت کی وحی اس کا نام رکھنا غلط بلکہ اغلط ہے۔ غلام رسول قادیانی کی خرافات دیکھئے کہ پیر بخش کو جب برا بھلا کہتے کہتے تھک گئے تو تمام اراکین انجمن تائید الاسلام کے خلاف لکھتے ہیں کہ من قبلک کی جس قدر آیات قرآن مجید کی پیر بخش نے لکھی ہیں ان کو کسی نے نہ روکا۔ غلام رسول قادیانی کے الفاظ ایسے پیارے ہیں کہ اصل ہی لکھ دینے کو دل چاہتا ہے۔ اگرچہ مضمون طویل ہی ہو جائے۔ سُنیے کیا لکھتے ہیں۔ ’’کاش انجمن کے ممبروں سے کوئی بھی عقل اور علم والا ہوتا۔ جسے قرآن سے کچھ بھی مس ہوتی یا وہ کم از کم اتنا ہی سمجھنے کی قابلیت رکھتے۔‘‘ الخ جس کا جواب یہ ہے کہ بیشک علماء اسلام قرآن فہمی کی قابلیت جو مرزا اور مرزائیوں جیسی نہیں رکھتے کہ مریم کے معنی مرزا غلام احمد قادیانی کریں اور ڈاڑھی والے مرد کو عورت سمجھ کر سیاق و سباق دانی قرآن کا ثبوت دیں اور عیسیٰ کو عیسیٰ کے پیٹ سے بعد حمل اور دردِ زہ تفسیر کریں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب کشتی نوح میں لکھا ہے کاش کوئی مرزائیوں میں سے بھی سمجھتا کہ یہ ڈھکوسلے جو مرزا قادیانی نے اپنے مطلب منوانے کے
٤٣
واسطے کھڑے ہیں۔ ان کی کوئی سند بھی ہے؟ ایسے حقائق و معارف سے خدا مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ یہ ایسے ہی قرآن فہم ہیں۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب نے کہا تھا کہ میری نبوت و رسالت کی خبر قرآن مجید میں ہے۔ دیکھو الرحمن قرآن میں ہے اور جس طرح مرزا قادیانی نے اپنا نام غلام احمد قادیانی سے عیسیٰ بن مریم رکھ لیا۔ اسی طرح اس نے بھی اپنا نام رحمن رکھ لیا۔ اور اس کی جماعت فرقہ صادقیہ رحمانیہ کہلانے لگی۔ سچ ہے ۔
ببری رونق مسلمانی!
آخرت سے وحی آخرت کی کوئی نظیر ہے تو کسی آیت قرآن یا حدیث نبوی سے بتاؤ؟ یا کسی مجتہد یا امام نے لکھی ہے تو دکھاؤ؟ ورنہ ایجاد بندہ سراسر خیال گندہ۔ اس کا نام درست ہے۔ اور یہ ایسا ہی جیسا کہ واذا العشار عطلت سے اونٹوں کا بیکار ہونا مسیح علیہ السلام کا نشان سمجھنا غلط ہے۔ جو شخص اتنا بھی نہیں جانتا کہ عشار اور قلاص میں کیا فرق ہے اور مسیح موعود اور قرآن کے حقائق و معارف جاننے کا مدعی؟ اور تحدث اخبارھا سے یہ سمجھے کہ اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ پیسہ اخبار اور الفضل اخبار ہے۔ اس کی قرآن دانی کے سامنے ہفوات المجانین بھی شرمندہ ہوں اور وہ قرآن دانی کا دعویٰ کر کے علمائے اسلام کے علم وفضل پر حملے کریں۔ مصرعہ۔ بت بھی دعویٰ کریں خدائی کا مضمون طویل ہوتا ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی قرآن دانی اور جہل مرکب کو ایسے واضح طور پر بیان کروں کہ ترکی تمام ہو جائے۔ غلام رسول قادیانی نے اپنی لیاقت کا ایک اور نمونہ اخیر میں پیش کیا ہے کہ جو ختم نبوت کے قائل ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسا کہ کفار کہتے تھے کہ یوسف علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ وقلتم لن يبعث الله من بعده رسولاً (مومن ٣٤) ”ایک قوم کا قول اسی عقیدہ پر دلالت کرتا ہے۔ جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے بعد یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ اب ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہ ہوگا۔“ الخ۔ جس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسفؑ کو خدا تعالیٰ نے خاتم النبیین ﷺ نہیں فرمایا تھا اور ان لوگوں کے کہنے کی خدا تعالیٰ نے تردید کی اور قصہ کے طور پر ان کا قول نقل کیا۔ اگر غلام رسول قادیانی قلتم کا لفظ دیکھتے تو غلط فہمی ان کو نہ ہوتی قصہ کی آیت کو پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ جنھوں نے خاتم النبیین ﷺ کے بعد لا نبی بعدی پر عمل کر کے یہ عقیدہ بنا لیا وہ انھیں کفار جیسے ہیں جنھوں نے حضرت یوسفؑ کے بعد ایسا عقیدہ بنا لیا تھا۔ ہم حیران ہیں کہ جس جماعت
٤٤
کے ایسے ایسے عالم ہوں اور ایسی موٹی بات نہ سمجھیں کہ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ تم نے کہا۔ ماضی کا صیغہ ہے اس کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جو کہ آخر الانبیاء ہے اس کی امت پر چسپاں کرنا قیاس مع الفارق ہے جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے۔ اگر حضرت یوسف علیہ السلام خاتم الانبیاء ہوتے اور آسمانی کتاب میں ان کو خاتم النبیین فرمایا جاتا، تب غلام رسول قادیانی اس کے مطابقت پیش کر سکتے تھے۔ پس جیسا کہ غلام رسول قادیانی زبانی تقریر میں ادھر ادھر کی باتیں کر کے ٹالتے تھے۔ ایسا ہی تحریر میں کرتے ہیں۔ ایک بات بھی مطلب کی نہیں۔ جس سے ثابت ہو کہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کسی جدید نبی کا پیدا ہونا ممکن ہے افسوس قادیانی کمپنی نے بھی جن کی امداد سے یہ جواب لکھا گیا ہے۔ معقول بات پیش نہ کی سچ ہے۔ مصرعہ۔ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار۔ چھٹی آیت: وَالَّذِيْنَ امَنوا و عملوا الصّٰلِحٰتِ وامنو بما نزل على محمد وهو الحق من ربھم. (سورہ محمد ٢) اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ جو محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ یعنی قرآن مجید وہی حق ہے اور وہ ہی ذریعہ نجات اخروی ہے اور قرآن کامل کتاب ہے تو پھر نہ کسی جدید نبی کی ضرورت ہے اور نہ کوئی سچا نبی ہو سکتا ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”اس آیت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر جو کچھ اتارا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حق ہے۔ اب اس کو اس بات سے کیا تعلق کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٣)
جواب الجواب: اس بات کا تعلق خاتم النبیین سے یہ ہے کہ جب ایک کامل وحی مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اور من کل الوجوہ کامل ہے تو پھر جدید نبی کیوں آئے؟ نبی اور رسول ایک مقنن ہوتا ہے جب قانون کامل ہے تو جدید قانون کی حاجت نہیں اور نہ ضرورت ہے تو پھر جدید مقنن کا آنا بھی باطل ہے۔ باقی غلام رسول قادیانی کا وہی میاں مٹھو جگ جگ جی ہے کہ تمہارا مسیح موعود آئے گا تو نبی اللہ ہوگا۔ جس کے اور محمد ﷺ کے درمیان چھ سو برس کا فرق ہے۔ جس وقت خدا تعالیٰ نے کسی نبی کو خاتم النبیین کا اعزاز نہ بخشا تھا۔ اور وہ تمام انبیاء۔ مقدمۃ الجیش، حضرت خاتم النبیین ﷺ کے تھے۔ جب آخر سب کے خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو بعد میں جو جدید نبی ہو گا جھوٹا ہوگا۔
ساتویں آیت: ومن يطع الله و رسوله يدخله جنت تجرى من تحتها الانهار. (نساء ١٣) الخ اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی ذریعہ نجات
ہے کسی جدید نبی کی ضرورت نہیں۔
جواب غلام رسول قادیانی
”اس آیت کو اپنے مدعا کے ثابت کرنے کے لیے پیش کرنا...... ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی خوش فہم حضرت نوح علیہ السلام‘ ہود علیہ السلام‘ صالح علیہ السلام‘ لوط علیہ السلام‘ شعیب علیہ السلام کے قول سے جو سورۃ شعرا میں بدیں الفاظ نقل ہے۔ انی لکم رسول امین فاتقوا الله واطیعون یعنی لاریب میں تمھارے لیے رسول امین ہوں۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری ہی اطاعت کرو۔“ ان کے اس قول سے کہ میری ہی اطاعت کرو یہ سمجھ لے کہ چونکہ ان رسولوں کی اطاعت ذریعہ نجات بنائی گئی ہے۔ اس لیے ان کے بعد اب کسی قسم کا نبی و رسول ہو کر آنا درست نہیں ہو سکتا۔
(مباحثہ لاہور ص ٣٣)
جواب الجواب : غلام رسول قادیانی! ان انبیاء کو جن کے نام آپ نے تحریر فرمائے ہیں کسی ایک کو خاتم النبیین نہیں فرمایا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا۔ اس لیے آپ کا جواب قیاس مع الفارق ہے جو کہ باطل ہے۔ آپ نے تو حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی نبی کے آنے یعنی پیدا ہونے کا امکان ثابت کرنا تھا مگر آپ ان انبیاء کو پیش کرتے ہیں جو کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کئی سو برس پہلے ہو گزرے تھے۔ اگر حضرت خاتم النبیین ﷺ نہ ہوتے اور آپ ﷺ کے بعد کسی جدید نبی کا پیدا ہونا جائز ہوتا تو پے در پے نبی آتے جیسا کہ آپ قبول کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرمایا گیا وقفينا من بعده بالرسل اور پے در پے رسول آئے۔ ایسا ہی اگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد سلسلہ رسالت جاری رہتا تو پے در پے رسول آتے۔ صرف ایک جدید نبی کے آنے سے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سخت ہتک ہے کہ موسیٰؑ کی پیروی سے تو ہزاروں نبی ہوئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے صرف ایک قادیانی ادھورا نبی جو خود دعویٰ کرنے میں بزدل ہے اور لکھتا ہے۔ ”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہوں۔ (حمامۃ البشریٰ ص ٧٩ خزائن ج ٧ ص ٢٩٧) ”حضرت ختم المرسلین ﷺ کے بعد مدعی نبوت و رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) جو مسیح موعود کے دعوے میں ہی مذبذب ہے اور ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ ”میرا کب دعویٰ ہے کہ مثیل مسیح ہونا میرے پر ختم ہو گیا ہے میں تو کہتا ہوں کہ دس ہزار مثیل مسیح آ سکتا ہے اور حدیثوں کے مطابق دمشق میں آ جائے۔“ (ملخص ازالہ اوہام ص ١٩٩ خزائن ج ٣ ص ١٩٧) غلام رسول قادیانی بتائیں کہ مسیح موعود تو ایک
ہی شخص ہے جس کا آنا علامات قیامت سے ایک نشان ہے اگر دس ہزار مثیل آنے والے ہیں تو مرزا قادیانی اپنے اقرار سے وہ مسیح موعود نہیں۔ جو حدیثوں میں مذکور ہے اور دوسری طرف مرزا قادیانی سے ایک کام بھی مسیح موعود کا نہ ہوا اور ناکام فوت ہو گئے۔ مرزا قادیانی مر بھی گئے اور خدا کے فضل نے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی وہ سچے مہدی اور مسیح موعود نہ تھے جس کا وجود اسلام کے غلبہ اور مسلمانوں کے فلاح کے موجب ہوں گے بلکہ الٹا اسلام مغلوب ہوا جس سے مرزا قادیانی کا سچا مہدی و مسیح موعود نہ ہونا ثابت ہوا جب مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں تو نبی اللہ اور آخری رسول بھی نہیں۔
آفرین غلام رسول قادیانی! اپنی غرض سے لاچار ہو کر اپنی اور اپنی جماعت کی حالت دوسروں کی طرف منسوب کر کے اپنی دیانت و لیاقت کا ثبوت دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”مجھے حیرت ہے کہ ان غیر احمدی مخالفوں کو کیا ہو گیا ہے کہ حضرت مرزا قادیانی کی مخالفت میں ان کی عقل اور مت کیوں ماری گئی ہے۔“ (مباحثہ لاہور ص ٤٢) جس کا جواب یہ ہے کہ عقل کے مارنے والی محبت ہوتی ہے نہ کہ مخالفت دیکھو مرزا قادیانی کی محبت نے آپ کو کیسا سیاہ دل اور کور باطن بنا دیا کہ صریح نصوص قرآنی و حدیثی کا انکار کر کے انکو نبی بنانے کی کوشش کرتے ہو اور اسلام سے خارج ہوتے ہو۔
آٹھویں آیت: یا ایها الذین امنوا اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم. (النساء ٥٩) اس آیت کے نیچے کئی باتیں لکھی ہیں۔ جن کو جواب کی غرض سے ذیل میں تحریر کیا جاتا ہے۔
- (اوّل)...... اس آیت کے موافق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل پر انبیاء
حکومت کرتے تھے۔ جب کسی نبی کا انتقال ہوتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور سیاست کریں گے۔ (بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ماذکر عن بنی اسرائیل) پس رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
- (دوم)...... صحابہ کرام اور خلفائے امت کا اس پر اتفاق رہا ہے۔ امت سے کسی ایک
نے بھی نبی کا لقب نہیں پایا۔
- (سوم)...... تاریخ اسلام بتا رہی ہے کہ امت محمدیہ سے جس شخص نے نبی ہونے کا دعویٰ
کیا۔ خلیفہ اسلام اور علمائے اسلام نے اس پر کفر کا فتویٰ دیا۔
- (چہارم)...... مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی مدعی نبوت ہوئے تھے اور نبوت بھی وہی جس
کے مرزا قادیانی مدعی تھے۔ یعنی غیر تشریعی۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے خود ان کو کافر کہا اور
٤٧
ان پر قتال کا حکم دیا۔ ایسا ہی دیگر مدعیان نبوت جیسے مختار ثقفی ابن مقنع خراسان کا مدعی نبوت جس کو خلیفہ منصور نے ہلاک کر دیا۔ خلیفہ متوکل کے زمانہ کی مدعیہ نبوت کاذبہ۔
جواب غلام رسول قادیانی
”یہ آیت بھی منافی نبوت نہیں اس طرح کہ خدا اور رسول کے حکم کے مطابق آنے والا مسیح موعود جس پر ایمان لانا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔ دوسرے فقرہ واولی الامر منکم کی وسعت میں مسیح موعود بھی داخل ہے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٥۔٣٤)
جواب الجواب: افسوس غلام رسول قادیانی نے اول تو میری تحریر کے اختصار کرنے میں ضروری فقرات چھوڑ دیئے اور جو نقل کیے ان کا بھی جواب نہیں دیا۔ بخاری کی حدیث میں جو لکھا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ خلفاء ہوں گے اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ مسیح موعود پر ایمان لانا اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان لانا ہے۔ جس کا جواب کئی دفعہ دیا گیا ہے کہ یہ بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔ جب مرزا قادیانی مسیح موعود، خدا اور اس کے رسول کے فرمودہ کے مطابق نہیں ہو سکتے تو نبی ہونا باطل ہے۔ دوسرا فقرہ کہ اولو الامر منکم میں مرزا قادیانی شامل ہیں۔ یہ جواب دے کر غلام رسول قادیانی نے خود ہی ان کی نبوت کی تردید کر دی کیونکہ اولی الامر جو ہوتا ہے یعنی خلیفہ اسلام وہ نبی نہیں ہوتا۔ جب بقول غلام رسول قادیانی، مرزا قادیانی اولی الامر ہیں تو پھر ہرگز نبی نہیں۔ کیونکہ تاریخ اسلام بتا رہی ہے کہ کسی خلیفہ اسلام نے نبی کا لقب نہیں پایا۔ غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ کلما ہلک نبی خلفہ نبی اور الفاظ سیکون خلفاء کے لحاظ سے ہے کیونکہ پہلے فقرہ میں یہ فرمایا ہے بنی اسرائیل کے نبیوں سے جب کوئی نبی فوت ہوتا تو اس کی وفات کے معاً جو خلیفہ اس کا جانشین ہوتا وہ ضرور نبی ہوتا۔
(مباحثہ لاہور ص ٣٥) جس سے ظاہر ہے کہ اس جگہ خلافت سے مراد آپ کی خلافت متصلہ ہے نہ منفصلہ اور مستقبل قریب کے متعلق ہے نہ مستقبل بعید کے، جیسا کہ سیکون خلفاء صیغہ مضارع اور حرفِ سین مستقبل قریب پر دلالت کرتا ہے۔ غلام رسول قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل بعید میں نبی کا آنا ممکن ہے اور زمانہ مستقبل قریب میں آپ کا کوئی خلیفہ ماتحت لا نبی بعدی کے نبی نہیں ہوا۔“ جس کا جواب یہ ہے کہ بحث نبوت میں ہے نہ کہ خلافت میں۔ یہ ڈھکونسلا کہ خلافت بعدہ یعنی ”آخری زمانہ میں جو خلیفہ آنے والا مسیح موعود ہے“ نبی اللہ ہے غلط ہے کیونکہ آخری خلیفہ امام مہدی ہے نہ کہ عیسیٰ علیہ
٤٨
السلام ابن مریم اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کا حضرت عیسیٰؑ کو عرض کرنا کہ آپ نبی اللہ ہیں امامت نماز کرائیے۔ جیسا کہ حدیث میں گزرا ہے۔ اس وقت امام مہدیؑ کا یہ کہنا کہ آپ نبی اللہ ہیں اور امامت کے واسطے موزوں ہیں ظاہر بداہت ثابت کر رہا ہے کہ آخری خلیفہ بھی نبی کا لقب نہیں پا سکتا۔ آپ کا اور ہمارا وعدہ ہے کہ جب کسی معنی میں تنازعہ ہو تو تیسرے شخص کا فیصلہ منظور ہو گا۔ اس واسطے میں ذیل میں شیخ ابن عربیؒ کی تحریر پیش کرتا ہوں وہو ہذا۔
”اصل میں مجتہدین ہی وارث انبیاء ہیں اور ہر نبی جیسے معصوم ہے ویسے ہی ہر مجتہد بھی مصیب ہے اور آخر خاتم ائمہ مجتہدین محدثین کے ایک شخص ہوں گے اور وہ امام مہدیؑ ہیں۔ (دیکھو فتوحات باب ٣٩ پھر باب ٧٢) میں فرماتے ہیں انه لا خلاف ينزل فی اخر الزمان یعنی اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰؑ آخر زمانہ میں اتریں گے اور ولایت مطلقہ کے خاتم ہوں گے اور ولایت مقیدہ محمدیہ کے خاتم ایک شخص ملک مغرب سے ہوں گے اور وہ خاندان اور ملک دونوں میں اشرف ہوں گے یعنی امام مہدیؑ جو سید فاطمی النسل ہوں گے اور ملک مغرب کے رہنے والے ہوں گے نہ مرزا قادیانی مغل ہیں نام کے غلام احمد ہیں رہنے والے قادیان پنجاب کے ہیں۔ پس مرزا قادیانی ہرگز نہ تو آخری خلیفہ ہیں اور نہ مسیح موعود ہیں۔ جس سے آپ کا جواب غلط ہوا۔
جواب غلام رسول قادیانی
”باقی رہا یہ کہنا کہ صحابہ کرام و خلفائے امت کا اس پر اتفاق رہا کہ کسی نے بھی امت محمدیہ میں سے نبی کا لقب نہیں پایا۔ یہ بھی ٹھیک ہے اور ہم اس بات کو مانتے ہیں۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٥)
جواب الجواب: شکر ہے خدا کا، آپ نے حق بات کو قبول کیا۔ جب امت محمدیہﷺ میں سے کسی نے لقب نبی کا نہیں پایا اور جنھوں نے دعویٰ نبوت کیا کافر سمجھے گئے تو پھر مرزا قادیانی بھی امت محمدیہ میں سے ہو کر دعویٰ نبوت کرتے ہیں۔ تو آپ کی اتفاقی تحریر سے کافر ہیں۔
جواب غلام رسول قادیانی
”آنحضرتﷺ نے خود فرمایا کہ میرے بعد مسیح موعود کے آنے تک کوئی نبی نہ ہو گا اور ہو گا تو پس وہی۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٥)
٤٩
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی ایک سو روپیہ انعام آپ کو حق السعی کا دیا جائے گا۔ اگر کسی حدیث سے یہ دکھائیں کہ میرے بعد مسیح موعود نبی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو گا۔ (لیس بینی وبینہ نبی ولم یکن بینی و بینہ نبی پیش نہ کرنا کیونکہ اس کے ساتھ ہی عیسیٰ ابن مریم ہے۔ وانہ نازل ہے) جس میں لکھا ہو کہ میرے بعد جدید نبی ہو گا۔ کیونکہ لا نبی بعدی کے مقابل نبی بعدی ہونا چاہیے۔ مسیح موعود کا بار بار پیش کرنا بنائے فاسد علی الفاسد ہے جو کہ باطل ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”اور یہ قول کہ امت محمدیہ میں مسیح موعود سے پہلے پہلے آج تک جس نے دعویٰ کیا جھوٹا سمجھا گیا اور خلیفہ اسلام اور علمائے اسلام نے اس پر کفر کا فتویٰ دیا اگر ایسا ہوا کہ کاذب نبی پر فتویٰ کفر لگایا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔“ (مباحثہ لاہور ص ٣٦)
جواب الجواب: شکر ہے کہ آپ نے کاذب نبی پر کفر کا فتویٰ دینے میں علمائے اسلام کو حق پر سمجھا۔ اب آپ فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے جو لکھا کہ مجھ کو الہام ہوا ہے کہ قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً. کہ اے مرزا قادیانی تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں۔
اب مرزا قادیانی کے خدا نے ان کو یہ نہیں کہا کہ تو مسیح موعود ہے اس واسطے رسول ہے۔ یہاں صاف صاف وہی آیت ہے جو کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی اور وہ کامل رسول صاحب شریعت جدید تھے اب جو خدا نے مرزا قادیانی کو انھیں الفاظ میں خطاب کیا کہ اے مرزا ان کو کہہ دو کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں۔ تو ثابت ہوا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان کے رسول ہو کر آئے ہیں۔ جب خاتم النبیین ﷺ کے ہوتے ہوئے ایک شخص کامل رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کرے تو بتاؤ وہ کاذب ہے یا صادق؟
جواب غلام رسول قادیانی
”علمائے اسلام نے اپنے فتویٰ تکفیر میں سچے جھوٹے کی تکفیر میں تمیز نہ کی اور ائمہ دین اور اولیائے کرام میں سے ان کے فتوے تکفیر سے کوئی نبی بچ نہ سکا۔ انھیں کے فضلہ خوار اور سیاہ دل اور کور باطن ملاں آج بھی حضرت مسیح موعود پر جو کہ خدا کے سچے مامور اور برگزیدہ نبی و رسول ہیں اسی طرح فتوے کفر کے لگانے والے ہیں۔“
٥٠
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی! جھوٹ بولنا دھوکہ دینا لعینوں کا کام ہے کسی نے ائمہ دین اور اولیائے کرام میں سے نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ان پر کفر کے فتوے علمائے اسلام نے دیئے۔ اگر آپ میں ایمان اور شرم و حیا ہے تو ایک دو ائمہ دین اور اولیائے کرام کا نام لیں کہ انھوں نے نبوۃ کا دعویٰ کیا تھا اور علمائے اسلام نے ان پر کفر کا فتویٰ دیا تھا۔ اگر نہ دکھا سکو تو ایسے جھوٹ کی نجاست خوری سے توبہ کرو، علمائے اسلام کو آپ نے فضلہ خوار‘ سیاہ دل‘ کور باطن کہا ہے۔ اس لیے آپ نے میرا دل بہت دکھایا ہے خدا تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ مامور من اللہ، نبی و رسول جو چاہیں بلا دلیل کہیں۔ سچ یہ ہے جو مرزا قادیانی نے خود لکھ دیا ہے کہ مجھ کو مکار بدزبان‘ خود غرض‘ مفتری کہتے ہیں۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٥٣‘ خزائن ج ٢٢ ص ٥٩١) اگر کسی جھوٹے کو رستم زمان و پیل دمان کہا جائے تو وہ سچا رستم زمان و پیل دمان نہیں ہو سکتا۔ ایک شاعر نے خوب کہا ہے۔ مصرعہ۔ شیر نگرد سگ کرسی نشین، نبی رسول کے ساتھ کذاب اور دجال بھی آنے والے ہیں۔ جب آپ مانتے ہیں کہ کاذب مدعی پر فتوے کفر دینے میں کوئی جرم نہیں تو پھر مرزا قادیانی بھی جب کاذب مدعی ہیں تو ان کے فتوے کفر سے کیوں واویلا کرتے ہیں؟
غلام رسول قادیانی کا یہ جواب بالکل نامعقول ہے اور ان کے علم دین سے ناواقف ہونے کی دلیل ہے جو کہ لکھتے ہیں کہ ”نبوت کے معیار سے مرزا قادیانی کو پرکھو۔“ (مباحثہ لاہور ص ٣٦) کیونکہ امام ابو حنیفہ صاحبؒ کا جب فتویٰ ہے اور فتویٰ بھی قرآن کی آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے مطابق ہے۔ تو پھر کوئی مسلمان مرزا قادیانی کو کیوں پرکھے؟ امام اعظمؒ کا فتویٰ ہے کہ مدعی نبوت بعد حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کے کافر ہے اور جو مسلمان مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہو جاتا ہے کیونکہ اس کو لا نبی بعدی میں شک ہے۔ تو معجزہ طلب کرتا ہے کہ شاید کوئی سچا نبی بعد خاتم النبیین کے آ سکتا ہے۔
(الخیرات الحسان)
جواب غلام رسول قادیانی ”مرزا قادیانی قتل نہیں ہوئے اور مسیلمہ کذاب و اسود عنسی مارے گئے۔ اس لیے وہ جھوٹے تھے اور مرزا قادیانی سچے نبی تھے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٦)
جواب الجواب: مرزا قادیانی نے کونسا جنگ کیا اور مرد میدان بنے؟ کہ مخالفین کو قتل کیا اور خود قتل ہونے سے بچ گئے۔ یہ ایسی مضحکہ خیز بات ہے کہ کوئی ہجڑا کہے کہ میں بڑا
٥١
بہادر ہوں اور رستم بڑا بزدل تھا کیونکہ وہ تو جنگ میں قتل ہوا اور میں قتل ہونے سے بچ رہا۔ اس لیے میں سچا ہوں اور رستم کاذب تھا۔ مثل مشہور ہے ۔
وہ طفل ہی کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
مرزا قادیانی کا قتل نہ ہونا ان کی صداقت کی دلیل نہیں۔ عورتوں کی طرح اندر سے زبانی تیر چلانے اور عدالت کے سامنے اقرار کرنا کہ پھر ایسا نہ کروں گا۔ ان سے تو ہزار درجہ آج کل کے پولیٹیکل قیدی بچے مرد میدان ہیں کہ جیل جانا پسند کیا مگر ضمیر کے برخلاف نہ کیا۔ حالانکہ خدا کا الہام تھا اور ساتھ ہی خدا کا بقول اس کے وعدہ تھا کہ ”خدا میری حفاظت کرے گا“ (تذکرہ ص ٨٢) مگر مرزا قادیانی نے خدا کے حکم کے برخلاف اقرار نامہ پر دستخط کر دیئے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ وہ آنحضرت ﷺ کے نمونہ پر ہے۔ ایک ناپاک جھوٹ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ٢٧ جنگ بہ نفس نفیس کیے بلکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ جیسا بہادر کوئی نہیں دیکھا جس جگہ کفار کی تلواروں اور نیزوں کا زور ہوتا تو ہم ان کے زیر بازو پناہ گزیں ہو کر جنگ کرتے۔ دیکھو کتاب امام غزالیؒ، مرزا قادیانی نے اپنی بزدلی کے باعث جہاد ہی حرام کر دیا اور کفار کو خوش کرنے کے واسطے دنیاوی جاہ طلبی کی غرض سے لکھتے ہیں کہ ”میں خونی مسیح و خونی مہدی نہیں ہوں“ (تحفہ قیصریہ ص ١٣ خزائن ج ١٢ ص ٢٦٥) میں نے جہاد حرام کر دیا ہے۔
(درثمین اردو ص ١٩)
کنجے گرفت و ترس خدا را بہانہ ساخت
شتر مرغ کی طرح دعوے کرنے میں شیر اور عمل کرنے میں لومڑی۔ شتر مرغ کا دعویٰ ہے کہ میں اونٹ ہوں اور مرغ بھی ہوں۔ مگر جب کہا جاتا ہے کہ آؤ بوجھ اٹھاؤ اور ہم کو منزل مقصود تک پہنچاؤ تو جواب دیتا ہے کہ میں تو مرغ ہوں۔ میرے پر بازو دیکھو۔ کبھی مرغ بھی بوجھ اٹھاتے ہیں اور کہا جائے اچھا اڑ کر دکھاؤ تو جواب دیتا ہے کہ میں تو اونٹ ہوں میرے پاؤں دیکھو کبھی اونٹ بھی پرواز کر سکتے ہیں؟ غرض جب مرغ کا کام کرنا پڑا تو اونٹ کہہ کر بچ جاتا ہے اور جب اونٹ کا کام کرنے کو کہا جاتا ہے مرغ کہہ کر پیچھا چھڑاتا ہے۔ ایسا ہی مرزا قادیانی نہ تو سچے مسیح موعود تھے اور نہ سچے مہدی، مسیح کے کام کرنے کو کہا جاتا تو مہدی بن جاتے اور مہدی کے کام پیش کیے جاتے تو
٥٢
مسیح؟ اگر زیادہ تقاضا کیا جاتا تو مریم اور مجدد۔ غلام رسول قادیانی! یہ تو بتائیں کہ مجدد اور مریم بھی نبی اللہ تھے؟
جواب غلام رسول قادیانی
”مرزا قادیانی کو کامیابی ہوئی اس واسطے سچے نبی تھے کیونکہ جھوٹے نبی کو کامیابی نہیں ہوتی۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٦)
جواب الجواب: صالح بن طریف کو اس قدر کامیابی ہوئی بادشاہ بن گیا اور تین سو برس تک نبوت وسلطنت اس کے خاندان میں رہی اور کامیاب ایسا کہ دعویٰ الہام و نبوت کے ساتھ ٤٧ برس زندہ رہا اور اپنی موت سے مرا۔ حالانکہ جنگ کرتا رہا اور ہلاک نہ ہوا۔ غلام رسول قادیانی بتائیں کہ یہ کاذب تھا یا کہ آپ کے معیار کے مطابق سچا نبی تھا؟ کیونکہ کامیاب ایسا ہوا کہ مرزا قادیانی کی کامیابی اس کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتی اور باوجود جنگ کے ہلاک نہ ہوا اور اپنی موت سے مرا اور مہلت بھی مرزا قادیانی سے زیادہ پائی۔ مفصل دیکھنا ہو تو دیکھو
(تاریخ ابن خلدون ج ٦ ص ٢٠٨)
جواب غلام رسول قادیانی
”کیا مسیلمہ کذاب واسود عنسی کو یہ کامیابی ہوئی۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٦)
جواب الجواب: مسیلمہ کذاب کو مرزا قادیانی سے بڑھ کر کامیابی ہوئی۔ افسوس آپ کو مرزا قادیانی کی کتابوں پر عبور نہیں مرزا قادیانی ازالہ اوہام ص اول میں لکھتے ہیں کہ ”مسیلمہ کذاب کو پانچ ہفتہ کے قلیل عرصہ میں یہ کامیابی ہوئی کہ لاکھ سے اوپر اس کے پیرو ہو گئے۔“
غلام رسول قادیانی خدا کو حاضر ناظر کر کے بتاؤ کہ مرزا قادیانی کو بھی پانچ ہفتہ کے عرصہ میں لاکھ سے اوپر مرید ہوئے تھے؟ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں ”کہ ستر ہزار میرا مرید ہے۔“ (نزول مسیح ص ١٢٠ خزائن ج ١٨ ص ٤٩٨) یہ اس وقت کی تحریر ہے جب کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب نزول مسیح لکھی اور یہ ظاہر ہے کہ یہ کتاب دعویٰ کے کئی برس بعد مرزا قادیانی نے لکھی۔ اب روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ مسیلمہ کی کامیابی مرتد بنانے میں کسقدر افضل و زیادہ ہے مرزا قادیانی سے، وہ سچا نبی نہ مانا گیا تو مرزا قادیانی کس طرح سچے نبی مانے جائیں؟
غلام رسول قادیانی! آج دنیا دلیل اور ثبوت مانگتی ہے۔ اگر بسبب اسباب
٥٣
زمانہ مرزا قادیانی کو کچھ ترقی ہوئی تو ان کے ساتھ مخالفین کو ان سے زیادہ ترقی ہوئی۔ آریہ سماجیوں کی ترقی دیکھو۔ عیسائیوں کی ترقی دیکھو۔ برہم سماجیوں کی ترقی دیکھو تو آپ کو شرم آئے گی کہ ہم کس کا نام لے رہے ہیں۔ جس کی ترقی مخالفین کی ترقی کے سامنے پاسنگ ہے۔ ہاں جھوٹ بول بول کر دل خوش کرنا ہے یا سادہ لوحوں کو جو عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے پھنس گئے ہیں۔ ان کے قابو رکھنے کے واسطے یہ حربہ ہے تو مبارک ہو۔
جواب غلام رسول قادیانی
”مرزا قادیانی کے زمانہ الہام و وحی کے برابر جو ایک عرصہ دراز تک جاری رہا۔ کسی مدعی نبوت کاذب کی زندگی سے پیش کر کے دکھاؤ اور پھر اس کی کامیابی دکھاؤ تو معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کس پایہ کے بزرگ نبی اور بزرگ رسول تھے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٦)
جواب الجواب: اوپر دکھایا گیا ہے اس کا ملاحظہ کر کے جواب دو کہ صالح بن طریف جو ٤٧ برس دعوٰی وحی و الہام سے زندہ رہا اور آخر اپنی موت سے مرا۔ حالانکہ جنگوں میں شریک رہا اور کامیاب ایسا کہ معمولی شخص سے بادشاہ بن گیا۔ مرزا قادیانی تو قادیان کے حاکم نہ ہوئے۔ اب بتاؤ کہ مرزا قادیانی بزرگ ہیں اور نبی و رسول ہیں تو صالح ان کے مقابل کتنے درجہ بڑھ کر بقول آپ کے بزرگ نبی و رسول ہے؟ آپ نے پانچویں امر کا جواب نہیں دیا کہ ایک عورت نے دعوے کیا کہ میں نبیہ ہوں۔ جب بادشاہ نے پوچھا کہ تو رسول اللہ ﷺ کو مانتی ہے۔ حدیثوں کو مانتی ہے تو اس نے کہا کہ ہاں۔ تو خلیفہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تو فرماتے ہیں لا نبی بعدی۔ تو اس عورت نے جواب دیا کہ حدیث میں مرد نبی کی ممانعت ہے یہ کہاں فرمایا کہ عورت بھی نبی نہ ہو گی۔ ایسا ہی مرزا قادیانی اور مرزائی کہتے ہیں کہ غیر تشریعی نبی کی کہاں ممانعت ہے۔ پس اس عورت کی طرح مرزا قادیانی کی نبوت کاذبہ تسلیم کریں۔
نویں آیت: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ط (ال عمران ٣١) اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ محبت اللہ تعالیٰ کی حضرت خاتم النبیین ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا ذریعہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کی پیروی فرمائی ہے تو پھر دوسرا نبی کیوں آئے؟ کیونکہ جب دوسرا نبی آئے گا تو پھر رسول اللہ ﷺ کی محبت بجائے ایک رسول کے دو رسولوں میں منقسم ہو گی اور جدید نبی کی محبت
٥٤
رکھ کر اس کی امت اس کی پیروی کرے گی تو اس صورت میں امت محمدی ﷺ سے خارج ہو کر جدید امت ہو گی۔ جو خدا کو نامنظور ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”یہ آیت بھی امکان نبی کی نفی نہیں کرتی...... اس واسطے کہ جب آنحضرت ﷺ کی پیروی انسان کو محبوب الٰہی بنا دیتی ہے اور محبوبیت کے اعلیٰ مرتبہ کا نام نبوت و رسالت ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کے طفیل جب محبوبیت ملتی ہے تو نبوت بھی مل سکتی ہے اور رسالت بھی مل سکتی ہے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٧)
جواب الجواب: محبوبیت کو نبوت و رسالت سمجھنا غلط ہے، خدا تعالیٰ کے محبوب تو رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے ہزاروں لاکھوں محبوبیت کے مرتبہ کو ہر ایک زمانہ میں پہنچتے رہے، مگر محبوب ہونے کے باعث نبی رسول کوئی نہ ہوا بلکہ جس نے دعویٰ نبوت کیا کافر ہوا۔ حضرت سید عبدالقادرؒ جیلانی محبوب سبحانی کہلائے مگر نبی نہ کہلائے۔ کسی اولیاء اللہ کا نام لو۔ جو پیروی حضرت خاتم النبیین ﷺ سے محبوب ہوا اور پھر محبوبیت سے رسالت و نبوت کا مدعی ہوا۔ دوم! پھر وہی اعتراض وارد ہوتا ہے کہ رسالت و نبوت کسبی ہوئی جو کہ پیروی سے مل سکتی ہے۔ حالانکہ آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نبوت و رسالت کسبی نہیں بخشش الٰہی ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی رحمت سے نبی کو خاص کر لیتا ہے۔ سوم! وہی اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جب مرزا قادیانی کی پیروی ناقص ہے کہ دو تین رکن دین ادا نہیں کیے نہ تو جہاد نفسی کیا اور نہ ہی حج خانہ کعبہ کیا، نہ ہجرت کی، تو پیروی ناقص ہوئی۔ پس جس کی پیروی ناقص۔ اس کی محبوبیت بھی ناقص اور جس کی محبوبیت ناقص اس کا نبی اور رسول ہونا ناممکن ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
آنحضرت ﷺ کی پیروی سے امت کو نبوت کا ملنا آپ کی شان دوبالا کرتا ہے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٧)
جواب الجواب: اگر محمد ﷺ کی پیروی سے نبوت کا ملنا جائز ہوتا تو بھلا اور دوسرا شخص یعنی مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے دعوے سے آنحضرت ﷺ کیوں ناراض ہوئے؟ اور ان کو امت سے خارج کر کے کفر کا فتویٰ دیا اور ان کے ساتھ کافروں کی طرح جنگ کرنے کا حکم دیا قول و فعل رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ کے برخلاف آپ کا کہ یہ کہنا کہ دعویٰ نبوت سے شان نبوت دوبالا ہوتی ہے غلط اور من گھڑت ہے۔ کوئی حدیث ہے تو
٥٥
بتاؤ جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہو کہ میری امت میں مدعیان نبوت میری شان کے دوبالا کرنے والے ہیں ورنہ خوف خدا کرو رسول اللہ ﷺ سے شرماؤ۔
جواب غلام رسول قادیانی
”باقی رہا ایسے جدید نبی کا آنا کہ جس کے آنے سے خلل پیدا ہو سکتا ہے ایسے جدید نبی کے ہم بھی قائل نہیں جو اپنے سلسلہ اور اپنی امت کے لحاظ سے بالکل الگ ہو۔ پھر جب مسیح موعود جیسے نبی اللہ کے آنے کے وقت ہو گا کہ ایمان ثریا پر چلا گیا ہو گا۔ پس ایسی صورت میں مسیح موعود جیسے موعود نبی کا آنا مزاحم نہیں ہو سکتا۔
(مباحثہ لاہور ص ٣٧)
جواب الجواب: شکر ہے کہ آپ نے یہ تو مان لیا کہ جس جدید نبی کی امت محمد ﷺ کی امت سے الگ ہو ویسا نبی نہیں آ سکتا۔ اب فیصلہ آسان ہے اگر ثابت ہو جائے............ کہ مرزا قادیانی کی جماعت مسلمانوں سے الگ ہے تو پھر تو مرزا قادیانی انھیں کاذب نبیوں سے ہوں گے جن کی جماعتوں کے عقائد الگ تھے۔ غلام رسول قادیانی فرمائیں کہ آپ کی جماعت الگ نہیں تو مسلمانوں کے جنازے کیوں نہیں پڑھتے؟ دوم! ان کے ساتھ رشتے ناطے کیوں منع ہیں؟ سوم! ان کے ساتھ مل کر نماز فرائض کیوں ادا نہیں کرتے؟ چہارم! ان کے ساتھ السلام علیکم کیوں نہیں کرتے۔ میرے پاس اکمل قادیانی کی تحریر موجود ہے کہ جب میں نے ان کو لکھا کہ تم نے خط میں السلام علیکم کیوں نہیں لکھا تو انھوں نے جواب دیا کہ میرا مذہب مجھ کو اجازت نہیں دیتا۔“ حکیم نور الدین نے لکھا کہ ہمارا اسلام اور ہے اور دوسرے مسلمانوں کا اور ہے۔ (الفضل قادیان ج ٢ نمبر ٨٥ ص ٦ مورخہ ٣١ دسمبر ١٩١٤) افسوس غلام رسول قادیانی آپ کو اپنے گھر کی خبر نہیں۔ دوم۔ ثریا سے ایمان لانے والا تو نبی نہیں تھا۔ آپ خود ہی کہا کرتے ہیں کہ رجل فارسی ثریا سے ایمان واپس لائے گا مگر رجل فارسی حضرت سلمان فارسیؓ تو نبی نہ تھے اور نہ کسی حدیث میں ہے کہ رجل فارسی نبی ہو گا آپ ہوش بجا رکھ کر جواب دیں۔
جواب غلام رسول قادیانی
”یہ اصل میں لغو اور غلط ہے کہ کسی دوسرے رسول دینی کی محبت سے آنحضرت ﷺ کی محبت میں فرق آ جاتا ہے۔ میاں پیر بخش کو آنحضرت ﷺ کی محبت کے سوا دوسرے نبیوں اور رسولوں سے جو پہلے ہو گزرے ہیں عداوت و مخالفت ہے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٨)
٥٦
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی بھی غضب کی لیاقت رکھتے ہیں اور قیاس مع الفارق کی خوب مٹی پلید کرتے ہیں۔ مثل مشہور ہے۔ غلام رسول قادیانی جیسا ایک شخص تمام رات حضرت یوسف علیہ السلام و زلیخا کا قصہ سنتا رہا۔ جب صبح ہوئی تو پوچھنے لگا زلیخا مرد تھی یا عورت ایسا ہی غلام رسول قادیانی کا حال ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کے امکان ثابت کرنے کی دُھن نے مخبوط الحواس کر دیا ہے کہ امکان ثابت کرنے لگے تھے ایسے جدید نبی اور رسول کی جو حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد پیدا ہوا۔ مگر جب اعتراض کا جواب نہ دے سکے تو پہلے نبیوں کی محبت کی نظیر دے کر جواب دیتے ہیں۔ کیسی بدبخت ہے وہ جماعت جس کے علماء ایسے فاضل اجل ہوں جو کہ ماسبق اور مابعد میں فرق نہ جانتے ہوں؟ صحیح جواب ایک بات کا بھی نہیں دے سکتے۔ سوال دیگر جواب دیگر دے کر دل خوش کر لیتے ہیں تاکہ اپنے سادہ لوحوں کو شیخی کر کے بتائیں کہ ہم نے خوب لمبے لمبے جواب دئیے اور سخت کلامی سے مخالف کی خوب گت بنائی اور یہ نہیں جانتے کہ تا مرد سخن نگفتہ باشد ۔ عیب و ہنرش نہفتہ باشد۔ کا اصول جاہلوں کے واسطے باعث پردہ پوشی ہے۔ موٹی بات تھی کہ محبت کے معاملہ میں دوی جائز نہیں ۔
بلیلے ہر کہ گردید آشنا محمل نمی داند
جو عاشق صادق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہے وہ تو ان کا در فیض چھوڑ کر اس کے غلام نمک حرام کی جو کہ غلامی چھوڑ کر خود آقا بن بیٹھا ہے ہرگز محبت نہیں رکھ سکتا۔ باطل پرست جس کے دل میں مسیلمہ پرستی کا مادہ ہے وہ بدبخت ازلی جسے چاہے نبی مانے اور اس سے محبت گانٹھے ۔ جیسا کہ مسلمان حضرت خلاصہ موجودات افضل الرسل خاتم النبیین ﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔ بیشک پہلے نبیوں سے ایسی نہیں رکھتے کیونکہ ان کے ساتھ طفیلی محبت ہے اور حضرت محمد ﷺ کی اصلی محبت ہے۔
دسویں آیت: اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ۔ (تغابن ١٢) اگر بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے سلسلہ انبیاء و رسل جاری رکھنا خدا تعالیٰ کو منظور ہوتا اور بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی سچا رسول پیدا ہونا ہوتا اور اس کی پیروی ذریعہ نجات ہوتی تو اللہ تعالیٰ بجائے لفظ رسول کے رسل صیغہ جمع سے ارشاد فرماتا چونکہ رسل جمع کا صیغہ نہیں فرمایا اس واسطے ثابت ہوا کہ بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی سچا نبی پیدا نہ ہوگا۔
٥٧
جواب غلام رسول قادیانی
”مجھے اس استدلال سے ایک دیہاتی ملا کا قصہ یاد آیا کہ ایک لڑکے کو کھجور سے اتارنے کے واسطے وہ قاعدہ استعمال کیا جو چاہ سے نکالنے کے واسطے تھا یعنی رسہ سے کھینچنا اور اس جاہل ملا کو یہ تمیز نہ ہوئی کہ رسہ کا استعمال بے موقعہ ہے۔ اسی طرح اس آیت کا استعمال عدم امکان نبی بعد از حضرت خاتم النبیین ﷺ کے لیے بے موقعہ اور غلط ہے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٣٩،٤٠)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی کے پاس چونکہ کوئی ثبوت شرعی نہ تھا۔ جس سے ثابت ہوتا کہ بعد آنحضرت ﷺ کے جدید نبیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس واسطے جاہلوں والے ڈھکونسلے لگانے شروع کر دیئے اور طول طویل عبارت لایعنی سے دو صفحے بھر دیئے اور ایک بات بھی مطلب کی نہ کی۔ افسوس مولانا رومؒ نے ایسے مولویوں کی نسبت لکھا ہے مولوی گشتی و آگاہ نیستی ۔ اگر غلام رسول قادیانی آگاہ ہوتے تو سمجھ جاتے کہ یہ حکایت تو اس جماعت پر صادق آتی ہے جو بالاخرة ھم یوقنون کے معنی وحی مرزا غلام احمد قادیانی کرتی ہے۔ سینکڑوں مفسرین قرآن شریف کے ہیں کسی مفسر نے بھی نہیں لکھا کہ بالآخرة سے وحی آخرت مراد ہے اور وحی آخرت بالکل بے موقعہ اور غلط ہے۔ کیونکہ قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت سے بعید ہے کہ خلاف محاورہ عرب کلام نازل فرمائے کیونکہ قبل کے مقابل بعد ہوا کرتا ہے اور اوّل کے مقابل آخر نہ کہ قبل کے مقابل آخر بولا جاتا ہے۔ غلام رسول قادیانی نے جو حکایت بیان کی یہ ان کے اپنے مطابق حال ہے۔ انجمن تائید الاسلام کے اراکین پر چسپاں نہیں ہو سکتی۔
جواب غلام رسول قادیانی
اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول سے یہ استدلال کہ صیغہ جمع کا نہ لانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ قابل تسلیم نہیں کیونکہ واطیعوا الرسول کے فقرہ سے الرسول سے مراد ہر وہ رسول ہو سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کے مقاصد کی پیروی کے لیے آئے جیسے حضرت مسیح موعود جو خدا کے رسول اور نبی ہیں اور جن کی اطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٤١)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی علم کی شیخی تو بڑی مارتے ہیں اور حال یہ ہے کہ دعویٰ کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جس کو مصادرہ علی المطلوب کہتے ہیں جو کہ اہل علم کے
٥٨
نزدیک باطل ہے مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا نبی اللہ ہونے پر موقوف ہے۔ پہلے نبی اللہ ہوں تو پھر مسیح موعود ہوں اور نبی اللہ کا بعد آنحضرت ﷺ کے ہونا ناممکن ہے۔ اسی واسطے یہ بحث ہو رہی ہے اور یہ آیت پیش کی ہے کہ الرسول کی جگہ الرسل ہوتا۔ اگر کوئی جدید نبی بعد آنحضرت ﷺ کے آنا ہوتا۔ الہی امکان تو جدید نبی کا ثابت نہیں ہوا اور مرزا قادیانی کو مسیح موعود تصور کر کے پیش کرتے ہیں جو کہ ان کا منبع علم ثابت کرتا ہے۔ غلام رسول قادیانی سے کوئی پوچھے کہ پھر امکان پر بحث کیوں کرتے ہو؟ جب مرزا قادیانی بلا دلیل مسیح موعود ہیں اور مسیح موعود نبی اللہ ہے تو پھر بعد آنحضرت ﷺ نبی کا آنا ثابت ہو گیا مگر یہ استدلال اسی وقت قبول ہو سکتا ہے جبکہ سب اہل علم دنیا سے اٹھ جائیں۔ تعجب کے ساتھ ہی یا بنی ادم اما یاتینکم رسل منکم اور یا یھا الرسل پیش کر کے تسلیم کر رہے ہیں کہ جب ارادہ خداوندی ایک سے زیادہ رسولوں کا ذکر کرنا منظور ہوتا ہے تو اس موقعہ پر رسل کا لفظ خدا تعالیٰ استعمال فرماتے ہیں۔ ’’ایسا ہی جب آنحضرت ﷺ کے بعد کسی جدید نبی کا لفظ استعمال نہ فرمایا۔ جس سے ثابت ہوا کہ قیامت تک الرسول یعنی آنحضرت ﷺ کی اطاعت کا حکم ہے اور اس کے سوا اگر کوئی دوسرا شخص جدید نبی ہونے کا مدعی ہو تو کافر ہے۔‘‘ افسوس غلام رسول قادیانی کو اپنے مرشد مرزا قادیانی کا مذہب بھی بھول گیا۔ صاف صاف لکھتے ہیں کہ ’’نزول مسیح کا عقیدہ ہمارے ایمانیات کا جزو یا رکن دین سے کوئی رکن دین و جزو ایمان نہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ١٤٠ خزائن ج ٣ ص ١٧١) جب مرزا قادیانی پر ایمان لانا بقول ان کے جزو ایمان نہیں پھر مرزا قادیانی نبی و رسول کیونکر ہو سکتے ہیں؟
جواب غلام رسول قادیانی
’’بلکہ امت واحدہ جو امت محمدیہ ہے۔ سب رسول اسی ایک امت کے لیے عندالضرورت آیا کریں گے۔‘‘
(مباحثہ لاہور ص ٤٢)
جواب الجواب: اگر ضرورت جدید نبی تسلیم کریں گے تو دین کامل نہ رہا اور قرآن شریف اور شریعت محمدیہ ﷺ نامکمل ثابت ہو گی کیونکہ بقول غلام رسول قادیانی عندالضرورت رسول آئیں گے تو نہ دین کامل ہوا اور نہ نعمت نبوت بدرجہ اتمام پہنچی اور یہ صریح نصوص الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی کے خلاف ہے پس غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا کہ عندالضرورت امت محمدیہ میں رسول آیا کریں گے۔ غلط ہے۔‘‘ ناظرین کرام آپ نے دیکھ لیا کہ غلام رسول قادیانی نے تردید عدم امکان جدید
٥٩
نبی بعد از حضرت خاتم النبیین میں ایک آیت بھی پیش نہیں۔ جس میں فرمایا گیا ہو کہ اے محمد ﷺ ہم تمھارے بعد کوئی جدید نبی پیدا کریں گے اور کوئی آیت بھی پیش نہیں کی جس میں لکھا ہو سلسلہ انبیاء و رسل بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جاری ہے۔ اور نہ ہی کوئی ایسی آیت پیش کی جو اس کے عکس ہوتی۔ یعنی کوئی ایسی آیت پیش کرتے جس میں لکھا ہوتا کہ آنحضرت خاتم النبیین ﷺ نہیں۔ صرف طول طویل من گھڑت باتوں سے نصوص قرآنی کو ٹال دیا ہے۔ حالانکہ غلام رسول قادیانی سے پہلے کہا گیا تھا کہ تضارب اور تدافع جو کہ حرام ہے اس پر عمل کر کے جواب نہ دینا تضارب و تدافع کی صورت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انما ھلک من کان قبلکم بھذا ضربوا کتاب اللہ بعضہ ببعض۔ (مسند احمد ج ٢ ص ١٨٥) یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ یعنی یہود و نصاریٰ اس لیے تباہ ہوئے کہ جس پر انھوں نے خدا کی کتاب کو بعض کو بعض سے لڑایا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ یہ حدیث نقل کر کے فرماتے ہیں میں کہتا ہوں کہ قرآن کے اندر مجادلہ حرام ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک حکم کو جو قرآن کے اندر منصوص ہے کسی شبہ سے جو اس کے دل میں واقع ہوا ہے رد کرے۔ جیسا کہ غلام رسول قادیانی نے صریح نص خاتم النبیین اور دوسری آیتیں جو اس کی تائید میں ہیں ان سب کو صرف اپنی ہوائے نفس سے رد کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کی حدیث المراء فی القرآن کفر کی تکذیب کی ہے اللہ تعالیٰ ان کی حالت پر رحم فرمائے۔ آمین۔
احادیث پیش کردہ کا جواب منجانب غلام رسول قادیانی
اور خاکسار کی طرف سے جواب الجواب
پہلی حدیث: سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔ (ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب لاتقوم الساعۃ حتی یخرج دجالون ) وغیرہ ترجمہ۔ میری امت میں تیس جھوٹے نبی ہونے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہو گا کہ میں نبی اللہ ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
جواب غلام رسول قادیانی
اس حدیث نقل کردہ میں چار باتیں پیش کی گئی ہیں۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٢)
جواب الجواب : غلام رسول قادیانی نے میری وجوہ استدلال جو کہ پانچ تھے۔ اختصار کے طور پر یہی نقل نہیں کیں اور من گھڑت باتوں کا جواب دینے لگے ہیں۔
٦٠
جواب غلام رسول قادیانی
’’اوّل یہ کہ عنقریب زمانہ میں میری امت کے لوگوں میں ایک فتنہ پیدا ہونے والا ہے۔‘‘
(مباحثہ لاہور ص ٤٢)
جواب الجواب: حدیث میں یہ نہیں لکھا کہ فتنہ پیدا ہونے والا ہے۔ وہاں تو صاف لکھا ہے کہ مدعیان نبوت کاذبہ ہوں گے۔
جواب غلام رسول قادیانی
’’دوسرا یہ کہ تیس دجالوں کا دعویٰ نبوت کاذبہ ہے۔ تیسرے یہ کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ چوتھے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔...... حدیث میں لفظ سیکون جو مضارع ہے اور بدلالت حرف سین مستقبل قریب کے معنوں کے لیے خاص ہے۔ اس لیے ہم مستقبل بعید کے معنوں میں استعمال نہیں کریں گے۔...... اور زمانہ مسیح موعود کے ظہور سے پہلے تسلیم کرنا پڑے گا۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود کا دعویٰ نبوت درست ہے کیونکہ تیس کے بعد مستقبل بعید کے زمانہ میں ہوا اس واسطے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت صادقہ ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٢ تا ٤٤)
جواب الجواب: خاتم النبیین میں الف لام استغراقی ہے اور لانبی بعدی میں جو خاتم النبیین کے معنی رسول اللہ ﷺ نے خود فرما دیئے۔ لانفی جنس صفت نبوت ہے۔ پھر حضور ﷺ کی تفسیر و معانی کا مقابلہ اپنے من گھڑت دلائل سے کرنا بھی مجادلہ ہے جو کہ شریعت اسلامی میں حرام ہے، مضارع پر سین جو استقبال کے واسطے ہے اس کی دو قسم بیان کر کے مسیح موعود کو مستثنیٰ کرنا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ لانبی بعدی میں زمانہ بعدیت کوئی حد مقرر نہیں جب زمانہ بعدیت نبی آخرالزمان کے سلسلہ کا قیامت تک دامن دراز ہے اور نزول مسیح ایک نشان قیامت ہے۔ انہ لعلم للساعۃ نص قطعی سے ثابت ہے تو آپ کا حد مقرر کرنا رسول اللہ ﷺ پر افترا اور اس کے کلام میں تحریف کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ کہاں فرمایا ہے کہ فلاں زمانہ تک جھوٹے مدعیان نبوت ختم ہو جائیں گے؟ باقی رہی دجال اور دجالی فتنہ کی بحث فضول ہے کیونکہ بحث کاذب مدعیان پر ہے نہ کہ دجال اکبر میں۔ جو کہ علامات قیامت سے ایک علامت ہے نزول مسیح کی طرح۔ آپ نے تو یہ جواب دینا تھا مگر بعد آنحضرت ﷺ کے اس حدیث پیش کردہ سے جدید نبیوں کا آنا ممکن ہے۔ افسوس آپ نے خارج از بحث باتوں کو درمیان میں لا کر ناحق اوراق سیاہ کر
٦١
دیئے ہیں۔ کہاں فتنہ دجال اور کہاں عیسائی گروہ۔ اگر عیسائی گروہ فتنہ دجال ہوتے تو آنحضرت ﷺ صاف صاف فرماتے کیونکہ عیسائی حضور ﷺ کے وقت تھے اور آ کر بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب نہیں تو اور کیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ تو فرماتے ہیں کہ دجال یہود سے ہو گا اور مرزا قادیانی اور آپ کے مرید عیسائیوں کو دجال کہتے ہیں؟ پس یہ غلط ہے کہ عیسائیوں کا فتنہ دجال اکبر ہے کیونکہ دجال یہودی ہو گا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا معہ جماعت صحابہ ابن صیاد یہودی کے گھر جانا ثابت کر رہا ہے۔ اگر عیسائی دجال ہوتے تو رسول اللہ ﷺ یہود کے گھر کیوں جاتے۔ جیسا ابن صیاد کا قصہ حدیث میں ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”مسیح موعود کے پہلے پہلے ان سب دجالوں کا ظہور ضروری ہے نہ کہ بعد ظہور مسیح موعود۔“
(مباحثہ لاہور ص ٤٣)
جواب الجواب : یہ بھی واقعات نے غلط ثابت کر دیا کیونکہ مرزا قادیانی کے بعد میاں نبی بخش مرزائی مدعی نبوت کاذبہ ہوا۔ دوسرا شخص میاں عبداللطیف مرزائی ساکن گنہ چور ضلع جالندھر مدعی نبوت کاذبہ ہوا۔ تو آپ کے اقرار سے مرزا قادیانی سچے مسیح موعود نہ ہوئے کیونکہ دجالوں کے بعد حضرت مسیح موعود آنے والا ہے اور مرزا قادیانی کے بعد چونکہ دو اور دجال ہوئے۔ تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی بھی دجال ہی ہیں۔ دوم! جب دجال کا آنا اور مسیح موعود کے ہاتھ سے قتل ہونا موعود ہے اور مرزا کے وقت وہ دجال شخص واحد جس کا حلیہ حضور ﷺ نے ابن قطن کے مشابہ فرمایا وہ دجال ابھی نہیں آیا اور مرزا قادیانی کو دس برس گزرے کہ فوت بھی ہو گئے تو ثابت ہوا کہ سچے مسیح موعود نہ تھے کیونکہ ان کے وقت دجال جو ابن قطن کے مشابہ تھا نہ آیا اور نہ ان کے ہاتھ سے قتل ہوا بلکہ ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت کاذبہ ہو کر انہیں میں سے تھے۔ سوم۔ سیکون جیسا کہ اس حدیث میں ہے اور مضارع ہے ایسا ہی سیکون بخاری کی حدیث میں ہے۔ سیکون خلفاء کیا یہ بھی مضارع مستقبل قریب معنوں کے لیے خاص ہے اور اسلامی خلیفے ختم ہو چکے ہیں؟ افسوس ایسے استدلال پر کہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتے ہو مگر باز نہیں آتے۔ ہٹ دھرمی کے عامل ہو۔
جواب غلام رسول قادیانی
”پھر امت میں ایسے لوگ کہ جنہوں نے وضعی حدیثیں بنائی ہیں۔ وہ بھی
٦٢
دجال ہی ہیں۔‘‘
(مباحثہ لاہور ص ٤٣)
جواب الجواب: افسوس غلام رسول قادیانی! وضعی حدیثیں بنانے والے مدعیان نبوت نہ تھے۔ آپ ہوش بجا رکھیں اور اصل مسئلہ امکان نبوت سے باہر نہ جائیں۔ کلھم یزعم انہ نبی اللہ تو خاص مدعیان نبوت کاذبہ کے واسطے ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کو زعم ہوا ہے کہ اپنے استغراقی خیالات کو وحی سمجھ کر اشتہار دے دیتے تھے کہ ایسا ہو گا یہ میری پیشگوئی پوری نہ ہو تو جھوٹا ہوں۔ مجھ کو گدھے پر سوار کرو۔ پھانسی پر لٹکاؤ جیسا کہ عبداللہ آتھم عیسائی کی موت کی پیش گوئی اور منکوحہ آسمانی کی پیشگوئی وغیرہ میں کیا۔ مگر جب جھوٹی نکلیں تو بجائے اس کے کہ شیطانی القا اور وساوس سمجھتے تاویلات باطلہ کر کے عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق ہوئے۔ یہ حضرت ﷺ کے الفاظ خاص مرزا قادیانی کے واسطے ہیں کیونکہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ افتراء کریں گے بلکہ یہ فرمایا کہ زعم کریں گے۔
جواب غلام رسول قادیانی
پس فقرہ خاتم النبیین ﷺ اور فقرہ لانبی بعدی اس حدیث پیش کردہ میں دجالوں کے دعویٰ نبوت کی نفی و تردید کرتا ہے۔ نہ کہ آنے والے مسیح موعود کی جو خدا کے سچے مرسل اور نبی ہیں۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٤)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی اگر مرزا قادیانی اپنی تحریروں اور الہامات سے دجال ثابت ہوں اور میں حدیث سے ثابت کر دوں کہ جو صفت دجال کی ہے وہ صفت مرزا قادیانی میں تھی تو پھر مانو گے یا بے شرمی اور بے غیرتی کا پتلا بن کر پھر دھاک کے وہی پات ہی دکھاؤ گے؟ سنو رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ ان بین یدی الساعۃ الدجال و بین یدی الدجال کذابون ثلاثون او اکثر قال ما ایتہم قال ان یاتوک سنۃ لم تکونوا علیہا یغیرون بہا سنتکم و دینکم فاذا ارایتموہم فاجتنبوہم وعادوہم. (رواہ الطبرانی عن ابن عمر کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٠٠ حدیث نمبر ٣٨٣٨٠) یعنی طبرانی نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ دجال سے پہلے تیس یا زیادہ کذاب ہوں گے پوچھا گیا کہ ان کی کیا نشانی ہے فرمایا کہ وہ تمھارے پاس وہ طریقہ لے کر آئیں گے جو ہمارے طریقہ کے برخلاف ہو گا۔ جس کے ذریعہ سے وہ تمھارے طریقہ اور دین کو بدل ڈالیں گے جب تم ایسا دیکھو تو تم ان سے پرہیز کرو اور عداوت کرو۔
اب ہم ذیل میں لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کیا لے کر آئے جس سے دین اسلام بدلا دیا اور وہ طریقے اسلام کے برخلاف ہیں۔
٦٣
بدعت اوّل ...... مسئلہ اوتار ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”میں راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا ۔“ (لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨) پس غلام رسول قادیانی اسلام کی کتابوں میں اوتار کا مسئلہ دکھائیں یا مرزا قادیانی کا دجال ہونا تسلیم کریں کیونکہ کرشن ہندو اور قیامت کا منکر اور تناسخ کا قائل تھا (جیسا کہ آج کل آریہ ہیں)۔ دوسری بدعت ...... ابن اللہ ہونے کی ہے۔ مسلمانوں کی کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ انسان خدا کا بیٹا ہو سکتا ہے مگر مرزا قادیانی کے الہامات سے ثابت ہے کہ خدا ان کو بیٹا اور اولاد کر کے پکارتا ہے۔ دیکھو الہام مرزا قادیانی انت منی بمنزلة ولدی (حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) انت منی بمنزلة اولادی۔ (اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) انت من مائنا وهم من فشل (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) یعنی اے مرزا تو ہمارے پانی سے ہے یعنی نطفہ سے اور دوسرے لوگ خشکی سے۔ تیسری بدعت ...... محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ثانی کا مسئلہ جو کہ تناسخ ہی ہے۔ چوتھی بدعت ...... قرآن شریف کی آیات کا دوبارہ مرزا قادیانی پر نازل ہونا۔ پانچویں بدعت ...... انبیاءؑ کی معصومیت کا انکار کر کے ان کے خاطی ہونے کا مسئلہ جیسا کہ لکھتے ہیں۔ ”اجتہادی غلطی سب نبیوں سے ہوا کرتی ہے اور اس میں سب ہمارے شریک ہیں۔“
(اخبار بدر مورخہ ١٧ مارچ ١٩٠١ء ملفوظات ج ٢ ص ٢٢٤)
پھر لکھتے ”محمد ﷺ نے امت کے سمجھانے کے واسطے اپنا غلطی کھانا بھی ظاہر فرمایا۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٠٧ خزائن ج ٣ ص ٣١١) چھٹی بدعت ...... عیسیٰؑ فوت ہو گئے اور میں مسیح موعود ہوں حالانکہ اجماع امت اصالۃً نزول پر ہے جو کہ انجیل و قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
ساتویں بدعت ...... مرزا قادیانی نے اپنی فضیلت رسول اللہ ﷺ پر ظاہر کی۔ چنانچہ قصیدہ اعجازیہ میں لکھتے ہیں کہ ”حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطے تو چاند گہن ہوا تھا اور میرے واسطے چاند اور سورج دونوں کا پس تو میرے مرتبہ کا اب بھی انکار کرے گا ۔“ (اعجاز ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) اب غلام رسول قادیانی بتائیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو بھی علامتیں دجالوں کی بتائی ہیں جو دجال اکبر سے پہلے آئیں گے۔ جب وہی ختم نہیں ہوئے تو نہ بڑا دجال آیا نہ مرزا قادیانی کے ہاتھ سے قتل ہوا بلکہ مرزا قادیانی نے دین میں مذکورہ بالا بدعات داخل کیں جو کہ دجال کی علامت و نشان رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی حسب فرمان حضرت خاتم النبیین ﷺ ، دجال ہوئے۔ جنہوں نے دین اسلام کو بدل ڈالا۔ جن سے پرہیز کرنے اور عداوت رکھنے کا
٦٤
حکم ہے۔ غلام رسول قادیانی خدا کا خوف کرو اور یوم الآخرت کو یاد کر کے خدا کے غضب سے ڈرو اور جلد دجال کی پیروی سے توبہ کرو۔ خدا آپ کو حق قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
دوسری حدیث: کانت بنو اسرائیل تسوسهم الانبیاء کلما هلک نبی خلفه نبی انه لانبی بعدی و سیکون خلفاء۔
(صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل)
جواب غلام رسول قادیانی
اس حدیث کے متعلق صفحات سابقہ میں کافی جواب دیا جا چکا ہے وہاں سے ملاحظہ ہو۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٥)
جواب الجواب: جواب کافی نہیں ہو چکا آپ نے کسی حدیث یا آیت سے ثابت نہیں کیا کہ بعد آنحضرت ﷺ کے غیر تشریعی نبی آنے والے ہیں۔ اس اعتراض کا جواب نہیں دیا کہ اگر غیر تشریعی نبی آنے ہوتے تو ان کی ڈیوٹی یعنی فرض منصبی خلفاء کے سپرد کیوں ہوا؟ چونکہ غیر تشریعی نبیوں کا کام خلفاء کریں گے تو ثابت ہوا کہ غیر تشریعی نبی بھی بعد آنحضرت ﷺ کے کوئی آنے والا نہیں۔ دوم۔ صحابہ کرامؓ نے خلفاء کا لقب قبول کیا اور نبی نہ کہلائے۔ اس کا جواب بھی نہیں دیا گیا۔
تیسری حدیث: عن سعد بن ابی وقاصؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لعلیؓ انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لانبی بعدی۔ (مشکوٰة ص ٥٦٣ باب مناقب علی بن ابی طالب متفق علیہ) جب حضرت علی کرم اللہ وجہ جیسے صحابی اور رشتہ دار محمد رسول اللہ ﷺ جن کا فنا فی الرسول ہونا اظہر من الشمس ہے۔ جب وہ نبی نہ ہوا تو دوسرا شخص امت میں سے کس طرح نبی ہو سکتا ہے؟ جس کو نہ محبت رسول اللہ ﷺ حاصل نہ محبت میں جان فدا کرنے والا ثابت ہوا ؎
پہلے بھی بہت گزرے ہیں نقال محمد ﷺ
بلا دلیل کہہ دینا کہ فنا فی الرسول ہو کر نبی ہو گیا ہوں قابل تسلیم نہیں کیونکہ مرزا قادیانی کی تو متابعت تامہ بھی ثابت نہیں۔ جہاد نہیں کیا، حج نہیں کیا، ہجرت نہیں کی۔
جواب غلام رسول قادیانی
لا نفی جنس ذات اور صفات کے واسطے آتا ہے۔ ذات کی مثال لا اله الا الله سے ظاہر ہے اور نفی جنس موصوف کی مثال لافتی الا علی لاسیف الا ذوالفقار سے
٦٥
ظاہر ہے۔ پس اگر لا نبی بعدی کو نفی جنس کے معنوں میں ہی لیا جائے تو بھی نفی ذات مراد نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ آنحضرت ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ میرے بعد مسیح موعود آنے والا ہے جو نبی اللہ ہی ہو گا۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٦)
جواب الجواب: اس کا جواب کئی بار دیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی جب مسیح موعود نہیں تو نبی اللہ بھی نہیں۔ مسیح موعود تو وہی مسیح ناصری ہے جو عیسیٰ بن مریم ہے نہ کہ غلام احمد قادیانی ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
اس مرتبہ کے لحاظ سے نفی جنس موصوف ہی مراد ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ لافتیٰ والی مثال اور حدیث اذا ھلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ کی مثال بھی انھیں معنوں میں ہے۔ اس لحاظ سے لا نبی بعدی کا مطلب صرف وہی ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی شان کا کوئی نبی نہیں ہو سکتا جو آپ کی طرح شریعت والا یا مستقل ہو کیونکہ آپ کے بعد اب جو نبی ہو گا۔ امتی اور آپ کا متبع ہو گا۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٦)
جواب الجواب: لا کی بحث گزر چکی ہے اور جواب الجواب دیا گیا ہے۔ حدیث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قصہ مذکور ہے کہ ان کو ہارون کہا گیا مگر چونکہ ہارون غیر تشریعی نبی تھا اور تابع تورات تھا اس لیے رسول اللہ ﷺ نے شک کے رفع کرنے کے واسطے فرما دیا کہ کہیں حضرت علیؓ کو ہارونؑ کی طرح مسلمان غیر تشریعی نبی خیال نہ کر لیں ساتھ ہی لا نبی بعدی فرما دیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ غیر تشریعی نبی بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں۔ جس سے غلام رسول قادیانی کی مثالیں لافتیٰ اور لا کسریٰ کے باطل ہو گئیں کیونکہ جیسا کہ حضرت علیؓ کے ساتھ دوسرے انسان شرکت نوعی رکھنے کے باعث شریک تھے۔ اسی طرح کسریٰ کے ہلاک ہونے کے بعد کے آنے والے کسریٰ اس کی صفت میں شریک نہ تھے۔ یعنی کسریٰ جب ہلاک ہوا تو پھر مسلمان کسریٰ ہوا۔ اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد ذات میں دوسرے انسان شرکت رکھتے ہیں۔ مگر صفت نبوت میں شریک نہیں۔ جس طرح حضرت علیؓ کے ساتھ صفت فتا میں شریک نہیں ہر صورت میں نفی جنس صفت قائم رہی۔ اسی طرح لا نبی بعدی میں نفی جنس صفت نبوت ثابت ہوئی اور کسی قسم کے نبی کا آپ ﷺ کے بعد آنا جائز نہ رہا۔ سچے مسیح موعود حضرت عیسیٰؑ جو کہ چھ سو برس پہلے نبی تھے ان کا اصالتاً آنا منافی نہیں کیونکہ وہ پہلے سے نبی تھے۔
جواب غلام رسول قادیانی
جبکہ تم نے اس بات کو مان لیا کہ حضرت علیؓ صحابی ہو کر اور آپ پر جان فدا کر
٦٦
کے نبی نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ نبی ہونے کے لیے اس شرط کا ہونا ضروری نہیں۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٧)
جواب الجواب: سبحان اللہ غلام رسول قادیانی گھبرا کیوں گئے؟ خود ہی تو کہتے ہو کہ متابعت محمد رسول اللہ ﷺ سے مرزا قادیانی نبی ہوئے اور اب خود ہی یہاں کہتے ہو کہ فنا فی الرسول ہو کر نبی نہیں ہو سکتا۔ جب اعلیٰ درجہ کا فنا فی الرسول اور متابعت میں اکمل بہ سبب جہاد و حج کے بھی نبی نہ ہوا تو مرزا قادیانی کا نبوۃ پانا غیر ممکن آپ کی زبان سے ثابت ہوا۔ الحمدللہ۔
جواب غلام رسول قادیانی
مرزا قادیانی چونکہ غیر تشریعی نبی تھے۔ اس واسطے لا نبی بعدی کے برخلاف نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ کی شان کا صاحب شرع نبی نہیں آ سکتا۔ مگر غیر تشریعی آ سکتا ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٦)
جواب الجواب: یہ بھی غلط ہے آپ کو گھر کی خبر نہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی کو صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ ہے۔ ”شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا ۔“ آگے لکھتے ہیں کہ ”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) غلام رسول قادیانی مصرعہ ”تا چند کہگل میکنی دیوار بے بنیاد را“ کاذب مدعی کی آپ کب تک حمایت کریں گے اور بالکل سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی امت کے لیے امر بھی کیے اور نہی بھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی امت کے لیے حکم دیا کہ مسلمانوں کے جنازے مت پڑھو۔ ان کے ساتھ رشتے ناطے مت کرو۔ جہاد حرام کر دیا۔ مسلمانوں کے پیچھے یا مل کر نمازیں پڑھنی منع کر دیں۔ اب بتاؤ آپ کا یہ کہنا کہ مرزا قادیانی غیر تشریعی نبی تھے غلط ہے یا نہیں؟
جواب غلام رسول قادیانی
مرزا قادیانی کے متعلق جہاد حج اور ہجرت کے نہ کرنے کا اعتراض اٹھانا معترض کی جہالت کی وجہ سے ہے اس لیے کہ بخاری کی حدیث نزول مسیح کا فقرہ یضع الحرب اس بات کا کافی ثبوت ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٧)
جواب الجواب: شکر ہے کہ غلام رسول قادیانی نے خود حدیث بخاری کا فقرہ پیش کر کے
٦٧
اپنی یہودیانہ صفت کا اظہار کر دیا کیونکہ یہودی ہی ایسا کیا کرتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں تو یضع الجزیۃ ہے یعنی اہل ذمہ سے جزیہ یعنی ٹیکس معاف کر دے گا اور اسی حدیث کے دوسرے فقرات اسی بات کے متقضی ہیں کہ یضع الجزیۃ ہو کیونکہ لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ حاکم عادل ہو کر نزول فرمائیں گے اور کسر صلیب بھی اسی صورت میں ہو سکتی ہے جبکہ صاحب حکومت ہوں۔ ہجڑوں اور نامردوں نے کسر صلیب کیا کرنی ہے؟ وہ تو رات دن خوشامد نصاریٰ میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے رحم کے حوالے کیا ہوا ہے اور جزیہ معاف کرنا بھی صاحب حکومت کا کام ہے۔ رعیت ہونے کی حالت میں کوئی جزیہ معاف نہیں کر سکتا۔ غلام رسول قادیانی نے یضع الحرب کی جو ایک روایت ہے پیش کی۔ اس کے معنی سمجھنے میں غلطی کھائی ہے کیونکہ یضع الحرب کے معنی ہیں بعد قتلِ دجال کے جنگ کو بند کر دے گا کیونکہ پھر کوئی دشمن اسلام نہ رہے گا۔ جب قتل دجال، مسیح ؑ کا فرض منصبی ہے تو پھر جنگ ضرور کرے گا اور دجال کو قتل کر کے جنگ کو تمام کرے گا کیونکہ حاکم و عادل ہونا قرینہ بتا رہا ہے۔ پس یہ من گھڑت معنی ہیں کہ صرف قلم سے جنگ کرے گا۔ قلم سے جنگ تو ہمیشہ سے علمائے امت کرتے آئے ہیں اور عیسائیوں کے رد میں مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجرؒ و مولانا احمد رضا خاںؒ صاحب مجدد مائتہ حاضرہ اور مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ اور حضرت اقدس مولانا محمد علی صاحب مونگیریؒ وغیرہم نے سینکڑوں کتابیں رد مخالفین اسلام میں عموماً اور رد نصاریٰ میں خصوصاً تصنیف کیں۔ مرزا قادیانی نے روحانی جنگ میں شکست فاش کھائی کہ آج تک عبداللہ آتھم والی پیشگوئی کا نام سن کر مرزائیوں کے رنگ زرد ہو جاتے ہیں اور کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ پس غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ جہاد سے مراد قلمی جہاد ہے۔ حدیثوں میں جو لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وحی ہو گی کہ میرے بندوں کو پہاڑ پر لے جا کیونکہ ایک ایسی قوم خروج کرے گی کہ ان سے کوئی انسان جنگ نہ کر سکے گا۔ غلام رسول قادیانی بتائیں کہ یاجوج ماجوج جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے خروج کریں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہاڑ کی طرف کیوں لے جائیں گے؟ قلمی جہاد کیوں نہ کریں گے؟ افسوس جہالت اور ہٹ دھرمی بڑی بلا ہے۔ صریح دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے مطلب کے واسطے غلط تاویلات کرتے تھے۔ مگر انہیں کو سچا کرنے کی بے سود کوشش کرتے ہیں اور نصوص شرعی کی طرف پشت پھیر دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا شعر بالکل غلط ہے ؎
٦٨
سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے
(درثمین ص ٤)
افسوس غلام رسول قادیانی اس اردو شعر کو بھی نہیں سمجھے مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں کہ سیف یعنی تلوار کا کام ہم نے قلم سے لیا۔ جس کا صاف مطلب ظاہر ہے کہ حکم تو تھا سیف یعنی تلوار کا۔ مگر ہم نے خدا اور رسول کی مخالفت کر کے تلوار تو نہ چلائی اور قلم سے کام لیا۔ غلام رسول قادیانی، مرزا قادیانی تو خود مان رہے ہیں کہ ہم نے تلوار کے عوض قلم چلائی۔ یعنی حکم تلوار کا تھا مگر ہم چونکہ انگریزوں کی غلامی میں تھے اور سچے مسیح نہ تھے۔ اس لیے ہماری تلوار ہی لکڑی یعنی قلم کی تھی۔ مرزا قادیانی جب اپنی الہامی کتاب میں لکھ چکے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے اور جلالت کے ساتھ آئیں گے اور خس و خاشاک کو صاف کر دیں گے۔ (براہین احمدیہ ص ٥٠٥ خزائن ج ١ ص ٢٠٢۔٢٠١ حاشیہ) تو پھر آپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ قلمی جہاد مراد ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
’’باقی رہا حج سو حج کی نسبت قرآن شریف میں ہے من استطاع الیہ سبیلا یعنی حج کے لیے استطاعت شرط ہے اور مرزا قادیانی ہمیشہ بیمار رہتے تھے۔ وہ بیماریاں جو زرد چادریں تھیں آپ کے ساتھ ہمیشہ رہیں۔ کیونکہ مسیح موعود کی نسبت آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ دو زرد چادروں میں نزول فرمائیں گے۔‘‘
(مباحثہ لاہور ص ٤٧)
(سبحان اللہ علم ہو تو ایسا ہی ہو دو چادروں کی دو بیماریاں کہا۔ ایسی ہی تشبیہہ ہے۔ جیسا کہ ایک جاہل نے اپنے معشوق کو کہا کہ تیری آنکھیں بھینس کے سینگ ہیں۔ جب کاریگروں نے کاٹ لیے تو دودھ کہاں سے آئے گا۔) پھر آگے چل کر غلام رسول قادیانی فرماتے ہیں کہ ’’دوسرے امن راہ ہی حاصل نہ تھا۔ اس لیے کہ مکہ سے مدینہ تک آپ کے قتل کو بموجب فتاویٰ تکفیر جائز رکھنے والے راستہ میں جا بجا پھیلے ہوئے تھے۔ الخ۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٧)
جواب الجواب: حدیث شریف میں وارد ہے کہ مسیح موعود حج کریں گے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ قال والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحا حاجا او معتمرا او یثنیہما. (مسلم ج ١ ص ٤٠٨ باب جواز التمتع فی الحج والقرآن) مرزا قادیانی نے خود بھی لکھا تھا کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ (تذکرہ ص ٥٩١)
٦٩
اب غلام رسول قادیانی بتائیں کہ یہ الہام خدا کی طرف سے تھا جو پورا نہ ہوا۔ خدا تعالیٰ تو علام الغیوب ہے وہ جانتا ہے کہ مرزا قادیانی کے نصیب میں حج نہیں تو کیوں ایسا الہام کیا؟ دوئم۔ آپ کا یہ ہذیان کہ دو زرد چادروں سے دو بیماریاں مراد ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بیماریاں تو مغضوب وجود پر آیا کرتی ہیں کیونکہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ آپ کے اس جواب سے تو مرزا قادیانی منعم علیہم کے گروہ سے نکل کر مغضوب علیہم کے گروہ سے ہوئے کہ ہمیشہ بیمار رہتے۔ سوم۔ آپ کا یہ جواب کہ راستہ پر امن نہ تھا بالکل غلط ہے۔ انگریزوں کے مددگار اور فرمانبردار کی جس طرح ہندوستان میں پولیس حفاظت کرتی تھی۔ وہاں بھی کرتی۔ کیونکہ یہ انگریزوں کے آدمی تھے۔ مرزا قادیانی تو دوسرے کذابوں سے بھی گئے گزرے کیونکہ باوجودیکہ اسلامی سلطنتیں تھیں اور ان پر کفر کے فتوے بھی لگائے گئے مگر حج ادا کرتے رہے۔ سید محمد جونپوری مہدی نے حج کیا۔ اسود عنسی کاذب مدعی نبوت نے حج کیا۔ آپ کے جواب سے مرزا قادیانی کی کمزوری ثابت ہے۔
غلام رسول قادیانی اگر مرزا قادیانی ڈر کے مارے حج کو نہ گئے تو ان کو جو الہام ہوا واللہ یعصمک (تذکرہ ص ٢٢٠) وہ خدا کی طرف سے یقین کرتے تھے یا کسی اور کی طرف سے؟ اگر خدا کی طرف سے یہ الہام تھا اور مرزا قادیانی کو یقین تھا کہ خدا میری حفاظت کا وعدہ فرماتا ہے تو پھر ڈر کے مارے حج کو نہ جانا اور راستہ کا خطرہ پیش کرنا خدا پر ایمان کا نہ ہونا ثابت کرتا ہے۔ سچے اور جھوٹے میں فرق کرنے کے واسطے یہی ایک بات کافی ہے کہ سچے رسول اللہ ﷺ کو بھی یہی الہام ہوتا ہے کہ خدا تیری حفاظت کرے گا تو حضور ﷺ نے مکان سے پہرہ موقوف فرمایا اور بے خوف اعدائے اسلام کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے صفوف اعداء پر خود حملہ فرماتے اور جس جگہ دشمنوں کے تیروں اور تلواروں کا زور ہوتا خود بہ نفس نفیس قتال فرماتے اور دشمنان اسلام کو تہ تیغ فرماتے۔ اب اپنے جھوٹے رسول کا حال سنو۔ ہندوستان جیسی پرامن سلطنت میں کسی جگہ مباحثہ کے واسطے جاتے یا لیکچر دینے جاتے تو پہلی درخواست یہی ہوتی کہ پولیس کا انتظام کرو اور پولیس کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلتے۔ مرزا قادیانی کو خدا پر اعتبار نہ ہوتا اور پولیس پر اعتبار ہوتا۔ اگر مرزا قادیانی کا یہ کہنا درست ہے کہ خدا ان کی حفاظت فرماتا ہے تو پھر آپ کا یہ جواب غلط ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”باقی رہا ہجرت کرنا سو ہجرت کی ضرورت ایسے وقت ہوتی ہے جبکہ حکومت ٧٠
اور اہل ملک کی طرف سے مشکلات پیش ہو جاتی ہیں کہ احکام شریعت کی بجا آوری ناممکن ہو جائے۔ سو خدا کے فضل سے بوجہ حکومت برطانیہ کے پرامن عہد کے ایسے حالات ہی پیش نہیں آئے۔
برطانیہ کی حکومت: رحمت اور سراسر رحمت ہے۔ جس میں ہم مذہبی کارروائی کر سکتے ہیں۔
(مباحثہ لاہور ص ٤٨)
جواب الجواب: اس جواب سے تو آپ نے مرزائی مشن کا ستیاناس کر دیا اور مسیح موعود، مرزا قادیانی کا ہونا خاک میں ملا دیا۔ مسیح موعود کا فرض اور غرض نزول صرف قتل دجال کے واسطے ہے جو واحد شخص یہودی ایک آنکھ سے کانا ہو گا۔ اور اس کی مشابہت ابن قطن سے رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت ثابت کرنے کے واسطے بہت جھوٹ تراشے تھے۔ وہاں اس کمی کو پورا کرنے کے واسطے یہ جھوٹ بھی تراشا تھا کہ انگریز دجال ہیں۔“ (حمامۃ البشریٰ ص ٤٠ خزائن ج ٧ ص ٢٢٩) ”اور ریل دجال کا گدھا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ١٤٧ خزائن ج ٣ ص ١٧٤) میں یہ اعتراض نہیں کرتا کہ مرزا قادیانی بھی اس گدھے پر سوار ہو کر دجال ثابت ہوتے ہیں۔ میں صرف یہ پوچھتا ہوں کہ انگریز خدا کی رحمت ہے تو پھر دجال کون ہے؟ جب دجال کوئی نہیں تو مرزا قادیانی بھی مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ دجال کا ہونا پہلے ضروری ہے جس کے قتل کے واسطے مسیح ؑ جلالت کے ساتھ نازل ہو کر اس کو قتل کریں گے یہ غلام رسول قادیانی کی کج بحثی تھی جس کے واسطے میں بھی مجبور تھا ورنہ بحث تو صرف متابعت تامہ میں تھی۔ جس کا جواب غلام رسول قادیانی نہیں دے سکے اور جہاد حج اور ہجرت کے عذرات اور وجوہات میں بحث شروع کر دی۔ غلام رسول قادیانی نے مرزا قادیانی کی نبوت و رسالت کی دلیل دی تھی کہ مرزا قادیانی بسبب متابعت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بموجب آیت من یطع اللہ و رسول کے نبی و رسول ہو سکتے ہیں۔ جس کا جواب میں نے دیا تھا کہ اگر متابعت رسول اللہ ﷺ سے نبوت ملتی ہے تو مرزا قادیانی کی متابعت ناقص ہے کیونکہ تین رکن متابعت رسول اللہ ﷺ، مرزا قادیانی نے ادا نہیں کیے جس کا جواب غلام رسول قادیانی نے یہ دیا اور قبول کر لیا کہ بیشک مرزا قادیانی نے جہاد نفسی و جسمانی سیفی نہیں کیا۔ حج اس واسطے نہیں کیا کہ بیمار تھے اور راستہ بھی پرخطر تھا۔ ہجرت اس واسطے نہیں کی کہ ضرورت نہ تھی۔ مگر میں غلام رسول قادیانی سے پوچھتا ہوں کہ مجھ کو تم بار بار جاہل کہتے ہو اور جہالت کا
٧١
ثبوت اپنی غایت کج فہمی اور کج بحثی کا دیتے ہو۔ غلام رسول قادیانی! جب آپ نے مان لیا کہ مرزا قادیانی نے ان وجوہات سے تین ارکان متابعت رسول اللہ ﷺ کے بیشک ترک کر دیئے تو ثابت ہو گیا کہ بیشک مرزا قادیانی کی متابعت ناقص ہے اس واسطے وہ غلام رسول قادیانی کے اقرار سے ہی نبی و رسول نہیں ہو سکتے اور آپ کی دلیل امکان نبوت و رسالت بعد از حضرت خاتم النبیین ﷺ غلط ہے اور یہی ہمارا مقصود تھا جو الحمدللہ ثابت ہوا۔ باقی کے جوابات کہ مرزا قادیانی نے اس وجہ سے یہ تین ارکان ادا نہیں کیے۔ خارج از بحث تھے کیونکہ میرا سوال یہ نہ تھا کہ وجہ بتاؤ کہ مرزا قادیانی نے جہاد حج و ہجرت کیوں نہیں کی۔ جو آپ نے وجوہ بیان کیے، پس اس تیسری حدیث کا جواب بھی آپ نے کوئی نہیں دیا۔ غیر تشریعی نبی کا پیدا ہونا بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے جائز ہو سکتا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نبی ہوتے جن کی متابعت مرزا قادیانی سے اکمل ہے۔ جنھوں نے جہاد بھی کیے۔ حج بھی کیے اور ہجرت بھی کی۔ اگر ہم عذر قبول بھی کر لیں تب بھی متابعت تو ناقص کی ناقص ہی رہی اور مرزا قادیانی نبی نہیں ہو سکتے۔
چوتھی حدیث: عن عقبة بن عامرؓ قال قال النبى ﷺ لو كان بعدى نبى لكان عمر بن الخطاب. (رواہ الترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب عمرؓ) یعنی فرمایا آنحضرت ﷺ نے اگر ہونا ہوتا بالفرض پیچھے میرے کوئی نبی تو البتہ ہوتا عمرؓ بیٹا خطاب کا۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ متابعت تامہ رسول اللہ ﷺ سے کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔
جواب غلام رسول قادیانی
اس حدیث کا صرف اتنا مطلب ہے کہ حضرت عمرؓ تک کی بعدیت کے لحاظ سے اگر کوئی نبی ہونا ہوتا تو عمرؓ ہوتا لیکن حدیث كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى ولا نبى بعدى وسيكون خلفاء حضرت عمرؓ کا نبی ہونا ارشاد لا نبى بعدى وسيكون خلفاء کے خلاف ہوئے۔ غیر ممکن تھا لیکن باایں ہمہ پھر عمرؓ کی نسبت ایسا فرمایا کہ میرے بعد نبی ہونا ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ یہ محض ان کی بالقوہ فطرت مستعدہ اور مادہ قابلہ کی عزت افزائی کے لحاظ سے ہے۔
(مباحثہ ص ٤٩)
جواب الجواب: جیسا کہ مرزا قادیانی کا قاعدہ تھا کہ جب کسی نص قطعی کا جواب نہ دے سکتے تو الفاظ متضادہ جمع کر کے ادھر ادھر کی باتیں ایسے طریقہ سے بیان کرتے جو کہ بین بین ہوتے۔ یعنی نہ اقبال کرتے اور نہ انکار۔ یہی روش غلام رسول قادیانی کی ہے کہ
٧٢
مخنث جواب دے دیا۔ غلام رسول قادیانی کے جواب میں کوئی ایسے الفاظ ہیں جن سے امکان جدید نبی بعد از حضرت خاتم النبیین ﷺ پیدا ہونا ثابت ہو؟ ہرگز نہیں بلکہ حدیث لانبی بعدی اور تسوسہم الانبیاء پیش کر کے عدم امکان کو ثابت کر دیا۔ حضرت عمرؓ تک کی بعدیت کا ڈھکوسلا قابل لحاظ ہے۔ غلام رسول قادیانی نے تحدید کہاں سے نکال لی؟ حالانکہ لوکان بعدی صاف لکھا ہوا ہے اور بعدی کی ”ی“ متکلم کی ہے۔ یعنی میرے بعد پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعدیت کا زمانہ ہمیشہ کے واسطے ہے ورنہ غلام رسول قادیانی کہیں لکھا ہوا دکھائیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بعدیت کا زمانہ حضرت عمرؓ تک محدود ہے۔ غلام رسول قادیانی کا ”من“ تک جس کو وہ منطق زعم کرتے ہیں۔ قابل غور ہے کہ حضرت عمرؓ کی نسبت جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ محض ان کی بالقوۃ فطرت مستعدہ اور مادہ قابلہ کی عزت افزائی کے لحاظ سے ہے۔ ورنہ حقیقت میں لانبی بعدی درست تھا۔ مگر غلام رسول قادیانی نے بجائے تردید عدم امکان نبوت کے ثابت کر دیا کہ جب ایسا قابل شخص حضور ﷺ کے بعد نبی نہیں ہو سکتا تو قرون مابعد میں آنے والے تو بالکل ہی اس قابل نہیں کہ نبی ہو سکیں۔ دوم۔ اس جواب میں تعارض ہے کیونکہ پہلے تو لکھتے آئے ہیں کہ متابعت تامہ سے بموجب ایات اھدنا الصراط المستقیم ومن یطع اللہ ورسولہ کے نبی ہو سکتے ہیں اور اب کہتے ہیں کہ عمرؓ میں قابلیت و مادہ نبوت تھا۔ مگر وہ نبی نہیں ہو سکتے صرف اس کی عزت افزائی کے واسطے فرمایا تو اس میں ہمارا مقصود حاصل ہوا آپ کو کیا ہاتھ آیا۔ امکان نبوت کی آپ نے کون سی حدیث سے ثابت کر کے پیش کردہ حدیث کا جواب باصواب دیا؟
جواب غلام رسول قادیانی
”لیکن مسیح موعود کے نبی ہو کر آنے کے لیے یہ حدیث مزاحم و منافی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ مسیح موعود کے آنے کا عقیدہ معترض صاحب خود یقین کرتے ہیں۔“
(مباحثہ ص ٤٩)
جواب الجواب: مسیح موعود تو وہی عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں ؎ من نیستم رسول و نیا وردہ ام کتاب (درثمین فارسی ص ٨٢) جب مرزا قادیانی رسول نہیں تو مسیح موعود بھی نہیں۔ ہم آپ کو سچا مانیں یا مرزا قادیانی کو؟
٧٣
جواب غلام رسول قادیانی
”بخاری کی حدیث جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے۔ متروک ماننا پڑے گا یا تعارض واقعہ ہوگا۔ پس تعارض کے دور کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ مسیح موعود کی نبوت و رسالت تسلیم کی جائے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٤٩)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی! بخاری کی حدیث کے مضمون کے لحاظ سے بھی مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ حاکم عادل ہونا شرط ہے پھر جزیہ معاف کرنا اس کی علامت ہے۔ پھر کسر صلیب اس کی علامت ہے۔ پھر قتل دجال اس کی علامت ہے پھر مال کا تقسیم کرنا کہ اس کو کوئی قبول نہ کرے گا کیونکہ تمام غنی ہوں گے بہ سبب پانے مال غنیمت کے جو بعد فتح مسلمانوں کے ہاتھ آئے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تقسیم فرمائیں گے اور وہ اس قدر کثرت سے ہو گا کہ سب مالا مال ہو جائیں گے اور ایک سجدہ بہتر ہو گا۔ دنیا و مافیہا سے۔ مرزا قادیانی بجائے مال دینے کے مختلف حیلوں سے مسلمانوں سے مال تازیست لیتے رہے۔ کہیں لنگر خانہ کا چندہ۔ کہیں منارہ مسیح کا چندہ، کہیں توسیع مکان کا چندہ، کہیں بہشت فروخت کر کے اس کا چندہ، کہیں کتابوں کی اشاعت کے واسطے چندہ، غرض کہ یہ چندے علاوہ فیس بیعت کے تھے جب بخاری کی حدیث کی ایک بھی علامت مرزا قادیانی میں نہیں تو مسیح موعود ان کو تصور کر کے نبی اللہ رسول اللہ یقین کرنا بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔ غلام رسول قادیانی بخاری اور مسلم و دیگر حدیث کی کتابوں میں جو نزول عیسیٰؑ کا باب الگ باندھا ہے وہ عیسیٰؑ جو نبی ناصری تھا اور اسی عیسیٰ ابن مریم کا قصہ قرآن شریف میں ہے اور دوسری طرف اعلام اور تشخصات اہل علم کے نزدیک بدل نہیں سکتے تو بجائے عیسیٰ ابن مریم کے غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ قادیانی کس طرح مسیح ہو سکتا ہے؟ جب مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں ہو سکتے تو جدید نبی بھی نہیں ہو سکتے یہ آپ کی کج بحثی ہے کہ بار بار مسیح موعود کو پیش کرتے ہو۔ جب امکان ہی آپ ثابت نہیں کر سکتے تو مرزا قادیانی کا نبی اللہ ہونا باطل ہے۔
پانچویں حدیث: عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض طھورا ومسجدا وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون۔ (مسلم ج ١ ص ١٩٩ المساجد و مواضع الصلوۃ) روایت ہے۔ ابی ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ فضیلت دیا گیا میں نبیوں پر ساتھ چھ خصلتوں کے دیا گیا میں کلمے جامع
٧٧
اور فتح دیا۔ میں دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالنے کے ساتھ اور حلال کی گئیں۔ میرے لیے غنیمتیں اور کی گئی میرے لیے زمین مسجد اور پاک بھیجا گیا میں ساری خلقت کی طرف اور ختم کیے گئے میرے ساتھ نبی۔"
اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ حضور ﷺ کی ذات پاک میں یہ خصوصیت تھی جو کسی نبی میں نہ تھی کہ آپ ﷺ نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ رفع اور نزول اور درازی عمر میں عیسیٰ کو آنحضرت ﷺ پر فضیلت ہے۔ انتہیٰ۔
جواب غلام رسول قادیانی
اس حدیث کے فقرہ ختم بی النبیون سے آپ نے اپنے مدعا کو ثابت کرنا چاہا ہے جس کے متعلق پہلے ذکر ہو چکا ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٥٠)
جواب الجواب: پہلے ذکر تو بیشک ہو چکا۔ مگر بنائے فاسد علی الفاسد کے طور پر جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے۔ یعنی مرزا قادیانی چونکہ تابع محمد ﷺ ہیں اس لیے ان کی نبوت کا دعویٰ جائز ہے۔ جس کا جواب بھی ہو چکا کہ سب کذابوں نے امتی ہو کر اور تابع محمد ﷺ ہو کر دعوے کیے۔ مسیلمہ کذاب نے کہا تھا کہ جیسا حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارونؑ تھا میں بھی محمد ﷺ کے ساتھ ہوں اور اس کے تابع ہوں۔ جھوٹے مدعی نبوت کی یہ علامت ہے کہ وہ سچے نبی کا سہارا لیتا ہے چنانچہ تمام مدعیان نبوت کاذبہ، محمد ﷺ کی متابعت کے اقراری چلے آئے ہیں۔ وہ سب جھوٹے سمجھے گئے تو مرزا قادیانی بھی جھوٹے ہیں۔
جواب غلام رسول قادیانی
”باقی رہا ختم بی النبیون یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد نبیوں کا پیدا ہونا ختم ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح دوسری خصوصیات میں امت شریک ہے اسی طرح خصوصیت ختم بی النبیون میں بھی امت شریک ہے۔ مثلاً کفار کے ساتھ جو جنگیں ہوئیں اور غنیمتیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں۔ وہ حلال ہیں۔ تو ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ختم بی النبیون میں بھی امت شریک ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ دوسرے نبیوں کی نبوت کے سلسلہ کا خاتمہ کیا گیا نہ کہ آپ کی امت میں آپ کے سلسلہ نبوت کا خاتمہ مراد ہو۔“
(مباحثہ لاہور ص ٥١، ٥٢)
٧٥
جواب الجواب: جہل مرکب کی تعریف ہے کہ نداند و داند کہ داند۔ غلام رسول قادیانی کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں کہ قیاس مع الفارق اہل علم کے نزدیک باطل ہے۔ غلام رسول قادیانی کے نزدیک جہاد اور نبوت کا ختم ہونا ایک ہی بات ہے۔ افسوس! بحث تو ختم نبوت میں ہے۔ جس کا سلسلہ بعد آنحضرت ﷺ کے بند ہے اور آپ پیش کرتے ہیں جنگ با کفار اور حاصل ہونے والے مال غنیمت کے، جو کہ صحابہ کرامؓ سے لگاتار جاری رہا اور مال غنیمت اس کثرت سے آیا کہ حضور ﷺ کی زندگی میں کبھی نہ آیا تھا۔ جب آپ کے نزدیک مال غنیمت کا جاری رہنا اور سلسلہ نبوت ایک ہی ہے تو جس طرح جنگ کر کے صحابہ کرامؓ نے مال غنیمت پایا۔ اسی طرح نبوت بھی پائی؟ مگر آپ اوپر خود تسلیم کر چکے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمرؓ و حضرت علیؓ نے نبی کا لقب نہ پایا اور نہ مال غنیمت کی طرح سلسلہ نبوت کو جاری سمجھا۔ تو آج تیرہ سو برس کے بعد آپ کس طرح سلسلہ نبوت کو مال غنیمت کی حلت کی طرح جاری کر سکتے ہیں۔ اس عقل کے پتلے غلام رسول قادیانی سے کوئی پوچھے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی حدیث میں اپنے آپ کو خاتم الغنائم بھی فرمایا ہے۔ ہرگز نہیں۔ تو پھر یہ گوز شتر اور قیاس مع الفارق کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ مال غنیمت کی حلت کے سلسلہ جاری رہنے سے سلسلہ نبوت و رسالت بھی جاری ہے؟
جواب غلام رسول قادیانی
”آنحضرت ﷺ نے دوسرے مقام میں خود فرمایا ہے کہ میرے بعد مسیح موعود امامکم منکم کے رو سے امت محمدیہ کے افراد سے ایک فرد کامل ہوں گے وہ نبی ہوں گے۔“ الخ
(مباحثہ لاہور ص ٥١)
جواب الجواب: لعنت اللہ علی الکاذبین غلام رسول قادیانی آپ کسی حدیث میں دکھائیں کہ امت محمدیہ میں سے مسیح موعود ہو کر نبی اللہ و رسول اللہ ہوگا۔ آپ خود لکھ آئے ہیں کہ جھوٹی حدیث بنانے والا دجال ہے پس جو یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ہوگا۔ دجال اور لعنتی ہے۔ آپ کسی حدیث کے الفاظ سے دکھائیں کہ امت محمدیہ میں سے مسیح ہوگا۔ افسوس آپ کو اپنی باتیں بھی یاد نہیں رہتیں خود حدیث پیش کر آئے ہو کہ کیف تھلک امة انا فی اولھا والمسیح ابن مریم فی اخرھا والمھدی فی اوسطھا۔ (مباحثہ لاہور ص ٢٧) جس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس حدیث سے آپ نے اخیر کی عبارت چھوڑ دی ہے کہ المھدی فی اوسطھا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم ہے جو کہ
٧٦
امامکم یعنی مہدیؑ کے بعد نازل ہوگا۔ پس کسی حدیث سے دکھائیں کہ امت محمدیہﷺ میں سے مسیح موعود ہو گا اور وہ جدید نبی و رسول ہو گا۔ امامکم منکم کے معنی آپ غلط کرتے ہیں۔ امامکم منکم کا یہ مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰؑ چونکہ ایک اولوالعزم رسول ہے۔ جب وہ بارادہ الٰہی دجال کے قتل کے واسطے نازل ہو گا تو بحیثیت رسول نازل ہو گا۔ وہ ایسا ہو گا جیسا کہ ایک امام تم میں سے۔ یہ الٹا منطق ہے کہ تم میں سے ایک فرد عیسیٰ ابن مریم ہو گا کیونکہ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک رسول آنحضرتﷺ کی امت میں داخل ہو جیسا کہ لو کان موسٰی حیًا۔ الخ (مشکوٰۃ ص٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میری پیروی کے سوا ان کو چارہ نہ ہوتا۔ مگر یہ ہرگز ہرگز جائز نہیں کہ ایک فرد امت محمدیہﷺ میں سے بعد حضرت خاتم النبیینﷺ کے لا نبی بعدی کے ہوتے ہوئے جدید نبی ہو کیونکہ سلسلہ جدید نبیوں کا مسدود ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”مرزا قادیانی کا مسیح موعود اور نبی ہو کر آنا آنحضرتﷺ کے فیض کا اثر ہے۔ جس سے یہودی سیرت لوگ بوجہ شومی اعمال محروم ہو رہے ہیں۔“ (مباحثہ لاہور ص ١٥١)
جواب الجواب: یہودی سیرت ہونا ہم پہلے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا ثابت کر آئے ہیں۔ صرف اس بات کا جواب دینا ضروری ہے کہ اگر مسلمان بعد آنحضرتﷺ عہدۂ نبوت پانے سے محروم ہیں تو ان کی سعادت ہے کیونکہ خدا اور رسول کے فرمودہ کے پابند ہیں۔ ہاں مرزا قادیانی اور ان کے مرید بہ سبب مخالفت خدا اور رسول کے مغضوب ہو کر بعد حضرت خاتم النبیینﷺ کے مدعی نبوت ہوئے اور ہو رہے ہیں اور شکر ہے کہ یہ شومی اعمال مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں تک محدود ہے۔ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہوئے پھر ان کا مرید مولوی چراغ دین ساکن جموں نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا اور دلیل پیش کی کہ چونکہ مرزا قادیانی مسیح ہیں تو مسیح کے پیرو حواری چونکہ رسول کہلاتے تھے۔ اس لیے میں بھی رسول ہوں۔ پھر میاں نبی بخش ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ نے دعویٰ نبوت کیا اور بغیر کسی ایچ پیچ کے صاف صاف کہہ دیا کہ خدا مجھ کو فرماتا ہے کہ اب تاج نبوۃ تیرے سر پر پہنایا گیا ہے۔ تبلیغ کے واسطے تیار ہو جا۔ پھر میاں عبداللطیف ساکن گناچور ضلع جالندھر حال وارد بیرم پور نے دعویٰ نبوۃ کیا اور اپنی نبوت کے ثبوت میں وہی دلائل پیش کیے جو مرزا قادیانی نے کیے۔ جن کو سن کر مرزائیوں کا ڈیپوٹیشن یعنی جو وہ قادیان سے گیا تھا لاجواب ہو کر واپس آیا۔ ابھی تو مرزا قادیانی کو مرے صرف ١٦ برس ہوئے اور چار
٧٧
مدعی نبوت ہوئے آئندہ حشرات الارض کی طرح معلوم نہیں کس قدر ہوں گے اور ان سب کا عذاب اور وبال مرزا قادیانی پر ہے جنھوں نے خاتم النبیین ﷺ کی مہر کو توڑا اور نبوت کے واسطے دروازہ کھولا۔ اب جس قدر مدعی ہوں گے مرزا قادیانی کے پیرو ہوں گے خدا تعالیٰ مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین۔
جواب غلام رسول قادیانی
"یہ کہنا کہ اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ رفع و نزول اور درازی عمر سے حضرت عیسیٰؑ کو آنحضرت ﷺ پر فضیلت ہے۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ یہ قول جہالت اور خوش اعتقادی دونوں کی بنا پر ہے۔ جہالت کی بنا پر اس واسطے کہ جب قرآن کریم اور حدیث صحیحہ اور عقل سلیم کے رو سے حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں تو اب حضرت عیسیٰ کو زندہ قرار دینا کیونکر جائز ہے۔" (مباحثہ لاہور ص ٥١)
جواب الجواب: اثبات حیات مسیح میں مفصلہ ذیل کتابیں علمائے اسلام کی طرف سے لکھی گئیں۔ مگر کوئی جواب مرزا قادیانی اور ان کے خلیفوں اور مریدوں کی طرف سے نہیں دیا گیا۔ مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام اور دوسری کتابوں میں جو وفات مسیح کے دلائل دیئے سب کو بازیچہ طفلان اور ہذیان ثابت کر کے مرزائیوں کی جہالت ثابت کی گئی۔
کتابوں کے نام یہ ہیں۔ اوّل! الہام المسیح فی حیات المسیح مصنفہ مولوی غلام رسول امرتسری عرف رسل بابا۔ دوم! الفتح ربانی مطبوعہ مطبع انصاری دہلی۔ سوم۔ شمس الہدایۃ مولفہ خواجہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی جن کے مقابلہ کرنے سے مرزا قادیانی بھاگ گئے۔ چہارم۔ سیف چشتیائی مولفہ خواجہ پیر مہر علی شاہ صاحب۔ پنجم۔ الحق الصریح فی حیات المسیح یہ وہ مباحثہ ہے کہ مولوی محمد بشیر صاحب کا مرزا قادیانی سے ہوا اور مرزا قادیانی علم نحو سے جواب دینے سے عاجز آ کر علم نحو سے انکار کر کے کہ یہ خدائی علم نہیں مباحثہ ادھورا چھوڑ کر بھاگے اور قادیان میں آ دم لیا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی نسبت حکیم نور الدین قادیانی نے کہا کہ پس یہ کتاب حیات مسیح میں ایسی ہے جس کا کوئی جواب نہیں۔ ششم۔ البیان الصحیح فی حیات المسیح یہ کتاب عمدۃ المطابع دہلی میں چھپی۔ ہفتم! شہادت القرآن مصنفہ مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی۔ ہشتم۔ ہدایت الاسلام اس کے اخیر حیات مسیح کا ثبوت دیا ہے۔ نہم۔ صحیفہ رحمانیہ نمبر ٥۔ دہم۔ النجم لکھنؤ جلد ١٠ نمبر ١٣ اس میں سید سرور شاہ اور مفتی محمد صادق قادیانی کا مباحثہ حیات مسیح پر ہوا اور ہر دو صاحب نے عاجز آ کر وعدہ کیا کہ قادیان سے جواب بھیج دیں گے۔ مگر آج تک جواب ندارد۔
٧٨
یاز دہم۔ موازنہ الحقائق۔ دواز دہم۔ درۃ الدانی علی رد القادیانی۔ اس میں بھی حیات مسیح ثابت کی ہے۔ سیزدہم۔ سیف الاعظم مولوی غلام مصطفےٰ صاحب کی تصنیف ہے جو کہ رئیس خٹک کی فرمائش سے بعد مباحثہ شائع کی گئی۔ چہار دہم۔ ابطال وفات مسیح انجمن تائید الاسلام کی طرف سے سات رسالوں میں نمبر وار ١٩١٦ء میں میں نے شائع کیے اور انجیل برنباس سے حیات مسیح ثابت کر کے قرآن اور حدیث سے تصدیق کی گئی تھی۔ پھر دس نمبروں رسالہ تائید اسلام لاہور میں حیات مسیح ثابت کر کے تین نمبروں میں مسیح کی قبر کا کشمیر میں ہونا باطل ثابت کیا۔ آج تک کوئی جواب نہ دیا گیا۔ گھر میں بیٹھ کر باتیں بنانا ٹھیک نہیں۔ اب اگر ہمت ہے تو میدان میں آؤ اور وفات مسیح قرآن سے ثابت کرو۔ قرآن کی تیس آیات کہتے ہو ایک آیت دکھلاؤ۔ مگر جاہلانہ استدلال نہ ہو کہ دعویٰ خاص اور ثبوت عام ہو جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے۔ چونکہ بحث اس وقت امکان نبی بعد از حضرت خاتم النبیین ﷺ میں ہے۔ اس واسطے ہم زیادہ نہیں لکھتے تا کہ بحث خراب نہ ہو۔ ہم قادیانی غلام رسول کو چیلنج دیتے ہیں کہ بعد تصفیہ موجودہ بحث۔ حیات وفات مسیح پر بحث کریں تو بندہ حاضر ہے۔ مگر پہلے امکان نبی کا فیصلہ کر لیں۔ پھر بعد میں جس قدر چاہیں حیات مسیح کے بارہ میں سوال کریں ہم جواب دیں گے۔ فی الحال تو آپ اس حدیث کا جواب نہیں دے سکے اور وفات مسیح کی طرف خلاف شرائط مناظرہ لے بھاگے۔ جو کہ آپ کے عجز اور لاجواب ہونے کی دلیل ہے۔ بار بار مسیح موعود کا ذکر کرتے ہو جو کہ مصادرہ علی المطلوب ہے اور اہل علم کے نزدیک باطل ہے۔ غلام احمد کی نبوت کے ثابت کرنے میں غلام احمد کو پیش کرتے ہو جو کہ آپ کی جہالت کا ثبوت ہے۔
چھٹی حدیث: قال رسول الله ﷺ فانی اخر الانبیاء وان مسجدى آخر المساجد. (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٤٦ باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی مکہ و المدینۃ ) یعنی میں آخر الانبیاء ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔ اس حدیث نے فیصلہ کر دیا ہے کہ خاتم کے معنی نبیوں کے ختم کرنے کے ہیں اور آخر آنے کے ہیں۔ کیونکہ تمام دنیا میں مسجد نبوی ایک ہی ہے۔ جس طرح مسجد نبوی بعد آنحضرت ﷺ نہیں۔ اسی طرح جدید نبی بھی تیرہ سو برس کے عرصہ میں نہیں مانا گیا۔ مسجدی کی (ی) متکلم کی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ کی مسجد دنیا میں سوا مدینہ منورہ کے کسی جگہ مسجد نبوی محمدی نہیں ہے۔ انتہیٰ۔
جواب غلام رسول قادیانی
’’ یہ حدیث بھی ہمارے مدعا کے برخلاف نہیں اس طرح کہ آنحضرت ﷺ
٧٩
نے اپنے تئیں آخر الانبیاء قرار دیا ہے اور اس کی مثال میں فقرہ مسجدی آخر المساجد پیش کیا ہے۔ جس کا صرف یہ مطلب ہے کہ میری مسجد مساجد سے آخری مسجد ہے۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی مسجد کو آخری مسجد اس لحاظ سے قرار دیا ہے کہ آپ کی مسجد کے بعد جنس مساجد سے کسی قسم کا کوئی بھی فرد بصورت مسجد ابدالآباد تک ظہور میں نہیں آئے گا تو یہ معنی بلحاظ واقعات صحیح نہیں معلوم ہوتے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی مسجد کی بناء کے بعد آج تک لاکھوں مسجدیں بنا ہوئیں اور ہوتی جا رہی ہیں چونکہ یہ واقعات کے برخلاف ہے اس واسطے ایسا سمجھنا صحیح نہیں۔"
(مباحثہ لاہور ص ٥٣‘ ٥٤)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی نے یہاں سخت مغالطہ دیا ہے کہ مسجد کی جنس کے لحاظ سے تو لاکھوں مسجدیں بعد آنحضرت ﷺ کے تیار ہوئیں اور یہ معنی تسلیم کریں۔ تو واقعات کے برخلاف ہیں۔ جس کا جواب یہ ہے کہ مسجد کی (ی) متکلم ظاہر کر رہی ہے کہ بنا کنندہ کے لحاظ سے مسجد نبوی کو دوسری مساجد سے غیریت صفت میں ہے اور وہ صفت نبوی مسجد ہونے کی ہے اور تمام دنیا کی مساجد سے خصوصیت ہے۔ جس طرح کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ دوسرے انسانوں کو شرکت نوعی ہے۔ یعنی انسان ہونے میں شرکت ہے اور نبی ہونے میں شرکت وصفی بہ صفت نبوت نہیں۔ اسی طرح تمام مساجد کو مسجد نبوی سے شرکت نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ چونکہ یہ خاتم النبیین ﷺ کی مسجد ہے اس واسطے جبکہ کوئی نبی بعد آنحضرت ﷺ نہ ہوگا۔ اس لیے مسجد نبوی بھی بعد میں نہ ہو گی جب نبی نہیں تو مسجد نبوی بھی نہ ہو گی۔ اور غلام احمد قادیانی کا جواب غلط ہے کیونکہ دوسری مساجد کے تیار کنندہ نبی نہیں اس لیے ان مساجد کو نہ تو وہ خصوصیت حاصل ہے اور نہ ہی ان کو مسجد نبوی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد انسان تو پیدا ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے مگر صفت نبوت سے متصف نہ ہوں گے اور نہ تیرہ سو برس کے عرصہ میں کوئی نبی ہوا۔ کیونکہ صفت نبوت و لقب نبی بعد آنحضرت ﷺ کے کسی جدید انسان کو نہ دیا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت ابن عربیؒ نے فتوحات میں لکھا ہے کہ اسم النبی زال بعد محمد رسول اللہ ﷺ یعنی نبی کا نام پانا بعد آنحضرت ﷺ کے زائل ہو گیا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ جو نبی اللہ ہیں وہ پہلے سے نبی و رسول ہیں اور غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی صفت اور شان کا کوئی نبی نہ ہوگا۔ من گھڑت ڈھکوسلا ہے۔ جس کی کوئی سند نہیں اگر کسی حدیث میں لکھا ہے کہ میرے بعد ایسا نبی پیدا ہو گا جو میرے مقاصد کی پیروی کرے۔ تو غلام رسول قادیانی دکھائیں ورنہ تسلیم کریں کہ
٨٠
کسی قسم کا جدید نبی بعد آنحضرت ﷺ پیدا نہ ہوگا اور آنے والا عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ و رسول اللہ ہی سچا مسیح موعود ہے جو پہلے نبی ہو چکا ہے۔ ساتویں حدیث: انا خاتم الانبیاء و مسجدی خاتم مساجد الانبیاء. (کنزالعمال ج ١٢ ص ٢٧٠ حدیث ٣٤٩٩٩ باب فضل الحرمین من الاکمال) یعنی میں انبیاء کے آخر میں ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد کے آخر میں ہے۔ پس نہ بعد میرے کوئی مسجد انبیاء کی ہو گی اور نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی مسجد نبوی۔ انتہیٰ۔
جواب غلام رسول قادیانی
یہ حدیث بالکل اس سے پہلی حدیث کے ہم معنی ہے۔ ہاں اس میں بجائے آخر المساجد کے خاتم مساجد الانبیاء ہے۔ چنانچہ اس سے پہلی حدیث کی دوسری توجیہ جو صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس کی صحت کے لیے اس حدیث کا آخری فقرہ مصدق و موید ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٥٣)
جواب الجواب: یہ بالکل غلط ہے کہ اس حدیث کا آخر فقرہ غلام رسول قادیانی کی توجیہ دوم کا مصدق و موید ہے بلکہ یہ فقرہ اس من گھڑت اور اغلط توجیہ کی تردید و تکذیب کر رہا ہے کیونکہ اس فقرہ کے الفاظ یہ ہیں۔ مسجدی خاتم مساجد الانبیاء ہے۔ جس کے معنی ہیں کہ جس طرح میں خاتم النبیین ﷺ ہوں۔ میری مسجد خاتم مساجد الانبیاء ہے۔ یعنی نہ کوئی میرے بعد نبی اور نہ میری مسجد کے بعد کوئی مسجد نبویؐ غلام رسول قادیانی کی توجیہ کہ مستقل اور تشریعی نبی نہ آئے گا۔ غلط ہے کیونکہ ان کے مرشد خود تسلیم کر چکے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین ہیں۔ جب بغیر استثناء کے ہر ایک قسم کے نبی کے ختم کرنے والے ہیں تو پھر غلام رسول قادیانی کا استثناء کرنا غلط ہے اور مرزا قادیانی کے مذہب کے برخلاف ہے۔ دیکھو مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔
ہر نبوت را بدو شد اختتام
(درثمین فارسی ص ١١٤)
دوم! جب مرزا قادیانی بھی ...... ”صاحب شریعت ہیں یعنی ان کی وحی میں امر بھی اور نہی بھی ہیں ۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) اور اسی کا نام شریعت ہے تو پھر اب تو مرزا قادیانی کے نبی تسلیم کرنے میں بعد خاتم النبیین ﷺ کے تشریعی نبی اور
مستقل نبی کا آنا ثابت ہو گیا جو کہ فریقین کے عقائد کے برخلاف ہے۔ پس غلام رسول قادیانی کی توجیہ غلط ہے اور یہ حدیث پہلی حدیث کی مؤید و مصدق ہے اور آخر المساجد پر جو آپ کا اعتراض تھا کہ ہزاروں مسجدیں دنیا میں بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ہیں۔ خاتم المساجد الانبیاء فرما کر رد کر دیا کہ بعد آنحضرت ﷺ کے نہ کوئی نبی ہو گا اور نہ مسجد نبوی ہو گی کیونکہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ ﷺ کی مسجد خاتم مساجد الانبیاء ہے۔
آٹھویں حدیث: انه لا نَبِيَّ بَعْدِكُم ولا امة بعدكم فاعبدوا ربكم (کنزالعمال ج ١٥ ص ٩٤٧ حدیث ٤٣٦٣٨ باب فی ارکان الایمان من الاعمال) یعنی اے حاضرین میرے بعد کوئی نبی نہیں اور نہ تمھارے بعد کوئی امت ہے۔ اب تیرہ سو برس کے بعد کس دلیل سے جدید نبی کا آنا مانا جا سکتا ہے؟ جبکہ علمائے اسلام کا فتویٰ ہے کہ دعویٰ النبوة بعد نبینا محمد کفر بالاجماع یعنی دعویٰ نبوت بعد ہمارے نبی محمد ﷺ کے کفر ہے اجماع امت سے۔
جواب غلام رسول قادیانی
یہ حدیث بھی ہمارے مدعاء کے برخلاف نہیں اس لیے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد لا نبی بعدی کے معنوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ آنے والے مسیح موعود کے نبی ہونے کے یہ حدیث مانع نہیں کیونکہ لا نبی بعدی کا لا نفی جنس موصوف کے معنوں میں پیش کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک آنحضرت ﷺ کی طرح مستقل اور شریعت والا نبی ہرگز نہیں آئے گا چنانچہ ہم اس کے قائل ہیں۔
(مباحثہ لاہور ص ٥٤)
جواب الجواب: افسوس غلام رسول قادیانی نے نفی جنس کے معنی سمجھنے میں غلطی کھائی ہے نفی جنس تو حقیقت نبوت کی ہے۔ یعنی کسی قسم کا نبی بعد آنحضرت ﷺ کے نہ ہوگا۔ غلام رسول قادیانی نے جو بار بار تکراراً لکھا ہے کہ نفی جنس میں غیر تشریعی و غیر مستقل نبی شامل نہیں۔ بلاسند ہے یہ کس جگہ لکھا ہے کہ بعد از حضرت خاتم النبیین غیر تشریعی نبی آ سکتا ہے۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نبوت شریعت والی نہ تھی تب بھی نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کو فرمایا کہ تو ہارون علیہ السلام کی مانند ہے۔ مجھ سے مگر وہ نبی تھا اور تو نبی نہیں جس سے ثابت ہے کہ کبھی غیر تشریعی نبی بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نہ ہو گا۔ مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے کہ ہمارے نبی کریم بغیر کسی استثناء کے خاتم النبیین ہیں۔ غلام رسول قادیانی کا یہ جواب اپنے پیر و مرشد مرزا غلام احمد قادیانی کے بھی برخلاف ہے۔
٨٢
جواب غلام رسول قادیانی
”خادم شریعت محمدیہ ﷺ کی صورت میں ایسے نبی کے آنے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا۔“
(مباحثہ لاہور ص ٥٤)
جواب الجواب: جب حدیث میں لا نبی بعدی ہے تو آپ کا بلا دلیل و سند شرعی کہہ دینا کہ خادم اسلام ہو کر جو نبی آئے آ سکتا ہے غلط ہے۔ کوئی حدیث پیش کرو جس میں لکھا ہو کہ خادم شریعت محمدی ہو کر کوئی جدید نبی آ سکتا ہے۔ آپ کا من گھڑت قیاس بمقابلہ صحیح حدیث لا نبی بعدی کے جس میں کسی قسم کی استثناء نہیں قابل توجہ نہیں ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”اور ہم احمدی بھی خدا کے فضل سے امت محمدیہ ہی ہیں اور اس زمانہ میں امت محمدیہ کہلانے کے مستحق صرف احمدی ہیں اور کوئی فرقہ سب اسلامی فرقوں سے امت محمدیہ کہلانے کا مستحق نہیں۔“
(مباحثہ لاہور ص ٥٤)
جواب الجواب: اپنے منہ سے جو چاہو کہہ لو واقعات تو اس کی تردید کرتے ہیں کیونکہ قادیانی فرقہ اسلامی عقائد کے برخلاف ہے دیکھو ان کے عقائد جدیدہ، امت محمدیہ کے بالکل برخلاف ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے اور آپ کی تسلی کے واسطے پھر دوبارہ درج کیے جاتے ہیں۔
- (اوّل)...... ابن اللہ، عیسائیوں کا مسئلہ مرزائی مانتے ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی کا الہام
ہے۔ انت منی بمنزلۃ ولدی.
(حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- (دوم)...... آریہ اور ہندوؤں کا مسئلہ اوتار و تناسخ مانتے ہیں۔ (تذکرہ ص ٦٠٤) جس کا
نام بروز کہتے ہیں۔ مسئلہ بروز باطل ہے مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں۔ مشائخ مستقیم الاحوال بعبارت تکون و بروزے لب نمی کشانید۔
(مکتوب ٥٨ جلد دوم)
- (سوم)...... یہودیوں کی طرح وفات مسیح کے قائل ہیں۔
(ازالہ اوہام)
- (چہارم)...... تمام انبیاء علیہم السلام کو اجتہاد میں غلطی کرنے والے مانتے ہیں اور ان کے
کلی معصوم ہونے کے قائل نہیں۔
(ملفوظات ج ٢ ص ٢٢٤)
- (پنجم)...... ”عیسائیوں کی طرح حضرت عیسیٰؑ کا صلیب پر لٹکایا جانا مانتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٧٨ خزائن ج ٣ ص ٢٩٤)
- (ششم)...... خدا تعالیٰ کی صفت رب العالمینی کے منکر ہیں کیونکہ کہتے ہیں کہ آسمان پر
٨٣
خدا مسیح کو رزق دے کر پرورش نہیں کر سکتا اور نہ زندہ رکھ سکتا ہے۔ گویا آسمان پر خدا کی حکومت نہیں اور نہ وہ آسمانی مخلوق کا رب ہے۔
(ہفتم)...... خدا تعالیٰ کو تیندوے کی طرح مانتے ہیں۔ (توضیح المرام ص ٧٥ خزائن ج ٣ ص ٩٠) حالانکہ امت محمدیہ ﷺ لیس کمثلہ شیء کی معتقد ہے۔
(ہشتم)...... خدا تعالیٰ کو مرزا قادیانی کے وجود میں داخل ہوا مانتے ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا ہے میرے ہاتھ اس کے ہاتھ میرے اعضا اس کے اعضا ہو گئے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤-٥٦٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
(نہم)...... خدا تعالیٰ کو مرزا قادیانی سے پیدا شدہ مانتے ہیں۔ دیکھو الہام مرزا قادیانی انت منی وانا منک. (تذکرہ ص ٤٢٢) یعنی اے مرزا تو ہمارے سے اور میں تیرے سے۔
(دہم)...... مرزا قادیانی کو خدا کے پانی یعنی نطفہ سے مانتے ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی کا الہام ہے انت من مائنا وھم من فشل. (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٤) یعنی اے مرزا تو ہمارے پانی یعنی نطفہ سے ہے۔ یعنی خدا کے نطفہ سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے۔ ایسے اعتقادات والا امت محمدیہ سے خارج ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”اجماع کا دعویٰ غلط ہے امام احمدؒ فرماتے ہیں۔ قال احمد من ادعی الاجماع فہو کاذب یعنی امام احمد ابن حنبلؒ نے فرمایا ہے کہ اجماع کا دعویدار کاذب ہے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٥٤)
جواب الجواب: امام احمد بن حنبلؒ کا مطلب اجماع کلی کا ہے۔ یعنی ایسا اجماع کہ جس سے کوئی فرد امت باہر نہ رہے۔ بیشک یہ ناممکن ہے مگر جب کسی امر میں کثرت رائے امت ہو تو وہ حجت ہے اور اس اجماع کا منکر کافر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے لایجمع امتی علی الضلالۃ (ترمذی ج ٢ ص ٣٩ باب فی لزوم الجماعۃ) یعنی میری امت گمراہی پر اتفاق نہ کرے گی۔ اس حدیث سے اجماع امت ثابت ہے اور حجت ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ جیسے بزرگ حدیث کے برخلاف ہرگز نہیں کہہ سکتے اور اگر بفرض محال کہیں تو حدیث کے مقابلہ میں قابل تسلیم نہیں۔ جب اجماع ہے کہ مدعی نبوت اجماع مسلمین سے کافر ہے تو مرزا قادیانی اور ان کے مرید امت محمدیہ ﷺ سے خارج ہیں۔
جواب غلام رسول قادیانی
”باقی رہا اجماع کے متعلق۔ اسکے جواب میں یہ عرض ہے کہ اجماع کا دعویٰ
٨٤
ہی کذب اور غیر معتبر ہے۔“
(مباحثہ لاہور ص ٥٤)
جواب الجواب: مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”صحابہ کی اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔ حضرت عیسیٰؑ فوت ہو گئے۔ (تریاق القلوب ص ٣٣٣ حاشیہ خزائن ج ١٥ ص ٤٦١) جب اجماع کا مدعی کاذب ہے تو مرزا قادیانی غلام رسول قادیانی کے کہنے سے کاذب ثابت ہوئے الحمدللہ۔
جواب غلام رسول قادیانی
”اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اجماع ہے تو اجماع اسی امر میں ہو سکتا ہے کہ آنحضرت کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں ہو سکتا۔“
(مباحثہ لاہور ص ٥٥)
جواب الجواب: غیر تشریعی نبی کے آنے کی کوئی سند شرعی غلام رسول قادیانی نے پیش نہیں کی اور یہ جواب غلام رسول قادیانی کا مرزا قادیانی کے بھی برخلاف ہے کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں مصرعہ۔ ہر نبوۃ رابرو شد اختتام۔ (درثمین فارسی ص ١١٤) یعنی ہر قسم کی نبوۃ کیا تشریعی اور کیا غیر تشریعی کیا ظلی اور کیا بروزی آنحضرت ﷺ پر ختم ہو چکی ہے اور کسی قسم کا نبی آنجناب ﷺ کے بعد پیدا نہ ہو گا۔ پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”اس لیے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہیے تھا کیونکہ جس چیز کے لیے ایک آغاز ہے اس کے لیے ایک انجام بھی ہے۔“ (الوصیت ص ١٠ خزائن ج ٢٠ ص ٣١١) پھر لکھتے ہیں وان رسولنا خاتم النبیین و علیہ انقطعت سلسلۃ المرسلین تحقیق ہمارے رسول خاتم النبیین ہیں اور ان پر رسولوں کا سلسلہ قطع ہو گیا۔ (الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص ٦٢ خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩) غلام رسول قادیانی! غور فرمائیں کہ ان کے مرشد مرزا قادیانی .......... تو سلسلہ اس بعد از حضرت خاتم النبیین منقطع ہو گیا فرماتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کو قرآن شریف کی آیت یا بنی آدم امایاتینکم رسل منکم نظر نہ آئی تھی۔ غلام رسول قادیانی جواب دیں کہ ان کا لکھنا درست ہے یا ان کے مرشد مرزا قادیانی کا؟“
جواب غلام رسول قادیانی
پہلا حوالہ ملا علی قاری کا دیا جاتا ہے۔ دیکھو موضوعات ملا علی قاری ص ٥٨-٥٩ فرماتے ہیں وقلت و مع ھذا لوعاش ابراھیم صارنبیا و کذالوصار عمر نبیا لکان من اتباعہ علیہ السلام فلا یناقض قولہ تعالیٰ خاتم النبیین اذ المعنی انہ لایاتی نبی ینسخ ملۃ ولم یکن من امۃ کیا معنی یعنی میں کہتا ہوں کہ اگر
٨٥
آنحضرت ﷺ کا صاحبزادہ ابراہیم اور حضرت عمر دونوں نبی ہو جاتے تو آپ کے تابعداروں سے ہوتے اور اس صورت میں ان دونوں کا نبی ہونا خاتم النبیین کا نقیض نہ تھا اس لیے کہ ایسی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایسا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جو آپ کے ملت کو منسوخ کرے۔ الخ
(مباحثہ لاہور ص ٥٥)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی علم کا دعویٰ تو بہت کرتے ہیں مگر قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ اگر آپ کو ”لَو“ کی بحث یاد نہ تھی یا ان کا مبلغ علم لو کی بحث تک نہ پہنچا تھا تو کسی دوسرے عالم سے پوچھ لیتے کہ لو کا استعمال ہمیشہ ناممکنات کے اوپر ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اگر دو اللہ ہوتے تو فساد ہوتا۔ کیا غلام رسول قادیانی کے اعتقاد میں دو خداؤں کا ہونا ممکن ہے اور فرعون کا دعویٰ خدائی درست تھا؟ کیونکہ ان کے نزدیک دو خداؤں کے امکان کی سند اس آیت میں ہے۔ افسوس غلام رسول قادیانی کو وقوع امر اور فرضی امکان امر میں فرق معلوم نہیں ہوتا۔ آپ تو مرزا قادیانی کا نبی و رسول ہو کر آنا ایک وقوعہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پیش کرتے ہیں وہ حدیث جس میں لفظ لَو کا استعمال ہوا ہے۔ جس سے وقوعہ محال ہے۔ یہ وہی کج بحثی ہے جو کہ وفات مسیح کے ثابت کرنے میں کیا کرتے ہیں کہ دعویٰ تو یہ ہے کہ مسیح پر موت وارد ہو گئی ہے۔ مگر جس قدر آیات پیش کرتے ہیں۔ سب میں امکان موت ہے۔ جس شخص کو امکان محال اور وقوع محال میں فرق معلوم نہ ہو وہ اس قابل نہیں کہ اس کے ساتھ بحث کی جائے۔ ملا علی قاریؒ کا تو صرف یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کی احادیث اور قرآن میں نقیض نہیں۔ تعارض دور کرنے کے واسطے لکھتے ہیں کہ اگر بفرض محال حضرت ابراہیمؑ اور عمرؓ نبی ہو جاتے تو خاتم النبیین ﷺ کے ماتحت رہتے۔ جیسا کہ لو کان موسی حیًّا والی حدیث سے ثابت ہے کہ جس طرح موسیٰ ؑ کا حضرت خاتم النبیین ﷺ کے عہد میں زندہ ہونا محال ہے اور وہ زندہ نہ ہوا۔ صِرف فرضِ عقلی مقصود بالذات ہے۔ اسی طرح حضرت ابراہیمؑ اور حضرت عمرؓ کا بعد آنحضرت ﷺ کے نبی ہونا فرضِ عقلی محال ہے کیونکہ نہ حضرت ابراہیمؑ زندہ رہے اور نہ نبی ہوئے اور نہ حضرت عمرؓ بعد حضرت خاتم النبیین کے نبی ہوئے۔ ہاں اگر حضرت ابراہیمؑ زندہ رہتے اور نبی ہوتے تب امکان وقوعی ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ لَو کا لفظ ناممکنات کے واسطے وضع کیا گیا ہے۔ دیکھو علم اصول کی کتابیں مطول وغیرہ جب آپ لَو کا استعمال امورِ ممکنہ کے واسطے ثابت کر دیں گے تب ایسی دلیل پیش کر سکتے ہیں۔ اب غلام رسول قادیانی کی تسلی کے واسطے ملا علی قاریؒ کا مذہب خاتم
٨٦
النبیین ﷺ کی نسبت لکھا جاتا ہے تا کہ غلام رسول قادیانی کو اپنی غلط فہمی معلوم ہو جائے۔
- (١) ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں دعوی النبوة بعد نبینا محمدﷺ کفر بالاجماع (شرح
فقہ اکبر ص ٢٠٢) ہمارے نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع و بالا تفاق کفر ہے۔
- (٢) ابن حجر مکیؒ اپنے فتاویٰ حدیثیہ میں لکھتے ہیں۔ ” من اعتقد وحیا من بعد
محمد ﷺ کان کافرا با جماع المسلمین ۔“ یعنی جو شخص بعد محمد ﷺ کے دعویٰ کرے کہ مجھ کو انبیاء علیہم السلام کی مانند وحی ہوتی ہے وہ اجماع امت سے کافر ہے۔
- (٣) حضرت شیخ اکبر ابن عربیؒ فتوحات کی جلد ثانی صفحہ ٦٤ پر فرماتے ہیں زال اسم
النبی بعد محمد ﷺ یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد نام نبی کا اٹھایا گیا ہے۔ اب کوئی شخص اپنے واسطے نبی و رسول کا لقب تجویز نہیں کر سکتا اور نہ نبی کہلا سکتا ہے۔
- (٤) امام غزالیؒ فرماتے ہیں پھر سب پیغمبروں کے بعد ہمارے رسول مقبول ﷺ کو خلق
کی طرف بھیجا اور آپ ﷺ کی نبوت کو ایسے کمال کے درجہ پر پہنچایا کہ پھر اس پر زیادتی محال ہے۔ اسی واسطے آپ ﷺ کو خاتم الانبیاء بتایا گیا کہ آپ ﷺ کے بعد پھر کوئی نہیں ہوا۔ دیکھو اکسیر ہدایت ص ٦٢ ترجمہ اردو کیمیائے سعادت۔
- (٥) حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ محدث دہلوی حجۃ البالغہ کے اردو ترجمہ کے ص ٦١٦ پر
لکھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات سے نبوت کا اختتام ہو گیا۔
اس قدر حوالہ جات کے بعد بھی اگر کوئی شخص کسی امتی کو نبی و رسول تسلیم کرے تو وہ امت محمدیہ ﷺ سے خارج ہو کر مسیلمہ کذاب کی امت میں شامل ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”دوسرا حوالہ حضرت امام شعرانیؒ کا کتاب الیواقیت والجواہر جلد ٢ ص ٢٢ بالفاظ ذیل۔ آنکھیں کھول کر ملاحظہ فرمائیے فان مطلق النبوة لم یرتفع وانما ارتفع نبوة التشریع وقوله صلی اللہ علیہ وسلم لانبی بعدی ولا رسول المراد لامشرع بعدی۔ کیا مطلب۔ یعنی مطلق نبوت کا ارتفاع نہیں ہوا۔ بلکہ جس نبوت کا ارتفاع ہوا ہے وہ تشریعی نبوت ہے اور آنحضرت ﷺ کے اس قول کا مطلب کہ میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں۔ آپ کا اس سے صاحب شریعت نبی و رسول مراد ہے۔“ (مباحثہ لاہور ص ٥٥)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی کا اقرار تھا بلکہ مباحثہ کی شرط تھی کہ قرآن کا مقابلہ قرآن سے۔ مگر افسوس کہ غلام رسول قادیانی قرآن اور حدیث کے مقابلہ میں امام شعرانیؒ کے قول اور رائے کو پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط ہے کیونکہ امام صاحب نے یہ نہیں لکھا
٨٧
کہ بعد حضرت خاتم النبیین کے غیر تشریعی نبی آ سکتے ہیں۔ شکر ہے کہ غلام رسول قادیانی نے خود ہی الیواقیت والجواہر کو پیش کیا ہے۔ پس ہم کو بھی حق ہے کہ ہم بھی الیواقیت والجواہر پیش کریں جس میں صاف صاف لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ ”اعلم ان الاجماع قد انعقد علی انہﷺ خاتم المرسلین کمانہ خاتم النبیین،“ (الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ٣٧) یعنی اس پر اجماع امت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ختم کرنے والے رسولوں کے ہیں۔ جیسا کہ ختم کرنے والے نبیوں کے۔ پھر لکھتے ہیں۔ ”وھذا باب اغلق بعد موت محمدﷺ فلا یفتح لاحد الی یوم القیامۃ۔“ (ایضاً) یعنی باب نبوۃ بعد وفات حضرت محمد ﷺ کے بند کیا گیا ہے اور قیامت تک کسی پر نہیں کھولا جائے گا۔ غلام رسول قادیانی نے غیر مشرع نبی کی تشریح جو امام شعرانیؒ نے لکھی ہے۔ وہ عمداً چھوڑ دی ہے۔ جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ وہو ہٰذا۔ ”ولکن بقی للاولیاء وحی الالہام الذی لا تشریع فیہ۔“ (ایضاً) جس سے ثابت ہے کہ اولیا امت محمدی میں ہوں گے۔ جن کو صرف الہام ہو گا اور وہ اولیاء اللہ کہلائیں گے نہ کہ نبی۔ نبی کا لفظ توقیفی ہے۔ شیخ اکبر نے فرمایا ہے۔ انقطاع اسم النبی بعد محمد ﷺ ہے۔
(فتوحات ج ٢ ص ٢٥٣)
غلام رسول قادیانی نے امام شعرانیؒ کی عبارت نقل کرنے میں دیانت کا ثبوت دیا ہے کہ جو عبارت ان کے مدعاء کے برخلاف تھی اس کو نقل نہیں کیا گیا۔ لہٰذا ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں۔ وہو ہٰذا۔ (الرؤیا) مابقاء اللہ تعالیٰ علی الامۃ من اجزاء النبوۃ فان مطلق النبوۃ لم یرتفع وانما ارتفع نبوۃ التشریع کما یؤیدہ حدیث من حفظ القرآن فقد ادرجت النبوۃ بین جنبیہ یعنی نبوت کی خبروں سے جو باقی ہے وہ رؤیا صادقہ ہے۔ باقی تمام جزیں نبوت کی اٹھائی گئی ہیں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ چالیس اجزاء نبوت میں سے صرف ایک جز نبوت باقی ہے۔ جس کی تائید یہ حدیث کرتی ہے کہ جس شخص نے قرآن شریف حفظ کر لیا اس کے اپنے پہلوؤں میں نبوت درج ہوگئی اور غلام رسول قادیانی فرمائیں کہ کل یا کل رؤیا صادقہ دیکھنے والے نبی ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر سلسلہ انبیاء بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کیونکر جاری رہا؟
جواب غلام رسول قادیانی
”تیسرا حوالہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی مدرسہ دیوبند کی کتاب تحذیر الناس کے ص ٢٨ سے بالفاظ ذیل ملاحظہ فرمائیے اور ذرہ آنکھ کھول کر اگر بالفرض بعد
٨٨
زمانہ نبوی ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ اب ان حوالوں کے بعد سوچو آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کی تشریح کے متعلق کچھ کسر باقی رہ جاتی ہے۔ الخ
(مباحثہ لاہور ص ٥٦)
جواب الجواب: ”پہلی عبارت کو چھوڑ دیا ہے اور صرف غلط فہمی کی بنا پر تحذیر الناس کی عبارت پیش کی ہے جو کہ بالکل غلام رسول قادیانی کے مدعاء کے برخلاف ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم کی پہلے اصل عبارت نقل کی جاتی ہے تاکہ غلام رسول قادیانی کی غلط بیانی اور دھوکہ دہی ثابت ہو۔
”اگر درصورت تسلیم اور چھ زمینوں کے وہاں کے آدم اور نوح وغیرہم علیہم السلام یہاں کے آدم اور نوح علیہم السلام وغیرہم سے زمانہ سابق میں ہوں تو باوجود مماثلت کلی بھی آپ کی خاتمیت زمانی سے انکار نہ ہو سکے گا۔ جو وہاں کے محمد ﷺ کے مساوات میں کچھ حجت کیجئے۔ ہاں اگر خاتمیت بمعنے اتصاف ذاتی بوصف نبوت کیجئے۔ جیسا کہ اس ہیچمداں نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول اللہ ﷺ اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نبوی ﷺ نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کے افراد خارجی ہی پر آپ کی فضیلت ثابت نہ ہو گی افراد مقدرہ پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائے گی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ چہ جائیکہ آپ کے مناصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی نبی تجویز کیا جائے۔ بالجملہ نبوت اثر مذکور دونا ثابت خاتمیت ہے۔ معارض ومخالف خاتم النبیین نہیں۔
(دیکھو تحذیر الناس ص ٢٨)
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ نے ایک حدیث کی تشریح میں لکھا ہے جس میں چھ زمینوں کی خبر دی گئی ہے اور سوال تھا کہ اگر زمین چھ ہیں تو ہر ایک زمین کا آدم اور نوح اور محمد بھی جدا جدا ہو گا تو پھر آنحضرت ﷺ کی خاتمیت میں فرق آ جائے گا۔ اس سوال کے جواب میں مولوی محمد قاسم صاحبؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پھر بھی خاتم النبیین رہیں گے۔ چنانچہ لکھتے ہیں بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کے افراد خارجی ہی پر آپ کی افضلیت ثابت نہ ہو گی۔ افراد مقدرہ پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو جائے گی۔ تعجب ہے کہ غلام رسول قادیانی نے بالفرض کے لفظ کی طرف غور نہیں فرمائی۔ کیا بالفرض کہنے سے متکلم کی مراد اس امر کا وقوع میں آ جانا مراد ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ بالفرض میں بادشاہ ہو جاؤں تو
٨٩
ایسا کروں تو کیا اس بالفرض کہنے سے غلام رسول قادیانی اس متکلم کا بادشاہ ہو جانا تسلیم کریں گے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ کے بالفرض سے کس طرح سمجھ لیا کہ وہ بعد از حضرت خاتم النبیین ﷺ کے جدید نبی پیدا ہونے کے قائل تھے۔ اب ذیل میں مولانا محمد قاسم صاحبؒ کی عبارت نقل کی جاتی ہے جس سے غلام رسول قادیانی اور مرزا قادیانی کا تمام طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔
”آپ یعنی محمد ﷺ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ ﷺ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالفرض اور ان کی نبوت آپ ﷺ کا فیض ہے۔ پر آپ ﷺ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں۔ آپ ﷺ پر سلسلہ نبوت مختتم ہو جاتا ہے۔ دیکھو ص ٤ تحذیر الناس از حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ ۔ پھر اسی ص ١ کی سطر ١٥ پر لکھتے ہیں۔ ”بعد نزول حضرت عیسیٰؑ کے آپ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر مبنی ہے۔“
غلام رسول قادیانی جواب دیں کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ تو فرماتے ہیں کہ سلسلہ نبوت آپ ﷺ پر مختتم ہو جاتا ہے اور حضرت عیسیٰؑ بعد نزول شریعت محمدی پر عمل کریں گے۔ تو اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ بعد حضرت خاتم النبیین کے کوئی جدید نبی نہ ہو گا۔ صرف پرانا نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور شریعت محمدی پر عمل کریں گے جس سے تمام مرزائی طلسم ٹوٹ گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ وہ نہیں آ سکتے اور مرزا غلام احمد بروزی رنگ میں آ گیا ہے۔ پس غلام رسول قادیانی کا جواب بالکل غلط ہے۔ کیونکہ کسی ایک بزرگ نے یہ نہیں فرمایا کہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کوئی جدید نبی پیدا ہو سکتا ہے۔
نویں حدیث: عن جبير بن مطعم قال رسول الله ﷺ ان لى اسماء انا محمد انا احمد وانا الماحى الذى يمحو الله الكفر بى وانا الحاشر الذى يحشر الناس على قدمى وانا العاقب الذى ليس بعدى نبى (ترمذی ج ٢ ص ١١١ باب ماجاء فی اسماء النبی ﷺ) یعنی جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔ محمدؐ احمدؐ ماحیؐ حاشرؐ عاقبؐ عاقب کے معنی ہیں کہ نہیں کوئی نبی بعد اس کے۔“ انتہی بلفظہ ۔
جواب غلام رسول قادیانی
”اس حدیث کا فقرہ والعاقب الذی لیس بعدہ نبی کا جواب وہی ہے جو صفحات سابقہ میں دیا گیا۔“
(مباحثہ لاہور ص ٥٦)
٩٠
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی اس حدیث کا جواب بھی نہیں دے سکے۔ وجہ یہ ہے کہ عاقب کے جب یہ معنی ہیں کہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں تو غلام رسول قادیانی کا یہ جواب بالکل غلط ہے۔ کیونکہ عاقب کی بحث سابقہ صفحات میں نہیں کی گئی۔ اگر غلام رسول قادیانی سچے ہیں تو بتائیں کہ کن صفحات میں جواب دیا گیا ہے۔ عاقب کے معنی پیچھے آنے والے کے ہیں اور یہ معنی رسول اللہ ﷺ نے خود فرما دیئے ہیں کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ یعنی سب نبیوں کا خاتم یعنی ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ جس سے ثابت ہے کہ خاتم النبیین کے معنی مہر وغیرہ تصدیق کے جو کرتے ہیں بالکل غلط ہیں۔ کیونکہ عاقب کے معنی بھی رسول اللہ ﷺ نے خود ہی فرما دیئے ہیں کہ العاقب الذی لیس نبی بعدہ یعنی عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چونکہ نبی نکرہ ہے۔ اس کے معنی ہر قسم کے نبی کے ہیں۔ تشریعی اور غیر تشریعی کسی قسم کا استثنا نہیں۔ پس اس حدیث نے فیصلہ کر دیا ہے کہ خاتم کے معنی عاقب کے ہیں اور عاقب کے معنی پیچھے آنے والے کے ہیں جس کے بعد کسی قسم کا جدید نبی پیدا نہ ہو گا۔ چونکہ یہ حدیث قطعی نص تھی۔ اس واسطے غلام رسول قادیانی نے جواب نہیں دیا۔
دسویں حدیث: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔
(ترمذی ج ٢ ص ٥٣ باب ذہبت النبوۃ وبقیۃ المبشرات)
یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت ونبوت منقطع ہو گئی ہے۔ پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔ اس حدیث کے رو سے بھی بلا کسی استثناء کے رسول اور نبی کا آنا محال ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”اس حدیث میں جس امر رسالت اور نبوت کے انقطاع کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ شریعت والی نبوت و رسالت ہے۔ نہ وہ رسالت و نبوۃ جو بشارات کے معنوں میں ہے۔ جیسے کہ بخاری کے الفاظ ذیل لم یبق من النبوة الا المبشرات سے اس کی تصدیق ظاہر ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی نبوت اسی نوع کی ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٥٧۔٥٦)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی کا بخاری کی حدیث پیش کر کے یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کی نبوت مبشرات سے ہے اور لا نبی بعدی کے منافی نہیں بالکل غلط ہے۔ کیونکہ یہی بخاری کی حدیث بانگ دہل بتا رہی ہے کہ تشریعی اور غیر تشریعی نبوت و رسالت سے کچھ باقی نہیں رہا۔ مگر مبشرات آگے جو فقرہ حدیث کا ہے چونکہ غلام رسول قادیانی
٩١
کے مدعا کے برخلاف تھا۔ اس لیے غلام رسول قادیانی نے چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے ہم وہ فقرہ حدیث لکھ کر غلام رسول قادیانی کو جواب دیتے ہیں۔ وہ فقرہ یہ ہے قال وما المبشرات قال الرؤیا الصادقہ. (بخاری ج ٢ ص ١٠٣٥ باب مبشرات) یعنی رسول اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ یا حضرت مبشرات کیا ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ سچی خواب۔ پس نبوت کے اجزا میں سے صرف سچی خواب باقی ہے اور سب اجزا کا انقطاع ہو گیا ہے۔ غلام رسول قادیانی کی لیاقت دیکھئے کہ جزئیہ موجبہ کلیہ قرار دے کر نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری رہنا بتاتے ہیں جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے کیونکہ جزئیہ موجبہ کلیہ نہیں ہوا کرتا۔ اگر غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا تسلیم کیا جائے تو پھر جو جو اشخاص سچے خواب دیکھتے ہیں سب نبی ہوئے اور یہ ان کے مرشد مرزا قادیانی کے بھی خلاف ہے۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ ”میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے۔ جس کی تمام جوانی بدکاری میں گزری ہے۔ کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسر اور آشنا بستر کا مصداق ہوتی ہے۔ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔“ (توضیح مرام ص ٨٥ خزائن ج ٣ ص ٩٥) غلام رسول قادیانی جواب دیں کہ جب بدکار عورتیں بھی سچی خواب دیکھ لیتی ہیں اور سچی خواب بقول آپ کے نبی ہونے کی دلیل ہے تو وہ عورتیں بھی نبیہ ہیں اور آپ کی مؤید ہیں کہ بعد آنحضرت ﷺ غیر تشریعی نبیہ ہیں۔ افسوس مرزا قادیانی کے بھی برخلاف لکھتے ہوئے خوف نہیں کرتے۔ مرزا قادیانی خود قائل ہیں کہ جزئیہ موجبہ کلیہ نہیں ہوتا مگر غلام رسول قادیانی ایک جزو نبوت و رسالت سے جو کہ رویا صادقہ ہے نبی کا امکان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جو کہ ان کی جہالت کا ثبوت ہے۔ حدیث میں جب نبوت و رسالت دونوں کا انقطاع مذکور ہے تو پھر یہ کہنا کہ غیر تشریعی نبی آ سکتے ہیں غلط ہے کیونکہ شارع نبی جس کو کتاب دی جاتی ہے۔ اس کو عرف شرع میں رسول کہتے ہیں اور جو نبی شارع نہ ہو اور کوئی کتاب نہ لائے سابقہ کتاب اور شریعت کے تابع ہو اور اس کو نبی کہتے ہیں اور چونکہ اس حدیث میں رسالت اور نبوت اور دونوں کا انقطاع مذکور ہے تو ثابت ہوا کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی یعنی نہ رسول صاحب کتاب و شریعت ہو گا اور نہ صرف نبی یعنی غیر تشریعی نبی۔ مرزا قادیانی کا بار بار ذکر لانا اور ان کی نبوت ثابت کرنا مصادرہ علی المطلوب ہے جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے مرزا قادیانی ٩٢
تو زیر بحث ہیں اور آپ کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی رسول اور نبی ہیں اور پھر مرزا قادیانی کو دلیل میں پیش کرنا دعویٰ کی دلیل میں لانا ہے جو کہ باطل اور جہالت کا ثبوت ہے۔ غرض اس حدیث کا بھی آپ کے پاس کوئی جواب نہیں۔
گیارھویں حدیث: عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ مثلی و مثل الانبیاء کمثل قصر احسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الا موضع تلک اللبنۃ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ ختم بی الانبیاء و ختم بی الرسل و فی روایۃ فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین۔ (مشکوٰۃ ص ٥١١ باب فضائل سید المرسلین) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے میری مثال اور مجھ سے پہلے نبیوں کی مثال ایک ایسے محل کی طرح ہے کہ جس کی عمارت خوبصورت اور حسن خوبی سے تیار کی گئی ہے لیکن اس سے ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی۔ اس محل کا نظارہ کرنے والے اس عمارت کو بوجہ اس کی خوبی کے تعجب سے دیکھتے ہیں سو اس اینٹ کی جگہ جو چھوڑ دی گئی ہے۔ اس اینٹ کی جگہ کو میں نے بھر دیا وہ عمارت میرے ساتھ ختم کر دی گئی اور ایسا ہی رسولوں کو میرے ساتھ ختم کیا گیا۔ اور ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ وہ اینٹ میں ہوں اور میں نبیوں کا خاتم ہوں۔ یہ ہے ترجمہ حدیث کا۔ اور یہ حدیث رسالہ انجمن تائید اسلام میں سیکرٹری کی طرف سے پیش ہونے سے رہ گئی۔ لیکن ہم نے بغرض افادہ اپنی طرف سے مزید طور پر پیش کر دی۔ اس لیے کہ بعض غیر احمدی مخالف ملاں امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ کی نفی میں اس حدیث کو بھی پیش کیا کرتے ہیں۔
(مباحثہ لاہور ص ٥٧)
جواب الجواب: یہ حدیث میں نے اس واسطے پیش نہیں کی تھی تاکہ غلام رسول قادیانی کے علم کی پردہ دری نہ ہو کیونکہ اس حدیث پر آپ نے ایسا جاہلانہ اعتراض کیا تھا کہ سب حاضرین ہنس پڑے اور غلام رسول قادیانی کی لیاقت کا مضحکہ اڑایا۔ مگر افسوس غلام رسول قادیانی اس پر فخر کرتے ہیں کہ پبلک نے میری تعریف کی اور یہ نہ سمجھے کہ وہ مخول کر رہے ہیں اور ایسے موقعہ پر آفرین توہین کے معنوں میں مستعمل ہوتی ہے اور بعض نے تو آواز ہی دے دی کہ بڑا جاہل مولوی ہے کہ مثال اور تشبیہہ کو حقیقی سمجھ کر ایسا اعتراض کرتا ہے اور وہ اعتراض یہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ اگر دوبارہ آئیں گے جو پہلی اینٹ ہیں ان کو دوبارہ لانے کے لیے اپنی جگہ سے اکھاڑنا پڑے گا۔ دوسرے یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پہلی اینٹ جب اکھاڑی جائے گی تو جگہ خالی ہو جائے گی تو خالی
٩٣
ہونے کی وجہ سے اوپر کی اینٹ جو آخری ہے وہ نیچے کی اینٹ کی جگہ چلی جائے گی۔ جس سے خاتم النبیین حضرت عیسیٰ بن جائیں گے جس کا جواب میں نے اسی وقت ایسا دنداں شکن دیا تھا کہ حاضرین نے تحسین آفرین کے نعرے بلند کیے اور وہ جواب یہ تھا کہ غلام رسول قادیانی! آنحضرت ﷺ نے صرف سلسلۂ نبوت و رسالت کو ایک محل سے تشبیہ دی ہے اور یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ عین نہیں ہوا کرتے۔ اس لیے محل حقیقی عمارت نہ تھی کہ چونہ اور گارا اور اینٹوں سے بنائی گئی تھی جیسا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ حقیقی عمارت نہیں اور صرف استعارہ کے طور پر سلسلۂ نبوت کو عمارت محل سے تشبیہ دی گئی ہے اور انبیاء علیہم السلام کو اینٹوں سے اور چونکہ وجہ شبہ میں صرف ادنیٰ اشتراک ہوتا ہے۔ حقیقت نہیں ہوتی۔ اس لیے حضرت عیسیٰؑ کا دوبارہ آنا۔ خاتم النبیین ﷺ کے برخلاف نہیں کیونکہ تشبیہ صرف تکمیل عمارت نبوت میں ہے۔ یعنی سلسلۂ نبوت و رسالت کامل نہ ہوا جب تک میرا ظہور نہ ہوا تھا اور عمارت نبوت نامکمل تھی۔ جب میں پیدا ہوا عمارت نبوت کی تکمیل ہوئی۔ غلام رسول قادیانی کی اس بیہودہ تقریر اور اعتراض پر سب حیران تھے مگر افسوس غلام رسول قادیانی نے شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر اس تقریر کو ذرہ تشریح کے ساتھ پھر لکھ دیا ہے۔ اس واسطے ہم بھی جواب دینے کے لیے مجبور ہیں افسوس مرزا قادیانی پر جب اعتراض کیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی ابن مریم کس طرح آسکتے ہیں وہ تو ابن غلام مرتضیٰ تھے تو اس وقت مرزا قادیانی کا حاملہ ہونا اور بچہ جننا اور مریم ہونا استعارہ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور یہ ہرگز نہیں مانتے کہ مرزا قادیانی حقیقت میں عورت تھے اور ان کو حمل ہوا اور وہ حقیقی حمل تھا مرزا قادیانی کو درد زہ ہوئی اور کھجور کے تنہ کی طرف لے گئی تھی۔ تب تو مرزا قادیانی پر کوئی اعتراض نہیں ہیں۔ دس ماہ کی میعاد حمل کے اندر مرزا قادیانی کو بچہ عیسیٰ پیدا ہو تو ان کو نہ کہا جائے کہ آپ کے پیٹ سے عیسیٰ پیدا ہو تو آپ یوسف نجار کی بیوی ثابت ہوتے ہیں۔ وہاں تو استعارہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے مگر جب رسول اللہ ﷺ نے سلسلۂ نبوت و رسالت کو ایک محل کی عمارت سے تشبیہ دی اور اپنے آپ ﷺ کو آخری اینٹ فرمایا تو غلام رسول قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ایک اینٹ اکھاڑی جائے تو آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہیں رہتے۔ سبحان اللہ۔ جس جماعت کے ایسے مولوی ہوں وہ جماعت عقل کی اندھی کیوں نہ ہو۔ غلام رسول قادیانی اگر بفرض محال یہ مان بھی لیں کہ عیسیٰؑ حقیقی اینٹ تھے اور آنحضرت ﷺ کے اوپر کی اینٹ نکالی گئی تو یہ آپ کا کہنا کیونکر درست ہو سکتا ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین نہ رہے کیونکہ
٩٤
آنحضرت ﷺ تو اپنی جگہ جمے رہے۔ خالی جگہ ہوئی تو عیسیٰؑ والی اینٹ کی ہوئی نہ کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اینٹ کی جو کہ اپنی جگہ بحال رہی۔ باقی رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے وہ خاتم النبیین نہیں رہتے کج فہمی ہے کیونکہ عیسیٰؑ تو بعد موت پھر اپنی جگہ خالی پر چلے جائیں گے چونکہ آنحضرت ﷺ بحیثیت آخری اینٹ اپنی جگہ پر قائم رہیں گے۔ اس واسطے عیسیٰؑ کی اینٹ کے نکلنے اور پھر واپس لگائے جانے میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں اگر امت محمدیہ ﷺ میں سے کوئی شخص جدید نبی اللہ ہونے کا دعویٰ کرے تو یہ قرآن مجید کی آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے برخلاف ہے اور نہ اس جدید مدعی کے واسطے محل نبوت میں کوئی جگہ خالی ہے۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ چونکہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہو کر نبی اللہ ہیں غلط ہے، کیونکہ مسیح موعود تو حضرت عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ اور رسول اللہ ہیں۔ چونکہ آنحضرت ﷺ کے ظہور سے چھ سو برس پہلے نبی اللہ و رسول اللہ تھے۔ جنھوں نے آنحضرت ﷺ سے شب معراج میں کہا تھا کہ میں دجال کے قتل کرنے کے واسطے دوبارہ دنیا میں آؤں گا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا اور قیامت کے بارہ میں گفتگو ہوئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ قیامت کی مجھ کو بھی خبر نہیں کہ کب آئے گی۔ پھر بات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ڈالی گئی انھوں نے بھی کہا کہ مجھ کو خبر نہیں۔ پھر بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ڈالی گئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کہا کہ قیامت کا معین وقت تو مجھ کو بھی معلوم نہیں۔ مگر اتنا جانتا ہوں کہ دجال کے قتل کرنے کے واسطے میں قرب قیامت میں نزول کروں گا اور دجال میرے ہاتھ سے قتل ہو گا۔ (ابن ماجہ ص ٢٩٩ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسی بن مریم) مرزا قادیانی کے پہلے نہ کوئی دجال شخص واحد جس کی مشابہت آنحضرت ﷺ نے ابن قطن سے فرمائی ہوئی ہے آیا۔ اور نہ مرزا قادیانی کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس واسطے مرزا قادیانی نہ سچے مسیح ہیں، اور نہ نبی اللہ ہیں۔ سب بنائے فاسد علی الفاسد ہے۔
جواب غلام رسول قادیانی
”ان جوابات کے بعد اب میں چاہتا ہوں کہ بعض صاحبان حق کی خاطر امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ کے ثبوت میں چند آیات اور احادیث لکھ دوں تاکہ موازنہ کرنے والوں کے لیے آسانی ہو۔
آیت اوّل: کان الناس امۃ واحدة فبعث اللہ النبین مبشرین ومنذرین و انزل ٩٥
معهم الكتب ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه (پ ٢ سورۃ بقر) ترجمہ لوگ ایک ہی امت تھے۔ پس اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے اور ان کے اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لیے انبیاء کو مبعوث فرمایا جو آپ کی ہدایت قبول کرنے والوں کے مبشر یعنی خوشخبری سنانے والے اور ہدایت کے منکروں اور نہ ماننے والوں کے منذر یعنی عذاب الٰہی سے ڈرانے والے ہوئے اور ان کی معیت میں خدا نے کتاب بھی اتاری تا خدا تعالیٰ ان نبیوں کے ذریعہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلافی امور کا فیصلہ کرے۔‘‘ استدلال اس آیت سے امکان نبوت یوں ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبیوں کی بعثت کی علت لوگوں کا اختلاف ہے اور ان کی بعثت معلول۔ پس آیت شریفہ کے رو سے جہاں بھی اور جب بھی علت پائی جائے گی معلول کا ہونا ضروری ہوگا۔ اس قاعدہ کے لحاظ سے بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک آپ ﷺ کی امت میں اختلاف کا وجود پایا نہیں جاتا اور نہ ہی امت محمدیہ ﷺ کا تفرقہ مختلف فرقے اور جماعتیں بننے سے بوجہ اختلاف ظہور میں آنا ہے تو بوجہ عدم ظہور اختلاف آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی بھی نہیں آئے گا اور اگر آنحضرت ﷺ کے بعد امت محمدیہ میں اختلاف ہونا ہے اور واقعات سے ثابت ہے کہ اختلاف پایا جاتا ہے اور خود آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے بھی ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی امت تہتر فرقوں میں بوجہ اختلاف بٹنے والی ہے اور یہ زبردست اختلاف کہ جس کے رو سے امت تہتر فرقوں میں بٹنے والی ہے۔ آیت کے رو سے علت بھی ہے تو لازماً اس کا نتیجہ معلول کی صورت میں ظاہر ہونا ضروری ہے اور وہ ہے کسی نبی کی بعثت جس کی نسبت حدیثوں میں آیا ہے کہ ایسے اختلاف کے موقعہ کے لیے مقدر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود نبی اللہ ہو کر آئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا مسیح موعود اور نبی موعود ہو کر آنا اس کا مصداق بھی ہے وہو المطلوب۔‘‘ (مباحثہ لاہور ص ٥٩۔٥٨)
جواب الجواب: اس طول طویل عبارت کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی مبعوث کرنے کی علت غائی یہ ہے کہ وہ منکروں کو عذاب سے ڈرائیں اور مومنوں کو خوش خبری سنائیں۔ دوم۔ آپ نے قاعدہ مقرر کیا ہے کہ جب اختلاف امت محمدیہ میں ہو تو اختلاف مٹانے کے واسطے نبی کا آنا ضروری ہے کیونکہ اختلاف کا امت محمدیہ ﷺ میں پیدا ہونا نبی کے آنے کی علت ہے۔ پس جب علت ہو تو معلول کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی جب امت محمدیہ ﷺ میں اختلاف ہے۔ تو نبی کے آنے کا بھی امکان ثابت ہے۔ ہم نے غلام رسول قادیانی کی تمام عبارت حرف بحرف اسی واسطے نقل کر دی ہے تاکہ بعد
٩٦
میں وہ یا ان کے ہم خیال یہ نہ کہہ دیں کہ پوری عبارت کیوں نہیں لکھی اب غلام رسول قادیانی کی دونوں دلیلوں کا جواب الگ الگ دیا جاتا ہے تاکہ ثابت ہو کہ یہ آیت جدید نبی بعد از حضرت خاتم النبیین ﷺ کے آنے کی دلیل نہیں اور اس آیت سے استدلال غلط ہے۔ غلام رسول قادیانی اور دیگر ناظرین کرام غور فرمائیں کہ آیت پیش کردہ غلام رسول قادیانی میں فبعث اللہ النبین فرمایا گیا ہے جس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیج دیا۔ ماضی کے صیغہ سے بعثت انبیاء کا فرمانا صاف ثبوت اس بات کا ہے کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے پہلے نبیوں کی نسبت یہ آیت ہے جیسا کہ کان کا لفظ اس پر دال ہے جو کہ ماضی کا صیغہ ہے۔ اگر بعد آنحضرت ﷺ کے جدید نبیوں کا مبعوث ہونا مراد الہی ہوتا تو صیغہ استقبال سے فرمایا جاتا۔ غلام رسول قادیانی کا دعویٰ تو یہ تھا کہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے جدید نبیوں کا آنا ثابت کروں گا۔ مگر جو آیت پیش کی اس کا مطلب تو آنحضرت ﷺ سے پہلے نبیوں کا ذکر ہے نہ کہ بعد کا، اس واسطے یہ استدلال غلط ہے اور جواب باصواب نہیں۔
دوسرا قاعدہ جو علت اور معلول کا غلام رسول قادیانی نے پیش کیا ہے۔ یہ بھی غلط ہے کیونکہ جب امت محمدیہ میں اختلاف ہو تو تب ہی نبی کا آنا لازم امر ہے اور اختلاف علت ہے اور نبی کا آنا معلول بنے۔ تو نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر ایک اختلاف کے مٹانے کے واسطے جدید نبی آتا۔ مگر غلام رسول قادیانی خود اپنی اس دلیل کی تردید کرتے ہیں کہ مسیح موعود اختلاف مٹانے کے لیے آیا۔ جب مشاہدہ اس کے برخلاف اور اس من گھڑت قاعدہ کا بآواز بلند بطلان کر رہا ہے کیونکہ سب سے پہلا اختلاف تعین خلافت تھا اور ایسا زبردست اختلاف تھا کہ جو آج تک چلا آتا ہے اور امت محمدیہ کے دو فرقے ہو گئے۔ ایک شیعہ کہلاتے ہیں اور دوسرے اہل سنت و الجماعت۔ غلام رسول قادیانی فرمائیں کہ اگر ان کا قاعدہ ایجاد بندہ سراسر خیال گندہ درست ہے۔ تو تیرہ سو برس کے عرصہ میں اس علت اختلاف کے مٹانے کے واسطے کون کون نبی آیا؟ اور اختلاف کا قائم رہنا ثابت کر رہا ہے کہ کوئی نبی نہیں آیا اور تاریخ اسلام بتا رہی ہے کہ علت تو ١٣ سو برس سے چلی آتی ہے مگر معلول کوئی نہ آیا۔ یعنی جدید نبی۔ تو ثابت ہوا کہ یہ قاعدہ غلام رسول قادیانی کا غلط ہی نہیں اغلط ہے۔ دوم۔ جو حدیث غلام رسول قادیانی نے پیش کی ہے جب اس سے ثابت ہے کہ امت محمدی ﷺ تہتر فرقے ہونے والی ہے تو پھر حضور ﷺ کا لا نبی بعدی فرمانا اپنی حدیث کے متعارض ہے کیونکہ ایک طرف تو قرآن شریف کی آیت
٩٧
خاتم النبیین ﷺ کی تفسیر کرتے ہوئے حضور ﷺ لا نبی بعدی فرماتے ہیں اور دوسری طرف یہ فرماتے ہیں۔ کہ میری امت میں اختلاف ہو گا اور تہتر فرقے ہوں گے اور یہ اختلاف جدید نبی میرے بعد آ کر مٹایا کریں گے تو یہ تعارض تو نعوذ باللہ ان کی صداقت کے برخلاف ہے۔ پس آیت پیش کردہ غلام رسول قادیانی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بعد حضرت خاتم النبیین کے نبی اختلاف مٹانے کے واسطے آنے والے ہیں۔ سوم ۔ اسی آیت میں وانزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس (بقرہ ٢١٣) فرمایا جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ یہ آیت تشریعی نبیوں صاحب کتاب کی نسبت ہے جو کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے پہلے ہو گزرے ہیں نہ کہ بعد میں آنے والے نبیوں کی نسبت ہے۔ اور آپ بھی غلام رسول قادیانی نے اسی کتاب میں بہت جگہ لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نہ کوئی جدید کتاب لائے اور نہ کوئی جدید شریعت لائے تو آپ کے اقرار سے ثابت ہوا کہ اس آیت سے امکان نبی بعد خاتم النبیین کا استدلال غلط ہے۔ ورنہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کتاب اور شریعت لائے پھر آپ کو وہ کتاب اور شریعت دکھانی پڑے گی۔ جو مرزا قادیانی کو اختلاف مٹانے کے واسطے خدا نے دی اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دراصل تشریعی نبی ہیں اور شریعت لے کر آئے اور ناسخ دین محمدی ہوئے تو پکے مسیلمہ کذاب ہوئے۔ جو کہتا تھا کہ مجھ پر دو کتابیں نازل ہوئی ہیں۔ جس کا نام فاروق اوّل و فاروق ثانی تھا۔ جب مسیلمہ کی طرح مرزا قادیانی صاحب کتاب نبی نہیں تو پھر آپ کے اقرار سے کاذب نبی ہوئے کیونکہ آپ بیسیوں جگہ لکھ آئے ہیں کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد تشریعی نبی نہیں آ سکتا اور ایسی نبوۃ کا مدعی کافر ہے۔ چہارم ! اس آیت میں کان الناس امة واحدة جو ہے ظاہر کر رہا ہے۔ یہ آیت بھی ابتدائی زمانہ کی نسبت ہے کیونکہ ابتدا زمانہ میں حضرت آدم کی اولاد کہو، الناس کہو، ایک ہی مذہب پر تھے بعد میں جب ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی (اعراف ٣٥) کے رسول بھی بھیجے اور کتابیں بھی نازل فرمائیں۔ کان بھی ماضی کا صیغہ ہے۔ پس بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ آخر الانبیاء کے جب سلسلہ نبوت و رسالت بند ہوا تو نبیوں کا آنا بھی بند ہوا اور نبیوں اور رسولوں کا کام سیکون خلفاء کے مطابق خلفاء کے سپرد ہوا اور اس لیے آیت سے امکان نبوت بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے سمجھنا باطل ہے اور اغلط ہے۔ پنجم ۔ مرزا قادیانی بقول آپ کے معلول ہو کر جب علت کو جو اختلاف ہے۔ بلکہ تہتر کے چھتر (٧٤) پچھتر (٧٥)
٩٨
فرقے کر دیئے تو پھر آپ کے ہی قاعدہ سے مرزا قادیانی کاذب ہوئے کیونکہ جس غرض کے لیے آئے تھے وہ غرض پوری نہ ہوئی بلکہ ان کی اپنی جماعت ہی فرقے بن گئی۔ غلام رسول قادیانی کے قاعدہ سے اب مرزائیوں میں علت پیدا ہو گئی ہے۔ یعنی لاہوری جماعت ان کو نبی نہیں مانتی اور قادیانی جماعت غیر تشریعی نبی تسلیم کرتی ہے اور اروپی جماعت مرزا قادیانی کو تشریعی نبی مانتی ہے اور یہ ایسا اختلاف ہے کہ سوا سو برس میں ایسا نہیں ہوا تھا۔ تو اس اختلاف سے علت عظیم پیدا ہو گئی ہے تو اب معلول یعنی جدید نبی اس اختلاف کے واسطے مبعوث ہونا چاہیے۔ غلام رسول قادیانی فرمائیں کہ وہ معلول یعنی جدید نبی مرزائیوں کے اختلاف مٹانے کے واسطے بموجب اس آیت کے کون آیا ہے؟ اگر کوئی نہیں آیا اور سچ ہے کہ کوئی نہیں آیا تو پھر اس آیت کو امکان نبی بعد حضرت خاتم النبیین پیش کرنا سخت غلطی ہے۔ ششم۔ جب مرزا قادیانی کے بعد اختلاف پیدا ہوا اور مرزائیوں کے چار فرقے ہو گئے۔ یعنی علت پیدا ہو گئی اور معلول بھی پیدا ہو گئے یعنی جدید نبی میاں نبی بخش ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ جس کے الہاموں نے مرزا قادیانی کی تصدیق کی۔ جیسا کہ عسل مصفیٰ میں درج کیا گیا ہے اس کو قادیانی جماعت کیوں معلول سمجھ کر نبی نہیں مانتی۔ جس کو دعویٰ کیے ہوئے دو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔ دوسرا معلول عبداللطیف ساکن گنا چور ضلع جالندھر ہے۔ جس نے نبوۃ کا دعویٰ کیا اور قادیانی جماعت نے اس پر کفر کا فتویٰ دے کر جماعت سے خارج کیا کیوں اس کو علت کا معلول سمجھ کر غلام رسول قادیانی اور خلیفہ مرزا محمود قادیانی نے سچا نبی تسلیم نہیں کیا۔ حالانکہ جس منہاج اور معیار نبوت سے مرزا قادیانی نبی ہے۔ اسی معیار کے رو سے اور انھیں دلائل کی وجہ سے میاں نبی بخش اور عبداللطیف نبی ہونے کے مدعی ہیں۔ پس یا تو ان کو بھی سچا مانو یا اپنا قاعدہ علت معلول کا غلط سمجھو اور اقرار کرو کہ یہ آیت آپ نے غلطی سے پیش کی ہے۔
آیت دوم: یبنی ادم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم ایاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیھم ولا یحزنون۔ (سورہ اعراف) ترجمہ۔ اے بنی آدم جب آئیں تمھارے پاس رسول تم میں سے پڑھا کریں تم پر آیات میری پس جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صلاحیت کو عمل میں لائے تو ایسے لوگوں پر کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ وہ کسی طرح حزن اور غم پائیں گے۔ استدلال امکان نبوت کا ثبوت اس آیت شریفہ سے پورا ہو رہا ہے کہ بنی آدم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم میں رسل یعنی کئی رسول آیا کریں گے
٦٩
اور چونکہ رسل کا وعدہ بنی آدم سے ہے اور بنی آدم کا سلسلہ قیامت تک ہے۔ اس لیے اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رسل کا سلسلہ قیامت تک ممتد ہو گا۔ اور اگر بنی آدم مخاطب اور منادی کے لحاظ سے زمانہ نزول آیت سے لے کر قیامت تک کے بنی آدم مراد لیے جائیں تو بھی رسل انبیاء کی آمد کا سلسلہ آنحضرت ﷺ کے بعد اور زمانہ نزول آیت سے لے کر قیامت تک ماننا پڑے گا۔ علاوہ اس یقصون علیکم آیاتی کا قرینہ صاف دلالت کرتا ہے کہ ان رسولوں کا کام جو آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والے ہیں وہ صرف قرآن کریم کی آیات اور دلائل اور احکام کو ہی پیش کیا کریں گے اور ان کا کام قصص آیات ہی ہو گا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کے رسل آپ ﷺ کی کتاب قرآن کریم اور شریعت اسلامیہ کے نسخ کے لیے نہیں آئیں گے بلکہ اس کے استحکام اور اس کے اجرا کے لیے اور بنی آدم کے لفظ کو صرف اولاد آدم تک خاص کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ جب حدیث میں حضرت نوح علیہ السلام کو اوّل الرسل قرار دیا گیا ہے تو اس صورت میں صرف اولاد آدم میں اتنے رسول کہاں تسلیم کیے جاسکتے ہیں جو الرسل کے صیغہ جمع کے مصداق ہوسکیں۔ جبکہ بہت سے مسلمان ہی حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت کے منکر ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کے بیٹوں اور اولاد کے لیے کوئی نبی و رسول ہو کر نہیں آیا گو ہم یقین رکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام اور شیث علیہ السلام دونوں نبی تھے۔ اولاد آدم علیہ السلام کی روحانی اور اخلاقی تربیت انھیں کے زیر سایہ تھی۔ علاوہ اس کے جب انجمن تائید الاسلام کے ممبروں کے نزدیک آنحضرت ﷺ تک کے لوگ بنی آدم کہلانے کے مستحق اور حقدار ہیں اس لیے کہ آنحضرت ﷺ تک ان میں رسل آئے تو یہ سلسلہ آگے کے لیے کیوں رک گیا؟ اگر کہا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کی وجہ سے، تو اس کا جواب رسالہ میں متعدد جگہ تفصیل کے ساتھ دیا جا چکا ہے۔ وہاں سے ملاحظہ ہو۔
(مباحثہ لاہور ص ٦٠۔٥٩)
جواب الجواب: غلام رسول قادیانی نے ناحق اس قدر طول عبارت لکھی۔ مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ بنی آدم یعنی اولاد آدم کو یہ خطاب ہے کہ اولاد آدم جب قیامت تک موجود ہیں تو رسول بھی قیامت تک آنے چاہئیں۔ جس کا جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ایک آیت ہی اس مضمون کی نہیں۔ جب دوسری اور آیتیں اسی مضمون کی ہیں اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت سے معنی اگر غلط کیے جائیں تو دوسری آیات کے معانی میں تناقض واقعہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ معنی مردود ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ١٠٠
غلام رسول قادیانی آیت خاتم النبیین اور الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی کے ہوتے ہوئے اس آیت کے یہ معنی نہیں کر سکتے کہ ”ہمیشہ رسول آتے رہیں گے۔ یہ آیت حضرت آدم کے قصہ کی دوسری آیات کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے اور یہ اصول ہر ایک طبقہ کے مسلمانوں کا ہے کہ بہتر تفسیر اور افضل معانی وہی ہو سکتے ہیں جو کہ تفسیر قرآن بالقرآن ہو۔ اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے میں ذیل میں وہ آیات قرآن درج کرتا ہوں جو اس آیت کی تفسیر کرتی ہیں اور قرآن مجید کی دوسری آیات خاتم النبیین وغیرہ کے متعارض نہیں۔
پہلی آیت: فتلقى آدم من ربه كلمت فتاب عليه انه هو التواب الرحيم. قلنا اهبطوا منها جميعاً فاما يا تينكم منى هدى فمن تبع هدى فلا خوف عليهم ولاهم يحزنون. والذين كفروا وكذبوا بايتنا اولئك اصحاب النار هم فيها خالدون. (بقرہ ٣٩۔٣٧) ”پھر آدم نے پروردگار سے (معذرت کے چند الفاظ سیکھ لیے اور ان الفاظ کی برکت سے) خدا نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ بیشک وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا مہربان ہے۔ ہم نے حکم دیا کہ تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ تو ساتھ ہی یہ بھی سمجھا دیا تھا کہ اگر ہماری طرف سے تم لوگوں کے پاس کوئی ہدایت پہنچے تو اس پر چلنا کیونکہ جو ہماری ہدایت کی پیروی کریں گے آخرت میں ان پر نہ تو کسی قسم کا خوف طاری ہو گا اور نہ وہ کسی طرح پر آزردہ خاطر ہوں گے اور جو لوگ نافرمانی کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہی دوزخی ہوں گے اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔“ ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ یہ حکم ابتداء میں آدم علیہ السلام اور اس کی اولاد کے واسطے تھا۔ چنانچہ اس کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام سے ہی سلسلہ ارسال رسل کا جاری ہوا جیسا کہ آپ قبول کر چکے کہ آدم علیہ السلام نبی و رسول تھا اور صحیفہ آدم اس کا شاہد ہے۔ پس سلسلہ رسل حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت خاتم النبیین ﷺ پر ختم ہوا۔ دوسری آیت قال اهبطا منها جميعاً بعضكم لبعض عدواً فاما ياتينكم منى هدى فمن تبع هدى فلا يضل ولا يشقى. (طہ ١٢٣) ترجمہ: جب آدم نے نافرمانی کی تو خدا نے آدم اور شیطان کو حکم دیا کہ تم دونوں بہشت سے نیچے اتر جاؤ۔ ایک کا دشمن ایک اور زمین میں پھولو پھلو۔ پھر اگر تمہارے پاس یعنی تمہاری نسلوں کے پاس ہماری طرف سے ہدایت آئے تو جو ہماری ہدایت پر چلے گا وہ نہ راہ راست سے بہکے گا اور نہ آخر کار ابدی ہلاکت میں پڑے گا۔ آگے پھر دیکھو الم اعهد اليكم يبنى ادم ان لا تعبدو
١٠١
الشیطان (یٰسٓ ٦٠) دوسری یہ آیات بھی انھیں آیات کے مطابق کرنے چاہیے کہ یہ خطاب بنی آدم کو ابتداء دنیا میں تھا اور اسی پر عمل بھی ہوتا رہا اگر غلام رسول قادیانی کے معانی تسلیم کریں اور بنتیجہ سلسلۂ رسل جاری سمجھیں تو ذیل کے دلائل سے غلط ہیں۔
- (اوّل)......یقصون علیکم آیاتی سے ظاہر ہے کہ وہ رسل صاحب کتاب ہیں کیونکہ
آیاتی سے کتاب الٰہی مراد ہے اور آپ لکھ چکے ہیں کہ مرزا قادیانی کوئی کتاب اور ہدایت جدید نہیں لے کر آئے۔ تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اس آیت کے رو سے ایسے رسل میں سے نہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ پس ان رسل سے مراد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے پہلے کے رسول ہیں۔
- (دوم)......مرزا قادیانی اگر اس آیت کے رو سے رسول ہیں تو پھر ایک رسول ہونا
چاہیے نہ صیغہ جمع سے۔ کیونکہ آپ کئی بار لکھ چکے ہیں کہ مسیح موعود ایک ہی رسول آنے والا تھا جو اخیر میں آ گیا یا تسلیم کرو کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد اور مرزا قادیانی سے پہلے جس قدر کاذب مدعیان ہوئے سب سچے تھے کیونکہ یہ قرآن کا حکم و وحی ہے کہ قرآن کے بعد بہت رسول آنے چاہئیں نہ کہ صرف مسیح موعود کیونکہ رسل صیغہ جمع کا ہے۔
- (سوم)......مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا باطل ہوگا کیونکہ مسیح موعود کے بعد کوئی رسول
نہیں آئے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہلاک ہو گی وہ امت جس کے اوّل میں ہوں اور اخیر میں عیسیٰ علیہ السلام اس کے بعد قیامت آ جائے گی۔ بہ فحوائے آیۃ کریمہ انہ لعلم للساعة تو پھر رسل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ صرف رسول بصیغہ واحد ہونا چاہیے تھا چونکہ لفظ رسل بصیغہ جمع ہے تو ثابت ہوا کہ ابتداء آفرینش سے حکم ہے جو کہ آیت خاتم النبیین تک پیدا ہو چکا اور قصہ کے طور پر قرآن میں مذکور ہے۔
- (چہارم)......آپ کا یہ کہنا غلط ہے کہ یقصون علیکم آیاتی کا قرینہ صاف دلالت کرتا
ہے کہ ان رسولوں کا کام جو آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والے ہیں وہ صرف قرآن شریف کی آیات اور احکام کو بھی پیش کرنے والے ہوں گے۔
کیونکہ جب جو رسول حضرت خاتم النبیین ﷺ کے پہلے آئے وہ سابقہ کتب اور شرائع کے ناسخ ہوتے رہے اور یہ سلسلہ بقول آپ کے قیامت تک جاری ہے تو پھر یہ کہنا کہ ناسخ شریعت محمد و قرآن حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد جو رسول آنے والے ہیں۔ یہی قرآن پیش کریں گے غلط ہو جائے گا۔ کیونکہ جب رسول آئے گا تو کتاب ضرور لائے گا۔ دیکھو مرزا قادیانی کیا کہتے ہیں۔ مصرعہ۔ ”من نیستم رسول و نیا وردہ ام
١٠٢
کتاب۔“ (درثمین فارسی ص ٨٢) گویا مرزا قادیانی کے مذہب میں ہے۔ رسول صاحب کتاب ہوتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کتاب نہیں لائے تو رسول بھی نہیں تو پھر اس آیت سے امکان جدید رسول باطل ہوا۔ آپ کی یہ دلیل بھی ردی ہے کہ جب نسل بنی آدم قیامت تک جاری ہے تو اس آیت کے بموجب سلسلہ رسالت بھی جاری رہنا چاہیے جس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب پہلے رسولوں کے ذریعہ سے کتاب اور شریعت بھیجتا رہا اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد بقول آپ کے کتاب اور شریعت نہ بھیجے گا تو تبدیل سنت اللہ کا سوال جو ہم پر ہے۔ وہی آپ پر لوٹے گا۔ ہم کہتے ہیں جب رسول ہمیشہ آتے رہے اور شرائع لاتے رہے جن کا وعدہ بنی آدم سے تھا تو پھر بعد خاتم النبیین ﷺ کے کیوں شرائع نہ بھیجی جبکہ سلسلہ بنی آدم قیامت تک جاری ہے؟ جب آپ خود کہتے ہیں کہ نبوت و رسالت نعمت ہے اور خیر الامۃ کو انعام نبوت و رسالت سے محروم نہیں رہنا چاہیے تو پھر جدید شریعت اور جدید کتاب سے جو نعمت عظمیٰ ہے یہ خیر الامۃ کیوں محروم کی جائے؟ اگر کہو کہ شریعت قیامت تک کافی ہے تو ہم یہی کہیں گے کہ رسالت حضرت خاتم الرسل بھی قیامت تک کامل اور کافی ہے اور اگر کہو تشریعی نبوت بڑی ہے اور غیر تشریعی نبوت چھوٹے درجہ کی نبوت ہے۔ ایسا نبی آ سکتا ہے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ امت محمدیہ ﷺ کا کیا قصور ہے کہ اس کو خدا تعالیٰ خیر الامم فرما کر بڑی نعمت کتاب اور شریعت سے محروم کرے؟ اور یہ کیسی جہالت اور بے وقوفی ہے کہ ہم بڑی نعمت تشریعی نبوت کو چھوڑ کر چھوٹی نعمت قبول کریں اور قرآن اور احادیث کی مخالفت کریں عربوں جیسی جاہل قوم کو تو ایسے اعلیٰ درجہ کے نبی ملے کہ قرآن جیسی جامع کتاب لائے اور امت محمدیہ ﷺ جو کہ تعلیم یافتہ ہے اس کو ادھورا تھرڈ کلاس نبی ملے جو ہم کو عیسائیت اور یہودیت کی طرف لے جاتا ہے اور آریہ ہندو مذہب کی تعلیم دیتا ہے۔ اوتار اور حلول کے باطل مسائل کو از سر نو تازہ کر کے کرشن کا سروپ دھارتا ہے۔ کوئی نظیر ہے کہ زمانہ کبھی پیچھے کی طرف بھی لوٹا ہو؟ زمانہ تو ہمیشہ ترقی کرتا ہے مگر مرزا قادیانی ہیں کہ دقیانوسی تعلیم آج تیرہ سو برس کے بعد پیش کرتے ہیں اور انسان سے خدا بن کر خالق آسمان اور زمین اور انسان بنتے ہیں۔“
(کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
غلام رسول قادیانی لکھتے ہیں کہ سلسلہ رسل کا کیوں رک گیا؟ ہم کہتے ہیں کہ اگر خدا کسی مصلحت سے کتابوں اور شریعتوں کا نازل کرنا روکتا ہے تو نبیوں کا آنا بھی بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے روک سکتا ہے اور آپ کا استدلال اس سے بھی غلط ہے۔
١٠٣
آیت سوم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
یایہا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحاً انی بما تعملون علیم وان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون. (سورہ مومنون) یعنی اے رسولو کھاؤ ستھری چیزیں اور عمل کرو صالح لاریب میں تمھارے اعمال کا علم رکھنے والا ہوں اور یہ امت محمدیہ کہ جو اخیر دور تک یعنی قیامت تک ایک ہی امت ہے۔ تم سب رسولوں کے لیے بھی ایک ہی امت مقرر کی گئی ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔ پس تمھیں مجھ سے ڈرنا چاہیے۔
استدلال امکان نبوت کے ثبوت میں اس طرح ہے کہ اس آیت میں الرسل مخاطب و منادی کے طور پر ذکر فرمایا ہے جو صاف بتاتا ہے کہ وہ یہ رسل ہیں جو آنحضرت ﷺ کی وحی قرآن کے ماتحت آنے والے ہیں۔ ورنہ کوئی صورت نہ تھی کہ نزول قرآن کے وقت بجائے یایہا الرسول کے (جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں یایہا الرسول کے ارشاد سے بھی آنحضرت ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا) یایہا الرسل کے صیغہ جمع سے مخاطب کیا جاتا اور قیامت تک کے رسولوں کو باوجودیکہ وہ سب کے سب آنحضرت ﷺ کی وحی کے نزول کے وقت موجود نہ تھے مخاطب فرمانا ایسا ہی ہے جیسا کہ یایہا الذین امنوا اور یایہا الناس کے مخاطبہ میں بوجہ استمرار قیامت تک کے ایمان والے اور الناس داخل ہیں ورنہ بعد کے مومن اور الناس غور کر سکتے ہیں کہ مخاطب جبکہ آنحضرت ﷺ کے وقت کے لوگ ہیں تو ہم ان کے مخاطبت کے احکام کی تعمیل کیوں کریں۔ لیکن ایسا نہیں پس حق یہی ہے کہ رسل آنحضرت ﷺ کے بعد آئیں گے اور ان سب کا آنا صرف امت محمدیہ میں ہی ہو گا۔ کیونکہ سب کے لیے ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ کے ارشاد سے ایک امت آخر تک قرار دی گئی ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٦٠)
جواب : ناظرین قرآن شریف کھول کر دیکھیں کہ غلام رسول قادیانی نے کس قدر مغالطہ دینا چاہا ہے۔ سابقہ آیات میں جو کہ اس آیت کے متصل اوپر ملی ہوئی ہیں۔ رسولوں کے نام مذکور ہیں اور انھیں رسولوں کو الرسل کر کے پکارا گیا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ اور عیسیٰؑ کو بصیغہ جمع الرسل سے مخاطب فرمایا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ الرسل سے وہی رسول مراد ہیں جن کے نام اوپر درج ہیں جس سے مقصود خداوندی یہ ہے کہ ہم تو تمام رسولوں کو بھی یہی حکم کرتے آئے ہیں کہ اے پیغمبران عمل نیک کرو اور ستھری چیزیں کھاؤ‘ غلام رسول قادیانی بتائیں کہ یہ کہاں سے آپ نے لکھ دیا کہ یہ وہ رسل ہیں جو آنحضرت ﷺ کی وحی قرآن کے ماتحت آئے ہیں اور یہ تحریف نہیں کہ اپنے پاس سے
١٠٤
اتنی عبارت بڑھا دی کہ یہ وہ رسل ہیں کہ جو آنحضرت ﷺ کی وحی قرآن کے ماتحت آنے والے ہیں اور یہ یہودیانہ حرکت ہے یا نہیں؟ جب خدا تعالیٰ نے خود آیت ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين۔ (احزاب ٤٠) فرمایا تو یہ شان خداوندی کے برخلاف ہے کہ اس کے کلام میں اختلاف ہو۔ پس یہ ممکن نہیں۔ ایک طرف خدا تعالیٰ محمد ﷺ کو خاتم النبیین فرمائے اور دوسری طرف اس کے بعد آنے والے رسولوں کو مخاطب فرمائے۔ یہی تو تعارض ہے جو کہ شان وحی الٰہی کے برخلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً (نساء ٨٢) یعنی اگر قرآن شریف کسی غیر اللہ کی کلام ہوتا تو اس میں بہت اختلاف ہوتا اور یہ اختلاف کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین فرمائے اور دوسری طرف اس کے بعد کے رسول آنے والوں کو مخاطب فرمائے۔ بہت اختلاف ہے اور خدا کا جہل ثابت کرتا ہے کہ جب حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد بھی رسول آنے والے تھے تو محمد ﷺ کو کیوں خاتم النبیین ﷺ فرمایا۔
اب ہم ذیل میں صحیح ترجمہ ادا کرتے ہیں تاکہ غلام رسول قادیانی کا مغالطہ معلوم ہو جائے۔ ”ہم تو تمام پیغمبروں سے ہی ارشاد کرتے رہے ہیں۔ (اے گروہ پیغمبران ستھری چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جیسے جیسے عمل کرتے ہو ہم ان سب سے واقف ہیں اور یہ تمہارا خدائی گروہ اصل دین کے اعتبار سے ایک ہی گروہ ہے اور ہم ہی تم سب کے پروردگار ہیں اور ہم سے ڈرتے رہو۔“ اس صحیح ترجمہ سے ثابت ہے کہ اس مخاطبہ الٰہی کے مخاطب یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام سابقہ گروہ رسولاں ہیں۔ جن کے نام اوپر کی آیات میں درج ہیں۔ افسوس غلام رسول قادیانی کو دھوکہ دیتے ہوئے اور تحریف کرتے ہوئے خوف خدا نہ آیا اور اگر خوف خدا نہ تھا تو علمی غلطی تو نہ کرتے کہ انکم کا جو ضمیر الرسل کی طرف راجع ہے اس کو امت محمدیہ کی طرف پھیرتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے کیونکہ الرسل مرجع مذکور ہے۔ مرزا قادیانی کی رسالت و نبوت تو آپ ماتحت قرآن تسلیم کر آئے ہیں اور بہت جگہ مان چکے ہیں کہ مسیح موعود کوئی الگ نبی رسول نہیں قرآن شریف کے ماتحت ہے اور اس آیت میں تمام رسول صاحب کتاب جن کو طیبات کے کھانے کی ہدایت ہے مخاطب ہیں تو پھر قرآن کے بعد کے رسولوں کا مخاطب اس آیت میں ہونا غلط ہے کیونکہ اس آیت میں تو رسول صاحب کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے پہلے جس قدر رسول آدم علیہ
١٠٥
السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تک آئے مخاطب ہیں جیسا کہ انکم سے ظاہر ہے۔ غلام رسول قادیانی خدا کا خوف کریں اور کلام الٰہی میں تحریف کرنے سے توبہ کریں ورنہ ان کا اسلام سے خارج ہونا ثابت ہو جائے گا۔ کسی مفسر نے ایسے معنی کئے ہیں یا تفسیر کی ہے جس سے بعد قرآن رسولوں کا آنا امکان رکھتا ہے تو بتائیں مگر تعجب ہے کہ پہلے تو سب جگہ صرف مسیح موعود کو ہی رسالت دیتے رہے۔ اب یہاں بہت رسول کہہ دیئے۔ کیا مرزا قادیانی کے بعد رسول تابع قرآن آنے والے ہیں تو پھر مرزا قادیانی مسیح موعود نہ رہے۔ باقی رہا امتہ کا لفظ سو وہ بھی امت محمدیہ ﷺ کے واسطے نہیں۔ گروہ پیغمبران کے واسطے مستعمل ہوا ہے۔ جیسا وما تسبق من امة (الحجر ٥) اور ثم ارسلنا رسلنا تترا کلما جاء امة رسولها. (المومنون ٤٤) سے ظاہر ہے محمد رسول اللہ ﷺ کے پہلے جو رسول تھے ان کی امتہ مراد ہے دیکھو حدیث الانبياء اخوة العلات امهاتهم شتى و دينهم واحد. (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب واذکر فی الکتاب مریم) قرآن شریف کا قاعدہ ہے کہ سابقہ رسولوں کی امتہ اور گذشتہ رسولوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے اسی طرح ذکر کرتے ہیں کہ گویا وہ حاضر ہیں کیونکہ خدا سے کوئی غائب نہیں۔ یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم. (بقرہ ٤٠) سے ظاہر ہے کیونکہ آیت میں وہ بنی اسرائیل مراد ہیں جن کو فرعون سے اللہ نے بچایا تھا۔ جیسا کہ واذ نجینکم من ال فرعون. (بقرہ ٤٩) سے ظاہر ہے واذ قلتم یموسى لن نؤمن لک حتی نری اللہ جهرة. (بقرہ ٥٥) یعنی جب اے بنی اسرائیل۔ کیا رسول اللہ کے زمانہ کے بنی اسرائیلی نے موسیٰ سے کہا تھا؟ کیا غلام رسول قادیانی یہاں بھی یہی معنی کریں گے جو قرآن کے بعد بنی اسرائیل آنے والے ہیں۔ وہ مخاطب ہیں؟ ہرگز نہیں تو پھر یایھا الرسل سے قرآن کے بعد آنے والے رسول سمجھنا غلط ہے اور اس آیت سے بھی استدلال امکان نبی و رسول بعد آنحضرت ﷺ غلط ہے۔
آیت چہارم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
”ومن يطع الله والرسول فاولئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی اطاعت کا انعام نبوت وصدیقیت وغیرہ کا اقرار ہے اور آیت اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم میں امت محمدیہ ﷺ کو انعام کے طلب کرنے کے لیے ہدایت فرمائی گئی ہے اور الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی کے ارشاد سے خوشخبری دی گئی کہ انعام کے جو چار درجے ہیں۔ یعنی نبوت، صدیقیت، شہیدیت، صالحیت یہ چاروں درجے انعام
١٠٦
کے اس کو ملیں گے اور مغضوب اور ضالین کے فقرہ کے زیادہ کرنے سے بتایا کہ ان انعام سے محرومی غضب اور ضلالت کی علامت ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کی امت کا خیر الامت ہونا اسی صورت میں ہے کہ وہ سارے درجے انعام کے پائے اور اس صورت میں ثابت ہوا کہ امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ ثابت ہے۔ (مباحثہ لاہور ص ٦١ ۔ ٦٠)
جواب: اس آیت کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اختصار کے طور پر جواب یہ ہے کہ اس آیت میں لفظ من ہے۔ جو کہ عام ہے جس سے ثابت ہے کہ جو شخص اس امت سے تابعدار ہے وہی اس انعام نبوت کا مستحق ہے مگر مشاہدہ ہے کہ تیرہ سو برس میں کوئی سچا نبی نہیں ہوا۔ دوم۔ یہی آیت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی ہر ایک نماز بلکہ ہر ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے جس سے ثابت ہے کہ اہدنا الصراط المستقیم میں طلب نبوۃ کی دعا ہرگز نہیں سکھائی گئی کیونکہ حضور ﷺ نبی تھے۔ ان کا پڑھنا طلب نبوت کے لیے اگر تھا تو تحصیل حاصل تھی جو کہ باطل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ طلب نبوۃ کے واسطے یہ دعا ہرگز نہیں۔ سوم۔ من یطع اللہ ورسولہ میں عورتیں بھی شامل ہیں اور سورہ فاتحہ پڑھتی ہیں اور یہ سنت اللہ ہے کہ عورتیں نبیہ نہیں ہوتیں۔ جس سے ثابت ہوا کہ طلب نبوت کی نہ تو یہ دعا ہے اور نہ متابعت رسول اللہ ﷺ سے نبوت ملتی ہے۔ ورنہ عورتوں کے حق میں ظلم ہے کہ وہ نعمت نبوت سے بلاقصور محروم رہیں۔ چہارم۔ جب متابعت تامہ سے نبوت ملتی ہے تو نبوت کسبی ہوئی اور عام ہوئی۔ حالانکہ نبوت خاص ہے اور کسبی نہیں۔ پنجم۔ جب متابعت تامہ شرط ہے تو پھر مرزا قادیانی نبی نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کی متابعت ناقص ہے۔ جہاد نہیں کیا۔ حج نہیں کیا۔ ہجرت نہیں۔ غلام رسول قادیانی مان چکے ہیں کہ مرزا قادیانی معذور تھے اس لیے یہ تین رکن ادا نہ کر سکے۔ ہم عذر قبول کرتے ہیں مگر متابعت کا ناقص ہونا غلام رسول قادیانی کے اقرار سے ثابت ہوا اور جب متابعت تامہ سے نبوت ملتی ہے تو پھر وہ نبی ہونے چاہئیں۔ جن کی متابعت تامہ ہے۔ یعنی جنھوں نے حج کیا، جہاد بھی کیا، اور ہجرت بھی کی۔ ششم۔ ساری امت محمدیہ ﷺ میں سے ١٣ سو برس کے عرصہ میں صرف ایک سچا نبی ہوا۔ مذہب اسلام اور بانی مذہب کی سخت ہتک ہے کہ باوجود خیر الامت ہونے کے کروڑوں مسلمانوں کی دعا قبول نہ ہوئی اور صرف مرزا قادیانی کی دعا قبول ہوئی۔ اس سے مذہب اسلام کا ردی ہونا ثابت ہوا۔ ہفتم۔ خدا تعالیٰ کا وعدہ خلاف ہوا کہ ایک طرف حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین فرماتا ہے اور دوسری طرف متابعت سے نبوۃ دیتا ہے۔ ہشتم۔ حضرت نبی آخر الزمان ﷺ کی ہتک ہے کہ باوجود
١٠٧
افضل الرسل ہونے کے اس کی متابعت سے صرف ایک نبی ہو اور موسیٰ ؑ کی متابعت سے ہزاروں نبی ہوں۔ نہم۔ جب محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جو نبی ہو گا۔ وہی آخرالانبیاء ہو گا اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کی فضیلت خاتم الانبیاء اور عاقب ہونے کی ہے اسی کے لیے ہو گی۔ دہم۔ اس آیت میں مع کا لفظ ہے۔ مع کے معنے ہم رتبہ ہونے کے ہرگز نہیں۔ مع کے معنی ساتھ کے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ ﷺ نبیوں اور شہیدوں صالحین اور صدیقوں کے ساتھ ہوں گے بہشت میں امت محمدیہ ﷺ کو حسب پیروی و اعمال مختلف مدارج شہیدوں، صالحین، صدیقوں اور نبیوں کی معیت میں دیئے جائیں گے نہ کہ وہ نبی و رسول ہوں گے۔ ان اللہ مع الصابرین کے معنی یہ نہیں کہ خدا اور انسان ہم رتبہ ہیں۔ لاٹ صاحب کے ساتھ چپراسی اور سررشتہ دار میرمنشی ہوتے ہیں۔ مگر معیت سے وہ لاٹ صاحب نہیں ہو جاتے۔ اسی طرح معیت سے کوئی امتی نبی و رسول نہیں ہو سکتا کیونکہ صریح نص قرآنی کے برخلاف ہے۔ یہ جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ امت میں شہید و صدیق و صالحین ہو سکتے ہیں تو نبی کیوں نہ ہوں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ نے کسی کو خاتم الشہداء، خاتم الصدیقین و خاتم الصالحین نہیں فرمایا۔ مگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا، اس واسطے کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ غلام رسول قادیانی کسی آیت قرآن سے ثابت کریں کہ شہیدوں اور صالحین اور صدیقوں کے حق میں کسی کو خاتم فرمایا گیا ہے؟ مگر ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ کہیں نہیں دکھا سکیں گے۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔
آیت پنجم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
”اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلاً ومن الناس۔ (سورۃ حج) ترجمہ: اللہ برگزیدہ بناتا ہے اور بناتا رہے گا رسولوں کو فرشتوں سے اور انسانوں سے۔“ استدلال اس آیت سے بھی امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ ثابت ہے۔ اس طرح کہ یصطفی کا صیغہ مضارع ہے جو حال اور مستقبل پر مشتمل ہونے سے استمرار کے معنوں پر دلالت کرتا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر نزول آیت کے زمانہ میں بعض انسانوں سے منصب رسالت کے لیے برگزیدہ بنائے گئے تو بلحاظ صیغہ مضارع بصورت استمرار زمانہ مستقبل کے لیے بھی خدا تعالیٰ کی یہ سنت مستمرہ بعض انسانوں کو منصب رسالت سے برگزیدہ بنانے کے لیے جاری رہے جس سے امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ ثابت ہوتا ہے۔ وہوالمطلوب۔
(مباحثہ لاہور ص ٦١)
١٠٨
جواب: خلاصہ غلام رسول قادیانی کے استدلال کا یہ ہے کہ اس آیت میں مضارع کا صیغہ ہے اور مضارع حال اور مستقبل زمانہ کے واسطے آتا ہے تو آنحضرت ﷺ کے بعد بھی نبی و رسول آنا ممکن ہے جس کا جواب یہ ہے کہ قطعی نص کے مقابل ذو معنی آیت کو پیش کرنا غلط ہے جیسا کہ حال کے اور ماضی کے زمانہ کے معنی کرنے میں قرآن شریف کی مطابقت ہے تو پھر خلاف قرآن معنی مستقبل کے کرنے مسلمانوں کا کام نہیں۔ آیت میں جو لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سے رسالت کے واسطے برگزیدہ کرتا ہے تو اس کے صحیح معنی یہی ہیں کہ پہلے زمانہ میں رسول ہوتے رہے اور جب حضرت خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو وہ سلسلہ ختم ہوا۔ ورنہ بتاؤ کہ قرآن شریف کے بعد کون کون فرشتہ رسول برگزیدہ ہوا اور کون انسان حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد رسول برگزیدہ ہوا؟ جب کوئی نہیں ہوا تو پھر ثابت ہوا کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد یہ سلسلہ ارسال رسل بند ہے۔ اگر کہو کہ مسیح موعود رسول ہو کر آیا تو یہ غلط ہے کیونکہ جدید نبی و رسول کا آنا صریح قرآن کے متعارض ہے۔ پس مضارع کے صیغہ سے زمانہ مستقبل قرار دینا غلط ہے۔ قرآن مجید کی یہ روش ہے کہ ماضی زمانہ کے حالات کے بیان کرنے میں بھی مضارع کے صیغے استعمال فرماتا ہے۔ يذبحون ابناء کم اور يستحيون نساء کم و فی ذلک بلاء من ربکم عظیم۔ (بقرہ ٤٩) میں مضارع کے صیغے میں کیا غلام رسول قادیانی اس آیت کے معنی بھی یہ کریں گے کہ تمھارے بیٹوں کو قتل کرتے ہیں اور قتل کرتے رہیں گے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے ہیں اور زندہ رکھتے رہیں گے اور استمرار کے معنوں میں ہے۔ اور آپ دکھا سکتے ہیں کہ اب زمانہ حال میں بنی اسرائیل کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر کس قدر دلیری ہے کہ جان بوجھ کر قرآن کی مخالفت کر کے امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ ثابت کرنے کی کوشش کرنا۔ یہود اسی واسطے مغضوب ہوئے۔
جب خدا تعالیٰ کا فعل گواہی دے رہا ہے کہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے نہ کوئی فرشتہ رسول ہوا اور نہ کوئی انسان رسول ہوا تو پھر استمرار کس طرح ہوا؟ استمرار اور مستقبل کے واسطے نون ثقیلہ یا سین یا کوئی اور لفظ ہونا چاہیے اور یہ آیت امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ کی کیونکر دلیل ہو سکتی ہے پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔
آیت ششم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ لینذر یوم الطلاق۔ (سورۂ مومن) ترجمہ: اللہ تعالیٰ ڈالتا ہے روح اپنی یعنی کلام اپنا اپنے امر حکمت اور مصلحت
١١٠
سے اپنے بندوں سے جس پر کہ وہ چاہتا ہے۔ اس غرض کے لیے، تاکہ وہ بندہ درگاہ جو خدا نے اسے عباد کی طرف نذیر کر کے مبعوث کرے۔ فرمایا گیا اور رسول کر کے بھیجا گیا لوگوں کو روز قیامت سے ڈرائے جو خدا اور اس کے بندوں کی باہمی ملاقات کا دن ہے۔ استدلال اس آیت سے بھی امکان نبوۃ بعد آنحضرت ﷺ ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح کہ یلقی جو مضارع ہے اور زمانہ حال اور استقبال پر مشتمل ہوتا ہے بوجہ استمرار خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ پر دلالت کرتا ہے کہ جس طرح اس نے نزول آیت کے زمانہ میں آنحضرت ﷺ پر اپنا کلام نازل فرما کر آپ ﷺ کو رسول اور نبی بنایا تاکہ لوگوں کو ڈرائیں۔ اسی طرح یہ سنت آئندہ کے لیے بھی جاری رہے گی اور آئندہ بھی رسول اور نبی مبعوث ہوتے رہیں گے۔ جس سے ثابت ہے کہ امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ کا مسئلہ حق ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٦١)
جواب: مضارع کا جواب اوپر درج ہے۔ دوسری مثال لکھی جاتی ہے۔ جو مرزا قادیانی کا الہام غلام رسول قادیانی کا رد کرتا ہے۔ ”یریدون ان یروطمئک“ یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١) غلام رسول قادیانی یریدون مضارع کا صیغہ ہے یا نہیں۔ اب بتائیں ان کے اعتقاد کے مطابق یہ خدا کا کلام ہے جو اپنے بندے غلام احمد قادیانی پر نازل ہوا اور مضارع کے صیغے ہوتے ہوئے غلام رسول قادیانی کے قاعدہ سے اس کے یہ معنی ہوئے کہ بابو الٰہی بخش چاہتا رہے گا کہ تیرا حیض دیکھے اور دیکھتا رہے گا۔ غلام رسول قادیانی بتائیں کہ سلسلہ حیض مرزا قادیانی اس زمانہ تک جاری ہے اور جاری رہے گا اور بابو الٰہی بخش بھی دیکھتا ہے اور دیکھتا رہے گا؟ آپ کے اس استدلال سے تو ثابت ہوا کہ بابو الٰہی بخش جو فوت شدہ ہے وہ بقول آپ کے مرزا قادیانی کا حیض دیکھ رہا ہے اور دیکھتا رہے گا اور مرزا قادیانی بھی جو فوت شدہ ہیں ان کا حیض بھی جاری ہے اور جاری رہے گا۔
افسوس غلام رسول قادیانی کو اپنے گھر کی بھی خبر نہیں۔ اب ہم اس آیت کے صحیح معنی ناظرین کرام کو بتاتے ہیں۔ ”خدا تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اپنے اختیار سے وحی بھیجتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندے حضرت محمد ﷺ پر وحی بھیجی تاکہ لوگوں کو روز قیامت کی مصیبتوں سے ڈرائے۔“ ناظرین لینذر بھی مضارع کا صیغہ ہے۔ جس کے معنی ہیں ڈراتا ہے اور ڈراتا رہے گا۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ ہی قیامت تک ڈرانے والا ہے۔ کوئی جدید ڈرانے والا نہ آئے گا
١٠٧
کیونکہ لینذر مضارع کا صیغہ حال اور استقبال پر حاوی ہے۔ غلام رسول قادیانی کا استدلال اس آیت سے بھی غلط ہے کیونکہ یوم التلاق یعنی قیامت تک ڈراتا رہے گا۔ یہ تو عین خاتم النبیین کی تائید میں ہے نہ کہ غلام رسول قادیانی کے مفید مطلب۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے کہ ہمیشہ رسول آتے رہیں گے۔
آیت ہفتم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
"وماکنا معذبین حتی نبعث رسولاً۔ (سورۂ بنی اسرائیل) ترجمہ: نہیں ہم عذاب کرنے والے یہاں تک کہ عذاب سے پہلے مبعوث کریں کسی رسول کو۔"
استدلال اس آیت میں عذاب کو معلول قرار دیا ہے اور رسول کی بعثت کو علت اور یہ امر مسلم ہے کہ معلول کے لیے کسی علت کا پہلے ہونا از بس ضروری امر ہے۔ اب زمانہ موجودہ میں ایسے عذاب کہ جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے پہلے رسولوں کے وقتوں میں ظاہر فرما کر انھیں عذاب کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔ ظہور میں آئے۔ جن کے ظہور کی وجہ سے لازماً یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان عذابوں سے پہلے جو معلول کے طور پر ظاہر ہوئے۔ کسی رسول کا مبعوث ہونا بھی ضروری ہے جسے قرآن کریم کے قانون کے رو سے اس کی علت قرار دیا اور ادھر وہ رسول اور نبی بھی موجود ہے۔ یعنی مرزا قادیانی مسیح موعود جنھوں نے ان عذابوں کے ظہور سے پہلے ہر ایک عذاب کی مجملاً یا مفصلاً اطلاع دی اور دنیا میں قبل از وقت شائع کی۔ جیسا کہ طاعون، زلزلے، طوفان، یورپ کا خطرناک جنگ، انفلوانزا کا ظہور، غیر معمولی قحط اور طرح طرح کی وبائیں وغیرہ وغیرہ اب ان عذابوں سے جب رسولوں کے وقت کسی ایک عذاب کا ظہور اس رسول کی صداقت کی دلیل ہو سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اتنے عذابوں کا ظہور کسی رسول کی بعثت کے سوا ہی ہو گیا۔ پس اگر قرآن کے رو سے عذابوں کا ظہور رسولوں کی بعثت کی علت کے لیے یقیناً معلول ہے تو پھر موجودہ زمانہ کے عذابوں کے لیے بھی کسی رسول کی بعثت کو تسلیم کرنا از بس ضروری ہے اور اس قاعدہ کے رو سے موجودہ عذاب امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ کے نبی کے لیے بھی کافی ثبوت ہیں۔ وہوالمطلوب۔
(مباحثہ لاہور ص ٦٢)
جواب : اس آیت کا یہ ہرگز مطلب نہیں جو کہ غلام رسول قادیانی نے مقرر کیا ہے کہ عذاب معلول ہے اور رسول علت۔ کیونکہ کنا ماضی کا صیغہ ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ علت و معلول کا سلسلہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے پہلے جاری تھا نہ کہ بعد میں۔ جس طرح کہ ترسیل رسل کا سلسلہ جاری تھا کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم قیامت کا
عذاب نہیں کرنے والے جب تک پہلے رسول نہ بھیج لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رسول بھیجے اور اس کا سلسلہ حضرت خاتم النبیین ﷺ پر ختم کیا اور حجت قائم کر دی اس آیت سے بعد آنحضرت ﷺ کے جدید نبیوں کا آنا سمجھنا غلط ہے۔
جب سلسلہ رسالت مسدود ہوا اور آخر الانبیاء کے تشریف لانے سے علت و معلول کا سلسلہ ہی بند ہوا۔ جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد عذاب آئے اور تیرہ سو برس کے عرصہ دراز میں کوئی سچا نبی و رسول نہ آیا۔ پس اب جس قدر عذاب بطور تنبیہ زمانہ میں آتے ہیں وہ اسی رسول آخر الرسل کی نافرمانی کا نتیجہ سمجھے جاتے ہیں۔ نہ کہ کسی جدید رسول کی علت، کیونکہ خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں تخالف محال ہے یعنی ایک طرف خدا تعالیٰ فرمائے کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہے اور دوسری طرف اپنے قول کی مخالفت فرما کر جدید رسول بھیج دے یہ شان خداوندی کے برخلاف ہے اور جب مشاہدہ ہے کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد طرح طرح کے عذاب آئے اور کوئی جدید رسول نہ آیا تو ثابت ہوا کہ آپ کا استدلال اس آیت سے غلط ہے۔‘‘
میں ذیل میں عذابوں کی فہرست دیتا ہوں تاکہ آپ کی غلطی علت و معلول کی ثابت ہو جائے۔ ’’حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں طاعون عمواس جس میں ساٹھ ستر ہزار صحابہؓ نے جو فی سبیل اللہ جہاد کر رہے تھے وفات پائی اور طاعون جارف مشہور واقعہ ہے۔ ٨٠ ہجری میں سخت زلزلہ آیا۔ جس سے اسکندریہ کے منارے گر گئے۔ (دیکھو تاریخ خلفاء ص ١٥٨ اور ٢٣٣ ہجری) میں دمشق میں ایسا سخت زلزلہ آیا کہ ہزاروں مکان گر گئے اور خلقت ان کے نیچے آ کر دب گئی۔ (تاریخ خلفاء ص ١٥٨) مگر کوئی جدید نبی نہ آیا۔ ٢٤٥ ہجری میں تمام دنیا میں زلزلے آئے۔ شہر اور قلعے اور پل گر گئے۔ انطاکیہ میں پہاڑ سمندر میں گر پڑا۔ آسمان سے سخت ہولناک آواز سنائی دی۔ (تاریخ خلفاء ص ١٨٦۔ ٢٤٩ ہجری) میں طاعون کی بیماری ایسی سخت پڑی کہ اس کی مثل آگے کبھی نہ پڑی تھی۔ (تاریخ خلفاء ص ١٦٠۔ ٢٣٠ ہجری) میں علاقہ بغداد میں اور ٢٤٣ ہجری میں ببلدہ اصفہان اور ٢٤٦ ہجری میں بنواحی عراق اور ٤٠٦ ہجری میں بشہر بصرہ اور ٤٢٣ ہجری میں بلاد ہندوستان میں اور ٤٢٥ ہجری میں شیراز سے بصرہ اور بغداد تک پہنچی اور ٤٣٩ ہجری میں موصل اور جزیرہ اور بغداد میں ٤٤٨ ہجری میں مصر و شام و بغداد میں ٤٦٩ ہجری میں شہر دمشق پر اس شدت سے طاعون پڑی کہ پانچ لاکھ آبادی میں سے ساڑھے تین ہزار باقی رہ گئے۔
غلام رسول قادیانی بتائیں کہ اس سخت عذاب کے بعد کون معلول یعنی جدید
١٢
رسول پیدا ہوا اور خدا تعالیٰ نے علت و معلول کا قاعدہ بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے جاری رکھا۔ دیکھو حجج الکرامہ۔ شاید غلام رسول قادیانی کہہ دیں کہ اس وقت کوئی مدعی نہ ہوا ہو اس کے جواب میں گزارش ہے کہ پہلے بھی مرزا قادیانی کی طرح مدعی ہوئے اور سلسلہ انبیاء و رسل جاری رکھا مگر جھوٹے سمجھے گئے جیسا کہ مرزا قادیانی اور مرزائی بھی ان کو کاذب سمجھتے ہیں۔
- (١) ٦٦ ہجری میں جبکہ طاعون مصر میں پڑی تھی اس وقت محمد حنیفہ مدعی نبوت ہوا اور
رمضان میں چاند اور سورج کا گرہن بھی اس کے وقت ہوا۔
- (٢) ٥٨ ہجری میں جعفر کاذب مدعی نبوت ہوا اور ٦٥ ہجری میں مصر و بصرہ میں طاعون
پھیلی اور چاند اور سورج کا گرہن بھی رمضان میں ہوا۔
- (٣) ٧٧٦ ہجری میں عباس نے دعویٰ نبوت و مہدویت کیا اور ٧٧١ ہجری میں خاص
دمشق میں طاعون پڑی اور چاند و سورج کا رمضان میں گرہن بھی ہوا۔
قحط ١٠٣٠ء میں انگلستان میں قحط پڑا کہ انسان کا گوشت پکایا گیا اور فروخت کیا گیا۔ ١٢٥٨ء کے قحط میں لنڈن کے ١٥ ہزار باشندے بھوک سے مر گئے۔
چونکہ اختصار منظور ہے اس واسطے انھیں تین چار حوالوں پر کفایت کی جاتی ہے۔ اب آگے وبائی بیماریاں اور عذاب کا آنا بھی سن لو ١٣٤٨ء میں مہلک وبا مشرق سے اٹھی اور فرانس کی ایک ثلث آبادی ضائع کر گئی۔ مگر کوئی نبی نہ آیا۔
٢٣٤ ہجری میں عراق میں ایک ایسی ہوا چلی کہ کھیتیاں جل گئیں۔ بغداد و بصرہ کے مسافر مر گئے۔ پچاس روز یہی قیامت برپا رہی۔ مگر کوئی جدید نبی نہ آیا۔
(دیکھو ص ١٥٨ تاریخ الخلفاء)
غلام رسول قادیانی جواب دیں کہ مرزا قادیانی کے فوت ہونے کے ١٦ برس بعد جو عذاب قحط نازل ہوا کہ کبھی ایسا قحط نہیں پڑا تھا اور فرانس اور یورپ کے گرد و نواح میں انفلوانزا کی بیماری پھیلی ہوئی ہے اور امریکہ میں و اٹلی میں آتشزدگیاں ظہور میں آئیں۔ یہ کس جدید نبی کی نافرمانی کا معلول تھا۔
میاں عبداللطیف مرزائی ساکن گنا چور ضلع جالندھر جو کہ ان عذابوں کا کیوں سبب نہ ہے؟ جو کہ نبوت اور مہدویت کا مدعی ہے تو پھر آپ اس کو کیوں سچا نبی و مہدی نہیں مانتے؟ اس میں تو مرزا قادیانی کی شان بھی دوبالا ہوتی ہے کہ ان کے مریدین اس مرتبہ کو پہنچتے ہیں یا اقرار کرو کہ سلسلہ نبوۃ و رسالت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو چکا ہے اور
١١٣
آنحضرت ﷺ کے بعد سب مدعیان نبوت و رسالت جھوٹے ہیں اور عذاب دینا پر بموجب حدیث قدسی انما ھی اعمالکم احصیھا علیکم فمن وجد خیرا فلیحمد اللّٰہ ومن وجد شراً فلا یلومن الا نفسہ۔ (کشف الخفاء للعجلونی ج ١ ص ٢٥١) ترجمہ: اے میرے بندو یہ تمھارے ہی اعمال ہیں جن کو میں نے تمھارے لیے محفوظ رکھا۔ پس جو بھلائی پائے۔ خدا کی تعریف کرے اور جو برائی پائے سو اپنے آپ کو ملامت کرے۔
غلام رسول قادیانی کی سخت غلطی ہے کہ وہ عذابوں کو علت جدید نبی و رسول کی فرماتے ہیں۔ یہ غلام رسول قادیانی کی منطقی غلطی بھی ہے کیونکہ موجبہ کلیہ کا عکس سالبہ جزئیہ ہوا کرتا ہے۔ پس لازم عام کے تحقق سے ملزوم خاص کا تحقق ثابت نہیں ہوتا۔ پس ثابت ہوا کہ عذابوں کا آنا لازم نہیں کرتا کہ ضرور نبی بھی آئے افسوس غلام رسول قادیانی کو علت معلول جو کہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ (احزاب ٤٠) نظر نہیں آتا۔ جس کا تحقق واقعات سے ہو رہا ہے کہ حضرت کا بیٹا کیوں نہیں زندہ رہا؟ اس واسطے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ خاتم النبیین معلول ہے اور جوان بیٹا نہ ہونا علت ہے۔ معلول خاتم النبیین کی۔ اور واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت خاتم النبیین کے بعد کوئی سچا نبی نہیں ہوا۔ پس جس طرح ہر ایک شخص کے بیٹے کے مرجانے سے وہ شخص نبی نہیں ہو سکتا اور خاصہ نبی کریم ہے۔ اسی طرح ہر ایک مدعی نبوت کے وقت عذاب کے آنے سے اس کی نبوت محقق نہیں ہے۔ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔
آیت ہشتم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
وان من قرية الانحن مهلكوها قبل يوم القيامة او معذبوها عذاباً شديداً كان ذلك فى الكتاب مسطورا۔ (ترجمہ) اور نہیں کوئی بستی مگر ہلاک کرنے والے ہیں۔ اس کو قیامت کے روز سے پہلے یا عذاب کرنے والے ہیں۔ عذاب سخت پیشگوئی ہے اٹل جو اس کتاب قرآن کریم میں لکھی ہوئی ہے۔ استدلال اس آیت سے بھی امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ نے زمانہ نزول آیت کے بعد اور قیامت سے پہلے کے لیے اس آیت میں دنیا کی تمام بستیوں کی ہلاکت یا تعذیب پیشگوئی کی ہے کہ ایسا ضرور ہو گا اور دوسری طرف ماکنا معذبین حتی نبعث رسولاً میں قانون پیش کیا ہے کہ جب تک پہلے رسول نہ مبعوث کیا جائے۔ عذاب اور ہلاک کا ظہور نہیں ہوتا اس قاعدہ اور قانون کے رو سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑا کہ جب قیامت تک
١١٤
پہلے دنیا کی ہر بستی کی ہلاکت اور تعذیب کے متعلق پیشگوئی کے ظہور کا وقت آئے گا۔ تو لازماً اس عالمگیر ہلاکت اور تعذیب سے پہلے خدا کی طرف سے کوئی رسول بھی ضرور آئے گا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امکان نبوت کا مسئلہ حق اور درست ہے۔ ”تنبیہہ :۔ چونکہ موجودہ زمانہ بھی آخری زمانہ کہلاتا ہے۔ اور دنیا کی تباہی اور عالمگیر ہلاکت اور عذاب کا ظہور بھی ہو رہا ہے اور دوسری طرف مرزا قادیانی بھی قبل از ظہور عذاب بمنصب نبوت و رسالت خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیے گئے۔ لہذا ماننا پڑتا ہے کہ اگر ایک طرف عذابوں کی پیشگوئی پوری ہو رہی ہے تو دوسری طرف مسئلہ امکان نبوت کا تحقق بھی ثابت ہو رہا ہے۔ وہو المطلوب۔“ (مباحثہ لاہور ص ٦٢)
جواب : اس آیت سے بھی امکان نبوۃ کا مسئلہ ہرگز ثابت نہیں کیونکہ غلام رسول قادیانی نے خود ہی ترجمہ کیا ہے۔ ”کہ روز قیامت سے پہلے جب قبل یوم القیامۃ کا زمانہ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت خاتم النبیین ﷺ کے زمانہ میں شامل ہے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت اور کتاب ذریعہ نجات ہے تو دین کامل ہے تو پھر آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ آخری رسول مرزا قادیانی ہیں جبکہ ان کے ہاتھ میں کوئی کتاب ہی نہیں۔ جب خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ہم کسی بستی کو ہلاک نہیں کرنے والے قیامت کے دن سے پہلے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ قیامت کے دن جو ہلاکت اور عذاب ہوں گے۔ وہ ہلاکت اور عذاب اس آیت میں موعود ہیں نہ کہ دنیاوی عذاب اور ہلاکتیں کیونکہ وان من قریۃ سے ثابت ہے کہ ہلاکت اور عذاب سے کوئی بستی نہ بچے گی۔ سو یہ ہلاکت قیامت کے دن ہو گی اور عذاب الٰہی بعد حساب نامہ اعمال قیامت کو ہی ہوں گے۔ دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں جائیں گے۔
غلام رسول قادیانی بتائیں کہ ایسی ہلاکت کب اور کہاں ظہور میں آئی ہے کہ کوئی بستی نہ بچی ہو؟ اور مرزا قادیانی کے بعد یوم قیامت آ گئی ہو ہرگز نہیں بلکہ مشاہدہ ہے کہ یہ زمانہ مرزا قادیانی کے زمانہ سے کئی درجہ ترقی پر ہے۔ پھر جب موجودہ زمانہ آخری زمانہ نہیں کیونکہ اگر آخری زمانہ ہوتا تو سولہ برس کے عرصہ تک جو مرزا قادیانی کو فوت ہوئے گزرا ہے قیامت آ جاتی۔ پس نہ قیامت آئی اور نہ مرزا قادیانی سچے نبی ہو سکتے ہیں۔ باقی رہا دنیاوی عذابوں کا آنا سو یہ تو ہمیشہ آتے رہتے ہیں اور آتے رہیں گے۔ مگر سچا نبی کوئی نہیں آیا اور نہ آئے گا کیونکہ خاتم النبیین ﷺ کی نص قطعی مانع ہے۔ عذابوں کے آنے سے، نبی کا آنا ہم اوپر باطل کر چکے کہ عذاب تو آئے مگر کوئی نبی نہ
١١٥
آیا۔ پس اس آیت سے بھی استدلال امکان جدید نبی غلط ہے۔
آیت نہم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
"واذ قال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراة و مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (ترجمہ) اور جب کہا عیسیٰ بیٹے مریم نے اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہوں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی اور بشارت سنانے والا ہوں ایسے رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہے۔ استدلال! حضرت عیسیٰؑ نے قوم بنی اسرائیل کو ایک رسول کی بشارت دی ہے اور ان کے بعد ایک رسول مسمی باحمد مبعوث ہو کر آئے گا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر آنحضرت ﷺ کے سوا آپ کے بعد کسی اور رسول نے نہیں آنا تھا تو رسول یاتی من بعدی اسمہ احمد کی جگہ فقرہ کے الفاظ بعدی تک ہی کافی ہو سکتے تھے۔ پھر نام ہی لینا تھا تو محمد کہنا تھا۔ نہ احمد۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کا علم اور اصل نام محمد ہے نہ احمد۔ اور جب تک یہ آیت سورۂ صف کی جو مدنی سورت ہے۔ یہ احمد والی آیت نہیں اتری کسی کو آپ کے احمد ہونے کے متعلق خیال بھی نہیں تھا۔ لیکن احمد کا ذکر صرف ایک ہی مقام میں ذکر کیا گیا اور وہ بھی حکایۃ عن عیسیٰ جس سے ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت ﷺ ہی اسم احمد والی پیشگوئی کے بلا تخلف مصداق ہوئے تو قرآن کے کسی اور مقام میں بھی آپ کو احمد کے نام سے یاد کیا جاتا یا اذان میں اور کلمہ میں اور نماز کے درود میں اور ایسا ہی دوسرے اوراد میں بجائے اسم محمد کے کبھی احمد کا اسم ذکر ہوتا لیکن ایسا ہرگز نہیں کیا گیا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ احمد ایک رسول ہے جو آنحضرت ﷺ نہیں بلکہ آپ کے غیر ہے جو اس پیشگوئی کا حقیقی طور پر مصداق ہے اور گو ہمیں صفت احمدیت آنحضرت ﷺ کے احمد ہونے سے انکار بھی نہیں بلکہ بلحاظ صفت احمد آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر کوئی بھی احمد نہیں۔ لیکن یہاں صرف احمد علم کے لحاظ سے ہے جو آنحضرت ﷺ نہیں ہو سکتے۔ پھر اس لحاظ سے بھی کہ آنحضرت ﷺ اسماعیلی ہیں اور اسماعیلی رسول آنے سے بنی اسرائیل کے لیے کیونکر بشارت ہو سکتی ہے۔ جس وجہ سے بموجب ارشاد اذا جاء وعد الاخرۃ جئنا بکم لفیفا بنی اسرائیل کے سلسلہ کی بلحاظ سلسلہ نبوت صف ہی لپیٹی گئی اور احمد جس کی بشارت مسیح کی طرف سے بنی اسرائیل کو دی گئی ہے۔ یہ رسول کو مذہب اور ملت کے لحاظ اسرائیلی نہ ہو۔ لیکن کسی نہ کسی پہلو سے تو اسے بنی اسرائیل کے ساتھ تعلق چاہیے اور وہ تعلق نسبی ہے یعنی احمد وہ رسول ١١٦
ہے کہ جو بلحاظ مذہب کے اسماعیلی ہو تو بلحاظ نسل اور خاندان کے اسرائیلی جیسے کہ مرزا (غلام احمد قادیانی) احمد بھی ہیں اور بلحاظ نسل اسرائیلی بھی اور آپ کی وحی میں بھی بار بار احمد کے نام سے آپ کو مخاطب فرمایا گیا اور یہ کہنا کہ مرزا قادیانی بھی تو احمد نہ تھے بلکہ غلام احمد ہیں تو اس کے دو جواب ہیں۔ ایک یہ کہ اگر احمد سے مراد محمد ہو سکتا ہے تو غلام احمد سے مراد احمد کیوں نہیں ہو سکتا۔ دوسرے آنحضرت ﷺ کی وحی میں آپ کو یا غلام احمد کر کے ایک جگہ بھی مخاطب نہیں کیا گیا۔ پس آیت کے لحاظ سے بھی آنحضرت ﷺ کے بعد امکان نبوت و رسالت کا ثبوت متحقق ہے۔ وہو المطلوب۔" (مباحثہ لاہور ص ٦٣، ٦٤)
جواب: غلام رسول قادیانی نے احمد کے نام پر بحث شروع کی ہے اور ماشاء اللہ دلائل بھی ایسے دیے ہیں کہ بعض فقرات خود اپنا رد کر رہے ہیں اور بعض دلائل مخنث ہیں جن کے معنی نہ انکار ہے اور نہ اقرار، یہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کی صداقت ہے کہ آپ ﷺ نے پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے کہ میری امت میں یہودی صفت ہوں گے کہ قرآن کا تضارب و تدافع و تحریف کریں گے حقا اور ہوائے نفس کے معنی کر کے خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کر کے فحوائے یریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلاً اولئک ھم الکافرون حقا۔ (نساء ١٥٠) یعنی اسلام اور کفر کے درمیان راستہ نکالیں گے اور وہ لوگ سچ مچ کافر ہیں کا مصداق بنیں گے۔ اب غلام رسول قادیانی کے استدلال کا جواب مختصر طور پر دیا جاتا ہے کیونکہ انجمن تائید الاسلام کی طرف سے اس آیت پر بحث کر کے ایک کتاب موسومہ بشارت محمدی فی ابطال رسالت غلام احمدی شائع کی گئی تھی۔ جس میں میاں محمود قادیانی کے دس ثبوت اور نو دلائل کا رد کر کے ثابت کیا گیا تھا کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ مرزا قادیانی ہرگز نہیں ہو سکتے۔ جس کا جواب چار برس سے کسی مرزائی نے نہیں دیا۔ ایک سو چار صفحات کی کتاب اور اس میں سیر کن بحث کی گئی ہے۔ (احتساب قادیانیت میں شامل اشاعت ہے) جس صاحب نے پوری پوری کیفیت دیکھنی ہو وہ کتاب دیکھے۔ اب ہم ذیل میں جواب دیتے ہیں غلام رسول قادیانی کا یہ لکھنا کہ یہ پیشگوئی مرزا قادیانی کے حق میں ہے غلط ہے کیونکہ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد قادیانی ہے نہ احمد۔ اور ان کے والد صاحب نے حسب دستور اہل اسلام مرزا قادیانی کا نام بطور فال و شگون نیک غلام احمد رکھا۔ جس سے ان کی خواہش تھی کہ میرا بیٹا احمد ﷺ کا غلام رہے۔
غلام رسول قادیانی جواب دیں کہ یہ احمد کون تھا؟ جس کی غلامی میں مرزا
١١٧
قادیانی کے والد نے اپنے بیٹے کو دیا۔ افسوس غلام رسول قادیانی کو اعتراض کرنے کے وقت ہوش نہیں رہتی اور اپنے مشن کی خود ہی تردید کر جاتے ہیں۔ اگر ناموں کی لفظی بحث پر صداقت کا مدار ہے تو پھر سارا منصوبہ ہی مرزا قادیانی کا غلط ہے۔ کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں جب کہا جاتا ہے کہ مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم نبی ناصری ہے اور اس کا نزول دمشق کے سفید منارہ جامع مسجد پر ہوگا۔ تو جواب ملتا ہے کہ غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ قادیانی امتی محمد رسول اللہ ﷺ کے معنی عیسیٰ ابن مریم ہے اور قادیان کے منارہ کو جامع مسجد دمشق کا منارہ مان لو اور آسمان سے نازل ہونا مرزا قادیانی کا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا مان لو۔ اور دو زرد چادروں سے دو بیماریاں جو مرزا قادیانی کو لگی ہوئی تھیں تسلیم کر لو افسوس مرزا قادیانی کی یہ تمام نامعقول تاویلات بے چون و چرا کس طرح مان لی جائیں اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرا نام احمد ہے اور حضرت عیسیٰؑ نے میری نسبت پیشگوئی کی تھی۔ اس کو رد کیا جائے یہ کونسا ایمان و اسلام ہے؟ دیکھو حدیث رسول ﷺ جو ذیل میں لکھی جاتی ہے۔ وہو ہٰذا۔
عن العرباض بن سارية عن رسول الله ﷺ انه قال انا عند الله مكتوب خاتم النبيين وان ادم لمنجدل في طينة و ساخبر كم باول امرى دعوة ابراهيم و بشارة عيسى و رؤيا امى التى رأت حين وضعتنى وقد خرج لها نور اضاء منه قصور الشام رواه البغوى فى شرح السنه (مشکوۃ ص ٥١٣ باب فضائل سید المرسلین)
یعنی روایت ہے عرباض بن ساریہؓ سے اس نے نقل کی رسول خدا ﷺ سے فرمایا کہ تحقیق لکھا ہوا ہوں میں اللہ کے نزدیک ختم کرنے والا نبیوں کا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس حال میں کہ تحقیق آدم پڑے ہوتے تھے زمین پر اپنی مٹی گوندھی ہوئی میں۔ اور اب خبر دوں میں تم کو ساتھ اوّل امر اپنے کے کہ وہ دعا ابراہیمؑ کی ہے اور بدستور اوّل امر میرا خوشخبری دینا عیسیٰؑ کا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ ومبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد اور بدستور اوّل خواب دیکھنا میری ماں کا ہے کہ دیکھا انھوں نے۔ اور تحقیق ظاہر ہوا۔ میری ماں کے لیے ایک نور کہ روشن ہوئے اس نور سے محل شام کے، نقل کی یہ بغوی نے شرح السنۃ میں ساتھ اسناد عرباض کے اور روایت کیا اس کو احمد بن حنبل نے ابی امامہ سے ساخبرکم سے آخر تک۔‘‘ اس حدیث نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس پیشگوئی کا مصداق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہے۔ پس نہ کوئی اس کے بعد نبی ہے اور نہ رسول۔ اور نہ یہ آیت مرزا قادیانی کے حق میں ہو سکتی ہے اور رسول اللہ ﷺ
١١٨
کی حدیث کے مقابل غلام رسول قادیانی کا ڈھکوسلا کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ افسوس غلام رسول قادیانی کا وعدہ تھا کہ قرآن و حدیث سے باہر نہ جاؤں گا۔ مگر اپنی رائے سے جواب دیتے ہیں جو کہ تفسیر بالرائے ہے، غلام رسول قادیانی اگر بعدی کی (ی) جو کہ متکلم کی ہے۔ اس پر غور کرتے تو یہ غلطی نہ کھاتے کیونکہ لکھا ہے کہ میرے بعد یعنی عیسیٰؑ کے بعد اور مرزا قادیانی پیدا ہوئے۔ محمدﷺ سے بھی سوا تیرہ سو برس بعد تو یہ عیسیٰؑ کے بعد آنے والے کیونکر ہو سکتے ہیں۔ غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ آنے والا بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا ہونا چاہیے اور آنحضرتﷺ بنی اسماعیل سے تھے کیونکہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں حضرت ابراہیم کی ذریت ہیں اور اس حدیث میں رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ ابراہیمؑ کی دعا میرے لیے تھی۔ پس رسول اللہﷺ کے مقابل غلام رسول قادیانی کا ڈھکوسلا غلط ہے۔ دوم ...... آنحضرتﷺ کی نبوت جب تمام دنیا اور تمام قوموں کے واسطے ہے تو بنی اسرائیل بھی بیچ ہی آ گئے۔ مرزا قادیانی کا بنی اسرائیل ہونا باطل اور غلط ہے کیونکہ مرزا قادیانی مغل تھے اور قوم مغل چنگیز خاں کی اولاد ہے۔ نہ کہ بنی اسرائیل کی۔ دیگر یہ کس قدر نامعقول ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت عیسیٰ کی دی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں عیسیٰ بن مریم ہوں اور میرا نام آسمان پر عیسیٰ ابن مریم ہے۔ تو مرزا قادیانی کا احمد ہونا غلط ہوا۔
اگر غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا درست فرض کریں کہ اس پیشگوئی کا مصداق حضرت محمدﷺ نہ تھے تو نعوذ باللہ ثابت ہو گا کہ آپﷺ سچے نبی نہ تھے کیونکہ عیسیٰؑ کے بعد نہیں آئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والا تو غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ تھا تو بتاؤ آپ کا ڈھکوسلا کہ مرزا قادیانی نے متابعت محمدﷺ سے نبوۃ کا مرتبہ پایا غلط ہوا کیونکہ جس کی متابعت سے نبوت پائی تھی۔ جب اس کی نبوت ثابت نہیں اور جب آقا کی نبوۃ ثابت نہیں تو غلام احمد کی کیونکر ثابت ہو سکتی ہے؟ غلام رسول قادیانی کا کہنا کہ گو ہمیں صفت احمدیت آنحضرتﷺ کے ہونے سے بھی انکار نہیں مخنث تحریر ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ احمد ایک رسول ہے جو آنحضرتﷺ نہیں۔ جب آنحضرتﷺ احمد نہیں تو پھر انکار صاف ہے۔ یہ دو رنگی اور متضاد تحریر غلام رسول قادیانی کی شان علم ظاہر کر رہی ہے۔ کوئی پوچھے کہ انکار کے سر سینگ ہوتے ہیں۔ جب کہتے ہو کہ محمد اس کا مصداق نہیں اور غلام احمد قادیانی ہے تو صاف انکار ہوا۔
غلام رسول قادیانی جب مانتے ہیں کہ صرف احمد نام والا اس پیشگوئی کا
١١٩
مصداق ہے تو پھر احمد کو چھوڑ کر غلام احمد کی طرف کیوں جاتے ہو؟ محمد احمد سو وہی محمد بھی ہے۔ اور احمد بھی، شیخ احمد سرہندی اور سید احمد بریلوی۔ سید احمد نیچری جس کے مقلد مرزا قادیانی ہیں۔ وہ صرف احمد ہی ہیں۔ پہلے زمانہ میں احمد کہاں مدعی نبوۃ گزرا ہے؟ وہ کیوں اس کا مصداق نہیں؟
افسوس جب مسلمان کہتے ہیں کہ آنے والا عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہے اور مرزا قادیانی ابن مریم نہ تھے تو جواب ملتا ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی کا صفاتی نام عیسیٰ ابن مریم ہے۔ اس واسطے وہ سچے مسیح موعود ہیں۔ مگر جب احمد نام کی بحث آتی ہے تو کہتے ہیں کہ اصل نام محمد ﷺ کا احمد نہ تھا۔ محمد ﷺ تھا اس لیے اس پیشگوئی کے مصداق احمد ہیں یہ بے سروسامان گفتگو اس واسطے ہے کہ جھوٹ کھرا کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہو نہیں سکتا کہ ہم کہتے ہیں کہ اگر اصل نام پر فیصلے کا مدار ہے تو مرزا قادیانی کا بھی اصل نام غلام احمد ہے نہ کہ عیسیٰ ابن مریم اگر صفاتی نام سے غلام احمد عیسیٰ ہو سکتے ہیں تو صفاتی نام احمد سے محمد ﷺ اس پیشگوئی کے مصداق بدرجہ اعلیٰ ہو سکتے ہیں۔ جب مرزا قادیانی کا نام عیسیٰ ابن مریم نہیں تو مسیح موعود بھی نہیں۔ باقی رہا کہ اس پیشگوئی کے مصداق محمد ﷺ نہ تھے بالکل غلط ہے کیونکہ حضرت عیسیٰؑ نے خود آنے والے رسول کی تعریف اور توصیف انجیل یوحنا باب چوداں آیت ١٥ و ١٦ میں کر دی۔ ”میں اپنے باپ سے درخواست کروں گا کہ وہ تمھیں دوسرا تسلی دینے والا بخشے گا کہ ہمیشہ تمھارے پاس رہے ۔“ مرزا قادیانی کوئی کتاب نہیں لائے۔ اس واسطے وہ اس پیشگوئی کے مصداق نہیں ہو سکتے اور نہ حضرت عیسیٰ کے بعد....... بلکہ حضرت عیسیٰ کے بعد محمد ﷺ تشریف لائے اور قرآن شریف جیسی اکمل اور اتم کتاب لائے جو کہ ہمیشہ مسلمانوں میں رہے گی۔ پھر دیکھو انجیل یوحنا باب ١٦ آیت ١٣ ”لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گی تو وہ تمھیں ساری سچائی کی راہ بتا دے گی۔ اس لیے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ سنے گی وہ تمھیں کہے گی۔ وہ تمھیں آئندہ کی خبریں دے گی اور میری بزرگی کرے گی۔“ اس انجیل کی عبارت سے ثابت ہے آنے والے کی تین علامتیں ہیں۔ ایک! یہ کہ وہ آنے والا سچائی کی راہ بتائے گا۔ مرزا قادیانی نے بجائے سچائی کے راہ کے کجی کی راہ بتائی اور مسلمانوں کو اوتار اور تناسخ بروز کی راہ بتائی۔ ابن اللہ کی راہ بتائی۔ خدا تعالیٰ کے حلول کا مسئلہ بتایا جو کہ باطل ہے۔ پس مرزا قادیانی آنے والے نہیں ہو سکتے۔
دوسرا....... یہ کہ جو کچھ سنے گی وہ کہے گی۔ یہ بھی آنحضرت ﷺ کی صفت ہے
١٢٠
جو قرآن نے تصدیق فرمائی ہے۔ دیکھو وما ینطق عن الھویٰ ان ھوالا وحی یوحٰی۔ (النجم ٢) یعنی محمد ﷺ اپنی طرف کچھ نہیں بولتا۔ مگر وہی جو اس کو وحی کی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی کی کوئی وحی رسالت نہیں اور نہ کوئی وحی ایسی ہوئی جو کہ سچی ہوتی جس کو خدا تعالیٰ کی وحی کہہ سکتے۔ ہاں وحی الٰہی کے مدعی تھے مگر جب وہ وحی جھوٹی نکلتی تو باطل تاویلیں کرتے جیسا کہ عبداللہ آتھم عیسائی اور محمدی کے نکاح کے بارے میں کیں۔ جو کہ مشت نمونہ از خروار ہے۔
تیسرا ....... آئندہ کی خبریں دے گی۔ یعنی قیامت کے حالات اور علامات بتائے گی۔ یہ صفت بھی حضرت محمد ﷺ میں تھی۔ مرزا قادیانی نے کوئی علامت قیامت نہیں بتائی۔ پیشگوئیاں کیں جو جھوٹی نکلیں۔ اپنا زمانہ آخری بتایا جو غلط نکلا۔
چوتھا ....... یہ کہ وہ آنے والا میری بزرگی کرے گا۔ یہ بھی آنحضرت ﷺ پر صادق آتا ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کی تصدیق کی اور جو جو الزامات یہود نے ان پر اور ان کی والدہ (مریم) پر لگائے تھے۔ ان سے ان کی بریت ظاہر کی اور وجیھاً فی الدنیا والآخرۃ۔ (ال عمران ٤٥) فرما کر ان کی بزرگی کی۔ پس وہ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہو سکتے ہیں۔ نہ مرزا قادیانی، جنھوں نے پہلے تو حضرت عیسیٰؑ کی نبوت سے ہی انکار کر دیا اور پھر گالیاں دیں جیسا کہ ہم پہلے نقل کر آئے ہیں۔ جب آنے والے کی صفات مرزا قادیانی میں نہیں تو پھر وہ اس پیشگوئی کے مصداق ہرگز نہیں ہو سکتے۔ بڑی بھاری تمیز اور صفت آنے والے کی یہ ہے کہ وہ صاحب حکومت ہو گا اور سردار ہو گا مگر مرزا قادیانی غلامی انگریزوں میں آئے اور ان کی کچہریوں میں بطور ملزم و مجرم حاضر ہوتے رہے۔ کہیں سزا پائی کہیں بری ہوئے اور اپیلیں کرتے رہے۔ پس وہ ہرگز سردار نہ تھے اور نہ اس پیشگوئی کے مصداق ہو سکتے ہیں۔ دیکھو انجیل یوحنا باب ١٦ آیت ١١ میں لکھا ہے۔ ”عدالت سے اس لیے کہ اس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔ ”مرزا قادیانی نہ سردار تھے اور نہ صاحب عدالت تھے۔ جو اس پیشگوئی کے ہرگز ہرگز مصداق نہ تھے۔ انجیل برنباس میں لکھا ہے۔ ”کاہن نے جواب میں کہا۔ کیا رسول اللہ ﷺ کے آنے کے بعد اور رسول بھی آئیں گے۔ رسول یسوع نے جواب دیا اس کے بعد خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی کوئی نہیں آئیں گے۔ مگر جھوٹے نبیوں کی ایک بڑی بھاری تعداد آئے گی۔“ دیکھو انجیل برنباس باب ٩٧ آیات ٦‘ ٧‘ ٨‘ ٩‘ غلام رسول قادیانی! اب مطلع صاف ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے بعد صرف ایک سچا رسول آنے
١٢١
والا تھا جو کہ عرب میں آ چکا اور اس نے خاتم النبیین کا لقب پایا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا تھا کہ اس کے بعد کوئی سچا نبی نہ آئے گا اور آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا۔ لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں تو اظہر من الشمس طور پر ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ ہی آخری نبی تھے۔ جب دو رسولوں کی پیشگوئی ہے کہ بہت جھوٹے نبی ہوں گے اور ہوئے بھی۔ تو مرزا قادیانی جھوٹے نبی و رسول ثابت ہوئے۔ جیسا کہ ان سے پہلے مسیلمہ سے لے کر مرزا قادیانی تک کاذب مدعیان تھے۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی سچے نبی تھے تو یہ ہرگز درست نہیں کیونکہ عہدہ صرف ایک ہے یعنی حضرت عیسیٰؑ کے بعد صرف ایک رسول آنے والا ہے۔ اگر بقول آپ کے مرزا قادیانی سچے ہیں اور مصداق اس آیت اسمہ احمد والی پیشگوئی کے ہیں تو ثابت ہو گا کہ نعوذ باللہ حضرت خاتم النبیین سچے نہ تھے کیونکہ بقول آپ کے احمد نہ تھے۔ مگر پھر بھی مرزا قادیانی سچے نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ نے بہت جگہ اقرار کیا ہے کہ مرزا قادیانی حضرت محمد ﷺ کی متابعت سے نبی ہوئے ہیں۔ جب آقا کی نبوت و رسالت ثابت نہیں تو غلام کی رسالت بدرجہ اولیٰ کاذبہ ہے۔ ورنہ پادریوں اور عیسائیوں کو موقعہ اعتراض و انکار کا دینا کہ آنحضرت ﷺ احمد نہ تھے تو سچے رسول بھی نہ تھے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰؑ نے آنے والے کا نام احمد بتایا ہے اور بقول مرزائی جماعت کے رسول عربی احمد نہ تھے تو سچے رسول نہ تھے۔ افسوس مرزائیوں کی عقل پر کیسے پتھر پڑ گئے کہ بالکل کور باطن ہو کر سیاہ دل ہو گئے۔ حالانکہ پادریوں اور عیسائیوں کو اقبال ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد تھا۔ سر ولیم میور صاحب لائف آف محمد جلد اول ص ١٧ میں لکھتے ہیں۔ ’’یوحنا کی انجیل کا ترجمہ ابتداء میں عربی میں ہوا۔ اس لفظ (فارقلیط) کا ترجمہ غلطی سے احمد کر دیا ہو گا یا کسی خود غرض راہب نے محمد ﷺ کے زمانہ میں جعلسازی سے اس کا استعمال کیا ہو گا۔‘‘ پادری صاحب کی عبارت سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ کا نام احمد محمد یا محمد احمد دونوں نام مشہور تھے۔ مگر مرزائی صاحبان انکار کرتے ہیں۔ افسوس اسلامی تاریخ بھی نہیں دیکھتے۔ فتوح الشام ص ٣٢٦ میں لکھا ہے کہ یوحنا ذکر کرتے ہیں ابو عبیدہ بن جراح سے حلب میں فتح اسلام کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی تمھارے احمد و محمد ضرور وہی ہیں۔ جن کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی۔
- دوم...... حضرت خالد بن ولیدؓ کا قول ہے لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ
وان محمد رسول اللہ۔ بشر بہ المسیح عیسیٰ۔ (فتوح الشام ص ٢٣٦)
- سوم....... اناطہؓ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہ شعر فرماتے ہیں ؎ اما
٦٢٢
تستحی من احمد ﷺ یوم القیامة الخصوم. یعنی نہیں حیا کرتا تو احمد سے بیچ دن قیامت اور خصومت کے۔ (فتوح الشام ص ٣٥٥) غلام رسول قادیانی بتاؤ یہ احمد کون تھا۔
دلم ہر وقت قربان محمد ﷺ
(حقیقۃ الوحی ص ٢٩٢ خزائن ج ٢٢ ص ٣٠٥ مصنفہ مرزا قادیانی)
اب ہم غلام رسول قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ اس آیت کے معنی جو آنحضرت ﷺ نے فرمائے اور صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین نے سمجھے اور حضرات مفسرین نے سمجھے وہ درست ہیں یا آپ کے؟ جو کہ بموجب آیہ کریمہ یحرفون الکلم عن مواضعہ کے مصداق ہیں درست ہیں۔ افسوس آپ کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ قرآن شریف جس پر نازل ہوا تھا جب وہ خود فرماتا ہے کہ یہ پیشگوئی میرے واسطے ہے اور خدا تعالیٰ نے بھی اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ آنے والا سردار اور عدالت کرنے والا حضرت محمد ﷺ کو تمام دنیا پر فتوحات عطا فرما کر ثابت کر دیا کہ آنے والا محمد ﷺ ہی احمد ﷺ ہے۔‘‘
مرزا قادیانی نے خود اصل احمد ہونے سے انکار کیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’اس آنے والے کا نام احمد رکھا گیا ہے۔ وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٦٧٣ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣) مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ میں مثیل احمد ہوں اور محمد و احمد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے نام تھے تو پھر آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے مصداق مرزا قادیانی تھے؟ پس اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے بلکہ اس آیت سے ختم نبوت ثابت ہے کیونکہ قرآن شریف میں رسولاً یعنی صرف ایک رسول کی بشارت ہے جو آنے والا ہے۔ اگر حضرت محمد کے بعد بھی کوئی رسول آنا ہوتا تو رسولاً نہ ہوتا بلکہ بصیغہ جمع رسلاً ہوتا۔
آیت دہم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
”قال انی جاعلک للناس اماماً قال ومن ذریتی قال لا ینال عہدی الظالمین. (سورۃ البقر) ترجمہ: فرمایا اللہ تعالیٰ نے اے ابراہیم میں تجھے لوگوں کے لیے امام بنانے والا ہوں۔ عرض کیا کہ میری ذریت سے بھی لوگوں کے لیے امام بنانا۔ فرمایا یہ عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔‘‘ استدلال۔ اس آیت سے امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ ثابت ہے۔ اس طرح کہ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ میں تجھے امام بنانے والا ہوں اور اس امامت سے مراد سب جانتے ہیں کہ
٢٣
نبوت ہے جیسا کہ دوسری جگہ ابراہیم کو صدیقاً نبیا فرما کر آپ کی امت کو نبوت کے معنی میں پیش کیا ہے اور حضرت ابراہیم کی عرض پر فرمایا کہ یہ منصب نبوۃ ظالموں کے سوا تیری دوسری اولاد اور ذریت کو ضرور ملے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ سورہ عنکبوت میں فرمایا وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ۔ یعنی ہم نے ابراہیم کی ذریت میں نبوت کو قائم کیا۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ تک یہ عہد ظہور میں آتا رہا حالانکہ حضرت ابراہیم کی ذریت کا سلسلہ صرف آنحضرت ﷺ تک نہیں بلکہ قیامت تک ہے جس سے لازم آتا ہے کہ یہ امامت اور نبوت کے عہد سے بھی قیامت تک حضرت ابراہیم کی ذریت محروم رہے گی تو محرومی کا باعث تو ذریت کا ظالم ہونا قرار دیا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک حضرت ابراہیم کی ذریت تمام کی تمام ظالم ہی ہو جائے۔ پھر بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو ظالم نہ ہوں تو ان کو یہ عہد ضرور ہے اور جب اس صورت میں حضرت ابراہیم کی ذریت کے لیے قیامت تک اس عہد کا جاری رہنا ارشاد ایزدی کے ماتحت ضروری ہے تو پھر اس سے بھی لازم آیا کہ امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ حق اور درست ہے۔ وہو المطلوب"
(مباحثہ لاہور ص ٦٣)
جواب: اس تمام عبارت قیاس مع الفارق کے جواب میں وارث شاہ کا ایک مصرعہ کافی ہے ؎ اناں باز چھڈیا مگر تتر انھے جا چڑیا داند بتالو انہوں۔ سو غلام رسول قادیانی کا حال ہے۔ آپ نے ثابت تو کرنا تھا امکان نبی بعد حضرت خاتم النبیین اور پیش کرتے ہیں۔ قصہ حضرت ابراہیمؑ کا، یہ جواب تو تب درست ہو سکتا تھا جبکہ سوال ہوتا حضرت ابراہیمؑ کے بعد امکان نبوۃ پر، غلام رسول قادیانی ہوش میں آؤ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد جبکہ قرآن شریف نے خاتم النبیین فرما کر سلسلہ انبیاء و رسل مسدود فرما دیا ان کے بعد رسولوں کا آنا ممکن ثابت کرو‘ یہ کس نے پوچھا کہ حضرت ابراہیمؑ کی ذریت میں نبوۃ جاری ہے۔ یا سب کے سب ظالم ہیں؟ افسوس باطل پرستی نے عقل مار دی ہے کہ سوال از ریسمان و جواب از آسمان کے مصداق بنے ہوئے ہیں۔ یہ منطق بھی نرالا ہے کہ وعدہ ہو ابراہیم سے کہ تیری ذریت سے امام بنائے جائیں گے۔ بشرطیکہ وہ ظالم نہ ہوں اور جس قرآن سے یہ وعدہ ہے اسی قرآن سے حضرت ابراہیم کی ذریت میں سے بنی اسرائیل کا ظالم اور مغضوب ہونا ثابت ہے کہ وہ نبیوں کو قتل کرتے تھے۔ بموجب آیۃ کریمہ وضربت علیھم الذلۃ والمسکنۃ وباؤ بغضب من اللہ ذلک بانھم کانوا یکفرون بایت اللہ و یقتلون النبیین بغیر الحق ذلک بما عصوا
١٢٤
وكانوا يعتدون. (بقرہ ٦١) ترجمہ: اور ان پر ذلت اور محتاجی ڈال دی گئی اور خدا کے غضب میں آ گئے یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے انکار اور نبیوں کو ناحق قتل کیا کرتے تھے اور نیز یہ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔
غلام رسول قادیانی غور فرمائیں کہ جب عہد شرطیہ تھا کہ تیری ذریت ظالم ہو گی تو ان کو نبوت نہ دی جائے گی۔ پھر جب ذریت ظالم ہو گئی اور کافر ہو گئی نبیوں کو قتل کرنے لگ گئی تو پھر نبوت و امامت کی اہل نہ رہی۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت حضرت اسماعیلؑ کی اولاد کی طرف منتقل فرما کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی آخر الزمان کر کے اور کامل دین اور شریعت دے کر اور خاتم النبیین فرما کر سلسلہ نبوت کو بند کر دیا اور ایسی کتاب نازل فرمائی کہ قیامت تک جاری رہے گی اور کسی نبی و رسول کی ضرورت ہی نہ رکھی۔ غلام رسول قادیانی آپ سے مطالبہ تو امکان نبوۃ بعد از حضرت خاتم النبیین ﷺ تھا سو افسوس کہ آپ ایک آیت بھی پیش نہ کر سکے جس میں لکھا ہو کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہو کہ اے محمد ہم آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی بھیجیں گے۔ یا یہ بھی لکھا ہوتا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہے۔ سب جگہ قرآن شریف میں من قبلک ہی ہے۔ من بعدک کہیں نہیں۔ سو آپ من بعدک نہیں دکھا سکتے۔ غیر متعلق اور خارج از بحث طول وطویل عبارت لکھ کر دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ مگر یاد رکھو ؎
کہ عنقا را بلند است آشیانہ
کوئی مسلم تو ایسی پریشان تحریروں کی وقعت نہیں رکھے گا۔ ہاں جس میں مسیلمہ پرستی کا مادہ مرکوز ہے۔ ان کو جو چاہو منوا لو۔ اس آیت سے تو الٹا ختم نبوت ثابت ہے کیونکہ بہ سبب ظالم ہونے کے بنی اسرائیل نبوت کے واسطے نااہل ثابت ہوئے۔ تو خدا نے حضرت خاتم النبیین کو بھیج کر سلسلہ نبوت بند فرما دیا اور بنی اسرائیل کو محروم کر دیا۔ سورۂ عنکبوت کی آیت جو آپ نے پیش کی ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ سلسلہ نبوت بعد آنحضرت ﷺ مسدود ہے۔ غور سے دیکھو وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ (عنکبوت ٢٧) ماضی کا صیغہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ آپ سے پہلے ہم نے ابراہیمؑ کی ذریت میں نبی بنائے۔ یہ نہیں لکھا کہ ہم آپ ﷺ کے بعد بھی بناتے رہیں گے۔ باقی رہا آپ کا یہ سوال کہ چونکہ ذریت ابراہیمؑ قیامت تک باقی رہے گی۔ اس لیے نبوۃ کا امکان بھی ثابت ہے۔ بالکل غلط ہے کیونکہ شرط خداوندی ہے کہ ظالم کو نبوت نہ دی
١٢٥
جائے گی اور بنی اسرائیل کے ظلم کے باعث نعمت نبوت بنی اسماعیل میں منتقل ہو کر مسدود ہو گئی تو پھر خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور اسی واسطے آنحضرت ﷺ کی اولاد نرینہ کو خدا تعالیٰ نے زندہ نہ رکھا اور فرمایا کہ چونکہ محمد رسول اللہ ﷺ ہے اور ایسا رسول جو خاتم الرسل ہے۔ اس واسطے اس کی اولاد نرینہ کا سلسلہ جاری نہ رکھا تاکہ ذریت محمد ﷺ ہو کر کوئی نبی نہ ہو جائے تو حضرت ابراہیمؑ کی ذریت کس طرح قیامت تک جاری رہ سکتی ہے؟ غلام رسول قادیانی غور کریں کہ جب شرط فوت ہو گئی تو مشروط بھی فوت ہوا۔ پس جب ذریت ابراہیم ظالم ہو کر اہل نہ رہی تو عہد خداوندی کس طرح قیامت تک جاری رہا؟ پس اس آیت سے امکان نبوت بعد حضرت خاتم النبیین غلط ہے اور اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔
آیت یازدہم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
وما کان ربک مهلک القری حتّی یبعث فی امها رسولاً وما کنا مهلکی القری الا واهلها ظالمون. (سورۂ قصص) نہیں تیرا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ ان بستیوں کے اندر یعنی اصل میں کسی رسول کو مبعوث نہ کرے اور نہیں ہم ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر اس حال میں کہ بستیوں والے ظالم ہوں۔‘‘ استدلال۔ آیت کے پہلے فقرہ میں اور دوسرے فقرہ میں دو امر بیان فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ بستیوں کے ہلاک کرنے سے پہلے ان میں سے کسی ایک بستی میں رسول کو مبعوث کیا جاتا ہے۔ جو رسول کی بعثت کی عزت سے ام القریٰ بن جاتی ہے۔ دوسری یہ کہ بستیوں کا ہلاک کیا جانا بوجہ ان کے ظالم ہونے کے ہے۔ سو موجودہ زمانہ کا تباہ کن عذاب اور ہلاکت بتاتی ہے کہ اس قانون کے ماتحت ہلاکت سے پہلے کوئی رسول آیا ہو۔ پھر اس کے آنے اور ہدایت دینے کے بعد بھی لوگ ظالم ہی رہے اور بوجہ ظلم ہلاک ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ جس سے ثابت ہوا کہ ایسی تباہی اور ہلاکت جو کسی رسول کے مبعوث ہونے کو مستلزم ہے مسئلہ امکان نبوت کی حقیقت کا کافی ثبوت اپنے اندر رکھتی ہے۔
(مباحثہ لاہور ص ٦٤)
جواب: اس کا جواب ہو چکا ہے کہ عذاب کا آنا کسی رسول کے مبعوث ہونے کو مستلزم نہیں۔ پھر اس جگہ عذاب سے عذاب آخرت مراد ہے اور غلام رسول قادیانی کا لکھنا غلط ہے۔ اگر بوجہ ظلم ہلاک کرنا صحیح ہے تو جو مرزائی ہلاک ہوئے۔ وہ کیوں ہلاک ہوئے؟ دیکھو ذیل کی فہرست کہ کس قدر مرزائی طاعون سے ہلاک ہوئے۔ مولوی محمد افضل، مولوی
١٤٦
برہان الدین، مولوی محمد شریف، مولوی نور احمد، ڈاکٹر بوڑے خان وغیرہ وغیرہ اگر مرزا قادیانی کے انکار سے ہلاک ہونا تھا تو یہ لوگ طاعون سے ہلاک نہ ہوتے۔ دوم..... آپ کا استدلال اس آیت سے بوجوہات ذیل غلط ہے۔
اول ..... بستیوں کا ہلاک ہونا اور عذابوں کا نازل ہونا بھی نبی کی تصدیق ہے۔ تو غلام رسول قادیانی بتائیں کہ حضرت عثمانؓ کے وقت ایسی کشت خون ہوئی۔ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ میں جو لڑائی ہوئی۔ کربلا کا جگر سوز واقعہ ظہور میں آیا۔ ہلاکو خاں نے دنیا کو برباد کیا۔ یورپ میں سلطان صلاح الدین سے جنگ ہوئی۔ قحط ایسے ایسے پڑے کہ انسانوں کا گوشت کھایا گیا۔ کشمیر میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں ایسا قحط پڑا کہ بچے پکا پکا کر کھائے گئے۔ زلزلے اور بیماریاں ہیضہ وبائی بیماریاں ملک میں وارد ہوئیں۔ کن کن جدید نبیوں کی تصدیق ہوئی؟ اور حضرت خاتم النبیین کے بعد کوئی نبی و رسول نہیں اور یقیناً نہیں ہوا تو پھر آپ کا یہ کہنا غلط ہوا۔
دوم ..... آپ کے مرشد مرزا قادیانی جن کو آپ نبی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ جبرائیل کا نازل ہونا ہی بعد آنحضرت ﷺ کے بند ہے اور آنحضرت ﷺ کے بعد جبرائیل وحی رسالت لے کر ہرگز نہیں آ سکتے تو آپ کا اس آیت سے استدلال غلط ہے کیونکہ جب رسول گر کا ہی بعد خاتم النبیین کے آنا ممکن نہیں بلکہ ممتنع ہے تو پھر جدید رسول کس طرح ہو سکتا ہے؟ مرزا قادیانی کی اصل عبارت نقل کی جاتی ہے تاکہ آپ کو اپنی غلطی معلوم ہو؟ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبریل کو بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لیے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آ سکتا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٧٧ خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
غلام رسول قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی قرآن مجید بہتر جانتے ہیں یا آپ جانتے ہیں؟ جب مرشد کہتا ہے کہ خاتم النبیین کے بعد رسول نہیں آ سکتا تو اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے یا غلام رسول قادیانی اقرار کریں کہ مرزا قادیانی کو قرآن نہ آتا تھا۔
سوم ..... ام القریٰ کی شرط ہے کہ ایسے قریہ میں رسول مبعوث ہوا کرتا ہے جو ام القریٰ ہو۔ مگر واقعات بتا رہے ہیں کہ قادیان ام القریٰ نہیں اگرچہ غلام رسول قادیانی کو اپنی کمزوری معلوم تھی کہ ام القریٰ شرط ہے۔ مگر پھر ہٹ دھرمی سے اس اعتراض کا
١٢٧
جواب خود ہی دے گئے ہیں کہ رسول کی بعثت کی عزت سے ایک بستی بھی ام القریٰ بن جاتی ہے جو کہ بالکل غلط ہے کیونکہ شرط تو یہ ہے کہ رسول کی بعثت سے پہلے وہ شہر ام القریٰ ہو۔ مگر غلام رسول قادیانی کا الٹا منطق ہے جو کلام ربانی میں اصلاح کرتا ہے کہ جس بستی میں رسول پیدا ہوں۔ بعد میں ام القریٰ رسول کی وجہ سے بن جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی نامعقول جواب ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود کے مدعی ہو کر نبی بن گئے۔ حالانکہ شرط یہ ہے کہ نزول سے پہلے نبی اللہ ہو گا ۔
دن غلط رات غلط صبح غلط شام غلط
جیسے قادیان بستی ام القریٰ رسول کی عزت کے واسطے بن گئی۔ اسی طرح منارہ قادیان بھی جامع دمشق کا منارہ بن گیا۔ مگر مشکل تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ مرزا قادیانی سے پہلے ہونا تھا۔ مگر ہوا بعد میں۔ جس سے ثابت ہوا کہ اس آیت سے بھی استدلال غلط ہے۔
امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ کے ثبوت میں چند احادیث کا حوالہ:-
حدیث اوّل پیش کردہ غلام رسول قادیانی
" عن النواس بن سمعان قال ذكر رسول الله ﷺ و يحصر نبى الله عيسى و اصحابه فيرغب نبى الله واصحابه ثم يهبط نبى الله عيسى واصحابه فيرغب نبى الله عيسى و اصحابه الى اخر الحديث. ترجمہ: نواس بن سمعان نے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دجال کا ذکر کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ کی نسبت فرمایا کہ حضرت عیسیٰ موعود نبی بمع اصحابہ پہاڑ میں روکے جائیں گے اس کے بعد پھر حضرت عیسیٰ نبی اللہ بمع اصحابہ رغبت فرمائیں گے کہ یاجوج ماجوج ہلاک ہوں۔ پھر ان کی ہلاکت کے بعد حضرت عیسیٰ نبی اللہ بمع اصحابہ پہاڑ سے اتر آئیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ نبی اللہ ان مردوں کی بدبو کی وجہ سے تنگ آ کر دعا کے لیے خواہش فرمائیں گے۔" یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے۔ جس میں آنے والے مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ نے چار دفعہ نبی اللہ کے لقب سے یاد فرمایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مسیح موعود کے نبی اللہ ہونے سے امکان ثابت ہے اور بطریق اولیٰ ثابت ہے۔ وہو المطلوب۔
(مباحثہ لاہور ص ٦٣)
جواب: شکر خدا بلکہ ہزار ہزار شکر کہ غلام رسول قادیانی نے یہ حدیث خود ہی پیش کر دی اور اسکو حدیث رسول اللہ ﷺ تسلیم کر لیا غلام رسول قادیانی دعویٰ بلا دلیل قابلِ رسوائی۔
١٢٨
نہیں ۔ ہر ایک جانتا ہے کہ دعویٰ بلادلیل ثبوت ہر ایک کر سکتا ہے ۔ ایک ہجڑا دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں رستم ہوں ۔ مگر جب اس میں رستم کی صفات نہ ہوں تو بیوقوف سے بیوقوف بھی ایک ہجڑے کو رستم تسلیم نہ کرے گا ۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں حضرت خاتم النبیین ﷺ نے آنے والے مسیح موعود کو چار دفعہ نبی اللہ فرمایا ہے اس واسطے مرزا قادیانی مسیح موعود ہو کر نبی اللہ ہو سکتے ہیں ۔ مگر افسوس غلام رسول قادیانی کے علم پر ۔ کیونکہ یہ صفت نبی اللہ تو حضرت عیسیٰ ؑ کی ہے جو اسی حدیث میں مذکور ہے ۔ پس اگر مرزا قادیانی عیسیٰ ؑ ہیں تو بیشک نبی اللہ ہیں اور اگر وہ غلام احمد ہیں یا بقول آپ کے حسب پیشگوئی حضرت عیسیٰ ؑ صرف احمد رسول ہیں تو پھر مرزا قادیانی ہو کر عیسیٰ نبی ہو نہیں سکتے کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ نے پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد ایک رسول آنے والا ہے جس کا نام احمد ﷺ ہے اور غلام رسول قادیانی نے مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد کی بحث میں قبول کیا ہوا ہے کہ مرزا قادیانی احمد ہیں اور اس پیشگوئی کے مصداق ہیں ۔ غلام رسول اب یہ حدیث پیش کر کے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی وہ نبی اللہ ہیں جن کا نام عیسیٰ ہے تو ثابت ہوا کہ احمد نہ تھے ۔ اور نہ مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد کی پیشگوئی کے مصداق تھے ۔ اگر کہو کہ احمد بھی تھے اور عیسیٰ بھی تھے تو یہ غلط ہے ۔
غلام رسول قادیانی پہلے یہ تو بتائیں کہ مرزا قادیانی پہلے احمد اور پھر محمد اور پھر عیسیٰ پھر غلام احمد کس طرح ہوئے ؟ اگر کہو کہ ”مرزا قادیانی کی روح پہلے عیسیٰ میں تھی اور بعد میں محمد میں تھی اور آخر مرزا غلام مرتضی کے گھر پیدا ہو کر غلام احمد کے وجود میں جلوہ افروز ہوئے تو یہ باطل ہے ۔ کیونکہ اسی کا نام تناسخ ہے جو کہ بالبداہت باطل ہے ۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی کا وجود پہلے عیسیٰ تھا پھر غلام ہوا تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اس کا نام تداخل ہے ۔ جس کی صورت یہ ہے ایک وجود دوسرے وجود میں داخل ہو جائے اور دوسرے کا وجود بھی اس میں سما جائیں اور اس کے عرض اور طول اور عمق میں زیادتی نہ ہو ۔ چونکہ مرزا قادیانی کے قد و قامت میں کسی طرح کا بعد دعویٰ تغیر نہ ہوا ۔ تو ثابت ہوا کہ جسمانی بروز یعنی ظہور سے بھی مرزا قادیانی نہ عیسیٰ تھے نہ محمد نہ احمد ۔ اب رہا ظہور صفاتی ۔ یعنی ایک شخص میں گزشتہ بزرگوں کی صفات ہوں تو اس میں مرزا قادیانی کی خصوصیت نہیں ۔ ہر ایک شخص میں کوئی نہ کوئی صفت ایک نہ ایک نبی کی ضرور ہوتی ہے ۔ مگر وہ اس ادنیٰ اشتراک صفات سے کامل نبی نہیں ہو سکتا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ من اراد ان ینظر الی ادم و صفوتہ والٰی یوسف وحسنہ والٰی موسٰی و شدتہ والٰی عیسیٰ وزھدہ والٰی محمد و خلقہ فلینظر الٰی علی بن ابی طالب
١٢٩
(سیرۃ الاقطاب ص ٥) اس حدیث کو انت منی بمنزلہ ھارون الخ۔ سے ملاؤ تو ثابت ہو جائے گا کہ کوئی شخص انبیاء علیہم السلام کا مجمع صفات ہو کر نبی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کو حضرت آدمؑ یوسفؑ موسیٰؑ عیسیٰ و محمد علیہم السلام کا مثیل فرمایا مگر اس کی نبوۃ کی تردید فرما دی کیونکہ نبی ہونا وعدہ خداوندی خاتم النبیین کے برخلاف ہے اور مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی مثیل مسیح ہو کر نبی اللہ ہونے کا ہے جو کہ ازروئے قرآن و حدیث غلط ہے۔ غلام رسول قادیانی نے خود ہی اپنی تردید کر دی ہے کہ عیسیٰؑ کے کام جو اس حدیث میں مذکور ہیں۔ مرزا قادیانی کے وقت ظہور میں نہیں آئے پس وہ کسی طرح عیسیٰؑ نہیں ہو سکتے اور نہ نبی اللہ ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ دعویٰ بلا دلیل ہے یا ثابت کرو کہ مرزا قادیانی نے یہ کام کیے؟
- (اول)...... دجال کو قتل کیا جو کہ واحد شخص یہودی النسل ہے۔ اور ابن قطن کے مشابہ ہے؟
- (دوم)...... پہاڑ میں روکے جانا ہے مرزا قادیانی کا پہاڑ میں روکے جانا بتاؤ کہ کس پہاڑ
میں روکے گئے؟
- (سوم)...... خروج یاجوج کا مرزا قادیانی کے وقت خروج ہوا اور وہ ہلاک ہوئے؟ ثابت کرو۔
- (چہارم)...... یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد مرزا قادیانی کا پہاڑ سے اترنا بتاؤ کہ کس
پہاڑ سے اترے؟ اور کون کون اصحاب ان کے ساتھ پہاڑ پر روکے گئے تھے اور واپس اترے۔
- (پنجم)...... یاجوج کے مردوں کی بدبو سے مرزا قادیانی کا تنگ آنا اور دعا کرنا ثابت
کرو یہ پانچ امور اس حدیث میں حضرت عیسیٰؑ کی خصوصیات کے مذکور ہیں جو مرزا قادیانی میں یہ خصوصیات نہیں اور نہ ان کے وقت ایسے واقعات پیش آئے نہ یاجوج ماجوج کی لاشوں کی بدبو پھیلی اور نہ وہ پہاڑ پر پناہ گزین ہوئے تو ان کا نبی اللہ ہونا باطل ہوا کیونکہ نبی اللہ تو عیسیٰ علیہ السلام ہے اور مرزا قادیانی جب عیسیٰ نہیں بلکہ احمد ہیں۔ کرشن ہیں۔ تو اس حدیث کے رو سے تو نبی اللہ بھی نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ لاٹ صاحب آنے والے ہیں اور ایک جاہل مسکین کنگال رعایا میں سے مدعی ہو کہ آنے والا میں ہی ہوں اور چونکہ آنے والا لاٹ صاحب ہے۔ اس واسطے میں لاٹ صاحب بھی ہوں۔ حالانکہ کوئی سرسری عہدہ بھی نہ رکھتا ہو تو اس کو کوئی لاٹ صاحب صرف دعویٰ پر بلا ثبوت کے تسلیم کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ایسا ہی مرزا قادیانی کا ایک امتی ہو کر نبی اللہ ہونا الٹا منطق ہے جو کہ قابل تسلیم نہیں ہے۔ آنے والے کی صفات و خصوصیات و تشخصات آنے سے پہلے اس کی ذات میں ہوتے ہیں۔ نہ کہ بعد دعویٰ۔ پس پہلے مرزا قادیانی کا دعویٰ سے پہلے نبی اللہ ہونا ثابت کرو کیونکہ اس حدیث میں عیسیٰؑ لکھے ہیں نہ کہ حضرت محمد ﷺ
سے چھ سو برس پہلے نبی تھے جن پر انجیل نازل ہوئی تھی اور اسی انجیل کی تحریر کے رو سے آنحضرت ﷺ نے نزول و رفع عیسیٰؑ کی تصدیق فرمائی اور فرمایا کہ ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے اور وہ قیامت سے پہلے تمھارے طرف آنے والے ہیں کیا مرزا قادیانی کا ذکر قرآن و حدیث میں تھا؟ ہرگز نہیں ہے۔ تو پھر ١٩ سو برس کے بعد مرزا قادیانی عیسیٰ نبی اللہ کیونکر ہو سکتے ہیں؟ جبکہ ان کا مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے کیونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے مشبہ مشبہ بہہ کا عین نہیں ہوتا پس جب مرزا قادیانی عین عیسیٰؑ نہیں تو مسیح موعود بھی نہیں اس حدیث سے بھی استدلال غلام رسول قادیانی کا غلط ہے۔
حدیث دوم پیش کردہ غلام رسول قادیانی
”قال رسول اللہ ﷺ لو عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیا (رواہ ابن ماجہ)
ترجمہ : فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور ہی نبی ہوتا۔“
استدلال : اس حدیث سے بھی امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ ثابت ہے اسطرح کہ ابراہیمؑ کی نبوت کا امکان آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد تسلیم فرمایا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ بھی ہوتا تو بھی نبی نہ ہوتا بلکہ یہ فرمایا کہ اگر وہ زندہ ہوتا تو ضرور نبی ہوتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے نبی ہونے کے لیے آنحضرت ﷺ خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کو روک کا سبب نہیں بتایا بلکہ نبی ہونے سے اس کا سبب اس کی موت کو قرار دیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا ہونا ممکن ہے اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی اگر نبیوں کی کسی قسم کو روکتی ہے تو ایسے ہی نبیوں کو جو شریعت والے یا براہ راست ہوں اور ایسے نبی جو آنے والے مسیح موعود اور حضرت ابراہیمؑ ابن آنحضرت ﷺ کی طرح ہوں۔ انھیں نہیں روکتی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے قول سے اس بات کی خود تصدیق فرما دی کہ آیت موصوفہ اور حدیث مذکورہ کی صحیح تفسیر اور تشریح یہ ہے اور جو ہر دو احادیث متذکرہ کی رو سے قابل تسلیم ہے وہو المطلوب۔
(خاکسار ابو البرکات غلام رسول راجیکی تنزیل قادیان مقدمہ مباحثہ لاہور ص ٦٢)
جواب : غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا امکان نبوت بعد آنحضرت ﷺ ثابت کرتا ہے۔ غلط ہے کیونکہ اوّل تو یہ حدیث قرآن شریف کی آیت خاتم النبیین ہی کے متعلق ہے کیونکہ قرآن شریف نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ چونکہ
١٣١
محمد ﷺ خاتم النبیین ہے۔ اس واسطے کسی مرد بالغ کا باپ نہیں۔ یعنی موت ابراہیم علت ہے۔ معلول ابراہیم کے نبی نہ ہونے کی۔ جس کی تفسیر رسول اللہ ﷺ نے خود فرما دی کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ مگر چونکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس واسطے وہ زندہ نہ رہا۔ افسوس غلام رسول قادیانی مفسرین کی تو پرواہ نہیں کرتے۔ مگر اپنے مسلمات کے بھی خلاف کرتے ہیں۔ جب خود ہی انھوں نے اصول مقرر کیا ہے کہ حدیث کے معنی کرنے میں قرآن کی مخالفت نہ کرنی چاہیے بلکہ یہاں تک قبول کرلیا ہے کہ جو حدیث قرآن کے متعارض ہو اس کو چھوڑ دینا چاہیے اور اس پر عمل نہ کرنا چاہیے مگر اس حدیث کے معنی کرنے میں غلام رسول قادیانی نے قرآن کی آیات کے برخلاف معنی کیے کیونکہ قرآن مجید کی آیت خاتم النبیین اور تفسیر نبوی لا نبی بعدی اور بہت سی حدیثوں کے ہوتے ہوئے اس حدیث کے وہ معنی کرنا کہ سب کے متعارض ہو۔ کیونکر جائز ہے؟ اور لطف یہ ہے کہ خود ہی غلام رسول قادیانی لکھتے ہیں کہ خاتم النبیین کی آیت اور حدیث لا نبی بعدی تو شریعت والے جدید نبیوں کی روک ہے۔ الحمد للہ غلام رسول قادیانی نے جدید نبیوں کا آنا خلاف قرآن وحدیث تو تسلیم کر لیا کہ روک تو بیشک ہے۔ مگر ایک قسم کے جدید نبی آسکتے ہیں اور وہ نبی ہیں جو شریعت لے کر نہ آئیں۔ مگر اس اپنی رائے کی تصدیق میں کوئی سند شرعی نہیں پیش کرتے اور یہ رائے ان کی ذیل کے دلائل سے غلط ہے۔
- (اول)...... خاتم النبیین میں الف لام استغراقی ہے جو کہ ہر ایک قسم نبوۃ پر حاوی ہے۔
- (دوم)...... کسی قرآن کی آیت اور کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ غیر تشریعی نبی بعد از
حضرت خاتم النبیین پیدا ہو سکتا ہے۔
- (سوم)...... لو صرف شرط ہے جس کے معنی اگر کے ہیں اور شرط کے واسطے جزا کا ہونا
ضروری ہے اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ زندہ رہنا شرط ہے اور نبی ہونا جزا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ نہ شرط پوری ہوئی اور نہ جزا یعنی نہ ابراہیم زندہ رہا اور نہ نبی ہوا۔ پس خدا کے فعل سے ثابت ہوا کہ کسی قسم کا نبی بعد آنحضرت ﷺ کے نہ ہو گا کیونکہ غلام رسول قادیانی مان چکے ہیں کہ ابراہیم بن آنحضرت ﷺ زندہ رہتا تو غیر تشریعی نبی ہوتا۔ مگر خدا تعالیٰ نے غیر تشریعی نبی ہونے والے کو بھی زندہ نہ رکھ کر ثابت کر دیا کہ کسی قسم کا نبی بعد آنحضرت ﷺ پیدا نہ ہو گا اگر غلام رسول قادیانی لو عاش ابراھیم سے غیر تشریعی نبی کا امکان سمجھتے ہیں تو بتائیں کہ لو کان موسٰی حیاً لما وسعہ الا اتباعی *
* مشکوٰۃ ص ٣٠ باب اعتصام بالکتاب والسنۃ) سے تشریعی نبی موسیٰؑ کا بعد آنحضرت ﷺ کے
١٤٢
آنا ممکن ہے؟ کیونکہ جیسے اس حدیث پیش کردہ غلام رسول قادیانی کے الفاظ ہیں ویسا ہی اس حدیث لو کان موسٰی حیا کے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ اگر لو سے غیر تشریعی نبی کا آنا امکان رکھتا ہے تو موسٰی کا آنا بھی امکان رکھتا ہے جو کہ تشریعی نبی تھا پس یہ ڈھکوسلا غلط ہے اور قرآن و حدیث کے برخلاف ہے کہ اس حدیث سے امکان جدید نبی بعد آنحضرت ﷺ ثابت ہے۔ غلام رسول قادیانی لو ناممکنات پر آیا کرتا ہے اور فعل کا ظہور نہیں ہوا کرتا۔ جیسا کہ لو كان موسی اور لو انزلنا ھذا القرآن على جبل (الحشر ٢١) ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا. (بنی اسرائیل ٨٨) لو كان فيهما آلهة الا اللّٰه لفسدتا. (انبیاء ٢٢) سے ثابت ہے۔ کیا ان مثالوں سے امکان ثابت ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس قدر حدیثوں کے ہوتے اس حدیث کو امکان نبوت میں پیش کرنا سخت غلطی ہے۔ غلام رسول قادیانی کا یہ کہنا کہ مسیح موعود اور حضرت ابراہیم ابن آنحضرت ﷺ کی طرح جو نبی ہوں انھیں خاتم النبیین کی آیت نہیں روکتی غلط ہے اور قیاس مع الفارق ہے کیونکہ حضرت ابراہیم تو نبی زادہ تھے۔ اگر وہ زندہ رہتے تو بہ سبب پیغمبر زادہ ہونے کے نبی ہو سکتے تھے۔ اسی واسطے زندہ نہ رہے اور نبی نہ ہوئے اور خدا نے مطابق وعدہ آیت خاتم النبیین کے بعد محمد ﷺ کوئی نبی نہ بھیجا۔ مگر مرزا قادیانی تو پیغمبرزادہ نہ تھے کہ اپنے باپ مرزا غلام مرتضیٰ کی نبوت کی وراثت پاتے مرزا قادیانی کے مسیح ہونے کا رد پہلی حدیث میں بھی کافی طور پر کیا ہے۔ اب اخیر میں ہم مرزا قادیانی کی معیار مقرر کردہ پیش کر کے غلام رسول قادیانی سے پوچھتے ہیں کہ ایمان سے بولو کہ مرزا قادیانی سے مسیح و مہدی کے کام ہوئے تو مسیح موعود ورنہ وہ اولی العزم نبیوں حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد خاتم النبیین کی پیشگوئی کے مطابق جھوٹے مسیح تھے۔ جب مرزا قادیانی اپنی معیار سے جھوٹے ہیں تو پھر نبی اللہ ہرگز نہیں ہو سکتے۔
مرزا قادیانی اخبار بدر مطبوعہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء میں لکھتے ہیں۔
یہ کام جس کے لیے میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلا دوں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت، اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس قوم مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور انجام کو نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی کو کرنا چاہیے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ جھوٹا ہوں۔‘‘
(خاکسار غلام محمد)
غلام رسول قادیانی بتائیں کہ عیسیٰ پرستی کا ستوں ٹوٹا یا عیسیٰ پرستوں کے ستوں کو وہ قوت اور ترقی ہوئی کہ کسی زمانہ میں نہ ہوئی تھی؟ وہ وہ علاقے عیسیٰ علیہ السلام پرستوں نے فتح کیے جن علاقوں میں توحید کا جھنڈا لہراتا تھا۔ وہاں عیسیٰ علیہ السلام پرستوں کا لہرانے لگا۔ کون نہیں جانتا کہ مذہب کا ستون حکومت ہے کبھی نامردوں ہیجڑوں نے بھی باتوں سے ستون توڑا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بزدل قومیں بہادروں کو خونی و وحشی کہا کرتی ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی کہہ دیا کہ میں خونی مہدی نہیں ہوں۔ اللہ اکبر رسول اللہ اور صحابہ کرام اور مجاہدین خونی ہوئے؟ مرزا قادیانی میں یہ طاقت ہی نہ تھی کون دانت کھٹے کرنے کا مصداق ہیں۔
دوسرا کام...... مرزا قادیانی کا تثلیث کی جگہ توحید پھیلانا تھا۔ یعنی...... الٹ ہوا کہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان عیسائی ہوئے اور جو جو علاقے عیسائیوں نے فتح کیے وہاں کے مسلمانوں کو عیسائی ہونے پر مجبور کیا باقی کو تہہ تیغ کیا۔
تیسرا کام...... آنحضرت ﷺ کی جلالت شان دنیا پر ظاہر کرنا تھا۔ یہ بھی الٹ ہوا کہ مرزا قادیانی نے عیسائیوں اور آریوں کو گالیاں دے کر ان کو ہتک انبیاء علیہم السلام پر علی العموم اور آنحضرت ﷺ پر علی الخصوص آمادہ کیا اور آریوں اور عیسائیوں نے آنحضرت ﷺ کی شان میں ایسے کلمات استعمال کیے کہ خود مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین قادیانی چیخ اٹھے اور عاجز آ کر پیغام صلح کی تجویز کی اور ہندوؤں اور آریوں اور عیسائیوں کے مسائل اوتار اور ابن اللہ وحلول کے مانے اور نعوذ باللہ کفار کو انبیاء علیہم السلام کے مرتبہ پر پہنچایا اور بلا دلیل کہہ دیا کہ رام چندر جی و کرشن جی، مہادیوجی وغیرہم پیغمبر تھے اور کرشن علیہم السلام اور بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ لکھنا شروع کر دیا بلکہ مرزا قادیانی خود اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب کے راجہ کرشن کا اوتار بنے۔ غلام رسول قادیانی بتائیں کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی پیشگوئی میں درج ہے کہ آنے والا مسیح موعود کرشن جو ہندو مذہب کے اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار ہے۔ اس کا اوتار ہو گا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کرشن اوتار بنے اور محمد ﷺ کا دروازہ چھوڑ کر کرشن جی کے چیلے بنے۔ گر مسلمانی ہمیں است کہ مرزا دارد۔ وائے برعقل مریدان کہ احمد خوانند۔ پس یہ غلام رسول قادیانی بلا دلیل و بلا ثبوت مرزا قادیانی کو مسیح موعود تصور کر کے ان کی نبوت ثابت کرتے ہیں اور بنائے فاسد علی الفساد کے طریق پر مرزا قادیانی کو نبی اللہ بنا کر امکان نبوۃ بعد از حضرت خاتم النبیین ثابت کرنے کی بے فائدہ کوشش کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جس کی نبوۃ پر بحث
١٣٤
کر رہا ہوں اسی کو جو کہ بطور دعویٰ ہے۔ دلیل بنا کر پیش نہیں کر سکتا مگر غلام رسول قادیانی نے ہر ایک آیت اور حدیث کے اخیر دعویٰ کو بطور دلیل پیش کیا ہے جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے جسکو مصادرہ علی المطلوب کہتے ہیں۔ مگر غلام رسول قادیانی ہر ایک موقعہ پر یہی کہتے آئے ہیں کہ خاتم النبیین کے بعد مسیح موعود کا نبی اللہ ہونا ممکن ہے۔ حالانکہ ایک آیت یا ایک حدیث بھی پیش نہیں کر سکے جس میں لکھا ہو کہ بعد از حضرت خاتم النبیین جدید نبی کا پیدا ہونا ممکن ہے۔ جب امکان ہی ثابت نہیں تو مرزا قادیانی نبی اللہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ نبوت کے ثابت کرنے کے واسطے نص کا مقابلہ نص قطعی سے ہونا چاہیے نہ کہ من گھڑت باتوں سے۔ فقط۔
(نوٹ) غلام رسول قادیانی نے آخر میں جو تاریخ ١٩ اکتوبر ١٩٢١ء لکھی ہے غلط ہے کیونکہ میرے پاس یہ کتاب ٦ جنوری ١٩٢٢ء کو پہنچی اور جنوری ١٩٢٢ء میں شائع ہوئی ہے غلام رسول قادیانی کا قادیان جا کر جواب دینا ثابت کر رہا ہے کہ تمام مرزائیوں نے مل کر زور لگایا مگر کسی نص قطعی سے امکان جدید نبی بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ثابت نہ کر سکے۔ مصرعہ۔ کذب را نبود فروغے چوں بتابد نور حق۔
برادران اسلام! حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی چونکہ پیشگوئی ہے کہ میری امت میں سے تیس یا ستر یا اس سے بھی زیادہ جھوٹے مدعی نبوت و رسالت ہوں گے۔ اس کے لیے ہمیشہ سے مرزا قادیانی کی طرح مدعیان کاذب چلے آئے ہیں۔ دو شخص تو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی مدعی ہوئے۔ ایک مسیلمہ کذاب اور دوسرا اسود عنسی جو کہ حضور ﷺ کے حکم سے کافر قرار دیے گئے اور ان کے ساتھ جنگ کیا گیا اور ان کو بمعہ ان کے معتقدوں کے نابود کیا گیا۔ اگر ان آیات سے جو غلام رسول قادیانی نے پیش کی ہیں۔ امکان ثابت ہے تو پھر یہ اشخاص کیوں کافر سمجھے گئے؟ کیا آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ کو قرآن مجید نہیں آتا تھا کہ ہزارہا مسلمان قتل و غارت ہوئے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ يٰبَنِيْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ (الآیۃ) اور اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الآیۃ) سے ہمیشہ رسولوں کا آنا سمجھنا غلطی ہے۔ ذیل میں کاذب مدعیان کی فہرست دی جاتی ہے تاکہ معلوم ہو کہ امت محمدی میں سے ہمیشہ کاذب مدعیان نبوت چلے آئے ہیں۔ مرزا قادیانی میں کوئی خصوصیت نہیں کہ یہ سچے نبی ہو سکیں۔ اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو پھر سب مدعیان نبوت جو مرزا قادیانی سے پہلے گزرے ہیں سب سچے ہوں گے۔
(١) مسیلمہ (٢) اسود عنسی (٣) ابن صیاد (٤) طلیحہ بن خویلد (٥) سجاح بنت
١٣٥
الحرث (٦) مختار (٧) احمد بن حسین المعروف متنبی شاعر (٨) بہبود (٩) یحییٰ (١٠) سلیمان قرمطی (١١) عیسیٰ بن مہرویہ (١٢) استاذسیس (١٣) ابوجعفر (١٤) عطا (١٥) عثمان بن مہیک (١٦) دامیہ (یہ بھی عورت تھی) (١٧) لا (١٨) پوشیما (١٩) مسٹر وارڈ (٢٠) بہمسک (٢١) ابراہیم بزلہ (٢٢) شیخ محمد خراسانی (٢٣) محمد بن تومرت (دیکھو مرزائیوں کی کتاب عسل مصفےٰ ص ٥٥٤ تا ٥٦١ جس میں تاریخ کامل ابن اثیر ابن خلکان تاریخ الخلفاء وغیرہ اسلامی تاریخی کتب سے لے کر مفصل حالات لکھے ہیں۔) (٢٤) سید محمد جونپوری (٢٥) محمد عبداللہ (٢٦) محمد احمد سوڈانی (٢٧) شیخ سنوسی (٢٨) محمد بن محمد (٢٩) محمد الامین (٣٠) محمد۔ علاقہ فاس کا باشندہ (٣١) مرزا غلام احمد قادیانی پنجابی (دیکھو مذاہب اسلام ص ٧٨٤ تا ٨٠٤) مرزا قادیانی کے بعد بھی انڈیا پنجاب کے ضلع لائلپور (اب پاکستان) میں ایک شخص نیلی دھاری نے دعویٰ نبوت کیا۔ جس نے ایک حکمنامہ جاری کیا ہے۔ اس کے سرورق پر لکھا ہے۔ خداوند کریم کے ٣٦٥ احکام جو ماہ اپریل ١٩١٤ء کو نازل ہوئے۔ اس نے بھی ہمیشہ نبیوں کا آنا بتایا ہے۔ جیسا کہ کاذبوں کی چال ہے کہ خاتم النبیین پر ضرور پہلے بحث کرتے ہیں یہاں پر اس کے ایک الہام کے حکم کی نقل کی جاتی ہے۔ ”دیکھو خدائی زبان اس ملک کے مطابق ہے۔ مرزا قادیانی کی طرح عربی نہیں۔ جس ملک کا نبی اسی ملک کی زبان چاہیے۔ حکم نمبر ٧۔ اے نبی بتا میرے بندوں کو میرے نام پر کہ تو ان سے کہو کہ تم جانتے ہو کہ بدلتا رہتا ہے زمانہ ہمیشہ مطابق میری مرضی کے سو بھیجتا ہوں نبی موافق زمانہ کے تم قبول کرو اس کو نہ بنے رہو لکیر کے فقیر۔“
(الخ ص ٦ حکمنامہ مطبوعہ ہندوستان پریس لاہور ١٩١٥ء)
مرزائی صاحبان اگر سعادت اسی میں ہے کہ جو شخص دعویٰ نبوت کرے حسن ظنی سے اسے سچا نبی مان کر اس کے پیرو ہونے میں نجات ہے تو دوڑیں اب تازے نبیوں تازہ وحیوں اور تازہ کتابوں پر ایمان لائیں جیسے مرزا قادیانی پر ایمان لائے تھے ان پر بھی ایمان لا کر اپنی سلیم الفطرت اور خدا ترس انسان ہونے کا ثبوت دیں۔ اگر ہمیشہ رسول و نبی آتے رہیں گے تو پھر میاں نبی بخش معراجکے ضلع سیالکوٹ اور میاں عبداللطیف ساکن گنا چور ضلع جالندھر والے جو مرزا قادیانی کے بعد مدعیان نبوت و رسالت ہیں۔ ان کو سچے نبی مان کر ان کی پیروی کیوں نہیں کرتے؟ اگر ان کو جھوٹے نبی مانتے تو مرزا قادیانی بھی کاذب ہی ثابت ہوئے۔ تمام شد۔
خاکسار پیر بخش
١٣٦
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
تفریق درمیان اولیائے امت
اور کاذب
مدعیان نبوت و رسالت
جناب بابو پیر بخشؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اولیائے امت کے ملفوظات کا جواب
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم ط
واضح ہو کہ جب مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت و رسالت و کرشنیت وغیرہ پر مسلمانوں کی طرف سے اعتراضات ہوئے اور مرزا قادیانی ختم نبوت کے منکر ثابت ہوئے تو ان کے مریدوں میں سخت حیرت پھیلی اور نصوص شرعی سے جواب دے سکنے کے ناقابل ہو کر مرزا قادیانی کے کفریات کا جواب یہ دینا شروع کیا کہ اولیائے امت میں سے پہلے بھی کئی بزرگان دین نے ایسے ایسے کلمات منہ سے نکالے ہیں۔ جن کے جواب کئی دفعہ علمائے اسلام کی طرف سے دیئے گئے ہیں کہ مرزا قادیانی اور ان بزرگان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ مرزا قادیانی کے کلمات کفر لوگوں کو اپنا مرید بنانے کی خاطر ہیں اور ان بزرگان نے حالت سکر میں ایسے کلمات منہ سے نکالے اور بعد میں تائب ہوئے بلکہ بعض نے حکم دیا کہ ہم کو اس حالت میں ہلاک کر دو اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میرے مرید نہ ہو گے تو تمہاری نجات نہ ہوگی۔ مصرع
وہ بزرگ تو فرمائیں کہ ”با خدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار“ اور اس پر اجماع امت ہے کہ ختم نبوت کا منکر اور مدعی نبوت و رسالت بلا اختلاف احدے کافر ہے اور مرزا قادیانی لکھتے ہیں ؎
داد آں جام را مرا بہ تمام
(درثمین فارسی ص ٧١)
یعنی جو کچھ نعمت نبوت کا پیالہ ہر ایک نبی کو دیا گیا ہے۔ ان سب کا مجموعہ مجھ اکیلے کو دیا گیا ہے۔ یہ شعر مرزا قادیانی کا ان کو افضل الانبیاء بناتا ہے بلکہ حضرت خاتم النبیین محمد مصطفےٰ ﷺ سے بھی افضل ہونے کا بین ثبوت دیتا ہے کیونکہ جب جو کچھ پہلے
٢
نبیوں کو نعمت و معرفت دی گئی وہ سب ملا کر اکیلے مرزا قادیانی کو دی گئی۔ تو ظاہر ہے کہ جو کچھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا۔ وہ بھی مرزا قادیانی کو دیا گیا تو مرزا قادیانی‘ محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل ہوئے۔ اس دلیل سے کہ محمد ﷺ کو صرف پہلے نبیوں کے کمالات دیئے گئے تھے اور مرزا قادیانی کو پہلے نبیوں کے علاوہ محمد ﷺ کے کمالات بھی دیئے گئے۔ تو وہ محمد ﷺ سے بھی افضل ثابت ہوئے۔
اسی بنا پر مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح ؑ کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا ہے۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ) اب قرآن شریف کی پیروی اور محمد ﷺ کی متابعت سے نجات نہیں مل سکتی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے آنے سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین نعوذ باللہ معزول کر دیئے گئے۔ اب ضروری ہوا کہ مسلمان مرزا قادیانی کی وحی و تعلیم کی پڑتال کریں کہ آیا وہ اس قابل ہے کہ ذریعہ نجات ہو سکے کیونکہ یہ قانون الہی ابتدائے آفرینش سے انسانوں میں جاری ہے کہ سچ کے مقابلہ میں جھوٹ۔ اصل کے مقابلہ میں نقل‘ سچے نبی و رسول کے مقابلہ میں جھوٹے نبی و رسول۔ سچے اولیاء اللہ کے مقابلہ میں بناوٹی اولیاء اللہ۔ کھرے سونے کے مقابلہ میں کھوٹا سونا۔ سچی تعلیم کے مقابلہ میں جھوٹی تعلیم۔ توحید کے مقابلہ میں شرک۔ اسلام کے مقابلہ میں کفر۔ خدائی الہام کے مقابلہ میں شیطانی الہام۔ غرض کہ ہر ایک امر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک صحیح اور دوسرا غلط۔ کیونکہ سنت اللہ اسی طرح جاری ہے ؎
ضد مبین نشود جز بضد
ترجمہ:۔ اس دنیا ہزل و جد میں قاعدہ مقرر ہے کہ ضد بغیر ضد کے ظاہر نہیں ہو سکتی۔ راستی ہو گی تو اس کے مقابل ناراستی بھی ہو گی۔ جب کوئی سچا رہبر مصلح پیغمبر و رسول ظاہر ہوا تو اس کے مقابل جھوٹے مدعیان نبوت و رسالت و وحی و الہام کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب و اسود عنسی حضور ﷺ کی زندگی میں ہی کھڑے تھے۔ جنھوں نے اپنی اپنی جماعت الگ کر لی تھی۔ قرآن شریف بھی جھوٹے مدعیان الہام کی خبر دیتا ہے۔ وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا. (الانعام ١١٣) ترجمہ:۔ پس اسی طرح ہم نے کل نبیوں کے مقابل ان کے دشمن بنا دیئے تاکہ دھوکہ دینے کی غرض سے وہ غرور کی
٣
باتیں شیطان کی طرف سے وحی کیے جاتے ہیں۔
پھر خدا تعالیٰ نے شیطانی وحی کی علامت یہ فرما دی ہے کہ جو وحی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے وہ جھوٹی ہوتی ہے۔ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ (شعراء ٢٢١۔٢٢٣) ترجمہ۔ کیا میں تجھے بتا دوں کس پر شیطان اترا کرتے ہیں۔ اترا کرتے ہیں جھوٹے بدکار پر سنی سنائی بات شیطان ان پر القاء کر دیتے ہیں اور ان میں بہتیری جھوٹی ہوتی ہیں۔
جب نص قرآنی سے ثابت ہے کہ مدعی سچا بھی ہوتا ہے اور جھوٹا بھی ہوتا ہے تو ضرور ہے کہ کوئی معیار ہو۔ جس پر سچا اور جھوٹا مدعی پرکھا جائے۔ تو ایسا نہ ہو کہ جھوٹے کی پیروی کر کے انسان جہنم کی راہ اختیار کر لے۔ اسی واسطے مولانا رومؒ فرماتے ہیں ۔
پس بہر دستے نباید داد دست
یعنی بہت انسان شکل اور شیطان صفت بزرگوں کے لباس میں ظاہر ہوتے ہیں پس ہر ایک مدعی کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دینا چاہیے یعنی بیعت نہ کر لینی چاہیے۔ اب سوال ہوتا ہے کہ وہ معیار کونسا ہے جس پر جھوٹا اور سچا مدعی پرکھا جائے؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس قرآن شریف و حدیث نبوی معیار ہے اور مسلمان ہر ایک مدعی کو انہی معیاروں سے پرکھ سکتے ہیں۔ پس جس مدعی کا قول و فعل خلاف قرآن و حدیث ہو گا وہ جھوٹا ہے۔ چاہے رسی کے سانپ بنا کر دکھائے اور ہوا پر اڑ کر اعجاز نمائی کرے۔
حضرت شیخ اکبرؒ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے اور دیوار کو حکم - دے کہ چل اور دیوار چل بھی پڑے تو مسلمان اس کی نبوت کی ہرگز تصدیق نہ کریں گے اور نہ اس کی اعجاز نمائی کی تصدیق کریں گے کیونکہ دعویٰ نبوت قرآن شریف کی آیت خاتم النبیین اور صحیح حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ کے برخلاف ہے۔ پس اولیائے امت اور مرزا قادیانی کے دعاوی و کلمات کفر و شرک میں چونکہ دن رات کا فرق ہے۔ اس واسطے یہ بالکل غلط اور سخت مغالطہ دہی ہے کہ اولیائے امت نے بھی ایسے کلمات منہ سے نکالے۔ مرزا قادیانی کو اولیاء اللہ سے کیا نسبت وہ تو نبی و رسول ہیں۔ نعوذ باللہ۔
کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ کسی اولیاء اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہو کہ میں کرشن ۔ جو کہ ایک ہندو مذہب رکھتا تھا اس کا اوتار ہوں۔
میر مدثر شاہ مرزائی پشاوری نے ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا نام ”ملفوظات ٤
اولیائے امت" ہے۔ اور مدثر شاہ نے اپنی طرف سے کوشش کی ہے کہ مرزا قادیانی کو ایک اولیائے امت محمدیہ ثابت کریں۔ مگر نہایت افسوس کہ وہ یا تو مرزا قادیانی کی تحریروں اور الہاموں سے واقفیت نہیں رکھتے یا جان بوجھ کر خاص و عام کو دھوکہ دے کر جو فروشی اور گندم نمائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس واسطے ان کی کتاب کا جواب اختصار کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ ان کی تحریر کے خلاصہ کو قولہ لکھا جائے گا اور جواب کو اقول سے پیش کیا جائے گا۔
قولہ: جب کبھی کوئی مصلح یا مذہبی پیشوا آیا اور نسل انسانی کی اصلاح اور تزکیہ نفوس کے لیے مبعوث ہوا تو حریفان روحانی اس کے مقابلہ کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘ الخ۔
اقول: شاہ صاحب۔ رونا تو اسی بات کا ہے کہ مرزا قادیانی بجائے اصلاح اور تزکیہ نفس کے شرک و کفر کی تعلیم دیتے ہیں۔ عاجز انسان کو خالق زمین و آسمان بتاتے ہیں اور واجب الوجود ہستی جو کہ بے انتہا اور غیر محدود ہے۔ اس کو ایک انسانی وجود میں محدود فرماتے ہیں۔ اہل ہنود کے مسئلہ اوتار کو اور آریوں کے مسئلہ قدامت مادہ و روح کو اور عیسائیوں کے مسئلہ ابن اللہ کو اسلام میں داخل کرتے ہیں۔ افسوس آپ نے جو آیات قرآن شریف ابتدا میں لکھی ہیں۔ غیر محل ہیں۔ کیونکہ یہ تو رسولوں اور نبیوں کے حق میں ہیں اور آپ مرزا قادیانی کو رسول نہیں مانتے۔ جب مرزا قادیانی رسول نہیں تو یہ دونوں آیتیں آپ نے غلط پیش کی ہیں۔ یا مرزا قادیانی کو رسول مانتے ہو تو صاف کہو۔ پھر ہم بھی جواب دیں۔ فی الحال تو میرا فرض ہے کہ مرزا قادیانی پر میں نے جو الزام قائم کیے ہیں۔ ان کا ثبوت دوں۔
اوّل...... تو حلول باری تعالیٰ مرزا قادیانی کے وجود میں ہیں۔ دیکھو الہام۔ انت منی بمنزلۃ بروزی (تجلیات الٰہیہ ص ١٢ خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٤) یعنی خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو فرماتا ہے کہ اے مرزا کہ تو ہمارے اوتار کے جا بجا ہے۔ اس الہام نے ہندوؤں کے مسئلہ اوتار کی تصدیق کر دی اور مرزا قادیانی نے لیکچر سیالکوٹ میں فرمایا۔ ’’ایسا ہی میں راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے اوتاروں میں سب سے بڑا اوتار تھا‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)
جب مرزا قادیانی کو خدا کہتا ہے کہ تو میرے اوتار کی جا بجا ہے تو مرزا قادیانی کرشن اوتار ہوئے اور اسلام سے خارج ہوئے کیونکہ کرشن جی کا یہی مذہب تھا جو آج کل آریوں کا ہے۔ یعنی تناسخ کے قائل اور قیامت کے منکر۔ پس مرزا قادیانی اگر کرشن
٥
ہیں تو مسلمان نہیں۔ اولیاء اللہ ہونا تو درکنار۔ سنو کرشن جی گیتا میں جو ان کی الہامی کتاب ہے۔ اس میں لکھتے ہیں: ”جو صاحب کمال ہو گئے۔ جنھوں نے فضیلتیں حاصل کر لیں اور میری ذات میں مل گئے ہیں۔ ان کو جمنے مرنے کی تکلیفات سے پھر سابقہ نہیں ہوتا۔“ ١
(اشلوک ١٥ ادہائے ٨ گیتا مترجم ڈوارکا پرشاد۔ افق)
چونکہ اختصار درکار ہے اس واسطے ایک ہی حوالہ کافی ہے۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ کرشن جی تناسخ کے معتقد تھے اور یوم قیامت و حشر اجساد کے منکر تھے اور ہرگز مسلمان نہ تھے۔ جب مرزا قادیانی کرشن کا اوتار تھے تو مسلمان نہ تھے کیونکہ حلول کا مسئلہ باطل ہے۔
شاہ صاحب فرمائیں کہ مرزا قادیانی اسی تزکیہ نفس کے واسطے تشریف لائے تھے کہ مسلمانوں کو حلول اور اوتار کے باطل مسائل سکھا دیں؟ خدارا انصاف فرمائیں۔ کیا مولانا رومیؒ نے سچ نہیں فرمایا ؎
گر ولی این است لعنت بر ولی
یعنی کام تو کرے شیطان کے اور کہے کہ میں ولی ہوں۔ اگر ولی ہونا یہی ہے تو لعنت ہے ایسے ولی پر۔ کیا یہی تزکیہ نفس ہے اور اسی تعلیم باطل کی مخالفت کرنے والوں کو آپ دشمن اولیاء سمجھتے ہیں؟ افسوس!
دوم ...... انسان کا خدا ہونا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ خود خدا ہوں اور یقین کیا وہی ہوں۔ پھر میں نے زمین آسمان بنائے اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں۔“
(بطور اختصار اگر دیکھنا ہو تو دیکھو کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
شاہ صاحب خدارا غور فرمائیں کہ یہی اصلاح امت ہے جو مرزا قادیانی نے کی کہ خود خدا بن گئے؟ اگر کہو کہ یہ خواب کا معاملہ ہے تو ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے دعویٰ کی بنیاد بھی تو ان کے اپنے کشفوں اور الہاموں پر ہے۔ اگر ان کو خدا نہیں مانتے تو مسیح موعود کیوں مانتے ہو؟ جب الہاموں کے رو سے مسیح موعود ہیں تو خدا بھی ہیں۔ نعوذ باللہ۔
قولہ: ”اہل اسلام میں شائد ہی کوئی ایسا ولی گزرا ہو گا۔ جس کو مسلمانوں ہی نے نہ ستایا ہو۔ ائمہ اربعہ سے کوئی ظلم و تعدی سے نہ بچا۔ امام ابو حنیفہؒ کو قید خانہ میں ہی زہر دی گئی
٦
وغیرہ وغیرہ۔ اس زمانہ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے چودھویں صدی کے عین سر پر بموجب حدیث نبوی مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس واسطے آپ کی بھی مخالفت کی گئی اور آپ کے دعاوی کو کلمات کفر قرار دیا گیا بلکہ ان کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کیا گیا۔ حالانکہ جہاں تک میں نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان سے کوئی کلمہ کفر و دعویٰ نبوت ثابت نہیں ہوتا۔‘‘ الخ بطور اختصار۔
اقول: شاہ صاحب! مرزا قادیانی اور اولیاء اللہ یا اولیائے امت میں بعد المشرقین ہے۔ مرزا قادیانی کو اولیاء اللہ کی فہرست میں لانا نہایت ظلم کی بات ہے۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ اولیائے امت ہونے کا ہرگز نہیں۔ وہ خدا اور رسول ہونے کے مدعی تھے بلکہ نجات کے بھی ٹھیکیدار واحد تھے۔ آپ ان کو بری کرنے کے واسطے اولیاء اللہ کی آڑ لیتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ اولیائے امت کی طرف جو باتیں منسوب کی جاتی ہیں وہ انھوں نے ہرگز نہیں کہیں۔ صرف جاہل مریدوں نے ان کے مرید بڑھانے کے واسطے غلو کیا ہے۔ بہت اچھا ہوا کہ آپ نے خود ہی تذکرۃ الاولیاء وغیرہ کتابوں کے حوالے دے کر لکھا ہے۔ اولیاء اللہ کی نسبت جو کچھ لکھا ہے درست ہے۔ اب ہم کو بھی حق ہے کہ اولیاء اللہ کی کتابوں سے آپ کو دکھائیں کہ مرزا قادیانی ہرگز ہرگز اولیاء اللہ کے زمرہ میں سے نہ تھے پہلے امام ابو حنیفہؒ کو ہی لیجئے کہ وہ اصالتاً نزول حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام رسول اللہ کے معتقد تھے اور ان کا نزول بموجب نص قرآنی وانہ لعلم للساعۃ ایک نشان قیامت کا یقین کرتے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے اصالتاً نزول کے واسطے حیات لازم ہے۔ پس ثابت ہوا کہ امام ابو حنیفہؒ حیات مسیح و اصالتاً نزولِ جسمی کے بموجب انجیل و قرآن کے قائل تھے دیکھو فقہ اکبر و نزولِ عیسیٰؑ من السماء ..... یعنی ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ اس بات پر ایمان رکھے کہ قیامت برحق ہے اور قیامت کا نشان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نازل ہوں گے۔ (شرح فقہ اکبر ص ١٣٦) مگر مرزا قادیانی بلاسند شرعی‘ اجماع امت کے برخلاف کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ تو مر چکے ہیں۔ وہ نہیں آئیں گے اور وہ عیسیٰ آنے والا میں ہی ہوں۔ آپ ایسے شخص کو جو خدا کے برخلاف‘ اناجیل کے برخلاف‘ قرآن شریف کے برخلاف کل اولیائے امت کے برخلاف جاتا ہے اور من گھڑت بات کی پیروی کرتا ہے۔ اس کو اولیاء اللہ سے کیا نسبت دے سکتے ہیں؟ آپ کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اولیاء امت کی طرح مجاہدات کیے چلے کاٹے نفس کشی کی ریاضات شاقہ نفس کی تادیب کے واسطے کیں۔ جہاں تک
٧
مشاہدہ ہے اور مرزا قادیانی کی تاریخ بتاتی ہے وہ یہ ہے کہ ابتدائی عمر تعلیم عربی و فارسی میں خرچ کی۔ جوانی کا وقت انگریزوں کی ملازمت میں کاٹا۔ کچھ حصہ عمر کا علم رمل کے سیکھنے میں صرف کیا۔ کچھ حصہ عمر کا مختاری اور قانون انگریزی کے امتحان کی تیاری میں لگایا۔ ہاں خشک ملاں کی طرح نمازیں ضرور پڑھتے تھے۔ وہ بھی غیر مقلدوں کے طریقہ پر جن کو اہلسنت مسلمان وہابی کہتے ہیں۔ جب کبھی عبادت الہی اور ذکر اذکار کا ذکر آتا تو یہ فرما کر ٹال دیتے۔ لا رهبانيت فى الاسلام یعنی اسلام میں رہبانیت نہیں ہے نہ کسی پیر طریقت کی خدمت کی اور نہ کسی بزرگ سے فیض روحانی حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے ہر ایک دعوی کو شاعرانہ لفاظی استعارہ مجاز و تشبیہ وغیرہ سے مبالغہ کا رنگ دے کر ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے اور جھوٹ کو سچ کر دکھاتے تھے۔ جیسا کہ انھوں نے کشتی نوح میں اپنا ابن مریم ہونا لکھا ہے کہ بچے ہنسی اڑاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو استعارہ کے طور پر حمل ہوا اور دردِ زہ ہوا اور نو ماہ کے بعد بچہ پیدا ہوا جو عیسیٰ تھا اور میں عیسیٰ سے مریم بنایا گیا۔
(دیکھو ملخص کشتی نوح ص ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
جب پوچھا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی تو مریم تھے بموجب ان کے الہام کے یَا مَرْيَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ کہ اے مریم تو اور تیرے دوست جنت میں رہو۔
(حقیقت الوحی ص ٧٦ خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)
جب مرزا قادیانی مریم تھے تو پھر خود ہی ابن مریم کیسے ہوئے؟ غرض کہ مرزا قادیانی تھرڈ کلاس شاعر تھے۔ طبیعت کی موزونی سے مضمون نویسی کرتے تھے روحانی برکات سے بے بہرہ تھے۔ یوں تو ان کے مریدوں کا اختیار ہے جو چاہیں بنا لیں۔ ”پیراں نمی پرند مریداں مے پرانند“ مشہور ضرب المثل ہے۔ مرزا قادیانی تو محالات عقلی اور خلاف قانون قدرت کے حیرت خانہ میں مقیم تھے۔ ان کو اولیاء اللہ سے سمجھنا سخت غلطی ہے۔ اولیاء اللہ تو صاحب کرامات ہوتے ہیں اور یہی سچے اور جھوٹے مدعی کے فرق کرنے والی بات ہے چونکہ آپ نے اولیاء اللہ کی باتیں پیش کی ہیں۔ میں بھی ایک حکایت کشف المحجوب سے پیش کرتا ہوں۔
”حضرت ابراہیم خواصؒ فرماتے ہیں کہ میں جنگل میں تھا۔ ایک شخص عیسائی راہب آیا۔ میں نے اس کا آنا مکروہ سمجھا۔ مگر اس نے کہا کہ میں تمھارے پاس رہوں گا میں نے کہا کہ میرے پاس کھانے پینے کے واسطے کچھ نہیں۔ اس نے کہا کہ جہان میں تیری بزرگی کا شہرہ ہے اور تو ابھی کھانے پینے کی فکر سے آزاد نہیں۔ میں نے اس کو قبول
٨
کرلیا کہ دیکھوں اپنے دعویٰ میں کہاں تک سچا ہے۔ جب سات راتیں اور سات دن ہم چلے تو ہمیں پیاس لگی۔ راہب کھڑا ہو گیا اور کہا اے ابراہیم کچھ دکھا کیونکہ تیرا جہان میں شہرہ ہے۔ میں نے زمین پر سر رکھا اور کہا کہ اے اللہ مجھے اس بیگانہ کے سامنے خوار نہ کر کیونکہ وہ عین بیگانگی میں مجھ پر نیک ظن رکھتا ہے۔ میں نے سر اٹھایا تو ایک طبق دیکھا جس پر دو روٹیاں اور دو شربت کے پیالے رکھے تھے۔ ہم نے اسے کھایا۔ جب سات دن اور چلے تو میں نے اس کو کہا کہ اب تیری باری ہے تو کچھ لا۔ راہب سجدہ میں گیا اور کچھ کہا۔ ایک طبق پیدا ہوا۔ چار روٹیاں اور چار شربت کے پیالے اس پر رکھے تھے۔ میں متعجب ہوا۔ راہب نے کہا اے ابراہیم غم نہ کر تیرا مرتبہ عالی ہے اور میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ اسی واسطے یہ کرامت ظاہر ہوئی۔ قصہ طویل ہے۔ میں نے بہت اختصار سے نقل کیا ہے۔
(دیکھو کشف المحجوب اردو ص ٢٤٨)
یہ ہے اولیاء اللہ کی کرامت اب مرزا قادیانی کا حال سنیے کہ حضرت عیسیٰؑ کے معجزات سے ہی انکار ہے اور خدا تعالیٰ کو انسان کی طرح اس بات کا محتاج یقین کرتے ہیں اور حضرت عیسیٰؑ کو آسمان پر خدا رزق نہیں دے سکتا تصور کر کے خدا کا عجز ثابت کرتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کے واسطے باورچی خانہ اور پاخانہ وغیرہ کا انتظام نہیں کر سکتا۔ اب آپ خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کر بتائیں کہ آپ کا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ بغیر اسباب ظاہری کے پکا پکایا کھانا اپنے بندوں کو دے سکتا ہے؟
حکیم محمد حسین مرزائی معروف مرہم عیسیٰ نے مولوی اصغر علی صاحب روحی سے مسجد میں گفتگو کرتے ہوئے تمسخر اڑایا تھا کہ قرآن میں جو لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی دعا پر آسمان سے دستر خوان اترا تھا اُس میں چٹنی بھی تھی؟ بھلا صاحب ایسے شخصوں کو جو محال عقلی کے جال میں پھنسے ہوئے ہوں ان کو اولیاء اللہ سے کہنا کہاں تک خلاف واقعہ امر ہے۔ یوں تو ماننے والے اپنے پیشوا کو سچا ہی مانتے ہیں۔ مسیلمہ کذاب کو اس کے پیرو سچا نبی کہتے تھے بلکہ عزیز جانیں اس کے فرمان پر قربان کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حالت پر رحم کرے کہ آپ نے جھوٹے مدعیان نبوت و رسالت کے مقابلہ میں سب دینداروں کو جنھوں نے عقائد اسلام کی حمایت کر کے کذاب مدعیان کا مقابلہ کیا ظالم سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اجماع امت اس پر ہے کہ مدعی نبوت بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کے کافر ہے۔ آپ حق پوشی کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے نبوت رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تحریروں نے قادیانی جماعت کو اور ظہیر الدین اروپی مرزائی کی جماعت کو جو مرزا قادیانی کو مستقل نبی مانتے ہیں۔ گمراہ کیا۔ اب میں مرزا قادیانی کی وہ
٩
تحریریں لکھتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ مرزا قادیانی اولیاء اللہ میں سے نہ تھے۔ مسیلمہ کذاب سے لے کر تیرہ سو برس تک کے عرصہ میں جس قدر مدعیان نبوت گزرے ان میں سے تھے۔ اگر اولیاء اللہ تھے تو پھر مسیلمہ سے لے کر مرزا قادیانی تک جو کذاب مدعیان گزرے وہ بھی اولیاء اللہ ہوں گے اور جن صحابہ کرام نے مسیلمہ کو قتل کیا وہ بقول آپ کے ظالم تھے۔ کیونکہ انھوں نے ایک مصلح کو ستایا۔
پہلا الہام مرزا قادیانی: قُلْ یٰٓاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا. اے مرزا تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں۔
(دیکھو اخبار الاخیار ص ٣ تذکرہ ص ٣٥٢)
دوسرا الہام: اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَیْکُمْ رَسُوْلاً شَاهِداً کَمَا اَرْسَلْنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً.
(حقیقت الوحی ص ١٠١ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٥)
تیسرا الہام: یٰس ٓ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ o تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ. یعنی اے سردار تو مرسلوں سے ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
چوتھا الہام: قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰهُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ.
(حقیقت الوحی ص ٨٧ خزائن ج ٢٢ ص ٩١)
پانچواں الہام: وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ o
(حقیقت الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
چھٹا الہام: هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهِ o
(حقیقت الوحی ص ٧١ خزائن ج ٢٢ ص ٧٤)
یہ چھ الہام ہیں جو مرزا قادیانی کو رسول بناتے ہیں۔ اگر آپ کا اعتقاد ہے کہ مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوئے تو ضرور مرزا قادیانی سچے رسول صاحب کتاب حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جیسے تھے۔ (معاذ اللہ)
اب میں مرزا قادیانی کے اقوال نقل کرتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ سخت غلطی پر ہیں۔ جو مرزا قادیانی کو مدعی نبوت یقین نہیں کرتے جبکہ وہ خود مدعی ہیں اور ان کی تحریریں موجود ہیں تو پھر آپ کیوں ان کو محمد ﷺ جیسا رسول نہیں مانتے؟ جبکہ یہی آیات محمد ﷺ کے حق میں نازل ہوئیں اور ان کو (محمد ﷺ) رسول ماننا فرض ہو گیا۔
قول نمبر ٧: (مرزا قادیانی) میں خدا کے فضل سے نبی اور رسول ہوں۔*
(دیکھو اخبار بدر مارچ ١٩٠٨ء)
١٠
قول نمبر ٨: (مرزا قادیانی) خدا نے میری وحی اور میری تعلیم کو اور میری بیعت کو کشتی نوح قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔
(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
قول نمبر ٩: (مرزا قادیانی) جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا...... میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) یہاں مرزا جی کا دعویٰ صاحب شریعت نبی ہونے کا ہے۔
قول نمبر ١٠: (مرزا جی) ”الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“ (دیکھو انجام آتھم خزائن ج ١١ ص ٦٢)
شاہ صاحب! خدا تو آپ کو فرماتا ہے کہ جو کچھ یہ کہتا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ اور وہ کہتا ہے کہ میں خدا کے فضل سے نبی ورسول ہوں تو آپ کس طرح کہتے ہیں کہ وہ نبی نہ تھا۔ کیا آپ اس کو خدا کا کلام تسلیم نہیں کرتے اور مرزا کو مفتری یقین کرتے ہو۔
قول نمبر ١١: (مرزا جی) ”سچا خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ١١ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
قول نمبر ١٢: (مرزا جی) ”جبکہ مجھ کو اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور زبور انجیل اور قرآن کریم پر۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)
قول نمبر ١٣: (مرزا جی) ”خدا وہ خدا ہے۔ جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٢ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
قول نمبر ١٤: (مرزا قادیانی) ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں۔ جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر کلام خدا جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
قول نمبر ١٥: (مرزا جی) ”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کیلیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
١١
قول نمبر ١٦: (مرزا قادیانی) (شعر عربی کا ترجمہ) ”اے لعنت کرنے والے تجھے کیا ہو گیا۔ بیہودہ بک رہا ہے اور تو اس پر لعنت کر رہا ہے جو خدا کا مرسل یعنی فرستادہ اور عزت یافتہ ہے۔“ (دیکھو اعجاز احمدی ص ٥٣ خزائن ج ١٩ ص ١٦٥)
مرزا قادیانی اپنی فضیلت تو حضرت محمد ﷺ پر بھی بتاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں جو میرے لیے نشان ظاہر ہوئے۔ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“ (حقیقت الوحی ص ٦٨ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) اور حضرت نبی کریم ﷺ کی نسبت لکھتے ہیں۔ ”تین ہزار معجزے ہمارے نبی کریم ﷺ سے ظہور میں آئے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) میر مدثر شاہ صاحب جواب دیں کہ کون افضل ہے جس کے تین لاکھ معجزے یا جس کے صرف تین ہزار؟ اور سنو۔ دیکھو مرزا قادیانی کا عربی شعر ؎
غسا القمران المشرقان اتنکر
یعنی محمد ﷺ کے واسطے تو صرف چاند گہن ہوا تھا اور میرے واسطے چاند و سورج دونوں کا گہن ہوا۔ کیا اب بھی تو انکار کرے گا۔ (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
الغرض مرزا قادیانی اپنے نفس پر دھوکہ خوردہ تھے اور زخرف القول غرورا کے مصداق تھے اور جس کو وہ وحی الٰہی زعم کر کے افضل الرسل ہونے کے مدعی ہوئے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کو گمراہ کر گئے۔ قادیانی جماعت جو اپنی تعداد چار پانچ لاکھ بتلاتی ہے مرزا قادیانی کے ان دعاوی کے باعث ان کو مستقل نبی مانتی ہے۔ ایک اور جماعت مرزا قادیانی کے مریدوں میں سے ہے جو مرزا قادیانی کو افضل الرسل یقین کرتی ہے اور ناسخ دین محمدی تسلیم کرتی ہے اور مرزا قادیانی کو تشریعی نبی مانتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ جب مرزا قادیانی نے اپنی امت کے لیے امر بھی کیے اور نہی بھی کی اور صاف صاف لکھ دیا کہ ”جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گا اور میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔“ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) یہ تیسری جماعت اسی واسطے مرزا قادیانی کو صاحب شریعت نبی مانتی ہے اور یہ جماعت ظہیر الدین ساکن اروپ ضلع سیالکوٹ کی ہے۔ ایسے ہی چھوٹی چھوٹی جماعتیں اور بھی ہیں جو سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کی منکر اور مدعی نبوت ہیں۔ جیسا کہ میاں نبی بخش ساکن معراجکے ضلع سیالکوٹ جس کی نسبت عسل مصفّےٰ میں آپ کی جماعت کے سرکردہ ممبر حکیم خدا بخش نے بدیں الفاظ لکھی
ہے ۔ ”کم گو اور گوشہ نشین شخص ہیں۔ اس بزرگ کو پنجابی و اردو‘ عربی و فارسی میں بکثرت الہام ہوتے ہیں اور رویا اور مکاشفات بھی بہت ہوتے ہیں۔ ١٨٩٦ء میں انھوں نے اشتہار دیا تھا۔“
(دیکھو عسل مصفے حصہ دوم ص ٢٨٢)
دوسرے ایک شخص میاں عبداللطیف ساکن گنا چور ضلع جالندھر ہیں۔ یہ بھی مرزا قادیانی کی طرح مدعی نبوت و مہدویت ہیں۔ تیسرے شخص عبداللہ تیماپوری ہیں۔ چوتھے ماسٹر محمد سعید کمیل پوری ہیں جو شریعت محمدی کو منسوخ شدہ سمجھ کر ختنہ حرام سمجھتے ہیں۔ پانچویں ایک شخص محمد اکبر ہیں جو مصلح موعود ہونے کے مدعی ہیں اور چھٹے قاضی یار محمد کانگڑی ہیں۔ اور ہر ایک کے پیرو بھی ہو گئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ اب میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ آپ ایمان سے بتائیں کہ یہ تمام فرقے کس نے بنائے اور کس شخص کی تحریروں اور الہاموں نے ان کو گمراہ کیا بلکہ انکار ختم نبوت کے مرتکب ہوئے اور اجماع امت سے کافر ہوئے۔ اس کا کون ذمہ دار ہوا ہے؟ اگر مرزا قادیانی کے یہ الہامات و تحریریں نہ ہوتیں تو لاکھوں مسلمان گمراہ نہ ہوتے۔ پس جتنا قصور ہے یہ سب مرزا قادیانی کا ہے جنھوں نے خود وحی و الہام کا دعویٰ کیا اور اسی وحی کے مطابق پہلے خود نبوت و رسالت و مسیحیت و کرشنیت کے مدعی ہوئے اور ان کے بعد ان کے پیرو بھی مدعی نبوت ہوئے۔ اگر مرزا قادیانی حد سے تجاوز نہ کرتے اور ایسے دعاوی نہ کرتے اور جماعت الگ نہ بناتے تو کوئی فتنہ امت محمدیہ میں برپا نہ ہوتا اور مخالفین غالب نہ آتے۔ یہ خوب مسیح موعود آیا ہے کہ بجائے امت کے ترقی دینے کے مسلمانوں کو بھی کافر بنا کر اور اختلاف اور شرک وکفر کا بیج بو کر چل دیئے۔ آپ اولیائے امت کو ناحق بدنام کرتے ہیں۔ کسی اولیاء اللہ نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ لاکھوں مسلمانوں کو اپنی نبوت و رسالت منوائی۔ یہ قیاس مع الفارق ہے جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے۔ کجا دعویٰ نبوت و رسالت اور کجا کلمہ کفر جو کہ بحالت سکر کسی اولیاء اللہ کے منہ سے نکلا۔ کجا مرزا قادیانی کا اپنے دعویٰ نبوت و رسالت پر قائم ہونا۔ دلائل شرعیہ سے اپنی نبوت و رسالت کا ثبوت دینا اور کجا اولیاء اللہ کا بحالت صحو توبہ کرنا۔ مرزا قادیانی کو اولیائے امت سے کوئی نسبت نہیں۔ ہاں بموجب حدیث رسول ﷺ اس گروہ سے مرزا قادیانی کو نسبت ہے وہ حدیث یہ ہے۔ سیکون فی امتی ثلثون کذابون کلہم یزعم انہ نبی اللہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی. (ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لاتقوم الساعۃ) یعنی میری امت میں سے تیس جھوٹے نبی ہوں گے کہ گمان کریں گے کہ وہ نبی اللہ ہیں۔
١٣
حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ کوئی نبی بعد میرے نہیں۔ پس بہ سبب دعویٰ نبوت و رسالت و کرشنیت و مہدویت مرزا قادیانی انہی امتی نبیوں سے نسبت رکھتے ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں اور کیوں نہ گزرتے جبکہ دو اولوالعزم پیغمبروں کی پیشگوئیاں ہیں کہ جھوٹے نبی آئیں گے۔ سچا نبی کوئی نہ آئے گا۔ حضرت عیسیٰؑ فرماتے ہیں ”جو چیز مجھ کو تسلی بخشتی ہے وہ یہ ہے کہ اس رسول (محمد ﷺ) کے دین کی کوئی حد نہیں۔ اس لیے کہ اللہ اس کو درست رکھے گا۔ کاہن نے جواب میں کہا۔ کیا رسول اللہ (محمد ﷺ) کے بعد اور رسول بھی آئیں گے۔ ٨۔ رسول یسوع نے جواب دیا۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی کوئی نہیں آئیں گے۔ ٩۔ مگر جھوٹے نبیوں کی ایک جماعت بڑی بھاری تعداد میں آئے گی“ الخ (دیکھو انجیل برنباس فصل ٩٧۔ آیات ٧۔٨۔٩) سب سے پہلے حسب پیشینگوئی حضرت عیسیٰؑ و محمد رسول اللہ خاتم النبیین کے مقابل ان کی زندگی میں مسیلمہ کذاب کھڑا ہوا۔ پھر اسود عنسی‘ طلحہ بن خویلد۔ یہ شخص مرزا قادیانی کی طرح حدیثوں کی تاویلات کر کے امتی نبی ہونے کا مدعی تھا اور کہتا تھا کہ ”لا نبی بعدی“ کے یہ معنی ہیں کہ میرے بعد نبی ”لا“ ہو گا۔ یعنی ایسا شخص نبی ہو گا۔ جس کا نام ”لا“ ہو گا۔ اور میرا نام ”لا“ ہے۔ پس میں نبی ہوں۔
مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں کہ میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٧ خزائن ج ١٨ ص ٢١١) پس ”لا“ کے ساتھ ان کی نسبت سے یا مسیلمہ وغیرہ کے جو غیر تشریعی نبوت کے مدعی تھے۔ پھر خالد بن عبداللہ کے زمانہ میں ایک شخص مدعی نبوت ہوا اور قرآن شریف جیسی عربی لکھی ہوئی دکھائی۔ خالد نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ میر مدثر شاہ فرمائیں کہ خالد نے بقول آپ کے ایک مصلح کو قتل کرایا یا دشمن دین محمد ﷺ کو قتل کرا کر فتنہ عظیم کا انسداد کیا؟ افسوس۔
مختار ثقفی عبداللہ بن زبیر و عبدالملک کے زمانہ میں مدعی نبوت ہوا۔ اور نبوت بھی مرزا قادیانی والی۔ یعنی بغیر شریعت و کتاب کے جس طرح مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں بروزی وظلی نبی ہوں۔ اصلی نبی نہیں اور لاہوری جماعت ان کو ایسا نبی مانتی ہے یہ شخص بھی یہی کہتا تھا کہ میں ”محمد کا ایک مختار ہوں اور مرزا قادیانی کی طرح مسئلہ حلول کا قائل تھا۔ دیکھو مرزا لکھتے ہیں ”خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت و سکون سب اسی کا ہو گیا“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
١٤
”یہود زنگی تذکرۃ المذاہب میں لکھا ہے کہ اس کے پانچ کروڑ پانچ لاکھ مرید تھے۔ اگر معیار صداقت کثرت مریدین ہے تو یہود زنگی مرزا قادیانی سے بدرجہا صادق ہے؟ عیسیٰ بن مرویہ اپنے آپ کو مہدی کہتا تھا اور بہت بڑی جمعیت حاصل کر لی تھی۔ ابو جعفر محمد بن علی سلمانی۔ اس کے بڑے بڑے امیر ہم عقیدہ ہو گئے تھے۔ اس نے شریعت محمدیہ کے مسائل الٹ پلٹ کر دیئے تھے۔ جملہ انبیاء کو خاطی کہتا تھا جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”اجتہادی غلطی سب نبیوں سے ہوا کرتی ہے اور اس میں سب ہمارے شریک ہیں۔“
(ملفوظات ج ٢ ص ٢٤٤)
پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”ہر ایک جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔
(درخواست ملحقہ ص ١١ کتاب البریہ خزائن ج ١٣ ص ٣٣٣)
اس سے لاہوری جماعت کا پول بھی ظاہر ہو گیا جو کہتی ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے کیونکہ جہاد کا حرام کرنا قرآن شریف کی تنسیخ ہے اور کسی حکم الٰہی کی تنسیخ بغیر صاحب شریعت نبی و رسول کے نہیں ہو سکتی۔ پس لاہوری جماعت اگر مرزا جی کو مسیح موعود مانتی ہے اور جہاد کو حرام سمجھتی ہے تو مرزا قادیانی کو حقیقی نبی و رسول یقین کرتی ہے اور کسی مصلحت وقت کے باعث ان کو نبی کہنے سے انکار کرتی ہے۔ جس کو شریعت کی اصطلاح میں تقیہ کہتے ہیں کیونکہ قرآن کا حکم بغیر تشریعی نبی کے کوئی منسوخ نہیں کر سکتا۔
نہاوند میں ٢٩٩ھ میں ایک شخص نے دعویٰ نبوت کیا اور اپنے اصحاب کے نام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے نام پر رکھے۔ یعنی ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ بڑے بڑے قبائل اس کے معتقد ہو گئے اور اپنی جائیدادیں اور اموال و املاک اس کے سپرد کر دیئے تاکہ اشاعت عقائد کے کام آئے اگر صداقت کا یہی نشان ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید کہتے ہیں تو پھر یہ مدعی ضرور سچا ہونا چاہیے۔ مرزا قادیانی کے مریدوں نے بھی اس کی طرح اپنے ناموں کے ساتھ صحابہ کرامؓ کے نام ضم کر لیے۔
میر مدثر شاہ صاحب غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کو اولیائے امت سے نسبت ہے یا کذاب مدعیان نبوت سے۔ جن کا قلع قمع خلفائے اسلام کرتے آئے ہیں؟ اگر ان کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تو اسلام کا شاید ہی کوئی حقیقی نام لیوا رہ جاتا۔ کس قدر بعید از انصاف بات ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات اور کلمات کفریہ اور دعاوی تو ہوں کاذبوں والے اور ان کو اولیاء اللہ سے نسبت دے کر حق اور راستی پر سمجھا جائے
١٥
اور کہا جائے کہ وہ بھی باقی اولیائے امت کی طرح ہیں۔ یا سرے سے نبی ہیں اور لطف یہ ہے کہ خود بھی کہتے ہیں کہ ہم ایسے الہامات کو نہیں مانتے۔ اجی صاحب اگر نہیں مانتے تو پھر توبہ کر کے مسلمانوں میں شامل کیوں نہیں ہو جاتے؟ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقیہ کرتے ہو۔
اوستادیس۔ ملک خراسان میں مدعی نبوت ہوا۔ تین لاکھ اس کے مرید صرف سپاہی لڑنے والے تھے۔ جس سے خیال ہو سکتا ہے کہ اس کے دوسرے مرید کس قدر ہوں گے۔ حاکم مرو نے اس کا مقابلہ کیا اور شکست کھائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اور اس کے مرید جو کہتے ہیں کہ جھوٹے نبی کو کبھی فتح نہیں ہوتی۔ بالکل غلط اور باطل ڈھکوسلا ہے کیونکہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید اور خود میر مدثر شاہ اس کو جھوٹا نبی کہتے ہیں۔ شاہ صاحب مہربانی کر کے فرمائیں کہ خلیفہ منصور نے جو اس کا قلع قمع کیا۔ یہ اس پر ظلم کیا۔ یا اسلام کو بچایا؟ غالباً آپ کے نزدیک بڑا سخت گناہ کیا کیونکہ یہ بھی ایک مصلح تھا۔
عبداللہ مہدی۔ اس شخص نے ٢٩٦ھ میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور ایک نیا مذہب جاری کیا۔ جماعت کثیر اس کے ساتھ ہو گئی۔ اس نے طرابلس وغیرہ مقامات کو فتح کر کے آخر مصر کو بھی فتح کر لیا اور ٣٣٢ھ میں اپنی موت سے مرا۔ اس کا زمانہ مہدویت ٢٤ سال ایک ماہ اور ٢٠ یوم رہا۔ میر مدثر شاہ صاحب اس کو تو ضرور ہی سچا مہدی یقین کرتے ہوں گے کیونکہ اس شخص کی کامیابی مرزا قادیانی سے ہزارہا درجہ بڑھی ہوئی ہے۔ مرزا قادیانی کو ایک چھوٹے سے گاؤں کی بھی حکومت نہ ملی۔ نیز مہلت بھی اس کو مرزا قادیانی سے زیادہ ملی ہے (دیکھو تاریخ کامل بن اثیر جلد ٨ ص ٩٠) اگر معیار صداقت یہی ہے جو مرزا قادیانی اور ان کے مرید پیش کرتے ہیں تو پھر یہ شخص سچا تھا اور بقول ان کے خلفائے اسلام نے اسے قتل کرانے میں گناہ کیا۔
حسن بن صباح۔ یہ شخص بھی مرزا قادیانی کی طرح اپنے استغراقی خیالات کو الہام کہتا تھا اور اسی پر اس کے ہزارہا مرید ہو گئے تھے اور اس کی پیشگوئی ایک جہاز کے نہ ڈوبنے کی تھی اور وہ جہاز غرق ہونے سے بچ گیا۔ اس واسطے بیشمار لوگ اس کے مرید بھی ہو گئے اور وہ کامیاب بھی اس قدر ہوا کہ سلطان سنجر جیسے اس سے خوف کھاتے تھے۔ یہ شخص بھی کسی مخالف کے ہاتھ سے قتل نہ ہوا بلکہ ٥١٨ھ میں اپنی موت سے مرا۔ اس کے حالات مشہور ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کی پیشگوئیاں کبھی سچی نہ نکلیں اشتہار تو ابتداء میں بڑے زور شور سے دیتے مگر پیشگوئی جب جھوٹی نکلتی تو ندامت دھونے کے لیے رکیک اور دور از کار تاویلیں کرنے بیٹھ جاتے۔
١٦
عبدالمومن۔ یہ شخص سلطان مراکو سے جنگ کرتا رہا اور آخر ٣٥٨ھ میں اپنی موت سے مرا۔ کسی دشمن کے ہاتھ سے نہ مارا گیا۔ حالانکہ جنگ و جدال کرتا تھا۔ مرزائیوں کے معیار کے مطابق اسے بھی سچا ماننا چاہیے کیونکہ دشمن کے ہاتھ سے ہلاک نہیں ہوا۔
حاکم بامر اللہ نے مصر میں نبوت سے بھی بڑھ کر خدائی کا دعویٰ کیا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے نبوت و خدائی کا دعویٰ کیا۔ اس کی مدت حکومت بھی مرزا قادیانی سے زیادہ ہے۔ یعنی ٢٥ برس تک حکومت کر کے اپنی موت سے مرا۔ مرزائیوں کے معیار کے مطابق یہ بھی سچا تھا کیونکہ دشمن کے ہاتھ سے قتل نہ ہوا اور دعویٰ نبوت کے ساتھ ٢٥ برس تک زندہ رہا۔
(دیکھو تاریخ کامل ابن اثیر جلد ٩)
صالح بن طریف۔ یہ شخص بڑا عالم و دیندار تھا۔ نبوت کا دعویٰ کر کے وحی کا مدعی بھی ہو گیا۔ اس نے وحی کے فقرات جمع کر کے قرآن ثانی بنایا تھا۔ اس کے مرید اس کے قرآن کی آیات نمازوں میں پڑھتے تھے۔ ٤٧ برس تک دعویٰ نبوت و وحی و الہام کے ساتھ زندہ رہا۔ جس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید جو معیار صداقت مقرر کرتے ہیں بالکل غلط ہے کہ کاذب کو اس قدر مہلت نہیں ملتی۔ دیکھو یہ امر مسلم ہے کہ یہ شخص کاذب ہے باوجود اس کے کامیاب ایسا ہوا ہے کہ تین پشت تک اس کی اولاد میں بادشاہت رہی اور کسی جنگ میں مارا بھی نہیں گیا۔ اور اپنی موت سے فوت ہوا۔ (ابن خلدون حالات ہشام کے تحت میں) مرزا قادیانی کے مرید یا تو اس کو بھی سچا نبی مانیں یا اپنے معیار کی غلطی تسلیم کریں۔ ابتداء میں یہ شخص بڑا دیندار تھا اور دشمن کے ہاتھ سے ہلاک بھی نہیں ہوا۔
ایک حبشی۔ نے جزیرہ جمیلہ میں عیسیٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ کیا۔
(عسل مصفےٰ)
ابراہیم بزلہ۔ نے عیسیٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ کیا۔
(حجج الکرامہ)
ان دو شخصوں نے جو مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا تو ثابت ہوا کہ وفات مسیح کے معتقد ہو کر بروزی مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور انہی کی مرزا قادیانی نے بھی نقل کی۔ غرضیکہ پہلے بھی مسیح ہونے کا دعویٰ ہو چکا ہے اور اصالتاً نزول حضرت عیسیٰؑ سے انکار کیا گیا ہے۔ بروزی نزول کوئی جدید مسئلہ نہیں۔ مگر چونکہ ان مدعیان سے مسیح موعود کے کام نہ ہوئے۔ اسلیے وہ جھوٹے سمجھے گئے۔ تو اب کوئی وجہ نہیں کہ مرزا قادیانی کو سچا مسیح موعود سمجھا جائے کیونکہ ان کے وقت میں بھی اسلام کا وہ غلبہ نہ ہوا جو مسیح کے ہاتھ سے ہونا چاہیے تھا۔ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ اگر مسیح و مہدی کے کام مجھ سے نہ ہوں تو میں
١٧
چھوٹا ہوں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی ملاحظہ ہو۔ وہو ہذا۔ ”طالب حق کے لیے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لیے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں۔ پس اگر کروڑ نشان بھی مجھ سے ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہیے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ جھوٹا ہوں والسلام۔ ”غلام احمد“
(اخبار بدر مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٢ء)
اب ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی مر گئے۔ اور ان سے مسیح موعود اور مہدی موعود کے کام نہ ہوئے بلکہ الٹا بجائے فتح اور غلبہ اسلام کے رہی سہی اسلامی شوکت و حکومت بھی جاتی رہی اور جس جس مقام پر توحید کا جھنڈا لہراتا تھا تثلیث کا لہرانے لگا۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب شہادت قرآن پر لکھا تھا۔ ”ایسے زمانہ (یعنی مسیح موعود کے زمانہ) میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جائے گا۔“ (شہادۃ القرآن ص ٦ خزائن ج ١٦ ص ٣١٢) اور اسی کتاب کے صفحہ اخیر سطر ١٣ پر لکھا کہ ”ہاں مسیح موعود آ گیا اور وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام چندر پوجا جائے گا اور نہ کرشن اور نہ حضرت مسیح“۔
پھر مرزا قادیانی نے لکھا۔ ”اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے۔ (ایام الصلح ص ١٤٦ خزائن ج ١٤ ص ٣٨١) یہ معیار مرزا قادیانی نے خود مقرر کی ہے اور ہدایت کی ہے کہ ”انتظار کرو۔ اگر میں مر گیا اور مسیح کے کام نہ ہوئے تو سب گواہ رہیں کہ جھوٹا ہوں۔“ اور مسیح موعود کے کام بھی خود بیان کر دیئے کہ اسلام پھیل جائے گا اس کے ہاتھ سے اور تمام باطل مذاہب ہلاک ہو جائیں گے۔
اب میر مدثر شاہ صاحب ایمان سے خدا کو حاضر ناظر سمجھ کر بتائیں کہ مرزا قادیانی کے ہاتھ سے اسلام کا غلبہ ہوا اور ملل باطلہ ہلاک ہوئے یا الٹا اسلام مغلوب و ہلاک ہوا اور باطل مذاہب غالب آئے؟ دیکھو ذیل کے واقعات جو مرزا قادیانی کے دعویٰ کے بعد وقوع میں آئے۔
- ١:....... صوبہ تھریس و مقدونیہ میں اڑھائی لاکھ مسلمانوں کو بلغاریوں سے طرح طرح کے
١٨
جان فرسا عذاب دے کر ہلاک کیا۔
(زمیندار ١٨ ستمبر ١٩١٣ء)
- ٢:....... مراکو کی اسلامی سلطنت زیر حکومت فرانس چلی گئی۔
- ٣:....... طرابلس میں عربوں پر اٹلی والوں کے مظالم پڑھ کر رونا آتا ہے۔
- ٤:....... ایران پر روسیوں کے مظالم حد سے بڑھ گئے اور ہزاروں مجتہد علمائے اسلام پھانسی
پر لٹکائے گئے۔
- نمبر ٥: پطرس مولک مر حصار سرقرا عثمانی کے باشندوں کو جو مسلمان تھے عیسائی مذہب
قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔
(رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور بابت ماہ فروری ١٩١٣ء) (بحوالہ اخبار وکیل امرتسر)
- ٦:....... بلغاریوں نے ولایت سالونیکا کی نصف آبادی کو جس کی تعداد پچیس ہزار کے
قریب تھی سب کو تہ تیغ کیا۔ صرف ان کو زندہ رہنے دیا جنھوں نے مذہب عیسائی قبول کر لیا۔
(دیکھو رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور فروری ١٩١٣ء)
کیوں میر صاحب۔ یہ کسر صلیب ہوا۔ یا کسر اسلام؟ اور مرزا قادیانی اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق جھوٹے مسیح ثابت ہوئے۔ یا کوئی کسر باقی ہے؟ اور تمام وہ مسلمان جو مرزا قادیانی کو جھوٹا مانتے ہیں وہ حق پر ہیں۔ یا آپ جو مرزا قادیانی کو بلادلیل سچا مسیح مانتے ہیں؟
کیونکہ اوّل تو نبی اللہ نہ تھے۔ بقول آپ کے امتی تھے۔ دوم مسیح موعود کے کام ان سے نہ ہوئے۔ نہ کسر صلیب ہوا۔ نہ ملل باطلہ ہلاک ہوئے۔ نہ رام چندر و کرشن کی پوجا موقوف ہوئی بلکہ الٹا رام چندر اور کرشن اور مسیح کے پیرو ایسی ترقی کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کو ہرگز نصیب نہیں ہوئی۔ بلادلیل تو ایک کنگال مفلس کو شاہ ہفت اقلیم اور ایک ہیجڑے کو رستم زمان و پیل دمان کہا جا سکتا ہے۔ ایک شاعر نے سچ کہا ہے ؎
میان دعویٰ و حجت ہزار فرسنگ است
یعنی حضرت عیسیٰؑ بن جا اور معجزات کی گپیں بھی مارا کر۔ مگر درمیان دعویٰ اور اس کے ثبوت کے ہزاروں کوس کا فرق ہے دعویٰ آسان ہے مگر فعلوں سے اگر ثابت نہ ہوں تو وہ مدعی جھوٹا ہے اور یہی معیار مقرر ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ ببول کا درخت دعویٰ تو کر سکتا ہے کہ وہ سیب کا درخت ہے مگر جب اس کو سیب کا پھل نہ لگے تو جھوٹا ثابت ہوگا۔
١٩
اسی طرح مرزا قادیانی نے دعویٰ تو تمام کر دیئے۔ حتی کہ اہل ہنود کو پھانسنے کے لیے کرشن بھی بنے اور عیسائیوں کو مرید بنانے کے لیے عیسیٰ مسیح بنے۔ کلنکی اوتار بنے مگر بقول ”ذوق الکل فوت الکل“ ثبوت ایک ہی نہ دے سکے۔ کس قدر جھوٹی شیخی ماری اور بڑ ہانک دی کہ اب نہ رام چندر پوجا جائے گا اور نہ مسیح اور نتیجہ یہ ہے کہ رام چندر اور کرشن جی کے پیرو الٹا مسلمانوں کو (بقول آریوں کے) لاکھوں مسلمانوں کو آریہ بنا رہے ہیں۔ بلکہ لطف خیز یہ بات ہے کہ مرزا قادیانی خود جو کرشن اور اس کی تعلیم شرک وکفر کو مٹانے آئے تھے وہ خود ہی کرشن بن گئے ۔
کہ ناگاہ خوردند کرمان سرم
یعنی ایک بادشاہ نے کرمان کی ولایت کو فتح کرنا چاہا۔ مگر کیڑے نے الٹا اس کا سر کھا لیا۔ مرزا جی آئے تو تھے باطل مذہبوں کو مٹانے کے لیے۔ لیکن الٹی انہی کی ترقی ہوئی۔“
مرزا قادیانی نے (ازالہ اوہام ص ٣٢ خزائن ج ٣ ص ١١٩) میں لکھا تھا ”کہ آریہ تو اسلام کی ڈیوڑھی پر کھڑے ہیں۔ جلد داخل ہوں گے“ مگر ہوا الٹ کہ آریہ مسلمانوں کو مرتد کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایک عقلمند کے واسطے مرزا جی کے جھوٹا ہونے کا یہی معیار کافی ہے۔
یہ صرف اس واسطے خدا نے کیا تا کہ مرزا جی اپنے دعاوی میں جھوٹے ثابت ہوں۔ ایسے واضح اور کھلے کھلے ثبوت ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص مرزا جی کو سچا مسیح موعود مانتا ہے تو وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا سخت دشمن اور جھٹلانے والا ہے۔ کیا مخالفین اسلام جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث دیکھیں گے اور اس میں عیسیٰ بن مریم نبی اللہ پائیں گے اور ادھر غلام احمد امتی کو دیکھیں گے اُدھر حدیث میں حکماً عدلاً دیکھیں گے اور ادھر انگریزوں کا غلام دیکھیں گے اُدھر اس کا کام کسر صلیب دیکھیں گے اور ادھر ترقی صلیب دیکھیں گے اور اُدھر دجال کے قتل کرنے والا دیکھیں گے اور ادھر دجال کے خیر خواہ اور رعیت کو دیکھیں گے تو وہ بادی النظر میں ضرور دیکھیں گے کہ مخبر صادق نہ تھا اور اس نے قسم کھا کر (نعوذ باللہ) جھوٹ بولا کہ عیسیٰ بن مریم آئے گا کیونکہ آیا تو غلام احمد جس نے آکر رسول اللہ ﷺ کے قسمیہ بیان یعنی حدیث والذي نفسي بيده ليوشکن ان ينزل فيكم ابن مريم (بخاری ج ١ ص ٤٩٠) کی تردید کی کیونکہ آنے والا تو ایک مغل ٢٠
مسمی غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ قادیانی تھا۔ تو میر مدثر شاہ صاحب فرمائیں کہ مسلمانوں کا کیا جواب ہو سکتا ہے؟ پس وہ یا تو رسول اللہ ﷺ کو (نعوذ باللہ) جھٹلائیں گے یا مرزا جی کو مسیحیت کا جھوٹا مدعی بتائیں گے چونکہ مسلمانوں کو تاریخ اسلام بتا رہی ہے کہ حسب پیشگوئی حضرت عیسیٰؑ اور محمد رسول اللہ ﷺ بہت سے جھوٹے نبی مسیح موعود ہوں گے اور ہوئے۔ پس مرزا جی بھی انہی جھوٹے مدعیان کی فہرست میں آئیں گے نہ کہ اولیاء اللہ کے زمرہ میں۔ اب میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ جس قاعدے سے آپ مرزا قادیانی کو حق پر بتاتے ہیں۔ اس قاعدہ سے تو ہر ایک بدمعاش فاسق فاجر کافر مرتد سچا سمجھا جا سکتا ہے' کیونکہ اس کو بھی اولیاء اللہ کے ساتھ کسی نہ کسی امر میں ضرور مشارکت ہو گی۔ لیکن صرف کسی امر میں مشارکت دلیل صداقت نہیں ہو سکتی۔ مثلاً حضرت یوسفؑ و امام ابو حنیفہؒ وغیرہم قید میں رہے اور ڈاکو و بدمعاش و زانی بھی قید کیے جاتے ہیں۔ کیا یہ آپس میں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں کیونکہ حضرت یوسفؑ عفت اور پرہیز گاری کے باعث قید ہوئے اور فاسق فاجر بذریعہ اپنی بدکاری کے قید ہوئے۔ پس دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایسا ہی اولیاء اللہ اور مرزا قادیانی میں فرق ہے۔
گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
یہ آپ کی سخت غلطی ہے کہ آپ اولیائے امت کے ملفوظات اور مرزا قادیانی کی تحریروں کو ایک قسم کا ظاہر کرتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی نے کلمات کفر اور شرک از راہ غرور نفس اور تفوق ظاہر کرنے کے واسطے لکھے ہیں اور تصنع اور بناوٹ کے طور پر اولیاء اللہ کی نقل کی ہے۔ اولیاء اللہ نے کلمات کفر اس واسطے استعمال فرمائے کہ عام لوگ جو ان کے در پئے ہیں اور ان کی عبادت میں حرج کرتے ہیں۔ کلمات کفر سن کر ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ حضرت جنید بغدادیؒ تیس سال تک عشاء کی نماز کے بعد کھڑے ہوتے اور صبح تک اللہ اللہ کرتے اور اسی وضو سے نماز فریضہ صبح ادا فرماتے۔ (دیکھو تذکرۃ الاولیاء فارسی ص ٢١٤) کیا مرزا جی نے بھی کبھی ایسی عبادت کی؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ ابتداء عمر میں کسی قدر تعلیم کے بعد ملازمت کر لی۔ اس سے تھکے۔ تو تصنیف کا شوق پیدا ہوا اولیاء اللہ اگر کوئی غیر مشروع کلمہ کہتے تو اس کا مدعا یہ ہوتا کہ جو مخلوق کا جمگٹھا ہر وقت شب و روز ان کے چوفیر رہ کر ذکر و فکر اور یاد خدا سے انھیں باز رکھتا ہے۔ ایسے کلمات سن کر بدعقیدہ ہو کر ہٹ جائے اور یہ عاشقان خدا اپنے محبوب کی یاد میں یکسو ہوں۔ برخلاف اس کے مرزا جی اس
٢١
سعی میں مصروف کہ دوسرے پیغمبروں اور اماموں اور مجددوں سے روگردان ہو کر اور ہٹ کر مسلمان ہی نہیں بلکہ کفار بھی ان پر جمع ہو جائیں۔ پس اولیائے اللہ اور مرزا جی میں یہ بین فرق ہے۔ جس کی مزید تصریح کی ضرورت نہیں۔
اب اولیائے اللہ کے کہے ہوئے خلاف شرع کلمات کا جواب دیا جاتا ہے۔
امام ابو حنیفہؒ۔ امام شافعیؒ۔ امام مالکؒ۔ امام احمد بن حنبلؒ۔ امام بخاریؒ۔ وغیرہ نے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ نہ نبی و رسول ہونے کے مدعی ہوئے۔ ان کا اجتہادی مسائل میں اپنے معاصر علماء سے اختلاف تھا۔ اسواسطے مخالفوں نے ان کو سزائیں دلوائیں ان کی نیت دین اسلام کے عقائد کی حفاظت تھی۔ برخلاف ان کے مرزا جی ختم نبوت کے منکر اور خود نبوت و رسالت کے مدعی تھے۔ اس واسطے ائمہ مجتہدین کے مقابلہ میں مرزا جی کا ذکر کرنا قیاس مع الفارق ہے اور باطل ہے۔
حضرات بایزید بسطامیؒ۔ شیخ شبلیؒ۔ خواجہ جنید بغدادیؒ۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ۔ مولانا جلال الدین رومیؒ۔ شیخ فرید الدین عطارؒ۔ امام غزالیؒ۔ اور شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانیؒ رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین کے حالات بالکل مرزا قادیانی کے حالات کے برعکس ہیں۔ وہ اصل تھے اور حقیقت۔ مرزا قادیانی ان کے نقال ہیں اور وہ بھی مجازی۔ جیسا کہ آپ اور لاہوری مرزائی ان کو نقلی اور مجازی مسیح موعود یقین کرتے ہیں آپ کا اور ہمارا یہ صرف لفظی تنازعہ ہے۔ مطلب ایک ہی ہے۔ آپ مرزا جی کو مجازی و غیر حقیقی نبی کہتے ہیں اور ہم ان کو کاذب نبی کہتے ہیں۔ بات ایک ہی ہے۔ غیر حقیقی، مجازی اور کاذب کے ایک ہی معنی ہیں۔ پس مرزا جی نے جب دعویٰ نبوت کیا تو امت محمدیہ اور گروہ اولیاء اللہ سے خارج ہوئے۔
افسوس سے لکھا جاتا ہے کہ آپ لوگ پیر پرستی میں اندھی تقلید کر رہے ہیں۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ مدعیان نبوت بھی اولیائے امت کے زمرہ میں شمار تھے؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر مرزا جی دعویٰ نبوت کر کے زمرۂ اولیاء میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں اور ان کے اقوال کو اولیاء اللہ کے اقوال سے کیا مناسبت ہو سکتی ہے؟ فرعون نے اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰی کہا اور منصور نے بھی انا الحق کا نعرہ لگایا۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ ہرگز نہیں تو پھر مرزا اور جنید بغدادی وغیرہ اولیائے کرام برابر کے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ مرزا جی علم تصوف کے اصولوں کے پابند نہ تھے۔ وہ اپنے ہر ایک مدعا کو فلسفیانہ ڈھکوسلوں اور شاعرانہ تخیلات سے ثابت کرتے تھے۔ حضرت مسیح ؑ کی وفات کے بارہ
٢٢
میں جس دلیری سے انھوں نے انجیل، قرآن، حدیث اور اجماع امت کا خلاف کیا ہے وہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ تو ایک معمولی مومن بھی نہ تھے کیونکہ یہ کہنا مومن کی شان نہیں کہ ”میں کتابوں کو مانتا ہوں مگر ان کے مضمون کو اس طرح نہیں مانتا جس طرح تمام مسلمان مانتے ہیں۔ فرشتوں کو مانتا ہوں مگر اس طرح نہیں مانتا جس طرح تمام مسلمان مانتے ہیں۔ مسیحؑ کا نزول مانتا ہوں مگر اس طرح نہیں مانتا جس طرح دوسرے مسلمان مانتے ہیں تو بتاؤ کہ یہ ایمان ہے یا خدا اور رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ تمسخر ہے؟ لہٰذا مرزا جی کا نام مدعیان کذاب میں شمار کرو۔ نہ کہ بزرگ اولیاء امت میں ۔
یاد رکھو! علم تصوف کی رو سے ”فناء فی اللہ“ ایک مقام ہے کہ سالک جب اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر خداوند تعالیٰ کی صفات کا عکس اس میں ظہور کرتا ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ کا تصرف اشیاء مخلوقہ پر ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کامل کا تصرف بھی ہوتا ہے اور یہی معیار ہے فناء فی اللہ کے مقام کی۔ مرزا جی نے سنے سنائے دعویٰ تو فنا فی اللہ کا کر دیا۔ مگر جب معیار پر پرکھے اور کسوٹی پر رگڑے گئے تو جھوٹے ثابت ہوئے کیونکہ ان کی تمام پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔ جو انھوں نے خود اپنی صداقت کا معیار مقرر کیں۔ مثلاً عبداللہ آتھم کا فوت ہونا۔ نکاح آسمانی کا ظہور میں آنا۔ داماد احمد بیگ کا فوت ہونا وغیرہ۔
منصور نے انا الحق کہا اور ان کے خون سے اور جلی ہوئی راکھ سے انا الحق کی آواز آئی بلکہ جب ان کی راکھ دریا میں ڈالی گئی تو دریا کا پانی بھی انا الحق پکارنے لگا۔ یہ کرامات جو منصور کے مردہ وجود سے ظاہر ہوئیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے مرید مانتے ہیں؟ ایمان سے بتانا جہاں تک مجھے علم ہے مرزا جی اور ان کے مرید محالات عقلی اور خلاف قانون قدرت کو نہیں مانتے تھے اور اسی واسطے اصالتاً رفع و نزول عیسیٰؑ کے منکر ہیں۔
مرزا قادیانی چونکہ اس کوچہ سے ناواقف تھے۔ صرف نقلی طور پر ان کا زبانی دعویٰ تھا۔ اس واسطے اصول سے ہی عملی طور پر انکار کیا اور اپنی دہریت کا ثبوت دے کر حضرت خواجہ عالم خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کے معجزات سے انکار کر دیا بلکہ آنحضرت ﷺ کے معجزہ شق القمر اور سینکڑوں باقی معجزات اور دیگر انبیاءؑ کے۔ اور بالخصوص عیسیٰؑ کے معجزات سے صاف منکر ہو گئے۔ بھلا ایسے شخص کو مقام فنا فی اللہ سے کیا نسبت؟ یہ تو صاحب قال ہے اسی واسطے کرامات جو خلاف قانون قدرت ہوتی ہیں۔
٢٣
انکار ہے۔ آپ نے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا نام خود لیا ہے۔ اب مجھ کو بھی حق ہے کہ پوچھوں کہ آپ ایمان سے بتائیں کہ آپ مانتے ہیں کہ جو کچھ اولیاء اللہ نے ان کی نسبت لکھا ہے درست ہے؟ مثلاً خدا کے مشرق اور مغرب کے ملکوں کا مالک میں ہی ہوں اور اگر میں چاہوں تو تمام لوگوں کو ایک لحظہ میں تباہ کر دوں۔ خدا کے کل ملک درحقیقت میری ملکیت اور ان کے اقطاب میرے حکم کی تابعداری کرنے والے ہیں۔ کیا آپ کا اعتقاد ہے کہ واقعی یہ اختیارات حضرت پیران پیرؒ کو تھے اور حضرت جل وعلا نے اپنے خدائی اختیارات ان کو دے دیئے تھے۔ مرزا قادیانی تو اس کے سخت برخلاف ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کا مردے زندہ کرنا غلط ہے۔ جب کہا گیا کہ قرآن شریف میں ہے تو کہہ دیا کہ اس کا مطلب کوئی نہیں سمجھا۔ خدا تعالیٰ اپنی صفت کسی کو نہیں دیتا اور یہاں آپ حضرت پیران پیرؒ کو بااختیار مان رہے ہیں۔ یہ صرف مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ یا آپ کا یہی ایمان ہے؟
اب آپ ہی فرمائیے کہ یہ کلمات سن کر اگر کسی عالم اسلام نے ان کی نسبت کچھ لکھا تو کیا برا کیا؟ اصل بات یہ ہے کہ ایسے کلمات ان کی نسبت مبالغہ کے رنگ میں ان کے بعض مریدوں نے لکھ دیئے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ ”پیراں نمی پرند مریداں می پرانند“ یعنی ”پیر نہیں اڑتے مرید ان کو اڑاتے ہیں“۔ سنو پیر صاحب کے مرید کیا کہتے ہیں؟ کہ ایک پیر صاحب کا مرید تھا۔ آپ نے اس کو دال روٹی کھانے کو دی اور خود مرغی کا گوشت تناول فرما رہے تھے۔ اس مرید کی ماں جب آئی تو کہنے لگی کہ آپ مرغی کا گوشت کھاتے ہیں اور میرے بیٹے کو دال روٹی دی۔ آپ نے ہڈیاں مرغی کی جو آپ کے دسترخوان پر رکھی تھیں۔ ان پر ہاتھ مارا اور وہ مرغی اسی وقت زندہ ہو گئی۔ پھر پیر صاحب نے فرمایا کہ مائی ابھی تیرا لڑکا مرغی کھانے کے لائق نہیں۔ دیکھو بارہ برس کا غرق شدہ بیڑا آپ کی دعا سے نکل آیا۔ حضرت عزرائیلؑ سے آپ نے روحوں کی زنبیل چھین لی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔ بغرض اختصار اسی پر اکتفا کی جاتی ہے۔
صوفیائے کرام کے نزدیک انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ ایک سکر کی ایک صحو کی۔ سکر کی باتیں جب صحو کی حالت میں رد کر دی جاتی ہیں تو پھر ان پر تو کوئی اعتراض نہیں رہتا مگر مرزا قادیانی تو ایک سطر کفر کی کہہ کر دس صفحے اس کفر کے ثابت کرنے کے واسطے لکھ مارتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے اپنا کشف شائع کیا جس کی اصل عبارت یہ ہے۔ ”میں نے
٢٤
ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میں اس حال میں کہہ رہا تھا۔ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا۔ اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ۔ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔“
(کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
ظاہر ہے کہ یہ کشف شیطانی تھا کیونکہ عاجز انسان نہ خدا بن سکتا ہے اور نہ خالق زمین و آسمان و انسان ہو سکتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اگر اولیاء اللہ کے زمرہ سے ہوتے تو حسب فرمان محمد رسول اللہ ﷺ ، اس کا رد کرتے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے عن جابر رضی اللہ عنہ جاء رجل النبی ﷺ فقال رایت فی المنام کأن راسی قطع قال فضحک النبی ﷺ وقال اذا لعب الشیطان باحدکم فی منامه فلا یحدث به الناس. (رواہ مسلم ج ٢ ص ٢٢٣ کتاب الرؤیاء) یعنی روایت ہے حضرت جابرؓ سے کہ کہا آیا ایک شخص پاس نبی ﷺ کے۔ پس کہا کہ دیکھا میں نے خواب میں کہ گویا سر میرا کاٹا گیا ہے۔ کہا جابر نے پس ہنسے نبی ﷺ اور فرمایا۔ جس وقت کھیلے شیطان ساتھ ایک تمھارے کے خواب اس کی میں۔ پس نہ بیان کرے اس کو رو برو لوگوں کے نقل کیا یہ مسلم میں ۔“ مرزا قادیانی بجائے رد کرنے کے الٹا اپنا خدا ہونا ثابت کرتے ہیں۔
اولیاء امت میں سے بھی ایک شخص کشف دیکھتا ہے اور وہ کیا کرتا ہے؟
مولانا جامیؒ نفحات الانس میں ابو محمد خفافؒ کے حالات میں لکھتے ہیں کہ ایک جگہ شیراز کے مشائخ کا مجمع تھا۔ جس میں ابو محمد خفافؒ بھی تھے۔ گفتگو مشاہدہ کے باب میں ہوئی۔ ہر ایک نے اپنی اپنی معلومات بیان کیں۔ ابو محمد خفافؒ سنتے رہے اور اپنی تحقیق کچھ بیان نہ کی۔ مولؒ حصاصؒ نے کہا کہ آپ بھی کچھ بیان فرمائیں۔ انھوں نے کہا یہ تحقیقات کافی ہے۔ مولؒ نے اصرار کیا اس پر ابو محمد خفافؒ بولے کہ یہ جس قدر گفتگو تھی۔ حد علم میں تھی۔ حقیقت مشاہدہ کی کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ حجاب منکشف ہو کر معائنہ ہو جائے۔ سب نے کہا کہ یہ آپ کو کیونکر معلوم ہوا؟ کہا کہ میں ایک بار تبوک میں نہایت مشقت اور فاقہ کی حالت میں مناجات میں مشغول تھا کہ یکا یک حجاب اٹھ گیا۔ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ عرش پر جلوہ افروز ہے میں دیکھتے ہی سجدہ میں گرا اور عرض کیا۔
٢٥
”یا ھولاء فما ھٰذا مکانی وموضعی“ یہ سن کر سب خاموش ہو گئے۔ مؤملؒ نے ان سے کہا کہ چلیے ایک بزرگ کی ملاقات کر آئیں اور ابن صاعد اس محدث کے ہاں ان کو لے گئے وہ نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ مؤملؒ نے ان سے کہا کہ اے شیخ جو روایت آپ نے بیان کی تھی کہ قال النبیﷺ ان الشیطان عرشا بین السماء والارض اذا اراد بعبد فتنہ کشف لہ عنہ․ یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آسمان اور زمین کے درمیان میں شیطان کا تخت ہے۔ جب خدا تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ کسی بندہ کو فتنہ میں ڈالے یعنی گمراہ کرے شیطان اس پر منکشف ہو جاتا ہے ابو محمد خفاف روتے ہوئے اٹھے اور کئی روز غائب رہے۔ مؤملؒ کہتے ہیں جب میری ان سے ملاقات ہوئی میں نے पूछा اتنے روز تک کہاں رہے۔ کہا کہ اس کشف و مشاہدہ کے وقت سے جتنی نمازیں پڑھی تھیں۔ سب کی قضاء کی اس لیے کہ وہ سب شیطان کی پرستش تھی۔ پھر کہا کہ اب اس کی ضرورت ہے کہ جس جگہ اس کو دیکھ کر سجدہ کیا تھا۔ وہیں جا کر اس پر لعنت کروں۔
(انتہی افادة الافہام حصہ اوّل ص ١٧٥)
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے مقابل مرزا جی کیا فرماتے ہیں؟ ذرا غور کیجئے کہ رایتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ھوا․ یعنی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)
میر مدثر شاہ صاحب...... جواب دیں کہ یہ اولیاء اللہ کا کام ہے کہ شیطانی کشف دیکھیں۔ جس میں عاجز انسان کا خدا ہونا دکھایا گیا اور پھر یقین کریں کہ حقیقت میں خدا تھا۔ پھر خدا کی صفات بھی اپنے میں ثابت کرنے کے لیے خالق زمین و آسمان اور انسان کے پیدا کرنے والے اپنے آپ کو یقین کریں اور قرآن و حدیث کی تکذیب کریں۔ آپ ایمان سے بتائیں کہ کون اولیا اللہ ہے؟ وہ جس نے حدیث رسول اللہﷺ کا نام سنا اور سر تسلیم خم کیا اور اپنے شیطانی کشف سے توبہ کی اور نمازیں بھی قضا کیں اور ایسے کشف سے جو خدا بن کر نظر آیا۔ اس شیطانی خدا پر لعنت کی اور آپ کے نزدیک کون مومن فنا فی الرسول کے دعویٰ میں سچا ہے۔ کیا مرزا قادیانی فنا فی الرسول کے دعویٰ میں سچے ہو سکتے ہیں؟ جو رسول اللہﷺ کی حدیث کو اپنے کشف و الہام کے مقابلہ میں ردی کر دیں؟ ہرگز نہیں۔ اگر آپ کہیں کہ مرزا قادیانی نے کہاں لکھا ہے تو دیکھو ذیل کی عبارت ”ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کی معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی پھینک دیتے ہیں۔“
(اعجاز احمدی ص ٣٠ و ٣١ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
٢٦
پھر لکھتے ہیں کہ ”خدا نے مجھے اطلاع دے دی کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلود یا سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہے۔ اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پا کر رد کر دے۔
(دیکھو ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ١٠ خزائن ج ١٧ ص ٥١)
”اب خدا تعالیٰ نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا ہے۔“ الخ
(اربعین نمبر ٤ حاشیہ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
اب میر مدثر شاہ صاحب! فرمائیں کہ کسی نے اولیائے امت میں سے بھی ایسا غرور اور تکبر و تعلی نفس کر کے حضرت خلاصہ موجودات محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین کو معزول کیا ہے؟ کہ اب نہ قرآن پر عمل کرنے سے نجات ہے اور نہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے سے نجات ملتی ہے۔ اب نجات کا مدار صرف مرزا قادیانی کی بیعت اور وحی اور تعلیم شرک و کفر پر رہ گیا ہے؟ مرزا قادیانی کی اس عبارت کے ساتھ ان کی دوسری عبارت ملا کر پڑھو اور دیانت و امانت سے بتاؤ کہ کس قدر جھوٹا ہے وہ شخص جو مسلمانوں کو دھوکا دینے کے واسطے لکھتا ہے ؎
مصطفیٰ مارا امام و مقتدا
(درثمین فارسی ص ١١٤)
یعنی خدا کے فضل سے ہم مسلمان ہیں اور حضرت محمد مصطفے ﷺ ہمارا امام اور پیشوا ہے کیا غلام کا منصب ہے کہ اپنے الہامات کے مقابل اپنے آقا نامدار کی وحی کو ردی قرار دے اور نجات کا ٹھیکیدار خود بن بیٹھے اور آقا کو معزول کر دے اور کہے کہ جناب اب نجات آپ کی وحی یعنی قرآن پر نہیں ہے یہ منصب آپ کے طفیل اب مجھ کو حاصل ہو گیا ہے مگر دوسری طرف دروغ گو خود ہی لکھتا ہے۔ ”نوع انسان کے لیے اب کوئی کتاب نہیں۔ مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لیے کوئی رسول اور شفیع نہیں۔ مگر محمد مصطفے ﷺ الخ۔“
(کشتی نوح ص ١٣ خزائن ج ١٩ ص ١٣)
اب بتاؤ۔ مرزا قادیانی کی کونسی تحریر درست ہے اور کون سی غلط ہے یا دونوں ہی غلط ہیں؟
٢٧
پھر ان سب تحریروں کے برخلاف لکھتے ہیں کہ مجھ کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔ یعنی اے مرزا تو ان تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تم سب کی طرف آیا ہوں۔ (تذکرہ ص ٣٥٢) کس قدر ظلم عظیم ہے کہ آپ لکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو اولیاء اللہ امت میں سے سمجھو۔ حالانکہ بقول خود وہ رسول اللہ ہو کر آئے ہیں اور اپنی وحی الہام کے مقابل قرآن شریف اور حدیث رسول اللہ ﷺ کو ردی قرار دیتے ہیں کیونکہ اب ان پر عمل کرنے سے نجات نہیں ملتی۔ اگر آپ کو معلوم نہیں تو ہم بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کس کے پیرو ہیں اور کس گروہ سے ہیں۔ شاید آپ کو خدا تعالیٰ راہ ہدایت دیکھا دے۔ یہ شخص سید محمد مہدی جونپوری ہے جس کے اقوال و افعال کی نقل مرزا قادیانی نے کی ہے۔ یہ اسی کی ایجاد ہے کہ میں ’’امتی نبی ہوں اور یہ غرور اور تکبر کے الہامات اور تحریریں پہلے اس کی ایجاد ہیں اور مرزا قادیانی اس کے نقال ہیں۔ دیکھو ذیل کی تحریرات۔
- (١) شیخ مہاجر نے مردے کو زندہ کیا اور مہدی نے اس کو مقام مہتر عیسیٰؑ فرمایا۔
(شواہد الولایت باب ٨ ہدیہ مہدویہ)
- (٢) مہدی نے کہا کہ خداوند تعالیٰ نے بندے کے وصف پیغمبروں سے بیان فرمائے
ہیں۔ اس لیے اکثر پیغمبروں کو تمنا تھی کہ بندہ کی صحبت میں پہنچیں۔
- (٣) اکثر انبیاء اور مرسلین اولوالعزم دعا مانگتے تھے کہ بار خدایا ہم کو امت محمدی میں کر
کے مہدی کے گروہ میں داخل کر دے اور ان میں سے مہتر عیسیٰ کی دعا قبول ہوئی۔
- (٤) حاجی محمد فرہی نے پوچھا کہ میرا جیو خدام تو آئے حضرت عیسیٰؑ کب آئیں گے۔
میراں نے ہاتھ پیچھے کر کے کہا کہ بندے کے پیچھے آئیں گے۔ فوراً حاجی محمد کو مقام عیسیٰ روح اللہ کا حاصل ہو گیا۔ میرا کی زندگی بھر تو چپ رہا۔ بعد مرنے کے سندھ میں دعویٰ نبوت عیسویت کیا۔
میر مدثر شاہ صاحب! فرمائیں کہ مہدی اور عیسیٰ تو آ چکے مرزا قادیانی نے ان کو کیوں نہ مانا؟ اور ایک مصلح کو جھٹلا کر اس کی دشمنی سے کافروں میں سے ہوئے اور آپ مرزا قادیانی کے مرید ہیں۔ لہٰذا منکرین میں سے ہیں۔ کیا مہدی محمد سچا مہدی تھا؟ اگر سچا تھا تو مرزا قادیانی نے اور ان کے بزرگوں نے کیوں نہ مانا اور مومنوں میں شامل کیوں نہ ہوئے؟ اور اگر وہ جھوٹا تھا تو مرزا قادیانی اس کی نقل کر کے کیونکر سچے ہو سکتے ہیں؟
- (٥) میراں نے کہا کہ حق تعالیٰ نے ارواح اوّلین و آخرین کو حاضر کر کے فرمایا کہ
٢٨
اے سید محمد ان سب ارواح کا پیشوا بننا قبول کر۔ پہلے میں اپنی عاجزی پر خیال کر کے عذر کیا۔ پھر عنایت خدا تعالیٰ پر کہ میرے حال پر ہے نظر کر کے کہا۔ اگر سو حصہ اس سے زیادہ ہوں تو بھی قبول کیا۔
(٦) ”درمیان بندہ و محمد ﷺ کے فرق کرنے والے کو زیاں ہے۔“ (یعنی محمد مصطفے ﷺ اور سید محمد جونپوری مہدی برابر ہیں) جوہر نامہ میں لکھا ہے دوہرہ
ظاہر باطن تابع حق مانو کل ادراک
(٧) میراں نے کہا کہ بعد دعوت خاتمین کے نام انبیاء اور اولیاء ختم ہو گیا۔ لیکن مقامات اور درجہ انبیاء اور اولیاء بندے کے گروہ میں قیامت تک جاری ہے۔
(٨) میراں نے کہا کہ اگر بندہ اور محمد مصطفےٰ اور ابراہیم ایک زمانہ میں ہوتے تو کوئی ہرگز فرق نہ کر سکتا۔
(٩) مہدویت اور نبوت میں نام کا فرق ہے اور کام اور مقصود ایک ہی ہے۔
(شواہد الولایت باب ١٣)
(١٠) سید محمد جونپوری نے کہا۔ ”ایسی پے در پے تجلی الوہیت کی ہوتی ہے کہ اگر ان دریاؤں سے ایک قطرہ کسی ولی کامل یا نبی مرسل کو دیا جائے تو تمام عمر ہوش میں نہ آئے۔
(١١) سید محمد جونپوری نے کہا کہ بندے پاس تصحیح ہوتی ہے۔ کسی نے پوچھا میراں جی تصحیح کس کو کہتے ہیں۔ میراں نے کہا تمام ارواح اولوالعزم اور رسولوں اور انبیاء اور اولیاء بلند مرتبہ اور تمام مومنین و مومنات کہ آدم سے اس دم تک سب بندے کے حضور میں عرض کیے جاتے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ یہ حضرات اپنی خدمات پیغمبری ادا کر کے اپنے مقامات کو پہنچے۔ اب ان کی ارواح کی تصحیح سے کیا فائدہ؟
جواب دیا کہ حق تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ جس خزانہ سے تم نے نور حاصل کیا تھا۔ پھر اس محل سے مقابلہ کر کے تصحیح کرو اور یہ بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص یہاں مقبول ہوا وہ خدا کے پاس بھی مقبول ہوا اور جو یہاں سے مردود ہوا وہ عنداللہ بھی مردود ہوا ہے۔
(١٢) ایک روز بعد نماز فجر کے سب بھائی صف بستہ بیٹھے تھے شاہ دلاور نے کہا کہ دیکھو یہ وہ لوگ ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا ہے هُمْ اِخْوَانِیْ بِمَنْزِلَتِیْ یعنی وہ بھائی میرے ہم مرتبہ ہیں اور ایک روز بندہ کو دکھلا کر کہا کہ یہ بمقام مرسلین کے ہیں اور کہا کہ مرسل اس
٢٩
کو کہتے ہیں کہ مہتر جبرائیل اس پر وحی لائیں اور ایک روز کہا کہ یہ سب بھائی جو بیٹھے ہیں هُمْ اِخْوَانِیْ بِمَنْزِلَتِیْ کا مقام رکھتے ہیں۔ یعنی برابر حضرت رسالت پناہ کے ہیں۔ مگر چار شخص اس سے بھی بڑھ کر مقام رکھتے ہیں۔ اس سے پوچھا وہ چار کون ہیں۔ کہا تم اور بھائی عبدالمجید اور میاں عبدالمالک اور قاضی عبداللہ۔ العیاذ باللہ الخ۔
(١٣) میراں جی ایک روز میاں نعمت کے سامنے بولے کہ انا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۔ نعمت نے پوچھا کہ تم ذات اللہ ہو؟ بولے کہ بندہ بندہ ہے لیکن ذات اللہ رب العالمین ہے۔ جب دوسری بار پوچھا تو بولے کہ بندہ بندہ ہے لیکن ذات اللہ ہے۔ تیسری بار میں جواب دیا کہ بندہ بندہ ہے لیکن ذات اللہ ہے۔ بعد اس کے ایک ساعت آنکھیں بند کر کے کھڑے رہے۔ پھر اللہ جی بول کر ملکاں کے گھر گھس گئے۔
(١٤) سید محمد جونپوری نے کہا کہ ”میں نہ کسی سے جنا گیا اور نہ میں نے کسی کو جنا۔
(دیکھو ہدیہ مہدویہ)
(١٥) سید محمد جونپوری مہدی موعود ہیں۔
(ہدیہ مہدویہ ص٤)
(١٦) تصدیق مہدویت سید محمد جونپوری کی فرض ہے اور ان کی مہدویت کا انکار کفر ہے۔ جس قدر دنیا کے مسلمان ہیں سب بہ سبب انکار مہدی کے کافر مطلق ہیں۔
(١٧) مہدی جونپوری اگرچہ داخل امت محمدیہ ہیں۔ لیکن افضل ہیں صحابہ کرامؓ سے۔
(١٨) سید محمد جونپوری سوائے محمد ﷺ کے افضل ہیں حضرات ابراہیم و موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ و نوحؑ و آدمؑ اور تمام انبیاءؑ اور مرسلین سے۔“
(١٩) سید محمد جونپوری اگرچہ تابع ہیں۔ محمد ﷺ کے۔ لیکن مرتبہ میں آنحضرت ﷺ کے برابر ہیں۔
(٢٠) تفاسیر قرآن شریف اور احادیث نبوی اگرچہ روایات صحیحہ سے مروی ہوں اگر افعال و اقوال مہدی کے موافق نہ ہوں تو ردی ہیں۔
(٢١) قول مہدی کا واجب التصدیق ہے۔ خواہ عقل و نقل کے مخالف ہو۔
(٢٢) شیخ جونپوری اور محمد ﷺ پورے مسلمان ہیں۔ سوا ان کے تمام انبیاء و مرسلین ناقص الاسلام ہیں۔ یعنی حضرات موسیٰ و عیسیٰ و نوح و آدم و غیرہم۔
(٢٣) جب تک آدمی بچشم سر یا بچشم دل یا خواب میں خدا کو نہ دیکھے مومن نہیں ہے۔
(٢٤) تین پہر کے ذکر کرنے والا منافق ہے اور چار پہر ذکر کرنے والا مشرک ہے اور چار پہر کے ذکر کرنے والا ناقص مومن ہے اور آٹھ پہر کے ذکر کرنے والا کامل مومن ہے۔
٣٠
(٢٥) اشیائے دنیوی اگر حلال اور مباح ہوں۔ ان کے مشغول ہونے والا کافر ہے۔
(٢٦) ہجرت یعنی ترک وطن کرنا فرض ہے جو شخص ہجرت و صحبت بجا نہ لائے وہ منافق ہے۔
(٢٧) شیخ جونپوری کو نبی بلکہ رسول صاحب شریعت جانتے ہیں۔
(٢٨) مہدی موعود تابع تام ہیں بے خطا نبی ﷺ کے بلکہ معصوم عن الخطا ہیں۔
(٢٩) کسی مجتہد یا مفسر کا قول موافق حکم مہدی کے نہ ہو تو وہ قول غلط ہے۔
(٣٠) مہدی نے فرمایا ہے کہ جو حکم بیان کرتا ہوں میں خدا کی طرف سے بامر خدا بیان کرتا ہوں جو ان احکام میں سے ایک حرف کا منکر ہو گا۔ عند اللہ ماخوذ ہو گا۔
(٣١) شیخ جونپوری بعد منصب نبوت و رسالت کے صفات الوہیت میں۔ اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں۔
(٣٢) عالم میں چند چیزیں ایسی موجود ہیں کہ مخلوق خدا نہیں ہیں۔
(٣٣) دربار نبوت میں ایک صدیق تھے۔ تو یہاں دو ہیں۔ سید محمود و اخوند میر اگر وہاں خلفائے راشدین چار تھے تو یہاں پانچ ہیں۔ سید محمود اخوند میر میاں نعمت میاں نظام الدین اور میاں دلاور اگر عشر مبشرہ تھے تو یہاں بارہ ہیں نواسہ مہدی کو حسین ولایت کہتے ہیں۔ ان کے ساتھ لڑکپن میں خدا ہمیشہ کھیلا کرتا تھا اور ان کی ماں فاطمہ ولایت ہیں اور جوروان مہدی کی ازواج مطہرات و امہات المومنین حسین ولایت ہونے کی دلیل چونکہ بہت نفیس ہے لہٰذا نقل کی جاتی ہے۔ تذکرۃ الصالحین میں مذکور ہے کہ ایک روز یہ بزرگ بعد نماز تہجد کے جائے نماز پر بیٹھے تھے کہ روح یزید کی بصورت کتے کے داخل ہوئی۔ میاں مذکور نے اس کو اپنے ہاتھ سے اس کو ہانکا۔ اس نے ان کے ہاتھ کو ایسا زخمی کیا کہ اس کی درد سے بعد ٤٥ روز کے پندرھویں محرم کو انتقال کیا۔ اسواسطے وہ حسین ولایت ہوئے۔
(٣٤) سید محمد مہدیؒ فرمودہ است۔ ہر حکمے کہ بیان میکنم از خدا و امر خدا بیان میکنم ہر کہ ازیں حکام یک حرف را منکر شود او عند اللہ ماخوذ گردد۔ (ہدیہ مہدویہ ص ١٥)
(٣٥) مہدی نے شاہ بہک سے کہا کیا پرانے خدا پر مقید ہو گئے ہو۔ آگے بڑھو۔ اور یہ شعر پڑھی ۔
ہر لحظہ مرا تازہ خدائے دگر است
(بحوالہ شواہد الولایت ص ٢٦٥ ہدیہ)
(٣٦) شیخ جونپوری کے اصحاب کا اتفاق ہے کہ محمد اور مہدیؒ یکذات ہیں۔
(ص ٢٦٧ ہدیہ مہدویہ)
٣١
- (٣٧) میاں اخوند میر نے کہا کہ تمام عالم میں دو مسلمان معلوم ہوتے ہیں۔ ایک محمد
رسول اللہ دوسرے میراں محمد جونپوری۔
(ہدیہ ص ٧ ، بحوالہ انصاف نامہ)
- (٣٨) مہدویت اور نبوت میں صرف نام کا فرق ہے۔ مگر کام اور مقصود ایک ہے۔
(شواہد ولایت باب تیراں ہدیہ ص ١٢)
- (٣٩) اوّل بارہ برس امر الٰہی ہوتا رہا اور میراں وسوسہ نفس شیطان سمجھ کر مانتے رہے اور
بعد بارہ برس کے خطاب باعتاب ہوا کہ قضاء الٰہی جاری ہو چکی ہے اگر قبول کرے گا ماجور ہو گا۔ ورنہ مجبور ہو گا۔
(مطلع الولایت ہدیہ ص ١٣)
- (٤٠) شیخ نے دعویٰ کیا مَنِ اتَّبَعَنِیْ فَهُوَ مُؤْمِنٌ. یعنی جس نے میری تابعداری کی وہ ہی
مومن ہے۔
(الخ ص ٢٥ ہدیہ)
اب ہم ان چالیس تحریروں کے مقابل مرزا قادیانی کی تحریریں و الہامات لکھتے ہیں تا کہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ مرزا قادیانی نے شیخ جونپوری مہدی کی نقل کی ہے مگر ثبوت مہدویت میں شیخ جونپوری سے بہت ناقص ہے کیونکہ جو جو صفات و خصوصیات مہدیؑ کی حضرت خلاصہ موجودات محمد مصطفےٰ ﷺ نے حدیثوں میں فرمائے وہ اکثر شیخ جونپوری میں بقول ان کے پائی جاتی ہیں اور مرزا قادیانی میں کوئی صفت و علامت نہیں پائی جاتی۔ ہم ذیل میں نمبروار درج کرتے ہیں۔
- (١) شیخ نے ایک مردہ زندہ کرنے پر اپنے ایک مرید کو مثیل عیسیٰ کہا۔ مرزا قادیانی نے
ایک بیمار قریب المرگ کو اچھا نہ کیا۔ بلکہ حضرت عیسیٰؑ کے معجزات سے بھی انکار ہے کہ انھوں نے مردے زندہ کیے حالانکہ قرآن شریف اس کی تصدیق فرماتا ہے۔ دیکھو تُحْيِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِیْ یعنی حضرت عیسیٰؑ علاوہ دیگر معجزات کے مردہ بھی زندہ کر دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے۔ مفسرین کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردے زندہ کیے لیکن چونکہ مرزا قادیانی خود روحانی طاقت سے بے بہرہ تھے۔ اس لیے ایسی بعید تاویل کی ہے کہ جو منشاء کتاب اللہ کی شان سے بعید ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”جو شخص مر گیا پھر دنیا میں ہرگز نہیں آئے گا۔“
(ازالہ ص ٦٦٥ خزائن ج ٣ ص ٤٥٩)
گویا مرزا قادیانی کا یہ مطلب ہے کہ نعوذ باللہ قرآن شریف میں جو مسیح کے معجزات درج ہیں غلط ہیں اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ایمان اس پر یعنی قرآن شریف پر غلط ہے مگر اس سے مرزا قادیانی کا دروغ ثابت ہوتا ہے جس میں لکھتے ہیں کہ ہم تمام معجزات پر ایمان رکھتے ہیں۔ جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ مرزا قادیانی نے دعویٰ تو مثیل
٣٢
عیسیٰ ہونے کا کر دیا مگر اعجاز نمائی کے وقت بجائے معجزہ دکھانے کے قرآن سے بھی انکار کر دیا۔ ”حضرت عزیر کا زندہ ہونا عارضی طور پر مانتے ہیں۔“
(دیکھو ازالہ اوہام ص ٣٦٥ خزائن ج ٣ ص ٢٨٧)
- (٢) خدا تعالیٰ نے مہدی میں پیغمبروں کے اوصاف بیان کیے۔ یہی مرزا قادیانی
کہتے ہیں ۔
داد آں جام را مرا بتمام
(درثمین فارسی ص ١٧١)
یعنی ہر ایک نبی کو جو جام نبوت دیا گیا ہے وہ تمام مجھ اکیلے کو دیا گیا ہے ۔
من بہ عرفاں نہ کمترم ز کسے
یعنی اگرچہ بہت نبی گزرے ہیں۔ مگر میں کسی سے عرفان میں کم نہیں ہوں۔“
(درثمین فارسی ص ١٧٢)
مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ جَرَی اللّٰہُ فِیْ حُلَلِ الانبیاء۔ (تذکرہ ص ٧٩)
- (٣) اکثر مرسلین دعا مانگتے تھے کہ ہم کو مہدی کے ساتھ نصرت دین اسلام کریں گے۔
عیسیٰ کی دعا قبول ہوئی کہ وہ نازل ہو کر مہدی کے ساتھ نصرت دین اسلام کریں گے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مہدی اور عیسیٰ ایک ہی ہے اور تمام امت محمدیہ کے برخلاف کہتے ہیں کہ مسیح اور مہدی ایک ہی ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ بخاری کی حدیث صاف صاف بتا رہی ہے کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا اور امام مہدی امت میں سے ہو گا۔ وہ حدیث یہ ہے۔ کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ. کیا ہو گا حال تمہارا جس وقت اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے درمیان تمھارے اور امام تمہارا تم میں سے ہوگا۔
(بخاری ج ١ ص ٤٩٠)
مرزا قادیانی اس حدیث کے معنی غلط کر کے اپنی رائے تمام امت کے برخلاف ظاہر کرتے ہیں کہ مسیح اور مہدی ایک ہی شخص ہے اور وہ میں ہوں پس یہ ایک اصولی بحث ہے۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی شخص نہیں ہے تو مرزا جی کے تمام دعاوی جھوٹے ہیں۔ لہٰذا ہم اناجیل سے اور احادیث اور اقوال بزرگان دین، سلف و خلف سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ مسیح الگ ہے۔ مسیح نبی و رسول ہے اور مہدی نبی اور رسول
٣٣
نہیں ۔ اوّل انجیل سے اس امر کا ثبوت کہ نازل ہونے والا مسیح ابن مریم نبی ناصری ہے۔
- (١) یہی یسوع جو تمھارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ اسی طرح تم نے آسمان پر
جاتے دیکھا۔ پھر آئے گا۔
(اعمال باب ١ آیت ١٢)
- (٢) قرآن کی تصدیق کہ مسیح آسمان سے نازل ہو گا۔ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ
إِلَيْهِ. (دیکھو تفسیر ابن کثیر بحاشیہ فتح البیان مطبوعہ مصر جلد ٢ ص ٢٢٩) نجاه مِنْ بينهم و رفعه من روزنته ذلك البيت الى السماء وبقا حياته فى السماء وانه سينزل الى الارض قبل يوم القيامة (جلد ٢ ص ٢٣٣) یعنی نجات دی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو ان سے یعنی یہودیوں سے اور اٹھا لیا اس کو اس گھر کی کھڑکی سے آسمان کی طرف اور زندہ رکھا ہوا ہے۔ اس کو آسمان میں اور تحقیق وہ ہی نازل ہونے والا ہے طرف زمین کی قیامت کے نزدیک۔ (تفسیر بیضاوی جلد ٢ ص ٨٣) روى ان عيسٰى ينزل من السَّمَاءِ حين يخرج الدجال فيهلكم یعنی حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے جبکہ دجال نکلے گا اور وہ اس کو قتل کریں گے۔
- (٣) حدیثوں سے ثبوت، کہ آنے والا مسیح الگ ہے اور مہدی مسلمانوں کا امام الگ
ہے۔ عن على قال قلت یا رسول الله من ال محمد المهدى ام من غيرنا فقال لابل منا يختم الله به الدين كما فتح بنا الحديث. روایت ہے نعیم بن حماد سے کہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں عرض کیا میں نے یا رسول اللہ ﷺ مہدی ہم اہلبیت سے ہے یا ہمارے غیر سے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہیں بلکہ ہم میں سے ہے۔ ختم کرے گا اللہ تعالیٰ بہ سبب اس کے دین کو۔ جیسا کہ شروع کیا بہ سبب ہمارے۔ (دیکھو ہدیہ مہدویہ ص ١٢٦) اس حدیث سے ثابت ہے کہ مہدی سید آل رسول سے ہو گا۔ نہ کہ مغل چنگیز خان کی اولاد سے۔
دوسری حدیث۔ كيف تهلک امة انا فى اولها و عيسى في آخرها والمهدى من اهل بيتى فى وسطها. یعنی کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے وہ امت جس کے اوّل میں ہوں اور حضرت عیسیٰ اس کے اخیر میں اور مہدی جو کہ میرے اہلبیت سے ہو گا۔ اس کے درمیان ہے۔
(مشکوٰۃ ص ٥٨٣ ہدیہ مہدویہ ص ٢٥٢)
حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں جو کشف و الہام کے امام ہیں۔ اِنَّهُ لَا خِلَافَ ينزل فى اخر الزمان. یعنی اس میں کسی کو خلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰ آخر زمانہ میں اتریں گے۔ (فتوحات مکیہ باب ٧٣) اور یہ عین حدیث کے مطابق
٣٤
ہے ۔ عن ابي هريرة ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم.
(رواہ البیہقی فی کتاب الاسماء والصفات ص ٤٢٤ باب قول اللہ عیسی)
ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے کیا حالت ہو گی تمہاری جب ابن مریم عیسیٰ تم میں آسمان سے اتریں گے اور تمہارا امام مہدی بھی تم میں موجود ہو گا۔
جب ثابت ہے کتب سماوی و احادیث محمدی سے کہ مسیح اور مہدی الگ الگ ہیں تو مرزا قادیانی نہ سچے ہیں اور نہ مہدی۔ مرزا قادیانی سے سید محمد جونپوری کا دعویٰ قوی ہے۔ کیونکہ وہ سید تھا۔ اور اس کا نام بھی حدیث کے مطابق محمد تھا۔ اس لیے اس نے بیعت بھی جا کر ملک عرب میں لی تھی اور کامیاب بھی ایسا ہوا کہ اس زمانہ میں جبکہ نہ ڈاک نہ ریل نہ تار نہ اسباب اشاعت تھے۔ اس میں اسکے مرید ہندوستان اور پنجاب سے تجاوز کر کے خراسان تک پہنچ گئے تھے۔ اس کے مقابل مرزا قادیانی کی ایک بات بھی حقیقی نہیں۔ کل بناوٹی اور مجازی و استعاری ہے۔ پس یہ ہرگز سچے مہدی نہیں ہو سکتے اور چونکہ ان کے نزدیک مہدی و مسیح ایک ہی شخص ہے تو مسیح بھی آ چکا۔ ہر حال میں مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔ کیونکہ اقرار کر چکے ہیں کہ اگر مہدی اور مسیح کے کام مجھ سے نہ ہوں اور مر جاؤں تو سب گواہ رہیں کہ جھوٹا ہوں۔
(دیکھو اخبار بدر ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)
- (٤) حاجی محمد فرائی نے پوچھا کہ حضرت عیسیٰ کب آئیں گے۔ میراں نے پیچھے ہاتھ کر
کے کہا کہ میرے بعد آئیں گے۔ چنانچہ حاجی محمد نے دعویٰ عیسویت میراں کی وفات کے بعد کیا۔ پس جب مہدی اور مسیح آ چکے تو پھر مرزا قادیانی کس طرح سچے مسیح و مہدی ہو سکتے ہیں۔ اگر کہو کہ وہ جھوٹے تھے اور مرزا قادیانی سچے ہیں تو کوئی دلیل لاؤ۔ دعویٰ بلا دلیل کبھی تسلیم نہیں ہو سکتا۔ جب سید محمد کا دعویٰ حدیثوں کے مطابق تھا۔ یعنی اس کا نام بھی محمد تھا۔ اور آل رسول میں سے بھی تھا اور مکہ و مدینہ کے درمیان مقام و رکن میں حسب فرمان حضرت خلاصہ موجودات محمد مصطفےٰ ﷺ اس نے بیعت بھی لی۔ وہ سچا مہدی نہ مانا گیا تو مرزا قادیانی جن کی ایک بات بھی سچی نہیں۔ نہ ذات کے سید نہ نام محمد نہ ملک عرب دیکھا نہ وہاں گئے اور نہ وہاں بیعت لی۔ گھر بیٹھے مہدی بن گئے۔ کیونکر سچے ہو سکتے ہیں؟
جب میر مدثر شاہ کے نزدیک ہر ایک مدعی کی تکذیب کرنی اور مصلح کو نہ ماننا اور اس کی دشمنی کفر ہے تو پھر مرزا قادیانی اور ان کے بزرگ بھی بہ سبب انکار ایک مصلح کے کافر ٹھہرے۔
٣٥
- (٥) میراں نے کہا کہ مجھ کو سب انبیاء کا پیشوا بنایا گیا الخ۔ مرزا قادیانی بھی فرماتے
ہیں۔ ”آسمان سے کئی تخت اترے۔ پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
اگرچہ مرزا قادیانی کا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا مگر وہ مرتبہ مرزا قادیانی کو حاصل نہیں ہوا۔ تمام انبیاء کے ارواح کو حکم ہوتا ہے کہ جس دریا سے تم نے نور حاصل کیا ہے۔ اس سے مقابلہ کرو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریر جونپوری مہدی کی ان کی نظر سے نہ گزری تھی۔
- (٦) ”درمیان محمد و بندہ کے فرق کرنے والے کو زیان ہے۔ الخ۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں
کہ لیس فی جبتی الا انوارہ یعنی میرے وجود میں محمد ﷺ کے نور کے سوا کچھ نہیں۔
(حقیقت الوحی الاستفتاء ص ٧١ خزائن ج ٢٢ ص ٦٢٧)
درثمین ص ١٧٢ میں لکھتے ہیں۔
شدہ رنگین برنگ یار حسین
- (٧) نبوت جاری ہے۔ مرزا قادیانی پہلے تو ختم نبوت کے معتقد تھے مگر ١٩٠١ء کے بعد
نبوت و رسالت کے مدعی ہوئے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ محمد ﷺ کی متابعت تامہ سے نبوت کا درجہ مل سکتا ہے۔ (کما مر)
- (٨) سیّد محمد جونپوری و ابراہیمؑ و موسیٰؑ برابر ہیں الخ۔ مرزا قادیانی بھی یہی کہتے ہیں
بلکہ اپنی فضیلت تمام انبیاء پر ظاہر کرتے ہیں۔
من بہ عرفاں نہ کمترم ز کسے
(درثمین ص ١٧٢)
- (٩) نبوت و مہدویت میں صرف نام کا فرق ہے الخ۔ مرزا قادیانی بھی ضرورۃ الامام میں
لکھتے ہیں کہ نبی و رسول و امام زمان سب کا مفہوم ایک ہی ہے اور میں امام الزمان ہوں۔
(ضرورۃ الامام ص ٢٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
- (١٠) اس قدر تجلی الوہیت ہوتی ہے کہ اگر ان دریاؤں کا ایک قطرہ مرسلوں کو دیا جائے تو
ہمیشہ بیہوش رہیں۔ الخ۔ مرزا قادیانی اس مرتبہ پر نہیں پہنچے تھے۔ رات دن تصنیفات میں مشغول رہتے تھے۔ مگر زبانی دعویٰ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر عین اللہ ہو گیا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی ہے اور میرے جسم پر
٣٦
مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا۔ الخ
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤ خزائن ج ٥ ص ایضا)
- (١١) تھج کا ہوتا۔ الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ مجھے الہام ہوا اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ.
(حقیقت الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
- (١٢) شاہ دلاور نے کہا کہ سب مہدوی مرتبہ میں محمد ﷺ کے برابر ہیں۔ مرزا قادیانی
بھی لکھتے ہیں کہ اب میری وحی میری تعلیم اور میری بیعت کو مدارنجات ٹھہرایا گیا ہے۔
(اربعین ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)
- (١٣) اَنَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ. الخ مرزا قادیانی بھی خدا بنے خالق زمین و آسمان بنے۔ خالق
انسان بنے۔
(کتاب البریہ ص ٨٧ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- (١٤) سید محمد جونپوری نے کہا کہ میں نہ کسی سے جنا گیا الخ مرزا قادیانی بھی یہی کہتے
ہیں۔ مرزا قادیانی کو الہام ہوا۔ انت مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ یعنی اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ٧٤ خزائن ج ٢٢ ص ٧٧) جب مرزا قادیانی کو خدا کہتا ہے کہ اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تو مرزا قادیانی خدا کے ساتھ شرکت نوعی رکھتے تھے اور یہی مطلب لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ کا ہے۔ (نعوذ باللہ)
- (١٥) سید محمد جونپوری مہدی موعود ہیں۔ الخ۔ مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں کہ میں مہدی
اور مسیح موعود ہوں۔ (ہر کتاب کے ٹائیٹل پر لکھا ہوا ہے) مگر حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں سچے مہدی موعود نہ تھے۔ کیونکہ جو علامتیں رسول اللہ ﷺ نے مہدی کی فرمائی ہوئی ہیں وہ نہ مرزا قادیانی میں تھیں اور نہ شیخ جونپوری میں۔ مرزا قادیانی تو سید الفاطمی النسب نہ تھے۔ مغل تھے۔ بیعت ملک عرب میں لینی تھی۔ مرزا قادیانی عرب تک نہیں گئے۔ حدیث شریف میں مذکور ہے عن عبداللہ ابن مسعود قال قال رسول اللہ ﷺ لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتى يواطى اسمه اسمى. (رواہ الترمذی‘ ابو داؤد ج ٢ ص ٤٧) ترجمہ۔ عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ دنیا ختم نہ ہو گی۔ جب تک کہ ایک شخص میرے اہلبیت سے عرب کا مالک نہ ہو جائے۔ جس کا نام میرے نام کے مطابق ہو گا۔ سید محمد جونپوری سید تو تھا۔ مگر اس کے باپ کا نام چونکہ سید خاں تھا اس واسطے وہ سچا نہ مانا گیا اور مرزا قادیانی کا نام غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ تھا۔ ذات کا مغل تھا۔ اس واسطے یہ ہرگز سچا مہدی نہیں ہو سکتا۔ افسوس مرزا قادیانی نے اپنی کتاب نشان آسمانی میں حضرت نعمت اللہ ولی کے قصیدے کے شعر کو اپنے مطلب کے واسطے بدل دیا ۔
٣٧
نامم او نا مدار مے بینم
حالانکہ قصیدہ میں ؎
نام آن نام دار مے بینم
لکھا ہوا ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ چونکہ ملک عرب کا مالک ہونا کامل علامت تھی وہ دونوں میں نہ پائی گئی۔ اس واسطے دونوں سچے مہدی نہیں ہو سکتے۔ مدعی ہونے کو ڈیڑھ سو سے زیادہ ہوئے اور ان میں صالح بن طریف بادشاہ بھی ہوا اور تین سو برس تک سلطنت اس کے خاندان میں رہی (دیکھو ابن خلدون) مگر چونکہ دوسرے کام مہدی کے اس سے نہ ہوئے اور نہ ملک عرب کا مالک ہوا۔ اس لیے وہ بھی سچا نہ سمجھا گیا۔ مرزا قادیانی کی تو کچھ حقیقت ہی نہیں۔ جھوٹی تاویلیں اور مجاز و استعارہ وظل و بروز کا لشکر رکھتے تھے اور ہمیشہ شکست کھاتے رہے اور ملک عرب الٹا کفار کے قبضہ میں چلا گیا۔ حالانکہ مہدی نے اس کا مالک ہونا تھا۔
- (١٦) تصدیق مہدویت سید محمد فرض ہے اور انکار کفر الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں جو
مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) اور توضیح مرام میں لکھتے ہیں جو مامور ہو کر آتا ہے۔ اس سے انکار کرنے والا مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔
(توضیح مرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠)
- (١٧) مہدی جونپوری اگرچہ داخل امت محمدی ہیں مگر مرتبہ میں برابر ہیں محمد کے الخ۔
مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے۔ (اعجاز احمدی ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ١٨١) (یہ ترجمہ مرزا قادیانی کا اپنا کیا ہوا ہے جو نقل کیا گیا ہے)
- (١٨) سید محمد جونپوری انبیاء سے افضل ہے الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ ”آسمان
سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا“ (حقیقت الوحی ص ٨٩ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) پھر اعجاز احمدی میں لکھتے ہیں۔ ”پہلوں کا پانی مکدر ہو گیا اور ہمارا پانی اخیر زمانہ تک مکدر نہیں ہو گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سارے نبیوں سے افضل ہوں۔“
(اعجاز احمدی ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
٣٨
(١٩) سید محمد جونپوری اگرچہ تابع محمدﷺ ہیں مگر رتبہ میں برابر ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ میں امتی بھی ہوں اور خود بھی نبی ہوں اور میری نبوت خاتم النبیین کے برخلاف نہیں کیونکہ میں بہ سبب متابعت محمدﷺ کے عین محمد ہوں۔ (دیکھو ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، ٨ خزائن ج ١٨ ص ٢١١۔ ٢١٢) پھر ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں مجھ کو الہام ہوا۔ اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ۔ ترجمہ۔ مرزا قادیانی جو لوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ تجھ سے نہیں بلکہ خدا سے بیعت کریں گے۔ خدا کا ہاتھ ہو گا جو ان کے ہاتھ پر ہوگا۔ (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٨٥٥ خزائن ج ٣ ص ٥٦٥) یہ قرآن کی آیت ہے جو پہلے اصلی محمدﷺ پر نازل ہوئی اور پھر نقلی محمد پر الہام ہوئی۔ (معاذ اللہ)
(٢٠) تفاسیر قرآن شریف واحادیث خلاف اقوال و افعال میرے ردی ہیں الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ ”میرے اس دعویٰ کی حدیث پر بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے اوپر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کی معارض نہیں۔“ (اعجاز احمدی ص ٤٠ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠) اس عبارت سے مرزا قادیانی کا صاف مطلب ہے کہ جو حدیث میری وحی کی معارض ہے وہ حجت شرعی نہیں۔ مثلاً مرزا قادیانی نے اپنی تصویر بنوائی اور بت پرستی کی بنیاد ڈالی۔ مرزا قادیانی کے اس فعل کے مقابل رسول اللہﷺ کی سب حدیثیں جو بت پرستی اور تصویر سازی کی ممانعت میں ہیں۔ مرزائیوں کے اعتقاد میں ردی ہیں۔ مرزا قادیانی اعجاز احمدی میں لکھتے ہیں۔ ہم نے علم اس سے لیا کہ وہ حی و قیوم اور واحد لاشریک ہے اور تم لوگ مردوں سے روایت کرتے ہو۔ (اعجاز احمدی ص ٥٧ خزائن ج ١٩ ص ١٦٩)
(٢١) قول مہدی کا واجب التصدیق ہے خواہ عقل ونقل کے مخالف ہو۔ الخ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کے مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔ (دیکھو کشتی نوح ص ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
ناظرین! مرزا قادیانی کا قول عقل ونقل سے کس قدر دور ہے کہ مرد کو حمل ہو اور پھر والدہ اور مولود ایک ہی شخص ہو۔ مگر افسوس تعلیم یافتہ ہونے کے مدعی مرزا قادیانی کو۔
(٢٢) شیخ جونپوری اور محمد پورے مسلمان ہیں اور سب انبیاء ناقص الاسلام ہیں الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کوئی نبی نہیں جس نے کبھی نہ کبھی اپنے اجتہاد میں غلطی نہ کھائی ہو۔ (دیکھو اعجاز احمدی ص ٢٤ خزائن ج ١٩ ص ١٣٣) مرزا قادیانی نے یہ کمال کیا ہے کہ لکھتے ہیں۔
جھوٹا
”ایسا ہی آپ نے یعنی محمد ﷺ نے امت کو سمجھانے کے لیے خود اپنا غلطی کھانا بھی ظاہر فرمایا ہے۔“
(ازالہ حصہ اول ص ٧٠ خزائن ج ٣ ص ٣١١)
- (٢٣) جب تک خدا کو نہ دیکھے مومن نہیں ہے الخ۔ یہی مرزا قادیانی لکھتے ہیں خدا تعالیٰ
ان سے قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ سے جو نور محض ہے اُتار دیتا ہے۔ (دیکھو ضرورت امام ص ١٣ خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣) حقیقت الوحی میں لکھتے ہیں اور پورے طور پر چہرہ احدیت ظاہر ہوتا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٢٣ خزائن ج ٢٢ ص ٢٥)
- (٢٤) آٹھ پہر کے ذکر کرنے والا کامل مومن ہے الخ۔ مرزا قادیانی بھی زبانی تو کہتے
ہیں اور لکھتے ہیں۔ مگر عمل ندارد ہے۔ کشتی نوح کے صفحہ ١١ پر لکھتے ہیں۔ ”خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو اور مخلوق کی پرستش نہ کرو اور اپنے مولیٰ کی طرف منقطع ہو جاؤ اور دنیا سے دل برداشتہ رہو۔ اسی کے ہو جاؤ۔ اور اسی کے لیے زندگی بسر کرو۔“ (کشتی نوح ص ١١ خزائن ج ١٩ ص ١٢) مگر افسوس کہ عمل اس کے برعکس ہے۔ تمام زمانہ زندگی اثبات مسیحیت و مہدویت میں خرچ کیا اور وفات مسیح اس واسطے ثابت کرتے ہیں کہ عیسیٰ مرے اور مرزا قادیانی مسیح ثابت ہو۔ ہر ایک ان کے مرید کی عبادت اور ذکر خدا یہی ہے۔ مرزا قادیانی بیعت کے وقت اقرار لیتے ہیں کہ مرزائیت کی اشاعت کروں گا۔
(دیکھو شرائط بیعت مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٨٩)
- (٢٥) دنیاوی اسباب اگرچہ حلال و مباح ہوں۔ ان سے مشغول ہونے والا کافر ہے۔ مرزا
قادیانی کشتی نوح میں لکھتے ہیں ہر ایک جو اس کے (خدا) کے لیے غیرت مند نہیں۔ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ دنیا پر کتوں یا چیونٹیوں یا گدھوں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں۔ وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔ (کشتی نوح ص ١٢ خزائن ج ١٩ ص ١٣) مگر افسوس خود مرزا قادیانی دنیا کے ہر ایک اسبابِ عیش سے مالا مال رہے۔ ہزاروں روپے کے عورت کے طلائی زیورات۔ کھانے کو لذیذ و مرغن قیمتی کھانے۔ قوۃ کی یاقوتیاں کیوڑے کی گاگریں۔ انگریزی ٹانک ادویہ وغیرہ اسباب تنعم استعمال فرماتے رہے۔ رہنے کے واسطے وسیع اور عمدہ گھر۔ کیا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُون اسی کا نام نہیں۔ یعنی ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے۔
- (٢٦) ہجرت فرض ہے الخ۔ مرزا قادیانی نے ترک وطن نہیں کیا بلکہ فریضہ حج تک بھی ادا
نہ کیا کیونکہ طبیعت آرام طلب واقع ہوئی تھی۔ نماز بھی وقت پر ادا نہ کرتے اور جمع کر کے پڑھتے اور فرماتے کہ ”مسیح کے لیے نمازیں جمع کرنے کا حکم ہے۔“ مگر شاعرانہ
٤٠
مضمون نویسی کے ذریعہ سے متابعت محمد سے محمد ہو گئے اور نبوت کاذبہ کا دعویٰ کیا جو کہ انھیں کا حصہ تھا۔
(٢٧) ”شیخ جونپوری کو نبی و رسول صاحب شریعت جانتے ہیں الخ۔“ مرزا قادیانی کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ خود نبی و رسول ہوں مگر تابع شریعت محمد ﷺ ہوں اور قادیانی جماعت کے پیرو اپنی کتاب حقیقت نبوت کے ص ١٨٧ پر نہایت دلیری سے لکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا ختم ہونا جو عقیدہ رکھتا ہے وہ لعنتی و مردود ہے۔“ افسوس ایسے لوگوں پر کہ تمام سلف صالحین کو مورد لعنت قرار دیا ہے۔
مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ میری وحی میں اوامر بھی ہیں اور نہی بھی اور اسی کا نام شریعت ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ صاحب شریعت نبی ہونے کے مدعی تھے۔
(٢٨) مہدی موعودؓ تابع نام نبی ﷺ کے ہے بلکہ معصوم عن الخطا ہیں۔ الخ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں ؎
بخدا پاک دانمش ز خطا
(درثمین ص ١٧٢)
یعنی جو کچھ میں وحی خدا سے سنتا ہوں خدا کی قسم اس کو خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے۔ جو پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی اور میرے لیے اس نعمت کا پانا ناممکن تھا اگر میں اپنے سید و مولا فخر الانبیاء اور خیرالوریٰ حضرت محمد مصطفے ﷺ کے راہوں کی پیروی نہ کرتا سو میں نے جو کچھ پایا اس کی پیروی سے پایا۔ الخ۔
(حقیقت الوحی ص ٦٢ خزائن ج ٢٢ ص ٦٤)
(٢٩) کسی مجتہد یا مفسر کا قول موافق حکم مہدی کے نہ ہو تو وہ قول غلط ہے۔ الخ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ ”جو شخص (یعنی میں) حکم ہو کر آیا ہے۔ اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پا کر قبول کرے اور جس کو چاہے ردی کر دے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٠ خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ)
(٣٠) مہدی نے فرمایا ہے جو کچھ بیان کرتا ہوں خدا کے حکم سے کرتا ہوں۔ الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ ”کیا ہی بدقسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیاں کیں۔“ الخ
(کشتی نوح ص ١٢ خزائن ج ١٩ ص ١٤)
٤١
- (٣١) شیخ جونپوری بعض صفات الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے شریک الخ۔ مرزا قادیانی بھی
لکھتے ہیں۔ زمین و آسمان و انسان کے پیدا کرنے میں میں خدا کا شریک ہوں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ میں نے پہلے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ. پھر میں نے کہا کہ ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔
(کتاب البریہ ص ٧٩ ج ١٣ ص ١٠٣)
- (٣٢) دنیا میں چند چیزیں ایسی ہیں کہ مخلوق خدا نہیں الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ
یہ عالم خدا کے اعضاء کی مانند ہے۔ پس جس طرح خدا کا کوئی خالق نہیں۔ اسی طرح اس کے اعضاء کا بھی کوئی خالق نہیں۔ مرزا قادیانی کے مذہب میں۔ جب عالم خدا کے اعضاء کی طرح ہے تو جس طرح خدا کے اعضاء مخلوق نہیں۔ عالم بھی مخلوق نہیں۔
(توضیح مرام خزائن ج ٣ ص ٩٠)
- (٣٣) دربار نبوت میں اگر ایک صدیق تھا تو یہاں دو ہیں۔ الخ مرزا قادیانی کے مرید
بھی اپنے آپ کو صحابہ کرام کے ہم رتبہ سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے وَاٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ. سے میری جماعت مراد ہے اور چونکہ میری جماعت صحابہ کے رنگ میں ہے؟ (خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨ ج ١٦ ص ایضاً) اس لیے میں نبی ہوں حکیم نور الدین مرزا جی کا پہلا خلیفہ اپنے آپ کو صدیق زعم کرتا تھا۔ مرزا جی کے دلائل بھی لغویت میں سید محمد جونپوری سے کم نہیں کہ مرزا قادیانی مریم سے عیسیٰ بنائے گئے۔ حمل ہوا وغیرہ۔
- (٣٤) ہر چہ بیاں کنم یعنی جو کچھ میں بیان کرتا ہوں اس کے ایک حرف کا بھی جو منکر
ہے عند اللہ ماخوذ ہو گا۔ الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی کہ آخری زمانہ میں میری امت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا اور آنحضرت ﷺ نے یہ بھی خبر دی تھی کہ میں معراج کی رات مسیح ابن مریم کو دیکھ آیا ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ١٦٤ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨) افسوس مرزا قادیانی کو جھوٹ لکھنے سے کچھ خوف خدا نہ آیا۔ مرزا جی کا کوئی مرید بتائے کہ رسول اللہ ﷺ نے کہاں فرمایا ہے کہ مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ہو گا وہ تو حدیثوں میں حضرت عیسیٰ کا آسمان سے نازل ہونا فرماتے ہیں۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ مسیح موعود ماں کے پیٹ سے پیدا ہو گا۔ وہاں تو ہر ایک حدیث میں عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ مذکور ہے۔ شکر ہے کہ معراج کا ذکر مرزا قادیانی نے خود کیا ہے۔ معراج والی حدیث میں ہی ذکر ہے کہ میں
٤٢
نے عیسیٰ ابن مریم کو دیکھا اور موسیٰ و ابراہیم کو بھی دیکھا۔ قیامت کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ سب نے کہا کہ کسی کو علم نہیں کہ قیامت کب ہو گی۔ پہلے بات حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ڈالی گئی۔ انھوں نے فرمایا کہ مجھ کو خبر نہیں۔ پھر بات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ڈالی گئی۔ انھوں نے بھی فرمایا کہ مجھ کو علم نہیں۔ پھر بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم پر ڈالی گئی۔ انھوں نے بھی کہا کہ مجھ کو علم نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مجھ کو حکم ہے کہ جب دجال نکلے گا تو میں اس کو اس حربہ سے قتل کروں گا۔ (ابن ماجہ ص ٢٩٩) وہ حربہ بھی دکھایا گیا۔ کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ وہاں بھی مرزا جی ہی دکھائی دیے تھے۔
اس حدیث سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم نبی ناصری کا اصالتاً نزول ہو گا اور انہی کے ہاتھ سے دجال قتل ہو گا اور مرزا قادیانی کی سب تاویلیں جو انھوں نے اپنی مسیحیت و مہدویت کے واسطے کی ہیں۔ سب غلط ہیں۔ کیونکہ خلاف انجیل و قرآن و احادیث و اجماع امت اور ان کے اپنے بیان مندرجہ ”براہین احمدیہ“ کے خلاف ہیں۔ یہ بات نادان سے نادان مسلمان بھی جانتا ہے کہ جو الہام قرآن اور حدیث اور انجیل و اجماع امت کے برخلاف ہو وہ کسی طرح خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ پس مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ہرگز پیدا نہیں ہو گا۔ مرزا قادیانی اپنے الہام پر دھوکا خوردہ ہیں اور اپنے الہام کو جو ظنی ہے قطعی اور یقینی زعم کرتے ہیں۔
(٣٥) ”مجذوب نے شاہ بھیک سے کہا کہ پرانے خدا پر معتقد ہو گئے ہو۔“ الخ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ ہم قبول نہیں کر سکتے کہ الہام کی سرے سے ہی بساط الٹ دی جائے اور ہمارے ہاتھ صرف ایسے قصے ہوں جن کو ہم نے بچشم خود دیکھا نہیں۔ ظاہر ہے کہ جبکہ ایک امر صدہا سال سے قصے کی صورت میں ہی چلا آئے اور اس کی تصدیق کے لیے کوئی تازہ نمونہ پیدا نہ ہو۔ الخ۔ (ضرورۃ الامام ص ٢١ خزائن ج ١٣ ص ٤٩١) مزید لکھتے ہیں۔ اس انعام کو لینے وحی مطہر کو پانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ہستی سے مر جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے نئی زندگی پاتے ہیں اور اپنے نفس کے تمام تعلقات توڑ کر خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔ تب ان کا وجود مظہر تجلیات الہیہ ہو جاتا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٥٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٥) مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ جدید خدا و جدید وحی ہر زمانہ میں ضروری ہے جو اس شعر کے ہم معنی ہے ؎
ہر لحظہ مرا تازہ خدائے دگر است
٤٣
(٣٦) شیخ جونپوری کے اصحاب کا اتفاق ہے کہ محمدﷺ و مہدی ایک ذات ہیں۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ محمد امام زمان تھا۔ (ضرورۃ الامام ص ٥ خزائن ج ١٣ ص ٤٧٥) اور میں بھی امام زمان ہوں۔
(دیکھو ضرورۃ الامام ص ٢٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
(٣٧) میاں اخوند میر نے کہا کہ تمام عالم میں دو مسلمان ہیں۔ محمدﷺ و مہدی الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ میرا وجود نبی کریم کا وجود ہو گیا۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٩ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
(٣٨) مہدیت و نبوت میں صرف نام کا فرق ہے۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ امام زمان کے لفظ میں نبی و رسول و مجدد سب داخل ہیں۔ اور میں امام زمان ہوں۔
(ضرورۃ امام ص ٢٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
(٣٩) بارہ برس تک حکم ہوتا رہا کہ تو مہدی ہے مگر میاں ٹالتے رہے الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ ’’میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد و مد سے مسیح موعود قرار دیا ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
(٤٠) من اتبعنی فھو مؤمن یعنی جس نے میری تابعداری کی وہ مؤمن ہے۔ الخ۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں۔ ’’میں اسم احمد میں آنحضرت ﷺ کا شریک ہوں۔ اس لیے انکار کفر تک نوبت پہنچتی ہے۔ لہٰذا جیسا کہ مؤمن کے لیے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے۔ ایسا ہی اس بات پر ایمان لانا فرض ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دو بعثت ہیں۔ ایک بعثت محمدی دوسری بعثت احمدی جو جمالی رنگ میں ہے۔ جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے۔ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد. اس نے پہلے فرمایا اور مہدی و مجدد و مسیح موعود پر آنحضرت ﷺ کا بعثت دوم موقوف ہے۔
(تشحیذ الاذہان نمبر ٩ ماہ ستمبر ١٩١٥ء)
ناظرین کرام! اس آخری عبارت مرزا قادیانی سے ذیل کے امر ثابت ہیں۔
(اوّل)...... مرزا قادیانی کا مذہب کہ جو مسلمان مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ مومن نہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام روئے زمین کے مسلمان کافر ہیں کیونکہ مرزا قادیانی اسم احمد میں محمد کے شریک ہیں۔ پس مرزا قادیانی کا منکر حقیقت میں احمد جو آنے والا تھا اس کا منکر ہے اور خارج از اسلام ہے۔ مگر لاہوری جماعت مسلمانوں کو دھوکہ دیتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو کافر نہیں کہتی۔
٤٤
- (دوم)...... محمد ﷺ کی دو بعثت ہیں۔ ایک بعثت اوّل جو عرب میں ہوئی اور دوسری
بعثت ثانی جو پنجاب قادیان میں ہوئی۔ پہلی بعثت میں محمد کے نام سے موسوم ہوئی اور دوسری بعثت میں غلام احمد ہو کر جلوہ افروز ہوئے۔
- (سوم)...... پہلی بعثت میں صاحب شریعت نبی ہوئے اور دوسری بعثت میں شریعت چھنوا
کر آئے۔ لا حول ولا قوۃ، یہ ہتک رسول اللہ ﷺ ہے۔
- (چہارم)...... پہلے بعثت میں اشرف قوم قریش میں تشریف لائے اور بعثت ثانی میں
چنگیز خان کی اولاد سے مغل بن کر درشن دے۔ پہلی بعثت میں نبی اور ثانی بعثت میں امتی یہ ترقی معکوس کیوں ہوئی؟ اس میں رسول اللہ ﷺ کی ہتک ہے۔
- (پنجم)...... پہلی بعثت میں خاتم النبیین ہو کر ظہور پذیر ہوئے۔ ثانی بعثت میں مثیل عیسیٰ
ہو کر پہنچ گئے جو کہ سخت ہتک محمد ﷺ ہے۔
اب ہم ذیل میں ہر ایک امر پر بحث کر کے ثابت کرتے ہیں کہ یہ خیالات شاعرانه ہیں اور بالکل لغو اور پایہ عقل و نقل سے گرے ہوئے ہیں اور اہل ہنود و آریہ اور عیسائیوں کی سی باتیں ہیں۔ جن کی قرآن شریف نے بڑی سختی سے تردید کی ہے۔ اوّل مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ اوّل بعثت ثانی کا ایسا ڈھکوسلا ہے جو کہ عقلاً و نقلاً باطل ہے۔ نقلاً تو اس واسطے کہ قرآن شریف نے فرمایا ہے۔ فیمسک التی قضا علیھا الموت۔ (الزمر ٤٢) یعنی جس کو ایک بار مار دیا پھر اس کو دنیا میں نہیں بھیجے گا۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں۔ سو یہ بات اس کے سچے وعدہ کے برخلاف ہے کہ مردوں کو پھر دنیا میں بھیجنا شروع کر دے۔ (ازالہ ص ٥٤٤ خزائن ج ٣ ص ٣٨٧) پس اس نص قرآنی سے ثابت ہے کہ مردے پھر دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجے جاتے۔ جس سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا دوبارہ اس دنیا میں تیرہ سو برس کے بعد آنا باطل ہے۔ مرزائی اس کا جواب دیا کرتے ہیں کہ بروز کے طور پر آنا ہے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ بروز اور اوتار ایک ہی بات ہے جو کہ اسلام میں جائز نہیں۔ اوتار ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔ جس کا ترجمہ بروز ہے۔ بروز کے معنی پردہ سے ظاہر ہونا ہے اور وہ تین قسم کا ہو سکتا ہے۔ ایک بروز جسمانی اور وہ یہ ہے کہ ایک بزرگ جو مر گیا ہے وہ مع جسم قبر سے نکل کر آئے اس کے اس ظہور جسمی کو ظہور جسمانی کہتے ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص مر جائے اور پھر وہ بمعہ جسم قبر سے زندہ برآمد ہو۔ قیامت اور یوم الحساب سے پہلے۔ دوسرا بروز روحانی ہے اور وہ یہ ہے کہ گذشتہ آدمی کی روح جو دنیا سے گزر چکی ہے۔ دوبارہ اس
٤٥
دنیا میں آ کر کسی غیر جسم میں ظہور کرے اور یہی وہ ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔ جس کا نام تناسخ ہے جو کہ باطل ہے۔ تیسرا بروز صفاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک گذشتہ بزرگ کی صفات ایک دوسرے شخص میں پائی جائیں اور اسی کا نام توارد صفات ہے۔ اس کو کوئی عقلمند حقیقی بعثت نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہر ایک انسان میں بھلی یا بری صفتیں ضرور ہوتی ہیں کوئی شخص سخاوت کرے گا تو حاتم کا بروز صفاتی ہوگا۔ یہ نہیں کہ اس کو حاتم کی بعثت ثانی کہا جائے گا۔ اسی طرح اگر غرور نفس وتکبر کرے گا تو اس کو فرعون کا بروز کہا جائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ حقیقی فرعون ہوگا۔ یا فرعون کی بعثت ثانی تسلیم کی جائے گی۔ پس اگر بفرض محال (نعوذ باللہ) مرزا قادیانی میں محمدﷺ کی صفات ہوں بھی تب بھی وہ بروز صفاتی محمدﷺ ہوں گے۔ نہ حقیقت میں محمدﷺ مگر ساتھ ہی تکبر و غرور نفس کی صفات کے باعث فرعون کا بھی بروز ہوں گے اور اصل میں غلام احمد قادیانی ہوں گے اور بری صفات کے باعث بروزی فرعون ہوں گے۔ مگر اس کو بعثت ثانی نہ کہا جائے گا۔ مسلمانوں میں جو بعض صوفیا بروز کے قائل ہیں۔ وہ صرف صفاتی بروز کے قائل ہیں۔ مثلاً کسی شخص کو مصیبت کے برداشت کرنے میں صابر پائیں گے۔ تو اس کو بروز حضرت ایوب علیہ السلام کہیں گے مگر حقیقتاً نہ وہ نبی ہو گا نہ نبی کہلائے گا۔ صرف ادنیٰ صفت کے اشتراک کے باعث صرف وہ مشبہ ہو گا اور یہ ہرگز جائز نہیں کہ مشبہ و مشبہ بہ میں مشارکت تامہ ہو اور مشبہ اور مشبہ بہ بھی ایک ہی وجود ہو سکے۔ پس مرزا قادیانی نے یہ خلاف اصول اسلام بعثت ثانی محمدﷺ کا مسئلہ بطور بدعت ایجاد کیا ہے اور كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِی النَّارِ۔ حدیث نبوی ہے۔ مسلمان اس کو ہرگز تسلیم نہیں کر سکتے۔ یہ بروز کا مسئلہ عیسائی مذہب سے پہلے روما میں اعتقاد کیا جاتا تھا۔ ڈریپر صاحب معرکہ مذہب و سائنس میں لکھتے ہیں کہ ”مشرق میں اوتاروں نے اور مغرب میں انسانوں نے دیوتاؤں کا روپ دھارا“ ایشیاء کا اگر یہ قاعدہ تھا کہ دیوتا آسمان سے اتر کر انسانی قالب میں بروزی رنگ کے اندر ظاہر ہوتے تھے۔ تو یورپ میں انسان زمین سے صعود کر کے آسمان پر چلا جاتا۔ الخ
(دیکھو معرکہ مذہب و سائنس مترجمہ مولوی ظفر علی صاحب ایڈیٹر زمیندار ص ٢٨ باب دوم)
جب مسئلہ بروز و اوتار خود باطل ہے تو جو امر اس مسئلہ کے ذریعہ سے ثابت کیا جائے گا وہ بھی باطل ہوگا۔
(سوم)...... یہ امر ثابت ہوا کہ حضرت محمدﷺ رسول اللہﷺ کی بعثت ثانی اگر مرزا قادیانی میں تسلیم کی جائے تو حضورﷺ کی سخت ہتک ہے اور کسر شان ہے۔
٤٦
- (الف)...... رسول اللہ ﷺ کا تنزل ہو گا کہ آپ صاحب شریعت نبی و رسول ہونے کے
مرتبہ عالی سے گرا کر نیم نبی بنائے گئے۔ یعنی نصف نبی اور نصف امتی۔
- (ب)...... خاتم النبیین افضل عہدہ سے تنزل کر کے آپ کو مثیل عیسیٰ بنایا گیا۔
- (ج)...... تلوار اور شجاعت کی صفت سے محروم کر کے حضور ﷺ کو ایک پنجابی نبی بنایا گیا
کہ تلوار نام لینا بھی جرم ہے۔ (نعوذ باللہ)
- (ہ)...... شہنشاہیت عرب و عجم سے محروم کر کے حضور ﷺ کو انگریزوں یعنی نصاریٰ کی
رعیت بنایا گیا۔ (معاذ اللہ) افسوس جب کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں۔ باوجود نبی و رسول ہونے کے شمار میں ہوں گے تو مرزائی برافروختہ ہو کر جواب دیتے ہیں کہ مسیح کا کیا قصور ہے کہ اس کی نبوت چھین کر ان کو امتی بنایا جائے؟ حالانکہ اس میں شان محمدی ظاہر کرنا مقصود خداوندی ہے مگر خود ایسا کفریہ عقیدہ ایجاد کیا ہے کہ محمد ﷺ افضل رسل کو نبوت سے معزول کر کے مثیل عیسیٰ بنایا جائے اور اس کے غلام کو یہ مرتبہ دیا جائے کہ اب مدار نجات اس کی بیعت اور تعلیم مشرکانہ اور وحی کفریہ پر ہے۔
- (چہارم)...... یہ امر ثابت ہوا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پہلے بعثت میں سید القوم
قریش میں پیدا ہوئے اور بعثت ثانی میں چنگیز خان کی اولاد میں تنزل کیا جو کہ حضور ﷺ کی سخت توہین ہے۔
- (پنجم)...... یہ امر ثابت ہوا کہ ہندوؤں کے مسئلہ اوتار کی پہلی بعثت میں تو تردید فرمائی
اور دوسری بعثت میں مرزا کے وجود میں آ کر مسئلہ اوتار کی تصدیق کی اور خود نعوذ باللہ کرشن جی جو ہندو مذہب کی رو سے تناسخ کا قائل اور قیامت کا منکر تھا۔ اس کا اوتار بن کر آئے۔ مرزا قادیانی کے اس بیان میں اختلاف بھی ہے۔ جو کہ دلیل اس بات کی ہے کہ یہ تمام کارروائی خدا کی طرف سے نہ تھی۔ اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو اس میں اختلاف نہ ہوتا اوپر تو کہتے ہیں جو مجھ کو نہیں مانتا۔ وہ کافر ہے اور دوسری طرف لکھتے ہیں۔ ’’جاننا چاہیے کہ مسیح کے نزول کا کوئی ایسا عقیدہ نہیں۔ جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ (دیکھو ازالہ اوہام حصہ اول ص ١٤٠ خزائن ج ٣ ص ١٧١)
پیر مدثر شاہ صاحب! فرمائیں کہ مرزا قادیانی کی کونسی بات درست ہے؟ اگر پہلی درست ہے تو بعد کی جھوٹ ہے اور اگر بعد کی درست ہے تو پہلی جھوٹ؟ نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی جو بیعت کرے گا اور ان کی جماعت میں شامل ہو گا۔ وہ گمراہ اور
٤٧
محمد رسول اللہ ﷺ کے جھٹلانے والا ہو گا۔ مورد عذاب الٰہی ہو گا۔ کیونکہ جب بروز قیامت خدا تعالیٰ مرزائیوں سے پوچھے گا کہ تم نے غلام احمد قادیانی کو عیسیٰ بن مریم کیوں مانا۔ تو مرزائیوں کا کوئی جواب تسلی بخش نہ ہو گا اور مسلمانوں سے اگر پوچھا جائے گا کہ تم نے مرزا غلام احمد کو کیوں نہیں مانا تو مسلمان کہیں گے کہ خداوندا اوّل تو وہ مرزا عیسیٰ ابن مریم نہ تھا۔ دوم وہ نہ نبی تھا نہ رسول۔ سوم اس نے خود لکھا تھا کہ نزول مسیح کا عقیدہ نہ تو جزو ایمان ہے اور نہ ارکان دین میں کوئی رکن دین ہے تو اس وقت ہم تمام روئے زمین کے مسلمان تو نجات پائیں گے کیونکہ ہم پر قطع حجت نہ ہو گی کیونکہ قادیان کے معنی دمشق اور ابن مریم کے معنی غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ کسی قاعدہ سے درست نہیں ہیں اور نہ بسبب انکار مرزا کے ماخوذ ہوں گے کیونکہ مرزا قادیانی کے انکار سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہو سکتا اور یہ مرزا قادیانی کا اپنا فیصلہ ہے۔
میر مدثر شاہ صاحب! غور فرمائیں کہ کسی اولیائے امت نے بھی ایسی ایسی تحریریں کی ہیں کہ جو مجھ کو نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور جو مجھ کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ اولیائے اللہ کے منہ سے بحالت سکر کوئی کلمہ خلاف شرع نکلتا ہے تو وہ توبہ کرتے ہیں اور مرزا قادیانی صحو اور بیداری اور ہوشیاری میں شرک و کفر کے کلمات کہتے ہیں اور جب علمائے اسلام اس پر کفر کا فتویٰ دیتے ہیں تو وہ سب کو گالیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مخالف مولویوں کا منہ کالا کر دیا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨ خزائن ج ١١ ص ٣٤٢) یہ ہے فرق اولیائے امت میں اور مرزا قادیانی میں۔ میر مدثر شاہ صاحب! انصاف فرمائیں کہ مرزا قادیانی کو اولیائے امت کی فہرست میں لانے میں وہ حق پر ہیں یا باطل پر؟ ذرا سوچ کر فیصلہ کریں کہ ابلیس نے بھی گناہ کیا اور آدمؑ نے بھی گناہ کیا۔ ابلیس نے تکبر و غرور کیا اور حضرت آدم علیہ السلام نے توبہ کر کے گناہ کا اقرار کیا اور عرض کی۔ ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفر لنا و ترحمنا لنكونن من الخسرين (الاعراف ٢٣) اور پچھتایا اور گڑگڑا کر معافی مانگی۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز ہرگز نہیں۔ ایسا ہی مرزا قادیانی اور اولیائے امت برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ معافی مانگتے ہیں اور مرزا قادیانی علماء کو گالیاں دیتے ہیں۔ میر مدثر شاہ صاحب نے آخیر میں مرزا قادیانی کی ایک عبارت لکھی ہے جو کہ حضرت امام حسینؓ کی تعریف میں ہے۔ مگر ہم نہایت ادب سے پوچھتے ہیں کہ آپ ایسے شخص کے حق میں کیا کہتے ہیں کہ جو پہلے امام حسینؓ کی سخت ہتک کرے اور اپنی فضیلت اس پر ظاہر کرے اور جب اعتراض کیا جائے
٤٨
تو نہایت نخوت اور غرور سے کہے کہ تمہارا حسینؓ تو مخلوق کا کشتہ تھا اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ تمہارا حسینؓ نامرادی کے ساتھ دشت کربلا میں قتل ہوا اور میں کامیابی سے فتحمند ہوں۔ مرزا قادیانی کے اصل اشعار عربی میں نقل کر کے آپ سے پوچھتا ہوں کہ ایسے شخص کے ایمان کا کیا ٹھکانا ہے؟ کہ ایک طرف تو کہتا ہے کہ امام کے تقویٰ اور محبت الٰہی اور صبر و استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم امام کی ہدایت کی اقتدا کرنے والے ہیں الخ۔ ص ٤٦ ملفوظات اولیائے امت۔ دوسری طرف یہ کہتا ہے۔
فانی اؤيد كل آن وانصر
ترجمہ۔ مرزا قادیانی مجھ سے اور تمھارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔
ترجمہ۔ مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرو۔ اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو۔
و ربی واعصم من لئام تنمروا
ترجمہ۔ میں خدا کے فضل سے اس کے کنار عاطفت میں پرورش پا رہا ہوں اور ہمیشہ لئیموں کے حملہ سے جو پلنگ صورت ہیں بچایا جاتا ہوں۔
فوالله انی احفظن و اظفر
ترجمہ۔ اور اگر دشمن تلواروں اور نیزوں کے ساتھ میرے پاس آئیں۔ پس بخدا بچایا جاؤں گا اور مجھے فتح ملے گی۔
(دیکھو اعجاز احمدی ص ٦٩ خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
میر مدثر شاہ صاحب! فرمائیں کہ کسی اولیائے اللہ نے ایسی گستاخی اولادِ رسول ﷺ کی کی ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر مرزا قادیانی اولیائے امت سے کیسے ہوئے؟ ہاں وہ تو یزید ہو سکتے ہیں کیونکہ یزید کثرت لشکر کے باعث فتح مند ہوا تھا اب ہم ذیل کی مماثلت یزید سے ان کے ہی الفاظ سے ثابت کرتے ہیں۔
(اوّل)......مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ مجھ میں اور حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے خدا کی مدد مل رہی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت حسینؓ کے مقابل یزید کو مدد ملی تھی اور وہ فتحمند ہوا تھا اور امام کی شہادت ظہور میں آئی تھی۔
٤٩
(دوم)...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں حسینؓ دشت کربلا میں شہید ہوا جس مظلوم کی یادگار میں اب تک روتے ہیں اور میں خدا کے فضل سے اس کی کنار عاطفت میں ہوں۔ کربلا کے واقعہ جانگداز کے وقت خدا کی عاطفت میں یزید ہی تھا اور خاندان نبوت و آل رسول مصیبت میں گرفتار تھے۔ اگر معجزہ اسی کا نام ہے کہ اپنے بزرگان دین اور آل رسول ﷺ کی ہتک کی جائے تو تف ہے ایسے اعجاز پر اور افسوس ہے ایسے اسلام پر اگر آل رسول ﷺ کی ہتک کرنے والا جہنمی ہے تو بیشک یہ کلام بھی جہنم میں لے جانے والی ہے۔ افسوس ایسی لغو کلام کو معجزہ کہا جاتا ہے حالانکہ ایسی کلام کبھی معجزہ نہیں ہو سکتی۔ مرزا قادیانی نے پلنگ صورت غلط لکھا ہے۔ پلنگ سیرت ہونا چاہیے کیونکہ دشمنوں کی صورت نہیں بدلا کرتی۔ کیا مرزا قادیانی کے مخالف چیتے بن گئے تھے جو مرزا قادیانی نے ان کو پلنگ صورت لکھا۔ دوم مرزا قادیانی جھوٹ بولنے میں اعلیٰ درجہ کے ڈگری یافتہ تھے کیونکہ خدا کی قسم کھا کر جھوٹ بولتے ہیں۔ کوئی ان کا مرید بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے حضرت حسینؓ جیسی مصیبت برداشت کی؟ مگر مخبوط الحواس ایسے ہیں کہ اپنی ہی قلم سے اس فتح کی تردید کرتے ہیں۔ دیکھو ان کا شعر فارسی ؎
صد حسین است در گریبانم
(درثمین ص ١٧١)
یعنی میں ہر وقت کربلا کی سیر کرتا ہوں اور سو حسینؓ میرے گریبان میں ہے وارے سلطان القلم تیری عربی فارسی اور تکلم شاعرانہ اور غلط بیانی اور قسم کھا کر جھوٹ بولنا، اور ان لوگوں کے سامنے جو جانتے ہیں واقعی ایسے کاذب کی نظیر کم ملے گی۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی عمدہ عمدہ مقوی غذائیں اور دوائیں کھاتے۔ کھس کی ٹٹیوں میں استراحت کرتے۔ ٹانک اور ادویہ استعمال کرتے۔ سواری بھی ریل گاڑی کی اعلیٰ درجہ کی استعمال کرتے۔ چاہے دجال سے مشابہت ہوتی کیونکہ ریل گاڑی دجال کا گدھا الہامی افتراء سے ان کو معلوم ہوا تھا۔ (ازالہ اوہام ص ١٤٦ خزائن ج ٣ ص ١٧١) خیر قصہ کوتاہ حضرت امام حسینؓ کا حال بھی ہر ایک مسلمان کو معلوم ہے کہ دشت کربلا میں بمعہ عیال و اطفال ایک قطرہ پانی سے ترس ترس کر تشنہ لب جاں بحق تسلیم ہوئے۔ مگر کاذب کا کذب دیکھو کہ ایسی آرام کی زندگی کو کربلاء کی سیر کہتا ہے۔ جس کو کبھی ایک سوئی کا زخم بھی نصیب نہ ہوا۔ وہ سید الشہداء سے سو درجہ زیادہ مصیبت میں ہے۔ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ اسی
٥٠
واسطے قرآن شریف میں ارشاد خداوندی ہے۔ صد حسین است در گریبانم بھی قادیانی خانہ ساز محاورہ ہے فارسی والوں کے نزدیک غلط ہے کیونکہ آج تک حسین کا گریبان میں ہونا کسی شاعر نے نہیں لکھا۔ ایک شاعر نے گریبان میں ہونا محاورہ لکھا ہے۔ مگر اس کے ساتھ طوق کا لفظ استعمال کیا ہے۔ وہ شعر یہ ہے؎
بطوق گردن شیطاں ز ہے طوق گریبانش
طوق گردن میں پڑا کرتا ہے۔ گریبان کا طوق نہیں ہوا کرتا۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کے مرید چونکہ عربی فارسی کے محاورات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی ہر ایک بات کو صحیح سمجھتے ہیں۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ فقد لبثت فیکم عمرا کی معیار سے مرزا قادیانی کو پرکھ لو ہم کہتے ہیں کہ جو شخص دعویٰ کر کے مہدی و مسیح ہو کر بھی اوّل درجہ کا جھوٹ بولنے والا ہے۔ اس کی موجودہ زندگی جب کذب ہے۔ کذب سے پاک نہیں ہے اور ہمارے اعتراضات اس کی موجودہ زندگی پر وارد ہو رہے ہیں۔ پہلے ان کا تو جواب دے کر مرزا قادیانی کو راستباز ثابت کرو۔ پھر پہلی عمر دیکھیں گے۔
اخیر میں میر مدثر شاہ صاحب نے مولانا ابو الکلام کی عبارت نقل کر کے ان پر بھی حملہ کیا ہے لکھتے ہیں ”جب مولانا جیسا عالم باعمل مجدد العصر کی شناخت سے قاصر رہے تو عوام کا کیا حال ہے۔“ الخ۔
الجواب: حضرت مولانا ابو الکلام تو شناخت سے قاصر نہیں رہے۔ انھوں نے تو لکھ دیا ہے اور خوب شناخت کر کے لکھا کہ ”بلاشبہ اس جماعت احمدیہ کے بعض عقائد صحیح نہیں۔ ہم ان عقائد و مسائل میں انھیں حق پر نہیں سمجھتے اور ان سے اختلاف کرتے ہیں۔“ اب ایک ضروری سوال ہوتا ہے کہ وہ کون سے عقائد و مسائل ہیں۔ جن سے مولانا ابو الکلام صاحب احمدی جماعت سے اتفاق نہیں کرتے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اوّل! تو احمدی جماعت اور مرزا قادیانی بانی جماعت، ختم نبوت کے منکر ہیں اور ختم نبوت کا منکر باجماع امت کافر ہے۔ دوم! مرزا قادیانی نبوت و رسالت کے مدعی ہیں اور یہ دعویٰ بھی مستلزم کفر ہے۔ کیونکہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ ضرور پہلے ختم نبوت کا منکر ہو گا اور منکر ختم نبوت باجماع امت کافر ہے جیسا کہ ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں۔ دیکھو رسالہ تائید اسلام بابت ماہ مارچ ١٩٢٤ء ص ١١ جس میں مرزا قادیانی کے سولہ اقوال والہامات ٥١
درج کیے ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت و رسالت کیا ہے۔ جب مدعی نبوت و رسالت بعد حضرت خاتم النبیین کے باجماع امت کافر ہے اور کافر کی بیعت ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ مولانا روم فرماتے ہیں
پس بہر دستے نبائد داد دست
یعنی بہت لوگ انسان شکل شیطانی صفتوں والے ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دینا چاہیے۔ یعنی ان کی بیعت نہ کرنی چاہیے۔ اب جو علمائے اسلام مسلمانوں کو روکتے ہیں کہ مرزا کی پیروی نہ کرو تو حق پر ہیں کیونکہ رسول خدا ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے۔ ایسے ایسے دجالوں سے پرہیز کرو اور ان سے میل جول نہ رکھو وہ حدیث یہ ہے ان بین یدی الساعۃ الدجال و بین یدی الدجال کذابون ثلثون او اکثر قال ما ایتہم وقال ان یاتوک بسنتہ لم تکونوا علیہا یغیرون بہا سنتکم دینکم فاذا رأیتموہم فاجتنبوہم و عادوہم رواہ الطبرانی عن ابن عمر۔ یعنی طبرانی نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے دجال ہو گا اور دجال سے پہلے تیس یا زیادہ کذاب ہوں گے پوچھا گیا کہ ان کی کیا علامت ہے فرمایا کہ وہ تمھارے پاس ایسا طریقہ لے کر آئیں گے۔ جو ہمارے طریقہ کے برخلاف ہو گا۔ جس کے ذریعہ سے وہ تمہارے طریقہ اور دین کو بدل ڈالیں گے۔ جب تم ایسا دیکھو تو تم ان سے پرہیز کرو اور عداوت کرو۔
(دیکھو کنز العمال ج ١٤ ص ٢١ حدیث ٣٨٢٨٠)
پس مرزا قادیانی جو کہ کاذبوں کی چال چلے ہیں۔ اس لیے کاذبوں کی فہرست میں آئیں گے نہ اولیاء اللہ کی فہرست میں۔ دیکھو ذیل کی فہرست۔
- (١) مسیلمہ کذاب نے کہا کہ میری کلام قرآن کی مانند بے مثل ہے اور قرآن بنایا جن کا
نام فاروق اوّل و ثانی رکھا۔
- (٢) صالح بن طریف نے بھی کہا کہ میری عربی بے مثل ہے۔ اس نے بھی قرآن بنایا۔
اس کے مرید اسی قرآن کی آیات نماز میں پڑھتے تھے۔
- (٣) محمد علی باب بھی کہتا تھا کہ میری کلام معجزہ ہے اور ہزار شعر ہر روز کہتا تھا۔ مرزا
قادیانی بھی انہی کذابوں کی چال چلے اور اپنی کلام کو معجزہ قرار دیا۔ علماء عصر نے جیسا کہ ان کذابوں کی غلطیاں نکال کر ان کو کاذب ثابت کیا تھا۔ مرزا قادیانی کو بھی کیا۔
- (دوم)....... تکفیر مسلماناں کرنا‘ سید محمد مہدی نے کہا کہ جو شخص مجھ کو مہدی نہیں مانتا وہ
٥٢
کافر ہے۔ (ہدیہ مہدویہ) اخرس کذاب نے کہا کہ جو مجھ کو نہیں مانتا وہ خدا اور محمد کو نہیں مانتا۔ اس کی نجات نہ ہو گی۔ (افادۃ الافہام ص ٢٦٨) حسن بن صباح کہتا تھا کہ میرا حکم خدا کے حکم کا مثیل ہے۔ جو مجھ سے روگردان ہوا وہ خدا سے روگردان ہوا۔ یہ کاذب ٣٥ برس دعوٰی کے ساتھ زندہ رہا اور ٥١٨ ہجری میں اپنی موت سے مرا۔ جس سے طبعزاد معیار کی تردید ہے کہ جھوٹے کو ٢٣ برس کی مہلت نہیں ملتی۔ مرزا قادیانی بھی فرماتے ہیں ”جو مجھ کو نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- (سوم)...... تنسیخ قرآن مسیلمہ کذاب نے ایک نماز معاف کر دی تھی۔ عیسیٰ بن مہدویہ
نے ملائکہ کو قوائے انسانی کہا۔ مرزا قادیانی نے بھی حضرت جبرائیل وغیرہ ملائکہ کو ارواح کواکب کہا۔
(توضیح مرام ص ٦٨ خزائن ج ٣ ص ٨٦)
- (چہارم)...... بروزی نزول کا عقیدہ۔ ابراہیم بذلہ فارس بن یحیٰی ابو محمد خراسانی وغیرہ
کذابوں کا بھی یہی مذہب تھا کہ عیسیٰ فوت ہو چکے۔ وہ نہیں نزول فرمائیں گے بروزی رنگ میں امت سے عیسیٰ ہو گا اور وہ میں ہوں۔ مرزا قادیانی کا بھی یہی مذہب ہے کہ میں بروزی رنگ میں عیسیٰ بن مریم ہوں۔
(کشتی نوح ص ٤٧ خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
- (پنجم)...... کسوف خسوف کو جو رمضان میں ہوا اس کو اپنی صداقت کی دلیل بنانا عباس
کاذب مدعی مہدویت کے وقت چاند اور سورج کو ٧٦٧ ہجری میں چاند اور سورج کو گہن ہوا ١٠٨٨ ہجری میں محمد نے دعوٰی مہدویت کیا اور ہر دو گہن اس کے وقت میں ہوئے۔ جس سے ثابت ہے کہ جب کبھی رمضان میں گہنوں کا اجتماع ہوا کوئی نہ کوئی جھوٹا مہدی کھڑا ہو گیا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے چاند و سورج گہن کو اپنی صداقت کی دلیل بنایا۔
- (ششم)...... نبوت کے دو قسم تشریعی و غیر تشریعی قرار دے کر خود غیر تشریعی نبوت کا دعوٰی
کرنا۔ حالانکہ لا نبی بعدی میں کوئی تقسیم نہیں گویا ہر ایک قسم کا نبی بعد حضرت خاتم النبیین کے منع ہے اور مدعی کاذب و کافر ہے۔ مگر سید محمد جونپوری مہدی نے متبع نبی ہونے کا دعوٰی کیا۔ دیکھو ہدیہ مہدویہ مرزا قادیانی نے بھی لکھا ہے کہ میرے دعوٰی نبوت سے مہر نبوت نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ میرا دعوٰی محمد کے تابع ہو کر ہے مگر یہ خبر نہیں کہ سب کاذبوں نے محمد کے تابع ہو کر ہی دعوٰی کیا ہے۔ حتٰی کہ مسیلمہ کذاب بھی اپنے آپ کو تابع قرآن و محمد کہتا تھا۔ سب کاذب یہی کہتے آئے ہیں اور حدیث کے الفاظ بھی یہی بتا رہے ہیں۔ فی امتی ثلثون کذابون یعنی میری امتی بھی کہلائیں گے اور نبی بھی۔
- (ہفتم)...... رسولوں کا ہمیشہ آنا جیسا کہ فرقہ منصوریہ کا بانی ابو منصور کہا کرتا کہ رسالت کبھی
٥٣
”منقطع نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی کی بھی یہی تسلیم ہے۔ چنانچہ حقیقت النبوت میں لکھا ہے:” آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا ختم ہونا جو عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ لعنتی اور مردود ہے۔ (حقیقت النبوۃ ص ١٨٧) لاحول ولا قوۃ۔ تمام سلف صالحین کیا ہوئے؟
- (ہشتم)...... قرآن کریم کی تفسیر اپنے طبعزاد ڈھکوسلہ سے کرنی۔ مغیرہ نے دعویٰ نبوت کیا
اور کہتا تھا کہ قرآن کے حقائق و معارف میری طرح کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ قرآن میں جو امانت کا ذکر ہے کہ کسی نے نہ اٹھائی اور انسان نے اٹھائی اس کا مطلب یہ ہے کہ امانت یہ تھی کہ حضرت علی کو امام نہ ہونے دینا الخ۔ مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں کہ والعصر کے اعداد میں بحساب قمری دنیا کی ابتدا سے محمد ﷺ تک ٤٧٤٠ برس ہوتے ہیں اور ساتھ ہی لکھتے ہیں کہ کسی مفسر نے ایسا نہیں لکھا۔ گویا مرزا کی اپنی رائے سے تفسیر ہے جو بالکل حرام ہے۔
- (نہم)...... قرآن کی آیات کا دوبارہ نازل ہونا۔ یہ یحییٰ کاذب مدعی نبوت کی چال ہے۔
جو مرزا قادیانی چلے۔ خواب میں یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک سنا تو مسیح موعود بن بیٹھے۔ (ازالہ اوہام ص ٣٩٠ خزائن ج ٣ ص ٣٠١) انک لمن المرسلین خواب میں سنا تو مرسل بن بیٹھے۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
- (دہم)...... اپنے مریدوں کو مہاجرین کہنا۔ یہ چال بھی کذابوں کی ہے۔ سید محمد جونپوری
مہدی کے ٣١٦ اصحاب مہاجرین کہلاتے تھے۔ مرزا قادیانی کے مریدوں سے جو قادیان میں رہائش اختیار کرتا ہے۔ مہاجر کہلاتا ہے۔
میر مدثر شاہ صاحب! فرمائیں کہ ایک شخص تو چال چلتا ہے کذابوں کی، اس کو اولیائے امت سے کیا مماثلت و مشارکت ہے۔ اس کو حق پر کیونکر مانا جائے؟ اگر مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو مسیلمہ سے لے کر مرزا قادیانی تک سب سچے ہوں گے اور یہ صریح باطل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خود مدعیان نبوت و مسیلمہ کی تکفیر کی ہے اور اس کے ساتھ جنگ کرنے کا صحابہ کرامؓ کو حکم دیا۔ پس ثابت ہوا کہ آپ نے جو مرزا قادیانی کی حمایت میں یہ کتاب لکھی ہے۔ سخت غلطی کی ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔
تمت بالخیر
٥٤
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
اظہار صداقت
(کھلی چٹھی بنام محمد علی و خواجہ کمال الدین لاہوری)
جناب بابو پیر بخشؒ
اظہار صداقت (کھلی چٹھی)
بنام
محمد علی و خواجہ کمال الدین
سرگروہ جماعت مرزائیہ لاہوری گروپ
مكرمنا السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى چونکہ آپ کی مرزائی جماعت کا سالانہ جلسہ بڑے دنوں کی تعطیلوں میں ہونے والا ہے۔ اس لیے آپ کی خدمت میں دعوت الی الحق دینے کی غرض سے چند سوالات لکھے جاتے ہیں تاکہ آپ ان کے جواب دے کر برادران اسلام کی تسلی فرمائیں کیونکہ یہ موقعہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو مطلع فرما کر مطمئن کریں۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کوئی دعویٰ بغیر دلیل کے مانا نہیں جاتا۔ یہ جو آپ کی جماعت کہتی ہے کہ ”ہم مرزا قادیانی کو دوسرے مجددوں کی طرح ایک امت محمدی کا مجدد مانتے ہیں نبی ورسول نہیں مانتے۔“ کیونکر درست ہے؟ ہم ذیل میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے ان کے الہامات و تحریرات درج کرتے ہیں اور التجاء کرتے ہیں کہ آپ جواب دیں بلکہ سالانہ جلسہ میں اپنے عقائد سے مسلمان پبلک کی تسلی کی غرض سے مفصلہ ذیل الہامات و تحریرات مرزا قادیانی کی بابت بتائیں کہ آپ ان کو حق سمجھتے ہیں؟
الہام ١: ...... قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰى اِلَىَّ اَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ۔ (حقیقۃ الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥) ترجمہ۔ ”(اے نبی ان سے) کہہ دو کہ میں تمہاری طرح انسان ہوں۔ میری طرف وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔“ یہ قرآن مجید کی آیت ہے اور یہ وہ آیت ہے جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو دوسرے انسانوں
٢
سے ممیز کر کے نبی و رسول بنایا۔ جب اسی خدا نے اب مرزا قادیانی کو فرمایا کہ تو کہہ کہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اور اس پر اجماع امت ہے کہ وحی خاصہ انبیاء کا ہے اور جو وحی کا مدعی ہو وہ نبوت کا مدعی ہوتا ہے اور مرزا قادیانی چونکہ وحی کے مدعی ہیں تو ضرور نبی ہیں اور مستقل نبی ہونے کے مدعی ہیں کیونکہ جس سند سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ دوسرے انسانوں سے (وحی کے ہونے سے) فضیلت پا کر نبی ہو گئے تھے جب وہی سند مرزا قادیانی کو دی گئی تو پھر آپ کس طرح فرماتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے؟ جب آپ مرزا قادیانی کے مرید ہیں تو آپ کا اور مرزا قادیانی کا اعتقاد ایک ہی ہونا چاہیے اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطا ہا ہمین ست ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
مرزا قادیانی کا تو ایمان یہ ہے کہ وہ اپنی وحی کو قرآن کی مانند سمجھیں اور اپنے آپ کو نبی و رسول بتائیں اور آپ صاحبان ان کے مرید ہو کر ان کو نبی نہ سمجھیں کیونکر درست ہے؟
الہام ٢: ...... وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (حقیقت الوحی ص ٨٢ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥) ترجمہ۔ ”اور ہم نے تجھے تمام دنیا پر رحمت کرنے کے لیے بھیجا ہے ۔“ رحمت اللعالمین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اکمل بلکہ افضل الرسل تھے کیونکہ خدا نے رحمت اللعالمین کسی نبی کو سوائے محمد رسول اللہ ﷺ کے نہیں فرمایا تو اس مکالمہ و مخاطبہ الٰہی نے مرزا قادیانی کو افضل الرسل بتایا۔ کیونکہ کوئی نبی رحمت اللعالمین نہ ہوا اور مرزا قادیانی رحمت اللعالمین ہوئے مگر آپ ان کو نبی و رسول نہیں مانتے کیا آپ ان کے مرید نہیں؟
الہام ٣: ...... مرزا قادیانی۔ ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ. (حقیقت الوحی ص ٧١ خزائن ج ٢٢ ص ٧٤) ترجمہ۔ ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور اپنے سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے۔“ اس آیت سے بھی مستقل نبی بلکہ صاحب شریعت نبی کا
٣
ثبوت ہے۔ اب بطور اصولی بحث اس امر کا فیصلہ ہونا چاہیے کہ اگر آپ کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ آیات قرآن مجید مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوئیں تو ضرور آپ کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ مرزا قادیانی رسول و نبی مستقل تھے کیونکہ یہی آیات ہیں جنھوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی و رسول صاحب شریعت و صاحب دین بتایا تھا۔ اب وہی خدا اگر مرزا قادیانی کو دوبارہ وہی آیات خطاب کرتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی تشریعی نبی و نبی کامل نہیں تھے؟ اس آیت میں ظل و بروز کا کہیں کوئی لفظ نہیں۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی نے خود کسی جگہ لکھا ہے تو یہ مرزا قادیانی کا ہرگز منصب نہیں تھا کہ وحی الٰہی میں تحریف کریں۔ کسی لفظ کے کم و زیادہ یا تبدیل کرنے کا نام تحریف ہے۔
اس آیت سے تین امور ثابت ہیں۔ امر اوّل...... کامل رسول کا بھیجا جانا۔ جب یہ آیت پہلے نازل ہوئی تھی تو کامل رسول کے حق میں ہوئی تھی۔ اب جو وہی انہی الفاظ میں نازل ہوئی تو جس پر نازل ہوئی وہ کامل نبی ہوا۔
دوسرا امر...... یہ ہے کہ وہ رسول دین حق اور ہدایت کے ساتھ آیا تھا۔ اگر یہ آیت دوبارہ نازل شدہ مانی جائے تو مرزا قادیانی کا دین حق اور ہدایت کے ساتھ آنا ثابت ہے۔ پھر مرزا قادیانی کے دعویٰ کامل رسول و صاحب شریعت نبی ہونے میں کیا شک ہے؟ یا یہ غلط ہے کہ یہ آیت دوبارہ مرزا قادیانی پر نازل ہوئی۔ آپ کا کیا اعتقاد ہے؟
تیسرا امر...... یہ کہ کل دینوں پر غالب آئے گا۔ جب مرزا قادیانی کوئی دین ہی نہیں لائے تو پھر غالب آنے کے کیا معنی ہیں؟ سچے نبی پر جب یہی آیت نازل ہوئی تو تھوڑے عرصے میں سچا رسول سب دینوں پر جو عرب میں تھے غالب آیا اور مرزا قادیانی ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان میں ہندو جو باطل دین تھے ٢٣ برس کے عرصہ میں ان پر غالب نہ آسکے۔ عقلمندوں کے واسطے یہی معیار کافی ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ یہ آیت مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل نہیں ہوئی اور نہ مرزا قادیانی سچے رسول تھے جو اس آیت میں مخاطب تھے۔
آپ اپنا عقیدہ بتائیں کہ آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر قرآن کی آیات دوبارہ نازل ہوئی تھیں جو کہ انھوں نے خواب میں سنیں یا دوسرے مسلمانوں کی طرح عالم خواب میں توارد کے طور پر ان کی زبان پر جاری ہوتی تھیں؟ اخیر میں ایک عبارت مرزا قادیانی کی نقل کی جاتی ہے اس کی نسبت آپ کا کیا اعتقاد ہے؟ وہو ہذا۔
’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امّت میں سے میں ہی
٤
ایک فرد مخصوص ہوں۔ جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
دوم ۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں ؎
داد آں جام را مرا بہ تمام
(نزول المسیح ص ٩٩ خزائن ج ١١ ص ٤٧٧)
یعنی جو کچھ ہر ایک نبی کو نعمت دی گئی ہے ان تمام نعمتوں کا مجموعہ مجھ اکیلے کو دیا گیا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی تمام نبیوں سے افضل ہونے کے مدعی تھے کیونکہ کل نبیوں کے کمالات و فضائل تمام جمع کر کے جب خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو دے دیئے اور دوسرے کسی نبی کو مجموعہ کمالات انبیاء نہ بنایا تو اب مرزا قادیانی کے دعویٰ افضل الرسل میں کیا شک ہے؟
آپ صاحبان جب مرزا قادیانی کے مرید ہیں اور ان کو مسیح موعود بھی یقین کرتے ہیں تو پھر ان کو نبی نہ ماننا اور مرزا قادیانی کے عقائد اور الہامات کے برخلاف صرف بلا دلیل یہ کہہ دینا کہ ہم مرزا قادیانی کو صرف ایک مجدد دوسرے امت محمدی کے مجددوں کی طرح مانتے ہیں کس طرح درست ہے؟ کیا دوسرے مجددوں نے بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا تھا اور یہ کہتے تھے کہ ہم مجموعہ کمالات تمام انبیاء ہیں جو آدم سے لے کر اب تک گزرے ہیں؟
ہرگز نہیں۔ کوئی سند شرعی ہے اور کوئی نظیر ہے تو بتاؤ کہ کوئی شخص امت محمدی ﷺ میں سے مدعی نبوت و رسالت ہوا اور سچا مانا گیا یا اس کو مجدد دین مانا گیا؟ اگر نہیں (اور یقیناً نہیں) تو پھر مرزا قادیانی مدعی نبوت ہو کر مجدد کس طرح ہوئے؟ اس طرح تو مسیلمہ سے لے کر جس قدر مدعیان نبوت گزرے ہیں سب کے سب مجدد ہوئے اور یہ بالکل غلط اور باطل عقیدہ ہے کہ مدعی نبوت کو مجدد مانا جائے۔
آپ صاف صاف فرمائیں کہ مرزا قادیانی کے دعاویٰ کے برخلاف آپ کس طرح کہتے ہیں کہ ہم ان کو نبی نہیں مانتے۔ کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ میں مسلمان محمدی تو ہوں مگر محمد ﷺ کو نبی نہیں مانتا؟ حالانکہ محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نبی ہوں۔ پس
٥
جب آپ ایک طرف تو مرزا قادیانی کو پیر و مرشد و مسیح موعود یقین کرتے ہیں اور دوسری طرف عام مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ کون عقلمند اس بلا دلیل دعویٰ کو مان سکتا ہے؟ کیونکہ پیر تو کہتا ہے کہ میرا ایمان یہ ہے کہ میں اپنی وحی کو قرآن کی مانند سمجھتا ہوں اور اسی وحی کی کثرت کے باعث تمام افراد امت سے ممتاز ہو کر نبی و رسول کا لقب خدا سے پایا ہے۔ مگر مرید کہتا ہے کہ میں آپ کا مرید ہوں آپ کے تابع فرمان ہوں۔ آپ کو صاحب وحی و الہام بھی یقین کرتا ہوں۔ مسیح موعود بھی مانتا ہوں۔ مگر نبی نہیں مانتا کیسی بے دلیل اور پھیکی بات ہے؟ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ مصلحت وقت مدنظر ہے اور کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور ہیں۔ جب مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود نبی اللہ ہوں تو پھر آپ احمدی ہو کر مرزا قادیانی کے دعویٰ کے برخلاف کس طرح کہتے ہیں کہ مسیح موعود تو مانتے ہیں اور نبی اللہ نہیں مانتے۔ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ (بقرہ ٨٥) کے یہ معنی نہیں ہیں کہ یا تو آپ ان کے دعاوی و الہامات کے مطابق ان کو رسول و نبی مانیں اور اگر وہ آپ کے نزدیک اس دعویٰ نبوت و رسالت میں سچے نہیں ہیں تو پھر ان کو مجدد بھی نہیں ماننا چاہیے کیونکہ مجدد دین کبھی مدعی نبوت نہیں ہوا۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف چندہ بٹورنے کے لیے ایک چال اختیار کی گئی ہے۔ ورنہ مرید کیا اور پیر کے عقائد اور ارشاد کے برخلاف کیا؟ یہ موقعہ ہے کہ آپ مسلمانوں کی جواب باصواب سے تسلی کریں۔ مسلمان مطمئن ہو کر آپ کو چندہ بھی دیں گے اور خیر خواہ اسلام بھی سمجھیں گے اور اگر آپ نے جواب نہ دیا اور گندم نمائی کرتے رہے تو واضح رہے کہ بذریعہ فتاویٰ علمائے اسلام آپ کا مقابلہ کر کے مسلمانوں کو اور ان کے والیان ریاست کو روکا جائے گا کہ وہ چندہ اشاعت اسلام کے نام سے جو دیتے ہیں وہ حقیقت میں نام نہاد مناظر اسلام بن کر اشاعت مرزائیت میں خرچ ہو گا۔ جیسا کہ پہلے مرزا قادیانی نے کیا تھا کہ چندہ حمایت اسلام کے واسطے جمع کیا اور بجائے تردید عیسائیوں اور آریوں کے، مسلمانوں کے درپے ہو گئے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے مسلمانوں سے اپنی رسالت و نبوت کے اثبات میں خرچ کیے، کتابیں تالیف کیں، اشتہارات نکالے واعظین مقرر کیے اور اپنے ذاتی تصرف میں لائے۔ ایسی ہی اب اشاعت اسلام ہو گی کہ روپیہ مسلمانوں کا ہو گا اور اشاعت مرزائیت میں خرچ ہو گا۔ مثل مشہور ہے ”آگ کا جلا ہوا
٦
جگنو سے ڈرتا ہے۔“ پہلے جو مسلمان دھوکا کھا چکے ہیں۔ اس واسطے خواجہ صاحب اور محمد علی صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جواب دیں اور پہلے اپنا اسلام مسلمان بھائیوں کو بتا دیں اور پھر اس اسلام کی اشاعت کریں۔ کیا یہ اسلام ہے کہ اوتار اور ابن اللہ الوہیت انسان وغیرہ باطل عقائد اسلام میں داخل ہوں اور وہی اسلام غیر مذاہب والوں کے پیش کیا جائے؟
ایک عیسائی کو دعوت اسلام دے کر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا مت کہو، مگر مرزا قادیانی کو خدا کی اولاد اور بیٹا مانو، اور مرزا قادیانی کو خدا کے پانی سے پیدا ہوا مانو جیسا کہ ان کا الہام ہے۔ اَنْتَ مِنْ مَّائِنَا وَهُمْ مِنْ فَشَلٍ .
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
(یعنی تو ہمارے (خدا) پانی سے ہے اور وہ لوگ خشکی سے) تو کیا وہ عیسائی خاک مسلمان ہو گا کہ ایک ابن اللہ کے بدلے میں دو ابن اللہ مانے گا؟ پس لاہوری احمدی جماعت اپنا اسلام بتائے۔ ”گر قبول افتد زہے عز وشرف“ (رسالہ تائید الاسلام لاہور ج ٢ ص ١٢)
برادرانِ اسلام سے ضروری التماس
جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے حمایت اسلام کے بہانہ سے مناظر و مباحث اسلام بن کر مسلمانوں سے براہین احمدیہ کے نام پر چندہ فراہم کر کے اپنے مسیحیت و مہدویت و کرشنیت و ابنیت والوہیت و نبوت و رسالت وغیرہ وغیرہ دعاوی باطلہ خلاف اسلام کی اشاعت میں صرف کیا تھا۔ اسی طرح اب مرزا قادیانی کے مرید خواجہ کمال الدین وغیرہ وغیرہ اسلام کا کشکول لے کر والیان ریاست امراء و روساء و عامہ اہل اسلام سے چندہ فراہم کر رہے ہیں تاکہ اسلام کے پردہ میں بیٹھ کر مرزائی عقائد کا جال پھیلائیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اہل اسلام پہلے خواجہ وغیرہ کے اسلام کی بابت اطمینان کر لیں اور چندہ دینے سے پہلے سوالات مندرجہ رسالہ ہٰذا کا جواب باصواب لے لیں کیونکہ خواجہ صاحب ایک طرف تو فراہمی چندہ کی غرض سے مسلمانوں میں کہتے ہیں کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی و رسول نہیں مانتے اور دوسری طرف ان کو مسیح موعود و کرشن اوتار وغیرہ کہتے جاتے ہیں۔ خواجہ صاحب اپنی کتاب ”کرشن اوتار“ صفحہ ٣٠ پر لکھتے ہیں۔ ”ضروری تھا کہ کرشن اگر اوتار لے تو اس وقت عرب میں اوتار لے اور عرب میں آ کر پھر رفتہ رفتہ ان تمام ممالک کو بدیوں سے پاک کرے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ کرشن نے
٧
عرب میں اوتار لیا۔ یہ درست ہے کہ ان ممالک کے سارے باشندوں نے اس نبی عرب کو قبول نہیں کیا“۔ الخ۔ اب اس عبارت خواجہ صاحب سے کوئی شک نہیں رہتا کہ ان کے اعتقاد میں کرشن اوتار و نبی ایک ہی ہے۔ جب کرشن جی نے پہلے عرب میں اوتار لیا تو نبی کہلائے اور رحمت اللعالمین و افضل الرسل ہوئے پھر ١٣ سو برس میں کوئی کرشن اوتار و نبی امت محمدی میں نہ ہوا اور یہی مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ امت محمدی میں سے میرے سوا کوئی نبی کے نام پانے کا مستحق نہیں جب مرزا قادیانی کی خصوصیت خواجہ صاحب نے کرشن اوتار و نبی ہونے کی مان لی تو پھر اب کس طرح بلا دلیل کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ یہ تقیہ نہیں تو اور کیا ہے؟
خاکسار پیر بخش سیکرٹری انجمن تائید اسلام لاہور حسب الارشاد اراکین انجمن
خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تحقیق صحیح فی قبر مسیح
جناب بابو پیر بخشؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
برادران اسلام
مرزا قادیانی کا اعتقاد پہلے تو مسلمانان عالم کی مانند تھا اور انھوں نے اسلام کی حمایت میں جو مزعومہ الہامی کتاب براہین احمدیہ تصنیف کی اور اس میں صاف صاف حضرت عیسیٰؑ کا دوبارہ اس دنیا میں آنا اور اس کا آسمان پر بجسد عنصری تا نزول زندہ رہنا لکھتا رہا۔ مگر جب ان کو خود ہی مسیح موعود بننے کا خیال پیدا ہوا تو اس نے دعویٰ کیا کہ آنے والا مسیح ابن مریم میں ہی ہوں اور اصلی مسیح ابن مریم مر چکا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ قرآن مجید کی تیس آیات سے وفات مسیح ثابت ہوتا کہ مسیح مر گیا ہے۔ یا خدا تعالیٰ نے اس پر موت وارد کر دی ہے۔ جس قدر آیتیں پیش کیں سب کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک انسان مرنے والا ہے۔ مسیح کے بارہ میں تین یا چار آیات قرآن شریف میں جو ہیں پیش کیں۔ ان میں سے ایک آیت کا بھی یہ مطلب اور معانی نہیں کہ مسیح پر موت وارد ہو چکی ہے۔ پہلی آیت یہ ہے وَاِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ۔ الخ۔ (آل عمران ٥٥) جس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے عیسیٰ میں تجھے اپنے قبضہ میں کر لینے والا ہوں اور اٹھانے والا ہوں۔ مرزا قادیانی نے متوفیک کے معنی مارنے والا کر کے خود حیات مسیح ثابت کر دی۔ کیونکہ (مارنے والا سے) یہ ثابت نہیں ہوتا کہ واقعی مسیح پر موت وارد ہو گئی بلکہ یہ وعدہ ہے کہ جو ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ دوسری آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ۔ (مائدہ ١١٧) الخ۔ سے موت کا وارد ہونا بتاتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے کیونکہ اب تک نہ سوال جواب ہوئے اور نہ وفات ثابت ہوئی۔ یہ تو قیامت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے اور مسلمان خود مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول فوت ہوں گے اور مدینہ منورہ میں دفن ہوں گے۔ تیسری آیت وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔ (آل عمران ١٤٤) یعنی محمد ﷺ ایک رسول ہے جیسا کہ پہلے اس کے رسول گزر چکے۔ مرزا قادیانی اور مرزائی خلت کے معنی موت کے نہیں لکھتے بلکہ خلت کے معنی گزر جانے کے ہیں۔ سو مسلمان بھی مسیح کو دنیا سے گزرا ہوا اور آسمان پر زندہ مانتے ہیں۔ خلت کے معنی گزرنے کے ہیں اور گزرنے کے واسطے موت لازم نہیں۔
٢
زندہ آدمی بھی ایک شہر اور اسٹیشن سے دوسرے شہر کے اسٹیشن سے گزر جاتا ہے۔ اس قسم کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ زید دہلی جاتا ہوا تمام شہروں سے گزر گیا۔ وغیرہ وغیرہ۔ قرآن شریف خود کافروں اور منافقوں کے حق میں فرماتا ہے۔ وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ۔ (بقرہ ١٤) یعنی جس وقت اپنے شیطانوں کی طرف گزرتے ہیں اگر بفرض محال خلت کے معنی موت کے بھی کریں (جو بالکل غلط ہیں) تب بھی یہ آیت مسیح کی موت ثابت نہیں کرتی کیونکہ مسیح کو خدا تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ دیکھو مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔ (مائدہ ٧٥) یعنی حضرت مسیح ؑ ایک رسول ہے جیسا کہ اس کے پہلے رسول گزر گئے خدا تعالیٰ نے مسیح کو قبلہ الرسل فرما کر مستثنیٰ فرما دیا۔ یعنی اس کے پہلے رسول مر گئے وہ نہیں مرا۔ مرزا قادیانی نے خود ترجمہ کیا ہے کہ مسیح کے پہلے جو رسول آئے تھے سب فوت ہو چکے۔ (ازالہ اوہام حصہ دوئم ص ٦٠٣ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥) خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے ہاتھ سے لکھوا دیا کہ مسیح مستثنیٰ ہے کیونکہ صاف صاف لکھتے ہیں کہ مسیح سے پہلے نبی فوت ہو گئے۔ پس یہ آیت بھی وفات مسیح پر دلیل نہیں۔ باقی جس قدر آیات پیش کرتے ہیں وہ دعویٰ خاص اور ثبوت عام ہے جو کہ اہل علم کے نزدیک باطل ہے اور یہ ایسا ہی جاہلانہ استدلال ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ میاں بشیر الدین محمود خلیفہ قادیانی یا محمد علی امیر لاہوری جماعت مرزائیہ فوت شدہ ہیں۔ مگر جب کہا جائے کہ وہ تو زندہ ہیں تو جواب میں کہا جائے کہ کل نفس ذائقۃ الموت یعنی سب موت کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ پھر جس طرح یہ غلط ہے کہ مرنے والا کہنے سے مرا ہوا ثابت نہیں ہوتا۔ اسی طرح مسیح جو مرنے والا ہے۔ مرا ہوا ثابت نہیں ہوتا۔ جب مرزا قادیانی نے دیکھا کہ قرآن شریف سے وفات مسیح ثابت نہیں ہو سکتی تو من گھڑت قصہ بنا لیا کہ مسیح کی قبر کشمیر میں ہے تاکہ مسلمان دھوکہ کھا جائیں کہ جب قبر موجود ہے تو ضرور مسیح فوت ہو گیا ہوگا۔ اسی واسطے یہ کتاب لکھی ہے تاکہ مسلمان دھوکہ نہ کھا جائیں کیونکہ یہ قبر شہزادہ یوز آسف کی قبر ہے۔
نوٹ: پہلے یہ کتاب قسط وار ماہنامہ تائید الاسلام لاہور جولائی اگست ستمبر ١٩٢٠ء میں شائع کی گئی۔ ستمبر ١٩٢٢ء میں اسے کتابی شکل میں شائع کیا گیا جسے احتساب قادیانیت کی جلد ھذا میں شائع کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ (مرتب)
خاکسار: پیر بخش سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور
٣
تردید قبر مسیح در کشمیر
برادران اسلام! مرزا قادیانی کا قاعدہ تھا کہ وہ اپنا مطلب منوانے کے لیے جھوٹ استعمال کر لیا کرتے تھے جیسا عوام کا دستور ہے کہ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے واسطے بہت سے جھوٹ تراشا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے پہلے یہ جھوٹ تراشا کہ ”حضرت عیسیٰؑ کی قبر کشمیر محلہ خانیار میں ہے۔“ اور اس جھوٹ کے سچ کرنے کے واسطے جھوٹ بولا کہ تبت سے ایک انجیل برآمد ہوئی ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ مسیح ہندوستان میں آیا اور کشمیر میں فوت ہوا اور محلہ خانیار شہر سری نگر میں اس کی قبر ہے۔“
(ایام الصلح ص ١١٨ خزائن ج ١٤ ص ٣٥٦)
مگر نہایت افسوس سے لکھا جاتا ہے کہ تبت والی انجیل میں یہ ہرگز نہیں لکھا کہ حضرت مسیح سرینگر میں فوت ہوئے اور محلہ خانیار میں مدفون ہوئے، بلکہ وہاں تو لکھا ہے کہ حضرت مسیح ٢٩ برس کی عمر میں واپس ملک اسرائیل میں گئے اور وہاں جا کر ان کو واقعہ صلیب در پیش آیا اور صلیب پر ان کی جان نکل گئی اور یروشلم کے پاس مدفون ہوئے اور اسی جگہ ان کی قبر ہے۔ جیسا کہ دوسری چاروں انجیلوں میں لکھا ہے اور لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ ”حضرت عیسیٰؑ کی قبر بلدۂ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے۔ اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے۔
(اتمام الحجۃ ص ٢٧ حاشیہ خزائن ج ٨ ص ٢٩٨)
تسلیم کرتے ہیں کہ ”یہ سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں فوت ہوا۔“ (ازالہ اوہام ص ٤٧٣ خزائن ج ٣ ص ٣٥٣) اور وہاں اس کی قبر ہے اب اخیر میں قصہ گھڑ لیا کہ مسیح صلیب سے خلاصی پا کر سرینگر کشمیر میں آیا اور واقعہ صلیب کے بعد ٨٧ برس زندہ رہ کر فوت ہوا اور محلہ خانیار کشمیر میں اس کی قبر ہے جو کہ یوزآصف کی قبر مشہور ہے۔ اس واسطے ہم روسی سیاح مسٹر نکولس نوکروج کے لکھے ہوئے حالات کا ترجمہ اختصار کے ساتھ ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو کہ مرزا قادیانی
٤
دروغگوئی میں کس قدر دلیر تھا کہ واقعہ صلیب کو جو بعد میں واقعہ ہوا۔ اس کو مقدم کر دیا اور اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ افسوس اگر کوئی دوسرا مولوی ایسا کرتا تو مرزا قادیانی اس حرکت کو یہودیانہ حرکت کہہ کر مورد لعنت کا فتویٰ دیتا۔ مگر خود جو چاہیں سو کریں۔ اب ذیل میں حضرت عیسیٰؑ کے حالات سیر ہندوستان و تبت و کشمیر لکھے جاتے ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی کا جھوٹ کھل جائے گا۔
دیکھو فصل چہارم پھر جلد ہی سرزمین اسرائیل میں ایک عجوبہ بچہ پیدا ہوا۔ خود خدا اس بچہ کے منہ سے بولا اور جسم کا ہیچکارہ اور روح کا عظیم ہونا بتایا۔ (٨) یہ خدائی بچہ جس کا نام عیسیٰ رکھا گیا بچپن ہی سے گمراہوں کو توبہ کے ذریعہ گناہوں سے نجات حاصل کرنے کی ترغیب دے کر ایک واحد خدا کی پرستش کرنے لگا۔ (١٠) جب عیسیٰ ١٣ برس کی عمر کو پہنچا کہ جس عمر میں اسرائیلی لوگ شادی کیا کرتے تھے۔ (١٢) یہ وہ وقت تھا جبکہ عیسیٰ چپ چاپ والدین کا گھر چھوڑ کر یروشلم سے نکل گیا اور سوداگروں کے ساتھ سندھ کی طرف روانہ ہوا۔ فصل پنجم جگن ناتھ راج گڑھ بنارس اور دیگر ترک شہروں میں وہ چھ برس رہا۔ (١٢) عیسیٰ ویدوں اور پرانوں کے الہامی ہونے سے انکاری تھا کیونکہ وہ اپنے پیروؤں سے کہتا تھا کہ ایک قانون پہلے سے انسان کی رہنمائی کے لیے مل چکا ہے۔ عیسیٰ نے کہا مورتیوں کی پوجا مت کرو کیونکہ وہ سن نہیں سکتیں۔ فصل ششم (١) برہمنوں اور کھتریوں نے عیسیٰ کے ان اوپدیشوں کو جو وہ شودروں کو دیا کرتا تھا سن کر اس کے قتل کی ٹھانی۔ مگر عیسیٰ کو شودروں نے اس منصوبہ سے مطلع کر دیا تھا وہ رات ہی کو جگن ناتھ سے نکل گیا۔ اس وقت عیسیٰ نیپال اور ہمالہ کے پہاڑوں کو چھوڑ کر راجپوتانہ میں آ نکلا۔ فصل ہشتم۔ عیسیٰ کے اپدیشوں کی شہرت گرد و نواح کے ملکوں میں پھیل گئی اور جب وہ ملک فارس میں داخل ہوا تو پوجاریوں نے ڈر کر لوگوں کو اس کا اپدیش سننے سے منع کر دیا۔ لیکن خدا کے فضل سے حضرت عیسیٰ نے بلا کسی قسم کی حرج مرج کے اپنا راستہ پکڑا۔ فصل نہم (١) عیسیٰ جس کو خالق نے گمراہوں کو سچے خدا کا رستہ بتانے کے لیے پیدا کیا تھا انتیس برس کی عمر میں ملک اسرائیل میں واپس آیا۔ فصل دہم (١) حضرت عیسیٰ اسرائیلیوں کا حوصلہ جو ناامیدی کے چاہ میں گرنے والے تھے خدا کے کلام سے مضبوط کرتا ہوا گاؤں گاؤں پھرا اور ہزاروں آدمی اس کا اپدیش سننے کے لیے اس کے پیچھے ہوئے۔ (٢) لیکن شہروں کے حکام نے اس سے ڈر کر حاکم اعلیٰ کو جو یروشلم میں رہتا تھا خبر دی کہ عیسیٰ نامی ایک شخص ملک میں آیا ہے اور
٥
اپنی تقریروں سے لوگوں کو حکام کے برخلاف جوش دلاتا ہے۔ لوگوں کے گروہ بڑے شوق سے اس کا اپدیش سنتے ہیں۔ (٣) اس پر یروشلم کے حاکم پلاطوس نے حکم دیا کہ واعظ عیسیٰ کو پکڑ کر شہر میں لاؤ اور حکام کے سامنے پیش کرو مگر اس غرض سے کہ عوام میں ناراضگی نہ پھیلے پلاطوس نے پوجاریوں اور عالم عبرانی بزرگوں کو حکم دیا کہ مندر میں اس کا مقدمہ کریں۔ (٤) اسی اثناء میں عیسیٰ اپدیش کرتا ہوا یروشلم میں آن پہنچا اور تمام باشندے جو پہلے سے اس کی شہرت سن چکے تھے اس کے آنے کی خبر پا کر اس کی پیشوائی کے لیے گئے۔ (٦) عیسیٰ نے ان سے کہا بنی نوع انسان وشواس کی کمی کے باعث تباہ ہو رہے ہیں کیونکہ اندھیرے اور طوفان نے انسانی بھیڑوں کو پراگندہ کر دیا ہے اور ان کا گڈریا گم ہو گیا ہے۔ (٧) لیکن طوفان ہمیشہ نہیں رہے گا اور اندھیرا نہیں چھایا رہے گا۔ مطلع پھر صاف ہو جائے گا اور آسمانی نور زمین پر پھر چمکے گا اور گمراہ بھیڑیں اپنے گڈریا کو پھر پا لیں گی۔ (١٠) یقین رکھو کہ وہ دن نزدیک ہے جب تم کو اندھیرے سے رہائی ملے گی تو تم سب مل کر ایک خاندان بنو گے اور تمہارا دشمن جو خدا کی مہربانی کی پرواہ نہیں کرتا خوف سے کانپے گا۔ (١٥) اس پر بزرگوں نے پوچھا کہ تم کون ہو اور کس ملک سے آئے ہو ہم نے پہلے کبھی تمہارا ذکر نہیں سنا۔ ہم تمھارے نام سے واقف نہیں ہیں (١٦) عیسیٰ نے جواب دیا کہ میں اسرائیلی ہوں۔ میں یروشلم میں پیدا ہوا اور میں نے سنا کہ میرے بھائی حالت غلامی میں پڑے رو رہے ہیں اور میری بہنیں کافروں کے ہاتھ میں پڑ کر گریہ زاری کر رہی ہے۔ فصل یازدہم (٥) اس اثنا میں عیسیٰ آس پاس کے شہروں میں جا کر خدا کا سچا راستہ بتاتا رہا اور عبرانیوں کو سمجھاتا رہا کہ تم صبر کرو تمھیں بہت جلد رہائی ملے گی۔ فصل دوازدہم ۔ یروشلم کے حاکم کے جاسوسوں نے اس سے کہا کہ اے نیک مرد ہمیں بتاؤ کہ ہم اپنے قیصر کی مرضی برتیں یا جلدی ملنے والی رہائی کے منتظر رہیں۔ (١) عیسیٰ جان گیا کہ یہ جاسوس ہیں اور جواب دیا کہ میں نے تمھیں یہ نہیں کہا کہ قیصر سے رہائی پاؤ گے۔ بدی میں ڈوبا ہوا آقا ہی رہائی پائے گا۔ فصل سیزدہم ۔ حضرت عیسیٰ اسطرح تین سال تک قوم اسرائیل کو ہر قصبے اور ہر شہر میں سڑکوں اور میدانوں میں ہدایت کرتا رہا اور جو کچھ اس نے کہا وہی وقوع میں آیا۔ اس تمام عرصہ میں حاکم پلاطوس کے جاسوس اس کی کل کارروائی کو دیکھتے رہے الخ۔ (٣) لیکن پلاطوس حاکم عیسیٰ کی ہر دلعزیزی سے ڈرا۔ جس کی نسبت لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ لوگوں کو بادشاہ بننے کے لیے ورغلاتا ہے اور اپنے ایک جاسوس کو حکم دیا کہ وہ عیسیٰ پر الزام لگائے۔ (٤) تب الزام لگا
٦
جانے کے بعد سپاہیوں کو عیسیٰ کی گرفتاری کا حکم دیا گیا اور انھوں نے اسے گرفتار کر کے تاریک حوالات میں قید کر دیا جہاں اس کو طرح طرح کے عذاب دیئے گئے تاکہ وہ مجبور ہو کر اپنے جرم کا اقبال کرے اور پھانسی پائے۔ (٢٠) عیسیٰ نے اپنے بھائیوں کی ابدی خوشی کو مدنظر رکھ کر صبر و شکر کے ساتھ خدا کے نام تکالیف کو برداشت کیا۔ (٢١) تب پلاطوس حاکم نے اس گواہ کو طلب کیا۔ جس نے حاکم کے حکم سے عیسیٰ کو گرفتار کیا تھا وہ شخص پیش ہوا اور عیسیٰ کو کہا کہ تم نے جو یہ کہا تھا کہ وہ جو آسمان پر بادشاہت کرتا ہے۔ اس نے لوگوں کو تیار کرنے کے واسطے عیسیٰ بھیجا ہے کیا اس میں تم نے اپنے آپ کو اسرائیل کا بادشاہ ہونا نہیں جتلایا تھا (٢٢) پھر عیسیٰ نے اس کو شاباش کہا کہ تم معاف کیے جاؤ گے کیونکہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو تم اپنے دل سے نہیں کہتے تب عیسیٰ نے حاکم کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ اپنی شان کو کیوں بٹہ لگاتے ہو اور کیوں اپنے ماتحتوں کو جھوٹ بولنے کی ہدایت کرتے ہو جبکہ تم ایسی کارروائی کے بغیر ہی بیگناہ پھانسی دینے کا اختیار رکھتے ہو۔ (٢٣) ان الفاظ کو سن کر حاکم غصہ میں آگ بگولا ہو گیا اور عیسیٰ پر موت کا فتویٰ لگانے اور باقی دو چوروں کو بری کرنے کا حکم دیا۔
فصل چہار دہم (١) حاکم کے حکم سے سپاہیوں نے عیسیٰ اور ان دو چوروں کو پکڑ لیا اور ان کو پھانسی کی جگہ پر لے گئے اور ان صلیبوں پر جو زمین میں گاڑی گئی تھیں چڑھا دیا۔ (٢) عیسیٰ اور دو چوروں کے جسم دن بھر لٹکتے رہے جو ایک خوفناک نظارہ تھا اور سپاہیوں کا ان پر برابر پہرا رہا۔ لوگ چاروں طرف کھڑے رہے پھانسی یافتوں کے رشتہ دار دعا مانگتے رہے اور روتے رہے (٣) آفتاب غروب ہوتے وقت عیسیٰ کا دم نکلا اور اس نیک مرد کی روح جسم سے علیحدہ ہو کر خدا میں جا ملی۔ (٤) اس طرح ابدی روح کے پرتو کی زندگی کا خاتمہ ہوا جس نے انسان کی شکل میں ظاہر ہو کر سخت گنہگاروں کو بچایا اور بہت تکلیفیں اٹھائیں (٥) اس اثناء میں پلاطوس اپنے عمل بد کے سبب سے انبوہ عالم سے ڈرا اور عیسیٰ کی لاش اس کے والدین کے حوالے کی جنھوں نے پھانسی گاہ کے پاس ہی اس کو دفن کر دیا۔ لوگوں کے گروہ در گروہ اس قبر پر دعائیں مانگنے کے لیے آنے لگے اور ان کے شور و فغان سے آسماں گونج گیا۔
برادران اسلام! حضرت عیسیٰؑ کی اس سوانح عمری کی تصدیق مرزا قادیانی بدیں الفاظ کرتے ہیں ”جبکہ بعض بنی اسرائیل بدھ مذہب میں داخل ہو گئے تھے تو ضرور تھا کہ حضرت عیسیٰؑ اس ملک میں آ کر بدھ مذہب کے رد کی طرف متوجہ ہوتے اور اس
٧
مذہب کے پیشواؤں کو ملتے سو ایسا ہی وقوع میں آیا اسی وجہ سے حضرت عیسیٰؑ کی سوانح عمری بدھ مذہب میں لکھی گئی۔
(دیکھو حاشیہ مندرجہ کتاب راز حقیقت ص ١٠ ۔ ١١ خزائن ج ١٤ ص ١٦٢)
جب مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ سوانح عمری عیسیٰ بدھ مذہب میں لکھی گئی اور اسی سوانح عمری کو ہم نے روسی سیاح مسٹر نکولس لونا رڈوچ جس نے بدھ مذہب والوں کی پرانی کتابوں سے بدھ مذہب کے پجاریوں سے مقام لیہ دارالخلافہ لداخ ملک کشمیر سے حاصل کر کے فرانسیسی اور انگریزی زبان میں شائع کی۔ اس کتاب کا نام ”یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات“ ہے۔ اس کتاب سے اوپر ہم نے اختصار کے ساتھ اصل عبارات نقل کر دی ہیں۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ چودہ برس کی عمر میں سندھ پار آیا۔ ملاحظہ ہو آیت پہلی فصل پنجم۔ جب تیرہ چودہ برس کی عمر میں ہندوستان کی طرف آیا اور صلیب کا واقعہ ٣٣ برس کی عمر میں وقوع میں آیا تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ من گھڑت قصہ کہ صلیب کے بعد مسیح کشمیر میں آیا تھا بالکل غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ اس پر مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کا اتفاق ہے کہ صلیب کا واقعہ اس وقت پیش آیا جبکہ مسیح کی عمر ٣٣ برس کی تھی اور بدھ مذہب والی سوانح عمری مسیح جس پر مرزا قادیانی کو بڑا ناز ہے۔ اس کے فصل نہم آیت اوّل میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ بعد سفر ہندوستان و فارس انتیس برس کی عمر میں ملک اسرائیل میں واپس آیا۔ جب تیرہ برس سے ٢٨ برس تک حضرت مسیح اپنے وطن سے باہر رہے اور اسی عرصہ میں سیاحت کی اور تبت و کشمیر سے واپس جا کر وہاں ہی تین برس تک وعظ کر کے ٣٣ برس کی عمر میں پھانسی دیئے گئے اور وہیں ان کی قبر بنائی گئی۔ جیسا کہ آیت پانچ فصل چہارم میں لکھا ہے۔ عیسیٰ کی لاش ان کے والدین کے حوالہ کی جنھوں نے پھانسی گاہ کے قریب ہی اس کو دفن کر دیا اور اس قبر کی تصدیق انجیل بھی کرتی ہے۔ چنانچہ انجیل میں لکھا ہے۔ یوسف نے لاش لے کر سوتی کی صاف چادر میں لپیٹی اور اسے اپنی نئی قبر میں جو چٹان میں تھی رکھی اور ایک بھاری پتھر قبر کے منہ پر ٹکا کے چلا گیا۔ دیکھو انجیل متی باب ٢٧ آیت ٦٠ و ٦١۔ انجیل مرقس میں لکھا ہے۔ لاش یوسف کو دلا دی اور اس نے مہین کپڑا مول لیا تھا اور اسے اتار کے اس کپڑے سے کفنایا اور ایک قبر میں جو چٹان کے بیچ کھودی گئی تھی اسے رکھا اور اس قبر کے دروازے پر ایک پتھر ٹکایا۔
(دیکھو انجیل مرقس باب ١٦ آیت ٤٥۔٤٦)
پس جب روسی سیاح کی سوانح عمری عیسیٰ اور دوسری انجیلوں سے ثابت ہے کہ مسیح کی قبر پھانسی گاہ کے قریب بنائی گئی اور اسی جگہ وہ دفن کیا گیا تو پھر مرزا قادیانی کا یہ
٨
کہنا کہ مسیح کی قبر کشمیر میں ہے بالکل جھوٹ ہے۔ ورنہ کوئی مرزائی کسی کتاب سے جس طرح ہم نے بدھ مذہب کی سوانح عمری مسیح سے ثابت کیا ہے کہ عیسیٰ ١٣ برس کی عمر میں گھر سے نکلا اور بعد سیاحت ہندوستان و فارس و کشمیر ٢٩ برس کی عمر میں واپس ملک اسرائیل میں گیا اور وہاں پھانسی دیا گیا اور وہیں اس کی قبر ہے۔
مرزائی صاحبان بھی اپنے مرشد کی حمایت میں کوئی کتاب پیش کریں جس میں لکھا ہو کہ عیسیٰ ؑ بعد واقعہ صلیب کے ہندوستان میں آئے اور کشمیر میں فوت ہو کر محلہ خانیار میں مدفون ہوئے۔ جب تک یہ نہ دکھائیں اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ ہرگز نہ دکھا سکیں گے۔ تب تک مرزا قادیانی کا یہ کہنا غلط بلکہ اغلط ہے کہ یوز آصف کی قبر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے۔
مرزا قادیانی کا لکھنا بالکل خلاف عقل و نقل ہے اور ہنسی کے لائق ہے جو انھوں نے لکھا ہے۔ ”جبکہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو واقعہ صلیب سے نجات بخشی تو انھوں نے بعد اس کے اس ملک میں رہنا قرین مصلحت نہ سمجھا ۔“
(حاشیہ راز حقیقت ص ١٠ خزائن جلد ١٤ ص ١٦٣)
کیا خوب! صلیب تھی یا چند گھنٹوں کی قید؟ جس سے مسیح نے نجات پائی۔ یہ ایک لطیفہ ہے۔ جیسا کہ ایک جولاہے (بافندے) کو پھانسی کا حکم ہوا۔ جب اسے پھانسی کی جگہ پر لے گئے تو وہ عقل کا پتلا بولا کہ مجھے جلدی جلدی پھانسی دے لو کیونکہ میں نے گھر جا کر ضروری کپڑا تیار کرنا ہے۔
ایسا ہی مرزا قادیانی نے لکھ دیا کہ مسیح نے پھانسی پانے کے بعد سفر ہندوستان کا کیا وہ پھانسی تھی یا خالہ جی کا گھر تھا کہ مسیح صلیب سے نجات پا کر رخصت حاصل کر کے سفر پنجاب کو نکلا۔ غور تو کرو جس کام کے واسطے یہودیوں نے قیامت تک لعنت لی اور قبر مسیح پر پہرہ لگا رکھا اور دوسری طرف ثابت ہے کہ مسیح باغی سلطنت سمجھ کر صلیب دیا گیا تو ایسے حالات کے ہوتے ہوئے کوئی باہوش انسان کہہ سکتا ہے کہ مسیح صلیب سے نجات پا کر کشمیر چلا گیا؟ کوئی یہ تو بتائے کہ ایسا شخص جس کو بقول مرزا قادیانی کوڑے لگائے گئے جن سے جان بر ہونا مشکل تھا اور صلیب کے زخم اس قدر تکلیف دہ مسیح کو دیئے گئے کہ لمبے لمبے کیل اس کے اعضا میں ٹھونکے گئے۔ جن سے خون اس قدر نکلا کہ مسیح غشی کی حالت میں ایسا سخت بیہوش ہوا کہ مردہ سمجھ کر دفن کیا گیا اور تین دن رات قبر میں مدفون رہا کیونکہ مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح حضرت یونس کی طرح قبر میں
٩
تین دن رہا۔
اب بتاؤ کہ یہ سراسر جھوٹ اور افترا ہے کہ نہیں کہ مسیح صلیب سے نجات پا کر کشمیر پہنچا۔ یہاں ہمارے چند سوالات ہیں کوئی مرزائی جواب دے۔
- (١) مسیح کو نجات کس نے دلائی۔ آیا پلاطوس کا کوئی حکم ہے جس کی تعمیل ہوئی۔ اور مسیح کو
صلیب سے اتارا گیا اور مسیح کا قصور معاف کیا گیا کوئی سند ہے تو پیش کرو؟
- (٢) مسیح کا علاج معالجہ کس ہسپتال میں ہوا کیونکہ یہ تو ممکن نہ تھا کہ مسیح جس کو اس قدر
عذاب صلیب پر دیئے گئے کہ مردہ ہو گیا اور دفن کیا گیا وہ خود بخود قبر سے نکل آتا اور سفر کے قابل ہوتا؟
- (٣) قبر پر جب پہرہ تھا اور تمام ملک مسیح کا دشمن تھا تو پھر اس کو کس نے قبر سے نکالا
اور کس نے ایسی سواری مسیح کے لیے مہیا کی کہ فوراً وہ ہندوستان میں پہنچ گیا اور پکڑا نہ گیا۔ شاید ہوائی جہاز پر آیا ہو مگر بدقسمتی سے اس وقت تو ریل گاڑی بھی نہ تھی کہ جس پر سوار ہو کر ہندوستان کو آتے۔ خر عیسیٰ تو کام نہ دے سکتا تھا کہ ایسے کمزور کو ہندستان پہنچا دیتا؟
- (٤) مسیح جب بھاگا تو اس کا تعاقب حکام کی طرف سے کیوں نہ کیا گیا۔ تندرست
انسان تو چوری بھیس بدل کر بھاگ سکتا ہے۔ مگر ایسے سخت بیمار کا بھاگنا ناممکن ہے۔ جس کے پاؤں لمبے لمبے کیلوں سے زخمی ہو گئے تھے وہ تو ایک قدم بھی نہ چل سکتا تھا اگر دوسرے جنازہ اٹھاتے تو پکڑے کیوں نہ گئے؟
- (٥) جب مسیح مصلوب ہوا اور بقول مرزا قادیانی صلیب کے عذابوں سے اس قدر بیہوش
تھا کہ مردہ سمجھا گیا تو قبر میں دم گھٹ جانے سے کیونکر زندہ رہا۔ کیا یہ محال عقلی نہیں کہ انسان بغیر ہوا کے زندہ رہ سکے؟
- (٦) اگر بقول مرزا قادیانی مسیح کشمیر میں ٨٧ برس زندہ رہا تو پھر کس قدر عیسائی کشمیر میں
پھیلے۔ مگر تاریخ بتا رہی ہے کہ مسلمانوں کے راج سے پہلے نہ کوئی مسلمان اور نہ عیسائی سری نگر کشمیر میں تھا۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جس جگہ نبی اللہ ٨٧ برس رہے وہاں ایک آدمی بھی اس پر ایمان نہ لائے؟
- (٧) اگر کشمیر والی قبر مسیح کی قبر ہے تو پھر شہزادہ نبی یوز آصف کی قبر کیوں مشہور ہے۔ مسیح
کا لقب تو ہرگز یوز آصف شہزادہ نہ تھا اور یہ قبر شہزادہ نبی کی ہے؟
- (٨) مسیح آسمانی کتاب توریت و شریعت موسوی کا بقول مرزا قادیانی پیرو تھا۔ اگر
یوز آصف والی قبر مسیح کی قبر ہوتی۔ تو بیت المقدس کی طرف مردے کا منہ ہوتا۔ یعنی
مغرب کی طرف سے اور مشرق کی طرف پاؤں ہوتے ۔ جیسا کہ یہود اور نصاریٰ کا قاعدہ ہے مگر جو قبر کشمیر میں ہے اس کا سر شمال کی طرف ہے ۔ یہ ممکن نہیں کہ مردہ عیسائی ہو اور مسلمانوں کے مقبرہ میں مدفون ہو ۔ مرزا قادیانی نے اس قبر کا نقشہ اپنی کتاب (راز حقیقت ص ١٩ خزائن ج ١٤ ص ١٦١) پر دیا ہے وہ ملاحظہ کر کے جواب دینا چاہیے کیونکہ یہ نقشہ یہودیوں اور عیسائیوں کی قبروں کا نہیں ۔ پس ثابت ہوا کہ کشمیر والی قبر یوز آصف کی قبر ہے جو شہزادہ نبی کے نام سے مشہور تھا ۔
- (٩) قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح جس جگہ بھی رہیں ان کے لیے مبارک
ہے کیا یہ ایک نبی کے لیے مبارک ہے کہ بلاد شام میں ۔ جس جگہ وہ صرف چند سال رہا ہزاروں اس کے پیرو ہوں اور جس جگہ بقول مرزا قادیانی ٨٧ برس رہیں ۔ ایک پیرو بھی نہ ہو ورنہ دوسرے عیسائیوں کی قبریں بھی کشمیر میں دکھاؤ اگر کہو کہ مسیح نے اپنی جان کے خوف سے تبلیغ کا کام نہیں کیا تھا اور خاموش زندگی بسر کی تھی تو یہ نبی و رسول کی شان سے بعید ہے کہ اپنی جان کے خوف سے اپنا فرض منصبی ادا نہ کرے اور مرزا قادیانی کے سب بیان کے بھی برخلاف ہے کیونکہ مسیح بقول مرزا قادیانی ”اپنی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں کشمیر آیا تھا ۔“ (مسیح ہندوستان میں ص ٧٠ خزائن ج ١٥ ص ٧٠) اس کو اپنی بھیڑوں سے کیا ڈر تھا؟ نیز یہ کہ کھوئی بھیڑیں یعنی بنی اسرائیل تو ملک تاتار، ترکستان، یونان اور چین میں بھی آباد تھے وہاں مسیح کیوں نہ گئے ۔ صرف کشمیر جا کر چپ چاپ زندگی بسر کر کے مرنے سے کیا فائدہ جبکہ کھوئی ہوئی بھیڑیں دیگر ممالک میں بھی ہیں اور کھوئی ہوئی بھیڑوں سے گمراہ و کافر مراد ہیں ۔ جیسا کہ زبور میں لکھا ہے میں اس بھیڑ کی طرح ہوں جو کھوئی جائے بھٹک گیا ہوں ۔
(زبور ص ١١٩)
- (١٠) مرزا قادیانی قبول کرتے ہیں کہ انبیاء کبھی فوت نہیں ہوتے ۔ جب تک وہ کام مکمل
نہ ہو جائے ۔ جس کے واسطے وہ مامور ہوں ۔ (حمامۃ البشریٰ ص ٤٩ خزائن ج ٧ ص ٢٤٣) جب کھوئی ہوئی بھیڑیں مسیح کو ملیں اور ان میں سے کسی ایک نے بھی مسیح کو نہ مانا اور عیسائی مذہب قبول نہ کیا تو ثابت ہوا کہ مسیح فوت نہیں ہوئے کیونکہ کشمیر کی کھوئی ہوئی اسرائیلی بھیڑیں یا ہندو ہیں یا مسلمان ہیں ۔ لہذا نہ مسیح کا کام مکمل ہوا اور اس کی موت کشمیر میں ہوئی ۔ جب ایسے ایسے زبردست واقعات اور اعتراضات اور براہین قاطع سے ثابت ہے کہ کشمیر والی قبر مسیح کی قبر نہیں تو ضروری ہے کہ جس شخص کی یہ قبر ہے ۔ (شہزادہ نبی یوز آصف) اس کے حالات بیان کیے جائیں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ مرزا
١٠
قادیانی نے اپنی غرض کے لیے یہ من گھڑت قصہ تصنیف کر لیا ہے کہ یوز آصف کی قبر کو مسیح کی قبر کہتے ہیں حالانکہ پہلے خود ہی قبول کر چکے ہیں کہ مسیح کی قبر بلادِ شام میں ہے۔
مختصر حالات حضرت یوز آصف
ملک ہندوستان کے صوبہ سولابط (سولابت) میں ایک راجہ مسمی جنسیر گزرا ہے اس کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام یوز آصف رکھا گیا۔ بعد پرورش جب یوز آصف بڑا ہوا اور اس کے حسن اور اخلاق اور ادراک اور عقل کا شہرہ ہوا اور اس کی رغبت ترک دنیا اور حصول دین کی طرف جانے کا عام غلغلہ شہرۂ آفاق ہوا، تو ایک بزرگ جو کہ نہایت عابد و زاہد تھا جس کا نام حکیم بلوہر تھا۔ ولایت لنکا سے بحری سفر کر کے ارض سولابط میں آیا اور شہزادہ یوز آصف کی ملاقات کے واسطے اس کی ڈیوڑی پر آیا اور ایک خدمتگار کے ذریعہ سے یوز آصف کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام بجا لایا۔ شہزادہ نے بڑی تعظیم سے اس کا استقبال کر کے نہایت عزت سے اپنے پاس بٹھایا۔ حکیم بلوہر شہزادہ کو دین کی باتیں سکھاتا۔ عبادت الٰہی کے طریقہ سے واقف کرتا اور دنیا و مافیہا سے اس کو نفرت دلاتا۔ کچھ مدت بعد شہزادہ اسرار دین سے واقف ہو گیا اور حکیم بلوہر اس سے رخصت ہو گیا۔ ایک دفعہ شہزادہ یوز آصف کو خدا کی طرف سے بذریعہ فرشتہ پیغام پہنچا اور تنہائی میں فرشتہ نے کہا کہ تجھے سلامتی ہو اور تو انسان ہے۔ میں تیرے پاس آیا ہوں کہ رحمت الٰہی کی تجھ کو خوش خبری دوں اور مبارکباد دوں۔ جب شہزادہ نے یہ خوشخبری سنی سجدہ کیا اور حق تعالیٰ کا شکر کیا اور کہا کہ جو کچھ آپ فرمائیں گے میں اطاعت کروں گا اور اپنے پروردگار کی طرف سے جو حکم ہو گا بجا لاؤں گا۔ فرشتے نے کہا کہ میں چند دن کے بعد پھر تیرے پاس آؤں گا اور تجھے یہاں سے لے چلوں گا تو نکل جانے کے لیے تیار رہنا۔
یوز آصف نے ہجرت اور سفر کا ارادہ مصمم کر لیا اور اس راز کو سب سے چھپایا۔ ایک روز آدھی رات گزری تھی کہ وہی فرشتہ یوز آصف کے پاس آیا اور کہا کہ تاخیر مت کرو اور فوراً تیار ہو جاؤ۔ یوز آصف اُٹھ کھڑا ہوا اور سوار ہو کر اپنی راہ لی۔ یہاں تک کہ ایک صحرائے وسیع میں پہنچا اور وہاں ایک چشمہ کے کنارے بڑا درخت دیکھا جب قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ نہایت ہی پاکیزہ اور شفاف چشمہ ہے اور نہایت ہی خوبصورت درخت ہے۔ یہ دیکھ کر یوز آصف بہت خوش ہوا اور اس درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا ایک مدت تک یوز آصف اس ملک میں رہا اور لوگوں کو ہدایت دین کرتا رہا۔ اس کے بعد پھر ملک سولابط کو آیا۔ اس کے باپ نے اس کے آنے کی خبر سن کر رؤسا و امراء ملک کے
١١
ساتھ اس کا استقبال کیا۔ یوز آصف نے ان سب کو توحید الٰہی کا رستہ بتایا اور ان کے درمیان وعظ کیے اس کے بعد وہاں سے کوچ کیا اور بہت شہروں میں وعظ کرتا ہوا ملک کشمیر میں پہنچا اور اس ملک کے لوگوں کو ہدایت کی اور وہیں رہا یہاں تک کہ اس کا وقت مرگ آن پہنچا۔ مرنے سے پہلے اس نے اپنے ایک مرید سمی بابد کو عبادت الٰہی میں مشغول رہنے کی وصیت کی۔ اس کے بعد یوز آصف نے عالم بقا کی طرف رحلت کی۔
(مفصل حالات کے لیے ملاحظہ ہو کتاب یوز آصف اور بلوہر مترجمہ مولوی سید عبدالغنی صاحب عظیم آبادی مطبوعہ مطبع ہاشمی دہلی اور کتاب اکمال الدین و اتمام النعمہ عربی ص ٣٥٨)
اب ہم مرزائی صاحبان کو چیلنج دیتے ہیں اور ایک سو روپیہ کے انعام کا وعدہ کرتے ہیں کہ وہ کسی کتاب سے یہ ثابت کر دیں کہ یوز آصف والی قبر جو شہزادہ نبی کے نام سے مشہور ہے۔ اس قبر میں حضرت عیسیٰؑ فوت ہو کر مدفون ہیں یا کسی تاریخ کی کتاب کا حوالہ دیں اور اس کا صفحہ وسطر نوٹ کریں۔ ہم خود کتاب دیکھ لیں گے۔ اگر وہ کسی کتاب سے خواہ وہ کتاب تاریخ کی ہو نہ دکھا سکیں تو پھر قرآن شریف اور حدیث نبوی پر مرزا قادیانی کی دروغ بافی کو ترجیح نہ دیں۔ اور اس فاسد عقیدہ سے توبہ کریں کہ مسیح بعد صلیب کشمیر میں آیا اور ٨٧ برس زندہ رہ کر فوت ہوا اور محلہ خانیار میں جو قبر ہے یہ اسی کی قبر ہے۔
جس طرح ہم کتابوں کے حوالے دیتے ہیں۔ اسی طرح مرزائی صاحبان بھی کتابوں کا حوالہ دیں۔ بلا دلیل و ثبوت دعویٰ ہرگز قبول نہیں ہو سکتا۔ تاریخ کشمیر جو (تاریخ اعظمی) کے نام سے مشہور ہے اور ایک ولی اللہ صاحب کشف و الہام کی تصنیف ہے۔ اس کے صفحہ ١٨ پر لکھا ہے کہ ”در زمانِ سابق یکے از سلاطین زاد ہا وز پارسائی و تقویٰ بدرجہ رسیدہ کہ بر رسالت ایں خطہ مبعوث شد۔ و بدعوت خلایق اشتغال نمود نامش یوز آصف بود۔ بعد رحلت در محلہ آزمرہ قریب خانیار آسود۔“
ترجمہ۔ پہلے زمانہ کے شہزادوں میں سے ایک شہزادہ پرہیز گاری اور پارسائی میں اس درجہ تک پہنچا تھا کہ اس خطہ کی رسالت کے واسطے مبعوث ہوا اور خلقت کی تبلیغ اور دعوت حق میں مشغول رہا۔ اس کا نام یوز آصف تھا اور مرنے کے بعد اس محلہ کے گروہ میں خانیار کے قریب دفن کیا گیا ۔“
پرانی باتوں کی تصدیق زمانہ حال کے علماء و فضلاء و رئیسانِ سرینگر کشمیر اس طرح کرتے ہیں۔
١٢
شہادت : خواجہ سعد الدین ولد شاہ اللہ مرحوم کی ہے۔ وہ قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر پولیس کے استفتاء پر لکھتے ہیں۔ السلام علیکم مکاتبہ مسرت طراز بخصوص دریافت کردن کیفیت اصلیت مقبرہ یوز آصف مطابق تواریخ کشمیر در کوچہ خانیار حسب تحریر تالیفات جناب مرزا قادیانی و اطلاع آں زمان سعید رسید باعث خوشوقتی شد من مطابق چٹھی مرسولہ آں مشفق چہ از مردم عوام چہ از حالات مندرجہ کشمیر در پئے آں رفتم آنچہ واضح شد اطلاع آں میکنم۔ مقبرہ روضہ بل۔ یعنی کوچہ خانیار بلاشک بوقت آمدن از راہ مسجد جامع بطرف چپ واقع است۔ مگر آن مقبرہ بملاحظہ تاریخ کشمیر نسخہ اصل خواجہ اعظم صاحب دیدہ مردے کہ ہم صاحب کشف و کرامات محقق بودند۔ مقبرہ سید نصیر الدین قدس سرہٗ میباشد بملاحظہ تاریخ کشمیر معلوم میشود کہ آں مقبرہ بمقبرہ یوز آصف مشہور است۔‘‘ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی تحریر میفرمایند بلے اینقدر معلوم میشود کہ مقبرہ عمارتے سنگ قبرے و اقوامت آنرا قبر یوز آصف۔ نوشتہ است بلکہ تحریر فرمودہ اند کہ در محلہ آنز مرہ مقبرہ یوز آصف واقع است مگر آں نام بلفظ سین نیست بلکہ بلفظ صاد است و ایں محلہ بوقت آمدن از راہ مسجد جامع طرف راست است طرف چپ نیست درمیان آنز مرہ و روضہ بل یعنی کوچہ خانیار مسافت واقعست بلکہ نالہ مار ہم مابین آنہا حائل است۔ پس فرق بدو وجہ معلوم میشود۔ ہم فرق لفظی وہم فرق معنوی۔ فرق لفظی آنکہ یوز آصف بصاد است و در انزمرہ مدفون نوشتہ اند بلفظ سین آن نیست و تغایر اسم بر تغایر مسمی دلالت میکند ۔ وفرق معنوی آنکہ یوز آصف کہ مرزا قادیانی میفرمایند کہ در کوچہ خانیار واقعست ۔ ایں در محلہ انز مرہ است تغائر مکان بر تغائر مکین دلالت میکند ۔ کہ یک شخص در دو جا مدفون بودن ممکن نیست۔ عبارتیکہ در تاریخ خواجہ اعظم صاحب دیدہ ام و مذکور است ایں است حضرت سید نصیر الدین خانیاری از سادات عالیشان است در زمرہ مستورین بود بتقریبے ظہور نمودہ مقبرہ میر قدس سرہ در محلہ خانیار مہبط فیوض و انوار است و در جوار ایشاں سنگ قبرے واقع شدہ در عوام مشہور است کہ آنجا پیغمبرے آسودہ است کہ در زمان سابقہ در کشمیر مبعوث شدہ بود۔ ایں مکان بمقام آں پیغمبر معروف است ۔ در کتابے از تواریخ دیدہ ام کہ بعد قضیہ دور و دار حکایتے ۔ مینویسند کہ یکے از سلاطین برہنمائے براہ زہد و تقویٰ آمدہ ریاضت و عبادت بسر کردہ برسالت مردم کشمیر مبعوث شدہ در کشمیر آمدہ بدعوت خلایق مشغول شد و بعد رحلت در محلہ آنزمرہ ١٣
آسودہ و در آں کتاب نام آں پیغمبر رایوز آصف نوشت۔ آنزمرہ و خانیار متصل واقعست۔‘‘ از ملاحظہ آں عبارت صاف عیاں است کہ یوز آصف در محلہ آنزمرہ مدفون است در کوچہ خانیار مدفون نیست و ایں یوز آصف از سلاطین زادہا بودہ است و ایں عبارت تواریخ مخالف و مناقض ارادہ مرزا است۔ زیرا کہ یسوع خود را بکسی از سلاطین وغیرہ انتساب نکردہ اند فقط (راقم خواجہ سعد الدین عفی عنہ فرزند خواجہ ثناء اللہ مرحوم و مغفور از کوٹھی خواجہ ثناء اللہ غلام حسن از کشمیر ١٥ بحوالہ رسالہ کلمہ فضل رحمانی ص ٤٤ تا ٤٦)
شہادت ٢: اطلاع باو جود ارقام کردہ بود کہ در شہر سرینگر در ضلع خانیار پیغمبرے آسودہ است معلوم سازند موجب آں خود بذات بابت تحقیق کردن آں در شہر رفتہ ۔ ہمیں تحقیق شدہ پیشتر از دو صد سال شاعر معتبر و صاحب کشف بودہ است نام آں خواجہ اعظم دید ندی داشتہ یک تاریخ از تصانیف خود نموده است کہ دریں شہر دریں وقت بسیار معتبر است دراں ہمی عبارت تصنیف ساختہ است کہ در ضلع خانیار در محلہ روضہ بل میگویند کہ پیغمبرے اسودہ است یوز آصف نام داشتہ و قبر دوم درانجا است ازا ولاد زین العابدین سید نصیر الدین خانیاری است و قدم رسول در انجاہم موجود است اکنوں در انجا بسیار مرجع اہل تشیعہ دارد۔ بہر حال سوائے تاریخ خواجہ اعظم صاحب موصوف دیگر سندی صحیح ندارد۔ والعلم عنداللہ راقم سید حسن شاہ از کشمیر ٢٢ ذی الحج ١٣١٣ھ۔ (کلمہ فضل رحمانی ص ٤٦)
شہادت ٣: جو علمائے کشمیر کی طرف سے بذریعہ ایک رجسٹری شدہ لفافہ کے موصول ہوئی ہے۔ نحمده و نصلی علیٰ حبیبه محمد واله و اصحابه اجمعین۔ قبل از ظہور دین اسلام کدام مذہب بغیر مذہب ہنود در کشمیر نبود نہ از دین عیسوی نامے ونہ از مذہب موسوی نشانی پیدا و ہویدا بود۔ در کدام یکے از تواریخ معتبرہ مسطور است و نہ ہم زبان کدام کسے از عوام و خواص مذکور است کہ از دین عیسوی در کشمیر اثری و یا از دین موسوی در انجا جزئی بود قبری کہ در محلہ خانیار است عامہ خلایق برآں اند کہ قبر یک بزرگ است و بعضی گفته اند کہ قبر یک پیغمبر است کہ نام شان یوز آصف است و ایں امر بعضی از بزرگاں را بکشف منکشف شد لیکن ایں امر ہم در کدام تاریخ معتبر بطرز مسلسل و مدلل کہ مفید گونہ اطمینان مے بود یافتہ نہ شد بلکہ سخنے بے بنیاد و سقفی بے عماد است۔ مرزا قادیانی بگوائے الغریق یتشبث بکل حشیش و بمقتضائے حبک الشی یعمی و یصم حیلے خراشیدہ و وہمی تراشیدہ ایں اختراع کردند کہ یوز آصف بمعنی عیسیٰ است و حال روایت از تقریر بالا معلوم شد و بلحاظ اصول درایت ہم ایں امر بغایت مستبعد و نہایت مشکل بلکہ سراسر بہتان و سراپا ١٤
ہذیان معلوم میشود کہ عقل سلیم و طبع مستقیم ہرگز جرات تسلیم نمیکند ۔ اول بایں وجہ کہ حضرت عیسیٰ آنراہ دور در از و دشوارگزار بقول شاعر ۔ بود قطع رہ کشمیر مشکل ۔ بحق نتواں رسید از راہ باطل ۔ بایں جا نامے و نشانے از محبان و مخلصان شاں دریں دیار بنور تشریف مے آوردند بقطع نظر اگر چنیں صورت بوقوع ہم مے آمد نامے و نشانے از عیسویت در انجا یا فتہ مے شد و آں بالکلیہ مفقود و غیر موجود است علاوہ برایں بعد ظہور اسلام دریں دیار اگر ہزار ہا سال بفرض محال گذشتہ میبودند در نام مبارک حضرت عیسیٰ اینقدر تغیر و تبدل نمے شد و وجود ذی جود حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام با وجود بعثت و با آن معجزات ظاہرہ و کمالات باہرہ مانند ابراء اکمہ ابرص و احیاء موتی ہرگز ہرگز مستور و محجوب نمی ماند و ایں امر بدیہی است حاجت بنظر نیست۔
(مہر و دستخط) احقر الانام کثیر الاثام محمد حسام الدین حنفی مفتی (٢) ایضاً مولوی محمد صدر الدین مفتی اعظم کشمیر۔ (٣) ایضاً حررہ الاحقر محمد سعد الدین عفی عنہ المفتی الکشمیری القاضی (٤) ایضاً احقر عماد الدین محمد یوسف عفی عنہ (مہریں بمعہ دستخط)
واقعی در کشمیر در محلہ خانیار قبر ہیچ یکے از پیغمبراں نیست و ندارد و کسانیکہ از متبعان مرزا قادیانی بتقلید شان میگویند کہ قبر حضرت عیسیٰ علیٰ نبیناء علیہ السلام است در محلہ خانیار است محض ہیچ و پوچ است۔ بفرض محال اگر چنیں روایت ہم میبود درایت بالکل مخالف اوست۔ پس دانشمنداں اہالی اسلام بدانند قائل قول مرقوم محض مغالطہ و فریب دہی سامعان خود محض برائے سخن پروری خود میکند و آن مردود و باطل است۔
مہر و دستخط مولوی مفتی محمد امان اللہ اکٹھی عفی عنہ۔
در محلہ خانیار قبر کدام نبی موجود نیست۔ آرے اینکہ بصیغہ تمریض در بعضی تاریخ نامہ ہا نوشتہ است۔ آں ہمیں است کہ در محلہ انزمرہ قبر یوز آصف است یوز آصف کجا و حضرت عیسیٰ کجا و شور حضرت عیسیٰ تا فلک رسیدہ اگر در زمین ہمہ بہار کشمیر وارد میشدند دعویٰ آنہا مخفی نمے ماندند کہ خلاف مقصد بعثت انبیاء علیٰ نبینا و علیہ السلام است و تاریخ نامہائے ملی و غیر ملی از حالات ورود مبارک شان مشحون مے بودند و کذب قائلیں و تالی باطل فالمقدم مثلاً۔
مہر و دستخط مولوی محمد اشرف الدین عفی عنہ المفتی القاضی۔
اب اگر کسی مرزائی میں غیرت و حق طلبی کا کچھ شمہ بھی ہے تو اسی طرح کی تاریخی سندات ثبوت دعویٰ میں پیش کریں۔ ورنہ خلق خدا کے لئے بچو مرزا ضال مضل
١٥
کے مصداق نہ بنیں۔
برادران اسلام! ہم تاریخی و تحریری سندات و شہادات سے ثابت کر چکے ہیں کہ کشمیر والی قبر جسے مرزا قادیانی مسیح کی قبر کہتے ہیں۔ حقیقت میں شاہزادہ یوزآصف کی قبر ہے چونکہ تاریخی ثبوت کی تردید کے واسطے بھی تاریخی ثبوت ہونا چاہیے۔ مگر ایسا کوئی ثبوت مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے ہاتھ میں نہیں صرف قیاسی اور شکی باتیں پیش کرتے ہیں۔ جو ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں۔ اس واسطے ضروری ہے کہ ان کے اوہام اور قیاسی دلائل کے بھی دندان شکن جواب دیے جائیں تاکہ اہل اسلام دھوکہ نہ کھائیں۔ لہٰذا ذیل میں ہم ان کے دلائل لکھ کر ساتھ ہی جواب عرض کرتے ہیں۔
دلیل نمبر ١
مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”واضح ہو کہ حضرت مسیح کو ان کے فرض رسالت کی رو سے ملک سے پنجاب اور اس کے نواح کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے اس فرقے جن کا انجیل میں اسرائیل کی گم شدہ بھیڑیں نام رکھا گیا ہے۔ ان ملکوں میں آ گئے تھے جن کے آنے میں کسی مورخ کو اختلاف نہیں ہے اس لیے ضروری تھا کہ حضرت مسیح اس ملک کی طرف سفر کرتے اور ان گمشدہ بھیڑوں کا پتہ لگا کر خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچاتے۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ٩٣ خزائن ج ١٥ ص ٩٤)
الجواب: جن مورخوں نے مسیح کا ہندوستان میں آنا لکھا ہے اور پھر کشمیر میں فوت ہو کر محلہ خانیار میں مدفون ہونا بتایا ہے۔ کوئی مرزائی مرزا قادیانی کو سچا ثابت کرنے کے واسطے اس تاریخ کی کتاب کا نام لکھ کر صفحہ کا حوالہ دے دے جہاں لکھا ہے کہ مسیح ہندوستان میں آ کر فوت ہوا اور کشمیر میں ان کی قبر ہے۔ ہم اس مرزائی کو ایک سو روپیہ انعام دیں گے۔ اگر کوئی مرزائی یہ نہ بتا سکے تو اس کو یقین کرنا چاہیے کہ یہ بالکل غلط ہے کہ مسیح کی قبر کشمیر میں ہے کیونکہ واقعات گذشتہ کی تصدیق کتب تواریخ سے ہی ہوتی ہے۔ صرف قیاس کر لینا کافی نہیں جب کسی خاص شخص کا ذکر ہو تو پھر اس کے نصف حصہ کو نقل کرنا اور نصف حصہ اپنے پاس سے جوڑ لینا راست بازی اور دیانت کے خلاف ہے۔ جن مورخوں نے بزعم مرزا قادیانی مسیح کا ہندوستان میں آنا لکھا ہے۔ انہی مورخوں نے یہ بھی تو لکھا ہے کہ مسیح ٢٩ برس کی عمر میں ہندوستان سے واپس ملک بنی اسرائیل میں گیا اور ٣٣ برس کی عمر میں صلیب دیا گیا اور صلیب پر فوت ہوا اور جس جگہ صلیب دیا گیا۔ وہیں اس کی قبر ہے۔ یعنی ملک شام میں جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کا
١٦
قیاس درست ہو سکتا ہے کہ چونکہ مسیح ہندوستان میں آیا اس لیے اس کا فوت ہونا اور کشمیر میں دفن ہونا بھی ثابت ہو گیا؟ یہ ایسی ہی ردی دلیل ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ حکیم نور الدین کی قبر لاہور میں ہے کیونکہ وہ لاہور میں آتے رہے ہیں۔ حالانکہ لاہور ان کا آنا اور بات ہے اور فوت ہو کر مدفون ہونا امر دیگر۔
پس بفرض محال اگر بقول روسی سیاح مسیح ہندوستان میں آیا تو اس سے اس کا ہندوستان میں فوت ہونا اور کشمیر میں دفن ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ تاوقتیکہ جس مؤرخ نے یہ لکھا ہے کہ مسیح ہندوستان میں آیا وہی مؤرخ یہ نہ لکھے کہ مسیح ہندوستان میں آ کر فوت ہوا اور کشمیر میں اس کی قبر بنائی گئی۔ جب وہی مؤرخ جنھوں نے مسیح کا ہندوستان اور تبت میں آنا لکھا ہے وہی خود لکھ رہے ہیں کہ مسیح ٢٩ برس کی عمر میں اپنے وطن کو واپس چلا گیا اور وہاں صلیب پر دو چوروں کے ساتھ فوت ہوا اور وہیں اسکی قبر ہے تو پھر مرزا قادیانی کی من گھڑت کہانی جو انھوں نے مطلب براری کے واسطے بنائی ہے۔ تاریخی اور انجیلی ثبوت کے مقابل کچھ وقعت نہیں رکھتی۔ شاید خوش اعتقاد بندے یہ کہہ دیں کہ مرزا جی نے بذریعہ کشف و الہام خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر ایسا لکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے جو مرزا قادیانی نے لکھا کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں فوت ہوا اور مدفون ہے اور لکھا کہ بیت المقدس میں مسیح کی قبر ہے۔ وہ بھی خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر لکھا تھا یا از خود ہی لکھ دیا تھا؟ جب پہلے کشف اور الہام کو خود ہی مرزا قادیانی نے بے اعتبار کر دیا تو اب کیا اعتبار ہے یہ کشف و الہام سچا ہو۔ جبکہ وہی تاریخ و انجیل جس کو مرزا قادیانی خود پیش کرتے ہیں وہی انجیل و تاریخ مرزا قادیانی کا رد کر رہی ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے پہلے بیانات کی تصدیق کر رہی ہے۔ مسیح اپنے وطن میں دفن ہوا۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا قیاس غلط ہے کہ یوز آصف والی قبر مسیح کی قبر ہے۔
نیز مرزا قادیانی کا قیاس اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ بخت نصر کے یروشلم کے تباہ کرنے کے وقت بنی اسرائیل کے بہت سے قبائل ترکستان اور مارالنہر، شمالی عرب اور یونان کی طرف بھی چلے گئے تھے۔ (دیکھو خطبات احمدیہ کا تیسرا خطبہ ص ٢١٢ اور کتاب النبی والاسلام کا ص ٨ جس میں قبائل بنی اسرائیل کا عرب میں آنا مذکور ہے) اور یہ بات مرزا جی خود بھی تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ اپنی کتاب ”مسیح ہندوستان میں“ بخت نصر نے جب بنی اسرائیل کو شام سے نکال دیا تو آصف اور افغان کے قبائل عرب میں جاگزین ہوئے۔ (مسیح ہندوستان میں ص ١٠٢ خزائن ج ١٥ ص ١٠٢) اب فریقین کے بیان سے ثابت ہے کہ عرب میں
١٧
بھی قوم بنی اسرائیل آباد تھی۔
پھر مرزا قادیانی کتاب ”مسیح ہندوستان میں“ لکھتے ہیں۔ ”ایک اور روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی لوگ تاتار میں جلا وطن کر کے بھیجے گئے تھے اور بخارا، مرو اور جنیوا کے متعلقہ علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔“ (مسیح ہندوستان میں ص ٩٦ خزائن جلد ١٥ ص ٩٦) جب یہ بات ثابت ہے کہ یہودی لوگ عرب تاتار، ترکستان، یونان، چین میں بھی علاوہ تبت و کشمیر کے آباد تھے تو پھر مسیح کا صرف کشمیر میں جا کر بیٹھ رہنا اور دوسرے ممالک کو نہ جانا اور اپنا فرض رسالت ادا نہ کرنا ثابت ہو گا۔ جو ایک رسول کی شان سے بعید ہے کہ اپنی جان کے خوف سے یہودیوں میں تبلیغ نہ کرے اور ٨٧ برس کشمیر میں ضائع کر کے فوت ہو جائے اور مدفون ہو اور ایسی گمنامی کی حالت میں رہے کہ لوگ اس کا نام تک ہی بھول گئے کہ اس کی قبر کو یوز آسف کی قبر کہنے لگے۔ بھلا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک نبی اللہ اور رسول اللہ صاحب کتاب اپنی چپ چاپ زندگی بسر کرے اگر وہ بقول مرزا قادیانی اپنی گمراہ بھیڑوں کی تلاش میں کشمیر آیا تھا تو پھر بہت یہودی راہ راست پر آئے ہوں گے اور مسیح کے پیرو بکثرت کشمیر میں ہونے چاہئیں تھے اور یہ ممکن نہ تھا کہ ایسے اولوالعزم پیغمبر کا ایک نام لیوا بھی کشمیر میں نہ رہا۔ نام لیوا تو درکنار اس کا صحیح نام بھی عوام اہل کشمیر کو یاد نہ تھا کہ صاحب قبر یسوع ہے یوز آسف نہیں۔ اللہ اکبر۔ غرض انسان کو بالکل بے اختیار کر دیتی ہے۔ ملک شام میں مسیح صرف تین چار برس رہے۔ وہاں تو لاکھوں یہودی اس پر ایمان لائیں اور ایمان بھی ایسا کہ خدائی کے مرتبہ تک پہنچائیں۔ اور جہاں بقول مرزا قادیانی ٨٧ برس رہیں (یعنی کشمیر) وہاں ایک بھی آدمی اس پر ایمان نہ لائے۔ یہ کس قدر خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہتک ہے کہ خدا تعالیٰ اپنا رسول ایسے ملک میں روانہ کرتا ہے جہاں اس کو ٨٧ برس کے عرصہ میں کوئی بھی قبول نہیں کرتا بلکہ اس کا نام تک نہیں جانتا۔
نیز اگر حضرت مسیح کا سفر کرنا یہودیوں کی تلاش کے واسطے ضروری تھا تو پھر عرب تاتار، ترکستان وغیرہ ممالک میں کیوں نہ گئے کیا وہاں ان کا فرض نہ تھا کہ وہاں کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو راہ راست پر لاتے اور کیا وہ وہاں نہ جانے سے اور چپ چاپ بے دست و پا ہو کر کشمیر میں ٨٧ برس پڑا رہنے میں خدا تعالیٰ کے گنہگار نہ ہوئے اور کشمیر میں ایک عیسائی نہ ہوا ورنہ کسی عیسائی کا پتہ کسی تاریخ سے دو اور ان کی قبریں بتاؤ کہ کس محلہ میں ہیں؟ کیونکہ تاریخی واقعات کی تصدیق یا تکذیب تاریخوں سے ہی ہو سکتی ہے
١٨
اپنے قیاس اور طبعزاد قصے بنا لینے سے نہیں۔ پس یہ قیاس بالکل غلط ہے کہ مسیح کی قبر کشمیر میں ہے۔ اگر کسی مؤرخ نے لکھا ہے تو دکھاؤ اور ایک سو روپیہ انعام پاؤ۔
دلیل نمبر ٢
حضرت مسیح کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا دوسری قوم کی طرف نہیں بھیجا گیا۔
(ریویو جلد ٢ نمبر ٢ ص ١١ و ١٢)
الجواب: حضرت مسیح کا یہ فرمانا کہ کھوئی ہوئی بھیڑوں کے واسطے آیا ہوں یہ ایک استعارہ ہے جو آسمانی کتابوں میں مذکور ہے۔ اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ جو جلاوطن بنی اسرائیل ہوگئے ہیں میں ان کے واسطے آیا ہوں۔
- (الف) دیکھو زبور ١١٩۔١٧٦ میں اس بھیڑ کی مانند جو کھوئی جائے بھٹک گیا ہوں۔
- (ب) پطرس ٢٢٥ پہلے تم بھیڑوں کی طرح بھٹکتے پھرتے تھے مگر اب اپنی جانوں کے
گڈریہ اور نگہبان کے پاس پھر آگئے ہو۔
- (ج) یوحنا ١٠۔٢٦ و ٢٧۔ لیکن تم اس لیے یقین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میں سے
نہیں ہو۔ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میں انھیں جانتا ہوں اور میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔
ان ہر سہ حوالہ جات زبور و اناجیل سے ثابت ہے کہ مسیح کا یہ فرمانا کہ کھوئی ہوئی بھیڑوں کے واسطے آیا ہوں۔ جلا وطن یہودیوں سے مراد نہیں اور نہ یہ مطلب ہے کہ میں انھیں غیر ممالک میں تلاش کر کے پاؤں گا۔ بلکہ وہ صاف صاف فرماتے ہیں کہ جو مجھ پر ایمان نہیں لاتا۔ وہ میری بھیڑ نہیں۔ گم شدہ بھیڑوں سے نا ہدایت یافتہ اور گمراہ غافل بے دین لوگ مراد ہیں۔ جن کو حضرت مسیح نے تعلیم دی اور راہ راست پر لائے اگر کھوئی ہوئی بھیڑوں سے جلا وطن یہودی مراد ہوتے تو مسیح دوسرے ملکوں میں جاتے مگر وہ تو انھیں کو اپنی بھیڑیں کہتے ہیں جو ان پر ایمان لائے ایسا ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ الم اجدکم ضالاً فہداکم اللہ بی و کنتم متفرقین فالفکم اللہ بی۔ ترجمہ۔ کیا نہیں پایا میں نے تم کو گمراہ پس ہدایت کی اللہ تعالیٰ نے تم کو میرے ساتھ اور تھے تم تتر بتر پس خدا نے ملا لیا تم کو میرے ساتھ۔
(مشارق حدیث نمبر ١٠٢٣)
حضرت خاتم النبیین محمد ﷺ نے بھی حضرت مسیح ؑ کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تصدیق فرما دی کہ کھوئی ہوئی سے مراد ضالاً گمراہ روحانی ہے۔ نہ کہ جلا وطن۔
افسوس مرزا قادیانی کچھ ایسے مطلب پرست تھے کہ اپنے مطلب کے واسطے تو
١٩
اسم علم کا بھی استعارہ بنا لیتے اور ابن مریم کے معنی ابن غلام مرتضیٰ کر لیتے بلکہ استعارہ کے طور پر حاملہ بھی ہو جاتے۔ دردِ زہ بھی ہوتی اور بچہ بھی جن لیتے جو کہ بمنزلہ اطفال اللہ ہوتا اور (نعوذ باللہ) آپ استعارہ کے رنگ میں خدا کی بیوی بن جاتے۔ قادیان کو دمشق بنا لیتے۔ مگر جب اپنا مطلب استعارہ سے نہ نکلتا ہو تو استعارہ کو حقیقی معنوں میں لیتے۔ کیا کوئی عقلمند تسلیم کر سکتا ہے کہ امت عیسوی حقیقتاً بھیڑیں تھیں اور حضرت عیسیٰ جب ان کو آواز دیتے تو بھیں بھیں کرتی ہوئی عیسیٰ کی طرف آتی تھیں؟ حضرت عیسیٰ تو اپنی بھیڑ اسی کو فرماتے ہیں جو ان کے پیرو تھے اور یہودی تو پانچویں صدی قبل از مسیح بخت نصر کے وقت بھاگے تھے۔ وہ مسیح کی بھیڑیں کس طرح ہو سکتی ہیں اور مسیح کا فرض کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے سفر کرتا پھرے؟ اور پھر سفر کا نتیجہ کہ ٨٧ برس میں ایک بھی عیسائی نہ ہوا خدا نے صلیب سے مسیح کو اسی واسطے نجات دی تھی کہ کشمیر جا کر تبلیغ کرے اور ایک بھی یہودی ایمان نہ لائے۔ کس قدر خدا کی ہتک اور لاعلمی ہے کہ مسیح کو کشمیر روانہ کرنے کے نتیجہ سے بے علم تھا۔ پس یہ سراسر غلط ہے کہ مسیح کشمیر میں آیا اور فوت ہو کر محلہ خانیار میں دفن ہوا۔
دلیل نمبر ٣
’’اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ وہ کسی نبی میں جمع نہیں ہوئیں۔ ایک یہ کہ انھوں نے کامل عمر پائی یعنی ایک سو پچیس برس زندہ رہے۔ دوم یہ کہ انھوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی۔ اس لیے نبی سیاح کہلائے۔‘‘
(مسیح ہندوستان میں ص ٥٥ خزائن ج ١٥ ص ٥٥)
کنزالعمال میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے جس کے یہ لفظ ہیں ’’یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سب سے پیارے خدا کی جناب میں وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔ پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی ہیں۔ کہا وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ مسیح کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔
(ریویو جلد ٢ نمبر ٦ ص ٢٣٥ بابت ماہ جون ١٩٠٣ء)
الجواب: یہ بالکل غلط ہے کہ تمام فرقے مانتے ہیں کہ مسیح ایک سو پچیس برس زندہ رہے بلکہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کا یہ مذہب ہے کہ حضرت مسیح ٣٣ برس اس دنیا میں رہے اور ان کا رفع ٣٣ ویں برس ہوا اور پھر آسمان پر زندہ اٹھائے گئے اور بعد نزول فوت ہو کر مقبرہ رسول اللہ ﷺ میں دفن ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی قبر ہو گی درمیان قبروں ابوبکر عمرؓ کے اور یہی مذہب عیسائیوں کا انجیل میں مذکور ہے۔ جس کی تصدیق قرآن
٢٠
شریف نے بدیں الفاظ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ. (نساء ١٥٨۔١٥٧) کر دی ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰؑ نہ تو قتل ہوئے اور نہ صلیب دیئے گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اب قرآن شریف سے بعبارت النص ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور نہ قتل ہوئے۔ جب قتل نہ ہوئے اور اٹھائے گئے تو زندہ ثابت ہوئے کیونکہ یہود کا قاعدہ یہ تھا کہ پہلے مجرم کو قتل کرتے اور بعد میں صلیب پر لٹکاتے تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت ہو مگر چونکہ حضرت عیسیٰؑ نہ قتل ہوئے اور نہ صلیب دیے گئے تو زندہ اٹھایا جانا ثابت ہوا کیونکہ قتل وصلیب کا فعل جسم پر وارد ہوتا ہے جس کی تردید قرآن شریف فرما رہا ہے۔ جب جسم قتل و صلب سے بچایا گیا تو جسمی رفع بھی ثابت ہوا۔ کیونکہ قتل و صلب کا فعل جسم پر وارد ہو سکتا ہے۔ روح کو نہ تو کوئی قتل کر سکتا ہے اور نہ پھانسی دے سکتا ہے۔ پس جو چیز قتل اور لٹکانے سے بچائی گئی۔ یعنی جسم جب رفع مسیح جسمانی ہوا تو ثابت ہوا کہ قرآن شریف کے ماننے والے فرقے تو ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ مسیح علیہ السلام نے ایک سو پچیس برس کی عمر پائی۔ یہ مرزا جی کا سب فرقوں پر بہتان ہے۔ افسوس مرزا قادیانی کو اپنی مایہ ناز حدیث بھی بھول گئی جس میں لکھتے رہے کہ مسیح کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی۔ مرزا قادیانی کا یہ لکھنا بھی غلط ہے کہ سوائے مسیح کے کامل عمر کسی نبی نے نہیں پائی۔ شاید مرزا قادیانی حضرت آدم علیہ السلام و حضرت نوح علیہ السلام و حضرت شیث علیہ السلام وغیرہم کو نبی نہیں تسلیم کرتے ہیں جنھوں نے ایک ہزار برس کے قریب عمریں پائیں۔ دیکھو بائبل باب پیدائش دوم یہ کہ انھوں نے اکثر حصوں ملک کی سیر کی یہ بھی غلط ہے انجیل سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ملک شام میں ہی سیر اور تبلیغ فرماتے رہے اور وہیں ان کی امت تھی اور وہیں ملک شام میں واقعہ صلیب ہوا اور وہ صرف ٣٣ برس دنیا میں رہے۔ یہ بھی مرزا قادیانی نے غلط لکھا ہے کہ مسیح دین لے کر بھاگا بلکہ جان بوجھ کر دھوکہ دیا ہے اور حدیث میں تحریف معنوی کی ہے ہم مرزا قادیانی کا جھوٹ ظاہر کرنے کے واسطے حدیث کے اصل الفاظ نقل کرتے ہیں تاکہ تمام مسلمانوں کو معلوم ہو کہ مرزا قادیانی جھوٹ تراشنے اور دوسرے کو دھوکا دینے میں کس قدر دلیر تھے۔ حدیث یہ ہے۔ قال احب الشئ الی اللّٰہ الغرباء الفرارون بدینھم یبعثھم یوم القیامۃ مع عیسی ابن مریم۔ (کنز ج ٣ ص ١٥٣ حدیث ٥٩٣٠ باب خوف العاقبۃ) ترجمہ۔ فرمایا نبی ﷺ نے خدا کی جناب میں پیارے وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔ پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی فرمایا وہ لوگ جو
٢١
بھاگیں گے ساتھ دین اپنے کے اور جمع ہوں گے طرف عیسیٰ بیٹے مریم کے دن قیامت کے۔
مرزا قادیانی نے الفاظ حدیث الذین یفرون بدینہم و یجتمعون الی عیسیٰ ابن مریم کا ترجمہ غلط کر کے سخت دھوکا دیا ہے۔ یعنی آپ لکھتے ہیں۔ ”وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ مسیح کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے یہ معنی ایک ادنیٰ طالب علم بھی غلط قرار دے سکتا ہے۔ یجتمعون الی عیسیٰ ابن مریم میں لفظ الی کو تشبیہ گردانا اور اس کے معنی کیے۔ عیسیٰ کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔
ناظرین! پر واضح ہو کہ الی کے معنی طرف ہیں نہ کہ طرح۔ یعنی عیسیٰ بن مریم کی طرف لوگ جمع ہوں گے چونکہ اس حدیث کے الفاظ حضرت عیسیٰؑ کا اصالتاً نزول ثابت کرتے ہیں۔ اس لیے مرزا جی نے معنی غلط کر دیے۔ مگر یہ خدا کی قدرت ہے کہ جس حدیث کو مرزائی اپنے مفید مطلب سمجھ کر پیش کرتے ہیں وہی ان کے مدعا کے خلاف ہوتی ہے۔ اس حدیث میں بھی صاف اصالتاً نزول عیسیٰ بن مریم مذکور ہے۔ نہ کہ اس کا کوئی بروز و مثیل۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے نزول کے وقت جو جو لوگ عیسیٰ بن مریم کی طرف جمع ہوں گے۔ یعنی اس کی جماعت میں شامل ہوں گے وہی اللہ کے پیارے ہوں گے۔ اب تو روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ وہی عیسیٰ بن مریم نازل ہو گا اور وہ زندہ ہے۔ اس کے سوا جو دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اب جو شخص کہے کہ عیسیٰ بن مریم مر چکا ہے۔ وہ نہیں آ سکتا۔ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتا ہے کیونکہ اگر عیسیٰ بن مریم دوسرے نبیوں کی طرح مر چکا ہوتا تو پھر اس کا نزول بھی نہ فرمایا جاتا کیونکہ جو شخص مر جاتا ہے وہ اس دنیا میں واپس نہیں آتا اور حضرت مسیح از روئے قرآن و حدیث واپس آنے والے ہیں۔ اس لیے ثابت ہوا کہ وہ زندہ ہیں کیونکہ اگر وہ دوسرے نبیوں کی طرح فوت ہو جاتے تو پھر حضرت خلاصہ موجودات ﷺ یہ ہرگز نہ فرماتے کہ تم میں عیسیٰ بن مریم واپس آئے گا۔ اس لیے کہ جو فوت ہو جائے وہ دوبارہ واپس نہیں آتا۔ لہٰذا کسی مسلمان کا حوصلہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے فرمان کو (نعوذ باللہ) جھٹلائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ تسلیم کرے۔ پس اس مختصر بحث سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم زندہ ہیں اور کسی تاریخ کی کتاب میں ان کا فوت ہونا اور کشمیر میں دفن ہونا مذکور نہیں تو ثابت ہوا کہ کشمیر میں جو قبر ہے وہ یوز آصف کی ہے نہ کہ عیسیٰ بن مریم کی۔
٢٢
دلیل نمبر ٤
اصل عبارت ۔ ”حال میں جو روسی سیاح نے ایک انجیل لکھی ہے۔ جس کو لنڈن سے میں نے منگوایا ہے وہ بھی اس رائے میں ہم سے متفق ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ اس ملک میں آئے۔“
(از حقیقت ص ١٧ حاشیہ خزائن جلد ١٤ ص ١٦٩)
الجواب: روسی سیاح کی انجیل نے تو مرزا قادیانی کی تمام فسانہ سازی اور دروغ بانی کا رد کر دیا ہے۔ افسوس مرزا قادیانی اپنی مسیحیت و مہدویت کے کچھ ایسے دلدادہ تھے کہ خواہ مخواہ جھوٹ لکھ کر لوگوں کو اس نیت سے دھوکا دیتے کہ کون اصل کتاب کو دیکھے گا لیکن ہم نے جب مرزا جی کے حوالہ کے مطابق کتاب دیکھی تو بالکل برعکس پایا۔ اسی روسی سیاح کی انجیل جس کو ہم پہلے ہی مختصراً نقل کر آئے ہیں۔ جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ چودہ برس کی عمر میں سندھ کے اس پار آیا اور ٢٩ برس کی عمر میں پھر ملک بنی اسرائیل یعنی شام میں واپس چلا گیا اور وہاں ٣٣ برس کی عمر میں پھانسی دیا گیا اور بلاد شام میں اس کی قبر ہے۔ آؤ مرزا جی کے مریدو! اسی روسی سیاح کی انجیل کا فیصلہ ہم منظور کرتے ہیں۔ آپ بھی خدا کا خوف کریں اور یوز آصف کی قبر کو عیسیٰ کی قبر نہ کہیں۔ اب تو آپ کا روسی سیاح آپ کی تردید کر رہا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ واقعہ صلیب سے نجات پا کر کشمیر میں آئے اور ٨٧ برس زندہ رہ کر کشمیر میں فوت ہوئے اور اسی سیاح کی انجیل مرزا جی اور آپ کو جھوٹا قرار دے رہی ہے کہ ہندوستان کی واپسی کے بعد شام میں مسیح مصلوب ہوا اور وہیں ملک شام میں اس کی قبر ہے۔ جس کو مرزا قادیانی بھی اپنی کتاب ست بچن کے حاشیہ پر تسلیم کر چکے ہیں کہ بلاد شام میں مسیح کی قبر ہے لہٰذا روسی سیاح کی انجیل سے بھی یہی ثابت ہوا کہ کشمیر میں عیسیٰؑ کی قبر نہیں۔
دلیل نمبر ٥
”اور پھر اس جگہ وہ حدیث جو کنز العمال میں لکھی ہے۔ حقیقت کو اور بھی ظاہر کرتی ہے یعنی یہ کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کو اس ابتلاء کے زمانہ میں جو صلیب کا ابتلاء تھا حکم ہوا کہ کسی اور ملک کی طرف چلا جا تا کہ یہ شریر یہودی تیری نسبت بد ارادے رکھتے ہیں اور فرمایا کہ ایسا کر جو ان ملکوں سے دور نکل جا تا تجھ کو شناخت کر کے یہ لوگ دکھ نہ دیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣ خزائن ج ١٧ ص ٩٩)
الجواب: افسوس مرزا قادیانی نے اس جگہ بھی وہی حرکت کی ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص
کرتا تو مرزا قادیانی اس کو یہودیانہ حرکت کہتے اور لعنت کا مورد بناتے۔ کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ حدیث کے کن الفاظ کا یہ ترجمہ ہے۔ ”اس ابتلا کے زمانہ میں جو صلیب کا زمانہ تھا“ ہم مرزا کی دیانتداری کا پول کھولنے کے واسطے حدیث کی اصل عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ مرزا جی کا سچ جھوٹ ظاہر ہو۔ دیکھو ص ٣٤ پر حدیث اس طرح درج ہے اوحی اللہ تعالیٰ الی عیسیٰ ان یعیسیٰ انتقل من مکان الی مکان لئلہ تعرف فتوذی. (رواہ ابن عساکر عن ابی ھریرہ کنز العمال ج ٣ ص ١٥٨ حدیث ٥٩٥٥) ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کی طرف عیسیٰ کی کہ اے عیسیٰ ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جا تا کہ تو پہچانا نہ جائے اور تجھے ایذا نہ دی جائے۔“ کوئی مرزائی بتائے کہ ”اس ابتلاء کے زمانہ میں جو صلیب کا زمانہ تھا“ مرزا جی نے کن الفاظ کا ترجمہ کیا ہے؟ مگر اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ مرزا جی تحریف کے مرتکب بھی ہوئے مگر الٹا اس حدیث کو پیش کر کے اپنی تمام عمارت گرا بیٹھے اور مرزائی مشن کو باطل کر دیا کیونکہ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے رسول حضرت عیسیٰؑ کی حفاظت جسمانی کرنا چاہتا ہے۔ جس سے رفع روحانی کا ڈھکوسلا جو مرزا جی نے ایجاد کیا غلط ہوا تا کہ اس کے جسم پاک کو صلیب کے زخموں کے عذابوں سے بچالے۔ اس لیے وحی کی کہ کسی اور جگہ چلا جائے تا کہ اس کو یہودی تکلیف نہ دیں۔ جب ارادہ خداوندی یہ تھا کہ مسیح علیہ السلام کے جسم کو یہودیوں کے عذابوں سے بچائے جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہے تو ثابت ہوا کہ مرزا جی کا مذہب کہ ”مسیح صلیب پر چڑھایا گیا اس کو کوڑے لگائے گئے لمبے لمبے کیل اس کے اعضا میں ٹھونکے گئے اور عذاب صلیب کے درد و کرب سے ایسا بیہوش ہوا کہ مردہ سمجھ کر اتارا گیا“ سب کا سب غلط ہوا بلکہ اس حدیث نے آیت یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک کی تفسیر کر دی کہ خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو صلیب سے بچانے کا وعدہ دیتا ہے۔ پس پہلے تو خدا نے اس کو اپنے قبضہ میں کر لیا یعنی اس مکان سے جس کا محاصرہ یہودیوں نے کیا تھا اس مکان سے صحیح سلامت نکال لیا اور کفار میں سے کوئی ان کو دیکھ نہ سکا اور یہودا اسکر یوطی جس نے مسیح کو پکڑوانا چاہا اس پر مسیح علیہ السلام کی شبیہ ڈالی اور وہی صلیب دیا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بال بال بچائے گئے۔ اس کی تصدیق انجیل برنباس بھی کرتی ہے کہ مسیح رفع کے پہلے حواریوں کو ملا اور اسی جگہ ان کو برکت دیتا ہوا اٹھایا گیا۔ دیکھو انجیل برنباس آیت ٢٤ فصل ٢٢۔ جب مسیح فوت ہی نہیں ہوا اور قرآن سے رفع جسمانی ثابت ہے تو پھر کشمیر میں اس کی قبر کا ہونا غلط ہے۔
٤٠
دلیل نمبر ٦
”جو جیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہو گا اور پھر جموں یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے اور چونکہ کشمیر بلاد شام کے مشابہ ہے اس لیے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل اختیار کر لی ہو گی۔ یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں رہے ہوں اور کچھ بعید نہیں کہ وہیں شادی بھی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی اولاد ہوں۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ٦٨ خزائن ج ١٥ ص ٧٠)
الجواب: دنیا میں کوئی شخص ایسا ہوش مند بھی ہے جو ایک طرف تو یہ کہے کہ تاریخ میں ایسا لکھا ہے اور دوسری طرف تمام شک اور قیاس اور تعجب اور فرضیت کا تودہ کھڑا کر دے؟ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں جب پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں تو پھر شکی اور وہمی اور قیاسی فقرات کے لکھنے کی کیا ضرورت تھی اور ساتھ ہی ہم یہ کہنے کے لیے مجبور ہیں کہ آپ کی کشفی اور الہامی طاقت کہاں گئی کہ تمام عمارت شک کی تعمیر کر دی۔
سنو! مرزا قادیانی ایک تاریخی امر کو کس طرح بیان کرتے ہیں کہ مسیح جموں یا راولپنڈی کے راستہ کشمیر گئے ہوں گے اوپر تو دعویٰ ہے کہ تاریخ میں لکھا ہے اور یہاں جموں یا راولپنڈی کے راستہ کشمیر گئے ہوں گے۔ افسوس! مرزا قادیانی کو ان کے ملہم نے یہ بھی نہ بتایا کہ کشمیر کو گجرات، پونچھ اور جوالامکھی کے بھی راستے ہیں۔
پھر لکھتے ہیں۔ ”یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ مسیح نے بنارس، نیپال کا سیر کیا ہو گا۔“
- (٢) پھر جموں یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر گئے ہوں گے۔
- (٣) سرینگر کشمیر بلاد شام کے مشابہ ہے وہاں مستقل سکونت اختیار کی ہو گی۔
- (٤) یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان میں شادی کی ہو گی۔
- (٥) کیا تعجب ہے کہ عیسیٰ خیل جو افغانوں کی قوم ہے حضرت عیسیٰ کی اولاد ہوں۔
کوئی مرزا قادیانی سے پوچھے کہ جناب ایک طرف تو آپ کا دعویٰ ہے کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتاتی ہیں اور دوسری طرف بجائے تاریخ کی کتابوں اور صفحات کے حوالجات دینے کے ”کشمیر گئے ہوں گے“ ”سکونت اختیار کر لی ہو گی“ ”افغانوں میں
٢٥
شادی کی ہوگی۔‘‘ ’’کیا تعجب ہے کہ عیسیٰ خیل‘‘ ’’عیسیٰ کی اولاد ہوں۔‘‘ یہ تکیہ فقرے تو بتا رہے ہیں کہ جناب مرزا قادیانی کو خود اپنی تسلی اور یقین نہیں صرف فرضی طور پر ان کو اپنے دعویٰ مسیح موعود کی بنیاد وفات مسیح ثابت کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسے ایسے شکی فقرے لکھیں تا کہ بھولے بھالے مسلمان مسیح کی وفات یقین کر کے قبر مسیح کشمیر میں تسلیم کر لیں۔ کوئی ہوش مند باحواس انسان قیاس کر سکتا ہے کہ عیسیٰ خیل افغان حضرت عیسیٰؑ کی اولاد ہیں؟ اگر یہ ’’ایجاد بندہ اگرچہ سراسر خیال گندہ۔‘‘ ایک منٹ کے واسطے فرض کر لیں تو پھر ’’یوسف زئی‘‘ جو افغانوں کی ایک قوم ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد ہو گی۔ اور محمد زئی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اولاد تسلیم کرنی پڑے گی اور اس لغو قیاس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ قرآن شریف کی تکذیب ہو گی۔ جس میں فرمایا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ تمہارے میں سے کسی مرد کا باپ نہیں۔‘‘
افسوس! مرزا قادیانی ایسے ’’دیوانہ بکار خود ہوشیار‘‘ تھے کہ چاہے قرآن شریف کی تکذیب ہو۔ حدیث نبوی کی تردید ہو مگر مرزا قادیانی کا الو ضرور سیدھا ہو کہ وفات عیسیٰ ثابت ہو اور وہ مسیح موعود بن جائیں۔ مگر خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ ان کی تمام عمر اسی ایک من گھڑت قصے میں گزری اور تحریف بھی کی، اس پر بھی نہ وفات مسیح ان سے ثابت ہوئی اور نہ قبر یوزآصف قبر مسیح بنی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا افغانوں میں شادی کرنے کا ناول تو بہت ہی نرالا ہے کیونکہ یہ مرزا قادیانی کے اپنے بیان کے خلاف ہے۔ مرزا قادیانی نے حدیث کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ فیتزوج ویولد لہ سے خالص نکاح مراد ہے اور وہ نکاح وہ ہے جو کہ مسیح موعود بعد نزول کرے گا۔ مگر وہ نکاح تو ظہور میں نہ آیا اور حیات مسیح ثابت ہوئی کیونکہ اسی حدیث میں ثُمَّ يَمُوْتُ لکھا ہے۔ یعنی بعد نزول مرے گا۔ جب مسیح مرا ہی نہیں تو قبر کیسی؟ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ بعد نزول شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہو گی کیونکہ جب حضرت عیسیٰ کا رفع ہوا تھا تو ان کی شادی ابھی نہیں ہوئی تھی (دیکھو تکملہ مجمع البحار ص ٨٥) وَكَانَ لَمْ يَتَزَوَّجْ قَبل رفعه الى السماء فزاد بعد الهبوط ۔ فى الحلال.
دلیل نمبر ٧
’’بدھ ایزم مصنفہ سر مونیر ولیم کے ص ٤٥ میں لکھا ہے کہ چھٹا مرید بدھ کا ایک شخص تھا۔ جس کا نام ایسا تھا (یہ لفظ یسوع کے لفظ کا مخفف معلوم ہوتا ہے) چونکہ
٢٦
حضرت مسیح بدھ کی وفات سے پانچ سو برس بعد یعنی چھٹی صدی میں پیدا ہوئے تھے اس لیے چھٹا مرید کہلائے۔‘‘
(مسیح ہندوستان میں ص ٨٣ خزائن ج ١٥ ص ٨٥)
الجواب: مرزا قادیانی کو جس طرح طبعزاد قصے بنانے اور جھوٹ کو سچ بنانے میں کمال ہے۔ اسی طرح انھیں تاریخ دانی میں بھی کمال ہے۔ گوتم بدھ تو مسیح سے ١٣٠ برس پہلے ہو گزرا ہے۔ ہم ذیل میں اصل تاریخی عبارت نقل کرتے ہیں وہو ہذا۔
’’یہ مذہب مسیح سے ٦٣٠ برس پہلے آریہ ورت میں جاری ہوا۔ اس کے بانی ساکھی سنگھ گوتم بدھ قوم راجپوت تھے۔ اس قوم کے نشانات افریقہ، ایشیا، یورپ، امریکہ، بلکہ جزائر میں بھی ملتے ہیں۔ فی الحال چین، جاپان، برہما، سیام، انام، تبت، لنکا، چینی، تاتار وغیرہ جگہوں میں اس مذہب کا بڑا زور شور ہے۔ تقریباً ستر کروڑ لوگ اس مذہب کے پیرو اور بدھ کہلاتے ہیں۔
(دیکھو ص ٢٨٥ ثبوت تناسخ)
اس تاریخی حوالہ سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح ساتویں صدی میں بعد گوتم بدھ کے پیدا ہوئے لہٰذا وہ کسی طرح چھٹے شاگرد نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ساتویں صدی میں (بعد) پیدا ہوئے۔
دوم۔ مسیح کو شاگرد بدھ تسلیم کرنے میں قرآن شریف کی تکذیب ہے کیونکہ قرآن سے ثابت ہے کہ مسیح مادر زاد رسول تھے۔ پڑھو۔ وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ (آل عمران ٤٩) اور اس سے پہلی آیت میں لکھا ہے یُعَلِّمُهُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِیْلَ. (آل عمران ٤٨) یعنی اس کو حکمت اور کتاب سکھائی اللہ نے اور بنی اسرائیل کی طرف رسول کر کے بھیجا۔
سوم۔ یہ قیاس بھی غلط ہے کہ گوتم بدھ کے شاگرد صرف چھ تھے یعنی صدی صدی کا ایک شاگرد تھا۔ اس حساب سے تو گوتم بدھ کے آج تک صرف ٢٨ شاگرد ہوئے جو کہ بالبداہت غلط ہے کیونکہ بحوالہ تاریخ اوپر لکھا جا چکا ہے کہ بدھ کے پیرو یعنی شاگرد ستر کروڑ ہیں اور یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ یسا، یسوع کا مخفف ہے۔ یسوع عبرانی لفظ ہے اور یسا ہندوستانی لفظ ہے کچھ تو معقولیت بھی چاہیے۔ مطلب پرستی اسی واسطے بری ہے کجا عبرانی لفظ یسوع اور کجا ہندوستانی لفظ یسا۔
دلیل نمبر ٨
’’کتاب پتاکیتان اور اتھا گتھا میں ایک اور بدھ کے نزول کی پیشگوئی بڑے واضح طور پر درج ہے۔ جس کا ظہور گوتم یا ساکھی منی سے ایک ہزار سال بعد لکھا گیا ہے۔
٢٧
گوتم بیان کرتا ہے کہ میں پچیسواں بدھ ہوں اور بگوایتا نے ابھی آنا ہے۔ یعنی میرے بعد وہ اس ملک میں آئے گا۔ جس کا متیّا نام ہو گا اور وہ سفید رنگ ہو گا اور بدھ نے آنے والے بدھ کا نام بگوایتا اس لیے رکھا کہ بگوا سنسکرت میں سفید کو کہتے ہیں اور حضرت مسیح چونکہ بلادِ شام کے رہنے والے تھے اس لیے وہ بگوا یعنی سفید رنگ تھے۔‘‘
(مسیح ہندوستان میں ص ٨١ خزائن ج ١٥ ص ٨٣)
الجواب: یہ تک بندی از روئے عقل ونقل باطل ہے۔ اگر گوتم بدھ نے لکھا ہے کہ ایک ہزار سال میرے بعد بگوایتا آئے گا تو اس آنے والے سے مراد حضرت عیسیٰؑ ہرگز نہیں ہو سکتے کیونکہ حضرت عیسیٰؑ گوتم بدھ سے ٦٣٠ برس بعد ہوئے۔ ایک ہزار برس کے بعد ہرگز نہیں ہوئے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ مسیح بگوایتا ہرگز نہ تھے۔ مرزا قادیانی کا حافظہ بھی عجیب قسم کا تھا کہ حلیہ مسیح پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسیح ناصری کا حلیہ جو رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں دیکھا۔ اس میں مسیح علیہ السلام کا رنگ سرخی مائل بہ سفیدی یعنی گندمی رنگ لکھا ہے (دیکھو صحیح بخاری مطبوعہ مطبع احمدی میرٹھ جلد ١ ص ٣٥٩) حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ مسیح کا رنگ گندمی یعنی سفیدی مائل سرخ تھا۔ اب بگوا رنگ آنے والے بدھ کا دیکھ کر ملک شام کا رنگ تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ہی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’حضرت عیسیٰؑ عام شامیوں کی طرح سرخ رنگ تھے۔‘‘ (کتاب البریہ ص ٢٨٣ خزائن ج ١٣ ص ٣٠٢) غرض مرزا قادیانی اپنا مطلب منوانے کے ایسے متوالے تھے کہ خود ہی اپنی تردید کر جاتے ہیں اور موجودہ وقت کا راگ خواہ مخواہ الاپ دیتے۔ چاہے وہ کیسا ہی نامعقول ہو۔ کوئی پوچھے کہ حضرت عیسیٰؑ بھی آپ کی طرح کئی رنگ بدلتے تھے؟ بگوا رنگ تو آپ نے دیکھ لیا۔ مگر یہ نہ سمجھے کہ حضرت عیسیٰؑ بدھ کا اوتار کس طرح ہو سکتے ہیں۔ جبکہ بنی اسرائیلی نبی تھے اور تمام بنی اسرائیلی نبی تناسخ کے منکر اور قیامت کے قائل تھے اور گوتم بدھ دوسرے اہل ہنود کی طرح تناسخ کے معتقد اور قیامت کے منکر تھے۔ اگر بفرض محال تسلیم بھی کر لیں کہ حضرت عیسیٰؑ بگوایتا بدھ تھے تو پھر مرزا قادیانی کا یہ لکھنا غلط ہوتا ہے کہ یسا یسوع کا مخفف ہے۔ بگوایتا بدھ اور یسوع میں کچھ لگاؤ لفظی و معنوی نہیں۔ دوم! حضرت عیسیٰؑ جب تک بدھ مت کے پیرو نہ ہوں تب تک ان کو بدھ کے شاگرد ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا اور اگر مسیح کو بدھ کا پیرو کہیں تو ان کی نبوت و رسالت جاتی ہے کیونکہ اسرائیلی نبیوں میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ تناسخ کا معتقد ہو اور گوتم بدھ کی تعلیم تناسخ کی ہے۔ (دیکھو کتاب اواگون وچار ص ٧) ’’کرم کے مارے جنم بار بار لینا پڑتا ہے۔‘‘ جو جیو آتما کہلاتا ہے۔ سوکشم شریر میں نہیں۔ کنتو پانچ
٢٨
سکندروں میں رہتا ہے۔ ان کے یہ نام ہیں۔ روپ ویدھ، سنگیا، سنکار، وگیاپن، مریتو کے سمہ یہ سب سکندہ نسٹ ہو جاتے ہیں الخ۔
دوسرا حوالہ کہ بدھ کی تعلیم تناسخ کی تھی۔ لیتھرج صاحب مختصر تاریخ ہند کے ص ٣١ پر لکھتے ہیں کہ بدھ کی تعلیم کے بموجب انسان نفسانی شہوتوں اور زحمتوں اور آتما کے دائمی اواگون یعنی تناسخ سے اسی طرح نجات پا سکتا ہے۔
تیسرا حوالہ ۔ ڈاکٹر ڈبلیو ہنٹر صاحب مختصر تاریخ ہند کے ص ١٠٩ پر لکھتے ہیں۔
اس نے یعنی بدھ نے یہ تعلیم کی کہ انسان کی موجودہ اور گذشتہ اور آئندہ جنموں کی کیفیت مخفی انہیں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ راحت اور رنج جو اس دنیا میں لاحق یعنی حاصل ہوتے ہیں ان کو ہمارے گذشتہ جنم کے اعمال کا نتیجہ لازمی تصور کرنا چاہیے اور اس جنم کے اعمال پر ہمارے آئندہ جنم کی راحت و رنج منحصر ہو گی۔ جب کوئی ذی حیات فوت ہوتا ہے تو اپنے اعمال کے موافق ادنیٰ یا اعلیٰ حالت آئندہ میں پھر جنم لیتا ہے۔ الخ۔
پس جب مہاتما بدھ کی تعلیم تناسخ کی ہے تو پھر کس قدر غضب ہے کہ ایک اولوالعزم رسول صاحب کتاب کو بدھ کا اتار و شاگرد تسلیم کیا جائے؟ اور اس کی کتاب انجیل جس میں قیامت کا اقبال اور اعتقاد ہے اور قرآن شریف اس کا مصدق ہے اس کو پس پشت صرف اس واسطے ڈالا جائے کہ مسیح کی قبر کشمیر میں ثابت ہو جائے۔ چاہے مسیح کی نبوت و رسالت خاک میں مل جائے۔ (معاذ اللہ) ایک صاحب کتاب رسول کی کس قدر ہتک ہے کہ وہ ایک ہندو کا پیرو و شاگرد مانا جائے اور وہ بھی غلط؟ کیونکہ ایک ہزار برس بعد بدھ کے اس کا ظہور ہونا لازمی تھا اور مسیح کا ظہور بدھ کے بعد ٦٣٠ برس ہوا۔ کوئی مرزائی اپنے مرشد کی حمایت کرے اور ثابت کرے کہ مسیح کا ظہور بدھ سے ہزار برس بعد ہوا اور اگر وہ ایسا نہ کر سکے اور نہ مرزا جی کسی تاریخ سے اپنی اس دروغ بافی کا پتہ دے سکیں تو مرزا جی کی اس دروغ بافی پر صاد ہو گا اور دروغ گو کا دامن چھوڑنا ہوگا۔ مرزائی یا مرزا قادیانی کب تک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے؟ آخر جھوٹ کھل جاتا ہے۔
دلیل نمبر ٩
”ایک اور قوی دلیل اس پر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کو ایک ایسے ٹیلے پر پناہ دی جو آرام کی جگہ تھی۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ جلد پنجم ص ٢٢٨ خزائن ج ٢١ ص ٤٠٤)
٢٩
الجواب: مرزا قادیانی کا قاعدہ تھا کہ اپنے مطلب کے واسطے طبعزاد باتیں بلادلیل و بلا ثبوت لکھ دیتے اور اپنے مریدوں پر ان کو اعتبار تھا کہ وہ ان کی ہر ایک بات کو بلاغور قبول کرلیں گے اور یہ سچ بھی ہے کہ مرزا قادیانی کے مرید مرزا قادیانی کی تحریر کو قرآن و حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس آیت کے معنی کرتے اور تشریح کرنے میں بھی مرزا قادیانی نے من گھڑت باتیں درج کر دی ہیں اور یہ اس واسطے انھوں نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کو کشمیر میں داخل کر کے اسی جگہ ان کی قبریں ثابت کریں۔ اس واسطے انھوں نے اس آیت کے معنی کرنے میں تحریف معنوی کی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے قرآن شریف کی آیت لکھی جائے اور اس کے بعد انجیل جس کا قرآن مصدق ہے لکھی جائے۔ کیونکہ قرآن شریف انبیاء سابقین کے قصے بیان کرنے میں بہت اختصار سے کام فرماتا ہے اور ساتھ ہی ہدایت کرتا ہے۔ فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ. (النحل ٤٣) یعنی تمام قصہ جو تم کو معلوم نہیں وہ اہل کتاب سے دریافت کرو۔ قرآن شریف میں صرف تھوڑے لفظوں میں اشارۃً سابقہ کتابوں کی تصدیق ہے۔ پس جب کوئی مضمون پہلے انجیل میں ہو اور پھر قرآن شریف اس کی تصدیق کر دے تو پھر کسی مومن کتاب اللہ کا حوصلہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے فرمودہ کے مقابل اپنے من گھڑت ڈھکوسلے لگائے اور مسلمانوں کو گمراہ کرے اور خود گمراہ ہو انجیل متی باب ٢ آیت ١٣ میں لکھا ہے۔ ”جب وے روانہ ہوئے تو دیکھو خداوند کے فرشتے نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کے کہا اٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور وہاں رہو۔ جب تک میں تجھے خبر نہ دوں۔“ پھر دیکھو آیت ١٩۔ ”جب ہیرودیس مر گیا تو دیکھو خداوند کے فرشتے نے مصر میں یوسف علیہ السلام کو خواب میں دکھائی دے کر کہا کہ اٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر اسرائیل کے ملک میں جا۔ کیونکہ جو اس لڑکے کی جان کے خواہاں تھے مر گئے۔ تب وہ اٹھا اور اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کے اسرائیل کے ملک میں آیا۔ مگر جب سنا کہ ارخیلا اس اپنے باپ ہیرودیس کی جگہ یہودیہ میں بادشاہت کرتا ہے تو وہاں جانے سے ڈرا اور خواب میں آگاہی پا کر گلیل کی طرف روانہ ہوا اور ایک شہر میں جس کا نام ناصرہ تھا جا کے رہا کہ وہ جو نبیوں نے کہا تھا پورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا۔“
(آیت ٢٣ تک)
انجیل کی اس عبارت کی تصدیق قرآن شریف نے اس آیت میں کی جس کے معنی مرزا قادیانی غلط کرتے ہیں۔ آیت یہ ہے وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ اٰيَةً وَّ اٰوَيْنٰهُمَا
٣٠
إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ. (المومنون ٥٠) ترجمہ۔ اور کیا ہم نے مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو نشانی اور پناہ دی ہم نے ان دونوں کو طرف ایک ٹیلے کی جو آرام کی جگہ تھی۔“ شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ لکھتے ہیں کہ ”جب حضرت عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے اس وقت کے بادشاہ نے نجومیوں سے سنا کہ اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا۔ وہ دشمن ہوا اور اس کی تلاش میں پھرا۔ ان کو بشارت ہوئی کہ اس ملک سے نکل جاؤ۔ وہ نکل کر ملک مصر میں گئے۔ ایک گاؤں کے زمیندار نے مریم کو بیٹی کر کے رکھا۔ جب عیسیٰ جوان ہوئے۔ تو اس ملک کا بادشاہ مر چکا تھا تب پھر آئے اپنے وطن کو وہ گاؤں تھا۔ ٹیلے پر اور پانی وہاں خوب تھا۔“
(دیکھو قرآن شریف مطبوعہ کریمی بمبئی حاشیہ ص ٤٧٥)
- (٢) حافظ ڈپٹی نذیر احمد صاحب اسی آیت کا ترجمہ کر کے حاشیہ پر لکھتے ہیں۔
”جس طرح کا واقعہ فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کو پیش آیا تھا کہ ان کے پیدا ہونے کی خبر پہلے سے فرعون کو مل گئی تھی۔ اسی طرح کا اتفاق حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی پیش آیا کہ ان کے پیدا ہونے سے پہلے نجومیوں نے ہیرودیس حاکم کو بتا دیا تھا کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہونے والا ہے۔ چنانچہ ہیرودیس کے خوف سے حضرت مریم ؑ کے چچا زاد بھائی یوسف نجار ماں بیٹوں کو مصر کے علاقے کے ایک گاؤں میں جو کنارہ نیل پر آباد تھا لے آئے تھے۔ حضرت عیسیٰ بھی یہیں پر تھے۔ ہیرودیس مر گیا تو یہ اپنے وطن کو واپس گئے اور اپنی پیغمبری کا اعلان کیا۔ شاید اسی واقعہ کی طرف اس آیت میں مجملاً اشارہ ہو۔“
(ص ٤٥١ تقطیع خورد)
- (٣) تفسیر کشاف میں ابو ہریرہؓ سے نقل کرتے ہیں کہ یہ ربوہ موضع رملہ کی طرف ہے جو
کہ قرآن کی اس آیت میں مذکور ہے۔
- (٤) تفسیر حسینی میں لکھا ہے۔ وجادادیم ما مادر و پسر را وقتیکہ از یہود فرار گرفتند و باز آوردیم
بسوئے ربوہ یعنی بلندی از زمین بیت المقدس یا دمشق یا رملہ قسطنطین یا مصر۔ یعنی جگہ دی ہم نے ماں اور بیٹے دونوں کو جبکہ وہ یہودیوں کے خوف سے بھاگے تھے اور لوٹا لائے ہم ان کو ربوہ کی طرف اور وہ یا تو زمین بیت المقدس یا دمشق یا رملہ یا قسطنطین یا مصر ہے۔
(ص ٨٣ جلد دوم تفسیر حسینی مطبوعہ نولکشور)
- (٥) تفسیر خازن جلد ٣ مطبوعہ مصر ص ٣٠٦ وَآوَيْنٰهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ. ای مكان مرتفع قيل
هی دمشق. وقيل هی رملة و قيل ارض فلسطين. وقال ابن عباسؓ هی بيت المقدس. قال كعب بيت المقدس اقرب الارض الى السماء بثمانية عشر ميلا
٣١
وقیل ھی مصر. یعنی ربوہ سے مراد مکان مرتفع ہے۔ بعض نے اس سے مراد دمشق۔ بعض نے رملہ۔ بعض نے فلسطین لی ہے اور کہا ابن عباسؓ نے کہ اس سے مراد بیت المقدس ہے۔ کہا کعبؓ نے بیت المقدس باقی زمین سے ١٨ میل آسمان کی طرف نزدیک ہے اور بعض نے ربوہ سے مراد مصر کو لیا ہے۔
اب ہم مرزا کے ان دلائل کا رد لکھتے ہیں جن میں وہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ربوہ سے مراد کشمیر ہے۔
- (١) جن لوگوں نے سرینگر کشمیر کو دیکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ شہر سرینگر جہاں یوز آصف
کی قبر ہے ربوہ یعنی ٹیلے پر نہیں۔ راقم الحروف خود چار برس کے قریب شہر سرینگر میں رہا ہے اور خود دیکھا ہے کہ شہر سرینگر صاف زمین ہموار پر آباد ہے۔ ٹیلے پر سرینگر آباد نہیں۔ جو لوگ سرینگر گئے ہیں وہ تصدیق کریں گے کہ بارہ مولا سے ہموار زمین ہے اور بہت صاف سیدھی سڑک جاتی ہے جو سرینگر میں داخل ہوتی ہے۔ شہر سرینگر پہاڑ کے اوپر آباد نہیں بلکہ نشیب میں ہے کہ جب دریا زور پر ہوتا ہے تو پانی شہر میں آ جاتا ہے۔ جب سرینگر پہاڑ پر نہیں تو مرزا قادیانی کا یہ قیاس غلط ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اور ان کی ماں کو سرینگر میں پناہ دی گئی۔ برخلاف اس کے ناصرہ گاؤں پہاڑ کی چوٹی پر آباد تھا اور وہاں مسیح بمعہ والدہ کے رہے۔
- (٢) اوینہما میں ضمیر تثنیہ کا ہے۔ یعنی دونوں ماں بیٹے کو ہم نے پناہ دی۔ حالانکہ مرزا
قادیانی جو قبر بتاتے ہیں وہ ایک ہی ہے۔ اگر واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰؑ بمعہ والدہ کے آتے تو ان کی والدہ کی قبر بھی کشمیر میں ہوتی۔ مگر چونکہ حضرت مریم کی قبر کشمیر میں نہیں اس واسطے ثابت ہوا کہ ربوہ سے مراد کشمیر نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے اوینہما فرمایا ہے۔ یعنی دونوں ماں بیٹے کو۔
- (٣) مرزا قادیانی خود اقرار کرتے ہیں کہ دوسری قبر سیّد نصیر الدین کی ہے۔ جب حضرت مریم
کی قبر کشمیر میں نہیں تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا استدلال غلط ہے۔
- (٤) حضرت مریم صدیقہ کا انتقال ملک شام میں حضرت مسیحؑ کے واقعہ صلیب کے پہلے
ہو چکا تھا۔ (دیکھو نزہۃ المجالس ج ٢ ص ٢١٧) ام عیسیٰ ماتت قبل رفعہ (عیسیٰ) الی السماء یعنی حضرت عیسیٰؑ کی ماں اس کے آسمان پر جانے سے پہلے فوت ہو چکی تھی اور کوہ لبنان پر حضرت عیسیٰؑ نے ان کی تجہیز و تکفین و تدفین کی۔ غرض یہ کہ حضرت مریم کی قبر کوہ لبنان پر ہے۔
٣٢
(٥) تاریخ اخبار الدول بحاشیہ کامل لابن الاثیر ج ١ ص ١٦٠ پر بحوالہ تنبیہ الغافلین لکھا ہے ان مریم ماتت قبل ان یرفع عیسیٰ وان عیسیٰ تولی دفنھا یعنی مریم حضرت مسیح کے مرفوع ہونے سے پہلے فوت ہو گئی تھیں اور حضرت عیسیٰؑ نے ان کو بہ نفس نفیس خود دفن کیا۔ جب واقعہ صلیب و رفع سے پہلے حضرت مریم فوت ہو گئی تھیں تو پھر روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ ربوہ سے مراد سرینگر کشمیر ہرگز نہیں کیونکہ قرآن تو فرماتا ہے کہ دونوں ماں بیٹا کو ربوہ پر پناہ دی۔ فوت شدہ والدہ عیسیٰ کی طرح عیسیٰ کے ساتھ کشمیر جا سکتی تھی؟ پس (نعوذ باللہ) یا تو قرآن غلط ہے (جو ہرگز غلط نہیں) جس میں اوینہما فرمایا گیا ہے۔ یا مرزا قادیانی غلطی پر ہیں (یقیناً ہیں) کہ ربوہ سے سرینگر کشمیر مراد لیتے ہیں مگر قرآن شریف تو ہرگز جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ البتہ مرزا قادیانی ہی جھوٹے ہیں کہ اپنے مطلب کے واسطے جھوٹ بولتے ہیں۔
(٦) حضرت وہب بن منبہؒ اپنے دادا ادریس سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے بعض کتب میں دیکھا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی والدہ حضرت مریم نے کوہ لبنان پر وفات پائی اور حضرت عیسیٰ نے ان کو وہیں دفن کیا۔ (قرۃ الواعظین اردو ترجمہ درۃ الناصحین جلد ٢ ص ٥٨ تا ٦١) اس سے بھی ثابت ہے کہ حضرت مریم بعد واقعہ صلیب جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں۔ سرینگر کشمیر نہیں آئی اور قرآن میں دونوں ماں بیٹے کا آنا ربوہ پر مذکور ہے تو ثابت ہوا کہ ربوہ سے مراد وہی گاؤں ناصرہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ نے پناہ لی۔
(٧) مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ صلیب سے پہلے عیسیٰ اور اس کی والدہ پر کوئی زمانہ مصیبت کا نہیں گزرا جس سے پناہ دی جاتی بالکل غلط ہے۔
(دیکھو ریویو جلد ١ نمبر ١١ و ١٢ ص ٤٣٨ بابت ماہ نومبر، دسمبر ١٩٠٢)
جب ایک لڑکا بغیر باپ پیدا ہوا تو اس کی والدہ اور اس پر کس قدر مصیبت آئی کہ والدہ کو یہودیوں نے زنا کی تہمت لگائی اور حضرت عیسیٰ پر یہ مصیبت تھی کہ اس کو (نعوذ باللہ) یہودی ولد الزنا کہتے تھے۔ دوسری مصیبت دونوں ماں بیٹے پر یہ آئی تھی کہ حاکم وقت ان کے قتل کے درپے ہوا کیونکہ وہ مسیح کو اپنا اور اپنی سلطنت کا دشمن سمجھتا تھا۔ جس کے خوف سے دونوں بھاگے مرزا قادیانی کی عقل اور فلاسفی دیکھئے کہ جب قاتل مسیح کے قتل کے درپے تھے اور اسے قتل کرنا چاہتے تھے اور وہ ماں بیٹا جان کے خوف سے مارے مارے در بدر گاؤں گاؤں شہر بشہر خوار و بے خانماں پھرتے تھے اور ہر وقت خوف تھا کہ پکڑے گئے تو مارے جائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی کے نزدیک وہ مصیبت کا زمانہ
٣٣
ہی نہ تھا۔ اور جب بقول مرزا قادیانی خدا کے فضل سے صلیب سے نجات پا کر نکلے تو یہ مصیبت کا زمانہ تھا۔ افسوس سچ ہے غرض آدمی کی عقل تیرہ کر دیتی ہے۔ اوّل تو نجات صلیب سے کیونکر ہوئی۔ آیا قصور معاف کیا گیا یا چوری بھاگے؟ دونوں صورتیں محال و غیر ممکن ہیں۔ الزام و قصور اس قدر سنگین تھا کہ معاف ہو ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ سلطنت کا باغی تھا۔ چوری اس واسطے نہیں نکل سکتا تھا کہ تمام یہودی دشمن تھے۔ قبر پر پہرا تھا اور خود مسیح بقول مرزا قادیانی صلیب کے زخموں اور کوڑے پڑنے کے ضربوں سے اس قدر بے ہوش اور کمزور تھا کہ بقول مرزا قادیانی مردہ سمجھا گیا اور دفن کیا گیا۔ پس ایسے کمزور اور بیہوش شخص کا دفن ہونا اور پھر تین دن کے بعد جی اٹھنا اور چوری بھاگنا کہ کشمیر آ نکلا ایسا ہی محال ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا مسیح موعود اور کرشن ہونا محال ہے۔ پس ڈھکونسلا بالکل غلط ہے کہ ربوہ سے مراد کشمیر ہے اور یوز آصف والی قبر مسیح کی قبر ہے۔
دلیل نمبر ١٠
دسویں دلیل مرزا قادیانی کی اپنی تحقیقات ہے کہ انھوں نے اپنے ایک مرید عبداللہ سنوری کو سری نگر میں خط لکھا کہ تم کوشش کر کے دریافت کرو کہ محلہ خانیار میں کس کی قبر ہے۔ اس کے جواب میں مولوی عبداللہ نے جواب لکھا کہ محلہ خانیار میں جو قبر ہے وہ مسیح کی قبر معلوم ہوتی ہے۔
الجواب: پہلے عبداللہ سنوری کے خط کی نقل درج ذیل کی جاتی ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ محلہ خانیار میں جو قبر ہے وہ مسیح کی نہیں و ہو ہذا۔
”از جانب خاکسار عبداللہ۔ بخدمت حضور مسیح موعود۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، حضرت اقدس! اس خاکسار نے حسب الحکم (مرزا قادیانی) سرینگر میں عین موقعہ پر روضہ مزار شریف شاہزادہ یوز آصف نبی اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پہنچ کر جہاں تک ممکن تھا بکوشش تحقیقات کی اور معمر و سن رسیدہ بزرگوں سے بھی دریافت کیا اور مجاوروں اور گرد و جوار کے لوگوں سے بھی ہر ایک پہلو سے استفسار کرتا رہا۔ جناب من عندالتحقیقات مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ مزار درحقیقت جناب یوز آصف علیہ السلام نبی اللہ کی ہے اور مسلمانوں کے محلہ میں یہ مزار واقع ہے کسی ہندو کی وہاں سکونت نہیں۔ اور نہ اس جگہ ہندوؤں کا کوئی مدفن ہے اور معتبر لوگوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قریباً ١٩ سو برس سے یہ مزار ہے۔“ الخ۔
(راز حقیقت ص ١١ خزائن جلد ١٤ ص ١٦٣)
نوٹ: یہ عبداللہ مرید مرزا بعد میں بہائی ہو گیا اور تحریر شائع کی کہ مرزا نے
٣٤
میرے خط میں تحریف کی ہے۔ نیز یہ کہ یوز آصف نبی نہیں بلکہ ہندوستان کا شہزادہ تھا۔
(دیکھیے اتمام حجت مصنف ڈاکٹر صابر آفاقی بھائی (مرتب))
سبحان اللہ۔ خدا تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی تردید ان کے مرید سے کرا دی کہ یہ قبر شاہزادہ یوز آصف کی ہے نہ کہ مسیح کی۔ ١٩ سو برس سے یہ مزار ہے جس سے ثابت ہوا کہ یہ مزار حضرت عیسیٰؑ کا ہرگز نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنی تصانیف میں ضرورت سے زیادہ لکھ چکے ہیں کہ مسیح کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوئی اور بعض جگہ لکھا ہے کہ ایک سو ترپن برس کی ہوئی تھی۔ جب مسیح ؑ کی عمر ١٥٣ برس ١٩ سو برس سے نکال دیں تو ثابت ہو گا کہ یہ قبر یوز آصف والی ١٧٤٧ برس سے ہے۔ مگر چونکہ بقول مولوی عبداللہ مذکور مرید مرزا قادیانی کی شہادت سے ثابت ہے کہ یہ قبر ١٩ سو برس سے ہے۔ تو ثابت ہوا کہ یہ قبر حضرت مسیح کے پیدا ہونے سے ١٥٣ برس پہلے سے تھی جب ولادت مسیح سے پہلے یہ قبر تھی تو ثابت ہوا کہ یہ قبر مسیح کی نہ تھی کیونکہ مرزا قادیانی خود اپنی کتاب (تذکرۃ الشہادتین ص ٢٧ خزائن جلد ٢٠ ص ٢٩) پر قبول کر چکے ہیں کہ ”مسیح کی عمر اس واقعہ صلیب کے بعد ایک سو بیس برس ہوئی۔ جب صلیب دیے گئے تو اس وقت عمر ٣٣ سال تھی۔ اس لحاظ سے مرزا قادیانی کے نزدیک مسیح ؑ کی کل عمر ١٥٣ برس تھی“ اور (راز حقیقت کے ص ٢ خزائن جلد ١٤ ص ١٥٤) پر ١٢٠ برس عمر مسیح قبول کرتے ہیں۔“ بہرحال یہ ثابت ہوا کہ یہ قبر مسیح کی نہیں۔ کیونکہ ایک مرزائی کی تحقیق سے بھی ثابت ہے کہ یہ قبر اس وقت کی ہے جبکہ مسیح پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ یعنی ١٩ سو برس سے علاوہ برآں ہم ذیل میں یوز آصف کی صفات و خصوصیات لکھتے ہیں۔ جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ یوز آصف اور مسیح کے حالات بالکل ایک دوسرے کے برخلاف ہیں جن سے ثابت ہے کہ مسیح و یوز آصف الگ الگ وجود تھے اور یہ بالکل غلط ہے کہ یوز آصف والی قبر مسیح کی قبر ہے۔
- (اوّل)...... یوز آصف باپ کے نطفہ سے پیدا ہوا اور اس کے باپ کا نام راجہ جنیئر
والی سلطنت ملک ہندوستان کے رہنے والا تھا۔ اس کے برخلاف حضرت مسیح خاص کرشمہ قدرت سے بطور معجزہ حضرت مریم کنواری کے پیٹ سے بغیر باپ پیدا ہوئے۔ جو ملک شام کے رہنے والی تھی اور مسیح کا کوئی باپ نہ تھا۔
- (دوم)...... یوز آصف شہزادہ کے لقب سے ملقب تھا۔ اس کے برخلاف مسیح کو کبھی کسی
نے شہزادہ ہی نہیں کہا اور نہ مسیح کی کسی انجیل میں درج ہے کہ وہ شہزادہ ہی تھا۔
- (سوم)...... یوز آصف کا باپ بت پرست و مشرک تھا اس کے برخلاف حضرت مسیح کی
٣٥
والدہ عابدہ زاہدہ موحدہ یروشلم کی مجاورہ تھیں اور نبی اللہ حضرت زکریا کی زیر نگرانی انھوں نے پرورش پائی۔
(چہارم)...... یوز آصف کا استاد حکیم طوبہر تھا۔ جو جزیرہ سرازیب سے آیا تھا۔ (دیکھو کمال الدین ص ٣٢٥) اس کے برخلاف حضرت مسیح کو خدا تعالیٰ نے لدنی طور پر کتاب اور حکمت سکھا دی تھی۔ جیسا کہ قرآن مجید سے ثابت ہے وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ.
(سورہ ال عمران)
(پنجم)...... یوز آصف کو پیغمبری اور رسالت جوانی کی عمر میں عطا ہوئی۔ اس کے برخلاف حضرت مسیح ماں کی گود میں ہی خلعت رسالت سے ممتاز تھے۔ جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے۔ وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِی اِسْرَائِیْلَ.
(سورہ ال عمران)
(ششم)...... یوز آصف ملک شام میں ہرگز نہیں گئے اور نہ واقعہ صلیب ان کو پیش آیا۔ اس کے برخلاف حضرت مسیح کو بقول روسی سیاح اور مرزا قادیانی کے ملک شام میں واقعہ صلیب پیش آیا۔
(ہفتم)...... یوز آصف کی والدہ کا نام مریم نہ تھا۔ اس کے برخلاف حضرت مسیح کی والدہ کا نام مریم تھا۔
(ہشتم)...... اگر عیسیٰ کا صحیح نام بدل کر یوز آصف ہو گیا تھا تو قرآن میں یوز آصف آتا جو صحیح نام تھا نہ کہ عیسیٰ بن مریم کیونکہ خدا غلطی نہیں کرتا۔
(نہم)...... یوز آصف دوسرے ملکوں کی سیر کرتا ہوا بعد میں سلابت (سولابظ) میں واپس آیا اور بعد میں کشمیر گیا اور وہاں فوت ہو کر مدفون ہوا۔ برخلاف اس کے مسیح سیر ہندوستان کے بعد ملک شام میں واپس گیا اور وہاں پھانسی دیا گیا اور وہیں اس کی قبر ہے۔ بموجب تحریر روسی سیاح کے، جس کے سہارے مرزا قادیانی مسیح کی قبر کشمیر میں افتراء کرتے ہیں۔
(دہم)...... یوز آصف کی شادی ہوئی اور اس کے گھر ایک لڑکا بھی پیدا ہوا۔ جس کا نام سائل تھا اور بعد راجہ سمت کے وہ ولایت سولابظ کا حکمران ہوا۔ اس کے برخلاف مسیح کی نہ تو شادی ہوئی اور نہ کوئی لڑکا پیدا ہوا اور نہ کسی ولایت کا حکمران ہوا۔ بلکہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ مسیح کا جب رفع ہوا تو اس وقت اس کی شادی نہ ہوئی تھی۔
اب ہم ذیل میں وہ مرزائی دلائل نمبر وار لکھتے ہیں جن میں مرزا قادیانی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یوز آصف اور یسوع ایک ہی شخص تھا۔
٣٦
دلیل نمبر ١
مرزا قادیانی۔ یسوع کے لفظ کی صورت بگڑ کر یوز آصف بننا قرین قیاس ہے کیونکہ جبکہ یسوع کے لفظ کو انگریزی میں بھی جیرس بنا لیا ہے تو یوز آصف میں جیرس سے کچھ زیادہ تغیر نہیں۔“ (راز حقیقت حاشیہ ص ١٥ خزائن جلد ١٤ ص ١٦٧ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٨ خزائن جلد ٢١ ص ٤٠٤) ”فی الواقع صاحب قبر حضرت عیسیٰ ہی ہیں جو یوز آصف کے نام سے مشہور ہے یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا ہے یا اس کا مخفف ہے اور آصف حضرت مسیح کا نام تھا۔ جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہوتا ہے جس کے معنی ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھے کرنے والا۔“ الخ۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١٤ خزائن جلد ١٧ ص ١٠٠)
الجواب: مرزا قادیانی کی کمزوری تو ان کی عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ کے پاس کوئی تحریری تاریخی ثبوت نہیں۔ صرف اپنا قیاس ہے۔ جو کہ مقبول نہیں ہو سکتا کیونکہ مرزا قادیانی اپنے مطلب کے واسطے غلط قیاس کرتے ہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی کے فقرے۔ یسوع کی صورت بگڑ کر یوز آصف بننا قرین قیاس ہے۔
ناظرین! انصاف فرمائیں کہ ہم نے تو کتاب اکمال الدین اور کتاب حالات یوز آصف سے ثابت کر دیا ہے کہ یوز آصف شہزادہ نبی کی یہ قبر ہے اور مرزا قادیانی تاریخی ثبوت کے مقابل اپنا قیاس لڑاتے ہیں جو کہ اپنے مطلب کے واسطے ہے اور غلط ہے کیونکہ نام کے لفظ کی صورت دو ہی وجوہات سے بگاڑی جاتی ہے۔ ایک وجہ تو محبت ہوتی ہے کہ والدین محبت کی وجہ سے پیار کے طریق پر نام کو بگاڑتے ہیں جیسا کہ نور الدین کو نورا۔ احمد بخش کو احمد۔ جلال دین کو جلو۔ پیر بخش کو پیرا کہتے ہیں۔ دوسری وجہ تحقیر اور ہتک ہے۔ جیسے شمس الدین کو شمو۔ قطب الدین کو قطبا۔ نظام الملک کو جامو۔ الہ بخش کو بسو۔ وغیرہ وغیرہ۔ دونوں طریق میں اصل الفاظ کم کر دیے جاتے ہیں اور اختصار کر لیا جاتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ نام ہو غلام احمد تو اس کو بگاڑ کر گھسیٹا کہہ دے۔ اسی طرح اوّل تو یوز آصف کے نام کا بگڑنا غلط قیاس ہے کیونکہ اہل کشمیر کو محبت اور رحم کا تو موقعہ نہ ملا تھا کہ وہ بچپن میں یوز آصف کا نام از روئے محبت پدرانہ بگاڑتے کیونکہ یوز آصف بڑی عمر میں جبکہ رسالت و پیغمبری کی نعمت سے سرفراز ہوئے تھے۔ اس وقت کشمیر میں تشریف لے گئے تھے اور یہ سنت اللہ ہے کہ پیغمبری اکثر چالیس برس کی عمر میں عطا ہوا کرتی ہے۔ پس از روئے محبت کے تو یوز آصف کے نام کا بگڑنا ممکن نہ تھا۔ دوسری وجہ کہ از روئے تحقیر یوز آصف کے نام کو بگاڑا گیا ہو۔ یہ قیاس بھی غلط ہے کہ کوئی شخص
٣٧
ایک بزرگ کا پیرو ہو کر اس کے نام کو بگاڑ کر مشہور کرے۔ کیا کوئی نظیر ہے کہ کسی پیغمبر کی امت نے اس کو نبی تسلیم کر کے اس کے نام کو بگاڑا ہو؟ ہرگز نہیں۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دشمنوں نے نام بگاڑ دیا ہو۔ مگر اس کی تردید بھی موجود ہے کہ اوّل تو شہزادہ نبی مشہور ہے۔ اگر کشمیری از روئے عداوت یوز آصف کے نام کو بگاڑتے تو اس کا اختصار کرتے۔ جیسا کہ نبی بخش کا نبو۔ اور کریم بخش کا کموں وغیرہ بگاڑتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ نام بگاڑنے کے وقت اس نام کے حروف اور الفاظ زیادہ کیے جائیں۔ یسوع کو بگاڑ کر یوز آصف ہرگز کوئی نہیں پکارتا۔ اوّل تو یسوع نام ہی ایسا ہے کہ اس کا بگاڑ ہو نہیں سکتا۔ اگر ہوتا بھی تو کوئی حرف گم کر کے ہو سکتا۔ یسوع کا یوس کہتے جیسا کہ کشمیریوں نے کاشو میر کو بگاڑ کر کشمیر بنا لیا۔ رسول کو رسلا اور خضر کو خضرا کہتے ہیں۔ ایسا ہی یسوع کا یُس بناتے۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ یسوع کو بگاڑ کر یوز آصف بنا دیتے اگر یوز الگ کر دیں اور آصف الگ کر دیں تو پھر بھی بات نہیں بنتی۔ آصف اگر عربی لفظ ہے تو اس کے معنی ہیں۔ اندوہگین شدن۔ افسوسناک۔ سریع البکاء۔ رقیق القلب۔ دیکھو لسان العرب۔ قاموس مجمع البحار۔ منتہی الارب۔ صراح، منتخب اللغات۔ یوز کے معنی ترکی زبان میں ایک سو کے لکھے ہیں۔ (دیکھو غیاث اللغات) فارسی میں یوز چیتے کو کہتے ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی نے بمصداق ع ”چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند۔“ جب مرزا قادیانی کو باوجود دعویٰ الہام مکالمہ و مخاطبہ الہیہ کی حقیقت معلوم نہ ہوئی تو افسانہ سازی کا رستہ بذریعہ قیاس اختیار کیا۔ مگر افسوس کہ مطلب پھر بھی حاصل نہ ہوا۔ یوز الگ کریں اور اس کے معنی الگ چیتے یا ایک سو کے کریں اور آصف کے معنی الگ کریں غمناک اندوہگین وغیرہ تو نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک سو روپیہ دے کر یا چیتے کے مر جانے سے غمگین اور اندوہناک ہوا۔
مرزا قادیانی کے اس توڑ مروڑ اور الہامی تک بندی پر ایک جاہل ملاں کی حکایت یاد آئی ہے جو کہ ناظرین کی ضیافت طبع کے واسطے لکھی جاتی ہے۔
حکایت: ایک ملاں صاحب اپنے ایک شاگرد کو کتاب پڑھا رہے تھے۔ سبق میں ”گوئے بلاغت ربود۔“ آیا تو میاں صاحب نے کہا کہ گوئے کے معنی گیند کے ہیں اور بلا کے معنی بلا کے ہیں۔ یعنی مصیبت و سختی و وبال کا آنا اور ”غت ربود۔“ ایک لغت ہے۔ لغت کی کتاب لاؤ تا کہ غت ربود کے معنی دیکھے جائیں۔ تمام لغت کو دیکھا مگر غت ربود نہ پایا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے یوز کو الگ کر دیا اور آصف کو الگ کر دیا تا کہ غت ربود کی
٣٨
طرح یوز آصف کو یسوع بنائیں۔ مگر یہ نہ سمجھے کہ یہ تو تاریخی واقعہ ہے اس کی تصدیق یا تردید تاریخ سے ہی ہو سکتی ہے اپنے قیاس سے ہرگز نہیں ہو سکتی۔ کسی تاریخ کی کتاب سے دکھائیں کہ یوز آصف والی قبر مسیح کی قبر ہے ورنہ من گھڑت ڈھکونسلے تو ہر ایک لگا سکتا ہے۔ لاہور میں بدھو کا آوا۔ مشہور ہے اس کو یسوع کا آوا بنا سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ مسیح اسی ٹیلے پر آیا اور یہ قبرستان ان کے حواریوں کا ہے۔
دلیل نمبر ٢
مرزا قادیانی! ”کشمیر کی پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا جس کو قریباً انیس سو برس آئے ہوئے گزر گئے اور ساتھ اس کے بعض شاگرد تھے اور وہ کوہ سلیمان پر عبادت کرتا رہا“ الخ۔
(تحفہ گولڑویہ ص ١٤ خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)
”علاوہ ازیں سرینگر اور اس کے نواح کے کئی لاکھ آدمی ہر ایک فرقے کے بالاتفاق گواہی دیتے ہیں کہ صاحب قبر عرصہ ١٩ سو سال کا ہوا ہے کہ ملک شام کی طرف سے اس ملک میں آیا تھا ۔“
(ریویو جلد ١ نمبر ١٠ ص ٤١٩ بابت ماہ اکتوبر ١٩٠٢ء)
الجواب: اگر مرزا قادیانی کو خود سرینگر کشمیر جانے کا موقعہ نہیں ملا تھا تو ان کی ثقاہت سے بعید تھا کہ وہ ایسی بے بنیاد باتیں اپنی تصانیف میں درج کرتے۔ اس پہاڑ کو میں نے بچشم خود دیکھا ہے اور اوپر جا کر مندر کو بھی دیکھا ہے جو کہ اب تک موجود ہے یہ بالکل غلط ہے کہ یہ ایک شہزادہ نبی کی عبادت گاہ ہے۔ اصل میں یہ مندر اہل ہنود کا ہے اور اس کے اندر ایک بیضوی شکل کا پتھر کھڑا کیا ہوا ہے اور اس مندر کے ستونوں پر بہت پرانی زبان میں جو سنسکرت کے مشابہ ہے کچھ لکھا ہوا ہے جو کہ پڑھا نہیں جاتا۔ اس مندر کا نام زمانہ قدیم میں شنکرا چارج تھا۔ جب ٧٤٣ھ میں سلطان شمس الدین نے کشمیر فتح کیا تو اس مندر کا نام بھی تخت سلیمان رکھ دیا اور کشمیری اس کو سلیمان ٹنگ بولتے ہیں۔ چنانچہ اس تبدیلی نام کے نظائر بہت ہیں۔ پراگت راج کا نام الہ آباد تبدیل ہوا۔ رام نگر کا نام رسول نگر رکھا گیا۔ اسی طرح شنکرا چارج کا نام تخت سلیمان یا کوہ سلیمان سے مشہور ہوا۔ افسوس مرزا قادیانی نے دعویٰ تو کر دیا کہ پرانی تاریخوں میں لکھا ہے۔ مگر کسی تاریخ کی کتاب کا نام تک نہ لیا اب ان کے مریدوں میں سے کوئی مرزائی اس پرانی تاریخ کا نام بتا کر مرزا قادیانی کو سچا ثابت کرے۔ جس میں لکھا ہو کہ یہ شہزادہ نبی بلاد شام سے آیا تھا تو آج ہی فیصلہ ہوتا ہے۔ مگر جھوٹ کبھی چھپا نہیں رہتا۔ پہلے لکھ چکے ہیں کہ ١٩ سو برس
٣٩
سے یہ قبر ہے اور اب اس جگہ لکھتے ہیں۔ اس نبی کو بلاد شام سے آئے ہوئے۔ ١٩ سو برس گزر گئے۔ اب مطلع صاف ہو گیا کہ یہ شہزادہ ١٩ سو برس سے آیا ہوا ہے تو اس قبر کا ١٩ سو برس سے ہونا غلط ہے اور اگر قبر کا ہونا ١٩ سو برس سے درست ہے تو پھر ثابت ہے کہ یہ قبر مسیح کی ولادت سے عرصہ پہلے کی ہے۔
مرزا قادیانی! (راز حقیقت ص ١٩ خزائن ج ١٤ ص ١٧١) پر قبول کر چکے ہیں کہ یہ قبر عرصہ ١٩ سو برس کے قریب سے محلہ خانیار سرینگر میں ہے۔ اس لیے ثابت ہوا کہ یہ قبر مسیح کی ولادت سے پہلے کی ہے۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا کہ یہ قبر حضرت مسیح کی ہرگز نہیں۔
تاریخوں سے ثابت ہے کہ گوتم بدھ حضرت مسیح سے ٦٣٠ برس پہلے ہو گزرے ہیں۔ (ثبوت تناسخ ص ٢٨٥) اور یوز آصف تین سو برس بعد گوتم بدھ کے ہوا تو اس حساب سے یوز آصف تین سو تیس برس پہلے مسیح سے ہوئے۔ اگر ان کی عمر کا عرصہ ١٢٠ برس بھی تصور کر لیں (جیسا کہ مرزا قادیانی ریویو جلد ٥ نمبر ٥ ص ١٨٤ پر لکھتے ہیں) تب بھی یہ قبر یوز آصف والی جو کشمیر میں ہے۔ ٢١٠ برس مسیح کی پیدائش سے پہلے کی ہوئی۔ جس سے اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ یہ بالکل غلط اور من گھڑت فسانہ ہے کہ یہ قبر قریب انیس سو برس سے ہے اور مسیح کی قبر ہے۔ جب یوز آصف کی سوانح عمری بتا رہی ہے کہ یوز آصف مسیح سے تین سو برس پہلے ہوا ہے کیونکہ سوانح عمری یوز آصف کے ص ٣ پر صاف صاف لکھا ہے کہ پہون نامی ایک عالم جب یوز آصف پر ایمان لایا تو اس وقت تین سو برس بدھ کو ہو چکے تھے۔
پس ثابت ہوا کہ یوز آصف گوتم بدھ سے تین سو برس بعد اور مسیح سے تین سو تیس برس پہلے ہوا ہے۔ جس سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ قبر یوز آصف قریب ٢٣ سو برس کی ہے نہ کہ ١٩ سو برس سے اس قبر کا ١٩ سو برس سے ہونا صرف مرزائیوں کی ایجاد ہے۔ محض اس لیے کہ یوز آصف کی قبر کو مسیح کی قبر ثابت کریں۔ مگر چونکہ جھوٹ کبھی کھرا نہیں ہو سکتا۔ اس تاریخی ثبوت سے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی تمام افسانہ سازی کا بطلان ہو گیا ہے اور ثابت ہوا کہ مسیح نہ فوت ہوا اور نہ ہی کشمیر میں اس کی قبر ہے۔ تاریخی ثبوت کے مقابل مرزا قادیانی کی من گھڑت اور قیاسی باتوں کا کچھ اعتبار نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود مدعی مسیحیت ہیں اور ان کے دعویٰ کی بنیاد وفات مسیح پر ہے۔ اس لیے وہ اپنے مطلب کی خاطر جھوٹ تراشا کرتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”اور یوز آصف
٤٠
کی کتاب میں صریح لکھا ہے کہ یوز آسف پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انجیل اتری تھی۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ٩ خزائن ج ١٧ ص ١٠٠ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٨ خزائن جلد ٢١ ص ٤٠٤)
افسوس مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ ہو اور اس قدر جھوٹ تراشے اور دھوکہ دے۔ ہم اس مرزائی کو ایک سو روپیہ انعام دیں گے۔ جو یوز آسف کی کتاب میں اس پر انجیل اتری دکھائے۔ ورنہ مرزا کی دروغ بانی پر یقین کر کے جھوٹے کی بیعت سے توبہ کرے۔
دلیل نمبر ٣
’’اور جیسا کہ گلگت یعنی سری کے مکان پر حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا تھا۔ ایسا ہی سری کے مکان پر یعنی سری نگر میں ان کی قبر کا ہونا ثابت ہوا۔ یہ عجیب بات ہے کہ دونوں موقعوں میں سری کا لفظ موجود ہے۔ یعنی جہاں حضرت مسیح صلیب پر کھینچے گئے۔ اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے اور جہاں انیسویں صدی کے اخیر میں حضرت مسیح کی قبر ثابت ہوئی۔ اس کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے۔‘‘
(مسیح ہندوستان میں ص ٥٣ خزائن ج ١٥ ص ٥٥)
الجواب: مرزا قادیانی کا استدلال بالکل غلط اور من گھڑت ہے کیونکہ گلگت الگ شہر ہے جو کہ سری نگر سے پندرہ منزلیں دور اور کاشغر کے قریب ہے۔ پندرہ روز کا راستہ ہے۔ یہ ایسا ہی مضحکہ خیز استدلال ہے۔ جیسا کہ کوئی کہہ دے لاہور اور دہلی ایک ہی شہر کے نام ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کو معلوم نہ تھا تو کسی سے دریافت ہی کر لیتے کہ گلگت اور سری نگر میں کس قدر فاصلہ ہے۔ (١) سری نگر (٢) باندی پور (٣) تراگبل (٤) گرے (٥) گریز (٦) پونیری (٧) وٹو (٨) گوری کرٹ (٩) استور (١٠) ڈشکن (١١) روٹیاں (١٢) بونجی (١٣) پری بنگلہ (١٤) منادر (١٥) گلگت۔ یہ کشمیر سے گلگت تک کی ١٥ منازل کے نام ہیں۔ گلگت تو بالکل صاف میدانی زمین پر آباد ہے۔ پیر برزل گھاٹی سے پار ہے اور وہاں کی آب و ہوا ہندوستان کے مطابق ہے۔ وہاں کشمیر جیسی سردی بھی نہیں۔ گلگت اور سری نگر کو ایک سمجھنا ناواقفیت کا باعث ہے۔ افسوس۔ مرزا قادیانی جغرافیہ کو ہی دیکھ لیتے۔ تو ایسی فاش غلطی نہ کرتے کہ گلگت اور سری نگر ایک ہی ہے۔ دوم یہ بھی غلط ہے کہ مسیح جس جگہ صلیب دیا گیا۔ اس جگہ کا نام گلگت تھا۔ ہم ذیل میں انجیل کی اصل عبارت لکھ دیتے ہیں تاکہ مرزائیوں کو مرزا قادیانی کی من گھڑت بناوٹ معلوم ہو۔ دیکھو انجیل متی باب آیت ٣٣۔ ’’اور ایک مقام گلگتا نامی۔‘‘ یعنی کھوپری کی جگہ پر پہنچے۔ بعض انجیلوں میں گول گھتا الگ الگ لکھا ہے۔ غرض گول گھتا اور گلگت میں بڑا فرق ہے۔ یہ ایسا ہی
٤١
ہے کہ جیسا کوئی جاہل کہہ دے کہ مسیح کلکتہ ہندستان میں صلیب دیا گیا تھا اور یہ بکواس مرزا قادیانی سے کچھ معقول بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ گلگتا اور کلکتہ میں تجنیس خطی ہے اور قریب المخرج ہے۔ سری کے معنی کھوپڑی کرنا زبان سنسکرت سے جہالت کا باعث ہے۔ سری کے معنی کھوپڑی کے ہرگز نہیں سری کرشن جی۔ سری راجندر جی۔ سری مہادیو جی۔ سری رام بھی وغیرہ وغیرہ سے ظاہر ہے کہ سری کے معنی بزرگ کے ہیں نہ کہ کھوپری کے جیسا کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں تاریخ اعظمی میں لکھا ہے کہ اس علاقہ کا نام ومتی سر تھا اور چونکہ پانی کے درمیان تھا۔ اس واسطے دتی سر کہتے تھے۔ سر، سنسکرت میں پانی کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ امرتسر اور نگر شہر کو کہتے ہیں۔ پس سری نگر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ پانی کا نگر۔ سری نگر کا ترجمہ کھوپری اور کھوپری کا ترجمہ سر کرنا بالکل غلط ہے۔ پس یہ سراسر غلط ہے کہ مسیح کی قبر سری نگر میں جو ہے اس کا نام بھی گلگت ہے کیونکہ سری کے معنی کھوپری کے ہرگز نہیں۔ پس سری نگر کو گولگتھا سے کوئی مناسبت نہیں اور جو قبر سری نگر میں ہے۔ وہ مسیح کی قبر ہرگز نہیں ہو سکتی۔
دلیل نمبر ٤
پرانے کتبے دیکھنے والے شہادت دیتے ہیں کہ یہ یسوع کی قبر ہے۔
(دیکھو ریویو جلد نمبر ١٠ ص ٤١٩)
الجواب: محلہ خانیار میں جو قبر ہے۔ اس پر کوئی کتبہ نہیں۔ مولوی شیر علی صاحب خاص مرید مرزا قادیانی لکھتے ”کہ یہ کتبہ مسیح کی قبر سے ایک میل کے فاصلہ کوہ سلیمان کی چوٹی پر ایک قلعہ کے اندر پڑا ہے۔ (ریویو جلد ٢ نمبر ٥ ص ٢١٤ بابت ماہ مئی ١٩٠٣ء) پس مرزا قادیانی کی تردید خود ان کے مرید مولوی شیر علی نے کر دی ہے۔ اس لیے ہم کو جواب دینے کی ضرورت نہ رہی۔ لہٰذا یہ دلیل بھی غلط ہے۔
دلیل نمبر ٥
”عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یوز آسف ایک نبی جس کا زمانہ وہی ہے جو مسیح کا زمانہ تھا۔ دور دراز سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور نہ وہ صرف نبی تھا بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا تھا اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اسی ملک کا باشندہ تھا اور اس کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی۔“ (ریویو جلد ٢ نمبر ٩ ص ٣٣٨ بابت ماہ ستمبر ١٩٠٣ء)
الجواب: ایک بھوکے سے کسی نے پوچھا کہ دو اور دو؟ بھوکے نے جواب دیا کہ چار
٤٢
روٹیاں۔ یہی حال مرزا جی کا ہے کہ مسیح کی وفات ان کو چین نہیں لینے دیتی۔ تاریخ اعظمی میں صرف یہ لکھا ہے کہ ایک شہزادہ نبی یوز آصف نام کشمیر میں بمنصب رسالت و نبوت ممتاز ہوا اور محلہ خانیار میں جو قبر ہے یہ اس کی قبر کی ہے۔
(ص ٨٢ تاریخ اعظمی)
مرزا قادیانی اس بھوکے کی طرح چار روٹیاں اپنے پاس سے ایزاد کر دیں کہ جس ملک میں یسوع رہتا تھا۔ اسی ملک کا باشندہ تھا۔ ہم پہلے یوز آصف کے حالات میں تاریخی ثبوت سے لکھ آتے ہیں۔ کہ یوز آصف ملک سلابت ہندوستان کے رہنے والا تھا۔ پس یہ مرزا قادیانی کا دروغ بے فروغ ہے کہ یوز آصف یسوع کے ملک کے رہنے والا تھا۔ مرزائیوں کو چاہیے کہ اس تاریخ کا نام بتائیں کہ جس میں لکھا ہے کہ یسوع مسیح اور یوز آصف ہموطن تھے۔ اگر تاریخ کا نام نہ بتا سکیں تو مرزا قادیانی کو دروغ باف یقین کر کے ان کی پیروی سے توبہ کریں۔
یہ بھی غلط ہے کہ یوز آصف اور مسیح کا زمانہ ایک ہی تھا۔ ہم اوپر تاریخ سے بتا آئے ہیں کہ مسیح اور یوز آصف کے زمانہ کا فرق تین سو سال کا ہے اور یاد رہے کہ مسیح گوتم بدھ کا شاگرد نہیں بلکہ خدا کا شاگرد ہے۔ دیکھو عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ الآیۃ۔ ترجمہ۔ سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل۔
دلیل نمبر ٦
’’ایسا ہی ایک حدیث میں مسیح کی عمر ایک سو بیس سال کی بیان کی گئی ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سری نگر محلہ خانیار والی قبر میں وہی سوئے ہوئے ہیں کیونکہ یوز آصف کی عمر بھی ایک سو بیس سال کی ہی بیان کی جاتی ہے۔‘‘
(ریویو جلد ٥ نمبر ٥ ص ١٨١ بابت مئی ١٩٠٦ء)
الجواب: افسوس مرزا قادیانی کچھ ایسے مطلب پرست تھے کہ بعض دفعہ یقین ہو سکتا ہے کہ ان کے دماغی قوا درست نہ تھے۔ بھلا یہ کیا دلیل ہے کہ چونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مسیح کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی۔ اس لیے کشمیر میں وہی مدفون ہیں؟ مرزا قادیانی کی اس دلیل سے ثابت ہوا کہ کشمیر والی قبر میں حضرت موسیٰ ؑ مدفون ہیں۔ کیونکہ ان کی عمر بھی ایک سو بیس برس تھی اس کے ثبوت میں کہ حضرت موسیٰ کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی۔ ہم مرزائیوں کی تحریر پیش کرتے ہیں۔ دیکھو کتاب ظہور مہدی ص ٢٣٨ اکمل فاضل قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ ٢٣٦٨ ہبوط آدم میں پیدا ہوئے اور ایک سو
٤٣
بیس برس کی عمر پا کر ٢٣٨٨ میں فوت ہوئے۔ جب مرزائیوں کی تحریر سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی اور مرزا قادیانی کا منطق کہتا ہے کہ جس کی عمر ایک سو بیس برس کی ہو اس کی قبر کشمیر والی قبر ہو سکتی ہے تو مرزا قادیانی کی اپنی دلیل سے یہ کشمیر والی قبر حضرت موسیٰ کی قبر ہوئی مگر افسوس! مرزا قادیانی کو یہ دلیل کہتے وقت دماغ شریف سے اپنی تحریر تذکرۃ الشہادتین اردو ص ٢٧ یاد سے جاتی رہی۔ جس میں لکھا ہے کہ ”مسیح کی کل عمر ١٥٣ برس کی تھی۔“ پھر مرزا قادیانی اپنی کتاب ”مسیح ہندوستان میں“ ص ٥٣ پر مسیح کی عمر ١٢٥ برس کی تسلیم کرتے ہیں۔ پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں ”یوزآصف کی قدیم کتاب کی نسبت اکثر محققین انگریزوں کے بھی یہ خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے پہلے شائع ہو چکی ہے۔ (چشمہ مسیحی ص ٤ خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٠) جس سے مسیح کا پیدا ہونا یوزآصف کے بعد ثابت ہوتا ہے۔ اب مرزا قادیانی کی اپنی ہی تحریروں سے جب ثابت ہے کہ مسیح کی عمر ایک سو بیس برس سے زیادہ تھی اور یوزآصف مسیح سے پہلے ہو گزرا ہے تو ثابت ہوا کہ کشمیر والی قبر یوزآصف کی ہی ہے جس کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی۔ کوئی مرزائی مہربانی کر کے یہ بھی بتائے کہ یوزآصف کی عمر ایک سو بیس برس مرزا قادیانی نے کہاں سے نقل کی ہے تا کہ مرزا قادیانی کا سچ جھوٹ معلوم ہو۔
برادران اسلام! مرزا قادیانی کے بودے دلائل کا رد ہو چکا۔ کوئی دلیل ایسی نہیں جس سے ثابت ہو کہ کشمیر والی قبر حضرت مسیح کی ہے اور نہ کسی تاریخ کی شہادت مرزا قادیانی نے پیش کی۔ بلکہ ایک دو جگہ یہ دعویٰ کر کے کہ پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک بنی اسرائیل نبیوں میں سے آیا تھا مگر کسی تاریخ کا نام تک نہ لے سکے اور قیاسی اور شکی باتوں کہ مسیح آیا ہو گا۔ نکاح کیا ہو گا اولاد ہوئی ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ پس ان پراگندہ اور متضاد تحریروں سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس کوئی تحریری تاریخی ثبوت نہیں۔ صرف اپنے قیاسی ڈھکوسلے لگاتے ہیں۔ اس کے مقابل ہم نے تاریخی ثبوت اور سوانح عمری یوزآصف اور روسی سیاح کی انجیل سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ قبر کشمیر والی حضرت مسیح کی ہرگز نہیں بلکہ یہ قبر شہزادہ یوزآصف کی ہے۔
اب ہم خاتمہ پر ذیل میں مختصر طور پر برادران اسلام کو بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا اور ان کے مریدوں نے کس قدر مختلف بیانات مسیح اور مریم کی قبر میں اپنی کتابوں میں درج کیے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ مرزا قادیانی کا الہامی دعویٰ بالکل غلط تھا کیونکہ خدا کی طرف سے جو کلام ہو اس میں اختلاف نہیں ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی کے ہر ایک بیان میں
٤٤
اختلاف ہے۔ مسیح و مریم کی قبر کے بارہ میں ذیل کی تحریریں ملاحظہ ہوں۔
(اول)......مرزا قادیانی لکھتا ہے ”حضرت عیسیٰؑ کی قبر بلدہ اقدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰؑ کی قبر ہے اور اس گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں۔“ (اتمام الحجہ ص ١٩ خزائن ج ٨ ص ٢٩٩) اب مرزا قادیانی کی اس تحریر سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ ماجدہ مرنے کے وقت بلدہ اقدس میں تھے اور دونوں وہاں فوت ہوئے اور یکے بعد دیگرے بڑے گرجا میں دفن ہوئے اور دونوں ماں بیٹے یعنی مریم اور مسیح کی قبریں بلدہ اقدس میں ہیں۔ اب کوئی مرزائی بتائے کہ کشمیر والی قبر میں حضرت عیسیٰ کس طرح آگئے؟ کیا مسیح پھر زندہ ہو کر گرجے والی قبر سے نکل کر کشمیر آئے اور دوبارہ فوت ہو کر دفن ہوئے؟ یا مرزا قادیانی کا پہلا لکھنا غلط ہے تو ایمان اٹھ گیا اگر پہلی تحریر درست ہے تو کشمیر والی تحریر غلط ہے اور اگر کشمیر والی قبر مسیح کی قبر ہے تو گرجے والی قبر مسیح اور مریم کی تحریر مرزا قادیانی غلط ہے۔ بہرحال مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔
(دوم)......مرزا بشیر الدین محمود اپنے باپ کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شہر سری نگر محلہ خانیار میں جو دوسری قبر یوز آسف کے پاس ہے وہ حضرت مریم کی ہے۔ (ریویو حاشیہ ص ٢٥) حالانکہ مرزا قادیانی راز حقیقت میں لکھ چکے ہیں کہ یہ دوسری قبر سیّد نصیر الدین کی ہے۔
(سوم)......حکیم خدا بخش مرزائی (عسل مصفیٰ جلد ١ ص ٢٥٣) پر لکھتے ہیں حضرت مریم کی قبر اب تک کاشغر میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ مریم کی قبر بلدہ اقدس میں بڑے گرجے میں ہے اور ان کے فرزند رشید و مرید راسخ الاعتقاد تردید کرتے ہیں۔ جس سے ثابت ہوا کہ اپنے اپنے قیاسی ڈھکونسلے لگاتے ہیں۔ الہام اور وحی کی بڑ غلط ہانکتے ہیں۔ ایک ہی مسیح اور ایک ہی مریم کی قبر کبھی بلدہ اقدس میں کبھی گلیل میں کبھی کشمیر میں کیونکر ہو سکتی ہے؟ بہرحال ایک جگہ کا ہونا بھی درست ثابت نہیں۔ فقط۔
خاکسار پیر بخش سیکرٹری انجمن تائید اسلام لاہور
٤٥
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی کذاب
کی آمد پر
ایک محققانہ نظر
جناب بابو پیر بخشؒ
قادیانی کذاب کی آمد پر ایک محققانہ نظر
کتب خانہ دعوت اسلام عقب مسجد چینیاوالی لاہور نے بہت پہلے ”تین گواہ“ نامی پمفلٹ مرزا کی تردید میں شائع کیا تھا۔ اس میں ایک گواہ بابو پیر بخش کا یہ مضمون تھا۔ وہاں سے پیش خدمت ہے۔ مرتب
یہ تحریر مرزائی نبوت کے ابتدائی زمانہ کے ایک رسالہ (جو انجمن ہمدردان اسلام کی طرف سے بطور سوال چھپا تھا۔ جس کا جواب مرزائی صاحبان ابھی تک نہیں دے سکے) سے نقل کی گئی ہے۔ (مؤلف)
ناظرین! ایک ”مضمون وعدہ کا مہدی و مسیح آ گیا آ گیا آ گیا کئی بار آ گیا“ کل میری نظر سے گزرا جس میں مرزائیوں کی طرف سے قاضی فضل کریم مرزائی ساکن لنڈا بازار لاہور نے حق تبلیغ ادا کیا ہے۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ آ گیا اور بیشک آ گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا لایا اور کس واسطے آیا؟ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمانے کے مطابق آیا؟ اگر ان سوالات کا جواب تسلی بخش اور قرآن و حدیث سے ہے تو بیشک کسی مسلمان کو جو محمد رسول اللہ ﷺ کو مخبر صادق یقین کرتا ہے جائے انکار نہیں اور اگر ان سوالات کا جواب یہ ہو کہ شرک لایا۔ الحاد لایا۔ نیچریت لایا۔ تفسیر بالرائے لایا۔ تو پھر مسلمان جو قرآن اور رسول پاک ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں؟ کس طرح مان سکتے ہیں؟ کیونکہ مدعی سچا بھی ہوتا ہے اور جھوٹا بھی اور خاص کر ایسی حالت میں جبکہ اسی مخبر صادق ﷺ نے یہ بھی خبر دی ہو کہ میری امت میں سے تیس کاذب بھی آئیں گے۔ چنانچہ ٢٩ پہلے آ چکے اور صرف ایک باقی تھا۔ چنانچہ حضرت ثوبانؓ سے روایت کی ہے۔
قال رسول الله ﷺ وانه سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى و انا خاتم النبيين لا نبى بعدى ولا تزال طائفة من امتى على الحق الخ.
(ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧ کتاب الفتن)
ترجمہ: تحقیق ہوں گے میری امت سے جھوٹے تیس۔ وہ سب گمان کریں گے
٢
کہ نبی خدا کے ہیں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ نہیں نبی پیچھے میرے اور ہمیشہ ایک جماعت میری امت سے ثابت رہے گی حق پر۔ الخ۔
حدیث لمبی چلی جاتی ہے جو مشکوٰۃ میں بھی ہے۔ جس کا جی چاہے دیکھ لے۔
اب اس صورت میں کیا مسلمانوں کا فرض نہیں ہے کہ اپنے پیغمبر ﷺ کے فرمودہ کے مطابق سچ اور جھوٹ میں اپنی عقل خداداد سے تمیز کریں۔ بیشک فرض ہے اور سچے مسلمان کا فرض ہے کہ کاذب مدعی کے پنجے میں نہ پڑے۔ اب سوال یہ ہے کہ صادق اور کاذب میں فرق کرنے والی کیا چیز ہے۔ جس سے عوام کو معلوم ہو جائے کہ یہ مدعی سچا ہے اور یہ مدعی جھوٹا ہے؟ وہ تعلیم مدعی ہے۔ جس مدعی کی تعلیم قرآن شریف اور شریعت محمدی ﷺ کے برخلاف ہو۔ وہ یقیناً جھوٹا ہے۔ مسیلمہ کذاب کیوں جھوٹا سمجھا گیا؟ اس واسطے کہ اس نے زکوٰۃ دینا موقوف کرنا چاہا جو کہ صریح نص قرآنی کے برخلاف تھا۔ اور وہ حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں مقتول ہوا۔ یہ مرزائیوں کا خیال غلط ہے کہ چونکہ وہ مارا گیا تھا۔ اس واسطے وہ جھوٹا تھا کیونکہ جو کاذب جنگ میں نہ جائے بلکہ گھر سے بھی باہر نہ نکلے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ وہ کس طرح مارا جا سکتا ہے؟
پس قرآن معیار ہے اور وہ چیز جو دیکھنی ہے۔ وہ مدعی نبوت کی تعلیم ہے۔ ہم سب کچھ ماننے کو تیار ہیں۔ بلکہ اگر وہ کوئی اور دعویٰ بھی ہم سے منوانا چاہیں تو ہم ماننے کو تیار ہیں۔ مگر صرف پوچھتے ہیں کہ مرزا قادیانی ہم کو سکھاتے کیا ہیں؟ اگر وہ قرآن کے مطابق ہے۔ تو مرزا قادیانی سچے ہیں۔ ورنہ خیر۔ اب سنو! مرزا قادیانی ہم کو کیا سکھاتے ہیں؟
- (١) مرزا قادیانی فرماتے ہیں ’’سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا
کیا۔ جس میں کوئی ترتیب وتفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ اس کے خلق پر میں قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا۔ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں۔‘‘
(کتاب البریہ ص ٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
ناظرین! کل دنیا کے مسلمان کیا شرق وغرب کیا شمال و جنوب کے رہنے والے کسی کا بھی یہ اعتقاد ہو سکتا ہے کہ ناچیز انسان ارض و سماء اور انسان کا خالق ہو سکے؟ ہونا تو بجائے خود ممکن ہی نہیں کیونکہ قرآن مجید میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔ (النحل٣) اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ
٣
السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ اَنْ تَزُوْلَا. (فاطر ٤١) اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوَاتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا. (الرعد ٢) بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا. (نبا ١٢) یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا.
(آل عمران ١٩١)
ناظرین! تمام قرآن انھیں آیات سے پر ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنی ہستی کی دلیل یہی دی ہے کہ میں خالق السمٰوات والارض ہوں اور میرے سوا کوئی خالق اور مالک نہیں۔ مگر اب مرزا قادیانی نے اپنی زمین اور آسمان اور انسان بنا کر شک میں ڈال دیا کہ ان کے بنانے والے دو ہیں۔ اب خدا کو سچا سمجھیں یا مرزا قادیانی کو؟ خدا تو فرماتے ہیں۔ میں نے آسمان زمین اور انسان وغیرہ کائنات بنائی اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں نے بنائی۔ اب مرزائی صاحبان فرمائیں کہ مرزا قادیانی کا یہ فرمانا محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمانے کے مطابق ہے؟
ہم کو اکثر مرزائی صاحبان جواب دیتے ہیں کہ یہ مرزا قادیانی کا کشف ہے۔ ہم اس جواب کو کافی نہیں سمجھتے کیا کسی بزرگ یا امام کا کشف خلاف قرآن ہو تو مانا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ جواب کہ یہ مرزا قادیانی کا کشف ہے درست نہیں۔ اگر مرزا قادیانی کا ایسا کوئی دوسرا کلمہ کفر پیش کریں گے تو یہ حضرت صاحب کا الہام ہے۔ اسی طرح کہو گے کہ یہ حضرت صاحب کا خواب ہے اور یہ ان کا شعر ہے، تو پھر امام کے کلام اور مجذوب کی بڑ میں کیا فرق ہوا؟ دوم! مرزائی صاحبان اس کشف کو جائز نہیں سمجھتے تو کبھی کسی نے اشتہار دیا ہے؟ کہ یہ کشف قابل اعتبار نہیں اور اس کو غلط سمجھتے ہیں؟
کیا مرزا قادیانی کو اختیار ہے کہ بذریعہ کشف اپنا خالق ہونا مسلمانوں کو منوا کر مشرک بنا کر وارث جہنم قرار دیں اور کیا ایسے کشف والے کو امام مانا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کشف کے معنی کھولنا ہے یہ خوب کھولا ہے کہ صاف اور سیدھا اعتقاد جو مسلمانوں کا کہ سوائے خدا کے آسمانوں زمینوں اور آدمیوں کا خالق اور کوئی۔ مرزا قادیانی نے خوب حل کیا اور بذریعہ کشف خدا سے دریافت کر کے مریدوں کو اطلاع دی۔ اب تک تمام انبیاءؑ اور محمد مصطفےٰ ﷺ معاذ اللہ غلطی پر تھے کہ صرف اکیلے خدا کو خالق مانتے گئے؟
(دوم)...... اگر یہ فرمائیں کہ صوفیائے کرامؒ نے بھی ایسے ایسے خلاف شرع الفاظ منہ سے نکالے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ حالت سُکر میں اپنی ہستی سے غافل ہو کر کہہ گئے ہیں۔ مرزا قادیانی برخلاف قاعدہ صوفیائے کرام انانیت کے مقام میں ہو کر فرماتے ہیں کہ میں نے منشاء حق کے مطابق جس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا
٤
وجود الگ تھا۔ جس کو وہ میں سے پکارتے ہیں اور خدا کا وجود الگ دیکھ رہے تھے جس کو وہ حق فرماتے ہیں۔ یعنی ”میں نے منشاء حق کے مطابق“ تو صاف ظاہر ہے کہ حق میں اور اپنے آپ میں فرق جانتے تھے اور یہ مقام انانیت کا ہے پس اس مقام پر ایسا کلمہ موجب کفر و شرک ہے۔
(سوم)....... نبی اور امام وقت ہونے کے مدعی کی شان سے بعید ہے کہ وہ بحیثیت امام و مسند نشین شریعت محمدی ﷺ ہو کر ایسے کلمات خلاف شرع منہ سے نکال کر باعث ضلالت ہو۔
(٢) ”مسیح اور اس عاجز (یعنی مرزا قادیانی) کا مقام ایسا ہے کہ جس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں...... محبت الہی کی چمکنے والی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے۔ جس کا نام روح القدس ہے...... اس کا نام پاک تثلیث ہے اس لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لیے بطور ابن اللہ کے ہے۔“
(توضیح المرام ص ٢٧-٢٢ خزائن ج ٣ ص ٦٤-٦٢)
ناظرین! پاک تثلیث مرزا قادیانی کی سن لی۔ یہ وہ صاحب ہیں جو پکار پکار کر فرما رہے ہیں کہ میں صلیب توڑنے آیا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ لکڑی کی صلیب نہیں بلکہ صلیبی تعلیم کو موقوف کرانے آیا ہوں۔ مگر یہ تو نعوذ باللہ صلیب کا معجزہ ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور مرزا قادیانی خود تثلیث کے قائل ہو گئے جس کی تعلیم مٹانے کے لیے آپ تشریف لائے تھے۔ ناظرین! غور فرمائیں۔ قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواً احدا ۔ پر ایمان رکھنے والے لوگ ایسی تعلیم کو سچی تعلیم سمجھ سکتے ہیں؟
جناب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں یعنی تمام انبیاء توحید الہی کے پھیلانے کے واسطے مبعوث ہوئے ہیں اور سب کا مقصود ایک ہی ہے۔ یعنی توحید۔ اب ہم مرزا قادیانی کے مریدوں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا امام وقت مسیح و مہدی نے ایسی شرک بھری تعلیم کے واسطے آنا تھا؟ اکثر مرزائی صاحبان کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تمام کتابیں از اوّل تا آخر دیکھنا چاہیے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ایک ہی کلمہ کفر سے کافر ہو جاتا ہے اور ایک ہی فعل سے جو قابل گرفت و اعتراض ہو موجب سزائے ہلاکت ہے۔ اگر کوئی شخص چوری کرے یا کسی بڑے آدمی کو گالی دے اور جب پکڑا جائے تو کہے کہ میری سابقہ عمر کے افعال دیکھئے۔ میں نے کبھی چوری نہیں کی۔ اس لیے چوری جائز ہے۔ یا میں نے پہلے
٥
کبھی اس شخص کو گالی نہیں دی۔ اب گالی دینا جائز ہے کیا یہ درست ہے ہرگز نہیں۔ پس ایک ہی کلمہ ہے جو انسان کو کافر بنا دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص خدا کو یا نبی کو گالی دے اور چار پانچ صفحے تعریف کر دے تو اس گالی کے جرم سے بری ہو سکتا؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔
(٣) حلول ذات باری تعالیٰ انسانی قالب میں تعلیم فرماتے ہیں۔ ”جب کوئی شخص زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے تو خدا کی روح اس کے اندر آباد ہوتی ہے۔“ (نعوذ باللہ)
(توضیح المرام ص ٥٠ خزائن ج ٣ ص ٧٦)
ناظرین! اس کے جواب کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ خالق مخلوق کے اندر آ نہیں سکتا۔ اس پر تمام علما وصلحائے امت کا اتفاق ہے کہ واجب الوجود ممکن الوجود میں سما نہیں سکتا۔
(٤) ”پس جب جبرائیلی نور خدا تعالیٰ کی کشش اور تحریک نفخہ نورانیہ سے جنبش میں آ جاتا ہے تو معاً اس (اللہ تعالیٰ) کی عکسی تصویر جس کو روح القدس کے ہی نام سے موسوم کرنا چاہیے۔ محبّ صادق کے دل میں نقش ہو جاتی ہے۔“
(توضیح المرام ص ٧٩ خزائن ج ٣ ص ٩٢)
ناظرین! خدا تعالیٰ بے مثل و بے مانند ہے اور اس کی ذات پاک لیس کمثلہ شئ و ھو السمیع العلیم۔ اب آپ غور فرمائیں۔ جو وجود محسوس نہیں۔ بذریعہ حواس ظاہرہ اور نہ بذریعہ حواس باطنہ یعنی قوائے دماغی تو پھر اس کی تصویر کس طرح کھنچ سکتی ہے؟ اور یہ عقیدہ صریح خلاف قرآن وحدیث ہے چونکہ یہاں اختصار مقصود ہے۔ اگر کسی مرزائی نے جواب دیا تو مفصل بحث کی جائے گی۔ فی الحال انہی چند مسائل پر بحث ہو گی۔
ہم مرزائی صاحبان کی دعوت قبول کرنے کو تیار ہیں۔ مگر وہ خدا کے واسطے شاعرانه عبارت آرائی اور مبالغہ سے کام نہ لیں اور صاف صاف اپنے عقائد کے موافق جواب دیں کہ مرزا قادیانی کے مرید ایسے عقائد ذات باری کی نسبت رکھتے ہیں تو پھر مسلمان اور عیسائی اور مشرک میں کیا فرق ہے؟ جواب صاف اور بلا مبالغہ الفاظ میں ہونا چاہیے تا کہ عام مسلمانوں کو موازنہ کرنے کا موقعہ ملے۔ طول طویل عبارت میں مطلب فوت ہو جاتا ہے اور دین کے مسائل کی تحقیق میں عبارات مبالغہ آمیز نہیں ہونی چاہئیں۔ نہایت افسوس سے دیکھا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں میں کلام کا جو عیب تھا۔ یعنی طول بیانی اس کو ہنر سمجھ رکھا ہے اور ذرہ سی بات کا بتنگڑ بنا کر دکھانا چاہتے
٦
ہیں۔ کوئی عبارت وہ بتائیں جو مَا قَلَّ وَدَلَّ پر بھی صادق آئے۔ ہرگز نہیں۔ ہم دعوٰی سے کہتے ہیں کہ بہت سا حصہ اس کا فضول و بے مطلب ہوتا ہے اور اصل مضمون صرف تھوڑا جس سے صرف ان کا مقصود مطلب کو گم کرنا ہوتا ہے اور طول بیانی سے وہ اپنا غلبہ چاہتے ہیں اور راہ تحقیق سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔ جس شخص کو ہمارے مذکورہ بالا بیان کا شک ہو۔ وہ قاضی اکمل قادیانی کی ہی تحریر ملاحظہ فرمائیں۔ میرے پاس نقل کی اتنی گنجائش نہیں۔ البتہ اختصار بغرض جواب لیا جائے گا۔
قولہ:۔ ”خود مرزا قادیانی اسی طرح آ گیا جس طرح حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک تمام نبی و رسول علیہم السلام تشریف لائے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت آدم سے حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ تک نبی تشریعی و غیر تشریعی مبعوث ہو کر آتے رہے آ گیا ہے۔ یعنی مرزا قادیانی اور ان میں کوئی فرق نہیں۔“
ناظرین…… یہ بالکل غلط اور دھوکا ہے۔ قاضی اکمل قادیانی کو خود اپنے گھر کی خبر نہیں۔ مرزا تو خود کہتا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ١٧٨ خزائن ج ٣ ص ١٨٥)
مرزا قادیانی خود کہتا ہے کہ میں بنسبت متابعت محمد رسول اللہ ﷺ کے ظلی ناقص نبی ہوں کیونکہ نبوت کا دروازہ بالکل مسدود نہیں ہوا۔ جس سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کوئی کتاب نہیں لائے تو صاف ظاہر ہوا کہ آدمؑ سے محمد ﷺ تک کے مرسلوں کی طرح نہیں آئے۔ بلکہ بغیر کتاب کے آئے۔ بغیر کسی شریعت کے آئے۔ بغیر کسی معجزہ کے آئے۔ اگر کہا جائے کہ پیشگوئیاں لائے تو درست نہیں کیونکہ صرف پیشگوئیاں دلیل نبوت نہیں۔ پیشگوئیاں رمال‘ جفار‘ نجومی‘ کاہن اور تجربہ کار جن کی قوت متفکرہ زیادہ پیشگوئیوں میں مشاق ہے کرتے ہیں اور ان کی پیشگوئیاں بھی بعض دفعہ سچی اور بعض دفعہ جھوٹی نکلتی ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی جھوٹ نکلیں۔
اب صرف یہ دیکھنا ہے کہ بغیر کتاب کے بھی کوئی نبی بعد محمد رسول اللہ ﷺ کے آ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر آ سکتا ہے تو قرآن مجید کی کوئی آیت دکھا دو ہم مان لیں گے۔ مگر آپ ہرگز نہ دکھا سکیں گے کیونکہ قرآن مجید نے محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین ﷺ فرمایا ہے۔ جیسا کہ مشہور آیت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ تم میں سے کسی کا باپ نہیں۔ اللہ کا رسول اور ختم کرنے والا نبیوں کا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ محمد
٧
رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ ہے اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کوئی ان کا بیٹا نہیں کیونکہ اگر بیٹا ہوتا تو وہ بھی نبی ہوتا۔ حضرت ﷺ کے بعد بیٹے کا نہ ہونا دلیل ختم نبوت ہے۔ پہلا جملہ معلول ہے یعنی کیوں بیٹا نہیں یا محمد رسول اللہ ﷺ کیوں باپ نہیں جس کی علت یہ ہے کہ وہ خاتم النبیین ہے اور تفاسیر والوں نے بھی یہی معنی کیے ہیں کہ ہر قسم کی نبوت ختم ہے تشریعی و غیر تشریعی۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت میں غیر تشریعی نبی ہوتے تھے تو محمد رسول ﷺ کی شریعت کے واسطے غیر تشریعی نبی کیوں نہ ہوئے؟ ضرور ہونا چاہیے۔ جس کا جواب یہ ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے باب نبوت مسدود نہ تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے خاتم النبیین نہیں فرمایا تھا۔ اس لیے ان کی شریعت کے تابع نبی ہوتے تھے۔ مگر جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا اور الیوم اکملت لکم دینکم سے ممتاز فرمایا تو ساتھ ہی غیر تشریعی نبوت کا باب مسدود کر دیا۔ باقی رہی یہ بات کہ شریعت محمدی کی تجدید کے واسطے پھر کیا انتظام کیا گیا تو حضرت ﷺ نے فرمایا۔ عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ. (الاسرار المرفوعۃ ص ٢٤٧) یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند تبلیغ شریعت کریں گے اور صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو نبی کہلانے کی اجازت نہ دی حالانکہ بعض اوقات صحابہ کرامؓ میں سے حضرت ﷺ کی زندگی میں بھی ان کی غیر حاضری میں بطور قائم مقام کام کرنا پڑتا تھا مگر تاہم بھی وہ نبی نہ کہلاتے تھے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے باوجود کامل متابعت قرابت کے فرمایا۔ الا وانی لَسْتُ نَبِیًّ وَّ لَا یُوْحٰی اِلَیَّ. (ازالۃ الخفاء ص ١٣٣ مستدرک حاکم ج ٣ ص ٩١ حدیث ٤٦٨٠) یعنی میں نبی نہیں ہوں اور نہ میری طرف وحی کیا جاتا ہے اب ایک بحث یہ ہے کہ مرزائی یہ کہتے ہیں کہ ختم کے معنی مہر کے ہیں۔ بند کرنے کے نہیں اس واسطے مختصر طور پر ہم اس پر بحث کرتے ہیں۔ اوّل ..... تو قرآن شریف میں پاتے ہیں کہ ختم کے معنی بند کرنے کے ہیں۔ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ الخ. یعنی اللہ نے کفار کے دلوں کو مختوم کر دیا ہے یعنی وہ حق کو قبول نہیں کرتے اور ولہم عذاب عظیم کے وعید سے بالکل صاف ہو گیا کہ ختم کلی بند کرنے کو کہتے ہیں۔ نہ کہ جزوی کو۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا خیال ہے۔ نیز قرآن میں ہے۔ يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ خِتَامُهٗ مِسْكٌ یعنی وہ شراب طہور کی بوتلیں جو مشک یعنی کستوری سے منہ بند ہوں گی۔ قرآن مجید سے ثابت ہو گیا ہے کہ ختم کے معنی بند کرنے کے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی خاتم النبیین ﷺ کے معنی ختم کرنے والا
٨
نبیوں کا کیے ہیں۔
- (١) حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا۔ تو عمرؓ ہوتے۔
- (٢) لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
- (٣) حضرت ثوبانؓ کی حدیث جو ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ تیس کذاب ہوں گے کہ دعویٰ
نبوت کریں گے حالانکہ وہ میری امت سے ہوں گے اور حالانکہ میں خاتم النبیین ﷺ ہوں۔ یعنی خاتم النبیین ﷺ کے معنی رسول اللہ ﷺ نے خود کر دیے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہاں مرزا قادیانی اور ان کے مرید ایک حدیث حضرت عائشہؓ کی پیش کیا کرتے ہیں کہ قُولُوا خاتم النبیین وَلَا تَقُولُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ یعنی یہ کہو کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ ہیں مگر یہ مت کہو کہ ان کے بعد نبی نہیں آئے گا۔ جس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ حضرت عائشہؓ کو معلوم تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰؑ نبی اللہ جو مریم کا بیٹا اور ناصری نبی تھا۔ آئے گا۔ اس واسطے انھوں نے ایسا فرمایا کیونکہ ایک دوسری حدیث مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ حضرت عائشہؓ نے اپنی قبر کے واسطے حضرت محمد ﷺ سے درخواست کی کہ میری قبر آپ ﷺ کے پاس ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ نہیں۔ میرے پاس عیسیٰؑ ابن مریم نبی اللہ بعد نزول میرے پاس مدفون ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔ ورنہ عقل مان سکتی ہے کہ حضرت عائشہؓ قرآن اور محمد ﷺ کے برخلاف فرماتیں؟
یہ بالکل غلط ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام شریعت موسوی کے خلیفہ تھے۔ حضرت مسیحؑ خود مرسل، صاحب کتاب، جس کا نام انجیل ہے جس کی تصدیق قرآن نے کر دی ہے۔ اپنی شریعت الگ لائے تھے۔ حضرت ابن عربی فرماتے ہیں کہ جب تک حضرت عیسیٰؑ نے شریعت موسوی میں کچھ تغیر و تبدل نہ کیا تھا۔ تب تک یہود اس کو مانتے تھے۔ جب اس نے شریعت موسوی کے برخلاف حکم دیئے تب یہود اس سے بگڑے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیحؑ شریعت موسوی کے مبلغ نہ تھے۔
قاضی اکمل قادیانی نے ایک حدیث سے تمسک کیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کے واسطے ہر صدی کے سر پر ایک شخص کو جو تازہ کر دے گا۔ اس کے لیے دین کو۔ اس حدیث کے پیش کرنے میں میرے مخاطب قادیانی نے خود غلطی کھائی ہے کہ نبوت مرزا قادیانی سے انکاری ہو کر ان کو مجدد ثابت کیا ہے۔ اگر یہ کہو کہ مجدد اور نبی ایک ہی ہے۔ تو یہ غلط ہے۔ کسی مجدد نے اپنے آپ کو کبھی نبی نہیں کہلایا۔ اگر مرزا قادیانی مجدد ہیں تو مسیح موعود نہیں ہو سکتے کیونکہ کسی حدیث میں نہیں ہے کہ مسیح موعود مجدد
٩
بھی ہو گا۔ اگر مرزا قادیانی کو مجدد مانیں۔ تو اس حدیث کے رو سے ایک سو برس کے بعد ان کی میعاد ختم ہو گی۔ پس مرزائی کہ تاریخ بعثت سے سو برس بعد جب کوئی دوسرا مجدد ہو گا تو مرزا قادیانی کی بیعت توڑ دیں گے؟ دوم...... اگر مجدد ہیں تو دین کی تجدید انھوں نے کیا فرمائی۔ اب دیکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے دین کی کیا تجدید کی۔ وھو ہذا۔
خدا تعالیٰ کو مسلمان علی کل شی قدیر اور اس کے آگے کوئی چیز غیر ممکن نہیں۔ اس میں یہ تجدید کی ”خدا تعالیٰ ہے تو قادر مطلق۔ مگر قانون قدرت مقرر کردہ انسان کا پابند ہے اور وہ محال عقلی کے کرنے پر قادر نہیں ۔“ اور جب ایک مسلمان مر جائے تو بغیر حساب قبل از قیامت بہشت میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کا اس پر اختیار نہیں رہتا کہ اس بندے کو دنیا میں لا سکے۔ قرآن مجید میں جو حضرت عزیرؑ کا ذکر آتا ہے اور گائے کا ٹکڑا چھونے سے مردہ کا جی اٹھنا یا حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات سب مسمریزم تھے۔ خدا تعالیٰ خلاف قانون قدرت نہیں کر سکتا۔ مسیح علیہ السلام فوت ہو گیا ہے۔ اب خدا اس کو واپس نہیں لا سکتا۔ سب حدیثیں نزول کی غلط فہمی پر مفہوم کی گئیں۔ حضرت کا معراج جسمانی نہ تھا کیونکہ جسم کو خدا تعالیٰ آسمان پر نہیں لے جا سکتا۔ تصویر اپنی بنوائی اور مریدوں میں تقسیم کی۔ یہ بھی ایک فعل ١٣ سو برس تک اسلام میں رواج نہ پایا تھا۔ غرض یہ قصہ بہت طول ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شرک باللہ سکھایا۔ شرک بالنبوۃ بتایا۔ قیامت یعنی حشر اجساد سے انکار۔ دوزخ و بہشت سے انکار۔ ملائکہ سے انکار۔ صراط و میزان وغیرہ مسائل محال عقلی سے انکار۔ قرآن کی تلاوت سے ہٹ کر تورات و اناجیل کی تلاوت کرتے ہیں۔ آدھے نیچری اور فلسفی امت محمدیہ کو بنایا۔ مگر ہیں کون! مجدد اور کرشن جی۔ کیا مرزائی کوئی حدیث یا آیت دکھا سکتے ہیں کہ مسیح موعود کرشن بھی ہو گا؟ اصل بات یہ ہے ہم کو تو ایک دعویٰ بھی سچا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ مرزا قادیانی ٢٣ برس کے عرصہ میں باوجود کمال سعی و کوشش کے اپنی پوزیشن ہی قائم نہیں کر سکے۔ اس واسطے ہمارے پاس کوئی دلیل ان پر یقین کرنے کی نہیں۔ وہ خود ہی مطمئن نہیں کبھی مثیل مسیح بنتے ہیں۔ جب کہا گیا مثیل تو اصل سے کم درجہ کا ہوتا ہے۔ جب حضرت کو بزدل اور غیر مہذب آپ فرماتے ہیں۔ تو آپ اس سے بڑھ کر بزدل اور غیر مہذب ہوئے تو پھر آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ جب کہا گیا کہ مخبر صادق نے تو مسیح ابن مریم نبی اللہ کا نزول حدیثوں میں فرمایا ہے اور حضرت نے فرمایا ہے کہ ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم ۔ (تفسیر درمنثور ج ٢ ص ٣٦) یعنی عیسیٰ نہیں مرا اور وہ تمہاری طرف آنے والا ہے تو پھر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا بہت بدعات اور شرکیہ باتیں اور افعال پیش کیے گئے۔
١٠
پھر کرشن جی کا روپ دھارا۔ آپ ہی فرمائیں کہ آئے تو ضرور مگر لائے کیا، سکھایا کیا، جس کے واسطے ان کو مسیح موعود مانا جائے؟ باقی رہے آپ کے عقلی ڈھکوسلے تمہاری عقل نہیں مانتی۔ سو مہربان من! تمام انبیاء کے مقابلہ میں کفار بھی عقلی محالات پیش کر کے قیامت اور حشر اجساد سے انکار کرتے آئے کہ عقل نہیں مانتی کہ وجود انسانی جو خاک ہو گئے ہوں گے۔ خدا تعالیٰ ان کو کس طرح زندہ کرے گا۔ یہی مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو گیا ہے۔ اب خدا تعالیٰ کا اس پر کچھ تصرف نہیں۔ وہ اس کو واپس نہیں لا سکتا اور معجزات انبیاء مسمریزم یا عمل تراٹک وغیرہ شعبدہ کی قسم سے تھے۔ جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ مہربان من یہ صرف بیدینی اور لا مذہبی کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب آپ ایک محال عقلی کو نہ مانیں گے تو کل دوسرے حکم قرآن کو محال عقلی کہہ کر نہ مانیں گے۔ پھر تیسرے اور چوتھے کو غرض تمام دین کو ہاتھ سے کھو دیں گے۔ جب حضرت عیسیٰ کو خدا تعالیٰ مار کر پھر واپس نہیں لا سکتا تو پھر تمام گروہ گروہ اور امت امت انسانوں کو تو بالکل لانے کے قابل نہ ہو گا اور دل میں غور تو فرمائیں کہ جس نے یہ اعتقاد بنا لیا کہ خدا تعالیٰ خالق کل کائنات جس کی صنعت اور قدرت کے آگے یہ زمین ایک چھوٹا کرہ ہے۔ صرف ایک کن سے بنا دیا۔ اس کو کسی چیز کی طاقت نہیں اور اس اعتقاد والے کے دل میں اس رب العالمین کی کیا عزت ہو گی جو کہ وہ خدا تعالیٰ کو ایک انسان کی مانند اسباب کا محتاج سمجھتا ہے اور اس کی قدرت اور طاقت کو محدود یقین کرتا ہے اور کیا خوف اس کو ایسے کمزور خدا کا ہو سکتا ہے اور خشوع اس کو ایسے عاجز خدا کا ہو سکتا ہے۔ جس کے قبضہ قدرت سے انسان مر کر بہشت میں داخل ہو کر آزاد ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کا اس پر قابو نہیں رہتا اور کیوں وہ ایسے خدا سے ڈرے گا۔ نہی عن المنکر اور امر بالمعروف کی پروا کرے گا؟ جب جانتا ہے کہ محال عقلی پر خدا تعالیٰ قادر نہیں اور کس واسطے خدا تعالیٰ بندگی کرے گا۔
افسوس آریہ سماجیوں کی مانند خدا کا اعتقاد مرزائی صاحبان بھی بتانے لگے۔ آریہ کہتے ہیں کہ خدا بیشک سرب شکتی مان ہے۔ یعنی قادر مطلق ہے۔ مگر بناتا کچھ نہیں۔ روح اور مادہ پہلے سے تھا اگر روح مادہ نہ ہوتا تو خدا یہ کائنات نہ بنا سکتا کیونکہ عدم سے وجود محال عقلی ہے۔ خدا دیالو یعنی دینے والا تو ہے۔ مگر دیتا کبھی کچھ نہیں کیونکہ ہم کو جو کچھ ملتا ہے اپنے کرموں کا پھل ملتا ہے یہ طول بحث ہے۔ عاقل کو صرف اشارہ کافی ہے۔
برادران اسلام! اہل اسلام اور غیر اہل اسلام میں یہی فرق ہے کہ اہل اسلام ابتدائے آفرینش سے انبیاء پر ایمان لا کر ان کی تعلیم توحید کو بلا حجت مانتے چلے آئے ہیں اور غیر مسلم بھی ایسی ایسی محال عقلی دلیلیں پیش کر کے وہ بھی ساتھ ہی ساتھ انکار
١١
کرتے چلے آتے ہیں، کہ اکیلے خدا سے یہ مخلوقات کس طرح پیدا کی جاسکتی ہے؟ جب ہم نے محمد ﷺ کو مخبر صادق مانا اور اس پر ایمان لائے اور قرآن مجید جو اس پر نازل ہوا خدا کی طرف سے برحق مانتے ہیں تو پھر اپنے عقلی ڈھکوسلے لگانے کے کیا معنی؟ کیا حضرت محمد ﷺ نہیں جانتے تھے کہ نزول عیسیٰ ابن مریم محال عقلی ہے اور آسمان پر جسد عنصری سے نہیں جاسکتا ہے۔ کیا اس رسول ﷺ پاک کو قرآن کریم کی سمجھ نہ آئی کہ اس نے فرمایا کہ وہی عیسیٰ جس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔ وہ زمین پر اترے گا۔ کیا محمد رسول اللہ ﷺ کو رفع کے معنی نہ آتے تھے کہ وہ ہر ایک حدیث میں مسیح ناصری کی خبر دیتے چلے آئے۔ کیا ١٣ سو برس تک تمام صحابہ کرام تابعین و تبع تابعین ائمہ اربعہ اور کل صوفیائے کرام (رضوان اللہ اجمعین) جو کہ تمام اہل زبان عربی النسل تھے۔ قرآن کے معنی نہ سمجھتے تھے جو کہ سب کے سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نبی اللہ ناصری کے نزول کے قائل چلے آئے۔ ہاں بعض مفسرین جیسا کہ حضرت ابن عباسؓ وغیرہ مسیح علیہ السلام کی موت کے بھی قائل ہوئے۔ مگر وہ بھی پھر زندہ ہو کر تیسرے دن آسمان پر جانے کے قائل ہیں اور اناجیل مقدس میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زندہ رہنا ثابت ہے تو پھر کسی قدر دلیری ہے کہ سب کو چھوڑ کر الٹ پلٹ معنی کر کے اپنی یا اپنے پیر کی بات کو ترجیح دی جائے اور یہی قرآن اور رسول کے ساتھ تمسخر کرنا ہے۔ ایک بھی شخص نکالو۔ جو یہ کہتا ہو کہ مسیح علیہ السلام ابن مریم ناصری کا نزول نہیں ہو گا۔ کاش کہ کوئی ضعیف حدیث ہی پیش کی ہوتی۔ شاعرانہ عبارت آرائی اور مبالغہ غلو سے کام لے کر دینی مسائل کو پیش کرنا خشیۃ اللہ کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ آپ کی عقل کیا، ہماری عقل بھی دینی یا دنیوی اور محال عقلی مسائل کو نہیں مانتی مگر کیا کریں۔ خدا اور اس کا رسول منواتا ہے۔ اگر اس پر ایمان ہے تو مانو۔ ورنہ آپ کا اختیار ہے ایمان ایک مسلمہ امر کا نام ہے جو کہ بلا دلیل مانا جاتا ہے۔ اگر کوئی ایمان چھوڑ دے تو اس کو نہ ماننا اور کسی فرمودہ پیر سے انکار کرنا کچھ مشکل بات نہیں۔ یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ اگر آپ قرآن اور رسول ﷺ کو مانو گے۔ تو اس کی ہر ایک بات کو ماننا پڑے گا۔ تب مسلمان ہو۔ ورنہ محال عقلی کہہ کر بے دین لا مذہب۔ دہریہ یا نیچر ہو جاؤ گے اور اپنی عبادات کا کچھ اثر نہ پاؤ گے کیونکہ جب اعتقاد ہی درست نہ ہو تو اعمال کیا درست ہوں گے۔ یہ سخت ٹھوکر ہے اس سے بچو اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا دامن مضبوط پکڑو اور پیر پرستی کو چھوڑو۔ آئندہ آپ کا اختیار ہے۔ وما علینا الا البلاغ
(ایضاً۔ پیر بخش پینشنر۔ پوسٹ ماسٹر لاہور)
١٢
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مجدد وقت کون ہوسکتا ہے؟
جناب بابو پیر بخشؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مجدد وقت کون ہو سکتا ہے؟
برادران اسلام! مرزائی لاہوری جماعت کی طرف سے محمد علی لاہوری ایم اے ۔ امیر جماعت نے ایک چھوٹا سا رسالہ بنام ”بعثت مجددین“ شائع کیا ہے۔ جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی صرف مجدد دین محمدی تھے اور رسالت و نبوت کا الزام ان پر جھوٹا ہے۔ وہ ایک امتی محمد رسول اللہ تھے اور جس طرح خدا تعالیٰ دوسرے مجددین امت محمدی ﷺ کے ساتھ ہمکلام ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی سے بھی خدا تعالیٰ ہمکلام ہوا اور ان کو اس چودھویں صدی کا مجدد مقرر کیا۔ پس مرزا قادیانی صرف ایک مجدد دوسرے مجددوں کی طرح تجدید دین کے واسطے مبعوث ہوئے تھے۔ نبوت اور رسالت کا ان کو ہرگز دعویٰ نہ تھا۔ محمد علی لاہوری نے مجدد کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ ”وہ بات جو ایک مجدد کو ان لوگوں سے ممیز کرتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس کا خاص تعلق خدا تعالیٰ سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس سے ہمکلام ہو اور بعض غلطیوں کی اصلاح کے لیے مامور کرے۔ (دیکھو صفحہ نمبر ٣) مضمون بہت طویل ہے۔ اصل مطلب کی بات اسی قدر ہے کہ ”مجدد تجدید دین کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے اس کو شرف ہم کلامی ہوتا ہے۔“ محمد علی لاہوری کے مسلمان مشکور ہیں کہ انھوں نے خود ہی فیصلہ حقہ کا اصول متعین فرما دیا کہ مجدد وہ ہے جو تجدید دین کرے اور غلطیوں کو دور کرے اور خدا تعالیٰ سے شرف ہم کلامی رکھتا ہو۔ پس اگر مرزا قادیانی میں یا کسی اور شخص میں ایک یہ حقیقت تجدید دین کی ہو تو وہ بیشک مجدد ہے اور اگر تجدید نہ کرے شرک و کفر و الحاد و نیچریت و دہریت سکھلائے۔ تو وہ محمد علی لاہوری کے نزدیک مجدد نہیں۔ پس لاہوری صاحب برائے مہربانی و ہمدردی و اخوت اپنے اصول پر قائم رہیں۔ بلا دلیل مرزا قادیانی کو مجدد منوانے کی کوشش نہ فرمائیں۔ بلکہ ثبوت پیش کریں کہ مرزا قادیانی نے یہ تجدید دین محمدی کی اور اس سنت نبوی کو جو مردہ تھی تازہ کیا تو ہم ماننے کو تیار ہیں اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مرزا قادیانی
٢
نے بجائے تجدید اسلامی مسائل کے تجدید مسائل عیسائیت‘ تجدید دین یہودیت‘ تجدید مذہب آریہ و اہل ہنود کے مسائل کی کی۔ تو پھر وہ لاہوری صاحب کے اقرار سے مجدد ہونے کے اہل نہیں۔ اور نہ مسلمان ان کو مجدد مان سکتے ہیں کیونکہ حضرت خلاصہ موجودات خاتم النبیین محمد ﷺ نے اپنی امت کو اس فتنہ قادیانی سے بچانے کے واسطے صاف صاف تیرہ سو برس پہلے ہی سے فرما دیا ہوا ہے۔ ان بین یدی الساعة الدجال و بین یدی الدجال کذابون ثلاثون او اکثر قلنا ما آیتھم قال ان یاتوکم بسنة لم یکونوا علیھا یغیرون بھا سنتکم و دینکم فاذا رایتموا ھم فاجتنبوھم و عادوھم. (رواہ الطبرانی عن ابن عمر) یعنی طبرانی نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے دجال ہو گا اور دجال سے پہلے تیس یا زیادہ کذاب یعنی مدعیان نبوت ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ ان کی کیا نشانی ہے فرمایا کہ وہ تمھارے پاس ایسا طریقہ لے کر آئیں گے۔ جو ہمارے طریقہ کے برخلاف ہو گا۔ جس کے ذریعہ سے وہ تمہارے دین و طریقہ کو بدل ڈالیں گے۔ جب تم ایسا دیکھو تو تم ان سے پرہیز کرو اور عداوت کرو۔
(المسانید والسنن ج ٢٨ ص ٤٢٢ حدیث نمبر ٩٠٥‘ کنز العمال جلد ١٤ ص ٢٠٠ حدیث نمبر ٣٨٣٨٠)
اس حدیث نبوی میں پیشینگوئی ہے کہ جھوٹے تیس آئیں گے اور نبوت و رسالت کا دعویٰ کریں گے اور وہ دجال ہوں گے۔ ان دنوں میری امت کو چاہیے کہ ان سے پرہیز کرے بلکہ ان سے عداوت رکھے۔
اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات اور کشوف اور تحریرات کو دیکھیں۔ اگر وہ طریقہ رسول اللہ ﷺ و صحابہ کرامؓ و مجددین عظام کے مطابق ہو تو بیشک مرزا قادیانی کی پیروی کریں اور اگر مرزا قادیانی کے الہامات و کشوف و تحریرات رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کے برخلاف ہوں تو پھر حسب فرمودہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، جھوٹے مدعی نبوت و رسالت کی پیروی سے پرہیز کریں اور عداوت رکھیں ہم ذیل میں مرزا قادیانی کے الہامات و کشوف جن سے صاف صاف پایا جاتا ہے کہ یہ چال جو مرزا قادیانی چلے ہیں کذابوں دجالوں کی چال ہے۔ جن سے پرہیز کا حکم ہے اور عداوت رکھنے کا ارشاد نبوی ہے جو شخص رسول اللہ ﷺ کا فرمودہ نہ مانے اور مرزائیوں سے میل جول رکھے۔ وہ اس حدیث کے رو سے دجال کا گروہ ہے اور اگر مرزا قادیانی طریقہ محمدی پر قائم و ثابت ہوں تو سب کا فرض ہے کہ مرزا قادیانی کو مانیں۔ ذیل میں مرزا قادیانی کے الہام مشتے نمونہ از خروارے لکھے جاتے ہیں۔
٣
- (١) پہلا الہام مرزا قادیانی:۔ ہے کہ کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٤ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)
- (٢) دوسرا الہام مرزا قادیانی:۔ تو ہی آریوں کا بادشاہ۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)
- (٣) تیسرا الہام مرزا قادیانی:۔ برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔
(حقیقۃ الوحی ص ٩٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٠١)
- (٤) چوتھا الہام مرزا قادیانی:۔ یا قمر یا شمس انت منی و انا منک اے چاند اے سورج
تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٧٤ خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
مرزا قادیانی کے یہ چاروں الہام اس خدا کی طرف سے ہرگز نہیں ہو سکتے۔ جو قرآن شریف اور محمد رسول اللہ ﷺ کا خدا ہے کیونکہ ابن اللہ و اوتار کا مسئلہ باطل ہے۔ جس کی تردید آج کل آریہ خود کر رہے ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت تیرہ سو برس سے اس مسئلہ اوتار کی تردید کرتے چلی آئی ہے۔ اوتار کے معنی خدا تعالیٰ کا انسانی شکل میں ظہور کرنے کے ہیں۔ چنانچہ گیتا میں لکھا ہے ؎
نمائیم خود را بہ شکل کسے
یعنی خدا تعالیٰ خلقت کی ہدایت کے واسطے اوتار لے کر انسان بن کر آتا ہے اور گمراہوں کو ہدایت کرتا ہے۔ مرزا قادیانی نے خود اپنے اس الہام کی تشریح میں لکھا ہے کہ میں یعنی مرزا قادیانی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں۔ جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ حقیقت روحانی کی رو سے میں وہی ہوں۔
(دیکھو لیکچر مورخہ ١٢ دسمبر ١٩٠٢ء جو مرزا قادیانی نے سیالکوٹ میں دیا تھا)
مرزا قادیانی کا یہ فرمانا صریح قرآن شریف کے برخلاف ہے۔ قرآن شریف فرماتا ہے کہ جو شخص کفر و اسلام کے درمیان راستہ اختیار کرے۔ وہ کافر ہے۔ ویریدون ان یتخذوا بین ذالک سبیلا اولئک ھم الکافرون حقا۔ (النساء ١٥٠) ”اور چاہتے ہیں ۔ کفر اور ایمان کے بیچ بیچ میں راستہ اختیار کریں تو ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں ۔“ اس حکم قرآنی سے ثابت ہے کہ کفر اور اسلام کے درمیان راستہ اختیار کرنے والے اسلام سے خارج ہیں۔ پس مرزا قادیانی نے کفر و اسلام کے درمیان راستہ اختیار کیا کہ اوتار کا مسئلہ مانا اور خود کرشن اوتار بنے اور کرشن کا روحانی بروز یعنی اوتار ہونے کے مدعی ہوئے
٤
اور برہمن اوتار بنے اور آریہ قوم کے روحانی بادشاہ ہوئے تو اسلام سے خارج ہوئے کیونکہ کفر اور اسلام کے درمیان راستہ اختیار کیا اور حضرت خلاصہ موجودات محمد ﷺ اور دیگر تمام انبیاء کو جو کہ توحید کے قائل اور یوم الحساب اور حشر بالاجساد کے معتقد اور تعلیم دینے والے تھے۔ ان کے ساتھ اوتار مانا اہل ہنود کو جو کہ تناسخ اواگون کے قائل، قیامت کے منکر اور حلول اور اوتار کے معتقد تھے۔ یا ان سب کو نبی و رسول کا لقب دیا اور اس طرح کفر و اسلام کو ملایا اور قرآن کی صریح مخالفت کی اور خود ہی اقرار کرتے ہیں کہ ہندو مذہب کے راجہ کرشن کا بھی میں اوتار ہوں اور حقیقت روحانی کے رو سے وہی ہوں مگر نہایت افسوس ہے کہ اہل ہنود جن کے آباؤ اجداد ہزاروں برسوں سے اوتار کا مسئلہ مانتے آئے تھے۔ وہ تو اسلام کی روشنی سے منور ہو کر اس لغو مسئلہ اوتار کی تردید کریں اور مرزا قادیانی جن کے آباؤ اجداد اس مسئلہ اوتار کو باطل قرار دیتے آئے تھے۔ وہ اس باطل مسئلہ کو اسلام میں داخل کریں اور پھر اس پر محمد علی لاہوری کا دعویٰ کہ مجدد ہے اور غلطیاں دور کرنے آیا ہے۔
نہیں تو اور کیا ہے؟ کیونکہ غلطی نکالنے کے عوض غلطی کو اسلام میں داخل کیا مسلمان غور فرمائیں کہ ایک ہندو آریہ صاحب کس طرح معقول طریق سے مسئلہ اوتار کی تردید کرتے ہیں۔
”سب پرمیشور کو ماننے والے آستک لوگ اس کو ویاپک یعنی سب جگہ حاضر و ناظر سرب شکتی مان یعنی قادر مطلق اجنمی یعنی پیدائش سے بری امر یعنی ناقابل فنا انادی یعنی ہمیشہ سے موجود اننت یعنی بے حد وغیرہ صفات سے موصوف مانتے ہیں۔ پھر ایسی صورت میں یہ مسئلہ اوتار کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ کہ قادر مطلق پرماتما خدا کو اپنے بندوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انسان کا جسم اختیار کرنے کی ضرورت پڑے۔ انسانی جسم میں آنے سے تو وہ محدود ہو جاتا ہے اور سب جگہ حاضر و ناظر نہیں رہتا۔“
(دیکھو صفحہ ٢٢٧ فصل ٣٤ سوانح عمری کرشن جی مصنفہ لالہ لاجپت رائے وکیل لاہور)
محمد علی لاہوری غور فرمائیں اور خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنے قلب سلیم سے دریافت کر کے جواب دیں کہ یہ مجدد کا کام ہے جو مرزا قادیانی نے کیا کہ شرک اور کفر کے مسئلہ اوتار کو جس کو اہل ہنود بھی باطل قرار دے رہے ہیں۔ اسلام میں داخل کریں اور پھر اس تخریب اسلام کا نام تجدید اسلام رکھیں اور چشمہ صافی توحید میں شرک کی نجاست
٥
ڈالیں اور انسان کو خدا بنائیں اور اس کا نام خدمت اسلام رکھیں اور غلطی نکالنا فرمائیں اور خود مجدد اسلام کہلائیں۔ مولانا روم نے سچ فرمایا ہے ؎
گر ولی این است لعنت بر ولی
مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص کام کرے شیطان کا اور اپنا نام ولی رکھے اگر اسی کا نام ولی ہے تو ایسے ولی پر لعنت ہے۔ پس اگر مرزا قادیانی وہ کام کریں جو کہ کسی ایک نے صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک نہیں کیا۔ یعنی مسئلہ اوتار اسلام میں داخل نہیں کیا اور تیرہ سو برس تک اس مسئلہ اوتار کی تردید کرتے آئے ہیں تو مرزا قادیانی مجدد کس طرح ہو سکتے ہیں؟ اور خدا تعالیٰ ان کے طفیل اہل اسلام کو کس طرح اس گرداب مصائب سے بچا سکتا ہے؟ بلکہ مرزا قادیانی کے ایسے کاموں نے غیرت الٰہی کو جوش دلایا ہے اور اہل اسلام پر چاروں طرف سے وہ مصیبت رونما ہوئی ہے کہ کسی کاذب مدعی نبوت و رسالت ومسیحیت ومہدیت کے وقت نہ ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی سے پہلے کئی ایک مسیح موعود ہوئے۔ تیس کے قریب مدعیان نبوت گزرے مگر کسی ایک کے زمانہ میں عذاب الٰہی نازل نہ ہوا جو کہ مرزا قادیانی کے وقت اہل اسلام پر نازل ہوا۔ جس کی وجہ سوائے اس کے اور ہرگز نہیں کہ خدا نے اپنے فعل سے ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی نہ سچے مسیح موعود تھے۔ نہ سچے مہدی، کیونکہ سچے مسیح اور مہدی کے وقت اسلام کا غلبہ ہونا ضروری تھا اور کسر صلیب ہونی تھی۔ ورنہ حدیثوں کی تکذیب ہوتی ہے۔ جن میں لکھا ہے کہ مسیح صلیب توڑے گا۔ مگر اب واقعات نے بتا دیا ہے کہ مرزا قادیانی کے وقت میں بجائے کسر صلیب کے کسر اسلام ہوا اور بجائے غلبہ اسلام کے غلبہ صلیب وتثلیث ہوا اور خدا تعالیٰ کی آتش غضب اس قدر بھڑکی ہوئی ہے کہ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد بھی سرد نہیں ہوئی۔ محمد علی لاہوری کو مرزا قادیانی کی تحریر دکھائی جاتی ہے۔ جس میں انہوں نے خود لکھا تھا کہ اگر میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو نہ توڑوں اور مر جاؤں تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ وھو ہٰذا۔
”طالب حق کے لیے میں یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لیے میں اس میدان میں کھڑا ہوا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلا دوں اور آنحضرت ﷺ کی شان عظمت اور جلالت دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئی
تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا۔ جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہیے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘ (والسلام غلام احمد دیکھو اخبار بدر ١٩ جولائی ١٩٠٢ء)
اب محمد علی لاہوری فرمائیں کہ عیسیٰ پرستی کا ستون ٹوٹا، یا اہل اسلام کا ستون ٹوٹا؟ کون نہیں جانتا کہ مذہب کا ستون حکومت ہوتی ہے۔
اب محمد علی لاہوری جواب دیں کہ مرزا قادیانی سچے مسیح و مہدی ثابت ہوئے یا جھوٹے؟ آپ پر انصاف ہے مگر آپ صاحبان نے واقعات کو دیکھ کر مرزا قادیانی کے نبی و رسول و مسیح ہونے کا خود ہی پہلو بدل دیا ہے اور اب مرزا قادیانی کو دوسرے مجددوں کی طرح ایک مجدد منوانا چاہتے ہیں۔ مگر واضح رہے کہ جس طرح مرزا قادیانی سچے مسیح و مہدی ثابت نہیں ہوئے۔ اسی طرح ان کے الہامات و کشوف اور تحریرات خلاف شرع محمدی ایک مجدد کیا ایک مسلمان بھی ثابت نہیں ہونے دیتے۔
مرزائی اسی جگہ ایک بھاری مغالطہ دیا کرتے ہیں کہ کرشن مسلمان تھا اور نبی تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ کرشن جی کا مذہب بھی لکھا جائے تاکہ مسلمان جواب دے سکیں کہ کرشن جی ہرگز مسلمان نہ تھے اور اگر وہ مسلمان اور نبی ہوتے تو دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرح قیامت کے قائل ہوتے۔ اگر کرشن جی نبی ہوتے تو بت پرستی کے حامی نہ ہوتے مگر کرشن جی فرماتے ہیں۔ ’’ہمارا یہی کرم ہے کہ کھیتی بیج کریں۔ گئو برہمن کی سیوا میں رہیں۔ سب ان پکوان مٹھائی لے چلو اور گوبر دھن کی پوجا کرو۔‘‘ (دیکھو پریم ساگر مطبوعہ نولکشور صفحہ ٤٢) مہا بھارت میں لکھا ہے کہ ’’کرشن جی نے دس سال تک تپ کیا کرشن اپنے زمانہ کا برہم ودوان تھا۔ وید و شاستر سے خوب واقفیت رکھتا تھا۔‘‘ (دیکھو سوانح عمری کرشن جی مصنفہ لالہ لاجپت رائے ص ٩٨ و ٩٩) محمد علی لاہوری ثابت کریں کہ مرزا قادیانی وید شاستر جانتے تھے اور اہل ہنود کی طرح تپ کرتے تھے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں بلکہ شاستری زبان سنسکرت کا ایک حرف بھی نہ جانتے تھے تو پھر مرزا قادیانی کا اوتار کرشن ہونا دعویٰ بلا دلیل ہے۔ بھاگوت گیتا میں لکھا ہے۔ ’’کہ کرشن جی قیامت کے منکر اور تناسخ آواگون کے قائل تھے۔‘‘ چنانچہ ارجن کو فرماتے ہیں۔
- (١) جس طرح انسان پوشاک بدلتا ہے۔ آتما بھی ایک قالب سے دوسرے قالب کو قبول
کر لیتی ہے۔
(اشلوک ٢٢ ادھائے ٢)
- (٢) ’’جو صاحب کمال ہو گئے۔ جنھوں نے فضیلتیں حاصل کر لیں اور میری ذات میں مل
٧
گئے۔ ان کو مرنے جینے کی تکلیفات سے پھر سابقہ نہیں ہوتا۔“ (اشلوک ٢٦ ادھائے) برادران اسلام! کرشن جی کا یہی مذہب تھا جو آج کل آریوں کا ہے۔ کرشن جی کا مذہب تھا کہ آواگون یعنی تناسخ سے تب نجات ہوتی ہے جب انسان خدا میں مل جاتا ہے۔ انسان کا خدا میں مل جانا کفر و شرک ہے۔
جب مرزا قادیانی مخاطب ہیں اور خدا تعالیٰ متکلم اور بقول محمد علی لاہوری مرزا قادیانی کو مکالمہ الٰہی ہوتا تھا اور خدا تعالیٰ ان کو فرماتا ہے کہ اے مرزا تو راجہ کرشن آریوں کا بادشاہ ہے اور مرزا قادیانی خود اپنے اس الہام کی تشریح کرتے ہیں کہ بادشاہت سے مراد آسمانی بادشاہت ہے تو ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی آریوں کے روحانی اور مذہبی بادشاہ ہیں۔ جب مذہبی بادشاہ ہیں تو بڑے آریہ ہوئے اور جب آریہ ہوئے تو اسلام سے خارج ہوئے۔ محمد علی لاہوری فرمائیں کہ کون مجدد آریوں کا بادشاہ خدا کی طرف سے مقرر ہوا تھا؟ پس یا تو یہ الہامات اس خدا کی طرف سے نہیں جو خدا محمد ﷺ کے ساتھ ہمکلام ہوا تھا کیونکہ قرآن کے برخلاف ہیں اور یا مرزا قادیانی آریہ ہو کر اسلام سے خارج ہیں کیونکہ قیامت کا منکر تناسخ کا قائل کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ جب مرزا قادیانی مسلمان ہی ثابت نہیں ہوئے تو مجدد ہونا بالکل باطل ہے۔ اگر کوئی دوسری تحریر پیش کریں کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں ؎
مصطفےٰ مارا امام و مقتدا
(درثمین فارسی ص ١١٤)
تو قابل تسلیم نہیں کیونکہ کثیر حصہ پاک کو تھوڑا حصہ پلیدی کا تمام باقی حصہ پانی پلید اور نجس کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک دو کلمات کفر سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔ ہاں مرزا قادیانی نے توبہ کی ہو تو دکھائیں۔
دوسری بدعت کے الہامات
- (ا) اسمع ولدی. ترجمہ۔ اے میرے بیٹے سن۔ (البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
- (ب) انت منی بمنزلۃ ولدی. ترجمہ۔ اے مرزا تو میرے بیٹے کی جگہ ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
- (ج) انت منی بمنزلۃ اولادی. ترجمہ۔ یعنی اے مرزا تو میری اولاد کی جگہ ہے۔
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)
٨
- (د) انت من ماء نا وھم من فشل۔ ترجمہ۔ اے مرزا تو میرے پانی سے ہے اور وہ
لوگ خشکی سے۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣) یہ سب الہام مرزا قادیانی کے مسئلہ ابن اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں جو کہ بالکل قرآن شریف کے برخلاف ہے۔ دیکھو قرآن شریف فرماتا ہے۔ وقالت الیہود عزیر ابن اللہ وقالت النصاری المسیح ابن اللہ ذالک قولہم بافواہہم یضاہؤن قول الذین کفروا من قبل۔ (توبہ ٣٠) ترجمہ۔ ”یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کے بیٹے ہیں۔ نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ ان کے منہ کی باتیں ہیں بلکہ ان کافروں کی باتیں ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں۔“ پھر قرآن فرماتا ہے۔ لم یتخذ ولدا ولم یکن لہٗ شریک فی الملک۔ (الفرقان ٢) ترجمہ۔ یعنی اللہ وہ ہے جو کسی کو اپنا بیٹا نہیں بناتا اور نہ کوئی اس کا شریک ہے پھر فرمایا تنشق وتخر الجبال ھداً ان دعوا للرحمٰن ولداً۔ (مریم ٩١-٩٠) ترجمہ۔ پھٹ جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ان پر کہ دعویٰ کیا واسطے رحمان کے اولاد کا۔ ابن اللہ کے مسئلہ کی تردید قرآن میں بہت جگہ کی گئی ہے جو شخص خلاف قرآن ابن اللہ کا مسئلہ اسلام میں تیرہ سو برس کے بعد پھر داخل کرے جو کہ صریح کفر و شرک ہے وہ مجدد دین ہے یا کہ مخرب دین؟ انصاف محمد علی لاہوری پر ہے مجدد کی تعریف تو رسول اللہ ﷺ نے خود اس حدیث میں فرمائی ہے۔ ومن یجدد لہا دینہا۔ (ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٢ باب ما یذکر فی قدر المائہ) یعنی وہ مجدد ہے جو دین کو تازہ کرے کیا دین کے تازہ کرنے کے یہی معنی ہیں کہ جو شخص کفر و شرک کے مسائل اہل ہنود اور عیسائیوں اور یہودیوں کے اسلام میں داخل کرے وہ مجدد ہے اگر ایسا شخص مجدد ہے تو پھر بتاؤ دشمن اسلام کون ہے؟ اور اگر ایسے ایسے شرک و کفر کے الہامات و کشوف خدا کی طرف سے ہیں تو پھر شیطانی الہامات کون سے ہوں گے؟ کیونکہ کل امت کا اجماع اس پر ہے کہ جو الہام شرک و کفر کی تائید کریں اور قرآن شریف و حدیث کے برخلاف ہوں۔ وہ شیطانی القاء ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وان الشیاطین لیوحون الی اولیاء ہم لیجادلوکم۔ (الانعام ١٢١) ترجمہ۔ اور شیاطین اپنے ڈھب کے لوگوں کو وحی کرتے رہتے ہیں تاکہ تمھارے ساتھ کج بحثی کریں جب قرآن کریم سے ثابت ہے کہ وحی شیطان کی طرف سے بھی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی وحی ہوتی ہے تو ضرور ہے کہ شیطانی وحی اور رحمانی وحی میں کوئی ایسا نشان تمیز کا ہو کہ جس سے وحی شیطانی اور رحمانی میں فرق ہو سکے۔ اسی واسطے سلف صالحین نے اصول مقرر کیا ہوا ہے کہ جو وحی قرآن شریف اور ٩
حدیث نبوی بلکہ قیاس مجتہد کے بھی خلاف ہو تو وہ شیطانی القاء و الہام ہے نہ کہ رحمانی وحی۔ اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے جب مرزا قادیانی کے الہامات دیکھتے ہیں تو صاف صاف شیطانی وساوس ثابت ہوتے ہیں۔ بھلا جس الہام سے خدا کی اولاد خدا کے بیٹے ثابت ہوں اور صریح قرآن کے برخلاف ہو۔ وہ شیطانی الہام نہیں تو محمد علی لاہوری خود ہی فرمائیں کہ پھر شیطانی الہام کس کا نام ہے؟ تا کہ اس معیار پر مرزا قادیانی کے الہامات و کشوف کو پرکھیں غلام رسول فاضل قادیانی نے تو شہر قصور کے مباحثہ پر تسلیم کر لیا ہے کہ جس طرح خواب میں انسان ماں بہن سے متکلم ہو جائے اور اس پر حد شرعی نہیں اور گناہ نہیں۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے کشوف خلاف قرآن قابل مواخذہ نہیں۔ غلام رسول قادیانی کے اس جواب سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے کشوف احتلام کا حکم رکھتے ہیں اور ظاہر ہے احتلام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے تو اظہر من الشمس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے الہامات و کشوف دخل شیطان سے پاک نہ تھے۔ اب محمد علی لاہوری جواب دیں کہ وہ مرزا قادیانی کے کشوف کو کیا یقین کرتے؟
تیسری بدعت
یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے خوابوں اور کشفوں کو وحی الٰہی کا مرتبہ دے کر خود نبوت اور رسالت کا رتبہ حاصل کیا اور صریح قرآن اور حدیث کی مخالفت کر کے مسلمانوں کی ایک جماعت کو اپنی نبوت و رسالت منوائی جو کہ قادیانی جماعت ہے اور وہ الہامات اکثر قرآن مجید کی وہی آیات ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے جناب رسول اللہ ﷺ کو نبی و رسول مقرر فرمایا اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کامل نبی اور رسول ہوئے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ مرزا قادیانی کامل نبی و رسول نہ ہوں۔
- (الف) قل یاایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا ۔ ترجمہ۔ کہو اے مرزا کہ اے
لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔
(تذکرہ ص ٣٥٢)
- (ب) قل انما انا بشرا مثلکم یوحی الی ۔ ترجمہ۔ کہو اے مرزا میں بھی تمہاری طرح
ایک بشر ہوں جو کہ وحی کی جاتی ہے میری طرف۔
(تذکرہ ص ٨٩)
اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میری وحی قرآن کی مانند خطا سے پاک ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں ۔
بخدا پاک دانمش ز خطاء
١٠
از خطاہا ہمین است ایمانم
(درثمین فارسی ص ١٧٢)
یعنی جو کچھ میں وحی خدا سے سنتا ہوں۔ خدا کی قسم ہے کہ اس کو قرآن کی مانند خطاء سے پاک جانتا ہوں۔ پھر اربعین میں لکھتے ہیں ’’اور میرا ایمان اس بات پر ہے کہ مجھ کو وحی ہوتی ہے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن انجیل تورات وغیرہ آسمانی کتابوں پر۔‘‘
(اربعین نمبر ٤ ص ١٩ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٣)
اب محمد علی لاہوری فرمائیں کہ جب مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے تمام لوگوں کی طرف اور اس الہام کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی یقین کرتے ہیں اور مرزا قادیانی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ میرا ایمان اس الہام پر ایسا ہی جیسا کہ قرآن انجیل اور تورات پر۔ تو پھر آپ کا مسلمانوں کو یہ کہنا کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ کہاں تک درست ہے؟ اگر مرزا قادیانی کو دعویٰ وحی و الہام میں سچا سمجھتے ہو اور ان کا وحی و الہام بھی وساوس شیطانی سے پاک یقین کرتے ہو اور الہام میں صاف لکھا ہے۔ کہ اے مرزا تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں تو پھر آپ مرزا قادیانی کے مرید ہو کر کیوں ان کو رسول نہ مانو؟ ظلی و بروزی غیر حقیقی کا کوئی لفظ اس الہام میں نہیں۔ پس یا تو مرزا قادیانی کو رسول مانو یا صاف کہو کہ ہم مرزا قادیانی کو اس الہام کے تراشنے میں مفتری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ صریح قرآن کریم کی آیت خاتم النبیین کے برخلاف اور حدیث لا نبی بعدی کے برعکس ہے یا خدا سے ڈرو اور مسلمانوں کو دھوکہ مت دو اور چندہ لینے کے واسطے مت کہو کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور نہ مسلمانوں کو کافر جانتے ہیں کیونکہ یہ صریح جھوٹ ہے مرزا قادیانی کا تو دعویٰ ہے کہ وہ صاحب شریعت نبی ہیں۔ غور سے سنو کہ وہ کیا فرماتے ہیں۔ لکھتے ہیں ’’شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ چند امر و نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا اور میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔‘‘ (اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) یہ مرزا قادیانی کی عبارت صاف ہے کہ میری وحی میں چونکہ امر بھی ہے اور نہی بھی ہے اور جس کی وحی میں امر و نہی ہو وہ صاحب شریعت نبی ہوتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی باشریعت نبی تھے۔ قادیانی جماعت کی بھی کمزوری ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو باشریعت نبی کہتے ہوئے جھجکتی ہے۔
١١
جب مرزا قادیانی کی وحی پر ان کو ایمان ہے اور ان کے امر کے مطابق مسلمانوں کے ساتھ نمازیں مل کر نہیں پڑھتے۔ مسلمانوں کے جنازوں میں شامل نہیں ہوتے۔ ان سے رشتے ناتے نہیں کرتے۔ ان کو صدقہ خیرات اور چندے نہیں دیتے، جہاد کو حرام سمجھتے ہیں، اور قرآن کی آیت کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ (بقرہ ٢١٦) کو منسوخ کرتے ہیں، قادیانی اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں، کرشن جی رام چندر جی وغیرہ بزرگانِ اہل ہنود کو مسلمان اور نبی یقین کرتے ہیں، تو پھر نبی اور رسول ماننے کے سر پر کوئی سینگ ہوتے ہیں بلکہ بلا دلیل کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے بلکہ بلا دلیل کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت و رسالت کا ہرگز نہ تھا مگر اتنا نہیں سوچتے کہ اگر مرزا قادیانی کو نبوت کا دعویٰ نہ تھا اور صرف مجدد ہونے کا دعویٰ تھا تو پھر انھوں نے یہ کیوں لکھا کہ ”اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے ابدال اولیاء اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس لیے میں نبی کا نام پانے کے لیے مخصوص کیا گیا“ (حقیقۃ الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) جب مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں نبی ہوں اور الہام ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ میں اللہ کا رسول ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں تو پھر آپ نبی کیوں نہیں مانتے۔
(ب) مرزا قادیانی اپنی فضیلت سب نبیوں پر بتاتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں ؎
داد آں جام را مرا بہ تمام
(در ثمین ص ١٧١)
یعنی جو نعمت کا جام ہر ایک نبی کو دیا گیا ہے وہ تمام جمع کر کے مجھ اکیلے کو دیا گیا ہے۔ اب محمد علی لاہوری فرمائیں کہ آپ کس طرح کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے حالانکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ کل نبیوں کا مجموعہ ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ اس لحاظ سے مرزا قادیانی افضل الرسل ہوئے۔ لاہوری جماعت کا کہنا کہ ہم مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ کیا معنی رکھتا ہے اور لاہوری جماعت کس اسلام کی تبلیغ کرتی ہے؟ یہی قادیانی اسلام جس کا نمونہ بتایا گیا ہے جب ان کا اپنا اسلام درست نہیں تو دوسروں کو کیا تبلیغ کریں گے۔ مرزا قادیانی اپنی فضیلت تو حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بھی اوپر بتاتے ہیں۔ سنو! کیا کہتے ہیں لَہٗ خَسَفَ الْقَمَرُ وَاِنَّ لِیْ خَسَفَ الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ اَتُنْکِرُ (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٨٣) یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطے
١٢
تو صرف چاند کو گہن لگا تھا اور میرے واسطے چاند اور سورج دونوں کو گہن لگا ہے پس تو کیا انکار کرے گا۔ مرزا قادیانی نے معجزہ شق القمر سے انکار کر کے اس کو ایک معمولی گہن بتایا ہے جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی شق اور خسف میں فرق نہیں کرتے اور اپنی فضیلت جتاتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ کے واسطے چاند پھٹا تو میرے واسطے چاند و سورج دونوں پھٹے ۔ پھر لکھتے ہیں کہ محمد ﷺ کا تین ہزار معجزہ ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٠ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) اور میرا تین لاکھ نشان ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٧٢ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠) پس اس سے بھی محمد ﷺ پر مرزا قادیانی کو فضیلت ہے اور ایسی فضیلت جو ہزار اور لاکھ میں ہے۔ یعنی جو فضیلت لاکھ کو ہزار پر ہے وہی فضیلت مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ پر رکھتے ہیں۔ (نعوذ بالله من ذالك)
- (د) مرزا قادیانی اپنے زمانہ کو کامل اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کو ناقص کہتے ہیں۔ سنو۔
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٣ خزائن ج ٢١ ص ١٤٤)
ہم لاہوری صاحب سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ اقوال اور الہامات جو اوپر مذکور ہوئے۔ کسی مجدد کے ایسے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ البتہ مدعیان کذابوں کی چالیں ہیں جو مرزا قادیانی چلے ہیں۔ صحابہ کرامؓ سے تابعین و تبع تابعینؒ میں سے کوئی نہیں اگر کوئی ہے تو کوئی صاحب بتائے۔ کذابوں کی چالیں سن لو۔
- (١) چال مرزا قادیانی: کہ قرآن کی آیات مجھ پر دوبارہ نازل ہوتی ہیں یہ چال یحییٰ بن
زکریہ کذاب مدعی نبوت کی ہے جس نے بغداد میں دعویٰ نبوت کیا تھا اور کہتا تھا کہ قرآن کی آیات مجھ پر دوبارہ نازل ہوتی ہیں۔ سید محمد جونپوری بھی کہتا تھا کہ اللہ نور السموات والارض سے سینہ اخوند میر مراد ہے۔
(دیکھو ہدیہ مہدویہ)
- (٢) چال مرزا قادیانی: کہ میری عربی کلام معجزہ ہے اور میری عربی جیسی فصیح عربی کوئی
نہیں لکھ سکتا۔ یہ چال بھی کاذب مدعیان نبوت کی ہے چنانچہ مسیلمہ کذاب نے قرآن کی مانند سورت اوّل و سورت ثانی بنائے اور ان کو قرآن کی مانند بے مثل کلام کہتا تھا۔ صالح بن طریف نے بھی ایک قرآن بنایا تھا اور اس کے مرید اسی قرآن کی آیات نمازوں میں پڑھتے تھے۔ متنبیٰ شاعر اپنے عربی شعروں کو بے مثل کہتا تھا۔ غرضیکہ یہ چال بھی کذابوں کی ہے کہ مرزا قادیانی اعجاز احمدی وغیرہ کو معجزہ کہتے تھے اور علماء کو للکار کر کہتے ہیں کہ ایسے
١٣
عربی شعر بنا لاؤ۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے اشعار میں علماء اسلام نے بہت سی غلطیاں نکال کر دندان شکن جواب دیا کہ غلط کلام کبھی معجزہ نہیں ہو سکتی۔ جس طرح پہلے کذابوں، مدعیوں کی عربی غلط تھی۔ آپ کی بھی ہے۔ حتیٰ کہ غلطیوں کی فہرستیں موجود ہیں۔
- (٣) مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ جو مجھ کو نہیں مانتا۔ خدا اور رسول کو نہیں مانتا اور کافر ہے۔
(دیکھو حقیقۃ الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) یہ چال بھی کذابوں کی ہے سید محمد جونپوری مہدی نے اپنا چمڑہ دو انگلیوں میں پکڑ کر کہا کہ جو شخص اس ذات سے مہدویت کا منکر ہے وہ کافر ہے۔ اخرس کذاب کہتا تھا کہ مجھ کو جو شخص نہیں مانتا وہ خدا اور محمد ﷺ کو نہیں مانتا اور اس کی نجات نہ ہو گی۔ مرزا قادیانی بھی کہتے ہیں کہ ”جو مجھ کو نہیں مانتا۔ وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- (٤) یہ بھی چال کذابوں کی ہے احکام قرآنی کی تنسیخ کرنی جیسا کہ قتال کو مرزا قادیانی نے
حرام کر دیا۔ مسیلمہ کذاب نے ایک نماز معاف کر کے صرف چار نمازیں رکھی تھیں۔ عیسیٰ بن مہرویہ نے بہت سے مسائل کی تنسیخ کر دی تھی۔ ملائکہ کو قوائے انسانی کہتا تھا۔
- (٥) مرزا قادیانی کا وفات مسیح کا قائل ہونا اور بروزی رنگ میں مسیح موعود کے آنے کا
عقیدہ رکھنا یہ بھی کذابوں کی چال ہے۔ ابراہیم بزلہ کہتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم مسیح موعود میں ہوں۔ فارس بن یحییٰ نے مصر میں دعویٰ مسیح موعود ہونے کا کیا اور بروزی رنگ میں ظہور ہونا معنی کرتا تھا۔
- (٦) مرزا قادیانی کا متعدد دعویٰ کرنا کہ میں مثیل عیسیٰ مثل موسیٰ، مسیح موعود بن مریم آدم‘
ابراہیم‘ مجدد‘ مصلح‘ مہدی‘ رسول‘ نبی‘ محمد رسول اللہ‘ علی‘ رجل فارسی‘ وغیرہ وغیرہ۔ یہ چال بھی کاذب مدعی کرستیہ کی ہے جو کہ کہتا تھا کہ میں عیسیٰ ہوں۔ داعیہ ہوں حجت ہوں‘ ناقہ ہوں‘ روح القدس ہوں‘ یحییٰ بن زکریا ہوں‘ مسیح ہوں‘ کلمہ ہوں‘ مہدی ہوں‘ محمد بن حنفیہ ہوں‘ جبرائیل ہوں۔
(دیکھو ضرر الضائل ص ١٧٥)
- (٧) رمضان میں چاند و سورج کا گہن دیکھ کر مہدی ہونے کا دعویٰ کرنا یہ بھی کذابوں کی
چال ہے۔ ٥٠٩ و ٥٠٨ ہجری میں چاند و سورج کو گہن رمضان میں لگا۔ اس وقت محمد بن تومرت مدعی مہدویت ہوا۔ ١٢٧٧ ہجری میں چاند و سورج کو رمضان میں گہن لگا تو علی محمد باب مدعی ہوا۔ ١٢٧٦ھ میں چاند و سورج کو گرہن لگا تو عباس کاذب مدعی ہوا۔ مرزا قادیانی نے بھی رمضان میں چاند و سورج کا گرہن دیکھ کر مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔
- (٨) مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ نبوت دو قسم کی ہے۔ تشریعی اور غیر تشریعی اور تشریعی نبوت
١٤
کا صرف دروازہ بند ہے۔ غیر تشریعی نبی ہمیشہ آتے رہیں گے۔ یہ چال بھی کذابوں کی ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے خاتم النبیین کے معنی اور تفسیر خود فرمائی کہ لا نبی بعدی یعنی کسی قسم کا نبی میرے بعد نہ آئے گا۔ سید محمد جونپوری مہدی بمع نبی ہونے کا مدعی تھا اور کہتا تھا کہ متابعت تامہ محمد ﷺ سے تابع محمد نبی ہوں۔ دیکھو ہدیہ مہدویہ۔
- (٩) مرزا قادیانی کا اپنی رائے سے قرآن شریف کے معانی و تفسیر کرنا اور اس کا نام
حقائق و معارف رکھنا جیسا کہ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَا۔ کے معنی کرتے ہیں کہ ”زمین اپنے تمام بوجھوں کو باہر نکال دے گی۔ یعنی انسانوں کے دل اپنی تمام مخفی استعدادت ظہور لائیں گے۔ اور جو کچھ ان کے اندر علوم و فنون کا ذخیرہ ہے یا جو کچھ عمدہ عمدہ دلی و دماغی طاقتیں و لیاقتیں ان میں ہیں۔ سب کی سب ظاہر ہو جائیں گی اور انسانی قوتوں کا آخری نچوڑ نکل آئے گا“ (ازالہ اوہام ص ١١٥ خزائن ج ٣ ص ١٦٢) اس تفسیر سے قیامت کا انکار ہے۔ یہ بھی کذابوں کی چال ہے۔ ابو منصور کاذب مدعی بھی اسی طرح مرزا قادیانی کی مانند عقلی ڈھکوسلے لگایا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِيْرِ۔ یعنی خدا تعالیٰ نے تم پر مردہ، خون اور سور کا گوشت حرام کر دیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے۔ یہ چند اشخاص کے نام ہیں جن سے محبت حرام ہے۔ (دیکھو منہاج السنۃ)
- (١٠) مرزا قادیانی کا مہدی ہونے کا دعویٰ یہ بھی کذابوں کی چال ہے۔ مدعی مہدی تو
بہت ہوئے ہیں کہ جن کا شمار ساٹھ ستر سے بھی زیادہ ہے اور ہر ایک مدعی ہوا کہ اسلام کو غالب کروں گا۔ مگر کسی ایک کے وقت اسلام کا غلبہ نہ ہوا اور وہ جھوٹے سمجھے گئے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ جب مرزا قادیانی کے وقت بھی اسلام کا غلبہ نہ ہوا۔ الٹا اسلام مغلوب ہوا حتیٰ کہ مقامات مقدسہ بھی مرزا قادیانی کے وقت مسلمانوں کے قبضہ سے نکل گئے اور مسلمان نشانہ ظلم و ستم اور قتل عام نصاریٰ بنے اگر کوئی شخص مرزا قادیانی کو مہدی و مسیح موعود مانے تو صریح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مخبر صادق کے جھٹلانے والا ہو گا کیونکہ مہدی کے وقت اسلام کا غلبہ ہونا تھا اور اب بجائے غلبہ کے الٹا اسلام مغلوب ہوا تو صاف ثابت ہے کہ یا مرزا قادیانی وہ مہدی نہیں۔ یا نعوذ باللہ رسول کا فرمان غلط ہے۔ کوئی مسلمان محمد ﷺ کا کلمہ پڑھنے والا مرزا قادیانی کو مہدی تسلیم کر کے رسول اللہ ﷺ کو نہیں جھٹلا سکتا۔ اعوذ بک ربی۔
پھر محمد علی مرزائی نے مرزا قادیانی کی مجددیت ثابت کرنے کی طرف توجہ کی ہے اور قرآن کریم کی ایک آیت لکھی ہے اور وہ آیت یہ ہے ولتکن منکم امۃ یدعون
١٥
الی الخیر و یامرون بالمعروف و ینہون عن المنكر و اولئک ہم المفلحون. (آل عمران ١٠٤) اس آیت کو پیش کر کے محمد علی نے خود ہی اپنے دعویٰ کی تردید کر دی کیونکہ اس آیت میں یدعون الی الخیر یعنی نیکی کی طرف بلانا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر شرط ہے۔ جب مرزا قادیانی نے مسائل اوتار اور ابن اللہ کی طرف بلایا اور تمام مرزائی مرزا قادیانی کو راجہ کرشن مانتے ہیں جو کہ قیامت کا منکر اور تناسخ کا قائل تھا تو پھر اس آیت کے رو سے تو مرزا قادیانی مجدد ہرگز نہیں ہو سکتے۔
لاہوری صاحب نے ایک سوال کیا ہے کہ اس صدی کا مجدد کون ہے اور پھر اس کا جواب خود ہی دیتے ہیں کہ گو ایک صدی میں کئی مجدد ہو سکتے ہیں۔ مگر چونکہ اس صدی کے سر پر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے ساری دنیا کے واسطے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا لہٰذا وہ مجدد ہیں اور اگر کوئی اور شخص بھی مجدد ہونے کا دعویٰ کرتا تو شاید کہا جاتا کہ ہم خاص مدعی کو نہیں مانتے۔ مگر مصلحت الٰہی نے یہی چاہا کہ اس صدی کے سر پر ایک ہی مجدد ہو۔ اس لیے ان کے سوا کسی نے دعویٰ مجدد نہیں کیا۔‘‘
لاہوری صاحب کا یہ لکھنا بالکل غلط ہے کہ اس صدی میں صرف مرزا قادیانی نے ہی مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ہم پہلے لاہوری صاحب کے سوال پر جو انھوں نے فیروز پور کے جلسہ میں بیس سوال کیے تھے۔ رسالہ تائید الاسلام بابت ماہ فروری ١٩١٩ء سے جوابات لکھے گئے ہیں۔
مرزا قادیانی نے جو مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے بھی ان کی مراد نبوت و رسالت ہے کیونکہ وہ اپنی کتاب ضرورت الامام میں لکھتے ہیں کہ امام زمان و مجدد نبی ولی کے ایک ہی معنی ہیں۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی یہ ہے ”یاد رہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی‘ رسول‘ محدث‘ مجدد سب داخل ہیں۔‘‘ (ضرورۃ الامام ص ٢٤ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥) اور اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”امام زماں میں ہوں اور مجدد بھی امام زمان تھا۔‘‘ (ضرورۃ الامام ص ٢٤‘ ٢٥ خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥‘ ٤٩٧) اس قسم کا دعویٰ تو بیشک مرزا قادیانی نے ہی کیا ہے یا مسیلمہ کذاب و اسود عنسی وغیرہ کذابوں مدعیان نے کیا۔ ہاں جائز دعویٰ مجدد ہونے کا مخبر صادق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق اسلامی مجددوں نے کیا ہے اور بعض مجددوں نے دعویٰ نہیں کیا۔ علماء اسلام نے ان کو مجدد مانا ہے۔ اگر آپ کو اس کا علم نہیں تو یہ عدم وجود مجدد کی دلیل نہیں چونکہ عدم علم شے عدم وجود شئے کی دلیل نہیں۔ سنو! ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ سوڈان میں محمد احمد سوڈانی نے مرزا قادیانی سے
١٦
پہلے بموجب حدیث کے صدی کے سر پر یعنی ١٨٨١ء میں دعویٰ مجدد ہونے کا کیا۔ (دیکھو مذاہب اسلام ص ٧٦٦) اخبار پانیئر میں کہا تھا کہ محمد احمد نے مجدد ہونے کا دعویٰ ١٨٨١ء میں کیا۔ عسل مصفی میں بھی ہے۔ اصل عبارت عسل مصفی جو کہ مرزائیوں کی کتاب ہے۔ اس کی نقل کی جاتی ہے تاکہ حجت ہو ”محمد سعید یعنی محمد احمد نامی ایک شخص ڈنقلہ ملک سوڈان میں ہوا۔ اس نے ١٨٨١ء میں دعویٰ کیا ہے کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ میں مجدد اسلام ہوں۔ میں اسلام کو حالت اولیٰ پر لاؤں گا۔“ (عسل مصفیٰ صفحہ ٥٠١ ایڈیشن اوّل مطبوعہ اسلامیہ پریس لاہور) اور مرزا قادیانی نے ١٨٨١ء میں بیعت کرنے کا اشتہار دیا۔
(دیکھو عسل مصفیٰ ص ٥١٨ مؤلفہ حکیم خدا بخش مرزائی لاہوری جماعت)
اور محمد احمد سوڈانی کا کام بھی عین مطابق رسول اللہ ﷺ کے تھا اور ١٥ سال غار میں عبادت کرتا رہا اور وہ باوجود جنگ و جدال کے اپنی موت سے مرض چیچک سے فوت ہوا تھا اور کامیاب بھی ایسا کہ سلطنت قائم کر لی تھی اگر کہا جائے کہ ہندوستان میں جو مجدد ہوا ہے۔ بتاؤ تو وہ بھی سنو۔
اوّل نواب سید صدیق الحسن خان والی بھوپال کو مجدد مانا گیا تھا کیونکہ اس نے احیائے سنت اور تجدید دین محمدی میں وہ کوشش کی کہ کئی سو کتاب لکھی اور تقسیم کرائی۔ دوسرے مولانا احمد رضا خانصاحب بریلوی مجدد چودھویں صدی ہیں ان کی ہر ایک کتاب کے سرورق پر لکھا جاتا تھا کہ مجدد مائۃ حاضرہ اور دو سو کتاب ان کی تردید مذاہب باطلہ میں شائع ہوئی۔ تیسرے مجدد صاحب حضرت ابو الرحمانی مولوی محمد علی صاحب مونگیریؒ ہیں۔ جنھوں نے آریوں عیسائیوں کے رد میں کتابیں لکھیں اور مفت تقسیم کیں۔
مجالس الابرار میں لکھا ہے کہ علمائے زمان جس کو حافظ احادیث نبوی سمجھیں اور جس کا علم و فضل علمائے زمانہ سے بڑھ کر ہو۔ علماء اس کو مجدد تسلیم کرتے ہیں ہر ایک مجدد کا دعویٰ کرنا ضروری نہیں ہے۔
مرزا قادیانی کے زمانہ میں محمد احمد سوڈانی، ملا سمالی لینڈ، امام یحییٰ، شیخ ادریس، یحییٰ عین اللہ، وجہ الدین دکنی مدعیان مہدویت و مجددیت تھے اور ان کے مرید اس قدر جوشیلے اور راسخ الاعتقاد تھے کہ جانیں قربان کرتے تھے۔ پس یہ غلط ہے کہ مرزا قادیانی کے سوا چونکہ کسی نے دعویٰ نہیں کیا۔ ان کو ہی مجدد مانو اور دیکھنا تو یہ ہے کہ مدعی لائق بھی ہے یا نہیں چونکہ مرزا قادیانی کے کام مجدد کے عہدہ کے برخلاف تھے۔ اس لیے اس کو کوئی مسلمان مجدد تسلیم نہیں کر سکتا۔
١٧
ور ہما از جہاں شود معدوم
اب ہم ذیل میں اس ایک مجدد کا مقابلہ مرزا قادیانی سے کرتے ہیں جن کا نام نامی و اسم گرامی محمد علی لاہوری نے خود ہی لیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ سب مجددوں سے کامل ہیں کیونکہ فرق سو اور ہزار میں ہے وہی فرق دوسرے مجددوں اور مجدد الف ثانی میں ہے۔ پہلے ہم مجدد صاحب علیہ الرحمت کا عقیدہ لکھیں گے اور بعد میں مرزا قادیانی کا تاکہ لاہوری صاحب اور دوسرے مرزائی صاحبان انصاف کریں اور سچے اور جھوٹے مجدد میں فرق کر کے باطل پرستی سے توبہ کریں۔ (دیکھو مجدد صاحب کا مکتوب ١٦٧ مندرجہ دفتر اول حصہ سوم مکتوبات امام ربانی ص ٥٠ و ٥١) خلاصہ مضمون درج کیا جاتا ہے اصل عبارت اصل کتاب سے جس کو شک ہو دیکھ سکتا ہے۔
- (١) عقیدہ حضرت مجددؒ صاحب:۔ سب عالموں کا خدا ایک ہی ہے کیا آسمان، کیا زمین،
کیا علیین اور سفلین۔
عقیدہ مرزا قادیانی:۔ الہام مرزا قادیانی۔ اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ یعنی اے مرزا تو ہم سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے جب خدا مرزا قادیانی سے ظاہر ہوا تو مرزا قادیانی بڑا خدا ہوئے۔ پھر لکھتے ہیں کہ میں نے ایک کشف میں دیکھا کہ خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں پھر میں نے آسمان و زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا اور پھر میں نے منشاء حق کے مطابق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کی خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو منی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے اور کہا انا زینا السماء الدنیا بمصابیح الخ یہ خلاصہ ہے کامل عبارت مرزا قادیانی کی کتاب پر دیکھو۔
(کتاب البریہ ص ٢٧٩ خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
- (٢) عقیدہ مجدد صاحب:۔ خدا کی ذات بیچون و بیچگون ہے تشبیہ اور مانند سے پاک ہے۔
عقیدہ مرزا قادیانی:۔ خدا تیندوے کی طرح ہے اور اس کے بیشمار اعضاء اور تاریں ہیں جو کہ معمورہ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں اور خدا تعالیٰ انھیں تاروں کے ذریعہ سے تمام کام کرتا ہے۔
(توضیح المرام ص ٣٤ ملخص خزائن ج ٣ ص ٩٠)
- (٣) عقیدہ مجدد صاحبؒ:۔ خدا شکل و مثال سے مبرا ہے۔
عقیدہ مرزا قادیانی:۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشینگوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا
١٨
کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کر دیئے اور دستخط کرتے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ قلم پر زیادہ سیاہی آ جاتی ہے تو اسی طرح جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد میں میرے پاؤں دبا رہا تھا کہ اس کے رو برو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا۔ ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہو گا مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو۔ وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اس طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٢٥٥ نشان نمبر ١٠٦ خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
برادران اسلام! مرزا قادیانی اس زیارت خدا کو حقیقی سمجھتے ہیں اور جو شخص یہ یقین نہ کرے وہ غیر آدمی ہے اور راز سے ناواقف ہے اسی طرح کا کشف حضرت سید الطائفہ پیران پیر حضرت عبدالقادر جیلانیؒ نے دیکھا تھا۔ مگر انھوں نے فرمایا کہ شیطان دور ہو۔ مگر مرزا قادیانی اس کو کشف حقیقی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی زیارت حقیقی تمثیلی شکل میں یقین کرتے ہیں حالانکہ مجدد صاحب کے مذہب میں خدا کی ذات شکل و مثال سے مبرا ہے۔ محمد علی لاہوری بتا سکتے ہیں کہ سرخی کس کارخانہ کی تھی؟ اس سے تو مسیح کا آسمان پر رہنا اور کھانا پینا وغیرہ ثابت ہو گیا کیونکہ سرخی کے رنگ کے کارخانے خدا کے پاس ہیں تو کارخانہ میں آدمی بھی ہوں گے۔ بس جس طرح خدا ان سب کو روٹی دیتا ہو گا۔ مسیح کو بھی دیتا ہو گا کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ اپنے رنگساز سٹاف کو تو روٹی دے اور مسیح کو روٹی نہ دے اور بول و براز کے واسطے اپنے رنگسازوں کو تو جگہ دے اور مسیح کو نہ دے اگر کوئی یہ جواب دے کہ یہ خواب کا معاملہ ہے اور خیالی ہے حقیقی نہیں تو اس کا مرزا قادیانی نے خود رد کر دیا ہے کہ سرخی کے قطرے مرزا قادیانی کے کرتہ اور عبداللہ کی ٹوپی پر پڑے اور کرتہ موجود ہے جس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ قلم دوات لے کر مرزا قادیانی کے حجرے میں آیا تھا۔ جب کرتا مرزا قادیانی کا سرخی سے رنگا گیا تو ثابت ہوا کہ یہ تمثیل و تشکل خدا سرخی کے وجود کی طرح حقیقی شکل تھی۔ اور یہ باطل ہے کہ خدا کی شکل ہو مرزا قادیانی اس کشف کو شیطانی وساوس سے پاک سمجھتے ہیں تو حقیقی کشف ہوا۔ مرزا قادیانی کا ہر ایک کشف دخل شیطان سے پاک ہے۔ تو پھر مرزا قادیانی کا عورت بننا اور
١٩
خدا تعالیٰ کا ان سے طاقت رجولیت کا اظہار کرنا جو کہ یار محمد صاحب وکیل نے اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ اسلامی قربانی کے صفحہ ١٢ پر لکھا ہے درست ہوا اور مرزا قادیانی خدا کی بیوی ثابت ہوئے۔ جن سے عالم کشف میں خدا تعالیٰ نے طاقت رجولیت کا اظہار کیا مجدد الف ثانیؒ کا خدا تو ایسے مضحکہ خیز الزام سے پاک ہے۔ غلام رسول قادیانی تو ایسے کشف کو شیطانی کہہ کر مرزا قادیانی کو الزام سے بری کرتے ہیں۔ دیکھئے محمد علی ایم اے کیا جواب دیتے ہیں؟ ان کے نزدیک بھی اگر مرزا قادیانی کے کشوف احتلامی ہیں اور قابل مواخذہ نہیں تو پھر ہم بآواز بلند کہتے ہیں کہ احتلامی کشوف کو ہم ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں اور نہ ہی ایسے فحش کشوف کو مجدد تسلیم کر سکتے ہیں۔
- (٤) عقیدہ مجددؒ صاحب:۔ نسبت پدری و فرزندی خدا کی ذات حق میں محال ہے۔ عقیدہ
مرزا قادیانی:۔ خدا نے مرزا قادیانی کو اپنا فرزند کہا ہے۔ دیکھو الہام مرزا قادیانی اسمع ولدی سن میرے بیٹے (دیکھو البشریٰ ص ٤٩ جلد دوم) انت من مائنا وهم من فشل. اے مرزا قادیانی تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ خشکی سے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٤ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٣)
- (٥) عقیدہ مجددؒ صاحب۔ خدا تعالیٰ کسی کی کفو میں سے نہیں۔
عقیدہ مرزا قادیانی۔ خدا کی کفو مغل ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو فرماتا ہے کہ اِنَّا مِنْکَ (تذکرہ ص ٩٤) یعنی اے مرزا میرا ظہور تجھ سے ہوا ہے۔ جب خدا کا ظہور مرزا سے ہوا تو خدا تعالیٰ مغل بچہ ہوا اور تمام مرزائی خاندان قادیانی خدا کے ہم کفو ہوا۔
- (٦) عقیدہ مجدد صاحبؒ:۔ اتحاد اور حلول خدا کی ذات میں عیب ہے۔
عقیدہ مرزا قادیانی: مرزا قادیانی اپنے ایک کشف کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء میری آنکھ اس کی آنکھ میرے کان اس کے کان میری زبان اس کی زبان بن گئی۔ الخ (دیکھو آئینہ کمالات اسلام مصنفہ مرزا قادیانی ص ٥٦٤، وص ٥٦٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً) مرزا قادیانی کی اس عبارت سے اتحاد و حلول ثابت ہے۔ کیونکہ ان صفحات میں صاف لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور یہی حلول ہے جو کہ اہل اسلام کے مذہب میں باطل ہے۔ مگر قادیانی مجدد کے وجود میں خدا کا حلول ہے۔ اب محمد علی لاہوری فرمائیں کہ کون مجدد حق پر ہے اور کون جھوٹا ہے۔
٢٠
- (٧) عقیدہ مجددؒ صاحب بروز و تکون خدا کی جناب میں عیب و مکروہ ہے؟
عقیدہ مرزا قادیانی:۔ مسئلہ بروز پر تو مرزا قادیانی کی مشین نبوت و رسالت کی تمام کلوں و پرزوں کا مدار ہے۔ بروزی رنگ میں محمد بنتے ہیں اور اپنے آپ کو نبی و رسول ہونے کا زعم کرتے ہیں۔ (دیکھو ایک غلطی کا ازالہ مصنفہ مرزا قادیانی) کرشن جی مہاراج ہونے کا بھی بروزی رنگ میں دعویٰ کرتے ہیں بلکہ تمام انبیاءؑ کے بروز ہونے کا دعویٰ ہے مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔
در برم جملہ ہمہ ابرار
(درثمین ص ١٧١)
یعنی آدم علیہ السلام سے لے کر احمد مختار ﷺ تک جس قدر نبی ہوئے ہیں میں سب کا بروز ہوں۔
- (٨) عقیدہ حضرت مجددؒ صاحب:۔ خدا کے پیدا یعنی ظاہر ہونے کا کوئی زمانہ نہیں
عقیدہ میرزا قادیانی:۔ خدا تعالیٰ کے ظہور کا زمانہ میرا زمانہ ہے یعنی چودھویں صدی ہجری و ١٨٨٨ء بموجب الہام انت منی و انا منک یعنی جب خدا نے مرزا کو مبعوث کیا۔ تب سے خدا کا ظہور بھی ہوا۔
- (٩) عقیدہ مجددؒ صاحب:۔ کوئی خاص مکان خدا کے رہنے کا نہیں۔
عقیدہ مرزا قادیانی:۔ الہام مرزا قادیانی اَلْاَرْضُ وَالسَّمَا مَعَکَ کَمَا مَعِی ترجمہ۔ آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں (حقیقۃ الوحی ٧٥ خزائن ج ٢٢ ص ٧٨) مرزا قادیانی جب قادیان کے رہنے والے تھے اور خدا بھی ان کے ساتھ تھا تو خدا کا مکان قادیان میں ہوا کیونکہ دوسرے الہام میں خدا فرماتا ہے۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ. ترجمہ۔ اے مرزا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ (حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) جب مرزا قادیانی خدا کی توحید اور تفرید ہے تو جس جگہ پر مرزا قادیانی کی سکونت ہو گی۔ وہیں خدا کی سکونت ہو گی کیونکہ موصوف اپنی صفت سے الگ نہیں رہتا۔
پھر الہام مرزا قادیانی اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ عَرْشِیْ. ترجمہ۔ تو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔
(حقیقۃ الوحی ص ٨٦ خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
اس الہام سے صاف ظاہر ہے کہ قادیانی خدا کا عرش ہے اور عرش پر خدا مقیم
٢١
ہے ۔ پس مرزا قادیانی اور قادیان خدا کا مکان ہوا ۔
- (١٠) عقیدہ مجدّد صاحب :۔ اس کے وجود پاک میں نقص و عیب نہیں۔
عقیدہ مرزا قادیانی :۔ خدا تعالیٰ غلطی کرتا ہے جیسا کہ اس نے قلم دوات میں ڈال کر ڈوبا لگانے میں غلطی کی اور جب اس کی غلطی سے قلم پر زیادہ سیاہی یعنی سرخی لگی تو اپنی غلطی کو قلم جھاڑ کر درست کیا اور پھر یہ غلطی کی کہ قلم کو جھاڑتے وقت یہ نہ دیکھا کہ مرزا قادیانی اور عبداللہ کے کپڑے خراب ہوتے ہیں ۔ ایسی بے تمیزی سے قلم جھاڑا کہ کرتہ اور ٹوپی پر سرخی کے قطرے جا گرے۔ ایسی غلطی تو انسان بھی نہیں کرتا کہ دوسروں پر قلم جھاڑ کر کپڑے خراب کر دے جگہ دیکھ کر قلم جھاڑتا ہے۔
- (١١) عقیدہ مجدّد صاحب :۔ راجہ کرشن و رام پسر جسرت نبی و رسول نہ تھے۔
عقیدہ مرزا قادیانی :۔ کرشن و رام چندر و مہادیو وغیرہ بزرگان اہل ہنود سب نبی تھے۔ وید گیتا آسمانی کتابیں ہیں۔ جیسا کہ لکھتے ہیں کہ ”ہر ایک نبی کا نام مجھے یاد ہے چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے جس کو رودر گوپال بھی کہتے ہیں یعنی مرنے والا اور پرورش کرنے والا ۔ اس کا نام بھی مجھ کو دیا گیا ہے“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥) پس مرزا قادیانی فنا کرنے والے اور پرورش کرنے والے تھے مگر مولوی ثناء اللہ صاحب مولوی محمد حسین بٹالوی اور ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کو فنا نہ کر سکے اور خود ہی ان کے مقابلہ میں فوت ہو گئے۔ افسوس فنا کرنے اور پرورش کرنے میں مرزا قادیانی رب العالمین بھی بن گئے۔ مگر چندے تو اب تک بھی مانگے جاتے ہیں۔
محمد علی لاہوری غور فرمائیں کہ مجدد الف ثانیؒ جس کی نسبت آپ کا اقرار ہے ہر الف کا مجدد صدی کے مجدد سے افضل ہوتا ہے الف کا مجدد تو کرشن کو نبی و رسول نہیں کہتا اور نہ خدا تعالیٰ نے اس کو بذریعہ وحی الہام کرشن جی کے پیغمبر ہونے کی خبر دی ۔ مرزا قادیانی کرشن جی کو نبی کہتے ہیں۔ اب دو مجددوں میں اختلاف ہے۔ تو اب فیصلہ کے واسطے کدھر جانا چاہیے اور کس اصول پر چل کر ہم کو حق نظر آ سکتا ہے؟ پس مسلمانوں کے نزدیک مسلمہ اصول یہ ہے کہ جس مجدد کا الہام خدا کی کلام کے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی برخلاف ہو۔ وہ جھوٹا کلام ہے مجدد صاحب الف ثانیؒ نے تو کرشن کو پیغمبر و نبی رسول اس واسطے نہیں مانا کہ کرشن نے اپنی پرستش کرائی چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”الہ (معبودان) ہندو نبی و رسول نہیں ہیں کرشن و رام نے چونکہ اپنی طرف مخلوق کو بلایا اور ہمارے پیغمبر و رسول جو کہ قریب ایک لاکھ چوبیس ہزار کے ہو گزرے ہیں کسی ایک نے مخلوق کو اپنی پرستش
٢٢
کے واسطے ترغیب نہیں دی اور نہ خود معبود بنے۔ اہل ہنود کے بزرگوں نے اپنے آپ میں حلول ذات باری تعالیٰ جائز رکھا اور مخلوق کو اپنی عبادت کی طرف لگایا اور ممنوع چیزوں کو اپنے واسطے جائز قرار دیا۔ اس دلیل سے کہ خدا کے مظہر ہیں۔ ان میں خدا ہے۔ اس لیے وہ پیغمبر نہیں ہو سکتے۔ ”مجدد صاحبؒ کا فرمانا قرآن شریف کے مطابق ہے کہ خدا تعالیٰ جس کو نبوت دیتا ہے۔ وہ مخلوق کو اپنی عبادت کی طرف نہیں بلاتا اور کرشن نے مخلوق سے اپنی عبادت کرائی اور خدا بنا چنانچہ گیتا میں لکھا ہے ؎
تہی گشتہ از خود خدا گشتہ ام
کیا یہ شرک نہیں۔ معجزات مسیح کو کس سند سے شرک کہہ کر انکار کرتے ہیں۔ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَةَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ. (ال عمران ٧٩) ترجمہ۔ کسی انسان کو لائق نہیں کہ خدا اس کو کتاب اور عقل اور نبوت عطا کرے اور وہ لوگوں کو کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بنو۔ پس نص قرآنی سے ثابت ہے کہ مشرک کو خدا نبوت و رسالت نہیں دیتا۔ پس مجدد صاحبؒ کا عقیدہ درست ہے اور مرزا قادیانی کا عقیدہ کہ کفار کے لیڈر اور بادشاہ اور رہبر بھی نبی و پیغمبر ہیں۔ غلط ہے، اور ہندوؤں کے اصول کے بموجب کرشن جی پرمیشور کا اوتار ہیں جو کہ اہل ہنود کے اعتقاد کے مطابق عہدہ نبوت سے بڑھ کر ہے۔ یعنی اوتار تو نعوذ باللہ خود خدا ہی ہوتا ہے اور رسول مخلوق ہوتا ہے اس لیے اوتار کرشن کو رسول کہنا غلطی اور اس کی ہتک ہے۔ کہ خدا کے مرتبہ سے گرا کر رسول بنایا علاوہ ازیں اس طرح تو کفر اسلام کا فرق نہ رہا۔ دوم! اگر بقول مرزا قادیانی اہل ہنود و اہل اسلام میں کچھ فرق نہیں تو کرشن کا بروز سوامی دیانند تھا جس نے کرشن جی کی نظم تناسخ اور انکار قیامت کو ترقی دی یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ کرشن جیسا دہرم کا حامی مسلمانوں کے گھر جنم لے کر مرزا غلام احمد بن کر خود اپنے ہاتھ سے وید مقدس و شاستر اور مذہب اہل ہنود کا رد کرے جبکہ پہلے کرشن جی نے باسدیو اور دیوکی کے گھر میں جنم لیا تھا تو راجہ کنس کو مارا اور ١٧ جدھ یعنی دہرم کی خاطر جہاد یعنی جنگ کیے۔ عقل تسلیم کر سکتی ہے؟ ایسا بہادر شخص اور خلاف اصول اہل ہنود مسلمانوں کے گھر پیدا ہو اور پھر رقیق القلب ایسا ہو کہ تلوار کا نام سن کر غش کھا جائے اور ڈپٹی کمشنر کے سامنے اقرار کرے کہ پھر ایسے الہام شائع نہ کروں گا۔
- (١٢) عقیدہ مجدد صاحبؒ :۔ جب حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نزول فرمائیں گے تو حضرت
٢٣
خاتم النبیین ﷺ کی شریعت کی متابعت کریں گے۔
(دیکھو مکتوبات امام ربانی حضرت مجدد الف ثانیؒ صفحہ ٣٦ مکتوبات ٦٧ دفتر سوم ترجمہ اردو)
عقیدہ مرزا قادیانی:۔ عیسیٰؑ فوت ہو چکے ہیں وہ ہرگز نہیں آسکتے مسیح کے نازل ہونے کی حقیقت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو نہ بتائی گئی تھی۔ وہ مجھ کو بتائی گئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آنے والا مسیح میں ہوں۔ دمشق سے مراد قادیان ہے ابن مریم سے مراد مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ہے اور حدیثوں میں جو نزول کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے ہیں۔
اب محمد علی لاہوری ایم اے فرمائیں کہ دونوں مجددوں میں سے کس کو سچا سمجھیں؟ اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو مجدد الف ثانی صاحبؒ سچے نہیں اور اگر مجدد الف ثانی صاحبؒ سچے ہیں تو پھر مرزا قادیانی سچے نہیں یہ فیصلہ تو ہو چکا ہے کہ آپ نے اور ہم نے مجدد الف ثانی صاحبؒ کو سچا مجدد مانا ہوا ہے۔ مگر مرزا قادیانی چونکہ خلاف قرآن شریف و خلاف حدیث نبوی و خلاف اجماع امت و خلاف مجدد الف ثانیؒ و خلاف کل اولیائے امت مسلک اختیار کرتے ہیں تو پھر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ مرزا قادیانی ہی حق پر نہیں کوئی ایک مسلمان کسی طبقہ کے صحابہ کرامؓ سے لے کر تبع تابعینؒ تک بتاؤ۔ جس کا یہ اعتقاد ہو کہ مسیح فوت ہو گیا۔ اس کا اصالتاً نزول نہ ہو گا اور امت محمدی میں سے ایک شخص محمد ﷺ کی متابعت چھوڑ کر عیسیٰ بن مریمؑ بن کر آئے گا۔ مگر ہم بآواز بلند دعویٰ سے کہتے ہیں کہ کوئی ایک شخص پیش نہ کر سکو گے۔ جب کسی مجدد نے ایسا نہیں کیا تو پھر مرزا قادیانی کل امت محمدیہ کے برخلاف جا کر کس طرح مجدد ہو سکتے ہیں؟
اخیر میں محمد علی لاہوری نے مسلمانوں کو ایک عظیم الشان مغالطہ دیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم نے جو براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا نقل کر کے مرزا قادیانی کا مجدد ہونا بتاتے ہیں مگر محمد علی لاہوری کی دھوکہ دہی دیکھئے کہ یہ ریویو اس وقت لکھا ہوا ہے جبکہ مرزا قادیانی کی ابتدائی حالت تھی اور اس وقت ان کا کوئی دعویٰ نبوت و رسالت و مسیحیت کا نہ تھا بلکہ مرزا قادیانی کا اعتقاد عام اہل اسلام کی مانند تھا۔ اسی کتاب میں جس کا ریویو مولوی محمد حسین صاحب مرحوم نے کیا تھا۔ صاف صاف لکھا ہوا تھا۔ اصل عبارت مرزا قادیانی کی نقل کی جاتی ہے۔ وہو ہٰذا۔
”جب حضرت مسیحؑ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جاوے گا۔“
٢٤
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨ و ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
یہ ریویو اس وقت کا لکھا ہوا ہے جبکہ مرزا قادیانی مسلمان تھے اور مسیح کو زندہ آسمان پر یقین کرتے تھے۔ یعنی یہ ریویو ١٨٨٤ء کا لکھا ہوا ہے اور مرزا قادیانی اس وقت مولوی محمد حسین صاحب کے ہم اعتقاد تھے۔ اس واسطے مولوی محمد حسین صاحب نے مرزا قادیانی کی درخواست پر ریویو کیا اور یہ قاعدہ ہے کہ تعریف میں مبالغہ کا ضرور استعمال ہوتا ہے۔ مولوی صاحب نے مبالغہ کے طور پر مرزا قادیانی کی تعریف کر دی جیسا کہ ہر ایک ریویو نویس کرتا ہے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم نے براہین احمدیہ کے ریویو لکھنے میں مبالغہ کے طور پر مرزا قادیانی کی تعریف کر دی تو کونسی بات ہے؟ مرزا قادیانی کی تحریریں جب بتا رہی ہیں کہ اس ریویو لکھنے کے بعد مرزا نے خلاف شرع دعاوی کیے اور فتح اسلام، توضیح مرام، ازالہ اوہام میں اپنے کفریات درج کیے۔ تب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنا ریویو واپس لے کر مرتے دم تک مرزا قادیانی کی مخالفت کی ان پر کفر کے فتوے لگائے سب سے اخیر کا فتویٰ ان کا اہل سنت والجماعت امرتسر میں چھپا تھا کہ مرزائیوں کو احمدی کہنا گناہ ہے چونکہ یہ غلام احمد کے مرید ہیں۔ اس واسطے اُن کو مرزائی کہنا چاہیے یا غلام احمدی کہنا چاہیے۔ صرف احمدی کہنا غلط ہے کیونکہ احمدی مسلمان ہیں اور غلام احمدی قادیانی نبی کی امت ہونے کے باعث غلام احمدی یا مرزائی ہیں۔ پس ایسی تحریر کو پیش کرنا جو کہ مرزا قادیانی کے دعاوی خلاف اسلام والہامات وکشوف، یہ شرک اور کفر سے پہلے لکھا تھا۔ سخت دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے؟ جب اخیر میں انھوں نے تردید کر دی اور مرزا قادیانی کا کفر و شرک تمام دنیا پر ظاہر کر دیا تو پہلے ریویو جو لکھا تھا۔ ردی ہو گیا۔ ردی مضمون کو پیش کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دینا ایک امیر قوم کے مدعی کی شان کے بعید ہے اخیر میں مولوی صاحب نے اشاعت اسلام کا مسئلہ چھیڑا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے لہٰذا ہم اخیر میں جواب عرض کرتے ہیں۔ مسلمان غور سے پڑھیں اور جواب کے واسطے تیار ہو جائیں تاکہ مرزائی دھوکہ سے ان کی جیبوں سے اشاعت اسلام کے بہانہ سے روپیہ نہ نکال لیں اور یہی روپیہ مرزائیت کی اشاعت میں خرچ ہو۔
اشاعت اسلام: مولوی صاحب صفحہ ٢٩ پر لکھتے ہیں ”اس زمانہ میں جب دعوت الی اسلام کے کام کی طرف سے مسلمان غافل ہو رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اس صدی کے مجدد کو اپنی جناب سے یہ الہام کیا کہ وہ ایک جماعت اس غرض سے تیار کرے کیونکہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق کام مجدد کے سپرد کیا جاتا ہے اور یہ زمانہ ایسا آ گیا تھا کہ اسلام ہر
٢٥
ایک طرف سے دوسرے مذاہب کے حملوں کا شکار ہونے لگا۔ ایسے وقت میں اگر اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تائید نہ کرتا تو دنیا میں اس کا وجود باقی رہنا مشکل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے صدی کے مجدد کے سپرد یہ کام کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اسلام کے منور چہرہ کو پھر ظاہر کرے چنانچہ آپ نے آخر تک یہی کام اشاعت اسلام کیا۔“ الخ۔
الجواب: محمد علی لاہوری نے جو اس عبارت میں لکھا ہے کہ مسلمان دعوت اسلام کی طرف سے غافل تھے۔ غلط ہے سب سے پہلے اس کی فکر سرسید کو ہوئی مرزا قادیانی سے پہلے سرسید نے اسلام کا منور چہرہ دکھلایا اور بہت سے مسائل اسلام کی الٹ پلٹ کر کے مخالفین پادریوں کو دندان شکن جواب دیئے اور خطبات احمدیہ کتاب لکھی اور انگریزی میں شائع کی جس کی وجہ سے اسلام ولایت میں چلنا شروع ہوا اور عبداللہ کوئلم شیخ الاسلام بنا۔ اگر یہی تجدید ہے کہ مخالفین کے اعتراض سے ڈر کر مسائل اسلام کی تاویل کی جائے جو کہ ایک قسم کا انکار ہے تو یہ تجدید سرسید بدرجہ اعلیٰ کر چکا اور وہی اکبر مجدد ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی سرسید کی پیروی کی اور وفات مسیح اور محالات عقلی اور قانون قدرت کے الفاظ سیکھے مگر فرق صرف یہ ہے کہ سرسید کی غرض ٹکے کمانے کی نہ تھی اس نے معقول طریقہ سے حضرت مسیح کے بارہ میں بحث کی اور مسیح کی خصوصیات کی تردید کی۔ مسیح کی خصوصیات یہ ہیں۔
- (١) مسیح کا بلا باپ پیدا ہونا چونکہ یہ عیسائیوں کی ٹھوکر کا باعث ہو گا کیونکہ خدا کا بیٹا خدا
ہوتا ہے اس لیے سرسید نے مسیح کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے انکار کیا اور انجیلوں سے ثابت کیا کہ مسیح یوسف نجار کا بیٹا تھا۔ (معاذ اللہ)
- (٢) خصوصیت مسیح کے دوبارہ آنے کی تھی۔ جس کے واسطے حیات مسیح لازم ہے۔ سرسید
نے نزول مسیح و آمد مہدی سے بھی انکار کیا کیونکہ طبعی مردے کبھی واپس دوبارہ دنیا میں نہیں آتے۔ (معاذ اللہ)
- (٣) خصوصیت معجزات مسیح مردوں کا زندہ کرنا اور زاداندھوں کو شفا دینا۔ پرندے مٹی
کے بنا کر ان میں روح پھونکنا۔ سرسید نے ان معجزات سے بھی انکار کیا اور تاویل کی۔ مرزا قادیانی بھی سرسید کے پیرو ہوئے۔ معجزات مسیح سے انکار کیا۔ تاویل کی اور مسمریزم کہا اور مسیح کی خصوصیات کی تردید کی اور مولوی چراغ علی کی کتاب ”حالات صلیب“ دیکھ کر وفات مسیح کو اپنی مسیحیت کی بنیاد بنایا چونکہ مرزا اپنی غرض رکھتے تھے اور پیری مریدی کی دوکان کھولنا چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے مسیح کے رفع جسمانی و نزول جسمانی سے
٢٦
تو انکار کیا مگر غرض نے ان کو مجبور کر دیا کہ نزول مسیح کو مانا جائے کیونکہ حدیثوں میں نزول مسیح کا ذکر ہے اور مسلمانوں کو انتظار ہے۔ اس لیے مرزا قادیانی نے سوچا کہ حدیثوں کا نام سن کر مسلمان پھنس جائیں گے۔ پس نزول مسیح کو تو مانا مگر رفع مسیح سے انکار کیا چونکہ یہ دعویٰ نامعقول تھا کہ نزول بغیر رفع کے ثابت ہو کیونکہ جب شملہ سے کسی شخص کا آنا تسلیم کیا جائے تو اس شخص کا شملہ جانا خود بخود ثابت ہو جاتا ہے۔ اس لیے مرزا قادیانی نے اہل ہنود کے باطل مسائل حلول و بروز کا سہارا لیا اور تاویل اختیار اس طرح کی کہ روحانی نزول ہو گا۔ یعنی امت محمدی میں سے کوئی شخص مسیح ہو گا جو کہ ماں کے پیٹ سے پیدا شدہ ہو گا۔ جیسا کہ ایلیاء کا ظہور ہوا تھا۔ نزول کے معنی پیدا ہونے کے کیے مگر مرزا قادیانی یہ نہ سمجھے کہ اس قسم کے مسیح تو امت محمدی میں پہلے کئی ایک ہو چکے ہیں۔ جب وہ سچے نہ تھے تو میں کس طرح سچا مسیح ہو سکتا ہوں؟
- (١) بن یحییٰ نے مصر کے علاقہ میں عیسیٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ کیا۔
(دیکھو کتاب المختار)
- (٢) ابراہیم بزلہ نے عیسیٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ کیا۔
(دیکھو ہدیہ مہدویہ)
- (٣) شیخ محمد خراسانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔
(دیکھو ہدیہ مہدویہ)
مدعی مسیحیت تو بہت ہیں صرف اختصار کی غرض سے تین لکھے ہیں۔ جب یہ مدعیان اپنے دعویٰ مسیحیت میں جھوٹے سمجھے گئے تو مرزا قادیانی عیسیٰ بن مریم کس طرح سچے ہو سکتے ہیں؟ جبکہ ان سے بھی مسیح کے کام نہ ہوئے بلکہ اسلام ایسا مغلوب ہوا کہ کسی کے وقت نہ ہوا تھا۔ تو پھر یہ کیونکر سچے مسیح موعود ہو سکتے ہیں؟ مرزا قادیانی نے نہ صرف مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ بہت پریشان دعوے کیے چنانچہ لکھتے ہیں ”میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں میں اسحاق ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں اسمعیل ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ بن مریم ہوں۔ میں محمد ﷺ ہوں۔ آخر کرشن آریوں کا بادشاہ ہوں۔“
(دیکھو تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٤ وص ٨٥)
حالانکہ کسی حدیث میں نہیں لکھا کہ آنے والے مسیح کے اس قدر دعاوی ہوں گے اور وہ کرشن بھی ہو گا۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید کس اسلام کی اشاعت کرنا چاہتے ہیں۔ سرسید کا اسلام جو مرزا قادیانی الفاظ تبدیل کر کے پیش کرتے ہیں جو کہ اصل میں نیچریوں اور معتزلہ کی باتیں ہیں یا اصلی اسلام جو کہ رسول اللہ اور صحابہ کرامؓ و تابعین و تبع تابعینؒ اور اولیاء اور مجددین کا ہے جب تک اس بات کا فیصلہ نہ ہوئے کہ کس اسلام کی اشاعت مرزا قادیانی اور ان کے مرید کرتے ہیں اور کریں گے۔
٢٧
تب تک مسلمان ہرگز ہرگز چندہ نہیں دے سکتے۔ مرزا قادیانی نے جو اسلامی مسائل کی الٹ پلٹ کی ہے اور شرک اور کفر کے الہامات اور کشوف جو اسلام میں داخل کیے۔ اس سے تو مرزا قادیانی نے بجائے منور چہرہ اسلام کے سیاہ داغدار چہرہ اسلام کا دیکھایا چنانچہ توضیح مرام ص ٢٩ پر لکھتے ہیں۔ ”اس کے انسان کے فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں خدا تعالیٰ اپنی پاک تجلی کے ساتھ اس پر یعنی انسان پر سوار ہوتا ہے۔ یہ ہے قادیانی اسلام اور پھر جو جو عقائد عیسائیوں اور آریوں کے تھے۔ اسلام میں داخل کیے۔ ایک عیسائی اگر مسلمان ہو تو اس کو کیا فائدہ ہوا پہلے وہ حضرت عیسیٰؑ کو خدا کا بیٹا مانتا تھا۔ مگر اب مرزائیوں کے ہاتھ پر مرزائی ہو کر مرزا قادیانی کے الہامات کے بموجب ان کو خدا کا صلبی بیٹا اور خدا کے پانی سے پیدا شدہ خدا کا بیٹا تسلیم کرے گا۔ دیکھو الہام مرزا قادیانی۔ اسمع ولدى انت منى بمنزلة ولدى انت منى بمنزلة اولادى. انت من مائنا وغیرہ وغیرہ اور اگر کوئی آریہ مسلمان ہو اور قادیانی عقائد اسلام کے مطابق مرزا قادیانی کو کرشن جی کا اوتار مانے اور باطل مسائل اوتار اور حلول اور تناسخ جسکا نام مرزا قادیانی نے بروز کہا ہے۔ دیکھو توضیح مرام ص ١٣ میں لکھتے ہیں ”اس جگہ خدا تعالیٰ کے آنے سے مراد حضرت محمد کا آنا ہے“ تو وہ حیران ہو گا کہ اسلام میں بھی وہی باتیں اور فاسدہ عقائد و باطل مسائل ہیں جن کو میں چھوڑنا چاہتا ہوں۔ جب وہی مسائل یہاں بھی ہیں تو مسلمان ہونے کا کیا فائدہ؟ آریہ لوگ روح اور مادہ کو قدیم مانتے ہیں مگر مرزا قادیانی نے بھی اپنی کتاب توضیح مرام میں روح اور مادہ کی قدامت لکھی ہے پھر کس منہ سے آریوں پر شرک کا الزام دیا جاتا ہے کہ وہ روح اور مادہ کو انادی مانتے ہیں۔ دیکھو مرزا قادیانی کیا لکھتے ہیں ”اب جبکہ یہ قانون الٰہی معلوم ہو چکا کہ یہ عالم جمیع قوائے ظاہری و باطنی کے ساتھ حضرت واجب الوجود سے بطور اعضا کے واقع ہے۔ ہر ایک چیز اپنے محل اور موقعہ پر اعضا ہی کا کام دے رہی ہے اور ہر ایک ارادہ خدا تعالیٰ انھیں اعضا کے ذریعہ سے ظہور میں آتا ہے کوئی ارادہ بغیر ان کے توسط کے ظہور میں آتا۔ الخ
(توضیح مرام ص ٧٨ خزائن ج ٣ ص ٩١)
ناظرین کرام! پہلے مرزا قادیانی لکھ آئے ہیں ”کہ قیوم عالمین ایسا وجود اعظم ہے جس کے بیشمار ہاتھ بیشمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے۔ (توضیح مرام ص ٧٥ خزائن ج ٣ ص ٩٠) اب مزید برآں لکھتے ہیں جیسے قوائے اس عالم کے حضرت واجب الوجود کے لیے بطور اعضاء کے کام دیتے
٢٨
ہیں ۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی اس مسئلہ میں آریوں کے ہم خیال ہیں کیونکہ آریہ بھی مانتے ہیں کہ روح اور مادہ کو خدا نے نہیں بنایا یہ انادی ہیں ۔ مرزا قادیانی بھی فرماتے ہیں کہ عالم کے جمیع قوائے خدا تعالیٰ کے اعضا ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جس وجود کے اعضاء ہوں ۔ وہ وجود اور اس کے اعضا ایک ہی وقت کی ساخت ہوتے ہیں۔ پس جب سے خدا تب سے اس کے اعضا اور تمام عالموں کی پیدائش امتزاج و آمیزش و حرکت مادہ روح سے ہوتی ہے جو مرزا قادیانی کے مذہب میں خدا تعالیٰ کے اعضا ہیں تو قدیم ہوئے کیونکہ خدا کی ذات سے اس کے اعضا جدا نہیں ہو سکتے ۔ افسوس یہی اسلام مرزائی پیش کرتے ہیں اور اسی واسطے مسلمانوں سے چندہ لیتے ہیں ۔ ایسا کون بیوقوف ہو گا کہ اپنے ہاتھ سے اسلام کی ہتک و ہنسی کرائی۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجدد کو ایک جماعت دی جو اس کے دین کی اشاعت کرتی ہے ۔ مولوی صاحب! کو واضح ہو کہ مرزا قادیانی سے بڑھ کر کاذب مدعیان کو جماعتیں ملتی رہی ہیں مسیلمہ کذاب کو پانچ ہفتہ کے قلیل عرصہ میں ایک لاکھ سے اوپر جماعت مل گئی تھی جو کہ اس کے باطل عقائد کی ترویج و تحریک و تائید و اشاعت کرتی تھی اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ اس فتنہ کو فرو نہ کرتے اور مسیلمہ مارا نہ جاتا تو اس کی جماعت ایک کو بھی مسلمان نہ رہنے دیتی اور لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی طرح مسیلمہ اور اس کے پیرو بھی یہی کہتے تھے کہ حقیقی اسلام یہی ہے جو مسیلمہ پیش کرتا ہے خانہ کعبہ کو بیت اللہ کہنا شرک ہے ۔ میں محمد ﷺ کا نائب ہوں جس طرح موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارون تھا ۔ مرغ کو حرام کر دیا ایک نماز معاف کر دی اور حقیقی اسلام کا مدعی تھا بہبود زنگی کاذب مدعی کی جماعت پانچ کروڑ پانچ لاکھ تھی ۔ وہ بھی ان کے بقول اشاعت کے واسطے خدا نے اس کو دی تھی؟ (تذکرۃ المذاہب ص ١٢٣) حسن بن صباح کو بھی خدا تعالیٰ نے ایسی ہی زبردست جماعت دی تھی کہ دنیا بھر کی سلطنتیں اس سے کانپتی تھیں اور وہ اپنے اسلام کی اشاعت کرتے تھے ۔ علی محمد باب کی جماعت تو اب تک کام کر رہی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں ہے اور اپنے اسلام کی اشاعت کرتی ہے۔ جناب محمد علی لاہوری یہ سوانگ جو مرزا قادیانی نے بھرا ہے ۔ کوئی نرالا نہیں اور نہ ان کی جماعت نرالا کام کر رہی ہے۔ سب کاذب مدعی ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔ سید محمد جونپوری کی جماعت ایسی جوشیلی تھی کہ جو ان کے عقائد کی مخالفت کرتا اس کو قتل کر دیتے۔ یہ محمد علی لاہوری نے بالکل غلط لکھا ہے کہ مسلمان اشاعت
کی طرف سے بالکل غافل تھے۔ اشاعت اسلام تو ہمیشہ سے مسلمان علماء و تاجر کرتے آئے۔ مگر خدا کے فضل سے ان کو شیطان نے یہ دھوکہ نہیں دیا کہ تم نبی و رسول و محدث و مجدد ہو وہ خدا کے واسطے خدمت اسلام کرتے رہے اور کر رہے ہیں چند نمونے پیش کرتا ہوں۔
- (١) اسلام کی حقیقی روح عرب کے سوداگروں اور واعظوں نے مجمع الجزائر ملایا۔ روس تاتار
چین برما سکر اور افریقہ میں بلا کسی ملکی امداد کے اسلام کو پھیلایا (ص ١٢٧ النبی والسلام)
- (٢) قادریہ اور سنوسیہ فرقہ کا نمونہ مسلمانوں کے واسطے قابل تقلید ہے جنھوں نے نہ تو
دوسروں کو کافر بنایا اور نہ اپنے لیے کذابوں اور خود پرستوں کی طرح نبوت و مہدویت کا منصب تجویز کیا اور نہ اپنے منکروں کو لعنتی اور جہنمی قرار دیا (ص ١٢٧)
- (٣) ١٩٠٦ء میں جاپان میں سلطنت عثمانیہ کیطرف سے علماء گئے اور ١٨ ہزار جاپانیوں کو
مسلمان کیا۔ (دیکھو ص ١٤٢ مقاصد اسلام بحوالہ سفر نامہ جاپان علی احمد جرجاوی مصری ایڈیٹر اخبار المنار)
- (٤) چہارم ہندوستان میں علمائے بنگال کی انجمن اشاعت اسلام کام کر رہی ہے اور ان
کو بہت کامیابی ہوئی ہے۔ ١٣۔ وظیفہ خوار اور ١٤ آنریری مبلغین کام اشاعت اسلام کا کر رہے ہیں اور مبلغین کی کوشش سے ٢٦ ہزار مسلمان رسومات کو چھوڑ کر پکے مسلمان بنائے گئے۔ ٣٥٠٣ بھنگی چماروں سے نکال کر راہ راست پر لائے گئے۔ ١٦٥ عیسائی ٥٢ بدھ ١٦١ ہندو مسلمان کیے گئے۔ (رپورٹ انجمن علمائے بنگالہ از ١٩١٣ء تا ١٩١٧ء) غرض یہ محمد علی لاہوری کا لکھنا بالکل غلط ہے کہ مرزا قادیانی کی جماعت کے سوا کوئی اور دوسرا اشاعت اسلام نہیں کرتا باہر غیر ممالک میں اسلام کے پاک اصولوں کو دیکھ کر لاکھوں کی تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں شیخ سنوسی کی کوشش سے تیونس وغیرہ ممالک میں اسلام بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اسلام محمدی کی ترقی ہوتی ہے اور کوئی جگہ اور شہر خالی نہیں کہ علمائے اسلام تھوڑی بہت نصیحت نہ کرتے ہوں۔ ہاں مرزائی اسلام کی جس میں مرزا قادیانی نے کفر و شرک کے مسائل اوتار ابن اللہ خدا روح اور مادہ کو انادی ماننا اور دیگر کفریات جن کا ذکر پہلے آچکا ہے اشاعت نہ مسلمانوں پر ضروری ہے اور نہ کرتے ہیں بلکہ مسلمانوں کا حسب الارشاد رسول اللہ ﷺ مرزائیوں کے فتنہ سے بچنا فرض ہے جب مرزائیوں کا اپنا اسلام درست نہیں ہے تو دوسروں کو کیا تبلیغ کر سکتے ہیں؟
ضروری نوٹ:۔ رسالہ انجمن تائید الاسلام ماہ جنوری ١٩٢٠ء میں علمائے اسلام کی طرف سے سات سوال لکھے گئے تھے۔ جن کا جواب آج تک لاہوری جماعت نے نہیں
٣٠
دیا۔ لہٰذا پھر لکھے جاتے ہیں۔ جب تک ان سوالات کے جواب نہ دیئے جائیں گے کوئی مسلمان چندہ نہ دے گا تاکہ مسلمانوں کے چندہ سے اشاعت مرزائیت و کفریات نہ ہو۔ سوالات یہ ہیں۔ (١) مرزا قادیانی آپ کے اعتقاد میں سچے صاحب وحی تھے۔ یعنی ان کی وحی تورات۔ انجیل و قرآن کی مانند تھی کہ جس کا منکر جہنمی ہو؟ (٢) جو جو الہامات مرزا قادیانی کو ہوئے۔ آپ ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتے ہیں؟ (٣) مرزا قادیانی کے الہاموں کو وساوس شیطانی سے پاک یقین کرتے ہیں؟ (٤) مرزا قادیانی کے کشوف منجانب اللہ تھے؟ (٥) شیطانی الہامات اور شیطانی کشوف کی کیا پہچان ہیں؟ (٦) مرزا قادیانی نے جو حقیقت الوحی کے ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠ پر لکھا ہے کہ ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر“ کیا آپ کا بھی ان پر ایمان ہے؟ (٧) اگر مرزا قادیانی کے عقائد اہل سنت والجماعت کے تھے اور آپ کے بھی تو مسلمان کے ساتھ مل کر نمازیں کیوں نہیں پڑھتے؟
(پیر بخش سیکرٹری انجمن تائید الاسلام لاہور)
٣١
سالانہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام و مناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء‘ خطباء اور تمام طبقہ جات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔...........رہائش‘ خوراک‘ کتب و دیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔
رابطہ کے لئے
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری
ناظم اعلیٰ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان