تحفہ قادیانیت جلد 1 · مولانا محمد یوسف لدھیانوی
Tohfa-e-Qadyaniat · Vol. 1 · Moulana Yousuf Ludhyanvi
PDF 1

بسم الله الرحمن الرحيم

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وسلم

تحفہ قادیانیت

جلد اوّل

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

☎ 514122

۱۱۰۰۰

صفحہ 2

نام کتاب تحفہ قادیانیت نام مصنف حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صفحات 720 طبع اول مئی 1993ء مطبع شرکت پرنٹنگ پریس ۴۳ نسبت روڈ لاہور قیمت 150 روپے

ملنے کا پتہ

اے جناح روڈ‘ کراچی

صفحہ 3

بسم الله الرحمن الرحيم

صفحہ 4

آئینہ

صفحہ

اختلافات مرزا

صفحہ 5

پیش لفظ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ و سلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ‘ اما بعد فقد قال اللہ تعالی ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین و کان اللہ بکل شئ علیما ○ و قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی‘ و انا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔

(رواہ ابو داؤد - ۲/ ۲۲۸ - واللفظ لہ‘ والترمذی - ۲/ ۴۵)

قرآن کریم اور احادیث متواترہ کی بناء پر امت مسلمہ کا قطعی اور متواتر عقیدہ چلا آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین (آخری نبی) ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی شخص کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق دجال و کذاب ہے۔

اسلامی تاریخ میں بہت سے طالع آزماؤں نے نبوت و رسالت اور مسیحیت و مہدویت کے دعوے کر کے خلق خدا کو اپنے دام تزویر کا شکار کیا‘ جن کی تفصیل حضرت مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ کی کتاب ”آئمہ تلبیس“ اور اس کی تلخیص ”ایمان کے ڈاکو“ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

گزشتہ صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی مسیحیت‘ مہدویت اور نبوت کے بلند بانگ دعوے کیے اور ابلہ فریبی کے لیے اس نے قرآن و حدیث کے بے شمار نصوص کی تحریف کی۔ انبیاء کرام علیہم السلام اور سلف صالحین کی توہین و تذلیل کی۔ علمائے امت کو مغلظات سے نوازا‘ بالآخر ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو خائب و خاسر دنیا سے رخصت ہوا اور اس کی موت نے ہر عام و خاص کے سامنے واضح کر دیا کہ وہ باقرار

صفحہ 6

خود دجال و کذاب اور جھوٹا تھا، اس کا ایک واضح اور دو ٹوک ثبوت درج ذیل ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جولائی ۱۹۰۶ء میں جناب قاضی نذر حسین ایڈیٹر اخبار "قلقل بجنور" کے نام ایک خط میں لکھا :

"جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔۔۔ وہ اپنے مبعوث ہونے کی علت غائی کو پا لیتے ہیں اور نہیں مرتے جب تک ان کی بعثت کی غرض ظہور میں نہ آ جائے۔ میرا کام جس کے لیے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلا دوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہیے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں"۔

(اخبار "بدر" قادیان، نمبر ۲۹، جلد ۲، ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء، ص۔ ۴)

اس خط میں مرزا قادیانی نے اپنی نام نہاد "بعثت" کی جو غرض بیان کی تھی، ہر شخص سر کی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ اس مقصد کے حصول میں وہ ناکام رہا۔ اس لیے خود اسی کے بقول سب دنیا کو گواہ رہنا چاہیے کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا، کذاب و دجال تھا۔

مرزا قادیانی کے دجل و تلبیس کو نمایاں کرنے کے لیے بہت سے اکابر امت نے کتب و رسائل اور مقالات تحریر فرمائے ہیں۔ جزاہم اللہ احسن الجزاء۔ ان کتب و رسائل کا ایک خاکہ رفیق محترم جناب مولانا اللہ وسایا زید مجدہ کی کتاب "قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت" میں ملاحظہ فرمایا جا سکتا ہے۔

اس ناکارہ کے قلم سے بھی قادیانی مسئلہ پر متعدد رسائل و مقالات نکلے، جو خاص

صفحہ 7

خاص ضرورتوں کی بناء پر لکھے گئے تھے۔ چونکہ متفرق رسائل کو محفوظ رکھنا دشوار ہوتا ہے اس لیے بعض احباب کا اصرار ہوا کہ ان رسائل کو کتابی شکل میں خاص ترتیب سے یکجا کر دیا جائے۔ چنانچہ اس فرمائش کی تعمیل ”تحفہ قادیانیت“ کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ جس میں دو درجن سے زیادہ رسائل جمع کر دیئے گئے ہیں۔ باقی رسائل و مقالات کو بھی ان شاء اللہ مجموعوں کی شکل میں شائع کیا جائے گا حق تعالیٰ شانہ اس کو شرف قبول عطا فرمائیں۔ اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں اور اس ناکارہ کے لیے آنحضرت سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور اپنی بے پایاں رحمت و رضوان کا وسیلہ بنائیں۔ وہو المستعان، و علیہ التکلان وہو حسبی و نعم الوکیل و اخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۶-۱۱-۹۳ھ

صفحہ 8
PDF 9

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

عقیدۂ ختم نبوّت

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 10

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله و سلام على عباده الذين اصطفى

قرآن وسنت کے قطعی نصوص سے ثابت ہے کہ نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ آپ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ کے بعد کسی شخص کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا

(الأحزاب ٤٠)

ترجمہ :- ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ “

(ترجمہ حضرت تھانویؒ)

تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ امام حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :

فهذه الآية نص فى أنه لا نبي بعده وإذا كان لا نبي بعده فلا رسول بالطريق الأولى والأخرى لأن مقام الرسالة أخص من مقام النبوة فإن كل رسول نبي ولا ينعكس وبذلك وردت الأحاديث المتواترة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من حديث جماعة من الصحابة رضى الله عنهم .

(تفسير ابن كثير ص ٤٩٣ ج ٣)

صفحہ 11

ترجمہ ۔ ”یہ آیت اس مسئلہ میں نص ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ، اور جب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بدرجہ اولیٰ نہیں ہوسکتا ، کیونکہ مقام نبوت مقام رسالت سے عام ہے ، کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا ، اور اس مسئلہ پر کہ آپ کے بعد کوئی نبی ورسول نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث وارد ہیں جو صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں۔“

امام قرطبی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :

قال ابن عطية هذه الألفاظ عند جماعة علماء الأمة خلفًا وسلفًا متلقاة على العموم التام مقتضية نصًّا أنه لا نبي بعده صلى الله عليه وسلم .

(تفسیر قرطبی ۱۹۶ ج ۱۴)

ترجمہ ۔ ” ابن عطیہ فرماتے ہیں کہ خاتم النبیین کے یہ الفاظ تمام قدیم وجدید علمائے امت کے نزدیک کامل عموم پر ہیں جو نص قطعی کے ساتھ تقاضا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“

حجۃ الاسلام امام غزالی ”الاقتصاد“ میں فرماتے ہیں :

إن الأمة فهمت بالإجماع من هذا اللفظ ومن قرائن أحواله أنه أفهم عدم نبی بعده أبدا ... وأنه ليس فيه تأويل ولا تخصيص فمنكر هذا لا يكون إلا منكر الإجماع .

(الاقتصاد فی الاعتقاد ص ۱۲۳)

ترجمہ ۔ ”بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول۔ اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل وتخصیص نہیں،

صفحہ 12

پس اس کا منکر یقیناً اجماع امت کا منکر ہے۔"

ختم نبوت اور احادیث نبویہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر احادیث میں اپنے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرمایا اور ختم نبوت کی ایسی تصریح بھی فرمادی کہ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کسی شک و شبہ اور تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ متعدد اکابر نے ان احادیث ختم نبوت کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے چنانچہ حافظ ابن حزم ظاہری "کتاب الفصل فی الملل والاهوا والنحل" میں لکھتے ہیں :

وقد صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بنقل الطوائف التي نقلت نبوته وأعلامه وكتابه أنه أخبر أنه لا نبي بعده .

( کتاب الفصل ص ٧٧ ج ١)

ترجمہ ۔ "وہ تمام حضرات جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ، آپؐ کے معجزات اور آپؐ کی کتاب ( قرآن کریم ) کو نقل کی ہے، انہوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپؐ نے یہ خبر دی تھی کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔"

حافظ ابن کثیرؒ آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں :

وبذلك وردت الأحاديث المتواترة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من حديث جماعة من الصحابة رضى الله عنهم

( تفسير ابن كثير ص ٤٩٣ ج ٣)

ترجمہ ۔ "اور ختم نبوت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں جن کو صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا۔"

صفحہ 13

اور علامہ سید محمود آلوسی تفسیر روح المعانی میں زیر آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں :

وكونه صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به السنة وأجمعت عليه الأمة فيكفر مدعی خلافه ويقتل إن أصر

(روح المعانی ص٤١ جلد ۲۲)

ترجمہ:۔ ”اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے ، احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے ، پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔“

پس عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے ۔ یہاں اختصار کے مد نظر صرف چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں :

حدیث 1 :

عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مثلى ومثل الأنبياء من قبلى كمثل رجل بنى بنيانا فأحسنه وأجمله إلا موضع لبنة من زاوية من زواياه فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال فأنا اللبنة وأنا خاتم النبيين .

(صحیح بخاری کتاب المناقب ص ٥٠١ ج ١ صحیح مسلم ص ٢٤٨ ج ٢ واللفظ له)

ترجمہ:۔ ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگا دی گئی؟ آپؐ نے فرمایا میں وہی (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں

صفحہ 14

نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں ۔“

یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہؓ سے بھی مروی ہے :

درج ذیل ہیں :

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فأنا موضع اللبنة جئت فختمت الأنبياء

(مسند أحمد ص٣٦١ ج٣، صحیح بخاری ص٥٠١ ج١،

مسلم ١٤٨ ج٢، ترمذی ص١٠٩ ج١)

ترجمہ۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پس میں اس اینٹ کی جگہ ہوں ، میں آیا پس میں نے نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا۔“

مثلى فى النبيين كمثل رجل بنى داراً فأحسنها وأكملها وأجملها وترك منها موضع لبنة فجعل الناس يطوفون بالبناء . ويعجبون منه ويقولون لو تم موضع تلك اللبنة ۔وأنا فى النبيين موضع تلك اللبنة۔ قال الترمذى هذا حديث حسن صحيح .

(مسند أحمد ص١٣٧ ج٥، ترمذی ص٢٠١ ج٢)

ترجمہ۔ ”انبیاء کرام میں میری مثل ایسی ہے کہ ایک شخص نے بڑا حسین و جمیل اور کامل و مکمل محل بنایا مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، پس لوگ اس محل کے گرد گھومتے اور اس کی عمدگی پر تعجب کرتے اور یہ کہتے کہ کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پر کر دی جاتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نبیوں میں اس اینٹ کی جگہ ہوں۔“ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

صفحہ 15

ہیں :

مثلی ومثل النبيين من قبلى كمثل رجل بنى داراً فأتمها إلا لبنة واحدة فجئت أنا فأتممت تلك اللبنة

(مسند أحمد ص ٩ ج ٣ واللفظ له ، صحيح مسلم ص ٢٤٨ ج ٢

جامع الأصول ص ٥٣٩ ج ٨)

ترجمہ۔ ”میری اور دوسرے نبیوں کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے محل بنایا پس اس کو پورا کر دیا مگر صرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ پس میں آیا اور میں نے اس اینٹ کو پورا کر دیا۔“

ان احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم نبوت کی ایک محسوس مثال بیان فرمادی ہے اور اہل عقل جانتے ہیں کہ محسوسات میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی۔

حدیث : ٢

عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فضلت على الأنبياء بست أعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب وأحلت لى الغنائم وجعلت لى الأرض طهورا ومسجدًا وأرسلت إلى الخلق كافة وختم بى النبيون

(صحيح مسلم ص ١٩٩ ج ١ ، مشكاة ص ٥١٢)

ترجمہ۔ ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیاء کرام ؑ پر فضیلت دی گئی ہے۔ (١) مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں (٢) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی (٣) مال غنیمت میرے لئے حلال کر دیا گیا ہے (٤) روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنا دیا گیا ہے (٥) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے (٦) اور مجھ پر نبیوں کا

صفحہ 16

سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“

اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ اس کے آخر میں ہے :

وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلى الناس عامةً

(مشكاة ص ٥١٢)

ترجمہ ۔ ” پہلے انبیاء کو خاص ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ۔ “

حدیث : ٣

عن سعد بن أبي وقاص رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلى أنت منى بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبى بعدى (صحيح

بخارى ص ٦٣٣ ج٢)

وفى رواية لمسلم أنه لا نبوة بعدى (صحيح مسلم ص ٢٧٨ ج٢)

ترجمہ ۔ ” سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ۔

” تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ “ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ” میرے بعد نبوت نہیں ۔ “

یہ حدیث متواتر ہے اور حضرت سعدؓ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓ کی جماعت سے بھی مروی ہے :

(مسند احمد ص ٣٣٨ ج ٣ ۔ ترمذی ص ٢١٤

ج ٢ ابن ماجہ ص ١٢)

صفحہ 17

(کنز العمال ص ۶۰۷ ج ۱۱

حدیث نمبر ۳۲۹۳۲)

(کنز ص ۱۵۸ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۴۸۸

مجمع الزوائد ص ۱۱۰ ج ۹)

(مسند احمد ص ۴۳۸ ج ۶ ، مجمع ص ۱۰۹ ج ۹

کنز ص ۶۰۷ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۹۳۷)

(کنز العمال ص ۶۰۳ ج ۱۱ حدیث نمبر

۳۲۹۱۵ مجمع الزوائد ص ۱۰۹ ج ۹ )

(مجمع الزوائد ص ۱۱۱ ج ۹)

(ایضاً ص ۱۱۰ ج ۹)

(ایضاً ص ۱۰۹ ج ۹)

(مجمع ص ۱۱۱ ج ۹)

(ایضاً ص ۱۱۱ ج ۹)

(مجمع ص ۱۱۰ ج ۹ ۔ خصائص کبریٰ سیوطی ۔

ص ۲۴۹ ج ۲)

(کنز ص ۱۹۲ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۵۷۲

مجمع ص ۱۰۹ ج ۹)

(کنز ص ۶۰۶ ج ۱۱ حدیث نمبر ۳۲۹۳۲)

(کنز ص ۱۰۵ ج ۱۳ حدیث نمبر ۳۶۳۲۵)

واضح رہے کہ جو حدیث دس سے زیادہ صحابہ کرامؓ سے مروی ہو حضرات محدثین اسے احادیث متواترہ میں شمار کرتے ہیں ، چونکہ یہ حدیث دس سے زیادہ صحابہ کرامؓ سے مروی ہے اس لئے مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اس کو متواترات میں شمار کیا ہے ۔

صفحہ 18

حضرت شاہ صاحب ”ازالۃ الخفا“ میں ”مآثر علیؓ“ کے تحت لکھتے ہیں :

فمن المتواتر : أنت منى بمنزلة هارون من موسى

(إزالة الخفاء مترجم ص٤٤٤ ج٤ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

ترجمہ ۔ ”متواتر احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی۔“

حدیث : ۴

عن أبى هريرة يحدث عن النبى صلى الله عليه وسلم قال كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وأنه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون .

(صحیح بخاری ص٤٩١ ج١ واللفظ له،

صحیح مسلم ص١٢٦ ج٢ ، مسند أحمد ص٢٩٧ ج٢)

ترجمہ ۔ ”حضرت ابو ہریرہؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اس کی جگہ دوسرا نبی آتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔“

بنی اسرائیل میں غیر تشریعی انبیاء آتے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تجدید کرتے تھے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسے انبیاء کی آمد بھی بند ہے، البتہ مجددین امت ضرور آئیں گے جیسا کہ ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں آیا ہے :

إن الله يبعث لهذه الأمة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها

(أبو داود ص٢٣٣ ج٢)

صفحہ 1 19

ترجمہ۔ ”بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی پر ایسے لوگوں کو کھڑا کرے گا جو اس کے لئے دین کی تجدید کریں گے۔“

حدیث: ۵

عن ثوبان رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنه سيكون فى أمتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم أنه نبى وأنا خاتم النبيين لا نبى بعدى . (أبو داود ص۲۲۸ ج۲ واللفظ له، ترمذی ص٤٥ ج٢)

ترجمہ۔ ”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔“

یہ مضمون بھی متواتر ہے اور حضرت ثوبانؓ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے:

حدیث نمبر ۳۸۳۷۲)

صفحہ 20

تنبیہ : ان تمام احادیث کا متن مجمع الزوائد (ص ۳۳۲ ۔ ۳۳۴ ج ۷) میں ذکر کیا گیا ہے۔

حدیث :۶

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رَسول بعدى ولا نبى

(ترمذی ص ۵۱ ج ۲ ، مسند أحمد ص ۲۶۷ ج ۳)

ترجمہ ۔ ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی ۔“

امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اس کو امام احمدؒ نے مسند میں بھی روایت کیا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اس حدیث میں بروایت ابو یعلیٰ اتنا اضافہ نقل کیا ہے :

ولكن بقيت المبشرات قالوا وما المبشرات؟ قال: رؤيا المؤمن جزء من أجزاء النبوة .

(فتح الباری ص ۳۷۰ ج ۱۲)

ترجمہ ۔ ”لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا مومن کا خواب جو نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔“

اس مضمون کی حدیث مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓ سے بھی مروی ہے :

صفحہ 21

(صحیح بخاری ص ۱۰۳۵ ج ۲)

(کنز العمال ص ۳۷۰ ج ۱۵ حدیث

نمبر ۴۱۴۱۹ ، مجمع الزوائد ص ۱۷۲ ج ۷)

(حوالہ بالا)

صحیح مسلم ص ۱۹۱ ج ۱ ، سنن نسائی ص

۱۶۸ ج ۱ ، ابو داؤد ص ۱۲۷ ج ۱ ، ابن

ماجہ ص ۲۷۸)

(ابن ماجہ ص ۲۷۸ ، احمد ص ۳۸۱ ج ۶

فتح الباری ص ۳۷۵ ج ۱۲)

(مسند احمد ص ۴۵۴ ج ۵ ، مجمع الزوائد

ص ۱۷۳ ج ۷)

حدیث : ۷

عن أبي هريرة رضى الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول نحن الآخرون السابقون يوم القيامة . بيد أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا.

(صحیح بخاری ص ۱۲۰ ج ۱ واللفظ لہ ، صحیح مسلم ص ۲۸۲ ج ۱)

ترجمہ ۔ ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے ، صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔“

اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری نبی ہونا اور اپنی امت کا آخری امت ہونا بیان فرمایا ہے ۔ یہ مضمون بھی متعدد احادیث میں آیا ہے :

صفحہ 22

الحديث ، وفيه) ونحن الآخرون من أهل الدنيا والأولون يوم القيامة المقضى لهم قبل الخلائق .

(صحیح مسلم ص ۲۸۲ ج ۱ نسائی ص ۲۰۲ ج ۱)

ترجمہ۔ " حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم اہل دنیا میں سب سے آخر میں آئے اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے جن کا فیصلہ ساری مخلوق سے پہلے کیا جائے گا۔"

( فذكر حديث الشفاعة ، وفيه ) نحن الآخرون الأولون نحن آخر الأمم وأول من يحاسب .

(مسند أحمد ص ۲۸۲ ج ۱)

ترجمہ ۔ " حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حدیث شفاعت میں ) فرمایا کہ ہم سب سے پچھلے اور سب سے پہلے ہیں ، ہم تمام امتوں کے بعد آئے اور (قیامت کے دن ) ہمارا حساب و کتاب سب سے پہلے ہوگا۔"

الأنبياء ومسجدى خاتم مساجد الأنبياء.

(كنز العمال ص ۲۷۰ ج ۱۲ حدیث نمبر ٣٤٩٩٩)

ترجمہ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں آخری مسجد ہے۔"

صفحہ 23

أول النبيين فى الخلق وآخرهم فى البعث

(كنز العمال ص ٤٠٩ و ٤٥٢ ج ١١ حديث نمبر ٣١٩١٦ ، ٣٢١٢٦)

ترجمہ :- ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری تخلیق سب نبیوں سے پہلے ہوئی، اور بعثت (دنیا میں تشریف آوری) سب کے بعد ہوئی۔“

وسلم إنى عند الله فى أم الكتاب لخاتم النبيين وإن آدم لمنجدل فى طينته

(مجمع الزوائد ص ٢٢٣ ج ٨ ، مسند أحمد ص ١٢٧ ج ٤ ،

مستدرك حاكم ص ٦٠٠ ج ٢ واللفظ له كنز العمال ج ١١ حديث ٣١٩٦٠ - ٣٢١١٤)

ترجمہ :- ”حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوحِ محفوظ میں خاتم النبیین (آخری نبی) لکھا ہوا تھا، جب کہ ابھی آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھا جارہا تھا۔“

عليه وسلم فيقولون يا محمد أنت رسول الله وخاتم الأنبياء .

(صحيح بخارى ص ٦٨٥ ج ٢)

ترجمہ :- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیثِ شفاعت میں مروی ہے کہ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ (دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔......“

صفحہ 24

ولا فخر وأنا خاتم النبيين ولا فخر وأنا أول شافع وأول مشفع ولا فخر.

(سنن دارمی ص۳۱ ج۱، کنز العمال ص٤٠٤ ج۱۱ حدیث نمبر ۳۱۸۸۳)

ترجمہ۔ "حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نبیوں کا قائد ہوں اور فخر سے نہیں کہتا اور میں نبیوں کا خاتم ہوں اور فخر سے نہیں کہتا اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلا شخص ہوں جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور فخر سے نہیں کہتا۔"

عليه وسلم يوماً كالمودع فقال أنا محمد النبى الأمى ثلاث مرات ولا نبى بعدى.

(مسند أحمد ص۱۷۲ ، ۲۱۲ ج۲)

ترجمہ۔ "حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے ، گویا ہمیں رخصت فرمارہے ہوں، پس فرمایا میں محمد نبی امی ہوں ۔ تین بار فرمایا ۔ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)"

فجعل يرى فضائل بعضهم على بعض فرأى نوراً ساطعاً فى أسفلهم فقال يا رب: من هذا؟ قال هذا ابنك أحمد هو الأول وهو الآخر وهو أول شافع وأول مشفع.

(كنز العمال ص٤٣٧ ج۱۱ حدیث ۳۲۰٥٦)

ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ "جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی تو ان کی اولاد کی نمائش فرمائی ، پس ایک دوسرے کے فضائل کا

صفحہ 25

ان پر اظلہ کیا، پس حضرت آدم علیہ السلام نے انکے (یعنی اولاد کے) نیچے ایک نور بلند ہوتا ہوا دیکھا تو عرض کیا، یا رب! یہ کون ہیں؟ فرمایا، یہ آپ کے صاحب زادے احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں، یہی اول ہیں، یہی آخر ہیں، یہی سب سے پہلے سفارش کرنے والے ہیں اور سب سے پہلے انہی کی شفاعت قبول کی جائے گی۔"

عليه وسلم أثنى على ربه فقال كلكم أثنى على ربه وأنا مثن على ربى الحمد لله الذى أرسلنى رحمة للعالمين وكافة للناس بشيرا ونذيرا وأنزل علىّ القرآن فيه تبيان كل شئ وجعل أمتى خير أمة أخرجت للناس وجعل أمتى وسطا وجعل أمتى هم الأولون وهم الآخرون وشرح لى صدرى ووضع عنى وزرى ورفع لى ذكرى وجعلنى فاتحا وخاتما -فقال إبراهيم صلى الله عليه وسلم بهذا فضلكم محمد صلى الله عليه وسلم-

(مجمع الزوائد ص ٦٩ ج١)

فقال له ربه تبارك وتعالى قد اتخذتك خليلا وهو مكتوب فى التوراة محمد صلى الله عليه وسلم حبيب الرحمان وأرسلتك إلى الناس كافة وجعلت أمتك هم الأولون وهم الآخرون.... وجعلتك فاتحا وخاتما .

(أيضا ص ٧١ ج ١)

ترجمہ - حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث معراج میں مروی ہے کہ (انبیاء کرام علیہم السلام کے مجمع میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے تحدیث نعمت کے انداز میں حق تعالیٰ شانہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے رب کی حمد وثنا کی، آپؐ نے فرمایا کہ آپ حضرات نے اپنے رب تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرمائی ہے اب میں بھی اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔ (اور وہ یہ ہے) :

صفحہ 26

”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے مجھے رحمۃ للعالمین بنایا، تمام لوگوں کے لئے بشیر و نذیر بنایا، مجھ پر قرآن نازل کیا جس میں (مہمات دین میں سے) ہر چیز کا بیان ہے اور میری امت کو خیر امت بنایا جو لوگوں کے نفع کے لئے نکالی گئی، اور میری امت کو معتدل امت بنایا اور میری امت کو ایسا بنایا کہ وہی پہلے ہیں اور وہی پچھلے ہیں اور اس نے میرا سینہ کھول دیا، میرا بوجھ اتار دیا اور میری خاطر میرا ذکر بلند کر دیا اور مجھ کو فاتح اور خاتم (کھولنے والا اور بند کرنے والا) بنایا۔“ یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو مخاطب کر کے فرمایا، ان ہی امور کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے سبقت لے گئے ہیں۔“

نیز اسی حدیث معراج میں ہے کہ :

”حق تعالیٰ شانہ نے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) سے فرمایا کہ میں نے آپ کو اپنا خلیل بنالیا اور یہ تورات میں لکھا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمن کے محبوب ہیں اور میں نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا، اور آپ کی امت کو ایسا بنایا کہ وہی اول ہیں اور وہی آخر ہیں ...... اور میں نے آپ کو تخلیق میں سب نبیوں سے اول رکھا اور بعثت میں سب سے آخر۔“

ثم سار حتی أتی بیت المقدس فنزل فربط فرسہ إلی صخرۃ ثم دخل فصلی مع الملائکۃ فلما قضیت الصلاۃ قالوا یا جبریل من ھذا معک؟ قال ھذا محمد خاتم النبیین .

(المواھب اللدنیۃ ص۱۷ ج۲)

ترجمہ:- ”حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے حدیث معراج میں مروی ہے کہ پھر آپ چلے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے، پس اتر کر سواری کو چٹان سے باندھ دیا، پھر اندر داخل ہوئے اور فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی

صفحہ 27

انہوں نے پوچھا کہ اے جبریل! یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔"

١٢۔عن علی رضی الله عنه في شمائله صلى الله عليه وسلم وبين كتفيه خاتم النبوة وخاتم النبيين .

(شمائل ترمذی ص۳)

ترجمہ ۔ "حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپؐ کے شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور آپؐ خاتم النبیین تھے۔"

١٣۔عن ابن عباس في حديث الشفاعة: فيأتون عيسى فيقولون اشفع لنا إلى ربنا حتى يقضى بيننا فيقول إني لست هناكم أني اتخذت وأمي إلهين من دون الله ولكن أ رأيتم لو أن متاعاً في وعاء قد ختم عليه أ كان يوصل أى ما فى الوعاء حتى يفض الخاتم فيقولون لا ، فيقول فإن محمداً صلى الله عليه وسلم قد حضر اليوم .

(مسند أبو داود طيالسی ص: ٣٥٤)

ترجمہ ۔ "حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث شفاعت میں مروی ہے کہ (حضرت آدم ، حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم السلام کے بعد) لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو آپ یہ عذر کریں گے کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنایا گیا، اس لئے میں اس کا اہل نہیں ، پھر فرمائیں گے کہ اچھا یہ بتاؤ کہ اگر کچھ سامان کسی ایسے برتن میں ہو جسے سر بمہر کر دیا گیا ہو جب تک مہر کو نہ توڑا جائے کیا اس برتن کے اندر کی چیز تک رسائی ممکن ہے ؟ حاضرین اس کا جواب نفی میں دیں گے تو آپ فرمائیں گے کہ پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم آج یہاں موجود ہیں ان کی خدمت میں جاؤ۔"

صفحہ 28

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس تشبیہ سے مقصد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، لہٰذا جب تک نبیوں کی مہر کو نہ کھولا جائے اور آپؐ شفاعت کا آغاز نہ فرمائیں تب تک انبیاء علیہم السلام کی شفاعت کا دروازہ نہیں کھل سکتا اور نہ کسی نبی کی شفاعت کا حصول ممکن ہے، لہٰذا تم لوگ سب سے پہلے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، پہلے ”نبیوں کی مہر“ کو کھولو، آپ سے شفاعت کا آغاز کراؤ، تب کسی اور نبی کی شفاعت ممکن ہے۔ واللہ اعلم۔

۱۴۔ عن أبي أمامة الباهلي عن النبي صلى الله عليه وسلم .... قال أنا آخر الأنبياء وأنتم آخر الأمم .

(ابن ماجه ص ۲۹۷)

ترجمہ۔ ”حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔“

۱۵۔ حضرت ابو قتیلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:

لا نبى بعدى ولا أمة بعدكم

(مجمع الزوائد ص ۲۷۳ ج ۳ ، کنز العمال ص ۹٤۷ ج ۱۵ حدیث نمبر ٤٣٦٣٨)

ترجمہ۔ ”میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔“

۱۶۔ امام بیہقی نے کتاب الرؤیا میں حضرت ضحاک بن نوفل رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہ :

قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نبى بعدى ولا أمة بعد أمتى .

(ختم نبوت کامل ص ۲۷۲)

ترجمہ۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بعد کوئی نبی

صفحہ 29

نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب کی تعبیر ارشاد فرمائی۔ اس کا آخری حصہ یہ ہے: وأما الناقة فہی الساعة علینا تقوم لا نبی بعدی ولا أمة بعد أمتی .

(خصائص کبری سیوطی ص ۱۷۸ ج۲)

ترجمہ۔ "لیکن اونٹنی (جس کو تم نے مجھے اٹھاتے ہوئے دیکھا) پس وہ قیامت ہے وہ ہم پر قائم ہوگی۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں۔"

أول الرسل آدم وآخرہم محمد .

( كنز العمال ص ٤٨٠ ج ١١ حديث نمبر ٣٢٢٦٩)

ترجمہ۔ "حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ذر ! نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم ہیں اور سب سے آخری نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔"

حدیث : ۸

عن عقبة بن عامر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب

(ترمذی ص ۲۰۹ ج ۲)

ترجمہ۔ "حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطابؓ ہوتے۔"

صفحہ 30

یہ حدیث حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے علاوہ مندرجہ ذیل حضرات سے بھی مروی ہے :

(فتح الباری ص ۵۱ ج ۷ ، مجمع الزوائد ص ۶۸ ج ۹)

(مجمع الزوائد ص ۶۸ ج ۹)

”لو“ کا لفظ فرض محال کے لئے آتا ہے ۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمرؓ میں نبوت کی صلاحیت کامل طور پر پائی جاتی ہے مگر چونکہ آپؐ کے بعد کسی کا نبی ہونا محال ہے اس لئے باوجود صلاحیت کے حضرت عمرؓ نبی نہیں بن سکے ۔ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں :

” درشان حضرت فاروق رضی اللہ عنہ فرمودہ است علیہ وعلیٰ الہ الصلوٰۃ والسلام ”لوکان بعدی نبی لکان عمر“ یعنی لوازم و کمالاتیکہ در نبوت درکار است ہمہ را عمرؓ دارد اما چوں منصب نبوت بخاتم الرسلؐ ختم شدہ است علیہ وعلیٰ الہ الصلوٰۃ والسلام بدولت منصب نبوۃ مشرف نگشت ۔ “

(مکتوب ۲۴ ص ۲۴ ، دفتر سوم)

ترجمہ۔ ”حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے ۔ “ یعنی وہ تمام لوازمات و کمالات جو نبوت کے لئے درکار ہیں سب حضرت عمرؓ میں موجود ہیں ، لیکن چونکہ منصب نبوت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکا ہے اس لئے وہ منصب نبوت کی دولت سے مشرف نہیں ہوئے ۔ “

حدیث : ۹

عن جبير بن مطعم رضى الله عنه قال سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول أن لى أسماء ، أنا محمد ، وأنا أحمد ، وأنا الماحى الذى يمحو الله بى الكفر ، وأنا الحاشر الذى يحشر الناس على قدمى ، وأنا العاقب ، والعاقب

صفحہ 31

الذى ليس بعده نبى . (متفق عليه) (مشكاة ص ٥١٥)

ترجمہ ۔ ”حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میرے چند نام ہیں ، میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اسمائے گرامی آپ کے خاتم النبیین ہونے کی دلالت کرتے ہیں۔ اول ”الحاشر“ ۔ حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

إشارة إلى أنه ليس بعده نبي ولا شريعة ..... فلما كان لا أمة بعد أمته لأنه لا نبي بعده ، نسب الحشر إليه ، لأنه يقع عقبه .

(فتح الباری ص ٥٥٧ ج ٦)

ترجمہ ۔ ”یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں ...... سو چونکہ آپ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں اور چونکہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ، اس لئے حشر کو آپ کی طرف منسوب کر دیا گیا ، کیونکہ آپ کی تشریف آوری کے بعد حشر ہو گا ۔ “

دوسرا اسم گرامی ”العاقب “ جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے یعنی کہ :

الذي ليس بعده نبي

ترجمہ ۔ ”آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“

صفحہ 32

اس مضمون کی احادیث مندرجہ ذیل حضرات سے بھی مروی ہیں :

ہیں :

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمى لنا نفسه أسماء . فقال أنا محمد وأحمد والمقفى والحاشر ونبى التوبة ونبى الرحمة .

(صحیح مسلم ص ۲۶۱ ج ۲)

ترجمہ ۔ ” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے اپنے چند اسمائے گرامی ذکر فرماتے تھے، چنانچہ آپؐ نے فرمایا میں محمد ہوں، احمد ہوں، مقفی (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں، حاشر ہوں، نبی توبہ ہوں، نبی رحمت ہوں۔ “

قال أنا محمد وأنا أحمد وأنا نبى الرحمة ونبى التوبة وأنا المقفى وأنا الحاشر ونبى الملاحم .

(شمائل ترمذی ص ۲۶، مجمع الزوائد ص ۲۸۴ ج ۸)

ترجمہ ۔ فرمایا میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبی رحمت ہوں، میں نبی توبہ ہوں، میں مقفی (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں، میں حاشر ہوں اور نبی ملاحم (مجاہد نبی) ہوں۔

ہیں :

أنا أحمد وأنا محمد وأنا الحاشر الذى أحشر الناس على قدمى .

(مجمع الزوائد ص ۲۸۴ ج ۸)

صفحہ 33

ترجمہ :۔ ”میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں میں جمع کیا جائے گا ۔ “

۴۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ۔ ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :

أنا أحمد ومحمد والحاشر والمقفى والخاتم .

(مجمع الزوائد ص۲۸۴ ج۸)

ترجمہ :۔ ”میں احمد ہوں ، محمد ہوں ، حاشر ہوں ، مقفی ہوں اور خاتم ہوں ۔ “

۵۔ مرسل مجاہدؒ ۔ ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :

أنا محمد وأحمد، أنا رسول الرحمة، أنا رسول الملحمة، أنا المقفى والحاشر، بعثت بالجهاد ولم أبعث بالزراع .

(طبقات ابن سعد ص۱۰۵ ج۱)

ترجمہ :۔ ”میں محمد ہوں اور احمد ہوں ، میں رسول رحمت ہوں ، میں ایسا رسول ہوں جسے جنگ کا حکم ہوا ہے ، میں مقفی اور حاشر ہوں ، میں جہاد کے ساتھ بھیجا گیا ہوں کسان بنا کر نہیں بھیجا گیا ۔ “

۶۔ حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ ۔ (فتح الباری ص۵۵۵ ج۶)

حدیث :۱۰

متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :

بعثت أنا والساعة كهاتين

صفحہ 34

ترجمہ ۔ ” مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے ۔ “

اس مضمون کی احادیث مندرجہ ذیل حضرات سے مروی ہیں :

(بخاری ص ۹۶۳ ج ۲، مسلم ص ۴۰۶ ج ۲)

(بخاری ص ۹۶۳ ج ۲)

(بخاری ص ۹۶۳ ج ۲)

(ترمذی ص ۴۴ ج ۲)

(مسلم ص ۲۸۴ ج ۱، نسائی ص ۲۳۴ ج ۱)

(جامع الاصول ص ۳۸۵ ج ۱۰)

(مسند احمد ص ۳۲۸ ج ۵)

(مجمع الزوائد ص ۳۱۲ ج ۱۰)

(مسند احمد ص ۱۰۳ ج ۵)

(مجمع الزوائد ص ۳۱۱ ج ۱۰)

(کنز ص ۱۹۵ ج ۱۴، مسند احمد ص ۳۰۹ ج ۴)

ان احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے درمیان اتصال کا ذکر کیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری قرب قیامت کی علامت ہے اور اب قیامت تک آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ امام قرطبی ” تذکرہ “ میں لکھتے ہیں :

وأما قوله بعثت أنا والساعة كهاتين فمعناه أنا النبى الأخير فلا يلينى نبى آخر ، وإنما تلينى القيامة كما تلى السبابة الوسطى وليس بينهما إصبع

صفحہ 35

أخرى.......... وليس بيني وبين القيامة نبي .

( التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة ص ٧١١ )

ترجمہ۔ ”اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی کہ :مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد اور کوئی نبی نہیں ، میرے بعد بس قیامت ہے ، جیسا کہ انگشت شہادت درمیانی انگلی سے متصل واقع ہے ، دونوں کے درمیان اور کوئی انگلی نہیں...... اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔“

علامہ سندھیؒ حاشیہ نسائی میں لکھتے ہیں :

التشبيه في المقارنة بينهما ، أى ليس بينهما إصبع أخرى كما أنه لا نبى بينه صلى الله عليه وسلم وبين الساعة.

( حاشیہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ بر نسائی ص ٢٣٤ ج ١ )

ترجمہ۔ ”تشبیہ دونوں کے درمیان اتصال میں ہے (یعنی دونوں کے باہم ملے ہوئے ہونے میں ہے) یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور قیامت کے درمیان اور کوئی نبی نہیں۔“

اکابر امت کی تصریحات

چونکہ مسئلہ ختم نبوت پر قرآن کریم کی آیات اور احادیث متواترہ وارد ہیں اس لئے یہ عقیدہ امت میں متواتر چلا آرہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں،

صفحہ 36

آپ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا اور جو شخص آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ یہاں چند اکابر کی تصریحات نقل کی جاتی ہیں :

دعوى النبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بالإجماع .

( شرح فقه الأكبر ص٢٠٢ )

ترجمہ ۔ ”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے ۔ “

قد صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بنقل الكواف التى نقلت نبوته وأعلامه وكتابه أنه أخبر أنه لا نبى بعده إلا ما جاءت الأخبار الصحاح من ”نزول عيسى عليه السلام“ الذى بعث إلى بنى إسرائيل وادعى اليهود قتله وصلبه فوجب الإقرار بهذه الجملة وصح أن وجود النبوة بعده عليه السلام باطل لا يكون البتة

( كتاب الفصل ص ٧٧ ج ١ )

ترجمہ ۔ ” جس کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور نشانات اور قرآن مجید کو نقل کیا ہے اسی کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر کی نقل سے حضور علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ثابت ہو چکا ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا۔ البتہ صحیح احادیث میں یہ ضرور آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے ۔ یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے اور یہود نے جن کو قتل کرنے اور صلیب دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ پس اس امر کا اقرار واجب ہے کہ

صفحہ 37

حضور علیہ السلام کے بعد نبوت کا وجود باطل ہے، ہرگز نہیں ہو سکتا۔“

حافظ ابن حزمؒ ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

هذا مع سماعهم قول الله تعالى ولكن رسول الله وخاتم النبيين وقول رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نبى بعدى فكيف يستجيز مسلم أن يثبت بعده عليه السلام نبيا فى الأرض حاشا ما استثناه رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الآثار المسندة الثابتة فى نزول عيسى ابن مريم عليه السلام فى آخر الزمان .

(کتاب الفصل ص١٨ ج٤ مكتبه دار المعرفة شارع بلس بيروت لبنان )

ترجمہ ۔ ”اللہ تعالیٰ کا فرمان ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اور حضور علیہ السلام کا ارشاد ”لانبی بعدی“ سن کر کوئی مسلمان کیسے جائز سمجھ سکتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد زمین میں کسی نبی کی بعثت ثابت کی جائے سوائے نزول عیسیٰؑ کے آخر زمانہ میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث مسندہ سے ثابت ہے۔“

ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

وأما من قال إن الله عز وجل فلان لإنسان بعينه أو أن الله يحل فى جسم من أجسام خلقه . أو أن بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبيًا غير عيسى ابن مريم فإنه لا يختلف اثنان فى تكفيره .

(کتاب الفصل ص٢٤٩-٢٥٠ ج٣)

ترجمہ ۔ ”جس شخص نے کسی انسان کو کہا کہ یہ اللہ ہے یا یہ کہا کہ اللہ اپنی خلقت کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے یا یہ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہے، سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے، پس

صفحہ 38

ایسے شخص کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں۔“

المعتقد“ کے نام سے فارسی میں ہے جس میں عقیدہ ختم نبوت بہت تفصیل سے لکھا ہے اور آخر میں منکرین ختم نبوت کے خارج از اسلام ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔ اس کے چند ضروری اقتباسات درج ذیل ہیں :

وازان جمله آنست که تصدیق وی کند که بعد از وی هیچ نبی نباشد مرسل ونه غیر مرسل، ومراد از خاتم النبیین آنست که نبوت را مهر کرد ونبوت بآمدن او تمام شد یا بمعنی آنکه خدا تعالیٰ پیغمبری را بوی ختم کرد وختم خدای حکم است بد آنچه ازان نخواهد گردانیدن

(معتمد فی المعتقد ص ٩٤)

ترجمہ۔ منجملہ عقائد کے یہ ہے کہ اس بات کی تصدیق کرے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، نہ رسول اور نہ غیر رسول، اور ”خاتم النبیین“ سے مراد یہ ہے کہ آپؐ نے نبوت پر مہر لگادی۔ اور نبوت آپؐ کی تشریف آوری سے حد تمام کو پہنچ گئی یا یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے پیغمبری پر آپؐ کے ذریعہ مہر لگادی اور خدا تعالیٰ کا مہر کرنا اس بات کا حکم ہے کہ آپؐ کے بعد نبی نہیں بھیجے گا۔“

واحادیث بسیار از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درست شدہ است که نبوت بآمدن او تمام شد وبعد از وی دیگری نباشد وازان احادیث یکی را معنی آنست که در امت من نزدیک سی دجال کذاب باشند که هر یک از ایشان دعوی کند که من نبی ام وبعد از من هیچ نبی نباشد

(ص ٩٥)

صفحہ 39

وروایات واحادیث درین باب افزون ازانست که بر توان شمردن . وچون ازین طریق ثابت شد که بعد از وی هیچ نبی نباشد ضرورت رسول هم نباشد زیرا که هیچ رسول نباشد که نبی نباشد چون نبوت نفی کرد ، رسالت بطریق اولی منفی باشد .

(ص:٩٦)

ترجمہ ۔ ” اور بہت سی احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں کہ نبوت آپؐ کی تشریف آوری پر پوری ہوگئی آپؐ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہو گا ۔ ان احادیث میں سے ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ میری امت میں تقریباً تیس جھوٹے دجال ہوں گے ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “

اور اس باب میں روایات و احادیث حد شمار سے زیادہ ہیں ۔

” جب اس طریقہ سے ثابت ہوا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا تو بدیہی بات ہے کہ رسول بھی نہ ہو گا کیوں کہ کوئی رسول ایسا نہیں ہوتا جو نبی نہ ہو ۔ جب نبوت کی نفی کردی تو رسالت کی نفی بدرجہ اولیٰ ہو گئی ۔ “

بحمد الله این مسئله درمیان اسلامیان روشن ترازان است که آنرا بکشف وبیان حاجت افتد اما این مقدار از قرآن از ترس آن یاد کردیم که مبادا زندیقی جاهلی را در شبهتی اندازد .

ومنکر این مسئله کسی تواند بود که اصلا در نبوت او معتقد نه باشد که اگر برسالت او معترف بودی ویرا در هرچه ازان خبر داد صادق دانستی .

وبهمان حجتها که از طریق تواتر رسالت او پیش از ما بدان درست شده است این نیز درست شد که وی باز پسین پیغمبران است در زمان او وتا قیامت بعد از وی هیچ نبی نباشد ، وهر که درین بشک است دران نیز

صفحہ 40

بشك است وآنکس که گوید بعد ازین نبی دیگر بود یا هست یا خواهد بود وآنکس که گوید که امکان دارد که باشد کافر است .

(ص ۹۷)

ترجمہ : بحمد اللہ ! یہ مسئلہ اہل اسلام کے درمیان اس سے زیادہ روشن ہے کہ اس کی تشریح و وضاحت کی ضرورت ہو۔ اتنی وضاحت بھی ہم نے قرآن کریم سے اس اندیشہ کی بناء پر کر دی کہ مبادا کوئی زندیق کسی جاہل کو شبہ میں ڈالے۔

اور عقیدہ ختم نبوت کا منکر وہی شخص ہو سکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر بھی ایمان نہ رکھتا ہو۔ کیوں کہ اگر یہ شخص آپؐ کی رسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں کی آپؐ نے خبر دی ہے ان میں آپؐ کو سچا سمجھتا۔

اور جن دلائل اور جس طریق تواتر سے آپؐ کی رسالت و نبوت ہمارے لئے ثابت ہوئی ہے ٹھیک اسی درجہ کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپؐ آخری نبی ہیں اور آپؐ کے زمانہ میں اور قیامت تک کوئی نبی نہ ہوگا اور جس شخص کو اس ختم نبوت میں شک ہو اسے خود رسالت محمدیؐ میں بھی شک ہوگا، اور جو شخص یہ کہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی ہوا تھا یا اب موجود ہے یا آئندہ کوئی نبی ہوگا، اسی طرح جو شخص یہ کہے کہ آپ کے بعد نبی ہو سکتا ہے وہ کافر ہے۔ “

فمن رحمة الله تعالى بالعباد إرسال محمد صلى الله عليه وسلم إليهم ثم من تشريفه لهم ختم الأنبياء والمرسلين به وإكمال الدين الحنيف له وقد أخبر الله تبارك وتعالى فى كتابه ورسوله صلى الله عليه وسلم فى السنة المتواترة عنه أنه لا نبى بعده ليعلموا أن كل من ادعى هذا المقام بعده فهو كذاب أفاك دجال ضال مضل ولو تخرق وشعبذ وأتى بأنواع السحر

صفحہ 41

والطلاسم والنيرنجيات فكلها محال وضلال عند أولى الألباب كما أجرى الله سبحانه على يد الأسود العنسى باليمن ومسيلمة الكذاب باليمامة من الأحوال الفاسدة والأقوال الباردة ما علم كل ذى لب وفهم وحجى أنهما كاذبان ضالان لعنهما الله تعالى - وكذلك كل مدع لذلك إلى يوم القيامة حتى يختموا بالمسيح الدجال فكل واحد من هؤلاء الكذابين يخلق الله معه من الأمور ما يشهد العلماء والمؤمنون بكذب من جاء بها ۔

(ابن کثیر: تفسیر القرآن العظیم ص ٤٩٤ ج ٣ ، مطبوعہ قاہرہ ١٣٧٥ھ )

ترجمہ ۔ ”پس بندوں پر اللہ کی رحمت ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی طرف بھیجنا ، پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی تعظیم و تکریم میں سے یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام انبیاء اور رسل علیہم السلام کو ختم کیا اور دین حنیف کو آپ کے لئے کامل کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں تاکہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپؐ کے بعد اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا ، افترا پرداز ، دجال ، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے ، اگر چہ شعبدہ بازی کرے ، اور قسم قسم کے جادو ، طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے ، اس لئے کہ یہ سب کا سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی ( مدعی نبوت ) کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمامہ میں احوال فاسدہ اور اقوال باردہ ظاہر کئے ، جن کو دیکھ کر ہر عقل و فہم اور تمیز والا یہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے ۔ اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر ، یہاں تک کہ وہ مسیح دجال پر ختم کر دیئے جائیں گے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسے امور پیدا فرمادے گا کہ علماء اور مسلمان اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں

صفحہ 42

گے۔“

ومن زعم أنها مكتسبة فهو زنديق يجب قتله، لأنه يقتضى كلامه واعتقاده أن لا تنقطع وهو مخالف للنص القرآنى والأحاديث المتواترة بأن نبينا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين عليهم السلام .

(محمد بن أحمد سفارینی ص ٢٥٧ ج ٢ مطبعة المنار مصر ١٣٢٣)

ترجمہ ۔ ”جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوت حاصل ہو سکتی ہے وہ زندیق اور واجب القتل ہے کیوں کہ اس کا کلام و عقیدہ اس بات کو مقتضی ہے کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں، اور یہ بات نص قرآن اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے، جن سے قطعاً ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔“ (علیہم السلام) ۔

من ذهب إلى أن النبوة مكتسبة لا تنقطع أو إلى أن الولى أفضل من النبی فهو زنديق يجب قتله لتكذيب القرآن وخاتم النبيين .

(شرح المواهب اللدنية ص ١٨٨ ج ٦ مطبوعة أزهرية مصر ١٣٢٧هـ )

ترجمہ ۔ ”جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں بلکہ حاصل ہو سکتی ہے یا یہ کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے ایسا شخص زندیق اور واجب القتل ہے، کیونکہ وہ قرآن کریم کی ”آیت خاتم النبیین“ کی تکذیب کرتا ہے۔“

ذیل میں لکھتے ہیں :

وكونه صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين مما نطق به الكتاب وصدعت به

صفحہ 43

السنة وأجمعت عليه الأمة فيكفر مدعى خلافه ويقتل إن أصر .

(روح المعانی ص ٤١ ج ٢٢)

ترجمہ ۔ ” اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے، جن کو سنت نے واشگاف کیا ہے اور جن پر امت کا اجماع ہے۔ پس اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اصرار کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔“

وكذلك من ادعى نبوة أحد مع نبينا صلى الله عليه وسلم أو بعده....... أو من ادعى النبوة لنفسه أو جوز اكتسابها....... وكذلك من ادعى منهم أنه يوحى إليه وإن لم يدع النبوة....... فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبي صلى الله عليه وسلم لأنه أخبر صلى الله عليه وسلم أنه خاتم النبيين لا نبي بعده وأخبر عن الله تعالى أنه خاتم النبيين وأنه أرسل كافة للناس وأجمعت الأمة على حمل هذا الكلام على ظاهره وإن مفهومه المراد به دون تأويل ولا تخصيص فلا شك في كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعاً إجماعاً وسمعاً .

(الشفاء ص ٢٤٦-٢٤٧ ج ٢)

ترجمہ ۔ ” اسی طرح جو شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپؐ کے بعد کسی شخص کے نبی ہونے کا مدعی ہو ...... یا خود اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کے حصول کو اور صفائے قلب کے ذریعہ مرتبہ نبوت تک پہنچنے کو جائز رکھے ...... اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے خواہ صراحۃً نبوت کا دعویٰ نہ کرے تو یہ سب لوگ کافر ہیں، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں

صفحہ 44

اور یہ کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خبر دی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ تمام انسانوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ کلام ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ بغیر کسی تاویل و تخصیص کے اس سے ظاہری مفہوم ہی مراد ہے۔ اس لئے ان تمام لوگوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور ان کا کفر کتاب و سنت اور اجماع کی رو سے قطعی ہے۔" ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

وقد قتل عبد الملك بن مروان الحارث المتنبئ وصلبه وفعل ذلك غير واحد من الخلفاء والملوك بأشباههم وأجمع علماء وقتهم على صواب فعلهم والمخالف في ذلك من كفرهم كافر .

( الشفاء ص ٢٥٧ ج ٢ )

ترجمہ۔ "اور خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مدعی نبوت حارث کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا تھا اور بے شمار خلفاء و سلاطین نے اس قماش کے لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ اور اس دور کے تمام علماء نے بالا جماع ان کے اس فعل کو صحیح اور درست قرار دیا۔ اور جو شخص مدعی نبوت کے کفر میں اس اجماع کا مخالف ہو وہ خود کافر ہے۔"

فقہائے امت کے فتاویٰ

إذا لم يعرف الرجل أن محمداً صلى الله عليه وسلم آخر الأنبياء فليس بمسلم ولو قال أنا رسول الله أو قال بالفارسية من پيغمبرم يريد به من پیغام می برم يكفر .

( فتاوى هندية ص ٢٦٣ ج ٣ مطبوعة بولاق مصر )

صفحہ 45

ترجمہ۔ ”جب کوئی شخص یہ عقیدہ نہ رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں اور اگر کہے کہ میں رسول اللہ ہوں یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔“

۲۔ فتاویٰ بزازیہ

ادعى رجل النبوة، فقال رجل هات بالمعجزة قيل يكفر وقيل لا.

(الفتاویٰ بزازية بر حاشية فتاویٰ عالمگيرى ص ۳۲۸ ج ٦

مطبوعة بولاق مصر)

ترجمہ۔ ”ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا دوسرے نے اس سے کہا کہ اپنا معجزہ لاؤ تو یہ معجزہ طلب کرنے والا بقول بعض کے کافر ہو گیا اور بعض نے کہا نہیں۔“

۳۔ البحر الرائق شرح کنز الدقائق

ويكفر بقوله إن كان ما قال الأنبياء حقًا أو صدقًا وبقوله أنا رسول الله . وبطلبه المعجزة حين ادعى رجل الرسالة وقيل إذا أراد إظهار عجزه لا يكفر.

(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ص ١٣٠ ج ٥ مطبوعة بيروت)

ترجمہ۔ ”اگر کوئی کلمہ شک کے ساتھ کہے کہ ”اگر انبیاء کا قول صحیح اور سچ ہو“ تو کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو کافر ہو جاتا ہے اور جو شخص مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہو جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اگر اس کا عجز ظاہر کرنے کے لئے معجزہ طلب کرے تو کافر نہیں ہوتا۔“

۴۔ جامع الفصولین

قال أنا رسول الله أو قال بالفارسية من پيغامبرم يريد به پيغام مى برم

صفحہ 46

كفر. ولو أنه حين قال هذه الكلمة طلب منه غيره معجزة قيل كفر الطالب قال المتأخرون لو كان غرض الطالب تعجيزه لا يكفر .

(جامع الفصولين ص ٣٠٣ ج ٢ مطبعة أزهر ١٣٠٠هـ )

ترجمہ ۔ ”کسی شخص نے کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا فارسی زبان میں کہا کہ میں پیغمبر ہوں مراد اس کی یہ تھی کہ میں پیغام لے جاتا ہوں ، کافر ہو جائے گا اور جب اس نے یہ بات کہی تو دوسرے آدمی نے اس سے معجزہ طلب کیا تو کہا گیا ہے کہ معجزہ طلب کرنے والا بھی کافر ہو جائے گا۔ اور متاخرین نے کہا کہ اگر اس کا مقصد اس کو عاجز کرنا تھا تو کافر نہیں ہو گا۔“

(أو) نفى (الرسل) بأن قال لم يرسلهم الله أو نفى نبوة نبى أو ادعى نبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم أو صدق مدعيها أو قال النبى صلى الله عليه وسلم أسود أو أمرد أو غير قرشى أو قال النبوة مكتسبة أو تنال رتبتها بصفاء القلوب أو أوحى إلى ولم يدع نبوة (أو كذب رسولا) أو نبيًّا أو سبه أو استخف به أو باسمه أو باسم الله . . . . . . (كفر) .

(مغنی المحتاج ص ١٣٥ ج ٤ )

ترجمہ ۔ ”یا کوئی شخص رسولوں کی نفی کرے اور یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہیں بھیجا یا کسی خاص نبی کی نبوت کا انکار کرے یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے ، یا یہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ ) کالے تھے یا بے ریش تھے ، یا قریشی نہیں تھے ، یا یہ کہے کہ نبوت حاصل ہو سکتی ہے ، یا قلب کی صفائی کے ذریعہ نبوت کے رتبے کو پہنچ سکتے ہیں ، یا نبوت کا

صفحہ 47

دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے ، یا کسی رسول و نبی کو جھوٹا کہے یا نبی کو برا بھلا کہے یا کسی نبی کی تحقیر کرے ، یا اللہ تعالیٰ کے نام کی تحقیر کرے تو ان سب صورتوں میں کافر ہو جائے گا ۔

ومن ادعى النبوة أو صدق من ادعاها فقد ارتد لأن مسيلمة لما ادعى النبوة فصدقه قومه صاروا بذلك مرتدين وكذلك طليحة الأسدى ومصدقوه--- وقال النبى صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابون كلهم يزعم أنّه رسول الله . ومن سبّ الله تعالى كفر سواءً كان مازحاً أو جاداً وكذلك من استهزأ بالله تعالى أو بآياته أو برسله أو كتبه - قال الله تعالى : ﴿ولئن سألتهم ليقولن أنما كنا نخوض ونلعب قل أ بالله وآياته ورسوله كنتم تستهزئون لا تعتذروا قد كفرتم بعد إيمانكم﴾ . وينبغى أن لا يكتفى من الهازئ بذلك مجرد الإسلام حتى يؤدب أدباً يزجره عن ذلك فإنه إذا لم يكتف ممن سب رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتوبة فممن سب الله تعالى أولى .

(مغنی ابن قدامة ص۱۱۲ ج۱۰)

ترجمہ :۔ ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے وہ مرتد ہے کیونکہ مسیلمہ نے جب نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کی قوم نے اس کی تصدیق کی تو وہ بھی اس کی وجہ سے مرتد قرار پائی اسی طرح طلیحہ اسدی اور اس کے تصدیق کنندگان بھی ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس جھوٹے نکلیں گے ، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ رسول اللہ ہے۔“

صفحہ 48

"جو شخص اللہ تعالیٰ کو (نعوذ باللہ) گالی دے وہ کافر ہے، خواہ بھول کر دے، یا بطور مزاح، یا واقعی سچ مچ ۔ اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کا، یا اس کی آیات کا، یا اس کے رسولوں کا، یا اس کی کتابوں کا مذاق اڑائے وہ بھی کافر ہے۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ "اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے کہ ہم تو بس یونہی دل لگی اور ہنسی کھیل کر رہے تھے۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ سے، اس کی آیات اور اس کے رسول سے ہنسی کر رہے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ہو۔" اور چاہئے کہ ایسے ہنسی کرنے والے کے صرف اسلام لانے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اس کو عقل سکھانے کے لئے کچھ سزا بھی دی جائے تاکہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرے کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ناشائستہ الفاظ کہنے والے کی توبہ پر اکتفا نہیں کیا جاتا تو جو شخص اللہ تعالیٰ کے حق میں گستاخانہ الفاظ کہے وہ بدرجہ اولیٰ تعزیر کا مستحق ہے۔"

بلفظ وہی عبارت ہے جو مغنی ابن قدامہ سے اوپر نقل کی گئی ہے۔

(شرح کبیر بر حاشیہ مغنی ص ۱۱۱ ج ۱۰)

خلاصہ بحث

گزشتہ بالا سطور سے واضح ہو چکا ہے کہ قرآن کریم، احادیث متواترہ، فقہائے امت کے فتاویٰ اور اجماع امت کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلا استثناء تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے علی الاطلاق خاتم ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص کسی معنی و مفہوم میں بھی نبی نہیں کہلا سکتا، نہ منصب نبوت پر فائز ہو سکتا ہے، اور جو شخص اس کا مدعی ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

صفحہ 49

اور یہ خاتمیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اعلیٰ ترین شرف و منزلت اور عظیم الشان اعزاز و اکرام ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا نبی بن کر آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین ہے، کیونکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد فرض کی جائے تو سوال ہو گا کہ اس نئے نبی کو کچھ نئے علوم بھی دیئے گئے یا نہیں؟ اگر کہا جائے کہ اس نئے نبی کو نئے علوم نہیں دیئے گئے بلکہ وہی علوم اس پر دوبارہ نازل کئے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے گئے تھے تو قرآن مجید اور علوم نبویؐ کے موجود ہوتے ہوئے دوبارہ انہی علوم کو نازل کرنا کار عبث ہو گا اور حق تعالیٰ شانہ عبث سے منزہ ہیں ...... اور اگر یہ کہا جائے کہ بعد کے نبی کو ایسے علوم دیئے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیئے گئے تھے تو اس سے ...... نعوذ باللہ ...... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم کا ناقص ہونا، قرآن کریم کا تمام دینی امور کے لئے واضح بیان (تبیانا لکل شی) نہ ہونا اور دین اسلام کا کامل نہ ہونا لازم آئے گا اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی، قرآن کریم کی اور دین اسلام کی سخت توہین ہے۔

علاوہ ازیں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد فرض کی جائے تو ظاہر ہے کہ اس پر ایمان لانا لازم ہو گا اور اس کا انکار کفر ہو گا ورنہ نبوت کے کیا معنی؟ اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسرے انداز میں توہین و تنقیص ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپؐ کے پورے دین پر ایمان رکھنے کے باوجود کافر رہے، اور ہمیشہ کے لئے دوزخ کا مستحق ہو جس کے معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا بھی (نعوذ باللہ) کفر سے بچانے اور دوزخ سے نجات دلانے کے لئے کافی نہیں۔

حق تعالیٰ شانہ تمام مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 50
صفحہ 51

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ

إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ

جب آئیں تیرے پاس منافق کہیں ہم قائل ہیں تو رسول ہے اللہ کا، اور اللہ جانتا ہے کہ تو اللہ

کا رسول ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے یہ منافق جھوٹے ہیں

قادیانیوں کی طرف سے

کلمہ طیبہ کی توہین

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 52

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ

قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین

۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم تسلیم کر لیا گیا۔ اور ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعے ان کے مسلمان کہلانے اور اسلامی شعائر کو استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ قادیانیوں نے قانون کا مذاق اڑانے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے اسلام کے سب سے بڑے شعار (کلمہ طیبہ) پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا۔ سینوں پر، کاروں پر، دیواروں پر، مکانوں پر دھڑادھڑ کلمہ طیبہ کے بیج اور بورڈ لگانے لگے۔ راقم الحروف نے قادیانیوں کی اس سازش کی اصلیت سے پردہ اٹھانے کے لئے مارچ ۱۹۸۵ء میں رسالہ ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ لکھا جو آپ کے ہاتھوں میں ہے اور اس میں قادیانیوں کے مستند حوالوں سے بتایا گیا کہ قادیانی عقیدے کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں مقدر تھیں۔ پہلی بعثت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ہوئی۔ اور تیرہویں صدی تک اس کا دور رہا۔ ۱۳۰۱ھ سے محمد رسول اللہ کی دوسری بعثت کا دوسرا دور شروع ہوا جو مرزا قادیانی کی بروزی شکل میں ہوئی۔ اس لئے مرزا قادیانی بروزی طور پر (نعوذ باللہ) بعینہ محمد رسول اللہ ہے۔ اور اسے ”محمد رسول اللہ“ کے تمام اوصاف و کمالات، آپ کی نبوت اور نبوت کے تمام حقوق حاصل ہیں، اس لئے قادیانی کلمہ کا مفہوم، اسلامی کلمہ سے مختلف ہے۔ کیونکہ محمد رسول اللہ کے قادیانی مفہوم میں مرزا بھی شامل ہے بلکہ وہ خود بروزی طور پر ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی

صفحہ 53

تشریف آوری کے بعد کوئی شخص حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ ( علی نبینا و علیهما الصلوٰۃ والسلام ) کا کلمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان کا کلمہ اور دین منسوخ ہو چکا۔ اسی طرح قادیانی عقیدہ کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ بھی منسوخ ہے اور اس کلمہ کے پڑھنے والے کافر ہیں۔ جب تک کہ ”محمد رسول اللہ“ کے قادیانی ایڈیشن پر ایمان لا کر مرزا غلام احمد قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ نہ مانیں۔ مسلمانوں کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ ( علیهما السلام ) کی پیروی موجب نجات نہیں اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں نجات نہیں کیونکہ مرزا قادیانی کو مانے بغیر دین اسلام مردہ ہے۔ لعنتی ہے۔ قابل نفرت ہے۔

اس چھوٹے سے رسالے سے نہ صرف قادیانیوں کی کلمہ مہم دم توڑ گئی اور قادیانیت کے اصل رخ سے پردہ اٹھ گیا بلکہ اس کا بھی صحیح اندازہ ہو گیا کہ قادیانیت اسلام کے متوازی ایک الگ دین ہے اور یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اسلام اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پیش کردہ ”دین مرزائیت“ کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو اسلام اور یہودیت کے درمیان یا اسلام اور عیسائیت کے درمیان ہے۔ حق تعالیٰ شانہ تمام گمراہ کن فتنوں سے امت اسلامیہ کی حفاظت فرمائیں۔ آمین۔

وللہ الحمد اولا و آخرا

محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۱۷ / ۴ / ۸۹ھ

صفحہ 54

قادیانی محمد رسول اللہ

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) محمد رسول اللہ ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو :

”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم۔ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۳۔ روحانی خزائن ص ۲۰۷ ج ۱۸ مطبوعہ ربوہ)

محمد رسول اللہ کی دو بعثتیں

مرزا کے محمد رسول اللہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ دنیا میں آنا مقدر تھا، پہلی بار آپ مکہ مکرمہ میں محمدؐ کی شکل میں آئے اور دوسری بار قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں آئے یعنی مرزا کی بروزی شکل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت مع اپنے تمام کمالات نبوت کے دوبارہ جلوہ گر ہوئی ہے۔

چنانچہ ملاحظہ ہو :

”اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی مسیحی میں) ایسا ہی مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری) کے آخر میں مبعوث ہوئے......“

(روحانی خزائن ص ۲۷۰ ج ۱۶)

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا، جو مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزا قادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔“

(روحانی خزائن ص ۲۴۹ ج ۱۷)

صفحہ 55

مرزا بعینہ محمد رسول اللہ

چونکہ قادیانی عقیدہ کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کمالات کے ساتھ مرزا کی بروزی شکل میں قادیان میں دوبارہ مبعوث ہوئے ہیں، اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود (نعوذ باللہ) بعینہ محمد رسول اللہ کا وجود ہے۔

چنانچہ ملاحظہ ہو :

”اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا، اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا، یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا، پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا، در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی آخرین منھم کے لفظ کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفےٰ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۱ روحانی خزائن ۲۵۸ ج ۱۶)

”اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی۔ حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں، جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ صار وجودی وجودہ۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۱ روحانی خزائن ص ۲۵۸ ج ۱۶)

اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا جاوے گا، جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں، یعنی مسیح موعود نبی کریمؐ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا...... تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۰۴، ۱۰۵ مولفہ مرزا بشیر احمد مندرجہ ریویو آف ریلیجنز

قادیان، مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

صفحہ 56
”صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک کہ جس پر وہ بدر الدجی بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر کہ جب مصطفیٰ میرزا بن کے آیا“

(اخبار الفضل قادیان - ۲۸ مئی ۱۹۲۸ء)

اے میرے پیارے مری جان رسول مدنی تیرے صدقے تیرے قربان رسول مدنی
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول مدنی“

(اخبار الفضل قادیان - ۱۶ اکتوبر ۱۹۲۲ء)

محمد رسول اللہ کے تمام کمالات مرزا غلام احمد قادیانی میں

جب یہ عقیدہ ٹھہرا کہ مرزا کا وجود بعینہ محمد رسول اللہ کا وجود ہے اور یہ کہ مرزا کا روپ دھار کر خود محمد رسول اللہ ہی دوبارہ قادیاں میں آئے ہیں تو یہ عقیدہ بھی ضروری ہوا کہ محمد رسول اللہ کے تمام کمالات و امتیازات بھی مرزا کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔

چنانچہ ملاحظہ ہو :

”جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا؟“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱۰ روحانی خزائن ص ۲۱۲ ج ۱۸)

”خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہے یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیح موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں کوئی دوئی یا مغایرت نہیں رکھتے، بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں۔“

صفحہ 57

(اخبار الفضل قادیان جلد نمبر ۳ شمارہ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۱۷۰ ایڈیشن نہم ۔ لاہور)

”گزشتہ مضمون مندرجہ الفضل مورخہ ۱۶ ستمبر میں، میں نے بفضل الٰہی اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) باعتبار نام، کام، آمد، مقام، مرتبہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہیں، یا یوں کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ (دنیا کے) پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے تھے، ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیح موعود کی بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں۔ “ (الفضل مورخہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۰۹ ایڈیشن نہم، لاہور)

مرزا خاتم النبیین

جب قادیانی عقیدہ کے مطابق محمد رسول اللہ کی قادیانی بعثت، جو مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں ہوئی، بعینہ محمد رسول اللہ کی بعثت ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی بروزی طور پر خاتم النبیین بھی ہوا۔

ملاحظہ ہو :

”میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت و اخرین منہم لما یلحقوا بہم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ “

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱۰ روحانی خزائن ص ۲۱۲ ج ۱۸)

”مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ “

(کشتی نوح ص ۵۶ روحانی خزائن ص ۶۱ ج ۱۹)

صفحہ 58

مرزا افضل الرسل

”آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“

(مرزا کا الہام۔ مندرجہ تذکرہ طبع دوم ص ۳۴۶)

”کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمؐ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے، اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے...... پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمؐ کے ظل ہیں۔“

(ملفوظات جلد سوم ص ۲۷۰۔ مطبوعہ ربوہ)

فخر اولین و آخرین

روزنامہ الفضل قادیان مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے :

”اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ (یعنی مسلمانوں کا اسلام جھوٹا ہے۔ نعوذ باللہ، ناقل) جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) میں ہو کر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں، اسی کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے، جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمتہ للعالمین بن کر آیا تھا۔“

(الفضل قادیان۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۷ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۱۱ ص ۲۱۲ طبع

نہم۔ لاہور)

صفحہ 59

پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر

اسی پر اکتفا نہیں، بلکہ قادیانی عقیدہ میں محمد رسول اللہ کا قادیانی ظہور (جو مرزا قادیانی کے روپ میں ہوا ہے) مکی ظہور سے اعلیٰ و افضل ہے۔

ملاحظہ ہو :

”اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۱ روحانی خزائن ص ۱۷۱ ج ۱۶)

خطبہ الہامیہ

مندرجہ بالا اقتباس مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ”خطبہ الہامیہ“ کا ہے۔ اور ”خطبہ الہامیہ“ کی عظمت قادیانیوں کی نظر میں کیا ہے؟ اس کا اندازہ مرزا بشیر احمد کی درج ذیل عبارت سے کیا جاسکتا ہے :

”اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خطبہ الہامیہ وہ خطبہ ہے جو خدا کی طرف سے ایک معجزہ کے رنگ پر مسیح موعود کو عطا ہوا جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے پس اس کتاب کو عام کتابوں کی طرح نہ سمجھنا چاہئے کیونکہ اس کا ہر ایک فقرہ الہامی شان رکھتا ہے۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۷۱ پر حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں : ”جو شخص مجھ میں اور مصطفےٰ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“ اسی طرح صفحہ ۱۸۱ میں لکھا ہے کہ جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق نہیں رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار

صفحہ 60

سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ ” ان حوالوں سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح موعود کوئی معمولی شان کا انسان نہیں ہے بلکہ امت محمدیہ میں اپنے درجہ کے لحاظ سے سب پر (بلکہ خود محمد رسول اللہ کی پہلی بعثت پر بھی۔ ناقل) فوقیت لے گیا ہے۔ “

(کلمتہ الفصل ص ۱۳۰ / ۱۳۱ مندرجہ ریویو آف ریلیجنز مارچ اپریل

۱۹۱۵ء)

”امام اپنا عزیزو اس جہاں میں غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر قادیاں ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۴۶)

ہلال اور بدر کی نسبت

اور قادیانی ظہور کی افضلیت کو اس عنوان سے بھی بیان کیا گیا کہ مکی بعثت کے زمانہ میں اسلام ہلال کی مانند تھا جس میں کوئی روشنی نہیں ہوتی اور قادیانی بعثت کے زمانے میں اسلام بدر کامل کی طرح روشن اور منور ہو گیا۔

چنانچہ ملاحظہ ہو :

”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا، اور مقدر تھا کہ انجام کار آخری زمانہ میں بدر (چودھویں کا چاند) ہو جائے، خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار

صفحہ 61

کرے جو شمار کے رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی)۔"

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۳ روحانی خزائن ص ۲۷۵ ج ۱۶)

"آنحضرت کے بعثت اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا۔ لیکن ان کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیت اللہ سے استہزا ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی بعثت اول و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔"

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء

بحوالہ قادیانی مذہب ص ۴۶۲)

بڑی فتح مبین

اور اظہار افضلیت کے لئے ایک عنوان یہ اختیار کیا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ کی فتح مبین، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو :

"اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانے میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی جو کہ پہلے غلبہ سے بہت زیادہ بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وقت ہو۔"

(خطبہ الہامیہ ص ۱۹۳-۱۹۴ روحانی خزائن ص ۲۸۸ ج ۱۶)

روحانی کمالات کی ابتدا اور انتہا

یہ بھی کہا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کا زمانہ روحانی ترقیات کا پہلا قدم تھا اور قادیانی ظہور کا زمانہ روحانی ترقیات کی آخری معراج ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو :

"ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں

صفحہ 62

(یعنی مکی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۷۷، روحانی خزائن ص ۲۷۹ ج ۱۶)

ذہنی ارتقا

یہ بھی کہا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ذہنی ارتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تھا چنانچہ ملاحظہ ہو: ”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ذہنی ارتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔۔۔۔۔۔ اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے، نبی کریم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کا پورا ظہور ہوا۔“

(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۶۶ اشاعت

نہم مطبوعہ لاہور)

محمد عربی کا کلمہ پڑھنے والے کافر

جب قادیانی عقیدہ یہ ٹھہرا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی شان میں (نعوذ باللہ) محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے تو یہ بھی ضروری ہوا محمد عربی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے مسلمان نہ ہوں، گویا مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر یہ کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ باطل ٹھہرے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ”اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے

صفحہ 63

بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۴۶۔ ۱۴۷ مندرجہ ریویو آف ریلیجنز۔

مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ ؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ ؑ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ ؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود ؑ کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۱۰ مرزا بشیر احمد۔ ایم اے ۔ )

”تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔“

(محمد علی لاہوری قادیانی۔ منقول از مباحثہ راولپنڈی ص ۲۴۰)

”کل مسلمان، جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ۳۵ از مرزا محمود احمد قادیانی)

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ۹۰ از مرزا محمود احمد قادیانی)

قادیانی کلمہ

اور یہ بھی ضروری ہوا کہ قادیانی کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے مفہوم

صفحہ 64

میں مرزا غلام احمد قادیانی کو داخل کیا جائے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو :

”ہاں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے آنے سے (کلمہ کے مفہوم میں) ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت سے پہلے تو ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے (کیونکہ زیادہ شان والا نبی مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مفہوم میں داخل ہو گیا۔ ہاں مرزا کے بغیر یہ کلمہ مہمل، بے کار اور باطل رہا، اسی وجہ سے مرزا کے بغیر اس کلمہ کو پڑھنے والے کافر، بلکہ پکے کافر ٹھہرے ــــــ ناقل) غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی آمد نے ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸ مولفہ مرزا بشیر احمد قادیانی)

الغرض قادیانی مذہب میں کلمہ کے الفاظ تو وہی باقی رکھے گئے ہیں جو الفاظ مسلمانوں کے کلمہ کے ہیں مگر قادیانی عقیدے نے کلمہ کا مفہوم تبدیل کر لیا، مسلمانوں کے کلمہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے مراد محمد عربی ہیں، صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور قادیانی کلمہ میں محمد رسول اللہ سے مراد بعثت ثانیہ کا بروزی مظہر مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو :

”علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ

صفحہ 65

وہ خود فرماتا ہے : ”صار وجودی وجودہ“ نیز ”من فرق بینی و بین المصطفے فما عرفنی ومارائی“ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔۔۔۔۔۔ فتدبروا۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)

نبوت محمدیہ منسوخ

مندرجہ بالا حوالوں پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ قادیانی، مرزا غلام احمد کو صرف نبی اور رسول ہی نہیں سمجھتے، بلکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ کا ظہور اکمل سمجھ کر اس کا کلمہ پڑھتے ہیں، اور چونکہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے ان کے نزدیک کافر ہیں اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ منسوخ ہے۔

اگر بغور جائزہ لیا جائے تو قادیانیوں کے نزدیک ...... بہائیوں کی طرح ...... محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا دور بھی ختم ہو چکا ہے اور اب وہ عملاً منسوخ ہو چکی ہے کیونکہ قادیانی عقیدے کے مطابق اب صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی ہی مدار نجات ہے۔

چنانچہ ملاحظہ ہو : ”ان کو کہہ ! کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔“ (مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام حقیقت الوحی ص ۸۲ مطبوعہ لاہور ۱۹۵۲ء روحانی خزائن ص ۸۵ ج ۲۲ نیز دیکھئے تذکرہ طبع دوم صفحات : ۴۶۔ ۶۲۔ ۸۱۔ ۱۸۲۔ ۲۰۵۔ ۲۷۷۔ ۳۶۰۔ ۳۶۳۔ ۳۷۸۔ ۳۹۵۔ ۴۹۵۔

صفحہ 66

(۶۳۴ ۔ ۶۳۰)

"خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام ابراہیم رکھا جیسا کہ فرمایا : "سلام علی ابراہیم صافیناہ و نجیناہ من الغم واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی ...... یعنی سلام ہے ابراہیم پر (یعنی اس عاجز پر) ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دے دی اور تم جو پیروی کرتے ہو تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ۔"

(اربعین نمبر ۳ ص ۳۷ روحانی خزائن ص ۴۲۰ ج ۱۷)

"اور یہ بھی فرمایا کہ واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی۔ یہ قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔"

(اربعین نمبر ۳ ص ۳۸ روحانی خزائن ص ۴۲۰، ۴۲۱ ج ۱۷)

"ایسا ہی یہ آیت : واتخذو من مقام ابراہیم مصلی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا۔"

(اربعین نمبر ۳ ص ۳۲ مطبوعہ قادیان روحانی خزائن ص ۴۲۱ ج ۱۷)

"چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ...... اب دیکھو ! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔"

(اربعین نمبر ۴ ص ۷ روحانی خزائن ص ۴۳۵ حاشیہ ج ۱۷)

جب مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت، تعلیم، وحی اور تجدید شدہ شریعت کی پیروی

صفحہ 67

تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہری تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اب صرف محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت و تعلیم اور آپ کی وحی مدار نجات نہیں۔ گویا مرزا قادیانی کے آنے سے یہ سب کچھ بے کار، معطل اور منسوخ ہو گیا۔

مردہ اسلام

یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر دین اسلام مردہ ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

"غالباً ۱۹۰۶ء میں خواجہ کمال الدین صاحب کی تحریک سے اخبار وطن کے ایڈیٹر کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب نے ایک سمجھوتا کیا کہ ریویو آف ریلیجنز میں سلسلہ کے متعلق کوئی مضمون نہ ہو، صرف عام اسلامی مضامین ہوں اور وطن کے ایڈیٹر رسالہ ریویو کی امداد کا پراپیگنڈا اپنے اخبار میں کریں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس تجویز کو ناپسند فرمایا اور جماعت میں بھی عام طور پر اس کی بہت مخالفت کی گئی۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا مجھے چھوڑ کر تم مردہ اسلام دنیا کے سامنے پیش کرو گے؟"

(ذکر حبیب، مؤلفہ مفتی محمد صادق قادیانی ص ۱۴۶ طبع اول قادیان)

"ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو (جیسا کہ دین اسلام ۔ ناقل) وہ مردہ ہے، یہودیوں، عیسائیوں ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا، اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں، آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے۔"

(ملفوظات مرزا جلد ۱۰ ص ۱۲۷ مطبوعہ ربوہ)

"حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تجویز پر ۱۹۰۵ء میں ایڈیٹر اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے

صفحہ 68

ریویو آف ریلیجنز کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں بشرطیکہ اس میں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام نہ ہو مگر حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے اس تجویز کو اس بنا پر رد کر دیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کرو گے؟ اس پر ایڈیٹر صاحب وطن نے اس چندے کے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔“

(اخبار الفضل قادیان جلد نمبر ۶ شمارہ نمبر ۳۲ ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۸ء

بحوالہ قادیانی مذہب ص ۴۵۸)

لعنتی، شیطان اور قابل نفرت

قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے بغیر دین اسلام محض قصوں کہانیوں کا مجموعہ ، لعنتی، شیطانی اور قابل نفرت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

”وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہیہ (یعنی نبوت۔ ناقل) سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر (یعنی شریعت محمدیہ پر جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ ناقل) انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔...... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۸ و ۱۳۹ روحانی خزائن ص ۳۰۶ ج

۲۱)

”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست

صفحہ 69

خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا ...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہو گا (دریں چہ شک؟ ناقل) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۳ روحانی خزائن ص ۳۵۴ ج ۲۱)

یہ ہے قادیانی مذہب کی حقیقت کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانو تو ٹھیک، ورنہ مذہب اسلام کو مردہ، لعنتی، شیطانی اور قابل نفرت کی گالی دی جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت سے بھی انکار کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو عقل و ایمان سے محروم نہ فرمائیں۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۱۴۰۵/۵/۳ھ

قادیانی گستاخیاں

حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ معراج جس وجود سے ہوا تھا وہ یہ ہگنے موتنے والا وجود تو نہ تھا۔“

(ملفوظات احمدیہ جلد نہم ص ۴۵۹)

عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی کا مکتوب الفضل قادیان ۲۲ فروری

۱۹۲۴ء)

ہوتے تھے کسی کو بہت، کسی کو کم، مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات

صفحہ 70

کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“

(کلمۃ الفضل۔ ۱۱۳)

سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“ (نعوذ باللہ)

(اخبار الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)

عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ۳ ص ۲۱ تا ۲۴)

لئے افیون مفید ہوتی ہے پس علاج کے لئے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا دوسرا افیونی۔“

(نسیم دعوت ص ۶۹ روحانی خزائن ص ۴۳۴، ۴۳۵ ج ۱۹)

میں موجود ہے اس (مرزا غلام احمد قادیانی) کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“ (ملفوظات احمدیہ جلد دوم ص ۱۴۲ طبع

ربوہ۔)

مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔“

صفحہ 71

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ۹ روحانی خزائن ص ۲۱۳ حاشیہ ج ۱۸)

(۹) ”قادیان کو تمام دنیا کی بستیوں کی ام (ماں) قرار دیا ہے ...... جو بار بار یہاں (قادیاں) نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے پس جو قادیاں سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں؟

(حقیقت الرؤیا ص ۴۶)

صفحہ 72
صفحہ 73

عدالت عظمیٰ کی خدمت میں

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 74

عدالت عظمیٰ کی خدمت میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی :

پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں ۳۰ جنوری ۹۳ء سے ۳ فروری ۹۳ء تک امتناع قادیانیت آرڈی نینس مجریہ ۲۵ اپریل ۸۴ء کے خلاف قادیانیوں کی دائر کردہ اپیلیں زیر سماعت رہیں، قادیانیوں نے عدالت عظمیٰ میں یہ موقف اختیار کیا کہ زیر بحث قانون، آئین پاکستان میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اس لئے اس کو کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت نے مسلسل پانچ دن فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ تاہم دونوں طرف کے وکلا اور علماء کرام سے کہا کہ وہ چاہیں تو اپنے مزید دلائل تحریری طور پر عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔

جناب عالی! ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی جانب سے درج ذیل حقائق عدالت عظمیٰ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے درخواست کرتا ہوں کہ اس نازک اور حساس مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا گہری نظر سے مطالعہ فرما کر ”قانون امتناع قادیانیت“ کو بحال رکھا جائے، جیسا کہ وفاقی شرعی عدالت نے اس کو بحال رکھا ہے۔

ملک کے دستور کے تحت قادیانی غیر مسلم قرار دیئے جاچکے ہیں۔ اس فیصلے کے باوجود جب قادیانی کھلے بندوں شعائر اللہ اور شعائر اسلام اپنا کر خود کو مسلمان ظاہر کرتے رہے تو قانون امتناع قادیانیت کا نفاذ ہوا اور قادیانیوں کی اس دانستہ منصوبہ بندی کے تحت جاری خلاف قانون حرکات پر قانونی پکڑ شروع ہوئی۔

وفاقی شرعی عدالت‘ لاہور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ بنیادی حقوق کو رنگ آمیزی سے آڑ بناتے ہوئے قادیانیوں نے یہ معاملہ فنی نکات کا معاملہ بنا کر اس معزز عدالت میں پیش کیا اور اپیل دائر کرنے کی خصوصی اجازت ملنے کے بعد معزز عدالت کے فیصلے کو آڑ بنا کر ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت تمام مقدمات آئینی درخواستوں وغیرہ کی کارروائی رکوادی۔ اس طرح

صفحہ 75

۱۹۸۴ء سے اس قانون کو عملاً "غیر مؤثر" بنا کر رکھ دیا۔ فاضل عدالت نے کرمنل پٹیشن ۲۷۸۔ ایل برائے سال ۱۹۹۲ء میں ضمانت کی منظوری کا جو فیصلہ دیا اسے بھی نہ صرف اخبارات میں غلط انداز میں چھپوا کر سپریم کورٹ کے حوالے سے یہ تاثر دیا کہ سپریم کورٹ نے قادیانیوں کو اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ (اخبارات کے تراشے منسلک ہیں) بلکہ اس فیصلہ کی بنیاد پر سندھ ہائی کورٹ کراچی میں آئینی درخواست نمبر ۳۶۷۴ سال ۹۳ سماعت کے لئے منظور کرائی اور ماتحت عدالت کی کارروائی رکوادی۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ شعائر اللہ اور شعائر اسلام کا قرآن اور سنت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔

شعائر اللہ اور شعائر اسلام سے کیا مراد ہے؟

جناب عالی! زیر بحث قانون میں جن چیزوں کا استعمال قادیانیوں کے لئے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ان کا تعلق ”اسلامی شعائر“ سے ہے۔ اس لئے سب سے پہلے ”اسلامی شعائر“ کا مفہوم متعین کر لینا چاہئے۔

شعائر کا لفظ شعیرہ یا شعارہ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز کی وہ مخصوص علامت جس سے اس چیز کی پہچان ہو، لہٰذا ”شعائر اسلام“ سے مراد ہیں اسلام کی وہ مخصوص علامات جن سے کسی شخص کا اسلام معلوم ہوتا ہے، اور جو شخص ان علامات کا اظہار کرے اہل اسلام اسے اسلامی برادری کا ایک فرد سمجھتے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا برتاؤ کرنے کے پابند ہیں۔ مثلاً اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا، اس کی نماز جنازہ ادا کرنا، اس کے ذبیحہ کا حلال ہونا، مسلمانوں کے ساتھ اس کے نکاح کا جائز ہونا، وغیرہ، وغیرہ۔

اس مدعا کے ثبوت کے لئے اسلامی لٹریچر کے بہت سے حوالے پیش کئے جاسکتے ہیں، مگر میں عدالت کا وقت بچانے کے لئے صرف چار حوالوں پر اکتفا کرتا ہوں، ایک انگریزی کا، اور تین اردو کے۔

الف: جے۔ جی۔ ھوا ایس۔ جے کی عربی، انگریزی لغت ”الفرائد“ میں ”شعار“ کے معنی یہ لکھے ہیں۔

شِعَار ج شُعُر وَأَشْعِرَة Under-garment. Distinctive sign. Coat of arms. Cry of war. Horse-cloth.

صفحہ 76

(صفحہ ۳۶۷)

ب : جناب مفتی محمد شفیع، سابق مفتی اعظم پاکستان تفسیر معارف القرآن میں تحریر فرماتے ہیں: "لفظ شعائر جس کا ترجمہ نشانیوں سے کیا گیا ہے۔ شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں علامت، اسی لئے شعائر اور شعیرہ اس محسوس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کی علامت ہو۔ شعائر اسلام ان اعمال وافعال کو کہا جائے گا جو عرفاً مسلمان ہونے کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور محسوس و مشاہد ہیں جیسے نماز۔ اذان۔ حج۔ ختنہ اور سنت کے موافق داڑھی وغیرہ۔"

(تفسیر معارف القرآن ...... صفحہ ۱۸، جلد ۳)

ج : جناب مولانا ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں : " ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرز فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا "شعار" کہلائے گی، کیونکہ وہ اس کے لئے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ سرکاری جھنڈے، فوج اور پولیس وغیرہ کے یونیفارم، سکے، نوٹ اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں اور وہ اپنے محکوموں سے، بلکہ جن جن پر ان کا زور چلے، سب سے ان کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گرجا اور قربان گاہ اور صلیب مسیحیت کے شعائر ہیں۔ چوٹی اور زنار اور مندر برہمنیت کے شعائر ہیں۔ کیس اور کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کا شعار ہے۔ سواستیکا آریہ نسل پرستی کا شعار ہے۔ "

(تفہیم القرآن صفحہ ۴۳۸ جلد اول)

د : مسند الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ ارقام فرماتے ہیں : "شعائر دراصل جمع شعیرہ است یا جمع شعارہ است بمعنی علامت و شعائر اللہ در عرف دین مکانات و ازمنہ و علامات و اوقات عبادت را گویند، اما مکانات عبادت پس مثل کعبہ و عرفہ و مزدلفہ و جمار ثلثہ و صفا و مروہ و منیٰ و جمیع مساجد اند و اما ازمنہ پس مثل رمضان و اشہر حرم و عید الفطر و عید النحر و جمعہ و ایام تشریق اند، اما علامات پس مثل اذان و اقامت و ختنہ و نماز جماعت و نماز جمعہ و نماز عیدین اند و در ہمہ ایں چیز ہا معنی علامت بودن متحقق ست زیرا کہ مکان و زمان عبادت نیز از عبادت بلکہ از معبود یاد میدہد۔ "

(تفسیر فتح العزیز فارسی صفحہ ۳۶۹ طبع مجتبائی دہلی)

ترجمہ: "شعائر اصل میں جمع شعیرہ یا شعارہ کہ بمعنی علامت ہے، اور عرف دین میں شعائر اللہ مکانات اور زمانوں اور علامات اور اوقات عبادت کو کہتے ہیں، لیکن مکانات عبادت جیسے کعبہ اور عرفات و مزدلفہ و جمار ثلثہ و صفا و مروہ اور تمام مساجد ہیں۔ اور

صفحہ 77

زمانے عبادت کے، جیسے رمضان اور ماہ ہائے حرام اور عید الفطر اور عیدالاضحیٰ اور جمعہ اور ایام تشریق ہیں اور علامات عبادت، جیسے اذان واقامت و ختنہ و نماز با جماعت و نماز جمعہ و نماز عیدین ہیں، اور ان سب چیزوں میں علامت کے معنی متحقق ہیں، اس واسطے کہ مکان اور زمان بھی عبادت کی بلکہ معبود کی یاد دلاتے ہیں۔“

(تفسیر عزیزی اردو صفحہ ۸۹۲ مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی)

کون کون سی چیزیں شعار اسلام ہیں؟

جب یہ نکتہ واضح ہوا کہ اسلام کی مخصوص علامات، جن کے ذریعہ کسی مسلمان کی غیر مسلم سے شناخت ہوتی ہے، ان کو ”شعائر اسلام“ کہا جاتا ہے تو اب یہ معلوم کرنا لازم ہے کہ ”شعائر اسلام“ میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں۔ ان میں سے چند امور کی تفصیل درج ذیل ہے :

الف : کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اسلام کا شعار ہے :

اسلامی شعائر میں سب سے پہلی چیز کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہے، یہ ایک ایسی کھلی ہوئی بدیہی حقیقت ہے کہ معزز عدالت کے سامنے اس کے دلائل پیش کرنا محض وقت ضائع کرنا ہوگا۔ کیونکہ ہر مسلم و کافر جانتا ہے کہ کلمہ شریف پڑھنا مسلمانی کی علامت ہے۔ جو شخص کلمہ شریف پڑھتا ہو اس کو تمام لوگ مسلمان سمجھتے ہیں۔ اور جو یہ کلمہ نہ پڑھتا ہو اس کو غیر مسلم سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ کلمہ طیبہ اسلام کی خاص علامت ہے، جس سے کسی شخص کے مسلم و غیر مسلم ہونے کی شناخت ہو سکتی ہے، اس لئے اس کے ”شعار اسلام“ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

ب : نماز با جماعت اسلام کا شعار ہے :

ہر قوم اپنے اپنے طریقہ پر عبادات کے رسوم بجالاتی ہے، لیکن مخصوص ہیئت کے ساتھ نماز با جماعت ادا کرنا اسلام کی خصوصیت اور اس کا مخصوص شعار ہے۔ جن لوگوں کو بھی آپ اس خاص ہیئت کے ساتھ علانیہ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھیں گے فوراً سمجھ لیں گے کہ یہ لوگ مسلمان ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

من صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا وأكل ذبيحتنا فذلك المسلم الذى له

صفحہ 78

ذمة الله وذمة رسوله، فلا تخفو الله في ذمته.

(رواه البخاری مشکوۃ ص ۱۲)

ترجمہ: ”جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھے، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے، اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو یہ شخص مسلمان ہے۔ جس کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد ہے، سو تم لوگ اللہ کے عہد میں خیانت (کر کے اس کی عہد شکنی) نہ کرو۔“

علمائے امت نے ”نماز کے شعار اسلام ہونے کی جابجا تصریحات فرمائی ہیں۔ یہاں عدالت کی توجہ فیلسوف اسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی بے نظیر کتاب ”حجة الله البالغہ“ کے چند فقروں کی طرف مبذول کرانا کافی ہوگا:

ایک جگہ لکھتے ہیں :

اعلم أن الصلاة أعظم العبادات شأنا.... إلى قوله .... وجعلها أعظم شعائر الدين.

(حجة الله البالغة ص ۱۸۶، ج ۱)

ترجمہ: ”جاننا چاہئے کہ نماز تمام عبادات میں سب سے زیادہ عظیم الشان ہے۔ اس بنا پر شارع نے اس کو اسلام کا سب سے بڑا شعار قرار دیا ہے۔“

ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

الصلاة من أعظم شعائر الإسلام وعلاماته التي إذا فقدت ينبغي أن يحكم بفقده لقوة الملابسة بينها وبينه.

(أیضا ص ۱۸۷، ج ۱)

ترجمہ: ”نماز اسلام کا بہت بڑا شعار ہے اور اسلام کی ایسی علامات میں سے ہے کہ جس کے جاتے رہنے سے اگر اسلام کے جاتے رہنے کا حکم کیا جائے تو بجا ہے۔“

ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

أعظم شعائر الله أربعة، القرآن، والكعبة، والنبي، والصلوة.

(حجة الله البالغة ص ۷۰، ج ۱)

صفحہ 79

ترجمہ : ”اور بڑے شعائر اللہ چار ہیں، قرآن، کعبہ، نبی اور نماز ۔ “

ج : مسجد بھی اسلام کا شعار ہے :

مسجد اس جگہ کا نام ہے جو نماز پنج گانہ کے لئے وقف کی گئی ہو۔ جس طرح نماز اسلام کا شعار ہے۔ اسی طرح مسجد بھی اسلام کا شعار ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کی شناخت کی جاتی ہے۔ یعنی کسی قریہ، کسی شہر یا کسی محلہ میں مسجد کا ہونا وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے، یہ دعویٰ درج ذیل دلائل کی روشنی میں بالکل واضح ہے :

۱۔ مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔

مسجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ مخصوص ہے چنانچہ قرآن کریم میں مشہور مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذکر کرتے ہوئے ”مسجد“ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دیا گیا ہے :

﴿وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا﴾

(الحج: ۴۰، پارہ ۱۷، رکوع ۱۳/۶)

ترجمہ : اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعہ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو راہبوں کے خلوت خانے عیسائیوں کے گرجے، یہودیوں کے معبد اور مسلمانوں کی مسجدیں، جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے، گرا دی جاتیں۔

اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ”صوامع“ سے راہبوں کے خلوت خانے ”بیع“ سے نصاریٰ کے گرجے، ”صلوات“ سے یہودیوں کے عبادت خانے اور ”مساجد“ سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں۔

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی (۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ”احکام القرآن“ میں لکھتے ہیں:

وذهب خصيف إلى أن القصد بهذه الأسماء تقسيم متعبدات الأمم، فالصوامع للرهبان والبيع للنصارى والصلوات لليهود والمساجد للمسلمين

(تفسیر قرطبی صفحہ ۷۲ جلد ۱۲)

ترجمہ : امام خصيف فرماتے ہیں کہ ان ناموں کے ذکر کرنے سے مقصود قوموں کی

صفحہ 80

عبادت گاہوں کی تقسیم ہے۔ چنانچہ ”صوامع“ راہبوں کی ”بیع“ عیسائیوں کی ”صلوات“ یہودیوں کی اور ”مساجد“ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے۔

اور قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (۱۲۲۵ھ) ”تفسیر مظہری“ میں ان چاروں ناموں کی مندرجہ بالا تشریح ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

ومعنى الآية: لولا دفع الله الناس لهدمت فى كل شريعة نبي مكان عبادتهم فهدمت فى زمن موسى الكنائس وفى زمن عيسى البيع والصوامع وفى زمن محمد ﷺ المساجد

(تفسیر مظہری صفحہ ۳۳۰ جلد ۶)

ترجمہ : آیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو ہر نبی کی شریعت میں جو ان کی عبادت گاہ تھی اسے گرا دیا جاتا چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے دور میں گرجے اور خلوت خانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجدیں گرا دی جاتیں۔

یہی مضمون تفسیر ابن جریر صفحہ ۱۱۳ جلد ۹۔ تفسیر نیشاپوری برحاشیہ ابن جریر صفحہ ۶۳ جلد ۹۔ تفسیر خازن صفحہ ۲۹۱ جلد ۳۔ تفسیر بغوی صفحہ ۵۹۴ جلد ۵ برحاشیہ ابن کثیر اور تفسیر روح المعانی صفحہ ۱۶۲ جلد ۱۷ وغیرہ میں موجود ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت اور حضرات مفسرین کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ ”مسجد“ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے اور یہ نام دیگر اقوام و مذاہب کی عبادت گاہوں سے ممتاز رکھنے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا اسلام سے لے کر آج تک یہ مقدس نام مسلمانوں کی عبادت گاہ کے لئے مخصوص ہے، لہٰذا مسلمانوں کا یہ قانونی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ کسی ”غیر مسلم فرقہ“ کو اپنی عبادت گاہ کا یہ نام نہ رکھنے دیں۔

۲۔ کافروں کو مسجد بنانے کا حق نہیں :

مسجد کی تعمیر ایک اعلیٰ ترین عبادت ہے اور کافر اس کا اہل نہیں۔ چونکہ کافر میں تعمیر مسجد کی اہلیت ہی نہیں اس لئے اس کو تعمیر مسجد کا کوئی حق نہیں اور اس کی تعمیر کردہ عمارت مسجد نہیں ہو سکتی۔ قرآن کریم میں صاف صاف ارشاد ہے :

صفحہ 81

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسْجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ وَفِى النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ ۝

(التوبۃ: ۱۷)

ترجمہ : مشرکین کو حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں۔ در آنحالیکہ وہ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے عمل اکارت ہوچکے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔

اس آیت میں مشرکین کو تعمیر مسجد کے حق سے محروم قرار دیا گیا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ کافر ہیں، شٰهِدِيْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ اور کوئی کافر تعمیر مسجد کا اہل نہیں، گویا قرآن یہ بتاتا ہے کہ تعمیر مسجد کی اہلیت اور کفر کے درمیان منافات ہے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں۔ پس جب وہ اپنے عقائد کفر کا اقرار کرتے ہیں تو گویا وہ خود اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تعمیر مسجد کے اہل نہیں۔ نہ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ امام ابو بکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفی (م ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں :

عمارة المسجد تكون بمعنيين أحدهما زيارته والكون فيه والآخر ببنائه وتجديد ما استرم منه. فاقتضت الآية منع الكفار من دخول المسجد ومن بنائها وتولى مصالحها والقيام بها لانتظام اللفظ لأمرين.

(احکام القرآن ...... صفحہ ۱۰۸، جلد ۳)

ترجمہ : یعنی مسجد کی آبادی کی دو صورتیں ہیں ایک مسجد کی زیارت کرنا اس میں رہنا اور بیٹھنا دوسرے اس کو تعمیر کرنا اور شکست و ریخت کی اصلاح کرنا، پس یہ آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ مسجد میں نہ کوئی کافر داخل ہو سکتا ہے نہ اس کا بانی ومتولی اور خادم بن سکتا ہے کیونکہ آیت کے الفاظ تعمیر ظاہری و باطنی دونوں کو شامل ہیں۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (م ۳۱۰ھ) لکھتے ہیں :

يقول إن المساجد إنما تعمر لعبادة الله فيها، لا للكفر به فمن كان بالله كافرا فليس من شأنه أن يعمر مساجد الله.

(تفسیر ابن جریر ص ۱۰/۹۴ دار الفکر بیروت)

ترجمہ : حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسجدیں تو اس لئے تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان میں اللہ کی

صفحہ 82

عبادت کی جائے۔ کفر کے لئے تو تعمیر نہیں کی جاتیں پس جو شخص کافر ہو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کرے۔

امام عربیت جار اللہ محمود بن عمر الزمخشریؒ (م ۵۲۸ھ) لکھتے ہیں:

والمعنى ما استقام لهم أن يجمعوا بين أمرين متنافيين عمارة متعبدات الله مع الكفر بالله وبعبادته ومعنى شهادتهم على أنفسهم بالكفر ظهور كفرهم.

(تفسیر کشاف، ص ۲/۲۵۳)

ترجمہ: "مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کسی طرح درست نہیں کہ وہ دو متنافی باتوں کو جمع کریں کہ ایک طرف خدا کی مسجدیں بھی تعمیر کریں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کے ساتھ کفر بھی کریں اور ان کے اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے سے مراد ہے ان کے کفر کا ظاہر ہونا۔"

امام فخر الدین رازی (م ۶۰۶ھ) لکھتے ہیں:

قال الواحدی دلت على أن الكفار ممنوعون من عمارة مسجد من مساجد المسلمين، ولو أوصى بها لم تقبل وصيته.

(تفسیر کبیر، ص ۱۶/۷ مطبوعہ مصر)

ترجمہ: "واحدی فرماتے ہیں۔ یہ آیت اس مسئلہ کی دلیل ہے کہ کفار کو مسلمانوں کی مسجدوں میں سے کسی مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں اور اگر کافر اس کی وصیت کرے تو اس کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔"

امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد القرطبی (م ۶۷۱ھ) لکھتے ہیں:

فيجب إذا على المسلمين تولى أحكام المساجد ومنع المشركين من دخولها.

(تفسیر قرطبی ص ۸/۸۹، دار الکاتب العربی القاهرة)

ترجمہ: "مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ انتظام مساجد کے متولی خود ہوں اور کفار و مشرکین کو ان میں داخل ہونے سے روک دیں۔"

امام محی السنۃ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی (م ۵۱۶ھ) لکھتے ہیں:

صفحہ 83

أوجب الله على المسلمين منعهم من ذلك لأن المساجد إنما تعمر لعبادة الله وحده فمن كان كافرا بالله فليس من شأنه أن يعمرها. فذهب جماعة إلى أن المراد منه العمارة من بناء المسجد و مرمته عند الخراب فيمنع الكافر منه حتى لو أوصى به لا يمتثل. وحمل بعضهم العمارة ههنا على دخول المسجد والقعود فيه.

(تفسیر معالم التنزیل للبغوی ٣/٥٥، بر حاشیہ خازن مطبوعة علمية مصر)

ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ کافروں کو تعمیر مسجد سے روک دیں کیونکہ مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں پس جو شخص کافر ہو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ مسجدیں تعمیر کرے ایک جماعت کا قول ہے کہ تعمیر سے مراد یہاں تعمیر معروف ہے یعنی مسجد بنانا، اور اس کی شکست و ریخت کی اصلاح و مرمت کرنا۔ پس کافر کو اس عمل سے باز رکھا جائے گا چنانچہ اگر وہ اس کی وصیت کر مرے تو پوری نہیں کی جائے گی، اور بعض نے عمارت کو یہاں مسجد میں داخل ہونے اور اس میں بیٹھنے پر محمول کیا ہے۔“

شیخ علاء الدین علی بن محمد البغدادی الخازن (م ۷۲۵ھ) نے تفسیر خازن میں اس مسئلہ کو مزید تفصیل سے تحریر فرمایا ہے۔

مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی (م ۱۲۲۵ھ) لکھتے ہیں :

فإنه يجب على المسلمين منعهم من ذلك لأن مساجد الله إنما تعمر لعبادة الله وحده فمن كان كافرا بالله فليس من شأنه أن يعمرها.

(تفسیر مظهری ص ٤/١٤٦ ندوة المصنفين دہلی)

ترجمہ: ”چنانچہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ کافروں کو تعمیر مسجد سے روک دیں کیونکہ مسجدیں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں پس جو شخص کہ کافر ہو وہ ان کو تعمیر کرنے کا اہل نہیں۔“

اور شاہ عبد القادر دہلویؒ (م ۱۲۳۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :

”اور علماء نے لکھا ہے کہ کافر چاہے مسجد بنوے اس کو منع کرے“ (موضح القرآن)

ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ مسجد کی تعمیر کریں اور یہ کہ اگر وہ ایسی جرات کریں تو ان کو روک دینا مسلمانوں پر فرض

صفحہ 84

ہے۔

۳۔ مسجد کی تعمیر صرف مسلمانوں کا حق ہے :

قرآن کریم نے جہاں یہ بتایا کہ کافر تعمیر مسجد کا اہل نہیں۔ وہاں یہ تصریح بھی فرمائی ہے کہ تعمیر مسجد کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے چنانچہ ارشاد ہے :

﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَأَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰى أُولٰئِكَ أَنْ يَّكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ﴾.

(التوبة: ۱۸، پارہ ۱۰، رکوع ۹/۴)

ترجمہ: ”اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو بس اس شخص کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، نماز ادا کرتا ہو، زکوٰۃ دیتا ہو اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ پس ایسے لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔“

اس آیت میں جن صفات کا ذکر فرمایا وہ مسلمانوں کی نمایاں صفات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص پورے دین محمدی پر ایمان رکھتا ہو اور کسی حصہ دین کا منکر نہ ہو اسی کو تعمیر مساجد کا حق حاصل ہے۔

۴۔ غیر مسلموں کی تعمیر کردہ مسجد ”مسجد ضرار“ ہے، اس کو ڈھا دیا

جائے :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت زمانے میں بعض غیر مسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی جو ”مسجد ضرار“ کے نام سے مشہور ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی الٰہی سے ان کے کفر و نفاق کی اطلاع ہوئی تو آپؐ نے اسے فی الفور منہدم کرنے کا حکم فرمایا۔ قرآن کریم کی آیات ذیل اسی واقعہ سے متعلق ہیں :

﴿وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنٰى وَاللّٰهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكٰذِبُونَ لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا﴾ إلی قوله: ﴿لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ وَاللّٰهُ

صفحہ 85

عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ۝

(سورۃ التوبہ آیات ۱۰۷-۱۱۰، پ ۱۱، ع ۳/۱۴)

ترجمہ : "اور جن لوگوں نے مسجد بنائی کہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور کفر کریں اور اہل ایمان کے درمیان تفرقہ ڈالیں اور اللہ ورسول کے دشمن کے لئے ایک کمین گاہ بنائیں اور یہ لوگ زور کی قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں، آپ اس میں کبھی قیام نہ کیجئے ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی۔ ہمیشہ ان کے دل کا کانٹا بنی رہے گی مگر یہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔"

ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ :

گی۔

مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔

مفسرین اور اہل سیر نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسجد ضرار کو ڈھا دیا گیا، اور اسے نذر آتش کر دیا گیا، چند حوالے درج ذیل ہیں۔

سیرت ابن ہشام بر حاشیہ الروض الانف صفحہ ۳۴۲ جلد ۲ تفسیر قرطبی صفحہ ۲۵۴ جلد ۸ تفسیر ابن کثیر صفحہ ۳۸۸ جلد ۵ تفسیر مظہری صفحہ ۲۹۶ جلد ۴ تفہیم القرآن صفحہ ۲۳۴ جلد ۶ معارف القرآن صفحہ ۶۳ جلد ۴

قادیانی منافقین کی بنائی ہوئی نام نہاد مسجدیں بھی مسجد ضرار ہیں اس لئے معزز عدالت کا

صفحہ 86

فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے ان کے منہدم کرنے اور ان کو جلا کر خاکستر کر دینے کا حکم صادر کرے۔

۵۔ قرآن کریم نے غیر مسلموں کے مسجدوں میں داخل ہونے کو بھی

ممنوع قرار دیا ہے:

نہ صرف یہ کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کے علاوہ کسی دوسرے کو تعمیر مساجد کا حق نہیں دیا۔ بلکہ غیر مسلموں کو ان کے عقائد کفریہ کی وجہ سے نجس قرار دے کر یہ حکم دیا ہے کہ ان کو مساجد میں نہ آنے دیا جائے اور ان کی گندگی سے مساجد کو پاک رکھا جائے۔ ارشاد خداوندی ہے:

﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ
الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا﴾

(پ ۱۰، ع ۱۰/۴، سورۃ توبہ آیت ۲۸)

اے ایمان والو! مشرک تو نرے ناپاک ہیں۔ پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔ امام ابو بکر جصاص رازی (م ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

اطلاق اسم النجس على المشرك من جهة أن الشرك الذى يعتقده يجب اجتنابه كما يجب اجتناب النجاسات والأقذار فلذلك سماهم نجسا. والنجاسة فى الشرع تنصرف على وجهين أحدهما نجاسة الأعيان والآخر نجاسة الذنوب. وقد أفاد قوله: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ منعهم عن دخول المسجد إلا لعذر. إذ كان علينا تطهير المساجد من الأنجاس.

(أحكام القرآن للجصاص ، ص ۳/۱۰۸، سہیل اکیڈمی لاہور)

”ترجمہ…… مشرک پر ”نجس“ کا اطلاق اس بنا پر کیا گیا کہ جس شرک کا وہ اعتقاد رکھتا ہے۔ اس سے پرہیز کرنا۔ اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ نجاستوں اور گندگیوں سے۔

صفحہ 87

اسی لئے ان کو نجس کہا اور شرع میں نجاست کی دو قسمیں ہیں۔ ایک نجاست جسم، دوم نجاست گناہ ...... اور ارشاد خداوندی ” انما المشرکون نجس “ بتاتا ہے، کہ کفار کو دخول مسجد سے باز رکھا جائے گا، الا یہ کہ کوئی عذر ہو کیونکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجدوں کو نجاستوں سے پاک رکھیں۔ “

اس آیت شریفہ کے ذیل میں دیگر اکابر مفسرین نے بھی تصریحات فرمائی ہیں کہ مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مسجد میں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔

۶۔ احادیث شریفہ میں مساجد کو شعار اسلام قرار دیا ہے :

قرآن کریم کی آیات بینات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات شریفہ کو دیکھا جائے تو ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اسلام کا شعار ہے۔

الف : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لئے صحابہ کرامؓ کو بھیجتے تھے تو انہیں ہدایت فرماتے تھے :

إذا رأيتم مسجدا أو سمعتم مؤذنا فلا تقتلوا أحدا۔

(ترمذی، ابو داؤد۔ مشکوٰۃ صفحہ ۳۳۴)

ترجمہ ...... ”جب تم کسی بستی میں مسجد دیکھو یا موذن کی آواز سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔ “

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ کسی بستی میں مسجد کا ہونا اس امر کی علامت ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہیں۔

ب : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی خدمت کرنے کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے :

اذا رأيتم الرجل يتعاهد المسجد فاشهدوا له بالايمان فان الله تعالیٰ یقول : انما يعمر مساجد الله من آمن بالله و اليوم الآخر۔

(ترمذی، ابن ماجہ۔ مشکوٰۃ صفحہ ۲۹ )

ترجمہ ...... ”جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کی خدمت کرتا ہے تو اس کے لئے ایمان

صفحہ 88

کی شہادت دے دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کی تعمیر وہ شخص کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔"

أخبرنا عبد الرزاق عن معمر عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون الأودي قال : أخبرنا رسول الله ﷺ أن المساجد بيوت الله في الأرض، وأنه لحقٌّ على الله أن يكرم من زاره فيها

(مصنف عبدالرزاق صفحہ ۲۹۶ جلد ۱۱)

ان احادیث شریفہ پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں :

فضل بناء المسجد وملازمته وانتظار الصلوة فيه ترجع إلى أنه من شعائر الإسلام وهو قوله ﷺ إذا رأيتم مسجدا أو سمعتم مؤذنا فلا تقتلوا أحدا وإنه محل الصلوة ومعتكف العابدين ومطرح الرحمة ويشبه الكعبة من وجه.

(حجۃ اللہ البالغۃ مترجم ص ۱/۴۷۸، نور محمد کتب خانہ کراچی)

"ترجمہ ..... مسجد کے بنانے، اس میں حاضر ہونے اور وہاں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ مسجد اسلام کا شعار ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "جب کسی آبادی میں مسجد دیکھو یا وہاں مؤذن کی اذان سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔" (یعنی کسی بستی میں مسجد اور اذان کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں) اور مسجد نماز کی جگہ اور عبادت گزاروں کے اعتکاف کا مقام ہے۔ وہاں رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور وہ ایک طرح سے کعبہ کے مشابہ ہے۔"

قرآن کریم کی ان آیات بینات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور اکابر امت کی تصریحات سے واضح ہے کہ :

عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

صفحہ 89

دینے اور جلا دینے کا حکم دے، جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسجد ضرار“ کو منہدم کرنے اور اسے نذر آتش کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ یمانیہ کو ڈھانے کے لئے صحابہ کرامؓ کا وفد بھیجا تھا ـــــــ امام ابو یوسفؒ نے ”کتاب الخراج“ میں اپنی سند کے ساتھ یہ واقعہ نقل کیا ہے :

حدثنا إسماعيل بن أبى خالد عن قيس بن أبى حازم عن جرير قال: قال لى رسول اللہ ﷺ : ألا تريحنى من ذى الخلصة؟ بيت كان لخثعم كانت تعبده فى الجاهلية يسمى كعبة اليمانية قال: فخرجت فى مائة وخمسين راكباً فحرقناها حتى جعلناها مثل الجمل الأجرب، قال: ثم بعثت إلى النبى ﷺ رجلا يبشره فلما قدم عليه قال: والذى بعثك بالحق ما أتيتك حتى تركناها مثل الجمل الأجرب قال: فبرك النبى ﷺ على أحمس وخيلها

(کتاب الخراج ص ۲۱۰)

ترجمہ ...... ”حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم ”ذوالخلصہ“ کی طرف سے مجھے راحت نہیں دو گے؟ یہ قبیلہ بنو خثعم کا ایک مکان تھا، جس کی وہ جاہلیت میں عبادت کیا کرتے تھے۔ اور اسے کعبہ یمانیہ“ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریرؓ فرماتے ہیں کہ حکم نبویؐ سن کر میں ڈیڑھ سو سواروں کی جماعت لے کر نکلا۔ ہم نے اس کو جلا کر خارشتی اونٹ کی طرح کر دیا پھر میں نے ایک قاصد بارگاہِ نبویؐ میں بھیجا جو آپ کو اس کے جلانے کی خوشخبری دے۔ قاصد نے بارگاہ اقدسؐ میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں آپؐ کے پاس اس وقت آیا ہوں جب ہم نے اس کو خارشتی اونٹ کی طرح کر دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے لئے اور اس کے سواروں کے لئے دعائے برکت فرمائی۔“

ہ : اذان بھی اسلام کا شعار ہے :

نماز پنج گانہ اور جمعہ کے لئے اذان دینا بھی اسلام کا شعار ہے، اور یہ ایک ایسی کھلی ہوئی اور بدیہی حقیقت ہے جس پر کسی دلیل کے قائم کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مسلم و غیر مسلم سب

صفحہ 90

جانتے ہیں کہ اذان دینے کا دستور صرف اہل اسلام میں رائج ہے۔ مسلمانوں کے سوا دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جو اس معروف طریقہ سے اذان کہتی ہو۔ مثل مشہور ہے کہ ”عیاں را چہ بیان“ یعنی جو چیز سر کی آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہو اس کے لئے حاجت استدلال نہیں۔ مگر چونکہ زمانے کی ستم ظریفی نے دین کے بدیہی حقائق کو بھی نظری بنا دیا ہے اس لئے اس مدعا پر بھی دلائل پیش کرتا ہوں۔

﴿وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ﴾

(المائدة: ۵۸)

ترجمہ : اور جب تم پکارتے ہو نماز کے لئے تو وہ ٹھہراتے ہیں اس کو ہنسی اور کھیل اس واسطے کہ وہ لوگ بے عقل ہیں۔

آیت شریفہ میں نماز کی طرف بلانے سے مراد ہے اذان دینا، اذان دینے والا اگرچہ ایک شخص ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلمانوں کی جماعت کی طرف منسوب کر کے یوں فرمایا کہ ”جب تم بلاتے ہو نماز کی طرف۔“ علامہ بدر الدین عینیؒ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چونکہ مؤذن مسلمانوں کو بلانے کے لئے اذان کہتا ہے اس لئے اس کے فعل کو تمام مسلمانوں کا اجتماعی عمل قرار دیا گیا۔ ان کی عبارت یہ ہے :

قوله : ﴿وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾ يعنى إِذَا أَذَّن المؤذن للصلوة. وإنما أضاف النداء إلى جميع المسلمين لأن المؤذن يؤذن لهم ويناديهم، فأضاف إليهم.

(عمدة القارى ص ۱۰۲ ج ۵ - باب بدء الأذان)

قرآن کریم کی اس آیت شریف سے ثابت ہوا کہ اذان صرف مسلمانوں کا شعار ہے، کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کو نماز کی طرف بلانے کے لئے کہی جاتی ہے۔

اطلاع کے لئے کوئی صورت تجویز ہونی چاہئے۔ بعض حضرات نے گھنٹی بجانے کی تجویز پیش کی، آپؐ نے اسے یہ کہہ کر رد فرما دیا کہ یہ نصاریٰ کا شعار ہے۔ دوسری تجویز پیش

صفحہ 91

کی گئی کہ بوق (باجا) بجا دیا جائے۔ آپؐ نے اسے بھی قبول نہیں فرمایا کہ یہ یہود کا وطیرہ ہے۔ تیسری تجویز آگ جلانے کی پیش کی گئی۔ آپؐ نے فرمایا یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ یہ مجلس اس فیصلہ پر برخاست ہوئی کہ ایک شخص نماز کے وقت اعلان کر دیا کرے کہ نماز تیار ہے۔ بعد ازاں بعض حضرات صحابہ کو خواب میں اذان کا طریقہ سکھایا گیا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الہی سے اس خواب کی تصدیق فرمائی۔ اس وقت سے مسلمانوں میں یہ اذان رائج ہوئی۔

(فتح الباری صفحہ ۸۰ جلد ۲)

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس واقعہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وهذه القصة دليل واضح على أن الأحكام إنما شرعت لأجل المصالح وإن للاجتهاد فيها مدخلا، وإن التيسير أصل أصيل، وإن مخالفة أقوام تمادوا في ضلالتهم فيما يكون من شعائر الدين مطلوب وإن غير النبى ﷺ قد يطلع بالمنام والنفث في الروع على مراد الحق لكن لا يكلف الناس به ولا تنقطع الشبهة حتى يقرره النبى ﷺ واقتضت الحكمة الإلهية أن لا يكون الأذان صرف أعلام وتنبيه، بل يضم مع ذلك أن يكون من شعائر الدين بحيث يكون النداء به على رؤس المحافل والتنبيه تنويها بالدين ويكون قبوله من القوم آية انقيادهم لدين الله۔ (حجة اللہ البالغۃ ص ١/٤٧٤ مترجم)

ترجمہ: "اس واقعہ میں چند مسائل کی واضح دلیل ہے۔ اول یہ کہ احکام شرعیہ خاص مصلحتوں کی بنا پر مقرر ہوئے ہیں، دوم یہ کہ اجتہاد کا بھی احکام میں دخل ہے۔ سوم یہ کہ احکام شرعیہ میں آسانی کو ملحوظ رکھنا بہت بڑا اصل ہے۔ چہارم یہ کہ شعائر دین میں ان لوگوں کی مخالفت جو اپنی گمراہی میں بہت آگے نکل گئے ہوں۔ شارع کو مطلوب ہے۔ پنجم یہ کہ غیر نبی کو بھی بذریعہ خواب یا القاء فی القلب کے مراد الہی مل سکتی ہے مگر وہ لوگوں کو اس کا مکلف نہیں بنا سکتا۔ اور نہ اس سے شبہ دور ہو سکتا ہے جب تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق نہ فرمائیں اور حکمت الہی کا تقاضا ہوا کہ اذان صرف اطلاع اور تنبیہ ہی نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ وہ شعائر دین میں سے بھی ہو کہ تمام لوگوں کے سامنے

صفحہ 92

اذان کہنا تعظیم دین کا ذریعہ ہو اور لوگوں کا اس کو قبول کر لینا ان کے دین خداوندی کے تابع ہونے کی علامت ٹھہرے۔“

حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اذان اسلام کا بلند ترین شعار ہے اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے اس شعار میں گمراہ قوموں کی مخالفت کو ملحوظ رکھا ہے۔

۳۔ حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو صبح کا انتظار کرتے۔ اگر اس بستی سے اذان کی آواز سنتے تو حملہ کرنے سے باز رہتے، اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو ان پر حملہ کرتے۔ (صحیح بخاری ص ۸۶ جلد نمبر ۱۔ ابو داؤد ص ۳۵۴ جلد ۱۔ مشکوٰۃ ص ۳۴۱، کتاب الخراج ص ۴۰۸)

اکابر شارحین حدیث لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ اذان اسلام کا شعار ہے

(فتح الباری ص ۹۰ جلد ۲ عمدۃ القاری ص ۱۱۶ جلد ۵)

۴۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ وہ جب کسی بستی میں مسجد دیکھیں یا وہاں اذان سنیں تو کسی کو قتل نہ کریں۔ (ابو داؤد صفحہ ۳۵۴، مشکوٰۃ صفحہ ۳۴۲)

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ کسی بستی سے اذان کی آواز بلند ہونا ان لوگوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے۔

۵۔ اکابر امت نے بے شمار کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی ہے کہ اذان اسلام کا شعار ہے، چند اکابر کی کتابوں کا حوالہ درج ذیل ہے :

نووی شرح مسلم ــــــ صفحہ ۱۶۴ جلد ۱ ابن عربی شرح ترمذی ــــــ صفحہ ۳۰۹ جلد ۱ فتح الباری ــــــ صفحہ ۷۷ جلد ۲ عمدۃ القاری ــــــ صفحہ ۱۰۲ جلد ۵ مجموع شرح مہذب ــــــ صفحہ ۸۰ جلد ۳ قاضی خان بر حاشیہ فتاویٰ ہندیہ ــــــ صفحہ ۶۹ جلد ۱ فتاویٰ حافظ ابن تیمیہؒ ــــــ صفحہ ۷۱ جلد ۱

صفحہ 93

فتح القدیر شرح ہدایہ — صفحہ ۲۴۰ جلد ۱ البحر الرائق شرح کنز — صفحہ ۲۶۹ جلد ۱ رد المحتار شرح در مختار — صفحہ ۳۸۴ جلد ۱ میزان کبریٰ شعرانی — صفحہ ۱۱۸ جلد ۱

وأجمعوا أنه لا يعتد إلا بأذان المسلم العاقل

(ص ٣٤ - مطبوعة مصر)

ترجمہ : ”اور تمام ائمہ کا اس پر اجماع ہے کہ اذان صرف مسلمان عاقل کی لائق اعتبار ہے۔ اور کافر اور مجنون کی اذان صحیح نہیں۔“

اس کے مزید حوالے مندرجہ ذیل ہیں :

المجموع شرح مہذب — صفحہ ۹۸ جلد ۳ مغنی ابن قدامہ — صفحہ ۱۸۵ جلد ۱ شرح کبیر — صفحہ ۳۱۸ جلد ۱ البحر الرائق — صفحہ ۲۷۹ جلد ۱ رد المحتار — صفحہ ۳۹۴ جلد ۱ میزان کبریٰ شعرانی — صفحہ ۱۱۸ جلد ۱ الفقہ الاسلامی وادلتہ — صفحہ ۵۴۱ جلد ۱

ان تمام دلائل سے واضح ہے کہ اذان صرف مسلمانوں کا شعار ہے، کسی بستی میں اذان کا ہونا وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے، اور کسی غیر مسلم کی اذان صحیح نہیں۔

کیا کسی غیر مسلم کو اسلامی شعائر کے اپنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے :

گزشتہ مباحث سے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ ”قانون امتناع قادیانیت“ میں جن امور کا ذکر ہے (یعنی کلمہ طیبہ، نماز باجماعت، مسجد اور اذان) یہ مسلمانوں کا شعار ہیں، اور یہ چیزیں مسلم و غیر مسلم کے درمیان خط امتیاز کھینچتی ہیں۔

اب صرف اس نکتہ پر غور کرنا باقی رہا کہ کیا کسی غیر مسلم کو اسلام کا شعار اپنانے کی اجازت

صفحہ 94

دی جاسکتی ہے؟ اس سلسلہ میں چند گزارشات گوش گزار کرنے کی اجازت چاہوں گا۔

کسی فرد، جماعت یا قوم کا خاص شعار لائق احترام سمجھا جاتا ہے، اور کوئی غیر متعلق شخص اس خاص شعار کو اپنائے تو اسے "جعل سازی" کا مرتکب سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً :

نشان" ہے، اور کسی شخص کو اس کے اپنانے کا حق حاصل نہیں، اگر کوئی دوسرا شخص اس "امتیازی نشان" کو استعمال کرے گا تو "چور" اور "جعل ساز" تصور کیا جائے گا۔

فوج کے خاص خاص عہدوں کے لئے الگ الگ نشان مقرر ہیں، یہ جنرل کا نشان ہے، یہ میجر جنرل کا نشان ہے، یہ کرنل کا نشان ہے، یہ فل کرنل کا نشان ہے۔ یہ میجر کا نشان ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ مختلف عہدوں کے نشانات ان عہدوں کی امتیازی علامات اور ان کا "شعار" ہیں۔ اگر کوئی غیر فوجی، فوجی وردی پہن کر گھومے پھرے تو اسے مجرم تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی فوجی اپنے عہدے کے علاوہ دوسرے عہدے کا "علامتی نشان" لگا لے تو وہ بھی مجرم تصور کیا جائے گا، اس لئے کہ اگر ان امتیازی نشانات کے استعمال کی دوسروں کو اجازت دی جائے تو فوجی اور غیر فوجی کے درمیان امتیاز نہیں رہے گا، اور فوج کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں کی شناخت مٹ جائے گی۔ الغرض فوج کا شعار لائق احترام ہے، اور فوجی افسران کے خاص خاص نشانات بھی لائق احترام ہیں، کسی غیر متعلقہ شخص کو ان کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

پھر پولیس کے بڑے چھوٹے عہدوں کی شناخت کے لئے الگ الگ نشان مقرر ہیں، جو بطور خاص ان عہدوں کا شعار ہے۔ کسی غیر شخص کو پولیس کا یونی فارم اور اس کے مختلف عہدوں کا علامتی نشان استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

اگر کسی فرم کا ٹریڈ مارک کسی دوسرے کے لئے استعمال کرنا جرم ہے۔ اگر پولیس کی وردی اور اس کے عہدوں کی شناختی علامات کا استعمال کسی غیر شخص کے لئے جرم ہے۔ اور اگر فوج کے یونی فارم اور اس کے عہدوں کی خاص علامات کا استعمال دوسرے شخص کے لئے جرم ہے تو ٹھیک اسی طرح اسلام کے شعار کا استعمال بھی "غیر مسلم" کے لئے جرم ہے، اس کو دنیا کے کسی قانون

صفحہ 95

انصاف کی رو سے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

فاضل عدالت کبھی گوارا نہیں کرے گی کہ کوئی "جعل ساز" ایک عمارت بنا کر اس پر "سیشن کورٹ" "ہائی کورٹ" یا "سپریم کورٹ" کا بورڈ لگا کر لوگوں کے مقدمات نمٹانے لگے، بلاشبہ لوگوں کے تنازعات نمٹانا کار ثواب ہے، اور مظلوموں کی دادرسی کرنا اور ان کو ظالموں کے چنگل سے نجات دلانا بڑی عبادت ہے۔ اس کے باوجود یہ شخص جعل سازی کا مرتکب اور مجرم سمجھا جائے گا۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس شخص نے غلط طور پر معزز عدالت کے نام کو استعمال کر کے اس مقدس نام کی توہین کی ہے۔

ٹھیک اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ کسی غیر مسلم کا (اپنے کفر پر قائم رہتے ہوئے) اسلام کے مقدس نام کو استعمال کرنا، اور اسلام کے خصوصی شعائر و علامت کو اپنانا بھی بدترین جرم ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلام اور اسلام کے خصوصی شعائر کی توہین ہے۔

فاضل عدالت اس بات کو کبھی برداشت نہیں کرے گی کہ کوئی مکار فراڈیا معزز عدالت کے سامنے اپنا کمرۂ عدالت سجائے اور اس پر "چیف جسٹس" کے نام کی تختی آویزاں کر کے بیٹھ جائے۔ کیونکہ اس بہروپئے کا "چیف جسٹس" کی تختی آویزاں کرنا اس معزز اور محترم لفظ کی توہین ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم (جو اپنے کفر پر مصر ہے) اپنے سینے پر یا گھر کے دروازے پر اپنی عبادت گاہ پر کلمہ طیبہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کی تختی آویزاں کرتا ہے تو یہ بھی اس پاک کلمہ کی توہین ہے۔ جسے کوئی مسلمان کسی حال میں گوارا نہیں کر سکتا۔ کون مسلمان ہو گا جو اس کو برداشت کرے کہ کسی بتکدے پر ہندؤں کے کسی مندر پر کلمہ طیبہ لکھ کر یہ تاثر دیا جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وہ نہیں تھی جسے مسلمان لئے پھرتے ہیں۔ بلکہ نعوذ باللہ وہ تھی جس کا مظاہرہ اس بتکدے میں اور اس مندر میں کیا جاتا ہے۔ شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ سے سوال کیا گیا کہ کفار کی عبادت گاہوں کو بیت اللہ کہنا صحیح ہے؟ جواب میں تحریر فرمایا:

ليست بيوت الله! وإنما بيوت الله المساجد، بل هى بيوت يكفر فيها، وإن كان قد يذكر فيها، فالبيوت بمنزلة أهلها، وأهلها كفار، فهى بيوت عبادة الكفار.

(فتاوی ابن تيمية رح ص ١١٥، ج ١)

ترجمہ : یہ بیت اللہ نہیں، بیت اللہ مسجدیں ہیں۔ یہ تو وہ جگہیں ہیں جہاں کفر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان میں ذکر بھی ہوتا ہو۔ پس مکانات کا وہی حکم ہے جو ان کے بانیوں کا ہے، ان کے بانی کافر ہیں، لہٰذا یہ کافروں کے عبادت خانے ہیں (فتاویٰ ابن تیمیہ صفحہ ۱۱۵ جلد ۱)

صفحہ 96

ظاہر ہے کہ کفر معنوی نجاست ہے۔ پس جس طرح کسی نجاست خانے پر کلمہ طیبہ کا بورڈ لگانا کلمہ طیبہ کی توہین اور بے ادبی ہے۔ اسی طرح بیت الکفر پر کلمہ طیبہ کا آویزاں کرنا بھی کلمہ طیبہ کی تذلیل ہے۔ جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ قانون امتناع قادیانیت کا نفاذ بھی ایسے جرائم کے تدارک کے لئے ہوا ہے۔

مذہبی آزادی کا صحیح تصور :

دور جدید میں ترقی یافتہ، لیکن لادین اقوام کی طرف سے ”فرد کی آزادی“ کا ایسا صور پھونکا گیا اور اس کے سحر آفریں نعرے نے کچھ لوگوں کو ایسا مسحور کیا کہ وہ ”فرد کی آزادی“ کے حدود و قیود ہی بھول گئے۔

مغرب میں ”فرد کی آزادی“ کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

دنیا کے کسی مذہب میں ”فرد کی آزادی“ کی پانچوں اقسام کا مفہوم ”مادر پدر آزادی“ نہیں، بلکہ اس کے لئے بھی حدود و قیود ہیں۔

اول۔۔ یہ کہ یہ آزادی اخلاق و تہذیب کے دائرے سے باہر نہ ہو۔

دوم۔۔ یہ کہ یہ آزادی آئین و قانون کے دائرے میں ہو۔

سوم۔۔ یہ کہ ایک فرد کی آزادی سے معاشرہ کا امن و سکون غارت نہ ہو، اور دوسروں کے حقوق اس سے متاثر نہ ہوں۔ جو آزادی کسی دائرہ تہذیب سے باہر ہو، جس آزادی میں آئین و قانون کو ملحوظ نہ رکھا جائے۔ اور جس آزادی سے معاشرہ کا امن و سکون تہ و بالا ہو جائے یا دوسروں کے حقوق متاثر ہوں ایسی آزادی پر ہر مہذب معاشرہ پابندی عائد کرے گا، مشہور ہے کہ ایک شخص بے ہنگم طریقے سے اپنا ہاتھ گھما رہا تھا، اس کا ہاتھ کسی کی ناک پر لگا، ناک والے نے اس پر احتجاج کیا تو آپ فرماتے ہیں کہ آزادی کا زمانہ ہے، مجھے اپنا ہاتھ گھمانے کی مکمل آزادی ہے۔ آپ میری آزادی میں خلل انداز نہیں ہو سکتے، جواب میں اس زخمی شخص نے کہا کہ آپ

صفحہ 97

کو بلاشبہ آزادی ہے۔ جس طرح چاہیں ہاتھ گھمائیں۔ مگر یہ ملحوظ رہے کہ آپ کی آزادی کی حد میری ناک سے ورے ورے تک ہے، جہاں سے میری ناک کی سرحد شروع ہوئی وہاں سے آپ کی آزادی ختم۔

الغرض آزادی تحریر و تقریر ہو، آزادی مذہب و انجمن ہو یا آزادی بود و باش ہو۔ ان میں سے کوئی آزادی بھی حدود و قیود سے ماورا نہیں۔ مثلاً:

ہے کہ :

ڈاکو، بدمعاش اور حرام خور کے خطابات سے نہ نوازے۔

کرے کہ لوگوں کا امن و سکون غارت ہو جائے۔

اگر کوئی شخص ”آزادی تقریر“ کی آڑ لے کر ان حدود کو پھلانگنے کی جرأت کرتا ہے تو ہر مہذب ملک کا قانون حرکت میں آئے گا۔ اور اس شخص کو آزادی کے غلط مفہوم کا تلخ ذائقہ چکھنا پڑے گا۔

۲۔ آزادی تحریر :

جدید دور میں آزادی تحریر کا غلغلہ بلند ہے، اور آزادی تحریر پر قدغن لگانے کے لئے احتجاج کیا جاتا ہے۔ اس آزادی کا زیادہ تعلق اخبارات و رسائل، کتب اور لٹریچر اور مقالات و مضامین سے ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ ہر مہذب ملک میں پریس کے قوانین موجود ہیں۔ اور کسی کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ ان قوانین سے بالاتر ہو کر ”آزادی تحریر“ کا مظاہرہ کرے، اگر کوئی اخبار نویس دوسروں کو فحش مغلظات بکتا ہے، کسی پر ناروا تہمتیں دھرتا ہے، لوگوں کو آئین و قانون سے بغاوت کی دعوت دیتا ہے۔ فوج یا عدلیہ کی توہین کرتا ہے یا معاشرہ میں اخلاقی انارکی

صفحہ 98

پھیلاتا ہے تو قلم کی اس آزادی کو لگام دینے کے لئے قانون حرکت میں آئے گا، اور ایسے شخص کو پس دیوار زندان بھیجا جائے گا، یا پھر اس کا صحیح مقام دماغی شفاخانہ ہوگا۔ الغرض کسی بھی مہذب معاشرہ میں ”آزادی قلم“ کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ ان ”آزاد صاحب“ کو لوگوں کی عزت و آبرو سے کھیلنے اور معاشرہ کی زندگی اجیرن کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔

آزادی انجمن سازی :

ہم ذوق و ہم لوگوں کو اختیار ہے کہ اپنی ایک انجمن بنائیں، اور اپنی جماعت تشکیل دیں، لیکن یہ آزادی بھی اخلاق و قانون کے دائرے میں محدود رہنی چاہئے، اگر بدنام قسم کے ڈاکو ”انجمن قزاقاں“ کے نام سے ایک تنظیم بنائیں، اور اس تنظیم کے اصول و قواعد مرتب کریں۔ اور انہیں اخباروں میں، رسالوں میں، کتابوں میں شائع کریں تو کوئی مہذب حکومت اور مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے گا، بلکہ ایسی تنظیم کو خلاف قانون قرار دیا جائے گا۔ اور اس تنظیم کے ارکان اگر حکومت کی گرفت میں آجائیں تو ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

اسی طرح حکومت کے باغیوں کا گروپ اگر ”انجمن باغیان“ بنانے کا اعلان کرے تو اس کا جو حشر ہو گا وہ سب کو معلوم ہے، اس سے ثابت ہوا کہ انجمن سازی کی آزادی بھی مادر پدر آزادی نہیں، بلکہ اخلاق و قانون کے حدود کی پابند ہے۔

۴۔ آزادی بود و باش :

ہر شخص کو آزادی ہے کہ جیسے مکان میں چاہے رہے، جب کھانا چاہے کھائے، جیسا لباس چاہے پہنے، جیسی معاشرت چاہے اختیار کرے، لیکن یہ آزادی بھی غیر محدود نہیں۔ بلکہ اس پر کچھ اخلاقی و قانونی پابندیاں عائد ہوں گی، چنانچہ سکونتی مکان کی تعمیر میں اسے بلدیہ کے قواعد کی پابندی کرنی ہوگی۔

لباس کی تراش خراش کا اختیار ہے، لیکن اگر کوئی شخص پولیس یا فوج کی وردی پہن کر نکلے گا تو گرفتار کر لیا جائے گا، اپنے گھر میں اگر چاہے تو ملکہ برطانیہ کا تاج بھی زیب سر کرے۔ لیکن اگر حدود آزادی کو پھلانگ کر تاج برطانیہ کو سر عام پہنے گا تو دست اندازی پولیس کا مستوجب ہو گا، اپنے گھر میں جو گائے بجائے، لیکن اگر مکان کی چھت پر چڑھ کر طبل غازی بجانے لگے تو فوراً

صفحہ 99

اس کو منع کیا جائے گا۔ گھر میں آزاد ہے کہ لنگی پہنے یا بنیان، یا اپنے بند کمرے میں لباس بے لباسی زیب تن کرے، لیکن اگر اسی لباس بے لباسی میں لوگوں کے سامنے آئے گا تو دھر لیا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ آزادی بود و باش بھی بے قید نہیں، بلکہ عقلائے عالم اس آزادی کو اخلاق و قانون کے دائرے میں رکھنے پر متفق ہیں، خلاصہ یہ کہ ان تمام قسم کی آزادیوں کے لئے شرط یہ ہے کہ ایک فرد کی آزادی، دوسروں کی آزادی میں خلل انداز نہ ہو۔ اور اس آزادی سے دوسروں کا امن و سکون تہہ و بالا نہ ہو۔

۵۔ آزادی مذہب :

اسی طرح ہر شخص کو اختیار ہے کہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے، خدا کو مانے یا نہ مانے، کرشن مہاراج کو مانے، ہنومان جی کی پوجا کرے۔ زرتشت کو مانے، یہودی مذہب کو اپنائے، عیسائی مذہب کو اختیار کرے، یا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، کسی شخص کو کسی دین و مذہب کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ دین و مذہب کا معاملہ عقیدہ و نجات آخرت کا معاملہ ہے۔ اور یہ خود اختیاری معاملہ ہے، اس میں کسی پر جبر نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ آزادی اخلاق و قانون سے ماورا نہیں، بلکہ یہ آزادی بھی اخلاق و قانون کے دائرے میں محدود ہے، مثلاً ایک پابندی تو اس پر اس مذہب کی طرف سے عائد ہوگی جس کو وہ قبول کرنے جا رہا ہے کہ اگر وہ اس مذہب کو قبول کرنا چاہتا ہے تو اس مذہب کو قبول کرنے سے پہلے اس کے اصول کو خوب ٹھونک بجا کر دیکھ لے، اور گہری نظر سے ان کا مطالعہ کرلے یہ دیکھ لے کہ اس کے لئے قابل قبول بھی ہیں یا نہیں؟ اور جب اس مذہب کو قبول کرلے گا تو اس مذہب کے تمام مسلمہ اصول کی پابندی اس پر لازم ہوگی، اور اس مذہب کے مسلمہ اصول سے انحراف اس کے لئے جائز نہیں ہوگا۔ اگر یہ شخص اس مذہب کو قبول کرنے کا التزام بھی کرتا ہے اس کے باوجود اس مذہب کے اصول مسلمہ سے انحراف کرتا ہے تو اس مذہب کو اس کے خلاف کارروائی کا پورا حق حاصل ہوگا۔

دوسری پابندی اس پر دوسرے مذاہب کی طرف سے عائد ہوگی کہ اس کی ”مذہبی آزادی“ سے دوسروں کی مذہبی آزادی متاثر نہ ہو، مثلاً ایک شخص اپنے دوستوں کی ایک جماعت بنا لیتا ہے اور پھر یہودی مذہب کے ماننے والوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے دوبارہ بھیجا ہے تاکہ میں توریت کی تجدید کروں، اور سچی یہودیت کو لوگوں کے سامنے پیش کروں۔ چونکہ سچا یہودی مذہب وہ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں

صفحہ 100

لہٰذا تمام یہودی برادری کا فرض ہے کہ مجھ پر ایمان لائے، مجھے موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت سے تسلیم کریں، اور میری پیروی کریں۔ کیونکہ صرف میری تعلیم ان کے لئے مدار نجات ہے، جو لوگ مجھے نہیں مانیں گے وہ یہودی مذہب کے دائرے سے خارج ہیں، وغیرہ۔ وغیرہ

یہ شخص اپنے ان خیالات کو کتابوں میں، رسالوں میں اور اخباروں میں شائع کرتا ہے، اس کے ان خیالات سے یہودی برادری میں اشتعال پیدا ہوتا ہے، اور اس کا یہ دل آزار رویہ یہودی برادری کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، یہاں تک نوبت مناظروں مباحثوں سے گزر کر فتنہ و فساد تک پہنچ جاتی ہے، ہر وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے معمولی عقل و دانش سے نوازا ہے اس شخص کے رویہ کو یہودی مذہب میں مداخلت قرار دے گا، اور اس کی اس ”غلط مذہبی آزادی“ پر پابندی عائد کرنے کے حق میں رائے دے گا۔

یا مثلاً ایک عیسائیوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں عیسیٰ علیہ السلام ہوں، اور وہی تقریر جو اوپر یہودیت کے بارے میں ذکر کی گئی ہے۔ عیسائیوں کے بارے میں کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی اس اشتعال انگیزی سے عیسائی برادری کے دل مجروح ہوتے ہیں، اور دونوں کے درمیان تصادم کی نوبت آجاتی ہے تو یہاں بھی اس شخص کے رویہ پر نفرین کی جائے گی، اور عیسائی مذہب کے استحصال سے روکا جائے گا۔

یا مثلاً ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ (نعوذ باللہ) میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا میں دوبارہ مبعوث فرمایا ہے، مسلمان جس اسلام کو لئے پھرتے ہیں وہ مردہ اسلام ہے، زندہ اسلام وہ ہے جو میں پیش کر رہا ہوں، اب صرف میری پیروی مدار نجات ہے، صرف میرے ماننے والے مسلمان ہیں۔ باقی سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں، وغیرہ۔ وغیرہ اس شخص کی یہ حرکتیں مسلمانوں کے لئے حد درجہ اذیت کا باعث بنتی ہیں۔

ان میں اشتعال پیدا ہوتا ہے، اور وہ اس موذی کی ان اشتعال انگیز حرکتوں کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس شخص کی اس اشتعال انگیزی کو ”مذہبی آزادی“ کا نام دینا غلط ہے، یہ ”مذہبی آزادی“ نہیں، بلکہ مسلمانوں کے دین و مذہب میں مداخلت ہے، اور ان کے مذہب پر ڈاکہ ڈالنا ہے، پس جس طرح دنیا کی کوئی عدالت ”انجمن قزاقاں“ قائم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اسی طرح دنیا کی کوئی عدالت اس شخص کی جماعت کو ”مذہبی قزاقی“ کی اجازت نہیں دے سکتی۔

الغرض ”مذہبی آزادی“ سر آنکھوں پر، لیکن مذہبی آزادی کے نام پر ”مذہبی قزاقی“ کی اجازت دینا عدل و انصاف کا خون کرنا ہے۔

صفحہ 101

قادیانیوں کی مذہبی آزادی اور ہمارا آئین :

قادیانیوں کی طرف سے عدالت ہذا میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے آئین کی رو سے ہم غیر مسلم ہیں۔ لیکن تمھارا آئین غیر مسلم اقلیتوں کو مذہبی آزادی دیتا ہے، لہٰذا ہمارا جو مذہب بھی ہو ہمیں اس کی پوری آزادی ملنی چاہئے۔ اور یہ کہ ”قانون امتناع قادیانیت“ جو اس آئینی حق سے ہمیں محروم کرتا ہے اس کو منسوخ قرار دیا جائے۔

قادیانیوں کے اس نکتہ پر غور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ قادیانیت کیا چیز ہے، اور آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سلسلہ چند معروضات پیش خدمت ہیں :

آپؐ کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ بند ہے، اب قیامت تک کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔

قرآن کریم کی آیات اور اپنے الہامات کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ اور یہ کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل بن کر تجدید اسلام کے لئے آیا ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۴۹۸ / ۴۹۹، ۵۰۵)

۱۸۹۱ء میں دعویٰ کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے، اور یہ کہ ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے۔

۱۹۰۱ء میں دعویٰ کیا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ثانی ہے۔ اس لئے نہ صرف نبی و رسول ہے، بلکہ بعینہ خاتم الانبیاء ہے۔

آیات اپنی ذات پر چسپاں کر لیں جو قرآن کریم میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔

بطور مثال یہاں بیس آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے :

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱۱ تذکرہ ص ۹۴ طبع چہارم)

صفحہ 102

ترجمہ ...... محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں۔ وہ کفار پر سخت ہیں۔ یعنی کفار ان کے سامنے لاجواب اور عاجز ہیں۔ اور ان کی حقانیت کی ہیبت کافروں کے دلوں پر مستولی ہے۔ — اور وہ لوگ آپس میں رحم کرتے ہیں۔

(تذکرہ صفحہ ۳۸۷ / ۳۸۸، طبع چہارم)

ترجمہ ...... خدا وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔

(آل عمران ۳۱) (حقیقت الوحی صفحہ ۸۲)

ترجمہ ...... ان کو کہہ کہ تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو خدا بھی تم سے محبت کرے۔

(الأعراف ١٥٨) (تذکرہ ص ۳۵۲، طبع چہارم)

ترجمہ ...... اور کہہ کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔

(النجم ٣-٤) (تذکرہ ص ۳۷۸)

ترجمہ ...... اور وہ اپنی خواہش کے ماتحت نہیں بولتا۔ بلکہ وحی کا تابع ہے۔ جو نازل کی جاتی ہے۔

(الفتح ١٠) (حقیقتہ الوحی ص ۸۰)

ترجمہ ...... وہ لوگ جو تیرے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں۔ وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھ پر ہے۔

(حقیقتہ الوحی ص ۸۱)

صفحہ 103

ترجمہ ...... ان کو کہہ کہ میں تو ایک انسان ہوں۔ میری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔

(الفتح ۱ ) (حقیقۃ الوحی ص۹۱)

ترجمہ ...... میں ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کروں گا۔ جو کھلی کھلی فتح ہوگی۔ تاکہ تیرا خدا تیرے تمام گناہ بخش دے جو پہلے ہیں اور پچھلے ہیں۔

(المزمل - ١٥) (حقیقۃ الوحی ص۱۰۱)

ترجمہ ...... ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اس رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔

(الکوثر ١) (حقیقۃ الوحی ص۱۰۲)

ترجمہ ...... ہم نے کثرت سے تجھے دیا ہے۔

(حقیقۃ الوحی ص۱۰۲)

ترجمہ ...... خدا نے ارادہ کیا ہے جو تجھے وہ مقام بخشے جس میں تو تعریف کیا جائے گا۔

(حقیقت الوحی صفحہ ۱۰۷، تذکرہ صفحہ ۴۷۹)

ترجمہ ...... اے سردار تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر۔

(الأنفال ١٧) (حقیقۃ الوحی ص۷۰)

ترجمہ ...... جو کچھ تو نے چلایا وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔

(الرحمن ١) (حقیقۃ الوحی ص۷۰)

ترجمہ ...... خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کئے۔

(حقیقۃ الوحی ص۷۰)

ترجمہ ...... کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔

صفحہ 104

(الكهف ٢٧) (أيضاً ص ٧١)

ترجمہ...... اور جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی ہے وہ ان لوگوں کو سنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے۔

(الاحزاب ٤٦) (أيضاً ص ٧٥)

ترجمہ...... اور خدا کی طرف بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔

(النجم ٨-٩) (أيضاً ص ٧٦)

ترجمہ...... جو خدا سے نزدیک ہوا پھر مخلوق کی طرف جھکا اور خدا اور مخلوق کے درمیان ایسا ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں کے درمیان خط ہوتا ہے۔

(الإسراء ١) (أيضاً ص ٧٨)

ترجمہ...... وہ پاک ذات وہی خدا ہے جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرائی۔

(الأنبياء ١٠٧) (أربعین نمبر ٢ ص ٦٣)

ترجمہ...... اور ہم نے دنیا پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجا ہے۔

ہر مسلمان واقف ہے کہ یہ آیات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ ان کو اپنی ذات پر چسپاں کر لیا۔

علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا۔ حتیٰ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہونے کا دم بھرا۔ اس کی بہت سی عبارتوں میں سے چند حوالے ملاحظہ فرمائیں :

مرزا افضل الرسل :

(مرزا کا الہام ۔ مندرجہ تذکرہ طبع دوم صفحہ ٣٤٦)

میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمؐ سے ظلی طور پر

صفحہ 105

ہم کو عطا کئے گئے، اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے۔۔۔۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔"

(ملفوظات جلد سوم صفحہ ۲۷۰۔ مطبوعہ ربوہ)

فخر اولین و آخرین :

ج : روز نامہ الفضل قادیان مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے : "اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ (یعنی مسلمانوں کا اسلام جھوٹا ہے۔ نعوذ باللہ ناقل) جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) میں ہو کر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں، اسی کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے، جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔"

(الفضل قادیان ۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۷ء بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ ۲۱۱، صفحہ ۲۱۲ طبع نہم۔ لاہور)

پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر :

د : "اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔"

(خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۸۱)

ہ : مرزا کے مرید قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا کی شان میں ایک قصیدہ لکھا، جو خوش خط لکھ کر فریم کراکر مرزا کی خدمت میں پیش کیا۔ اور پھر وہ قصیدہ مرزا کے اخبار بدر میں شائع ہوا۔ اس کے چند شعر ملاحظہ ہوں :

امام اپنا عزیزو اس جہاں میں غلام احمد ہوا دار الاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں

1

صفحہ 106
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر قادیان ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶)

درمیان تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کے زمانہ میں اسلام ہلال کی مانند تھا، جس میں کوئی روشنی نہیں ہوتی۔ اور قادیانی بعثت کے زمانے میں اسلام بدر کامل کی طرح روشن اور منور ہو گیا۔

چنانچہ ملاحظہ ہو :-

”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا، اور مقدر تھا کہ انجام کار آخری زمانہ میں بدر (چودھویں کا چاند) ہو جائے، خدا تعالیٰ کے حکم سے ــــ پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کے رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی)۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۸۳)

کے حوالے سے لکھتا ہے :

”آنحضرت کے بعثت اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن ان کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیت اللہ سے استہزا ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی بعثت اول و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۶۲)

بڑی فتح مبین :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔

صفحہ 107

چنانچہ ملاحظہ ہو :۔

”اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانے میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی جو کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے۔ اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا وقت ہو ۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۹۳۔ ۱۹۴)

روحانی کمالات کی ابتدا اور انتہا :

قادیانی ظہور کا زمانہ روحانی ترقیات کی آخری معراج ہے۔

چنانچہ ملاحظہ ہو :۔

”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا۔ اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۷)

ذہنی ارتقا :

سے بڑھ کر تھا،

چنانچہ ملاحظہ ہو :۔

”حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا ذہنی ارتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا...... اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے، نبی کریم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہو اور نہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کا پورا ظہور ہوا۔“

(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء ، بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ ۲۶۶ اشاعت نہم مطبوعہ ۔ لاہور)

صفحہ 108

عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں مرزا کی تعلیاں:

اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر صاحب شریعت رسول ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان کے مقابلے میں بڑی گستاخانہ تعلی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیے:

جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء صفحہ ۱۳)

بہت بڑھ کر ہے اور اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء صفحہ ۱۳)

بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔“

(حقیقة الوحی صفحہ ۱۴۸)

کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔“

(حقیقة الوحی صفحہ ۱۵۵)

(دافع البلاء صفحہ ۲۰)

صفحہ 109

میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ پر ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔ "

(کشتی نوح صفحہ ۵۶)

ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے۔ اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ “

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۸)

شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے۔ اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔ یہ تو ممکن ہے کہ کلام الہی کے معنی کرنے میں بعض مواقع میں۔ ایک وقت تک مجھ سے خطا ہو جائے مگر یہ ممکن نہیں کہ میں شک کروں کہ خدا کا کلام نہیں۔ “

(تجلیات الہی صفحہ ۲۰ طبع ربوہ )

پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔ “

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۰)

صفحہ 110

انسانوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دی اس کے بے شمار حوالوں میں سے چند حوالے، ملاحظہ فرمائیں:

(تذکرہ ص ۳۵۲، طبع چہارم)

”اور کہہ اے لوگو! میں تم سب لوگوں کی طرف خدا کا رسول ہو کر آیا ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۱)

”ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔“

(تذکرہ صفحہ ۱۱۳)

”کہہ خدا کی طرف سے نور اترا ہے سو تم اگر مومن ہو تو انکار مت کرو۔“

میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“

(کشتی نوح صفحہ ۵۶)

یہودی، بلکہ کتے، خنزیر، حرامزادے اور کنجریوں کی اولاد قرار دیا؛ اس کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیے۔

(مرزا کا الہام مندرجہ تذکرہ ص ۳۷۳، طبع چہارم)

ترجمہ ...... کہہ اے کافرو! میں سچا ہوں۔

صفحہ 111

(مرزا کا الہام مندرجہ مباحثہ راولپنڈی ص ۲۴۰)

ترجمہ ...... اور کافر کہتے ہیں کہ تو مرسل نہیں۔

ج : تلك كتب ينظر إليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلني ويصدق دعوتی إلا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون .

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۷ ۔ ۵۴۸)

ترجمہ ..... ہر مسلمان میری کتابوں کو محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور مجھے قبول کرتا ہے لیکن رنڈیوں و زنا کاروں کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔

د : اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور عیسائیوں کو غالب اور فتحیاب سچا قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے پس اس پر کھانا پینا حرام ہے اگر وہ اس اشتہار کو پڑھے اور مسٹر عبداللہ آتھم کے پاس نہ جائے اور اگر خداوند تعالیٰ کے خوف سے نہیں تو اس گندے لقب کے خوف سے بہت زور لگا وے تاکہ وہ کلمات مذکورہ کا اقرار دیں اور تین ہزار روپیہ لے لیں اور یہ کارروائی کر دکھائیں پس اگر عبداللہ آتھم عہد قرار دادہ سے بچ جائے تو بے شک تمام دنیا میں مشہور کر دے کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔

(انوار الاسلام صفحہ ۳۰ روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۳۲)

ہ : ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے۔ اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۵۳)

ط : ”جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔ “

(نزول المسیح صفحہ ۴ حاشیہ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۸۲)

صفحہ 112

الف : ”ان کو کہہ ! کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تاکہ خدا بھی تم سے محبت کرے۔ “

(مرزا قادیانی کا الہام مندرجہ حقیقۃ الوحی ۸۲)

ب : ” چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے۔ فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ...... اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔ اور جس کے کان ہوں سنے۔ “

(اربعین ۴ صفحہ ۷ حاشیہ)

جب تک کہ مرزا کو نہ مانا جائے۔

مردہ اسلام :

یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے بغیر دین اسلام مردہ ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو :

الف : ” غالباً ۱۹۰۶ء میں خواجہ کمال الدین صاحب کی تحریک سے اخبار وطن کے ایڈیٹر کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب نے ایک سمجھوتہ کیا کہ ریویو آف ریلیجنز میں سلسلہ کے متعلق کوئی مضمون نہ ہو، صرف عام اسلامی مضامین ہوں۔ اور وطن کے ایڈیٹر رسالہ ریویو کی امداد کا پراپیگنڈا اپنے اخبار میں کریں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس تجویز کو ناپسند فرمایا اور جماعت میں بھی عام طور پر اس کی بہت مخالفت کی گئی۔ حضرت صاحب نے فرمایا ۔ کہ کیا مجھے چھوڑ کر تم مردہ اسلام دنیا کے سامنے پیش کرو گے؟ ۔ “

(ذکر حبیب، مولفہ مفتی محمد صادق قادیانی صفحہ ۱۴۶۔ طبع اول قادیان)

ب : ” ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو (جیسا کہ دین ناقل) وہ مردہ ہے، یہودیوں، عیسائیوں، ہندؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں

صفحہ 113

تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا، اگر اسلام کا بھی یہی حال ہو تا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں، آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے۔ "

(ملفوظات مرزا جلد ۱۰ صفحہ ۱۲۷ مطبوعہ ربوہ)

ج: "حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تجویز پر ۱۹۰۵ء میں ایڈیٹر اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے ریویو آف ریلیجنز کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں بشرطیکہ اس میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام نہ ہو مگر حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے اس تجویز کو اس بنا پر رد کر دیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کرو گے؟ اس پر ایڈیٹر صاحب وطن نے اس چندے کے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ "

(اخبار الفضل قادیان جلد ۶ شمار: ۳۲ ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۸ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۴۵۸)

لعنتی، شیطانی اور قابل نفرت:

د: "وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہیہ (یعنی نبوت۔ ناقل) سے مشرف ہوسکے، وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر (یعنی شریعت محمدیہ پر جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ ناقل) انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔..... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔ "

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۳۸، ۱۳۹)

ہ: "یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا ...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہو گا (دریں چہ شک؟ ناقل) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔ "

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۸۳)

صفحہ 114

کے کلمہ کو منسوخ قرار دیا کہ کوئی شخص اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے سے مسلمان نہیں ہو سکتا اور اس کا بھی برملا اعتراف کیا کہ قادیانیوں کے کلمہ میں مرزا غلام قادیانی بھی داخل ہے : مرزا بشیر احمد ایم۔ اے لکھتا ہے :

”ہاں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے آنے سے (کلمہ کے مفہوم میں) ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت سے پہلے تو ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی، لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے (کیونکہ زیادہ شان والا نبی مرزا قادیانی اس کے مفہوم میں داخل ہو گیا۔ ہاں مرزا کے بغیر یہ کلمہ مہمل، بے کار اور باطل رہا اسی وجہ سے مرزا کے بغیر اس کلمہ کو پڑھنے والے کافر، بلکہ پکے کافر ٹھہرے۔ ناقل) غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی آمد نے ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے۔“ ؟

”علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے : ”صار وجودی وجودہ۔“ (میرا وجود بعینہ محمد رسول اللہ کا وجود ہے ترجمہ از ناقل) نیز ”من فرق بینی وبین المصطفے فما عرفنی ومارای (جس نے میرے درمیان اور مصطفیؐ کے درمیان تفریق کی، اس نے مجھے نہیں پہچانا اور نہ دیکھا ترجمہ از ناقل) اور یہ اسلئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبین کو دنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ فتدبروا۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ ۱۵۸)

صفحہ 115

ان تمام امور کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ”اسلام“ کے نام پر ایک نیا دین پیش کیا۔ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کے متوازی تھا۔ یہ تھی مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان تنازع کی بنیاد ۔۔۔ مسلمان جس دین اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نسلاً بعد نسل نقل کرتے ہوئے چلے آرہے تھے قادیانیوں کی طرف سے اس کی توہین و تذلیل کی جارہی تھی۔ اور اس اسلام کے بالمقابل غلام احمد قادیانی کا لایا ہوا مذہب اسلام کے نام سے پیش کیا جارہا تھا۔ اور مرزا قادیانی کے یہ دعوے اور دعوت اس کی ذات یا اس کی جماعت کے افراد تک محدود نہیں، بلکہ مسلمانوں کے مجمعوں میں بلکہ ان کے گھروں میں جاکر اس کی تبلیغ کی جا رہی تھی، ان حالات میں مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہونا لازم تھا، اس کے باوجود مسلمانوں نے غیر معمولی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، اور مرزا قادیانی اور اس کی ذریت سے وہ سلوک نہیں کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موذیوں کے ساتھ سلوک کرنے کے مسلمان عادی ہیں، اور جس کا نمونہ مسیلمہ کذاب اور راجپال کے مقابلہ میں سامنے آچکا ہے، تاہم علمائے امت نے مناظروں اور مباحثوں کے ذریعے ان کو لاجواب کیا، اور دونوں طرف سے بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ بالآخر مباحثوں سے گزر کر نوبت مباہلوں تک پہنچی، اور دونوں فریقوں نے مباہلہ کے ذریعہ یہ مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت عظمیٰ میں پیش کیا۔ اور عدالت خداوندی نے ہمیشہ مرزا اور اس کی جماعت کو کافر، بے ایمان اور دجال و کذاب ٹھہرایا، یہاں بطور مثال ایک مباہلہ کا ذکر کر دینا کافی ہوگا :

”۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو عید گاہ امرتسر کے میدان میں مولانا عبدالحق غزنوی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے درمیان مباہلہ ہوا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں اور میرے ماننے والے مسلمان ہیں، اور مولانا عبدالحق غزنوی کا دعویٰ تھا کہ مرزا اور مرزا کے ماننے والے سب کافر، مرتد، زندیق، بے ایمان دجال اور اللہ و رسول کے دشمن ہیں۔ اور مرزا کی کتابیں کفریات کا مجموعہ ہیں۔ دونوں فریقوں میں سے ہر ایک نے میدان میں یہ دعا کی کہ یا اللہ! اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر لعنت فرما۔ اور تمام حاضرین نے مل کر آمین کہی۔“

(مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی صفحہ ۴۲۷ و مابعد جلد ۱)

یہ تو مباہلہ ہوا، جس میں فریقین نے اپنا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔ مرزا غلام احمد نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۰۷ء کو خود لکھا کہ خدائی فیصلہ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مباہلہ کرنے والے دو فریقوں میں جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔

(ملفوظات مرزا قادیانی صفحہ ۴۴۰، ۴۴۱ جلد ۹)

صفحہ 116

چنانچہ اس اصول کے مطابق مرزا قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ کی زندگی میں وبائی ہیضہ سے ہلاک ہو گیا۔

(حیات ناصر صفحہ ۱۳)

اور مولانا مرحوم مرزا کے نو سال بعد تک باسلامت و کرامت رہے۔ ان کا انتقال ۱۶ مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا۔

(رئیس قادیان صفحہ ۱۹۲ جلد ۲)

اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مرزا قادیانی کو جھوٹا دجال قرار دیا، چنانچہ حدیث میں فرمایا : "میری امت میں جھوٹے دجال ہوں گے جو نبوت کے دعوے کریں گے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"

(ترمذی صفحہ ۴۵ جلد ۲)

لیکن اللہ و رسول کے فیصلے کے باوجود قادیانیوں کو عبرت نہ ہوئی اور انہوں نے اپنا غیر مسلم ہونا تسلیم نہیں کیا۔ تا آنکہ علامہ اقبال مرحوم نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں نہایت شدت اختیار کر گئی تھیں۔ جس کا ذکر منیر انکوائری رپورٹ میں موجود ہے تو مسلمانوں نے علامہ اقبال والا مطالبہ اس وقت کی حکومت سے کیا۔ مگر ۱۹۵۳ء میں مسلمانوں کے معقول مطالبہ کو مارشل لاء کے جبر اور گولی کی آواز سے دبا دیا گیا، بیس سال کے بعد پھر یہی مطالبہ اس وقت ابھرا جب ۱۹۷۴ء میں ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں نے نشتر کالج ملتان کے طلبہ پر تشدد کا مظاہرہ کیا، بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی دونوں جماعتوں کے سربراہوں کے بیانات سننے کے بعد فیصلہ کیا کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، چنانچہ آئینی طور پر ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

اب بھی حق و انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ قادیانی اس آئینی فیصلہ کو قبول کر لیتے، اور "اسلام" کے نام کا استعمال نہ کرتے لیکن انہوں نے آئینی فیصلہ کا مذاق اڑا کر قوم اور قومی اسمبلی کی توہین کی، اور مسلمانوں سے کہا کہ ہم خدائی مسلمان ہیں۔ اور تم سرکاری مسلمان" ہو، انہوں نے نہ صرف اس پر اکتفا کیا بلکہ اپنی ارتدادی تبلیغ اور اشتعال انگیزی میں مزید اضافہ کر دیا۔ اور اندرون و بیرون ملک پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے آئین کے خلاف زہر اگلنے لگے، ۱۹۷۴ء سے لے کر آج تک انہوں نے آئین پاکستان کے خلاف جو زہر افشانی کی ہے۔ اس کے لئے ایک دفتر درکار ہوگا، مگر یہاں ان کے چند حوالے بطور نمونہ نقل کرتا ہوں۔

صفحہ 117

”پاکستان کے آئین میں ہمارے وجود کی نفی کی گئی ہے، ہم

اسے تسلیم نہیں کریں گے“

لندن میں احمدی رہنماؤں کی پریس کانفرنس

الف :

”لندن (نمائندہ جنگ) احمدی رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ قطعی ”بے بنیاد“ الزام ہے کہ احمدی تحریک کے بانی اور ان کے جانشینوں نے احمدی جماعت میں شامل نہ ہونے والے مسلمانوں کو کبھی غیر مسلم قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ نہ کبھی بانی تحریک احمدیہ نے کسی کو غیر مسلم کہا ہے اور نہ ان کے کسی جانشین نے مسلمانوں کو غیر مسلم کہا ہے جبکہ مسلمانوں نے پاکستان میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ان کی اپنے قبرستانوں میں تدفین اور اپنی مساجد میں عبادت ممنوع قرار دے دی۔ یہ رہنما احمدی جماعت کی سہ روزہ سالانہ کانفرنس کے اختتام پر بدھ کو پیکاڈلی۔ لندن کے ایک ریستوران میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں ضیاء حکومت کو تند و تیز تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف نفرت کی جو مہم شروع کی گئی تھی وہ اب بیرون ملک بھی پھیلنے لگی ہے۔ انہوں نے مغربی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ جراح کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کینسر کو پھیلنے سے قبل ہی اپنے نشتر سے کاٹ کر پھینک دے اور اپنی حکومتوں اور رائے عامہ کو احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف منظم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احمدیوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے سے عالمی امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی شہ پر عرب ملکوں میں بھی احمدیوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ صدر ضیاء الحق کے نمائندے راجہ ظفر الحق کی ایما پر مصری اسمبلی سے یہ قانون منظور کرانے کی کوشش کی گئی کہ جو شخص احمدی ہو جائے۔ اسے سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جاسکے۔۔۔۔۔۔ انہوں نے جنوبی افریقہ اور پاکستان کو ہم پلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنوبی افریقہ میں رنگ کی وجہ سے، تو پاکستان میں مذہبی عقائد کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ امتیازات روا رکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ناموس رسولؐ کے تحفظ کے لئے نئے مجوزہ قانون پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے عیسائیوں کو بھی ناموس رسولؐ کے نام پر سزا دی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

صفحہ 118

دستور کی پابند :

احمدی رہنماؤں سے جب دریافت کیا گیا، کہ کیا وہ پاکستان کے دستور کو اور قومی اسمبلی کے بنائے ہوئے قوانین کو تسلیم کر لیں۔ تو وہ امن و تحفظ کے ساتھ اقلیت کے طور پر رہنے کی پیش کش قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دستور کو کیسے تسلیم کر سکتے ہیں جس میں ہمارے وجود کی نفی کی گئی ہو۔ ہمیں یہ دستور اس وقت تک قبول تھا، جب تک اس میں ترمیم نہیں کی گئی تھی۔ اس سے قبل ہم نے ہمیشہ حکومت کی حمایت کی۔ احمدی حضرات نے فوج اور سول انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ اور وہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے بہترین سفیر تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق کو کس نے یہ اختیار دیا تھا کہ وہ یہ طے کریں کون مسلمان ہے اور کون غیر مسلم ہے۔ اسی طرح کسی پارلیمنٹ کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کے عقائد کا فیصلہ کرے۔ برطانوی پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یہ قانون بنا سکے کہ کیتھولک یا میتھوڈسٹ عیسائی نہیں ہیں.............

(٣١ جولائی ١٩٨٦ء روزنامہ جنگ لندن)

ب :

”اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) معلوم ہوا ہے کہ احمدیوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قادیانیوں کی مخصوص نشستوں پر انتخاب سے لا تعلقی کا اعلان کیا ہے الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق قومی اسمبلی اور سرحد و سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں قادیانیوں کی ایک ایک مخصوص نشست کے لئے منگل کو کاغذات نامزدگی وصول کئے جائیں گے۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مخصوص نشستوں پر کوئی قادیانی الیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ١٩٨٤ء کے آرڈیننس کو ہم تسلیم نہیں کرتے جس کی رو سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق جماعت احمدیہ نے آرڈیننس کے نفاذ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ کوئی قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم تصور نہ کرے۔ ترجمان نے کہا کہ اگر کسی شخص نے احمدی کے طور پر مخصوص نشستوں میں حصہ لیا تو جماعت احمدیہ اس کی نمائندہ حیثیت تسلیم نہیں کرے گی۔

(٢٢ اگست ١٩٨٩ء روزنامہ جنگ کراچی)

گویا آئینی فیصلہ کے بعد بھی صورت حال جوں کی توں رہی اور مسلمانوں کو قادیانیوں کی چیرہ دستیوں سے نجات نہیں ملی۔ نہ قادیانیوں نے اسلام اور اسلامی شعائر کے استحصال کو ترک کیا۔ بالآخر ٨٣ء ۔ ٨٤ء میں پھر قادیانیوں کے خلاف تحریک اٹھی، اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو

صفحہ 119

آئین میں غیر مسلم قرار دیئے جانے کے تقاضوں کو پورا کیا جائے، اور ان کو اسلام کے نام اور اسلامی شعائر کے استعمال سے روکا جائے، چنانچہ آئین کے منشا کی تکمیل کے لئے ۲۵ اپریل ۱۹۸۴ء کا قانون امتناع قادیانیت " نافذ کیا گیا۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ قانون قطعاً منصفانہ ہے اور اس کا منشا قادیانیوں کو مسلمانوں کے مذہب میں مداخلت کرنے اور اسلام کے شعائر کا استعمال کرنے سے باز رکھنا ہے، اور بس۔

مہذب ممالک میں مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی رسوم ادا کرنے کی اس شرط پر اجازت دی جاتی ہے کہ دیگر باشندگان ملک کو ان سے اذیت نہ ہو، مثلاً مغربی ممالک میں مسلمانوں کو لاؤڈ اسپیکر پر اذان کہنے کی اجازت نہیں، کسی آبادی میں مسجد بنانے کی اجازت نہیں۔ جبکہ اہل محلہ کو اس پر اعتراض ہو۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں تو رکھیں۔ اور اس کے دین پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو کریں، لیکن اسلام کے مقدس نام کو استعمال کر کے مسلمانوں کا مذاق نہ اڑائیں۔ اور اسلامی شعائر استعمال کر کے مسلمانوں کو دھوکا نہ دیں۔ مسلمان ان کو شعائر اسلام کی اجازت نہیں دے سکتے۔

آخر میں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ موجودہ "قانون امتناع قادیانیت" میں قادیانیوں کے ساتھ بے حد رعایت کی گئی ہے کہ ان کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بحیثیت غیر مسلم اقلیت کے رہنے کا حق دیا گیا ہے، ورنہ شرعی قانون کی رو سے قادیانی ٹولہ مرتد، زندیق اور واجب القتل ہے، اور ان کا حکم وہی ہے جو مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کا ہے، ان کی انجمن کو انجمن "قزاقان اسلام" اور " جماعت باغیان اسلام" کہنا بجا ہے، اگر قادیانی اپنا غیر مسلم اقلیت ہونا تسلیم نہیں کرتے اور اسلام کے مقدس شعائر سے کھیلنا بند نہیں کرتے تو علمائے اسلام، اسلامی قانون کی روشنی میں یہ فتویٰ دینے پر مجبور ہوں گے کہ قادیانی قزاقان اسلام کے باغی اور واجب القتل ہیں، ان کو قتل کیا جائے۔ اور اس "انجمن قزاقان اسلام" کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔

بہر حال اگر توہین عدالت جرم ہے (اور یقیناً جرم ہے) تو توہین رسالت بھی کچھ کم جرم نہیں۔ اور اگر ملک وملت کے خلاف سازش کرنا جرم ہے تو اسلام کے خلاف سازش کرنا بھی اس سے کم درجے کا جرم نہیں اور اگر حکومت کے خلاف بغاوت کرنا جرم ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغاوت کرنا بھی اس سے بدتر جرم ہے۔

واللّٰہ یقول الحق وھو یھدی السبیل۔

صفحہ 120
PDF 121

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

لا نبی بعدی

ملتان

وَإِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ لَّا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ

قادیانیوں

کو

دعوتِ اسلام

نفیس

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 122

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین وخاتم النبیین سیدنا محمد وعلی الہ واصحابہ واتباعہ اجمعین

اسلام اور قادیانیت کا سو سالہ تصادم ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلہ سے اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ اس طویل عرصے میں بے شمار مناظرے، مباحثے، مباہلے ہوتے رہے، سیکڑوں کتابوں اور رسالوں کے دفتر دونوں جانب تالیف کئے گئے، مگر اب ان میں سے کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ البتہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں انہیں ہر ممکن طریقہ سے اسلام کی دعوت دینا ہمارا فرض ہے اور اس کی صورت فی الحال یہی سمجھ میں آئی ہے کہ اسلام اور قادیانیت کے درمیان جو فرق ہے اسے واضح کر کے اپنے ان بھائیوں سے غور و فکر کی درخواست کی جائے، اور اگر توفیق رہبری کرے تو وہ احساس فرمائیں کہ انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، ائمہ دین اور اکابر امت مجددین والا راستہ نہیں ہے، جسے قرآن کریم نے "سبیل المومنین" فرمایا ہے۔ وہ اس سے ہٹ کر غلط راستہ پر پڑ گئے ہیں۔ اس سلسلہ کا یہ پہلا عجالہ پیش خدمت ہے، جس میں مرزا قادیانی کے صرف ایک عقیدہ کی (جو قادیانی لٹریچر میں "بعثت ثانیہ" کا عقیدہ کہلاتا ہے) تشریح کرتے ہوئے اس کے آثار و نتائج کی تفصیل پیش کی گئی ہے، اور پھر یہ دکھایا گیا ہے کہ عقل و خرد کی میزان میں اس عقیدہ کا کیا وزن ہے، اور یہ اپنے اندر کتنے ہولناک عواقب رکھتا ہے۔ مرزا ناصر احمد قادیانی امیر جماعت ربوہ اور جناب صدر الدین امیر جماعت لاہور سے لے کر ان کی جماعت کے ہر اعلیٰ و ادنیٰ فرد سے نہایت ہی درد مندی سے گزارش کروں گا کہ وہ اس رسالہ کے مندرجات پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں اور اگر بات سمجھ میں آجائے تو حق کو قبول کرنے سے عار نہ فرمائیں۔

صفحہ 123

مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے افراد مرزا غلام احمد قادیانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ خادم کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں، اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت میں کسی سے کم نہیں۔ یہ رسالہ ان کے اس دعوے محبت کے لئے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ انہیں واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین و شریعت کی طرف، جس پر امت اسلامیہ چودہ صدیوں سے چلی آرہی ہے، پلٹ آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ رسالہ کی ترتیب حسب ذیل ہے : فصل اول :۔ دو محمد رسول اللہ۔ فصل دوم :۔ قادیانی بعثت کے آثار و نتائج۔ فصل سوم :۔ خصوصیات نبوی اور مرزا غلام احمد قادیانی۔ فصل چہارم :۔ مکی بعثت پر قادیانی بعثت کی فضیلت۔ فصل پنجم :۔ دعوت غور و فکر۔

مسلمانوں سے التماس ہے کہ اس رسالہ کو جہاں تک ممکن ہو ان بھولے ہوئے بھائیوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ اس حقیر سی خدمت کو قبول فرمائیں اور اپنے بندوں کے قلوب کو حق و ہدایت کی طرف متوجہ فرمائیں۔ اللھم یا مصرف القلوب صرف قلوبنا الی طاعتک۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۔

محمد یوسف لدھیانوی عفا اللہ عنہ۔

(خادم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان)

جمعہ ۱۰ رجب المرجب ۱۳۹۶ھ

صفحہ 124

فصل اول

دو محمد رسول اللہ ؟

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ سلسلہ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا۔ آپ کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہوگا، بلکہ آپ ہی کی رسالت و نبوت کا دور قیامت تک باقی رہے گا۔

اور یہ بھی نہیں کہ ایک بار تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کی حیثیت سے مکہ میں مبعوث کیا جائے اور پھر کسی زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسری بار خلعت نبوت سے آراستہ کر کے کسی اور جگہ بھیجا جائے۔ نہیں! بلکہ آپ کی پہلی بعثت ہی ایسی کافی و شافی تھی کہ وہ قیامت تک قائم و دائم رہے گی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کا آفتاب رہتی دنیا تک تابان و درخشاں رہے گا، نہ وہ کبھی غروب ہوگا، نہ اس کے بعد دوبارہ سلسلہ نبوت جاری کرنے کی ضرورت لاحق ہوگی۔

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا نبی کی حیثیت سے دنیا میں دوبار آنا منجانب اللہ مقدر تھا، چنانچہ ایک دفعہ چھٹی صدی مسیحی میں آپؐ محمد کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں مبعوث ہوئے اور دوسری بار انیسویں صدی مسیحی کے آخر اور چودھویں صدی ہجری کے اوائل میں، قادیاں (ضلع گورداسپور، مشرقی پنجاب) میں آپؐ کو مبعوث کیا گیا۔ لیکن یہ دوسری دفعہ کی بعثت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی شکل میں نہیں ہوئی بلکہ اس بار مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں آپؐ کا ظہور ہوا۔ آپؐ کے اسی ظہور کو مرزا قادیانی کی ”خاص اصطلاح“ میں ”ظل“ اور ”بروز“ کہا جاتا ہے۔

اس عقیدے کی بنا پر مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہونے کی وجہ سے بعینہ ”محمد رسول اللہ“ ہیں، ان کا وجود بعینہ محمد

صفحہ 125

رسول اللہ کا وجود ہے اور ان کی آمد بعینہ محمد رسول اللہ کی آمد ہے۔ فرق ہے تو صرف یہ کہ پہلی تشریف آوری میں آپ محمد تھے (صلے اللہ علیہ وسلم) اور دوسری میں آپؐ کا نام غلام احمد (یا قادیانی اصطلاح میں صرف احمد) ہے۔ پہلی بعثت مکہ میں ہوئی تھی، اور دوسری قادیاں میں، پہلی بعثت جلالی تھی اور دوسری جمالی....... مرزا قادیانی نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی دوسری (قادیانی) بعثت کا عقیدہ ایسی تکرار و اصرار اور صراحت و وضاحت سے درج کیا ہے کہ یہ عقیدہ قادیانی جماعت کا ”مخصوص ترانہ“ بن گیا اور ان کے عقیدت مند ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرنے لگے کہ ”مرزا محمد است و عین محمد است۔“

”صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک
کہ جس پر وہ بدر الدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت
ہے اب ”احمد مجتبیٰ“ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفےٰ میرزا بن کے آیا“

(الفضل ۲۸ مئی ۱۹۲۸ء)

”اے میرے پیارے میری جان رسولِ قدنی
تیرے صدقے تیرے قرباں رسولِ قدنی
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی“

(الفضل قادیان مورخہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۲۲ء)

”مصطفےٰ میرزا بن کے آیا“ اور ”تجھ پر پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی“ کے نعرے خالی از علت نہیں تھے، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ۲۰ سالہ تعلیم و تلقین کے ثمرات تھے۔ اس سلسلہ کی تفصیلات آگے آ رہی ہیں تاہم مزید تشریح کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کے اکابر کے حوالے یہاں بھی پڑھ لیجئے :

صفحہ 126

ہزار (چھٹی صدی مسیحی) میں مبعوث ہوئے، ایسا ہی مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار (تیرہویں صدی ہجری) کے آخر میں (قادیان میں) مبعوث ہوئے، اور یہ قرآن سے ثابت ہے، اس میں انکار کی گنجائش نہیں اور بجز اندھوں کے کوئی اس معنی سے سر نہیں پھیرتا ...... اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔“ (خطبہ الہامیہ ص ۱۸۰، ۱۸۱، روحانی خزائن ص ۲۷۰، ۲۷۱ ج ۱۶)

یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا، جو مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزا قادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔“ ......

(تحفہ گولڑویہ طبع اول ص ۹۴ خزائن ص ۲۴۹ ج ۱۷)

ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں۔“

(خزائن ص ۲۵۲ ج ۱۷ تحفہ گولڑویہ ص ۹۶)

ایک بعث تکمیل ہدایت کے لئے، دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے۔“

(خزائن ص ۲۶۰ ج ۱۷ تحفہ گولڑویہ ص ۹۹)

وسلم کی دو بعثتوں کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے ...... اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ جس طرح نبی کریمؐ کو امیوں یعنی مکہ والوں میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اسی طرح ایک اور قوم میں بھی

صفحہ 127

آپ کو مبعوث کیا جائے گا، جو ابھی تک دنیا میں پیدا نہیں کی گئی، لیکن چونکہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے کہ ایک شخص جب فوت ہو جاوے تو اسے پھر دنیا میں لایا جاوے ...... پس یہ وعدہ اس صورت میں پورا ہو سکتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانی کے لئے ایک ایسے شخص کو چنا جاوے جس نے آپؐ کے کمالات نبوت سے پورا حصہ لیا ہو، اور جو حسن اور احسان اور ہدایت خلق اللہ میں آپؐ کا مشابہ ہو، اور جو آپؐ کی اتباع میں اس قدر آگے نکل گیا ہو کہ بس آپ کی ایک زندہ تصویر بن جائے تو بلا ریب ایسے شخص کا دنیا میں آنا خود نبی کریمؐ کا دنیا میں آنا ہے اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی۔ حتی کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں ...... تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اتارا۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۰۳، ۱۰۵ مندرجہ ریویو آف ریلیجنز مارچ اپریل ۱۹۱۵ء)

کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو وجودوں کے رنگ میں لیا اس نے مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی مخالفت کی، کیونکہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کہتا ہے صار وجودی وجودہ ۔ (میرا وجود آپ ہی کا وجود بن گیا ہے۔) اور جس نے مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اور نبی کریم میں تفریق کی اس نے بھی مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا، کیونکہ مسیح موعود صاف فرماتا ہے کہ من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی وما رائی (جس نے میرے اور مصطفےٰ کے درمیان فرق کیا اس نے مجھے نہ دیکھا اور نہ پہچانا) (دیکھو خطبہ الہامیہ ص ۱۷۱ خزائن ص ۲۵۸ ج ۱۶) اور وہ جس نے مسیح موعود کی بعثت کو نبی کریم کی بعثت ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ایک دفعہ پھر

صفحہ 128

دنیا میں آئے گا۔" (کلمۃ الفضل ص ۱۰۵) ان حوالوں سے واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں اور یہ کہ آپ کی دوسری بعثت قادیان میں مرزا غلام احمد کی شکل میں ہوئی۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی ”عین محمد“ ہیں اور یہ عقیدہ قادیانی جماعت کے ذہنوں میں کس حد تک راسخ ہے؟ اس کا اندازہ ایک قادیانی کے مندرجہ ذیل تاثر سے کیجئے:

”ادھر بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، اور شروع ہی میں اس کو خدا اور خدا کے رسول پاک کا نام سنایا جاتا ہے، بعینہ یہ بات میرے ساتھ ہوئی، میں ابھی احمدیت میں بطور بچہ ہی کے تھا جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ ”مسیح موعود محمد است و عین محمد است۔“

(”الفضل“ قادیان ۷ اگست ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۴۶۸ طبع پنجم)

مجھے چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کے عقائد کو ذکر کرنا ہے، ان کی تردید مقصود نہیں، اس لئے میں اس پر بحث نہیں کروں گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ”بعثت ثانی“ اور ”بروز“ وغیرہ کا تخیل کہاں سے مستعار لیا ہے، نہ اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی کے استدلال سے بحث کرنا ہی میرے پیش نظر ہے۔

البتہ یہ گزارش بے محل نہ ہوگی کہ یہ عقیدہ سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی نے اختراع کیا، ورنہ تیرہ صدیوں میں کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے، چنانچہ قادیانی جماعت کا آرگن روزنامہ ”الفضل“ لکھتا ہے:

”آج تک کے مسلمانوں میں سے کسی نے بھی یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے متعلق بیان نہیں کی، اور نہ ہی اس حقیقت سے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے پہلے کوئی شخص واقف اور شناسا ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں تمام دنیائے اسلام میں صرف آپ (مرزا قادیانی) ہی کا

صفحہ 129

ایک وجود ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا اظہار آپؐ کی دو بعثتوں کی حیثیت میں کیا چنانچہ آپ (مرزا قادیانی) تحفہ گولڑویہ کے ایڈیشن اول کے صفحہ ۹۴ پر تحریر فرماتے ہیں ”......

” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں، یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کے ظہور سے پورا ہوا۔“ (یہاں ”الفضل“ نے مرزا صاحب کے دو حوالے اور نقل کئے ہیں۔ جن کو میں اوپر ذکر کر چکا ہوں ...... ناقل“) ( ”الفضل“ قادیان ۲۴ جنوری ۱۹۳۱ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۷۵ طبع پنجم)

”الفضل“ کو اعتراف ہے کہ تیرہ سو سالہ امت، مرزا غلام احمد قادیانی کے اس عقیدہ کی قائل تو کجا؟ اس سے واقف اور شناسا بھی نہیں تھی، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا کہنا ہے کہ یہ عقیدہ قرآن کی نص صریح سے ثابت ہے، اور یہ کہ جو شخص اس سے انکار کرے وہ اندھا، حق کا منکر اور قرآن کا منکر ہے (دیکھئے حوالہ نمبر ۱) اب یہ فیصلہ خود اہل عقل کو کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ عقیدہ اسلامی ہے یا غیر اسلامی؟ اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ”قادیانی بعثت“ کا عقیدہ اپنا کر سبیل المومنین (اہل ایمان کے راستے) کی پیروی کی ہے، یا وہ اس سے ہٹ کر کسی اور ہی راہ پر چل نکلے ہیں؟

فصل دوم

قادیانی بعثت کے آثار و نتائج

”محمد رسول اللہ“ کا دنیا میں دوبارہ آنا (اور پھر قادیان میں مبعوث ہو کر مرزا غلام احمد کی شکل میں ظاہر ہونا) اپنے جلو میں اور بھی چند ایک عقائد رکھتا ہے، جن کے مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے لوگ قائل ہیں۔ ان سے پہلے دنیا کا کوئی مسلمان اس کا قائل نہ تھا نہ اب ہے، بلکہ تمام امت مسلمہ ان عقائد کو کفر صریح سمجھتی رہی ہے۔

صفحہ 130

عقیدہ (۱): خاتم النبیین کے بعد عام گمراہی :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ کی خاتمیت کا تقاضہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے۔ نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب ہدایت دنیا سے مفقود ہو اور نہ آپ کی امت کبھی گمراہی پر جمع ہو جیسا کہ نصوص قطعیہ سے ثابت ہے مرزا غلام احمد قادیانی نے ”محمد رسول اللہ کی بعثت ثانیہ“ کا روپ دھارنے کے لئے یہ نظریہ ایجاد کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں جو ہدایت لے کر آئے تھے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعثت ثانیہ کا دور (۱۳۰۱ھ) شروع ہونے سے پہلے یکسر مٹ چکی تھی دنیا میں چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا زمین میں نہ دین تھا نہ ایمان تھا نہ ہدایت تھی نہ کتاب ہدایت تھی اور یہ سب کچھ دنیا کو مرزا غلام احمد قادیانی کے بدولت دوبارہ نصیب ہوا مختصر یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بعثت ثانیہ کا عقیدہ تب ممکن ہے جب کہ پہلے یہ عقیدہ رکھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کا نور بجھ چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کا چراغ گل ہو چکا تھا، اس آفتاب رسالت کے بعد بھی دنیا میں عام تاریکی پھیل چکی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی پوری کی پوری دنیا گمراہ ہو چکی تھی۔ یہ عقیدہ صحیح ہے یا غلط؟ برا ہے یا بھلا؟ اس کا فیصلہ بھی آپ عقل خداداد سے خود ہی کیجئے، میں صرف یہ عرض کروں گا کہ یہ عقیدہ کبھی کسی زمانے میں کسی مسلمان کا نہیں رہا، نہ ہو سکتا ہے، البتہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی عقیدہ رکھتے تھے اور وہ اسی عقیدہ کی تلقین اپنی جماعت کو بھی کرتے رہے۔ کیونکہ یہی عقیدہ ان کے ”ظل و بروز“ کی عمارت کا بنیادی پتھر ہے، چند حوالے ملاحظہ فرمائیے :

ہے۔...... جس کی نسبت خدائے تعالیٰ آیت موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اٹھا لیا جائے گا، سو ایسا ہی ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی حالت ہو گئی تھی۔........ ”قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے، وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایا تھا اس سے لوگ بے خبر ہیں، وہ عرفان جو قرآن نے بخشا تھا اس سے لوگ غافل ہو گئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا،

صفحہ 131

انہیں معنوں سے کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا۔ پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی۔ ناقل)...... یہ حدیث در حقیقت اسی زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آیت انا علی ذھاب بہ لقادرون میں اشارۃً بیان کیا گیا ہے۔“

(ازالہ خورد قادیان ص ۲۲۷ تا ص ۲۲۸، روحانی خزائن حاشیہ ص ۴۸۹ تا

۴۹۲ ج ۳)

مرزا غلام احمد قادیانی کے منجھلے صاحب زادے مرزا بشیر احمد ایم۔ اے لکھتے ہیں

طرح ہر ایک نبی کے بعد، جس کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا پر نور کا نزول ہوتا ہے، ایسے زمانہ کا آنا بھی ضروری ہے جو اندھیرے سے مشابہت رکھتا ہو۔“

(کلمتہ الفصل ص ۹۶)

گیا جب دنیا میں چاروں طرف اندھیرا چھا گیا تھا اور بر و بحر میں ایک طوفان عظیم برپا ہو رہا تھا، مسلمان جن کو خیر الامت کا خطاب ملا تھا نبی عربی کی تعلیم سے کوسوں دور جا پڑے تھے...... تب یکایک آسمان پر سے ظلمت کا پردہ پھٹا اور خدا کا ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے زمین پر اترا۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۰۰، ۱۰۱)

کے در حقیقت موسیٰؑ کے دین کے پیرو نہ رہے تھے اور جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے عیسائی صرف نام کے عیسائی تھے ورنہ عیسیٰؑ ان سے بیزار تھا اور وہ عیسیٰؑ سے بیزار۔ اسی طرح مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وقت پانے والے مدعیان اسلام اس مذہب سے دور جا پڑے تھے، جس مذہب کو فاران کی چوٹیوں پر سے اترنے والا آج سے تیرہ سو سال پہلے دنیا میں لایا۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۰۲)

صفحہ 132

۵...... ”سچ ہے اگر مسلمان اسلام پر قائم ہوتے تو کیا ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو بھیجتا مگر نہیں! اللہ تعالیٰ جو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے خوب جانتا تھا کہ ایمان دنیا سے مفقود ہے اور اسلام صرف زبانوں تک محدود۔ اسی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے...... کہ ایک وقت آئے گا جب ایمان دنیا سے اٹھ جائے گا تب اللہ تعالیٰ ایک فارسی النسل کو کھڑا کرے گا تاکہ وہ نئے سرے سے لوگوں کو اسلام پر قائم کرے...... ایمان واقعی ثریا پر چلا گیا تھا، مسیح موعود (مرزا) اسے پھر دنیا میں لایا۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۰۲)

۶...... ”ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی، مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے اسی لئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں) دوبارہ دنیا میں مبعوث کرکے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۷۳)

الغرض دوسرے بعثت کے عقیدہ سے پہلے یہ عقیدہ ضروری ٹھہرا کہ رسالت محمدی کا آفتاب دنیا کے مطلع سے ڈوب چکا تھا، اس کی کوئی روشنی باقی نہ تھی نہ ایمان تھا، نہ اسلام تھا، نہ قرآن تھا، چاروں طرف بس اندھیرا ہی اندھیرا تھا، یہ سب کچھ مرزا قادیانی کی بعثت کے طفیل دوبارہ ملا۔

عقیدہ (۲): پہلی اور دوسری بعثت کا الگ الگ دور !

جب مرزا غلام احمد قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو الگ الگ بعثتیں ذکر کیں، ایک مکی بعثت بشکل محمد اور دوسری قادیانی بعثت بشکل غلام احمد، تو لامحالہ ان دونوں بعثتوں کا دور بھی الگ الگ ہوگا۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ ہے کہ چودھویں صدی سے دوسری بعثت کا دور شروع ہوتا ہے اور یہ کہ تیرھویں

صفحہ 133

صدی کے آخر میں پہلی بعثت کی تمام برکات ختم ہو گئی تھیں، حتی کہ قرآن، ایمان اور اسلام بھی کچھ اٹھ چکا تھا، اور یہ سب کچھ امت کو دوسری بعثت کے دم قدم سے دوبارہ نصیب ہوا۔ اس سے از خود یہ نتیجہ نکل آتا ہے کہ تیرہویں صدی پر مکی بعثت کا دور ختم ہو چکا اور اب چودھویں صدی سے قادیانی بعثت کا دور شروع ہوتا ہے۔ لہٰذا انسانیت کی نجات و فلاح کے لئے مکی بعثت کالعدم قرار پاتی ہے۔ اور اسلام کا صرف وہی ایڈیشن معتبر، قابل عمل اور موجب نجات ٹھہرتا ہے جس پر قادیانی بعثت کی مہر ہو، چنانچہ مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتے ہیں :

”اور پھر ہمیں تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اسلام کیسا اسلام ہے جو انسان کو نجات نہیں دلا سکتا، کیونکہ ہم حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے صریح الفاظ میں لکھا ہوا پاتے ہیں کہ میرے ماننے کے بغیر نجات نہیں، جیسا کہ آپ اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۴ (خزائن ص ۴۲۱ ج ۱۷) پر تحریر فرماتے ہیں کہ :

”ایسا ہی یہ آیت واتخذوا من مقام ابراہیم مصلیٰ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے، تب آخری زمانہ میں۔ ایک ابراہیم (مرزا غلام احمد) پیدا ہوگا۔ اور ان سب فرقوں میں سے وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔

”پھر براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۲ (خزائن ۱۰۹۔ ۱۰۸ ج ۲۱) میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :

”انہی دنوں میں سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جاوے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک قرنا بجائے گا اور اس قرنا کی آواز پر ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھنچا آئے گا، بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔“

ایسا ہی اشتہار ”حسین کامی سفیر روم“ میں آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) لکھتے ہیں کہ :

”خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے الگ رہے گا

صفحہ 134

وہ کاٹا جاوے گا۔“ (مجموعہ اشتہارات ص ۴۱۲ ج ۲ طبع لندن)

پھر ایک حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کا الہام ہے جو آپ نے اپنے اشتہار معیار الاخبار مورخہ ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۸ پر درج کیا ہے اور وہ یہ ہے :

جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(تذکرہ ص ۳۳، مجموعہ اشتہارات ص ۲۷۵ ج ۳)

اختصار کے طور پر اتنے حوالے دیئے جاتے ہیں ورنہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے بیسیوں جگہ اس مضمون کو ادا کیا ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۲۸، ص ۱۲۹)

خلاصہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دو بعثتوں والے عقیدہ کا ایک اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ تیرہویں صدی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت پر ایمان لانا، آپؐ کی شریعت کی پیروی کرنا اور آپ کی ہدایات و ارشادات پر عمل کرنا موجب نجات نہیں، بلکہ یہ ساری چیزیں کالعدم، لغو اور بے کار ہیں جب تک کہ مرزا قادیانی پر ایمان نہ لایا جائے۔ کیونکہ تیرہویں صدی کے بعد مکی رسالت و نبوت کا دور نہیں رہا، بلکہ قادیانی رسالت و نبوت کا دور شروع ہو چکا ہے اور اس دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کرنے والوں کی بھی وہی حیثیت ہوگی جو رسالت محمدیہؐ کے دور میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی شریعت پر عمل کرنے والوں کی ہے۔ یعنی مرزا بشیر احمد کے الفاظ میں :

”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰)

یہ تو قادیانی عقیدہ ہوا، اس کے برعکس اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ رسالت محمدیہؐ کا

صفحہ 135

دور تیرہویں صدی تک محدود نہیں، بلکہ قیامت تک ہے، اس لئے ایمان و کفر کا معیار آج بھی وہی ہے، جو چودھویں صدی سے پہلے تھا، اور یہی معیار قیامت تک قائم رہے گا۔ اب اہل عقل کو غور کرنا چاہئے کہ کیا قادیانی عقیدے کے مطابق رسالت محمدیہ (یا مرزا قادیانی کی اصطلاح میں پہلی بعثت) منسوخ اور کالعدم ہو جاتی ہے یا نہیں؟

عقیدہ (۳) جامع کمالات محمدیہ

جب مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت کا مظہر ہونے کی بنا پر بعینہ ”محمد رسول اللہ“ بن گئے ہیں تو یہ عقیدہ بھی لازم ٹھہرا کہ وہ تمام اوصاف و کمالات جو پہلی بعثت میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں پائے جاتے تھے وہ اب بروزی رنگ میں، پورے کے پورے جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے نام رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ جو منصب و مقام کہ تیرہویں صدی تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھا وہ اب مرزا غلام احمد قادیانی کو تفویض کیا جا چکا ہے، اور جس مسند رسالت پر پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز تھے، اب اس پر جناب مرزا غلام احمد قادیانی رونق افروز ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت اس عقیدے کا بھی برملا اظہار کرتی ہے، ان کے بے شمار حوالوں میں سے چند حوالے درج ذیل ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں۔

”جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی، مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ، خزائن ص ۲۱۲ ج ۱۸)

دوسری جگہ لکھتے ہیں۔

”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں، میرا نفس

صفحہ 136

درمیان نہیں ہے، بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا، پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی، محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔“ (ایک غلطی کا ازالہ)

(روحانی خزائن ص ۲۱۶ ج ۱۸)

مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کا ترجمان "الفضل" لکھتا ہے۔ ”پس جب کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وجود خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہے، یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیح موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں کوئی دوئی اور مغایرت نہیں رکھتے، بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں، گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔“

(اخبار الفضل قادیان جلد نمبر ۳ شمارہ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۱۵ء بحوالہ

قادیانی مذہب ص ۲۷۴)

”گزشتہ مضمون مندرجہ الفضل مورخہ ۱۶ ستمبر میں میں نے محض بفضل الٰہی اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) باعتبار نام، کام، آمد، مقام، مرتبہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہیں، یا یوں کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ (دنیا کے) پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے تھے، ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیح موعود کی بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں۔“ (الفضل مورخہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص

۲۷۷)

ان حوالوں سے قادیانی عقیدہ کا منشاء بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ ان کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے بعینہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات حاصل ہیں اور چودھویں صدی سے ”محمد رسول اللہ“ کی مسند رسالت پر مرزا غلام احمد قادیانی متمکن ہیں۔ کیا کوئی مسلمان ایک لمحہ کے لئے بھی اس عقیدہ کو تسلیم کر سکتا ہے؟

صفحہ 137

فصل سوم

خصوصیات نبوی اور مرزا غلام احمد قادیانی

اور یہ تو صرف اجمالی عقیدہ تھا کہ ”مرزا غلام احمد قادیانی عین محمد ہیں“، اس لئے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کام، مقام و منصب، شرف و مرتبہ اور آپ کی نبوت و کمالات نبوت سبھی کچھ حاصل ہے، جو کچھ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اب ”بعثت ثانیہ“ کے طفیل وہ سب کچھ مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس ہے۔ آئیے! اب یہ دیکھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے بعثت ثانیہ کے پردے میں مرزا قادیانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات و خصوصیات کس فیاضی سے عطا کئے ہیں۔

مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ مگر قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ یہ آیت مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی تعریف و توصیف میں نازل ہوئی۔ (تذکرہ طبع دوم ص

۹۷)

انسانیت کا رسول بنا کر بھیجا ہے، مگر قادیانی عقیدہ ہے کہ ”چودھویں صدی سے تمام انسانیت کا رسول مرزا غلام احمد ہے۔“

(تذکرہ ص ۳۶۰)

مرزا بشیر احمد قادیانی ایم، اے لکھتے ہیں۔

”ان سب لوگوں کا (یعنی انبیاء سابقین کا) کام خصوصیات زمانی اور مکانی کی وجہ سے ایک تنگ دائرہ میں محدود تھا، لیکن مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی)، چونکہ تمام دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا گیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے ہرگز نبوت کا خلعت نہیں پہنایا جب تک اس نے نبی کریم کی اتباع میں چل کر آپ کے تمام کمالات کو حاصل نہ کر لیا۔“

صفحہ 138

(کلمۃ الفصل ص ۱۱۳)

خود مرزا غلام احمد قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فوقیت و برتری بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :-

”مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے، اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۱۵۳ خزائن ص ۱۷۵ ج ۲۲)

عقیدہ (۳) قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے لئے ”بشیر و نذیر“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے لیکن قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ اب دنیا کا بشیر و نذیر مرزا غلام احمد ہے۔ (مذکورہ ص ۱۵۴)

عقیدہ (۴) قرآنی عقیدہ ہے کہ رحمۃ للعالمین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ اب رحمۃ للعالمین مرزا غلام احمد قادیانی ہے

(مذکورہ ص ۸۳، ص ۲۶۹، ص ۶۳۴ ۔ طبع دوم، ص ۸، ص ۳۸۵ طبع سوم)

مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کا ترجمان ”الفضل“ لکھتا ہے۔

”یہ مسلمان کیا منہ لے کر دوسرے مذاہب کے بالمقابل اپنا دین پیش کر سکتے ہیں، تاوقتیکہ وہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی صداقت پر ایمان نہ لائیں، جو فی الحقیقت وہی ختم المرسلین تھا کہ خدائی وعدہ کے مطابق دوبارہ آخرین میں مبعوث ہوا، وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔“

(الفضل ۔ مورخہ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۶۴)

عقیدہ (۵) قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ نجات صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ممکن ہے، اور قادیانی عقیدے کے مطابق اب صرف مرزا قادیانی کی تعلیم کی پیروی ہی موجب نجات ہے۔

صفحہ 139

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے :۔

"چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی، اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا، ..... اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔" (حاشیہ اربعین نمبر ۴ ص ۶

خزائن ص ۴۳۵ ج ۱۷)

عقیدہ (۶) قرآنی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اور قادیانی عقیدے کے مطابق اب یہ منصب، بروزی طور پر غلام احمد قادیانی کا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے :۔

منہم لما یلحقوا بہم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔"

(ایک غلطی کا ازالہ، خزائن ص ۲۱۲ ج ۱۸)

کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے، بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پاکر اور اسی میں ہوکر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔"

(نزول المسیح ص ۲ خزائن ص ۳۸۰۔ ۳۸۱ ج ۱۸)

غلام احمد قادیانی) کو قبول نہ کیا، مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے، کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔"

(کشتی نوح ص ۵۶ خزائن ص ۶۱ ج ۱۹)

صفحہ 140

عقیدہ (۷) قرآن کریم کے مطابق صاحب کوثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ آیت انا اعطیناک الکوثر مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں ہے۔

(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۲ خزائن ص ۱۰۲ ج ۲۲)

عقیدہ (۸) قرآنی عقیدہ ہے کہ صاحب اسراء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر قادیانی عقیدہ ہے کہ صاحب اسراء بھی مرزا غلام احمد قادیانی ہیں کیونکہ آیت ”سبحن الذی اسری بعبدہ“ ان پر نازل ہوئی ہے۔

(تذکرہ ص ۸۱، طبع دوم، طبع سوم ص ۷۹، ص ۲۷۵، ص ۶۳۵)

عقیدہ (۹) مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بحالت بیداری جسم اطہر کے ساتھ ہوئی تھی، چنانچہ خود مرزا قادیانی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ تقریباً تمام صحابہؓ کا اس پر اجماع تھا۔ وہ لکھتا ہے :۔ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع جسمی کے بارہ میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے سمیت شب معراج میں آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے، تقریباً تمام صحابہؓ کا یہی اعتقاد تھا، جیسا کہ مسیح کے اٹھائے جانے کی نسبت اس زمانہ کے لوگ اعتقاد رکھتے ہیں، یعنی جسم کے ساتھ اٹھائے جانا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا۔“

(ازالہ اوہام ص ۲۸۹ خزائن ص ۲۴۷ ج ۳)

صحابہ کے دور سے آج تک مسلمانوں کا اسی پر اجماع چلا آتا ہے، لیکن قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ”معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“ اور یہ کہ ”مرزا خود بھی اس قسم کے کشفوں میں صاحب تجربہ ہیں۔“

(حاشیہ ازالہ اوہام ص ۴۷، ص ۴۸ خزائن ص ۱۳۶ ج ۳)

گویا معراج جسمانی تو کجا؟ معراج کشفی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اس کا بارہا تجربہ ہوچکا ہے۔

عقیدہ (۱۰) قرآنی عقیدہ ہے کہ قاب قوسین کا مقام آنحضرت صلی

صفحہ 141

علیہ وسلم کے لئے مختص ہے، مگر قادیانی عقیدہ ہے کہ یہ منصب مرزا غلام احمد قادیانی کو حاصل ہے۔ (تذکرہ ص ۱۷۰، طبع دوم، طبع سوم ص ۳۹۵)

عقیدہ (۱۱) قرآنی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، مگر قادیانی عقیدہ ہے کہ ”خدا عرش پر مرزا غلام احمد قادیانی کی تعریف کرتا ہے اور اس پر درود بھیجتا ہے۔“

(تذکرہ ص ۶۵۹ اربعین نمبر ۲ ص ۳، ۱۵ خزائن ۳۴۹ ج ۱۷)

عقیدہ نمبر (۱۲) مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود گرامی باعث تخلیق کائنات ہے، آپؐ کا وجود باجود نہ ہوتا تو کائنات وجود میں نہ آتی، لیکن قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ کائنات صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی خاطر پیدا کی گئی ہے، وہ نہ ہوتے تو نہ آسمان و زمین وجود میں آتے، نہ کوئی نبی ولی پیدا ہوتا، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام ہے۔

لولاک لما خلقت الافلاک یعنی اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔

(حقیقۃ الوحی ص ۹۹ خزائن ص ۱۰۲ ج ۲۲)

عقیدہ (۱۳) اسلامی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل البشر اور سید الانبیاء ہیں، آپ کا مرتبہ تمام انبیاء کرام سے اعلیٰ و ارفع ہے، لیکن قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا الہام ہے:-

”آسمان سے کئی تخت اترے، پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۸۹ خزائن ص ۹۲ ج ۲۲)

اور اسی بناء پر مرزا غلام احمد قادیانی یہ ترانہ گاتے ہیں:

”انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمتر زکسے
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام
صفحہ 142
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین"

(نزول مسیح ۹۹ ۔ ۱۰۰، خزائن ۴۷۷۔ ۴۷۸ ج ۱۸)

(ترجمہ ۔ انبیاء اگرچہ بہت ہوئے ہیں۔ مگر میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں، جو جام کہ ہر نبی کو دیا گیا ہے، وہ مجھے پورے کا پورا دے دیا گیا ہے، میں از روئے یقین ان میں سے کسی سے کم نہیں ہوں، جو شخص جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔ )

اور اسی بناء پر مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں :۔

"منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد"

(تریاق القلوب ص ۳، خزائن ۱۳۴ ج ۱۵)

"زندہ شد ہر نبی بآمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص ۱۰۰، خزائن ص ۴۷۸ ج ۱۸)

"اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم"

(ازالہ ص ۱۵۸ خزائن ص ۱۸۰ ج ۳)

عقیدہ (۱۴) اسلامی عقیدہ ہے کہ صاحب مقام محمود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور قادیانیوں کے نزدیک مقام محمود مرزا غلام احمد قادیانی کو عطا ہوا ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا الہام ہے : اراد اللہ ان یبوئک مقاما محمودا۔ (حقیقتہ الوحی ص ۱۰۲۔ خزائن ص ۱۰۵ ج ۲۲)

عقیدہ (۱۵) مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتے تو آپؐ ہی کی پیروی کرتے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول آپؐ کی پیروی کریں گے، اور قادیانیوں کے نزدیک

صفحہ 143

اب یہ مرتبہ مرزا غلام احمد قادیانی کو حاصل ہے۔ ”الفضل“ لکھتا ہے۔

”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے مرتبہ کی نسبت مولانا (محمد احسن امروہوی قادیانی) ...... لکھتے ہیں کہ پہلے انبیاء اولو العزم میں بھی اس عظمت شان کا کوئی شخص نہیں گزرا۔ حدیث میں تو ہے کہ اگر موسیٰ و عیسیٰ زندہ ہوتے تو آنحضرتؐ کے اتباع کے بغیر ان کو چارہ نہ ہوتا (حدیث میں حضرت موسیٰؑ کا نام مذکور ہے حضرت عیسیٰؑ کا نہیں، کیونکہ وہ تو زندہ ہیں، اور آپؐ کی پیروی بھی کریں گے۔ ناقل) مگر میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود کے وقت میں بھی موسیٰ و عیسیٰ ہوتے تو مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی ضرور اتباع کرنی پڑتی۔“

(اخبار الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۱۶ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۲۵)

عقیدہ (۱۶) قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو ”امت کی مائیں“ فرمایا ہے، وازواجہ امہاتہم (الاحزاب) لیکن قادیانی مذہب میں یہ لقب مرزا غلام احمد قادیانی کی اہلیہ محترمہ کا ہے۔

عقیدہ (۱۷) مسلمانوں کے نزدیک محمد عربیؐ کا لایا ہوا قرآن معجزہ ہے۔ اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کے علاوہ ان کی تصنیف اعجاز احمدی، اعجاز المسیح اور خطبہ الہامیہ بھی معجزہ ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہو گیا ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص کمالات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے مرزا قادیانی پر چسپاں نہ کر دیا ہو۔ کیوں؟ اس لئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت کا مظہر ہونے کی وجہ سے اب چودھویں صدی کے محمد رسول اللہ ہیں۔

عقیدہ (۱۸) یہی وجہ ہے کہ مسلمان تو جب کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں تو ”محمد رسول اللہ“ سے ان کی مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہوتی ہے، لیکن قادیانی جب یہی کلمہ پڑھتے ہیں تو ”محمد رسول اللہ“ سے صرف بعثت اولیٰ کے محمد رسول اللہ مراد نہیں ہوتے بلکہ دوسری بعثت یعنی قادیانی بعثت کے محمد رسول اللہ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی بھی مراد ہوتے ہیں۔ اور یہ الزام نہیں، بلکہ مرزا

صفحہ 144

قادیانی کی بعثت ثانیہ کا منطقی نتیجہ ہے۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد قادیانی ایم، اے لکھتے ہیں:- ”علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے، جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ صار وجودی وجودہ، نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی ومارای، اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیۃ آخرین منھم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود (مرزا غلام احمد) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی، ضرورت نہیں، ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“ (کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)

عقیدہ (۱۹) چونکہ مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قادیان میں دوبارہ آنے کے قائل نہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ تسلیم نہیں کرتے اس لئے قادیانیوں کے نزدیک وہ قادیانی کلمہ کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتے ہیں:- ”اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے، کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ وہی ہے۔ اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپؐ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں، جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۴۶۔ ۱۴۷)

صفحہ 145

فصل چہارم

مکی بعثت پر قادیانی بعثت کی فضیلت

گزشتہ سطور میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ ظہور قادیاں، ضلع گورداسپور میں ہوا۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں نے ”مسیح موعود محمد است و عین محمد است“ کا نعرہ بڑی شدت سے لگایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ کے تمام اوصاف و کمالات مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف منتقل کر دیئے۔ اس پر جماعت کے اخبارات و رسائل میں بڑے ہنگامہ خیز مضامین شائع ہوتے رہے۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ والی بعثت سے افضل ہے کیونکہ اس بعثت میں کچھ مزید ایسے خصوصی کمالات و فضائل بھی پائے جاتے ہیں، جو مکہ والی محمدی بعثت میں نہیں تھے۔ اس سلسلہ میں قادیانیوں کے درج ذیل عقائد ملاحظہ کریں :۔

عقیدہ (۱) دوسری بعثت اقویٰ اور اکمل اور اشد

”جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سال سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں، یعنی ان دنوں میں (مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت کے زمانے میں) بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۱ خزائن ص ۲۷۱، ۲۷۲ ج ۱۶)

صفحہ 146

عقیدہ (۲) روحانی ترقیات کی ابتداء اور انتہاء

”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ (مکہ میں) ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا کا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا، پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت (قادیاں میں) پوری طرح سے تجلی فرمائی۔“ (خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷

خزائن ص ۲۶۶ ج ۱۶)

عقیدہ (۳) پہلے سے بڑی فتح مبین

اور زیادہ ظاہر ہے، اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو، اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے، سبحان الذی اسریٰ الخ۔“

(خطبہ الہامیہ ص ۱۹۳ خزائن ص ۲۸۸ ج ۱۶)

عقیدہ (۴) زمان البرکات

”غرض اس زمانہ کا نام جس میں ہم ہیں، زمان البرکات ہے، لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ زمان التائیدات اور دفع الآفات تھا۔“

(اشتہار ۲۸ مئی ۱۹۰۰ء تبلیغ رسالت ص ۴۴ ج ۵ مجموعہ اشتہارات ص ۲۹۲

ج ۳)

عقیدہ (۵) ہلال اور بدر

”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر (چودھویں کے چاند کی طرح کامل و مکمل) ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے۔“

صفحہ 147

”پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے، جو شمار کے رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی) پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ لقد نصرکم اللہ ببدر ۔“

(خطبہ الہامیہ خزائن ص ۲۷۵، ۲۷۶، جلد ۱۶)

عقیدہ (۶) ظہور کی تکمیل

”قرآن شریف کے لئے تین تجلیات ہیں، وہ سیدنا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نازل ہوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ اس نے زمین پر اشاعت پائی، اور مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے، ولکل امر وقت معلوم۔ اور جیسا کہ آسمان سے نازل ہوا تھا ویسا ہی آسمان تک اس کا نور پہنچا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی، اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی، اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔“

(حاشیہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۵۲، خزائن ص ۶۶ جلد ۲۱)

عقیدہ (۷) حقائق کا انکشاف

”اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو، اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو، اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو، اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ہی ظاہر فرمائی گئی ..... تو کچھ تعجب کی بات نہیں (مگر بعثت ثانی میں مرزا قادیانی پر حقائق پوری طرح منکشف

صفحہ 148

ہو گئے۔ ناقل)

(ازالہ اوہام ص ۶۹۱، خزائن ص ۴۷۳ جلد ۳)

عقیدہ (۸) صرف چاند۔ چاند اور سورج دونوں

لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان اتنکر

اس (حضورؐ) کیلئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کریگا۔

(اعجاز احمدی ص ۷۱، خزائن ص ۱۸۳ ج ۱۹)

عقیدہ (۹) تین ہزار اور تین لاکھ کا فرق

”تین ہزار معجزات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ۶۳، خزائن ص ۱۵۳ جلد ۱۷) ”میری تائید میں اس (خدا) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ ...... اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ۶۷، خزائن ص ۷۰ جلد ۲۲)

عقیدہ (۱۰) ذہنی ارتقاء

”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی علیہ وسلم سے زیادہ تھا ...... اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے، نبی کریم صلعم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا، ورنہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کا پورا ظہور ہوا۔“

(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۴۱)

صفحہ 149

عقیدہ (۱۱) معاملہ صاف

”اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے، کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے، اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو، مگر دوسری بعثت میں۔ جس میں بقول مسیح موعود آپؐ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ آپؐ کا انکار کفر نہ ہو (اور پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپؐ صاحب شریعت نبی ہوں، اور دوسری میں صاحب شریعت نہ ہوں۔ ناقل)“

(کلمتہ الفصل، ۱۴۶، ۱۴۷)

عقیدہ (۱۲) آگے سے بڑھ کر

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر جلد نمبر ۲، نمبر ۴۳ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)

قاضی اکمل قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کے پرجوش مرید تھے، انہوں نے یہ نظم لکھ کر اور قطعہ کی شکل میں فریم کرا کر مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمت میں پیش کی، مرزا غلام احمد قادیانی اس پر بے حد خوش ہوئے اور انہیں بہت سی دعائیں دیں، بعد ازاں اسے گھر لے گئے، غالباً ان کی دیوار کی زینت بنی ہوگی، قادیان کے اخبار بدر میں بھی اس کو شائع کیا گیا قادیانی حضرات کی عبرت کیلئے یہاں پوری نظم درج کی جاتی ہے:-

صفحہ 150
امام اپنا عزیزو اس جہاں میں
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
غلام احمد کا جو خادم ہے دل سے
بلا شک جائے گا باغ جناں میں
تسلی دل کو ہو جاتی ہے حاصل
یہ ہے اعجاز احمد کی زباں میں
بھلا اس معجزے سے بڑھ کے کیا ہو
خدا اک قوم کا ملا جہاں میں
قلم سے کام جو کر کے دکھایا
کہاں طاقت تھی یہ سیف و سناں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
غلام احمد مقلد ہو کر
یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں
تیری مدحت سرائی مجھ سے کیا ہو
کہ سب کچھ لکھ دیا راز نہاں میں
خدا سے تو، خدا تجھ سے ہے واللہ
تیرا رتبہ نہیں آتا بیاں میں
صفحہ 151

عقیدہ (۱۳) مصطفےٰ میرزا

صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک
کہ جس پہ وہ بدر الدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت
ہے اب احمد مجتبےٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفےٰ میرزا بن کے آیا

(”الفضل“ مورخہ ۲۸ مئی ۱۹۲۸ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۷۸)

عقیدہ (۱۴) استاد، شاگرد

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معلم ہیں اور مسیح موعود مرزا قادیانی، ایک شاگرد، شاگرد خواہ استاد کے علوم کا وارث پورے طور پر بھی ہو جائے، یا بعض صورتوں میں بڑھ بھی جائے (جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی بہت سی باتوں میں بڑھ گئے۔ ناقل) مگر استاد بہرحال استاد رہتا ہے، اور شاگرد شاگرد ہی۔“

(تقریر میاں محمود صاحب، مندرجہ الحکم قادیاں۔ ۲۸ اپریل ۱۹۱۴ء بحوالہ

قادیانی مذہب ص ۳۳۴)

عقیدہ (۱۵) ہتک، استہزاء

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا، لیکن آپ کی بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزاء ہے، حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی بعث اول و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے

صفحہ 152

تعبیر فرمایا ہے۔"

(الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۳۷)

عقیدہ (۱۶) آنحضرتؐ سے مرزا قادیانی پر ایمان لانے کا عہد

الف:

خدا نے لیا عہد سب انبیا سے
کہ جب تم کو دوں میں کتب
پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر
تو ایمان لاؤ، کرو اسکی نصرت
کہا کیا کرتے ہو اقرار محکم
وہ بولے مقر ہے ہماری جماعت
کہا حق تعالیٰ نے شاہد رہو تم
یہی میں بھی دیتا ہوں گا شہادت
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا
بنے گا وہ فاسق اٹھائے گا ذلت
لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے
وہی عہد حق نے لیا مصطفےٰ سے
وہ نوح و خلیل و کلیم و مسیحا
سبھی سے یہ پیمان محکم لیا تھا
مبارک! امامت کا موعود آیا
وہ میثاق ملت کا مقصود آیا
کریں اہل اسلام اب عہد پورا
بنے آج ہر ایک عبد الشکورا

(الفضل، مورخہ ۲۶ فروری ۱۹۲۴ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۴۴۰)

ب : واذ اخذ اللہ میثاق النبیین ۳/۸۱ جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا (النبیین میں سب انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام شریک ہیں، کوئی نبی"

صفحہ 153

بھی، مستثنیٰ نہیں، آنحضرت صلعم بھی ان النبیین کے لفظ میں داخل ہیں) کہ جب کبھی تم کو کتاب و حکمت دوں (یعنی کتاب سے مراد توریت و قرآن کریم ہے، اور حکمت سے مراد سنت و منہاج نبوت و حدیث شریف ہے) پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے، جو مصدق ہو ان تمام چیزوں کو جو تمہارے پاس کتاب و حکمت سے ہیں (یعنی وہ رسول مسیح موعود (مرزا غلام احمد) ہے۔ جو قرآن و حدیث کی تصدیق کرنے والا ہے، اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں ہے اے نبیو! تم سب ضرور اس پر ایمان لانا، اور ہر ایک طرح سے اس کی مدد فرض سمجھنا، (جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔ ) “ (الفضل مورخہ ۱۹ / ۲۱ ستمبر ۱۹۱۵ء)

(بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۳۸، ۳۳۹)

اس عقیدے پر لاہوری تبصرہ :

”چنانچہ الفضل ۱۹ / ۲۱ ستمبر ۱۹۱۵ء میں اس پر دھڑلے سے مضمون نکلا، اور پھر اس کے بعد طرح طرح سے اس کا اعادہ کیا گیا، اور کھلم کھلا ڈنکے کی چوٹ پر اس امر کا اعلان کیا جاتا رہا کہ اس پیشینگوئی میں جس رسول کا وعدہ ہے اور جس کے متعلق اقرار لیا گیا ہے کہ ہر ایک نبی اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت کرے وہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) ہے۔ اور یہ نہ سمجھا کہ اس طرح تو پھر لازم آئے گا کہ...... ”اگر محمد رسول اللہ صلعم زندہ ہوتے تو انہیں چارہ نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی اتباع کرتے یعنی مسیح موعود متبوع اور آقا ہوتے اور محمد رسول اللہ صلعم نعوذ باللہ متبع اور غلام ہوتے، یہ نتیجہ ایسا دقیق تو نہیں کہ انسان سمجھ نہ سکے، مگر جب ایک قوم اپنے نبی کو (اپنے نبی کی ہدایات کے مطابق۔ ناقل) سب نبیوں سے بڑھانا چاہتی ہو تو پھر سب کچھ حلال ہو جاتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلعم جو

صفحہ 154

ان نبیوں کے ذیل میں شامل کر دیا جن سے ایمان لانے اور نصرت کرنے کا اقرار لیا گیا تھا، گویا محمد رسول اللہ صلعم آج زندہ ہوتے تو مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) پر ایمان لاتے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور ہر ایک قسم کی اتباع اور نصرت کے لئے آپ کے احکام کی پیروی کو ذریعہ نجات سمجھتے۔ (کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بقول ان کی بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اقویٰ اور اکمل اور اشد تھی، اور اپنے سے زیادہ قوی اور زیادہ کامل اور بڑی روحانیت والے کے احکام کی تعمیل کرنا ایک عام بات ہے۔ ناقل ) کیا اس سے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلعم کی کوئی ہتک متصور ہے؟ کیا اس سے صاف نظر نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ صلعم کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی ) کی پوزیشن کو بدرجہا بلند کرنے اور ان کو ایک آقا کی حیثیت دینے میں نہایت جرات سے کام لیا گیا۔ ” (اور پھر یہ جرات ایک آدھ بار نہیں کی گئی، بلکہ بار بار اسی کو دہرایا گیا۔ چنانچہ پندرہ عقیدے تو جن کو قادیانیوں نے سیکڑوں نہیں ہزاروں بار دہرایا اور اب تک انہیں مسلسل دہرایا جارہا ہے، میں بھی اوپر نقل کر چکا ہوں ۔ ناقل ۔ )

(ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی لاہوری کا مضمون مندرجہ ”پیغام صلح“ لاہور جلد

۲۲، نمبر ۳۴ مورخہ ۷ جون ۱۹۳۴ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۳۹،

۳۴۰)

عقیدہ ۱۷ :قرآن کریم کی کسی آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو تو میرے بیٹے جیسا ”کہا ہو لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا ان سے فرماتا ہے : انت منی بمنزلۃ ولدی انت منی بمنزلۃ اولادی ”یعنی تو مجھ سے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے، تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔“

(دیکھئے تذکرہ صفحہ نمبر ۴۳۶)

عقیدہ ( ۱۸ ) :قرآن کریم کی کسی آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی

صفحہ 155

حدیث میں یہ مضمون بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ”کن فیکون“ کی طاقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہو، لیکن مرزا غلام احمد کے بارے میں قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ”کن فیکون“ کے اختیارات ان کو عطا فرمائے ہیں چنانچہ مرزا قادیانی کو الہام ہے :

اے مرزا! تیری شان یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو تو اس سے کہہ دے کہ ہو جا، پس وہ ہو جائے گی

(تذکرہ ص ۵۲۵)

عقیدہ (۱۹) : جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو ان کے الہامات میں اور بھی بہت سی صفات عطا کی گئی ہیں، جو اسلامی لٹریچر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کی گئیں مثلاً

تو میرا ”الاعلیٰ“ نام ہے۔

(تذکرہ ص ۳۳۸)

تو میری مراد ہے۔

(تذکرہ ص ۸۳)

تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں

(تذکرہ ص ۴۲۶)

تو بمنزلہ میرے بروز کے ہے۔

(تذکرہ ص ۵۹۶)

تو بمنزلہ میری توحید و تفرید

(تذکرہ ص ۳۸۱)

تو بمنزلہ میری روح کے ہے۔

(تذکرہ ص ۷۴۱)

تو بمنزلہ میرے کان کے ہے

(تذکرہ ص ۷۴۷)

تو مجھ میں سے ہے اور تیرا بھید میرا بھید ہے۔

(تذکرہ ص ۷۰۷)

صفحہ 156

ہم نے تجھ کو دنیا دے دی اور تیرے رب کی رحمت کے خزانے دے دیئے۔

(تذکرہ ص ۳۷۶)

فصل پنجم

دعوت غور و فکر

ترقی کر کے ”ظل و بروز“ کی وادی میں قدم رکھا، ظل و بروز سے آگے بڑھے تو حریم نبوت میں پہنچ گئے، اور خاتم النبیینؐ کے بعد دعویٰ نبوت کا جواز پیدا کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت کا نظریہ ایجاد کیا، یوں رفتہ رفتہ وہ بعینہ ”محمد رسول اللہ“ بن گئے، قرآن بھی قادیاں کے قریب ہی اتر آیا۔ (انا انزلناہ قریباً من القادیاں۔ تذکرہ ص ۷۶) اور پھر اس بعثت ثانیہ کے عقیدے سے جو عقائد ابھرے ان کا بہت ہی مختصر سا خاکہ آپ کے سامنے پیش کیا جاچکا ہے، یعنی خاکم بدہن مرزا قادیانی رحمۃ للعالمین بھی ہوئے، سید الرسل بھی، باعث تخلیق کائنات بھی، مطاع مطلق بھی، مدارِ نجات بھی، اور بالآخر کلمہ طیبہ میں بھی محمد رسول اللہ سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیا گیا۔

ادھر مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی بعثت کو روحانیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اقویٰ اور اکمل اور اشد بتایا، اپنے معجزات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات سے سو گنا زیادہ بیان کئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کو ہلال اور اپنے دور کو بدر کامل ٹھہرایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کو ترقیات کی ابتداء اور اپنے دور کو ترقیات روحانی کی انتہا قرار دیا، ان کے مرید ان کے سامنے یہ ترانہ گاتے رہے

”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں“
صفحہ 157

اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس جیسے نعروں کی بھی تحسین اور حوصلہ افزائی فرمائی، جس کے نتیجے میں مرزا صاحب کی جماعت کے بلند ہمت افراد نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، اور آگے بڑھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت ہی کرادی۔

یہ تمام تفصیل ............. نہایت اختصار کے ساتھ ............. آپ گزشتہ سطور میں پڑھ چکے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے ایک صدی میں ان عقائد پر جو دفتر کے دفتر تصنیف کئے ہیں یہ چند عقائد اس سمندر کا ایک قطرہ ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان سطور کو پڑھ کر ہمارے وہ بھائی جو جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے رشتہ عقیدت میں منسلک ہیں، ان سے کیا تاثر لیں گے؟ لیکن میں ان کو صرف ایک سوال پر غور کرنے کی دعوت دوں گا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مرزا قادیانی کی آمد سے پہلے تک تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے یہی عقائد تھے جو جناب مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کے اکابر کے حوالے سے میں اوپر درج کرچکا ہوں؟ بہت موٹی سی بات ہے جس کے سمجھنے کے لئے دقیق فہم و فکر کی ضرورت نہیں کہ کیا ابو بکر و عمرو عثمان و علی (رضوان اللہ علیہم) بھی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ قادیاں میں مبعوث ہوں گے؟ کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ میں سے کسی سے یہ عقیدہ منقول ہے؟ کیا تابعین اور ائمہ دین میں سے کوئی اس کا قائل تھا؟ جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں خود مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے ترجمان "الفضل" کو اقرار ہے کہ "مرزا قادیانی سے پہلے کسی مسلمان نے یہ نظریہ کبھی پیش نہیں کیا" ............. اور واقعہ بھی یہی ہے کہ قادیانی سے پہلے کوئی صحابی تابعی، کوئی امام مجدد اس عقیدہ سے آشنا نہیں تھا ............. اور پھر اس عقیدے سے جو عقائد پیدا ہوئے ان کے بارے میں بھی آپ سن چکے ہیں کہ امت میں کوئی شخص ان کا قائل نہیں تھا .............

ہمارے بھائی اگر صرف اسی سوال پر عقل و انصاف سے غور کریں تو انہیں یہ احساس ہوگا کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی ان عقائد کو اپنا کر "سبیل المومنین" پر قائم نہیں رہے۔ ادھر قرآن کریم کا اعلان ہے کہ "جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اور "سبیل المومنین" کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر چل نکلے تو دنیا میں وہ جو

صفحہ 158

کچھ کرتا ہے ہم اسے کرنے دیں گے، اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔“ اس لئے مرزا قادیانی کے تمام عقیدت مندوں سے گزارش کروں گا کہ اگر انہوں نے واقعی اللہ و رسول کی رضامندی کی خاطر مرزا صاحب کا دامن پکڑا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے ............. تو مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد و نظریات معلوم ہو جانے کے بعد ان پر یہ بات واضح ہو گئی ہوگی کہ انہوں نے اللہ و رسول کی رضامندی کے لئے جو راستہ اختیار کیا ہے۔ وہ کعبہ کو نہیں بلکہ کسی اور ہی طرف کو جاتا ہے وہ ”سبیل المومنین“ (اہل ایمان کا راستہ) نہیں، بلکہ یہ اہل ایمان کے راستے سے الٹی سمت کو جاتا ہے۔

عقیدہ کہ وہ عین محمد ہیں۔ عقل و دانش کی میزان میں کیا وزن رکھتا ہے؟ اگر مرزا غلام احمد عین محمدؐ ہے تو سوال ہو گا، کہ :

تھیں؟

صفحہ 159

ہیں تو

پہلے سوالوں کے جواب میں ”محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور دوسرے سوالوں کے جواب میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لے سکتے ہو؟ ”محمد“ پھر اتر آئے ہیں ہم میں، اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں“ کے ترانے گانے والے ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیو! خدا کے لئے ذرا سوچو کہ تم نے ”محمد رسول اللہ“ کو قادیاں میں دوبارہ اتار کر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا انصاف کیا؟ اللہ نے عقل و فہم تمہیں بھی عطا فرمائی ہے مرزا صاحب کے دعوے میں محمد ہونے کو عقل و خرد کی ترازو میں تولو دیکھو! تم نے کس کا تاج کس کے سر پر رکھ دیا ہے؟ کس کی دولت کس کے حوالہ کر دی ہے، آخر پرانے ”محمد رسول اللہ“ میں معاذ اللہ تمہیں کیا نقص نظر آیا تھا کہ تم نے اس سے بڑھ کر شان والا ”محمد رسول اللہ“ قادیان میں اتار لیا؟۔

”بروز“ اور ”عین“ کے عقیدوں نے برباد کیا ہے، عیسائی قوم کی مثال تمہارے سامنے ہے کہ انہوں نے کس طرح خدا کو انسانی مظہر میں اتار کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا بنایا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، شکم مادر سے پیدا ہوئے، وہ اور ان کی والدہ

صفحہ 160

انسانی احتیاج کے تمام تقاضے رکھتی تھیں، اس کھلی ہوئی ہدایت کے خلاف عیسائیوں نے ”مسیح عین خدا ہے“ کا دعویٰ کر ڈالا، اور وہ ”تین ایک، ایک تین“ کے جال میں ایسے پھنسے کہ اس پر پولوسی مذہب کی پوری عمارت تعمیر کر ڈالی، کاش ہمارے بھائیوں نے اس سے عبرت لی ہوتی، اور اسلام جن غلط نظریات کو مٹانے کے لئے آیا تھا، اسلام ہی کے نام پر ان غلطیوں کا اعادہ نہ کرتے، قادیانی یہ دعوے کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائی مذہب کی بنیادوں کو ہلا ڈالا، حالانکہ اگر عقل سے صحیح کام لیا جائے تو نظر آئے گا کہ مرزا قادیانی نے ”مرزا عین محمد ہے“ کا نظریہ ایجاد کر کے عیسائیت کی بنیادوں کو اور مستحکم کر دیا، ذرا سوچئے اگر عیسائی یہ سوال کریں کہ ”اگر مسیح موعود عین محمد ہو سکتا ہے تو مسیح ابن مریم عین خدا کیوں نہیں ہو سکتا؟“ تو آپ کے پاس خاموشی کے سوا اس کا کیا جواب ہو گا۔

پھر اگر مرزا غلام احمد قادیانی ”بروز محمد“ ہونے کی وجہ سے قادیانی ”عین محمد ہیں تو وہ بروز خدا“ ہونے کی وجہ سے ”عین خدا“ کیوں نہیں؟ ......... مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف ”بروز محمد“ ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ ”بروز خدا“ ہونے کا بھی دعویٰ ہے۔ اب اگر ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ”بروز“ ہونے کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مع تمام صفات و کمالات کے حاصل ہے حتیٰ کہ نام، کام مقام اور منصب و مرتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا حاصل ہو چکا ہے، تو ”بروز خدا“ ہونے کی وجہ سے ان کو خدائی مع اپنے تمام صفات و کمالات کے کیوں حاصل نہیں؟

احمد قادیانی کو احساس تھا کہ ان کا دعویٰ نبوت آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے منافی ہے، اس سے بچنے کے لئے انہوں نے ”فنافی الرسول“ اور ”ظل و بروز“ کا راستہ اختیار کیا، اور دعویٰ کیا کہ چونکہ وہ بروزی طور پر بعینہ محمد رسول اللہ کی بعثت ثانیہ کا مظہر ہیں اس لئے ان کے دعوے نبوت سے ختم نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی، ہاں اگر ”محمد رسول اللہ“ کی جگہ کوئی اور آتا تو ختم نبوت کی مہر ضرور ٹوٹ جاتی، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

”خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک (مدعی نبوت اور محمد

صفحہ 161

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در میان) کوئی پردہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبیین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو، اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا، کیونکہ وہ محمدؐ ہے گو ظلی طور پر، پس باوجود اس شخص کے دعوے نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمدؐ اور احمدؐ رکھا گیا پھر بھی وہ سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا، کیونکہ یہ ”محمد ثانی“ اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔ “ ایک غلطی کا ازالہ ص۵

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، جو در حقیقت خاتم النبیین تھے، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں، اور نہ اس سے مہر خاتمیت ٹوٹتی ہے، کیونکہ میں بارہا یہ بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت و آخرین منہم لما یلحقوا بہم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس ۲۰ برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا، کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ “

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)

مرزا صاحب کی اس طویل تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ میں چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز اور مظہر ہونے کی وجہ سے بعینہ محمد رسول اللہ ہوں اس لئے میرے نبی ہونے سے خاتمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ غور کیجئے اپنی نبوت کے لئے جو طریق استدلال پیش کیا ہے۔ کیا یہی طریق عیسائی لوگ، الوہیت مسیح کو ثابت کرنے کے لئے پیش نہیں کرتے؟ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ روح اللہ ہیں، اس لئے ان کے انسانی قالب میں خدا کی روح جلوہ گر تھی، اور وہ چونکہ مظہر خدا ہونے کی وجہ سے (نعوذ باللہ) بعینہ خدا ہیں، اس لئے ان کے خدا کہلانے سے توحید کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ اگر مرزا

صفحہ 162

قادیانی کا بروز محمد ہونا ممکن ہے اور اس سے خاتمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ تو روح اللہ بروز خدا کیوں نہیں؟ اور اس سے توحید کی مہر کیونکر ٹوٹ جاتی ہے، اگر مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ان کے نبی ہونے سے محمدؐ کی نبوت محمدؐ ہی کے پاس رہتی ہے، تو عیسیٰ علیہ السلام کے خدا کہلانے سے بھی خدا کی خدائی کسی اور کے پاس نہیں جاتی۔ استغفراللہ۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے بروزی نظریہ پر جتنا غور کرو اس کی غلطی واضح ہو جائے گی، واقعہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی بحث نے عقیدہ ”توحید در تثلیث“ پر مہر تصدیق ثبت کر دی یا یوں کہا جائے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قادیاں میں (بشکل مرزا) دوبارہ اتار کر ایک ”جدید عیسائیت“ کی طرح ڈال دی۔

۵۔ اسی بحث کا ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے، عیسائیوں نے جب یہ دعویٰ کیا کہ ”مسیح خدا کا اکلوتا بیٹا ہے“ تو انہیں حضرت مسیح کی والدہ کو معاذ اللہ خدا کے رشتہ زوجیت میں منسلک کرنا پڑا، اسی لئے قرآن کریم نے جہاں عقیدہ ولدیت کی نفی کی، وہاں عقیدہ زوجیت کی بھی نفی فرمائی، انیٰ یکون لہ ولد ولم تکن لہ صاحبة (الانعام:۔ ۱۰۱) اسی طرح جب مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ وہ بروزی طور پر (معاذ اللہ) بعینہ محمد رسول اللہ ہیں، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر صفت اور ہر کمال انہیں بروزی طور پر حاصل ہے، تو اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بروزی طور پر، نعوذ باللہ، مرزا غلام احمد قادیانی سے منسوب ہیں، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں، اس سے گندی گالی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کوئی مسلمان جس کے دل میں ذرا بھی شرم و حیا ہو وہ اس بدترین حملہ کو برداشت کر سکتا ہے۔؟

میں یہاں یہ وضاحت کر دینا چاہتا ہوں کہ ازواج مطہرات کی قدر و منزلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس نبوت سے زیادہ نہیں، اگر ازواج مطہرات کے حق میں یہ دریدہ دہنی ناقابل برداشت ہے یہ بات سنتے ہی ایک باغیرت آدمی کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کو جو شخص اپنی طرف منسوب کرتا ہے اسے کیونکر برداشت کر لیا جائے۔

ایک ہے کسی شخص کا نفس نبوت کا دعویٰ کرنا، اور ایک ہے بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت اور کمالات رسالت کا دعویٰ کرنا، دونوں میں زمین

صفحہ 163

آسمان کا فرق ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نفس نبوت کا دعویٰ بھی کفر ہے، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف نبوت کا دعوے نہیں کیا بلکہ ظل و بروز کی آڑ میں رسالت محمدیہ کو اپنی جانب منسوب کیا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نبی ہوں، مگر میری نبوت کوئی نئی نبوت نہیں، نہ میں کوئی نیا نبی ہوں، بلکہ بروزی طور پر بعینہ محمد رسول اللہ ہوں، جو پہلے مکہ میں مبعوث ہوا تھا اور اب قادیاں میں دوبارہ اسی کا ظہور ہوا ہے............ مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کا ترجمان روزنامہ ”الفضل“ لکھتا ہے :

”اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ، جو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) میں ہو کر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بر وتقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں اسی کی پیروی سے انسان کی فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے، وہ وہی فخرالاولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا اور اب اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعہ ثابت کر گیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک وملل عالم کے لئے تھی۔ فصلی اللہ علیہ وسلم۔“

(الفضل ۲۶ ستمبر ۱۹۱۵ء قادیانی مذہب ص ۲۸۰)

اس لئے مرزا غلام احمد کا جرم صرف یہ نہیں کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا، بلکہ اس سے بھی بدتر جرم یہ ہے کہ اس نے ظل و بروز کی منگھڑت اصطلاحوں کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز کو اپنی طرف منسوب کر لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ کا نام نامی ”خدیجہؓ“ تھا، مگر بے غیرتی اور بے حیائی کی حد ہے کہ مرزا غلام احمد نے محمد رسول اللہ بننے کے شوق میں ”خدیجہ“ کو بھی اپنی طرف منسوب کرلیا، مرزا کا الہام ہے :

اذکر نعمتی رائیت خدیجتی میری نعمت کو یاد کر تو نے میری خدیجہ کو دیکھا۔“

(تذکرہ طبع دوم ص ۳۸۷ طبع سوم ص ۳۷۷)

صفحہ 164

اشکر نعمتی رایت خدیجتی ”میری نعمت کا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو دیکھا۔“

(تذکرہ۔ ص ۱۰۹)

افسوس ہے، کہ اس کی مزید تشریح کی ایمانی غیرت اجازت نہیں دیتی ۔

مرا دردیست اندر دل اگر گویم زباں سوزد
و گر دم در کشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد

بہر حال ”محمد رسول اللہ“ کے ساتھ ”خدیجہ“ کی نسبت مرزا غلام احمد کی نفسیاتی ذہنیت کی نشاندہی کے لئے کافی ہے۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ذرا بھی ایمانی غیرت اور انسانیت سے نوازا ہو اس کے لئے اس کے دقیق پہلوؤں کا مطالعہ مشکل نہیں۔

۶۔ ہمارے بھائیوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کی جسمانی و دماغی صحت، ان کے اس دعوے سے کہ میں ”محمد رسول اللہ ہوں اس بارے میں ہر عالم و خاص جانتا ہے کہ وہ بہت سی پیچیدہ امراض کا نشانہ تھے، جن میں سے چند امراض کی فہرست حسب ذیل ہے :

صفحہ 165

خود مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں:

”مجھے دو مرض دامن گیر ہیں، ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دوران سر، اور دوران خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جاتا۔ نبض کم ہو جاتا اور دوسرے جسم کے نیچے میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا، یہ دونوں بیماریاں قریب بیس برس سے ہیں“

(نسیم دعوت ص ۱۷۱)

”میں ایک ”دائم المرض آدمی ہوں“........... ہمیشہ درد سر اور دوران سر، کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے، اور دوسری بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے، اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔“

(ضمیمہ اربعین ۳)

”مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے پیروں پر بوجھ دیکر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آ جاتا ہے۔“ (خطوط امام بنام غلام ص ۶)

صفحہ 166

”کوئی وقت دوران سر (سر کے چکر) سے خالی نہیں گزرتا، مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھنی پڑتی ہے بعض اوقات درمیان میں توڑنی پڑتی ہے، اکثر بیٹھے بیٹھے دھڑکن ہو جاتی ہے۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ ص ۸۸)

”مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔“ (رسالہ تشحیذ الاذہان، جون ۱۹۰۶ء)

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ...... نے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود ...... سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“

(سیرت المہدی ص ۵۵ ج ۲)

مرزا صاحب کی اہلیہ کی روایت ہے کہ : ”حضرت قادیانی کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات ۴ نومبر ۱۸۸۸ء کے چند دن بعد ہوا تھا، اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے لگے، جن میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے، بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے، خصوصاً گردن کے پٹھے، اور سر میں چکر ہوتا تھا۔“

(سیرت المہدی ص ۱۳ ج ۱)

مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک مرید ڈاکٹر شاہنواز صاحب لکھتے ہیں : ”حضرت قادیانی کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی سبب تھا، اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز مئی ۱۹۲۷ء)

”میر صاحب ! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کا آخری فقرہ مندرجہ حیات ناصر ص ۱۴)

اب انصاف فرمائیے کہ کیا ان تمام امراض کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

صفحہ 167

طرف منسوب کیا جاسکتا ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی نعوذ باللہ مراق، ہسٹریا، ذیابیطس، سلسل البول، کثرت اسہال، سوء ہضم، ضعف قلب، ضعف دماغ، ضعف اعصاب حتی کہ ”حالت مردی کالعدم“ کے شکار ہو سکتے تھے؟ استغفراللہ محمد رسول اللہ علیہ وسلم تو خیر سید البشر اور افضل الرسل ہیں، کیا دنیا کی کوئی بھی تاریخ ساز شخصیت بیک وقت ان تمام امراض کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ کرنا کہ میں محمد رسول اللہ ہوں“ دنیا کے سامنے سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تصویر پیش کرتا ہے۔ جب ایک طرف مرزا غلام احمد قادیانی اپنی زبان و قلم سے مراق، ہسٹریا، ذیابیطس، ضعف دل و دماغ، حافظہ کی ابتری و خرابی، سو سو بار پیشاب، اکثر دست آتے رہنا..............

اور حالت مردی کالعدم کا اقرار کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ بڑی شوخ چشمی سے خود کو محمد رسول اللہ کا بروز و مظہر اور ”حسن و احسان میں آپ کا نظیر“ کہتے ہیں تو غیر اقوام کیا یہ فیصلہ نہیں کریں گی کہ مسلمانوں کا ”محمد رسول اللہ“ بھی قادیانیوں کے ”محمد رسول اللہ“ کی طرح معاذ اللہ انہی امراض کا مریض ہوگا، اور اس کی دماغی چولیں بھی خدانخواستہ ٹھکانے نہیں ہوں گی؟ مراق اور ذیابیطس کی چادریں اس کے بھی زیب بدن ہوں گی۔ معاذ اللہ

رسول اللہ کی دوبارہ بعثت مرزا غلام احمد قادیانی کے ”روپ“ میں ہوئی ہے، ایک اور پہلو سے بھی غور طلب ہے وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی بروز کی تفسیر ”جنم“ اور ”اوتار“ کے ساتھ کرتے ہیں اور وہ خود کو کبھی محمد رسول اللہ کا بروز کہتے ہیں، کبھی عیسیٰ علیہ السلام کا، کبھی تمام انبیاء کا کبھی ہندوؤں کے کرشن جی مہاراج کا اور کبھی برہمن کا۔ ہندوؤں کے نزدیک انسان کی جزا و سزا کے لئے یہی صورت قدرت کی جانب سے مقرر ہے کہ اسے نیک و بد اعمال کے مطابق کسی اچھے یا برے قالب میں منتقل کرکے پھر دنیا میں بھیج دیا جائے، جس کو وہ نیا جنم، اور نئی جون کہتے ہیں مرزا کو دعویٰ ہے کہ محمد رسول اللہ کو دوبارہ مرزا غلام احمد قادیانی کے قالب میں بھیجا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ (ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے عقیدہ ”بروز“ کے مطابق) محمد رسول اللہ صلی

صفحہ 168

اللہ علیہ وسلم سے......... نعوذ باللہ........ پہلی ”جون“ میں کونسا پاپ ہوا تھا کہ انہیں دوبارہ غلام احمد قادیانی کی ناقص شکل میں بھیج دیا گیا؟ پہلی بعثت میں تو آپؐ صحیح البدن تھے اور دوسری بعثت میں انواع و اقسام کے امراض خبیثہ کا مجموعہ بن گئے۔ پہلی بعثت میں آپؐ کے اعضاء صحیح سالم تھے۔ اور دوسری بعثت میں دائیں ہاتھ سے معذور........... پہلی بعثت میں آپؐ جری اور بہادر تھے، اور دوسری بعثت میں ضعف دل و دماغ کے مریض........... پہلی بعثت میں صاحب شریعت تھے اور دوسری بعثت میں شریعت و نبوت سے محروم........... پہلی بعثت میں شعر گوئی آپؐ کے بلند و بالا مقام کے لائق نہ تھی اور دوسری بعثت میں آپ شاعر تھے۔ پہلی بعثت میں آپؐ دنیا کے مجاہد اعظم اور فاتح اعظم تھے، اور دوسری بعثت میں دجال (انگریز) کے غلام۔ پہلی بعثت میں آپؐ ”نبی امی“ تھے، اور دوسری بعثت میں آپ کو فضل الٰہی (شیعہ) کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنا پڑے۔

پہلی بعثت میں آپؐ کی جلالت و عظمت کا یہ عالم تھا کہ دنیا کے جابر و قاہر بادشاہوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے، اور دوسری بعثت میں آپ کے عجز و درماندگی کا یہ عالم ہوا کہ نصرانی ملکہ کو (جس کو کبھی غسل جنابت بھی نصیب نہ ہوا) یہ عرض داشت پیش کرنے لگے:۔

”اس عاجز (مرزا غلام احمد) کو وہ اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا کہ جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں اسی سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام تالیف کر کے اور اس کا نام ”تحفہ قیصریہ“ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا، اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی، اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہو گا.......... مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شکرانہ سے بھی ممنون نہیں کیا گیا، اور میرا کانسنس ہرگز اس بات کو

صفحہ 169

قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں، یقیناً کوئی اور باعث ہے، جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں، لہٰذا اس حسن ظن نے جو حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں، اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں۔“

”میں دعا کرتا ہوں کہ خیر و عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصریہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے، اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو، جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے، اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کی رو سے مجھے پررحمت جواب سے ممنون فرماویں۔“

(ستارہ قیصریہ ص ۱۲)

پہلی بعثت کی عظمت و برتری اور علوشان پر نظر کرو، اور پھر دوسری بعثت کی اس گراوٹ، چاپلوسی، خوشامد اور ناصیہ فرسائی کو دیکھو۔ دوسری بعثت میں قادیان کا محمد رسول اللہ، صلیب پرست اور نجس ملکہ کو اپنی محبت و اخلاص، اطاعت و وفاشعاری اور بندگی و غلامی کا کن گھٹیا الفاظ میں یقین دلاتا ہے اور اسے طول طویل — لیکن بے مغز و بے مصرف — خطوط پے در پے بھیجتا ہے، لیکن وہ اس ”غلام بن غلام“ کو خط کی رسید بھیجنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ پہلی بعثت کی وہ عظمت و رفعت۔ اور دوسری بعثت کی یہ پستی اور گراوٹ؟ سوچو اور سوچ کر بتاؤ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے — العیاذ باللہ — پہلی بعثت میں وہ کونسا گناہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا میں آپؐ کو قادیان کے ایک مغل بچہ کے روپ میں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا؟

صفحہ 170

”دوسری بعثت کی روحانیت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی روحانیت سے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔“

(خطبہ الہامیہ ۱۸۱)

اور روحانی ترقیات کی طرف آپؐ کا تو صرف پہلا قدم ہی اٹھ سکا تھا، لیکن مرزا غلام احمد روحانی ترقیات کی آخری چوٹی تک پہنچ گیا۔ آپؐ کے زمانہ میں اسلام ہلال کی مانند تھا۔ (جس کی کوئی روشنی محسوس نہیں ہوا کرتی) لیکن مرزا غلام احمد کے طفیل وہ بدر کامل بن چکا ہے۔

جس شخص کے سینے میں دل اور دل میں ایمان کی ذرا بھی رمق موجود ہو، جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے عقیدت و محبت کا ادنیٰ سے ادنیٰ تعلق بھی ہو اور جس کی چشم بصیرت سیاہ و سفید کے درمیان تمیز کرنے کی کسی درجہ میں بھی صلاحیت رکھتی ہو کیا وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ان تعلی آمیز دعوؤں کو ایک لمحہ کے لئے بھی قبول کر سکتا ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح توہین و تنقیص پائی جاتی ہے؟

”اعلیٰ واکمل روحانیت“ نے دنیا میں کون سا روحانی انقلاب برپا کر ڈالا۔ ان کے ”بدر کامل“ نے دنیا کو کیا روشنی عطا کی؟ اور ان کے ”روحانی عروج“ نے سفلی خواہشات اور مادیت کے سیلاب کے سامنے کون سا بند باندھ دیا؟ ہر چیز کو جھٹلایا جاسکتا ہے مگر ساری دنیا کے مشاہدہ کو جھٹلانا ممکن نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ”بعثت ثانیہ“ پر کامل صدی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دنیا کے حالات پر نظر کر کے فیصلہ کرو کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے ان بلند آہنگ دعوؤں سے دنیا کا رخ بدلا؟ فسق و فجور، ظلم و عدوان، اور کفر و ارتداد میں کوئی کمی واقع ہوئی؟ گھر بیٹھے اعلیٰ واکمل روحانیت کے دعوے کئے جانا کیا مشکل ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ اس ”روحانیت“ کا مصرف کیا تھا، اس کا نتیجہ کیا نکلا؟

ساری دنیا کی اصلاح کا قصہ بھی رہنے دیجئے، خود مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ پر جن لوگوں نے بیعت کی اور سالہا سال تک ان کی صحبت سے جو لوگ مستفید رہے، سوال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ”اعلیٰ واکمل روحانیت“ نے کم از کم انہی کی زندگیوں میں

صفحہ 171

کیا انقلاب برپا کیا؟ اس کے لئے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہیں، بلکہ مرزا قادیانی نے ۱۸۹۳ء کے ”اشتہار التوائے جلسہ“ میں جو ”شہادۃ القرآن“ کے ساتھ ملحق ہے، اپنی جماعت کی ”اخلاقی بلندی“ کا جو نقشہ کھینچا ہے اسی کا ایک نظر مطالعہ کافی ہے۔ اس کا خلاصہ یہاں درج کرتا ہوں۔

مرزا کی ”بعثت ثانیہ“ پر تیرہ چودہ سال کا عرصہ گزر رہا ہے، مگر ان کی جماعت کے بیشتر افراد بقول ان کے اب تک نااہل، بے تہذیب، ناپاک دل، باہمی محبت سے خالی، پرہیزگاری سے عاری، کج دل، متکبر، بھیڑیوں کی مانند، سفلہ، خودغرض، لڑاکے، حملہ آور، گالیاں بکنے والے، کینہ ور، کھانے پینے پر نفسانی بحثیں کرنے والے، نفسانی لالچ کے مریض، بدتہذیب، ضدی، درندوں سے بدتر اور در حقیقت جھوٹ کو نہ چھوڑنے والے ہیں۔

مزید تیرہ چودہ سال بعد ان کی جماعت کی اخلاقی سطح جس قدر بلند ہوئی، مرزا قادیانی اپنی آخری تصنیف میں اس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں :

”ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت سے ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں، اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلا کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں، اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۸۸)

جب مرزا غلام احمد قادیانی پوری زندگی کی پچیس تیس سالہ محنت کا ثمرہ بقول ان کے ”جیسے کتا مردار کی طرف“ نکلا تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے بعد ان کی جماعت کی ”روحانیت“ کا معیار کتنا ”بلند“ ہوگا؟ لاہوری فریق نے قادیانی فریق کے امام (مرزا محمود) اور اس کے مقتدر لیڈروں پر، اسی طرح قادیانی فریق نے لاہوری فریق کے امیر (مسٹر محمد علی) اور اس کے ممتاز ممبروں پر (جو سب کے سب مرزا غلام احمد قادیانی کے یار غار اور طویل صحبت یافتہ تھے) الزامات کی جو بوچھاڑ کی ہے وہ کس کے علم میں نہیں؟ ان میں اخلاقی اعتبار سے زنا، لواطت، چوری، بدکاری، قتل و غارت، تعلی و تکبر، حرام

صفحہ 172

خوری، خود غرضی، فریب کاری، مغالطہ اندازی اور بد دیانتی کے الزامات اور دینی لحاظ سے کفر و شرک، ارتداد و نفاق اور تحریف و تلبیس وغیرہ کے الزامات سر فہرست ہیں۔ جس قوم کے امیر المومنین اور سر بر آوردہ افراد کا اخلاقی معیار یہ ہو اس کے عوام کالانعام کا کیا پوچھنا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی مرزا غلام احمد قادیانی کی اقویٰ واکمل اور اشد روحانیت نے برسا برس تک تربیت کی، جن کو مرزا غلام احمد قادیانی کے ”فرشتہ“ کہلانے کا شرف حاصل ہوا، جن کے حق میں مرزا غلام احمد قادیانی نے الہامی بشارتیں سنائیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کے نقیب اور داعی تھے۔ انہی کے ایسے اخلاقی قصے (جن کو سن کر تہذیب و شرافت سر پیٹ لے) گلی کوچوں میں گائے جاتے ہیں، اخباروں اور رسالوں میں چھپتے ہیں اور ان کی صدائے بازگشت سے عدالتوں کے کٹہرے گونج اٹھتے ہیں۔

یہ تھا مرزا غلام احمد قادیانی کی روحانیت کا اصلاحی کارنامہ، اور یہ تھا اس کے اس پر غرور دعوے کا نتیجہ کہ ان کی روحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ اللہ ہمارے بھائیوں کو فہم و بصیرت بخشے اور صراط مستقیم کی ہدایت فرمائے۔

خلاصہ یہ کہ مرزا غلام قادیانی کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ (قادیاں میں دوبارہ تشریف آوری) کا عقیدہ پیش کرنا، خود کو بروز محمدؐ کی حیثیت سے محمد رسول اللہ قرار دینا، اور پھر اس قادیانی بعثت کو مکی بعثت سے اعلیٰ و برتر قرار دینا نہ صرف اسلامی عقیدہ کے خلاف، اور قرآن کریم کی تصریحات کے منافی ہے، بلکہ یہ عقل و خرد کے اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر بدترین ظلم اور آپ سے ناقابل برداشت مذاق ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کے دل میں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و حرمت کی کوئی رمق باقی ہے تو میں ان سے حرمت نبوی کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ خدارا ان حقائق پر غور فرمائیں، اور مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی سے دستکش ہو کر حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہو جائیں۔ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ہمارے ان بھولے بھٹکے بھائیوں کو بھی صراط مستقیم کی ہدایت فرمائے اور شیطان لعین کے چنگل سے نجات عطا فرمائے۔

وصلی اللہ علی خیر خلقہ سیدنا و مولانا محمد
خاتم النبین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین الیٰ یوم الدین
PDF 173

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار

چودھری ظفر اللہ خاں قادیانی کو

دعوت اسلام

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 174

دیباچہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میرا یہ مضمون، چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں قادیانی کے جواب میں اخبار ”جنگ لندن“ میں شائع ہوا تھا، اس لئے اس میں روئے سخن جناب چوہدری صاحب کی طرف ہی رہا، اب جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نیاز مندوں کی خیر خواہی کی غرض سے اسے الگ شائع کیا جارہا ہے میں ان سے دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں، ایک یہ کہ اگر مجھ سے کسی حوالہ میں کوتاہی یا کسی عبارت کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو تو اسکی اطلاع دہی پر ممنون ہوں گا۔ دوم یہ کہ اس رسالہ کو خالی الذہن ہو کر پڑھیں، اور اگر کوئی بات اس ناکارہ کے قلم سے صحیح نکلی ہو تو اس کے تسلیم کرنے میں تامل نہ فرمائیں۔ جیسا کہ میں نے ضمیمہ کے آخر میں اشارہ کیا ہے، مرزا صاحب کے نیاز مند، موصوف کی صریح اور صاف عبارتوں میں جو تاویلیں کیا کرتے ہیں انہیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں کام دیں گی؟ مرزا صاحب کی حالت اب ایک صدی گزرنے پر کسی تبصرے کی محتاج نہیں میں اپنے ان بھائیوں کو جنھوں نے موصوف کو غلط فہمی سے سچ مچ مسیح اور مہدی مان لیا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ خدارا ایک بار پھر اپنے موقف پر نظر ثانی کریں، انہوں نے نجات آخرت کی خاطر جو راستہ غلط فہمی سے اپنا لیا ہے وہ بیحد خطرناک ہے، اگر مرزا صاحب واقعی مسیح یا مہدی ہوتے تو عالم اسلام، خصوصاً ان کی جماعت کی وہ حالت نہ ہوتی جو گزشتہ ایک صدی سے چلی آتی ہے۔ اس لئے کوئی شک نہیں کہ مرزا صاحب کو اپنے دعووں میں غلطی ہوئی۔ ان کے ماننے والوں کو اس غلطی سے توبہ کر لینی چاہئے یہی ان کی دنیوی و اخروی فلاح کا راستہ ہے۔ واللہ الموفق وما علینا الا البلاغ۔

محمد یوسف لدھیانوی ۲۲ / ۶ / ۹۹ھ

صفحہ 175

بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله و کفی و سلام علی عبادہ الذین اصطفی : اما بعد :-

روز نامہ ”جنگ لندن“ کی ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۸ء کی اشاعت میں چوہدری سر ظفر اللہ خاں قادیانی کا ایک مضمون ”یہ احمدیوں کے خلاف افترا پردازی ہے“ کے زیر عنوان شائع ہوا جس میں کسی صاحب طارق محمود کے ایک مضمون کے بعض اندراجات کو نادرست کہا گیا ہے۔ تصحیح نقل کی ذمہ داری تو صاحب مضمون پر عائد ہوتی ہے، تاہم چند امور کی طرف جن کا تعلق کسی خاص واقعہ سے نہیں چوہدری صاحب کی توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔

چوہدری صاحب کو مضمون کے ناشائستہ طرز تحریر سے شکایت ہے وہ لکھتے ہیں۔

”اس تحریر کے الفاظ، اس کے تمام معیار اور اس کی ہر بات پر طنز، صحافت کے اس معیار سے جس پر آپ کے روزنامہ کو ہمیشہ قائم رہنا چاہئے بہت گری ہوئی ہے، دشنام دہی اور ہتک آمیز طرز تحریر کسی بیان کی عزت کا موجب نہیں ہوتا بلکہ اس سے نفرت پیدا کرتا ہے۔“

آگے ایک اور جگہ لکھتے ہیں :-

”الفاظ کے شرافت سے گرے ہوئے ہونے کی طرف تو بار بار توجہ دلانے کی ضرورت نہیں ہر شریف انسان انہیں پڑھ کر لکھنے والے کی عدم شرافت پر مطلع ہو جاتا ہے۔“

چوہدری صاحب نے مضمون کے جن الفاظ پر یہ شدید ریمارک دیا ہے وہ یہ ہیں۔ ”اس کے بعد مرزا ایک ہفتے کے اندر اندر ہی واصل جہنم ہوا“

جناب چوہدری صاحب کے ارشاد سے اصولی طور پر ہر شخص کو اتفاق کرنا چاہئے لیکن اس شکایت سے پہلے جناب چوہدری صاحب کو دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہئے تھیں۔

صفحہ 176

اول یہ کہ مضمون کے یہ الفاظ اس شخص کے بارے میں ہیں جو چوہدری صاحب کے نزدیک خواہ کتنا ہی مقدس ہو لیکن صاحب مضمون کے عقیدے میں وہ نبوت کاذبہ کا مدعی ہے ظاہر ہے کہ یہ الفاظ اگر مسیلمہ کذاب کے بارے میں کوئی شخص استعمال کرے تو میرا خیال ہے کہ چوہدری صاحب بھی اس کو ”غیر شریفانہ“ نہیں فرمائیں گے۔

دوسری بات یہ کہ ایک مدعی نبوت کاذبہ کے بارے میں ”واصل جہنم“ کے الفاظ کو غیر شریفانہ کہنے سے پہلے چوہدری صاحب کو مرزا غلام احمد کی کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی زبان بھی پیش نظر رکھنی چاہئے تھی۔ مرزا نے انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ عظام اور اکابر امت کے بارے میں جو گوہر افشانی کی ہے وہ اگر چوہدری صاحب کے حاشیہ خیال میں ہوتی تو انہیں ”واصل جہنم“ کے الفاظ پر عدم شرافت کا فتویٰ صادر کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

ملاحظہ فرمائیے :-

”مسیح کا چلن کیا تھا؟ ایک کھاؤ، پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(حاشیہ انجام آتھم)

جناب مرزا کے یہ ارشادات مسیلمہ کذاب یا اس کی جماعت کے بارے میں نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ کے ایک مقدس رسول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہیں۔ اگر چوہدری صاحب کے نزدیک یہ الفاظ ”شریفانہ“ ہیں تو اس ”شرافت“ پر چوہدری صاحب کے ہم مسلک حضرات ہی فخر کر سکتے ہیں۔

جناب مرزا کی یہ نظر عنایت صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک ہی محدود نہ تھی بلکہ وہ اکابر صحابہ کو بلا تکلف غبی، نادان اور معمولی انسان کے الفاظ سے یاد فرماتے ہیں اور امت مسلمہ کیلئے ان کے پاس کافر، مشرک، جہنمی اور کنجریوں کی اولاد سے کم درجے کا شاید کوئی لفظ ہی نہیں تھا۔ تفصیل کیلئے دیکھئے :- (مغلظات مرزا اور رئیس قادیان جلد دوم صفحہ ۲۰۰)

میرا مقصد یہ نہیں کہ مسلمانوں کو بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی تقلید کرنی چاہئے، اور جو شستہ زبان مرزا نے استعمال کی ہے وہ ہمیں بھی اپنانی چاہئے، نہیں! بلکہ میرا مقصد

صفحہ 177

چوہدری صاحب سے صرف اتنی گزارش کرنا ہے کہ اگر ”مرزا واصل جہنم ہوا“ کے الفاظ ایک مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق استعمال کرتا ہے تو آپ اتنے حساس ہو جاتے ہیں کہ اس کے خلاف قلم برداشتہ ”عدم شرافت“ کا فیصلہ صادر فرماتے ہیں اور دوسرا شخص جو انبیاء کرام علیہم السلام کو جھوٹا، زانی، شرابی تک کہتا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو احمق اور نادان کے خطاب دیتا ہے اور تمام امت اسلامیہ کو بیک جنبش قلم کافر و جہنمی بلکہ حرامزادے اور کنجریوں کی اولاد بتاتا ہے وہ آپ کے نزدیک نہ صرف شریف ہے بلکہ چشم بد دور ”مسیح موعود“ بھی۔ کیا عالمی عدالت انصاف کے سابق جج کا ضمیر اسے اس بے انصافی پر ملامت نہیں کرتا؟

جناب مرزا جس شیریں کلامی کے عادی تھے ہم انہیں کسی حد تک اس میں معذور قرار دے سکتے ہیں کیونکہ وہ بہ اقرار خود مراق اور ہسٹریا کے مریض تھے۔ دیکھئے :۔

”رسالہ تشحیذ الاذہان جون ۱۹۰۶ء ۔ ملفوظات جلد ۔ ۲، صفحہ ۔ ۷۶“ ، ”کتاب منظور الٰہی صفحہ ۔ ۳۴۸“ ، ”اخبار الحکم ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۱ء“ ، ”سیرۃ المہدی جلد ۔ ۳ صفحہ ۔ ۳۰۴ نیز جلد ۔ ۲ صفحہ ۔ ۵۵“ ، ”رسالہ ریویو آف ریلیجنز اگست ۱۹۲۶ء صفحہ ۔ ۱۱ اور مئی ۱۹۲۷ء صفحہ ۔ ۲۶“

اور مراق کے مریض کو اپنے اعصاب اور جذبات پر قابو نہیں رہتا، غصے کی حالت میں اس کی زبان و قلم سے اس قسم کے الفاظ صادر ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مرزا شرائط باندھ باندھ کر خود اپنے بارے میں بھی ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جن سے آدمی کانپ کانپ جائے۔ مثلاً۔

”اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔ “

(جنگ مقدس صفحہ ۔ ۸۹)

اور کرشمہ قدرت دیکھئے کہ جس شرط پر مرزا یہ سارے تمغے وصول فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے وہ بھی پوری کر دکھائی۔ یعنی ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء تک پادری آتھم کا نہ مرنا، نہ حق کی طرف رجوع کرنا۔

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے :۔

صفحہ 178

”یاد رکھو ! اگر اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم۔ صفحہ۔ ۵۴، روحانی خزائن صفحہ۔ ۳۳۸ جلد۔ ۱۱)

ذرا ”ہر ایک بد سے بدتر“ کے الفاظ کا زور بیان دیکھئے۔ شیخ سعدیؒ کے ”گالے“ کی طرح مرزا کے اس ”گالے“ کی وسعت میں دنیا بھر کی گالیاں سما جاتی ہیں۔ اور مرزا صاحب نے یہ ”گالا“ جس شرط پر معلق کیا تھا خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے وہ بھی پوری کر دی۔ یعنی سلطان محمد کا نہ مرنا، الغرض مرزا کو شریف زبان استعمال کرنے میں معذور سمجھنا چاہئے جب وہ خود اپنے آپ کو معاف نہیں کرتے تھے تو دوسروں کو ان کے یہاں معافی کیوں ملتی؟

جناب مرزا کی نظر شفقت کبھی کبھی غیروں کے بجائے خود اپنوں کی طرف بھی مبذول ہو جاتی تھی۔ چوہدری صاحب کی توجہ کے لئے ایک دو مثالیں اس کی پیش کرتا ہوں۔ ۱۸۹۳ء کا ”اشتہار التوائے جلسہ“ مرزا صاحب کی تصنیف ”شہادۃ القرآن“ کے آخر میں ملحق ہے اس میں اپنے مریدوں کو انہوں نے جو خطابات دیئے ہیں ان کے چیدہ چیدہ عنوانات یہ ہیں۔

نااہل، بے تہذیب، ناپاک دل، للہی محبت سے خالی، پرہیز گاری سے عاری، کج دل، متکبر، بھیڑیوں کی مانند، سفلہ، خود غرض، لڑاکے، گالیاں بکنے والے، کینہ پرور، کھانے پینے پر نفسانی بحثیں کرنے والے، نفسانی لالچ کے مریض، بد تہذیب، ضدی، درندوں سے بدتر، جھوٹ کو نہ چھوڑنے والے۔

مرزا نے اپنی آخر تصنیف میں، جو ان کی وفات کے بعد چھپی ہے، اپنی جماعت کا نقشہ ذیل کے الفاظ میں کھینچا ہے:۔

”ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت سے ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ ہنوز ان میں کامل نہیں، اور ایک کمزور بچے کی طرح ہر ایک ابتلا کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں، اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں، اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔“

(براہینِ پنجم صفحہ۔ ۵۷، روحانی خزائن صفحہ۔ ۱۱۴، جلد۔ ۲۱)

صفحہ 179

چونکہ یہ شریفانہ زبان مرزا کا طغرائے امتیاز تھا اس لئے ان کی جماعت کے اکابر نے بھی ان کی اس سنت کو زندہ رکھا۔

جماعت قادیان کے سرکاری ترجمان ”الفضل“ نے جماعت لاہور کے بارے میں جو ادبی و صحافتی جواہر پارے اپنے صفحات پر بکھیرے ہیں اگر وہ یکجا کر دیئے جائیں تو دنیا کو ایک نئے ”فن دشنام“ کا انکشاف ہو گا، چوہدری صاحب کے ذہن میں اس واقعہ کی یاد تازہ ہوگی جب ”الفضل“ نے پنجابی گالی کا دو حرفی لفظ چھاپ کر دنیائے روحانیت میں قادیان کا نام روشن کیا تھا۔ (اور اگلے دن اس کی اشاعت پر معافی بھی مانگ لی تھی)۔

”الفضل“ کے علاوہ ان کی جماعت کے دیگر اخبارات و مجلات بھی اس ادب عالیہ سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ مثلاً قادیان کے ایک معزز اخبار ”فاروق“ نے اپنی صرف ایک اشاعت (۲۸ فروری ۱۹۳۵ء) میں جماعت لاہور کے بارے میں جو ادیبانہ زبان استعمال کی اس کے چند الفاظ بطور نمونہ ”پیغام صلح“ نے پیش کئے۔

لاہوری اصحاب الفیل۔ اصحاب الاخدود۔ یہودیانہ قلابازیاں۔ ظلمت کے فرزند۔ زہریلے سانپ۔ خباثت و شرارت اور رذالت کا مظاہرہ۔ عباد الدنیا۔ وقود النار۔ نہایت ہی کمینہ سے کمینہ اور رذیل سے رذیل فطرت والا احمق انسان۔ دوغلے۔ خبیث دروں خبیث بروں عقائد۔ بد لگام پیامیو!۔ حرکات ذمیمہ اور افعال شنیعہ۔ محسن کشانہ اور غدارانہ اور نمک حرامانہ حرکات۔ دو رخے سانپ کی کھوپری کچلنے۔ رذیل اور احمقانہ فعل۔ کبوتر نما جانور۔ احمدیہ بلڈنگ کے کرمک۔ اے سترے بہترے بڈھے کھسوٹ۔ اے بد لگام۔ تہذیب و متانت کے اجارہ دار پیامیو!۔ برخوردار پیامیو!۔ جیسا منہ ویسی چپیڑ۔ آلو، ترکاری، پیاز بونے بیچنے والے۔ جھوٹ بول کر اور دھوکے دیکر اور فریب کارانہ بھیگی بلی بن کر۔ لہسن پیاز اور گوبھی ترکاری کا بھاؤ معلوم ہو جاتا۔ آخرت کی لعنت کا سیاہ داغ ماتھے پر۔ اگر شرم ہو تو وہیں چلو بھر پانی لے کر ڈبکی لگالو۔ یہ کسی قدر دجالیت اور خباثت اور کمینگی۔ علی بابا چالیس چور۔ پیامی ایرے غیرے۔ سادہ لوح پیامی۔ نادان دشمن۔ پیامیو! عقل کے ناخن لو!۔ نامعقول ترین اور مجہول ترین تجویز۔ سادہ لوح اور احمق۔ اے سادہ لوح یا ابلہ فریب امیر پیغام۔ پیغام بلڈنگ کے

صفحہ 180

اڑھائی ٹوٹرو۔ احمق اور عقل و شرافت سے خالی۔ اہل پیغام نے جس عیاری اور مکاری اور فریب کاری سے اپنے دجل بھرے پوسٹروں میں چاپلوسی اور پابوسی کا مظاہرہ ۔ اہل پیغام کے دو تازہ گندے پوسٹر۔

(اخبار صلح لاہور مورخہ ۱۱ مارچ ۱۹۳۵ء بحوالہ قادیانی مذہب، مولفہ پروفیسر محمد الیاس برنی، طبع پنجم

صفحہ - ۹۷۵)

یہ صحافتی زبان تھی۔ اب ذرا خلافتی زبان بھی ملاحظہ فرمائیے۔ جماعت لاہور کے امیر جناب محمد علی صاحب کو شکایت ہے کہ :۔

”خود میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) نے مسجد میں جمعہ کے روز خطبہ کے اندر ہمیں دوزخ کی چلتی پھرتی آگ، دنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس میں پڑے ہوئے کیڑے کہا۔ یہ الفاظ اس قدر تکلیف دہ ہیں کہ ان کو سن کر ہی سنڈاس کی بو محسوس ہونے لگتی ہے۔“

(جناب محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار پیغام صلح

مورخہ ۳ جون ۱۹۳۲ء بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ - ۹۷۴)

چوہدری صاحب فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اگر ”مرزا واصل جہنم“ کا لفظ غیر شریفانہ ہے تو جو الفاظ جماعت لاہور کے امیر نے خلیفہ قادیان سے منسوب کئے ہیں ان کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے؟

مرزا غلام احمد قادیانی کی وراثت کی امین صرف جماعت قادیان نہیں بلکہ جماعت لاہور کو بھی اس شرف کا دعویٰ ہے، انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے خاص طرزِ تحریر کو جس طرح اپنایا اس کے بھی ایک دو نمونے ملاحظہ فرمائیے۔

مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان اپنے خطبہ جمعہ میں جماعت لاہور کے ایک ممبر کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں :۔

”ایک خط میں جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے اس پر تحریر کیا ہے کہ :۔

”حضرت مسیح موعود ولی اللہ تھے، اور نبی اللہ بھی۔ کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے تھے، اگر انہوں نے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے) کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔ “

صفحہ 181

پھر لکھا ہے :۔

”ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد) پر ہے کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“

”اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے کہ یہ شخص (خط لکھنے والا) پیغامی طبع ہے۔“ الفضل قادیان ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء

یہ خط جس قدر ”شریفانہ“ ہے وہ تو ظاہر ہے لیکن اس خط کو عین خطبہ جمعہ میں منبر پر بیٹھ کر پڑھنا بھی شرافت و روحانیت کا کوئی معمولی معیار نہیں۔ اور اس روحانیت پر چوہدری صاحب اور ان کی جماعت جتنا ناز کرے بجا ہے۔

شیخ عبدالرحمن مصری، جو قادیانی اصطلاح میں مرزا کے ”مقدس صحابی“ ہیں، کسی زمانے میں خلیفہ قادیان کے دست راست تھے اور بعد میں جماعت لاہور کے معمر ترین بزرگ بن گئے۔ انہیں ۱۹۳۶ء میں مرزا محمود احمد سے کچھ ناگفتنی قسم کی اخلاقی شکایتیں پیدا ہوئیں۔ نوبت فوجداری اور ضمانت طلبی تک پہنچی انہوں نے عدالت عالیہ لاہور میں منسوخی ضمانت کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل بیان داخل کیا۔ عدالت نے فیصلہ میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے اسے فیصلہ کا مدار بنایا۔ بعد میں اخبار ”الفضل“ کے علاوہ مسٹر محمد علی امیر جماعت لاہور، جناب ممتاز احمد فاروقی اور جناب مظہر ملتانی نے بھی اسے اپنی کتابوں میں نقل کیا۔ مجھے اسے نقل کرتے ہوئے گھن آتی ہے لیکن مرزا قادیانی کے اخص الخواص مریدوں کی شرافت کا حوالہ اس کے بغیر نامکمل رہے گا اس لئے بادل نخواستہ اسے نقل کرتا ہوں۔ شیخ عدالت عالیہ لاہور کو بتاتے ہیں کہ۔

”موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کیلئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعے یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا

صفحہ 182

ہے۔ ”کمالات محمودیہ

آخر میں مسٹر محمد علی کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے اس بحث کو ختم کرتا ہوں مرزا محمود احمد کے ۲ دسمبر ۱۹۳۸ء کے خطبے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ اس خطبہ میں (مرزا محمود احمد صاحب) فرماتے ہیں۔

”جو باتیں آج مصری صاحب میرے متعلق کہہ رہے ہیں ایسی ہی باتیں ان کی پارٹی (یعنی جماعت لاہور) کے بعض آدمی حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کے متعلق کہا کرتے تھے۔“

استغفراللہ۔ ہذا بہتان عظیم۔ جمعہ کا خطبہ اور مسجد میں کھڑے ہو کر اتنا بڑا جھوٹ اور صرف اپنا عیب چھپانے کیلئے؟ میاں (محمود احمد) صاحب اپنے مریدوں کو جو چاہیں کہہ کر خوش کرلیں، مگر اس سیاہ جھوٹ میں ایک رائی کے لاکھوں اور کروڑویں حصہ کے برابر بھی صداقت نہیں۔“ کمالات محمودیہ

یہ اکابر جماعت احمدیہ کی تحریروں کے چند نمونے پیش کئے ہیں درجہ دوم اور سوم کے طرز تحریر کا اندازہ اسی سے کیا جانا چاہئے۔

میں عالمی عدالت انصاف کے سابق صدر و جج سے صرف یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایک نوجوان مسلمان کا یہ لفظ کہ ”مرزا واصل جہنم ہوا“ اس کی عدم شرافت کی دلیل ہے تو اکابر جماعت احمدیہ کی تحریریں بھی ان کی عدم شرافت کا کچھ سراغ دیتی ہیں یا نہیں؟ اگر چوہدری سر ظفر اللہ خان کی عدالت انصاف میں یہ سب ”شریفانہ“ ہیں تو ان کو اور ان کی جماعت کو نہ صرف ”مجلس ختم نبوت“ کی طرف سے بلکہ عالمی برادری کی طرف سے اس بلند پایہ شرافت پر تہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ شرافت کا یہ بلند معیار آج تک نہ کسی نے قائم کیا ہے نہ کوئی شریف سے شریف آدمی بھی قیامت تک یہ معیار قائم کرسکے گا۔

چوہدری سر ظفر اللہ خان کو مضمون نگار سے ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ اس نے اپنے مضمون کو جھوٹ اور افتراء پردازی سے آراستہ کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضمون کا عنوان ہی یہ رکھا ہے ”یہ احمدیوں کے خلاف افتراء پردازی ہے۔“ اور اپنے

صفحہ 183

مضمون میں انہوں نے کم از کم تیس بار جھوٹ، بہتان اور افتراء پردازی کا لفظ استعمال کیا ہے۔

کسی بد ترین مخالف کے بارے میں بھی غلط بیانی بہت بری حرکت ہے اور اگر مضمون نگار نے واقعی یہ حرکت کی ہے تو اس پر چوہدری صاحب جس قدر احتجاج کریں بجا ہے، لیکن میں چوہدری صاحب جیسی انصاف پسند شخصیت سے یہ دریافت کرنے کی گستاخی ضرور کروں گا کہ وہ اس حرکت کا صرف اسی وقت نوٹس لیتے ہیں جب یہ کسی اناڑی مسلم نوجوان سے سرزد ہو؟ یا اکابر جماعت احمدیہ کی اس حرکت پر بھی اظہارِ نفرت فرمائیں گے؟ میں چوہدری صاحب کے تیس عدد کی مناسبت سے بانی جماعت احمدیہ کی غلط بیانی، افتراء پردازی اور صریح دروغ بیانی کی تیس مثالیں پیش کر کے فیصلہ ان کی ذاتِ گرامی پر چھوڑتا ہوں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء

دی ہے کہ وہ (مسیح موعود) چودہویں صدی کے سر پر ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہو گا۔ “

(اربعین نمبر۔ ۴ صفحہ ۲۳، روحانی خزائن صفحہ۔ ۴۳۱ جلد ۱۷)

اس فقرے میں جناب مرزا قادیانی نے تمام انبیاء علیہم السلام گزشتہ کی طرف (جن کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے) دو باتیں منسوب کی ہیں۔ مسیح موعود کا چودہویں صدی کے سر پر ہونا اور پنجاب میں ہونا۔۔۔۔۔۔ جہاں تک ہماری ناقص معلومات کا تعلق ہے۔ انبیاء علیہم السلام گزشتہ تو کجا؟ قرآن وحدیث میں بھی کسی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے چودہویں صدی کا سرا تجویز نہیں کیا گیا۔ اور نہ ان کے پنجاب میں ہونے کی تصریح کی گئی ہے۔ گویا اس چھوٹے سے فقرے میں مرزا قادیانی نے کم و بیش اڑھائی لاکھ جھوٹ جمع کر دیئے ہیں۔

اور صرف ایک فقرے میں اڑھائی لاکھ جھوٹ بولنا چودہویں صدی میں غلط بیانی

صفحہ 184

اور جھوٹ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔ اگر چوہدری صاحب مرزا قادیانی کے اس فقرے کا ثبوت پیش کر سکیں تو ہماری معلومات میں اضافہ ہوگا اور اگر موجودہ صدی میں جھوٹ کا اس سے بڑا ریکارڈ پیش کر سکیں تو یہ بھی ایک جدید انکشاف ہوگا۔

نہیں کریں گے۔“

(ضمیمہ براہین پنجم صفحہ - ۱۸۶، روحانی خزائن صفحہ - ۳۵۷ جلد - ۲۱)

آئمہ کا لفظ کم از کم تین احادیث پر بولا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ مضمون کسی حدیث میں نہیں آتا ہے۔ اس لئے اس فقرے میں تین جھوٹ ہوئے اور یہ تین جھوٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔

کے سر پر آئے گا اور چودہویں کا مجدد ہوگا۔ .........اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی روح سے دو صدیوں میں اشتراک رکھے گا اور دو نام پائے گا اور اس کی پیدائش دو خاندانوں سے اشتراک رکھے گی اور چوتھی دو گونہ صفت یہ کہ پیدائش میں بھی جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا۔ سو یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔“

(ضمیمہ براہین پنجم صفحہ - ۱۸۸، خزائن صفحہ - ۳۵۹، ۳۶۰ جلد - ۲۱)

”احادیث صحیحہ“ کا لفظ کم از کم تین صحیح حدیثوں پر بولا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے چھ دعوؤں کے لئے (جن پر میں نے نمبر ڈال دیئے ہیں) احادیث صحیحہ کا حوالہ دیا ہے جو بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔ گویا اس فقرے میں اٹھارہ جھوٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔

کے انبیاء علیہم السلام کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں۔ اور فرمایا کہ ”کان فی الہند نبیا اسود اللون اسمہ کاھنا۔“

یعنی ”ہند میں ایک نبی گزرا جو سیاہ رنگ کا تھا اور نام اس کا کاہن تھا۔ یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔“

صفحہ 185

(ضمیمہ چشمہ معرفت صفحہ۔ ۱۰، روحانی خزائن صفحہ۔ ۳۸۲ جلد۔ ۲۳)

یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خالص افتراء ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد ایسا نہیں اور ”سیاہ رنگ کا نبی“ شاید مرزا قادیانی کو اپنے رنگ کی مناسبت سے یاد آگیا۔ ستم یہ ہے کہ یہ مہمل فقرہ جو مرزا قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا ہے اس کی عربی بھی مرزا قادیانی کی پنجابی عربی جیسی ہے۔

کلام کیا ہے؟ تو فرمایا کہ ہاں! خدا کا کلام زبان پارسی میں بھی اترا ہے، جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے۔“

”ایں مشت خاک راگر ، نبخشم کنم“

(حوالہ بالا)

یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سفید جھوٹ اور خالص افتراء ہے۔ ایسی کوئی حدیث نہیں۔

نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔“

(اشتہار ”مریدوں کے لئے ہدایت“ مورخہ ۱۷ اگست ۱۹۰۷ء)

یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خالص بہتان ہے۔ آپ کا ایسا کوئی ارشاد نہیں۔

میں لکھا تھا کہ مسیح کے زمانے کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی صفحہ۔ ۱۳، روحانی خزائن صفحہ۔ ۱۲۰ جلد۔ ۱۹)

کسی حدیث میں ”مسیح موعود کے زمانے کے علماء“ کی یہ حالت بیان نہیں فرمائی گئی۔ یہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خالص افتراء ہے اور دوسری طرف تمام علمائے امت پر بھی بہتان ہے۔

”چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک

صفحہ 186

چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔ “

(ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۔ ۲۰)

”چھپی ہوئی کتاب“ کا مضمون کسی ”حدیث صحیح“ میں نہیں اس لئے یہ سفید جھوٹ ہے۔ اور لطف یہ کہ یہ من گھڑت حدیث بھی مرزا قادیانی کی کتاب پر صادق نہ آئی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی اس ”کتاب“ میں جن تین سو تیرہ ”اصحاب“ کے نام درج تھے ان میں سے کئی مرزا قادیانی کے حلقہ ”صحابیت“ سے نکل گئے۔

رکھتے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا گیا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کو کافر کہیں گے اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔ “

(روحانی خزائن صفحہ ۔ ۳۲۲ جلد ۔ ۱۱)

اس عبارت میں تین باتیں ”احادیث صحیحہ“ کی طرف منسوب کی گئی ہیں جن کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نو جھوٹ باندھے گئے ہیں۔ کیونکہ ایسا مضمون کسی حدیث میں نہیں آتا۔

برس ہے اور آخری آدم پہلے آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں، جو روز ششم کے حکم میں ہے، پیدا ہونے والا ہے۔ “

(ازالہ اوہام صفحہ ۔ ۶۹۶ ، خزائن صفحہ ۔ ۴۷۵ جلد ۔ ۳)

یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خالص بہتان ہے۔ یہ ”آخری آدم“ کا افسانہ کسی حدیث میں نہیں آتا۔

یہ دس مثالیں میں نے وہ پیش کی ہیں جن میں مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر بڑی دلیری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر مرزا قادیانی کی افتراء پردازی کی فہرست بڑی

صفحہ 187

طویل ہے مگر میں سردست ان ہی دس مثالوں پر اکتفا کرتا ہوں اور چوہدری صاحب سے دریافت کرتا ہوں کہ ”جماعت احمدیہ کے مقدس بانی“ کی طرف کوئی معمولی سی بات منسوب کرنا تو ان کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے، کیا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط فقرے گھڑ کر منسوب کرنا ان کے نزدیک جائز ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تو یہ ہے کہ ”جو شخص عمداً میری طرف غلط بات منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔“ لیکن چوہدری صاحب کے نزدیک ایسا مفتری ”مسیح موعود“ بن جاتا ہے ............. فیا للعجب !

اللہ تعالیٰ پر افترا

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ پر جو افتراء کئے ہیں چند مثالیں ان کی بھی ملاحظہ فرمائیں :-

امت کا نام مریم رکھا گیا ہے اور پھر پوری اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ ؑ پیدا ہو گیا اور اسی بنا پر خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا۔“

(ضمیمہ براہین پنجم صفحہ ۔ ۱۸۹ روحانی خزائن صفحہ ۔ ۳۶۱ جلد ۔ ۲۱)

سورۃ تحریم کی تلاوت کا شرف سر ظفر اللہ خان کو یقیناً حاصل ہوا ہو گا وہ اپنے منصفانہ ضمیر سے دریافت فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے قرآن کریم کے ”صریح حوالے“ سے جو کچھ لکھا ہے کیا یہ خالص افتراء نہیں ؟

بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ ؑ نبی کو اس پر (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر) ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو

صفحہ 188

چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام ”حصور“ رکھا، مگر مسیح کا نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء آخری صفحہ)

گویا جتنی باتیں مرزا قادیانی نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہیں قرآن نے ان کو تسلیم کیا ہے اسی بنا پر ان کا نام ”حصور“ نہ فرمایا گیا۔ حالانکہ ان فواحش کو کسی نبی کی طرف منسوب کرنا کفر ہے اور اس کیلئے قرآن کریم کا حوالہ دینا خالص افتراء ہے۔

چوہدری صاحب ”سیرۃ المہدی“ کے مطالعہ کے بعد فرمائیں کہ کیا ”بے تعلق جوان عورتیں“ خود مرزا قادیانی کی ”خدمت“ سے تو بہرہ ور نہیں ہوا کرتی تھیں؟ مثلاً زینب، عائشہ، بھانو، کاکو، تابی وغیرہ وغیرہ ۔ اور یہ کہ کیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آئینے میں مرزا قادیانی کو خود اپنا ہی رخ زیبا تو نظر نہیں آگیا؟

اس سلسلے میں اگر چوہدری صاحب ”اخبار الحکم قادیان“ جلد ۱۱ ش ۱۳ صفحہ ۔ ۱۳ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء کا مندرجہ ذیل ”فتویٰ “ بھی سامنے رکھیں تو انہیں فیصلہ کرنے میں مزید آسانی ہوگی۔

سوال........... حضرت اقدس (مرزا قادیانی) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دھلواتے ہیں؟

جواب........... وہ نبی معصوم ہیں ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت وبرکات ہے۔

سوال........... حضرت کے صاحب زادے ”غیر عورتوں“ میں بلا تکلف اندر کیوں جاتے ہیں؟ کیا ان سے پردہ درست نہیں؟

جواب........... ضرورت حجاب صرف احتمال زنا کے لئے ہے، جہاں اس کے وقوع کا احتمال کم ہو ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ اسی واسطے انبیاء، اتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریق اولیٰ مستثنیٰ ہیں۔ پس حضرت کے صاحب زادے اللہ تعالیٰ کے فضل سے متقی ہیں ان سے اگر حجاب نہ کریں تو اعتراض کی بات نہیں (سبحان اللہ کیا شان تحقیق ہے ........... ناقل)

صفحہ 189

قرآن کریم کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا قادیانی نے جو افتراء پردازی کی ہے اسے اس فتوے کی روشنی میں پڑھ کر غالباً چوہدری جی مرزا قادیانی کے بارے میں یہی فرمائیں گے :۔

حملہ برخود می کنی اے سادہ مرد
ہمچو آں شیرے کہ برخود حملہ کرد

(ازالہ صفحہ ۔ ۶۸۶ خزائن ۲۷۵ ج ۳)

یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کا نام قرآن میں آدم رکھا گیا ہے۔ خالص جھوٹ اور افتراء علی اللہ ہے۔

(اعجاز احمدی صفحہ ۔ ۷ ، روحانی خزائن صفحہ ۔ ۱۱۳ جلد ۔ ۱۹)

یہاں جس ”رسول“ کا تذکرہ ہے اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے اور مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق قرار دینا قطعی طور پر افتراء علی اللہ ہے اور اس کے لئے ”الہام“ پیش کرنا افتراء بر افتراء ہے۔

(ازالہ صفحہ ۷۲ حاشیہ ، روحانی خزائن صفحہ ۔ ۱۴۹ جلد ۔ ۳)

صریح جھوٹ اور افتراء علی اللہ ہے۔

صفحہ 190

ہوگی۔ (۵) اور اس کو اسلام سے خارج۔ (۶) اور دین کے تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔

(اربعین نمبر ۳ صفحہ ۱۷، روحانی خزائن صفحہ ۴۰۴ جلد ۱۷)

قرآن کریم میں مسیح موعود کے بارے میں کہیں ایسا مضمون نہیں اس لئے یہ چھ کی چھ پیش گوئیاں جو مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن کریم سے منسوب کی ہیں قطعاً سفید جھوٹ ہے۔ ہاں مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر میں جو قرآن کا خاص نسخہ تھا۔ جسے انہوں نے اپنے مرحوم بھائی کو پڑھتے ہوئے کشفی حالت میں دیکھا

”جس کے دائیں صفحہ پر نصف کے قریب مرزا صاحب نے ”انا انزلنہ قریباً من القادیان“ کی آیت لکھی ہوئی دیکھ کر فرمایا تھا کہ ”تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ ، مدینہ اور قادیان“

(روحانی خزائن ۱۳۰ ج ۳)

اگر اس عجیب و غریب قرآن میں مسیح موعود کی یہ چھ علامتیں بھی لکھی ہوں تو ممکن ہے کہ چوہدری صاحب کو اس ”قادیانی قرآن“ کی زیارت و تلاوت کا شرف حاصل ہوا ہو۔ ورنہ اگر مندرجہ بالا عبارت میں قرآن کریم سے وہی کتاب مقدس مراد ہے جس کے حافظ دنیا میں لاکھوں موجود ہیں تو اس عبارت کے جھوٹ اور افتراء ہونے میں کیا شک ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مرقی مسیحیت کے کرشمے ہیں کہ وہ خود سے خود پیدا ہو کر مسیح بن مریم بن گئے۔ دمشق کو قادیان میں بلوالیا اور مکہ ، مدینہ کے مساوی اعزاز کو قرآن میں درج کر کے اسے رجسٹرڈ کرالیا۔

برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں تو بعض کو اس کے بعد پائے گا، تیری نسل بہت ہوگی۔“ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء

”اس عاجز نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض

صفحہ 191

بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔“

(اشتہار محک اخیار واشرار یکم ستمبر ۱۸۸۶ء)

واقعات نے ثابت کر دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا افتراء علی اللہ تھا کیونکہ اس کے بعد کوئی مبارک یا نامبارک خاتون ان کے حجلہ عروسی کی زینت نہ بن سکی، نہ اس سے ”بہت نسل“ ہوئی۔

۸ ...... ”الہام ” بکر و ثیب یعنی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا۔ پورا ہو گیا ............ اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔“

(تریاق القلوب ص ۳۴ روحانی خزائن ص ۲۰۱ ج ۱۵)

یہ بھی افتراء علی اللہ ثابت ہوا، کیونکہ یوم وفات تک مرزا غلام احمد قادیانی کو کسی بیوہ سے عقد نصیب نہ ہوا۔ کاش مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید ان کی اس پیش گوئی کو پورا کر دیتے تو ان کے افتراء علی اللہ کی فہرست میں کم از کم ایک کی کمی تو ہو جاتی۔

۹ ...... ”شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔ سو اس کا نام بشیر ہوگا۔ اب زیادہ تر الہام اس بات پر ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی وہ صاحب اولاد ہوگی۔ “

(مکتوبات احمدیہ جلد ۵ نمبر ۲)

واقعات نے ثابت کر دیا کہ نکاح اور فرزند کا یہ سارا قصہ محض تسویل نفس تھا جسے مرزا غلام احمد قادیانی نے کمال جرات سے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا۔

۱۰ ...... ”اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھ سے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں (محترمہ محمدی بیگم مرحومہ) کے لئے سلسلہ جنبانی کر ان دنوں جو زیادہ تصریح کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا

صفحہ 192

کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی، ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔“

(اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء)

بعد کے واقعات سے اللہ تعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ اس اشتہار اور اس موضوع پر مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تحریروں کا ایک ایک لفظ جھوٹ اور افتراء علی اللہ تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی افتراء پر کفایت نہیں کی، بلکہ زوجنکھا کی الہامی آیت بھی نازل کر لی۔ یعنی خدا تعالیٰ نے محمدی بیگم کا نکاح مرزا غلام احمد قادیانی سے کر دیا…… یہ خدا پر جھوٹ باندھنے کی بہت ہی نمایاں مثال ہے۔

چوہدری صاحب ایک اچھے وکیل اور جج رہے ہیں۔ میں ان ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ آسمانی نکاح، مرزا سلطان محمد مرحوم کے زمینی نکاح سے پہلے ہوا تھا یا بعد میں؟ اگر بعد میں ہوا تھا تو گویا خدا کے نزدیک نکاح پر نکاح بھی جائز ہے، اور اگر پہلے ہوا تھا تو مرزا غلام احمد قادیانی کی آسمانی منکوحہ کو ان کے گھر آباد کرنے کی ذمہ داری بھی خدا پر تھی، مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ اب یا تو یہ کہا جائے گا کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا یا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے قصداً مرزا غلام احمد قادیانی کو ذلیل و رسوا کرنا چاہا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اسی نکاح کے سلسلے میں فرماتے ہیں

”یاد رکھو اگر اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴)

چوہدری صاحب کی خدمت میں یہ بھی گزارش ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس افترا علی اللہ کے بارے میں اپنا منصفانہ فیصلہ صادر کرتے وقت یہ قانونی نکتہ فراموش نہ فرمائیں کہ میری بحث اس میں نہیں کہ یہ پیش گوئی شرطی تھی یا غیر مشروط؟

میری بحث یہ ہے کہ اگر یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا افتراء نہیں تھا اور واقعتاً مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح خدا تعالیٰ نے کر دیا تھا تو اپنے اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے اس نے ”ہر ایک مانع“ کو کیوں دور نہیں کیا؟ جب کہ مرزا قادیانی اس

صفحہ 193

پیشگوئی کو پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے ”بد سے بدتر“ ہونے کا اعلان بھی فرما چکے تھے، اب دو ہی صورتیں ممکن ہیں یا یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی مفتری تھے اور انہوں نے اپنی ذاتی خواہش کا الہام گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کر دیا تھا یا یہ کہ اللہ تعالیٰ بالقصد مرزا کو ”بد سے بدتر“ ثابت کرنا چاہتے تھے۔

یہاں تک مرزا غلام احمد قادیانی کے خدا اور رسول پر جھوٹ باندھنے کی بیس مثالیں عرض کر چکا ہوں اب مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹ اور افتراء کی دس اور مثالیں پیش خدمت ہیں۔

عیسیٰ علیہ السلام پر افتراء

ایسا نبی آنے والا ہے کہ (۱) لوگ نماز کے لئے مسجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا۔ (۲) اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا۔ (۳) اور جب عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو گا۔ (۴) اور شراب پئے گا، (۵) اور سور کا گوشت کھائے گا (۶) اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پروا نہیں کرے گا“

(حقیقۃ الوحی ۲۹ روحانی خزائن ص ۳۱ ج ۲۲)

مرزا غلام احمد قادیانی کا اشارہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے، لیکن اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جو چھ باتیں ان کی طرف منسوب کی ہیں وہ قطعاً غلط ہیں، اس لئے مرزا قادیانی کی یہ عبارت نہ صرف جھوٹ ہے، بلکہ ایسا شرمناک بہتان بھی۔ جس میں ایک نبی کی طرف شراب پینے اور سور کھانے کی نسبت کی گئی ہے اور جس شخص کے دل میں رتی برابر ایمان بھی ہو وہ نرم سے نرم الفاظ میں اس کو مرزا قادیانی کی ”ذلیل حرکت“ کہنے پر مجبور ہو گا۔

صفحہ 194

سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“

(حاشیہ کشتی نوح ص ۱۶)

مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ تحقیق نہ صرف غلط ہے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان بھی۔

موجود ہے اس نے لکھا ہے کہ یسوع ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا۔ اور اپنے استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا۔ تو استاد نے اسے عاق کر دیا اور انجیل کے مطالعہ سے جو کچھ مسیح کی حالت کا پتہ لگتا ہے۔ وہ آپ سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ کہ کس طرح بے پردہ نامحرم نوجوان عورتوں سے ملتا تھا۔ اور کس طرح ہر ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔ اور یسوع کی بعض نانیوں اور دادیوں کی جو حالت بائبل سے ثابت ہوتی ہے۔ وہ بھی کسی سے مخفی نہیں ان میں سے تین جو مشہور و معروف ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں ”بنت سبع، راحب، تمر“ اور پھر یہودیوں نے اس کی ماں پر جو کچھ الزام لگائے ہیں۔ وہ بھی ان کتابوں میں درج ہیں۔ ان سب کو اگر اکٹھا کر کے دیکھیں۔ تو اس کا یہ قول کہ مجھے نیک نہ کہو۔ اپنے اندر حقیقت رکھتا ہے اور یہ فروتنی یا انکسار کے طور پر ہرگز نہ تھا جیسا بعض عیسائی کہتے ہیں۔“

(ملفوظات ج ۳ ص ۲۹۶)

ان تمام امور کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا بہتان ہے۔

تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا تھا، چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا یہ نتیجہ تھا۔“

(حاشیہ ست بچن ۱۷۲، خزائن ص ۲۹۶ ج ۱۰)

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ سارے الزامات جھوٹ اور گندے بہتان ہیں۔

صفحہ 195

السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔"

(اعجاز احمدی ص ۱۳، روحانی خزائن ص ۱۲۱ ج ۱۹)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں کو "صاف طور پر جھوٹ" کہنا مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ ہے۔ غالباً انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی قادیان کا غلام احمد سمجھ لیا ہے۔

یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶، ۷ روحانی خزائن ص ۲۹۱، ۲۹۲ ج ۱۱)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نفی نہ صرف کذب صریح ہے بلکہ قرآن کریم کی تکذیب بھی۔

ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔"

(ازالہ اوہام ص ۳۰۸ روحانی خزائن حاشیہ ص ۲۵۷ ج ۳)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مسمریزم کا الزام لگانا اور ان کے معجزات کو مسمریزم کا نتیجہ قرار دینا قطعی اور یقینی جھوٹ ہے اور اس پر "باذن و حکم الٰہی" کا اضافہ کرنا افتراء علی اللہ ہے اور الیسع نبی کو اس میں لپیٹنا اس افتراء پردازی میں مزید اضافہ ہے۔

برس تک نجاری کا کام کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ۳۰۳ خزائن حاشیہ ص ۲۵۳، ۲۵۴ ج ۳)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نسب کو یوسف نجار کی طرف منسوب کرنا، آپ کو بڑھئی کہنا اور آپ کے قرآن میں ذکر کردہ معجزات کو نجاری کا کارنامہ قرار دینا یہ صریح

صفحہ 196

بہتان اور قرآن کریم کی تکذیب ہے۔

بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ “

(ازالہ ص ۳۰۹ خزائن حاشیہ ص ۲۵۷، ۲۵۸ ج ۳)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو ” تربی کارروائیاں “ کہنا اور انہیں مکروہ اور قابل نفرت قرار دینا صریح بہتان اور تکذیب قرآن ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے برتری کی امید رکھنا اور اسے فضل و توفیق، خداوندی کی طرف منسوب رکھنا کفر اور افتراء علی اللہ ہے۔

آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین ہو گیا تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو، شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔ “

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ خزائن حاشیہ ص ۲۹۰ ج ۱۱)

”یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔ “

(حاشیہ ست بچن ص ۱۷۱ روحانی خزائن ص ۲۹۵ ج ۱۰ حاشیہ)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نعوذ باللہ خلل دماغ، مرگی اور دیوانگی کی نسبت کرنا سفید جھوٹ ہے۔ غالباً یہ عبارت لکھتے وقت مرزا غلام احمد قادیانی خود ”مراق“ کے عارضے کا شکار تھے۔

یہ تیس افتراء اور جھوٹ ہیں جنہیں دنیا کا کوئی عاقل سچ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا اور محض چوہدری صاحب کے خاص عدد (جو حدیث نبوی ثلاثون کذابون کا آئینہ بھی ہے) کی مناسبت سے لکھے گئے ہیں۔ ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھئے اس کے صفحے صفحے پر جھوٹ اور بہتان کے سیاہ دھبے نظر آئیں گے۔ مجھے امید ہے کہ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں کی عدالت میں یہ تیس جھوٹ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی

صفحہ 197

پوزیشن واضح کرنے کے لئے کافی ہوں گے کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ارشاد ہے۔ ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ۲۲۲ روحانی خزائن ص ۲۳۱ ج ۲۳)

مرزا غلام احمد قادیانی کے علاوہ اکابر جماعت احمدیہ نے ایک صدی میں جھوٹ اور بہتان کے جو طومار تیار کئے ہیں افسوس ہے کہ طوالت کے اندیشے سے میں ان کی چیدہ چیدہ مثالیں دینے سے بھی قاصر ہوں، البتہ مجموعی طور پر اس جماعت کے بارے میں مرزا قادیانی نے جو رائے قائم فرمائی ہے اس کا حوالہ دے کر اس ناخوشگوار بحث کو ختم کرتا ہوں جناب مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں۔

”اے برادران دین و علمائے شرع متین آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں ............... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگا دے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ۱۹۰ روحانی خزائن ص ۱۹۲ ج ۳)

اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں کہ وہ نہ ”مسیح موعود“ ہیں نہ ”مسیح ابن مریم“ ہیں۔ جو شخص ان کو ”مسیح موعود“ یا ”مسیح ابن مریم“ کہتا ہے وہ نہ صرف کم فہم بلکہ مفتری اور کذاب ہے۔

چوہدری صاحب کو علم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”مسیح موعود“ اور ”مسیح ابن مریم“ کا مصداق قرار دینے کا شرف کسی مسلمان کو حاصل نہیں۔ بلکہ یہ صرف ان ہی کی جماعت کا کارنامہ ہے، اب وہ بغور و فکر خود ہی فیصلہ فرماسکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے تجویز کردہ خطابات ”کم فہم“ اور ”مفتری و کذاب“ کا مستحق ان کی جماعت سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے؟

صفحہ 198

اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود تسلیم کرنے کا ایک فطری خاصہ ہے چنانچہ مرزا قادیانی تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ۴ ص ۱۵۹ (روحانی خزائن ص ۴۸۳ ج ۱۵) میں شیخ ابن عربی کی پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے ”مسیح موعود“ کی یہ خاص علامت ذکر فرماتے ہیں کہ :

”اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم (بانجھ پن کی بیماری) سرایت کرے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحہ عالم سے مفقود ہو جائیں گے، وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام پس ان پر قیامت قائم ہوگی“

ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی ”مسیح موعود“ نہیں ان کے نزدیک تو اس پیش گوئی کا ابھی وقت نہیں آیا لیکن جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”مسیح موعود“ تسلیم کرتے ہیں انہیں ”مسیح موعود“ کی یہ خاصیت بھی تسلیم کرنا ہوگی گویا ان کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات (۲۶ مئی ۱۹۰۸ سوا دس بجے دن) کے بعد جتنے لوگ اس دنیا میں پیدا ہوئے ہیں وہ سب حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہ ہیں۔ اور حقیقی انسانیت سے قطعاً عاری چوہدری اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو ”مسیح موعود“ اور صادق و راستباز آدمی سمجھتے ہیں تو انہیں کم از کم جماعت احمدیہ کے ان افراد کے بارے میں، جو بدقسمتی سے مرزا غلام احمد قادیانی کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی کا یہ ارشاد تسلیم کرنا چاہئے۔ کیا عالمی عدالت انصاف کے سابق جج اس پر اپنا ”منصفانہ فیصلہ“ صادر فرمائیں گے ؟

طارق محمود نے ایک بات یہ کہی تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی پٹوار کے امتحان میں فیل ہو گئے تھے چوہدری صاحب اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

”حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کبھی پٹوار کا امتحان نہیں دیا۔ اس لئے ایسے امتحان میں پاس یا فیل ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ “

چوہدری صاحب کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی سوانح نگار نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی پٹوار کا امتحان دینے

صفحہ 199

کی کوشش کی ہو البتہ انہوں نے مختاری کا امتحان دیا تھا، جس میں ان کے رفیق لالہ بھیم سین بٹالوی کامیاب ہوئے، مگر مرزا غلام احمد قادیانی ناکام رہے۔ یہ دونوں صاحب ان دنوں گردش زمانہ کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں ملازم تھے، لالہ بھیم سین کو تیس روپے اور مرزا صاحب کو غالباً پندرہ روپے تنخواہ ملتی تھی۔ سیالکوٹ کچہری میں مرزا غلام احمد قادیانی سات سال اہلکار رہے، یہاں ترقی کے مواقع نہ پاکر انہوں نے مختاری کا امتحان دینے کی تیاری کی تاکہ معقول آمدنی ہو، مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری نے اپنی کتاب ”رئیس قادیان“ میں ان واقعات کی دلچسپ تفصیل لکھی ہے، اس میں سیرۃ المہدی (ص ۱۳۵ ج ۱) کے حوالہ سے یہ بھی لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو الہام ہوا تھا کہ ”اس امتحان میں لالہ بھیم سین کے سوا سب ناکام ہوں گے۔“

گویا مختاری کے امتحان میں کامیابی تو مرزا غلام احمد قادیانی کو نصیب نہ ہوئی، البتہ اس ناکامی کے نتیجے میں ایک عدد ”الہام“ انہیں ضرور وصول ہو گیا، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے ملہم کی یہ خاص ادا لائق احتجاج ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ہمیشہ بعد از وقت ”الہام“ کرنے کا عادی تھا، چنانچہ اس موقع پر بھی اس نے یہی کیا، حالانکہ اگر وہ انہیں بروقت مطلع کر دیتا تو یقیناً مرزا غلام احمد قادیانی امتحان گاہ میں قدم نہ رکھتے اور رہتی دنیا تک ”مختاری میں فیل“ کی خفت سے ان کا دامن حیات آلودہ نہ ہوتا۔ ایسے ہی موقعوں پر کہا جاتا ہے۔ ”مُشتے کہ بعد از جنگ یاد آید بر کلہ خود باید زد“ (یعنی جو مکا کہ جنگ کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر مارنا چاہئے)

چوہدری صاحب نے یہ صفائی تو پیش کر دی کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پٹوار کا امتحان نہیں دیا تھا، مگر معاً انہیں خیال آیا کہ ”پٹوار فیل“ نہ سہی مرزا غلام احمد قادیانی ”کچھ فیل“ تو ضرور تھے، لہٰذا وکیل صفائی کی حیثیت سے انہوں نے اس کے لئے بھی، ایک قانونی نکتہ پیش کر دیا چنانچہ فرماتے ہیں۔

”نہ یہ معیار صحیح ہے کہ جو پٹواری نہ بن سکے وہ فرستادہ خدا کیسے بن سکتا ہے؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اللّٰہ اعلم حیث یجعل رسالتہ“ وہ جس کو اپنے کلام کے متحمل ہونے کے قابل سمجھتا ہے اس پر اپنا کلام نازل فرماتا ہے بلکہ جس پر اس کا کلام نازل کرنے کا ارادہ ہو وہ

صفحہ 200

خود اس کی تربیت کرتا ہے کہ وہ اس کلام کے متحمل ہونے کے قابل بن جائے۔ جیسے تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوا اگر اللہ تعالیٰ کا کرم بندہ نواز ایک مطلق ان پڑھ کو بوجہ اس کے ان اعلیٰ صفات کے جو اس نے اپنی حکمت سے اس میں مرکوز کر رکھی تھیں افضل الرسل اور خاتم النبیین بنا سکتا ہے تو کسی معمولی لکھے پڑھے کو ، جو دنیا کے امتحانوں کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو کیونکر اپنے کلام کا متحمل نہیں بنا سکتا۔“

”مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید“

مرزا غلام احمد قادیانی کے مشک عنبریں کی بوئے جاں فزا سے تو قارئین کرام گزشتہ سطور میں لطف اندوز ہو چکے ہیں، مگر چوہدری صاحب نے ”مطلق ان پڑھ“ اور ”معمولی لکھے پڑھے“ کے الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزا غلام احمد قادیانی کے درمیان جو تقابل قائم کیا ہے وہ گستاخی کی آخری حدوں کو عبور کرتا ہے۔ گویا وصف نبوت میں تو مرزا غلام احمد قادیانی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ ”لکھے پڑھے“ بھی تھے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ”مطلق ان پڑھ“ تھے۔

چوہدری صاحب کی جماعت اور ان کے پیشوا کی یہی گستاخیاں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو ان کے ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دینے پر مجبور کیا، کبھی مرزا غلام احمد قادیانی کی روحانیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے اقویٰ اکمل اور اشد کہا گیا۔

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۱)

کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی روحانیت کو ناقص اور مرزا قادیانی کے زمانہ کی روحانیت کو کامل کہا گیا۔

(خطبہ الہامیہ ص ۱۷۷ روحانی خزائن ص ۱۷۸ ج ۱۶)

کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مرزا غلام احمد قادیانی کی ”فتح مبین“ کو بڑی اور زیادہ ظاہر کیا گیا۔

(خطبہ الہامیہ ص ۱۹۳ روحانی خزائن ص ۱۹۳ ج ۱۶)

صفحہ 201

کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو صرف تائیدات اور دفع بلیات کا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانے کو برکات کا زمانہ ٹھہرایا گیا۔ (تبلیغ رسالت ص ۴۴ ج ۵)

کبھی یہ بتایا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حقائق کا صحیح انکشاف نہیں ہوا تھا، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی پر ہوا۔

(ازالہ ص ۶۹۱ روحانی خزائن ص ۴۷۳ ج ۳)

کبھی یہ سمجھایا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تھا۔

(ریویو مئی ۱۹۲۹ء)

کبھی صاف صاف اعلان کر دیا گیا۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں!
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر جلد ۲ نمبر ۴۷ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)

اور کبھی اس سے بڑھ کر یہ گستاخی کی گئی کہ آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام کی مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ بیعت کرادی گئی۔

(الفضل ۲۶ فروری ۱۹۴۴ء ۔ الفضل ۱۹، ۲۱ ستمبر ۱۹۱۵ء، ۲۶ فروری ۱۹۲۴ء)

(پیغام صلح لاہور ۷ جون ۱۹۳۴ء)

دراصل ان ساری گستاخانہ تعلیموں کی جڑ بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیم اور بالخصوص ان کا دعوائے ظلی نبوت ہے جس کی تشریح یہ کی گئی ہے۔ ”خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود کا بروز خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہے۔ یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیح موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں کوئی دوئی اور مغائرت نہیں

صفحہ 202

رکھتے بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ یعنی لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہیں۔ (یعنی عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کا بروز، ناقل) ۔“

(الفضل ۱۶ ستمبر ۱۹۵۱ء)

”گزشتہ مضمون مندرجہ الفضل مورخہ ۱۶ ستمبر میں میں نے بفضل الٰہی اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح موعود باعتبار نام، کام، آمد، مقام مرتبہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا وجود ہیں۔“

(الفضل ۲۸ اکتوبر ۱۹۱۵ء)

یہی گستاخانہ تاثر چوہدری صاحب ”مطلق ان پڑھ“ اور ”معمولی پڑھے لکھے“ کے تقابل سے دے رہے ہیں۔

جہاں تک ان کی اس منطق کا تعلق ہے کہ ”پرائمری فیل“ بھی نبی بن سکتا ہے، اس بارے میں بس یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ ان کی چشم تصور منصب نبوت کی بلندیوں کو چھونے سے قاصر ہے، اور وہ اس میں واقعتہً معذور بھی ہیں، کیونکہ بدقسمتی سے ان کے لئے نبوت کا بلند ترین معیار لے دے کر مرزا غلام احمد ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ نبی بس اسی طرح کے لوگ ہوتے ہیں، جو اپنی بے مثل ”ذہانت و فطانت“ کے سبب دنیا کے معمولی امتحان میں بھی فیل ہو جائیں۔ جن کی قوت حافظہ کا یہ عالم ہو کہ قرآن مجید کے الفاظ بھی غلط نقل کیا کریں اور خود اپنی وحی کے سمجھنے اور یاد رکھنے سے بھی معذور ہوں، جو اپنے امتیوں سے یہ مسئلہ پوچھتے پھریں کہ میں نماز میں فلاں چیز ادا نہیں کر سکا۔ میری نماز ہو گئی یا نہیں؟۔

(قادیانی مذہب طبع پنجم ص ۷۷۰)

جو بارہ برس تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ خدا نے اسے مسیح موعود بنا دیا ہے اور جو منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد بائیس برس تک یہ نہ سمجھ سکیں کہ نبوت کہتے کس چیز کو ہیں اور اس کا مفہوم کیا ہوتا ہے؟

ظاہر ہے کہ جن حضرات کے سامنے نبوت کا یہ معیار ہو وہ چوہدری صاحب کی منطق سے آگے کیا سوچ سکتے ہیں؟ تاہم چوہدری صاحب کی خدمت میں دو گزارشیں کروں گا ایک یہ کہ نبی ”ان پڑھ“ ضرور ہوتے ہیں مگر غبی اور کند ذہن نہیں ہوتے۔ یہ

صفحہ 203

ممکن ہے کہ وہ اپنے بلند و بالا منصب کی وجہ سے دنیا کے گھٹیا اور سفلی علوم کی طرف التفات نہ فرمائیں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ جس علم کی طرف توجہ فرمائیں وہ ان کے سامنے پانی نہ ہو جائے اور اس میں پوری تیاری کے بعد بھی ”فیل“ ہو جائیں۔

نبی صرف جاہلوں ، بدوؤں اور کندہ ناتراش قسم کے لوگوں کا نبی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے سامنے دنیا بھر کے افلاطون و ارسطو، قانون داں، سائنس داں اور دیگر علوم و فنون کے ماہرین بھی طفل مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کا کوئی شخص اپنے فن میں انبیاء کرام علیہم السلام پر فوقیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کے کسی آدمی کی شاگردی نہیں کرتے، نہ کسی گل علی شاہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے ہیں، ورنہ آج جو استاد اسکول میں کسی طالب علم کے کان پکڑواتا ہے، کل وہ طالب علم اس استاد کے سامنے دعواۓ نبوت لے کر کیسے جاسکتا ہے؟ خلاصہ یہ کہ انبیاء کرام دنیا کے علوم کی طرف توجہ نہیں فرمایا کرتے، بلکہ ”انتم اعلم بامور دنیاکم“ کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں، لیکن اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ ان معمولی علوم کے سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں، اور پوری تیاری کرنے کے بعد بھی معاذ اللہ ناکامی ان کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ ایک لالہ اور ایک نبی دونوں امتحان گاہ میں قدم رکھتے ہیں لالہ کامیاب اور ”نبی“ فیل ہو جاتا ہے۔ کیا یہ نبی صاحب ”دعواۓ نبوت“ لے کر لالہ جی کے سامنے جاسکتے ہیں اور اگر جائیں تو کیا لالہ جی یہ نہیں فرمائیں گے کہ برخوردار تم میں معمولی امتحان پاس کرنے کی تو صلاحیت نہیں وہ کون عقلمند ہے جس نے تمہیں نبی بنا دیا ہے؟

چوہدری صاحب اور ان کے ہم جماعتوں کی مشکل یہ ہے کہ نبوت کی عبائے زریں مرزا قادیانی کی قامت پر راست نہیں آئی، کجا وہ عالی شان ہستیاں جن کے آگے انسانی کمالات کی ساری رفعتیں پست رہ جاتی ہیں، کجا مرزا غلام احمد قادیانی؟ جو اپنے زمانے کے معمولی افراد کے ساتھ بھی کندھا ملا کر نہیں چل سکتے، علم و فضل کا یہ عالم کہ ایک معمولی سے دیسی پادری کے ساتھ پندرہ دن تک پنجہ آزمائی کے باوجود اسے چت کرنے میں ناکام رہتے ہیں، اب چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت نبوت کی بلند و بالا سطح تک نہیں پہنچ سکتی تو اس کا حل یہ تلاش کیا جاتا ہے کہ خود نبوت ہی کو گھسیٹ کر نیچے کھینچ لایا جائے۔

صفحہ 204

دوسری گزارش یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ”اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ“ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ایرے غیرے کو جب چاہے نبی بنا دیتا ہے، بلکہ اس کے بالکل برعکس آیت کریمہ کا منشا یہ ہے کہ نبوت ہر کس و ناکس کو نہیں دی جاتی (جو عام انسانوں کی سطح سے بھی فروتر ہوں) نبوت ایک اعلیٰ و ارفع منصب ہے اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس منصب کی اہلیت کون رکھتا ہے کون نہیں؟

مجھے مرزا غلام احمد سے لے کر چوہدری محمد ظفر اللہ خان تک ان کی جماعت کے تمام اکابر سے یہ سخت شکایت ہے کہ وہ اپنے حرف غلط کے لئے قرآن کریم پر مشق ستم روا رکھتے ہیں، انہیں اس کا قطعاً احساس نہیں کہ قرآن کریم پر یہ ظلم کتنا سنگین ہے، کاش! انہیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا کچھ لحاظ ہوتا۔ من قال فی القرآن برایہ فلیتبوا مقعدہ من النار۔ یعنی جس نے اپنی رائے سے قرآن میں کوئی بات کہی اسے اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنانا چاہئے۔

اب دیکھئے قرآن تو یہ کہتا ہے کہ نبوت ہر کس و ناکس کو نہیں ملتی لیکن چوہدری صاحب اس سے یہ کہلواتے ہیں کہ نبوت ہر پھسڈی اور ”پرائمری فیل“ کو بھی عطا کر دی جاتی ہے۔ نبوت بلاشبہ عطیہ ربانی ہے لیکن اس کے لئے انسانیت کے ان بلند ترین افراد کو چنا جاتا ہے، جو تمام انسانی اوصاف و کمالات میں دنیا بھر کے انسانوں سے اعلیٰ و ارفع ہوں، مراق و ہسٹریا اور اعصابی امراض کے کسی مریض کو اس کے لئے منتخب نہیں کیا جاتا، جس میں لفاظی و تعلی اور کاغذی گھوڑے دوڑانے کے سوا دنیا کا کوئی علمی و عملی کمال نہ ہو۔ تعجب ہے کہ یہ موٹی سی بات بھی چوہدری صاحب نہیں سمجھ پائے تو کرسی عدالت پر بیٹھ کر حق و باطل اور سچ اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کیسے کرتے ہوں گے؟ پھر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تو نبوت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خواہ کوئی آسمان کے تارے توڑ لانے کا مدعی ہو فقہ اکبر کے شارح حضرت شیخ علی القاری کے بقول ”دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالا جماع“ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ بالا جماع کفر ہے۔“ چوہدری صاحب کی کئی اور باتیں بھی لائق توجہ تھیں، مگر افسوس کہ مضمون اندازے سے زیادہ پھیل گیا اس لئے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔

و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

صفحہ 205

ضمیمہ

میرا یہ مضمون اخبار ”جنگ“ لندن کی تین اشاعتوں (۸ نومبر، ۱۰ نومبر، ۱۵ دسمبر ۱۹۷۹ء) میں شائع ہوا تھا، فروری کے اواخر میں ماہنامہ ”اخبار احمدیہ“ لندن دسمبر ۱۹۷۸ء اور جنوری ۱۹۷۹ء کا شمارہ ایک قادیانی دوست نے مجھے بھیجا، جس میں میرے مضمون کی پہلی قسط کا جواب جناب چوہدری صاحب کی جانب سے شائع ہوا۔ اس جوابی مضمون میں بھی جناب چوہدری صاحب نے میرے صرف ایک فقرے پر توجہ مبذول فرمائی ہے، وہ تحریر فرماتے ہیں۔

”میری غرض اس وقت ایک ایسے امر کی طرف توجہ دلانا ہے جس کے متعلق مولانا کو شدید غلط فہمی ہوئی ہے انہوں نے اپنے مضمون کے دوران حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق ایک سے زیادہ دفعہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیائے کرام، صحابہ عظام اور اکابر امت کے متعلق نہایت ناواجب الفاظ استعمال کئے ہیں۔“

”میں پورے وثوق کے ساتھ مولانا کی خدمت میں اور ناظرین کرام کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے ہرگز ہرگز کسی نبی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی اور مسلمہ اکابر امت کے بارے میں کوئی ایسا کلمہ استعمال نہیں کیا جو ان بزرگوں کی شان کے منافی ہو۔“

چوہدری صاحب نے پورے وثوق کے ساتھ جو بات ارشاد فرمائی ہے مجھے افسوس ہے کہ وہ واقعات کے بالکل خلاف ہے، اگر چوہدری نے میرے مضمون کی تینوں قسطوں کا بغور مطالعہ فرمایا ہوتا تو مجھے توقع تھی کہ وہ اپنے اس ارشاد پر نظر ثانی کی خود ضرورت محسوس کرتے۔ تاہم میں جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے وہ تمام ناواجب الفاظ جو انہوں نے انبیائے کرامؑ، صحابہ عظامؓ اور صلحائے امتؒ کے حق میں استعمال فرمائے ہیں، نقل کر کے اس رسالہ کو زیادہ بھاری نہیں کرنا چاہتا۔ البتہ چوہدری صاحب کی توجہ ایک ضروری امر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

صفحہ 206

میں نے جناب مرزا صاحب کے دو حوالے نقل کر کے کہا تھا کہ :۔

” جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ ارشادات مسیلمہ کذاب یا اس کی جماعت کے بارے میں نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کے ایک مقدس رسول سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں ہیں۔ “

چوہدری صاحب میرے اس فقرے کو ادعاء باطل، ایک صریح اتہام اور ظلم قرار دیتے ہیں اور اس پر وہ دو دلائل پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی تو خود ”مثیل مسیح“ ہونے کے مدعی ہیں وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی شان میں گستاخی کیسے کر سکتے تھے؟ اور دوسری دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی جگہ حضرت عیسیٰ السلام کی تعریف کی ہے۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن تھا کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی جس شخصیت کو نبی مانتے ہوں اور اس کی عظمت و بزرگی کو تسلیم کرتے ہوں اسی کی توہین کرنے لگیں؟ اس کے بعد چوہدری صاحب نے یہ مفروضہ قائم کیا ہے کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے جتنی گالیاں دی ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں بلکہ ایک ”فرضی مسیح“ کو دی ہیں اور وہ بھی بہت ہی مجبوری کی حالت میں۔

مجھے افسوس ہے کہ چوہدری صاحب کی عزت و احترام کے باوجود میں ان کے اس مفروضہ کو قطعاً غلط سمجھنے پر مجبور ہوں اور مجھے توقع نہیں کہ موصوف کا ضمیر اس غلط مفروضہ پر خود بھی مطمئن ہو گا، اگر چوہدری صاحب نے میرے مضمون کی دوسری قسط میں ان افتراء پردازیوں کی فہرست ملاحظہ فرمائی ہوتی جو مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کی ہیں تو چوہدری ”فرضی مسیح“ کا غلط مفروضہ قائم کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کے وکیل صفائی کا کردار ادا نہ کرتے۔ بلکہ وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے کہ واقعی یہ باتیں مرزا غلام احمد قادیانی نے ”حقیقی مسیح“ کے بارے میں کہی ہیں، نہ کہ کسی ”فرضی مسیح“ کے حق میں۔

میں یہاں چوہدری صاحب کی مکرر توجہ کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف ایک عبارت کا حوالہ دوبارہ پیش کرتا ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:۔

”....... لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے،

صفحہ 207

کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے ان کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام ”حصور“ رکھا، مگر مسیح کا نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء طبع قدیم آخری صفحہ۔ طبع جدید ص ۵)

میں نے یہاں بقدر ضرورت عبارت نقل کی ہے۔ چوہدری صاحب خود ”دافع البلاء“ کھول کر دور دور تک اس کا سیاق و سباق اچھی طرح ملاحظہ فرمالیں۔ اس عبارت سے میں یہ سمجھا ہوں کہ۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں نہ کہ کوئی ”فرضی مسیح۔“

علیہ السلام کی ایک فضیلت و بزرگی بیان فرما رہے ہیں۔

سے مس و اختلاط فرماتے تھے، بخلاف اس کے حضرت مسیح علیہ السلام میں (بقول مرزا کے) یہ دونوں باتیں پائی جاتی تھیں۔ وہ شراب بھی پیتے تھے اور فاحشہ عورتوں اور نامحرم دوشیزاؤں سے مس و اختلاط بھی فرماتے تھے، کنجریاں اپنی حرام کی کمائی کا تیل ان کے سر پر ملا کرتی تھیں اور اپنے ہاتھ اور سر کے بالوں سے ان کے بدن کو مس کیا کرتی تھیں، اور نامحرم دوشیزائیں ان کی خدمت کیا کرتی تھیں۔

کی بناء پر قرآن کریم نے یحییٰ علیہ السلام کو تو ”حصور“ (یعنی اپنے نفس کو عورتوں سے باز رکھنے والا) فرمایا۔ مگر مسیح علیہ السلام کو یہ خطاب نہ دیا۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بقول شراب و شباب سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اگر مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس اردو عبارت سمجھنے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تو مجھے خوشی ہوگی کہ مجھے سمجھا دیں

صفحہ 208

ورنہ ___________ چوہدری کی دیانت و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اسے تسلیم فرمائیں۔ ورنہ جس قسم کی دور از کار تاویلوں کے ذریعہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صفائی پیش کرتے ہیں انہیں یقین رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں انکی یہ تاویلیں کام نہیں دیں گی، میں چوہدری کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔ وہ اپنی ذات سے انصاف کریں گے اگر وہ اخیر عمر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا دامن جھٹک کر حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رحمت سے وابستہ ہو جائیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد سے توبہ کرلیں۔

والحمد للہ اولاً و آخراً

PDF 209

مرزا طاہر کے

جواب میں

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 210

مرزا طاہر کے جواب میں

قادیانیوں میں جب مایوسی اور بے چینی کی لہر دوڑتی ہے تو ان کو مطمئن کرنے کے لئے قادیانی لیڈر کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑنے کے عادی ہیں، جس کا نتیجہ بالآخر ان کی مزید ذلت و رسوائی کی شکل میں نکلتا ہے حال ہی میں قادیانیوں کے لیڈر مرزا طاہر کی طرف سے ایک نئی حرکت مذبوحی صادر ہوئی ہے اور وہ ہے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج ۔ جس کا درج ذیل جواب راقم الحروف کی طرف سے مرزا طاہر کے نام بھیجا گیا

بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لله وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ

جناب مرزا طاہر احمد صاحب! سلام علیٰ من اتبع الہدیٰ

گزشتہ دنوں آپ کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج شائع ہوا، میں اسے شاید لائق التفات نہ سمجھتا۔ مگر طویل سفر سے واپسی پر ڈاک میں اس کی ایک کاپی موجود پائی جس میں بطور خاص مجھے مخاطب کیا گیا تھا جس کا جواب بطور خاص مجھ پر لازم ہوا۔ اس لئے جواباً چند نکات عرض کرتا ہوں :

دور حاضر کے مسیلمہ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفوں کی فہرست میں درج فرمایا۔ یہ دراصل بہت بڑا اعزاز ہے جسے قرآن کریم نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ . أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ . يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ .

صفحہ 211

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ

ترجمہ...... ”اے ایمان والو! جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جاوے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو پیدا کر دے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی، مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر، تیز ہوں گے کافروں پر، جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں، اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں بڑے علم والے ہیں۔“

اس آیت کریمہ میں مرتدین سے مقابلہ کرنے والے حضرات کے چھ اوصاف جلیہ بیان فرمائے ہیں۔

عن المنکر کا فریضہ بجالاتے ہیں۔

آخر میں فرمایا کہ یہ حق تعالیٰ کا فضل خاص ہے جس کو چاہتے ہیں یہ فضل عطا فرما دیتے ہیں۔

اس آیت کریمہ کے اولین مصداق حضرت ابو بکر صدیق اور ان کے رفقاء رضی اللہ عنہم تھے جنہوں نے مسیلمہ کذاب اور دیگر مرتدین کا مقابلہ کیا اور اس دور میں اس آیت کریمہ کا مصداق وہ حضرات ہیں جو مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی مرتد اور اس کی ذریت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پس آپ کا اس ناکارہ کو مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفین میں شمار کرنا، گویا اس امر کی شہادت ہے کہ یہ ناکارہ اس دور میں آیت کریمہ کا مصداق ہے، ظاہر ہے کہ یہ اس ناکارہ کے بارے میں حق تعالیٰ شانہ کے فضل عظیم کی شہادت و بشارت ہے، جس پر آپ کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔

صفحہ 212

یہ ناکارہ آنحضرت خاتم النبیین و سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ادنیٰ ترین اور نالائق ترین امتی ہے اور اپنی رو سیاہی و نالائقی میں پوری امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام) میں شاید سب سے بڑھ کر ہے۔ ہمارے حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کے بقول :

کس نیست دریں امت تو آنکہ چوں احقر
با روئے سیاہ آمد و موئے زریری

ایسے نالائق و ناکارہ امتی کے لئے اس سے بڑھ کر کیا اعزاز ہو سکتا ہے کہ اسے یحبہم ویحبونہ کا مصداق بنا دیا جائے، آپ کی تحریر سے اس ناکارہ کو توقع ہو گئی ہے کہ انشاء اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس ناکارہ و نالائق امتی کی شفاعت فرمائیں گے۔ جو قیامت کے دن "با روئے سیاہ و موئے زریری" حاضر ہو گا۔

جب کبھی شوریدگان عشق کا ہوتا ہے ذکر
اے زہے قسمت کہ ان کو یاد آجاتا ہوں میں

بہر حال آپ نے مرزا قادیانی کے مخالفوں میں اس فقیر کا نام شامل کر کے مجھے بڑا اعزاز بخشا ہے انشاء اللہ آپ کی یہ تحریر مجھے فردائے قیامت میں سند شفاعت کا کام دے گی، اس لئے آپ کے منہ میں گھی شکر !!

تھا کہ آئندہ وہ علماء کو مخاطب نہیں کرے گا۔ مرزا کے الفاظ یہ ہیں : اليوم قضينا ما كان علينا من التبليغات...... وازمعنا ان لانخاطب العلماء بعد هذه التوضيحات ...... وهذا منا خاتمة المخاطبات

(ص ۲۸۲)

ترجمہ...... ہمارے ذمہ جو تبلیغ فرض تھی آج ہم نے اس کا حق ادا کر دیا۔ اور اب ہمارا قصد یہ ہے کہ ان توضیحات کے بعد ہم علماء کو مخاطب نہیں کریں گے اور یہ ہماری طرف سے مخاطبات کا خاتمہ ہے۔

جب مرزا قادیانی ۱۸۹۷ء میں وعدہ کر چکا تھا کہ آئندہ ہم علماء کو خطاب نہیں کریں گے تو کیا نوے سال کے بعد یہ وعدہ ........... جو آپ کے عقیدے میں

صفحہ 213

”وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحٰی“ کا مصداق تھا۔ منسوخ ہو گیا یا آپ کے نزدیک مرزا کے وعدے وعید اور قول و فعل ایسے نہیں جن کی طرف التفات کرنا مرزا کی ذریت کے لئے ضروری ہو۔؟

درمیان حق و باطل اور صدق و کذب کے جانچنے کا آخری معیار ہے۔ کیا آپ کے نزدیک ایک صدی کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کا صدق و کذب اب تک مشتبہ ہے کہ آپ اس کے لئے مباہلہ کرنے چلے ہیں ۔؟ آپ کو یا آپ کی جماعت کو اب تک اس معاملہ میں اشتباہ ہو تو ہو لیکن الحمد للہ امت اسلامیہ کو اور امت کے اس نالائق ترین فرد کو مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے میں ادنیٰ سے ادنیٰ شبہ نہیں، امت اسلامیہ کا قطعی و اجماعی عقیدہ و ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا بلاشک و شبہ جھوٹا، مرتد اور زندیق ہے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد : ”ثلاثون کذابون کلھم یزعم انہ رسول اللہ“ کی صف میں شامل ہے ......... حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے مرزا غلام احمد قادیانی مسیلمہ پنجاب کے جھوٹا ہونے پر ایسے بے شمار قطعی دلائل و شواہد جمع کر دیئے ہیں جن سے مرزا کا کذب آفتاب نصف النہار کی طرح عیاں ہو چکا ہے۔ ان دلائل کی روشنی میں مرزا کا کذاب ہونا کسی ایسے شخص پر مخفی نہیں رہ سکتا جس کے دل میں نورِ ایمان کی معمولی روشنی باقی ہو، اور جس کی دل کی آنکھیں یکسر بند نہ ہو گئی ہوں۔ ہاں! جو شخص ارشادِ خداوندی : وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا . ترجمہ ...... اور جو شخص دنیا میں اندھا رہے گا، سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور زیادہ راہ گم کردہ ہو گا کا مصداق ہو اس کے لئے سیاہ و سفید اور صدق و کذب کے درمیان امتیاز ممکن نہیں ۔ مرزا کے جھوٹ کے لئے یہی کافی ہے کہ اس نے اپنی نام نہاد وحی کے ذریعہ اعلان کیا تھا کہ محترمہ محمدی بیگم کا آسمان پر اس سے نکاح ہو چکا ہے اور وہ ۱۸۸۸ء سے لے کر ۱۹۰۷ء تک اس نکاح کی منادی کرتا رہا۔ اور اسی نکاح کو پکا ثابت کرنے کے لئے اس نے ضمیمہ انجام آتھم میں یہاں تک لکھ دیا :

صفحہ 214

”یاد رکھو کہ اگر اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی (یعنی محمدی بیگم بیوہ ہو کر مرزا کے نکاح میں نہ آئی) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افترا نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں، وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ روحانی خزائن ۳۳۸/۱۱)

ہمارا بھی ایمان ہے کہ خدا کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ اس کے سب وعدے سچے ہوتے ہیں۔ ان میں کبھی تخلف نہیں ہوسکتا اور اس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محمدی بیگم کا سایہ دیکھنا بھی مرزا کو نصیب نہ ہوا، جس سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ یہ خبیث مفتری مرزا غلام احمد قادیانی کا افترا تھا اور وہ اپنے اقرار کے بموجب ہر بد سے بدتر ہے۔ یہودی، نصرانی، ہندو سکھ اور چوہڑے چمار بھی غیر مسلم ہیں، برے ہیں، مگر مرزا بقرار خود ان سے بھی بدتر ہے۔ کیا اس خدائی فیصلے اور مرزا کی اپنی تحریر کے بعد بھی مرزا کے جھوٹا، مفتری اور ہر بد سے بدتر ہونے میں کوئی شک رہ جاتا ہے؟ یہ میں نے صرف ایک مثال ذکر کی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے مرزا کو جھوٹا اور روسیاہ کرنے کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں دلائل جمع کر دیئے۔

جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے مرزا کا مسیح کذاب ہونا کھلے طور پر واضح فرما دیا، مثلاً :

جب مرزا اپنے مضبوط حریف سے عہدہ برآ نہ ہوسکا تو جناب الٰہی سے فیصلے کا طالب ہوا، بقول اس کے خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں فریقوں میں سے جو جھوٹ پر ہے وہ آج کی تاریخ (۵ جون ۱۸۹۳ء) سے پندرہ مہینے کے اندر ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ اس مباہلہ کی پیش گوئی کا اعلان کرتے ہوئے مرزا نے لکھا :

صفحہ 215

"میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔"

(جنگ مقدس آخری صفحہ)

میعاد گزرتی گئی اور قادیانی امت کو یقین تھا کہ ان کے مسیح کذاب کی پیش گوئی کے مطابق آتھم پندرہ مہینے کے اندر ضرور مر جائے گا۔ کیونکہ مرزا نے یہ بھی لکھا تھا :

"اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں گے پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔" (ایضاً)

"اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو، اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔" (ایضاً)

لیکن جب میعاد میں صرف ایک رات باقی رہ گئی تو قادیان میں پوری رات شور قیامت برپا رہا۔ اور سب مرد و زن، چھوٹے بڑے اللہ تعالیٰ کے سامنے ناک رگڑتے ہوئے یہ بین کر رہے تھے کہ یا اللہ آتھم مرجائے۔ یااللہ آتھم مرجائے (الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۳۰) اور سب کو یقین تھا کہ آج سورج طلوع نہیں ہو گا کہ آتھم مرجائے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے آتھم کو مارنے کے لئے ٹونے ٹوٹکے بھی کئے اور چنے پڑھوا کر اندھے کنویں میں ڈلوائے (سیرت المہدی صفحہ ۱۷۸، ج ۲) لیکن ان تمام تدبیروں، دعاؤں اور شور و غوغا کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آتھم کو مرنے نہیں دیا .......... اللہ تعالیٰ نے اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ :

تھا۔

تھا۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں مرزا قادیانی اس سزا کا مستحق تھا جو اس نے خود اپنے قلم سے تجویز

صفحہ 216

کی تھی یعنی:

کیا اس خدائی فیصلے کے بعد بھی مرزا کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کسی مباہلے کی ضرورت رہ جاتی ہے۔ ؟

ب: ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو امرتسر کی عید گاہ کے میدان میں مرزا قادیانی نے حضرت مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم و مغفور سے روبرو مباہلہ کیا۔ اس کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ مرزا قادیانی حضرت مولانا موصوف کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا۔ اور مولانا موصوف مرزا کے مرنے کے بعد بھی سلامت با کرامت رہے۔ کیا اس کے بعد بھی مرزا کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کسی آسمانی شہادت کی ضرورت ہے؟

ج: ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو مرزا قادیانی نے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ فاتح قادیان کے خلاف مباہلہ کا اشتہار شائع کیا جس کا عنوان تھا:

”مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ“

اس میں مرزا نے اللہ تعالیٰ سے نہایت تضرع وابتہال کے ساتھ گڑگڑا کر مکرر سہ کرر یہ دعا و التجا کی تھی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جائے۔ ”مگر نہ انسانی ہاتھوں سے، بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔“ اور اس اشتہار میں مولانا مرحوم کو مخاطب کر کے مرزا نے لکھا :

”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی۔ اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے، اور اس کا

صفحہ 217

ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ وہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔

اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں۔ اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں۔ اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔

پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں، بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ، مہلک بیماریاں، آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔

یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں۔ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔“

اور اس اشتہار کے آخر میں مرزا قادیانی نے لکھا:

”بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں، اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ۵۷۹ ج ۳)

مرزا قادیانی نے نہایت آہ و زاری کے ساتھ گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے جو فیصلہ طلب کیا تھا اس کا نتیجہ سب کے سامنے آگیا کہ مرزا ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو رات دس بجے تک چنگا بھلا تھا۔ شام کا کھانا کھایا اور رات دس بجے کے بعد اچانک خدائی عذاب یعنی وبائی ہیضہ میں مبتلا ہوا، اور دونوں راستوں سے غلیظ مواد خارج ہونا شروع ہوا، چند ہی گھنٹوں میں زبان بند ہو گئی اور بارہ گھنٹوں کے اندر ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو ہلاک ہو گیا۔ جب کہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم و مغفور، مرزا کی ہلاکت کے بعد اکتالیس سال تک ماشاء اللہ زندہ و سلامت رہے۔ اور قیام پاکستان کے بعد ۱۹۴۹ء میں سرگودھا میں واصل بحق ہوئے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔

اس خدائی فیصلے اور مرزا کی منہ مانگی موت نے ثابت کر دیا کہ وہ مفتری اور کذاب

صفحہ 218

تھا۔ مسیح موعود نہیں تھا اور یہ کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں، بلکہ شیطان کی طرف سے تھا۔

مرزا طاہر صاحب! کیا اس خدائی فیصلہ کے بعد بھی کسی مباہلہ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟

نہیں رہا کہ نصف صدی تک آپ کے ابا مرزا محمود کو مباہلہ کے مسلسل چیلنج دیئے جاتے رہے اور مرزا محمود نے ان میں سے کسی ایک کا سامنا کرنے کی جرات نہیں کی۔ اس کی بھی چند مثالیں سن لیجئے :

کا چیلنج دیا، اور اس کے لئے ”مباہلہ“ نامی اخبار جاری کیا۔ مرزا محمود نے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے بجائے مولانا عبد الکریم کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ ان کا مکان جلا دیا گیا۔ ان پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا اور بالآخر ان کو قادیان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

اگر مرزا محمود میں حق و صداقت کی کوئی رمق تھی تو اس نے مولانا عبد الکریم مباہلہ کا چیلنج کیوں قبول نہیں کیا ...... مولانا عبد الکریم مرحوم کی بہن سکینہ جو مرزا محمود کے گھناؤنے کا تختہ مشق بنی۔ شاید آج زندہ ہے۔

حاضری میں وہ قادیان میں ”قائم مقام خلیفہ“ تک بنایا گیا۔ غالباً ۱۹۳۶ء میں مرزا محمود نے اس کی اولاد کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ عبد الرحمن مصری نے مرزا محمود سے اس معاملہ کی تحقیقات کے لئے جماعت کے چند سرکردہ افراد پر مشتمل کمیشن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے سامنے وہ اپنے الزامات ثابت کر سکے۔ مرزا محمود نے اس مطالبہ کو تسلیم کرنے کے بجائے عبد الرحمن مصری اور اس کے ساتھی فخر الدین ملتانی کو ظلم و جور کا نشانہ بنایا، ملتانی کو قتل کر دیا گیا اور مصری پر نقص امن کے تحت مقدمات دائر کر دیئے گئے۔

عبد الرحمن مصری نے عدالت عالیہ لاہور میں بیان دیتے ہوئے کہا :

”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض

صفحہ 219

عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں۔ اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔"

عبدالرحمن مصری نے مرزا محمود کے نام ایک خط میں یہ بھی لکھا تھا : "میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ مجھے مختلف ذرائع سے یہ علم ہوچکا ہے کہ آپ "جنبی" ہونے کی حالت میں ہی بعض دفعہ نماز پڑھانے آجاتے ہیں۔"

(کمالات محمودیہ ص ۱)

ان تمام غلیظ الزامات کے باوجود مرزا محمود کو عبدالرحمن مصری کا سامنا کرنے کی جرات نہ ہوئی اور اسے مصری کی دعوت کو قبول کرنا موت سے بدتر نظر آیا....... کیا اس سے کھلے طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس کا انگ انگ اور بند بند نجس تھا۔ اور کیا اس کے بعد بھی کسی عقلمند کو اس کے جھوٹا اور نجس ہونے میں کوئی شبہ رہ سکتا ہے ؟

ج : پھر آپ ہی کی جماعت کے ایک منحرف گروہ نے "حقیقت پسند پارٹی" تشکیل دی جس نے مرزا محمود پر سنگین اخلاقی الزامات عائد کئے۔ انہوں نے "تاریخ محمودیت" نامی کتاب لکھی جس میں مرزا محمود کی بدکاریوں پر ۲۸ قادیانی مردوں اور عورتوں کی مؤکد بعذاب حلفیہ شہادتیں قلم بند کی گئیں۔ اور ان حلفیہ شہادتوں میں یہاں تک لکھا گیا کہ مرزا اپنی بیٹیوں کی بھی عصمت دری کرتا ہے، اور یہ کہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بیوی سے بدکاری کراتا ہے "تاریخ محمودیت" میں مرزا محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا گیا۔ اور ان مؤکد بعذاب حلفیہ شہادتوں کے مقابلہ میں اس سے مؤکد بعذاب حلف اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔

پھر یہی مضمون راحت ملک کی کتاب "ربوہ کا مذہبی آمر" میں، شفیق مرزا کی کتاب "شہر سدوم" میں اور مرزا محمد حسین بی کام کی کتاب "منکرین ختم نبوت کا انجام" میں دہرایا گیا۔ اور مرزا محمود سے حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ ان واقعات کی تردید کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن مرزا محمود نے ان میں سے کسی چیلنج کا جواب نہ دیا اور اس پر سکوت مرگ طاری رہا۔ البتہ اپنے بھولے بھالے خوش عقیدہ مریدوں کو ان

صفحہ 220

کتابوں کے نہ پڑھنے کا ”سرکاری فرمان“ جاری کر دیا۔ کیا اہل عقل اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کریں گے، کہ مرزا محمود کے اخلاقی خدو خال وہی تھے جو ان کتابوں میں حلفیہ شہادتوں کے ذریعہ بار بار دہرائے گئے ہیں۔ مرزا طاہر صاحب! کیا اسی ”خاندانی تقدس“ کے بل بوتے پر آپ علمائے امت کو مباہلہ کی دعوت دینے چلے ہیں؟

بادۂ عصیاں سے دامن تر بہ تر ہے شیخ کا
اس پہ دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے ہے

مرزا طاہر صاحب! اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ کے باپ پر ”حقیقت پسند پارٹی“ کے الزامات غلط ہیں، تو آپ نے ان کے مطالبہ ”حلف مؤکد بعذاب“ اٹھا کر ان الزامات کی تردید کرنے اور مباہلہ کرنے کی جرات آج تک کیوں نہیں کی؟

۵ : آپ کی جماعت میں کسی اور کو معلوم ہو یا نہ ہو لیکن آپ کو تو یقیناً معلوم ہو گا کہ آپ کے ابا کی موت کن عبرت ناک حالات میں ہوئی، اور وہ اپنی زندگی کے آخری گیارہ سالوں میں ایک طویل عرصہ تک کس طرح مرقع عبرت بنا رہا۔ خصوصاً اس کے آخری دور ایام میں اس کی کیفیت کیا تھی؟ اور اس کی موت کیسی عبرتناک ہوئی ؟

اور پھر یاد ہو گا کہ آپ کے بڑے بھائی مرزا ناصر کی ناگہانی موت کس طرح واقع ہوئی۔ آپ کے اسلام آباد کے ”قصر خلافت“ کے سامنے ہونے والے جلسہ میں شیر ختم نبوت رفیق محترم مولانا اللہ وسایا زید مجدہ نے آپ کی ہمشیرہ صاحبہ کا جو خط پڑھ کر سنایا تھا۔ اس کا کیا مضمون تھا جس کو سن کر مرزا ناصر صدمہ کی تاب نہ لا سکا اور یکایک اس کی حرکت قلب بند ہو گئی؟

مرزا طاہر صاحب! کیا آپ اپنے بھائی، اپنے باپ اور اپنے دادا کی عبرت ناک موتوں کو بچشم خود دیکھنے اور سننے کے بعد بھی آپ کے لئے کسی مزید سامان عبرت کی ضرورت ہے کہ آپ علمائے امت سے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟ کیا آپ یہ دعا کرنے کی جرات کریں گے، کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے باپ اور دادا کی سی موت نصیب کرے؟

۶....... رفیق محترم جناب مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی مدظلہ العالی آپ کے ابا مرزا محمود کو اس کی زندگی میں ہر سال مباہلہ کی دعوت دیتے رہے۔ اس کی عبرت ناک موت کے بعد آپ کے بھائی مرزا ناصر کو ہر سال مباہلہ کا چیلنج دیتے رہے۔ اور اس

صفحہ 221

کی ناگہانی موت کے بعد خود آپ کو بھی التزام کے ساتھ ہر سال مباہلہ کی کھلی دعوت دیتے رہے۔ انہوں نے متعدد بار ویمبلے ہال لندن (Wembley Hall London) میں بھی آپ کو دعوت دی۔ لیکن آپ کے باپ کو، آپ کے بھائی کو اور خود آپ کو آج تک اس چیلنج کا سامنا کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ کیا اس کا صاف صاف مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اپنے اور اپنے باپ دادا کے جھوٹا ہونے کا حق الیقین ہے۔

مرزا طاہر صاحب! علمائے امت کو مباہلہ کا چیلنج دینے سے پہلے کیا آپ کا فرض نہیں تھا کہ آپ یہ تمام قرضے ادا کر دیتے جو آپ کے اور آپ کے باپ دادا کے ذمہ واجب الادا ہیں؟

۷...... آپ نے اس فقیر کو مباہلہ کی دعوت دی ہے۔ یہ فقیر اس کے لئے بسر و چشم حاضر ہے۔ لیکن مباہلہ کا وہ طریقہ نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے اور جس کی آپ نے علمائے امت کو دعوت دی ہے کہ وہ بھی آپ کی طرح گھر بیٹھے آپ پر لعنتیں بھیجتے رہیں اور اخباروں اور رسالوں میں لعنت کی پتنگ بازی کرتے پھریں۔ گھر بیٹھ کر چرخہ چلانا عورتوں کا مشغلہ ہے اور کاغذی پتنگ بازی بچوں کا کھیل ہے۔

مباہلہ کا طریقہ وہ ہے جو قرآن کریم نے آیت مباہلہ میں بیان فرمایا ہے کہ دونوں فریق اپنی عورتوں، بچوں اور اپنے متعلقین کو لے کر میدان میں نکلیں چنانچہ اس آیت کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نصاریٰ نجران کے مقابلے میں نکلے اور ان کو نکلنے کی دعوت دی۔ اور خود آپ کا دادا مرزا غلام احمد قادیانی، حضرت مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم و مغفور کے مقابلہ میں عید گاہ امرتسر کے میدان میں نکلا۔

فقیر کے مقابلے میں مرد میدان بن کر آئیے!!

اگر آپ اس فقیر کو مباہلہ کی دعوت دینے میں سنجیدہ ہیں تو بسم اللہ! آئیے مرد میدان بن کر میدان مباہلہ میں قدم رکھئے۔ تاریخ، وقت اور جگہ کا اعلان کر دیجئے کہ فلاں وقت فلاں جگہ مباہلہ ہو گا۔ پھر اپنے بیوی بچوں اور متعلقین کو ساتھ لے کر مقررہ وقت پر میدان مباہلہ میں آئیے۔ یہ فقیر بھی انشاء اللہ اپنے بیوی بچوں اور متعلقین کو ساتھ لے کر وقت مقررہ پر پہنچ جائے گا۔

صفحہ 222

اور بندہ کے خیال میں مباہلہ کے لئے درج ذیل تاریخ، وقت اور جگہ سب سے زیادہ موزوں ہو گی۔

تاریخ: .............................. ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء دن: .............................. جمعرات وقت: .............................. دو بجے بعد از نماز ظہر جگہ: .............................. مینار پاکستان لاہور

میں نے اس کو بہترین تاریخ، وقت اور جگہ اس لئے کہا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ آپ کے دادا مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں اپنی دجالی بیعت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ گویا ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کی تاریخ آپ کے مسیح دجل کی صد سالہ تقریب ہے اور اس نے لدھیانہ میں سلسلہ بیعت کا آغاز کیا تھا میدان مباہلہ میں آپ کا مقابلہ بھی لدھیانوی سے ہو گا...... اس طرح باب لد پر مسیح دجل کو قتل کیا جائے گا۔

ظہر کے بعد کا وقت میں نے اس لئے تجویز کیا کہ حدیث نبویؐ کے مطابق اس وقت فتح و نصرت کی ہوائیں چلتی ہیں۔ اور جگہ کے لئے مینار پاکستان کا تعین اس لئے کیا ہے کہ پاکستان میں اس سے بہتر اور کشادہ جگہ اجتماع کے لئے شاید کوئی اور نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں ۲۳ مارچ کی تاریخ یوم پاکستان بھی ہے۔ یوم پاکستان کو مینار پاکستان پر اجتماع نہایت مناسب ہے۔ تاہم مجھے اس تاریخ وقت اور جگہ پر اصرار نہیں۔ بلکہ تاریخ، وقت اور جگہ کی تعین کو آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔ آپ جو تاریخ، وقت اور پاکستان میں مقام مباہلہ مناسب سمجھیں، تجویز کر کے مجھے اطلاع دیں۔

یہ فقیر امت محمدیہؐ کا ادنیٰ ترین خادم ہے اور آپ چشم بد دور ”امام جماعت احمدیہ“ ہیں۔ اس فقیر کو اپنے ضعف و قصور کا اعتراف ہے اور آپ کو اپنی امامت و زعامت اور تقدس پر ناز ہے۔ لیکن الحمد للہ ثم الحمد للہ ۔ یہ فقیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا ادنیٰ غلام ہے۔ اور آپ جھوٹے مسیح کے جانشین ہیں۔ یہ فقیر سید دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رحمتہ للعالمینی سے وابستہ ہے۔ اور آپ دور حاضر کے مسیلمہ کذاب کے دم چھلا ہیں۔ یہ فقیر اپنی نالائقی کا اعتراف تقصیر لے کر میدان

صفحہ 223

مباہلہ میں قدم رکھے گا۔ آپ اپنی امامت و زعامت اور تقدس پر ناز کرتے ہوئے آیئے، میں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا علم اٹھائے ہوئے آؤں گا۔ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت و مسیحیت کا سیاہ جھنڈا لے کر آئیے۔

آئیے! اس فقیر کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں قدم رکھئے اور پھر میرے مولائے کریم کی غیرت و جلال اور قہری تجلی کا کھلی آنکھوں تماشا دیکھئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ نجران کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر وہ مباہلہ کے لئے نکل آتے تو ان کے درختوں پر ایک پرندہ بھی زندہ نہ بچتا ۔

آئیے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ امتی کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں نکل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعجاز ایک بار پھر دیکھ لیجئے۔

اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے اس سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے، اپنے باپ دادا کی طرح ذلت کی موت مرنا پسند کریں گے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نالائق امتی کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں اترنے کی جرات نہیں کریں گے۔

ایک گزارش

آپ سے یا آپ کے باپ دادا سے کوئی ذاتی عناد نہیں، نہ کسی جائیداد کا جھگڑا ہے۔ نہ کسی ریاست کا تنازع ہے۔ واللہ العظیم ہم آپ کے خیر خواہ ہیں اور نہایت دردمندی و دل سوزی سے چاہتے ہیں کہ آپ دوزخ کی آگ سے بچ جائیں۔ مرزا قادیانی کے دجل و فریب اور مکاری و عیاری کی دھجیاں اس لئے بکھیرتے ہیں تاکہ امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے ایمان کو بچایا جاسکے اور آپ کی جماعت کے افراد کو دوزخ کی جلتی آگ سے نکالا جاسکے۔ خدا شاہد ہے کہ ہمارا یہ عمل محض رضائے الٰہی کے لئے اور آپ کی اور امت

صفحہ 224

محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کی خیر خواہی کے لئے ہے۔ ہماری یہ خیر خواہی آپ لوگوں کو مرنے کے بعد معلوم ہوگی۔ میں آج پھر آپ سے اور آپ کی جماعت کے ایک ایک فرد سے نہایت اخلاص و خیر خواہی اور دل سوزی و درد مندی کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ لوگ راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مسیح کے قرب قیامت میں آنے کی خبر دی ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا : ”خبردار ! کوئی تم کو گمراہ نہ کر دے ، کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گم راہ

کریں گے۔“ (متی ۲۴ : ۴ - ۵)

مرزا غلام احمد قادیانی بھی انہی لوگوں میں سے تھا جنہوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کر کے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ مرزا غلام احمد نے یا آپ لوگوں نے جو تاویلات ایجاد کر رکھی ہیں وہ محض نفس و شیطان کا دھوکہ ہے۔ یہ تاویلیں نہ قبر میں منکر نکیر کے آگے چلیں گی اور نہ فردائے قیامت میں داور محشر کے سامنے کام دیں گی۔

مرزا طاہر صاحب ! آپ کے لئے اپنی امامت و امارت اور خاندانی گدی کو چھوڑ کر حق کا اختیار کرنا بے شک مشکل کام ہے، لیکن اگر آپ محض رضائے الٰہی کے لئے حق کو اختیار کر لیں تو حق تعالیٰ شانہ آپ کو دنیا و آخرت میں اس کا ایسا بہترین بدلہ عطا فرمائیں گے کہ اس کے مقابلہ میں آپ کی موجودہ ریاست و امارت ہیچ در ہیچ ہے۔ اور اگر آپ نے ریاست کو حق پر ترجیح دی تو مرنے کے بعد ایسی ذلت اور ایسے عذاب کا سامنا کرنا ہو گا جس کے سامنے موجودہ عزت و وجاہت لغو و لا یعنی ہے۔ میں آپ کی جماعت کے تمام افراد سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے توبہ کر لیں، اور میں آپ کو، آپ کی جماعت کو اور ان تمام افراد کو ، جن کی نظر سے میری یہ تحریر گزرے، گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حق و صداقت کا پیغام آپ تک پہنچا دیا کسی شخص کے دل میں حق طلبی کا جذبہ ہو اور وہ اپنا اطمینان چاہتا ہو تو اس کو سمجھانے کے لئے تیار ہوں ۔

رسالوں میں شائع کر دوں ۔ جہاں تک میرے امکان میں ہے میں نے اشاعت کی کوشش

صفحہ 225

کی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو اپنے اخبارات ورسائل میں میرا جواب شائع کراسکتے ہیں۔

مہینے تک اس کے جواب کی مہلت دیتا ہوں اور جواب کے لئے آخری تاریخ یکم جنوری ۱۹۸۹ء مقرر کرتا ہوں۔

بھیجا ہوگا۔ اس لئے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ علمائے امت کے اس خادم کا جواب سب کی طرف سے تصور فرمائیں۔ ہر ایک کو فرداً فرداً زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

سبحانك اللهم وبحمدك وأشهدُ أن لا إله إلا أنت أستغفرك

محمد یوسف لدھیانوی ۱۸ . ۱ . ۱۴۰۹ھ ۱ . ۹ . ۱۹۸۸ء

PDF 226

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ

”بے شک اللہ راہ نہیں دیتا اسکو جو ہو حد سے نکلنے والا جھوٹا“

مرزا طاہر پر

آخری اتمامِ حُجّت

(نام نہاد مباہلے کا جواب الجواب)

مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 227
صفحہ 228

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد للہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

گزشتہ سال مرزا طاہر قادیانی نے اپنی جماعت کو مورفیا کا انجکشن دینے کے لئے مباہلہ کا ڈھونگ رچایا، اور ایک پمفلٹ شائع کیا، جس کا عنوان تھا :

” جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے دنیا بھر کے معاندین، مکفرین اور مکذبین کو مباہلہ کا کھلا کھلا چیلنج ۔ “

مرزا طاہر نے جہاں مشاہیر امت واکابر ملت کے نام اس چیلنج کی کاپیاں بھجوائیں وہاں (نامعلوم کس مصلحت سے) اس گمنام و ناچیز کے نام بھی اس کی کاپی ارسال فرمائی۔ اس ناکارہ نے محرم الحرام ۱۴۰۹ھ کو اس کا جواب مرزا طاہر کے نام بھجوایا۔ جو پاک و ہند کے متعدد رسائل و جرائد میں ”مرزا طاہر کے جواب میں“ کے عنوان سے شائع ہوا، اور الگ کتابچہ کی شکل میں بھی بڑی تعداد میں شائع ہو چکا ہے اور کینیڈا، امریکہ وغیرہ میں ہزاروں کی تعداد میں اس کی فوٹو اسٹیٹ کاپیاں تقسیم ہوئیں۔ اس کے متعدد انگریزی تراجم بھی بیرونی ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوئے۔ اس ناکارہ کے جواب مباہلہ سے مرزا قادیانی کی ذریت کذابہ انشاء اللہ قیامت تک عہدہ برآ نہیں ہو سکے گی۔ لیکن اس ناکارہ نے چونکہ مرزا طاہر کو پابند کر دیا تھا کہ مجھے اس کا جواب چار مہینے کے اندر یکم جنوری ۱۹۸۹ء تک ملنا چاہئے۔ اس لئے مرزا طاہر پر ”نہ جائے رفتن، نہ پائے ماندن“ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ بالآخر جواب کی مقررہ میعاد گزرنے کے بعد مرزا طاہر نے اپنے سیکریٹری کے ذریعہ الٹا سیدھا جواب بھجوایا۔ ذیل میں پہلے مرزا طاہر کے سیکریٹری کا جوابی خط نقل کیا جاتا ہے۔ پھر اس قادیانی خط پر اس ناکارہ کا تبصرہ پیش خدمت ہے۔ اس سے قارئین کرام کو اندازہ ہو گا کہ مرزا طاہر نے مباہلہ کا چیلنج دے کر سنگین غلطیاں کی ہیں۔

صفحہ 229

اول: نام نہاد مباہلہ کا ڈھونگ رچا کر قادیانیت کی مردہ لاش کو ایک بار پھر پوسٹ مارٹم کے لئے پیش کر دیا۔

دوم : جب مرزا طاہر کی دعوت پر اسے میدان مباہلہ میں آنے کے لئے للکارا گیا تو مرزا طاہر نے دم دبا کر بھاگ جانے میں عافیت سمجھی، اور قادیانی فطرت کے مطابق تاویلات کا دفتر کھول دیا۔

سوم : اس ناکارہ نے جواب کے لئے چار مہینے کی مہلت دی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس طویل مدت تک مرزا طاہر اور اس کی ذریت پر سکوت مرگ طاری کئے رکھا۔ میعاد گزرنے کے بعد قادیانی سیکریٹری نے جو خط لکھا (جس کا عکس ابھی آپ ملاحظہ فرمائیں گے) وہ پانچ منٹ کا کام تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کو قادیانیت کی ذلت و رسوائی منظور تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ پانچ منٹ کا کام چار مہینے میں بھی نہیں ہونے دیا۔

چہارم : میں نے مرزا طاہر کے باپ اور دادا کے بارے میں جن واقعات کا ذکر کیا تھا اور جن سے مرزا قادیانی کا دجال اور کذاب اور مرتد مردود و ملعون ہونا اظہر من الشمس ثابت ہوتا ہے۔ مرزا طاہر اور اس کی پوری جماعت ان کے جواب سے عاجز رہی۔

پنجم : مرزا طاہر نے مباہلہ کے قرآنی مفہوم میں تحریف کرنے کی جو کوشش کی تھی، وہ بھی ناکام ہوئی، اور میدان مباہلہ سے فرار کر کے مرزا طاہر اپنے دادا کے بقول ”لعنت کے نیچے مرا“

اس ناکارہ کا خیال ہے کہ انشاء اللہ مرزا طاہر میرے نئے چیلنج کو قبول کرنے کی بھی جرأت نہیں کرے گا بلکہ اسے میرے چیلنج کا جھوٹا سچا جواب دینے کی بھی توفیق نہیں ہوگی۔

اب آپ پہلے قادیانی خط کا عکس ملاحظہ فرمائیں اور پھر اس پر ہمارا تبصرہ۔

صفحہ 230

بسم الله الرحمن الرحيم لا إله إلا الله محمد رسول الله

PRESS AND PUBLICATION DESK (CENTRAL)

Ahmadiyya Muslim Association

16-18 Gressenhall Road. London SW18 5QL Tel: 01-870 8517 ext 147. 01 870 0919. Fax: 01-870 1095

مورخہ ٢٣-٢-٨٩

جناب مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی !

امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد کی دعوت مباہلہ کے جواب میں آپ کا طومار نما شائع شدہ پمفلٹ موصول ہوا جس میں آپ نے حقائق کو مسخ کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے ۔ اور ایک دفعہ پھر انتہائی لچر اور غلیظ الزامات کو دہرا کر اپنی ہی اندرونی حالت دنیا کو دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ خدا تعالیٰ کے مقدس ماموروں پر جس طرح آپ نے بے ہودہ الزامات لگانے کی کوشش کی ہے قران کریم کے الفاظ میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنے کے علاوہ اور کیا جواب ہو سکتا ہے ۔

حیرت ہے کہ ایک طرف تو آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کا کردار اتنا گھناؤنا ہے کہ جس سے اسلام کا دور کا واسطہ بھی نہیں ۔

آپ لکھتے ہیں ” مرزا کا کذب وافترا شمس نصف النہار کی طرح عیاں ہو چکا ہے “ مگر یہ عجیب ہے کہ خدا تعالیٰ سلسلہ جماعت احمدیہ کو جس کی بنیاد حضرت مرزا صاحب نے ١٨٨٩ میں رکھی روز بروز ترقی دیتا چلا جا رہا ہے اور سعید روحیں جوق در جوق اس مقدس سلسلہ میں داخل ہو رہی ہیں مگر آپ جیسے افراد ابھی تک اندھیروں میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

آپ نے اپنے پمفلٹ میں تمام احمدیوں پر کیچڑ اچھالا ہے جو شرعاً ایک جرم ہے مگر آپ دیدہ دلیری سے کام لے رہے ہیں اور اسی وجہ سے امام جماعت احمدیہ کو بالاخر مباہلہ کا چیلنج دینا پڑا ۔ اگر آپ میں ذرہ بھر بھی شرافت ہوتی تو امام جماعت احمدیہ کے مباہلہ کے چیلنج کو سیدھے طرح قبول کرتے تاکہ دنیا جان لیتی کہ آپ سچے ہیں اور راہ فرار اختیار کرنے کی نہ سوچتے ۔ مباہلہ لعن طعن یا مناظرے کا نام نہیں بلکہ بحث مباحثے کی حد سے گزر کر دعا کے ذریعہ معاملہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں لے جانے کا نام ہے ۔ مباہلہ دعا کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے فیصلہ طلب کرنے کا نام ہے اور آیت مباہلہ کی رو سے کسی مخصوص مقام پر فریقین کا اجتماع ضروری نہیں ۔ اس لئے آپ کا یہ کہنا کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت مینار پاکستان یا کسی اور جگہ آؤ صریحاً مباہلہ سے فرار کے علاوہ کچھ معنی نہیں رکھتا ۔ ہمارا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ کائنات میں ہر جگہ موجود ہے اور اس کی قبضہ قدرت سے کوئی جگہ باہر نہیں اور کوئی مقام اس کے تسلط اور جبروت سے خالی نہیں ۔ اس کی کرسی زمین و آسمان پر محیط ہے ۔ اس کو جس طرح

صفحہ 231

لکھ کر لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنے میں آخر آپ کو ہچکچاہٹ کیوں ہے اور کیوں فریقین کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اسلئے اگر آپ میں صداقت اور ایمانی جرات ہے تو آئیے مرد میدان بنیئے اور ان الزامات کو جن کا ذکر مباہلہ پمفلٹ شائع کردہ ۸ جون 1988ء میں کیا گیا ہے حلفاً یہ کہہ کر کہ آپ درست سمجھتے ہیں لکھ کر لعنۃ اللہ علی الکاذبین لکھ دیں اور نیچے دستخط کر دیں۔ پھر دیکھیں خدا تعالیٰ کس طرح سچے اور جھوٹے فریق میں تمیز کر دکھاتا ہے ۔ لیکن ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ تقویٰ اختیار کریں اور استغفار سے کام لیں اور خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ امام کی طرف بے باکی چھوڑ دیں تاکہ آپ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچیں۔ اب تک خدا تعالیٰ نے جو تائیدی نشان ظاہر فرمائے ہیں ان سے عبرت حاصل کریں۔

خاکسار رحمۃ اللہ چوہدری پریس سیکرٹری جماعت احمدیہ

صفحہ 232

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد للہ وسلامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ

جناب مرزا طاہر احمد صاحب! سلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ آپ نے ”مباہلہ کے چیلنج“ کی ایک کاپی اس ناکارہ کے نام بھی بھجوائی تھی۔ میں نے اپنے خط محررہ ۱۸ محرم الحرام ۱۴۰۹ھ میں آپ کی دعوت قبول کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بسم اللہ! تاریخ اور جگہ کا اعلان کر کے مقررہ وقت پر تشریف لائیے یہ فقیر بھی حاضر ہو جائے گا۔ اور ساتھ ہی اپنی طرف سے تاریخ اور جگہ کی تجویز لکھ بھیجی تھی۔ جواب کے لئے آپ کو چار مہینے کی مہلت دی تھی۔ جس کی آخری تاریخ یکم جنوری ۸۹ء تھی۔ آپ کا جواب جس پر آپ کے سیکریٹری کے دستخط ہیں، مجھے ۳ جنوری کو ملا۔ رسید بھیجنے کا شکریہ! آپ کے اس خط کے چند نکات پر تبصرہ کی اجازت چاہتا ہوں۔

”امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد کی دعوت مباہلہ کے جواب میں آپ کی طرف سے شائع شدہ پمفلٹ موصول ہوا۔ جس میں آپ نے حقائق کو مسخ کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور ایک دفعہ پھر انتہائی لچر اور غلیظ الزامات کو دہرا کر اپنی اندرونی حالت دنیا کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔ خدا تعالیٰ کے مقدس انسانوں پر جس طرح آپ نے بے ہودہ الزامات لگانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنے کے علاوہ اور کیا جواب ہو سکتا ہے۔“

سب سے پہلے تو آپ کی راست گوئی کی داد دیتا ہوں۔ میں نے اپنے لیٹر پیڈ پر اپنی مہر اور دستخط کے ساتھ آپ کو رجسٹری خط بھجوایا تھا۔ آپ میرے لیٹر پیڈ پر ارسال کردہ خط کو ”شائع شدہ پمفلٹ“ فرماتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ ”چور چوری سے جاتا ہے مگر ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔“ جو لوگ ایک خط کے حوالے میں ایسی ہیرا پھیری سے

صفحہ 233

نہیں چوکتے، اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث میں کیا کیا تحریف نہ کرتے ہوں گے؟

آپ فرماتے ہیں کہ میں نے الزامات کو دہرا کر ۔ بقول آپ کے ۔ اپنی اندرونی حالت دنیا کو دکھانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ میرا خط چھپ چکا ہے، دنیا کے سامنے موجود ہے۔ اسے پڑھ کر ہر شخص فیصلہ کر سکتا ہے کہ میں نے تاریخ کے کھلے واقعات پیش کئے ہیں، یا بقول آپ کے الزامات دہرائے ہیں۔ میں نے دس واقعات لکھے تھے۔ پانچ مرزا غلام احمد قادیانی کے، اور پانچ مرزا محمود کے۔ آپ کو ان واقعات کے آئینہ میں اپنا اصل چہرہ نظر آیا، اس لئے :

ع "آئینہ جو دکھایا تو برا مان گئے"

میں ان واقعات کو پیش کر کے آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے کس واقعہ کو آپ غلط الزام قرار دیتے ہیں؟

آئندہ مباحثہ کے لئے علماء کو مخاطب نہیں کریں گے۔ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ نے مرزا قادیانی کے اس عہد کو کیوں توڑ ڈالا؟ اور علماء کو مخاطب کرنے کی جرات کیوں کی؟ آپ نے میرے اس چبھتے ہوئے سوال کا جواب نہیں دیا، اور نہ انشاء اللہ قیامت تک اس کا کوئی معقول جواب دے سکتے ہیں۔ شرم اتارنے کے لئے صرف اتنا کہہ دیا کہ یہ الزام دہراتا ہے۔

"یاد رکھو اگر اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔"

اس پیش گوئی کی دوسری جز کیا تھی؟ محمدی بیگم کا بیوہ ہو کر مرزا کے نکاح میں آنا! کیا یہ دوسری جز پوری ہو گئی تھی؟ نہیں! تو پھر مرزا کے اپنے اقرار کے مطابق "ہر بد سے بدتر" ہونے میں کیا شبہ رہا؟ میں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ اسی "بدترین شخص" کے لئے مباحثہ کرنے چلے ہیں؟ فرمائیے! یہ الزام ہے؟ یا ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب سے آپ کی پوری جماعت عاجز ہے؟

صفحہ 234

پندرہ مہینے کے اندر نہ مرے تو

”میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے۰۰۰۰۰! اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو، اور تمام شیطانوں اور بد کاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔“

مرزا اور مرزائی میعاد کے آخری لمحات تک آتھم کے مرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ٹونے ٹوٹکے بھی کئے، چنے پڑھوا کر اندھے کنویں میں ڈلوائے، دعائیں التجائیں بھی کیں، میعاد کی آخری رات قادیان میں ”یا اللہ ! آتھم مرجائے، یا اللہ! آتھم مرجائے“ کا شور قیامت برپا رہا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آتھم کو مرنے نہیں دیا۔ جس کے نتیجہ میں مرزا خود اپنے فتوے کی رو سے ”تمام شیطانوں، بد کاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی“ ثابت ہوا۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ اسی ذات شریف کے لئے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟ فرمائیے! میری اس تحریر میں ایک حرف بھی ایسا ہے جس کو غلط الزام کہہ سکیں؟

کا حوالہ دیا تھا۔ جو ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ عید گاہ امرتسر میں ہوا، مولانا مرحوم کا مباہلہ اس امر پر تھا کہ مرزا اور مرزائی سب دجال و کذاب، کافر و ملحد اور بے ایمان ہیں۔

(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی جلد اول ص ۴۲۵)

مرزا نے اپنی وفات سے سات مہینے چوبیس دن پہلے کہا تھا :

”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے۔“

(ملفوظات مرزا قادیانی جلد ۹ ص ۴۴۰)

چنانچہ اس اصول کے مطابق مباہلہ کے بعد مرزا، مولانا مرحوم کی زندگی میں (۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) کو ہلاک ہو گیا۔ اور مولانا مرحوم، مرزا کے بعد ۹ سال تک بقید حیات رہے۔ ان کا انتقال ۱۶ مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا۔

- (رئیس قادیان جلد ۲، ص ۱۹۲، تاریخ مرزا ص ۳۸)

صفحہ 235

آپ نے اپنے خط میں خود لکھا ہے کہ :

"مباہلہ دعا کے ذریعہ معاملہ، خدا تعالیٰ کی عدالت میں لے جانے کا نام ہے۔"

"مباہلہ دعا کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے فیصلہ طلبی کا نام ہے۔"

یہ تو ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی عدالت آخری عدالت ہے۔ اور اس کا فیصلہ بھی دو ٹوک اور قطعی ہوتا ہے۔ کہ اس میں غلطی کا ادنیٰ احتمال بھی نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ کی عدالت کو نہ ماننا بھی کفر اس کی عدالت کے فیصلے سے انحراف کرنا بھی کفر۔ اور اس کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کرنا بھی کفر۔

میں نے لکھا تھا کہ جب مباہلہ ہو چکا ہے اور خدائی عدالت نے اس کا فیصلہ بھی صادر کر دیا ہے کہ مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کے مقابلے میں مرزا جھوٹا تھا، دجال و کذاب تھا، کافر و مرتد تھا، بے ایمان اور ملحد تھا تو آپ نئے مباہلہ کے ذریعہ کیا اس خدائی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے چلے ہیں؟ کیا میری اس تقریر میں ایک حرف بھی ایسا ہے جسے آپ غلط الزام کہہ سکیں؟ اور میں نے جو سوال اٹھایا کیا پوری امت مرزائیہ مل کر بھی اس کا جواب دے سکتی ہے؟

مرزا طاہر صاحب! اگر آپ خالص دہریہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں تو اس کی عدالت کے فیصلہ پر دل و جان سے صاد کریں اور مرزا کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں ورنہ دنیا یہ سمجھنے پر مجبور ہو گی کہ آپ اپنے دادا کے درج ذیل الفاظ کا مصداق ہیں :

"یہودی لوگ جو مورد لعنت ہو کر بندر اور سور ہو گئے تھے، ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ وہ بظاہر انسان تھے۔ لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوروں کی طرح ہو گئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلی ان سے سلب ہو گئی تھی۔ اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔

(مجموعہ اشتہارات، ج ۱، ص ۴۹۷)

"دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے، مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۲۱)

صفحہ 236

کے حوالے سے لکھا تھا کہ مرزا نے اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کی کہ یا اللہ ! اگر میں سچا ہوں تو مولوی ثناء اللہ کو میری زندگی میں طاعون اور ہیضہ جیسے آسمانی عذاب سے ہلاک کر ، اور اگر مولوی ثناء اللہ صاحب سچے ہیں ، میں تیری نظر میں مفسد و کذاب اور مفتری ہوں تو مجھے مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں ہلاک کر دے۔

حق تعالیٰ شانہ نے مرزا کی بددعا کے مطابق اپنا فیصلہ صادر فرما دیا اور مرزا کو ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو وبائی ہیضہ نے ہلاک کر دیا ۔ (حیات ناصر ص ١۴) اور مولانا مرحوم مرزا کے بعد انتالیس برس زندہ رہے ۔ اس فیصلہ خداوندی نے ثابت کر دیا کہ مرزا خود اپنے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نظر میں دجال و کذاب اور مفسد و مفتری تھا۔ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ اسی دجال و کذاب اور مفسد و مفتری کے لئے مباحثہ کرنے چلے ہیں، فرمایئے ! اس تقریر میں ایسا کون سا لفظ ہے جسے آپ دشنام کہہ سکیں ؟

یہاں ایک نفیس نکتہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں وہ یہ کہ قرآن کریم میں کفار مکہ کی یہ دعا نقل کی گئی ہے :

﴿اللهم إن كان هذا هو الحق من عندك فأمطر علينا حجارة من السماء أو ائتنا بعذاب أليم﴾

(الأنفال : ٣٢)

ترجمہ : ”یا اللہ ! اگر یہی دین تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا ، یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب نازل فرما ۔“

مشرکین مکہ کی انتہائی بدبختی اور جہل اور عناد کا تماشا دیکھئے ۔ کہ وہ بارگاہ الٰہی میں یہ دعا نہیں کرتے کہ یا اللہ ! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین واقعی تیری طرف سے ہے تو ہمیں اس کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ اس کے بجائے وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ اگر دین اسلام واقعی دین برحق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا ، یا ہمیں کسی اور عذاب سے نیست و نابود کر دے ۔

”کہتے ہیں کہ یہ دعا ابو جہل نے (جنگ بدر کو جاتے ہوئے) مکہ سے نکلتے وقت کعبہ کے سامنے کی ، آخر جو کچھ مانگا تھا اس کا ایک نمونہ بدر میں دیکھ لیا ۔“

(تفسیر عثمانی)

ان کفار مکہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا نہیں کرتا کہ یا اللہ ! اگر میں تیری نظر میں گمراہ ہوں تو میری اصلاح فرما، اور مجھے توبہ کی توفیق عطا فرما۔ اس کے بجائے یہ دعا کرتا ہے کہ :

صفحہ 237

"اگر میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب اور مفتری ہوں تو مجھے مولانا ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں ہیضہ اور طاعون جیسے آسمانی عذاب سے ہلاک فرما۔ "

مرزا کی اس بد دعا کو بار بار پڑھئے اور ابو جہل کی بد دعا سے اس کا موازنہ کیجئے دونوں کے درمیان سر مو فرق نظر نہیں آئے گا۔ ابو جہل بھی یہ بد دعا کرتا ہے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے اور ہم جھوٹے ہیں تو ہمیں آسمانی عذاب سے ہلاک فرما۔ اور مرزا بھی یہی بد دعا کرتا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں اور مولوی ثناء اللہ سچے ہیں تو مجھے ان کی زندگی میں ہلاک فرما، پھر جس طرح ابو جہل کو بدر میں منہ مانگی مراد ملی۔ اسی طرح مرزا بھی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو منہ مانگی ہلاکت کا نشانہ بنا۔ کیا مرزا طاہر اور ان کی جماعت کے لئے اس میں کچھ عبرت ہے؟

مرزا قادیانی کے ان پانچ واقعات کے بعد میں نے پانچ واقعات آپ کے ابا مرزا محمود کے ذکر کئے تھے۔ ان کے ذکر کرنے سے میرا مقصد یہ بتانا تھا کہ مرزا محمود کو نصف صدی تک مباہلے کا چیلنج دیا جاتا رہا جو نہ تو مرزا محمود نے قبول کیا اور نہ اس کی ذریت نے۔ یہ نصف صدی کا قرضہ آپ کے ذمہ ہے۔ پہلے یہ قرضہ ادا کیجئے اور حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ ان واقعات کی تردید کیجئے۔ جب آپ اس بھاری قرض سے سبکدوش ہو جائیں تب علمائے امت سے مباہلہ کی بات کیجئے۔ مثل مشہور ہے کہ "چھاج بولے تو بولے، چھلنی کیوں بولے جس میں بہتر چھید" مباہلہ کی بات کوئی دوسرا کرے کرے۔ جن کے ذمہ پچاس ساٹھ سال کے مباہلوں کا قرض ہے اور جو کبھی کسی چیلنج قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ آج ان کو بیٹھے بٹھائے کیا سوجھی کہ علمائے امت کو مباہلہ کے لئے بلانے نکل آئے؟

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

نے بار بار مباہلہ کا چیلنج کیا جس کی پاداش میں اس غریب پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا، اس کے ساتھی کو قتل کیا گیا، اس کا گھر جلایا گیا، اس پر مقدمے کئے گئے، اسے قادیاں بدر کر دیا گیا۔ لیکن مرزا محمود کو اتنی جرأت نہ ہوئی کہ ان کے مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرے۔ نہ آج تک مرزا محمود کی ذریت میں کسی کو توفیق ہوئی کہ حلف مؤکد بعذاب اٹھا کر اپنے باپ کی پاکدامنی کی شہادت دے۔

سلوک کیا گیا، اس کے خلاف نقض امن کا مقدمہ دائر کیا گیا اور اس غریب کو عدالت کے

صفحہ 238

کٹہرے میں کھڑے ہو کر یہ حلفیہ بیان دینا پڑا :

"موجودہ خلیفہ (مرزا محمود) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کیلئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے ، ان کے ذریعے معصوم لڑکوں ...... اور لڑکیوں کو قابو کرتا ہے ۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے ، جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے ۔ "

(ممتاز احمد فاروقی : فتح حق : ص ۴۱)

لیکن مرزا محمود کو اتنی جرات نہ ہوئی کہ عبدالرحمن مصری کے چیلنج کو قبول کرلیتا اور اس کی تحقیق کیلئے اپنی جماعت ہی کے چند افراد کا کمیشن مقرر کر دیتا۔ نہ آج تک آپ نے حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ اپنے ابا کی پاکدامنی پر شہادت دی۔ مرزا محمود نے مصری کا چیلنج قبول کرنے کے بجائے اسے منافقوں (لاہوری مرزائیوں) کی شرارت قرار دیا اور اپنے خطبہ جمعہ میں ایسے ہی ایک منافق کا خط پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا :

"حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے ، اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہے؟" پھر لکھا ہے کہ "ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر اعتراض نہیں ۔ کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے ۔ (غالباً ذائقہ بدلنے کیلئے ۔ ناقل) ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔ "

مرزا محمود نے یہ پاکیزہ صحیفہ خطبہ جمعہ میں منبر پر سنایا۔ اور حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ اس منافق کی تردید کرنے کے بجائے صرف یہ "بے ضرر تبصرہ" کافی سمجھا کہ :

"اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے کہ یہ شخص پیغامی طبع (یعنی لاہوری مرزائی) ہے ۔ "

(روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء)

توڑا۔ انہوں نے "حقیقت پسند پارٹی" تشکیل دی۔ اس پارٹی نے "تاریخ محمودیت" نامی کتاب شائع کی۔ جس میں ۲۸ قادیانی مردوں اور عورتوں کی مؤکد بعذاب حلفیہ

صفحہ 239

یعنی شہادتیں جمع کیں کہ مرزا محمود نہایت بدکردار ہے۔ مرزا محمود کو چیلنج پر چیلنج دیئے۔ پھر یہی مضمون متعدد کتابوں میں بار بار دہرایا گیا اور آج تک دہرایا جا رہا ہے۔ لیکن نہ مرزا محمود کو اپنی زندگی میں مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کا حوصلہ ہوا۔ نہ آپ نے ان لوگوں سے مباہلہ کی آج تک جرات کی۔ ان تمام چیلنجوں کے مقابلہ میں آپ کی خاموشی آپ کے مجرم ضمیر کی شہادت دے رہی ہے۔ ان تمام چیلنجوں کو شیر مادر کی طرح ہضم کر کے آج آپ کس منہ سے علمائے امت کو مباہلہ کی دعوت دینے چلے ہیں؟

میں نے قصداً اس قصہ کو ۳۷ء سے شروع کیا، ورنہ کہنے والوں نے یہ بھی کہا ہے اور کچھ غلط نہیں کہا کہ :

”میاں محمود احمد صاحب کے طالب علمی کے زمانے اور نوجوانی کے دنوں میں بھی ان کے چال چلن پر سنگین اور شرمناک الزام لگائے گئے بلکہ خود حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے بھی اس سلسلہ میں ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا تھا۔ مگر چار گواہ نہ مل سکنے کی وجہ سے الزام ثابت نہ ہوسکا۔“

(مسٹر احمد فاروقی : فتح حق ص ۴۰)

اور یہ کہ :

”وہ (مرزا محمود) عنفوان شباب میں جنسی دھاندلیوں میں مبتلا رہا۔ اس پر اس کے باپ نے کمیشن بٹھایا۔ اس کے چار ارکان تھے۔ مولوی نور الدین، خواجہ کمال الدین، مولوی محمد علی اور مولوی شیر علی۔ ان اشخاص کے سامنے اس مجرم کی والدہ نے اپنا دامن پھیلا کر منت سماجت کی، اور ارکان سے کہا کہ اگر اس کے معصیت کار بیٹے پر گرفت ہوئی تو اس کا باپ اسے نکال باہر کرے گا۔ ان لوگوں نے اپنی فقہ کے پردے میں اس مجرم کو بری کردیا۔ یعنی یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ چار گواہ عینی نہیں ہیں۔ اس لئے یہ مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا۔ گویا زنا کار چار گواہوں کے نہ پیش ہونے سے زانی نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے انہی لوگوں کو اسی مجرم سے سزا دلوائی.......................“

(مرزا محمد حسین : فتنہ انکار ختم نبوت ص ۴۹)

صفحہ 240

"کیا آپ کو مزید کسی سامان عبرت کی ضرورت ہے کہ علمائے امت سے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟"

اور اگر آپ کو اس سے انکار ہو کہ آپ کے باپ دادا کی موت عبرتناک ہوئی تو اس کا تصفیہ کرنے کیلئے میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ :

"کیا آپ یہ دعا کرنے کی جرأت کریں گے کہ آپ کو آپ کے باپ دادا جیسی موت نصیب ہو؟"

آپ نے میرا یہ چیلنج بھی قبول نہیں کیا اور شاید آپ کو اس کی جرات بھی نہیں ہوگی کہ میرے سوال کا جواب اخباروں میں چھاپ کر دنیا کو ایک نیا تماشائے عبرت دیکھنے کا موقع فراہم کریں۔

آپ کے باپ کی زندگی میں اسے مباہلہ کا چیلنج دیتے رہے۔ اس کے بعد مرزا ناصر کی زندگی میں، اس کے بعد آپ کو چیلنج دے رہے ہیں۔ وہ جب سے اب تک اپنے مباہلہ کے چیلنج کی سالگرہ مناتے ہیں اور ہر سال مباہلہ کا چیلنج قادیانی لیڈر کے نام رجسٹری کرتے ہیں۔ غالباً ان کا کوئی جلسہ ایسا نہ ہوتا ہو گا جس میں وہ اس چیلنج کو نہ دہرائیں۔ ان کا چیلنج صرف ایک فقرہ ہے، وہ یہ کہ :

" آپ حلف اٹھائیں کہ آپ اور آپ کے ابا کبھی فاعل یا مفعول نہیں رہے؟"

آپ کے ابا کو، آپ کے بھائی کو اور خود آپ کو کبھی اتنی جرات نہ ہوئی کہ ان کا چیلنج قبول کریں۔ چشم بد دور آپ اسی تقدس مآبی پر علمائے امت کو مباہلہ کی دعوت دینے چلے ہیں؟

مرزا صاحب ! میں الزامات نہیں دہرا رہا، میں ایسے حقائق ذکر کر رہا ہوں جن کا سامنا آپ اور آپ کا خاندان قیامت تک نہیں کر سکتا۔ میں آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے حقائق پیش کر رہا ہوں۔ لیکن آپ کے سیکرٹری صاحب کی آنکھیں خیرہ ہیں۔ اور وہ مجھے لکھتے ہیں کہ:

صفحہ 241

”خدا تعالیٰ کے مقدس انسانوں پر آپ نے بے ہودہ الزامات لگانے کی کوشش کی ہے۔“

العظمت للہ۔ مرزا قادیانی کو تو آپ لوگ نبی معصوم سمجھتے ہی تھے، چنانچہ جب محمد حسین قادیانی نے قادیان کے دارالافتاء سے یہ فتویٰ پوچھا کہ :

”حضرت اقدس (مرزا قادیانی) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟“

تو قادیان کے ”مفتی“ نے ان کو بتایا کہ :

”وہ نبی معصوم ہیں۔ ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں۔ بلکہ موجب رحمت و برکات ہے۔“

(اخبار الحکم قادیان، جلد ۱۱ نمبر ۱۳ ص ۱۳ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء)

اگرچہ خود مرزا قادیانی اپنے معصوم ہونے کا انکار کیا کرتا تھا۔ چنانچہ لکھتا ہے :

”افسوس کہ بطالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیا علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔“

(کرامات الصادقین ص ۵)

لیکن آپ کے سیکرٹری صاحب کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرزا محمود کو بھی معصوم و مقدس سمجھتے ہیں۔ العظمت للہ۔

مجھے ان کے ان الفاظ پر یاد آیا کہ ڈاکٹر زاہد علی صاحب نے اپنی کتاب ”ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام“ میں اسماعیلیوں کے داعی مطلق قاضی نعمان بن محمد کے حوالے سے یہ وصیت نقل کی ہے کہ :

”اگر تو اپنی آنکھوں سے امام کو زنا کرتے، شراب پیتے اور فواحش کا مرتکب ہوتے ہوئے بھی دیکھے تو تو اسے دل اور زبان سے منکر نہ سمجھ، اور اس کے درست اور حق ہونے میں کچھ شک نہ کر۔“

(ڈاکٹر زاہد علی : ”ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام“ ۳۶۴)

غالباً آپ کے سیکرٹری صاحب اور ان جیسے دیگر نابغہ قادیانیوں کو بھی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ امام خواہ کتنی ہی سیاہ کاریوں میں ملوث ہو، اور اسے اپنی آنکھوں سے زنا

صفحہ 242

کرتے ہوئے بھی دیکھو تب بھی اسے مقدس ہی سمجھو۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا محمود کی بدکاریوں پر قادیانیوں کی ایک فوج کی فوج مؤکد بعذاب حلف کے ساتھ شہادتیں دیتی ہے، اس پر مباہلہ کا چیلنج کرتی ہے اور مرزا کا خاندان اس کے مقابلے میں حلف مؤکد بعذاب سے گریز کر کے ان شہادتوں پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ لیکن سیکرٹری صاحب کے نزدیک وہ مقدس کے مقدس ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو اللہ تعالیٰ بار بار کے فیصلوں میں دجال، کذاب، کافر، مرتد، روسیاہ، ذلیل، یزید سے بدتر اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی ثابت کرتا ہے۔ لیکن سیکرٹری صاحب فرماتے ہیں کہ ان تمام خطابات کے باوجود وہ مقدس تھے۔ یعنی ”پیر کامل ہے، بس تھوڑا سا بے ایمان ہے۔“

حال ہی میں جناب حافظ بشیر احمد مصری نے آپ کے مباہلہ کا جواب آپ کو بھیجا ہے۔ جس میں آپ کے پورے خاندان کے تقدس کی حلفیہ شہادت دی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :

عادی تھا، خاندان کی محرم عورتیں بھی اس کی ہوس کا نشانہ تھیں۔

تھے۔ بالخصوص نو عمر بچے ان کا نشانہ تھے۔

اس کا خاص شکار تھے۔

آزاد تھے۔ یعنی :

ع ”ایں خانہ ہمہ آفتاب است“

مرزا طاہر صاحب! آپ ان حقائق کو الزامات کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے۔ میرا مقصد یہ تھا کہ جب تک آپ ان خوفناک چیلنجوں سے عہدہ برآ نہیں ہوجاتے، اور جب تک اپنے ابا کی پاکدامنی پر ان لوگوں سے مباہلہ نہیں کرلیتے تب تک آپ کو علمائے امت کو مباہلہ کی دعوت دینے سے شرم آنی چاہئے تھی۔

صفحہ 243

”خدا تعالیٰ سلسلہ عالیہ احمدیہ کو، جس کی بنیاد حضرت مرزا صاحب نے ١٨٨٩ء میں رکھی، روز بروز ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔ اور سعید روحیں جوق در جوق اس مقدس سلسلہ میں داخل ہورہی ہیں۔ مگر آپ جیسے اندھے ابھی تک اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔“

آپ کا سلسلہ کی ترقی کو حقانیت کی دلیل قرار دینا خالص جہل و حماقت ہے۔

اولاً: کسی سلسلہ کی صرف ترقی کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ سلسلہ خیر کا ہے یا شر کا؟ اگر خیر کا ہے تو اس کی ترقی خوشی کی چیز ہے۔ لیکن اگر شر کا سلسلہ ہو تو اس کی ترقی سرمایہ مسرت نہیں، بلکہ حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے استدراج ہے۔ سنت اللہ یہ ہے کہ مجرم لوگوں کو بار بار تنبیہ کی جاتی ہے۔ لیکن جب بار بار کی تنبیہ کے بعد بھی ان کو عبرت نہیں ہوتی تو استدراج شروع ہو جاتا ہے۔ اور ان کو چندے ڈھیل دی جاتی ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ . وَاُمْلِيْ لَهُمْ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ .

”پس تو مجھ کو اور ان کو جو اس کتاب کو جھٹلاتے ہیں، چھوڑ دے (خود سزا دینے کی فکر نہ کر) ہم ان کو درجہ بدرجہ تباہی کی طرف ان طرفوں سے کھینچ لائیں گے جن کو وہ جانتے بھی نہیں ـــــــ اور میں ان کو ڈھیل دوں گا (یعنی ان کی تباہی کی دعا نہ کر) میری تدبیر بڑی مضبوط ہے (وہ آخر ان کو تباہ کر کے رکھ دے گی)“

(ترجمہ: مرزا محمود تفسیر صغیر)

نیز ارشاد ہے:

وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا (النساء: ١١٥) .

”اور جو شخص (بھی) ہدایت کے پوری طرح کھل جانے کے بعد

صفحہ 244

(اس) رسول سے اختلاف ہی کرتا چلا جائے گا اور مومنوں کے طریق کے سوا کسی اور طریق پر چلے گا ہم اسے اسی چیز کے پیچھے لگا دیں گے جس کے پیچھے وہ پڑا ہوا ہے اور اسے جہنم میں ڈالیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔"

(مرزا محمود: تفسیر صغیر)

اپنی اس سنت کے مطابق حق تعالیٰ شانہ نے قطعی دلائل سے مرزا قادیانی کا دجال و کذاب ہونا بار بار واضح کر دیا۔ اور مرزا محمود کے مصنوعی تقدس کا بھانڈا قادیان اور ربوہ کے چوراہے پر بار بار پھوڑا گیا۔ مختلف قسم کی آفتوں اور ابتلاؤں میں آپ کی جماعت کو ڈالا۔ یہاں تک کہ آپ کے ابا مرزا محمود بھیس بدل کر قادیان سے فرار ہوئے۔ پھر آپ خود خفیہ طور پر پاکستان سے بھاگے، اور سیدھے لندن پہنچ کر دم لیا۔ اس کے باوجود اگر آپ لوگوں کو عبرت نہیں ہوتی تو حق تعالیٰ شانہ کے استدراج اور ڈھیل کے قانون کے مطابق آپ کو مہلت دی گئی۔ تاکہ اپنے جرائم کا پیمانہ خوب بھر لیں۔ یہی استدراج اور ڈھیل ہے جس کو آپ کے سیکرٹری صاحب سلسلہ کی ترقی سے تعبیر فرما رہے ہیں۔ حالانکہ کسی جماعت کی محض عددی ترقی اس کی حقانیت کی دلیل نہیں۔ کیونکہ اس عالم کا مزاج ہی ایسا رکھا گیا کہ یہاں حق اور باطل دونوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جاتا ہے اس لئے باطل کی ترقی کو اس کی حقانیت کی دلیل قرار دینا مسخ فطرت کی علامت ہے۔ آج دنیا میں دہریت کو کتنی ترقی ہو رہی ہے؟ اور شرکی قوتیں روز بروز کس قدر بڑھ رہی ہیں؟ کیا کوئی عاقل ان کی ترقی کو ان کی حقانیت کی دلیل قرار دے سکتا ہے؟ پس جس طرح دہریت اور لادینیت کی ترقی اس کی حقانیت کی دلیل نہیں۔ اور کوئی صاحب فہم ان جھوٹے نگینوں کی چمک دمک سے دھوکا نہیں کھا سکتا۔ اسی طرح آپ کی ترقی بھی حقانیت کی دلیل نہیں بنتی : آپ کی جماعت کو جس انداز سے ترقی ہوئی، اہل بصیرت کے نزدیک وہ خود اس کے باطل ہونے کی کھلی دلیل ہے۔ ذرا اس پر توجہ فرمائیے کہ آپ کے دادا مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا تھا؟ اس کا دعویٰ تھا کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کے آنے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، بہت خوب!

آئیے اب یہ دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح علیہ السلام کے کیا کیا کارنامے ذکر فرمائے تھے؟ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار

صفحہ 245

ارشادات میں سے صرف ایک ارشاد آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ جس کو آپ کے ابا مرزا محمود نے ”حقیقۃ النبوۃ“ میں نقل کیا ہے۔ میں ترجمہ بھی مرزا محمود ہی کا نقل کرتا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

”انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں۔ اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ ابن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں۔ کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے۔ پس جب اسے دیکھو تو پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے ہوئے۔ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو گا۔ گو سر پر پانی ہی نہ ڈالا ہو اور صلیب کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کر دے گا اور جزیہ ترک کر دے گا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا۔ اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام ہی رہ جائے گا۔ اور شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے۔ عیسیٰ ابن مریم چالیس سال زمین پر رہیں گے اور پھر وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔“

(مرزا محمود احمد حقیقۃ النبوۃ ص ۱۹۲)

کیا مذکورہ بالا صفات میں سے ایک علامت بھی مرزا قادیانی میں نظر آتی ہے؟ اگر نہیں تو انصاف کیجئے کہ مرزا کیسا مسیح ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمائی ہوئی ایک علامت بھی نہیں پائی جاتی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔ صرف اسلام باقی رہ جائے گا۔“

ادھر مرزا کے زمانے میں تمام مذاہب تو کیا مٹتے، قادیان کی جو مسجد مرزا کے باپ دادا کے زمانے سے سکھوں کے قبضے میں چلی آتی تھی، مرزا اس کو بھی واگزار نہ کرا سکا، اور مرزا کو مرے ہوئے بھی اسی سال ہو چکے ہیں لیکن آپ کی جماعت ابھی دنیا میں

صفحہ 246

"آٹے میں نمک کے برابر" بھی نہیں۔ شاید سکھوں اور چوہڑوں کی تعداد بھی آپ سے زیادہ ہوگی۔ فرمائیے! اس ترقی پر فخر کرنا، مسیح موعود کے منصب کا منہ چڑانا نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا یہی غلبہ اسلام تھا۔ جس کا وعدہ "مسیح موعود" کے زمانے سے وابستہ فرمایا گیا تھا؟ اگر ان تمام حقائق سے آنکھیں بند کر کے آپ لوگ نہایت ڈھٹائی سے اپنی نام نہاد ترقی پر فخر کئے جائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ

"إذا لم تستحی فاصنع ما شئت"

"جب تجھے شرم نہ رہے تو جو چاہے کرتا پھر"

ثالثاً : اور اگر جماعت کے افراد کا بڑھنا ہی حقانیت کی دلیل ہے تو یہ حقانیت عیسائیوں کو آپ سے بڑھ کر حاصل ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی سبزقدمی سے عیسائیت کو آپ سے بڑھ چڑھ کر ترقی ہوئی۔ مرزا قادیانی کے اپنے ضلع گورداسپور میں ۱۸۹۱ء سے ۱۹۳۱ء تک جو ترقی ہوئی اس کے اعدادوشمار محمدیہ پاکٹ بک میں حسب ذیل دیئے ہیں۔

۱۸۹۱ء .............................................................. ۲۴۰۰ ۱۹۰۱ء .............................................................. ۷۱۴۲ ۱۹۱۱ء .............................................................. ۲۳۳۶۵ ۱۹۲۱ء .............................................................. ۳۲۸۳۲ ۱۹۳۱ء .............................................................. ۴۳۲۳۳

آپ کا روزنامہ الفضل قادیان ۱۹؍ جون ۱۹۳۱ء کی اشاعت میں بتاتا ہے کہ :

"روزانہ ۲۲۴ مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہورہے ہیں۔"

گویا اکیاسی ہزار سات سو ساٹھ (۸۱۷۶۰) آدمی سالانہ کے حساب سے صرف ہندوستان میں عیسائیت کی ترقی ہورہی تھی۔ اگر عیسائی ترقی کی یہی رفتار فرض کی جائے تو ۱۹۳۱ء سے اب تک صرف ہندوستان میں (۳۹۲۴۴۸۰) انتالیس لاکھ چوبیس ہزار چار سو اسی افراد کا اضافہ ہوا ہوگا۔ یہ ۴۸ سال پہلے کی عیسائی ترقی کا صرف "سود" ہے۔

پاکستان میں عیسائی آبادی کے اضافہ کے ہولناک اعدادوشمار وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔ چنانچہ بتایا جاتا ہے کہ :

صفحہ 247

تقسیم ہند کے وقت ۱۹۴۷ء میں پاکستان (مشرقی و مغربی) کی عیسائی آبادی (۸۰,۰۰۰) اسی ہزار تھی۔

۱۹۵۱ء میں صرف مغربی پاکستان میں عیسائی آبادی چار لاکھ ۳۲ ہزار تھی۔

۱۹۶۱ء میں پانچ لاکھ چوراسی ہزار (۵,۸۴۰۰۰) تھی۔

۱۹۷۲ء میں نو لاکھ آٹھ ہزار (۹۰۸۰۰۰)

۱۹۷۶ء میں عیسائی تنظیم کے صدر اور سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ ان کی آبادی پاکستان میں ساٹھ لاکھ ہے۔ ۱۹۷۶ء سے ۱۹۸۹ء تک عیسائیت کو پاکستان میں کتنا فروغ ہوا ہوگا؟ اس کا اندازہ خود کر لیجئے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے بنگلہ دیش سے اطلاع آئی تھی کہ وہاں پانچ لاکھ افراد مرتد ہو گئے۔ اور انہوں نے عیسائیت قبول کر لی۔ افریقی ممالک کا حال مجھ سے زیادہ آپ کو معلوم ہے۔ وہاں ملکوں کے ملک اور آبادیوں کی آبادیاں مشنریوں کے جال کا شکار بن چکی ہیں۔ ان تمام اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر بتائیے کہ کیا آپ کی جماعت کی ترقی کو عیسائیت کی ترقی سے کوئی دور کی نسبت بھی ہے؟ اگر آپ اپنی نام نہاد ترقی کو حقانیت کی دلیل قرار دیتے ہیں تو اس سے کئی سو گنا وزنی دلیل عیسائی اپنی حقانیت پر پیش نہیں کر سکتے؟ اور اگر آپ لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے یہ کہتے ہیں کہ :

"سعید روحیں جوق در جوق اس مقدس سلسلہ میں داخل ہو رہی ہیں۔ مگر آپ جیسے اندھے ابھی تک اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔"

تو کیا عیسائیوں کو آپ سے بڑھ کر یہ کہنے کا حق نہیں کہ :

"سعید روحیں جوق در جوق یسوع مسیح کے مقدس سلسلہ میں داخل ہورہی ہیں، مگر مرزائی اندھے ابھی تک اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔"

اور اگر عیسائیت میں داخل ہونے والے آپ کے نزدیک بھی سعید روحیں نہیں تو ٹھیک اسی دلیل سے یہ کہوں گا کہ مرزائیت میں داخل ہونے والے بھی سعید روحیں نہیں بلکہ شقی ازلی ہیں جو رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو چھوڑ کر قادیانی کذاب کے چنگل میں پھنس رہے ہیں اور اسلام جیسی نعمت عظمیٰ کے بجائے قادیانیت جیسی لعنت خرید رہے ہیں۔

صفحہ 248

رابعاً :- عیسائیت کی یہ ترقی، جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا، اگرچہ عیسائیت کی حقانیت کی دلیل نہیں لیکن مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے کی دلیل ضرور ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کے زعم میں ”کسر صلیب“ کا ٹھیکہ لے رکھا تھا۔ چنانچہ مرزا نے قاضی نذر حسین ایڈیٹر اخبار ”قلقل“ بجنور کے نام ایک خط لکھا تھا :

”............ میرا کام جس کیلئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلا دوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ اور وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں۔ اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ “

(اخبار بدر، قادیان نمبر ۲۹ جلد ۲ ص ۴، ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء)

مرزا قادیانی کا انجام ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ اس کو مرے ہوئے بھی اسی برس ہو گئے، مگر اس کے آنے سے نہ عیسیٰ پرستی کا ستون ٹوٹا، نہ تثلیث کی جگہ توحید پھیلی نہ عیسائیت کی کوئی روک تھام ہوئی۔ بلکہ معاملہ الٹا ہوا کہ مرزا کے دم قدم سے عیسائیت کو روز افزوں ترقی ہوئی جس کا سلسلہ بڑی شدومد سے اب تک جاری ہے۔ چنانچہ مرزا کی وصیت کے مطابق ایک صدی سے دنیا یہ گواہی دے رہی ہے اور قیامت تک یہ گواہی دیتی چلی جائے گی کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ لیکن مرزا طاہر صاحب کی منطق نرالی ہے کہ مرزا قادیانی اگرچہ اپنی وصیت کے مطابق جھوٹا تھا، مگر پھر بھی ”مسیح موعود“ تھا۔

خامساً : دنیا کو اپنی جماعتی ترقی سے مرعوب کرنے کیلئے آپ حضرات کی یہ تکنیک رہی ہے کہ جماعتی ترقی کے مبالغہ آمیز افسانے تراشے جائیں اور پھر انہی خود تراشیدہ افسانوی اعداد و شمار کو اپنی حقانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔ یہ ”جھوٹ کی عادت“ مرزا قادیانی سے شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے۔ ذرا ملاحظہ کیجئے :

۲ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو مرزا قادیانی لکھتا ہے :

صفحہ 249

”چند سال میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ اشخاص نے میری بیعت کی۔“

(تحفۃ الندوہ ص ۸)

اس کے تین مہینے بعد جنوری ۱۹۰۳ء میں ”جماعت لاکھ سے دوچند (یعنی دولاکھ) ہو گئی۔“

(مواہب الرحمٰن ص ۸۷)

۱۹۰۵ء میں مرزا سے بیعت کرنے والے قریباً چار لاکھ ہوئے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۱۱۷)

اواخر جنوری ۱۹۰۷ء میں مرزا کو اسکندریہ (مصر) سے کسی ”قادیانی گوبلز“ کا خط موصول ہوا جسے مرزا نے اپنے معجزہ کے طور پر پیش کیا۔

وہ خط یہ تھا:

”لقد كثرت اتباعكم في هذا البلاد وصارت عدد الرمل والحصا ولم يبق أحد إلا وعمل برأيكم واتبع أنصاركم“ ۔

(الاستفتاء ملحقہ حقیقۃ الوحی ص ۳۲)

ترجمہ : ”تمہارے پیروکار اس ملک میں بہت ہوگئے ہیں اور وہ ریت اور کنکریوں کی تعداد میں ہوگئے ہیں۔ یہاں ایک شخص بھی باقی نہیں رہا جس نے آپ کی رائے پر عمل نہ کیا ہو اور آپ کے مددگاروں کا پیرو نہ ہو گیا ہو۔“

اس خط میں ”فی ھٰذا البلاد“ کی ترکیب چغلی کھاتی ہے کہ یہ خط کسی عرب کا نہیں کسی پنجابی کا ہے۔ اگر قادیان کے ٹھپے ہی کی ٹکسال میں نہیں ڈھلا گیا تو ممکن ہے کہ کسی نے اسکندریہ ہی سے یہ گپ قادیانی کو لکھ بھیجی ہو۔ مرزا نے ”دیوانہ بگفت وابلہ باور کرد“ کے طور پر اس کو بھی اپنا معجزہ بنا لیا ہو۔ بہر حال یہ قادیانی جھوٹ لائق داد ہے۔ ۱۹۰۶ء کے اواخر میں ملک مصر میں قادیانیوں کی تعداد ریت کے ذروں اور کنکریوں کی گنتی کے برابر تھی۔ اور پورے ملک میں ایک فرد بھی ایسا باقی نہیں رہا تھا جس نے قادیانیت کا طوق اپنے گلے میں نہ ڈال لیا ہو۔ نہ جانے بعد میں یہ تعداد کہاں گم ہو گئی کہ اب وہاں ایک قادیانی نہیں ملتا۔

یہ تو مرزا کے زمانے کی جھوٹی افواہیں اور مبالغہ آرائیاں تھیں۔ اب ذرا بعد کا حال دیکھئے!

صفحہ 250

مقدمہ اخبار مباہلہ (۲۸ - ۱۹۲۷ء) میں قادیانی گواہوں نے قادیانیوں کی تعداد دس لاکھ بتائی۔

۱۹۳۰ء میں کوکب دری کے قادیانی مؤلف کے مطابق دنیا میں ۲۰ لاکھ قادیانی موجود تھے۔ ستمبر ۱۹۳۲ء میں مناظرہ بھیرہ میں قادیانی مناظر نے قادیانیوں کی تعداد ۵۰ لاکھ بتائی۔ عبدالرحیم درد قادیانی مبلغ نے انگلستان میں مسٹر فلبی کے سامنے بیان کیا کہ پنجاب میں مسلمانوں کی غالب اکثریت قادیانیوں کی ہے۔ اس وقت پنجاب میں ڈیڑھ کروڑ مسلمان تھے۔ اس حساب سے بقول عبدالرحیم درد گویا پنجاب میں ۷۵ لاکھ سے زیادہ قادیانی تھے۔ لیکن ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کی سرکاری رپورٹ میں پنجاب میں قادیانیوں کی مجموعی تعداد ۵۵ ہزار نکلی جس میں لاہوری جماعت کے کئی ہزار افراد بھی شامل تھے۔ مرزا محمود نے سرکاری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا : "فرض کر لو باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار فرد رہتے ہیں۔"

(قادیانی مذہب طبع پنجم ص ۵۱۳)

یعنی پچاس سال کی محنت کا نتیجہ کل ساٹھ ستر ہزار کے درمیان نکلا جسے قادیانی ۵۰ لاکھ سے ۷۵ لاکھ بتاتے تھے۔ یہ رہی آپ کے افسانوی اعداد و شمار کی حقیقت۔

۱۹۳۱ء کی مردم شماری کی رپورٹ سے بھی آپ لوگ شرمندہ نہیں ہوئے اور جھوٹے اعداد و شمار بیان کرنے کی عادت نہیں چھوڑی، بلکہ مرعوب کن اعداد و شمار کی افسانہ تراشی کا سلسلہ اس کے بعد بھی بدستور جاری رہا۔ قیام پاکستان کے بعد آپ کے لوگ بیرونی دنیا میں یہ تاثر دیتے تھے کہ پاکستان میں اصل حکومت ”امیر المومنین مرزا محمود“ کی ہے اور پاکستان کے حکمران ان کے نمائندے ہیں۔ یہ ناکارہ انڈونیشیا گیا تو وہاں احباب نے بتایا کہ یہاں قادیانیوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ پاکستان کے تمام لوگ احمدی ہیں اس لئے پاکستان سے جو شخص بھی آئے یہاں کے عوام اسے قادیانی ہی سمجھتے ہیں۔ اور پاکستان سے آنے والے کسی شخص کے بارے میں لوگوں کو بڑی مشکل سے باور کرایا جاتا ہے کہ یہ قادیانی نہیں۔

ابھی چند سال پہلے دعوے کئے گئے تھے کہ پوری دنیا میں مسلمان ۷۲ کروڑ ہیں اور ہماری تعداد ایک کروڑ ہے۔ پچاس لاکھ پاکستان میں اور پچاس لاکھ باقی دنیا میں۔

صفحہ 251

اس طرح ہم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صادق آتا ہے کہ مسلمانوں کے ۷۲ فرقے جہنمی ہوں گے اور ایک فرقہ ناجی ہو گا وہ ناجی فرقہ یہی ۷۳ واں فرقہ ہے، جس کی تعداد ۷۲ کروڑ کے مقابلہ میں ایک کروڑ ہے۔

لیکن ۱۹۸۱ء کی مردم شماری نے یہ طلسم بھی توڑ دیا۔ چنانچہ ۱۹۸۱ء کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی کل تعداد (۱۰۴۲۴۴) ایک لاکھ چار ہزار دو سو چوالیس تھی۔ (روزنامہ جنگ کراچی ۱۸ جولائی ۱۹۸۴ء) اب اگر اتنی ہی تعداد باقی دنیا میں فرض کرلی جائے تو گویا پوری دنیا میں قادیانیوں کی کل تعداد (۲۰۸۴۸۸) دو لاکھ آٹھ ہزار چار سو اٹھاسی ہوئی، جسے آپ ایک کروڑ بتاتے تھے۔ اب سنتا ہوں کہ آپ لوگوں نے ایک کروڑ پر یکایک پچاس لاکھ کا اضافہ کر لیا ہے۔ اور دنیا میں قادیانیوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ بتائی جانے لگی ہے۔ آپ لوگوں کو اطمینان ہے کہ جتنے چاہو مرعوب کن اعداد کے دعوے ہانکتے رہو۔ ان دعوؤں کو کون چیلنج کرتا ہے؟ کہتے ہیں کہ کسی گنوار نے کسی پڑھے لکھے سے کہا کہ ”بابو جی! تم بڑے پڑھے لکھے بنے پھرتے ہو، ذرا یہ تو بتاؤ کہ زمین کا درمیان کہاں ہے؟ جہاں سے زمین ہر طرف سے برابر ہو۔ پڑھے لکھے بابو نے لاعلمی کا اظہار کیا تو گنوار بولا، واہ! یہ بات تو مجھ ان پڑھ کو بھی معلوم ہے اور پھر لاٹھی سے ایک دائرہ بنا کر لاٹھی اس کے درمیان گاڑ دی اور کہا کہ یہ زمین کا بیچ ہے، اگر یقین نہ ہو تو چاروں طرف سے پیمائش کر کے دیکھ لو۔“

جس طرح اس گنوار کو یقین تھا کہ اس کے دعویٰ کو چیلنج کرنے کیلئے زمین کی پیمائش کون کرتا پھرے گا؟ اسی طرح آپ کی جماعت کے لیڈروں کو بھی اطمینان ہے کہ لوگوں کو مرعوب کرنے کیلئے اپنی جماعت کی ترقی کا جتنا چاہو ڈھنڈورا پیٹتے رہو، اور خیرہ کن اعداد و شمار کے جتنے چاہو دعوے کرتے رہو۔ ان دعوؤں کو چیلنج کرنے کیلئے دنیا بھر میں قادیانیوں کی مردم شماری کون کراتا پھرے گا؟ بلاشبہ جھوٹی نبوت کی گاڑی اسی قسم کے جھوٹ فریب سے چل سکتی ہے۔ اور جھوٹے پروپیگنڈے پر فخر کرنا جھوٹی نبوت کے پرستاروں ہی کو زیب دیتا ہے۔

إن الله لا يهدی من هو مسرف کذاب

سادساً: آپ کی دعوت اور تبلیغ کا طریقہ کار حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی

صفحہ 252

دعوت اور ان کے طریقہ تبلیغ سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ کی دعوت کے اصول تو اسماعیلی باطنیوں سے مطابقت رکھتے ہیں جن کی تفصیل حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے ”تحفہ اثنا عشریہ“ میں ذکر فرمائی ہے۔ اور آپ کا طریقہ تبلیغ دور جدید کے عیسائی مشنریوں سے مماثلت رکھتا ہے کہ مشنری اسکول، کالج، اسپتال اور دیگر ادارے قائم کئے جائیں، نوجوانوں کو نوکری چھوکری اور دیگر مادی اغراض کی بنیاد پر دعوت دی جائے، لوگوں کو مرعوب کرنے کیلئے مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈے سے کام لیا جائے، سائنسی ترقی کے حوالے سے لوگوں کو ترغیب دی جائے وغیرہ وغیرہ۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی مقدس سیرتوں کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ نہ وہاں مادی لالچ ہے نہ دنیوی اغراض کی کشش نظر آتی ہے، نہ پروپیگنڈا کا شور سنائی دیتا ہے۔ وہ حضرات صرف آخرت کی بنیاد پر دعوت دیتے ہیں۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی سیرت کا خلاصہ حضرت امام العصر مولانا محمد انور کشمیریؒ نے خاتم النبیین کے فقرہ نمبر ۱۳۰ میں ذکر فرمایا ہے۔ اس کا اقتباس ملخصاً نقل کرتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں:

”یہاں پہنچ کر انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت مقدسہ کا قرآن کریم اور کتب خصائص و سیر سے مطالعہ کرنا چاہئے۔ قرآن حکیم میں جو کچھ ان کے سوال و جواب کے سلسلہ میں آتا ہے، اسے بغور پڑھو تو معلوم ہوگا کہ کس طرح ان حضرات کے معاملہ کی بنیاد امور ذیل پر قائم تھی، یعنی توکل و یقین، صبر و استقامت، اولوالعزمی و بلند ہمتی، وقار و کرامت، انابت و اخلاص، فضل و اختصاص، یقین کی خنکی اور سینے کی ٹھنڈک، سفیدہ صبح کی طرح انشراح و اعتماد، صدق و امانت، مخلوق سے شفقت و رحمت، عفت و عصمت، طہارت و نظافت، رجوع الی اللہ، وسائل غیب پر اعتماد، ہر حال میں لذات دنیا سے بے رغبتی، سب سے کٹ کر حق تعالیٰ شانہ سے وابستگی، سامان دنیا سے بے التفاتی، مال و دولت سے بے توجہی، علم و عمل کی وراثت جاری کرنا اور مال و متاع کی وراثت جاری نہ کرنا، ترک فضول اور اس سے زبان کی حفاظت، ہر حالت اور ہر معاملہ

صفحہ 253

میں حق کا ساتھ دینا اور اس کی پیروی کرنا، ظاہر و باطن کی ایسی موافقت کہ اس میں کبھی بھی خلل اور رخنہ واقع نہ ہو۔ انہیں اتمام مقصد کیلئے باطل عذر، فاسد تاویلات اور حیلے بہانے تراشنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جانب خدا کو جانب اغراض پر ترجیح دینا، مادی علائق اور رشتوں سے بے تعلقی اور اعراض، تمام حوادث و پیش آمدہ حالات میں حمد و شکر، یاد حق اور ذکر الٰہی میں ہمہ دم مشغول رہنا، رب العالمین کے زیر عنایت علم لدنی کے ذریعہ فطرت سلیمہ کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کرنا، جس میں کسی قسم کی فلسفہ آرائی، اختراع اور تکلف کا شائبہ تک نہ ہو، تسلیم و تفویض، عبدیت کاملہ، طمانیت زائدہ استقامت شاملہ ....... ان حضرات نے دنیا میں رہ کر کبھی پہلو تہی کا راستہ نہیں لیا اور کیا مجال کہ کفار و جبابرہ کے مقابلہ میں اپنی ایک بات سے بھی کبھی تنزل فرمایا ہو، یا فراعنہ کی تخویف و تہدید اور ان کے ہجوم کی بنا پر اپنے راستہ سے انحراف کیا ہو، یا حرص و طمع اور سامان دنیا جمع کرنے کا معمولی دھبا بھی ان کے دامن مقدس تک پہنچا ہو یا حرص و ہوا اور حب ماسوا نے کبھی انہیں اپنی طرف کھینچا ہو اور ممکن نہیں کہ ان کے آپس میں علم و عمل کا اختلاف ہوا ہو یا ایک دوسرے پر رد و قدح یا ایک دوسرے کی ہجو اور کسر شان کی ہو، ناممکن ہے کہ انہیں اپنے کمالات پر کبھی ناز اور عجب ہو یا وہ اپنے تمام حالات میں کبھی بھی کبر و تعلی اور نفس کے فریب میں مبتلا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ جو کچھ بھی تھا عطیات ربانیہ سے تھا، انسانی کسب و ریاضت کے دائرے میں نہیں تھا........................"

(خاتم النبیین اردو ترجمہ ص ۳۲ و ص ۲۴۳ ج ۱÷

شائع کردہ مجلس تحفظ ختم نبوۃ - ملتان)

آپ کی جماعت میں ان اوصاف کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ آپ کی دعوت اور طریقہ تبلیغ کا حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰت والتسلیمات سے منحرف ہونا، اہل نظر کے نزدیک آپ کی دعوت کے غلط اور باطل ہونے کی مستقل دلیل ہے۔ لیکن جو

صفحہ 254

حضرات دن کی روشنی میں سیاہ و سفید کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ آپ کی دعوت کا انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت سے کیا موازنہ کر سکتے ہیں؟

”اگر آپ میں ذرہ بھر بھی شرافت ہوتی تو امام جماعت احمدیہ کے مباہلہ کے چیلنج کو سیدھی طرح قبول کرتے۔ تاکہ دنیا جان لیتی کہ آپ سچے ہیں اور راہ فرار اختیار کرنے کی نہ سوچتے۔“

آپ نے اس ”شریفانہ فقرے“ میں مجھ پر دو فتوے لگائے ہیں۔ ایک یہ کہ مجھ میں ذرہ بھر شرافت نہیں۔ دوم یہ کہ میں مباہلہ سے راہ فرار اختیار کر رہا ہوں۔ جہاں تک پہلے فتوے کا تعلق ہے، مجھے آنجناب سے سند شرافت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ مجھ پر غیر شریف ہونے کا فتویٰ صادر فرماتے ہیں تو مجھے اس کی شکایت نہیں، میں جانتا ہوں کہ آخر آپ مرزا قادیانی کی ذریت شریفہ ہیں اور مرزا قادیانی اپنے مخالفوں کو جن ”شریفانہ الفاظ“ سے یاد کرنے کا عادی تھا، ان کی ایک مختصر سی فہرست ”مغلظات مرزا“ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ مرزا قادیانی کے بارے میں اہل تجربہ کا تاثر یہ تھا کہ:

”مناظرہ میں فحش بیانی و سخت کلامی، بد زبانی بلکہ گالی کوسنے کا مرزا جی نے سرکار سے ٹھیکہ لے لیا ہے۔ آپ اس فن کے ”جگت استاد“ مانے جاتے ہیں۔“

(مغلظات مرزا ص ۷۰)

جس قوم کے پیشوا کے منہ میں ہمیشہ کتے، سور، خنزیر جیسے مقدس الفاظ رہتے ہوں اور جو اپنے مخالفوں کو حرامزادے اور کنجریوں کی اولاد کے الفاظ سے خطاب کرنے کا عادی ہو، ایسے شریف پیشوا کی شریف امت اگر مجھ ایسے ناکاروں کو غیر شریف ہونے کی گالی دے تو یہ گالی بڑی ہلکی پھلکی سمجھی جائے گی۔

مرزا طاہر صاحب! آپ کے دادا نے آپ لوگوں کے بارے میں جو ”آئینہ شرافت“ پیش کیا ہے۔ میں اس کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں ذرا اس آئینہ میں منہ دیکھ کر بتائیے کہ آپ میں اور آپ کی جماعت میں شرافت کے کتنے ذرے نظر آتے ہیں؟

صفحہ 255

اس کی شرح یہ ہے کہ شیخ اکبرؒ نے فصوص الحکم میں نوع انسانی کے آخری مولود کے بارے میں ایک پیشگوئی فرمائی تھی، جس کو آپ کے دادا نے درج ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے:

"وعلى قدم شيث يكون آخر مولود يولد من هذا النوع الإنسانى وهو حامل أسراره، وليس بعده ولد فى هذا النوع، فهو خاتم الأولاد ، وتولد معه أخت له ، فتخرج قبله ويخرج بعدها ، يكون رأسه عند رجليها ، ويكون مولده بالصين ، ولغته لغة بلده ، ويسرى العقم فى الرجال والنساء فيكثر النكاح من غير ولادة ، ويدعوهم إلى الله فلا يجاب" (تریاق القلوب، ص: ۳۵۲)

ترجمہ: "اور اس نوع انسانی کا جو آخری بچہ پیدا ہو گا وہ شیث علیہ السلام کے قدم پر ہو گا۔ اور وہ حضرت شیث علیہ السلام کے اسرار کا حامل ہو گا۔ اور اس بچے کے بعد اس نوع انسانی میں کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا۔ پس وہ بچہ خاتم الاولاد ہو گا اور اس کے ساتھ اس کی ایک بہن پیدا ہو گی جو اس سے پہلے پیدا ہو گی اور اس بچے کا سر اس بچی کے پاؤں سے ملا ہوا ہو گا۔ اس بچے کی پیدائش چین میں ہو گی اور اس کی زبان اس کے شہر کی زبان ہو گی اور (اس بچے کی پیدائش کے بعد) مردوں اور عورتوں میں بانجھ پن کی بیماری سرایت کر جائے گی۔ پس نکاح بکثرت ہوں گے، مگر اولاد کی پیدائش نہیں ہو گی یہ بچہ (بڑا ہو کر) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے گا لیکن اس کی دعوت پر کوئی کان نہیں دھرے گا۔"

مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ کہیں پیشگوئی نظر آجاتی اسے جھٹ سے اپنے اوپر ڈھال لیا کرتا تھا چنانچہ شیخ اکبرؒ کی مندرجہ بالا پیشگوئی کے بارے میں مرزا نے کہا کہ پیشگوئی مسیح موعود کے بارے میں ہے۔ اور چونکہ مسیح موعود، مرزا ہے لہٰذا پیشگوئی کا مصداق بھی مرزا ہے۔ اب سوال یہ ہوا کہ پیشگوئی میں تو یہ کہا گیا ہے کہ وہ بچہ نوع انسانی میں خاتم الاولاد ہو گا، اس کی پیدائش کے بعد پھر نوع انسانی میں کسی بچے کی ولادت نہیں ہو گی، تمام

صفحہ 256

مرد و زن بانجھ ہو جائیں گے، چنانچہ نکاح بکثرت ہوں گے مگر اولاد نہیں ہوگی۔ مرزا اس پیشگوئی کا مصداق کیسے ہو سکتا ہے؟ جبکہ مرزا کے بعد بھی نوع انسانی میں توالد اور تناسل کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ اس سوال کو حل کرنے کیلئے مرزا نے اس پیشگوئی میں جو تاویل کی وہ یہ تھی کہ :

”اور پیشگوئی میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم ( بانجھ پن کی بیماری ) سرایت کرے گی یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحہ عالم سے مفقود ہو جائیں گے، وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام۔ پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔“

(تریاق القلوب ص ۳۵۵ طبع اول ص ۱۵۹)

مرزا قادیانی کی اس تاویل کے مطابق پیشگوئی کا مطلب یہ ہوا کہ مسیح موعود کے مرنے کے بعد نوع انسانی میں جو لوگ پیدا ہوں گے ان میں انسانیت نام کو بھی نہیں ہوگی وہ حیوانوں اور وحشیوں کے مشابہ ہوں گے وہ حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں رکھتے ہوں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔

مرزا طاہر صاحب ! میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ ذرا مرزا قادیانی کے ان الفاظ کے آئینے میں اپنا اور اپنے سیکرٹری صاحب کا چہرہ پہچاننے کی کوشش کیجئے، اگر مرزا قادیانی مسیح موعود ہے اور اگر مسیح موعود کے مرنے کے بعد پیدا ہونے والے حیوان اور وحشی ہیں، ان میں انسانیت نام کو بھی نہیں بلکہ خالص جانور ہیں تو آپ اور آپ کی جماعت کے وہ تمام افراد جو مرزا قادیانی کی موت (۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) کے بعد پیدا ہوئے ان کی حیثیت خود بخود متعین ہو جاتی ہے۔

مرزا طاہر صاحب ! آپ مرزا کو مسیح موعود مان کر انسانیت سے خارج اور حیوانوں اور وحشیوں کی صف میں شامل ہو گئے۔ اب آپ کے سامنے دو ہی راستے ہیں، اگر انسانوں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کے مسیح موعود ہونے کا انکار کر دیجئے۔ اور اگر آپ کو اب بھی مرزا کے مسیح موعود ہونے کا اصرار ہے تو آپ اپنے مسیح موعود کے فتویٰ کے مطابق :

صفحہ 257

”حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ انسانیت حقیقی آپ میں مفقود ہے، آپ حلال کو حلال اور حرام کو حرام نہیں سمجھتے۔“

کیا ایسے انسان نما جانوروں میں انسانیت و شرافت کا ذرہ ہو سکتا ہے؟ اور ایسے وحشی جن کی نظر میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں، بیوی اور بہو بیٹی کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ اگر وہ مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ مجھ میں ”ذرہ بھر بھی شرافت“ نہیں تو ایسے وحشیوں کی بات کا کیوں برا منایا جائے؟

آپ کے سیکرٹری کا دوسرا الزام مجھ پر یہ ہے کہ میں مباہلہ سے راہ فرار اختیار کر رہا ہوں۔ جس شخص کی نظر سے میرے وہ الفاظ گزرے ہوں گے، جو میں نے جلی قلم سے لکھوائے تھے وہ آپ کی راست بازی کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں نے آپ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے جلی الفاظ میں لکھا تھا:

آیئے! اس فقیر کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں قدم رکھئے اور پھر میرے مولائے کریم کی غیرت و جلال اور قہری تجلی کا کھلی آنکھوں تماشا دیکھئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ نجران کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر وہ مباہلہ کیلئے نکل آتے تو ان کے درختوں پر ایک پرندہ بھی زندہ نہ بچتا۔ آیئے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے

صفحہ 258

ایک ادنیٰ امتی کے مقابلہ میں میدانِ

مباہلہ میں نکل کر آنحضرت صلی اللہ

علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کا اعجاز ایک بار پھر

دیکھ لیجئے ۔

اس کے بعد میں نے آپ کے فرار کی پیشگوئی کرتے ہوئے لکھا تھا : ”اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے اس سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے۔ اپنے باپ دادا کی طرح ذلت کی موت مرنا تو پسند کریں گے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نالائق امتی کے مقابلہ میں میدانِ مباہلہ میں اترنے کی جرأت نہیں کریں گے ۔ “

میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری پیشگوئی خود اپنے ہاتھ سے پوری کر دکھائی، اگر آپ میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو کم از کم میری پیشگوئی کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے ہی مباہلہ کے میدان میں کود جاتے ۔ لیکن مسیح کذاب کی ذریت میں شمہ صداقت یا ذرہ غیرت کہاں؟ اس کی توقع ہی عبث ہے : اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے مباہلہ کی للکار سے مسیح کذاب کی ذریت پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ میری پیشگوئی کو غلط ثابت کرنے کیلئے بھی ان کی غیرت کو جنبش نہ ہوئی ۔ یہ اس ناکارہ و نالائق امتی کا کمال نہیں بلکہ میرے نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ) کی صداقت کا اعجاز ہے ۔

قل جاء الحق وزهق الباطل ، ان الباطل كان زهوقا -

”مباہلہ دعا کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے فیصلہ طلبی کا نام ہے ۔ اور آیت مباہلہ کی رو سے کسی مخصوص مقام پر فریقین کا اجتماع ضروری نہیں ۔ اس لئے آپ کا یہ کہنا کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت مینہ پاکستان یا کسی اور جگہ آؤ سوائے مباہلہ سے فرار کے اور کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

صفحہ 259

یہ تو ابھی اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مرزائی ذریت کو میدان مباہلہ میں کون للکار رہا ہے۔ اور میدان مباہلہ سے فرار کون اختیار کر رہا ہے؟ لیکن آپ کی شرم و حیا کی داد دیتا ہوں کہ خود بھاگ رہے ہیں مگر بھاگتے ہوئے یہ شور مچارہے ہیں کہ ”دیکھو بھاگ رہا ہے، بھاگ رہا ہے۔“ عیار چور کا کردار مشہور ہے جب چوری کے دوران گھر والوں کی آنکھ کھل گئی اور وہ ”چور چور“ پکارنے لگے تو عیار چور نے خود بھی ”چور چور“ پکارنا شروع کر دیا تاکہ اس پر چوری کا شبہ نہ کیا جائے اور وہ رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن مرزا طاہر صاحب! اب آپ کی عیاری نہیں چلے گی رات کی تاریکی چھٹ چکی ہے، صبح کا اجالا ہوچکا ہے، مسیح کذاب کی ”باغیرت ذریت“ کی آواز تو آواز، ان کے چہرے بھی صاف پہچانے جاچکے ہیں۔ اب آپ کی ”چور چور“ کی آواز سے کون احمق دھوکا کھائے گا؟

میں نے قرآن کریم کی آیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک کے حوالے سے لکھا تھا کہ ”مباہلہ کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی عورتوں، بچوں اور متعلقین کو لے کر میدان میں نکلیں۔“ لیکن آپ کیلئے یہ حوالے اس لئے بے سود ٹھہرے کہ آپ کو نہ قرآن پر ایمان ہے اور نہ صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک پر۔ اس لئے آپ نے مباہلہ کا بھی ایک نیا مفہوم گھڑ لیا۔ مثل مشہور ہے کہ ”جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا کر آنا چاہئے۔“ اس لئے میں آپ کے مسیح کذاب کی تحریروں سے ثابت کرتا ہوں کہ مباہلہ کسے کہتے ہیں؟ اور یہ کہ مباہلہ کیلئے فریقین کا ایک میدان میں جمع ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ ذرا غور سے سنئے!

دیتے ہوئے لکھا :

”اگر کوئی آریہ ہمارے اس تمام رسالہ کو پڑھ کر پھر بھی اپنی ضد کو چھوڑنا نہ چاہے اور اپنی کفریات سے باز نہ آوے تو ہم خدا تعالیٰ کی طرف اشارہ پاکر اس کو مباہلہ کی طرف بلاتے ہیں۔“

(سرمہ چشم آریہ، ص ۲۸۰)

”آخر الحیل مباہلہ ہے۔ جس کی طرف ہم پہلے اشارات کر آئے

صفحہ 260

ہیں۔ مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں، ہاں باتمیز اور ایک نامور آریہ ہونا چاہئے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑ سکے۔ سو اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو، جن کو ہم کسی قدر اس رسالہ میں تحریر کرچکے ہیں، فی الحقیقت صحیح اور سچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول اور تعلیمیں اسی رسالہ میں بیان کی گئی ہیں ان کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بندہ ہم سے مباہلہ کرلیں۔"

اور کوئی مقام مباہلہ کا برضا مندی فریقین قرار پاکر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اس جگہ حاضر ہوجائیں۔

(سرمہ چشم آریہ ص ۳۰۰، ص ۳۰۱)

"اور ربانی فیصلہ کیلئے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے منتخب کئے جائیں۔

میدان مقابلہ کیلئے، جو تراضی طرفین سے مقرر کیا جائے طیار ہوں، پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہوجائیں۔

اور خدا تعالیٰ سے دعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص درحقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کاذب اور موردِ غضب ہے، خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کاذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کی رو سے ہمیشہ کاذب اور مکذب قوموں پر کیا جاتا ہے۔"

(انجام آتھم ص ۴۰)

صفحہ 261

”اے پادری صاحبان دیکھو کہ میں اس کام کیلئے کھڑا ہوں، اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حکم سے اور خدا کے فیصلے سے سچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر ہو جائے تو آؤ،

تاہم ایک میدان میں دعاؤں کے ساتھ

جنگ کریں۔

تاکہ جھوٹے کی پردہ دری ہو۔“

(انجام آتھم ص ۴۲)

”اگر عیسائی لعنت کے لفظ سے متنفر ہیں تو اس لفظ کو جانے دیں۔ بلکہ دونوں فریق یہ دعا کریں کہ یا الہ العالمین ...... اے قادر! ان دونوں گروہوں میں اس طرح فیصلہ کر کہ جو ہم دو فریق میں سے

جو اس وقت مباہلہ کے میدان میں حاضر

ہیں،

جو فریق جھوٹے اعتقاد کا پابند ہے اس کو ایک سال کے اندر بڑے عذاب سے ہلاک کر، کیونکہ تمام دنیا کی نجات کیلئے چند آدمی کا مرنا بہتر ہے جو فریق جھوٹے اعتقاد کا پابند ہے اس کو ایک سال کے اندر بڑے عذاب سے ہلاک کر، کیونکہ تمام دنیا کی نجات کیلئے چند آدمی کا مرنا بہتر ہے۔“

(انجام آتھم ص ۴۳)

”اب میں پھر اپنے کلام کو اصل مقصد کی طرف رجوع دے کر ان مولوی صاحبان کا نام ذیل میں درج کرتا ہوں جن کو میں نے مباہلہ کیلئے بلایا ہے اور میں پھر ان سب کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ

مباہلہ کیلئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے

جلد مباہلہ کے میدان میں آویں

اور اگر نہ آئے اور نہ تکفیر و تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے

صفحہ 262

نیچے مریں گے۔" (انجام آتھم ص ۶۹)

ان عبارتوں کا خلاصہ بچشم عبرت ملاحظہ کیجئے:

ہے۔

کرنے کو ربانی فیصلہ قرار دیتا ہے۔

"مباہلہ کیلئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے جلد مباہلہ کے میدان میں آئیں، ورنہ خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔"

لیکن آپ نہ خدائی اشاروں کو سمجھتے ہیں نہ ربانی فیصلے کو مانتے ہیں نہ آپ کو مرزا کے حلف کی شرم و لحاظ ہے نہ تاریخ اور مقام مقرر کرتے ہیں اور نہ میدان مباہلہ میں آنے پر آمادہ ہیں بلکہ بقول مرزا ۔ ۔ ۔ خدا کی لعنت کے نیچے مرنا چاہتے ہیں۔

اب فرمائیے مباہلہ سے فرار کون کر رہا ہے؟ اور مباہلہ سے فرار کر کے خدا کی لعنت کا مورد کون بن رہا ہے۔ اگر آپ کو قرآن کریم پر ایمان نہیں ہے تو نہ سہی۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آپ کے لئے حجت نہیں تو اس کو بھی جانے دیجئے۔ لیکن آپ اس لعنت کی موت سے کیسے بچیں گے جو آپ کے دادا مسیح کذاب نے آپ کیلئے تجویز کر دی ہے؟

آج آپ لکھتے ہیں کہ " آیت مباہلہ کی رو سے کسی مخصوص مقام پر فریقین کا اجتماع ضروری نہیں۔"

آج آپ لکھتے ہیں کہ " آیت مباہلہ کی رو سے کسی مخصوص مقام پر فریقین کا اجتماع ضروری نہیں۔"

لیکن آپ کو کیوں یاد نہیں کہ آپ کے دادا کا قادیانی قرآن، جس کی شان میں ” انا انزلناہ قریبا من القادیان “ نازل ہوا تھا، (تذکرہ ص ۷۶) اور جس میں یہ دو آیتیں بھی تھیں:

” شاتان تذبحان . فبأی آلاء ربکما تکذبان“ (تذکرہ ص ۹۲)

اسی قادیانی قرآن کی جو چند آیتیں مرزا نے ”انجام آتھم“ میں نقل کی ہیں ان

صفحہ 263

میں سے ایک ”آیت مباہلہ“ بھی ہے جس کا متن اور ترجمہ مرزا قادیانی نے حسب ذیل دیا ہے :

وقالوا كتاب ممتلئ من الكفر والكذب قل تعالوا ندع أبنائنا وأبنائكم ونسائنا ونسائكم وأنفسنا وأنفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين (صـ ٦٠) “

ترجمہ : ”اور لوگوں نے کہا کہ یہ کتاب کفر اور کذب سے بھری ہوئی ہے ۔ ان کو کہہ دے کہ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اکٹھے ہوں، پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں ۔ “

آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے دادا کے قادیانی قرآن میں بھی مباہلہ کا وہی مفہوم لکھا ہوا ہے جو میں ذکر کر رہا ہوں، یعنی ”دو فریقوں کا مع متعلقین کے ایک میدان میں جمع ہو کر بیک زبان جھوٹوں پر لعنت کرنا ۔ “ لیکن آپ کے سیکرٹری صاحب لکھتے ہیں :

”ہمارا ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ کائنات میں ہر جگہ موجود ہے اور اس کے قبضہ قدرت سے کوئی جگہ باہر نہیں اور کوئی مقام اس کے تسلط و جبروت سے خالی نہیں اس کی کرسی زمین و آسمان پر محیط ہے۔ اس کو مخاطب کر کے لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنے میں آپ کو ہچکچاہٹ کیوں ہے؟ اور کیوں فریقین کی موجودگی ضروری ہے ؟ ۔ “

اولاً : تو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ آپ کو نہ خدا پر ایمان ہے ، نہ رسول ”صلی اللہ علیہ وسلم“ پر ، نہ قرآن کریم پر اور نہ مرزا قادیانی پر ..... اگر اللہ تعالیٰ کی ذات عالی پر آپ کا ایمان ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے فریقین کو میدان مباہلہ کی طرف بلانے کا جو حکم فرمایا تھا آپ اسے منسوخ نہ کرتے اور میدان مباہلہ میں فریقین کے اجتماع کو غیر ضروری قرار دے کر مباہلہ کے مفہوم میں تحریف کا ارتکاب نہ کرتے ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کا ایمان ہوتا تو ارشاد خداوندی کی تعمیل میں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس مباہلہ کیلئے باہر تشریف لائے تھے، آپ بھی اسی طرح میدان مباہلہ

صفحہ 264

میں نکلتے ۔ اگر مرزا قادیانی کی صداقت کا ذرا بھی خیال ہوتا تو کم از کم مرزا کے حلف کی شرم رکھتے ۔

ثانیاً: حق تعالیٰ شانہ کے ہر جگہ حاضر و ناظر ہونے میں کس کافر کو کلام ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ جو معاملہ فریقین کے درمیان طے ہو، اس کیلئے ہر دو فریق کا ایک جگہ جمع ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ کیا میاں بیوی کے درمیان ”لعان“ ہو سکتا ہے جب تک کہ وہ دونوں ایک جگہ جمع نہ ہوں؟ کیا زوجین کے درمیان نکاح ہو سکتا ہے جب تک دونوں فریق اصالۃً یا وکالۃً ایک مجلس میں جمع نہ ہوں؟ کیا مقدمہ کا فیصلہ ہو سکتا ہے جب تک کہ دونوں فریق اصالۃً یا وکالۃً عدالت کے کٹہرے میں نہ آئیں؟ اگر مباہلہ بھی دو فریقوں کا عدالت الٰہی سے فیصلہ طلبی کا نام ہے تو اس فیصلہ طلبی کیلئے دونوں فریقوں کا ایک دوسرے کے روبرو اپنے بیانات قلمبند کرانا اور پھر دونوں کا ملکر عدالت الٰہی سے فیصلہ طلب کرنا کیوں ضروری نہیں؟

ثالثاً : یہ تو میں جانتا ہوں کہ قادیانی ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ آدمی قرآن وحدیث کے مطالب کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے لگے ۔ چنانچہ بیشمار آیات واحادیث آپ کی تحریف کا تختہ مشق بن چکی ہیں اور بہت سی اصطلاحات شرعیہ کے مفہومات کو اپنی خواہش کی بھینٹ چڑھایا جاچکا ہے۔ اسی کو الحاد و زندقہ کہا جاتا ہے اور اسی الحاد و زندقہ کا مظاہرہ آپ مباہلہ کی شرعی اصطلاح میں کر رہے ہیں۔ قرآن کریم کا اعلان یہ ہے کہ اگر مباہلہ کرنا ہے تو دونوں فریقوں کو ان کے متعلقین سمیت میدان مباہلہ میں بلایا جائے پھر دونوں مل کر بارگاہ الٰہی میں گڑگڑائیں اور اللہ تعالیٰ سے جھوٹوں پر لعنت کی درخواست کریں۔ تب عدالت الٰہی سے فیصلہ صادر ہو گا۔ چنانچہ اوپر آپ کے دادا کے قادیانی قرآن سے بھی آیت مباہلہ کا ترجمہ نقل کر چکا ہوں کہ :

”ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اکٹھے ہوں، پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔“

لیکن آپ فرماتے ہیں کہ ہم خدائی عدالت میں حاضر نہیں ہوں گے ۔ خدا تعالیٰ کو فیصلہ کرنا ہے تو ہمارے گھر بیٹھے بیٹھے فیصلہ کردے ۔ فرمائیے ! کیا یہ خدائی عدالت کی توہین نہیں؟ اور یہ مباہلہ کا مذاق اڑانا نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ آپ دوسروں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ اس مذاق میں آپ کے ساتھ شریک ہوں ۔ لاحول

صفحہ 265

ولا قوۃ الا باللہ۔

رابعاً: چونکہ آپ پاکستان سے مفرور ہیں، بہت ممکن ہے کہ پاکستان آنے سے آپ کو کوئی جلی یا خفی عذر مانع ہو، لہٰذا میں آپ کو پاکستان آنے کی زحمت نہیں دیتا۔ آپ لندن ہی میں مباہلہ کی جگہ اور تاریخ کا اعلان کر دیجئے۔ یہ فقیر اپنے رفقاء سمیت وہاں حاضر ہو جائے گا اور اگر قصر خلافت سے باہر قدم رکھنے سے خوف مانع ہے تو چلئے اپنے ”لندنی اسلام آباد“ ہی کو میدان مباہلہ قرار دے کر تاریخ کا اعلان کر دیجئے۔ یہ فقیر آپ کے مستقر پر حاضر ہو جائے گا اور جتنے رفقاء آپ فرمائیں گے، لاکھ، دولاکھ، دس، بیس لاکھ اپنے ساتھ لے آئے گا۔ حفظ امن کی ذمہ داری آپ کو اٹھانی ہوگی۔

میرا مباہلہ اسی نکتہ پر ہو گا، جس پر ایک صدی پہلے مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم و مغفور نے مرزا قادیانی سے مباہلہ کیا اور جس کے نتیجے میں مرزا قادیانی روسیاہ ہوا تھا، یعنی:

”مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیرو، سب دجال و کذاب، کافر و مرتد اور زندیق و بے ایمان ہیں۔“

دیکھئے! اب میں نے آپ کا کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا۔ اب آپ کو آپ کے دادا کے الفاظ میں غیرت دلاتا ہوں کہ:

”آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کیلئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے جلد مباہلہ کے میدان میں آئیں ورنہ خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔“

خامساً: آخر میں پھر از راہ خیر خواہی عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی، خدائی عدالت میں بار بار جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ نیا مباہلہ کرنے کے بجائے آپ خدائی عدالت کے پہلے فیصلے کو تسلیم کر کے مرزا کذاب کی پیروی چھوڑ دیں۔ آپ سو بار بھی مباہلہ کریں گے تو نتیجہ وہی رہے گا۔ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، مرنے سے پہلے قادیانی عقائد سے توبہ کر کے حضرت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رحمت سے وابستہ ہو جائیں۔

میں آپ کو اور آپ کی جماعت کو حق تعالیٰ شانہ سے ہدایت طلبی کا آسان طریقہ بتاتا ہوں۔ وہ یہ کہ رات کو سونے سے پہلے ۳۱۳ مرتبہ درود شریف پڑھ کر تنہائی میں حق تعالیٰ شانہ سے رو رو کر دعا کریں کہ:

”یا اللہ تیری رحمت کا واسطہ! اپنے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں

صفحہ 266

گمراہی سے نکلنے کی توفیق عطا فرما اور اب تک ہم سے جتنی اعتقادی و عملی غلطیاں ہوئی ہیں ان کو معاف فرما۔"

اگر آپ میں سے کسی نے صدق دل سے میری اس تدبیر پر عمل کیا تو انشاء اللہ اس پر ہدایت کا دروازہ ضرور کھلے گا۔

"سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك سبحان ربك رب العزة عما يصفون، وسلامٌ على المرسلين والحمد لله رب العالمين"

PDF 267

ضَمِیْمَہ

دو دلچسپ مُباہلے

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 268

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی

حق تعالیٰ شانہ کی عجیب شان ہے کہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے دجالوں اور مکاروں کے مکر و فریب کا پول کھول دیتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے خلق خدا کو گمراہ کرنے اور دنیا کا کوڑا جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو قدم قدم پر ذلیل و رسوا کیا، چنانچہ مرزا قادیانی کے متعدد لوگوں سے مباہلے بھی ہوئے، اور اللہ تعالیٰ نے ہر مباہلے کا فیصلہ مرزا قادیانی کے خلاف صادر فرمایا، جس کے نتیجہ میں مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ہر خاص و عام کے سامنے واضح کر دیا اس کے چند نمونے میرے رسالہ ”قادیانی مباہلہ“ میں آپ کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ مثلاً۔

کے طور پر یہ پیش گوئی جڑ دی کہ ہم دونوں فریقوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پندرہ مہینے کے اندر اندر ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ اور صاف صاف الفاظ میں یہ اقرار کیا کہ۔

”میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے ...... اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔ اور

صفحہ 269

تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔" (خزائن ج ۶،ص ۲۹۲‘ ۲۹۳)

اس مباہلہ کا نتیجہ سب کے سامنے آیا۔ مرزا کا حریف آتھم پادری پندرہ مہینے میں نہیں مرا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک پادری کے مقابلے میں مرزا کو ذلیل اور روسیاہ کیا، اور لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو خود اس کے اپنے الفاظ میں ۔ ”تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ لعنتی“ سمجھنے پر مجبور ہوئے۔

مباہلہ کے بعد مرزا قادیانی، مولانا عبدالحق غزنوی کی زندگی میں ہلاک ہو گیا۔ جبکہ اس کا اپنا اقرار تھا کہ۔

”مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ “ (مرزا قادیانی کے ملفوظات ج ۹ ص ۴۴۰)

مرزا قادیانی کے مولانا عبدالحقؒ کی زندگی میں مرنے سے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی، مولانا عبدالحق غزنویؒ کے مقابلے میں جھوٹا تھا اور مولانا عبدالحق غزنویؒ نے اپنے مباہلہ میں جو دعویٰ کیا تھا کہ ”مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے سب کے سب دجال و کذاب، کافر و ملحد اور بے ایمان ہیں“ ان کا یہ دعویٰ بالکل صحیح ثابت ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

اشتہار شائع کیا، جس کا عنوان تھا۔

”مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ“

اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری فاتح قادیان کو مخاطب کر کے لکھا کہ :

”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے

صفحہ 270

ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ “

(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی جلد ۳ ص ۵۷۸)

اور پھر مرزا نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ عالی سے فیصلہ طلب کرنے کے لئے یہ دعا کی کہ۔

”اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے.......

اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں در حقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ “

(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی جلد ۳ ص ۵۴۹)

اور اشتہار کے آخر میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ۔

”بالاخر مولوی صاحب سے میری التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں، اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ “

چنانچہ مرزا قادیانی کی فرمائش کے مطابق مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اپنے پرچہ ”اہل حدیث“ میں مرزا کا پورا اشتہار لفظ بلفظ چھاپ دیا۔ اور اس کے نیچے جو چاہا لکھ دیا۔ چونکہ مرزا قادیانی اپنا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں دے چکا تھا۔ اس لئے مرزا کے اس اشتہار کے بعد مرزائیوں اور مسلمانوں کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ دیکھئے پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہوتا ہے؟ بالآخر ایک سال بعد فیصلہ خداوندی کا اعلان ہوا۔ اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کو ہلاک کر دیا، اور مولانا ثناء اللہ امرتسری اس کے اکتالیس سال بعد تک سلامت با کرامت رہے۔

اس فیصلہ خداوندی سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی واقعی مفسد و

صفحہ 271

کذاب اور مفتری تھا جیسا کہ مولانا ثناء اللہ مرحوم، ”اپنے ہر ایک پرچے میں اس کو یاد کرتے تھے۔“

آج کی صحبت میں ہم قارئین کو مرزا قادیانی کے دو مزید دلچسپ مباہلوں سے روشناس کراتے ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے دجال و کذاب ہونے کا واضح اعلان فرمایا۔

پہلا مباہلہ

حافظ محمد یوسف اور مولانا عبدالحق غزنوی کے درمیان

حافظ محمد یوسف ضلعدار امرتسری پہلے فرقہ اہل حدیث کے ممتاز رکن تھے۔ حضرت مولانا عبداللہ غزنویؒ سے خاص اعتقاد رکھتے تھے۔ لیکن کچھ عرصہ بعد مرزائی جال میں پھنس کر (نعوذ باللہ) مرتد ہو گیا۔ مرتد ہونے کے بعد مرزا قادیانی کا نہایت غالی معتقد ثابت ہوا۔ شب و روز مرزائیت کی تبلیغ اور نشر و اشاعت اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام میں اس کے بارے میں لکھا۔

”حافظ محمد یوسف صاحب جو ایک مرد صالح، بے ریا متقی اور متبع سنت اور اول درجہ کے رفیق اور مخلص مولوی عبداللہ صاحب غزنوی ہیں۔“

(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳ ص ۴۷۹)

۲ شوال ۱۳۱۰ھ (مطابق ۱۹ اپریل ۱۸۹۳ء) کی شب کو حافظ محمد یوسف مرزائی نے مرزا قادیانی کی حقانیت پر مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کیا۔ مباہلہ کا موضوع یہ تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے مرتد اور دجال و کذاب ہیں یا مسلمان ہیں، مولانا غزنویؒ کا موقف یہ تھا کہ مرزا اور مرزا کے چیلے حکیم نور دین اور محمد احسن امروہی مسلمان نہیں، بلکہ مرتد اور دجال و کذاب ہیں اور حافظ صاحب کا مباہلہ اس پر تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔

اس مباہلہ کو ہوئے ابھی ایک ہفتہ نہیں گزرا تھا کہ مرزا قادیانی نے اپنے مرید حافظ محمد یوسف مرزائی کی تائید میں ۲۵ اپریل ۱۸۹۳ء (مطابق ۸ شوال ۱۳۱۰ھ) کو ایک اشتہار شائع کیا جس کا عنوان تھا۔

اشتہار مباہلہ

میاں عبدالحق غزنوی و حافظ محمد یوسف صاحب

صفحہ 272

اس اشتہار میں (جو مرزا قادیانی کے مجموعہ اشتہارات کی جلد اول میں صفحہ ۴۹۵ سے صفحہ ۴۹۹ تک درج ہے۔) مرزا قادیانی نے اس مباہلہ کی تفصیل درج ذیل الفاظ میں قلمبند کی ہے۔

”مجھ کو اس بات کے سننے سے بہت خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے ایک معزز دوست حافظ محمد یوسف صاحب نے ایمانی جوانمردی اور شجاعت کے ساتھ ہم سے پہلے اس ثواب کو حاصل کیا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حافظ صاحب اتفاقاً ایک مجلس میں بیان کر رہے تھے کہ مرزا صاحب یعنی اس عاجز سے کوئی آمادہ مناظرہ یا مباہلہ نہیں ہوتا۔ اور اسی سلسلہ گفتگو میں حافظ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالحق نے جو مباہلہ کے لئے اشتہار دیا تھا اب اگر وہ اپنے تئیں سچا جانتا ہے تو میرے مقابلہ پر آوے، میں اس سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں، تب عبدالحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا۔ حافظ صاحب کے غیرت دلانے والے لفظوں سے طوعاً و کرہاً مستعد مباہلہ ہو گیا۔ حافظ صاحب کا ہاتھ آکر پکڑ لیا کہ میں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں، مگر مباہلہ فقط اس بارہ میں کروں گا کہ میرا یقین ہے کہ مرزا غلام احمد و مولوی حکیم نور الدین اور مولوی محمد احسن یہ تینوں مرتدین اور کذابین اور دجالین ہیں۔ حافظ صاحب نے فی الفور بلا تامل منظور کیا کہ میں اس بارہ میں مباہلہ کروں گا۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں، تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا۔ اور گواہان مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں نبی بخش صاحب اور میاں عبدالہادی صاحب اور میاں عبدالرحمٰن صاحب عمر پوری قرار پائے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص ۳۹۶)

چونکہ مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں مباہلہ کی تفصیل درج کرنے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ بہت سی غلط بیانیوں سے بھی کام لیا تھا اس لئے اس کے جواب میں مولانا عبدالحق

صفحہ 273

غزنوی” نے ۲۶ شوال ۱۳۱۰ھ کو ایک اشتہار شائع کیا (مولانا غزنویؒ کا یہ اشتہار مرزا قادیانی کے مجموعہ اشتہارات جلد اول کے حاشیہ میں صفحہ ۴۲۰ سے ۴۲۵ تک درج ہے۔)

اس اشتہار میں مولانا غزنویؒ، مرزا غلام احمد کی غلط بیانیوں اور لاف و گزاف کا پردہ چاک کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

”حافظ کے مباہلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ محمد یوسف، جو مرزا کا اول درجہ کا ناصر و موئد و مدد گار ہے، اس نے ۲ شوال بوقت شب مجھ سے بار بار درخواست مباہلہ کی، آخر الامر اس بات پر مباہلہ ہوا کہ مرزا (غلام احمد قادیانی) اور نور الدین و محمد احسن امروہی، یہ تینوں مرتد اور دجال اور کذاب ہیں۔“

چونکہ ہنوز لعنت کا اثر ظاہر اس پر (یعنی حافظ محمد یوسف پر۔ ناقل) نمودار نہیں ہوا۔ لہٰذا پیر جی (یعنی مرزا قادیانی ناقل) کو بھی گرمی آگئی اور عام طور پر اشتہار مباہلہ دیدیا، ذرا صبر تو کرو، دیکھو! اللہ کیا کرتا ہے۔ وکل شئ عندہ باجل مسمی، انہ حکیم حمید ۔

مجھ کو دو روز پیشتر محمد یوسف کے مباہلہ سے، دکھایا گیا کہ میں نے ایک شخص سے مباہلہ کی درخواست کی اور یہ شعر سنایا:

بہ صدائے بلبل و قمری اگر نہ گیری پند
علاج مے کنمت، آخر الدوا الکی

(ترجمہ از ناقل: اگر تم بلبل اور قمری کی صورت میں نصیحت نہیں پکڑو گے تو میں داغ دے کر تمہارا علاج کروں گا۔ کیوں کہ مثل مشہور ہے کہ ”آخری علاج داغ دینا ہے۔“)

اور بھی کچھ دیکھا جس کا بیان اس وقت مناسب نہیں۔ میں خود حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے؟ دو دن بعد یہ مباہلہ درپیش ہوا۔“

(حاشیہ مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی جلد اول ص ۴۲۴)

صفحہ 274

قارئین کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی اور مولانا عبدالحق غزنوی دونوں کے مندرجہ بالا بیانات سے چند نکات نوٹ کر لئے ہوں گے۔

ہوا۔

اور محمد احسن امروہی مرتد اور دجال و کذاب ہیں یا نہیں؟

اس پر مسرت و شادمانی کے شادیانے بجائے۔ گویا اس مباہلہ کا جو نتیجہ بھی برآمد ہو مرزا قادیانی نے اس کی ذمہ داری کو قبول کرنے کا اعلان کرنے کے لئے اشتہار دے دیا۔

اب قارئین کرام بے چین ہوں گے کہ یہ تو ہوا مباہلہ ! لیکن آخر ”مباہلہ کا انجام“ کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس مباہلہ میں کس کو فتح دی؟ مباہلہ کا فیصلہ کس کے حق میں ہوا؟ اور مباہلہ میں کون سچا نکلا اور کون جھوٹا ثابت ہوا؟

آہ کہ اس مباہلہ کے انجام کی خبر قادیانی امت کے لئے نہایت ہولناک اور ہوشرُبا ثابت ہوگی۔ جس کے سنتے ہی قادیانی قصر خلافت میں زلزلہ آجائے گا۔

مباہلہ کا انجام

سنئے! اس مباہلہ کا انجام یہ نکلا کہ مباہلہ کے کچھ عرصہ بعد مولانا عبدالحق غزنویؒ کا حریف چاروں شانے چت ہوا۔

اسلام قبول کرلیا۔

اعلان کرنے لگے کہ مرزا قادیانی اور اس کے تمام چیلے مرتد اور دجال و کذاب ہیں۔

علاج“ کیا تھا وہ بحمد اللہ کارگر ثابت ہوا اور مولانا مرحوم کی الہامی بشارت سچی ثابت

صفحہ 275

ہوئی۔

قارئین کرام کو شاید یہ خیال گزرے کہ میں بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ مباہلہ کے بعد حافظ محمد یوسف صاحب مرزائیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوگئے تھے لیجئے میں اس کا ثبوت بھی مرزا قادیانی کی تحریر ہی سے پیش کئے دیتا ہوں :

مرزا کا اشتہار بنام حافظ محمد یوسف

مرزا قادیانی کا رسالہ اربعین کھولئے۔ اس کے نمبر ۳ کے اشتہار کی پیشانی پر آپ کو جلی قلم سے یہ عبارت نظر آئے گی:

”اشتہار انعام پانسو روپیہ بنام حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار نہر۔ اور ایسا ہی اس اشتہار میں یہ تمام لوگ بھی مخاطب ہیں جن کا نام ذیل میں درج ہیں۔“

(اربعین نمبر ۳ مندرجہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ ص ۳۸۶)

اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے حافظ محمد یوسف صاحب کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایک نظر ان پر بھی ڈال لیجئے اشتہار کے آغاز میں مرزا قادیانی لکھتا ہے :

”واضح ہو کہ حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار نہر نے اپنے نافہم اور غلط کار مولویوں کی تعلیم سے ایک مجلس میں ......... یہ بیان کیا۔“

(روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ ص ۳۸۷)

آگے چل کر لکھتا ہے :

”یاد رہے کہ یہ صاحب مولوی عبداللہ غزنوی کے گروہ میں ہیں اور بڑے موحد مشہور ہیں۔“

(ایضاً ص ۳۹۰)

مزید لکھتا ہے :

”اور حافظ صاحب ......... نے اپنے چند قدیم رفیقوں کی رفاقت کی وجہ سے میرے منجانب اللہ ہونے کے دعویٰ کا انکار مناسب سمجھا۔“

(ص ۳۹۱)

مزید لکھتا ہے :

”کچھ عقل و فکر میں نہیں آتا کہ حافظ صاحب کو کیا ہوگیا؟

صفحہ 276

.......... انسان کو اس سے کیا فائدہ کہ اپنی جسمانی زندگی کے لئے اپنی روحانی زندگی پر چھری پھیر دے، میں نے بہت دفعہ حافظ صاحب سے یہ بات سنی تھی کہ وہ میرے مصدقین میں سے ہیں۔ اور مکذب کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہیں۔ اور اسی میں بہت سا حصہ ان کی عمر کا گزر گیا۔ اور اس کی تائید میں وہ اپنی خوابیں بھی سناتے رہے۔ اور بعض مخالفوں سے انہوں نے مباہلہ بھی کیا۔"

(ایضاً ص ۴۰۸)

مرزا قادیانی کے یہ اقتباسات اپنے مضمون میں بالکل واضح ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے

رہے۔

کے صدق و کذب پر مباہلہ بھی کیا۔

دجال و کذاب کہنے لگے۔ یہاں تک کہ مرزا کو ان کے خلاف اربعین نمبر ۳ کا انعامی اشتہار شائع کرنا پڑا (یہ اشتہار مرزا کی کتاب تحفہ گولڑویہ کے شروع میں بھی بطور ضمیمہ درج ہے۔)

قارئین کرام! مرزائیوں سے دریافت کریں کہ اس مباہلہ کے بعد، جو مولانا عبدالحق غزنویؒ اور حافظ محمد یوسف ضلع دار کے درمیان ہوا تھا، اگر خدانخواستہ مولانا عبدالحق مرزا قادیانی پر ایمان لے آتے تو کیا مرزائی صاحبان اس کو مباہلہ کا نتیجہ قرار نہ دیتے؟ اور کیا اس کو مرزا قادیانی کی حقانیت کے طور پر پیش نہ کرتے؟ یقیناً ایسا کرتے؟

اب جبکہ مباہلہ کا نتیجہ الٹ ہوا کہ مولانا عبدالحق غزنویؒ نے اپنے حریف مباہلہ کو فتح کر لیا اور مولانا غزنویؒ کی طرح حافظ محمد یوسف صاحب بھی مرزا کو دجال و کذاب اور مفتری و مرتد سمجھنے اور کہنے لگے تو بتلائیے مباہلہ کا نتیجہ ہے یا نہیں؟ اور اس

صفحہ 277

مباہلہ کے نتیجے میں مرزا کا مرتد اور دجال و کذاب ہونا ثابت ہوا یا نہیں؟

”بندہ پرور ! منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر“

دوسرا مباہلہ

مرزا غلام احمد قادیانی اور لیکھ رام

مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک آریہ لالہ مرلی دھر سے مباحثہ کیا۔ جس کی تفصیل اس کی کتاب ”سرمہ چشم آریہ“ میں درج ہے۔ مرزا اپنے حریف کو مباحثہ میں شکست دینے سے حسب عادت عاجز رہا تو اس کتاب کے آخر میں آریوں کو دعوت مباہلہ دے ڈالی۔ مرزا کی دعوت مباہلہ کا متن ملاحظہ فرمایا جائے ۔

”اگر کوئی آریہ ہمارے اس تمام رسالے کو پڑھ کر پھر بھی اپنی ضد چھوڑنا نہ چاہے اور اپنے کفریات سے باز نہ آئے تو ہم خدائے تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پا کر اس کو مباہلہ کی طرف بلاتے ہیں۔“

(رسالہ سرمہ چشم آریہ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۲ ص ۲۴۲)

”آخر الحیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارت کر آئے ہیں۔ مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں ہاں باتمیز اور ایک باعزت اور نامور آریہ ضرور چاہئے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑ سکے سو سب سے پہلے لالہ مرلیدھر صاحب اور پھر لالہ جیونداس صاحب سیکریٹری آریہ سماج لاہور اور پھر منشی اندر من صاحب مراد آبادی اور پھر کوئی اور دوسرے صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں کہ اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو جن کو کسی قدر ہم اس رسالہ میں تحریر کر چکے ہیں۔ فی الحقیقت صحیح اور سچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول و تعلیمیں اسی رسالہ میں بیان کی گئی ہیں ان کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارہ میں ہم سے مباہلہ کرلیں اور کوئی مقام مباہلہ کا برضامندی فریقین قرار

صفحہ 278

پا کر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اس جگہ حاضر ہو جائیں اور ہر ایک فریق مجمع عام میں اٹھ کر اس مضمون مباہلہ کی نسبت جو اس رسالہ کے خاتمہ میں بطور نمونہ اقرار فریقین قلم جلی سے لکھا گیا ہے تین مرتبہ قسم کھا کر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی پر نہیں ہم پر اسی دنیا میں وبال اور عذاب نازل ہو۔ غرض جو عبارتیں ہر دو کاغذ مباہلہ میں مندرج ہیں۔ جو جانبین کے اعتقاد میں بحالت دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کے شرط پر ان کی تصدیق کرنی چاہئے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہوگی پھر اگر برس گزرنے کے بعد مولف رسالہ ہذا پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان پانسو روپیہ ٹھہرے گا۔ جس کو برضا مندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے داخل کر دیا جائے گا اور در حالت غلبہ خود بخود اس روپیہ کے وصول کرنے کا فریق مخالف مستحق ہو گا اور اگر ہم غالب آئے تو کچھ بھی شرط نہیں کرتے۔ کیونکہ شرط کے عوض میں وہی دعا کے آثار کا ظاہر ہونا کافی ہے۔ اب ہم ذیل میں مضمون ہر دو کاغذ مباہلہ کو لکھ کر رسالہ ہذا کو ختم کرتے ہیں وباللہ التوفیق۔“

(ایضاً ص ۲۵۰ ۔ ۲۵۱)

قارئین کرام! مرزا کی اس طویل عبارت کو بغور پڑھیں اور درج ذیل تین نکات کو نوٹ کر لیں۔

اس عرصہ میں مرزا پر مباہلہ کا وبال نازل ہو جائے دونوں صورتوں میں مرزا جھوٹا ثابت

صفحہ 279

ہوگا ۔

اس کے بعد مرزا نے اپنی طرف سے مباہلہ کا ایک لمبا چوڑا مضمون لکھا ہے۔ اس کے اخیر پر بھی یہ فقرہ ہے۔

”سوائے خدائے قادر مطلق تو ہم دونوں فریقین میں سچا فیصلہ کر اور ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے بیانات میں اور اپنے عقائد میں جھوٹا ہے۔..... اس پر تو اے قادر کبیر ایک سال تک کوئی اپنا عذاب نازل کر ۔“

(ایضاً ص ۲۵۴۔ ۲۵۵ ملخصاً بلفظہ )

اس کے بعد مرزا نے آریہ کی طرف سے دعائے مباہلہ لکھی ہے اور اس کے اخیر میں بھی یہ فقرہ ہے۔

”جو شخص تیری نظر میں کاذب اور دروغ گو ہے۔..... اس کو اے ایشر! ایسے دکھ کی مار پہنچا ..... کہ ایک سال کے عرصہ تک لعنت کا اثر اس کو پہنچ جائے۔“

(ایضاً ص ۲۵۸ ملخصاً )

قارئین کرام دیکھ رہے ہیں کہ ان دو اقتباسوں پر مباہلہ کے اثر ظاہر ہونے کے لئے ایک سال کی میعاد مقرر کی گئی ہے۔

پنڈت لیکھ رام مرزا کی دعوت مباہلہ کو قبول کرتا ہے۔

مرزا کی کتاب ”سرمہ چشم آریہ“ (جس کے اقتباس اوپر نقل کئے گئے ہیں) کے جواب میں پنڈت لیکھ رام نے ”نسخہ خبط احمدیہ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ (رئیس قادیان جلد اول ص ۱۲۱) جس میں مرزا کی دعوت مباہلہ کو قبول کرتے ہوئے پنڈت لیکھ رام نے درج ذیل الفاظ میں مباہلہ شائع کیا۔

”اے پرمیشور! ہم دونوں میں سچا فیصلہ کر، اور جو تیرا ست دھرم ہے اس کو نہ تلوار سے بلکہ پیار سے معقولیت اور دلائل کے اظہار سے جاری کر، اور مخالف کے دل کو اپنے ست گیان سے پرکاش کر، تاکہ جہالت و تعصب اور جور و ستم کا ناش ہو، کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔ راقم۔ آپ کا ازلی بندہ، لیکھ رام شرما سبھاسد ۔ آریہ سماج پشاور۔“

صفحہ 280

(نسخہ خبط احمدیہ ص ۴۷ بحوالہ ”لیکھ رام اور مرزا“ ص ۴

مصنف مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ)

مرزا قادیانی نے مباہلہ میں ہار جانے کی صورت میں پانسو روپیہ ہرجانہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ (جیسا کہ اوپر کے اقتباس میں آپ پڑھ چکے ہیں) اس پنج صدی انعام کے جواب میں پنڈت لیکھ رام نے لکھا۔

”مرزا جی نے اپنی قدیم عادت کے بموجب پانسو روپیہ دینے کا وعدہ کیا ہے مگر ہم ان کے وعدہ کو اس شعر کا مصداق سمجھتے ہیں۔

گر جاں طلبی مضائقہ نیست
گر زر طلبی سخن دریں است

ہمیں ان کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا حال بخوبی معلوم ہے۔ اور قرضداری کا حال بھی ہم سے مخفی نہیں، پس ہم لینے دینے کے سر پر خاک ڈال کر وہ پانسو روپیہ مرزا صاحب کو ان کی نئی١ شادی کے لئے، جس کے متعلق ان کو ابھی ایک تازہ الہام ہوا ہے، بطور تمبول کے نذر کرتے ہیں۔“

(نسخہ خبط احمدیہ ص ۹ بحوالہ رئیس قادیان جلد اول ص ۱۲۱)

پنڈت لیکھ رام کے ان دو اقتباسات میں سے دو باتیں واضح ہوئیں۔

کی تھی، پنڈت جی نے اسے محض ”مرزا کا زبانی جمع خرچ“ تصور کرتے ہوئے اس سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ اور بطور طنزیہ اس زمانہ کے لحاظ سے یہ خطیر رقم مرزا کی ”نئی الہامی شادی“ کے لئے بطور نذرانہ معاف کر دی۔

١ ”نئی شادی“ سے پنڈت جی کا اشارہ محمدی بیگم کی طرف ہے۔ جس کے الہامات مرزا کو ان دنوں بہ کثرت ہو رہے تھے۔

بلکہ یہ بھی ”تازہ الہام“ ہوا تھا کہ زوجنکھا

یعنی ”اے مرزا! ہم نے اس سے تیرا نکاح آسمان پر کر دیا ہے۔“

لیکن افسوس کہ یہ تمام الہامات فضائے آسمانی میں تحلیل ہو کر رہ گئے۔ اور مرزا جی، مصرعہ ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“ گنگناتے ہوئے دنیا سے بے نیل مرام رخصت ہوئے۔

صفحہ 281

مرزا قادیانی کی تصدیق کہ لیکھ رام نے مباہلہ منظور کر لیا۔

مندرجہ بالا بیانات اگرچہ بالکل واضح ہیں۔ لیکن قارئین کے مزید اطمینان کے لئے مناسب ہو گا کہ خود مرزا قادیانی کی تصدیق بھی ثبت کرا دی جائے کہ اس نے ”سرمہ چشم آریہ“ میں آریوں کو جو دعوت مباہلہ دی تھی پنڈت لیکھ رام نے اس کو منظور کر لیا تھا۔ سنئے! مرزا قادیانی لکھتا ہے۔

”واضح ہو کہ میں نے ”سرمہ چشم آریہ“ کے خاتمہ میں بعض آریہ صاحبوں کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا ...... میری اس تحریر پر پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب ”خبط احمدیہ“ میں جو ۱۸۸۸ء میں اس نے شائع کی تھی ...... میرے ساتھ مباہلہ کیا۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب ”خبط احمدیہ“ کے صفحہ ۳۳۴ میں بطور تمہید یہ عبارت لکھتا ہے۔“

”چونکہ ہمارے مکرم و معظم ماسٹر مرلی دھر صاحب و منشی جیون داس صاحب بہ سبب کثرت کام سرکاری کے عدیم الفرصت ہیں۔ بنابراں اپنے اوتساہ اور ان کے ارشاد سے اس خدمت کو بھی نیاز مند نے اپنے ذمہ لیا، پس کسی دانا کے اس مقولہ پر کہ ”دروغگو را تا بدروازہ باید رسانید“ عمل کر کے مرزا صاحب کی اس آخری التماس کو بھی (یعنی مباہلہ کو) منظور کرتا ہوں۔“

مضمون مباہلہ

میں نیاز القیام لیکھ رام ولد پنڈت تارا سنگھ صاحب شرما مصنف ”تکذیب براہین احمدیہ“ و رسالہ ہذا (یعنی نسخہ خبط احمدیہ) اقرار صحیح بدرستی ہوش و حواس کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اول سے آخر تک رسالہ ”سرمہ چشم آریہ“ کو پڑھ لیا، اور ایک بار نہیں، بلکہ کئی بار اس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا، بلکہ ان کے

صفحہ 282

بطلان کو بروئے ست دھرم رسالہ ہٰذا میں شائع کیا، میرے دل میں مرزا جی کی دلیلوں نے کچھ بھی اثر نہیں کیا۔ اور نہ وہ راستی کے متعلق ہیں“ (آگے طویل مضمون کے بعد اخیر میں لکھا ہے۔)

”اے پرمیشر! ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر، کیونکہ کاذب، صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔“

”راقم آپ کا ازلی بندہ لیکھ رام شرما سبھاسد آریہ سماج پشاور حال اڈیٹر آریہ گزٹ فیروز پور پنجاب“

(روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۳۲۶ تا ۳۳۲ ملخصاً)

مباہلہ کا انجام

مرزا اور لیکھ رام کے مباہلہ کی پوری کہانی قارئین کے سامنے آچکی ہے، قارئین بڑی بے چینی سے یہ جاننے کے منتظر ہوں گے کہ مباہلہ کی یہ جنگ کس نے جیتی؟ کس کی فتح ہوئی۔ کس کو ذلت آمیز شکست کا منہ دیکھنا پڑا؟

قارئین! نتیجہ کا اعلان سننے سے پہلے مباہلہ کی شرائط ایک بار پھر پڑھ لیجئے۔

کی شکست تصور کی جائے گی۔

پانسو روپیہ جرمانہ دے گا۔

حریف کی فتح۔

کے بعد نہیں۔

صفحہ 283

قارئین! پنڈت لیکھ رام نے ۱۸۸۸ء میں مرزا کی دعوت مباہلہ منظور کی تھی۔ آپ سوچ کر بتائیں کہ اس پر کب تک عذاب نازل ہونا چاہئے تھا؟ آپ کا ایک ہی جواب ہوگا۔

۱۸۸۹ء کے آخر تک

لیکن افسوس! کہ ۱۸۸۹ء کے آخر تک لیکھ رام پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا وہ مارچ ۱۸۹۷ء تک زندہ سلامت رہا۔

قارئین کرام خود فیصلہ فرمائیں کہ مباہلہ میں کس کی جیت ہوئی اور مرزائیوں سے بھی دریافت کریں۔ فیصلہ خداوندی کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی پنڈت لیکھ رام سے بھی بدتر ثابت ہوا کہ مرزا کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح دی۔

PDF 284

قادیانی فیصلہ

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 285
صفحہ 286

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ

علمائے امت نے قرآن و سنت کے دلائل اور واقعات کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے۔ خود اس ناکارہ کے قلم سے بھی متعدد رسائل منظر عام پر آچکے ہیں۔ بے ساختہ جی میں آیا کہ مرزا قادیانی کے بارے میں ایسے چند نکات نئی نسل کے سامنے پیش کئے جائیں جو بہت مختصر ہوں۔ اور جن کا نتیجہ ”دو اور دو چار“ کی طرح بالکل واضح ہو، چنانچہ زیر قلم رسالہ اسی وارد قلبی کی تعمیل ہے۔ ہدایت تو اللہ جل شانہ کے قبضہ میں ہے۔ لیکن اگر نوجوان طبقہ اس رسالہ کے نکات کو اچھی طرح سمجھ لے تو انشاء اللہ العزیز مرزا قادیانی کے جھوٹا اور مفتری ہونے میں اسے کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا۔

رسالہ کے آخر میں ان کتابوں کے صفحات کا فوٹو بھی دے دیا گیا ہے جن کا حوالہ اس رسالہ میں آیا ہے، اور ان سے پہلے حوالہ جات کی فہرست درج کر کے ان صفحات کا حوالہ نمبر درج کر دیا ہے۔ ہادی مطلق جل شانہ کی بارگاہ میں التجا ہے کہ اس عجالہ کی ترتیب میں زبان و بیان یا نیت و ارادہ کے اعتبار سے کوئی لغزش و کوتاہی ہوئی ہو تو معاف فرمائیں، اس کو قبول فرما کر اپنی رضا کا وسیلہ بنائیں۔ اور اس کو اپنے بندوں کے لئے رشد و ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ وہو علیٰ کل شئی قدیر۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۰۱۳ / ۱ / ۲۰ ۹۲ / ۷ / ۲۲ء

صفحہ 287

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پہلا باب

مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں

قارئین کرام! جب دو فریق دعا کے ذریعہ اپنا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کریں، اور یہ دعا کریں کہ ”یا اللہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ فرما“ تو اس کو ”مباہلہ“ کہا جاتا ہے۔ اور ”مباہلہ“ کے بعد جو نتیجہ نکلے وہ ”خدائی فیصلہ“ شمار کیا جاتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا مقدمہ کئی بار اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا، اور ہر بار خدائی عدالت سے اس کے خلاف فیصلہ صادر ہوا، چنانچہ :

پہلا مقدمہ :۔ مرزا نے اپنا اور آتھم پادری کا مقدمہ یکطرفہ طور پر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا۔ اور فیصلہ مرزا کے خلاف ہوا۔ اور مرزا کو خدائی فیصلہ کے خلاف غلط اور جھوٹی تاویلات کا سہارا لینا پڑا۔

دوسرا مقدمہ :۔ مرزا نے اپنا اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا مقدمہ، اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا، اور اس مرتبہ بھی فیصلہ اس کے خلاف ہوا۔ ان دونوں مقدموں کی تفصیل آپ آئندہ ابواب میں پڑھیں گے۔

تیسرا مقدمہ :۔ ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو عید گاہ امرتسر کے میدان میں مولانا عبدالحق غزنویؒ کا خود مرزا غلام احمد قادیانی سے رو در رو مباہلہ ہوا، اور دونوں فریقوں نے مل کر دعا کی کہ یا اللہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ فرما۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اول ص

۴۲۶ / ۴۲۷)

مرزا نے یہ اصول بیان کیا کہ مباہلہ کے بعد خدائی فیصلہ کی شکل یہ ہے کہ ”مباہلہ کرنے

صفحہ 288

والوں میں جو فریق جھوٹا ہو سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔“

(ملفوظات ص ۴۴۰ ۔ ۴۴۱ ج ۹) حوالہ نمبر ۶

نتیجہ :۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے بیان کردہ اصول کے مطابق ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا عبدالحق غزنویؒ کی زندگی میں ہلاک ہو گیا۔ اور مولانا غزنویؒ ، مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد ۹ سال تک زندہ سلامت رہے۔ ان کا انتقال ۱۶ مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا۔ حوالہ نمبر ۷

(رئیس قادیان جلد ۲ ص ۱۹۲، تاریخ مرزا ص ۳۸)

پس اللہ تعالیٰ کی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا تھا، اور واقعی دجال و کذاب اور مرتد تھا۔

چوتھا مقدمہ :۔ مرزا کے ایک غالی مرید حافظ محمد یوسف نے ۲ شوال ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۹ اپریل ۱۸۹۳ء کو مولانا عبدالحق غزنویؒ سے مباہلہ کیا۔ مباہلہ اس پر تھا کہ مرزا غلام حوالہ نمبر ۸ احمد اور اس کے دو چیلے حکیم نور دین اور محمد احسن امروہی مسلمان ہیں یا نہیں؟ حافظ محمد یوسف کا کہنا تھا کہ یہ تینوں مسلمان ہیں۔ اور مولانا غزنوی کا کہنا تھا کہ یہ تینوں دجال و کذاب اور مرتد ہیں۔ الغرض مرزا کی وکالت میں حافظ محمد یوسف نے مولانا عبدالحق سے مباہلہ کیا، اور دونوں فریقوں نے مل کر دعا کی کہ یا اللہ! سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ فرما۔ اور مرزا کو جب اس مباہلہ کی اطلاع پہنچی تو اس نے اپنے مرید حافظ صاحب کی تحسین و تصدیق کی، اور اس مباہلہ کی ذمہ داری خود اٹھالی۔

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص ۳۹۶/۳۹۵)

نتیجہ :۔ حافظ محمد یوسف اس مباہلہ کے شکار ہو کر مرزائیت سے تائب ہو گئے۔ اور مسلمان ہو کر مرزائیت کے بخیے ادھیڑنے لگے۔ چنانچہ مرزا کے رسالہ اربعین کا اشتہار نمبر ۳ انہی حافظ محمد یوسف کے نام ہے۔ اس میں مرزا، حافظ صاحب کے بارے میں لکھتا ہے :

”کچھ عقل و فکر میں نہیں آتا کہ حافظ صاحب کو کیا ہو گیا (کچھ نہیں حوالہ نمبر ۹ ہوا، صرف مباہلے کا نتیجہ ظاہر ہوا۔ ناقل) ............. انسان کو اس سے کیا فائدہ کہ اپنی جسمانی زندگی کے لئے اپنی روحانی زندگی پر چھری پھیر دے، میں نے بہت دفعہ حافظ صاحب سے یہ بات سنی تھی کہ وہ میرے

صفحہ 289

مصدقین میں سے ہیں۔ اور مکذب کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہیں۔ اور اسی میں بہت سا حصہ ان کی عمر کا گزر گیا۔ اور اس کی تاکید میں وہ اپنی خوابیں بھی سناتے رہے۔ اور بعض مخالفوں سے انہوں نے مباہلہ بھی کیا۔“

(اربعین نمبر ۳ ص ۲۱ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۴۰۸)

پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مباہلہ کا فیصلہ تھا، جس سے واضح ہو گیا کہ مرزا، اللہ تعالیٰ کی نظر میں واقعی دجال و کذاب تھا۔

پانچواں مقدمہ :- مرزا نے رسالہ ”سرمہ چشم آریہ“ میں آریوں کو مباہلہ کی دعوت دی۔ اور فریقین کے لئے مباہلہ کا مضمون خود لکھ کر شائع کیا جس کو وہ بطور مباہلہ پڑھ کر سنائیں گے، اور یہ بھی قرار دیا کہ مباہلہ کے بعد :

حوالہ نمبر ۲

”پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہوگی۔ پھر اگر برس گزرنے کے بعد مولف (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا، یا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان پانچ سو روپے ٹھہرے گا۔ جس کو برضا مندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے، داخل کر دیا جائے گا۔ اور در حالت غلبہ خود بخود اس روپے کے وصول کرنے کا فریق مخالف مستحق ہوگا۔ اور اگر ہم غالب آئے تو کچھ بھی شرط نہیں کرتے۔ کیونکہ شرط کے عوض میں وہی دعا کے آثار کا ظاہر ہونا کافی ہے۔ اب ہم ذیل میں ہر دو مضمون کاغذ مباہلہ کو لکھ کر رسالہ ہذا کو ختم کرتے ہیں۔“

* (سرمہ چشم آریہ ص ۲۵۱ ۔ روحانی خزائن جلد ۲ ص ۳۰۱)

قارئین کرام ! آگے بڑھنے سے پہلے مرزا کی اس تحریر کے نکات کو اچھی طرح نوٹ کر لیں۔ جو حسب ذیل ہیں :

کہ وہ بھی مباہلہ کا مضمون مرزا کے مقابلہ میں شائع کر دیں۔

صفحہ 290

سال تک فیصلہ کی میعاد ہوگی۔

بھی یہ سمجھا جائے گا کہ مرزا مباہلہ ہار گیا۔ اور اگر فریق مخالف پر اس عرصہ میں عذاب نازل نہ ہوا تب بھی مرزا جھوٹا ثابت ہو گا۔ اور فریق مخالف کے ہارنے کی صرف ایک صورت ہے کہ اس پر ایک برس کے عرصہ میں عذاب و وبال نازل ہو جائے۔

فریق مخالف کو پانچ سو روپے تاوان دے گا، جس کو پیشگی جمع کرانے کے لئے تیار ہے۔ اور اگر فریق مخالف ہار جائے تو مرزا کی طرف سے تاوان کا کوئی مطالبہ نہیں۔ فریق مخالف پر مباہلہ کی بد دعا کے اثر کا ظاہر ہو جانا ہی اس کے لئے کافی تاوان ہے۔

ان چار نکات کو اچھی طرح ذہن میں رکھنے کے بعد اب آگے سنئے! مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ دعوت مباہلہ آریوں کی طرف سے پنڈت لیکھ رام نے قبول کر لی، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب حقیقت الوحی میں لکھتا ہے :

حوالہ نمبر ۷

"واضح ہو کہ میں نے سرمہ چشم آریہ کے خاتمہ میں بعض آریہ صاحبوں کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا...... میری اس تحریر پر پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب "خبط احمدیہ" میں، جو ۱۸۸۸ء میں اس نے شائع کی تھی...... میرے ساتھ مباہلہ کیا (آگے لیکھ رام کا طویل مضمون نقل کیا ہے جس کے اخیر میں لیکھ رام نے لکھا) "اے پرمیشر! ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر، کیونکہ کاذب، صادق کی طرح تیرے حضور عزت نہیں پا سکتا۔" (روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۳۲۶ تا ص ۳۳۲)

نتیجہ :۔ لیکھ رام نے ۱۸۸۸ء میں مرزا کے ساتھ مباہلہ کیا۔ مرزا کی طے کردہ شرط کے مطابق لیکھ رام پر ایک سال میں عذاب نازل ہونا چاہئے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا، لہٰذا لیکھ رام نے مرزا کے مقابلہ میں مباہلہ جیت لیا۔ اور مرزا پنڈت لیکھ رام کے مقابلہ میں بھی جھوٹا ثابت ہوا۔

قارئین کرام! آپ نے مندرجہ بالا تفصیل سے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پانچ مرتبہ پیش ہوا۔ تین مرتبہ مسلمانوں کے

صفحہ 291

مقابلہ میں، ایک مرتبہ عیسائی پادریوں کے مقابلہ میں، اور ایک مرتبہ ہندو آریوں کے مقابلہ میں۔ اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی عدالت نے مرزا کے خلاف فیصلہ دیا۔ اور اسے جھوٹا ٹھہرایا۔ کیا اس کے بعد بھی کسی صاحب عقل کو مرزا کے جھوٹا ہونے میں شبہ ہو سکتا ہے۔

دوسرا باب

مرزا کی چند پیش گوئیاں، جو سچی نکلیں

پہلی پیش گوئی :

مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کو مخاطب کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا :

حوالہ نمبر ۲

” آپ اپنے پرچہ میں ...... میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے۔ ...... اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں، تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ “

(مجموعہ اشتہارات ...... صفحہ ۵۷۸ ، جلد ۳)

نتیجہ :- مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ پیش گوئی حرف بحرف سچی نکلی۔ وہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا مرحوم کی زندگی میں ہلاک ہو گیا۔ اور مولانا مرحوم ۱۹۴۹ء تک سلامت باکرامت رہے۔ ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی بقول خود، اللہ تعالیٰ کی نظر میں مفتری اور کذاب و دجال تھا۔

دوسری پیش گوئی :

اسی اشتہار میں مولانا مرحوم کو مخاطب کر کے لکھا :

”اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں ، آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ “ (ایضاً)

صفحہ 292

نتیجہ :- مرزا کی یہ پیش گوئی بھی سچی ثابت ہوئی۔ مولانا مرحوم مرزا کی زندگی میں بفضل خدا تمام آفات سے محفوظ رہے۔ اور خود مرزا، مولانا کی زندگی میں وبائی ہیضہ کا شکار ہو گیا۔

(حیات ناصر صفحہ ۱۴۔ بحوالہ قادیانی مذہب پہلی فصل نمبر ۸۰)

تیسری پیش گوئی :

مرزا غلام احمد قادیانی کا عبداللہ آتھم پادری کے ساتھ ۱۵ دن تک مناظرہ ہوتا رہا۔ آخری دن ۵ جون ۱۸۹۳ء کو مرزا نے پیش گوئی کی کہ ان کا حریف پندرہ مہینے تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ اسی سلسلہ میں مرزا نے لکھا :

حوالہ نمبر ۱۰

”میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی ...... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔ اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“

(جنگ مقدس ص ۲۱۰۔ ۲۱۱ روحانی خزائن، صفحہ ۲۹۲ / ۲۹۳ جلد - ۶)

نتیجہ :- پیش گوئی کی آخری میعاد ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء تھی، مگر آتھم اس تاریخ تک نہیں مرا، اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ پیش گوئی سچی ثابت ہوئی کہ :

”اگر آتھم پندرہ ماہ کے عرصہ میں بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں جھوٹا ہوں، میرے لئے سولی تیار رکھو۔ اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“

چوتھی پیش گوئی :

مرزا غلام احمد قادیانی کو بقول اس کے الہام ہوا تھا، کہ محمدی بیگم (دختر احمد بیگ ہوشیار پوری) کا شوہر مرزا کی زندگی میں مر جائے گا، اور محمدی بیگم بیوہ ہو کر مرزا کے نکاح

صفحہ 293

میں آئے گی۔ اس سلسلہ میں مرزا نے پیش گوئی کی کہ : حوالہ نمبر ۱۱ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے ۔ اس کی انتظار کرو، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی ۔ اور میری موت آجائے گی۔“

(انجام آتھم، صفحہ ۳۱ حاشیہ)

نتیجہ :- احمد بیگ کا داماد (سلطان محمد) مرزا کی زندگی میں نہیں مرا، بلکہ مرزا کے بعد ایک عرصہ تک زندہ سلامت رہا۔ اس لئے مرزا کی یہ پیش گوئی سو فیصد سچی ثابت ہوئی کہ ”اگر میں جھوٹا ہوں تو احمد بیگ کا داماد میری زندگی میں نہیں مرے گا۔“

پانچویں پیش گوئی :

اسی سلسلہ میں مرزا نے لکھا : حوالہ نمبر ۱۲ ”یاد رکھو ! اگر اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی (یعنی احمد بیگ کا داماد مرزا کی زندگی میں نہ مرا ...... ناقل) تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ ۵۴)

نتیجہ :- یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف سچی نکلی، اور مرزا اپنی پیش گوئی کے مطابق ”ہر بد سے بدتر ٹھہرا۔“

چھٹی پیش گوئی :

حوالہ نمبر ۱۳ مرزا نے پیش گوئی کی تھی کہ آئندہ ایک ایسا زلزلہ آنے والا ہے جو قیامت کا نمونہ ہوگا۔ مرزا نے اس کا نام زلزلۃ الساعۃ رکھا، یعنی ”قیامت کا زلزلہ“ اس کے لئے بہت سے اشتہار جاری کئے۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں یہ بھی لکھا کہ : ”آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیش گوئی نہیں۔ اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، صفحہ ۹۳/۹۲)

صفحہ 294

(روحانی خزائن صفحہ ۲۵۳، جلد ۲۱)

نتیجہ:- مرزا کی یہ کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم اس کی وفات (۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) کے پونے پانچ مہینے بعد ۱۵ اکتوبر ۱۹۰۸ء کو شائع ہوئی۔ اس کی زندگی میں یہ زلزلہ نہ آیا، لہٰذا مرزا کی یہ پیش گوئی حرف بحرف سچی نکلی کہ ”اگر یہ زلزلہ میری زندگی میں نہ آیا تو میں خدا کی طرف سے نہیں، بلکہ جھوٹا ہوں۔“

فائدہ:- مرزا کے مقابلہ میں ایک مسلمان کی پیش گوئی ملاحظہ فرمائیے: جن دنوں مرزا مسلسل اشتہار شائع کر رہا تھا کہ ایک زلزلہ قیامت آنے والا ہے، انہی دنوں ملا محمد بخش حنفی نے مرزا کی تردید میں ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں لکھا کہ ”مجھے نور کشفی سے معلوم ہوا کہ ایسا کوئی زلزلہ نہیں آئے گا۔“ اور یہ کہ ”مرزا قادیانی ہمیشہ کی طرح اس زلزلہ کی پیش گوئی میں بھی ذلیل و رسوا ہو گا۔“ مرزا نے اپنے اشتہار ۱۱ مئی ۱۹۰۵ء کے حاشیہ میں ملا صاحب مرحوم کے اشتہار کا اقتباس نقل کیا ہے، قارئین کرام کی ضیافت طبع کے لئے اس کو ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔

”میں آج ۶ مئی ۱۹۰۵ء کو اس امر کا بڑے زور اور دعویٰ سے اعلان کرتا ہوں اور تمام لوگوں کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ خوفناک اور بجھے ہوئے دلوں کو اطمینان اور تسلی دیتا ہوں کہ قادیانی نے ۵۔۸۔ ۲۱ اور ۲۹ اپریل ۱۹۰۵ء کے اشتہاروں اور اخباروں میں جو لکھا ہے کہ

حوالہ نمبر ۱۴۱

ایک ایسا سخت زلزلہ آئے گا جو ایسا شدید اور خوفناک ہو گا کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔ کرشن قادیانی زلزلہ کے آمد کی تاریخ یا وقت نہیں بتلاتا۔ مگر اس امر پر بہت زور دیتا ہے کہ زلزلہ ضرور آئے گا۔ اس لئے میں ان بھولے بھالے سادہ لوح آدمیوں کو جو قادیانی کی طرف لفاظیوں اور اخباری رنگ آمیزیوں سے خوفناک ہو رہے ہیں، بڑے زور سے اطمینان اور تسلی دیتا ہوا خوشخبری سناتا ہوں کہ خدا کے فضل و کرم سے شہر لاہور وغیرہ میں یہ قادیانی زلزلہ ہرگز نہیں آئے گا!! نہیں آئے گا!!! اور نہیں آئے گا!!! اور آپ ہر طرح اطمینان اور تسلی رکھیں۔ مجھے یہ خوشخبری حقیقی نور الٰہی اور کشف کے ذریعہ دی گئی ہے جو انشاء اللہ بالکل ٹھیک ہو گی۔ میں مکرر سہ کرر کہتا ہوں اور اس نور الٰہی سے جو مجھے بذریعہ کشف دکھلایا گیا ہے، مستفیض ہو کر اور اس

صفحہ 295

کے اعلان کی اجازت پا کر ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ قادیانی ہمیشہ کی طرح اس زلزلہ کی پیش گوئی میں بھی ذلیل و رسوا ہو گا۔ اور خداوند تعالیٰ حضرت خاتم المرسلین شفیع المذنبین کے طفیل سے اپنی گنہگار مخلوق کو اپنے دامن عاطفت میں رکھ کر اس نا رسیدہ آفت سے بچائے گا اور کسی فردِ بشر کا بال تک بیکا نہ ہو گا۔“ (ملا محمد بخش حنفی ...... سیکرٹری انجمن حامی اسلام لاہور)“ (مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی جلد ۳ ص ۵۳۱، ۵۳۲)

قارئین کرام :- یہ چودہویں صدی کے مسیلمہ کذاب مرزا قادیانی کے مقابلے میں ایک سچے مسلمان کی پیش گوئی تھی، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل میں سچی کر دکھائی۔ اور اس پیش گوئی کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی واقعی ذلیل و رسوا ہوا۔ اور خود اپنے اقرار سے جھوٹا ثابت ہوا۔

واللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب

ساتویں پیش گوئی :

قاضی نذر حسین ایڈیٹر اخبار ”قلقل بجنور“ کے نام مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک خط لکھا۔ جو اخبار ”بدر“ قادیان ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔ اس کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیے :

حوالہ نمبر ۱۸۱

”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں۔ اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(اخبار ”بدر“ قادیان نمبر ۲۹، جلد ۲ ۔ ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء) (بحوالہ قادیانی مذہب فصل ساتویں نمبر ۳۹)

صفحہ 296

نتیجہ :- مرزا کی یہ پیش گوئی بھی سو فیصد صحیح نکلی کہ ”اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں ۔“ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام انسان گواہ رہیں کہ مرزا باقرار خود واقعی جھوٹا تھا، جھوٹا تھا، جھوٹا تھا۔

تیسرا باب

مرزا غلام احمد قادیانی کی چند دعائیں جو بارگاہ الہی میں قبول ہوئیں

پہلی دعا :

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۷ اکتوبر ۱۸۹۳ء کے آخر میں لکھا :

”اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے۔ اور اگر اے خداوند یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں

حوالہ نمبر ۱۶۱

تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو تیرے بندہ ابراہیمؑ کے ساتھ اور اسحقؑ کے ساتھ اور اسماعیلؑ کے ساتھ اور یعقوبؑ کے ساتھ اور موسیٰؑ کے ساتھ اور داؤدؑ کے ساتھ اور مسیح ابن مریمؑ کے ساتھ اور خیر الانبیاء محمد صلعم کے ساتھ اور اس امت کے اولیاء کرامؒ کے ساتھ تھی تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعائیں قبول فرما۔

(مجموعہ اشتہارات ...... صفحہ ۱۱۵/ ۱۱۶، جلد ۲)

نتیجہ : قارئین کرام! نہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) مرزا کے نکاح میں آئی، نہ

صفحہ 297

آتھم مرزا کی مقرر کردہ میعاد کے اندر عذاب مہلک میں گرفتار نہ ہوا، معلوم ہوا کہ یہ پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھیں، لہٰذا مرزا کی یہ دعا قبول ہوئی کہ ”اگر یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر“ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا، اللہ تعالیٰ کی نظر میں واقعی مردود و ملعون اور دجال تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا دیا۔

دوسری دعا :

”مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ“ نامی اشتہار میں مرزا نے لکھا:

حوالہ نمبر ۸

”اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ ” آمین“

(مجموعہ اشتہارات ...... صفحہ ۵۷۸ / ۵۷۹ ، جلد ۳)

نتیجہ :- مرزا کی یہ دعا بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور مولانا مرحوم کی زندگی میں مرزا کو ہلاک کر دیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا واقعی اللہ تعالیٰ کی نظر میں مفسد اور کذاب تھا۔ اور رات دن افتراء کرنا اس کا کام تھا۔

تیسری دعا :

اسی اشتہار میں مزید لکھتا ہے :

”میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں

صفحہ 298

در حقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو، مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین ۔ آمین بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ “

”الراقم۔ عبداللہ الصمد میرزا غلام احمد المسیح الموعود عافاہ اللہ واید۔ مرقوم تاریخ ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم ربیع الاول ۱۳۲۵ھ روز دوشنبہ۔“

(ایضاً)

نتیجہ :- حق تعالیٰ شانہ نے مرزا کی یہ دعا بھی قبول فرمائی۔ اور اس دعا کے ایک سال دس دن بعد مرزا کو مولانا مرحوم کی زندگی میں اٹھا لیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا، حق تعالیٰ شانہ کی نگاہ میں در حقیقت مفسد اور کذاب تھا۔ “

مرزا کی دعا قبول ہونے کی مزید تصدیق :

قارئین کرام! اوپر واقعات کی روشنی میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مولانا ثناء اللہ مرحوم کے بارے میں مرزا کی دعا قبول ہوئی۔ لیجئے! اس قبولیت دعا پر مرزا کی الہامی مہر بھی ملاحظہ فرمائیے! مرزا کے ملفوظات جلد ۹ ص ۴۶۸ میں مرزا کا یہ ملفوظ درج ہے :

حوالہ نمبر ۱۷

فرمایا: ”یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اجیب دعوة

صفحہ 299

الداع ۔ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔"

(ملفوظات جلد ۹ ص ۲۶۸)

چوتھا باب

مسیح موعود اور مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود سے کیا مراد ہے؟

قارئین کرام ! مسیح موعود سے مراد ہے وہ مسیح جس کے آخری زمانے میں آنے کا امت سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اور وہ مسیح ابن مریم ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

"یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے۔ اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔"

حوالہ نمبر ۱۸

(ازالہ اوہام ....... صفحہ ۵۵۷، خزائن صفحہ ۴۰۰، جلد ۲)

مرزا مسیح موعود نہیں، پہلا ثبوت :

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ میں مسیح موعود نہیں، نہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ بلکہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود کہے وہ کم فہم ہے اور جو شخص اس مسیح ابن مریم کہے وہ مفتری اور کذاب ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

"علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ"

"اے برادران دین و علمائے شرع متین ! آپ صاحبان میری ان

صفحہ 300

معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پا کر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے۔ کہ میں مثیل مسیح ہوں۔"

(ازالہ اوہام ...... صفحہ ۱۹۰، روحانی خزائن ...... صفحہ ۱۹۲، جلد ۳)

نتیجہ :- مرزا کی مندرجہ بالا دونوں عبارتوں کا نتیجہ دو اور دو چار کی طرح واضح ہے کہ :

لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود نہیں بلکہ جو شخص اس کو مسیح ابن مریم اور مسیح موعود کہے وہ مفتری اور کذاب ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود کا زمانہ نصیب نہیں ہوا، دوسرا ثبوت :

قارئین کرام ! حضرت مسیح علیہ السلام آخری زمانے میں آئیں گے۔ اور آخری صدی کے مجدد ہوں گے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی حدیث پاک کا حوالہ دے کر لکھتا ہے :

پہلا نشان :- قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان الله يبعث لهذه الامة علی راس کل مائة من یجدد لہا دینہا -

(ابو داؤد)

"یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایک شخص مبعوث فرمائے گا جو اس کے لئے دین کو تازہ کرے گا ...... اور ممکن نہیں کہ

صفحہ 301

حوالہ نمبر ۲۰

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلف ہو...... اور یہ بھی اہلسنت کے درمیان متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟ یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے۔ اگر چاہو تو پوچھ لو۔“

(حقیقت الوحی صفحہ ۱۹۳، روحانی خزائن صفحہ ۲۰۰/ ۲۰۱، جلد ۲۲)

قارئین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عبارت میں تین باتیں کہی ہیں:

صدی شروع ہو اور نیا مجدد نہ آئے۔

السلام ہوں گے۔

ہے۔ مگر پندرہویں صدی شروع ہونے کے بعد یہ تیسری بات غلط نکلی۔ کیونکہ حدیث نبویؐ کی رو سے پندرہویں صدی میں بھی مجدد کا آنا ضروری ہے اور اس کے بعد جب سولہویں صدی شروع ہوگی تو اس پر بھی کوئی مجدد ضرور آئے گا۔ یہاں تک آخری صدی پر آخری مجدد مسیح علیہ السلام ہوں گے۔ ثابت ہوا کہ چودہویں صدی میں مرزا کا یہ دعویٰ کہ وہ مسیح موعود ہے، غلط تھا۔ اور مرزا اپنے دعویٰ میں جھوٹا تھا۔

مسیح علیہ السلام دنیا میں چالیس سال رہیں گے، تیسرا ثبوت:

حوالہ نمبر ۲۱

”حدیث میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زمین میں چالیس سال رہیں گے۔“

(حقیقت النبوۃ...... صفحہ ۱۹۲، از مرزا محمود احمد)

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے رسالہ ”نشان آسمانی“ میں شاہ نعمت اللہ ولی کے اشعار کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

”تا چہل سال اے برادر من ـــــــ دور آں شہسوار می بینم

حوالہ نمبر ۲۲

یعنی اس روز سے جو وہ امام ملہم ہوکر اپنے تئیں ظاہر کرے گا چالیس برس تک زندگی کرے گا۔ اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے

صفحہ 302

چالیسویں برس میں دعوت حق کے لئے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے۔ سو اس الہام سے چالیس برس تک مدت ثابت ہوتی ہے۔ جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے۔“

(نشان آسمانی صفحہ ۱۴، روحانی خزائن صفحہ ۳۷۴، جلد ۴)

قارئین کرام ! مرزا کا یہ رسالہ ”نشان آسمانی“ جون ۱۸۹۲ء میں لکھا گیا (جیسا کہ اس کی لوح پر درج ہے) مرزا لکھتا ہے کہ چالیس میں سے دس برس گزر چکے ہیں۔ گویا مسیح موعود کی عمر پوری کرنے کے لئے تیس سال ابھی باقی تھے۔ اب ۱۸۹۲ء میں تیس کا عدد جمع کیجئے تو ۱۹۲۲ء بنتے ہیں، گویا مسیح موعود کی مدت قیام پوری کرنے کے لئے مرزا کو ۱۹۲۲ء تک زندہ رہنا چاہئے تھا۔ مگر افسوس کہ مرزا نے سولہ برس بھی پورے نہ کئے بلکہ مئی ۱۹۰۸ء میں دنیا سے رخصت ہوا۔ معلوم ہوا کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی غلط تھا اور چالیس سال زندہ رہنے کا جو الہام ہوا تھا وہ بھی جھوٹ تھا۔

مسیح علیہ السلام شادی کریں گے، چوتھا ثبوت :

حدیث شریف میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام شادی کریں گے۔

(مشکوٰۃ ...... صفحہ ۴۸۰)

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ”نکاح آسمانی“ کی تائید میں اس حدیث کو پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے :

”اس پیش گوئی (یعنی محمدی بیگم سے مرزا غلام احمد قادیانی کے نکاح آسمانی کی الہامی پیش گوئی ۔ ناقل) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ یتزوج و یولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں، بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان

بقیہ حاشیہ ۲

صفحہ 303

ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۵۳، خزائن جلد ۱۱، صفحہ ۳۳۷)

مرزا کی یہ تحریر ۱۸۹۶ء کی ہے۔ اس وقت تک مرزا کی دو شادیاں ہوچکی تھیں۔ اور ان سے اولاد بھی تھی، مگر مرزا کے بقول وہ عام شادیاں تھیں جن میں کچھ خوبی نہیں۔ وہ خاص شادی جو بطور نشان کے تھی اور جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی، وہ مرزا کو نصیب نہ ہوئی۔ ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مرزا مسیح موعود نہیں تھا۔

صفحہ 304

حوالہ جات

اس رسالہ میں جن کتابوں کے حوالے آئے ہیں ذیل میں ان کی فہرست درج ہے، اور اس کے بعد حوالے کے صفحات کا عکس دیا جا رہا ہے۔

حوالہ نمبر کتاب کا نام حوالہ نمبر ۱ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۴۴۶، ۴۴۷ حوالہ نمبر ۲ ملفوظات ص ۴۴۰، ۴۴۱ ج ۹ حوالہ نمبر ۳ رئیس قادیان ج ۲ ص ۱۹۲ حوالہ نمبر ۴ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۳۹۵، ۳۹۶ حوالہ نمبر ۵ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۰۸ حوالہ نمبر ۶ سرمہ چشم آریہ ص ۲۵۱ ۔ روحانی خزائن ج ۲ ص ۳۰۱ حوالہ نمبر ۷ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۳۲۶ تا ص ۳۳۲ حوالہ نمبر ۸ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۷۸ حوالہ نمبر ۹ حیات ناصر ص ۱۴ بحوالہ قادیانی مذہب فصل اول نمبر ۸۰ حوالہ نمبر ۱۰ جنگ مقدس ص ۲۱۰، ۲۱۱ ۔ روحانی خزائن ج ۶ ص ۲۹۲، ۲۹۳ حوالہ نمبر ۱۱ انجام آتھم ص ۳۱ حاشیہ حوالہ نمبر ۱۲ ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴ حوالہ نمبر ۱۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۲، ۹۳ ۔ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۵۳ حوالہ نمبر ۱۴ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۴۱، ۵۴۲ حوالہ نمبر ۱۵ اخبار ”بدر“ قادیان نمبر ۔ ۲۹ جلد ۔ ۲۔ ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء ص ۴۔ بحوالہ قادیانی مذہب فصل ۷ نمبر ۳۹ حوالہ نمبر ۱۶ مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۱۱۵، ۱۱۶ حوالہ نمبر ۱۷ ملفوظات ج ۹ ص ۴۶۸ حوالہ نمبر ۱۸ ازالہ اوہام ص ۵۵۷ ۔ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۰۰ حوالہ نمبر ۱۹ ازالہ اوہام ص ۹۰ ۔ روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۹۲ حوالہ نمبر ۲۰ حقیقت الوحی ص ۱۹۳۔ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۰، ۲۰۱ حوالہ نمبر ۲۱ حقیقت النبوۃ ص ۱۹۲۔ از مرزا محمود حوالہ نمبر ۲۲ نشان آسمانی ص ۱۴۔ روحانی خزائن ج ۴ ص ۳۷۴ حوالہ نمبر ۲۳ ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ ۔ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۳۳۷

صفحہ 305

حوالہ نمبر ۱ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۴۲۶ ، ۴۲۷ ۴۲۶

مکفرین کو کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اگر بعد اس کے مکفرین نے مباہلہ نہ کیا اور نہ تکفیر سے باز آئے تو ہماری طرف سے اُن پر حجت پوری ہو گئی۔ بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ مباہلہ سے پہلے ہمارا حق ہوگا کہ ہم مکفرین کے سامنے جلسہ عام میں اپنے اسلام کے وجوہات پیش کریں۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ ۔

المشـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتہر خاکسار میرزا غلام احمد۔ ۲۰ شوال ۱۳۱۱ھ (مطابق مئی ۱۸۹۴ء) (مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر) (یہ اشتہار ۲۰×۲۶ کے ایک صفحہ پر ہے) (یہ اشتہار رسالہ سچائی کا اظہار مطبوعہ بار اول ریاض ہند پریس امرتسر کے صفحہ ۱۰ پر بھی طبع ہوا ہے)

(۱۱۲)

اعلان عام

بسم الله الرحمن الرحیم ۔ نحمده و نصلی علی رسولہ الکریم ان الله مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون ۱؎

اس مباہلہ کی اہل اسلام کو اطلاع

جو دہم ذیقعد روز شنبہ کو بمقام امرتسر عید گاہ متصل مسجد اٹھ پہلو حاجی محمد شاہ صاحب مرحوم ہوگا

اے برادران اہل اسلام کل دہم ذیقعد روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان میاں عبدالحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ

۱؎ النحل : ۱۲۹

صفحہ 306

۴۲۷

اس عاجز کو کافر اور دجال اور بیدین اور دشمن اللہ جلشانہ اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا سمجھتے ہیں۔ اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعہ کفریات خیال کرتے ہیں۔ اور اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور رسول کی راہ میں فدا کئے بیٹھا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کی درخواست پر یہ مباہلہ تاریخ مذکورہ بالا میں قرار پایا ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کی بددعا کرنے کے وقت بعض اور مسلمان بھی حاضر ہو جائیں کیونکہ میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر میری تالیفات ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہیں اور نہ میں کافر ہوں۔ اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول صلے اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ سے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کافر بے ایمان پر نہ کی ہو۔ اور آپ لوگ آمین کہیں۔ کیونکہ اگر میں کافر ہوں اور نعوذ باللہ دین اسلام سے مرتد اور بے ایمان تو نہایت بُرے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے اور میں ایسی زندگی سے ہزار دل بیزار ہوں۔ اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کر دے گا۔ وہ میرے دل کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے مخالفوں کے دل کو بھی۔ بڑے ثواب کی بات ہوگی اگر آپ صاحبان کل دہم ذیقعدہ کو دو بجے کے وقت عیدگاہ میں مباہلہ پر آمین کہنے کے لئے تشریف لائیں۔ والسلام

خاکسار غلام احمد قادیانی عفی اللہ عنہ ۹ ذیقعدہ ۱۳۱۶ھ

(مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر) (یہ اشتہار ۲۰ × ۲۶ کے ایک صفحہ پر ہے)

صفحہ 307

حوالہ نمبر ۲ ملفوظات ص ۴۴۰ ، ۴۴۱ ج ۹

۴۴۰

۲۱؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء

(بوقت سیر)

ہماری جماعت کے ایک شخص نے کسی غیر احمدی کا سوال پیش کیا کہ آپ نے اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاتا ہے۔ یہ درست نہیں کیونکہ مسیلمہ کذاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فوت ہوا تھا۔

حضرت اقدس نے فرمایا :۔

یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔ ہم نے تو اپنی تصانیف میں ایسا نہیں لکھا۔ لاؤ پیش کرو وہ کونسی کتاب ہے جس میں ہم نے ایسا لکھا ہے۔

صرف جھوٹا نہیں بلکہ جھوٹا مباہلہ کرنیوالا سچے کی زندگی میں

ہلاک ہوتا ہے

ہم نے تو یہ لکھا ہوا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ مسیلمہ کذاب نے تو مباہلہ کیا ہی نہیں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا فرمایا تھا کہ اگر تو میرے بعد زندہ بھی رہا تو ہلاک کیا جائے گا سو ویسا ہی ظہور میں آیا مسیلمہ کذاب تھوڑے ہی عرصہ بعد قتل کیا گیا اور پیشگوئی پوری ہوئی۔

یہ بات کہ سچا جھوٹے لے کی زندگی میں مر جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہی ہلاک ہو گئے تھے؟ بلکہ ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے تھے۔ ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے۔ ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے اور مخالفوں کے وجود کا قیامت تک ہونا ضروری ہے جیسے وجاعل الذین اتبعوك فوق الذین

لے کاتب کی غلطی ہے۔ دراصل یہ فقرہ یوں ہونا چاہیے: ”یہ بات کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے“ چنانچہ سیاق و سباق میں اس کی وضاحت موجود ہے (مرتب)

صفحہ 308

۴۴۱

كَفَرُوا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؂۱ سے ظاہر ہے۔ ہم تو ایسی باتیں سُن سُن کر حیران ہوتے ہیں۔ دیکھو ہماری باتوں کو کیسے اُلٹ پلٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال حاصل کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں۔ کیا یہ کسی نبی ولی قطب غوث کے زمانہ میں ہوا کہ اس کے سب اعداء مر گئے ہوں؟ بلکہ کافر منافق باقی رہ ہی گئے تھے۔ ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ سچے کے ساتھ جو جھوٹا مباہلہ کرتے ہیں تو وہ سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں جیسے کہ ہمارے ساتھ مباہلہ کرنے والوں کا حال ہو رہا ہے۔

جماعت کو خود سوچکر ایسے سوالوں کا جواب دینا چاہئیے

مجھے تو اپنی جماعت پر افسوس ہوتا ہے کہ کیا ان میں اتنی عقل بھی نہیں۔ کہ ایسے اعتراض کرنے والے سے پوچھیں کہ یہ ہم نے کہاں لکھا ہے کہ بغیر مباہلہ کرنے کے ہی جھوٹے سچے کی زندگی میں تباہ اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ وہ جگہ تو نکالو جہاں یہ لکھا ہے ہماری جماعت کو چاہئیے کہ عقل میں فہم میں ہر طرح سے ترقی کریں اور ایسی باتوں کا خود سوچ کر جواب دیا کریں اور اپنی ایمانی روشنی سے ان باتوں کو حل کیا کریں۔ مگر دنیا داری کے دھندوں میں مت ماری جاتی ہے۔ اتنا نہیں کر سکتے کہ معترض سے ہماری کتاب کی وہ جگہ ہی پوچھیں جہاں یہ لکھا ہے کہ سچے کی زندگی میں سب جھوٹے مر جاتے ہیں۔ بلکہ جھوٹے تو قیامت تک رہیں گے۔

جماعت کے واعظوں کو حضرت اقدس کی کتب کا

بہت مطالعہ کر لینا چاہئیے

فرمایا :- اس تحریک سے مجھے یہ بھی یاد آ گیا ہے کہ وہ لوگ جو اشاعت اور تبلیغ کے واسطے باہر جاویں۔ وہ ایسے نہ ہوں کہ اُلٹ پلٹ کر ہماری باتوں کو کچھ اور کا اور ہی بناتے پھریں

؂۱ آل عمران : ۵۶

صفحہ 309

حوالہ نمبر ۳ رئیس قادیان ج ۲ ص ۱۹۲

۱۹۲

مبارک احمد مر گیا۔ اس کے بعد الہامی صاحب خود بھی مولوی عبدالحق کی زندگی میں طعمہ اجل ہو کر ان کے برحق ہونے کی عملی تصدیق کر گئے۔ کیونکہ الہامی صاحب نے خود لکھا تھا کہ مباہلہ کرنیوالوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔

(اخبار الحکم قادیاں ۱۰۔ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۹)

یاد رہے کہ قادیانی صاحب ۲۶۔ مئی ۱۹۰۸ء کو بمقام لاہور مرض ہیضہ میں گرفتار ہو کر مولوی عبدالحق مرحوم کی زندگی میں گیارہ گھنٹہ کے اندر چل بسے تھے اور مولوی صاحب اپنے حریف کے نذر اجل ہونے کے بعد نو سال تک نہایت خوشگوار اور پرعافیت زندگی بسر کر کے ۱۶۔ مئی ۱۹۱۷ء کو راہی عالم آخرت ہوئے۔ والحمد للہ علیٰ ذلک۔

(دیکھئے ! ادیان حقہ جلد ۲ ص ۴۰)

باب ۵۔ رمضان المبارک میں خسوف و کسوف کا اجتماع

اور رئیس قادیاں کی موقع شناسی

قادیانی صاحب کی عادت تھی کہ کیسی ہی صحیح متفق علیہ حدیث نبوی کیوں نہ ہو۔ اگر ان کی خانہ ساز مسیحیت یا نفسانی خواہشات کے خلاف نظر آتی تو سخت مارقانہ طریق پر اس کو پس پشت ڈال دیتے۔ نہایت بیباکی کے ساتھ اس پر اپنی ملحدانہ تاویل کاری کی ملمع سازی شروع کر دیتے لیکن اگر کسی روایت کو ذرا بھی مفید مطلب پاتے تو خواہ کیسی ہی ضعیف بلکہ موضوع اور من گھڑت کیوں نہ ہو اس سے استدلال کر کے اسے اپنا آلہ کار بناتے اور غوغا رائی کا طوفان برپا کر دیتے۔ چنانچہ رمضان میں خسوف و کسوف کے اجتماع کی لغو و موضوع روایت اس کی روشن مثال ہے۔

چونکہ الہامی صاحب کی ذات میں حضرت مہدی علیہ السلام کی علامات محققہ میں سے ایک علامت بھی نہیں پائی جاتی تھی اور نیز اس وجہ سے کہ سچے مہدی علیہ السلام کی ایک علامت حدیثوں میں یہ لکھی ہے کہ وہ دول یورپ کی متحدہ افواج کو منہدم و پامال کر دیں گے۔ الہامی صاحب کو انگریز کے خوف سے ابتداءً مہدویت کا دعویٰ کرنے کی جرأت نہ ہوئی بلکہ سرے سے ان صحیح حدیثوں کی صحت ہی کے منکر رہے جو حضرت مہدی علیہ السلام کے متعلق ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ وغیرہ کتب حدیث میں مروی ہیں۔ چنانچہ کتاب ازالہ اوہام (طبع پنجم صفحہ ۱۹۰) میں جو ۳۔ ستمبر ۱۸۹۱ء کو شائع ہوئی لکھا کہ محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔ ۱۸۹۱ء سے پہلے ان کی حالت برابر مذبذب رہی۔ کبھی تو مہدی بن بیٹھتے اور کبھی بخوف حکومت نہ صرف اپنی مہدویت سے انکار کر دیتے بلکہ ان حدیثوں کی صحت ہی کے منکر ہو جاتے جو حضرت مہ

صفحہ 310

حوالہ نمبر ۴ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۳۹۵، ۳۹۶

۳۹۵

دیں کہ یہ پیشگوئی کیوں پوری ہوئی۔ کیا یہ استدراج ہے یا نجوم ہے یا اٹکل ہے۔ اور کیا سبب ہے کہ خدا تعالیٰ بقول آپ کے ایک دجال کی ایسی پیشگوئیاں پوری کرتا جاتا ہے جن سے اُن کی سچائی کی تصدیق ہوتی ہے۔

الراقم ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور (یہ اشتہار ۲۰ × ۲۶ کے دو صفحوں پر ہے) (مطبوعہ تہذیب پریس سیالکوٹ)

(۱۰۳)

اشتہار مُبَاہَلَۂ

میاں عبدالحق غزنوی و حافظ محمد یوسف صاحب

ناظرین کو معلوم ہوگا کہ کچھ تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ غزنوی صاحبوں کی جماعت میں سے جو امرتسر میں رہتے ہیں۔ ایک صاحب عبدالحق نام نے اس عاجز کے مقابلہ پر مباہلہ کے لئے اشتہار دیا تھا۔ مگر چونکہ اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ لوگ کلمہ گو اور اہل قبلہ ہیں۔ ان کو لعنتوں کا نشانہ بنانا جائز نہیں۔ اس لئے اس درخواست کے قبول کرنے سے اس وقت تک تامل رہا جب تک کہ ان لوگوں نے کافر ٹھہرانے میں اصرار کیا۔ اور پھر تکفیر کا فتوےٰ تیار ہونے کے بعد اس طرف سے بھی مباہلہ کا اشتہار دیا گیا۔ جو کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ بھی شامل ہے اور ابھی تک کوئی شخص مباہلہ کے لئے مقابلہ پر نہیں آیا۔ مگر مجھ کو

لے یہ اشتہار جلد ہذا میں زیر نمبر ۵۹ صفحہ ۳۴۲ پر درج ہے۔ (المرتب)

صفحہ 311

۳۹۶

اس بات کے سُننے سے بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے ایک معزز دوست حافظ محمد یوسف صاحب نے ایمانی جوانمردی اور شجاعت کے ساتھ ہم سے پہلے اس ثواب کو حاصل کیا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حافظ صاحب اتفاقاً ایک مجلس میں بیان کر رہے تھے کہ مرزا صاحب یعنی اس عاجز سے کوئی آمادہ مناظرہ یا مباہلہ نہیں ہوتا۔ اور اسی سلسلہ گفتگو میں حافظ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالحق نے جو مباہلہ کے لئے اشتہار دیا تھا جبکہ وہ اپنے تئیں سچا جانتا ہے تو میرے مقابلہ پر آوے۔ میں اس سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ تب عبدالحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا۔ حافظ صاحب کے غیرت دلانے والے لفظوں سے طوعاً و کرہاً مستعد مباہلہ ہو گیا اور حافظ صاحب کا ہاتھ آکر پکڑ لیا کہ میں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں۔ مگر مباہلہ فقط اس بارہ میں کروں گا کہ میرا یقین ہے۔ کہ مرزا غلام احمد و مولوی حکیم نورالدین اور مولوی محمد احسن یہ تینوں مرتدین اور کذابین اور دجالین ہیں۔ حافظ صاحب نے فی الفور بلا تامل منظور کیا کہ میں اس بارہ میں مباہلہ کروں گا۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا۔ اور گواہان مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں نبی بخش صاحب اور میاں عبد الہادی صاحب اور میاں عبدالرحمٰن صاحب عمر پوری قرار پائے۔ اور بموجب دستور مباہلہ فریقین اپنے اپنے نفس پر لعنتیں ڈال چکے اور اپنے منہ سے کہہ چکے کہ یا الٰہی اگر ہم اپنے بیان میں سچائی پر نہیں تو ہم پر تیری لعنت نازل ہو۔ یعنی کسی قسم کا عذاب ہم پر وارد ہو۔ تب حافظ صاحب نے عبدالحق سے دریافت کیا کہ اس وقت میں بھی اپنے آپ پر بحالت کاذب ہونے کے لعنت ڈال چکا اور خدا تعالیٰ سے عذاب کی درخواست کر چکا۔ اور ایسا ہی تم بھی اپنے نفس پر اپنے ہی منہ سے لعنت ڈال چکے اور بحالت کاذب ہونے کے عذاب الٰہی کی اپنے لئے درخواست کر چکے۔ لہٰذا اب میں تو اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس لعنت اور اس عذاب کی درخواست کا اثر مجھ پر وارد ہوا۔ اور کوئی ذلت اور رسوائی مجھ کو پیش آگئی تو میں اپنے اس

صفحہ 312

حوالہ نمبر ۵ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۰۸

اربعین نمبر ۴ ۴۰۸

وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ حافظ صاحب بھی بار بار ان دونوں ۲۱ قصوں کو بیان کرتے تھے۔ اور ہنوز وہ ایسے پیر فرتوت نہیں ہوئے تا یہ خیال کیا جائے کہ پیرانہ سالی کے تقاضا سے قوت حافظہ جاتی رہی۔ اور آٹھ سال سے زیادہ مدت ہو گئی جب مَیں حافظ صاحب کی زبانی مولوی عبداللہ صاحب کے مذکورہ بالا کشف کو ازالہ اوہام میں شائع کر چکا ہوں۔ کیا کوئی عقل مند مان سکتا ہے کہ مَیں ایک جھوٹی بات اپنی طرف سے لکھ دیتا اور حافظ صاحب اس کتاب کو پڑھ کر پھر خاموش رہتے۔ کچھ عقل و فکر میں نہیں آتا کہ حافظ صاحب کو کیا ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی مصلحت سے عمداً گواہی کو چھپاتے ہیں اور نیک نیتی سے ارادہ رکھتے ہیں کہ کسی اور موقعہ پر اس گواہی کو ظاہر کر دونگا۔ مگر زندگی کتنے روز ہے۔ اب بھی اظہار کا وقت ہے۔ انسان کو اس سے کیا فائدہ کہ اپنی جسمانی زندگی کے لئے اپنی روحانی زندگی پر چھری پھیر دے۔ مَیں نے بہت دفعہ حافظ صاحب سے یہ بات سُنی تھی کہ وہ میرے مصدقین میں سے ہیں اور کذب کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہیں اور اِسی میں بہت سا حصہ اُن کی عمر کا گزر گیا اور اس کی تائید میں وہ اپنی خوابیں بھی سُناتے رہے اور بعض مخالفوں سے انہوں نے مباہلہ بھی کیا۔ مگر کیوں پھر دنیا کی طرف جھک گئے۔ لیکن ہم اب تک اس بات سے نومید نہیں ہیں کہ خدا ان کی آنکھیں کھولے اور یہ امید باقی ہے جب تک کہ وہ اسی حالت میں فوت نہ ہو جائیں۔

اور یاد رہے کہ خاص موجب اس اشتہار کے شائع کرنے کا وہی ہیں کیونکہ ان دنوں میں سب سے پہلے اُنہی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قرآن کی یہ دلیل کہ ”اگر یہ نبی جھوٹے طور پر وحی کا دعویٰ کرتا تو مَیں اس کو ہلاک کر دیتا“ یہ کچھ چیز نہیں ہے بلکہ بہتیرے ایسے مفتری دنیا میں پائے جاتے ہیں جنہوں نے تئیس ۲۳ برس

۶۶

صفحہ 313

حوالہ نمبر ۶ سرمہ چشم آریہ ص ۲۵۱ ۔ روحانی خزائن ج ۲ ص ۳۰۱ سرمہ چشم آریہ ۲۵۱ مباحثہ دینی

میں بیان کی گئی ہیں اُن کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارہ میں ہم سے مباہلہ کر لیں اور کوئی مقام مباہلہ کا برضا مندی فریقین قرار پا کر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اس جگہ حاضر ہو جائیں اور ہر ایک فریق مجمع عام میں اُٹھ کر اس مضمون مباہلہ کی نسبت جو اس رسالہ کے خاتمہ میں بطور نمونہ اقرار فریقین قلم جلی سے لکھا گیا ہے تین مرتبہ قسم کھا کر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی پر نہیں تو ہم پر اِسی دُنیا میں وبال اور عذاب نازل ہو۔ غرض جو جو عبارتیں ہر دو کاغذ مباہلہ میں مندرج ہیں۔ جو جانبین کے اعتقاد میں بحالت دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کے شرط پر اُن کی تصدیق کرنی چاہیئے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہو گی پھر اگر برس گزرنے کے بعد مؤلفِ رسالہ ہٰذا پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریفِ مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان پانسو روپیہ ٹھہرے گا جس کو برضا مندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے داخل کر دیا جائے گا اور در حالت غلبہ

صفحہ 314

حوالہ نمبر ۷ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۳۲۶ تا ص ۳۳۲ بعض اعتراضوں کے جواب ۳۲۶ حقیقۃ الوحی

۲۱۲ اور یہ پیشگوئی کہ وہ دجال کو قتل کریگا اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے ظہور سے دجالی فتنہ رو بزوال ہو جائیگا اور خود بخود کم ہوتا جائیگا اور دانشمندوں کے دل توحید کی طرف پلٹا کھا جائیں گے۔ واضح ہو کہ دجال کے لفظ کی دو تعبیریں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ دجال اُس گروہ کو کہتے ہیں جو جھوٹ کا حامی ہو اور مکر اور فریب سے کام چلاوے۔ دوسری یہ کہ دجال شیطان کا نام ہے جو ہر ایک جھوٹ اور فساد کا باپ ہے۔ پس قتل کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اس شیطانی فتنہ کا ایسا استیصال ہوگا کہ پھر قیامت تک کبھی اس کا نشو و نما نہیں ہو گا گویا اس آخری لڑائی میں شیطان قتل کیا جائے گا۔

اور یہ پیشگوئی کہ مسیح موعود بعد وفات کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں داخل ہوگا اس کے یہ معنی کرنا کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھودی جائے گی یہ جسمانی خیال کے لوگوں کی غلطیاں ہیں جو گستاخی اور بے ادبی سے بھری ہوئی ہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسیح موعود مقام قرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر ہوگا کہ موت کے بعد وہ اس رتبہ کو پائیگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کا رتبہ اسکو ملے گا اور اُسکی رُوح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوح سے جاملے گی۔ گویا ایک قبر میں ہیں اصل معنے یہی ہیں جس کا جی چاہے دوسرے معنے کرے۔ اس بات کو روحانی لوگ جانتے ہیں کہ موت کے بعد جسمانی قرب کچھ حقیقت نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رُوحانی قرب رکھتا ہے اُس کی رُوح آپ کی رُوح سے نزدیک کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِيْ لے

اور یہ پیشگوئی کہ وہ قتل نہیں کیا جائیگا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خاتم الخلفاء کا قتل ہونا موجب ہتک اسلام ہے اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قتل سے بچائے گئے۔

۷۳ نشان ۔ یہ عظیم الشان نشان لیکھرام کا مباہلہ ہے۔ واضح ہو کہ میں نے سرمہ چشم آریہ

لے الفجر : ۳۰ - ۳۱ ۳۲۶

صفحہ 315

حقيقة الوحی ۳۲۷ بعض اعتراضوں کے جواب

۲۱۴ کے خاتمہ میں بعض آریہ صاحبوں کو مباہلہ کیلئے بلایا تھا اور لکھا تھا کہ جو تعلیم وید کی طرف منسوب کی جاتی ہے صحیح نہیں ہے اور جو تکذیب قرآن شریف کی آریہ صاحبان کرتے ہیں اُس تکذیب میں وہ کاذب ہیں۔ اگر انکو دعویٰ ہے کہ یہ تعلیم جو وید کی طرف منسوب کی جاتی ہے سچی ہو اور یا نعوذ باللہ قرآن شریف منجانب اللہ نہیں تو وہ مجھ سے مباہلہ کرلیں۔ اور لکھا گیا تھا کہ سب سے پہلے مباہلہ کیلئے لالہ مرلی دھر صاحب ہیں جن سے بمقام ہوشیار پور بحث ہوئی تھی۔ پھر بعد اس کے ہمارے مخاطب لالہ جیون داس سکریٹری آریہ سماج لاہور ہیں اور پھر کوئی اور دو ستّر صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں۔

میری اِس تحریر پر پنڈت لیکھرام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ میں جو ۱۸۸۹ء میں اُس نے شائع کی تھی جیسا کہ اس کتاب کے اخیر میں یہ تاریخ درج ہے میرے ساتھ مباہلہ کیا چنانچہ وہ مباہلہ کیلئے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے صفحہ ۳۴۴ میں بطور تمہید یہ عبارت لکھتا ہے :-

چونکہ ہمارے مکرم و معظم ماسٹر مرلی دھر صاحب و منشی جیون داس صاحب بسبب کثرت کام سرکاری کے عدیم الفرصت ہیں بنا برایں اپنے اوتشاہ اور اُن کے ارشاد سے اس خدمت کو بھی نیاز مند نے اپنے ذمہ لیا۔ پس کسی دانا کے اس مقولہ پر کہ دروغگورا تا بدروازہ باید رسانید عمل کرکے مرزا صاحب کی اس آخری التماس کو بھی (یعنے مباہلہ کو)

٭ یہ ظاہر ہے کہ مباہلہ کی دو چار سطر کے لئے کسی فرصت کی ضرورت نہ تھی مباہلہ کا خلاصہ تو صرف یہ فقرہ ہے کہ اپنا اور فریق ثانی کا نام لیکر خدا تعالیٰ سے یہ دُعا کریں کہ جو شخص ہم میں سے جھوٹا ہے وہ ہلاک ہو۔ پس کیا ماسٹر مرلی دھر اور منشی جیون داس کو اتنی کم فرصتی تھی کہ یہ دو سطر بھی نہیں لکھ سکتے تھے۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ دونوں سچ کے مقابل پر ڈر گئے اور لیکھرام اپنی بدقسمتی سے شوخ دیدہ اور اندھا آدمی تھا اُس نے اپنی فطرتی شوخی سے اُن کی بلا اپنے ذمہ لے لی آخر مباہلہ کے بعد ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء بروز شنبہ اِسی دنیا سے کوچ کر گیا۔ منہ

۳۲۸

صفحہ 316

بعض اعتراضوں کے جواب ۳۳۲ حقیقۃ الوحی

۳۱۷ آسمان یا عرش پر نہیں بلکہ سرب بیاپک ہے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ وید ہی سب سے کامل اور مقدس گیان کے پُستک ہیں۔ آریہ ورت سے ہی تمام دنیا نے فضیلت سیکھی۔ آریہ لوگ ہی سب کے اُستادِ اوّل ہیں۔ آریہ ورت سے باہر جو بقول مسلمانوں کے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ہر ہزار سال سے آئے ہیں اور توریت ۔ زبور ۔ انجیل ۔ قرآن وغیرہ کتب لائے ہیں میں دلی یقین سے اُن پُستکوں کو مطالعہ کرنے سے اور سمجھنے سے ..... اُن کی تمام مذہبی ہدایتوں کو بناوٹی اور جعلی اصلی الہام کے بدنام کرنیوالی تحریریں خیال کرتا ہوں ..... اُن کی سچائی کی دلیل سوائے طمع یا نادانی یا تلوار کے اُنکے پاس کوئی نہیں ..... اور جس طرح مَیں اودیا اور راستی کے برخلاف باتوں کو غلط سمجھتا ہوں ایسا ہی قرآن اور اُسکے اصولوں اور تعلیموں کو جو وید کے مخالف ہیں اُن کو غلط اور جھوٹا جانتا ہوں [ لعنة الله علی الکاذبین ] لیکن میرا دُوسرا فریق مرزا غلام احمد جو وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا اور اُسکی سب تعلیموں کو درست اور صحیح سمجھتا ہے۔ اور جس طرح مَیں قرآن وغیرہ کو پڑھ کر غلط سمجھتا ہوں ویسے ہی وہ اُمّی محض سنسکرت اور ناگری سے محروم مطلق بغیر پڑھنے یا دیکھنے ویدوں کے ویدوں کو غلط سمجھتا ہے اُ اے پرمیشر ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔

راقم آپکا ازلی بندہ لیکھرام شرما سبھاسد آریہ سماج پشاور

حال ایڈیٹر آریہ گزٹ فیروز پور پنجاب ۔

* حاشیہ ۔ اگر مَیں نے وید نہیں پڑھے بھلا یہ تو غنیمت ہے کہ لیکھرام نے چاروں وید کنٹھ کر لئے تھے اسجگہ بھی بجز لعنة الله علی الکاذبین کیا کہہ سکتے ہیں۔ بحث اصولوں پر ہوتی ہے جبکہ آریہ سماج والوں نے اپنے ہاتھ سے وید کے اصول شائع کر دئے تو اُن پر بحث کرنا ہر ایک عقلمند کا حق ہوا اور یہ سراسر غلط ہے کہ میں نے وید نہیں پڑھا۔ میں نے وید کے وہ ترجمے جو ملک میں شائع ہوئے اوّل سے آخر تک دیکھے ہیں۔ پنڈت دیانند کا وید بھاش بھی دیکھا ہوا ہے اور عرصہ قریباً پچیس ۲۵ سال سے برابر آریوں سے میرے مباحثات ہوتے رہے ہیں پھر یہ کہنا کہ وید کی مجھے کچھ بھی خبر نہیں کس قدر جھوٹ ہے ! ذرا اگر آریہ صاحبوں کے پنڈت اِنہی لیکھرام کو وید کا فاضل تسلیم کر چکے ہیں تو مَیں وہ سرٹیفکیٹ دیکھنے کا مشتاق ہوں بلکہ لیکھرام کا رتبہ ذرا بھی اس سے بڑھ کر نہیں جو خدا نے اُسکے لئے فرمایا عجل جسد لہ خوار ۔ منہ

۳۳۲

صفحہ 317

حوالہ نمبر ۸ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۷۸، ۵۷۹ ۵۷۸ (۲۷۶)

مولوی ثناء اللہ صاحب (امرتسری) کے ساتھ آخری فیصلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُهٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ يَسْتَنْبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ؕ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ١ ؎

بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الھدےٰ۔ مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذّاب، دجّال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں، اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذّاب اور دجّال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دُکھ اُٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ مَیں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کرکے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہوسکتا اگر میں ایسا ہی کذّاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جائوں گا کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذّاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔ اور اگر مَیں کذّاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو مَیں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو مَیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ۔ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں محض دُعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔ اور مَیں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود

١ ؎ یونس : ۵۴

صفحہ 318

حوالہ نمبر ۸۰ حیات ناصر ص ۱۴ بحوالہ قادیانی مذہب فصل اول نمبر ۸۰

فصل پہلی قادیانی مذہب ۱۳۷

کر بیٹھے تھے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ پشت کے بل چار پائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چار پائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔ اس پر میں نے گھبرا کر کہا ” اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے ۔“ تو آپ نے کہا کہ یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا ۔ خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھ گئیں تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشا ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ”ہاں“

(سیرۃ المہدی حصہ ۱ ص ۱۵ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی)

(۸۰) ہیضہ کا واقعہ (م ۱)

آج کل ہمارے گھر کے لوگ بمقام چھاؤنی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی اپنے والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر کے پاس بود و باش رکھتے ہیں۔

(اشتہار واجب الاظہار منجانب میر ناصر نواب صاحب مؤرخہ ۱۶ مارچ ۱۹۰۶ء مندرجہ تبلیغ رسالت

جلد اول ص ۱۷۷ مؤلفہ قاسم علی صاحب قادیانی)

ابتداء میں جب کہیں حضرت (مرزا) صاحب باہر تشریف لے جاتے تھے تو مجھے گھر کی حفاظت اور قادیان کی خدمت کے لیئے چھوڑ جاتے تھے اور آخر زمانہ میں جب کہیں سفر کرتے تھے اور گھر کے لوگ ہمراہ ہوتے تھے تو بندہ بھی ہم رکاب ہوتا تھا چنانچہ جب آپ لاہور تشریف لے گئے جس سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آیا۔ تب بھی بندہ آپ کے ہمراہ تھا اور اس شام کی سیر میں بھی شریک تھا۔ جس کے دوسرے روز آپ نے قبل از دوپہر انتقال فرمایا انا للہ و انا الیہ راجعون اب بڑی اور سخت تبدیلی میرے حال میں پیدا ہوئی اور ایسی سخت مصیبت نازل ہوئی کہ جس کی تلافی بہت مشکل ہے اللہ تعالیٰ کے سوا میری تکلیف کو کوئی نہیں جان سکتا۔

حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا جب میں حضرت (مرزا) صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ”میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہانتک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔

(مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے خسر میر ناصر صاحب قادیانی کے خود نوشتہ حالات مندرجہ حیات ناصر

ص ۱۴ مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب قادیانی)

(۸۱) ہانگ کانگ سے ایک مبلغ نے لکھا ہے کہ یہاں بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت

صفحہ 319

حوالہ نمبر ۱۰ جنگ مقدس ص ۲۱۰، ۲۱۱ - روحانی خزائن ج ۶ ص ۲۹۲، ۲۹۳ اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۲ ۵ جون ۱۸۹۳ء

جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دِنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاویگا اور اسکو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرلے اور جو شخص سچ پر ہو اور سچے خدا کو مانتا ہو اُسکی اِس سے عزّت ظاہر ہوگی اور اُسوقت جب یہ پیشینگوئی ظہور میں آویگی بعض اندھے سُوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سُننے لگیں گے ۔

اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے سو الحمد للہ والمنۃ کہ اگر یہ پیشینگوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظہور نہ فرماتی تو ہمارے یہ پندرہ دن ضائع گئے تھے۔ انسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا۔ اور جُرأت کرتا ہو اور شوخی کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اب میں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آگیا۔ میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اَور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کیلئے تھا۔ میں اسوقت یہ اقرار کرتا ہوں

۲۱۰

صفحہ 320

اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ ۲۹۳ ۵۔ جون ۱۸۹۳ء

کہ اگر یہ پیشینگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ رُوسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈالا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں اور میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کریگا۔ ضرور کریگا۔ ضرور کریگا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اُس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔

اب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پُورا ہو گیا تو کیا یہ رب آپکے منشاء کے موافق کامل پیشینگوئی اور خدا کی پیشینگوئی ٹھہریگی یا نہیں ٹھہریگی اور رسول اللہ صلعم کے سچے نبی ہونے کے بارہ میں جنکو اندرونہ بائبل میں دجال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں محکم دلیل ہو جائیگی یا نہیں ہو جائے گی۔ اب اس سے زیادہ میں کیا لکھ سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہے۔ اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔ اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔ لیکن اگر میں سچا ہوں۔ تو انسان کو خدا مت بناؤ۔ توریت کو پڑھو کہ اس کی اوّل اور کھلی تعلیم کیا ہے اور تمام نبی کیا تعلیم دیتے آئے اور تمام دُنیا کس طرف جھک گئی۔ اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں اس سے زیادہ نہ کہونگا۔ والسّلام علٰی من اتّبع الھدٰی +

دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریذیڈنٹ از جانب ہنری مارٹن کلارک پریذیڈنٹ از جانب اہل اسلام عیسائی صاحبان

تمام شد

۲۱۱

صفحہ 321

حوالہ نمبر ۱۱ انجام آتھم ص ۳۱ حاشیہ

۳۱

اگر اب بھی عیسائی باز نہ آویں تو بہتر ہے کہ ہم اور ان کے چند سرگروہ مباہلہ کے طور پر میدان میں آکر خدا کے انصاف سے فتویٰ لے لیں۔ جھوٹے پر بغیر تعین کسی فریق کے لعنت کرنا کسی مذہب میں ناجائز نہیں۔ نہ ہم میں نہ عیسائیوں میں نہ یہودیوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ پادری وائٹ بریڈٹھ شملہ جانے سے کچھ عرصہ پہلے چند اپنے عیسائیوں کے ساتھ قادیان میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آتھم نہیں مرا۔ میں نے کہا کہ اُس نے اسلامی پیشگوئی سے ڈر کر پیشگوئی کی شرط سے فائدہ اُٹھایا۔ اور خود اقرار کیا کہ میں ڈرتا رہا اور ان حملوں کا ثبوت نہ دے سکا جو ڈرنے کی وجہ ٹھہرائی۔ وائٹ نے کہا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ یعنی جھوٹوں پر لعنت ہو۔ میں نے کہا کہ بیشک جھوٹوں پر لعنت وارد ہوگی۔ اگر آتھم جھوٹا ہے یا میں تو خدا اس کا فیصلہ کر دیگا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ کے بعد اس لعنت کا اثر آتھم پر وارد ہوگیا۔

بقیہ حاشیہ

کہ اب میں کذاب کہلا کر اپنی قوم کی طرف واپس نہیں جاؤں گا اور دوسری راہ لی۔ دیکھو تفسیر درمنثور تحت تفسیر آیت مغاضبا ۔ اور دیکھو صفحہ ۱۴ اشتہار چہارم انعامی چار ہزار روپیہ *

ہم اس جگہ حضرات اہلحدیث کو بھی منصف ٹھہراتے ہیں کہ کیا آپ کہہ سکتے ہیں۔ کہ خدا کا یہ الہام جھوٹا نکلا اور نعوذ باللہ یونس کذاب تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم اکثر لوگوں سے جاتا رہا ہے اور بظاہر اہلحدیث بھی کہلاتے ہیں۔ مگر حدیثوں کے مغز سے ناواقف ہیں۔ ہم بار بار لکھ چکے ہیں۔ کہ انہی قصوں کے لحاظ سے اہل سنت کا یہ عام عقیدہ ہے کہ وعید کی میعاد کی تاخیر کسی سبب توبہ یا خوف کی وجہ سے جائز ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلمان کہلا کر اور ان احادیث کو پڑھ کر پھر اُس پیشگوئی کی تکذیب کی جائے جو یونس کی پیشگوئی سے ہم شکل ہے اور ایسے امور میں اس عاجز کو کاذب ٹھہرایا جائے جن میں دوسرے انبیاء بھی شریک ہیں *

میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔ اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالےٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پوری کر دے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشگوئی پوری ہوگئی ۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے۔ اور وقتوں میں تو کبھی استعاراتی پہلو بھی دخل ہو جاتا ہے یہانتک کہ بائبل کی بعض پیشگوئیوں میں دنوں کے سال بنائے گئے ہیں۔ جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ ذرا شرم کرنی چاہئیے کہ جس حالت میں خود احمد بیگ اسی پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر فوت ہوگیا اور وہ پیشگوئی کے اوّل نمبر پر تھا تو پھر اگر خدا کا خوف ہو تو اس پیشگوئی کے نفس مفہوم میں کیوں شک کیا جاوے۔ کیونکہ ایک وقوع یافتہ امر کی یہ دوسری جُز ہے۔ جس حالت میں خدا اور رسولؐ

صفحہ 322

حوالہ نمبر ۱۲ ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴

۳۳۸

انَّ البَلَاءَ علیٰ عَقِبِكَ ۱۸۸۸ء میں ہوا تھا۔ اس میں صریح شرط توبہ کی موجود تھی۔ اور الہام کَانَ تَوَّابًا اس شرط کی طرف ایماء کر رہا تھا پس جبکہ بغیر کسی شرط کے یونس کی قوم کا عذاب ٹل گیا۔ تو شرطی پیشگوئی میں ایسے خوف کے وقت میں کیوں تاخیر ظہور میں نہ آتی ۔ یہ اعتراض کیسی بے ایمانی ہے جو تعصب کی وجہ سے کیا جاتا ہے میں نے نبیوں کے حوالے بیان کر دیئے ۔ حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا ۔ مگر یہ نابکار قوم ابھی تک حیا اور شرم کی طرف رُخ نہیں کرتی ۔

یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا ۔ اے احمقو ! یہ انسان کا افترا نہیں ۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں ۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلا پیش آیا ۔

براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ۔ جو اسوقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے صفحہ ۴۹۶ میں مذکور ہے ۔ یا آدم اسکن انت و زوجك الجنة ۔ یامریم اسکن انت و زوجك الجنة ۔ یا احمد اسکن انت و زوجك الجنة ۔ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ۔ اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ۔ پہلا نام آدم ۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا ۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا ۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس کو مسیح سے مشابہت ملی ۔ اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلا پیش آئے جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدظنیوں کا ابتلا پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے ۔ اُس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا ۔ اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی ۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیشگوئی ہے ۔ جس کا ستر اسوقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا ۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے وہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ تھا ۔

۵۶

صفحہ 323

حوالہ نمبر ۱۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۲، ۹۳ ۔ روحانی خزائن ج ۲۱ ص ۲۵۳

حصہ پنجم ۱۴۵۳ ضمیمہ براہین احمدیہ

یعنی کافر پوچھتے ہیں کہ یہ دعویٰ پورا کب ہو گا اگر تم سچے ہو تو تاریخ عذاب بتاؤ۔ اُنکو کہہ دے مجھے کوئی تاریخ معلوم نہیں یہ علم خدا کو ہے۔ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔ اور پھر کافروں نے مکرراً عذاب کی تاریخ پوچھی تو ان کو یہ جواب ملا قل ان ادری اقریب ما توعدون یعنی ان کو کہہ دے کہ میں نہیں جانتا کہ عذاب قریب ہے یا دُور ہے ۔ اب اے سُننے والے ! یاد رکھو کہ یہ بات سچ ہے اور بالکل سچ ہے اور اس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں کبھی ظاہر پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی استعارہ کے رنگ میں۔ پس کسی نبی یا رسول کو یہ حوصلہ نہیں کہ ہر جگہ اور ہر پیشگوئی میں یہ دعویٰ کر دے کہ اس طور پر پیشگوئی پوری ہوگی۔ ہاں البتہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں اس امر کا دعویٰ کرنا نبی کا حق ہے کہ وہ پیشگوئی جس کو وہ بیان کرتا ہے خارقِ عادت ہے یا انسانی علم سے وراء الوراء ہے ۔ اگر پنجاب میں ہر صدی میں بھی ایسا زلزلہ آجایا کرتا جیسا کہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کو آیا تو اس صورت میں بھی یہ پیشگوئی کچھ بھی چیز نہ ہوتی۔ کیونکہ تمام لوگ اس بات کے کہنے کا حق رکھتے تھے کہ ہمیشہ پنجاب میں ایسے زلزلے آتے ہیں یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔ لیکن جبکہ گذشتہ زلزلہ اس خارق عادت طور سے ظاہر ہوا جس خارق عادت طور سے پیشگوئی نے بیان کیا تھا تو پھر سب اعتراض فضول ہو گئے ۔ ایسا ہی آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیشگوئی نہیں اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اسکا

۹۳

ظہور نہ ہوا تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں مجھے خدا تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ آفت جسکا نام اس نے زلزلہ رکھا ہے نمونۂ قیامت ہو گا اور پہلے سے بڑھ کر اس کا ظہور ہو گا ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس آئندہ کی پیشگوئی میں بھی پہلی پیشگوئی کی طرح بار بار زلزلہ کا لفظ ہی آیا ہے اور کوئی لفظ نہیں آیا۔ اور ظاہری معنوں کا بہ نسبت تاویلی معنوں کے زیادہ حق ہے ۔ لیکن جیسا کہ تمام انبیاء ادب ربوبیت اور ادب وسعت علم باری ملحوظ رکھتے رہے ہیں اس ادب کے لحاظ سے اور صفت اللہ کو مدّ نظر رکھ کر یہ

صفحہ 324

حوالہ نمبر ۴ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۲۱، ۵۲۲

۵۴۱

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس قسم کی بدظنی ہے جو مخالف لوگ مجھ پر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے اشتہاروں سے تشویش میں ڈال دیا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسی تشویش ہے میں منجم ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا نہ مجھے علم جیالوجی کی مہارت کا کوئی دعویٰ ہے۔ صرف یہ دعویٰ ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی پاتا ہوں ۔ مگر اس دعویٰ کے یہ لوگ سخت منکر ہیں اور اسی بنا پر مجھے کافر اور دجال کہتے ہیں اور اسی بناء پر یہ لوگ میری تکذیب کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ہزارہا اشتہار میری نسبت شائع کئے ہیں کہ اس دعویٰ میں یہ شخص جھوٹا ہے بلکہ اس قدر لعنتوں اور گالیوں سے بھرے ہوئے میری نسبت دُنیا میں اشتہار شائع کر چکے ہیں جن سے کم سے کم دس کوٹھے بھر سکتے ہیں تو پھر کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ میری ایسی پیشگوئیوں سے وہ ڈرتے ہوں ۔ جو شخص اُن کے نزدیک جھوٹا ہے اس سے ڈرنے کے کیا معنے ہیں؟ ۔ اگر مجھے بندگانِ خدا کی سچی ہمدردی مجبور نہ کرتی تو میں ایک ورق بھی شائع نہ کرتا۔ مگر پہلی پیشگوئی کا بڑے زبردست طور سے پورا ہونا اور ہزارہا جانوں کا نقصان ہونا مجھے کھینچ کر اس طرف لایا کہ میں دوسری پیشگوئی کے شائع کرنے میں کوتاہی نہ کروں اور کما حقہ شائع کر دوں ۔ بعض نے میری نسبت خط لکھے کہ تو جھوٹا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں ۔ لیکن اگر میرے اشتہاروں سے کچھ لوگ احتیاط پر کار بند ہو جائیں اور اپنی کچھ اندرونی اصلاح کر لیں اور ان کی جانیں بچ جائیں تو میری جان کیا

نوٹ ۔ اس جگہ نمونہ کے طور پر مخالفین میں سے ایک کا اشتہار نقل کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہو گا کہ ہماری پیشگوئیوں کی جب اس طرح تکذیب کی جاتی ہے تو پھر یہ پیشگوئیاں کسی کے واسطے تشویش کا موجب نہیں ہیں ۔ اور نہ لوگ اس سے ڈرتے ہیں بلکہ اس پر مضحکہ اُڑاتے ہیں چنانچہ ایک تازہ اشتہار کی کچھ عبارت ہم اس جگہ بطور نمونہ کے نقل کر کے دکھلاتے ہیں کہ ایسے مخالفین پر ہماری پیشگوئیوں کا کیا اثر پڑ سکتا ہے ۔

اور وہ عبارت یہ ہے

میں آج ۲ مئی ۱۸۹۸ء کو اس امر کا بڑے زور اور دعویٰ سے اعلان کرتا ہوں اور تمام لوگوں کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ خوفناک اور سہمے ہوئے دلوں کو اطمینان اور تسلی دیتا ہوں کہ قادیانی نے ۵ - ۸-

صفحہ 325

۵۴۲

چیز ہے۔ کیا مجھے کبھی مرنا نہیں یا اپنی جان سے ایسی محبت رکھتا ہوں کہ بنی نوع کی ہمدردی بھی چھوڑ دوں۔ اور بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ اشتہار اس غرض سے لکھے گئے ہیں کہ تا لوگ ڈر کر ان کی بیعت قبول کر لیں مگر اس حق پوشی کا میں کیا جواب دوں۔ میں بار بار انہیں اشتہارات میں لکھ چکا ہوں کہ اصلاح نفس اور توبہ سے اس جگہ میری یہ مراد نہیں ہے کہ کوئی ہندو یا عیسائی مسلمان ہو جائے یا میری بیعت اختیار کرے۔ بلکہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اگر کسی کا مذہب غلطی پر ہے تو اس غلطی کی سزا کے لئے یہ دنیا عدالت گاہ نہیں ہے، اس کے لئے عالم آخرت مقرر ہے اور جس قدر قوموں کو پہلے اس سے سزا

بقیہ نوٹ۔ ۱۴ اور ۲۸ اپریل ۱۹۰۵ء کے اشتہاروں اور اخباروں میں جو لکھا ہے کہ ایک ایسا سخت زلزلہ آئے گا جو ایسا شدید اور خوفناک ہوگا کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔ کرشن قادیانی زلزلہ کے آمد کی تاریخ یا وقت نہیں بتلاتا۔ مگر اس امر پر بہت زور دیتا ہے کہ زلزلہ ضرور آئے گا۔ اس لئے میں ان بھولے بھالے سادہ لوح آدمیوں کو جو قادیانی کی صرف لفاظیوں اور اشتہاری رنگ آمیزیوں سے خوفزدہ ہو رہے ہیں بڑے زور سے اطمینان اور تسلی دیتا ہوا خوشخبری سناتا ہوں کہ خدا کے فضل و کرم سے شہر لاہور وغیرہ میں یہ قادیانی زلزلہ ہرگز نہیں آئے گا ! نہیں آئے گا !! اور نہیں آئے گا !!! اور آپ ہر طرح اطمینان اور تسلی رکھیں۔ مجھے یہ خوشخبری حقیقی نور الٰہی اور کشف کے ذریعہ سے دی گئی ہے جو انشاء اللہ بالکل ٹھیک ہوگی۔ میں مکرر سہ کرر کہتا ہوں اور اس نور الٰہی سے جو مجھے بذریعہ کشف دکھلایا گیا ہے مستفیض ہو کر اور اس کے اعلان کی اجازت پا کر ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ قادیانی ہمیشہ کی طرح اس زلزلہ کی پیشگوئی میں بھی ذلیل اور رسوا ہوگا۔ اور خداوند تعالیٰ حضرت خاتم المرسلین شفیع المذنبین کے طفیل سے اپنی گنہگار مخلوق کو اپنے دامن عاطفت میں رکھ کر اس نارسیدہ آفت سے بچائے گا اور کسی فرد بشر کا بال تک بیکا نہ ہوگا۔

ملا محمد بخش حنفی سیکرٹری انجمن حامی اسلام لاہور

❖ ❖ ❖

صفحہ 326

حوالہ نمبر ۱۵ اخبار "بدر" ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء بحوالہ قادیانی مذہب فصل ۷ نمبر ۳۹

فصل ساتویں قادیانی مذہب ۳۷۱

شنبہ جو ہفتہ میں پانچواں دن ہے چوتھے لڑکے سے ملانے کے لئے چوتھا مہینہ اور چوتھا دن بن گیا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو ۔ کہ مرزا صاحب کے نزدیک ایسے فرق کچھ قابل شمار نہیں کچھ مذہبات نہیں بنتی۔ (مؤلف)

{ (۳۸) سچا جھوٹ }

مولوی محمد علی مونگیری اور ان کے اعوان وانصار جن کی غرض اس صوبہ بہار میں بالخصوص یہ ہے کہ جس طرح ہو احمدیوں کے خلاف عوام کو بھڑکایا جائے ۔ اپنے صحیفوں ٹریکٹوں اور نیز اپنے بیانات میں ہمیشہ عوام کو یہ دکھاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے اخبار بدر میں معاذ اللہ یہ جھوٹ لکھا ہے کہ جناب رسول مقبول صلعم کے یہاں بیٹے فوت ہوئے۔ ہر چند ان کو اچھی طرح سمجھایا گیا ۔ کہ یہ جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ اور کسی طرح اس پر جھوٹ کی تعریف صادق نہیں آتی ۔ اور نیز کہنے والے کی غرض ہرگز جھوٹ بیان کرنے کی نہیں ہے مگر کورانہ تعصب نے انہیں سمجھنے کا کبھی موقعہ نہیں دیا۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۹ مئی ۱۹۲۲ء جلد ۹ نمبر ۹۴)

{ جھوٹا سچ }

میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کردوں پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں ۔ پس مجھ سے دشمنی کیوں ہے وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا ہے جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئیے تھا ۔ تو پھر سچا ہوں ۔ اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں ۔ والسلام۔ بقلم خود مرزا غلام احمد

(اخبار بدر مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء منقول از المہدی نمبر ۱ ص ۴۳ مؤلفہ حکیم محمد حسین

صاحب قادیانی لاہوری)

صفحہ 327

حوالہ نمبر ۱۶ مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۱۱۵ ، ۱۱۶ ۱۱۵

نہ ہوتی اور کوئی دوسرا پہلو ایمان لانے کا قوم کو بتلایا ہوتا تو وہ میدان میں ایسی دردناک صورت اپنی نہ بناتے بلکہ شرط کے ایفاء پر عذاب ٹل جانے کے وعدہ پر مطمئن ہوتے ایسا ہی اگر حضرت یونس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم ہوتا کہ ایمان لانے سے عذاب ٹل جائے گا تو وہ کیوں کہتے کہ اب میں اس قوم کی طرف نہیں جاؤں گا کیونکہ میں ان کی نظر میں کذاب ٹھہر چکا۔ جبکہ وہ سُن چکے تھے کہ قوم نے توبہ کی اور ایمان لے آئی ۔ پس اگر یہ شرط بھی ان کی وحی میں داخل ہوتی تو ان کو خوش ہونا چاہئیے تھا کہ پیشگوئی پوری ہوئی نہ یہ کہ وہ وطن چھوڑ کر ایک بھاری مصیبت میں اپنے تئیں ڈالتے۔ قرآن کا لفظ لفظ اسی پر دلالت کر رہا ہے کہ وہ سخت ابتلا میں پڑے اور حدیث نے کیفیت ابتلا کی یہ بتلائی۔ پس اب بھی اگر کوئی شیخ و شاب منکر ہو تو یہ صریح اس کی گردن کشی ہے۔

اور ہم اس مضمون کو اس پر ختم کرتے ہیں کہ اگر ہم سچے ہیں تو خدا تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو پورا کر دے گا۔ اور اگر یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں تو ہمارا انجام نہایت بد ہوگا۔ اور ہرگز یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوں گی۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۱؎ ۔ اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر وعلیم اگر آتھم کا عذاب

بقیہ حاشیہ صـ گزشتہ ۔ آپ عام جلسہ میں بمقام لاہور عہد کر چکے ہو کہ میں اس بات کی قسم کھاؤں گا کہ موت کا عذاب نہیں ٹلتا۔ اب قسم کھاویں تا خدا تعالیٰ جھوٹے کو واصل جہنم کرے ورنہ یہ سخت بے ایمانی ہوگی کہ قسم کھانے کا عہد کر کے پھر توڑ دیا جاوے اور اگر آپ نے قسم نہ کھائی تو یہی سمجھا جائے گا کہ محض دو سو روپے کے طمع نفسانی نے آپ میں یہ جوش پیدا کر دیا تھا۔ اور پھر جب قسم کھانے کی کوئی راہ نہ دیکھی تو اندر ہی اندر وہ جوش تحلیل پا گیا اور بجائے اس کے اپنی بیوقوفی پر ایک ندامت باقی رہ گئی ۔مگر کیا تعجب کہ پھر بھی قسم کھا لے کیونکہ بے ایمان آدمی پاک نوشتوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتا اور دہریہ پن کی رگ سے اپنے انجام کو نہیں سوچتا اور یاد رہے کہ اس معافی سے عیسائیوں کے کفارہ کی بھی جڑ کٹ گئی کیونکہ یونس کی قوم صرف اپنی توبہ اور استغفار سے بچ گئی اور یونس تو یہی چاہتا تھا کہ ان پر عذاب نازل ہو۔ منہ ۔

۱؎ الاعراف : ۹۰

صفحہ 328

۱۱۶

تہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے ہیں تو اُن کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خُداوند یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلّت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجّال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو تیرے بندہ ابراہیمؑ کے ساتھ اور اسحقؑ کے ساتھ اور اسمعیلؑ کے ساتھ اور یعقوبؑ کے ساتھ اور موسیٰؑ کے ساتھ اور داؤدؑ کے ساتھ اور مسیح ابن مریم کے ساتھ اور خیر الانبیاء محمد صلعم کے ساتھ اور اس امّت کے اولیاء کرام کے ساتھ تھی تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعائیں قبول فرما۔ لیکن اگر تیری رحمت میرے ساتھ ہے اور تُو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا انت وجیہ فی حضرتی اخترتک لنفسی اور تُو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا یحمدک اللہ من عرشہ۔ اور تُو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا یصنع اللہ ما لایضاع وقتہ اور تُو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا الیس اللہ بکاف عبدہ اور تُو ہی ہے جس نے مجھ کو مخاطب کر کے کہا قل انی امرت و انا اوّل المومنین اور تُو ہی ہے جو غالباً مجھے ہر روز کہتا رہتا ہے انت معی وانا معک تو میری مدد کر اور میری حمایت کے لئے کھڑا ہو جا۔ و انی مغلوب فانتصر۔

راقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور

۲۷؍ اکتوبر ۱۸۹۴ء

(تعداد اشاعت ۲۰۰۰ ) ریاض ہند امرتسر

(یہ اشتہار ۲۶ × ۲۰ کے ۱۶ صفحوں پر ہے)

صفحہ 329

حوالہ نمبر ۱۷ ملفوظات ج ۹ ص ۲۶۸

۲۶۸

شامت اعمال کے سبب اسی طرح ہلاک ہوئے تھے جیسے کہ اب ہو رہے ہیں۔ دین اسلام کی خاطر اگر اس وقت تلوار چلی تھی تو اس وقت بھی دین اسلام ہی کی خاطر تلوار چل رہی ہے۔

ثناء اللہ

فرمایا :۔

یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اجیب دعوۃ الداع ۱ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں

خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تسلّی

احمد صاحب جو کہ مدراس سے بیعت کے واسطے آئے ہیں، ان کے متعلق عرب صاحب ابو سعید نے ذکر کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ قادیان میں آنے سے پہلے میں نے رؤیا میں یہ سارا نقشہ ہو بہو دیکھا تھا۔ یہ تمام مکانات وغیرہ مجھے بعینہٖ دکھائے گئے تھے۔

حضرت نے فرمایا :۔

خدا تعالیٰ تسلّی دینے کے واسطے یہ باتیں دکھلا دیتا ہے اور اس کی تسلّی بے نظیر ہوتی ہے۔ دیکھو شرقاً غرباً تمام زمین پر کسی کو یہ تسلّی نہیں دی گئی کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ یہ تسلّی فقط ہم کو اس گھر کے متعلق عطا فرمائی گئی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کے عجیب کام ہیں۔

۱؎ البقرۃ : ۱۸۶

صفحہ 330

حوالہ نمبر ۱۸ ازالہ اوہام ص ۵۵۷ ۔ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۰۰

ازالہ اوہام ۴۰۰ حصہ دوم

اب سمجھنا چاہیئے کہ گو اجمالی طور پر قرآن شریف اکمل واتم کتاب ہو مگر ایک حصہ کثیر دین کا اور طریقہ عبادات وغیرہ کا مفصل اور مبسوط طور پر احادیث سے ہی ہم نے لیا ہے اور اگر احادیث کو ہم بکلی ساقط الاعتبار سمجھ لیں تو پھر اس قدر بھی ثبوت دینا ہمیں مشکل ہوگا کہ درحقیقت حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما وعثمان ذوالنورین اور جناب علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ۵۵۷ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور امیر المومنین تھے اور وجود رکھتے تھے صرف فرضی نام نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ان میں سے کسی کا نام نہیں ۔ ہاں اگر کوئی حدیث قرآن شریف کی کسی آیت سے صریح مخالف ومغائر پڑے مثلاً قرآن شریف کہتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا اور حدیث یہ کہے کہ فوت نہیں ہوا تو ایسی حدیث مردود اور ناقابل اعتبار ہوگی لیکن جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے وہ بشرطیکہ جرح سے خالی ہو قبول کرنے کے لائق ہے۔ پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیشگوئیوں کو جو خیر القرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلّمات میں سمجھی گئی تھیں بزمرہ موضوعات داخل کر دیں ۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنیکی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیشگوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدّق ہے ۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں در حقیقت اُن لوگوں کا کام ہے جنکو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور باعث اس کے کہ اُن لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی اس لئے جو بات اُن کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔ قانون قدرت بے شک ۵۵۸ حق اور باطل کے آزمانے کے لئے ایک آلہ ہے مگر ہر ایک قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں ۔

صفحہ 331

حوالہ نمبر ۱۹ ازالہ اوہام ص ۱۹۰ روحانی خزائن ج ۳ ص ۱۹۲ ازالہ اوہام ۱۹۲ حصہ اوّل

۱۹۰ منہ ۱۹۰

علمائے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ

اے برادرانِ دین و علمائے شرع متین! آپ صاحبانِ میری اِن معروضات کو متوجہ ہو کر سُنیں کہ اس عاجز نے جو مثیلِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے مُنہ سے سُنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو مَیں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر براہینِ احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گذر گیا ہو گا میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیلِ مسیح ہوں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور ۱۹۱ اخلاق وغیرہ کے خدائے تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھی ہیں اور دوسرے کئی امور میں جن کی تصریح انہیں رسالوں میں کر چکا ہوں میری زندگی کو مسیح ابن مریم کی زندگی سے اشد مشابہت ہے اور یہ بھی میری طرف سے کوئی نئی بات ظہور میں نہیں آئی کہ میں نے ان رسالوں میں اپنے تئیں وہ موعود ٹھہرایا ہے جس کے آنے کا قرآن شریف میں اجمالاً اور احادیث میں تصریحاً بیان کیا گیا ہے کیونکہ میں تو پہلے بھی براہین احمدیہ میں بتصریح لکھ چکا ہوں کہ میں وہی مثیل موعود ہوں جس کے آنے کی خبر روحانی طور پر قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں پہلے سے وارد ہو چکی ہے۔ تعجب کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ نمبر ۶ جلد سات میں جس میں براہین احمدیہ کا ریویو لکھا ہے اِن تمام الہامات کی اگرچہ ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر تصدیق کر چکے اور بدِل و جان مان چکے ہیں مگر پھر بھی سُنا جاتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب موصوف کو بھی اور لوگوں کا شور اور غوغا دیکھ کر

صفحہ 332

حوالہ نمبر ۲۰ حقیقت الوحی ص ۱۹۳۔ روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۲۰۰، ۲۰۱

بعض اعتراضوں کے جواب ۲۰۰ حقیقۃ الوحی

اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ یہ پچیس برس کا الہام ہے جو براہین احمدیہ میں لکھا گیا۔ اور اُن دنوں میں پورا ہو گا جس کے کان سُننے کے ہیں وہ سُنے۔ ٭

یہ تو ہم نے دو تین پیشگوئیاں لکھی ہیں جن پر ہمارے مخالف مولوی اور انہیں کا نیا چیلا عبدالحکیم خان بار بار اعتراض کرتے ہیں۔ اب ہم اُن کے مقابل یہ دکھلانا چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے آسمانی نشان ہماری شہادت کیلئے کس قدر ہیں لیکن افسوس کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جائیں تو ہزار جزو کی کتاب میں بھی انکی گنجائش نہیں ہو سکتی اِس لئے ہم محض بطور نمونہ کے ایک سو پچیس نشان اُن میں سے لکھتے ہیں۔ اُن میں سے بعض وہ پہلے نبیوں کی پیشگوئیاں ہیں جو میرے حق میں

۱۹۳

پوری ہوئیں۔ اور بعض اس اُمت کے اکابر کی پیشگوئیاں ہیں اور بعض وہ نشان خدا تعالیٰ کے ہیں جو میرے ہاتھ پر ظہور میں آئے اور چونکہ میری پیشگوئیوں پر اُن پیشگوئیوں کو تقدم زمانی ہے اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ تحریری طور پر بھی اُنھیں کو مقدم رکھا جائے اور یہ تمام پیشگوئیاں ایک ہی سلسلہ میں نمبر وار لکھی جائیں گی۔ اور وہ یہ ہیں :۔

علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا۔ رواہ ابوداؤد یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس اُمت کے لئے ایک شخص مبعوث فرمائیگا جو اُس کیلئے دین کو تازہ کریگا۔ اور اب اِس صدی کا چوبیسواں سال جاتا ہے اور ممکن نہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلف ہو۔ اگر کوئی کہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو بارہ صدیوں کے مجدّدوں کے نام بتلاویں۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث

٭ خدا تعالیٰ نے مجھے صرف یہی خبر نہیں دی کہ پنجاب میں زلزلے وغیرہ آفات آئیں گی کیونکہ میں صرف پنجاب کے لئے مبعوث نہیں ہوا بلکہ جہاں تک دُنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کیلئے مامور ہوں پس میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ آفتیں اور یہ زلزلے صرف پنجاب سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ تمام دنیا ان آفات سے حصہ لے گی اور جیسا کہ امریکہ وغیرہ کے بہت حصے تباہ ہو چکے ہیں یہی گھڑی کسی دن یورپ کے لئے درپیش ہو اور پھر یہ ہولناک دن پنجاب اور ہندوستان اور ہر ایک حصہ ایشیا کے لئے مقدر ہے جو شخص زندہ رہیگا وہ دیکھ لے گا۔ منہ ٭

صفحہ 333

حقیقة الوحی ۲۰۱ بعض اعتراضوں کے جواب

علماء اُمت میں مسلّم چلی آئی ہے اب اگر میرے دعوے کے وقت اس حدیث کو وضعی بھی قرار دیا جائے تو ان مولوی صاحبوں سے پوچھو کہ کیا یہ بھی سچ ہے بعض اکابر محدثین نے اپنے اپنے زمانہ میں خود مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض نے کسی دوسرے کو مجدد بنانے کی کوشش کی ہو۔ پس اگر یہ حدیث صحیح نہیں تو انہوں نے دیانت سے کام نہیں لیا اور ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمام مجددین کے نام ہمیں یاد ہوں یہ علم محیط تو خاصہ خدا تعالیٰ کا ہے ہمیں عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں مگر اُسی قدر جو خدا بتلاوے ماسوا اسکے یہ اُمت ایک بڑے حصہ دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور خدا کی مصلحت کبھی کسی ملک میں مجدد پیدا کرتی ہو اور کبھی کسی ملک میں۔ پس خدا کے کاموں کا کون پُورا علم رکھ سکتا ہے اور کون اُس کے غیب پر احاطہ کر سکتا ہے۔ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ حضرت آدم سے لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر ایک قوم میں نبی کتنے گزرے ہیں۔ اگر تم یہ بتلادو گے تو ہم مجدد بھی بتلادیں گے۔ ظاہر ہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ اور یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اِس اُمت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اسپر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے اگر چاہو تو پُوچھ کر دیکھ لو۔ مُری پڑ رہی ہے زلزلے

ص۱۹۱

آرہے ہیں۔ ہر ایک قسم کی خارق عادت تباہیاں شروع ہیں پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور صلحاء اسلام نے بھی اس زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں سے بتیس ۳۲ سال گزر گئے ہیں۔ پس یہ قوی دلیل اِس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور مَیں ہی وہ ایک شخص ہوں جسنے اِس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعویٰ کیا۔ اور مَیں ہی وہ ایک شخص ہوں جس کے دعوے پر پچیس ۲۵ برس گذر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں۔ اور مَیں ہی وہ ایک ہوں جسنے عیسائیوں اور دُوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا۔ پس جبتک میرے اس دعوے کے مقابل پر انھیں صفات کے ساتھ کوئی دُوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے تب تک میرا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ مَیں ہی ہوں۔ زمانہ میں خدا نے نبوتیں رکھی ہیں۔

۲۰۱

صفحہ 334

حوالہ نمبر ۲۱ حقیقت النبوۃ ص ۱۹۲ ۔ از مرزا محمود

حقیقت النبوۃ ۱۹۲ حصہ اول

شخص کہہ دیگا۔ کہ اس حدیث میں چونکہ سب استعارہ ہی استعارہ ہیں۔ اسلئے مسیح بھی ایک استعارہ ہے۔ اور مہدی بھی ایک استعارہ ہے نہ کوئی مسیح آئے گا نہ کوئی مہدی آئیگا یہ سب استعارات ہیں جنہیں نہ سمجھ کر لوگ مسیح و مہدی کی انتظار کر رہے ہیں۔ چنانچہ بعض لوگ اس شبہ میں ہیں بھی جو مسیح کی آمد اور مہدی کی آمد کی احادیث کو یا تو وضعی قرار دیتے ہیں یا صرف استعارہ پس اگر ہر لفظ کو استعارہ قرار دینا جائز کر لیا جائیگا تو کسی کا یہ بھی حق ہو گا کہ مسیح اور مہدی کو بھی ایک استعارہ ہی قرار دیئے۔ کسی لفظ کے استعارہ ٹھہرانے کی بھی کوئی وجہ ہوتی ہے نہ کہ بلا ثبوت ہر لفظ کو استعارہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

مگر صرف اسی حدیث میں حضرت مسیح موعود کا نام ہی نہیں لکھا گیا اسکے علاوہ ایک اور حدیث بھی ہے جسمیں مسیح موعود کو نبی کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے الانبیاء اخوۃ لعلات امہاتہم شتی و دینہم واحد و انی اولی الناس بعیسی ابن مریم لانہ لم یکن بینی و بینہ نبی و انہ نازل فاذا رآیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ و البیاض علیہ ثوبان ممصران رأسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب و یقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ و یدعو الناس الی الاسلام فتہلک فی زمانها الملل کلھا الا الاسلام و تقع الاسود مع الابل والنمار مع البقر و الذیاب مع الغنم وتلعب الصبیان بالحیات فلا تضرہم فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفی و یصلی علیہ المسلمون ۔ یعنے انبیاء علاقی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں انکی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ بن مریم کے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں کیونکہ میرے اور اسکے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ نازل ہونیوالا ہے پس جب اُس کو دیکھو تو اسے پہچان لو کہ وہ درمیانہ قد ہے سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے اسکے سر سے پانی ٹپکتا ہو گا گو سر پر پانی نہ بھی ڈالا ہوا اور وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کریگا اور جزیہ ترک کر دیگا ۔ اور لوگونکو اسلام کی طرف دعوت دیگا اسکے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائینگے اور صرف اسلام بچ جائیگا اور شیر اونٹوں کے ساتھ چرینگے گائے چیتوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھرینگے اور بچے سانپوں سے کھیلینگے اور وہ اُنکو نقصان نہ دینگے عیسیٰ چالیس سال تک زمین پر رہے گا اور پھر فوت ہو جائینگے اور مسلمان انکے جنازہ کی نماز پڑھینگے۔

اس حدیث میں صاف طور پر آنے والے عیسیٰ کو نبی کہا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ نبی کہا گیا ہے بلکہ سب انبیاء کی جماعت میں اسے شریک کیا گیا ہے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی موجودگی میں کسی اور کا یہ کہنا کہ

صفحہ 335

حوالہ نمبر ۲۲ نشان آسمانی ص ۱۴ ۔ روحانی خزائن ج ۴ ص ۳۷۴ ۱۴

گلشن شرع را ہمے بویم گل دیں را ببار مے بینم

یعنی اُس سے شریعت تازہ ہو جائیگی اور دین کے شگوفوں کو پھل لگیں گے۔ یہ اُس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۸ میں درج ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک دین پر بذریعہ اس عاجز کے دین اسلام غالب کیا جائیگا اور پھر صفحہ ۴۹۱ براہین میں یہ الہام ہے کہ خدا تجھ کو ترک نہیں کریگا جبتک کہ خبیث اور پاک میں فرق کر کے دکھلاوے۔

تا چہل سال اے برادر من دَورِ آں شہسوار مے بینم

یعنی اُس روز سے جو وہ امام ظاہر ہوکر اپنے تئیں ظاہر کریگا چالیس برس تک زندگی کریگا۔ اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوتِ حق کے لئے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسّی برس تک یا اسکے قریب تیری عمر ہے سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے جن میں سے دس برس کامل گذر بھی گئے دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۳۸ واللہ علیٰ کل شئ قدیر اگرچہ ابتک حضرت نوح کی طرح دعوت حق کے آثار نمایاں نہیں لیکن اپنے وقت پر تمام باتیں پوری ہونگی۔

عاصیاں از امام معصومم خجل و شرمسار مے بینم

اس بیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُس امام کی جو چودھویں صدی کے سر پر آئیگا مخالف اور نافرمان بھی ہونگے جنکے لئے آخر خجالت اور شرمساری مقدر ہے اسی کی طرف اس الہام میں اشارہ ہے جو فیصلہ آسمانی میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ مَیں فتاح ہوں تجھے فتح دُونگا ایک عجیب مدد تو دیکھے گا اور سجدہ گاہوں میں گریں گے یعنے مخالف لوگ یہ کہتے ہوئے کہ خدایا ہمیں بخش کہ ہم خطا وار تھے۔

۳۹۴

صفحہ 336

حوالہ نمبر ۲۴ ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳ ۳۲۷ روحانی خزائن ج ۱۱ ص ۳۲۷

رکھتی تھی کہ ان لوگوں کو احمد بیگ کی وفات کے بعد اپنے عزیز داماد کی موت کا فکر کھانے لگا۔ اور اس طرح ہراساں ہوکر رجوع الی الحق کرتے۔ کیا انسان میں یہ خاصیت نہیں کہ چشم دید تجربہ اس پر سخت اثر ڈالتا ہے۔ سو درحقیقت ایسا ہی ہوا۔ احمد بیگ کی موت نے اس کے وارثوں کو خاک میں ملا دیا۔ اور ایسے غم میں ڈالا کہ گویا وہ مر گئے اور سخت خوف میں پڑگئے اور دعا میں اور تضرع میں لگ گئے۔ سو ضرور تھا۔ کہ خدا تعالیٰ اس جگہ بھی تاخیر ڈالتا۔ جیسا کہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی میں تاخیر ڈالی۔ ہم عربی مکتوب میں لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرط تھی اور ہم یہ بھی بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئی بغیر شرط کے بھی تخلف پذیر ہوسکتی ہے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی میں ہوا۔ ؂ سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ اور ذلت کے سیاہ داغ اُن کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیں گے۔ سُنو! اور یاد رکھو! کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں میں ان کا نمونہ نہ ہو۔ بیشک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بیشک گالیاں دیں۔ لیکن اگر میری پیشگوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو اُن کی تکذیب اُنہیں پر لعنت ہے۔ چاہئے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور رُوسیاہی کے ساتھ نہ مریں کیا یونس کا قصّہ اُنہیں یاد نہیں کہ کیونکر وہ عذاب ٹل گیا جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی۔ اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں۔ اور احمد بیگ کے اصل وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا اُس کے مرنیکے بعد پیشگوئی سے ایسے متاثر ہوئے تھے کہ اس پیشگوئی کا نام لے لیکر روتے تھے اور پیشگوئی کی عظمت دیکھ کر اس گاؤں کے تمام مرد عورت کانپ اُٹھے تھے۔ اور عورتیں چیخیں مار کر کہتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں سچ نکلیں۔ چنانچہ وہ لوگ اُس دن تک غم اور خوف میں تھے جب تک اُن کے داماد سلطان کی میعاد گذر گئی۔ پس اس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنت کے موافق ظہور میں آیا۔ خدا کے الہام میں جو قبول ہوئی

؎ اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کریگا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد

رکھتا ہے۔ پس اس جگہ تزوج اور اولاد سے وہ خاص تزوج اور خاص اولاد مراد ہے جس کے لئے پیشگوئی کی گئی تھی کیونکہ اسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کی تصدیق ہے۔

صفحہ 337

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ملتان

”اور وہ نشانی ہے قیامت کی پس تم ہرگز شک نہ کرو اس میں“ (القرآن)

آخری زمانے میں آنے والے مسیح کی

شناخت

اہل انصاف کو غور و فکر کی دعوت

از

مولانا مُحَمَّد یُوسُف لُدھیانوی

صفحہ 338

پیش لفظ

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى - اما بعد :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی علاماتِ کبریٰ کے ضمن میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ظہور، ان کے زمانے میں کانے دجال کے خروج اور حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر متواتر احادیث میں دی ہے۔ گذشتہ صدیوں میں بہت سے بے باک طالع آزماؤں نے مہدویت یا مسیحیت کے دعوے کئے۔ لیکن حقائق و واقعات کی کسوٹی پر ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے، ان میں سے بعض مدعیان مسیحیت یا مہدویت کی جماعتیں اب تک موجود ہیں۔ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چودھویں صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۳ء میں مجددیت کا، ۱۸۹۱ء میں مسیحیت کا اور ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا، اس طرح مدعیان مسیحیت و مہدویت میں ایک نئے نام کا اضافہ ہوا۔

زیر نظر رسالہ ایک قادیانی کے خط کا جواب ہے، جو رجب ۱۳۹۹ھ میں لکھا گیا تھا، اور جس میں آنے والے مسیح کی علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات سے، جو خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی مسلم ہیں، ذکر کی گئی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ غلط ہے، یہ رسالہ ”شناخت“ کے نام سے متعدد بار شائع ہوچکا ہے، اور اب نظر ثانی کے بعد اسے جدید انداز میں شائع کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو شرف قبول نصیب فرمائیں، اور اسے اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں، آمین یارب العالمین۔

محمد یوسف لدھیانوی ۱۴ رجب ۱۴۱۰ھ

صفحہ 339

مکرم و محترم جناب ...... صاحب! ...... زیدت الطافہم، آداب و دعوات۔

مزاج گرامی! جناب کا گرامی نامہ محررہ ۲۸ مئی ۱۹۷۹ء آج ۱۶ جون کو مجھے ملا، قبل ازیں چار گرامی ناموں کے جواب لکھ چکا ہوں، آج کے خط میں آپ نے مرزا صاحب کے کچھ دعوے کچھ اشعار اور کچھ پیش گوئیاں ذکر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ ”جب مسیح اور مہدی ظاہر ہو تو اس کو میرا سلام پہنچائیں“ اور پھر اس ناکارہ کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ :

”اب تک آپ نے (یعنی راقم الحروف نے) اس کی تباہی و بربادی کی تدبیریں کر کے بہت کچھ اپنے خدا اور رسول کی مخالفت کر لی، اب خدا کے لئے اپنے حال پر رحم فرمائیں، اگر اپنی اصلاح نہیں کر سکتے تو دوسروں کی گمراہی اور حق سے دوری کی کوششوں سے باز رہ کر اپنے لئے الٰہی ناراضگی تو مول نہ لیں۔“

جناب کی نصیحت بڑی قیمتی ہے، اگر جناب مرزا صاحب واقعی مسیح اور مہدی ہیں تو کوئی شک نہیں کہ ان کی مخالفت خدا اور رسول کی مخالفت ہے، حق سے دوری و گمراہی ہے، اور الٰہی ناراضگی کا موجب ہے اور اگر وہ مسیح یا مہدی نہیں تو جو لوگ ان کی پیروی کر کے سچے مسیح اور سچے مہدی کے آنے کی نفی کر رہے ہیں ان کے گمراہ ہونے، حق سے دور ہونے، الٰہی ناراضگی کے نیچے ہونے اور خدا و رسول کے مخالف ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے۔ اگر واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے تو کھلی ہوئی بات ہے کہ آپؐ نے امت کو یہ ہدایت بھی فرمائی ہوگی کہ حضرت مسیح اور حضرت مہدی کی کیا کیا علامتیں ہیں؟ وہ کب تشریف لائیں گے؟ کتنی مدت رہیں گے؟ کیا کیا کارنامے انجام دیں گے؟ اور ان کے زمانے کا نقشہ کیا ہوگا؟ پس اگر مرزا صاحب اس معیار پر، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، پورے اترتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ انہیں ضرور مسیح مانئے اور ان کی دعوت بھی دیجئے۔ ورنہ ان کی حیثیت سید محمد جونپوری، ملا محمد اٹکی اور علی محمد باب وغیرہ جھوٹے مدعیان مسیحیت و مہدویت کی ہوگی، اور ان کو مسیح کہہ کر احادیث نبویہ کو ان پر چسپاں کرنا ایسا ہو گا کہ کوئی شخص ”بوم“ کا نام ”ہما“ رکھ کر ہما کی صفات و کمالات اس پر چسپاں کرنے لگے، اور لوگوں کو اسے ”ہما“ سمجھنے کی دعوت دے۔ لہٰذا مجھ پر آپ پر اور سارے انسانوں پر

صفحہ 340

لازم ہے کہ مرزا صاحب کو فرمودہ نبویؐ کی کسوٹی پر جانچیں، وہ کھرے نکلیں تو مانیں۔ کھوٹے نکلیں تو انہیں مسترد کر دیں۔ اس منصفانہ اصول کو سامنے رکھ کر میں جناب کو بھی آپ کی اپنی نصیحت پر عمل کرنے، اور مرزا صاحب کی حیثیت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں اور اس سلسلہ میں چند نکات مختصراً عرض کرتا ہوں۔ وباللہ التوفیق۔

۱۔ حضرت مسیح علیہ السلام کب آئیں گے؟

اس سلسلہ میں سب پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ مسیح علیہ السلام کب آئیں گے؟ کس زمانے میں ان کی تشریف آوری ہوگی؟ اس کا جواب خود جناب مرزا صاحب ہی کی زبان سے سننا بہتر ہوگا۔ مرزا صاحب، اپنے نشانات ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"پہلا نشان : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ یبعث لھذہ الامۃ علی راس کل مائۃ من یجدد لھا دینھا۔

(رواہ ابو داؤد)

یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایک شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لئے دین کو تازہ کرے گا......

اور یہ بھی اہل سنت کے درمیان متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا، اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟ یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے۔ اگر چاہو تو پوچھ لو۔"

(حقیقۃ الوحی ص ۱۹۳)

مرزا صاحب نے اپنی دلیل کو تین مقدموں سے ترتیب دیا ہے۔

نتیجہ ظاہر ہے کہ اگر چودہویں صدی آخری زمانہ ہے تو اس میں آنے والا مجدد ہی "آخری مجدد" ہوگا اور جو "آخری مجدد" ہو گا لہٰذا وہی مسیح موعود بھی ہوگا۔ لیکن اگر چودہویں صدی کے ختم ہونے پر پندرہویں ۱ صدی شروع ہوگئی تو فرمودہ نبویؐ کے مطابق اس کے سر پر بھی کوئی مجدد آئے گا، اس کے بعد سولہویں صدی شروع ہوئی تو لازماً

صفحہ 341

اس کا بھی کوئی مجدد ضرور ہو گا۔ پس نہ چودھویں صدی آخری زمانہ ہوا اور نہ مرزا صاحب کا ”آخری مجدد“ ہونے کا دعویٰ صحیح ہوا۔ اور جب وہ ”آخری مجدد“ نہ ہوئے تو مہدی یا مسیح بھی نہ ہوئے کیونکہ ”اہلِ سنت میں یہ امر متفق علیہ امر ہے کہ ”آخری مجدد“ اس امت کے حضرت مسیح علیہ السلام ہوں گے۔“ اگر آپ صرف اسی ایک نکتہ پر بنظر انصاف غور فرمائیں تو آپ کا فیصلہ یہ ہو گا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہے۔ وہ مسیح اور مہدی نہیں۔

۲۔ حضرت مسیح علیہ السلام کتنی مدت قیام فرمائیں گے؟

زمانہ نزول مسیح کا تصفیہ ہو جانے کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کتنی مدت زمین پر قیام فرمائیں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث طیبہ میں ان کی مدت قیام چالیس سال ذکر فرمائی گئی ہے۔ (حقیقۃ النبوۃ ص ۱۹۲۔ از مرزا محمود احمد صاحب) یہ مدت خود مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے، بلکہ اپنے بارے میں ان کا چہل (۴۰) سالہ دعوت کا الہام بھی ہے، چنانچہ اپنے رسالہ ”نشان آسمانی“ میں شاہ نعمت اللہ ولی کے شعر:

”تا چہل سال اے برادر من دور آں شہسواری بینم“

کو نقل کر کے لکھتے ہیں: ”یعنی اس روز سے جو وہ امام مُلہم ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے گا، چالیس برس تک زندگی کرے گا، اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوتِ حق کے لئے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی ۸۰ برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے، سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے۔ جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے۔“

(ص ۱۴ طبع چہارم اگست ۱۹۳۴ء)

مرزا صاحب کے اس حوالے سے واضح ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام چالیس برس زمین پر رہیں گے اور سب جانتے ہیں کہ مرزا صاحب نے ۱۸۹۱ء میں مسیحیت کا دعویٰ کیا اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو داغ مفارقت دے گئے۔ گویا مسیح ہونے کے دعوے کے ساتھ کل ساڑھے سترہ برس دنیا میں رہے۔ اور اگر اس کے ساتھ وہ زمانہ بھی شامل کر لیا جائے جبکہ ان کا دعویٰ صرف مجددیت کا تھا، مسیحیت کا نہیں تھا، تب بھی جون ۱۸۹۲ء (جو نشان آسمانی کا سن تصنیف ہے) تک ”دس برس کامل“ کا زمانہ اس میں مزید

صفحہ 342

شامل کرنا ہو گا اور ان کی مدت قیام ۴۶ سال بنے گی۔ لہٰذا فرمودہ نبوی (چالیس برس زمین پر رہیں گے) کے میعاد پر تب بھی وہ پورے نہ اترے اور نہ ان کا دعویٰ مسیحیت ہی صحیح ثابت ہوا۔ یہ دوسرا نکتہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب مسیح نہیں تھے۔

۳ ۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے احوال شخصیہ

(الف) ۔ شادی اور اولاد :

حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر تشریف لانے کے بعد شادی کریں گے۔ اور ان کے اولاد ہوگی۔ (مشکوٰۃ ص ۴۸۰)

یہ بات جناب مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ وہ اپنے ”نکاح آسمانی“ کی تائید میں فرماتے ہیں۔

اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ ”یتزوج ویولد لہ“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا، اور نیز صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا۔ اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳)

بلاشبہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے پورا ہونے سے منکر ہو، اس کے سیاہ دل ہونے میں کوئی شبہ نہیں!

جناب مرزا صاحب کی یہ تحریر ۱۸۹۶ء کی ہے اس وقت مرزا صاحب کی دو شادیاں ہو چکی تھیں۔ اور دونوں سے اولاد بھی موجود تھی۔ مگر بقول ان کے ”اس میں کچھ خوبی نہیں۔“ لیکن جس شادی کو بطور نشان ہونا تھا اور اس سے جو ”خاص اولاد“

۱؎ محمدی بیگم سے مرزا صاحب کے نکاح آسمانی کی الہامی پیش گوئی۔ ۲۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے پہلی زندگی میں نکاح نہیں کیا تھا اور بیوی بچوں کے قصے سے آزاد رہے تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دوبارہ تشریف لائیں گے تو نکاح بھی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہو گی ۱۲

صفحہ 343

پیدا ہونی تھی، جس کی تصدیق کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”یتزوج ویولدلہ“ فرمایا تھا۔ وہ مرزا صاحب کو نصیب نہ ہو سکی۔ لہٰذا وہ اس معیار نبوی پر بھی پورے نہ اترے، اور جو لوگ خیال کرتے ہوں کہ مسیح کے لئے اس خاص شادی اور اس سے اولاد کا ہونا کچھ ضروری نہیں تو اس کے بغیر بھی کوئی شخص ”مسیح موعود“ کہلا سکتا ہے مرزا صاحب کے بقول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا ارشاد میں ان ہی سیاہ دل منکروں کے شبہات کا ازالہ فرمایا ہے۔ یہ تیسرا نکتہ ہے جس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب مسیح نہیں تھے۔

(ب) ۔ حج و زیارت

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات ذکر کرتے ہوئے ان کے حج و عمرہ کرنے اور روضہ اقدس پر حاضر ہو کر سلام پیش کرنے کو بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔

(مستدرک حاکم ج ۲ ص ۵۹۵)

جناب مرزا صاحب کو بھی یہ معیار مسلم تھا۔ چنانچہ ”ایام الصلح“ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آپ نے اب تک حج کیوں نہیں کیا کہتے ہیں:

”ہمارا حج تو اس وقت ہو گا جب دجال بھی کفر و دجل سے باز آکر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا۔“

(ص ۱۶۸)

ایک اور جگہ مرزا صاحب کے ملفوظات میں ہے۔

(ص ۱۶۸)

”مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیح موعود کی خدمت میں سنایا گیا۔ جس میں اس نے اعتراض کیا تھا کہ آپ حج کیوں نہیں کرتے۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ:

”میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے، ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں، بہت سے خنزیر مر چکے ہیں اور بہت سخت جان ابھی باقی ہیں۔ ان سے فرصت اور فراغت ہولے۔“

(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص ۲۹۴ مرتبہ منظور الٰہی صاحب)

مگر سب دنیا جانتی ہے کہ مرزا صاحب حج و زیارت کی سعادت سے آخری لمحہ حیات تک محروم رہے لہٰذا وہ اس معیار نبویؐ کے مطابق بھی مسیح موعود نہ ہوئے۔

صفحہ 344

(ج) ۔ وفات اور تدفین

حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اپنی مدت قیام پوری کرنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوگا۔ مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے، اور انہیں روضہ اطہر میں حضرات ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔

(مشکوٰۃ ص ۴۸۰)

جناب مرزا صاحب بھی اس معیار نبویؐ کو تسلیم کرتے ہیں۔ ”کشتی نوح“ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا، یعنی وہ میں ہی ہوں۔“

(ص ۱۵)

دوسری جگہ لکھتے ہیں :

”ممکن ہے کوئی مثیل مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے پاس دفن ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ۴۷۰)

اور سب دنیا جانتی ہے کہ مرزا صاحب کو روضہ اطہر کی ہوا بھی نصیب نہ ہوئی۔ وہ تو ہندوستان کے قصبہ قادیان میں دفن ہوئے۔ لہٰذا وہ مسیح موعود بھی نہ ہوئے۔

۴۔ حضرت مسیحؑ آسمان سے نازل ہوں گے

جس مسیح علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے ان کے بارے میں یہ وضاحت بھی فرمادی ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہونگے۔

یہ معیار نبویؐ خود مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ”مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔

(ص ۸۱)

اور سب کو معلوم ہے کہ مرزا صاحب چراغ بی بی کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ عورت کے پیٹ کا نام آسمان نہیں۔ لہٰذا مرزا صاحب مسیح نہ ہوئے۔

۵۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے کارنامے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مسیح کے آنے کی خبر دی اور جنہیں سلام

صفحہ 345

پہنچانے کا حکم فرمایا ان کے کارنامے بڑی تفصیل سے امت کو بتائے۔ مثلاً صحیح بخاری کی حدیث میں ہے :

والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری فيكم ابن مريم حكماً عدلاً فيكسر جان ہے کہ عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ بن الصليب ويقتل الخنزير ويضع مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں الحرب۔ گے۔ پس صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل (صحیح بخاری ص ۴۹۰ ج ۱) کر دیں گے اور لڑائی موقوف کر دیں گے۔

اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد از نزول متعدد کارنامے مذکور ہیں ان کی مختصر تشریح کرنے سے پہلے لازم ہے کہ ہم اس حقیقت کو من وعن تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بیان فرمائی ہے۔ کیونکہ قسم اسی جگہ کھائی جاتی ہے۔ جہاں اس حقیقت کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہو، یا وہ مخاطبین کو کچھ اعجوبہ اور اچنبھا معلوم ہوتی ہو اور اسے بغیر کسی تاویل کے تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہ آتے ہوں۔ قسم کھانے کے بعد جو لوگ اس قسم کو سچا سمجھیں گے وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کریں گے۔ لیکن جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ انہیں قسم کھانے والے کی قسم پر بھی اعتبار نہیں اور نہ وہ اسے سچا ماننے کے لئے تیار ہیں، یہ بات خود مرزا صاحب کو بھی مسلم ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

والقسم يدل على ان الخبر محمول على الظاهر، لا تاويل فيه ولا استثناء (حمامة البشرى ص ۱۴) قسم اس امر کی دلیل ہے کہ خبر اپنے ظاہر پر محمول ہے۔ اس میں نہ کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء

(الف) ۔ مسیح علیہ السلام کون ہیں؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ :

فرمائیے کہ کہاں عیسیٰ اور کہاں غلام احمد؟ ان دونوں ناموں کے درمیان کیا جوڑ؟

تھا

صفحہ 346

ہوئے۔

یہ تینوں خبریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حلفا دی ہیں۔ اور ابھی معلوم ہو چکا ہے کہ جو خبر قسم کھا کر دی جائے اس میں کسی تاویل اور کسی استثناء کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اب انصاف فرمائیے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان حلفیہ خبروں میں تاویل کرتے ہیں کیا ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے؟ یا ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!

(ب) ۔ حاکم عادل

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں حلفیہ خبر دی ہے کہ وہ حاکم عادل کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور ملت اسلامیہ کی سربراہی اور حکومت و خلافت کے فرائض انجام دیں گے۔ اس کے برعکس مرزا صاحب پشتوں سے انگریزوں کے محکوم اور غلام چلے آتے تھے۔ ان کا خاندان انگریزی سامراج کا ٹوڈی تھا۔ خود مرزا صاحب کا کام انگریزوں کے لئے مسلمانوں کی جاسوسی کرنا تھا، اور وہ انگریزوں کی غلامی پر فخر کرتے تھے۔ ان کو ایک دن کے لئے بھی کسی جگہ کی حکومت نہیں ملی۔ اس لئے ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد صادق نہیں آتا۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں :

"ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانے میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ صادق آسکیں، کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ "

(ازالہ اوہام ص ۲۰۰)

پس جب مرزا صاحب بقول خود حکومت و بادشاہت کے ساتھ نہیں آئے، اور ان پر فرمان نبویؐ کے الفاظ صادق ہی نہیں آتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق وہ مسیح نہ ہوئے۔

(ج) کسر صلیب

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا سب سے اہم اور اصل مشن اپنی قوم کی

صفحہ 347

اصلاح کرنا ہے اور ان کی قوم کے دو حصے ہیں۔ ایک مخالفین یعنی یہود، اور دوسرے محبین، یعنی نصاریٰ۔

ان کے نزول کے وقت یہود کی قیادت دجال یہودی کے ہاتھ میں ہوگی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لاکر سب سے پہلے دجال کو قتل اور یہود کا صفایا کریں گے۔ (میں اسے آگے چل کر ذکر کروں گا ۔ ) ان سے نمٹنے کے بعد آپ اپنی قوم نصاریٰ کی طرف متوجہ ہوں گے، اور ان کی غلطیوں کی اصلاح فرمائیں گے، ان کے اعتقادی بگاڑ کی ساری بنیاد عقیدہ تثلیث، کفارہ اور صلیب پرستی پر مبنی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے واضح ہو جائے گا کہ وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں، لہٰذا تثلیث کی تردید ان کا سراپا وجود ہوگا، کفارہ اور صلیب پرستی کا مدار اس پر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معاذ اللہ سولی پر لٹکایا گیا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بقید حیات ہونا ان کے عقیدہ کفارہ اور تقدس صلیب کی نفی ہوگی۔ اس لئے تمام عیسائی اسلام کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے۔ اور اپنے سارے عقائد باطلہ سے توبہ کر لیں گے، اور ایک بھی صلیب دنیا میں باقی نہیں رہے گی۔

خنزیر خوری ان کی ساری معاشرتی برائیوں کی بنیاد تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ جس سے عیسائیوں کے اعتقادی اور معاشرتی بگاڑ کی ساری بنیادیں منہدم ہو جائیں گی۔ اور خود نصاریٰ مسلمان ہو کر صلیب کو توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا کام کریں گے۔ اور جو شخص صلیبی طاقتوں کا جاسوس ہو اس کو کسر صلیب کی توفیق ہو بھی کیسے سکتی تھی۔

یہ ہے وہ ”کسر صلیب“ جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے ذیل میں حلفاً بیان فرمایا ہے۔

جناب مرزا صاحب کو کسر صلیب کی توفیق جیسی ہوئی وہ کسی بیان کی محتاج نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مزعومہ ”کسر صلیب“ کے دور میں عیسائیت کو روز افزوں ترقی ہوئی۔ خود مرزا صاحب کا بیان ملاحظہ فرمائیے ۔

”اور جب تیرہویں صدی کچھ نصف سے زیادہ گذر گئی تو یک دفعہ اس دجالی گروہ کا خروج ہوا اور پھر ترقی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ اس صدی کے اواخر میں بقول پادری بیکر صاحب پانچ لاکھ تک صرف ہندوستان میں ہی کرسٹان شدہ لوگوں کی

صفحہ 346

نوبت پہنچ گئی اور اندازہ کیا گیا کہ قریباً بارہ سال میں ایک لاکھ آدمی عیسائی مذہب میں داخل ہو جاتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ۳۹۱)

یہ تو مرزا صاحب کی سبز قدمی سے ان کی زندگی میں حال تھا، اب ذرا ان کے دنیا سے رخصت ہونے کا حال سنئے۔ اخبار الفضل قادیان ۱۹ جون کی اشاعت میں صفحہ ۵ پر لکھتا ہے۔

”کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے (۱۳۷) مشن کام کر رہے ہیں۔ یعنی ہیڈ مشن۔ ان کی برانچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہیڈ مشنوں میں اٹھارہ سو سے زائد پادری کام کر رہے ہیں۔ (۴۰۳) ہسپتال ہیں جن میں (۵۰۰) ڈاکٹر کام کر رہے ہیں (۳۳) پریس ہیں اور تقریباً (۱۰۰) اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں۔ (۵۱) کالج (۶۱۷) ہائی اسکول اور (۶۱) ٹریننگ کالج ہیں۔ ان میں ساٹھ ہزار طالب علم تعلیم پاتے ہیں۔ مکتی فوج میں (۳۰۸) یورپین اور (۲۸۸۶) ہندوستانی مناد کام کرتے ہیں۔ ان کے ماتحت (۵۰۷) پرائمری اسکول ہیں جن میں (۱۸۶۷۵) آدمیوں کی پرورش ہو رہی ہے۔ اور ان سب کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے روزانہ (۲۲۴) مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہو رہے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ وہ تو شاید اس کام کو قابل توجہ بھی نہیں سمجھتے۔ (یوں بھی یہ جارج مسیح کے سپرد کیا جا چکا تھا۔ اس لئے مسلمانوں کو اس طرف توجہ کیوں ہوتی؟...... ناقل) احمدی جماعت کو سوچنا چاہئے کہ عیسائیوں کی مشنریوں کی تعداد کے اس قدر وسیع جال کے مقابلے میں اس کی مساعی کی کیا حیثیت ہے۔ ہندوستان بھر میں ہمارے دو درجن مبلغ ہیں اور وہ بھی جن مشکلات میں کام کر رہے ہیں۔ انہیں بھی ہم خوب جانتے ہیں۔“

دیدہ عبرت سے الفضل کی رپورٹ پڑھئے کہ ۱۹۴۱ء میں (۸۱۶۷۰) اکیاسی ہزار سات سو ساٹھ آدمی سالانہ کے حساب سے صرف ہندوستان میں عیسائی ہو رہے تھے، باقی سب دنیا کا قصہ الگ رہا۔ اب انصاف سے بتائے کہ کیا یہی ”کسر صلیب“ تھی جس کی خوشخبری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقاً دے رہے ہیں اور کیا یہی ”کاسر صلیب“ مسیح ہے جسے سلام پہنچانے کی آپؐ وصیت فرما رہے ہیں؟ کسوٹی میں نے آپ کے سامنے

۱؎ عیسائی مشنوں نے ایک ”سیلویشن آرمی“ بنائی ہے جس کے معنی ہیں ”نجات دہندہ فوج“ عرف عام میں مکتی فوج کہلاتی ہے۔ اس کے آدمی باقاعدہ وردیاں پہنتے ہیں اور اس کے رموز سے بے خبر مسلمان ملکوں نے اس فوج کو ارتداد پھیلانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

صفحہ 349

پیش کر دی ہے۔ اگر آپ کھوٹے کھرے کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو آپ کے ضمیر کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ”مسیح قادیانی“ کو ”کاسر صلیب“ کہہ کر سلام نہیں بھجوا رہے۔ وہ کوئی اور ہی مسیح ہو گا جو چند دنوں میں عیسائیت کے آثار روئے زمین سے صفایا کر دے گا۔ صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔

مرزا صاحب کی کوئی بات تاویلات کی بیساکھیوں کے بغیر کھڑی نہیں ہو سکتی تھی حالانکہ میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلفیہ بیان ہے جس میں تاویلات کی سرے سے گنجائش ہی نہیں، اسی لئے مرزا صاحب نے ”کسر صلیب“ کے معنی ”موت مسیح کا اعلان“ کرنے کے فرمائے۔ چونکہ مرزا صاحب نے بزعم خود مسیح علیہ السلام کو مار کر (نعوذ باللہ) یوزا آصف کی قبر واقع محلہ خانیار سرینگر میں انہیں دفن کر دیا۔ اس لئے فرض کر لینا چاہئے کہ بس صلیب ٹوٹ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مرزا صاحب نے بہت سی جگہ اس بات کو بڑے طمطراق سے بیان کیا ہے کہ میں نے عیسائیوں کا خدا مار دیا، ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

”اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لئے دوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔“

(ملفوظات ص ۶۰ جلد ۱۰)

اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو عقل و فہم کی دولت عطا فرمائی ہے تو اسے سوچنا چاہئے کہ ہندوستان میں عیسائیوں کے خدا کو مارنے کا سہرا سرسید کے سر پر ہے، جس زمانے میں مرزا صاحب حیات مسیح کا عقیدہ رکھتے تھے اور براہین احمدیہ میں ص ۴۹۸، ۴۹۹، ۵۰۵ میں قرآن کریم کی آیات اور اپنے الہامات کے حوالے دے کر حیات مسیح ثابت فرماتے تھے، سرسید بزعم خود اسی وقت عیسیٰ علیہ السلام کی موت (نعوذ باللہ) از روئے قرآن ثابت کر چکے تھے، حکیم نور الدین، مولوی عبدالکریم، مولوی محمد احسن امروہوی اور کچھ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سرسید کے نظریات سے متاثر ہو کر وفات مسیح کا قائل تھا۔ اس لئے اگر وفات مسیح ثابت کرنا ”کسر صلیب“ ہے تو ”مسیح موعود“ اور ”کاسر صلیب“ کا خطاب مرزا صاحب کو نہیں بلکہ سرسید احمد خان کو ملنا چاہئے۔

اور اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ عیسائیوں کی صلیب پرستی اور کفارہ کا مسئلہ صلیب کے اس تقدس پر مبنی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ باللہ) صلیب پر لٹکائے گئے، اور اس نکتہ کو مرزا صاحب نے خود تسلیم کر لیا۔ مرزا صاحب کو عیسائیوں سے

صفحہ 350

صرف اتنی بات میں اختلاف ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے، بلکہ کالمیت (مردہ کی مانند) ہوگئے تھے اور بعد میں اپنی طبعی موت مرے۔

بہر حال مرزا صاحب کو عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر لٹکایا جانا بھی مسلم اور ان کا فوت ہو جانا بھی مسلم۔ اس سے تو عیسائیوں کے عقیدہ و تقدس صلیب کی تائید ہوئی نہ کہ ”کسر صلیب۔“

اس کے برعکس اسلام یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر لٹکائے جانے کا افسانہ ہی یہودیوں کا خود تراشیدہ ہے، جسے عیسائیوں نے اپنی جہالت سے مان لیا ہے۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر لٹکائے گئے، اور نہ صلیب کے تقدس کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کھلے گی۔ اور دونوں قوموں پر ان کی غلطی واضح ہو جائے گی۔ جس کے لئے نہ مناظروں اور اشتہاروں کی ضرورت ہوگی نہ ”لندن کانفرنسوں“ کی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود سامی ان کے عقائد کے غلط ہونے کی خود دلیل ہوگا۔

(و) لڑائی موقوف، جزیہ بند

صحیح بخاری کی مندرجہ بالا حدیث میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک کارنامہ ” یضع الحرب “ بیان فرمایا ہے یعنی وہ لڑائی اور جنگ کو ختم کر دیں گے۔ اور دوسری روایات میں اس کی جگہ ”ویضع الجزیۃ“ کے لفظ ہیں۔ یعنی جزیہ موقوف کردیں گے۔

مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں بے شمار جگہ اس ارشاد نبویؐ کے حوالے سے انگریزی حکومت کی دائمی غلامی اور ان کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا۔ حالانکہ حدیث نبویؐ کا منشا یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد لوگوں کے مذہبی اور نفسانی اختلافات مٹ جائیں گے (جیسا کہ آگے ”زمانہ کا نقشہ“ کے ذیل میں آتا ہے) اس لئے نہ لوگوں کے درمیان کوئی عداوت و کدورت باقی رہے گی۔ نہ جنگ و جدال...... اور چونکہ تمام مذاہب مٹ جائیں گے، اس لئے جزیہ بھی ختم ہو جائے گا۔

ادھر مرزا صاحب کی سبز قدمی سے اب تک دو عالمی جنگیں ہوچکی ہیں، روزانہ کہیں نہ کہیں جنگ جاری ہے اور تیسری عالمی جنگ کی تلوار انسانیت کے سروں پر لٹک رہی ہے اور مرزا صاحب جزیہ تو کیا بند کرتے وہ اور ان کی جماعت آج تک خود غیر مسلم

صفحہ 351

قوتوں کی باج گزار ہے، اب انصاف فرمائیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی جو یہ علامت حلفاً بیان فرمائی ہے کہ ان کے زمانے میں لڑائی بند ہو جائے گی اور جزیہ موقوف ہو جائے گا کیا یہ علامت مرزا صاحب میں پائی گئی؟ اگر نہیں، اور یقیناً نہیں تو مرزا صاحب کو مسیح ماننا کتنی غلط بات ہے۔

(ہ) قتل دجال

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا ایک عظیم الشان کارنامہ ”قتل دجال“ ہے۔ احادیث طیبہ کی روشنی میں دجال کا مختصر قصہ یہ ہے کہ وہ یہود کا رئیس ہو گا، ابتداء میں نیکی و پارسائی کا اظہار کرے گا۔ پھر نبوت کا دعویٰ کرے گا اور بعد میں خدائی کا۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٧٩) وہ آنکھ سے کانا ہو گا۔ ماتھے پر ”کافر“ یا (ک، ف، ر) لکھا ہو گا۔ جسے ہر خواندہ و ناخواندہ مسلمان پڑھے گا، اس نے اپنی جنت و دوزخ بھی بنا رکھی ہوگی، (مشکوٰۃ ص ٤٧٣)۔ اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کے ہمراہ ہوں گے (مشکوٰۃ ص ٤٧٥)۔ شام و عراق کے درمیان سے خروج کرے گا، اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا، چالیس دن تک زمین میں اودھم مچائے گا، ان چالیس دنوں میں سے پہلا دن ایک سال کے برابر ہو گا، دوسرا ایک ماہ کے برابر، تیسرا ایک ہفتہ کے برابر اور باقی ٣٧ دن معمول کے مطابق ہوں گے۔ ایسی تیزی سے مسافت طے کرے گا جیسے ہوا کے پیچھے بادل ہوں۔ (مشکوٰۃ ص ٤٧٣)۔

لوگ اس کے خوف سے بھاگ کر پہاڑوں میں چلے جائیں گے۔

حق تعالیٰ کی طرف سے اس کو فتنہ و استدراج دیا جائے گا۔ اس کے خروج سے پہلے تین سال ایسے گزریں گے کہ پہلے سال ایک تہائی بارش اور ایک تہائی غلہ کی کمی ہو جائے گی، دوسرے سال دو تہائی کی کمی ہوگی اور تیسرے سال نہ بارش کا قطرہ برسے گا اور نہ زمین میں کوئی روئیدگی ہوگی۔ اس شدت قحط سے حیوانات اور درندے تک مریں گے۔ جو لوگ دجال پر ایمان لائیں گے ان کی زمینوں پر بارش ہوگی اور ان کی زمین میں روئیدگی ہوگی، ان کے چوپائے کوکھیں بھرے ہوئے چراگاہ سے لوٹیں گے، اور جو لوگ اس کو نہیں مانیں گے وہ مفلوک الحال ہوں گے، ان کے سب مال مویشی تباہ ہو جائیں گے۔ (مشکوٰۃ ص ٤٧٣۔ ٤٧٧)

دجال ویرانے پر سے گزرے گا تو زمین کو حکم دے گا کہ اپنے خزانے اگل دے

صفحہ 352

چنانچہ خزانے نکل کر اس کے ہمراہ ہولیں گے۔ (مشکوۃ ص ۴۷۳)

ایک دیہاتی اعرابی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے اونٹ زندہ کردوں تو مجھے مان لے گا؟ وہ کہے گا ضرور! چنانچہ شیطان اس کے اونٹوں کی شکل میں سامنے آئیں گے اور وہ سمجھے گا کہ واقعی اس کے اونٹ زندہ ہوگئے ہیں اور اس شعبدہ کی وجہ سے دجال کو خدا مان لے گا۔

اسی طرح ایک شخص سے کہے گا کہ اگر میں تیرے باپ اور بھائی کو زندہ کردوں تو مجھے مان لے گا؟ وہ کہے گا ضرور۔ چنانچہ اس کے باپ اور بھائی کی قبر پر جائے گا تو شیاطین اس کے باپ اور بھائی کی شکل میں سامنے آکر کہیں گے ہاں! یہ خدا ہے، اسے ضرور مانو۔ (مشکوۃ ص ۴۷۷)

اس قسم کے بے شمار شعبدوں سے وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرے گا، اور اللہ تعالیٰ کے خاص مخلص بندے ہی ہوں گے جو اس کے دجل و فریب اور شعبدوں اور کرشموں سے متاثر نہیں ہوں گے۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی جو شخص خروج دجال کی خبر سنے اس سے دور بھاگ جائے۔ (مشکوۃ ص ۴۷۷)

بالآخر دجال اپنے لاؤ لشکر سمیت مدینہ طیبہ کا رخ کرے گا، مگر مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہوسکے گا، بلکہ احد پہاڑ سے پیچھے پڑاؤ کرے گا، پھر اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کا رخ ملک شام کی طرف پھیر دیں گے، اور وہیں جاکر وہ ہلاک ہوگا۔ (مشکوۃ ص ۴۷۵)

دجال جب شام کا رخ کرے گا تو اس وقت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان قسطنطنیہ کے محاذ پر نصاریٰ سے مصروف جہاد ہوں گے، خروج دجال کی خبر سن کر ملک شام کو واپس آئیں گے، اور دجال کے مقابلے میں صف آراء ہوں گے، نماز فجر کے وقت، جب کہ نماز کی اقامت ہوچکی ہوگی، عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نماز پڑھانے کے لئے آگے کریں گے۔ اور خود پیچھے ہٹ آئیں گے، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہی کو نماز پڑھانے کا حکم فرمائیں گے (مشکوۃ ص ۴۸۰) ۔ نماز سے فارغ ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے مقابلہ کے لئے نکلیں گے۔ وہ آپ کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہوگا ۔ اور سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا۔ آپ ”باب لد“ پر (جو اس وقت اسرائیلی مقبوضات میں ہے) اسے جالیں گے اور اسے قتل کردیں گے۔ (مشکوۃ ص ۴۷۳)

صفحہ 353

امام ترمذیؒ حضرت مجمع بن جاریہؓ کی روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کر کے کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو باب لد پر قتل کریں گے“ فرماتے ہیں:

”اس باب میں عمران بن حصینؓ، نافع بن عقبہؓ، ابی برزہؓ، حذیفہ بن اسیدؓ، ابی ہریرہؓ، کیسانؓ، عثمان بن ابی العاصؓ، جابرؓ، ابی امامہؓ، ابن مسعودؓ، عبداللہ بن عمرؓ، سمرہ بن جندبؓ، نواس بن سمعانؓ، عمر بن عوفؓ، حذیفہ بن یمانؓ (یعنی پندرہ صحابہؓ) سے احادیث مروی ہیں، یہ حدیث صحیح ہے۔“

(ترمذی ص ۴۸ ج ۲)

یہ ہے وہ دجال جس کے قتل کرنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے اور جس کے قاتل کو سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے۔

کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو اس کی بات دوسری ہے۔ لیکن جو شخص آپ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے اسے انصاف کرنا چاہئے کہ کیا ان صفات کا دجال کبھی دنیا میں نکلا ہے اور کیا کسی عیسیٰ ابن مریم نے اسے قتل کیا ہے؟

جس طرح مرزا صاحب کی مسیحیت خود ساختہ تھی اسی طرح انہیں دجال بھی مصنوعی تیار کرنا پڑا، چنانچہ فرمایا کہ عیسائی پادریوں کا گروہ دجال ہے، یہ بات مرزا صاحب نے اتنی تکرار سے لکھی ہے کہ اس کے لئے کسی حوالے کی ضرورت نہیں۔

اولاً تو یہ پادری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پہلے سے چلے آ رہے تھے۔ اگر یہی دجال ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے ہی میں فرما دیتے کہ یہ دجال ہیں۔ پھر کیا وہ نقشہ اور دجال کی وہ صفات و احوال جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں، ان عیسائی پادریوں میں پائے جاتے ہیں؟

اور اگر مرزا صاحب کی اس تاویل کو صحیح بھی فرض کر لیا جائے تو عقل و انصاف سے فرمایا جائے کہ کیا مرزا صاحب کی مسیحیت سے پادری

صفحہ 354

ہلاک ہو چکے ہیں؟ اور اب دنیا میں کہیں عیسائی پادریوں کا وجود باقی نہیں رہا؟ یہ تو ایک مشاہدے کی چیز ہے جس کے لئے قیاس و منطق لڑانے کی ضرورت نہیں۔ اگر مرزا صاحب کا دجال قتل ہو چکا ہے تو پھر یہ دنیا میں عیسائی پادریوں کی کیوں بھرمار ہے؟ اور دنیا میں عیسائیت روز افزوں ترقی کیوں کر رہی ہے؟

۶۔ مسیح علیہ السلام کے زمانے کا عام نقشہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بابرکت زمانے کا نقشہ بھی بڑی وضاحت و تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ اختصار کے پیش نظر میں یہاں بطور نمونہ صرف ایک حدیث کا ترجمہ نقل کرتا ہوں جسے مرزا محمود احمد صاحب نے حقیقۃ النبوت کے صفحہ ۱۹۲ پر نقل کیا ہے۔ یہ ترجمہ بھی خود مرزا محمود احمد صاحب کے قلم سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

"انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں، اور دین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ ابن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے پس جب اسے دیکھو تو پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے ہوئے، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو گا، گو سر پر پانی ہی نہ ڈالا ہو۔ اور وہ صلیب کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کر دے گا اور جزیہ ترک کر دیگا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا۔ اس کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے، اور صرف اسلام ہی رہ جائے گا اور شیر اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے۔ عیسیٰ بن مریم چالیس سال زمین پر رہیں گے اور پھر وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔"

اس حدیث کو بار بار بنظر عبرت پڑھا جائے، کیا مرزا صاحب کے زمانے کا یہی نقشہ ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لڑائی بند ہو جائے گی مگر اخباری رپورٹ کے مطابق اس صدی میں صرف ۲۴ دن ایسے گزرے ہیں جب زمین انسانی خون

۱؎ تفصیل کے لئے دیکھئے مشکوٰۃ "باب العلامات بین یدی الساعۃ"۔

صفحہ 355

سے لالہ زار نہیں ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں امن و آشتی کا یہ حال ہو گا کہ دو آدمیوں کے درمیان تو کیا دو درندوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی۔ مگر یہاں خود مرزا صاحب کی جماعت میں عداوت و نفرت کے شعلے بھڑک رہے ہیں، دوسروں کی تو کیا بات؟

۷۔ دنیا سے بے رغبتی اور انقطاع الی اللہ

صحیح بخاری شریف کی حدیث، جس کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں مال سیلاب کی طرح بہ پڑے گا، یہاں تک کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہو گا۔

(صحیح بخاری ص ۴۹ ج۔۱)

اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ایک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے دنیا کو قیامت کے قریب آلگنے کا یقین ہو جائے گا، اس لئے ہر شخص پر دنیا سے بے رغبتی اور انقطاع الی اللہ کی کیفیت غالب آ جائے گی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صحبت کیمیا اثر اس جذبے کو مزید جلا بخشے گی۔ دوسرے، زمین اپنی تمام برکتیں اگل دے گی اور فقر و افلاس کا خاتمہ ہو جائے گا حتیٰ کہ کوئی شخص زکوۃ لینے والا بھی نہیں رہے گا۔ اس لئے مالی عبادات کے بجائے نماز ہی ذریعہ تقرب رہ جائے گی اور دنیا و مافیہا کے مقابلے میں ایک سجدے کی قیمت زیادہ ہو گی۔

جناب مرزا صاحب کے زمانے میں اس کے بالکل برعکس حرص اور لالچ کو ایسی ترقی ہوئی کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اتنی ترقی اسے شاید کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔

حرف آخر

چونکہ آنجناب نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں خدا اور رسول کی مخالفت ترک کرنے کی اس ناکارہ کو فہمائش کی ہے۔ اس لئے میں جناب سے اور آپ کی وساطت سے آپ کی جماعت اور جماعت کے امام جناب مرزا ناصر احمد صاحب سے اپیل کروں گا کہ خدا اور رسول کے فرمودات کو سامنے رکھ کر مرزا صاحب کی حالت پر غور فرمائیں۔ اگر مرزا صاحب مسیح ثابت ہوتے ہیں تو بے شک ان کو مانیں۔ اور اگر وہ معیارِ نبوی پر پورے نہیں اترتے تو ان کو ”مسیح موعود“ ماننا خدا اور رسول کی مخالفت اور اپنی ذات سے صریح

صفحہ 356

بے انصافی ہے۔ اب جبکہ پندرھویں صدی کی آمد آمد ہے، ہمیں نئی صدی کے نئے مجدد کے لئے منتظر رہنا چاہئے۔ اور مرزا صاحب کے دعوے کو غلط سمجھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کی تصدیق کرنی چاہئے۔ کیونکہ خود مرزا صاحب کا ارشاد ہے :

”اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

”پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔“

(مرزا صاحب کا خط بنام قاضی نذر حسین، مندرجہ اخبار بدر ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء)

جناب مرزا صاحب کا آخری فقرہ آپ کے پورے خط کا جواب ہے۔ پیش گوئیوں کی، بلند آہنگ دعووں کی، اشعار کی، رسالوں کی، کتابوں کی، پریس کانفرنسوں کی، پریس (وغیرہ وغیرہ) کی صداقت وحقانیت کے بازار میں کوئی قیمت نہیں ہے۔ دیکھنے کی چیز وہ معیار نبویؐ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو عطا فرمایا۔ اگر مرزا صاحب ہزار تاویلوں کے باوجود بھی اس معیار صداقت پر پورے نہیں اترتے تو اگر آپ ان کی حقانیت پر ”کروڑ نشان“ بھی پیش کر دیں تب بھی نہ وہ ”مسیح موعود“ بنتے ہیں اور نہ ان کو مسیح موعود کہنا جائز ہے۔ میں جناب کو دعوت دیتا ہوں کہ مرزا صاحب کے دعویٰ سے دستبردار ہو کر فرمودات نبویؐ پر ایمان لائیں۔ حق تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دیں گے اور اگر آپ نے اس سے اعراض کیا تو مرنے کے بعد انشاء اللہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔

ستعلم ليلي ای دین تداینت
وای غریم فی التقاضی غریمها

والحمد لله اولا واخرا

فقط والدعا محمد یوسف عفا اللہ عنہ

١۔ یہ خط ۱۳۹۹ھ کے وسط میں آج سے بارہ سال پہلے لکھا گیا تھا، آج پندرھویں صدی کے بھی دس سال گزر چکے ہیں، اور چودھویں صدی کے ختم ہونے سے مرزا غلام احمد کا دعویٰ قطعاً غلط ثابت ہو چکا ہے۔

صفحہ 357

نزول عیسیٰ علیہ السلام

چند شبہات کا جواب

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ

صفحہ 358

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى ۔ اما بعد :

مکرم و محترم۔ زیدت الطافہم۔ آداب و دعوات! گرامی نامہ مرسلہ (۵۔ ۱۱۔ ۷۹ء) موصول ہو کر موجب منت ہوا۔ جناب کے خیالات کو بغور پڑھا اور اس سے خوشی ہوئی کہ جناب نے بحث و مجادلہ کا نہیں بلکہ افہام و تفہیم کے مقصد کا اظہار فرمایا۔ حق تعالیٰ شانہ، فہم سلیم اور جذبہ حق طلبی سے مجھے اور آپ کو نوازیں۔ اس ناکارہ کو زیادہ تر انہیں لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جو بحث و مجادلہ ہی کے شوقین ہیں۔ جناب نے یہ لکھا ہے کہ ”آپ کو مرزائی نہ سمجھا جائے۔ مرزائیت سے آپ کو کوئی واسطہ نہیں۔ آپ ایک سیدھے سادھے مسلمان ہیں۔“ اس ناکارہ کو کسی مسلمان کو خواہ مخواہ ”مرزائی“ بنا ڈالنے کا شوق نہیں۔ نہ اس سے بحث کہ لکھنے والا کون ہے؟ مجھے تو یہ دیکھنا ہے کہ کیا لکھا ہے۔ اور وہ صحیح ہے یا غلط؟ میں جناب سے بھی توقع رکھوں گا کہ میری معروضات کو ٹھنڈے دل ہی سے ملاحظہ فرمائیں گے۔ کوئی صحیح بات قلم سے نکل جائے تو اس کے قبول کرنے میں عار نہیں کریں گے، اور اگر کوئی خطاء سہو واقع ہو تو اس سے مجھے آگاہ فرمائیں گے۔ وما توفیقی الا باللہ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ ،

اجماعی عقیدہ ہے ۔

جناب نے گرامی نامے کا آغاز اس فقرے سے کیا ہے کہ ”کئی محققین امت وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔“

صفحہ 359

تمہیداً گذارش ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ اختلافی نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تک تمام امت کا اجماعی اور متفق علیہ عقیدہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ و تابعینؒ کی سو سے زیادہ احادیث اس میں وارد ہیں، اور صحابہؓ و تابعینؒ سے لے کر آج تک یہ عقیدہ متواتر چلا آتا ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کا حوالہ

حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ، جنہوں نے صحابہؓ و تابعین کا زمانہ پایا ہے اور جن کا دور حیات ۸۰ھ سے ۱۵۰ھ پر محیط ہے، ان کا رسالہ ”فقہ اکبر“ اسلامی عقائد پر غالباً سب سے پہلی کتاب ہے۔ اس میں حضرت امامؒ فرماتے ہیں:۔

وخروج الدجال و يأجوج ”دجال کا اور یاجوج ماجوج کا نکلنا، و مأجوج و طلوع الشمس آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا، عیسیٰ من مغربها و نزول عيسىٰ بن مریم کا آسمان سے نازل ہونا، اور بن مريم عليه السلام من دیگر علامات قیامت، جیسا کہ احادیث السماء وسائر علامات يوم القيامة صحیحہ میں وارد ہوئی ہیں، سب حق على ما وردت به الاخبار ہیں، ضرور ہو کر رہیں گی، ”اور اللہ الصحيحة حقٌ كائن واللّٰه يهدي تعالیٰ جسے چاہے سیدھے راستے کی من يشاء الى صراطٍ مستقيم. .. ہدایت دیتا ہے۔“ (شرح فقہ اکبر ص ۱۶۱)

حضرت امام ابو حنیفہؒ پہلی اور دوسری صدی کے شخص ہیں ان کا نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو اپنے عقائد کے ذیل میں درج کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ پہلی اور دوسری صدی کے اکابر ائمہ دین بغیر کسی اختلاف کے اس پر ایمان رکھتے تھے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے انہوں نے یہی عقیدہ سیکھا تھا۔ اس کے بعد جتنے ائمہ دین ہوئے، اور جتنی کتابیں اسلامی عقائد پر لکھی گئیں

صفحہ 360

ان میں تواتر اور تسلسل کے ساتھ یہی عقیدہ درج ہوتا رہا۔ اگر یہ سب حضرات دین کے عالم بھی تھے، قرآن کے ماہر بھی، اور دیانت و تقویٰ سے متصف بھی، تو یہ عقیدہ بھی بر حق ہے۔ اور ایک سیدھے سادھے مسلمان کو (جیسا کہ آپ نے اپنے بارے میں تحریر فرمایا ہے) اس پر ایمان لانا واجب ہے۔

امام طحاویؒ کا حوالہ

چوتھی صدی کے مجدد امام طحاویؒ (م ۳۲۱ھ) نے ایک مختصر رسالہ عقائد اہل حق پر لکھا تھا جو ”عقیدۃ الطحاوی“ کے نام سے مشہور ہے۔ اور مکتب کے بچے بھی اسے پڑھتے ہیں۔ وہ اپنے رسالے کو ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں:

هذا ذكر بيان عقيدة اهل السنة والجماعة على مذهب فقهاء الملة ابي حنيفة نعمان بن ثابت الكوفى وابى يوسف يعقوب بن ابراهيم الانصارى وابى عبدالله محمد بن الحسن الشيبانى رضوان الله عليهم اجمعين۔ وما يعتقدون من اصول الدين و يدينون به لرب العالمين (ص ۲)

یہ اہلسنت والجماعت کے عقیدہ کا بیان ہے۔ جو فقہائے ملت امام ابو حنیفہ نعمانؒ بن ثابت کوفی امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم انصاری اور امام ابو عبداللہ محمد بن حسن شیبانی کے مذہب کے مطابق ہے اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔ اور ان اصول دین کو اس رسالہ میں ذکر کیا جائے گا جن کا یہ حضرات عقیدہ رکھتے تھے، اور جن کے مطابق وہ رب العالمین کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے تھے۔

امام طحاویؒ ”عقیدہ اہل سنت اور مذہب فقہائے ملت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے عقیدہ کو ایمانیات میں شمار کرتے ہوئے اس رسالہ میں لکھتے ہیں:

صفحہ 361

اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ دجال نکلے گا اور عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہونگے، اور یاجوج ماجوج نکلیں گے، اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ آفتاب مغرب سے نکلے گا اور دابۃ الارض اپنی جگہ سے نکلے گا۔

ونؤمن بخروج الدجال ونزول عيسى بن مريم عليه السلام من السماء وبخروج ياجوج وماجوج و نؤمن بطلوع الشمس من مغربها وخروج دابة الارض من موضعها۔

(ص ۱۳)

یہ سب علامات قیامت کبریٰ ہیں۔ جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیلاً اور قرآن کریم نے اجمالاً بیان فرمایا ہے۔ اور جن پر امام طحاویؒ کی تصریح کے مطابق پوری امت ”ایمان“ رکھتی ہے۔

علامہ سفارینیؒ کا حوالہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا انکار دور قدیم میں صرف فلاسفہ اور ملاحدہ نے کیا ورنہ کوئی ایسا شخص جو خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہو اس عقیدہ سے منکر نہیں ہوا۔ چنانچہ علامہ سفارینی (المتوفی ۱۱۸۸ھ) ”لوامع انوار البہیہ“ میں اس عقیدہ کو قرآن کریم، حدیث نبوی اور اجماع امت سے ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

رہا اجماع ! تو امت کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، اور جو لوگ شریعت محمدیہ پر ایمان رکھتے ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس کے خلاف نہیں کہا۔ اس کا انکار صرف فلاسفہ اور بددینوں نے کیا ہے جن کی مخالفت کا کوئی اعتبار نہیں، اور امت کا اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ کہ وہ نازل ہو کر شریعت

اما الاجماع فقد اجتمعت الامة على نزول عيسىٰ بن مريم عليه السلام ولم يخالف فيه احد من اهل الشريعه - وانما انکر ذالک الفلاسفة و الملاحدة ممن لا يعتد بخلافه وقد انعقد اجماع الامة انه ينزل و يحكم بهذه الشريعة المحمديه

صفحہ 362

وليس ينزل بشريعة مستقلة عند نزوله من السماء وان كانت النبوة قائمة وهو متصف بها۔ (ج ۲ ص ۹۴)

محمدیہ کے مطابق عمل کریں گے۔ اور آسمان سے اترتے وقت کوئی الگ شریعت لے کر نہیں اتریں گے اگرچہ ان کی نبوت ان کے ساتھ قائم رہے گی اور وہ نبوت کے ساتھ متصف ہوں گے۔

امام اشعریؒ کا حوالہ

امام ابو الحسن اشعریؒ المتوفی (۳۲۴ھ) جو ”امام اہل سنت“ کے لقب سے مشہور ہیں اور جنہیں تیسری صدی کا مجدد تسلیم کیا گیا ہے۔ ”کتاب الابانۃ“ (مطبوعہ حیدر آباد دکن) میں لکھتے ہیں۔

واجمعت الامة على انّ الله عز و جل رفع عيسى الى السماء (طبع دوم مطبوعہ ۱۳۶۵ھ ص ۳۸)

اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھالیا۔

امام سیوطیؒ کا حوالہ

چونکہ یہ عقیدہ نماز روزہ اور حج و زکوٰۃ کی طرح متواتر اور قطعی ہے اس لئے اس کے منکر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ چنانچہ نویں صدی کے مجدد امام جلال الدین سیوطیؒ (المتوفی ۹۱۱ھ) اپنے رسالہ ”الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام“ میں ایک معترض کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں۔

صفحہ 363

پھر اس مدعی سے کہا جائے گا کہ کیا تم اس حدیث کے ظاہر کو لیتے ہو؟ اور جو مطلب ہم نے اس کا کیا ہے اس پر محمول نہیں کرتے ہو؟ تو اس صورت میں تجھے دو میں سے ایک صورت لازم آئے گی۔ یا یہ کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی نفی کرو۔ یا بوقت نزول ان سے نبوت کی نفی کرو۔ اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔

ثم يقال لهذا الزاعم هل انت اخذ بظاہر الحدیث من غیر حمل علی المعنی المذکور؟ فیلزمک احد الامرین۔ اما نفی نزول عیسیٰ او نفی النبوة عنه و کلاهما کفر۔

(الحاوی للفتاوی ص ۲۶ ج ۲)

اس تقریر سے جناب نے اندازہ کیا ہو گا کہ حضرت عیسیٰ السلام کے آخری زمانے میں دوبارہ آنے کا عقیدہ کس قدر اہم اور ضروری ہے۔ اب آپ کے خط کے بارے میں چند امور عرض کرتا ہوں۔

”امام مالک“ اور ”ابن حزم“ اجماعی عقیدہ کے قائل ہیں۔

آپ نے ”امام مالک“ اور ”امام ابن حزم“ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے اور اس سے جناب نے یہ سمجھا کہ وہ ان کے نزول کے بھی منکر ہوں گے، مگر یہ صحیح نہیں۔ ”امام مالک“ اور ”امام ابن حزم“ دونوں اس اجماعی عقیدہ پر ایمان رکھتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ دوسروں کے حوالوں پر اعتماد کرنے کے بجائے مناسب ہو گا کہ ہم ”امام مالک“ اور ”امام ابن حزم“ کی اپنی کتابوں پر اعتماد کریں۔ اور ان کی اپنی تصریحات کی روشنی میں ان کا عقیدہ معلوم کریں۔

”امام مالک“ کا حوالہ :

امام مالک کی کتاب العتیبیہ کا تذکرہ آنجناب نے خود بھی فرمایا ہے اور اس کے حوالہ کے

صفحہ 364

لئے اُبی کی شرح مسلم اور سنوسی کی ”اکمل اکمل المعلم“ پر اعتماد فرمایا ہے۔ اس ناکارہ کا خیال کہ دوسری کتابوں کی طرح اُبی اور سنوسی کی شرح مسلم بھی جناب نے خود مطالعہ نہیں فرمائی بغیر دیکھے کسی کا نقل کردہ حوالہ زیب قرطاس کر دیا ہے۔ مناسب ہو گا کہ شرح مسلم کی پوری عبارت یہاں نقل کر دی جائے۔

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” تم میں ابن مریم نازل ہوں گے۔“ میں کہتا ہوں اکثر اس پر ہیں کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ اٹھا لئے گئے۔ اور ”العتيبيہ“ میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ۳۳ برس کی عمر میں فوت ہوئے۔ امام ابن رشدؒ کہتے ہیں کہ مالکؒ کی مراد ان کے فوت ہونے سے ان کا زمین کے عالم سے نکل کر آسمان کے عالم میں پہنچ جانا ہے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ واقعتہً فوت ہو گئے ہوں۔ اور اخیری زمانہ میں پھر زندہ ہوں۔ کیونکہ ان کا نزول لازم ہے۔ کیونکہ اس پر احادیث متواتر ہیں۔ اور ”العتيبيہ“ میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کسی نوجوان سے ملتے تو اس سے فرمائش کرتے کہ بھتیجے! شاید تم عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کرو تو ان سے میرا سلام کہہ دینا اور ”العتيبيہ“ میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا کہ دریں

قولہٗ صلی اللہ علیہ وسلم ”ينزل فيكم ابن مريم“ قلتُ الاکثر على انہ لم يمت بل رُفع وفي العتيبية قال مالک مات عیسٰی بن مریم ثلاث وثلاثين سنة (ابن رشد) يعنی بموتہ خروجہ من عالم الارض الى عالم السماء ۔ قال ويحتمل انہ، مات حقيقتہ ويحيیٰ فی آخرالزمان اذ لا بد من نزولہ لتواتر الاحاديث بذلک۔ وفي العتيبيۃ كان ابوهریرۃؓ يلقى الفتى الى الشاب فيقول يا ابن اخی انک عسىٰ ان تلقى عيسىٰ بن مريم فاقراہ منی السلام۔

(ص ۳۶۵ ج۔۱)

وفى العتيبيۃ قال مالک بين الناس قيام يستمعون لاقامتہ فتغشاهم غمامة فاذا عيسىٰ

صفحہ 365

قد نزل۔ (ص ۴۲۶ ج-۱) اثنا کہ لوگ کھڑے نماز کی اقامت سن رہے ہوں گے کہ اتنے میں ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی۔ دیکھتے کیا ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو چکے ہیں۔“

اس پورے حوالے کو بار بار پڑھئے۔ اس سے آپ مندرجہ ذیل نتائج پر پہنچیں گے۔

نزول ٹھیک اس وقت ہو گا جب کہ نماز کی اقامت ہو رہی ہوگی۔ اور امام مصلیٰ پر جا چکا ہو گا۔ (یہ مضمون احادیث صحیحۃ میں صراحۃً آیا ہے۔)

کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر اس قدر وثوق تھا کہ وہ نوجوانوں کو ان کی خدمت میں سلام پیش کرنے کی وصیت کیا کرتے تھے۔

قول کی تشریح یہ فرمائی کہ اس سے حقیقی موت مراد نہیں بلکہ عالم ارضی کے بجائے آسمان پر جا رہنا مراد ہے۔

اس پوری تفصیل کے بعد اب آپ خود فیصلہ فرما سکتے ہیں کہ باقی ساری باتوں سے آنکھیں بند کر کے یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ امام مالکؒ ”وفات مسیح کے قائل ہیں، دیانت اور امانت کی آخر کون سی قسم ہے؟ اور یہ بھی دیکھئے کہ امام مالکؒ کے بارے میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے عین بوقت نماز اچانک نازل ہونے کے بھی قائل ہوں۔ اور انہیں عام مردوں کی طرح وفات شدہ بھی مانتے ہوں؟ اور یہ بھی سوچئے کہ اگر امام مالکؒ وفات مسیح کے قائل ہوتے تو ان کے مقلدین اور اصحاب مذہب بالاتفاق حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل کیونکر ہو سکتے تھے؟

صفحہ 366

نزول عیسیٰؑ کا عقیدہ متواتر ہے، اُبّی اور سنوسی کا حوالہ

یہاں یہ عرض کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ امام ابو عبد اللہ محمد بن خلیفہ الوشتانی الابّی (م 827ھ) اور امام ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن یوسف السنوسی الحسنی (895ھ) جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے علامات قیامت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک حصہ ان علامت کبریٰ کا جن کا ثبوت متواتر اور قطعی ہے۔ اور جن کے وقوع پر ایمان لانا واجب ہے۔ یہ پانچ علامتیں ہیں۔ دجال کا نکلنا۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا۔ یاجوج و ماجوج کا خروج کرنا۔ دابۃ الارض کا نکلنا۔ اور آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ اور پانچ کے تواتر میں اختلاف ہے۔ خسف بالمشرق، خسف بالمغرب خسف بجزیرۃ العرب، دخان، اور عدن سے آگ کا نکلنا ...... اور بعض حضرات نے علامات کبریٰ میں دو مزید علامتوں کو شمار کیا ہے۔ فتح قسطنطنیہ اور ظہور مہدی۔ یہ ساری تفصیل انہوں نے حدیث جبریل کے تحت ذکر کی ہے۔ دیکھئے ص 70 ج 1) اور حدیث نبوی ”لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها“ کے تحت لکھتے ہیں۔

سورج کا اس طرح الٹی سمت سے طلوع ہونا قیامت کے دن کی علامتوں میں سے ہے جن کا انتظار کیا جاتا ہے۔ ، اور یہ اپنے ظاہر پر محمول ہے۔ اور مبتدعہ یعنی (فلاسفہ) جو عالم کے قدیم ہونے کے قائل ہیں (اور نظام عالم درہم برہم ہونے کے اور قیامت برپا ہونے کے منکر ہیں) اس میں تاویلیں کرتے ہیں ...... اور حدیث جبریل میں ابن رشد کا قول

طلوعها كذا لك احد اشراط المنتظرة و هو على ظاهره وتا ولته المبتدعة يعنى القائلين بالقدم ...... و تقدم في حديث جبريل عليه السلام قول ابن رشد الاشراط عشرة والمتواتر منها خمسة۔

(ص 269)

صفحہ 367

گزر چکا ہے کہ قیامت کی علامت کبریٰ دس ہیں اور پانچ ان میں (بشمول نزول عیسیٰ علیہ السلام کے) متواتر ہیں۔

ابن رشد، ابی اور سنوسی سب مالکی ہیں۔ اور وہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کو متواتر کہہ رہے ہیں اور اسلام کا معمولی طالب بھی جانتا ہے کہ دینی متواترات کا انکار کفر ہے۔ اگر امام مالکؒ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کے منکر ہوتے تو یہ مالکی ائمہ اس کے تواتر کے کیسے قائل ہو گئے؟

مجمع البحار کا حوالہ

آنجناب نے مجمع البحار کے حوالے سے بھی لکھا ہے۔ ”والاکثران عیسیٰ لم یمت۔ وقال مالک مات۔“ خیال ہے کہ جناب کو اس کتاب کے دیکھنے کا بھی اتفاق نہیں ہوا۔ اوپر کی عبارت پڑھنے کے بعد مجمع البحار کے حوالہ پر تبصرہ کے آپ محتاج نہیں ہونگے۔ لیکن غلط فہمی دور کرنے کے لئے میں اس کتاب کی پوری عبارت بھی نقل کئے دیتا ہوں۔ شیخ محمد طاہر ”مادہ“ ”حکم“ کے تحت لکھتے ہیں:

وفیہ ینزل ای حکماً بہذا حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حَکَم الشریعۃ۔ لا نبیاً والاکثران کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ یعنی عیسیٰ لم یمت وقال مالکؒ مات وھو ابن اس شریعت مطہرہ کے مطابق فیصلہ ثلاث وثلاثین سنۃ ولعلہ کرنے والے حاکم کی حیثیت سے، نہ کہ اراد رفعہ الی السماء او نبی کی حیثیت سے، اور اکثر اس پر ہیں حقیقہ و یجئ آخر الزمان کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ لتواتر خبر النزول۔“ اور امام مالکؒ نے فرمایا کہ وہ ۳۳ برس

صفحہ 368

کی عمر میں فوت ہوئے غالباً امامؒ کی مراد ان کا رفع آسمانی ہے۔ یا حقیقتاً فوت ہونا مراد ہے۔ بہرحال وہ آخری زمانے میں دوبارہ آئیں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی خبر متواتر ہے۔“

یہ ٹھیک وہی مضمون ہے جو اوپر ابی کی شرح مسلم سے نقل کر چکا ہوں جس کا خلاصہ یہ ہے امام مالکؒ یا تو وفات کے قائل ہی نہیں، بلکہ رفع الی السماء پر وفات کا اطلاق مجازاً ہے۔ اور اگر بالفرض قائل بھی ہوں تو اسی کے ساتھ حیات بعد الموت کے بھی قائل ہیں۔ ان حضرات کی عقل و فہم بھی قابل داد ہے جو امام محمد طاہر کو امام مالکؒ کا قول نقل کرنے میں تو لائق اعتماد سمجھتے ہیں اور ٹھیک اسی جگہ جب امام محمد طاہر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کو قطعی متواتر کہتے ہیں تو وہ ان حضرات کے نزدیک نالائق اعتماد قرار پاتے ہیں۔ قرآن کریم نے ”افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض“ کہہ کر ایسے ہی لوگوں کی دیانت وامانت کا ماتم کیا ہے۔

خلاصہ یہ کہ امام مالکؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ میں پوری امت سے متفق ہیں۔ متواتر احادیث، اجماع امت اور خود امام مالکؒ کے اپنے ارشادات عالیہ صریحہ کے مقابلہ میں مبہم اور مؤول حوالے پر اعتماد کر کے یہ کہنا کہ امام مالکؒ عیسیٰ علیہ السلام کو عام مرنے والوں کی طرح فوت شدہ سمجھتے ہیں۔ اس پر وہی مثال صادق ہے کہ ایک صوفی جی بیٹھے رو رہے تھے کسی نے وجہ پوچھی تو بولے، کہ گھر سے خط آیا ہے کہ میری بیوی بیوہ ہو گئی ہے۔ کسی نے عرض کیا کہ حضرت آپ زندہ سلامت موجود، نصیب دشمنان آپ کی بیگم کو بیوہ ہونے کا حادثہ کیسے پیش آگیا؟ بولے سوچتا تو میں بھی ہوں مگر کیا کیجئے گھر کا نائی بھی معتبر ہے۔ ممکن ہے کسی ظریف نے، یا خود بیگم صاحبہ ہی نے لکھ دیا ہو کہ آپ نے تو جیتے جی مجھے ”بیوہ“ کر چھوڑا ہے، گھر کا منہ ہی نہیں دیکھتے، اس سے صوفی جی سمجھے کہ شاید بیگم صاحبہ سچ مچ میرے جیتے جی بیوہ ہو گئی ہیں۔ اسی طرح امام مالکؒ اور مالکی حضرات کتنا ہی کہتے رہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، ضرور آئیں گے، ان کے آنے کی خبر متواتر ہے، یقینی ہے، قطعی ہے، مگر

صفحہ 369

”ہمارے صوفی جی“ انہی کے حوالے سے اڑا رہے ہیں کہ وہ مرچکے ہیں، نہیں آئیں گے۔

حاشیہ جلالین اور ابن حزمؒ کے حوالے

جناب نے حاشیہ جلالین وغیرہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام ابن حزمؒ وفات مسیح کے قائل ہیں۔ غالباً جناب کو امام ابن حزمؒ کی کتابیں بھی براہ راست دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ امام ابن حزم کی کتاب ”الفصل فی الملل والا ھواء والنحل“ اس ناکارہ کے سامنے ہے جس میں انہوں نے کئی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ درج فرمایا ہے۔ اب آپ خود فرمائیں کہ میں امام ابن حزمؒ کی اپنی تصریحات کا یقین کروں، یا آپ کے حوالے پر اعتماد کرکے صوفی جی کی بیگم کی بیوگی کا ماتم کروں؟

ایک جگہ اجرائے نبوت کا نظریہ رکھنے والوں پر نکیر کرتے ہوئے حافظ ابن حزمؒ لکھتے ہیں۔

پوری کی پوری امت جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، آپ کے معجزات اور آپ کی کتاب کو نقل کیا ہے۔ اس نے تواتر کے ساتھ آپؐ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے جن کے نازل ہونے پر احادیث صحیحہ موجود ہیں، اور یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے، اور جن کے قتل و صلب

وقد صح عن رسول الله صلی الله علیه وسلم بنقل الکواف التي نقلت نبوته واعلامه، وكتابه، انه اخبر انه لا نبی بعده الا ما جاءت الاخبار الصحاح من نزول عیسیٰ علیه السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل ۔ وادعی الیهود قتله وصلبه فوجب الاقرار بهذه الجملة و صح ان وجود النبوة بعدہ علیه السلام باطل لا یکون البتة (ص ۷۷ ج ۱)

صفحہ 370

کا یہود کو دعویٰ ہے۔ پس اس سارے مضمون پر ایمان لانا ضروری ہے، اور یہ بھی صحیح ہے کہ آپؐ کے بعد نبوت کا حصول باطل ہے۔ قطعاً باطل۔

ایک جگہ اصول تکفیر پر بحث کرتے ہوئے ابن حزمؒ لکھتے ہیں:-

واما من قال ان الله عز وجل هو فلان لانسان بعينه او ان الله يحل فى جسم من اجسام خلقه۔ او ان بعد محمد صلى الله عليه وسلم نبياً غير عيسىٰ بن مريم فانه لا يختلف اثنان فى تكفيره لصحته قيام الحجة بكل هذا على كل احدٍ۔

(ص ۲۴۹ ج - ۳)

جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی ہے، یا یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کے جسم میں حلول کرتا ہے، یا یہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے آئے گا، تو ایسے شخص کے کافر ہونے کے بارے میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں، کیونکہ ان تمام امور میں ہر شخص پر حجت قائم ہو چکی ہے۔

ابن حزمؒ کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ جس طرح ختم نبوت کا مسئلہ قطعی اور متواتر ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانہ میں نازل ہونے کا عقیدہ بھی احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ نیز یہ بھی معلوم کہ جس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اس سے کوئی نام نہاد مسیح مراد نہیں بلکہ وہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں جن کو ساری دنیا ”رسولاً الیٰ بنی اسرائیل“ کی حیثیت سے جانتی ہے، اور جن کے قتل و صلب کا یہودیوں کو دعویٰ ہے۔

اب ایک نظر اپنے حوالوں پر بھی ڈال لیجئے۔

صفحہ 371

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں انبیاء علیہم السلام کی ارواح کو دیکھا۔ اول تو اوپر کی تصریحات کے مقابلہ میں اس عبارت سے وفات مسیح پر استدلال کرنا ایسا ہے کہ کوئی شخص قرآنی آیت ”ولقد خلقنا الانسان من نطفة“ سے یہ دعویٰ کرنے لگے کہ حضرت آدم علیہ السلام بھی چونکہ انسان تھے لہٰذا وہ بھی ضرور نطفہ ہی سے پیدا ہوئے ہونگے اس طرح وہ حضرت آدم علیہ السلام کا نسب نامہ ثابت کرنے لگے۔ اور ”من نطفةٍ امشاج“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی ”نطفۂ امشاج“ سے ثابت کرنے بیٹھ جائے، اور یہ دعویٰ کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی مرد و زن کے اختلاط سے ہوئی تھی۔ اہل فہم جانتے ہیں کہ ایسے عمومات سے کسی خصوصی مسئلہ پر استدلال کرنا مضحکہ خیز ہے۔ کیونکہ جب کسی مسئلہ میں صاف نص موجود ہو جو اس کی خصوصیت کو بیان کر رہی ہو تو اس کے خلاف عمومات سے استدلال صریحاً غلط ہے۔

دوسرے انبیاء علیہم السلام کی ارواح کا مشاہدہ ظاہر ہے کہ بغیر اجسام کے نہیں ہوا ہوگا۔ اب خواہ اجسام مثالیہ مراد لئے جائیں یا ارواح کا تجسد یعنی اجسام کی شکل میں ظاہر ہونا۔ فرض کیا جائے جیسا کہ حضرات صوفیہ قائل ہیں، بہرحال ارواح انبیاء کسی نہ کسی جسم میں متشکل ہوئی ہوں گی، اور کہا یہی جائے گا کہ ارواح کو دیکھا۔ ادھر عیسیٰ علیہ السلام اپنے اسی جسم کے ساتھ روح اللہ کہلاتے ہیں۔ پس جس طرح دیگر انبیاء کرام کی ارواح طیبات پر احکام جسد طاری ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم اطہر پر روح کے احکام عارض ہیں۔ وہاں ارواح کا تجسّد تھا یہاں جسم کا تروح ہے اس لئے عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہونے کے باوجود ان کے ساتھ دیکھے گئے۔ الغرض ان کا ارواح انبیاء علیہم السلام میں دیکھا جانا ان کے رفع جسمانی کے منافی نہیں۔

تیسرے، حافظ ابن حزمؒ نے یہ بات جس سیاق میں کہی ہے اس کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔ حافظ ابن حزمؒ یہاں ان لوگوں کے دعویٰ کو رد کر رہے ہیں جن کا دعویٰ تھا کہ

صفحہ 372

ان محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حالت صلی اللہ علیہ وسلم ليس ہو الآن رسول حیات میں رسول اللہ تھے اب رسول الله ولكنه كان رسول الله صلی اللہ نہیں (معاذ اللہ ۔ استغفر اللہ) الله عليه وسلم -

اس خبیث قول کی وجہ اور بنیاد کیا تھی؟ اس کا ذکر کرتے ہوئے ابن حزم لکھتے ہیں ۔

وان ما حملهم على هذا قولهم ان کے اس قول فاسد کا منشاء یہ ہے کہ الفاسد ان الروح عرض والعرض یفنی روح عرض ہے، اور عرض دو زمانوں ابداً و يحدث ولا یبقی زمانین۔ میں باقی نہیں رہتا بلکہ اس کے فنا و حدوث کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اس خبیث قول کے سخیف منشا کو رد کرنے کے لئے انہوں نے متعدد دلائل پیش کئے ہیں انہیں میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف آسمانوں میں انبیاء علیہم السلام کو دیکھا۔

فهل رائی الا ارواحهم پس آپ نے ان کی ارواح ہی کو التی هی انفسهم۔ دیکھا۔ جو ان کی عین ذات تھیں۔

اس سے ثابت ہوا کہ مرنے کے بعد روح فنا نہیں ہوتی، بلکہ باقی رہتی ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ روح عرض نہیں بلکہ جوہر ہے اس تقریر جواب کو ملاحظہ فرمائیے تو اس سے انبیاء علیہم السلام کی ارواح کا بقاء اور ان کا (بواسطہ جسم مثالی یا بشکل تجسد روح) قابل رؤیت ہونا بیان کرنا منظور ہے، اور یہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کے ساتھ نفیاً یا اثباتاً ادنیٰ مس بھی نہیں رکھتی۔ پس ایک عقیدہ قطعیہ اجماعیہ کے مقابلہ میں ایسی عبارت سے استدلال کرنا عقل و انصاف سے بے انصافی ہے۔

صفحہ 373

کشف المحجوب کا حوالہ

میری اس تقریر کی تائید (ابن حزمؒ کی تصریحات کے علاوہ) اس بات سے بھی ہوتی ہے۔ کہ آنجناب نے شیخ علی ہجویری قدس سرہ، کا قول بھی ”کشف المحجوب“ سے نقل کیا ہے۔ کہ ”معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو دیکھا۔“

حضرت شیخ کی پوری عبارت یہ ہے۔

پس روح ایک جسم لطیف ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتا بھی ہے، اور اسی کے حکم سے جاتا بھی ہے۔ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے شب معراج میں حضرت آدم، حضرت ابراہیم، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، ہارون اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو آسمان میں دیکھا لا محالہ یہ ان حضرات کی ارواح ہی ہونگی۔

پس آں جنسے بود لطیف کہ بیاید بفرمان خدائے عزّ و جل، و میرود بفرمان وے، و پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم گفت من اندر شب معراج آدم، و ابراہیم، و یوسف، و موسیٰ، و ہارون، و عیسیٰ علیہم السلام در آسمانہا بدیدم۔ لا محالہ آں ارواح ایشاں باشند۔“

(کشف المحجوب ص ۲۷۲ بحث الکلام فی الروح)

اس عبارت سے دو باتیں ثابت ہوئیں ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام علیہم السلام کا جو دیکھنا فرمایا ہے شیخؒ نے اس سے تجسّد ارواح پر استدلال فرمایا۔ حضرات صوفیاء ارواح کے تجسّد اور جسم کے تروّح کے قائل ہیں، مگر ظاہر ہے خود ارواح کے تجسّم کی ضرورت اسی صورت میں پیش آئے گی جب کہ روح کو جسم سے الگ فرض کیا جائے، اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اسی جسم کے ساتھ ہونا چونکہ معلوم و مسلم عقیدہ ہے اس سے بقرینہ عقل وہ اس سے مستثنیٰ ہوں گے جیساکہ ” انا خلقنا کم من ذکرٍ وّ انثیٰ “ سے بقرینہ عقل حضرت آدم اور حضرت

صفحہ 374

عیسیٰ علیہما السلام مستثنیٰ ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضرت شیخؒ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو دیکھا نہیں لکھا بلکہ ان کا ذکر تغلیباً کیا ہے۔ جس طرح حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو تغلیباً ”عمرین“ یا شمس و قمر کو تغلیباً ”قمرین“ کہا جاتا ہے۔ لیکن تنہا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ”عمر“ اور سورج کو قمر نہیں کہا جائے گا اسی طرح تنہا یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو دیکھا قطعاً غلط بیانی ہوگی۔

بہر حال نصوص قطعیہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت کو ایسی مبہم عبارتوں سے رد کرنا سلامت فکر کے خلاف ہے۔ حضرت شیخ علی ہجویریؒ جیسا کہ ”کشف المحجوب“ سے واضح ہے، پکے حنفی ہیں اور امام ابو حنیفہؒ کا عقیدہ میں اوپر ذکر کر چکا ہوں، ناممکن ہے کہ شیخ عقائد میں اپنے امام کے عقیدے سے منحرف ہوں اس لئے عقیدہ ان کا بھی وہی ہے جو امام ابو حنیفہؒ کا، ان کے اصحاب مذہب کا اور پوری امت کا ہے چنانچہ اسی کشف المحجوب میں حضرت شیخ لکھتے ہیں۔

صحیح احادیث میں وارد ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک گدڑی پہنے ہوئے تھے کہ اسی حالت میں ان کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔

اندر اخبار صحیح وارد است کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مرقعہ داشت وے را بر آسمان بردند

(کشف المحجوب ص ۴۲)

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ علی ہجویریؒ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے قائل ہیں۔

اب آپ خود انصاف فرمائیں کہ اکابر کی عبارتوں کو ان کے اپنے عقائد اور ان کی اپنی تصریحات کے خلاف محمول کرنا اور ان سے غلط عقائد کشید کرنا کیا انصاف سے بعید نہیں؟

۱؎ شائع کردہ: اسلامک بک فاؤنڈیشن، ۲۴۹ این سمن آباد ۔ لاہور

صفحہ 375

المحلّی کا حوالہ :

آنجناب نے امام ابن حزمؒ کی ”المحلی“ ص ۲۳ ج ۱ سے یہ عبارت نقل کی ہے۔

ان عیسیٰ لم یقتل ولم یصلب ۔ ولکن توفاہ اللہ عزوجل ثم رفعہ ...... بقولہ فلما توفیتنی وفاۃ النوم فصح انہ انما عنی وفات الموت۔“

مجھے افسوس ہے کہ جناب نے نہ تو حافظ ابن حزمؒ کا مدعا سمجھا ہے اور نہ آپ نے اپنی منقولہ عبارت کے ٹکڑے میں لفظی ربط ہی ملحوظ رکھا ہے، میری مشکل یہ ہے کہ میں آپ کے ایک ایک حوالے کی تصحیح کروں تو بات پھیلتی ہے بہرحال اس عبارت کے سلسلہ میں بھی چند باتیں گوش گزار کرتا ہوں۔

السلام کے نزول پر احادیث صحیحہ ثابتہ مسندہ موجود ہیں، اور یہ کہ اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ یہی بات انہوں نے ”المحلی“ میں بھی دہرائی ہے۔ چنانچہ اس کے ص ۹ (جلد اول) پر لکھتے ہیں۔

وانہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم لا نبی بعدہ ...... الا ان عیسیٰ بن النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی مریم علیہ السلام سینزل۔ نہیں ہوگا۔ ...... مگر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔

اس کی تائید میں وہ اپنی سند متصل سے صحیح مسلم کی یہ حدیث نقل کرتے ہیں۔

”جابر بن عبد اللہ یقول سمعت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ 376

لا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال فينزل عيسى بن مريم صلى الله عليه وسلم فيقول امير ہم تعال صل لنا، فيقول لا، ان بعضكم على بعض امراء تكرمة الله هذه الامة (المحلی ص ۴۹ ج ۱)

کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی، اور قیامت تک غالب رہے گی۔ فرمایا: پس (قرب قیامت میں) حضرت عیسٰی علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر (یہ امام مہدیؓ ہوں گے۔ ناقل) ان سے عرض کرے گا کہ آیئے! ہمیں نماز پڑھایئے تو آپؑ فرمائیں گے۔ نہیں، (یہ نماز آپ ہی پڑھائیں) بے شک تم میں سے بعض، بعض پر امیر ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس امت کا اکرام ہے (کہ ایک اولوالعزم رسول، امت محمدیہ کے ایک فرد کی اقتدا میں نماز پڑھے)

ہو گا۔ گویا دجال کا خروج اور عیسٰی علیہ السلام کا نزول دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ایک کا اقرار دوسرے کے اقرار کو مستلزم ہے۔ حافظ ابن حزمؒ اسی ”المحلی“ میں خروج دجال کی تصریح بھی فرماتے ہیں۔ ” وان الدجال سياتى وهو كافر اعور ممخرق ذو حيل “ (المحلی ص ۴۹ ج ۱) ترجمہ۔ ”اور یہ کہ آخری زمانے میں دجال آئے گا۔ اور وہ کانا کافر ہے۔ جو بہت سے خرق عادت شعبدے دکھائے گا۔ اور اس عقیدے پر وہ دو حدیثیں صحیح مسلم کی اور ایک حدیث ابو داؤد کی اپنی سند سے نقل کرتے ہیں۔ (دیکھئے المحلی ص ۴۹ - ۵۰ ج ۱)

خروج دجال کا عقیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔

صفحہ 377

اب ابن حزمؒ کا ایک قاعدہ سن لیجئے جو انہوں نے اسی ”المحلّیٰ“ میں ذکر کیا ہے۔

اور ہر شخص جس نے کسی ایسی بات کا انکار کیا جو اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی اور اس کے نزدیک اس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح تھا، یا اس نے ایسی بات کا انکار کیا جس پر اہل ایمان کا اجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے تو ایسا شخص کافر ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے۔ ”اور جس نے مخالفت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعد اس کے کہ اس پر صحیح بات کھل گئی۔ اور وہ چلا مومنوں کا راستہ چھوڑ کر تو ہم اسے پھیر دیں گے جدھر پھرتا ہے۔ اور جھونک دیں گے جہنم میں۔“

”وکل من کفر بما بلغہ وصح عندہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اواجمع علیہ المؤمنون مما جاء بہ النبی علیہ السلام فہو کافر۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن یشاقق الرّسول من بعد ما تبیّن لہ الہدیٰ و یتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولّیٰ ونصلہ جہنم۔“

(المحلّیٰ ص ۱۲ ج ۱)

عقیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ہے اور یہ کہ اس عقیدے پر پوری امت کا اجماع ہے اور یہ کہ ایسی ثابت شدہ دینی حقیقت کا منکر کافر ہے تو ظاہر ہے کہ ابن حزمؒ کو نزول عیسیٰ کا منکر قرار دینا ان کے اپنے اصول کے مطابق ان کو کافر قرار دینے کے ہم معنی ہوا۔ نعوذ باللہ۔ اس لئے اب دو ہی صورتیں ممکن ہیں، یا تو یہ کہا جائے کہ ابن حزمؒ بھی پوری امت کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں تو اس صورت میں آپ کے حوالے بے کار ہیں، یا یہ کہا جائے کہ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بار فوت ہوچکے ہیں، مگر دوبارہ زندہ ہو کر نازل ہوں گے۔ جیسا کہ

صفحہ 378

آنجناب نے ”مجموعہ مکاتیب اقبال“ جلد اول ص ۱۹۴ کے حوالے سے مولانا سید سلیمان ندویؒ کا فقرہ نقل کیا ہے کہ ”ابن حزمؒ وفات مسیح کے قائل تھے۔ ساتھ نزول کے بھی۔“ اگر یہ صورت بھی تجویز کی جائے (جو غالباً آپ کے نزدیک بھی صحیح نہیں) تب بھی یہ ہمیں مضر نہیں۔ اصل بحث تو ان کے نزول ہی کی ہے۔ حیات و وفات کا مسئلہ تو نزول یا عدم نزول کی تمہید ہے کیونکہ جو لوگ حیات کے قائل ہیں وہ ان کے نزول ہی کی خاطر قائل ہیں، اور جو لوگ وفات کے منکر ہیں۔ ان کی اصل دلچسپی بھی انکے نزول سے ہی وابستہ ہے۔ پس جب کہ امام ابن حزمؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں تو گویا نتیجہ و مآل میں اجماع امت کے ساتھ متفق ہیں اور یہ بحث زائد از ضرورت ہو جاتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بدستور زندہ ہیں، یا ایک بار مر چکے ہیں۔ اور پھر زندہ ہوئے یا ہوں گے۔ اس لئے اگر آپ ابن حزمؒ کی کسی صریح عبارت سے یہ بھی ثابت کر دکھائیں کہ ابن حزمؒ وفات مسیح کے قائل ہیں تو اسی کے ساتھ یہ بھی تسلیم فرما لیجئے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زندہ ہو کر آنے کے بھی قائل ہیں اور اس اقرار کے بعد بتائیے کہ مآل و نتیجہ کے اعتبار سے میرے عقیدہ پر کیا زد پڑی، اور منکرین نزول مسیح کو ابن حزمؒ کے موقف سے کیا نفع ہوا؟ ہاں اگر ابن حزمؒ کو نزول عیسیٰ کا منکر ثابت کرنا منظور ہے تو شوق سے کیجئے مگر ساتھ ہی ان کے اپنے قاعدہ کے مطابق ”فھو کافر“ کا فتویٰ بھی تیار رکھئے، اور اگر ابن حزمؒ سے یہ کہلانا مقصود ہے کہ پہلا عیسیٰ مر گیا، اور آخری زمانہ میں ایک اور نام نہاد عیسیٰ آئے گا تو از راہ کرم ”کتاب الفصل“ جلد اول صفحہ ۷۷ کی عبارت ایک بار پھر پڑھ لیجئے۔ جس میں انہوں نے تصریح کر دی ہے کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائینگے جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔

۵۔ یہ ساری تقریر میں نے اس صورت میں کی ہے جب کہ ابن حزمؒ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے واقعۃً قائل بھی ہوں۔ میری نظر سے اب تک امام ابن حزمؒ کی کوئی ایسی عبارت نہیں گزری جس میں انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہو جانے کی تصریح کی ہو۔ آنجناب نے جو عبارت نقل کی ہے اس کے سیاق کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں کا رد کرنا چاہتے ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے قتل و صلب کے قائل ہیں۔ اس لئے انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مقتول اور مصلوب نہیں ہوئے بلکہ اللہ

صفحہ 379

تعالیٰ نے انہیں اپنی تحویل میں لے کر اپنی طرف اٹھا لیا۔ ” وان عیسٰی لم یقتل ولم یصلب ولكن توفاہ اللہ عز وجل ثم رفعہ الیہ ۔ “

اس رفع آسمانی کے دعویٰ پر انہوں نے دو آیتیں پیش کی ہیں ” وما قتلوہ وما صلبوہ“ (النساء:۱۵۷) اور ”انّی متوفیک ورافعک الیٰ۔“ (آل عمران:۵۵) اور اس دعویٰ پر کہ ان کی وفات قتل و صلب کے بجائے طبعی موت سے ہوگی انہوں نے قرآن کریم کی یہ آیت نقل کی ہے کہ عیسٰی علیہ السلام قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے: ” و کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۔ وانت علٰی کل شئ شہید ۔ “ (المائدہ:۱۱۷) ترجمہ: اور میں ان پر مطلع رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا تو آپ ان پر مطلع رہے اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ “ اور پھر یہ آیت ” اللہ یتوفی الانفس ۔ “ سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ وفات معتاد کی دو ہی قسمیں ہیں۔ وفات نوم وفات موت۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول ”فلما توفیتنی “ میں وفات نوم کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ انہوں نے اس سے وفات موت کا ارادہ کیا ہے، پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول و مصلوب نہیں ہوئے۔ بلکہ ان کی وفات طبعی موت سے ہوگی۔ اور اس پر پوری بحث کے نتیجہ میں وہ لکھتے ہیں:

ومن قال انہ علیہ السلام قتل او صلب فھو کافر مرتد حلال دمہ و مالہ لتکذبہ القرآن و خلافہ الاجماع ۔

(المحلی ۱۲۳۳)

ترجمہ ”اور جو شخص یہ کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قتل ہوگئے۔ یا صلیب دیئے گئے، پس وہ کافر و مرتد ہے۔ اس کا خون و مال حلال ہے ، کیوں کہ وہ قرآن اور اجماع امت کو جھٹلاتا ہے۔ “

اس تقریر سے واضح ہوا کہ امام ابن حزمؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مقتول و مصلوب نہیں ہوئے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا۔ اور آیت ”فلما توفیتنی “ کے مطابق ان کی وفات جب بھی ہوگی، طبعی موت سے ہوگی۔ رہا یہ کہ یہ موت واقع بھی ہوچکی ہے یا نہیں؟ اور ہوگی تو کب ہوگی؟ اس بحث سے یہاں تعرض نہیں

صفحہ 380

کیا گیا، کیوں کہ ”فلما توفیتنی“ کا قول قیامت کے دن ہو گا۔ اس لئے قیامت سے پہلے کسی وقت بھی ان کی وفات ہو یہ جملہ اس پر صادق آتا ہے۔

جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے میری نظر سے نہیں گزرا کہ امام ابن حزمؒ نے کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہو جانے کی تصریح کی ہو۔ مگر وہ ظاہری ہیں اور ظاہر احادیث سے انحراف کو قطعا روا نہیں رکھتے ادھر احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ قرب قیامت میں بعد از نزول ان کی وفات ہوگی۔ ”ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون ۔“ (مسند احمد ص۴۰۶ ج۲۔ ابو داؤد ص ۵۹۲ ج۲) اس لئے قیاس یہی کہتا ہے کہ وہ بعد از نزول ہی وفات کے قائل ہوں گے، ورنہ دو مرتبہ مرنے کا قول ان کی طرف منسوب کرنا پڑے گا۔

حضرت ابن عباسؓ کے حوالے :

آنجناب نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے ”متوفیک“ کی تفسیر ”ممیتک“ کے ساتھ کی ہے، یہاں بھی آپ نے ادھوری نقل پیش کر دی، یہ صحیح ہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے، لیکن ان کا مطلب خود ان کے الفاظ میں یہ ہے۔

”قال انی رافعک ثم متوفیک فی آخر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ تجھے الزمان۔ (تفسیر درمنثور ص ۳۶ ج ۲) سردست اٹھانے والا ہوں پھر آخری زمانہ میں تجھ کو وفات دوں گا۔

حضرت ابن عباسؓ کی مکمل تشریح سے آنکھیں بند کر کے یہ لے اڑنا کہ انہوں نے متوفیک کی تفسیر ”ممیتک“ کے ساتھ کی ہے، اور اس پر یہ ہوائی قلعہ تعمیر کر لینا کہ وہ وفات مسیح کے قائل ہیں، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص ”لاتقربوا الصلوٰۃ“ سے نماز کی حرمت پر استدلال کرنے لگے۔

لطیفہ یہ کہ آپ نے ”متوفیک“ ”ممیتک“ کی سند نقل کرنے کا تکلف بھی فرمایا ہے: ”عبد اللہ بن صالحؒ نے معاویہؓ سے اور معاویہؓ نے حضرت علیؓ سے اور علیؓ

صفحہ 381

رضی اللہ عنہ نے ابن عباسؓ سے ......... ”جناب کی معلومات کی تصحیح کے لئے عرض ہے کہ یہ ”معاویہ“ اور ”حضرت علیؓ“ مشہور صحابی نہیں، جیسا کہ جناب سمجھ رہے ہیں بلکہ یہ بہت بعد کے راویوں کے نام ہیں اور علی سے مراد یہاں ”علی بن ابی طلحہ“ ہیں جو ضعیف بھی ہیں اور ان کا سماع بھی حضرت ابن عباسؓ سے ثابت نہیں۔ اس لئے یہ روایت ضعیف بھی ہے اور منقطع بھی۔ اسی بناء پر میں نے کئی جگہ اس حسن ظن کا اظہار کیا ہے کہ جناب نے حدیث و تفسیر اور دیگر کتابوں کا مطالعہ نہیں فرمایا بلکہ کسی دوسرے کا جمع کردہ خام مواد آنجناب کے پیش نظر ہے۔

جناب کی خدمت میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے اور دار پر کھینچنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ سلامت آسمان پر اٹھالیا اور یہود نے ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو پکڑ کر قتل وصلب کیا۔ (تفسیر ابن کثیر ص ۵۷۴ ج ۱)

ان سے یہ بھی بسند صحیح منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں دوبارہ تشریف لائیں گے، تب تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ یہی مطلب ہے حق تعالیٰ کے ارشاد ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔ ویوم القیامة يكون عليهم شهيدا“ - (تفسیر درمنثور ص ۲۴۰ ج ۱)

وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ بنص قرآن ”وانہ لعلم للساعة“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہوکر دجال کو قتل کرنا قیامت کی نشانی ہے۔

(درمنثور ص ۲۰ ج ۶ مجمع الزوائد ص ۱۰۴ ج ۷ ۔ ابن جریر ص ۵۳ ج ۲۵)

کیا ان تصریحات کے بعد کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ مانتے ہیں؟

مولانا سندھیؒ کا حوالہ

آنجناب نے مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی جانب منسوب تفسیر ”الہام الرحمٰن“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ وفات کے قائل ہیں۔ ”الہام الرحمٰن“ مولانا کی طرف

صفحہ 382.

منسوب ضرور کی جاتی ہے۔ مگر جس نے اس کا مطالعہ کیا ہو گا وہ یہ سمجھنے میں تامل نہیں کرے گا۔ کہ اس کے مضامین مولانا مرحوم کی طرف منسوب کرنا ان پر بڑی زیادتی ہے۔ اس ناکارہ کی تحقیق یہ ہے کہ مولانا مرحوم حیات عیسیٰ علیہ السلام کے منکر نہیں تھے۔ چنانچہ مولانا مرحوم اپنے رسالہ ”محمودیہ“ میں لکھتے ہیں۔

قال الإمام ولى الله فى التفهيمات الإلهية، فهمنى ربى جل جلاله، أنك انعكس فيك نور الاسمين الجامعين نور الاسم المصطفوى والاسم العيسوى عليهما الصلوة والتسليمات، فعسى أن تكون ساداً لأفق الكمال، غاشياً لإقليم القرب، فلن يوجد بعدك الا ولك دخل فى تربيته ظاهراً وباطنا حتى ينزل عيسى عليه السلام .

(رساله محموديه ص ٢٤ - ٢٦)

ترجمہ: ”امام ولی اللہ تفہیمات الہیہ میں فرماتے ہیں کہ مجھے میرے رب جل جلالہ نے الہام فرمایا ہے کہ تجھ میں دو جامع اسموں کا نور منعکس ہے۔ ایک نور مصطفوی ، اور دوسرا نور عیسوی (علیہما الصلوٰۃ والتسلیمات) پس توقع ہے کہ تو افق کمال کو بھرنے والا اور اقلیم قرب کو ڈھانکنے والا ہو گا۔ پس تیرے بعد جو شخص بھی ہو گا اس کی ظاہری و باطنی تربیت میں تیرا دخل ہو گا۔ یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) نازل ہو جائیں۔“ مولانا سندھی مرحوم شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے شارح ہیں ، اور وہ حضرت شاہ صاحبؒ کی تحقیقات سے سرمو تجاوز نہیں کرتے۔ حضرت شاہ صاحبؒ عقیدہ حیات و نزول مسیح کے مناد ہیں۔ اس لئے جن ملاحدہ نے مولانا سندھیؒ کی جانب غلط عقائد منسوب کئے ان کی کوئی ذمہ داری مولانا مرحوم پر عائد نہیں ہوتی۔

عہد حاضر کے چند لوگوں کا حوالہ :

آپ نے عہد حاضر کے چند حضرات کا حوالہ دیا ہے کہ وہ وفات کے قائل ہیں،

صفحہ 383

جن میں سرسید، علامہ مشرقی، چراغ علی، مولانا آزاد، مولانا ظفر علی خان، علامہ فرید وجدی، رشید رضا، محمد عبدہ، علامہ شلتوت، استاد احمد عجوز، مصطفیٰ مراغی، عبدالکریم شریف، عبدالوہاب النجار، ڈاکٹر احمد ذکی کا نام لیا ہے، ان میں سے بعض حضرات کی طرف تو نسبت ہی غلط ہے، مثلاً مولانا آزاد مرحوم، مولانا ظفر علی خان اور علامہ فرید وجدی ...... اس سے قطع نظر میری گزارش یہ ہے کہ یہ حضرات دینی عقائد میں سند اور حجت نہیں۔ فہم قرآن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اور سلف صالحینؒ کا ارشاد لائق اعتناء ہے۔ مثلاً سرسید احمد خاں کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ وہ جنت و دوزخ، حشر اجساد، ملائکہ، وحی وغیرہ قطعیات اسلامیہ کے بھی منکر تھے، اور ان میں رکیک تاویلات کیا کرتے تھے۔ کچھ یہی حالت مصر کے مفتی محمد عبدہ، اور ان کے شاگردوں کی تھی۔ بہرحال اگر کسی شخص کے نزدیک یہ لوگ صحابہؓ، و تابعینؒ اور ائمہ مجددینؒ کے مقابلہ میں لائق اقتداء ہیں اور وہ قیامت کے دن اپنا حشر ایسے لوگوں کے ساتھ چاہتا ہو تو وہ شوق سے ان کے عقائد اپنائے اور ان کی پیروی پر فخر کرے۔ لیکن مجھ ایسا فقیر جو یہ چاہتا ہے کہ وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے متبعین میں اٹھایا جائے، اور اس کا حشر صحابہؓ و تابعینؒ، مجددین امتؒ اور اکابر ملت کے ساتھ ہو اس کے لئے سلف صالحینؒ کے راستہ سے ہٹ کر کسی اور کی آواز کے پیچھے چل پڑنا مشکل ہے۔

ستعلم لیلیٰ ایّ دین تداینت
وایّ غریم فی التقاضی غریمھا

ترجمہ : ”لیلیٰ کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ اس نے کیا ادھار لیا ہے اور وصولی کے دن اس کا قرض خواہ کون اور کیا ہوگا“۔

میں اجماع امت کے مقابلہ میں عہد حاضر کے چند متجدّدین کے اقوال کو گوز شتر سمجھتا ہوں اور سلف صالحین سے منحرف کجرو لوگوں کی ہمنوائی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو حدیث شریف میں ”فیج اعوج“ (گمراہ اور کجرو لوگ) فرمایا گیا ہے۔

صفحہ 384

کیا حیات مسیح کا عقیدہ عیسائیوں سے لیا گیا ہے؟

جناب نے ایک خاص نکتہ یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ”ہماری سابقہ تفاسیر اسرائیلی روایات کے اثر سے خالی نہیں۔“ اور یہ کہ ”اکثر مسلمانوں نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کیں گو بعد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منع بھی کر دیا۔“ غالباً آپ مجھے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ مسلمانوں نے عیسائی عورتوں کی تعلیم سے لیا ہے۔ یوں تو آج کل عقل و شعور سے کام لینے کی ضرورت کم ہی سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے یہ ایک فیشن بن گیا ہے کہ جو بات اپنی خواہش اور عقل نارسا کے ذرا بھی خلاف ہو اسے یا تو غریب مُلّا کے سر منڈھ دیا جائے، یا کم از کم یہ پروپیگنڈا تو ضرور کیا جائے کہ یہ کسی غیر قوم کی سکھائی ہوئی بات ہے ............ پرویز صاحب نے ”عجمی سازش“ کا ہوّا کھڑا کر کے اپنے نیاز مندوں کو نماز روزہ اور حج و زکوٰۃ ایسے بنیادی ارکان اسلام سے بھی چھٹی دلا دی۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کو بھی ”عیسائی سازش“ کہہ کر اس اسلامی عقیدے سے سبکدوش کر دیا جائے تو کون سی تعجب کی بات ہے؟ جب خدا کا خوف دل میں نہ ہو اور امت کے اکابر و اعاظم کی عظمت سے سینہ خالی ہو تو اسلام کے قطعیات و متواترات کو ٹھکرا دینا کون سی مشکل بات ہے؟ لیکن آپ کو ماشاء اللہ عقل و شعور کی اور فہم و ادراک کی دولت اللہ تعالیٰ نے مفت دے رکھی ہے، اس لئے میں آپ سے چند موٹی موٹی باتوں پر غور کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ سوچ سمجھ کر آپ جو فیصلہ فرمائیں وہ آپ کی صوابدید ہے۔

مسلمانوں اور عیسائیوں کے عقیدہ میں چھ وجہ سے فرق ہے :

کا عقیدہ کیا ہے؟ اور عیسائی عقیدہ کیا ہے؟ اور یہ کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مطابقت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے جس سے اس بدگمانی کی گنجائش ہو کہ مسلمانوں نے یہ عقیدہ

صفحہ 385

(نعوذ باللہ) عیسائی عورتوں سے سیکھا ہو گا؟ اس کے لئے مندرجہ ذیل نکات پر غور فرمائیے :

پہلا فرق: عیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام یہودیوں کے ہاتھ گرفتار ہوئے، انہوں نے آپ کو ذلیل کیا، منہ پر تھوکا، طمانچے رسید کئے، کانٹوں کا تاج پہنایا ، اور ”یہودیوں کا بادشاہ“ کی پھبتی ان پر اڑائی، جب کہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود ناہنجار کے ہاتھ ہی نہیں آئے، اور وہ عیسائیوں کے مندرجہ بالا خیالات کو خالص کذب و دروغ اور کفر صریح سمجھتے ہیں۔ لقولہ تعالیٰ : ” وجيهاً فی الدنيا والآخرة ومن المقربين- “ وقولہ تعالیٰ : ” واذ كففت بنی اسرائيل عنک- “

دوسرا فرق: عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹکائے گئے۔ اس کے برعکس اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ نہ مقتول ہوئے نہ مصلوب۔ بلکہ اسلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر لٹکائے جانے کے عقیدے کو خالص کفر سمجھتا ہے۔ لقولہ تعالیٰ ” وما قتلوہ وما صلبوہ۔ “

تیسرا فرق: عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح تین دن قبر میں مدفون رہے۔ اسلام اس کی سرے سے نفی کرتا ہے۔

چوتھا فرق: عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح تیسرے دن خدا بن کر آسمان پر چلے گئے، جب کہ اسلام ان کی الوہیت کو کفر قرار دیتا ہے۔ لقولہ تعالیٰ : ”لقد كفر الذين قالوا ان الله هو المسيح ابن مريم۔ “ (المائدہ۔ ۱۷) ترجمہ: ”بلاشبہ وہ لوگ کافر ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عین مسیح ابن مریم ہے۔ “

اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح ملائکہ اور روحیں آسمان پر جاتی ہیں۔ لقولہ تعالیٰ: ” تعرج الملائکة والروح اليه “ (المعارج ۴) اور اس سے ان کا خدا ہونا لازم نہیں آتا، بلکہ مخلوق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہود کے شر و مکر سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا۔ لقولہ تعالیٰ : ” وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ الله اليه۔ “ (النساء ۔ ۱۵۸/۱۵۷) ترجمہ : ”اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ “

اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش حضرت جبریل علیہ السلام کے پھونک

صفحہ 386

ملنے سے ہوئی تھی۔ لقولہ تعالیٰ : ”فنفخنا فیھا من روحنا۔“ (الانبیاء - ۹۱) اور ان کو مجسم روح اللہ فرمایا گیا ہے، اس لئے فرشتوں اور ارواح کی طرح ان کا آسمان پر اٹھایا جانا ذرا بھی مستبعد نہیں، اور نہ اس سے ان کی خدائی لازم آتی ہے۔ ارواح و ملائکہ کی طرح وہ مخلوق اور بندہ تھے، بندہ ہیں اور بندہ ہی رہیں گے۔ مخلوق کا خالق بن جانا عقلاً ممتنع اور شرعاً باطل اور کفر ہے۔

پانچواں فرق : عیسائی کہتے ہیں کہ اب مسیح کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ مگر مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی موت آئے گی، چنانچہ قیامت کے قریب نازل ہونے اور خدمات مفوضہ انجام دینے کے بعد ان کی بھی وفات ہوگی۔ لقولہ تعالیٰ: ”قل فمن یملک من اللہ شیئاً ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم۔“ (المائدہ : ۱۷) ترجمہ: ”آپ یوں پوچھئے کہ اگر ایسا ہے تو یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے زمین میں ہیں ان سب کو ہلاک کرنا چاہیں تو کوئی شخص ایسا ہے جو خدا تعالیٰ سے ان کو ذرا بھی بچا سکے۔“

وقولہ تعالیٰ: ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔“ (النساء : ۱۵۹)

”اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے، سو عیسیٰ پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے“۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

وقولہ علیہ السلام: ”وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء“ (درمنثور ص ۳ ج ۲) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”بے شک عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی۔“

وقولہ علیہ السلام ”ثم یتوفیٰ و یصلی علیہ المسلمون۔“ (مسند احمد ص ۴۰۶ ج ۲ ۔ ابو داؤد ۵۹۴ ج ۲) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”پھر عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔“

وقولہ علیہ السلام : ”ثم یموت و یدفن معی فی قبری“ (مشکوٰۃ ص ۴۸۰) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”پھر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگی اور ان کو

صفحہ 387

میرے ساتھ میرے روضہ میں دفن کیا جائے گا۔“

چھٹا فرق : عیسائی عقیدہ یہ ہے کہ مسیح قیامت کے دن داور محشر کی حیثیت میں آکر دنیا کے درمیان عدالت کرے گا اس کے برعکس اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ قیامت سے ذرا پہلے فتنہ دجال کا قلع قمع کرنے اور یہود کے شرور و فتن کو مٹانے کے لئے آئیں گے۔ لقولہ تعالیٰ ” وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ۔ “ (النساء : ۱۵۹) وقولہ علیہ السلام : ” والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً “ (بخاری ص ۴۹۰ ج ۱) اور قیامت کے دن وہ خود داور محشر نہیں ہوں گے ، بلکہ داور محشر کی عدالت میں گواہ ہوں گے۔ لقولہ تعالیٰ : ” ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا ۔ “ (النساء : ۱۵۹)

مندرجہ بالا چھ وجوہ فرق پر غور کر کے انصاف کیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ ، عیسائیوں کے اوہام باطلہ کی قطعاً ضد ہے یا نہیں؟ اور پھر خود اپنی عقل خداداد سے فتویٰ پوچھئے کہ آخر غریب مسلمانوں نے عیسائی عورتوں سے کیا سیکھ لیا تھا ؟ اگر عیسائیت نے مسلمانوں کو متاثر کیا ہوتا تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہود کے ہاتھوں گرفتاری مضروبیت اور مصلوبیت کے قائل ہوتے۔ مسلمانوں کا عقیدہ تو ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ کی نص قطعی کے کلہاڑے سے تقدس صلیب کے عیسائی عقیدہ کی سرے سے جڑ کاٹ دیتا ہے۔ بیچاری عیسائی عورتیں مسلمانوں کو کیا سکھا سکتی تھیں ؟

۲۔ یہ بھی دیکھئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ تیرہ سال بعد ہوا ہے۔ اور بقول آپ کے انہوں نے مسلمانوں کو عیسائی عورتوں کے نکاح سے منع کر دیا تھا۔ گویا عیسائی عورتوں کا جادو اس سے پہلے چل چکا تھا۔ اور وہ بقول آپ کے مسلمانوں کے ذہن میں عیسائی عقیدہ اتار چکی تھیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے فہم و شعور بخشا ہے۔ تو کیا صحابہ کرامؓ کے حق میں اس احتمال کی گنجائش ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ۲۳ سالہ تعلیم کو آٹھ دس سال ہی کے عرصہ میں ایسا مٹایا کہ ناپاک عیسائی عورتوں نے ان کے ذہنوں کو عیسائی عقائد کے

صفحہ 388

سانچے میں ڈھال دیا...... اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس رفقا کے حق میں آنجناب ...... بقائمی عقل و شعور ...... ایسا حسن ظن رکھتے ہیں تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آج چودہ سو سال بعد آپ کو اسلام کی کسی بات پر کیسے یقین ہے؟

۳۔ اور پھر آنجناب کا یہ فقرہ کس قدر غیر ذمہ دارانہ ہے کہ ”اکثر مسلمانوں نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کیں۔“ گویا عیسائی عورتوں سے شادیاں کرنے والوں کی اکثریت تھی اور دوسرے مسلمان اقلیت میں تھے۔ جناب کو علم ہے کہ رحلت نبویؐ کے وقت صحابہ کرامؓ کی تعداد سوالاکھ کے قریب تھی ، اور شام و عراق کی فتوحات کے نتیجے میں اس تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہو گا۔ اب اگر بطور مثال مسلمانوں کی تعداد دس لاکھ فرض کر لی جائے ، تو آپ کے قول کے مطابق کم از کم پانچ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے تو ایسی شادیاں ضرور کی ہوں گی۔ کیا آپ ان ہولناک اعداد و شمار کا کوئی تاریخی ثبوت پیش کرسکتے ہیں؟ ثبوت تو خیر بعد کی بات ہے کیا آپ کی عقل اس کو تسلیم کرتی ہے؟ مسلمانوں کو اسلام کے قطعی عقائد سے بدظن کرنے کے لئے تاریخی حقائق کو اس طرح مسخ کرنا خود سوچئے کہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے۔

ان صحابہؓ کے نام جنہوں نے نزول مسیح کا عقیدہ نقل کیا ۔

۴۔ جناب کو یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ نقل کیا ہے ان کی تعداد کتنی ہے؟ ذیل کی ایک مختصر سی فہرست پر نظر ڈالئے۔

صفحہ 389

یہ تیس صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اسماء گرامی کی فہرست ہے ، جو میں نے ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ سے عجلت میں نقل کی ہے۔ اگر فرصت میں تتبع اور تلاش سے کام لیا جائے، تو اس میں خاصا اضافہ ممکن ہے۔ اب میں جناب سے دو باتیں دریافت کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ ان تیس صحابہ کرامؓ میں سے کس کے گھر میں ایسی عورت تھی جس کی تعلیم سے متاثر ہو کر اس نے حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کی تبلیغ شروع کر دی؟ یقیناً اس کا جواب آپ نفی میں دیں گے۔ اب خود ہی انصاف فرمائیے کہ عیسائی عورتوں کے افسانے تراش کر ایک قطعی و اجماعی عقیدے پر خاک ڈالنے کی کوشش کرنا کیا عقل و دانش کی رو سے صحیح ہے؟

دوسری بات مجھے یہ عرض کرنی ہے کہ دین اسلام کے وہ یقینی و قطعی مسائل جن پر اسلام کی بنیاد ہے ، اور جن کا انکار بغیر کسی شک و شبہ کے کفر ہے ، کیا آپ ان میں سے ایک ایک پر تیس صحابہ کرامؓ کی شہادت پیش کر سکتے ہیں۔ مثلاً نماز فجر کی دو ، ظہر، عصر عشاء کی چار چار اور مغرب و وتر کی تین تین رکعتیں ہیں، سونے چاندی کی زکوٰۃ ڈھائی فیصد ہے وغیرہ وغیرہ یہ ایسے مسائل ہیں جن کا کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا ،

صفحہ 390

اور جو شخص انکار کرے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ کیا آپ ان میں سے ہر ایک پر تیس صحابہ کرامؓ کی سو سے زائد احادیث کا حوالہ دے سکتے ہیں؟ پھر کس قدر عجیب بات ہے جو عقیدہ تیس صحابہ کرامؓ کی ایک سو سے زائد احادیث سے ثابت ہے اور جس پر پوری امت کے اکابر مجددینؒ کی مہر تصدیق بھی ثبت ہے، وہ آنجناب کو عیسائی عورتوں کی تعلیم کا شاخسانہ نظر آتا ہے؟

انصاف کیجئے اگر ایسے قطعی عقائد کو جو تمام امت کے مسلمہ ہوں ، اور جن پر ایک دو نہیں، اکٹھے تیس صحابہؓ کی سو سے زیادہ شہادتیں موجود ہوں ، عیسائی عورتوں کی تعلیم کا اثر کہہ کر رد کیا جاسکتا ہے ، تو کیا دین کے ایک ایک رکن ، ایک ایک عقیدے اور ایک ایک مسئلہ کو اسی غلط منطق سے نہیں اڑایا جاسکتا؟

کے ایسے ہی کچے تھے کہ ان پر عیسائی عورتوں کا جادو چل گیا اور وہ اس سے متاثر ہوکر عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ جما بیٹھے ، اور ستم بالائے ستم یہ کہ وہ اس کو ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“ اور ”سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم“ کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے لگے؟ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار شاگردوں کے بارے میں کسی معمولی عقل و فہم کے آدمی کی عقل ایک لمحہ کے لئے بھی یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ وہ اجنبی عقائد و افکار کو اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے افتراء علی اللہ اور افتراء علی الرسولؐ ایسے سنگین جرم کا ارتکاب کر سکتے تھے؟ مجھے توقع ہے کہ اگر آپ ان امور پر غور فرمائیں گے تو آپ کا ضمیر و وجدان خود شہادت دے گا کہ آپ نے صحیح نقطہ نظر سے اس مسئلہ کا جائزہ نہیں لیا۔

انّی متوفّیْک کی تفسیروں میں تضاد نہیں۔

آنجناب نے آیت ”انّی متوفّیک“ کے بارے میں مفسرین کے اختلاف کا

صفحہ 391

تذکرہ کرتے ہوئے تیرہ اقوال نقل فرمائے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ فرمایا ہے کہ :

”ان تمام متضاد خیالات سے یہ امر واضح ہے کہ مفسرین سے قطعی طور پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اور یہ عقیدہ ظنی بناء پر قائم ہے۔ اگر کسی نص صریح پر بنا ہوتی تو اس قدر متضاد آراء نہ ہوتیں ، اور کئی توجیہیں نہ کرنا پڑتیں۔“

جناب کا یہ شبہ بھی صحیح طرز فکر اختیار نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلہ میں چند امور گوش گزار کرتا ہوں۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کتاب و سنت

اور اجماع سے ثابت ہے۔

میں عرض کر چکا ہوں ، تاہم مختصراً اتنی بات مزید عرض کرتا ہوں ، کہ ہمارے دین کا مدار نقل پر ہے اس لئے دین کے مسائل دو قسم کے ہیں جو مسائل قرآن کریم کی نص ، حدیث متواتر یا اجماع امت سے ثابت ہوں وہ قطعی ہیں، اور جو مسائل دلیل ظنی سے ثابت ہوں وہ ظنی کہلاتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآن کریم ، حدیث متواتر اور اجماع امت تینوں سے ثابت ہے۔

قرآن کریم سے ثبوت :

قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس عقیدہ کو بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلاً :

صفحہ 392

ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔“ اس آیت میں ان کے صحیح سالم آسمان پر اٹھائے جانے کی خبر دی گئی ہے۔

ترجمہ: ”اور لوگوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ تعالیٰ سب تدبیریں کرنے والوں سے اچھے ہیں۔“

اس آیت میں یہود کی تدبیر کے مقابلہ میں جس الٰہی تدبیر کا ذکر فرمایا گیا ہے اس سے حضرات مفسرین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بحفاظت زندہ آسمان پر اٹھا لینا مراد لیا ہے۔

”اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے، سو عیسیٰ پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے“۔

اس آیت میں ان کے قرب قیامت میں آنے کی خبر دی گئی ہے۔

عیسیٰؑ) قیامت کے یقین کا ذریعہ ہیں۔“ اس آیت میں ان کے نزول کو قیامت کی نشانی فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ صحیح ابن حبان میں اس آیت کی تفسیر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کی ہے۔

قال نزول عیسیٰ بن مریم قبل یوم آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے القیامة (موارد الظمآن ص ۴۳۵) قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا۔

(الصّف: ۹)

ترجمہ : ”(چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے جس نے (اس اتمام نور کے لئے) اپنے رسول کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دین (یعنی اسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ اس

صفحہ 393

(دین) کو تمام (بقیہ) دینوں پر غالب کردے۔“ اس آیت کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی ...... جو اس عقیدہ کے بدترین مخالف ہیں ...... یہ اقرار کرنے پر مجبور ہیں کہ :

” یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے۔ اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ۴۹۸)

اس عبارت میں مرزا صاحب نے تصریح کی ہے کہ :

پیشگوئی فرمائی ہے۔

ہوگا۔

لائیں گے تو پوری دنیا میں ہر جگہ سو اسلام ہی اسلام ہو گا، باقی تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔

یہی بات مرزا صاحب نے مع اضافہ کے چشمہ معرفت میں دہرائی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں :

” هو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلّہ (الصف - ۹) یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کردے۔

اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اتفاق ہے کہ یہ عالمگیر غلبہ

صفحہ 394

”مسیح موعود“ کے وقت میں ظہور میں آئے گا“

(چشمہ معرفت ۸۳)

مرزا صاحب نے اس عبارت میں جو زور کلام صرف کیا ہے وہ ہر اردو خواں شخص پر واضح ہے۔ اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ :

ہے۔

زمانے میں، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے کسی زمانے میں۔

اور وہ پوری نہ ہو۔

کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ اس آیت میں جو پیش گوئی کی گئی ہے یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے متعلق ہے اور اسلام کا یہ عالمگیر غلبہ آخری زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے دور میں ظہور پذیر ہوگا۔ جب کہ اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے۔

پس مرزا صاحب کی ان دونوں عبارتوں سے دو باتیں قطعی طور پر ثابت ہوئیں۔

پیش گوئی کی گئی ہے، ناممکن ہے کہ وہ پوری نہ ہو۔

اس عقیدے پر اجماع ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔ اب اگر آنجناب کے دل میں انصاف کی کوئی رمق باقی ہے تو میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ کیا قرآن کریم کی اس قطعی پیش گوئی کے بعد، جس پر تمام متقدمین کی ”مہر اجماع“ ثبت ہے ........... کیا اس عقیدہ میں کوئی شبہ رہ جاتا ہے کہ قرب

صفحہ 395

قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری ہو گی۔

حدیث متواتر اور اجماع سے ثبوت :

جہاں تک حدیث متواتر اور اجماع امت کا تعلق ہے، وہ آنجناب نے گزشتہ سطور میں ملاحظہ فرما لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کی خبر متواتر ہے اور پوری امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں بھی مرزا قادیانی کا مزید حوالہ پیش کر دوں، کیونکہ سب سے بڑے معاند کی شہادت زیادہ لائق اطمینان ہوتی ہے۔ وہ ” ازالہ اوہام “ میں لکھتے ہیں۔

”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ “ (ص ۵۵۷ )

اور ” شہادۃ القرآن “ میں مرزا صاحب نے اس مضمون کو کئی صفحوں میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ صفحہ ۹ پر اس کے تواتر کو ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ “

” یہ پیش گوئی عقیدے کے طور پر ابتدا سے مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں داخل چلی آتی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان موجود تھے اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں، کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتدا سے یاد کرتے چلے آتے تھے اور ائمہ حدیث امام بخاری وغیرہ نے اس پیش گوئی کی نسبت اگر کوئی امر اپنی کوشش سے نکالا ہے تو صرف یہی کہ جب اس کو کروڑہا مسلمانوں میں مشہور اور زبان زد پایا تو اپنے قاعدے کے موافق مسلمانوں کے اس قولی تعامل کے لئے روایتی سند کو تلاش کیا اور روایات صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے جن کا ذخیرہ ان کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ اسناد کو دکھایا۔ “

صفحہ 396

اس سے پہلے مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ جب اس پیش گوئی کے تواتر کا سلسلہ ہم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک بدیہی طور پر پہنچتا ہے ”تو پھر بھی اس پر جرح کرنا در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“

الغرض جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ پوری امت کا متفق علیہ ہے۔ متواتر احادیث اور قرآن کریم کی آیات بینات اس کی پشت پر موجود ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ سے لے کر شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تک ایک بھی عالم دین اور لائق اقتدا امام اس کا منکر نہیں تو اس عقیدے کو ”ظنی“ اور مشکوک نہیں کہا جاسکتا اور کوئی سلیم العقل شخص متواترات کو ”ظنی“ کہنے کی جرات نہیں کرسکتا۔

آیت انّی متوفیک میں تفسیری اقوال کی شرح :

۲:۔ آنجناب نے آیت کریمہ ”متوفیک ورافعک الیّ“ میں ذکر کردہ اقوال کو ”متضاد“ فرمایا ہے۔ یہ بھی جناب کی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کئے گئے چار وعدوں کا ذکر ہے۔ توفی، رفع، تطہیر اور آپ کی پیروی کرنے والوں کو آپ کے منکروں پر غالب رکھنا۔ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ اس آیت میں ”رفع“ کا وعدہ رفع جسمانی پر محمول ہے اور یہ وعدہ پورا ہوچکا ہے، جس کی اطلاع سورہ النسا کی آیت ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ“ میں دی گئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی دستبرد سے نکال کر صحیح سالم اپنی طرف اٹھالیا۔ آیت کریمہ کا یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس پر تمام مفسرین اور پوری امت متفق ہے اور جس میں کسی کو نہ کلام ہے نہ اختلاف، بلکہ وہ پوری امت کا اجماعی عقیدہ ہے۔

مفسرین نے توفی کے مفہوم میں جو متعدد توجیہات کی ہیں اور جن سے آپ

صفحہ 397

پریشان خاطر ہیں ان کا منشاء یہ ہے کہ توفی کے مفہوم میں متعدد احتمالات کی گنجائش ہے اور جو احتمال بھی لیا جائے وہ ”رفع جسمانی“ کے موافق ہے۔ توفی کو خواہ بمعنی قبض لیا جائے، خواہ استیفاء، نوم، یا موت کے معنوں میں، بہر صورت وہ رفع جسمانی سے ہم آہنگ ہے۔ اس کے خلاف ان توجیہات کا یہ مدعا نہیں کہ حضرات مفسرین کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی الی السماء میں تردد ہے، بلکہ یہ مقصد ہے کہ توفی کے مفہوم میں کوئی ایسا احتمال نہ رہنے دیا جائے جس کی تطبیق رفع جسمانی الی السماء کے ساتھ نہ کر دکھائی جائے، تاکہ کل کسی ملحد کو یہ جرات نہ ہو کہ وہ کوئی احتمال نکال کر رفع جسمانی کی نفی پر آمادہ ہو جائے۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز اور حضرات مفسرین کی ژرف نگاہی و نکتہ سنجی کا کمال ہے کہ توفی کے جو معنی بھی لئے جائیں اور اس کی جو توجیہہ بھی کی جائے مدعا وہی رہتا ہے اور نتیجہ وہی رفع جسمانی الی السماء نکلتا ہے۔ مجھے آنجناب کی انصاف پسندی سے سخت شکوہ ہے کہ جو بات قرآن کریم کے محاسن اور علمائے قرآن کے کمالات میں شمار کرنے کے لائق تھی اسی کو آپ عیب اور فضیحت سمجھ رہے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ لفظ ”متوفیک“ کی متعدد توجیہات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ حضرات مفسرین کو اس عقیدہ میں معاذ اللہ تردد تھا، یا یہ کہ اس عقیدہ کی بنیاد قطعی نہیں ظنی ہے، علم و دانش سے بہت بڑی بے انصافی ہے۔ خوب سمجھ لیجئے کہ جس عقیدہ کی قطعیت ہر شک و ارتیاب اور ظنون و اوہام سے بالاتر ہے وہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صحیح سالم آسمان پر اٹھایا جانا۔ جس کو قرآن کریم نے ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں ذکر فرمایا ہے اور جس کا وعدہ ان سے ”ورافعک الیٰ“ میں کیا گیا تھا۔ اس میں نہ کسی مسلمان کو کبھی شک ہوا ہے، نہ حضرات مفسرین کو اس میں کوئی تردد ہے۔ یہ عقیدہ ہمیشہ سے بحث و تمحیص سے بالاتر رہا ہے۔ مفسرین کی ساری بحث و کرید اور تحقیق و توجیہہ اس میں ہے کہ ”متوفیک“ کا جو وعدہ بطور تمہید کیا گیا تھا اس کی تطبیق رفع جسمانی الی السماء کے قطعی عقیدہ کے ساتھ کس طرح ہے؟ چونکہ توفی کا مفہوم کئی احتمالات کا حامل تھا اس لئے حضرات مفسرین نے ایک ایک احتمال کو لے کر اس کی تطبیق رفع جسمانی کے ساتھ کر دکھائی۔

صفحہ 398

اگر اسلامی عقیدے کو برقرار رکھتے ہوئے کسی آیت کی مختلف توجیہات کی جائیں تو یہ امر نہ صرف یہ کہ لائق اعتراض نہیں بلکہ قرآنی معارف کے اتھاہ سمندر سے موتی نکالنے کے مترادف ہے، جس کے لئے کلام الہی کے رمز شناس ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ ہاں ! ایسی تاویل و توجیہہ، جو کسی اسلامی اصول سے ٹکرائے یا امت کے اجتماعی عقیدے کے خلاف ہو یا قواعد زبان کے خلاف ہو، وہ ناقابل قبول ہے اور ایسی تاویل کرنے والا تفسیر بالرائے کا مرتکب اور ارشاد نبویؐ :

من قال فی القرآن برأیہ جس نے اپنی رائے سے قرآن کے معنی
فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ کئے اسے اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنانا
چاہئے۔

(مشکوٰۃ صفحہ ۳۵)

کا مصداق ہے۔ آنجناب نے اگر امام رازیؒ کی تفسیر یا دیگر بڑی تفاسیر کا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک ایک آیت بلکہ ایک جملہ کے بارے میں کئی کئی توجیہات کی گئی ہیں حتی کہ اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ ایسے قطعی احکام میں بھی مختلف توجیہات ملیں گی، اب ان توجیہات کو دیکھ کر یہ کہہ دینا کہ ”قرآن کریم کا کوئی حکم بھی قطعی نہیں، اگر قطعی ہوتا تو مختلف توجیہات کیوں کی جاتیں“ کسی عاقل کے نزدیک دانشمندانہ طرز فکر نہیں ہوگا۔ ذرا ٹھنڈے دل سے غور فرمائیے کہ ”متوفیک“ کی متعدد توجیہات سے اگر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ معاذ اللہ مشکوک ہو گا تو کیا اسی منطق سے دین اسلام کے تمام ارکان کو مشکوک نہیں ٹھہرایا جاسکتا؟

آیت متوفیک میں تفسیری اقوال کی تعداد

مرزا خدا بخش صاحب نے عسل مصفی میں ان اقوال کی فہرست کو اٹھارہ بیس تک پہنچا دیا

صفحہ 399

ہے۔ مگر یہ تعداد نہ تیرہ ہے نہ اٹھارہ، غلط فہمی کی بناء پر آپ نے اختلاف تعبیر کو بھی اختلاف تفسیر سمجھ لیا ہے، یعنی ایک ہی مفہوم کو جو مختلف تعبیرات سے ادا کیا گیا آپ کے خیال میں ہر تعبیر جداگانہ تفسیر ٹھہری، خواہ مطلب و مفہوم میں وہ متحد ہوں اور پھر لطف یہ کہ ان اوصاف متعددہ کو جو بیک وقت جمع ہو سکتے ہیں آپ نے ”متضاد“ سمجھ لیا۔ اگر میں قلم روک کر بھی اس مقام کی تشریح کروں تو اس کے لئے بھی ایک اچھا خاصا رسالہ لکھنا پڑے گا مگر صرف جناب کو توجہ دلانے کے لئے یہاں مختصر سا اشارہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ والعاقل تکفیہ الاشارہ۔

التاخیر“ کا ذکر فرمایا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں صورتیں باقی صورتوں میں سے کسی نہ کسی کے ساتھ جمع ہوتی ہیں۔ اس لئے محض تعداد بڑھانے کے لئے ان دونوں کو الگ ذکر کرنا غلط ہو گا۔

الموت“ کو ذکر فرمایا ہے۔ غور فرمائیے کہ دونوں کا مفہوم ایک ہے تو ان کو الگ الگ نمبروں میں درج کرنے کا کیا جواز؟ بلکہ اسی کے ساتھ نمبر ۷ ”ممیتک عن الشهوات“ کو بھی ملائیے۔ کیونکہ اس توجیہ میں بھی توفی بمعنی موت لے کر ہی تقریر کی گئی ہے۔

کو ذکر فرمایا ہے۔ فرمائیے دونوں کے درمیان کیا اختلاف ہے؟

”میں تجھے بھرنے والا ہوں“ کو ذکر کیا ہے، حالانکہ تینوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔

نہ آتی کہ آیت کریمہ ”یعیسی انی متوفیک ورافعک الی“ میں ”ورافعک الی“ سے تو قطعاً و یقیناً رفع جسمانی الی السماء مراد ہے، جس میں کسی لائق ذکر شخص کا کوئی اختلاف ہی نہیں اور اس کی تمہید کے طور پر جو توفی کا وعدہ فرمایا گیا ہے، اس کی متعدد توجیہات ہیں، جو اپنی جگہ سب صحیح ہیں اور ان میں سے جس توجیہہ کو بھی اختیار کر لیا جائے

صفحہ 400

درست ہے، لیکن اصولی طور پر وہ بھی تین ہی جملہ میں سمٹ آتی ہیں۔

ایک یہ کہ توفی کے حقیقی معنی مراد ہیں یعنی پورا پورا لینا، وصول کرنا، اس کو بعض حضرات نے قبض کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے، بعض نے استیفائے عمر یا استیفائے عمل کے ساتھ، بعض نے تسلم و وصول کے ساتھ، کیونکہ جب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ انہیں یہود کی دستبرد سے بچا کر اپنے قبضہ و تحویل میں لینے والے ہیں تو اس میں استیفائے عمر، استیفائے اجل، استیفائے عمل، عصمت عن القتل کے سارے مضامین از خود آجاتے ہیں۔

دوم : یہ کہ توفی کے معنی یہاں موت کے لئے جائیں جو اس لفظ کے مجازی معنی ہیں اس کی توجیہہ ایک تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر تسلیم کی جائے، یعنی موت کا وعدہ اگرچہ ایک خاص نکتہ کی وجہ سے ذکر تو پہلے کیا ہے، لیکن وقوع اس کا آخری زمانے میں ہوگا۔ سیدنا ابن عباسؓ نے اسی توجیہہ کو لیا ہے، جیسا کہ در منثور سے ان کا قول پہلے نقل کرچکا ہوں کہ :

قال انی رافعک ثم متوفیک فی آخر فرمایا کہ میں تجھے سر دست اپنی طرف الزمان (ج ۲ ص ۳۶) اٹھانے والا ہوں پھر آخری زمانے میں تجھے وفات دوں گا۔

یہی توجیہہ آنجناب نے تفسیر ثعالبی کے حوالے سے ”ونحوہ لمالک فی العتبیۃ“ کے الفاظ میں نقل کی ہے۔

سوم : بعض حضرات نے یہاں توفی کو مجازی موت کے معنی میں لیتے ہوئے ”اجعلک کالمتوفی“ اور ”متوفیک نائماً“ کے ساتھ کی ہے۔ جس کی مفصل تقریر تفسیر کبیر میں امام رازیؒ نے فرمائی ہے اور بعض صوفیا نے اپنے ذوق کے مطابق اسی مجازی موت کو ”موت عن الشہوات“ سے تعبیر کر دیا۔

یہ تین توجیہیں تو عقیدہ اسلام کے مطابق تھیں جن میں کوئی تضاد نہیں بلکہ جو

صفحہ 401

توجیہہ بھی اختیار کر لی جائے آیت کا مضمون بالکل واضح ہے۔ ان صحیح توجیہات کے علاوہ ابن اسحاق اور وہب بن منبہ نے نصاریٰ کا تین ساعت یا تین دن مردہ رہ کر زندہ ہونے کا قول نقل کیا تھا۔ اس کو اہل اسلام نے قبول نہیں کیا، تاہم بطور احتمال یہ توجیہہ کر دی کہ ممکن ہے کچھ دیر مردہ رہنے کے بعد بحالت حیات انہیں اٹھایا گیا ہو۔ مگر چونکہ یہ قول خود ضعیف ہے اس لئے اگر اس توجیہہ میں ضعف نظر آئے تو جائے تعجب نہیں۔

یہ ہے وہ تفسیری اختلاف، جس کی بنیاد پر آپ ایک مسلم الثبوت اور قطعی عقیدہ کو ”ظنی“ ثابت کرنا چاہتے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ ”متوفیک“ کی صحیح توجیہات کرنے سے ”رفع الی السماء“ کا عقیدہ کیسے مشکوک ہو گیا؟

کہ قطعیت کا مطالبہ مدعی اور مستدل سے کیا جاتا ہے ، نہ کہ مدعاعلیہ اور مجیب سے ! اب ہمارے زیر بحث مسئلہ میں غور فرمائیے کہ ایک فریق ”وفات مسیح“ ثابت کرنا چاہتا ہے اور وہ لفظ ”متوفیک“ کو دلیل میں پیش کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ”رفع الی السماء“ کے قائل ہیں اور وہ دلیل میں ”و رافعک الی“ اور ”وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ“ کو پیش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے استدلال کی قطعیت تو اسی سے ثابت ہے کہ از اول تا آخر پوری امت نے ان آیتوں میں رفع الی اللہ سے رفع جسمانی مراد لیا ہے۔ اس کے برعکس جو فریق لفظ ”متوفیک“ سے اس متواتر عقیدے کی نفی کر کے حضرت مسیح کی موت ثابت کرنے کے درپے ہے یہ فرض اس پر عائد ہوتا ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس لفظ ”متوفیک“ سے بغیر کسی اختلاف کے موت کے معنی مراد لئے گئے ہیں اور پوری کی پوری امت اسی ایک معنی پر متفق ہے، جس میں کسی دوسرے احتمال صحیح کی گنجائش نہیں اور مسلمانوں کی طرف سے اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ اس لفظ کی اور بھی صحیح توجیہات ہو سکتی ہیں اور علمائے راسخین نے کی بھی ہیں تو ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ کے قاعدے سے اس فریق کا استدلال از خود باطل ہو جاتا ہے جو اس لفظ سے وفات مسیح ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس تقریر سے جناب کو احساس ہوا ہو گا کہ ”متوفیک“ کے لفظ میں تفسیری اختلاف کا جو ہوا کھڑا کیا جاتا ہے وہ خود انہی لوگوں کو مضر ہے جو غلطی سے وفات مسیح کے قائل ہیں۔ مسلمانوں کو ذرا بھی مضر

صفحہ 402

نہیں ۔ کیوں کہ یہ لفظ انہی لوگوں کا مدار استدلال ہے ۔ مسلمانوں کا مدار استدلال ہی نہیں مسلمانوں کا مدار جس لفظ پر ہے وہ لفظ رفع ہے اور یہ با جماع مفسرین رفع جسمانی کے لئے ہے ۔

مجہول لوگوں کے حوالے حجت نہیں :

۵ :- آنجناب نے سراج الدین کی ”خریدۃ العجائب وفریدۃ الغرائب“ سے اور شیخ محمد اکرم صابری کی ”اقتباس الانوار“ سے بعض لوگوں کا یہ قول نقل کیا ہے کہ نزول عیسیٰ سے بروز عیسیٰ مراد ہے۔ اگرچہ جناب کو تسلیم ہے کہ خود شیخ صابری نے ان لوگوں کو یہ کہہ کر تردید کر دی ہے کہ ”وایں مقدمہ بغایت ضعیف است“ (یہ نظریہ حد سے زیادہ کمزور ہے) لیکن آپ کا کہنا ہے کہ ”اس گروہ کا پایا جانا ضروری ہے مسلمانوں میں ۔“ میری گزارش یہ ہے کہ ایسے برخود غلط لوگ اب بھی ہیں۔ یقیناً پہلے زمانے میں بھی کچھ سر پھرے ضرور ہوئے ہوں گے ۔ لیکن ایسے مبہم اور مجہول لوگ جن کا پتہ نشان تک تاریخ کی کروٹوں کے نیچے دب کر مٹ چکا ہے ان کو کسی علمی بحث میں بطور سند پیش کرنا اور اس کے ذریعے اسلامی عقائد پر خاک ڈالنے کی کوشش کرنا کیا کسی سلیم القلب اور صحیح الفطرت آدمی کا کام ہو سکتا ہے ؟ نظریات وافکار کے نگار خانے میں ہزاروں نہیں لاکھوں آئے اور اپنے اپنے کرتب دکھا کر چلتے بنے۔ مگر ایک مومن کے لئے ان مداریوں کے نظریاتی شعبدوں میں کیا کشش ہو سکتی ہے؟ اس کے لئے خدا اور رسول کے فرمودات اور سلف صالحین و اکابر مجددین کا مسلک وعقیدہ ہی موجب اطمینان ہے ۔ ایسے مجہول الذات اور مجہول الاسم لوگوں کے اقوال کو اچک کر سینے سے چمٹا لینا انہی لوگوں کا کام ہو سکتا ہے جن کا رشتہ ایمان کٹ چکا ہو اور وہ وبال وضلال کی وادیوں میں اپنے پیشروؤں کی طرح بھٹک رہے ہوں ۔

کیا محققین نزول مسیح کے منکر ہیں؟

جناب نے ”بعض محققین ملت اسلامیہ“ کا موقف نقل کیا ہے کہ ”امت

صفحہ 403

محمدیہ میں کسی مسیح و مہدی کی ضرورت نہیں۔ چونکہ دین محمدی مکمل و اکمل ہے" اور جناب نے خود بھی اسی پر صاد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ "یہی عقیدہ صحیح ہے۔" یہاں دو باتیں گوش گزار کرنے کی جسارت کروں گا۔ ایک یہ کہ زمانہ سابق میں ملاحدہ و زنادقہ کا ایک ٹولہ ایسا ہوا ہے جو اس عقیدہ متواترہ کا منکر تھا اور جن کو ائمہ دین نے اہل شریعت اور ملت اسلامیہ سے خارج قرار دیا تھا (جیسا کہ عقیدہ سفارینی اور علامہ سیوطی کا حوالہ پہلے نقل کر چکا ہوں) اور دور جدید میں مسٹر پرویز وغیرہ یہی نظریہ رکھتے ہیں۔ اگر "بعض محققین ملت اسلامیہ" سے جناب کی مراد اسی قماش کے لوگ ہیں تو میں جناب سے گزارش کروں گا کہ صرف "عقیدہ نزول مسیح" پر کیا منحصر ہے "ان محققین" کی پیروی میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، قربانی، وحی، ملائکہ، شیاطین وغیرہ وغیرہ کسی بھی چیز کی ....... بقول ان کے ...... امت محمدیہ کو ضرورت نہیں رہتی، بس ایک سرے سے دوسرے سرے تک سارے دین کا صفایا کر دیجئے۔ اور اگر "بعض محققین" سے جناب کی مراد کچھ اور حضرات ہیں تو مجھے ان کے اسمائے گرامی معلوم کر کے بڑی خوشی ہوگی۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام غزالیؒ، پیران پیر شاہ عبدالقادر جیلانیؒ، امام ابن تیمیہؒ، امام ابن قیمؒ، مجدد الف ثانیؒ، شاہ ولی اللہ محدثؒ دہلوی وغیرہ وغیرہ ہزاروں اکابر سے بڑھ کر کون محققین جناب کے ذہن میں ہیں، جن کا حوالہ دے کر ان اکابر کی تکذیب فرمائی جارہی ہے؟ ....... نہیں! میں نے بات بہت نیچے سے شروع کی..... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ سے بڑا "دین کا محقق" آپ کن کو مانتے ہیں؟ یہ سارے اکابر تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اعلان فرماتے ہیں۔ ان اکابر کے کچھ حوالے تو عرض کر ہی چکا ہوں اور جتنے آپ چاہیں عرض کرنے کو حاضر ہوں ..... کاش! آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحینؒ کے فرمودات پر اعتماد کر کے اپنے ان "محققین" کی کج ادائی کا تماشا دیکھتے۔ واللہ الموفق۔

:۔ دوسری گزارش میں آپ سے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ کسی عقیدے کو صحیح یا غلط ٹھہرانا میرا آپ کا کام نہیں، بلکہ ہمارا منصب، خدا اور رسول کے بتائے ہوئے اس راستے پر چلنا ہے جس پر صحابہؓ و تابعینؒ چلے اور جسے اکابر امت اور مجددین ملت نے نسلاً بعد نسل

صفحہ 404

تواتر و تسلسل کے ساتھ اپنایا۔ پہلی صدی سے لے کر ہماری رواں صدی تک جس دور اور جس زمانے کے بارے میں آپ فرمائیں میں اس کا ثبوت دینے کو تیار ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہم تک، ہر زمانے کے مسلمان یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس امت میں دوبارہ تشریف لائیں گے (اور ذہن میں رکھئے کہ بات عام مسلمانوں ہی کی نہیں کر رہا ہوں، بلکہ ان اکابر و اعاظم کی جن کا قرآن و حدیث کے دریائے ناپیدا کنار میں غوطہ لگانے کے سوا کوئی مشغلہ ہی نہ تھا) کیا اس ثبوت و قطعیت کے بعد بھی کسی کو کوئی نیا نظریہ دین کے معاملے میں تراشنے کا حق ہوگا؟

رہا آپ کا یہ ارشاد کہ ”قرآنی آیت خاتم النبیین اور حدیث صحیح“ ”لانبی بعدی“ میں انقطاع نبوت کا ذکر ہے۔ ”لانبی بعدی“ میں ”لا“ نفی جنس ہے جو نکرہ پر داخل ہے جس کا معنی یہ ہے کہ نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے نہ پرانا نبوت ہر قسم کی بند ہے۔“ جناب کو اس جگہ متعدد غلط فہمیاں ہوئی ہیں۔

اول یہ کہ جس طرح ختم نبوت کی احادیث متواتر ہیں، ٹھیک اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی احادیث بھی متواتر ہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ، ختم نبوت کے منافی ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی متواتر خبر کیوں دیتے؟

دوم : یہ کہ حدیث صحیح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ ارشاد نقل کیا ہے جو انہوں نے حضرات انبیاء کرامؑ کی بھری محفل میں فرمایا تھا کہ ”میرے رب کا مجھ سے عہد ہے کہ قرب قیامت دجال نکلے گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔“ (مسند احمد ص ۷۵ ج۱‘ ابن ماجہ ص ۳۰۹‘ مستدرک حاکم ص ۴۸۸ و ص ۵۳۵ ج۴‘ فتح الباری ص ۷۹ ج۱۳)

اب انصاف فرمائیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عہد کرتے وقت معلوم نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور پھر کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حاضرین محفل انبیاء کرامؑ کو اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم نبوت کا مسئلہ معلوم نہیں تھا؟ اور صحابہ کرامؓ سے لے کر مجدد الف ثانیؒ تک تمام اکابر امت جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے پر ایمان رکھتے تھے یہ سب کے سب آیت خاتم النبیین اور حدیث لانبی بعدی کے معنی سے بے خبر تھے؟ آپ جو اپنی علمی قابلیت کے

صفحہ 405

زور سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ ”لانبی کے معنی یہ ہیں کہ نہ تو کوئی نیا نبی آسکتا ہے نہ پرانا“ اگر آپ کی یہ سینہ زوری چل جائے تو کیا اس سے خدا تعالیٰ کی، انبیاء علیہم السلام کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی، صحابہؓ و تابعینؒ کی، ائمہ دین کی، مجددین امت کی، اکابر ملت کی تجہیل و تکذیب لازم نہیں آئے گی؟ عقل و شعور اور فہم و ادراک کی دولت اللہ تعالیٰ نے آنجناب کو بھی دے رکھی ہے۔ اس سے تھوڑا سا کام لے کر سوچئے کہ آج جو معنی اس حدیث کے آپ ایجاد فرما رہے ہیں آپ سے پہلے کسی کو بھی آخر کیوں نہ سوجھے؟ صد حیف! کہ تشریح آپ خدا و رسول کے کلام کی فرما رہے ہیں مگر تشریح ایسی کہ تکذیب اس سے تمام اکابر امت ہی کی نہیں، خود خدا و رسول کی بھی ہو رہی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں قرآن وحدیث پہلی بار آپ ہی کے ہاتھ لگے ہیں؟ یا یہ کہ آپ سے پہلے عربی زبان سے کوئی واقف تھا ہی نہیں؟

سوم: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مقدس ”لانبی بعدی“ بالکل برحق ہے مگر آپ نے تھوڑی سی زحمت ”بعدی“ کے لفظ پر غور کرنے کی بھی فرمائی ہوتی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد اب کسی کو نبوت نہ ملے گی اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حصول نبوت کا دعویٰ کرے وہ دجال و کذاب شمار ہوگا۔ اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے عنوان سے یوں فرمایا ہے۔ ”لا نبوة بعدی“ کہ میرے بعد نبوت نہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کون کہتا ہے کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت ملے گی؟ ان کو تو نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پونے چھ سو سال پہلے مل چکی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ”لانبی بعدی“ کا ارشاد آپ کے بعد حصول نبوت کی نفی کرتا ہے۔ جن انبیاء کرام کو نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی ہو ان کے آنے کی نفی نہیں کرتا۔ آپ نے اپنے گرامی نامہ کے صفحہ ۴ پر حافظ ابن حجر کو ”شیخ الاسلام“ لکھا ہے۔ اگر میری بات پر اعتبار نہیں تو اپنے ”شیخ الاسلام“ پر ہی اعتبار کر لیجئے۔ وہ لکھتے ہیں:

فوجب حمل النفى على انشاء النبوة ”پس لانبی بعدی کی نفی کو اس معنی پر لكل احد من الناس لا على وجود نبی محمول کرنا واجب ہے کہ آئندہ کسی

صفحہ 406

شخص کے حق میں نبوت کا انشاء و حصول نہیں ہو گا اس سے کسی ایسے نبی کے وجود کی نفی نہیں ہوتی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے منصب نبوت سے سرفراز کیا جا چکا ہو۔“

قد نبئ قبل ذالك، (الاصابہ فی تمییز الصحابہ ص ۳۲۵ ج ۱)

اس قسم کی عبارتوں کا ایک بڑا ذخیرہ میرے سامنے ہے لیکن ماننے والوں کے لئے یہی ایک حوالہ کافی ہے اور نہ ماننے والوں کے لئے دفتر بھی بے کار ہے۔ ان کی ”میں نہ مانوں“ کا علاج ہی کب ممکن ہے؟ خیر کسی کے ماننے نہ ماننے سے کیا غرض! اپنا کام منوانا نہیں، سمجھانا ہے۔ کوئی سمجھنا چاہے تو اس کی سعادت، نہ چاہے تو اس کی قسمت۔ اس لئے دو حوالے تو اور سن ہی لیجئے۔ پہلا حوالہ امام ابن حزمؒ کا ہے وہ کتاب ”الفصل“ میں بعض کجرو لوگوں پر گرفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”و ھذا مع سماعهم قول اللہ تعالیٰ ”ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین وقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”لا نبی بعدی“ فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہ علیہ السلام نبیاً فی الارض حاشا ما استثناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الآثار المسندۃ الثابتۃ فی نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان۔ (کتاب الفصل ص ۱۸۰ ج ۳)

اور یہ لوگ حق تعالیٰ کا ارشاد ”ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین“ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”لا نبی بعدی“ سننے کے بعد ایسی باتیں کرتے ہیں، پس کوئی مسلمان اس بات کو جائز رکھے گا کہ آپ کے بعد زمین کسی نبی کا وجود ثابت کرے؟ ہاں! جس شخصیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آثار مسندہ ثابتہ میں خود ہی مستثنیٰ فرمایا ہے یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نازل ہونا، وہ البتہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔

صفحہ 407

اور دوسرا حوالہ تیرہویں صدی کے شیخ الاسلام علامہ سید محمود آلوسی بغدادی تفسیر روح المعانی کے مؤلف کا ہے۔ وہ آیت کریمہ "ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین" کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں۔

ولا یقدح فی ذالک ما اجمعت الامۃ علیہ واشتھرت فیہ الاخبار ولعلھا بلغت مبلغ التواتر المعنوی- و نطق بہ الکتاب علی قول و وجب الایمان بہ واکفر منکرہ کالفلاسفۃ من نزول عیسیٰ علیہ السلام آخر الزمان لانہ کان نبیاً قبل تحلّیٰ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم بالنبوۃ فی ھذہ النشأۃ-

اور اس (ختم نبوت) میں رخنہ انداز نہیں وہ عقیدہ جس پر امت کا اجماع ہے، جس میں احادیث مشہور ہیں، جو غالباً تواتر معنوی کی حد کو پہنچتی ہیں، جس پر کتاب اللہ ناطق ہے، جس پر ایمان لانا واجب ہے اور جس کے منکر کو، جیسے کہ فلاسفہ، کافر قرار دیا گیا ہے، میری مراد آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ ہے۔ (اور یہ عقیدہ ختم نبوت کے منافی اس لئے نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت نہیں ملے گی) اس لئے کہ وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عالم وجود میں زیور نبوت سے آراستہ ہونے سے پہلے ہی نبی تھے۔

(تفسیر روح المعانی جلد ۲۲ ص ۳۴)

اگر جناب واقعۃً افہام و تفہیم کے جذبے سے ملاحظہ فرمائیں تو یہی ایک حوالہ جناب کی ساری غلط فہمیوں کے دور کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔ اس لئے اسی پر اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو ختم کرتا ہوں۔ واللہ یہدی من یشاء الیٰ صراط مستقیم۔

اور ہاں یہ تو عرض کرنا ہی بھول گیا کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا یا وان کا ظاہر ہونا یا

صفحہ 408

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا ہمارے دین کی تکمیل کے لئے نہیں۔ دین بلاشبہ چودہ سو سال سے کامل و مکمل چلا آرہا ہے۔ ان حضرات کی آمد دین کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ تنفیذ (نافذ کرنے) کے لئے ہوگی۔ منشاء خداوندی یہ ہے کہ قیامت سے پہلے تمام ادیان کو مٹا کر انسانیت کو دین اسلام پر جمع کر دیا جائے۔ پس حضرت مہدیؑ امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فتنہ دجال (جو یہودی ہو گا) کو فرو کرنے اور یہود و نصاریٰ کے شرور و تحریفات کو مٹانے کیلئے آئیں گے۔ اس ناکارہ نے کوشش کی ہے کہ آنجناب کے تمام شبہات کو ایک ایک کر کے صاف کر دیا جائے۔ آنجناب نے اپنے خط میں تحریر فرمایا تھا کہ آپ محض حق طلبی کے لئے خط لکھ رہے ہیں۔ اس لئے اب میں آنجناب سے بجا طور پر توقع رکھتا ہوں کہ آپ انصاف و دیانت سے کام لیتے ہوئے عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھیں گے، اور امت کے اس اجماعی اور قطعی عقیدہ سے انحراف کر کے ملحدین کی صف میں شامل نہیں ہوں گے۔

واللہ الموفق لکل خیر و سعادة۔

فقط

محمد یوسف لدھیانوی

۵۹۹/۱۲/۲۶

PDF 409

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

المہدی والمسیح

کے بارے میں

پانچ سوالوں کا جواب

مولانا محمّد یوسف لدھیانوی

صفحہ 410

سوالنامہ

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔

آپ کے ساتھ ایک دو دفعہ جمعہ نماز پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی، آپ کی تقریر بھی سنی، آپ کو دوسرے علمائے کرام سے بہت مختلف پایا، اور آپ کی باتوں اور آپ کے علم سے بہت متاثر ہوا ہوں، آپ سے نہایت ادب کے ساتھ اپنے دل کی تسلی کے لئے چند ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، امید ہے جواب سے ضرور نوازیں گے۔

کہاں آئیں گے؟

کیونکہ پاکستانی آئین کے مطابق ایسا کرنے والا غیر مسلم ہے؟

اسلام میں داخل ہو جاتا ہے، یعنی کلمہ صرف وہی آدمی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور خاتم النبیین پر مکمل یقین ہوتا ہے، اس کے باوجود ایک گروہ کو جو صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے، ان کو کافر کیوں کہا جاتا ہے؟

ہوگی؟ اور ان کے واپس آنے پر ”خاتم النبیین“ لفظ پر کیا اثر پڑے گا؟

امید ہے کہ آپ جواب سے ضرور نوازیں گے، اللہ تعالیٰ آپ کو مزید علم سے سرفراز فرمائے (آمین ثم آمین)

آپ کا مخلص

پرویز احمد عابد اسٹیٹ لائف،

اسٹیٹ لائف بلڈنگ نواں شہر ملتان

صفحہ 411

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ

۱ امام مہدیؓ کی نشانیاں

امام مہدی رضی اللہ عنہ کی نشانیاں تو بہت ہیں، مگر میں صرف ایک نشانی بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ بیت اللہ شریف میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوگی۔ امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ”ازالۃ الخفاء“ میں لکھتے ہیں:

ہم یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ص نے نص فرمائی ہے کہ امام مہدیؒ قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے، اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک امام برحق ہیں، اور وہ زمین کو عدل و انصاف کے ساتھ بھر دیں گے، جیسا کہ ان سے پہلے ظلم اور بے انصافی کے ساتھ بھری ہوئی ہوگی...... پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد سے امام مہدیؒ کے خلیفہ ہونے کی پیش گوئی فرمائی۔ اور امام مہدیؒ کی پیروی کرنا ان امور میں واجب ہوا جو خلیفہ سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ ان کی

ما بیقین مے دانیم کہ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نص فرمودہ است با آنکہ امام مہدی در زمان قیامت موجود خواهد شد، وے عند اللہ و عند رسولہ امام بر حق است و پُر خواہد کرد زمین را بعدل و انصاف، چنانکہ پیش از وے پُر شدہ باشد بجور و ظلم ...... پس باین کلمہ افادہ فرمودہ اند استخلاف امام مہدی را، واجب شد اتباع وے در آنچہ تعلق بخلیفہ دارد، چوں وقت خلافت او آید، لیکن ایں معنی بالفعل نیست مگر نزدیک ظہور امام مہدیؒ و بیعت با او میان رکن و مقام۔

(ازالۃ الخفاء فارسی ص ۶ ج ۱)

صفحہ 412

خلافت کا وقت آئے گا لیکن یہ پیروی فی الحال نہیں، بلکہ اس وقت ہوگی جبکہ امام مہدیؑ کا ظہور ہوگا، اور حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوگی۔

حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حدیث نبویؐ کی رو سے

اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ جن لوگوں نے ہندوستان میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ان کا دعویٰ خالص جھوٹ تھا۔

۲۔ امام مہدی اور آئین پاکستان :

امام مہدی علیہ الرضوان جب ظاہر ہوں گے تو ان کو پاکستانی بھی ضرور مانیں گے، کیونکہ امام مہدی نبی نہیں ہوں گے، نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے، نہ لوگ ان کی نبوت، پر ایمان لائیں گے۔ پاکستان کے آئین میں نبوت کا دعویٰ کرنے والوں اور جھوٹے مدعیان نبوت پر ایمان لانے والوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، نہ کہ سچے مہدی کے ماننے والوں کو۔ امام مہدی کا نبی نہ ہونا ایک اور دلیل ہے اس بات کی کہ مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ جن لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور اسی کے ساتھ اپنے آپ کو ”نبی اللہ“ کی حیثیت سے پیش کیا، وہ نبی تو کیا ہوتے ! ان کا مہدی ہونے کا دعویٰ بھی جھوٹ اور فریب تھا کیونکہ سچا مہدی جب ظاہر ہو گا تو نبوت کا دعویٰ نہیں کرے گا، نہ وہ نبی ہوگا۔ پس مہدی ہونے کے دعوے کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مدعی جھوٹا ہے۔ ملاّ علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:—

صفحہ 413

دعوی النبوة بعد نبینا صلی اللہ علیہ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وسلم کفر بالاجماع ۔ کسی کا دعویٰ نبوت کرنا بالاجماع کفر (شرح فقہ اکبر ص ۲۰۲) ہے۔

ظاہر ہے کہ جو شخص حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے بالاجماع کافر ہو وہ مہدی کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ تو مسیلمہ کذاب کا چھوٹا بھائی ہو گا، اس کو اور اس کے ماننے والوں کو اگر آئین پاکستان میں ملت اسلامیہ سے خارج قرار دیا گیا ہے تو بالکل بجا ہے۔

۳۔ حیات عیسیٰ علیہ السلام

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تمام امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، قرب قیامت میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے زمانہ میں جب کانا دجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے آسمان سے اتریں گے۔

یہاں تین مسئلے ہیں:۔

یہ تینوں باتیں آپس میں لازم و ملزوم ہیں، اور اہل حق میں سے ایک بھی فرد ایسا نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا قائل نہ ہو، پس جس طرح قرآن کریم کے بارے میں ہر زمانے کے مسلمان یہ مانتے آئے ہیں کہ یہ وہی کتاب مقدس ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، اور مسلمانوں کے اس تواتر کے بعد کسی شخص کے لئے یہ گنجائش نہیں رہ جاتی کہ وہ اس قرآن کریم کے بارے میں کسی شک و شبہ کا اظہار کرے، اسی طرح گذشتہ صدیوں کے تمام بزرگان دین اور اہل اسلام یہ بھی مانتے آئے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور یہ کہ وہ آخری زمانے میں دوبارہ زمین پر اتریں گے۔ اس لئے نسلاً بعد نسل ہر دور، ہر زمانے، ہر

صفحہ 414

طبقے اور ہر علاقے کے مسلمانوں کا عقیدہ جو متواتر چلا آتا ہے، کسی مسلمان کے لئے اس میں شک و شبہ اور تردد کی گنجائش نہیں، اور جو شخص ایسے قطعی، اجماعی اور متواتر عقیدوں کا انکار کرے وہ مسلمانوں کی فہرست سے خارج ہے۔

۱۸۸۴ء تک مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ تھے اور قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہونے والے تھے، چنانچہ وہ براہین احمدیہ حصہ چہارم میں (جو ۱۸۸۴ء میں شائع ہوئی) ایک جگہ لکھتے ہیں:

”حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جابیٹھے۔“ (ص ۳۶۱)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“

یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا (ص ۴۹۸ / ۴۹۹)

ایک اور جگہ اپنا الہام درج کر کے اس کی تشریح اس طرح کرتے ہیں:

”عسٰی ربکم ان یرحم علیکم وان عدتم عدنا وجعلنا جھنم للکفرین حصیراً“

”خدائے تعالٰی کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے، اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے، اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے“…… یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف اور احسان کو قبول نہیں کریں گے، اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالٰی مجرمین سے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ

صفحہ 415

رہے گا اور جلال الہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کر دے گا اور یہ زلزلہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے۔“ (ص ۵۰۵)

مندرجہ بالا عبارتوں سے واضح ہے کہ ۱۸۸۴ء تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے اور قرآن نے ان کے دوبارہ دنیا میں آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ قرآن کریم کے علاوہ خود مرزا صاحب کو بھی ان کے نازل ہونے کا الہام ہوا تھا، ۱۸۸۴ء سے لے کر اب تک نہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں دوبارہ آئے ہیں، اور نہ ان کی وفات کی خبر آئی ہے۔ اس لئے قرآن کریم کی پیش گوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور امت اسلامیہ کے چودہ سو سالہ متواتر عقیدے کی روشنی میں ہر مسلمان کو یقین رکھنا چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ آسمان سے نازل ہو کر دوبارہ دنیا میں آئیں گے، کیونکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر احادیث میں ان کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ مرزا صاحب ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں:

”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے۔ اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے، اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور باعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی اس لئے جو بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے یہ فرقہ بھی اسلام میں پیدا ہو گیا جس کا قدم دن بدن الحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ۵۵۷)

مرزا صاحب کے ان حوالوں سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوئیں:

گوئی کی ہے۔

صفحہ 416

دوم :۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث میں بھی یہی پیش گوئی کی گئی ہے۔

سوم :۔ تمام مسلمانوں نے باتفاق اس کو قبول کیا ہے، اور پوری امت کا اس عقیدے پر اجماع ہے۔

چہارم :۔ انجیل میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول بھی اس پیش گوئی کی تصدیق و تائید کرتا ہے۔

پنجم :۔ خود مرزا صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی اطلاع الہام کے ذریعے دی تھی۔

ششم :۔ جو شخص ان قطعی ثبوتوں کے بعد بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کو نہ مانے وہ دینی بصیرت سے یکسر محروم اور ملحد و بے دین ہے۔

۴۔ مسلمان کون ہے اور کافر کون ؟

مسلمان وہ شخص کہلاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین کو دل و جان سے تسلیم کرتا ہو۔ کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ اس پورے دین کو ماننے کا مختصر عنوان ہے۔ کیونکہ جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مانتا ہے وہ لازماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک بات کو بھی مانے گا۔ اس کے برعکس جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی قطعی یقینی اور متواتر چیز (جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے) کو نہیں مانتا وہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا ہے۔ اس کا کلمہ پڑھنا محض جھوٹ، فریب اور منافقت ہے۔ چنانچہ منافق بھی یہ کلمہ پڑھتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” والله يشهد ان المنافقين لكذبون ۔“ یعنی ”اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعا جھوٹے ہیں۔“

منافق لوگ ایمان کا دعویٰ بھی کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعویٰ کو بھی غلط قرار دیا اور فرمایا: ” وما هم بمومنين يخادعون الله والذين آمنوا۔ “ یعنی ”یہ لوگ ہرگز مومن نہیں۔ محض خدا کو اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کے لئے ایمان کا دعویٰ

صفحہ 417

کرتے ہیں۔ ”پس ان کے کلمہ طیبہ پڑھنے اور ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹے اور بے ایمان کہا تو اس کی کیا وجہ تھی؟ یہی کہ وہ کلمہ صرف زبانی پڑھتے تھے، اور ایمان کا دعویٰ محض مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے کرتے تھے، ورنہ دل سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت پر ایمان نہیں رکھتے تھے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دین کی جو باتیں ارشاد فرماتے تھے ان کو صحیح نہیں سمجھتے تھے۔ پس اس سے یہ اصول نکل آیا کہ مسلمان ہونے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ایک ایک بات کو دل و جان سے ماننا شرط ہے، اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی کسی ایک بات کو بھی جھٹلاتا ہے، یا اس میں شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں، بلکہ پکا کافر ہے۔ اور اگر وہ کلمہ پڑھتا ہے تو محض منافقت کے طور پر مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے پڑھتا ہے۔

یہاں ایک اور بات کا بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے، وہ یہ کہ ایک ہے الفاظ کو ماننا، اور دوسرا ہے معنی و مفہوم کو ماننا۔ مسلمان ہونے کے لئے صرف دین کے الفاظ کو ماننا کافی نہیں، بلکہ ان الفاظ کے جو معنی و مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ تسلیم کئے گئے ہیں ان کو بھی ماننا شرط اسلام ہے۔ پس اگر کوئی شخص کسی دینی لفظ کو تو مانتا ہے، مگر اس کے متواتر معنی و مفہوم کو نہیں مانتا، بلکہ اس لفظ کے معنی وہ اپنی طرف سے ایجاد کرتا ہے، تو ایسا شخص بھی مسلمان نہیں کہلائے گا، بلکہ کافر و ملحد اور زندیق کہلائے گا۔

مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں ایمان رکھتا ہوں کہ قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا، مگر میں یہ نہیں مانتا کہ قرآن سے مراد یہی کتاب ہے، جس کو مسلمان قرآن کہتے ہیں، تو یہ شخص کافر ہو گا۔

یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں ”محمد رسول اللہ“ پر ایمان رکھتا ہوں۔ مگر ”محمد رسول اللہ“ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے کیونکہ مرزا صاحب نے وحی الٰہی سے اطلاع پا کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ”محمد رسول اللہ“ ہیں چنانچہ وہ اپنے اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں لکھتے ہیں:

صفحہ 418

"پھر اسی کتاب ( براہین احمدیہ) میں یہ وحی اللہ ہے : "محمد رسول الله والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینهم -"اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی ۔"

یا مثلاً: ایک شخص کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ مسلمانوں پر نماز فرض ہے، مگر اس سے یہ عبادت مراد نہیں جو پنج وقتہ ادا کی جاتی ہے تو ایسا شخص مسلمان نہیں۔ یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے قرب قیامت میں آنے کی پیش گوئی کی ہے، مگر "عیسیٰ بن مریم" سے مراد وہ شخصیت نہیں جس کو مسلمان عیسیٰ بن مریم کہتے ہیں، بلکہ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی یا کوئی دوسرا شخص ہے تو ایسا شخص بھی کافر کہلائے گا۔ یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں مگر اس کے معنی وہ نہیں جو مسلمان سمجھتے ہیں کہ آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں عطا کی جائے گی، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اب نبوت آپ کی مہر سے ملا کرے گی، تو ایسا شخص بھی مسلمان نہیں بلکہ پکا کافر ہے۔

الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے تمام حقائق کو ماننا اور صرف لفظاً نہیں بلکہ اسی معنی و مفہوم کے ساتھ ماننا، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک متواتر چلے آتے ہیں، شرط اسلام ہے۔ جو شخص دین محمدی کی کسی قطعی اور متواتر حقیقت کا انکار کرتا ہے، خواہ لفظاً و معنی دونوں طرح انکار کرے، یا الفاظ کو تسلیم کر کے اس کے متواتر معنی و مفہوم کا انکار کرے، وہ قطعی کافر ہے، خواہ وہ ایمان کے کتنے ہی دعوے کرے، کلمہ پڑھے، اور نماز روزے کی پابندی کرے۔ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی ایک بات کو جھٹلانا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا ہے۔ اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بات کو بھی جھٹلاتا ہے یا اسے غلط کہتا ہے، یا اس میں شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے وہ دعویٰ ایمان میں قطعاً جھوٹا ہے۔

صفحہ 419

کفر کی ایک اور صورت

اسی طرح جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی بات کا مذاق اڑاتا ہے وہ بھی کافر اور بے ایمان ہے۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی قطعی پیش گوئی فرمائی ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کا مذاق اڑاتا ہے، وہ بھی کافر ہو گا، کیونکہ یہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانا (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) خالص کفر ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص کسی نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت کرتے ہوئے کہتا ہے :

"ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں، اور کون زمین پر ہے جو اس عقدے کو حل کرے۔"

(اعجاز احمدی ص ۱۳ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

تو ایسا شخص بھی کافر ہو گا، کیونکہ ایک نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا تمام نبیوں کو بلکہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کو جھوٹا کہنے کے ہم معنی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص خدا کے نبی کی توہین کرتا ہے، مثلاً یوں کہتا ہے :۔

"............لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام "حصور" رکھا۔ مگر مسیح کا نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔"

( دافع البلاء صفحہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

ایسا شخص بھی دعویٰ اسلام کے باوجود اسلام سے خارج اور پکا کافر ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت و

صفحہ 420

رسالت کا دعویٰ کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے یا معجزہ دکھانے کا دعویٰ کرے یا کسی نبی سے اپنے آپ کو افضل کہے، مثلاً یوں کہے :

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

اس شعر کا کہنے والا اور اس کو صحیح سمجھنے والا پکا بے ایمان اور کافر ہے، کیونکہ وہ اپنے آپ کو عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام سے بہتر اور افضل کہتا ہے۔ یا یوں کہے :

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر قادیان جلد ۲ ش ۴۳ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)

ایسا شخص بھی پکا بے ایمان اور کافر ہے۔ اور اس کا کلمہ پڑھنا ابلہ فریبی اور خود فریبی ہے۔

خلاصہ یہ کہ کلمہ طیبہ وہی معتبر ہے جس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی حقیقت کی قولاً یا فعلاً تکذیب نہ کی گئی ہو۔ جو شخص ایک طرف کلمہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف اپنے قول یا فعل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی کسی بات کی تکذیب کرتا ہے اس کے کلمہ کا کوئی اعتبار نہیں، جب تک کہ وہ اپنے کفریات سے توبہ نہ کرے، اور ان تمام حقائق کو، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں، اسی طرح تسلیم نہ کرے جس طرح کہ ہمیشہ سے مسلمان مانتے چلے آئے ہیں، اس وقت تک وہ مسلمان نہیں، خواہ لاکھ کلمہ پڑھے۔

جن لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے وہ اسی قسم کے ہیں کہ بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں، آپ خود انصاف فرمائیں کہ ان کو کافر نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے ؟

صفحہ 421

جس گروہ کی وکالت کرتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ ”وہ صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے“ اس کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ لعین قادیان، مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ مان کر کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتا ہے۔ اس کی پوری تفصیل آپ کو میرے رسالہ ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ میں ملے گی، یہاں صرف مرزا بشیر احمد قادیانی کا ایک حوالہ ذکر کرتا ہوں۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

”مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول (یعنی مرزا قادیانی) کی زیادتی ہوگئی، لہٰذا مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے آنے سے نعوذ باللہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔“

آگے لکھتا ہے:

”ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی، کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریمؐ سے کوئی الگ چیز نہیں...... پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود ”محمد رسول اللہ“ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر ”محمد رسول اللہ“ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی فتدبروا“۔

(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸ از مرزا بشیر احمد قادیانی)

پس جو گروہ ایک ملعون، کذاب دجال قادیان کو ”محمد رسول اللہ“ مانتا ہو، اور جو گروہ اس دجال قادیان کو کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں شامل کر کے اس کا کلمہ پڑھتا ہو اس گروہ کے بارے میں آپ کا یہ کہنا کہ ”وہ صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے“ نہایت افسوسناک ناواقفی ہے، ایک ایسا گروہ، جس کا پیشوا خود کو ”محمد رسول اللہ“ کہتا ہو، جس کے افراد

محمدؐ پھر اتر آئے ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

کے ترانے گاتے ہوں، اور اس نام نہاد ”محمد رسول اللہ“ کو کلمہ کے مفہوم میں شامل کر کے اس کے نام کا کلمہ پڑھتے ہوں، کیا ایسے گروہ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے

صفحہ 422

کہ ”وہ صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے“ اور کیا ان کے کافر بلکہ اکفر ہونے میں کسی مسلمان کو شک و شبہ ہوسکتا ہے؟

۵- نزول عیسیٰ علیہ السلام اور ختم نبوت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا لفظ ”خاتم النبیین“ کے منافی نہیں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی جو فہرست حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی تھی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی پر مکمل ہوگئی ہے، جتنے لوگوں کو نبوت ملنی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پہلے مل چکی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہوگا۔ شرح عقائد نسفی میں ہے :

”اول الانبیاء آدم و آخرھم محمد صلی اللہ علیہ وسلم“

”یعنی ”سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں، اور مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے جن انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں، ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں، پس جب وہ تشریف لائیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہونے کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت نہیں دی جائے گی، اور نہ مسلمان کسی نئی نبوت پر ایمان لائیں گے لہٰذا ان کی تشریف آوری لفظ خاتم النبیین کے منافی نہیں۔ ان کی تشریف آوری ”خاتم النبیین“ کے خلاف تو جب سمجھی جاتی کہ ان کو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ملی ہوتی، لیکن جس صورت میں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں تو حصول نبوت کے اعتبار سے آخری نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی رہے۔

اس تشریح کے بعد میں آپ کی خدمت میں دو باتیں اور عرض کرتا ہوں :

صفحہ 423

ایک یہ کہ تمام صحابہ کرامؓ، تابعین عظام، ائمہ دین، مجددین اور علمائے امت ہمیشہ سے ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر بھی ایمان رکھتے آئے ہیں، اور دوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر بھی ان کا ایمان رہا ہے، اور کسی صحابیؓ، کسی تابعیؒ، کسی امامؒ، کسی مجددؒ، کسی عالم کے ذہن میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا خاتم النبیین کے خلاف ہے، بلکہ وہ ہمیشہ یہ مانتے آئے ہیں کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی شخص کو نبوت نہیں دی جائے گی، اور یہی مطلب ہے آخری نبی کا۔ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ”الاصابہ“ میں لکھتے ہیں :

فوجب حمل النفی علی انشاء النبوۃ، ”آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں“، اس لکل احد من الناس لا علی وجود نبی نفی کو اس معنی پر محمول کرنا واجب ہے کہ قد نبئ قبل ذالک ۔ آپؐ کے بعد کسی شخص کو نبوت عطا (ص ۴۲۵ ج ۱) نہیں کی جائے گی، اس سے کسی ایسے نبی کے موجود ہونے کی نفی نہیں ہوتی جو آپؐ سے پہلے نبی بنایا جاچکا ہو۔“

ذرا انصاف فرمائیے کہ کیا یہ تمام اکابر خاتم النبیین کے معنی نہیں سمجھتے تھے؟

دوسری بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی (مشکوٰۃ ص ۴۶۵) نبی نہیں ہوگا۔

اسی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر احادیث میں یہ پیش گوئی بھی فرمائی ہے کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، جیسا کہ پہلے با حوالہ نقل کرچکا ہوں، مناسب ہے کہ یہاں دو حدیثیں ذکر کردوں۔

اول:۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ اول:۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ لیس بینی وبینہ نبی، یعنی عیسیٰ وسلم نے فرمایا۔ میرے اور عیسیٰ علیہ

صفحہ 424

عليه السلام، وانه نازل فاذا رائيتموه فاعرفوه رجل مربوع، الى الحمرة والبياض، بين ممصرتين، كانه راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام، فيدق الصليب، ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام، ويهلك المسيح الدجال، فيمكث فى الارض اربعين سنة، ثم يتوفى فيصلى عليه المسلمون،

(ابوداؤد ص ۵۹۴ ج ۲، مسند احمد

ص ۴۳۶ ج ۲، تفسیر ابن جریر

ص ۱۶ ج ۶، درمنثور ص ۲۴۲ ج ۲،

فتح الباری ص ۳۵۶ ج ۶)

السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ اور بے شک وہ نازل ہوں گے۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد کے آدمی ہیں۔ سرخی سفیدی مائل دو زرد چادریں زیب تن ہوں گی۔ گویا ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ اگرچہ اس کو تری نہ پہنچی ہو۔ پس لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ کو موقوف کردیں گے، اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں اسلام کے علاوہ باقی تمام ملتوں کو مٹادیں گے، اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے، پس چالیس برس زمین پر رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی تو مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔

دوم : عن عبدالله بن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال لقيت ليلة أسرى بى ابراهيم وموسىٰ وعيسىٰ قال فتذاكروا امر الساعة، فردوا امرهم الى ابراهيم، فقال لا علم لى بها، فردوا الامر الى موسىٰ، فقال لا علم لى بها، فردوا الامر الى

دوم: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (اور دیگر انبیاء کرام) علیہم السلام سے ہوئی، مجلس میں قیامت کا تذکرہ آیا (کہ قیامت کب آئے گی) سب سے

صفحہ 425

پہلے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا مجھے علم نہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا انہوں نے بھی فرمایا مجھے علم نہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ قیامت کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں۔ اور میرے رب عزوجل کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اس کو قتل کروں گا۔ میرے ہاتھ میں دو شاخیں ہوں گی۔ پس جب وہ مجھے دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا۔ پس اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کر دیں گے (آگے یاجوج ماجوج کے خروج اور ان کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا) پس میرے رب کا جو مجھ سے عہد ہے وہ یہ ہے کہ جب یہ ساری باتیں ہوچکیں گی تو قیامت کی مثال پورے دنوں کی حاملہ کی ہوگی جس کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کس وقت اچانک اس کے وضع حمل کا وقت آجائے، رات میں یا دن میں۔

عیسیٰ فقال اما وجبتھا فلا یعلمھا الا اللہ تعالیٰ ذالک ، وفیما عہد الی ربی عزوجل ان الدجال خارج قال ومعی قضیبان، فاذا رآنی ذاب کما یذوب الرصاص ، قال فیہلکہ اللہ (وفی روایۃ ابن ماجہ : قال : فانزل فاقتلہ ) ...... الی قولہ ...... ففیما عہد الی ربی عز وجل ان ذالک اذا کان کذالک فان الساعۃ کالحامل المتم التی لا یدری متی تفجاء ہم بولاد ہا لیلا او نھاراً۔

( ابن ماجہ ص ۳۰۹، مسند احمد

ص ۳۷۵ ج ۱، ابن جریر ص ۷۲

ج ۱۷، مستدرک حاکم ص ۴۸۸، ۵۴۵

ج ۴، فتح الباری ص ۷۹ ج ۱۳،

درمنثور ص ۳۲۶ ج ۴ )

یہ دونوں احادیث شریفہ مستند اور صحیح ہیں۔ اب غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کو دوبارہ زمین پر نازل کرنے کا عہد کرتے ہیں،

صفحہ 426

حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرات انبیاء علیہم السلام کی قدسی محفل میں اس عہد خداوندی کا اعلان فرماتے ہیں ، اور ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس گفتگو کا اظہار و اعلان امت کے سامنے فرماتے ہیں ۔ اس کے بعد کون مسلمان ہو گا جو اس عہد خداوندی کا انکار کرنے کی جرات کرے؟ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا آیت خاتم النبیین کے خلاف ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل کرنے کا کیوں عہد کرتے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے سامنے کیوں بیان فرماتے؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امت کے سامنے کیوں اعلان فرماتے؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے منکر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ، تمام انبیاء کرام کی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور پوری امت اسلامیہ کی تکذیب کرتے ہیں غور فرمائیے ایسے لوگوں کا اسلام میں کیا حصہ ہے؟ واللہ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم ۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۲۶ / ۷ / ۱۴۰۱ھ ،

صفحہ 427

ضمیمہ

سلام مسنون

کے بعد عرض ہے کہ میں کافی دنوں سے پریشان ہوں اور اپنی پریشانی کا تذکرہ یہاں کے تمام علماء سے کیا لیکن مجھے کسی سے بھی تشفی نہیں ہوئی۔ اب آپ سے اس لئے رجوع کر رہا ہوں کیونکہ آپ کے علم اور تحقیق کا ملک بھر میں چرچا ہے۔ اس لئے اس خط میں ذکر ہونے والی میری گزارشات کا برائے احسان و کرم مختصر سا جواب ارشاد نقل فرما دیں۔ اور ساتھ ہی اگر کسی کتاب کا کوئی حوالہ ہو وہ بھی درج فرما دیں، وہ گزارشات یہ ہیں۔

کریں گے؟

لئے؟

کے بعد امام مہدی کی قیادت میں اسرائیل سے جو جنگ ہوگی وہ خلیفہ بننے کے کتنا عرصہ بعد تک جاری ہو گی؟

گی؟

صداقت ہے اور اہلسنت حضرات کو اس بارے میں کیا خیال رکھنا چاہئے؟

آزاد ہو چکی ہو گی یا نہیں اور پھر کیا اترتے ہی حضرت مسیح علیہ السلام نماز عصر کے وقت جنگی

صفحہ 428

صفوں میں شامل ہو جائیں گے اور قیادت امام مہدی کی ہوگی؟

۹۔ حضرت امام مہدی کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلافت کا چناؤ کس طرح ہو گا؟ یعنی مسیح علیہ السلام اپنے خلیفہ ہونے کا دعویٰ خود کریں گے یا عوام بنائیں گے؟

۱۰۔ دجال کا سامنا امام مہدی سے ہو گا یا حضرت مسیح علیہ السلام سے ہو گا؟

۱۱۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت کتنا عرصہ ہوگی اور خلافت کے خاتمے کا کیا سبب ہو گا؟

۱۲۔ قیامت کا ظہور حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت کے خاتمہ کے ساتھ ہو گا یا بعد میں؟

۱۳۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت مکہ و مدینہ میں ہوگی یا پورے عرب میں یا پورے جہاں میں؟

۱۴۔ فتنہ دجال کب واقع ہو گا اور دجال سے مقابلہ امام مہدی کا ہو گا یا حضرت مسیح علیہ السلام کا ہو گا؟

۱۵۔ فتنہ دجال سے مقابلہ پورے عرب میں ہو گا یا تمام جہاں میں؟

۱۶۔ کیا دجال کا خاتمہ خلیفہ حق کی زندگی میں ہو گا یا بعد میں کوئی اور حالت ہو گی؟ اور کس کے ہاتھ سے دجال قتل ہو گا؟

۱۷۔ حضرت خضر علیہ السلام کی وفات سمندر یا پانی میں ہوئی جیسا کہ مشہور ہے؟

۱۸۔ حضرت اویسؓ قرنی ولی تھے یا صحابی یا فقط ولی تھے، گویا کیا تھے؟

۱۹۔ خرگوش کو حیض آتا ہے۔ پھر اسکی وجہ حلت کیا ہے جیسا کہ مشہور ہے؟

۲۰۔ پنجہ سے پکڑ کر چیر کھانے والا جانور حرام ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حلال ہے؟ جیسا کہ یہ مسئلہ مشہور ہے۔ تو پھر طوطا اور یہ عام دیہاتی کوا کیوں حلال ہے؟ تو پھر کیا گوہ، گدھ اور پہاڑی کوا بھی حلال ہے؟

صفحہ 429

میں سے علم و عمل اور درجہ کے اعتبار سے کس امام کو اولیت و اولویت دینی چاہئے؟

واقعی امام تھے؟

چاہئے؟

نجدی کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ شخص حرم پاک کی بے حرمتی اور پورے عرب اور جہاں میں فتنہ و فساد کا سبب ہو گا؟ جب کہ خانہ کعبہ کی پہلی اینٹ گرانے والے کے متعلق آتا ہے کہ وہ حبشی اور چھوٹے قد کا یہودی ہو گا۔

طالب دعا رانا محمد اشفاق خان مکان ۱۲۶۱ محلہ جنڈی والا کمالیہ شہر ضلع فیصل آباد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مکرم و محترم ۔ زید مجدکم سلام مسنون آپ کے مرسلہ سوالات کا مختصر سا جواب پیش خدمت ہے۔

معلوم نہیں حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک خلیفہ کی وفات پر اس کے جانشین کے مسئلہ پر اختلاف ہوگا۔ حضرت مہدی علیہ السلام اس خیال سے کہ یہ بار کہیں ان کے کندھے پر نہ ڈال دیا جائے مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ آجائیں گے۔ وہاں ان کی شناخت کر لی جائے گی۔ اور ان کے انکار و گریز کے باوجود انہیں اس ذمہ داری کو قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور حرم شریف میں حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت ہوگی۔

صفحہ 430

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفاقت میں گزریں گے۔ کل عمر ۴۹ برس ہوگی۔ اسرائیل کے ساتھ ان کی جنگ کے بارے میں کوئی روایت مجھے معلوم نہیں البتہ رومیوں کے ساتھ ان کا جہاد کرنا روایات میں آتا ہے یہ جہاد سات سال تک جاری رہے گا اس کے بعد دجال کا ظہور ہو گا اور حضرت مہدیؓ دجال کی فوج کے مقابلہ میں صف آرا ہوں گے اس اثنا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور حضرت مہدیؓ ان کی رفاقت میں دجال کی فوج کے خلاف جہاد کریں گے۔

ثم یموت ویصلی علیہ المسلمون۔ (مشکوۃ ص ۴۷۱) یعنی ”پھر ان کا انتقال ہو جائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے“

اسباب من جانب اللہ ایسے رونما ہونگے کہ وہ قبول خلافت پر اور لوگ ان کی بیعت پر مجبور ہو جائیں گے۔

کے امام ہوں گے اور بے شمار لوگ ان کے رفیق ہوں گے، ایک روایت کے مطابق پہلی بیعت (جو رکن و مقام کے درمیان ہوگی) کرنے والوں کی تعداد ۳۱۳ ہوگی۔ مگر یہ روایت کمزور ہے۔ اور بعض اکابر نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔

روپوش ہیں اہل سنت کے نزدیک صحیح نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جامع دمشق کے شرقی منارہ کے پاس اتریں گے، اور پہلی نماز میں حضرت مہدیؓ کی اقتدا کریں گے، بعد میں امامت کے فرائض حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنفس نفیس انجام دیا کریں گے، اور جہاد کی قیادت بھی آپ کے ہاتھ ہوگی۔ حضرت مہدیؓ ان کے رفیق اور معاون کی حیثیت اختیار کریں گے۔

صفحہ 431

نوٹ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کی متواتر احادیث میں خبر دی ہے۔ ”مسیح موعود“ کی اصطلاح اسلامی لٹریچر میں نہیں آئی، یہ اصطلاح مرزا غلام احمد قادیانی دجال قادیان نے اپنے مطلب کے لئے گھڑی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو چھوڑ کر ہمیں مرزا غلام احمد قادیانی کی گھڑی ہوئی اصطلاح نہیں اپنانی چاہئے۔

ان کی اہل اسلام کے معتقدات میں شامل ہے۔ اس لئے ان کا آسمان سے نازل ہونا ہی ان کا چناؤ ہے۔ چنانچہ جب وہ نازل ہوں گے تو حضرت مہدی علیہ الرضوان امور خلافت ان کے سپرد کر کے خود ان کے مشیروں میں شامل ہو جائیں گے، اور تمام اہل اسلام ان کے مطیع ہوں گے، اس لئے نہ کسی دعویٰ کی ضرورت ہو گی، نہ رسمی چناؤ یا انتخاب کی۔

عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر اس کے مقابلہ کے لئے نکلیں گے، اور مقام لُد پر اس کو قتل کر دیں گے، اور مسلمان دجال کے لشکر کا صفایا کر دیں گے۔

پھر آپ کا انتقال ہو گا اور مسلمان آپ کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے ۔“ زمین میں آپ کا چالیس سالہ قیام خلیفہ کی حیثیت سے ہو گا۔ گویا نزول کے بعد مدۃ العمر خلیفہ رہیں گے۔ اس سے آپ کی مدت خلافت اور انتہائے خلافت کا سبب معلوم ہوا۔

بعد آفتاب مغرب سے نکلے گا۔ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا، دابۃ الارض نکلے گا اور دیگر علامات قیامت جلد جلد رونما ہونگی۔ یہاں تک کہ کچھ عرصہ بعد صور پھونک دیا جائے گا۔

عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے وقت حضرت مہدی علیہ الرضوان دجال کے مقابلے

صفحہ 432

میں ہوں گے، اور مسلمانوں کا لشکر بیت المقدس میں محصور ہو گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر حصار توڑ دیں گے، خود دجال کا تعاقب کرتے ہوئے مقام لُد پر اس کو قتل کر دیں گے، مسلمانوں اور دجال کے لشکر کا کھلے میدان میں مقابلہ ہو گا جس میں لشکر دجال کا صفایا کر دیا جائے گا۔

خاتمہ کے بعد صرف اسلام باقی رہ جائے گا۔ اور دیگر تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔

خرگوش حلال ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خرگوش کا ہدیہ پیش کیا جانا حدیث سے ثابت ہے۔

دونوں میں فرق ہے۔

طوطا حلال ہے، کوے کی کئی قسمیں ہیں۔ بعض حلال ہیں بعض مکروہ، بعض حرام۔ گوہ حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں کیوں کہ یہ حشرات الارض میں شامل ہے۔ گدھ حرام ہے۔ کیوں کہ یہ پنجے سے شکار کرتا ہے اور مردار کھاتا ہے۔ پہاڑی کوا اگر دانے کھاتا ہے تو حلال ہے اور اگر مردار کھاتا ہے تو نہیں۔

امام جعفر کی ولادت ۸۰ھ میں ہوئی اور وفات ۱۴۸ھ میں، جبکہ امام ابو حنیفہ کے سن ولادت میں تین قول ہیں ۶۰ھ، ۷۰ھ اور ۸۰ھ، اور یہ آخری قول زیادہ مشہور ہے۔ ان کی وفات ۱۵۰ھ میں ہوئی۔ امام ابو حنیفہؒ نے امام جعفر کے اساتذہ و اکابر سے علم حاصل کیا تھا۔ اور ان کے والد امام محمد باقرؒ کی زندگی میں مسند فتویٰ پر فائز تھے، اس لئے ان کی شاگردی کا افسانہ محض غلط ہے۔

صفحہ 433

کے عقائد ٹھیک وہی تھے جو اہل سنت کے عقائد ہیں، بعض لوگ ان کے بارے میں جو کہتے ہیں کہ وہ ساری عمر تقیہ کرتے رہے، یعنی ان کے عقائد کچھ اور تھے، مگر از راہ تقیہ وہ اہل سنت کے عقائد ظاہر کرتے رہے، یہ ان اکابر پر بہتان ہے۔ جو مسائل ان اکابر کی طرف اہل سنت کے خلاف منسوب کئے جاتے ہیں وہ بھی ان پر افترا ہے۔ یہ حضرات خود بھی ان مسائل سے برات کا اعلان فرماتے تھے۔ اور ان مسائل کے نقل کرنے والے راویوں پر لعنت کرتے تھے۔

کرامؓ اور خلفائے راشدینؓ کی عظمت کے قائل تھے، نہ وہ معصوم تھے نہ مفترض الطاعت، نہ مامور من اللہ۔

نہروان میں قتل ہوا۔ جس حبشی کے کعبہ شریف کو ڈھانے کا فرمایا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آخری زمانہ میں ہوگا۔ واللہ اعلم۔

محمد یوسف لدھیانوی ۲۲ / ۳ / ۱۴۰۰ھ

صفحہ 28
صفحہ 435

قادیانی

اقرار

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 43b

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی

اس دنیا میں حق و باطل کے دو سلسلے الگ الگ جاری ہیں اور حق تعالیٰ شانہ نے ان دونوں کے درمیان امتیاز کے لئے ایسی کھلی نشانیاں بھی رکھدی ہیں کہ جن سے معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی حق و باطل کو الگ الگ پہچان سکتا ہے۔

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے مجددیت سے لے کر نبوت و رسالت تک کے بہت سے دعوے کئے۔ وہ اپنے دعووں میں سچے تھے یا جھوٹے؟ اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے بہت سی نشانیاں رکھیں۔ ان میں سب سے آسان اور عام فہم نشانی یہ ہے کہ مرزا صاحب نے خود جن باتوں کے ہونے نہ ہونے کو اپنے سچ جھوٹ کے پرکھنے کی کسوٹی ٹھہرایا، ان پر غور کر کے دیکھ لیا جائے کہ ان کے نتیجے میں مرزا صاحب سچے ثابت ہوئے یا جھوٹے؟

زیر نظر رسالہ میں مرزا صاحب کی (۲۲) تحریریں درج ہیں جن پر مرزا صاحب نے ساری دنیا کو اپنا سچ جھوٹ پرکھنے کی دعوت دی اور جن پر غور کر کے ہر ذی شعور آدمی صحیح نتیجے پر پہنچ سکتا ہے۔ میں اپنے قادیانی بھائیوں سے مرزا صاحب کی اس کسوٹی پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی توقع رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق اور باطل سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

محمد یوسف لدھیانوی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان ۱۳ ذوالقعدہ ۱۳۹۸ھ

صفحہ 437

(۱)

قاضی نذر حسین ایڈیٹر اخبار قلقل بجنور کے نام ایک خط میں مرزا صاحب لکھتے ہیں :۔

”جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں ...... وہ اپنے مبعوث ہونے کی علت غائی کو پالیتے ہیں اور نہیں مرتے جب تک ان کی بعثت کی غرض ظہور میں نہ آجائے۔“

”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلا دوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور شان دنیا پر ظاہر کردوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اور وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(اخبار ”بدر“ قادیان نمبر ۲۹ جلد ۲۔ ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء ص ۴)

نتیجہ :۔ مرزا صاحب اپنے مشن میں کہاں تک کامیاب ہوئے؟ یہ داستان قادیانیوں کے سرکاری اخبار الفضل کی زبانی سنئے! اخبار لکھتا ہے :۔

”کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے (۱۳۷) مشن کام کر رہے ہیں۔ یعنی ہیڈ مشن۔ ان کی برانچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہیڈ مشن میں اٹھارہ سو سے زائد پادری کام کر رہے ہیں، (۴۰۳) ہسپتال ہیں، جن میں (۵۰۰) ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ (۴۳) پریس ہیں اور تقریباً (۱۰۰) اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں۔ (۵۱) کالج (۶۱۷) ہائی اسکول اور (۶۱) ٹریننگ کالج ہیں۔ ان میں ساٹھ ہزار طالب علم تعلیم پاتے ہیں۔ مکتی فوج میں (۳۰۸) یورپین اور (۲۸۸۶) ہندوستانی مناد کام کرتے ہیں۔ اس کے ماتحت (۵۰۷) پرائمری اسکول ہیں، جن میں (۱۸۶۷۵) طالب علم پڑھتے ہیں۔ (۱۸) بستیاں اور گیارہ اخبارات ان کے اپنے ہیں، اس فوج کے مختلف اداروں کے ضمن میں (۳۲۹۰) آدمیوں کی پرورش ہو رہی ہے اور ان سب کی کوششوں اور قربانیوں کا

صفحہ 438

نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے روزانہ (۲۳۳) مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہو رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مسلمان کیا کر رہے ہیں وہ تو اس کام کو شاید قابل توجہ بھی نہیں سمجھتے، احمدی جماعت کو سوچنا چاہئے کہ عیسائی مشنریوں کے اس قدر وسیع جال کے مقابلہ میں اس کی مساعی کی حیثیت کیا ہے۔ ہندوستان بھر میں ہمارے دو درجن مبلغ ہیں اور وہ بھی جن مشکلات میں کام کر رہے ہیں انہیں ہم لوگ خوب جانتے ہیں۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۹ جون ۱۹۴۱ء ص ۵)

الفضل کی یہ شہادت مرزا صاحب کی وفات سے ۳۳ سال بعد کی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ نہ مرزا صاحب کے دعوے سے عیسائیت کا کچھ بگڑا، نہ تثلیث کے بجائے توحید پھیلی، نہ عیسائیت کے پھیلاؤ کو روکنے میں انہیں کامیابی ہوئی، اس لئے ان کی یہ بات سچی نکلی: ”اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔“ ”اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(۲)

ضمیمہ انجام آتھم میں مرزا صاحب لکھتے ہیں :- ”اگر سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرنا ضروری ہے، یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے، یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کاذب خیال کرلوں گا۔“

(ص ۳۰ تا ۳۵)

نتیجہ :- مرزا صاحب کی یہ تحریر غالباً جنوری ۱۸۹۷ء کی ہے، گویا سچا ہونے کی صورت میں مرزا صاحب کو ۱۹۰۳ء تک یہ سارے کارنامے انجام دینے تھے اور اگر وہ یہ شرط پوری نہ کر سکیں تو انہوں نے اپنے آپ کو جھوٹا سمجھ لینے کی قسم کھا رکھی تھی۔ سات سال کے عرصے میں مرزا صاحب نے جن کارناموں کا وعدہ کیا تھا وہ ان سے ظاہر نہ ہو سکے

صفحہ 439

اس لئے وہ اپنی قسم کے مطابق کاذب ٹھہرے۔

(۳)

۱۳۱۱ھ میں رمضان مبارک کی تیرہویں تاریخ کو چاند گہن اور اٹھائیسویں تاریخ کو سورج گہن ہوا تو مرزا صاحب نے اس کو اپنی مہدویت کی دلیل ٹھہرایا، ان کے خیال میں یہ خارق عادت واقعہ تھا جو کسی مدعی مہدویت و مسیحیت کے وقت میں کبھی رونما نہیں ہوا۔ چنانچہ رسالہ انوار اسلام میں لکھتے ہیں :۔

”اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے اور اگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے ہیں تو بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔ “

(ص ۴۷)

” یہ کبھی نہیں ہوا اور ہرگز نہیں ہوا کہ بجز ہمارے اس زمانہ کے دنیا کی ابتداء سے آج تک کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینے میں ایسے طور سے اکٹھے ہوگئے ہوں کہ اس وقت کوئی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت بھی موجود ہو۔ “

(ص ۴۸)

مگر افسوس ہے کہ یہ مرزا صاحب کی ناواقفیت تھی، ورنہ ۱۸ھ سے ۱۳۱۲ھ تک ساٹھ مرتبہ رمضان میں چاند گہن اور سورج کا اجتماع ہوا اور ان تیرہ صدیوں میں بیسیوں مدعیان نبوت مہدویت بھی ہوئے۔

مگر خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ مرزا صاحب کو خود ان کی نادانی سے جھوٹا ثابت کریں اس لئے اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کے قلم سے مندرجہ ذیل چیلنج لکھوایا :۔

”اگر یہ ظالم مولوی اس قسم کا خسوف کسوف کسی اور مدعی کے وقت میں پیش کر سکتے ہیں تو پیش کریں اس سے بیشک میں جھوٹا ہو جاؤں گا۔ “

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۸)

نتیجہ :۔ ایک نہیں چار ثبوت پیش کرتا ہوں۔

مغرب میں موجود تھا۔

صفحہ 440

ڈنکا بجا رہا تھا ۔

تھا ۔

اگرچہ اور مدعیان نبوت و مہدویت کے زمانے میں بھی خسوف و کسوف کا اجتماع ہوتا رہا (تفصیل کے لئے دیکھئے ”دوسری شہادت آسمانی“ مولفہ مولانا ابو احمد رحمانی ”ائمہ تلبیس“ اور ”رئیس قادیان“ تالیف مولانا ابو القاسم دلاوری) مگر مرزا صاحب کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے یہ چار شہادتیں بھی کافی ہیں۔

(۴)

مرزا صاحب تحفۃ الندوہ ص ۵ میں لکھتے ہیں :۔

ہوں۔“

ہوں گے تو میں جھوٹا ہوں۔“

نتیجہ :۔ ان دعووں میں سے ہر دعویٰ غلط ہے، اس لئے اپنی تحریر کے مطابق مرزا صاحب پانچ وجہ سے جھوٹے ثابت ہوئے۔

(۵)

ازالۃ الاوہام میں مرزا صاحب لکھتے ہیں :۔

”اے برادران دین علمائے شرع متین آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں ...... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“

(ص ۱۹۰ طبع اول ص ۷۹ طبع پنجم)

صفحہ 441

نتیجہ :۔ اس تحریر سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب مسیح موعود نہیں تھے، جو لوگ ان کو مسیح موعود سمجھتے ہیں وہ کم فہم ہیں، سراسر مفتری اور کذاب ہیں اور چونکہ بعد میں مرزا صاحب نے خود بھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اس لئے وہ خود بھی مفتری اور کذاب ہوئے۔

(۶)

تحفۃ الندوہ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں :۔

”اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے :۔ ان یک کاذبا ...... مسرف کذاب۔ یعنی اگر یہ جھوٹا ہو گا تو تمہارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہو جائے گا اور اس کا جھوٹ ہی اس کو ہلاک کر دے گا۔ لیکن اگر سچا ہے تو پھر بعض تم سے اس کی پیش گوئیوں کا نشانہ بنیں گے اور اس کے دیکھتے دیکھتے اس دارالفناء سے کوچ کریں گے۔ اب اس معیار کی رو سے جو خدا کی کلام میں ہے مجھے آزماؤ اور میرے دعوے کو پرکھو۔“

(ص ۴)

نتیجہ :۔ ہم نے اس معیار پر مرزا صاحب کے دعوے کو پرکھا تو معلوم ہوا کہ

حریف کے دیکھتے دیکھتے تباہ ہو گئے اور ان کے جھوٹ نے ان کو ہلاک کر دیا۔

کی کہ جھوٹا سچے کے سامنے ہلاک ہو جائے اور مولانا ثناء اللہ صاحب کے دیکھتے دیکھتے مرزا صاحب ہلاک ہو گئے۔

گوئی کی، مگر سلطان محمد کے دیکھتے دیکھتے مرزا صاحب ہیضہ کی موت کا نشانہ بن گئے۔

ہوئی تلوار دکھائی اور دعا کی کہ ”اے میرے رب سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ کر دے۔“ مگر ڈاکٹر صاحب کے دیکھتے دیکھتے مرزا صاحب تباہ ہو گئے اور ان کے جھوٹ نے ان کو ہلاک کر دیا۔ یہ چار گواہ مرزا صاحب کے مقرر کردہ معیار پر ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے بہت کافی ہیں۔

صفحہ 442

(۷)

۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء کو مرزا صاحب نے الہامی پیش گوئی کا اشتہار دیا کہ :- "اس قادر مطلق نے مجھ سے فرمایا ہے کہ اس شخص (یعنی مرزا احمد بیگ صاحب کی دختر کلاں (محترمہ محمدی بیگم) کے لئے سلسلہ جنبانی کر...... اگر (احمد بیگ نے اس) نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا۔ ، اور جس دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔ "

"پھر ان دنوں زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ مکتوب الیہ (یعنی احمد بیگ) کی دختر کلاں کو ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا۔ "

"بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئیوں سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔ "

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص ۱۵۷۔ ۱۵۹)

نتیجہ :- مرزا صاحب نے اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کی یہ بہت آسان کسوٹی مقرر کی تھی، جس سے ان کا سچ یا جھوٹ پرکھا جائے ، ۷ اپریل ۱۸۹۲ء کو احمد بیگ نے اپنی صاحب زادی کا نکاح اپنے ایک عزیز جناب سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور سے کر دیا۔ اب مرزا صاحب کی الہامی پیش گوئی کے مطابق :-

الف :- ۶ ستمبر ۱۸۹۴ء تک محمدی بیگم کا سہاگ لٹ جانا چاہئے تھا، مگر خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کی نظر بد سے اسے محفوظ رکھا۔ ۵۷ سال یہ جوڑا خوش و خرم رہا۔ (سولہ (۱۶) برس تک مرزا صاحب کی زندگی میں اور اکتالیس برس بعد تک) ۱۹۴۹ء سے ۱۹۶۶ء تک محمدی بیگم نے بیوگی کا زمانہ پایا مگر وہ مرزا صاحب کے الہامی شکنجے سے اکتالیس برس پہلے نکل چکی تھی۔ (مرحومہ کی عمر تقریباً نوے برس ہوئی، انتقال ۱۹۶۶ء میں ہوا رحمہا اللہ رحمۃ واسعۃ)

ب :- سلطان محمد کو اپنے خسر سے چھ مہینہ پہلے مرنا تھا۔ مگر بفضلِ خدا وہ اس کے ۵۷ برس بعد تک زندہ رہا۔

صفحہ 443

ج:۔ احمد بیگ کو اپنے داماد کی موت اور اپنی بیٹی کی بیوگی و بے کسی دیکھ کر مرنا تھا، مگر وہ ان کو خوش و خرم چھوڑ کر گیا۔

د:۔ خدا نے تمام موانع دور کر کے اس عظیم خاتون کو مرزا صاحب کے نکاح میں لانا تھا مگر افسوس کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ میں مرزا صاحب کی کوئی مدد نہیں کی۔ مرزا صاحب نے بذات خود خاصی کوشش کی مگر ناکام رہے، بالآخر ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا صاحب ناکامی و محرومی کا ”داغ حسرت“ سینے میں لے کر دنیا سے رخصت ہوئے۔

ہ:۔ جو لوگ اس واضح معیار پر مرزا صاحب کے سچ جھوٹ کو نہیں جانچتے وہ بقول مرزا صاحب ”بد خیال لوگ“ ہیں۔

(۸)

محمدی بیگم سے نکاح کا پہلا اشتہار جو مرزا صاحب نے ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء کو جاری کیا تھا۔ اس کی پیشانی پر یہ قطعہ تحریر فرمایا :۔

”پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہو گا قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہو گا
سچ اور جھوٹ میں ہے فرق وہ پیدا ہو گا کوئی پا جائے گا عزت اور کوئی رسوا ہو گا“

(مجموعہ اشتہارات ص ۱۵۳ ج ۱)

نتیجہ :۔ پیش گوئی کا انجام ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو (مرزا صاحب کی موت کے دن) کھل کر سب کے سامنے آگیا، قدرت کا عجب تماشا بھی اس دن سب نے دیکھ لیا کہ بیس سال کی مسلسل تگ و دو، الہام بازی اور یقین دہانی کے باوجود مرزا صاحب، محمدی بیگم سے محروم رہے۔ یوں سچ اور جھوٹ کا فرق کھل گیا۔ بتائیے کس کو عزت ملی، اور کون رسوا ہوا؟ کون سچا نکلا کون جھوٹا؟

(۹)

مرزا صاحب محمدی بیگم کے بارے الہامی پیش گوئی کر چکے تھے، مگر اس کے اولیاء نے پیش گوئی کے علی الرغم رشتہ دوسری جگہ طے کر دیا تو مرزا کے سینے پر سانپ لوٹ گئے، مرزا صاحب لڑکی کے پھوپھا جناب مرزا علی شیر بیگ صاحب کو (جو مرزا صاحب کے نسبتی برادر اور سمدھی تھے) لکھتے ہیں :

”اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری، یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح

صفحہ 444

ہونے والا ہے۔۔۔۔۔ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں، بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں، عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں، اور اللہ رسول کے دین کی کچھ پروا نہیں رکھتے۔ اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچالینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچالے گا۔ اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو، اور اس کا روسیاہ ہو، خدا بے نیاز ہے، جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔"

نتیجہ:- آہ! محمدی بیگم کے لئے مرزا صاحب کی بے قراری و بے چینی اور ان کے اقربا کی بے التفاتی و سرد مہری۔۔۔۔۔ افسوس! خدا کے دشمن، رسول کے دشمن، دین کے دشمن، مرزا صاحب کے دشمن نکاح کی تلوار سے ان کا جگر شق کر رہے ہیں، مرزا صاحب کو آتش فرقت میں ڈال رہے ہیں اور ذلیل و خوار کر کے ان پر جگ ہنسائی کا موقعہ فراہم کر رہے ہیں مگر خدا مرزا صاحب کی کوئی مدد نہیں کرتا، مرزا صاحب اعلان کرتے ہیں کہ "اگر میں اس کا ہوں تو مجھے ضرور بچالے گا۔" مگر خدا تعالیٰ نے انہیں نہیں بچایا،

گویا خدا نے گواہی دیدی کہ مرزا صاحب اس کی طرف سے نہیں۔

(۱۰)

سلطان محمد مقررہ میعاد میں نہ مرا تو مرزا صاحب نے اس کی میعاد میں توسیع کرتے ہوئے فرمایا کہ خیر اڑھائی سال میں نہیں مرا تو نہ سہی، میری زندگی میں تو ضرور مرجائے گا، اور اس کے مرنے نہ مرنے کو اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کی کسوٹی قرار دیتا ہوں لکھتے ہیں:

"باز شما را ایں نگفتہ ام کہ ایں مقدمہ برہمیں قدر بہ اتمام رسید و نتیجہ آخری ہماں است کہ بظہور آمد و حقیقت پیش گوئی بر ہماں ختم شد، بلکہ اصل امر بر حال خود قائم است، و ہیچکس باحیلہ خود او را رد نتواند کرد و ایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است و عنقریب وقت آں خواہد آمد۔ پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد

صفحہ 445

مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم را برائے ما مبعوث فرمود و او را بہترین مخلوق گردانید کہ ایں حق است، و عنقریب خواہی دید، ومن ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گر دانم۔ و من نہ گفتم الا بعد ازاں کہ از رب خود خبر دادہ شدم۔“

(انجام آتھم ص ۲۲۳)

(ترجمہ از مولف) ”پھر میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ یہ قصہ یہیں ختم ہو گیا ہے اور آخری نتیجہ بس یہی تھا جو ظہور میں آچکا، اور پیش گوئی کی حقیقت صرف اسی پر ختم ہو گئی۔ نہیں! بلکہ اصل بات (یعنی سلطان محمد کا مرنا، اور اس کی منکوحہ کا بیوہ ہو کر مرزا صاحب کے حبالۂ عقد میں آنا) اپنے حال پر قائم ہے، اور کوئی شخص کسی حیلہ کے ساتھ اسے نہیں ٹال سکتا۔ یہ خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے، اور عنقریب اس کا وقت آئے گا، پس اس خدا کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور آپؐ کو تمام مخلوق سے افضل بنایا، یہ پیش گوئی حق ہے۔ اور عنقریب تم اس کا انجام دیکھ لو گے۔ اور میں اس کو اپنے صدق اور کذب کے لئے معیار ٹھہراتا ہوں، اور میں نے تمہیں کہا مگر بعد اس کے کہ مجھے اپنے رب کی جانب سے خبر دی گئی۔“

(انجام آتھم ص ۲۲۳)

نتیجہ:- مرزا صاحب نے سلطان محمد کی موت کو اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا تھا، یعنی اگر سلطان محمد، مرزا صاحب کی زندگی میں مرجائے تو مرزا صاحب سچے، ورنہ جھوٹے۔ مگر افسوس کہ اس معیار پر بھی مرزا صاحب جھوٹے ہی ثابت ہوئے، کیونکہ مرزا صاحب ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو خود چل بسے، اور جناب سلطان محمد صاحب ان کے بعد انتالیس سال تک زندہ سلامت رہے۔

(۱۱)

سلطان محمد کی موت ہی کے بارے میں فرماتے ہیں:- ”یاد رکھو اگر اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی۔ (یعنی احمد بیگ کا داماد مرزا صاحب کی زندگی میں نہ مرا۔ ناقل) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں، وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۴)

صفحہ 446

نتیجہ :- چونکہ سلطان محمد صاحب کا انتقال مرزا صاحب کی زندگی میں نہیں ہوا اس لئے مرزا صاحب بقول خود ”ہر بد سے بدتر“ ٹھہرے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی بقول مرزا صاحب کے انسان کا افتراء اور کسی خبیث مفتری کا کاروبار تھا، اگر یہ خدا کا سچا وعدہ ہوتا تو ناممکن تھا کہ ٹل جاتا، کیونکہ رب ذوالجلال کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جو شخص اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھے مرزا صاحب اسے ”احمق“ کا خطاب دیتے ہیں۔

(۱۲)

”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے، اس کی انتظار کرو، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی، اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے گا۔“

(انجام آتھم ص ۳۱ حاشیہ)

نتیجہ :- افسوس مرزا صاحب کی زندگی میں احمد بیگ کا داماد نہیں مرا، اس لئے مرزا صاحب کی یہ بات بالکل صحیح نکلی کہ ”اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“

(۱۳)

نکاح آسمانی کی تائید میں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے استدلال کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں :-

اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ یتزوج ویولدلہ، یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں، کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے، اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵۳)

صفحہ 447

نتیجہ :۔ مرزا صاحب کو اس ”خاص نکاح“ اور ”خاص اولاد“ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ محروم رکھا، جس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ غلط ہے اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ان پر صادق نہیں آتی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے کہ جب وہ زمین پر دوبارہ نزول فرمائیں گے تو شادی بھی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی۔ جو لوگ ان کی تشریف کے منکر ہیں انہی کے بارے میں مرزا صاحب نے لکھا ہے :۔

”اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“

(۱۴)

عبداللہ آتھم نامی پادری کے ساتھ مرزا صاحب کا پندرہ دن تک مباحثہ ہوتا رہا، مرزا صاحب اپنے حریف کو میدان مباحثہ میں شکست دینے میں ناکام رہے، تو ۵ جون ۱۸۹۳ء کو الہامی پیش گوئی کر دی کہ پندرہ مہینے تک ان کا حریف ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے، اس سلسلہ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں :۔

”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے، یعنی جو فریق خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ (۱۵) ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ھاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کو اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے ۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مج مجھ کو پھانسی دیا جاوے ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔ “

(جنگ مقدس ص ۔ ۱۸۹)

نتیجہ : پیش گوئی کی آخری معیاد ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء تھی مگر آتھم نے اس تاریخ تک نہ تو عیسائیت سے توبہ کی اور نہ اسلام کی طرف رجوع کیا، نہ بسزائے موت ھاویہ میں گرا، مرزا صاحب نے اس کو مارنے کے لئے ٹونے ٹوٹکے

صفحہ 448

بھی کئے (دیکھئے سیرۃ المہدی ص۔ ۱۷۸ ج۱) اور معیاد کے آخری دن خدا سے آہ و زاری کے ساتھ ”یا اللہ! آتھم مرجائے، یا اللہ آتھم مرجائے“ کی دعائیں بھی کیں کرائیں (الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۳۰ء) مگر سب کچھ بے سود۔ نہ آتھم پر ٹونے ٹوٹکوں کا اثر ہوا، نہ خدا نے قادیان کی آہ و زاری، نوحہ و ماتم اور بددعاؤں کو آتھم کے حق میں قبول فرمایا، اس کا نتیجہ وہی ہوا جو مرزا صاحب نے اپنے لئے تجویز کیا تھا یعنی :-

”میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی تو مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے........... اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔“

چنانچہ مرزا صاحب کے اس ارشاد کی تعمیل فریق مخالف نے کس طرح کی؟ اس کا اندازہ ان گندے اشتہاروں سے کیا جاسکتا ہے جو اس معیاد کے گزرنے پر اس کی طرف سے شائع کئے گئے۔ بطور نمونہ ایک شعر ملاحظہ کیجئے مرزا صاحب کو مخاطب کر کے لکھا گیا۔

ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا میں مگر
سب سے سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی

یہ مرزا صاحب کے اس فقرے کی صدائے باز گشت تھی کہ ”تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔“ اگر وہ ایسے نہ ہوتے تو خدا ان کو عیسائیوں کے مقابلے میں اس قدر ذلیل نہ کرتا۔

(۱۵)

شہادۃ القرآن میں مرزا صاحب لکھتے ہیں :-

”پھر ماسوا اس کے بعضے اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں، جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیش گوئی، جس کی معیاد ۵ جون (۱۸۹۳ء) سے ۱۵ مہینہ تک.......اور پھر مرزا احمد بیگ کے داماد کی نسبت پیش گوئی، جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے، جس کی معیاد آج کی تاریخ سے، جو ۲۱ ستمبر ۱۸۹۳ء، قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں، یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔“

(شہادۃ القرآن ص۔ ۸۰)

صفحہ 449

نتیجہ:- صادق یا کاذب کی شناخت کا طریقہ یہی ہے کہ اگر یہ پیش گوئیاں مقررہ معیار پر پوری ہو گئیں تو پیش گوئی کرنے والا ان پیش گوئیوں میں سچا سمجھا جائے گا، ورنہ جھوٹا۔ اب چونکہ یہ پیش گوئیاں پوری نہیں ہوئی اس لئے یہ مرزا صاحب کے کذب کی شناخت کے لئے واقعی کافی ثابت ہوئیں۔ اس کے بعد مرزا صاحب کو کاذب ثابت کرنے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہی۔

(۱۶)

”میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہوں جیسا کہ مخالفین نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو فلاں فلاں انبیاء و اولیاء کے ساتھ تھی (یہاں مرزا صاحب نے بہت سے انبیاء و اولیاء کے نام ذکر کئے ہیں) تو مجھے فنا کر ڈال، اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا، اور دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعا قبول فرما۔“

(اشتہار ۲۷ اکتوبر ۱۸۹۳ء و مندرجہ مجموعہ اشتہارات ص۔ ۱۱۶ ج ۲)

نتیجہ :- مرزا صاحب کی ان جگر شگاف التجاؤں اور اپنے اوپر بدعاؤں کے باوجود خدا نے انہیں محمدی بیگم کے نکاح سے تادم زیست محروم ہی رکھا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ بقول خود ! ”خدا کی نظر میں (مردود) ........... ملعون اور دجال تھے، جیسا کہ مخالفین نے سمجھا ہے۔“ افسوس وہ اپنی بددعا کے نتیجے میں بقول خود ...... ”نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک ہوگئے، ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بن گئے، ان کے دشمن خوش ہوئے اور ان کی دعاء قبول ہوئی۔“

(۱۷)

مولانا ثناء اللہ امرتسری کو مخاطب کر کے مرزا صاحب لکھتے ہیں :- ” آپ اپنے پرچہ میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور

صفحہ 450

کذاب اور دجال ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا .......... اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ “

(اشتہار ”مولوی ثناء اللہ صاحب سے آخری فیصلہ“ مندرجہ مجموعہ اشتہارات ص ۵۷۸ ج ۳)

نتیجہ :۔ مرزا صاحب ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا مرحوم کی زندگی میں فوت ہو گئے جس سے ان کے اس قول کی تصدیق ہو گئی کہ ”اگر میں ایسا ہی مفتری اور کذاب ہوں، جیسا کہ آپ اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ ع ”جھوٹ میں سچا تھا پہلے مر گیا۔“

(۱۸)

اسی اشتہار میں لکھتے ہیں :۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں، بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ (مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری) پر میری زندگی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ “

نتیجہ :۔ حق تعالیٰ نے مرزا صاحب کی زندگی میں مولانا مرحوم کو ہر آفت بد سے محفوظ رکھا، اور مرزا صاحب کی یہ بات سچ کر دکھائی ............ ” میں خدا کی طرف سے نہیں۔“

(۱۹)

اسی ” آخری فیصلہ “ میں مرزا صاحب دعا فرماتے ہیں کہ :۔ ”اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے، اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر۔ آمین۔ “

نتیجہ :۔ مرزا کی یہ دعا قبول ہوئی کہ ”مولوی صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر۔

صفحہ 451

ثابت ہوا کہ مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی نظر میں مفسد و کذاب تھے، اور ان کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ محض ان کے نفس کا افتراء تھا۔ کاش! مرزا صاحب اپنے لئے ہلاکت کے بجائے ہدایت کی دعا کرتے تو شاید وہ بھی قبول ہو جاتی۔۔

(۲۰)

مزید لکھتے ہیں :- ”اے میرے قادر! اور میرے بھیجنے والے! اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ صاحب میں سچا فیصلہ فرما، اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے، اے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین۔“

نتیجہ :- مرزا صاحب کی یہ التجا بھی منظور ہوئی، مولانا مرحوم صادق تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں مرزا صاحب کو بمرض وبائی ہیضہ دنیا سے اٹھا لیا اور مرزا صاحب کو ان کی منہ مانگی موت دے کر ثابت کر دیا کہ وہ خدا کی نگاہ میں واقعتاً مفسد اور کذاب تھے۔

(۲۱)

ضمیمہ انجام آتھم میں لکھتے ہیں :- ”شیخ محمد حسین بٹالوی اور دوسرے نامی مخالف مجھ سے مباہلہ کر لیں، پس اگر مباہلہ کے بعد میری بددعا کے اثر سے ایک بھی خالی رہا تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں۔“

(ص۔۲۰۔۲۱)

نتیجہ :- مرزا صاحب کے اسی اصول کے مطابق مولانا عبدالحق غزنوی کا مرزا صاحب سے مباہلہ ہوا تھا، جس کا اثر یہ ہوا کہ مباہلہ کے بعد مرزا صاحب، مولانا مرحوم کے سامنے مر گئے، جس سے مرزا صاحب کے اس قول و اقرار کی تصدیق ہو گئی کہ ”میں جھوٹا ہوں“

صفحہ 452

( ۲۲ )

مرزا صاحب کی تحریریں شاہد ہیں کہ وہ مراق کے مریض تھے، چنانچہ ملاحظہ ہو :۔

پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپؐ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“

(ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی ج ۸ ص ۴۴۵)

مصروفیت کا یہ حال ہے کہ بڑی بڑی رات تک بیٹھا کام کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے۔ دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے تاہم اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔

(ملفوظات ج ۸ ص ۔ ۴۷۰)

احمد) سے فرمایا کہ حضور ! غلام نبی کو مراق ہے، تو حضور نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے۔ (نعوذ باللہ! ..... ناقل) اور مجھ کو بھی ہے۔

سیرۃ المہدی ص ۔ ۳۰۴ ج ۳)

اس اقرار و اعتراف سے قطع نظر مرزا صاحب میں مراق کی علامات بھی کامل طور پر جمع تھیں مرزا بشیر احمد ایم اے سیرۃ المہدی میں اپنے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی ” ماہرانہ شہادت “ نقل کرتے ہیں کہ :۔

حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے، لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں، جو ہسٹریا (اور مراق) کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں، مثلاً کام کرتے کرتے

صفحہ 453

یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا، وغیر ذالک لے

مرزا صاحب کو مراق کا عارضہ غالباً موروثی تھا، ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی لکھتے ہیں:۔

شک یہ مرض منتقل ہوا چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“

(ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ۱۹۲۶ء ص۔ ۱۱)

ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مرزا صاحب کے مراق کا سبب اعصابی کمزوری تھی وہ لکھتے ہیں: ۔ ”واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“

(ریویو مئی ۱۹۲۷ء ص۔ ۲۶)

مراق کی علامات میں اہم ترین علامات یہ بیان کی گئی ہے کہ :۔ ”مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔“

(بیاض حکیم نور الدین قادیانی ص ۲۱۲ ج ۱۰)

یہ تمام علامات مرزا صاحب میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں، انھوں نے ”آریوں کا بادشاہ“ ہونے کا دعویٰ کیا، نبوت سے خدائی تک کے دعوے بڑی شدومد سے کئے، انبیاء کرامؑ سے برتری کا دم بھرا، دس لاکھ معجزات کا ادعا کیا، مخلوق کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور نہ ماننے والوں کو منکر، کافر، اور جہنمی قرار دیا، انبیاء علیہم السلام کی

لے مثلاً بدہضمی، اسہال، بد خوابی، تفکر، استغراق، بدحواسی، نسیان، ہذیان، تخیل پسندی، طویل بیانی، اعجاز نمائی، مبالغہ آرائی، دشنام طرازی، فلک پیماء دعوے، کشف و کرامت کا اظہار، نبوت و رسالت، فضیلت و برتری کا ادعا، خدائی صفات کا تخیل وغیرہ وغیرہ، اس قسم کی بیسیوں مراقی علامات مرزا صاحب میں پائی جاتی تھیں۔ (ناقل)

صفحہ 454

تنقیص کی، صحابہ کرامؓ کو نادان اور احمق کہا، اولیائے امت پر سب و شتم کیا، مفسرین کو جاہل کہا، محدثین پر طعن کیا، علمائے امت کو یہودی کہا اور پوری امت کو گمراہ کہا اور فحش کلمات سے ان کی تواضع کی۔ یہ کام کسی مجدد یا ولی کا نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کو مراق کی کرشمہ سازی ہی کہا جاسکتا ہے۔

ایک نہایت اہم لمحہ فکریہ !!

میں قادیانیوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر قیامت کے دن مرزا غلام احمد سے سوال ہوا کہ تو نے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کر کے کیوں لوگوں کو گمراہ کیا؟ اور اس کے جواب میں مرزا صاحب عرض کریں کہ یا اللہ ! یہ سب کچھ میں نے مراق کی وجہ سے کیا تھا!! اور اپنے مراقی ہونے کا اظہار بھی خود اپنی زبان و قلم سے کر دیا تھا، اب ان ”عقلمندوں“ سے پوچھئے کہ انھوں نے ”مراق کے مریض“ کو ”مسیح موعود“ کیوں مان لیا تھا؟ تو آپ کے پاس دلیل کا کیا جواب ہو گا؟ مرزا صاحب کے ماننے والے اس سوال پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔

صفحہ 455

درد مندانہ گذارش

آخر میں اپنے بھائیوں سے درد مندانہ گذارش کروں گا کہ میں نے مرزا صاحب کی تحریروں سے خود انہی کے مقرر کردہ معیار پیش کر دیئے ہیں، ممکن ہے ہمارے بھائیوں کو رسالہ کے بعض مندرجات ناگوار گزریں، مگر اس میں میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں نے مرزا صاحب کے قائم کئے ہوئے معیاروں کو واقعات کی کسوٹی پر رکھ دیا ہے جس سے ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ مرزا صاحب اس کسوٹی پر کھرے ثابت ہوئے یا کھوٹے نکلے؟

ہمارے بھائیوں کو چاہئے کہ مرزا صاحب کی تحریروں کو واقعات کی روشنی میں جانچیں اور اس بات پر بھی غور کریں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان تو بہت ہی بلند و بالا ہے۔ اولیاء کرام اور مجددین امت بھی اپنے سچ جھوٹ کی شرطیں نہیں باندھا کرتے، وہ تو دو ٹوک الفاظ میں حق و صداقت کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن مرزا صاحب کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بار بار اپنے سچ جھوٹ کی شرطیں باندھتے ہیں۔ اور جب ایک شرط میں بازی ہار دیتے ہیں تو فوراً دوسری شرط باندھ لیتے ہیں۔ بار بار شرطیں باندھ کر سچ جھوٹ کا جوا کھیلنا کیا کسی مقبول بارگاہ الٰہی کا کام ہو سکتا ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے بصیرت دی ہو تو یہی ایک نکتہ ہدایت کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔ اور پھر یہ بھی دیکھئے کہ ادھر مرزا صاحب تو اپنا سب کچھ سچ جھوٹ کی شرطیں باندھنے میں جھونک رہے ہیں، ادھر خدا تعالیٰ نے گویا قسم کھا رکھی ہے کہ مرزا صاحب جس چیز کو بھی اپنے صدق و کذب کا معیار بنا کر پیش کریں اس میں انہیں جھوٹا ثابت کیا جائے۔ ادھر مرزا صاحب قسمیں کھاتے ہیں کہ محمدی بیگم سے نکاح ہو گا، سلطان محمد مرے گا، آتھم مرے گا، ثناء اللہ مرے گا، عبدالحق مرے گا، یہ ہو گا اور وہ ہو گا، اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے جھوٹا سمجھو۔ ادھر تقدیر خداوندی بضد ہے کہ مرزا صاحب جس بات کو جتنی زیادہ قسمیں کھا کر بیان کریں وہ اتنی ہی ناممکن بنا دی جائے...... حد یہ کہ مرزا صاحب ایک ناپاک عیسائی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اگر وہ فلاں تاریخ تک نہ مرے تو مجھے سب سے بڑا لعنتی سمجھو۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایک صلیب پرست ناپاک عیسائی کے مقابلہ میں بھی مرزا صاحب کی قسم کو لائق احترام نہیں سمجھتے، کیا انسانی تاریخ میں کسی سچے کی ایسی مثال ملتی ہے؟ خدارا! ذرا تو غور فرمائیے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

صفحہ 28
PDF 457

عالمی مجلس

تحفظ ختم نبوت

قادیانی تحریریں

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 458

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وسلامٌ علی عبادہ الذین اصطفیٰ

اس رسالے میں قادیانی لٹریچر سے چند اقتباسات نقل کئے جاتے ہیں۔ اہل نظر ان پر غور فرما کر فیصلہ کریں کہ کیا سچے مدعیوں کے یہی حالات ہوتے ہیں؟

عبادت الہی

”مولوی رحیم بخش صاحب ساکن تلونڈی ضلع گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب) امرتسر میں براہین احمدیہ کی طباعت دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تو کتاب کی طباعت دیکھنے کے بعد مجھے فرمایا: میاں رحیم بخش چلو سیر کر آئیں۔ جب آپ باغ کی سیر کر رہے تھے تو خاکسار نے عرض کیا کہ حضرت آپ سیر کرتے ہیں۔ ولی لوگ تو سنا ہے شب و روز عبادت الہی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ولی اللہ دو (۲) طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک مجاہدہ کش، جیسے حضرت باوا فرید شکر گنج اور دوسرے محدث جیسے ابو الحسن خرقانیؒ، محمد اکرم ملتانیؒ، مجدد الف ثانیؒ وغیرہ، یہ دوسرے قسم کے ولی بڑے مرتبہ کے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے بہ کثرت کلام کرتا ہے۔ میں ان میں سے ہوں (گویا عبادت کے بجائے صرف لمبے دعوے کافی ہیں۔ ناقل) اور آپ کا اس وقت محدثیت کا دعویٰ تھا (جو

صفحہ 459

بعد میں ترقی کر کے مسیحیت، نبوت اور خدائی بروز تک جا پہنچا۔ ناقل)“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۱۳)

تصنیف اور نماز

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ سیرۃ المہدی کی روایت ۴۶۷ میں سنین کے لحاظ سے جو واقعات درج ہیں ان میں سے بعض میں مجھے اختلاف ہے جو مندرجہ ذیل ہے ...... (۱۳) آپ نے ۱۹۰۱ء میں ۲ ماہ تک مسلسل نمازیں جمع کرنے کا ذکر نہیں کیا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی درست ہے کہ ایک لمبے عرصے تک نمازیں جمع ہوئی تھیں (کیونکہ مرزا صاحب ان دنوں ایک کتب کی تصنیف میں مشغول تھے، اس لئے ظہر و عصر اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔ تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ ناقل)

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۰۲)

مسنون وضع

”نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے، بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے، اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہو جاتی ہے اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا۔ قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی، اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے، اور قرأت میں شاید قل ہو اللہ بہ مشکل پڑھ سکوں، کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بغلات کی ہوتی ہے۔“

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم ص ۸۸)

صفحہ 460

مشہور فقہی مسئلہ

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو میں نے بار ہا دیکھا کہ گھر میں نماز پڑھاتے تو حضرت ام المومنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کر لیتے حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ ہاں اکیلا مرد مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے ۔ میں نے حضرت ام المومنین سے پوچھا تو انھوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر آجایا کرتا ہے۔ اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۳۱)

منہ میں پان

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی ایسی کہ دم نہ آتا تھا، البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی، تاکہ آرام سے پڑھ سکیں ۔“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۰۳)

امامت کا شرف

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبد الکریم مرحوم نماز نہ پڑھا سکے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اول (حکیم نور دین صاحب) بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل دین صاحب مرحوم کو

صفحہ 461

نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انھوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں، حضور نے فرمایا: حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انھوں نے عرض کیا: ہاں حضور! فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی، آپ پڑھائیے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو تو ناقض وضو نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن کیا ایسے معذور کو امام بنانا بھی جائز ہے؟ ناقل)

(سیرۃ المہدی۔ ج۔ ۳ ص ۱۱۱)

رکوع کے بعد

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج الحق صاحب نے پڑھائی حضور علیہ السلام (مرزا صاحب) بھی اس نماز میں شامل تھے۔ تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انھوں نے بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی جس کا یہ مصرعہ ہے:

”اے خدا اے چارہ آزار ما“

خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو روحانیت سے پُر ہے، مگر معروف مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں صرف مسنون دعائیں پڑھنی چاہئیں (خصوصاً غیر عربی میں دعائیں پڑھنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ ناقل)“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۳۸)

مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں

”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھا رہے تھے، وہ

صفحہ 462

جب دوسری رکعت کے بعد تیسری رکعت کے لئے قعدہ سے اٹھے تو حضرت صاحب کو پتہ نہ لگا، حضور التحیات میں ہی بیٹھے رہے (شاید قبر مسیح کی تلاش میں کشمیر پہنچے ہوئے ہونگے۔ ناقل) جب مولوی صاحب نے رکوع کے لئے تکبیر کہی تو حضور کو پتہ لگا، اور حضور اٹھ کر رکوع میں شریک ہوئے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے مولوی نور دین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کو بلوایا اور مسئلہ کی صورت پیش کی اور فرمایا میں بغیر فاتحہ پڑھے رکوع میں شامل ہوا ہوں۔ اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ (سبحان اللہ! قادیانی نبی، امتیوں سے مسئلہ کی تحقیق کر رہا ہے۔ ناقل) مولوی محمد احسن صاحب نے مختلف شقیں بیان کیں کہ یوں بھی آیا ہے اور یوں بھی ہو سکتا ہے، کوئی فیصلہ کن بات نہ بتائی (بتاتے بھی کیسے؟ معاملہ خود حضور کا تھا۔ ناقل) مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آخری ایام میں بالکل عاشقانہ رنگ پکڑ گئے تھے وہ فرمانے لگے مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں جو حضور نے کیا۔ بس وہی درست ہے۔ (گویا حضور شریعت سے بھی آزاد ہیں۔ ناقل)“

(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۱۲ نمبر ۷۷ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۲۵ء)

طہارت

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) پیشاب کر کے ہمیشہ پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے، میں نے کبھی ڈھیلہ کرتے نہیں دیکھا (باوجودیکہ سلسل البول کی بیماری بھی تھی، ڈھیلہ استعمال کئے بغیر قطرے بند نہیں ہو سکتے تھے۔ ناقل) “

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۴۳)

ڈھیلے جیب میں!

”آپ کو (یعنی مرزا صاحب کو) شیرینی سے بہت پیار

صفحہ 463

ہے، اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے، اس زمانے میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب ہی میں رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے (اس حسن ذوق اور لطافت مزاج کی داد نہ دینا بے انصافی ہو گی۔ ناقل)"

(مرزا صاحب کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی تتمہ براہین احمدیہ ج ۱ ص ۶۷)

تیز گرم پانی

"میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود عموماً گرم پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے، اور ٹھنڈے پانی کو استعمال نہ کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لئے پاخانہ میں لوٹا رکھ دے، اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا، جب حضرت مسیح موعود فارغ ہو کر باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا۔ جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا۔ (جس کو آپ نے خود حکم فرمایا تھا۔ ناقل) تو آپ نے اسے بلوایا اور اسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے لوٹے کا بچا ہوا پانی بہا دیا تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ طہارت میں استعمال نہیں ہو سکتا (مگر استنجا کیسے ہوا؟۔ ناقل)"

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۴۳)

حفظِ قرآن

"ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو قرآن مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔

صفحہ 464

بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے، مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا، (مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اوتار ہیں۔ ضمیمہ رسالہ جہاد ص ۴ یعنی جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے اپنی خو، اپنی طبیعت اور دلی مشابہت کے لحاظ سے، اپنی وفات کے اڑھائی ہزار برس بعد عبداللہ پسر عبدالمطلب کے گھر پھر جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا، صلی اللہ علیہ وسلم (تریاق القلوب ص ۳۴۹) اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خو بو اور رنگ و روپ کے لحاظ سے مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر قادیان میں پھر جنم لیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کہلایا۔ پہلے جنم میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے حافظ تھے۔ دوسرے جنم میں قرآن کیوں بھول گئے؟۔ ناقل)

(سیرۃ المہدی ص ۴۴ ج ۳)

رمضان کے روزے

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے، مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا۔ اس لئے چھوڑ دیئے، اور فدیہ ادا کر دیا اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا، اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا (افسوس ہے کہ حضرت کو رمضان ہی میں دورہ پڑنا تھا، ناقل) مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداً

صفحہ 465

دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضا کیا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں! صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانے میں آپ بہت کمزور ہو گئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی۔ (خصوصاً رمضان میں۔ ناقل) “

(سیرۃ المہدی ج۔ ۱ ص ۶۵)

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اس وقت غروب آفتاب کا وقت بالکل قریب تھا مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا (اور توڑے ہوئے روزے کی قضا کا معمول تو تھا ہی نہیں۔ ناقل) “

(سیرۃ المہدی ج۔ ۳ ص ۱۳۱)

اعتکاف

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ ...... اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے، مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیات کے نہیں بیٹھ سکے کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔ (مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کبھی اعتکاف ترک نہیں فرمایا۔ ناقل) “

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۱۹)

صفحہ 466

زکوٰۃ

”اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے (گویا ساری عمر فقیر رہے، مگر لقب تھا رئیس قادیاں اور ٹھاٹھ شاہانہ ۔ ناقل)“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۱۹)

حج

”مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی خدمت میں سنایا گیا جس میں اس نے اعتراض کیا تھا کہ آپ حج کیوں نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل ہے اور صلیب کی شکست ہے، ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں بہت سے خنزیر مر چکے ہیں اور بہت سخت جان ابھی باقی ہیں ان سے فرصت اور فراغت ہولے (افسوس ہے کہ مرزا صاحب کو مدۃ العمر خنزیروں کے شکار سے فرصت نہ مل سکی، نہ ان کے خنزیر مرے، نہ انہیں حج کی توفیق ہوئی۔ ناقل)“

(ملفوظات احمدیہ ج ۵ ص ۳۷۲ مرتبہ محمد منظور الہی قادیانی)

آتا ہے کہ وہ خنزیر کو قتل کریں گے اس کا مذاق اڑاتے ہیں چنانچہ سیرۃ المہدی میں ہے کہ ”میاں امام دین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور وہ باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے، پھر فرماتے تھے کہ ایسے شخص کی آمد سے تو سانسیوں اور کنجروں کو خوشی ہو سکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں، مسلمانوں کو کیسے خوشی ہو سکتی ہے یہ الفاظ بیان کر کے آپ بہت ہنستے تھے یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۹۱ / ۲۹۲)

صفحہ 467

”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں تو آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا۔ کیونکہ ساری جائیداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی۔ اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے (غالباً جہاد منسوخ کرنے کے کام میں۔ ناقل) دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا۔ تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں۔ (تیسرے حکمت الٰہیہ آپ کو حج کی توفیق سے محروم رکھنا چاہتی تھی تاکہ ”مسیح“ کی ایک علامت بھی آپ پر صادق نہ آئے اور ہر عام و خاص کو معلوم ہو جائے کہ ان کا دعویٰ مسیحیت غلط ہے۔)“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۱۹)

”حضرت مرزا صاحب پر حج فرض نہ تھا کیونکہ آپ کی صحت درست نہ تھی ہمیشہ بیمار رہتے تھے (اور یہ قدرت کی جانب سے آپ کو حج سے روکنے کی پہلی تدبیر تھی۔ ناقل) حجاز کا حاکم آپ کا مخالف تھا، کیونکہ ہندوستان کے مولویوں نے مکہ معظمہ سے حضرت مرزا صاحب کے واجب القتل ہونے کے فتوے منگائے تھے، اس لئے حکومت حجاز آپ کی مخالف ہو چکی تھی (اور یہ قدرت کی جانب سے مرزا صاحب کو حج سے محروم رکھنے کی دوسری تدبیر تھی۔ ناقل) وہاں جانے پر آپ کو جان کا خطرہ تھا (دجال بھی اسی خطرہ سے مکہ مکرمہ نہیں جا سکے گا۔ ناقل) لہٰذا آپ نے قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کیا کہ اپنی جان کو جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پھنسو۔ مختصر یہ کہ حج کی مقررہ شرائط آپ میں نہیں پائی گئیں۔ اس لئے آپ پر حج فرض نہیں ہوا...... (اور خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج کی توفیق ہی نہ دی تاکہ مسیح کی ایک علامت بھی آپ میں نہ پائی جائے۔ ناقل)

(اخبار الفضل قادیان جلد ۱۷ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۹۲۹ء)

صفحہ 468

چھٹا سوال و جواب

”سوال ششم : (از محمد حسین صاحب قادیانی) حضرت اقدس (مرزا غلام احمد قادیانی) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟ جواب : (از حکیم فضل دین قادیانی) وہ نبی معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت و برکات ہے۔“

(اخبار الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۴ ص ۱۳ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء)

جمالیاتی حسّ

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے لاہور کی پہلی شادی حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب) نے گورداسپور میں کرائی تھی جب رشتہ ہونے لگا تو لڑکی دیکھنے کے لئے حضور نے ایک عورت کو گورداسپور بھیجا تاکہ وہ آکر رپورٹ کرے کہ لڑکی صورت و شکل وغیرہ میں کیسی ہے اور مولوی صاحب کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ یہ کاغذ میں نے لکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت ام المومنین لکھوایا تھا، اس میں مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں۔ مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے، قد کتنا ہے، اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں ہے، ناک، ہونٹ، گردن، دانت، چال ڈھال وغیرہ کیسے ہیں۔ غرض بہت ساری باتیں ظاہری شکل وصورت کے متعلق لکھوا دی تھیں کہ ان کی بابت خیال رکھے، اور دیکھ کر واپس آکر بیان کرے۔ جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے سب باتوں کی بابت اچھا یقین دلایا تو رشتہ ہو گیا۔ اسی طرح خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے اپنی بڑی لڑکی حضرت میاں صاحب (یعنی خلیفۃ المسیح ثانی) کے لئے پیش کی تو ان دنوں خاکسار ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس چکرتہ پہاڑ پر، جہاں وہ متعین تھے، بطور تبدیلی آب و ہوا کے گیا ہوا

صفحہ 469

تھا۔ واپسی پر مجھ سے لڑکی کا حلیہ وغیرہ تفصیل سے پوچھا گیا۔ “

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۹۶)

عائشہ

” میری بیوی...... پندرہ برس کی عمر میں دارالامان میں حضرت مسیح موعود کے پاس آئیں۔...... حضور کو مرحومہ کی خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی “ (عائشہ کے شوہر غلام محمد قادیانی کا مضمون ۔ مندرجہ الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۲۸ء ص ۶۔ ۷)

بھانو

”ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المومنین (محترمہ نصرت جہاں بیگم زوجہ مرزا غلام احمد) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی حضور کو دبانے بیٹھی، چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا : ”بھانو آج بڑی سردی ہے۔ “ کہنے لگی۔ ”ہاں جی تدے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں “ یعنی جی ہاں، جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہورہی ہے۔ “

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۱۰)

صفحہ 470

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلعم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ان کے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے، دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیر محرم پر اظہار زینت نہیں کرنا چاہئے اسی کے اندر لمس کی ممانعت بھی شامل ہے کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔

(لیکن مرزا صاحب تنہائی میں لیٹ کر جوان عورتوں سے بدن دبواتے تھے، اس لئے ان کو "شریف آدمی" کہنا بھی غلط ہے، چہ جائیکہ ان کو ............ نعوذ باللہ نبی کہا جائے ...... ناقل)

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۵)

زینب بیگم

"ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس (مرزا غلام احمد صاحب) کی خدمت میں رہی ہوں، گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی، بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا، دو دفعہ ایسا موقعہ پیش آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی نہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ (یقیناً مرزا صاحب بھی اسی "سرور" سے لطف اندوز ہوں گے۔ ناقل) "

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۷۳)

صفحہ 471

نیم دیوانی کی حرکت

”حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی، (اور دیوانہ وار خدمات بجالاتی تھی۔ ناقل) ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے وہاں ایک کونے میں گھڑا رکھا ہوا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔ (کیونکہ ان صاحبہ کو مرزا صاحب سے کوئی تکلف نہیں تھا۔ ناقل) حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے (جن لوگوں سے ہمہ وقت کی بے تکلفی ہو ان کی طرف التفات ہوا بھی نہیں کرتا اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس نیم دیوانی کے خفیہ راز کا افشاء کس نے کر دیا۔ ناقل)“

(ذکر حبیب مؤلفہ مفتی محمد صادق ص ۳۸)

رات کا پہرہ

”مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی تھیں، اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سونے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا، ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا، اس وقت رات کے بارہ بجے تھے۔ ان ایام میں عام طور پر پہرہ پر مائی نجو.... منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضاعی ماں ہیں۔ (اور مرزا صاحب کی؟۔ ناقل) اور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود کے پرانے خادم تھے۔ مولوی عبدالرحمن صاحب ان کے داماد ہیں۔“

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۲۱۳)

صفحہ 472

جوان عورت، بغلگیر، الحمدللہ

”۲۵ جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ روز دوشنبہ۔ آج میں نے بوقت صبح ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہوئی ہے تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لاکر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جواں عورت ہے۔ پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے، شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دیئے تھے۔ (یعنی محمدی بیگم۔ ناقل) لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا، یا دل میں کہا کہ میں آگئی ہوں۔ میں نے کہا یا اللہ آجاوے، اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فالحمد للہ علی ذالک (کہ بیداری میں نہ سہی تو خواب میں تو آسمانی منکوحہ سے بغلگیر ہونے کی سعادت میسر آئی۔ وائے قسمت کہ یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ ناقل)

اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازے پر آکھڑی ہوئی ہے اور میں دالان کے اندر بیٹھا ہوں۔ تب میں نے کہا کہ آ، روشن بی بی اندر آجا (لیکن افسوس کہ مرزا صاحب کے گھر وہ ”روشن بی بی“ نہ آئی۔ ناقل)“

(تذکرہ ص ۱۹۷ مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا غلام احمد قادیانی)

ناکامی کی تلخی

”فرمایا: چند روز ہوئے کہ کشفی نظر میں ایک عورت مجھے دکھائی گئی اور پھر الہام ہوا

صفحہ 473

...... اس عورت اور اس کے خاوند کے لئے ہلاکت ہے (یعنی انگور کھٹے ہیں۔ ناقل) “

(تذکرہ ص ۶۱۰)

خواب: دماغی بناوٹ

” ۴ اگست ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰ محرم ۱۳۰۹ھ آج میں (مرزا غلام احمد) نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیش گوئی ہے۔ باہر تکیہ میں معہ چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے میں نے اس کو تین مرتبہ کہا کہ تیرے سر منڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا (افسوس کہ یہ خوش کن تعبیر صحیح نہ نکلی۔ ناقل) اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر مارے ہیں۔ ...... اور اسی رات والدہ محمود نے خواب دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہو گیا ہے اور ایک کاغذ ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے، اور شیرنی منگوائی گئی ہے اور میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔ (کیا مضائقہ ہے۔ بیداری میں جو دولت نصیب نہ ہو اس کا خواب دیکھ لینا بھی بہت بڑی دولت ہے۔ ناقل) “

(تذکرہ ص ۱۹۸، ص ۱۹۹)

” خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے، کئی خوابیں انسان کی دماغی بناوٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اور اکثر لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ (چنانچہ مرزا صاحب کو محمدی بیگم کے خواب بھی شاید اسی دماغی بناوٹ کی وجہ سے آتے تھے۔ ناقل) “

(سیرۃ المہدی ج ۳ ص ۱۱۶ مؤلفہ صاحب زادہ مرزا بشیر احمد صاحب)

صفحہ 474

پاک مال ۔ پاک مصرف

”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنجری تھی، اس نے اس حالت میں بہت روپیہ کمایا، پھر وہ مر گئی، اور مجھے اس کا ترکہ ملا، مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی، اب میں اس مال کو کیا کروں؟ (سائل کا نام اللہ دیا کنجر تھا۔ جس نے بعد میں توبہ کر لی تھی۔ ناقل) حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہو سکتا ہے (اور اسلام کی روح خود مرزا صاحب تھے۔ ان سے بہتر اس مال کا مصرف اور کون ہو سکتا تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے زنا کی اجرت کی کمائی کا یہ مال منگوایا، اور اس کو ہضم فرمایا۔ اور جب مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد ۱۵ نمبر ۱ میں مرزا صاحب کو طعنہ دیا کہ حضرت، کنجریوں کی کمائی کا مال بھی صاف کر جاتے ہیں تو مرزا صاحب نے آئینہ کمالات اسلام ص ۶۰۱ میں اس کا جواب دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مال تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا۔ چشم بد دور! مرزا صاحب کی شریعت میں ان کے پاس آکر حرام بھی حلال ہو جاتا ہے۔ ناقل۔ ) “

(سیرۃ المہدی ج ۱ ص ۳۱۱ ۔ طبع دوم)

صفحہ 475

انوار خلافت

(یہ چند عبارتیں مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں تھیں۔ اب چند عبارتیں مرزا محمود کے بارے میں نقل کی جاتی ہیں۔ تاکہ اندازہ ہوسکے کہ ؎ ”ایں خانہ ہمہ آفتاب است“)

دس جوتے

(درج ذیل واقعہ کے کرداروں کا تعارف)

ہے۔

”میرے باپ کا نام ابو بکر صدیق ہے، وہ مرزا صاحب قادیاں کا خسر ہے، میں بھی مرزا قادیان کے گھر میں تقریباً (۵) سال رہی ہوں، میں مستغیث احسان علی کو جانتی ہوں، چار سال ہوئے میں مرزا صاحب کے لڑکے کی دوائی لینے احسان علی کی دوکان پر گئی تھی، میں نسخہ لے کر اس کی دوکان پر گئی تھی، اول احسان علی نے میرے ساتھ مخول کرنا شروع کیا اور پھر مجھ سے کہا کہ میں مریضوں کے کمرہ میں جاؤں، اس دوسرے کمرہ میں اس نے مجھے لٹایا اور میرے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کری، لوگ میرے رولا کرنے سے اکٹھے ہوگئے اور دروازہ کھلوایا اور احسان علی کو لعنت اور ملامت کری تھی۔ احسان علی

صفحہ 476

نے میرے ساتھ بد فعلی کرنی شروع کری تھی۔ میں نے گھر جا کر عزیزہ بیگم کے پاس شکایت کری تھی، اور اس وقت مرزا صاحب وہاں موجود تھے، ان ایام میں عزیزہ بیگم کے پاس رہتی تھی، مرزا صاحب نے احسان علی کو بلایا اور لعنت ملامت کری اور احسان علی کو کہا کہ قادیاں سے نکل جاؤ۔ احسان علی نے معافی مانگی اور مرزا صاحب نے حکم دیا کہ اگر احسان علی دس جوتے کھالیوے تب اس کو معاف کیا جاتا ہے، اور ٹھہر سکتا ہے، چنانچہ احسان علی نے اس کو قبول کیا، اور میں نے اس کو دس جوتے لگائے تھے۔ یہ جوتیاں مرزا صاحب کے سامنے ماری تھیں...... جبکہ میں نے احسان علی کو جوتیاں ماریں تھیں تو تین چار آدمی اکٹھے ہو گئے تھے۔ ان ایام میں میں بغیر پردہ کے باہر پھرا کرتی تھی...... اس کے بعد میں سودا لینے بازار گئی۔” (مسماۃ سلمیٰ کی حلفیہ شہادت جو اس نے بتاریخ ۱۰ جولائی ۱۹۳۵ء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر کی عدالت میں ادا کی۔ بمقدمہ ازالہ حیثیت عرفی زیر دفعہ ۵۰۰ احسان علی بنام محمد اسمعیل، نمبری ۸۶/۲ مرجوعہ، ۱۷ جولائی منفصلہ ۲۱ ستمبر ۱۹۳۵ء۔

(قادیانی مذہب، مؤلفہ پروفیسر محمد الیاس برنی۔ طبع پنجم ص ۸۲۲)

مرزا محمود کی خصوصی دلچسپی

”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا، قیام انگلستان کے دوران مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چودھری ظفر اللہ صاحب سے، جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آسکے، وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے اوپیرا میں لے گئے۔ جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا، چودھری صاحب نے بتایا یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں، میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو

صفحہ 477

ایسا معلوم ہوا کہ سیکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چودھری صاحب سے کہا کہ یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے ننگی معلوم ہوتی ہیں۔ (اور اسی منظر کو دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ ناقل)

(مرزا محمود کا ارشاد مندرجہ الفضل ۲۸ جنوری ۱۹۴۴ء)

مرزا محمود پردے کے حکم سے مستثنیٰ

”سوال ہفتم: حضرت (مرزا قادیانی) کے صاحب زادے (مرزا محمود وغیرہ) غیر عورتوں میں بلا تکلف، اندر کیوں جاتے ہیں، کیا ان سے پردہ درست نہیں؟

(سائل محمد حسین قادیانی)

جواب: ضرورت حجاب صرف احتمال زنا کے لئے ہے، جہاں ان کے وقوع کا احتمال کم ہو ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ اسی واسطے انبیاء اتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریق اولیٰ مستثنیٰ ہیں۔ پس حضرت کے صاحب زادے اللہ کے فضل سے متقی ہیں ان سے اگر حجاب نہ کریں تو اعتراض کی بات نہیں... حکیم فضل دین از قادیاں۔“

(اخبار الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۳ ص ۱۳ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷ء)

کبھی کبھی اور ہمیشہ

کسی لاہوری مرزائی کا مرزا محمود نے جمعہ کے خطبہ میں ایک خط پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ : ”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) ولی اللہ تھے اور ولی اللہ

صفحہ 478

کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔“

پھر لکھا ہے: ”ہمیں حضرت مسیح موعود پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب) پر ہے، کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔“

اس خط کو پڑھ کر سنانے کے بعد مرزا محمود صاحب اس پر حسب ذیل تبصرہ کرتے ہیں۔

”اس اعتراض سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شخص پیغامی طبع ہے (یعنی قادیانیوں کی لاہوری پارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ ناقل) اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ اعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے مگر پیغامی (لاہوری) اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ سمجھتے ہیں۔“

(خطبہ مرزا محمود صاحب مندرجہ اخبار الفضل ۳۱ اگست ۱۹۳۸ء)

مرید کا شکوہ

(۱۹۲۷ء میں سکینہ و زاہد کی عصمت پر مرزا محمود نے ہاتھ ڈالا ان کے قصے گلی کوچوں میں پھیلے، اخباروں کی زینت بنے، عدالتوں میں گونجے، مگر مرزا محمود کے غالی مرید شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو اپنے پیر مرزا محمود کے تقدس، کا یقین تب آیا جب ان ترکتازیوں کا سلسلہ شیخ صاحب کے گھر تک آپہنچا، مرید کی عزت و ناموس پر پیر کا حملہ اگرچہ مرید کے لئے ناقابل برداشت تھا، تاہم مرید نے پیر کا راز فاش کرنے کے بجائے نجی خطوط کے ذریعہ اصلاح احوال کی ناکام کوشش کی، پیر کے نام مرید کا پہلا خط خاصا طویل ہے اس کے چند فقرے باضافہ عنوانات درج ذیل ہیں۔ پورا خط ”کمالات محمودیہ“ میں اور جناب شفیق مرزا کی کتاب ”شہر سدوم“ میں پڑھ لیا جائے۔ ناقل)

صفحہ 479

دو ٹوک بات

”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

سیدنا۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، میں ذیل کے چند الفاظ محض آپ کی خیر خواہی اور سلسلہ کی خیر خواہی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھ رہا ہوں......، مدت سے میں یہ چاہتا تھا کہ آپ سے دو ٹوک بات کروں، مگر جن باتوں کا درمیان میں ذکر آنا لازمی تھا وہ جیسا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ایسی تھیں کہ ان کے ذکر سے آپ کو سخت شرمندگی لاحق ہونی لازمی تھی اور جن کے نتیجہ میں آپ میرے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ سکتے تھے۔ (یہ شیخ صاحب کا خیال خام تھا۔ ورنہ مرزا محمود صاحب ایسی شرم ورم کے قائل نہیں تھے۔ ناقل۔)

تقدس کا پردہ

”اگر میں بھی آپ کے خلاف اس اشتعال انگیز طریق سے متاثر ہو کر جلد بازی سے کام لیتا اور ابتدا میں ہی اپنا مبنی بر حقیقت بیان شائع کر دیتا اور جو تقدس کا بناوٹی پردہ آپ نے اپنے اوپر ڈالا ہوا ہے اس کو اٹھا کر آپ کی اصل شکل دنیا کے سامنے ظاہر کر دیتا تو آج نہ معلوم آپ کا کیا حشر ہوتا۔“ (حشر یہ ہونا کہ بیان شائع کرنے والے کو پٹوا کر قادیان بدر کر دیا جاتا، جب کہ بعد میں خود شیخ صاحب کے ساتھ یہی ہوا۔ ناقل “)

صفحہ 480

تعجب کی بات

”تعجب ہے مجھے ان دیرینہ تعلقات کا اس قدر پاس ہو کہ آپ کے گندے افعال کا ذکر آپ کے سامنے کرنے سے بھی شرم محسوس کروں، اور محض اس خیال سے کہ میرے سامنے آنے سے آپ کو شرم محسوس ہوگی آپ کے سامنے آنے کی حتی الوسع اجتناب کرتا رہا ہوں، لیکن ان تعلقات کا آپ کو اتنا بھی پاس نہ ہوا جتنا کہ ایک ”معمولی قماش کے بدچلن انسان“ کو ہوتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بدچلن سے بدچلن آدمی بھی اپنے دوستوں کی اولاد پر ہاتھ ڈالنے سے احتراز کرتے ہیں، لیکن افسوس آپ نے اتنا بھی نہ کیا، اور اپنے ان مخلص دوستوں کی اولاد پر ہاتھ صاف کرنا چاہا، جو آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کے لئے جانیں تک قربان کر دینا بھی معمولی قربانی سمجھتے ہیں۔ (جان کے ساتھ عزت و ناموس اور ضمیر کی قربانی بھی سہی۔ وہ اخلاص ہی کیا ہوا جو ایسی معمولی قربانیوں کا بھی متحمل نہ ہو۔ ناقل“)

ناجائز فائدہ

”میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک طرف تو آپ نے اپنی عیاشی کو انتہا تک پہنچایا ہوا ہے، جس لڑکی کو چاہا اپنی عجیب و غریب عیاری سے بلایا اور اس کی عصمت دری کر دی، اور پھر ایک طرف اس کی طبعی شرم حیا سے ”ناجائز فائدہ“ اٹھا لیا، اور دوسری طرف اس کو دھمکی دے دی کہ ”اگر تو نے کسی کو بتایا تو تیری بات کون مانے گا، تجھے ہی لوگ پاگل اور منافق کہیں گے، میرے متعلق تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔“ اور اگر کسی نے جرأت سے اظہار کر دیا تو مختلف بہانوں سے ان کے خاوندوں یا والدین کو ٹال دیا۔“

صفحہ 481

جال اور ماتم

”لڑکوں اور لڑکیوں کو پھنسانے کے لئے جو جال آپ نے خبیث مردوں اور خبیث عورتوں کا بچھایا ہوا ہے۔ اس کا راز جب فاش کیا جائے گا، تو لوگوں کو پتہ لگے گا کہ کس طرح ان کے گھروں پر ڈاکہ پڑتا ہے۔ مخلص جو آپ کے ساتھ اور آپ کے خاندان کے ساتھ تعلق پیدا کرنا فخر سمجھتے ہیں ان کے گھروں میں سب سے زیادہ ماتم پڑے گا۔ (بشرطیکہ عقل اور حس بھی خلیفہ پر ”قربان“ نہ ہو چکی ہو۔ ناقل)“

انتقام، انتقام، انتقام

”دوسری طرف جن لوگوں کو آپ کی غلط کاریوں کا علم ہو جاتا ہے یا وہ کسی کے سامنے اظہار کر بیٹھتے ہیں اور آپ کو اس کا علم ہو جائے تو پھر آپ اسے کچلنے کے درپے ہو جاتے ہیں، اور اس کچلنے میں رحم آپ کے نزدیک تک نہیں پھٹکتا، اور پتھر سے بھی زیادہ سخت دل کے ساتھ اس پر گرتے ہیں اور آپ کی سزا دہی میں اصلاحی پہلو بالکل مفقود اور انتقامی پہلو نمایاں ہوتا ہے چنانچہ مثال کے طور پر سکینہ بیگم زوجہ مرزا عبدالحق صاحب کو ہی لے لو (جس نے خلیفہ کی اخلاقی دراز دستی کی شکایت ۱۹۳۷ء میں کی تھی۔ ناقل) کس قدر ظلم اس پر آپ کی طرف سے کیا جاتا ہے، جو کچھ اس نے کہا تھا اس کی سچائی تو اب بالکل ثابت ہو چکی ہے، لیکن وہ بیچاری باوجود سچی ہونے کے قیدیوں سے بدتر زندگی بسر کر رہی ہے، اس کی صحت تباہ ہو چکی ہے۔“

مرزا محمود کی قادیانی چال

”آپ نے یہ چال چلی ہوئی ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیا

صفحہ 482

جائے ، اور ”منافقوں سے بچو منافقوں سے بچو“ کے شور سے لوگوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے اور ہر ایک کو دوسرے پر بدظن کر دیا ہوا ہے۔ اب ہر شخص ڈرتا ہے کہ میرا مخاطب کہیں میری رپورٹ ہی نہ کر دے ، اور پھر فوراً مجھ پر منافق کا فتویٰ لگ کر جماعت سے اخراج کا اعلان کر دیا جائے ، اور یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا ہوا ہے کہ آپ کی سیاہ کاریوں کا لوگوں کو علم نہ ہوسکے ، لیکن ............“

ممکن ہے کہ :

” آپ کی بدچلنی کے متعلق جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کے متعلق ایک بات میرے دل میں کھٹکتی رہتی ہے اس کا ذکر کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ ممکن ہے کہ جس چیز کو ہم زنا سمجھتے ہیں ، آپ اسے زنا ہی نہ سمجھتے ہوں ، پس اگر ایسا ہے تو مہربانی فرما کر مجھے سمجھادیں ، اگر میری سمجھ میں آگئی تو میں اپنے اعتراضات واپس لے لوں گا ۔“

بعض دفعہ نماز

” میں اس جگہ اس بات کا اضافہ کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا ، کیوں کہ مجھے مختلف ذرائع سے یہ علم ہوچکا ہے کہ آپ ”جنبی“ ہونے کی حالت میں ہی بعض دفعہ نماز پڑھانے آجاتے ہیں۔“

(مکالمات محمودیہ ص ۹۸ تا ۱۱۶)

صفحہ 483

عدالت میں گونج

۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن مصری کو مرزا محمود سے اخلاقی شکایتیں پیدا ہوئیں، نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ صاحب جماعت سے الگ ہوگئے، یا کر دیئے گئے تو مرزا محمود سے محاذ آرائی ہوئی بات اشتہاروں اخباروں سے آگے عدالتوں تک پہنچی۔ ذیل میں ان کا حلفیہ عدالتی بیان درج ہے، جسے عدالت عالیہ لاہور نے اپنے ۲۳ ستمبر ۱۹۳۸ء کے فیصلہ میں شامل کیا۔

”موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے، اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے، اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“

(مقدمہ قادیانی: بحق حق ص ۴۱)

ماہرانہ شہادت

”بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں) عیاش ہے، اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھی عیاشی میں پڑ جائیں وہ وہ ہو جاتے ہیں جنہیں انگریزی میں (WRECK) کہتے ہیں۔ ایسے انسان کا نہ دماغ کام کرتا ہے نہ عقل درست رہتی ہے نہ حرکات صحیح طور پر کرتا ہے۔ غرض سب قویٰ اس کے برباد ہو جاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک اس پر نظر ڈالنے سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ عیاشی میں پڑ کر اپنے آپ کو برباد کر چکا ہے

صفحہ 484

اسی لئے کہتے ہیں ”الزنا يخرب البنا“ کہ زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے۔“

(مضمون ڈاکٹر میر محمد اسمعیل مندرجہ الفضل ۱۰ جولائی ۱۹۳۷ء)

شہادت کی تصدیق

”ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں دماغی حالت اپنے معمول پر آجائے گی، لیکن اب تک جو ترقی ہوئی ہے اس کی رفتار اتنی تیز نہیں............ آدمیوں کے سہارے سے دو ایک قدم چل سکتا ہوں، مگر وہ بھی مشکل سے۔ دماغ اور زبان کی کیفیت ایسی ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے بھی خطبہ نہیں دے سکتا اور ڈاکٹروں نے دماغی کام سے قطعی طور پر منع کر دیا ہے۔“

(کمالات محمودیہ ص ۵۷)

PDF 485

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

مرکزی دفتر ملتان

قال اللہ تعالیٰ

وقد خاب من افتری

اور نامراد ہوا جس نے خدا پر جھوٹ باندھا (قرآن حکیم)

قادیانی زلزلہ

اگر یہ زلزلہ میری زندگی میں نہ آیا تو

”میں خُدا کی طرف سے نہیں“

(مرزا غُلام احمد قادیانی کا اقرار)

مولانا مُحَمَّد یُوسف لُدھیانوی

صفحہ 486

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اپریل ۱۹۰۵ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اس مضمون کے پے در پے اشتہار دیئے کہ عنقریب قیامت کا زلزلہ آنے والا ہے، ان کے اشتہارات کا جو مجموعہ ربوہ سے شائع ہوا ہے، اس میں اس سلسلے کا پہلا اشتہار ۸ اپریل ۱۹۰۵ء کا ”الانذار“ کے عنوان سے ہے اس میں لکھتے ہیں :

”غور سے پڑھو ! یہ خدا تعالیٰ کی وحی ہے“

”آج رات تین بجے کے قریب خدائے تعالیٰ کی پاک وحی مجھ پر نازل ہوئی جو ذیل میں لکھی جاتی ہے : تازہ نشان۔ تازہ نشان کا دھکہ زلزلۃ الساعۃ قوا انفسکم ۔ ان اللہ مع الابرار ۔ جاء الحق و زھق الباطل۔ ترجمہ مع شرح :یعنی خدا ایک تازہ نشان دکھائے گا۔ مخلوق کو اس نشان کا ایک دھکہ لگے گا۔ وہ قیامت کا زلزلہ ہوگا۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ۵۲۲ ج ۳)

۱۸ اپریل کو ”النداء من وحی السماء“ نامی اشتہار میں لکھتے ہیں :

”۹ اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہو شربا ہوگا، چونکہ دو مرتبہ مکرر طور پر اس علیم مطلق نے اس آئندہ واقعہ پر مجھے مطلع فرمایا ہے، اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ عظیم الشان حادثہ جو محشر کے حادثہ کو یاد دلا دے گا دور نہیں ہے“

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم (مابعد) ص ۵۲۶

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا ملہم مرزا قادیانی کو بار بار زلزلہ قیامت کی خبر دے رہا تھا، اور مرزا قادیانی اشتہار پر اشتہار جاری کر رہے تھے، چنانچہ ۲۹ اپریل ۱۹۰۵ء کو آپ نے ”زلزلہ کی خبر بار سوم“ کا پھر اشتہار دیا، اس میں لکھتے ہیں :

صفحہ 487

”آج ۲۹ اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدائے تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے سو میں محض ہمدردی مخلوق کے لئے عام طور پر تمام دنیا کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات آسمان پر قرار پا چکی ہے کہ ایک شدید آفت سخت تباہی ڈالنے والی دنیا پر آوے گی، جس کا نام خدا تعالیٰ نے بار بار زلزلہ رکھا ہے“۔

(مجموعہ اشتہارات ص ۵۲۵۔ ج ۳)

۱۱ مئی ۱۹۰۵ء کو مرزا قادیانی نے ”ضروری گزارش لائق توجہ گورنمنٹ“ کے عنوان سے ایک اور اشتہار جاری کیا، جس کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ زلزلہ کے پے در پے اشتہار لوگوں میں سنسنی پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ محض ہمدردی مخلوق کی خاطر شائع کئے گئے ہیں، مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

”جس آنے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا ان سے پہلے آپ ڈرا، اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے ہیں، میں واپس قادیان نہیں گیا، کیوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ وقت کب آنے والا ہے، میں نے اپنے مریدوں کو بھی اپنے اشتہارات میں بار بار یہی نصیحت کی کہ جس کی مقدرت ہو اسے ضروری ہے کہ کچھ مدت خیموں میں باہر جنگل میں رہے، اور جو لوگ بے مقدرت ہیں وہ دعا کرتے رہیں کہ خدا اس بلا سے ہمیں بچاوے، پس میری نیک نیتی پر اس سے زیادہ کون گواہ ہو سکتا ہے کہ اسی خیال سے میں مع اہل و عیال اور اپنی جماعت کے جنگل میں پڑا ہوں، اور جنگل کی گرمی کو برداشت کر رہا ہوں، حالانکہ قادیاں طاعون سے بالکل پاک ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ۵۴۰ ج ۳)

مرزا قادیانی جنگل کی زندگی سے اکتا گئے تو نہ صرف چپکے چپکے واپس قادیاں چلے آئے بلکہ کچھ عرصہ کے لئے زلزلہ خیز اشتہارات کا سلسلہ بھی بند کر دیا، اور خدا کی مخلوق نے اطمینان کا سانس لیا۔

صفحہ 488

۲۸ فروری ۱۹۰۶ء کو کوہستانی علاقوں میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس کئے گئے تو مرزا قادیانی کے ملہم کی رگ زلزلہ پھر پھڑکی، وہ مرزا قادیانی کو از سر نو ”زلزلہ قیامت“ کی پیش گوئی کے لئے انگیخت کرنے لگا، اور مرزا قادیانی نے اشتہار بازی کا سلسلہ پھر شروع کر دیا۔ ۲ مارچ ۱۹۰۶ء کے اشتہار میں لکھتے ہیں :

”آج یکم مارچ ۱۹۰۶ء کو صبح کے وقت پھر خدا نے یہ وحی میرے پر نازل کی، جس کے یہ الفاظ ہیں : ”زلزلہ آنے کو ہے۔“ اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے وہ ابھی نہیں آیا، بلکہ آنے کو ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ص ۵۴۸ ج ۳)

۹ مارچ ۱۹۰۶ء کو ”اشتہار واجب الاظہار“ میں ............ اور ۳۱ مارچ ۱۹۰۶ء کو ایک نظم میں مرزا قادیانی نے پھر زلزلہ کی آمد آمد کا اعلان کیا۔

مرزا قادیانی کے ان پے در پے الہامات اور اشتہارات میں قطعی یقین دلایا گیا کہ دنیا میں ایک سخت ترین زلزلہ آئے گا، لیکن، اس پیش گوئی میں دو باتیں تشریح طلب تھیں، ایک یہ کہ زلزلہ سے کیا مراد ہے؟ دوسرے یہ کہ اس زلزلہ کی آخری میعاد کیا ہے؟ یہ سوال خود مرزا قادیانی کے سامنے پیش کیا گیا، اور ہم ممنون ہیں کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں اس کا شافی جواب بھی مرحمت فرمایا، سوال یہ تھا کہ :

”جناب مقدس مرزا قادیانی نے دوبارہ زلزلہ آنے کی خبر دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب ہوگا۔“

(روحانی خزائن ص ۲۵۲۔ ج ۲۱۔ ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۹۱ جلد ۵)

اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے جو کچھ تحریر فرمایا اس کے چند فقرے حسب ذیل ہیں :

کوئی معمولی پیش گوئی نہیں، اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔“

صفحہ 489

(ضمیمہ براہین پنجم ص ۹۲) خزائن ص ۲۵۳ ج ۲۱) .

ب: ........... ”مجھے خدا تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ آفت جس کا نام اس نے زلزلہ رکھا ہے نمونہ قیامت ہوگا، اور پہلے سے بڑھ کر اس کا ظہور ہو گا اس میں شک نہیں کہ اس آئندہ کی پیش گوئی میں بھی پہلی پیش گوئی کی طرح بار بار زلزلہ کا لفظ ہی آیا ہے، اور کوئی لفظ نہیں آیا، اور ظاہری معنوں کا بہ نسبت تاویلی معنوں کے زیادہ حق ہے۔“

(ضمیمہ براہین پنجم ص ۹۳، خزائن ص ۲۵۳ ج ۲۱)

ج: ........... ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ زلزلہ تیری ہی زندگی میں آئے گا اور اس زلزلہ کے آنے سے تیرے لئے فتح نمایاں ہوگی، اور ایک مخلوق کثیر تیری جماعت میں داخل ہو جائے گی۔ “

(ضمیمہ براہین پنجم ص ۹۳ خزائن ص ۲۵۴ ج ۲۱

د: ........... ”اب ذرا کان کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیش گوئی ہے اس کو ایسا خیال کرنا کہ اس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی۔ یہ خیال سراسر غلط ہے کہ جو محض قلت تدبر اور کثرت تعصب اور جلد بازی سے پیدا ہوا ہے، کیوں کہ بار بار وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیش گوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئے گی، اور اگر وہ صرف معمولی بات ہو جس کی نظیریں آگے پیچھے صدہا موجود ہوں اور کوئی ایسا خارق عادت امر نہ ہو جو قیامت کے آثار ظاہر کرے تو پھر میں خود اقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیش گوئی مت سمجھو اس کو بقول اپنے تمسخر ہی سمجھ لو۔

”اب میری عمر ستر ۷۰ برس کے قریب ہے اور تیس برس کی مدت گزر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس ہوگی، اور یا کہ پانچ چھ سال زیادہ، یا پانچ چھ سال کم۔ پس اس صورت میں اگر خدا تعالیٰ نے اس آفت شدیدہ کے ظہور میں بہت ہی تاخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال ہیں، اس

صفحہ 490

سے زیادہ نہیں، کیوں کہ ضرور ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آجائے۔ “

(ضمیمہ براہین پنجم ص ۹۷ ، خزائن ص ۲۵۸ ج ۲۱)

اکثر یہی ہے کہ وہ زلزلہ ہے، اور پہلا زلزلہ اس پر شہادت بھی دیتا ہے، اور قرآن شریف کی یہ آیت بھی مؤید ہے کہ یوم ترجف الراجفة تتبعھا الرادفة ۔ “

(ضمیمہ براہین پنجم ص ۹۹ خزائن ص ۲۶۱ ج ۲۱)

مرزا قادیانی کی ان تصریحات سے بات صاف ہوگئی کہ :

بقول مرزا قادیانی کے اس کی مؤید ہے۔

دوسرے ملک کا زلزلہ اس پیش گوئی کا مصداق نہیں ہو سکتا۔

کرتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں بلکہ مفتری اور کذاب ہیں ............. بہت خوب

نتیجہ

اب ناظرین بڑی بے چینی سے منتظر ہوں گے کہ مرزا قادیانی کی اس عظیم متحد یانہ پیش گوئی کا نتیجہ کیا نکلا؟ آہ ! اس کا جواب بہت ہی مایوس کن ہے، سنئے ! براہین احمدیہ حصہ پنجم مرزا قادیانی کی آخری عمر کی تصنیف ہے، جو ان کی وفات کے پونے پانچ مہینے بعد شائع ہوئی۔

مرزا قادیانی کی تاریخ وفات ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء براہین پنجم کی تاریخ اشاعت ۱۵ اکتوبر ۱۹۰۸ء

صفحہ 491

پیش گوئی کا نتیجہ ظاہر ہے کہ جس دن کتاب چھپ کر لوگوں کے ہاتھ میں پہنچی، اور انہوں نے اس میں مرزا قادیانی کی یہ تحریر پڑھی کہ : آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے اگر اس کا ظہور میری زندگی میں نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ ” اس دن مرزا قادیانی کو قبر میں پہنچے ہوئے پونے پانچ مہینے گزر چکے تھے، ”نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری۔ ” نہ مرزا قادیانی زندہ ہوں، نہ ان کی زندگی میں زلزلہ آئے، نہ پیش گوئی پوری ہو۔ مرزائی امت میں بڑے بڑے لوگ موجود ہیں جو اپنی لفاظی سے دن کو رات اور رات کو دن بنا سکتے ہیں۔ مگر کیا کسی بڑے چھوٹے مرزائی کے بس میں ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو صحیح ثابت کر سکے؟ تمام مرزائی مل کر بھی اس کو صحیح ثابت نہیں کر سکتے۔ کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے کہ یہ زلزلہ قیامت براہین احمدیہ پنجم کے بعد مرزا قادیانی کی زندگی میں کب آیا؟ اگر نہیں بتا سکتے اور قیامت تک نہیں بتا سکتے تو کیا مرزائی امت میں کوئی صاحب انصاف و بصیرت ہے جو مرزا قادیانی کے اس قول کو سچا تسلیم کرے کہ :

” آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے اگر میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔ “

(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص ۹۲، خزائن ص ۲۵۳ ج ۲۱)

ایک مرد مومن کی پیش گوئی

مرزا غلام احمد قادیانی کا انجام آپ نے دیکھ لیا اب اس کے مقابلہ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک مرد قلندر کی پیش گوئی بھی سن لیجئے۔ جناب ملا محمد بخش حنفی سیکریٹری انجمن حامی اسلام لاہور نے پیش گوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی کی زلزلہ کے بارے میں پیش گوئی پوری نہیں ہوگی، اور مرزا اس پیش گوئی میں بھی ذلیل و رسوا ہو گا۔ لطیفہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ان کی پیش گوئی اپنے ایک اشتہار میں نقل کی تھی، جو

صفحہ 492

مرزا قادیانی کے مجموعہ اشتہارات میں اب بھی موجود ہے۔ ملا صاحب لکھتے ہیں :

”میں آج ۶ مئی ۱۹۰۵ء کو اس امر کا بڑے زور اور دعویٰ سے اعلان کرتا ہوں اور تمام لوگوں کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ خوفزدہ اور سہمے ہوئے دلوں کو اطمینان اور تسلی دلاتا ہوں قادیانی نے ۵۔ ۸۔ ۲۱ اور ۲۹ اپریل ۱۹۰۵ء کے اشتہاروں اور اخباروں میں جو لکھا ہے کہ ایک سخت زلزلہ آئے گا جو ایسا شدید اور خوفناک ہو گا کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا۔ کرشن قادیانی زلزلہ کی آمد کی تاریخ یا وقت نہیں بتلاتا، مگر اس بات پر زور دیتا ہے کہ زلزلہ ضرور آئے گا۔ اس لئے ان بھولے بھالے سادہ لوح آدمیوں کو، جو قادیانی کی طرف سے لفاظیوں اور اخباری رنگ آمیزیوں سے خوفزدہ ہو رہے ہیں، خوشخبری سناتا ہوں کہ خدا کے فضل و کرم سے شہر لاہور وغیرہ میں یہ قادیانی زلزلہ ہر گز نہیں آئے گا ! نہیں آئے گا ! اور نہیں آئے گا !! اور آپ ہر طرح اطمینان اور تسلی رکھیں۔

مجھے یہ خوشخبری نور الٰہی اور کشف کے ذریعہ سے دی گئی ہے، جو انشاء اللہ بالکل ٹھیک ہوگی، میں مکرر سہ کرر کہتا ہوں اور اس نور الٰہی سے، جو مجھے بذریعہ کشف دکھلایا گیا ہے، مستفیض ہو کر اور اس کے اعلان کی اجازت پا کر ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ قادیانی ہمیشہ کی طرح اس زلزلہ کی پیش گوئی میں بھی ذلیل اور رسوا ہو گا۔ اور خداوند تعالیٰ حضرت خاتم النبیین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے اپنی گنہ گار مخلوق کو اپنے دامن عاطفت میں رکھ کر اس نارسیدہ آفت سے بچائے گا اور کسی فردِ بشر کا بال بیکا نہ ہوگا۔“

”ملا بخش حنفی سیکریٹری انجمن حامی اسلام، لاہور“

(مجموعہ اشتہارات ص ۵۳۱ ۔ ج ۳ مطبوعہ ربوہ)

داد انصاف دیجئے کہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ امتی

صفحہ 493

کی پیش گوئی کیسی سچی نکلی، اور آج اس پیش گوئی پر ستر ۷۰ سال گزرے ہیں مگر اس کی سچائی آج بھی آفتاب کی طرح چمک رہی ہے۔ کیا مرزائی مرزا غلام احمد کو چھوڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے؟

واللہ الموفق لکل خیر وسعادة۔

صفحہ 28
PDF 495

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

مرزا قادیانی

مراق سے نبوت

تک

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 496

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ان کی امت میں ایک چیستان اور ایک معما بنی ہوئی ہے، نبوت مرزا کے بارے میں مرزائی امت کے مختلف فرقے مختلف عقیدے رکھتے ہیں۔ اور ہر فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال سے اپنے دعویٰ پر سند لاتا ہے چنانچہ :

غیر حقیقی نبی تھے۔

تھے۔

کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔

وسلم اور دیگر صاحب شریعت رسولوں کی وحی کے ہیں، لہٰذا اگر موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صاحب شریعت رسول ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی بھی یہی شان رکھتے ہیں۔

ہونے کا کھل کر اعلان کیا ہے۔

کو چاہیں رد کر دیں۔ اور یہ صاحب شریعت ہی کا منصب ہے۔

کیا۔

صفحہ 497

کے رسائل میں کیا گیا ہے۔

صرف رسول ہیں بلکہ ان کی پیروی سے نبوت ملتی ہے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ مرزا قادیانی نے کثرت مکالمہ و مخاطبہ کا نام نبوت رکھا تھا۔ اور یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جس میں یہ سلسلہ جاری و ساری نہ ہو۔ اب اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد نبوت کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو ان کا دین بھی لعنتی بن جاتا ہے۔ اس دلیل سے بہت سے ”قادیانی نبی“ مبعوث ہوئے، یہاں تک کہ ”قادیانی انبیاء“ کی بہتات سے مرزا محمود احمد بوکھلا اٹھے اور خطبہ میں فرمایا :۔

”دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعی نبوت کھڑے ہوگئے ہیں۔ میں ان میں سے سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ نہیں بولتے، واقعہ میں انہیں الہام ہوئے، اور کوئی تعجب کی بات نہیں، اب بھی ہوتے ہوں، مگر نقص یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے (یہی غلطی مرزا غلام احمد نے تو نہیں کھائی؟ ناقل) ان میں سے بعض سے مجھے ذاتی واقفیت ہے، اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان میں اخلاص پایا جاتا تھا، خشیت اللہ پائی جاتی تھی، آگے خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ خیال کہاں تک درست ہے، مگر ابتداء میں ان کی حالت مخلصانہ تھی ......... ان کے الہاموں کا ایک حصہ خدائی الہاموں کا تھا مگر نقص یہ ہوا کہ انہوں نے الہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا اور ٹھوکر کھا گئے (غالباً یہی ٹھوکر مرزا غلام احمد کو بھی لگی۔ ناقل) ۔ (الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۲۸ء)

مسجود ہیں اور قادیان بیت اللہ شریف ہے، صاحب زادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں :۔

”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح

صفحہ 498

موعود نے پسر موعود کی پیشین گوئی شائع فرمائی (جو بدقسمتی سے پوری نہ ہو سکی۔ ناقل) تو آپ کی زندگی ہی میں ایک شخص نور محمد نامی، جو پٹیالہ کی ریاست میں ”کھیرو“ گاؤں کا رہنے والا تھا، پسر موعود ہونے کا مدعی بن بیٹھا اور بعض جاہل طبقہ کے لوگ اس نے اپنے مرید کر لئے۔ یہ لوگ قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور ایک دفعہ ان کا ایک وفد قادیان بھی آیا تھا۔ انہوں نے حضرت صاحب کو سجدہ کیا۔ مگر حضرت صاحب نے سختی سے منع فرمایا وہ لوگ چند روز رہ کر واپس چلے گئے اور پھر نہیں دیکھے گئے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے مجانین اور غالی لوگوں کا وجود ہر قوم میں ملتا ہے۔“ (سیرۃ المہدی صفحہ ۲۳۲ ج ۳)

سیرۃ المہدی کے مولف نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ان پرستاروں پر مجنون اور غالی ہونے کا فتویٰ لگایا ہے حالاں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات کی روشنی میں ان کا عقیدہ بالکل صحیح تھا۔ دیکھئے! مرزا غلام احمد قادیانی نے ”بروز عیسیٰ“ ہونے کا دعویٰ کیا اور تمام قادیانیوں نے ان کو سچ مچ ”عیسیٰ“ مان لیا، پھر مرزا غلام احمد قادیانی نے ”بروز محمد“ ہونے کا دعویٰ کیا اور قادیانی دانشوروں نے ان کو سچ مچ ”عین محمد“ مان لیا، ٹھیک اسی اصول پر مرزا قادیانی نے ”بروز خدا“ ہونے کا دعویٰ کیا اب اگر ان کو کچھ لوگ سچ مچ ”خدا“ مان لیں تو ان کو مجنون اور غالی کیوں کہا جائے؟

جب یہ اصول تمام قادیانی امت کو مسلم ہے کہ ”بروز“ اپنے ”اصل“ ہی کا حکم رکھتا ہے، اسی ”قادیانی اجماع“ کی بنا پر مرزا غلام احمد قادیانی کو ”مسیح موعود“ اور ”محمد ثانی“ تسلیم کیا گیا، کیوں کہ وہ ”بروز محمد“ ہونے کے مدعی تھے تو مرزا غلام احمد قادیانی کو ”بروز خدا“ کے مدعی ہونے کی وجہ سے خدا کیوں نہ مانا جائے؟ آخر یہ کیا منطق ہے کہ بروزی نکتہ کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کو ”عیسیٰ“ اور ”محمد“ ماننے والے تو عقلمند اور ہوشیار کہلائیں اور ”بروز خدا“ ماننے والے مسکینوں پر مجنون اور غالی ہونے کا فتویٰ صادر کر دیا جائے؟

شاید کسی کو وسوسہ ہو کہ حضرت قادیانی نے ان کو سختی سے منع فرما دیا تھا۔ اس

صفحہ 499

لئے ان کا موقف غلط ہے۔ قادیانی اصول کے مطابق اس کا جواب بہت آسان ہے، وہ یہ کہ اس وقت تک حضرت قادیانی کو یہ سمجھ نہیں آئی تھی کہ الہامات میں ان کو ”خدائی کا منصب“ عطا کیا گیا ہے۔ ٹھیک جس طرح کہ مرزا محمود قادیانی کے دعوے کے مطابق حضرت قادیانی ۱۹۰۱ء تک یہ نہیں سمجھ سکے تھے کہ ان کو ”منصب نبوت“ عطا کیا گیا ہے۔ اور یہ تاویل بھی ممکن ہے کہ حضرت صاحب نے ”فتنہ کے خوف“ سے انہیں منع فرما دیا ہو۔ ٹھیک جس طرح کہ حضرت صاحب نے ”ایک نبی آیا“ کا الہام فتنہ کے خوف سے مدت تک چھپائے رکھا۔ بہرحال قادیانی اصول کے مطابق ”بندگان بروز خدا“ کو پاگل اور غالی کہنا قادیانی امت کی کور چشمی ہے۔

”الہامات“ پر ایمان لاتے ہیں، مگر امت مسلمہ کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بلند بانگ ـــــ مگر بے مغز ـــــ دعوے ”مراق“ کا کرشمہ تھے کیوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اپنے مراق کا اقرار ہے، چنانچہ فرماتے ہیں :۔

وسلم نے پیشین گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپؐ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی، سو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق۔ اور کثرت بول۔“

(ملفوظات صفحہ ۴۴۵، ج ۸)

پھر بھی آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا کام کرتا رہتا ہوں حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے۔ دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔“

(ملفوظات مرزا صفحہ ۳۷۶ ج ۲)

صفحہ 500

حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے فرمایا کہ حضور ! غلام نبی کو مراق ہے، تو حضور نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے (نعوذ باللہ) اور مجھ کو بھی ہے۔“ (سیرۃ المہدی صفحہ ۳۰۴ ج ۳)

اس اقرار و اعتراف سے قطع نظر مرزا غلام احمد قادیانی میں مراق کی علامات بھی کامل طور پر جمع تھیں، مرزا بشیر احمد ایم اے سیرۃ المہدی میں اپنے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل قادیانی کی ”ماہرانہ شہادت“ نقل کرتے ہیں کہ :۔

حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے، لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں، جو ہسٹریا (اور مراق) کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں، مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا، وغیرہ ذلک (مثلاً بدہضمی، اسہال، بد خوابی، تفکر، استغراق، بد حواسی، نسیان، ہذیان تخیل پسندی، طویل بیانی، اعجاز نمائی، مبالغہ آرائی، دشنام طرازی، فلک پیما دعوے، کشف و کرامات کا اظہار، نبوت و رسالت، فضیلت و برتری کا ادعا، خدائی صفات کا تخیل وغیرہ وغیر۔ اس قسم کی بیسیوں مراقی علامات مرزا صاحب میں پائی جاتی تھیں۔) “

(سیرۃ المہدی ص ۵۵ ج ۲)

مرزا صاحب کو مراق کا عارضہ غالباً مورثی تھا، ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی لکھتے ہیں۔

صفحہ 501

شک یہ مرض منتقل ہوا چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے“

(ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ۱۹۲۶ء ص ۱۱)

ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مرزا صاحب کے مراق کا سبب اعصابی کمزوری تھی، لکھتے ہیں۔ ”واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بد ہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“

(ریویو مئی ۱۹۲۷ء ص ۲۶)

مراق کی علامات میں اہم ترین علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ۔ ”مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔“

(بیاض حکیم نور الدین ص ۲۱۲ ج ۱۰)

یہ تمام علامات مرزا صاحب میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں، انہوں نے ”آریوں کا بادشاہ“ ہونے کا دعویٰ کیا، نبوت سے خدائی تک کے دعوے بڑی شد ومد سے کئے، انبیاء کرام سے برتری کا دم بھرا، دس لاکھ معجزات کا ادعا کیا، مخلوق کو ایمان لانے کی دعوت دی، اور نہ ماننے والوں کو منکر، کافر اور جہنمی قرار دیا، انبیاء علیہم السلام کی تنقیص کی، صحابہ کرام کو نادان اور احمق کہا، اولیائے امت پر سب وشتم کیا، مفسرین کو جاہل کہا، محدثین پر طعن کیا، علمائے امت کو یہودی کہا اور پوری امت کو فیج اعوج اور گمراہ کہا اور فحش کلمات سے ان کی تواضع کی۔ یہ کام کسی مجدد یا ولی کا نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کو مراق کی کرشمہ سازی ہی کہا جا سکتا ہے۔

ادنیٰ فہم کا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی خدا کی گنجائش نہیں، اب اگر ایک شخص سر بازار کھڑا ہو کر یہ تقریر کرے کہ : ”اس میں اللہ تعالیٰ کے ماسوا خدا کی نفی کی گئی ہے اور یہ فقیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اس قدر کامل اور فنا فی اللہ کے مقام میں اس قدر راسخ ہے کہ

صفحہ 502

میرا وجود بعینہ خدا کا وجود ہے، اس لئے میرے دعویٰ خدائی سے لا الہ کی مہر نہیں ٹوٹتی، بلکہ خدا کی چیز خدا ہی کے پاس رہتی ہے، اور یہ کہ میں نے خدائی کمالات، خدا میں گم ہو کر پائے ہیں، میرا وجود درمیان میں نہیں، اس لئے میرے خدا ہونے سے لا الہ الا اللہ کی صداقت میں فرق نہیں آتا۔“

تو فرمائیے کہ اس فصیح البیان مقرر کے بارے میں عقلاء کیا فیصلہ کریں گے؟ کیا لا الہ الا اللہ کی اس عجیب و غریب ”تفسیر“ کو کرشمہ مراق نہیں قرار دیا جائے گا؟

اب دیکھئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ”امت اسلامیہ“ کا قطعی عقیدہ ہے، اور اس کے معنی آج تک یہی سمجھے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متواتر ارشاد انا خاتم النبیین لا نبی بعدی میں بیان فرمائے، یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔ لیکن ایک شخص سر بازار کھڑا ہو کر ”لا نبی بعدی“ کی یہ تقریر کرتا ہے کہ :

”اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا ہم نام پالیا ہو، اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا، کیوں کہ وہ محمدؐ ہے گو ظلی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے، جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ہے پھر بھی سیدنا خاتم النبیین ہی رہا۔ کیوں کہ یہ محمد ثانی اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۵، روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۹)

اور پھر وہ فلسفہ کو اپنی ذات پر چسپاں کرتے ہوئے کہتا ہے۔

”چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں، صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور پر خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی، کیوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمدؐ تک ہی محدود رہی۔“

(ازالہ اوہام ص ۸، خزائن ج ۱۸ ص ۲)

ائن ج ۱۸ ص ۲۱۲ Wait, the last line should be:

(ازالہ اوہام ص ۸، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)

صفحہ 503

اور یہ کہ :

”تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا؟ (ایضاً)

اور یہ کہ :

میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا پس نبوت اور رسالت کے کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔ “

(ازالہ اوہام ص ۱۲، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۶)

بتائیے! اس کی توجیہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ ”سلطان القلم“ غلبہ سودا اور جوش مراق کا شکار ہے۔

مرزائی امت سے ایک سوال

اگر قیامت کے دن قادیانیوں کے مسیح موعود مرزا غلام احمد سے سوال ہو کہ تو نے حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کر کے کیوں لوگوں کو گمراہ کیا۔ اور اس کے جواب میں مرزا صاحب عرض کرے کہ یا اللہ ! یہ سب کچھ میں نے مراق کی وجہ سے کیا تھا اور اپنے مراقی ہونے کا اظہار بھی خود اپنی زبان و قلم سے کر دیا تھا۔ اب ان ”عقلمندوں“ سے پوچھئے کہ انہوں نے ”مراق کے مریض“ کو ”مسیح موعود“ کیوں مان لیا تھا؟ تو قادیانی امت بتائے کہ اس کے پاس اس دلیل کا کیا جواب ہو گا؟

صفحہ 28
صفحہ 505

قال الله تعالیٰ

وَلَا تُصَلِّ عَلٰى اَحَدٍ مِّنْهُمْ

مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ

عَلٰى قَبْرِهِ

ترجمہ : اور ان میں کوئی مر جائے تو اس کے (جنازے)

پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ (دفن کے لئے)

اس کی قبر پر کھڑے ہوئیے۔

قادیانی جنازہ

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 506

مکرم و محترم جناب ......... صاحب — زیدت الطافھم، موضع داتہ ضلع مانسہرہ جو کہ ربوہ ثانی ہے، میں ایک مرزائی مسمی ڈاکٹر محمد سعید کے مرنے پر مسلمانان ”داتہ“ نے ایک مسلمان امام کے زیر امامت اس قادیانی کی نماز جنازہ ادا کی اور اسکے بعد قادیانیوں نے دوبارہ مسمی مذکورہ کی نماز جنازہ پڑھی۔ شرعاً امام مذکور اور مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے ۔ ؟

مسلمان لڑکیاں قادیانیوں کے گھروں میں بیوی کے طور پر رہ رہی ہیں۔ اور مسلمان والدین کے ان قادیانیوں کے ساتھ داماد اور سسرال جیسے تعلقات ہیں۔ کیا شریعت محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی رو سے ان کے ہاں پیدا ہونے والی اولاد حلالی ہوگی یا ولد الحرام کہلائے گی ۔ ؟

عام مسلمانوں کے قادیانیوں کے ساتھ کافروں جیسے تعلقات نہیں، بلکہ مسلمانوں جیسے تعلقات ہیں۔ ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے، پیتے، اور انکی شادیوں اور ماتم میں شرکت کرتے ہیں، اور جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ”السلام علیکم“ کہہ کر ملتے ہیں۔ شادی ماتم میں کھانے دیتے ہیں۔ فاتحہ میں شرکت کرتے ہیں، کیا شریعت محمدیہؐ کی رو سے وہ قابل مواخذہ ہیں یا کہ نہیں اور شرع کی رو سے وہ مسلمان بھی ہیں یا کہ نہیں ؟

منجانب : مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مانسہرہ۔

الجواب

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰی ، اَمَّا بعد

جواب سے پہلے چند امور بطور تمہید ذکر کرتا ہوں :۔

اول : جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرتا ہو اور نصوص شرعیہ کی غلط سلط تاویلیں کر کے اپنے عقائد کفریہ کو اسلام کے نام

صفحہ 507

سے پیش کرتا ہو، اسے، ”زندیق“ کہا جاتا ہے علامہ شامیؒ ”باب المرتد“ میں لکھتے ہیں:

فإن الزنديق يموه كفره ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها في الصورة الصحيحة هذا معنى إبطان الكفر

(الشامي ٤-٢٤٢، الطبع الجديد)

کیونکہ زندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدہ فاسدہ کو رواج دینا چاہتا ہے اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے

(شامی ۲۴۶ ج ۴ طبع جدید)

اور امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مسویٰ شرح عربی موطا میں لکھتے ہیں۔

بيان ذلك أن المخالف للدين الحق إن لم يعترف به ولم يذعن له لا ظاهرا ولا باطنا فهو كافر وإن اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهو المنافق، وإن اعترف به ظاهرا ، لكنه يفسر بعض ما ثبت من الدين ضرورة بخلاف ما فسره الصحابة رضى الله عنهم والتابعون واجتمعت عليه الأمة فهو الزنديق .

شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دین حق کا مخالف ہے اگر وہ دین اسلام کا اقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دین اسلام کو مانتا ہو، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر، تو وہ کافر کہلاتا ہے اور اگر زبان سے دین کا اقرار کرتا ہو لیکن دین کے بعض قطعیات کی ایسی تاویل کرتا ہو جو صحابہؓ و تابعینؒ اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ایسا شخص ”زندیق“ کہلاتا ہے آگے تاویل صحیح اور تاویل باطل کا فرق کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں :-

ثم التأويل، تأويلان، تأويل لا يخالف قاطعا من الكتاب والسنة واتفاق الأمة، وتأويل يصادم ما ثبت بقاطع فذلك الزندقة

صفحہ 508

پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں ایک وہ تاویل جو کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلہ کے خلاف نہ ہو اور دوسری وہ تاویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیل قطعی سے ثابت ہے پس ایسی تاویل ”زندقہ“ ہے۔

آگے زندقانہ تاویلوں کی مثالیں ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :۔

أو قال إن النبى صلى الله عليه وسلم خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام أنه لا يجوز أن يسمى بعده أحد بالنبى وأما معنى النبوة وهو كون الإنسان مبعوثا من الله تعالى إلى الحق مفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء على الخطأ فيما يرى فهو موجود فى الأمة بعده فهو الزنديق

(مسوی ۲-۱۳۰ مطبوعہ رحیمیہ دھلی)

یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا۔ لیکن نبوت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطاء پر قائم رہنے سے معصوم ہونا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی امت میں موجود ہے تو یہ شخص ”زندیق“ ہے۔

(مسوی ج ۲ ص ۱۳۰)

خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو، اسلام کے قطعی و متواتر عقائد کے خلاف قرآن وسنت کی تاویلیں کرتا ہو ایسا شخص ”زندیق“ کہلاتا ہے۔

دوم : یہ کہ زندیق مرتد کے حکم میں ہے بلکہ ایک اعتبار سے زندیق، مرتد سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اگر مرتد توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائق

صفحہ 509

قبول ہے لیکن زندیق کی توبہ کے قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے :

وكذا الكافر بسبب (الزندقة) لا توبة له وجعله فى الفتح ظاهر المذهب لكن فى حظر الخانية الفتوى على أنه

( إذا أخذ ) الساحر أو الزنديق المعروف الداعى ( قبل توبته ) ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل ، ولو أخذ بعدها قبلت ( الشامى ٤-٢٤١ طبع جديد )

اور اسی طرح جو شخص زندقہ کی وجہ سے کافر ہو گیا، اس کی توبہ قابل قبول نہیں اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے لیکن فتاوی قاضی خان میں کتاب الحظر میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادو گر اور زندیق جو معروف اور داعی ہو توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لی تھی تو، ”توبہ قبول کی جائے گی“

(شامی ج ۴ ص ۲۴۲)

البحر الرائق میں ہے :۔

لا تقبل توبة الزنديق فى ظاهر المذهب وهو من لا يتدين بدين (البحر الرائق ص ١٣٦ ج٥ دار المعرفة ، بيروت)

وفى الخانية ، قالوا إن جاء الزنديق قبل أن يؤخذ فأقر أنه زنديق فتاب عن ذلك تقبل توبته وإن أخذ ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل .

٭(البحر الرائق ص ١٣٦ ج ٥)

ظاہر مذہب میں زندیق کی توبہ قابل قبول نہیں اور زندیق وہ شخص ہے جو دین کا قائل نہ ہو ...... اور فتاوی قاضی خان میں ہے کہ اگر زندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اقرار کرے کہ وہ زندیق ہے پس اس سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی تو اس

صفحہ 510

کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔

سوم: قادیانیوں کا زندیق ہونا بالکل واضح ہے۔ کیونکہ ان کے عقائد اسلامی عقائد کے قطعاً خلاف ہیں۔ اور وہ قرآن و سنت کے نصوص میں غلط سلط تاویلیں کر کے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو پکے سچے مسلمان ہیں ان کے سوا باقی پوری امت گمراہ اور کافر و بے ایمان ہے جیسا کہ قادیانیوں کے دوسرے سربراہ آنجہانی مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں کہ :۔

”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“۔

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

مرزائیوں کے چند ملحدانہ عقائد

کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا اس کے برعکس، قادیانی نہ صرف اسلام کے اس قطعی عقیدے کے منکر ہیں، بلکہ نعوذ باللہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے بغیر اسلام کو مردہ تصور کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کا کہنا ہے کہ :۔

”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے کس لئے ان کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں؟ آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے...... ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے“۔

(ملفوظات مرزا جلد ۱۰ ص ۱۲۷ طبع ربوہ)

صفحہ 511

کے بعد بند ہو چکا ہے اور جو شخص آپ کے بعد وحی نبوت کا دعویٰ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے لیکن قادیانی مرزا غلام احمد کی خود تراشیدہ وحی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور اسے قرآن کی طرح مانتے ہیں۔ قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام ”تذکرہ“ ہے قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کی ”وحی“ کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا ہے اور اس کا نام ”تذکرہ“ رکھا ہے یہ گویا قادیانی قرآن ہے۔ (نعوذ باللہ) اور یہ قادیانی وحی کوئی معمولی قسم کا الہام نہیں۔ جو اولیاء اللہ کو ہوتا ہے بلکہ ان کے نزدیک یہ وحی قرآن کریم کے ہم سنگ ہے ملاحظہ فرمائیے :۔

ہی بغیر فرق، ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی“

(ایک غلطی کا ازالہ ۶ طبع شدہ ربوہ)

قرآن کریم پر“

(اربعین ۱۱۲ طبع ربوہ)

طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں“۔

(حقیقۃ الوحی ۲۲۰ طبع شدہ ربوہ)

کفر ہے کیونکہ معجزہ دکھانا نبی کی خصوصیت ہے پس جو شخص معجزہ دکھانے کا دعویٰ کرے۔ وہ مدعی نبوت ہونے کی وجہ سے کافر ہے شرح فقہ اکبر میں علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :۔

صفحہ 512

التحدى فرع دعوى النبوة ودعوى النبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بالإجماع

(شرح فقه اکبر ص ۲۰۲)

معجزہ دکھلانے کا دعویٰ فرع ہے دعویٰ نبوت کی اور نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالاجماع کفر ہے۔ اس کے برعکس قادیانی، مرزا غلام احمد کی وحی کے ساتھ اس کے معجزات پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کو نعوذ باللہ قصے اور کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی صورت میں نبی ماننے کے لئے تیار ہیں۔ جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی نبی مانا جائے ورنہ ان کے نزدیک نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں اور نہ دین اسلام، مرزا غلام احمد لکھتے ہیں :-

”وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقول باتوں پر (یعنی اسلامی شریعت پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ ناقل) انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔...... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کی زیادہ مستحق ہے“۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۳۹)

”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی الہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا ...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہو گا میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ رحمانی۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۸۳)

اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآن کریم پر رسول کریم صلعم پر بھی اسی (مرزا)

صفحہ 513

کے ذریعے ایمان حاصل ہوا۔ ہم قرآن کریم کو خدا کا کلام اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے آپ (مرزا) کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ ہم محمد صلعم کی نبوت پر اس لئے ایمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ (مرزا) کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے نادان ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود (مرزا) کو نبی مانتے ہیں اور کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ قرآن کریم پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے ہوا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر یقین اس (مرزا) کی نبوت سے ہوا ہے“۔

(مرزا محمود کی تقریر الفضل قادیان جلد ۱۳ / نمبر ۳ مورخہ ۱۱ جولائی ۱۹۲۵ء

بحوالہ قادیانی مذہب ص ۳۵۶ طبع پنجم)

مرزا غلام احمد قادیانی کی مندرجہ بالا دونوں عبارتوں سے واضح ہے اگر مرزا قادیانی پر وحی الٰہی کا نزول تسلیم نہ کیا جائے اور مرزا غلام احمد کو نبی نہ مانا جائے تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت بھی ان کے نزدیک نعوذ باللہ باطل ہے اور دین اسلام محض قصوں کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ مرزا قادیانی ایسے اسلام کو لعنتی۔ شیطانی اور قابلِ نفرت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں بلکہ سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو نظرِ عبرت سے دیکھنا چاہئے۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر و الحاد اور زندقہ اور بد دینی ہو سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دینِ اسلام کو اس طرح پیٹ بھر کر گالیاں نکالی جائیں۔

ہیں۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں اپنے الہام کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے (نعوذ باللہ) ۔ چونکہ قادیانی، مرزا غلام احمد کی ”وحی“ پر قطعی ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے وہ مرزا آنجہانی کو ”محمد رسول اللہ“ مانتے ہیں اور جو شخص مرزا کو ”محمد رسول اللہ“ نہ مانے اس کو کافر سمجھتے ہیں۔

علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھایا گیا اور قربِ قیامت میں نازل ہو کر دجال کو قتل کریں

صفحہ 514

گے لیکن مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ ہے اور قرآن و حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی جو خبر دی گئی ہے۔ اس سے مراد، مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔

قادیانیوں کے اس طرح بے شمار زندیقانہ عقائد ہیں جن پر علماء امت نے بہت سی کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔ اس لئے مرزائیوں کا کافر و مرتد اور ملحد و زندیق ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔

چہارم : نماز جنازہ صرف مسلمانوں کی پڑھی جاتی ہے کسی غیر مسلم کا جنازہ جائز نہیں۔ قرآن کریم میں ہے :۔

﴿وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ﴾

(التوبۃ- ٨٤)

اور ان میں کوئی مر جائے تو اس (کے جنازہ) پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ (دفن کے لئے) اس کی قبر پر کھڑے ہوجیئے۔ کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرے ہیں۔

اور تمام فقہاء امت اس پر متفق ہیں کہ جنازہ کے جائز ہونے کے لئے شرط ہے کہ میت مسلمان ہو، غیر مسلم کا جنازہ بالاجماع جائز نہیں نہ اس کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت ہے اور نہ اس کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرنا ہی جائز ہے ان تمہیدات کے بعد اب بالترتیب سوالوں کا جواب لکھا جاتا ہے۔

جواب سوال اول

جن مسلمانوں نے مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھا ہے اگر وہ اس کے عقائد سے نا واقف تھے تو انہوں نے برا کیا اس پر ان کو استغفار کرنا چاہئے کیونکہ مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھ کر انہوں نے ایک نا جائز فعل کا ارتکاب کیا ہے۔

صفحہ 515

اور اگر ان لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ شخص مرزا غلام احمد کو نبی مانتا ہے، اس کی ”وحی“ پر ایمان رکھتا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا منکر ہے اس علم کے باوجود انہوں نے اس کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس کا جنازہ پڑھا تو ان تمام لوگوں کو جو جنازہ میں شریک تھے، اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے کیونکہ ایک مرتد کے عقائد کو اسلام سمجھنا کفر ہے اس لئے ان کا ایمان بھی جاتا رہا اور نکاح بھی باطل ہو گیا۔ ان میں سے کسی نے اگر حج کیا تھا تو اس پر دوبارہ حج کرنا بھی لازم ہے۔

یہاں یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک کسی مسلمان کا جنازہ جائز نہیں، یہاں تک کہ مسلمانوں کے معصوم بچے کا جنازہ بھی قادیانیوں کے نزدیک جائز نہیں چنانچہ قادیانیوں کے خلیفہ دوم مرزا محمود اپنی کتاب ”انوار خلافت“ میں لکھتے ہیں:-

ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی (یعنی مسلمان) تو حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔؟ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب بچے کا قرار دیتی ہے پس غیر احمدی کا بچہ غیر احمدی ہوا اس لئے اس کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے پھر میں کہتا ہوں کہ بچہ گنہگار نہیں ہوتا اس کو جنازے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے اس کے پس ماندگان کے لئے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں۔ بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں اس لئے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے“ (انوار خلافت ۹۳)

اخبار الفضل مورخہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۲۲ء میں مرزا محمود کا ایک فتویٰ شائع ہوا کہ :- ”جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا ہے اگرچہ وہ معصوم ہوتا ہے اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جا

صفحہ 516

سکتا"۔

چنانچہ اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے چوہدری ظفراللہ خان نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا اور منیر انکوائری عدالت میں جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو کہا

"نماز جنازہ کے امام مولانا شبیر احمد عثمانی، احمدیوں کو کافر، مرتد اور واجب القتل قرار دے چکے تھے اس لئے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کر سکا۔ جس کی امامت مولانا کر رہے تھے"۔

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ص ۲۱۲)

لیکن عدالت سے باہر جب ان سے یہ بات پوچھی گئی کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا :۔ تو جواب دیا

"آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر" (زمیندار، لاہور، ۸ فروری ۱۹۵۰ء)

اور جب اخبارات میں چوہدری ظفر اللہ خان کی اس ہٹ دھرمی کا چرچا ہوا تو اس کا جواب یہ دیا گیا۔

"جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تمام دنیا جانتی ہے کہ قائداعظم احمدی نہ تھے لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ ٹریکٹ ۲۲ "احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ"

(ناشر مہتمم نشر و اشاعت انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)

قادیانیوں کے اخبار الفضل نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے :۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابو طالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے۔ مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا۔ اور نہ رسول خدا نے"۔

(الفضل ربوہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۵۲ء)

کس قدر لائق شرم بات ہے کہ قادیانی تو مسلمانوں کو ہندوؤں، سکھوں کو عیسائیوں کی طرح کافر سمجھتے ہوئے نہ ان کے بڑے سے بڑے آدمی کا جنازہ پڑھیں اور نہ

صفحہ 517

ان کے معصوم بچوں کا ــــــــــــ کیا ایک مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ قادیانی مرتد کا جنازہ پڑھے؟ کیا اس کی غیرت اس کو برداشت کر سکتی ہے؟

جواب سوال دوم

جب یہ معلوم ہوا کہ قادیانی، کافر و مرتد ہیں تو اسی سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح مرزائی مرتد سے نہیں ہو سکتا بلکہ شرع اسلام کی رو سے یہ خالص زنا ہے اگر کسی مسلمان نے لاعلمی اور بے خبری کیوجہ سے کسی مرزائی کو لڑکی بیاہ دی ہے تو اس کا فرض ہے کہ علم ہو جانے کے بعد اپنے گناہ سے توبہ کرے اور لڑکی کو قادیانیوں کے چنگل سے واگزار کرائے۔

واضح رہے کہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کی وہی حیثیت ہے جو ہمارے نزدیک یہودیوں اور عیسائیوں کی ہے مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں سے لڑکیاں لینا تو جائز ہے لیکن مسلمانوں کو دینا جائز نہیں۔ چنانچہ مرزا محمود کا فتویٰ ہے:

”جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی لڑکے کو دیتا ہے میرے نزدیک وہ احمدی نہیں، کوئی شخص کسی کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔

سوال: جو نکاح خواں ایسا نکاح پڑھائے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب: ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جا سکتا ہے جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا ہو۔

سوال: کیا ایسا شخص جس نے غیر احمدیوں سے اپنی لڑکی کا رشتہ کیا ہے وہ دوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کر سکتا ہے۔

جواب: ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔

(اخبار الفضل قادیان ۲۳ مئی ۱۹۲۱ء)

پس جس طرح مرزا محمود کے نزدیک وہ شخص مرزائی جماعت سے خارج ہے جو کسی مسلمان لڑکے کو اپنی لڑکی بیاہ دے اسی طرح وہ مسلمان بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے جو قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہونے کے بعد کسی مرتد مرزائی کو اپنی لڑکی دینا جائز

صفحہ 518

سمجھے اور جس طرح مرزا محمود کے نزدیک کسی مرزائی لڑکی کا نکاح کسی مسلمان لڑکے سے پڑھانا ایسا ہے جسطرح کہ کسی ہندو یا عیسائی سے۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ کسی مرزائی مرتد کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو، سکھ، چوہڑے کو داماد بنا لیا جائے۔

جواب سوال سوم

کسی مسلمان کے لئے مرزائی مرتدین کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک کرنا حرام ہے ان کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا انکی شادی غمی میں شرکت کرنا یا ان کو اپنی شادی غمی میں شریک کرنا حرام اور قطعی حرام ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں رواداری سے کام لیتے ہیں وہ خدا اور رسول کے غضب کو دعوت دیتے ہیں ان کو اس سے توبہ کرنی چاہئے اور مرزائیوں سے اس قسم کے تمام تعلقات ختم کر دینے چاہئیں۔ قادیانی خدا اور رسول کے دشمن ہیں اور خدا و رسول کے دشمنوں سے دوستانہ تعلق رکھنا کسی مومن کا کام نہیں ہو سکتا قرآن مجید میں ہے :-

﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَلَوْ كَانُوْا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ط أُولٰئِكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ط وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِيْنَ فِيْهَا ط رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ط أُولٰئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ ط أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾

(المجادلۃ-۲۲)

جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور رسول کے بر خلاف ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہو۔ ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کر دیا ہے۔ اور (ان) قلوب کو اپنے فیض سے قوت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں

صفحہ 519

جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔ (حضرت تھانویؒ )

اخیر میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کو ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دیا گیا، لیکن قادیانیوں نے اس فیصلہ کو تسلیم کر کے پاکستان کے غیر مسلم شہری (ذمی) کی حیثیت سے رہنے کا معاہدہ نہیں کیا۔ اس لئے ان کی حیثیت ذمیوں کی نہیں بلکہ ”محارب کافروں“ کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔ واللہ اعلم۔

صفحہ 28
PDF 521

قادیانی مُردہ

مُسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 522

سوال۔ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس سلسلہ میں کہ بعض دفعہ قادیانی اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کر دیتے ہیں۔ اور پھر مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ان کو نکلا جائے۔ تو کیا قادیانی کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ اور مسلمانوں کے اس طرز عمل کا کیا جواز ہے؟

السائل ملک بشیر احمد، ملتان

الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی

قادیانی غیر مسلم اور زندیق ہیں۔ ان پر مرتدین کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ کسی غیر مسلم کی نماز جنازہ جائز نہیں، چنانچہ قرآن کریم میں اس کی صاف ممانعت موجود ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

﴿ولا تصلّ علی أحد منھم مات أبداً ولا تقم علی
قبرہ، إنھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وھم فاسقون﴾

(التوبۃ: ٨٤)

اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مر جاوے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر، وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور وہ مرگئے نافرمان۔

(آیت ٨٤، ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)

صفحہ 523

اسی طرح کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کے الفاظ ”ولا تقم علیٰ قبرہ“ سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے قبرستان، ہمیشہ الگ الگ رہے۔ پس کسی مسلمان کے اسلامی حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ علامہ سعد الدین مسعود بن عمر بن عبداللہ التفتازانی (المتوفی ۷۹۱ھ) ”شرح مقاصد“ میں لکھتے ہیں کہ اگر ایمان دل و زبان سے تصدیق کرنے کا نام ہو تو اقرار رکن ایمان ہو گا۔ اور ایمان تصدیق مع الاقرار کو کہا جائے گا۔ لیکن اگر ایمان صرف تصدیق قلبی کا نام ہو۔

فإن الإقرار حينئذٍ شرط لإجراء الأحكام عليه فی الدنيا من الصلاة عليه وخلفه . والدفن فی مقابر المسلمين والمطالبة بالعشور والزكاة ونحو ذلك

(شرح المقاصد ص ٢٤٨ ج ٢)

تو اقرار اس صورت میں، اس شخص پر دنیا میں اسلام کے احکام جاری کرنے کے لئے شرط ہوگا۔ یعنی اس کی نماز جنازہ پڑھنا، اس کے پیچھے نماز پڑھنا۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا، اس سے زکوٰۃ و عشر کا مطالبہ کیا جانا۔ اور اس طرح کے دیگر امور۔

(شرح المقاصد (ج ۲۔ ص ۲۴۸) مطبوعہ دار المعارف النعمانیہ۔

لاہور)

اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی ان اسلامی حقوق میں سے ایک ہے جو صرف مسلمان کے ساتھ خاص ہیں، اور یہ کہ جس طرح کسی غیر مسلم کی اقتدا میں نماز جائز نہیں۔ اس کی نماز جنازہ جائز نہیں، اور اس سے زکوٰۃ اور عشر کا مطالبہ درست نہیں، ٹھیک اسی طرح کسی غیر مسلم مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ دینا بھی جائز نہیں۔ اور یہ کہ یہ مسئلہ تمام امت مسلمہ کا متفق علیہ اور مسلمہ مسئلہ ہے۔ جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ چنانچہ ذیل میں مذاہب اربعہ

صفحہ 524

کی مستند کتابوں سے اس مسئلہ کی تصریحات نقل کی جاتی ہیں۔ واللہ الموفق۔

فقہ حنفی

شیخ زین الدین ابن نجیم المصری (المتوفی ۹۷۰ھ ) ”الأشباه والنظائر“ کے فن اول قاعدہ ثانیہ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

قال الحاكم في الكافي من كتاب التحرّی: ”وإذا اختلط موتى المسلمين وموتى الكفّار. فمن كانت عليه علامة المسلمين صلى عليه ومن كانت عليه علامة الكفّار ترك، فإن لم تكن عليهم علامة والمسلمون أكثر غسلوا وكفنوا وصلى عليهم وينوون بالصلاة والدعاء للمسلمين دون الكفّار ويدفنون في مقابر المسلمين وإن كان الفريقان سواء أو كانت الكفّار أكثر لم يصل عليهم ويغسلون ويكفنون ويدفنون في مقابر المشركين“

(الأشباه والنظائر ج١ صـ١٥٢)

امام حاکم ”الکافی“ کی کتاب التحری میں فرماتے ہیں : اور جب مسلمان اور کافر مردے خلط ملط ہو جائیں تو جن مردوں پر مسلمانوں کی علامت، ہوگی انکی نماز جنازہ پڑھی جائیگی اور جن پر کفار کی علامت ہوگی انکی نماز جنازہ نہیں ہوگی۔ اور اگر ان پر کوئی شناختی علامت نہ ہو تو اگر مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو تو سب کو غسل و کفن دے کر ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اور نیت

صفحہ 525

یہ کی جائے گی کہ ہم صرف مسلمانوں پر نماز پڑھتے اور ان کے لئے دعا کرتے ہیں۔ اور ان سب کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ اور اگر دونوں فریق برابر ہوں یا کافروں کی اکثریت ہو تو ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ ان کو غسل و کفن دیکر غیر مسلموں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔

(الاشباہ والنظائر ج ۱ ص ۱۵۲) (نیز دیکھئے: ”نفع المفتی والسائل“ از مولانا عبدالحی لکھنوی (المتوفی ۱۳۰۴ھ) اواخر کتاب الجنائز)

مندرجہ بالا مسئلہ سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان اور کافر مردے مختلط ہو جائیں اور مسلمانوں کی شناخت نہ ہو سکے تو اگر دونوں فریق برابر ہوں۔ یا کافر مردوں کی اکثریت ہو تو اس صورت میں مسلمان مردوں کو بھی اشتباہ کی بناء پر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہ ہو گا اسی سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ جو مردہ قطعی طور پر غیر مسلم، مرتد قادیانی ہو اس کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بدرجہ اولیٰ جائز نہیں، اور کسی صورت میں بھی اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

نیز ”الاشباہ“ فن ثانی، کتاب السیر، باب المرتد کے ذیل میں لکھتے ہیں:

وإذا مات أو قتل على ردته لم يدفن في مقابر المسلمين ولا أهل ملة وإنما يلقى في حفرة كالكلب

(الأشباه والنظائر ج ۱-ص ۲۹۱)

اور جب مرتد مر جائے یا ارتداد کی حالت میں قتل کر دیا جائے تو اس کو نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے، اور نہ کسی اور ملت کے قبرستان میں بلکہ اسے کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔

(الاشباہ والنظائر (ج ۱- ص ۲۹۱) مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی)

مندرجہ بالا جزئیہ قریباً تمام کتب فقہیہ میں کتاب الجنائز اور کتاب السیر ”باب المرتد“ میں ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً در مختار میں ہے۔

أما المرتد فيلقى في حفرة كالكلب

صفحہ 526

لیکن مرتد کو کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ علامہ محمد امین ابن عابدین شامیؒ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:

ولا يغسل ، ولا يكفن ولا يدفع إلى من انتقل إلى دينهم يجر - عن الفتح

(رد المحتار ج۲- ص۲۳۰ مطبوعہ کراچی)

یعنی نہ اسے غسل دیا جائے۔ نہ کفن دیا جائے۔ نہ اسے ان لوگوں کے سپرد کیا جائے جن کا مذہب اس مرتد نے اختیار کیا۔

(ردالمختار (ج۲۔ ص ۲۳۰) مطبوعہ، کراچی)

قادیانی چونکہ زندیق اور مرتد ہیں اس لئے اگر کسی کا عزیز قادیانی مرتد ہو جائے تو نہ اسے غسل دے، نہ کفن دے، نہ اسے مرزائیوں کے سپرد کرے۔ بلکہ گڑھا کھود کر اسے کتے کی طرح اس میں ڈال دے۔ اسے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ بلکہ کسی اور مذہب وملت کے قبرستان یا مرگھٹ مثلاً یہودیوں کے قبرستان اور نصرانیوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں۔

مالکی مذہب

قاضی ابو بکر محمد بن عبداللہ المالکی الاشبیلی المعروف بابن العربی (المتوفی ۵۴۳ھ) سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۲ کے تحت متاولین کے کفر پر گفتگو کرتے ہوئے ”قدریہ“ کے بارے میں لکھتے ہیں:

اختلف علماء المالكية في تكفيرهم على قولين:

فالصريح من أقوال مالك تكفيرهم

علمائے مالکیہ کے ان کی تکفیر میں دو قول ہیں۔ چنانچہ امام مالک کے اقوال سے صاف طور پر ثابت ہے کہ وہ کافر ہیں۔ آگے دوسرے قول (عدم تکفیر) کی تضعیف کرنے کے بعد امام مالکؒ کے

صفحہ 527

قول پر تفریع کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

فلا يناكحوا، ولا يصلى عليهم، فإن خيف عليهم الضيعة . . . دفنوا كما يدفن الكلب . فإن قيل : وأين يدفنون؟ قلنا : لا يؤذى بجوارهم مسلم .

(أحكام القرآن:

مطبوعہ بیروت جلد دوم صفحات مسلسل ۸۰۲)

پس نہ ان سے رشتہ ناطا کیا جائے نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ اور اگر ان کا کوئی والی وارث نہ ہو اور ان کی لاش کے ضائع ہونیکا اندیشہ ہو تو کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ اگر یہ سوال ہو کہ انہیں کہاں دفن کیا جائے؟ تو ہمارا جواب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو ان کی ہمسائیگی سے ایذا نہ دیجائے۔ یعنی مسلمانوں کے قبرستان میں انہیں دفن نہ کیا جائے۔

(احکام القرآن: مطبوعہ بیروت جلد دوم صفحات مسلسل ۸۰۲)

فقہ شافعی

الشیخ الامام جمال الدین ابو اسحاق ابراہیم بن علی بن یوسف الشیرازی الشافعی (المتوفی ۴۷۶ھ) اور امام محی الدین یحییٰ بن شرف النووی (المتوفی ۶۷۶ھ) لکھتے ہیں

قال المصنف رحمه الله ولا يدفن كافر في مقبرة المسلمين ولا مسلم في مقبرة الكفار .

الشرح : اتفق أصحابنا رحمهم الله على أنه لا يدفن مسلم في مقبرة كفار ولا كافر في مقبرة مسلمين ولو ماتت ذمية حامل بمسلم ومات جنينها في

صفحہ 528

جوفها ففيه أوجه (الصحيح) أنها تدفن بين مقابر المسلمين والكفار ويكون ظهرها إلى القبلة لأن وجه الجنين إلى ظهر أمه هكذا قطع به ابن الصباغ والشاشي وصاحب البيان وغيرهم وهو المشهور

(شرح مہذب ج ۵ - ص ۲۸۵ مطبوعہ بیروت)

ترجمہ :۔ مصنف فرماتے ہیں۔ ”اور نہ دفن کیا جائے کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں، اور نہ کسی مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں“

شرح :۔ اس مسئلہ میں ہمارے اصحاب (شافعیہ) کا اتفاق ہے کہ کسی مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں اور کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی ذمی عورت مرجائے۔ جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی۔ اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرجائے تو اس میں چند وجہیں ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اس کو مسلمانوں اور کافروں کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے گا اور اس کی پشت قبلہ کی طرف کی جائے گی۔ کیوں کہ پیٹ کے بچے کا منہ اس کی ماں کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔ ابن الصباغ، شاشی، صاحب البیان اور دیگر حضرات نے اسی قول کو جزماً اختیار کیا ہے اور یہی ہمارے مذہب کا مشہور قول ہے۔

فقہ حنبلی

الشیخ الامام موفق الدین ابو محمد عبد اللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی الحنبلی (المتوفی ۶۲۰ھ) المغنی میں۔ اور امام شمس الدین ابو الفرج عبد الرحمن بن محمد بن احمد بن قدامہ المقدسی الحنبلی (المتوفی ۶۸۲ھ) الشرح الکبیر میں لکھتے ہیں :

مسألة: قال: وإن ماتت نصرانية وهي حاملة من مسلم دفنت بين مقبرة المسلمين ومقبرة النصارى،

صفحہ 529

اختار هذا أحمد لأنها كافرة لا تدفن فى مقبرة المسلمين فيأذوا بعذابها ولا فى مقبرة الكفار لأن ولدها مسلم فيتأذى بعذابهم وتدفن منفردة مع أنه روى عن واثلة بن الأسقع مثل هذا القول وروى عن عمر أنها تدفن فى مقابر المسلمين، قال ابن المنذر لا يثبت ذلك ، قال أصحابنا: ويجعل ظهرها إلى القبلة على جانبها الأيسر ليكون وجه الجنين إلى القبلة على جانبه الأيمن لأن وجه الجنين إلى ظهرها

(المغنى مع الشرح الكبير ج٢- ص٤٢٣ مطبوعه بيروت ١٤٠٣هـ)

ترجمہ۔ اور اگر نصرانی عورت جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی مر جائے تو اسے (نہ تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ اور نہ نصاریٰ کے قبرستان میں، بلکہ) مسلمانوں کے قبرستان اور نصاریٰ کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے امام احمدؒ نے اسکو اسلئے اختیار کیا ہے کیونکہ وہ عورت تو کافر ہے۔ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا کہ اس کے عذاب سے مسلمان مردوں کو ایذا ہو۔ اور نہ اسے کافروں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا کیوں کہ اس کے پیٹ کا بچہ مسلمان ہے۔ اسے کافروں کے عذاب سے ایذا ہوگی۔ اس لئے اس کو الگ دفن کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے اسی قول کی مثل مروی ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو مروی ہے کہ ایسی عورت کو مسلمانوں کے قبرستان

صفحہ 530

میں دفن کیا جائے گا۔ ابن المنذر کہتے ہیں۔ کہ یہ روایت حضرت عمر ؓ سے ثابت نہیں۔

ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس نصرانی عورت کو بائیں کروٹ پر لٹا کر اس کی پشت قبلہ کی طرف کی جائے۔ تاکہ بچے کا منہ قبلہ کی طرف رہے اور وہ داہنی کروٹ پر ہو۔ کیوں کہ پیٹ میں بچے کا چہرہ عورت کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔

(المغنی مع الشرح الکبیر (ج ۲۔ ص ۴۲۴) مطبوعہ بیروت ۱۴۰۳ھ)

مندرجہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ یہ شریعت اسلامی کا متفق علیہ اور مسلم مسئلہ ہے کہ کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت اسلامی کا یہ مسئلہ اتنا صاف اور واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی تحریروں میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ چنانچہ جھوٹے مدعیان نبوت کے بارے میں مرزا نے لکھا ہے۔

”حافظ صاحب یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان کی نسبت بے سرو پا حکایتیں لکھی گئی ہیں۔ وہ حکایتیں اسوقت تک ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعوی پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی اور یہ اصرار کیوں کر ثابت ہو سکتا ہے جب تک اسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ افتراء اور جھوٹے دعوی نبوت پر مرے۔ اور ان کا کسی اس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کئے گئے“۔

(تحفۃ الندوہ ص ۷ روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۹۵ مطبوعہ لندن)

اسی رسالہ میں آگے چل کر لکھا ہے :

”پھر حافظ صاحب کی خدمت میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرے توبہ کرنے کے لئے صرف اتنا کافی نہ ہو گا کہ بفرض محال کوئی کتاب الہامی مدعی نبوت کی نکل آوے۔ جس کو وہ قرآن شریف کی طرح (جیسا کہ میرا دعوی ہے) خدا کی ایسی وحی کہتا ہو۔ جسکی صفت میں لاریب ہے۔ جیسا کہ میں کہتا ہوں۔ اور پھر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ وہ بغیر توبہ کے

صفحہ 531

مرا اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں اس کو دفن نہ کیا“۔

(تحفۃ الندوہ ص ۱۲۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۹۹۔ ۱۰۰، مطبوعہ

لندن)

مرزا غلام احمد قادیانی کی ان دونوں عبارتوں سے تین باتیں واضح ہوئیں :

ایک یہ کہ جھوٹا مدعی نبوت کافر و مرتد ہے، اسی طرح اس کے ماننے والے بھی کافر و مرتد ہیں۔ وہ کسی اسلامی سلوک کے مستحق نہیں۔

دوم یہ کہ کافر و مرتد کی نماز جنازہ نہیں۔ اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔

سوم یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کا دعوی ہے۔ اور وہ اپنی شیطانی وحی کو نعوذ باللہ قرآن کریم کی طرح سمجھتا ہے۔

پس اگر گزشتہ دور کے جھوٹے مدعیان نبوت اس کے مستحق ہیں کہ ان کو اسلامی برادری میں شامل نہ سمجھا جائے، ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے، اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے تو مرزا غلام احمد قادیانی (جس کا جھوٹا دعویٰ نبوت اظہر من الشمس ہے) اور اس کی ذریت خبیثہ کا بھی یہی حکم ہے کہ نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے، اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیا جائے۔

رہا یہ سوال کہ اگر قادیانی چپکے سے اپنا مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں گاڑ دیں تو اس کا کیا کیا جائے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ علم ہو جانے کے بعد اس کا اکھاڑنا واجب ہے اور اس کی چند وجہیں ہیں۔

اول یہ کہ مسلمانوں کا قبرستان مسلمانوں کی تدفین کے لئے وقف ہے۔ کسی غیر مسلم کا اس میں دفن کیا جانا ”غصب“ ہے۔ اور جس مردہ کو غصب کی زمین میں دفن کیا جائے اس کا نبش (اکھاڑنا) لازم ہے۔ جیسا کہ کتب فقہیہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ کیوں کہ کافر و مرتد کی لاش، جبکہ غیر محل میں دفن کی گئی ہو۔ لائق احترام نہیں ۔ چنانچہ امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ میں باب باندھا ہے۔ ”باب ہل نبش قبور مشرکی الجاھلیۃ“ الخ اور اس کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے کہ مسجد نبوی کے لئے جو جگہ خریدی گئی اس میں کافروں کی قبریں تھیں۔

صفحہ 532

«فأمر النبى ﷺ بقبور المشركين فنبشت»

(صحیح بخاری ص٦١ ج١)

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کو اکھاڑنے کا حکم فرمایا، چنانچہ وہ اکھاڑ دی گئیں۔

حافظ ابن حجرؒ، امام بخاریؒ کے اس باب کی شرح میں لکھتے ہیں: أى دون غيرها من قبور الأنبياء وأتباعهم لما فى ذلك من الإهانة لهم بخلاف المشركين فإنهم لا حرمة لهم .

یعنی مشرکین کی قبروں کو اکھاڑا جائے گا۔ انبیاء کرام اور ان کے متبعین کی قبروں کو نہیں۔ کیونکہ اس میں ان کی اہانت ہے بخلاف مشرکین کے، کہ ان کی کوئی حرمت نہیں۔

(فتح الباری (ج ۱۔ ص ۵۲۳) مطبوعہ دار النشر لاہور)

حافظ بدر الدین عینی اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں : ( فإن قلت ) كيف يجوز إخراجهم من قبورهم والقبر مختص بمن دفن فيه فقد حازه فلا يجوز بيعه ولا نقله عنه . (قلت) تلك القبور التى أمر النبى ﷺ بنبشها لم تكن أملاكا لمن دفن فيها بل لعلها غصبت فلذلك باعها ملاكها وعلى تقدير التسليم إنها حُبست فليس بلازم إنما اللازم تحبيس المسلمين لا الكفار ولهذا قالت الفقهاء إذا دفن المسلم فى

صفحہ 533

أرض مغصوبة يجوز إخراجه فضلا عن المشرك اگر کہا جائے کہ مشرک و کافر مردوں کو ان کی قبروں سے نکالنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ جب کہ قبر، مدفون کے ساتھ مختص ہوتی ہے۔ اس لئے نہ اس جگہ کو بیچنا جائز ہے اور نہ مردہ کو وہاں سے منتقل کرنا جائز ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قبریں جن کے اکھاڑنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا غالباً دفن ہونے والوں کی ملک نہیں تھیں، بلکہ وہ جگہ غصب کی گئی تھی، اس لئے مالکوں نے اس کو فروخت کر دیا۔ اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ جگہ ان مردوں کے لئے مخصوص کر دی گئی تھی تب بھی یہ لازم نہیں کیونکہ مسلمانوں کا قبروں میں رکھنا لازم ہے کافروں کا نہیں۔ اسی بناء پر فقہاء نے کہا ہے کہ جب مسلمان کو غصب کی زمین میں دفن کر دیا گیا ہو تو اس کا نکالنا جائز ہے چہ جائیکہ کافر و مشرک کا نکالنا۔

(عمدة القاری ص ۱۹۷ ج ۲)

پس جو قبرستان کہ مسلمانوں کے لئے وقف ہے۔ اس میں کسی قادیانی کو دفن کرنا اس جگہ کا غصب ہے، کیوں کہ وقف کرنے والے نے اس کو مسلمانوں کے لئے وقف کیا ہے۔ کسی کافر و مرتد کو اس وقف کی جگہ میں دفن کرنا غاصبانہ تصرف ہے۔ اور وقف میں ناجائز تصرف کی اجازت دینے کا کوئی شخص بھی اختیار نہیں رکھتا۔ بلکہ اس ناجائز تصرف کو ہر حال میں ختم کرنا ضروری ہے اس لئے جو قادیانی، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہو اس کو اکھاڑ کر اس غصب کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ اور اگر مسلمان اس تصرف بے جا اور غاصبانہ حرکت پر خاموش رہیں گے۔ اور اس غصب کے ازالہ کی کوشش نہیں کریں گے تو سب گنہگار ہوں گے۔ اور اس کی مثال بالکل ایسی ہوگی کہ جو جگہ مسجد کے لئے وقف ہو اس میں گرجا اور مندر بنانے کی اجازت دے دی جائے۔ یا اگر اس جگہ پر غیر مسلم قبضہ کر کے اپنی عبادت گاہ تعمیر کر لیں تو اس ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضہ کا ازالہ مسلمانوں پر فرض ہوگا۔ اسی طرح مسلمانوں کے قبرستان میں، جو کہ مسلمانوں کے لئے وقف ہے۔ اگر غیر مسلم قادیانی ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضہ کر لیں تو اس کا ازالہ بھی واجب ہوگا۔

صفحہ 534

دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا مسلمان مردوں کے لئے ایذا کا سبب ہے۔ کیوں کہ کافر اپنی قبر میں معذب ہے اور اس کی قبر محل لعنت و غضب ہے۔ اس کے عذاب سے مسلمان مردوں کو ایذا ہوگی۔ اس لئے کسی کافر کو مسلمانوں کے درمیان دفن کرنا جائز نہیں، اور اگر دفن کر دیا گیا ہو تو مسلمانوں کو ایذا سے بچانے کے لئے اس کو وہاں سے نکالنا ضروری ہے۔ اس کی لاش کی حرمت کا نہیں۔ اور مسلمان مردوں کی حرمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ امام ابو داودؒ نے کتاب الجہاد ”باب النہی عن قتل من اعتصم بالسجود“ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے:

أنا برىء من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين، قالوا: يا رسول الله! لم؟ قال لا ترايا نارهما .

میں بری ہوں ہر اس مسلمان سے، جو کافروں کے درمیان مقیم ہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ فرمایا، دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہیں آنی چاہئے۔

(ابو داود ص ۳۵۶ ج ۱)

نیز امام ابو داودؒ نے آخرِ کتاب الجہاد ”باب فی الاقامۃ بارض الشرک“ میں یہ حدیث نقل کی ہے:

من جامع المشرك وسكن معه فإنه مثله

جس شخص نے مشرک کے ساتھ سکونت اختیار کی وہ اسی کی مثل ہوگا۔

(ابو داود ص ۲۹ ج ۲)

پس جب کہ دنیا کی عارضی زندگی میں کافر و مسلمان کی اکٹھی سکونت کو گوارا نہیں فرمایا گیا تو قبر کی طویل ترین زندگی میں اس اجتماع کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے، تیسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان کی زیارت اور ان کے لئے دعاء استغفار کا حکم ہے جبکہ کسی کافر کے لئے دعاء استغفار اور ایصالِ ثواب جائز نہیں۔ اس لئے لازم ہوا کہ کسی کافر کی قبر

صفحہ 535

مسلمانوں کے قبرستان میں نہ رہنے دی جائے، جس سے زائرین کو دھوکہ لگے۔ اور وہ کافر مردوں کی قبر پر کھڑے ہو کر دعاء و استغفار کرنے لگیں۔

حضرات فقہاء نے مسلم و کافر کے امتیاز کی یہاں تک رعایت کی ہے کہ اگر کسی غیر مسلم کا مکان مسلمانوں کے محلے میں ہو تو اس پر علامت کا ہونا ضروری ہے کہ یہ غیر مسلم کا مکان ہے تاکہ کوئی مسلمان وہاں کھڑا ہو کر دعا و سلام نہ کرے۔ جیسا کہ کتاب ”السیر باب احکام اہل الذمہ“ میں فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔

خلاصہ یہ کہ کسی غیر مسلم کو خصوصاً کسی قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ اور اگر دفن کرایا گیا ہو تو اس کا اکھاڑنا اور مسلمانوں کے قبرستان کو اس مردار سے پاک کرنا ضروری ہے۔

صفحہ 28
PDF 537

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

قادیانی

ذبیحہ

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 538

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۔

مفتی کفایت اللہ صاحب نے کفایت المفتی میں قادیانیوں کی اولاد کو اہل کتاب قرار دے کر ان کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا ہے۔ لیکن اس سے تسلی نہیں ہوتی کیونکہ اہل کتاب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر ایمان لائے ہیں جن پر ہم بھی ایمان لائے ہیں تورات اور انجیل کو ہم بھی جانتے ہیں جبکہ قادیانی مرزا کو نبی مانتے ہیں اور براہین احمدیہ اور دیگر خود ساختہ الہامات پر بھی یقین رکھتے ہیں کیا یہ قیاس مع الفارق نہیں؟

یہاں پر ایک مولوی صاحب نے، جو کہ امام مسجد بھی ہیں، قادیانیوں کے ذبیحہ کے حلال ہونے کا مطلق فتویٰ دیا ہے۔ اور وجہ یہ بتائی ہے کہ ذبیحہ کا تعلق عقیدہ رسالت سے نہیں، عقیدہ توحید سے ہے۔ اور چونکہ قادیانی لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں اس لئے ان کا ذبیحہ جائز ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

اگر ان کا ذبیحہ جائز ہے تو پھر ان کے ساتھ رشتہ ناتا بھی صحیح ہو گا۔ اور دیگر کئی مسائل متفرع ہوں گے اور اس سے قادیانیوں کو ایک قانونی دلیل بھی مل جائے گی کہ وہ بھی اسلامی معاشرہ میں مدغم ہو سکتے ہیں۔ مہربانی فرما کر تفصیل سے جواب دیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔

المستفتی محمد ادریس امام۔ مرکز ثقافت اسلامیہ کوپن ہیگن۔ ڈنمارک

صفحہ 539

بسم الله الرحمن الرحيم الحمدلله وکفی والصلاة والسلام علی من لا نبی بعده

آپ کے دونوں سوالوں کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ کسی قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں، بلکہ مردار ہے۔ خواہ اس نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی مذہب اختیار کیا ہو، یا قادیانی والدین کے یہاں پیدا ہوا ہو۔

مگر چونکہ اس مسئلہ میں عوام ہی نہیں، بلکہ بہت سے اہل علم کو بھی اشتباہ ہو جاتا ہے (جیسا کہ سوال میں دیئے گئے دو فتووں سے ظاہر ہے ) اس لئے مناسب ہو گا کہ اس مسئلہ پر کسی قدر تفصیل سے لکھا جائے، تاکہ قادیانیوں کی حیثیت پوری طرح کھل کر سامنے آجائے اور کسی صاحب فہم کو اس میں اشتباہ کی گنجائش نہ رہے۔

مرتد کے احکام

جو شخص پہلے مسلمان تھا، بعد میں اس نے (نعوذ باللہ) قادیانی مذہب اختیار کر لیا وہ بغیر کسی شک و شبہ کے مرتد ہے اور اس پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے۔ مرتد کے ضروری احکام حسب ذیل ہیں:

(۱) مرتد واجب القتل ہے

مرتد کو تین دن کی مہلت دی جائے گی، اس عرصہ میں اسے توبہ کر کے دوبارہ اسلام لانے کی دعوت دی جائے گی اور اس کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی، اگر وہ تین دن کے اندر اپنے کفر و ارتداد سے تائب ہو کر مسلمان ہو جاتا ہے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔ اس مسئلہ پر کہ مرتد واجب القتل ہے تمام فقہائے امت اور مذاہب اربعہ کا

صفحہ 540

اجماع ہے۔ حسب ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں:

فقہ حنفی

ہدایہ میں ہے۔ «وإذا ارتد المسلم عن الإسلام والعياذ بالله -عرض عليه الإسلام فإن كانت له شبهة كشفت عنه ويحبس ثلاثة أيام فإن أسلم وإلا قتل»

اور جب کوئی مسلمان نعوذ باللہ اسلام سے پھر جائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے اس کو کوئی شبہ ہو تو دور کیا جائے، اس کو تین دن قید رکھا جائے اگر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔

(ہدایۃ اولین ص ۵۸۰ ج ۱)

فقہ شافعی

المجموع شرح المہذب میں ہے ۔ «إذا ارتد الرجل وجب قتله سواء كان حرا أو عبدا.......وقد انعقد الإجماع على قتل المرتد»

اور جب آدمی مرتد ہو جائے تو اس کا قتل واجب ہے خواہ وہ آزاد ہو یا غلام۔ اور قتل مرتد پر اجماع منعقد ہو چکا ہے۔

(المجموع شرح المہذب ص ۲۲۸ ج ۱۹)

فقہ حنبلی

المغنی اور الشرح الکبیر میں ہے۔ «وأجمع أهل العلم على وجوب قتل المرتد وروى ذلك عن

صفحہ 541

بكر وعمر وعثمان وعلى ومعاذ وأبي موسى وابن عباس وخالد وغيرهم ولم ينكر ذلك فكان إجماعا

قتل مرتد کے واجب ہونے پر اہل علم کا اجماع ہے، یہ حکم حضرت ابو بکر، عمر، عثمان، علی، معاذ، ابی موسیٰ، ابن عباس، خالد اور دیگر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے اور اس کا کسی صحابی نے انکار نہیں کیا، اس لئے یہ اجماع ہے۔

(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۷۴ ج ۱۰)

فقہ مالکی

ابن رشد مالکی ”بدایۃ المجتہد“ میں لکھتے ہیں:

«والمرتد إذا ظفر به قبل أن يحارب فاتفقوا على أنه يقتل الرجل لقوله عليه الصلاة والسلام: ”من بدل دينه فاقتلوه“۔ (بداية المجتهد ص ٣٤٣ ج ٢)

اور مرتد جب لڑائی سے قبل پکڑا جائے تو تمام علمائے امت اس پر متفق ہیں کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ ”جو شخص اپنا مذہب بدل کر مرتد ہو جائے اس کو قتل کر دو۔“

مرتد کا نکاح کسی عورت سے صحیح نہیں، نہ کسی مسلمہ سے، نہ غیر مسلمہ سے، نہ مرتدہ سے۔ اگر وہ کسی عورت سے نکاح کرے گا تو اس کا نکاح کالعدم ہو گا اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد ولد الحرام ہوگی۔

ارتداد اختیار کیا ہو یا کسی اور مذہب کی طرف۔ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے لیکن جس

صفحہ 542

شخص نے مرتد ہو کر اہل کتاب کا مذہب اختیار کر لیا ہو اس کا ذبیحہ حلال نہیں بلکہ مردار ہے۔

ان دونوں مسئلوں میں فقہاء کی تصریحات حسب ذیل ہیں :

فقہ حنفی

تنویر الابصار متن در مختار میں ہے۔

«ويبطل منه النكاح، والذبيحة، والصيد، والشهادة، والإرث»

اور ارتداد سے نکاح، ذبیحہ، صید، شہادت اور وراثت باطل ہو جاتی ہے۔

(شامی ص ۲۴۹ ج ۴)

«أخبرت بارتداد زوجها فلها التزوج بآخر بعد العدة»

کسی عورت کو خبر دی گئی کہ اس کا شوہر مرتد ہو گیا ہے تو اس عورت کو عدت کے بعد دوسری جگہ عقد کر لینا جائز ہو گا۔

(شامی ص ۲۵۲ ج ۴)

ہدایہ میں ہے :

«إعلم أن تصرفات المرتد على أقسام ....... وباطل بالإتفاق كالنكاح والذبيحة لأنه يعتمد الملة ولا ملة له»

جاننا چاہئے کہ مرتد کے تصرفات چند قسموں پر ہیں ........... اور ایک قسم وہ ہے جو بالاتفاق باطل ہے جیسے نکاح اور ذبیحہ کیونکہ نکاح اور ذبیحہ مبنی ہے ملت پر ، اور مرتد کا کوئی دین نہیں ہوتا۔

(ہدایہ اولین ص ۵۸۳)

«ولا تؤكل ذبيحة المجوسى ........ والمرتد لأنه لا ملة له، فإنه لا

صفحہ 543

يقر على ما انتقل إليه

اور مجوسی کا ذبیحہ حلال نہیں ............ اور مرتد کا بھی، کیونکہ اس کا کوئی دین و مذہب نہیں کیونکہ اس نے جو مذہب اختیار کیا ہے اسے اس پر قائم نہیں رہنے دیا جائے گا۔

(ہدایہ اخیرین کتاب الذبائح ص ۴۳۲)

«لا تحل ذبيحة غير كتابی من وثنی ومجوسی ومرتد»

اور کتابی کے سوا کسی غیر مسلم کا ذبیحہ حلال نہیں، جیسے بت پرست، مجوسی اور مرتد۔

(الشامی مع الدر المختار ص ۲۹۸ ج ۶)

فقہ شافعی

«ذبيحة المرتد حرام عندنا وبه قال أكثر العلماء منهم أبو حنيفة وأحمد وأبو يوسف وأبو ثور . ( المجموع شرح المهذب ص ۷۹، ج ۹)

مرتد کا ذبیحہ ہمارے نزدیک حرام ہے اور اکثر علماء اسی کے قائل ہیں، جن میں ابو حنیفہ، امام احمد، امام ابو یوسف اور ابو ثور بھی شامل ہیں۔

فقہ حنبلی

«ذبيحة المرتد حرام وإن كانت ردته إلى دين أهل الكتاب هذا قول مالك والشافعي وأصحاب الرأى»

اور مرتد کا ذبیحہ حرام ہے، خواہ اس نے اہل کتاب کے مذہب کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو، یہی امام شافعی اور اصحاب الرائے (احناف) کا قول ہے۔

(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۸۷ ج ۱۰)

صفحہ 544

«لا تحل ذبيحته ولا نكاح نسائهم وإن انتقلوا إلى دين أهل الكتاب»

مرتد کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال ہے خواہ انہوں نے اہل کتاب کے مذہب کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو۔

(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۱۷۰ ج ۷)

«ولا يؤكل صيد مرتد ولا ذبيحته وإن تدين بدين أهل الكتاب»

مرتد کا ذبیحہ اور اس کا شکار کیا ہوا گوشت نہ کھایا جائے چاہے اس نے اہل کتاب کے مذہب کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو۔

(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۳۲ ج ۱۱)

فقہ مالکی

«وأما المرتد فإن الجمهور على إن ذبيحته لا تؤكل»

لیکن مرتد پس جمہور اس پر ہیں کہ اس کا ذبیحہ حلال نہیں۔

(بداية المجتهد ۳۳۰ ۔ ج ۱)

ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ مرتد کا ذبیحہ کسی حالت میں بھی حلال نہیں، خواہ اس نے کوئی سا مذہب بھی اختیار کیا ہو۔ اس لئے جن مولوی صاحب نے قادیانیوں کے ذبیحہ کو جائز کہا ہے ان کا یہ فتویٰ بالکل غلط اور قواعد شرعیہ کے خلاف ہے۔

مرتد کی اولاد کا حکم

جس نے خود ارتداد اختیار کیا ہو وہ اصلی مرتد ہے، اس کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر وہ اسلام نہ لائے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔

مرتد والدین کی صلبی اولاد والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد کہلاتی ہے، اس لئے ان کے بالغ ہونے کے بعد ان کو بھی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ حبس و ضرب کی سزا دی جائے

صفحہ 545

گی۔ البتہ تیسری پشت میں مرتد کی اولاد پر مرتد کے احکام جاری نہیں ہوتے، بلکہ کافر اصلی کے احکام جاری ہوتے ہیں۔

«زوجان ارتدا ولحقا فولدت المرتدة ولد أو ولد له أى لذلك المولود ولد فظهر عليهم جميعا فالولدان فئ كأصلهما والولد الأول يجبر بالضرب -أى وبالحبس نهر- على الإسلام وإن حبلت به ثمة لتبعيته لأبويه لا الثانى لعدم تبعية الجد على الظاهر فحكمه كحربى»

(الشامى مع الدر المختار ص٢٥٦، ج٤)

چنانچہ درمختار میں ہے میاں بیوی مرتد ہو کر دارالحرب چلے گئے، وہاں مرتد عورت نے بچہ جنا، اور آگے اس لڑکے کے لڑکا ہوا، پھر یہ سب جہاد میں مسلمانوں کے قابو میں آگئے تو مرتد جوڑے کی طرح ان کا بیٹا اور پوتا بھی مالِ غنیمت ہیں۔ ان کے بیٹے کو تو ضرب (و حبس) کے ذریعہ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا خواہ وہ دارالحرب میں حاملہ ہوئی تھی، کیونکہ وہ اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے۔ مگر پوتے کو مجبور نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ظاہر روایت کے مطابق پوتا دادے کے تابع نہیں ہوتا، پس اس کا حکم عام حربی کافر کا حکم ہے۔

مرتد کی اولاد کا ذبیحہ

اور جب یہ معلوم ہوچکا کہ تیسری پشت میں جاکر مرتد کی اولاد کا حکم عام کافروں کا ہو جاتا ہے۔ تو دیکھنا یہ ہوگا کہ اس نے کونسا دین و مذہب اختیار کیا ہے؟ اور یہ کہ اس مذہب کے لوگوں کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟

سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے صرف اہل کتاب کا ذبیحہ حلال قرار دیا گیا ہے۔ اور بت پرستوں اور مجوسیوں کا ذبیحہ حلال نہیں، پس اگر مرتد نے اہل کتاب کا مذہب اختیار کر لیا تھا تو تیسری پشت میں جاکر اس کی اولاد کا حکم اہل کتاب کا ہوگا اور ان کا

صفحہ 546

ذبیحہ حلال ہو گا۔

اور اگر اس نے ہندوؤں، سکھوں یا مجوسیوں کا مذہب اختیار کر لیا تھا تو تیسری پشت میں اس کی اولاد بھی ہندو یا سکھ یا مجوسی شمار ہوگی اور اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہو گا۔

اور اگر اس نے ان مذاہب معروفہ میں سے کوئی مذہب بھی اختیار نہیں کیا، بلکہ یا تو لامذہب اور دہریہ بن گیا یا اس نے کوئی نیا مذہب ایجاد کر لیا تو اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہو گا، پس یہ جو مشہور ہے کہ مرتد کی اولاد کا ذبیحہ جائز ہے یہ مطلقاً صحیح نہیں، بلکہ اس میں مندرجہ بالا تفصیل کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قادیانیوں نے اہل کتاب کا مذہب اختیار نہیں کیا بلکہ انہوں نے ایک نیا دین اختیار کیا ہے لہٰذا ان کی اولاد کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں ہو گا۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کے فتویٰ میں قادیانی اور اس کی اولاد میں جو فرق کیا گیا ہے، وہ صحیح نہیں۔

کفر زندقہ

مندرجہ بالا تفصیل سے ثابت ہوا کہ قادیانیوں کا ذبیحہ کسی حال میں حلال نہیں، خواہ انہوں نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی مذہب کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو، یا وہ قادیانیوں کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے ”پیدائشی قادیانی“ ہوں، دونوں صورتوں میں ان کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔

اس مسئلہ کے سمجھنے کے لئے ایک اور نکتہ پر غور کرنا بھی ضروری ہے اور یہ کہ قادیانیوں کے کفر و ارتداد کی نوعیت معلوم کی جائے۔

اہل علم جانتے ہیں کہ کفر کی کئی قسمیں ہیں، ان میں سے ایک کا نام ”کفر زندقہ“ ہے اور جو لوگ ایسے کفر کو اختیار کرتے ہیں انہیں ”زندیق“ کہا جاتا ہے اور فقہی اصطلاح میں ”زندیق“ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو، مگر در پردہ کفریہ عقائد رکھتا ہو، اور اپنے کفر کو اسلام کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہو۔

صفحہ 547

علامہ تفتازانیؒ ”شرح مقاصد میں کافروں کی قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

«وإن كان مع اعترافه بنبوة النبى ﷺ وإظهاره شعائر الإسلام يبطن عقائد هى كفر بالإتفاق خص باسم الزنديق» (ص٢٦٩، ج٢)

اور اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا قائل ہونے اور اسلامی شعائر کا اظہار کرنے کے باوجود ایسے عقائد کو چھپاتا ہو جو بالاتفاق کفر ہیں، تو ایسے شخص کا نام ”زندیق“ ہے۔

اسلام کے پردے میں کفر کو چھپانے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ وہ کسی کو ان عقائد کی ہوا ہی نہ لگنے دے، عام لوگ یہ سمجھیں کہ یہ مسلمان ہے اور مسلمانوں ہی کے عقائد رکھتا ہے، حالانکہ وہ درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہے (جن کا اظہار کبھی بے ساختہ ہو جاتا ہے) جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں منافقین کا حال تھا، عہد نبوی کے بعد ایسے منافق بھی (جن کے نفاق کا علم کسی ذریعہ سے ہو جائے) ”زندیق“ شمار کئے جائیں گے۔

حافظ ابن قدامہ المقدسی الحنبلی ”المغنی“ میں لکھتے ہیں

«والزنديق الذى يظهر الإسلام ويستسر الكفر وهو الذى كان يسمى منافقا فى عصر النبى ﷺ ويسمى اليوم زنديقا»

اور ”زندیق“ وہ شخص ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، ایسے شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ”منافق“ کہا جاتا تھا اور آج اس کا نام زندیق رکھا جاتا ہے۔

(المغنی ص۱۷۱، ج۷۔ الشرح الکبیر ۱۶۷ ج۷)

المجموع شرح المہذب میں ہے

«والزنديق هو الذى يظهر الإسلام ويبطن الكفر فمتى قامت بينة أنه تكلم بما يكفر به فإنه يستتاب وإن تاب وإلا قتل» (مجموع شرح المهذب ص۲۳۲، ج١٩)

صفحہ 548

اور ”زندیق“ وہ شخص ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب شہادت قائم ہو جائے کہ اس نے کلمہ کفر بکا ہے تو اس سے توبہ لی جائے گی، اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔

حافظ بدر الدین عینیؒ لکھتے ہیں

« واختلف في تفسيره، فقيل هو المبطن للكفر المظهر للإسلام كالمنافق »

(عمدۃ القاری ص ۷۹، ج ۲۴)

زندیق کی تفسیر میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قول یہ ہے کہ زندیق وہ شخص ہے جو منافق کی طرح کفر کو چھپاتا ہو اور اسلام کا اظہار کرتا ہو۔

حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ زندیق دراصل ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو دیصان، مانی اور مزدک کے پیرو کار تھے۔

« وأظهر جماعة منهم الإسلام خشية القتل ومن ثم أطلق الإسم على كل من أسر الكفر وأظهر الإسلام حتى قال مالك الزندقة ما كان عليه المنافقون وكذا أطلق جماعة من الفقهاء الشافعية وغيرهم أن الزنديق هو الذي يظهر الإسلام ويخفي الكفر فإن أرادوا اشتراكهم في الحكم فهو كذلك وإلا فأصلهم ما ذكرت »

اور ان میں سے ایک جماعت نے قتل کے اندیشے سے اسلام کا اظہار کیا تھا، اسی بنا پر ”زندیق“ کا لفظ ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جو کفر کو چھپاتا ہو اور اسلام کا اظہار کرتا ہو۔ یہاں تک کہ امام مالکؒ نے فرمایا کہ زندیقیت وہی ہے جس پر منافق تھے۔ اسی طرح فقہائے شافعیہ اور دیگر حضرات نے ”زندیق“ کا لفظ اس شخص کے لئے استعمال کیا ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس اگر ان کی مراد یہ ہے کہ

صفحہ 549

ایسے لوگوں کا حکم بھی زندیق کا ہے تو یہ صحیح ہے ورنہ زندیقوں کی اصل میں ذکر کر چکا ہوں۔

(فتح الباری ص ۱۷۱ ج ۱۲)

کفر کو چھپانے کی دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کفریہ عقائد کا تو برملا اظہار کرتا ہے اور لوگوں کو ان کی دعوت بھی دیتا ہے، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر اسلام کا لیبل چپکاتا ہے۔ کتاب وسنت کی غلط تاویل کے ذریعہ اپنے عقائد فاسدہ کو برحق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور لوگوں کے سامنے ایسی ملمع سازی کرتا ہے کہ ناواقف لوگ ان عقائد باطلہ ہی کو اسلام سمجھنے لگیں۔

درمختار میں ہے کہ ”جو زندیق کہ معروف اور داعی ہو اگر وہ پکڑا جائے تو اس کی توبہ نہیں ۔“ اس کے ذیل میں علامہ شامیؒ لکھتے ہیں ۔

«قوله المعروف أی: بالزندقة الداعی الذی یدعو الناس إلی زندقته، فإن قلت: كيف يكون معروفا داعيا إلی الضلال، وقد اعتبر فی مفهومه الشرعی أن یبطن الكفر قلت: لا بعد فیه، فإن الزندیق یموه كفره، ویروج عقیدته الفاسدة ویخرجها فی الصورة الصحیحة، وهذا معنی إبطان الكفر» (شامی ص ٢٤٢، ج٤)

معروف سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے زندقہ میں معروف ہو اور داعی کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے زندقہ کی دعوت دیتا ہو۔

اگر تم کہو کہ زندیق معروف اور داعی الی الضلال کیسے ہو سکتا ہے؟ جب کہ زندیق کے مفہوم شرعی میں یہ بات ملحوظ ہے کہ کفر کو چھپاتا ہو۔

میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی بعد نہیں، کیونکہ زندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدہ باطلہ کو رواج دینا چاہتا ہے اور وہ اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے ۔

(شامی ص ۲۴۲ ج ۴)

صفحہ 550

امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ”مسویٰ“ شرح عربی موطا میں منافق اور زندیق کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

بيان ذلك أن المخالف للدين الحق إن لم يعترف به ولم يذعن له لا ظاهرا ولا باطنا فهو كافر وإن اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهو المنافق، وإن اعترف به ظاهرا، لكنه يفسر بعض ما ثبت من الدين ضرورة بخلاف ما فسره الصحابة والتابعون واجتمعت عليه الأمة فهو الزنديق .

شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دین حق کا مخالف ہے اگر وہ دین اسلام کا اقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دین اسلام کو مانتا ہو نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر، تو وہ کافر کہلاتا ہے۔ اور اگر زبان سے دین کا اقرار کرتا ہو لیکن دین کے بعض قطعیات کی ایسی تاویل کرتا ہو جو صحابہ کرام و تابعین اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے۔

آگے تاویل صحیح اور تاویل باطل کا فرق بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔

ثم التأويل تأويلان: تأويل لا يخالف قاطعا من الكتاب والسنة واتفاق الأمة وتأويل يصادم ما ثبت بقاطع فذلك الزندقة .

پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ تاویل جو کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلے کے خلاف نہ ہو اور دوسری وہ تاویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیل قطعی سے ثابت ہے پس ایسی تاویل ”زندقہ“ ہے۔

آگے زندیقانہ تاویلوں کی مثالیں ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں۔

لو قال إن النبى ﷺ خاتم النبوة ولكن معنى هذا الكلام أنه لا يجوز أن يسمى بعده أحد بالنبي وأما معنى النبوة وهو كون الإنسان

صفحہ 551

مبعوثا من اللہ تعالیٰ الی الخلق مفترض الطاعۃ معصوما من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یری فہو موجود فی الائمۃ بعدہ، فذلک ہو الزندیق۔ مستوی ج ۲/ ۱۳

یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا لیکن نبوت کا مفہوم کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا۔ یہ آپؐ کے بعد بھی اماموں میں موجود ہے تو یہ شخص ”زندیق“ ہے۔

اکابر امت کی مندرجہ بالا تصریحات سے ثابت ہوا کہ ایسا شخص شرعی اصطلاح میں ”زندیق“ کہلاتا ہے۔

کے نصوص کو توڑ مروڑ کر ان سے اپنا عقیدہ باطلہ کشید کرتا ہو یا اسلام کے عقائد متواترہ پر طعن کرتا ہو۔

قادیانی زندیق ہیں

زندیق کی یہ تعریف قادیانیوں پر حرف بحرف صادق آتی ہے۔ وہ خالص کفریہ عقائد رکھتے ہیں جن کا اسلام کے ساتھ ذرا بھی تعلق نہیں، مثلاً

”لعنت“ قرار دیتے ہیں۔ نعوذ باللہ۔

ہے۔

صفحہ 552

رسول اللہ“ مانتے ہیں، جو سراسر کفر ہے۔

کے لئے ثابت کرتے ہیں۔

طرح واجب الایمان کہتے ہیں اور اس میں شک و تردد کو موجب کفر قرار دیتے ہیں۔

انسانیت کے لئے واجب الاتباع اور مدار نجات قرار دیتے ہیں۔

بعثت مکہ میں ہوئی اور دوسری بعثت مرزا قادیان کی بروزی شکل میں۔ قادیان میں ہوئی۔ تیرہ صدیوں تک پہلی بعثت کا دور رہا اور چودھویں صدی سے قادیانی بعثت کا دور شروع ہوا۔

ہیں اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین جس کے مسلمان قائل ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک طبقہ در طبقہ متواتر چلا آ رہا ہے، وہ قادیانیوں کے نزدیک کفر ہے اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔

نہیں ہوتا جب تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ مان کر اس کا کلمہ نہ پڑھے۔ گویا قادیانیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ منسوخ ہو چکا، جیسا کہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا کلمہ منسوخ ہے۔

مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے۔

”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو

صفحہ 553

مانتا ہے، مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(كلمة الفصل ص ۱۱۰)

مرزا بشیر احمد دوسری جگہ لکھتا ہے۔ ”مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں! محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی فتدبر۔“

(كلمة الفصل ص ۱۵۸)

مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی و تعلیم کی پیروی نہ کی جائے، پس جس طرح کہ مسلمانوں کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے حضرات انبیاء سابقین علیہم السلام کی شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں اور اب ان کی پیروی موجب نجات نہیں۔ اسی طرح قادیانیوں کے نزدیک شریعت محمدیہؐ بھی منسوخ ہو چکی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی کے بغیر نجات نہیں۔

جسمانی کا انکار، معراج جسمانی کا انکار۔ وغیرہ۔ جن کی تفصیل علمائے امت مختلف کتابوں میں فرما چکے ہیں۔ اور اس ناکارہ نے ان کے مندرجہ بالا عقائد اپنے رسالہ ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ میں باحوالہ درج کر دیئے ہیں، اس کا مطالعہ ضرور کیا جائے اور اسے زیر نظر تحریر کا ایک حصہ تصور کیا جائے۔ ان تمام کفریات کے باوجود وہ پوری ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ، قرآن و سنت میں تحریف اور تاویل باطل کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور دین مرزائیت کو اسلام اور دین محمدیؐ کو کفر ثابت کرنے کی جسارت کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر الحاد و زندقہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس لئے قادیانی بلاشبہ ملحد و زندیق ہیں اور ان کا وہی حکم ہے جو علامہ شامیؒ نے دروزیہ، تیامنہ، نصیریہ اور قرامطہ کا لکھا ہے کہ یہ واجب القتل ہیں اور ان کی توبہ قابل قبول نہیں۔

صفحہ 554

علامہ شامیؒ لکھتے ہیں ۔

«يعلم مما هنا حكم الدروز والتيامنة فإنهم فى البلاد الشامية يظهرون الإسلام والصوم والصلوة مع أنهم يعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وأن الألوهية تظهر فى شخص بعد شخص ويجحدون الحشر والصوم والصلوة والحج، ويقولون المسمى به غير المعنى المراد ويتكلمون فى جناب نبينا ﷺ كلمات فظيعة، وللعلامة المحقق عبد الرحمن العمادى فيهم فتوى مطولة، وذكر فيها أنهم ينتحلون عقائد النصيرية والإسماعيلية الذين يلقبون بالقرامطة والباطنية الذين ذكرهم صاحب المواقف، ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم فى ديار الإسلام بجزيه ولا غيرها . ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم وفيهم فتوى فى الخيرية أيضا فراجعها . والحاصل أنهم يصدق عليهم إسم الزنديق والمنافق والملحد، ولا يخفى أن إقرارهم بالشهادتين مع هذا الإعتقاد الخبيث لا يجعلهم فى حكم المرتد لعدم التصديق، ولا يصح إسلام أحدهم ظاهرا إلا بشرط التبرى عن جميع ما يخالف دين الإسلام لأنهم يدعون الإسلام ويقرون بالشهادتين وبعد الظفر بهم لا تقبل توبتهم أصلا» .

(در المختار للشامى ص٢٤٤، ج٤)

یہیں سے دروزیہ اور تیامنہ کا حکم معلوم ہو جاتا ہے ۔ یہ لوگ شام کے علاقوں میں اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔ نماز روزہ کرتے ہیں ، حالاں کہ وہ تناسخ ارواح کے قائل ہیں اور خمر اور زنا کو حلال سمجھتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ الوہیت یکے بعد دیگرے مختلف اشخاص میں ظہور کرتی ہے ، وہ حشر و نشر، نماز روزہ اور حج کے قائل نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مسمّٰی بہ معنی مراد کے علاوہ ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ کی جناب میں ناشائستہ کلمات بکتے ہیں ۔ علامہ محقق عبدالرحمن عمادیؒ کا ان کے میں

صفحہ 555

ایک طویل فتویٰ ہے اس میں موصوف نے ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ نصیری اور اسماعیلی لوگوں کے عقائد رکھتے ہیں جن کو قرامطہ اور باطنیہ کہا جاتا ہے اور جن کا ذکر صاحب مواقف نے کیا ہے۔ اور انہوں نے مذاہب اربعہ کے علماء سے نقل کیا ہے کہ ان کو دارالاسلام میں ٹھہرانا حلال نہیں، نہ جزیہ لے کر اور نہ اس کے بغیر، نہ ان سے رشتہ ناتا جائز ہے اور نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے ان کے بارے میں فتاویٰ خیریہ میں بھی ایک فتویٰ ہے اس کی طرف مراجعت کی جائے۔

حاصل یہ ہے کہ ان پر ”زندیق“ ”منافق“ اور ”ملحد“ کا مفہوم صادق آتا ہے ظاہر ہے کہ ان خبیث عقائد کے باوجود ان کا شہادتین کا اقرار کرنا ان کو مرتد کے حکم میں قرار نہیں دیتا، کیونکہ یہاں تصدیق مفقود ہے اور ان میں سے کوئی شخص اسلام کا اظہار کرے تو وہ قابل قبول نہیں جب تک کہ ان تمام عقائد سے برأت کا اظہار نہ کرے جو دین اسلام کے خلاف ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی سے اسلام کے مدعی ہیں اور شہادتین کا اقرار کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ قابو میں آجائیں تو ان کی توبہ قطعاً قبول نہیں۔

زندیق کا حکم

تمام ائمہ کے نزدیک زندیق کا حکم وہی ہے جو مرتد کا ہے، چنانچہ

بلکہ ایک اعتبار سے زندیق کا کفر، مرتد سے بھی بدتر ہے کیونکہ باجماع امت مرتد کو توبہ کی تلقین کی جاتی ہے اور اگر وہ توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہو جائے تو اس سے قتل کی سزا ساقط ہو جاتی ہے۔ لیکن زندیق کی توبہ میں اختلاف ہے، امام شافعیؒ اور مشہور روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ سچے دل سے تائب ہو جائے تو اس سے قتل ساقط ہو

صفحہ 556

جائے گا۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں، یعنی وہ توبہ کا اظہار کرے تب بھی اس سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہوگی۔ امام ابو حنیفہؒ سے بھی یہی منقول ہے کہ زندیق کی توبہ نہیں، امام احمدؒ سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ فتاویٰ قاضی خان، بحر الرائق اور در مختار وغیرہ میں یہ تفصیل ذکر کی گئی کہ اگر زندیق از خود آکر توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور قتل کی سزا اس سے ساقط ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں اور وہ واجب القتل ہے فقہ مالکی کی معروف کتاب المواہب الجلیل میں بھی یہی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔

اس سلسلہ میں فقہاء کی درج ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں امام ابو بکر جصاصؒ لکھتے ہیں

قال أبو حنيفة اقتل الزنديق سرا فإن توبته لا تعرف۔

قال مالك يقتل الزنادقة ولا يستتابون۔

امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ زندیق کو موقع پا کر چپکے سے قتل کر دو کیونکہ اس کی توبہ معروف نہیں۔

امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ زندیقوں کو قتل کیا جائے گا اور ان سے توبہ نہیں لی جائے گی۔

(احکام القرآن للجصاص ص ۲۸۶ ج ۲)

در مختار میں ہے

«وكذا الكافر بسبب الزندقة لا توبة له وجعله في الفتح ظاهر المذهب لكن في حظر الخانية الفتوى على أنه إذا أخذ الساحر أو الزنديق المعروف الداعي قبل توبته ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل، ولو أخذ بعدها قبلت». (در المختار ص٢٤٢، ج٤)

اور اسی طرح جو شخص زندقہ کی وجہ سے کافر ہو گیا ہو اس کی توبہ قابل قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے لیکن فتاویٰ قاضی خاں کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور

صفحہ 557

زندیق جو معروف اور داعی ہو توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائیں اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں بلکہ ان کو قتل کیا جائے اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کر لی تو توبہ قبول کی جائے گی۔

البحرالرائق میں ہے

"لا تقبل توبة الزنديق في ظاهر المذهب وهو من لا يتدين بدين ... في الخانية قالوا إن جاء الزنديق قبل أن يؤخذ فأقر أنه زنديق فتاب عن ذلك تقبل توبته، وإن أخذ ثم تاب لم تقبل توبته ويقتل".

ظاہر مذہب میں زندیق کی توبہ قابل قبول نہیں اور زندیق وہ شخص ہے جو دین کا قائل نہ ہو۔ اور فتاویٰ قاضی خاں میں ہے کہ اگر زندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اقرار کرلے کہ وہ زندیق ہے، پس اس سے توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہے اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔

(البحرالرائق۔ ص ۱۳۶ ج ۵)

فقہ مالکی کی کتاب مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل میں ہے۔

"الزنديق وهو من يظهر الإسلام ويسر الكفر فإذا ثبت عليه الكفر لم يستتب ويقتل ولو أظهر توبته لأن إظهار التوبة لا يخرجه عما يبليه من عادته ومذهبه فإن التقية عند الخوف عين الزندقة أما إذا جاء بنفسه مقرا بزندقته ومعلنا توبته دون أن يظهر عليه فتقبل توبته".

زندیق وہ شخص ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب اس کا کفر ثابت ہو جائے تو اس سے توبہ نہیں لی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا خواہ وہ توبہ کا اظہار کرے کیونکہ توبہ کا اظہار اس کو اس کی

صفحہ 558

اس عادت و مذہب سے نہیں نکالتا جس کو وہ ظاہر کیا کرتا ہے کیونکہ خوف کے وقت بچاؤ کے لئے توبہ کا اظہار عین زندقہ ہے۔ البتہ اگر وہ گرفتار ہوئے بغیر خود آکر اپنے زندقہ کا اقرار کرے اور توبہ کا اعلان کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے (اور اس سے قتل کی سزا ساقط ہو جائے گی)۔

(مواہب الجلیل ص ۲۸۲ ج ۶ بحوالہ التشریع الجنائی الاسلامی ص ۷۲۳ ج ۲)

فقہ شافعی کی کتاب المجموع شرح المہذب میں ہے

«المرتد إذا أسلم ولم يقتل صح إسلامه سواء كانت ردته إلى كفر مظاهر به أهله كاليهودية والنصرانية وعبادة الأصنام أو إلى كفر يستتر به أهله كالزندقة، والزنديق هو الذي يظهر الإسلام ويبطن الكفر فمتى قامت بينة أنه تكلم بما يكفر فإنه يستتاب وإن تاب وإلا قتل، فإن استتيب فتاب قبلت توبته ، وقال بعض الناس إذا أسلم المرتد لم يحقن دمه بحال لقوله ﷺ : " من بدل دينه فاقتلوه " وهذا قد بدل وقال مالك وأحمد وإسحاق لا تقبل توبة الزنديق ولا يحقن دمه بذلك وهو إحدى الروايتين عن أبي حنيفة والرواية الأخرى كمذهبنا » .

مرتد جب مسلمان ہو جائے اور اسے قتل نہ کیا جائے تو اس کا اسلام صحیح ہے۔ خواہ وہ ایسے کفر کی طرف مرتد ہوا ہو جس کو اس مذہب کے لوگ ظاہر کرتے ہیں جیسے یہودیت نصرانیت، بت پرستی۔ خواہ اس کا ارتداد ایسے کفر کی طرف ہوا ہو جس کو اس مذہب کے لوگ چھپاتے ہیں، جیسے زندقہ۔ اور زندیق وہ ہے جو اسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب اس پر شہادت قائم ہو جائے کہ اس نے کلمہ کفر بکا ہے تو اس سے توبہ کے لئے کہا جائے گا اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک۔ ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ اگر اس سے توبہ لی گئی اور اس نے توبہ کر لی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ جب مرتد مسلمان ہو

صفحہ 559

جائے تو اس کا خون محفوظ نہیں ہوتا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”جو شخص اپنے دین کو بدل لے یعنی مرتد ہو جائے اس کو قتل کر دو۔ “ اور اس نے دین بدل لیا تھا امام مالک، امام احمد اور امام اسحاق فرماتے ہیں کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔

(المجموع شرح المہذب ص ۲۳۳ ج ۱۹)

اور فقہ شافعی میں بھی ایک قول یہ ہے کہ جو شخص کفر خفی کی طرف مرتد ہو جائے اس کی توبہ قبول نہیں جیسے زنادقہ اور باطنیہ۔ امام نووی ”منہاج میں لکھتے ہیں۔

«وقيل لا يقبل إسلامه، إن إرتد إلى كفر خفى كزندقة وباطنية» .

اور ایک قول یہ ہے کہ مرتد کا اسلام قبول نہیں کیا جائے گا اگر اس نے کفر خفی کی طرف ارتداد اختیار کیا ہو مثلاً اس نے زندقہ ، یا باطنیت اختیار کر لی ہو۔

(نہایۃ المحتاج شرح المنہاج ص ۳۹۹ ج ۷)

فقہ حنبلی کی کتاب المغنی اور الشرح الکبیر میں ہے۔

«إذا تاب (المرتد) قبلت توبته ولم يقتل أى كفر كان وسواء كان زنديقا ويستسر بالكفر أو لم يكن وهذا مذهب الشافعى والعنبرى ويروى ذلك عن على وابن مسعود وهو إحدى الروايتين عن أحمد واختيار أبى بكر الخلال وقال أنه أولى على مذهب أبى عبد الله والرواية الأخرى لا تقبل توبة الزنديق ومن تكررت ردته وهو قول مالك والليث وإسحاق وعن أبى حنيفة روايتان كهاتين واختيار أبو بكر أنه لا تقبل توبة الزنديق» . (المغنى ص ۸۷ ، ج ۱۰ - الشرح الكبير ص ۸۹ ، ج ۱۰)

صفحہ 560

مرتد جب توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور قتل نہیں کیا جائے گا۔ خواہ اس نے کوئی سا کفر اختیار کیا ہو، خواہ زندیق ہو اور کفر کو چھپاتا ہو یا زندیق نہ ہو۔ یہ امام شافعیؒ اور عنبریؒ کا مذہب ہے اور یہ حضرت علیؓ اور حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے اور یہی ایک روایت امام احمدؒ سے ہے ابو بکر خلال نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ امام احمدؒ کے مذہب میں یہی روایت راجح ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ زندیق اور جو شخص بار بار مرتد ہوتا ہو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔

یہی قول ہے امام مالکؒ، امام لیثؒ اور امام اسحاقؒ کا۔ اور امام ابو حنیفہؒ سے دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔ اور ابو بکرؒ کے نزدیک مختار یہی ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔

امام شمس الدین ابن قدامہ مقدسی مرتد کے نکاح کے باطل ہونے اور اس کے ذبیحہ کی حرمت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

والزندیق کالمرتد فیما ذکرنا

(المغنی مع شرح الکبیر صفحہ ۱۷۱ جلد ۷)

اور مذکورہ بالا احکام میں زندیق، مرتد کی طرح ہے۔

دوسری جگہ لکھتے ہیں

«وحكم سائر الكفار من عبدة الأوثان والزنادقة وغيرهم حكم المجوس فى تحريم ذبائحهم وصيدهم».

اہل کتاب کے علاوہ باقی کفار، بت پرست اور زندیق وغیرہ کا حکم مجوسیوں کا حکم ہے کہ ان کا ذبیحہ اور شکار حرام ہے۔

(المغنی مع الشرح الکبیر ص ۳۹ ج ۱۱)

المجموع شرح مہذب میں ہے۔

«ولا تحل ذبيحة المرتد ولا الوثنى ولا المجوسى لما ذكره المصنف

صفحہ 561

وهكذا حكم الزنديق وغيره من الكفار الذين ليس لهم كتاب . اور حلال نہیں ذبیحہ مرتد کا، نہ بت پرست کا، نہ مجوسی کا۔ اور یہی حکم ہے زندیق وغیرہ ان کفار کا جن کے پاس آسمانی کتاب نہیں۔

(المجموع شرح المهذب ص ۷۵ ج ۹)

خلاصہ بحث

ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ

زندیق بھی۔

ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔ اس لئے کسی قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں حلال نہیں۔

قادیانیوں کے معاملہ میں اشکال کی وجہ

جن حضرات نے قادیانیوں کے یا ان کی اولاد کے ذبیحہ کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے انہیں قادیانی مذہب کی حقیقت سمجھنے میں اشکال پیش آیا۔ اور اس اشکال کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی امت دجل و تلبیس کے فن میں ماہر ہے۔ وہ عام مسلمانوں کے سامنے اپنے اصل عقائد کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنی تقریر و تحریر میں مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی بنیادی اختلاف نہیں، بس ذرا سا اختلاف ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک مہدی ابھی آنے والا ہے اور قادیانیوں کے نزدیک جس کو آنا تھا وہ آگیا۔ اس نکتہ کے سوا ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں قادیانیوں کے اس دجل و تلبیس سے نہ صرف عام مسلمانوں کو قادیانیوں کی اصل حقیقت کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ وہ اہل علم، جنہوں نے قادیانی لٹریچر کا گہرا

صفحہ 562

مطالعہ نہیں کیا وہ اشکال اور تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن جن حضرات نے قادیانی لٹریچر کا بغور مطالعہ کیا ہو اور انہیں قادیانیوں سے گفتگو اور بحث و مناظرہ کا موقع ملا ہو ان کے سامنے یہ حقیقت آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہو جاتی ہے۔ کہ

ہے۔

نبوت محمدیہ کو ماننے اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے سب کافر ہیں۔

اس لئے اسلام اور قادیانیت کا اختلاف چند مسائل یا نکات کا اختلاف نہیں، بلکہ قادیانیت نے نبوت محمدیہ کے بالمقابل ایک نئی نبوت، شریعت محمدی کے مقابلے میں ایک نئی شریعت اور اسلام کے مقابلے میں ایک نیا دین تصنیف کیا ہے۔

کیا دنیا کا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کا مسلمانوں کے ساتھ معمولی سا اختلاف تھا؟

کیا کوئی عالم دین یہ فتویٰ دے سکتا ہے کہ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کا ذبیحہ مسلمانوں کے لئے حلال اور ان سے رشتہ ناتا جائز تھا؟

جو حکم مسیلمہ کذاب کا تھا ٹھیک وہی حکم مسیلمہ پنجاب غلام احمد قادیانی کا ہے۔ اور جو حکم مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کا تھا وہی مسیلمہ پنجاب کے ماننے والوں کا ہے۔ ان کے ساتھ رشتہ ناتا کے جائز ہونے اور ذبیحہ کے حلال ہونے کا سوال ہی خارج از بحث ہے۔

آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

PDF 563

مرزائی اور تعمیر مسجد

اسلام کے ساتھ ایک بدترین مذاق

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 564

دیباچہ طبع اول

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قادیانیت قریباً ایک صدی سے اسلام کے خلاف برسر پیکار ہے مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے ظل حمایت میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ خود کو چودھویں صدی کا محمد رسول اللہ رحمۃ للعالمین اور صاحب کوثر قرار دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کی۔ لہٰذا امت نے بالاتفاق اسے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔

۷ ستمبر ۱۹۷۴ء سے قبل تک حکومتی دائرے میں قادیانیوں کی حیثیت مسلمانوں کی سمجھی جاتی تھی اور اسلام ایک اسلامی ملک میں قادیانیوں کے مقابلہ میں بے بس تھا۔ لیکن ۷ ستمبر کے آئینی فیصلے میں حکومتی سطح پر بھی قادیانیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس لئے اب ان پر وہ تمام احکام جاری ہوں گے، جو کسی غیر مسلم فرقہ کے ہیں۔ ان احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی، مسلمانوں کی اصطلاحات اور مذہبی شعائر کو استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ نہ وہ مسجد تعمیر کر سکتے ہیں۔ نہ مسجد کی شکل و وضع پر اپنی عبادتگاہ بنا سکتے ہیں۔ الغرض وہ تمام اسلامی امور جو ایک کافر اور مسلم کے درمیان امتیاز پیدا کرتے ہیں۔ قادیانی گروہ ان کو اپنانے کا قانوناً اور اخلاقاً مجاز نہیں۔ یہ رسالہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس میں قرآن کریم، حدیث نبوی اور اکابر امت کے ارشادات کی روشنی میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ کسی غیر مسلم کو تعمیر مسجد اور اذان وغیرہ کی اجازت نہیں۔ اور قادیانی چونکہ غیر مسلم ہیں اس لئے ملت اسلامیہ کا فرض ہے کہ انہیں کسی قیمت پر بھی تعمیر مسجد اور اذان کی اجازت نہ دے۔

محمد یوسف لدھیانوی عفا اللہ عنہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان۔

صفحہ 565

دیباچہ طبع دوم

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ امابعد

رسالہ ”مرزائی اور تعمیر مسجد“ معمولی اصلاح و ترمیم کے بعد دوبارہ طباعت کے لئے جارہا ہے، نامناسب نہ ہوگا کہ یہیں مختصراً ان نکات کا بھی جائزہ لیا جائے جو اس مسئلہ میں قادیانیوں کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں۔

طور پر ”غیر مسلم“ قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے وہ مسلمان ہیں، اور اسلامی شعار کو اپنانے کا حق رکھتے ہیں۔“ لیکن قادیانیوں کا یہ اصرار معروضی طور پر غلط ہے، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں باصرار و تکرار موجود ہے، بلکہ خود قادیانیوں کو بھی مسلم ہے، اور یہ اسلام کا مسلمہ اصول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ نبوت کفر ہے، چنانچہ ملا علی قاریؒ ـــــــ جنہیں قادیانی بھی مجدد تسلیم کرتے ہیں ـــــــ شرح فقہ اکبر ص ۔۲۰۲ میں لکھتے ہیں:

دعوى النبوة بعد نبينا ﷺ کفر بالإجماع

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ بالا جماع کفر ہے۔

اور خود مرزا غلام احمد قادیانی بھی دعویٰ نبوت سے پہلے مدعی نبوت کو خارج از اسلام قرار دیتے تھے۔ پس جس طرح یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اسی طرح یہ بھی قطعی فیصلہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا اور اس کو ماننے والے خارج از اسلام ہیں۔

صفحہ 566

مسلم سہی، مگر پاکستان کے آئین کی رو سے ہمیں مذہبی آزادی ہے۔ اس لئے ہم اپنے عقیدہ کے مطابق مساجد کی تعمیر وغیرہ کا حق رکھتے ہیں۔" یہ دلیل بظاہر بڑی مسحور کن ہے، مگر ذرا تامل سے واضح ہو سکتا ہے کہ مذہبی آزادی کے معنی دوسرے مذاہب میں مداخلت یا ان کے حقوق چھیننے کے نہیں ـــــ قادیانی بڑے شوق سے اپنی مذہبی آزادی کا حق استعمال کریں، مگر انہیں اسلامی شعائر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ورنہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو تو اپنے مذہب کے تحفظ کی آزادی ہے لیکن اسلام کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے شعائر کا تحفظ کرے۔

دنیا بھر کے مسلمہ قانون کی رو سے کسی فرد یا گروہ کی آزادی کی آخری حد یہ ہے کہ اس سے دوسروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ دنیا کی کوئی عدالت ”فرد کی آزادی“ کی یہ تشریح قبول نہیں کر سکتی کہ اسے دوسرے کے گھر پر ڈاکہ زنی کا حق بھی حاصل ہے۔ اسی طرح قادیانیوں کی مذہبی آزادی کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ انہیں اسلامی اصطلاحات اور اسلامی شعائر پر ڈاکہ ڈالنے کی بھی اجازت دی جائے۔

نہیں۔ اور یہ کہ غیر مسلم بھی اپنی عبادت گاہ ”مسجد“ کے نام سے تعمیر کر سکتے ہیں۔ لیکن اس رسالہ کے مطالعہ سے واضح ہو جائے گا کہ قادیانیوں کا یہ دعوی واقعات کی دنیا میں قطعی نا قابل التفات ہے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جا سکتا کہ کسی غیر مسلم نے ”مسجد“ کے نام سے اپنی عبادت گاہ بنائی ہو اور مسلمانوں نے انہیں برداشت کیا ہو، اسی لئے یہ بات ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ ”مسجد“ اور اس کے لوازم صرف اہل اسلام کا مذہبی شعار ہے اور کسی غیر مسلم کو اس کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مناسب ہو گا کہ یہاں سر ظفر اللہ خان قادیانی کا ایک حوالہ نقل کر دیا جائے، ۱۹۱۶ء میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مونگیر میں ایک مسجد کی امامت اور تولیت پر جھگڑا ہوا، مقدمہ پٹنہ ہائی کورٹ تک پہنچا، سر ظفر اللہ خان نے قادیانیوں کی طرف سے وکالت کی، اپنی کتاب ”تحدیث نعمت“ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے ظفر اللہ خان لکھتے ۔

صفحہ 567

”دوسری صبح اجلاس شروع ہونے پر چیف جسٹس صاحب نے مجھ سے دریافت کیا تم بحث کرنے کے لئے تیار ہو۔ ظفراللہ خان۔ جناب عالی! میری ایک گذارش ہے۔ آپ کے سامنے دو بالمقابل اپیلیں ہیں، دونوں ماتحت عدالتوں نے قرار دیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد مسلمان ہیں اور مسجد میں فرداً فرداً یا دوسرے نمازیوں میں شامل ہو کر با جماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن احمدی امام کی قیادت میں علیحدہ با جماعت نماز ادا نہیں کر سکتے۔ ہمارا مطالبہ اپیل میں صرف اس قدر ہے کہ ہمیں مسجد میں احمدی امام کی اقتداء میں نماز با جماعت کی بھی اجازت ہونی چاہئے۔ فریق مخالف ماتحت عدالتوں کے فیصلے کے کسی حصے کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ ان کا مطالبہ اپیل میں یہ ہے کہ احمدی جماعت کے افراد مسلمان ہی نہیں اس لئے مسجد میں داخل ہونے کے مجاز نہیں۔ اور مسجد میں کسی صورت میں نماز ادا کرنے کے حقدار نہیں۔ یہ واضح ہے کہ اگر فریق مخالف اپنے مطالبے میں کامیاب ہو جائے تو ہماری اپیل لازماً ساقط ہو جاتی ہے اگر احمدی مسلمان ہی نہیں تو ان کا مسجد کے ساتھ کیا واسطہ اس لئے مناسب ہو گا کہ عدالت پہلے فریق مخالف کے اپیل کی سماعت کرے۔ اگر بحث سماعت کرنے کے بعد عدالت کی رائے ہو کہ احمدی مسلمان نہیں تو ہماری اپیل کی سماعت پر وقت صرف کرنا غیر ضروری ہو گا۔“

(سر ظفراللہ خان تحدیث نعمت ص۔ ۱۶۲)

سر ظفراللہ خان کا عدالت سے یہ کہنا کہ ”اگر احمدی مسلمان نہیں تو ان کا مسجد کے ساتھ کیا واسطہ؟“ ہمارے زیر بحث مسئلہ کا دو ٹوک فیصلہ کر دیتا ہے

واللہ الموفق محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۱۲ ذیقعد ۱۳۹۸ھ ۱۶ اکتوبر ۱۹۷۸ء

صفحہ 568

بسم الله الرحمٰن الرحیم

مسجد کے معنی لغت میں سجدہ گاہ کے ہیں اور اسلام کی اصطلاح میں مسجد اس جگہ کا نام ہے جو مسلمانوں کی نماز کے لئے وقف کر دی جائے۔ ملا علی قاریؒ ”شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں۔

والمسجد لغة محل السجود وشرعًا المحل الموقوف للصلاة فيه

( مرقاة المفاتيح ص٤٤١-ج١ )

مسجد لغت میں سجدہ گاہ کا نام ہے اور شریعت اسلام کی اصطلاح میں وہ مخصوص جگہ جو نماز کے لئے وقف کر دی جائے۔

- مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے۔

مسجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں مشہور مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذکر کرتے ہوئے ”مسجد“ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دیا ہے۔

﴿وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوَاتٌ وَّ مَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا﴾

(الحج: ٤٠ پاره ١٧ رکوع ٦-٣)

”اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعہ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو راہبوں کے خلوت خانے، عیسائیوں کے گرجے، یہودیوں کے معبد اور مسلمانوں کی مسجدیں، جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے، گرا دی جاتیں۔

اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ”صوامع“ سے راہبوں کی خلوت

صفحہ 569

خانے ”بیع“ سے نصاریٰ کے گرجے ، ”صلوات“ سے یہودیوں کے عبادت خانے اور ”مساجد“ سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں۔

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی (۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ”احکام القرآن“ میں لکھتے ہیں۔

”وذهب خصيف إلى أن القصد بهذه الأسماء تقسيم متعبدات الأمم . فالصوامع للرهبان ، والبيع للنصارى والصلوات لليهود ، والمساجد للمسلمين“ (ص۷۲-ج۱۲)

امام خصیف فرماتے ہیں کہ ان ناموں کے ذکر کرنے سے مقصود قوموں کی عبادت گاہوں کی تقسیم ہے۔ چنانچہ ”صوامع“ راہبوں کی ”بیع“ عیسائیوں کی ”صلوات“ یہودیوں کی اور ”مساجد“ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے۔

اور قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (۱۲۲۵ھ) ”تفسیر مظہری“ میں ان چاروں ناموں کی مندرجہ بالا تشریح ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

ومعنى الآية: ”لولا دفع الله الناس لهدّمت فى كل شريعة نبي مكان عبادتهم ، فهدّمت فى زمن موسى الكنائس وفى زمن عيسى البيع والصوامع وفى زمن محمد ﷺ المساجد“ (مظہری ص۳۳۰-ج۶)

آیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو ہر نبی کی شریعت میں جو ان کی عبادت گاہ تھی اسے گرا دیا جاتا چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کنیسے ، عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں گرجے اور خلوت خانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجدیں گرا دی جاتیں۔

صفحہ 570

یہی مضمون تفسیر ابن جریر ص ۱۱۴ ج ۹ تفسیر نیشاپوری بر حاشیہ ابن جریر ص ۶۳ ج ۹، تفسیر خازن ص ۲۹۱ ج ۳، تفسیر بغوی ص ۵۹۴ ج ۵، بر حاشیہ ابن کثیر اور تفسیر روح المعانی ص ۱۶۴ ج ۱۷ وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت اور حضرات مفسرین کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ ”مسجد“ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے اور یہ نام دیگر اقوام و مذاہب کی عبادت گاہوں سے ممتاز رکھنے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتداء اسلام سے لے کر آج تک یہ مقدس نام مسلمانوں کی عبادت گاہ کے علاوہ کسی غیر مسلم فرقہ کی عبادت گاہ کے لئے استعمال نہیں کیا گیا لہٰذا مسلمانوں کا یہ قانونی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ کسی ”غیر مسلم فرقہ“ کو اپنی عبادت گاہ کا یہ نام نہ رکھنے دیں۔

مسجد اسلام کا شعار ہے۔

جو چیز کسی قوم کے ساتھ مخصوص ہو وہ اس کا شعار اور اس کے تشخص کی خاص علامت سمجھی جاتی ہے چنانچہ مسجد بھی اسلام کا خصوصی شعار ہے یعنی کسی قریہ، شہر یا محلہ میں مسجد کا ہونا وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے۔ امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (۱۱۷۶ھ) لکھتے ہیں:-

”فضل بناء المسجد وملازمته وانتظار الصلاة فيه ترجع إلى أنه من شعائر الإسلام وهو قوله ﷺ : «إذا رأيتم مسجداً أو سمعتم مؤذناً فلا تقتلوا أحداً وإنه محل الصلاة ومعتكف العابدين ومطرح الرحمة ويشبه الكعبة من وجه“ (حجة الله البالغة مترجم ص ٤٧٨-ج ١)

صفحہ 571

مسجد بنانے، اس میں حاضر ہونے اور وہاں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ مسجد اسلام کا شعار ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب کسی آبادی میں مسجد دیکھو یا وہاں موذن کی اذان سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔“ (یعنی کسی بستی میں مسجد اور اذان کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں) اور مسجد نماز کی جگہ اور عبادت گزاروں کے اعتکاف کا مقام ہے۔ وہاں رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور وہ ایک طرح سے کعبہ کے مشابہ ہے۔

اگر فوج کا شعار غیر فوجی کو اپنانا جرم ہے اور حج کا شعار کسی دوسرے شخص کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں تو یقیناً اسلام کا شعار بھی کسی غیر مسلم کو اپنانے کی اجازت نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر غیر مسلموں کو کسی اسلامی شعار مثلاً تعمیر مسجد اور اذان کی اجازت دی جائے تو اسلام کا شعار مٹ جاتا ہے اور مسلم و کافر کا امتیاز اٹھ جاتا ہے۔ اسلام اور کفر کے نشانات کو ممتاز کرنے کے لئے جس طرح یہ بات ضروری ہے کہ مسلمان کفر کے کسی شعار کو نہ اپنائیں۔ اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ غیر مسلموں کو کسی اسلامی شعار کے اپنانے کی اجازت نہ دی جائے۔

تعمیر مسجد عبادت ہے، کافر اس کا اہل نہیں۔

نیز مسجد کی تعمیر ایک اعلیٰ ترین اسلامی عبادت ہے اور کافر اس کا اہل نہیں چونکہ کافر میں تعمیر مسجد کی اہلیت ہی نہیں اس لئے اس کی تعمیر کردہ عمارت مسجد نہیں ہو سکتی " قرآن کریم میں صاف صاف ارشاد ہے :۔

﴿ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسَاجِدَ اللّٰهِ شَاهِدِيْنَ عَلٰى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ، اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ، وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُوْنَ ﴾ (التوبۃ: ۱۷)

صفحہ 572

مشرکین کو حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں۔ در آنحالیکہ وہ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے عمل اکارت ہو چکے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔

اس آیت میں چند چیزیں توجہ طلب ہیں۔

اول یہ کہ یہاں مشرکین کو تعمیر مسجد کے حق سے محروم قرار دیا گیا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ کافر ہیں شہدین علی انفسہم بالکفر اور کوئی کافر تعمیر مسجد کا اہل نہیں گویا قرآن یہ بتاتا ہے کہ تعمیر مسجد کی اہلیت اور کفر کے درمیان منافات ہے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہو سکتیں۔ پس جب وہ اپنے عقائد کفر کا اقرار کرتے ہیں تو گویا وہ خود اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تعمیر مسجد کے اہل نہیں۔ نہ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ امام ابو بکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفی (م ۳۷۰ ھ) لکھتے ہیں :-

"عمارة المسجد تكون بمعنيين أحدهما زيارته والكون فيه والآخر ببنائه وتجديد ما استرم منه. فاقتضت الآية منع الكفار من دخول المسجد ومن بنائها وتولى مصالحها والقيام بها لانتظام اللفظ لأمرين“

(أحكام القرآن ص۱۰۸-ج۳)

یعنی مسجد کی آبادی کی دو صورتیں ہیں ایک مسجد کی زیارت کرنا اس میں رہنا اور بیٹھنا دوسرے اس کو تعمیر کرنا اور شکست و ریخت کی اصلاح کرنا، پس یہ آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ مسجد میں نہ کوئی کافر داخل ہو سکتا ہے نہ اس کا بانی و متولی اور خادم بن سکتا ہے کیونکہ آیت کے الفاظ تعمیر ظاہری و باطنی دونوں کو شامل ہیں۔

دوم اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا کافر ہونا تسلیم کرتے ہیں اور خود اپنے آپ کو ”کافر“ کہتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں کوئی کافر بھی اپنے آپ

صفحہ 573

کو ”کافر“ کہنے کے لئے تیار نہیں، بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے عقائد کا برملا اعتراف کرتے ہیں جنہیں اسلام، عقائد کفر قرار دیتا ہے یعنی ان کا کفریہ عقائد کا اظہار اپنے آپ کو کافر تسلیم کرنے کے قائم مقام ہے۔

سوم قرآن کریم کے اس دعویٰ پر کہ کسی کافر کو اپنے عقائد کفریہ پر رہتے ہوئے تعمیر مسجد کا حق حاصل نہیں۔ یہ سوال ہو سکتا تھا کہ کافر تعمیر مسجد کی اہلیت سے کیوں محروم ہیں؟ اگلے جملہ میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کے عمل اکارت ہیں۔ چونکہ کفر سے انسان کے تمام نیک اعمال اکارت اور ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس لئے کافر نہ صرف تعمیر مسجد کا بلکہ کسی بھی عبادت کا اہل نہیں، یہ کفر کی دنیوی خاصیت تھی اور آگے اس کی اخروی خاصیت بیان کی گئی ہے کہ کافر اپنے کفر کی بناء پر دائمی جہنم کے مستحق ہیں۔ اس لئے ان کی اطاعت و عبادت کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ پس یہ آیت اس مسئلہ میں نص قطعی ہے کہ غیر مسلم کافر تعمیر مسجد کے اہل نہیں، اس لئے انہیں تعمیر مساجد کا حق حاصل نہیں۔ اس سلسلہ میں حضرات مفسرین کی چند تصریحات حسب ذیل ہیں۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (م ۳۱۰ھ) لکھتے ہیں۔

"يقول إن المساجد إنما تعمر لعبادة الله فيها . لا للكفر به فمن كان كافراً بالله فليس من شأنه أن يعمر مساجد الله"

(تفسیر ابن جریر (ص۹۳-ج۱۰)

حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسجدیں تو اس لئے تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان میں اللہ کی عبادت کی جائے۔ کفر کے لئے تو تعمیر نہیں کی جاتیں پس جو شخص کافر ہو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کرے۔

امام عربیت جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری (م ۵۲۸ھ) لکھتے ہیں۔

والمعنى: "ما استقام لهم أن يجمعوا بين أمرين متنافيين عمارة متعبدات الله مع الكفر بالله

صفحہ 574

وبعبادته ومعنى شهادتهم على أنفسهم بالكفر ظهور كفرهم“

(تفسیر کشاف صـ ٢٥٣-ج٢)

مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کسی طرح درست نہیں کہ وہ دو متنافی باتوں کو جمع کریں کہ ایک طرف خدا کی مسجدیں بھی تعمیر کریں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کے ساتھ کفر بھی کریں اور ان کے اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے سے مراد ہے ان کے کفر کا ظاہر ہونا۔

امام فخر الدین رازی (م ٦٠٦ھ) لکھتے ہیں۔

قال الواحدی: ”دلت على أن الكفار ممنوعون من عمارة مسجد من مساجد المسلمين. ولو أوصى بها لم تقبل وصيّته“

(تفسیر کبیر صـ ٧-١٦)

واحدی فرماتے ہیں۔ یہ آیت اس مسئلہ کی دلیل ہے کہ کفار کو مسلمانوں کی مسجدوں میں سے کسی مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں اور اگر کافر اس کی وصیت کرے تو اس کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی (م ٦٧١ھ) لکھتے ہیں۔

فيجب إذًا على المسلمين تولى أحكام المساجد ومنع المشركين من دخوله

(تفسیر قرطبی صـ ٨٩-ج٨)

مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ انتظام مساجد کے متولی خود ہوں اور کفار و مشرکین کو ان میں داخل ہونے سے روک دیں۔

صفحہ 575

امام محی السنۃ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی (م ۵۱۶ھ) لکھتے ہیں :

أوجب الله على المسلمين منعهم من ذلك؛ لأن المساجد إنما تعمر لعبادة الله وحده فمن كان كافراً بالله فليس من شأنه أن يعمرها، فذهب جماعة إلى أن المراد منه العمارة من بناء المسجد ومرمته عند الخراب فيمنع الكافر منه حتى لو أوصى به لا يمتثل، وحمل بعضهم العمارة ههنا على دخول المسجد والقعود فيه (تفسير معالم التنزيل بغوی ص۵۵-ج۳ بر حاشیہ خازن)

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ کافروں کو تعمیر مسجد سے روک دیں کیونکہ مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں پس جو شخص کافر ہو اس کا یہ کام نہیں کہ وہ مسجدیں تعمیر کرے ایک جماعت کا قول ہے کہ تعمیر سے مراد یہاں تعمیر معروف ہے یعنی مسجد بنانا اور اس کی شکست و ریخت کی اصلاح و مرمت کرنا۔ پس کافر کو اس عمل سے باز رکھا جائے گا چنانچہ اگر وہ اس کی وصیت کر مرے تو پوری نہیں کی جائے گی اور بعض نے عمارۃ کو یہاں مسجد میں داخل ہونے اور اس میں بیٹھنے پر محمول کیا ہے۔

شیخ علاء الدین علی بن محمد البغدادی الخازن (م ۷۲۵ھ) نے تفسیر خازن میں اس مسئلہ کو مزید تفصیل سے تحریر فرمایا ہے مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی (م ۱۲۲۵ھ) لکھتے ہیں :

صفحہ 576

فإنه يجب على المسلمين منعهم من ذلك؛ لأن المساجد إنما تعمر لعبادة الله وحده فمن كان كافراً بالله فليس من شأنه أن يعمرها (تفسير مظهرى ص١٤٦-ج٤)

چنانچہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ کافروں کو تعمیر مسجد سے روک دیں کیونکہ مسجدیں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں پس جو شخص کہ کافر ہو وہ ان کو تعمیر کرنے کا اہل نہیں۔

(تفسیر مظہری ص ۱۴۶ ج ۴)

اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ (م ۱۲۳۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: ”اور علماء نے لکھا ہے کہ کافر چاہے مسجد بناوے اس کو منع کریئے۔“ (موضح قرآن)

ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو یہ حق نہیں دیا ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کریں اور یہ کہ اگر وہ ایسی جرأت کریں تو ان کو روک دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔

تعمیر مسجد صرف مسلمانوں کا حق ہے

قرآن کریم نے جہاں یہ بتایا کہ کافر تعمیر مسجد کا اہل نہیں وہاں یہ تصریح بھی فرمائی ہے کہ تعمیر مسجد کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے چنانچہ ارشاد ہے:

﴿إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر، وأقام الصلاة وآتى الزكاة ولم يخش إلا الله، فعسى أولئك أن يكونوا من المهتدين﴾

(التوبة: ۱۸ پارہ ۱۱ رکوع ۳-۹)

صفحہ 577

اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو بس اس شخص کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، نماز ادا کرتا ہو، زکوٰۃ دیتا ہو۔ اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ پس ایسے لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔

(التوبہ ۱۸ پارہ ۱۱ رکوع ۹/۳)

اس آیت میں جن صفات کا ذکر فرمایا وہ مسلمانوں کی نمایاں صفات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص پورے دین محمدی پر ایمان رکھتا ہو اور کسی حصہ دین کا منکر نہ ہو اسی کو تعمیر مساجد کا حق حاصل ہے۔ غیر مسلم فرقے جب تک دین اسلام کی تمام باتوں کو تسلیم نہیں کریں گے تعمیر مسجد کے حق سے محروم رہیں گے۔

غیر مسلموں کی تعمیر کردہ مسجد، مسجد ضرار ہے

اسلام کے چودہ سو سالہ دور میں کبھی کسی غیر مسلم نے یہ جرأت نہیں کی کہ اپنا عبادت خانہ "مسجد" کے نام سے تعمیر کرے۔ البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض غیر مسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی جو "مسجد ضرار" کے نام سے مشہور ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی الہی سے ان کے کفر و نفاق کی اطلاع ہوئی تو آپؐ نے اسے فی الفور منہدم کرنے کا حکم فرمایا۔ قرآن کریم کی آیات ذیل اسی واقعہ سے متعلق ہیں۔

﴿وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيْقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ ط وَلَيَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَا اِلَّا الْحُسْنٰى ط وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكَاذِبُوْنَ . لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا ﴾ إلى قوله: ﴿ لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً فِىْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّا اَنْ تَقَطَّعَ

صفحہ 578

قُلُوْبُهُمْ ، وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ﴾

(سورة التوبہ آیات ۱۰۷-۱۱۰، پ ۱۱ ع ۱۳-۳)

اور جن لوگوں نے مسجد بنائی کہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور کفر کریں اور اہل ایمان کے درمیان تفرقہ ڈالیں اور اللہ اور رسول کے دشمن کے لئے ایک کمین گاہ بنائیں اور یہ لوگ زور کی قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعا جھوٹے ہیں۔ آپ اس میں کبھی قیام نہ کیجئے...... ان کی یہ عمارت جو انھوں نے بنائی۔ ہمیشہ ان کے دل کا کھٹکا بنی رہے گی۔ مگر یہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

(سورة التوبہ آیات ۱۰۷- ۱۱۰ پ ۱۱ ع ۳/۱۳)

ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ :

گی۔

ایسی نام نہاد مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔ تمام مفسرین اور اہل سیر نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ”مسجد ضرار“ منہدم کر دی گئی اور اسے نذر آتش کر دیا گیا۔ مرزائی منافقوں کی تعمیر کردہ نام نہاد مسجدیں بھی ”مسجد ضرار“ ہیں اور وہ بھی اسی سلوک کی مستحق ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسجد ضرار“ سے روا رکھا تھا۔

صفحہ 579

کافر ناپاک ، اور مسجدوں میں ان کا داخلہ ممنوع

یہ امر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ قرآن کریم نے کفار و مشرکین کو ان کے ناپاک اور گندے عقائد کی بنا پر نجس قرار دیا ہے اور اس معنوی نجاست کے ساتھ ان کی آلودگی کا تقاضا یہ ہے کہ مساجد کو ان کے وجود سے پاک رکھا جائے۔ ارشاد خداوندی ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا﴾ (پ ۱۱ ع ٤-١٠ سورة توبه آيت ٢٨)

اے ایمان والو! مشرک تو نرے ناپاک ہیں۔ پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں۔

(پ ۱۱ ع ۴/ ۱۰ سورۃ توبہ آیت ۲۸)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔ امام ابو بکر جصاص رازی (م ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں

”إطلاق اسم النجس على المشرك من جهة أن الشرك الذي يعتقده يجب اجتنابه كما يجب اجتناب النجاسات والأقذار فلذلك سماهم نجسا، والنجاسة في الشرع تنصرف على وجهين: أحدهما نجاسة الأعيان، والآخر نجاسة الذنوب ... وقد أفاد قوله : ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾، منعهم عن دخول المسجد إلا لعذر، إذ كان علينا تطهير المساجد من الأنجاس“ (أحكام القرآن ص١٠٨-ج٣)

صفحہ 580

مشرک پر ”نجس“ کا اطلاق اس بنا پر کیا گیا کہ جس شرک کا وہ اعتقاد رکھتا ہے، اس سے پرہیز کرنا، اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ نجاستوں اور گندگیوں سے۔ اسی لئے ان کو نجس کہا اور شرع میں نجاست کی دو قسمیں ہیں۔ ایک نجاست جسم، دوم نجاست گناہ ...... اور ارشاد خداوندی ”انما المشرکون نجس“ بتاتا ہے کہ کفار کو دخول مسجد سے باز رکھا جائے گا۔ الا یہ کہ کوئی عذر ہو کیونکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجدوں کو نجاستوں سے پاک رکھیں۔

(احکام القرآن ص ۱۰۸ ج ۳)

امام محی السنتہ بغوی (م ۵۱۶ھ ) معالم التنزیل میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

وجملة بلاد الإسلام فى حق الكفار على ثلاثة أقسام: أحدها الحرم فلا يجوز للكافر أن يدخله بحال ذميا كان أو مستأمنا بظاهر هذه الآية ... وجوز أهل الكوفة للمعاهد دخول الحرم، والقسم الثانى من بلاد الإسلام الحجاز، فيجوز للكافر دخولها بالإذن، ولكن لا يقيم فيها أكثر من مقام السفر، وهو ثلاثة أيام .... والقسم الثالث سائر بلاد الإسلام يجوز للكافر أن يقيم فيها بذمة أو أمان، ولكن لا يدخلون المساجد إلا بإذن مسلم

اور کفار کے حق میں تمام اسلامی علاقے تین قسم پر ہیں۔ ایک حرم مکہ۔ پس کافر کو اس میں داخل ہونا کسی حال میں بھی جائز نہیں۔ خواہ کسی اسلامی مملکت کا شہری ہو یا امن لے کر آیا ہو کیونکہ ظاہر آیت کا یہی

صفحہ 581

تقاضا ہے اور اہل کوفہ نے ذمی کے لئے حرم میں داخل ہونے کو جائز رکھا ہے اور دوسری قسم حجاز مقدس ہے۔ پس کافر کے لئے اجازت لے کر حجاز میں داخل ہونا جائز ہے۔ لیکن تین دن سے زیادہ وہاں ٹھہرنے کی اسے اجازت نہ ہوگی اور تیسری قسم دیگر اسلامی ممالک ہیں۔ ان میں کافر کا مقیم ہونا جائز ہے۔ بشرطیکہ ذمی ہو یا امن لے کر آئے۔ لیکن وہ مسلمانوں کی مسجدوں میں مسلمان کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے۔

(تفسیر بغوی ص ۶۳ ج ۳)

اس سلسلہ میں دو چیزیں خاص طور سے قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ آیت میں صرف مشرکین کا حکم ذکر کیا گیا ہے مگر مفسرین نے اس آیت کے تحت عام کفار کا حکم بیان فرمایا ہے کیونکہ کفر کی نجاست سب کافروں کو شامل ہے۔

دوم یہ کہ کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں تو اختلاف ہے۔ امام مالک کے نزدیک کسی مسجد میں کافر کا داخل ہونا جائز نہیں۔ امام شافعی کے نزدیک مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں کافر کو مسلمان کی اجازت سے داخل ہونا جائز ہے اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک بوقت ضرورت ہر مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔ (روح المعانی ص ۶۹ ج ۱۱) لیکن کسی کافر کا مسجد کا بانی، متولی یا خادم ہونا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد ۹ ھ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مسجد کے ایک جانب ٹھہرایا اور مسجد نبوی ہی میں انھوں نے اپنی نماز بھی ادا کی۔ حافظ ابن قیم (م ۷۵۱ ھ) اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔

فصل فى فقه هذه القصة ففيها جواز دخول أهل الكتاب مساجد المسلمين . وفيها تمكين أهل الكتاب من صلاتهم بحضرة المسلمين وفى مساجدهم أيضًا .

صفحہ 582

إذا كان ذلك عارضاً ولا يمكنوا من اعتياد ذلك .

فصل اس قصہ کے فقہ کے بیان میں پس اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل کتاب کا مسلمانوں کی مسجدوں میں داخل ہونا جائز ہے اور کہ ان کو مسلمانوں کی موجودگی میں اپنی عبادت کا موقع دیا جائے گا اور مسلمانوں کی مسجدوں میں بھی۔ جب کہ یہ ایک عارضی صورت ہو لیکن ان کو اس بات کا موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ اس کو اپنی مستقل عادت ہی بنا لیں۔

(زاد المعاد ص ۳۹ ج ۲ مطبوعہ مصر ۱۳۲۴ھ)

اور قاضی ابو بکر ابن العربی (م ۵۴۳ھ) لکھتے ہیں :

دخول ثمامة في المسجد في الحديث الصحيح، ودخول أبي سفيان فيه على الحديث الآخر كان قبل أن ينزل ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذين آمنوا إِنَّما المشركون نَجَس فلا يقربوا المسجد الحَرَام بعد عامهم هَذا ﴾ فمنع الله المشركين من دخول المسجد الحرام نصاً ومنع دخلوه سائر المساجد تعليلاً بالنجاسة بوجوب صيانة المسجد عن كل نجس وهذا كله ظاهر لا خفاء فيه (أحكام القرآن ۹۰۲-ج۲)

ثمامہ کا مسجد میں داخل ہونا اور دوسری حدیث کے مطابق ابو سفیان کا اس میں داخل ہونا۔ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ :

”اے ایمان والو ! مشرک ناپاک ہیں پس اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں“ ۔ پس اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو مسجد

صفحہ 583

حرام میں داخل ہونے سے صاف صاف منع کر دیا اور دیگر مساجد سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ناپاک ہیں اور چونکہ مسجد کو ہر نجاست سے پاک رکھنا ضروری ہے اس لئے کافروں کے ناپاک وجود سے بھی اس کو پاک رکھا جائے گا اور یہ سب کچھ ظاہر ہے جس میں ذرا بھی خفا نہیں۔

(احکام القرآن ص ۹۰، ج ۲)

منافقوں کو مسجدوں سے نکال دیا جائے

جو شخص مرزائیوں کی طرح عقیدہ کفر رکھنے کے باوجود اسلام کا دعویٰ کرتا ہو وہ اسلام کی اصطلاح میں منافق ہے اور منافقین کے بارے میں یہ حکم ہے کہ انھیں مسجدوں سے نکال دیا جائے چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا اے فلاں اٹھ ، یہاں سے نکل جا کیونکہ تو منافق ہے۔ او فلاں ! تو بھی اٹھ ، نکل جا، تو منافق ہے۔ اس طرح آپؐ نے ایک ایک کا نام لے کر ۳۶ آدمیوں کو مسجد سے نکال دیا۔ حضرت عمرؓ کو آنے میں ذرا دیر ہو گئی تھی، چنانچہ وہ اس وقت آئے جب یہ منافق مسجد سے نکل رہے تھے تو انھوں نے خیال کیا کہ شاید جمعہ کی نماز ہو چکی ہے اور لوگ نماز سے فارغ ہو کر واپس جا رہے ہیں، لیکن جب اندر گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی نماز نہیں ہوئی۔ مسلمان ابھی بیٹھے ہیں۔ ایک شخص نے بڑی مسرت سے حضرت عمرؓ سے کہا۔ اے عمرؓ ! مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آج منافقوں کو ذلیل و رسوا کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر بیک بینی و دو گوش انھیں مسجد سے نکال دیا۔

(تفسیر روح المعانی ص ۱۰ ج ۱۱)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو غیر مسلم فرقہ منافقانہ طور پر اسلام کا دعویٰ کرتا ہو اس کو مسجدوں سے نکال دینا ہی سنت نبوی ہے۔ -

صفحہ 584

منافقوں کی مسجد، مسجد نہیں

فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم مرتد کا ہے۔ اس لئے نہ تو انھیں مسجد بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور نہ ان کی تعمیر کردہ مسجد کو مسجد کا حکم دیا جاسکتا ہے شیخ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ لکھتے ہیں :

ولو بنوا مسجدا لم يصر مسجدا ففى تنوير الأبصار من وصايا الذمى وغيره، وصاحب الهوى إذا كان لا يكفر فهو بمنزلة المسلم فى الوصية وإن كان يكفر فهو بمنزلة المرتد

ایسے لوگ اگر مسجد بنائیں تو وہ مسجد نہیں ہوگی۔ چنانچہ ”تنویر الابصار“ کے وصایا ذمی وغیرہ میں ہے کہ گمراہ فرقوں کی گمراہی اگر حد کفر کو پہنچی ہوئی نہ ہو تب تو وصیت میں ان کا حکم مسلمان جیسا ہے اور اگر حد کفر کو پہنچی ہوئی ہو تو بمنزلہ مرتد کے ہیں۔

(اکفار الملحدین طبع جدید ص ۱۲۸)

منافقوں کے مسلمان ہونے کی شرط۔

یہاں یہ تصریح بھی ضروری ہے کہ کسی گمراہ فرقے کا دعویٰ اسلام کرنا یا اسلامی کلمہ پڑھنا اس امر کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ان تمام عقائد سے توبہ کا اعلان کرے جو مسلمانوں کے خلاف ہیں چنانچہ حافظ بدر الدین عینیؒ عمدۃ القاری شرح بخاری میں لکھتے ہیں :

يجب عليهم عند الدخول فى الإسلام أن يقروا ببطلان ما يخالفون به المسلمين فى الاعتقاد بعد

صفحہ 585

إقرارهم بالشهادتين

(صفحہ ۲۹۶ جلد ۲)

ان کے ذمہ یہ لازم ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے توحید و رسالت کی شہادت کے بعد ان تمام عقائد و نظریات کے باطل ہونے کا اقرار کریں جو وہ مسلمانوں کے خلاف رکھتے ہیں۔

(صفحہ ۲۹۶ جلد ۲)

اور حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح بخاری میں قصہ اہل نجران کے ذیل میں لکھتے ہیں:

وفى قصة أهل نجران من الفوائد أن إقرار الكافر بالنبوة لا يدخله فى الإسلام حتى يلتزم أحكام الإسلام

قصہ اہل نجران سے دیگر مسائل کے علاوہ ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر کی جانب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار اسے اسلام میں داخل نہیں کرتا جب تک کہ احکام اسلام کو قبول نہ کرے۔

(صفحہ ۷۴ جلد ۸)

علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:

لا بد مع الشهادتين فى العيسوى من أن يتبرأ من دينه

عیسوی فرقہ کے مسلمان ہونے کے لئے اقرار شہادتین کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب سے برأت کا اعلان کرے۔

(رد المحتار ص ۳۵۳ ج ۱)

صفحہ 586

ان تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی فرقہ اس وقت تک مسلمان تصور نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ اہل اسلام کے عقائد کے صحیح اور اپنے عقائد کے باطل ہونے کا اعلان نہ کرے اور اگر وہ اپنے عقائد کفر کو صحیح سمجھتا ہے اور مسلمانوں کے عقائد کو غلط تصور کرتا ہے تو اس کی حیثیت مرتد کی ہے اور اسے اپنی عبادت گاہ کو مسجد کی حیثیت سے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

کسی غیر مسلم کا مسجد کے مشابہ عبادت گاہ بنانا

اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے کہ کیا کوئی غیر مسلم اپنی عبادت گاہ (مسجد کے نام سے نہ سہی لیکن) وضع و شکل میں مسجد کے مشابہ بنا سکتا ہے؟ کیا اسے یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں قبلہ رخ محراب بنائے، مینار بنائے، اس میں منبر رکھے اور وہاں اسلام کے معروف طریقہ پر اذان دے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام امور جو عرفاً و شرعاً مسلمانوں کی مسجد کے لئے مخصوص ہیں کسی غیر مسلم کو ان کے اپنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس لئے کہ اگر کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ مسجد کی وضع و شکل پر تعمیر کی گئی ہو۔ مثلاً اس میں قبلہ رخ محراب بھی ہو، مینار اور منبر بھی ہو۔ وہاں اسلامی اذان اور خطبہ بھی ہوتا ہو تو اس سے مسلمانوں کو دھوکا اور التباس ہوگا۔ ہر دیکھنے والا اس کو ”مسجد“ ہی تصور کرے گا جب کہ اسلام کی نظر میں غیر مسلم کی عبادت گاہ مسجد نہیں بلکہ مجمع شیاطین ہے۔

(شامی ص ۳۸۰ / ۱ مطلب: یکرہ الصلوٰۃ فی الکنیسہ ۔ البحر الرائق ص ۲۱۴ / ۷)

حافظ ابن تیمیہ (م ۷۲۸ ھ) سے سوال کیا گیا کہ آیا کفار کی عبادت گاہوں کو بیت اللہ کہنا صحیح ہے جواب میں فرمایا :

ليست بيوت الله وإنما بيوت الله المساجد بل هى بيوت يكفر فيها بالله وإن كان قد يذكر فيها، فالبيوت بمنزلة أهلها وأهلها كفار فهى بيوت عبادة

صفحہ 587

الكفار

یہ بیت اللہ نہیں۔ بیت اللہ مسجدیں ہیں یہ تو وہ مقامات ہیں جہاں کفر ہوتا ہے اگرچہ ان میں ذکر بھی ہوتا ہو۔ پس مکانات کا وہی حکم ہے جو ان کے بانیوں کا ہے۔ ان کے بانی کافر ہیں۔ پس یہ کافروں کی عبادت گاہیں ہیں۔

(فتاویٰ ابن تیمیہ ص ۱۳۳ ج ۱)

امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (م ۳۱۰ھ) ”مسجد ضرار“ کے بارے میں نقل کرتے ہیں :

عمد ناس من أهل النفاق فابتنوا مسجدا بقبا
ليضاهوا به مسجد رسول ﷺ

اہل نفاق میں سے چند لوگوں نے یہ حرکت کی کہ قبا میں ایک مسجد بنا ڈالی جس سے مقصود یہ تھا کہ وہ اس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد سے مشابہت کریں۔

(تفسیر ابن جریر ص ۱۷ / ۱۱)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے منافقانہ طور پر ”مسجد ضرار“ بنائی تھی ان کا مقصد یہی تھا کہ اپنی نام نہاد مسجد کو اسلامی مساجد کے مشابہ بنا کر مسلمانوں کو دھوکہ دیں، لہٰذا غیر مسلموں کی جو عبادت گاہ مسجد کی وضع و شکل پر ہوگی وہ ”مسجد ضرار“ ہے اور اس کا منہدم کرنا لازم ہے علاوہ ازیں فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں کا لباس اور ان کی وضع قطع مسلمانوں سے ممتاز ہونی چاہئیں۔ (یہ مسئلہ فقہ اسلامی کی ہر کتاب میں باب احکام اہل الذمہ کے عنوان کے تحت موجود ہے۔)

چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ملک شام کے عیسائیوں سے جو عہد نامہ لکھوایا تھا۔ اس کا پورا متن کنز العمال جلد چہارم ص ۳۱۹ حدیث نمبر ۲۴۰۰ کے تحت درج ہے۔ اس کا ایک فقرہ یہاں نقل کرتا ہوں۔

صفحہ 588

ولا تشبہ بہم فی شیء من لباسہم من قلنسوۃ ولا عمامۃ ولا نعلین ولا فرق شعر، ولا نتكلم بكلامہم ولا نكتنی بكناہم...

اور ہم مسلمانوں کے لباس اور ان کی وضع قطع میں ان کی مشابہت نہیں کریں گے، نہ ٹوپی میں، نہ دستار میں، نہ جوتے میں نہ سر کی مانگ نکالنے میں اور ہم مسلمانوں کے کلام اور اصطلاحات میں بات نہیں کریں گے اور نہ ان کی کنیت اپنائیں گے۔

اندازہ فرمائیے، جب لباس، وضع قطع، ٹوپی، دستار، پاؤں کے جوتے اور سر کی مانگ تک میں کافروں کی مسلمانوں سے مشابہت گوارا نہیں کی گئی تو اسلام یہ کس طرح برداشت کرسکتا ہے کہ غیر مسلم کافر اپنی عبادت گاہیں مسلمانوں کی مسجد کی شکل و وضع پر بنانے لگے۔

مسجد کا قبلہ رخ ہونا اسلام کا شعار ہے

اوپر عرض کیا جاچکا ہے کہ مسجد اسلام کا بلند ترین شعار ہے۔ ”مسجد“ کے اوصاف و خصوصیات پر الگ الگ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں ایک ایک چیز مستقل طور پر بھی شعار اسلام ہے۔ مثلاً استقبال قبلہ کو لیجئے۔ مذاہب عالم میں یہ خصوصیت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس کی اہم ترین عبادت ”نماز“ میں بیت اللہ شریف کی طرف منہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے استقبال قبلہ کو اسلام کا خصوصی شعار قرار دے کر اس شخص کے جو ہمارے قبلہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتا ہو۔ مسلمان ہونے کی علامت قرار دیا ہے۔

”من صلی صلاتنا واستقبل قبلتنا وأکل ذبیحتنا فذلک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ وذمۃ رسولہ، فلا

صفحہ 589

تُخفروا الله ذمته »

جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھتا ہو۔ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتا ہو۔ ہمارا ذبیحہ کھاتا ہو۔ پس یہ شخص مسلمان ہے جس کے لئے اللہ کا اور اس کے رسول کا عہد ہے۔ پس اللہ کے عہد کو مت توڑو۔

(صحیح بخاری ص ۵۶ ج ۱)

ظاہر ہے کہ اس حدیث کا یہ منشا نہیں کہ ایک شخص خواہ خدا اور رسول کا منکر ہو۔ قرآن کریم کے قطعی ارشادات کو جھٹلاتا اور مسلمانوں سے الگ عقائد رکھتا ہو تب بھی وہ ان تین کاموں کی وجہ سے مسلمان ہی شمار ہو گا۔ نہیں بلکہ حدیث کا منشا یہ ہے کہ نماز، استقبال قبلہ اور ذبیحہ کا معروف طریقہ صرف مسلمانوں کا شعار ہے جو اس وقت کے مذاہب عالم سے ممتاز رکھا گیا تھا۔ پس کسی غیر مسلم کو یہ حق حاصل نہیں کہ عقائد کفر رکھنے کے باوجود ہمارے اس شعار کو اپنائے۔ چنانچہ حافظ بدر الدین عینیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔

واستقبال قبلتنا مخصوص بنا

اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرنا ہمارے ساتھ مخصوص ہے

(عمدۃ القاری ص ۲۹۶ ج ۲)

اور حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں :

وحكمة الاقتصار على ما ذكر من الأفعال أن من يقر بالتوحيد من أهل الكتاب وإن صلّوا واستقبلوا وذبحوا لكنّهم لا يصلون مثل صلاتنا ولا يستقبلون قبلتنا ومنهم من يذبح بغير الله ومنهم من لا يأكل ذبيحتنا والاطلاع على حال المرء في صلاته وأكله يمكن بسرعة في أوّل يوم بخلاف غير ذلك من

صفحہ 590

أمور الدين (فتح الباری ص٤١٧ ج١) اور مذکورہ بالا افعال پر اکتفا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ توحید کے قائل ہوں وہ اگر چہ نماز بھی پڑھتے ہوں۔ قبلہ کا استقبال کرتے ہوں اور ذبح بھی کرتے ہوں لیکن وہ نہ تو ہمارے جیسی نماز پڑھتے ہیں نہ ہمارے قبلہ کا استقبال کرتے ہیں اور ان میں سے بعض غیر اللہ کے لئے ذبح کرتے ہیں۔ بعض ہمارا ذبیحہ نہیں کھاتے اور آدمی کی حالت نماز پڑھنے اور کھانا کھانے سے فوراً پہلے دن پہچانی جاتی ہے۔ دین کے دوسرے کاموں میں اتنی جلدی اطلاع نہیں ہوتی۔ اس لئے مسلمان کی تین نمایاں علامتیں ذکر فرمائیں۔

(فتح الباری ص٤٣١ ج١)

اور شیخ ملا علی القاری لکھتے ہیں :

إنما ذكره مع اندراجه في الصلاة لأن القبلة أعرف ؛ لأن كل أحدٍ يعرف قبلته وإن لم يعرف صلاته ولأن في صلاتنا ما يوجد في صلاة غيرنا واستقبال قبلتنا مخصوص بنا

نماز میں استقبال قبلہ خود آتا ہے مگر اس کو الگ ذکر فرمایا۔ کیونکہ قبلہ اسلام کی سب سے معروف علامت ہے۔ کیونکہ ہر شخص اپنے قبلہ کو جانتا ہے۔ خواہ نماز کو نہ جانتا ہو اور اس لئے بھی کہ ہماری نماز کی بعض چیزیں دوسرے مذاہب کی نماز میں بھی پائی جاتی ہیں مگر ہمارے قبلہ کی جانب منہ کرنا یہ صرف ہماری خصوصیت ہے۔

(مرقاۃ المفاتیح ص۷۲ ج۱)

ان تشریحات سے واضح ہوا کہ ”استقبال قبلہ“ اسلام کا اہم ترین شعار اور مسلمانوں کی معروف ترین علامت ہے۔ اسی بنا پر اہل اسلام کا لقب ”اہل قبلہ“ قرار دیا گیا ہے پس جو شخص اسلام کے قطعی متواتر اور مسلمہ عقائد کے خلاف کوئی عقیدہ

صفحہ 591

رکھتا ہو وہ ”اہل قبلہ“ میں داخل نہیں نہ اسے استقبال قبلہ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

محراب اسلام کا شعار ہے

مسجد کے مسجد ہونے کے لئے کوئی مخصوص شکل و وضع لازم نہیں کی گئی لیکن مسلمانوں کے عرف میں چند چیزیں مسجد کی مخصوص علامت کی حیثیت میں معروف ہیں۔ ایک ان میں سے مسجد کی محراب ہے جو قبلہ کا رخ متعین کرنے کے لئے تجویز کی گئی ہے۔ حافظ بدر الدین عینی عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں۔

ذكر أبو البقاء أنّ جبريل عليه الصلاة والسلام وضع محراب رسول الله ﷺ مسامة الكعبة وقيل: كان ذلك بالمعاينة بأن كشف الحال وأزيلت الحوائل فرأى رسول الله ﷺ الكعبة فوضع قبلة مسجده عليها

(ترجمہ) اور ابو البقاء نے ذکر کیا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے کعبہ کی سیدھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محراب بنائی اور کہا گیا ہے کہ یہ معاینہ کے ذریعہ ہوا۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے پردے ہٹا دیئے گئے اور حالت آپ پر منکشف ہو گئی۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو دیکھ کر اپنی مسجد کا قبلہ رخ متعین کیا۔

(عمدۃ القاری شرح بخاری ص ۲۹۷ ج ۲)

اس سے دو امر واضح ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ محراب کی ضرورت تعین قبلہ کے لئے ہے تاکہ محراب کو دیکھ کر نمازی اپنا قبلہ رخ متعین کر سکے۔ دوم یہ کہ جب سے مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی، اسی وقت سے محراب کا نشان بھی لگا دیا گیا۔ خواہ حضرت جبریل

صفحہ 592

علیہ السلام نے اس کی نشاندہی کی ہو۔ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ کشف خود ہی تجویز فرمائی ہو۔ البتہ یہ جوف دار محراب جو آجکل مساجد میں ”قبلہ رخ“ ہوا کرتی ہے، اس کی ابتداء خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس وقت کی تھی جب وہ ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے (وفاء الوفاء صفحہ ۵۲۵ وما بعد) یہ صحابہ و تابعین کا دور تھا اور اس وقت سے آج تک مسجد میں محراب بنانا مسلمانوں کا شعار رہا ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے :

وجهة الكعبة تعرف بالدليل، والدليل فى الأمصار
والقرى المحاريب التى نصبتها الصحابة والتابعون
رضى الله عنهم أجمعين، فعلينا اتباعهم فى استقبال
المحاريب المنصوصة

(ترجمہ) اور قبلہ کا رخ کسی علامت سے معلوم ہو سکتا ہے اور شہروں اور آبادیوں میں قبلہ کی علامت وہ محرابیں ہیں جو صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم نے بنائیں۔ پس بنی ہوئی محرابوں میں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔

(البحر الرائق ص ۲۸۵ ج ۱)

یعنی یہ محرابیں، جو مسلمانوں کی مسجدوں میں صحابہ و تابعین کے زمانے سے چلی آتی ہیں۔ دراصل قبلہ کا رخ متعین کرنے کے لئے ہیں اور اوپر گزر چکا ہے کہ استقبالِ قبلہ ملت اسلامیہ کا شعار ہے اور محراب جہتِ قبلہ کی علامت کے طور پر مسجد کا شعار ہے۔ اس لئے کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ میں محراب کا ہونا ایک تو اسلامی شعار کی توہین ہے۔ اس کے علاوہ ان محراب والی عبادت گاہوں کو دیکھ کر ہر شخص انہیں ”مسجد“ تصور کرے گا اور یہ اہل اسلام کے ساتھ فریب اور دغا ہے، لہٰذا جب تک کوئی غیر مسلم گروہ مسلمانوں کے تمام اصول و عقائد کو تسلیم کر کے مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہیں ہوتا۔ تب تک اس کی ”مسجد نما“ عبادت گاہ عیاری اور مکاری کا بدترین اڈا ہے

صفحہ 593

جس کا اکھاڑنا مسلمانوں پر لازم ہے، فقہائے امت نے لکھا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بے وقت اذان دیتا ہے تو یہ اذان سے مذاق ہے۔

إن الكافر لو أذن في غير الوقت لا يصير به مسلما

لأنه يكون مستهزأ

کافر اگر بے وقت اذان کہے تو وہ اس سے مسلمان نہیں ہو گا کیونکہ وہ در اصل مذاق اڑاتا ہے۔

(شامی ص ۳۵۳ ج ۱ آغاز کتاب الصلوٰۃ)

ٹھیک اسی طرح سے کسی غیر مسلم گروہ کا اپنے عقائد کفر کے باوجود اسلامی شعائر کی نقالی کرنا اور اپنی عبادت گاہ مسجد کی شکل میں بنانا دراصل مسلمانوں کے اسلامی شعائر سے مذاق ہے اور یہ مذاق مسلمان برداشت نہیں کر سکتے۔

اذان۔

مسجد میں اذان نماز کی دعوت کے لئے دی جاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مشورہ ہوا کہ نماز کی اطلاع کے لئے کوئی صورت تجویز ہونی چاہئے۔ بعض حضرات نے گھنٹی بجانے کی تجویز پیش کی۔ آپ نے اسے یہ کہہ کر رد فرمادیا کہ یہ نصاریٰ کا شعار ہے۔ دوسری تجویز پیش کی گئی کہ بوق (باجا) بجا دیا جائے۔ آپ نے اسے بھی قبول نہیں فرمایا کہ یہ یہود کا وطیرہ ہے۔ تیسری تجویز آگ جلانے کی پیش کی گئی۔ آپ نے فرمایا یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ یہ مجلس اس فیصلہ پر برخاست ہو گئی کہ ایک شخص نماز کے وقت اعلان کر دیا کرے کہ نماز تیار ہے۔ بعد ازاں بعض حضرات صحابہ کو خواب میں اذان کا طریقہ سکھایا گیا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور اس وقت سے مسلمانوں میں یہ اذان رائج ہوئی۔

(فتح الباری ج ۲ ص ۲۲۰)

صفحہ 594

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اس واقعہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وهذه القصة دليل واضح على أن الأحكام إنما شرعت لأجل المصالح وإن للاجتهاد فيها مدخلا ، وإن التيسير أصل أصيل ، وإن مخالفة أقوام تمادوا في ضلالتهم فيما يكون من شعائر الدين مطلوب وإن غير النبي ﷺ قد يطلع بالمنام أو النفث في الروع على مراد الحق لكن لا يكلف الناس به ولا تنقطع الشبهة حتى يقره النبى ﷺ واقتضت الحكمة الإلهية أن لا يكون الأذان صرف إعلام وتنبيه، بل يضم مع ذلك أن يكون شعائر الدين بحيث يكون النداء به على رؤوس المحافل والتنبيه تنويها بالدين ويكون قبوله من القوم آية انقيادهم لدين الله

(ترجمہ) اس واقعہ میں چند مسائل کی واضح دلیل ہے۔ اول یہ کہ احکام شرعیہ خاص مصلحتوں کی بنا پر مقرر ہوئے ہیں، دوم یہ کہ اجتہاد کا بھی احکام میں دخل ہے۔ سوم یہ کہ احکام شرعیہ میں آسانی کو ملحوظ رکھنا بہت بڑا اصل ہے۔ چہارم یہ کہ شعائر دین میں ان لوگوں کی مخالفت جو اپنی گمراہی میں بہت آگے نکل گئے ہوں۔ شارع کو مطلوب ہے۔ پنجم یہ کہ غیر نبی کو بھی بذریعہ خواب یا القاء فی القلب کے مراد الہی کی اطلاع مل سکتی ہے مگر وہ لوگوں کو اس کا مکلف نہیں بنا سکتا اور نہ اس سے شبہ دور ہو سکتا ہے جب تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق

صفحہ 595

نہ فرمائیں۔ اور حکمت الٰہی کا تقاضا ہوا کہ اذان صرف اطلاع اور تنبیہ ہی نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ وہ شعائر دین میں سے بھی ہو کہ تمام لوگوں کے سامنے اذان کہنا تعظیم دین کا ذریعہ ہو اور لوگوں کا اس کو قبول کر لینا ان کے دین خداوندی کے تابع ہونے کی علامت ٹھہرے۔

(حجتہ اللہ البالغہ ص ۴۷۴ مترجم)

حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اذان اسلام کا بلند ترین شعار ہے اور یہ کہ اسلام نے اپنے اس شعار میں گمراہ فرقوں کی مخالفت کو ملحوظ رکھا ہے۔ فتح القدیر ص ۱۶۷ فتاویٰ قاضی خاں اور البحر الرائق وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اذان دین اسلام کا شعار ہے۔ فقہائے کرام نے جہاں موذن کے شرائط شمار کئے ہیں وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ موذن مسلمان ہونا چاہئے۔

وأما الإسلام ينبغى أن يكون شرط صحة فلا يصح أذان كافر على أى ملة كان

موذن کے مسلمان ہونے کی شرط بھی ضروری ہے پس کافر کی اذان صحیح نہیں خواہ کسی مذہب کا ہو۔

(البحر الرائق ص ۲۶۴ ج ۱)

فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ موذن اگر اذان کے دوران مرتد ہو جائے تو دوسرا شخص اذان کہے۔

ولو ارتد المؤذن بعد الأذان لا يعاد وإن أعيد فهو أفضل كذا في سراج الوهاج، وإذا ارتد في الأذان فالأولى أن يبتدئ غيره وإن لم يبتدئ غيره وأتمه جاز، كذا في فتاوى قاضي خان

اگر موذن اذان کے بعد مرتد ہو جائے تو اذان دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ اگر لوٹائی جائے تو افضل ہے اور اگر اذان کے دوران مرتد ہو گیا تو

صفحہ 596

بہتر یہ ہے کہ دوسرا شخص نئے سرے سے اذان شروع کرے تاہم اگر دوسرے شخص نے باقی ماندہ اذان کو پورا کر دیا تب بھی جائز ہے۔

(فتاویٰ عالم گیری ص ۵۳ ج ۱ مطبوعہ مصر)

مسجد کے مینار

مسجد کی ایک خاص علامت، جو سب سے نمایاں ہے، اس کے مینار ہیں۔ میناروں کی ابتداء بھی صحابہ و تابعین کے زمانہ سے ہوئی۔ مسجد نبوی میں سب سے پہلے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے مینار بنوائے (وفاء الوفاء ص ۵۲۵) حضرت مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں وہ حضرت معاویہؓ کے زمانہ میں مصر کے گورنر تھے۔ انہوں نے مصر کی مساجد میں مینار بنانے کا حکم فرمایا (الاصابہ ص ۴۱۸ ج ۳) اس وقت سے آج تک کسی نہ کسی شکل میں مسجد کے لئے مینار ضروری سمجھے جاتے ہیں مسجد کے مینار دو فائدوں کے لئے بنائے گئے۔ اول یہ کہ بلند جگہ نماز کی اذان دی جائے چنانچہ امام ابو داؤدؒ نے اس پر ایک مستقل باب باندھا ہے۔

الأذان فوق المنارة

حافظ جمال الدین الزیلعی نے نصب الرایہ میں حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے۔

من السنة الأذان فى المنارة والإقامة فى المسجد

(ص ۲۹۳-ج ۱)

سنت یہ ہے کہ اذان مینارہ میں ہو اور اقامت مسجد میں۔ مینار مسجد کا دوسرا فائدہ یہ تھا کہ مینار دیکھ کر ناواقف آدمی کو مسجد کے مسجد ہونے کا علم ہو سکے۔ گویا مسجد کی معروف ترین علامت یہ ہے کہ اس میں قبلہ رخ محراب ہو، منبر ہو، مینار ہو، وہاں اذان ہوتی ہو، اس لئے کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ میں ان چیزوں کا پایا جانا اسلامی شعار کی توہین ہے اور جب قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم

صفحہ 597

تسلیم کیا جاچکا ہے تو انہیں مسجد یا مسجد نما عبادت گاہ بنانے اور وہاں اذان واقامت کہنے کی اجازت دینا قطعاً جائز نہیں۔ ہمارے ارباب اقتدار اور عدلیہ کا فرض ہے کہ غیر مسلم قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے روکیں اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پوری قوت اور شدت سے اس مطالبہ کو منوائیں حق تعالیٰ اس ملک کو منافقوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔

تصدیق مولانا مفتی محمودؒ صدر پاکستان قومی اتحاد

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وحده والصلاة والسّلام على من لا نبى بعده

احقر نے رسالہ ہذا کا بالاستیعاب مطالعہ کیا، فاضل مولف نے پوری تحقیق سے ثابت کر دیا کہ مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے، امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے، کسی بھی کافر کو، مسجد، کے نام سے کوئی عمارت بنانا جائز نہیں۔ قرآن کریم کی آیات کی تصریحات اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منطوقات اس کے شاہد عدل ہیں، مسجد ضرار، کی تعمیر اور پھر اسے گرانا اور جلانا ثابت کرتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں اور منافقوں کی اس تعمیر شدہ مسجد کو، مسجد، تسلیم نہ فرمایا، اگرچہ انہوں نے اسلام کا جھوٹا دعویٰ کر کے اسے تعمیر کیا تھا ـــــ لہٰذا مرزائیوں کی بنائی ہوئی مسجد کو بھی مسجد تسلیم نہیں کیا جاسکتا، اس لئے کہ اسلام کا ظاہری دعویٰ کرنے کے باوجود بھی وہ دستور پاکستان کی دوسری ترمیم کی رو سے کافر ہیں، اور ان کی تعمیر کردہ مسجد، مسجد ضرار، کے ساتھ پوری مماثلت، مشابہت بلکہ یگانگت رکھتی ہے، لہٰذا اس کا بھی شرعی حکم وہی ہو گا۔ واللہ اعلم۔

صفحہ 598

تصدیق مفتیان خیر المدارس ملتان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مرزائی دائرہ اسلام سے خارج اور یہود و نصاریٰ اور سکھ و ہنود کی طرح مسلمانوں سے ایک الگ فرقہ ہے لہٰذا جس طرح دیگر مذاہب نے اپنی اپنی عبادت گاہوں کا نام الگ رکھا ہے اسی طرح خود مرزائیوں کا فرض تھا کہ وہ اپنی عبادت گاہ مسلمانوں سے الگ کر لیتے، تاکہ جھگڑا فساد نہ ہوتا اور رواداری قائم رہتی، مگر افسوس ہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ تمام اسلامی اصطلاحات کو اپنے اوپر چسپاں کر کے مسلمانوں سے پر فریب کھیل کھیلا۔ مرزائیوں کا یہ رویہ مسلمانوں کے لئے جس درجہ اشتعال انگیز ہے وہ ظاہر ہے۔ اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ اسلامی شعائر کا تحفظ کرے اور قانون کے ذریعہ غیر مسلموں کو اسلام کو کھلونا بنانے سے باز رکھے۔

ہم نے رسالہ ”مرزائی اور مسجد“ کا مطالعہ کیا ہے جس میں قرآن کریم اور حدیث کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مسجد کے نام سے کسی غیر مسلم کا عبادت خانہ قائم کرنا اسلام سے بدترین مذاق ہے۔ مسجد صرف مسلمانوں کا حق ہے۔

محمد عبداللہ عفا اللہ عنہ عبدالستار عفا اللہ عنہ مفتی خیر المدارس ملتان

تصدیق مرزا یوسف حسین مبلغ اسلام

سربراہ مجلس عمل علمائے شیعہ پاکستان، لاہور

باسمہ سبحانہ، مسجد لغت میں سجدہ کی جگہ کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں اس جگہ کا نام ہے جو مسلمانوں کی نماز کے لئے وقف کر دی جائے اور اس کی محراب قبلہ کی جانب ہو۔

صفحہ 599

دنیا کے مختلف مذاہب اپنے اپنے طریقہ سے عبادت کرنے کے لئے عبادت گاہیں بناتے رہے ہیں مگر ان کے نام بھی مختلف ہیں کسی غیر مسلم عبادت گاہ کا نام مسجد نہیں ہے سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مقام قبا میں اور اسکے بعد مدینہ منورہ میں مسجد تعمیر فرمائی۔ اس کی پیروی میں اس وقت سے اب تک مسلمان ہر خطہ میں معبودِ حقیقی کی عبادت کے لئے مساجد تعمیر کرتے رہے ہیں روز اول سے آج تک حسب ارشاد رسول مقبول اس کا نام مسجد ہے۔

متعدد آیات قرآن واحادیث رسول شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سوا کسی غیر مسلم کو مسجد کے نام سے عبادت گاہ تعمیر کرنے کا حق نہیں ہے اور نہ اسے کسی مسجد میں داخل ہونے کا حق ہے اس لئے کہ مسجد پاک جگہ ہے اور خدائے قدوس کی عبادت کے لئے تعمیر کی جاتی ہے اسے طہارت کے ساتھ تعمیر کرنا اور اس کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر فرض ہے اس لئے غیر مسلم جو نجس ہیں اس میں داخل نہیں ہو سکتے اور جو شخص یا گروہ اصول دین یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر اور ناپاک ہے اور چونکہ فرقہ مرزائی ضروریات دین خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا منکر ہے اور ان کا کفر متفق علیہ اور مسلم ہے اس لئے انہیں حق نہیں ہے کہ اسلام کی مخصوص عبادت گاہ یعنی مسجد کے نام پر اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھیں۔ یا اس وضع کی عبادت گاہ بنائیں جس وضع کی مسلمان مساجد تعمیر کرتے ہیں صدر اسلام میں منافقین نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسجد النبی کے مقابلہ میں ایک مسجد تعمیر کی تھی۔ قرآن مجید میں اسے مسجد ضرار فرمایا گیا اور حسب حکم خداوندی رسول اسلام نے اسے منہدم کرا دیا تاکہ مسجد کا تقدس محفوظ رہے اور منافقین کو اس کے ذریعہ نہ تفریق بین المسلمین کا موقع مل سکے اور نہ مسلمانوں کو ضرر پہنچنے کا اڈا قائم رہ سکے اور نہ وہ اپنے پوشیدہ کفر کی نشر و اشاعت کر سکیں۔ یہی خطرات ہر اس عبادت گاہ میں ہیں جسے غیر مسلم تعمیر کر کے اس کا نام مسجد رکھ لیں اس لئے مسلمانوں کا فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں۔

﴿إن الله لا يضيع أجر المحسنين﴾

مرزا یوسف حسین عفی عنہ

صفحہ 28
PDF 601

تحریر

محمد یوسف لدھیانوی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

غدّارِ

پاکستان

صفحہ 602

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور نوبل انعام

اغراض ............ مقاصد ............ امکانات

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ۱۹۷۹ء کے اواخر میں نوبل انعام ملا، درج ذیل مضمون کے ابتدائی نقوش اسی وقت لکھ لئے گئے تھے لیکن ان دنوں پریس پر سنسر کی سخت پابندیاں تھیں۔ اور ”بینات“ پر تو ہمارے کرم فرماؤں کی خصوصی عنایت تھی۔ حتیٰ کہ جو مضامین کراچی ہی میں معاصر پرچوں میں شائع ہوئے ان کا چربہ ”بینات“ میں دیا گیا۔ مگر افسر شاہی (جس میں قادیانی نمایاں تھے) کا فرمان نازل ہوا کہ یہ ”بینات“ میں شائع نہیں ہو سکتا، عرض کیا گیا کہ دیکھئے یہ مضمون کراچی ہی کے ایک موقر ماہنامہ میں شائع ہو چکا ہے۔ ہم اسی کا چربہ شائع کر رہے ہیں۔ فرمایا گیا کہ کچھ بھی ہو ”بینات“ اس مضمون کو نہیں چھاپ سکتا۔ ظاہر ہے کہ اس ”شاہی حکم“ کا کیا جواب ہو سکتا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات پر ایک خصوصی اشاعت تین سو صفحات پر مشتمل ”پاکستان میں فیضان دارالعلوم“ مرتب کی گئی تھی لیکن نہ صرف یہ کہ وہ چھپ نہ سکی، بلکہ اسے ایسا غائب کر دیا گیا کہ ڈھونڈنے پر بھی کاپیاں نہ مل سکیں۔ بلکہ اس کا لکھا ہوا مسودہ بھی چرا لیا گیا۔ یہی سانحہ اس مضمون کے ساتھ پیش آیا....... بعد میں دوسرے مسائل نے فکر و نظر کا دامن کھینچ لیا۔ اور یہ مضمون طاق نسیاں کی زینت بن کر رہ گیا۔ اس لئے یہ مضمون بہت دیر سے بلکہ شاید بعد از وقت شائع کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس شر میں خیر کا پہلو بھی نکل آیا کہ اس میں جدید معلومات کو سمونے کا موقع میسر آیا۔ بہرحال اب اسے از سر نو مرتب کر کے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۱۴۰۸/۵/۲ھ

۱۵ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے لئے نوبل انعام تجویز ہوا۔ اور ۱۰ دسمبر ۱۹۷۹ء کو یہ انعام دے دیا گیا ـــــــــــــــ

صفحہ 603

یہ انعام کیا ہے؟ اور قادیانی اس سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ان امور پر غور و فکر کی ضرورت تھی مگر ان امور پر پردہ ڈالنے کے لئے قادیانی یہودی لابی نے اس کا بے پناہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ کسی کو اس پر غور و فکر کا موقع ہی نہ ملا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ نوبل انعام کا حصول گویا ایک مافوق الفطرت معجزہ ہے، جو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ذریعہ ظہور پذیر ہوا ہے۔ اس کو مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کی دلیل بتانے کی بھی کوشش کی گئی، بہت سے مسلمان جن کو نہیں معلوم کہ نوبل انعام کیا چیز ہے اور جو نہیں جانتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کون ہے؟ اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ نوبل انعام کی حقیقت واضح کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور اس کی قادیانی یہودی لابی اس نوبل انعام سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے اور آئندہ اسلامی ممالک پر اس کے اثرات کیا ہوں گے۔

نوبل انعام کیا چیز ہے؟

محمد مجیب اصغر قادیانی نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی پر ایک کتابچہ ”پہلا احمدی مسلمان سائنس دان عبدالسلام“ کے نام سے بچوں کے لئے لکھا ہے، جس میں وہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے حوالے سے لکھتا ہے:

”بچو! نوبل انعام ایک سویڈش سائنس دان مسٹر الفریڈ بن ہارڈ نوبیل کی یاد میں دیا جاتا ہے۔ نوبیل ۲۱ اکتوبر ۱۸۳۳ء میں سٹاک ہوم کے مقام پر جو کہ سویڈن کا دارالحکومت ہے پیدا ہوا اور ۱۰ دسمبر ۱۸۹۶ء کو اٹلی میں فوت ہوا نوبیل ایک بہت بڑا کیمیا دان اور انجینئر تھا۔ اس کی وصیت کے مطابق ایک فاؤنڈیشن بنائی گئی جس کا نام نوبیل فاؤنڈیشن رکھا گیا۔ یہ فاؤنڈیشن ہر سال ۵ انعامات دیتی ہے۔ ان انعامات کی تقسیم کا آغاز دسمبر ۱۹۰۱ء میں ہوا جو کہ الفریڈ نوبیل کی پانچویں برسی تھی۔

نوبل انعام فزکس، فزیالوجی، کیمسٹری یا میڈیسن، ادب اور امن کے شعبوں اور میدانوں میں نمایاں اور امتیازی کارنامہ سرانجام دینے والے

صفحہ 604

کو دیا جاتا ہے۔ ہر انعام ایک طلائی تمغہ اور سرٹیفکیٹ اور رقم بطور انعام جو کہ تقریباً ۸۰ ہزار پونڈ پر مشتمل ہوتی ہے دی جاتی ہے۔ نوبیل انعام حاصل کرنے والے امیدواروں کے نام مختلف ایجنسیوں کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں اور وہ انعام کے صحیح حقدار کا فیصلہ کرتی ہیں، مثلاً فزکس اور کیمسٹری رائل اکیڈمی آف سائنس سٹاک ہوم کے سپرد ہوتی ہے۔ فزیالوجی یا میڈیسن کیرولین میڈیکل انسٹیٹیوٹ سٹاک ہوم کے سپرد ہوتی ہے۔ ادب کا مضمون سویڈش اکیڈمی آف فرانس اور اسپین کے سپرد اور امن کا انعام ایک کمیٹی کے سپرد ہوتا ہے جس کے پانچ ممبر ہوتے ہیں جو کہ نارویجین پارلیمنٹ چنتی ہے۔“

(کتاب مذکورہ صفحہ ۵۱۴۹)

نوبیل انعام کے بارے میں مزید معلومات یہ ذہن میں رکھنی چاہئیں:۔

وغیرہ پر تحقیقات کرتا رہا، بالآخر اس نے جنگی آلات تیار کرنے والی دنیا کی سب سے نامور کمپنی ”بوفورز کمپنی“ خرید لی۔

جو اس کے تجربات کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس سے اس شخص پر قنوطیت کی کیفیت طاری ہوئی۔ اور گویا اس کے کفارہ میں اس نے اپنی جائیداد کا بڑا حصہ ”نوبل انعام“ کے لئے وقف کر دیا۔

تھی۔ وصیت یہ کی گئی کہ اصل رقم بینک میں محفوظ رہے، اور اس کے سود سے انعامات کی رقم پانچ شعبوں میں (جن کا تذکرہ مذکورہ بالا اقتباس میں آچکا ہے۔) مساوی تقسیم کی جائے۔

ہر شعبہ میں اگر ایک ہی آدمی انعام کا مستحق قرار دیا جائے تو اس شعبہ کے حصہ کی پوری انعامی رقم اس کو دی جائے اور اگر کسی شعبے میں ایک سے زائد افراد کے نام (جن کی تعداد تین سے زیادہ کسی صورت نہیں ہونی چاہئے) انعام کے لئے تجویز کئے جائیں تو اس

صفحہ 605

شعبہ کے حصہ کی سودی رقم ان افراد میں برابر تقسیم کردی جائے۔ ایک شرط یہ بھی رکھی گئی کہ اگر مجوزہ شخص انعام وصول کرنے سے انکار کر دے تو اس کا حصہ اصل زر میں شامل کر دیا جائے۔

چنانچہ ۱۹۳۸ء میں ہر شعبہ کے حصہ میں سود کی یہ سالانہ رقم بتیس ہزار ڈالر آئی اور ۱۹۸۰ء میں یہ سودی رقم بڑھ کر دو لاکھ دس ہزار ڈالر ہو گئی۔

(۴) فزکس کے شعبہ میں تقریباً سو افراد کو یہ سودی انعام مل چکا ہے۔ ۱۹۳۰ء میں سری وی رمن (ہندوستانی ہندو) واحد شخص تھا جس کو فزکس میں نوبل انعام ملا اور ۱۹۸۳ء میں ایک اور ہندوستانی امریکن کو یہ انعام ملا۔

(۵) ادب کے شعبہ میں رابندر ناتھ ٹیگور بنگالی ہندو کو ۱۹۱۳ء میں یہ نوبل انعام ملا۔ گزشتہ چند سالوں میں جنوبی امریکہ کے چند باشندوں اور جاپان کے ادیب کو نوبل انعام ملا۔

(۶) امن کے شعبہ میں ۱۹۷۳ء میں امریکہ کے ہنری کیسنجر اور شمالی ویت نام کے مسٹر تھو کو نوبل انعام ملا۔ لیکن مسٹر تھو کی غیرت نے اس انعام کے وصول کرنے سے انکار کر دیا ان دونوں کے لئے یہ انعام ویت نام میں جنگ بندی کی بات چیت کی بنا پر تجویز کیا گیا تھا۔

۱۹۷۹ء میں ہندی قومیت کی حامل ایک متجردہ خاتون ”ٹریسا“ کو امن کے ”نوبل انعام“ سے نوازا گیا اور ۱۹۷۸ء میں مصر کے سابق صدر انور سادات اور اسرائیل کے اس وقت کے وزیر اعظم مسٹر بیگن کو ”امن کا نوبل انعام“ عطا کیا گیا۔ محض اس خوشی میں کہ موخرالذکر نے اول الذکر سے ”اسرائیل“ کو باقاعدہ تسلیم کرا لیا تھا۔

مندرجہ بالا اشارات سے درج ذیل امور معلوم ہوئے۔

اول۔ یہ کہ انعامات اس شخص (مسٹر نوبل) کی یاد میں دیئے جاتے ہیں جس نے دنیا کو مہلک ہتھیاروں کا سبق پڑھایا اور جو امریکہ، روس، فرانس اور برطانیہ وغیرہ کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کا باوا آدم سمجھا جاتا ہے۔

دوم۔ یہ انعامات جس رقم سے دیئے جاتے ہیں وہ خالص سود کی رقم ہے، جس کے لینے دینے والے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ملعون قرار دیا ہے۔

صفحہ 606

"عن جابر قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا موکلہ کاتبہ و شاہد یہ وقال ھم سواء"

(صحیح مسلم جلد ۲ ص ۲۷)

(ترجمہ) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ سود لینے والے پر، اس کے دینے والے پر، اس کے لکھنے والے پر، اس کے گواہوں پر اور فرمایا کہ یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔ اور جس کو قرآن کریم نے خدا اور رسول کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے :

فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ و رسولہ۔

سوم۔ یہ انعام نہ کوئی خرق عادت معجزہ ہے اور نہ انسانی تاریخ کا کوئی غیر معمولی واقعہ ہے۔ مختلف ممالک میں سرکاری اور نجی طور پر مختلف قسم کے انعامات جو ہر سال تقسیم کئے جاتے ہیں، اسی قسم کا ایک انعام یہ "نوبل انعام" بھی ہے۔ چنانچہ یہ "نوبل انعام" ہر سال کچھ لوگوں کو ملتا ہے۔ ہندوستان اور بنگال کے ہندوؤں کو بھی مل چکا ہے۔ اسرائیل کے یہودی کو بھی دیا جاچکا ہے اور نصرانی مبلغہ "ٹریسا" بھی اس شرف سے (اگر اس کو شرف کہنا صحیح ہے) مشرف ہوچکی ہے۔

الغرض یہ نوبل انعام جو قریباً ایک صدی سے مروج ہے، سینکڑوں اشخاص کو مل چکا ہے۔ کیا یہ کہیں سننے میں آیا ہے کہ سینکڑوں یہودی، نصرانی اور دہرئیے یہ کہہ کر دنیا پر پل پڑے ہوں کہ ہمیں نوبل انعام کا ملنا ہمارے مذہب کی حقانیت کی دلیل ہے۔ یہ میرے مذہب کے برحق ہونے کا معجزہ ہے لہٰذا میرا دین اور میرا نظریہ حیات سب سے اعلیٰ و ارفع ہے۔

اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو جو انعام دیا گیا تھا وہ ایک مشترکہ انعام تھا جو طبیعات کے شعبہ میں ۱۹۷۹ء میں تین اشخاص کو دیا گیا جن میں ایک ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی بھی تھا۔ اس سے بڑا کارنامہ تو اس ہندو کا تھا۔ جس نے ۱۹۳۰ء میں طبیعات کا انعام تن تنہا حاصل کیا۔ اب اگر ایک قادیانی کو طبیعات کا مشترکہ انعام ملنا اس کے مذہب کی حقانیت کی دلیل ہے تو اس سے نصف صدی قبل ایک ہندو کو تن تنہا یہی انعام ملنا بدرجہ اولیٰ ہندو

صفحہ 607

مذہب کی حقانیت کی دلیل ہونی چاہئے۔ اس لئے اس کو ایک غیر معمولی اور خرق عادت واقعہ کی حیثیت سے پیش کرنا قادیانی مراق کی شعبدہ کاری ہے۔

چہارم ۔ ان انعامات کی تقسیم میں تقسیم کنندگان کی کچھ سیاسی و مذہبی مصلحتیں کار فرما ہوتی ہیں اور جن افراد کو ان انعامات کے لئے منتخب کیا جاتا ہے ان کے انتخاب میں بھی یہی مصلحتیں جھلکتی ہیں۔

چنانچہ ان سینکڑوں افراد کے ناموں کی فہرست پر سرسری نظر ڈالئے ........... جن کو نوبل انعام سے نوازا گیا ان میں آپ کو الا ماشاء اللہ سب کے سب یہودی، عیسائی اور دہریئے نظر آئیں گے۔ سویڈن کے منصفوں کی نگاہ میں پوری صدی میں ایک مسلمان بھی ایسا پیدا نہیں ہوا جو طب، ادب، طبیعات وغیرہ کے کسی شعبہ میں کوئی اہم کارنامہ انجام دے سکا ہو، ہر شخص منصفان سویڈن کی نگاہ انتخاب کی داد دے گا۔ جب وہ یہ دیکھے گا کہ رابندر ناتھ ٹیگور ہندو کو بنگالی زبان کی شاعری پر نوبل انعام کا مستحق سمجھا گیا۔ جاپانی ادیب کو اپنی زبان میں ادبی کارنامے پر نوبل انعام کا استحقاق بخشا گیا۔ جنوبی امریکہ کی ریاستوں کے باشندوں کے اپنی زبانوں میں ادبی کارناموں کو مستند سمجھتے ہوئے لائق انعام سمجھا گیا۔ لیکن برصغیر پاک و ہند کے کسی ادیب، کسی شاعر اور کسی صاحب فن کی طرف منصفان سویڈن کی نظریں نہیں اٹھ سکیں ........... کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ مسلمان تھے۔ مثال کے طور پر ہمارے علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کو لیجئے، پوری دنیا میں ان کے ادب و زبان کا غلغلہ بلند ہے۔ انگلستان کے نامور پروفیسروں نے ان کے ادبی شہ پاروں کو انگریزی میں منتقل کیا ہے اور دانایان مغرب، علامہ کے افکار پر سر دھنتے ہیں۔ لیکن وہ نوبل انعام کے مستحق نہیں گردانے گئے ہیں۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے۔ حکیم اجمل خان مرحوم نے شعبہ طب میں کیسا نام پیدا کیا۔ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی وغیرہ نے سائنسی ریسرچ میں کیا کیا کارنامے انجام دیئے۔ لیکن نوبل انعام کے مستحق نہ ٹھہرے۔ یہ تو چند مثالیں محض برائے تذکرہ زبان قلم پر آگئیں۔ ورنہ ایک صدی کے پوری دنیائے اسلام کے نابغہ افراد کی فہرست کون مرتب کر سکتا ہے۔ لیکن کسی کو نوبل انعام کے لائق نہیں سمجھا گیا اور ڈاکٹر عبدالسلام میں کوئی خوبی تھی یا نہیں تھی مگر اس کی یہی ایک خوبی تھی کہ وہ قادیانی تھا۔ اسلام اور مسلمانوں کا یہودیوں سے بھی بڑھ کر دشمن

صفحہ 608

تھا۔ بس اس کی یہی خوبی منصفان سویڈن کو پسند آگئی اور نوبل انعام اس کے قدموں میں نچھاور کر دیا گیا۔

اگر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایسا ہی لائق سائنس دان تھا تو جس دن ہندوستان نے ۱۹۷۴ء میں ایٹمی دھماکہ کیا تھا ڈاکٹر عبدالسلام کو اس سے اگلے ہی دن پاکستان میں جوابی ایٹمی دھماکہ کر دینا چاہئے تھا یہ اس وقت صدر پاکستان کا ایٹمی مشیر تھا اور ایسا ایٹمی دھماکہ اس کے فرائض منصبی میں داخل تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نام تو ہے نیوکلر ایٹمی فزکس کے شعبہ میں مہارت کا۔ لیکن اس کی بے لیاقتی (یا پاکستان دشمنی) نے پاکستان کو ہندوستان کے مقابلے میں سالوں پیچھے دھکیل دیا، اس وقت جبکہ ہندوستانی سائنس دانوں نے اپنی لیاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنی فنی مہارت کا مظاہرہ کر دکھایا ہوتا تو ایٹمی صلاحیت میں پاکستان دریوزہ گر مغرب نہ ہوتا اور بین الاقوامی سیاسی تناظر میں ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر کوئی حرف گیری نہ کی جاتی۔ بین الاقوامی سطح پر یہ سمجھا جاتا کہ ہندوستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو پاکستان نے بھی کر دیا اور یوں بات آئی گئی ہو جاتی لیکن ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی اس وقت کی نا اہلی، بے لیاقتی اور پاکستان دشمنی نے یہ دن دکھایا کہ آج سارے عالم میں پاکستان کی ایٹمی ریسرچ کے خلاف شور و غوغا کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ بہادر جو پاکستان کا سب سے بڑا ہمدرد اور حلیف تصور کیا جاتا ہے، وہ بھی آئے دن ہمیں ایٹمی ریسرچ کے خلاف متنبہ کرتا رہتا ہے اور بھارت پاکستان کی ”نیوکلر انرجی“ کے خلاف دنیا بھر کے ذہن کو مسموم کرتا رہتا ہے اور لطف یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی سے دوستانہ روابط ہیں اس پورے تناظر میں دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی سائنسی مہارت کا حدود اربعہ کیا ہے؟ ............ اور یہ کہ وہ پاکستان کا کس قدر مخلص ہے۔

پنجم۔ بعض غیور اور باحمیت افراد اس سودی انعام کے وصول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی ایک خاص قسم کی ”رشوت“ ہے۔

صفحہ 609

ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام کیوں دیا گیا؟

۱۹۷۹ء میں دو امریکن سائنس دانوں کے ساتھ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو بھی فزکس کے شعبہ میں مسٹر نوبل کے وصیت کردہ سودی انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ (اور اس شعبہ کا حصہ ان تینوں میں تقسیم ہوا) یقیناً اس سے بھی یہودی قادیانی لابی کے تہہ در تہہ مفادات وابستہ ہونگے۔ جن کی طرف اہل نظر نے دبے الفاظ میں اشارے بھی کئے ہیں چنانچہ ہمارے ملک کے نامور سائنس دان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب سے ایک

انٹرویو میں جب سوال کیا گیا کہ۔

”ڈاکٹر عبدالسلام صاحب (قادیانی) کو جو نوبل انعام ملا ہے اس کے بارے میں آپ کی رائے؟“

جواب میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا :

”وہ بھی نظریات کی بنیاد پر دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام ۱۹۷۵ء سے اس کوشش میں تھے کہ انہیں نوبل انعام ملے آخر کار آئن سٹائن کی صد سالہ یوم وفات پر ان کا مطلوبہ انعام دے دیا گیا دراصل قادیانیوں کا اسرائیل میں باقاعدہ مشن ہے جو ایک عرصے سے کام کر رہا ہے۔ یہودی چاہتے تھے کہ آئن سٹائن کی برسی پر اپنے ہم خیال لوگوں کو خوش کر دیا جائے سو ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی انعام سے نوازا گیا۔“

(ہفت روزہ چٹان لاہور ۶ فروری ۱۹۸۶ء جلد ۲۷ شمارہ ۴)

یہودی قادیانی مفادات کی ایک جھلک

جیسا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے اشارہ کیا ہے۔ یہودی قادیانی مفادات متحد ہیں، قادیانیت، یہودیت و صہیونیت کی سب سے بڑی حلیف ہے، اور عالمی سطح پر پروپیگنڈا کرنے اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں دونوں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اب ذرا جائزہ لیجئے کہ قادیانیوں نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ملنے والے نوبل سودی انعام سے کیا مفادات حاصل کئے۔

صفحہ 610

عبدالسلام قادیانی کو ایک مافوق الفطرت شخصیت ثابت کرنے کا بے پناہ پروپیگنڈا کیا گیا۔ اور اس انعام کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے اپنے روحانی پیشوا مرزا غلام قادیانی کی نبوت کا معجزہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ قادیانی اخبار روزنامہ الفضل نے ۱۴ نومبر ۱۹۷۹ء کی اشاعت میں لکھا :

”نوبل انعام ملنے سے ایک دن پہلے“

”لندن، جماعت احمدیہ برطانیہ کے زیر اہتمام لندن مسجد کے محمود ہال میں سنڈے اسکول کے طلباء سے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے جو خطاب فرمایا اس کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خطاب میں محترم ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد سنایا۔ “

”میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔ “

اور اسی موقع پر مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیش گوئی کی طرف توجہ دلائی کہ حضور علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت دی ہے کہ وہ علم و عقل میں اس قدر ترقی کریں گے کہ دنیا ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔

یہ تقریب ۱۴ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو ہوئی اور اس سے اگلے ہی دن ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام دینے کا اعلان کر دیا گیا۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ علیٰ ذالک“

محمود مجیب قادیانی نے اپنے کتابچہ ”ڈاکٹر عبدالسلام“ میں لکھا ہے۔

”ان کے وجود سے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

صفحہ 611

علیہ السلام کی ایک عظیم پیش گوئی پوری ہوئی تھی جیسا کہ اس واقعہ سے اسی (۸۰) سال پہلے آپ نے خدا سے خبر پاکر اعلان کیا تھا کہ : ”میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے اثر سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔“

(صفحہ ۷)

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے خود بھی قادیانیوں کے سالانہ جلسہ ۱۹۷۹ء میں تقریر کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس پیش گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا :

”میں اس پاک ذات کی حمد و ستائش سے لبریز ہوں کہ اس نے امام وقت، میرے والدین کی اور جماعت کے دوستوں کی مسلسل اور متواتر دعاؤں کو شرف قبولیت سے نوازا اور عالم اسلام اور پاکستان کے لئے خوشی کا سامان پیدا کر دیا۔“

(قادیانی اخبار ”الفضل“ ربوہ ۔ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۹ء)

اس طرح قادیانیوں نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو دیئے گئے سودی انعام کا مسلسل پروپیگنڈا کیا، اسے ایک معجزہ اور انسانی تاریخ کے ایک مافوق الفطرت واقعہ کے رنگ میں پیش کیا اور اس کے حوالے سے سادہ لوح لوگوں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا یہ انعام حاصل کرنا گویا مرزا غلام قادیانی کی صداقت کا ایک معجزہ ہے۔ حالانکہ اہل نظر جانتے ہیں کہ ان چیزوں سے، جن کو قادیانی ملاحدہ مابہ الافتخار سمجھتے ہیں حضرات انبیاء کرام علیہ السلام کو کوئی مناسبت نہیں، جو ایک یہودی کو، ایک عیسائی کو، ایک ہندو کو ایک بدھسٹ کو اور ایک چوہڑے چمار کو بھی میسر آسکتی ہے، وہ کسی نبی یا اس کے امتی کے لئے مایہ افتخار کیسے ہو سکتی ہے؟ بلکہ اس کے برعکس اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ سود جیسی ملعون چیز کے ملنے پر فخر کرنا قادیانیوں اور ان کے متنبی کذاب مرزا غلام قادیانی کے جھوٹا ہونے کی ایک مزید دلیل ہے۔

قادیانیوں کو مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کی طرح مرتد اور خارج از اسلام سمجھتی تھی۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان قومی اسمبلی نے آئینی طور پر بھی انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیکر ان

صفحہ 612

کا نام ”غیر مسلم باشندگان مملکت“ کی فہرست میں درج کر دیا تھا۔ عالم اسلام اور پاکستان پارلیمینٹ کا یہ فیصلہ قادیانیت پر ایک کاری ضرب کی حیثیت رکھتا تھا، جس سے قادیانیت کے ارتدادی جراثیم کے پھیلنے اور پھولنے کے راستے ایک حد تک بند ہوگئے تھے۔ نیز اس سے مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی بھی حرف غلط ثابت ہوگئی تھی۔ مرزا کی پیش گوئی یہ تھی کہ :

”جو لوگ (قادیانی جماعت سے) باہر رہیں گے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کی حیثیت چوہڑے چماروں کی ہوگی۔“

مرزا محمود احمد قادیانی کے بقول :

”اس عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ احمدیت کا پودا جو اس وقت بالکل کمزور نظر آتا ہے۔ “

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن ایسا تناور درخت بن جائے گا۔ کہ اقوام عالم اس کے سایہ میں آرام پائیں گے اور جماعت احمدیہ جو اس وقت بالکل معمولی اور بے حیثیت سی نظر آتی ہے اس قدر اہمیت اور طاقت حاصل کرے گی کہ دنیا کے مذہب تہذیب و تمدن اور سیاست کی باگ اس کے ہاتھ میں ہوگی، ہر قسم کا اقتدار اسے حاصل ہوگا، اور اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے یہ دنیا کی معزز ترین جماعت ہوگی۔ دنیا کا کثیر حصہ اس میں شامل ہو جائے گا، ہاں جو اپنی بدقسمتی سے علیحدہ رہیں گے وہ بالکل بے حیثیت ہو جائیں گے سوسائٹی کے اندر ان کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی۔ دنیا کے مذہبی تمدنی یا سیاسی دائرے کے اندر ان کی آواز ایسی ہی غیر موثر اور ناقابل التفات ہوگی جیسی کہ موجودہ زمانہ میں چوہڑے چماروں کی ہے۔ “ (تو گویا قانونی حکومت کے مجوزہ دستور و آئین میں مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی کے بموجب غیر قادیانیوں کی یہ حیثیت ہوگی۔ مؤلف)

(سالانہ جلسہ ۱۹۳۲ء میں مرزا محمود احمد قادیانی کی افتتاحی تقریر مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲ نمبر ۹ مورخہ ۲۹/جنوری ۱۹۳۳ء (قادیانی مذہب طبع پنجم ۷۵۸)

صفحہ 613

لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا کہ قادیانیوں کو ”غیر مسلم“ قرار دیا گیا۔ اور پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کی دونوں جماعتوں ...... قادیانی اور لاہوری ...... کا نام شیڈول کاسٹ (چوہڑے چماروں) کے بعد درج کر دیا گیا۔

قادیانی یہودی لابی ایک عرصہ سے کوشاں تھی کہ قادیانیوں کے ماتھے سے سیاہی کا یہ داغ کسی طرح مٹا دیا جائے۔ اور اس سڑے عضو کو جسد ملت سے کاٹ کر جو پھینک دیا گیا تھا کسی طرح دوبارہ جسد سے اس کا پیوند لگا دیا جائے۔ چنانچہ قادیانی یہودی لابی نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ملنے والے نوبل انعام کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا۔ اور اسے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا نشان قرار دے کر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ”مسلمان سائنس دان“ باور کرانے کی کوشش کی۔ قادیانی اخبار روزنامہ ”الفضل“ ربوہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں

”عالم اسلام کے قابل فخر سپوت اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے فدائی نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے کہا کہ سائنس کے میدان میں اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرنے کا صرف یہی طریق ہے کہ ہمارے احمدی نوجوان ان علوم میں درجہ کمال کو پہنچیں۔

محترم ڈاکٹر سلام صاحب نے کہا کہ ہماری جماعت اسلام کے احیاء کے لئے کھڑی ہوئی ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ دیگر علوم کے علاوہ سائنسی علوم میں بھی آگے بڑھیں اور کمال حاصل کریں۔ اور اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت کو دنیا میں دوبارہ قائم کریں۔“

(الفضل ربوہ ۔ ۱۳ / نومبر ۱۹۷۹ء)

۱۸ / دسمبر ۱۹۷۹ء کو پاکستان قومی اسمبلی ہال میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی طرف سے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو نوبل انعام کی خوشی میں ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی۔ اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے کہا۔ ”میں پہلا مسلمان سائنس دان ہوں جسے یہ انعام ملا ہے۔“

صفحہ 614

اس طرح قادیانیوں نے اٹھتے بیٹھتے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ”پہلا مسلمان سائنس دان“ ہونے کا وظیفہ رٹنا شروع کر دیا۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد ظاہر تھا کہ اگر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ”مسلمان“ ہے تو باقی قادیانی بھی اسی کے ہم مذہب ہونے کے ناطے ”پکے سچے مسلمان“ ہیں۔

اس پروپیگنڈا کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے عرب بھائی اور دوسرے ممالک کے حضرات، جو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے مذہب و عقیدے سے واقف نہیں تھے، اس کو واقعتاً مسلمان سمجھنے لگے۔ چنانچہ مراکش کے شاہ حسن نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام ایک طویل شاہی فرمان جاری کیا جس کے ذریعہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو مراکش کی قومی اکیڈمی کا رکن منتخب کیا۔ اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ :

”آپ کی کامیابی سے اسلامی تہذیب و فکر جگمگا اٹھے ہیں۔“

(روزنامہ الفضل ۲۹ / جون ۱۹۸۰ء)

سعودیہ کے شہزادہ محمد بن فیصل السعود نے اپنے برقیہ میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو تہنیت کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ :

”ڈاکٹر سلام کے لئے نوبل انعام مسلمانوں کے لئے باعث مسرت ہے۔ اور ہمیں اس پر بڑی مسرت ہوئی ہے۔“

(قادیانی ہفت روزہ ”لاہور“ ۱۸/نومبر ۱۹۷۹ء)

جنوری ۱۹۸۶ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ترجمان پندرہ روزہ ”تہذیب الاخلاق“ نے ”عبدالسلام نمبر“ نکالا، جس میں ”اسلام اور سائنس“ کے عنوان سے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ایک انگریزی مضمون کا ترجمہ پروفیسر نسیم انصاری کے قلم سے شائع کیا گیا۔ جس کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے :

”ابتدا اس اقرار سے کرتا ہوں کہ میرا عقیدہ اور عمل اسلام پر ہے۔ اور میں اس وجہ سے مسلمان ہوں کہ قرآن کریم پر میرا ایمان ہے“

(صفحہ ۱۱)

صفحہ 615

اسی شمارے میں ایک مضمون ”عبدالسلام ۔ ایک مجاہد سائنس دان“ کے عنوان سے پروفیسر آئی احمد (جو غالباً خود بھی قادیانی ہیں) کا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں۔ ”وہ (ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی) اپنے دین اسلام کی حقانیت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ اور اس کی ہدایات پر سختی سے عمل بھی کرتے ہیں۔“

(صفحہ ۳۵)

اسی پرچہ میں پروفیسر جان نزمیلن (یہ صاحب غالباً یہودی ہیں) کی ایک....................... تقریر کا ترجمہ ڈاکٹر عالم حسین کے قلم سے ہے جس میں کہا گیا ہے۔

”عبدالسلام (قادیانی) دین اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کو نظریہ وحدت کے لئے وقف کر دیا ہے۔“

(صفحہ ۳۷)

یہ میں نے چند مثالیں ذکر کی ہیں۔ ورنہ اس قسم کی بے شمار تحریریں موجود ہیں جن میں مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو اسلام کی سند عطا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گویا نوبل انعام کے حوالے سے قادیانی یہودی لابی کی طرف سے قادیانیت کو اسلام اور اسلام کو قادیانیت باور کرانے کی گہری سازش کی گئی، جس کے ذریعہ اچھے اچھے سمجھدار حضرات کو فریب دیا گیا ہے۔

(۳) مسٹر نوبل کے وصیت کردہ سودی انعام کے ذریعہ اسلام کی سند حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے خر دجال کی طرح اسلامی ممالک کا دورہ کیا ہے اور جگہ جگہ ”اسلامی سائنس فاؤنڈیشن“ قائم کرنے کا نعرہ بلند کیا........... جس سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خیر خواہ اور ہمدرد عبدالسلام قادیانی ہے۔ چنانچہ اسلامی ممالک نے ”اسلامی سائنس فاؤنڈیشن“ کے نعرے سے مسحور ہو کر اس کی منظوری دے دی، روزنامہ نوائے وقت لکھتا ہے۔

”نوبل پرائز حاصل کرنے والے پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے ۱۹۷۳ء میں ایک تجویز پیش کی تھی کہ مسلمان ممالک کو مل کر ایک اسلامی سائنس فاؤنڈیشن قائم کرنی چاہئے۔ گزشتہ ہفتہ جدہ میں ایک

صفحہ 616

کانفرنس ہوئی جس میں اس ادارے کے قیام کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا۔ یوں تو اسلامی سربراہ کانفرنس نے فروری ۷۴ء میں ہی ڈاکٹر عبدالسلام کی تجویز کی منظوری دے دی تھی۔ مگر اس پر عملدر آمد کرنے کا فیصلہ اب ہوا ہے۔ جدہ کی جس کانفرنس نے فاؤنڈیشن کے قیام کو عملی صورت دینے کا فیصلہ کیا ہے اس میں دوسرے اسلامی ملکوں کے سائنس دانوں کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام نے خود بھی شرکت کی ہے اس موقع پر تمام مسلمان ملکوں کے سائنس دانوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور اسے اسلامی دنیا کے لئے قابل فخر کارنامہ قرار دیا۔“

(روزنامہ نوائے وقت اداریہ مورخہ ۱۸/نومبر ۱۹۷۹ء)

سعودی عرب میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ لیکن ”اسلامی سائنس فاؤنڈیشن“ کی فسوں کاری دیکھئے کہ جدہ میں ڈاکٹر عبدالسلام کی پذیرائی کی جاتی ہے۔ اسے سائنسی برات کا دولہا بنایا جاتا ہے۔ اور اس کو ”اسلامی دنیا کے لئے قابل فخر“ قرار دیا جاتا ہے۔

”بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجیست“؟

مسلمانوں کی خود فراموشی اور دشمنانِ اسلام کی عیاری و مکاری کا کمال ہے کہ حجاز مقدس کی برگزیدہ سرزمین کے شہر جدہ میں یہ باضابطہ تسلیم شدہ کافر و مرتد قادیانی ”مسلم سائنس فاؤنڈیشن“ کا اجلاس منعقد کروا کر اور اس کے دولہا کی حیثیت سے اس میں شرکت کر کے ”المملکہ السعودیۃ العربیہ“ کے اس قانون کا کس طرح منہ چڑاتا ہے۔ جس کی رو سے سعودی عرب میں قادیانیوں کے لئے داخلہ اور ویزا ممنوع ہے۔ اور یہ تو شکر ہوا کہ اس نے یہ کانفرنس حرمین شریفین میں منعقد نہیں کروائی ورنہ اس کے نجس قدم حرمین شریفین کو گندہ کرتے اور وہ دنیائے اسلام کے اس فیصلہ پر طمانچہ لگاتا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اس لئے حرمین شریفین میں ان کے داخلہ پر پابندی ہے۔ اندازہ کیجئے کہ قادیانی یہودی سازشوں کے جال کہاں کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اور وہ مسلمانوں کو بے وقوف بنا کر اپنے مفادات کس طرح حاصل کرتے ہیں۔

صفحہ 617

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی حجاز کی مقدس سرزمین میں پذیرائی ہوئی تو اس نے اپنے سحر آفرین نعرے کو مزید بلند آہنگی سے دہرانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ۵/کروڑ ڈالر کی خطیر رقم اسلامی ممالک سے منظور کرا کے دم لیا۔

قادیانی اخبار ”الفضل ربوہ“ میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا انٹرویو شائع ہوا۔ جس میں ان سے سوال کیا گیا۔

”اسلامی کانفرنس نے جو ”سائنس فاؤنڈیشن“ قائم کیا تھا، اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟“

اس کے جواب میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے کہا:

”یہ اچھی سمت میں ایک حرکت ہوئی ہے۔ میں اس سے بہت خوش ہوں در حقیقت ابتدائی تجویز موجودہ صورت سے بہت اعلیٰ تھی۔ میں نے ۱۹۷۴ء میں مسٹر بھٹو کو اس پر آمادہ کر لیا تھا کہ ایک بلین ڈالر کے سرمایہ سے ایک فاؤنڈیشن قائم کیا جائے اور سربراہی کانفرنس نے اسے تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن اس کے بعد اس بارے میں کچھ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ۱۹۸۱ء میں جنرل ضیاء الحق اس پر راضی ہو گئے کہ اس معاملہ کو طائف سربراہ کانفرنس میں اٹھائیں۔ فاؤنڈیشن قائم کر دیا گیا لیکن اس کی رقم کو گھٹا کر صرف پچاس ملین ڈالر (۵ کروڑ ڈالر) کر دیا گیا۔ اب مجھے پتہ چلا ہے کہ دراصل جو رقم اب تک فاؤنڈیشن کو ملی ہے وہ صرف چھ ملین ڈالر ہیں آپ مجھ سے اتفاق کریں گے مسلمان حکومتیں اس سے زیادہ دے سکتی ہے۔“

(روزنامہ ”الفضل ربوہ“ ۸/ اکتوبر ۱۹۸۴ء)

خطیر رقم وصول کرنے کے بعد بھی ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو مسلم ممالک کے رویہ سے شکایت رہی اور وہ ان سے مایوسی کا اظہار کرتا رہا۔ چنانچہ روزنامہ جنگ لندن لکھتا ہے:

”نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام سائنس فاؤنڈیشن قائم کریں گے۔ اسلامی کانفرنس نے ایک ارب ڈالر کے بجائے ۵/کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے۔“

صفحہ 618

”جدہ (جنگ فارن کم) ڈیسک۔ نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام اسلامی ملکوں میں سائنس کے فروغ کے لئے فاؤنڈیشن قائم کریں گے تاکہ اسلامی ممالک کے باصلاحیت سائنس دان اپنے علم میں اضافہ کرسکیں، گلف ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر سلام نے کہا کہ اسلامی ملکوں میں سائنسی علوم کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ڈاکٹر سلام نے ٹرسٹی اٹلی میں نظریاتی طبیعات کا بین الاقوامی مرکز قائم کیا ہے جس کے وہ ڈائریکٹر ہیں اس مرکز سے ایک ہزار سائنس دان طبیعات کی تربیت حاصل کرتے ہیں ڈاکٹر سلام کے مرکز کو بین الاقوامی ایٹمی ادارے اور یونیسکو کا بھی تعاون حاصل ہے ڈاکٹر سلام نے بتایا کہ فاؤنڈیشن غیر سیاسی ادارہ ہو گا اور اسے مسلم ممالک کے سائنس دان چلائیں گے۔ اس کے علاوہ اسے اسلامی کانفرنس کی تنظیم سے منسلک کر دیا جائے گا تاہم ڈاکٹر سلام نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ مجوزہ فاؤنڈیشن کے لئے انہوں نے ایک ارب ڈالر کی تجویز رکھی تھی لیکن اسلامی کانفرنس نے اس کے لئے ۵/ کروڑ ڈالر کی منظوری دی۔“

(جنگ لندن ۸/اگست ۱۹۸۵ء)

اور روزنامہ نوائے وقت کراچی لکھتا ہے : ”ڈاکٹر عبدالسلام کو اسلامی طبیعاتی فاؤنڈیشن کے قیام میں مالی دشواریوں کا سامنا۔“

”نیو یارک ۱۰/اگست (ا پ پ) نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک بین الاقوامی سائنس میں بالکل الگ تھلگ ہیں اور انہیں سائنس کی ترقی کا طریقہ معلوم نہیں انہوں نے کہا کہ وہ سائنس کے فروغ اور ترقی کے لئے ایک فاؤنڈیشن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اسلامی کانفرنس نے اس منصوبہ کی توثیق کی ہے کہ ڈاکٹر سلام کے تجویز کردہ ایک ارب ڈالر کی بجائے مسلم کانفرنس نے ۵/ کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے اور ایک سال میں صرف ۶۰/ لاکھ ڈالر جاری کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹر سلام مایوس نظر آتے ہیں۔“

(نوائے وقت کراچی ۱۱/اگست ۱۹۸۵ء)

صفحہ 619

مایوسی کا یہ اظہار مسلم ممالک کو غیرت دلانے اور مطلوبہ رقم پر انہیں برانگیختہ کرنے کے لئے تھا۔ بالآخر ”جویندہ یابندہ“ کے مصداق ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، مسلم ممالک سے اپنی مطلوبہ رقم وصول کرنے میں کامیاب ہو گیا چنانچہ قادیانی اخبار ہفت روزہ ”لاہور“ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ :

”ڈاکٹر عبدالسلام نے مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس خطہ ارض میں سائنسی علوم کے فروغ کے لئے ایک سائنس فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لائیں ..................... انہوں نے مشورۃً یہ تجویز پیش کی کہ اس فاؤنڈیشن کی تشکیل میں ابتدائی طور پر ایک بلین ڈالر صرف کرنے چاہئیں جو مسلم طلبہ کو ایسی سائنسی تعلیم کے حصول میں امداد دیں گے ................. اس فاؤنڈیشن کو اسلامی دنیا کے ممتاز و معروف سائنس دان چلائیں۔

”ڈاکٹر سلام نے دنیائے اسلام میں سائنسی علوم کے فروغ کے سلسلہ میں کویت کے رول کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کویت کی سائنس فاؤنڈیشن اور کویت یونیورسٹی نے انہیں بڑی دریا دلی سے اتنے فنڈز دیئے ہیں۔“

(قادیانی ہفت روزہ ”لاہور“ ۲/ اگست ۱۹۸۲ء صفحہ ۵)

غور فرمائیے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، ابتدائی مرحلہ میں اسلامی ممالک سے لے کر ساٹھ لاکھ ڈالر یعنی گیارہ کروڑ روپے ہضم کر جاتا ہے۔ دل میں باغ باغ ہو گا کہ اتنی خطیر رقم مجھے مسلمان نوجوانوں کو قادیانی بنانے کے لئے بلا شرکت غیرے مل گئی لیکن عیاری و مکاری کا کمال دیکھو کہ زر طلبی کی ہوس ”ہل من مزید“ پکارتی ہے اور وہ

صفحہ 620

دس ہزار سے ایک خاندان کا ایمان خریدا جاسکتا ہے تو ذرا حساب لگا کر دیکھئے کہ جس شخص کے ہاتھ پچاسی ارب روپے کی رقم تھمادی گئی ہو وہ کتنے نوجوانوں اور کتنے خاندانوں کو اس کے ذریعے قادیانی بنانے کی کوشش کرے گا؟ حیف صد حیف کہ .................... ”میاں کی جوتی میاں کے سر“ کے مصداق مسلمانوں ہی کے روپے سے مسلمانوں کو کافر و مرتد بنایا جارہا ہے اور مسلمان اس کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔

سائنس فاؤنڈیشن اور قادیانی مقاصد

مسٹر نوبیل کے وصیت کردہ سودی انعام کے حوالے سے قادیانیوں نے جو فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی اور جن کی طرف سطور بالا میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ان کا خلاصہ یہ ہے :

فاؤنڈیشن“ قائم کرنا۔

درد مند مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ قادیانی فوائد بھی کافی تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ”اسلامی سائنس فاؤنڈیشن“ کے ذریعہ یہودی ۔ قادیانی لابی ابھی بہت کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اور ان کے مقاصد کہیں گہرے ہیں۔ ذیل میں چند نکات پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو عالم اسلام سے خیر خواہی و ہمدردی رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ ان امکانات کو نظر انداز نہ کرے۔ بلکہ ان پر عقل و دانائی کے ساتھ غور کرے۔

”قادیانی، اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں“

علامہ اقبال مرحوم کا یہ تجزیہ ان کے برسا برس کے تجربہ کا خلاصہ اور نچوڑ ہے جسے انہوں نے ایک فقرے میں قلمبند کر دیا۔ ہر وہ شخص جسے قادیانی ذہنیت کا مطالعہ کرنے کی فرصت میسر آئی ہو۔ یا جسے قادیانیوں سے کبھی سابقہ پڑا ہو اسے علیٰ

صفحہ 621

وجہ البصیرت اس کا یقین ہو جائے گا کہ قادیانی، اسلام کے، مسلمانوں کے اور اسلامی ممالک کے غدار ہیں جس طرح کوئی مسلمان کسی یہودی پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ نہ اسے ملت اسلامیہ کا مخلص سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی مسلمان کسی قادیانی کو ملت اسلامیہ کا ہمدرد اور بہی خواہ تسلیم نہیں کر سکتا۔

قادیانی، طاغوتی قوتوں کے جاسوس :

مسلمانوں کی جاسوسی!

قادیانیوں کی اسلام اور مسلمانوں سے غداری کا یہ عالم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی، ”انگریزوں کی پولیٹیکل خیر خواہی“ کی غرض سے مسلمانوں کی مخبری کیا کرتا تھا۔ انگریزی دور اقتدار میں ہندوستان کے جو مسلمان حریت پسندانہ جذبات اور آزادی وطن کی لگن رکھتے تھے، مرزا غلام احمد قادیانی ان کے احوال و کوائف ”پولیٹیکل راز“ کی حیثیت سے گورنمنٹ برطانیہ کو پہنچایا کرتا تھا، مرزا قادیانی کے اشتہارات کا جو مجموعہ تین جلدوں میں قادیانیوں نے اپنے مرکز ربوہ سے شائع کیا ہے اس کی دوسری جلد کے صفحہ ۲۲۷۔ ۲۲۸ پر اشتہار نمبر ۱۴۵ درج ہے جس کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تعطیل جمعہ

مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب

چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک چھپی ہوئی بغاوت کو اپنے دلوں میں رکھ کر اسی اندرونی بیماری کی وجہ سے فرضیت جمعہ سے منکر ہو کر اس کی تعطیل سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا تاکہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں

صفحہ 622

اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے آدمی بہت ہی تھوڑے ہیں جو ایسے مفسدانہ عقیدہ کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہوں۔ لیکن چونکہ اس امتحان کے وقت بڑی آسانی سے ایسے لوگ معلوم ہو سکتے ہیں۔ جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے بر خلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں۔ کیونکہ جمعہ کی تعطیل کی تقریب پر ان لوگوں کا شناخت کرنا ایسا آسان ہے کہ اس کی مانند ہمارے ہاتھ میں کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ وجہ یہ کہ جو ایک ایسا شخص ہو جو اپنی نادانی اور جہالت سے برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتا ہے۔ وہ جمعہ کی فرضیت سے ضرور منکر ہو گا اور اسی علامت سے شناخت کیا جائے گا کہ وہ در حقیقت اس عقیدہ کا آدمی ہے۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں با ادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے لوگوں کے نام مندرج ہیں گورنمنٹ میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف اطلاع دہی کے طور پر ان میں سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں فقط یہی مضمون درج ہے ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کے نام مع پتہ و نشان یہ ہیں۔

مطبع ضیاء الاسلام قادیان (یہ اشتہار ۲۰ × ۲۶ کے چار صفحوں پر معہ نقشہ درج ہے)

یہ ذہن میں رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی، ایسے حریت پسند مسلمانوں کے کوائف اپنی جماعت کے ذریعہ ہی جمع کراتا ہو گا گویا غلام احمد قادیانی کی نگرانی میں

صفحہ 623

قادیانی جماعت کی پوری ٹیم اسی کام میں لگی ہوئی تھی کہ ہندوستان کے آزادی پسند مسلمانوں کی فہرستیں بنا بنا کر انگریز کے خفیہ محکمہ کو بھیجی جائیں، اور ایسے مسلمانوں کے ”پولیٹیکل راز“ سفید آقاؤں کے گوش گزار کئے جائیں۔ وہ دن، اور آج کا دن، قادیانی جماعت مسلمانوں کی جاسوسی کے اسی مقدس فریضہ میں لگی ہوئی ہے کہ مسلمانوں سے گھل مل کر رہا جائے۔ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمانوں کا خیر خواہ ثابت کیا جائے۔ اور باطن میں ان کے راز اعدائے اسلام اور طاغوتی طاقتوں کو پہنچائے جائیں۔

قادیانی اور یہودی لابی کے درمیان وجہ الفت بھی یہی اسلام دشمنی اور امت اسلامیہ سے غداری ہے۔ اسرائیل میں کسی مذہب کا کوئی مشن کام نہیں کر سکتا اور کسی اسلامی مشن کے قیام کا تو وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن قادیانی مشن وہاں بڑے اطمینان سے کام کر رہا ہے اور اسرائیل کے بڑوں کی مکمل حمایت اور اعتماد اسے حاصل ہے۔

قادیانی، مسلمانوں کے بھیس میں مسلمان ممالک، خصوصاً پاکستان میں اہم ترین مناصب اور حساس عہدوں پر برا جمان ہیں۔ اس لئے اسلامی ممالک کا کوئی راز ان سے چھپا ہوا نہیں۔

ادھر ایک عرصہ سے اسلامی ممالک اپنی ایٹمی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور انہیں پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں کوشاں تھے۔ مغربی دنیا اور یہودی لابی کے لئے اسلامی دنیا کی یہ تگ و دو موجب تشویش تھی، عراق کی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیل کا حملہ اور پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کی اسرائیلی دھمکیاں سب کو معلوم ہیں، پاکستان کے بارے میں ”اسلامی بم“ کا ہوا کھڑا کر کے یہودی لابی نے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی فضا کو مسموم کرنے کی جس طرح کوششیں کی ہیں وہ بھی سب پر عیاں ہیں۔ اسلامی ممالک کی سائنسی بیداری کو کنٹرول کرنے کی بہترین صورت یہی ہو سکتی تھی کہ ”اسلامی سائنس فاؤنڈیشن“ کا نعرہ ایک ایسے شخص سے لگوایا جائے جو یہودی لابی کا حلیف اور رازدار ہو۔ اس نعرہ کے ذریعہ اسے اسلامی ممالک کا محسن اور ہیرو باور کرایا جائے ایسی شخصیت ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی سے زیادہ موزوں اور کون ہو

صفحہ 624

سکتی تھی۔ چنانچہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے ”اسلامی سائنس فاؤنڈیشن“ کا نعرہ بلند کیا۔ مسلم ممالک نے اسے اپنا محسن سمجھا اور اس عظیم مقصد کے لئے خطیر رقم اس کے قدموں میں نچھاور کر دی، اس طرح یہ قادیانی، مسلم ممالک کی دولت پر ”اسلامی سائنس فاؤنڈیشن“ کا شہ بالا بن گیا۔ علاوہ ازیں مسلم ممالک (پاکستان سے مراکش تک) کے سائنسی ادارے بھی ایک قادیانی کی دسترس میں آگئے۔ اب مسلم ممالک کا کوئی راز راز نہیں رہے گا۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے لئے اپنے مرشد مرزا غلام احمد قادیانی کی سنت کے مطابق اسلامی ممالک کی ایٹمی صلاحیتوں کی رپورٹیں اعدائے اسلام کو پہنچانا آسان ہوگا، اور مسلم ممالک کی مخبری میں اسے کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔

کے سائنسی اداروں میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا عمل دخل ہوگا اور ان اداروں میں قادیانی نوجوانوں کو بھرتی کرنا آسان ہوگا، پاکستان کی وزارت خارجہ کا قلمدان جن دنوں ظفر اللہ قادیانی آنجہانی کے حوالے تھا ان دنوں ہمارے بیرون ملک سفارت خانوں میں قادیانیوں کی بھر مار تھی۔ قادیانیوں کو نوکریاں بھی خوب مل رہی تھیں۔ اور نوکری کے لالچ میں نوجوانوں کو قادیانی بنانا بھی آسان تھا۔ اب اسلامی ممالک کی چوٹی پر سر ظفر اللہ کی جگہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو بٹھا دیا گیا ہے۔ اب سائنسی اداروں میں قادیانی نوجوانوں کو بہترین روزگار کے مواقع خوب خوب میسر آئیں گے۔ اور بھولے بھالے نوجوانوں کو قادیانیت کی طرف کھینچنے کے راستے بھی ہموار ہو جائیں گے۔ اسی کے ساتھ اگر مسلمانوں میں کوئی جوہر قابل نظر آیا تو اس کو ”ناپسندیدہ“ قرار دے کر نکال دینے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ پاکستان میں اس کا تماشا دیکھا جا چکا ہے، بعض افراد، جن میں قادیانی ہونے کے سوا کوئی خوبی نہیں تھی، وہ سائنسی ادارے کے کرتا دھرتا رہے۔ اور ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد بھی ان کی ملازمت میں توسیع ہوتی رہی۔ اس کے برعکس بعض اعلیٰ پائے کے سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نزدیک ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے گوشہ گمنامی میں دھکیل دیئے گئے۔ ہفت روزہ چٹان لاہور ۶/ تا ۱۳/ جنوری ۱۹۸۶ء میں اس دل خراش داستان کی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔

صفحہ 625

(۳) ایک اہم ترین فائدہ قادیانیت کی تبلیغ کا ہے۔ ”سائنس فاؤنڈیشن“ کو قادیانیت کی تبلیغ کا ذریعہ کیسے بنایا جائے گا؟ اس کے لئے درج ذیل نکات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

(الف) ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا شمار قادیانی امت کے ممتاز ترین افراد میں ہوتا ہے۔ قادیانیوں کے تیسرے سربراہ مرزا ناصر احمد آنجہانی نے ۱۴؍ اگست ۱۹۸۰ء کو لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس کی رپورٹ ۱۷؍ اگست ۱۹۸۰ء کو آئرش اخبار ”آئرش سنڈے ورلڈ“ میں شائع کرائی گئی جس کا عنوان تھا :

”احمدیہ تحریک، آئرلینڈ کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔“

اس رپورٹ میں بڑے فخر سے کہا گیا ہے!

”اس جماعت کے مشہور ارکان میں سے سر ظفراللہ خان ہیں جو کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور سابق صدر اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف کے ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر عبدالسلام ہیں جنہوں نے فزکس میں نوبل انعام حاصل کیا ہے۔“

(قادیانی اخبار روزنامہ ”الفضل“ ربوہ ۔ ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۸۰ء)

(ب) قادیانی امت کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی پر یہ فخر بھی ہے کہ وہ جہاں جاتا ہے قادیانیت کی تبلیغ ضرور کرتا ہے،

”انہوں نے دین (قادیانیت) کو دنیا پر ہمیشہ مقدم رکھا، اور سائنس دانوں اور بڑے بڑے لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچایا ملکہ سویڈن کو نوبل انعام حاصل کرنے کے دنوں میں قرآن کریم (کا قادیانی ترجمہ) اور حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے اقتباسات کا انگریزی ترجمہ پہنچا کر آئے۔ اسی طرح شاہ حسن کو مراکش میں (قادیانی) لٹریچر دے کر آئے۔“

(کتابچہ ”ڈاکٹر عبدالسلام“ ۔ از محمود مجیب اصغر صفحہ ۵۶)

اٹلی میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے ایک سائنسی ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ اس کے ذریعہ بھی قادیانیت کی تبلیغ کا کام لیا جاتا ہے۔ چنانچہ قادیانی ماہنامہ ”تحریک

صفحہ 626

جدید" ربوہ بابت ماہ اکتوبر ۱۹۸۵ء میں قادیانیوں کے موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانی کے دورہ اٹلی کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے : "حضور" (مرزا طاہر) نے فرمایا، اٹلی میں پہلے بھی جماعت کے نمائندے بھجوا کر اٹلی کو جماعت سے متعارف کرانے کی کوشش کی گئی تھی اور اب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے ذریعہ سے بھی ایک تقریب کا بندوبست کیا گیا جس میں توقع سے زیادہ معززین تشریف لائے جو کہ پہلے احمدیت سے متعارف نہ تھے۔ اس میں ٹیلی ویژن کے نمائندے بھی موجود تھے۔"

(تحریک جدید ربوہ صفحہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۵ء)

(ج) قادیانیوں کی طرف سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ پندرہویں صدی ہجری حقیقی اسلام (قادیانیت) کے غلبہ کی صدی ہوگی۔ اور ان کے منصوبہ کے مطابق قادیانیت کا یہ غلبہ سائنس کے ذریعہ ہوگا۔ قادیانی اخبار "الفضل" کا یہ اقتباس جو پہلے نقل ہو چکا ہے، اسے ایک بار پھر پڑھ لیجئے! "عالم اسلام کے قابل فخر سپوت، یعنی حقیقی اسلام کے فدائی نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے کہا کہ سائنس کے میدان میں اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ہمارے احمدی نوجوان ان علوم میں درجہ کمال کو پہنچیں۔..................... محترم ڈاکٹر سلام صاحب نے کہا کہ ہماری جماعت اسلام کے احیاء کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ دیگر علوم کے علاوہ سائنسی علوم میں بھی آگے بڑھیں اور کمال حاصل کریں۔"

(اخبار الفضل ربوہ۔ ۱۳/نومبر۱۹۷۹ء)

پس ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی طرف سے "اسلامی سائنس فاؤنڈیشن" کے نام پر جو رقمیں اسلامی ممالک سے وصول کی جا رہی ہیں ان کا ایک اہم مقصد خود مسلمانوں ہی کے پیسے سے قادیانیت کی تبلیغ اور اسے دنیا میں غالب کرنے کی کوشش

صفحہ 627

ہے...... جتنے نوجوان سائنسی علوم کی تکمیل کے لئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے قائم کردہ، یا اس کے زیر اثر اداروں سے رجوع کریں گے ان کو ہر ممکن قادیانیت کا انجکشن دینے کی کوشش کی جائے گی، اور ان کی تربیت کا معیار یہ قرار دیا جائے گا کہ وہ قادیانیت کے حق میں کتنے مخلص ہیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور پاکستان

بہت سے مسلمان قادیانیوں کے بارے میں رواداری اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں چنانچہ یہی مظاہرہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے بارے میں بھی کیا گیا۔ بعض حضرات کا استدلال یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا عقیدہ و مذہب کچھ ہی ہو بہرحال وہ پاکستانی ہیں۔ اور ان کو نوبل انعام کا اعزاز ملنا پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے بہر صورت لائق فخر ہے۔ چنانچہ ہمارے ملک کی ایک معروف سیاسی شخصیت نے روزنامہ ”جنگ“ کے کالم ”مشاہدات و تاثرات“ میں اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے تحریر فرمایا :

” پاکستان کے نوبل پرائز انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام بھی انہیں دنوں عمان میں تھے، ہفتہ کی ایک دعوت میں ان سے بھی ملاقات ہوئی جب وہ پاکستان کی اٹامک انرجی میں کام کر رہے تھے تو انہیں ایک دو بار کابینہ میں اپنا کیس پیش کرتے ہوئے سنا تھا۔ انتہائی قابل اور فاضل آدمی ہیں اور خلیق اور متواضع بھی، مسلک ان کا کچھ بھی ہو لیکن پاکستان کے رشتے سے عالمی سطح پر ان کی سائنسی مہارت کا جو اعتراف ہوا ہے اس سے قدرتاً ہم سب کو خوشی ہونی چاہئے علم، علم ہے اس پر نہ کسی عقیدہ اور مذہب کی چھاپ لگائی جا سکتی ہے نہ مشرق و مغرب کی، یہ تو روشنی اور ہوا کی طرح پوری انسانیت کا مشترک ورثہ ہے۔ “

(جنگ کراچی ۱۴/مئی ۱۹۸۱ء)

قادیانی ہفت روزہ ”لاہور“ میں ایک صاحب کا مراسلہ شائع ہوا ہے جسے ”لاہور“ نے درج ذیل عنوان کے تحت درج کیا ہے :

” جاہل مولویوں نے سائنس دشمنی میں پاکستان کے عزت و وقار کو بھی خاک میں رولنا شروع کر دیا ہے۔ “

صفحہ 628

مراسلہ نگار نے، جو اپنے آپ کو ایک ”سیدھا سادا مسلمان“ کہتے ہیں، اس مراسلہ میں کچھ زیادہ ہی ”سیدھے پن“ کا مظاہرہ کیا ہے، ان کا اقتباس ملاحظہ فرمایئے :

”ڈاکٹر عبدالسلام کا کس مسلک سے جذباتی تعلق ہے۔ یہ میرا مسئلہ نہیں میرا مسئلہ صرف یہ ہے کہ عبدالسلام نے فزکس میں نوبل پرائز حاصل کر کے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر عزت و مرتبہ بخشا ہے۔ انہیں صدر جنرل ضیاء الحق نے مبارک باد کا پیغام دیا ہے۔ اور ہمارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے بار بار خبرناموں میں کہا ہے۔ کہ...... وہ پہلے مسلمان ہیں۔ جنہوں نے یہ بین الاقوامی اعزاز حاصل کیا ہے۔ لیکن مجھے تکلیف صرف اس بات کی ہوئی ہے کہ سرکاری مساجد کے ائمہ کو جو خود بھی باقاعدہ سرکاری ملازم ہیں۔ کس نے چابی بھر دی ہے کہ وہ ڈاکٹر عبدالسلام کی ذات پر کیچڑ اچھال اچھال کر بالواسطہ پاکستان کی توہین کے مرتکب ہوں۔“

”بقر عید پر وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد المعروف ”لال مسجد“ کے پیش امام نے نماز سے قبل اپنی تقریر میں ڈاکٹر عبدالسلام کی ذات پر جو رکیک حملے کئے۔ معلوم نہیں ان کا سنت ابراہیمیؑ سے کیا تعلق تھا۔ یا سننے والوں کو کتنا ثواب حاصل ہوا۔ پیش امام نے (غالباً اس کا نام مولانا عبداللہ ہے) جوش خطابت میں یہ تک کہہ دیا کہ :

”...... عبدالسلام چونکہ مرزائی ہے۔ اس لئے وہ کافر ہے۔ اور اسے یہ نوبل پرائز صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ اس نے پاکستان کے بعض اہم راز سمگل کر کے یہودیوں کے حوالے کر دیئے تھے۔“

یہ تو اب سرکار کے ادارے ہی اس ۱۷/ گریڈ کے پیش امام سے انکوائری کر سکتے ہیں۔ اسے یہ انفارمیشن کہاں سے ملی کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے راز سمگل کر کے نوبل پرائز حاصل کیا ہے۔ لیکن صدمے کی بات صرف یہ ہے کہ جاہل مولویوں نے اپنی سائنس دشمنی میں پاکستان کے عزت و وقار کو بھی منبر رسولؐ پر کھڑے ہو کر خاک میں رولنا شروع کر

صفحہ 629

دیا ہے۔ اور ان کی کوئی باز پرس نہیں ہوتی۔ آخر عید کے اس اجتماع میں غیر ملکی مسلمان سفارت کاروں کی بھی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔

اگر مولویوں کا یہ فتوٰی مان بھی لیا جائے۔ کہ ڈاکٹر عبدالسلام کافر ہے۔ تو پھر مولویوں کو یہ احساس تو ہونا چاہئے۔ کہ وہ کافر بھی اول و آخر پاکستانی ہے اور اس کو ملنے والا اعزاز اصل میں پاکستان کو ملنے والا اعزاز ہے"

(ہفت روزہ لاہور۔، لاہور ۱۱/ نومبر ۱۹۷۹ء صفحہ ۴)

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی واقعی پاکستانی ہے۔ لیکن اس کی نظر میں خود پاکستان کی کیا عزت و حرمت ہے؟ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ یحییٰ خان اور مسٹر بھٹو کے دور میں صدر پاکستان کا سائنسی مشیر تھا۔ لیکن جب ۱۹۷۴ء میں پاکستان قومی اسمبلی نے آئینی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو یہ صاحب احتجاجاً لندن جا بیٹھے اور جب مسٹر بھٹو نے اس کو ایک سائنس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھجوائی تو پاکستان

صفحہ 630

میں فائل کرنے کے بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی تاکہ اس کے آثار مٹ جائیں وقار احمد بھی قادیانی تھے یہ کس طرح ممکن تھا کہ اتنی اہم دستاویز فائلوں میں محفوظ رہتی۔“

(ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور شمارہ ۲۲/ جون ۱۹۸۶ء)

کیا ایسا شخص جو پاکستان کے بارے میں ایسے توہین آمیز اور ملعون الفاظ بکتا ہو اس کا اعزاز پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے موجب مسرت اور لائق مسرت ہو سکتا ہے۔

غنی روز سیاہ پیر کنعان را تماشا کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را

اپریل ۱۹۸۴ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔ جس کی رو سے قادیانیوں کو مسلمان کہلانے اور شعائر اسلامی کا اظہار کر کے مسلمانوں کو دھوکا دینے پر پابندی عائد کر دی گئی قادیانیوں کا نام نہاد ”بہادر خلیفہ“ اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد راتوں رات بھاگ کر لندن جا بیٹھا۔ وہاں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مقابلہ میں ایک جعلی ”اسلام آباد“ بنا کر پاکستان اور اہل پاکستان کو ”دشمن“ کا خطاب دے کر ان کے خلاف جنگ کا بگل بجا رہا ہے۔ اور قادیانیوں کو پاکستان کے امن کو آگ لگانے کی تلقین کر رہا ہے۔ قادیانیوں کا دو ماہی پرچہ جو ”مشکوٰۃ“ کے نام سے قادیان (انڈیا) سے شائع ہوتا ہے، اس میں ”پیغام امام جماعت کے نام“ کے عنوان سے مرزا طاہر قادیانی کا پیغام دنیا بھر کی جماعت ہائے احمدیہ کے نام شائع ہوا ہے۔ اس کے چند فقرے ملاحظہ فرمائیے :

”جس لڑائی کے میدان میں ”دشمن“ نے ہمیں دھکیلا ہے یہ آخری جنگ نظر آتی ہے، اور انشاء اللہ ہمارے دشمنوں کو اس میں بری طرح شکست ہوگی“ (انشاء اللہ قادیانیوں کی سیکڑوں پیش گوئیوں کی طرح یہ پیش گوئی بھی جھوٹی نکلے گی۔ ناقل)

(دو ماہی مشکوٰۃ قادیان صفحہ ۷)

”دشمن سے ہماری جنگ کا یہ انتہائی اہم اور فیصلہ کن مقام ہے“

(صفحہ ۷)

صفحہ 631

”یہ وہ آخری مقام ہے جہاں دشمن پہنچ چکا ہے۔“ (صفحہ ۷)

”تمام جماعت کو برقی رفتار کے ساتھ اس لڑائی میں شامل ہونا چاہئے۔“

(صفحہ ۸)

”یہ ایک لڑائی کا بگل ہے جو بجایا جا چکا ہے۔ اس کی آواز ہمیں ہر طرف پھیلانی ہے۔ اور اس پیغام کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچانا ہے۔“

(صفحہ ۸)

”اور اسلام آباد (پاکستان) کے حکمران اس آواز کی گونج کو سن کر بے بس اور پسپا ہو جائیں۔“ (صفحہ ۸)

صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کو للکارتے ہوئے یہ بہادر (لیکن بھگوڑا) قادیانی خلیفہ کہتا ہے :

”پس یہ ناپاک تحریک جو صدر ضیاء الحق کی کوکھ سے جنم لے رہی ہے اور وہ یہاں بھی ذمہ دار ہیں اس کے

صفحہ 632

گھروں پر، دکانوں پر، گاڑیوں پر اور خود اپنے سینوں پر کلمہ طیبہ کے کتبے لگانے لگے۔ مسلمانوں کے لئے ان کا یہ طرز عمل چند وجہ سے ناقابل برداشت ہے۔

اول: قادیانیوں کی یہ کارستانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے اور قانون کا منہ چڑانے کے لئے ہے، اس لئے انہیں اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

دوم: ان کی عبادت گاہیں جو کفر والحاد کا مرکز ہونے کی وجہ سے نجس ہیں، اور ان کے سینے جو کافر کی قبر سے زیادہ تنگ و تاریک اور سیاہ ہیں ان پر کلمہ طیبہ کا آویزاں کرنا اس پاک کلمہ کی توہین ہے اور اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص نعوذ باللہ بیت الخلائوں پر کلمہ طیبہ لکھنے لگے، یقیناً اس کو کلمہ طیبہ کی توہین کا مرتکب اور لائق تعزیر قرار دیا جائے گا۔ اور گندی جگہوں سے کلمہ طیبہ کا مٹانا دراصل کلمہ کی توہین نہیں بلکہ عین ادب ہے۔

سوم: مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا مظہر ہونے کی وجہ سے (نعوذ باللہ) خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ چنانچہ ایک غلطی کا ازالہ“ میں لکھتا ہے :

”محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم

”اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی“

(روحانی خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

قادیانی، جب کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتے ہیں تو لا محالہ ان کے ذہن میں مرزا کا یہ دعویٰ بھی ہوتا ہے۔ اس لئے وہ مرزا قادیانی کو کلمہ کے مفہوم میں داخل جانتے ہیں بلکہ اسے ”محمد رسول اللہ“ کا مصداق سمجھتے ہیں اور یہی سمجھ کر کلمہ پڑھتے ہیں چنانچہ مرزا بشیر احمد قادیانی نے لاہوری جماعت کا یہ سوال نقل کر کے کہ ”اگر مرزا نبی ہے تو تم اس کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟“ اس کا یہ جواب دیا ہے :

”محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں تو اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے ہاں حضرت مسیح موعود کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ

صفحہ 633

کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے مگر مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمدؐ رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس۔

علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریمؐ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفے فما عرفنی ولم یر اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے پس مسیح موعود خود محمدؐ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمدؐ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔"

(کلمۃ الفصل صفحہ ۱۵۸ ۔ مولفہ مرزا بشیر احمد قادیانی مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

پس چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا نے اسے ”محمد رسول اللہ“ بنایا ہے اور چونکہ قادیانی اس کے اس کفریہ دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور چونکہ وہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی کو داخل مان

صفحہ 634

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کی مسجد ضرار کو گرانے، جلانے اور اسے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا جو حکم دیا تھا اگر وہ صحیح ہے (اور بلاشبہ صحیح ہے، یقیناً صحیح ہے، قطعاً صحیح ہے،) تو قادیانی منافقوں کی وہ مسجد نما عمارت جس پر کلمہ طیبہ کندہ ہو اسے منہدم کرنے، جلانے اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیوں غلط ہے؟ اور اس سے بھی کم تر یہ مطالبہ کہ مسجد ضرار کے ان پتھروں پر کلمہ طیبہ نہ لکھا جائے، آخر کس منطق سے غلط ہے؟

الغرض پاکستان میں چونکہ قادیانیوں کا کفر و نفاق کھل چکا ہے، ان کو کلمہ طیبہ کے کتبے لگا لگا کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے، کلمہ طیبہ کی توہین کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و حرمت سے کھیلنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں، مسلمان ان کے غلیظ عقائد پر مطلع ہونے کے بعد ان کی ان لغو و بیہودہ حرکات کو برداشت نہیں کرتے اس لئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، پاکستان کی سرزمین کو نعوذ باللہ ”لعنتی ملک“ کہنے سے نہیں شرماتا، اور اس کا مرشد مرزا طاہر قادیانی پاکستان کے خلاف ”جنگ کا بگل“ بجا رہا ہے اور پاکستان میں افغانستان کے حالات

صفحہ 635

ہمارے جدید طبقہ کی رائے یہ ہے کہ عبدالسلام قادیانی کا عقیدہ ومذہب خواہ کچھ ہو۔ ہمیں اس کی سائنسی مہارت کی تعریف کرنی چاہئے اور اس کے عقیدہ ومذہب سے صرف نظر کرنا چاہئے۔ چنانچہ ہمارے ملک کے ایک معروف ادارے سے شائع ہونے والے پرچے میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی تعریف میں بہت کچھ لکھا گیا تھا۔ ایک درد مند مسلمان نے اس پر اس ادارہ کے سربراہ کو خط لکھا، پاکستان کی اس معروف ترین شخصیت کی جانب سے اس کے خط کا جو جواب ملا، اس میں مندرجہ بالا نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے۔ ضروری تمہید کے بعد جوابی خط کا متن یہ ہے :

"ڈاکٹر عبدالسلام کے سلسلے میں آپ نے جو لکھا ہے اس میں جذبات کی شدت ہے۔ لیکن آپ سوچیں تو ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں روادار اور کشادہ دل ہونا چاہئے۔ غیر ملکیوں اور غیر مذہب کے سائنس دانوں اور دوسرے بہت سے ماہرین کے متعلق ہم روزانہ تحریریں پڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی اچھی باتوں کی تعریف کرتے ہیں۔ ان کے کارناموں کی قدر کرتے ہیں، ان کی ایجادات سے فائدہ اٹھاتے ہیں پھر ان کے متعلق دوسری تمام باتیں لکھتے ہیں لیکن یہ کہیں نہیں لکھتے کہ ان کا مذہب کیا ہے یا کیا تھا، کیوں کہ ہمیں اس سے غرض نہیں ہوتی، ہم تو ان کی صرف ان باتوں سے سروکار رکھتے ہیں جو انہوں نے انسانوں اور دنیا کے فائدے کے لئے کئے۔ یقین ہے کہ آپ مطمئن ہو جائیں گے۔"

یہ نقطہ نظر واقعی اسلامی فراخ قلبی کا مظہر ہے۔ اور ہم بھی تہہ دل سے اس کے حامی و مؤید ہیں لیکن اگر کوئی صاحب کمال اسلامی مفادات کی جڑیں کاٹتا ہو اگر اس کے اور اس کی جماعت کے رویہ سے اسلامی ممالک کو خطرات لاحق ہوں۔ اگر وہ اپنے کمال کو اپنے باطل مذہب کی اشاعت اور مسلمان نوجوانوں کو مرتد بنانے کے لئے استعمال کرتا ہو تو اس کے کمال کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اس سے لاحق خطرات سے قوم کو آگاہ کرنا بھی اہل فکر و نظر کا فریضہ ہونا چاہئے۔

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ہے۔ قادیانیت کا پرجوش داعی و مبلغ ہے۔ اس کی

صفحہ 636

جماعت اور اس کا پیشوا ہمیشہ سے مسلمانوں کا حریف اور اعدائے اسلام کا حلیف رہا ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف جنگ کا بگل بجا رہا ہے۔ اور وہ پورے عالم اسلام کو قادیانیوں کے موقف کی تائید نہ کرنے کی وجہ سے لعنتی قرار دے رہا ہے، اور وہ پوری دنیا میں یہ جھوٹا شور و غوغا کر رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ کیا مسلمانوں کے ایسے دشمن کی تعریف کرنا، جس سے عالم اسلام کو خطرات لاحق ہوں، اسلامی عزت و حمیت کا مظہر ہے؟

مندرجہ بالا خط میں جس طبقہ کی نمائندگی کی گئی ہے ہمیں افسوس ہے وہ جوش رواداری میں اسلامی غیرت و حمیت کے تقاضوں کو پشت انداز کر رہا ہے اور اس طبقہ میں تین قسم کے لوگ شامل ہیں۔

اول: وہ ناواقف اور جاہل لوگ

صفحہ 637

رواداری تک محدود ہے اگر ان کی ذاتی املاک کو کوئی شخص نقصان پہنچائے، ان کی اپنی عزت و ناموس پر حملہ کرے وہ رواداری کا سارا وعظ بھول جائیں گے۔ ان کی رگ حمیت بھڑک اٹھے گی ان کا جذبہ انتقام بیدار ہو جائے گا اور وہ اس موذی کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔ لیکن اگر کوئی خدا اور رسول کی عزت پر حملہ کرتا ہو، دین میں قطع و برید کرتا ہو، اکابر امت پر کیچڑ اچھالتا ہو اس کے خلاف ان کی زبان و قلم سے ایک حرف نہیں

صفحہ 28
PDF 639

گالیاں

کون دیتا ہے ؟

مسلمان قادیانی

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 640

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ابتدائیہ

زیر نظر کتابچہ ایک ولولہ انگیز تقریر ہے جو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اکتوبر (۱۹۸۵) کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقدہ مرکز پاکستان ہال ابو ظہبی میں ایک پرشکوہ اجتماع میں فرمائی ۔ جس میں نہایت پرمغز اور مدلل اسلوب سے قادیانیوں کے کفریہ عقائد کی تشریح کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں ، مسلمانوں کے قادیانیوں سے سوشل بائیکاٹ کی اپیل ، قادیانیوں کا اپنے آپ کو "احمدی" کہلانے کا دجل اور قادیانیوں کا تعلیم یافتہ طبقے کو یہ تاثر دینا کہ مولوی صاحبان محض گالیاں ہی دیتے ہیں ، جیسے مضامین کو عام فہم انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ غرض مولانا نے قادیانیوں کے فریب کا لبادہ چاک کر دیا ہے ۔ آخر میں مولانا محترم نے نہایت دلسوزی سے مسلم امہ کو حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے "عقیدہ ختم نبوت" کے تحفظ کے لئے میدان عمل میں آنے کی شدید ضرورت کا احساس دلا کر "شافع محشر" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق بننے کی ترغیب دی ہے ۔ اللہ کریم محترم مولانا کو تادیر باحیات و باعافیت رکھیں ۔ ادارہ

صفحہ 641

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی : اما بعد میں آپ حضرات کا زیادہ وقت نہیں لوں گا‘ ایک سوال کا جواب‘ ایک درخواست اور ایک پیغام آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔

سوال عام طور سے قادیانیوں کی طرف سے بھی کیا جاتا ہے اور ہمارے اعلیٰ طبقہ کے لکھے پڑھے بھائی بھی کیا کرتے ہیں‘ وہ یہ کہ یہ مولوی صاحبان مرزائیوں کو گالیاں نکالتے ہیں؟ ہماری عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جو ۴؍ اگست ۱۹۸۵ء کو ویمبلے (Wembley) کانفرنس سینٹر لندن میں ہوئی۔ وہاں کے اخبارات نے لکھا کہ اتنا بڑا مسلمانوں کا اجتماع لندن کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا‘ اور قادیانی اس سے اتنے پریشان ہوئے کہ اس کی تفصیل بیان کروں تو اس کے لئے مستقل گھنٹہ درکار ہے‘ لیکن مرزا طاہر نے اس پر تبصرہ کیا کہ مولویوں نے گالیاں نکالی ہیں۔ اور ہمارے لکھے پڑھے دوست بھی یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ مولوی صاحبان مرزائیوں کو قادیانیوں کو گالیاں دیتے ہیں‘ اور یہ (مرزائی قادیانی کا لفظ) تو میں کہہ رہا ہوں‘ یہ کہا کرتے ہیں ”احمدیوں“ کو گالیاں دیتے ہیں‘ ان کے مقدس اور مبارک منہ سے ”احمدی“ کا لفظ نکلا کرتا ہے‘ مرزائی یا قادیانی کبھی نہیں بولتے۔

سوال کا جواب تو میں بعد میں دوں گا۔ پہلے عرض کروں کہ غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو مرزائی کہو‘ قادیانی کہو مگر احمدی نہ کہو اس لئے کہ ”احمدی“ نسبت ہے احمد کی طرف اور ”احمد“ کا لفظ قرآن میں صرف ایک جگہ سورۂ صف میں آیا ہے‘ جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ ارشاد نقل کیا ہے:

صفحہ 642

يبنى إسرائيل إنى رسول الله إليكم مصدقا لما بين يدى من التوراة ومبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه أحمد (الصف آية ٦)

" عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں اپنی سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک عظیم الشان رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جن کا نام نامی اسم گرامی احمد ہو گا۔"

قرآنی آیت میں "احمد" سے مراد محمد ہیں

یہاں جو لفظ "احمد" آیا ہے اس کے مصداق میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا جھگڑا ہے، ہم مسلمان تو کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی اس آیت میں "احمد" سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: (ان لی اسماء) "میرے بہت سے نام ہیں" (انا محمد وانا احمد) "میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں" تو "احمد" حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت رکھنے والے احمدی ہوئے۔ تمہیں یاد ہو گا کہ متحدہ ہندوستان میں انگریز لوگ ہمیں بجائے مسلمان کہنے کے "محمدی" کہا کرتے تھے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت رکھنے والے۔ گو "محمدی" ہمارا لقب نہیں ہے۔ ہمارا لقب مسلمان ہے لیکن اللہ کا شکر ہے ہم "محمدی" کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔ لیکن مرزائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اس آیت میں "احمد" سے غلام احمد قادیانی مراد ہے۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ۔ قرآن کریم میں تو خوشخبری "احمد" کے بارے میں دی گئی ہے:

ومبشرا برسول يأتى من بعدى اسمه أحمد

جبکہ مرزا کا نام "احمد" نہیں بلکہ "غلام احمد" ہے تو مرزا اس آیت کا مصداق کیسے ہوا؟ قادیانی کہتے ہیں کہ "غلام" کا لفظ ہٹا دو، باقی "احمد" رہ گیا لہٰذا یہ خوشخبری "غلام احمد" کے بارے میں

صفحہ 643

ہوئی نعوذ باللہ۔ اس طرح جعلی طور پر ”غلام احمد“ کو ”احمد“ بنا کر اس کی طرف نسبت کر کے یہ لوگ ”احمدی“ بنے اور اپنی جماعت کا نام انگریزوں سے ”جماعت احمدیہ“ رجسٹرڈ کر لیا، تو قادیانیوں کا اپنے آپ کو ”احمدی“ کہنا قرآن کریم کی اس آیت کی تحریف پر مبنی ہے۔ اب جو لوگ قادیانیوں کو ”احمدی“ کہتے ہیں وہ حقیقت میں قادیانیوں کے اس مکروہ اور کافرانہ نظریہ کی تائید کرتے ہیں کہ اس آیت میں ”احمد“ سے مراد ”مرزا غلام احمد قادیانی“ ہے نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ۔ اس لئے میں اپنے لکھے پڑھے بھائیوں سے کہوں گا کہ قادیانیوں کو ”احمدی“ مت کہیں، قادیانی کہیں یا مرزائی کہیں۔ مرزائی مرزا کی طرف نسبت ہے اور قادیانی قادیان کی طرف نسبت ہے۔ ازالہ اوہام ہمارے پاس موجود ہے اس میں غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ :

”میرا الہامی نام ہے ”غلام احمد قادیانی“ اور اس نام کے عدد پورے ۱۳۰۰ ہیں ، (ازالۃ الاوہام ص ۱۹۰ خزائن) ۔ مرزا کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ میں ۱۳۰۰ کے بعد آیا ہوں لہذا میرا یہ الہامی نام میرے مسیح ہونے کی دلیل ہے۔“

قادیانیوں کو ہرگز ”احمدی“ نہ کہو

یہ منطق تو الگ رہی کہ حروف ابجد کے حساب سے بھی مرزا مسیح کذاب ثابت ہوتا ہے ۔ بہرحال وہ کہتا ہے کہ یہ ”غلام احمد قادیانی“ الہامی نام ہے، خدا نے یہ نام نازل کیا ہے۔ اسی طرح ”مرزا“ کا لفظ بھی الہامی ہے، غلام احمد کہتا ہے کہ مجھے الہام ہوا ”سنطہرک یا مرزا“ (تذکرہ طبع دوم صفحہ ۳۳) ”اے مرزا! ٹھہر جا ہم ابھی تیرے لئے فارغ ہوتے ہیں) پس جب ہم مرزا کی طرف نسبت کر کے ان کو مرزائی کہتے ہیں تو ہم کوئی بری بات نہیں کہتے، بلکہ ان کے عقیدے کے مطابق تو ان کے الہامی نام کی طرف نسبت کرتے ہیں ”قادیانی“ بھی ان کا الہامی نام ہے۔ لیکن یہ لوگ ان دونوں ناموں سے چڑتے ہیں کہ ہمیں مسلمان ”مرزائی“

صفحہ 644

یا "قادیانی" کیوں کہتے ہیں؟ بہرحال ہم انہیں "احمدی" نہیں کہیں گے ۔ مرزائی یا قادیانی کہیں گے اور میں تمام مسلمان بھائیوں کو تاکید کرتا ہوں کہ مرزائیوں کو "احمدی" ہرگز نہ کہا کریں بلکہ ان کو قادیانی یا مرزائی کہا کریں۔ یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ اب میں اس سوال کو پھر دہراتا ہوں جہاں سے بات شروع کی تھی کہ میرے پڑھے لکھے بھائی یہ کہا کرتے ہیں کہ ان کو تم "گالیاں" نکالتے ہو' ہمارے مولانا خلیل احمد صاحب نے مرزا کو "دجال" کہا "کذاب" کہا کہ مرزا قادیانی دجال اور کذاب تھا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں "مسیلمہ" کو کیا کہا کرتے ہو؟ "مسیلمہ کذاب" (سب حاضرین نے مل کر کہا "مسیلمہ کذاب") یہ مسیلمہ کے ساتھ ساتھ کذاب کا لفظ کیوں بولتے ہیں؟ اس لئے کہ مسیلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا تھا' جس میں یہ گستاخی کی تھی کہ "من مسیلمہ رسول اللہ الی محمد رسول اللہ" (یہ خط ہے مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام) اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط لکھوایا وہ یہ تھا:

"من محمد رسول اللہ الی مسیلمہ الکذاب" محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب (جھوٹے) کی طرف"

اب کیا میرے بھائی کہیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے "مسیلمہ" کو گالی دی تھی؟ نعوذ باللہ ۔ "کذاب" کے معنی جھوٹے کے ہیں' اگر تمہارا ایمان ہے اور یقیناً ایمان ہے اور سو فیصد ایمان ہے کہ غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو پھر مجھے کہنے دیجئے کہ جس طرح مسیلمہ کذاب تھا اسی طرح غلام احمد قادیانی بھی کذاب ہے ۔ بتائیے؟ کیا یہ گالی ہے؟ (لوگوں نے کہا : نہیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت میں تیس کے قریب دجال کذاب آئیں گے ۔ "دجال" کہتے ہیں فریبی کو جو لوگوں کو دھوکہ دے کر انہیں اپنے دام میں پھنسائے' تو جھوٹے مدعیان نبوت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے

صفحہ 645

دجال کذاب“ کہا کیونکہ مکر و فریب اور جھوٹی تاویلات کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ دجال کہنا یہ گالی ہے ؟ ہم کبھی کبھی مرزا کو لعین ملعون اور شقی بھی کہا کرتے ہیں اس لئے کہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا سب سے بڑا ملعون اور سب سے بڑا بد بخت ہے۔

لعنت کی گردان

مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک کتاب ”نور الحق“ ہے‘ اس میں ایک طرف سے وہ لکھنے لگا لعنت لعنت پھر لعنت لعنت لعنت لکھتا چلا گیا۔ ہر ایک لعنت پر ۱‘ ۲‘ ۳‘ کا ہندسہ دیتا چلا گیا‘ جب پورا ایک ہزار کا عدد ہو گیا تو اس نے بس کی۔ اس طرح گن کر ہزار مرتبہ لعنت کا لفظ لکھا اور تین چار صفحے لعنت پر خرچ ہوئے۔ ہم نے کبھی مرزا اور مرزائیوں پر لعنت کی اتنی گردان نہیں کی۔

”مغلظات مرزا“ کے نام سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے کتاب چھاپی ہے‘ جو مولانا نور محمد سابق مبلغ مظاہر العلوم سہارن پور کی تالیف ہے‘ اور جس میں غلام احمد کی وہ عبارتیں با حوالہ نقل کی گئی ہیں جن میں مسلمانوں کو‘ سکھوں کو‘ عیسائیوں کو‘ ہندوؤں کو‘ علماء کو‘ عوام کو صحابہ کرام کو‘ انبیاء کرام علیہم السلام کو مرزا غلام احمد نے فحش گالیاں دی ہیں۔ ان گالیوں کی اصل عبارتیں لکھ کر ساتھ کے ساتھ حروف تہجی کے اعتبار سے ان گالیوں کی فہرست بھی بنادی ہے۔ میرے بھائی مرزا کی ان گالیوں کو پڑھ لیں۔ میرے لکھے پڑھے بھائی ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر اس کتاب کا بغور مطالعہ کریں اور پھر بتائیں کہ ملا گالی دیتا ہے یا قادیانی گالی دیتے ہیں اور ان کا امام گالی دیتا ہے؟ نمونہ کے طور پر اگر چاہیں تو چند حوالے پیش کردوں۔ مشتے نمونہ از خروارے۔

مرزے کی ایک کتاب ہے ”آئینہ کمالات اسلام“ اور دوسرا نام اس کا دافع الوساوس ہے۔

صفحہ 646

مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم اس کو "آئینہ وساوس" کہا کرتے تھے جس کے صفحہ نمبر ۵۴۷ جلد ۵ (روحانی خزائن) پر لکھتا ہے اپنی چند کتابوں کا تذکرہ کر کے :

تلك كتب ينظر إليها كل مسلم بعين المودة والمحبة یہ میری کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان دوستی اور محبت کی نظر سے دیکھتا ہے

ويقبلنى ويصدقنى وينتفع من معارفها . اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے اور ان کتابوں میں، میں نے جو معرفت کی باتیں لکھی ہیں ان سے نفع اٹھاتا ہے۔

إلا ذرية البغايا فهم لا يقبلون مگر کنجریوں کی اولاد کہ نہیں مانتے"

مرزا مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد کہتا ہے۔

اس عبارت میں مرزا نے لوگوں کی دو قسمیں ذکر کی ہیں ایک مرزا کو ماننے والے اس پر ایمان لانے والے اور اس کی تصدیق کرنے والے، وہ تو ہو گئے اس کے نزدیک: کل مسلم، اور ایک اس کے انکار کرنے والے ۔ وہ ہیں اس کے نزدیک "ذرية البغايا" "کنجریوں کی اولاد"

آپ بتائیے ! میرے منہ سے بھی آپ نے کبھی کسی قادیانی کے بارے میں سنا ہے کہ میں نے اسے کنجریوں کی اولاد کی گالی دی ہو، میں نہیں کسی بھی عالم کے منہ سے آپ نے نہیں سنا ہو گا۔

میرے بھائی ! انصاف کریں ہم نے مرزا غلام احمد کا کیا قصور کیا تھا کہ اس نے ہمیں " ذرية البغايا" کی گالی دی۔

اور سنیئے ! نجم الہدیٰ مرزا غلام احمد کی کتاب ہے اس میں لکھتا ہے

إن العدى صاروا خنازير الفلاء
ونسائهم من دونهن الاكلب
صفحہ 647

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے ۔ اور ان کی عورتیں کتیاؤں سے بڑھ گئیں۔“

(روحانی خزائن نجم الہدیٰ صفحہ ۵۳ جلد ۱۴)

کیا ہم نے بھی کسی قادیانی عورت کو ”کتیا“ کہا ہے؟ یا قادیانیوں کو جنگلوں کے سور کہا ہے

مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰؑ کو گالی دینا

یہ وہ مثالیں ہیں جو مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو گالیاں دی ہیں۔ اب ذرا ایک نبی کے بارے میں سن لیجئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اولوالعزم نبی ہیں ان کے بارے میں جو اس نے گل افشانیاں کی ہیں وہ کسی شخص کے سننے کے لائق نہیں۔ اپنی کتاب انجام آتھم کے ضمیمہ میں لکھتا ہے۔

”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی‘—— آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے ۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں‘ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہو گی“

(ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۷ جلد ۱۱ خزائن صفحہ ۲۸۹ و ۲۹۰)۔

مرزا یہاں عیسائیوں کو لکھ رہا ہے ”خدائی کے لئے یہ بھی شرط ہو گی“ کہ کنجریوں کی اولاد سے پیدا ہو‘ میں اس سے پوچھتا ہوں اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عیسائی خدا مانتے ہیں تو وہ مسلمانوں کے نبی ہیں تو کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید نبوت کے لئے یہ بھی شرط ہو۔ نعوذ باللہ۔ مرزائیوں کو کچھ تو شرم آنی چاہئے۔

پھر دافع البلاء کے حاشیے میں لکھتا ہے۔ یہ اس کا چھوٹا سا رسالہ ہے جو اس کے نامۂ اعمال کی طرح سیاہ ہے۔

صفحہ 648

اس رسالہ میں مرزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتا ہے: مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی ۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کے خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام ”حصور“ رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے ۔

(دافع البلاء روحانی خزائن صفحہ ۲۲۰ جلد ۱۸)۔

بقول مرزا خدا نے عیسیٰ علیہ السلام کو ”حصور“ اس لئے نہیں کہا کیونکہ وہ (نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد) ان قصوں میں مبتلا تھے ، شراب پیا کرتے تھے اور کنجریوں کے ساتھ رہا کرتے تھے ، اس لئے قرآن نے آپ کو ”حصور“ نہیں کہا۔ نعوذ باللہ ۔ آپ حضرات فرمائیے ! اس شخص کے بارے میں کیا زبان استعمال کی جائے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایسے گندے بہتان لگاتا ہو ۔

سیدنا علی المرتضیٰ ؓ ، سیدنا حسین ؓ کی توہین

پھر مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب نزول المسیح ص ۹۶ پر لکھتا ہے ۔

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

(روحانی خزائن صفحہ ۴۷۷ ، جلد ۱۸)

صفحہ 649

ہر وقت کربلا میں میری سیر ہے ، سو حسین میرے گریبان میں ہیں ۔ پھر کہتا ہے : " پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو ، اب نئی خلافت لو ، ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس ( مرزا قادیانی ) کو چھوڑتے ہو اور " مردہ علی " کو تلاش کرتے ہو "

(ملفوظات احمدیہ جلد دوم صفحہ ۱۴۲ طبع ربوہ)

اسی مذکورہ بالا کتاب دافع البلاء صفحہ ۲۰ میں جس کا میں پہلے حوالہ دے چکا ہوں لکھتا ہے ۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(روحانی خزائن صفحہ ۲۴۰ جلد ۱۸)

ہمیں معاف کیجئے! گالیاں تو ہم نہیں دیتے لیکن آپ اس شخص کے بارے میں فیصلہ کیجئے کہ اس کے بارے میں کیا زبان استعمال کی جائے؟ اور انسانیت کے کس مقام پر اس کو درجہ دیا جائے اور کیا درجہ دیا جائے؟ کیا یہ کسی شریف آدمی کی زبان ہے؟ اور کیا ایسے آدمی کو شریف کہہ سکتے ہیں؟

ایک اور بات کہوں گا وہ بھی نوٹ کر لیجئے۔ ابھی مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب نے آپ کو کتاب کا حوالہ بتایا ۔ ایک غلطی کا ازالہ ۔ اس میں مرزا غلام احمد کا دعوی ہے کہ وہ (نعوذ باللہ ) " محمد رسول اللہ " ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے : محمد رسول الله والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم " اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی "

(ایک غلطی کا ازالہ طبع ربوہ صفحہ ۴ خزائن صفحہ ۲۰۷ جلد ۱۸) ۔

کوئی شخص دیکھ لے یہ سورۃ فتح کی آیت ہے لیکن غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ یہ آیت

صفحہ 650

میرا الہام ہے اور اس میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔

اس آیت میں ”محمد رسول اللہ“ سے مرزا قادیانی کے بقول وہ خود مراد ہے‘ وہ اس میں لکھ رہا ہے کہ اس آیت میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو محمد رسول اللہ نہیں کہا گیا بلکہ مجھے ”محمد رسول اللہ“ کہا گیا ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ آپ ہمیں معاف کریں اگر ہم مرزا کی اس عبارت کو پڑھ کر اس کے بارے میں سخت زبان استعمال کریں‘ کیا مجھ سے یا آپ سے یہ بات برداشت ہو سکے گی کہ ایک ایسا شخص جو ایک آنکھ سے بھینگا اور ہاتھ سے ٹنڈا ہو اور جو چائے کی پیالی پکڑ کر سیدھے ہاتھ سے منہ تک نہ لے جاسکتا ہو‘ جو الٹے ہاتھ سے چائے پیا کرتا ہو ایسا بھینگا اور ٹنڈا شخص (نعوذ باللہ) ”محمد رسول اللہ“ ہونے کا دعویٰ کرے اور قرآنی آیت کا اپنے آپ کو مصداق ٹھہرائے؟ تہذیب و شرافت اپنی جگہ ! لیکن خدارا مجھے بتائیے کہ کیا اس بات کو سن کر ایک مسلمان کا خون نہیں کھول جائے گا ؟ کیا وہ اس کے بعد مرزا کے بارے میں: ”حضرت مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں“ کے الفاظ استعمال کرے گا ؟

اب تک ہم یہی زبان استعمال کرتے رہے‘ میں نے قادیانیوں پر کتابیں لکھی ہیں‘ ان کو اٹھا کر کے دیکھو ان میں یہ لکھا ہوا ملے گا: ”مرزا غلام احمد صاحب فرماتے ہیں“ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ”مرزا صاحب فرماتے ہیں“ لکھنا غلط ہے‘ ایک زندیق‘ ایک مرتد اور ایک دجال کے لئے یہ کہا جائے کہ ”وہ فرماتے ہیں“ یہ طرز گفتگو غلط ہے‘ اگر کوئی مسلمان یہ کہے: ”حضرت مسیلمہ کذاب فرماتے ہیں“ تو کیا یہ شریفانہ زبان کہلائے گی ؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ مسیلمہ کذاب اور غلام احمد قادیانی دونوں میں کیا فرق ہے ؟ اس نے بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط میں یہی لکھا تھا کہ :

أما بعد فان الله تعالى اشركنى فى نبوتكم

”اللہ تعالیٰ نے تمہاری نبوت میں مجھے شریک کردیا ہے ۔ دونوں مل کر

صفحہ 651

نبوت کریں گے"

"من مسيلمة رسول الله الی محمد رسول الله" حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ رسول اللہ کہہ رہا ہے، خود بھی رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے،

ٹھیک یہی دعویٰ قادیانی کرتا ہے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی محمد رسول اللہ کہتا ہے اور اپنے آپ کو بھی رسول اللہ کہتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ " محمد رسول اللہ" کی نبوت کی چادر اب مجھے اوڑھا دی گئی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مع کمالات نبوت کے مجھے حاصل ہے۔ اس لئے اب میں خود " محمد رسول اللہ " ہوں۔ نعوذ باللہ ۔

غلام احمد قادیانی کا ایک مرید کہتا ہے:

امام اپنا عزیزو اس جہاں میں
غلام احمد ہوا دار الاماں میں

(دار الامان قادیان کو کہہ رہا ہے)

غلام احمد ہے عرش رب اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لا مکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں

( نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد ۔) پھر آگے کہتا ہے :

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
صفحہ 652

فیصلہ آپ کریں

قادیانیوں کا نعرہ ہے ”محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں“ جو ملعون غلام احمد قادیانی کو ”محمد رسول اللہ “ کہتا ہو اور یہ کہتا ہو کہ محمد پھر آگیا ہے اور پہلے محمد سے بڑھ کر یہ محمد ہے اس کے بارے میں آپ کی عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے ؟ میں اپنے لکھے پڑھے بھائیوں سے پوچھنا چاہتا ہوں ۔ قادیانیوں کو چھوڑو‘ میں آپ سے داد و انصاف طلب کرتا ہوں‘ آپ کو جج سمجھتا ہوں اور میں مستغیث ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔

ان لوگوں کے بارے میں ایک مسلمان کو کیا زبان استعمال کرنی چاہئے ۔ اگر ابھی کچھ شک ہے تو اور سن لیجئے ۔ مسلمانوں کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی مدار نجات ہے ‘ لیکن قادیانی کہتے ہیں کہ مرزے کی پیروی مدار نجات ہے ‘ آئندہ تمام کی تمام سعادتیں مرزا غلام قادیانی کے قدموں سے وابستہ ہیں جس طرح کہ مسلمان کہتے ہیں کہ انسانیت کی سعادت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے وابستہ ہے : قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله یہ قرآن کریم کی آیت ہے مگر مرزا کہتا ہے کہ یہ میرے بارے میں ہے اپنی کتاب اربعین نمبر ۴ ص ۷ حاشیہ میں لکھتا ہے :

”خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا “

(روحانی خزائن صفحہ ۴۳۵ جلد ۱۷)

یہ کشتی نوح یہاں رسالہ موجود ہے اس میں لکھتا ہے :

” میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ۔ بد قسمت ہے جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے “

(روحانی خزائن صفحہ ۱۶ جلد ۱۹)

صفحہ 653

آخری نور اور آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہ غلام احمد قادیانی کہاں سے آٹپکا۔ !!

قادیانیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ کی حقیقت

بغور سن لیجئے! لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کلمہ ہم نے پڑھا، مسلمان ہو گئے، لیکن قادیانیوں کے نزدیک یہ کلمہ منسوخ ہے، ہزار بار پڑھتے رہو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ جب تک "محمد رسول اللہ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی نہیں لیتے، اس وقت تک تم مسلمان نہیں ہو۔ مرزا بشیر احمد کلمۃ الفصل (یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے) کے صفحہ ۱۵۸ پر لکھتا ہے :

" ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔"

تم کہا کرتے ہو کہ یہ مولوی کافر کافر کہتے رہتے ہیں حالانکہ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔ ہم ان کو کافر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ایک جھوٹے مدعی نبوت غلام احمد قادیانی پر ایمان رکھتے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غدار اور باغی ہے اور وہ ہم کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ ہم غلام قادیانی دجال پر ایمان نہیں رکھتے ۔

مرزا محمود احمد، مرزا قادیانی کا دوسرا جانشین جس کو مرزائی ”خلیفہ“ کہتے ہیں، وہ کہتا ہے :

" کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں"

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

اور مرزا محمود احمد اپنی دوسری کتاب انوار خلافت میں لکھتا ہے :

"ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا

صفحہ 654

معاملہ ہے اس میں کسی کا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے"

(ص ۹۰)

مسلمان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے کے باوجود ان کے نزدیک غیر مسلم ٹھہرے اور ہمیں کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو کیوں غیر مسلم کہا جاتا ہے؟ مولوی صاحب! جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے بس اس کو مسلمان ماننا چاہئے۔ میں پوچھتا ہوں یہ قادیانی ہمیں کیوں غیر مسلم کہتے ہیں۔ کیا ہم اپنے آپ کو سکھ کہتے ہیں؟ کیوں بھائی! کیا ہم اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے؟ یہ ہمارے خلاف کفر کا فتویٰ کیوں دیتے ہیں؟ اس لئے کہ ہم غلام احمد قادیانی کے منکر ہیں اور اگر ہم ان کو کافر کہیں اس لئے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں تو ہم پر کیوں الزام ہے؟

اور مزید سن لیجئے! کہا جاتا ہے کہ ان کلمہ پڑھنے سے کیوں روکا جاتا ہے کافر اگر کلمہ پڑھ لے تو اچھی بات ہے ' میں پوچھتا ہوں اگر کوئی سکھ کلمہ پڑھے (میں آپ سے گستاخی کی معافی چاہوں گا اور اللہ تعالیٰ سے بھی نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ہزار بار توبہ) کوئی سکھ کلمہ پڑھے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" اور "محمد رسول اللہ" سے مراد لے تارا سنگھ (نعوذ باللہ) میں پوچھتا ہوں! ہم اس کو یہ کلمہ پڑھنے دیں گے؟ (حاضرین نے کہا بالکل نہیں) کسی مسلمان کی غیرت یہ گوارا کریگی اگر اس کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ محمد رسول اللہ سے تارا سنگھ مراد لیتا ہے۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ۔ آپ کہتے ہیں کہ اس کو پڑھنے دیں گے! میں کہتا ہوں۔ مسلمان زبان پکڑ کر کے گدی سے کھینچ لے گا۔

سنئے! یہ قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں اور "محمد رسول اللہ" سے مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کا بیٹا بشیر احمد کلمۃ الفصل صفحہ ۱۵۸ میں لکھتا ہے:

"پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہے ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔"

صفحہ 655

وہ کہتا کہ ہمارے نزدیک تو دوبارہ محمد رسول اللہ ہی آگیا ہے اس لئے ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہم تو ”محمد رسول اللہ“ اس لئے پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے، کیوں بھائی! کیا اب بھی قادیانیوں کو کلمہ پڑھنے کی اجازت دی جائے؟ یا مسلمانوں کو اجازت دی جائے کہ ان کی زبان پکڑ کر گدی سے کھینچ لی جائے۔ آپ ہمارے صبر کو نہیں دیکھتے ، آپ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم کتنا برداشت کر رہے ہیں وہ موذی ، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچا رہے ہوں وہ ہمارے سامنے پھر رہے ہیں۔

”ختم نبوت والا دین لعنتی اور قابل نفرت ہے“ مرزا

اور سنئے ! قادیانیوں کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی ختم ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ بھی ختم، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بھی ختم مرزا قادیانی کے نزدیک اس کی اپنی نبوت کے بغیر دین اسلام محض قصوں کہانیوں کا مجموعہ لعنتی شیطانی اور قابل نفرت ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے :

”وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الٰہیہ (یعنی نبوت ۔ ناقل) سے مشرف ہو سکے، وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند معمولی باتوں پر (یعنی شریعت محمدیہ پر جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ۔ ناقل) انسانی ترقیات کا انحصار ہو اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ۔۔۔ سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۳۸، ۱۳۹)

”یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے اور آئندہ

صفحہ 656

کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔۔۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہو گا (دریں چہ شک؟ ناقل) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۳‘ روحانی خزائن صفحہ ۳۵۴ ج ۲۱)

آپ حضرات نے سنا۔ وہ لکھتا ہے اگر ختم نبوت کا مسئلہ تسلیم کیا جائے تو دین اسلام دین نہیں اور نہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نبی ہیں؟ اسلام میں نبوت کا سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے‘ مگر مرزا قادیانی کہتا کہ جس دین میں یہ عقیدہ ہو وہ دین لعنتی و شیطانی اور قابل نفرت ہے۔

مرزا کہتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے آدمی نبی بن جاتا ہے‘ میں کہتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے نبی نہیں بنا کرتے‘ کسی کی پیروی سے نبی نہیں بنا کرتے۔ یاد رکھو! جب نبوت کا سلسلہ جاری تھا اور نبی جب بنا کرتے تھے جب بھی کسی کی پیروی سے نبی نہیں بنتے تھے‘ بلکہ اللہ خود انتخاب کرتا تھا اور اب تو نبی بننے ہی نہیں ہیں کیونکہ نبوت ہی ختم ہو گئی لہٰذا کسی کی پیروی سے نبی بننے یا نہ بننے کا کیا سوال؟

پھر اسی حوالے میں مرزا نے دین اسلام کو لعنتی اور شیطانی کہا یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے کوئی صاحب اس کا حوالہ دیکھنا چاہیں تو دیکھ لیں‘ یہ ہمارے دین کو لعنتی اور شیطانی کہیں‘ قابل نفرت بتائیں‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمے کو منسوخ کہیں‘ اور لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں مرزا قادیانی کو داخل کریں اور لوگ کہیں کہ جی ان کے بارے میں سختی نہ کریں‘ یہ تو آپ کے اس سوال کا جواب ہوا کہ مولوی لوگ مرزائیوں کو گالیاں کیوں نکالتے ہیں؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم گالیاں نہیں نکالتے‘ بلکہ ہم ان کو دجال‘ کذاب‘ لعین‘ مرتد‘

صفحہ 657

بے ایمان کہتے ہیں اور یہ ہمارے نزدیک گالیاں نہیں ہیں بلکہ حقیقت واقعہ کا اظہار ہے‘ جو آدمی دین سے پھر جائے اس کو مرتد نہ کہیں تو کیا کہیں؟ جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اس کو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کذاب و دجال کہا ہے‘ ہم اس کو دجال اور کذاب نہ کہیں تو کیا کہیں؟ باقی ہم ان کو حرام زادہ نہیں کہتے لیکن مرزا تمام مسلمانوں کو ”حرام زادہ“ اور ”ذریۃ البغایا“ کی گالی بکتا ہے‘ مرزا اور مرزائی تمام مسلمانوں کو سور اور ان کی عورتوں کو کتیاں کہتے ہیں‘ یہ لفظ ہم ان کے بارے میں استعمال نہیں کرتے‘ قادیانی ہمارے بارے میں استعمال کرتے ہیں‘ اور ہمارے پڑھے لکھے بھائیوں کے بارے میں بھی استعمال کرتے ہیں‘ وہ تمام لوگ جو مرزا کو نہیں مانتے ان سب کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اب انصاف کیجئے کہ کیا ہم قادیانیوں کو گالی دیتے ہیں یا قادیانی ہمیں اور تمام مسلمانوں کو گالیاں بکتے ہیں؟ اور انصاف کیجئے کہ قادیانی مظلوم ہیں یا مسلمان مظلوم ہیں؟

اب ایک درخواست اور ایک پیغام :

تمام مسلمانوں کے نام ایک اہم پیغام

پیغام یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا طالب ہے وہ قادیانیوں کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے۔ یاد رکھو اس وقت دو جماعتیں بن گئی ہیں۔ ایک مسلمان اور دوسرے قادیانی اور ان دونوں جماعتوں کے درمیان لکیر کھنچ گئی ہے۔ ادھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ہے‘ آپ کی امت ہے‘ اور ادھر قادیانی ملعون کی جماعت ہے‘ ایک طرف اصلی محمد رسول اللہ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں دوسری طرف قادیان کا جعلی ”محمد رسول اللہ“ ہے۔

اب آپ درمیان میں نہیں رہ سکتے‘ فیصلہ کر کے ایک طرف ہو جائیے‘ آپ کو اگر ان کی منطق پسند ہے‘ یہ بات پسند ہے کہ ظفر اللہ خاں بہت بڑا بیرسٹر وکیل اور قانون دان تھا‘ آپ کو اس پر ناز ہے کہ عبدالسلام قادیانی بہت بڑا سائنسدان ہے‘ اور آپ کو یہ خیال ہے ایم

صفحہ 658

ایم احمد بڑا ہیپو کریٹ قسم کا آدمی ہے، ٹھیک ہے آپ کو حق پہنچتا ہے آپ اس سے متاثر ہیں، پھر لائن کے اس طرف ہو جائیے اور اگر نہیں تو اس طرف آجائیے۔

یہ آپ نہیں کہہ سکتے کہ ہم ان دونوں جماعتوں کے درمیان غیر جانبدار رہیں گے، خدا کی قسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ مرزا قادیانی کے ساتھ ہو اور دو جماعتیں الگ الگ ہو جائیں تو آپ غیر جانبدار رہ کر مسلمان رہ سکتے ہیں۔ درمیان میں ہونے یا غیر جانبدار رہنے کا کیا مطلب؟ مقابلہ میرا اور مرزا طاہر کا نہیں ہے بلکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرزا غلام احمد کے ساتھ ہے، اگر آپ اس مقابلہ میں غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں تو رہئے! لیکن میں یہ کہوں گا کہ آپ قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شمار نہیں ہوں گے، کیونکہ آپ نے ایمان اور کفر کے معاملہ میں غیر جانبدار ہو کر اپنی مسلمانی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ یہ الفاظ سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں، جذبات میں نہیں کہہ رہا، اب آپ کو ایک طرف آنا پڑیگا، لا الیٰ ہؤلاء ولا الیٰ ہؤلاء جس کو قرآن کریم نے کہا، وہ منافقین کے بارے میں کہا ہے، کسی مسلمان کی شان نہیں ہو سکتی کہ وہ نہ اسلام اور مسلمانوں کا طرفدار ہو، اور نہ کفر اور کافروں کا، بلکہ غیر جانبدار ہو۔ جو شخص مرزائیوں کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طرفدار نہ ہو، بلکہ اپنے آپ کو غیر جانبدار ظاہر کرے وہ مسلمان کس طرح ہو سکتا ہے اور قیامت کے دن اس کا حشر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کس طرح ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

پیغام میرا یہ ہے کہ اگر آپ قیامت کے دن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت چاہتے ہیں اور آپ کے جھنڈے کے نیچے جگہ چاہتے ہیں تو آپ کو ختم نبوت کا کام کرنا پڑے گا اور مرزا قادیانی کی امت اور جماعت کے مقابلے میں آنا پڑیگا، کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں؟ سب نے کہا، جی ہاں تیار ہیں اور ہاتھ کھڑے کئے۔

اللہ تعالیٰ آپ میں اور ہم میں یہ صحیح جذبہ پیدا فرمائے۔ (آمین)

صفحہ 659

(آخر میں ایک درخواست)

آخر میں ایک درخواست ہے۔ درخواست یہ ہے کہ کیا تم باپ کے قاتل کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھایا کرتے ہو؟ بولو! (سب نے کہا نہیں!) غیر مہذب الفاظ بولنے کی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں، اگر کوئی کسی کی بہن یا بیٹی کو اغوا کر کے لےجائے ہم اس کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھایا کرتے ہیں؟ اور ایسے شخص کے ساتھ آپ کی دوستی اور یارانہ رہا کرتا ہے؟ (سب نے کہا ہرگز نہیں) اگر ہمیں باپ کے قاتل کے بارے میں غیرت ہے اور ہمیں کسی کی بہو بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کے بارے میں غیرت ہے کہ ہماری اس کے ساتھ کبھی صلح نہیں ہو سکتی۔ کبھی دوستی نہیں ہو سکتی، کبھی اس کے ساتھ ملنا بیٹھنا نہیں ہو سکتا، تو میں پوچھتا ہوں کہ جن موذیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس نبوت پر ہاتھ ڈالا، جنہوں نے مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ بنا ڈالا، جنہوں نے محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر، حرامزادے، سور اور کتیوں کا خطاب دیا، ان موذیوں کے بارے میں آپ کی غیرت کیوں مر گئی ہے!! — آپ ان کے ساتھ کیوں لین دین کرتے ہیں؟ ان کے ساتھ کیوں میل جول رکھتے ہیں؟ مسلمانوں کے معاشرہ میں ان کے وجود کو کیوں برداشت کرتے ہیں؟ کیا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس نبوت کسی کے باپ اور کسی کی بہو بیٹی کے برابر بھی نہیں؟ کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ان موذیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے اور ان سے کوئی لین دین نہیں کریں گے (سب نے اس کا وعدہ کیا) حق تعالیٰ شانہ ہمیں ایمانی غیرت نصیب فرمائیں اور ہم سب کو قیامت کے دن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں اٹھائیں اور ہم سب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما کر ہماری بخشش فرمائیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین

محمد یوسف لدھیانوی ۳/ جنوری ۱۹۸۹ء

صفحہ 28
PDF 661

اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ

وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ

جب آئیں تیرے پاس منافق کہیں ہم قائل ہیں تو رسول ہے اللہ کا ۔

اور اللہ جانتا ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے یہ منافق جھوٹے ہیں

قادیانیوں اور دوسرے کافروں

کے درمیان فرق

زیر نظر کتابچہ قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے

موضوع پر مشتمل ہے جو دراصل حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کی

ایک پُر مغز تقریر ہے جو آپ نے دبئی کی مسجد شیوخ میں یکم اکتوبر ۱۹۸۵ء کو

بعد نماز عشاء فرمائی

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 662

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی حضرات! اس وقت مجھے بہت اختصار کے ساتھ چند باتیں گزارش کرنی ہیں۔ قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان کیا فرق ہے؟ سب سے پہلے مجھے ایک سوال کا جواب دینا ہے۔ اور یہ سوال ہمارے بہت سے بھائیوں کے ذہن کا کانٹا بنا ہوا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ مان لیا جائے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن دنیا میں غیر مسلم تو اور بھی بہت ہیں۔ یہودی ہیں عیسائی ہیں ہندو ہیں سکھ ہیں تمام غیر مسلم ہیں۔ لیکن یہ کیا بات ہے کہ قادیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مستقل تنظیم اور مستقل جماعت موجود ہے جس کا نام ”عالمی مجلس ختم نبوت“ ہے۔ جس نے یہ فرض اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ جہاں جہاں قادیانی پہنچے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد اپنے مسلمان بھائیوں کے تعاون کے ساتھ وہاں پہنچتے ہیں اور قادیانیوں کو بے نقاب کرتے ہیں کسی اور کافر فرقہ کے مقابلے میں ایسی مستقل اور عالمی تنظیم موجود نہیں، تو آخر کیا بات ہے کہ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ سے لے کر شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ تک اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے لے کر حضرت اقدس مولانا مفتی محمود تک سب اکابر نے قادیانی کفر کو اتنی اہمیت دی اور اس کے تعاقب کے لئے عالمی سطح کی تنظیم ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ قائم کی گئی سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانیوں میں اور دوسرے غیر مسلموں میں کیا فرق ہے؟

اس کا جواب عرض کرنے سے پہلے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ شریعت میں شراب ممنوع ہے شراب پینا، اس کا بنانا، اس کا بیچنا تینوں حرام ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ شریعت میں خنزیر حرام اور نجس العین ہے۔ اس کا گوشت فروخت کرنا، لینا دینا، کھانا پینا، قطعی حرام ہے۔ یہ مسئلہ سب کو معلوم ہے۔ اب ایک آدمی وہ ہے جو شراب فروخت کرتا ہے یہ بھی جرم ہے، اور ایک دوسرا آدمی ہے جو شراب بیچتا ہے اس کو زمزم کہہ کر مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں مجرموں کے درمیان

صفحہ 663

کیا فرق ہے؟ وہ آپ خوب سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ایک آدمی خنزیر فروخت کرتا ہے مگر اس کو خنزیر کہہ کر فروخت کرتا ہے۔ وہ صاف صاف کہتا ہے کہ یہ خنزیر کا گوشت ہے جس کو لینا ہے لے جائے اور جو نہیں لینا چاہتا وہ نہ لے۔ یہ شخص بھی خنزیر بیچنے کا مجرم ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور شخص ہے جو خنزیر اور کتے کا گوشت فروخت کرتا ہے بکری کا گوشت کہہ کر۔ مجرم وہ بھی ہے اور مجرم یہ بھی، مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں کے جرم کی نوعیت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک حرام کو بیچتا ہے اس حرام کے نام سے، جس کے نام سے بھی مسلمان کو گھن آتی ہے۔ اور دوسرا حرام کو بیچتا ہے حلال کے نام سے، جس سے ہر شخص کو دھوکہ ہو سکتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ سے خنزیر کا گوشت خرید کر اور اسے حلال اور پاک سمجھ کر کھا سکتا ہے۔ پس جو فرق خنزیر کو خنزیر کہہ کر بیچنے والے کے درمیان اور خنزیر کو بکری یا دنبہ کہہ کر بیچنے والے کے درمیان ہے۔ ٹھیک وہی فرق یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں کے درمیان اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔

کفر کی مختلف نوعیتیں

کفر بہر حال میں کفر ہے۔ اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے دوسرے کافر اپنے کفر پر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے۔

یہ میں نے عام فہم انداز میں بات سمجھائی ہے اب علمی انداز میں اس بات کو سمجھاتا ہوں۔ یوں تو کفر کی بہت سی قسمیں ہیں مگر کفر کی تین قسمیں بالکل ظاہر ہیں۔ ایک کافر وہ ہے جو علانیہ کافر ہو، ایک کافر وہ ہے جو اندر سے کافر ہو اور اوپر سے اپنے آپ کو مسلمان کہے، اور ایک کافر وہ ہے جو اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ یہ پہلی قسم کے کافر کو مطلق کافر کہتے ہیں۔ اس میں یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ سب داخل ہیں۔

صفحہ 664

مشرکین مکہ بھی اسی میں داخل تھے۔ یہ کھلے اور چٹے کافر ہیں۔ دوسری قسم والے کو منافق کہتے ہیں جو زبان سے ”لا الہ الا اللہ“ کہتا ہے مگر دل کے اندر کفر چھپاتا ہے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

إذا جاءك المنافقون قالوا نشهد إنك لرسول الله .

”منافق جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“ واللہ یعلم إنك لرسولہ .” اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں واللہ یشہد اِنَّ المنافقین لکاذبون . ”اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں۔“

منافقوں کا کفر عام کافروں سے بڑھ کر ہے کیونکہ انہوں نے کفر اور جھوٹ کو جمع کیا، پھر یہ کہ انہوں نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر کفر اور جھوٹ کا ارتکاب کیا۔ حضرت امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں ابراہیم بن علیہ کا ہر چیز میں مخالف ہوں حتیٰ کہ اگر وہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھے اس میں بھی اس کا مخالف ہوں۔ مطلب یہ کہ بعض لوگ جھوٹ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ کلمہ طیبہ میں بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ اگر وہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھیں تب بھی وہ جھوٹے ہیں اور ان کا کلمہ بھی جھوٹ کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ ان منافقوں سے بڑھ کر تیسری قسم والوں کا جرم یہ ہے کہ وہ کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں۔ ہے خالص کفر، لیکن یہ اس کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات سے، احادیث طیبہ سے، صحابہؓ کے ارشادات سے اور بزرگان دین کے اقوال سے توڑ موڑ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شریعت کی اصطلاح میں ”زندیق“ کہا جاتا ہے۔ پس یہ کل تین ہوئے۔ ایک کھلا کافر، دوسرا منافق، تیسرا زندیق

...... پس اوپر کی تقریر کا خلاصہ یہ ہوا کہ کافر وہ ہے جو ظاہر و باطن سے خدا اور رسول کا منکر یا علانیہ کفر کا مرتکب ہو۔

منافق وہ ہے جو اپنے دل کے اندر کفر چھپائے ہوئے ہو اور زبان سے جھوٹ موٹ کلمہ پڑھتا ہو۔

صفحہ 665

زنديق وہ ہے جو اپنے کفر پر اسلام کا ملمع کرے اور اپنے کفر کو عین اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔

ائمہ اربعہ کے نزدیک مرتد کی سزا

اب ایک مسئلہ اور سمجھئے۔ ہماری کتابوں میں مسئلہ لکھا ہے اور چاروں فقہوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو شخص اسلام میں داخل ہو کر مرتد ہو جائے، نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ اسلام سے پھر جائے۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے۔ اس کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسے سمجھایا جائے اگر بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہو جائے تو بہت اچھا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کر دیا جائے۔ یہ مسئلہ قتل مرتد کا مسئلہ کہلاتا ہے اور اس میں ہمارے ائمہ دین میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ تمام مہذب ملکوں، حکومتوں اور مہذب قوانین میں باغی کی سزا موت ہے اور اسلام کا باغی وہ ہے جو اسلام سے مرتد ہو جائے۔ اس لئے اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے لیکن اس میں بھی اسلام نے رعایت دی ہے۔ دوسرے لوگ باغیوں کو کوئی رعایت نہیں دیتے۔ گرفتار ہونے کے بعد اگر اس پر بغاوت کا جرم ثابت ہو جائے تو سزائے موت نافذ کر دیتے ہیں۔ وہ ہزار معافی مانگے، توبہ کرے اور قسمیں کھائے کہ آئندہ بغاوت کا جرم نہیں کروں گا۔ اس کی ایک نہیں سنی جاتی اور اس کی معافی ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے۔ اسلام میں بھی باغی یعنی مرتد کی سزا قتل ہے۔ مگر پھر بھی اتنی رعایت ہے کہ تین دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس کو تلقین کی جاتی ہے کہ توبہ کر لے، معافی مانگ لے تو سزا سے بچ جائے گا۔ افسوس ہے کہ پھر بھی اسلام میں مرتد کی سزا پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ اگر امریکہ کے صدر کا باغی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے اور اس کی سازش پکڑی جائے تو اس کی سزا موت ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں، روس کی حکومت کا تختہ الٹنے والا پکڑا جائے یا جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والا پکڑا جائے تو اس کی سزا موت ہے اور اس پر دنیا کے کسی

صفحہ 666

مہذب قانون اور کسی مہذب عدالت کو کوئی اعتراض نہیں لیکن تعجب ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی پر اگر سزائے موت جاری کی جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ سزا نہیں ہونی چاہئے۔ اسلام تو باغی مرتد کو پھر بھی رعایت دیتا ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دی جائے۔ اس کے شبہات دور کئے جائیں اور کوشش کی جائے کہ وہ دوبارہ مسلمان ہو جائے۔ معافی مانگ لے تو کوئی بات نہیں اس کو معاف کر دیا جائے گا لیکن اگر تین دن کی مہلت اور کوشش کے بعد بھی وہ اپنے ارتداد پر اڑا رہے توبہ نہ کرے تو اللہ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کر دیا جائے کیونکہ یہ ناسور ہے۔ خدانخواستہ کسی کے ہاتھ میں ناسور ہو جائے تو ڈاکٹر اس کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اگر انگلی میں ناسور ہو جائے تو انگلی کاٹ دیتے ہیں اور سب دنیا جانتی ہے کہ یہ ظلم نہیں بلکہ شفقت ہے، کیونکہ اگر ناسور کو نہ کاٹا گیا تو اس کا زہر پورے بدن میں سرایت کر جائے گا جس سے موت یقینی ہے، پس جس طرح پورے بدن کو ناسور کے زہر سے بچانے کے لئے ناسور کو کاٹ دینا ضروری ہے اور یہی دانائی اور عقلمندی ہے اسی طرح ارتداد بھی ملت اسلامیہ کے لئے ایک ناسور ہے۔ اگر مرتد کو توبہ کی تلقین کی گئی۔ اس کے باوجود اس نے اسلام میں دوبارہ آنے کو پسند نہیں کیا تو اس کا وجود ختم کر دینا ضروری ہے، ورنہ اس کا زہر رفتہ رفتہ ملت اسلامیہ کے پورے بدن میں سرایت کر جائے گا۔ الغرض مرتد کا حکم ائمہ اربعہ کے نزدیک اور پوری امت کے علماء اور فقہاء کے نزدیک یہی ہے جو میں عرض کر چکا ہوں اور یہی عقل و دانش کا تقاضا ہے اور اسی میں امت کی سلامتی ہے۔

زندیق کا حکم

اور زندیق جو اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے پر تلا ہوا ہو۔ اس کا معاملہ مرتد سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ امام شافعیؒ اور مشہور روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کا حکم بھی مرتد کا ہے۔ یعنی اس کو موقع دیا جائے کہ وہ توبہ کر لے، اگر تین دن میں اس نے توبہ کر لی تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا، اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ بھی واجب القتل ہے۔ پس ان حضرات کے نزدیک تو مرتد اور زندیق دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ لیکن امام مالکؒ

صفحہ 667

فرماتے ہیں "لا اقبل توبۃ الزندیق" میں زندیق کی توبہ نہیں قبول کروں گا۔ مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے بارے میں اگر پتہ چل جائے کہ یہ زندیق ہے۔ اپنے کفر کو اسلام ثابت کرتا ہے اور پکڑا جائے۔ پھر کہے کہ جی! میں توبہ کرتا ہوں، آئندہ میں ایسی حرکت نہیں کروں گا، تو اس کی توبہ کا قبول کرنا، نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ہم تو اس پر قانون سزا نافذ کریں گے۔ اس کے وجود کو باقی نہیں رکھیں گے۔ جیسے زنا کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی۔ بہرحال اس پر سزا جاری کی جاتی ہے چاہے آدمی توبہ ہی کرلے، یا جیسا کہ چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ملتی ہے اور یہ سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی۔ کوئی شخص چوری کرنے اور پکڑے جانے کے بعد توبہ کر لے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اسی طرح امام مالکؒ فرماتے ہیں ”لا اقبل توبۃ الزندیق“ کہ میں زندیق کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ یعنی زندیق کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوگی اس پر سزائے موت لازماً جاری کی جائے گی خواہ ہزار بار توبہ کرلے اور یہی ایک روایت ہمارے امام ابو حنیفہؒ سے اور امام احمد بن حنبلؒ سے بھی منقول ہے۔ لیکن درمختار، شامی اور فقہ کی دوسری کتابوں میں ہے کہ

اگر کوئی زندیق از خود آکر توبہ کرلے مثلاً کسی کو پتہ نہیں تھا کہ یہ زندیق ہے۔ اس نے خود ہی اپنے زندقہ کا اظہار کیا اور اس نے توبہ بھی کی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اسی طرح اگر یہ تو معلوم تھا کہ یہ زندیق ہے مگر اس کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت دے دی اور وہ اپنے آپ آکر تائب ہو گیا اور اپنے زندقہ سے توبہ کرلی۔ جی! میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس پر سزائے ارتداد جاری نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر گرفتاری کے بعد توبہ کرتا ہے تو توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ چاہے سو دفعہ توبہ کرے۔

کفر کو اسلام ثابت کرنا زندقہ ہے

تو مرتد کے لئے توبہ کی تلقین کا حکم ہے اگر وہ توبہ کرلے تو سزا سے بچ جائے گا لیکن زندیق کے بارے میں امام مالکؒ امام ابو حنیفہؒ اور ایک روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ قبول نہیں کیونکہ اس نے زندقہ کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ یعنی کفر کو اسلام

صفحہ 668

ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کتے کا گوشت بکری کے نام سے فروخت کیا ہے۔ شراب پر زمزم کا لیبل چپکایا ہے، یہ جرم ناقابل معافی ہے۔ اس پر قتل کی سزا ضرور جاری ہوگی۔ تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ مرزائی زندیق ہیں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کافر ہیں۔ قطعا کافر ہیں۔ جسطرح کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ میں شک نہیں کہ یہ ہمارا کلمہ ہے اور جو اس میں شک کرے وہ مسلمان نہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے کافر ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں، کوئی شک نہیں، اور جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی مسلمان نہیں۔ اس وقت مجھے یہ نہیں بتانا ہے کہ وہ کیوں کافر ہیں۔ ان کے کافر ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ مجھے تو یہ بتانا ہے کہ وہ کافر اور پکے کافر ہونے کے باوجود اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جی! ہم تو ” جماعت احمدیہ “ ہیں، ہم تو مسلمان ہیں، لندن میں اپنی بستی کا نام رکھا ہے، ” اسلام آباد “ اور کہتے ہیں کہ جی ہم تو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ جب بھی کسی مسلمان سے بات کرتے ہیں تو یہ کہہ کر دھوکا دیتے ہیں کہ جی! مولوی تو ویسے باتیں کرتے ہیں، دیکھو ہم نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں اور اور حضورؐ کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں۔ جی! ہماری تو شرائط بیعت میں لکھا ہوا ہے۔ اس میں لکھا ہوا ہے کہ میں صدق دل سے حضورؐ کو خاتم النبیین مانتا ہوں۔

مرزائی کیوں زندیق ہیں؟

تو مرزائی زندیق ہیں کیونکہ وہ اپنے کفر پر اسلام کو ڈھالتے ہیں۔ وہ شراب اور پیشاب پر نعوذ باللہ زمزم کا لیبل چپکاتے ہیں۔ وہ کتے کا گوشت حلال ذبیحہ کے نام فروخت کرتے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور یہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: أيها الناس أنا آخر الأنبياء وأنتم آخر الأمم . لوگو! ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ دوسو سے زیادہ احادیث

صفحہ 669

ایسی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عنوانات سے، مختلف طریقوں سے، مختلف اسلوبوں سے، مختلف انداز سے ختم نبوت کا مسئلہ سمجھایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، حضورؐ کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی۔

ختم نبوت کا مفہوم

ختم نبوت کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے کا کوئی نبی زندہ نہیں رہا اگر بالفرض پہلے کے سارے نبی آجائیں حضور کے زمانے میں۔ اور آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم بن جائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی آخری نبی ہیں۔ کیونکہ آپؐ کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی گئی۔ انبیاء کرام کے ناموں کی جو فہرست اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی اس میں آخری نام نامی آپؐ کا تھا۔ آپؐ کی تشریف آوری سے انبیاء کرام کی وہ فہرست مکمل ہوگئی۔

آخری نبی اور آخری اولاد کا مفہوم

جس بچے کو ماں باپ کی آخری اولاد کہا جائے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ہاں سب اولاد کے بعد پیدا ہوا۔ اس کے بعد کوئی بچہ ان ماں باپ کے ہاں پیدا نہیں ہوا۔ آخری اولاد کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سب اولاد کے بعد تک زندہ بھی رہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پیدا بعد میں ہوتا ہے لیکن انتقال اس کا پہلے ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود آخری اولاد کہلاتا ہے۔ آپ نے یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ میری آخری اولاد وہ بچہ تھا جو انتقال کر گیا۔

آخری نبی یا خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے سر پر تاج نبوت نہیں رکھا جائے گا۔ اب کوئی شخص نبوت کی مسند پر قدم نہیں رکھے گا۔ جو پہلے نبی بنا دیئے گئے ان پر تو ہمارا پہلے سے ایمان ہے۔ وہ ہمارے ایمان میں پہلے سے داخل ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص

صفحہ 670

خلعت نبوت سے سرفراز نہیں ہو گا اور نہ امت کو ایسے نبی پر ایمان لانا ہو گا۔

خاتم النبیین کے مفہوم میں قادیانیوں کا دجل

لیکن قادیانی مرزائی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں کہ آپ آخری نبی ہیں، نہ یہ کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ آئندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے نبی بنا کریں گے۔ ٹھپا لگتا ہے اور نبی بنتا ہے (حماقت تو دیکھئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھپے سے چودہ سو سال کی امت میں نبی بنا بھی تو صرف ایک، اور وہ بھی بھینگا اور ٹنڈا ...... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نے صرف ایک نبی بنایا۔ اور وہ بھی صرف قادیانی اعور دجال نعوذ باللہ)

الغرض خاتم النبیین کے معنی یہ تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ کی آمد سے نبیوں کی آمد بند ہو گئی۔ ان پر مہر لگ گئی۔ اب کوئی نبی نہیں بنے گا۔ لفافہ بند کر کے لفافے پر مہر لگا دیتے ہیں۔ جس کو ”سیل کرنا“ (to seal some thing) کہتے ہیں۔ ختم کے معنی ”سیل کر دینا“ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی آمد سے نبیوں کی فہرست سربمہر کر دی گئی۔ اب نہ تو اس فہرست سے کسی کو نکالا جاسکتا ہے۔ اور نہ اس میں کسی اور کا نام داخل کیا جاسکتا ہے، لیکن مرزائیوں نے اس میں یہ تحریف کی کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں، نبوت کے پروانوں کی تصدیق کرنے والا۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ جو کاغذ پر دستخط کر کے محکمے والے مہر لگا دیا کرتے ہیں کہ کاغذ کی تصدیق ہو گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہی معنوں میں خاتم النبیین ہیں۔ یعنی نبیوں کے پروانوں پر مہر لگا لگا کر نبی بناتے ہیں۔ پہلے نبوت اللہ تعالیٰ خود دیا کرتے تھے لیکن اب یہ محکمہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مہریں لگائیں اور نبی بنائیں۔

یہ ہے زندقہ، کہ نام اسلام کا لیتے ہیں، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر قرآن کریم کی آیات کو ڈھالتے ہیں۔ اسی طرح ان کے بہت سے کفریہ عقائد ہیں جن کو یہ اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ یہ مرزائی زندیق ہیں کہ عقائد ایسے رکھتے ہیں جو

صفحہ 671

اسلام کی رو سے خالص کفر ہیں۔ لیکن یہ اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دیتے ہیں۔ اور قرآن و حدیث کو اپنے کفریہ عقائد پر ڈھالنے کے لئے ان کی تحریف کرتے ہیں۔ یہ خنزیر اور کتے کا گوشت بیچتے ہیں مگر حلال ذبیحہ کہہ کر، اور شراب بیچتے ہیں مگر زمزم کا لیبل چپکا کر۔

اگر یہ لوگ اپنے دین و مذہب کو اسلام کا نام نہ دیتے بلکہ صاف صاف کہہ دیتے کہ ہمارا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تو واللہ العظیم ہمیں ان کے بارے میں اس قدر متفکر ہونے کی ضرورت نہ ہوتی۔

بہائی مذہب

دنیا میں بہائی ٹولہ بھی موجود ہے۔ وہ ایران کے بہاء اللہ کو رسول مانتا ہے۔ وہ دنیا میں موجود ہے ہم ان کو بھی کافر سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اسلام کے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ نہیں، ہمارا دین، اسلام سے الگ ہے۔ سو بات ختم ہو گئی۔ جھگڑا ختم ہو گیا۔ لیکن قادیانی اپنے تمام کفریات کو اسلام کے نام سے پیش کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لئے یہ صرف کافر اور غیر مسلم ہی نہیں بلکہ مرتد اور زندیق ہیں۔ مسلمانوں کی غیر مسلموں کے ساتھ صلح ہو سکتی ہے مگر کسی مرتد اور زندیق سے کبھی صلح نہیں ہو سکتی۔

قادیانیوں کو مسلمان کہلانے کا کیا حق ہے؟

قادیانیوں کو یہ حق آخر کس نے دیا ہے کہ وہ غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول سمجھیں اور پھر اسلام کا دعویٰ بھی کریں؟ حضرت محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے کلمہ کو منسوخ کر کے آپ کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اس کا کلمہ جاری کرائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی (قرآن کریم) کے بجائے مرزا کی وحی کو واجب الاتباع اور مدار نجات قرار

صفحہ 672

دیں اور پھر ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور غیر احمدی کافر ہیں۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے۔

”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۱۰)

قادیانیوں کا کلمہ

قادیانی دعوے کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو دفعہ دنیا میں آنا مقدر تھا۔ پہلی دفعہ آپؐ مکہ مکرمہ میں آئے اور آپ کی یہ بعثت تیرہ سو سال تک رہی۔ چودھویں صدی کے شروع میں آپ مرزا قادیانی کے روپ میں قادیاں میں دوبارہ مبعوث ہوئے۔ اس لئے ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے اور کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مرزا مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے۔

”مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“

(کلمتہ الفصل ص ۱۵۸)

گویا ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے معنی ان کے نزدیک ہیں۔ ”لا الہ الا اللہ مرزا رسول اللہ“ (نعوذ باللہ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے۔ ہمارے نزدیک مرزا خود محمد رسول اللہ ہے اور ہم مرزا کو محمد رسول اللہ مان کر اس کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ اس لئے ہمیں نیا کلمہ بنانے کی ضرورت نہیں۔

صفحہ 673

قادیانی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو کفر کہتے ہیں

کہنا یہ ہے کہ انہوں نے نبی الگ بنایا، قرآن الگ بنایا (جس کا نام ”تذکرہ“ ہے اور جس کی حیثیت مرزائیوں کے نزدیک وہی ہے جو مسلمانوں کے نزدیک توریت زبور، انجیل اور قرآن کی ہے) امت الگ بنائی، شریعت الگ بنائی، کلمہ الگ بنایا، وہ اپنے دین کا نام اسلام رکھتے ہیں....... اور ہمارے دین کا نام کفر رکھتے ہیں۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) کفر ہو گیا اور مرزا کا دین ان کے نزدیک اسلام ہے۔ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ تم ہمیں جو کافر کہتے ہو، ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کس بات کا انکار کیا ہے؟ کیا مرزا کے آنے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین کفر بن گیا؟ مرزا سے پہلے تو رسول اللہ کا دین اسلام کہلاتا تھا اور اس کو ماننے والے مسلمان کہلاتے تھے لیکن مرزا آیا اور اس کی سبز قدمی سے محمد رسول اللہ کا دین کفر بن گیا اور اس کے ماننے والے کافر کہلائے۔ (العیاذ باللہ)

اس سے بڑھ کر غضب کیا ہو سکتا ہے؟ مرزا کے دو جرم ہوئے۔ ایک یہ کہ ۔ نبوت کا دعویٰ کر کے ایک نیا دین ایجاد کیا اور اس کا نام اسلام رکھا۔ دوسرا جرم یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو کفر کہا۔ مرزا کے دین کے ماننے والے مسلمان اور محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ان کے نزدیک کافر....... مجھے بتائیے!! کہ کیا کسی یہودی نے، کسی عیسائی نے، کسی ہندو نے، کسی سکھ نے، کسی چوہڑے چمار نے، کسی پارسی مجوسی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے؟ اب تو آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا کفر کس قدر بدترین ہے۔ اور یہ دنیا بھر کے کافروں سے بدتر کافر ہیں۔

مسلمانوں کا قادیانیوں سے رعایتی سلوک

یہ زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کہتے ہیں اور شریعت کے مطابق زندیق واجب القتل ہوتا ہے۔ یہ قادیانیوں کے ساتھ ہماری رعایت ہے کہ ان کو زندہ

صفحہ 674

رہنے کا حق دیا ہے۔ یہ دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ یہ حکومت پاکستان کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت نے ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ ان کو صرف یہ کہا کہ تم محمد رسول اللہ کے دین کو کفر اور اپنے دین کو اسلام نہ کہو۔ قادیانیوں پر اس سے زیادہ اور کوئی پابندی نہیں لگائی۔ مرزائیو! شریعت کے فتویٰ سے تم واجب القتل ہو۔ حکومت پاکستان نے تمہیں رعایت دے رکھی ہے۔ تم پاکستان کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو۔ اس کے باوجود کبھی اقوام متحدہ میں، کبھی یہودیوں اور عیسائیوں اور نہ معلوم کن کن لوگوں کی عدالتوں میں تم فریاد کرتے ہو کہ حکومت پاکستان نے ہمارے حقوق غصب کر لئے ہیں، حکومت پاکستان نے تمہارے کیا حقوق غصب کر لئے؟ ہم نے تمہارا کیا قصور کیا ہے؟ پاکستان کی حکومت نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ تم سے صرف یہ کہا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہمارا ہے۔ ہم کیسے اجازت دیں کہ تم شراب پر زمزم کا لیبل چپکا کر بیچتے رہو؟

ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم کتے اور خنزیر کا گوشت حلال ذبیحہ کے نام سے فروخت کرتے رہو؟

ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم اپنے کفر اور زندقہ کو اسلام کے نام سے پھیلاؤ؟

تمہارے منہ سے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے منافقانہ الفاظ ادا کرنا ہمارے کلمہ طیبہ کی توہین ہے۔ ہمارے نبی کی توہین ہے، ہمارے اسلام کی توہین ہے۔ ہم تمہیں اس توہین کی اجازت کس طرح دیں؟ تم کلمہ پڑھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہو اور ہم اس کے جواب میں وہی کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں فرمایا ۔

وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ

اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں

خلاصہ گفتگو

اب تک میں ایک ہی سوال کا جواب دے سکا ہوں کہ قادیانیوں میں اور دوسرے غیر مسلموں میں فرق کیا ہے؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسرے کافر سادے

صفحہ 675

کافر ہیں اور قادیانی صرف کافر اور غیر مسلم نہیں بلکہ وہ اپنے کفر کو اسلام کہنے اور اسلام کو کفر قرار دینے کے بھی مجرم ہیں لہٰذا یہ زندیق ہیں اور زندیق مرتد کی طرح واجب القتل ہوتا ہے۔

مرتد اور اس کی نسل کا حکم

اب میں ایک اور مسئلہ کا ذکر کرتا ہوں۔ اصول یہ ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے لیکن مرتدوں کی ایک جماعت بن جائے، ایک پارٹی بن جائے اور اسلامی حکومت ان پر قابو نہ پاسکے، اس لئے وہ قتل نہ کئے جاسکیں اور رفتہ رفتہ اصل مرتد مرکھپ جائیں اور ان مرتدوں کی نسل جاری ہو جائے مثال کے طور پر کسی بستی کے لوگوں نے متفقہ طور پر عیسائیت قبول کر لی تھی (نعوذ باللہ) عیسائی بن گئے تھے۔ اب کسی نے ان کو پکڑ کر قتل نہیں کیا یا وہ پکڑ میں نہیں آسکے۔ اس کے بعد یہ لوگ جو خود عیسائی بنے تھے مر کر ختم ہوگئے۔ پیچھے ان کی نسل رہ گئی جو خود مسلمان سے عیسائی نہیں ہوئی تھی بلکہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے عیسائی مذہب لیا تھا۔ تو مرتد کی صلبی اولاد تو تبعاً مرتد ہے، اصالتاً مرتد نہیں ہے اس لئے اس کو حبس و ضرب کے ساتھ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔ مگر قتل نہیں کیا جائے گا۔ اور مرتد کی اولاد کی اولاد نہ اصالتاً مرتد ہے اور نہ تبعاً بلکہ وہ اصلی کافر کہلائے گی۔ اور ان پر سزائے ارتداد جاری نہیں ہوگی۔ کیونکہ اولاد کی اولاد مرتد نہیں وہ سادہ کافر ہے۔ اس لئے اس کا حکم مرتد کا نہیں۔

خلاصہ یہ کہ :

قبول نہ کرے تو واجب الحبس ہے، یعنی اس کو قید کرنا لازم ہے۔

احکام جاری نہیں ہوں گے۔

صفحہ 676

زندیق مرزائی کی نسل کا حکم

لیکن قادیانیوں کی سو نسلیں بھی بدل جائیں تو ان کا حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا۔ سادہ کافر کا حکم نہیں ہو گا...... کیوں؟ اس لئے کہ ان کا جو جرم ہے یعنی کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہنا، یہ جرم ان کی آئندہ نسلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

الغرض قادیانی جتنے بھی ہیں خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوئے ہوں، قادیانی زندیق بنے ہوں یا وہ ان کے بقول ”پیدائشی احمدی“ ہوں، قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں اور یہ کفر ان کو ورثے میں ملا ہو، ان سب کا ایک ہی حکم ہے یعنی مرتد اور زندیق کا.......... کیونکہ ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کافر بنے ہیں بلکہ ان کا جرم یہ ہے کہ دین اسلام کو کفر کہتے ہیں۔ اور اپنے دین کفر کو اسلام کا نام دیتے ہیں۔ اور یہ جرم ہر قادیانی میں پایا جاتا ہے خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر قادیانی بنا ہو یا پیدائشی قادیانی ہو۔ اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجئے بہت سے لوگوں کو قادیانیوں کی صحیح حقیقت معلوم نہیں۔

قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کو غیرت سے کام لینا چاہئے

قادیانیوں کے جرم کی پوری وضاحت میں نے آپ حضرات کے سامنے کر دی۔ اب مجھے آپ حضرات سے ایک بات کہنی ہے۔ پہلے ایک مثال دوں گا۔ مثال تو بھدی سی ہے مگر سمجھانے کے لئے مثال سے کام لینا پڑتا ہے۔

ایک باپ کے دس بیٹے تھے، جو اس کے گھر پیدا ہوئے وہ ساری عمر ان کو اپنا بیٹا کہتا رہا۔ باپ مر گیا۔ اس کے انتقال کے بعد ایک غیر معروف شخص اٹھا اور یہ دعویٰ کیا کہ

میں مرحوم کا صحیح بیٹا ہوں۔ یہ دسوں کے دس لڑکے اس کی ناجائز اولاد ہیں۔

میں یہ مثال فرض کر رہا ہوں اور اس سلسلے میں آپ سے دو باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ دنیا کا کوئی صحیح الدماغ آدمی اس شخص کے دعوے کو قبول کرے گا؟ یہ

صفحہ 677

غیر معروف مدعی جس نے مرحوم کی زندگی میں کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں فلاں شخص کا بیٹا ہوں نہ مرحوم نے اپنی زندگی میں کبھی یہ دعویٰ کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے ، کیا دنیا کی کوئی عدالت اس شخص کے دعوےٰ کو سن کر یہ فیصلہ دے گی کہ یہ شخص مرحوم کا حقیقی بیٹا ہے اور باقی دس لڑکے مرحوم کے بیٹے نہیں ؟

دوسری بات مجھے آپ سے یہ پوچھنی ہے کہ یہ شخص جو باپ کے دس بیٹوں کو حرام زادہ کہتا ہے وہ ان کو ان کے باپ کی جائز اولاد تسلیم نہیں کرتا، ان دس لڑکوں کا رد عمل اس شخص کے بارے میں کیا ہوگا؟

ان دونوں باتوں کو ذہن میں رکھ کر سنئے! ہم بحمد اللہ ! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ آپؐ کے لائے ہوئے پورے دین کو مانتے ہیں۔ الحمد للہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد ہیں۔ یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا۔ بلکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے۔ النَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ . نبی مومنوں کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کو اپنی ذات سے اتنا تعلق نہیں جتنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر امتی کی ذات سے تعلق ہے۔ وَاَزْوَاجُهٗ اُمَّهَاتُهُمْ . ”اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“ اور قرآن میں ہے۔ وَهُوَ اَبٌ لَّهُمْ :

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہماری مائیں بنیں، چنانچہ ہم سب ان کو ”امہات المومنین“ کہتے ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ، ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ ، ام المومنین میمونہ، ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہن ۔ ہم تمام ازواج مطہرات کے ساتھ ام المومنین کہتے ہیں تو جب یہ ہماری مائیں ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے روحانی باپ ہوئے۔ اولاد میں کوئی ماں باپ کا زیادہ فرمانبردار ہوتا ہے کوئی کم، کوئی زیادہ خدمت گزار ہوتا ہے۔ کوئی کم، کوئی زیادہ ہنرمند ہوتا ہے کوئی کم، کوئی زیادہ سمجھدار اور عقلمند ہوتا ہے کوئی کم...... اولاد ساری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ان میں فرق ضرور ہوتا ہے۔ لیکن ساری کی ساری باپ ہی کی اولاد کہلاتی ہے۔

صفحہ 678

تیرہ صدیوں کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد تھی۔ چودھویں صدی کے شروع میں مرزا غلام قادیانی کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ حضورؐ کی روحانی اولاد صرف میں ہوں باقی سارے مسلمان کافر ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری امت کے مسلمان حضور کی روحانی اولاد نہیں بلکہ نعوذ باللہ ناجائز اولاد ہیں۔ حرام زادے ہیں۔

مجھے معاف کیجئے! میں مرزا غلام احمد کے صاف صاف الفاظ نقل کر رہا ہوں۔ ہم پوری دنیا کی مہذب عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کر کے کہتے ہیں کہ اگر کسی مجہول النسب کا یہ دعویٰ لائق سماعت نہیں کہ میں مرحوم کا حقیقی بیٹا ہوں۔ باقی دس کے دس بیٹے ناجائز اولاد ہیں۔ تو غلام احمد کا یہ ہذیانی دعویٰ کیونکر لائق سماعت ہے کہ وہ (مجہول النسب ہونے کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہے، اور آنحضرت کی ساری کی ساری امت کافر ہے۔ ناجائز اولاد ہے۔ آخر کس جرم میں پوری امت کا رشتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹ کر ان کو کافر اور ناجائز اولاد قرار دیا گیا۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو الف سے لے کر یا تک مانتے ہیں۔ ہم نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ہم نے کوئی عقیدہ نہیں بدلا۔ عقیدے غلام احمد نے بدلے اور کافر اور حرامزادے پوری امت کو کہا۔

ایک قادیانی سے میری گفتگو ہوئی۔ میں نے اس سے کہا کہ تیرہ صدیوں سے مسلمان چلے آتے تھے۔ مرزا غلام احمد کے دعوے پر ہمارا تمہارا اختلاف ہوا اور چودہویں صدی سے یہ اختلاف شروع ہوا۔ اب میں آپ سے انصاف کی بات کہتا ہوں۔ کہ اگر ہمارے عقیدے تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو تم ان کو مان لو اور غلام احمد کو چھوڑ دو، اور تمہارے عقیدے تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو ہم تم کو سچا مان لیں گے۔ لیجئے ہمارا اختلاف فوراً ختم ہو سکتا ہے۔ یہ انصاف کی بات ہے اور دونوں فریقوں کے لئے برابر کی بات ہے۔ وہ قادیانی سیالکوٹ کا پنجابی تھا۔ میری بات سن کر کہنے لگا۔ ”جی سچی بات ایہہ ہے کہ اسی تاں مرزا صاحب توں سوا باقی ساریاں نوں جھوٹے سمجھنے آں۔“ یعنی ”سچی بات تو یہ ہے کہ ہم تو مرزا صاحب کے سوا باقی سب کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔“ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے، مرزا یہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ صرف

صفحہ 679

میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہوں باقی سب مسلمان ناجائز اولاد ہیں اور یہ شخص اپنے آپ کو روحانی بیٹا کہہ کر پوری دنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر ان دس بیٹوں کا حرامزادہ ہونا کوئی شخص تسلیم نہیں کرے گا جو اس کے گھر پیدا ہوئے۔ اس کی بیوی سے پیدا ہوئے اور ایک غیر معروف اور مجہول النسب آدمی، جس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کسی میراثی کی اولاد ہے، اگر وہ آکر ایسا دعویٰ کرے گا تو کوئی اس کے دعویٰ کو نہیں سنے گا۔ میں کہتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں میں ان ”دس بیٹوں“ جتنی بھی غیرت نہیں۔ آپ قادیانیوں کی یہ بات کیسے سن لیتے ہیں۔ کہ دنیا بھر کے مسلمان غلط ہیں اور مرزا ٹھیک ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان کافر ہیں۔ اور مرزائی مسلمان ہیں۔ وہ تمہیں یہ سبق پڑھانے کے لئے تمہاری مجلسوں میں آتے ہیں اور آپ بڑے اطمینان سے ان کی باتیں سن لیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی عقلمند ایسا نہیں ہوگا۔ جس کی عدالت میں یہ مقدمہ لے جایا جائے اور وہ ایک مجہول النسب شخص کے دعوے پر دس بیٹوں کے حرامزادے ہونے کا فیصلہ کر دے اور ان دس بیٹوں میں کوئی ایسا بے غیرت نہیں ہو گا جو اس مجہول النسب شخص کے دعوے کو سننا بھی گوارا کرے لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے بدھو بھائی قادیانیوں کے اس دعوے کو سن لیتے ہیں۔ اور انہیں ذرا بھی غیرت نہیں آتی۔

صفحہ 680

میرا اور آپ کا فرض!!......

میرا اور آپ کا ہر مسلمان کا فرض کیا ہونا چاہئے؟ قادیانیت نے ہمارا رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔ حالانکہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مانتے ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جس کو ہم مانتے ہیں، وہ تو کفر نہیں ہوسکتا۔ جو شخص ہمیں کافر کہتا ہے، وہ ہمارے دین کو کفر کہتا ہے، وہ ہمارا رشتہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹتا ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ سب ناجائز اولاد ہیں۔

اب مسلمانوں کی غیرت کا تقاضا کیا ہونا چاہئے؟ ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک قادیانی بھی زندہ نہ بچے۔ پکڑ پکڑ کر خبیثوں کو مار دیں۔ یہ میں جذباتی بات نہیں کر رہا بلکہ حقیقت یہی ہے۔ اسلام کا فتویٰ یہی ہے۔ مرتد اور زندیق کے بارے میں اسلام کا قانون یہی ہے۔ مگر یہ دارو گیر حکومت کا کام ہے۔ ہم انفرادی طور پر اس پر قادر نہیں۔ اس لئے کم از کم اتنا تو ہونا چاہئے۔ کہ ہم قادیانیوں سے مکمل قطع تعلق کریں۔ ان کو اپنی کسی مجلس میں، کسی محفل میں برداشت نہ کریں۔ ہر سطح پر ان کا مقابلہ کریں اور جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا کر آئیں۔

الحمد للہ ہم نے جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا دیا ہے۔ برطانیہ قادیانیوں کی ماں ہے۔ جس نے ان کو جنم دیا۔ اب ان کا گرو مرزا طاہر اپنی ماں کی گود میں جا بیٹھا ہے اور وہاں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو للکار رہا ہے۔ یورپ، امریکہ افریقہ کے وہ بھولے بھالے مسلمان جو نہ پوری طرح اسلام کو سمجھتے ہیں نہ ان کو قادیانیت کی حقیقت کا علم ہے۔ وہ قادیانیت کو نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے؟ ان کو اہل علم کے پاس بیٹھنے کا بھی موقع نہیں ملتا۔ ہمارے ان بھولے بھالے بھائیوں کو قادیانی، مرتد بنانے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور وہ اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس کے لئے اربوں کھربوں کے میزانیے بنا رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“

صفحہ 681

نے بھی حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا پوری دنیا میں بلند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس طرح پاکستان میں قادیانیوں کی حقیقت کھل چکی ہے، اور وہ مسلمانوں سے کاٹے جاچکے ہیں انشاء اللہ العزیز پوری دنیا میں، دنیا کے ایک ایک حصے میں قادیانیوں کی قلعی کھل کر رہے گی۔ ایک وقت آئے گا کہ پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ مرزائی مسلمان نہیں بلکہ یہ اسلام کے غدار ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں۔ پوری انسانیت کے غدار ہیں ...... انشاء اللہ پوری دنیا میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلے گی اور آخری فتح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے غلاموں کی ہوگی۔

پاکستان میں بھی یہ لوگ ایک عرصے تک مسلمان کہلاتے رہے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی قربانیاں رنگ لائیں اور قادیانی ناسور کو جسد ملت سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا۔ انشاء اللہ پوری دنیا میں دیر سویر یہی ہوگا۔ الحمد للہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے عالمی سطح پر کام شروع کر دیا ہے۔ میں ہر اس مسلمان سے، جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا خواستگار ہے، یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ختم نبوت کے جھنڈے کو پورے عالم میں بلند کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے بھرپور تعاون کرے۔ اور تمام مسلمان قادیانیوں مرزائیوں کے بارے میں ایمانی و دینی غیرت کا مظاہرہ کریں...... ہر مسلمان اس سلسلے میں جو قربانیاں پیش کر سکتا ہے وہ پیش کرے۔

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

محمد یوسف لدھیانوی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ 28
PDF 683

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ملتان

قادیانی مسائل

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ 684

خشت اول

ہماری بد نصیبی کہ قادیانی مرتد، زندیق، گستاخ رسولؐ، باغی ختم نبوت، مجرمان تحریف قرآن و حدیث، غداران ملت و دین، آلہ کاران یہود نصاریٰ ہونے کے باوجود خدا کی دھرتی پر بڑی عیش و عشرت اور کروفر کے ساتھ زندہ ہیں۔ اور اپنی دجالی صورتیں اور منحوس وجود لئے اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں پوری توانائیوں کے ساتھ جتے ہوئے ہیں۔

افسوس صد افسوس! وہ طائفہ مرتدین جسے تہ تیغ ہونا تھا، وہ گروہ زندیقین جسے تختہ دار پہ جھولنا تھا، سارقین ختم نبوت کی وہ جماعت جسے خاک و خون میں تڑپنا تھا اور جس کا بند بند کٹا جانا تھا آج ہمارے معاشرے کا رواں دواں حصہ ہے اور اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی دولت اور عطا کردہ کلیدی عہدوں کی طاقت سے سوسائٹی میں ایک طاقتور حیثیت حاصل کر چکے ہیں اور وہ مسلم معاشرے میں اس طرح گھل مل گئے ہیں جیسے دونوں کے مابین کوئی فرق ہی نہیں۔ جب فکر کے بلند مینارے پر بیٹھ کر ایک عمیق نگاہ اپنے معاشرے پر ڈالتے ہیں تو چشم حیرت دیکھتی ہے کہ کسی کا بھائی قادیانی کسی کا چچا قادیانی کسی کا شوہر قادیانی کسی کی بیوی قادیانی کسی کا استاد قادیانی کسی کا شاگرد قادیانی کوئی قادیانی کا افسر کوئی قادیانی کا ماتحت کوئی قادیانی کا جگری دوست کوئی قادیانی کا شریک کاروبار کوئی قادیانی کا ہمسایہ کہیں قادیانی کی فیکٹری میں مسلمان ملازم کہیں مسلمان کی فیکٹری میں قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات............. پھر یہ تعلقات مزید بڑھتے ہیں پروان چڑھتے ہیں اور ایک خطرناک موڑ مڑ کر وادیٔ ایمان شکن کے نشیب میں اتر جاتے ہیں ............... پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے جنازے پڑھے جا رہے ہیں................ آپس میں رشتے ناتے طے کئے جا رہے ہیں....... خوشی کے موقعوں پر تحائف کا تبادلہ ہو رہا ہے....... عید کے موقع پر بغل گیریاں ہو رہی ہیں اور ماتھے چومے جا رہے ہیں.......

صفحہ 685

شادیوں میں کھانا اکٹھا کھایا جا رہا ہے قہقہے لگ رہے ہیں اور خود کو مسلمان کہلوانے والا "قادیانی دولہا" کے وکیل کی حیثیت سے نکاح فارم پر دستخط کر رہا ہے ...... چند ٹکوں کے لئے مسلمان اساتذہ قادیانیوں کے گھروں میں ٹیوشن پڑھا رہے ہیں اور مرتدوں کے ہاں سے چائے شربت بھی اڑا رہے ہیں ...... تحریف قرآن کے مجرموں کے گھروں میں مسلمان بچے قرآن پڑھنے جا رہے ہیں شعائر اسلامی کی توہین کرنے کے جرم میں اگر کوئی قادیانی پکڑا گیا ہے تو عدالت کے ایوان میں مسلمان وکیل دنیائے فانی کی دولت فانی کے چند روپوں کے عوض اس مجرم اسلام کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے بڑے پرجوش انداز میں دلائل کے انبار لگا رہا ہے۔ غرضیکہ کفر و ایمان کی حد فاصل کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ لیکن ان میں سے بہتوں کو معلوم نہیں کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ایمان کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ وہ جہالت کی شمشیر سے اپنی دینی غیرت کے ٹکڑے کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تڑپا رہے ہیں اور اللہ کی آتش انتقام کو دعوت انتقام دے رہے ہیں اللہ اجر عظیم عطا فرمائے مجاہد اسلام پاسبان ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کو جو ایک طویل مدت سے ملت اسلامیہ کو فتنہ قادیانیت اور اس کی خطرناک چالوں سے آگاہ کر رہے ہیں اور افراد امت کی تربیت کر کے انہیں اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے صف آرا کر رہے ہیں۔ یہ کتابچہ ان سوالات کے مجموعہ سے انتخاب ہے جو اندرون و بیرون ملک کے قارئین روزنامہ جنگ کراچی اور ہفتہ روزہ انٹر نیشنل ختم نبوت میں مولانا سے پوچھتے ہیں۔ اب کتابچہ آپ کے ہاتھوں میں ہے اور آپ کے در دل پر دستک دے رہا ہے کہ خدارا مجھے پڑھو اور پڑھاؤ .............. سمجھو اور سمجھاؤ ............. جاگو اور جگاؤ .............. بچو اور بچاؤ !!! (ادارہ)

مسلمان کی تعریف

س ...... قرآن اور حدیث کے حوالہ سے مختصراً بتائیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ ج ...... ایمان نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دین کو بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے قبول کرنے کا، اور اس کے مقابلہ میں کفر نام ہے آنحضرت

صفحہ 686

صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کی کسی قطعی و یقینی بات کو نہ ماننے کا۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات میں ”ما انزل الی الرسول“ کے ماننے کو ”ایمان“ اور ”ما انزل الی الرسول“ میں سے کسی ایک کے نہ ماننے کو کفر فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون کثرت سے آیا ہے، مثلاً صحیح مسلم (جلد اول صفحہ ۳۷) کی حدیث میں ہے ”اور وہ ایمان لائیں مجھ پر اور جو کچھ میں لایا ہوں اس پر“ ......... اس سے مسلمان اور کافر کی تعریف معلوم ہو جاتی ہے، یعنی جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی تمام قطعی و یقینی باتوں کو من و عن مانتا ہو وہ مسلمان ہے اور جو شخص قطعیات دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو یا اس کے معنی و مفہوم کو بگاڑتا ہو وہ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہے۔

مثل کے طور پر قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا ہے اور بہت سی احادیث شریفہ میں اس کی یہ تفسیر فرمائی گئی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور امت اسلامیہ کے تمام فرقے (اپنے اختلافات کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں لیکن مرزا غلام قادیانی نے اس عقیدے سے انکار کر کے نبوت کا دعویٰ کیا اس وجہ سے قادیانی غیر مسلم اور کافر قرار پائے۔

اسی طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کے مبلغین اس عقیدے سے منحرف ہیں۔ اور وہ مرزا کے عیسیٰ ہونے کے مدعی ہیں، اس وجہ سے بھی وہ مسلمان نہیں۔ اسی طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو قیامت تک مدار نجات ٹھہرایا گیا ہے لیکن مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میری وحی نے شریعت کی تجدید کی ہے۔ اس لئے اب میری وحی اور میری تعلیم مدار نجات ہے (اربعین نمبر ۴ صفحہ ۷ حاشیہ) غرض کہ مرزا قادیانی نے بے شمار قطعیات اسلام کا انکار کیا ہے۔ اس لئے تمام اسلامی فرقے ان کے کفر پر متفق ہیں۔

مسلمان اور قادیانی کے کلمہ اور ایمان میں بنیادی فرق

س ...... انگریزی دان طبقہ اور وہ حضرات جو دین کا زیادہ علم نہیں رکھتے لیکن مسلمانوں

صفحہ 687

کے آپس کے افتراق سے بیزار ہیں، قادیانیوں کے سلسلہ میں بڑے گومگو میں ہیں۔ ایک طرف وہ جانتے ہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہئے جبکہ قادیانیوں کو کلمہ کا بیج لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے، دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام قادیانی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا تھا برائے مہربانی آپ بتائیں کہ قادیانی جو مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں کیونکر کافر ہیں؟

ج ...... قادیانیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر مرزا غلام قادیانی نبی ہیں جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو پھر آپ لوگ مرزا کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟ مرزا کے صاحب زادے مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنے رسالہ ”کلمتہ الفضل“ میں اس سوال کے دو جواب دیئے ہیں۔ ان دونوں جوابوں سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں کیا فرق ہے؟ اور یہ کہ قادیانی ”محمد رسول اللہ“ کا مفہوم کیا لیتے ہیں؟ مرزا بشیر احمد کا پہلا جواب یہ ہے کہ

”محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں، اور آپ کے نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں۔ ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

”ہاں! حضرت مسیح موعود (مرزا) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود (مرزا) کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے مگر مسیح موعود (مرزا) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی۔

”غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا) کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس۔“

یہ تو ہوا مسلمانوں اور قادیانی غیر مسلم اقلیت کے کلمے میں پہلا فرق۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانیوں کے کلمہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شامل ہے اور مسلمانوں کا کلمہ اس نئے نبی کی ”زیادتی“ سے پاک ہے۔ اب دوسرا فرق سنئے! مرزا بشیر

صفحہ 688

قادیانی ایم اے لکھتے ہیں۔

”علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ (یعنی مرزا) خود فرماتا ہے ”صار وجودی جودہ ۔“ (یعنی میرا وجود محمد رسول اللہ ہی کا وجود بن گیا ہے۔ از ناقل) نیز ”من فرق بینی و بین المصطفےٰ فما عرفنی و ما رائی“ (یعنی جس نے مجھ کو اور مصطفیٰ کو الگ الگ سمجھا اس نے مجھے نہ پہچانا نہ دیکھا۔ ناقل) اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیینؐ کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ (نعوذ باللہ۔ ناقل) جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے۔

”پس مسیح موعود (مرزا) خود محمد رسول اللہ ہیں، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔

”ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی“ ...... فتدبروا ......

(کلمۃ الفصل صفحہ ۱۵۸ مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز جلد ۱۴ نمبر ۳، ۴

بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں دوسرا فرق ہوا کہ مسلمان کے کلمہ شریف میں ”محمد رسول اللہ“ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور قادیانی جب ”محمد رسول اللہ“ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام قادیانی مراد ہوتے ہیں۔

مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے جو لکھا ہے کہ ”مرزا صاحب خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دنیا میں دوبارہ تشریف لائے ہیں“ یہ قادیانیوں کا بروزی فلسفہ ہے (جس کو فلسفہ تناسخ کہنا زیادہ موزوں ہوگا) جس کی مختصر سی وضاحت یہ ہے کہ

صفحہ 689

ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دوبارہ جنم لینا تھا۔ چنانچہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور دوسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرزا غلام قادیانی کے روپ میں معاذ اللہ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں جنم لیا۔ مرزا قادیانی نے تحفہ گولڑویہ خطبہ الہامیہ اور دیگر بہت سی کتابوں میں اس مضمون کو بار بار دہرایا ہے

(دیکھئے خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۱ صفحہ ۱۸۰)

اس نظریہ کے مطابق قادیانی امت مرزا قادیانی کو ”عین محمد“ سمجھتی ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ نام، کام، مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے مرزا قادیانی اور محمد رسول اللہ کے درمیان کوئی دوئی اور مغائرت نہیں ہے، نہ وہ دونوں علیحدہ وجود ہیں بلکہ دونوں ایک ہی شان ایک ہی مرتبہ ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی غیر مسلم اقلیت مرزا غلام قادیانی کو وہ تمام اوصاف و القاب اور مرتبہ و مقام دیتی ہے جو اہل اسلام کے نزدیک صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ ہیں، محمد مصطفیٰ ہیں، احمد مجتبیٰ ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، امام الرسل ہیں، رحمۃ اللعالمین ہیں، صاحب کوثر ہیں، صاحب معراج ہیں، صاحب مقام محمود ہیں، صاحب فتح مبین ہیں، زمین و زمان اور کون و مکان صرف مرزا صاحب کی خاطر پیدا کئے گئے وغیرہ وغیرہ۔

اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بقول ان کے مرزا قادیانی کی ”بروزی بعثت“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بعثت سے روحانیت میں اعلیٰ واکمل ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ روحانی ترقیات کی ابتدا کا زمانہ تھا اور مرزا قادیانی کا زمانہ ان ترقیات کی انتہا کا! رسول پاک علیہ السلام کا عہد نبوت مرزائیوں کے نزدیک صرف تائیدات اور دفع بلیات کا زمانہ تھا اور مرزا صاحب کا زمانہ برکات کا زمانہ ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں اسلام پہلی رات کے چاند کی مانند تھا جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی اور مرزا صاحب کا زمانہ نعوذ باللہ چودہویں رات کے بدر کامل کے مشابہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ہزار معجزے دیئے گئے تھے اور مرزا قادیانی کو دس لاکھ بلکہ دس کروڑ بلکہ بے شمار! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہنی ارتقاء وہاں تک نہیں پہنچا جہاں تک قادیان کے مرزا قادیانی نے ذہنی ترقی کی! آنحضرت صلی

صفحہ 690

اللہ علیہ وسلم پر بہت سے وہ رموز و اسرار نہیں کھلے جو کور دل کور باطن مرزا قادیانی پر کھلے! قادیانی خرافات نے یہیں پر بس نہیں کی۔

قادیانیوں کے بقول اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت رسول اللہ صلی اللہ وسلم تک تمام نبیوں سے عہد لیا کہ وہ مرزا قادیانی پر ایمان لائیں اور ان کی بیعت و نصرت کریں! خلاصہ یہ کہ قادیانیوں کے نزدیک نہ صرف مرزا قادیانی کی شکل میں محمد رسول اللہ نے دوبارہ جنم لیا ہے، بلکہ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر جنم لینے والا ”محمد رسول اللہ“ اصلی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اپنی شان میں بڑھ کر ہے۔ نعوذ باللہ استغفر اللہ!

چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مرید (یا قادیانی اصطلاح میں مرزا قادیانی کے ”صحابی“ ) قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا قادیانی کی شان میں ایک ”نعت“ لکھی جسے خوش خط لکھوا کر اور خوبصورت فریم بنوا کر قادیان کی ”بارگاہ رسالت“ میں پیش کیا۔ مرزا قادیانی اپنے نعت خواں سے بہت خوش ہوا اور اسے بڑی دعائیں دیں۔ بعد میں وہ قصیدہ نعتیہ مرزا قادیانی کے ترجمان اخبار بدر جلد ۲ نمبر ۴۳ میں شائع ہوا۔ وہ پرچہ راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے۔ اس کے چار شعر ملاحظہ ہوں۔

امام اپنا عزیزو! اس جہاں میں
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں!
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر قادیان ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)

مرزا قادیانی کا ایک اور نعت خواں قادیان میں جنم لینے والے ”بروزی محمد رسول اللہ“ (مرزا قادیانی) کو ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتا ہے۔

صفحہ 691
صدی چودہویں کا ہوا سر مبارک
کہ جس پر وہ بدر الدجیٰ بن کے آیا
محمد پئے چارہ سازی امت
ہے اب ”احمد مجتبیٰ“ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا

(الفضل قادیان ۲۸ مئی ۱۹۲۸ء)

یہ ہے قادیانیوں کا ”محمد رسول اللہ“ جس کا وہ کلمہ پڑھتے ہیں۔

چونکہ مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین اور آخری نبی مانتے ہیں، اس لئے کسی مسلمان کی غیرت ایک لمحہ کے لئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی منصب نبوت پر قدم رکھنے کی اجازت دی جائے کجا کہ ایک ”غلام اسود“ کو نعوذ باللہ ”محمد رسول اللہ“ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اعلیٰ و افضل بنا ڈالا جائے۔ بنا بریں قادیان کی شریعت مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیتی ہے۔ مرزا بشیر قادیانی ایم اے لکھتے ہیں۔

”اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ وہی ہے۔“

”اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریمؐ کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے ......... آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ ۱۴۷)

صفحہ 692

دوسری جگہ لکھتے ہیں۔

"ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔"

(صفحہ ۱۱۰)

ان کے بڑے لڑکے مرزا محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں۔

"کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔"

(آئینہ صداقت صفحہ ۳۵)

ظاہر ہے کہ اگر قادیانی بھی اسی محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں جن کا کلمہ مسلمان پڑھتے ہیں تو قادیانی شریعت میں مسلمانوں پر یہ "کفر کا فتویٰ" نازل نہ ہوتا۔ اس لئے مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ کے الفاظ گو ایک ہی ہیں مگر ان کے مفہوم میں زمین و آسمان اور کفر و ایمان کا فرق ہے۔

لاہوری گروپ کیا چیز ہے؟

س ...... لاہوری گروپ کیا چیز ہے؟ اس کے پیروکار کون لوگ ہیں؟ ان کا طریقہ عبادت کیا ہے؟ یہ اپنے آپ کو کون سی امت کہلاتے ہیں؟

ج ...... حکیم نور الدین کے مرنے کے بعد مرزائی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ جماعت کے بڑے حصہ نے مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یہ "قادیانی مرزائی" کہلاتے ہیں۔ اور مرزائیوں کے ایک مختصر ٹولے نے مرزا محمود کی بیعت سے کنارہ کشی اختیار کی، ان کا مرکز لاہور تھا، اور اس جماعت کا قائد مسٹر محمد علی لاہوری تھا۔ یہ جماعت "لاہوری مرزائی" کہلاتی ہے۔ ان دونوں جماعتوں میں اس پر اتفاق ہے کہ

صفحہ 693

مرزا قادیانی مسیح موعود تھا۔ مہدی تھا، ظلی نبی تھا۔ اس کی وحی واجب الایمان اور اس کی پیروی موجب نجات ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مرزا کو حقیقی نبی کہا جائے یا نہیں؟ لاہوری جماعت مرزا کو نبی کہنے سے گھبراتی ہے۔ اسے مسیح موعود، مہدی معہود اور چودہویں صدی کے مجدد کے ناموں سے یاد کرتی ہے۔ اہل اسلام کے نزدیک ان دونوں جماعتوں کا ...... بلکہ مرزا کو ماننے والی تمام جماعتوں کا ایک ہی حکم ہے کیونکہ مرزا مرتد تھا۔ مرتد کو مسیح ماننے والے بھی مرتد ہی ہوں گے۔

”احمدی“ یا قادیانی

س ...... ختم نبوت مسلمانوں کا بہترین رسالہ ہے۔ آپ صرف یہ بتائیں کہ احمدی کا قادیانی سے کیا تعلق ہے۔ کیا احمدی ہی قادیانی کا دوسرا نام ہے اور اگر احمدی کا قادیانی سے کوئی تعلق نہیں تو احمدی کے متعلق مفصل بتائیں کہ وہ کیا ہے اور اس کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟

ج ...... مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو قادیانی یا مرزائی کہا جاتا ہے، لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں اور ان کے ”احمدی“ کہلانے میں بھی بہت بڑا دجل ہے کیونکہ ”احمدی“ نسبت ہے ”احمد“ کی طرف چونکہ قادیانی مرزا غلام احمد کو ”احمد“ کہتے ہیں اور اسے قرآن کی آیت ”ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ کا مصداق سمجھتے ہیں اس لئے وہ ”احمد“ کی طرف نسبت کر کے اپنے تئیں ”احمدی“ کہلاتے ہیں، گویا قادیانیوں یا مرزائیوں کا اپنے آپ کو ”احمدی“ کہلانا دو باتوں پر موقوف ہے۔

اول یہ کہ مرزا غلام احمد، احمد ہے۔ دوم یہ کہ وہ قرآنی آیت کا مصداق ہے۔ اور یہ دونوں باتیں خالص جھوٹ ہیں کیونکہ مرزا کا نام ”احمد“ نہیں بلکہ غلام احمد تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس غدار غلام نے آقا کی گدی پر قبضہ کر کے خود ”احمد“ ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے اور دوسری بات اس لئے جھوٹ ہے کہ اسم احمد کا مصداق ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی۔ لعین آنجہانی۔ اس لئے مرزائیوں کو ”احمدی“ کہنا مسلمانوں کے نزدیک جائز نہیں۔ ہمارا انگریزی پڑھا لکھا طبقہ جو ان کو ”احمدی“ کہتا ہے وہ حقیقت حال سے بے خبر ہے۔

صفحہ 694

احمد کا مصداق کون ہے؟

س ...... قرآن پاک میں ۲۸ ویں پارے میں سورۃ صف میں موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بعد ایک نبی آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ اس سے مراد کون ہیں جبکہ قادیانی لوگ اس سے مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں؟

ج ...... اس آیت شریفہ کا مصداق ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے کئی نام ہیں میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں“ (مشکوٰۃ صفحہ ۵۱۵) نیز مسند احمد کی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں۔ (مشکوٰۃ صفحہ ۵۱۳)

نیز صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ارشاد ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام علاتی (باپ شریک) بھائی ہوتے ہیں، ان کا دین ایک ہے۔ اور ان کی مائیں (یعنی شریعتیں) الگ الگ ہیں۔ اور مجھے سب سے زیادہ تعلق عیسیٰ علیہ السلام سے ہے۔ کیونکہ ان کے درمیان اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اس لئے میں ان کی بشارت کا مصداق ہوں۔ (مشکوٰۃ ص ۵۰۹) قادیانی چونکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے وہ اس کو بھی نہیں مانیں گے۔

کافر، زندیق، مرتد کا فرق

س ...... (۱) کافر اور مرتد میں کیا فرق ہے؟ (۲) جو لوگ کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہوں وہ کافر کہلائیں گے یا مرتد؟ (۳) اسلام میں مرتد کی کیا سزا ہے اور کافر کی کیا سزا ہے؟

ج ...... جو لوگ اسلام کو مانتے ہی نہیں وہ تو کافر اصلی کہلاتے ہیں، جو لوگ دین اسلام کو قبول کرنے کے بعد اس سے برگشتہ ہو جائیں وہ ”مرتد“ کہلاتے ہیں اور جو لوگ دعویٰ اسلام کا کریں لیکن عقائد کفریہ رکھتے ہوں اور قرآن و حدیث کے نصوص میں تحریف کر کے انہیں اپنے عقائد کفریہ پر فٹ کرنے کی کوشش کریں انہیں ”زندیق“ کہا جاتا

صفحہ 695

ہے اور جیسا کہ آگے معلوم ہو گا ان کا حکم بھی ”مرتدین“ کا ہے بلکہ ان سے بھی سخت۔

باوجود کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہیں اور قرآن و سنت کے نصوص کو اس جھوٹے مدعی پر چسپاں کرتے ہیں وہ مرتد اور زندیق ہیں۔

دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر ان تین دنوں میں وہ اپنے ارتداد سے توبہ کر کے پکا سچا مسلمان بن کر رہنے کا عہد کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور اسے رہا کر دیا جائے لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسلام سے بغاوت کے جرم میں اسے قتل کر دیا جائے۔ جمہور ائمہ کے نزدیک مرتد خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے البتہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مرتد عورت اگر توبہ نہ کرے تو اسے سزائے موت کے بجائے حبس دوام کی سزا دی جائے۔

زندیق بھی مرتد کی طرح واجب القتل ہے لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اس کی جان بخشی کی جائے گی یا نہیں؟ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ توبہ کر لے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، وہ بہرحال واجب القتل ہے۔ امام احمدؒ سے دونوں روایتیں منقول ہیں ایک یہ کہ اگر وہ توبہ کر لے تو قتل نہیں کیا جائے گا اور دوسری روایت یہ ہے کہ زندیق کی سزا بہر صورت قتل ہے خواہ توبہ کا اظہار بھی کرے حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتاری سے پہلے از خود توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور سزائے قتل معاف ہو جائے گی لیکن گرفتاری کے بعد اس کی توبہ کا اعتبار نہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ زندیق مرتد سے بدتر ہے کیونکہ مرتد کی توبہ بالاتفاق قبول ہے لیکن زندیق کی توبہ کے قبول ہونے پر اختلاف ہے، بہر حال اگر وہ اپنے مذہب باطل سے تائب ہو جائے تو اس کی توبہ عنداللہ مقبول ہے۔

صفحہ 696

قادیانیوں کے ساتھ اشتراک تجارت اور میل ملاپ حرام ہے

س...... کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں؟

قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ اپنی جماعت کے مرکزی فنڈ میں جمع کراتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف تبلیغ اور ارتدادی مہم پر خرچ ہوتا ہے۔ چونکہ قادیانی مرتد کافر اور دائرہ اسلام سے متفقہ طور پر خارج ہیں تو کیا ایسے میں ان کے اشتراک سے مسلمانوں کا تجارت کرنا یا ان کی دکانوں سے خرید و فروخت کرنا یا ان سے کسی قسم کے تعلقات یارانہ و رسم رکھنا از روئے اسلام جائز ہے؟

ج...... صورت مسئولہ میں اس وقت چونکہ قادیانی کافر محارب اور زندیق ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت نہیں سمجھتے بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ تجارت کرنا خرید و فروخت کرنا ناجائز و حرام ہے کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں۔ گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں لہٰذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں۔ اسی طرح شادی غمی، کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا عام مسلمانوں کا اختلاط ان کی باتیں سننا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا، ملازم رکھنا ان کے ہاں ملازمت کرنا یہ سب کچھ حرام بلکہ دینی حمیت کے خلاف ہے فقط واللہ اعلم۔

قادیانیوں سے میل جول رکھنا

س...... میرا ایک سگا بھائی جو میرے ایک اور سگے بھائی کے ساتھ مجھ سے الگ اپنے آبائی مکان میں رہتا ہے محلہ کے ایک قادیانی کے گھر والوں سے شادی غمی میں شریک ہوتا ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ اس قادیانی خاندان سے تعلق چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اور الگ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ والد صاحب انتقال کر چکے ہیں۔ والدہ اور بہنیں میرے اس بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔ اب میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی ہے میرا اصرار ہے کہ وہ شادی میں اُس قادیانی کو گھر مدعو نہ کریں۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں

صفحہ 697

گے۔ اب سوال ہے کہ میرے لئے شریعت اور اسلامی احکامات کی رو سے بھائیوں اور والدہ کو چھوڑنا ہو گا یا میں شادی میں شرکت کروں تو بہتر ہو گا۔ اس صورت حال میں جو بات صائب ہو اس سے براہ کرم شریعت کا منشا واضح کریں؟

ج...... قادیانی مرتد اور زندیق ہیں اور ان کو اپنی تقریبات میں شریک کرنا دینی غیرت کے خلاف ہے۔ اگر آپ کے بھائی صاحبان اس قادیانی کو مدعو کریں تو آپ اس تقریب میں ہر گز شریک نہ ہوں ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم ہوں گے۔ واللہ اعلم۔

مرزائیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والا مسلمان

س...... ایک شخص مرزائیوں (جو بلاریب بالاجماع کافر ہیں) کے پاس آتا جاتا ہے اور ان کے لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتا ہے اور بعض مرزائیوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے یعنی مرزائی ہے مگر جب خود اس سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہر گز نہیں بلکہ میں مسلمان ہوں اور ختم نبوت اور حیات حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرحمہ و فرضیت جہاد وغیرہ تمام عقائد اسلام کا قائل ہوں اور مرزائیوں کے دونوں گروپوں کو کافر، کذاب، دجال خارج از اسلام سمجھتا ہوں، تو کیا وجوہ بالا کی بنا پر اس شخص پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا؟

ج...... یہ شخص جب تمام اسلامی عقائد کا قائل ہے۔ اور مرزائیوں کو کافر و مرتد مانتا ہے تو اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ البتہ قادیانیوں کے ساتھ اس کا میل جول اور قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کرنا غلط حرکت ہے، اسکو اس سے توبہ کرنی چاہئے۔

قادیانی کی دعوت اور اسلامی غیرت

س...... ایک ادارہ جس میں تقریباً ۲۵ افراد ملازم ہیں، اور ان میں ایک قادیانی بھی شامل ہے اور اس قادیانی نے اپنے احمدی (قادیانی) ہونے کا برملا اظہار بھی کیا ہوا ہے۔ اب وہی قادیانی ملازم اپنے ہاں بچے کی پیدائش کی خوشی میں تمام سٹاف کو دعوت دینا چاہتا ہے اور سٹاف کے کئی ممبران اس کی دعوت میں شریک ہونے کو تیار ہیں جبکہ چند ایک ملازمین اس

صفحہ 698

کی دعوت قبول کرنے پر تیار نہیں کیونکہ ان کے خیال میں چونکہ جملہ قسم کے مرزائی مرتد دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہیں اور اسلام کے غدار ہیں تو ایسے مذہب سے تعلق رکھنے والے کی دعوت قبول کرنا درست نہیں ہے۔ آپ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں کہ کسی بھی قادیانی کی دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کے لئے کیا حیثیت رکھتا ہے تاکہ آئندہ کے لئے اسی کے مطابق لائحہ عمل تیار ہو سکے؟

ج....... مرزائی کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر اور حرامزادے کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ ”میرے دشمن جنگلوں کے سور ہیں۔ اور ان کی عورتیں ان سے بدتر کتیاں ہیں جو شخص آپ کو کتا، خنزیر، حرام زادہ کافر یہودی کہتا ہو اس کی تقریب میں شامل ہونا چاہئے یا نہیں؟ یہ فتویٰ آپ مجھ سے نہیں بلکہ خود اپنی اسلامی غیرت سے پوچھئے۔

قادیانیوں کی تقریب میں شریک ہونا

س...... اگر پڑوس میں زیادہ اہلسنت والجماعت رہتے ہوں، چند گھر قادیانی فرقہ کے ہوں، ان لوگوں سے بوجہ پڑوسی ہونے کے شادی بیاہ میں کھانا پینا یا ویسے راہ و رسم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

ج....... قادیانیوں کا حکم مرتدین کا ہے ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا یا ان کی تقریب میں شریک ہونا جائز نہیں۔ قیامت کے دن خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی جوابدہی کرنا ہوگی۔

قادیانیوں کے گھر کا کھانا

س....... قادیانی کے گھر کا کھانا صحیح ہے یا غلط ہے؟

ج....... قادیانی کا حکم تو مرتد کا ہے۔ ان کے گھر جانا ہی درست نہیں، نہ کسی قسم کا تعلق۔

صفحہ 699

قادیانی سے تعلقات

س...... اگر کسی مسلمان کا رشتہ دار قادیانی ہو اور اس کے ساتھ تعلقات بھی ہوں تو اس کے ساتھ کھانے پینے، لین دین اور قرضے کی صورت میں کیا احکام ہیں؟ اور قادیانی عورت یا قادیانی مرد سے نکاح کرنا کیسا ہے؟

چاہئے اور ان کی بالغ اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے کہ انہیں مسلمان کہا جائے گا یا قادیانی؟

خدا نخواستہ مرتد قادیانی ہو جائے تو نکاح فوراً فسخ ہو جاتا ہے۔ اولاد مسلمان کے پاس رہے گی۔

نوٹ ...... میرے رسائل قادیانی جنازہ، قادیانی مردہ اور قادیانی ذبیحہ کا مطالعہ ضرور کریں۔

قادیانی سہیلی سے تعلق رکھنا

س...... میری ایک بہت قریبی دوست ہے جو قادیانی ہے۔ جس وقت میری اس سے دوستی ہوئی تھی مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔ جب دوستی انتہائی مضبوط اور پختہ ہو گئی اس کے بعد کسی اور ذریعے سے مجھے یہ بات معلوم ہوئی۔ میری اس دوست نے مجھے خود کبھی یہ بات نہیں بتائی اور کبھی دین کے مسئلہ پر کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ اب میری سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی کہ کیا کروں؟

ج...... جی ہاں! اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنا ہے تو قادیانی سے تعلق توڑنا ہو گا۔

ج...... حرام ہے

صفحہ 700

۳۔ قادیانی کافر ہیں یا مرتد؟

ج ...... قادیانی مرتد اور زندیق ہیں۔ اس کے لئے میرا رسالہ ”قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان فرق“ ملاحظہ فرمائیں۔

قادیانی شادی میں شرکت کا حکم

س ...... کئی سال قبل ایک شادی میں شرکت کی تھی کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ماں باپ اور چند اعزاء کی ملی بھگت سے وہ شادی غیر مسلم یعنی قادیانی سے کی گئی ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس شادی میں جو لوگ نادانستہ شریک ہوئے ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس لڑکی سے جو اولاد پیدا ہو رہی ہے اس کو کیا کہا جائے گا؟

ج ...... جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم نہیں تھا وہ تو گنہگار نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔

۲۔ جن لوگوں کو علم تھا ۔ کہ لڑکی قادیانی ہے اور ان کو قادیانیوں کے عقائد کا علم نہیں تھا اس لئے ان کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوئے، وہ گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔

۳۔ اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم تھا اور ان کے عقائد کا بھی علم تھا اور وہ قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے تھے مگر یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا وہ بھی گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔

۴۔ اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا بھی علم تھا اور ان کے عقائد بھی معلوم تھے، اس کے باوجود انہوں نے قادیانیوں کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس شادی میں شرکت کی وہ ایمان سے خارج ہو گئے ان پر تجدید ایمان اور توبہ کے بعد تجدید نکاح لازم ہے۔

قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے مرد یا عورت کا اس سے نکاح نہیں ہوتا۔ اس لئے قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہوگی وہ ولد الحرام شمار ہوگی۔

نوٹ ...... ان مسائل کی تحقیق میرے رسائل قادیانی جنازہ، قادیانی مردہ اور قادیانی ذبیحہ میں دیکھ لی جائے۔

صفحہ 701

مسلمان عورت سے قادیانی کا نکاح

س ...... ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہتی ہیں جو بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں نیز محلہ کی مستورات تعویذ گنڈے اور دینی مسائل کے بارے میں موصوفہ سے رجوع کیا کرتی ہیں لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے۔ موصوفہ سے دریافت کیا گیا تو اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر میرا شوہر قادیانی ہے تو کیا ہوا میں تو مسلمان ہوں۔ میرا عقیدہ میرے ساتھ اور اس کا اس کے ساتھ اس کے عقائد سے میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آپ سے یہ دریافت کرنا مطلوب ہے کہ

تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے؟

رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

ج...... کسی مسلمان خاتون کا کسی غیر مسلم سے نکاح نہیں ہو سکتا، نہ قادیانی سے نہ کسی دوسرے غیر مسلم سے اور نہ کوئی مسلمان خاتون کسی قادیانی کے گھر رہ سکتی ہے، نہ اس سے میاں بیوی کا تعلق رکھ سکتی ہے۔ یہ خاتون جس کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے، اگر اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تو اس کو اس کا مسئلہ بتا دیا جائے۔ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد اسے چاہئے کہ وہ قادیانی مرتد سے فوراً قطع تعلق کرلے اور اگر وہ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی بدستور قادیانی کے ساتھ رہتی ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ درحقیقت خود بھی قادیانی ہے، محض بھولے بھالے مسلمانوں کو الو بنانے کے لئے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی ہے۔ محلے کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے کہ اس سے قطع تعلق کریں اور اس سے بھی وہی سلوک کریں جو قادیانی مرتدوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بچوں کو قرآن کریم پڑھوانا تعویذ گنڈے لینا، دینی مسائل میں اس سے رجوع کرنا اس سے معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔

صفحہ 702

اگر کوئی جانتے ہوئے قادیانی عورت سے نکاح کر لے تو اس کا

شرعی حکم

س ...... اگر کوئی شخص کسی قادیانی عورت سے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ عورت قادیانی ہے عقد کر لیتا ہے تو اس کا نکاح ہوا کہ نہیں اور اس شخص کا ایمان باقی رہا یا نہیں؟ ج ...... قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے۔ رہا یہ کہ قادیانی عورت سے نکاح کرنے والا مسلمان بھی رہا یا نہیں؟ اس میں یہ تفصیل ہے کہ الف ...... اگر اس کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد معلوم نہیں۔ یا ب ...... اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ قادیانی مرتدوں کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا تو ان دونوں صورتوں میں اس شخص کو خارج از ایمان نہیں کہا جائے گا البتہ اس شخص پر لازم ہے کہ مسئلہ معلوم ہونے پر اس قادیانی مرتد عورت کو مسلمان کرلے، اور اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو اس کو فوراً علیحدہ کردے، اور آئندہ کے لئے اس سے ازدواجی تعلقات نہ رکھے، اور اس فعل پر توبہ کرے۔ اور اگر یہ شخص قادیانیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھتا ہے تو یہ شخص بھی کافر اور خارج از ایمان ہے کیونکہ عقائد کفریہ کو اسلام سمجھنا خود کفر ہے۔ اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے۔

قادیانی نواز وکلاء کا حشر

س ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان دین متین اس مسئلے میں کہ گزشتہ دنوں مردان میں قادیانیوں نے ربوہ کی ہدایت پر کلمہ طیبہ کے بیج بنوائے پوسٹر بنوائے اور بیج اپنے بچوں کے سینوں پر لگائے اور پوسٹر دکانوں پر لگا کر کلمہ طیبہ کی توہین کی۔ اس حرکت پر وہاں کے علمائے کرام اور غیرت مند مسلمانوں نے عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کر دیا اور فاضل جج نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بھیج دیا۔ اب عرض یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان وکلاء صاحبان ان قادیانیوں کی پیروی کر رہے ہیں اور چند پیسوں کی خاطر ان کے ناجائز عقائد کو جائز ثابت کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان وکلاء صاحبان میں ایک

صفحہ 703

امید ہے۔ براہ کرم قرآن اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں تفصیل سے تحریر فرمادیں کہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے ان وکلاء صاحبان کا کیا حکم ہے؟

ج...... قیامت کے دن ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیمپ ہو گا اور دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کا۔ یہ وکلاء جنہوں نے دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قادیانیوں کی وکالت کی ہے قیامت کے دن غلام احمد کے کیمپ میں ہونگے اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ کسی عام مقدمے میں کسی قادیانی کی وکالت کرنا اور بات ہے لیکن شعائر اسلامی کے مسئلہ پر قادیانیوں کی وکالت کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مقدمہ لڑنے کے ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے اور دوسری طرف قادیانی جماعت ہے۔ جو شخص دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں قادیانیوں کی حمایت و وکالت کرتا ہے وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل نہیں ہو گا خواہ وہ وکیل ہو یا کوئی سیاسی لیڈر یا حاکم وقت۔

قادیانی نواز کو سمجھایا جائے

س...... قادیانی کافر مرتد اور زندیق ہیں۔ جو شخص ان کے ساتھ لین دین رکھتا ہے، کھاتا پیتا ہے اور مسلمانوں کی بات کو رد کرتا ہے، قرآن و سنت کے مطابق اس آدمی کا بائیکاٹ کیا جائے یا نہیں؟ اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے جس سے وہ آدمی اس حرکت سے باز آجائے؟

ج...... جو شخص قادیانیوں کو کافر مرتد اور زندیق بھی سمجھتا ہے اگر ان سے کاروبار کرتا ہے تو اپنی ایمانی کمزوری سے ایسا کرتا ہے، اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے اور اس سے قطع تعلق نہ کیا جائے۔

قادیانی نوازوں کے بارے میں مفید مشورہ

س...... ہمارے علاقہ میں کچھ مرزائی رہتے ہیں۔ جب ہم نے ان کے خلاف مہم شروع کی تو کچھ لوگوں نے تو ہمارا ساتھ دیا لیکن بعض نے ہماری مخالفت کی۔ ہمیں برا بھلا کہا لیکن ہم نے ان کی پروا کئے بغیر کام کیا۔ مخالفوں نے مرزائیوں کی حمایت کی، ان کو پناہ دی،

صفحہ 704

ان کو کاروبار چلانے کے لئے جگہ دی ان کی ہر ممکن امداد کی، ان سے ہر قسم کا برتاؤ کیا، ان کے ساتھ کھانا کھایا، چائے پی، ہم نے ان کو ٹوکا تو ہمارے خلاف ہو گئے۔ آپ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالوں کا جواب دیں۔

چاہئے؟

دیں، شکریہ، ہم رسالہ ”ختم نبوت“ مسلسل ڈھائی ماہ سے پڑھ رہے ہیں، اس کا انتظار رہتا ہے۔ ان سوالوں کا جواب جلدی اور ضرور دیں۔

ج...... ان بے چاروں کو مرزائیوں کے عقائد کا علم نہیں ہو گا یا مرزائیوں نے ان کو کسی تدبیر سے جکڑ رکھا ہو گا۔ آپ انہیں ختم نبوت اور قادیانیوں سے متعلق لٹریچر پڑھائیں۔

قادیانیوں کا ذبیحہ حرام ہے

س...... کیا قادیانیوں کے ہاتھ کا لایا ہوا سودا سلف اور ان کا ذبیحہ جائز ہے اور ان کا ذبح کیا ہوا جانور جائز ہے؟

ج...... قادیانیوں کا ذبح کیا ہوا جانور تو مردار اور حرام ہے ان کا لایا ہوا سودا سلف جائز ہے مگر ان سے منگوانا جائز نہیں اور ان سے قطع تعلق نہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔

س...... کیا اسلام مجھے اپنی بیوی پر یہ پابندی لگانے کا حق دیتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو قادیانی رشتہ داروں سے نہ ملنے دوں؟

ج...... ضرور پابندی ہونی چاہئے۔

جس نے کہا قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں وہ قادیانیوں سے بدتر

کافر ہو گیا

س...... میرے ایک مسلمان ساتھی نے بحث کے دوران کہا کہ آپ (مسلمانوں) سے

صفحہ 705

مرزائی اچھے ہیں اور مرزائی مسلمان ہیں کیونکہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، قرآن پاک پڑھتے ہیں حالانکہ یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے کہ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اس وقت کی قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا جس میں علمائے دین کے کردار و خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اب آپ قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ مرزائی کو مسلمان کہنا اور مسلمان سے مرزائی کو اچھا کہنے والے کے متعلق کیا حکم ہے؟

ج ...... جس شخص نے یہ کہا کہ قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا۔ اپنے اس قول سے توبہ کرے اور اپنے نکاح وایمان کی تجدید کرے۔

قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا شرعی حکم

س ...... کوئی شخص قادیانی گھرانے میں رشتہ یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں۔ اسلام میں ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟

ج ...... جو شخص قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہو اس کے باوجود ان کو مسلمان سمجھے تو ایسا شخص خود مرتد ہے کہ کفر کو اسلام سمجھتا ہے۔

مرزائی کا جنازہ

س ...... ہمارے گاؤں میں چند مرزائیوں کے گھر ہیں جو دنیاوی حالات سے ٹھیک ٹھاک ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کا ایک جوان فوت ہو گیا تو ان کے مربی نے اس مرزائی کا جنازہ پڑھایا ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب بھی قبرستان میں بطور افسوس چلے گئے تو مسلمانوں نے کہا ہم مرزائی امام کے پیچھے تمہارا جنازہ نہیں پڑھیں گے بلکہ ہم علیحدہ اپنا جنازہ اپنے امام کے پیچھے ادا کریں گے پھر انہوں نے مولوی صاحب کو کہا کہ جنازہ پڑھاؤ تو مولوی صاحب نے بلاچون و چرا اس مرزائی کا جنازہ پڑھ دیا۔ مجھے اور ایک اور باضمیر مسلمان کو بڑی حیرت ہوئی کہ الہی کیا ماجرا ہے۔ ہم دونوں نے جنازہ نہ پڑھا اور واپس آگئے۔ پھر مغرب کی نماز کے وقت مولوی صاحب مسجد میں کہنے لگے کہ مجھ سے گناہ کبیرہ ہو گیا ہے میرے لئے دعا کریں نیز اس مرزائی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا ہے۔ مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ کیا ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے؟ وہ جو

صفحہ 706

کہتے ہیں کہ میں اس گناہ پر توبہ کرتا ہوں کیا ایسے آدمی کی توبہ قبول ہے؟ دوسرے مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے جنہوں نے مرزائی کا جنازہ پڑھا ان سے معاملات رکھیں؟

ج ...... مرزائی کا جنازہ جائز نہیں اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں جن مسلمانوں نے مرزائی کو کافر سمجھ کر محض دنیاوی وجاہت کی وجہ سے جنازہ پڑھا وہ گنہگار ہوئے۔ ان کو توبہ کرنی چاہئے اور توبہ کے اعلان کے بعد اس امام کے پیچھے نماز جائز ہے۔ اور جن لوگوں نے مرزائیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھ کر مرزائی کا جنازہ پڑھا ان پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے۔

کیا مسلمانوں کے قبرستان کے نزدیک کافروں کا قبرستان بنانا جائز

ہے؟

س ...... کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی کافر کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا تو جائز نہیں لیکن کسی مسلمان کے قبرستان کے متصل ان کا قبرستان بنانا جائز ہے یا کہ دور ہونا چاہئے؟

ج ...... ظاہر ہے کہ کافروں مرتدوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام اور ناجائز ہے اس طرح کافروں کو مسلمانوں کے قبرستان کے قریب بھی دفن کرنے کی ممانعت ہے تاکہ کسی وقت دونوں قبرستان ایک نہ ہو جائیں۔ کافروں کی قبر مسلمانوں کی قبر سے دور ہونی چاہئے تاکہ کافروں کے عذاب والی قبر مسلمانوں کی قبر سے دور ہو کیونکہ اس سے بھی مسلمانوں کو تکلیف پہنچے گی۔

قادیانی مردہ

س ...... کیا قادیانی اہل کتاب ہیں؟

ج ...... قادیانی اہل کتاب نہیں بلکہ مرتد اور زندیق ہیں۔

س ...... قادیانی کے سلام کرنے کی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟

ج ...... اس کو سلام نہ کیا جائے، نہ جواب دیا جائے۔

س ...... کیا قادیانی کے ساتھ کھانا پینا یا اس کے ہاتھ کا پکا کھانا جائز ہے؟

صفحہ 707

ج...... اس کے ساتھ کھانا جائز نہیں۔

س...... کسی مسلمان کا کسی قادیانی کی نماز جنازہ میں شریک ہونا یا اس کی میت کو کندھا دینا جائز ہے؟

ج...... مرتد کا جنازہ جائز نہیں اور اس میں شرکت بھی جائز نہیں۔

س...... کسی قادیانی کا کسی مسلمان کی نماز جنازہ میں شریک ہونے یا میت کو کندھا دینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا اس کو روکنا صحیح ہے؟

ج...... اس کو روک دیا جائے کہ وہ مسلمان کے جنازہ میں شریک نہ ہو، نہ کندھا دے۔

س...... کسی قادیانی میت کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے متعلق کیا حکم ہے؟

ج...... قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ اگر دفن کر دیا جائے تو اس کا اکھاڑنا ضروری ہے۔

قادیانی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا

س...... اگر کوئی قادیانی ہماری مساجد میں آکر الگ ایک کونے میں جماعت سے الگ نماز پڑھ لے تو ہم اس کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں کہ ہماری مسجد میں اپنی نماز پڑھے؟

ج...... کسی غیر مسلم کا ہماری اجازت سے ہماری مسجد میں اپنی عبادت کرنا صحیح ہے۔ نصاریٰ نجران کا جو وفد بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تھا انہوں نے مسجد نبوی (علی صاحبہ الف صلوٰۃ و سلام) میں اپنی عبادت کی تھی۔ یہ حکم تو غیر مسلموں کا ہے لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہو گیا ہو اس کو کسی حال میں مسجد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس طرح جو مرتد اور زندیق اپنے کفر کو اسلام کہتے ہوں (جیسا کہ قادیانی) اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں، ان کو بھی مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

غیر مسلم سے مدرسہ کے لئے چندہ لینا بے غیرتی ہے

س...... غیر مسلم مرزائی سے مدرسہ یا مسجد کے لئے چندہ لینا کیسا ہے؟

صفحہ 708

ج...... بے غیرتی ہے۔

شیزان کا بائیکاٹ

میں اکثر رسالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ آپ کے رسالہ اور بعض پوسٹروں سے معلوم ہوا تھا کہ شیزان قادیانیوں کی کمپنی ہے اس لئے شیزان کا بائیکاٹ کیا جائے۔ الحمد للہ ابھی تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ شیزان کا بائیکاٹ جاری ہے۔

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ کولڈ ڈرنک کی دکانوں میں ایک پیک ڈبے میں شیزان جوس مل رہا تھا میں اور میرا ایک دوست کولڈ ڈرنک کی دوکان میں گئے تو شیزان جوس دیا گیا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو بتایا یہ قادیانیوں کی کمپنی ہے، اس کا بائیکاٹ کیا جائے تو میرے دوست نے بھی اس کا بائیکاٹ کیا۔ جب دکاندار کو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی شیزان والوں سے جوس لینا بند کر دیا۔ جب جوس دینے والے نے دکاندار سے پوچھا کہ آپ ہمارا شیزان جوس کیوں نہیں لیتے تو انہوں نے جواب دیا ہمارے علماء کہتے ہیں کہ یہ قادیانیوں کی کمپنی ہے، یہ ہمارے دین اور نبیؐ کے دشمن ہیں اس لئے اس کا بائیکاٹ کیا جائے تو انہوں نے کہا کہ مشروبات میں بعض یہودی اور عیسائیوں کی بھی کمپنیاں ہیں۔ آپ ان کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے ہیں اور وہ بھی پاکستان میں رہتے ہیں ہم بھی پاکستانی ہیں۔

الحمد للہ ابھی کافی لوگوں کو پتہ چلا ہے تو شیزان جوس اور شیزان بوتل کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ لیکن بعض لوگ پروپیگنڈوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال رہے ہیں اس لئے میں بعض سوالات اس تحریر میں لکھ رہا ہوں۔ امید ہے آپ اپنے ہفت روزہ ”ختم نبوت“ رسالہ میں ان سوالات کے جوابات اور اس تحریر کو شائع کر کے بہت سے مسلمانوں کے شکوک و شبہات دور فرمائیں گے۔

ہیں؟

ج...... بظاہر قادیانیوں کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق یہ قادیانیوں کی

صفحہ 709

ملکیت ہے۔

س...... کیا شیزان جوس بھی قادیانیوں کی شیزان کمپنی کا تیار کردہ ہے؟

ج...... ”شیزان کمپنی“ کے سوا دوسرا کوئی ”شیزان جوس“ کیسے تیار کر سکتا ہے؟

س...... کیا بعض مشروبات کمپنیاں عیسائیوں اور یہودیوں کی بھی ہیں۔ اگر ہیں تو نشاندہی فرمائیے تاکہ ان سے بھی ہم اپنے آپ کو بچائیں؟

ج...... قادیانی کافر ہیں مگر وہ خود کو مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر، کتے خنزیر اور ولدالحرام کہتے ہیں اور پھر اپنی آمدنی کا بڑا حصہ مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اس لئے قادیانیوں کے ساتھ لین دین قطعاً ناجائز اور غیرت ملی کے خلاف ہے۔ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ دوسرے کافروں کے ساتھ لین دین کی ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ وہ ہمارے ساتھ حالت جنگ میں ہوں ورنہ ان کے ساتھ لین دین جائز ہے۔

کیا قادیانیوں کو جبراً قومی اسمبلی نے غیر مسلم بنایا ہے؟

س...... ”لا اکراہ فی الدین“ یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔ نہ تو آپ جبراً کسی کو مسلمان بنا سکتے ہیں اور نہ ہی جبراً کسی مسلمان کو آپ غیر مسلم بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ مطلب ٹھیک ہے تو پھر آپ نے ہم (جماعت احمدیہ) کو کیوں جبراً قومی اسمبلی اور حکومت کے ذریعہ غیر مسلم کہلوایا؟

ج...... آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جا سکتا، یہ مطلب نہیں کہ جو شخص اپنے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمان نہ رہا ہو اس کو غیر مسلم بھی نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آپ کی جماعت کو قومی اسمبلی نے غیر مسلم نہیں بنایا۔ غیر مسلم تو آپ اپنے عقائد کی وجہ سے خود ہی ہوئے ہیں البتہ مسلمانوں نے غیر مسلم کو غیر مسلم کہنے کا ”جرم“ ضرور کیا ہے۔

منکرین ختم نبوت کے لئے اصل شرعی فیصلہ کیا ہے؟

س...... خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابو بکر صدیقؓ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نے

صفحہ 710

نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے منکرین ختم نبوت کے خلاف اعلان جنگ کیا اور تمام منکرین ختم نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرین ختم نبوت واجب القتل ہیں لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو صرف ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دینے پر ہی اکتفا کیا۔ اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ ”اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دیئے ہیں وہ حقوق انہیں پورے پورے دیئے جائیں گے“ ہم قادیانیوں کو نہ صرف حقوق اور تحفظ فراہم کئے ہوئے ہیں بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منکرین ختم نبوت اسلام کی رو سے واجب القتل ہیں یا اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق اور تحفظ کے حقدار ہیں؟

ج...... منکرین ختم نبوت کے لئے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عمل کیا۔ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ان کے ساتھ رعایتی سلوک ہے۔ لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان حکومت سے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے لیکن اسلامی مملکت میں مرتدین اور زنادقہ کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے ارباب حل و عقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔

حضرت مہدیؑ کے بارے میں نشانیاں

س...... حضرت مہدیؑ کے بارے میں نشانیاں کیا کیا ہیں؟ وہ کب تشریف لائیں گے اور کہاں آئیں گے؟ مسلمان انہیں کس طرح پہچانیں گے؟

ج...... حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ”ایک خلیفہ کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلہ پر) اختلاف ہوگا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص بھاگ کر مکہ مکرمہ آجائے گا (یہ مہدی ہوں گے اور اس اندیشہ سے بھاگ کر مکہ آجائیں گے کہ کہیں ان کو خلیفہ نہ بنا دیا جائے) مگر لوگ ان کے انکار کے

صفحہ 711

باوجود ان کو خلافت کے لئے منتخب کریں گے چنانچہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان (بیت اللہ شریف کے سامنے) ان کے ہاتھ پر لوگ بیعت کریں گے"

"پھر ملک شام سے ایک لشکر ان کے مقابلے میں بھیجا جائے گا۔ لیکن یہ لشکر "بیداء" نامی جگہ میں جو مکہ و مدینہ کے درمیان ہے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پس جب لوگ یہ دیکھیں گے تو (ہر خاص و عام کو دور دور تک معلوم ہو جائے گا کہ یہ مہدی ہیں) چنانچہ ملک شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کریں گی۔ پھر قریش کا ایک آدمی جس کی ننھیال قبیلہ بنو کلب میں ہو گی آپ کے مقابلہ میں کھڑا ہو گا۔ آپ بنو کلب کے مقابلے میں لشکر بھیجیں گے وہ ان پر غالب آئے گا اور بڑی محرومی ہے اس شخص کے لئے جو بنو کلب کے مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو پس حضرت مہدی خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق عمل کریں گے اور اسلام اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا (یعنی اسلام کو استقرار نصیب ہو گا) حضرت مہدی سات سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہو گی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے" (یہ حدیث مشکوٰۃ شریف صفحہ ۴۷۱ میں ابو داؤد کے حوالے سے درج ہے اور امام سیوطی نے العرف الوردی فی اخبار المہدی صفحہ ۵۹ میں اس کو ابن ابی شیبہ احمد ابو داؤد ابو یعلی اور طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ )

حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے اور جس پر اہل حق کا اتفاق ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے اور نجیب الطرفین سید ہوں گے، ان کا نام نامی محمد اور والد کا نام عبداللہ ہو گا۔ جس طرح صورت و سیرت میں بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے اسی طرح وہ شکل و شباہت اور اخلاق و شمائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے۔ وہ نبی نہیں ہوں گے نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ نبوت کا دعویٰ کریں گے، نہ ان پر بحیثیت نبی کے کوئی ایمان لائیگا۔

ان کی کفار سے خونریز جنگیں ہوں گی۔ ان کے زمانے میں کانے دجال کا خروج ہو گا اور وہ لشکر دجال کے محاصرے میں گھر جائیں گے۔ ٹھیک نماز فجر کے وقت

صفحہ 712

دجال کو قتل کرنے کے لئے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور فجر کی نماز حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں پڑھیں گے، نماز کے بعد دجال کا رخ کریں گے۔ وہ لعین بھاگ کھڑا ہو گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور اسے باب لد پر قتل کر دیں گے۔ دجال کا لشکر تہ تیغ ہو گا اور یہودیت و نصرانیت کا ایک ایک نشان مٹا دیا جائے گا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نشانیاں

س....... قادیانی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں ارشاد فرمائیں مزید بر آں مسلمان انہیں کس طرح پہچانیں گے اور ان کی کیا کیا نشانیاں ہیں؟

ج....... قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور قیامت سے ذرا پہلے ان کے تشریف لانے کی خبر دی ہے لیکن جس طرح قیامت کا وقت معین نہیں بتایا گیا کہ فلاں صدی میں آئے گی اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا وقت بھی معین نہیں کیا گیا کہ وہ فلاں صدی میں تشریف لائیں گے۔

قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ”اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی۔ پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو“ (سورہ زخرف) بہت سے اکابر صحابہؓ و تابعین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قرب قیامت کی نشانی ہے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرہ میں ہے۔

”اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے، مگر ضرور ایمان لائے گا اس پر اس
کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہو گا ان پر گواہ۔“

(النساء....... آیت)

صفحہ 713

اور حدیث شریف میں ہیں۔ "اور میں سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں عیسیٰ بن مریم کے کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو پہچان لینا، قد میانہ، رنگ سرخ و سفید، بال سیدھے، بوقت نزول ان کے سر سے گویا قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خواہ ان کو تری نہ بھی پہنچی ہو، ہلکے رنگ کی دو زرد چادریں زیب تن ہوں گی۔ پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو بند کریں گے اور تمام مذاہب کو معطل کر دیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیح دجال کذاب کو ہلاک کر دیں گے۔ زمین میں امن وامان کا دور دورہ ہو جائے گا یہاں تک کہ اونٹ شیروں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ پس جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا زمین پر رہیں گے پھر ان کی وفات ہو گی پس مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور انہیں دفن کریں گے۔

(مسند احمد صفحہ ۴۳۷، جلد ۲۔ فتح الباری صفحہ ۴۹۳، جلد ۶۔ مطبوعہ

لاہور۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ۱۶۱)

عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے جو واقعات احادیث طیبہ میں ذکر کئے گئے ہیں ان کی فہرست خاصی ہے۔ مختصراً

تعالیٰ نے دجال کو قتل کر دے)

صفحہ 714
صفحہ 715

کیا حضرت مہدیؑ و عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ہیں؟

س ...... مہدی اس دنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدی اور عیسیٰ ایک ہی وجود ہیں؟

ج ...... حضرت مہدی رضوان اللہ علیہ آخری زمانہ میں قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے ان کے ظہور کے تقریباً سات سال بعد دجال نکلے گا اور اس کو قتل کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تیرہویں صدی کے آخر تک امت اسلامیہ کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی دو الگ الگ شخصیتیں ہیں اور یہ کہ نازل ہو کر پہلی نماز حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کی اقتدا میں پڑھیں گے۔ مرزا غلام قادیانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے عیسیٰ اور مہدی کے ایک ہونے کا عقیدہ ایجاد کیا ہے اس کی دلیل نہ قرآن کریم میں ہے نہ کسی صحیح اور مقبول حدیث میں اور نہ سلف صالحین میں کوئی اس کا قائل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث میں وارد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت حضرت مہدی اس امت کے امام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتدا میں نماز پڑھیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے یا بحیثیت

امتی کے؟

س ...... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی تشریف لائیں گے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی حیثیت سے؟ اگر آپ بحیثیت نبی تشریف لائیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کیسے ہوئے؟

ج ...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو بدستور نبی ہوں گے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ان کی شریعت منسوخ ہو گئی اور ان کی

صفحہ 716

نبوت کا دور ختم ہو گیا اس لئے جب وہ تشریف لائیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کریں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ ان کی تشریف آوری ختم نبوت کے خلاف نہیں کیونکہ نبی آخر الزمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی تھی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تعارف اور خدمات

قادیانیت و صہیونیت عالم اسلام کے لئے ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کر کے کفر و ارتداد کا راستہ اختیار کیا۔ اور قادیانی امت کی بنیاد ڈالی، جس کے مقاصد حسب ذیل ہیں۔

اسلام سے غداری اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مسلمہ کو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹ کر ایک ہندی مرکز (قادیان) پر جمع کرنا۔ اسلام دشمن طاقتوں کے لئے جاسوسی کرنا۔

اہل اسلام کے درمیان افتراق و انتشار پیدا کرنا۔ مسئلہ جہاد جو کہ اسلام کی روح ہے اس کو منسوخ کرنا۔

چنانچہ آج قادیانیت امت مسلمہ کے لئے ایک زبردست چیلنج بن چکی ہے۔ اسرائیل میں ان کے مراکز قائم ہیں، قادیانی جس ملک میں بھی ہیں وہ اسلام دشمن اور استعماری طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ اور اسلامی ممالک کے خلاف سازشیں کرنا ان کا اہم ترین ہدف ہے۔

پاک و ہند کے علماء حق، جو قادیانیت کے مالہ وماعلیہ سے پورے واقف ہیں ہمیشہ سے قادیانیت کی تردید میں سرگرم رہے۔ ۱۹۵۲ء میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قادیانیت کے رد و تعاقب کے لئے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے ایک مستقل غیر سیاسی تنظیم کی بنیاد ڈالی جس کا مرکزی دفتر ملتان پاکستان میں ہے۔ اور جس

صفحہ 717

کے چالیس سے زیادہ دفاتر پاکستان اور دیگر ممالک میں کام کر رہے ہیں اور قادیانیت کے ماہر تربیت یافتہ مبلغین کی ایک بڑی جماعت ان مراکز میں متعین ہے۔ اس تنظیم کے تحت نو دینی مدارس اور دس مساجد قائم ہیں۔ جن کے جملہ مصارف جماعت کے ذمہ ہیں یہ دینی مدارس و مساجد ایسے مقامات پر قائم کئے گئے ہیں۔ جہاں قادیانوں کا نسبتاً زور کچھ زیادہ ہے۔

مجلس کی خدمات

قیام پاکستان کے بعد بھی سرکاری سطح پر قادیانیوں کو مسلمان تصور کیا جاتا تھا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت عالمی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کے لئے ۱۹۵۳ء میں ایک عظیم الشان تحریک چلائی جس میں یہ بنیادی تین مطالبات پیش کئے گئے۔

لیکن اس وقت کے قادیانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان مرتد کے اشاروں پر اس وقت کی حکومت نے اس مقدس تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور دس ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔

مئی ۱۹۷۴ء میں عالم اسلام کی عظیم شخصیت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں دوسری مرتبہ تحریک چلی جس کے نتیجہ میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا آئینی و دستوری فیصلہ دیا۔

۱۹۸۴ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے موجودہ امیر حضرت مولانا خان محمد مدظلہ کی قیادت میں تیسری مرتبہ تحریک چلی۔ یہ تحریک مسلسل ایک سال جاری رہی۔ بالآخر صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء کو ایک آرڈی نینس جاری کیا۔ جس کے ذریعے قادیانیوں کو مسلمان کہلانے اذان دینے اپنی عبادت گاہوں کو ”مسجد“ کہنے اور اسلامی شعائر کے استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔ نیز ان کی تبلیغی و ارتدادی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔

صفحہ 718

ربوہ میں

”ربوہ“ پاکستان میں قادیانیوں کا مرکز ہے۔ یہ شہر قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے بسایا۔ ۱۹۷۴ء تک یہ شہر ایک قادیانی اسٹیٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں صرف قادیانیوں کی حکومت تھی اور حکومت پاکستان کا قانون یہاں معطل ہو کر رہ گیا تھا۔ کسی مسلمان کو بلا اجازت اس شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک کے نتیجہ میں اسے کھلا شہر قرار دیا گیا۔ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے یہاں دو مراکز اور مسجدیں قائم ہیں جن کی برکت سے کئی قادیانی خاندانوں نے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا۔

لٹریچر کی اشاعت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے رد قادیانیت کے موضوع پر عربی، اردو، انگریزی میں دو سو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں اور پمفلٹ شائع کئے ہیں، جن میں بعض کی اشاعت لاکھوں سے متجاوز ہے۔ اور یہ تمام لٹریچر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کتابوں کے علاوہ مجلس کے زیر اہتمام دو ہفت روزہ اخبار جاری ہیں ”ہفت روزہ ختم نبوت کراچی“ اور ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد یہ اخبار بھی ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں۔

لائبریری

قادیانیت کی تردید کے لئے سب سے اہم ضرورت قادیانی کتابوں کا حصول ہے۔ جن سے قادیانیوں کے اصل عقائد عزائم معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ اور مناظروں اور مباحثوں میں جن کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ لیکن قادیانی کتابوں کا حصول اس لئے مشکل ہے کہ اب اکثر قادیانی کتابیں نایاب ہیں۔ مجلس کے مرکزی دفتر میں ایک عظیم الشان لائبریری ہے جس میں اسلامی کتابوں کے علاوہ، قادیانیوں کی کتابوں، رسالوں اور اخباروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ محفوظ ہے۔

دارالمبلغین

مجلس کے مرکزی دفتر ملتان میں ایک دارالمبلغین قائم ہے، جس میں ذہین اور مستعد نوجوان علماء کو رد قادیانیت کے موضوع پر مکمل تربیت دی جاتی ہے اور قادیانی

صفحہ 719

لٹریچر کا مطالعہ کرایا جاتا ہے، اس شعبہ میں داخلہ لینے والے نوجوان علماء کو معقول وظائف دیئے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں مختلف دینی مدارس میں رد قادیانیت پر ”کورس“ ہوتے ہیں۔ جن میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ کے سربراہ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر طلبہ کو قادیانیت پر درس دیتے ہیں۔

مقدمات کی پیروی

مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان بعض اوقات تنازعات و مقدمات کی نوبت آتی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مظلوم مسلمانوں کی طرف سے اس قسم کے مقدمات کی پیروی کرتی ہے اور ان کے مصارف برداشت کرتی ہے اس نوعیت کے متعدد مقدمے اب بھی پاکستانی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ اس وقت صرف صوبہ سندھ پاکستان میں ۲۹ مقدمات زیر سماعت ہیں۔

جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کی طرف سے وہاں کے مسلمانوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا، اس سلسلہ میں دو مرتبہ عالمی مجلس نے اپنے نمائندہ وفد بھیجے۔

بیرونی ممالک میں

عالمی سطح پر امت مسلمہ کو فتنہ قادیانیت سے آگاہ کرنے کے لئے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ وقتاً فوقتاً اپنے وفود بھیجتی ہے۔ سب سے پہلے مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ نے جزائر فیجی، جرمنی، برطانیہ اور بھارت کے دورے کئے۔ برطانیہ کے دورے میں مولانا مرحوم کو عظیم کامیابی ہوئی اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ووکنگ شہر (لندن) میں شاہجہاں مسجد، جو ملکہ بھوپال نے تعمیر کی تھی۔ ۱۹۰۱ء میں قادیانیوں نے اس پر قبضہ کر لیا تھا ۶۷ سال کے بعد مولانا لال حسین اختر مرحوم نے اسے قادیانیوں کے قبضہ سے واگزار کرایا۔ الحمد اللہ اب تک یہ مسجد مسلمانوں کی تحویل میں ہے۔

مجلس کے وفد اب تک انڈونیشیا، بنگلہ دیش، برما، سنگاپور، تھائی لینڈ، امریکہ اور یورپ و افریقہ کے بیشتر ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ بنگلہ دیش، ماریشس اور برطانیہ میں مجلس کے مستقل دفاتر کام کر رہے ہیں۔

صفحہ 720

قادیانیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی مالی اعانت

جو حضرات قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرتے ہیں، مجلس ان کو خود کفیل بنانے کے لئے ان کی ہر ممکن مالی اعانت کرتی ہے۔ نیز بہت سے مسلمان جو قادیانیوں نے شہید یا اغواء کر لئے ہیں۔ مجلس ان کے اہل و عیال کے مصارف بھی برداشت کرتی ہے۔

عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس لندن

قادیانیوں کے سربراہ مسٹر مرزا طاہر نے پاکستان سے بھاگ کر لندن میں پناہ لی اور وہاں ۲۵۔ ایکڑ زمین خرید کر ایک قادیانی کالونی آباد کی۔ جس کا نام (نعوذ باللہ) ”اسلام آباد“ رکھا۔ یہ نیا قادیانی مرکز پوری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے اور ناواقف مسلمانوں کو مرتد کرنے کے لئے بنایا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ۱۹۸۵ء سے لیکر ۱۹۸۹ء تک مسلسل پانچ سال ویمبلے ہال لندن میں ہر سال عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کیں۔ جو لندن کی تاریخ میں مسلمانوں کی منفرد اور ممتاز کانفرنسیں تھیں پہلی عالمی ختم نبوت کانفرنس لندن کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ لندن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک عظیم الشان دفتر قائم کیا جائے۔ جو پوری دنیا میں قادیانی سازشوں کا پردہ چاک کرے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو قادیانی فتنہ سے آگاہ کرے

الحمد اللہ اس عظیم الشان دفتر کا خواب ۲۶ اپریل ۱۹۸۷ء کو پورا ہو گیا جب لندن شہر کے وسط اسٹاک ویل علاقہ میں ایک بڑی بلڈنگ کو ایک لاکھ پینتیس ہزار میں خرید کر دفتر ختم نبوت میں تبدیل کر دیا گیا اس دفتر میں جہاں ایک بڑی لائبریری قائم کی گئی ہے وہاں تعلیم قرآن کے لئے مدرسہ، نماز کے لئے جگہ بھی مختص کی گئی ہے ۲۷ اپریل ۱۹۸۷ء سے ہی پنج گانہ نماز، جمعہ عیدین کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری ہے ہر سال حفاظ قرآن، تراویح میں قرآن پاک سناتے ہیں مدرسہ میں تعلیم قرآن کا سلسلہ اسی دن سے چل رہا ہے کئی طلبہ قرآن پاک مکمل کر چکے ہیں۔ لندن اور برطانیہ کے دوسرے تمام شہروں میں مبلغین دورہ کرتے رہتے ہیں یورپ کے تمام ممالک امریکہ افریقہ، میں اسی مرکز سے انگلش زبان میں لٹریچر ارسال کیا جاتا ہے غرض یہ کہ اس وقت مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو قادیانی فتنہ کی خطرناکی سے یہی مرکز آگاہ کر رہا ہے۔