تحریک ختم نبوت
2004ء تا 2010ء
۸
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریکِ ختمِ نبوّت
2004ء تا 2010ء
۸
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
(۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء)
(۸)
ترتیب وتحقیق:
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء) (جلد ہشتم) ترتیب و تحقیق : مولانا اللہ وسایا صفحات : ۵۲۰ قیمت : ۳۰۰ روپے اشاعت اوّل : جنوری ۲۰۲۰ء مطبع : شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
Ph: 061-4783486
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۴ء کے حالات و واقعات ۲۵ بنگلہ دیش حکومت کا قادیانی گروہ کے خلاف مستحسن اقدام ۲۶ سکھر محکمہ ڈاک سے قادیانی کا تبادلہ ۲۸ اونچی کھرولیاں کے نام کی تبدیلی ۲۹ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور قادیانی سازش ۲۹ ختم نبوت کا حلف نامہ ...... مستحسن اقدام ۳۲ قادیانی غنڈوں کا مسلمانوں پر تشدد ۳۳ اوکاڑہ میں قادیانیوں سے مناظرہ ۳۴ توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس پر نظر ثانی کا عندیہ جنرل مشرف ۳۷ توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس پر نظر ثانی پر یوم احتجاج ۴۱ تحفظ ناموس رسالت قانون اور جنرل پرویز مشرف؟ ۴۲ امریکا ، بنگلہ دیش اور قادیانی ۴۵ شوکت عزیز کی وضاحت ...... قادیانی نہیں، سنی مسلمان ہوں ۴۷ محترم شوکت عزیز کی ناکافی وضاحت ۴۸ صوبہ سرحد میں قادیانیت کی تبلیغ اور تراجم تقسیم کرنے والوں کی فوری گرفتاری ۵۱ سرینگر میں قرآن مجید کے نادر نسخے کی شہادت ۵۲ ایڈیشنل سیشن جج ٹنڈو آدم کا قادیانی ملزم کے خلاف فیصلہ ۵۳ گوہر شاہی کے پیروکاروں کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد ۵۴ منڈی بہاؤالدین میں قادیانیوں کو شکست ۵۴ ننکانہ میں قادیانی استانیاں ۵۴ چناب نگر چوکی اور مسجد کا تنازعہ ۵۵ چوکی پولیس چناب نگر کی بحالی ۵۶ تتلے والی میں قادیانی سازش ناکام ۵۶
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پنڈی بھٹیاں میں را کا قادیانی ایجنٹ اور دو ساتھی دہشت گرد گرفتار! ۵۶
۱۷ سو قادیانیوں کو حجاج کے روپ میں مکہ بھیجنے کا منصوبہ ۵۷
صدر پرویز کی امریکہ میں قادیانیوں کے اجتماع میں شرکت ۵۷
پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کمیٹی کا قیام ۵۸
پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ، جناب پرویز مشرف کی حقیقت پسندی ۵۹
صدر مملکت جناب پرویز مشرف صاحب کے نام کھلا خط ۶۲
حکومت فوری طور پر پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کو بحال کرے ۶۲
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ملتان کے زیر اہتمام آل پارٹیز کنونشن ۶۳
پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ پر حکومتی اعتراضات، جائزہ اور تازہ ترین صورت حال ۶۴
پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کا خاتمہ ملک کو سیکولر بنانے کی سازش ہے ۶۷
صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جائے ۷۱
نظیف احمد میر پور خاص کا ترک قادیانیت، قبول اسلام ۷۲
ایوب میڈیکل کالج کی طالبہ کا قبول اسلام ۷۲
مرزا قادیانی کو ظلی یا بروزی نبی، مسیح موعود، مہدی، مجدد یا مصلح ماننے والے غیر مسلم ہیں: نو مسلمہ باسمہ احمد ۷۲
فیصل آباد میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۷۳
لاہور میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۷۳
اوکاڑہ میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۷۳
دس قادیانیوں کا قبول اسلام ۷۴
اوکاڑہ میں آٹھ قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا ۷۴
فاروق آباد میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام ۷۵
بھارت میں ۱۵ قادیانیوں کا قبول اسلام ۷۵
گاؤں کے تمام باشندوں نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا ۷۵
بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کی قادیانی طالبہ نے اسلام قبول کر لیا ۷۶
قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا ۷۶
رحیم یار خان میں قادیانی مبلغ کے بچوں کا قبول اسلام ۷۶
ختم نبوت کانفرنس پنو عاقل ۷۷
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ملتان و اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ ۷۷ ختم نبوت کانفرنس ملتان ۷۷ ختم نبوت کانفرنس خیر پور میرس ۷۸ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۷۸ جامعہ صدیقیہ ٹنڈوالہیار میں خطاب ۷۹ ختم نبوت کانفرنس چونڈہ ۷۹ ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۷۹ اسمائے گرامی شرکائے ردقادیانیت وعیسائیت کورس کوئٹہ ۸۰ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۸۳ سیرت النبی کانفرنس چناب نگر ۸۳ مولانا اللہ وسایا کا تبلیغی دورہ سندھ ۸۳ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۸۵ ختم نبوت کانفرنس گوجریالہ ۸۵ ختم نبوت کانفرنس گوجرخان ۸۵ ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۸۵ دروس ختم نبوت منڈی بہاؤالدین ۸۶ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد ۸۶ ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا ۸۶ ختم نبوت کانفرنس جنڈیکا ۸۷ ردقادیانیت کورس شیخوپورہ ۸۷ انیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کا عظیم الشان انعقاد ۸۷ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۸۸ حضرت مولانا خدا بخش کا تبلیغی دورہ ۸۸ ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ ۸۸ ختم نبوت کانفرنس چوک پرمٹ ۸۸ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۸۸
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ ۸۹
ختم نبوت کانفرنس پشاور ۸۹
۲۳ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی مفصل رپورٹ ۸۹
ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ ۹۲
ختم نبوت کانفرنس تھر پارکر کا کامیاب انعقاد ۹۲
گیارھواں سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر ۹۳
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۵ء کے حالات و واقعات ۹۷
خدارا! قادیانیوں کو مسلمانانِ وطن پر مسلط نہ کریں ۹۸
مذہبی خانہ کے لئے کمیٹی کا قیام کیوں ......؟ ۱۰۰
۹؍ مارچ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ ۱۰۲
حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی پریس کانفرنس ۱۰۴
سرحد اسمبلی زندہ باد ۱۰۴
ایک اور قادیانی اسکینڈل ...... ملک کو کروڑوں کا نقصان ۱۰۵
جناب پرویز مشرف صدر مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان ۱۰۷
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے سالانہ اجلاس کے فیصلے ۱۰۹
جناب جنرل پرویز مشرف اور جناب شوکت عزیز کے نام کھلا خط ۱۰۹
افریقی ملک گنی بساؤ میں قادیانیوں پر پابندی ۱۱۱
قادیانیوں کی تازہ دیدہ دلیری ۱۱۳
مونگ، منڈی بہاؤ الدین میں قادیانی دہشت گردی ۱۱۴
مرزا فرید احمد کی گرفتاری ۱۱۵
قادیانیوں کی ملک دشمنی کی کارروائیاں ...... جناب پرویز مشرف کی توجہ کے لئے ۱۱۷
چناب نگر اور مضافاتی علاقوں میں قادیانی شرانگیزی اور غنڈہ گردی ۱۱۸
چناب نگر میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۱۱۹
سرگودھا میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۱۹
لیہ میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۲۰
چناب نگر میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۱۲۰
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پشاور کے نوجوانوں کی قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام ۱۲۰
جرمنی میں ممتاز قادیانی فیملی کا قبول اسلام ۱۲۱
چناب نگر کے قادیانی کا قبول اسلام ۱۲۳
بنگلہ دیش میں قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام ۱۲۳
جھڈو میں قادیانی خاتون کا قبول اسلام ۱۲۳
امریکہ میں قادیانی کا قبول اسلام ۱۲۳
ختم نبوت کانفرنس گنگا پور ضلع شیخوپورہ ۱۲۴
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۱۲۴
ختم نبوت کانفرنس لیہ ۱۲۴
ختم نبوت کانفرنس میاں چنوں ۱۲۵
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۱۲۵
ختم نبوت کانفرنس عارف والا ۱۲۵
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوالہ یار ۱۲۶
مرکزی ناظم اعلیٰ کا دورہ سندھ ۱۲۶
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۱۲۶
حضرت مولانا اللہ وسایا کا تبلیغی دورہ اسلام آباد ۱۲۶
رد قادیانیت کورس لاہور ۱۲۷
سرائے نورنگ میں ختم نبوت کانفرنس ۱۲۷
آزادکشمیر میں تین روزہ تاجدار ختم نبوت کانفرنسیں ۱۲۷
ٹنڈو آدم میں سہ ماہی ختم نبوت کنونشن ۱۲۸
بیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کا کامیاب انعقاد ۱۲۸
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۱۳۱
پنوں عاقل میں ایک روزہ تربیتی پروگرام ۱۳۱
ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو ۱۳۱
بارھواں سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس ۱۳۱
۲۴ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۱۳۶
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۶ء کے حالات و واقعات ۱۳۹ ختم نبوت زندہ باد ۱۴۰ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ۱۴۰ توہین آمیز خاکوں کے خلاف امت مسلمہ سراپا احتجاج ۱۴۲ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے میرپور خاص میں مکمل ہڑتال ۱۴۴ ۲۴ فروری جمعہ کو کراچی میں یوم احتجاج منایا گیا ۱۴۵ شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف ہمارا طرز عمل ۱۴۶ توہین آمیز خاکوں کے خلاف پورے ملک میں بھر پور یوم احتجاج، مظاہروں اور احتجاج کی تفصیلی رپورٹ ۱۴۶ جتوئی کا افسوسناک واقعہ ۱۴۸ بھائی پھیرو میں کذاب گرفتار ۱۴۹ توہین آمیز خاکے.......پس پردہ قادیانی جماعت کا کردار ۱۵۰ سزائے ارتداد کا قانون متحدہ مجلس عمل کا قابل فخر اقدام ۱۵۱ توہین رسالت کے ملزم کو بے جا رعایت ۱۵۳ قادیانیوں کا مناظرہ سے فرار ۱۵۵ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے ڈھاکہ میں ہزاروں افراد کا مظاہرہ ۱۵۵ پولیس کا قادیانیوں کے مرکز پر چھاپہ، ۲ قادیانی گرفتار، شرانگیز مواد برآمد ۱۵۵ اندرون سندھ ارتدادی سرگرمیوں میں ملوث ۳ قادیانی گرفتار ۱۵۶ نبی کریم ﷺ سے متعلق توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور سرپرستی کرنے والے ڈنمارک اور ناروے کے مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے ۱۵۶ میرپور خاص میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۱۵۸ چناب نگر میں قادیانی کا قبول اسلام ۱۵۸ چناب نگر میں قادیانی کا قبول اسلام ۱۵۸ میرپور خاص میں گیارہ قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۵۸ حیدرآباد میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۶۰ پشاور میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۱۶۰ فیصل آباد کے سولہ قادیانیوں کا قبول اسلام ۱۶۱ ریتڑہ کے قادیانی کا قبول اسلام ۱۶۲
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوٹ ادو میں مرزائیت سے توبہ اور اسلام میں شمولیت ۱۶۲ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۱۶۲ مدرسہ ختم نبوت چناب نگر ۱۶۳ ضلعی ختم نبوت کانفرنس ۱۶۳ مبلغین کے لئے سہ ماہی نصاب ۱۶۳ سہ سالہ تشکیل مجلس اور ممبر سازی ۱۶۴ سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۶۴ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کنونشن ملتان ۱۶۴ حضرت امیر مرکزیہ کا دورہ کراچی ۱۶۶ ختم نبوت کانفرنس ملتان کی رپورٹ ۱۶۹ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس چوٹی ۱۶۹ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ڈیرہ غازی خان ۱۷۰ ختم نبوت کانفرنس جھگڑامام ۱۷۰ تحفظ ناموس رسالت اجتماع فاضل پور ۱۷۰ ختم نبوت کانفرنس حاجی پور ۱۷۰ ختم نبوت کانفرنس راجن پور ۱۷۰ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس لیہ ۱۷۰ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کوٹری ۱۷۱ تحفظ حرمت رسول ﷺ کانفرنس حیدرآباد ۱۷۱ میر پور خاص میں احتجاجی جلسہ ۱۷۱ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منڈی بہاؤالدین ۱۷۲ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس گجرخان ۱۷۲ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس جہلم ۱۷۲ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ڈگری ۱۷۲ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس گجرات ۱۷۲ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس رحمان پورہ لاہور ۱۷۳ ختم نبوت کانفرنس ننگر پارکر ۱۷۳
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حرمت رسول کانفرنس اسلام کوٹ ۱۷۳ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس خانیوال ۱۷۳ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس شورکوٹ ۱۷۴ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا جمعہ فاروق آباد ۱۷۴ ختم نبوت کانفرنس احمد پور سیال ۱۷۴ ختم نبوت کانفرنس جھنگ ۱۷۴ ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۱۷۴ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اوکاڑہ ۱۷۵ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس پتوکی ۱۷۵ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس قصور ۱۷۵ ختم نبوت کانفرنس پاکپتن ۱۷۵ ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر ۱۷۶ ختم نبوت کانفرنس سنجر پور ۱۷۶ ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۷۶ ختم نبوت کانفرنس خان پور ۱۷۶ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس فیروزہ ۱۷۷ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس گھوٹکی ۱۷۷ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۱۷۷ ختم نبوت کانفرنس گمبٹ ۱۷۸ ختم نبوت کانفرنس لودھراں ۱۷۸ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم ۱۷۸ ظریف شہید میں خطبہ جمعہ ۱۷۹ شادن لنڈ تونسہ شریف میں جلسہ ختم نبوت ۱۷۹ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس نوکوٹ ۱۷۹ ڈیرہ غازی خان میں سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس ۱۷۹ ڈیرہ اسماعیل خان میں سیرت مصطفیٰ کانفرنس ۱۷۹ ختم نبوت کانفرنس چوک پرمٹ ۱۸۰
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ساہیوال ۱۸۰ سیرت النبی کانفرنس کوئٹہ ۱۸۰ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۱۸۱ مرکزی رہنماؤں کا بلوچستان کا تبلیغی دورہ ۱۸۱ ختم نبوت کانفرنس لورالائی ۱۸۲ ختم نبوت کانفرنس ژوب ۱۸۲ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۱۸۲ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورۂ سندھ ۱۸۳ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ کا دورہ سندھ، ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۱۸۴ شہید ناموس رسالت کانفرنس قصور ۱۸۵ شہید ناموس رسالت کانفرنس ایبٹ آباد ۱۸۵ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۱۸۵ سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر ۱۸۶ ختم نبوت کانفرنس بہاولپور ۱۹۰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی کے زیر اہتمام بلدیہ ہال میں ختم نبوت سیمینار ۱۹۰ ختم نبوت کانفرنس پشاور ۱۹۱ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۱۹۱ ۲۵ ویں سالانہ دو روزہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی روداد ۱۹۲ رد قادیانیت وعیسائیت کورس ۱۹۳ چناب نگر میں شعبہ کتب کا اجراء ۱۹۴ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۱۹۴ نئے لٹریچر کی اشاعت ۱۹۵ سہ ماہی کورس ملتان ۱۹۵ قائد آباد میں ختم نبوت سیمینار ۱۹۶ ختم نبوت تربیتی کنونشن خوشاب ۱۹۶ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تبلیغی دورہ پنوعاقل ۱۹۶
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۷ء کے حالات و واقعات ۱۹۷
بدین سندھ میں قادیانیوں کی ناپاک سازش ۱۹۸
مسلمانوں کے قبرستان سے قادیانی مردہ کا نکالنا ۱۹۸
بورسٹل جیل فیصل آباد کے قادیانی افسر کی ریشہ دوانیاں ۱۹۸
علماء اور خطباء کے نام ۲۰۰
سلمان رشدی اپنے انجام کو پہنچے گا ۲۰۲
قادیانیوں کا میدان مناظرہ سے فرار اور مسلمانوں کی فتح ۲۰۲
بھکر کے غیور مسلمانوں کی قادیانیت کے مقابلہ میں فتح ۲۰۲
نیپال کھٹمنڈو میں جماعتی سرگرمیاں ۲۰۳
قادیانی غیر مسلم کو حرمین شریفین جانے سے روکا جائے ۲۰۴
چیف آف آرمی سٹاف اور وفاقی محکمہ تعلیم توجہ فرمائیں ۲۰۵
چیف منسٹر پنجاب جناب پرویز الٰہی توجہ فرمائیں! محکمہ تعلیم پنجاب اور قادیانی ۲۰۵
متنازعہ عبارت کے اخراج کی یقین دہانی کا خیر مقدم ۲۰۶
چوک اعظم کے مرزائی اے ایس آئی کے خلاف سیشن کورٹ لیہ میں رٹ ۲۰۸
کوئٹہ میں قادیانی کا قبول اسلام ۲۰۸
قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۰۸
نفیس نگر سندھ میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۰۹
قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۰۹
میر پور خاص میں قادیانی کا قبول اسلام ۲۰۹
چار قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۰
ایک قادیانی کا قبول اسلام ۲۱۰
۱۳۰ سالہ قادیانی سمیت ۱۲۲ افراد کا قبول اسلام ۲۱۰
قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۲۱۲
سندھ میں چھ قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۲
لیہ میں آٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۱۳
رپورٹ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۲۱۳
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس زڑہ میانہ خیبر پختونخواہ ۲۱۴ ختم نبوت کانفرنس لیہ ۲۱۴ ختم نبوت کانفرنس میانوالی ۲۱۵ ختم نبوت کانفرنس بھکر ۲۱۵ ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد ۲۱۵ ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ ۲۱۶ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۲۱۷ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۲۱۷ ختم نبوت کانفرنس پاکپتن ۲۱۷ ختم نبوت کانفرنس ساہیوال ۲۱۷ مولانا اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ اندرون سندھ ۲۱۷ ختم نبوت کانفرنس صادق آباد ۲۱۸ ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور ۲۱۸ ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان ۲۱۹ ختم نبوت کانفرنس خانپور ۲۱۹ ختم نبوت کانفرنس جھنگ ۲۲۰ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد ۲۲۰ ختم نبوت کانفرنس خانیوال ۲۲۰ ختم نبوت کانفرنس قصور ۲۲۰ حضرت مولانا اللہ وسایا کا تین روزہ ضلع خیر پور اور ضلع نوشہرو فیروز کا دورہ ۲۲۱ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۲۲۲ ناموس رسالت و عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کسی سازش کو برداشت نہیں کریں گے ۲۲۲ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۲۲۳ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو الہ یار ۲۲۳ ختم نبوت کانفرنس کنری ۲۲۴ ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۲۲۴ ختم نبوت کانفرنس بدین ۲۲۴
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس نوکوٹ ۲۲۵ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۲۲۵ ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی ۲۲۵ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۲۲۵ رپورٹ سہ ماہی اجلاس مبلغین ملتان ۲۲۵ نئے مبلغین کی تقرری ۲۲۶ آئندہ سہ ماہی کے لئے ۲۲۶ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۲۲۶ قلندر آباد، داتہ مانسہرہ میں ختم نبوت کانفرنسیں ۲۲۷ ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا ۲۲۷ محفل تاجدار ختم نبوت جھنگ ۲۲۷ اجتماعات ختم نبوت ڈیرہ غازی خان ۲۲۸ اجتماعات ختم نبوت راجن پور ۲۲۹ ختم نبوت وکلاء فورم کی سہ روزہ تربیتی نشست کا انعقاد ۲۲۹ رپورٹ کراچی کانفرنسیں ۲۷؍مئی تا یکم جون ۲۰۰۷ء ۲۳۰ ختم نبوت کانفرنس لورالائی ۲۳۲ ختم نبوت کانفرنس ژوب ۲۳۲ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تین روزہ اندرون سندھ کا تبلیغی دورہ ۲۳۲ رپورٹ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۲۳۳ ۲۲؍ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۲۳۴ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۲۳۶ ۱۴؍واں سالانہ ردقادیانیت وعیسائیت کورس چناب نگر ۲۳۷ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۲۴۲ ختم نبوت کانفرنس پشاور ۲۴۳ سالانہ ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان ۲۴۴ ٹنڈوآدم میں ختم نبوت کانفرنس ۲۴۴
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۲۴۵ ۲۶ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر مکمل وتفصیلی کارروائی ۲۴۶ سری لنکا میں تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر تربیتی کیمپ کا انعقاد ۲۴۸ انیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۲۵۰ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۸ء کے حالات و واقعات ۲۵۱ قادیانیوں کے دھوکہ سے باخبر رہیں ۲۵۲ مدارس عربیہ کے ذمہ دار حضرات کی خدمت میں ۲۵۲ ڈنمارک میں قرآن مجید کی اہانت پر مبنی فلم ۲۵۳ احتجاجی مظاہرہ گمبٹ ۲۵۷ ظفر اللہ خان قادیانی کی وکالت ۲۵۸ جماعت ہشتم کی پنجابی کتاب سے متنازعہ عبارت حذف کر دی گئی ۲۶۰ احتجاجی اجلاس رحیم یار خان ۲۶۰ لاہور میں مظاہرہ اور ریلی کا انعقاد ۲۶۱ چک ۳ / ۵۸ ٹکڑا میں قادیانیوں کی دیدہ دلیری اور غنڈہ گردی کا نوٹس لیا جائے ۲۶۲ کوٹری میں قادیانی اشتعال انگیزی اور عبادت گاہ تعمیر کرنے کی کوشش ۲۶۲ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں قادیانیت کا احتساب ۲۶۳ ساہیوال کی انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے قادیانی کی دکان اور مکان سے قرآنی آیات ہٹادیں ۲۶۴ جشن صد سالہ منانے والا قادیانی مربی گرفتار ۲۶۴ گھارو میں ختم نبوت کانفرنس ۲۶۴ قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے پر سینکڑوں افراد کا مظاہرہ ۲۶۵ ختم نبوت کانفرنس میں قادیانی کا قبول اسلام ۲۶۶ تین قادیانیوں کا مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر قبول اسلام ۲۶۶ قادیانی میاں بیوی کا قبول اسلام ۲۶۶ لیاقت پور میں قادیانی عورت کا قبول اسلام ۲۶۷ ایک مرزائی خاتون کے آہنی تابوت میں کیڑے، نواسے کا قبول اسلام ۲۶۷ اوکاڑہ میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۲۶۸
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا کاروان ختم نبوت رواں دواں، تیس ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ۲۶۸ کاروان ختم نبوت رواں دواں مزید تیس ختم نبوت کانفرنسیں ۲۷۳ کاروان ختم نبوت رواں دواں، مزید چھیالیس ختم نبوت کانفرنسوں کی رپورٹ ۲۷۸ تین روزہ رد قادیانیت کورس گلشن عثمان رحیم یار خان ۲۸۶ تین روزہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس کوئٹہ ۲۸۷ رد قادیانیت کورس گوجرانوالہ ۲۸۷ رد قادیانیت کورس رحیم یار خان نورے والی ۲۸۸ ۲۳ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۲۸۸ پندرہواں سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس چناب نگر ۲۹۱ قلعہ محمدی لاہور میں ختم نبوت کانفرنس ۲۹۸ سرگودھا میں عظیم الشان کانفرنس ۲۹۸ پانچویں سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس بیریا نوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۹۸ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۹۹ ۱۴؍ نومبر بروز جمعہ کو تحصیل تونسہ کے علماء کا یوم ختم نبوت ۳۰۶ مولانا محمد اکرم طوفانی کا دورہ سندھ ۳۰۶ بھڑی شاہ رحمان قلعہ دیدار سنگھ میں مولانا شجاع آبادی کا کورس سے خطاب ۳۰۷ مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۳۰۸
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۹ء کے حالات و واقعات ۳۰۹
روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر کے نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے حوالہ سے کھلا خط ۳۱۰ سعودی قونصل جنرل سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کی ملاقات ۳۱۰ توہین رسالت وصحابہ کے مقدمہ میں گواہ کا بیان قلم بند ۳۱۲ گوہر شاہی کے مرید کو سزائے موت کا فیصلہ ۳۱۳ ڈیرہ غازیخان کے دو قادیانی جیل پہنچ گئے ۳۱۴ سعودی حکمرانوں کے نام کھلا خط ۳۱۴ قادیانی ملک وقوم کے غدار ہیں ۳۱۷ حکومت پاکستان کی طرف سے قادیانیوں کو حج کی اجازت: علمائے کرام کا شدید احتجاج ۳۱۸
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شیخوپورہ میں قادیانی تبلیغ ۳۱۹
جناب الطاف حسین صاحب کے نام کھلا خط ۳۱۹
وفاقی وزیر مذہبی امور کے نام ۳۲۳
قادیانی سپرنٹنڈنٹ جیل فیصل آباد کا ظلم ۳۲۴
ایک قادیانی کا قبول اسلام ۳۲۵
سلانوالی میں تین قادیانی خاندانوں کا قبول اسلام ۳۲۵
سات افراد نے مرزائیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا ۳۲۵
نیپال میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۳۲۵
قبول اسلام ۳۲۶
قادیانی کا قبول اسلام ۳۲۶
تربیتی نشست سے خطاب ۳۲۷
نتھے عالی گوجرانوالہ میں رد قادیانیت کورس ۳۲۷
ختم نبوت کانفرنس سیدوالہ ۳۲۷
ختم نبوت کانفرنس ننکانہ ۳۲۷
دریا خان میں ماہانہ پروگرام ۳۲۸
ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر ۳۲۸
ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ ورکاں ۳۲۸
ختم نبوت کانفرنس لیہ و پہاڑ پور ۳۲۸
تلہ گنگ میں ختم نبوت کانفرنس ۳۲۸
ختم نبوت کانفرنس ہائے کراچی ۳۲۸
شیر پاؤ چارسدہ میں ۵ روزہ رد قادیانیت کورس ۳۲۹
پشاور میں علماء وخطباء کا نمائندہ اجلاس ۳۲۹
ختم نبوت کنونشن سرگودھا ۳۳۰
ختم نبوت کانفرنس پرمٹ ۳۳۰
ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل ۳۳۰
محراب پور ختم نبوت کانفرنس ۳۳۰
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۳۳۰ ختم نبوت کانفرنس بھریا روڈ ۳۳۱ ختم نبوت کانفرنس وہاڑی ۳۳۱ چناب نگر میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس ۳۳۱ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۳۳۱ ختم نبوت کانفرنس خانیوال ۳۳۲ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۳۳۲ ختم نبوت کانفرنس ملتان ۳۳۲ کاروائی سہ ماہی اجلاس مرکزی مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۳۳۳ ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان ۳۳۴ ختم نبوت کنونشن اسلام آباد ۳۳۴ سہ روزہ دورہ خوشاب ۳۳۵ دورہ دریا خان ۳۳۵ ختم نبوت کانفرنس جھنگ ۳۳۵ ختم نبوت کانفرنس دھوبی گھاٹ فیصل آباد کی رپورٹ ۳۳۶ خطبہ استقبالیہ ختم نبوت کانفرنس دھوبی گھاٹ فیصل آباد ۳۳۷ ختم نبوت کانفرنس لاہور کا آنکھوں دیکھا حال ۳۴۲ اٹھائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۳۴۸ نویں سہ ماہی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ۳۴۹ مولانا شجاع آبادی کا چکوال کا تبلیغی دورہ ۳۴۹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ کا دورہ اندرون سندھ ۳۵۰ ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۳۵۱ ختم نبوت کانفرنس مانسہرہ ۳۵۳ ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا شہر ۳۵۳ ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی ۳۵۴ ختم نبوت تربیتی سمر کیمپ گوجرانوالہ کی رپورٹ ۳۵۶
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کاروائی سہ ماہی اجلاس کی رپورٹ ۳۵۷ ٹیکسلا میں تین روزہ رد قادیانیت کورس ۳۵۸ برمنگھم کانفرنس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ ۳۵۸ چوبیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۳۶۵ سولہواں چناب نگر سالانہ ختم نبوت کورس ۳۷۰ نام شرکاء سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر ۳۷۳ چونڈہ سیالکوٹ میں رد قادیانیت کورس ۳۸۰ بھڑی شاہ رحمن گوجرانوالہ میں جلسہ ختم نبوت ۳۸۰ حافظ آباد میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا خطاب ۳۸۰ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس زڑہ میانہ ۳۸۰ ۳۶ ویں یوم ختم نبوت کانفرنس پشاور ۳۸۱ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۳۸۱ رد قادیانیت کورس ۳۸۲ سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۸۲ اٹھائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۳۸۳ ختم نبوت کانفرنس سمی ۳۸۸ سہ روزہ شعور ختم نبوت کورس خان پور ۳۹۰ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۰ء کے حالات و واقعات ۳۹۱ سال نو کی پہلی خوشخبری ۳۹۲ توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاجی ریلی ۳۹۲ (توہین رسالت پر مبنی ایس ایم ایس کرنے پر) توہین رسالت کی سزا ۳۹۲ وہاڑی کے قادیانیوں کو قادیانیت کی تبلیغ پر سزا ۳۹۴ ”تلونڈی“ نزد ”الہ آباد“ میں مدعی نبوت ۳۹۴ بہاولپور جیل کا قادیانی سپرنٹنڈنٹ اور اس کی سرگرمیاں ۳۹۴ قادیانیت کی تبلیغ پر میر پور خاص کے ۳ قادیانیوں کو قید و جرمانے کی سزا ۳۹۵ مجلس کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ ۳۹۵
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد پور شرقیہ میں ایک مسلمان کا قتل ۳۹۶ مسلم مسجد نور پور کالونی کی واگزاری کی تفصیلی رپورٹ ۳۹۶ صدر مملکت جناب زرداری صاحب کی خدمت میں آسیہ مسیح کی بابت کھلا خط ۳۹۸ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ ۴۰۱ آل پارٹیز تحفظ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد ۴۱۳ کل جماعتی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس...... احوال واثرات ۴۱۵ تحفظ ناموس رسالت ریلی اور کامیاب ہڑتال ۴۱۹ قانون ناموس رسالت میں ترمیم کے خلاف ملک گیر ہڑتال ۴۲۰ ناموس رسالت ریلی لاہور میں گردونواح کے شہروں اور قصبات کے عوام کی بھر پور شرکت ۴۲۲ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے اسلامیان پاکستان کا مثالی اتحاد ۴۲۲ قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان ۴۲۴ ۱۹ خاندان پر مشتمل ۱۱۰ افراد کا قبول اسلام ۴۲۴ چناب نگر میں ایک قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۴۲۴ رتوچھہ میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۴۲۵ قادیانیوں کے مربی امیر حمزہ کا قبول اسلام ۴۲۵ پشاور میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۴۲۵ گوجرانوالہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۴۲۵ کھڈاڑہ ضلع بدین میں چالیس قادیانیوں کا قبول اسلام ۴۲۶ لاہور میں ختم نبوت کانفرنسیں ۴۲۷ لاہور میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس ۴۲۸ لاہور کے جامعات میں تربیتی بیانات ۴۲۸ جماعتی سرگرمیاں ۴۲۸ حضرت امیر مرکزیہ کی طرف سے حضرات علماء کرام کی خدمت میں ضروری گذارش ۴۲۸ ختم نبوت کوئز پروگرام گلستان انیس کراچی ۴۲۹ حلقہ بلدیہ ٹاؤن میں ختم نبوت پروگرامز کا انعقاد ۴۳۰ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا چھ روزہ تبلیغی دورہ جھنگ ۴۳۲
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علی پور چٹھہ میں ختم نبوت کانفرنس ۴۳۳
داتہ مانسہرہ میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس ۴۳۳
فیصل آباد میں سہ روزہ تربیتی ختم نبوت کورس و ختم نبوت کانفرنسیں ۴۳۳
بہاولپور میں ختم نبوت کورس ۴۳۳
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ سکھر ۴۳۴
ڈاہرانوالی میں ختم نبوت کانفرنس ۴۳۴
رسول نگر میں ختم نبوت کانفرنس ۴۳۴
جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس ۴۳۵
سلانوالی میں ختم نبوت کانفرنس ۴۳۵
چناب نگر میں ایک عظیم الشان جلسہ سیرت النبی ﷺ ۴۳۵
ختم نبوت کانفرنس چیچنی ۴۳۵
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنسیں ۴۳۵
جامع مسجد محمدیہ چناب نگر میں ایک عظیم الشان جلسہ سیرت النبی ﷺ ۴۳۸
سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۴۳۹
مولانا غلام مصطفیٰ کے تبلیغی پروگرام ۴۳۹
کنجوانی میں ختم نبوت کانفرنس ۴۴۰
ہڑپہ میں سیرت کانفرنس ۴۴۰
رد قادیانیت کورس اور ختم نبوت کانفرنس ۴۴۰
ختم نبوت کانفرنس کہروڑ پکا ۴۴۰
ختم نبوت کانفرنس لیہ ۴۴۱
ختم نبوت کانفرنس دریا خان ۴۴۱
اندرون سندھ کا دورہ ۴۴۱
ختم نبوت کانفرنس ٹھیڑی ۴۴۲
ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۴۴۲
دفاع ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ ورکاں ۴۴۲
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ خوشاب ۴۴۲
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس گرجاکھ گوجرانوالہ ۴۴۲ ختم نبوت کانفرنس گمبٹ ۴۴۲ ختم نبوت کانفرنس بھریا روڈ ۴۴۳ ختم نبوت کانفرنس سکھر کی کاروائی ۴۴۳ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سکھر کی مزید تفصیل ۴۴۴ ختم نبوت کانفرنس جے چٹھہ ۴۴۶ ختم نبوت کانفرنس کنگنی والا ۴۴۶ سالانہ ختم نبوت کانفرنس پاکپتن ۴۴۶ سالانہ ختم نبوت کانفرنس ساہیوال ۴۴۷ رابطہ کمیٹی کا اجلاس ۲۲؍ مارچ ۴۴۷ بھڑی شاہ رحمان میں ختم نبوت کانفرنس ۴۴۷ ختم نبوت کانفرنس تتلے عالی ۴۴۷ گوجرانوالہ ڈویژن کی تبلیغی کارکردگی ۴۴۷ ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ ۴۴۹ دفاع ختم نبوت تلونڈی کھجور والی ۴۴۹ احتجاجی ختم نبوت کنونشن گوجرانوالہ ۴۴۹ خانیوال میں ختم نبوت کانفرنس ۴۴۹ ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان ۴۵۰ ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ ۴۵۱ ختم نبوت کانفرنس پشاور ۴۵۳ شہدائے تحفظ ختم نبوت کانفرنس حسن ابدال ۴۵۴ ۲۹ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم ۴۵۵ ۲۹ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس اٹک ۴۵۶ خانیوال میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس ۴۵۷ رد قادیانیت کورس لاہور ۴۵۸ ختم نبوت کانفرنس دوڑ ۴۵۸
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع میں مرکزی رہنماؤں کا چار روزہ تبلیغی دورہ ۴۵۸ ردقادیانیت کورس علی پور ۴۶۰ ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو ۴۶۰ سکھر میں ردقادیانیت کورس ۴۶۰ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۴۶۱ خطبہ صدارت ...... ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۴۶۱ سہ روزہ ردقادیانیت وعیسائیت کورس محراب پور ۴۶۴ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد کی تفصیلی رپورٹ ۴۶۴ پشین، کوئٹہ، ژوب اور لورالائی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنسیں ۴۶۵ سہ روزہ ختم نبوت تربیتی کورس بہاول نگر ۴۶۶ ٹیکسلا میں ردقادیانیت کورس ۴۶۶ ٹیکسلا میں ختم نبوت کانفرنس ۴۶۷ کھڈیاں قصور میں ردقادیانیت کورس ۴۶۷ گوجرانوالہ میں ردقادیانیت وعیسائیت کورس ۴۶۷ تحفظ ختم نبوت کانفرنس مظفر گڑھ ۴۶۷ سالانہ ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد ۴۶۸ ۲۵ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کی رپورٹ ۴۶۸ ردقادیانیت وعیسائیت کورس چناب نگر ۴۷۱ محسن جمعیت (مولانا خواجہ خان محمد) کانفرنس ۴۸۰ شادی پورہ لاہور میں ردقادیانیت کورس ۴۸۰ ٹوبہ کے تین مقامات پر ردقادیانیت کورس ۴۸۰ سرگودھا میں تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۴۸۰ ۲۹ ویں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی اجمالی رپورٹ ۴۸۱ ختم نبوت کوئز پروگرام کوئٹہ ۴۸۳ سات روزہ تحفظ ختم نبوت کورس، کراچی ۴۸۴ حلقہ شیر شاہ میں ختم نبوت پروگرام ۴۸۷
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میٹروول سائٹ کراچی میں تین روزہ ختم نبوت کورس ۴۸۸ ختم نبوت کانفرنس پختہ غلام ۴۸۹ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورۂ منڈی بہاؤالدین ۴۸۹ قانون تحفظ ناموس رسالت سے متعلق تربیتی نشست ۴۹۰ رد قادیانیت کورس پھالیہ ۴۹۰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں ۴۹۱ عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی و مجلس عاملہ کے اجلاسات ۴۹۲ (۹۴ واں) مجلس منتظمہ ۴۹۲ (۹۵ واں) اجلاس شوریٰ ۴۹۵ (۹۶ واں) مجلس منتظمہ ۴۹۹ (۹۷ واں) مجلس منتظمہ ۵۰۰ (۹۸ واں) اجلاس شوریٰ ۵۰۱ (۹۹ واں) مجلس منتظمہ ۵۰۴ (۱۰۰ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۰۵ (۱۰۱ واں) اجلاس شوریٰ ۵۰۶ (۱۰۲ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۰۷ (۱۰۳ واں) اجلاس جنرل کونسل ۵۰۸ (۱۰۴ واں) اجلاس شوریٰ ۵۰۸ (۱۰۵ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۱۰ (۱۰۶ واں) اجلاس شوریٰ ۵۱۲ (۱۰۷ واں) اجلاس شوریٰ ۵۱۴ (۱۰۸ واں) اجلاس مجلس عمومی ۵۱۶ (۱۰۹ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۱۷ (۱۱۰ واں) اجلاس شوریٰ ۵۱۸ (۱۱۱ واں) اجلاس منتظمہ ۵۱۹ (۱۱۲ واں) اجلاس مجلس عمومی ۵۲۰
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۴ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بنگلہ دیش حکومت کا قادیانی گروہ کے خلاف مستحسن اقدام
بنگلہ دیش حکومت نے قادیانی جماعت کے لٹریچر کو ممنوع قرار دے کر چھاپنے ، رکھنے اور تقسیم کرنے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے ایک حکم جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں قادیانی مذہب سے متعلق لٹریچر کی اشاعت، تقسیم اور تشہیر پر پابندی لگادی ہے۔ آئندہ کوئی شخص قادیانی جماعت کا لٹریچر اپنے پاس نہ رکھ سکے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
مؤرخہ ۱۰؍جنوری ۲۰۰۴ء کے قومی اخبارات نے بنگلہ دیش میں قادیانی مذہب سے متعلق لٹریچر کو خلاف قانون قرار دیئے جانے کی خبر کو نمایاں سرخیوں سے شائع کیا۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کے مسلمانوں میں قادیانی گروہ کی مذہبی تبلیغ اور تشہیر کے حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی۔ دینی حلقے بنگلہ دیش میں قادیانی جماعت کی پراسرار سرگرمیوں پر خاصے مضطرب تھے۔ دینی جماعتوں کے رہنماء اور علماء حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی تبلیغی سرگرمیوں، ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا نوٹس لیا جائے۔ ڈھاکہ اور بعض دوسرے شہروں میں بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے قادیانیوں کی اسلام دشمنی کے خلاف مظاہرے کر کے حکومت کو متوجہ کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا میمورنڈم امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء اور ان کی دینی شرعی حیثیت کے حوالہ سے بعض ضروری دستاویزات بنگلہ دیش کی حکومت کو پہنچائیں۔ مجلس کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد صاحب نے ایک یاداشت کے ذریعہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کو مطلع کیا کہ قادیانی بنگلہ دیش کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر سیاسی، دینی اور اقتصادی طور پر نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیاء صاحبہ مبارک باد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی یاداشت و درخواست پر اپنے عوام کے دینی جذبات کا احترام کرتے ہوئے قادیانی جماعت کے خلاف مستحسن قدم اٹھایا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کی قادیانی جماعت نے ایک لاکھ تعداد کا دعویٰ کیا ہے قادیانی جماعت کا یہ دعویٰ اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ جماعت نے ہمیشہ مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔ پاکستان میں قادیانی جماعت کے افراد کو جماعتی احکامات کے تحت نہ تو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے اور نہ ہی وہ مردم شماری میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کا لاکھوں کی تعداد کا دعویٰ کیا مضحکہ خیز نہیں؟ ۱۹۷۰ء میں متحدہ پاکستان کے عام انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن نے مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ: ”یہ قادیانیت، مرزائیت مغربی پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں قادیانی جانور نہیں ملتا۔“
(بحوالہ ترجمان اہل سنت کراچی، ختم نبوت نمبر ستمبر ۱۹۷۲ء)
یہ حوالہ بطور خاص پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے دولخت ہونے سے قبل اور بنگلہ دیش کے منظر عام پر آنے سے پہلے شیخ مجیب الرحمن کے بقول وہاں جو جانور نہیں ملتا تھا اس کی افزائش نسل کی برق رفتاری اور موجودہ کثرت پر حیرانی کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک مسلمان ملک ہے۔ وہاں کے مسلمان مذہب کے بارے میں حساس واقع ہوئے ہیں۔ بنگالی مسلمان اسلام سے دلی وابستگی اور حساسیت رکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہونے والے تبلیغی اجتماعات سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں اہانت خدا اور رسول مقبول ﷺ توہین صحابہ واہل بیت پر مشتمل قادیانی لٹریچر کو بنگلہ دیش کے مسلمان کیونکر برداشت کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دینی جذبات کے مجروح ہونے پر بنگلہ دیش کے مسلمان سڑکوں پر نکل آئے۔ قادیانیوں کے خلاف تحریک شروع ہوئی اور ۹؍جنوری ۲۰۰۲ء تک مطالبات تسلیم کرنے کا انتباہ دیا گیا۔ مقام شکر ہے کہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے مسلمان بھائیوں کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے اگرچہ قادیانی لٹریچر ممنوع قرار دیا ہے جو قادیانی جماعت کی ناپاک سرگرمیوں، مکروہ عزائم اور پس پردہ سازشوں کے پیش نظر ناکافی ہے۔
قادیانی جماعت کا بنگلہ دیش میں ظہور کسی خاص خطرے کی علامت ہے۔ اس گروہ نے اسلام اور مسلمانوں کے وجود کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ صفحات اس تاریخی تفصیل کے متحمل نہیں۔ بنگلہ دیش متحدہ پاکستان کا مشرقی بازو تھا۔ بھارت ان دو اکائیوں کے درمیان ایک بسا ہوا ملک تھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں قادیانی جماعت نے گھناؤنا کردار ادا کیا۔ اس میں شک نہیں کہ مشرقی پاکستان کی اصل بنیاد معاشی ناہمواری اور اقتصادی بے انصافی تھی۔ ایم. ایم. احمد نے سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسی ناقص اقتصادی پالیسیاں وضع کیں جس سے معاشی بدحالی اور بداعتمادی نے بنگالیوں میں احساس محرومی کے سرطان کو پروان چڑھایا۔ مشرقی پاکستان کو کاٹ کر علیحدہ آزاد خود مختار ریاست کے قیام کی جو سازش تل ابیب میں تیار ہوئی اسے ربوہ اور قادیان کے ذریعہ پروان چڑھایا گیا۔ دو مسلم بازووں میں گھرے ہوئے بھارت کی مستقل گھبراہٹ کو دور کرنے کے علاوہ خاص مقصد یہ تھا کہ اس خطہ میں مسلمانوں کی قوت کو مستحکم نہ ہونے دیا جائے۔ ان کے نزدیک اس کا بہترین طے شدہ فارمولا مسلمانوں کی تقسیم در تقسیم ہے۔
بنگلہ دیش قیام کے بعد بلاشبہ وہاں اقتصادی ترقی، معاشی استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ خاص طور پر بیگم خالدہ ضیاء کی اقتصادی پالیسیوں نے بنگلہ دیش کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ سیاسی استحکام معاشی ترقی اور مضبوط بنگلہ دیش اسلام دشمن قوتوں کو کیونکر گوارا ہو سکتا ہے۔ بنگلہ دیش بنیادی طور پر ایک مسلمان ملک ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ عالم اسلام کے ابھرتے ہوئے ممالک کو اقتصادی طور پر پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے یا معاشی طور پر دبا دیا جاتا ہے۔
مشرق کے افق سے انڈونیشیا نے جیسے ہی سر اٹھایا اقتصادی طور پر مفلوج کر دیا گیا۔ انڈونیشیا کے قلب میں عیسائی ریاست قائم کر کے مستقل خطرے کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ خود ہمارا وطن عزیز اس کا زندہ ثبوت ہے۔ ہم ترقی کے دو قدم آگے بڑھاتے ہیں تو چار قدم پیچھے دھکیل دیئے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے ہم جہاں سے چلے تھے وہیں کھڑے ہیں۔ یہاں تک کہ ایٹمی طاقت بننے کے باوجود ہمارا ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں۔ ہمارا المیہ ہے کہ آج ہم سر اٹھا کر نہیں، سر جھکا کر جی رہے ہیں۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے بنگلہ دیش خاص اہمیت کا حامل ہے۔ عالمی طاقتیں اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لئے دنیا کے مختلف خطوں کے ممالک کو استعمال کرنے کا فن جانتی ہیں۔
بنگلہ دیش میں قادیانی جماعت کا قیام اور کچھ مدت سے جاری شدہ سرگرمیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ بنگلہ دیش کو کمزور کرنے، اس کی وحدت کو نقصان پہنچانے، اس کی تعمیر و ترقی کے عمل کو ناکام بنانے کے پس پردہ سازشوں پر عمل درآمد شروع کیا جا چکا ہے۔ موجودہ بنگلہ دیش یعنی سابقہ مشرقی پاکستان کے ماضی کے سیاسی رہنما یقیناً اس حقیقت کو نہیں بھولے ہوں گے کہ بنگالیوں کی اقتصادی و معاشی قتل کی ذمہ دار قادیانی جماعت تھی۔ متحدہ پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے پر قابض قادیانی حکام اہل بنگلہ دیش کی غربت، افلاس اور پسماندگی کا باعث تھے۔ بنگلہ دیش کی موجودہ ترقی، خوشحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کے عوام کو جیسے ہی قادیانی لابی کی اقتصادی غلامی سے نجات ملی وہ ترقی کے زینے طے کرنے لگے۔ بنگلہ دیش میں قادیانی جماعت کے بال و پر نکالنا خطرے کا الارم ہے۔ وہاں تبلیغ کی آڑ میں، رفاہی کاموں کے لباس میں اقتصادی امداد کے خوشنما تعاون کے بدلے میں قادیانی جماعت اپنے آپ کو مستحکم کر کے اپنے آقاؤں کے مخصوص مفادات کے لئے سرگرم عمل ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام، حکام اور حکومت اس سازش سے باخبر رہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دینی مذہبی طور پر بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے قادیانیوں کے بارے میں وہی جذبات ہیں جو پاکستان کے مسلمانوں یا دیگر عالم اسلام کے مسلمانوں کے ہیں۔ بنگلہ دیش کے مسلمان قادیانیوں کو ہماری طرح مرتد اور زندیق سمجھتے ہیں۔ اسی باعث وہاں کے مسلمانوں نے ردعمل کے طور پر قادیانیوں کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت قادیانیوں کے ناپاک عزائم سے ہوشیار رہے۔ اس سے پہلے کہ قادیانی گروہ سرکاری سطح تک رسائی حاصل کرلے۔ بین الاقوامی آقاؤں کی مدد سے بنگلہ دیش کے کلیدی عہدوں پر براجمان ہو جائے۔ یا حکومتی سطح پر اس قدر اثر و رسوخ حاصل کر لے کہ خواجہ ناظم الدین کی طرح حکومت بھی قادیانی اثر نفوذ کے سامنے بے بس دکھائی دے۔ قادیانی فتنہ کو بنگلہ دیش میں یوٹرن کے لئے مجبور کر دیا جائے۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم جناب محترمہ خالدہ ضیاء صاحبہ ایک فہمیدہ اور معاملہ فہم خاتون ہیں۔ انہوں نے قادیانی گروہ کی تبلیغ کے حوالے سے پابندی کا جو اقدام اٹھایا ہے وہ جز وقتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قادیانیوں کو حکومتی سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
بنگلہ دیش اور وہاں کے عوام کے وسیع تر مفاد کے لئے ایک مضبوط ومستحکم بنگلہ دیش کے لئے قادیانی جماعت کے مکروہ عزائم سے بچانے کے لئے اس اسلام اور عالم اسلام دشمن جماعت کو خلاف قانون قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پارلیمنٹ کی سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی تبلیغ وتشہیر کی ممانعت کے ضمن میں ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیاء الحق مرحوم نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا تھا۔ بنگلہ دیش حکومت کو اپنے مستقبل کو بچانے کے لئے ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ قادیانی گروہ استعماری ایجنٹ رہے ہیں۔ اسلام کے بھیس میں اسلام کا دشمن اور عالم اسلام کے مسلمانوں کا قاتل۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۴ء ص ۳ تا ۶)
سکھر محکمہ ڈاک سے قادیانی کا تبادلہ
ڈویژنل سپریٹنڈنٹ جنرل پوسٹ ریجن سکھر محمد احمد فاروق قادیانی مقرر ہوا۔ اس نے مسلمان ملازمین کو قادیانیت کی تبلیغ کرنے اور اپنے زیر اثر لانے کے لئے ناروا ہتھکنڈے استعمال کئے جس سے مسلمانوں میں اشتعال پھیلا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کو اطلاع ہوئی۔ تو سب سے پہلے جمعیت علمائے اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا گیا جس کی صدارت جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی نائب مولانا محمد مراد ہالیجوی نے فرمائی۔ اجلاس میں جناب آغا سید محمد صاحب، مولانا غلام حسین لغاری، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، جناب حاجی محمد حسین، جناب محمد رضوان، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا عبدالمجید، جناب شیخ محمد شکیل، جناب حافظ جاوید شریک ہوئے۔
اجلاس میں آل پارٹیز اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ دوسرا اجلاس مولانا سید محمد اقبال حسین فیضی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ شہر بھر کی مساجد میں قراردادیں پاس کی جائیں اور جمعہ کے خطبات میں اس قادیانی مردود کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جائے اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کا نمائندہ اجلاس منعقد کر کے لائحہ عمل طے کیا جائے۔ چنانچہ جمعہ پر قرارداد پاس کرانے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے فاضل نوجوان مبلغ مولانا محمد حسین ناصر نے سعی بلیغ کی۔ پورے شہر میں خطبات جمعہ پر علمائے کرام نے دھواں دھار تقریریں کیں۔
تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کا نمائندہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا محمد ابراہیم شیخ الحدیث جامعہ غوثیہ نے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی۔ مولانا مفتی محمد عارف، مولانا غلام حسین لشاری، جناب اطہر قریشی، جناب غلام غوث، جناب سید نظام الدین شاہ، جناب محمد اشرف، جناب ابوالکلام آزاد، جناب قاری خلیل احمد اور دوسرے حضرات نے شرکت کی۔ سکھر ڈویژن میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے قادیانی ارتدادی مہم پر غم وغصہ کا اظہار کیا۔ مولانا محمد اسعد تھانوی، جناب قاری خلیل احمد نے صوبائی آفیسر ڈاک خانہ جات صوبہ سندھ جناب میاں محمد احمد صاحب سے ملاقات کر کے فاروق قادیانی کے سکھر سے تبادلہ کے لئے درخواست کی۔ انہوں نے مکمل محکمانہ انکوائری کے بعد اس مردود قادیانی کو سکھر سے تبدیل کر دیا۔ خس کم جہاں پاک!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۴ء ص ۴۷ تا ۴۹)
اونچی کھرولیاں کے نام کی تبدیلی
چند ماہ ہوئے ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے قریب اونچی کھرولیاں ایک گاؤں میں قادیانی ڈاکٹر کے ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب چوہدری پرویز الٰہی تشریف لے گئے۔ دیگر اقدامات کے علاوہ مسلم آبادی پر مشتمل گاؤں ”اونچی کھرولیاں“ کے نام کو تبدیل کر کے قادیانی اسلم کے نام پر ”اسلم پورہ“ رکھنے کا اعلان کیا۔ مسلمانوں کے لئے نام کی تبدیلی پریشان کن تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کے دستخطوں سے ایک کھلا خط شائع کیا گیا تھا۔ جو حکومتی ارکان کو بھجوایا گیا۔ جو کہ ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۴ء کے شمارہ میں شائع ہوا تھا اور ۲۰۰۳ء کے حالات و واقعات میں گزر چکا ہے۔ علاوہ ازیں ہفتہ وار ختم نبوت، ماہنامہ الفاروق، روزنامہ اسلام، روزنامہ خبریں، ماہنامہ نصرۃ العلوم، ماہنامہ بینات، ماہنامہ نقیب ختم نبوت، اور دیگر کئی دینی جرائد میں بھی وہ خط شائع ہوا۔ سیالکوٹ ضلع بھر میں احتجاجی کانفرنسیں، خطبات جمعہ پر احتجاجی قراردادیں منظور ہوئیں۔ گوجرانوالہ ڈویژن سے ہزاروں کی تعداد میں احتجاجی مراسلے حکومت پنجاب کو بھجوائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ایک خط مرتب کر کے مولانا حافظ حسین احمد صاحب مرکزی رہنما متحدہ مجلس عمل کے ذریعہ جناب چوہدری شجاعت حسین کو پہنچایا۔ مجلس عاملہ کے اجلاس سے قبل درخواست تیار کر کے مولانا فضل الرحمن صاحب کو دی گئی کہ وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بات کریں۔ چنانچہ مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم نے اجلاس میں فرمایا کہ ۱۳؍جنوری ۲۰۰۴ء کی شام کو ڈیرہ اسماعیل خان سے چوہدری پرویز الٰہی کو فون کر کے پوری صورتحال پر ان سے گفتگو ہوئی کہ مسلم آبادی کے گاؤں کا نام قادیانی اسلم کے نام رکھنا سخت افسوسناک اقدام ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وعدہ کیا کہ ایسے نہیں ہوگا۔ نیز ۱۴؍جنوری ۲۰۰۴ء کی شام مولانا مدظلہ نے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی سے اس پر تفصیلی مذاکرات کئے۔ چنانچہ دونوں حضرات نے وعدہ کیا کہ ”اونچی کھرولیاں“ کا نام قادیانی اسلم کے نام پر نہیں رکھا جائے۔ اللہ رب العزت ان کو ایفائے عہد کی توفیق بخشیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۴ء ص۷ تا ۱۰)
ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور قادیانی سازش
۴؍فروری ۲۰۰۴ء کی خنک شب قوم نے بھیانک خواب کی طرح ناقابل یقین منظر دیکھا جسے مدتوں فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ پاکستان کے محسن اور ایٹمی پروگرام کے قائد ڈاکٹر قدیر خان کو ٹیلی ویژن پر ایک قومی مجرم کی طرح پیش کیا گیا اور انہیں تحریری معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔ قبل ازیں انہیں سائنسی عہدے سے سبکدوش کر کے خان ریسرچ لیبارٹریز میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی اور گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ خان عبدالقدیر خان جب قوم سے مخاطب تھے تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ کہہ رہے ہوں: ”پاکستان کو ایٹمی قوت، ناقابل تسخیر اور عالم اسلام کا تارا بنانے جیسے جرم میں قوم مجھے معاف کردے“۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا حقیقی جرم کیا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ڈاکٹر قدیر کو صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے معاف کر دیا۔ انہیں قوم بھی معاف کر دے گی۔ لیکن جب اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے وہ انہیں کیسے معاف کر سکتی ہیں؟ ۱۱؍ ستمبر کو کروسیڈ کے ستمگر کس طرح درگزر کر دیں گے؟ ہمیں چٹکی میں مسلنے کا دعویدار ہمسایہ دشمن کیونکر اس سنہری موقع کو ہاتھ سے جانے دے گا؟ اگلے روز پریس کانفرنس میں صدر مملکت نے اس سوال پر کہ معافی نامہ کی صورت میں اقبال جرم کا دستاویزی ثبوت ہم نے عالمی برادری کو پہنچا کر غلطی نہیں کی؟ صدر صاحب نے پراعتماد دعویٰ کیا تھا کہ یہ معاملہ ان پر چھوڑ دیا جائے۔ ویسے تو قوم نے سارے معاملات انہیں پر چھوڑ رکھے ہیں۔ اب جو خبریں آ رہی ہیں ان سے خطرہ کی بو سونگھی جا سکتی ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا حقیقی جرم نا قابل معافی ہے اور انہیں نہ جانے کون کون سی سزا بھگتنی پڑے گی؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر الزام ہے کہ انہوں نے توانائی ایران ، لیبیا ، شمالی کوریا کو دی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تینوں ممالک نے اس کی تردید کی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قومی، ملی خدمات اور شخصی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں مجرم ثابت کرنے والے قومی ہیرو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ گویا فرد جرم کے ساتھ ساتھ اعتراف عظمت کا ثبوت بھی دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا ستم اور انہیں پہنچائے جانے والے زخم غیر متوقع نہ تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے خلاف قادیانی ایک طویل مدت سے سرگرم عمل تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو قوت بنانے کے عمل میں جو تاریخ ساز کردار ادا کیا اور نا قابل فراموش خدمات سرانجام دیں ان کی مرکزی حیثیت کے باعث قادیانیوں کی ہر سازش ناکام ہوئی اور انہیں منہ کی کھانا پڑی۔ ڈاکٹر صاحب نے قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر فقید المثال قربانی دے کر عظمت کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی بلاشبہ ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انہی کی معرفت ڈاکٹر قدیر خان پاکستان تشریف لائے۔ نامساعد حالات اور ناپید وسائل کے باوجود پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا معرکۃ الآراء کارنامہ سرانجام دیا۔ نظریاتی سوچ ، سیاسی اختلاف سے قطع نظر اس میں شک نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ بھٹو مرحوم مردم شناس رہنما بھی تھے۔ قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام ، یہودی نوبل انعام یافتہ کو انہوں نے چلتا کیا۔ کیونکہ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ اس شخص کے ہوتے ہوئے پاکستان نہ تو ایٹمی قوت بن سکتا ہے اور نہ اس پروگرام کی راز داری برقرار رہ سکتی ہے۔ حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ بھٹو صاحب کو دو مرکزی محرکات کے باعث پھانسی کی سزا دی گئی۔ اولاً! ایٹمی پروگرام ۔ ثانیاً ! قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا تاریخی فیصلہ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پاکستان کا جوہری پروگرام دونوں ہی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی باقیات ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سبکدوشی ، کردار کشی اور اعتراف جرم کا ڈرامہ اسی قادیانی سازش کا نتیجہ ہے۔
آج جن سائنس دانوں کو پذیرائی بخشی جا رہی ہے وہ بلا شبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مخالف لابی سے تعلق رکھتے ہیں۔ نواز شریف دور میں پاکستان ایٹمی طاقت بنا۔ چاغی میں جب کامیاب ایٹمی دھماکے ہوئے۔ اگلے روز راتوں رات اسلام آباد کے اہم چوکوں میں بینرز لگائے گئے جن پر یہ تحریر تھا کہ ایٹمی دھماکوں کا اصل ہیرو ڈاکٹر ثمر مند مبارک ہے۔ یہ بینرز کس تنظیم نے لگائے تھے؟ یہ آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ اسی موقع پر اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین منیر احمد خان نے ایک انٹرویو میں یہ شوشہ چھوڑا کہ ایٹمی دھماکوں کی کامیابی اٹامک انرجی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کمیشن کی مرہون منت ہے۔ اس میں کہوٹہ لیبارٹریز کا کوئی کردار نہ تھا۔ ڈاکٹر ثمر مند مبارک نے انہی دنوں بعض انٹرویوز میں یہی تاثر دے کر خود کریڈٹ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی کہ ایٹمی دھماکوں کے موقع پر سائنس دانوں کے بارے میں اختلافات کے ساتھ ساتھ دو بڑے اداروں کی اندرونی چپقلش بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ اٹامک انرجی کمیشن جیسا حساس ادارہ قادیانیوں کے نرغے میں رہا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیبارٹریز کے قیام کے ساتھ ہی قادیانیوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا آغاز ہو گیا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف کھلے بندوں محاذ آرائی شروع ہوئی اور ان کے کارہائے نمایاں پر پانی پھیرنے کی تحریک کو منظم طور پر چلایا گیا۔ اٹامک انرجی کمیشن میں گھسے قادیانی اور قادیانیت نواز سائنس دانوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو مدتوں پہلے ہیرو کی بجائے زیرو ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں حقیقی ترقی تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے آنے کے بعد ہوئی۔ ڈاکٹر ثمر مند مبارک جب ایٹمی توانائی کمیشن میں وارد ہوئے اس وقت بم تیار ہو چکا تھا۔ بقول زاہد علی اکبر! یہ لوگ تو بہت بعد کی پیداوار تھے۔ کہوٹہ لیبارٹریز کے قیام اور کارکردگی نے ہی تو ایٹمی پروگرام کو معراج بخشی۔ ورنہ اٹامک انرجی کمیشن نے تو زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی خاص کارکردگی نہ دکھائی تھی۔ ایٹمی توانائی کمیشن نے میزائل کے دو تجربات کئے جو ناکام رہے۔ جب کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا غوری میزائل کا تجربہ کامیاب رہا۔ کہوٹہ لیبارٹریز کے قیام کے باعث پاکستان ایٹمی طاقت اور ناقابل تسخیر بنا۔ پاکستان کی سالمیت اور اس کا دفاع قدیر خان کی قائم کردہ لیبارٹریز کا مرہون منت ہے۔
امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر ریاض کھوکھر کے سامنے سابق وزیراعظم بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ منیر احمد خان جب تک موجود ہے پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بن سکتا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے تو انہیں سی.آئی.اے کا آدمی قرار دیا تھا۔ منیر احمد خان سابق چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن نے ۷۷-۱۹۶۶ء میں ایٹمی دھماکہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو بلاشبہ زیرک رہنما تھے۔ ۱۹۷۴ء میں جب بھارت نے دھماکوں کے تجربے کئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہالینڈ کے المائوسینٹری فیوج یورینیم پلانٹ میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت سابق وزیراعظم کو ایک پیغام کے ذریعہ اپنی خدمات کی پیش کش کی۔ ۱۹۷۶ء میں جب ان کے پاس فیوج یورینیم کی مکمل معلومات ہاتھ آ گئیں تو وہ بھٹو صاحب کے کہنے پر ایک مشنری جذبہ کے تحت پاکستان تشریف لے آئے۔ آج جس بھونڈے انداز میں ان کی کردار کشی کی گئی ہے خون کے آنسو رونے کو جی چاہتا ہے۔ ہالینڈ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ۳۰ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ تھی۔ جب کہ پاکستان میں ان کی تنخواہ تین ہزار روپیہ مقرر ہوئی اور پہلے چھ ماہ کی تنخواہ ہی انہیں نہ مل سکی اور نہ انہوں نے اس کا تقاضا کیا۔ جب پہلی مرتبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سائٹ دیکھنے کے لئے کہوٹہ گئے تو سڑک اور راستہ نہ ہونے کے باعث سابق جنرل زاہد علی اکبر کے ہمراہ چھ میل پیدل چلنا پڑا۔ جوتے ہلکے ہونے کے باعث ان کے پاؤں میں کانٹے چبھتے رہے۔ ماضی کا کہوٹہ جنگل بیابان تھا۔ نہ سایہ نہ پانی۔ اس مرد قلندر کی لگن، جانفشانی اور خلوص نیت کے باعث آج وہی کہوٹہ جنگل میں منگل کا سماں پیش کر رہا ہے۔
پاکستان، ایٹمی قوت بن کر عالمی سطح پر اور بالخصوص عالم اسلام میں جو مقام حاصل کر چکا ہے اس کا تمام تر سہرا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سر ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کے بعد وہ پہلی شخصیت ہیں، جن سے اہل وطن اور اسلامی برادری کے مسلمان جنون کی حد تک عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔ قادیانی اور یہودی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مشترکہ دشمن ہیں۔ اسلام آباد کے اہم چوک پر نصب شدہ غوری میزائل ماڈل کو جس دن گرایا گیا ہمارا ماتھا اس دن
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹھنکا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے محب وطن ساتھیوں کی آزمائش کا وقت آگیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو منظر سے ہٹا کر ان کے مخالف سائنس دانوں کو جس انداز میں پیش کیا جارہا ہے یہ اسی سازش کی کڑی کا سلسلہ ہے جس کی ابتداء سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف جس طرح ماضی کی سازشیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ اسی طرح موجودہ سازش بھی کامیاب نہ ہو سکے گی۔ ان شاء اللہ !
ہم جنرل پرویز مشرف سے استدعا کریں گے کہ وہ عالمی برادری اور ایٹمی پھیلاؤ سے متعلقہ عالمی اداروں کے دباؤ کے تناظر میں اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے پاکستان دشمن قادیانی جماعت کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے صرف نظر نہیں کریں گے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وضع کردہ مشن ”پہلے پاکستان“ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تمام صورت حال کا عمیق مطالعہ اور مشاہدہ کریں گے۔ وہ اس بات کو مت بھولیں کہ پاکستان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان لازم و ملزوم ہیں۔ وقت آئے گا۔ قادیانی سازش بے نقاب ہوگی اور یہودی سازش ناکام ہوگی۔ ان شاء اللہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۴ء ص ۳ تا ۶)
ختم نبوت کا حلف نامہ ...... مستحسن اقدام
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) ارشاد حسن خان نے مسلم ووٹروں کے لئے ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کرنے اور مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کی الگ الگ انتخابی فہرستیں بحال کرنے کے لئے باقاعدہ احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ انہوں نے یہ احکامات آئین کی دفعہ ۲۱۹ کی ذیلی شق اے انتخابی فہرستوں کے قوانین مجریہ ۱۹۷۴ء کی دفعہ (۴) اور دفعہ (۲) ۲۸ اور دوسرے تمام حاصل شدہ اختیارات کے تحت جاری کئے ہیں۔ اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کے اندراج کے لئے سال ۱۹۷۸ء اور بعد ازاں نافذ العمل علیحدہ علیحدہ فارم بحال کر دیئے گئے ہیں۔ اس طرح قادیانیوں کی علیحدہ انتخابی فہرستیں تیار ہوں گی۔ جن مسلم ووٹروں نے ختم نبوت کے حلف نامہ کے بغیر فارم داخل کئے ہیں ان کے لئے حلف نامہ پر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایسے شخص جن کا تعلق قادیانی گروپ سے ہے (جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی اور نام سے پکارتے ہیں) کی حیثیت وہی ہوگی جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین مجریہ ۱۹۷۳ء میں طے کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مسلمان ووٹروں کے لئے فارم نمبر ۴ جس میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر مکمل اور غیر مشروط ایمان کے بارے میں حلف نامہ / اقرار نامہ موجود ہے اور غیر مسلم ووٹروں کے لئے فارم ۲اے جو انتخابی فہرستوں کے قواعد مجریہ ۱۹۷۴ء کے قاعدہ ۹ کے تحت بنائے گئے ہیں۔ فوری طور پر بحال ہو جائیں گے۔ جن مسلمان ووٹروں نے فارم ہذا انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کے پروگرام کے مطابق پہلے ہی داخل کئے ہیں وہ تمام فارم صحیح متصور ہوں گے اور افسران نظر ثانی کے بعد ضروری کارروائی کریں گے۔ بشرطیکہ مسلمان ووٹران نے متذکرہ بالا حلف نامہ / اقرار نامہ داخل کیا ہو۔ ایسے مسلمان ووٹر جنہوں نے متذکرہ بالا حلف نامہ / اقرار نامہ کے بغیر فارم داخل کئے ہیں۔ وہ حلف نامہ ہذا پیش کریں گے۔ یہ فارم نمبر ۴ جس میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان کے بارے میں حلف نامہ / اقرار نامہ درج ہے از سر نو پیش کریں گے۔ مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کے لئے علیحدہ علیحدہ انتخابی فہرستیں تیار کی جائیں گی۔ نظر ثانی سے متعلق نئے ناموں کے اندراج کے لئے داخل ہونے والے دعویٰ جات، اعتراضات اور تصحیح کے لئے درخواستیں دائر کرنے کی مدت ۴؍ اپریل ۲۰۰۴ء تک بڑھا دی گئی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چیف الیکشن کمیشن کے مستحسن اقدام کو دینی حلقوں میں یقیناً سراہا جائے گا۔ گزشتہ ماہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے وزارت داخلہ اور چیف الیکشن کمیشن کو ایک یاداشت کے ذریعہ توجہ دلائی تھی کہ قادیانی مسلم انتخابی فہرستوں میں اپنے نام درج کرواتے ہیں۔ جس سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کے اندراج کے لئے علیحدہ علیحدہ فارم بحال کر کے احسن اقدام اٹھایا ہے۔ اس سے قبل کہ دینی حلقے مضطرب ہو کر سراپا احتجاج بنتے ہیں اور حکومت کے خلاف نفرت بڑھتی حکومت نے ختم نبوت کا حلف نامہ اور علیحدہ علیحدہ انتخابی فہرستوں کا طریق کار رائج کر کے دینی حلقوں کے اضطراب کو ختم کر کے احسن کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۲ء ص ۳ تا ۶ ،۵۴)
قادیانی غنڈوں کا مسلمانوں پر تشدد
قادیانی مذہب اپنے قیام سے لے کر آج تک ڈنڈے اور پیسے کے زور پر چل رہا ہے۔ ”پیسے کے زور پر لوگوں کو خرید لو اور ڈنڈے کے زور مخالفین کو دباؤ“ یہ قادیانیت کا اصول رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ قادیانی اپنے مذہب میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کے قائل ہیں۔ وہ اکثر و بیشتر اپنے اس مذہبی اصول پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ جہاں مختلف جگہوں سے قادیانیوں کی جانب سے لوگوں کو پیسے کے لالچ دے کر قادیانی بنانے کی کوششیں سامنے آئی ہیں وہاں اپنے مخالفین پر قادیانی غنڈوں کا تشدد اور ان کا قتل عام بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ فخر الدین ملتانی قادیانی کا لرزہ خیز قتل، چناب نگر کے مسلمانوں پر تشدد، یہ سب کچھ قادیانی غنڈوں کے محض چند واقعات ہیں ورنہ واقعات کی اصل فہرست بہت طویل ہے دور کیوں جائیے ! فیصل آباد میں ایک بے گناہ مسلمان پر قادیانی غنڈوں نے جس طرح بہیمانہ تشدد کیا، اس کی خبر حال ہی میں اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس واقعہ کی تفصیلات درج ذیل خبر میں ملاحظہ فرمائیے :
”فیصل آباد: تبلیغ سے منع کرنے پر ۵ قادیانیوں کا مسلمان پر تشدد
قاسم، باسط وغیرہ تبلیغ میں مصروف تھے، جاوید اعوان نامی مسلمان نے منع کیا تو تشدد پر اتر آئے۔
فیصل آباد (اے ۔ این ۔ این) قادیانیت کی تبلیغ سے منع کرنے پر ۵ افراد کا جاوید اعوان پر تشدد، شدید نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق پانچ افراد قاسم علی، باسط قیوم، عاطف اعجاز، عطاء المنان اور عمر حیات قادیانیت کی تبلیغ کر رہے تھے، جاوید اعوان نامی شخص جو کہ کسی کام کے سلسلہ میں چک ۲ رام دوالی جا رہا تھا، نے ان افراد کو ایسا کرنے سے منع کیا جس پر ملزمان ہاتھا پائی پر اتر آئے اور اسے تھپڑ رسید کئے اور شدید زدوکوب کیا، مقامی لوگوں نے معاملہ رفع دفع کرایا جب کہ ملزمان جاوید اعوان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔ واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تھانہ نشاط کے ایس ایچ او نے مذکورہ ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ کا اندراج کر لیا تا ہم ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکے، شہریوں نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔“
(روزنامہ ”اسلام“ کراچی ۱۳ / مارچ ۲۰۰۲ء)
یہ ہیں قادیانیوں کے اصل کرتوت لیکن ڈھنڈورا یہ پیٹا جا رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے اور ان کا قتل عام روز مرہ کا معمول ہے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔ یہ محاورہ مذکورہ واقعہ پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ جاوید اعوان نامی مسلمان نے اپنی اسلامی غیرت اور ملکی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ان قادیانیوں کو قادیانیت کی تبلیغ سے منع کر کے اسلامی غیرت کا مذاق اڑانے اور ملکی قوانین کی دھجیاں بکھیرنے سے منع کیا، لیکن قادیانی غنڈوں کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے حق کو قبول کرنے کے بجائے حق کو دبانے کی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوشش کی اور اس کے لئے بے گناہ مسلمان پر تشدد کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ یہ محض ایک واقعہ ہے۔ اس طرح کے نہ معلوم کتنے واقعات ملک میں ہر روز رونما ہو رہے ہوں گے جنہیں ہمارا زرد صحافت کا حامی پریس اور اخبارات ہر قیمت پر چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں گے لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی واقعہ عوام الناس کے سامنے آ ہی جاتا ہے جو یہ بھانڈا پھوڑ دیتا ہے کہ اصل مجرم قادیانی ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مذکورہ واقعہ میں ملوث قادیانیوں سمیت تمام انتہا پسند قادیانیوں کو فی الفور ملکی آئین اور قانون کی پاسداری پر مجبور کیا جائے اور مسلمانوں پر ان کی جانب سے روا رکھے جانے والے تشدد کا ہر قیمت پر سد باب کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲ تا ۸؍اپریل ۲۰۰۲ء ص۴)
اوکاڑہ میں قادیانیوں سے مناظرہ
چک نمبر ۵۳۔ایل ۲ اوکاڑہ کی مضافاتی بستی ہے، جس میں زیادہ تر آبادی راجپوتوں کی ہے۔ چک مذکورہ کی ایک لڑکی کی شادی جڑانوالہ کے قریب چک ۵۹۱ گ ب گنگا پور نزد بچیانہ میں خالد محمود عرف پپو سے ہوئی۔ بدقسمتی سے خالد محمود قادیانیوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ تقریباً ایک سال قبل اس نے قادیانیت قبول کر لی۔ جب اس بات کا علم اس کی اہلیہ کے بھائیوں کو ہوا کہ ان کا بہنوئی قادیانی ہو گیا ہے اور بہن بھی قادیانیت سے متاثر ہے۔ انہوں نے چک مذکورہ کے ایک عالم دین اور قاری محمد اعظم خطیب مکی مسجد اوکاڑہ سے رابطہ کیا۔ خطیب صاحب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی رفقاء سے ان کا تذکرہ کیا۔ حسن اتفاق سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۲۶؍فروری ۲۰۰۴ء کو اوکاڑہ کے ایک روزہ تبلیغی دورے پر تشریف لا رہے تھے۔ چنانچہ قاری محمد اعظم نے فون پر ان سے رابطہ کیا جس پر مولانا موصوف ان کے پاس تشریف لے آئے۔ چنانچہ مذکورہ بالا چک میں ظہر سے عصر تک محفل مناظرہ جاری رہی۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیٹھنے کے ساتھ ہی قادیانی جماعت کے مربیوں لقمان، مبشر اور خالد محمود پپو سے مخاطب ہو کر کہا کہ سرور کائنات ﷺ نے صفا پہاڑی پر جو پہلا وعظ فرمایا، اس میں اپنی چالیس سالہ زندگی کا ریکارڈ پیش کیا اور فرمایا کہ ”ھل وجدتمونی صادقاً او کاذباً ؟“ قوم نے بیک زبان جواب دیا: ”قد جربناک مراراً ما وجدناک الا صادقاً“ دوسری روایت کے مطابق: ”ما جربنا علیک کذباً“ ، یعنی ہم نے آپ کی زبان مبارک سے جھوٹ نہیں سنا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ مدعی نبوت کا اصل کردار و کریکٹر ہوتا ہے، جب ہم مرزا قادیانی کو اس معیار پر پرکھتے ہیں تو مرزا قدم قدم پر جھوٹ بولتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: ”لعنة اللہ علیٰ الکاذبین، ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً“
جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں:
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
- ☆...... ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(اربعین نمبر ۳ ص ۲۰، خزائن ج ۱۷ ص ۴۲۰ حاشیہ)
- ☆...... ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی کام نہیں۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۲۶، خزائن ج ۲۲ ص ۴۵۹)
- ☆...... ”تکلف سے جھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ۲۰۶، خزائن ج ۲۲ ص ۲۱۵)
مرزا قادیانی کے جھوٹ:
مولانا شجاع آبادی نے کہا کہ ”مشت نمونہ از خروارے“ مرزا قادیانی کے صرف دو جھوٹ ذکر کرتا ہوں:
- ☆...... مرزا کہتا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔“
(ازالہ اوہام در خزائن ج ۳ ص ۱۴۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆ ...... صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا
ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ’ھذا خلیفۃ اللہ المھدی‘ سوچو یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو ’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘ ہے۔
(شہادت القرآن ص ۴۱، خزائن ج ۶ ص ۳۳۷)
مولانا شجاع آبادی نے کہا کہ پہلے حوالہ میں مرزا نے قرآن پر جھوٹ بولا اور دوسرے حوالہ میں بخاری پر جھوٹ بولا۔ جھوٹے پر خدا کی لعنت! جھوٹ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے والے سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ بقول مرزا قادیانی ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں‘‘۔ چنانچہ مرزا جھوٹ بول کر مرتد ہوا۔ جھوٹ بولنا گوہ (پاخانہ) کھانے کے برابر ہے، چنانچہ مرزا نے جھوٹ بول کر گوہ کھایا۔
نیز مولانا نے قادیانی لٹریچر سے باحوالہ ثابت کیا کہ مرزا قادیانی شراب پیتا تھا۔ شرابی آدمی اللہ کا نبی نہیں ہو سکتا۔ اللہ کا نبی شراب نہیں پی سکتا۔ نیز مرزائی لٹریچر سے حوالہ دکھلایا کہ مرزا قادیانی زنا کرتا تھا۔ زانی آدمی اللہ کا نبی نہیں ہو سکتا۔ اللہ پاک کا نبی ان کبائر کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔
مرزائی مربیوں لقمان اور راؤ مبشر نے کہا کہ یہ حوالے لکھ کر دیئے جائیں، ان کا جواب اگلی مجلس میں دیں گے۔ نیز اگلی مجلس کے لئے ۱۸؍ مارچ ۲۰۰۲ء کی تاریخ متعین ہو گئی۔
چنانچہ ۱۸؍ مارچ کو مرزائی مربی لقمان نہ آیا۔ اس نے نام نہاد جوابات راؤ مبشر کو لکھ کر دیئے۔ چنانچہ ۱۸؍ مارچ کو دوسری نشست ظہر کے بعد شروع ہوئی۔ راؤ مبشر قادیانی نے ایک تحریر پڑھنا شروع کی، جب کہ مولانا شجاع آبادی نے بڑے زور شور سے گزشتہ مجلس کے حوالہ جات دہرائے۔ مبشر قادیانی نے طویل بحث شروع کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ تحریر کا مطلب صاحب تحریر سے پوچھنا چاہئے، جو مراد وہ لے وہی لینی چاہئے۔
مولانا شجاع آبادی نے کہا کہ مرزا قادیانی ’’شہادت القرآن‘‘ کی طباعت کے بعد پندرہ سال زندہ رہا، اس نے اس کا جواب نہیں دیا، گویا وہ اس جھوٹ پر قائم رہا۔ مرزائی مربی نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ امام مہدی کی ایک علامت ہے جو مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے، لہٰذا مرزا قادیانی امام مہدی ہے۔ مولانا شجاع آبادی نے کہا کہ امام مہدی کی صرف ایک علامت نہیں بلکہ بہت سی علامات احادیث میں مذکور ہیں۔ مثلاً امام مہدی کا نام ’’محمد‘‘ ہوگا جب کہ مرزا کا نام غلام احمد ہے۔ امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ ہوگا، جب کہ مرزا کے والد کا نام غلام مرتضیٰ ہے۔ امام مہدی مدینہ طیبہ میں پیدا ہوں گے، جب کہ مرزا قادیان میں پیدا ہوا۔ امام مہدی کے ہاتھ پر بیت اللہ شریف میں بیعت ہو گی، جب کہ مرزا کے ہاتھ پر لدھیانہ میں ہوئی۔ امام مہدی دمشق تشریف لے جائیں گے جب کہ مرزا نے دمشق نہیں دیکھا۔ امام مہدی کے پیچھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز ادا فرمائیں گے جب کہ مرزا اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام کہتا رہا۔ لہٰذا اس میں مہدی ہونے کی کوئی ایک علامت بھی نہیں پائی جاتی۔ جب وہ دعویٰ مہدویت میں جھوٹا ثابت ہوا تو اس کے کس دعویٰ کا اعتبار نہیں۔
قادیانی مناظر نے کہا کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گفتگو ہو جائے۔ مولانا شجاع آبادی نے کہا کہ عصر کے بعد اس موضوع پر گفتگو کریں گے، مغرب کے بعد کریں گے، عشاء کے رات گئے تک لگے رہیں گے، لیکن قادیانی مناظر نے عصر کے بعد بات کرنے سے انکار کر دیا اور بھاگ جانے میں عافیت سمجھی۔ سامعین میں سے ایک شخص نے خالد محمود عرف پپو سے کہا کہ تو تو کہتا تھا کہ ہم مرزا قادیانی کو صرف امام مہدی مانتے ہیں جب کہ قادیانی مناظر تو اسے نبی مانتا ہے اور ہمارے مولانا نے بھی قادیانی کتب سے ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا تو خالد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
محمود عرف پپو نے کہا کہ انہوں نے تو آج تک مجھ سے یہی کہا کہ ہم مرزا قادیانی کو امام مہدی مانتے ہیں۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مرزا قادیانی احادیث مبارکہ کی رو سے بھی سچا امام مہدی نہیں تھا، بلکہ اس نے اپنے دیگر دعوؤں کی طرح اپنے آپ کو امام مہدی بھی کہا ہے۔
مولانا شجاع آبادی نے قادیانیوں سے کہا کہ میں آپ لوگوں کو چند عام فہم اور سادہ باتیں بتلاتا ہوں، آپ لوگ ان پر غور کریں تو آپ لوگوں کو قادیانیت کا کفر سمجھ آ جائے گا، انہوں نے کہا کہ:
- ......۱ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام کے اسمائے گرامی مفرد تھے یعنی ایک لفظ جب کہ مرزا
قادیانی کا نام غلام احمد دو لفظوں کا مجموعہ ہے، جس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی ، اللہ پاک کا سچا نبی نہیں تھا۔
- ......۲ اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“، یعنی ﴿ہم نے جتنے رسول بھیجے ہیں وہ
اپنی قوم کی زبان میں وحی لے کر آئے ۔﴾ یعنی اگر قوم کی زبان عبرانی ہے تو نبی پر بھی وحی عبرانی زبان میں نازل ہوئی اور اگر قوم کی زبان سریانی ہے تو نبی پر وحی بھی سریانی زبان میں آئی ، اگر قوم کی زبان عربی ہے تو نبی پر وحی بھی عربی زبان میں نازل ہوئی ۔ اس قاعدہ کی رو سے بھی مرزا قادیانی جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی مشرقی پنجاب کے قصبہ قادیان کا رہنے والا تھا جہاں پنجابی زبان بولی جاتی تھی۔ اگر وہ سچا ہوتا تو اس پر وحی پنجابی زبان میں آنی چاہئے تھی ۔ جب کہ اس کی خرافات کا مجموعہ جسے قادیانیوں نے وحی مقدس کہہ کر ”تذکرہ“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس میں عربی ، فارسی ، انگلش میں نام نہاد ”وحی“ ہے، معلوم ہوا کہ وہ نبی نہیں تھا۔
- ......۳ کوئی نبی کسی انسان کا شاگرد نہیں ہوتا جب کہ مرزا قادیانی نے فضل احمد، گل علی شاہ، مرزا غلام مرتضیٰ سے قرآن مجید، عربی،
فارسی، انگلش اور طب پڑھی تھی، جس سے معلوم ہوا کہ وہ اللہ پاک کا سچا نبی نہیں تھا۔
- ......۴ نبی اپنے زمانہ کا سب سے خوبصورت انسان ہوتا ہے جب کہ مرزا قادیانی اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔
- ......۵ نبی کسی موذی اور قابل نفرت مرض کا شکار نہیں ہوتا جب کہ اس کے برعکس مرزا قادیانی مالیخولیا، مراق، ذیابیطس (شوگر)، وبائی
ہیضہ جیسے امراض کا تازیست شکار رہا، بلکہ اس کی موت بھی وبائی ہیضہ سے ہوئی۔
- ......۶ اللہ کا سچا نبی جہاں فوت ہوتا ہے، وہیں دفن ہوتا ہے، جیسے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اسی مقام پر آرام فرما رہے ہیں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
رحلت فرمائی۔ مرزا قادیانی اس اعتبار سے بھی جھوٹا تھا، کیونکہ وہ لاہور کی احمدیہ بلڈنگ برانڈرتھ روڈ میں مرا جب کہ اس کی لاش بقول اس کے ”خردجال“ یعنی ریل گاڑی پر لاہور سے قادیان لے جائے گئی۔
مولانا شجاع آبادی نے کہا کہ آپ ان چیزوں پر غور وفکر کریں، بے شک چناب نگر کے مربیوں سے امداد حاصل کریں۔ چنانچہ قادیانیوں نے اس پر غور وفکر کا وعدہ کیا۔
بعد ازاں مولانا شجاع آبادی ، مولانا امین اوکاڑوی کے گاؤں میں منعقد ہونے والے جلسہ میں تشریف لے گئے۔ جو ظہر کی نماز کے بعد سے جاری تھا اور عصر کی نماز کے بعد تک جاری رہا۔ جس گاؤں میں مناظرہ ہوا تھا عصر کے بعد وہاں سے راؤ خادم حسین برادران مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئے اور خوشخبری سنائی کہ راؤ خالد محمود پپو نے مولانا شجاع آبادی کے وزنی دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے قادیانیت کو دجل وفریب کا مجموعہ قرار دے دیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی سامعین و حاضرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر طرف مبارک سلامت شروع ہو گئی۔ بعد ازاں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
راؤ صاحبان نے کہا کہ ہمارے گاؤں میں آج عشاء کے بعد اظہار تشکر کے طور پر جلسہ ہونا چاہئے۔ اس کی تجویز کو تمام علمائے کرام نے پسند کیا۔ چنانچہ عشاء کے بعد اظہار تشکر کے عنوان سے منعقدہ جلسے سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تقریباً ایک گھنٹہ خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۱ تا ۲۷ مئی ۲۰۰۲ء ص ۱۵، ۱۶، ۲۰)
توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس پر نظر ثانی کا عندیہ جنرل مشرف
صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں انسانی حقوق سے متعلق منعقدہ ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس پر نظر ثانی اور ان میں تبدیلی کا عندیہ دیا۔ اس حوالے سے جو خبر اخبارات میں شائع ہوئی اس کا متن درج ذیل ہے:
”حدود آرڈیننس و ناموس رسالت قانون کا جائزہ لیا جائے، صدر پرویز اسلام آباد (اے پی پی) صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل پر پابندی لگانے کے لئے قانون سازی ہونا چاہئے، اس کے علاوہ حدود آرڈیننس اور ناموس رسالت کے قوانین کا بھی از سر نو جائزہ لیا جانا چاہئے تا کہ ان کا غلط استعمال روکا جاسکے، وردی کے باعث بعض اہم فیصلے کرنے میں مدد ملی جن میں خواتین کی سیاست و اقتصادی خود انحصاری ، اقلیتوں کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی شامل ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز پاکستان میں انسانی حقوق کے معیار اپنانے اور ان کا شعور اجاگر کرنے سے متعلق منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں صدر پرویز مشرف نے ملک میں انسانی حقوق کے فروغ کے عز م کا اعادہ کیا اور اعلان کیا کہ ملک میں انسانی حقوق کے معیار پر عمل درآمد اور انہیں پھیلانے کی مکمل آزادی کا جائزہ لینے کے لئے ایک خود مختار قومی کمیشن قائم کیا جائے گا، پاکستان میں اقلیتوں کو اپنی مذہبی تعلیمات کے پرچار، ان پر عمل درآمد اور انہیں پھیلانے کی مکمل آزادی ہے اور وہ اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے ، برقرار رکھنے اور انہیں چلانے میں بھی مکمل طور پر آزاد ہیں...... انہوں نے کہا کہ قرآن وسنت کی روشنی میں علماء کرام، وکلاء اور ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے حدود آرڈیننس کا جائزہ لینے پر قوم کو برا نہیں منانا چاہئے ، حدود آرڈیننس انسانی ذہن کی تخلیق ہے، اس پر بحث کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے...... انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں توہین رسالت کے قانون کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے تا کہ انصاف ہو سکے اور یہ کسی معصوم کو نشانہ بنانے کے لئے غلط طور پر استعمال نہ ہو سکے۔“
(روزنامہ جنگ کراچی ۱۶؍مئی ۲۰۰۲ء)
اس سے اگلے روز اسی حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ ان قوانین میں ترمیم بجٹ کے بعد کی جائے گی۔ ملاحظہ فرمائیے:
”حدود، توہین رسالت قوانین میں بجٹ کے بعد ترمیم کی جائے گی ترامیم کے ذریعہ زنا، چوری اور ڈکیتی وغیرہ کی دفعات اور سزاؤں پر نظر ثانی ہو گی۔ اسلام آباد (نمائندہ جنگ) حکومت وفاقی بجٹ کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ میں توہین رسالت بل کی دفعات میں ضروری تبدیلی کرے گی۔ باخبر ذرائع کے مطابق بل کے ذریعہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات کو جلد نمٹانا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دینا شامل ہیں جب کہ بل میں حدود آرڈیننس میں بعض اہم ترامیم کی جائیں گی، یہ ترامیم زنا، چوری، ڈکیتی وغیرہ کی دفعات اور ان پر ملنے والی ہاتھ پاؤں کاٹنے کی سزاؤں پر نظر ثانی کی جائے گی۔“
(روزنامہ جنگ کراچی ۱۷؍مئی ۲۰۰۲ء)
جنرل مشرف کی تقریر پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین سمیت ملک بھر کے ممتاز علمائے کرام مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، مفتی رفیع عثمانی ، شاہ فرید الحق اور ملک بھر کی مختلف مذہبی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کی نمائندہ تنظیموں متحدہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس عمل، جماعت غربائے اہل حدیث، تنظیم اسلامی، تحریک منہاج القرآن، مجلس الدعوۃ الاسلامیہ، سنی تحریک، اشاعت التوحید والسنہ، جماعت اہلسنت اور مختلف دینی مدارس کے مہتمم حضرات نے ان قوانین میں مجوزہ ترمیم کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس کے دوبارہ جائزے اور نظر ثانی کی تجاویز کو مسترد کرتے ہیں۔ توہین رسالت کا قانون اور حدود آرڈیننس قرآن وسنت سے ہم آہنگ اور تمام مکاتب فکر سے منظور شدہ ہیں۔ ان قوانین کا نئے سرے سے جائزہ لینا انہیں غیر مؤثر بنانے کی سازش ہے۔ ناموس رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس میں کسی قسم کی نظر ثانی نہیں ہو سکتی۔ ان قوانین میں کسی قسم کی ترمیم کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ اظہار رائے کی آزادی کا یہ مقصد نہیں کہ ہر شخص کو نبی اکرم ﷺ کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنانے یا معاشرے میں انارکی پھیلانے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ اسلامی قوانین کا تحفظ اور ان کے نفاذ کو یقینی بنانا جنرل مشرف کی آئینی ذمہ داری ہے۔ جنرل مشرف وردی کی آڑ میں اسلام دشمنی کا کھیل کھیلنا بند کر دیں۔ اس قسم کی بے سروپا بیان بازی کا مقصد امریکا اور مغرب کو خوش کرنا ہے۔ نصاب تعلیم کے بعد اب ملکی قوانین سے اسلام کو نکالنے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے۔ حکومت اسلامی قوانین میں چھیڑ چھاڑ سے باز رہے ورنہ اس کا حشر بھی دیگر اسلام دشمن قوتوں سے مختلف نہ ہوگا۔ عوام جنرل مشرف کی ان اسلام دشمن پالیسیوں سے بیزار ہیں۔ ان قوانین پر لایعنی بحث اور تبصرے سے گریز کیا جائے۔ نظر ثانی کا عندیہ مسلم عوام کے ساتھ ظلم اور کھلی نا انصافی ہے۔ اس قسم کی کوششوں کا مقصد ملک کو سیکولر ریاست بنانا ہے۔ جنرل مشرف پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کا خیال دل سے نکال دیں۔ اسلامی قوانین کا نفاذ پاکستان کے مسلمانوں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ جنرل پرویز مشرف اپنی آئینی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ توہین رسالت کے قانون یا حدود آرڈیننس میں تبدیلی جنرل مشرف کی کرسی اور وردی کو لے ڈوبے گی۔ اس قسم کی باتیں قیام پاکستان کے تقاضوں کی نفی کرتی ہیں۔ جب سے توہین رسالت کا قانون اور حدود آرڈیننس کے قوانین نافذ ہوئے ہیں، اس وقت سے لے کر اب تک ان کا غلط استعمال سامنے نہیں آیا۔ ان کے غلط استعمال کا جھوٹا پروپیگنڈا مغرب کے ایماء پر بعض بد نام زمانہ این۔ جی۔ اوز کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل مئی ۲۰۰۰ء میں جنرل مشرف کی جانب سے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کو عوام نے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد جنرل مشرف کو اپنے فیصلے کو واپس لینا پڑا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سارا نزلہ توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس پر ہی کیوں گرتا ہے۔ ناموس رسالت کے قانون کی وجہ سے عوام قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے شاتم رسول کو انصاف کے حصول کے لئے عدالت تک لے جاتے ہیں۔
حدود آرڈیننس معاشرے میں جنسی بے راہ روی اور جنسی تشدد کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے نافذ کیا گیا تھا۔ حدود آرڈی نینس میں نظر ثانی کا مقصد معاشرے کو جنسی انارکی کی راہ پر لے جانا ہے۔ جنسی جرائم کے خاتمے کے لئے حدود آرڈیننس کو اپنی اصل شکل میں نافذ العمل رکھا جائے۔ ان قوانین میں تبدیلی توہین رسالت کا راستہ کھولنے اور معاشرے میں جنسی جرائم میں اضافے کا سبب بنے گی۔ جنرل مشرف قادیانیوں اور شاتم رسول کے لئے آسانیاں پیدا کر کے کس کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علمائے کرام ملکی سطح پر لائحہ عمل ترتیب دے کر توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس کے تحفظ کے لئے عملی جدوجہد کریں گے۔ قرآن وسنت ملک کا سپریم لاء ہے اور توہین رسالت اور حدود کے قوانین اس کے اصولوں کے تحت وضع کئے گئے ہیں جن میں کسی بھی صورت تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ان قوانین میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نظریہ پاکستان کے منافی اور ملکی اساس کے خلاف ہوگی۔ پاکستان میں ہر مذہب کا پیروکار اپنی عبادت گاہ کے اندر اپنے مذہب کی تبلیغ اور اپنی عبادات کو بجالانے کے لئے آزاد ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں آئینی طور پر غیر مسلموں کو پاکستان میں کھلم کھلا تبلیغ کی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجازت دیدی گئی ہے بلکہ آئینی طور پر غیر مسلموں کی تبلیغ و عبادت کو ان کی عبادت گاہوں تک محدود کیا گیا ہے۔ قادیانیوں سے متعلق آئینی ترامیم اور قوانین اس کی واضح مثال ہیں۔ جنرل مشرف اس حوالے سے غلط تاثر دینے سے گریز کریں۔ غیر مسلموں کو تبلیغ کی کھلی اجازت دینا فتنہ و فساد اور معاشرے میں انتشار کو جنم دے گا جس سے کسی وقت امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسلامیان پاکستان کسی بھی صورت میں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے غیر مسلم ان کے گھروں اور دیگر پبلک مقامات پر انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ کریں۔
ان قوانین کے حوالے سے جنرل مشرف کے حالیہ خطاب سے قبل حدود آرڈیننس کے حوالے سے مختلف بیانات و آراء سامنے آ رہی تھیں لیکن توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے نظر ثانی کا عندیہ کئی سال بعد سامنے آیا ہے۔ ماضی میں بھی جنرل مشرف نے اس قانون میں تبدیلی کی باتیں کی تھیں۔ قارئین کو ۲۰۰۰ء میں جنرل مشرف کا اس قانون کے بارے میں لب ولہجہ بخوبی یاد ہوگا۔ اس وقت جنرل مشرف کے خلاف پوری دینی قیادت ہی نہیں ملک بھر کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے۔ حکومت کے خلاف زبردست ہڑتال ہوئی۔ یہ شہید ختم نبوت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی حیات دنیوی کے آخری ایام تھے۔ حضرت شہید نے حکومت کے خلاف انتہائی سخت موقف اپنایا تھا۔ ادھر حضرت کو شہید کر دیا گیا اور ادھر حکومت نے فوری طور پر عوامی مطالبہ مان کر توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ وہ پسپائی تھی جو مشرف حکومت کو توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی یا نظر ثانی کے حوالے سے ہوئی۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کسی بھی قانون کو ختم کرنے یا اس پر نظر ثانی کے بہانے اسے غیر مؤثر بنانے کی کوشش کا لازمی نتیجہ ملک میں لاقانونیت کے فروغ کی صورت میں نکلتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ جو قانون ختم کیا جائے گا اس سے متعلق جرم کے ارتکاب کی شرح میں یکدم اضافہ ہو جائے گا۔ ماضی میں ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی میں حضور اکرم ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے حوالے سے کسی قانون کی عدم موجودگی نے معاشرے میں فساد کا دروازہ کھول دیا تھا۔ توہین رسالت کے واقعات کے ارتکاب روز مرہ کا معمول تھا۔ اگر کوئی باغیرت مسلمان دینی حمیت کے جذبے کے تحت کسی شاتم رسول کو کیفر کردار تک پہنچا دیتا تو انگریز حکومت کے ماتحت کام کرنے والی عدالتیں اسے پھانسی پر چڑھا کر ہی دم لیتی تھیں۔ دوسری طرف شاتم رسول کو ہر قسم کا قانونی تحفظ حاصل تھا۔ ان تمام عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں قرآن وسنت کی روشنی میں توہین رسالت کا قانون رائج کیا گیا۔ چونکہ اس کے تحت دی جانے والی سزائیں قرآن وسنت کے عین مطابق تھیں۔ اس لئے اسلام دشمن قوتوں نے اس کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرنا شروع کر دیا۔ ۱۹۹۲ء میں بے نظیر دور حکومت میں توہین رسالت کے قانون کے خلاف وزیر قانون اقبال حیدر کی ہرزہ سرائی اور اس کے خلاف علماء کرام کا شدید رد عمل اب بھی بہتوں کو یاد ہوگا۔ اس وقت بھی بے نظیر حکومت اس قانون میں تبدیلی میں ناکام ثابت ہوئی تھی۔ اس کے بعد بھی مختلف ادوار میں اس قانون میں تبدیلی کی باتیں ہوتی رہیں لیکن عملاً اس قانون کو تبدیل نہ کیا جا سکا۔
ادھر امریکی حکومت کی جانب سے یہ مطالبہ انتہائی شدومد سے وقتاً فوقتاً اٹھایا جاتا رہا ہے اس قانون کو ختم کیا جائے۔ بظاہر اس کی تین وجوہات معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ امریکی حکومت یہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں کی دینی حمیت کو پارہ پارہ کر دیا جائے اور نبی اکرم ﷺ جن کی ذات سے مسلمانوں کو شدید جذباتی وابستگی ہے۔ آپ ﷺ کی ذات سے مسلمانوں کو دور کر دیا جائے اور آپ ﷺ سے جذباتی وابستگی کو کم کیا جائے ، جس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے سامنے توہین رسالت کے واقعات کا ارتکاب وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے تا کہ مسلمانوں کے دلوں میں غیر شعوری طور پر حضور اکرم ﷺ کی محبت کم ہوتی رہے۔ امریکا میں توہین رسالت کے بڑھتے ہوئے واقعات اس کی ایک روشن مثال ہیں۔ دوسری وجہ ہمارے نزدیک قادیانی ہیں۔ قادیانیوں نے امریکی حکومت پر یہ زور ڈالا ہوا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توہین رسالت اور قادیانیوں سے متعلق ترامیم و قوانین کو ختم کرائیں۔ قادیانیوں نے خود بھی توہین رسالت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اس میدان میں ان کا مقابلہ صرف مشرکین مکہ یا طائف کے وہ شرپسند ہی کر سکتے ہیں جنہوں نے حضور اکرم ﷺ پر پتھر برسائے اور آپ ﷺ کی توہین و تذلیل میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ قادیانیوں نے اندرون خانہ بھی حکومت پاکستان پر اپنا پورا زور خرچ کر ڈالا ہے کہ کسی طرح ان قوانین کو ختم کرا دیا جائے لیکن تاحال وہ اپنی کوششوں میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ تیسرا عنصر وہ عیسائی ہیں جو توہین رسالت کو امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کا ویزہ تصور کرتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ کئی سال پیشتر انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی اس وقت کی عہدیدار عاصمہ جہانگیر نے کس طرح کئی عیسائیوں کو جو توہین رسالت کے مقدمات میں نامزد تھے۔ اس وقت کی حکومت کی ملی بھگت سے بیرون ملک فرار کرا دیا تھا۔ اس وقت کے بعد سے اب تک مذکورہ بالا ممالک شاتمان رسول ﷺ کے لئے پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں ان ”مذہبی دہشت گردوں“ کو کھلے عام خوش آمدید کہا جاتا ہے اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ وہاں ان ”شدت پسندوں“ کی حیثیت سرکاری مہمان کی سی ہوتی ہے۔
دوسری طرف مسلمانان پاکستان اس قانون اور اس کے تحت دی جانے والی سزاؤں سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ ان کے نزدیک اس قانون نے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے اور ملزموں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کے ساتھ ساتھ مظلوم کو انصاف مہیا کیا ہے۔ اس قانون کے تحت گویا کہ آج تک کسی کو سزائے موت نہیں دی گئی اس قانون کے خلاف پروپیگنڈا اس طرح کیا جاتا ہے گویا مذکورہ قانون کے تحت پاکستان کے ہر دوسرے مظلوم شہری کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ عوام الناس کے نزدیک اس قانون کے غلط استعمال کی باتیں محض پروپیگنڈا ہیں۔ پاکستان میں بڑے بڑے جرائم کے مرتکبین آزاد پھر رہے ہیں۔ اس کی وجہ اس قانون کا صحیح استعمال نہ ہونا اور صحیح استعمال کی راہ میں بے جا رکاوٹوں کا حائل ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجرم دندناتے پھر رہے ہیں اور شرفاء اپنے گھروں کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ تمام قوانین کے نفاذ کے طریقہ کار کو اس قدر مشکل اور پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ کسی شریف آدمی کو اس کے ذریعہ انصاف ملنا ناممکنات میں سے ہے۔ ہاں مجرم کو ان پیچیدگیوں کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ تمام فوائد ملتے ہیں بلکہ وہ قانون سے بچنے کے لئے بھی قانون ہی کا سہارا لیتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ کہنا کہ توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے، قطعاً غلط ہے۔ اس لئے اس قانون میں تبدیلی یا اس کے نفاذ کے طریقہ کار میں تبدیلی کا نتیجہ توہین رسالت کے مجرموں کو اپنا جرم عظیم دہرانے کی اجازت دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔ عوام کا یہی خیال حدود آرڈیننس کے بارے میں ہے کہ اگر اسے خدا نخواستہ ناکارہ بنا دیا جاتا ہے تو ملک میں جنسی مجرموں کو کھلی چھوٹ مل جائے گی اور زنا کو فروغ ملے گا جس کا لازمی نتیجہ فحاشی و عریانی کے سیلاب کی شکل میں رونما ہوگا اور آفات و بلیات اس پر مستزاد ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ کل مسلم عوام کے علاوہ اقلیتی برادری کی اکثریت بھی ان قوانین کے نفاذ کے خواہاں ہے۔
ہم اس موقع پر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس کے حوالے سے نظر ثانی اور ترمیم کی تجویز فوراً واپس لی جائے اور حکومت دو ٹوک اعلان کرے کہ نہ تو اسلامی قوانین کو کسی صورت تبدیل کیا جائے گا اور نہ ہی ان پر کسی قسم کی سودے بازی ہوگی۔ ملک بھر کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں پر بھی یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ اس حساس موضوع کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے متحد اور ایک زبان ہو کر حکومت پر دباؤ ڈالیں اور اس سے نظر ثانی کے اس فیصلہ کی منسوخی کا مطالبہ کریں۔ یاد رکھیں! مضبوط قوانین معاشرے میں پائیدار امن کے ضامن ہیں۔ لچکدار قوانین امن و امان کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں جب کہ قوانین کی منسوخی لاقانونیت کو جنم دیتی ہے۔ لہٰذا ان قوانین کے خلاف ہر منفی رویے کو ترک کر کے مثبت رویہ اپنایا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۸؍ مئی تا ۳؍ جون ۲۰۰۲ء ص ۲ تا ۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توہین رسالت کے قانون اور حدود آرڈیننس پر نظر ثانی پر یوم احتجاج
جمعہ ۲۱ مئی ۲۰۰۴ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم العالیہ کی اپیل پر پورے ملک میں ناموس رسالت اور حدود آرڈیننس کے تحفظ اور جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ان قوانین میں نظر ثانی و ترمیم کے عندیہ کے خلاف زبردست یوم احتجاج منایا گیا۔ اس موقع پر ملک بھر کی ہزاروں مساجد میں ناموس رسالت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کے حکومتی عزائم کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں اور لاکھوں مسلمانوں نے یوم احتجاج مناتے ہوئے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا اور ان قوانین پر نظر ثانی یا جائزے کی تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان قوانین کو ان کی اصل شکل میں برقرار رکھنے، انہیں مزید تحفظ دینے اور دیگر تمام اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔
اخباری اطلاعات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، ملتان، فیصل آباد، حیدر آباد، سرگودھا، ساہیوال، اوکاڑہ، بہاول نگر، ڈیرہ اسماعیل خان، میانوالی، سجاول، ٹھٹھہ، ٹنڈو آدم، سکھر، لاڑکانہ، میر پور خاص، رحیم یار خان، اٹک، نوشہرہ، چمن، ژوب، لورالائی، مستونگ، خضدار، قلات سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں خطاب کرتے ہوئے مولانا خواجہ خان محمد، مولانا فضل الرحمن، سید نفیس شاہ الحسینی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مفتی محمد جمیل، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا سعید احمد جلال پوری، جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی نظام الدین شامزئی، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا سید حماد اللہ شاہ، حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا احسان اللہ ہزاروی، راولپنڈی کے قاری سعید الرحمن، مولانا عتیق الرحمن، قاری محمد ابراہیم، مفتی محمود الحسن، اسلام آباد کے قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا عبدالعزیز، مفتی خالد میر، پشاور کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا نور الحق نور، لاہور کے مولانا عزیز الرحمن ثانی، حافظ ریاض احمد درانی، کوئٹہ کے مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالعزیز جتوئی، مولانا عبداللہ منیر، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا حسین احمد شرودی، حیدر آباد کے مولانا محمد نذر، قاری کامران احمد، مولانا عبدالسلام قریشی، مولانا عبدالرحیم رحیمی، ٹنڈو آدم کے علامہ احمد میاں حمادی، مفتی حفیظ الرحمن، میر پور خاص کے مولانا محمد علی صدیقی، سکھر کے قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا محمد حسین ناصر کے علاوہ دیگر مقتدر علمائے کرام مولانا فضل الرحیم، مولانا محمد یوسف خان، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف، مولانا محمد اسعد تھانوی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبدالرؤف ربانی نے کہا کہ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کرنے یا تبدیلی کے بارے میں سوچنا بھی پاکستان کے سالمیت کے منافی ہے۔ ناموس رسالت کا قانون کسی اقلیت کے خلاف نہیں بلکہ عظمت رسول ﷺ اور ناموس انبیاء کرام کے تحفظ کے لئے ہے۔ توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم پاکستان کی سالمیت کے خلاف اور اس قانون کو غیر مؤثر بنانے کی سازش ہے۔ امریکا کی ایماء پر ملک کے سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے اس قانون میں ترمیم کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنے اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب جنرل مشرف کو اس قانون میں ترمیم کا مشورہ دینے والے ان کے ہمدرد نہیں بلکہ ان کے اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ امریکہ اور یورپ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ان قوانین میں تبدیلی کے لئے دباؤ ڈالتے آ رہے ہیں اور ہر سال انسانی حقوق کی پامالی کے نام پر رپورٹ شائع کر کے پاکستان پر تنقید کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے حکمرانوں پر بوکھلاہٹ طاری ہو جاتی ہے اور وہ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اس قانون میں تبدیلی کے بارے میں غور کرنے کا عندیہ دیتے ہیں حالانکہ اسلامی قوانین کے سلسلے میں ہم کسی قسم کی مداخلت برداشت کرنے کے لئے قطعاً تیار
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں ۔ حضور ﷺ کی عظمت کے نام پر قائم ہوا ۔ توہین رسالت کا مجرم خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اور وہ کسی بھی طبقے سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو، ہم اس کو کسی قیمت پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ اگر اس قانون میں تبدیلی کی گئی تو مجبوراً توہین رسالت کے مجرموں کا معاملہ مسلمان خود حل کریں گے جس کا خمیازہ حکومت کو بھگتنا پڑے گا۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں اگر دس ہزار مسلمان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر سکتے ہیں تو آج بھی لاکھوں مسلمان توہین رسالت کے قانون کے تحفظ کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنا اپنی سعادت تصور کریں گے۔ جنرل مشرف اور موجودہ حکومت مسلمانوں کے اس نازک اور حساس مسئلہ کو نہ چھیڑیں ورنہ ان کی حکومت باقی نہیں رہے گی ۔ مذمتی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت کے قانون یا اسلامی دفعات اور قادیانیت سے متعلق ترامیم سے متعلق جائزہ وغیرہ کا سلسلہ ختم کیا جائے اور ناموس رسالت ﷺ کے قانون اور حدود آرڈیننس کو ان کی سابقہ حالت میں ہی برقرار رکھا جائے ۔
اس موقع پر ہم حکومت پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اس نے اس نازک معاملے کو چھیڑ کر ملک بھر میں بسنے والے چودہ کروڑ مسلمانوں ہی کے نہیں بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ حکومت کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم فوجی اڈے یا لاجسٹک سپورٹ کی فراہمی نہیں جس پر قوم محض احتجاج کر کے خاموش ہو جائے گی بلکہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے بچہ بچہ کٹ مرنے کے لئے تیار ہے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ جنرل مشرف جو اپنے آپ کو آل رسول ﷺ شمار کرتے ہیں ، وہ خود ناموس رسالت کے تحفظ سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں ۔
جنرل مشرف کان کھول کر سن لیں کہ اسلامی قوانین بالخصوص ناموس رسالت کے تحفظ کا قانون مسلمانوں کے لئے ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ ناموس رسالت ﷺ وہ چیز نہیں کہ جنرل مشرف پاکستان سے اس کا تقابل کر کے ”پہلے پاکستان“ کے نعرے لگانا شروع کر دیں ۔ یاد رکھیں ! ناموس رسالت کا تحفظ ہی پاکستان کی اساس ہے۔ پاکستان کو ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ اس ملک میں ”قائداعظم“ کی توہین جرم تصور ہو گی اور ”توہین قائداعظم“ کا قانون رائج رہے گا تو یہاں ”رسول اعظم“ (ﷺ) کی توہین اس سے بھی بڑھ کر جرم تصور ہو گی اور یہاں ”توہین رسالت“ کا قانون بھی ہر حال میں رائج رہے گا۔ قیامت کے دن ایک طرف محافظین ناموس رسالت کا کیمپ ہو گا اور دوسری طرف دشمنان ناموس رسالت اور ان کے حواریوں کا کیمپ ہوگا۔ اس دن عزت و شرف اور دائمی نجات محافظین ناموس رسالت کا مقدر ہوگی جب کہ ذلت ورسوائی اور دردناک عذاب دشمنان ناموس رسالت اور ان کے حواریوں کا مقدر ہوگا۔ جنرل صاحب ! محافظین رسالت کے کیمپ میں شامل ہونے کی کوشش کیجئے اور خود کو دشمنان ناموس رسالت کے کیمپ میں شامل ہونے یا دشمنان ناموس رسالت کا ساتھ دینے سے بچائیے ۔ یاد رکھئے! تاریخ ناموس رسالت کا تحفظ کرنے والوں کو صاحبان عزت اقتدار اور ناموس رسالت کا عدم تحفظ کرنے والوں کو صاحبان ذلت و بے اقتدار دیکھ چکی ہے۔ جنرل مشرف! آئیے اور ایک نئی تاریخ رقم کیجئے اور وہ ہے ناموس رسالت کے تحفظ کو ہر دیگر چیز پر فوقیت دینے کی تاریخ اور اس کے لئے امریکی حکومت تک کو خاطر میں نہ لانے کی تاریخ ۔ آپ کی رقم کردہ یہ تاریخ آپ کے لئے سرمایہ عزت و افتخار اور دنیا بھر کے تمام مسلم حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہو گی۔ آئیے ! اس نئی تاریخ کو رقم کیجئے اور بروز قیامت شفاعت نبوی ﷺ کے حصول کے حق دار بنئے ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۴ تا ۱۰؍ جون ۲۰۰۴ء ص ۴، ۵)
تحفظ ناموس رسالت قانون اور جنرل پرویز مشرف؟
۱۶؍ مئی ۲۰۰۴ء کے اخبارات کے مطابق اسلام آباد کے انسانی حقوق کمیشن کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب پرویز مشرف نے کہا کہ : ’’حدود آرڈیننس اور تحفظ ناموس رسالت کے قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے ۔‘‘ اس پر چند فوری گزارشات پیش خدمت ہیں:
صدر مملکت جناب پرویز مشرف جب سے برسر اقتدار آئے تب انہوں نے توہین رسالت قانون اور دیگر اسلامی دفعات کو ترجیحی بنیادوں پر تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔
- الف...... جناب پرویز مشرف نے برسر اقتدار آتے ہی جو کابینہ تشکیل دی اس میں ان افراد کو چن چن کر لایا گیا جو این. جی. اوز کے نفس ناطقہ تھے۔ جن کی شہریت پاکستانی ہے اور آب و دانہ انہیں یورپین ممالک مہیا کرتے ہیں۔
- ب...... پورا یورپ، پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔
- ج...... جناب پرویز صاحب نے یورپ اور ان نمائندگان این. جی. اوز کو اپنی حکومت میں بھرتی کر کے سرکاری ذرائع سے بھر پور فائدہ اٹھا کر دن رات اسلام اور جمہوریہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف پروپیگنڈہ کا موقع مہیا کیا۔
- د...... پاکستان کا ’’سرکاری مذہب اسلام‘‘ منتخب قانون ساز ادارہ قومی اسمبلی پاکستان نے تجویز کیا۔ آئین میں اسے تحفظ حاصل ہے۔ تمام تر قوانین بالخصوص توہین رسالت قانون اور حدود کا قانون ان دونوں قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل نے منظور کیا۔ وفاقی شرعی عدالت، وفاقی شریعت اپیل بنچ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلے دیئے۔ قومی اسمبلی نے ان کی منظوری دی۔
- ھ...... انتہائی ٹھنڈے دل و دماغ سے جناب پرویز مشرف صاحب توجہ فرمائیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل، سپریم کورٹ، قومی اسمبلی کے فیصلہ کو متنازعہ بنانا یہ ملک یا قوم کی کونسی خدمت ہے؟ غیروں کی غلامی ان کی ہاں میں ہاں ملانے کی پالیسی پر عملدرآمد کے لئے ہم نے کہاں تک جانا ہے؟ آخر اس کی کوئی حد تو ہونی چاہئے۔ افغانستان؟ عراق؟ وانا؟ اور پھر قوم کے محسن سائنس دانوں؟ کے بعد ایک مسلمان ہونے کے ناطے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس باقی رہ گئی تھی۔ کیا ہم آپ ﷺ کی ذات اقدس کی عزت و ناموس کے تحفظ سے بھی دست بردار ہو جائیں گے؟
جناب پرویز مشرف صاحب توجہ فرمائیں کہ:
- ☆...... امریکہ جو اپنے مخالفین کو گوانتانا موبے لیجاتے ہوئے ان کی داڑھیاں مونڈھ دے۔
- ☆...... ان کو الف ننگا کر کے پلاسٹک کے کور میں پیک کر کے سامان کے تھیلوں کی طرح اٹھا اٹھا کر جہازوں میں پھینکے۔
- ☆...... گوانتا کی جیل میں لے جا کر صلیب پرست، مسلمانوں کے سامنے گزشتہ چودہ صدیوں کی معزز شخصیات پر استہزاء کے نشتر چلائیں۔
- ☆...... صلیب پرست، عراق کی ابوغریب جیل میں مسلمان مرد عورتوں کو ننگا کریں۔
- ☆...... ان کے گلے میں رسہ باندھ کر کتوں کی طرح بھونکنے پر مجبور کریں۔
- ☆...... صلیب پرست، ستر سالہ مسلمان بوڑھی عورت کو گدھی بنا کر اس پر سواری کریں۔
- ☆...... صلیب پرست، مسلمان مردوں و عورتوں کو ننگا کر کے ایک دوسرے سے بدکاری کرنے پر مجبور کریں۔
- ☆...... صلیب پرست، مسلمان قیدیوں کے ننگے جسموں کے نازک اعضا کو سگرٹوں سے داغیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... صلیب پرست، زندہ قیدی کو برف کے بلاکوں سے باندھ کر موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کی لاش پر امریکی فوجی دلآویز
مسکراہٹوں کے ساتھ مرنے والے کے منہ پر انگوٹھا رکھ کر اپنی تصویر بنوائے۔ ان کے گھناؤنے کردار پر اظہار نفرت اور ان سے لاتعلقی تو درکنار بلکہ ان کے کہنے پر ایک مسلمان ہونے کے ناتے دنیائے کائنات کی سب سے معزز ذات گرامی محبوب رب العالمین آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس رسالت کے تحفظ سے دستبردار ہو جائیں۔ فرمائیے اس کا کوئی جواز ہے؟
- ۲...... توہین رسالت قانون سے دستبردار ہونا، اس میں ترمیم کرنا ، اس میں رعایت برتنا دراصل اہانت رسول کرنے والوں کی وکالت
کرنا ہے۔ اہانت رسول کے مرتکبین کو لائسنس دینا ہے کہ وہ جو چاہیں آپ ﷺ کے متعلق کہیں۔ انہیں جون سی سرکاری وقانونی سطح پر رعایت ممکن ہے ہم دینے کے لئے تیار ہیں؟ معاذ اللہ ! اب یہاں کھڑے ہیں۔
- ☆...... مسیحی حضرات کی سب سے مقدس شخصیت سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہودیوں کی طرف سے دو ہزار سالہ الزامات کا، قرآن، پیغمبر
اسلام اور مسلمانوں نے جواب دیا۔ سو سال سے قادیانیوں کی طرف سے عیسیٰ علیہ السلام پر اعتراضات کے جوابات امت محمدیہ ﷺ دے رہی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ماننے والے چودہ سو سال سے سیدنا مسیح علیہ السلام کے وکیل صفائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسلمان، سیدنا مسیح علیہ السلام کی عزت و ناموس کے پاسبان ہیں۔ اس پر شکرانہ ادا کرنے کی بجائے الٹا یورپ و امریکہ کے مسیحی اپنے نمائندگان، این . جی. اوز کے ذریعہ ہم سے لائسنس حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ تمہارے نبی مکرم ﷺ کی توہین کریں تو قانون ہمیں نہ روکے۔ ان کے اس مطالبہ کی ترجمانی کون کر رہے ہیں۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین شخصیت ۔ آخر کیوں؟
- ۴...... دنیا کے کسی ملک کی سپریم کورٹ، نیشنل اسمبلی کے فیصلوں پر دوسرے ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تنقید کرے؟ اور دباؤ ڈالے کہ تم
اپنا قانون تبدیل کرو۔ امریکہ کی قومی اسمبلی اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کے لئے اخلاقی وقانونی طور پر ہمیں اجازت ہے کہ اس پر ہم آواز اٹھائیں؟ اگر ایسا نہیں تو لاوارث اور کمزور ملک پاکستان ہی رہ گیا ہے کہ اس کے قانون ساز اداروں کے فیصلوں کو تبدیل کرنے کے لئے ہم پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور ہم ذہنی طور پر ان کے آگے اتنے مفلوج ، اپاہج اور دریوزہ گر ہو گئے ہیں کہ ان کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دینے کے لئے گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنی نوکری پکی کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آخر کیوں؟
- ۵...... اگر ایک بدنصیب شخص کسی پیغمبر کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے۔ اسے قانون کے سپرد کرنا، عدالت پر معاملہ چھوڑنا بہتر ہے یا ملزم کو
رعایت دے کر اس پیغمبر کے ماننے والوں کے رحم و کرم کے اسے سپرد کر دینا مناسب ہے کہ وہ جو چاہیں اس سے کریں؟ آخر جب قانون، پیغمبر کی عزت کی پاسبانی نہیں کرے گا تو کیا اس کے ماننے والوں میں سے بھی کوئی اپنے پیغمبر کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے آمادہ نہ ہوگا؟ قانون میں رعایت دے کر ہم پورے ملک کو بدامنی کی طرف تو نہیں دھکیل رہے؟ برصغیر میں انگریز حکومت کے وقت مسلمانوں نے جان کا نذرانہ دے کر اہانت رسول کے مرتکبین کو لگام دی۔ تاریخ اس پر گواہ ہے۔ اس سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے بجائے نئی تاریخ کرنے کا سامان فراہم کرنا کیا یہ دانشمندی ہے؟
- ۶...... جناب پرویز مشرف صاحب پر حملے ہوئے یا کرائے گئے۔ وہ کون لوگ تھے؟ پوری تندہی سے حکومت دن رات ایک کر کے ان کو
تلاش کرنے کے درپے ہے۔ جناب پرویز صاحب ! اپنی ذات کے دشمنوں یا ملک کے مخالفوں اور دشمنوں کو چن چن کر سبق سکھانا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضروری اور بہت ضروری! اور آنحضرت ﷺ کے دشمنوں، مخالفوں اور زبان درازی کرنے والوں کو رعایت دینے کے در پے ہونا ایک مسلمان کے ناتے اس کا کوئی جواز ہے؟
۷...... ان تمام کارروائیوں کے جواز کے لئے گھسی پٹی وجہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ یہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہی ایک قانون ہے جو غلط استعمال ہو رہا ہے؟ کل کی بات ہے کہ آپ کے وزیر قانون خالد رانجھا نے ارشاد فرمایا کہ پاکستان میں ۹۸ فیصد مقدمات جھوٹے قائم ہوتے ہیں۔ جی بسم اللہ! ہمت کیجئے پورے قانون کو تبدیل کیجئے۔ پاکستان کو ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کی پوزیشن پر لیجائیے۔ آج تک جن سابقہ حکمرانوں نے ملک کے بانی حضرات نے، منتخب حضرات نے، قانون سازوں، سپریم کورٹ نے جو کچھ کیا وہ غلط۔ وہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے میں ناکام۔ آنجناب بصد عزت و وقار اس ملک کے حقیقی خیر خواہ۔ اس ملک کے واحد خیر خواہ، نئی بنیادوں پر، نئی لائنوں پر ملک کی نئی تعمیر کا نیا نقشہ، انجام گلستان کیا ہوگا؟ جناب یحییٰ خان نے جغرافیہ تبدیل کیا تھا۔ آپ نظریہ تبدیل فرمائیں۔ نہ اسے کوئی روک سکا۔ نہ آنجناب کو کوئی روک سکے گا۔ بسم اللہ کیجئے ۔ وقت سے فائدہ اٹھائیے۔ اس لئے کہ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا۔ دیر نہ ہونے پائے۔
۸...... پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس کے تشخص کو ملیا میٹ کرنا آئین سے تجاوز ہے۔ اسلام کی روح پیغمبر کی عزت وناموس کا تحفظ ہے۔ اس میں دراڑ ڈالنے والے کو قانون کے ذریعہ دار پر کھچوانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اپنی ذات وعزت کے محافظ حکمرانوں کو، پیغمبر کی عزت وناموس کا احساس کرنا چاہئے۔ یہ اسلام اور پاکستان کی بقاء کا راز ہے۔ اس سے دستبردار ہونا اپنی حمیت سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے؟ آخر میں بے جا نہ ہوگا کہ تاریخ کا ایک واقعہ نقل کر دیا جائے۔ ’’انگریز حکمران ہر سال گرمیوں کے موسم میں لندن میں ایک سرکاری تقریب منعقد کر کے ہندوستان کے تمام رؤسا، وڈیروں، جاگیرداروں کو مدعو کرتے جن میں دیگر ہندوستانی رؤسا کے علاوہ نواب آف بہاول پور بھی شریک ہوتے۔ ایسے ایک اجتماع کے موقع پر نواب بہاول پور نے جناب عمر حیات ٹوانہ سے کہا کہ میری ریاست بہاول پور کی عدالت میں قادیانیوں سے متعلق ایک کیس زیرسماعت ہے۔ انگریز حکومت کا مجھ پر دباؤ ہے کہ قادیانیوں کے خلاف فیصلہ نہ ہو۔ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ اس پر جناب عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ نواب صادق صاحب! انگریز نے ہم سے حکومت، اقتدار، خزانہ، عزت وناموس سب کچھ لے لیا ہے۔ کیا اب وہ ہم مسلمانوں سے آخری متاع آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کی عزت وناموس بھی ہتھیانے کے در پے ہے؟ یہ کہہ کر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ نواب صاحب ڈٹ جائیں۔ اس متاع عزیز کا تحفظ کریں۔ ہم سے انگریز یہ نہ چھیننے پائے۔ اس پر وہ دونوں عمر حیات ٹوانہ اور نواب صاحب انگریزوں کے سامنے ڈٹ گئے۔‘‘ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی روایت کے مطابق مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نے یہ واقعہ سنا کر فرمایا کہ ان دونوں کی نجات کے لئے اتنا کافی ہے۔ وہ ڈٹ گئے۔ فرمائیے جناب پرویز مشرف صاحب! تاریخ میں آپ کیا رقم کرنا چاہتے ہیں؟ ’’ڈٹ گئے‘‘ یا ’’ہٹ گئے‘‘۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۴ء ص ۷ تا ۱۰)
امریکا، بنگلہ دیش اور قادیانی
گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں قادیانی مطبوعات پر حکومت بنگلہ دیش نے مسلمانوں کے مطالبے پر پابندی لگائی، اس کے ساتھ ساتھ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانان بنگلہ دیش نے اپنے ملک میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ ان واقعات کے بعد امریکی حکومت کی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا کرسٹینا روکا نے بنگلہ دیش میں واقع ایک قادیانی عبادت گاہ کا دورہ کیا جس کی رپورٹ پاکستانی اخبارات میں اس انداز سے شائع ہوئی :
”کرسٹینا روکا کا بنگلہ دیش میں قادیانی عبادت گاہ کا دورہ ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا کرسٹینا روکا نے بنگلہ دیش کے اپنے دورے کے دوران قادیانیوں کی عبادت گاہ کا دورہ کیا ہے۔ بی۔بی۔سی کے مطابق کرسٹینا روکا کے قادیانی عبادت گاہ کے دورے کا مقصد بنگلہ دیش میں احمدی گروپ پر بنگلہ دیش میں موجود دباؤ اور ان کے مسائل کے بارے جاننا تھا۔ کرسٹینا روکا نے اس دورے کے بعد ڈھاکہ میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ انہیں بنگلہ دیش میں احمدی گروپ کے حوالے سے موجودہ دباؤ پر شدید تشویش ہے۔ کرسٹینا روکا نے اپنے خدشات کے حوالے سے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کو بھی آگاہ کیا ہے۔ تاہم کرسٹینا روکا نے بتایا کہ انہیں اس حوالے سے بنگلہ دیشی حکومت نے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔“
(روزنامہ امت کراچی ۲۰ مئی ۲۰۰۲ء)
اس واقعہ سے قادیانیوں کو شہہ ملی۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی اور پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہاں سے بعض مسلم رہنما آ کر بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو قادیانیوں کے خلاف اکساتے ہیں۔ ”نیو ایج“ (New age) کی خبر کے مطابق یہ الزام انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں عائد کیا جس میں انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتیں ملک میں مذہبی منافرتوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں تاکہ بنگلہ دیش میں قادیانی مخالف تحریک چلائی جائے۔ انہوں نے قادیانی مطبوعات پر پابندی عائد کرنے کی مذمت کرتے ہوئے بنگلہ دیشی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مسلمانان بنگلہ دیش پر یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام عائد کیا کہ مسلمانوں نے قادیانیوں کی عبادت گاہوں اور رہائش گاہوں کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیانیوں نے بنگلہ دیشی حکومت کے قادیانیت مخالف اقدامات کے جواب میں امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور امریکی حکومت ان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ کرسٹینا روکا کا لب ولہجہ وہی ہے جو پاکستان میں قادیانیوں پر مظالم کی کسی فرضی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کسی امریکی عہدیدار کا ہوتا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے قادیانیوں کی بے جا حمایت کا سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ امریکی اداروں بالخصوص ان کے سرکاری اداروں کی اکثر رپورٹیں پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اب انہی بنیادوں پر بنتی ہیں کہ وہ قادیانیوں پر مظالم میں ملوث ہیں۔ اسلام کے بغض کی عینک لگا کر دیکھنے والے امریکی حکمران قادیانیت نوازی کی تمام حدود پار کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان پر امتناع قادیانیت سے متعلق قوانین کو حذف کرنے کے لئے کئی مرتبہ دباؤ ڈال چکے ہیں۔ لیکن وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم اور قوانین کے پیچھے قربانیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے جو ایک صدی پر محیط جدو جہد اور ہزاروں مسلمانوں کے خون سے رقم ہوئی ہے۔ امریکی حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے لئے حساس موضوعات پر ان کے خلاف چلنے کے بجائے ان موضوعات پر کوئی ردعمل ظاہر کرنے یا لائحہ عمل طے کرنے سے دور رہا کرے ورنہ پوری مسلم برادری اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی اور جائے پناہ کے حصول کے لئے نیو ورلڈ آرڈر کے علمبرداروں کو کسی ”نیو ورلڈ“ کی تلاش میں نکلنا پڑے گا۔
دوسری طرف قادیانیوں کو دیکھا جائے تو انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں وہی الزامات عائد کئے ہیں جو پاکستان میں قادیانی اقلیت پاکستانی حکومت کے خلاف عائد کرتی رہی ہے۔۔ انہی الزامات کو بنیاد بنا کر قادیانی امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں۔ یہی وہ الزامات ہیں جو امریکہ و یورپی ممالک کی انسانی حقوق کی نام نہاد خلاف ورزی پر مشتمل ان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بوگس رپورٹوں کا منبع ہیں جن کی وجہ سے آئے دن پاکستان کو عالمی برادری کے سامنے غلط اور بے جا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں بسنے والے قادیانیوں کے الزامات بھی اتنے ہی غلط ہیں جتنا کہ پاکستان میں بسنے والے قادیانیوں یا پاکستان سے فرار ہو کر امریکا اور یورپی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے قادیانیوں کے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ قادیانی کسی ملک کے وفادار نہیں بلکہ صرف اپنی قادیانی جماعت کے وفادار ہیں۔ اس وفاداری کو نبھانے کے لئے وہ آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ حب الوطنی انہیں چھو کر نہیں گزری۔ وہ اسلام اور ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں آج تک کسی قادیانی عبادت گاہ یا کسی قادیانی کی رہائش گاہ پر حملہ نہیں کیا گیا، لیکن اس کے باوجود قادیانیوں نے پوری دنیا میں شور مچایا ہوا ہے پاکستان میں ان پر ظلم ہوتا ہے اور مسلمان انکی عبادت گاہوں اور رہائش گاہوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس جھوٹ کو مزید پراثر بنانے کے لئے قادیانیوں نے پولیس کی وردی پہن کر اور مسلمانوں کے انداز واطوار اپنا کر خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی اور یہ کہنے کی کوشش کی کہ مسلمان پولیس افسران اور مسلم عوام نے ہماری عبادت گاہوں پر حملہ کیا اور اس کی بے حرمتی کی۔ خباثت کی انتہا یہ کہ اس کی تصویر لے کر انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ پر نمایاں کی۔ حالانکہ واقفان حال جانتے ہیں کہ قادیانی تو اتنے رذیل ہیں کہ وقت پڑنے پر مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی ماں ، بہن کی گالیاں دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ قادیانی عبادت گاہوں کی طرح یہی کچھ قادیانیوں کی رہائش گاہوں پر حملہ کی فرضی کہانیوں اور الزامات کے بارے میں کوئی بھی سمجھ لیجئے ۔ پاکستان اور بنگلہ دیش ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں قادیانیوں نے یہی شور مچایا ہوا ہے لیکن سوائے اپنے آقاؤں کی حمایت حاصل کرنے کے کوئی سنجیدہ قوت ان کے الزامات کی تائید کرنے کو تیار نہیں ۔ ہم اس موقع پر حکومت بنگلہ دیش سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے اور پھر یہ سلسلہ تمام مسلم ممالک میں پھیل جائے گا۔
قادیانیوں کے نصیب میں ذلت ہی ذلت لکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے تاج نبوت کو محمد رسول اللہ کے مقدس سر سے کھینچ کر مرزا غلام احمد قادیانی کے غلاظت بھرے سر پر رکھنے کی کوشش کی۔ محمد رسول ﷺ کی وہ توہین کی جو بد بخت سے بد بخت انسان بھی کرنا گوارا نہیں کرتا۔ یہ جرم ناقابل برداشت تھا۔ اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ قیامت تک کے لئے ذلت ورسوائی قادیانیوں کا مقدر بن گئی۔ الحمد للہ ! پہلے وہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار پائے اور ان کے خلاف قوانین منظور ہوئے ، پھر جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور اب بنگلہ دیش کی باری ہے جہاں ان شاء اللہ وہ غیر مسلم اقلیت قرار پائیں گے۔ قادیانی اگر اس دائمی ذلت سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ وہ اپنے غلط عقائد سے توبہ کر لیں اور مرزا قادیانی کا دامن چھوڑ کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا دامن تھام لیں اور اسلامی عقائد واعمال کو اختیار کر لیں۔ قیامت کے دن اسلامی عقیدے کے سوا اور کسی عقیدے پر نجات نہیں ہوگی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۵؍ جون تا یکم جولائی ۲۰۰۴ء ص۴، ۵)
شوکت عزیز کی وضاحت ...... قادیانی نہیں، سنی مسلمان ہوں
وفاقی وزیر خزانہ اور سینئر وزیر شوکت عزیز نے اپنے اوپر عائد کئے جانے والے ان الزامات کی تردید کی ہے جن میں انہیں قادیانی قرار دیا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بارے میں جو وضاحت کی اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے:
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وفاقی وزیر خزانہ اور سینئر وزیر شوکت عزیز نے واضح کیا ہے کہ وہ سنی مسلمان ہیں اور ختم نبوت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں یہ غلط ، منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وہ قادیانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا تعلق مذہبی گھرانے سے ہے۔ شیخ رشید احمد نے اس موقع پر کہا کہ میں نے ختم نبوت کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ میں بھی واضح کرتا ہوں کہ اس الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی جمعرات یکم جولائی ۲۰۰۴ء)
قادیانیوں کی یہ روایت ہے کہ وہ تمام نامی گرامی افراد کو اپنی جماعت کا فرد باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے نجی مجالس میں کسی سربراہ مملکت، وزیر اعظم، وزیر یا مشیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہمارا آدمی، یعنی قادیانی ہے اور بعد ازاں اسے اتنا پھیلایا جاتا ہے کہ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ عملاً ملک میں قادیانیوں ہی کی حکومت ہے اور صدر، وزیر اعظم، وزراء اور مشیر سب کے سب قادیانی ہیں، لیکن جب حقیقت کھلتی ہے تو قادیانی غبارے سے ہوا خارج ہو جاتی ہے اور مذکورہ شخصیات بانگ دہل اعلان کرتی ہیں کہ ہمارا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ہم تو ختم نبوت پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور قادیانیوں کو کافر گردانتے ہیں۔ صدر مشرف کو قادیانیوں نے اپنا آدمی ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے قومی سیرت کانفرنس کے موقع پر واضح انداز سے کہا کہ: ’’جو ختم نبوت کو نہیں مانتا وہ تو مسلمان ہی نہیں ۔‘‘
اس سے قبل ایک سابق قادیانی صدر کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا تھا اور انہوں نے بھی اپنے قادیانی ہونے کی تردید کر دی تھی۔ بعض وزرائے اعظم کو بھی قادیانیوں نے اپنی جماعت کے ممبر ظاہر کرنے کی کوشش کی اور بعض کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے تمام وسائل خرچ کئے لیکن اس سب نے قادیانیوں کے کافر ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
مختلف وزراء کے بارے میں قادیانیوں نے اپنے سابقہ رویہ اپناتے ہوئے انہیں قادیانی جماعت کا فرد ظاہر کیا۔ متعدد وزراء نے ان سے برأت کا اعلان کیا۔ شوکت عزیز کے بارے میں بھی یہی کچھ ظاہر کیا گیا لیکن انہوں نے بھی قادیانیوں سے برأت کا اظہار اور اپنے قادیانی ہونے کی تردید کرتے ہوئے دو ٹوک انداز سے کہا کہ وہ قادیانی نہیں اور یہ کہ وہ ختم نبوت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ شوکت عزیز کی جانب سے اعلان کے بعد یقیناً قادیانی جماعت کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہوگی۔ قادیانی جو مستقبل میں وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں اس اعلان سے یقینی طور پر مایوس ہوئے ہوں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء ص ۵،۴)
محترم شوکت عزیز کی ناکافی وضاحت
متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما میاں احمد احسان باری نے مستقبل کے وزیر اعظم شوکت عزیز کی جانب سے عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے ان کے وضاحتی بیان کو مسترد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کا پورا خاندان قادیانی مذہب سے وابستہ ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں ثابت کریں گے کہ شوکت عزیز کے والد پکے قادیانی تھے اور وہ خود بھی قادیانی ہیں۔ ان کی تردید نے ان کے اندر چھپی ہوئی قادیانیت کو اور واضح کر دیا ہے۔ ملتان کے ایک کثیرالاشاعت اخبار میں میاں احسان باری کا بیان شائع ہوا ہے۔ ہم ان کا یہ بیان من و عن بطور حوالہ پیش کر رہے ہیں:
شوکت عزیز کے والد احمدی تھے، سپریم کورٹ میں ثابت کروں گا: احسان باری
نامزد وزیر اعظم کے والد ملک عبدالعزیز کے احمدی ہونے میں کوئی شک نہیں ...... شوکت عزیز نے بھی قادیانی ہونے سے انکار کیا ...... احمدی ہونے سے نہیں ...... ان کا پورا خاندان احمدی ہے ...... شوکت عزیز بتائیں وہ کس عالم دین کے سامنے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے ...... شوکت عزیز نے ختم نبوت پر یقین ظاہر کیا ...... ایمان نہیں ...... ملک عبد العزیز تحریک ختم نبوت کے دوران دفتر نہ آتے ...... ان کا ریڈیو سٹاف سے جھگڑا بھی ہوا ...... احمدی ہونے کے باعث ۱۹۷۴ء میں جبری ریٹائر ہوئے ...... پریس کانفرنس:
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چشتیاں (نمائندہ خصوصی، کرائم رپورٹر) قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے سے قبل ہی نامزد وزیر اعظم شوکت عزیز کے اپنے قادیانی نہ ہونے کے اعلان کو متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما ڈاکٹر میاں محمد احسان باری نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ انہوں نے شوکت عزیز کے خلاف الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شوکت عزیز کا یہ کہنا کہ وہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے اندر چھپی ہوئی قادیانیت کا واضح ثبوت ہے۔ مرزائی ٹولہ کے افراد اپنے نام نہاد نبی غلام احمد قادیانی کی ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ باقی رہا ان کے والد عبدالعزیز کے احمدی ہونے کا مسئلہ تو اظہر من الشمس ہے کہ بقول شوکت عزیز کہ وہ ریڈیو پاکستان میں انجینئر کے طور پر ۱۹۷۴ء میں ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ ڈاکٹر باری نے کہا کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء قادیانیوں کے چناب نگر (سابقہ ربوہ) کے اسٹیشن پر حملہ کے بعد میری پریس کانفرنس کے نتیجہ میں جو تحریک ختم نبوت پورے ملک میں چلی اور اس کے بعد ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ اسی تحریک کے دوران ملک عبدالعزیز کا ریڈیو پاکستان کے مسلمان سٹاف سے بحث مباحثہ کے بعد جھگڑا ہوا تھا اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی۔ جس کے نتیجہ میں وہ جب تک تحریک ختم نبوت چلتی رہی وہ دفتر آنے سے گریزاں رہے۔ تاکہ مسلمانوں کے اشتعال کا نشانہ نہ بن جائیں۔ بعد ازاں حالات کی سنگینی کے پیش نظر ۱۹۷۴ء میں ہی اسی سال جبری رخصت دے کر ریٹائرڈ کر دیا گیا تھا۔ جس کے اس دور کے اخبارات بھی گواہ ہیں۔ ان کے والد کے قادیانی ہونے پر تو کسی کو بھی ذرہ برابر شک نہیں تو شوکت عزیز بعد ازاں کس عالم یا مدرسہ میں موجودہ افراد کے سامنے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ یہ واقعہ منظر عام پر آج تک نہ آسکا ہے اور شوکت عزیز کا یہ کہنا کہ وہ کسی عالم دین سے مذہبی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ میاں باری نے آخر میں واضح اعلان کیا کہ ان کے مسلمان ہونے کے دعویٰ کو الیکشن کے دوران سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے اور ان کا پاکستان پر قبضہ کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔“
(روزنامہ نیا دور ملتان مورخہ ۳؍جولائی ۲۰۰۴ء)
متحدہ مجلس عمل کے رہنما میاں احسان باری کا حالیہ بیان پوری قوم بالخصوص دینی، مذہبی اور سیاسی حلقوں کے لئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ شوکت عزیز صاحب کے بارے میں ایک مدت سے مشہور ہے کہ وہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ قادیانی عقیدہ ختم نبوت کو بظاہر تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن خاتم النبیین کی اصطلاح ان کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے مخصوص ہے محترم شوکت عزیز صاحب نے عقیدہ ختم نبوت پر تو مکمل یقین کا اظہار کیا ہے لیکن انہوں نے متنازعہ فیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات کے حوالے سے ایک لفظ بھی کہنا گوارا نہیں سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ تکنیکی اعتبار سے ان کی وضاحت بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ جب تک موصوف مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات کے حوالے سے ان کے کفر، دجل اور کذب کا اعلان نہیں کرتے۔ ان کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کو مزید تقویت ملے گی۔ محترم شوکت عزیز ایک پڑھے لکھے باشعور اور قانون کو سمجھنے والے ٹیکنوکریٹ ہیں۔ وہ یقیناً جانتے ہوں گے کہ یہ مسئلہ کس قدر حساس اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ کی سطح پر قادیانیوں کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ہائی کورٹس، سپریم کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت تک سبھی عدالتوں نے اس فیصلہ پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر، کاذب، جھوٹا اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر قادیانی گروہ کو امت مسلمہ سے الگ قوم قرار دیا تھا۔ عدلیہ کے تمام فیصلے یقیناً جناب شوکت عزیز کے علم میں ہوں گے۔ اب جب کہ موصوف سو فیصد متوقع آئندہ کے وزیر اعظم ہیں۔ اپنے خاندانی پس منظر کے تناظر میں شوکت عزیز
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی مرزائیت کے حوالے سے تردید اور عقیدہ ختم نبوت پر پختہ یقین کے اعلان کو کیونکر تسلی بخش قرار دیا جاسکتا ہے؟ جب تک محترم شوکت عزیز مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کو ماننے والے گروہ کے بارے میں قطعی طور پر ان کے کفر، کذب اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی مکمل وضاحت نہیں کرتے۔ ان کی ذات پر قادیانیت کا چسپاں لیبل نہیں اترسکتا اور نہ ہی مذہبی، دینی اور سیاسی حلقوں میں ان کی مذہبی حیثیت واضح ہوسکتی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ میں قادیانی نہیں...... ایک ڈپلومیٹک اور بے معنی سا جملہ ہے۔ چونکہ وہ قادیان (بھارت) کے رہنے والے نہیں۔ اس لحاظ سے ان کا عذر لنگ ایک خوبصورت مذاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ قادیانی سے مراد قادیانی مذہب اور بانی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات، معجزات اور الہامات کو ماننا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس کے دعویٰ نبوت، دعویٰ وحی والہامات اور معجزات کے بعد اسے مجدد، مہدی، مسیح موعود، ظلی و بروزی ماننا بھی کفر ہے۔ پارلیمنٹ سے لے کر ایوان عدل تک مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے کفر کا اعلان کرکے عقیدہ ختم نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی وضاحت کو کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔
ہم متحدہ مجلس عمل کے رہنما میاں احسان باری صاحب کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس نازک موقع پر قوم اور سیاسی رہنماؤں کو جناب شوکت عزیز کے خاندانی پس منظر اور ان کی مخصوص مذہبی حیثیت کو چیلنج کرنے پر ان کی جرأت اور غیرت دینی کا مظاہرہ کرنے پر انہیں تحسین صد آفرین پیش کرتے ہیں۔ ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ محترم شوکت عزیز کے حوالے سے اگر ان کے پاس ان کے قادیانی ہونے کے ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ یہ حقائق منظر عام پر لائیں اور سپریم کورٹ میں اس معاملہ کو پیش کر کے قوم اور ملک دونوں پر احسان فرمائیں۔
محترم شوکت عزیز کی حالیہ تردید اور وضاحت اس موقع پر آئی ہے جب وزارت عظمیٰ کا ہما ان کے سر پر بیٹھنے کے لئے انہی کے اوپر منڈلاتا پھرتا ہے۔ ان کی وزارت عظمیٰ کے انتساب اور حلقہ انتخاب کے لئے پوری حکومتی مشینری سرگرم عمل ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے اس موقع پر ہی کیوں عقیدہ ختم نبوت سے وابستگی کا اعلان کیا؟ الزام تو مدت سے موجود تھا اور انہیں کبھی اس کی وضاحت کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ سیاسی حلقوں میں پہلے سے چہ مگوئیاں ہورہی تھیں کہ شوکت عزیز کو پاکستان کا وزیراعظم بنایا جارہا ہے۔ اب ذرا سیاسی پس منظر کے حقائق کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ق لیگ کی ولادت اور بلوغت تک تمام سیاسی عمل کے نشیب وفراز کا حقیقی مقصد کیا تھا؟ الزام تو مدت سے موجود تھا اور انہیں کبھی اس کی وضاحت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ سردار ظفر اللہ خان جمالی جیسے بے ضرر اور درویش صفت وزیراعظم کو کس غلطی یا گناہ کی پاداش پر نکال باہر کیا گیا؟ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہیٰ کا ضمیر بھی اس موقع پر نہ جاگ سکا کہ بالآخر جمالی صاحب کو کس جرم میں اس طرح ان کے منصب سے علیحدہ کیا گیا؟ چوہدری صاحب اپنی خاندانی روایات اور چوہدری ظہور الہیٰ کی غیرت دینی کو پس پشت ڈال کر اس منصب پر شوکت عزیز جیسی مشکوک شخصیت کو قبول کر رہے ہیں۔ اگر جمالی صاحب کو ایک خاص مقصد اور ایک خاص مدت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے تو چوہدری شجاعت حسین کو بھی جان لینا چاہئے کہ یہی تاریخ ان کے ساتھ دہرائی جاسکتی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ پارلیمنٹ کو مکمل طور پر بالا دستی حاصل نہیں اور نہ ہی سیاسی جمہوری عمل اسے اپنے حقیقی تقاضوں کے تحت آزادی وخودمختاری سے ہمکنار ہے۔ جس ملک میں معین قریشی جیسا وزیراعظم مسلط ہوسکتا ہے جس کے پاس نہ پاکستان کی شہریت تھی اور نہ ہی پاکستانی پاسپورٹ۔ وہاں شوکت عزیز جیسے ٹیکنوکریٹ کو کیونکر وزیراعظم نہیں بنایا جاسکتا؟ محترم شوکت عزیز صاحب کو جس اہتمام اور سج دھج کے ساتھ وزیراعظم بنایا جارہا ہے۔ یہ بلاشبہ وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا المناک باب ہوگا۔ ق لیگ کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اہل وطن اس
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں کہ پوری ق لیگ میں وزارت عظمیٰ کے منصب کا کوئی اہل نہیں۔ کیا یہ ان کی نا اہلی کا ثبوت نہیں؟ جس شخص کے پاس پاکستان کی شہریت نہیں، پورے ملک میں اس کا کوئی حلقہ انتخاب نہیں، عوامی سطح پر انہیں کوئی پذیرائی حاصل نہیں، ملک اور قوم کے لئے ان کی کوئی سی قابل ذکر خدمات نہیں، یہ روایت ملک وقوم کے لئے اور جمہوری سیاسی ڈھانچے کو اکھاڑ پھینکنے کی خوفناک سازش ہے۔ بھارت جسے ہم اب تک ازلی ابدی دشمن قرار دیتے رہے ہیں بھارت کے حوالے سے بہترین خدمات سرانجام دینے والے ایٹمی سائنس دان عبدالکلام کو ملک کا صدر بنا کر ایک مثال قائم کی، لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے اپنے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ایسا ناروا سلوک برتا کہ اب شاید کوئی ماں وطن عزیز کے لئے ایسا سائنس دان تیار کرنے کی حماقت نہیں کرے گی۔
متوقع وزیر اعظم شوکت عزیز کی ذات کے حوالے سے ان کی صلاحیتوں کے گن گائے جارہے ہیں۔ انہیں مالیات اور اقتصادیات کا ماہر قرار دیا جارہا ہے اور قوم کو یہ نوید سنائی جارہی ہے کہ ان کی بدولت پاکستان اقتصادی طور پر نہ صرف مستحکم ہو گا بلکہ معاشی، اقتصادی ڈھانچہ از سر نو منظم کیا جائے گا۔ سابق وزیر اعظم معین قریشی کے بارے میں بھی اس نوع کی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں کہ ان کی ذات سے پاکستان کو بہت فوائد حاصل ہوں گے۔ معین قریشی ورلڈ بینک میں ”پنجابی گروپ“ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماضی میں اس کے بارے میں تفصیلات منظر عام پر آ چکی ہیں۔ یہ دراصل قادیانی گروپ تھا۔ اب بھی ورلڈ بینک میں اسی گروپ کا اثر و رسوخ نمایاں بیان کیا جاتا ہے۔ شوکت عزیز صاحب پر قادیانی ہونے کی چھاپ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا تعلق بھی اسی گروپ سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معین قریشی کے بعد شوکت عزیز کو پاکستان کی اقتصادیات پر مسلط کیا جارہا ہے۔
ہمیں کسی کو قادیانی بنانے کا قطعی شوق نہیں محترم شوکت عزیز صاحب کی قادیانیت سے تردید اور عقیدہ ختم نبوت پر یقین کے بعد ان کی ذات کے حوالے سے شکوک شبہات مزید بڑھ رہے ہیں۔ خدا کرے وہ صحیح العقیدہ مسلمان ہوں۔ بہتر ہو گا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ ساز نبوت اور اس کی ذریت کے بارے میں بھی کھل کر وضاحت فرمادیں۔ ورنہ دینی سیاسی حلقوں میں ان کے بارے میں بے چینی اور تشویش کا قائم رہنا اور پھیلنا فطری امر ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص ۳ تا ۶)
صوبہ سرحد میں قادیانیت کی تبلیغ اور تراجم تقسیم کرنے والوں کی فوری گرفتاری
صوبہ سرحد کی حکومت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں قادیانیت کی تبلیغ اور قرآن مجید کے قادیانی تراجم کی تقسیم کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قادیانیت کی تبلیغ کرنے والوں کی گرفتاری اور قرآن مجید کے قادیانی تراجم کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ قرآن کا تحریف شدہ قادیانی ترجمہ شائع کرنے کے خلاف کارروائی کی تفصیلات جو اخبارات میں شائع ہوئی اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
”قرآن مجید کا غلط ترجمہ چھاپنے والے قادیانیوں کے خلاف کارروائی کا حکم سرحد حکومت نے غلط ترجمہ والی کاپیاں تحویل میں لینے کی ہدایت کردی: اخباری اطلاعات پر کارروائی۔
پشاور (ثناء نیوز) سرحد حکومت نے قادیانیوں کی جانب سے قرآن مجید کا غلط ترجمہ چھاپنے اور اس کی کاپیاں فروخت کرنے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ ایسے قادیانیوں کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے قرآن مجید کا غلط ترجمہ کر کے اس کی کاپیاں تقسیم کر دیں۔ یہ احکامات پیر کے روز سرحد اسمبلی کے اجلاس کے دوران ڈپٹی سپیکر اکرام اللہ شاہد کی تحریک التواء پر جاری کئے گئے صوبائی وزیر بلدیات سردار محمد ادریس نے غلط ترجمہ کی تمام کاپیاں ضبط کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ قبل ازیں اکرام اللہ شاہد نے
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء
تحریک التواء پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بعض اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں کہ قادیانیوں نے قرآن مجید کا غلط ترجمہ شائع کیا ہے اور اس کی کاپیاں تقسیم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی روح کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہیں۔ ذمہ دار قادیانیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر مشتاق غنی اور پی. پی شیر پاؤ کے پارلیمانی لیڈر مرید کاظم نے کہا کہ بڑا کام ہوا ہے حکومت کو اس کا علم تک نہیں ذمہ دار افراد کے خلاف ایکشن لیا جائے۔‘‘
(روزنامہ امت کراچی ۶؍ جولائی ۲۰۰۲ء)
جب کہ قادیانیت کی تبلیغ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے بارے میں جاری ہونے والے احکامات کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر درج ذیل ہے:
’’سرحد میں قادیانیت کی تبلیغ کرنے والوں کی فوری گرفتاری کا حکم شعائر اسلام کے خلاف سرگرمیاں برداشت نہیں کریں گے : سردار اویس۔
پشاور (وقائع نگار) سرحد حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر جنوبی اضلاع میں قادیانیت کی تبلیغ اور قرآن کے غلط ترجمے کی تقسیم کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام متنازع ترجمے ضبط اور قادیانیت کی تبلیغ کرنے والے افراد کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے یہ حکم پیر کے روز سرحد اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر اکرام اللہ شاہد کی طرف سے پیش کئے گئے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر دیا گیا اکرام اللہ شاہد نے اخباری رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحد کے جنوبی اضلاع اور اس کے ملحقہ پنجاب کے علاقوں میں قادیانیت کی تبلیغ کا غیر قانونی کام عروج پر ہے اور اب قرآن میں تحریف کر کے اس کا ترجمہ چھاپ کر عوام میں تقسیم کیا جارہا ہے حالانکہ آئین کے تحت قادیانی، اسلام اور مسلمانوں کا نہ صرف نام استعمال نہیں کرسکتے بلکہ وہ قرآن وحدیث کا اپنے کفریہ مفاد کے لئے حوالہ بھی نہیں دے سکتے جس پر صوبائی وزیر سردار محمد ادریس نے اعلان کیا کہ وہ قادیانیت کی تبلیغ اور قادیانیوں کی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت کرتے ہیں کہ اس میں ملوث افراد کو گرفتار اور مارکیٹ سے قرآن کے تحریف شدہ تمام نسخے اور قادیانی ترجمے کو فوری طور پر ضبط کر کے کارروائی کریں۔‘‘
(روزنامہ اسلام کراچی ۶؍ جولائی ۲۰۰۲ء)
سرحد حکومت کے یہ اقدامات انتہائی قابل تعریف ہیں۔ وفاقی حکومت سمیت دیگر تمام صوبائی حکومتوں کو بھی ان اقدامات کا نفاذ اپنے اپنے دائرہ کار کے مطابق کرنا چاہئے۔ قادیانیوں کے اسلام دشمن اور ملک دشمن تبلیغی اقدامات کے سدباب کے لئے یہ اقدام ناگزیر تھا۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ سرحد حکومت ان اقدامات کو مکمل طور پر نافذ کرے گی اور اپنے صوبے کی حدود سے قادیانیت کے جراثیم کے خاتمے کے لئے مؤثر کردار ادا کرے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ان اقدامات کے مکمل طور پر نفاذ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !
سرینگر میں قرآن مجید کے نادر نسخے کی شہادت
سرینگر میں حضرت عثمان ؓ کے دست مبارک کا لکھا ہوا قرآن پاک کا انتہائی نادر نسخہ اس وقت شہید کر دیا گیا جب اس اسکول و لائبریری کو بعض افراد نے آگ لگا دی جس میں یہ نسخہ موجود تھا۔ اس حوالے سے جو خبر شائع ہوئی اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
’’سرینگر ۱۰۰ سال قدیم اسکول جلا دیا گیا، قرآن مجید کے نادر نسخے شہید، زبردست مظاہرے
سرینگر (جنگ نیوز) مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں پیر کو ۱۰۰ سالہ اسکول اور اس کی لائبریری جلا دی گئی، جس سے حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن پاک کا انتہائی نادر نسخہ بھی شہید ہو گیا۔ آتشزدگی سے تاریخی لائبریری تباہ ہوگئی اور تیس ہزار کتابیں جل گئیں۔ آتشزدگی کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جس کے نتیجے میں لوگوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں اور طلباء نے مظاہرے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کئے جس سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ، جب کہ شہریوں نے بھی مظاہرے کئے ۔ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسکول کو آگ لگنے کی وجوہات کی چھان بین کی جارہی ہے۔ کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیم آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما عمر فاروق جو اس اسکول کے روح رواں ہیں کہا ہے کہ اسکول کو نذر آتش کئے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ حریت کانفرنس نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور عمر فاروق کی سیاسی جماعت عوامی ایکشن کمیٹی نے منگل کو عام ہڑتال کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسکول سے ملحقہ عمارت میں رہائش پذیر محمد حسین نے کہا کہ میں اس وقت صدمے کی کیفیت میں ہوں۔ اسکول کے بائیں حصے میں صبح سویرے آگ بھڑک اٹھی اور آن کی آن میں پوری عمارت اس آگ کی لپیٹ میں آگئی ۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی ۶؍ جولائی ۲۰۰۲ء)
یہ واقعہ انتہائی سنگین ہے اور اس کا سب سے افسوسناک پہلو قرآن مجید کے اس انتہائی نادر نسخے کی شہادت ہے ۔ دنیا بھر میں قرآن مجید اور مساجد کو نذر آتش کئے جانے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور کسی حکومت کی جانب سے ان واقعات کے سدباب کے لئے کسی قسم کے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ۔ ایک طرف تو مسلمانوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف انہیں ہی ظالم ٹھہرایا جارہا ہے ۔ ظلم کی انتہاء یہ کہ قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کی ذات کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ غیر مسلم انتہاء پسند قرآن مجید کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کررہے ہیں جب کہ اس کے نسخوں کو نظر آتش بھی کررہے ہیں ۔ یہ سب کچھ اللہ کے قہر وغضب کو دعوت دینے کی کوشش ہے جس کے عملی نتائج کا ان غیر مسلم انتہا پسندوں کو دنیا و آخرت میں سامنا کرنا پڑے گا ۔ (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۲۹؍ جولائی ۲۰۰۲ء ص۴، ۵)
ایڈیشنل سیشن جج ٹنڈو آدم کا قادیانی ملزم کے خلاف فیصلہ
ٹنڈو آدم (نمائندہ خصوصی) ایڈیشنل سیشن جج ٹنڈو آدم اعظم بلوچ نے ذوالفقار علی نامی قادیانی کی جانب سے دھوکہ دہی کے ذریعہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمان لڑکی مسمات فاطمہ بنت سرور سے نکاح کرنے کے مقدمے میں ملزم ذوالفقار علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ۔ ملزم پر دفعہ ۴۲۰، پی . پی . سی ۲۹۸ سی اور (۳) ۱۰ کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔ معزز عدالت نے ڈسٹرکٹ جیلر سانگھڑ کو حکم دیا کہ وہ ملزم کو ۲۶؍ جولائی کو عدالت میں پیش کرے ۔ جہاں اس پر زیر دفعہ ۱۵ زنا حدود آرڈیننس اور پی . پی . سی ۲۹۸ سی کے تحت فرد جرم عائد کی جائے گی ۔ سماعت کے دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وکیل منظور احمد میو راجپوت ایڈووکیٹ نے مدعی کی طرف سے اعتراض اٹھایا کہ کسی بھی قادیانی یا دیگر غیر مسلم سے مسلمان لڑکی کا نکاح نہیں ہوسکتا ، اگر کوئی بھی غیر مسلم یا قادیانی اپنے آپ کو دھوکہ دہی کے ذریعہ مسلمان ظاہر کر کے کسی مسلم لڑکی سے نکاح کرلے تو اس جرم پر دفعہ ۱۵ زنا حدود آرڈیننس لاگو ہوگی جس کی سزا ۲۵ سال ہے جب کہ کسی قادیانی کے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے پر اس پر دفعہ پی . پی . سی ۲۹۸ سی لگے گی ۔ چونکہ ملزم ذوالفقار نے اپنی درخواست ضمانت میں بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ ابھی تک قادیانی ہے اس لئے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے جرم میں اس کی درخواست ضمانت خارج کی جائے جس پر معزز عدالت نے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ۔ تفصیلات کے مطابق غلام سرور نے ۲۸؍ مارچ ۲۰۰۲ء کو تھانہ ٹنڈو آدم میں ایف . آئی . آر درج کروائی کہ اس نے اپنی بیٹی مسمات فاطمہ کا نکاح ذوالفقار علی نامی شخص سے کیا تھا جو کہ کامونکی پنجاب کا رہنے والا اور ان کا دور کا رشتہ دار ہے۔ شادی کے بعد ذوالفقار علی میری بیٹی کو اپنے گھر پنجاب لے گیا ۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد میری بیٹی نے فون پر اطلاع دی کہ ذوالفقار علی جس سے میرا نکاح کیا تھا وہ کہتا ہے کہ میں قادیانی ہوں ۔ اس اطلاع پر غلام سرور نے ذوالفقار علی کو فون کیا کہ میری بیٹی کو فوراً ہم سے ملانے کے لئے ٹنڈو آدم لے آؤ ۔ جب ذوالفقار علی لڑکی کو لیکر ٹنڈو آدم آیا تو غلام سرور نے اس سے پوچھا کہ تم
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی ہو؟ ذوالفقار علی پچاس آدمیوں اور علمائے کرام کی موجودگی میں اعتراف کیا کہ میں عرصہ دو سال سے قادیانی ہوں اور ابھی تک قادیانی ہوں۔ اس غلام سرور نے ٹنڈو آدم میں اس کے خلاف دھوکہ دہی کے الزام میں دفعہ ۴۲۰، پی۔ پی سی ۲۹۸ سی اور (۳)۱۰ کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا جس پر ذوالفقار علی کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۲۹ جولائی ۲۰۰۲ء ص ۷)
گوہر شاہی کے پیروکاروں کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد
کراچی (نمائندہ خصوصی) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مجیب اللہ صدیقی اور جسٹس محمد افضل سومرو پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے توہین رسالت کے ملزمان ریاض احمد گوہر شاہی کی تنظیم انجمن سرفروشان اسلام کے ترجمان جریدے ”صدائے سرفروشان“ کے پبلشر وصی محمد، ایڈیٹر سید ظفر کاظمی، سب ایڈیٹر محمد صابر روشن اور محمد زبیر شاہی کی جانب سے توہین رسالت کے الزام میں سزا کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی اپیل کو ناقابل سماعت قرار دیا اور کیس کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی طرف واپس بھیج دیا۔ عدالت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے منظور احمد میو راجپوت ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے اپنے آپ کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات کے باوجود ملزمان نے اب تک اپنے آپ کو عدالت میں پیش نہیں کیا ہے اور وہ تاحال مفرور ہیں اس لئے ان کی اپیل کی سماعت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ملزمان اپنے آپ کو عدالت میں پیش نہ کر دیں۔ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ میں کہا کہ پہلے ملزمان عدالت میں پیش ہوں تب ہی ان کی اپیل کی سماعت ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر ہائی کورٹ نے اس کیس کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت، سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ حیدرآباد اور جسٹس راشد عزیز خان اور جسٹس ناظم حسین صدیقی پر مشتمل سپریم کورٹ کے ڈویژنل بینچ کی جانب سے مسترد کی جا چکی ہیں۔ ملزمان کے خلاف مولانا احمد میاں حمادی نے ٹنڈو آدم تھانے میں ۱۷؍ نومبر ۱۹۹۹ء کو زیر دفعہ ۲۹۵ اے، بی سی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے جریدے ”صدائے سرفروش“ میں یہ لکھا کہ نعوذ باللہ نبی اکرم ﷺ نے حجر اسود کو اس لئے بوسہ دیا تھا۔ کیونکہ اس پر ریاض احمد گوہر شاہی کی شبیہ نظر آتی ہے۔ قرآن کے چالیس پارے ہیں جس میں دس پارے ولی کے روپ میں ہیں اور اللہ تعالیٰ داتا اور خواجہ کے جسمانی روپ میں زمین پر آتے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۳ تا ۱۹ اگست ۲۰۰۲ء ص ۲۶)
منڈی بہاؤ الدین میں قادیانیوں کو شکست
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤ الدین کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی کے پاس چک نمبر ۲۶ کے محترم جناب امان اللہ صاحب اور جناب جاوید صاحب تشریف لائے اور انہیں بتایا کہ ریاض نامی قادیانی نے ہمیں مرزائیت پر گفتگو کے لئے چیلنج دیا ہے۔ چنانچہ مولانا محمد طیب فاروقی تشریف لے گئے۔ جناب جاوید صاحب کی بیٹھک میں جب قادیانی سے گفتگو شروع کی تو قادیانی ادھر ادھر کی مارنے لگا۔ مولانا فاروقی نے خوب گرفت میں لیا۔ قادیانی مربی سٹپٹانے لگا۔ لوگ کھڑے ہو گئے کہ اب بھاگتے کیوں ہو۔ جواب کیوں نہیں دیتے۔ لیکن قادیانی مربی اپنے ابا کی طرح جان چھڑا کر بھاگ گیا۔ لوگوں نے خوشی کے نعرے لگائے۔ اس طرح قادیانی شکست سے دوچار ہو گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء ص ۴۶)
ننکانہ میں قادیانی استانیاں
گورنمنٹ گورونانک ڈگری کالج میں دو ایسی ٹیچر پڑھاتی ہیں جو کہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ مذکورہ ٹیچر ہاسٹل میں رہتی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں ۔ قادیانی ٹیچر ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کو اپنے ساتھ لے کر ایک قادیانی مبلغ کے گھر ڈش انٹینا پر اپنے نام نہاد خلیفہ کا خطبہ جمعہ سنواتی ہیں۔ انہیں قادیانی کتب دیتی ہیں اور قادیانی مذہب کی تبلیغ کرتی ہیں۔ حکومت پنجاب سے ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ان متذکرہ قادیانی ٹیچرز کو کالج سے نکال باہر کیا جائے اور کسی قادیانی ٹیچر کو اس شعبہ میں بھرتی نہ کیا جائے ۔ حکومت پنجاب اس معاملے کو اپنے کنٹرول میں لے۔ تاکہ عوام کے ملوث ہونے کی نوبت نہ آئے۔ اگر براہ راست عوام ملوث ہو گی تو لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء ص ۴۶)
چناب نگر چوکی اور مسجد کا تنازعہ
چناب نگر میں پولیس چوکی کی مسجد کا تنازعہ کافی دنوں سے چل رہا ہے اور اس پر عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ چناب نگر کی اس مسجد کے تنازعے کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ چناب نگر کی قادیانی آبادی میں پولیس کی چوکی ایک عرصہ سے چلی آ رہی ہے جس میں چوکی کے مسلمان ملازمین اور آنے جانے والے مسلمان اس مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔ گزشتہ عشرہ سے پولیس حکام نے چوکی کو یہاں سے تبدیل کرنے کا اچانک فیصلہ کیا۔ جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قادیانی جماعت اس جگہ کو اپنے تصرف میں لا کر اسے جامعہ احمدیہ میں شامل کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے ایک عرصہ سے کوشاں ہے یہ مسئلہ آج سے آٹھ برس قبل بھی اٹھایا گیا تھا۔ جس پر آئی جی پنجاب نے جھنگ کے ایس ایس پی جناب اسلم ترین کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس پر رپورٹ پیش کریں۔ چنانچہ انہوں نے انکوائری کے بعد رپورٹ دی کہ پولیس چوکی کے لئے یہی جگہ موزوں ہے یہاں سے پولیس چوکی منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی فائدہ ۔ چنانچہ اس رپورٹ کے بعد اس جگہ کو حاصل کرنے کے لئے قادیانی جماعت کی درخواست نمٹا دی گئی۔ اب دوبارہ یہ مسئلہ کھڑا کیا گیا ہے اور ڈی آئی جی فیصل آباد کے بقول انہوں نے چوکی کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے احکام بھی جاری کر دیئے ہیں۔ جن کے تحت پولیس چوکی کو ایک ایسی جگہ منتقل کیا گیا ہے جو دو حوالوں سے قطعی غیر موزوں ہے۔ اس وجہ سے بھی کہ وہ بالکل ویران جگہ پر ہے اور عام لوگوں کا وہاں آنا جانا مشکل ہے۔ دوسرا اس لئے کہ وہ جگہ پولیس اسٹیشن چناب نگر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جہاں اس کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے۔ پولیس چوکی کی منتقلی کے اس فیصلے سے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ اس میں ایک آباد مسجد ہے جو ایک عرصہ سے چلی آ رہی ہے اور اس میں نمازیں بھی پڑھی جا رہی ہیں۔ اس کا کیا بنے گا ؟ اور یہ جگہ قادیانیوں کے سپرد کرنے کے بعد اگر مسمار کر دی گئی تو اس کو کیسے برداشت کیا جا سکے گا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران نے جھنگ کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا اور انہیں عوامی جذبات سے آگاہ کیا۔ انتظامیہ نے انہیں یقین دلایا کہ پولیس چوکی یہاں سے تبدیل نہیں ہوگی۔ علمائے کرام کے انتظامیہ سے مذاکرات جاری تھے کہ ایک رات قادیانیوں نے اس جگہ پر ہلہ بول دیا۔ مسجد کے طہارت خانے اور ٹوٹیاں گرا دیں اور اینٹوں کی چنائی کر کے مسجد کے دروازے پر رکاوٹ کھڑی کر دی۔ جس پر علاقہ بھر کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے اور مختلف عوامی مظاہروں کے علاوہ گزشتہ جمعہ کی نماز بھی چناب نگر کے تمام آئمہ و خطباء ریلوے اسٹیشن کی مسجد میں اجتماعی طور پر ادا کی۔ جس میں مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور اعلان کیا کہ مسجد کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ اسے گرانے یا بے آبرو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اسے قادیانیوں کے سپرد کرنے کی کوئی حرکت برداشت کی جائے گی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علاوہ ملک بھر کی دینی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ پولیس چوکی کو اس کی جگہ پر واپس لے جایا جائے ۔ کیونکہ مسجد کا تحفظ بھی اسی میں ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۲ء ص ۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوکی پولیس چناب نگر کی بحالی
چناب نگر شہر کے وسط میں عرصہ دراز سے پولیس چوکی چلی آ رہی ہے۔ قادیانیوں نے پولیس کی ملی بھگت سے پولیس چوکی کو متبادل جگہ پر منتقل کر دیا۔ پولیس نے اپنی دینی ضروریات کے لئے چوکی سے ملحقہ جگہ پر مسجد بھی قائم کی۔ جب چوکی دوسری جگہ منتقل ہو گئی تو مسجد کا مصرف نہ رہا۔ چنیوٹ اور چناب نگر کے علمائے کرام نے کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے نام سے ”مجلس عمل“ کا اجلاس کیا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی مولانا غلام مصطفیٰ نے کی۔ مجلس عمل نے پولیس چوکی کی بحالی کے لئے بھر پور محنت کی۔ مجلس عمل کے ذمہ داران نے اسلام آباد اور لاہور میں قومی وصوبائی اسمبلی کے ممبران، سینیٹرز اور وزراء سے ملاقاتیں کیں اور پورے ملک میں ماحول گرم کیا۔ ۴ ستمبر ۲۰۰۴ء کو لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا اعلان کیا گیا کہ اگر ۹ ستمبر سے پہلے پہلے چوکی کو سابقہ مقام پر منتقل نہ کیا گیا تو کانفرنس کے تمام شرکاء چناب نگر میں مظاہرہ کریں گے اور مطالبہ تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ چنانچہ حکومت نے حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے چوکی کی بحالی کا اعلان کر دیا۔ جس سے پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۴ء ص ۵۳)
تتلے والی میں قادیانی سازش ناکام
تتلے والی ضلع گوجرانوالہ میں قادیانی عبادت خانہ بنانے کی کوشش میں علاقہ کے مسلمانوں کی بروقت کوشش اور احتجاج پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قادیانیوں کو گرفتار کر لیا۔ تتلے والی کی جامع مسجد صدیق اکبر میں مشترکہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فقیر اللہ اختر صاحب، جناب حافظ خالد محمود صاحب، جناب قاری عبد الماجد صاحب، مولانا سخاوت علی صاحب، مولانا عمران صاحب سمیت کئی ایک رہنماؤں نے انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر قادیانیوں نے دوبارہ اس قسم کی ناپاک جسارت کرنے کی کوشش کی تو ہم راست اقدام کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔ آخر میں مسلمانوں کے دینی جوش جذبے کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور انتظامیہ کی بروقت کارروائی پر شکریہ ادا کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۴ء ص ۵۲)
پنڈی بھٹیاں میں را کا قادیانی ایجنٹ اور دو ساتھی دہشت گرد گرفتار
پنڈی بھٹیاں (نمائندہ خبریں) رسول پور تارڑ سے بھارتی ایجنسی را کا قادیانی ایجنٹ دو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے قبضہ سے دو ہینڈ گرنیڈ اور دو کلاشن کوفیں برآمد ہوئیں۔ ایس پی پنڈی بھٹیاں عمران محمود نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک خفیہ اطلاع پر انہوں نے پولیس کی نفری کے ساتھ رسول پور تارڑ میں چھاپہ مار کر قادیانی مبشر عرف لقمان احمد کو اس کے دو ساتھیوں ذوالفقار اور ذکاء اللہ سمیت گرفتار کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ قادیانی مبشر احمد کی بہن گوگی کی شادی گزشتہ دنوں بھارت میں قادیانی حبیب احمد سے ہوئی تھی جو را کا ایجنٹ ہے۔ اس نے مبشر احمد سے رابطہ قائم رکھا تھا۔ گرنیڈ بم اس نے آٹھ سال سے بوری میں چھپا رکھے تھے اور گرفتاری سے بچنے کے لئے کلاشن کوفوں کو اپنے دوستوں ذوالفقار، ذکاء اللہ کے پاس رکھا ہوا تھا۔ مبشر احمد اپنے بہنوئی حبیب احمد کو معلومات فراہم کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مبشر کا والد بشارت اور خاندان کے دیگر افراد فرار ہو گئے ہیں۔ مبشر احمد نے دوران تفتیش را کا ایجنٹ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اے ایس پی نے بتایا کہ پندرہ روز تک ہم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا پتہ چلا لیں گے۔
(روزنامہ خبریں لاہور ۵ ستمبر ۲۰۰۴ء، ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۴ء ص ۲۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷سو قادیانیوں کو حجاج کے روپ میں مکہ بھیجنے کا منصوبہ
قادیانی قیادت نے حج کے اجتماع میں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے ۱۷۰۰ رکنی ٹیم بھیجنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ قادیانی قیادت کے ۱۱۴ اہم مرکزی افراد اس ٹیم کی سربراہی کریں گے۔ یورپ سے ۴۰۰ جب کہ بنگلہ دیش، بھارت، مصر اور شام سے ۶۰۰ سے زائد قادیانی حجاز مقدس بھیجے جانے کی اطلاعات ہیں۔ قادیانیوں کے انتہائی باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قادیانی سربراہ مرزا مسرور نے اس سال حج کے موقع پر دنیا بھر سے حجاز مقدس پہنچنے والے مسلمانوں میں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ۱۷۰۰ سے زائد قادیانیوں پر مشتمل ایک ٹیم روانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر کے قادیانی حج کے موقع پر قادیانی عقائد و نظریات کی تبلیغ کا کام انجام دیں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق قادیانی مرکز نے اس سلسلے میں ایک ۱۴ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی ہے جو ان ۱۷۰۰ قادیانیوں کی حجاز مقدس میں معاونت کرے گی اور انہیں ضروری ہدایات اور لٹریچر فراہم کرے گی۔
ذرائع کے مطابق ان مرکزی افراد میں سابق سیکرٹری مال محمد گجر، سابق ریجنل امیر جرمنی چوہدری سعید الدین گجر، ریجنل امیر یورپ سید بشارت احمد، میجر رانا وحید ظفر، منیر احمد منیب، طارق وڑائچ لندن، ڈاکٹر نصیر احمد، راجہ مسعود احمد، نیشنل سیکرٹری امور عامہ ڈاکٹر محمد طاہر، حسن کابلی قریشی، مسعود قریشی، نصیر اور سید جاوید شامل ہیں۔ جب کہ پاکستانی وفد کی قیادت ڈاکٹر شریف کرے گا جو ان دنوں چناب نگر میں ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سال تقریباً ۷۰۰ سے زائد قادیانیوں کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد ۱۲۰۰ کے قریب تھی۔ ذرائع کے مطابق لندن سمیت دیگر یورپی ممالک سے اس سال ۴۰۰ قادیانی مربی تبلیغ قادیانیت کے لئے حجاز مقدس جانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ جب کہ بھارت اور بنگلہ دیش سے ۳۵۰ کے قریب قادیانیوں کو حجاز مقدس بھیجنے کی منظوری دی گئی ہے۔ مصر اور شام سمیت دیگر ممالک بشمول امریکا سے بھی قادیانی قیادت کی جانب سے قادیانیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ بھی حجاز مقدس کا سفر کریں۔ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے تا حال خود کو قادیانی ڈکلیئر نہیں کیا اور وہ مسلمانوں کے درمیان اپنی تبلیغی سرگرمیاں غیر اعلانیہ طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ مرکزی قیادت حجاز مقدس میں ان افراد کو حسب ضرورت قادیانی لٹریچر، تبلیغی مواد اور آڈیو کیسٹیں اور دیگر امور فراہم کرے گی۔ جب کہ حج کے موقع پر لاکھوں مسلمانوں کے درمیان بڑی تعداد میں قادیانی موجود ہوں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں نے سعودی حکومت سے بھی درخواست کی کہ وہ (ان ناپاک جسموں) قادیانیوں کو حجاز مقدس میں داخل نہ ہونے دے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۵ء ص ۵۲ تا ۵۴)
صدر پرویز کی امریکہ میں قادیانیوں کے اجتماع میں شرکت
لاطینی امریکہ کے دورے پر پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف ۔ صدر بش کے ساتھ پون گھنٹے کی ملاقات کے لئے وائٹ ہاؤس پہنچے تو صدر بش نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ صدر بش کے ساتھ مختصر سی ملاقات کے بعد صدر پرویز نے مستعفی ہونے والے وزیر خارجہ کولن پاول کے ساتھ بھی ملاقات کی اور انہیں اپنے بیوی بچوں سمیت پاکستان آنے کی دعوت دی۔ کولن پاول کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر پرویز مشرف مقامی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر مبشر احمد کے گھر تشریف لے گئے۔ جہاں ان کے علاوہ چار سو کے قریب دوسرے مہمان بھی موجود تھے۔ چونکہ ڈاکٹر مبشر احمد کا تعلق جماعت احمدیہ (مرزائی جماعت) سے ہے۔ اس لئے مہمانوں کی اکثریت احمدیوں (مرزائیوں) کی تھی۔ بھارتی احمدیوں کی ایک کثیر تعداد بھی اس دعوت میں مدعو تھی اور اتنے بھارتی احمدی واشنگٹن کی کسی پاکستانی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ۵۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تقریب میں اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے۔ جماعت احمدیہ کی لیڈر شپ بھی آئی تھی۔ ڈاکٹر مبشر احمد، چوہدری شجاعت حسین کے خصوصی معالج بھی ہیں اور واشنگٹن میں ان کے میزبان بھی۔ ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ سعدیہ چوہدری وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کی مشیر تعلیم ہیں اور اس دعوت کی میز بانی کے لئے خصوصی طور پر لاہور سے واشنگٹن تشریف لائی ہیں۔ پاکستان کی خاتون اول صہبا پرویز کے ساتھ رشتہ داری کا دعویٰ کرنے والی سعدیہ چوہدری واشنگٹن میں ایک بے باک، انتہائی فیشن ایبل اور لبرل خاتون کی شہرت رکھتی ہیں اور واشنگٹن ایریا میں کئی فیشن شو کروا چکی ہیں۔ لبرل اور سیکولر طبقہ میں وہ بڑی روشن خیال تصور کی جاتی ہیں۔
کسی پاکستانی سربراہ مملکت کا امریکہ میں ایک پرائیویٹ شہری کی دعوت میں اس طرح شرکت غیر معمولی واقعہ ہے اور واشنگٹن میں اس پاور لنچ کے متعلق چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ لنچ کی اس دعوت میں اگرچہ انڈین اور دوسرا غیر ملکی میڈیا مدعو تھا لیکن مقامی پاکستانی میڈیا کو بری طرح نظر انداز کیا گیا اور ایک آدھ پاکستانی صحافی اس دعوت میں نظر آیا بھی تو وہ بھی وہاں ڈاکٹر صاحب کا ذاتی دوست ہونے کی وجہ سے مدعو تھا نہ کہ پاکستانی صحافی ہونے کی حیثیت سے۔ ڈاکٹر مبشر احمد کہتے ہیں کہ انہوں نے صحافیوں کے دعوت نامے ایمبیسی حکام کو بھجوا دیئے تھے اور اگر ایمبیسی حکام نے یہ دعوت نامے آگے صحافیوں کو نہیں دیئے تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ ڈاکٹر مبشر احمد کے لنچ کے دعوت نامے صحافیوں کو پہنچانے کی ذمہ داری مشتاق ملک کو سونپی گئی لیکن انہوں نے یہ ذمہ داری بالکل نہیں نبھائی اور ایک بھی صحافی کو کال نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر مبشر احمد کے گھر کھانے سے پہلے چوہدری شجاعت اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان بند کمرے میں ایک ملاقات ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری فروری ۲۰۰۵ء ص ۲۹)
پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کمیٹی کا قیام
وفاقی کابینہ نے پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کے مسئلہ پر سفارشات تیار کرنے کے لئے وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
وزیر اعظم شوکت عزیز ایک روشن خیال انسان ہیں۔ عمر بھر انہوں نے عالمی سطح کے اداروں کے لئے کام کیا ہے اور وہ متعدد اداروں کے سربراہ کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جو کام کرنے ہوں وہ کس طرح کئے جاتے ہیں اور جن کو لٹکانا ہو وہ کس طرح راہ راست سے بھٹکائے جاتے ہیں۔ پاکستانی پاسپورٹ میں اوّل روز سے مذہب کا خانہ موجود ہے۔ کیونکہ قیام پاکستان کی بنیاد ہی اسلام اور دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ہو یا نہ ہو، مگر پاکستان کے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ پہلے بھی موجود تھا۔ اب بھی ہونا چاہئے۔ کیونکہ جن لوگوں کو خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے روکنا مقصود ہے وہ زیادہ تر پاکستان میں ہی رہتے ہیں پیپلز پارٹی ایسی سیکولر سوشلسٹ پارٹی کے دور میں ہی پاکستانی قومی اسمبلی نے ہی انہیں ان کا تفصیلی مؤقف سننے کے بعد غیر مسلم قرار دیا جو کہ ہمارے آئین میں درج ہے۔ کسی اور ملک کے آئین میں ایسی کوئی شق نہیں ہے۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کے لئے بنائی جانے والی کمیٹی میں صرف وہ لوگ شامل ہیں جن کا اس معاملہ سے براہ راست تعلق ہے۔ ایک وزیر داخلہ جو کہ پاسپورٹ کے محکمہ کے وزیر ہیں اور دوسرے وزیر مذہبی امور حج و اوقاف۔ جنہیں سعودی حکومت کی طرف سے براہ راست اس سلسلہ میں اعتراض وصول ہو رہے ہیں۔ یہ کمیٹی کابینہ کے آئندہ اجلاس تک کیا رپورٹ بنائے گی؟ پاسپورٹ میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذہب کے خانہ کو بحال کرنا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کے لئے ایسی گہری بنیادوں پر غور و خوض کیا جائے۔ اس خانہ کو ختم کرنے کے لئے بھی نہ کابینہ کا اجلاس ہوا اور نہ ہی اس پیمانہ پر لکھت پڑھت ہوئی۔ حکومت عوام کو بتائے کہ آخر یہ مذہب کا خانہ بحال کرنے میں اصل دقت اور پریشانی کیا ہے؟ کیا ہمیں اپنے ملک کے شہریوں کے لئے دستاویزات بھی امریکہ و برطانیہ یا کسی اور ملک کی ہدایات کے مطابق تیار کرنا ہوگی؟ پاکستان میں جمہوریت ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز اس سلسلہ میں کئی اعلانات کئے ہیں۔ جناب چوہدری شجاعت حسین بھی اس کے داعی ہیں۔ ان کے سمیت وزیر مذہبی امور بھی اعلان کر چکے ہیں کہ یہ خانہ بحال کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس اعلان کے بعد وہ کس منہ سے جماعتی اور وزارتی عہدوں پر فائز ہیں۔ وہ مستعفی کیوں نہیں ہوئے۔ مگر یہ جمہوریت کس حد تک ہے اور کتنی ہے۔ جمہوریت میں عوام کے مطالبہ پر عملدرآمد میں اس قدر حیل و حجت کیوں؟
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری فروری ۲۰۰۵ء ص ۳ تا ۷)
پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ، جناب پرویز مشرف کی حقیقت پسندی
برصغیر میں انگریز حکومت کے مفادات کی پشتیبانی کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی سے جھوٹا دعویٰ نبوت کرایا گیا۔ تب سے اب تک امت مسلمہ قادیانی سازشوں کا انگریزی جال توڑنے کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔ محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے عہد اقتدار میں قادیانیوں کو پارلیمنٹ میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ آئینی ترمیم کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کئے گئے:
- ۱...... شناختی کارڈ فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کیا گیا۔
- ۲...... پاسپورٹ فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کیا گیا۔
- ۳...... ووٹرلسٹوں میں یہی حلف نامہ شامل کیا گیا۔
- ۴...... پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا گیا۔
یہ اقدامات اس لئے کئے گئے کہ قادیانی گروہ نے اس آئینی ترمیم کو تسلیم کرنے سے انکار کر کے آئین سے بغاوت کا ارتکاب کیا تھا۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر کہنے پر مصر تھے۔ وہ کسی طرح اپنے آپ کو غیر مسلم نہ کہتے تھے۔ مسلمانوں کے لئے ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کیا گیا تاکہ جو حلف نامہ پر کرے اسے مسلم شمار کیا جائے گا۔ قادیانیوں کے لئے مشکل پیدا ہوگئی۔ اگر وہ ختم نبوت کا حلف نامہ پر کرتے ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کے کذاب ہونے پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ اگر حلف نامہ پر نہیں کرتے تو ان دستاویزات میں خود کو مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ قادیانی ووٹر لسٹوں میں اس حلف نامہ کے باعث خود کو مسلمان نہ کہہ سکتے تھے۔ تو مجبوراً ووٹ بنوانے سے انکار کر دیا۔ یہ چیزیں ان کے مسلمان کہلانے میں روک تھیں۔ وہ مناسب موقعہ کی تلاش میں رہے۔
اس کے لئے جرنیلی حکومت یعنی جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے زمانہ میں انہوں نے پر پرزے نکالے۔ جسٹس مولوی مشتاق عدالتی فیصلہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر دستخط کر چکے تھے اور حالات سے خوف زدہ تھے کہ نئے الیکشن میں اگر پیپلز پارٹی برسر اقتدار آ گئی تو اس فیصلہ کی وجہ سے میرا شکنجہ نہ کس دے۔ جج کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوئے تو انہیں اس فیصلہ کی مزید ”بخششیں“ کے طور پر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے چیف الیکشن کمیشن بنا دیا۔ قادیانی شاطر قیادت نے موقع غنیمت جانا۔ اس کے چیف الیکشن کمشنر بنتے ہی قادیانیوں کی رال ٹپکنے لگی۔ بھاگم بھاگ قادیانی چیف گرو مرزا ناصر نے چیف الیکشن کمشنر مولوی جسٹس مشتاق احمد خاں کے رات کے اندھیرے میں چوروں کی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طرح اس کے درازہ پر ناک رکھ دی۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دو دشمن مشتاق اور مرزا ناصر دونوں نے سازش کی جس میں طے پایا کہ مشتاق چیف الیکشن کمشنر ہونے کے ناتے ووٹر فارم کے حلف نامہ میں ایسی تبدیلیاں کر دے کہ قادیانی ہونے کے باوجود ہر قادیانی کے لئے اس حلف نامہ کا پر کرنا ممکن ہو جائے۔ رام بھی ناراض نہ ہو اور خدا بھی راضی ہو جائے اور قادیانی، حلف نامہ میں تبدیلی کے معاوضہ میں جسٹس مشتاق کو عالمی عدالت کا جج بنوا دیں گے۔ اس وقت ہیگ عالمی عدالت میں قادیانیت کا نفس امارہ سر ظفر اللہ خان قادیانی موجود تھا۔ اس معاہدہ پر میٹنگ ختم ہوگئی۔
”من در چہ خیالم و فلک در چہ خیال“ کے مطابق خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا تاج محمود کو جسٹس مشتاق اور مرزا ناصر کی خفیہ ملاقات کی بھنک پڑ گئی۔ ہفت روزہ لولاک فیصل آباد میں یہ خبر شائع ہوگئی۔ تب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری تھے اور قومی اتحاد کے سربراہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود تھے۔ مولانا جالندھری اسلام آباد تشریف لے گئے۔ مولانا مفتی محمود شوگر کے باعث پاؤں کے زخم کے علاج کے لئے سی ایم ایچ راولپنڈی میں زیر علاج تھے۔ مفتی صاحب نے نواب زادہ نصر اللہ خان کو جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے پاس بھیجا۔ ضیاء الحق صاحب نے انکوائری کی۔ معلوم ہوا کہ کروڑوں کی تعداد میں ترمیم شدہ فارم چھپ گئے ہیں۔ ضیاء صاحب نے اس فارموں کو ضائع کرنے کی صورت میں کروڑوں کے قومی نقصان کا بہانہ کیا۔ مفتی صاحب نے ضیاء الحق صاحب سے رابطہ کیا۔ وہ عمرے کے لئے محو پرواز تھے۔ جدہ ایئر پورٹ پر رابطہ ہوا۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ کروڑوں کے اس نقصان کی مشتاق سے ریکوری کی جائے۔ اسے سزا دی جائے کہ اس نے یہ کھیل کیسے کھیلا؟ اس سے تین باتیں ثابت ہوئیں۔
- ۱...... کہ قادیانی لابی ہمیشہ جرنیلی عہد اقتدار میں سازش کو پروان چڑھاتی ہے۔
- ۲...... اگر اس وقت مشتاق چیف الیکشن کمشنر کو سزا دے دی جاتی تو آئندہ کے لئے ان سازشیوں کو پر پرزے نکالنے کی جرأت نہ ہوتی۔
- ۳...... قادیانی ہمیشہ خود پس منظر میں رہ کر مسلمانوں سے اپنی مطلب براری کرتے ہیں۔ تا کہ پتہ چلنے پر ان پر حرف نہ آئے۔
دوسری بار پھر قادیانی لابی نے چیف الیکشن کمشنر ارشاد حسین کے دور میں سازش کی اور یقین فرمائیے کہ اس کے لئے بھی انہوں نے جرنیلی دور حکومت جناب پرویز مشرف کے دور کا انتخاب کیا کہ وہ موجودہ مخلوط الیکشن میں ووٹرلسٹوں سے حلف نامہ کی عبارت حذف کرا دی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کی بیدار مغزی کام آئی۔ پورے ملک کی سیاسی، مذہبی، قوتوں کو ختم نبوت آل پارٹیز کنونشن میں لاہور جمع کر کے حکومت سے مطالبہ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے حقیقت پسندی سے کام لیا اور پھر یوں ووٹر فارم میں ختم نبوت کا حلف نامہ بحال ہوا۔ لیکن اس وقت انہوں نے بھی ان افراد کو تنبیہ نہ کی۔ جنہوں نے تانا بانا تیار کیا تھا۔ ورنہ ان کو آئندہ کے لئے جرأت نہ ہوتی۔ تیسری بار اب کمپیوٹرائز پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ حذف کر دیا گیا ہے۔ اسلامیان پاکستان اور جانثاران ختم نبوت کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ اس لئے ضروری تھا اور ہے کہ:
- ۱...... اس سے قادیانیوں اور مسلمانوں میں تمیز قائم ہوتی ہے۔
- ۲...... قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا یہ آئینی تقاضہ ہے۔
- ۳...... قادیانیوں کے لئے بوجہ غیر مسلم ہونے کے حرمین شریفین میں داخلہ کے لئے روک ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذہب کا خانہ عرصہ پچیس سال سے پاسپورٹ میں موجود تھا۔ اب فوری وہ کونسی مجبوری یا ضرورت تھی جس کی بنیاد پر اسے حذف کیا گیا؟ سوائے اس کے کہ قادیانی لابی کے کسی فرد یا افراد وہ وزارت داخلہ میں ہوں یا نادرا میں۔ انہوں نے مذہب کے خانہ کے بغیر ڈیزائن تیار کر کے چپکے سے کسی کو کانوں کان خبر کئے بغیر اس ڈیزائن کی منظوری لے لی ہوگی اور پھر یوں ملک کو ایک بار آزمائش میں ڈال دیا گیا۔
خدایا! اس ملک میں کوئی قانون ہے؟ اس ملک کا کوئی وارث ہے؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں طے شدہ مذہبی معاملات کو کیوں متنازعہ بنایا جارہا ہے؟ اس پر جتنا افسوس و صدمہ ہو کم ہے۔ الیس منکم رجل رشید!
اسلام کی شناخت اور پاکستان کی صورت کو مسخ کیا جارہا ہے۔ زندہ قومیں اپنے تعارف و شناخت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ہم شناخت نامہ سفری دستاویز میں اسلام کی شناخت کو اپنے لئے گراں سمجھتے ہوئے۔ کہیں یہ گرانی ہمیں ظلمت کی گہرائی میں نہ لے جائے۔ اس کے تصور سے روح کی موت واقع ہوا چاہتی ہے۔
جناب پرویز مشرف صاحب بار ہا اعلانیہ فرما چکے ہیں کہ میں حقیقت پسند ہوں۔ ان کی حقیقت کو ہم بصد عجز و ادب دہائی دیتے ہوئے عرض گزار ہیں کہ:
- ۱...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ آئینی تقاضا تھا۔
- ۲...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ منکرین ختم نبوت کی چالوں کا توڑ تھا۔
- ۳...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ مسلم اور غیر مسلم میں تمیز و فرق تھا۔
- ۴...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ منکرین ختم نبوت کے حرمین میں داخلہ کے لئے روک تھا۔
- ۵...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ امت مسلمہ کی سو سالہ جدوجہد کا نتیجہ تھا۔
- ۶...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ربع صدی سے نافذ العمل تھا۔
- ۷...... پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی حذفی عذاب خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
یقین کامل ہے کہ صدر مملکت جناب جنرل پرویز مشرف کے علم کے بغیر اور وزیر اعظم شوکت عزیز کی دور بین نگاہ کرم کے بغیر یار لوگ قادیانیوں نے ہاتھ دکھایا ہوگا۔ لیکن وفاقی وزیر داخلہ جناب آفتاب شیر پاؤ کے بارہ میں ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کی لاعلمی میں ایسے ہو گیا ہوگا۔ اس لئے کہ محترم وفاقی وزیر داخلہ کے پشاور میں قادیانی لابی میں گھرے ہونے کی سرحد کے در و دیوار شہادت دیتے ہیں۔ موصوف پکے مسلمان ہیں۔ اپنے سے ان کو ہم اچھا مسلمان سمجھتے ہیں۔ لیکن قادیانی لابی کے ہالہ میں محبوس ہونے سے وہ انکار نہیں کریں گے۔ ان کے الیکشن اور حکومت سازی کی کوششوں میں قادیانی لابی نے بھر پور لابنگ کی اور اب پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے خاتمہ سے اس کا نقد معاوضہ وصول کر لیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! متذکرہ بلند و بالا شخصیت سے خدا اور رسول کے نام پر درخواست ہے کہ اپنے کئے کا مداوا فرما کر اسلامیان پاکستان اور عقیدہ ختم نبوت پر رحم کریں۔ اس کی تلافی کریں۔ دیر گیرد سخت گیرد!
صدر مملکت! پاکستان، اسلام اور اسلامیان پاکستان پر رحم کریں اور پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی اور جنہوں نے اسے حذف کرنے کا ناٹک رچایا ان کی ایسی گوشمالی کریں کہ آئندہ کسی طالع آزما کو یہ جرأت نہ ہونے پائے۔ کیا ایسا ہو جائے گا؟ یہ جناب پرویز مشرف صاحب کی حقیقت پسندی سے ہماری عاجزانہ درخواست ہے۔ کیا اسے درخور اعتنا سمجھا جائے گا۔ یا مظلوم امت مسلمہ کو پھر ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کی صدا پاکستان کے گلی کوچوں میں بلند کرنی پڑے گی۔ یہ اب ان کی سوچ پر مبنی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟ امید ہے کہ فوری توجہ کامل فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشیں ۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
صدر مملکت جناب پرویز مشرف صاحب کے نام کھلا خط
جناب عالی! ایک ضروری، اہم قومی، مذہبی، آئینی حساس مسئلہ کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ حال ہی میں جدید کمپیوٹرائز پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ حذف کر دیا ہے۔ جس سے اسلامیان پاکستان سخت ہیجان میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس لئے قادیانیوں کو آئین پاکستان میں واضح طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ قادیانی شرعی و آئینی طور پر غیر مسلم ہونے کے باوجود پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ہونے کے باعث حرمین شریفین چلے جاتے تھے۔ حالانکہ حرمین شریفین میں ان کا قانونی طور پر سعودی عربیہ حکومت نے داخلہ بند کر رکھا ہے۔ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ آئین پاکستان کا تقاضہ ہے۔ تا کہ مسلمان اور قادیانیوں میں تمیز و فرق قائم ہو سکے۔ گزشتہ پچیس برس سے پاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود تھا۔ اب پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کو حذف کر کے آئین سے انحراف کیا گیا۔ قادیانیوں کے حرمین شریفین میں داخلہ کے لئے روک کو دور کر دیا گیا۔ مسلمانوں اور قادیانیوں میں سفری دستاویزات پر شناخت ختم کر دی گئی۔ قادیانی سازش کامیاب ہوگئی اور مسلمان قوم، جانثاران ختم نبوت ایک نئی آزمائش میں مبتلا کر دیئے گئے۔ یقیناً آپ کو لاعلم رکھ کر قادیانی لابی نے ہاتھ دکھایا۔ پہلے بھی متعدد مواقع پر وہ ایسی وارداتیں کرتے رہے ہیں اور ہر دفعہ ان کو منہ کی کھانی پڑی۔ اب وہ آپ کے عہد اقتدار میں اس سازش میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ قبل اس کے ملک بھر میں اس ایشو پر شور شرابہ ہو۔ آپ فوری توجہ فرمائیں اور ایک طے شدہ مسئلہ کو متنازعہ ہونے سے بچائیں۔ جن افراد نے ایسا کیا انہیں قرار واقعی سزا دیں۔ تا کہ آئندہ کسی طالع آزما کو ایسی سازش دہرانے کی جرأت نہ ہو سکے۔ آپ کی ذات گرامی سے توقع ہے کہ فوری اس کی تلافی کر کے اسلامیان پاکستان کی دعاؤں سے سرفراز ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق مزید سے ہمکنار فرمائیں۔ آمین!
حکومت فوری طور پر پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کو بحال کرے
ملتان: ۲۳؍نومبر ۲۰۰۴ء۔ اسلامیان برصغیر کی سو سالہ اور اسلامیان پاکستان کی نصف صدی پر محیط جدوجہد کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے پاسپورٹ کے فارموں میں حلف نامہ اور پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا گیا۔
مخلوط یا جداگانہ طرز انتخاب دونوں صورتوں میں ووٹر فارم میں ختم نبوت کے حلف نامہ کا اضافہ کیا گیا۔
پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ جہاں آئینی ضرورت تھی۔ وہاں اس لئے بھی ضروری تھا کہ قادیانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ نہ ہونے کے باعث حرمین شریفین چلے جاتے تھے۔ حکومت سعودی عرب نے شاہ فیصل مرحوم کے زمانہ میں قادیانیوں کے حرمین شریفین میں داخلہ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ علاوہ ازیں پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے ہونے سے قادیانیوں اور مسلمانوں میں تمیز اور فرق قائم ہو گیا تھا۔ ربع صدی سے اس پر عمل درآمد ہو رہا تھا۔ قادیانی اس آئینی ترمیم کو نہیں مانتے اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے پر اصرار کر کے مسلمانوں کے حقوق غصب کرنا چاہتے تھے۔ آئین سے انہوں نے صراحتاً بغاوت کا وطیرہ اختیار کیا۔ ان کو آئین کا پابند بنانے کی بجائے اب
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
موجودہ حکومت نے نئے کمپیوٹرائز بننے والے پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ربع صدی سے قادیانی جن سازشوں کا تانا بانا تیار کر رہے تھے اب وہ اس میں کامیاب ہو گئے ۔ جو ایک بہت بڑا حادثہ اور اسلامیان عالم کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔
ربع صدی سے ایک طے شدہ امر کو متنازعہ بنانا افسوسناک امر ہے۔ خالصتاً مذہبی اساسی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سوسالہ جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ اس پر جتنا افسوس اور غم کیا جائے کم ہے۔
ان حالات پر غور کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا فوری لاہور میں اجلاس طلب کر لیا ہے۔
۲۶/نومبر ۲۰۰۴ء کے جمعہ کو ملک بھر کی تمام جامع مساجد میں خطیب حضرات سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ احتجاجی قراردادیں منظور کرائیں۔
ملک بھر کے اپنے دفاتر اور جماعتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ضلعی مقام پر مجلس تحفظ ختم نبوت میں شامل دینی جماعتوں اور شخصیات کے اجلاس طلب کر کے صورت حال ان کے سامنے رکھیں۔
ان حالات میں ہماری صدر مملکت پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ سے درخواست ہے کہ وہ اس حساس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کو بحال کریں۔ پاکستان آئینی طور پر ایک اسلامی جمہوری مملکت ہے۔ اس کے تمام تر قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں اسلام کے مطابق بنانا حکومتی ذمہ داری ہے۔ اسے پورا کرنے کی بجائے پہلے سے موجود طے شدہ امور کو آئین سے ہٹ کر ختم کرنا افسوس ناک ہے۔ اس کا حکومت مداوا کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
قومی پریس، دانشور، قانون دان، علماء اور مشائخ تمام حضرات سے اپیل ہے کہ وہ اس دینی اسلامی مسئلہ کے تحفظ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا فرمائیں۔
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ملتان کے زیر اہتمام آل پارٹیز کنونشن
(مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی ملتان میں پریس کانفرنس)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مجلس کے مرکزی دفتر میں پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے کے خلاف آل پارٹیز ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ نے کی۔ کنونشن میں مسلم لیگ (نون)، پیپلز پارٹی، پی۔ٹی۔ڈی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، متحدہ مجلس عمل، وفاق المدارس العربیہ پاکستان، مجلس علمائے اہل سنت، تنظیم اہل سنت، جماعت اسلامی، مرکزی جمعیت اہل حدیث، جماعت اہل سنت، مجلس احرار اسلام، اسلامی تحریک، قومی تاجر اتحاد، چیمبر آف سمال ٹریڈرز، اہل حدیث یوتھ فورس، کاروان حق، پاور لومز ایسوسی ایشن، تاجر رہنما اور دیگر مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔
آل پارٹیز ختم نبوت کنونشن میں متفقہ طور قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان نئے بننے والے پاسپورٹوں میں مذہب کا خانہ بحال کرے۔ قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم کا منطقی تقاضہ پورا کرنے اور حدود حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاً وتعظیماً میں قادیانیوں کا داخلہ روکنے کے لئے ربع صدی سے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود تھا۔ اب اسے حذف کر کے آئینی ترمیم کے تقاضوں کو ڈائنامیٹ کیا گیا ہے جو خالصتاً قادیانی عزائم کی تکمیل ہے۔ اس سے اسلامیان پاکستان کے بالخصوص اور عالم اسلام کے مسلمانوں کے بالعموم جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ پاکستان میں آئینی و
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قانونی طور پر طے شدہ معاملات کو متنازعہ بنا کر مملکت کو غیر مستحکم کرنے کی غیر شعوری کوشش کی گئی ہے۔
یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آئینی امور کو متنازعہ نہ بنایا جائے اور اس غیر آئینی اقدام کو واپس لیا جائے۔ صدر مملکت، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ فوری طور پر اس زیادتی کا نوٹس لے کر اس کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دیں۔ یہ اجلاس حکومت پر واضح کرتا ہے کہ رحمت دو عالم ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلہ کے تحفظ کے لئے سب کچھ قربان کرنا اسلامیان عالم کے ایمان کا حصہ ہے۔ اس مسئلہ سے حکومتی زیادتی یا بے اعتنائی ناقابل برداشت ہے۔ حکومت پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرے۔
یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ بغیر مذہب کے خانہ کے جو پاسپورٹ بنے ہیں انہیں کینسل کیا جائے۔ ورنہ اس کے لئے امت مسلمہ اپنی تمام تر جدوجہد ازسرنو شروع کردے گی۔ اس کے لئے ملک گیر ہڑتال، قومی اسمبلی و سینٹ کے سامنے مظاہرے اور تحریک کسی بھی امر سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ حکومت قادیانی لابی کے سامنے سپر انداز ہونے کی بجائے امت مسلمہ کے مسئلہ ختم نبوت سے متعلق مؤقف اور سابقہ روایات کو سامنے رکھے۔ حکومت نے غیر آئینی اقدام واپس نہ لیا تو یہ ملک گیر تحریک کی طرف امت کو دھکیلنے کی حکومتی پالیسی سمجھا جائے گا۔ امت مسلمہ کے تمام طبقات، تمام دینی و سیاسی جماعتیں مسئلہ ختم نبوت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔ اس وقت تک جو کمپیوٹرائز پاسپورٹ بغیر خانہ مذہب کے جاری ہوچکے ہیں ان کو کینسل کیا جائے۔ اس کے تمام اخراجات ان ذمہ دار حضرات سے وصول کئے جائیں جنہوں نے یہ کھیل کھیلا ہے اور اس تمام کھیل کی انکوائری کی جائے اور مطلوبہ اشخاص کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ تاکہ آئندہ اس قسم کے گھناؤنے جرم کرنے کی کسی بھی شخص کو جرأت نہ ہو۔ حکومت عشق مصطفیٰ ﷺ کا امتحان نہ لے۔ ورنہ اس کے سامنے نہ ٹھہر سکے گی۔
یہ اجلاس حکومت کو واضح طور پر متنبہ کرتا ہے کہ ایک بھی منٹ ضائع کئے بغیر پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۵ء ص ۳۳ تا ۳۹)
پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ پر حکومتی اعتراضات، جائزہ اور تازہ ترین صورت حال
گورنمنٹ پاکستان نے کمپیوٹرائز ریڈ ایبل پاسپورٹ جاری کرنے شروع کئے۔ معلوم ہوا کہ ان سے مذہب کا خانہ نکال دیا گیا ہے۔ یہ سنتے ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملک کی اہم دینی شخصیات سے رابطے کئے۔ مجلس کے مبلغین کا ہنگامی چار روزہ اجلاس ملتان میں طلب کیا۔ ۲۵؍نومبر کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ لاہور، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، گوجرانوالہ اور ملتان میں آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شریک دینی جماعتوں ، شخصیات اور نمائندگان کے مشاورتی اجلاس طلب کئے گئے اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ اس افسوسناک حکومتی کاروائی پر پورے ملک میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل نے اسے اپنی جدوجہد کا حصہ بنایا ہے۔ ملک بھر کے اخبارات میں خبریں ، مراسلے اور مضامین شائع ہوئے اور بعض قومی اخبارات نے اس پر ادارتی نوٹ تحریر کئے۔ صدر پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ کے نام خطوط ، ٹیلی گرام، عرضداشتیں ہزاروں کی تعداد میں بذریعہ فیکس اور ڈاک ارسال کی گئیں۔ قومی اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرائی گئی۔ ۲؍دسمبر ۲۰۰۴ء کو سینٹ کے اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کے ممبران پوائنٹ آف آرڈر پر اس کو زیر بحث لائے۔ وزیر داخلہ ڈاکٹر وسیم شہزاد نے جواب میں بعض تیز وترش باتیں کہیں جو انتہائی اشتعال انگیز تیز وتند تھیں۔ ترتیب وار ان کا جائزہ پیش خدمت ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۱ مثلاً اگر مذہب کا خانہ حذف ہوا تو اس سے کونسی قیامت آ گئی؟
وزیر مملکت ڈاکٹر وسیم شہزاد سے کوئی اللہ کا بندہ دریافت کرے کہ برصغیر میں تحریک ختم نبوت اور قادیانیوں کے خلاف ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد پر آپ کی نظر نہیں ہے یا آپ اس سے بے خبر ہیں۔ اگر واقف ہیں تو اس سے متعلق اس طرح کے ریمارکس شدید توہین آمیز ہیں۔ ہاں! اس طرح کے کلام سے کوئی اپنے آقایان یا ولی نعمت کو خوش کرنا چاہتے ہوں تو وہ کسی اور مسئلہ کو موضوع سخن بنا کر اپنی اس مجبوری کو پورا کر لیں۔ لیکن اگر وہ قیامت قبل از وقت دیکھنے کے خواہش مند ہوں تو ایک واقعہ کو بڑے ادب سے ان حضرات کی خدمت میں گزارش کیا جاسکتا ہے کہ : ’’ امت مسلمہ کی مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد جس کے نتیجہ میں مسلم ووٹر فارموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل ہوا تھا جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ریٹائرڈ جسٹس مولوی مشتاق صاحب چیف الیکشن کمشنر نے تبدیل کر کے مسئلہ ختم نبوت کے خلاف سازش کی تھی۔ یہ صاحب جب فوت ہوئے تو ان کا جنازہ لا کر نماز پڑھنے کے لئے ایک درخت کے نیچے رکھا گیا تو درخت سے شہد کی مکھیوں کے پورے چھتہ نے اڑ کر ان کی لاش پر اس طرح حملہ کر دیا کہ ایک انچ کفن کی سفیدی بھی نظر نہ آتی تھی۔ تمام حاضرین جنازہ کو بے گور و کفن چھوڑ کر دور جا کر استغفار کرتے رہے۔ تمام حاضرین دم بخود تھے کہ کیا ماجرا ہوا؟ کافی دیر بعد ایک ساتھ مکھیوں کا لشکر جرار واپس چلا گیا اور ایک مکھی تک نہ رہی۔‘‘
مسئلہ ختم نبوت کے جس پہلو کو اب نظر انداز کیا گیا ہے ماضی قریب میں نظر انداز کرنے والے کو دنیا میں قیامت تو نہیں البتہ قیامت کا منظر دکھا دیا گیا ہے۔ ویسے اگر توجہ کی جائے تو پچیس سال سے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود تھا۔ کیا ہمیں اجازت ہے کہ ہم سوال کریں کہ ایسی کونسی قیامت آ گئی تھی جس کی وجہ سے اسے حذف کیا گیا؟
- ......۲ وزیر مملکت ڈاکٹر وسیم شہزاد نے یہ بھی فرمایا کہ سعودی عرب کے پاسپورٹ پر مذہب کا خانہ نہیں۔ اس اللہ کے بندہ کو کون سمجھائے
کہ پاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قادیانی حرمین شریفین پر نہ جاسکیں۔ سعودی نیشنلٹی رکھنے والوں کو اندرون ملک پاسپورٹ کی ضرورت نہیں۔ اس کے لئے شناختی کارڈ یا اقامہ کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے تو ان دونوں میں سعودی عرب نے مذہب کا خانہ اتنا واضح رکھا ہوا ہے کہ کمزور نظر والے کو بھی نظر آ جاتا ہے۔
- ......۳ وزیر مملکت ڈاکٹر وسیم شہزاد کا کہنا ہے کہ ملائشیا اور انڈونیشیا کے پاسپورٹوں پر مذہب کا خانہ نہیں تو جناب وسیم شہزاد صاحب!
قادیانیت کا فتنہ ان ممالک کا نہیں پاکستان کا ہے۔ طویل جدوجہد کے بعد پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس کے منطقی نتیجہ میں پاکستان میں پچیس سال سے مذہب کا خانہ موجود تھا۔ ہاں! پاکستان یا انڈیا سے قادیانی فتنہ وہاں معدودے چند پہنچا۔ اس کے لئے بھی دنیا بھر کے سعودی سفارت خانہ میں سے کسی کو اطلاع ہو جائے کہ یہ شخص قادیانی ہے خواہ وہ امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کا کیوں نہ ہو اس کو حرمین شریفین کا ویزہ نہیں ملتا۔ بایں ہمہ کوئی قادیانی چھپ چھپا کر چلا جائے اور سعودی حکومت کو پتہ چل جائے یا پروف مل جائے تو وہ اسے گرفتار کرتے ہیں اور ملک بدر کر دیتے ہیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اسلامی جمہوری مملکت اسلام اور ختم نبوت کی جنگ خود لڑتی اور ان قادیانی کفار کو نص قرآنی کے مطابق حرمین شریفین نہ جانے دیا جاتا۔ کہیں قادیانی ایسی حرکت کرتے تو اسلامی جمہوریہ مملکت کے سفارت خانے اسے اپنا کام سمجھ کر اور دین و ملک کی قانونی جنگ سمجھ لڑتے۔ ان کا دنیا بھر سے حرمین شریفین کے لئے سفر رکوایا جاتا۔ الٹا پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ حذف کر کے ان کفار کو حرمین شریفین جانے کا موقع فراہم کر دیا گیا ہے۔ کم از کم اپنے آئین میں درج اپنے ملک کے نام کی لاج ہی رکھ لی جاتی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴...... وزیر مملکت ڈاکٹر وسیم شہزاد نے فرمایا کہ پاسپورٹ مشین زیادہ خانے قبول نہیں کرتی۔ صاحب! ٹھیک ہوگا۔ لیکن سب سے کمزور
بے کار خانہ آپ کو اسلام اور مذہب کا نظر آیا؟ قیمتی ہیرے کو بے کار پتھر سمجھ کر نکالنے میں اتنی عجلت آخر کیوں؟
- ۵...... وزیر مملکت ڈاکٹر وسیم شہزاد نے فرمایا کہ پاسپورٹ انٹرنیشنل لیول کا بنوایا جارہا ہے تو ان سے عرض ہے کہ انٹرنیشنل لیول پر پورا
اترنے کے لئے آج مذہب کے خانہ کو حذف کیا گیا ہے تو کل انٹرنیشنل لیول پر پورا اترنے کے لئے ہمارے مسلمان ہونے پر اعتراض ہوا تو کیا ہم مسلمان ہونے سے بھی دستبردار ہو جائیں گے؟
جناب وسیم شہزاد صاحب! ایک مسیحی دنیا بھر میں علی الاعلان اپنے آپ کو مسیحی کہتا ہے، ایک ہندو، یہودی اور سکھ اپنے آپ کو ببانگ دہل واضح طور پر وہی کہتے ہیں جو ہیں۔ ہم اپنے مذہب کے اظہار سے کیوں گھبراتے ہیں؟ ابھی چند روز ہوئے ہیں کہ پاکستان کے معروف دانشور جناب عطاء الحق قاسمی کا کالم شائع ہوا ہے کہ امریکہ میں محمد نام والے کو امریکی امیگریشن کا محکمہ زیادہ سوالات کا نشانہ بناتا ہے۔ کیا صاحب! اب محمد عربی ﷺ کے نام مبارک کا لاحقہ بھی اپنے ناموں سے حذف کردیں گے؟ دنیا بھر میں واحد قادیانی غیر مسلم ایسا گروہ ہے کہ غیر مسلم ہونے کے باوجود بطور مسلم کے اپنا تعارف کراتا ہے جو شرع محمدی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے حرمین شریفین میں داخلہ کا قانونی جواز تلاش کرنے کے لئے حکومت گنجائش کیوں نکال رہی ہے؟
- ۵...... وزیر مملکت ڈاکٹر وسیم شہزاد نے فرمایا کہ ہم مذہب کی مہر لگا دیں گے جو چاہیں لگوالے۔ لیکن ان سے استدعا ہے کہ جن قادیانی
شاطر دماغوں نے یہ حذف کرایا ہے کیا وہ مہر لگوانے آئیں گے؟
- ۶...... وزیر مملکت ڈاکٹر وسیم شہزاد نے پھر فرمایا کہ مہر بنوا کر لگوا رہے ہیں۔ اس کی ساری حقیقت اتنی ہے کہ جس صفحہ پر چاہیں گے لگا دیں
گے۔ اصل صفحہ جس پر پاسپورٹ ہولڈر کے کوائف ہیں اس پر ایک مہر بھی نہیں لگی۔ کیوں خلاف واقعہ بات تک کرنے میں بے باکی کا مظاہرہ ہو رہا ہے؟
- ۷...... وزیر مملکت ڈاکٹر وسیم شہزاد نے پھر فرمایا کہ سوفٹ ویئر کی تبدیلی کر رہے ہیں۔ بتدریج ہوگی۔ پندرہ منٹ کا کام اس پر کتنا وقت لگے گا۔
صورت حال:
قارئین و اسلامیان ملک، شیدایان ختم نبوت سے درخواست ہے کہ ۴؍دسمبر ۲۰۰۴ء بروز ہفتہ دفتر پاسپورٹ بند ہونے تک ایک لاکھ کے لگ بھگ بغیر خانہ مذہب کے پاسپورٹ چھپ چکے تھے۔ آج ان سطور کے لکھتے وقت ۴؍دسمبر شام تمام پاسپورٹ بغیر خانہ مذہب کے شائع ہوئے ہیں۔
ریڈ ایبل کمپیوٹرائز پاسپورٹ کے لئے بغیر خانہ مذہب کے جو ڈیزائننگ کی گئی تھی وہی چل رہی ہے۔ نہ نئی ڈیزائننگ ہوئی، نہ اس کے لئے کوئی نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے، نہ نیا ورک آرڈر جاری ہوا ہے۔ صرف زبانی کلامی سیکرٹری داخلہ نے ڈی جی پاسپورٹ کو کچھ کہا۔ انہوں نے کچھ زبانی کلامی آگے سٹاف کو کہہ دیا۔ جسے چاہا مہر لگا دی گئی۔ یہ سب چل چلاؤ، ڈنگ ٹپاؤ والی پالیسی ہے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔
ہمارے اس ضمن میں مطالبات یہ ہیں:
- ۱...... کمپیوٹرائز پاسپورٹ میں جس صفحہ پر پاسپورٹ ہولڈر کے کوائف ہوتے ہیں جسے دنیا بھر میں امیگریشن کا عملہ چیک کرتا ہے،
جہاں پاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ پہلے موجود تھا وہاں مذہب کا خانہ اسی صفحہ پر بحال کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... بغیر خانہ مذہب کے جو پاسپورٹ جاری ہوئے یا چھپ چکے ہیں ان کو کینسل کیا جائے۔
- ۳...... جن قوتوں نے یہ کھیل کھیلا ہے ان سے اس نقصان کی نہ صرف ریکوری کی جائے۔ بلکہ انہیں قرار واقعی سزا بھی دی جائے۔ تاکہ
آئے روز مسئلہ ختم نبوت سے متعلق کھیلا جانے والا یہ کھیل ہمیشہ کے لئے ختم ہو اور آئندہ کسی طالع آزما کو اس کی جرات نہ ہو۔
ان مطالبات میں سے کسی ایک مطالبہ پر ذرہ برابر پیش رفت نہیں ہوئی۔ صاف جھوٹ بولا جارہا ہے اور غلط معلومات دے کر دھوکہ دہی کی جارہی ہے۔ شیدایان ختم نبوت اور آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شریک تمام جماعتوں سے وابستہ افراد و اداروں کے ایک ایک کارکن سے استدعا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ امید ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک ہم دینی جماعتوں کا سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تاریخ مقرر کر دیں گے۔ آپ احتجاج جاری رکھیں۔ حتمی لائحہ عمل کا انتظار فرمائیں۔ خیر مقدم، اظہار تشکر سب غلط فہمیاں اور حکومتی اعلان سب سراب ہیں۔ انہیں خاطر میں نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے حامی و ناصر ہوں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری، فروری ۲۰۰۵ء ص ۱۸ تا ۲۲)
پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کا خاتمہ ملک کو سیکولر بنانے کی سازش ہے
پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ حذف کئے جانے پر ملک میں شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ حکومت اس مسئلے کو جس طرح طول دے رہی ہے تحریک میں اسی قدر تیزی آ رہی ہے۔ اس وقت ملک کی تمام مذہبی جماعتیں ختم نبوت کے محاذ پر اکٹھی ہو چکی ہیں اور انشاء اللہ ! یہ تحریک قادیانیت کے خاتمہ کی تحریک ہو گی۔ اس سلسلہ میں ۱۸؍ دسمبر ۲۰۰۴ء کو اسلام آباد میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے علاوہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب، جناب قاضی حسین احمد صاحب، جناب ظفر اقبال جھگڑا، جناب حافظ حسین احمد، جناب علامہ ساجد نقوی صاحب، جناب ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا سمیع الحق صاحب، مولانا نذیر احمد فاروقی صاحب، جناب عبدالرشید صاحب، مولانا امیر حسین گیلانی صاحب، جناب صاحبزادہ عتیق الرحمٰن، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالغفور حیدری صاحب اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین حضرات نے شریک ہو کر ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ اس مسئلہ پر متحد و متفق ہے۔ اس کنونشن میں ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا کہ جمعہ ۲۴؍ دسمبر ۲۰۰۴ء کو ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ جن کی قیادت مذہبی و سیاسی جماعت کے قائدین کریں گے۔ چنانچہ پورے ملک میں ہر چھوٹے بڑے شہر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
اسلام آباد میں مظاہرہ: آل پارٹیز ختم نبوت کنونشن کی اپیل پر پورے ملک کی طرح اسلام آباد میں نماز جمعہ کے بعد آبپارہ چوک میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس کی قیادت متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر و ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے چیئرمین مولانا حافظ حسین احمد صاحب، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ، اسلام آباد سے ایم ایم اے کے رکن قومی اسمبلی جناب میاں محمد اسلم، مبلغ ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد صاحب، مولانا نذیر احمد فاروقی صاحب نے کی۔ مسجد شہداء میں مولانا حافظ حسین احمد نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ریڈ ایبل پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال نہیں ہوتا اس وقت تک تحریک جاری رہے گی۔ مقررین نے کہا کہ آج پوری قوم سراپا احتجاج ہے۔ لادینی اور صہیونی لابی پاکستان کے دستور کو سیکولر بنانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ کبھی شناختی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کارڈ، کبھی ووٹر لسٹ کے ذریعہ قادیانیوں کے عزائم کی تکمیل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل پارلیمنٹ میں سراپا احتجاج نہ ہوتی تو آج حکمران ۱۹۷۳ء کے دستور سے اسلامی دفعات ختم کر دیتے۔ مقررین نے کہا کہ ہم سعودی عرب میں قادیانیوں کو بھجوانے کی سازش ناکام بنا دیں گے۔ اگر سعودی حکومت نے بغیر خانہ مذہب کے حج وعمرہ کا ویزا جاری کیا تو پھر ہم وہاں بھی احتجاج کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ ہم حکمرانوں کے بارے میں تحقیقات کرائیں گے۔ ان کے ڈانڈے کس سے جا کر ملتے ہیں۔ ہمارا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ صرف مذہب کا خانہ بحال کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ وزیر داخلہ نے مذہب کا خانہ شامل نہ کرنے کی بات کی ہے۔ ہم ان کا سرحد میں داخلہ بند کر دیں گے۔ مقررین نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو پھر ہر گلی کوچہ فلوجہ بن جائے گا اور امریکی ایجنٹوں کا تعاقب کیا جائے گا۔
ملتان میں مظاہرہ : پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے خلاف ملتان میں کئی ایک جگہ پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ جس کی قیادت مولانا اللہ وسایا نے کی۔ مظاہرے میں ملتان کی تمام مذہبی وسیاسی اور تاجر تنظیمیں شریک ہوئیں۔ مقررین نے کہا کہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی کا فیصلہ ہر قیمت پر حکمرانوں کو کرنا پڑے گا۔ دوسرا احتجاجی مظاہرہ مدرسہ ہدایت القرآن ممتاز آباد میں کیا گیا جس کی قیادت مولانا صاحبزادہ انس نورانی اور مولانا مفتی ہدایت اللہ پسروری نے کی۔ اس طرح ایم۔ ڈی۔ اے چوک، منظور آباد چوک اور سورج میانی میں بھی احتجاجی جلسے اور مظاہرے کئے گئے۔ مقررین میں مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی ہدایت اللہ پسروری، علامہ خالد محمود ندیم، مولانا عنایت اللہ رحمانی، مولانا سید کفیل شاہ بخاری، جناب میاں انتظار قریشی، مولانا محمد اظہر، جناب علامہ رشید احمد ارشد، جناب نفیس انصاری، جناب اختر بٹ، جناب راؤ ظفر اقبال، جناب اللہ دتہ کاشف، اور چوہدری لطیف اور دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کے قائدین شامل تھے۔
بہاول پور میں مظاہرہ : پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے اور حکومت کی دین دشمن پالیسیوں کے خلاف آل پارٹیز ختم نبوت کنونشن کی اپیل پر پورے ملک کی طرح بہاول پور میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ جن کی قیادت مولانا مفتی عطاء الرحمن اور ڈاکٹر سید وسیم اختر ایم۔ پی۔ اے نے کی۔ مقررین میں مولانا محمد اسحاق ساقی اور جناب ریاض احمد چغتائی شامل تھے۔ جلوس جامع مسجد الصادق سے نکالا گیا۔ مقررین نے کہا کہ حکومت نے پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کر کے اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اگر پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال نہ کیا گیا تو ہم سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے۔
ڈیرہ غازی خان میں مظاہرہ : پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے کے خلاف ڈیرہ غازی خان میں ٹریفک چوک پر بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ میں متحدہ مجلس عمل کے جناب رشید احمد ایڈووکیٹ، جناب عثمان فاروق، جناب قاری جمال عبدالناصر، جناب لیاقت علی، مولانا محمد اقبال، جناب حافظ خالد رؤف، مولانا مزمل احمد، جناب حافظ احمد حسین ایڈووکیٹ، جناب میاں محمد ابوبکر، مولانا محمد یوسف، مبلغ ختم نبوت مولانا غلام اکبر ثاقب، جناب قاضی شمس الدین اور جناب اظہر منظور شریک ہوئے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے کا مقصد قادیانیوں کو مسلمانوں کی صف میں شامل کرنے کی ناپاک سازش ہے۔ جس کو ان شاء اللہ ! جان نثاران ختم نبوت ناکام بنا دیں گے۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا اور خانہ بحال نہ کیا تو فدایان ختم نبوت سروں پر کفن باندھ کر نکلیں گے۔ مقررین نے کہا کہ ناموس رسالت ایکٹ، حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جام پور میں احتجاج: جام پور میں جامع مسجد مرکز اہل حدیث میں جناب علامہ محمد یاسین راہی ، جامع مسجد مدنی میں مولانا مفتی مشتاق احمد فریدی ، جامع مسجد محمدی میں مولانا عبدالحی، جامع مسجد جہانگیر کالونی میں مولانا قاری عابد حسین سلطانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ حذف کرنے کا مقصد غیر مسلموں کو تقویت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے پردہ اور اسلامی سزاؤں سے متعلق منفی ریمارکس دے کر مسلمانوں کی قومی غیرت کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک صورت حال میں مسلمانوں کو اسلام اور ختم نبوت کے لئے غیرت کا ثبوت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
کروڑ لعل عیسن میں مظاہرہ: موجود حکومت پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ فی الفور بحال کرے۔ ورنہ یہ احتجاج مساجد کی بجائے سڑکوں تک پھیل جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جناب قاری فداء الرحمن، جناب قاری اللہ بخش چشتی ، جناب قاری عظمت اللہ باروی ، جناب قاری منظور احمد دیگر نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں غیر مسلموں خصوصاً قادیانیوں کا داخلہ بند ہے۔ قادیانی دھوکہ سے وہاں جا کر کوئی تخریب کاری کر سکتے ہیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کے لئے تمام مسلمانوں نے اپنا خون تک دیا ہے۔ اگر پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال نہ ہوا تو پھر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
سکھر میں احتجاجی مظاہرہ: متحدہ مجلس عمل اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر مرکزی جامع مسجد بندر روڈ کے دروازہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر جامع مسجد کے خطیب جناب قاری خلیل احمد ، جناب مشرف محمود ، جناب قاری غلام غوث غازی ، جناب حزب اللہ جھکرو ، جناب حماد اللہ بھٹو ، مولانا بشیر احمد ، مولانا عبدالستار بروہی ، جناب عبدالمتین بندھانی اور دوسرے مقررین نے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال نہ کرنے کے خلاف قرارداد منظور کی اور موجودہ حکومتی پالیسی کی بھر پور مذمت کی گئی۔
صادق آباد میں احتجاجی جلسہ: احتجاجی جلسہ سے بزرگ عالم دین مولانا محمد مشتاق احمد ، جناب چوہدری محمد اشفاق ، مولانا عبدالصمد قادری ، جناب علامہ افضل الرحمن حیدری احرار ، جناب قاری عبداللہ ربانی ، مولانا طلحہ ، جناب حافظ ثناء اللہ فاروقی اور چوہدری عبدالرؤف انجم نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے۔ آئین پاکستان میں اس عقیدہ کے منکرین قادیانیوں کو کافر قرار دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی یہودیوں کے ایجنٹ اور ساتھی ہیں۔ پاسپورٹ میں سے مذہب کا خانہ ختم ہونے سے قادیانی دیار حرم میں با آسانی داخل ہو جائیں گے اور وہاں پر یہ لوگ یہودیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ناپاک جسارتیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بش کو خوش کرنے کے لئے پاسپورٹ سے ختم نبوت کے عقیدے اور مذہب کا خانہ ختم کرنا ایک قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس سیکولرانہ فیصلہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ بلا تاخیر پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرے۔
شجاع آباد میں احتجاجی جلوس: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ ختم کرنے کے خلاف شجاع آباد میں جناب مفتی ضیاء الرحمن ، جناب محمد طیب ، علامہ جناب حبیب الرحمن ، جناب مفتی عبید اللہ کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ جلوس کے تھانہ چوک پہنچنے پر پولیس کی بھاری نفری نے وارننگ کے بغیر ان پر شدید لاٹھی چارج کر دیا۔ لاٹھی چارج کے نتیجہ میں قائدین میں مولانا مفتی ضیاء الرحمن ، جناب مفتی محمد حبیب ، جناب حبیب الرحمن شدید زخمی ہو گئے۔ لاٹھی چارج کے نتیجہ میں بھگدڑ مچ گئی اور تھانہ چوک کی ٹریفک چاروں اطراف سے بلاک ہو گئی۔ پولیس ان قائدین کو گرفتار کر کے تھانے لے گئی۔ جب کہ جمعہ سے قبل پولیس نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کے گھروں میں چھاپے مارے اور تھانہ چوک پر مظاہرہ کے بعد تمام گرفتار رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوٹ ادو میں احتجاجی مظاہرہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر ضیاء شہید چوک جی ٹی روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جن میں مولانا مشتاق ، مولانا مفتی عبدالجلیل ، جناب مفتی خلیل احمد ، مولانا بشیر احمد ، مولانا محمد عمر ، جناب مطیع اللہ شاہ ، جناب محمد اصغر مدنی ، مولانا عبدالمجید قاسمی اور دیگر حضرات نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکمران ملک کو سیکولر سٹیٹ بنانے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ بحال ہونے تک تحریک چلائی جائے گی۔
خانیوال میں احتجاجی مظاہرہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر خانیوال میں جناب قاری سیف اللہ عابد ، جناب یوسف خان خٹک ، جناب امتیاز علی اسد ، مولانا عبد الماجد صدیقی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کو ختم کرنے پر قراردادیں منظور کیں۔
اوکاڑہ میں احتجاجی مظاہرہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر گول چوک اوکاڑہ میں بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس کی قیادت مولانا سید امیر حسین ، مولانا قاری محمود انور ، مولانا قاری محمد الیاس ، مولانا عبدالمنان ، مولانا عبدالاحد ، جناب شکیل الرحمن قاسمی ، جناب حاجی احسان الحق ، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالرزاق مجاہد ، جناب عبدالسمیع اور جناب ڈاکٹر برہان غنی نے کی۔ مظاہرہ میں علماء، طلباء اور سیاسی رہنماؤں نے بھر پور شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر مذہب کا خانہ بحال نہ ہوا تو پاکستان کے سولہ کروڑ عوام حکومت کے خلاف سروں پر کفن باندھ کر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
قصور میں احتجاجی مظاہرہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس کی قیادت جناب قاری مشتاق احمد ، مولانا سید ظہیر احمد شاہ ، جناب میاں معصوم انصاری ، جناب حاجی شبیر احمد مغل نے کی۔ قائدین نے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان حکمرانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کو حذف کر کے شعائر اسلام کا مذاق اڑایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کی بجائے اللہ رب العزت اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر عمل کریں۔
فیصل آباد میں صدائے احتجاج: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی سولہ کروڑ مسلمانوں کی پریشانی کو دور کرنے کے لئے نئے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے کے بارے میں جلد نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے صدر جناب چوہدری شجاعت حسین نے اعلان کیا تھا کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کر دیا جائے گا اور اس بارے میں وزیر اعظم شوکت عزیز کو اختیار دیا گیا ہے کہ اسے حل کریں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور نے بھی بیان دیا تھا کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے کے بارے میں غور ہوگا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ جلد از جلد بحال کیا جائے۔
منڈی بہاؤالدین میں احتجاجی مظاہرہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر منڈی بہاؤالدین اور گردونواح کے شہروں میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مقررین میں مبلغ ختم نبوت مولانا محمد طیب فاروقی ، مولانا قاری ارشاد اللہ صدیقی شامل تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ فی الفور بحال کیا جائے۔
کھاریاں احتجاجی مظاہرہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور متحدہ مجلس کی اپیل پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں مولانا قاری محمد اختر ، مولانا عبدالحق خان ، جناب علامہ محفوظ احمد ، مولانا عبد الماجد ، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا غلام رسول شوق ، مولانا عطاء اللہ ، جناب قاری خلیل احمد ، مولانا ارشاد اللہ ، مولانا محمد طیب ، جناب قاری عبدالواحد ، قاضی کفایت اللہ ، مولانا اظہر ندیم ، مولانا محمد اکرم ، قاری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد اشرف، مولانا محمد اسحاق کے علاوہ جماعتی رفقاء و کارکنان کی کثیر تعداد شامل تھی۔
سرگودھا میں احتجاجی مظاہرہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر سرگودھا کی سرزمین پر مولانا محمد اکرم طوفانی کی قیادت میں ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ جن میں پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی کے مطالبات درج تھے۔
چیچہ وطنی میں سیمینار: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پریس کلب چیچہ وطنی میں ایک احتجاجی سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار سے مولانا قاری زاہد اقبال، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالباقی، جناب مفتی محمد عثمان و دیگر کئی ایک حضرات نے خطاب فرمایا۔ مقررین نے کہا کہ حکومت پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ جلد از جلد بحال کرے۔ ورنہ حالات کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری، فروری ۲۰۰۵ء ۲۸ تا ۵۲)
صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ ...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جائے
- ☆ ...... قادیانیوں کو ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو آئین پاکستان میں دوسری متفقہ ترمیم کے ذریعہ غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔
- ☆ ...... ووٹر لسٹوں، پاسپورٹ و شناختی کارڈ کے فارموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ رکھا گیا۔
- ☆ ...... پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا گیا۔
- ☆ ...... ربع صدی سے پاکستان کے تمام حکومتی ادوار میں اس پر عملدرآمد ہوتا رہا۔
- ☆ ...... موجودہ دور حکومت میں قادیانیوں کی سازش سے ووٹر لسٹوں سے حلف نامہ حذف کیا گیا اور پھر اسلامیان پاکستان کے اضطراب
و احتجاج کے باعث اسے وفاقی حکومت نے واپس لیا۔
- ☆ ...... اب پھر حکومتی دوائر میں قادیانی لابی نے شب خون مار کر پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ حذف کرا دیا ہے۔
- ☆ ...... حالانکہ یہ آئینی طور پر طے شدہ مذہبی وقومی مسئلہ تھا۔ جسے اب متنازعہ بنا کر اسلامیان عالم کو اضطراب اور اسلامیان پاکستان کو
امتحان میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔
- ☆ ...... پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ جہاں آئینی تقاضہ تھا وہاں اس لئے بھی ضروری تھا کہ قادیانی بوجہ غیر مسلم ہونے کے حدود حرمین
شریفین میں داخل نہیں ہو سکتے۔ سعودی عرب حرمین شریفین میں قانونی طور پر شاہ فیصل مرحوم کے دور سے ان کا داخلہ بند ہے۔ پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت قادیانی تعداد میں زیادہ ہیں۔ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ نہ ہونے کے باعث دھوکہ دہی سے وہ مسلمان بن کر حرمین شریفین چلے جاتے تھے اب مذہب کے خانہ کو پاسپورٹ سے حذف کر کے قادیانیوں کی چال اور دھوکہ دہی کو کامیاب بنانے کی حکومتی سطح پر نامناسب کوشش کی گئی ہے۔
- ☆ ...... صدر مملکت، وزیر اعظم، وفاقی وزیر داخلہ قادیانی لابی کی ناز برداری اور پرورش کی روش ترک کر کے پاسپورٹ کے فارم میں
حلف نامہ اور پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کو حسب سابق فوری بحال کرنے کا آرڈر جاری کریں۔
آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان ! فون : ۵۱۴۱۲۲
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری، فروری ۲۰۰۵ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نظیف احمد میر پور خاص کا ترک قادیانیت، قبول اسلام
نظیف احمد ولد نصیر قوم جٹ مہار رہائش مکان ۹۲ ڈی پنہور کالونی سیٹلائٹ ٹاؤن میر پور خاص سندھ قادیانی تھے۔ اللہ رب العزت نے کرم فرمایا کہ قادیانیت سے متعلق ان کو کچھ شبہات پیدا ہوئے۔ مولانا احمد میاں حمادی ومولانا حفیظ الرحمن فیض مدینہ مسجد شاہی بازار میر پور خاص سے ملاقاتیں ہوئیں اور قادیانیت سے متعلق اہل اسلام کا نقطہ نظر معلوم کیا۔ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یکم مارچ ۲۰۰۲ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کے ہاتھ پر انہوں نے قادیانیت و بانی قادیانیت مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کرلیا۔ اللہ رب العزت انہیں استقامت علی الاسلام نصیب فرمائیں۔ آمین!
ایوب میڈیکل کالج کی طالبہ کا قبول اسلام
ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد کی چوبیس سالہ قادیانی طالبہ نے اسلام کو پسندیدہ مذہب قرار دیتے ہوئے اسلام قبول کر لیا خطیب جامع مسجد الیاسی کے ہاتھوں اپنے درجنوں طلباء ساتھیوں کے ہمراہ مشرف با اسلام ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق میڈیکل کالج ایبٹ آباد فائنل ایئر کی چوبیس سالہ غیر مسلم قادیانی طالبہ عقیلہ ظفر دختر ظفر احمد مرزا سکنہ ہاؤس نمبر ۱۰۰ گلی نمبر ۳ شکریاں راولپنڈی نے اسلام کو پسندیدہ اور نجات دہندہ مذہب قرار دیتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے تاریخی جامع مسجد الیاسی میں خطیب جامع مسجد جناب قاری محبوب الرحمن قریشی کے ہاتھ پر اپنے درجنوں طلباء ساتھیوں کی موجودگی میں کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ مذکورہ نو مسلم طالبہ اس سے قبل قادیانی مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ جب کہ اس کے نانا اور نانی مسلمان تھے اور اس کے والدین قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ نو مسلم طالبہ عقیلہ ظفر نے اس موقع پر کہا کہ میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس دوران مذہب کے بارے میں انتہائی باریک بینی سے مطالعہ کرتی رہی۔ خاص کر قرآن مجید کا میں نے زیادہ مطالعہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نماز استخارہ بھی مسلسل ادا کرتی رہی۔ دوران مطالعہ اور استخارہ مجھے مختلف قسم کے خواب بھی دکھائی دیتے رہے اور اسی دوران میں اس نتیجے پر پہنچی کہ میں اسلام کیوں نہ قبول کروں۔ یہ سوچ کر میں نے مذہب اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ساتھیوں کے ساتھ مشورہ کر کے دین اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ میری خواہش ہے کہ یہ چاروں بھی اسلام قبول کر لیں۔ کیونکہ اسلام ہی ہمارا نجات دہندہ اور حقیقی مذہب ہے جس میں ہم سب کی کامیابی و کامرانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد ۱۹۸۴ء میں فوت ہو گئے تھے اور ہم بچپن میں یتیم ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن میں میری والدہ نے میرا نکاح عبدالحنان طاہر سکنہ مظفر آباد سے کر دیا تھا جو کہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا میں اس موقع پر مذکورہ نکاح سے برأت کا اعلان کرتی ہوں۔ نو مسلم عقیلہ ظفر کے اسلام قبول کرنے کے بعد قانونی تقاضے پورے کرنے کے فرائض ایبٹ آباد کے ممتاز قانون دان جناب امان اللہ ایڈووکیٹ، جناب افتخار خان ایڈووکیٹ اور جناب شوکت خان ایڈووکیٹ نے سرانجام دیئے اور اس موقع پر ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد وکلاء کے دفتر میں ان کی موجودگی میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۲ء ص ۲۸ تا ۵۰)
مرزا قادیانی کو ظلی یا بروزی نبی، مسیح موعود، مجدد یا مصلح ماننے والے غیر مسلم ہیں : نو مسلمہ باسمہ احمد
کراچی (نمائندہ ختم نبوت) محترمہ باسمہ احمد بنت مبارک احمد نے قادیانیت سے تائب ہو کر مولانا نذیر احمد تونسوی کے ہاتھ پر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کو ہر اعتبار سے آخری نبی مانتی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی یا بروزی نبی کے آنے کی قائل نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ایمان ہے کہ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور وہی قیامت کے قریب نازل ہوں گے جب کہ امام مہدی اس امت میں حضور نبی کریم ﷺ کی اولاد میں پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں سے نازل ہونے کے موقع پر زمین پر مسلمانوں کے قائد اور امام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعوؤں میں جھوٹا یقین کرتی ہیں اور علماء اسلام کے فتویٰ کے مطابق اسے کافر، کذاب، دجال اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو ظلی یا بروزی نبی، مسیح موعود، مہدی، مجدد یا مصلح ماننے والے اس کے پیروکاروں کو، خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری، انہیں اسلام اور آئین پاکستان کے مطابق غیر مسلم تصور کرتی ہیں۔ انہوں نے ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کی جانب سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم اور اپریل ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر نومسلمہ باسمہ احمد کی دین اسلام پر استقامت کے لئے دعا کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍اپریل ۲۰۰۴ء ص ۲۴)
فیصل آباد میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن جناب صاحبزادہ طارق محمود کے ہاتھ پر رانا محمد رفیق خان چک نمبر ۸۸ ج ب ستیانہ حال رہائش ۲۴۳ سی آفیسر کالونی مدینہ ٹاؤن فیصل آباد نے مرزائیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔
لاہور میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
ثناء زوجہ محمد ارشد قوم صدیقی رہائش ۶۳۲ نیلم بلاک اقبال ٹاؤن نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی صاحب کے ہاتھ پر روبرو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد ندیم بیگ صاحب، جناب ندیم احمد صاحب، جناب محمد ارشد صاحب اور جناب ذوالفقار علی صاحب مرزائیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔
اوکاڑہ میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
اعجاز احمد ولد غلام محمد کمبوہ سکنہ کوٹ رسول پور فاضل نے مولانا غلام مصطفیٰ اوکاڑوی صاحب کے ہاتھ پر قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ اللہ رب العزت استقامت نصیب فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۴ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۲)
دس قادیانیوں کا قبول اسلام
چناب نگر (نمائندہ خصوصی) دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں دس قادیانیوں نے برضا و رغبت مولانا غلام مصطفیٰ مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان نو مسلموں کے نام درج ذیل ہیں:
- ۱...... رانا محمد انور خان ولد محمد طفیل محلہ نصیر آباد چناب نگر۔
- ۲...... مسماۃ خالدہ پروین زوجہ رانا محمد انور۔
- ۳...... مسماۃ فائزہ بی بی دختر رانا محمد انور۔
- ۴...... مسماۃ شمائلہ بی بی دختر رانا محمد انور۔
- ۵...... مسماۃ منزہ بی بی دختر رانا محمد انور۔
- ۶...... توقیر احمد ولد رانا محمد انور۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۷...... کرامت احمد ۔
- ۸...... مرزا فضل بیگ مسلم کالونی چناب نگر
- ۹...... مرزا صغیر احمد بیگ ولد مرزا سکندر بیگ
- ۱۰...... مصطفیٰ احمد برلب دریائے چناب نگر
مذکورہ بالا افراد اپنی خوشی سے قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اس موقع پر ان تمام افراد نے اقرار کیا کہ آج کے بعد ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب اور دجال تھا اور اس کے ماننے والے کا ذب اور جھوٹے ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ انگریز کے ایجنٹ ہیں جو اسلام اور ملک وملت کے دشمن اور غدار ہیں۔ ہم حضور پاک ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی بھی معنی میں مدعی نبوت کو کافر، مرتد اور خارج از اسلام سمجھتے ہیں۔ ہم باقی قادیانیوں کو بھی اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں ہر طرح سے دلی، ذہنی اور روحانی سکون ملا ہے اور قبول اسلام سے پہلے گزرنے والی زندگی پر ہم اللہ رب العزت سے توبہ واستغفار کرتے ہیں۔ ہم بالخصوص عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کفر کے گڑھ (چناب نگر) میں ختم نبوت کا مرکز قائم کیا جس کی وجہ سے اللہ نے ہمیں حق کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی جماعت کا شیرازہ بکھرنے والا ہے اور قادیانی اندرونی طور پر کھوکھلے ہوچکے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب انشاء اللہ العزیز پوری دنیا میں ختم نبوت کا پرچم بلند ہوگا۔ قادیانی جماعت زندوں اور مردوں سے چندہ وصول کر کے غریبوں پر ظلم کرتی ہے۔ غریب لوگ ان کے جبری چندوں اور اس کے مظالم تنگ آچکے ہیں۔ ہم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت جو چودہ سو سال سے امت کا متفقہ عقیدہ رہا ہے اور سوائے قادیانی جماعت کے امت محمدیہ کے کسی ایک فرد واحد نے بھی اس کا انکار نہیں کیا، اللہ تعالیٰ ہمیں اس عقیدہ پر ثابت قدم رکھے اور ہمارے اسلام قبول کرنے کے اقدام سے مزید قادیانیوں کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی توفیق بخشے۔ ہم یہ بھی عزم کرتے ہیں کہ انشاء اللہ العزیز! عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کرتے رہیں گے۔ آخر میں مولانا غلام مصطفیٰ خطیب جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر نے حاضرین سے ختم نبوت کے موضوع پر مفصل خطاب فرمایا اور نومسلموں کے لئے دین پر استقامت کی دعا کی۔ اس موقع پر مٹھائی تقسیم کی گئی اور مسلمانوں نے ”اسلام زندہ باد، ختم نبوت زندہ باد، اور قادیانیت مردہ باد“ کے نعرے لگائے۔ اس واقعہ سے قادیانیوں میں شدید مایوسی پھیل گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۸ مئی تا ۳؍ جون ۲۰۰۲ء ص ۱۷)
اوکاڑہ میں آٹھ قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا
ایک قادیانی گھرانے کے آٹھ افراد نے جامعہ مدنیہ اوکاڑہ کے علماء کی موجودگی میں مولانا سید امیر حسین گیلانی کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق میاں کالونی اوکاڑہ کے رہائشی ایک قادیانی گھرانے کے سربراہ خوشی محمد، بشریٰ زوجہ خوشی محمد اور ان کے تین بیٹوں عبدالرؤف، آفتاب احمد، ندیم احمد اور دو بیٹیوں یاسمین اختر اور منورہ بیگم نے جامعہ مدنیہ جی ٹی روڈ میں علمائے کرام وشہر کی معزز شخصیات کی ایک کثیر تعداد کی موجودگی میں قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ مولانا عبدالواحد نے ان تمام افراد کو کلمہ پڑھایا۔ اسی طرح کوٹ رسول پور فاضل اوکاڑہ میں اعجاز احمد ولد غلام محمد کمبوہ نے بھی قادیانیت سے تائب ہو کر مفتی غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان افراد کے مسلمان ہونے پر قاری محمد افضل خطیب و امام ممتاز مسجد، محمد سلیم صدیقی، مولانا قاری الیاس، مولانا قاری غلام محمود انور، قاری محمد شفیق اور دیگر مقامی عہدیدار مبارک باد کے مستحق ہیں۔ بعد ازاں اس موقع پر موجود افراد نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام افراد کو اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲ تا ۸؍ جولائی ۲۰۰۲ء ص ۱۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فاروق آباد میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام
فاروق آباد: قادیانی باپ اور اس کے دو بیٹوں نے گزشتہ دنوں قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سچا سودا گاؤں کے رہائشی ماسٹر منور منیر اور ان کے دو بیٹوں محمد سلمان اور محمد عثمان نے قادیانیت سے تائب ہو کر جامع مسجد سچا سودا کے خطیب مولانا حافظ اشفاق الرحمن کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ماسٹر منور منیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سچا دین ہے جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا تھا اور اس کا دین بھی جھوٹا ہے۔ میں اپنی گزری ہوئی زندگی پر پشیمان ہوں مگر اب سیدھے راستے پر آگیا ہوں اور اسلام کا مبلغ بن کر دین اسلام کی تبلیغ کروں گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۹ تا ۱۵؍ جولائی ۲۰۰۴ء ص ۲۲)
بھارت میں ۱۵ قادیانیوں کا قبول اسلام
ہریانہ، بھارت: فرید آباد میں ممتاز عالم دین مولانا علی جان بخاری کی کوششوں سے پندرہ افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر مقامی علمائے کرام نے کہا کہ ہریانہ میں قادیانیوں کی مناظروں میں شکست اور ان کی جانب سے ورغلائے جانے والوں کا قادیانیت سے تائب ہو کر قبول اسلام یہ سب نصرت خداوندی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہریانہ میں قادیانیوں نے چند ماہ قبل ہی فتنہ پروری شروع کی تھی جس کا علمائے کرام نے بر وقت سدباب کیا جس کا نتیجہ قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد کے قبول اسلام کی صورت میں نکلا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جولائی ۲۰۰۴ء ص ۲۵)
گاؤں کے تمام باشندوں نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا
چمپارن، بھارت: بھارتی صوبے بہار کے ضلع مشرقی چمپارن کے گاؤں تیرہ پور کے باشندوں نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ مقامی عالم دین مولانا محمد نورالامام نے اس واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ تیرہ پور نامی گاؤں میں کثیر تعداد میں مسلمان رہتے تھے جو کہ تمام کے تمام کاشتکار تھے۔ اکثر سیلاب آنے کی وجہ سے یہ لوگ افلاس کا شکار رہتے تھے۔ ان کی غربت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانی مبلغ یہاں آگئے اور گاؤں میں ایک دو منزلہ عمارت قادیانی سینٹر تعمیر کر کے لوگوں سے کہا کہ یہ مفت دینی تعلیم کا مرکز ہے۔ بھولے بھالے مسلمان قادیانیوں کے دام فریب میں آگئے اور پورے گاؤں کے لوگ قادیانیت کی طرف متوجہ ہو گئے۔ بعد میں جب قادیانیوں نے اپنا اصل رنگ دکھانا شروع کیا اور اکثر و بیشتر باتوں میں ”مسیح موعود“ کے نام سے مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات لوگوں کے سامنے پیش کرنے لگے تو بعض افراد کو شک پڑا۔ انہوں نے قریبی مدرسہ میں رابطہ کیا جہاں مولانا محمد نورالامام سے ان کی بات چیت ہوئی جو قادیانی عقائد و نظریات سے بخوبی واقف تھے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ گاؤں میں قائم عمارت قادیانیوں کی ہے اور وہ قادیانیت پھیلا رہے ہیں تو مقامی علمائے کرام کا ایک نمائندہ اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس کے انعقاد سے گاؤں کے باشندوں پر قادیانیت کی حقیقت کھل گئی اور ان کے آنکھوں سے پردہ ہٹ گیا، جس کے بعد گاؤں کے تمام لوگ قادیانیت سے تائب ہو کر دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ گاؤں میں یکا یک آنے والے اسلامی انقلاب کو دیکھ کر قادیانی مبلغ خوفزدہ ہو گئے اور فوراً وہاں سے فرار ہو گئے۔ گاؤں میں قادیانیوں کی تعمیر کردہ عمارت اس وقت ویران پڑی ہے لیکن اس ویران عمارت کو دیکھ کر گاؤں والوں میں نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کا جذبہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۲۹؍ جولائی ۲۰۰۴ء ص ۲۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کی قادیانی طالبہ نے اسلام قبول کرلیا
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم بی۔ایس سی اکنامکس کی طالبہ سلمیٰ نزہت نے قادیانیت سے تائب ہوکر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل قاری عبدالوحید قاسمی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ قادیانیت کوئی مذہب نہیں بلکہ انگریزی سازشوں کو عملی شکل دینے والا گروہ ہے، انہوں نے تمام قادیانیوں سے اپیل کی کہ وہ قادیانیت سے تائب ہوکر محمد عربی ﷺ کے حقیقی غلام بن جائیں کیونکہ دونوں جہانوں میں کامیابی اسلام سے وابستہ ہونے میں ہے، انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کی طرف سے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں مگر یہ دھمکیاں مجھے حق کے راستہ سے نہیں ہٹا سکتیں۔ میں پوری کوشش کروں گی کہ نوجوان قادیانی لڑکیوں کو دعوت اسلام دے کر ان کو بھی اسلام میں داخل کروں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۶ تا ۱۲؍ اگست ۲۰۰۲ء ص ۱۲)
قادیانی خاندان نے اسلام قبول کرلیا
کراچی (نمائندہ خصوصی) چار افراد پر مشتمل ایک قادیانی خاندان نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا نذیر احمد تونسوی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ نومسلموں کے نام محمد یونس، نیکتہ بیگم، ارسلان احمد اور خوشبو یونس ہیں۔ اس موقع پر نومسلموں نے حلفیہ اعلان کیا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی سمجھتے ہیں جن کے بعد تاقیامت کسی کو تشریعی، غیر تشریعی اور ظلی یا بروزی نبوت نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے بعد عقیدہ ختم نبوت کا انکار کرے یا دعویٰ نبوت کرے خواہ بلا واسطہ یا بالواسطہ یا تاویل کے ساتھ وہ زندیق، کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون، کذاب، دجال، کافر مرتد اور زندیق تھا وہ اپنے دعوائے نبوت، مجددیت، مہدویت، مسیحیت میں سراسر جھوٹا تھا اور اس کے ماننے والے خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کافر، زندیق، مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ آج کے بعد ہمارا مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق امت محمدیہ کی رہنمائی کریں گے۔ اس موقع پر مولانا نذیر احمد تونسوی نے نومسلموں کو قادیانیوں کی چالبازیوں اور قادیانی مذہب کے پوشیدہ گوشوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قادیانی پیشوا عام قادیانیوں کو اپنے مذہب کی حقیقت سے بے خبر رکھتے ہیں ورنہ کوئی بھی سلیم الطبع شخص حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد ایک منٹ کے لئے بھی قادیانی نہیں رہ سکتا۔ اس موقع پر نومسلموں کی دین پر استقامت کے لئے دعا کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۲ تا ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۲ء ص ۲۳)
رحیم یار خان میں قادیانی مبلغ کے بچوں کا قبول اسلام
تفصیلات کے مطابق چناب نگر (سابقہ ربوہ) کے قادیانی مبلغ محمد قاسم ایاز قادیانی کی بہو محترمہ یاسمین صاحبہ اپنی بیٹیوں سحرش منور، ثناء منور اور تین بیٹوں محسن منور، احسن منور اور حسن منور کے ساتھ گزشتہ روز مولانا میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوگئی۔ محمد قاسم ایاز قادیانی پچاس سال سے زائد عرصہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مبلغ تھا۔ اس کے ننھیال قادیانی جب کہ ددھیال الحمدللہ! مسلمان ہیں۔ مرزا قاسم ایاز قادیانی کا بیٹا منور بھی قادیانی خلیفہ کے مصاحب میں شمار ہوتا تھا۔ مشرف بہ اسلام ہونے والوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قادیانی مذہب کی کتابوں اور اسلامی تعلیمات سے دور رکھا گیا تھا۔ اب جب کہ ہمارے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خاندان کے مسلمان بزرگوں نے ہم تک دین اسلام کی روشنی پہنچائی تو ہمیں دین حق کے بارے میں حقیقت معلوم ہوئی اور پتہ چلا کہ قادیانی فرقہ گمراہ کن فرقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام کو دین اسلام پر استقامت کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۴ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
۱۳ / مارچ ۲۰۰۴ء بروز بدھ بعد از نماز عشاء مین بازار پنوعاقل میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ درگاہ ہالیجی شریف کے رہنما مولانا میاں عبدالقیوم ہالیجی نے صدارت فرمائی۔ کانفرنس سے استاذ العلماء مولانا میر محمد میرک ، شیخ الحدیث مولانا شفیق الرحمن درخواستی ، مولانا عبدالغفوری حقانی ، مولانا بشیر احمد ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد حسین ناصر ، مولانا عبداللہ چاچڑ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کے تمام رہنماؤں نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے اشتہاروں ، دعوت ناموں ، تبلیغی دوروں اور انفرادی ملاقاتوں سے بھر محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۴ء ص ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس ملتان و اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ
ملتان : ۲۴ / مارچ ۲۰۰۴ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عاملہ اور مالیاتی کمیٹی کا اجلاس شب و روز منعقد ہوا۔ جس کی صدارت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ اجلاس میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد ، مولانا مفتی محمد جمیل خان ، جناب حاجی فیض احمد ، جناب حاجی بلند اختر نظامی ، جناب حاجی سیف الرحمن ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، محمد اسماعیل اور مولانا بشیر احمد نے شرکت فرمائی۔
۲۵ / مارچ ۲۰۰۴ء کی صبح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں متذکرہ حضرات کے علاوہ مولانا فیض احمد استاذ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان ، مولانا عبدالمجید مہتمم باب العلوم کہروڑ پکا ، مولانا عبدالرزاق اسکندر مہتمم جامعۃ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ، جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئی ، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف اسلام آباد ، مولانا شہاب الدین پوپلزئی ، مولانا عبدالواحد کوئٹہ ، مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان ، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی سکھر ، جناب میاں خان محمد ، جناب حکیم محمد یونس ، مولانا انوارالحق ، مولانا نورالحق نور ، مولانا احمد میاں حمادی ، ریاض الحسن گنگوہی اور مولانا عبدالغفور قاسمی نے شرکت فرمائی۔ اجلاس کی صدارت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ اجلاس صبح نو بجے ایک بجے تک جاری رہا۔ اجلاس میں گزشتہ سال کے تبلیغی ، تعمیری ، مالیاتی ، تعلیمی اور نشر اشاعت کی رپورٹ پیش کی گئی۔ نئے مبلغین و مدرسین کی تقرری کی توثیق کی گئی۔ گزشتہ اجلاس شوریٰ ، اجلاس عاملہ اور اجلاس مجلس عمومی کی رپورٹوں پر تفصیلی غور و خوض کے بعد ان کی توثیق کی گئی۔ آئندہ کے لئے مجلس کے تبلیغی ، تعلیمی اور تعمیری منصوبوں کی اجازت دی گئی۔ اندرون و بیرون ملک عقیدہ ختم نبوت کے لئے تبلیغی لائحہ عمل طے کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ۲۰۰۴ء ص ۴۳، ۴۴)
ختم نبوت کانفرنس ملتان
۲۵ / مارچ ۲۰۰۴ء بعد از عشاء دفتر مرکزیہ ملتان میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ملتان ، بہاول پور ، ڈی. جی. خان وغیرہ علاقوں سے وفود اور قافلوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سیکورٹی کے فرائض حسب سابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ کے رفقاء نے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ادا کئے۔ کانفرنس کی صدارت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ کانفرنس کا آغاز مولانا محمد یوسف نقشبندی کی تلاوت سے ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا عبدالغفور قاسمی، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا نور الحق نور، مولانا عبدالواحد، مولانا قاری انوار الحق، مولانا عبدالحکیم، مولانا عبدالحق مجاہد، مولانا سلطان محمود ضیاء اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی، اور امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
ملتان میں خطاب جمعۃ المبارک: ۲۶ / مارچ ۲۰۰۴ء قبل از جمعہ ساڑھے گیارہ بجے جامع مسجد ختم نبوت میں اجلاس کا آغاز ہوا۔ مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا حافظ احمد بخش کے بیانات ہوئے۔ پونے ایک بجے تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئی صاحب نے ایمان پرور، جہاد آفرین، حقائق افروز اور علمی خطاب فرمایا۔ خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ کے فرائض مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مہتمم جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن نے سرانجام دیئے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کی لحن داؤدی نے حجاز مقدس کے خطاب وتلاوت کی یاد تازہ کر دی۔ جامع مسجد ختم نبوت اور دفتر مرکزیہ کا صحن اور گراؤنڈ سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ یوں اڑھائی بجے بخیر و خوبی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے جمعہ کے بعد خصوصی طور پر شرکاء، حاضرین، متعلقین ومتوسلین کو شرف ملاقات سے سرفراز فرمایا اور اختتامی خصوصی دعاء فرمائی۔ یوں ۲۵ اور ۲۶ / مارچ کے جملہ پروگرام بھر پور طور پر کامیاب ہوئے۔ الحمد للہ! ان انتظامات کی نگرانی مولانا اسحاق ساقی، مولانا فقیر اللہ اختر، جناب حاجی رانا محمد طفیل جاوید، جناب قاری خادم حسین، جناب قاری حفیظ اللہ، جناب عزیز الرحمن رحمانی، مولانا عبدالستار حیدری، مولانا عبدالستار گورمانی، جناب محمد رمضان، جناب حافظ عبدالرشید، جناب حافظ محمد ظفر اور مدرسہ ختم نبوت ملتان کے طلباء کی ٹیم نے سرانجام دیئے۔ دو دن تک دفتر مرکزیہ میں علم و عرفان کی مجلس جاری رہی۔ ہزاروں خلق خدا و جانثاران ختم نبوت نے اپنے ایمانوں کو جلا بخشی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۴ء ص ۴۴، ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس خیر پور میرس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم / اپریل بروز جمعرات بعد عشاء جامع مسجد مرکزی خیر پور میرس مین بازار میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا اسد اللہ شیخ کی سربراہی میں مقامی، جمعیت علمائے اسلام، فاروق اعظم کمیٹی، مجلس تحفظ ختم نبوت نے مثالی کوشش کی۔ استاذ العلماء مولانا میر محمد میرک، مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا خان محمد کندھانی، مولانا محمد حسین ناصر اور دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۴ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم
۲ / اپریل ۲۰۰۴ء بروز جمعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ قبل از جمعہ کانفرنس کا آغاز جامع مسجد ٹنڈو آدم میں خطبہ جمعہ سے ہوا جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ارشاد فرمایا۔ بعد از جمعہ مولانا محمد علی صدیقی، مولانا خان محمد کندھانی اور دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوئے۔ نماز عصر سے مغرب تک سوال و جواب کی محفل منعقد ہوئی۔ پروفیسر مولانا حفیظ الرحمن نے اس نشست سے خطاب کیا۔ مغرب سے عشاء تک بیرونی کانفرنس کے شرکاء کو کھانا کھلایا گیا۔ عشاء کے بعد مین بازار میں کانفرنس کا آخری اجتماع ہوا۔ جس سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا نذیر احمد تونسوی، جامع المعقول والمنقول شیخ الحدیث مولانا عبد الغفور قاسمی، سندھ کے ہر دل عزیز خطیب مولانا حافظ خادم حسین، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا اور سندھ کے معروف خطیب مولانا عبد الرزاق میکھو نے خطاب فرمایا۔
کانفرنس کی سرپرستی و نگرانی مولانا علامہ احمد میاں حمادی نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد راشد مدنی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس میں دور دراز کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مثالی اجتماع تھا۔ اڑھائی بجے تک کانفرنس جاری رہی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے رفقاء نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے سر توڑ کوشش کی۔ کانفرنس دور رس نتائج کی علاقہ میں حامل ہوگی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۴ء ص ۴۶)
جامعہ صدیقہ ٹنڈو اللہ یار میں خطاب
۳ اپریل ۲۰۰۴ء بروز ہفتہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی قیادت میں مولانا حفیظ الرحمن، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا راشد مدنی، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل وفد نے جامعہ فاروق اعظم جامعہ صدیقہ اور دوسرے مدارس کا دورہ کیا۔ جامعہ صدیقہ میں شہریان، علماء، طلباء سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۴ء ص ۴۶، ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس چونڈہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد شاہ فیصل میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت ضلعی امیر پیر سید شبیر احمد گیلانی صاحب نے کی۔ کانفرنس کے مرکزی مقرر متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما جناب لیاقت بلوچ ایم این اے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آغا خانیوں کی سرپرستی ترک کر دے۔ قادیانیوں کو ملک کے کسی ضلع میں ارتداد کا مرکز بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسیاں ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ کانفرنس سے بریلوی مکتب فکر کے رہنما مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا مفتی نجیب احمد، اہل حدیث مکتب فکر کے رہنما مولانا حافظ مطیع الرحمن، مولانا محمد صدیق اختر، دیوبندی مکتب فکر کے رہنما مولانا عزیز الرحمن قاسمی، مولانا محمد افضل شاکر، جناب قاری محمد شفیق ربانی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے جناب قاری محمد عارف ندیم، مولانا سعید الرحمن شاہ نے عقیدہ ختم نبوت، جھوٹے مدعیان نبوت کے موضوعات پر مدلل خطاب کیا۔ کانفرنس کے اسٹیج سیکرٹری جناب قاری محمد انصر تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۴ء ص ۴۷، ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ
۱۰؍ اپریل ۲۰۰۴ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صاحبزادہ جناب مولانا عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مقامی علمائے کرام کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب فرمایا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کو دعوت ایمان دی۔ کانفرنس کا پہلا اجلاس بعد از مغرب ہوا۔ جب کہ دوسرا اجلاس بعد از عشاء سے لے کر رات گئے تک جاری رہا۔ کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت ٹوبہ کے مرکزی رہنما مولانا محمد عبداللہ کی زیر سرپرستی منعقد ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۲ء ص ۴۶)
اسمائے گرامی شرکائے رد قادیانیت و عیسائیت کورس کوئٹہ
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آرٹ اسکول روڈ کوئٹہ میں ۱۷؍اپریل تا ۲۲؍اپریل ۲۰۰۲ء کو مذکورہ کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیئے۔
نمبر شمار نام مقام نمبر شمار نام مقام ۱ حافظ عبدالواحد کوئٹہ ۲ عطاء اللہ کوئٹہ ۳ آدم خان کوئٹہ ۴ محمد عاصم علی کوئٹہ ۵ عبدالجلیل شیخ ماندہ ۶ حافظ ریحان زیب کوئٹہ ۷ محمد حسام الدین کوئٹہ ۸ محمد یاسر کوئٹہ ۹ اظہر حسین کوئٹہ ۱۰ ولی خان کوئٹہ ۱۱ محمد احمد کوئٹہ ۱۲ غلام نبی کوئٹہ ۱۳ شہزاد علی کوئٹہ ۱۴ سیف الرحمن کوئٹہ ۱۵ سید جبرائیل الرحمن کوئٹہ ۱۶ عبدالغفور کوئٹہ ۱۷ عدیل احمد کوئٹہ ۱۸ محمد زکریا چاغی ۱۹ تیمور شاہ پشین ۲۰ محمد رحیم مختار کوئٹہ ۲۱ محمد یحییٰ مستونگ ۲۲ سراج احمد کوئٹہ ۲۳ محمد ہاشم لورالائی ۲۴ جلال الدین قلعہ عبداللہ ۲۵ محمد حفیظ اللہ نوشکی ۲۶ مولوی محمد احسان نوشکی ۲۷ فضل الرحمن نوشکی ۲۸ رسول خان خاران ۲۹ عبدالمالک دالبدین ۳۰ عبدالرحمن دالبدین ۳۱ سردار محمد چمن ۳۲ عبدالظاہر کوئٹہ ۳۳ امین اللہ پشین ۳۴ عالم الدین زیارت ۳۵ بہاء الدین کوئٹہ ۳۶ عبدالباری چمن ۳۷ عبدالبصیر پشین ۳۸ محمد حسن پشین ۳۹ اللہ داد مسلم باغ ۴۰ رحمت اللہ فقیر زئی ۴۱ سعید احمد مستونگ ۴۲ غلام قادر قلات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴۳ محمد حسن کوئٹہ ۴۴ عبدالرزاق کوئٹہ ۴۵ محمد داؤد خان خاران ۴۶ حبیب اللہ کوئٹہ ۴۷ فضل الرحمٰن کوئٹہ ۴۸ زین العابدین مستونگ ۴۹ اللہ گل مستونگ ۵۰ عطاء الحسن کوئٹہ ۵۱ عبدالسلام دالبدین ۵۲ محمد طیب مستونگ ۵۳ عبدالشکور کوئٹہ ۵۴ عبیداللہ صدیقی چاغی ۵۵ عبداللہ نوشکی ۵۶ امان اللہ چاغی ۵۷ عبداللہ کوئٹہ ۵۸ گل محمد خاران ۵۹ عبدالوہاب قلعہ سیف اللہ ۶۰ عبدالفتح زیارت ۶۱ محمد اقبال خاران ۶۲ محمد اکرم گلستان ۶۳ عبدالحق کوئٹہ ۶۴ عبدالمصور پشین ۶۵ محمد حنیف مستونگ ۶۶ محمد عباس ھنہ اوڑک ۶۷ حمید اللہ کانک ۶۸ عبدالخالق پشین ۶۹ عطاء الرحمٰن نوشکی ۷۰ حافظ محمد نعیم کان مشیر زئی ۷۱ حمید اللہ پشین ۷۲ عبدالرزاق کوئٹہ ۷۳ عبدالعلی کوئٹہ ۷۴ محمد صادق کوئٹہ ۷۵ نورالحق زیارت ۷۶ روح اللہ ہزارگنجی ۷۷ ذبیح اللہ ہزارگنجی ۷۸ مولوی بخت محمد کوئٹہ ۷۹ فضل الحسن مستونگ ۸۰ محمد ابراہیم پشین ۸۱ ضیاء الحق زیارت ۸۲ عبیداللہ کوئٹہ ۸۳ سلطان محمد کوئٹہ ۸۴ محمد نعمان کوئٹہ ۸۵ عبدالباقی کوئٹہ ۸۶ محمود کوئٹہ ۸۷ طور خان کوئٹہ ۸۸ سید منظور احمد کوئٹہ ۸۹ حافظ عبدالرحمٰن کوئٹہ ۹۰ حمداللہ پشین ۹۱ محمد اقبال کوئٹہ ۹۲ طور خان کوئٹہ ۹۳ نوراللہ کوئٹہ ۹۴ عبدالعزیز کوئٹہ ۹۵ عبدالباسط کوئٹہ ۹۶ صلاح الدین کوئٹہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹۷ حفیظ الرحمن کوئٹہ ۹۸ عطاء اللہ کوئٹہ ۹۹ تاج محمد کوئٹہ ۱۰۰ محمد عبداللہ کوئٹہ ۱۰۱ شیر محمد کوئٹہ ۱۰۲ شیر محمد کوئٹہ ۱۰۳ عبدالبصیر کوئٹہ ۱۰۴ حنظلہ رسول کوئٹہ ۱۰۵ سمیع اللہ کوئٹہ ۱۰۶ عبدالمنان کوئٹہ ۱۰۷ محمد طیب کوئٹہ ۱۰۸ غلام محمد کوئٹہ ۱۰۹ حمید اللہ کوئٹہ ۱۱۰ عبدالباسط کوئٹہ ۱۱۱ آصف صابر کوئٹہ ۱۱۲ سید شمس الدین سبی ۱۱۳ محمد علی کوئٹہ ۱۱۴ عبدالولی کوئٹہ ۱۱۵ محمد سخی کوئٹہ ۱۱۶ محمد عثمان کوئٹہ ۱۱۷ عبدالمتین کوئٹہ ۱۱۸ نقیب اللہ کوئٹہ ۱۱۹ غلام حیدر کوئٹہ ۱۲۰ عبدالولی کوئٹہ ۱۲۱ راز محمد کوئٹہ ۱۲۲ سید عصمت اللہ کوئٹہ ۱۲۳ حبیب اللہ کوئٹہ ۱۲۴ عبدالوحید کوئٹہ ۱۲۵ عبدالبصیر کوئٹہ ۱۲۶ طارق فضل بولان ۱۲۷ عیسیٰ خان کوئٹہ ۱۲۸ محمد عاصم کوئٹہ ۱۲۹ عبدالصبور دالبدین ۱۳۰ عبدالناصر دھبہ ۱۳۱ عزیز اللہ دھبہ ۱۳۲ علاؤ الدین دھبہ ۱۳۳ حافظ منیر احمد دھبہ ۱۳۴ عبدالرحیم خضدار ۱۳۵ عبدالکریم قلات ۱۳۶ خلیل احمد دشت ۱۳۷ رحمت اللہ کوئٹہ ۱۳۸ محمد عیسیٰ کوئٹہ ۱۳۹ عبدالمجید کوئٹہ ۱۴۰ غلام مصطفیٰ کوئٹہ ۱۴۱ تاج محمد قلعہ سیف اللہ ۱۴۲ محمد داؤد کوئٹہ ۱۴۳ حسن خان لورالائی ۱۴۴ صبغت اللہ کوئٹہ ۱۴۵ محمد رحیم کوئٹہ ۱۴۶ عبدالسلام کوئٹہ ۱۴۷ محمد طیب کوئٹہ ۱۴۸ محمد اسلم کوئٹہ ۱۴۹ عبدالقیوم کوئٹہ ۱۵۰ عبدالمنان کوئٹہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۵۱ نعمت اللہ کوئٹہ ۱۵۲ نور اللہ کوئٹہ ۱۵۳ ثناء اللہ کوئٹہ ۱۵۴ عصمت اللہ قلعہ سیف اللہ ۱۵۵ حافظ راز محمد پشین ۱۵۶ محمد صدیق نوشکی ۱۵۷ فیض الحق چمن ۱۵۸ قادر داد خاران ۱۵۹ علی جان کوئٹہ ۱۶۰ ضیاء الرحمن نوشکی ۱۶۱ عبد الوحید قلات ۱۶۲ کلیم اللہ مستونگ ۱۶۳ نعیم اللہ خضدار ۱۶۴ غلام فاروق مستونگ ۱۶۵ عبداللہ گڑگرائی ۱۶۶ نور اللہ منگوچر ۱۶۷ محمد موسیٰ سریاب پل ۱۶۸ حافظ عبد الاحد سریاب پل ۱۶۹ عبد الواسع ھنہ اوڑک ۱۷۰ عطاء الرحمن کوئٹہ ۱۷۱ ثناء اللہ دھبہ
شریک کورس رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۲ء ص ۵۱، ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے قائد انقلاب اسلامی مولانا فضل الرحمٰن صاحب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری صاحب، مولانا حافظ حسین احمد صاحب، مولانا عبدالغفور حیدری صاحب، مولانا ڈاکٹر زبیر احمد صاحب، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی جمیل خان صاحب، مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب، مولانا بشیر احمد صاحب، مولانا قاری خلیل احمد صاحب، جناب مفتی محفوظ احمد صاحب، جناب آغا سید محمد صاحب، مولانا عبداللطیف صاحب، جناب عقیل احمد بندھانی صاحب، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب، مولانا خان محمد جمالی صاحب، مولانا محمد علی صدیقی صاحب، مولانا محمد نذر صاحب، مولانا احمد میاں حمادی صاحب، مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب، مولانا محمد حسین ناصر صاحب سمیت کئی ایک حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۲ء ص ۵۲)
سیرت النبی کانفرنس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام محلہ مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں سالانہ سیرت النبی کانفرنس ۳۰؍ اپریل ۲۰۰۲ء بروز جمعۃ المبارک کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب، مولانا محمد حسین چنیوٹی صاحب، مولانا محبوب الحسن صاحب اور مولانا محمد عابد صاحب نے خطاب کیا۔ جناب قاری محمد یوسف امام محمدیہ مسجد چناب نگر نے تمام انتظامات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۲ء ص ۵۱، ۵۲)
مولانا اللہ وسایا کا تبلیغی دورہ سندھ
- ☆...... ۲۹؍ اپریل ۲۰۰۲ء کو بعد نماز عشاء مسجد صدیقیہ نوکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدیقی، مولانا ہارون معاویہ، مولانا عبید اللہ سندھی، قاری عبد الستار آرائیں نے خطاب کیا۔
- ☆ ...... ۳۰؍ اپریل کو بعد نماز عشاء بسم اللہ مسجد حمید پورہ کالونی میر پور خاص میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد
علی صدیقی، مولانا حفیظ الرحمٰن، مولانا محمد حنیف، مولانا عبد اللہ کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... یکم مئی ۲۰۰۴ء کو مدینہ مسجد شاہی بازار میں عظیم الشان سیرت خاتم النبیین کانفرنس سے مولانا عبد الغفور قاسمی، مولانا غلام محمد
سومرو، مولانا حفیظ الرحمٰن، مولانا محمد علی صدیقی اور حافظ منظور احمد کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۲؍ مئی کو بعد نماز عشاء رحمانی مسجد رحم نگر میر پور خاص میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد کرنالوی، مولانا محمد
علی صدیقی، مولانا مفتی عبد القادر شاد اور مولانا محمد عبید اللہ کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۳؍ مئی کو بعد نماز عشاء حسینی مسجد ٹنڈو آلہ یار میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا کامران، مولانا محمد علی صدیقی،
مولانا محمد مبین، مفتی محمد عرفان، مولانا خالد نثار کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۵؍ مئی کو بعد نماز عشاء مدنی مسجد ماتلی میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا عبد الغفور قاسمی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی، مولانا گل
حسن، مولانا عبد الخالق، مولانا محمد رمضان اور مولانا محمد ابراہیم کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۶؍ مئی کو بعد نماز عشاء ٹنڈو غلام علی میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا حافظ زبیر احمد اور مولانا
خان محمد صاحب کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۷؍ مئی کو مولانا اللہ وسایا نے جمعہ کا خطبہ جامع مسجد مٹھی میں دیا۔ رات کو بعد نماز عشاء اسلام کوٹ میں ختم نبوت کانفرنس سے
مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا تاج محمد کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۸؍ مئی کو چھاچھرو میں بعد نماز عشاء مولانا اللہ وسایا اور مولانا مفتی محمد آدم کا بیان ہوا۔
- ☆ ...... ۹؍ مئی کو بعد نماز عشاء جامع مسجد شادی پلی میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا حافظ خادم حسین، مولانا محمد علی
صدیقی، مولانا نور دین اور مولانا قاری حامد حسین کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۱۰؍ مئی کو مولانا اللہ وسایا نے کراچی کی مختلف مساجد میں بیانات دیئے۔
- ☆ ...... ۱۳؍ مئی کو گمبٹ میں بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد نذر، مولانا محمد حسین ناصر اور مولانا نعمت اللہ
کے بیانات ہوئے۔
- ☆ ...... ۱۴؍ مئی کا جمعہ مولانا اللہ وسایا نے نواب شاہ کی جامع مسجد کبیر میں پڑھایا۔
- ☆ ...... آزاد کشمیر ضلع باغ میں منعقد ہونے والی خدمات علمائے دار العلوم دیوبند کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا مفتی محمد
جمیل خان کی سرپرستی میں ایک وفد نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔
- ☆ ...... جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں بزم خاتم النبیین کے عنوان سے ۲۲؍ اپریل ۲۰۰۴ء کو پروگرام منعقد ہوا۔ جس کی سرپرستی مولانا فضل
اللہ صاحب نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی جامعہ کے نائب مہتمم عبد الرشید غازی تھے۔
- ☆ ...... گزشتہ ماہ مرکزی جامع مسجد فیصل چونڈہ میں سیرت ساقی کوثر ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی جس سے مولانا محمد عارف ندیم، علامہ
نوار الحسن، مولانا عزیز الرحمٰن قاسمی، مولانا مشتاق احمد، قاری محمد انصر نے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... جامع مسجد کروڑ ضلع لیہ میں سالانہ تاجدار ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری، مولانا
عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد حسین، مولانا عبدالقادر ڈیروی، مولانا عبدالستار حیدری، قاری محمد امین، قاری غلام مجتبیٰ، قاری عبدالشکور گرواں اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔
- ☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤالدین کے زیر اہتمام ۲۹ اپریل تا ۴ مئی ۲۰۰۳ء چھ روزہ ساقی کوثر کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔
ان کانفرنسوں سے مولانا محمد اسماعیل، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا ارشاد اللہ، مولانا غلام کبریا، مولانا سید لال حسین شاہ اور مولانا محمد اسحق کے علاوہ علاقہ کے دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔
- ☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عارف والا میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے علامہ علی شیر حیدری، مولانا بشیر احمد
شاد، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالوہاب، مولانا انیس الرحمن و دیگر نے خطاب کیا۔
- ☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چیچہ وطنی میں صاحب قرآن کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا عبدالحکیم
نعمانی کے علاوہ دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۴ء ص۵۳،۵۴)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
بزم حسان کے زیر اہتمام جامعہ اشرفیہ لاہور میں مولانا عبدالرشید حدوٹی کی زیر صدارت ایک پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا عزیز الرحمن نے عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص۴۲)
ختم نبوت کانفرنس گوٹیریالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوٹیریالہ کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مجلس کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص۴۲)
ختم نبوت کانفرنس گوجرخان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام گوجر خان میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا مفتی محمود الحسن نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کا اہتمام جناب خالد مبین نے کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص۴۳، ۴۴)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
چیچہ وطنی (نمائندہ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی کے زیر اہتمام نویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس مدینہ مارکیٹ ریلوے روڈ پر مولانا قاری عبدالجبار کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا احمد لدھیانوی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا شاہ نواز، مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری محمد زاہد اقبال، حاجی محمد ایوب اور ملک محمد ارشد سمیت تمام رہنماؤں نے بھر پور تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص۴۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دروس ختم نبوت منڈی بہاؤالدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤالدین کے زیر اہتمام دو روزہ دروس ختم نبوت اور ختم نبوت تربیتی کورس کا مختلف مقامات پر اہتمام کیا گیا۔ چنانچہ پندرہ جون ۲۰۰۴ء کو بعد از ظہر تا عشاء جامع مسجد ختم کوٹ نواب شاہ میں تربیتی کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا اکرام اللہ خان کے بیانات ہوئے۔ سولہ جون بعد نماز ظہر واپڈا کالونی میں قاری محمد عزیز صاحب کے ہاں۔ بعد نماز مغرب مسجد ولی محمد نئی آبادی سکول محلہ ۔ جب کہ بعد نماز عشاء جامع مسجد ربانیہ میں مولانا فہیم احمد صاحب کے ہاں عقیدہ ختم نبوت اور قانون توہین رسالت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سترہ جون کو بعد نماز عشاء جامع مسجد چک سجاول میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری فیاض احمد نے۔ قمر شہزاد فاروقی نے ہدیہ نعت پیش کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب فاروقی، محمد عمر عثمانی نے علمائے دیوبند اور تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے خطاب فرمایا۔ ۱۸؍جون کو جمعتہ المبارک کا خطبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد چھوکر خورد میں ارشاد فرمایا۔ مولانا نے چوہدری خلیل احمد کو عظیم الشان کانفرنس منعقد کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص ۲۳، ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس لال مسجد میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمائی۔ تلاوت قاری سراج احمد نے کی۔ شاعر ختم نبوت مولانا قاضی مصباح الاسلام نے نعت پیش کی۔ اسلام آباد کے مبلغ مولانا مفتی محمود الحسن اور مولانا محمد ادریس نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا حافظ حسین احمد، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عبدالرؤف، مولانا بشیر احمد مرکزی مبلغ، مولانا قاری کامران احمد، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا اشرف علی، مولانا قاری احسان اللہ فاروقی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی خالد میر نے خطاب فرمایا۔ مولانا قاری عبدالوحید نے قراردادیں پیش کیں۔ مولانا عبدالعزیز نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ٹیکسلا میں یک روزہ ختم نبوت کانفرنس مولانا عبدالغفور مدظلہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ قاری اسامہ نے تلاوت فرمائی۔ مولانا مصباح الاسلام نے نعت پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا قاری کامران احمد، مرکزی مبلغ مولانا بشیر احمد، مولانا محمد ادریس، مولانا محمد صدیق، مولانا مفتی محمود الحسن مبلغ ختم نبوت، مولانا شبیر احمد، مولانا محمد اکرم طوفانی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ جب کہ اسٹیج پر مولانا نور حسین، مولانا صلاح الدین، مولانا محمد رفیق احمد، مولانا نور الحق، قاری احسان الحق تشریف فرما تھے۔ کانفرنس رات گئے مولانا عبدالغفور مدظلہ کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔ بعد ازاں مولانا محمد اکرم طوفانی نے جمعہ کا خطبہ جامع مسجد فاروق اعظم، مولانا بشیر احمد نے جامع مسجد خلفائے راشدین، مولانا قاری کامران احمد نے جامعہ حقانیہ میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص ۲۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس جندیکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حویلی لکھا کے زیر اہتمام ۱۹/ جون ۲۰۰۲ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالرزاق، مولانا ندیم سرور اور دیگر معززین نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء ص ۴۳)
ردقادیانیت کورس شیخوپورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ کے زیر اہتمام ۲۳ تا ۲۵/ جون ۲۰۰۲ء کو تین روزہ ردقادیانیت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، نے لیکچر دیئے۔ پہلے دو روز قادیانیوں نے بھی خاصی تعداد میں شرکت کی۔ سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی۔ قادیانی اپنے مربیوں سے سوالات لکھوا کر لاتے رہے۔ کورس کا انتظام مولانا بشیر احمد، میاں صابر حسین، حافظ عبدالرزاق، ماسٹر محمد امین، جامعہ قاسمیہ، جامع مسجد بلال، جامع مسجد توحید کی انتظامیہ نے کیا۔ جب کہ مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم ہمراہ رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء ص ۴۳)
انیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کا عظیم الشان انعقاد
اس سال ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد یکم اگست ۲۰۰۲ء بروز اتوار کو ہونا طے تھا۔ اس سلسلے میں تیاریوں کی تفصیل قارئین ایک سابقہ شمارہ میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ یکم اگست ۲۰۰۲ء کو مجازاً نہیں بلکہ حقیقتاً ”تمام راستے اور تمام قافلے“ جامع مسجد برمنگھم کی طرف رواں دواں تھے۔ کوچوں، کاروں اور دیگر ذرائع آمدورفت کے ذریعہ برطانیہ ہی نہیں بلکہ پورے یورپ سے شرکاء و مندوبین کانفرنس میں تشریف لائے۔ بیرونی ممالک جہاں سے مقررین و مندوبین تشریف لائے۔ ان میں ڈنمارک، ناروے، پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ کانفرنس کی دو نشستیں منعقد ہوئیں۔ کانفرنس کی صدارت حسب سابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی جب کہ اس مرتبہ کانفرنس کے مہمان خصوصی قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم تھے۔ کانفرنس کا آغاز خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم العالیہ کی دعا و اجازت سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری قمرالزمان نے حاصل کی جب کہ نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت سید سلمان گیلانی، مفتی عبدالمنتقم سلہٹی اور شعیب کو حاصل ہوئی۔
کانفرنس میں مولانا مفتی محمد احمد (جرمنی)، راجہ بشیر احمد (ڈنمارک)، مولانا عبدالحلیم فاروقی لکھنوی (ہندوستان)، مفتی محی الدین (بنگلہ دیش)، مولانا عبدالمجید انور، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، قاری حبیب احمد عمر، مولانا اشرف علی (پاکستان)، مفتی محمد اسلم، قاری اسماعیل رشیدی، مولانا فضل داد، مولانا ابراہیم، مولانا محمد سلیم دھورات، مولانا عبدالرؤف، مولانا ایوب سورتی، مولانا محمد بلال پٹیل، قاری اسماعیل رشیدی، مفتی عبدالقادر، صاحبزادہ سعید احمد، مولانا موسیٰ پانڈرو، پیر محمد انور، مولانا محمد اسلم زاہد، حافظ محمد ازہر، علامہ عمران الذکی، نعمان مصطفیٰ اور دیگر علمائے کرام نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر کانفرنس میں شریک بیس ہزار سے زائد مسلمانوں نے اسلامی اقدار کے تحفظ، عقیدہ ختم نبوت سے وابستگی اور قادیانیت کے خلاف آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد نے انجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۰ تا ۲۶/ اگست ۲۰۰۲ء ص ۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی سرپرستی امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا سید عبدالوہاب شاہ، مولانا محمد حنیف، مولانا مفتی عطاء الرحمن، مولانا محمد مظہر، مولانا محمد اسحاق ساقی نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے جناب حاجی سیف الرحمن اور دیگر رہنماؤں نے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۴ء ص ۵۲)
مولانا خدا بخش کا تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا خدا بخش صاحب لاہور اور گوجرانوالہ تشریف لائے۔ لاہور میں جامع مسجد عثمانیہ نادر آباد، جامع مسجد سعدی پارک جامع مسجد انارکلی اور دیگر مساجد میں ختم نبوت اجتماعات سے خطاب فرمایا۔ بعد ازاں مولانا خدا بخش صاحب گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے۔ گوجرانوالہ میں مولانا نے جامع مسجد ابوبکر ٹاؤن، جامع مسجد عثمانیہ گرجاکھ، جامع مسجد نور سیٹلائٹ ٹاؤن، جامع مسجد صدیقی رسولپورہ، جامع مسجد کامونکی میں اجتماعات سے خطاب فرمایا۔ ان تمام پروگراموں میں مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا خدا بخش شجاع آبادی صاحب کے ساتھ رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۴ء ص ۴۴)
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمائی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا قاضی حمید اللہ جان، مولانا عبدالحی، جناب صاحبزادہ طارق محمود، صاحبزادہ سعید احمد، جناب حافظ محمد یوسف عثمانی، مولانا فقیر اللہ اختر، جناب حافظ محمد ثاقب، جناب حافظ بشیر احمد و دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۴ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس چوک پرمٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا محمد مکی، مولانا خدا بخش، مولانا غلام محمد، مولانا عطاء اللہ، مولانا عبداللطیف، مولانا حبیب اللہ، جناب عبدالخالق، مولانا عبدالکریم و دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۴ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام ۴؍ ستمبر ۲۰۰۴ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت پیر طریقت شیخ المشائخ مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا ضیاء اللہ شاہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بخاری، مولانا خان محمد قادری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، محب النبی، جناب لیاقت بلوچ، مولانا محبوب شاہ، مولانا محمد امجد خان، مولانا قاری محمد زبیر، مولانا عزیز الرحمن ثانی اور مولانا فقیر اللہ اختر و دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس الحمد للہ کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۲ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوہاٹ کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا معز الحق، مولانا نعمت اللہ صاحب، مولانا قاضی محمد ارشد الحسینی، مولانا مفتی شہاب الدین، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل کاظمی، جناب محمد علی، جناب عتیق الرحمن و دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۲ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس پشاور
حسب سابق اس سال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پشاور میں چوک قصہ خوانی میں سالانہ ۳۰ ویں یوم ختم نبوت کے موقع پر ۷؍ ستمبر کو ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کانفرنس کی تیاری کے لئے مساجد میں رد قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت کے موضوعات پر مختصر اوقات کے پروگرام کئے گئے۔ ۷؍ ستمبر کو یہ عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جو کہ حسن انتظام و ترتیب کا بہترین نمونہ تھی اور امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان رہبر طریقت و شریعت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زیر سرپرستی منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم نشر و اشاعت مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی مدظلہ، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی امیر جماعت پشاور، مولانا اکرام اللہ جان قاسمی، مولانا نور الحق نور ناظم اعلیٰ مجلس پشاور، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا محمود الحسن مبلغ مجلس راولپنڈی نے خطاب کیا۔ علمائے کرام نے اپنے بیانات میں کہا کہ قادیانی نہ صرف ناموس رسالت ﷺ کے دشمن ہیں بلکہ وطن عزیز پاکستان کے بھی دشمن ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ قادیانیوں کی حمایت چھوڑ دے۔ علمائے کرام نے اہل پشاور کو کامیاب ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کرانے پر مبارک باد دی اور انہیں کہا کہ تحفظ ختم نبوت کے کام کے لئے اپنے تن من دھن قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۲ء ص ۲۵ تا ۵۳)
۲۳ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی مفصل رپورٹ
آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۹، ۱۰؍ ستمبر ۲۰۰۲ء دو دن جاری رہ کر اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں ہزاروں فرزندان توحید، شیدائیان ختم نبوت نے شرکت کی۔ جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کا وسیع و عریض پنڈال تنگی دامان کی شکایت کر رہا تھا۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے مضافاتی اضلاع میں دس روز پہلے سے محنت شروع کر دی۔ قریہ قریہ، بستی بستی، شہروں اور قصبات میں تبلیغی دورے کئے۔ ہزاروں اشتہارات اور اسٹیکرز اپنی نگرانی میں لگوائے۔ کانفرنس ہال کو خوبصورت بینروں سے سجایا گیا۔ بینروں پر مختلف اکابرین کے ارشادات نوٹ کئے گئے تھے۔ بینروں کی لکھائی، ڈیزائننگ، عبارتوں کا انتخاب مانسہرہ کی جماعت نے کیا۔ سیکورٹی کے فرائض مانسہرہ جماعت کے روح رواں جناب عبدالرؤف رونی نے اپنے ساتھیوں سمیت سرانجام دیئے۔
عام خوردونوش کی تقسیم حسب سابق جامعہ طیبہ گرین ویو فیصل آباد کے طلباء کرام نے اپنے رئیس الاساتذہ مولانا قاری محمد ابراہیم کی نگرانی میں کی۔ طعام کی تیاری کی نگرانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مہمان خصوصی کے قیام و طعام کی نگرانی گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر صاحب، مولانا عبدالعزیز صاحب کوئٹہ، مولانا محمد حسین ناصر صاحب سکھر، مولانا عزیز الرحمن ثانی صاحب لاہور، جناب قاری محمد رمضان صاحب مدنی سرانجام دیتے رہے۔ کانفرنس کے مقررین نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر بحث کی۔ کانفرنس کا آغاز اور اختتام قائد تحریک ختم نبوت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعا سے ہوا۔ کانفرنس کی کل پانچ نشستیں ہوئیں:
پہلی نشست صبح دس بجے : ۹؍ ستمبر ۲۰۰۴ء کو کانفرنس کی پہلی نشست ۱۰ بجے صبح شروع ہوئی۔ صدارت مولانا عبدالرؤف صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی صاحبزادہ عزیز احمد صاحب خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف تھے۔ تلاوت جناب قاری محمد یوسف نقشبندی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی نے کی۔ نعت جناب حافظ محمد شریف منچن آبادی نے پڑھی۔ الامیر دامت برکاتہم کی علالت کی وجہ سے آپ کی نیابت کرتے ہوئے مولانا عزیز الرحمن مدظلہ کی دعا سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ کانفرنس کی پہلی نشست سے جن مقررین نے خطاب فرمایا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ جناب قاری محمد یوسف نقشبندی مبلغ ڈیرہ غازی خان، مولانا خان محمد جمالی تھر پارکر سندھ، مولانا مفتی محمود الحسن مبلغ اسلام آباد، جناب حافظ عبدالوہاب جالندھری حافظ آباد۔ اس نشست میں آخری خطاب مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمایا جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔ اس نشست میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا ضیاء الدین آزاد نے سرانجام دیئے۔
دوسری نشست بعد نماز ظہر : کانفرنس کی دوسری نشست بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ صدارت جناب صاحبزادہ عزیز احمد صاحب خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے کی۔ تلاوت جناب قاری محمد یوسف عثمانی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ نے کی۔ نعت جناب قاری عمر سعد گوجرانوالہ نے پیش کی۔ مقررین میں مولانا محمد یعقوب ربانی فاروق آباد، شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی کہروڑ پکا، جناب حافظ محمد شریف منچن آبادی، مولانا خلیل احمد بندھانی سکھر، مولانا عبدالرحیم رحیمی کوئٹہ، جناب قاری مشتاق الرحمن، امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی، مولانا مفتی محمد طیب مہتمم جامعہ امدادیہ فیصل آباد، آخری خطاب مناظر اسلام مولانا عبدالستار تونسوی نے فرمایا جو تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ یہ نشست گزشتہ سالوں سے اجتماع اور خطابات کے اعتبار سے نمایاں رہی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد علی صدیقی نے سرانجام دیئے۔
محفل سوال و جواب: نماز عصر کے بعد سوال و جواب کی محفل منعقد ہوئی۔ مناظر ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے فاضلانہ ومناظرانہ انداز میں تحریری سوالات کے جوابات دیئے۔
تیسری نشست بعد نماز عشاء : کانفرنس کی تیسری نشست ۹؍ ستمبر ۲۰۰۴ء کو بعد نماز عشاء منعقد ہوئی جس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ تلاوت کلام مجید جناب قاری معاویہ محمود نے کی۔ نعت طلباء خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف اور زین العابدین نوشہرہ سرحد نے پڑھی۔ مقررین میں مولانا علامہ احمد میاں حمادی امیر مجلس سندھ، جناب حافظ محمد ادریس نائب امیر جماعت اسلامی، مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی نائب امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان (س)، مولانا عبدالمالک خان ایم این اے، مولانا قاضی ظہور حسین اظہر امیر تحریک خدام اہل سنت پاکستان، مولانا صاحبزادہ محمد امجد خان سیکرٹری اطلاعات متحدہ مجلس عمل پنجاب، مولانا سید امیر حسین گیلانی نائب امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری جنرل
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیکرٹری مرکزی جمعیت اہل حدیث، مولانا خان محمد قادری جماعت اہل سنت پاکستان، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا محمد احمد لدھیانوی نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات سوا تین بجے تک جاری رہی۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ قادیانی جماعت یہودیوں کی آلہ کار بن کر اسلام اور ملک پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ آئین اور قانون کی رو سے قادیانیوں کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھنا یا اسلامی شعائر استعمال کرنا ممنوع ہے۔ قادیانیوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور ان کی غیر آئینی و غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جائے۔ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مذہبی جماعتیں قادیانیوں کے کفر کو بے نقاب کرنے کے لئے متحد ہیں۔ قادیانیوں پر اسلامی شعائر کے استعمال پر پابندی کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ قادیانیوں نے سیاسی پناہ کے حصول کے لئے دنیا بھر میں پاکستان کی کردار کشی کی ہے۔ توہین رسالت کے قانون سمیت تمام اسلامی قوانین کو ختم کرانے کی کوششیں دراصل قادیانی سازشیوں کے اثرات ہیں۔ توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قادیانیوں کے خلاف مزید قانون سازی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ملک میں کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں کو برطرف کیا جائے۔ حکومت ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ ہے تو قادیانی جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرے اور اس کے اثاثوں کو ضبط کرے۔ قادیانیوں کو مراعات اور تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ملکی استحکام کے خلاف سازش ہیں۔ قادیانی جماعت کے اسرائیل سے گہرے روابط ہیں اور قادیانی اسرائیل کمانڈو ٹریننگ حاصل کر کے اسلامی ممالک کا امن و امان تباہ کرتے ہیں۔ مسلم ممالک کے سربراہان مملکت اپنے ممالک میں قادیانی جماعت کو ایک اسلام دشمن تنظیم قرار دیں۔ این. جی. اوز کے ذریعہ قادیانیت کی تبلیغ نا قابل برداشت ہے۔ قادیانیوں نے پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک ملک کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ قادیانیوں کی وفاداریاں اسلام دشمن عالمی سامراج کے ساتھ وابستہ ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر اسلامی تنظیموں نے قادیانیوں کے خلاف ہمیشہ پر امن جدو جہد کی ہے اور آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر قادیانیوں کی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ تمام دینی جماعتیں وطن عزیز کے تحفظ اور قادیانیوں کے اسلام دشمن اقدامات کے خلاف متحد ہیں۔ ۱۰؍ ستمبر ۲۰۰۲ء بروز جمعتہ المبارک کو صبح کا درس مولانا سید عبد الوہاب شاہ نقشبندی صاحب نے دیا۔
چوتھی نشست قبل از جمعہ: کانفرنس کی چوتھی نشست آغاز جمعہ سے قبل تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مقررین میں مولانا سیف الرحمن لاہور، جناب حاجی اللہ دتہ مجاہد، مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ ساہیوال، مولانا عبدالرشید مبلغ مظفر گڑھ، مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ بہاول نگر، مولانا قاری محمد انور انصر سیالکوٹ، مولانا نور الحق نور ناظم اعلیٰ مجلس پشاور، مولانا محمد علی صدیقی مبلغ میر پور خاص، مولانا نذیر احمد تونسوی مبلغ کراچی، مولانا محمد طیب فاروقی مبلغ منڈی بہاؤ الدین، مولانا محمود الرشید حدوٹی لاہور، مولانا محمد حسین ناصر مبلغ سکھر، مولانا محمد مراد ہالیجوی سکھر۔ اس نشست کا آخری خطاب خطیب العصر مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب کا ہوا جو تقریباً سوا گھنٹہ جاری رہا۔
دستار بندی طلبہ کرام: الحمد للہ! اس سال جامعہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر سے گیارہ طلبہ کرام نے وفاق المدارس کے تحت امتحان دیا اور مدرسہ سے سند فراغت حاصل کی۔ اس نشست میں دستار بندی کرائی گئی۔ طلبہ کرام کے نام درج ذیل ہیں۔ محمد امین چناب نگر، محمد ساجد امین سرگودھا، خرم شہزاد ملتان، محمد یاسین اوکاڑہ، محسن علی چناب نگر، محمد عمران چنیوٹ، محمد یونس تونسہ، محمد نوید ایاز چناب نگر، محمد علی چنیوٹ، محمد قاسم کوئٹہ، فیاض احمد منڈی بہاؤ الدین شامل ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قراردادیں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے پیش کیں۔
آخری نشست بعد نماز جمعہ : کانفرنس کی آخری نشست ۱۰؍ ستمبر ۲۰۰۴ء بعد نماز جمعتہ المبارک منعقد ہوئی۔ صدارت قائد تحریک ختم نبوت حضرت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ مہمان خصوصی مولانا صاحبزادہ سید میاں مہتمم جامعہ مدنیہ جدید لاہور جب کہ تلاوت کلام پاک مولانا مفتی محمد جمیل خان نے کی۔ نعت شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی لاہور نے پیش کی۔ مقررین میں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی امیر عالمی مجلس پشاور، مولانا عبدالغفور حیدری ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے اسلام پاکستان اور اس نشست کا آخری خطاب قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ سیکرٹری متحدہ مجلس عمل، قائد حزب اختلاف نے فرمایا جو مسئلہ ختم نبوت اور حالات حاضرہ سے متعلق تھا۔ کانفرنس کا اختتام حضرت الامیر دامت برکاتہم کی دعا سے ہوا۔ کانفرنس ہر اعتبار سے بھرپور کامیاب رہی۔ الحمد للہ علی ذالک!
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۴ء ص ۲۵ تا ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ کے زیر اہتمام ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس مسجد عائشہ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبداللطیف انور، مولانا قاری محمد الیاس، مولانا محمد عالم، مولانا عبدالنعیم، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۴ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس تھرپارکر کا کامیاب انعقاد
گوٹھ حاجی فتح محمد لاشانی نزد شادی پلی میر پور خاص تھرپارکر میں جیسے ہی قادیانیوں نے اپنی سرگرمی شروع کی تو اس علاقہ کی مشہور دینی شخصیت استاذ العلماء مولانا نور محمد جو اس حلقہ میں ختم نبوت کے کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں، انہوں نے بروقت اپنے ادارہ کے مجاہد مولانا نور الدین شر کو دورۂ تھرپارکر کا حکم دیا۔ مولانا نور الدین نے جا کر علاقہ کے مسلمانوں سے ملاقات کی اور گوٹھ فتح محمد لاشانی میں ایک عظیم الشان تبلیغی پروگرام بعنوان ختم نبوت کانفرنس ترتیب دیا۔ یہ پروگرام ۲۸؍ستمبر بروز منگل بعد نماز عشاء مولانا نور محمد مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری خالد حسین نے حاصل کی۔ مولانا غلام مصطفیٰ سمیجہ کے مختصر بیان کے بعد میر پور خاص مدینہ مسجد کے نوجوان خطیب مولانا حفیظ الرحمٰن فیض نے حبیب خدا ﷺ کی شان اقدس کے حوالے سے روح پرور خطاب فرمایا۔ اس کے بعد مولانا خان محمد جمالی نے اہل علاقہ کو قادیانیت کے فتنہ سے بچنے پر مبارک باد دی اور بروقت اتنے بڑے پروگرام تشکیل دینے اور اہل علاقہ کو ایمانی غذا پہنچانے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ختم نبوت کا کام کرنے کی چند آسان تدابیر بتلائیں۔ بعد ازاں مولانا نور الدین شر نے تاریخ کے ان مجاہدوں کے واقعات بیان فرمائے جن کو ناموس رسالت کا جذبہ رکھنے کے عوض میں اس دنیا میں بھی انعامات سے نوازا گیا تھا بعد ازاں مجاہد ختم نبوت مولانا محمد علی صدیقی کا خطاب لاجواب ہوا جنہوں نے قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کر کے رکھ دیا۔ حافظ محمد اشرف نے نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مہمان خصوصی مفتی حفیظ الرحمٰن ٹنڈو آدم کا جب سحر انگیز خطاب شروع ہوا تو سامعین ہمہ تن گوش ہو گئے۔ جلسہ کے صدر، علاقہ کی معزز شخصیت استاذ العلماء مولانا نور محمد مدظلہ اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے جن کا فلک شگاف نعروں اور گلاب کے پھولوں سے استقبال کیا گیا۔ بعد ازاں شیریں بیان خطیب، علاقہ کے مرد مجاہد مولانا محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ابراہیم کا پر ترنم خطاب شروع ہوا۔ آخر مولانا نور محمد نے اپنے دعائیہ کلمات میں اہل علاقہ کو دینی کام کرنے کی طرف توجہ دلائی اور اپنی دعاؤں سے نوازا۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے والے حاجی محمد ابراہیم لاشاری، علی غلام لاشاری، محمد اسحاق، عبدالمجید نے پرشکوہ پروگرام بنا کر جنگل میں منگل بنا دیا تھا۔۔ اس کانفرنس میں میر پور خاص، ۷۸ موری، بلوچ آباد، عبداللہ آباد، شادی پلی، اڈارو قہرانی، بھمرو گوٹھ سے قافلوں کی شکل میں ختم نبوت کے پروانوں نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۲ تا ۲۵ /نومبر ۲۰۰۲ء ص ۲۵، ۲۶)
گیارھواں سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس ۲۰/اکتوبر ۲۰۰۲ء کو مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید اور مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ کی دعا سے شروع ہوا۔ آزاد کشمیر سمیت پورے ملک سے ۱۲۹ /طلبائے کرام نے مختلف مدارس اور اسکولوں سے شرکت کی۔ کورس کے اساتذہ کرام مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ، مولانا خدا بخش صاحب مدظلہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب، مولانا مفتی محمد انور صاحب، مولانا مفتی حفیظ الرحمن صاحب، مولانا محمد طیب فاروقی صاحب، مولانا غلام مرتضیٰ صاحب، مولانا راشد مدنی صاحب اور جناب حاجی اشتیاق احمد صاحب تھے۔
اس سال مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید اور مولانا نذیر احمد تونسوی شہید کی شہادت کی وجہ سے کورس کی اختتامی تقریب بہت ہی سادگی سے ہوئی۔ طلباء کرام کو عالمی مجلس کی مطبوعات اور نقد وظیفہ اور اسناد دی گئیں۔ کورس میں شامل طلبائے کرام کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
رول نمبر نام ضلع رول نمبر نام ضلع ۱ محمد قاسم پشاور ۲ بصیر اللہ کوئٹہ ۳ عبدالجلیل کوئٹہ ۴ عبدالرزاق لاڑکانہ ۵ آفتاب حسین کراچی ۶ محمد آصف شاکی کراچی ۷ محمد ریحان گوجرانوالہ ۸ محبوب عثمان گجرات ۹ منظور احمد خانیوال ۱۰ محمد افضل خانیوال ۱۱ عبدالمنان معاویہ رحیم یار خان ۱۲ وسیم احمد گوجرانوالہ ۱۳ عزیز الرحمن فیصل آباد ۱۴ محمد اعجاز ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۵ محمد خالد قصور ۱۶ محمد اکرم بھکر ۱۷ محمد نسیم بھکر ۱۸ محمد عمار احمد پاکپتن ۱۹ محمد طیب ڈیرہ غازی خان ۲۰ غلام مجتبیٰ بہاول نگر ۲۱ حفیظ الرحمن بھکر ۲۲ علی حسن بہاول پور ۲۳ محمد مرید حسین سیالکوٹ ۲۴ جلیل الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان ۲۵ حماد اللہ میر پور خاص ۲۶ عدنان اکرم فیصل آباد ۲۷ محمد سہیل بھکر ۲۸ لقمان احمد بھکر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۹ محمد فاروق حسن بھکر ۳۰ اسرار احمد حیدرآباد ۳۱ محمد عارف حیدرآباد ۳۲ محمد عدنان بہاولنگر ۳۳ محمد حبیب اللہ بہاولنگر ۳۴ محمد عمیر بہاولنگر ۳۵ عطاء الرحمن گوجرانوالہ ۳۶ محمد یعقوب میرپورخاص ۳۷ عبدالخالق میانوالی ۳۸ مظہر الحق ساہیوال ۳۹ غضنفر شاہین شیخوپورہ ۴۰ احسان الحق آزادکشمیر ۴۱ تصدق حسین آزادکشمیر ۴۲ خباب معاویہ وہاڑی ۴۳ عبداللطیف بھکر ۴۴ محمد مدنی بہاول پور ۴۵ کلیم اختر خانیوال ۴۶ محمد اعظم مرزا ملتان ۴۷ محمد یاسین ٹوبہ ٹیک سنگھ ۴۸ محمد عمر فاروق ٹوبہ ٹیک سنگھ ۴۹ عبدالشکور ٹوبہ ٹیک سنگھ ۵۰ ابراہیم اختر جھنگ ۵۱ مطلوب احمد بہاول نگر ۵۲ صغیر احمد قصور ۵۳ طارق محمود کوہاٹ ۵۴ محمد عمران سلفی ملتان ۵۵ محمد یاسین ملتان ۵۶ محمود احمد رحیم یارخان ۵۷ خالد محمود ملتان ۵۸ خوشنواز عباسی راولپنڈی ۵۹ رضوان الطاف مانسہرہ ۶۰ سیف الرحمن سرگودھا ۶۱ اسحق علی شاہ بنوں ۶۲ محمد ابوبکر ڈی آئی خان ۶۳ بلال احمد حافظ آباد ۶۴ محمد تحسین اللہ ڈی آئی خان ۶۵ محمود احمد پاکپتن ۶۶ غلام دستگیر شاہد اوکاڑہ ۶۷ محمد صغیر منڈی بہاؤالدین ۶۸ عطاء الحسن فیصل آباد ۶۹ عطاء الرسول ٹوبہ ٹیک سنگھ ۷۰ منیر احمد شیخوپورہ ۷۱ شہزاد سلیم ٹوبہ ٹیک سنگھ ۷۲ محمد کاشف اختر سرگودھا ۷۳ محمد حسین بھکر ۷۴ محمد کامران سرگودھا ۷۵ محمد شاہد اقبال گوجرانوالہ ۷۶ محمد عاصم ڈی جی خان ۷۷ محمد عمران ساہیوال ۷۸ محمد فیصل فیصل آباد ۷۹ محمد ابوبکر سرگودھا ۸۰ محمد اکرم شیخوپورہ ۸۱ محمد بلال لیہ ۸۲ شاہد حسین فیصل آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸۳ محمد سجاد سیالکوٹ ۸۴ محمد عابد رضا فیصل آباد ۸۵ شفقت ندیم فیصل آباد ۸۶ نور الٰہی سرگودھا ۸۷ محمد طیب بہاول پور ۸۸ امام الحق سرگودھا ۸۹ محمد شبیر پاکپتن ۹۰ سید نذیر احمد زیارت ۹۱ عبد الماجد ایبٹ آباد ۹۲ عبد اللطیف گوجرانوالہ ۹۳ ابو الحسن گوجرانوالہ ۹۴ مطیع اللہ عثمانی سیالکوٹ ۹۵ مطیع اللہ لکی مروت ۹۶ دل جان لکی مروت ۹۷ گل نواز لکی مروت ۹۸ محمد یعقوب سرگودھا ۹۹ غلام دستگیر سرگودھا ۱۰۰ محمد عابد ساہیوال ۱۰۱ محمد عبدالرحمٰن لاہور ۱۰۲ محمد عباس ساہیوال ۱۰۳ عبدالغفور نعمانی چکوال ۱۰۴ محمد مستقیم چارسدہ ۱۰۵ محمد جان چارسدہ ۱۰۶ محمد عاطف بہاول پور ۱۰۷ صغیر احمد فیصل آباد ۱۰۸ قیصر محمود سیالکوٹ ۱۰۹ تصور اقبال راولپنڈی ۱۱۰ محمد نوید سیالکوٹ ۱۱۱ وقار احمد سیالکوٹ ۱۱۲ سجاد اسلم سیالکوٹ ۱۱۳ چوہدری قدرداد جھنگ ۱۱۴ محمد اکمل خانیوال ۱۱۵ محمد ابوبکر ڈی جی خان ۱۱۶ محمد اشرف ڈی جی خان ۱۱۷ عثمان غنی وہاڑی ۱۱۸ عبدالمجید لیہ ۱۱۹ محمد اسلم لیہ ۱۲۰ محمد اقبال ڈی جی خان ۱۲۱ محمد زاہد بھکر ۱۲۲ محمد احمد قاسم ملتان ۱۲۳ محمد ہاشم خیر پور میرس ۱۲۴ زبیر احمد خیر پور میرس ۱۲۵ آصف محمود خیر پور میرس ۱۲۶ کلیم اللہ خیر پور میرس ۱۲۷ سراج احمد خیر پور میرس ۱۲۸ قاری ابرار الحق مظفر آباد ۱۲۹ محمد سمیع اللہ قصور ۱۳۰ محمد رفاقت زبیر شیخوپورہ ۱۳۱ محمد حسین جھنگ ۱۳۲ محمد شاہد ملتان ۱۳۳ محمد عمر ملتان ۱۳۴ محمد امیر معاویہ میانوالی ۱۳۵ طاہر محمود گوجرانوالہ ۱۳۶ عمران حسین حافظ آباد ۱۳۷ محمد عارف فیصل آباد ۱۳۸ جہانگیر احمد اوکاڑہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۳۹ عبدالسلام حسان ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۴۰ محمد یوسف مظفر گڑھ ۱۴۱ عبید اللہ خوشاب ۱۴۲ طاہر نوید شیخوپورہ ۱۴۳ خالد محمود لاہور ۱۴۴ محمد وسیم بہاول نگر ۱۴۵ محمد بلال بہاول پور ۱۴۶ محمد عمر ڈیرہ غازی خان ۱۴۷ محمد طارق لودھراں ۱۴۸ محمد مختار بہاول نگر ۱۴۹ محمد ابراہیم بہاول نگر ۱۵۰ محمود احمد بہاول نگر ۱۵۱ غلام مصطفیٰ بہاول نگر ۱۵۲ محمد سعید جھنگ ۱۵۳ محمد عبداللہ لودھراں ۱۵۴ محمد جمیل لودھراں ۱۵۵ محمد اکرم بھکر ۱۵۶ شبیر حیدر ملتان ۱۵۷ عبدالرحیم سیالکوٹ ۱۵۸ سعید احمد فیصل آباد ۱۵۹ سیف الرحمٰن بہاول پور ۱۶۰ محمد امین بہاول پور ۱۶۱ محمد زاہد خانیوال ۱۶۲ محمد اشفاق قصور ۱۶۳ محمد اعظم قصور ۱۶۴ محمد یوسف بھکر ۱۶۵ کامران اعظم گوجرانوالہ ۱۶۶ احسن محمود اٹک ۱۶۷ یاسر محمود اوکاڑہ ۱۶۸ عبدالقدوس سرگودھا ۱۶۹ عبدالجبار ڈیرہ غازی خان ۱۷۰ محمد عمران صدیق سرگودھا ۱۷۱ حاکم زیب مانسہرہ ۱۷۲ محمد بلال بہاول پور ۱۷۳ محمد عربی بہاول پور ۱۷۴ محمد اجمل ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۷۵ محمد شاہد لاہور ۱۷۶ عمران الحق ملتان ۱۷۷ محمد یوسف سکھر ۱۷۸ محمد عمیر وہاڑی ۱۷۹ غلام اکبر مظفر گڑھ ۱۸۰ محمد سرفراز عالم میانوالی ۱۸۱ حافظ حبیب الرحمٰن سیالکوٹ ۱۸۲ محمد ثاقب اسلام آباد ۱۸۳ عبدالرحیم بلوچستان ۱۸۴ محمد طیب آزاد کشمیر ۱۸۵ محمد حامد عمیر جھنگ ۱۸۶ حق نواز پاکپتن ۱۸۷ محمد انس بہاول نگر ۱۸۸ سائیں بخش شکار پور ۱۸۹ عطاء اللہ شکار پور ۱۹۰ محمد ارشد بہاول پور ۱۹۱ محمد حسین پاکپتن ۱۹۲ محمد ابوبکر سرگودھا
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۴ء ص ۵۱ تا ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۵ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خدارا! قادیانیوں کو مسلمانان وطن پر مسلط نہ کریں
اسلامیان پاکستان کے لئے یہ بات انتہائی کربناک ہے کہ ملک عزیز پاکستان میں ایک بار پھر قادیانی گروہ کی سرگرمیاں خطرناک شکل اختیار کر گئی ہیں۔ لگتا ہے کہ قادیانی ملک میں خطرناک کھیل کھیلنے کے درپے ہیں۔ اگر قادیانی گروہ کی اس روش پر حکمران طبقہ نے عدم توجہی برتی اور ان پر قدغن نہ لگائی تو حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟ یہ آنے والے وقت پر منحصر ہے۔ ذیل میں چند فکر انگیز واقعات کا مطالعہ ہر دردمند پاکستانی کی توجہ کا متقاضی ہے:
- ۱...... ۵؍ ستمبر ۲۰۰۴ء کے قومی اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ: ”ضلع حافظ آباد کے قصبہ رسول پور تارڑ میں بھارتی ایجنسی را کا ایجنٹ
گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے دو ہینڈ گرنیڈ اور دو کلاشن کوفیں برآمد کر لی گئیں۔ اے.ایس.پی پنڈی بھٹیاں عمران محمود نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ خفیہ اطلاع پر ہم نے چھاپہ مار کر ”راء“ کا ایجنٹ گرفتار کیا۔ اس کا نام مبشر احمد ہے اور وہ قادیانی ہے۔ اس مبشر احمد قادیانی کی بہن گوگی کی شادی حبیب احمد بھارتی قادیانی سے ہوئی۔ حبیب احمد قادیانی بھارت میں را کا ایجنٹ ہے اور مبشر قادیانی پاکستان سے اپنے بہنوئی حبیب احمد قادیانی کو معلومات فراہم کرتا تھا۔ مبشر قادیانی نے دوران تفتیش راء کا ایجنٹ ہونے کا اعتراف کیا۔ اے.ایس.پی نے پریس کو بتایا کہ ہم پندرہ روز تک دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا پتہ چلا لیں گے۔“
(روزنامہ خبریں ملتان)
اس خبر کو تین ماہ ہو گئے ہیں۔ آگے کیا ہوا؟ کس نے تفتیش کو بریک لگوائی؟ یہ حکومت کے لئے سوالیہ نشان ہے؟
- ۲...... چاہئے تو یہ تھا کہ قادیانیوں کے راء کے ساتھ مراسم کو طشت از بام کیا جاتا۔ مگر ہوا کیا؟ کہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور سے
قادیانیوں پر عائد پابندی کہ ”قادیان یاترا“ کے لئے وہ اجتماعی طور پر نہیں جاسکتے۔ اس پابندی کو اٹھا لیا گیا۔ دسمبر ۲۰۰۴ء میں سینکڑوں قادیانیوں کو قادیان یاترا کے لئے بھیجا گیا اور زرمبادلہ مہیا کیا گیا۔ حالانکہ دنیا کو معلوم ہے کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ تقسیم غلط ہے۔ اکھنڈ بھارت دوبارہ قائم ہوگا۔ قادیانیوں کی نعشیں پاکستان میں امانتاً دفن ہیں۔ موجودہ دور حکومت میں ایسے کیوں ہوا؟
- ۳...... واشنگٹن سے اخبار نویس احمد شکیل میاں کی رپورٹ قومی اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ: ”صدر مملکت جناب پرویز مشرف
صاحب اپنے حالیہ دورہ میں لاطینی امریکہ کے دوران کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر مبشر احمد قادیانی کے گھر نجی دعوت پر گئے۔ چونکہ مبشر احمد قادیانی ہے۔ اس لئے مہمانوں کی زیادہ تعداد قادیانیوں پر مشتمل تھی۔ جس میں اکثریت بھارت سے تعلق رکھنے والے قادیانیوں کی تھی۔ اتنے بھارتی قادیانی واشنگٹن کی کسی پاکستانی تقریب میں پہلے نہیں دیکھے گئے۔ قادیانی لیڈر شپ بھی مجلس میں شریک تھی۔ ڈاکٹر مبشر قادیانی کی بیوی سعدیہ واشنگٹن میں ایک بے باک انتہائی فیشن ایبل اور لبرل خاتون کی شہرت रखती ہیں اور واشنگٹن ایریا میں کئی فیشن شو کروا چکی ہے۔ کسی پاکستانی سربراہ مملکت کا امریکہ میں ایک پرائیویٹ شہری کی دعوت میں اس طرح شرکت کرنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور واشنگٹن میں اس پاور لنچ کے متعلق چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ اس دعوت میں انڈیا اور دوسرا غیر ملکی میڈیا مدعو تھا۔ لیکن مقامی پاکستانی میڈیا کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ صرف مبشر کے ذاتی دوست صحافی شریک ہوئے۔ مبشر کا کہنا ہے کہ میں نے دعوت نامے ایمبیسی حکام کو دیئے۔ آگے انہوں نے نہیں پہنچائے۔“
(تکبیر ۱۵؍دسمبر ۲۰۰۴ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۴...... یہی لبرل فیشن ایبل قادیانی خاتون سعدیہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب چوہدری پرویز الٰہی کی مشیر تعلیم ہیں۔
- ۵...... اسی قادیانی ڈاکٹر مبشر کے قادیانی والد اسلم کے نام پر اونچی کھرولیاں (تحصیل ڈسکہ) کا نام اسلم پورہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ
چوہدری پرویز الٰہی نے رکھا ہے۔ تاحال نوٹیفکیشن منسوخ نہیں کیا۔ قومی رہنماؤں و دینی شخصیات سے وعدہ کر کے پورا کرتے نظر نہیں آتے۔
- ۶...... قومی اخبارات میں خبر چھپی ہے کہ برطانیہ سے قادیانی غلط ترجمہ والا قرآن مجید لا کر پاکستان میں تقسیم کر کے مذہبی منافرت اور اشتعال
پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزارت مذہبی امور نے وزارت تجارت، وزارت داخلہ اور سی۔ بی۔ آر کو لیٹر بھیجا ہے کہ وہ اس کا انسداد کریں۔
- ۷...... لیکن سی۔ بی۔ آر کا چیئرمین ملک ریاض جو کہ دوالمیال ضلع چکوال کی ملک برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ خود سکہ بند قادیانی ہے۔
- ۸...... نادرا کا ایک ڈی۔ جی (ڈائریکٹر جنرل اکاؤنٹس) مبینہ طور پر سکہ بند قادیانی ہے۔
- ۹...... پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ حذف کرانا قادیانی سرگرمیوں کا تازہ شاہکار کارنامہ ہے۔ ہمارے وفاقی وزیر داخلہ قادیانی سازش
میں بری طرح جکڑ دیئے گئے ہیں۔ وہ قادیانی کیس کی وکالت کر رہے ہیں۔ لاکھوں پاسپورٹ بغیر خانہ مذہب کے شائع ہو چکے ہیں۔ ۸۰ ہزار ایشو بھی ہو گئے ہیں۔ خانہ مذہب کی بحالی کا وزیر اعظم کی موجودگی میں حکمران جماعت کے صدر جناب چوہدری شجاعت حسین نے قوم کو مژدہ جانفزا سنایا۔ وفاقی وزیر داخلہ کا اکاؤنٹس برانچ نادرا (جس کا ڈی جی مبینہ طور پر قادیانی ہے) نے سمری یہ تیار کر کے دی کہ کروڑوں کا نقصان ہوگا۔ بجائے اس کے پچیس سال سے پاسپورٹ میں موجود خانہ مذہب کو حذف کر کے پاسپورٹ شائع کرنے والوں سے اس نقصان کی ریکوری کرائی جاتی۔ الٹا اس پر وفاقی وزراء کی کمیٹی قائم کر دی گئی جس میں دو سابق عسکری وزراء بھی موجود ہیں۔ اس کمیٹی کا اجلاس ہو کر حتمی رپورٹ کو غیر معینہ تاریخ پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے سربراہ ہفتہ بھر کے لئے چین کے دورہ پر جا رہے ہیں۔ کمیٹی کی مثبت و منفی رپورٹ تک پاسپورٹ کی اشاعت جاری۔ ایشو کرانا برابر جاری۔ ایک کھیپ اس دوران میں پاسپورٹ حاصل کر کے من مانی مراد حاصل کر لے گی۔ کیا ہو رہا ہے۔ کوئی پاکستانی دردمند اس پر توجہ کرے گا یا اس کیس کو بھی برقعہ و داڑھی کی طرح گھر پر رکھنے سے مشورہ سے سرفراز کرے گا؟
- ۱۰...... اب آخری خبر جس سے ساری سازش پکڑی جاتی ہے کہ قادیانیوں نے پاکستانی پاسپورٹ سے خانہ مذہب کیوں حذف کرایا؟ وہ
یہ کہ قادیانی سیاسی پناہ کے نام پر ویزے لیتے تھے کہ پاکستان میں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ باہر کی حکومتوں نے دھڑا دھڑ ویزے دیئے۔ ان حکومتوں نے انکوائریاں کیں۔ قادیانی پروپیگنڈا غلط ثابت ہوا کہ قادیانی حالیہ مردم شماری کے مطابق چند لاکھ پاکستان میں ہیں۔ اعلیٰ ملازمتیں پورے ملک کی ایک تہائی آبادی کے برابر ان کے پاس ہیں۔ قادیانی ہونے پر ویزے محدود ہو گئے۔ انہوں نے کھیل کھیلا۔ وزارت داخلہ زندہ باد کہ مشین ریڈایبل پاسپورٹ سے خانہ مذہب حذف کر دیا گیا۔ قادیانی جانتے تھے کہ اس پر دینی قیادت خاموش رہی تو قادیانی مزے میں۔ آج یہ واپس ہوا کل اور سرکاری مقدمات ایک ایک کر کے واپس کرالیں گے۔ ہمارے نو دو گیارہ ہو جائیں گے اور اگر دینی قیادت خاموش نہ رہی جس کا زیادہ امکان ہے تو پھر امتیازی سلوک کا پروپیگنڈہ کر کے ویزے لینے کے چاروں طرف پھر دروازے وا ہو جائیں گے۔ اس تناظر میں قومی اخبارات میں شائع شدہ ذیل کی خبر ملاحظہ کریں: ”کراچی (سراج احمد ...... سٹاف رپورٹر (ایف۔ آئی۔ اے نے بعض این۔ جی۔ اوز اور انسانی اسمگلنگ کے ایجنٹوں کی جانب سے قادیانیوں کو مذہبی امتیازی سلوک کے نام پر مغربی ممالک میں سیاسی پناہ دلانے کے منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش کا نوٹس لے۔ پاکستان سے وزٹ ویزا کھٹمنڈو لے جایا جاتا ہے پھر نئی دہلی میں سفارت خانوں میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
درخواستیں جمع کرائی جاتیں ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن کراچی کی جانب سے وفاقی حکومت کو ایک رپورٹ ارسال کی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے ایجنٹوں نے بعض این جی اوز کے ساتھ مل کر بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند قادیانیوں کو جعلی کاغذات اور مذہبی امتیازی سلوک کے جعلی واقعات کی بنیاد پر اسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک بھجوانے کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔ نئی دہلی میں واقع غیر ملکی سفارت خانوں میں جمع کرائی جانے والی درخواستوں میں پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف مذہبی امتیاز کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ ایجنٹ درخواست گزار کو واپس لاتے ہیں اور انٹرویو کی طلبی پر دوبارہ نئی دہلی لے جایا جاتا ہے اور ایجنٹوں کے مشورے پر جعلی ایف آئی آر خطوط اور دیگر دستاویزات بنائی جاتیں ہیں۔ ایف آئی اے کی دسمبر تک، اٹھائیس دنوں کے دوران ایف آئی اے امیگریشن کراچی نے اس طرح کے بتیس افراد کو آف لوڈ کیا۔ جو انٹرویو کے لئے کھٹمنڈو جارہے تھے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ میں ایک جوڑے مبشر احمد اور ان کی اہلیہ کانتا مبشر کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ جوڑا جو کہ ۲۰؍نومبر کو کھٹمنڈو جارہا تھا کہ ایف آئی اے کے افسران نے شک کی بنیاد پر پوچھ گچھ کی تو انہوں نے قادیانیوں کی سیاسی پناہ کے مذکورہ سلسلے کی تصدیق کی اور ایجنٹوں کی جانب سے فراہم کردہ جعلی کاغذات کا بھی انکشاف کیا۔‘‘
(روزنامہ جنگ ملتان ۴؍جنوری ۲۰۰۵ء)
اسلامیانِ پاکستان! آپ سے دردِ دل سے گزارش ہے کہ اگر ہماری وزارت داخلہ نے قادیانی سازش کا شکار ہو کر پاسپورٹ سے خانہ مذہب کو حذف کر کے قادیانیوں کو موقعہ فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان کو بدنام بھی کریں اور ویزے بھی حاصل کریں۔ فرمائیے کہ کسی بھی ملک کے لئے اتنی بڑی خدمت سر انجام دے سکتی ہے؟ کیا اس پر ملک کی دینی قیادت خاموش رہ کر قادیانیوں سے متعلق پہلے سے نافذ شدہ قانونی اقدامات پر خاموش رہے؟ ہرگز نہیں؟ سوچئے ملک میں قادیانی کیا کر رہے ہیں۔ ان اسلام دشمن عناصر سے بچنا کتنا ضروری ہے؟ یہ آپ کے سوچنے کی چیز ہے۔ سوچئے بار بار سوچئے؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍فروری ۲۰۰۵ء ص۴، ۵)
مذہبی خانہ کے لئے کمیٹی کا قیام کیوں......؟
۵؍جنوری ۲۰۰۵ء کو وفاقی کابینہ میں قومی پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے مسئلہ پر غور خوض کے بعد وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی کے قیام اعلان کیا گیا۔ اس کمیٹی میں وفاقی وزیر تعلیم قاضی جاوید اشرف، وفاقی وزیر ریلوے، وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل امان اللہ خان اور وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی اپنی سفارشات وزیر اعظم شوکت عزیز کو پیش کرے گی اور یوں پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔
۷؍جنوری بروز جمعتہ المبارک کو پورے ملک میں یوم صدائے ختم نبوت منایا گیا۔ تمام اہم ضلعی صدر مقامات پر پریس کلبوں کے سامنے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں اور عقیدہ ختم نبوت سے قلبی وابستگی رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے علماء و زعماء نے مظاہرے کر کے حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال نہ کیا تو ملک گیر سطح پر بھر پور تحریک چلائی جائے گی۔ قبل ازیں ۳۱؍دسمبر ۲۰۰۴ء کو ملک بھر میں یوم ختم نبوت منایا گیا تھا۔
نئے پاسپورٹ (ریڈ ایبل) میں مذہب کا خانہ اچانک ختم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی قومی پاسپورٹ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے الفاظ بھی حذف کر دیئے گئے۔ اس اقدام کے بعد دینی و مذہبی حلقوں میں اضطراب کا پھیل جانا ایک فطری امر تھا۔ چنانچہ اس ضمن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملک کی دینی و سیاسی قیادت سے رابطہ کر کے مذہبی شناخت کے خاتمہ کے مضمرات سے انہیں آگاہ کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۸/دسمبر کو اسلام آباد میں قائد حزب اختلاف حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کی سرپرستی میں اس مسئلہ پر غور و خوض کرنے کے لئے جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ دینی و سیاسی قیادت نے اعلیٰ ظرفی اور اخلاص کے ساتھ اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ خالصتاً مذہبی مسئلہ ہے۔ اسے سیاست یا وردی کے ایشو کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے۔ اس واضح یقین دہانی اور قائدین کے جذبہ خیر سگالی کے باوجود حکومت نے اس مسئلہ کے حل پر کوئی توجہ نہیں دی۔ حالیہ کمیٹی کا قیام ”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی کا حصہ ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ جن معاملات کو کھٹائی یا سرد خانے میں ڈالنا مقصود ہو ان کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ حکومت کی فراست کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مذہبی اور حساس مسئلہ میں وفاقی وزیر مذہبی امور کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے اور کمیٹی میں ریلوے، پٹرولیم و قدرتی وسائل، تعلیم اور اطلاعات ونشریات ایسے وزراء کو شامل کیا گیا ہے۔ جس میں شیخ رشید احمد کے سوا کوئی وزیر اس مسئلہ کی نزاکت کو نہیں جانتا۔ اس مسئلہ کا تعلق نہ تو ریلوے کی زبوں حالی سے ہے، نہ قدرتی وسائل کے حصول سے، نہ بکھرے ہوئے نصاب تعلیم سے۔ رہا مسئلہ وزرات اطلاعات ونشریات کا تو حکومتی آبرو کے تحفظ کی ترجمانی میں ان کا ہر معاملہ میں شریک ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا تعلق ملک کے دفاعی امور سے بھی نہیں۔ گو یہ خالصتاً نظریاتی، دینی اور ناموس رسالت کے دفاع کا مسئلہ ہے۔ راؤ سکندر اقبال صاحب ”جہاں سے جہاں تک“ پہنچے ہیں وہ اس مسئلہ کی گہرائی کو جانچنے کی اہلیت اور مسئلہ کے حل کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ حکومت کی قائم کردہ کمیٹی چوں چوں کا مربہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس سے تو بہتر تھا کہ حکومت پارلیمنٹ میں موجود علماء اور حکومتی جماعت کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیتی۔ گو ہمارے نزدیک اس طے شدہ مسئلہ پر غور و خوض کے لئے کسی کمیٹی کی چنداں ضرورت نہ تھی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کمیٹی کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ کیا پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے لئے معاملہ کسی کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا؟ جب مذہبی خانہ کے خاتمہ کے لئے کمیٹی کی ضرورت حکومت نے محسوس نہ کی تو اب اس کی بحالی کے لئے غیر مؤثر کمیٹی کی کیا ضرورت تھی؟ پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کے خاتمہ کے لئے کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ شاید کابینہ کو اس بات کا علم تک نہ ہوگا۔ اب خانہ کی بحالی کے ضمن میں کابینہ میں بحث و تمحیص کی کیا ضرورت تھی؟ چاہئے تو یہ تھا کہ مذہب کا خانہ جس طرح ختم کیا گیا تھا وزیر اعظم شوکت عزیز جرأت مندی کے ساتھ اس کی بحالی کا اعلان بھی اسی طرح کر دیتے۔ پاسپورٹ سے مذہبی خانہ کے خاتمہ سے متعلق اگر وزیر اعظم صاحب بھی لاعلم تھے تو انہیں سوچنا چاہئے کہ کونسی طاقت ایسے حساس معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے کر فیصلے کرنے کی مجاز ہے؟ وفاقی وزیر داخلہ شیر پاؤ کے اس حوالہ سے دیئے گئے بیانات سے ان کی سطحی معلومات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سعودی پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی ضرورت اس لئے نہیں کہ وہاں کسی غیر مسلم کو پاسپورٹ جاری ہی نہیں کیا جاتا۔ رہا مسئلہ دیگر یورپی ممالک کا کہ وہاں کے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود نہیں۔ آنکھیں بند کر کے کسی کی تقلید کرنا کون سی دانشمندی ہے؟
ہمارے قومی پاسپورٹ میں مذہبی پہچان نظریہ ضرورت کے تحت ہے۔ پاکستان میں بسنے والی عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ مت اور پارسی اقلیتیں سبھی محب وطن اور ملکی آئین وقانون کا احترام کرنے والی ہیں۔ صرف قادیانی اقلیت ایسی ہے جس نے اقلیتی حقوق اور مراعات حاصل کرنے کے باوجود اپنے آپ کو اقلیت تسلیم نہیں کیا۔ قادیانی جماعت نے ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم جس کے ذریعہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا ابھی تک تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی قادیانی گروہ ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کو مانتا ہے۔ اخبارات میں قادیانی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت کے شائع شدہ ماضی کے اشتہارات گواہ ہیں کہ انہوں نے ان تمام جمہوری، پارلیمانی اور عدلیہ کے فیصلوں کو اپنے عقائد اور ضمیر کے منافی قرار دے کر قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ صریحاً آئین و قانون سے بغاوت ہے۔ یہ باغی اقلیت یہود و ہنود سے روابط اور تعلقات رکھتی ہے۔ بھارت میں ان کا آبائی مرکز ہے تو اسرائیل میں ان کا مشن موجود ہے۔ حالانکہ اسرائیل میں کسی اسلامی مشن کا معمولی سا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ (Our Foreign Missions) مرزا مبارک احمد کی تحریر کردہ کتاب میں اس کی تمام تفصیلات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ اس وقت ہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ اسرائیل میں قادیانی مشن کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ قادیانی عرب ممالک میں بطور اسرائیلی ایجنٹ ان کے مفادات کے لئے کام کرتے ہیں۔ قادیانیوں کا سالانہ اجتماع بھارت (قادیان) میں ہوتا ہے۔ بھارتی حکومت انہیں مکمل پروٹوکول دیتی ہے۔ ان کی آؤ بھگت میں کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑتی۔ اجمیر شریف میں آنے والے مسلمان زائرین کے ساتھ تو بھارتی حکومت ایسی مہمان نوازی کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ آخر یہ باغی اقلیت بھارت اور اسرائیل کی منظور نظر کیوں ہے؟ کیا ایسی اسلام دشمن اور وطن دشمن باقی اقلیت کی مذہبی پہچان کے لئے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرے اسلامی ممالک میں اگر پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ نہ بھی ہو تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ قادیانی گروہ کا اس وقت ہیڈ کوارٹر پاکستان میں ہے۔ اس لئے ان کی شناخت انتہائی ضروری ہے۔
قومی پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا خاتمہ یہودی اور صہیونی سازش ہے۔ قادیانیوں کو ۱۹۷۴ء میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ لیکن سعودی حکومت نے اس سے کہیں پہلے حرمین شریفین میں قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ یاد رہے کہ تمام غیر مسلموں کا حدود حرمین شریفین میں داخلہ ممنوع ہے۔ جب پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ نہ ہوگا تو غیر مسلموں بالخصوص قادیانیوں کو حرمین شریفین میں داخل ہونے سے کیونکر روکا جاسکے گا نائن الیون کے بعد بین الاقوامی تبدیلیوں کے تناظر میں سعودی عرب کی تین حصوں میں تقسیم، شہنشاہیت کی جگہ جمہوریت سے متعلق تجزیاتی رپورٹیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ جس کے باعث دنیا بھر کے مسلمان تشویش میں مبتلا ہیں۔ مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ جیسے مقدس مقامات کے حوالے سے یہودی دعوے اور عزائم بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ اب مخصوص حالات میں پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کا خاتمہ خطرے کی علامت ہے۔ قادیانی گروہ کے لوگ ہی اسرائیل کے قابل اعتماد آلہ کار ہیں۔ سعودی عرب کی وحدت کے تحفظ کے لئے اور یہودی عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق قادیانیوں کو نئے پاسپورٹ بنوا کر سعودی عرب بھیجا جارہا ہے۔ یہ ٹولہ یقیناً گل کھلائے گا جس سے پاکستان کی رسوائی اور بدنامی ہوگی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۵ء ص ۳ تا ۶)
۹؍ مارچ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد، متحدہ مجلس عمل اور آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شریک جماعتوں کا یہ مشترکہ اجتماع حکومت کی کھلی قادیانیت نوازی پر انتہائی رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کا واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ:
- ۱...... تحفظ ناموس رسالت ایکٹ میں ترمیم اور پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کو ختم کر کے حکومت نے قادیانیت نوازی کی بدترین
مثال قائم کی ہے۔ حکومت کے یہ اقدامات اور ان پر مسلمانوں کے احتجاج کے باوجود حکومت کی مجرمانہ خاموشی ملک کے اقتدار پر قادیانیوں کے قبضہ کی غماز ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۲ حکومت کے موجودہ اقدامات نے قادیانیوں سے متعلق ماضی میں ہونے والی آئینی اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کو عملی طور پر غیر مؤثر
بنا دیا ہے۔
- ......۳ برصغیر میں تحریک ختم نبوت کے لئے امت مسلمہ کی ایک صدی پر محیط پر امن آئینی جدوجہد کے ثمرات کو مٹا کر حکومت عملاً
قادیانیوں کو اسلامیان وطن کے سروں پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔
- ......۴ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی کے مطالبہ کی تائید نہ صرف حکمران جماعت کے صدر، وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، وفاقی
وزیر مذہبی امور، وفاقی وزیر اطلاعات نے کی۔ بلکہ سرحد اسمبلی، ملک کی متعدد ڈسٹرکٹ اسمبلیوں اور بار ایسوسی ایشنوں نے قراردادیں منظور کیں۔ اس کے علاوہ تین سابق وزراء اعظم نے بھی مطالبہ کیا۔ ملک بھر کی دینی جماعتوں، تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ نے متفقہ طور پر آواز بلند کی۔ کراچی سے خیبر تک کوچہ و بازار میں مذہب کے خانہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ ان سب مطالبوں کے باوجود حکومت کی اس حساس مسئلہ پر مجرمانہ خاموشی پر آج کا یہ اجتماع متفقہ طور پر اس مسئلہ میں واحد رکاوٹ جنرل پرویز مشرف کو قرار دیتا ہے۔
- ......۵ جنرل پرویز مشرف کا کوٹ باری اوکاڑہ اور واشنگٹن میں قادیانیوں کے گھروں میں دعوتیں کھانا اور ان کے انتہائی قریبی تعلقات
اس بات کا کھلا اظہار ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر قادیانی لابی کے ہاتھوں رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس اور عقیدہ ختم نبوت کی مقدس جدوجہد اور عظیم قربانیوں کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔
- ......۶ تیس سال سے پاسپورٹ میں موجودہ مذہب کے خانہ کو ختم کرنا قادیانیوں کے ناپاک قدموں سے حرمین شریفین کی حرمت
کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
- ......۷ آج کا یہ عظیم اجتماع برملا اس کا اظہار کرتا ہے کہ ہماری پر امن جدوجہد پر حکومت کی نا صرف مجرمانہ خاموشی بلکہ نادرا اور وزارت
داخلہ کو قادیانیوں کے ہاتھوں یرغمال بنا دیا گیا ہے۔ اب سوائے اس کے اور کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ اب ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں، مکاتب فکر کے علماء، مشائخ کے سامنے یہ صورتحال رکھ کر اپنی پرامن و آئینی جدوجہد کو تیز تر کیا جائے اور تمام مکاتب فکر مل کر کوچہ و بازار میں قادیانیوں اور ان کے ہم نوا حکمرانوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے میدان عمل میں آ جائیں۔
- ......۸ تحصیل سطح پر پورے ملک میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء
کی طرح عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پوری امت مسلمہ کو متفقہ پلیٹ فارم مہیا کریں۔
- ......۹ آج سے ہم اپنی اس جدوجہد کا اعلان کرتے ہیں اور ناموس رسالت ﷺ کے پروانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حکومتی عہدوں
پر فائز قادیانی افسروں کی سو فیصد حتمی فہرست تیار کریں۔ تاکہ قوم کو بتایا جاسکے کہ ایک اقلیتی گروہ کو اکثریت کے حقوق پامال کرنے کا حق دیا جارہا ہے۔
- ......۱۰ ہم اللہ رب العزت کی رحمت، آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت، شہدائے ختم نبوت کی لازوال قربانیوں کو گواہ بنا کر آج یہ عہد کرتے
ہیں کہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی اور قادیانیوں کی سازشوں کے انسداد تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۵ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی پریس کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ملک بھر کے مبلغین حضرات کا ۲، ۳،رفروری ۲۰۰۵ء کو دو دن شب و روز اجلاس جاری رہا۔ پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی کی تحریک کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس نے متفقہ طور پر پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی کے لئے واحد رکاوٹ جناب پرویز مشرف کو قرار دیا۔ حکمران جماعت کے سربراہ، وزیر اعظم، وفاقی وزیر مذہبی امور، وفاقی وزیر اطلاعات، پنجاب، سرحد سندھ کے وزرائے اعلیٰ، سرحد صوبائی اسمبلی، ملتان، حیدرآباد اور بھکر کی ڈسٹرکٹ اسمبلیوں کی قراردادوں، ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کے سربراہ اس پر متفق ہیں کہ پاسپورٹ میں خانہ مذہب کو بحال کیا جائے۔ لیکن صرف اور صرف جناب پرویز مشرف قادیانیوں کو خوش کرنے کے لئے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں مظاہرے، کانفرنسیں، میٹنگیں اور احتجاج جاری ہے۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ وہ اس مسئلہ کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنی تحریک کو مزید منظم کریں۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ:
- ۱...... فروری کے ابتدائی عشرہ میں لاہور میں سربراہی آل پارٹیز گول میز ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جائے۔
- ۲...... کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کو دوبارہ فعال و منظم کیا جائے۔
- ۳...... پورے ملک کے ضلعی مقامات پر ضلعی ختم نبوت کانفرنسیں، ضلعی علمائے ختم نبوت کنونشن، پریس کانفرنسیں اور مظاہرے کئے جائیں۔
- ۴...... اس کے لئے کراچی میں تمام دینی جماعتوں کا اجلاس بلا کر کراچی شہر کے ۲۵ مختلف اہم مقامات پر ۶؍فروری ۲۰۰۵ء سے ختم
نبوت کانفرنسیں منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اندرون سندھ کی ضلعی کانفرنسوں کے پروگرام کی ترتیب کے لئے ۱۲؍فروری کو ٹنڈو آدم میں اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ سرحد میں ضلعی کانفرنسوں کی تشکیل کے لئے حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو کنوینر اور بلوچستان کے لئے حضرت مولانا عبدالواحد، حضرت مولانا محمد عبداللہ اور حضرت مولانا قاری انوار الحق حقانی پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ پنجاب کے ضلعی مقامات پر کانفرنسوں کا یہ شیڈول مرتب کیا گیا ہے:
۲۲؍فروری ۲۰۰۵ء کو بہاول پور، ۲۳؍رفروری رحیم یار خان، ۲۴؍رفروری سکھر، ۲۵؍رفروری لودھراں، ۲۵؍رفروری حاصل پور، ۲۵؍رفروری بہاول نگر، ۲۶؍رفروری ساہیوال، ۲۷؍رفروری اوکاڑہ، ۲۸؍رفروری قصور، ۱؍مارچ ۲۰۰۵ء شیخوپورہ، ۲؍مارچ گوجرانوالہ، ۳؍مارچ نارووال، ۴؍مارچ گجرات، ۴؍مارچ جہلم، ۵؍مارچ منڈی بہاؤ الدین، ۵؍مارچ حافظ آباد، ۶؍مارچ خوشاب، ۷؍مارچ میانوالی، ۸؍مارچ بھکر، ۹؍مارچ لیہ، ۱۰؍مارچ مظفر گڑھ، ۱۱، ۱۲؍مارچ ملتان، ۱۳؍مارچ وہاڑی، ۱۴؍مارچ پاکپتن، ۱۵؍مارچ جھنگ، ۱۶؍مارچ ٹوبہ ٹیک سنگھ، ۱۷؍مارچ فیصل آباد، ۱۸؍مارچ خانیوال، ۱۹؍مارچ ڈیرہ غازی خان، ۲۰؍مارچ راجن پور، ۲۳؍مارچ چکوال، ۲۴؍مارچ اٹک، ۲۵؍مارچ راولپنڈی میں منعقد ہوں گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۵ء ص ۳۳، ۳۴)
سرحد اسمبلی زندہ باد
۳؍فروری ۲۰۰۵ء کو سرحد کی صوبائی اسمبلی نے قرار داد منظور کی جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جائے۔ سرحد کی صوبائی اسمبلی نے یہ قرار داد منظور کر کے اسلامیان وطن کے دل جیت لئے ہیں۔ ۱۹۷۴ء میں بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی سب سے پہلے سفارش سرحد اسمبلی نے منظور کی تھی۔ حالیہ قرارداد کی منظوری سے سرحد اسمبلی نے اپنی شان دار روایات کو قائم رکھا ہے۔ اس پر سرحد اسمبلی کے معزز اراکین بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اسلامیان سرحد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ہر دینی تحریک میں بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لیا بلکہ اعزاز اوّلیت بھی حاصل کیا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں اسلامیان وطن کی قومی اسمبلی سے باہر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری نے اور قومی اسمبلی میں امت مسلمہ کی وکالت ونیابت کرنے والے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود تھے اور یہ دونوں صوبہ سرحد سے تعلق رکھتے تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق، شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور حضرت مولانا عبدالقیوم پوپلزئی بھی سرحد کے سپوت تھے۔ جنہوں نے قادیانیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ آج پاسپورٹ کے مسئلہ پر پورے ملک کی قیادت کا اعزاز بھی سرحد کے مجاہد عالم دین قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو حاصل ہوئی ہے۔ جو اسلامیان سرحد کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام سرحد کی پوری قیادت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، حضرت مولانا نور الحق نور، جناب نظام اللہ ، جناب حاجی عنایت گل اور دوسرے رہنما مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جن کی مساعی جمیلہ سے یہ قرارداد منظور ہوئی۔
وفاقی حکومت کے سربراہ جناب پرویز مشرف اس جمہوری قرارداد سے کیا اثر لیتے ہیں یا اسے بھی ہضم کر جاتے ہیں۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ جناب پرویز مشرف کی جمہوریت میں وردی کی حمایت کے لئے پنجاب اسمبلی کی قرارداد سے ان کے لئے استدلال جائز ہے تو سرحد اسمبلی کی قرارداد سے انحراف کا کوئی جواز ہے؟ اس وقت پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی میں واحد رکاوٹ جناب پرویز مشرف کی ذات گرامی ہے؟ حکمران جماعت کے سربراہ ، وزیراعظم، وفاقی وزیر مذہبی امور، وفاقی وزیر اطلاعات، پنجاب، سرحد، سندھ کے وزرائے اعلیٰ، سرحد صوبائی اسمبلی، ملتان حیدرآباد اور بھکر کی ڈسٹرکٹ اسمبلیوں کی قراردادوں، ملک بھر کی تمام دینی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کے سربراہ اس پر متفق ہیں کہ پاسپورٹ میں خانہ مذہب کو بحال کیا جائے۔ لیکن صرف اور صرف جناب پرویز مشرف قادیانیوں کو خوش کرنے لئے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۵ء ص ۳)
ایک اور قادیانی اسکینڈل......ملک کو کروڑوں کا نقصان
دنیا جانتی ہے، حکومت اور قادیانیت مانتی ہے کہ ایئر فورس کے سابق ائیر مارشل ظفر چوہدری جو کہ سکہ بند ، جنونی اور متعصب قادیانی تھا، عمر بھر وہ فوج کے بڑے عہدے سے فائدہ اٹھا کر قادیانی افراد کو فوج میں بھرتی کرتا رہا، اسے جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے عہد اقتدار میں فارغ کیا گیا تھا ، اس کا بیٹا جو ریٹائرڈ کرنل ہے، اس کا نام عامر چوہدری ہے، یہ بھی سکہ بند قادیانی ہے، قادیانی ابن قادیانی ، کریلا اور نیم چڑھا، اس عامر چوہدری قادیانی نے غیر قانونی طور پر انٹرنیشنل گیٹ وے ایکسچینج کھولا ہوا تھا، جس سے وہ کروڑوں روپے ماہانہ ناجائز کماتا رہا۔ اسلام آباد ، کراچی اور لاہور میں کمپیوٹر پوسٹل کالج اور پاکستان پوسٹ کی انتظامیہ سے معاہدہ کے ذریعہ کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر کا لائسنس لیا، آغا مسعود الحسن پاکستان پوسٹ کے سربراہ بھی ان کے کاروبار عقیدہ و مذہب کے بیوپار میں برابر کے شریک عمل ہیں۔ پاکستان کو کروڑوں روپے کا ماہانہ نقصان پہنچانے کا یہ صرف ایک کیس سامنے آیا ہے۔ فوجی عہد اقتدار میں اس سابق فوجی اور قادیانی کو بھی بچالیا جائے گا؟ یہ آنے والے وقت پر منحصر ہے، پاکستان کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کی خبر اخبارات میں جن سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی وہ پیش خدمت ہے، سوچئے قادیانی ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ١٠٦ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پی.ٹی.سی.ایل اور ایف آئی.اے کا اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں گرینڈ آپریشن۔
ملزم لیفٹیننٹ کرنل ریٹائر ڈ عامر چوہدری منیجر سمیت گرفتار۔
سابق ایئر چیف ظفر چوہدری کے کرنل (ر) بیٹے کا غیر قانونی انٹرنیشنل فون گیٹ وے پکڑا گیا۔
عامر چوہدری نے کمپیوٹر ٹریننگ کی آڑ میں پوسٹل کالج سے معاہدہ کر کے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں گیٹ وے بنارکھے تھے۔
انٹرنیشنل کالز لوکل کالز میں ٹرانسفر کی جاتیں، خزانے کو کروڑوں کا نقصان، ماہانہ ستر ہزار منٹ غیر قانونی ٹریفک استعمال کی: ملزم کا اعتراف۔
کروڑوں کی ناجائز آمدنی مشترکہ اکاؤنٹ میں جمع کرائی جاتی، گرفتاری کے وقت دھمکیاں، سفارشی فونوں کا تانتا بندھ گیا۔
اسلام آباد (تحقیقاتی رپورٹ: ملک منظور احمد ) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ، ایف آئی اے اور پی ٹی سی ایل کی مشترکہ ٹیم نے پوسٹل اسٹاف کالج ، اسلام آباد میں قائم غیر قانونی انٹرنیشنل ٹیلی فون گیٹ وے چلانے والے پاک فضائیہ کے سابق ائیر مارشل ریٹائر ڈ ظفر چوہدری کے فرزند ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل عامر چوہدری کو گرینڈ آپریشن کے دوران دن دہاڑے گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم لیفٹیننٹ کرنل (ر) عامر چوہدری نے گرفتاری کے فوراً بعد اعتراف جرم کر لیا ہے۔ ٹیلی کام ایکٹ کے سیکشن ۳۱ کی خلاف ورزی پر ملزم کو دوسال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ سوموار کے روز دن کے ساڑھے تین بجے سے لے کر شام ساتھ بجے تک ایف آئی اے، پی ٹی سی ایل کی مشترکہ ٹیم کا گرینڈ آپریشن پوسٹل کالج جی ایٹ مرکز میں جاری رہا۔ ایف آئی اے نے ملزم کو عدالت میں پیش کر دیا ، جہاں سے اسے جیل بھیج دیا گیا ۔۲۲؍ مارچ کو عدالت میں چالان پیش کیا جائے گا تفصیلات کے مطابق پاک فضائیہ کے سابق ائیر مارشل (ر) ظفر چوہدری کے بیٹے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل عامر چوہدری نے پوسٹل کالج کے ساتھ ایک معاہدہ کر رکھا تھا ، اس معاہدے کی یادداشت پر پاکستان پوسٹ کے سربراہ میجر جنرل (ر) آغا مسعود الحسن اور پوسٹل فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر کے دستخط موجود ہیں۔ ملزم لیفٹیننٹ کرنل (ر) عامر چوہدری نے یہ معاہدہ کمپیوٹر ٹریننگ فراہم کرنے کی آڑ میں کر رکھا تھا اور اندرون خانہ اعلیٰ حکام کی ملی بھگت سے غیر قانونی انٹرنیشنل ٹیلی فون گیٹ وے قائم کر کے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہے تھے اور ڈی ایس ایل لائسنسز پر غیر قانونی طور پر انٹرنیشنل کالز لے کر ڈبلیو ایل ایل کے ذریعہ یہاں پاکستان میں کالز کو (Transmit) کر رہے تھے اور اس غیر قانونی بزنس سے پی ٹی سی ایل کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس غیر قانونی بزنس کے مرکزی کردار عامر چوہدری نے لاہور اور کراچی میں بھی غیر قانونی انٹرنیشنل ٹیلیفون گیٹ وے قائم کر رکھے تھے۔ ایف آئی اے، پی ٹی سی ایل کی مشترکہ ٹیم نے لاہور میں واقع جی پی او کمپاؤنڈ میں واقع پوسٹل لائف انشورنس کی بلڈنگ میں چھاپہ مار کر انٹرنیشنل ٹیلی فون گیٹ میں استعمال ہونے والے آلات برآمد کر لئے ہیں جب کہ کراچی میں بھی چھاپہ مارا گیا مگر چھاپے کے دوران تا حال کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع نے خبریں کو بتایا ہے کہ ملزم نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے ستر ہزار منٹ ماہانہ غیر قانونی ٹریفک استعمال کی ہے۔ انٹرنیشنل ٹیلی فون گیٹ وے کے مرکزی کردار کرنل (ر) عامر چوہدری اور ایم ڈی پوسٹل فاؤنڈیشن نے سریا چوک اسلام آباد میں واقع الائیڈ بینک کے اندر مشترکہ بینک اکاؤنٹ کھول رکھا تھا اور اس غیر قانونی بزنس سے حاصل کئے جانے والے کروڑوں روپے اسی مشترکہ اکاؤنٹ میں جمع کئے گئے۔ بغیر لائسنس کے غیر قانونی انٹرنیشنل ٹیلیفون گیٹ وے، انٹرنیشنل لائسنس پر مشتمل تھا اور اس گیٹ وے کے ذریعے پی ٹی سی ایل کو بائی پاس کر کے انٹرنیشنل ٹریفک منتقل کی جاتی تھی ، ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا بہت بڑا اسکینڈل ہے۔ پی ٹی اے، ایف آئی اے اور پی ٹی سی ایل کی مشترکہ ٹیم نے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جب پوسٹل کالج کے اندر چھاپہ مارا تو اس پر غیر قانونی بزنس کے مرکزی کردار ملزم لیفٹیننٹ کرنل (ر) عامر چوہدری نے مشترکہ ٹیم کے افسران اور اہل کاروں کو دھمکیاں دیں اور کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ان کے سسر ہیں مگر جب اس دوران ایف آئی اے کے افسران نے ان سے باز پرس کی تو وہ خاموش ہو گیا اور فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل (ر) عامر چوہدری نے پوسٹل کالج اور پاکستان پوسٹ کی انتظامیہ کے ساتھ اسلام آباد کے علاوہ لاہور اور کراچی میں کمپیوٹر ٹریننگ دینے کی آڑ میں معاہدہ کر رکھا تھا اور کمپیوٹر ٹریننگ دینے کے بجائے ان تینوں شہروں میں غیر قانونی انٹرنیشنل ٹیلی فون گیٹ وے قائم کر کے وہ کروڑوں روپے ماہانہ کما رہے تھے مزید تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے راولپنڈی زون چوہدری تصدق حسین کی درخواست دی گئی کہ پوسٹل اسٹاف کالج اسلام آباد سے پی ٹی سی ایل کو بیس لاکھ روپے ماہانہ سے زائد نقصان ہو رہا ہے اور یہاں پر انٹرنیشنل ٹیلی فون کالوں کو لوکل کالوں میں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے جنید سلطان، سب انسپکٹر سید کوثر علی شاہ، سب انسپکٹر راجہ محمود اختر اور کانسٹیبل پر مشتمل چھاپہ مار ٹیم نے پی ٹی سی ایل کے اعلیٰ افسران سجاد لطیف اعوان اور کرنل اورنگ زیب کے ہمراہ پوسٹل اسٹاف کالج اسلام آباد چھاپہ مار کر ۲۸ سیلولر سیٹ، ۵ کوانٹم سوئچ، ۱۶ وائرلیس فون اور میڈیا گیٹ وے ایکسچینج کے علاوہ کمپیوٹر اور دیگر آلات برآمد کر لئے۔ اس تمام سیٹ اپ سے پی ٹی سی ایل کو ۲۰ لاکھ روپے سے زائد ماہانہ نقصان ہو رہا تھا اور یہ کاروبار کافی عرصہ سے جاری تھا، جس کی پشت پناہی پوسٹل فاؤنڈیشن کالج اسلام آباد کا اسٹاف کر رہا تھا، جس سے متعلق تفتیش جاری ہے جب کہ گرفتار دونوں افراد کی رہائی کے لئے سفارشوں کے ٹیلی فونوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ پی ٹی سی ایل کی پریس ریلیز کے مطابق سسٹم ۵۱۲ کے بی ایس بینڈ وڈتھ پر مشتمل تھا اور اسے مائیکرونیٹ براڈ بینڈ (پرائیویٹ) لمیٹڈ سے حاصل کیا گیا تھا، اس کے علاوہ ۲۸ وائرلیس سیلولر ٹیلی فون اور ٹیلی فون کارڈ کے ۱۱۲ فکس وائر لیس فون موجود تھے۔
(روزنامہ خبریں لاہور مورخہ ۱۰/مارچ ۲۰۰۵ء)
’’جعلی گیٹ وے جون ۲۰۰۴ء میں بنایا گیا، وائرلیس لوکل لوپ کی بھی سہولت تھی۔
اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) پوسٹل کالج اسلام آباد کی عمارت میں قائم غیر قانونی انٹرنیشنل ٹیلی فون گیٹ وے پر گرینڈ آپریشن کے دوران ۲۸ سم ملی ہیں۔ اسی گیٹ وے میں وائرلیس لوکل لوپ کے ۱۲ ٹیلی فون نمبروں کی بھی سہولت تھی۔ انٹرنیشنل فون گیٹ وے کے لئے ماہانہ ۵ ہزار روپے کرائے پر پوسٹل کالج اسلام آباد کے تین بڑے ہال حاصل کئے گئے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ غیر قانونی انٹرنیشنل گیٹ وے جون ۲۰۰۴ء میں قائم کیا گیا ۔ آپریشن کے دوران گیٹ وے کے نیٹ ورک منیجر لیاقت کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘
(روزنامہ خبریں لاہور مورخہ ۱۰/مارچ ۲۰۰۵ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵/اپریل ۲۰۰۵ء ص ۵،۴)
جناب پرویز مشرف صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان
جناب عالی!
- ۱...... رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ ایمانیات کا رکن اعظم ہے۔ قادیانی گروہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا منکر ہے۔ آئین
میں اس مسئلہ کے طے ہو جانے کے بعد اب اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ختم نبوت کے باغیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ جناب عالی! ہم ختم نبوت کے مسئلہ کو سیاست کے لئے استعمال کرنے کو حرام سمجھتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک دینی ادارہ ہے۔ ہماری پچاس سال کی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک ہمارے اسٹیج سے کسی ایک قادیانی کی نکسیر نہیں پھوٹی۔ ہمیشہ آئین کے دائرہ میں رہ کر قادیانیت کا احتساب دین سمجھ کر کیا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... جناب عالی! قادیانی غیر مسلم ہونے کے باوجود مسلمانوں کا ہم نام ہونے اور پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر ہونے کے باعث حرمین
شریفین چلے جاتے تھے۔ تب جناب شاہ فیصل مرحوم کی تجویز اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی کوشش سے آپ کے ایک ہم منصب نے آج سے تیس سال قبل پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ شامل کیا تھا۔ اب مشین ریڈایبل پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کو دیس نکالا دے دیا گیا ہے۔ نادرا میں ایک ڈائریکٹر جنرل سکہ بند قادیانی ہے۔ وزیر داخلہ جناب شیر پاؤ پکے سچے مسلمان ہیں۔ لیکن ان کا قادیانیوں کے زیر اثر ہونا کوئی راز نہیں۔
- ۳...... اب عذر کیا جارہا ہے کہ پوری دنیا میں کہیں پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ نہیں۔ جناب عالی! پوری دنیا میں کہیں قادیانیوں کا ہیڈ
کوارٹر نہیں۔ وہ بھی صرف پاکستان میں ہے۔ شرعی عدالتیں، صدر اور وزیر اعظم کے حلف نامہ میں ختم نبوت کا اقرار۔ یہ تمام چیزیں پاکستان کے آئین میں شامل ہیں۔ پوری دنیا کی قومی اسمبلیاں ہیں۔ صرف پاکستان کی اسمبلی میں قادیانیت کا مسئلہ ڈسکس ہو کر قانون بنا تو جب یہ تمام چیزیں ہیں اور انشاء اللہ رہیں گی تو پاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بھی رہنا چاہئے۔
- ۴...... عذر کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب کے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ نہیں۔ ہم نے حج پر سعودیہ سے معلومات حاصل کیں۔ وفاق
المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم عمومی حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری آپ کے ملنے والوں میں شامل ہیں۔ ان سے پوچھ لیجئے۔ سعودیہ کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں کسی غیر مسلم کے پاس نیشنیلٹی نہیں اور سعودیہ کا ایک پاسپورٹ بھی کسی غیر مسلم کو جاری نہیں ہوا۔ سعودیہ کا پاسپورٹ ہونا خود اس پاسپورٹ ہولڈر کے مسلمان ہونے کی ضمانت ہے۔ باقی مسیحی، مسلم، ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ وہاں بطور ورکر جاتے ہیں تو ان کو ہم اقامہ کارڈ جاری کرتے ہیں۔ ان کے رنگ علیحدہ علیحدہ ہیں۔ اقامہ کارڈ کا رنگ دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہے۔
- ۵...... جناب عالی! حکمران جماعت کے صدر، وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، سرحد اسمبلی، بہاول پور، حیدرآباد، بھکر، ملتان اور دیگر اضلاع
کی ڈسٹرکٹ اسمبلیوں، قومی اخبارات، بہاول پور بار ایسوسی ایشن، غرض جس فورم پر بھی یہ مسئلہ اٹھا سب نے قراردادیں منظور کیں کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ہونا چاہئے۔
- ۶...... جناب عالی! خود مسیحی حضرات کا ترجمان ماہنامہ کلام حق گوجرانوالہ نے اداریہ تحریر کیا ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا
جائے۔ پورے ملک کے علمائے کرام، مشائخ عظام، دینی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی اس مسئلہ کو تائید حاصل ہے۔ آپ سے عرض ہے کہ ختم نبوت کا پلیٹ فارم آپ کا سیاسی حریف نہیں۔ جن سیاسی رہنماؤں نے ہماری تائید کی ہے ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ دینی اور خالص مذہبی معاملہ میں انہوں نے ہماری نحیف و ناتواں آواز میں آواز ملائی۔
صدر گرامی! یہ دنیا عارضی ہے۔ ہم سب نے مرنا ہے۔ موت برحق ہے۔ خالصتاً رحمت عالم ﷺ کے امتی ہونے کے ناطے سے آپ سے توقع ہے کہ پاسپورٹ میں خانہ مذہب کے بحالی کا حکم جاری فرما کر دینی اسلامی جذبہ کے اضطراب کو ختم کر دیں۔ صرف مہر کافی نہیں ۔ وہ تو اب بھی لگ رہی ہے۔ مذہب کا کالم پرنٹ ہو جو مشین میں پڑھا جائے۔ اس کو بحال کرنے کا حکم جاری کریں اور جو بغیر اس کے پاسپورٹ جاری ہوئے وہ کینسل کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۵ء ص ۴۰،۴۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے سالانہ اجلاس کے فیصلے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا سالانہ اجلاس ۲۸؍ مارچ ۲۰۰۵ء صبح نو بجے مرکزی دفتر ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان میں منعقد ہوا جس کی صدارت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی ، جس میں ملک بھر سے مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبران ، نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب ، مولانا عبدالمجید کہروڑ پکا ، مولانا فیض احمد ملتان ، مولانا عبدالواحد کوئٹہ ، مولانا انوار الحق حقانی کوئٹہ ، مولانا نور الحق نور پشاور ، صوفی ریاض الحسن گنگوہی ڈی آئی خان ، قاری خلیل احمد سکھر ، مولانا عبدالمجید ندیم شاہ راولپنڈی ، مولانا عبدالرؤف اسلام آباد ، مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم ، قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ، حاجی اشتیاق احمد جھنگ ، حاجی سیف الرحمٰن بہاول پور ، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ، مولانا اللہ وسایا ، صاحبزادہ عزیز احمد ، صاحبزادہ طارق محمود اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی سمیت کئی ایک حضرات نے شرکت کی ۔ شوریٰ کے اجلاس میں پاکستان میں قادیانی لابی کی تخریبی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بالخصوص پاسپورٹ سے مذہب کے خانہ کے اخراج کا سختی سے نوٹس لیا گیا۔ اس ضمن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مساعی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ جو تمام مکاتب فکر کے تعاون سے صورت حال کی بہتری کے لئے کی جارہی ہیں ۔ حکومت کی طرف سے پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسے نظریاتی ملک پر حکومت کرنے والے حضرات اپنی قومی اور ملی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اس ضمن میں ہونے والے اعلانات کو پورا کریں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ واضح کیا گیا کہ عقیدہ ختم نبوت جیسے اہم ایشو کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے اور ملک میں قادیانی لابی کی نفرت انگیز سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی ۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی کے حوالے سے ہونے والی جدوجہد میں تمام مکاتب فکر بالخصوص متحدہ مجلس عمل کے کردار کو سراہا گیا اور حکومتی اعلان پر عمل درآمد کے ہدف تک اپنی کوششیں جاری رکھنے کا عزم کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی کانفرنسوں کے بعد پورے ملک میں تحصیل کی سطح تک ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم لندن اور آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی تاریخیں متعین کر دی گئی ہیں ۔ مجلس کے مرکزی شعبہ تبلیغ میں پانچ نئے مبلغین کا اضافہ کیا گیا۔ جو کراچی ، اسلام آباد ، کوئٹہ ، میانوالی اور خوشاب کے اضلاع میں کام کریں گے ۔ سیالکوٹ اور لاہور کے دفاتر کی تعمیر کی منظوری دی گئی ۔ لندن کے لئے حضرت مولانا قاضی احسان احمد کو مبلغ مقرر کیا گیا ۔ آخر میں ایک قرارداد میں ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون (توہین رسالت ایکٹ) میں کی گئی ترمیم کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۵ء ص ۷)
جناب جنرل پرویز مشرف اور جناب شوکت عزیز کے نام کھلا خط
پاکستانی پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی کے اقدام پر اسلامیان وطن نے اطمینان کا سانس لیا ہی تھا کہ اب ایجنسیوں نے اس مسئلہ پر ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جو انتہائی خطرناک ہے ۔ ذیل کے واقعات پر توجہ فرما کر اس نئے اضطراب کو ختم کیا جائے :
- ۱...... جس دن لاہور میں شیعہ رہنما جناب غلام حسین نجفی کو دن دیہاڑے نشانہ بنایا گیا اسی روز ہی پنجاب اسمبلی میں منارٹیز الائنس کے
ارکان ، صوبائی اسمبلی پرویز رفیق ، نوید عامر اور سلیم نے صوبائی اسمبلی کے سپیکر چیمبر میں قرارداد جمع کرائی کہ پاسپورٹ میں خانہ مذہب بحال نہ کیا جائے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... قومی اسمبلی کی قائمہ رابطہ کمیٹی برائے داخلہ کے قائم مقام چیئر مین ملک نیاز احمد جھکڑ کی صدارت میں قرارداد منظور کی کہ
پاسپورٹ میں خانہ مذہب بحال کرنے سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
جناب عالی! سینٹ کی حج سٹینڈنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر اس سے قبل قرارداد کی تھی کہ پاسپورٹ میں خانہ مذہب بحال کیا جائے۔ اسی طرح سرحد کی اسمبلی سے بھی اس قسم کی قرارداد منظور ہوچکی ہے۔ آج ایک صوبائی اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کے خلاف دوسری صوبائی بھی قرارداد کروانے کی کاوش اور سینٹ آف پاکستان کی سٹینڈنگ کمیٹی کی قرارداد کے خلاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی قرارداد منظور کرنا، اسمبلیوں کو اسمبلیوں اور سینٹ کو قومی اسمبلی کے مقابل لا کھڑا کرنا ، ملک کو نئے بحران میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔ قادیانی لابی جنہوں نے پچیس سال سے موجود پاسپورٹ میں خانہ مذہب کو حذف کرایا۔ اسے سٹاف اور نادرا کی غلطی کہہ کر معاملہ کو چلتا کیا گیا۔ اس سازش کے ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کرنے کی وجوہات اور پس منظر سے آپ سے بڑھ کر کون واقف حال ہوگا؟ لیکن بظاہر اگر کارروائی کردی جاتی تو یہ لابی شیر دل نہ ہوتی ۔ اب انہوں نے بھانت بھانت کی بولیاں بلوا کر مذہبی انارکی اور خانہ جنگی کی طرف روڑا پھینکا ہے۔ اس کا بروقت تدارک ضروری ہے۔ قادیانی لابی نے جو چال چلی ہے اس پر گہرے غور وفکر اور مضبوط اقدام کی ضرورت ہے۔
- ۳...... ۹؍ مارچ ۲۰۰۵ء کو اسلام آباد میں سابق پاک بحریہ کے قادیانی سربراہ ظفر چوہدری کے بیٹے عامر چوہدری کرنل ریٹائرڈ قادیانی
کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ وہ بیس لاکھ ماہانہ ملک کو نقصان پہنچا رہا تھا۔ اس کے خلاف کیا اقدام ہوا۔
- ۴...... رسول پور تارڑ ضلع حافظ آباد میں پاکستانی قادیانی کو را کا ایجنٹ ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ اسلحہ اور بم اس سے برآمد ہوئے اس کے
خلاف مزید کیا اقدام ہوا؟
- ۵...... پاکستان کی قومی وصوبائی اسمبلیوں اور سینٹ میں جتنی نمائندگی اقلیتوں کو دی گئی ہے۔ پوری دنیا یورپ و امریکہ ) میں کہیں یہ
رعایت مسلم اقلیتوں کو حاصل ہے؟ نہیں اور بالکل نہیں تو اس کے باوجود پاکستانی مائنارٹیز الائنس کا مسلم اکثریت کی رائے عامہ کو نظر انداز کرنا دانشمندی قرار دیا جاسکتا ہے؟
- ۶...... ایک جائز اور دینی امر کے لئے اسلامیان وطن نے آئینی حدود میں رہ کر جدوجہد کی جس کے نتیجہ میں وفاقی وزارتی کمیٹی
اور وفاقی کابینہ نے بحالی خانہ مذہب کا آرڈر کیا۔ اس پر عمل درآمد کب ہوگا۔ ابتدائی مرحلہ میں اس کے خلاف یہ مختلف روشن خیالی کے علمبردار دانشور اور دیگر حلقوں کا سیخ پا ہونا کیا وہی عمل تو نہیں دہرایا جا رہا کہ گزشتہ دور حکومت میں (جب جناب شجاعت حسین وفاقی وزیر داخلہ تھے ) شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کی شمولیت کا اعلان کر کے اس سے انحراف کیا گیا۔ کیونکہ اس دور میں قادیانی لابی نے پس منظر میں رہ کر اقلیتوں کو لا کھڑا کیا اور حکومت کے انحراف کے لئے وجہ جواز بنا دیا گیا۔ اب بھی ایسے ہو رہا ہے۔ بہت ہی ٹھنڈے دل و دماغ سے اس صورت حال پر نظر رکھنا ملکی مفاد کا عین تقاضہ ہے۔
- ۷...... جناب صدر صاحب ! وزیر اعظم صاحب ! بہت ہی دکھے دل سے آپ سے عرض ہے کہ کیا پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ
پر نہ تھی؟ پاسپورٹ میں خانہ مذہب قادیانی لابی کی حرمین شریفین جانے میں سفری دستاویزی رکاوٹ نہیں ہے؟ اس پر پاکستان کی ساکھ کو خراب کرنے کا واویلا یا سفری دستاویز کو مذہبی دستاویز کی پھبتی ، سراسر زیادتی اور انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔
- ۸...... آئینی حدود میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کرنا۔ آپ ہم سب مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ ایک جائز دینی
مطالبہ جس پر پچیس سال سے عمل ہو رہا تھا۔ اسے نظر انداز کرنا اور چار ماہ تک اسے لٹکائے رکھنا ، خانہ مذہب کو بیکار سمجھ کر پاسپورٹ سے نکال
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دینا ، ان کارندوں کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کرنا ، وزارتی کمیٹی اور پھر کابینہ کا فیصلہ اور اس پر عمل درآمد کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرنا۔ کیا یہ ایسے معاملات نہیں کہ جن پر آپ حضرات جیسے طاقتور حکمران توجہ دیں۔ توجہ فرمائیے۔ پچیس سال سے اس خانہ کے ہوتے ہوئے نہ پاکستان کی ساکھ خراب ہوئی اور نہ سفری دستاویز مذہبی دستاویز بنی۔ اب بحال ہونے کا آرڈر ہو گیا تو پاکستان کی ساکھ کے علمبردار میدانِ عمل میں آگئے۔
طوالت کی معافی کے ساتھ آپ سے درخواست ہے کہ فیصلہ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ جو بغیر خانہ مذہب کے پاسپورٹ جاری ہوئے انہیں واپس لیا جائے۔ حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائی جائے کہ آج ایک مسلمان کو اپنے حکمران کے سامنے وضاحت کرنی پڑی کہ مسئلہ ختم نبوت سے ہمارے کوئی سیاسی مقاصد نہیں۔ ووٹوں یا سیاسی قد کاٹھ کی بھڑوتی کے لئے اس مقدس مسئلہ ختم نبوت کو آڑ بنانا ہم گناہ عظیم یقین کرتے ہیں۔ ہماری جائز درخواست پر توجہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بروقت متذکرہ امور پر توجہ کی توفیق عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم رحمت عالم ﷺ کی ختم المرسلینی کو گواہ بنا کر وعدہ کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کے مکمل حل ہونے تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ مولائے کریم ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین !
فقیر اللہ وسایا ! رابطہ سیکرٹری آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان صدر دفتر حضوری باغ روڈ ملتان فون : ۴۷۱۲۴۳۴-۰۳۰۰
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۵ء ص ۳-۵)
افریقی ملک گنی بساؤ میں قادیانیوں پر پابندی
روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۲؍مارچ ۲۰۰۵ء کی اشاعت میں خبر شائع کی کہ افریقہ کے ایک ملک ”گنی بساؤ“ میں حکومت نے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ خبر کے مطابق حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ یہ اقدام قومی اتحاد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک میں قادیانیوں کی سرگرمیاں مسلمان برادری کے استحکام کے لئے خطرہ ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ سیاستدان مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گنی بساؤ میں قادیانیوں کی عبادت گاہیں اور اسکول قائم ہیں۔ ۲۰۰۱ء میں اس وقت کے صدر نے پانچ (قادیانی) پاکستانی رہنماؤں کو ملک سے نکال دیا تھا کہ وہ وہاں کی مسلم برادری سے تعاون میں ناکام رہے تھے اور ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے ایسا ماحول بنتا جا رہا تھا جو ملکی استحکام کے لئے نقصان دہ ہے۔
گنی بساؤ شمال مغربی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ جس کی کل آبادی بارہ لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور اس میں مسلمانوں کا تناسب اڑتیس فیصد ہے۔ جب کہ چون فیصد آبادی بت پرست قبائل کی ہے اور آٹھ فیصد عیسائی ہیں۔ یہ مسلم اکثریت کے ملک گنی بساؤ کے پڑوس جو اپنے دارالحکومت بساؤ کے حوالہ سے گنی بساؤ کہلاتا ہے۔ یہ نو آبادیاتی دور میں پرتگال کے قبضے میں تھا اور گنی پر فرانس کا قبضہ تھا۔ گنی کی آبادی ستر لاکھ کے قریب بیان کی ہے جس میں پچاسی فیصد مسلمان ہیں۔ گنی کے علاقے میں اسلام کی دعوت پہلی صدی میں ہی پہنچ چکی تھی اور بربر قبائل جن میں طارق بن زیاد جیسے نامور جرنیل بھی شامل ہیں، اس علاقہ میں اسلام کا پیغام پہنچنے کا ذریعہ بنے تھے۔ یہ ملک ایک عرصہ تک مالی کا حصہ رہا۔ مگر پندرھویں صدی عیسوی کے دوران پرتگال کے تاجروں نے تجارت کے نام پر یہاں آنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ اس پر قبضہ جما لیا۔ وہ یہاں سے انسانوں کو پکڑتے اور غلام بنا کر دوسرے ملکوں میں بیچ دیتے۔ غلام فروشی کا یہ کاروبار کافی عرصہ جاری رہا۔ اس کے بعد گنی پر فرانس نے تسلط جما لیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۸۸۰ء کے لگ بھگ ایک مذہبی رہنما امام ساموری طورے نے فرانسیسی استعمار کے نوآبادیاتی تسلط کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور مسلح جہاد کا آغاز کر دیا جو کم و بیش بارہ برس تک جاری رہا۔ ان کی قیادت میں مجاہدین نے فرانسیسی استعمار کے خلاف مسلسل گوریلا کارروائیاں کیں۔ مگر بالآخر امام ساموری طورے کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر جلاوطن کر دیا گیا۔ جون ۱۸۹۸ء کے دوران گیبون میں ان کا انتقال ہوا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آزادی وطن کے لئے سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا جس کی قیادت امام طورے کے پوتے شیخ احمد سیکو طورے نے کی۔ جو اسی خطہ میں ایک مؤثر تنظیم ”یونین آف ورکرز آف بلیک افریقہ“ کے لیڈر تھے۔ انہی کی قیادت میں ملک کو ۱۹۵۸ء کے دوران آزادی ملی اور ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد فرانس نے گنی کو آزادی دے دی۔ شیخ احمد سیکو طورے اس کے بعد کافی عرصہ تک ملک کے صدر رہے۔ حتیٰ کہ ۱۹۷۴ء کے دوران لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں بھی وہ گنی کے صدر کے طور پر شریک ہوئے۔ ان کا انتقال مارچ ۱۹۸۴ء کے دوران امریکہ میں ہوا۔ گنی بساؤ اس گنی کے پڑوس میں ہے اور اس کے نام کی مناسبت سے یوں لگتا ہے جیسے یہ کسی دور میں گنی کا حصہ ہی رہا ہوگا۔
گنی بساؤ میں آزادی کے لئے مسلح بغاوت ہوئی اور چھاپہ مار جنگ لڑی گئی۔ آخر کار نومبر ۱۹۷۳ء میں پرتگالی حکومت نے گنی بساؤ کی آزاد حکومت کو تسلیم کر کے اپنا قبضہ ترک کر دیا۔ ملک میں اگرچہ مسلمانوں کی آبادی چالیس فیصد سے زائد نہیں ہے۔ لیکن گنی بساؤ کی حکومت اسلامی کانفرنس تنظیم کی رکن ہے اور ۱۹۷۴ء کی لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں اس کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
افریقہ اپنی پسماندگی کی وجہ سے مسیحی مشنریوں کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں کا بھی شروع سے مرکز رہا ہے قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کے دور میں ان سرگرمیوں کو بہت زیادہ عروج حاصل ہو گیا تھا۔ جو پختہ کار قادیانی اور اس کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے اہم رکن تھے۔ ان کے دور میں افریقی ممالک میں پاکستان کے سفارت خانے عملاً قادیانیت کی تبلیغ کا مرکز بن گئے تھے اور جب ۱۹۵۳ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ سے چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کی برطرفی کا مطالبہ بھی تحریک ختم نبوت کے بنیادی اہداف میں شامل ہوا تو اس کا پس منظر بھی یہی تھا۔ لیکن بعض رپورٹوں کے مطابق اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ اگر چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کو وزارت خارجہ سے الگ کیا گیا تو امریکہ ہم سے ناراض ہو جائے گا اور گندم کی ترسیل بند کر دے گا۔ اس دور میں پاکستان گندم کی شدید قلت سے دوچار تھا۔ جس کی وجہ سے خواجہ ناظم الدین کو ”قائد قلت“ کے خطاب سے نوازا جاتا تھا۔ گندم زیادہ تر امریکہ سے آتی تھی اور راشن کارڈ پر فی گھر محدود مقدار میں سرکاری طور پر فروخت کی جاتی تھی۔ مجھے اپنے بچپن کا وہ دور یاد ہے جب میں راشن کارڈ لے کر راشن ڈپو پر لائن میں لگ کر اپنے گھر کے حصے کی گندم خریدا کرتا تھا۔
افریقہ میں قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گنی بساؤ جیسے چھوٹے سے ملک میں جس کی مجموعی آبادی زیادہ سے زیادہ بارہ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ اس میں قادیانیوں کی تیس عبادت گاہیں اور اسکول موجود ہیں اور مسلمانوں کے حوالے سے ان کے طرز عمل کا بھی اس سے اندازہ کر لیں کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں۔ قادیانیوں کی سرگرمیاں وہاں کی حکومت کے ترجمان کے مطابق مسلمانوں کے استحکام کے لئے خطرہ کا باعث بنی ہوئی ہیں اور حکومت کو ان پر پابندی عائد کرنا پڑی ہے۔
قادیانیوں کی سرگرمیوں کا ہر جگہ یہی حال ہے۔ وہ جہاں بھی ہوں مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کام کرنا اور ان کے استحکام کے لئے خطرات کھڑے کرنا ان کی فطرت میں شامل ہے۔ کیونکہ ان کے آقاؤں نے انہیں اسی کام کے لئے کھڑا کیا تھا۔ مفکر پاکستان علامہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اقبال کے بقول قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے اور ان کا طریقہ کار بھی وہی ہے۔ یہ بات پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی جیل میں اپنے نگران سے کہی تھی جو کرنل رفیع کی یادداشتوں میں چھپ چکی ہے۔ قادیانی پاکستان میں وہی پوزیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے۔
تحریک ختم نبوت کے قائدین اور تمام دینی مکاتب فکر کے رہنما یہی بات موجودہ حکومت کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خدا کرے کہ جو بات گنی بساؤ کی حکومت کو سمجھ آ گئی ہے وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کو بھی سمجھ آ جائے۔ کیونکہ دین اور ملک کا مفاد بہر حال اسی میں ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون، جولائی ۲۰۰۵ء ص ۳۸ تا ۴۰)
قادیانیوں کی تازہ دیدہ دلیری
حاصل پور کے نواحی چک ۱۹۲ مراد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ حضرت مولانا محمد اسحق ساقی اور ان کے ساتھی کو قادیانیوں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ دھوپ میں ان پر تشدد کرتے رہے۔ بعد ازاں مسلمانوں کے ردعمل اور اشتعال کے خوف سے انہیں چھوڑ دیا۔ واقعہ کی تفصیل معاصر روزنامہ نوائے وقت ۱۹؍ جون ۲۰۰۵ء کے علاوہ دیگر اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان کی رپورٹ کے مطابق حاصل پور کے نواحی چک ۱۹۲ مراد میں مقیم قادیانیوں نے مسلمانوں کی مساجد کی طرز پر اپنی عبادت گاہ کی تعمیر کا کام شروع کیا جس پر اہل اسلام نے اعتراض کیا کہ قادیانی قانونی طور پر مسلمانوں کی طرز پر عبادت گاہ تعمیر نہیں کر سکتے۔ چونکہ وہ غیر مسلم اقلیت ہیں۔ چنانچہ ۱۹۹۹ء میں معاہدہ طے پایا اور قادیانی جماعت نے یقین دہانی کروائی کہ قادیانی زیر تعمیر عبادت گاہ کے مینار اور محراب تعمیر نہیں کریں گے۔ کچھ ہی عرصہ بعد قادیانی جماعت نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر دوبارہ شروع کر دی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ حضرت مولانا محمد اسحق ساقی کچھ مدت سے حاصل پور کے قادیانیت زدہ چکوک میں جمعہ پڑھاتے ہیں اور خطبات میں عقیدہ ختم نبوت اور تردید مرزائیت کے حوالے سے بھی بیان کرتے ہیں۔ ۱۸؍ جون ۲۰۰۵ء کو حضرت مولانا نے قادیانیوں کی وعدہ خلافی کے خلاف نوٹس لیتے ہوئے انہیں متنبہ کیا کہ وہ اپنی عبادت گاہ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ کی طرز پر تعمیر کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کا ارتکاب بھی کر رہے ہیں۔ حضرت مولانا نے قادیانیوں کو بتایا کہ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے اور ان کا امت محمدیہ سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنی عبادت گاہ مسجد کی طرز پر تعمیر کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔
قادیانیوں نے گفتگو کے دوران بدکلامی کی اور گالیاں دیں۔ توہین قرآن اور توہین رسالت کرتے رہے۔ حضرت مولانا محمد اسحق ساقی اور ان کے ساتھی کو مسلح قادیانی گھسیٹتے ہوئے اپنی عبادت گاہ کے اندر لے گئے۔ خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں۔ دونوں کو محبوس رکھ کر چار گھنٹے تک مسلسل تشدد کرتے رہے۔ جب علاقہ بھر کے مسلمانوں کو خبر ملی تو مسلمانوں کے ردعمل کے ڈر سے دونوں حضرات کو چھوڑ دیا۔ حضرت مولانا محمد اسحق ساقی کو تشویشناک صورت حال کے پیش نظر سول ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ حاصل پور کے علماء کے احتجاج اور مسلمانوں میں پھیلے ہوئے اشتعال کے پیش نظر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ ملک بھر میں قادیانیوں کی غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علاوہ مختلف دینی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی جماعت کی خودسری کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جماعت ملکی آئین اور قانون کے احترام سے عاری ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر آئین کی پاسداری اور قانون پر عملداری کو یقینی بناتے تو حاصل پور کا واقعہ رونما نہ ہوتا۔ قادیانی ایسی خلاف ورزیوں کے ذریعہ ملک میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے واقعات کا ردعمل شدید بھی ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں نے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کو چناب نگر (سابقہ ربوہ) کے ریلوے اسٹیشن پر زدوکوب کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں ملک گیر سطح پر تحریک ختم نبوت چلی۔ اسی تحریک کے نتیجہ میں قادیانیوں کو پارلیمنٹ کی سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ قادیانی جماعت نائن الیون کے واقعہ کے بعد مخصوص بین الاقوامی حالات سے فائدہ اٹھانے کے لئے کئی کروٹیں بدل چکی ہے۔ لیکن معاملہ:
جب بھی ملک میں نئی فوجی حکومت آتی ہے قادیانی جماعت کی امید کی کرن جاگ اٹھتی ہے کہ اب ۱۹۷۴ء کا آئین یقیناً ختم ہوگا جس میں انہیں ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ صدر مملکت جنرل پرویز مشرف واضح طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ قادیانیوں کی آئینی حیثیت برقرار رہے گی۔ اس میں کوئی تبدیلی نہ آئے گی۔ اس تمام تر کے باوجود قادیانی جماعت ہر سطح پر آئین یا قادیانیوں سے متعلق ترامیم کے خاتمہ کے لئے سرگرم عمل ہے۔
حاصل پور کے نواحی گاؤں کا واقعہ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کے تحت قادیانی مسلمانوں کی طرز پر عبادت گاہ تعمیر نہیں کر سکتے۔ نہ مینار نہ محراب اور نہ ہی کسی طور پر مشابہت اختیار کر سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت کو نوٹس لینا چاہئے کہ چک نمبر ۱۹۲ مراد میں قادیانیوں نے کیونکر قانون کی خلاف ورزی کی جسارت کی؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے کیونکر حرکت میں نہیں آتے؟ مسلمانوں کو قادیانیوں کے معبد خانوں پر اعتراض نہیں۔ بلکہ اس بات پر تشویش ہے کہ جب قادیانی مسلمانوں کی طرز پر عبادت گاہ بناتے ہیں تو اکثر و بیشتر مسلمان اس سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنے مذہبی تشخص کی بناء پر ضروری ہے کہ ان کی عبادت گاہیں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے مشابہ نہ ہوں۔
حکومت کو شکر گزار ہونا چاہئے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت نے حاصل پور کے واقعہ پر امن وامان کا مسئلہ پیدا نہیں ہونے دیا۔ بلکہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے صورت حال کو کنٹرول کیا ہے۔ آئین اور ملکی قانون سے کوئی فرد یا جماعت بالاتر نہیں۔ حکومت آئین کی بالادستی اور قانون کی حاکمیت پر بلند بانگ دعوے رکھتی ہے۔ تو اس حوالے سے انہیں قادیانی جماعت کے چیلنج کا جواب دینا ہوگا۔ ورنہ پنجاب حکومت پر تو قادیانیت نوازی کا الزام پہلے سے موجود ہے۔ کیا انہیں کرم نوازیوں کے بدلے قادیانی جماعت کو شہ نہیں ملی؟
بہتر ہوگا کہ پنجاب حکومت اپنے آپ کو قادیانی جراثیم سے پاک کرے اور قادیانی جماعت کو قانون کا پابند بنائے۔ اگر حکومت ناکام رہی اور اہل ایمان نے یہ معاملہ اپنے ہاتھوں میں لیا تو حکومت کو یقیناً تکلیف ہوگی۔ پھر امن وامان کے حوالے سے کیا ضمانت دی جاسکتی ہے۔ خانہ ساز نبوت کے جھوٹے پیروکار کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ وہ قانون کی گرفت سے بچ سکتے ہیں۔ عاشقان ختم نبوت کے عتاب سے نہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ، ۲۰۰۵ء ص ۳ تا ۵)
مونگ، منڈی بہاؤالدین میں قادیانی دہشت گردی
چیچہ وطنی (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا ہے کہ ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۰۲ء کو منڈی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہاؤالدین کے گاؤں مونگ رسول کی قادیانی عبادت گاہ میں دو نقاب پوشوں کی فائرنگ سے ۸ افراد کی ہلاکت اور متعدد زخمی ہونے کا واقعہ قطعی طور پر دہشت گردی یا مرزائی ، مسلم جھگڑا نہ تھا بلکہ یہ قادیانی جماعت کے دو متحارب گروپوں کی باہمی رنجش کا نتیجہ تھا، جس کا ایک زندہ ثبوت یہ ہے کہ گاؤں کے مسلمانوں نے انسانی ہمدردی کی بنا پر زخمیوں کو خون دیا۔ مگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ متعلقہ ڈی. پی. او کی وضاحت کے باوجود قادیانی جماعت اس واقعہ کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جمعتہ المبارک صبح یہاں بلاک نمبر ۱ میں حاجی محمد ایوب کی رہائش گاہ پر میڈیا ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چناب نگر سے شائع ہونے والے قادیانی جماعت کے ترجمان اخبار روزنامہ الفضل نے اس واقعہ کے حوالہ سے چار صفحات پر مشتمل جو رپورٹ شائع کی ، اس میں بھی اسے مرزائی مسلم تنازعہ کا شاخسانہ قرار دیا حتیٰ کہ قاتلوں اور ملزمان کی گرفتاری تک کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی ، قاری زاہد اقبال اور حافظ محمد اصغر عثمانی بھی موجود تھے۔ مولانا اللہ وسایا نے مزید کہا کہ اگر چہ قتل وغارت گری کا یہ اہم واقعہ آنے والے بدترین زلزلہ کے باعث میڈیا میں دب گیا تاہم ہمارے علم میں آیا ہے کہ قادیانی جماعت اس واقعہ کو دہشت گردی سے منسلک کرنے اور ہراساں کرنے کے لئے پولیس پر دباؤ ڈال رہی ہے تا کہ اندرون و بیرون ملک میں اپنی نام نہاد مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کر ویزا جیسے مخصوص مفادات حاصل کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اس واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کے لئے فی کس ایک لاکھ روپے جب کہ زخمیوں کے لئے فی کس پچاس ہزار روپے کی امداد فراہم کی ۔ ہم وزیر اعلیٰ سے پوچھنا چاہیں گے کہ ذاتی جھگڑوں اور رنجشوں کے نتیجہ میں صوبہ بھر میں آئے روز بہت سے قتل ہوتے ہیں ، ان کی مالی امداد کا اعلان کیوں نہیں کیا جاتا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۴ تا ۲۱ اگست ۲۰۰۵ء ص ۲۵)
مرزا فرید احمد کی گرفتاری
بعض اخباری اطلاعات کے مطابق اس وقت قادیانی ایجنٹ لوگوں کو یورپ بھجوانے کے ان سے لاکھوں روپے اینٹھ رہے ہیں جب کہ یورپ بھجوانے کے لئے یہ ایجنٹ ان حضرات کو قادیانی ظاہر کرتے ہیں اور اس حوالے سے ان کا نیا شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات بنواتے ہیں جس سے بعد ازاں قادیانی اپنی تعداد میں اضافے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قادیانی ایجنٹ کی گرفتاری کی خبر ملاحظہ فرمائیے:
”لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے والا قادیانی ایجنٹ گرفتار
ملزم مرزا فرید احمد مسلمانوں کو قادیانی ظاہر کر کے ویزے لگواتا تھا، عدالت نے ۲۶/ستمبر تک ریمانڈ دے دیا۔
کراچی: ایف .آئی .اے نے مسلمانوں کو قادیانی ظاہر کر کے بیرون ملک لے جا کر سیاسی پناہ دلوانے والے قادیانی فرقے کے ایک رہنما کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایف.آئی.اے پاسپورٹ سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد مالک کو گل رحمن نامی شخص نے شکایت کی تھی کہ کراچی کے ایک فائیواسٹار ہوٹل میں مقیم مرزا فرید احمد نامی شخص نے اسے برطانیہ بھجوانے کا جھانسہ دے کر ۱۳ لاکھ ۵۰ ہزار روپے وصول کئے ہیں، لیکن نہ تو اسے برطانیہ بھجوایا اور نہ ہی اس کی رقم واپس کی، مذکورہ شکایت پر ایف.آئی.اے پاسپورٹ سیل کے سب انسپکٹر سراج پنہور نے مذکورہ ہوٹل پر چھاپہ مار کر مرزا فرید احمد کو گرفتار کر لیا۔ ملزم سے ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے مذکورہ ہوٹل میں اس کا کمرہ بک ہے، ملزم قادیانی فرقے کا ایک اہم رہنما ہے جو سینکڑوں افراد کو قادیانی ظاہر کر کے بیرون ملک لے جا چکا ہے، بعد ازاں ان افراد نے بیرون ملک جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم لوگوں کو کینیڈا، امریکا، جرمنی، برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ممالک لے کر جاتا رہتا تھا، ملزم کے متعدد سفارت خانوں میں اچھے مراسم ہیں جس کے باعث وہ آسانی سے ویزا حاصل کر لیتا تھا۔ مقامی عدالت نے ملزم کو ۲۶؍ ستمبر تک ریمانڈ پر ایف. آئی. اے کے حوالے کر دیا ہے۔“
(روزنامہ امت کراچی مؤرخہ ۲۲؍ ستمبر ۲۰۰۵ء)
پاکستان میں یہ واقعات نئے نہیں۔ اس سے قبل عیسائیوں اور توہین رسالت کے بعض ملزمان کی یورپ روانگی اور اس سلسلے میں این. جی. اوز کے بھیانک کردار کی خبریں بھی اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ قادیانی، عیسائی، یہودی اور این. جی. اوز ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ ان کے نام مختلف ہیں لیکن ان کا کام ایک ہی ہے اور وہ ہے اسلام کی بنیادوں کو ڈھانے کی کوشش کرنا۔ ان تمام گروہوں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ان کا طریقہ واردات ایک دوسرے سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے۔ روپے پیسے کا لالچ دینا، بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دینا، نوکری اور چھوکری کا لالچ دینا اور اس کے بدلے ایمان کا سودا کرنے کی ترغیب دینا ان کا بنیادی طریقہ کار ہے۔ اگر مسلمان غور کریں تو انہی حربوں کے ذریعہ ان پر ان گروہوں کا باطل ہونا کھل جائے گا۔
دنیا میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام تشریف لائے جنہوں نے مخلوق خدا کو اللہ کی وحدانیت اور دین حق اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دی۔ کسی بھی نبی نے کسی شخص کو یہ دعوت نہیں دی کہ اگر وہ ایمان لے آئے تو اسے اتنی رقم دی جائے گی یا بیرون ملک بھجوا دیا جائے گا یا نوکری مہیا کی جائے گی یا نعوذ باللہ! عورت فراہم کی جائے گی بلکہ اس قسم کی لغویات کا تصور تک ان کے یہاں نہیں پایا جاتا تھا۔ کسی نبی نے بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر لوگوں کو جبری طور پر اپنا پیروکار نہیں بنایا اور نہ لوگوں سے اس بہانے پیسے بٹورے۔
اس کے بالمقابل انبیاء کرام پاکیزہ تعلیمات کے حامل ہوتے تھے۔ انبیاء کرام کی جانب سے اپنے پیروکاروں کو دشمنوں کے مظالم پر صبر و تحمل کی تلقین اور ایمان کی خاطر مشقتیں برداشت کرنے پر اجر کا وعدہ کیا جاتا تھا اور ان کے پیروکار مشقتیں برداشت کرتے رہے حتیٰ کہ ایمان کی خاطر جان تک قربان کر دینے کے واقعات ملتے ہیں۔ انبیائے کرام نے دنیا کے بجائے آخرت کی دعوت دی۔
اس کے برعکس فرعون، نمرود، شداد، ہامان، ابوجہل، ابولہب اور دیگر ملعونوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھئے۔ آپ کو اس میں قادیانیوں، عیسائیوں اور این. جی. اوز کا طریقہ واردات کھلے طور پر نظر آئے گا اور وہ اسی طرح زن، زر، زمین کا لالچ دیتے دکھائی دیں گے جس طرح آج قادیانی، عیسائی اور این. جی. اوز دے رہے ہیں۔ یہیں سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ قادیانی، عیسائی اور این. جی. اوز فرعون، نمرود، ہامان، ابوجہل اور ابولہب کی روش پر چل رہے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کو دور حاضر میں انبیائے کرام کے سچے پیروکار ہونے کی بنا پر اسی قسم کی مشکلات اور تکالیف پیش آ رہی ہیں جیسی انبیائے کرام کے سچے پیروکاروں کو ہمیشہ سے پیش آتی رہی ہیں۔ یہ مسلمانوں کے دین حق اور صراطِ مستقیم پر قائم ہونے اور قادیانیوں، عیسائیوں وغیرہ کے باطل ہونے کی واضح دلیل ہے۔ الحمد للہ! مسلمانوں نے کسی موقع پر کسی کو جبری طور پر مسلمان نہیں بنایا بلکہ خود اسلام میں اللہ تعالیٰ نے وہ کشش رکھ دی ہے کہ قادیانی، عیسائی، یہودی، ہندو اور دیگر مذاہب کے پیروکار جوق در جوق اسلام قبول کر رہے ہیں اور خود اپنے سابقہ مذہب کی برائیاں بیان کر رہے ہیں۔
رمضان المبارک قرآن پاک کے نزول کا مہینہ ہے اور قرآن پاک نے آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین یعنی آخری نبی قرار دیا ہے اور نبی پاک ﷺ نے بھی خود اپنے آپ کو آخری نبی فرمایا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی باور کرنا قادیانیوں کی جانب سے قرآن پاک کی تکذیب اور نبی کریم ﷺ کی توہین ہے۔ رمضان مبارک میں ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ قادیانیوں کو کسی صورت قرآن پاک کی تکذیب اور نبی کریم ﷺ کی توہین کی اجازت نہیں دیں گے اور اس سلسلے میں اپنی زندگی کے آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ (ان شاء اللہ العزیز)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم اس موقع پر مسلمانوں سے یہ کہنا چاہیں گے کہ وہ اپنی اولاد پر نظر رکھیں کہ کہیں وہ بیرون ملک جانے کے چکر میں پڑ کر کسی قادیانی کے ہاتھوں اپنی متاع ایمان ہی سے محروم نہ ہو جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان قزاقوں کا قلع قمع کرنے اور مسلمانوں کو قادیانی بنا کر بیرون ملک بھیجنے والے ان سارقین ایمان کے خلاف بھی جہاد میں شرکت کیجئے اور اس قسم کے گروہوں کی اطلاعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو دے کر مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ کا فریضہ انجام دیجئے۔ قیامت کے دن آپ کا یہ عمل ان شاء اللہ آپ کے لئے باعث نجات ہوگا۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ قادیانیوں کے اس فراڈ کا نوٹس لے اور ان کے خلاف سخت ایکشن لے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍اکتوبر ۲۰۰۵ء ص ۵،۴)
قادیانیوں کی ملک دشمنی کی کارروائیاں ...... جناب پرویز مشرف کی توجہ کے لئے
مرزا غلام احمد قادیانی کا پڑپوتا اور قادیانی جماعت کے تیسرے چیف گرو مرزا ناصر احمد قادیانی کے بیٹے مرزا فرید احمد کے متعلق صدر پاکستان بالخصوص وزارت داخلہ سے گزارش ہے کہ وہ ذیل کی خبر ملاحظہ فرمائیں: (گزشتہ صفحات میں گزر چکی)
(روزنامہ امت کراچی مؤرخہ ۲۲؍ستمبر ۲۰۰۵ء)
مرزا فرید احمد پنجاب کے جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا پڑپوتا ہے۔ عرصہ دراز سے جہاں وہ مسلمانوں کو قادیانی ظاہر کر کے بیرون ملک کے ویزے دلوانے اور سیاسی پناہ دلوانے کے لئے جعلی کاغذات تیار کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہے، وہاں پاکستان کی بدنامی کا بھی باعث ہے۔ وہ کروڑوں روپے جعل سازی سے اکٹھا کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کے بہشتی مقبرہ کی آگ کے جلاؤ کو روشن رکھنے کے لئے سرگرم ہے۔ پوری قادیانی لابی اور وزارت داخلہ میں ان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے افراد اس کاروبار میں سے اپنا حصہ یعنی بھتہ وصول کرتے ہوں گے۔ ایف آئی اے کا شعبہ، وزارت داخلہ توجہ کرے کہ ملک میں یہ لابی کیا کر رہی ہے؟ اس کے ساتھ ہی ملتی جلتی یہ خبر بھی ملاحظہ فرمائی جائے:
’’سابق ایئر چیف ظفر چوہدری کے کرنل (ر) بیٹے کا غیر قانونی انٹرنیشنل فون گیٹ وے پکڑا گیا۔ عامر چوہدری نے کمپیوٹر ٹریننگ کی آڑ میں پوسٹل کالج سے معاہدہ کر کے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں گیٹ وے بنا رکھے تھے۔ انٹرنیشنل کالز لوکل کالز میں ٹرانسفر کی جاتیں، خزانے کروڑوں کا نقصان، ماہانہ ستر ہزار منٹ غیر قانونی ٹریفک استعمال کی۔ ملزم کا اعتراف، کروڑوں کی ناجائز آمدنی مشترکہ اکاؤنٹ میں جمع کرائی جاتی، گرفتاری کے وقت دھمکیاں، سفارشی فونوں کا تانتا بندھ گیا۔‘‘
(روزنامہ خبریں ملتان ۱۰؍مارچ ۲۰۰۵ء)
پاک فضائیہ کا سابق چیف ظفر چوہدری سکہ بند قادیانی تھا، کرنل (ر) عامر چوہدری اس کا بیٹا ہونے کی وجہ سے نسلی قادیانی ہے۔ اس نے اس دھندے سے پی ٹی سی ایل کو بیس لاکھ روپے ماہانہ نقصان پہنچایا۔ اس قادیانی نے کروڑوں کی جائیداد بنائی، چونکہ خود سابق فوجی آفیسر ہے، باپ فضائیہ کا سابق سربراہ تھا۔ اس وقت مملکت کے سربراہ بھی اپنے تمام تر بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود فوجی ہیں۔ اس قادیانی گھپلے بازی کا اور وہ بھی فوج سے وابستہ رہنے والے افراد کے ذریعہ، ایک خوفناک سانحہ ہے۔ اس ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے وضاحت فرمائیں گے کہ اس کیس کی ہوا تک نہیں لگنے دی جا رہی۔ آخر کیوں؟ کیا اس ملک کا کوئی وارث ہے؟ اگر ہے تو وہ بتائے کہ قادیانی کیا کر رہے ہیں؟ کیا اتصالات اور پی ٹی سی ایل سے معاہدہ پر عمل درآمد میں رکاوٹ یہ کالی بھیڑیں تو نہیں؟ اس کے ساتھ ایک اور خبر بھی ملاحظہ کی جائے:
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
’’پنڈی بھٹیاں (نمائندہ خبریں) رسول پور تارڑ سے بھارتی ایجنسی را کا قادیانی ایجنٹ دو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے قبضہ سے دو ہینڈ گرنیڈ اور دو کلاشنکوفیں برآمد ہوئیں۔ ایس پی پنڈی بھٹیاں عمران محمود نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک خفیہ اطلاع پر انہوں نے پولیس کی نفری کے ساتھ رسول پور تارڑ میں چھاپہ مار کر قادیانی مبشر احمد کو اس کے دو ساتھیوں ذوالفقار اور ذکاء اللہ سمیت گرفتار کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ قادیانی مبشر احمد کی بہن گوگی کی شادی گزشتہ دنوں بھارت میں قادیانی حبیب احمد سے ہوئی تھی، جو را کا ایجنٹ ہے۔ اس نے مبشر احمد سے رابطہ قائم رکھا تھا۔ گرنیڈ بم اس نے آٹھ سال سے بوری میں چھپا کر رکھے تھے اور گرفتاری سے بچنے کے لئے کلاشنکوفوں کو اپنے دوستوں ذوالفقار، ذکاء اللہ کے پاس رکھا ہوا تھا۔ مبشر احمد اپنے بہنوئی حبیب احمد کو معلومات فراہم کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مبشر کا والد بشارت اور خاندان کے دیگر افراد فرار ہو گئے ہیں۔ مبشر احمد نے دوران تفتیش را کا ایجنٹ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اے ایس پی نے بتایا کہ پندرہ روز تک ہم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا پتہ چلا لیں گے۔‘‘
(روزنامہ خبریں لاہور، مؤرخہ ۵؍ ستمبر ۲۰۰۴ء)
اس کیس کو سال سے زائد عرصہ بیت گیا ہے، ہوا تک نہیں لگنے دی جا رہی، آخر وہ کون سی مجبوری ہے کہ قادیانی اس ملک کو لاکھوں، کروڑوں روپے کا نقصان پہنچائیں، بیرونی دنیا میں ملک کو بدنام کریں اور اندرون ملک مہم چلائیں، دہشت گردی کریں، اس کے باوجود حکومت کے نزدیک وہ محبّ وطن اور مولوی دہشت گرد ہیں؟ صدر مملکت! انصاف کیا جائے اور قادیانی دہشت گردوں سے ملک کو محفوظ بنایا جائے۔ اگر ان حقائق کے باوجود قادیانی لابی پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا تو اسلامیان وطن یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ قادیانیت نوازی کے پیچھے کون سے عوامل کام کر رہے ہیں؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۰۶ء ص۴، ۵)
چناب نگر اور مضافاتی علاقوں میں قادیانی شرانگیزی اور غنڈہ گردی
چناب نگر (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا غلام مصطفیٰ نے چناب نگر اور اس کے قرب وجوار میں بڑھتی ہوئی قادیانی غنڈہ گردی، خواتین پر تشدد اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی، چنیوٹ کے سول ہسپتال، ہیڈ کوارٹر میں سکہ بند قادیانی ڈاکٹروں کی تعیناتی، چناب نگر کے نائب ناظم ملک محمد حسین واہگہ کے گھر پر شدت پسند قادیانیوں کا دھاوا اور تھانہ کانڈیوال کے علاقہ میں جنونی قادیانی عطا کریم کے ڈیرے پر مسجد نما قادیانی عبادت گاہ جیسے امور اور ضلعی انتظامیہ کی قادیانیت نوازی کے خلاف وفاقی وصوبائی حکومت سے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ چنیوٹ، چناب نگر اور ان کے مضافاتی علاقوں میں قادیانیوں کی شرانگیز سرگرمیوں اور ان کی مسلمان کش غنڈہ گردی کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔ بصورت دیگر کارکنان ختم نبوت اور اسلامیان پاکستان راست اقدام پر مجبور ہوں گے، جس سے ملک میں انارکی پھیلے گی۔ مشترکہ بیان میں درج ذیل مطالبات کو تسلیم کرنے کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا گیا:
- ۱...... چناب نگر میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے، حکومت فی الفور قانون پر عملدرآمد کراتے ہوئے
قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے روک کر انہیں آئین کا پابند بنائے۔
- ۲...... احمد نگر میں مسلم خواتین پر تشدد کرنے والے ایف آئی آر میں نامزد کئے گئے ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
چناب نگر اور اس کے قرب وجوار میں مسلم خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... چناب نگر کے مسلمانوں کو قادیانی ظلم وجبر سے نجات دلائی جائے۔ چناب نگر میں قادیانیوں کے عقوبت خانے اور نجی چیک
پوسٹوں کو ختم کیا جائے اور قادیانی جماعت کی طرف سے وہاں کے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے جو اسلحہ لایا جاتا ہے وہ اسلحہ قادیانیوں سے واپس لیا جائے۔
- ۴...... تحصیل چنیوٹ اور فیصل آبادسمیت پورے ملک میں قادیانی گروہ کی بڑھتی ہوئی تبلیغی سرگرمیوں کا فی الفور نوٹس لے کر سدباب
کیا جائے۔ سول ہسپتال چنیوٹ سے قادیانی ڈاکٹر عمران خان، حامد خان اور قادیانی نواز ڈاکٹروں کو فی الفور تبدیل کیا جائے تاکہ لوگوں کا ایمان محفوظ رہے۔
- ۵...... چنیوٹ میں قادیانیوں کی طرف سے پیٹرول پمپ بنانے کی سازش کو ناکام بنا کر حکومتی وسرکاری اجازت نامہ منسوخ کیا جائے۔
- ۶...... چناب نگر میں نائب ناظم ملک محمد حسین واہگہ کے گھر پر حملہ آور قادیانی ملزمان کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔
- ۷...... لالیاں سے قادیانی ہیڈ مسٹریس کو فوراً تبدیل کیا جائے۔ چناب نگر میں قادیانیوں کے رفاہی وفلاحی کاموں کی آڑ میں تبلیغی سر
گرمیوں کو روکا جائے۔ چناب نگر کی زمین ہر کسی کو خریدنے کی اجازت دی جائے تاکہ پاکستان میں دوسرا اسرائیل کے وجود کو ختم کیا جاسکے۔
- ۸...... تھانہ کانڈیوال تحصیل چنیوٹ کے علاقہ میں عطا کریم قادیانی کے ڈیرے پر رمضان المبارک میں مسجد نما بنائی جانے والی قادیانی
عبادت گاہ کو گرایا جائے اور تعمیر کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے۔
حکومت ہمارے ان مطالبات کو پورا کر کے سعادت دارین حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۰۶ء ص ۲۵)
چناب نگر میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
گزشتہ دنوں چناب نگر سے تعلق رکھنے والے نوجوان جس کا نام امین احمد ولد لطف الرحمن ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ و خطیب جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس پرمسرت موقع پر مدرسہ کے اساتذہ کرام وطلباء عزیز کے علاوہ اہل محلہ کی خاصی تعداد موجود تھی۔ اس جم غفیر میں نوجوان نے قادیانیت سے تائب ہونے اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ نوجوان نے بتایا کہ میں پیدائشی قادیانی تھا۔ میرے والدین اور رشتہ دار سب قادیانی ہیں۔ اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایمان کی دولت عطا فرمائی ہے اب پتہ چلا ہے کہ قادیانی جھوٹے ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قادیانی اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں۔ میں اپنی طرح ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتا ہوں۔ آخر میں اساتذہ کرام وطلباء عزیز واہل محلہ نے نوجوان کے اسلام پر ثابت قدم رہنے کی دعا کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۴ تا ۳۱؍ جنوری ۲۰۰۵ء ص ۱۷)
سرگودھا میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام
محمد اقبال ولد ولی خان (قوم مسلم شیخ)، محمد احمد ولد شیر (قوم مسلم شیخ) اور محمد نواز ولد غوث (قوم رانجھا) نے قادیانیت سے تائب ہو کر ختم نبوت ادھراماں ضلع سرگودھا کے رہنما محمد بخش ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ اس موقع پر ان تینوں حضرات نے عقیدہ ختم نبوت کا اقرار کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت کو مسترد کرتے ہوئے قادیانی گروہ سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرزا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی دجال، کافر، مرتد، زندیق اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور قادیانی گروہ بھی اس کی اتباع کرنے کی وجہ سے اسی حکم میں ہے۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی نے ان نومسلموں کو قبول اسلام پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی گروہ اسلام کے نام پر دھوکہ دہی میں مصروف ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قادیانیت کے اصل عقائد واضح ہونے پر مستقبل میں قادیانیوں کی اکثریت مسلمان ہو جائے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۱۵؍فروری ۲۰۰۵ء ص ۱۷)
لیہ میں قادیانیوں کا قبول اسلام
چوہدری نصیر احمد جٹ چک نمبر ۱۱۴ فتح پور والے اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور بہوؤں سمیت قادیانیت کے اوپر لعنت بھیج کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے چک کی جامع مسجد کے خطیب کے پاس لوگوں کے سامنے قادیانیت کی غلط تاویلات اور عبارات کو سنا کر اسلام کی حقانیت کا اعلان کرتے ہوئے خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن سے وابستہ ہو گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لیہ کے امیر حضرت مولانا محمد حسین، ضلعی ناظم حضرت مولانا قاری عبد الشکور نے جا کر مبارک باد پیش کی۔ دریں اثناء ڈیرہ غازی خان بلاک نمبر ۱۳ فرید آباد کے رہائشی رحمت اللہ نے گزشتہ روز جامع مسجد بلاک نمبر ۳ نمازیوں کی موجودگی میں حضرت مولانا غلام فرید کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۵ء ص ۴)
چناب نگر میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
محمد احمد ولد محمد دین قوم سوھن نے قادیانیت سے تائب ہو کر مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ و خطیب جامع مسجد ختم نبوت مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اس نو مسلم نے اپنی زندگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ بعد ازاں اس نو مسلم کے حق میں اسلام پر ثابت قدمی کے لئے دعا کی گئی اور نو مسلم کو قبول اسلام پر مبارک باد دی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍جون ۲۰۰۵ء ص ۲۶)
پشاور کے نوجوانوں کی قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام
مشہور خاندانی قادیانی نسیم احمد میر کی بیٹی ناعمہ نسیم بی۔اے، ایل۔ایل۔بی نے گزشتہ دنوں قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ناعمہ نسیم نے ابتداء میں عدالت کے ذریعہ قبول اسلام کے تحریری اقرار کے بعد اپنے قادیانی والدین کے گھر میں قادیانی رشتہ داروں کی موجودگی میں ایک مسلم حافظ قرآن نوجوان ہدایت اللہ سے شادی کی۔ اس موقع پر ہدایت اللہ کا کوئی مسلمان رشتہ دار موجود نہ تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز لڑکی کے باپ نسیم احمد میر قادیانی کے گھر سے کیا اور ہدایت اللہ نے گھر داماد کی حیثیت سے اپنے قادیانی سسرالیوں کے گھر میں رہائش اختیار کی۔ شادی کے بعد سیر و تفریح کی غرض سے اس جوڑے نے لاہور اور چناب نگر جا کر قادیانی رشتہ داروں کے ہاں قیام کیا۔
اس طرح ہدایت اللہ قادیانیت کے مکروہ اور غلیظ ماحول میں رہ کر قادیانیت کے بیعت فارم پر دستخط کر کے قادیانی بن گیا۔ پشاور واپسی کے بعد ہدایت اللہ کو اپنی بدبختی کا احساس ہوا۔ کچھ عرصہ اسی پریشانی میں گزرا۔ اب وہ اس کفر کے اندھیرے سے نکلنے کی سوچ میں فکر مند ہو گیا۔ آخر کار اس نے اپنے ایک قابل اعتماد دوست کو اپنی داستان الم سنائی اور اس سے درخواست کی کہ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ذمہ داران سے مل کر اسے اس جہنم سے نکالنے کی کوئی صورت بنائے۔ اس دوست نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی ناظم حضرت مولانا نور الحق نور سے رابطہ کر کے ان سے پوری روئداد بیان کی۔ حضرت مولانا نور الحق نور نے فوری طور پر ہدایت اللہ کے والد سے رابطہ کیا اور بعد ازاں مجلس کے ایک مقامی ساتھی جناب حاجی نظام اللہ صاحب کے ہمراہ ہدایت اللہ کے والد سے تفصیلی ملاقات کے ذریعہ ساری صورت حال ان پر واضح کی۔ جس پر ہدایت اللہ کے والد نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس سلسلہ میں ہر قسم کی قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
بعد ازاں ہدایت اللہ سے رابطہ کیا گیا اور پہلی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ہدایت اللہ نے سب کچھ کہہ سنایا اور ساتھ ہی قادیانیت کے بیعت فارم پر دستخط کرنے کا بھی اقرار کیا۔ اس پر واضح کیا گیا کہ لڑکی کے اسلام قبول کرنے کے تحریری اور زبانی اقرار کے بعد اس سے مسلمان عالم نے تمہارا نکاح پڑھایا تھا قادیانیت کا بیعت فارم پر کرنے کے بعد اس لڑکی سے نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ جناب حاجی نظام اللہ صاحب، جناب حاجی اقبال شاہ صاحب کے ہمراہ ہدایت اللہ اور اس کے والد سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۵ء ص ۴۵)
جرمنی میں ممتاز قادیانی فیملی کا قبول اسلام
شیخ راحیل احمد، مظفر احمد مظفر کے بعد سید منیر احمد شاہ کا قبول اسلام قادیانی مذہب کی ریتلی دیوار کے لئے ایک ایٹمی دھماکہ سے کم نہیں۔ ان کا اسلام قبول کرنا دین اسلام کی حقانیت اور قادیانیت کے رو بہ زوال ہونے کی ایک روشن دلیل ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں جرمنی سے جناب شیخ راحیل احمد کی مرسلہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
”الحمدللہ! جرمنی کے شہر اوسنا بروک کے رہائشی سید منیر احمد شاہ، جو کہ پیدائشی قادیانی تھے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ اور چار بچوں سمیت قادیانی مذہب پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ سید منیر احمد شاہ قادیانی جماعت میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں اور ان کے بیان کے مطابق تیسرے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر احمد کے بیٹے مرزا فرید احمد کے قریبی حلقے میں شامل تھے اور چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں سگریٹ (ایمبیسی) کی ایجنسی چلاتے رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ شاکرہ بیگم، مرزا غلام احمد قادیانی کے مشہور بدنام زمانہ شاعر قاضی ظہور الدین اکمل کی بھتیجی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سید منیر احمد شاہ نے مقامی عربی مسلمانوں کی مسجد میں جا کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا، لیکن قادیانی سازشوں کی وجہ سے اس اعلان کی اشاعت نہ ہوسکی، کیونکہ اس کی اشاعت قادیانیوں کے مورال پر اثر پڑتا۔ اس کی اطلاع راقم الحروف کو ہوئی تو میں نے فوراً سید منیر احمد شاہ صاحب سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ پروگرام طے کر کے ۱۲ /جون ۲۰۰۵ء بروز اتوار، برادرم افتخار احمد اور دوسرے رفقاء کے ساتھ ہم کولون شہر سے روانہ ہوئے اور تقریباً تین سو کلو میٹر دور اوسنا بروک پہنچے۔ اوسنا بروک میں مقامی مسلمانوں نے جلسہ کا انتظام کیا تھا۔ اس جلسہ سے راقم الحروف (شیخ راحیل احمد)، افتخار احمد اور سید منیر احمد شاہ نے خطاب کیا۔ اس جلسہ میں تبلیغی جماعت کے کچھ دوست ہنوور سے بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس جلسہ میں خاکسار نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی پر تقریر کی۔ برادرم افتخار احمد صاحب نے مرزا قادیانی کے حلیہ اور بد اخلاقی کے بارے میں حاضرین کو بتایا۔ اس کے بعد اپنے خطاب میں سید منیر احمد شاہ صاحب نے قادیانی سازشوں اور ان پر ہر طرف سے پڑنے والے دباؤ کی تفصیل بتائی۔ جلسہ میں انہوں نے اور دیگر حاضرین نے عہد کیا کہ وہ ختم نبوت کے کام کے لئے آئندہ دن رات ایک کر دیں گے اور قادیانی سازشوں کا ہر میدان میں مقابلہ کریں گے۔ ان شاء اللہ!“
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ الحمد للہ ! قادیانیوں میں اسلام قبول کرنے کا رجحان روز بروز بڑھ رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ قادیانیت کا فتنہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف گامزن ہے، یہ فتنہ انگریزوں نے ہندوستان کے مسلمانوں میں انتشار پھیلانے اور ان کو جہاد سے دور کرنے کے لئے پیدا کیا تھا اور آج بھی قادیانیت کو انگریزوں اور دیگر عالمی کفریہ طاقتوں کی سرپرستی واعانت حاصل ہے۔
پاکستان کے مسلمانوں نے ۱۹۷۴ء میں اپنی صفوں میں گھسے ہوئے قادیانیوں کو نکال باہر کیا تو برطانیہ نے انہیں پناہ دی اور قادیانی گرو مرزا طاہر لندن سے مغربی میڈیا کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلانے کی کوشش کرتا رہا، لیکن عالمی کفریہ طاقتوں کی تمام تر اعانت اور تعاون کے باوجود قادیانی گروہ مسلمانوں کا ایمان خریدنے اور ان کے دلوں سے فریضہ جہاد کی اہمیت ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ قادیانیت اپنی بقا کی جدوجہد کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور قادیانی دجل کا پردہ چاک ہونے کی وجہ سے قادیانی عوام وخواص بڑی تعداد میں مسلمان ہورہے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں علمائے کرام کی کوششیں رنگ لارہی ہیں۔
علمائے کرام اور قادیانیت سے تائب ہونے والے مسلمان بھائیوں کو اس میدان میں مزید کام کرنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ قادیانیوں تک حق کی دعوت پہنچانے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ قادیانیت کے فتنے کا مستقل سد باب ہوسکے اور انگریز کے خود کاشتہ پودے کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر اس کے ناپاک وجود سے اللہ کی زمین کو پاک کیا جاسکے۔
قادیانیت نے انسانیت کو سوائے دعوؤں ، لاف و گزاف ، فحش کلامی ، شہوت رانی ، قادیانی رائل فیملی ، اور قادیانی جماعت کے بینک بیلنس میں چندوں کے ذریعہ بے پناہ اضافے ، اسلام سے خروج اور مسلمانوں کی تضحیک کے اور کچھ نہیں دیا ہے۔ قادیانیت انسانیت کی تباہی کے لئے ان تمام ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدان عمل میں اتری جو ابلیس نے انسانیت کو گمراہ کرنے کے لئے بارگاہ خداوندی سے طلب کئے تھے لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ قادیانی جماعت کے رہنما ، زعما ، شعراء وکلاء، صحافی ، دانشور قادیانیت پر لعنت بھیج کر جوق در جوق اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ اسلام کے دامن میں آتے ہی وہ ابدی سکون محسوس کرتے ہیں ، جس کا وہ کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں۔
اب مستقبل صرف اور صرف اسلام کا ہے۔ مستقبل میں نہ قادیانیت کی لن ترانیاں چلیں گی نہ عیسائیت کی زور وزبردستی اور نہ یہودیت کی فتنہ پروری۔ اسلام کا سیدھا ، سچا، ابدی ، دائمی اور عالمگیر پیغام ہی اب دنیا میں چلے گا۔ دنیا اسلام کے علاوہ تمام نظاموں کی ناکامی کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کرچکی ہے۔ روشن خیالی اپنی خیالی روشنیوں کے ذریعہ دنیا میں روشنی پھیلانے میں ناکام ہوچکی ہے۔
اسلام وہ عظیم دین ہے جو توحید خالص کا درس دیتا ہے ، جو نبی کو اللہ کا بہترین بندہ تو ثابت کرتا ہے لیکن خدا نہیں بناتا ، جو نبی کو معراج جیسا معجزہ اور قرآن جیسی سچائی عطا کرتا ہے ، جو دنیا کو انسانیت کا درس دیتا ہے ، جس کے پیروکار روپے پیسے اور خاندانی بڑائی کی وجہ سے نہیں ، بلکہ تقویٰ اور طہارت کی وجہ سے مقرب بارگاہ خداوندی ٹھہرتے ہیں ، جس میں قادیانی جماعت کی طرح مرزا قادیانی کی آل اولاد اور قادیانی جماعت کے فنڈ میں چندہ دینے کے بجائے معاشرے کے غریب اور نادار افراد کو اپنی زکوٰۃ و صدقات دینے کا حکم دیا جاتا ہے ، جس میں جنسی انارکی کی قادیانی روش کے بجائے ضبط نفس اور پاکیزگی اختیار کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ خود ہی سوچئے کہ ایسا بہترین مذہب جو خود اللہ کا پسندیدہ دین ہے ، اگر یہ دین غالب نہیں رہے گا تو کیا قادیان کے لوگوں کے ٹکڑوں پر پلنے والے جنسی مریض مرزا غلام احمد قادیانی کا دین غالب آئے گا؟
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی مذہب کی عمارت ڈھے چکی ہے اور اب صرف اس کا ملبہ اٹھایا جانا باقی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، علمائے کرام اور تمام مسلمانوں کے تعاون سے اس ملبہ کو اٹھانے کی جدوجہد کر رہی ہے تا کہ جلد سے جلد اس ملبہ کو ٹھکانے لگایا جا سکے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں سے یہ درخواست ہے کہ وہ اس عظیم جدوجہد میں دامے درمے قدمے سخنے شریک ہو کر انسانی معاشرے کی تطہیر کا سامان کریں۔ اس موقع پر ہم مکرر درخواست کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ذاتی محافظت کے عظیم کام میں ہر مسلمان کو شریک ہو کر شفاعت نبوی کا حقدار بننا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم کام میں شرکت اور اس سعادت عظمیٰ میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۸/ اگست ۲۰۰۵ء ص ۵،۴)
چناب نگر کے قادیانی کا قبولِ اسلام
محمد آصف قریشی کی والدہ فضل بیگم نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے مبلغ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ اس نومسلمہ کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۵ء ص ۵۵)
بنگلہ دیش میں قادیانیت سے توبہ اور قبولِ اسلام
میں محمد مفیض الرحمٰن ولد عبد المالک (ساکن لکھی پور ڈاکخانہ گولک پوت یونین تھانہ جمال گنج، سنام گنج بنگلہ دیش) بغیر کسی دباؤ، جبر اور لالچ کے قادیانیت سے توبہ کرتا ہوں اور اسلام قبول کرتا ہوں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ حضرت محمد عربی ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد ظل و بروزی اور کسی قسم کا نبی بننے کا کوئی امکان نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین و مقلدین سب کے سب کافر مرتد اور زندیق ہیں۔ اللہ میری توبہ قبول فرمائے اور پچھلی زندگی کے تمام گناہ معاف فرمائے اور تمام قادیانیوں کو اسلام کی طرف رجوع کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۸/ اکتوبر ۲۰۰۵ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
جھنڈو میں قادیانی خاتون کا قبولِ اسلام
نفیس نگر تعلقہ جھنڈو کی رہائشی ساجدہ بنت بخش نے عالمی مجلس کے رہنما جناب قاری عبدالستار آرائیں کے ہاتھ پر قادیانیت پر لعنت بھیجتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں استقامت نصیب فرمائے۔ آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۵ء ص ۵۴)
امریکہ میں قادیانی کا قبولِ اسلام
ہوسٹن امریکہ میں ریڈیو اسٹیشن صراطِ مستقیم کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب عاطف صاحب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ ملتان میں فون پر اطلاع دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ یاسر احمد نامی قادیانی نوجوان نے صراطِ مستقیم پروگرام سن کر قادیانیت ترک کر کے ریڈیو پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ یہ ریڈیو اسٹیشن مسلمانوں نے قائم کیا ہے۔ اس پر قادیانیت کے خلاف اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر مبنی پروگرام ہوتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے علمائے کرام کے پروگرام اس نے سنے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کے بھی سوالات و جوابات اور خطبات کی گفتگو بھی ریڈیو سے سنی اور پھر مولانا حافظ محمد اقبال رئیس مدرسہ اسلامیہ ہوسٹن کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کا ریڈیو پر اعلان کیا۔ نومسلم یاسر صاحب کراچی سے تعلق رکھتے ہیں۔ تعلیم کے لئے امریکہ گئے ہوئے ہیں۔ اس کے قادیانی والدین کراچی میں رہتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا عزیز
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الرحمٰن جالندھری نے صراط مستقیم ریڈیو کے ذمہ داران کی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کیا اور نو مسلم کے لئے استقامت کی دعا اور دنیا بھر میں عقیدہ ختم نبوت کے لئے کام کرنے والے افراد واداروں کی کاوشوں میں برکت کی دعا فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۵ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس گنگا پور ضلع شیخوپورہ
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم / مارچ کو گنگا پور میں ختم نبوت کانفرنس حضرت مولانا پیر بدر الدجیٰ کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب محمد متین خالد نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے حضرت مولانا غلام حسین کلیانوی، حضرت مولانا سید ہدایت رسول شاہ، حضرت مولانا محمد زمان، جناب محمد عرفان محمود برق سابق قادیانی، جناب محمد امجد بٹ، حضرت مولانا مفتی محمد امین اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس حاضری کے لحاظ سے الحمد للہ! بہت ہی کامیاب رہی۔ تمام مقررین نے فتنہ قادیانیت کے دجل وفریب سے عوام کو آگاہ کیا۔ کانفرنس رات کے اڑھائی بجے حضرت مولانا پیر بدر الدجیٰ صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۵ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم
یکم / اپریل ۲۰۰۵ء جمعہ کے روز ٹنڈوآدم کی جامع مسجد میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی، شیخ الحدیث مولانا محمد مراد سکھر، مولانا سعید احمد جلال پوری، شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی، مجاہد اسلام جناب ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، حضرت مولانا عبدالعزیز پیر شریف، حضرت سید سراج احمد شاہ امروٹی، سید رفیق احمد شاہ امروٹی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن، علامہ محمد حسین، علامہ قیصر حسین چغتائی، جناب محمد صدیق بھٹی، جناب عبدالعزیز غوری اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس جمعہ دس بجے دن سے شروع ہو کر اگلی رات گئے تک بڑی گرم جوشی اور ولولہ سے جاری رہی۔
ختم نبوت کانفرنس لیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۰ / اپریل ۲۰۰۵ء کو جامع مسجد کرنال والی لیہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مقامی امیر حضرت مولانا محمد حسین نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی جناب شاہ غازی خان کھتران تھے۔ کانفرنس کی کل دو نشستیں منعقد ہوئیں۔ پہلی نشست بعد نماز ظہر اور دوسری نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا سید عطاء المومن بخاری نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد ہے۔ اس پر غیر متزلزل یقین ہی ایمان کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلہ کو فی الفور عملی جامہ پہناتے ہوئے بغیر خانہ مذہب کے جاری کردہ پاسپورٹ منسوخ کئے جائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض اولین ہے اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طے شدہ مسائل کو متنازعہ بنا کر ملک میں خود افراتفری پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا وزارت مذہبی امور کو ختم نبوت کے حلف نامہ کو نرم کرنے کا حکم پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ جس سے کسی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لیہ کے مبلغ حضرت مولانا عبدالستار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گستاخ رسول ایکٹ کے طریقہ کار میں کی گئی ترمیم واپس لی جائے۔ بصورت دیگر گستاخ رسول کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ جناب صفدر معاویہ، جناب ملک خدا بخش تونسوی اور جناب خواجہ عبدالرحمن سرگودھوی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب قاری عبدالشکور گرواں نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۵ء ص ۲۸، ۲۹)
ختم نبوت کانفرنس میاں چنوں
میاں چنوں (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل میاں چنوں کے زیر اہتمام ۲۷؍ اپریل ۲۰۰۵ء کو مدرسہ خالد بن ولید میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت حضرت مولانا اللہ بخش فانی نے کی۔ کانفرنس سے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالخالق رحمانی، مولانا عبدالستار گورمانی اور مفتی عبدالعزیز نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کسی اندرونی و بیرونی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کانفرنس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم واپس لی جائے اور چناب نگر سمیت پورے ملک میں امتناع قادیانیت آرڈیننس پر مکمل طور پر عمل درآمد کرایا جائے۔ اس موقع پر علاقہ کی مشہور علمی شخصیت علامہ عبدالحق بھی موجود تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍ جون ۲۰۰۵ء ص ۲۳)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
چیچہ وطنی (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۸؍ اپریل ۲۰۰۵ء کو جامع مسجد بلاک نمبر ۱۲ میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی امیر مولانا محمد ارشاد نے کی۔ کانفرنس سے قاضی حمید اللہ ایم۔این۔اے گوجرانوالہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا سید امیر حسین گیلانی، مولانا اللہ وسایا، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مفتی محمد عثمان اور قاری زاہد اقبال سمیت متعدد علمائے کرام نے خطاب کیا۔ مقررین نے حکومت کی قادیانیت نواز پالیسیوں پر زبردست تنقید کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍ جون ۲۰۰۵ء ص ۲۳)
ختم نبوت کانفرنس عارف والا
عارف والا (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۰؍ اپریل ۲۰۰۵ء کو مدرسہ عربیہ فاروقیہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت حضرت مولانا عبدالوہاب نے کی کانفرنس سے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد طارق ندیم اور ناصر نواز شیرازی نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ عصر حاضر میں ناموس رسالت کا دفاع اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرنا سب سے اہم فریضہ ہے۔ قادیانی ملک وملت کے غدار ہیں۔ کلیدی عہدوں پر براجمان قادیانی ملکی دولت سے قادیانیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ حکومت فی الفور کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو برطرف کرے۔ پاسپورٹ کی طرح شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ درج کرے اور قادیانی اوقاف کو اپنی تحویل میں لے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍ جون ۲۰۰۵ء ص ۲۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوالہ یار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوالہ یار کے زیر اہتمام مئی ۲۰۰۵ء میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت علامہ احمد میاں حمادی، حضرت مولانا قاری کامران احمد، حضرت مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب فرمایا۔ ہدیہ نعت جناب سائیں شہباز احمد نے پیش کیا۔ کانفرنس کی نگرانی حضرت مولانا مفتی عرفان احمد، حضرت مولانا راشد محبوب، حضرت مولانا محمد خالد نثار نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون، جولائی ۲۰۰۵ء ص ۴۸)
مرکزی ناظم اعلیٰ کا دورہ سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مئی میں سندھ کے دورے پر حیدرآباد تشریف لائے۔ کچھ دیر دفتر حیدرآباد میں ٹھہرنے کے بعد ٹنڈو غلام علی تشریف لے گئے۔ جہاں پر حضرت ناظم اعلیٰ صاحب نے بعد نماز ظہر مدرسہ تعلیم القرآن مسجد مبارک میں خطاب فرمایا۔ مولانا علامہ احمد میاں حمادی، مولانا محمد نذر، حضرت مولانا محمد علی صدیقی اور جناب محمد حنیف مغل ہمراہ تھے۔ بعد ازاں حضرت ناظم اعلیٰ صاحب کنری تشریف لے گئے۔ جہاں ۵؍ مئی کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ کانفرنس سے دیگر مقررین حضرت مولانا عبدالغفور قاسمی، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا قاری کامران احمد، حضرت مولانا محمد نذر، حضرت مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا خان محمد کندھانی نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون، جولائی ۲۰۰۵ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے زیر اہتمام ۷؍ مئی ۲۰۰۵ء کو بعد نماز عشاء جامع مسجد ابراہیم خلیل اللہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد راشد مدنی، حضرت مولانا سیف الرحمن ارائیں کا بیان ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا محمد علی صدیقی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کی نگرانی حضرت مولانا عبدالسلام قریشی، حضرت مولانا جمیل الرحمن نقشبندی نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون، جولائی ۲۰۰۵ء ص ۴۸، ۴۹)
حضرت مولانا اللہ وسایا کا تبلیغی دورہ اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا ۲۱ تا ۲۴؍ مئی ۲۰۰۵ء کو چار روزہ تبلیغی دورہ پر اسلام آباد تشریف لائے۔ جہاں انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے سابق رکن حضرت مولانا محمد رمضان علوی (جو تازیست مرکزی مجلس کے رکن رہے) کی مسجد واقع گلشن آباد اور ایک اور کانفرنس سے راولپنڈی میں خطاب کیا۔ نیز متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام ایمبیسی ہوٹل اسلام آباد میں منعقدہ حرمت قرآن کنونشن سے خطاب کیا۔ نیز کوٹلی اور آزاد کشمیر کی جامع مسجد عامر ابن عبیدہ میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس اور اگلے دن جامعہ صدیقیہ للبنات میں طالبات اور خواتین سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون، جولائی ۲۰۰۵ء ص ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رد قادیانیت کورس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۸ تا ۳۰؍مئی ۲۰۰۵ء کو جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن میں رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ جس کا دورانیہ عصر کی نماز سے عشاء تک تھا۔ پہلے روز کورس کا آغاز جامعہ قاسمیہ رحمن پورہ کے مہتمم مولانا حافظ شاہ محمد صاحب کی دعا سے ہوا۔ پہلی نشست سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور دوسری نشست سے جناب محمد متین خالد نے خطاب کیا۔ جب کہ دوسرے روز پہلی نشست سے مولانا اللہ وسایا اور دوسری نشست سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ تیسرے روز کی پہلی نشست سے مولانا اللہ وسایا اور دوسری نشست سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کورس کے تمام شرکاء کو مجلس کے لٹریچر کے پیکٹ تقسیم کئے گئے۔ کورس کے تمام تر انتظامات کی نگرانی مولانا عزیز الرحمن ثانی مبلغ لاہور نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون، جولائی ۲۰۰۵ء ص ۴۹)
سرائے نورنگ میں ختم نبوت کانفرنس
۱۶؍جولائی ۲۰۰۵ء کو جامع مسجد جمعہ خان میں ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں شیخ الحدیث مولانا امان اللہ ایم۔این۔اے، مولانا نور الحق نور، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، جناب حاجی نظام اللہ اور محترم چاچا عنایت نے پشاور سے شرکت کی اور خطاب کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی خصوصی طور پر ختم نبوت کانفرنس سرائے نورنگ میں شریک ہوئے۔ قادیانی عقائد ونظریات پر موصوف کا مفصل بیان ہوا۔ موصوف نے قادیانیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دیا اور فرمایا کہ نہ صرف خرید وفروخت بلکہ قادیانیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور غمی خوشی میں شریک کرنا اسلامی روایات کے منافی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۵ء ص ۴۸)
آزاد کشمیر میں تین روزہ تاجدار ختم نبوت کانفرنسیں
پہلی کانفرنس ۱۸؍جولائی ۲۰۰۵ء بروز سوموار کو جامع مسجد چناری میں صبح دس بجے منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر کے امیر حضرت مولانا محمد الیاس خان نے کی۔ اس کانفرنس سے جناب قاری عبد المالک مظفر آبادی، حضرت مولانا حسین احمد چناری، مجلس کے حلقہ آزاد کشمیر کے مبلغ حضرت مولانا مفتی خالد میر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ جب کہ جناب قاری شاکر صاحب نے ہدیہ نعت پیش کیا۔
دوسری کانفرنس ۱۹؍جولائی ۲۰۰۵ء بروز منگل کو جامع مسجد مدنی وادی نیلم میں بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس حضرت مولانا مفتی خطیب الرحمن کی زیر صدارت ہوئی۔ حضرت مولانا قاضی محمود الحسن اشرف، حضرت مولانا قاری عبد المالک، حضرت مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا مفتی خالد میر اور حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
تیسری کانفرنس ۲۰؍جولائی ۲۰۰۵ء بروز بدھ کو جامع مسجد شاہنہاڑا مظفر آباد میں بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ کشمیر کا دورہ کرنے والے علمائے کرام کے وفد کے رفقاء حضرت مولانا محمد الیاس، جناب قاری عبد المالک خان، حضرت مولانا مفتی خلیل الرحمن انور، جناب قاری محمود الحسن اشرف، حضرت مفتی خالد میر اور حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی شامل تھے۔
تینوں پروگرام نہایت کامیاب رہے۔ عوام نے کثیر تعداد میں ان پروگراموں میں شرکت کی۔ ان کانفرنسوں کے انعقاد و انتظامات میں سواد اعظم آزاد کشمیر نے بھر پور تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۵ء ص ۴۸، ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹنڈوآدم میں سہ ماہی ختم نبوت کنونشن
۲۲ جولائی ۲۰۰۵ء بروز جمعۃ المبارک کو حسب دستور سہ ماہی ختم نبوت کنونشن مرکزی جامع مسجد ٹنڈوآدم میں منعقد ہوا۔ یہ سہ ماہی کنونشن حضرت علامہ احمد میاں حمادی کی رہنمائی میں منعقد ہوتا ہے۔ جس میں شہر و دیگر گردونواح کے خطباء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام و کارکنان بہت ذوق وشوق سے شریک ہوتے ہیں۔ حالیہ کنونشن میں بھی حاضری قابل رشک تھی۔ صوبہ سندھ میں قادیانی ایک منظم سازش کے تحت مسلم نوجوانوں کو اسلام کی طرف سے برگشتہ کر رہے ہیں۔ کھلانے پلانے، دوستی اور یارانہ کا فریب دے کر یا مالی مفادات کا لالچ دے کر قادیانیت کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ان پریشان کن حالات میں مشاورت کے لئے نوجوان جمع ہوتے ہیں۔ اس کنونشن سے حضرت مولانا علامہ احمد میاں حمادی نے صدارتی خطاب فرمایا۔ انہوں نے احادیث کے حوالے سے فرمایا کہ دور فتن میں دین کا کام کرنا اسلام کی حفاظت کرنا، حضور ﷺ کے ناموس کا تحفظ کرنا، آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن جدوجہد کرنا، یہ مقبول ترین عمل ہے اور اس پر اجر عظیم کا منجانب اللہ وعدہ ہے۔ ساتھی حوصلے بلند رکھیں اور اسلام کے غازی اور مجاہد بن کر حضور ﷺ کی غلامی کا حق ادا کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۵ء ص ۲۸ تا ۵۰)
بیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کا کامیاب انعقاد
الحمد للہ! بیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس توقعات سے زیادہ کامیاب رہی۔ ۲۴؍ جولائی ۲۰۰۵ء کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں دنیا بھر سے علمائے کرام، اسکالرز، ممبران پارلیمنٹ، کونسلرز اور مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد کی صدارت میں ہوا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری محمد حنیف اور نعت رسول مقبول پیش کرنے کی سعادت سید سلمان گیلانی اور حاجی محمد صادق (گلاسکو) کو حاصل ہوئی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے امت مسلمہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جس نے بے انتہا مخالفت کے باوجود اپنی ہمہ گیری ثابت کر دی ہے۔ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جو اسے دیگر ادیان سے ممتاز کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات اور دوسو احادیث سے یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت حضور ﷺ کو صرف آخری نبی ماننے کا نام نہیں بلکہ آپ ﷺ کے بعد کسی دوسری شخصیت کو آپ ﷺ کا دوسرا جنم اور دوسرا روپ ماننے سے انکار بھی عقیدہ ختم نبوت ہے۔ اسلام کی عالم گیریت کا راز عقیدہ ختم نبوت میں مضمر ہے کیونکہ اس عقیدہ کی وجہ سے حضور ﷺ تمام عالموں کے لئے نبی قرار پائے۔ اسلام اور عقیدہ ختم نبوت کے بغیر اعمال کی کوئی حیثیت نہیں۔ قادیانی جماعت حضور ﷺ کو آخری نبی مان کر دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے اور حضور ﷺ سے لے کر آج تک امت کے متفقہ اسلامی عقائد کو قبول کرلے۔ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر ہے۔ مرزا غلام احمد نے حضور ﷺ کے منصب نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ قادیانیوں کے مذہبی پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی نے شروع میں خود اپنی تحریروں میں حضور ﷺ کو آخری نبی قرار دیا اور آپ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو کافر قرار دیا جب کہ بعد میں خود نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اس لئے قادیانی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج ہوچکی ہے۔ ہم قادیانیوں کے علاوہ دیگر غیر مسلموں کے خلاف جلسے جلوس اس لئے منعقد نہیں کرتے کہ دیگر غیر مسلم اپنے عقائد ونظریات کو اسلام قرار نہیں دیتے جب کہ قادیانی اپنے باطل عقائد ونظریات کو اسلام باور کرا کر گویا زم زم کی بوتل میں شراب پیش
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرتے ہیں۔ امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی، ان کی توہین کی جس کی وجہ سے قادیانی امت مسلمہ سے جدا قرار پائے۔ قادیانیوں نے مغربی دنیا کے سامنے اسلام کے عقائد ونظریات کو مسخ کر کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور جہاد کے حوالے سے غلط اور بے بنیاد نظریات کو فروغ دیا ہے۔ اسلام کسی مظلوم پر ظلم یا اس کے قتل عام کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔ قادیانی اسلام کو بدنام کرنے سے باز آجائیں اور یورپی ممالک کو مسلمانوں کے بارے میں گمراہ کرنے سے یکسر اجتناب کریں۔ مغربی ممالک قادیانیوں کی اسلام دشمن پالیسی کا ادراک کرتے ہوئے ان کی سرپرستی کرنا اور انہیں سیاسی پناہ فراہم کرنا ترک دیں۔ قادیانی جماعت ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ چھوڑ کر عقیدہ ختم نبوت کو مان لے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوجائے۔ اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دینا قطعاً بے بنیاد ہے۔ قادیانیوں کے مذموم پروپیگنڈے کے زیر اثر اسلام، مسلمانوں اور مسلم ممالک کے خلاف منفی رپورٹیں شائع کی جارہی ہیں۔ اسلام دشمن قوتیں خود دہشت گردی کروا کر اس کا الزام اسلام اور مسلمانوں پر تھوپ رہی ہیں۔ جہاد اور دہشت گردی کے فرق کو سمجھنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ مسلمانوں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات یکطرفہ اور بے بنیاد ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے یورپ میں مسلمانوں کے ایمان کے تحفظ کے لئے بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔ اسلام کے پیغام کو سنجیدگی سے سمجھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یورپ خود کو اسلام کے مطالعہ کے لئے تیار کرے۔ اسلام اور قادیانیت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ قادیانی عقائد کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کو بعینہ محمد رسول اللہ سمجھنے پر رکھی گئی ہے۔ مرزا غلام احمد نے ۱۹۰۱ء میں اپنی کتاب ’ایک غلطی کا ازالہ‘ میں اپنے آپ کو محمد رسول اللہ قرار دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے عیسیٰ مسیح اور امام مہدی ہونے کے دعوے غلط ثابت ہوئے۔
ختم نبوت کانفرنس کے سالانہ انعقاد کی وجہ سے جرمنی، بلجیم اور دیگر یورپی ممالک میں بڑی تعداد میں قادیانی مسلمان ہوئے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ مسلمانوں کی جان وروح کی مانند ہے جب تک اس کا تحفظ ہوتا رہے گا مسلمانوں کے ایمان میں حیات رہے گی۔ مسلمانوں کو قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ آج امت کے اوپر جو مشکل حالات ہیں یہ سب اسی قادیانی فتنہ کی سازشوں کا نتیجہ ہیں۔ اس کے سدباب کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ حکومت برطانیہ کو چاہیے کہ وہ برطانوی مسلمانوں کو پالیسی سازی میں نمائندگی دے تا کہ ان کا نقطہ نظر بھی سامنے آسکے۔ قادیانی زبردستی مسلمانوں کی سیٹوں پر قابض ہیں۔ بلاشبہ قادیانی نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی وہ مسلمانوں کے نمائندے ہیں۔ ہمیں قادیانی فتنہ سے امت کو اور اپنی نسلوں کو بچانا چاہئے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خود اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں اور انہیں صحیح اور غلط کی پہچان بتائیں۔ لندن میں ہونے والے بم دھماکے بلاشبہ دہشت گردوں کی کارروائی ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔ اس کی آڑ میں مسلمانوں کو متہم کرنا، انہیں ہراساں کرنا یا ان کو بدنام کرنا کسی طرح جائز نہیں بلکہ بدترین زیادتی ہے۔ لہٰذا بلا تحقیق مسلمانوں پر اس کا الزام عائد نہ کیا جائے۔ حج وعمرہ کے فارموں میں عقیدہ ختم نبوت کے اقرار پر مشتمل حلف نامہ داخل کیا جائے تا کہ دنیا کے کسی کونے سے کوئی قادیانی چور دروازے اور دھوکہ دہی کے ذریعہ حرمین شریفین میں داخل ہو کر وہاں کا تقدس پامال نہ کر سکے۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام سے عقیدہ ختم نبوت حق الیقین سے ثابت ہوگا۔ دجال آئے گا مگر اس کے قاتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ ڈنمارک سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں کافی قادیانی آباد ہیں۔ اس سے قبل مسلمانوں کو اس فتنہ کی سنگینی کا علم نہ تھا یہاں تک کہ مسلمان قادیانیوں کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے چلے جاتے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور مولانا منظور احمد الحسینی کی کوششوں سے آج ڈنمارک ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے لوگ اس فتنہ سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مسلمانوں کو قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ ہم نے اپنے نبی کا تعارف کرنا چھوڑ دیا ہے ورنہ کسی بد بخت کو دعویٰ نبوت کرنے کی جرات نہ ہوتی۔ کس قدر بد نصیبی ہے کہ لوگ نعوذ باللہ انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں اور ہم برداشت کر جاتے ہیں۔ امام مالک سے کسی نے انبیاء کو گالی دینے والے کی سزا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ جس امت کے نبی کو گالی دی جائے اس کی زندگی اور حیات کا کیا فائدہ؟ ہم حکومت برطانیہ سے گزارش کریں گے کہ جو لوگ اسلام اور ملک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں حکومت برطانیہ ان کا سختی سے نوٹس لے کیونکہ دنیا بھر کے علماء یہاں محبت پھیلانے آتے ہیں۔ مگر یہ سازشی عناصر سازشیں کرتے ہیں اور نفرتیں پھیلاتے ہیں۔ ایمان وعقیدہ پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے باہمی اعتماد اور اتحاد واتباع کی ضرورت ہے۔ بڑوں کو چھوٹوں کی سر پرستی اور چھوٹوں کو بڑوں کی اتباع کرنا چاہئے۔ نبی سچے اور معصوم ہوتے ہیں، مگر مرزاغلام احمد قادیانی ایسا کذاب شخص تھا کہ اس کے کرتوتوں کو بیان کرتے ہوئے شریف آدمی کو گھن آتی ہے۔ مرزائیت کا شجرہ خبیثہ ہندوستان میں اگا مگر اسے استعمار نے بویا اور اگایا۔ وہ وقت آنے والا ہے کہ آپ سنیں گے کہ سعودی حکومت حج وعمرہ کے لئے جانے والوں کے عقیدہ ختم نبوت پرمشتمل حلف نامہ جاری کرے گی جسے پر کر کے ہی حرمین شریفین جایا جاسکے گا۔ اسی طرح دنیا بھر سے کوئی قادیانی حرمین شریفین کے تقدس کو پامال نہیں کر سکے گا۔ پاکستانی پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکالا گیا، مگر الحمدللہ! مسلمانوں کی قربانیوں کی بدولت بحال ہوگیا۔
ختم نبوت کانفرنس کی برکت ہے کہ آج مسلمانان یورپ فتنہ قادیانیت سے آگاہ ہیں۔ برطانیہ بھر کے علماء و خطیب حضرات سے درخواست ہے کہ دو تین ماہ بعد ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور تردید قادیانیت کے موضوع پر خطاب کرنے کے لئے وقف کریں۔ برطانوی ممبر پارلیمنٹ خالد محمود نے کہا کہ برطانیہ میں پاس شدہ مذہبی منافرت کا بل مسلمانوں کے خلاف نہیں، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر خدا نخواستہ ایسا کوئی معاملہ ہوا تو میں مسلمانوں کی طرف سے بھرپور آواز اٹھاؤں گا۔ اس بل کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان اس بل کے پاس ہونے کے باوجود قادیانیوں اور دیگر غلط عقائد رکھنے والوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھاسکیں گے۔ کانفرنس میں جو قراردادیں منظور کی گئیں، ان میں کہا گیا کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو دہشت گردی اور تشدد کی نہیں بلکہ صلح صفائی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام اور مسلمان کسی کی جان ومال سے کھیلنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتے۔ اس لئے جو لوگ ناحق ظلم و تشدد اور قتل و غارت گری کے مرتکب ہوں اسلام نے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اس تناظر میں ہم اس بھرپور اور نمائندہ اجتماع کے ذریعہ اس کا اظہار اور اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ جن لوگوں نے لندن بم دھماکوں کی یہ بدترین کارروائی کی ہے وہ لائق نفرت ہیں۔ ہم اس فعل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ بلاشبہ ان کارروائیوں کے مرتکبین کو سخت سزا دی جائے مگر اس کی آڑ میں مسلمانوں کو متہم کرنا، انہیں ہراساں کرنا یا ان کو بدنام کرنا کسی طرح جائز نہیں بلکہ بدترین زیادتی ہے۔ لہٰذا بلا تحقیق مسلمانوں پر اس کا الزام عائد نہ کیا جائے۔ ہم اس اجتماع کی وساطت سے رابطہ عالم اسلامی سے عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ اپنے آئندہ اجلاس میں سعودی حکومت کو پابند کرے کہ وہ حج و عمرہ کے فارموں میں عقیدہ ختم نبوت کے اقرار پر مشتمل حلف نامہ داخل کروائے تاکہ دنیا کے کسی کونے سے کوئی قادیانی چور دروازے اور دھوکہ دہی کے ذریعہ حرمین شریفین میں داخل ہو کر وہاں کا تقدس پامال نہ کر سکے۔ امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم العالیہ کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۲۳ اگست ۲۰۰۵ء ص۴، ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے زیراہتمام ۱۴؍ اگست مسجد الصادق بہاول پور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد امجد خان، مولانا مفتی عطاء الرحمن، مولانا صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی کے علاوہ کئی ایک حضرات نے خطاب کیا۔ الحمد للہ! کانفرنس ہر لحاظ سے نہایت کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۵ء ص ۵۲)
پنوعاقل میں ایک روزہ تربیتی پروگرام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کے زیراہتمام تربیتی پروگرام منعقد ہوا جس سے مولانا محمد نذر، مولانا محمد حسین ناصر، شیخ الحدیث مولانا عبد العزیز کورائی، مولانا محمد عبد القادر چاچڑ، مولانا جمیل احمد، مولانا خالد الحسینی نے خطاب فرمایا۔ پروگرام کی صدارت جناب قاری عبد التواب الحسینی نے کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے بغیر سب کچھ نامکمل ہے۔ فتنہ قادیانیت کے تعاقب کے لئے ہر وقت جدوجہد میں مصروف رہنا ہمارے ایمان اور غیرت کا تقاضا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۵ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنڈیارو کے زیراہتمام ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس مولانا مفتی محمد ادریس کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا پیر افضل اللہ ہالیجوی، مولانا خان محمد کندھانی اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۵ء ص ۵۲)
بارھواں سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی حضرات نے رد قادیانیت اور عیسائیت کورس کی داغ بیل ڈالی۔ رد قادیانیت و عیسائیت کورس کچھ عرصہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں ہوتا رہا۔ اس کے بعد اسے چناب نگر (سابقہ ربوہ) منتقل کر دیا گیا۔ اب الحمد للہ! بارہ سال سے رد قادیانیت کورس مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہو رہا ہے۔ حسب روایت اس سال ۱۰ تا ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۵ء کو منعقد ہوا۔ کورس میں مدارس کے فارغ التحصیل علمائے کرام، اسکول، کالجز، کے طلباء شرکت کرتے ہیں۔ ہر سال طلباء کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ علوم نبویہ سے تعلق رکھنے والے تشنگان علم جوق در جوق اپنے مرکز میں آتے ہیں اور رد قادیانیت پر بریفنگ حاصل کرتے ہیں۔ اس سال ۲۰۰۵ء کے شرکائے کورس کی فہرست حسب ذیل ہے۔
نمبر شمار نام مقام نمبر شمار نام مقام ۱ محمد یعقوب گھوٹکی ۲ فیاض احمد گھوٹکی ۳ عبد الرحیم ہنگو ۴ عبید الرحمن پشاور ۵ مبشر احمد بھلوال ۶ محمد رفیق بھکر ۷ اقبال نواز کرک ۸ محمد اسلم معاویہ بھکر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹ ولی الرحمٰن چارسدہ ۱۰ عظمت اللہ تونسہ ۱۱ مجاہد نذیر پسرور ۱۲ رضوان بیگ پسرور ۱۳ محمود اختر منچن آباد ۱۴ محمد اشرف شکر گڑھ ۱۵ شاہد مجید جھنگ ۱۶ حسین حکیم ڈگر ۱۷ رفیق احمد شور کوٹ ۱۸ محمد صدیق ٹنڈو محمد خان ۱۹ محمد ساجد بہاول نگر ۲۰ سمیع اللہ پشاور ۲۱ صبیح الدین پشاور ۲۲ محمد تنویر فیصل آباد ۲۳ طارق محمود فیصل آباد ۲۴ انیس احمد سرگودھا ۲۵ محمد مراد کبیر والا ۲۶ فضل الرحمٰن سلانوالی ۲۷ احمد علی سرگودھا ۲۸ محمد عابد مظفر گڑھ ۲۹ محمد حبیب مظفر گڑھ ۳۰ محمد ساجد خان پتوکی ۳۱ محمد عمران بنوں ۳۲ محمد بلال کبیر والا ۳۳ محمد آزاد کوئٹہ ۳۴ عنایت اللہ جتوئی ۳۵ محمد ابوبکر سرگودھا ۳۶ محمد عبداللہ مظفر گڑھ ۳۷ محمد شفقت ایبٹ آباد ۳۸ محمد فہد وزیر آباد ۳۹ محمد حسین ننکانہ ۴۰ محمد عبداللہ لاہور ۴۱ محمد نعمان لاہور ۴۲ محمد یامین چیچہ وطنی ۴۳ محمد علیم ٹوبہ ٹیک سنگھ ۴۴ محمد عثمان ٹوبہ ٹیک سنگھ ۴۵ نور اللہ حماد کراچی ۴۶ عبدالغفار کراچی ۴۷ عبدالخالق مظفر گڑھ ۴۸ محمد عابد لاہور ۴۹ عرفان علی چنیوٹ ۵۰ محمد یوسف مظفر گڑھ ۵۱ محمد طاہر سیالکوٹ ۵۲ محمد طیب لکی مروت ۵۳ شکیل احمد بھکر ۵۴ عبدالحمید شکر گڑھ ۵۵ طارق محمود پنڈ دادنخان ۵۶ محمد سفیان سرگودھا ۵۷ اظہر اقبال ننکانہ ۵۸ محمد اعظم جان چارسدہ ۵۹ نوشیرواں کوہستان ۶۰ صالح محمد پشاور ۶۱ عبدالقادر بھکر ۶۲ محمد ابوبکر بھکر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶۳ کلیم اللہ بھکر ۶۴ محمد ذوالارشان بنیر ۶۵ عبدالرحمٰن ہارون آباد ۶۶ محمد صادق ہارون آباد ۶۷ غلام مصطفیٰ ہارون آباد ۶۸ محمد ابرار چیچہ وطنی ۶۹ محمد زبیر میانوالی ۷۰ عزیز الرحمٰن ڈی آئی خان ۷۱ محمد صدیق ڈی جی خان ۷۲ احمد شبیر چنیوٹ ۷۳ عبدالحلیم ڈی جی خان ۷۴ محمد احسن رضا راجن پور ۷۵ محمد بلال ڈی جی خان ۷۶ صفدر اقبال ڈی جی خان ۷۷ حبیب الرحمٰن ڈی جی خان ۷۸ محمد اشفاق دریا خان ۷۹ عتیق الرحمٰن کراچی ۸۰ محمد شریف نارووال ۸۱ اللہ یار خیر پور ٹامیوالی ۸۲ سرفراز احمد خیر پور ٹامیوالی ۸۳ جاوید اقبال کبیروالا ۸۴ محمد عدیل وزیر آباد ۸۵ فیاض احمد گوجرانوالہ ۸۶ محمد بلال جلالپور پیروالا ۸۷ محمد ابوبکر بہاول پور ۸۸ محمد ارشد لودھراں ۸۹ محمد سہیل بہاول پور ۹۰ محمد اعجاز بہاول پور ۹۱ محمد اسحق احمد پور شرقیہ ۹۲ محمد سلیم احمد پور شرقیہ ۹۳ محمد عمران بہاول پور ۹۴ محمد صفدر احمد پور شرقیہ ۹۵ محمد شاہد کروڑ لعل عیسن ۹۶ محمد ابوذر مظفر گڑھ ۹۷ عبدالشکور کروڑ لعل عیسن ۹۸ ظہور احمد دنیا پور ۹۹ تنویر عباس بھکر ۱۰۰ محمود حسین میانوالی ۱۰۱ آصف عزیز آزاد کشمیر ۱۰۲ منصور احمد کشمیر ۱۰۳ افتخار احمد جام پور ۱۰۴ محمد مصطفیٰ دریا خان ۱۰۵ محمد حبیب کوٹ رادھا کشن ۱۰۶ شکیل احمد کوٹ رادھا کشن ۱۰۷ محمد شریف چنیوٹ ۱۰۸ عبدالمجید تونسہ ۱۰۹ محمد یاسین کبیروالا ۱۱۰ محمد صادق ملتان ۱۱۱ منیر احمد پتوکی ۱۱۲ محمد ہاشم کوٹ رادھا کشن ۱۱۳ ریاست علی اوکاڑہ ۱۱۴ فیاض احمد ملتان ۱۱۵ یعقوب شاہ بھکر ۱۱۶ محمد احمد بورے والا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱۷ شفیق الرحمن مانسہرہ ۱۱۸ شفیق الرحمن مانسہرہ ۱۱۹ محمد سلیم اللہ قصور ۱۲۰ محمد سہیل چنیوٹ ۱۲۱ محمد عمران لاہور ۱۲۲ محمد طیب راولپنڈی ۱۲۳ محمد عمران لاہور ۱۲۴ محمد طاہر راولپنڈی ۱۲۵ عبدالخالق جتوئی ۱۲۶ شفیق احمد عارف والا ۱۲۷ محمد رضوان مانسہرہ ۱۲۸ اعجاز احمد مانسہرہ ۱۲۹ سعید عرفان ایبٹ آباد ۱۳۰ عامر حسین ساہیوال ۱۳۱ خالد عزیز لاہور ۱۳۲ محمد صدیق مظفرگڑھ ۱۳۳ محمد اسلم خیر پور ٹامیوالی ۱۳۴ محمد عابد خیر پور ٹامیوالی ۱۳۵ عبدالشکور چشتیاں ۱۳۶ محمد اسماعیل خیر پور ٹامیوالی ۱۳۷ محمد شاہد خیر پور ٹامیوالی ۱۳۸ عبدالحنان خیر پور ٹامیوالی ۱۳۹ عقیل عمر خیر پور ٹامیوالی ۱۴۰ حق نواز خیر پور ٹامیوالی ۱۴۱ محمد عمر فاروق خیر پور ٹامیوالی ۱۴۲ سعید الرحمن خیر پور ٹامیوالی ۱۴۳ محمد بلال خیر پور ٹامیوالی ۱۴۴ محمد عمیر خیر پور ٹامیوالی ۱۴۵ عبدالباسط خیر پور ٹامیوالی ۱۴۶ محمد طاہر ابراہیم خیر پور ٹامیوالی ۱۴۷ محمد رفیق خیر پور ٹامیوالی ۱۴۸ محمد عرفان ننکانہ ۱۴۹ رفاقت زبیر سرگودھا ۱۵۰ محمد یونس جلالپور پیروالا ۱۵۱ محمد زاہد علی پور ۱۵۲ غلام رسول علی پور ۱۵۳ صادق جمال علی پور ۱۵۴ محمد اعظم علی پور ۱۵۵ محمد طارق علی پور ۱۵۶ محمد اختر علی پور ۱۵۷ محمد ایوب علی پور ۱۵۸ محمد یعقوب علی پور ۱۵۹ کلیم اللہ علی پور ۱۶۰ محمد طارق علی پور ۱۶۱ خالد محمود علی پور ۱۶۲ محمد عرفان لطیف علی پور ۱۶۳ محمد ہاشم علی پور ۱۶۴ غلام یاسین جلالپور پیروالا ۱۶۵ عبدالجبار ترنڈہ محمد پناہ ۱۶۶ عبدالواحد ترنڈہ محمد پناہ ۱۶۷ محمد عثمان کمالیہ ۱۶۸ محمد شفیق بہاول نگر ۱۶۹ محمد طلحہ چنیوٹ ۱۷۰ عبداللہ ہاشمی رحیم یار خان ۱۷۱ خالد محمود علی پور ۱۷۲ شاہد ندیم چنیوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷۳ زاہد بشیر کہروڑ پکا ۱۷۴ محمد ندیم احمد پور شرقیہ ۱۷۵ محمد جاوید رحیم یار خان ۱۷۶ محمد ارشد کہروڑ پکا ۱۷۷ غلام یاسین میلسی ۱۷۸ عمر فاروق کہروڑ پکا ۱۷۹ عمار ظفر کہروڑ پکا ۱۸۰ محمد ارشد ندیم کبیر والا ۱۸۱ محمد حامد فیصل آباد ۱۸۲ محمد اشفاق حسین لاہور ۱۸۳ رشید احمد گوجرانوالہ ۱۸۴ محمد صفدر شیخوپورہ ۱۸۵ محمد طاہر لاہور ۱۸۶ محمد ابوبکر چکوال ۱۸۷ حافظ اللہ آزاد کشمیر ۱۸۸ محمد عمر احسن چکوال ۱۸۹ خادم حسین فیصل آباد ۱۹۰ افتخار احمد سرگودھا ۱۹۱ محمد عابد شجاع آباد ۱۹۲ محمد اسلم ڈسکہ ۱۹۳ حماد اللہ خیر پور میرس ۱۹۴ عبد اللطیف گمبٹ ۱۹۵ عبدالغنی گمبٹ ۱۹۶ عبدالجلیل گمبٹ ۱۹۷ عبد الماجد گمبٹ ۱۹۸ عبدالباسط گھوٹکی ۱۹۹ عبدالشکور خیر پور میرس ۲۰۰ خان محمد شکار پور ۲۰۱ مامون الرشید پنوعاقل ۲۰۲ جلیل احمد پنوعاقل ۲۰۳ الطاف احمد پنوعاقل ۲۰۴ عبدالمالک گھوٹکی ۲۰۵ حفیظ الرحمٰن پنوعاقل ۲۰۶ یحییٰ فاروق لاہور ۲۰۷ ابرار خان اٹک ۲۰۸ زاہد خان اٹک ۲۰۹ عبدالعلیم چترال ۲۱۰ اظہر حسین پنوعاقل ۲۱۱ منظور الحسن پنوعاقل ۲۱۲ عبداللہ شیخوپورہ ۲۱۳ اظہر حسین پنوعاقل ۲۱۴ محمد یحییٰ فیصل آباد ۲۱۵ منیب الرحمٰن فیصل آباد ۲۱۶ منظور احمد دنیا پور ۲۱۷ مقصود احمد لاہور ۲۱۸ محمد ارشد قصور ۲۱۹ محمد ہمایوں مانسہرہ ۲۲۰ امجد اسلام قصور ۲۲۱ غلام نبی قصور ۲۲۲ محمد اسماعیل قصور ۲۲۳ محمد ایاز گوجرانوالہ ۲۲۴ محمد صدیق جلالپور پیر والا ۲۲۵ فیصل مقبول چکوال ۲۲۶ فضل کریم گوجرانوالہ ۲۲۷ محمد عرفان گوجرانوالہ ۲۲۸ محمد شعیب گوجرانوالہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۲۹ عمر فاروق احمد پور شرقیہ ۲۳۰ عبدالغفور کراچی ۲۳۱ محمد اسحاق کراچی ۲۳۲ ضیاء الرحمن جھنگ ۲۳۳ رسول بخش شجاع آباد ۲۳۴ طاہر عباس چکوال ۲۳۵ محمد فاروق چکوال ۲۳۶ محمد طاہر عباس کوٹلی ۲۳۷ نور الدین جتوئی ۲۳۸ محمد بشیر جتوئی ۲۳۹ محمد عمران آزاد کشمیر ۲۴۰ فیض اللہ کوہاٹ ۲۴۱ محمد شعیب مظفر گڑھ ۲۴۲ احمد علی جھنگ ۲۴۳ فضل الرحمن کھاریاں ۲۴۴ محمد عمران مظفر گڑھ ۲۴۵ عبدالغفار کبیر والا ۲۴۶ ریاست علی بہاول نگر ۲۴۷ لقمان احمد نارووال ۲۴۸ محمد سلیمان نارووال ۲۴۹ محمد عابد سیالکوٹ ۲۵۰ ابو الحسن علی گوجرانوالہ ۲۵۱ محمد عاصم شہزاد سیالکوٹ ۲۵۲ محمد ثاقب حضرو ۲۵۳ عبدالرحیم ڈسکہ ۲۵۴ محمد عمیر مظفر گڑھ ۲۵۵ محمد عرفان اوکاڑہ ۲۵۶ محمد اختر قصور ۲۵۷ محمد خان تونسہ ۲۵۸ زاہد محمود راجن پور ۲۵۹ اللہ دتہ فانی بہاول نگر ۲۶۰ اعجاز احمد بہاول پور ۲۶۱ محمد عمران مظفر گڑھ ۲۶۲ عبداللطیف جتوئی ۲۶۳ مولانا نور محمد جتوئی ۲۶۴ عمر فاروق مانسہرہ ۲۶۵ ابو محمد بہاول پور ۲۶۶ عمران الحق رشیدی ساہیوال ۲۶۷ محمد اشفاق پسرور ۲۶۸ عبداللطیف کلور کوٹ ۲۶۹ حافظ سمیع اللہ گوجرانوالہ ۲۷۰ تنویر علی کہروڑ پکا ۲۷۱ عبید الرحمن ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۷۲ محمد کاشف اختر سرگودھا ۲۷۳ محمد شبیر عارف والا
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۵ء ص ۴۸ تا ۵۶)
۲۴ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
چوبیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۹، ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۵ء بروز جمعرات، جمعہ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز قائد تحریک ختم نبوت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعا سے ہوا۔ تلاوت قاری محمد اسحاق صاحب لودھراں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شریک رد قادیانیت کورس، حافظ ضیاء الرحمن ابن قاری عبدالرحمن جھنگ، ابتدائی تقریر مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن ، دوسری تقریر مولانا امان اللہ صاحب خطیب بخاری مسجد کنری سندھ ، اختتامی خطاب حضرت مولانا عزیز الرحمن مدظلہ ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، مولانا محمد اکرم طوفانی مرکزی ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔
دوسری نشست بعد نماز ظہر ۲۹؍ ستمبر ۲۰۰۵ء: تلاوت حضرت مولانا قاری مشتاق احمد صاحب قصور ۔ نعت حافظ محمد شریف منچن آبادی ۔ بیان پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی راولپنڈی، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی ناظم اعلیٰ مجلس سکھر ، حمید الدین المشرقی امیر خاکسار تحریک پاکستان لاہور ، مولانا ممتاز احمد کلیار خطیب جامع مسجد جڑانوالہ، نعت صوفی محمد رمضان رفیق علامہ تونسوی مدظلہ، نعت حافظ محمد شریف منچن آبادی، استاذ المناظرین علامہ عبدالستار تونسوی تنظیم اہلسنت پاکستان ۔
یہ اجتماع ، مقررین ، تقاریر، نعت خوانی ، غرضیکہ ہر اعتبار سے کامیاب رہا۔ حضرت علامہ تونسوی مدظلہ کی دعائے خیر سے یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔
تیسری نشست ۲۹؍ ستمبر بعد نماز عشاء: صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ کہروڑ پکا، تلاوت قاری شفاع اللہ صاحب ۔ نعت ایاز برادران ڈسکہ ، ابوبکر گوجرانوالہ، طارق حفیظ جالندھری ساہیوال، حافظ محمد شریف منچن آبادی، خواجہ عبدالرحمن سرگودھا۔ مقررین مولانا قاضی ارشد الحسینی مدظلہ اٹک، صاحبزادہ طارق محمود چیف ایڈیٹر ماہنامہ لولاک فیصل آباد، مولانا سعید احمد جلال پوری ایڈیٹر ماہنامہ بینات کراچی ، مولانا پیر سیف اللہ خالد مہتمم جامعہ المنظور اسلامیہ لاہور ، مولانا قاری عبدالقیوم ظہیر ناظم تبلیغ اہل حدیث یوتھ فورس، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان ساہیوال، مولانا نور اللہ باگڑ سرگانہ، مولانا عبدالمالک خان ایم.این.اے (مانسہرہ) منصورہ لاہور، جناب نوابزادہ نصر اللہ خان کے فرزند نوابزادہ منصور احمد خان خان گڑھ، مولانا فیروز خان مہتمم دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ فاضل دارالعلوم دیوبند، مولانا احمد میاں حمادی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ ٹنڈوآدم، جناب حافظ شفیق الرحمن ایڈیٹر روزنامہ دن لاہور ، جناب آصف رشیدی (نعت) گوجرانوالہ، جناب سعید احمد (نعت)، مولانا عبدالغفور حقانی ناظم اعلیٰ مجلس علماء اہل سنت پاکستان، مولانا عبدالحمید وٹو خطیب اعظم قلعہ دیدار سنگھ ۔ یہ نشست چار بجے صبح تک جاری رہی۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم کے خلیفہ مولانا عبدالغفور صاحب ٹیکسلا کی دعا سے اختتام پذیر ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب مدظلہ نے سرانجام دیئے۔
۳۰؍ ستمبر بعد نماز فجر درس قرآن پاک مولانا سید عبدالوہاب شاہ صاحب حاصل پوری نے دیا۔
چوتھی نشست ۳۰؍ ستمبر بروز جمعتہ المبارک صبح ساڑھے نو بجے: صدارت...... تلاوت حافظ محمد عثمان ساہیوال، طاہر بلال چشتی، فیصل بلال، نعت حافظ محمد اعظم، اللہ مہر فانی اوکاڑہ۔ افتتاحی کلمات مولانا نورالحق نور ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور ۔ مقررین مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ساہیوال، مولانا عزیز الرحمن ثانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور ، ڈاکٹر دین محمد فریدی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھکر، مولانا فقیر اللہ اختر مبلغ عالمی تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ، حافظ علم اللہ خانیوال، مولانا حق نواز متعلم جامعہ فریدیہ اسلام آباد، مولانا مفتی حفیظ الرحمن ٹنڈوآدم، مولانا محمد مراد ہالیجوی شیخ الحدیث جامعہ حمادیہ سکھر ، مولانا خالد مبین گھوٹکی ، مولانا قاضی احسان احمد مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد، مولانا عبدالستار گورمانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال، قاری محمد انور انصر خطیب جامع مسجد شاہ فیصل چونڈہ ۔
تحریک ختم نبوت جلد(۸) ۲۰۰۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قراردادیں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں۔ دعا شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید کہروڑ پکا۔
آخری نشست ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۵ء بعد نماز جمعہ: صدارت خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
تلاوت استاذ القراء مولانا قاری محمد صدیق مدظلہ فیصل آباد۔ نعت طاہر بلال چشتی جھنگ، شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی لاہور۔ مقررین مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرحد، مولانا سید محمود میاں مدظلہ مہتمم جامعہ مدنیہ جدید رائے ونڈ لاہور، مولانا اللہ وسایا صاحب ناظم مالیات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، آخری خطاب قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ امیر مرکزی جمعیت علمائے اسلام پاکستان۔
الحمد للہ! کانفرنس ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ اللہ پاک اپنی بارگاہ عالیہ میں قبول فرما کر چناب نگر کے باسیوں کے لئے ہدایت اور شرکاء کی مغفرت کا باعث بنائیں۔
سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منظور کی جانے والی قراردادیں:
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کی غیر اسلامی سرگرمیوں اور ان کی جانب سے مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی
سازشوں کا سدباب کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ امتناع قادیانیت کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قادیانیوں کو نکال باہر کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت بین الاقوامی سطح پر اسلام کے امن پسندانہ تشخص کو اجاگر کرے اور اسلام کی اصل
تعلیمات کی عکاسی کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹوں میں قادیانیوں پر فرضی مظالم کی جھوٹی خبروں کی
اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اس کے سدباب کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو اس کی اصل شکل میں نافذ کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع عالمی مجلس کے رہنماؤں حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید اور حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہید کی دہشت گردوں
کے ہاتھوں مظلومانہ شہادت کے حوالے سے قاتلوں کی تاحال عدم گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دونوں حضرات کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں جناب سید امین گیلانی ، حضرت مولانا خدا بخش، جناب حافظ احمد بخش حضرت
مولانا عبدالعزیز جتوئی ، حضرت مولانا صوفی اللہ وسایا ، حضرت مولانا غلام محمد علی پوری ، جناب حافظ محمد الیاس ، حضرت مولانا منظور شاہ کے انتقال پر انتہائی غم و اندوہ کا اظہار کرتے ہوئے تمام مرحومین کے لواحقین اور پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتا ہے اور مرحومین کے لئے مغفرت و بلندیٔ درجات کی دعا کرتا ہے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت ملک میں کئی عشروں سے علمائے کرام کے خلاف جاری مہم اور ان کے قتل عام کا مستقل بنیادوں
پر سدباب کرے اور علمائے کرام کے قاتلوں کو گرفتار کر کے انہیں عبرتناک سزائیں دے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۵ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۶ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ختم نبوت زندہ باد
ایس. ایس. پی غلام رسول زاہد صاحب گزشتہ سال اقوام متحدہ کی طرف سے امن مشن پر کسوو گئے وہاں انہیں ایک سال گزارنا تھا، وطن واپسی پر انہوں نے اپنا کسوو کا سفر نامہ مرتب کیا۔ یہ سفر نامہ ’’کسوو میں ایک سال‘‘ کے نام سے آج کل اشاعت کی تیاریوں سے گزر رہا ہے۔ اس سفر کے دوران ان کی ملاقات ایک پاکستانی قادیانی پولیس آفیسر سے بھی ہوئی، پہلی ملاقات میں قادیانی افسر خود کو قادیانی بتانے سے گریز کرتا رہا لیکن غلام رسول زاہد صاحب نے کریدا تب مجبوراً اُس نے بتایا کہ وہ قادیانی ہے۔
غلام رسول زاہد صاحب اچھے ادیب اور شاعر بھی ہیں...... اپنے ملک میں وہ ایک ایماندار پولیس آفیسر مشہور ہیں، کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، انہوں نے اپنے اس سفر نامے میں قادیانیوں کے بارے میں بہت معنی خیز تبصرہ کیا ہے، یہ تبصرہ بہت مختصر ہے لیکن حیرت انگیز ہے۔ ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں:
’’قادیانیوں کے بارے میں لمبی چوڑی قانونی، فقہی اور علمی بحث کی بجائے میں صرف ایک چھوٹی سی سیدھی سادھی بات پر اکتفاء کروں گا، میری طرح پولیس افسر جانتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے لئے جو باقاعدہ طور پر پولیس کی ملازمت میں داخل نہ ہو، اختیارات کا استعمال تو بہت دور کی بات ہے، صرف وردی پہن لینا بھی قانوناً ایک قابل مواخذہ جرم ہے۔ جس کی سزا بھی ہے ...... اسلام کے بنیادی عقیدے کی نفی اور تمام اہل اسلام کو کافر قرار دینے کے بعد قادیانیوں کا مسلمانوں میں شمولیت کا دعویٰ عقل اور اخلاق کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس سے تو کہیں بہتر تھا وہ ایک بالکل نئے دین کی بنیاد ڈالتے اور خم ٹھونک کر اپنے نظریات کی تبلیغ کرتے، ان کے اس ہم رنگ دام میں نہ جانے کتنے معصوم مسلمان شکار ہو چکے ہیں۔
زوبن پوتک نامی ایک سرحدی سٹیشن پر ایک افریقی قادیانی افسر کو جب دو پاکستانی افسروں نے اصل صورت حال سے آگاہ کیا تو اس کے دل میں اسلام کی صحیح تعلیمات جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا، معلوم نہیں کتنے سادہ لوح حق طلب انسان، اسلام کے حیات آفرین پیغام کے دھوکے میں قادیانیت کا زہر پی چکے ہیں۔‘‘ (غلام رسول زاہد ایس ایس پی)
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۶ء ٹائٹل پیج نمبر ۳)
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت
۳؍ فروری ۲۰۰۶ء جمعۃ المبارک کو یورپی اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر پورے ملک میں یوم احتجاج منایا گیا۔ بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن کے ذریعہ شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان کے علاوہ بیشتر اسلامی ممالک میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ ڈنمارک کے ایک اخبار Jyiland posten نے جناب رسالت مآب ﷺ سے متعلق مکروہ اور ناپاک خاکے مرتب کر کے شائع کئے جنہیں بعد ازاں ناروے اور فرانس نے اپنے اخبارات میں جگہ دی۔ پھر اسی نوع کے کارٹون جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، پرتگال، سپین اور سوئٹزرلینڈ کے اخبارات میں بھی شائع ہوئے۔ فرانس کے اخبار franic sois کے منیجنگ ایڈیٹر کو مسلمانوں کے شدید احتجاج پر برطرف کر دیا گیا۔ لیکن ڈھٹائی کا عالم یہ کہ فرانس کے ایک اور اخبار نے یہی کارٹون صفحہ اول پر شائع کر کے اہل اسلام کے دلی جذبات پر نمک پاشی کا عمل کر دکھایا۔ یورپی اخبارات کی دریدہ دہنی پر مسلمان خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران بعض رقت آمیز مناظر کی تصاویر قومی اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔ یورپی اخبارات اپنی ناپاک روش پر ندامت اور معذرت کی بجائے جارحانہ انداز
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اختیار کرنے پر اتر آئے ہیں۔ اب سویڈن کے ایک اخبار S.D kyousn نے بھی دعوت دی ہے کہ پیغمبر اسلام کے مزید کارٹون بنا کر بھیجے جائیں جو مارچ کی اشاعت میں شامل کئے جائیں گے۔
ڈنمارک کے وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ : ”وہ معافی نہیں مانگ سکتے۔ کسی ریاست کو پریس کے رویئے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔“
ان کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار تقاضا ہے کہ اپنی رائے، اپنی سوچ اور اپنا خیال پیش کرنے پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ کیونکہ یہ فطری حق ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس، عراق، شام، انڈونیشیا، مشرقی افریقہ کے علاوہ دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں اور بالخصوص یورپی مسلمانوں کا احتجاج اور واضح رائے کا عدم احترام کونسی اقدار سے تعلق رکھتا ہے۔ مہذب ملک کہلوانے والوں کی یہ سوچ کیسی ہے؟ کہ وہ جمہوری اقدار کے حوالے سے اپنے شہریوں کے رائے کا احترام کریں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پیغمبر اسلام کے پیروکاروں کی رائے کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ضمن میں غیر جانب دارانہ اور حقیقت پر مبنی مؤقف اختیار کر کے مسلمانوں کی اشک شوئی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پریس کی آزادی کو مذہبی عقائد کا احترام کرنا چاہئے۔
محسن انسانیت ﷺ کی ذات گرامی مذہب سے وابستگی رکھنے والوں کے لئے قابل احترام ہے۔ مغرب کے اخبارات میں شائع ہونے والے خاکے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ نائن الیون کے بعد عالم اسلام کے خلاف ٹوٹنے والی قیامت بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی صدر کے منہ سے ”کروسیڈ“ کا لفظ ان کے عزم کا آئینہ دار ہے۔ حالیہ شائع کردہ کارٹونوں کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں میں رحمت دو عالم ﷺ کی آباد محبت، عقیدت، وارفتگی، کو نہ ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس مکروہ کاوش کے ذریعہ اسلام سے وابستگی کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔
یورپ و امریکہ دوہری ذہنی ٹینشن کا شکار ہیں۔ تمام تر وسائل استعمال کرنے کے باوجود اور جنگی ہتھیار و اسلحہ جھونک دینے کے باوجود روح جہاد کا جذبہ نہ سرد ہوا ہے اور نہ ہی اس عقیدہ کا بانکپن ماند پڑا ہے۔ یورپی دانشور اور امریکی ناخدا آج اس پریشانی کا شکار ہیں۔ جس کا شکار تاج برطانیہ ہوا تھا۔ جب انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے روپ میں ہندوستان پر قبضہ کیا تھا۔ W.W.Hunter (ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر) کی مرتبہ رپورٹ کا ایک ایک حرف ان کے ذہنوں پر ہتھوڑے چلا کر انہیں آج بھی احساس دلا رہا ہے کہ جب تک عقیدہ جہاد اور اس کی روح اور جذبہ مسلمانوں میں موجود ہے انہیں جسمانی طور پر غلام بنایا جاسکتا ہے۔ لیکن ذہنی طور پر غلام نہیں بنایا جاسکتا۔ روح جہاد نے یورپ و امریکہ کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ اسی باعث تو دشمنان اسلام اسامہ کی تصویریں ٹائلٹ ٹشو پیپروں پر چھاپ کر دلی نفرت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
یورپ کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے حوالے سے توہین آمیز تحریریں اور تصویریں شائع کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے ہاتھ مسلمانوں کی نبضوں کی حرارت سے ہمیشہ مایوس رہتے ہیں۔ مسلمان بے راہ روی اور گمراہی کے باوجود عشق رسالت مآب ﷺ سے کبھی غافل نہیں رہے۔ ایک سوچی سمجھی عالمی سازش کے ذریعہ مسلمانوں کے گھروں میں فحاشی، عریانی اور دینی غیرت، مذہبی حمیت، نبی آخر الزمان ﷺ کی محبت کے ٹیسٹ کے طور پر کی گئی ہے۔ رحمت دو عالم ﷺ کی ازلی ابدی محبت و عقیدت مسلمانوں کے وجود کا حصہ ہے۔ گناہ گار اور سیاہ کار ہونے کے باوجود یہ پاکیزہ محبت مسلمانوں کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جسموں میں دوڑنے والے خون کے ساتھ ساتھ شامل ہے:
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۶ء ص ۳، ۴)
توہین آمیز خاکوں کے خلاف امت مسلمہ سراپا احتجاج
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر کراچی کے سرکردہ علمائے کرام، دینی مدراس اور مذہبی جماعتوں کا ایک نمائندہ اجلاس جامعہ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں جامعہ کے ناظم مولانا امداد اللہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مولانا ڈاکٹر محمد عادل، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا عبد الکریم عابد، مفتی عبدالحمید، مفتی محمد، مفتی عثمان یار خان، مولانا محمد احمد مدنی، قاری محمد عثمان، مولانا محمد انور، مولانا سیف اللہ ربانی، مولانا طلحہ رحمانی، مولانا سلیم اللہ ترکی، مولانا قاضی احسان احمد، مفتی رفیق احمد بالاکوٹی، محمد انور اور دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں اتوار ۲۶؍ فروری ۲۰۰۶ء کو ”تحفظ ناموس رسالت مارچ“ کے انعقاد کا فیصلہ ہوا ہے۔ مارچ دن کے دو بجے نمائش چورنگی تا شارع قائدین کیا جائے گا، مارچ کے اختتام پر ملک کے ممتاز مذہبی قائدین مارچ کے شرکاء سے خطاب فرمائیں گے۔ مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے شہر میں مختلف اجتماعات کے موقع پر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف جمعہ ۲۴؍ فروری کو یوم احتجاج منایا جائے گا۔ علمائے کرام اور مشائخ عظام نماز جمعہ کے اجتماعات کے موقع پر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف تقریریں کریں گے اور عوام الناس کو مسئلہ کی حساسیت سے آگاہ کریں گے۔
تحفظ ناموس رسالت مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ جن میں مولانا امداد اللہ، مولانا ڈاکٹر عادل خان، مولانا محمد اسعد تھانوی، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا عبد الکریم عابد، قاری محمد عثمان، مفتی محمد، مفتی عبدالحمید، مولانا محمد احمد مدنی، مولانا طلحہ رحمانی، مفتی عثمان یار خان، مولانا سیف اللہ ربانی، مولانا سلیم اللہ ترکی، مفتی رفیق احمد، مولانا غیاث، قاری عبدالماجد، مولانا ولی خان المظفر اور دیگر علماء شامل ہیں۔
بعد ازاں جامعہ فاروقیہ میں ملک کے اکابرین کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا سلیم اللہ خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مفتی رفیع عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، وفاق المدارس العربیہ کے ناظم قاری محمد حنیف جالندھری، تحفظ ناموس رسالت مارچ کی انتظامی کمیٹی کے اراکین مولانا امداد اللہ، مولانا ڈاکٹر محمد عادل، قاری محمد عثمان اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک علمائے کرام نے اتوار ۲۶؍ فروری کو ”تحفظ ناموس رسالت مارچ“ کے انعقاد کے فیصلے کو سراہا اور اس کی مکمل تائید کرتے ہوئے کراچی کے تمام علمائے کرام، دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ، شہر کے غیور مسلمانوں، تاجروں، مزدوروں، ٹرانسپورٹوں، ملازمین سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے پرزور اپیل کی کہ وہ اتوار ۲۶؍ فروری کو ”تحفظ ناموس رسالت مارچ“ کو اس کی شایان شان کامیاب بنائیں اور مارچ میں بھر پور شرکت کر کے عشق مصطفیٰؐ کا ثبوت دیں اور ناموس مصطفیٰؐ کے تحفظ کا عہد کریں ”تحفظ ناموس رسالت مارچ“ کی انتظامی کمیٹی کے وفد نے کراچی کے مقتدر علمائے کرام سے ملاقاتیں شروع کر دیں جب کہ شہر کے مختلف مقامات پر اجتماعات منعقد کئے گئے۔ اس حوالے سے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی گئی جس کا متن درج ذیل ہے:
”تحفظ ناموس رسالت مارچ“ کی انتظامی کمیٹی کے اراکین مولانا امداد اللہ، مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان، مولانا محمد اسعد تھانوی،
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عبدالکریم عابد، قاری اللہ داد، قاری محمد عثمان، مفتی عبدالحمید، مفتی عثمان یار خان، مولانا محمد احمد مدنی، مولانا طلحہ رحمانی، مولانا قاضی احسان احمد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی پر مشتمل توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا مسئلہ اس وقت عالم اسلام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا اہم ترین اور حساس ترین مسئلہ بن چکا ہے۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت محض حضور ﷺ کی توہین نہیں بلکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام اور پوری دنیا کے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کی بھی توہین ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک حضور ﷺ کی عزت و آبرو اپنی جان و مال اور عزت و آبرو سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف زبردست احتجاج اور مظاہرے کئے اور ہر فورم اور میڈیا کے ذریعہ توہین رسالت کے اس واقعہ پر اپنے غم وغصہ کا اظہار کیا۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے صحافی برادری بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ اسلام آباد میں صحافیوں نے توہین آمیز خاکوں کے خلاف بھر پور احتجاج کر کے غیرت ایمانی کا ثبوت دیا۔ دینی جماعتوں، ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز، تاجر، وکلاء، ملازمین، خواتین سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج اور مظاہروں میں بھر پور حصہ لیا۔
اسی سلسلہ میں کراچی کے سرکردہ علمائے کرام، دینی مدارس کے ارباب اختیار اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے ایک نمائندہ اجلاس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶؍ فروری بروز اتوار ’’تحفظ ناموس رسالت مارچ‘‘ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ’’تحفظ ناموس رسالت مارچ‘‘ دن کے دو بجے شامزی چورنگی تا شارع قائدین کیا جائے گا۔ مارچ مکمل طور پر پر امن ہوگا۔ مارچ سے ملک کے ممتاز مذہبی قائدین متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان، سینیٹر مولانا سمیع الحق، دارالعلوم کراچی کے نائب صدر جسٹس (ریٹائرڈ) مولانا تقی عثمانی، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد، پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمن درخواستی، مولانا اسفند یار خان، مولانا محمد اسعد تھانوی، مفتی محمد زرولی خان، ڈاکٹر خالد محمود سومرو اور دیگر رہنما خطاب کریں گے۔ مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف جمعہ ۲۴؍ فروری کو یوم احتجاج منایا جائے گا۔ اس موقع پر علمائے کرام، مشائخ عظام اور مساجد کے ائمہ حضرات نماز جمعہ کے اجتماعات کے موقع پر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف تقاریر کریں گے۔ عوام الناس کو مسئلہ کی حساسیت سے آگاہ کریں گے اور عوام سے ۲۶؍ فروری بروز اتوار کے ’’تحفظ ناموس رسالت مارچ‘‘ کو کامیاب بنانے کی اپیل کریں گے۔ ’’تحفظ ناموس رسالت مارچ‘‘ کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں علاقائی سطح پر اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔ جن میں علمائے کرام ’’تحفظ ناموس رسالت مارچ‘‘ کو کامیاب بنانے کے لئے بیانات اور تقاریر کر رہے ہیں۔ ’’تحفظ ناموس رسالت مارچ‘‘ کی انتظامی کمیٹی کے اراکین شہر بھر کے چھوٹے بڑے دینی مدارس کا دورہ کر رہے ہیں اور علمائے کرام سے ملاقاتیں کر کے ’’تحفظ ناموس رسالت مارچ‘‘ کو کامیاب بنانے کی سعی کر رہے ہیں۔ ان شاء اللہ مارچ میں عوام کی بھر پور شرکت کی توقع ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور ’’تحفظ ناموس رسالت مارچ‘‘ کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔ اس موقع پر ہم تمام دینی وسیاسی جماعتوں، تاجر، وکلاء، صنعتکار، ملازمین، ٹرانسپورٹرز، خواتین سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحفظ ناموس
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رسالت مارچ کو مکمل طور پر پرامن رکھیں، اسلام کے غیر تشدد پسندانہ تشخص کو اجاگر کرنے میں ہمارا ساتھ دیں، قومی اور نجی املاک کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے سے گریز کریں اور شرپسندوں پر کڑی نگاہ رکھیں۔ اس موقع پر ہم صحافی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے امت مسلمہ کا بھر پور ساتھ دے اور میڈیا کو حتی المقدور ناموس رسالت کے تحفظ اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف ردعمل کے اظہار کے لئے استعمال کرے۔ ہمیں امید ہے کہ صحافی برادری اپنے تمام تر وسائل کو ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے استعمال کرے گی ۔‘‘
(ہفت روزہ ختم نبوت یکم تا ۸/ مارچ ۲۰۰۶ء ص ۵،۴)
تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے میر پور خاص میں مکمل ہڑتال
میر پور خاص (پ ر) ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مسلمان اپنی جان دینے کے لئے بھی ہر وقت تیار رہتا ہے۔ میر پور خاص میں امت مسلمہ کی مکمل اور متحدہ ہڑتال لائق ستائش ہے۔
ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی رہنما مولانا محمد علی صدیقی، مولانا شبیر احمد کرنالوی، مولانا حفیظ الرحمن فیض نے کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے کہا کہ یہود اور قادیانیوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس وقت توہین رسالت کے معاملہ پر پوری امت کے مسلمان احتجاج کر رہے ہیں اور یورپی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں لیکن امریکا اور برطانیہ ان توہین کرنے والوں کی اب بھی سرپرستی کر رہے ہیں۔ لہٰذا امت مسلمہ کے حکمرانوں کو اب بھی آنکھیں کھول لینی چاہئیں اور کفر کے مقابلہ میں متحد ہو جانا چاہئے ۔ یہ وقت اتحاد کا ہے اور کفر ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد ہی کی بدولت ناکام ہوا ہے۔ لہٰذا مسلمان، یہودیت، عیسائیت اور پاکستان میں ان کے خود کاشتہ پودے قادیانیت کے خلاف متحد ہو جائیں تا کہ نبی کریم ﷺ ہم سے خوش ہو جائیں ۔ حکومت پاکستان توہین آمیز خاکوں کے شائع کرنے والے ممالک کا اقتصادی بائیکاٹ کرے اور وہاں سے اپنے تمام سفارت کاروں کو واپس بلائے اور ان سے تمام قسم کے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے ان ممالک کے سفیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کرے اور ان کے سفارت خانے مکمل طور پر بند کر دے ۔
دریں اثنا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر ۲۴/ فروری ۲۰۰۶ء کو سندھ بھر میں یوم احتجاج مناتے ہوئے علمائے کرام علامہ احمد میاں حمادی، مولانا سعید احمد جلال پوری، ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا محمد علی صدیقی، قاضی احسان احمد، مولانا حفیظ الرحمن فیض، مولانا شبیر احمد کرنالوی، قاری خلیل احمد، مولانا محمد مراد ہالیجوی، مولانا محمد نذر، مولانا فیاض مدنی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا عبد القیوم ہالیجوی، مولانا عبد الغفور قاسمی، مولانا عبد الستار چاوڑا، حافظ زبیر احمد میمن، حکیم مولوی محمد عاشق نقشبندی، مفتی عبید اللہ انور، مولانا محمد عبد اللہ، مولانا محمد راشد مولانا حزب اللہ، مولانا محمد راشد مدنی، مولانا محمد اسجد مدنی، مولانا امان اللہ، حافظ محمد شریف اور دیگر حضرات نے جہاں ان توہین آمیز خاکوں کے متعلق احتجاج کیا، وہاں مسلمانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی پوری زندگی نبی کریم ﷺ کے اتباع میں گزاریں۔ دریں اثنا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے زیر اہتمام بعد نماز جمعہ مدینہ مسجد شاہی بازار سے سبزی منڈی چوک تک ایک احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے خطاب کیا۔ مولانا شبیر احمد کرنالوی، مولانا حفیظ الرحمن فیض، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا عبد الحفیظ سیال جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مولانا محمد شریف سعیدی، جے یو آئی کے حافظ عبد الخالق، جماعت اسلامی کے احسان الٰہی فضل، لالہ نور محمد اور مفتی عبید اللہ انور نے مظاہرین سے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ۸ تا ۱۵/ مارچ ۲۰۰۶ء ص ۲۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۴؍ فروری جمعہ کو کراچی میں یوم احتجاج منایا گیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) توہین آمیز خاکوں اور عراق میں مزارات مقدسہ پر حملوں کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جماعت اسلامی، جعفریہ الائنس، پاکستان شیعہ علماء کونسل، پاسبان، شیعہ ایکشن اور کالعدم ملت اسلامیہ پاکستان سمیت دیگر مذہبی، سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمعہ کو یوم احتجاج منایا گیا۔ اس موقع پر کراچی کے مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے جن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عمر صادق، حافظ محمد نعیم، حافظ عبدالقیوم نعمانی اور قاری محمد عثمان نے کہا کہ انسانی حقوق کے مغربی دعوے اگر سچے ہیں تو مغربی ممالک گستاخان رسول کو ازخود گرفتار کرکے مسلم ممالک کے سپرد کریں اور مسلم ممالک کی شرعی عدالتیں جو سزا دیں اسے یورپی ممالک قبول کریں۔
ناگن چورنگی پر واقع جامع مسجد صدیق اکبر کے باہر کالعدم ملت اسلامیہ نے مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی۔ احتجاجی جلسے سے انجینئر الیاس زبیر، عبدالغفور ندیم سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے مسلمان یورپی ممالک کے خلاف یکجا ہوگئے ہیں اور دشمنوں کے ناپاک عزائم ناکام بنادیں گے۔ کلفٹن کے علاقے میں پراپرٹی ڈیلروں کی بڑی تعداد نے توہین آمیز خاکوں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی، جس میں یونین کے ۴۰۰ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ریلی بعدازاں ریگل چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔
ریگل چوک پر پاسبان نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے صدر شفیق اللہ اسماعیل نے کہا کہ مسلم حکمرانوں نے توہین آمیز خاکوں پر سخت مؤقف اختیار نہ کیا تو امت مسلمہ ان حکمرانوں کو ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوگی۔ بعدازاں ریلی نیٹی جیٹی پل کی جانب گئی۔ ریلی کے شرکاء نیٹی جیٹی پل پر پہنچ کر بڑی تعداد میں یورپی ممالک کی اشیاء کو سمندر برد کیا۔ جماعت اہل سنت کے تحت یوم احتجاج کے موقع پر جامع مسجد قاری مصلح الدین صدیقی میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شاہ تراب الحق قادری، حاجی حنیف طیب اور علامہ ابرار احمد رحمانی نے کہا کہ توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ممالک کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔ جمعیت اہل حدیث کے امیر قاری اصغر سلفی نے خطاب کیا، جب کہ عائشہ منزل پر مولانا اسلم نوید نے خطاب کیا اور یورپ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی سطح پر احتجاج کرے۔
(روزنامہ امت کراچی ۲۵؍ فروری ۲۰۰۶ء)
کراچی (اسٹاف رپورٹر) توہین آمیز خاکوں اور سانحہ سامراہ کے خلاف مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے تحت جمعہ کو یوم احتجاج منایا گیا۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں جن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی انتہائی شرمناک فعل اور ناقابل معافی ہے جب کہ سانحہ سامراہ امت مسلمہ کو آپس میں دست و گریبان کرنے کی سازش ہے۔ مزارات پر حملہ دراصل امت مسلمہ پر حملہ ہے، ایسے میں امت کو اتحاد یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ مظاہروں و ریلیوں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا سعید احمد جلال پوری اور معروف علماء کرام مفتی محمد رفیع عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا امداد اللہ، مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا اقبال اللہ، قاری اللہ داد، مولانا احسان اللہ ہزاروی، مولانا عبدالرشید انصاری، مولانا رشید احمد درخواستی، ڈاکٹر نصیر الدین سواتی، مولانا محمد احمد مدنی، مفتی محمد، مولانا طلحہ رحمانی، مولانا سیف اللہ ربانی، مولانا عبداللہ مظہر، مولانا سلیم اللہ ترکی، مولانا محمد غیاث، قاری عبدالماجد، مولانا ولی خان المظفر، مولانا حضرت ولی، حافظ محمد سعید لدھیانوی، مولانا گل محمد تالونی، مولانا طاہر، مولانا تقی الدین شامزی، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی اور دیگر نے بھی خطاب میں توہین آمیز خاکوں اور سانحہ سامرہ کی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کے ذمہ دار افراد کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
(روزنامہ جنگ کراچی ۲۵؍ فروری ۲۰۰۶ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کراچی اقوام متحدہ توہین انبیاء کو بین الاقوامی جرم قرار دے: مجلس تحفظ ختم نبوت کی ریلی میں مطالبہ
ڈنمارک کے معافی مانگنے تک احتجاج جاری رہے گا، حکمرانوں کا رویہ آمرانہ ہے: فضل الرحمٰن، ٹیلیفونک خطاب، چیف جسٹس واقعے کے خلاف ازخود کارروائی کریں۔ حافظ حسین احمد، مفتی تقی عثمانی و دیگر کی تقاریر۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۶ء ص ۴۸، ۴۹)
شانِ رسالت میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف ہمارا طرزِ عمل
’’آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے خلاف ہمارا طرزِ عمل وہی ہونا چاہئے جس کا مظاہرہ غازی علم الدین شہید نے کیا۔ وہ زبان کاٹ دی جائے، وہ ہاتھ کاٹ دیئے جائیں جو آپ ﷺ کی ناموس کی طرف بڑھیں۔ وہ قلم توڑ دیئے جائیں جو آپ ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنائیں۔ آپ ﷺ کی آبرو ہمیں اپنی جان سے عزیز ہے۔
آج ہم یہ عہد کریں کہ توہین رسالت کرنے والوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ اس بائیکاٹ سے انہیں دن میں تارے دکھائی دینے لگیں گے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ مجرم کیفر کردار تک نہ پہنچ جائیں۔ ہمارا عزم یہ ہونا چاہئے کہ ہماری تحریک تعلیماتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہو۔ اس گھناؤنی حرکت کی وجہ سے مراکش سے انڈونیشیا تک پوری مسلم دنیا اکٹھی ہو گئی ہے۔ یورپی اخبار کا وضاحتی بیان ناقابلِ قبول ہے۔ اس میں اپنی غلطی کا دفاع کر کے مسلمانوں پر ڈالی گئی ہے۔ یورپی اخبارات نے حضور رسالت مآب ﷺ کے بارے میں توہین آمیز خاکے شائع کر کے جس سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے، اس کے خلاف عالم اسلام کے مسلمانوں کا ردّعمل سوفیصد برحق ہے۔‘‘ (حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ)
(ہفت روزہ ختم نبوت ۸ تا ۱۵؍ مارچ ۲۰۰۶ء ص ۱۸، ۱۹)
توہین آمیز خاکوں کے خلاف پورے ملک میں بھرپور یومِ احتجاج، مظاہروں اور احتجاج کی تفصیلی رپورٹ
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف جمعہ ۲۴؍ مارچ ۲۰۰۶ء کو کراچی میں بھرپور یومِ احتجاج منایا گیا۔ کراچی کے صدر ٹاؤن، کلفٹن ٹاؤن، جمشید ٹاؤن، گلشنِ اقبال ٹاؤن، کیماڑی ٹاؤن، لیاقت آباد ٹاؤن، گلبرگ ٹاؤن، بن قاسم ٹاؤن، گڈاپ ٹاؤن، لانڈھی ٹاؤن، ملیر ٹاؤن، نیو کراچی ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، سائٹ ٹاؤن، کورنگی ٹاؤن میں علمائے کرام اور مساجد کے خطیب حضرات نے نمازِ جمعہ سے قبل مساجد میں خطابات کئے۔
اس موقع پر علمائے کرام نے حضور ﷺ کی شان میں بدترین گستاخی پر مشتمل توہین آمیز خاکوں کی ڈنمارک، ناروے اور دیگر یورپی ممالک کے اخبارات میں اشاعت کے خلاف سخت تقاریر کیں اور دنیا میں توہین رسالت ﷺ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ کا مسئلہ اسلام کی ایک امتیازی خصوصیت ہے۔ حضور ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لئے ایک ہزار سے زائد صحابہ کرامؓ نے اپنی جانوں کی قربانی دی جب کہ غزوات اور جنگوں میں شہید ہونے والے صحابہ کی کل تعداد تین سو کے لگ بھگ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ناموسِ رسالت ﷺ کو اپنی جانوں سے زیادہ قیمتی سمجھتے تھے۔ آج بھی صحابہ کرام ؓ کے طریقہ پر عمل کر کے گستاخانِ رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
ناموس رسالت کے تحفظ کو یقینی بنانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ امت مسلمہ کی عزت وسر بلندی کا راز ناموسِ رسالت کی عظمت وسر بلندی میں پوشیدہ ہے۔ اگر ناموسِ مصطفیٰ محفوظ نہیں رہے گی تو دنیا میں کسی کی عزت بھی محفوظ نہیں رہ سکے گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم گستاخان رسول کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ یاد رکھیں کہ مسلمانان عالم گستاخان رسول ﷺ کو سبق سکھانا جانتے ہیں۔
علمائے کرام اور مساجد کے خطیب حضرات میں مفتی محمد رفیع عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا امداداللہ، مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان، مولانا محمد اسعد تھانوی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا عمر صادق، مولانا سعید احمد جلال پوری، مفتی عبدالحمید، مولانا عبدالکریم عابد، حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا اقبال اللہ، قاری اللہ داد، مولانا احسان اللہ ہزاروی، قاری عبد المنان انور، مولانا خان محمد ربانی، مولانا عبدالرشید انصاری، مولانا رشید احمد درخواستی، قاری محمد عثمان، ڈاکٹر نصیر الدین سواتی، مفتی عثمان یار خان، مولانا محمد احمد مدنی، مفتی محمد طلحہ رحمانی، مولانا سیف اللہ ربانی، مولانا عبداللہ مظہر، مولانا سلیم اللہ ترکی، مولانا محمد غیاث، قاری عبد الماجد، مولانا ولی خان المظفر، مولانا حضرت ولی، حافظ محمد سعید لدھیانوی، مولانا گل محمد تالونی، مولانا طاہر، مولانا تقی الدین شامزی، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا قاضی احسان احمد، مفتی حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا عبدالرؤف غزنوی، مولانا فضل محمد، مولانا عطاء الرحمن، مفتی شفیق عارف، مفتی ابوبکر سعید الرحمن، مولانا محمد طیب کشمیری، مفتی عبدالکریم دین پوری، مولانا محمد اعجاز، قاری محمد اقبال، مفتی رفیق احمد بالاکوٹی، مولانا قاسم، مولانا محمد دلدار، مولانا عبدالرزاق قمر، علامہ شفقت الرحمن، مولانا محمد عثمان یحییٰ، مولانا نور الٰہی، مولانا محمد طاہر، مولانا سلطان محمد، مولانا غلام اکبر غلام قادر، مولانا عبدالرحمن، مولانا فاروق احمد، مفتی سید اکرام الرحمن، مولانا محمد ادریس دہلوی، مولانا عبدالحفیظ، مولانا جمیل، قاری الطاف الرحمن، مولانا محمد سلیم، مولانا محمد امین، مولانا عبدالغفور مظفر گڑھی، مولانا عبدالحق عثمانی، مولانا عقیل احمد، مولانا عبدالسمیع رحیمی، مولانا محمد شاہد، مفتی عبدالقیوم دین پوری، مولانا محمد انور، مولانا قاسم عبداللہ، مولانا منظور احمد مینگل، مولانا محمد یوسف افشانی، مولانا غلام ربانی، قاری سلیم صابر، صدیق سواتی، حافظ عبدالستار واحدی، قاری عبدالسلام، قاری ہلال ڈیروی اور دیگر علمائے کرام شامل ہیں۔
دریں اثنا کراچی میں چاندنی چوک بلدیہ ٹاؤن اور مریم مسجد منظور کالونی کے باہر نماز جمعہ کے بعد بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے جن سے صوبائی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر مولانا عمر صادق، ممبر صوبائی اسمبلی حافظ محمد نعیم، حافظ عبدالقیوم نعمانی، قاری محمد عثمان، مولانا زین الدین، اشرف اعوان، امیر طارق اور دیگر نے خطاب کیا۔
مقررین نے اپنی تقریروں میں ڈنمارک اور ناروے سمیت توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے تمام اخبارات اور ان کی انتظامیہ اور حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ گستاخان رسول ﷺ کو کرۂ ارض کے کسی گوشہ میں پناہ نہیں ملے گی۔ آزادی اظہار رائے کے نام پر حضور ﷺ کی شان میں گستاخی انتہائی شرمناک فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
پارلیمنٹ کے معمولی رکن کے بارے میں نازیبا کلمات کو فوری طور پر پارلیمنٹ کی کارروائی سے حذف کر دیا جاتا ہے اور اس پر عرصہ دراز تک بحث چلتی رہتی ہے لیکن شان رسالت ﷺ میں گستاخی پر غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ توہین آمیز خاکوں کو طے شدہ منصوبے کے تحت شائع کیا گیا ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کے ایمان کی سطح کو جانچنا ہے۔
انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے یورپی ممالک نبی کریم ﷺ کے حقوق کی ادائیگی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے دنیا بھر کے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے جس کا مداوا کرنے کے بجائے ڈنمارک اور ناروے نے گستاخان رسول کی سر پرستی کا وطیرہ اپنایا جو عدل و انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ ڈنمارک، ناروے اور دیگر یورپی ممالک اگر انسانی حقوق اور عدل وانصاف کی فراہمی کے دعوے میں سچے ہیں تو گستاخان رسول کو از خود گرفتار کر کے مسلم ممالک کے حوالے کر دیں اور مسلم ممالک کی عدالتیں ان کے جرم کی جو شرعی سزا مقرر کریں تمام یورپی ممالک اسے تہہ دل سے قبول کر لیں۔ اس کے سوا ان کے تمام دعوؤں کو امت مسلمہ کے ساتھ سنگین مذاق سمجھا جائے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ۸ تا ۱۵؍مارچ ۲۰۰۶ء ص ۱۸، ۱۹)
جتوئی کا افسوسناک واقعہ
مؤرخہ ۱۳؍مارچ ۲۰۰۶ء کو پرمٹ چوک تحصیل جتوئی ضلع مظفر گڑھ میں ایک ٹھیکیدار نے خدا تعالیٰ و رسول ﷺ کے خلاف دیدہ دلیری کی۔ اس واقعہ کی ایک رپورٹ پیش ہے۔
یورپی اخبارات وجرائد نے شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کر کے عالم اسلام کے کونے کونے میں جس طرح عشق رسول ﷺ بیدار کیا ہے۔ اس کے مظاہر یوں تو گزشتہ ایک ماہ سے دنیا بھر میں عموماً اور مسلم ملکوں میں خصوصاً احتجاجی جلسے جلوس اور ہڑتالوں کی صورت میں دیکھے جا رہے ہیں۔ مگر گزشتہ سوموار کو جنوبی پنجاب کی تحصیل میں جو واقعہ پیش آیا وہ عامۃ المسلمین میں ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے حساسیت کا آئینہ دار ہے۔
ہوا یوں کہ ایک ٹرالر ڈرائیور محمد اکرم ٹرالر لے کر جتوئی سے نواحی قصبے پرمٹ کی طرف جا رہا تھا۔ وہ ٹال ٹیکس ادا کرنے کے لئے ٹھیکیدار کے کیبن پر نہ رکا جس پر ٹھیکیدار عبدالستار گوپانگ نے اپنے اہلکاروں کے ہمراہ اس کا تعاقب کیا۔ اسے روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس نے خدا و رسول کا واسطہ دیا۔ تو ٹھیکیدار نے اسے گالیاں دیتے ہوئے نازیبا اور کفریہ کلمات کہہ ڈالے۔ وہیں مدرسہ ختم نبوت بھی ہے۔ جس کے مہتمم اور طلبہ شور سن کر باہر آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ٹھیکیدار کے منہ سے مغلظات سنیں تو جھٹ مدرسہ کا لاؤڈ سپیکر آن کر کے گستاخ کی جسارت سے عوام کو آگاہ کر دیا جس پر مشتعل عوام کا ہجوم جمع ہو گیا۔ انہوں نے نہ صرف زخمی ڈرائیور کو ٹھیکیدار کے چنگل سے چھڑایا بلکہ ٹال ٹیکس کیبن کو نذر آتش کر دیا۔ دھرنا دے کر سڑک بند کر دی۔ صورتحال دیکھ کر عبدالستار گوپانگ بھاگ گیا۔ سڑک بند ہونے کی خبر پا کر پولیس حکام موقع پر پہنچے اور مشتعل عوام کو یقین دلایا کہ ملزم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ بعد میں پولیس نے ملزم کو گرفتار بھی کر لیا جس پر مشتعل عوام نے سڑک واگزار کر دی اور اگلے دن مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اس طرح سڑک پر ٹریفک بحال ہو گئی۔ اس وقت تک گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ چکی تھیں۔
اگلے روز منگل کو پرمٹ، جتوئی اور اردگرد کے قصبات میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ ایسی ہڑتال کہ جس کی ماضی میں مثال ملنا مشکل ہے۔ جتوئی اور نواحی علاقوں سے ہزاروں شہریوں نے گیارہ کلومیٹر لمبا جلوس نکالا۔ سارا دن پورے علاقے میں ٹریفک معطل رہی۔ پچیس کلومیٹر تک گاڑیوں کی قطاریں لگی رہیں۔ لوگ سڑکوں پر نعرے مارتے اور ٹائر جلاتے رہے۔ جن علاقوں میں مکمل پہیہ جام ہڑتال رہی، ان میں جتوئی، جھگی والا، سبائے والا، ڈینے والا، جہان پور، پھلن شریف، چوک پرمٹ، مڈ والا، حمزے والی، نورواہ اور جھلاریں شامل تھے۔
تمام قصبات سے جلوس چوک پرمٹ آتے رہے۔ وکلاء نے بھی جتوئی بار ایسوسی ایشن کے صدر سرفراز علی زئی کی قیادت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں جلوس نکالا۔ وکلاء نے اعلان کیا کہ ملزم کی وکالت کرنے والے وکیل کا بھی سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ سردار عبدالقیوم جتوئی، سابق ایم۔این۔اے اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سید جمیل بخاری، سابق ایم۔پی۔اے رسول بخش جتوئی، مرکزی صدر انجمن تاجران سید منور بخاری، صدر مقامی بار عبدالمجیب خان، سٹی ناظم سید غضنفر مرتضیٰ، جماعت اسلامی کے عبدالعزیز گوپانگ، جے یو آئی کے مولانا مشتاق احمد، پیپلز پارٹی کے میاں فیاض محمود، جمعیت اہل حدیث کے حاجی خالد، جے یوپی، کے پروفیسر شفیع خان، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری سید قاسم علی شمسی سمیت تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے ملزم کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے عوامی تیور دیکھتے ہوئے ملزم کے خلاف ٹرالر ڈرائیور کو زخمی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس حکام نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ مسلمان ہونے کے ناتے اپنا فرض پورا کریں گے۔
جتوئی شہر میں فاروقیہ مسجد میں شروع ہونے والے جلوس کی قیادت تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مشترکہ طور پر کی۔ جلوس کے شروع میں بعض شرکاء نے ٹھیکیدار کے ٹھکانے کو بھی آگ لگادی اور عمارت گرادی۔ جس پر قائدین نے شرکاء کو پرامن رہنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد جلوس چوک پرمٹ پہنچا جہاں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ سارا دن پورے علاقے کی تمام سڑکوں پر مشتعل مظاہرین کا راج رہا۔ وہ شاتم رسول کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔
مرکزی جلوس کا رنگ ڈھنگ خالصتاً مذہبی رہا۔ کسی سیاسی جماعت کو اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقعہ نہیں ملا۔ نہ پارٹیوں کے پرچم لہرائے گئے نہ کسی لیڈر کے نام کا کوئی بینر نظر آیا۔ مشتعل مظاہرین نے بھی سوائے گستاخی کے مرتکب ملزم کی عمارت کو نقصان پہنچانے کے عوامی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اس موقع پر مبصرین کا خیال تھا کہ جس طرح اس پسماندہ تحصیل کے عوام نے متفقہ دینی و مذہبی جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح بڑے شہروں میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں مشترکہ اور متفقہ احتجاج نہیں کرسکتے؟
اب تک کارٹونوں کے حوالے سے مختلف بڑے شہروں میں مختلف مکاتب فکر اور مختلف جماعتیں اپنے اپنے بینر تلے احتجاجی ریلیاں نکالنے اور اپنی اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کو ترجیح دیتی آرہی ہیں۔ ناموس رسالت کا تحفظ تو تمام مسلمانوں کا متفقہ مقصد ہے۔ اس کا اظہار بھی پوری یکجہتی سے ہو تو عالم کفر کو اسلام کے جذبات کا صحیح ادراک ہوسکتا ہے۔ پھر وہ آزادی اظہار کے نام پر امت مسلمہ کے جذبات سے کھیلنے سے اجتناب کریں گے۔ ورنہ اپنی ڈفلی اپنا راگ سے ایک امہ کا تصور نہیں ابھرتا۔ جتوئی کے افسوسناک واقعہ کا انجام کچھ بھی ہو مگر علاقے کے عوام نے اپنی دینی احساسات کا اظہار بہت زوردار طریقے سے کردیا ہے۔
(بشکریہ روزنامہ نوائے وقت ملتان، ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۶ء ص ۱۷،۱۸)
بھائی پھیرو میں کذاب گرفتار
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں اور مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ملعون عبدالحمید نے اپنے نام کا کلمہ لکھ کر تبلیغ شروع کردی ہے۔ علماء نے جب گستاخ کا تعاقب کیا تو پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ یہ خبر علاقہ میں پھیلتے ہی ہزاروں لوگوں نے تھانہ کا محاصرہ کرلیا۔ پتھراؤ پولیس کی شیلنگ اور فائرنگ حالات شہر میں انتہائی کشیدہ۔ ڈی۔ پی۔ او نے تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا اعلان کردیا۔ گستاخ عبدالحمید کذاب نے اپنے گھر میں خانہ کعبہ بنا کر طواف شروع کردیا۔ چھ فٹ مربع کا بنایا۔ اس کے اوپر اپنے نام کا کلمہ لکھ کر تبلیغ شروع کردی اور نبوت کا اعلان کردیا۔ نتھے خالصہ کا رہائشی اہلیان گاؤں نے بتایا اور مطلوبہ شخص نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امام حسن، علی، حسین، اللہ اور رسول
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
اس کے گھر آتے ہیں۔ آخری خبریں آنے تک بھائی پھیرو میں پولیس اور عوام کا مطالبہ ہے کہ گستاخ کو ہمارے سپرد کرو۔ پولیس کے پتھراؤ سے کافی لوگ زخمی ہوگئے۔ حالات بہت کشیدہ ہیں دیگر علاقوں سے بھاری پولیس کی نفری منگوائی ہے۔ حالات کنٹرول میں نہیں ہورہے ۔ پولیس نے ملزم کے خلاف ۲۹۵-اے اور ۲۹۵-سی کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۶ء ص ۴۸)
توہین آمیز خاکے...... پس پردہ قادیانی جماعت کا کردار
گزشتہ کئی ماہ (اوائل ۲۰۰۶ء) سے مغرب اور مغربی ممالک، خصوصاً ڈنمارک کے ایک اخبار کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین وتنقیص پر مبنی کارٹون کی اشاعت کی وجہ سے امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مسلمان آتش زیر پا اور سراپا احتجاج ہیں کہ مغرب اور اقوام متحدہ ان انسان نما درندوں کے گلے میں پٹہ ڈالے اور ان کی بے باک زبانی کو لگام دے، ورنہ مسلمان اپنے نبی ﷺ کی عزت وحرمت کا بدلہ خود چکانے پر مجبور ہوں گے۔
بلاشبہ امت مسلمہ جو اب تک مختلف جماعتوں، پارٹیوں اور ملکوں میں بٹی ہوئی تھی یا اختلاف دیار، رنگ وزبان کے اختلاف یا تمدن ومعاشرت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کسی قدر بعید محسوس ہوتی تھی۔ مغرب کی اس دریدہ دہنی کی نفرت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے نقطہ اتحاد پر متحد ہوگئی ہے۔ اب تک یہی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ مغرب اور مغربی اخبارات یا ڈنمارک کے گستاخ آرٹسٹوں کو یہ جرات ہوتی تو کیسے اور کیونکر؟ اور اس کے پس پردہ کیا عوامل اور اسباب وعلل ہیں؟
اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے روزنامہ جنگ لندن کے نمائندہ جناب ڈاکٹر جاوید کنول کو، جنہوں نے روزنامہ جنگ لندن میں اپنے حوالہ سے ایک خبر کی اشاعت سے اس حقیقت کا اظہار فرمایا اور بتلایا کہ بلاشبہ ڈنمارک کا بدنام زمانہ آرٹسٹ اسلام دشمن اور عیسائیت اور صلیب کا پجاری ہے، مگر اس کو اس گھناؤنے جرم پر اکسانے یا اس کو اس گستاخی کرنے کی طرف متوجہ کرنے والے وہی مار آستین ہیں، جو گزشتہ ایک سو سال سے زائد عرصہ سے امت مسلمہ کے جذبات سے کھیلتے آرہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے ہمیشہ سے انگریز کی چھتری اور انگریزی اقتدار کے سایہ میں رہ کر ختم نبوت پر شب خون مارنے اور حضرات انبیائے کرام کی عزت وناموس کو تار تار کرنے کی ناپاک سازش کرنے کی کوششیں کیں اور امت مسلمہ کو نبی رحمت ﷺ کے دامن سے کاٹ کر ایک مخبوط الحواس شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ جوڑنے کی سعی کی۔ بلاشبہ یہ اپنی جگہ بہت بڑا انکشاف اور اظہار حقیقت کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔
چنانچہ اس خبر کی سب سے پہلی اشاعت روزنامہ جنگ لندن میں ۲؍ مارچ ۲۰۰۶ء کو ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان کے دوسرے کئی ایک معاصر اخبارات نے بھی اسے شائع کیا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ روزنامہ جنگ کی اس خبر کا متن یہاں درج کردیا جائے، جو یہ ہے: ’’کوپن ہیگن (رپورٹ: ڈاکٹر جاوید کنول) ڈنمارک میں خفیہ ادارے کے ایک ذمہ دار آفیسر نے اپنا نام اور عہدہ صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر کارٹون ایشو پر گفتگو کرتے ہوئے جنگ کو بتایا کہ ستمبر ۲۰۰۵ء میں احمدیوں کا سالانہ جلسہ ڈنمارک میں ہوا، جس میں احمدیوں کے مرکزی ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس موقع پر قادیانیوں کے ایک وفد نے ڈینش وزیر سے ملاقات کے دوران جہاد کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کے علمبردار ہیں اور ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی (نعوذ باللہ من ذالک) نے جہاد کو منسوخ کردیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلامی احکامات تبدیل کردیئے ہیں۔ اس لئے کہ محمد ﷺ کی تعلیمات اور ان کا عہد ختم ہوچکا ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان کی اس یقین دہانی پر کہ محمد ﷺ کے پیروکار صرف سعودی عرب تک محدود ہیں۔ ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۵ء کو ڈینش اخبار نے محمد ﷺ کے حوالے سے کارٹون شائع کئے ، جن کا مرکزی نکتہ فلسفہ جہاد پر حملہ کرنا تھا۔ اعلیٰ ڈینش افسر نے کہا کہ ہمیں جنوری کے آغاز تک اس بات کا یقین تھا کہ احمدیوں کا دعویٰ سچا تھا ، کیونکہ جنوری تک سوائے سعودی عرب کے کسی اسلامی ملک نے ہم سے باقاعدہ احتجاج نہیں کیا تھا۔ او. آئی. سی کی خاموشی ہمارے یقین کو پختہ کر رہی تھی۔ اس ذمہ دار افسر نے اس نمائندے کو اس ملاقات کی ویڈیو ٹیپ بھی سنائی ، جس میں ڈینش، اردو اور انگریزی زبان میں گفتگو ریکارڈ تھی۔ دریں اثنا جنگ کے ایک سروے میں، جس میں تین دنوں کے اندر ۱۵۰۰ ڈینش لوگوں کے خیالات معلوم کئے گئے ۔ یہ بات سامنے آئی کہ ۹۰ فیصد ڈینش لوگوں کے خیال میں ڈنمارک کے اخبار نے محمد ﷺ کے بارے میں کارٹون شائع کر کے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے ۔ ۷۴ فیصد لوگوں کے مطابق اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ اہل اسلام ڈینش حکومت اور متعلقہ اخبار کی معذرت قبول کر لیں ۔ جن لوگوں کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی ، ان میں کاروباری افراد ، طالب علم ، سیاسی کارکنان ، اخبار نویس ، ٹیکسی ڈرائیور اور ملازمت پیشہ افراد شامل تھے۔ لوگوں کی اکثریت از خود یہ نکتہ سامنے لے آئی کہ چند ماہ قبل جب جوتے بنانے والی ایک فرم نے اپنے جوتوں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر شائع کی تو ڈینش حکومت نے ان جوتوں کی فروخت پر پابندی عائد کر کے اس فرم کو بند کر دیا۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین پر کارروائی ہو سکتی ہے تو پھر محمد ﷺ کے کارٹون شائع کرنے پر متعلقہ اخبار کے خلاف کارروائی کیوں ممکن نہیں ہے؟ علاوہ ازیں ڈینش ٹیچرز نے اپنے ایک اجلاس میں اتفاق رائے سے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عیسائیت کے ساتھ اسلام کو بھی لازمی مذہبی تعلیم قرار دیا جائے تاکہ مستقبل کے ورثاء، اسلام اور عیسائیت کا موازنہ کر سکیں ۔ اس قرار داد کے مطابق دنیا کو جنگ کے شعلوں سے بچانے اور اسے امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ نئی نسل کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔‘‘
(روزنامہ جنگ لندن ۲؍مارچ ۲۰۰۶ء)
اس خبر کی اشاعت سے قادیانی ایوان اور قصر خلافت میں بھونچال اور زلزلہ برپا ہو گیا، تو مرزائی امت کے موجودہ سربراہ مرزا مسرور احمد نے اس خبر کو موضوع بنا کر اپنے خطبہ جمعہ میں روز نامہ جنگ لندن اور اس کے نمائندہ جناب ڈاکٹر جاوید کنول کو خوب کوسا اور اپنے تئیں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ خبر سراسر جھوٹ اور افتراء ہے اور اس سے دنیا بھر میں ہماری بدنامی ہوئی ہے ۔ موصوف نے اپنے آباء و اجداد کی روش پر اپنے اوپر خوب لعنتیں برسائیں اور کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق روزنامہ جنگ لندن کو نوٹس بھیجا کہ اس خبر سے ہماری ساکھ اور شہرت کو نقصان پہنچا ہے ، اس پر معذرت شائع کی جائے ، ورنہ ہم ہرجانہ کا دعویٰ کریں گے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۳ تا ۵)
سزائے ارتداد کا قانون متحدہ مجلس عمل کا قابل فخر اقدام
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد لله وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی !
قرآن وسنت ، دین وشریعت کی روشنی میں جو شخص اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین و مذہب اختیار کر لے، وہ مرتد ہے اور مرتد کی سزا قرآن وسنت اجماع اور فقہائے امت کے ہاں یہ ہے کہ اگر مرتد ہونے والی عورت ہو تو اس کو گرفتار کر کے اس کو سمجھایا جائے ، اگر اس کے کوئی اشکالات ہوں تو رفع کئے جائیں اور اسے دوبارہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے ، قبول کر لے تو فبہا ، ورنہ اسے زندگی بھر جیل
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں مقید رکھا جائے۔
اگر مرتد ہونے والا مرد ہو تو اسے تین دن تک فہمائش کی جائے، اگر اس کے کوئی اشکالات ہوں تو رفع کئے جائیں اور دوبارہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے، مان جائے تو فبہا ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔ اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے، آنحضرت ﷺ کی متواتر احادیث، حضرات صحابہ کرام کا اجماع اور پوری امت کا تعامل بھی اس کی نشاندہی کرتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:
”من ارتد فاقتلوہ“ ﴿جو شخص مرتد ہو جائے اس کو قتل کر دو۔﴾
اس لئے مسلمانان پاکستان اور خصوصاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا روز اول سے یہ مطالبہ تھا کہ پاکستان میں سزائے ارتداد کا قانون نافذ کر کے قادیانی دجل و فریب کاری اور اس کی ارتدادی تحریک کا سدباب کیا جائے، مگر نامعلوم کن وجوہات اور مجبوریوں کے پیشِ نظر ہمارے ارباب اقتدار آج تک مسلمانوں کے اس معقول مطالبہ اور شرعی قانون کی تنفیذ سے پہلو تہی کرتے رہے ہیں؟
حالانکہ دیکھا جائے تو یہ قانون سراسر قانون فطرت ہے اور اس کے نفاذ سے جہاں مسلمانوں کا دین و ایمان محفوظ رہے گا، وہاں اسلامی مملکت کی نظریاتی سرحدیں بھی محفوظ ہوں گی اور ایسے بد باطن جو مختلف انداز میں اسلامی مملکت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے اور مسلمانوں کے روپ میں مسلمانوں میں ہیجان برپا کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں، ان کا اس قانون کے نفاذ سے قلع قمع ہو جائے گا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے مجلس عمل کے کارپردازوں کو! جنہوں نے حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اس قانون کی اہمیت و ضرورت کو محسوس کیا اور مرتد کی سزا کے قانون کا مسودہ تیار کر کے ایک بل کی شکل میں قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔
روزنامہ امت کراچی کے نمائندہ خصوصی کی رپورٹ کی روشنی میں اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
”اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) متحدہ مجلس عمل کے ارکان قومی اسمبلی نے ملک میں مرتد کی سزا وضع کرنے کے لئے مسودۂ قانون جمع کرا دیا ہے۔ یہ بل بدھ کو مجلس عمل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا۔ اس بل کو ”قانون ارتداد ۲۰۰۶ء“ کا نام دیا گیا ہے۔ بل کے مطابق جو فرد، دین اسلام چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرے گا، اسے اسلامی شریعت کے مطابق سزائے موت دی جائے گی، تاہم ایسے فرد کو اسلام کی طرف رجوع اور توبہ کی تلقین بھی کی جائے گی اور اس مقصد کے لئے مناسب وقت دیا جائے گا، تاہم اپنے جرم پر اصرار یا جرم ارتداد کی بار بار تکرار پر مجرم کو حسب قانون سزا دی جائے گی۔ پیش کردہ مسودۂ قانون میں مرتد کی جائیداد کے انتظام، اس کی اولاد کی ولایت اور اس کی بیوی کی عدت کے حوالے سے تفصیلی احکام وضع کئے گئے ہیں۔
مجلس عمل کے ذرائع کے مطابق افغانستان میں ایک شخص کے ارتداد اور سرکاری سرپرستی میں اسے بیرون ملک بھیج دینے کے واقعہ نے اہل پاکستان کو شدید متاثر کیا ہے، اس حوالے سے اشد ضروری ہے کہ بروقت قانون سازی کی جائے۔ بل کے اغراض و مقاصد کے مطابق مسلمانان پاکستان کے ایمان کی حفاظت مملکت کی ذمہ داری ہے، لہٰذا اس قانون کا وضع کیا جانا ضروری ہے۔ بل پر لیاقت بلوچ کے علاوہ قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن، مولانا عبد المالک، اسد اللہ بھٹو، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر سمیت ۲۳؍ ارکان اسمبلی نے دستخط کئے ہیں۔
(روزنامہ امت کراچی مورخہ ۴؍مئی ۲۰۰۶ء)
بلاشبہ اسلامی ممالک اور خصوصاً غریب ممالک میں عیسائی اور دوسری لادین مشنریوں کے اثر و نفوذ، خصوصاً پڑوسی ملک افغانستان میں مرتد ہو جانے والے ایک شخص اور پوری دنیائے کفر کی جانب سے اس کی حمایت، تائید، سرپرستی اور مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی خصوصی مہم سے امریکا اور اس کے حواریوں کے بھیانک کردار کے سدباب کے لئے ضروری تھا کہ اس قانون کی تنفیذ سے مسلمانوں کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دین وایمان کا تحفظ کیا جائے۔
بہر حال متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے اس موقع پر ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بروقت قدم اٹھا کر اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اب آگے قومی اسمبلی کے مسلمان ارکان پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۱ مئی ۲۰۰۶ء ص۴، ۵)
توہین رسالت کے ملزم کو بے جا رعایت
قادیانیوں کو ملک میں جس قدر آئینی اور ماورائے آئین مراعات فراہم کی گئی ہیں، ان کا تذکرہ اکثر وبیشتر ان صفحات پر کیا جاتا رہا ہے۔ قانون ساز اداروں سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک ہر جگہ ان کے ہم دم ساز اور مونس وغم خوار موجود ہیں، جو ہر وقت ان پر ہونے والے فرضی مظالم کا رونا روتے رہتے ہیں اور انہیں ہر ممکن امداد پہنچانے کی فکر میں سرگرداں رہتے ہیں۔
توہین رسالت اور قادیانیت لازم وملزوم ہیں، قادیانیت کی بنیاد ہی توہین رسالت پر رکھی گئی ہے اور اس کا خمیر گستاخیٔ رسول سے گوندھا گیا ہے، گزشتہ دنوں ملک میں ڈنمارک، ناروے اور دیگر ممالک میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا مسئلہ اٹھا، جس پر پوری امت مسلمہ کی طرح پاکستان کے مسلمانوں نے بھی بھر پور احتجاج کیا، اس اندوہناک واقعہ کا غبار ابھی چھٹنے بھی نہ پایا تھا کہ ملک میں موبائل فون کے ذریعہ توہین آمیز پیغامات کی ترسیل کا سلسلہ چل نکلا، جس میں ایس ایم ایس کے ذریعہ توہین رسالت پر مشتمل پیغامات ایک فون سے دوسرے فون پر بھیجے جانے لگے، جب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس کی اطلاع ملی تو اس کے خلاف فوراً اقدامات اٹھائے گئے۔ چنانچہ کراچی میں خورشید احمد نامی شخص جس کے موبائل پر ایسے دو پیغامات موصول ہوئے تھے، سے رابطہ کیا گیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی معیت میں بحیثیت مدعی انہوں نے توہین آمیز پیغام بھیجنے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ اس ایف آئی آر میں ساہیوال کے نواحی گاؤں میں رہنے والے منور احمد کو ملزم نامزد کیا گیا جو مبینہ طور پر قادیانی ہے۔ پولیس نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے قمر ڈیوڈ نامی ایک شخص کو گرفتار کر لیا اور اس کو بھی اس کیس میں ملزم کی حیثیت دی لیکن اس کا ریمانڈ تک نہیں لیا گیا اور جیل کسٹڈی کر دیا گیا۔ بعد ازاں ملزم منور احمد کو گرفتار کر کے کراچی لایا گیا، لیکن پولیس نے اسے بے جا مراعات فراہم کیں اور دوران تفتیش اسے رہا کر دیا۔ ملزم کی بے جا رہائی کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے عدالت میں درخواست دائر کی، جس پر متعلقہ عدالت نے ایکشن لیتے ہوئے پولیس کو بعض ہدایات جاری کیں۔ اس حوالہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے درج ذیل پریس ریلیز جاری کیا:
”توہین رسالت کے ملزم کی پولیس کی جانب سے رہائی کے خلاف دائر کردہ درخواست پر کارروائی۔
سیشن جج ساؤتھ نے احکامات جاری کئے کہ ملزم کو ۲۶ جون کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔
ملزم نے اپنے موبائل فون سے مدعی کے موبائل فون پر توہین آمیز ایس ایم ایس پیغام بھیجا۔
کراچی (پ ر) سیشن کیس ۳۷۹/۲۰۰۶ میں توہین رسالت کے نامزد ملزم منور احمد کی پولیس کی جانب سے رہائی کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وکیل منظور احمد میئو راجپوت ایڈووکیٹ کی دائر کردہ درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے سیشن جج ساؤتھ محترمہ فرزانہ اقبال نے متعلقہ تفتیشی افسر کو احکامات جاری کئے ہیں کہ توہین رسالت کے کیس میں نامزد ملزم کو ۲۶ / جون ۲۰۰۶ء کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے اور کیس کی تمام پولیس کارروائی بھی عدالت میں پیش کی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تفصیلات کے مطابق ملزم منور احمد نے اپنے موبائل فون سے مدعی مقدمہ خورشید احمد کے موبائل فون پر توہین آمیز ایس ایم ایس پیغام بھیجا، جس میں حضور اکرم ﷺ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ جس پر مدعی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے صدر تھانہ میں منور احمد کے خلاف زیر دفعہ ۲۹۵۔اے، ۲۹۵۔سی، ۲۹۸۔اے ایف آئی آر نمبر ۱۲/۲۰۰۶ درج کرائی۔ پولیس نے ملزم قمر ڈیوڈ کو گرفتار کیا، اس سے موبائل کی سم (Sim) برآمد کی اور ساتھ ہی ساتھ ملزم منور احمد کو بھی گرفتار کیا لیکن پولیس نے تفتیش کے دوران ہی ملزم منور احمد کو رہا کر دیا۔ اس رہائی کے خلاف مدعی نے درخواست دائر کی۔ مدعی کے وکیل منظور احمد میو راجپوت ایڈووکیٹ نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ منور احمد اور قمر ڈیوڈ دونوں نے مل کر یہ گستاخانہ توہین آمیز ایس. ایم. ایس بھیجے ہیں، منور احمد اس مقدمہ میں نامزد ملزم ہے اور اس کے خلاف ثبوت کے طور پر بہت سی گواہیاں بھی موجود ہیں، اس لئے پولیس نے ملزم کو بددیانتی سے جان بوجھ کر رعایت دی اور دفعہ ۱۶۹ کے تحت چھوڑ دیا جو کہ غلط ہے، منور احمد کے خلاف استغاثہ کے چار گواہوں نے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں جن میں گواہان نے یہ بات کہی کہ منور احمد کے نام سے ہی کمپنی میں اس فون نمبر کا ریکارڈ موجود ہے۔ جس سے توہین آمیز ایس. ایم. ایس بھیجے گئے اور منور احمد ہی کے نام سے ایف. آئی. آر درج کروائی گئی ہے، لہٰذا ملزم منور احمد اور قمر ڈیوڈ دونوں نے مل کر پلاننگ کے تحت یہ توہین آمیز پیغام بھیجے ہیں، اس لئے منور احمد کو بھی ملزم نامزد کیا جائے۔ منظور احمد میو راجپوت ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ پولیس نے ملزم قمر ڈیوڈ کو ۲۴؍ مئی ۲۰۰۶ء کو گرفتار کیا اور ۲۵؍ مئی کو اسے متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ریمانڈ کے لئے پیش کیا، لیکن اس ریمانڈ پیپر میں ایف. آئی. آر میں نامزد ملزم منور احمد کی گرفتاری یا عدم گرفتاری کا کوئی تذکرہ موجود نہیں تھا، حالانکہ نامزد ملزم کو اگر گرفتار نہ کیا گیا ہو تو ریمانڈ پیپر میں اس کی عدم گرفتاری ظاہر کرنا ضروری ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کی شروع ہی سے یہ کوشش تھی کہ ملزم منور احمد کو بے جا رعایت دی جائے۔ اس پر سیشن جج ساؤتھ محترمہ فرزانہ اقبال نے متعلقہ تفتیشی افسر کو احکامات جاری کئے کہ توہین رسالت کے کیس میں نامزد ملزم منور احمد کو ۲۶؍ جون ۲۰۰۶ء کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے اور کیس کی تمام پولیس کارروائی بھی عدالت میں پیش کی جائے۔‘‘
اس موقع پر ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ پولیس اس قسم کے ماورائے آئین اقدامات کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر قانونی مراعات فراہم کرنا آئین اور قانون کی خلاف ورزی اور اسلام اور پاکستان سے غداری کے مترادف ہے، کیا پاکستان کو قادیانیت کے فروغ و تحفظ کے لئے قائم کیا گیا تھا؟ پاک دامن مسلم خواتین نے اپنی عصمتیں اس لئے لٹائی تھیں کہ ملک میں قادیانیت کا راج ہو؟ لاکھوں افراد نے بے گھر ہونا اس لئے گوارا کیا تھا کہ مرزائیوں کو ڈھیل دی جائے اور ان کے غیر قانونی، اسلام دشمن اور توہین رسالت پر مشتمل اقدامات کو قانون نافذ کرنے والے ادارے تحفظ فراہم کریں؟ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے، تو ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ پولیس نے ملزم منور احمد کو آخر کیوں رہا کیا؟ پولیس کے اس اقدام نے اس کی کارکردگی اور وابستگی پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جس کی وضاحت ارباب اقتدار اور محکمہ پولیس کے کارپردازوں کے ذمہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ توہین رسالت جیسے سنگین جرم میں قادیانیوں کے ملوث ہونے کا ثبوت ملنے کے بعد ان کے خلاف کارروائی حکومت کا آئینی وقانونی فریضہ ہے۔ حکومت کو ایسے افراد کو جلد سے جلد اور سخت سے سخت سزا دے کر ملک کو انتشار وانارکی میں مبتلا ہونے سے بچانا چاہئے، یہی آئینی تقاضا اور عوامی مطالبہ ہے، جس کا جلد از جلد پورا کیا جانا ملکی اور قومی مفاد میں ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جولائی ۲۰۰۶ء ص۴، ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کا مناظرہ سے فرار
قادیانیوں کا میدان مناظرہ سے فرار اور مسلمانوں کی فتح عنایت پور بھٹیاں کے قریب احمد والہ تھانہ بوانہ ضلع جھنگ میں قادیانی مربی ایک ماہ سے احمد والہ میں جا کر مسلمانوں کو مناظرے کا چیلنج کرتے رہے۔ احمد والہ کے مقامی خطیب حضرت مولانا محمد اسحق نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے خطیب حضرت مولانا غلام مصطفیٰ سے رابطہ کیا کہ قادیانی پورے علاقہ میں چناب نگر سے مربیوں کی ویگن بھر کر آتے ہیں اور مسلمانوں کو چیلنج کرتے پھرتے ہیں کہ ہم سے مناظرہ کرو۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نے کہا کہ آپ ان کا چیلنج قبول کر لیں۔ جو تاریخ طے ہوئی میں آ جاؤں گا۔ قادیانیوں نے خود تاریخ دی۔ جگہ مقرر کی۔ خود اپنی مرضی سے موضوع مقرر کیا۔ مقررہ تاریخ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ کتابیں لے کر وہاں پہنچ گئے۔ علاقہ کے مسلمان اور دیہاتوں کے علماء بھی موقع پر پہنچ گئے۔ قادیانی مربی اور مربیوں کے استاد ظفر احمد، رائے اللہ بخش بھٹی قادیانی علاقہ کا زمیندار اور دیگر قادیانی بھی دوسرے چک سے آئے ہوئے تھے۔ جب مسلمان علماء کا پتہ چلا تو قادیانی کہنے لگے کہ ہم مناظرہ نہیں کرتے تو علاقہ کے معززین مسلمان قادیانیوں کے پاس گئے کہ اب آؤ۔ ایک ماہ سے آپ خود ہمیں مناظرہ کا چیلنج کرتے رہے۔ قادیانی دو گھنٹے کے بعد بڑی مشکل سے آئے۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت مولانا شبیر مناظر مقرر ہوئے۔ معاون عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خطیب حضرت مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر اور حضرت مولانا مشتاق احمد معاون مقرر ہوئے۔ مجلس احرار کے حضرت مولانا محمد مغیرہ بھی موجود تھے۔ مقامی لوگ ثالث مقرر ہوئے۔ تین گھنٹے تک سوالات و جوابات کا سلسلہ جاری رہا۔ قادیانیوں کی اصل کتابوں سے حوالے دکھائے گئے۔ مرزائی ایک بھی حوالے کا جواب نہ دے سکے۔ جب کسی حوالے کا جواب نہ آیا تو پندرہ دن کا ٹائم مہلت کے طور پر مانگا کہ ہم تیاری کر کے آئیں گے۔ مقررہ تاریخ پر حضرت مولانا غلام مصطفیٰ اور دیگر علمائے کرام احمد والہ میں پہنچے تو مرزائی بھاگ گئے۔ مقامی خطیب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے معاون حضرت مولانا محمد اسحاق نے مسلمانوں کا خصوصاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو سراہا۔ حاضرین میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر وافر مقدار میں تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۶ء ص ۴۵، ۴۶)
قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے ڈھاکہ میں ہزاروں افراد کا مظاہرہ
بنگلہ دیش میں تحریک ختم نبوت نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر دیا۔ اس حوالے سے دارالحکومت میں ہزاروں لوگوں نے مظاہرہ کیا جس کے پیش نظر حکومت نے قادیانیوں کی عبادت گاہ اور کالونیوں کی حفاظت کے لئے ۱۵۰۰ سیکورٹی اہلکار تعینات کر دیئے۔ ریلی کے دوران تحریکی ساتھیوں نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور قادیانی جماعت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم کے رہنما مولانا علی احمد نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ مسلم قوم کی تمام تر پہچان ختم نبوت ہی کی وجہ سے ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے ہندوستان میں مسلمانوں نے کتنی قربانیاں دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمسایہ ملک پاکستان نے بھی آئینی طور پر مرزائیوں کو اقلیت قرار دے کر غیر مسلم تصور کیا ہے۔ لہٰذا اس کے تحت بنگلہ دیشی حکومت کو چاہئے کہ انہیں فوری طور پر اقلیت قرار دینے کے لئے پارلیمنٹ میں بل پیش کرے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۶ء ص ۴۸)
پولیس کا قادیانیوں کے مرکز پر چھاپہ، ۲ قادیانی گرفتار، شرانگیز مواد برآمد
ڈیرہ غازی خان: شرانگیز مواد برآمد ہونے پر قادیانی جماعت کے دو افراد کے خلاف مقدمہ درج، تفصیل کے مطابق بلاک نمبر ۳
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں قادیانی جماعت کے مرکز پر چھاپہ مار کر پولیس نے شر انگیز مواد پر مبنی قادیانیوں کے ایک بڑے ہفت روزہ کی ۳۱ عدد کاپیاں ضبط کر کے دو قادیانیوں بشیر احمد وغیرہ کو گرفتار کر کے ان سے فرقہ واریت پر مبنی مواد برآمد کر لیا۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ۱۸۸ کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ دریں اثناء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن غفاری نے کہا کہ قادیانی شروع سے ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت قادیانیوں کا پوری سختی کے ساتھ محاسبہ کر کے ان سے مزید مواد برآمد کرے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت اپنا مشن جاری رکھے گی اور حضور اقدس ﷺ کی نبوت کے منکرین کا تعاقب جاری رہے گا۔
اندرون سندھ ارتدادی سرگرمیوں میں ملوث ۳ قادیانی گرفتار
جھڈو: قادیانیوں کے اوچھے ہتھکنڈے، ۲ سادہ لوح مسلمانوں کو زبردستی قادیانی عبادت خانے میں لا کر قادیانی طریقے سے عبادت کروانے اور ۳ گھنٹے حبس بے جا میں رکھ کر آئندہ قادیانیوں کے ساتھ باقاعدہ نماز پڑھنے کا وعدہ لے کر آزاد کرنے والے ۳ قادیانی گرفتار، سیٹلائٹ ٹاؤن تھانہ میں مقدمہ درج تفصیلات کے مطابق العمران ٹاؤن کے باشندے محمد علی ولد شادو منگھی نے سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس اسٹیشن پر سب انسپکٹر عبدالرشید چانڈیو کے پاس ضلع میر پور خاص اور زیریں سندھ میں قادیانیت کی تبلیغ کرنے والے افراد کی غیر قانونی سرگرمیوں کا راز فاش کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کروائی ہے کہ مولا بخش، حاجی خاصخیلی اور اکبر نامی قادیانی افراد ان کو خیرات کا کھانا کھلانے کے بہانے ایک مکان میں اور بعد ازاں ڈاکٹر منان قادیانی کی رہائش گاہ پر واقع عبادت خانے میں لے گئے۔ مذکورہ عبادت میں مسعود چانڈیو اور نیاز مرزائی نے انہیں آدھا کلمہ پڑھوایا اور اذان، تکبیر کے بغیر نماز زبردستی ادا کروائی۔ اس وقت عبادت خانے میں تقریباً ۱۸ افراد موجود تھے۔ محمد علی نے بتایا کہ مذکورہ عبادت خانہ میں اعلیٰ درجہ کے فرنیچر، سی ڈی پلیئر اور ٹیلی ویژن رکھا تھا۔ اس نے بتایا کہ انہوں نے متعدد مرتبہ مذکورہ جگہ سے نکلنے کی کوشش کی لیکن مسعود چانڈیو اور دیگر قادیانیوں نے انہیں جانے نہیں دیا اور زبردستی ۳ گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھ کر بالآخر اس شرط پر آزاد کیا کہ عبادت قادیانیوں کے ساتھ ادا کریں گے۔ محمد علی منگھی کے ساتھ قادیانیوں کے تشدد کا شکار ہونے والے ورایو نے بتایا کہ مرزائیوں نے دھوکہ دہی کے ذریعہ قادیانی عبادت خانے میں عبادت کروا کر ان کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ جس سے ان کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ مذکورہ افراد کی درخواست پر گزشتہ دنوں سب انسپکٹر عبدالرشید نے ۸ افراد کے خلاف دفعہ ۳۴، ۳۴۱، ۲۹۸ سی، پی پی سی کے تحت ایف آئی آر ۲۰۰۶ء/۶۲ درج کر کے مقدمہ انویسٹی گیشن انچارج کانبو خان مری کے حوالے کر دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۶ء ص ۴۷، ۴۸)
نبی کریم ﷺ سے متعلق توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور سرپرستی کرنے والے
ڈنمارک اور ناروے کے مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے
اللہ رب العزت کے بعد اس کی تمام مخلوقات میں حضور ﷺ کی عزت و مرتبہ سب سے اعلیٰ و برتر ہے۔ آپ ﷺ کی توہین یا آپ ﷺ کی شان میں گستاخی شدید ترین جرم ہے۔ یہ بدترین جرم کرنے والا شخص مسلمان نہیں رہتا بلکہ فوراً دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ حضور ﷺ کی عزت ناموس کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ مسلمان کا ایمان اس وقت کامل و مکمل ہوتا ہے جب اس کے دل میں آپ ﷺ کی محبت اپنی جان، مال، آل اولاد، ماں باپ اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر موجود ہو۔ اسی طرح حضور ﷺ کی شان میں گستاخی پر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اشتعال میں آنا فطری اور محبت رسول ﷺ کی علامت ہے۔ یہی چیز ایک مسلمان کو دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے ممتاز کرتی ہے کہ مسلمان اپنے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور آپ ﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کرتا۔
کچھ عرصہ پیشتر ڈنمارک کے ایک اخبار نے حضور ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر کے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ جب کہ اس کے بعد ناروے کے ایک اخبار اور بعد ازاں فرانس، اٹلی، جرمنی اور اسپین کے اخبارات نے بھی یہی توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کئے۔ ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں نے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبارات کا دفاع کر کے گویا یہ ثابت کیا کہ یہ سب کچھ ان کے ایماء پر کیا گیا ہے۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے جو جرأت مندانہ ردعمل سامنے آیا، وہ جرأت ایمانی اور محبت رسول ﷺ کا نمونہ ہے۔ سعودی عرب، پاکستان، کویت، مصر، انڈونیشیاء، عراق، افغانستان، صومالیہ، شام، بھارت، فرانس، اٹلی، تھائی لینڈ سمیت دنیا بھر کے دیگر ممالک کی حکومتوں کی جانب سے توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کی مذمت کی گئی اور ان ممالک میں اس گھناؤنے جرم کے خلاف زبردست احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ دنیا کے تمام اسلامی ممالک کی تنظیم او۔ آئی۔ سی نے اس کے خلاف جرأت مندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے ڈنمارک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا اور ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں کی جانب سے یہ خاکے شائع کرنے والے اخبارات کے دفاع کی مذمت کی۔ مختلف ممالک نے ان یورپی ممالک کے سفیروں کو بلا کر احتجاج کیا۔ جب کہ سعودی عرب اور شام نے بطور احتجاج ڈنمارک سے اپنے سفیر واپس بلا کر ان ممالک سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ جب کہ سعودی عرب میں ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی جاری ہے۔ عراق نے احتجاجاً ڈنمارک اور ناروے سے دو معاہدے ختم کر دیئے۔ پاکستان میں سربراہان مملکت، ممبران اسمبلی، دینی مدارس، علمائے کرام، دینی جماعتوں، سیاسی جماعتوں، تاجروں اور صحافیوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان توہین آمیز خاکوں کی شدید مذمت کی۔
بی۔ بی۔ سی کے مطابق ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں ڈنمارک کی مصنوعات کی فروخت میں کمی ہوئی ہے۔ ہم ان مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے حب رسول ﷺ کے جذبہ سے سرشار ہو کر ڈنمارک کی مصنوعات خریدنا ترک کر دیں۔ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کو اپنی طرف سے جزائے خیر عطاء فرمائے اور بروز قیامت حضور ﷺ کا ساتھ اور آپ ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ امت مسلمہ جب تک سرکار دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ و سربلندی کے لئے ہر اقدام اٹھانے کے لئے تیار رہے گی، اس وقت تک عظمت و سرفرازی اس امت کا مقدر رہے گی۔ سعودی حکومت نے ڈنمارک سے اپنے سفیر کو واپس بلا کر اور سعودی عوام نے ڈنمارک کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ ہم سعودی حکومت کی اس ایمانی جرأت پر اسے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور حکومت پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سعودی عرب کی طرح ڈنمارک اور ناروے کی حکومتوں سے سخت احتجاج کرتے ہوئے ڈنمارک اور ناروے سے اپنے سفیروں کو واپس بلائیں اور ڈنمارک اور ناروے کے سفیروں کو ملک بدر کر کے ان ممالک سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیں۔ اسی طرح ہم پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت میں ملوث تمام ممالک بالخصوص ڈنمارک اور ناروے کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے نبی اکرم ﷺ سے عشق ومحبت کا بھر پور ثبوت دیں۔ ان شاء اللہ! ان کا یہ عمل قیامت کے دن ان کے لئے آقائے دو عالم ﷺ کی شفاعت کے حصول کا ذریعہ بنے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میرپور خاص میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
میرپور خاص کے ایک قادیانی گھرانے کی انیس سالہ لڑکی ثمینہ بنت مبارک نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میرپور کے ناظم اور مدینہ مسجد کے خطیب حضرت مولانا حفیظ الرحمن فیض کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ محترمہ ثمینہ بنت مبارک نے جوڈیشل مجسٹریٹ میرپور خاص کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں عاقل، بالغ ہوں اور اپنی خوشی سے اسلام قبول کر رہی ہوں۔ جب کہ مجھ پر کسی بھی قسم کا دباؤ یا زبردستی نہیں کی گئی۔ میں مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ قادیانیت ایک جھوٹا اور لعنتی مذہب ہے۔ اس موقعہ پر جناب قاری نجیب الرحمن، مولانا عنایت اللہ، جناب قاری ولی اللہ، مولانا محمد علی صدیقی اور دیگر حضرات موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۶ء ص۳۳)
چناب نگر میں قادیانی کا قبول اسلام
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر میں حضرت مولانا غلام مصطفیٰ مبلغ حلقہ چناب نگر کے ہاتھ پر راجپوت قوم کے فضل میراں نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد فضل میراں نے کہا کہ میں نے بغیر کسی جبر کے اسلام قبول کیا ہے اور میں قادیانیت کو جھوٹا، لعنتی اور چندے وصول کرنے والا مذہب کہتا ہوں۔ اس موقع پر مولانا نے نومسلم کو مبارک باد پیش کی اور مٹھائی تقسیم کی گئی۔ اللہ رب العزت نومسلم کو دین اسلام پر استقامت عطا فرمائیں اور اسے دین حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۶ء ص۱۳)
چناب نگر میں قادیانی کا قبول اسلام
محمد داؤد ولد میاں محمود احمد قوم ارائیں سکنہ ۱۶۵ سی گلی نمبر ۸ دارالفتوح غربی چناب نگر ضلع جھنگ نے جناب صاحبزادہ طارق محمود کے روبرو قادیانی مذہب سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ محمد داؤد نے گواہان کی موجودگی میں حلفاً بیان کیا کہ وہ قادیانی مذہب اور بانی مذہب کو ان کے تمام دعاوی نبی، ظلی نبی، امتی نبی، مسیح موعود میں جھوٹا، کافر، کاذب اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ محمد داؤد کا سابقہ نام داؤد احمد تھا۔ آئندہ انہیں محمد داؤد کے نام سے پکارا جائے۔ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اگر قادیانی جماعت کی طرف سے کوئی جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا تو اس کی ذمہ داری قادیانی قیادت پر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ محمد داؤد کو دین اسلام پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۸)
میرپور خاص میں گیارہ قادیانیوں کا قبول اسلام
۲۴؍ اپریل ۲۰۰۶ء کا دن میرپور خاص کی تاریخ کا اہم دن ہے، جب گیارہ افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میرپور خاص کے ناظم اعلیٰ مولانا حفیظ الرحمن فیض اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔
۲۴؍ اپریل ۲۰۰۶ء کو مغرب کی نماز کے بعد مدینہ مسجد شاہی بازار کے خطیب مولانا حفیظ الرحمن فیض نے جب ان کے قبول اسلام کا اعلان کیا تو پوری مسجد اللہ اکبر اور ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی، نمازی حضرات ایک گھنٹہ تک نومسلموں کو مبارک دیتے رہے، بہت سے باریش مسلمان خوشی کے جذبات سے مغلوب ہو کر اشکبار تھے۔ نومسلم عزیز اللہ پنہور نے بتایا کہ میرا بڑا بھائی دماغی ٹیومر کا مریض تھا، میں اس کے علاج کے لئے پریشان تھا اسی اثنا میں قادیانی مربی مسعود چانڈیو مجھے ملا اور کہا کہ ڈاکٹر عبد المنان اس کا فری علاج
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرے گا۔ وہ مجھے ڈاکٹر عبدالمنان کے پاس لے گیا، اس نے چیک اپ کیا اور کہا کہ یہ مرض تو بہت سیریس ہے، علاج کے لئے لاکھوں روپے خرچ ہوں گے، اس کا علاج جرمنی میں ہوگا، میں نے کہا کہ میں غریب آدمی ہوں، علاج کے لئے جرمنی نہیں جاسکتا، اس پر ڈاکٹر عبدالمنان اور مسعود چانڈیو قادیانی نے کہا کہ آپ اور آپ کا بھائی قادیانی جماعت کا فارم پر کردیں، ہم اس کا علاج اپنی جماعت کی طرف سے کرائیں گے، میں اس لالچ کی بنا پر قادیانی بن گیا۔
علاج تو ان لوگوں نے کیا کرنا تھا یہ لوگ ہمارے ہی خرچ پر ہمیں کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں گھماتے رہے اور بالآخر تنگ آ کر میرے بھائی نے خودکشی کر لی۔ قادیانی ڈاکٹر عبدالمنان نے میری ایک بیٹی کی شادی ایک قادیانی سے کرادی، اس نے ہمیں جس طرح تنگ کیا اس کی مثال نہیں ملتی، بالآخر اس نے میری بیٹی کو طلاق دے دی۔ قادیانیوں نے بیعت فارم پر کر کے قادیانی بنایا تھا، میری بیٹی کی شادی قادیانی سے کرائی، لیکن ہمیں بیعت فارم نہ دیا اور نہ ہی نکاح فارم دیا۔
قادیانی کوئی امداد نہیں کرتے بلکہ وہ ہم سے دو ہزار روپے ہر ماہ قادیانی جماعت کے لئے چندہ وصول کرتے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ قادیانی نبی کریم ﷺ کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان میں زکوٰۃ دینے کا رواج نہیں، میں نے ان کی محفلوں میں حج کا تذکرہ تک نہیں سنا، کسی قادیانی مربی نے نہیں بتایا کہ حج فرض ہے، میں نے کتابوں میں پڑھا کہ مکہ کے کافروں نے ایک عرصہ تک آپ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو مکہ نہیں آنے دیا، لیکن مسلمان حج کے لئے اور بیت اللہ کو دیکھنے کے لئے تڑپتے تھے، لیکن قادیانی ربوہ، قادیان اور برطانیہ کا تذکرہ کرتے تھے، لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔
میرا تعلق پنہور برادری سے ہے، قادیانی بن جانے کے بعد پوری برادری نے میرا بائیکاٹ کر دیا اور گاؤں سے نکال دیا، میں قادیانی تو ہو گیا، لیکن میرا چین وسکون ختم ہوگیا۔ برادری کے دو اشخاص ماسٹر محمد رحیم بخش پنہور اور عبدالجبار پنہور نے محنت جاری رکھی اور ہمیں اسلام کی طرف لانے میں سب سے زیادہ کردار ان حضرات کا ہے۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ایک بار پھر اسلام کے سایہ میں آگئے ہیں اور ہمارا سکون لوٹ آیا ہے۔
اس واقعہ سے قادیانیوں کے فلاحی کاموں کا پردہ چاک ہو گیا، اب بھی کوئی ان کے فلاحی کام سے ان کے دھوکے میں آئے تو یہ اس کی حماقت ہوگی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرات تو شروع دن سے ہی یہ بات کہتے چلے آ رہے ہیں کہ قادیانی اور عیسائی فلاحی کام کر کے دراصل اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں، ہماری معلومات کے مطابق آج کل قادیانیوں اور عیسائیوں نے مسلمانوں کو تبلیغ کرنا کم کر دی ہے اور تھر پارکر میں ہوسٹل بنا کر غیر مسلم کولہی، بھیل اور میگھو قوم کے بچوں کو تعلیم دینے کے بہانے عیسائیت اور قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ بڑے بوڑھوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں، ہم نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو اپنے آپ کو کولہی احمدی، کولہی عیسائی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن قادیانی اور عیسائی بچوں پر محنت کر رہے ہیں کہ جب وہ بڑے ہوں گے تو ان کے دماغوں میں قادیانیت وعیسائیت رچ بس چکی ہوگی۔
تھر پارکر کے ایک ہندو گھرانے کے ایک بچے نے اپنے گھرانے سمیت عیسائیت قبول کر لی، عیسائی این. جی. اوز نے اس کو امریکا میں ڈاکٹری کی تعلیم دلائی اور پھر تھر پارکر میں ایک ہسپتال میں اس کو سرکاری طور پر سرجن لگوایا، کچھ عرصہ بعد وہ اپنے پرانے مذہب پر لوٹ آیا، عیسائی این. جی. اوز نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے تو اس نے کہا کہ میں اور میرا گھرانہ نہ پہلے عیسائی ہوا اور نہ اب، میں نے یہ سب ڈرامہ اس جگہ تک پہنچنے کے لئے رچایا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عزیز اللہ پنہور کا بیٹا کامران بھی اسی طرح مٹھی کے ایک سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور رہتا قادیانیوں کے ہوسٹل واقع مٹھی میں تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری حکومت اس سازش کی روک تھام کے لئے کیا کوششیں کرتی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۹ تا ۲۳ مئی ۲۰۰۶ء ص ۶)
حیدرآباد میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام
حیدرآباد (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کی تبلیغی کوششوں کی بنا پر تین قادیانیوں اور ایک عیسائی نے اسلام قبول کیا ہے، محمد شاہد قادیانی نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے امیر ڈاکٹر مولانا عبدالسلام قریشی ، نائب مہتمم جامعہ عربیہ مفتاح العلوم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ محمد شاہد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت ایک جھوٹا مذہب ہے اور مجھے انتہائی شرمندگی ہے کہ میں زندگی کا اتنا حصہ اسلام سے محروم رہا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے مبلغ مولانا محمد نذر کے ہاتھ پر دو قادیانی خواتین نے اسلام قبول کیا ہے، سکینہ بنت شریف اور حنا مہوش بنت یاسین نے ڈاکٹر حفظ الرحمٰن، قاری رفیق اللہ، محمد عمران کی موجودگی میں قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا دونوں نومسلم خواتین کے عزیز واقارب سارے قادیانی ہیں، اسلام قبول کرنے پر قادیانیوں نے نومسلم خواتین کو گھروں سے نکال دیا۔
نومسلمہ سکینہ بنت شریف نے بتایا کہ اس کا والد چار بھائی اور آٹھ بہن قادیانی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات نے انہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اسلام ایک سچا اور کھرا مذہب ہے قادیانیت سوائے مکر و فریب کے کچھ بھی نہیں۔ نومسلمہ خاتون نے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد تمام مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، نومسلمہ خواتین نے تمام مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نبی خاتم کے ارشادات کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے مبلغ مولانا محمد نذر کے ہاتھ پر دانیال مسیح ولد برکت مسیح سکنہ سکندرآباد کوٹری نے جامع مسجد ختم نبوت غریب آباد میں نماز ظہر کے بعد اسلام قبول کیا۔ مسجد ختم نبوت کے امام مولانا عبدالحمید، مولوی مراد، ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن، جناب محمود، ڈاکٹر جمال الدین پنہور، ارباب محمد ستی، شیر محمد خاص خیلی بھی مسجد میں موجود تھے، دانیال مسیح کا اسلامی نام غلام محمد رکھا گیا، دانیال مسیح نے بتایا کہ مسجد ختم نبوت کی چھت کی شیٹرنگ میں نے کی ہے اور چھت کی بھرائی کے وقت بھی موجود رہا، اس پر مولانا محمد نذر نے ان سے کہا کہ آج آپ نے اسی مسجد کی چھت کے نیچے بیٹھ کر اسلام قبول کیا ہے، دانیال مسیح کے تمام رشتہ دار عیسائی ہیں، اہل محلہ نے اسلام قبول کرنے والے نو مسلم بھائی غلام محمد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، مٹھائی تقسیم کی گئی تقریب کے آخر میں دعا کی گئی۔ اللہ تعالیٰ تمام بھٹکے ہوئے لوگوں کو اسلام کے سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ جولائی ۲۰۰۶ء ص ۱۸)
پشاور میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام
میں مسمی طاہر احمد ولد مقبول شاہ ساکن آچینی پایاں پشاور پیدائشی مرزائی تھا، جس کے باعث مرزا غلام احمد قادیانی ولد مرزا غلام مرتضیٰ کا مکمل طور پر پیرو کار تھا اور مرزا قادیانی کے ہر قسم کے دعاوی کی تصدیق کرتے ہوئے جماعت مرزائیہ کے ساتھ پوری طرح وابستہ رہا۔ چونکہ مجھے امریکی شہریت حاصل تھی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد وطن واپسی ہوئی۔ اب یہاں آکر علاقہ کے علماء کرام اور عام مسلمانوں سے ملاقاتوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھ پر حقیقت ثابت ہوئی ہے کہ کذاب مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی اپنے جملہ دعاوی میں جھوٹا اور کذاب تھا۔ اس کے مطبوعہ لٹریچر کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کذاب مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی میں شرافت کی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق حضرت مولانا اللہ وسایا
نشانی تک بھی موجود نہ تھی اور قادیانی جماعت کی ساری عمارت دجل وفریب اور دھوکے کا مکمل گورکھ دھندا ہے اور یہ جماعت حکومت برطانیہ کا خود کاشتہ شجر خبیثہ ہے۔
آج میں بمع اہلیہ اور دو بچیوں کے بغیر کسی دباؤ اور لالچ کے قادیانیت کے کفر سے مکمل برأت کا اعلان کرتے ہوئے محمد عربی ﷺ کے دامن اقدس واطہر سے مکمل وابستگی کا اعلان کرتا ہوں۔ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہدایت ہے اور اسلام ہی دین حق ہے۔ قرآن مجید اور ارشادات رسول کریم ﷺ کے مطابق سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ جل شانہ نے زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا تھا اور قرب قیامت میں دین اسلام کی نصرت کی خاطر آپ آسمان سے دنیا میں نزول فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر علمائے کرام اور علاقہ کے مسلمانوں کی موجودگی میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے میری اہلیہ اور بچیوں کو دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائیں۔ میں علمائے کرام اور مسلمانان علاقہ نیز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگوں کا بے حد ممنون ہوں جن کے پر خلوص تعاون سے مجھے ہدایت نصیب ہوئی۔
الحمد للہ آج صبح میں نے مقامی پولیس افسروں کی موجودگی میں بھی اپنے دستخطوں سے قبول اسلام اور قادیانیت کے کفر کا اظہار کیا ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ میرے حق میں اسلام پر مکمل استقامت کی دعا فرمایا کریں۔ اللہ تعالیٰ دیگر گمراہ مرزائیت سے وابستہ افراد کو بھی ہدایت سے نواز کر اسلام قبول کرنے کی ہمت عطا فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۶ء ص ۵)
فیصل آباد کے سولہ قادیانیوں کا قبول اسلام
سولہ قادیانیوں نے قادیانیت سے تائب ہو کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء صاحبزادہ طارق محمود کے ہاتھوں پر اسلام قبول کر لیا۔ فیصل آباد کے نواحی چک ۱۰۹۔ ر، ب اڈہ ورکشاپ جڑانوالہ روڈ واقع جامع مسجد شوکت علی فضلی میں گزشتہ روز ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں آٹھ مرد اور آٹھ خواتین نے پرجوش نعروں کی گونج میں اسلام قبول کیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک خاندان کے افراد اسلام قبول کرنا چاہتے تھے۔ لیکن قادیانیوں نے انہیں حبس بے جا میں رکھا تھا۔ چنانچہ چوہدری اکرم خاکسار ایڈووکیٹ ممبر بار کونسل نے سیشن کورٹ سے مدد حاصل کی اور بذریعہ بیلف انہیں چک نمبر ۱۰۹ کے اڈہ بھٹہ سٹاپ سے برآمد کروایا۔ اسلام قبول کرنے والے قادیانیوں میں غلام فرید، عبدالحفیظ، محمد رفیق پسران محمد یونس کے علاوہ محمد شریف، خادم حسین، محمد طاہر، محمد شہزاد، محمد وقاص، محمد ادریس پسران محمد شریف اور اس کے خاندان کی آٹھ خواتین بھی شامل ہیں۔
قبول اسلام کی خوشی میں منعقد ہونے والی تقریب سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما صاحبزادہ طارق محمود نے تفصیلی بیان میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانی مذہب کی حقیقت بیان کی۔ انہوں نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ وہ قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے مختلف دعویٰ جات اور ان کی تحریروں پر غور کریں۔ مولانا سید عبدالغفار شاہ نے کہا قادیانیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ حضور اکرم کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مولانا رانا منظور احمد نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مہدی، مسیح اور دعویٰ نبوت میں سچے ثابت نہیں ہوئے۔ چوہدری محمد اکرم ایڈووکیٹ نے کہا قادیانیوں کو ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کے ذریعہ غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام قبول کرنے والے افراد کو ہر طرح سے قانونی امداد اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ مقررین نے چوہدری اکرم خاکسار ایڈووکیٹ کی خدمات کو سراہا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسجد شوکت علی فضلی میں منعقد ہونے والی تقریب میں معززین علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ قاری عبدالواحد نے قادیانیوں کے قبول اسلام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم دیگر بھٹکے ہوئے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہیں۔ تقریب میں محمد اعظم رحیمی، ڈاکٹر محمد امجد، نائیک محمد صدیق، فرزند علی رحیمی، مولانا سید ابوالاعلیٰ، شہزاد اسلم، مولوی محمد دین، رانا محمد رفیق، بشیر احمد جٹ، محمد اسلم مغل کے علاوہ سید طاہر محمود گیلانی بھی موجود تھے۔ دریں اثناء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات ونشریات مولوی فقیر محمد نے ۱۶؍ قادیانیوں کے قبول اسلام کو اسلام کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے کہا دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے نومسلم افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۶ء ص ۵،۷)
ریٹڑہ کے قادیانی کا قبول اسلام
تونسہ / ریٹڑہ (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عاملہ کے رکن مولانا عبدالعزیز لاشاری نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ فرخ شبیر ملکانی کے دادا نے ایک سو سال قبل قادیانیت قبول کر لی تھی، اس کا والد شبیر ملکانی بھی قادیانی تھا، اس کی موت کے بعد مسلمانوں کے اندر فرخ شبیر کے بارہ میں شکوک وشبہات تھے کہ یہ قادیانی ہے اس کے خاندان کے لوگ مسلمان تھے۔ اس سے مکمل نفرت کرتے تھے۔ مگر جمعۃ الوداع کے موقع پر عید گاہ ریٹڑہ کے امام مسجد قاری محمد اسلام امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ریٹڑہ کے سامنے اجتماع عام میں قادیانیت سے برأت کا اعلان کیا اور مرزا قادیانی پر لعنت بھیج دی اور باضابطہ اعلان کیا کہ میرا وہی عقیدہ ہے جو تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ اس پروقار موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما، مولانا عبدالعزیز لاشاری اور اہل علاقہ نے فرخ بشیر ملکانی کو مبارک باد پیش کی۔ استقامت کے لئے دعا کی۔ مولانا عبدالعزیز لاشاری نے عید نماز کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریٹڑہ کے علاقہ کا یہ آخری آدمی ہے۔ جس نے قادیانی خاندان سے قادیانیت چھوڑ کر اس علاقہ سے قادیانیت کا صفایا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت آئے گا کہ قادیانیت کا نام ونشان بھی نہیں رہے گا۔ اس خوشی کے موقع پر تحصیل تونسہ کے امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا امان اللہ کوٹ قیصرانی، مولانا محمد رمضان خطیب جامع مسجد ریٹڑہ، ٹبی قیصرانی کے ناظم جماعت جناب امیر اللہ بگٹی، ضلع ڈیرہ غازی خان کے امیر مولانا غلام اکبر ثاقب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عبدالرحمن غفاری اور علمائے کرام نے فرخ شبیر ملکانی کو مبارکباد پیش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ دسمبر ۲۰۰۶ء ص ۲۴، ۲۵)
کوٹ ادو میں مرزائیت سے توبہ اور اسلام میں شمولیت
کوٹ ادو وارڈ نمبر ایک ٹبہ سلطان پور کے شکیل ناصر نے مرزائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ جس کا اسلامی نام محمد شکیل ناصر رکھا گیا۔ ان کے اسلام قبول کرنے پر مذہبی طبقوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور کونسلر یونین کونسل نمبر ایک غلام شبیر عرف گوگا کی کاوشوں کو سراہا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۶ء ص ۵۲)
سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا تعلیمی، تبلیغی و تنظیمی سہ ماہی اجلاس ۱۹، ۲۰؍ جنوری ۲۰۰۶ء کو ملتان میں منعقد ہوا۔ اس کی پانچ نشستیں ہوئیں۔ جن کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمائی۔ مختلف موضوعات پر مبلغین کے بیانات بھی ہوئے۔ اجلاس میں جن امور پر مشاورت ہو کر فیصلے ہوئے، وہ یہ ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پچھلے دنوں شہباز احمد نامی ایک شخص جو اپنے آپ کو ریاض احمد گوہر شاہی کا پیروکار کہلاتا ہے۔ اس نے امام مہدی ہونے کا اعلان کیا اور بیسیوں افراد کو گمراہ کر کے اپنا پیروکار بنالیا۔ شہباز اور اس کے پیروکاروں نے ایک مسافر بس کو سواریوں سمیت یرغمال بنالیا۔ فیصل آباد کی انتظامیہ نے بڑی حکمت عملی کے تحت اسے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر لیا۔ اسے اور اس کے پیروکاروں کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا اور کئی دفعات پر مشتمل اس کے خلاف کیس رجسٹرڈ کیا ہے اور اس کا کیس مسلسل زیر سماعت ہے۔ حضرت مولانا غلام حسین مبلغ مجلس سرکاری اور غیر سرکاری وکلاء سے رابطہ میں ہیں۔ اگر کیس میں وکلاء مجلس کی ضرورت محسوس کریں تو مجلس بھر پور تعاون کرے گی۔
مدرسہ ختم نبوت چناب نگر
مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں شعبہ پرائمری چل رہا ہے۔ حضرت مولانا اسماعیل علی پوری پرائمری معلم کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اچھروال کے ماسٹر جناب محمد حیات، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ اور ایک اور ٹیچر مل کر بچوں کا ٹیسٹ لیں اور یہ ٹیسٹ ہر ماہ ہوا کرے۔ تاکہ بچوں کو فکر لاحق ہو اور دل لگا کر پڑھیں ۔
ضلعی ختم نبوت کانفرنس
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ رواں سہ ماہی میں کئی اضلاع میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں ۔ چنانچہ تفصیلات درج ذیل ہیں۔ چھ مارچ ڈیرہ غازی خان، دس مارچ اٹک، گیارہ مارچ گجرات، بارہ مارچ منڈی بہاؤالدین، تیرہ مارچ جہلم، چودہ مارچ خانیوال، سولہ مارچ جھنگ، اٹھارہ مارچ ٹوبہ، انیس مارچ ساہیوال، بیس مارچ اوکاڑہ، اکیس مارچ قصور، بائیس مارچ پاکپتن، تئیس مارچ بہاول نگر، چوبیس مارچ بہاول پور، چھبیس مارچ حاصل پور، چھبیس مارچ منڈی یزمان، انتیس مارچ وہاڑی، اکتیس مارچ رحیم یار خان، دو اپریل تا چودہ اپریل اندرون سندھ، پندرہ تا اٹھارہ اپریل کراچی، اکیس اپریل چناب نگر، بائیس اپریل حافظ آباد، تئیس اور چوبیس اپریل گوجرانوالہ، پچیس اور چھبیس اپریل سیالکوٹ۔
مبلغین کے لئے سہ ماہی نصاب
مبلغین حضرات کی مضمون نگاری و مطالعہ کے لئے (آئندہ سہ ماہی) احتساب قادیانیت کی ساتویں جلد مطالعہ کے لئے تجویز کی گئی۔ جس میں کل دس رسائل ہیں۔ تین رسائل : محرم الحرام، تین رسائل: صفرالمظفر، جب کہ چار رسائل: ربیع الاوّل ۔ تمام مبلغین اس کا مطالعہ کریں گے اور اس کی تلخیص کر کے دفتر مرکزیہ ارسال کریں گے۔
سہ سالہ تشکیل مجلس اور ممبر سازی
سہ سالہ ممبر سازی اور تشکیل جماعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دستور کے مطابق ہر تین سال کے بعد مجلس کی ممبر سازی اور تشکیل جماعات ضروری ہیں۔ چنانچہ نئے اسلامی سال ۱۴۲۷ھ میں مجلس کی رکنیت سازی کی جائے گی اور جہاں کم از کم پچیس ممبران ہوں وہاں جماعت کی تشکیل کی جائے گی۔ مندرجہ ذیل حضرات کو مختلف اضلاع اور ڈویژن کا ناظم انتخاب بنایا گیا۔ جو مرکز سے فیس کی رکنیت کی کاپیاں منگوا کر ممبر سازی کریں گے تشکیل جماعات کی نگرانی کریں گے۔ تمام جماعتی رفقاء سے درخواست کی گئی کہ اپنے علاقائی نظماء سے رابطہ کر کے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ختم نبوت کا ممبر بنائیں اور جہاں کم از کم پچیس افراد ممبر بن جائیں وہاں جماعتوں کی تشکیل کرائیں اور اپنے علاقائی نظماء انتخابات سے رابطہ رکھیں۔ ان سے ممبر سازی کی کاپیاں اور تشکیل جماعات کے لئے مطبوعہ فارم طلب فرمائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تفصیلات درج ذیل ہیں۔
کراچی: مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ کی سرپرستی میں جناب رانا محمد انور اور مولانا قاضی احسان احمد مسئول ہوں گے۔ حیدرآباد ڈویژن: مولانا محمد نذر۔ میرپورخاص، بدین ٹھٹھہ وغیرہ: مولانا محمد علی صدیقی۔ تھر پارکر: مولانا خان محمد جمالی۔ سانگھڑ: مولانا احمد میاں حمادی مدظلہ، مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا راشد مدنی مسئول ہوں گے۔ خیر پور میرس، لاڑکانہ: مولانا فیاض مدنی۔ گمبٹ: جناب شیخ عبدالسمیع۔ سکھر ڈویژن: مولانا محمد حسین ناصر۔ رحیم یار خان: مولانا راشد مدنی۔ بہاول پور: مولانا محمد اسحاق ساقی۔ بہاول نگر: مولانا محمد قاسم رحمانی۔ ساہیوال، پاکپتن: مولانا عبدالحکیم نعمانی۔ وہاڑی، خانیوال: مولانا عبدالستار گورمانی۔ ملتان: مولانا اللہ وسایا۔ مظفر گڑھ: مولانا عبدالرشید سیال۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور: جناب قاری محمد یوسف نقشبندی۔ لیہ، بھکر، میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان: مولانا عبدالستار حیدری۔ اوکاڑہ، قصور: مولانا عبدالرزاق مجاہد۔ لاہور: مولانا عزیز الرحمن ثانی۔ گوجرانوالہ، حافظ آباد: جناب حافظ محمد ثاقب اور مولانا ذوالفقار طارق۔ سیالکوٹ، نارووال: مولانا فقیر اللہ اختر۔ جہلم، گجرات، منڈی بہاؤالدین، اسلام آباد: مولانا محمد طیب فاروقی۔ راولپنڈی ڈویژن: مولانا مفتی محمود الحسن۔ آزاد کشمیر: مولانا مفتی خالد میر۔ پشاور ڈویژن: مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور مولانا نور الحق نور۔ ہزارہ ڈویژن: مولانا محمد طیب، جناب ساجد اعوان اور جناب عبدالرؤف روفی۔ بلوچستان، کوئٹہ: مولانا عبدالواحد اور مولانا نثار احمد۔ مبلغین حضرات کا اجلاس دو روزہ ہو کر مولانا حافظ محمد ثاقب کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۶ء ص ۵۱ تا ۵۳)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس
چنیوٹ (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام مدرسہ تعلیم القرآن اچھروال تحصیل چنیوٹ میں آٹھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں علاقہ کی عوام الناس نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کے پنڈال میں عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیوں کے کفریہ عقائد کے متعلق بینرز اور جھنڈے لگا کر پنڈال کو سجایا گیا۔ کانفرنس کی صدارت خطیب چناب نگر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا غلام مصطفیٰ نے کی۔ صدارتی خطبہ میں انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، مسلمانوں کی جانب سے قادیانیوں کے بائیکاٹ، مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغی سرگرمیوں اور کانفرنس و مدرسہ کی غرض وغایت بیان کی۔ کانفرنس سے ملک کے معروف مقرر مولانا ممتاز احمد کلیار، مولانا قاضی کفایت اللہ، مولانا محمد الیاس، مولانا عبید اللہ، قاری عبدالجلیل ودیگر علمائے کرام نے خطاب فرمایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۳؍فروری ۲۰۰۶ء ص ۲۳)
تحفظ ناموس رسالت ﷺ کنونشن ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ناموس رسالت کنونشن ۲۶؍فروری ۲۰۰۶ء کو دفتر ختم نبوت میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے کی، جب کہ تلاوت مولانا عنایت اللہ رحمانی نے کی۔
جے. یو. پی کے حافظ ظفر قریشی نے ہڑتال اور مظاہروں کی کامیابی کے لئے تاجر برادری سے تعاون کی درخواست کی۔
تاجر رہنما عبید الرحمن انصاری نے کہا کہ ملتان کو سیل کیا جا رہا ہے، حکمرانوں کے لئے باعث شرم ہے، اسمال ٹریڈرز کی ایسوسی ایشن جس میں ۱۸۰؍ تاجر تنظیمیں شامل ہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی آواز پر لبیک کہیں گی اور ریلی میں بھر پور شرکت کریں گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوہدری مسعود احمد جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی ملتان نے کہا کہ ہڑتال کے سلسلہ میں دو رائے نہیں ہیں، اس سلسلہ میں احتجاج کو منظم کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے تمام فیصلوں کی تائید کی۔
قاری عبدالرؤف نائب صدر جے یو آئی نے کہا کہ عظمت رسول ﷺ کے تحفظ کے لئے ہم اپنی قیادت کے حکم پر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
میجر مجیب احمد صوبائی نائب صدر تحریک انصاف پنجاب نے کہا کہ ۳؍مارچ کی کال پر تحریک انصاف بھر پور حصہ لے گی، جلسہ میں بھی بھر پور حصہ لیں، قائد تحریک عمران خان کو بھی شرکت کی دعوت دیں گے۔
خالد محمود قریشی صدر انجمن تاجران نے کہا کہ تحریک حرمت رسول ﷺ کے سلسلے میں مرکزی انجمن تاجران کے نمائندگان سے رابطہ کر لیا جائے تاکہ ہڑتال بھر پور ہو اس کا تاجر برادری بھی اعلان کر سکے۔
حافظ اللہ دتہ کاشف ناظم ضلعی اسمبلی نے کہا پہلی مرتبہ ملت اسلامیہ کے متفقہ احتجاج سے مسلمانوں میں عالمی سطح پر بیداری کی لہر اٹھی ہے۔ اس تحریک میں ملکی سطح پر تاجر برادری کا کردار کلیدی رہا ہے۔ انہوں نے کہا:
جناب محمد ابراہیم خان صدر پی ڈی پی ملتان نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ نوابزادہ منصور احمد خان بھی مظاہرہ میں شرکت کر سکیں۔
مولانا عنایت اللہ رحمانی نے تجویز پیش کی کہ قلعہ پر احتجاجی جمعہ ہو تو اس کے اثرات بہت زیادہ ہوں گے۔
تاجر رہنما محمد اختر بٹ نے کہا کہ اس ایشو پر دو رائیں نہیں ہیں، اجتماعی فیصلہ مؤثر رہے گا، بحیثیت مسلمان تمام تجار اس تحریک میں شامل ہوں گے۔
مولانا رشید احمد ارشد صدر جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے کہا کہ ملکی سطح پر تمام قائدین کا مشترکہ بیان کامیابی کا باعث ہوگا۔ اس تحریک کا نام تحفظ مقام مصطفیٰ ہو۔ ۳؍مارچ ۲۰۰۶ء کی ہڑتال اور تحریک جاری رہنی چاہئے۔ ملتان کے خطباء کو بھی علیحدہ دعوت دی جائے تاکہ ہر مسجد سے جلوس کی شکل میں مظاہرہ ہو۔
مولانا مفتی منظور احمد تونسوی نے بھر پور تعاون کا اظہار کیا اور کہا کہ اس تحریک کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔
علامہ سید خالد محمود ندیم ڈپٹی جنرل سیکرٹری جمعیت اہل حدیث پنجاب نے کہا کہ محبت نبوی ﷺ کا تقاضا ہے کہ بغیر دعوت کے بھی ان پروگراموں میں شرکت کی جائے۔ عالم اسلام سراپا احتجاج ہے، حکمران اس میں پوری طرح ملوث ہیں کیونکہ حکمرانوں کی تائید دشمنان رسالت کے ساتھ ہے، اس سلسلہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث آپ کے ساتھ ہے۔ دینی مدارس، عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ سے بھی رابطہ کیا جائے۔
علامہ عبدالحق مجاہد نائب صدر مرکزی مجلس علماء اہل سنت پاکستان نے کہا کہ امت مسلمہ ابتلاء و آزمائش سے گزر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو عارضی طور پر نہیں مستقل بنیادوں پر لینا چاہئے۔
راؤ ظفر اقبال نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ ۳؍مارچ عالمی یوم احتجاج ہے۔ قومی مجلس مشاورت تمام دینی و سیاسی جماعتوں اور نمائندہ افراد کی اپیل ہے۔ ہڑتال کو بھر پور اور کامیاب کیا جائے اور مظاہرہ بھی ملین مارچ کی طرز کا اجتماع ہو۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رانا محمود الحسن ایم ۔ این ۔ اے (نواز لیگ) نے کہا پوری دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، پوری دنیا کے مسلمان اکٹھے ہو گئے۔ اس تحریک میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان، مختلف رنگوں، قوموں،نسلوں کے لوگ اکٹھے ہو گئے ۔ نائن الیون کے بعد بہت ہی تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے۔
ڈاکٹر محمد اکمل مدنی صدر انجمن شہریان جنوبی پنجاب نے کہا کہ سرحد بلوچستان اور سندھ میں ریلیوں پر پابندی نہیں، ریلیوں پر پابندی پنجاب میں قابل مذمت ہے، پرامن ریلیوں کی اجازت دی جائے۔ ملتان میں خوف و ہراس کی فضاء قابل مذمت ہے، بہتر تو یہ تھا کہ اس تحریک میں حکومت بھی شامل ہوتی۔ گرفتاریوں کی مذمت کی۔
مولانا رشید احمد لدھیانوی ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے اسلام پنجاب نے کہا کہ فیوض مصطفیٰ کا کیا کہنا، جسے جو سعادت ملی انہیں سے ملی، اس تحریک میں لاہور اور پشاور میں تشدد شر پسند عناصر کی طرف ہے۔ اسلام اور اسلام آباد کسی کے باپ کی جاگیر نہیں یہ تحریک خالصتاً دینی اور اعتقادی ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت مشترکہ پلیٹ فارم ہے ۳؍ مارچ ۲۰۰۶ء کی ریلی اور مظاہرہ کی میزبانی مجلس نے قبول کی ہے، دیگر رہنماؤں سے رابطے بھی جاری ہیں۔
تمام تاجر تنظیموں ، سوسائٹیوں ، وکلاء تنظیموں سے رابطہ کے لئے کمیٹی بنائی جائے ، انہوں نے کہا کہ مولانا اللہ وسایا کی معیت میں مختلف اضلاع سے کارواں شرکت کریں گے۔ مقامی انتظامیہ سے بھی رابطہ کر لینا چاہئے اور درخواست کی جائے کہ آپ تسلی رکھیں ریلی پر امن رہے گی ، پورے شہر کو سیل کرنا اشتعال انگیزی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلی پر امن رکھنے کے لئے انصار الاسلام کے سینکڑوں باوردی رضا کار موجود رہیں گے۔ جو ریلی کو کنٹرول بھی کریں گے اور شر پسند عناصر پر کڑی نظر بھی رکھیں گے۔
۳؍ مارچ کو ملتان میں ہونے والی ریلی کی قیادت قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن مدظلہ فرمائیں گے۔ تحفظ ناموس رسالت کنونشن مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ اپریل ۲۰۰۶ء ص ۲۱، ۲۲)
حضرت امیر مرکزیہ کا دورۂ کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ، خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین، خواجہ خواجگان، شیخ المشائخ، حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم العالیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی دعوت پر مارچ ۲۰۰۶ء میں پانچ روزہ دورے پر ہفتہ کے روز سہ پہر چار بجے کراچی پہنچے تو ایئر پورٹ پر حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کے مریدین، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنان اور علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد نے ان کا پر جوش استقبال کیا، جن میں حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ، حضرت مولانا مفتی خالد محمود مدظلہ، حضرت مولانا مفتی مزمل حسین کاپڑیا مدظلہ، حضرت مولانا قاری فیض اللہ چترالی مدظلہ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد، حضرت مولانا محمد طیب لدھیانوی مدظلہ، حضرت مولانا تقی الدین شامزئی، قاری محمد اقبال ، محمد انور اور دیگر شامل تھے۔
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کے ہمراہ ان کے صاحبزادگان حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ، حضرت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ اور حضرت صاحبزادہ نجیب احمد مدظلہ بھی تھے۔ ان حضرات کو ایک قافلہ کی شکل میں دفتر ختم نبوت لایا گیا جہاں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی۔ اتوار کے دن
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کے صاحبزادہ حضرت مولانا صاحبزادہ رشید احمد مدظلہ بھی کراچی تشریف لے آئے۔
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کے کراچی میں اپنے قیام کے دوران روزانہ بعد نماز فجر صبح سوا چھ بجے مراقبہ کروایا جب کہ آپ کی عمومی مجلس نماز عصر سے نماز مغرب کے دوران منعقد ہوتی رہی جس میں علمائے کرام اور عوام الناس کی ایک کثیر تعداد نے آپ سے ملاقات کی۔
کراچی میں قیام کے دوران حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اسلام اور مسلمانوں کے لئے اس کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ ہو یا ناموس رسالت ﷺ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں امت کی وحدت اور ملی یکجہتی کے لئے ختم نبوت غیر متنازعہ فورم ثابت ہوا۔
ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ملتان، کراچی، اسلام آباد، حیدرآباد، سکھر، میر پور خاص، کوئٹہ، ٹنڈوآدم سمیت ملک کے تمام اہم شہروں میں مارچ، احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد ہوئیں جن میں لاکھوں عوام نے شرکت کر کے ناموس رسالت ﷺ اور عقیدہ ختم نبوت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ خصوصاً ملتان اور کراچی میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے عنوان سے عظیم الشان اجتماعات کے انعقاد پر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ متحدہ مجلس عمل ناموس رسالت ﷺ اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا بھر پور ساتھ دے گی۔
اس موقع پر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ العالی، حضرت مولانا مفتی خالد محمود مدظلہ، حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ، حضرت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ، حضرت مولانا صاحبزادہ رشید احمد مدظلہ، حضرت مولانا صاحبزادہ نجیب احمد مدظلہ، حضرت مولانا حماد اللہ شاہ، حضرت مولانا عزیز الرحمن رحمانی مدظلہ، حضرت مولانا طلحہ رحمانی مدظلہ، حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی مدظلہ، حضرت حافظ محمد سعید لدھیانوی مدظلہ، حضرت مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا قاضی احسان احمد، ڈاکٹر نصیر الدین سواتی، مولانا محمد غیاث، رانا محمد انور، حاجی محمد ادریس بھی موجود تھے۔
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ نے جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر آپ نے جامعہ کے رئیس حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر مدظلہ العالی، نائب رئیس حضرت مولانا سید سلیمان بنوری مدظلہ اور جامعہ کے دیگر اساتذہ کرام سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دوران ملاقات حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے بانی حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری میرے استاد محترم ہیں۔ ان سے میں نے جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، سورت میں پڑھا ہے۔ حضرت مولانا بنوری دو مرتبہ خانقاہ سراجیہ کندیاں تشریف لائے اور ہماری خانقاہ کے ماحول اور کتب خانہ کو بہت ہی پسند فرمایا۔ حضرت مولانا بنوری کے استاد امام العصر حضرت اقدس علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری بھی دارالعلوم دیوبند سے ہماری خانقاہ میں آئے اور جب کتب خانہ دیکھا تو دو روز خانقاہ میں قیام فرمایا اور ہمارے کتب خانہ سے چند کتابیں اپنے ہمراہ دارالعلوم دیوبند لے گئے اور مطالعہ کے بعد واپس فرمائیں۔
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ نے گلشن اقبال میں اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کی نئی شاخ میں دعا کروائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ العالی کی قیادت میں مولانا سعید اسکندر ، مولانا یوسف عبدالرزاق ، قاری محمد اقبال پر مشتمل ایک وفد نے خصوصی طور پر دفتر ختم نبوت میں بھی ملاقات کی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ نے حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ العالی سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ العالی تقریباً دو گھنٹے تک حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کے ہمراہ رہے۔
سندھ سے متحدہ مجلس عمل کے نومنتخب سینیٹر اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے رہنما حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی۔ اس سے قبل حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا بیعت کا تعلق حضرت اقدس مولانا عبدالکریم بیر شریف سے تھا۔
کراچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہونے والے ”تحفظ ناموس رسالت مارچ“ کی انتظامی کمیٹی کے اراکین حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ ، حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان ، حضرت مولانا محمد احمد مدنی مدظلہ ، حضرت مولانا مفتی عبدالحمید ربانی ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد ، قاری محمد عثمان ، قاری عبد الماجد پر مشتمل ایک وفد نے بھی حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی۔
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ نے جامع مسجد خاتم النبیین میں حاضری دی اور مسجد سے متصل شہید اسلام حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید اور حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید کی قبور پر بغرض ایصال ثواب تشریف لے گئے۔
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ نے مختلف ایام میں دارالعلوم یوسفیہ کے مہتمم ، شہید اسلام حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کے صاحبزادے اور نائب امیر مرکزیہ حضرت اقدس شاہ نفیس الحسینی دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد طیب لدھیانوی مدظلہ کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے میں ، اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے نائب مدیر اور نائب امیر مرکزیہ حضرت اقدس شاہ نفیس الحسینی دامت برکاتہم العالیہ کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا مفتی خالد محمود مدظلہ ، اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے نائب مدیر حضرت مولانا مفتی مزمل حسین کاپڑیا مدظلہ اور جناب کیپٹن خالد صاحب کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیوں میں شرکت کی۔
امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ حاجی شاہ نواز کی دعوت پر ان کے گھر تشریف لے گئے اور اپنی دعاؤں سے نوازا۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کراچی کے پانچ روزہ انتہائی کامیاب دورے کے اختتام پر بدھ کی صبح سات بجے بذریعہ ہوائی جہاز ملتان روانہ ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ کے انفاس طیبات میں برکت فرمائے ، آپ کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر باقی رکھے اور عقیدہ ختم نبوت اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی ترویج واشاعت کے لئے آپ کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ / مارچ ۲۰۰۶ء ص ۱۲ تا ۱۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ملتان کی رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی دفتر ملتان ۲، ۳ / مارچ ۲۰۰۶ء کو ستائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ پہلی نشست ۲ / مارچ بعد نماز عشاء منعقد ہوئی ، جس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ العالی نے کی۔ کانفرنس کا افتتاح حافظ محمد طیب کی تلاوت قرآن پاک اور بعد ازاں حمد باری تعالیٰ سے ہوا۔
کانفرنس میں ہزاروں افراد نے جوش وجذبہ سے شرکت کی ، افتتاحی خطاب مولانا اللہ وسایا نے کیا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانان عالم کسی نبی کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی کو کفر سمجھتے ہیں، جب کہ یہود ونصاریٰ گستاخی رسول ﷺ کو روشن خیالی سے تعبیر کرتے ہیں۔ مسلمانان پاکستان اس نام نہاد روشن خیالی کو کفر سمجھتے ہیں اور اسے کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے، اور نہ ہی ہونے دیں گے، چاہے کتنی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
کانفرنس کی اس نشست میں دارالعلوم کبیر والا کے مہتمم مولانا ارشاد احمد، جامعہ اشرف العلوم شجاع آباد کے مہتمم مولانا صاحبزادہ عزیز احمد بہلوی، مولانا ظفر احمد قاسم شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ خالد ابن ولید وہاڑی، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، صاحبزادہ نجیب احمد خانقاہ سراجیہ، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا عبدالرشید سیال، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عبدالستار، مولانا عبدالستار گورمانی سمیت متعدد علمائے کرام نے شرکت کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہ کر امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
ختم نبوت کانفرنس کی دوسری نشست ۳/ مارچ ۲۰۰۶ء قلعہ کہنہ قاسم باغ میں ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوئی۔ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جو مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت کے طالب علم حافظ محمد وقاص نے کی۔ صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر، مولانا عبدالحکیم نعمانی چیچہ وطنی، مولانا راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، قاری شبیر احمد علی پوری، قاری جمال ناصر ڈیرہ غازی خان، مولانا رشید احمد لدھیانوی جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام پنجاب، جناب اطہر ممتاز شیخ مسلم لیگ (نواز گروپ)، راؤ ظفر اقبال جماعت اسلامی، حافظ اللہ دتہ کاشف ایڈووکیٹ ممبر ضلعی اسمبلی ملتان، مولانا خالد محمود ندیم جمعیت اہل حدیث، جناب مختار احمد اعوان پاکستان پیپلز پارٹی، جناب انتظار قریشی انجمن شہریان، پیر اعجاز ہاشمی جمعیت علمائے پاکستان، مولانا محمد عبداللہ امیر جمعیت علمائے اسلام پنجاب نے خطاب کیا۔ جب کہ ملک کے معروف نعت خوان جناب فیصل بلال نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ خطبہ جمعہ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے دیا اور امامت جمعہ بھی کرائی بعد از نماز جمعہ مولانا رشید احمد لدھیانوی، مفتی ہدایت اللہ پسروری نے ہدایات دیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷ / اپریل ۲۰۰۶ء ص ۲۳-۲۵)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس چوٹی
چوٹی تحصیل تونسہ شریف میں ۶ / مارچ ۲۰۰۶ء کو عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ پوری تحصیل سے وفود قافلے اپنے اپنے حلقہ کے علمائے کرام کی قیادت میں کانفرنس میں شریک ہوئے۔ دس بجے صبح سے عصر کی نماز تک کانفرنس جاری رہی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا غلام فرید صاحب مہتمم مدرسہ معراج العلوم ٹبی قیصرانی نے صدارت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے امیر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا محمد اکبر ثاقب نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ مقامی علمائے کرام کے علاوہ حضرت مولانا عبدالقادر ڈیروی اور شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۲)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ڈیرہ غازی خان
۶ / مارچ ۲۰۰۶ء بعد از عشاء مکی مسجد ڈیرہ غازی خان میں ضلعی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جامعہ اسلامیہ، قاسم العلوم، جامعہ رحمانیہ، درس گاہ نیازیہ کے ذمہ داران، حضرت مولانا عبدالقادر ڈیروی، حضرت مولانا اکبر ثاقب، حضرت مولانا محمد یوسف نقشبندی مبلغ مجلس ڈیرہ غازی خان اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۲)
ختم نبوت کانفرنس جھکڑ امام
جھکڑ امام ضلع ڈیرہ غازی خان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۷ / مارچ ۲۰۰۶ء بعد از ظہر عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا غلام فرید، مولانا محمد یوسف نقشبندی مبلغ مجلس ڈیرہ غازی خان، مولانا محمد اکبر ثاقب، مولانا صوفی عبدالرحمن، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اقبال جمعیت علمائے اسلام کے رہنما نے شرکت و خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۲، ۴۳)
تحفظ ناموس رسالت اجتماع فاضل پور
۷ / مارچ ۲۰۰۶ء بعد از عشاء فاضل پور ضلع راجن پور میں تحفظ ناموس رسالت اجتماع منعقد ہوا۔ حضرت مولانا سیف الرحمن درخواستی، حضرت مولانا علی محمد امیر مجلس ضلع راجن پور، حضرت مولانا بشیر احمد مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۲)
ختم نبوت کانفرنس حاجی پور
۸ / مارچ ۲۰۰۶ء بعد از ظہر جامعہ فریدیہ حاجی پور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جامعہ کے مہتمم مولانا عبدالغنی، مولانا بشیر احمد اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۲)
ختم نبوت کانفرنس راجن پور
۸ / مارچ ۲۰۰۶ء بعد از عشاء مدرسہ عربیہ مسافر خانہ راجن پور میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا علی محمد صاحب ضلعی امیر نے صدارت فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد نے خطاب کیا۔ مولانا سیف الرحمن درخواستی مہمان خصوصی نے اختتامی کلمات ودعاء سے سرفراز کیا۔ جناب ڈاکٹر خلیل احمد صاحب نے ضلع بھر کے تمام مہمان علمائے کرام کو عشائیہ دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۳)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس لیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے زیراہتمام ۹ / مارچ ۲۰۰۶ء بعد از عشاء تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد حسین ضلعی امیر اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض عالمی مجلس کے ضلعی ناظم جناب قاری عبد الشکور نے سرانجام دیئے۔ مولانا عبدالستار ، مولانا اللہ وسایا مرکزی مبلغ ، مولانا عبدالقادر ڈیروی اور مقامی علمائے کرام کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۳)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کوٹری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸/ مارچ ۲۰۰۶ء کو جامع مسجد دارالعلوم شیدی بازار میں ختم نبوت و تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت جناب حاجی محمد زمان خان نے کی۔ جب کہ کانفرنس کا انتظام جناب حافظ محمد شاہد سکرانی، جناب راحیل مکرانی، جناب حافظ محمد کاشف اور جناب قاری خلیفہ اللہ نے کیا۔ کانفرنس سے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرمت رسول ﷺ کے لئے جان عزیز کا نذرانہ عین سعادت ہے۔ اہداف کے حصول تک ناموس رسالت کی تحریک جاری رہے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۷)
تحفظ حرمت رسول ﷺ کانفرنس حیدر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۹/ مارچ ۲۰۰۶ء کو جامع مسجد فاروق اعظم تلک چاڑی میں یک روزہ تحفظ حرمت رسول ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ یہود و نصاریٰ نے گستاخانہ خاکے شائع کر کے مسلمانان عالم کے قلب و جگر کو زخمی کیا اور یہ کروسیڈ کا حصہ اور سوچی سمجھی سکیم ہے۔ حضرت مولانا علامہ احمد میاں حمادی نے کہا کہ مسلمانان عالم نے بھر پور احتجاج کے ذریعہ یورپ کو باور کرایا ہے کہ مسلمان کسی رنگ ، نسل، علاقہ سے تعلق رکھتا ہو وہ حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے معمولی اور خالی خولی بیانات کے ذریعہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا قبلہ و کعبہ واشنگٹن اور نیویارک ہے۔ خانہ کعبہ نہیں۔ اسلامیان عالم کے بھر پور احتجاج نے عالم کفر کی چولیں ہلا دی ہیں۔ کانفرنس کے انتظامات کی نگرانی مولانا عبدالسلام قریشی، مولانا سیف الرحمن آرائیں، جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد نذر اور مولانا محمد علی صدیقی نے سرانجام دیئے۔ تلاوت جناب قاری محمد عارف ہدیہ نعت سلمان شیخ اور عبد الرحیم قریشی نے پیش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۷)
میر پور خاص میں احتجاجی جلسہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تین روزہ دورہ پر میر پور خاص تشریف لائے۔ جہاں انہوں نے ۱۰/ مارچ کو مدینہ مسجد شاہی بازار میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کیا اور اسی روز بعد نماز عشاء جامع مسجد اقصیٰ نور کالونی سیٹلائٹ ٹاؤن میں احتجاجی جلسہ سے خطاب کیا۔ جلسہ سے جناب قاری کامران احمد نے بھی خطاب کیا۔ ۱۱/ مارچ بعد نماز فجر جامع مسجد بسم اللہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درس قرآن کے اجتماع سے خطاب کیا۔ اسی روز دن بارہ سے ایک بجے تک جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات میں خواتین اور طالبات سے اصلاحی خطاب کیا۔ حضرت مولانا حفیظ الرحمن، حضرت مولانا مفتی مسعود احمد ، حضرت مولانا مفتی عبیداللہ سمیت جماعتی رفقاء سے ملاقات کی۔ اس تمام پروگرام میں میر پور خاص کے مبلغ حضرت مولانا محمد علی صدیقی حضرت مولانا کے ہمراہ رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۷، ۴۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منڈی بہاؤالدین
۱۰/ مارچ ۲۰۰۶ء قبل از جمعہ مرکزی جامع مسجد میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا اللہ وسایا نے اجتماع سے خطاب عام فرمایا۔ مولانا عبد الماجد خطیب جامع مسجد نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جناب قاری محمد عثمان نے مہمانوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ مولانا محمد طیب فاروقی اور مولانا اللہ وسایا نے جناب قاری عبد الواحد کے قائم کردہ مدرسہ واسو کا معائنہ کیا۔ بعد میں وفد نے جامعہ نور الہدیٰ کے مہتمم یادگار اسلاف مولانا ارشاد الحق صدیقی کی خدمت میں حاضر ہو کر دعاؤں کا تحفہ وصول کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۳)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس گوجر خان
گوجر خان ضلع راولپنڈی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ خلفائے راشدین میں حضرت مولانا مفتی امداد اللہ کی صدارت اور حضرت مولانا عبد المتین کی زیر سرپرستی میں ۱۰/ مارچ بعد از عشاء تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا مفتی محمود الحسن نے سرانجام دیئے۔ حضرت مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا محمد طیب فاروقی کے خطابات ہوئے ۔ بھر پور اور مثالی اجتماع منعقد ہوا۔ جناب محمد خالد مبین اور جناب ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بھر پور انتظامات میں حصہ لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۳، ۴۴)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس جہلم
جامع مسجد جادہ میں حضرت مولانا قاری محمد اختر مہتمم جامعہ صدیقیہ للبنات پنجن کسانہ کے زیر سرپرستی و زیر اہتمام ۱۱/ مارچ ۲۰۰۶ء کو تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا محمد طیب فاروقی مبلغ اسلام آباد ، حضرت مولانا ذوالفقار طارق مبلغ گوجرانوالہ ، خطیب شہر حضرت مولانا عبید الرحمن کے بیانات ہوئے ۔ جناب حنیف رامپوری نے نعتیہ کلام پیش کیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۳)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ڈگری
ڈگری میں مدرسہ اشاعت القرآن اہل حق کا مرکز رہا ہے۔ اس ادارہ کے بانی جناب حافظ محمد شفیع صاحب تھے۔ جناب حافظ محمد شفیع مرحوم کی مجاہدانہ سرگرمیوں نے ڈگری کی کایہ پلٹ دی۔ مذکورہ بالا مدرسہ میں مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری، مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر بار ہا تشریف لائے۔ بلکہ علاقہ بھر کے لئے یہ ادارہ ختم نبوت کا مرکز تھا۔ ۱۲/ مارچ ۲۰۰۶ء کو اسی ادارہ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور حضرت مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب کیا۔ موضوع ناموس رسالت مآب تھا۔ اسی روز مغرب کے بعد چک نمبر ۱۶۰ میں بھی جلسہ ہوا۔ جس کا انتظام حضرت مولانا محمد عادل ، حضرت مولانا غزالی، حضرت مولانا محمود الحق خیری نے کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۸)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس گجرات
جمعیت اہل سنت گجرات کے زیر اہتمام جامعہ حیات النبی میں ۱۲/ مارچ ۲۰۰۶ء بعد از عشاء عظیم الشان ضلعی ناموس رسالت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت امام اہل سنت شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر نے اور سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا عبد الخالق خان بشیر نے انجام دیئے۔ حضرت مولانا حمید اللہ خان، حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا محمد طیب فاروقی، حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ نعتیہ کلام جناب آصف رشیدی نے پڑھا۔ ضلع بھر سے بہت بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۴)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس رحمان پورہ لاہور
۱۳؍ مارچ ۲۰۰۶ء بعد از مغرب جامعہ قاسمیہ لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت جامعہ کے مہتمم یادگار اسلاف حضرت مولانا شاہ محمد صاحب نے فرمائی۔ حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی اور جناب سید سلمان گیلانی نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۴)
ختم نبوت کانفرنس نگر پارکر
نگر پارکر پاکستان کا آخری شہر ہے جو تھر پارکر میں واقع ہے۔ نگر پارکر انڈیا کی سرحد راجستھان سے تیرہ چودہ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ مقامی آبادی زیادہ تر ہندو اقلیت سے تعلق رکھتی ہے۔ دس فیصد بمشکل مسلمان ہوں گے۔ ۱۳؍ مارچ ۲۰۰۶ء کو مغرب کے بعد کانفرنس منعقد ہوئی جس سے جناب ارباب نیک محمد، حضرت مولانا خان محمد جمالی، حضرت مولانا محمد نذر اور حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۸)
حرمت رسول کانفرنس اسلام کوٹ
اسلام کوٹ تھر پارکر ضلع کا اہم شہر ہے۔ اس کے کاروبار پر ہندو اقلیت قابض ہے۔ ۱۴؍ مارچ بعد نماز ظہر حرمت رسول کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے حضرت مولانا محمد نذر عثمانی، حضرت مولانا خان محمد جمالی اور حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ مولانا شجاع آبادی نے مقامی ہندو آبادی کو اسلام کی دعوت دی۔ موصوف کا بیان توحید، رسالت اور ختم نبوت کے عنوان پر ہوا۔ انہوں نے این جی اوز کے رنگ میں عیسائیت اور قادیانیت کے فتنوں سے خبردار کیا۔ مسلمانانِ تھر سے اپیل کی کہ وہ این جی اوز کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔
اس دورہ میں رحمت دو عالم ﷺ کی عزت وحرمت کے تحفظ کا عنوان غالب رہا۔ تھر پارکر اور اندرون سندھ کے ایک ہفتہ کا تبلیغی دورہ کامیاب رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۸، ۴۹)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس خانیوال
۱۴؍ مارچ ۲۰۰۶ء بعد از عشاء جامعہ صدیقیہ مالکیہ خانیوال میں جامعہ کے مہتمم پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی کی سرپرستی میں تحفظ ناموس رسالت وحمد ونعت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عطاء المنعم نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیئے۔ جناب طاہر بلال چشتی، شاعر ختم نبوت جناب سید سلمان گیلانی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ مولانا عبد الستار گورمانی مبلغ مجلس خانیوال، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات کے خطابات ہوئے۔ عظیم الشان اجتماع تھا۔ سامعین سے جامعہ کا صحن و ہال برآمدہ کھچا کھچ بھرے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ۱۷۴ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے تھے۔ اگلے دو روز جمعرات و جمعہ کو نقشبندی سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔ ملک بھر کے مشائخ اور حضرت خواجہ عبدالمالک صدیقی کے خلفاء نے مجالس مراقبہ و ذکر و اصلاحی بیانات کئے۔ جن میں شیخ الحدیث مولانا زرولی خان ، مولانا محمد اسلم شیخوپوری ، مولانا ذوالفقار نقشبندی، مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ خانقاہ مالکیہ کے سجادہ نشین اور جامعہ مالکیہ کے مہتمم مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی نے متوسلین وحاضرین سے اختتامی کلمات اور دعاؤں سے رخصت فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۴)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس شورکوٹ
۱۶/ مارچ ۲۰۰۶ء کو جامعہ عثمانیہ شورکوٹ میں تحفظ ناموس رسالت کے عنوان پر تبلیغی پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں مولانا ظہور احمد سالک ، مولانا غلام حسین جھنگ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے شرکت کی۔ جب کہ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے تقریباً ایک گھنٹہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تقدس کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۹)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا جمعہ فاروق آباد
۱۷/ مارچ ۲۰۰۶ء کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد گنبد والی فاروق آباد میں جمعتہ المبارک کا خطبہ دیا اور مولانا عبدالنعیم مبلغ شیخوپورہ کی معیت میں مولانا محمد یعقوب ربانی ، مولانا محمد اسلم قادری ، جناب الحاج محمد حسین جنجوعہ، جناب میاں عبدالصمد سے ملاقاتیں کیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس احمد پور سیال
۱۷/ مارچ ۲۰۰۶ء کو احمد پور سیال میں ختم نبوت کانفرنس کے عنوان پر پروگرام منعقد ہوا جس میں حضرت مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا غلام حسین اور دیگر مقامی علمائے کرام کے جمعہ سے پہلے اور بعد میں خطابات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس جھنگ
۱۷/ مارچ ۲۰۰۶ء بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری میں عظیم الشان ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت خانقاہ بہلویہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا عبیداللہ ازہر نے کی۔ جب کہ جناب قاری محمد صدیق ، حضرت مولانا ضیاء الدین آزاد، جناب حکیم مولانا محمد یاسین ، جناب چوہدری شہباز ، حضرت مولانا غلام حسین ، حضرت مولانا عبدالخالق مبلغ مجلس فیصل آباد ، حضرت مولانا سید محمد مظہر اسعدی بہاول پور ، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ جب کہ نعتیہ کلام جناب حق نواز نے پیش کیا۔ مقررین نے اس عہد کا اظہار کیا کہ ناموس رسالت کی تحریک کی کامیابی تک جدوجہد جاری رہے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۷/ مارچ ۲۰۰۶ء کو جامع مسجد بلاک ۱۲ چیچہ وطنی میں بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت حضرت صاحبزادہ عزیز احمد نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے متحدہ مجلس عمل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جناب حافظ حسین احمد ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، جناب فرید پراچہ ایم این اے ، حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا امجد خان، حضرت مولانا امیر حسین گیلانی، حضرت مولانا رفیق جامی ، حضرت مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ مجلس چیچہ وطنی، جناب مفتی عثمان، حافظ محمد اصغر عثمانی اور جناب قاری محمد اجمل نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں گستاخان رسول کا تعاقب جاری رہے گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۰)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اوکاڑہ
۲۰/ مارچ ۲۰۰۶ء کو بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد گول چوک میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت ضلعی امیر جناب قاری محمد الیاس نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا سید امیر حسین گیلانی تھے۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے جناب قاری غلام محمود انور ، حضرت مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ مجلس اوکاڑہ ، حضرت مولانا عبدالاحد، جناب محمود احمد، جناب چوہدری خالد محمود نے بھر پور کوشش کی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا اللہ وسایا، جناب قاری محمد طاہر حنیف ملتانی، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں غالب موضوع ناموس رسالت کا تحفظ اور مسلمانوں کی ذمہ داری رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۰)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس پتوکی
۲۱/ مارچ ۲۰۰۶ء کو بعد نماز ظہر جامع مسجد فاروق اعظم پتوکی میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت حضرت مولانا ہارون الرشید نے کی۔ جب کہ حضرت مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور حضرت مولانا عبدالرزاق مجاہد نے خطاب کیا۔ دارالعلوم دینیہ سے حفظ مکمل کرنے والے طلبہ کی دستار بندی کی گئی۔ پروگرام میں جناب قاری نور محمد، جناب خالد لطیف گھمن ، جناب حافظ محمد طیب ، حضرت مولانا مسعود الحسن رشیدی اور جناب قاری محمد ابراہیم نے خصوصی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۰، ۵۱)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس قصور
۲۱/ مارچ ۲۰۰۶ء کو بعد نماز عشاء جامع مسجد انوار التوحید میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مقامی امیر جناب قاری مشتاق احمد رحیمی نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی تھے۔ کانفرنس سے حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا عبدالغفور حقانی شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا حامد اشرف ہمدانی، حضرت مولانا عبدالرزاق مجاہد نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے جناب حاجی محمد شفیع مغل ، جناب شبیر احمد مغل، جناب حافظ شکیل احمد مغل، جناب میاں محمد معصوم انصاری نے بھر پور محنت کی۔ قصور میں تاریخی اجتماع تھا۔ کانفرنس میں جناب افتخار احمد، جناب احسان احمد احسان ، جناب صوفی قائم الدین نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس دو بجے رات تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس پاکپتن
۲۲/ مارچ ۲۰۰۶ء کو بعد نماز عشاء جامعہ حنفیہ فریدیہ پاکپتن میں دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس سے حضرت مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، جناب صاحبزادہ طارق مسعود ساہیوال نے خطاب کیا۔ تلاوت جناب قاری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالجبار ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ساہیوال کے فرزند جناب قاری محمد عثمان نے کی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے جامعہ کی انتظامیہ، مدرسین جناب قاری عبدالمجید، جناب قاری محمد اشرف، جناب حافظ محمد عمار اور حضرت مولانا عبدالحکیم نعمانی نے شب و روز محنت کی۔
۲۳؍ مارچ ۲۰۰۶ء کو وفد ختم نبوت نے حضرت مولانا اللہ وسایا کی قیادت میں حضرت خواجہ عزیز مکی، حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر کے مزارات پر حاضری دی۔ حضرت عزیز مکی کے متعلق علمدار صحابی رسول لکھا ہوا تھا۔ واللہ اعلم!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر
۲۳؍ مارچ ۲۰۰۶ء کو بعد نماز عشاء جامع مسجد مہاجر کالونی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس سے حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا سید عبدالوہاب شاہ بخاری حاصل پور، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ مجلس بہاولنگر نے خطاب کیا۔ جب کہ صدارت حضرت مولانا فیض احمد نے کی۔ نعت جناب حافظ محمد شریف منچن آبادی، جناب عبدالقادر شاہین، جناب حافظ محمد یحییٰ نے پیش کی۔ حضرت مولانا عبدالحفیظ، جناب حافظ سراج احمد، حضرت مولانا شبیر احمد الحسینی، حضرت مولانا محمد حنیف، حضرت مولانا معین الدین وٹو منچن آبادی سمیت علمائے کرام اور سینکڑوں معززین نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۱، ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس سنجر پور
۳۱؍ مارچ ۲۰۰۶ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سنجر پور رحیم یار خان کی غوثیہ مسجد میں عرصہ دراز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا زبیر احمد دین پوری نے کی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا مفتی راشد مدنی، جناب حافظ عبدالرحیم ساجد نے خطاب کیا۔ ان شاء اللہ العزیز اس کانفرنس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۴)
ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ
۱۸؍ مارچ ۲۰۰۶ء کو جامع مسجد زبیدہ میں عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔ جس کی صدارت حضرت الامیر دامت برکاتہم کے فرزند ارجمند مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے حضرت مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جناب حافظ بشیر احمد، جناب حاجی عبداللطیف خالد چیمہ، جناب قاری عابد حسین عابد نے خطاب کیا۔ مقررین نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت، قادیانیوں کی ملک وملت کے خلاف سازشوں کا پردہ چاک کیا۔ کانفرنس کی نگرانی مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی، جناب قاضی فیض احمد نے کی۔ جب کہ جناب قاضی امتیاز احمد، جناب قاضی انوار احمد، جناب قاضی رضوان احمد، جناب عبیداللہ لدھیانوی، جناب قاری سعد اللہ لدھیانوی انتظامات میں پیش پیش رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۹، ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس خان پور
چنانچہ یکم؍ اپریل ۲۰۰۶ء کو رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے ایک قصبہ چک نمبر ۴۵ میں بہت بڑا اجتماع منعقد ہوا جس کی صدارت خانقاہ سراجیہ عالیہ راشدیہ دین پور شریف کے چشم و چراغ حضرت میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ نے کی۔ جب کہ رحیم یار خان کی پوری دینی قیادت حضرت مولانا بشیر احمد حصاروی، جناب قاری محمد اکمل ہاشمی، جناب قاری محمد عبداللہ ہاشمی، حضرت مولانا رشید احمد لدھیانوی،
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب قاضی شفیق الرحمن، حضرت مولانا مفتی عبداللطیف، حضرت مولانا حاجی مطیع الرحمن درخواستی، حضرت مولانا محمد قاسم دین پوری، حضرت مولانا مفتی راشد مدنی مبلغ مجلس رحیم یار خان کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر نائب صدر جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر ایم. این. اے، جماعت اسلامی کے جناب سید وسیم اختر ایم. پی. اے، محکمہ اوقاف کے ڈسٹرکٹ خطیب حضرت مولانا رشید احمد عباسی نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۴)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس فیروزہ
۶؍ اپریل ۲۰۰۶ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدینۃ العلوم فیروزہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جناب سید ناصر محمود نے کی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور حضرت مولانا مفتی راشد مدنی مبلغ مجلس رحیم یار خان نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۴۴)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس گھوٹکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان کا اخلاقی، دینی اور منصبی فریضہ ہے جو مسلمان حرمت رسول ﷺ کے لئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار نہیں لاتا اسے مسلمان کہلانے کا کوئی حق نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ قاسم العلوم کے وسیع وعریض پنڈال میں عظیم الشان ختم نبوت وتحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کی صدارت حضرت مولانا عبداللطیف نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اور ناروے کے اخبارات نے گستاخانہ خاکے شائع کئے جس سے پوری دنیا کے مسلمان خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ لیکن قادیانی ٹولہ کی پیشانی عرق آلود نہیں ہوئی۔ جامع مسجد سکھر کے خطیب حضرت مولانا قاری خلیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گستاخ رسول اگر غلاف کعبہ میں چھپا ہوا کیوں نہ ہو اسے پناہ نہیں ملتی۔ جناب پروفیسر مولانا ابو محمد نے کہا کہ قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔ برطانوی سامراج نے اسے اپنے سیاسی اغراض کی تکمیل کے لئے پیدا کیا۔ کانفرنس سے حضرت مولانا محمد حسین ناصر، حضرت مولانا فیاض احمد مدنی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں جناب سید نور محمد شاہ، حضرت مولانا خالد حسین حسینی، جامعہ کے اساتذہ اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص۵۲)
ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳؍ اپریل کو بعد نماز عشاء شاہی بازار پنوعاقل میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے حضرت مولانا اللہ وسایا نے مسلمانانِ پاکستان سے اپیل کی کہ وہ گستاخ ممالک کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کر کے محبت رسول کا ثبوت دیں۔ مجلس علمائے اہل سنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عبدالغفور حقانی، حضرت مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا محمد حسین ناصر، سندھ کے معروف خطیب حضرت مولانا عبدالحمید لنڈ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا عبدالقدیر لنڈ نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا سائیں عبدالصمد ہالیجوی مدظلہ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا غلام اللہ نے فرمائی۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے جناب قاری عبدالتواب الحسینی، جناب ماسٹر عبدالرحمن، جناب محمد رمضان شیخ، جناب قاری عبدالقادر چاچڑ، جناب
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
غلام شبیر شیخ، جناب حافظ عبدالغفار شیخ، جناب جاوید احمد، حضرت مولانا جلیل احمد، جناب حافظ محمد فہیم نے بھر پور محنت کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس گمبٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کی طرف سے ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۴؍ اپریل کو بعد نماز مغرب جامع مسجد رحمانیہ فاروق اعظم چوک پر منعقد ہوئی ۔ حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا قاری عبدالغفور حقانی، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا علامہ احمد میاں حمادی، حضرت مولانا میر محمد، حضرت مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، حضرت مولانا عبدالحمید لنڈ بلوچ، حضرت مولانا محمد حسین ناصر، حضرت مولانا محمد فیاض احمد مبلغ مجلس گمبٹ کے علاوہ ملک کے مشہور علمائے کرام نے خطاب کیا ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا نے گمبٹ کی جماعت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی کانفرنس منعقد کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اب مرزا قادیانی کے پیرو چوروں کی طرح چھپے اپنا سر چھپا رہے ہیں ۔ مرزا قادیانی کائنات کا سب سے بڑا کافر تھا کہ اس بدبخت نے آپ ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا ۔ انشاء اللہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ قافلہ رواں دواں ہے ۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب حکیم عبدالواحد بروہی نے سرانجام دیئے ۔ رات کو تین بجے حضرت مولانا حقانی صاحب کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس لودھراں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۵؍ اپریل کو جھانگی والا میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ کانفرنس سے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد اسحاق ساقی، حضرت قاری محمد صادق قاسمی اوچ شریف، جناب قاری محمد یعقوب کہروڑ پکا، حضرت مولانا غلام مرتضیٰ لودھراں نے خطاب کیا ۔ جھانگی والا لودھراں کے متصل آبادی ہے ۔ اس کے قریب قادیانیوں کے چند گھرانے آباد ہیں ۔ کانفرنس میں قادیانیوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷؍ اپریل ۲۰۰۶ء کو جامع مسجد ختم نبوت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے کی ۔ جب کہ تمام انتظامات احمد میاں حمادی کی زیر نگرانی و سرپرستی میں مکمل ہوئے ۔ کانفرنس سے حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد مراد ہالیجوی، حضرت مولانا عبدالغفور قاسمی، حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری، حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن رحمانی، حضرت مولانا راشد مدنی، حضرت مولانا صبغت اللہ، حضرت مولانا محمد نذر، حضرت مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا محمد فیاض مدنی، حضرت مولانا سعید احمد لدھیانوی، حضرت مولانا محمد طیب لدھیانوی، جناب رانا محمد انور، حضرت مولانا قاضی احسان احمد، حضرت مولانا مفتی محمد طاہر مکی سمیت دیگر کئی ایک حضرات نے خطاب فرمایا ۔ جب کہ حاجی امداد اللہ پھلپھوٹو اور جناب راشد احمد نے نعتیہ کلام پیش کیا ۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے جناب حکیم حفظ الرحمن، جناب محمد اعظم قریشی، جناب ڈاکٹر محمد خالد ارائیں، جناب ماسٹر محمد سلیم،
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب حافظ محمد فرقان، جناب محمد اشرف قریشی، جناب رانا مختیار، جناب رانا محمد سلیم، جناب رانا محمد تسلیم، جناب ماسٹر خیر محمد، جناب حاجی قادر داد، جناب محمد محرم علی راجپوت، جناب عبدالقیوم قریشی، جناب محمد رفیق فوجی، جناب مستری منور، جناب محمد زاہد حجازی، جناب طارق حجازی اور دیگر ساتھیوں نے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۳)
ظریف شہید میں خطبہ جمعہ
۷؍ اپریل ۲۰۰۶ء کو جامعہ امدادیہ لیاقت چوک میں حضرت مولانا شبیر احمد کی دعوت پر حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جمعۃ المبارک کا خطبہ اور میلاد النبی ﷺ کے عنوان پر خطاب کیا اور عالمی سطح پر قادیانیوں کے مقابلہ میں مجلس کی سرگرمیوں سے باخبر کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۵)
شادن لنڈ تونسہ شریف میں جلسہ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۹؍ اپریل ۲۰۰۶ء بعد نماز عشاء مدنی مسجد شادن لنڈ میں جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا۔ جس سے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد یوسف نقشبندی مبلغ ڈیرہ غازی خان نے خطاب کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے کردار پر سیر حاصل گفتگو کی اور قادیانیوں کو دعوت اسلام دی۔ جلسہ کا انتظام حضرت مولانا محمد احمد، جناب قاری محمد بلال، حضرت مولانا عبداللطیف، حضرت مولانا محمد موسیٰ، حضرت مولانا محمد حنیف نے کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۵)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس نوکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۰؍ اپریل کو جامع مسجد صدیقہ میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جناب رانا چوہدری ظہور علی نے کی۔ جب کہ حضرت مولانا مفتی منیر احمد ڈسٹرکٹ خطیب اوقاف مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس سے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا ہارون معاویہ، حضرت مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا عبدالستار نے خطاب کیا۔ مقررین نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف بھر پور احتجاج کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۸)
ڈیرہ غازی خان میں سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس
مکی مسجد میں ۱۰، ۱۱؍ اپریل ۲۰۰۶ء کو سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی۔ پہلے روز حضرت مولانا سیف الرحمن درخواستی، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد یوسف نقشبندی مبلغ ڈیرہ غازی خان نے میلاد النبی ﷺ کے عنوان پر خطاب کیا۔ جلسہ کا انتظام جناب شیخ عبدالمنان، جناب شیخ محمد علی، جناب شیخ محمد رفیق متولی مسجد، جناب محمد اسلم سلیمی نے کیا۔ مقامی امیر حضرت مولانا غلام اکبر ثاقب نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۵)
ڈیرہ اسماعیل خان میں سیرت مصطفیٰ کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲؍ ربیع الاول ۱۱؍ اپریل ۲۰۰۶ء کو جامع مسجد ختم نبوت مشنری بازار میں میلاد مصطفیٰ ﷺ کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مقامی امیر جناب صوفی ریاض الحسن گنگوہی نے کی۔ جلسہ سے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا عبدالستار نے میلاد النبی ﷺ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس چوک پرمٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۱۵ / اپریل ۲۰۰۶ء کو مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ علی پور میں ایک احتجاجی جلسہ بسلسلہ گستاخ رسول ستاری گوپانگ کے خلاف منعقد ہوا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ جلسہ سے حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا عطاء اللہ، حضرت مولانا عبدالکریم، حضرت مولانا عبد القدوس، حضرت مولانا محمد اسحق ساقی، حضرت مولانا عبد الخالق علی پوری، حضرت مولانا عبدالستار اہل حدیث، جناب راؤ ظفر اقبال جماعت اسلامی، حضرت مولانا محمد مکی، جناب آغا منور نقوی، حضرت مولانا عبد الرشید سیال مبلغ مجلس پرمٹ، ضلع ناظم مظفرگڑھ سردار عبد القیوم و دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۳، ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس ساہیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹ / مارچ ۲۰۰۶ء کو بعد نماز مغرب جامع مسجد محمدیہ کوٹ ۸۵/۶ - آر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت معروف سماجی شخصیت جناب چوہدری عبد الغنی ایڈووکیٹ نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا مفتی ذکاء اللہ، حضرت مولانا عبد الحکیم نعمانی مبلغ مجلس ساہیوال، جناب قاری عبد الجبار اور جناب قاری محمد عثمان نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۵۰)
سیرت النبی کانفرنس کوئٹہ
ہمارے حکمرانوں نے امریکن مفادات کے لئے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ دفاع کو فراموش کر دیا ہے۔ لیکن دنیائے کفر تمام تر طاقت، قوت اور کوشش کے باوجود ہمیں ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ سے نہیں ہٹا سکتی۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز علمائے کرام نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامع مسجد نورانی کانسی روڈ پر سیرت النبی ﷺ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک کے ممتاز عالم دین خطیب العصر حضرت مولانا قاری کامران احمد نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے ہمیں ناموس رسالت ﷺ، عقیدہ ختم نبوت ﷺ، ناموس صحابہ کرام واہل بیت عظام اور شعائر اسلام کے تحفظ کا درس دیا ہے۔ دنیائے کفر کی کوئی طاقت ہمیں ناموس رسالت کے تحفظ سے نہیں ہٹا سکتی۔ یہی جذبہ کارفرما تھا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق دس ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے۔ یورپی اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف پوری مسلم دنیا اور غیر مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ملک وملت کے دشمن ہیں۔ ان کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ سابق سینیٹر جناب حافظ فضل محمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا نعرہ لگا کر ملک کا اسلامی تشخص ختم کر دیا ہے اور امریکن مفادات کے تحفظ کے لئے ہم نے اپنی وحدت کی پرواہ نہیں کی اور سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ نے قتل عام کا بازار گرم کر رکھا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ دنیا میں جو امریکہ کے خلاف ذہن رکھتا ہے اس کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ کانفرنس سے حضرت مولانا انوار الحق حقانی، حضرت مولانا قاری عبداللہ منیر اور حضرت مولانا نثار احمد مبلغ مجلس کوئٹہ نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ صدارت جامع مسجد نورانی کے خطیب حضرت مولانا سید نور الدین ہاشمی صاحب نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۶ء ص ۴۶، ۴۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس لاہور
لاہور (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن میں ۲۰ مئی ۲۰۰۶ء کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز پیر طریقت سید نفیس الحسینی شاہ کی دعاء سے ہوا۔ کانفرنس کی دو نشستیں منعقد ہوئیں، پہلی نشست بعد نماز مغرب علامہ مفتی محمد جب کہ دوسری نشست بعد نماز عشاء صاحبزادہ عزیز احمد کی صدارت میں ہوئی۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، نوابزادہ منصور احمد، مفتی سعید احمد جلال پوری، جرمنی کے امیر مولانا مشتاق احمد، مولانا خان محمد قادری، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا ضیاء الحسن، مولانا محبوب الحسن، مولانا محبوب شاہ، قاری نذیر احمد، قاری جمیل الرحمن، سید سلمان گیلانی، مولانا عبدالنعیم اور مولانا سجاد الٰہی سمیت دیگر علمائے کرام نے شرکت کی۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا کہ انسان کی کامیابی کا راز اور دارومدار اسوہ رسول کی پیروی میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، اسی میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، ہر ایک کے ساتھ رعایت ہو سکتی ہے مگر گستاخ رسول کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو سکتی۔
مفتی سعید احمد جلال پوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گستاخ رسول کی سزا، سزائے موت کو انتہاء پسندی کہنے والے خود انتہاء پسندی کا شکار ہیں، سزائے موت کا قانون اگر غلط اور انتہا پسندی ہے تو امریکا اور یورپی ممالک اپنے اپنے ملکوں سے سزائے موت کا قانون ختم کیوں نہیں کر دیتے۔ نوابزادہ منصور نے کہا کہ کلیدی آسامیوں اور حساس اداروں میں موجود قادیانی امریکا، اسرائیل اور بھارت کو خفیہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹائے بغیر ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ جہاں کہیں بھی توہین رسالت کا ارتکاب ہوتا ہے، اس کے پس پشت قادیانی ٹولے کی سازش کارفرما ہوتی ہے۔ فتنہ قادیانیت کا خمیر ہی اہانت رسول سے اٹھا ہے، قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے، برطانوی سامراج نے اسے اپنی سیاسی اغراض کی تکمیل کے لئے پیدا کیا اور آج قادیانیت امریکی سامراج کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ قادیانیت، اسلام کے بالکل متصادم ہے، قادیانیت کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کہا کہ قادیانی اسلام دشمنی میں پیش پیش ہیں اور اسلام کے بنیادی عقیدہ، عقیدہ ختم نبوت پر ضرب کاری لگا رہے ہیں، فتنہ قادیانیت کے خاتمہ تک تحریک ختم نبوت جاری رہے گی۔ مولانا نے مزید کہا کہ اس وقت حضور ﷺ کے سب سے بڑے دشمن قادیانی ہیں، اگر امتناع قادیانیت آرڈیننس پر مکمل طور پر عمل درآمد ہوتا تو آج کسی کو گستاخی کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جولائی ۲۰۰۶ء ص۲۲، ۲۳)
مرکزی رہنماؤں کا بلوچستان کا تبلیغی دورہ
بلوچستان (رپورٹ: ابوسفیان) ۹؍ جون ۲۰۰۶ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ اپنے دو رفقاء اور مرکزی مبلغین مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی معیت میں چار روزہ تبلیغی دورہ پر کوئٹہ تشریف لائے۔ ۹؍ جون کو جمعۃ المبارک کا خطبہ انہوں نے جامع مسجد قندھاری بازار میں دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس لورالائی
مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کوئٹہ مجلس کے امیر مولانا عبدالواحد کی قیادت میں لورالائی تشریف لے گئے۔ مجلس لورالائی کے دیرینہ خادم و کارکن اور ذمہ دار خواجہ محمد اشرف نے اپنے رفقاء سمیت مجلس کے رہنماؤں کا استقبال کیا، بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جو عشاء کی نماز تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت قاری ممتاز احمد مقامی امیر نے کی، جب کہ کانفرنس سے مقامی علمائے کرام کے علاوہ مجلس بلوچستان کے مبلغ مولانا نثار احمد ، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عبدالواحد نے خطاب کیا۔ مولانا عبدالواحد پشتو زبان کے شعلہ بیان مقرر ہیں، ان کی تقریر کے دوران سامعین کے بدن میں ایمان کی حرارت شعلہ زن ہو جاتی ہے، کانفرنس میں مقامی علمائے کرام نے بھر پور طریقہ سے شرکت کی۔ اگلے دن مہمانان گرامی نے مقامی مدارس کا دورہ کیا اور علمائے کرام سے دعائیں لیں۔
ختم نبوت کانفرنس ژوب
۱۰ جون ۲۰۰۶ء کو مجلس کے رہنماؤں کا قافلہ مقامی رفقاء کی معیت میں ژوب کے لئے روانہ ہوا، تقریباً چار گھنٹے سفر کے بعد ژوب پہنچا۔ ژوب (فورٹ سنڈیمن ) مولانا شمس الدین شہید کا علاقہ ہے، مقامی مجلس کے عمائدین الحاج شیخ غلام حیدر، حاجی محمد اکبر نے اپنے رفقاء سمیت قائدین کا ژوب سے بیس کلو میٹر پہلے استقبال کیا۔ جہاں قائدین کے اعزاز میں حاجی محمد اکبر نے ظہرانے کا بندوبست کیا ہوا تھا، جس میں مجلس کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کے علاوہ مولانا اللہ داد کاکڑ اور لورالائی کے قاری امتیاز احمد سمیت علمائے کرام نے شرکت کی۔
قبل ازیں نماز عصر مجلس کے زیر اہتمام چلنے والے مکتب مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت سے ناظرہ قرآن پاک ختم کرنے والے بارہ بچوں کی تکمیل قرآن پاک کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے شرکاء سے فضائل و عظمت قرآن کے عنوان پر مولانا اللہ وسایا نے مختصر اور جامع خطاب فرمایا اور بچوں میں تحائف تقسیم کئے۔ بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت شیخ غلام حیدر مقامی امیر نے کی، جب کہ کانفرنس سے مقامی علماء کرام کے علاوہ مولانا نثار احمد، مولانا عبدالواحد، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں ژوب میں تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا شمس الدین شہید ، حاجی محمد علی، حاجی محمد عمر کو خراج تحسین پیش کیا اور بلوچستان کے عوام کو این جی اوز کی شکل میں قادیانیوں اور عیسائیوں کی سازشوں سے باخبر کیا گیا۔
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
کوئٹہ مجلس کے زیر اہتمام جامع مسجد طوبیٰ میں ۱۱؍ جون ۲۰۰۶ء کو عشاء کی نماز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا عبدالواحد نے کی، جب کہ مجلس کی مرکزی شوریٰ کے رکن قاری انوار الحق حقانی نے افتتاحی و استقبالیہ کلمات کہے، جب کہ مولانا نثار احمد اور قاری عبداللہ منیر نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔
کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عبدالغفور حقانی نے خطاب کیا۔ کانفرنس عشاء کے بعد سے شروع ہو کر رات ایک بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس کے انتظامات میں مقامی جماعتی رفقاء مولانا عبدالواحد، قاری عبدالرحیم رحیمی، حاجی تاج محمد فیروز، قاری محمد عبداللہ منیر، حاجی خلیل احمد، مولانا نثار احمد، عبدالولی خان، بھائی یاسین، حافظ خادم حسین گجر نے دن رات کوششیں کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ جولائی ۲۰۰۶ء ص ۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی دامت برکاتہم صوبہ سندھ کے دس روزہ تبلیغی دورہ پر تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے دورہ کا آغاز کراچی سے کیا، جہاں انہوں نے شہید ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے صاحبزادگان سے ان کی والدہ محترمہ کی وفات پر اظہار تعزیت کیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ کی عیادت کی۔ انہوں نے جامعہ احسن العلوم کراچی کے مہتمم اور شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی زرولی خان مدظلہ سے ملاقات کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام طلبہ کرام کے جوڑ میں شرکت کی جس کی صدارت علامہ احمد میاں حمادی نے کی اور طلبہ کرام سے ”عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور ان کی ذمہ داری“ کے عنوان پر خطاب فرمایا اور انہیں مجلس کراچی کے زیر اہتمام کوئز پروگرام اور سالانہ رد قادیانیت کورس چناب نگر میں شرکت کی دعوت دی، نیز جامعات سے اس سال فارغ ہونے والے حضرات کو سالانہ سہ ماہی کورس چناب نگر میں شمولیت کی دعوت بھی دی۔
حیدرآباد: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ۱۶ / جون ۲۰۰۶ء کا جمعتہ المبارک جامع مسجد فاروق اعظم میں پڑھایا اور قاری منظور الحق سے جماعتی امور پر مشاورت کی۔
ٹنڈو آدم: ۱۶/ جون بعد نماز مغرب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سہ ماہی جماعتی جوڑ کے شرکاء سے خطاب کیا اور ان کے سوالات کے جوابات دیئے۔
۱۷/ جون کو مدرسہ مدینۃ العلوم ٹنڈو آدم اور دارالعلوم الحسینیہ شہداد پور کے اساتذہ کرام اور طلبہ سے خطاب کیا اور انہیں شعبان المعظم میں چناب نگر میں منعقد ہونے والے سالانہ رد قادیانیت کورس میں شرکت کی دعوت دی۔
نواب شاہ: ۱۸ / جون نماز عصر جامع مسجد بلال، بعد نماز مغرب جامع مسجد برہان اور بعد نماز عشاء مدینہ مسجد میں دروس قرآن و حدیث کے اجتماعات سے خطاب کیا۔
۱۹/ جون بعد نماز عصر جامع مسجد ہاؤسنگ سوسائٹی میں خطاب کیا اور بعد نماز عشاء جامع مسجد کبیر ریلوے اسٹیشن میں منعقدہ جلسہ ختم نبوت کے سامعین سے خطاب کیا۔ جلسہ کی صدارت مقامی جماعت کے امیر قاری محمد ارشد مدنی نے کی، جب کہ جلسہ سے مفتی عبدالقیوم، مولانا عبد الہادی اور مولانا محمد فیاض مدنی مبلغ سندھ نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ رات گئے تک جاری رہا۔
۲۰ / جون بعد نماز عصر جامع مسجد خضریٰ مورو میں خطاب ہوا، مورو کے علمائے کرام اور دینی قیادت نے بھر پور شرکت کی۔ ۲۰ / جون بعد نماز عشاء نوشہرو فیروز میں جلسہ سے خطاب کیا اور حاضرین کو مجلس کا ممبر بننے کی ترغیب دی۔ حاضرین نے ممبر سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قاری امیر علی امام جامع مسجد پیروں والی کو مقامی مجلس کا کنوینر مقرر کیا گیا، وہ اجلاس بلا کر بقیہ عہدوں کی تکمیل کر کے مرکز کو رپورٹ کریں گے۔
۲۱/ جون بعد نماز ظہر مدرسہ انوار العلوم کنڈیارو میں خطابات ہوئے اور طلبہ و اساتذہ کرام کو سالانہ رد قادیانیت کورس چناب نگر میں شمولیت کی دعوت دی اور مقامی یونٹ کی تشکیل ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۱/ جون بعد نماز عشاء مدرسہ انوار القرآن والحدیث بھریا روڈ میں جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت قاری حفیظ الرحمن نے کی ، جلسہ سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد فیاض مدنی کے خطابات ہوئے ، جب کہ سندھی زبان میں خوبصورت نعت خوانی ہوئی ۔
۲۲/ جون بعد نماز ظہر مدرسہ مدینۃ العلوم محراب پور میں خطاب کیا اور طلبہ کو کورس میں شمولیت کی ترغیب دی ۔
۲۲/ جون بعد نماز عشاء مولانا مولیٰ بخش کی مسجد ٹھیڑی میں جلسہ منعقد ہوا، جس میں حاجی امداد اللہ چانڈیو جو سندھ کے مقبول نعت خواں ہیں، کی نعتوں نے سماں باندھ دیا، بعد ازاں مولانا فیاض مدنی نے خطاب کیا جب کہ آخری خطاب مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا ہوا، ٹھیڑی میں جلسہ کا عنوان ”تحفظ ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داری“ تھا ، مولانا شجاع آبادی نے کہا کہ اگر قانون ، ناموس رسالت کا تحفظ نہیں کرے گا تو غازی علم الدین اور عامر چیمہ جیسے مجاہدین پیدا ہوتے رہیں گے جو اپنی جانوں پر کھیل کر ناموس رسالت کا تحفظ کریں گے۔ مولانا نے قادیانی اور گستاخ ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔
۲۳/ جون ۲۰۰۶ء جمعۃ المبارک کا خطبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد صدیق اکبر خیر پور میرس میں دیا، ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ، مولانا نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کی سنگینی کے عنوان پر خطاب فرمایا اور قادیانیوں کے اقتصادی و عمرانی بائیکاٹ کی اپیل کی۔
۲۳/ جون ۲۰۰۶ء نماز مغرب گمبٹ مجلس کے انتخاب میں شرکت کی اور عامر چیمہ شہید کانفرنس سے خطاب فرمایا ، کانفرنس سے سکھر ڈویژن کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر ، مولانا محمد فیاض مدنی ، مولانا نعمت اللہ اور حکیم عبدالواحد بروہی نے خطاب کیا۔ الحمد للہ ! مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا اندرون سندھ کا دورہ کامیاب رہا، سینکڑوں مسلمانوں نے مجلس کی ممبر سازی میں حصہ لیا مقامی مجالس کے انتخابات ہوئے ۔ بعد ازاں مولانا شجاع آبادی ملتان تشریف لے گئے ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷/ اگست ۲۰۰۶ء ص ۲۳، ۲۴)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ کا دورہ سندھ ، ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے مولانا محمد اکرم طوفانی کے ہمراہ پانچ دن کا اندرون سندھ کا دورہ کیا۔
مولانا ۵/ جولائی کو ٹنڈو آدم اور پھر ۶/ جولائی کو کوٹری پہنچے ۔ جہاں ۳۲ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس کانفرنس میں مولانا کے علاوہ سندھ کے معروف شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الغفور قاسمی ، مولانا اسد اللہ ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا محمد نذر، مولانا خان محمد نے خطاب کیا ۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد علی صدیقی نے سرانجام دیئے ۔ کانفرنس حضرت علامہ احمد میاں حمادی کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔
اس کے بعد ۷/ جولائی کا جمعۃ المبارک حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے میر پور خاص مدینہ مسجد شاہی بازار میں پڑھایا اور حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے مسجد نمرہ میں جمعۃ المبارک کا بیان کیا ۔ مولانا نے میر پور خاص میں مولانا حفیظ الرحمن ، مولانا شبیر احمد کرنالوی ، قاری بشیر احمد ، قاری سلمان بن محمد اور دیگر علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں اور جماعتی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ سفر کراچی جاتے ہوئے حضرت مولانا عزیز الرحمن میر پور خاص سے باہر حیدر آباد روڈ پر مدینہ مسجد کی شاخ اور زیر انتظام مسجد عرفات میں بھی تشریف لے گئے اس کے بعد تین دن کراچی میں مولانا کا قیام رہا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۶ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شہید ناموس رسالت کانفرنس قصور
گزشتہ ماہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام محفل حمد ونعت و عامر شہید چیمہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت جناب حاجی فضل حسن اور جناب حاجی سلامت علی صاحب نے کی۔ تلاوت جناب قاری محمد ارشد محمود جب کہ جناب حافظ محمد آصف رشیدی نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ حضرت مولانا عبدالحکیم صدر پوری اور ختم نبوت قصور کے مبلغ حضرت مولانا عبدالرزاق مجاہد نے عامر چیمہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ انتظامات امیر مجلس تحفظ ختم نبوت قصور جناب قاری مشتاق احمد رحیمی، جناب قاری محمد سیف الرحمن رحیمی، جناب محمد طاہر، جناب قاری محمد اسحق، جناب قاری محمد رمضان، جناب حافظ محمد عمر، جناب الحاج میاں معصوم انصاری اور جناب قاری شاہ محمد اور طلباء جامعہ رحیمیہ قصور نے سرانجام دیئے۔ عاشقان غلامان مصطفیٰ ﷺ نے کانفرنس کو بھر پور کامیاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۶ء ص ۴۶)
شہید ناموس رسالت کانفرنس ایبٹ آباد
حدود آرڈیننس سمیت دیگر اسلامی قوانین میں ترمیم کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے۔ آئین کی اسلامی شقیں اسلامیان پاکستان کی طویل جدوجہد کا ثمر ہیں۔ ان کو بازیچہ اطفال بنانے سے گریز کیا جائے جو اللہ تعالیٰ کی حدود کو ختم کرنے کی ناپاک جسارت کرے گا اللہ تعالیٰ ایسے حکمران کو ذلیل و خوار کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ملک پورہ ایبٹ آباد کے زیر اہتمام شہید ناموس رسالت کانفرنس سے مقررین نے اپنے خطاب میں کیا۔ اس کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا افسر علی شاہ نے کی۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب اعجاز احمد نے سرانجام دیئے۔ حضرت مولانا انیس الرحمن نے تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ جب کہ جناب جنید مصطفیٰ اور جناب بلال نے نعتیں پیش کیں۔ مقررین میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ حضرت مولانا محمد طیب فاروقی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی شامل تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۶ء ص ۴۵، ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۱ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۶؍اگست ۲۰۰۶ء کو سنٹرل جامع مسجد برمنگھم میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے کی۔ کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں۔ مہمان خصوصی قائد انقلاب اسلامی حضرت مولانا فضل الرحمن تھے۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے سرانجام دیئے۔ تلاوت کلام پاک حضرت مولانا قاری عبدالمالک نے کی۔ نعت رسول مقبول مفتی عبدالمنتقم، قاری ممتاز احمد، محمد حنیف شاہد رام پوری نے پیش کی۔ پہلی نشست سے حضرت مولانا مفتی محمود الحسن مبلغ ختم نبوت لندن، مفتی سہیل احمد، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا محمد اسماعیل، ڈاکٹر عبدالباری، مولانا محمد ابراہیم اور طلحہ قریشی نے خطاب کیا۔ بعد نماز ظہر دوسری نشست کا آغاز ہوا۔ جس میں حضرت مولانا محمد اقبال رنگونی، حضرت مولانا محمد شفیع، حضرت مولانا عبدالرؤف ربانی، حضرت مولانا عزیز الحق ڈھاکہ، حضرت مولانا خلیل احمد بندھانی، حضرت مولانا نور السلام بنگلہ دیش، ملک محمد افضل، حضرت اشرف علی، حضرت مولانا صدیق احمد، حضرت مولانا عبدالرشید، حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کا اختتام حضرت مولانا فضل الرحمن کی تقریر اور دعاء سے ہوا۔ الحمدللہ ! کانفرنس بھر پور کامیاب ہوئی۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذلک!
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۶ء ص ۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر
تیرھواں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر میں مؤرخہ یکم تا ۲۵؍شعبان المعظم ۱۴۲۷ھ مطابق ۲۶؍ تا ۱۹؍ستمبر ۲۰۰۶ء کو مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی میں منعقد ہوا۔ کورس میں شریک ہونے والے شرکاء حضرات کے نام ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
نمبر شمار نام و ولدیت ضلع نمبر شمار نام و ولدیت ضلع ۱ عبدالستار بن محمد جعفر لاہور ۲ محمد نوید عثمان بن نصیر خان فیصل آباد ۳ محمد اعجاز احمد بن سجاد محمود شیخوپورہ ۴ عبدالحفیظ بن عبدالرشید گوجرانوالہ ۵ مبارک علی بن محمد ارشد لیہ ۶ محمد یونس بن رئیس خان لکی مروت ۷ محمد طیب بن غلام نبی لکی مروت ۸ محمد عثمان اعجاز بن خوشی محمد شیخوپورہ ۹ محمد سمیع اللہ بن کلیم اللہ رحیم یارخان ۱۰ بلال احمد بن شبیر احمد راولپنڈی ۱۱ شیخ احمد بن محمد اقبال خوشاب ۱۲ شفقت ندیم بن محمد یوسف جھنگ ۱۳ ولی حسن بن ولی محمد بھکر ۱۴ محمد ربنواز بن عبدالشکور بہاول پور ۱۵ ارسلان الطاف بن الطاف انور جہلم ۱۶ مقبول حسین بن محمد اکبر عباس پور ۱۷ محمد صدیق بن محمد قاسم جھنگ ۱۸ رحمت گل بن منگل خان کوہاٹ ۱۹ ریاض احمد بن محمد حنیف بھکر ۲۰ محمد حنیف بن الٰہی بخش مظفرگڑھ ۲۱ غلام مصطفیٰ بن محمد ربنواز ڈیرہ غازی خان ۲۲ عطاء الحسن بن فتح محمد جہلم ۲۳ قیصر ندیم بن رانا شبیر حسین گوجرانوالہ ۲۴ محب اللہ بن خیر محمد شیرانی ۲۵ محمد عارف نواز بن ربنواز خانیوال ۲۶ بشارت خان بن ارشد خان نارووال ۲۷ لطیف الرحمٰن بن فتح محمد ڈیرہ غازی خان ۲۸ حسان یوسف بن غلام رسول فیصل آباد ۲۹ شاکر حسین بن شاہ نواز جہلم ۳۰ بلال احمد بن عبدالغفار راولپنڈی ۳۱ محمد عمران بن فضل حق مانسہرہ ۳۲ محمد سلمان بن عبدالمالک فیصل آباد ۳۳ عثمان غنی بن عبدالحکیم گلگت ۳۴ فضل عباس بن اسماعیل فیصل آباد ۳۵ محمد فرحان بن محمد امین خانیوال ۳۶ عبدالمجید بن بشیر احمد نوشہرو فیروز ۳۷ محمد اکمل بن غلام قاسم راجن پور ۳۸ شفاء اللہ بن اللہ بخش بھکر ۳۹ محمد طاہر بن بشیر احمد مظفرگڑھ ۴۰ محمد احمد بن غلام محمد جھنگ ۴۱ محمد نصر اللہ بن احمد یار مظفرگڑھ ۴۲ مجید شاہ بن منظور شاہ ساہیوال ۴۳ محمد ابراہیم بن منظور احمد ...... ۴۴ وارث علی بن احمد علی ننکانہ ۴۵ معاویہ فاروق بن فاروق عباسی باغ ۴۶ صاحب الحق بن محمد نعیم گلگت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴۷ عبدالقادر بن عبدالرزاق خوشاب ۴۸ انور محمد بن جان سید سوات
۴۹ لطیف اللہ بن محبوب خان بنوں ۵۰ اسد علی بن نور محمد پشاور
۵۱ محمد سلیمان بن غلام رسول روہڑی ۵۲ عبدالجواد بن محمد یوسف روہڑی
۵۳ محمد عبداللہ بن محمد حنیف قصور ۵۴ محمد سیف اللہ بن محمد حسن قصور
۵۵ محمد عثمان بن محمد عارف لاہور ۵۶ محمد فاروق بن محمد عبداللہ ملتان
۵۷ عبداللہ بن گل محمد سوات ۵۸ نوید ظفر بن محمود خان قصور
۵۹ محمد قیصر بن امیر رحمٰن چارسدہ ۶۰ سید شوکت بن غلام محی الدین مظفر آباد
۶۱ بشیر احمد بن سکندر خان مردان ۶۲ قاضی محمد عامر بن قاضی کفایت اللہ نوشہرہ
۶۳ فیاض احمد بن محمد سلیمان ایبٹ آباد ۶۴ غلام مجتبیٰ بن عبدالرزاق آزاد کشمیر
۶۵ محمد ریاض بن شہباز خان بنوں ۶۶ فضل رحیم بن سید کاظم مردان
۶۷ شارق احمد بن غلام محمد صدیقی اسلام آباد ۶۸ چن محمد بن نواز خان مانسہرہ
۶۹ شفیع اللہ بن غلام قاسم ڈیرہ غازی خان ۷۰ عرفان علی خان بن محمد افضل خان عباس پور
۷۱ خرم شہزاد بن محمد شفیق ایبٹ آباد ۷۲ سعید عرفان عباسی بن محمد عرفان عباسی ایبٹ آباد
۷۳ سید راشد بن سید سخاوت شاہ مانسہرہ ۷۴ خالد شہزاد بن شہزاد خان مالاکنڈ
۷۵ زاہد نسیم بن محمد اکرم آزاد کشمیر ۷۶ ذاکر حسین بن فقیر حسین مانسہرہ
۷۷ بلال احمد بن صغیر سرگودھا ۷۸ عاطف بابر بن محمد بلال بھکر
۷۹ عبدالرزاق بن محمد عبداللہ بہاولپور ۸۰ محمد آصف جتوئی بن منظور احمد مظفر گڑھ
۸۱ محمد سلمان بن شبیر احمد جھنگ ۸۲ محمد احسان بن فتح محمد فیصل آباد
۸۳ محمد شاہد الرحمن بن عبدالرشید فیصل آباد ۸۴ عزیز الرحمن بن جمیل الرحمن لاہور
۸۵ محمد یاسر امین بن محمد امین ڈیرہ غازی خان ۸۶ شہزاد احمد بن محمد سرور قصور
۸۷ مزمل الرحمٰن بن محمد سیف فیصل آباد ۸۸ محمد عمر بن محمد اسماعیل فیصل آباد
۸۹ محمد عرفان بن محمد سرور سیالکوٹ ۹۰ محمد ثناء اللہ بن غلام اکبر ڈی جی خان
۹۱ محمد مجیب الرحمٰن بن بشیر احمد مظفر گڑھ ۹۲ غلام مصطفیٰ بن محمد مبین اوکاڑہ
۹۳ محمد نواز بن محمد رفیق ہری پور ۹۴ عبدالشکور بن عبدالکریم جھنگ
۹۵ محمد رفیق بن محمد نواب جھنگ ۹۶ خرم شہزاد بن محمد اشرف چکوال
۹۷ زبیر برہان بن عطاء محمد برہان فیصل آباد ۹۸ محمد اشتیاق بن عالم دین ساہیوال
۹۹ محمد عمر ساقی بن اظہار الحق ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۰۰ اعجاز اختر بن غلام جعفر شور کوٹ
۱۰۱ محمد ابوبکر بن علی محمد شیخوپورہ ۱۰۲ محمد فرقان بن عبدالحئی سرگودھا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۰۳ عبدالعلیم بن غلام نبی مانسہرہ ۱۰۴ حبیب الرحمن بن نوشیر خان کوہستان ۱۰۵ محمد اجمل مغل بن محمد عقیل مغل سرگودھا ۱۰۶ عبدالسمیع بن محمد اسحاق سرگودھا ۱۰۷ محب اللہ بن عبدالمتین مستونگ ۱۰۸ حکیم اللہ بن کچکول خان بٹگرام ۱۰۹ محمد ابوبکر صدیق بن غلام یاسین تلہ گنگ ۱۱۰ حفیظ الرحمن بن عبدالرحمن شیخوپورہ ۱۱۱ محمد حسین بن علی موسیٰ گلگت ۱۱۲ آصف علی بن محمد عارف شیخوپورہ ۱۱۳ صفی اللہ بن عبدالخالق چترال ۱۱۴ محمد اعظم نواز بن محمد نواز کہروڑ پکا ۱۱۵ حنید احمد بن شفیع اللہ ملتان ۱۱۶ محمد مطیع اللہ بن انوار اللہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۱۷ عبدالرحمن بن محمد احمد کمالیہ ۱۱۸ محمد خلیل بن حاکم خان کھاریاں ۱۱۹ عتیق الرحمن بن ضیاء القاسمی منچن آباد ۱۲۰ محمود احمد بن محمد شریف صادق گنج ۱۲۱ محمد انور بن قاسم علی بہاولنگر ۱۲۲ محمد عارف بن میاں عبدالجبار لودھراں ۱۲۳ ممتاز احمد بن محمد اسلم ڈیرہ غازی خان ۱۲۴ طارق ندیم بن محمد اقبال لودھراں ۱۲۵ محمد شاہد بن اللہ دتہ بہاول پور ۱۲۶ محمد احمد معاویہ بن احمد یار بہاولنگر ۱۲۷ سلیم شاہ بن حضور احمد شاہ بہاولپور ۱۲۸ عبدالغفار بن غلام یاسین بہاولپور ۱۲۹ محمد اختر بن نبی بخش مظفر گڑھ ۱۳۰ فاروق احمد بن اللہ ڈیوایا مظفر گڑھ ۱۳۱ محمد ہاشم بن محمد یوسف مظفر گڑھ ۱۳۲ محمد حامد علی بن خوشی محمد فیصل آباد ۱۳۳ غلام عباس بن محمد صاحب لیہ ۱۳۴ محمد آصف جاوید بن عبدالرحمن یزمان منڈی ۱۳۵ عبدالجبار بن فضل حسین بہاولپور ۱۳۶ محمد ابوبکر بن محمد حفیظ بہاولپور ۱۳۷ محمد جمشید بن زیارت خان بہاولپور ۱۳۸ الطاف حسین بن غلام قادر بہاولپور ۱۳۹ وسیم اکرم بن محمد اکرم بہاولپور ۱۴۰ محمد زبیر بن عبدالغفور بہاولپور ۱۴۱ محمد عثمان بن زیارت خان بہاولپور ۱۴۲ محمد عمران بن محمد رزاق بہاولپور ۱۴۳ نوید اقبال بن محمد اقبال پاکپتن ۱۴۴ عبدالقیوم بن عبدالغفور سندھ ۱۴۵ سعید احمد بن عبدالحق نوشہرو فیروز ۱۴۶ گل محمد بن عبدالرزاق خیر پور ۱۴۷ عبدالقادر بن روشن دین سندھ ۱۴۸ فیاض احمد بن محمد عبداللہ جھنگ ۱۴۹ عبدالوحید بن لعل محمد سندھ ۱۵۰ عبدالسلام بن رسول بخش خیر پور میرس ۱۵۱ محمد سلیمان بن محمد بدھل خیر پور میرس ۱۵۲ شمس القادر بن عبدالقادر سکھر ۱۵۳ محمد اعجاز بن غلام حسین بہاولپور ۱۵۴ عبدالواحد بن عطاء اللہ بہاول پور ۱۵۵ محمد عرفان بن خان محمد دیول بوریوالہ ۱۵۶ جاوید اقبال بن محمد بلال احمد بھکر ۱۵۷ علی احمد معاذ بن محمد اسلم بھکر ۱۵۸ محمد عرفان بن سعید احمد مظفر گڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۵۹ محمد عدیل بن محمد یوسف گجرات ۱۶۰ سیف الرحمن بن عطاء اللہ مظفر گڑھ ۱۶۱ طیب حسین بن حسین احمد جتوئی ۱۶۲ محمد یوسف بن احمد حسین قصور ۱۶۳ محمد طارق بن نذیر احمد قصور ۱۶۴ مسعود اللہ بن عبدالرزاق ژوب ۱۶۵ محمد عمر شاہ بن توفیق شاہ لاہور ۱۶۶ لیاقت علی بن عبدالشکور ڈسکہ ۱۶۷ عبدالغفار بن محمد شفیع خانیوال ۱۶۸ مرغوب الرحمن بن عبدالرحمن خانیوال ۱۶۹ محمد اصغر بن اللہ دتہ وہاڑی ۱۷۰ محمد عباس بن واحد بخش لودھراں ۱۷۱ خلیل احمد بن غلام جعفر جھنگ ۱۷۲ مطیع اللہ بن محمد امیر جھنگ ۱۷۳ شاہد کلیم بن محمد رشید ساہیوال ۱۷۴ طارق رشید بن عبدالرشید ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۷۵ عطاء الحسن بن منظور حسین فیصل آباد ۱۷۶ عقیل احمد بن عطاء محمد قصور ۱۷۷ محمد شاہد انوار بن انوار الحق بہاولپور ۱۷۸ عبدالغنی بن محمد شفیع ڈیرہ غازی خان ۱۷۹ الطاف حسین بن محمد بخش جتوئی ۱۸۰ محمد زبیر اکمل بن محمد اکمل بہاولپور ۱۸۱ ابوبکر صدیق بن نازک حسین جتوئی ۱۸۲ محمد عبدالصمد بن عبدالمالک جتوئی ۱۸۳ سکندر حیات بن عبدالغفار مظفر گڑھ ۱۸۴ عبدالغفار بن علی نواز ملتان ۱۸۵ محمد عبداللہ بن عبدالرحیم بہاولپور ۱۸۶ محمد لقمان بن منظور احمد خیر پور ٹامیوالی ۱۸۷ محمد عبداللہ بن نور محمد خیر پور ٹامیوالی ۱۸۸ محمد زبیر بن محمد مراد وہاڑی ۱۸۹ محمد کفایت اللہ بن حفیظ اللہ بہاولپور ۱۹۰ محمد صدیق بن محمد یوسف بہاولپور ۱۹۱ محمد یونس بن احمد دین بہاولپور ۱۹۲ محمد سمیع اللہ بن غلام حسین بہاولپور ۱۹۳ احمد نواز بن اللہ وسایا بہاولنگر ۱۹۴ عامر شہزاد بن محمد اقبال خوشاب ۱۹۵ ابوبکر معاویہ بن دوست محمد وہاڑی ۱۹۶ مسعود حسن خان بن نواب حسن خان لودھراں ۱۹۷ غلام مجتبیٰ بن محمد مسکین دیر بالا ۱۹۸ دلنواز بن گل خان بنوں ۱۹۹ محمد شفیع بن محمد رمضان ڈیرہ غازی خان ۲۰۰ محمد عثمان بن محمد اعظم خانیوال ۲۰۱ ضیاء الرحمن بن محمد حنیف کریم پور ۲۰۲ محمد فیاض بن نذیر حسین جہلم ۲۰۳ محمد شہزاد بن رشید احمد خانیوال ۲۰۴ عبدالصبور بن عبداللطیف راجن پور ۲۰۵ عبداللہ بن خان محمد ایبٹ آباد ۲۰۶ ریاض احمد بن محمد سلیم ایبٹ آباد ۲۰۷ عبداللطیف بن عبدالمجید بہاولپور ۲۰۸ محمد شاہد بن خضر حیات جھنگ ۲۰۹ اعجاز حسین بن انتظار حسین راولپنڈی ۲۱۰ محمد سہیل بن محمد اسماعیل جھنگ ۲۱۱ تسلیم حیدر بن محمد کلیم جھنگ ۲۱۲ عبدالباری بن محمد الطاف رحیم یار خان ۲۱۳ محمد مشتاق بن منظور احمد بہاولپور ۲۱۴ عرفان اللہ بن سمیع اللہ لکی مروت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۱۵ محمد مقیم بن محمد مرسلین پاکپتن ۲۱۶ برہان الدین بن محمد اسامہ گوجرانوالہ ۲۱۷ جعفر طیار بن محمد مقبول ایبٹ آباد ۲۱۸ غلام شبیر معاویہ بن اللہ یار ڈیرہ غازی خان ۲۱۹ حبیب الرحمن بن محمد یوسف خانیوال ۲۲۰ محمد اسلم معاویہ بن عبدالقادر بہاولپور ۲۲۱ محمد یونس بن اللہ بخش بہاولپور ۲۲۲ محمد سلمان بن غلام محمد ڈیرہ غازی خان ۲۲۳ ولی اللہ بن محمد یوسف کراچی ۲۲۴ محمد اسحاق بن محمد ابراہیم جھنگ ۲۲۵ عبدالرحمن بن محمد عبداللہ جھنگ ۲۲۶ لطف اللہ بن محمد یوسف شکار پور ۲۲۷ جمیل احمد براھوی بن محمد کریم کوٹ ادو ۲۲۸ عظمت عثمان بن عبدالوحید گوجرانوالہ ۲۲۹ طاہر لطیف بن عبداللطیف رحیم یارخان ۲۳۰ عبیداللہ بن خوشحال خان باجوڑ ۲۳۱ محمد داؤد بن البحر علی ملتان ۲۳۲ محمد احمد بن عبدالواحد قلعہ عبداللہ ۲۳۳ عدیل اختر بن حقنواز ننکانہ ۲۳۴ فریاد حسین بن انور حسین ننکانہ ۲۳۵ محمد کامران بن عیسیٰ خان ننکانہ ۲۳۶ محمد آصف بن محمد اسلم خانیوال ۲۳۷ محبوب الرحمن بن محمد اقبال خانیوال ۲۳۸ محمد عرفان بن لیاقت علی سرگودھا ۲۳۹ بصیر اللہ بن سفیر اللہ کراچی ۲۴۰ غلام مصطفیٰ بن محمد نواز جھنگ ۲۴۱ عبدالقدوس بن محمد یونس سرگودھا ۲۴۲ طفیل محمد بن سلطان نبی کراچی ۲۴۳ عنایت اللہ بن درمحمد کراچی ۲۴۴ ارشد اقبال بن محمد بشیر چکوال ۲۴۵ محمد حنیف بن نورخان اٹک ۲۴۶ عاشق حسین بن محمد حسین سانگھڑ ۲۴۷ محمد شفیق بن محمد رفیق شیخوپورہ ۲۴۸ محمد عارف بن فقیر الدین گوجرانوالہ ۲۴۹ فضل محمود قاسم بن عبدالمجید ساہیوال
ختم نبوت کانفرنس بہاولپور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولپور کے زیر اہتمام ۴؍ ستمبر ۲۰۰۶ء کو جامع مسجد الصادق میں ختم نبوت کانفرنس زیر سرپرستی حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور زیر صدارت حضرت مولانا سید عبدالوہاب شاہ صاحب منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، سندھ کے معروف خطیب حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا اللہ وسایا صاحب، حضرت مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا محمد اسحاق ساقی و دیگر علمائے کرام نے خطاب فرمایا۔ جب کہ مہمان خصوصی جناب حاجی منیر اختر صاحب تھے۔ کانفرنس کے تمام تر انتظامات جناب حاجی سیف الرحمن کی نگرانی میں ہوئے۔ کانفرنس انتہائی کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۶ء ص ۵۶)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی کے زیر اہتمام بلدیہ ہال میں ختم نبوت سیمینار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی کے زیر اہتمام بلدیہ ہال میں یوم ختم نبوت کے مناسبت سے عظیم الشان ختم نبوت سیمینار منعقد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوا۔ سیمینار سے جناب ڈاکٹر ارباب عالم نشتر میڈیکل کالج کی یونین کے سابقہ صدر، جمعیت علماء اسلام کے مقامی امیر حضرت مولانا عبد الباقی ، حضرت مولانا محمد قاسم، جناب قاری محمد زاہد اقبال ، مولانا مفتی محمد عثمان ، معروف کالم نگار حافظ شفیق الرحمن و دیگر علمائے کرام نے خطاب فرمایا۔ جامعہ علوم شرعیہ کے ناظم اعلیٰ حافظ طارق مسعود، جامعہ رشیدیہ کے ناظم اعلیٰ قاری سعید ابن شہید، ایم ۔ ایم ۔اے کے رہنما حق نواز خان درانی ، میجر (ر) غلام سرور ، معروف شاعر اکرام الحق اور مولانا احمد شاہد ہاشمی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے ۔سیمینار میں مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام تمام سیاسی ودینی جماعتوں کے علاوہ تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ختم نبوت کے تحفظ کے لئے دنیا کے آخری کونے تک مرزائیوں کا تعاقب کریں گے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۶ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس پشاور
۷ ستمبر ۲۰۰۶ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے زیر اہتمام چوک قصہ خوانی بازار میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری جنرل حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، حضرت قاضی محمد ارشد الحسینی، حضرت مولانا شجاع الملک ایم این اے، حضرت مولانا سمیع اللہ خان فاروقی، حضرت مولانا نور الحق نور، حضرت مولانا اکرام اللہ جان قاسمی و دیگر علمائے کرام و دانشور حضرات نے خطاب فرمایا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ختم نبوت کا مسئلہ امت مسلمہ میں ہمیشہ متفقہ چلا آ رہا ہے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
انگریزوں نے جہاد کو ختم کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی جہنم مکانی کو لا کھڑا کیا۔ جس نے اپنی ساری زندگی اسلام ، جہاد اور مسلمانانِ عالم کے خلاف انگریز کی پشت پناہی میں گزاری۔ انگریز کا یہ خودکاشتہ پودہ ہر لمحہ اسلام کے خلاف بکتا رہا اور انگریز کو خوش رکھنے کے لئے پاپڑ بیلتا رہا۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ پچھلے دنوں یکم ستمبر کو میں سکھر میں تھا۔ روز نامہ نوائے وقت کراچی میں پڑھا کہ ڈنمارک میں کپڑوں کے اوپر قرآنی آیات پرنٹ کر دی گئی ہیں ۔ تا کہ اس سے نیکر اور شلوار بنا کر آیتوں کی توہین کی جاسکے۔ اس طرح انہوں نے جوتوں پر محمد عربی ﷺ کے اسماء مبارکہ پرنٹ کئے ہیں تاکہ مسلمان غیض وغضب کا شکار ہوں ۔ انہوں نے نہایت تفصیل کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ قرآن کے انداز بیان پر غور کریں۔ ایک ایک لفظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم وتوقیر کی گئی ہے اور حضرت مریم مقدسہ علیہا السلام کی پاکبازی اور پاکدامنی بیان کی گئی ہے ۔ تو پھر عیسائی کیونکر پیغمبر اسلام کے ناموس اور عزت کے درپے ہیں؟ عیسائی برادری کو چاہئے کہ وہ تمام انبیاء کرام کے ناموس و تقدس کی بحالی یقینی بنائیں اور کسی بھی نبی کی توہین میں ملوث ہو کر دنیا و آخرت کو برباد نہ کریں ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۶ء ص ۵۰، ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
۹ ستمبر ۲۰۰۶ء کو دھمتوڑ میں عظیم الشان محمد رسول اللہ ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الغفور حقانی نے کہا کہ ہم اس ختم نبوت کے لٹریچر پر حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے ۔ حکومت مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے ۔ ہم نے پہلے بھی ختم نبوت کے محاذ پر ان کو شکست دی ہے ۔ آئندہ بھی دیں گے۔
۱۰ ستمبر کو منڈیاں میں عظمت قرآن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد صدیق شریفی نے کہا کہ ہم اس حکومتی پابندیاں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی دھجیاں بکھیر دیں گے۔ ہم ختم نبوت کا پرچم لہراتے رہیں۔
۱۲؍ ستمبر کو تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کے زیر اہتمام علماء کرام کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز کی طرف سے آنے والی ہر کال پر لبیک کہا جائے گا۔ ہم تحفظ ختم نبوت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
۱۳؍ ستمبر کو ہرنو کے مقام پر سنی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ختم نبوت کے تحفظ پر تمام مکاتب فکر متفق ہیں۔
۱۶؍ ستمبر کو چبہ حویلیاں کے مقام پر دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم مولانا قاضی عبدالرشید نے ختم نبوت کی کتب پر پابندی کی سخت مذمت کی۔ اسی رات شیرانوالہ گیٹ ہری پور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ نے مرزائیت کو فروغ دینے کی حکومتی کوشش پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیت اس وقت دم توڑ رہی ہے۔ حکومت اس دم توڑتی مرزائیت کو سہارا نہ دے۔ ختم نبوت کے رسائل پر پابندی سے ہمارا مشن نہیں رک سکتا۔
۱۸؍ ستمبر کو ہری پور میں ایک عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید چراغ الدین شاہ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے۔ ہم ختم نبوت کی کتب و رسائل کو پھیلاتے رہیں گے۔ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۶ء ص۵۰، ۵۱)
۲۵ ویں سالانہ دو روزہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی روداد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چناب نگر میں ۲۱، ۲۲؍ ستمبر ۲۰۰۶ء کو منعقد ہونے والی عظیم الشان دو روزہ ختم نبوت کانفرنس الحمدللہ نہایت کامیاب رہی۔ کانفرنس میں امسال بھی بھر پور حاضری رہی، اللہ رب العزت کے فضل و کرم، نبی اکرم ﷺ کے صدقے اور اکابر اولیاء اللہ و بزرگان دین کی برکت سے یہ اجتماع ہر سال ایک خاص شان و شوکت سے منعقد ہوتا ہے، جس میں حاضری کو تمام مکاتب فکر کے اکابرین اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔
امسال بھی حضرت اقدس امیر مرکزیہ اپنی پیرانہ سالی اور ضعف کے باوجود تشریف لائے اور کانفرنس کو رونق بخشی اور کانفرنس کی بعض نشستوں کی صدارت فرمائی۔
کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے قاری محمد زرین، قاری مشتاق احمد نے کیا، نصیب برادران مدرسہ ختم نبوت اچھروال، مولانا مفتی محمد شاہد عمران ساہیوال، حافظ محمد شریف منچن آباد نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کیں۔
کانفرنس سے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی فتنہ کے خلاف تمام مکاتب فکر متحد ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ آخری نبی اور امت مسلمہ آخری امت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور جہاد کو ختم کرنے کی سازش کی۔ انگریزوں نے مسلمانوں کی قیادت علماء سے لے کر لارڈ میکالے کے نظام کے تعلیم یافتہ افراد کے ہاتھ میں دے دی۔ اللہ کی متعین کردہ ’’حدود‘‘ کو منسوخ کرنے کے مطالبہ کو کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔ حدود آرڈی نینس کے خلاف این جی اوز اور غیر ملکی سفارت خانوں کا پیسہ استعمال ہورہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کا امتناع قادیانیت قوانین کی منسوخی کا مطالبہ غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں قادیانیوں کو بڑی مراعات حاصل ہیں۔ ان کے ساتھ کسی موقع پر امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔ قادیانی جماعت نے عام قادیانیوں کو غلاموں کی طرح جکڑا ہوا ہے۔ اگر قادیانی جماعت کی اجارہ داری ختم کر دی جائے تو آدھا چناب نگر قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جائے۔ دنیا میں ایسا کوئی اسلحہ یا ٹیکنالوجی نہیں بنی جو شوق شہادت کو شکست دے سکے۔ درحقیقت دنیا میں تہذیبوں کی جنگ نہیں بلکہ یہودیوں کے روڈ میپ کی تنفیذ کی جدوجہد ہورہی ہے کہ دنیا میں کسی طرح ان کی اقدار کا غلبہ ہو۔ اتحاد، ایمانی قوت اور حضور ﷺ سے عہد وفا کے ذریعہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لٹریچر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کے اقتباسات درج کئے گئے ہیں۔ مرزا کی اصل کتب پر کوئی پابندی نہیں، لیکن تردید قادیانیت کے لٹریچر پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں ہمارے ساتھ یہ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔ مرزا قادیانی کی تحریروں کا مطالعہ کریں تو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ تحریر کسی نبی کی نہیں ہوسکتی، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوں۔ متحدہ مجلس عمل اور مجلس تحفظ ختم نبوت اس لئے وجود میں آئی ہیں کہ باطل کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جائے۔ سینیٹر علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اتحاد بین المسلمین کا انٹرنیشنل اسٹیج ہے۔ مجلس کی کتب و رسائل پر پابندی لگانے کا مقصد قادیانیوں کو تقویت پہنچانے کی سازش ہے۔
رد قادیانیت و عیسائیت کورس
اس سال کانفرنس کے موقع پر سالانہ رد قادیانیت کورس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں دو صد تیس شرکاء کورس کو اسناد اور کتب دی گئیں۔ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے اکیس طلباء کرام، جنہوں نے حفظ اور گردان مکمل کر کے وفاق المدارس کا امتحان پاس کیا۔ ان کو بھی کانفرنس کے موقع پر اسناد دی گئیں اور ان کی دستار بندی بھی کی گئی۔ کانفرنس کے موقع پر ۲۲؍ ستمبر ۲۰۰۶ء بمطابق ۲۸؍ شعبان ۱۴۲۷ھ صبح ۹ بجے جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس ہوا۔ جس میں آئندہ تین سال کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم اور حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب دامت برکاتہم کو امیر مرکزیہ اور نائب امیر اتفاق رائے سے منتخب کیا گیا۔
ختم نبوت کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز علمائے کرام و مقررین مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور قاسمی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد یوسف نقشبندی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالنعیم، مولانا عبدالستار، مولانا ذوالفقار طارق، مولانا عبدالخالق، مفتی محمد راشد مدنی، مفتی خالد محمود، مفتی خالد میر، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا محمد ارشد الحسینی، مولانا عبدالغفور حیدری، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد مراد ہالیجوی، علامہ احمد میاں حمادی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبدالحمید لنڈ، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا محب اللہ، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر، علامہ خان محمد قادری، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حافظ عبدالوہاب، حافظ عبدالرحمن، مولانا پیر عبدالرحمن نقشبندی، مولانا فضل الرحیم، مولانا نور الحق نور، حافظ محمد ثاقب، مولانا محمد علی صدیقی، مفتی تقی الدین شامزئی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا خان محمد جمالی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد یعقوب ربانی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا مسعود احمد، مولانا عبدالرشید جھنگوی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد فیاض مدنی، محمود الحسن صاحبزادہ مولانا محمد انس، قاری کامران احمد، محمد شاہد عمران، حافظ محمد شریف، مولانا قاری انوار الحق حقانی، ڈاکٹر دین محمد فریدی، صاحبزادہ حافظ مبشر محمود، حافظ محمد شریف، مولانا قاضی احسان احمد، خواجہ عبدالماجد صدیقی، مولانا محمد ادریس اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو ”محمد رسول اللہ“ قرار دے کر اسلام اور نبوت محمدیہ سے بغاوت کا ارتکاب کیا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پوپ کے خطاب میں توہین رسالت ﷺ پر مشتمل جملے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی مغرب اور عیسائی دنیا کے اسلام دشمن رویئے کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ پاکستان میں قادیانیت کی کسی صورت میں پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ وطن عزیز لاکھوں مسلمانوں کی جانوں کی قربانی دے کر اس لئے نہیں بنایا گیا کہ اس میں قادیانیت کو فروغ ہو اور قادیانی عقائد کی ترویج و اشاعت ہو۔ ہم عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ امریکی رپورٹس قادیانیوں کی شہ پر مرتب کی جا رہی ہیں۔ بیرون ملک قادیانی، پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے آئے دن بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف مغربی میڈیا زہر اگلتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث میں آنحضرت ﷺ کو آخری نبی قرار دیا گیا ہے۔ قادیانیوں نے غیر اسلامی عقائد و نظریات کو اسلام باور کرانے کی جسارت کر کے اسلام کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی سازش کی ہے۔ امتناع قادیانیت سے متعلق قوانین کا ملک میں نفاذ پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے۔
اس موقع پر صاحبزادہ سعید احمد، صاحبزادہ رشید احمد، صاحبزادہ نجیب احمد، مولانا محمد طیب لدھیانوی، مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خان، قاری فیض اللہ چترالی اور دیگر علمائے کرام بھی موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۶ء ص ۴۴ تا ۴۵)
چناب نگر میں شعبہ کتب کا اجراء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ نے اپنے سالانہ اجلاس منعقدہ صفر الخیر ۱۴۲۶ھ میں فیصلہ کیا تھا کہ شوال ۱۴۲۷ھ ۲۰۰۶ء نئے تعلیمی سال سے مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں شعبہ کتب کے ابتدائی درجہ کا آغاز کیا جائے اور پھر ہر سال ایک ایک درجہ بڑھایا جائے۔ چنانچہ اس سال شوال میں درجہ فارسی کے لئے حضرت مولانا سجاد الٰہی تونسوی جنھیں آٹھ نو سال پڑھانے کا تجربہ ہے۔ ان کی خدمات تدریس کے لئے حاصل کی گئیں۔ تیس سے زائد طلباء فارسی کے درجہ اول و دوئم میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کی سکول کی تعلیم کے لئے دو استاذ پہلے سے موجود ہیں۔ مزید ایک استاذ کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ۱۹؍شوال بروز ہفتہ کو تعلیم کا آغاز کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۶ء ص ۴، ۵)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں مبلغین کا سہ ماہی اجلاس یکم، ۲، ۳؍نومبر ۲۰۰۶ء بروز بدھ، جمعرات اور جمعہ منعقد ہوا۔ جس میں مجلس کے مرکزی قائدین کے علاوہ مبلغین نے بھی شرکت کی جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں: مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا بشیر احمد ملتان، قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد نذر عثمانی حیدر آباد، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص، مولانا خان محمد جمالی تھر پارکر، مولانا محمد فیاض مدنی گمبٹ خیر پور میرس، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد اسحق ساقی بہاول پور، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاولنگر، مولانا عبدالحکیم چیچہ وطنی، مولانا عبدالستار گورمانی خانیوال، مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور، مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا عبدالستار تونسوی خوشاب، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا عبدالرشید غازی مظفر گڑھ، مولانا عبدالستار حیدری لیہ، مولانا عبدالنعیم شیخو پورہ، قاری محمد یوسف نقشبندی، قاضی عبدالخالق فیصل آباد، مولانا ذوالفقار طارق، حافظ محمد ثاقب گوجرانوالہ اور مولانا مسعود حجازی منڈی بہاؤالدین نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس میں گزشتہ سہ ماہی میں ہونے والے رد قادیانیت و عیسائیت کورس آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی کامیابی پر اللہ پاک پروردگار عالم کا شکر ادا کیا گیا، اور کورس اور کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔
رمضان المبارک میں مجلس کے مبلغین کی تنظیمی، تبلیغی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور معاونین کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت کی دعا کی گئی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی مبلغ لاہور کی استدعا پر قاری عمر حیات فاضل جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کو معاون مبلغ برائے لاہور کی منظوری دی گئی، اور اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ موصوف اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے لاہور میں مجلس کی بھر پور خدمات سرانجام دیں گے۔
نئے لٹریچر کی اشاعت
عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری، قادیانیت کیا ہے؟ قادیانیوں سے تعلقات، شیزان سمیت قادیانی مصنوعات سے متعلق لٹریچر چھاپنے کا فیصلہ ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لٹریچر پر پابندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ قادیانیوں کو ۱۹۷۴ء کی منتخب اسمبلی نے کافر قرار دیا، جسے آئین پاکستان کی دوسری ترمیم کہا جاتا ہے، ۱۹۸۴ء میں اسمبلی نے آٹھویں ترمیم کے ذریعہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے امتناع قادیانیت آرڈی نینس کو تحفظ فراہم کیا۔ آٹھ ہائی کورٹوں نے قادیانیوں کے خلاف فیصلے دیئے۔ وفاقی شرعی عدالت، شریعت اپیلٹ بینچ نے قادیانیوں کی اپیلوں کو خارج کیا، سپریم کورٹ کے فل بینچوں نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کی توثیق کی۔ مجلس اسمبلی کی آئینی ترمیم اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں لٹریچر تیار کر کے شائع کرتی ہے۔ حکمران قادیانیت اور امریکا نوازی میں اتنے آگے جا رہے ہیں کہ کفر ( قادیانیت ) کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور اسلام پر پابندی عائد کر رہے ہیں، جو کسی صورت میں جائز نہیں اور قرین مصلحت بھی نہیں ہے۔
سہ ماہی کورس ملتان
سالانہ سہ ماہی رد قادیانیت کورس ملتان سے متعلق اجلاس میں بتلایا گیا کہ ۱۵؍ شوال سے شروع ہو کر ۳۰؍ ذی الحجہ ۱۴۲۷ھ تک جاری رہے گا۔ کورس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے جید جداً حیثیت میں کامیاب ہونے والے فضلاء شرکت فرماسکتے ہیں۔ کورس میں کامیاب ہونے والے حضرات کو مجلس شعبہ تبلیغ میں حسب ضرورت و صلاحیت خدمت کا موقع دیا جائے گا۔ اجلاس میں طے ہوا کہ تمام مبلغین انفرادی ملاقاتوں، دروس قرآن وحدیث، خطبات جمعہ میں لٹریچر کو تقسیم کریں تا کہ مسلمانوں میں شعور پیدا ہو۔ مبلغین جہاں دعوت و تبلیغ کے عنوان سے سفر کریں تو بنین اور بنات کے مدارس میں بیانات ضرور کریں اور تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے ملاقات میں کارکردگی پیش کریں اور انہیں لٹریچر پیش کریں، جہاں جہاں مجلس کے مستقل دفاتر ہیں، دفاتر میں ماہانہ درس کا انتظام کیا جائے اور اس کی رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔
اگلے سہ ماہی کے لئے کتاب، احتساب قادیانیت جلد نہم تجویز کی گئی، تفصیل درج ذیل ہے:
شوال المکرم : تعلیمات مرزا تک سات رسائل کا خلاصہ، ذوالقعدہ : اگلے چھ رسائل، ذوالحجہ : باقی رسائل ۔
ہفت روزہ ختم نبوت، ماہنامہ لولاک، تمام رفقاء کو ہدایت کی گئی کہ تبلیغی اور اس کے ساتھ ساتھ ہفت روزہ ختم نبوت اور ماہنامہ لولاک کی اشاعت کے اضافہ کے لئے بھر پور توجہ دیں۔ ایجنسیوں اور خریداروں سے رقوم کی ترسیل کو باقاعدہ بنائیں۔ مجلس کے ترجمان رسائل کی اشاعت کی باقاعدگی، خریداروں سے رقوم کی وصولی تبلیغ کا حصہ ہیں۔ محکمہ پٹرولیم و سوئی گیس بعض باخبر ذرائع کی اطلاع کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مطابق منور احمد بصیر منیجنگ ڈائریکٹر محکمہ سوئی گیس قادیانی ہے، بلوچستان میں بلوچ سرداروں سے اختلافات کو ہوا دے کر انہیں بغاوت پر اکسانے والے قادیانی ہیں جو ملکی حالات کو ابتری کی طرف لے جا کر اپنے لاٹ پادری مرزا بشیر الدین محمود کے نام نہاد الہامی عقیدہ اکھنڈ بھارت کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔ نیز ملتان میں باخبر ذرائع کے مطابق پانچ سی این جی سینٹر قادیانیوں کو دیئے گئے، نیز ایک اطلاع کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز کا محکمہ بھی قادیانیوں کے سپرد کیا جا رہا ہے تا کہ عوام کو ایک مرتبہ پھر قادیانی دونوں ہاتھوں سے لوٹ سکیں۔
ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ منور احمد بصیر کو اس عہدہ سے الگ کیا جائے اور اس کے عہدہ میں ہونے والی تقرری پر نظر ثانی کی جائے اور قادیانیوں کو الگ کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ دسمبر ۲۰۰۶ء ص ۲۴، ۲۵)
قائد آباد میں ختم نبوت سیمینار
جامع مسجد مکی دار الحبیب میں ۱۸؍نومبر ۲۰۰۶ء ختم نبوت سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنماء حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، حضرت مولانا قاری سعید احمد، ضلع خوشاب کے مبلغ مولانا عبد الستار نے خطاب کیا۔ سیمینار بہت ہی کامیاب رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۶ء ص ۵۵)
ختم نبوت تربیتی کنونشن خوشاب
جامع مسجد ابوبکر صدیق بگڑ والی میں ۱۸؍نومبر کو ختم نبوت تربیتی کنونشن منعقد کیا گیا۔ جس میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے شرکت فرمائی۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور اس پر کی جانے والی محنتوں اور عقیدہ ختم نبوت پر دی جانے والی قربانی کا تذکرہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۶ء ص ۵۵)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تبلیغی دورہ پنوعاقل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب دو روزہ تبلیغی دورے پر پنوعاقل تشریف لائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے مبلغ حضرت مولانا محمد حسین ناصر صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے اپنے قیام کے دوران مختلف پروگراموں میں شرکت کی جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
یکم؍دسمبر ۲۰۰۶ء کو جامع مسجد عید گاہ میں خطبہ جمعہ اور بعد نماز مغرب صالح مسجد جب کہ بعد نماز عشاء مسجد خلفاء راشدین میں تفصیلی بیان ہوا۔ ۲؍دسمبر ۲۰۰۶ء کو متصل نماز فجر درس قرآن مرکزی جامع مسجد میں بیان فرمایا۔ جب کہ بعد نماز ظہر قادریہ مسجد اور بعد نماز عصر سندھ کی معروف دینی درسگاہ جامعہ حمادیہ مدینۃ العلوم میں علماء، اساتذہ، طلباء اور عام نمازیوں سے فکر انگیز بیان فرمایا۔
مولانا نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم کے لٹریچر پر پابندی لگا کر حکمرانوں نے قادیانیت نوازی کی ناکام کوشش کی ہے۔ ایسے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ حدود اللہ کے بعد ناموس رسالت ایکٹ میں بھی ترمیم کرنے کی سازش تیار ہو رہی ہے۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک ایک بھی مسلمان زندہ ہے حدود اللہ اور ناموس رسالت ﷺ پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ کیونکہ اس راستے میں آنے والی صعوبتوں کو مسلمان سعادت اور نعمت سمجھتے ہیں۔
حضرت مولانا نے جناب شاہد حسین عاربی، عبد السلام شیخ، شیخ بلال احمد اور عبد الخالق شیخ کی جانب سے دیئے گئے اعزازی عشائیوں میں بھی شرکت کی۔ ان کا دورہ نہایت ہی کامیاب رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۷ء ص ۵۵، ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۷ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بدین سندھ میں قادیانیوں کی ناپاک سازش
ضلع بدین میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کو روکا جائے ان کی سرگرمیوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ ۳۰؍اپریل ۲۰۰۷ء کو قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ جو بدین شہر میں واقع ہے۔ اس میں سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلا کر قادیانی بنانے کی ناپاک کوشش کی۔ جس کی اطلاع مجاہدین ختم نبوت کو ملی تو بروقت ہی مرکز کا محاصرہ کر کے اس کو ناکام بنادیا۔ جس میں اہم کردار حضرت مولانا عبدالستار صاحب اور مبلغ ختم نبوت نے ادا کیا۔ قادیانیوں کو شکست ماننا پڑی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۵۳)
مسلمانوں کے قبرستان سے قادیانی مردہ کا نکالنا
۳؍جون کو قادیانیوں نے ٹنڈو باگو کے قریب کھڈار میں مسلمانوں کے قبرستان میں مردہ دفن کر دیا تھا۔ ۳؍جون ۲۰۰۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کو اطلاع ملی تو انتظامیہ کے تعاون سے اس کو نکلوا دیا۔ جس میں اہم کردار حضرت مولانا عبدالستار چاوڑا صاحب نے ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۵۳)
بورسٹل جیل فیصل آباد کے قادیانی افسر کی ریشہ دوانیاں
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد للہ وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی !
ہفت روزہ ”القلم“ پشاور کی تازہ اشاعت ....... ۱۵تا ۲۱؍جون ۲۰۰۷ء ....... میں فیصل آباد بورسٹل جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے منسوب ایک بہت ہی تکلیف دہ خبر شائع ہوئی ہے کہ :
” فیصل آباد ....... القلم نیوز ....... بورسٹل جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ میاں فہیم الدین نے اپنی جیل میں کلمہ، نماز پڑھنے، پڑھانے اور قرآن کلاسوں پر پابندی لگا دی، جب کہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے جیل میں کوئی نیا سپرنٹنڈنٹ تعینات نہیں ہونے دیتا۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ مختلف جرائم میں سزا یافتہ بچوں کے لئے قائم فیصل آباد بورسٹل جیل کے ڈپٹی سرنٹنڈنٹ میاں فہیم الدین نے جو کہ قادیانی، غیر مسلم ہے اور اس کی بیوی فرح فیصل آباد میں قادیانی جماعت شعبہ خواتین کی فعال رکن ہے، کے ایماء پر جیل میں کلمہ کلاس، ناظرہ کلاس اور حفظ کلاس کے نام سے دینی تعلیم کے لئے برسوں سے جاری کلاسز ختم کر دی گئی ہیں، یہ کلاسز ملک میں جیلوں کے اندر دینی تعلیم فراہم کرنے کے لئے معروف ادارے تعلیم القرآن ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلائی جارہی تھیں اور بورسٹل جیل میں قاری شفیق اس کے انچارج تھے، قادیانی سپرنٹنڈنٹ جیل اسمبلی کے وقت دعاؤں میں چیچنیا، افغانستان، فلسطین، عراق اور کشمیر میں مسلمانوں کی فتح ونصرت کے لئے دعا کرانے پر ایک قیدی کا چالان کر چکا ہے، مزید برآں مسجد میں کلمہ لکھنے والے جیل اہلکار یوسف چبہ کی ٹرانسفر ٹوبہ ٹیک سنگھ، جب کہ اپنے خلاف آواز اٹھانے پر محمد اسلم نامی اہلکار کی ٹرانسفر میانوالی جیل کر دی گئی ہے، ذرائع کے مطابق میاں فہیم الدین کو ایک اعلیٰ محکمانہ شخصیت کی مکمل حمایت حاصل ہے، اس نے اپنی سرکاری رہائش گاہ میں درس شروع کیا ہوا ہے، جس میں مرزائیت کی تبلیغ کی جاتی ہے، سولہ سالہ قیدی محمد امین سے جیل اہلکاروں نے منشیات برآمد کر لیں اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کیا، لیکن اس نے کوئی کاروائی نہیں کی، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بورسٹل جیل نے نادار قیدی بچوں کے نام پر لاکھوں روپے کا چندہ ہڑپ کر لیا، اٹک کے علاقہ حضرو کے رہائشی تیسری جماعت کے طالب علم احمد نواز ولد رب نواز کو مقدمہ قتل میں پانچ سال کی سزا اور چھ لاکھ روپے دیت کا حکم سنا کر بورسٹل جیل بھیجا گیا، پوری قید کاٹ لینے اور سولہ ماہ سے زائد ہو جانے کے باوجود اسے رہا نہیں کیا گیا۔
(ہفت روزہ ”القلم“ مورخہ ۱۵ تا ۲۱ / جون ۲۰۰۷ء)
خدا کرے یہ خبر جھوٹی ہو اور بورسٹل جیل، جسے عرف عام میں بچہ جیل کہا جاتا ہے، کسی ایسے اسلام دشمن اور قادیانی کے حوالے نہ ہوئی ہو، جو کم عمر اور خام ذہن مسلمان بچوں کے دین اور ایمان کو غارت کرنے کا سبب بنے، لیکن اگر یہ خبر سچی ہے...... اور بظاہر اس کے جھوٹا ہونے کے کوئی آثار و قرائن نہیں...... تو ہمارے خیال میں بچہ جیل میں قادیانی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی تقرری سے بہتر ہوتا کہ فیصل آباد بورسٹل جیل کے تمام بچوں کو...... خدانخواستہ...... قتل ہی کر دیا جاتا، اس لئے کہ کم از کم اس سے معصوم بچوں کا دین و ایمان تو بچ جاتا اور کل قیامت کے دن وہ جہنم کا ایندھن تو نہ بنتے، جب کہ موجودہ صورت حال میں، جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے، ان کی دنیا تو خراب ہو ہی گئی، افسوس کہ! جیل سپرنٹنڈنٹ ان کی آخرت کی تباہی و بربادی کے بھی درپے ہے۔
بورسٹل جیل میں قادیانی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کا تقرر، کوئی کم ظلم نہیں تھا کہ اس پر مستزاد اس ظالم نے کم عمر بچوں اور ناپختہ ذہن بچوں کی اصلاح و تربیت کی غرض سے جیل میں جاری: کلمہ کلاس، ناظرہ کلاس، حفظ کلاس اور ابتدائی دینیات تعلیم کلاس وغیرہ بیک جنبش قلم بند کردیں، بلاشبہ جیل سپرنٹنڈنٹ کا یہ اقدام جہاں بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے، وہاں یہ جیل قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
دیکھا جائے تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کا یہ اقدام معاشرہ کو بے راہ روی پر ڈالنے کے مترادف ہے، کیونکہ جو کم فہم بچے، غلط ماحول اور گندی سوسائٹی کی وجہ سے مجرم بنے اور گرفتار ہو کر جیل آئے اور اپنے جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں، کیا ان کا حق نہیں کہ ان کو صحیح، غلط، جائز، ناجائز، مفید، مضر اور اچھائی و برائی سے آگاہ کیا جائے؟ بتلایا جائے کہ جو افسر ایسی تمام کوششوں کو منع یا موقوف کردے، وہ ملک وقوم اور معاشرہ کا دوست کہلائے گا یا دشمن؟
کیا یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ یہ شخص یہی چاہتا ہے کہ جو بچے دانستہ یا نادانستہ ایک بار جیل میں آگئے ہیں، وہ ہمیشہ کے لئے اسی ماحول کے ہو کر رہ جائیں اور وہ اس ماحول سے کسی طرح نکلنے نہ پائیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی تمام کوششوں کو بیک قلم جنبش روک دیتا ہے، جن سے کسی غلط اور گم گشتہ راہ کی راہ نمائی کا امکان ہو۔
کیا یہ حکومت اور جیل انتظامیہ کے فرائض میں شامل نہیں کہ ایسے افراد...... جو کسی کے بہکاوے یا غلط فہمی میں آکر جرائم کا ارتکاب کر بیٹھے ہوں...... کی راہ نمائی کی جائے اور ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو ایسا جیلر نام نہاد افسر جو قیدیوں کی اصلاح کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہو، وہ اس قابل نہیں کہ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے؟ اور اس کو عبرت ناک سزا دی جائے؟
اس سب سے بڑھ کر تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بورسٹل جیل میں ضروری اسلامی تعلیمات کی کلاسیں تو بند کر دی گئی ہیں، مگر اس قادیانی افسر کی ارتدادی سرگرمیوں پر نہ یہ کہ کوئی قدغن نہیں، بلکہ وہ تاحال جاری وساری ہیں، الٹا ان میں مزید تیزی آگئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کسی قادیانی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ پاکستان کے آئین و دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے کفر و ارتداد کی تبلیغ کرے؟ یا اپنی کفریات کو درس قرآن کے نام سے پیش کرے؟
بلاشبہ یہ ان نو عمر قیدیوں اور ناپختہ ذہن مسلمان بچوں کے خلاف بہت بڑی سازش ہے کہ ان کو ایک قادیانی زندیق و مرتد افسر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، بلاشبہ مسلم بچہ جیل پر قادیانی جیلر کا تقرر ایسا ہی خطرناک ہے جیسے بکریوں کے ریوڑ میں کسی بھیڑیا کو چھوڑ دیا جائے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہمارے خیال میں شاید بھوکا بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں کرے گا، جتنا ایک قادیانی جیلر بچہ جیل کے ناپختہ ذہن مسلمان بچوں کے دین و ایمان کو غارت کرے گا۔
اس لئے ہم حکومت پنجاب، خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے درخواست کریں گے کہ اس ارتدادی مہم کا سدباب کیا جائے اور اس موذی جیلر کو اس حساس پوسٹ سے ہٹایا جائے، اگر اس موذی کی راہ نہ روکی گئی تو اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ قادیانی فتنہ سے لاعلم مسلمان بچے کہیں قادیانیت کے جھانسے میں نہ آجائیں۔
خصوصاً جب کہ قادیانی افسر اپنی کرسی اور عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کسی ماتحت یا قیدی کو اپنے خلاف بغاوت یا آواز اٹھانے پر ظلم و تشدد کا نشانہ بھی بناتا ہو، تو اس کے مقابلے میں آنے کی کس کو جرأت ہوگی؟
جب وہ ایسے کئی ایک افراد کو اپنے انتقام کا نشانہ بنا چکا ہو...... جو اس کی راہ میں رکاوٹ تھے یا اس کے پروگرام میں حارج تھے...... ایسے میں حکومت اور ارباب اقتدار کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ بچہ جیل کے مسلمان قیدیوں کو اس کفر و عدوان سے بچایا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جولائی ۲۰۰۷ء ص۵،۴)
علماء اور خطباء کے نام
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!
انسان کی ہدایت و راہ نمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا تھا اس کا اختتام اور تکمیل آقائے دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کی تشریف آوری پر ہو گئی۔
ایک سو سے زائد آیاتِ قرآنیہ اور دو سو سے زائد احادیث شریفہ میں صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے آپ ﷺ کے بعد اب کسی کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔
اگر بالفرض اور خدانخواستہ کوئی بدبخت کسی ایسے دعوے کی جرأت کرے تو وہ کافر، مرتد اور واجب القتل ہے، چنانچہ چودہ صدیوں کی اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اگر کسی بدبخت نے ایسی ہرزہ سرائی کی تو امت نے اس کو قطعاً برداشت نہیں کیا۔
جھوٹے مدعیانِ نبوت کس سلوک و برتاؤ کے مستحق ہیں؟ اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ اور حضرات صحابہ کرام ؓ کا طرزِ عمل امت کے لئے مینارۂ نور ہے، چنانچہ اسود عنسی کے فتنہ کی سرکوبی کے لئے آنحضرت ﷺ کا حضرت فیروز دیلمی ؓ کو مامور فرمانا، اسود عنسی کا کام تمام کرنے پر آپ کا اس کے لئے ”فاز فیروز ؓ “ کی بشارت سنانا، مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا حضرت خالد بن ولید ؓ کو مامور فرمانا، کارزار یمامہ کا برپا ہونا، چالیس ہزار مسیلمیوں کو واصل جہنم کرنا اور ۱۲ سو سے زائد صحابہ کرام ؓ اور تابعین کا اس میں کام آنا، اس کی اہمیت و عظمت کی کافی دلیل ہے۔
شومئ قسمت کہ متحدہ ہندوستان میں انگریز کی چھتری کے نیچے مسیلمہ کذاب کے جانشین اور اس کے ظہور و بروز مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا تو مسلمان خون کا گھونٹ پی کر رہ گئے، اس لئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو انگریزی حکومت و اقتدار کی سر پرستی حاصل تھی جب کہ مسلمان نہتے اور بے بس تھے۔ بایں ہمہ مسلمانوں نے عموماً اور اہل حق علمائے کرام نے خصوصاً اس فتنہ کا ہر میدان میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تعاقب جاری رکھا، چنانچہ تحریر و تقریر، وعظ و بیان، مناظرہ، مباہلہ اور مباحثہ و مناقشہ سمیت کسی مرحلہ پر بھی اس کو نہیں چھوڑا، بلکہ اس فتنہ کی تردید و سرکوبی کے لئے باقاعدہ ایک جماعت تشکیل دے دی گئی، جس کا اوڑھنا بچھونا ہی تردید مرزائیت رہا۔
پورے نوے سال کی جدوجہد کے بعد قادیانی / مرزائی پاکستان میں آئینی طور پر غیر مسلم قرار پائے اور پوری دنیا کی اسلامی تنظیموں نے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا، نہ صرف یہی بلکہ ملکی و بین الاقوامی اعلیٰ عدالتوں نے بھی ان کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن قرار دیا۔
یوں قادیانی اپنا کفر آشکارا ہونے پر زیر زمین چلے گئے، مگر وہ اپنی ارتدادی سرگرمیوں سے ایک لمحہ کے لئے رکے اور نہ باز آئے ، اس کے برعکس عام مسلمان بلکہ اہل علم بھی اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ فتنہ قادیانیت ختم ہو گیا۔
چنانچہ مسلمانوں اور علماء کرام کی اس غلط فہمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں نے نفاق و باطنیت کی ردا اور چادر اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکہ زنی کی مہم تیز کر دی، بلاشبہ ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریکات میں شامل ہونے والے مسلمان اس فتنہ اور اس کی زہرناکی سے آگاہ تھے، لیکن مسلمانوں کی وہ نسل جو ۱۹۸۴ء میں دس سال یا اس سے چھوٹی تھی، وہ اس فتنہ کی سنگینی سے قطعاً لاعلم ہے۔
ہمارا فرض بنتا تھا کہ ہم تردید کے تسلسل کو برقرار رکھتے اور نئی نسل کو اس فتنہ کی سنگینی سے آگاہ کرتے، مگر اے کاش! کہ ہم اس سے غافل ہو گئے اور ہماری اس غفلت و کاہلی سے قادیانیوں نے خوب خوب فائدہ اٹھایا اور ہماری نئی نسل جو قادیانی فتنہ کی سنگینی سے لاعلم و نا آشنا تھی ، ان کو اپنے دام تزویر میں پھانسنے کے لئے طرح طرح کے حربے آزمائے، کبھی انہیں نوکری کا لالچ دیا، کبھی بیرون ملک سیٹ کرانے کا جھانسہ دیا، کبھی شادی اور اچھے مستقبل کے نام پر ورغلایا، غرض قادیانی فتنہ پرداز، ایک دن بلکہ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے مذموم اغراض و مقاصد کی تکمیل سے باز نہ آئے، جب کہ دوسری طرف سے مسلمان کانوں میں تیل ڈال کر سو گئے۔
حد تو یہ ہے کہ علماء، خطباء، مقررین اور واعظوں تک نے اس سے چشم پوشی کر لی، جس کا بدترین نقصان یہ ہوا کہ قادیانی اور مرزائی اندر ہی اندر مسلمانوں کو مرتد بنانے میں مصروف ہو گئے ۔ اس تکلیف دہ صورت حال سے بے چین ہو کر خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد سجادہ نشین کندیاں شریف دامت برکاتہم نے علماء، خطباء اور اہل علم کے نام ایک خط جاری فرمایا اور انہیں ان کے فرائض کی طرف متوجہ فرماتے ہوئے لکھا کہ:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بعد الحمد والصلوٰۃ وارسال التسلیمات والتحیات فقیر ابو الخلیل خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ کندیاں، ضلع میانوالی پاکستان
جناب واجب الاحترام علمائے کرام، زید مجدکم العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ! آپ کو معلوم ہے کہ قادیانی، مرزائی اندر اندر مسلمانوں کو مرتد بنانے میں مصروف ہیں۔ میں آپ حضرات سے اللہ کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ مہینہ میں صرف ایک ہی دفعہ سہی اپنے خطبات میں صرف دس پندرہ منٹ تحفظ عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیوں، مرزائیوں کا مکروہ چہرہ کے متعلق نوجوانوں کو آگاہ فرما دیا کریں تاکہ ہم حضور ﷺ کے اس حق کو ادا کرنے میں خدا کے ہاں اجر کے مستحق بن سکیں۔ امید ہے آپ توجہ فرمائیں گے۔ والسلام !
فقیر خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ ۲۷ / جمادی الاوّل ۱۴۲۸ھ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت خواجہ صاحب مدظلہ کے اس درد بھرے مکتوب کی روشنی میں ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ جس سے جو بن پڑے، اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اپنی صلاحیتوں کو صرف کرے اور آنحضرت ﷺ کی شفاعت کا مستحق بنے، ورنہ اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ کل قیامت کے دن حضور اکرم ﷺ یہ کہہ کر ہماری شفاعت کرنے سے انکار فرمادیں کہ تمہارے سامنے میری ردائے ختم نبوت کو تار تار کیا جاتا رہا اور تم نے نہ صرف اس کا سدباب نہ کیا بلکہ تمہارے ماتھے پر کوئی شکن تک نہیں آئی تھی۔ خدانخواستہ اگر کل قیامت کے دن حضور ﷺ یہ کہہ کر ہم سے منہ موڑ لیں تو بتلایا جائے ہمارا کیا بنے گا؟ اور ایسی صورت میں ہماری ہلاکت وبربادی میں کوئی شک وشبہ رہ جاتا ہے؟
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۳؍ جولائی ۲۰۰۷ء ص۵،۴)
سلمان رشدی اپنے انجام کو پہنچے گا
شاتم رسول سلمان رشدی اپنے انجام کو پہنچے گا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حافظ آباد کے رہنما حافظ عبدالوہاب جالندھری اور محمد رشید اختر نے مشترکہ بیان میں ملکہ برطانیہ کی طرف سے سلمان رشدی ملعون کو سر کا خطاب دینے کی پرزور مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے خودکاشتہ پودے پہلے بھی اپنے انجام کو پہنچے ہیں اور اب بھی اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ شمع رسالت کے پروانے اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں۔ وہ شاتم رسول کو اس کے انجام تک پہنچائیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۷ء ص۵۲)
قادیانیوں کا میدان مناظرہ سے فرار اور مسلمانوں کی فتح
علاقہ چناب نگر کے مربی رفیق احمد قادیانی اور ڈیرہ کے رہائشی امتیاز احمد آرائیں قادیانی کی طرف سے علاقہ کے مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج دینے پر علاقہ کے مسلمان دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب کے پاس آئے اور قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں اور قادیانیوں کی طرف سے مناظرہ کے چیلنج کے بارے میں بتایا۔ اس پر قادیانیوں کے مناظرہ کا چیلنج قبول کرتے ہوئے مولانا غلام مصطفیٰ صاحب اپنے احباب مولانا سجاد الٰہی صاحب، مولانا محمد اسماعیل صاحب، مولانا محمد مغیرہ صاحب، ماسٹر محمد ناصر، جناب شاہد ندیم صاحب اور جناب محمد ظفر اقبال صاحب کے ہمراہ طے شدہ وقت کے مطابق مقام مناظرہ پر پہنچ گئے۔ لیکن قادیانی مربی رفیق احمد اور دیگر قادیانی میدان مناظرہ میں نہ آئے۔ مولانا غلام مصطفیٰ صاحب اور علاقہ کے مسلمانوں کی طرف سے بار بار اصرار کے باوجود قادیانی مربی مناظرہ کے لئے نہ آئے۔ تقریباً دو گھنٹے تک مولانا غلام مصطفیٰ صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میدان مناظرہ میں موجود رہے۔ لیکن قادیانیوں کو چیلنج کرنے کے بعد مناظرہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ چیلنج کرنے کے بعد قادیانیوں کا میدان مناظرہ میں نہ آنا مسلمانوں کی عظیم الشان فتح اور قادیانیوں کی عبرتناک شکست ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۷ء ص۵۴)
بھکر کے غیور مسلمانوں کی قادیانیت کے مقابلہ میں فتح
گزشتہ دنوں بھکر میں شدید اضطراب کی کیفیت اس وقت پیدا ہوئی جب ایک قادیانی جج ارشاد اللہ سیال کو سیشن جج بنا کر بھیجنے کا حکم ملا۔ الحمدللہ! بھکر کے وکلاء فتنہ قادیانیت سے بھرپور آگاہ ہیں اور اس پلیٹ فارم کو حضرت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی کی دعاؤں اور اجازت سے ڈاکٹر دین محمد فریدی صاحب، جمعیت علمائے اسلام مرکزی راہنما، مولانا محمد عبداللہ صاحب اور جناب حافظ ممتاز علی مرحوم، جناب حافظ سرفراز مرحوم کے مشورہ سے خوب مضبوط کیا اور قادیانیت جو عزائم لے کر بھکر میں آئی تھی ناکام ہوئی۔ الحمدللہ! جناب ڈاکٹر صاحب نے عوام سے لے کر اعلیٰ افسر تک فتنہ قادیانیت کی اسلام دشمن اور ملک دشمن سرگرمیوں سے آگاہ کردیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جیسے ہی ارشاد اللہ سیال کے بارے میں اطلاع ملی کہ سیشن جج بن کر آ رہا ہے۔ بھکر بار کے پچاس وکلاء نے فوری طور پر قائم مقام چیف جسٹس کو درخواست فیکس کی کہ ہم قادیانی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ادھر اس قادیانی جج کو معلوم ہوا تو اس نے بھی تمام حربے استعمال کئے۔ لیکن فتح حق کی ہوئی اور قادیانی جج، غیور ایمان پرور وکلاء کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔ بھکر کے وکلاء اور عوام اس قادیانی جج اور اس کی بیوی نصرت سیال کے کارناموں سے آگاہ ہیں۔
اس لئے کہ یہ وقتاً فوقتاً تین بار سول، سینئر سول اور ایڈیشنل جج بن کر آیا اور اس کی بیوی نصرت سیال بھکر کالج کی پرنسپل بنی اور اپنے سیاہ اعمال کی بناء پر بھکر چھوڑنے پر گرلز کالج کا پانچ لاکھ کا نقصان کیا اور وہ سامان اس کے گھر سے برآمد ہوا۔ ڈاکٹر دین محمد فریدی صاحب وکیل ختم نبوت جناب محمد عثمان خان کے ہمراہ ان کے چیمبر میں ملاقات ہوئی تو اس نے جواب میں کہا کہ میں آپ کے پاس دفتر ختم نبوت آؤں گا۔
ایک دن مذکورہ قادیانی جج بھکر دفتر ختم نبوت کے سامنے اپنی گاڑی میں بیٹھے تھے تو جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی صاحب ان کو دفتر لائے بات ہوئی تو کہنے لگے میں تو مرزا کو نبی نہیں مانتا اور نہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جب ڈاکٹر صاحب نے مرزا کی کتاب ایک غلطی کا ازالہ دکھایا۔ جس میں مرزا کا دعویٰ نبوت تھا تو کہنے لگا مرزا جھوٹا تھا۔ لیکن میری مجبوری ہے اور قادیانیت نام ہی جھوٹ کا ہے اور اس کی مجبوری اس کی بیوی نصرت سیال تھی۔ جس کی وجہ سے یہ قادیانی بنا تھا۔ اسی دوران یہ قادیانی جج اپنی گاڑی پر کلمہ طیبہ اور ماشاء اللہ کا اسٹیکر لگائے ہوئے تھا۔ تو بھرے چوک میں ختم نبوت کے مجاہدین نے ان کو محفوظ کر لیا۔ بالآخر جیسے چند دن اس شخص کے سیشن جج بن کر آنے پر پریشانی ہوئی تھی۔ اس طرح بھکر کے غیور وکلاء نے اقدام کیا اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نے سرپرستی فرمائی وہاں متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کا کردار بھی قابل تعریف رہا۔ شہر کے جید علماء کرام کے ساتھ انجمن تاجران نے بھی اپنا بھر پور ساتھ دیا۔ اس واقعہ کی بھی اطلاع حضرت امیر مرکزیہ کو دی اور حضرت ناظم اعلیٰ صاحب کو حضرت امیر مرکزیہ نے فرمایا کہ ان شاء اللہ نہیں آئے گا محنت کیجئے اور حضرت اقدس دامت برکاتہم کی بات پوری ہوئی، نہیں آیا اور محنت بھی خوب ہوئی ایک بار پھر قادیانیت کے مقابلہ میں بھکر کے غیور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۷ء ص۵۲، ۵۳)
نیپال کھٹمنڈو میں جماعتی سرگرمیاں
مجلس تحفظ ختم نبوت نیپال کے صدر مولانا محمد اسلام ندوی کا خط :
مکرمی حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
اللہ کے فضل و کرم سے بندہ بھی بعافیت ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کا کام بخیر وخوبی انجام دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عرض حال یہ ہے کہ اس سال کھٹمنڈو کی سطح پر خصوصی محنت کی گئی، مبلغ مجلس کی انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے اور خواص کی نشست کروا کر قادیانیوں کا نوٹس لینے پر ابھارا گیا، نیز دو مرکزی مساجد نیپالی جامع مسجد اور جامع مسجد پاٹن میں ختم نبوت کے موضوع پر خطاب کا اہتمام کیا گیا اور اس طرح بڑی حد تک وہاں کی رائے عامہ بیدار ہوئی۔ ادھر دیہی علاقوں میں اصلاح معاشرہ مہم چلائی گئی، جمعہ کے خطبوں کے علاوہ عوامی سطح کا پروگرام اس موضوع پر بالواسطہ طور پر منعقد کیا گیا، ادھر ہندوستان کے سرحدی علاقہ ضلع سوپول کا ضلعی حاکم قادیانی سرکاری عہدہ کی آڑ میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کئی گاؤں کے لوگوں کو پھانس چکا تھا، رکاوٹ کے باوجود محتاط طریقے سے اس طرف پیش قدمی کی گئی ، پھر مصلحتاً امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے ذمہ داروں کو خبر پہنچائی گئی اور ان کی نگرانی میں محنت ہو رہی ہے ، اس طرح موضوع سے متعلق نیپالی زبان میں پمفلٹ کی اشاعت و تقسیم بھی ہوتی رہی اور حسب سابق دس مکاتب بھی چل رہے ہیں، جن میں تقریباً پانچ سو بچے زیر تعلیم ہیں، جن میں غریب و نادار بچوں کے لئے درسی کتب بھی فراہم کی جاتی ہیں، احباب کی خدمت میں ہدیہ سلام ۔ والسلام! محمد اسلام ندوی
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ستمبر ۲۰۰۷ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
قادیانی غیر مسلم کو حرمین شریفین جانے سے روکا جائے
عالمی مجلس تحفظ ختم سرائے نورنگ، تحصیل و ضلع لکی مروت کے اراکین نے ایک درخواست وزارت مذہبی امور حکومت پاکستان کو دی ہے، انہوں نے اپنی درخواست میں یہ لکھا ہے کہ قادیانیوں کے مذہبی پیشوا صاحبزادے ایوب احمد ولد عبدالرب نے غلط طریقہ سے حج درخواست فارم جمع کیا ہے، حالانکہ آئین کی رو سے مرزا غلام احمد قادیانی کے جملہ پیروکار غیر مسلم اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور شرعاً اور حکومت سعودیہ کے قانون کے مطابق کسی غیر مسلم کا حدودِ حرمین شریفین میں داخلہ ممنوع ہے۔ مذکورہ قادیانی کے درخواست فارم کا نمبر ۲۷۲۵۳۳۵ ہے اور یوبی ایل برانچ نمبر ۱۰۲۵ سرائے نورنگ درج ہے، جس کی کاپی مندرجہ ذیل ہے:
UBL حج 2007 / 1428ھ گورنمنٹ سکیم درجہ رہائش WHITE حج درخواست نمبر 272533*5 صاحبزادہ ایوب احمد محمد اسلم خٹک، ولد محمد اسماعیل صاحبزادہ عبدالرب کوٹکہ محمد شفیع، ناوا صاحبزادہ کوٹکہ محمد شفیع، صاحبزادہ نورنگ سرائے نورنگ تحصیل و ضلع لکی مروت تحصیل و ضلع لکی مروت 0469350255 03005762275 شناختی کارڈ نمبر 1120143863671 مقام ادائیگی اکاؤنٹ نمبر 272536*2 Branch Code 1025 دستخط آفیسر UBL
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہوں نے حکومت سے پرزور درخواست کی ہے کہ اس قادیانی کے خلاف فوری طور پر راست قدم اٹھایا جائے اور اس کو حرمین شریفین جانے سے روکا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/ ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۲۶)
چیف آف آرمی سٹاف اور وفاقی محکمہ تعلیم توجہ فرمائیں
روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۶/اگست ۲۰۰۷ء میں فوجی فاؤنڈیشن پراجیکٹ، فاؤنڈیشن یونیورسٹی کی طرف سے داخلہ تعلیم کے لئے اشتہار شائع ہوا ہے۔ اس اشتہار میں معروف جنونی قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام غدارِ پاکستان کی تصویر دی گئی ہے اور نونہالانِ وطن کے لئے گویا اس کو آئیڈیل قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہی عبدالسلام ہے جس نے پاکستان کے ایٹمی راز فاش کئے۔ پاکستان کے ایٹم بم کا ماڈل امریکہ کو دیا۔ جس نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ سے انحراف کرتے ہوئے پاکستان کو چھوڑ دیا۔ اس غدار کی تصویر فوجی فاؤنڈیشن کے تحت پراجیکٹ میں اس سے کیا سمجھا جائے کہ فوج میں قادیانی ذہن کس طرح کام کر رہا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف اس پر توجہ فرمائیں؟
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۷ء ص ۴)
چیف منسٹر پنجاب جناب پرویز الٰہی توجہ فرمائیں! محکمہ تعلیم پنجاب اور قادیانی
تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں جناب چوہدری ظہور الٰہی صاحب تحریک کے اکابر کے شانہ بشانہ شامل رہے اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ اس حوالہ سے ان کے جانشین جناب چوہدری شجاعت حسین ہوں یا چوہدری پرویز الٰہی، ہمارے دل میں ان کے لئے احترام کے جذبات ہیں، لیکن یہ بات بڑے دکھ سے کہنا پڑتی ہے کہ جب سے چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے چیف منسٹر بنے ہیں۔ مبینہ قادیانی ڈاکٹر مبشر امریکی اور ان کی قادیانی اہلیہ نے چوہدری پرویز الٰہی کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔
- ۱...... چوہدری پرویز الٰہی نے ڈاکٹر مبشر قادیانی کی قادیانی اہلیہ کو صوبائی مشیر تعلیم مقرر کیا۔
- ۲...... اونچی کھرولیاں کا نام قادیانی مبشر ڈاکٹر کے آنجہانی سکھ بند قادیانی باپ کے نام پر اسلم پورہ رکھا۔
- ۳...... ڈاکٹرز ہسپتال لاہور کے شعبہ دل کا ڈاکٹر مبشر کو اعزازی سربراہ بنایا۔ جیسا کہ اس ہسپتال کی ویب سائٹ سے ظاہر ہے۔
- ۴...... اب ساتویں جماعت کے لئے ’’پنجابی دی دوجی کتاب‘‘ ترمیم شدہ، شائع کردہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کے ص ۳ پر
’’ساڈے پیارے نبی ﷺ‘‘ کا عنوان قائم کر کے غفران سید کے مضمون کو کتاب میں شامل کیا ہے۔ اس میں مسلمانوں کے متفقہ اجماعی عقیدہ کے خلاف خالصتاً قادیانی عقیدہ کی ترجمانی کی گئی۔ لکھا ہے کہ رحمت عالم ﷺ کی ولادت مبارک جب ہوئی۔ ’’اس ویلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نوں وفات پایاں پنج سو اکہتر ورے ہوچکے سن‘‘ حالانکہ چودہ سو سال سے امتِ محمدیہ کا متفقہ طور پر اجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے اور قیامت کے قریب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ ذیل کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔
حافظ عسقلانی (تلخیص الحبیر ج ۳ ص ۴۶۲، مطبوعہ مکہ روایت نمبر ۱۶۰۴) میں فرماتے ہیں۔ اما رفع عيسى فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على انه رفعه ببدنه حيا ﴿یعنی تمام محدثین اور مفسرین اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بدن کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔﴾
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۲ (تفسیر بحر المحیط ص ۴۷۲ ج ۲) پر ہے۔
قال ابن عطية واجمعت الامة على ماتضمنه الحديث المتواتر من ان عيسىٰ فى السماء حى وانه ينزل فى آخر الزمان ﴿یعنی تمام امت کا اس پر اجماع ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں نازل ہوں گے ۔جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔﴾
- ......۳ (تفسیر النہر الماد ص ۴۷۳ ج ۲) پر ہے۔
”واجتمعت الامة على ان عيسىٰ حى فى السماء وينزل الى الارض“ ﴿امت کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں اور زمین پر دوبارہ نازل ہوں گے۔﴾
- ......۴ امام ابوالحسن اشعری کتاب (الابانۃ عن اصول الدیانۃ ص ۴۶) پر فرماتے ہیں۔
قال الله عز وجل يعيسىٰ انى متوفيك و رافعك الىّ و قال الله تعالىٰ وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه واجتمعت الامة على ان الله عز وجل رفع عيسىٰ الى السماء ﴿اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے عیسیٰ میں آپ کو پورا پورا لوں گا اور آپ کو اٹھاؤں گا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے یقیناً قتل نہیں کیا۔ بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اٹھا لیا اور امت کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں پر اٹھایا گیا۔﴾
ان جیسی ہزاروں تصریحات کے خلاف عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے عقیدہ کا پنجاب محکمہ تعلیم کی نصابی کتاب میں درج ہو جانا، پورے پنجاب کی نئی پود کو قادیانیت کی گود میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اب بھی ہم اس خوش فہمی میں مبتلاء ہیں کہ جناب پرویز الٰہی اس سے باخبر نہیں ہوں گے۔ لیکن ان کے اقتدار کی اوٹ میں قادیانی عقائد کی اشاعت قابل افسوس اور باعث تشویش ہے۔ اس کا نہ صرف مداوا ہونا چاہئے بلکہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ صوبائی سیکرٹری تعلیم اور صوبائی وزیر تعلیم کیا فرماتے اور کیا کرتے ہیں؟
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۷ء ص ۴۳)
متنازعہ عبارت کے اخراج کی یقین دہانی کا خیر مقدم
فیصل آباد (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے پنجابی دی دوجی کتاب (ترمیم شدہ) برائے جماعت ہفتم میں متنازعہ عبارت بعنوان ’’ساڈے پیارے نبی ﷺ‘‘ سے ’’اس ویلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نوں وفات پائیاں پنج سو اکہتر ورے ہو چکے سن‘‘ کو نئے تعلیمی سال ۲۰۰۸ء میں شائع ہونے والی کتاب میں سے خارج کرنے سے متعلق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ (شعبہ نصاب) پنجاب لاہور کی طرف سے یقین دہانی کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ کتاب میں متنازعہ سطر پر کالی سیاہی پھیر دی جائے اور صوبہ پنجاب کے ۳۴ اضلاع کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسرز تعلیم کو ضروری ہدایات جاری کر دی جائیں تا کہ بچوں کے ذہن سے یہ فقرہ نکالا جا سکے جو قادیانی نظریات کا آئینہ دار ہے، اس کے لکھنے، شائع کرنے والے اور منظوری دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور موجودہ تعلیمی اداروں میں رائج پڑھائی جانے والی اس کتاب سے اس فقرہ پر (فلوڈ) لگا دیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ (شعبہ نصاب)
وحدت کالونی لاہور
نمبر: پی ٹی بی /س ڈبلیو/1077 تاریخ: 14 نومبر 2007ء
جانب : مولوی فقیر محمد سیکرٹری اطلاعات، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، فیصل آباد
عنوان ! پنجابی دی دوجی کتاب (ترمیم شدہ) برائے جماعت ہشتم میں سے متنازعہ عبارت کا اخراج
اسلام علیکم !
اطلاع ہے کہ جماعت ہشتم کی کتاب میں مضمون بعنوان "ساڈے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" سے متنازعہ عبارت "اوس ویلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نوں وفات پائیاں پنج سو اکہتر ورہے ہو چکے سن" کو نئے تعلیمی سال 2008 میں شائع ہونے والی کتاب میں سے خارج کر دیا جائے گا۔ شکریہ
ایڈیشنل ڈائریکٹر (شعبہ نصاب)
01/12 ڈسپیچ 23/11/2007 ڈائری نمبر 847 تاریخ 19/11 2007
کاپی برائے اطلاع
- -1 پی اے ٹو چیئرمین
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۳۱ دسمبر ۲۰۰۷ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوک اعظم کے مرزائی اے ایس آئی کے خلاف سیشن کورٹ لیہ میں رٹ
تھانہ چوک اعظم لیہ میں رانا عزیز احمد نامی شخص عرصہ سے مرزائی ہوا اور بعدازاں اس نے اپنے گھر واقع وارڈ نمبر دو نزد بلال پارک میں ایک مکان بنوایا جسے وہ قادیانی عبادت گاہ کے طور پر استعمال کرتے اور ہر جمعہ کو وہاں اس کے مربی آنے لگے۔ رانا عزیز سادہ لوح اور غریب لوگوں کو ہر جمعہ شکار کرتا ہے اور دعوت کے نام پر اپنے گھر بلا کر جیب خرچ کے علاوہ کھانا کھلا کر قادیانی لٹریچر اور ڈش وغیرہ کے ذریعہ مرزائی نظریات سے آگاہ کرتا ہے اور انہیں مرتد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی تبلیغ جب حد سے بڑھی تو وارڈ نمبر دو کے اصغر علی رندھاوا نے ایک درخواست سیشن کورٹ لیہ میں گزاری جس میں مذکورہ بالا موقف اختیار کیا گیا۔
عدالت نے ایک انکوائری مقرر کی اور ڈی. آئی. جی کو اس کی مکمل انوسٹی گیشن کرنے کی ہدایت کی۔ مقامی لوگوں نے اس سلسلہ میں اپنے بیانات قلم بند کروا دیئے۔ مقامی تھانہ میں ایس. ایچ. او ملک شوکت حیات نے بھی مذکورہ اے. ایس. آئی کو ملوث تبلیغ ہونے کی رپورٹ کر دی ہے۔ جس پر عدالت نے مرزائی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ڈی. آئی. جی ڈیرہ غازی خان نے مذکورہ اے. ایس. آئی کے خلاف انکوائری مقرر کر دی ہے۔ اس صورت حال سے خائف ہو کر ملزم مرزائی نے مدعی کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اور درخواست واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ مجھ پر اگر مقدمہ بنا اور ملازمت سے فارغ ہوا تو ویزہ لگوا کر باہر چلا جاؤں گا۔ واضح ہو کہ اس سے پہلے بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنان مذکورہ ملزم کے خلاف رپورٹ کرتے اور اس کے قادیانی مبلغ ہونے کی اطلاعات کرتی رہی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۸ء ص ۲۶)
کوئٹہ میں قادیانی کا قبول اسلام
۲۱؍ جنوری ۲۰۰۷ء کو نصر اللہ ڈار ولد اکرم اللہ ڈار نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر حضرت مولانا عبد الواحد خطیب جامع مسجد قندھاری اور حضرت مولانا قاری عبد الرحیم رحیمی ناظم تبلیغ مجلس تحفظ ختم نبوت خطیب جامع مسجد گول سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ کے روبرو دفتر ختم نبوت کوئٹہ میں از خود اپنے دوستوں کے ہمراہ حاضر ہو کر اپنے سابقہ مذہب قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔ اس موقعہ پر حضرت مولانا عبد الواحد نے نومسلم کی استقامت دین کے لئے دعا فرمائی۔ حاضرین نے نصر اللہ ڈار کو اسلام قبول کرنے پر مبارک باد دی۔ نیز اس سے پیشتر مذکورہ بالا کی دو بہنیں بھی مسلمان ہو چکی ہیں۔ اب صرف والدہ اور ایک بھائی رہ گیا ہے جو قادیانی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہدایت نصیب فرمائے اور امت محمدیہ میں شامل فرمائے۔ آمین ثم آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۷ء ص ۴۷)
قادیانیوں کا قبول اسلام
جامع مسجد کینال کالونی راجن پور کے خطیب مولانا محمد علی صدیقی کے ہاتھ پر جمعتہ المبارک کے موقع پر سینکڑوں افراد کی موجودگی میں قادیانی حضور بخش نے اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر حضور بخش نے لوگوں کی موجودگی میں کلمہ شریف پڑھ کر قادیانیت کو ترک کرنے کا اعلان کیا۔ راجن پور کے علاقہ بستی جاگیر گبول میں حضور بخش دریشک نے مرزائیت سے توبہ تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔ اسی طرح راجن پور شہر میں قادیانی عورت رانی کنول نے مرزائیت پر لعنت بھیجتے ہوئے اسلام قبول کر لیا ہے۔ راجن پور کے ضلعی امیر حضرت مولانا حافظ علی محمد صاحب محمد یوسف نقشبندی مبلغ ختم نبوت ضلع راجن پور، حافظ فاروق احمد قریشی، نور اللہ قریشی، مولانا حافظ محمد رفیق گبول، حافظ صدیق احمد طارق نے ان دونوں کو اسلام قبول کرنے پر مبارک باد دی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نفیس نگر سندھ میں قادیانیوں کا قبول اسلام
قادیانیت ایک جھوٹا اور گندہ مذہب ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ قادیانیت سے تائب ہونے والی نومسلمہ المتین بنت شریف احمد کا اسلام قبول کرنے کے بعد بیان۔ تفصیلات کے مطابق نفیس نگر قادیانی اسٹیٹ کی ایک قادیانی جماعت سے تعلق رکھنے والی المتین شریف احمد نے ۱۹/دسمبر ۲۰۰۶ء کو نفیس نگر سے میر پور خاص آکر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے رہنماؤں مولانا حفیظ الرحمٰن فیض اور مبلغ ختم نبوت مولانا محمد علی صدیقی کے ہاتھ پر مدینہ مسجد دفتر ختم نبوت شاہی بازار میں اسلام قبول کر لیا اور پھر فیملی کورٹ میر پور خاص کی اجازت سے مولانا حفیظ الرحمٰن نے اس کا نکاح منظور ولد ہاشم گوٹھ جغان ضلع مٹھی تھر پارکر سے کر دیا۔ مولانا محمد علی صدیقی، مولانا حفیظ الرحمٰن فیض، مولانا شبیر احمد کرنالوی اور نوکوٹ کے قاری عبدالستار نے اس مسلمان ہونے والی بچی کی مکمل سرپرستی کا یقین دلایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۷ء ص۵۶)
قادیانیوں کا قبول اسلام
وہاڑی کے نواحی گاؤں چک نمبر ۲۱ ڈبلیو بی کے رہائشی قادیانی گھرانے کے سربراہ کا اپنے تین بیٹوں کے ہمراہ خطیب جامع مسجد باغوالی وہاڑی کے ہاتھوں قبول اسلام، کسی دباؤ، لالچ کے بغیر مسلمان ہوتا ہوں۔ عرصہ سے مرزائیت ترک کرنے کی خواہش تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجتا ہوں۔ سچے پیغمبر نبی آخر الزمان ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لاتا ہوں۔
گزشتہ روز مقامی علماء دیگر شخصیات کی موجودگی میں نومسلم محمد لطیف تین بیٹوں انور جاوید، محمد اسلم اور محمد عرفان کے ہمراہ بیان، اس موقع پر ضلعی امیر جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا گل محمد، قاری محمد اختر، محمد صدیق شاہد، قاری خالد محمود، ذوالفقار علی شیخ، جمیل احمد، محمد صادق، قاری محمد طیب رفیق، محمد آصف و دیگر موجود تھے۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز نماز ظہر پر سابق قادیانی محمد لطیف ڈھڈی نے کراچی سے واپسی پر اپنے تین بیٹوں انور جاوید، محمد اسلم اور محمد عرفان کے ہمراہ جامع مسجد باغوالی وہاڑی میں مرزائیت سے تائب ہو کر تجدید ایمان کیا۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ان کی زوجہ نے بھی مذکورہ مقام پر اسلام قبول کیا تھا۔ تقریب کے شرکاء نے قادیانی گھرانے کے سربراہ کو دامن رسالت مآب ﷺ سے وابستگی پر مبارکباد دی اور مٹھائی تقسیم کی۔ خطیب جامع مسجد باغوالی وہاڑی حضرت مولانا عبدالعزیز نے اس موقع پر کہا کہ اس دھرتی کی ہر شے ختم نبوت پر دلیل ہے۔ دریں اثناء ایم۔ایم۔اے کے سابق ضلعی صدر عبدالخالق وٹو نمائندہ اسلام ڈاکٹر سید جہانگیر شاہ نے بھی مذکورہ نومسلم خاندانوں کو مبارک باد دی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص۱۷)
میر پور خاص میں قادیانی کا قبول اسلام
قادیانی اسٹیٹ نفیس نگر میر پور خاص سندھ کے محمد شریف ولد خوشی محمد کھوکھر نے اپنی اہلیہ زاہدہ پروین بنت خدا بخش کے ہمراہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نوکوٹ کے ناظم قاری عبدالستار آرائیں اور مجلس کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کے ہاتھ پر جامع مسجد صدیقہ میں اسلام قبول کر کے قادیانیت جیسے جھوٹے اور گندے مذہب کو ترک کر دیا۔ چوہدری محمد شریف کا تعلق قادیان سے ہے۔ اس وقت چوہدری محمد شریف کی عمر ساٹھ سال اور اہلیہ کی عمر پچاس سال ہے۔ یادرہے کہ چوہدری شریف کے دو بھائی محمد دین اور منیر احمد پہلے ہی مسلمان ہو چکے ہیں۔ ان کا ایک بیٹا سعید احمد بھی مسلمان ہو چکا ہے۔ ابھی کچھ ماہ قبل اس کی بیٹی نے بھی اسلام قبول کیا ہے۔ قارئین سے استقامت کی استدعا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص۱۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چار قادیانیوں کا قبول اسلام
بدین تلہار شہر کے قریب موٹن چانڈیو میں چار قادیانی مذہب کے آدمیوں نے قادیانی مذہب کو چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کا کلمہ پڑھ کر قادیانی مذہب پر لعنت بھیجتے ہوئے مسلمان ہو گئے۔ ان چار آدمیوں کے نام ابراہیم چانڈیو، عبدالکریم چانڈیو، محمد خمیسو چانڈیو، نبی بخش چانڈیو نے قادیانیت چھوڑ کر مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بدین کے ہاتھ پر جمعہ کے روز مرکزی جامع مسجد بلال میں مولانا خان محمد جمالی امیر جمعیت علماء اور موٹن چانڈیو کے امام مولانا غلام مصطفیٰ چانڈیو، حافظ گلزار احمد کی معیت میں اسلام قبول کیا اور جمعہ کے اجتماع پر مولانا نے کہا کہ قادیانیت دن بدن پسپا ہو رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ قادیانیوں کو قادیانیت کا آبائی وطن قادیان بھی پناہ نہیں دے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍ اگست ۲۰۰۷ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
ایک قادیانی کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحفظ ناموس رسالت اور عقیدۂ ختم نبوت کے لئے دن رات کوشاں ہے مبلغین کا وسیع سلسلہ قائم ہے، جس کی بناء پر مرزائیت کی تردید تعاقب جاری وساری ہے، الحمدللہ! آئے دن قادیانی مرزائیت پر لعنت بھیجتے ہوئے آقاء دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہو رہے ہیں۔
سیالکوٹ جہاں قادیانی کثرت سے پائے جاتے ہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پوری سرگرمی سے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کر رہی ہے اور مرزائیت کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا بروقت قلع قمع کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں دوران تعلیم لاہور میں مرزائیوں کے شکنجے میں آئے ہوئے میڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان خادم حسین نے طویل سوالات وجوابات کی نشست کے بعد اپنے شکوک وشبہات دور کر کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے مبلغ حضرت مولانا فقیر اللہ اختر صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، جناب خادم حسین نے کہا کہ قادیانیت دجل وفریب اور دھوکا دہی کا نام ہے، انتہائی تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قادیانی افکار وتعلیمات میں انگریز کی چاپلوسی اور شیطانی وساوس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، کردار کے لحاظ سے غلام احمد قادیانی نبی مسیح ومہدی تو کجا ایک شریف انسان کہلانے کا بھی حق دار نہیں ہے، میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ہدایت عطا کی مسلمان میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے استقامت عطا فرمائے خطیب جامع مسجد یوسف بنوری مفتی محمد صدیق سیالکوٹ کی مبارک دعا کے ساتھ یہ مجلس اپنے حسن اختتام کو پہنچی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۴ تا ۳۱؍ اگست ۲۰۰۷ء ص ۲۵)
۱۳۰ سالہ قادیانی سمیت ۲۲ افراد کا قبول اسلام
ضلع بدین تحصیل ٹنڈو باگو کے علاقہ کھڈارو میں ۵ ماہ قبل ایک قادیانی خاتون کو مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں نے دفن کیا جب کہ وہاں کے رہائشی گرگیز اور رستمانی برادری میں سات سال قبل معاہدہ ہوا تھا کہ کسی قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا، جب کہ اس سے قبل اسی قبرستان میں مسلمان اور قادیانیوں کو دفن کیا جاتا رہا۔ پانچ ماہ قبل فوت ہونے والی خاتون کا شوہر اس معاہدہ سے قبل اسی قبرستان میں دفن کیا گیا تھا، اس خاتون کی وفات پر اسے اپنے شوہر کے ساتھ قادیانیوں نے دفن کر کے معاہدہ کی خلاف ورزی کی مقامی علماء اور برادری نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بدین کے مبلغ کو اطلاع دی مقامی علماء کا فوراً اجلاس طلب کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس کی سربراہی مدرسہ بدرالعلوم کے مہتمم اور مجلس تحفظ ختم نبوت بدین کے امیر مولانا عبدالستار چاوڑانے کی، مقامی علماء کرام نے اجلاس میں بھر پور شرکت کی، جس میں مولانا عبدالغفار جمالی ٹنڈو باگو، مولانا خان محمد جمالی تلہار، مولانا گل حسن ماتلی، مولانا فتح محمد کھیری گولارچی، قاری عبدالرزاق جمالی تلہار، مولانا خان محمد پٹھان ٹنڈو غلام علی، مولانا عبداللہ سندھی کھوسکی، مولانا عبدالحمید حیدری، مولانا غلام علی گوپانگ، مولانا جمال الدین بدین، مولانا عبدالقیوم بدین اور حافظ عبدالحمید شامل تھے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی مردہ کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور فوری طور پر اس کو نکالنے کے لئے علماء کرام کھڈارو پہنچ گئے، وہاں پر مقامی مسلمان آبادی سراپا احتجاج تھی، انتظامیہ ایسے حساس مسئلہ پر روایتی ٹال مٹول کی پالیسی پر عمل پیرا تھی، علمائے کرام نے از خود کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے قبرستان سے مردہ کو نکالنے کے لئے انتظامات شروع کئے۔ قادیانی اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے علماء کرام اور مسلمان پر لاٹھی چارج کیا گیا، جس سے کچھ مسلمان اور علماء کرام زخمی ہوئے، اس واقعہ کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی۔
دوستوں نے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کو آگاہ کیا، مرکزی ناظم اعلیٰ نے فوری طور پر مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ احمد میاں حمادی اور ضلع حیدرآباد کے مبلغ کو بدین پہنچنے کے احکامات دیئے۔ ان دونوں حضرات نے ڈی. پی. او بدین کے ساتھ رابطہ کر کے انہیں اس حساس مسئلہ کو حل کرنے پر زور دیا اور یہ بھی باور کرایا کہ اگر اس مسئلہ میں سستی یا لاپرواہی اور قادیانیت نوازی کرنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو اس سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ مقامی اور ضلع بھر کے علماء کرام کا خصوصی اجلاس مدرسہ بدرالعلوم میں علامہ احمد میاں حمادی کی سربراہی میں منعقد ہوا اس کی بھی انتظامیہ کو خبر کی گئی اور اپنے مطالبات سے آگاہ کیا ڈی. پی. او ضلع بدین نے اس حساس مسئلہ پر فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے قادیانی مردہ کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکالنے کے احکامات جاری کئے جو کہ شام تک اس پر عمل درآمد کر دیا گیا، اس واقعہ سے جہاں مسلمانوں پر اس کے اثرات پڑے وہیں قادیانی جماعت کی بھی کمر توڑ دی اور واقعہ کے کچھ ہی دن بعد اسی گاؤں میں قادیانیوں کا سردار اور سابقہ مربی ۳۰ سالہ محراب خان گرگیز نے قبول اسلام کیا۔
یادرہے کہ محراب خان گرگیز نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ پر قادیانیت اختیار کی تھی جس کی وجہ سے اسے معاذ اللہ! قادیانی مرزا قادیانی کا صحابی شمار کرتے تھے۔ قبول اسلام کے بعد اس نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے دیکھنے کے لئے برطانیہ اور قادیان کے قادیانی یہاں پر آتے تھے اور میرے ہاتھ اور آنکھوں پر بوسہ دیتے تھے کہ میں نے مرزا قادیانی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، میں کافی عرصہ سے قادیانیت کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا، حتیٰ کہ ایک خواب اور اس واقعہ نے مجھے اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیا، میں نے خواب میں مرزا غلام احمد قادیانی کو آگ میں جلتا ہوا دیکھا اور یقین کر لیا کہ اگر یہ خدا کا نبی ہوتا تو اس طرح نہ جلایا جاتا اور اس خاتون کی وفات اور قبرستان میں تدفین کے بعد کے واقعات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمارا مذہب جھوٹا ہے جس کی نہ عزت زندگی میں ہے اور نہ مرنے کے بعد ۔ یہ علماء کرام ہمیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیتے۔ اس کے بعد اسلام قبول کرنے کا تہیہ کر لیا، محراب خان کا خاندان اس سے قبل مسلمان ہو چکا تھا اور اسی واقعہ نے مزید کچھ قادیانیوں کو اسلام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا، اسی علاقہ کھڈارو کے رہائشی محمد صدیق ولد پیارو خان گرگیز نے اپنی اہلیہ اور ۹ بیٹے چار بیٹیوں سمیت اسلام قبول کیا، اسی طرح محمد صدیق کے بھائی، سکندر علی نے اپنی اہلیہ اور بیٹے سمیت اسلام قبول کیا، محمد ارشاد اس کی اہلیہ اور بیٹی نے بھی اسلام قبول کر کے قادیانیت پر لعنت بھیج دی۔ اسلام قبول
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرنے والے ۱۲۲ افراد نے ۱۹؍ رمضان المبارک ۱۴۲۸ھ بروز منگل پریس کلب بدین میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ اسلام قبول کرنے والے ۱۲۲ افراد اسی قبرستان سے نکالی جانے والی خاتون کے بھتیجے تھے۔
اللہ تعالیٰ اسلام قبول کرنے والے احباب کو استقامت نصیب فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۰ نومبر ۲۰۰۷ء ص ۲۵، ۲۶)
قادیانی خاندان کا قبول اسلام
۲۱؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء بعد نماز عشاء مہر شوکت حیات بھروانہ سیال ناظم حلقہ ۹۷ جھنگ کے ہاں مندرجہ ذیل حضرات کی موجودگی میں شماز گل ولد گل محمد قوم بھروانہ سیال جو کہ قادیانی مذہب سے تعلق رکھتا تھا، قادیانی مذہب کے متعلق بحث شروع کی۔ ڈاکٹر محمد اقبال ولد میاں خان قوم بھروانہ سیال نے مولانا غلام حسین مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مدعو کیا ، مولانا نے شماز گل اور حاضرین مجلس کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب حقیقۃ الوحی، کشتی نوح، ایک غلطی کا ازالہ، تذکرہ، دافع البلا وغیرہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد، اللہ پاک کی توہین، انبیاء علیہم السلام کی توہین اور دوسرے حوالے پیش کئے تو ان حوالوں کو سن کر اور دیکھ کر حاضرین مجلس کے سامنے شماز گل نے قادیانی عقیدہ سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ بعد ازاں شماز گل کی اہلیہ مسماۃ سائرہ بی بی بمع بچوں، مہران شہریار دختران جاذبہ تحریم اسوہ عروہ نے بھی مولانا غلام حسین کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور اعلان کیا کہ جو شخص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر و مرتد اور اسلام سے خارج ہے، خاص کر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے اور ان کو مسلمان سمجھنے والے کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، شماز گل نے کہا کہ ہماری طرح اور بہت سارے مسلمانوں کو قادیانی دھوکا دے کر مرتد کر رہے ہیں، مسلمانوں کو اس محاذ پر بہت محنت سے کام کر کے مسلمانوں کے ایمانوں کا تحفظ کرنا چاہئے۔ حاضرین مجلس نے شماز گل کو اسلام قبول کرنے پر مبارک باد پیش کی اور اللہ کا شکر ادا کیا ناظم نے مٹھائی تقسیم کی اس تقریب میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی: مہر شوکت حیات بھروانہ سیال ناظم حلقہ ۹۷ جھنگ، مولانا محمد یوسف، ڈاکٹر محمد اقبال، مہر محمد خالد، غلام بشیر، محمد رفیق، محمد منور، محمد حفیظ، محمد حنیف، محمد سلیم بٹ ایڈووکیٹ، چوہدری شہباز ایڈووکیٹ، محمد نعیم شیخ، محمد مقبول۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ نومبر ۲۰۰۷ء ص ۲۳)
سندھ میں چھ قادیانیوں کا قبول اسلام
گوٹھ موٹن چانڈیو تحصیل تلہار ضلع بدین کے چھ قادیانی افراد نے ۳۰؍ نومبر ۲۰۰۷ء ۱۹؍ ذیقعدہ ۱۴۲۸ھ تلہار کی جامع مسجد میں جمعہ کے موقعہ پر مجلس تحفظ ختم نبوت بدین کے مبلغ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر سندھ کے معروف عالم دین یادگار اسلاف حضرت مولانا عبدالستار چاوڑا، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ چانڈیو، مجلس کے مبلغ مولانا خان محمد جمالی، مولانا قاری عبدالرزاق جمالی اور دیگر علمائے کرام نے ان نو مسلم حضرات کو مبارک باد دی۔ قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کرنے والے حضرات کے اسماء گرامی یہ ہیں: محمد حسن عمر بابو ولد پیارو خان چانڈیو، ولی محمد ولد خان محمد، محمد قاسم، عزت خان، ماسٹر غلام مصطفیٰ سولنگی، ماسٹر غلام نبی سولنگی۔
اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے اور دیگر قادیانیوں کو بھی حق تعالیٰ شانہ محض اپنے فضل و کرم سے قادیانی کفر سے نجات نصیب فرمائے۔ یاد رہے کہ اس علاقہ میں اس سے قبل بھی ۲۲ قادیانی نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری فروری ۲۰۰۸ء ص ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیہ میں آٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام
چک نمبر ۱۷۲ ٹی ڈی اے ضلع لیہ میں مسماۃ قدیرہ بی بی نے اپنے سات بچوں سمیت قادیانیت پر لعنت بھیجتے ہوئے الحمد للہ! اسلام قبول کر لیا۔ اس موقعہ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لیہ کے امیر مولانا محمد حسین ، ناظم قاری عبدالشکور، ضلعی مبلغ موجود تھے۔ بچوں کے نام یہ ہیں : رفیع اللہ ، محمد آصف ، اصغر علی ، شہزاد علی ، شازیہ پروین ، نازیہ پروین ، سعدیہ پروین ۔ دعاء ہے کہ اللہ رب العزت دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۷ء ص ۴۷)
رپورٹ سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس دفتر مرکزیہ ملتان میں ۱۵ تا ۱۷؍جنوری ۲۰۰۷ء بروز پیر منگل، بدھ منعقد ہوا۔ اجلاس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا بشیر احمد ، مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے کی۔ اجلاس میں درج ذیل حضرات نے شرکت کی۔
مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور ، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص، مولانا فیاض مدنی گمبٹ ، مولانا محمد حسین ناصر سکھر ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان ، مولانا محمد اسحاق ساقی بہاول پور، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان ، مولانا عبدالحکیم چیچہ وطنی ، مولانا عبدالستار گورمانی خانیوال ، مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ ، مولانا ذوالفقار احمد طارق گوجرانوالہ ، مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ ، مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد، مولانا مفتی خالد میر آزاد کشمیر ، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا غلام حسین جھنگ ، مولانا عبدالستار لیہ ، مولانا محمد یوسف نقشبندی ڈیرہ غازی خان ، مولانا عبدالرشید سیال مظفر گڑھ، مولانا عبدالستار خوشاب ، مولانا عبدالنعیم شیخو پورہ ، مولانا عبدالخالق فیصل آباد، جناب حاجی محمد طفیل جاوید ، جناب قاری محمد حفیظ اللہ ، جناب عزیز الرحمن رحمانی سمیت کئی ایک علمائے کرام نے شرکت کی ۔
اجلاس میں گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی خواندگی کی گئی ۔ گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کے عملدرآمد کی رفتار کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہر روز کم از کم ایک درس بہرصورت دیں اور زیادہ سے زیادہ دروس و بیانات کا سلسلہ بڑھایا جائے ۔
ماہنامہ لولاک اور ہفت روزہ ختم نبوت کے مالی سال مکمل ہو چکے ہیں ۔ خریداران سے رابطہ کر کے رقوم وصول کی جائیں اور نئے خریدار مہیا کئے جائیں ۔ مبلغین دونوں رسائل کے لئے مضامین اور رپورٹیں ارسال فرمائیں اور طے ہوا کہ مضامین دونوں رسائل میں ایک جیسے شائع نہ کئے جائیں ۔ البتہ رپورٹوں کی اشاعت میں کوئی حرج نہیں ۔ ماہنامہ لولاک میں عبادات ، معاملات اور اخلاقیات سے متعلق ہر شمارہ میں مضامین شائع کئے اور نئے سال (جس کا پہلا شمارہ آچکا ہے ) سے صحابہ کرام ؓ، اہل بیت ؓ کی سیرت و حالات زندگی پر مضامین کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔ مضامین مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مہیا کریں گے ۔ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں درجہ کتب کا افتتاح ہو چکا ہے ۔ حضرت مولانا سجاد الٰہی تونسوی سابق مدرس جامعہ قاسمیہ رحمان پورہ لاہور استاذ مقرر ہو چکے ہیں ۔ پہلے درجہ میں تیس طلبہ کرام نے داخلہ لیا ۔ عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کے بعد اضافہ ہوا کمی نہیں ہوئی ۔ اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کیا گیا اور درجہ کتب کی کامیابی کی دعا کی گئی ۔
تحریک ختم نبوت جلد(۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سہ ماہی کورس ملتان میں امسال پندرہ علماء کرام نے داخلہ لیا۔ انہیں کچھ کتابیں سبقاً پڑھائی گئیں اور مرزا قادیانی کی کتب مشمولہ روحانی خزائن کا مطالعہ کرایا گیا۔ نیز انہیں رئیس قادیان کا مکمل مطالعہ کرایا گیا۔ پندرہ حضرات میں سے لاہور، گوجرانوالہ کے لئے دو معاون مبلغ اور راولپنڈی، کوئٹہ بدین، سندھ کے لئے تین مبلغین کی تقرری عمل میں لائی گئی۔
مجلس کے مستقل دفاتر کراچی، حیدر آباد، سکھر، میر پور خاص، ٹنڈو آدم، رحیم یار خان، بہاول پور، بہاولنگر، لاہور، اسلام آباد، سرگودھا، چناب نگر سمیت مختلف دفاتر میں ہر ماہ فکری نشست کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ دفتر مرکزیہ ملتان میں ہر ماہ درس اور نشست کے اہتمام کا فیصلہ ہوا۔ لٹریچر کی اشاعت مولانا قاضی احسان احمد نے مختلف عنوانات پر لٹریچر تیار کرلیا ہے۔ مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ کی نظر ثانی کے بعد ۱۰ محرم الحرام کے بعد کثیر تعداد میں چھاپنے کی منظوری دی گئی۔ مرکزی مجلس عمل کا احیاء تحفظ ناموس رسالت ﷺ ایکٹ، قادیانیت کے متعلق آئینی ترمیم اور دیگر اسلامی قوانین کے تحفظ کے لئے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے احیاء کی سفارش کی گئی اور اس سلسلہ میں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور مولانا اللہ وسایا پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی۔ جو مرکزی قائدین سے رابطہ کے بعد قائدین کا اجلاس بلا کر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے احیاء کا اعلان کرے گی۔ کتاب ”قادیانی شبہات کے جوابات“ جلد دوم آئندہ تین ماہ کے لئے اس کا مطالعہ اور مضامین کی تلخیص تجویز کی گئی اور تمام مبلغین کو کتاب تقسیم کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۷ء ص ۶،۵)
ختم نبوت کانفرنس زڑہ میانہ خیبر پختونخواہ
ختم نبوت کانفرنس کا سالانہ اجتماع عام جامعہ ضیاء العلوم میں زیر صدارت مولانا عبدالباقی شاہ صاحب منعقد ہوا۔ مقامی علماء کرام کے علاوہ شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف صاحب امیر مجلس اسلام آباد، مولانا محمد طیب صاحب مبلغ اسلام آباد، مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی امیر مجلس سرحد، مولانا نور الحق نور ناظم مجلس سرحد، مولانا صاحبزادہ بشیر احمد صاحب پیر سباق نے خطاب کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور کذاب مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی جہنم مکانی کے پیروکاروں کے کفریہ عقائد اور اس غیر مسلم اقلیت کی ارتدادی سرگرمیوں اور حکومت کی اس پر چشم پوشی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ علماء کرام و مشائخ عظام اور عام مسلمان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب امیر مرکزیہ کی قیادت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے متحد ہو کر مثبت انداز میں مسلمانوں کے ایمانوں کو بچانے کا فریضہ ادا کریں۔
اس سلسلہ میں مقررین نے عالمی مجلس کی اندرون ملک اور بیرون ملک تبلیغی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا زڑہ میانہ کی کانفرنس اس ہی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ مقررین نے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں نے قادیانیوں کے کفر کو واضح کردیا ہے۔
جلسہ کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ کانفرنس صبح آٹھ بجے شروع ہو کر ظہر دو بجے حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف صاحب کے خطاب اور دعاء پر ختم ہوئی۔ مولانا محمد طیب صاحب کی اردو تقریر اور مولانا صاحبزادہ بشیر احمد صاحب کی اردو اور پشتو زبان کے مشترکہ خطاب کے علاوہ سارا پروگرام پشتو زبان میں ہوا۔ الحمدللہ کانفرنس منتظمین کے حسن انتظام کے باعث علاقہ میں ہر طرح سے یہ اجلاس کامیاب ترین اجتماع تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۷ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس لیہ
۹؍ فروری ۲۰۰۷ء کو جامع مسجد کرنال والی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسماعیل شجاع آبادی ، استاذ العلماء مولانا عبدالستار تونسوی ، مولانا عبدالمجید قاسمی ، مولانا محمد حسین ، مولانا عبدالشکور ، جناب قاری محمد مرسلین ، مولانا فاروق سرگانی ، جناب صفدر معاویہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ امت مسلمہ میں ہمیشہ متفقہ چلا آ رہا ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ آج اگر کوئی اقتدار کے نشہ میں یا اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر اس قانون و عقیدہ میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کی ناپاک جسارت کرے گا تو ہم مسلمان سیدنا صدیق اکبر کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کریں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص ۳۳)
ختم نبوت کانفرنس میانوالی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۱؍فروری ۲۰۰۷ء کو مدرسہ تبلیغ اسلام موتی مسجد میں زیر نگرانی حضرت مولانا جلیل احمد صاحب ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت پیر طریقت خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صاحبزادہ مولانا عزیز احمد نے کی۔ مہمان خصوصی مولانا صاحبزادہ خلیل احمد مہتمم مدرسہ سعدیہ خانقاہ سراجیہ تھے۔ کانفرنس میں مقامی علماء کرام کے علاوہ خطیب دل پذیر مولانا شبیر احمد عثمانی ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہنماء جناب پروفیسر قاری عبدالقدوس ، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور کذاب مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد اور ان کی ارتدادی سرگرمیوں اور حکومت کی قادیانیت نوازی کے خلاف امت مسلمہ کو بیدار ہونا چاہئے ۔ ناموس رسالت کے قانون کی حفاظت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شانہ بشانہ مل کر حکمرانوں کو بتا دیں کہ ہم سب کچھ برداشت کر لیں گے ۔ لیکن ناموس رسالت کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص ۳۳)
ختم نبوت کانفرنس بھکر
۱۰؍فروری ۲۰۰۷ء کو ختم نبوت کانفرنس مسجد عمر فاروق میں زیر صدارت یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب سرپرست جمعیت علماء اسلام منعقد ہوئی۔ جب کہ کانفرنس کے مہمان خصوصی پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے صاحبزادہ مولانا عزیز احمد تھے۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اہل حدیث کے رہنما مولانا سیف اللہ خالد ، جمعیت علماء پاکستان کے رہنما مولانا محمد عارف قدوس ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھکر کے مبلغ حضرت مولانا عبدالستار ، موسیٰ زئی خانقاہ کے مدرس مولانا محمود الحسن فریدی ، مولانا اللہ وسایا کا شاندار خطاب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے جہاد کو ختم کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی جہنم مکانی کو لاکھڑا کیا۔ جس نے اپنی ساری زندگی اسلام جہاد اور مسلمانان عالم کے خلاف انگریز کی پشت پناہی میں گزار دی۔ لہٰذا حکمرانوں کو چاہئے کہ ناموس رسالت اور قادیانیت کے خلاف آئین اور قانون میں کوئی ترمیم و ردو بدل نہ کریں اور عوام سے اپیل کی گئی کہ ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کو تیار رکھیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص ۱۹)
ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد
۱۲؍فروری ۲۰۰۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد بلاک نمبر ۱ جوہر آباد ضلع خوشاب میں بڑی شان وشوکت سے کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں حضرت مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا عبدالجبار ، مولانا اظہار الحسن ، مولانا مفتی زاہد ، مولانا حکیم رشید احمد ربانی ، چناب نگر سے مولانا غلام مصطفیٰ، خوشاب کے مبلغ مولانا عبدالستار کے علاوہ دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔ مقررین نے خطاب
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ عہدوں سے قادیانیوں کو برطرف کیا جائے اور ہم کسی صورت میں توہین رسالت اور امتناع قادیانیت کے مسئلہ پر کوئی لچک برداشت نہیں کریں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ
۱۴؍فروری کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ کے زیر انتظام سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد عید گاہ مین بازار شیخوپورہ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظیم مرد مجاہد جمعیت علمائے اسلام صوبہ پنجاب کے امیر و ایم۔این۔اے گوجرانوالہ حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان نے کہا کہ علامہ ابن قیمؒ نے فرمایا ہر کجا خاتم النبیین بننے کے قابل نہیں۔ خاتم النبیین کی ایک نشانی یہ ہے کہ جو چیزیں انبیائے کرام نے مانگی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کو عطاء کی۔ خاتم النبیین کو وہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے بغیر مانگے عطاء کی ہیں۔ خاتم النبیین اس کو کہتے ہیں جو ابوبکر جیسے پھول بنائے ۔ عمر جیسے دلیر بنائے ۔
حقوق نسواں بل کے بارے میں کہا کہ یہ بل تحفظ حقوق نسواں کا بل نہیں بلکہ یہ حقوق نسواں بل عورتوں کی عزت کی پامالی کا بل ہے۔ استعفوں کے بارے میں کہا کہ اتنی بات ہوئی ہے کہ اے۔آر۔ڈی سے کہتے ہیں۔ اگر وہ استعفوں میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ یعنی اپوزیشن کی ساری ساری جماعتیں اس استعفوں کے دینے میں متفق ہو جاتی ہیں تو اس سے مشرف کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ اے۔آر۔ڈی نے ساتھ نہیں دیا لوگوں نے شور مچا دیا کہ مولویوں نے استعفوں کا کہہ کر مستعفی نہیں ہوئے ۔ حالانکہ استعفوں کے دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ مزید حضرت قاضی صاحب نے فرمایا کہ اب تو جج حضرات ہمیں داد دیتے ہیں کہ اگر آپ استعفیٰ دے دیتے تو امریکہ تین بل مزید اس حکومت سے ایک منٹ میں پاس کروا لیتے۔ پہلا بل یہ ہے کہ ملک میں شراب سرعام بکے گی۔ دوسرا بل یہ کہ طلاق دینے کا اختیار مرد سے چھین کر عورت کے سپرد کیا جائے ۔ تیسرا بل یہ کہ مرزائیوں کو از سر نو مسلمان قرار دیا جائے ۔ اللہ کرے ان کو یہ ہمت نہ ہو۔ اگر انہوں نے یہ جرأت کی تو آپ کے علماء کرام کا خون اسمبلی میں بہے گا اور ان کو ڈبو دے گا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے حکومت کو امتناع قادیانیت آرڈیننس اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کو تبدیل کرنے کے معاملے پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ امریکہ کے ایماء پر حکومتی کوششوں پر گہرے غم وغصہ اور شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی حکومت کو آئین پاکستان کی ان شقوں کو تبدیل کرنے کے اجازت نہیں دی جائے گی۔ جن کا تعلق مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان سے ہے۔ لاہور سے مبلغ ختم نبوت حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے کہا کہ قادیانی ملک وملت کے غدار ہیں۔ لہٰذا ان کا بائیکاٹ کر کے آقا مدنی ﷺ کی روح مبارک کو خوش کیا جائے ۔
مبلغ ختم نبوت شیخوپورہ حضرت مولانا عبدالنعیم، مولانا محمد الیاس، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عالم صاحب، مجاہد کبیر حضرت مولانا عبداللطیف انور، جناب قاری محمد رمضان، حضرت مولانا محمد حنیف خطیب مسجد ہذا و جناب ڈاکٹر عبدالحق تارڑ، جناب قاری محمد طاہر عالم، حضرت مولانا سرور شعیب، حضرت مولانا امتیاز کشمیری، جناب قاری عبید الرحمٰن، حضرت مولانا مفتی زین العابدین سمیت متعدد علماء کرام، قراء، صحافی، وکلاء، تاجر اور کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔ کانفرنس الحمدللہ بہت کامیاب ہوئی۔ شاعر اسلام جناب سید سلمان گیلانی اور جناب ضیاء اللہ عثمان نے تازہ نعتیہ کلام پیش کیا۔ مولانا محمد الیاس اور مبلغ ختم نبوت حضرت مولانا عبدالنعیم نے رات دن محنت کر کے کانفرنس کو کامیاب کیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ اپریل ۲۰۰۷ء ص ۵۱، ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس لاہور
۱۵؍ فروری ۲۰۰۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد نورانی راوی روڈ مولانا خلیل احمد کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالحفیظ، مولانا قاری محمد اقبال، مولانا محمد قاسم، مولانا عمر حیات، جناب حامد بلوچ، جناب فقیر محمد، جناب شکیل احمد سمیت دیگر علمائے کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص ۵۰، ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ۷؍ فروری ۲۰۰۷ء کو جامعہ محی الاسلام نئی لکڑ منڈی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا قاری محمد الیاس، مولانا قاری غلام محمود، مولانا عبدالمنان عثمانی، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالرزاق، قاری محمد داؤد، مولانا محمد یاسین تائب، جناب خالد محمود اور حافظ محمد اقبال فردوسی نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس پاکپتن
۱۸؍ فروری ۲۰۰۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد نور کالونی کالج روڈ پر جناب قاری بشیر احمد عثمانی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا عبدالحکیم نعمانی، جناب قاری عبدالجبار اور حضرت مولانا عبدالقدوس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون تحفظ ناموس رسالت اور امتناع قادیانیت ایکٹ کو ختم کرنے کے خطرناک ترین نتائج برآمد ہوں گے اور ان کو منسوخ کرنے کی خفیہ پلاننگ کے خلاف مزاحمتی تحریک کو منظم کرنے کے لائحہ عمل کے لئے ملک کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں سے روابط شروع ہوچکے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس ساہیوال
۱۹؍ فروری ۲۰۰۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت جامعہ کے پرنسپل مولانا کلیم اللہ رشیدی نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد ارشاد، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا عبدالحکیم نعمانی اور جناب قاری عبدالجبار نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص ۴۹)
مولانا اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ اندرون سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مارچ میں دورہ پر اندرون سندھ تشریف لائے۔ اس سفر میں مولانا نے مختلف جلسوں، کانفرنسوں، طلباء کرام اور طالبات سے خطاب کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغین مولانا محمد علی صدیقی مبلغ میر پور خاص، مولانا یعقوب مبلغ ضلع بدین، مولانا محمد نذیر مبلغ حیدر آباد بھی ہمراہ رہے۔ مولانا کا دورہ ضلع میر پور خاص سے شروع ہوا سب سے پہلا بیان مولانا کا مسجد عرفات سلطان آباد میں ہوا اور اس کے بعد میر پور خاص میں ایک جلسہ سے خطاب کیا۔ اس کے بعد کنری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں مختلف پروگراموں میں بیان کیا۔ اس کے بعد ڈگری، جھنڈو، نوکوٹ میں جلسوں اور مدرسہ اللبنات کے پروگراموں میں بیان ہوئے۔ ضلع بدین مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا پہلا ٹنڈو غلام علی میں ہوا۔ اس کے بعد ماتلی، تلہار، شادی لارج، کھوسکی، گولارچی میں بیانات ہوئے۔ ضلع ٹھٹھہ میں سب سے پہلا بیان مدرسہ دارالفیوض قاسمیہ حضرت مولانا عبدالغفور قاسمی کے مدرسہ میں طلباء کرام سے ہوا اور اس کے بعد گھارو میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا۔ جس میں حضرت مولانا قاری کامران احمد صاحب حیدرآباد اور مشہور نعت خوان جناب حافظ ابوبکر صاحب بھی شامل تھے۔ اس کے بعد حیدرآباد میں دو دن بیانات ہوئے۔ ان تمام پروگراموں میں عوام الناس کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا اور اس کے ساتھ طلباء کرام میں قادیانیت کے دجل وفریب کے سوالات کے جوابات اور رد قادیانیت پر مواد لکھایا گیا۔ مولانا کے اس پروگرام کو جمعیت علماء اسلام کے احباب کا بھی تعاون رہا۔ خصوصاً حضرت مولانا حفیظ الرحمن، مولانا شبیر احمد کر نالوی، مولانا زبیر احمد، حافظ محمد شریف صاحب قاری عبدالستار صاحب شامل ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس صادق آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رحیم یار خان کی چاروں تحصیلوں میں کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ صادق آباد تحصیل کی مرکزی دینی درسگاہ جامعہ مدرسہ ابوحنیفہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ترتیب دی گئی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے قریہ قریہ بستی بستی جاکر دعوت دی گئی اور کانفرنس سے قبل جامعہ مسجد ابوحنیفہ میں علمائے کرام کا اجلاس طلب کیا گیا۔ ان کاوشوں اور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے انتہائی کامیاب کانفرنس ہوئی۔ صادق آباد شہر میں بڑے عرصے کے بعد اتنی بڑی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کوٹ سبزل، سنجر پور، چوک چدھڑ، کوٹ سنجر، میرے شاہ، رحیم آباد، توحید آباد سے وفود کی صورت میں لوگ علماء کرام کی معیت میں شریک ہوئے۔ مسجد کا ہال اور صحن وسعت کے باوجود تنگی داماں کا سماں پیش کر رہا تھا۔
کانفرنس کی صدارت مولانا مشتاق احمد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صادق آباد نے کی۔ کانفرنس کی ابتداء قاری احسان اللہ نقشبندی کی تلاوت سے ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلع رحیم یار خان کے مبلغ مفتی محمد راشد مدنی ادا کر رہے تھے۔ بعد میں نعت پڑھی گئی۔ جس کے بعد مولانا اللہ وسایا نے حیات عیسیٰ علیہ السلام اور تحفظ ناموس آرڈیننس کے متعلق سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ اختتامی دعاء مولانا عبدالصمد نے کرائی۔ جو کہ تحصیل صادق آباد کے جمعیت علمائے اسلام کے امیر ہیں۔ جلسہ کے اختتام پر دور سے آئے تمام لوگوں کی طعام سے ضیافت کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۲۸)
ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ قادریہ لیاقت پور میں شاندار ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے لئے الہ آباد، حسین پور، چنی گوٹھ، خان بیلہ، طاہر والی، ترنڈہ محمد پناہ، ٹھل حمزہ اور مختلف چکوک اور بستیوں میں دعوت دی گئی۔ جس کی وجہ سے بحمد اللہ ان علاقوں سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ کانفرنس جمعہ والے دن صبح دس بجے شروع ہوئی اور شام تین بجے تک جاری رہی۔ حضرت مولانا بشیر احمد (آف ٹھل حمزہ) کی صدارت میں سب سے پہلے قاری مولانا شبیر احمد مدرس جامعہ مخزن العلوم خان پور نے پرسوز آواز میں تلاوت کی۔ بعد میں ضلعی مبلغ مفتی محمد راشد مدنی نے بیان میں کہا کہ چودہ صدیاں گزر گئیں۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ سب کچھ برداشت ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلمان ناموس رسالت پر حرف برداشت نہیں کر سکتا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس سے حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ کا جاندار بیان ہوا۔ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ حضرت مولانا کلیم اللہ صاحب مہتمم جامعہ قادریہ نے جلسہ کا انتظام بہترین طریقہ سے سنبھالے رکھا۔ کانفرنس سے تمام علاقہ جات گردونواح سے علمائے کرام کثیر تعداد میں تشریف لائے۔ پروگرام کے بعد مولانا اللہ وسایا اپنے ایک ہفتہ کے پروگرام منسوخ کر کے سری لنکا کے دورہ پر عازم سفر ہو گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ قادریہ رحیم یار خان شہر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مسجد و مدرسہ کا وسیع حال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ضلع بھر کی کانفرنس کی بنیادی ترین وجوہات میں سے دین پور شریف خانقاہ کے سجادہ نشین حضرت میاں مسعود احمد مدظلہ کی خصوصی توجہات تھیں۔ جنہوں نے ہر لمحہ جماعت ختم نبوت کی سر پرستی فرمائی اور اپنے متعلقین کو فرمایا کہ ان کانفرنسوں میں ضرور شریک ہوں اور ضلعی مبلغ مفتی محمد راشد مدنی سے رابطہ رکھیں اور ان کانفرنسوں کو اور دیگر امور کو کامیاب کروائیں۔ کامیابی کی دیگر وجوہات میں جمعیت علمائے اسلام کا بنیادی کردار ہے۔ جن کے ذمہ داران نے قریہ قریہ، بستی بستی، ختم نبوت کی آواز کو پہنچایا اور کانفرنسوں کی دعوت دی۔
کانفرنس سے قاری احسان اللہ فاروقی نقشبندی نے تلاوت قرآن کریم، پروفیسر عبد القدوس محسن آف لاہور نے ہدیہ نعت پیش کی۔ اس کے بعد ناظم اعلیٰ مفکر ختم نبوت حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم نے اکابرین کی قربانیوں کا ذکر فرماتے ہوئے مسلمانوں کے ایمان کو حرارت بخشی۔ مولانا نے فرمایا کہ تاریخ اسلام اس امر کی گواہ ہے کہ اہل اسلام ہر دور میں باطل کا مقابلہ کرتے رہے اور اسلام کا علم بلند رکھا۔ آج بھی اہل اسلام پر کڑا وقت آن پہنچا ہے۔ ان شاء اللہ فتح اہل اسلام کی ہوگی۔ آپ نے فرمایا یہ وہ دور ہے جس میں اسلام کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے لئے اجر بھی بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ آپ کے بیان سے اکابر کی یاد تازہ ہوگئی۔ آپ کے بیان بعد مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے دل سوز گفتگو فرمائی۔ کانفرنس کی صدارت امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان قاضی عزیز الرحمن سراجی نے فرمائی۔ جب کہ اختتامی کلمات اور دعا کامل حضرت سید امین الدین پاشا صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ آخر میں آپ کی رقت آمیز دعا پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس خانپور
ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کی قدیم دینی درسگاہ حضرت درخواستی کی یادگار جامعہ مخزن العلوم میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت بنفس نفیس حضرت میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ خانقاہ دین پور شریف والوں نے فرمائی۔ کانفرنس کے لئے حضرت درخواستی کے صاحبزادگان حضرت مولانا فضل الرحمن درخواستی مدظلہم جامعہ ہذا، حضرت مولانا مطیع الرحمن درخواستی مدظلہ نائب مہتمم جامعہ، حضرت مولانا خلیل الرحمن درخواستی ناظم تعلیمات جامعہ نے انتھک محنت فرمائی۔ بستی بستی جا کر کانفرنس میں شرکت کے لئے دعوت دی۔ مدرسہ اور مسجد کے صحن میں اکابر کی عبارات پر ختم نبوت کے متعلق بینرز لگائے گئے تھے۔ کانفرنس میں حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم نے تفصیلی خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ اس دور میں دین اسلام کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والے عند اللہ اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ تحفظ ختم نبوت کا یہ کارواں ان شاء اللہ جاری وساری رہے گا۔ بعد ازاں حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب کا پرمغز بیان ہوا۔ آخر میں ہمدرد ملت حضرت مولانا مطیع الرحمن درخواستی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دامت برکاتہم کی دعاء پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ کے زیر اہتمام ۱۸؍ مارچ ۲۰۰۷ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری جھنگ صدر میں شیخ الحدیث مولانا عبدالرحیم صاحب مدظلہ کی زیر صدارت میں تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ معروف نعت خواں جناب آصف رشیدی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا غلام حسین جھنگوی، جناب محمد سلیم بٹ ایڈووکیٹ، جناب محمد سلیم لدھیانہ ایڈووکیٹ، مولانا عزیز الرحمن مجاہد نے مسئلہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور اتحاد امت کے عنوان سے عوام الناس سے مخاطب ہوئے۔ کثیر تعداد میں احباب تشریف لائے اور کانفرنس کو کامیاب بنایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد قباء افغان آباد نمبر ۱ گلی نمبر ۶ فیصل آباد میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ختم نبوت کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا اور مجلس کے ناظم تبلیغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا غلام حسین، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ، حضرت مولانا ضیاء الدین آزاد، حضرت مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب، حضرت مولانا مفتی محمد طیب، حضرت مولانا محمد زکریا، صاحبزادہ مبشر محمود، حضرت مولانا طاہر الحسن شاہ گیلانی، حضرت مولانا شاہد ندیم، حضرت مولانا محمد طلحہ، حضرت مولانا محمد امین، حضرت مولانا خالد محمود مدنی، حافظ منیر احمد بخاری، حافظ محمد زکریا، حافظ ثاقب عزیز، قاری جواد حسن، حضرت مولانا محمد رضوان، حضرت مولانا عطاء الرحمن، حضرت مولانا عتیق الرحمن، قاری عبدالحفیظ، قاری ربنواز اور حضرت مولانا قاضی عبدالخالق سمیت دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس خانیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال کے زیر اہتمام ۲۰؍ مارچ ۲۰۰۷ء کو جامع مسجد صدیقی ایک مینار والی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس کے ضلعی امیر پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی صاحب نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن راولپنڈی، حضرت مولانا عطاء المنعم اور حضرت مولانا عبدالستار گورمانی نے خطاب فرمایا۔ جب کہ نعتیہ کلام جناب آصف رشیدی صاحب، جناب طاہر بلال چشتی صاحب نے پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۳؍ مارچ ۲۰۰۷ء کو مسجد حسین بن علی میں بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا قاری کامران احمد سندھو، علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو (سندھ)، مولانا سید ظہیر شاہ ہمدانی، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس میں بین الاقوامی اور نامور قراء قاری محمد ابراہیم کاسی، قاری حماد انور نفیسی، قاری محمد ارشد محمود، قاری سید الرسول نے عمدہ خوبصورت لہجے میں تلاوت کر کے لوگوں کے دلوں کو قرآن کے نور سے منور کیا۔ ثناء خوان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رسول رانا محمد عثمان، مولانا محمد آصف نے حضور ﷺ کی شان اقدس میں مدح سرائی کی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر قاری مشتاق احمد رحیمی نے کی۔ میزبانی کے فرائض جامعہ رحیمیہ ترتیل القرآن قصور کے طلباء اور اساتذہ قاری محمد طاہر، قاری سیف اللہ رحیمی ، قاری شاہ محمد ، قاری محمد اسحاق ، قاری محمد رمضان، حافظ محمد عمر اور دیگر احباب نے سرانجام دیئے۔ جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے اپنے قائدین کا بھر پور استقبال کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض میاں محمد معصوم انصاری نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس میں شرکاء کی حاضری مثالی رہی۔ مدنی گروپ کے مرکزی رہنما حاجی صفدر انصاری نے بھی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۴۶، ۴۷)
حضرت مولانا اللہ وسایا کا تین روزہ ضلع خیر پور اور ضلع نوشہرو فیروز کا دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا ۲۲؍ مارچ ۲۰۰۷ء بروز ہفتہ رپڑی پہنچے۔ تین چار گھنٹے ختم نبوت دفتر سکھر میں قیام کیا۔ ۲۵؍ مارچ بروز اتوار رپڑی کا سفر کیا۔ حضرت مولانا کے ہمراہ مولانا محمد حسین ناصر ، مولانا محمد فیاض مدنی گمبٹ ، جماعت کے جنرل سیکرٹری عبدالسمیع شیخ خزانچی انجینئر جاوید شیخ تھے۔ بارہ بجے مدرسہ اسلامیہ رپڑی پہنچے۔ وہاں سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے ہزاروں کے اجتماع سے حضرت نے بعد نماز ظہر ولولہ انگیز خطاب کیا۔ حضرت مولانا کے علاوہ سینیٹر علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو، حضرت مولانا عبدالحمید رند بلوچ، حضرت مولانا صبغت اللہ جوگی، حضرت مولانا عیسیٰ سموں، بلوچستان کے صوبائی وزیر حضرت مولانا فیض محمد صاحب، ضلع خیر پور جمعیت علماء اسلام کے امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا میر محمد میرک نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں رپڑی سے گمبٹ کا سفر کیا۔ مسجد خاتم النبیین و مدرسہ ختم نبوت جو کہ کسان کالونی گمبٹ میں زیر تعمیر ہے وہاں بعد عصر تشریف لے گئے۔ تعمیری کام کو دیکھ کر حضرت نے گمبٹ کے ساتھیوں کے لئے خصوصی دعا کی بعد نماز عشاء مکی مسجد گمبٹ میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا۔ حضرت کے علاوہ سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر صاحب اور سندھ کے نامور خطیب حضرت مولانا عبدالحمید لنڈ صاحب نے بھی خطاب کیا۔ رات کو قیام حضرت نے دفتر ختم نبوت گمبٹ میں کیا۔
۲۶؍ مارچ ۲۰۰۷ء بروز سوموار صبح ۹ بجے حضرت نے گمبٹ سے رانی پور کا سفر کیا۔ حضرت کے ہمراہ مولانا محمد فیاض مدنی ، مولانا محمد حسین ناصر، ڈاکٹر عبدالرحمن، بھائی عبدالسمیع تھے۔ مدرسہ دار الفیوض میں حضرت نے طلباء سے خطاب کیا۔ حضرت نے حکیم عبدالواحد بروہی صاحب کے حکم پر بعد ازاں رانی پور سے خیر پور میرس کا سفر کیا۔ بارہ بجے دن کو حضرت نے مدرسہ جامعہ حمادیہ میں طلباء اور علماء کرام سے خطاب کیا۔ جامعہ کے مہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا میر محمد میرک صاحب نے بھی خطاب کیا بعد ازاں خیر پور سے حضرت مولانا محمد فیاض مدنی اور گمبٹ جماعت کے امیر حکیم عبدالواحد کی معیت میں محراب پور کا سفر کیا۔ مدرسہ مدینۃ العلوم ھالانی روڈ محراب پور پہنچے۔ جہاں پہلے سے استقبال کے لئے جامعہ کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عبدالصمد صاحب مفتی ولی اللہ صاحب اور دیگر اساتذہ کرام اور طلباء کرام موجود تھے۔ جامع میں حضرت نے کچھ دیر آرام کیا۔ بعد ازاں نماز عصر کے بعد علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ رات کو بعد نماز عشاء جامع مسجد نزد ریلوے اسٹیشن میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے حضرت نے خطاب فرمایا۔ حضرت کے علاوہ سندھ کے مشہور خطیب حضرت مولانا صبغت اللہ جوگی صاحب ھالانی کے سجادہ نشین حضرت مولانا میاں محمد نثار صاحب اور ضلع خیر پور کے مبلغ مولانا محمد فیاض مدنی نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا عبدالصمد صاحب نے سرانجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۷ / مارچ بروز منگل صبح حضرت نے مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم محراب پور میں طلباء کرام کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔ دوپہر ایک بجے حضرت نے محراب پور مدرسہ کے مفتی حضرت مولانا یاسین صاحب ، حضرت مولانا عبدالصمد صاحب اور مولانا محمد فیاض مدنی کی معیت میں کھڑڑا کا سفر کیا۔ کھڑڑا مدرسہ شمس العلوم میں سالانہ سیرۃ النبی ﷺ کانفرنس سے حضرت نے بعد نماز ظہر خطاب کیا۔ حضرت کے علاوہ سکھر کے مشہور عالم پروفیسر ابو محمد صاحب، جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا عبدالحق لاشاری صاحب، حضرت مولانا فیاض مدنی نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں حضرت نے مولانا محمد فیاض مدنی اور حضرت مولانا عبدالصمد کی معیت میں کنڈیارو کا سفر کیا۔ عصر کی نماز مدرسہ انوار العلوم کی جامع مسجد میں ادا کی۔ بعد ازاں جامعہ کے مہتمم اور مشہور عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد ادریس کی معیت میں گوٹھ سیدو دیرو، عثمانیہ لائبریری میں تشریف لے گئے۔ وہاں سے کچھ قادیانیوں کی نایاب کتابیں حضرت کو ملیں۔ وہ حضرت کو اس لائبریری کے انچارج محمد عثمان عباسی نے ختم نبوت لائبریری کے لئے دیں۔ مغرب کی نماز کے بعد سیدو دیرو سے کنڈیارو کا سفر کیا۔ مدرسہ انوار العلوم میں پہنچے بعد نماز عشاء جامع مسجد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ حضرت کے علاوہ پروفیسر ابو محمد صاحب سکھر والے، جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد ادریس صاحب اور مولانا محمد فیاض مدنی نے خطاب کیا۔ رات کو بارہ بجے کنڈیارو سے محراب پور اسٹیشن کا سفر کیا۔ رات کو تقریباً ۲ بجے حضرت کو مولانا محمد فیاض مدنی اور حضرت مولانا مفتی ولی اللہ صاحب، مولانا عبدالصمد صاحب نے بہاولپور کے لئے روانہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۵۰، ۵۱)
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
ناموس رسالت ایکٹ اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحفظ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۹ / مارچ ۲۰۰۷ء کو مرکزی جامع مسجد بلاک نمبر ۱۲ چیچہ وطنی میں منعقدہ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے مقررین نے کہا کہ حکمرانوں کو چند ڈالروں کے عوض ناموس رسالت کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔ جانوں پر کھیل کر حرمت رسول اللہ ﷺ کا دفاع کریں گے۔ قانون توہین رسالت اور قادیانیت کے متعلق آئینی ترامیم کو چھیڑنا خون اور آگ سے کھیلنا اور اقلیتوں کو غیر محفوظ کرنا ہے۔ توہین رسالت کی سزا ، سزائے موت کو انتہاء پسندی کہنے والے یورپی ممالک اپنے ملکوں سے سزائے موت کے قوانین کو کیوں ختم نہیں کرتے۔ قادیانیوں کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دینے والے حکمران خود ڈوب جائیں گے۔ ناموس رسالت کا پھریرا قیامت تک لہراتا رہے گا۔ حکمران منکرین ختم نبوت گستاخان رسول ﷺ کی پشت پناہی کا رویہ ترک کر کے اسیران ناموس رسالت کو رہا کریں۔ کانفرنس معروف روحانی شخصیت مولانا سید جاوید حسین شاہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں متحدہ مجلس عمل کے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ایم این اے، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد ارشاد، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد اسماعیل عتیق، جمعیت علماء اسلام کے مولانا ضیاء الدین آزاد، جماعت اسلامی کے حاجی مشتاق احمد، قاری محمد زاہد، پیر جی مولانا عبدالحفیظ، مولانا محمد قدیر، قاری عبدالجبار، حاجی محمد ایوب اور قاری محمد اصغر عثمانی سمیت متعدد مقررین نے شرکت و خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۴۷)
ناموس رسالت و عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کسی سازش کو برداشت نہیں کریں گے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر قادیانی فتنہ کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں اور امریکی ایماء پر قانون تحفظ ناموس رسالت میں تبدیلی کے ذریعے اسے غیر مؤثر بنانے کی سازش کے خلاف ملک بھر میں یوم تحفظ ختم نبوت منایا گیا۔ جس کے تحت امت مسلمہ کے تمام
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مکاتب فکر کے علماء کرام نے لاہور، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، سکھر، حیدرآباد، ملتان، مظفر آباد، سرگودھا، فیصل آباد گوجرانوالہ، گجرات، بہاولپور اور لیہ سمیت ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں کی ہزاروں مساجد میں فتنہ قادیانیت کی اسلام و آئین کے منافی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور قانون تحفظ ناموس رسالت میں کسی قسم کی ترمیم یا تنسیخ کرنے کے مجوزہ حکومتی اعلان کے خلاف بھر پور صدائے احتجاج بلند کیا اور عوام الناس سے مذمتی قراردادیں بھی پاس کروائیں۔
علمائے کرام نے کہا کہ ناموس رسالت و عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کسی قسم کی سازش کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ حکمران امریکہ اور مغرب کی خوشنودی کے لئے آئین پاکستان کی حساس اسلامی دفعات کو نہ چھیڑیں ورنہ ملکی حالات حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔ کیونکہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین محمد کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کے خلاف کسی سازش کو برداشت نہیں کریں گے۔ غیور مسلمان اپنی جانیں تو قربان کر دیں گے اور اپنے خون سے ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کریں گے۔
قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ حکمران توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم اور تبدیلی کے ذریعے نیا بحران پیدا نہ کریں۔ اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے قانونی تقاضے پورے کریں۔ ۱۹۷۴ء کے آئین میں قادیانی فتنہ سے متعلق کی گئی قانون سازی پر مکمل عملدرآمد کر کے قادیانی فتنہ کی اسلام و آئین کے منافی سرگرمیوں کا سخت سے سخت نوٹس لیں۔ جو ان کا فرض منصبی ہے اور اس طرح حکمران امریکہ اور یہود و ہنود کی غلامی کا طوق اتار کر قادیانیت نوازی اور دین دشمنی کی روش ترک کر دیں۔ بصورت دیگر اس ضمن میں عوام کے اندر پایا جانے والا شدید اضطراب کسی بہت بڑی دینی تحریک کا روپ دھار لے گا اور پھر اس طرح حالات کے ابتر ہونے کی تمام ذمہ داری حکومت اور قادیانیوں پر ہی عائد ہو گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۷ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوآدم کے زیر اہتمام ۶ /اپریل کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، مولانا عبدالواحد، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبدالغفور قاسمی، مولانا سعید احمد جلالپوری، قاضی احسان احمد، مفتی حفیظ الرحمن رحمانی، علامہ محمد راشد مدنی، مولانا اسجد مدنی، مولانا فیاض مدنی، مولانا خان محمد، مولانا محمد علی صدیقی، مفتی محمد عرفان، مولانا راشد حبیب، رانا محمد انور، منور احمد میؤ ایڈووکیٹ اور دیگر علماء کرام دانشور حضرات نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ سندھ کے معروف نعت خوان سید خیر محمد شاہ، سید خدا بخش شاہ اور راشد احمد نے ساحرانہ انداز میں ختم نبوت پر نعتیں پیش کیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۷ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوالہ یار
۷ /اپریل ۲۰۰۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی ٹنڈواللہ یار تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کا مدرسہ صدیق اکبر کی طالبات میں، حضرت مولانا احمد میاں حمادی کا مدرسہ فاروقیہ میں اور حضرت مولانا محمد علی صدیقی کا مدرسہ اجابہ میں بیان ہوئے۔ رات کو جامع مسجد میمن میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا۔ جس کا انتظام حضرت مولانا راشد محبوب اور حضرت مولانا مفتی محمد عمران نے کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۷ء ص ۳۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کنری
۸ اپریل ۲۰۰۷ء بروز اتوار کو بخاری چوک کنری میں ۳۳ ویں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کا آغاز ہوا۔ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت کنری میں حفظ کے طالب حافظ محمد عمران اور قاری عبدالحمید نے خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کی۔ فاضل نوجوان مولانا محمد ہارون معاویہ اسٹیج سیکرٹری تھے۔ سب سے پہلے مقامی عالم دین حضرت مولانا عبدالواحد چانڈیو نے بیان فرمایا۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک ہی ختم نبوت کا مسئلہ ایسا ہے جس پر پوری امت متحد ہوسکتی ہے۔ ان کے بعد بزرگ رہنما حضرت مولانا احمد میاں حمادی نے اپنے مخصوص انداز میں ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیوں کے کفر پر دلائل سے باحوالہ خطاب کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے نہایت نفیس و مدلل گفتگو فرمائی۔ اکابرین کی ختم نبوت کے مقدس مشن پر قربانیوں کا ذکر فرمایا۔ عوام و خواص نے حضرت کے بیان کو بہت پسند کیا۔ کراچی سے آئے ہوئے نوجوان حافظ ابوبکر نے ہدیہ نعت پیش فرمایا۔ ان کے بعد مجلس کے بزرگ رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی نے بیان کیا۔ ان کے منفرد انداز سے نوجوان طبقہ بہت محظوظ ہوا۔ حضرت طوفانی کی محنت سے نہ جانے کتنے لوگ فتنہ قادیانیت سے محفوظ ہوئے ہوں گے۔ مولانا اللہ وسایا نے نہایت درد دل سے قادیانیوں کو دعوت اسلام دی۔ اس کانفرنس کے لئے حضرت مولانا محمد نذیر حیدر آباد اور مولانا محمد علی صدیقی مرکزی مبلغ میر پور خاص اور مولانا خان محمد صابری مبلغ تھر پارکر نے کافی محنت کی اور مقامی جماعت کے ساتھیوں نے جناب میاں عبدالواحد کی سرپرستی میں ریاض احمد، عبداللہ ہارڈ ویئر والے اور بھائی سہیل اصغر ٹیپو جنرل اسٹور والے نے مسلسل دن رات کی محنت کی۔ حقیقت میں کانفرنس کی کامیابی انہیں کے سر ہے اور پورے شہر کے شہریوں نے بھی تعاون و حوصلہ دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۷ء ص ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد
۹ اپریل ۲۰۰۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ قافلہ حضرت ناظم اعلیٰ کی قیادت میں حیدر آباد پہنچا۔ جہاں حضرت مولانا محمد نذیر نے حضرت مولانا عبدالسلام قریشی اور حضرت مولانا سیف الرحمن آرائیں کی معیت میں خوش آمدید کہا۔ رات کو بعد نماز عشاء مسجد فاروق اعظم تلک چاڑی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا عبدالسلام قریشی نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت علامہ احمد میاں حمادی، حضرت قاضی منیب الرحمن کراچی، حضرت مولانا اللہ وسایا اور حضرت مولانا سیف الرحمن آرائیں نے خطاب کیا جب کہ جناب حافظ ابوبکر نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ اس کانفرنس کے بعد حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان کے لئے عازم سفر ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۷ء ص ۴۲)
ختم نبوت کانفرنس بدین
۱۰ اپریل کو بدین میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ جس کی نگرانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بدین کے مبلغ نے کی۔ کانفرنس کی صدارت جمعیت علمائے اسلام ضلع بدین کے امیر مولانا عبدالستار چاوڈا نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد علی صدیقی، مولانا عبداللہ سندھی، مولانا اللہ وسایا اور مولانا غلام محمد سومرو اور مولانا محمد عیسیٰ سموں نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں اس وقت جوش پیدا ہوا۔ جب گولارچی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر جناب حکیم مولوی محمد عاشق کے فرزند جناب حافظ محمد طیب فاروقی نے ولولہ انگیز خطاب کیا۔ ۱۱ اپریل کو بعد نماز ظہر مدینہ مسجد میں گولارچی کے عوام سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۷ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس نوکوٹ
۱۱؍اپریل ۲۰۰۷ء نوکوٹ میں بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس میں حضرت مولانا اللہ وسایا اور حضرت مولانا رب نواز حنفی اور حضرت مولانا ظہور احمد ہالہ والوں نے خطاب کیا۔ حافظ حذیفہ آرائیں اور حافظ عطاء الرحمن نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا محمد علی صدیقی نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ جون ۲۰۰۷ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۴؍اپریل ۲۰۰۷ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء موتی مسجد سکھر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا میر محمد میرک، مولانا محمد مراد ہالیجوی، جناب قاری خلیل احمد، مولانا عبداللطیف اشرفی، سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی
۱۵؍اپریل ۲۰۰۷ء کو بعد نماز مغرب مدرسہ قاسم العلوم گھوٹکی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ علمائے کرام میں مولانا اللہ وسایا، مولانا میر محمد میرک، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا عبدالرحیم پٹھان اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔ کانفرنس الحمدللہ ! ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والے مہمان علمائے کرام و مقامی علمائے کرام کے اعزاز میں جناب سید نور محمد شاہ نے پر تکلف عشائیہ دیا۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے مولانا خالد حسین، مولانا محمد ہارون چنہ، مولانا محمد امین چنہ، جناب سائیں نور محمد شاہ، جناب سیف اللہ کلوڑ، جناب حسین احمد اور دوسرے ساتھیوں نے بھر پور محنت کی۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کے زیر اہتمام ۵۵ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۶؍اپریل ۲۰۰۷ء بروز پیر صبح دس بجے تا نماز عصر مرکزی جامع مسجد اور بعد نماز مغرب شاہی بازار روڈ پنو عاقل میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت سندھ کی معروف روحانی خانقاہ عالیہ قادریہ ہالیجی شریف کے سجادہ نشین اور جمعیت علمائے اسلام صوبہ سندھ کے امیر قطب الاقطاب مولانا سائیں عبدالصمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، حضرت علامہ احمد میاں حمادی، مولانا عبدالرزاق میکھو، مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا عبدالحمید شیخ، مولانا شیخ الٰہی بخش ٹانوری، مولانا محمد حسین ناصر سمیت دیگر علمائے کرام و خطباء حضرات نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کے انتظامات مولانا قاری عبدالحمید شیخ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوں عاقل اور جناب قاری عبدالقادر چاچڑ ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوں عاقل اور ان کے دیگر رفقا نے سنبھالے ہوئے تھے۔ الحمدللہ ! کانفرنس ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۴۹)
رپورٹ سہ ماہی اجلاس مبلغین ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۹؍ ربیع الاول، یکم، ۲؍ ربیع الثانی ۱۴۲۸ھ ۱۹، ۲۰؍اپریل ۲۰۰۷ء دفتر مرکزیہ میں منعقد ہوا۔ شرکائے اجلاس مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا اللہ وسایا مدظلہ، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
آباد، ملتان، قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد نذیر حیدر آباد، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص، مولانا خان محمد جمالی تھر پارکر، مولانا فیاض مدنی گمبٹ، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد اسحاق ساقی بہاول پور، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاولنگر، مولانا عبدالحکیم نعمانی چیچہ وطنی، مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا محمد عارف سیالکوٹ، مولانا زاہد وسیم راولپنڈی، مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا محمد عبدالستار تونسوی خوشاب، مولانا عبدالستار حیدری لیہ، مولانا محمود احمد ڈیرہ غازی خان، مولانا عبدالرشید سیال مظفر گڑھ، مولانا عبدالستار گورمانی خانیوال، مولانا عبدالنعیم شیخوپور، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا عبدالخالق فیصل آباد سمیت کئی ایک علماء کرام نے شرکت کی۔
نئے مبلغین کی تقرری
مجلس کے شعبہ تبلیغ میں درج ذیل نئے مبلغین رکھے گئے۔ مولانا زاہد وسیم راولپنڈی، مولانا محمد عارف گوجرانوالہ، مولانا محمد قاسم لاہور، مولانا محمود احمد ڈیرہ غازی خان کا مبلغ مقرر کیا گیا۔ قاری محمد یوسف نقشبندی کو کوئٹہ کا مبلغ بنا دیا گیا۔ ماہنامہ لولاک میں مولانا لال حسین اختر کے خطبات قسط وار شائع کرنے کی سفارش کی گئی۔ مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے تبلیغی پروگراموں میں قادیانیوں کی مصنوعات مثلاً شیزان، او۔بی۔ایس کوریئر ڈاک کمپنی، ذائقہ گھی ملز، شاہ نواز شوگر ملز کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی طرف توجہ دلائیں۔ مولانا راشد مدنی نے بتلایا کہ ان کے ہاتھ پر ترنڈہ سوائے خاں رحیم یار خان میں قادیانی جماعت کا مربی ملک منیر اور دو مرزائی جاوید و اہلیہ اور گوہر شاہی فتنہ سے تعلق رکھنے والے چک ۱۰۶ کے رہائشی محمد شفیق سمیت بارہ افراد نے اہل وعیال سمیت اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ الحمدللہ! اجلاس میں طے ہوا کہ مجلس کے مستقل اور ملکیتی دفاتر میں ماہانہ درس اور فکری نشستوں کا اہتمام یقینی بنایا جائے۔
آئندہ سہ ماہی کے لئے
آئندہ سہ ماہی کے لئے احتساب قادیانیت جلد گیارہ کا مطالعہ اور تلخیص لازم قرار دی گئی۔ مجلس کے مبلغین نے ملتان شہر کی درجنوں مساجد میں جمعۃ المبارک کے خطبات دیئے۔ جس میں قادیانیت کے ملک وملت کے خلاف سرگرمیوں کا تعاقب کیا گیا۔ ایک قرارداد میں چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک اور قرارداد میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے قضیہ کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر زور دیا گیا۔ ایک اور قرارداد میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے گھر پر میزائل حملہ کی پرزور مذمت کی گئی اور ملزموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ قادیانیوں سے بالمشافہ ملاقاتیں کر کے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت اور لٹریچر دیں۔ تاکہ اتمام حجت ہو سکے۔ مجلس کے شعبہ تبلیغ کو مزید متحرک کرنے، شعبہ واشاعت کے زیر اہتمام کئی ایک رسائل، پمفلٹ، اسٹیکرز شائع کرنے کے فیصلے کئے گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۷ء ص ۵۲، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
۳؍ مئی ۲۰۰۷ء بعد از مغرب جامع مسجد مرکزی ایبٹ آباد میں حضرت مولانا شفیق الرحمٰن کی زیر صدارت عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت مولانا مفتی سیف الرحمٰن نے کی۔ جناب عبدالباسط اور جناب جنید مصطفیٰ نے نظمیں پڑھیں۔ جناب ساجد اعوان سٹیج سیکرٹری تھے۔ مولانا عبدالواحد ، مولانا شفیق الرحمٰن، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی مبلغ مجلس لاہور، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۱۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قلندر آباد، داتہ مانسہرہ میں ختم نبوت کانفرنسیں
۴؍ مئی ۲۰۰۷ء بروز جمعہ کو مولانا اللہ وسایا نے قلندر آباد ضلع ایبٹ آباد میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب فرمایا۔ عام جمعہ کے معمول کے علاوہ ایک کثیر تعداد مولانا کا بیان سننے کے لئے مرکزی جامع مسجد قلندر آباد میں موجود تھی۔ مولانا اللہ وسایا نے یہود و نصاریٰ اور قادیانیوں کی مشترکہ اسلام دشمن سرگرمیوں پر تفصیلی گفتگو فرمائی اور مسلمانوں کو اپنا دشمن پہچاننے اور بیدار رہنے کی تلقین کی۔ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے بعد مولانا اللہ وسایا داتہ ضلع مانسہرہ میں تشریف لائے۔ جہاں بعد از نماز مغرب ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ نماز عصر کے بعد مولانا کی مقامی کارکنوں کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی۔ جس میں سالانہ کارکردگی اور موجود مسائل اور قادیانیوں کی سازشوں کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔ مولانا نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کے لئے ہدایات فرمائیں۔
مغرب کی نماز کے بعد کانفرنس شروع ہوئی۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے اپنے خطاب میں مرزائیوں کے دجل و فریب پر روشنی ڈالی اور سامعین کو ان کے تعاقب میں سرگرم رہنے کی تلقین کی۔ ان کے بعد مولانا اللہ وسایا نے عقیدہ ختم نبوت پر تفصیلی دلائل کے ساتھ بیان فرمایا اور مرزا قادیانی کے مختلف دعوؤں کا باحوالہ ذکر فرمایا۔ ختم نبوت کے عقیدہ کے تقاضوں پر روشنی ڈالی اور امت مسلمہ کو یہود و نصاریٰ اور قادیانی جماعت کے گٹھ جوڑ اور ان کے دجل و فریب سے آگاہ کیا۔ اس کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی وقار الحق عثمانی خطیب مرکزی جامع مسجد مانسہرہ نے فرمائی اور دیگر علمائے کرام کے علاوہ جناب سید ہدایت اللہ شاہ صاحب امیر جمعیت علمائے اسلام ضلع مانسہرہ نے اور جناب عبدالرؤف نے خصوصی شرکت فرمائی۔ آخر میں ضلع مانسہرہ کی بزرگ علمی شخصیت شیخ الحدیث مولانا سید غلام نبی شاہ نے دعا فرمائی اور اسی دعا کے ساتھ اس کانفرنس کا اختتام ہوا۔
۵؍ مئی ۲۰۰۷ء کو بعد از نماز مغرب مولانا اللہ وسایا نے جامع مسجد محلہ ناڑی مانسہرہ میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب فرمایا اور حکومت کی طرف سے ناموس رسالت کے قانون کے خلاف کی جانے والی سازش سے لوگوں کو آگاہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۴۹، ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا
مرکز اصلاح والارشاد جامعہ عربیہ سراج المدارس جامع مسجد خاتم النبیین ٹیکسلا شہر میں ۵؍ مئی ۲۰۰۷ء کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت پیر طریقت مولانا عبدالغفور صاحب نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا تھے۔ مولانا سعید احمد جلالپوری، مولانا مفتی محمد بن مفتی جمیل خان شہید، مولانا مفتی خالد کراچی، مولانا شبیر احمد عثمانی فیصل آباد، مبلغ مجلس اسلام آباد مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا محمد زاہد وسیم، مولانا خطیب الرحمٰن قریشی نے خطاب کیا۔ سید سلمان گیلانی، سید عزیز الرحمٰن شاہ، قاری مصباح الاسلام، پروفیسر مطیع الرحمٰن نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا۔ قاری نعیم نے تلاوت کلام پیش کیا۔ قاری محمد زکریا مہتمم جامعہ عربیہ سراج المدارس نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ کانفرنس میں ٹیکسلا شہر کے اور گردونواح کے علمائے کرام اور عوام الناس نے بھرپور شرکت کی۔ کانفرنس رات دو بجے پیر طریقت مولانا عبدالغفور صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۵۰)
محفل تاجدار ختم نبوت جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ کے زیر اہتمام ۱۸؍ مئی ۲۰۰۷ء بروز جمعتہ المبارک بعد از نماز عشاء جامع مسجد تقویٰ ناصر چوک
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جھنگ شہر میں مولانا ظہور احمد سالک کی صدارت میں ختم نبوت کے مقدس عنوان سے محفل تاجدار ختم نبوت منعقد ہوئی۔ جس سے جناب قاری شاہد نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جھنگ کے مبلغ مولانا غلام حسین، مولانا سلطان محمود ضیاء ( ملتان والے ) نے مسئلہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، قادیانیوں کی شرانگیزیاں اور حکومت کے آئندہ منصوبوں کے بارے میں عوام الناس کو مطلع کیا۔ عوام الناس کی کثیر تعداد نے آندھی طوفان کے باوجود عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۴۷)
اجتماعات ختم نبوت ڈیرہ غازی خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازی خان کے زیر اہتمام مختلف مقامات پر سالانہ اجتماعات منعقد ہوئے۔ اس سلسلہ کا پہلا اجتماع ۲۲ مئی بروز منگل مدرسہ نصرت الاسلام جامع مسجد ابوبکر صدیق ترمن تحصیل تونسہ میں منعقد ہوا۔ بعد نماز ظہر تلاوت کلام پاک سے اجتماع کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا۔ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مولانا غلام اکبر ثاقب نے عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر خطاب کیا۔ ان کے بعد جامعہ اسلامیہ ڈیرہ غازی خان کے مہتمم مولانا عبد الستار رحمانی نے مدارس کی اہمیت و ضرورت اور دینی تعلیم کی افادیت پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے ناموس رسالت کے موضوع پر خطاب فرمایا اور اس سلسلہ میں حکومت کے ناپاک عزائم کا پردہ چاک کرتے ہوئے اہل اسلام کو متنبہ کیا کہ اگر امریکہ کے دباؤ میں آکر حکومت ناموس رسالت کے آئین میں ترمیم کی ناپاک جسارت کرے جیسا کہ حکومتی رکن اسمبلی بھنڈارا نے اس ماہ ایسا بل پیش کیا ہے تو ہم ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے گریز نہ کریں گے۔ نماز عصر تک مولانا اللہ وسایا کا خطاب جاری رہا۔ عوام کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔ نماز عصر کے بعد ڈیرہ غازی خان روانگی ہوئی۔
نماز عشاء کے بعد مدرسہ علویہ رفیق القرآن جامع مسجد مکی گھنٹہ گھر بازار میں دوسرا سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔ جناب قاری شاہنواز کھتران کی تلاوت سے اجتماع کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ جامعہ دارالعلوم رحمانیہ ڈیرہ غازی خان استاذ الحدیث مولانا محمد احمد نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر افتتاحی خطاب کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کو دلائل کے ساتھ بیان فرمایا اور قادیانیوں کی تردید پر دلائل دیئے۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے تحفظ ناموس رسالت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مسلسل چار ماہ سے ملک بھر میں شہر شہر، بستی بستی، قریہ قریہ اسلامیان پاکستان کو آگاہ کر رہے ہیں کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے تیار ہو جائیں۔ امریکہ کے دباؤ میں آ کر حکومت پاکستان حدود اللہ کے آئین کو منسوخ کر چکی ہے اور اب ناموس رسالت کے آئین میں ترمیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر حکومت نے ایسا کرنے کی جسارت کی اور راجپال کا کردار ادا کرنے کے شوق کو پورا کیا تو اسلامیان پاکستان غازی علم الدین شہید کا کردار ادا کریں گے۔ مولانا عبدالرحمن، مولانا محمود احمد گجر نے بھی اس اجتماع میں شرکت فرمائی۔ رات کو مہمان علمائے کرام نے جامعہ اسلامیہ میں قیام کیا۔ نماز فجر کے بعد استاذ العلماء پیر طریقت مولانا عبد المالک ضیاء کی وفات پر ان کے صاحبزادے مولانا مفتی عبدالحی سے اظہار تعزیت کیا۔ بعد ازاں مدرسہ علویہ رفیق القرآن جامع مسجد مکی کے متولی و مہتمم جناب حاجی شیخ محمد علی کی بہو کے انتقال پر ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کے بعد علمائے کرام کا قافلہ جھگڑا امام شاہ پہنچا۔ جہاں بعد نماز ظہر دارالعلوم عثمانیہ میں اجتماع منعقد ہوا۔ مولانا محمود احمد گجر نے افتتاحی خطاب کیا۔ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ ان کے بعد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اکابرین ختم نبوت کے بارے میں کاوشوں کا ذکر فرمایا۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے مرزائیوں کے باطل عقائد ونظریات سے عوام کو آگاہ کیا۔ اس علاقہ میں چونکہ قادیانی رہتے اور مسلمانوں کو ورغلانے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں اس لئے مجلس یہاں سالانہ اجتماع بھی منعقد کرتی ہے اور مرزائیوں کے پھیلائے گئے شکوک وشبہات کا موثر انداز میں رد کیا جاتا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۵۱، ۵۲)
اجتماعات ختم نبوت راجن پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع راجن پور کے زیر اہتمام ۲۳؍مئی ۲۰۰۷ء کو مدرسہ مرکز العلوم مسافر خانہ راجن پور شہر میں سالانہ اجتماع ختم نبوت منعقد ہوا۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کی قیادت میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمود احمد گجر، مولانا عبدالرحمن غفاری پر مشتمل قافلہ جب راجن پور پہنچا تو مولانا بشیر احمد فاضل پوری، مولانا محمد علی صدیقی اور جناب حافظ فاروق قریشی نے معہ احباب والہانہ استقبال کیا۔ بعد نماز عشاء اجتماع کی کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مولانا بشیر احمد فاضل پوری نے افتتاحی خطاب کیا۔ ان کے بعد مولانا محمود احمد گجر نے عقیدہ ختم نبوت قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں بیان کیا اور مرزائیوں کی سازشوں سے عوام کو آگاہ کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عظمت رسول کے موضوع پر خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے ناموس رسالت کے موضوع پر خطاب کیا۔ عوام کو حکومت کے عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ اگر ناموس رسالت کے آئین میں ترمیم کرنے کی جسارت کی گئی تو اسلامیان پاکستان اسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ پیر طریقت مولانا سیف الرحمن درخواستی کی دعا پر اجتماع اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۷ء ص ۵۲)
ختم نبوت وکلاء فورم کی سہ روزہ تربیتی نشست کا انعقاد
کراچی (پ ر) اسلام کی سربلندی، تحفظ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کی پاسداری ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے، بحیثیت امت ہر دور میں مسلمان اس فریضہ کی ادائیگی سے سرخرو ہوتے چلے آرہے ہیں، بحمد اللہ! آج بھی مسلم امہ اس پلیٹ فارم پر متحد ہو کر کام کر رہی ہے۔ مئی میں عدالت کے ایوانوں میں ناموس رسالت کا تحفظ کرنے والے، توحید وسنت کے علمبردار وکلاء کے ایک پینل کے لئے سہ روزہ تربیتی نشست کا انعقاد ہوا، جس میں کافی تعداد میں نامور وکلاء نے شرکت کی اور نہایت دلچسپی کا اظہار کیا اور منعقد کورس میں اہمیت سے شرکت کی۔
اس سہ روزہ تربیتی نشست میں نامور علماء کرام اور پروفیسر حضرات نہایت علمی اور موضوع (رد قادیانیت) کی مناسبت سے عالمانہ اور فاضلانہ لیکچرز ہوئے، جس کو تمام شرکاء کورس نے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس پروگرام کو سراہا اور اس بات کا اظہار کیا کہ اس جیسی علمی مجالس گاہے بگاہے منعقد ہوتی رہنی چاہئیں تاکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر مسلمان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا رہے اور وہ اپنے فیلڈ میں نعرۂ حق وصداقت بلند کرتے رہیں، تمام وکلاء نے اس بات کا عزم کیا کہ ہم عدالت کی سطح پر تحفظ ناموس رسالت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ہم قادیانیوں کو آئین پاکستان کا پابند بنائیں گے اور ان کی اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے دشمنی کو طشت از بام کریں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کورس میں درج ذیل وکلاء نے شرکت کی : شیر محمد ایڈووکیٹ ، محمد یوسف ایڈووکیٹ ، محمد خان ایڈووکیٹ ، سید زاہد حسن ایڈووکیٹ ، سکندر عادل خان ایڈووکیٹ ، سمیع الرحمٰن ایڈووکیٹ ، شفیق احمد ایڈووکیٹ ، محمد ارشد آرائیں ایڈووکیٹ ، نوید رشید ایڈووکیٹ ، محمد نوید ایڈووکیٹ ، محمد اسلام ایڈووکیٹ ، چوہدری محمد یاسین ایڈووکیٹ ، ارشد اقبال ہاشمی ایڈووکیٹ ، افتخار علی خان ایڈووکیٹ ، خالد نواز خان مروت ایڈووکیٹ ، شمشیر عباس ایڈووکیٹ ، منظور احمد میؤ راجپوت ایڈووکیٹ ، عباس علی عباسی ایڈووکیٹ ، احسن بدر ایڈووکیٹ اور محمد صابر ایڈووکیٹ ۔ حق تعالیٰ ان حضرات کی کورس میں شرکت کو قبول فرمائے اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے ان کی خدمات کو قبول فرما کر حضور اکرم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۳؍ جون ۲۰۰۷ء ص ۱۳)
رپورٹ کراچی کانفرنسیں ۲۷؍ مئی تا یکم جون ۲۰۰۷ء
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام شش روزہ تحفظ ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا ، جس میں اکابر علماء کرام اور نامور قرّاء عظام اور معروف ثناء خوان محمد ﷺ نے شرکت کی ۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام پہلا پروگرام جامع مسجد بلال اسکاؤٹ کالونی ، ۲۷؍ مئی ۲۰۰۷ء بعد نمازِ عشاء منعقد ہوا ۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے قاری محمد نذیر مالکی نے کیا ، اس کے بعد معروف ثناء خوان مولانا محمد اشفاق نے بارگاہ رب العزت میں ہدیہ حمد پیش کیا اور ساتھ ہی جناب ختم المرتبت سید الکونین محمد ﷺ کی شان اقدس میں تحفہ نعت پیش کی ۔ نقابت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے ادا کئے ۔ جامعۃ الرشید کراچی کے استاذ قاری شاہ منصور احمد نے تحفظ ناموس رسالت اور جذبہ جہاد پر ایمان پرور خطاب کیا ، اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی رہنما ، شاہین ختم نبوت نے سید الاولین والآخرین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلہ پر تفصیل سے بیان کیا اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے امت مسلمہ کو بیدار کیا ۔ پروگرام مولانا سعید احمد جلال پور مدظلہ کے دعائیہ کلمات اور پرسوز دعاء پر اختتام پذیر ہوا ۔
دوسرا پروگرام ۲۸؍ مئی بروز پیر بعد نمازِ عشاء مدرسہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بالمقابل پارک میں منعقد ہوا ، جس میں علاقہ بھر کے مقتدر احباب نے نہایت دلجمعی کے ساتھ شرکت کی ، پروگرام کی ابتدا قاری سکندر حیات کی تلاوت سے ہوئی ، تلاوت کلام پاک کے بعد معروف مداح رسول حافظ اشفاق نے ہدیہ نعت پیش کی اور عوام الناس کے قلوب کو خوب گرمایا ۔ جامعہ اسلامیہ ملیر کے طالب علم نے نظم پیش کی ، اس کے بعد مولانا محمد اسلم کشمیری نے خطاب کیا ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور ہماری ذمہ داری کے عنوان پر نہایت مدلل اور پر جوش خطاب میں سامعین کو تحفظ ناموس رسالت کے کاز کو ایک ایک گلی اور محلہ میں پہنچانے اور آئندہ بھر پور انداز میں کام کرنے کی تلقین کی ، بعد ازاں جمعیت علماء اسلام کراچی کے مرکزی رہنما قاضی منیب الرحمٰن نے نہایت مفصل بیان کیا اور لوگوں کے قلوب کو ایمان کی روشنی سے منور کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔ آخری خطاب ، پروگرام کے مہمان خصوصی شاہین ختم نبوت ، مولانا اللہ وسایا کا ہوا ، بیان میں مولانا نے موجودہ حکومت کی تحفظ ناموس رسالت سے متعلق پالیسی اور قادیانیوں سے متعلق طے شدہ آئینی ترامیم میں نقب لگانے کی ناکام کوشش کو طشت از بام کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت کوئی ایسا غیر دانشمندانہ اقدام نہ کرے ، جس سے ملت اسلامیہ کے جذبات مجروح ہوں ، آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم کراچی کے امیر مدرسہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے سر پرست اعلیٰ حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری نے دعائے خیر فرمائی ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیسرا پروگرام ۲۹؍ مئی ۲۰۰۷ء بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد محمدی گلشن حدید میں جانشین شہید اسلام مولانا سعید احمد جلالپوری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی صدارت میں منعقد ہوا، تلاوت کلام پاک مدرسہ ضیاء القرآن کے طالب علم حافظ محمد زید نے کی، نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کے لئے مولانا محمد اشفاق نے اپنے مخصوص انداز میں نہایت دلسوزی کے ساتھ نعت پیش کی اور ایک عجب سامان باندھ دیا۔
اجتماع سے پہلا خطاب مبلغ کراچی مولانا قاضی احسان احمد نے کیا، اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا سعید احمد جلالپوری مدظلہ نے نہایت زوردار بیان فرمایا اور عوام الناس کو تحفظ ناموس رسالت جیسے عظیم مشن پر کام کرنے کے لئے آمادہ کیا، جس کا لوگوں نے بھرپور انداز میں خیر مقدم کیا، اور اس بات کا عزم کیا کہ ان شاء اللہ ہم ہر سطح پر حضور ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کریں گے۔ آخری خطاب مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ الحمد للہ! پروگرام کے اختتام تک عوام الناس یکسوئی سے بیٹھے رہے قریباً رات بارہ بجے کے بعد اختتامی دعا ہوئی۔
چوتھا پروگرام ۳۰؍ مئی ۲۰۰۷ء بروز بدھ بعد نماز عشاء، امیر خسرو روڈ سی. پی برار سوسائٹی میں منعقد ہوا جس میں وسیع انتظام کے باوجود عوام الناس کثیر تعداد میں پہنچے کہ جلسہ گاہ میں ہنگامی بنیادوں پر سامعین کے لئے مزید نشستوں کا انتظام کیا گیا تاہم پروگرام اپنی مثال آپ تھا، پروگرام کی ابتدا نوجوان قاری، قاری خوش الحان صبغت اللہ کی تلاوت سے ہوا، بعد میں مولانا قاضی احسان احمد نے مفصل خطاب کیا۔ اس کے بعد ملک عزیز پاکستان کے معروف قاری، استاذ القراء قاری محمد ادریس آصف نے اپنے مسحور کن آواز میں سامعین پر وجد طاری کر دیا، الحمد للہ! تقریباً پون گھنٹہ قاری نے تلاوت کی، اس کے بعد حافظ محمد اشفاق نے بارگاہ نبوی ﷺ میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ آخری مقرر مولانا اللہ وسایا کا ایمان پرور بیان ہوا، جس میں مولانا اللہ وسایا نے اکابر کی تحفظ ناموس رسالت سے متعلق خدمات کو بیان کیا اور اس کے پیش نظر عوام الناس سے مطالبہ کیا کہ ہم بھی اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے اپنے آپ کو میدان عمل میں لائیں۔
پانچواں پروگرام ۳۱؍ مئی ۲۰۰۷ء بعد نماز عشاء جامع مسجد بہار، بہار کالونی کے وسیع وعریض حال میں منعقد ہوا، جس کو بعد ازاں موسم کی تلخی کی وجہ سے صحن میں منتقل کر دیا گیا، جس میں بھرپور انداز میں علماء اور عوام الناس نے شرکت کی۔ تحفظ ناموس رسالت کے مشن پر امت مسلمہ کی کاوش اور فتنہ قادیانیت کی ناکامی کے عنوان پر مولانا اللہ وسایا نے نہایت مفصل اور مدلل بیان کیا، مولانا نے عوام کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم قادیانیوں سے کہتے ہیں کہ: غور کریں کہ کہاں سے انہوں نے سفر کیا اور آج کہاں پر ہیں؟ الحمد للہ! مسلمانوں کی ایک تاریخ ہے مرزا غلام احمد قادیانی کے تعاقب کے لئے مسلمانوں کے تین علماء کرام نے سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر پر فتویٰ دیا اور یہ تحریک چلتے چلتے چھ سو علماء کرام کے مبسوط فتویٰ تک جا پہنچی یہ علمی کاوش آگے چل کر محاذ ختم نبوت پر کام کرنے والے ہر ذی علم انسان کے لئے مشعل راہ بنی، صرف یہی نہیں بلکہ تحریر، تقریر، مناظرہ، عدالت، جنگ، امن ہر میدان و محاذ پر حق تعالیٰ شانہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی اور کفر کا منہ کالا کیا اور قادیانیوں کو شکست فاش ہوئی۔
قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے رہنما مفتی عبد القیوم دین پوری نے کہا کہ قرآن وسنت اس بات پر شاہد عدل ہے کہ اسلام کسی بھی گستاخ رسول سے رعایت کا سبق نہیں دیتا بلکہ قرآن کریم تو ایسے لوگوں سے تعاون کرنے کو بھی منع کرتا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’برائی کا کام کرنے والوں سے تعاون مت کرو۔‘‘
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی چونکہ زندیق اور مرتد ہیں، اس لئے اس کا حکم عام کافروں سے الگ ہے، اختتامی دعا جانشین شہید اسلام مولانا سعید احمد جلال پوری نے کروائی۔
چھٹا پروگرام شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی مسجد، جامع مسجد فلاح نصیر آباد میں یکم / جون ۲۰۰۷ء بروز جمعۃ المبارک منعقد ہوا، جس میں خطبہ جمعہ پر خطاب کرتے ہوئے شاہین ختم نبوت نے نہایت مفصل اور مدلل انداز میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا مسئلہ بیان کیا اور قرآن وسنت کی رو سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو بیان کیا۔
حق تعالیٰ شانہ ان تمام پروگراموں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، جن جماعتی رفقاء نے انتظام کیا رب کریم ان کو ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے، حق تعالیٰ شانہ قادیانیوں کے لئے ان محافل کو ذریعہ ہدایت بنائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۳ / جون ۲۰۰۷ء ص ۲۵، ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس لورالائی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۸/ جون ۲۰۰۷ء کو منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مقامی امیر نے کی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالکریم ندیم، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا عبدالواحد کوئٹہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا محمد یوسف جلالپوری نے خطاب کیا۔ کانفرنس عصر سے عشاء تک نماز مغرب کے وقفہ کے ساتھ جاری رہی۔ کانفرنس میں مقامی علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔ اگلے روز مہمانان گرامی نے لورالائی کے مدارس کا دورہ کیا۔ جس میں مولانا ممتاز احمد، خواجہ محمد اشرف، مولانا محب اللہ، مولانا حبیب اللہ اور دیگر علماء کرام بھی ساتھ ساتھ رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۹)
ختم نبوت کانفرنس ژوب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹/ جون ۲۰۰۷ء جامع مسجد میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مقامی امیر الحاج جناب شیخ غلام حیدر نے کی۔ جب کہ جامع مسجد کے خطیب مولانا اللہ داد کاکڑ کانفرنس کے اختتام تک کانفرنس کی سرپرستی ونگرانی کرتے رہے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالکریم ندیم خان پور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا محمد یوسف نقشبندی نے خطاب کیا۔ محمد سلیم نے نعت پیش کی۔ کانفرنس میں حکومت برطانیہ کی طرف سے ملعون رشدی کو ”سر“ کا خطاب دینے کے خلاف بھر پور غم وغصہ کا اظہار کیا گیا اور حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یہ خطاب واپس لے کر مسلمانوں میں پائے جانے والے غم و غصہ کو دور کرے۔
کانفرنس کے انتظامات حاجی محمد عمر اور ان کے رفقاء نے سرانجام دیئے۔ نیز مہمانان گرامی کا ژوب سے پندرہ کلومیٹر پہلے استقبال کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۲۳)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تین روزہ اندرون سندھ کا تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۲۰/ جون ۲۰۰۷ء بروز بدھ کوئٹہ سے سکھر دفتر ختم نبوت پہنچے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۱؍ جون بروز جمعرات بعد نماز عصر مولانا محمد فیاض مدنی کی معیت میں خیر پور میرس مدرسہ جامعہ حمادیہ پہنچے۔ مدرسہ کے ناظم اعلیٰ اور جماعت کے مخلص ساتھی حضرت مولانا مفتی محمد اصغر آرائیں اور اساتذہ کرام اور طلباء کرام نے حضرت کا استقبال کیا۔ بعد ازاں بعد نماز عشاء جامع مسجد عرفات صدیق اکبر ؓ چوک میں خطاب فرمایا۔
دارالہدیٰ ٹھیرھی پہنچے وہاں پہلے سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹھیرھی کے امیر اور جامعہ کے استاذ الحدیث حضرت مولانا حزب اللہ صاحب اساتذہ کرام اور طلباء کرام استقبال کے لئے جامعہ مسجد میں جمع تھے۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل نے خطبہ دیا اور فاروقیہ مسجد میں مولانا محمد فیاض مدنی نے خطبہ جمعہ دیا۔
۲۳؍ جون بروز ہفتہ صبح گیارہ بجے مدرسہ جامعہ محمدیہ عربیہ لطیف آباد نمبر ۲ گولیمار میں اساتذہ کرام اور طلباء کرام سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد جامعہ کے مدیر قاری محمد اسماعیل کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں نواب شاہ شہر میں جماعتی کام کو تیز سے تیز تر کرنے پر غور و خوض کیا گیا۔ بعد نماز ظہر جامع مسجد کبیر میں بیان ہوا۔ بعد نماز عصر جامع مسجد فاروقیہ اور بعد نماز عشاء جامعہ مسجد سوسائٹی میں خطاب فرمایا۔ اس موقع پر حیدر آباد کے مبلغ حضرت مولانا محمد نذر، مولانا محمد فیاض مدنی، حضرت مولانا محمد اسجد مدنی اور حضرت مولانا سراج احمد صاحب بھی موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۷ء ص۵۱، ۵۲)
رپورٹ سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۵؍ جمادی الثانی ۱۴۲۸ھ مطابق ۱۷؍ جولائی ۲۰۰۷ء بروز اتوار دفتر مرکزیہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا بشیر احمد نے کی۔
اجلاس میں مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد نذر عثمانی حیدر آباد، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص، مولانا محمد یعقوب بدین، مولانا خان محمد جمالی تھر پارکر، مولانا محمد فیاض مدنی گمبٹ، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاولنگر، مولانا عبدالحکیم نعمانی چیچہ وطنی، مولانا عبدالستار گورمانی خانیوال، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، مولانا عبدالرشید غازی مظفر گڑھ، مولانا محمود احمد ڈیرہ غازی خان، مولانا مفتی خالد میر اسلام آباد، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا عبدالخالق قاضی فیصل آباد، مولانا عبدالنعیم رحمانی شیخوپورہ، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا محمد قاسم لاہور، مولانا محمد عارف گوجرانوالہ، مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، مولانا محمد یوسف نقشبندی کوئٹہ سمیت کئی ایک حضرات نے شرکت کی۔
اجلاس میں گزشتہ اجلاس کی کارروائی کی خواندگی قاضی احسان احمد نے کی اور گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور آئندہ فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں لال مسجد، جامعہ حفصہ اسلام آباد کے طلبہ و طالبات کے سینکڑوں کی تعداد میں قتل عام کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی سابقہ حیثیت بحال کی جائے اور ان کا انتظام وفاق المدارس العربیہ کے سپرد کر دیا جائے۔ شہداء کی میتیں ورثاء کے سپرد کی جائیں۔ زخمیوں کا علاج سرکاری مصارف سے کیا جائے۔ شہداء اور زخمیوں کے ورثاء کو معاوضہ دیا جائے۔
اجلاس میں شہداء لال مسجد کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کی گئی اور شہداء کے رفع درجات اور زخمیوں کی صحت یابی کی دعا کی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتخریج: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس میں ۲۹؍ جولائی کو برمنگھم میں ہونے والی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی کی دعا کی گئی۔ سالانہ ردقادیانیت وعیسائیت کورس کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا اور مبلغین مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کو جنوبی پنجاب کے مدارس کے دورہ، مولانا غلام حسین جھنگ، ساہیوال، بہاولنگر، مولانا عزیز الرحمن لاہور، مولانا فقیر اللہ اختر کو سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے مدارس کے دورہ کی ہدایت کی گئی اور تمام مبلغین سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں سے زیادہ سے زیادہ طلبہ کرام کی شرکت کو یقینی بنائیں۔
کورس میں شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا عبدالقدوس خان قارن، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب مبلغ اسلام آباد، مولانا راشد مدنی رحیم یار خان، قاری غلام مرتضیٰ ڈسکہ، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا فقیر اللہ اختر سمیت کئی ایک اساتذہ کرام ردقادیانیت، ردعیسائیت رد پرویزیت کے موضوع پر لیکچر دیں گے اور شرکاء کورس کو نوٹس تیار کروائیں گے اور دلائل براہین سے آراستہ کریں گے۔
اجلاس میں آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ کانفرنس یکم ، ۲؍ نومبر ۲۰۰۷ء کو ہو گی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا عزیز الرحمن ثانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جو مقررین و خطباء سے رابطہ کر کے ان کی شرکت کو یقینی بنائے گی۔ ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ حکمرانوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک عزیز خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے۔ ہر طرف قتل و غارت گری خودکش حملے، سیلاب کی وجہ سے تباہی حکمرانوں کی دین دشمنی کی وجہ سے ملک مختلف زمینی و آسمانی آفات کا شکار ہے۔ ان حالات میں حکمرانوں کو بالخصوص اور عام مسلمانوں کو بالعموم اپنے گناہوں سے توبہ کر کے انابت و رجوع الی اللہ کرنا چاہئے تاکہ اللہ پاک ان آفات سے ملک کو بچائیں۔
آئندہ سہ ماہی کے لئے احتساب قادیانیت کی جلد نمبر بارہ مطالعہ کے لئے تجویز کی گئی اور رجب وشعبان میں اس کے باب کا خلاصہ بھیجا جائے گا۔ اجلاس میں شہداء لال مسجد کے علاوہ، الحاج محمد زمان خان اچکزئی کوئٹہ، حاجی خلیل الرحمن کوئٹہ کے بھائی حاجی انیس الرحمن، مفتی ظفر اقبال کہروڑ پکا اور قاری زاہد اقبال چیچہ وطنی کے والد محترم، مولانا عبدالحئی جامپوری، مولانا مفتی غلام قادر خیر پور ٹامیوالی، قاری محمد اختر پنجن کسانہ سمیت گزشتہ سہ ماہی میں وفات پانے والے عمائدین، جماعتی رفقاء کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ نیز ان کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۴۷، ۴۸)
۲۲ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
۲۹؍ جولائی ۲۰۰۷ء بروز اتوار سنٹرل جامع مسجد برمنگھم میں ۲۲ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کے انتظامات مہینوں پہلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے امیر حضرت مولانا محمد مکین مبلغ مجلس مولانا محمود الحسن نے شروع کر دیئے تھے۔ ملک بھر کے مساجد و مدارس کے ائمہ خطباء اور مہتمم حضرات کو ڈاک سے اشتہارات ارسال کئے گئے۔ ۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، حافظ محمد اقبال اور راقم نے لندن سے گلاسگو تک کے تمام قابل ذکر شہروں کا تبلیغی و دعوتی دورہ کیا۔ حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری، حضرت مولانا مفتی سہیل احمد، حضرت مولانا مفتی خالد محمود، صاحبزادہ حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، حضرت مولانا قاری عبد المالک اور ان کے دیگر گرامی قدر رفقاء
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے باقی ماندہ شہروں کا طوفانی دورہ کیا۔ جمعیت علماء برطانیہ اور دیگر دینی قیادت نے بھر پور انداز میں ختم نبوت کانفرنس کے لئے شب و روز ایک کر دیئے۔ غرض پورے برطانیہ میں ختم نبوت کا دعوتی تبلیغی پیغام لاکھوں فرزندان اسلام تک پہنچایا گیا۔ فالحمد للہ اولاً وآخراً!
۲۹؍ جولائی کو پورے برطانیہ سے وفود وقافلوں کی آمد آمد ہوئی۔ کوچیں ویگنیں، گاڑیاں، انفرادی واجتماعی طور پر محبان ختم نبوت نے شرکت سے ممنون احسان فرمایا۔ پاکستان سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مدیر شہیر حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، انڈیا دیوبند سے جانشین امیر الہند حضرت مولانا محمود مدنی ناظم عمومی جمعیت علماء ہند، انڈیا لکھنؤ سے حضرت مولانا عبد الشکور لکھنوی کے موجودہ جانشین حضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی، بنگلہ دیش سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم مولانا نورالاسلام، رابطہ عالم اسلامی کے مندوب لندن اور جرمنی سے مسجد توحید کے امام مفتی طاہر نواز اور دیگر مہمانان گرامی قدر نے کانفرنس میں شرکت سے سرفراز فرمایا۔
ختم نبوت کانفرنس حسب سابق صبح دس بجے سے شام سات بجے تک بڑے تزک واحتشام سے منعقد ہوئی۔ جس کے دو اجلاس ہوئے۔ ان دونوں اجلاسوں میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے بڑی خیر وخوبی سے سرانجام دیئے۔ آپ کے معاونین حضرت مولانا محمد متین اور جناب طہ قریشی تھے۔ کانفرنس کے انتظامات حسب سابق جامعہ مسجد حمزہ کے اساتذہ و آئمہ کی نگرانی میں اسلامیان برمنگھم نے سرانجام دیئے۔
حاجی محمد معصوم خان، حضرت مولانا خلیل الرحمن صاحب نے خصوصی مہمانوں کی راحت و آرام کا مکمل نظم اپنے ذمہ لئے رکھا۔ ہر وہ شخص جس نے بھی جتنا بھی حسب توفیق اس کام میں حصہ لیا وہ سب شکریہ کے مستحق ہیں۔ ذیل میں کانفرنس کے دونوں اجلاسوں کے مقررین کی فہرست پیش خدمت ہے:
اجلاس اوّل دس بجے تا ڈیڑھ بجے
صدر اجلاس : حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مہمان خصوصی : حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری تلاوت : حضرت مولانا قاری قمر الزمان برمنگھم نظم : حضرت مولانا قاری عبدالمالک کراچی افتتاحی بیان : حضرت مولانا اللہ وسایا خطاب : حضرت مولانا محمود الحسن مبلغ برطانیہ، حضرت مولانا سہیل احمد لندن، حضرت مولانا مفتی خالد محمود کراچی، یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد ایوب سورتی باٹلے، حضرت مولانا محمد اسماعیل رشیدی سیکرٹری جنرل جمعیت علماء برطانیہ، حضرت مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمود مناظر اسلام مانچسٹر۔ (وقفہ نماز ظہر ڈیڑھ بجے تا دو بجے)
اجلاس دوم دو بجے تا سات بجے
صدارت : حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مہمان خصوصی : حضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی لکھنوی، حضرت مولانا سید محمود مدنی انڈیا دیوبند
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت: حضرت مولانا قاری عبد المالک کراچی نظم: جناب حنیف شاہد رامپوری پاکستان خطاب: شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید انور، حضرت مولانا صاحبزادہ محمد یحییٰ لدھیانوی، حضرت مولانا محمد ابراہیم خطیب اعظم بریڈ فورڈ، حضرت مولانا عبدالرشید ربانی سرپرست جمعیت علماء برطانیہ، حضرت مولانا مفتی محمد اسلم امیر جمعیت علماء برطانیہ، حضرت مولانا مفتی محمد عمران جہانگیری لندن، فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز حربی مندوب رابطہ عالم اسلامی لندن، حضرت مولانا نورالاسلام بنگلہ دیش۔ خصوصی خطاب: جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالعلیم فاروقی خصوصی خطاب: جانشین امیر الہند حضرت مولانا محمود مدنی صدارتی خطاب: حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر بنوری ٹاؤن کراچی شرکت خصوصی: حضرت مولانا عمر صادق ممبر سندھ اسمبلی، حافظ نعیم سواتی ممبر سندھ اسمبلی شرکت خصوصی: حضرت مولانا امداداللہ قاسمی، حضرت مولانا رضاء الحق نوٹنگم شرکت خصوصی: محترم جناب صاحبزادہ سعید احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں اعلانات: حضرت مولانا محمد متین
نوٹ: آئندہ تیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۲۰؍ جولائی ۲۰۰۸ء اور جمعیت علماء برطانیہ کی توحید و سنت کانفرنس برطانیہ ۲۷؍ جولائی ۲۰۰۸ء کو ہوگی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ اور جمعیت علماء برطانیہ کا مشترکہ اعلان، حق تعالیٰ ان تمام خدمات کو قبول فرمائیں۔ آمین! (حضرت مولانا) فقیر اللہ وسایا
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۴ تا ۶)
ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ
قصور (پ ر) گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین اوکاڑہ اور قصور کے تحصیل پتوکی کے قصبہ طوطل میں تشریف لائے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد محی الاسلام عثمانی نئی لکڑ منڈی میں خطاب کیا بعد ازاں جامع مسجد ممتاز اکبر روڈ میں درس قرآن بعد ازاں جامع مسجد محمودیہ عید گاہ اوکاڑہ کے طلباء سے خطاب علوم نبویہ کی اہمیت اور سالانہ تبلیغی رد قادیانیت کورس چناب نگر کے لئے ترغیب دی، رات پتوکی طوطل قصبہ کے وسیع وعریض پنڈال میں مولانا اللہ وسایا مدظلہ کا عالمانہ فاضلانہ بیان ہوا، مولانا نے بیان میں کہا کہ کسی شخص کو ختم نبوت کے قوانین میں ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور اور قصور ضلع کے مبلغ مولانا عبدالرزاق مجاہد کا بیان ہوا، تلاوت کے بعد شعراء کرام نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کیں، بعد نماز عشاء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی عظمت قرآن کے موضوع پر بے مثال خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض دارالعلوم دینیہ کے ناظم قاری نور محمد شاکر نے سرانجام دیئے، قاری وحید الحسن نے مہمانوں کا شاندار استقبال کیا، اس قصبہ خاندان کے پہلے حافظ قرآن ہیں، جنہوں نے حفظ تکمیل قرآن کریم کیا اور ناظرہ ختم قرآن کرنے والے طلباء نے اپنا آخری سبق اکابرین کو سنا کر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انعام وصول کیا۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے قصبہ کے نوجوانوں، کارکنوں، طلباء نے بڑی محنت کی، کانفرنس کی صدارت دارالعلوم دینیہ کے مہتمم مولانا ہارون رشیدی کی دعائیہ کلمات سے رات بارہ بجے اختتام پذیر ہوئی۔ بعد ازاں قائدین لاہور کے لئے روانہ ہو گئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۸؍جولائی ۲۰۰۷ء ص۲۶)
۱۴؍واں سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی سالانہ ختم نبوت رد قادیانیت وعیسائیت کورس مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ۱۸؍ اگست ۲۰۰۷ء مطابق ۴؍ شعبان ۱۴۲۸ھ بروز ہفتہ صبح آٹھ بجے شروع ہو کر ۱۰؍ ستمبر ۲۰۰۷ء بمطابق ۲۷؍ شعبان ۱۴۲۸ھ بروز پیر صبح گیارہ بجے بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا غلام مرتضیٰ، مولانا سجاد الٰہی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا راشد مدنی، جناب محمد متین خالد، مولانا عبدالرحمٰن شاہ جمالی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا غلام مصطفیٰ، الحاج اشتیاق احمد اور دیگر حضرات نے مختلف اوقات میں اسباق پڑھائے۔ حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری کراچی، حضرت مولانا مفتی خالد محمود کراچی، حضرت مولانا شاہ محمد صاحب لاہور، حضرت مولانا مفتی محمد حسن صدر مدرس جامعہ مدنیہ جدید لاہور، مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر لاہور، جناب خالد سلہری لاہور، مولانا قاری محمد ابراہیم فیصل آباد، مولانا محمد اعجاز، مولانا قاری محمد یعقوب، مولانا محمد وقاص فیصل آباد، صاحبزادہ حافظ مبشر محمود، مولانا غلام حسین، مولانا ظہور احمد مختلف مواقع پر تشریف لائے اپنے اپنے خطابات سے سرفراز فرمایا۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا عبدالرشید، جناب حاجی محمد طفیل جاوید، عزیز الرحمٰن رحمانی نے داخلہ، حاضری، امتحان سندات کی تیاری اور دیگر امور کی نگرانی کی۔ جناب غلام یاسین، قاری عبید الرحمٰن، قاری عبدالرحمٰن، قاری محمد رمضان، قاری محمد اختر نے خوردونوش و رہائش وغیرہ کے امور کو سنبھالا۔ تقریری مقابلہ کے لئے بطور خاص دیگر اساتذہ کے علاوہ مولانا فقیر اللہ اختر تشریف لائے۔ چاروں صوبوں آزاد قبائل، آزاد کشمیر کے مختلف مدارس، یونیورسٹیز و کالجز کے ۲۶۴ طلباء نے داخلہ لیا۔
دوسو انچاس طلباء شریک امتحان ہوئے۔ آخری درس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے دیا۔ آخری خطاب و ہدایات پندو نصائح، حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ نے ارشاد فرمائیں۔ تقسیم اسناد کی تقریب میں جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا مسعود احمد سروری اور قاری اللہ یار ارشد نے بھی شرکت کی۔ اختتامی تقریب اسناد میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے اپنے مبارک ہاتھوں سے طلباء کرام کو اسناد دیں اور اپنی ایمان پرور دعاؤں سے طلباء کو رخصت فرمایا۔
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع ۱ سعید احمد بن محمد فاروق قصور ۲ عبد الماجد بن حافظ عبد الرحمٰن قصور ۳ ہدایت اللہ بن نذیراحمد ڈی جی خان ۴ سیف الاسلام بن مولانا نور گل کرک ۵ عبدالواحد بن عبدالرزاق خوشاب ۶ عطاء اللہ بن محمد فاضل لاہور ۷ منیر معاویہ بن نذیراحمد لیہ ۸ عصمت اللہ بن اللہ وسایا ڈی جی خان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹ ذیشان مصطفیٰ بن غلام مصطفیٰ جہلم ۱۰ عصمت اللہ بن مولا داد تونسہ شریف ۱۱ غلام مرتضیٰ بن امیر محمد تونسہ شریف ۱۲ حافظ محمد صابر بن حاجی گل خان بٹگرام ۱۳ محمد فیاض بن فیض احمد لودھراں ۱۴ غلام عباس بن غلام سرور تونسہ شریف ۱۵ محمد تاج معاویہ بن حبیب اللہ احمدانی تونسہ شریف ۱۶ عابد فرید بن مقصود احمد گوجرہ ۱۷ عمر ریاض بن محمد ریاض گجرات ۱۸ بشیر احمد بن غلام علی حافظ آباد ۱۹ قمر حیات بن محمد اختر خان آزاد کشمیر ۲۰ محمد احمد بن ارشد علی فیصل آباد ۲۱ محمد شعبان بن عبدالرزاق آزاد کشمیر ۲۲ امتیاز احمد بن احمد علی جھنگ ۲۳ فرمان اللہ بن یوسف خان مالاکنڈ ۲۴ آصف خان بن استانہ گل نوشہرہ ۲۵ محمد لقمان بن غلام مرتضیٰ رحیم یار خان ۲۶ محمد ثاقب عمر بن عطائی خان مانسہرہ ۲۷ محمد فیاض بن عبدالرشید سیالکوٹ ۲۸ محمد عابد خلیل بن فضل مولیٰ شاہ پشاور ۲۹ محمد سلیم بن ظفر اقبال جھنگ ۳۰ محمد آصف بن جہانگیر خان میانوالی ۳۱ محمد اکبر بن محمد یونس بھکر ۳۲ محمد حماد بن قاضی محمد فاروق مانسہرہ ۳۳ جمیل الرحمن بن عبدالصمد لاہور ۳۴ محمد شہزاد بن نور احمد ننکانہ ۳۵ عبدالمجید بن کامل نواز ڈی جی خان ۳۶ حافظ احمد ہارون بن حافظ اللہ بخش پشین ۳۷ حافظ احمد عمران بن محمد علی بھکر ۳۸ محمد قاسم بن عبدالظاہر پشین ۳۹ اسد عباس بن محمد یونس ایبٹ آباد ۴۰ حافظ نوید احمد بن نذیر احمد فیصل آباد ۴۱ محمد سلیم میواتی بن روشن خان لاہور ۴۲ محمد نوید بن جاوید اقبال لاہور ۴۳ محمد قاسم قمر بن غازی قمر الدین لاہور ۴۴ محمد عابد معاویہ بن دین محمد لاہور ۴۵ محمد ارشد بن فتح محمد لاہور ۴۶ محمد حبیب اللہ بن جعفر علی قصور ۴۷ نثار احمد بن محمد اسماعیل قصور ۴۸ عبدالواحد بن محمد رفیق قصور ۴۹ محمد عبدالواحد بن محمد رفیق وہاڑی ۵۰ محمد آصف بن محمد اسرائیل نارووال ۵۱ عمران غوث بن غلام غوث کھاریاں ۵۲ محمد اکرم بن محمد سلطان اوکاڑہ ۵۳ راشد علی بن شوکت علی سیالکوٹ ۵۴ راشد محمود بن محمد احمد لاہور ۵۵ عظمت خان بن عبدالاکبر پشاور ۵۶ محمد زبیر بن مہربان شاہ پشاور ۵۷ محمد توحید بن عظیم الدین میانوالی ۵۸ ریاض حسین شاہ بن فضل حسین شاہ بہاولپور ۵۹ مطیع الرحمن بن گوہر رحمن بہاولپور ۶۰ جمیل الرحمن بن مجیب الرحمن بہاولپور ۶۱ محمد شعیب بن عبدالرزاق بہاولپور ۶۲ حافظ غلام رسول بن حافظ قیصر احمد ڈی جی خان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶۳ محمد عبداللہ بن محمد عباس ڈی جی خان ۶۴ ثناء اللہ بن نبی بخش راجن پور ۶۵ مرید حسین بن غلام فرید ڈی جی خان ۶۶ محمد عثمان بن محمد اسلم ڈی جی خان ۶۷ محمد ابوبکر بن عبدالحکیم ڈی جی خان ۶۸ محمد ظفر بن محمد یار ڈی جی خان ۶۹ ملک اللہ بخش بن ملک الٰہی بخش ڈی جی خان ۷۰ محمد عارف بن عبدالرحیم ڈی جی خان ۷۱ محمد اختر بن نبی بخش مظفر گڑھ ۷۲ محمد ابوبکر بن مختار احمد راجن پور ۷۳ جنید احمد بن عبدالغفور مظفر گڑھ ۷۴ محمد عرفان بن عامر حمید بہاولپور ۷۵ محمد رفیع بن محمد عارف احمد پور شرقیہ ۷۶ محمد عمر فاروق بن دین محمد بہاولپور ۷۷ محمد مکی بن غلام حسین احمد پور شرقیہ ۷۸ محمد صدیق بن محمد دین احمد پور شرقیہ ۷۹ محمد عمران بن الطاف احمد بہاولپور ۸۰ وہاب مصطفیٰ بن محمد مصطفیٰ جھنگ ۸۱ سید نجم الحسن بن سید مطیع اللہ گوجرانوالہ ۸۲ نعمان سرور بن غلام سرور اٹک ۸۳ ابرار احمد بن اویس احمد خوشاب ۸۴ محمد ناصر بن رؤف احمد ملتان ۸۵ محمد ارشد بن عبدالستار ملتان ۸۶ مزمل ارشاد بن محمد ارشاد سیالکوٹ ۸۷ عبدالباسط بن بشیر احمد سیالکوٹ ۸۸ مبشر عباس بن عباس حیدر سیالکوٹ ۸۹ محمد ابوبکر بن عبدالرحمن ننکانہ ۹۰ عبدالرحمن بن اللہ دتہ خانیوال ۹۱ محمد سہیل بن محمد الیاس ڈی آئی خان ۹۲ محمد طیب بن اللہ نواز تونسہ شریف ۹۳ محمد طاہر بن محمد صادق جھنگ ۹۴ کلیم اللہ بن غلام محمد جھنگ ۹۵ حبیب الرحمن بن مولانا دولت خان ژوب ۹۶ محمد صدیق بن خواجہ خان ژوب ۹۷ محمد ابراہیم بن غلام صدیق ڈیرہ غازی خان ۹۸ عبدالرزاق بن مولوی عبدالحق ننکانہ ۹۹ محمد بن عبدالرزاق فیصل آباد ۱۰۰ محمد افضل بن اللہ بخش لیہ ۱۰۱ شہباز احمد بن غلام رسول سرگودھا ۱۰۲ غلام نبی بن غلام رسول گوجرانوالہ ۱۰۳ محمد عمر بن علی محمد جھنگ ۱۰۴ جان محمد بن محمد یوسف بہاولنگر ۱۰۵ قاری احمد سعید بن قاری صبغت اللہ گوجرانوالہ ۱۰۶ محمد عمران اکبر بن محمد اکبر فیصل آباد ۱۰۷ محمد اکرام اللہ بن محمد ادریس سیالکوٹ ۱۰۸ ناصر اقبال بن محمد اقبال سیالکوٹ ۱۰۹ غلام محمد بن پہلوان خان جھنگ ۱۱۰ فضل الرحمن بن محمد یوسف آزاد کشمیر ۱۱۱ محمد حیات اللہ بن عبدالشکور لیہ ۱۱۲ عبدالرحمن بن عبدالقادر پھالیہ ۱۱۳ مشہود خان بن مولانا محمد یعقوب شیخوپورہ ۱۱۴ ظفر اقبال بن غلام علی جھنگ ۱۱۵ حافظ حق نواز بن عبدالرحیم جھنگ ۱۱۶ محمد ارشد بن عبدالعزیز ساہیوال
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱۷ ضیغم نوید بن نذیر احمد ٹوبہ ۱۱۸ محمد عمران بن محمد اختر شیخوپور ۱۱۹ محمد مجید بن نیک محمد ننکانہ ۱۲۰ غلام مصطفیٰ بن محمد سردار سرگودھا ۱۲۱ عمر ارشاد بن شیخ محمد ارشاد راولپنڈی ۱۲۲ محمد سعد اللہ بن علی محمد مظفر گڑھ ۱۲۳ طارق امین بن محمد شفیق صوابی ۱۲۴ شاہد نواز بن حافظ اللہ دتہ وہاڑی ۱۲۵ معاذ اسجد بن محمد ادریس لاہور ۱۲۶ محمد شریف بن احمد دین اوکاڑہ ۱۲۷ نیاز احمد بن محمد شریف اوکاڑہ ۱۲۸ محمد رفیق بن محمد دیوان سرگودھا ۱۲۹ عبدالستار بن سلطان علی نارووال ۱۳۰ محمد منصور الحق بن محمد سعید جہلم ۱۳۱ محمد عباس بن عزیز الرحمن ہری پور ہزارہ ۱۳۲ آصف جمیل بن محمد جمیل الرحمن ملتان ۱۳۳ حبیب اللہ بن محمد عظیم ملتان ۱۳۴ شمس الرحمن بن یار محمد ساہیوال ۱۳۵ شہران موسیٰ بن موسیٰ خان آزاد کشمیر ۱۳۶ محمد اصغر بن اللہ دتہ وہاڑی ۱۳۷ ریاض احمد بن محمد اسلم لودھراں ۱۳۸ حذیفہ انور بن محمد انور بہاولپور ۱۳۹ محمد عمران بن احمد نواز ڈیرہ اسماعیل خان ۱۴۰ محمد ریحان بن محمد اشفاق بہاولنگر ۱۴۱ محمد فرمان بن محمد اشفاق بہاولنگر ۱۴۲ عبدالرزاق بن حاجی کریم بخش بہاولپور ۱۴۳ محمد یونس بن قاضی محمد شفیق بہاولپور ۱۴۴ محمد اسجد بن محمد افضل رحیم یار خان ۱۴۵ سید محبوب الحسن بن سید مدو شاہ حافظ آباد ۱۴۶ سید اسامہ بن زید بن سید احمد حسین گوجرانوالہ ۱۴۷ رشید احمد بن ریاض احمد رحیم یار خان ۱۴۸ حافظ اللہ یار بن کریم بخش بہاولپور ۱۴۹ محمد آصف بن فلک شیر بہاولپور ۱۵۰ محمد اکرام اللہ بن نور محمد بہاولپور ۱۵۱ محمد قاسم بن محمد ابراہیم بہاولپور ۱۵۲ محمد مختار بن دین محمد بہاولپور ۱۵۳ عبدالرزاق بن نذیر احمد بہاولپور ۱۵۴ محمد ارشد مدنی بن قاری محمد احمد لودھراں ۱۵۵ عبدالستار بن بشیر احمد لودھراں ۱۵۶ محمد سالم بن عبدالرحمن جھنگ ۱۵۷ اشتیاق محمد بن محمد ابراہیم قصور ۱۵۸ محمد اختر بن محمد امیر جھنگ ۱۵۹ محمد بلال بن قاری محمد حسین فیصل آباد ۱۶۰ افتخار احمد بن غلام حسین ایبٹ آباد ۱۶۱ محمد یاسین بن عبدالقیوم ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۶۲ محمد عامر یعقوب بن محمد یعقوب ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۶۳ شاہد مقبول بن مقبول احمد ساہیوال ۱۶۴ عبد الماجد بن منصور الدین خوشاب ۱۶۵ غلام علی بن غلام رسول سکھر ۱۶۶ سرفراز احمد بن غوث بخش سکھر ۱۶۷ عبدالسمیع بن محمد قاسم سکھر ۱۶۸ محمد احمد بن عبدالکریم مظفر گڑھ ۱۶۹ قادر حسین بن ظہور احمد رحیم یار خان ۱۷۰ عبدالرحمن بن عبدالغفور مظفر گڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷۱ عبدالشکور بن حافظ اللہ بخش احمد پور شرقیہ ۱۷۲ محمد اسلم بن رسول بخش اوچ شریف ۱۷۳ محمد یوسف بن عبدالعزیز مظفر گڑھ ۱۷۴ لطیف الرحمن بن حاجی شیر احمد بہاولپور ۱۷۵ جلیل الرحمن بن محمد فضل بہاولپور ۱۷۶ حسین احمد بن حافظ عبدالمجید بہاولپور ۱۷۷ محمد عبدالرزاق بن منظور احمد بہاولپور ۱۷۸ عبدالمجید بن عبدالرحمن بہاولپور ۱۷۹ حق نواز بن غلام شبیر بہاولپور ۱۸۰ نذیر احمد بن نیک محمد نوشہرو فیروز ۱۸۱ ثناء اللہ بن کریم ڈنو نوشہرو فیروز ۱۸۲ محمد فرقان بن صفدر زمان مانسہرہ ۱۸۳ عبدالبصیر بن محمد بشیر کراچی ۱۸۴ فضل ربی بن اد۔نہرار چترال ۱۸۵ شیروزمین بن رحمت کریم چترال ۱۸۶ اسد اللہ بن شفیع محمد بدین ۱۸۷ صفی اللہ بن نعمت اللہ نوشہرو فیروز ۱۸۸ محمد زمان بن عبدالغفار میر پور خاص ۱۸۹ راشد اقبال بن نذیر احمد میر پور خاص ۱۹۰ خالد محمود بن غلام اکبر مظفر گڑھ ۱۹۱ محمد ارشد بن محمد اسلم پرویز جھنگ ۱۹۲ محمد طیب بن غلام رسول جھنگ ۱۹۳ منظر عباس بن خورشید احمد جھنگ ۱۹۴ کاشف حمید بن عبدالقدوس جھنگ ۱۹۵ ابوبکر بن اللہ دتہ جھنگ ۱۹۶ محمد عثمان بن عبدالعزیز جھنگ ۱۹۷ حسنین خان بن مبارک خان جھنگ ۱۹۸ عبدالقیوم بن ارشاد احمد جھنگ ۱۹۹ احسان محمود بن محمد اقبال جھنگ ۲۰۰ مزمل حسین بن شیر محمد جھنگ ۲۰۱ عبدالرؤف بن غلام حسین ایبٹ آباد ۲۰۲ عبدالقیوم بن عبدالشکور ڈی آئی خان ۲۰۳ خالد محمود بن محمد یعقوب جھنگ ۲۰۴ محمد اسماعیل بن ریاض حسین بھکر ۲۰۵ شبیر احمد بن احمد خان منڈی بہاؤالدین ۲۰۶ مصباح اللہ بن بسم اللہ کرک ۲۰۷ محمد یونس بن عبدالقادر ملتان ۲۰۸ عرفان الحق بن محمود الحسن ملتان ۲۰۹ عظیم فاروق بن محمد شریف سرگودھا ۲۱۰ محمد اصغر بن محمد صدیق قصور ۲۱۱ محمد عمر بن الٰہ دین قصور ۲۱۲ افتخار احمد بن محمد یونس قصور ۲۱۳ سید جہانزیب بن سید محمد غوث لودھراں ۲۱۴ محمد بلال بن غلام شبیر مظفر گڑھ ۲۱۵ محمد اقبال بن اللہ بخش لودھراں ۲۱۶ اسد اللہ بن میر محمد خان مانسہرہ ۲۱۷ حسین احمد بن حاتم رنگون ۲۱۸ محمد بلال میر بن میر عالم خان لکی مروت ۲۱۹ عبدالحنان بن عبدالرحمن لکی مروت ۲۲۰ اعجاز رسول بن غلام رسول ننکانہ ۲۲۱ محمد آصف بن مرید سلطان جھنگ ۲۲۲ محمد حبیب اللہ بن محمد طفیل رحیم یار خان ۲۲۳ محمد مقبول بن حاجی شبیر رحیم یار خان ۲۲۴ حبیب اللہ بن قاری شبیر عثمانی فیصل آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۲۵ فداء الرحمن بن عبدالرحمن مانسہرہ ۲۲۶ محمد حامد سرفراز بن سرفراز احمد مانسہرہ ۲۲۷ اسامہ سرفراز بن سرفراز احمد مانسہرہ ۲۲۸ محمد عمران بن صوفی نذیر احمد ملتان ۲۲۹ محمد ثمر اقبال بن محمد منظور سرگودھا ۲۳۰ محمد عثمان بن محمد غازی لاہور ۲۳۱ محمد قمر اقبال بن محمد اسلم انور بھکر ۲۳۲ حافظ عبدالرحیم بن قاری شیر محمد سیالکوٹ ۲۳۳ حافظ محمد عارف بن محمد شفیع سیالکوٹ ۲۳۴ محمد عطاء اللہ بن محمد اسماعیل جھنگ ۲۳۵ محمد امین بن ملک فرید بخش راجن پور ۲۳۶ عبدالجلیل بن منظور احمد بہاولپور ۲۳۷ محمد سعد بن حافظ محمد نوید فیصل آباد ۲۳۸ غلام مصطفیٰ بن برکت علی لاہور ۲۳۹ عطاء محمد بن علی نواز بدین ۲۴۰ محمد عبدالرزاق بن خدا بخش خوشاب ۲۴۱ محمد سعید بن قاری علم الدین جھنگ ۲۴۲ احسان الحق بن خان عابد حسین شورکوٹ ۲۴۳ محمد خالد بن فلک شیر ڈی آئی خان ۲۴۴ نوید احمد بن محمد خلیل ڈی جی خان ۲۴۵ محمد کلیم اللہ بن محمد علی سرگودھا ۲۴۶ افضل بن اقبال سیالکوٹ ۲۴۷ محمد فیصل بن رشید احمد جھنگ ۲۴۸ عادل عباسی بن اورنگ زیب ایبٹ آباد ۲۴۹ محمد اعجاز خان بن امیر خان ایبٹ آباد ۲۵۰ وقاص علی خان بن عبدالرشید ایبٹ آباد ۲۵۱ عبدالمجیب بن حفیظ اللہ ایبٹ آباد ۲۵۲ محمد امین بن محمد یار جھنگ ۲۵۳ کرامت اللہ بن نور اسلم کرک ۲۵۴ فضل ربی بن اسلام بادشاہ کرک ۲۵۵ محمد عمران بن یار محمد میانوالی ۲۵۶ محمد ارشاد بن محمد بخش ڈی جی خان ۲۵۷ محمد ہاشم بن اللہ داد بھکر ۲۵۸ طارق رحیم بن عبدالرحیم بہاولپور ۲۵۹ محمد عارف بن یامین جھنگ ۲۶۰ وقاص حیدر بن ارشد علی گوجرانوالہ ۲۶۱ محمد بلال مکی بن محمد رمضان ملتان ۲۶۲ محمد بلال بن محمد ناگور سری لنکا ۲۶۳ محمد عزام الدین بن محمد شمس الدین سری لنکا ۲۶۴ رحمت اللہ بن عبدالرزاق سری لنکا
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اگست ۲۰۰۷ء میں جامع مسجد گول چوک سیٹلائٹ ٹاؤن میں ختم نبوت کانفرنس و جلسہ دستار بندی منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مجلس کے امیر مولانا عبدالواحد خطیب جامع مسجد قندھاری بازار نے کی۔
کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، قاری عبدالرحیم رحیمی، قاری انوار الحق حقانی، مولانا نور محمد ایم این اے، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد یوسف جلالپوری مبلغ کوئٹہ نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے کہا کہ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی بڑی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے غیور مسلمان قادیانیت کو اپنے صوبہ میں نہیں پنپنے دیں گے۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت قاری محمد ابراہیم کانسی نے حاصل کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۹)
ختم نبوت کانفرنس پشاور
جناب ظریف خان، جناب بخت زادہ صاحب کی دعوت پر گلہ ولہ کی مرکزی جامع مسجد نانا زئی نزد حجرہ رحیم خان و جناب حافظ محمد عابد صاحب اور ان کے رفقاء کی دعوت پر جامع مسجد مولانا روح الامین اچینی میں جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کے تعاون سے علاقائی ناظمین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر نگرانی عظیم تبلیغی اجتماعات منعقد ہوئے۔ جن میں علاقہ کے علماء کرام اور کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔
اجتماعات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرحد کے امیر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، ناظم تبلیغ مولانا سید امام شاہ صاحب، ناظم مجلس مولانا نورالحق نور، حاجی نظام اللہ صاحب، عنایت گل صاحب نے صوبائی مجلس کی نمائندگی کی۔ مقامی علماء کرام اور ناظمین مجلس کے افتتاحی خطاب کے بعد جناب مولانا سید امام شاہ صاحب کا خطاب ہوا اور آخر میں جناب مفتی صاحب امیر مجلس نے مفصل خطاب فرمایا۔ اپنے بیانات میں انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرح دین اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ختم نبوت پر قرآن کی ایک سو آیات مبارکہ اور احادیث طیبہ کے ذخیرہ میں دوسو دس احادیث موجود ہیں اور بذات خود اس سلسلہ میں فخر کائنات حضرت آمنہ کے لعل ہمارے آقا رسول مدنی ﷺ کا عمل اس طرح موجود ہے کہ جب یمن میں اسود عنسی لعین نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت فیروز دیلمی نے آقا مدنی ﷺ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدینہ منورہ سے سفر کر کے یمن جا کر اسود عنسی کو جہنم رسید کرنے کی سعادت حاصل کی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اطلاع پر آپ ﷺ نے خوشی کا اظہار فرماتے ہوئے ”فاز فیروز“ فرمایا۔ (فیروز کامیاب ہو گیا) اور یہ ایک ایسی جامع دلیل ختم نبوت پر ہے جس کے بعد منکرین ختم نبوت کا کسی اور دلیل کا طلب کرنا ہی ان کے کفر کے لئے کافی ہے۔ رسول عربی ﷺ کے وصال کے بعد سیدنا صدیق اکبر کے دور خلافت میں امت مسلمہ کا اجماع جھوٹے مدعی نبوت کذاب یمامہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کرنے پر ہوا۔ جس میں بارہ سو صحابہ کرام نے جام شہادت نوش فرما کر قیامت تک آنے والی امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو اپنے عمل کے ذریعہ یہ پیغام دیا کہ ناموس رسالت اور تاج وتخت ختم نبوت کی حفاظت کے لئے اگر ضرورت پڑے تو دور صدیق اکبر میں ہماری قربانی کو مشعل راہ بنانا محشر میں رسول اکرم ﷺ کی قیادت میں ہم آپ کا استقبال کریں گے۔
قادیانیت کے کفر کے مقابل الحمدللہ ! دور غلامی سے لے کر آج تک علماء کرام و مشائخ عظام کی قیادت میں اہل اسلام نے مثبت انداز میں جدوجہد کی ہے اور آج بھی اندرون اور بیرون ملک مرشد العلماء والصلحاء سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ خواجہ خوجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت میں تبلیغی جدوجہد جاری ہے۔ مجلس کے مبلغین علماء کرام تقریر اور تحریر کے ذریعہ یہ فریضہ بطریق احسن ادا کر رہے ہیں۔ اجتماعات کے آخر میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے نوٹس لیں اور مسلمان بھائی علماء کرام کی قیادت میں قادیانی غیر مسلم گروہ کا سوشل بائیکاٹ کریں۔ آخر میں مجلس کا مطبوعہ لٹریچر بڑی تعداد میں مفت تقسیم کیا گیا اور بعد ازاں گلہ ولہ میں مجلس کے دفتر کی افتتاحی تقریب ہوئی اور اچینی اور ارمڑ میں مزید اجتماعات کا فیصلہ کیا گیا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۷ء ص ۴۴، ۴۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالانہ ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان
۶؍ ستمبر بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامع مسجد ختم نبوت میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا مفتی حسین احمد عرفان نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی صاحبزادہ مولانا عزیز احمد صاحب، معاون امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تھے۔ کانفرنس میں تلاوت قاری محمد عمر عثمان نے کی۔ نظم محمد کریم غفاری نے پیش کی۔ تقاریر حضرت مولانا قاضی عبدالحلیم، حضرت مولانا حافظ محمد طارق، جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی، مولانا عبدالستار، مولانا اللہ وسایا نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ۲۰۰۷ء ص ۵۶)
ٹنڈو آدم میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۰۷ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد ایم۔اے جناح روڈ پر عظیم الشان ’’دفاع ختم نبوت‘‘ کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری عبدالرحمن نے حاصل کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد راشد مدنی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ افتتاحی خطاب جمعیت علمائے اسلام کے رہنما محمد عثمان سموں نے فرمایا۔ ان کے بعد حیدرآباد کے مبلغ مولانا محمد نذر، میر پور خاص کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی، ’’دارالافتاء ختم نبوت‘‘ کراچی کے مفتی عبدالقیوم دین پوری، مفتی حفیظ الرحمن رحمانی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی نگرانی علامہ احمد میاں حمادی نے کی۔ صدارت جانشین شہید اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر اور مرکزی شوریٰ کے رکن حضرت مفتی سعید احمد جلالپوری فرما رہے تھے۔
کانفرنس میں ہر سال سے زیادہ مسلمانوں نے شرکت کی۔ کراچی سے مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے ناظم رانا محمد انور، مولانا مفتی فخرالزمان، وکیل ختم نبوت جناب منظور احمد میو ایڈووکیٹ، سانگھڑ سے وکیل ختم نبوت ظفر حیات تنولی، مجاہد اللہ دتہ چانڈیو گوٹھ راجو مری ختم نبوت کے امیر بہادر خان مری مٹھو کھوسو گوٹھ کے امیر حاجی قادر داد کھوسو اپنی پوری جماعت سمیت تشریف لائے۔ ٹنڈو آدم کے شہریوں کے علاوہ گاؤں گوٹھوں سے ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کانفرنس حضرت مولانا سعید احمد جلالپوری نے فرمایا کہ قادیانی اسلام کی مخالفت میں اس پست سطح پر اتر آئے ہیں کہ وہ تمام اسلامی ممالک پر برطانیہ کا تسلط دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ انگریزی حکومت ان کے خود ساختہ مہدی کی تلوار ہے۔ قادیانیت کی اسلام سے بغاوت اور پھر اسلام دشمنی کے گھٹیا کردار کو دیکھ کر مصور پاکستان علامہ اقبال نے اس وقت کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قانونی طور پر قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ اقلیت تسلیم کرے۔ لیکن انگریزوں نے اپنے خود کاشتہ پودے کے حق میں یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
قیام پاکستان کے بعد ملکی حالات بہت کمزور تھے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں نے اپنے جامہ سے پاؤں باہر نکالنا شروع کر دیئے اور پورے پاکستان کو کم از کم بلوچستان کو قادیانی بنانے کا پروگرام بنا دیا۔ اس پلاننگ سے مسلمان مشتعل ہو گئے اور ۱۹۵۳ء کی تحریک چلی اور وہی مطالبہ کیا جو علامہ اقبال نے انگریزوں سے کیا تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ لیکن اس وقت کی حکومت پر قادیانیوں کا گہرا تسلط تھا۔ اس لئے حکومت نے نہ صرف یہ مطالبہ ٹھکرا دیا بلکہ فوجی طاقت سے اس تحریک کو کچل دیا۔ شہیدان ختم نبوت سے نہ صرف بازار اور سڑکیں لالہ زار ہوئی۔ بلکہ راوی دریا کی موجیں ان لاشوں کا مدفن بنیں۔ بالآخر ۱۹۷۴ء میں ان ہزاروں عاشقان مصطفیٰ کا لہو رنگ لایا اور مسلسل تیرہ دن کی کارروائی کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔
قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے میں حضرت مفتی محمود فرمایا کرتے تھے نہ صرف حزب اختلاف کا کردار ہے اور نہ حزب اقتدار کا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بلکہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں پاکستان کے تمام غیور مسلمانوں کا کردار ہے اور اس تحریک کی کامیابی کا سہرا بلا مبالغہ ۱۹۵۳ء میں ناموس رسالت پر اپنا لہو پیش کرنے والے ان مسلمانوں کے سر ہے۔ جن کے مقدس لہو کی خوشبو آج بھی اہل دل کو لاہور کے مال روڈ سے محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا دن مسلمانان پاکستان کے لئے حقیقت میں یوم دفاع پاکستان سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ بے شک فوج کے وہ جوان جنہوں نے اپنے جسم پر بم باندھ کر ہندو ٹینکوں کے آگے خود کو ڈال دیا۔ ہزاروں سلام کے مستحق ہیں۔ مگر اس سے کہیں زیادہ سلام کے مستحق وہ شہید ہیں جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان کارزار میں نکل آئے اور پاکستان کا مطلب ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے تحفظ کی خاطر اپنے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کروا دیئے۔ ہم ان شہدائے ختم نبوت کو لاکھوں سلام پیش کرتے ہیں اور اس دن کے حوالے سے عزم کرتے ہیں کہ ناموس رسالت پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیں گے۔
مولانا نے کہا کہ حکومت کی پالیسی قادیانیوں سے متعلق انتہائی تشویش میں ڈالنے والی ہے۔ جسے مسلمان کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔ مسلمان کے لئے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر کوئی شے عظیم نہیں۔ ناموس رسالت پر کوئی سودے بازی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ بھی شنید ہے کہ حکومت ”توہین رسالت“ کے آئین میں ترمیم کرنے کا پلان بنا چکی ہے۔ لیکن اس سے قبل حکومت خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلے کہ یہ مسئلہ کالا باغ، یا تھل کینال، یا مہنگائی اور بے روزگاری کا نہیں۔ اس مسئلے پر جتنی مزاحمت کا سامان کرنا پڑے گا حکومت اس کا اندازہ ہی نہیں کر سکتی۔ لہٰذا اگر ذہن کے کسی کونے میں یہ پلان ہے بھی تو اسے حکومت نکال دے، کانفرنس سے سندھ کے مایہ ناز خطیب، شیریں بیان مولانا عبدالرزاق میکھو نے آخری خطاب کیا اور دعا فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۷ء ص ۴۹، ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کوئٹہ میں یوم تشکر ۷؍ ستمبر ۲۰۰۷ء کے سلسلے میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس کے آخر میں ایک اعلامیہ جاری کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلمان کسی قادیانی نواز امیدوار کو ووٹ نہ دیں۔ علماء کرام مساجد میں مسلمانوں سے حلف لیں کہ وہ کسی ایسے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔ جو ۱۹۷۳ء کے آئین سے تحفظ ختم نبوت اور توہین رسالت کے قانون کو حذف کرانا چاہتے ہوں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام یوم تشکر کے سلسلے میں ۸؍ ستمبر ۲۰۰۷ء بروز ہفتہ کو بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا عبدالغفور مینگل، مولانا عبدالواحد، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی، مولانا قاری عبداللہ منیر اور دیگر علماء نے کہا کہ قادیانیت کے ناسور کو آئینی نشتر کے ذریعے امت مسلمہ کے جسد سے کاٹ دیا تھا۔ لیکن انہوں نے پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کیا اور سازشوں میں مصروف ہیں۔ قادیانی امریکہ اور عالم کفر کے وسائل کے بل بوتے پر مسلمانوں کے خلاف نت نئے منصوبے بنا رہے ہیں۔ سازشیں کر رہے ہیں اور الیکٹرونک میڈیا سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور این جی اوز کے ذریعے پروجیکٹس چلا رہے ہیں۔
علماء نے کہا کہ ایک سازش کے تحت اقوام متحدہ کے تمام اداروں میں قادیانی اہم عہدوں پر تعینات ہیں۔ یہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدات اور قومی مفاد کے خلاف امریکی فرمانوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی دفتر خارجہ مسلسل توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے۔ پاکستان کے تمام وزرائے خارجہ بھی قانون کو ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ کے مرکزی جنرل سیکرٹری سینیٹر مشاہد حسین نے فرانس میں کہا تھا کہ مناسب وقت میں توہین رسالت کا قانون ختم کر دیا جائے گا۔ ان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چوکس رہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۷ء ص ۵۱)
۲۶ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر مکمل و تفصیلی کارروائی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی افتتاحی نشست یکم نومبر ۲۰۰۷ء بروز جمعرات صبح دس بجے شروع ہوئی۔ نشست کی صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف اسلم نے کی۔ جب کہ تلاوت قاری محمد یوسف نقشبندی نے کی۔
اسمائے گرامی مقررین وعلماء کرام...... پہلا اجلاس یکم؍نومبر ۲۰۰۷ء بروز جمعرات قبل از ظہر
حافظ عبدالوہاب جالندھری مبلغ مجلس حافظ آباد، مولانا خان محمد جمالی مبلغ مجلس تھر پارکر سندھ، مولانا محمود احمد گجر مبلغ مجلس ڈیرہ غازی خان، مولانا محمد قاسم مبلغ مجلس لاہور، مولانا محمد عارف مبلغ مجلس گوجرانوالہ، مولانا زاہد وسیم مبلغ مجلس راولپنڈی، مولانا عبدالرشید غازی مبلغ مجلس مظفر گڑھ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، مولانا عبدالستار گورمانی مبلغ مجلس خانیوال، پہلی نشست مولانا محمد اسلم ناظم اعلیٰ فاروق آباد کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
دوسری نشست یکم؍نومبر ۲۰۰۷ء بروز جمعرات بعد از ظہر
صدارت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، تلاوت قاری سید ضیاء الحسن شاہ ناظم اعلیٰ ختم نبوت لاہور، خطاب شیخ الحدیث مولانا محمد مراد ہالیجوی جامعہ حمادیہ سکھر، قاری خلیل احمد بندھانی خطیب جامع مسجد سکھر، قاضی شفیق الرحمٰن انگوی جامعہ قادریہ رحیم یار خان، مولانا محمد یوسف خان استاذ جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا فضل الرحیم ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ لاہور، جناب ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان، مولانا سید امیر حسین گیلانی نائب امیر جمعیت علماء اسلام اوکاڑہ، مولانا محمد عالم طارق، مولانا ممتاز احمد کلیار خطیب مرکزی مسجد جڑانوالہ، جب کہ حضرت الامیر کی دعا سے یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا عبدالحکیم نعمانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔
نماز عصر کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے سوالات کے جوابات دیئے۔ مجلس ذکر بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ مولانا قاضی ارشد الحسینی نے حضرت لاہوری کے طرز پر ذکر کرایا اور اصلاحی خطاب فرمایا۔
تیسری نشست بعد نماز عشاء بروز جمعرات
صدارت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ، تلاوت قاری عبدالرحیم رحیمی کوئٹہ، قاری احسان اللہ فاروقی کراچی، نعت حافظ محمد ابوبکر کراچی حافظ محمد اشفاق کراچی، حافظ محمد سلیم مہر خانپور، خطاب حضرت مولانا میر محمد میرک سندھ، مولانا عبدالحمید لنڈ سٹھارجہ، صاحبزادہ مبشر محمود فیصل آباد، مولانا سعید احمد جلالپوری کراچی، راجہ مہر محمد صدیق ممبر آزاد کشمیر اسمبلی اٹک، مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی خانیوال، مفتی ابرار سلطان سابق ایم این اے کوہاٹ، مولانا عبدالحق بشیر گجرات، مولانا عبدالکریم ندیم خانپور، نوابزادہ منصور احمد خان گڑھ، مولانا سید محمود احمد مدنی ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے دیوبند انڈیا، مولانا حق نواز خالد فیصل آباد، مولانا اشرف علی راولپنڈی، مولانا فضل الرحمٰن درخواستی خانپور اور آخری خطاب مولانا عبدالغفور حقانی صاحب شجاع آباد نے کیا جو صبح کی اذان تک جاری رہا۔ یہ نشست مولانا فضل الرحمٰن درخواستی مہتمم جامعہ مخزن العلوم خانپور کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
چوتھی نشست ۲؍نومبر ۲۰۰۷ء بروز جمعتہ المبارک صبح دس بجے
صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، تلاوت قاری غلام مرسلین بہاولپور، نعت محمد امین
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حاصل پور، خطاب مولوی کلیم اختر خانیوال، مولانا قاری سیف اللہ اختر لاہور، حافظ سعید احمد لدھیانوی، مولانا عبدالواحد امیر مجلس کوئٹہ، قاری عبدالرحیم رحیمی کوئٹہ، مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ مجلس چیچہ وطنی، مولانا محمد نواز فیصل آباد، قاری عبدالشکور گرواں ناظم مجلس لیہ، مولانا غلام حسین مبلغ مجلس جھنگ، مولانا راشد مدنی مبلغ مجلس رحیم یار خان اور مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب راولپنڈی نے اس نشست میں آخری خطاب فرمایا جو دو بجے تک جاری رہا۔ خطبہ جمعہ اور امامت کے فرائض بھی مولانا سید عبدالمجید ندیم نے سرانجام دیئے۔
آخری نشست ۲؍ نومبر بعد از جمعہ
صدارت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، تلاوت قاری احسان اللہ فاروقی کراچی، نعت حافظ محمد عمار کہروڑ پکا اور سید سلمان گیلانی لاہور، آخری خطاب قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن مدظلہ نے فرمایا جو عصر کی نماز تک جاری رہا۔ کانفرنس بحمد اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔
۲۶ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منظور شدہ قراردادیں
- ۱...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقدہ ۲۶ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ
پاکستان میں قادیانی فتنہ سے متعلق متفقہ طور پر منظور شدہ نیشنل اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں آئین و دستور میں موجود قانون جسے پاکستان شریعت کورٹ سپریم بینچ نے بھی تسلیم کیا۔ وہ قانون اب سٹیٹ کی پراپرٹی ہے۔ اس پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد پاکستان گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
- ۲...... سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ارتداد
کی شرعی سزا، قادیانی چونکہ آئینی طور پر غیر مسلم ہیں اس لئے ان کی عبادت گاہوں کی شکل و شباہت اہل اسلام کی مساجد کے مطابق نہیں ہونی چاہئے۔ اس پر بھی اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات کر چکی ہے۔ حکومت پاکستان اس پر قانون سازی کرے۔
- ۳...... یہ اجلاس اسلامیان وطن سے اپیل کرتا ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں اسلامی ذہن عقیدہ ختم نبوت کامل ومکمل یقین رکھنے
والے امیدواروں کو کامیاب کرائیں۔ تاکہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے تشخص کو مجروح کرنے کی بین الاقوامی سازش کو ناکام بنایا جاسکے۔
- ۴...... یہ اجلاس پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کی بدترین قادیانیت نوازی پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتا ہے:
- الف...... چوہدری پرویز الٰہی نے معروف قادیانی ڈاکٹر مبشر کی امریکی بیوی کو اپنا مشیر تعلیم مقرر کر کے محکمہ تعلیم پنجاب کے ذریعہ اسلامیان
پنجاب کے بچوں کو قادیانی چنگل میں پھنسانے کی مذموم کوشش کی۔
- ب...... ساتویں جماعت کے لئے ’’پنجابی دی دوجی کتاب‘‘ ترمیم شدہ شائع کردہ پنجاب ٹیکسٹ بورڈ لاہور کے ص ۳ پر ’’ساڈے
پیارے نبی‘‘ کے عنوان قائم کر کے غفران سید کے مضمون کو کتاب میں شامل کیا۔ اس میں حیات عیسیٰ کے اجماعی عقیدہ کے خلاف خالصتاً قادیانی عقیدہ کی ترجمانی کرتے ہوئے اس میں لکھا کہ : ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نوں وفات پایاں پنج سوا کہتر ورے ہو چکے سن (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات پائے پانچ سوا کہتر سال ہو چکے تھے)‘‘ یہ جملہ قادیانی نظریات کا آئینہ دار ہے۔ اس کے لکھنے، شائع کرنے اور منظوری دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ج...... چوہدری پرویز الٰہی نے ڈاکٹر ہسپتال لاہور کے شعبہ قلب کا انتظامی سربراہ ڈاکٹر مبشر قادیانی کو بنوایا ہے۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔
- د...... جنرل ہسپتال لاہور کے عقب میں ۱۶۵ کنال پر مشتمل کھربوں روپیہ کی زمین امریکی این۔جی۔اوز کی معرفت ڈاکٹر مبشر کو
میڈیکل کالج کے نام بلا معاوضہ دے دینا بدترین قادیانیت نوازی ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت اور اس کے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی پر عائد ہوتی ہے۔ یہ قادیانیت نوازی کی بدترین مثال ہے جس کے مرتکب وزیر اعلیٰ پنجاب ہوئے۔
- و...... سیالکوٹ ضلع کے گاؤں اونچی کھرولیاں جس کی ۹۸ فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اس گاؤں کا نام قادیانی ڈاکٹر مبشر کے متعصب
جنونی قادیانی باپ کے نام پر اسلم پورہ رکھا گیا ہے۔
- ہ...... اس گاؤں میں نہر کی متروکہ پٹڑی کی ۱۳ کنال زمین ۹۰ سالہ لیز پر قادیانی مبشر ڈاکٹر کو دے دی گئی ہے۔ جس کی مٹی اس نے
لاکھوں میں فروخت کی۔ یہ بھی چوہدری پرویز الٰہی، چیف منسٹر پنجاب کی قادیانیت نوازی کی افسوسناک مثال ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی کے مورث اعلیٰ چوہدری ظہور الٰہی کی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے شاندار خدمات ہیں۔ لیکن چوہدری پرویز الٰہی نے قادیانی ڈاکٹر مبشر اور اس کی قادیانی بیوی کے ساتھ دنیوی تعلقات کے باعث ان پر پنجاب کی زمین، ہسپتال اور خزانہ کے منہ کھول دیئے ہیں۔ جو پاکستان کے نظریاتی تشخص، صوبہ پنجاب کی عقیدہ ختم نبوت کے لئے شاندار اور مثالی تاریخ کو ملیا میٹ کرنے کے مترادف ہے۔ اب جب کہ یہ حکومتیں آنے والے انتخابات کے باعث ختم ہونے والی ہیں۔ پنجاب گورنمنٹ ان کئے ہوئے اقدامات کو واپس لے۔ جو اسلامیان پنجاب کے لئے شدید اضطراب کا باعث ہیں۔ یہ اجلاس پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ان مذموم اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ان کی اصلاح کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے پرزور مطالبہ کرتا ہے۔
- ۵...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ اجلاس تمام شرکاء اور اس کے انتظامات میں تعاون پر تمام ضلعی و مقامی آفیسران کا شکریہ ادا کرتا ہے
اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے نئے ولولے کے تحت آئین کی سربلندی کے لئے کوشاں رہنے کی اپیل کرتا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۷ء ص ۴، ۳، ۸ تا ۱۰)
سری لنکا میں تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر تربیتی کیمپ کا انعقاد
سری لنکا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جن میں ایک عرصہ سے قادیانی فتنہ اپنے ہاتھ پاؤں پھیلانے میں مصروف ہے، سری لنکا کے بعض علماء کے بقول ۱۹۱۶ء میں پہلی بار قادیانیت نے سری لنکا میں قدم رکھا تھا لیکن مسلسل اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود اپنے ناپاک عزائم میں تا ہنوز ناکام ہے، البتہ ادھر دو تین سال کے عرصہ میں قادیانی تحریک کے بیرونی پرچارکوں نے ملکی فضا خراب کرنے میں کچھ زیادہ ہی تیزی پیدا کر دی ہے، مسلسل مسلمان نوجوانوں کو ورغلانا، دین اسلام کے نام پر مسلمانوں کو بے دین بنانا، اور اپنے لٹریچر خفیہ طور پر مسلمانوں میں تقسیم کرنا اور تبلیغ کے نام پر مسلمانوں کو اپنے ہیڈ کوارٹر قادیان اور لندن کے سیر کرانا وغیرہ۔ ان کی ریشہ دوانیوں کو دیکھتے ہوئے جمعیت علماء سری لنکا نے پہلی بار اس فتنہ کے سدباب اور مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھنے کے لئے قدم اٹھایا اور ملکی سطح پر چھ روزہ تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا۔
سری لنکا چونکہ ہندوستان کا پڑوسی ملک ہے اس مناسبت سے جمعیت علماء سری لنکا نے تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر تربیتی کیمپ کے لئے کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند سے رابطہ کیا اور اس کے لئے باضابطہ صدر کل ہند مجلس کی خدمت میں درخواست لے کر ایک وفد بھیجا، جن کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱...... جناب شیخ ظریف احمد صاحب نائب صدر جمعیت علماء سری لنکا۔
- ۲...... مفتی محمد رضوی صاحب قاسمی استاذ مدرسہ الرشاد العربیہ گرانفاص۔
- ۳...... جناب مولانا مفتی مفاز قاسمی صاحب استاذ مدرسہ عربیہ کولمبو۔
صدر محترم کی منظوری کے بعد راقم الحروف کا سفر طے ہوا اور پروگرام کے لئے مورخہ ۲۶؍ اپریل تا ۵؍ مئی ۲۰۰۷ء کی تاریخیں طے پائیں۔
پروگرام کے مطابق ۲۶؍ اپریل ۲۰۰۷ء بروز جمعرات ۲ بجے کے قریب راقم الحروف سری لنکا کے ایئرپورٹ پر اترا جہاں استقبال کے لئے محترم شیخ ظریف صاحب نائب رئیس جمعیت علماء سری لنکا، مولانا محمد الیاس صاحب کاشفی نائب شیخ الحدیث مدرسہ الرشاد العربیہ گرانفاص، مولانا مفتی محمد رضوی القاسمی وغیرہ احباب موجود تھے، عصر کی نماز کا وقت قریب تھا، نماز سے فراغت کے بعد مختصر سا قیام ایئرپورٹ سے قریب ہی شہر نگمبو میں طے تھا، جہاں طعام وغیرہ کا بھی نظم تھا، راقم الحروف سری لنکا میں پہلی بار جن کا مہمان ہوا وہ تھے جناب الحاج زومی صاحب صاحبزادہ سابق امیر جماعت تبلیغ سری لنکا، موصوف نے ماشاء اللہ پر تکلف ضیافت کا نظم کیا تھا۔ فجزاہم اللہ خیراً۔ راقم الحروف وطن سے پہلی بار باہر کسی دوسرے ملک میں تبلیغ ہی کے لئے نکلا تھا اور وہاں مسکن جو ملا وہ بھی تبلیغ کا، اس عملی اور قلبی ربط باہم سے ظاہری بات ہے کہ باہمی انسیت جو پیدا ہوگی وہ پُر کیف ہوگی۔
نماز مغرب کے بعد شب کا قیام کولمبو شہر میں طے تھا، وقت پر راقم السطور جناب شیخ رفقان صاحب کے مکان پر پہنچا، جہاں محترم جناب شیخ مفتی محمد رضوی صدر جمعیت علماء سری لنکا و رکن مجلس شوریٰ تبلیغی جماعت سری لنکا سے ملاقات ہوئی موصوف ماشاء اللہ خلیق، جید الاستعداد عالم دین اور وسیع النظر بزرگ ہیں، طعام وغیرہ سے فراغت کے بعد آئندہ پروگرام سے متعلق مشورہ ہوا، جس میں شیخ ظریف، شیخ رفقان کے علاوہ بہت سے احباب شریک تھے، اگلے دن جمعہ کی نماز شیخ رضوی کے ہمراہ ان کی مسجد میں ادا کی بعد نماز شیخ رفقان کے مکان پر ہی تامل ناڈو (انڈیا) کے ہی ایک مشہور عالم دین شیخ محمد خان الباقوی سے ملاقات ہوئی اور کچھ اپنے موضوع پر تبادلۂ خیالات کیا گیا، موصوف ختم نبوت کے موضوع پر ایک فکر مند عالم دین ہیں، کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کا طریقہ کار اور اب تک کی مختصراً کارکردگی سن کر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا، اسی دن نماز مغرب کے بعد مدرسہ دینیہ پلی ملا پاندورائے کے لئے روانگی ہوئی، گاڑی میں سفر کے رفیق جناب شیخ ظریف اور مفتی مفاز احمد قاسمی صاحب تھے، تقریباً ایک گھنٹے میں سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے عشاء کے وقت ہم مدرسہ دینیہ میں تھے، جہاں اساتذہ و طلبہ کے ہمراہ مدرسہ کے مہتمم جناب شیخ محمد رمضان صاحب نے وفد کا استقبال کیا۔
تربیتی کیمپ کی پہلی نشست:
مشورہ کے مطابق پورے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تربیتی پروگرام رکھے گئے تھے، چنانچہ مدرسہ دینیہ پاندورائے میں قرب و جوار کے تمام مدارس کے نمائندے جمع تھے، جن کی کل تعداد ۸۶ تھی۔
پروگرام کا آغاز حسب اعلان صبح ۸ بجے الحمد للہ مدرسہ کے ایک طالب علم کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا، جناب شیخ جعفر صاحب مہتمم مدرسہ بریرہ نسواں کا تعارفی اور ابتدائی خطاب ہوا، جو مقامی زبان میں تھا، موصوف نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کی تاریخ میں یہ الحمد للہ پہلا واقعہ ہے کہ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند نے ہماری سرپرستی کر کے ایک خاص موضوع پر علمی اعتبار سے ہمیں فیضیاب و سیراب ہونے کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے پورے ملک کے مسلمانوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ارباب مدارس و طالبان علوم دینیہ کے لئے تو یہ بے بدل زریں موقع ہے کہ ہم اپنے گھر بیٹھے دارالعلوم دیوبند کے فیض سے بواسطہ جناب مولانا شاہ عالم گورکھپوری سے فیضیاب ہورہے ہیں، اس موقع سے ہم جس قدر دارالعلوم دیوبند کے مشکور ہوں کم ہے۔
موصوف نے ملک میں قادیانیت کے پھیلتے ہوئے جراثیم سے بھی حاضرین مندوبین کو باخبر کیا اور اس کے بھیانک اثرات و خطرات سے بھی واقف کرایا۔
موصوف کے تعارفی خطاب کے بعد راقم سطور کو دعوت دی گئی، راقم نے اس پہلی نشست میں تاریخی پہلو سے قادیانیت کا اس انداز میں تعارف کرایا کہ سامعین وحاضرین پر قادیانیت کا فتنہ ہونا اور ایمان وعمل کے لئے مہلک ہونا روز روشن کی طرح واضح ہوگیا، جس کی تفصیلات بذریعہ ٹیپ ریکارڈ نقل کرکے کسی دوسرے موقع پر پیش کی جائے گی، واضح رہے کہ اس نشست میں ترجمان کے فرائض جناب شیخ محمد الیاس صاحب اور جناب مفتی مفاز صاحب نے ادا کئے، ان احباب کو اردو اور مقامی زبان پر ماشاء اللہ عبور حاصل ہے۔
تربیتی پروگرام کی دوسری نشست ۴ تا ۶ بجے شام ہوئی، اسی طرح تیسری نشست بعد نماز مغرب ۷ تا ۱۱ بجے شب میں ہوئی، نشست مکمل ہونے کے بعد عشاء کی نماز پڑھی گئی، اگلے روز اتوار میں صبح ۷ بجے چوتھی نشست کا آغاز ہوا، جس میں مرزا قادیانی کے عقائد و نظریات پر بحث کی گئی، یہ نشست ۱۲ بجے تک چلتی رہی بعد نماز ظہر و طعام وغیرہ سے فراغت کے بعد عصر سے لے کر مغرب ۷ بجے تک پانچویں نشست منعقد ہوئی جو ۱۲ بجے تک چلتی رہی، چھٹی نشست بعد نماز ظہر ساڑھے تین بجے سے شروع ہوئی جو ساڑھے پانچ بجے تک چلتی رہی، اس نشست میں راقم سطور کے مختصر بیان کے بعد مقامی کبار علماء میں سے جناب مفتی محمد رضوی صاحب اور امیر جماعت وغیرہ کے بیانات ہوئے اور تمام مندوبین کو شرکت کے اسناد اور کتابوں کے سیٹ وغیرہ تقسیم کئے گئے، جس کو جامعہ دینیہ نے تیار کرائے تھے۔
چھٹی نشست میں مقامی علماء کرام نے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ صحیح معنوں میں اب تک قادیانی فتنہ کی خطرناکی وزہر ناکی کو اس انداز میں نہیں سمجھا گیا تھا، جیسا کہ اس تربیتی پروگرام سے سمجھا گیا ہے۔
مقررین نے تربیتی پروگرام کی افادیت کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت علماء سری لنکا اور دارالعلوم دیوبند کا بھی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس طرح کا پروگرام ضرور ہوگا انشاء اللہ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۲۲ جنوری ۲۰۰۸ء ص ۱۴، ۱۵)
انیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
گوجرہ میں ختم نبوت کانفرنس ۵/ دسمبر ۲۰۰۷ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد الخضری نئی منڈی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ جو ۱۹ ویں سالانہ کانفرنس قرار پائی۔ جس کی تاریخ کا اعلان مقامی جماعت کی درخواست پر مرکزی قائدین نے سالانہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی چناب نگر یکم نومبر کے موقع پر کیا تھا۔ کانفرنس حضرت الامیر خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی سرپرستی، حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد کی صدارت اور مقامی جماعت کے امیر مولانا محمد اسلم چشتی صابری کی قیادت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے جماعت کے مرکزی رہنماؤں حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے علاوہ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد طیب، صاحبزادہ طارق محمود مرحوم کے بیٹے صاحبزادہ حافظ مبشر محمود، مولانا محمد اسلم چشتی صابری، مولانا ضیاء الدین آزاد، سید سرفراز الحسن شاہ اور مجاہد نور پوری نے خطاب کیا۔ قاری یاسین شفیقی نے تلاوت کی۔ قاری شرافت علی نے نعت اور صوفی خلیل احمد نے نظم پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری سید سرفراز الحسن شاہ تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری، فروری ۲۰۰۸ء ص ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۸ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قادیانیوں کے دھوکہ سے باخبر رہیں
سابقہ الیکشن میں امام بخش قیصرانی نے کوٹ قیصرانی کے علماء کو دھوکہ دیا۔ بعد میں شادی کے ولیمہ میں قادیانی مربی شریک ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے رہنماؤں نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ امام بخش قیصرانی امیدوار پی۔پی ۲۴۰ تونسہ شریف نے اپنے دادا امیر مند قیصرانی کی طرح علماء کوٹ قیصرانی کو دھوکہ دیا ہے۔ ۱۹۸۶ء کو امیر مند قیصرانی کی لاش جس مسجد سے نکلی تھی۔ اس امیر مند نے الیکشن میں حضرت خواجہ نظام الدین تونسوی ، حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو دھوکہ دیا تھا۔ اسلام قبول کر کے پھر قادیانی بن گیا تھا۔ اسی طرح اس قادیانی کے پوتے امام بخش قیصرانی نے سابقہ الیکشن میں علماء کوٹ قیصرانی کے سامنے اسلام قبول کیا۔ پھر اپنی شادی لاہور کے قادیانیوں کے ہاں کی ہے اور شیر گڑھ میں دعوت ولیمہ پر قادیانی مربیوں کو بلوا کر قادیانیت کی تبلیغ کی گئی۔ اس کی اس حرکت کو دیکھ کر مسلمان ولیمہ چھوڑ کر چلے گئے ۔ ملکی اخبارات میں یہ پوری کہانی شائع ہو چکی ہے ۔ برملا اپنے آپ کو قادیانی کہتا رہا ہے۔ اب پھر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے پی۔ پی سے ٹکٹ حاصل کر لی ۔ امام بخش قیصرانی مکار اور عیار قادیانی ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے رہنماؤں مولانا عبدالرحمن غفاری ، مولانا غلام اکبر ثاقب، مولانا عبدالعزیز لاشاری، مولانا محمد شریف حیدری، امیر محمد بگٹی اور دیگر علماء کرام نے کہا کہ تحصیل تونسہ شریف کی غیور عوام قادیانی امیدوار کی اس مکاری اور عیاری کو دیکھ کر ووٹ نہیں دیں گے۔ ان شاء اللہ شکست اس کا مقدر بن چکی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری،فروری ۲۰۰۸ء ص۴۲)
مدارس عالمیہ کے ذمہ دار حضرات کی خدمت میں
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عقیدہ ختم نبوت اسلام کا اساسی عقیدہ ہے۔ ہمارے حضرات اکابر نے جہاں دین کے دیگر شعبوں میں بے مثال خدمات سرانجام دیں، وہاں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ”فتنہ قادیانیت“ کے رد میں بھی گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔
مدارس عربیہ کے عزیز طلباء کی اس موضوع سے آگاہی کے لئے کتاب ”آئینہ قادیانیت“ کو وفاق المدارس العربیہ نے عالمیہ سال اوّل (درجہ مشکوٰۃ ) میں داخل نصاب کیا ہے۔ اس کتاب میں قدیم مواد کو جدید اسلوب میں مرتب کیا گیا ہے، جو انتہائی مفید ہے۔
اس بات کا افسوس ہے کہ بعض مدارس میں یہ کتاب نہیں پڑھائی جا رہی اور اگر پڑھائی بھی جاتی ہے تو اس پر خصوصی توجہ نہیں دی جاتی ۔ ہماری تمام مدارس سے گزارش ہے کہ وہ پورے اہتمام اور توجہ سے اس کتاب کو پڑھائیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جن مدارس میں ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھائی جا رہی۔ وہ جلد از جلد اس کے پڑھانے کا اہتمام کریں گے اور اس پر خصوصی توجہ بھی دیں گے۔
”آئینہ قادیانیت“ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام دفاتر سے اصل لاگت پر دستیاب ہے۔
(مولانا) محمد حنیف جالندھری ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان
سلیم اللہ خان (مولانا) سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بسم اللہ الرحمن الرحیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان Wifaq - ul - Madaris - il - Arabia, Pakistan. مرکزی دفتر: گارڈن ٹاؤن، شیرشاہ روڈ ملتان۔ فون نمبر : 6539665 - 6539376 - 061 فیکس نمبر : 6539485 - 061
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مدارس عربیہ کے ذمہ دار حضرات کی خدمت میں
عقیدہ ختم نبوت اسلام کا اساسی عقیدہ ہے۔ ہمارے حضرات اکابر نے جہاں دین کے دیگر شعبوں میں بے مثال خدمات سرانجام دیں۔ وہاں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ”فتنہ قادیانیت“ کے رد میں بھی گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔
مدارس عربیہ کے عزیز طلبہ کی اس موضوع سے آگاہی کے لئے کتاب ”آئینہ قادیانیت“ کو وفاق المدارس العربیہ نے عالیہ سال اوّل (درجہ مشکوٰۃ) میں داخل نصاب کیا ہے۔ اس کتاب میں قدیم مواد کو جدید اسلوب میں مرتب کیا گیا ہے، جو انتہائی مفید ہے۔
اس بات کا افسوس ہے کہ بعض مدارس میں یہ کتاب نہیں پڑھائی جارہی اور اگر پڑھائی بھی جاتی ہے تو اس پر خصوصی توجہ نہیں دی جاتی۔ ہماری تمام مدارس سے گذارش ہے کہ وہ پورے اہتمام اور توجہ سے اس کتاب کو پڑھائیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جن مدارس میں ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھائی جارہی وہ جلد از جلد اس کے پڑھانے کا اہتمام کریں گے اور اس پر خصوصی توجہ بھی دیں گے۔
”آئینہ قادیانیت“ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام دفاتر سے اصل لاگت پر دستیاب ہے۔
(مولانا) محمد حنیف جالندھری ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان (مولانا) سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍فروری ۲۰۰۸ء ص ۲۷)
ڈنمارک میں قرآن مجید کی اہانت پر مبنی فلم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی
ملعون مغرب اور درندہ صفت یورپ کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے ابھی امت مسلمہ زیر بار اور نیم جان تھی اور دنیا بھر میں اس کے خلاف احتجاج جاری تھا کہ ہالینڈ کے بدقماش فلم ساز نے قرآن کریم کی توہین وتنقیص پر مبنی ایک دل آزار فلم بعنوان ”فتنہ فلم“ تیار کر کے اس کی نمائش کا اعلان کر دیا ہے، چنانچہ روزنامہ جنگ کراچی کی خبر ملاحظہ ہو:
”دی ہیگ (اے ایف پی) ڈنمارک میں متنازع کارٹون کے مصنف کرٹ ویسٹر گارڈ نے کہا کہ ڈنمارک کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے ممبر آف پارلیمنٹ گیرٹ وائلڈر کی بننے والی متنازع فلم کی نمائش ضرور ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ گیریٹ وائلڈر کو چاہئے کہ وہ متنازع فلم کی نمائش کو جلد از جلد ممکن بنائیں۔ انہوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا کہ ڈنمارک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جو یہ کہہ سکے کہ یہ سیاسی خودکشی ہے اور ڈنمارک کے سیاستدان یہ جانتے ہیں کہ آزادی اظہار رائے کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے۔ توہین آمیز کارٹون کے مصنف نے کہا کہ انہیں متنازع کارٹون کی اشاعت پر ہونے والے مظاہرے میں ہلاک ہونے والے افراد کی ہلاکت پر افسوس ہے، تاہم وہ اس کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ دریں اثنا ہالینڈ کی حکومت اور سیاستدانوں نے گزشتہ روز گیریٹ وائلڈر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ متنازع فلم سے ہونے والے حملے کے پیش نظر اس فلم کی نمائش کو معطل کر دیں جب کہ گیریٹ وائلڈر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی توہین آمیز فلم کی نمائش رواں ماہ ہو گی۔ واضح رہے کہ متنازع فلم اور کارٹون کے بانیوں کو ملنے والی دھمکیوں کے باعث انتہائی سخت سیکورٹی میں رکھا جارہا ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی ۱۱؍ مارچ ۲۰۰۸ء)
یوں تو یورپ اور یورپ کے بے باپ ملحدین اپنے آپ کو دین و مذہب سے لاتعلق باور کراتے ہیں اور دین و مذہب کو فرد کا ذاتی اور انفرادی معاملہ شمار کرتے ہیں ....... یہی وجہ ہے کہ وہاں اب چرچ کا معاشرہ میں کوئی کردار نہیں ہے، لیکن نہ معلوم وہ اسلام، مسلمانوں، ان کے شعائر اور مقدس شخصیات کے معاملہ میں کیونکر مذہبی، جنونی، متعصب اور تنگ نظر ہیں؟ کہ آئے دن ان کی جانب سے اسلامی شعائر اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات پر حملوں، توہین، تنقیص اور اہانت آمیز گستاخیوں کا سلسلہ تیز تر ہوتا جارہا ہے۔ بلاشبہ یہ ان کی بیمار ذہنیت، حیوانیت، درندگی، متعصب سوچ وفکر، ذہنی پسماندگی، اسلام سے مرعوبیت اور مسلمانوں سے بغض و عداوت کا مظہر ہے۔
کس قدر عجیب بات ہے کہ دنیا بھر میں اعتدال پسندی، روشن خیالی، رواداری، جیو اور جینے دو کے فلسفہ کا دعویدار یورپ اور مغرب، مسلمانوں کی مقدس شخصیات اور شعائر اسلام کے بارہ میں اپنے ہی وضع کردہ اصول وقوانین کو پامال کرنے پر کمر بستہ بلکہ شرافت و دیانت اور اخلاق ومروت کی تمام حدوں کو پھلانگ کر درندگی پر اتر آئے ہیں؟
اس بدنام زمانہ اور دل آزار فلم کا مصنف و پروڈیوسر گیریٹ وائلڈر ہے اور اس فلم کا دورانیہ صرف پندرہ منٹ ہے، یہ فلم ہالینڈ میں تیار ہوئی ہے اور اس کا ملعون مصنف گیریٹ وائلڈر ہالینڈ کی پارلیمنٹ کا رکن اور وزیر داخلہ رہا ہے، نہیں معلوم کہ اس فلم کو کون سپورٹ کر رہا ہے، لیکن بہر حال یہ فلم پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ اس ملعون فلم کی معلومات اس فلم کی ویب سائٹ پر کچھ یوں درج ہیں:
گیریٹ وائلڈر نے قرآن کریم کے خلاف یہ فلم ۲۰۰۸ء کے شروع میں بنانا شروع کی تھی۔ یہ فلم ۵؍ مارچ ۲۰۰۸ء سے یوٹیوب کی ویب سائٹ پر چڑھادی گئی ہے۔
اس دل آزار فلم کے خلاف مسلمانوں کے کسی بھی ردعمل کے سدباب کے لئے ڈچ حکومت نے پہلے ہی حکمت عملی تیار کر لی ہے، اور اپنے سفارت خانوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اس موذی فلم ساز گیریٹ وائلڈر نے کہا کہ اس فلم میں قرآنی آیات کی تصاویر سے مووی دکھائی جائے گی، یہ فلم اسلام اور قرآن کریم پر ایک تنقیدی نظریہ کے طور پر پیش کی جائے گی۔ گیریٹ ملعون کا کہنا ہے کہ یہ مووی باقاعدہ قرآنی آیات کے ترجمہ اور تصاویر کے ساتھ دکھائی جائے گی۔ گیریٹ کا کہنا ہے کہ یہ فلم اسلام کے خلاف اور اس کے مظالم کو دکھلانے کے لئے ہے؟...... نعوذباللہ ......!
ڈچ قوم سمجھتی ہے کہ ہر ایک کو اپنا نقطۂ نظر بتانا چاہئے اور نظریہ کی آزادی ہر ایک کے پاس ہونی چاہئے۔
اس سے قبل گیریٹ ملعون نے ۸؍ اگست ۲۰۰۷ء کو ڈچ اخبار ڈی ووکس اسکرینٹ میں نعوذباللہ انتہائی ناقابل برداشت بات لکھی اور کہا کہ ...... نعوذباللہ ...... قرآن کریم پر پابندی ہونی چاہئے، کیونکہ یہ کتاب قابل نفرت اور خون خرابے کے مواد پر مشتمل ہے، اس لئے ہالینڈ یا کہیں بھی اس کتاب کی کوئی جگہ نہیں ہے، اس بدبخت کا کہنا ہے کہ ...... نعوذباللہ ...... قرآن کریم پر پابندی ہونی چاہئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس دریدہ دہن نے ۹؍ اگست ۲۰۰۷ء کے اخبارات میں اپنے ایک مضمون کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ ناپاک مشورہ دینے کی مذموم کوشش کی کہ مسلمانوں کو آدھا قرآن ختم کر دینا چاہئے، کیونکہ یہ دہشت گردی اور خون خرابے کے مواد پر مشتمل ہے۔ اس ملعون کا کہنا ہے کہ ...... نعوذ باللہ ...... حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی دہشت گرد تھے۔
اس ملعون کا کہنا ہے کہ مغرب کے جمہوری نظام کی مشکلات میں اس کتاب ...... قرآن ...... کا بڑا حصہ ہے۔ اس موذی کا کہنا ہے کہ اسے اسلام سے نفرت ہے اور اس فلم اور عکس کے ذریعہ وہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اسلام، مسلمانوں اور قرآن کے بارے میں اس کی کیا سوچ ہے؟
۵؍ مارچ ۲۰۰۸ء کے ووکس اسکرینٹ اخبار کے مطابق یہ فلم خوف کے ساتھ ساتھ دو طرح کی سوچ پیدا کر دے گی اور ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے ردعمل کے طور پر دہشت گردی بھی پیدا ہو جائے، لہٰذا ڈچ گورنمنٹ ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور انہی خطرات اور اندیشوں کے پیش نظر ڈچ حکومت اس ملعون فلم ساز کو سیکورٹی مہیا کر رہی ہے۔
چنانچہ ڈچ حکومت ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری کر چکی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ۱۹؍ جنوری ۲۰۰۸ء کو ہی ڈچ کابینہ کہہ چکی ہے کہ ہم ہر طرح کے ردعمل کے لئے تیار ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ڈچ کابینہ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اس پر ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ نیز ہالینڈ کے وزیراعظم جان پیٹر کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، بالکل صحیح اور درست ہے، آخر مسلمان یہ سمجھتے کیوں نہیں؟
ملعون گیریٹ وائلڈر کہتا ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو بچانا ہے، وہ کہتا ہے کہ اس سے قبل کہ چرچ سے مساجد زیادہ ہو جائیں، مسلمانوں کے خلاف جنگ کرو۔
گیریٹ وائلڈر ایک معمولی آدمی تھا، جس نے شروع میں ایک ڈبل روٹی بنانے والی فیکٹری میں کام کیا، وہ جھوٹی شہرت اور پیسہ کمانا چاہتا ہے، اسی مقصد کی خاطر اس کے اسرائیل اور اس کی دہشت گرد تنظیم موساد سے قریبی تعلقات ہیں، یہ پچھلے ۲۵ سال میں تقریباً ۴۰ بار اسرائیل جا چکا ہے، ایریل شیرون اور ایہود المرت سے بھی مل چکا ہے، یہ خود اگرچہ لامذہب ہے، مگر دنیا اور پیسے کی لالچ میں یہودیت قبول کرنا، اسرائیل میں رہنا اور وہاں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، کیونکہ وہ ہالینڈ کی بجائے اسرائیل میں پیسہ کمانا چاہتا ہے، اسی لئے وہ اسرائیل اور یہودیت سے محبت کرتا ہے، اس کے علاوہ اس کے دوسرے اسلام دشمن ممالک اور شخصیات سے بھی تعلقات ہیں۔
چنانچہ گیریٹ وائلڈر جن دنوں ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں تھا، اسرائیل کی ہر طرح مدد اور سپورٹ کرتا رہا، گیریٹ ۸؍ ستمبر ۱۹۶۳ء کو پیدا ہوا، اس کا باپ ایک پرنٹنگ کمپنی کا منیجر تھا، شروع میں گریٹ میونسپل کونسل کا، پھر ’’ٹوئیڈ اکامر‘‘ کا ممبر رہا اور ڈچ پارلیمنٹ کا رکن بن گیا اور آخر میں ہالینڈ کا مشہور وزیر داخلہ بن گیا۔ یہ ملعون جس وقت اسمبلی میں تھا، اس وقت بھی ایک اسرائیلی اس کا ملازم تھا اور ۱۹۹۸ء میں اس نے پارلیمنٹری پارٹی فار فریڈم قائم کی اور اپنی مرضی کے قوانین بنائے، اس کی پارٹی اب بھی ہالینڈ میں بہت مقبول ہے، ۲۰۰۵ء میں گیریٹ کی پارٹی نے جب الیکشن جیتا تو اس نے اسرائیل کو کہا کہ وہ ڈچ پارلیمنٹ کی مدد کرے۔ چنانچہ اس نے اسرائیلی انتظامیہ سے ہالینڈ میں ٹریننگ کروائی، اس کے بعد اس نے اسلام، مسلمانوں اور قرآن کریم کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی۔
اس ملعون نے ہر شاتم رسول کی سب سے زیادہ مدد اور سپورٹ کی، اسی طرح جب ۲۰۰۵ء میں ڈنمارک کے ملعون اخبار جے لینڈ پوسٹ نے توہین آمیز خاکے شائع کئے تو اس موذی نے سب سے بڑھ کر اس کی مدد اور سپورٹ کی، چنانچہ یکم فروری ۲۰۰۶ء کو اس نے اپنی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ویب سائٹ پر توہین آمیز خاکے نمائش کے لئے جاری کئے، اس کے بقول اس پر اس کو ایک ہی دن میں چالیس دھمکیاں ملی تھیں، اسی طرح ۱۵/ دسمبر ۲۰۰۷ء کو اس نے کہا تھا کہ وہ ریڈیو پر اتنا کچھ کہے گا کہ تمام لوگ اسلام کے بارہ میں اپنا نظریہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
بلاشبہ ڈچ حکومت کو بھی اس کا اندیشہ ہے کہ اس غلیظ فلم کے ردعمل پر مسلمان بھر پور احتجاج کریں گے، چنانچہ عین ممکن ہے، جیسے ۲۰۰۵ء میں شام میں ہالینڈ کا سفارت خانہ جلایا گیا تھا، اب بھی اسی طرح کی صورت حال پیش آئے یا مسلمان ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں یا اس فلم کے سر پرست امریکا اور یورپ کے بھی خلاف ہو جائیں، لیکن بایں ہمہ وہ اس پر بضد ہے کہ اس دل آزار فلم کی نمائش ضرور ہو گی، اسی طرح نیٹو کا کہنا ہے کہ اس فلم کا ردعمل افغانستان میں جارح افواج پر ظاہر ہوگا اور ان افواج کے لئے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
فروری ۲۰۰۸ء سے یوٹیوب امریکن ویب سائٹ پر اس فلم کی نمائش شروع ہوئی اور اس کے ویڈیو کلپ یعنی اقتباسات دکھائے جانے لگے تو پاکستان گورنمنٹ نے کچھ گھنٹوں کے لئے اس ویب سائٹ پر اس فلم کی نمائش پر پابندی لگائی، لیکن بین الاقوامی دباؤ کے تحت پاکستانی حکومت کو یہ پابندی اٹھانا پڑی۔
الغرض طے شدہ منصوبہ کے تحت اس فلم کی اس ماہ کے آخر میں سینماؤں میں نمائش شروع ہو جائے گی، اور اس کے لئے تمام تر انتظامات کر لئے گئے ہیں اور ہالینڈ نے اس فلم کی نمائش کے لئے تمام یورپی ممالک کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ چنانچہ روزنامہ جنگ کراچی میں ہے:
’’برسلز (رائٹر) ہالینڈ نے متنازع فلم کی نمائش کے لئے یورپی ممالک کی حمایت حاصل کر لی ہے، یہ بات ہالینڈ کے وزیر اعظم جان پیٹر بالکینیڈی نے جمعرات کو یورپی یونین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ متنازع فلم کی نمائش کے لئے دیگر یورپی ممالک کی حمایت حاصل کر لی گئی ہے، کیونکہ آزادی اظہار رائے کے حق کو روکا نہیں جاسکتا۔ دریں اثنا ہالینڈ کے قانون دان اور متنازع فلم کے بانی گیریٹ وائلڈر نے کہا کہ وہ مسلم ممالک کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے باعث اس مہینے اسلام مخالف بننے والی فلم کی نمائش کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی فلم کی نمائش کے لئے سیکورٹی فراہم کرنے کا خرچ اربوں ڈالروں میں آرہا تھا، اس وجہ سے وہ ہیگ میں بین الاقوامی پریس سینٹر میں متنازع فلم کو نمائش کے لئے پیش نہیں کرسکیں گے جب کہ انہوں نے کہا کہ فلم انٹرنیٹ پر خصوصی ویب سائٹ پر اس ماہ کے آخر تک دیکھی جاسکے گی تاہم گیریٹ وائلڈر نے ڈچ ٹی وی چینلز کو یہ فلم دکھانے پر راضی کرنے کی کوشش کی تھی۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی ۱۵/ مارچ ۲۰۰۸ء)
اس ساری صورتحال سے مغرب اور خصوصاً یورپ کی اسلام دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے اور ان کا اسلام، پیغمبر اسلام، قرآن کریم اور مسلمانوں کے مقدس شعائر کے خلاف بغض باطن اور عداوت و دشمنی روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے، کیا مسلمانوں پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ جس طرح کفر اور ملت کفر ایک دریدہ دہن کی تائید وحمایت میں جمع ہو کر ہر طرح کی صورتحال کے لئے آمادہ اور تیار نظر آتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ہر طرح کے احتجاج، معاشی، اقتصادی اور ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ اور سفارت خانوں کے جلاؤ گھیراؤ تک کو برداشت کرنے کے لئے ذہناً اور قلباً تیار ہیں، تو کیوں نہ ہم بھی ایک سچے دین، سچے نبی، سچی کتاب اور سچے مذہب کی تائید، حمایت اور دفاع کے لئے متحد ہو کر ہر طرح کی مزاحمت واقدام کے لئے تیار اور آمادہ ہو جائیں؟ اور اس کے لئے ہر طرح کی قربانی، مشکلات، مصائب، جانی مالی، تجارتی اور سفارتی نقصان برداشت کرنے کا عزم کر لیں؟ کیا اب بھی ہم ان درندوں اور موذیوں کی کاسہ لیسی اور چاپلوسی سے باز نہیں آئیں گے؟ کیا ہم اب بھی مصلحت پسندی کا شکار رہیں گے؟ کیا ہم اب بھی دین ومذہب، نبی ورسول اور قرآن کریم کی توہین کے معاملہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں بے حسی، بے غیرتی، بے شرمی، کا مظاہرہ کریں گے؟ اور ہم حکومت واقتدار کے لالچ، تجارت وکاروبار اور دنیا کے دو پیسے کے نفع کی قربان گاہ پر اپنے دین ، مذہب، ناموس رسالت اور قرآن کریم کو بھینٹ چڑھائیں گے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو مسلمانوں کو اس گھناؤنی سازش اور بھیانک کارروائی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور اپنے قول وفعل اور طرزِ عمل سے ثابت کر دینا چاہئے کہ اگر صلیب کے پجاری اسلام دشمنی میں اتنا آگے جاسکتے ہیں، تو ہم بھی غلامی رسول میں سب کچھ کرنے، حتی کہ جان، مال اور عزت و آبرو کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
اگر ملعون یورپ اور ان کے گستاخ و بدقماش کارندے اپنے غلط مؤقف پر جمع اور متفق ہو سکتے ہیں، تو مسلمان بھی اپنے پاک پیغمبر اور مقدس قرآن کی عزت و ناموس کی حفاظت وصیانت پر نہ صرف جمع ہو سکتے ہیں بلکہ اس طرح کی ہر گھناؤنی سازش، گستاخی اور اہانت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔
اگر خدانخواستہ ہمارے نام نہاد حکمران، بے غیرت اربابِ اقتدار اور باعثِ ننگ وعار لیڈران قوم بے حسی کا شکار ہیں تو ہوا کریں، مگر بحمد للہ باغیرت مسلمان زندہ ہیں اور وہ اپنے نبی ورسول کی عزت و ناموس اور کتاب اللہ کے تقدس کی حفاظت کرنے میں کسی مرحلہ پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
لہٰذا بحیثیت مسلمان قوم ہمارا فرض بنتا ہے کہ جس طرح ممکن ہو سکے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، جس طرح ہم اپنی بیوی بچوں، ماں باپ، بہن بھائیوں، قوم وبرادری اور ملک وملت کی حفاظت وصیانت میں کسی قسم کی کمی کوتاہی برداشت نہیں کرتے، ایسے ہی اپنے ان مقدس شعائر کی حفاظت وصیانت میں بھی کسی کمی کوتاہی برداشت نہ کریں، اس کے لئے پرامن مظاہرے، جلسے، جلوس، اخباری بیانات، پریس ریلیز ، پریس کانفرنسوں، ان ممالک سے مکمل بائیکاٹ ، ان کی مصنوعات سے پرہیز ، ان کے سفارت خانوں کے سامنے مظاہروں، ان ممالک سے سفارتی تعلقات توڑنے، او. آئی. سی، اقوام متحدہ اور دوسری ملکی وبین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے ان ممالک تک اپنی آواز پہنچانے اور اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لئے تمام جائز ہتھیاروں کو استعمال کر کے غلامی رسول اور دین و مذہب اور قرآن وسنت سے دلی وابستگی کا ثبوت دیں تاکہ کل قیامت کے دن ہمیں حضورﷺ کے سامنے خفت وشرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔
”وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ اپریل ۲۰۰۸ء ص ۴ تا ۷)
احتجاجی مظاہرہ گمبٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کی طرف سے توہین آمیز خاکوں اور فلم کے خلاف گمبٹ میں ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرین ۱۴؍ مارچ ۲۰۰۸ء بروز جمعۃ المبارک کے بعد فاروق اعظم چوک سے احتجاج کرتے ہوئے پریس کلب پہنچے۔ وہاں مقررین مولانا فیاض مدنی، جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا محمد رمضان پھلپوٹو، مولانا نعمت اللہ شیخ ، مولانا حبیب اللہ شیخ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جناب ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے خطاب کیا۔ آخر میں ٹیلی نار کی سموں کو جلا دیا گیا۔ مولانا رمضان صاحب کی دعا پر مظاہرہ اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی، جون ۲۰۰۸ء ص ۴۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ظفر اللہ خان قادیانی کی وکالت
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الحمد لله وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!
روزنامہ ’’آج کل‘‘ ۲۳؍اپریل ۲۰۰۸ء بروز بدھ کی اشاعت میں پوسٹ کارڈ یو. ایس. اے کے عنوان سے جناب خالد حسن صاحب نے بنام ’’ظفر اللہ خان‘‘ ایک کالم لکھا ہے۔ جس میں موصوف نے مشہور قادیانی اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کے ’’غیر معمولی اوصاف وکمالات‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستانی قوم سے شکوہ کیا ہے کہ : ’’اس قوم کو ابھی یہ توفیق نہیں ملی کہ جو اس کے اصل ہیرو ہیں، ان کا شکریہ ادا کرے اور ان کی خدمات واحسانات تسلیم کرے، کیا اس ملک میں ایسا کبھی ممکن ہوگا؟ انسان صرف سوچ ہی سکتا ہے۔‘‘
ہمیں نہیں معلوم کہ جناب خالد حسن صاحب کا چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی سے کیا تعلق ہے؟ اور وہ ان کی شخصیت و کارناموں سے کیونکر متاثر ہیں؟ تاہم اتنا واضح ہے کہ کالم نگار صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کی شخصی زندگی سے متعلق ہے، انہوں نے قوم وملک کے لئے کیا کچھ کیا؟ اور ملک وقوم کو ان کی ذات سے کیا فوائد وثمرات حاصل ہوئے اس کا موصوف نے کہیں کوئی تذکرہ نہیں کیا۔
جناب خالد حسن صاحب اگر برا نہ مانیں تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان پیدائشی اور خاندانی قادیانی تھا، ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا ، ان کے والد قدیم قادیانی تھے ۔، ان کا مرزا محمود خلیفہ قادیان کے ہاتھ پر بیعت کا تعلق تھا ،حکیم نور الدین سے وہ متاثر تھے ،حکیم نورالدین کے ایماء پر چوہدری ظفر اللہ عنفوان شباب سے مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے تھے ، ان کی یہی خصوصیت تھی کہ ان کو ہر میدان میں ترقی ملتی گئی، انگلینڈ سے انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی، انگریز بہادر نے ان کو سر کا خطاب دیا اور قیام پاکستان کے وقت انگریز کے ایماء واصرار پر ہی اس کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنایا گیا۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ قادیانی امت نے جس اسلامی مملکت میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے قادیانی نبوت کے گڑھ اور مرکز قادیان ضلع گورداسپور کو ہندوستان کا حصہ قرار دیا اور باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنے آپ کو اور قادیانی آبادی کے علاقوں کو ہندوستان میں شامل رہنے پر زور دیا، اس قوم و برادری کے ایک متعصب و کٹر قادیانی کو پاکستان کی وزارت خارجہ پر مسلط کیا گیا، گویا کہ پاکستان کے اسلامی تصور پر روزِ اول سے ہی ضرب کاری لگائی گئی۔
علاوہ ازیں چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے اس ملک کی وزارت خارجہ پر فائز رہتے ہوئے ملک وقوم کی کیا خدمت انجام دی؟ اس کی تفصیلات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ، چنانچہ دنیا جانتی ہے کہ ظفر اللہ قادیانی پاکستان کا وزیر خارجہ کم مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ زاد نبوت کا مبلغ اور داعی زیادہ تھا ، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے دورِ اقتدار میں تمام غیر ملکی سفارت خانوں میں اپنے گرگے اور نمائندے فٹ کرنے کی کوشش کی اور دنیا بھر میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے دفاتر یا سفارت خانے قادیانی ارتداد کے اڈے اور مرزائی تبلیغ کے مراکز تھے۔
کون نہیں جانتا کہ چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی جب بلوچستان کی مشہور اسلامی ریاست کے دورے پر گیا تو اس نے نواب قلات سے سب سے پہلی فرمائش یہ کی کہ تمہارے ہاں میرا ایک ہم مذہب ( قادیانی ) رہتا ہے اس سے ملنا چاہتا ہوں ، نواب قلات نے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حیرت و استعجاب سے پوچھا کہ ہمارے ہاں کوئی قادیانی بھی ہو سکتا ہے؟ چوہدری ظفر اللہ قادیانی نے کہا : جی ہاں ! تمہارے ہاں ہمارا ایک ہم مذہب ہے اور میں اس سے ملنا چاہوں گا ، چنانچہ تلاش بسیار کے بعد معلوم ہوا کہ مستونگ میں ایک کلرک ہے ، جس کا مرزائی گروہ کے ساتھ تعلق ہے۔۔۔۔۔۔ یہ دوسری بات ہے کہ نواب قلات نے اس کے بعد اپنی ریاست کو اس قادیانی سے پاک کر دیا ہو ، لیکن بہرحال اتنی بات طے ہے کہ چوہدری ظفر اللہ پاکستان کا نہیں مرزائی دین و مذہب کا وفادار تھا ، اور اس نے اپنے پورے عہد میں قادیانی مفادات کا زیادہ سے زیادہ تحفظ کیا۔ چوہدری ظفر اللہ کے ملک وقوم اور بانی پاکستان سے اخلاص کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بانی پاکستان کا انتقال ہوا تو موصوف نے بانی پاکستان کے جنازہ میں شرکت نہیں کی ، جب ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا کہ آپ نے بانی پاکستان کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھی ؟ تو انہوں نے صاف الفاظ میں کہا:
” آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔“
(زمیندار لاہور، ۸؍فروری ۱۹۵۰ء)
پھر جناب خالد حسن کو اس طرف بھی توجہ فرمانا چاہئے کہ چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی اس مرزا غلام احمد قادیانی کا متبع پیرو کار بلکہ داعی اور مبلغ تھا ، جو نعوذ باللہ اپنے آپ کو بعینہ محمد رسول اللہ قرار دیتا ہے ، ملاحظہ ہو:
- الف...... ”محمد رسول اللہ والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم“ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور
رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۳ روحانی خزائن ص ۲۰۷ ج ۱۸ مطبوعہ ربوہ)
- ب...... ”اور جان کہ ہمارے نبی کریمﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی مسیحی میں ) ایسا ہی مسیح موعود (مرزا
غلام احمد قادیانی ) بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار (یعنی تیرہویں صدی ہجری ) کے آخر میں مبعوث ہوئے.......“
(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۰، خزائن ج ۱۶ ص ۲۷۰)
اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نعوذ باللہ اپنے آپ کو تمام انبیاء سے افضل قرار دیتا ہے ، چنانچہ لکھتا ہے:
” آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(مرزا کا الہام مندرجہ تذکرہ طبع دوم ص ۳۴۶)
نعوذ باللہ مرزا ملعون اپنے آپ کو حضرت محمد رسول اللہ سے بڑھ کر قرار دیتا ہے ، ملاحظہ ہو:
”اور جس نے اس بات کا انکار کیا کہ نبی ﷺ کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا ، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۱ روحانی خزائن ص ۲۷۱ ج ۱۶)
مرزائیوں کے نزدیک حضرت محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھنے والا بھی کافر ہے ، چنانچہ ملاحظہ ہو:
”ہر ایک شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے ، مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر ہے بلکہ پکا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۱۰ مرزا بشیر احمد ایم اے)
اگر خالد حسن صاحب مسلمان ہیں اگر ان کا قرآن ، حدیث یا حضرت محمدﷺ کی نبوت ورسالت اور ختم نبوت پر ایمان ہے تو وہ خود ہی فیصلہ فرماویں کہ جب چوہدری ظفر اللہ ، اللہ ، رسول ، قرآن اور حدیث اور پوری امت مسلمہ کے باغی مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آقائے دو عالم حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کرام کی توہین و تنقیص کے مرتکب ملعون انسان کو اپنا نبی و رسول مانتا ہو ، کیا اس قابل ہے کہ ان کی تعریف وتوصیف کی جائے؟ یا اس کو ہیرو بنایا جائے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا یہی حق وصداقت اور عدل وانصاف ہے کہ ایک ایسا شخص جو پوری امت مسلمہ بلکہ پوری مذہبی برادری کی دل آزاری کا مرتکب ہو اور انگریز بہادر اس کو سر کے خطاب سے نوازے، اسے اپنا منظور نظر قرار دیتے ہوئے مسلمان حکومت اور اسلامی اسٹیٹ کے اعلیٰ منصب وزارت خارجہ پر مسلط کرے، اسے عالمی انصاف کی عدالت کا جج بنائے اور اس کی وجہ سے مرزائیت و قادیانیت کی تبلیغ و توسیع کا کارنامہ انجام دلائے، وہ خود پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرے، اپنے علاقوں کو پاکستان کا حصہ نہ بننے دے، بانی پاکستان کا جنازہ تک نہ پڑھے بلکہ اس کو کافر و غیر مسلم قرار دے اور اپنے عہدے، منصب اور اختیارات کا تمام تر فائدہ قادیانیوں کو پہنچائے اور پوری ملت اسلامیہ کو کافر، جہنمی، ولد الزنا، کنجریوں کی اولاد قرار دے، ہم اس کو مسلمانوں کا ہیرو قرار دیں آخر کیوں؟؟
”وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ وصحبہ اجمعین“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱ مئی ۲۰۰۸ء ص۵،۴)
جماعت ہشتم کی پنجابی کتاب سے متنازعہ عبارت حذف کر دی گئی
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ پنجاب نے پنجابی کی دوجی کتاب ترمیم شدہ برائے جماعت ہشتم میں متنازعہ قادیانی غیر مسلم عبارت ”اس ویلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نوں وفات پایاں پنج سو اکہتر ورے ہو چکے سن“ کو نئے تعلیمی سال برائے ۰۹-۲۰۰۸ سے خارج کر کے نئی عبارت ”اس ویلے عیسوی کلینڈر دا پنج سو اکہتر واں (۵۷۱) ورہا سی“ درج کر دی گئی ہے۔
اس امر کی اطلاع پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کی نائلہ صدف سبجیکٹ پنجابی اینڈ فزیکل ایجوکیشن نے ایک مراسلہ کے ذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد کو دی ہے۔ جنہوں نے ایک یادداشت کے ذریعہ وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ پنجابی کی دوسری کتاب میں غیر مسلم قادیانی جماعت کی متنازعہ عبارت شامل کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے اور متنازعہ عبارت کو کتاب سے حذف کر دیا جائے۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ جس پر پرائم منسٹر سیکرٹریٹ نے اس کیس کو ضروری کارروائی کے لئے سیکرٹری تعلیم پنجاب کو ارسال کر دیا تھا۔ جس پر عبارت تبدیل کر دی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی جون ۲۰۰۸ء ص ۴۱)
احتجاجی اجلاس رحیم یار خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ریلوے کی جامع مسجد میں اجلاس منعقد کیا گیا۔ شیخ زید میڈیکل کالج میں سابق پرنسپل محترم عیس محمد کی جگہ بعض ذرائع کے مطابق پروفیسر اصغر سلطان (بائیو، کیمسٹری) جو کہ سکہ بند قادیانی اور قادیانیت کی تبلیغ میں ملوث ہے۔ اس پروفیسر کو بطور پرنسپل تعینات کیا جا رہا ہے اور خود پروفیسر اصغر سلطان تمام اثر و رسوخ بروئے کار لاتے ہوئے انہی کوششوں میں مگن ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر اجلاس طلب کیا گیا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام، تمام دینی، سیاسی جماعتوں کے رہنماء، وکلاء، نامور صحافی حضرات نے شرکت کی۔
مولانا رشید احمد لدھیانوی نے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کاوشوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو بڑی مستعدی سے قادیانیوں کی گھناؤنی حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور پرنسپل کسی قادیانی کا وجود برداشت نہیں کیا جائے گا۔ خصوصاً
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اصغر سلطان جو کہ خلاف قانون تبلیغی، قادیانی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ایسے شخص کو محض پروفیسر کے طور پر کالج میں رہنے دینا مسلم طلبا کے ایمان کے لئے سم قاتل ہے۔ اس کو برطرف کر دینا چاہئے۔
حافظ محمد اکبر اعوان نے فرمایا کہ اس معاملہ پر بھر پور اور مؤثر احتجاج ہونا چاہئے اور دیگر علاقوں میں جہاں جہاں قادیانی لابی قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہوئے غیر قانونی امور میں ملوث ہے۔ انہیں بھی قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ میاں مظہر نثار نے فرمایا کہ پہلے بھی شیخ زید میڈیکل کالج سے ایسی اطلاعات ملتی رہی ہیں کہ قادیانی انڈرگراؤنڈ تبلیغ میں مصروف ہیں۔ آئندہ ایسی شکایات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ختم نبوت کے ضلعی مبلغ مفتی محمد راشد مدنی نے کہا کہ ہسپتال میں چند کمپوڈر بھی قادیانیت کی تبلیغ میں ملوث ہیں۔ انہوں نے ضلع بھر میں قادیانیت کی سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ عبدالمنان بھٹی ایڈووکیٹ نے فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت کے لئے تمام وکلاء ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ ریاض نوری نے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے انتظامیہ پر زور دیا کہ ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔ اجلاس میں قاری ظفر اقبال شریف، مفتی مختار احمد، قاری عظیم بخش، قاری اظہر اقبال، مولانا نعیم اللہ عثمانی اور نعمان لدھیانوی نے بھی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۸ء ص ۵۶)
لاہور میں مظاہرہ اور ریلی کا انعقاد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سینکڑوں کارکنوں نے پنجاب میڈیکل فیصل آباد میں فتنہ قادیانیت کے کفر کا پرچار کرنے والے قادیانی طلبہ کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے اور الٹا مسلمان طلبہ کو مختلف ذرائع سے ہراساں کرنے کے حکومتی عمل کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر ایک بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا اور تعلیمی اداروں میں قادیانی فتنہ کی بڑھتی ہوئی ناپاک سرگرمیوں کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ مظاہرین نے مختلف کتبے اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ جن پر بعض حکومتی شخصیات کی قادیانیت نوازی اور قادیانی فتنہ سازی کے خلاف نعرے اور مطالبات درج تھے۔
اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد امجد خان، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا ضیاء الحسن شاہ، مولانا میاں عبدالرحمٰن، قاری نذیر احمد، مولانا محبوب الحسن اور علامہ محمد ممتاز اعوان نے کہا کہ قادیانیوں کی اسلام و آئین پاکستان دشمن سرگرمیاں کسی بڑی دینی تحریک کو جنم دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میڈیکل کالج میں قادیانیت کا پرچار کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کی جائے اور قانون شکن قادیانی طلباء کو دوبارہ میڈیکل کالج میں داخلہ دیا گیا تو اس کے خلاف پورے ملک میں بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں خلاف اسلام لٹریچر تقسیم کرنے، ختم نبوت کے اشتہار و اسٹیکر پھاڑنے اور داخلہ فارم پر خود کو مسلمان لکھنے والے قادیانی طلباء وطالبات کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ نمبر ۲۹۵ سی، اور ۲۹۸ سی کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے۔ جب کہ پنجاب میڈیکل کالج میں قادیانیوں کی اسلام اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے پر مسلمان طلبہ کو حکومتی سطح پر انتقامی کارروائیاں ترک کی جائیں۔ بصورت دیگر پورا ملک سراپا احتجاج بن جائے گا۔ بعد ازاں جمعیت طلبہ اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے عظیم الشان ریلی نکالی جو گورنر ہاؤس کے سامنے جلسہ کی صورت اختیار کر گئی۔ ریلی میں سینکڑوں کارکن شریک ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۸ء ص ۳۲، ۳۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چک ۵۸/۳ ٹکڑا میں قادیانیوں کی دیدہ دلیری اور غنڈہ گردی کا نوٹس لیا جائے
توہین رسالت، توہین قرآن اور آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب قادیانیوں کو گرفتار کیا جائے۔
کمالیہ (نامہ نگار) اڈا کلیرہ تحصیل کمالیہ کے نواحی گاؤں چک ۵۸/۳ ٹکڑا میں قادیانیوں کا غیر قانونی طور پر لاؤڈ اسپیکر پر اذان کہنا، عبادت گاہ کے مینار ومحراب بنانے اور کلمہ طیبہ کا توہین آمیز استعمال کرنے پر مسلمانوں میں شدید اشتعال واضطراب پایا جاتا ہے، دینی وسیاسی حلقوں میں گہری تشویش اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا سخت احتجاج، انتظامیہ سے تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۸اے، ۲۹۵ء بی اور ۲۹۵ سی کے تحت مقدمات درج کرنے اور قادیانیوں کو گرفتار کرنے جیسے مطالبات میں شدت آرہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا عبد الحکیم نعمانی نے جماعتی احباب کی معیت میں مذکورہ چک کا دورہ کیا اور قادیانیت کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کا بخوبی جائزہ لیا، مذکورہ گاؤں میں قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے مولانا عبد الحکیم نعمانی نے مورخہ ۱۱؍جولائی ۲۰۰۸ء کو جامعہ فاروقیہ کمالیہ میں جمعۃ المبارک کے عظیم الشان اجتماع میں عوام الناس کو موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا اور انتظامیہ کو شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، جمعہ کی نماز کے فوری بعد اس حساس مسئلہ پر پیدا ہونے والی تمام صورتحال پر غور وخوض کرنے اور لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے بلائے گئے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں کمالیہ کے ممتاز علماء کرام، دینی عمائدین، مذہبی جماعتوں کے زعماء اور مقتدر سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ مولانا عبد الحکیم نعمانی نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گاؤں قادیانیوں کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، وہاں پر مسلمانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، قادیانیوں کی دو بڑی عبادت گاہیں مساجد کی شکل وشباہت پر تعمیر شدہ ہیں اور مزید ایک بڑی عبادت گاہ کی تعمیر کے لئے دو کنال کی اراضی مختص اور وقف ہو چکی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍اگست ۲۰۰۸ء ص ۲۳)
کوٹری میں قادیانی اشتعال انگیزی اور عبادت گاہ تعمیر کرنے کی کوشش
کوٹری (پ ر) نیو لیبر کالونی سائٹ ایریا صنعتی علاقہ ہونے کی وجہ سے اندرون سندھ اور پنجاب سے آنے والے بہت سارے لوگوں کے روزگار کا سبب بنتا ہے، اس علاقہ کو بھی قادیانی، گوہر شاہی اور دیگر فتنوں نے اپنی آماجگاہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہوئی ہے، ملوں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کی رہائش کے لئے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ نے لیبر کالونی کے نام سے فلیٹ تیار کئے اور ملوں میں کام کرنے والے ملازمین کو الاٹ کئے۔ اس لیبر کالونی میں کچھ قادیانی گھرانے بھی ملوں میں کام کرنے کی وجہ سے آباد ہوئے اور انہوں نے اس علاقہ کو ناصریہ اسٹیٹ بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ قادیانیوں نے اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ واشاعت کے لئے رہائشی علاقہ میں قادیانی مرکز بطور عبادت گاہ تعمیر کرنے کی کوشش کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد ڈویژن کے مبلغ مولانا محمد نذر، حاجی محمد زمان خان امیر عالمی مجلس جام شورو، مولانا محمد عارف خطیب بسم اللہ مسجد، مولانا آفتاب احمد نقشبندی، قاضی محمد ریاض، زرین بنگش، قیوم شاہ، مولانا عبد الغفور مدنی، مولانا بشیر احمد تونسوی، مفتی محمد عمر اور دیگر علماء کرام کی قیادت میں ناظم ضلع جام شورو ملک اسد سکندر ڈی۔ پی۔ او اور ڈی سی۔ او سے ملاقاتیں کر کے قادیانیت کی گمراہ کن تبلیغی سرگرمیوں اور تخریبی ہتھکنڈوں سے آگاہ کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقامی انتظامیہ نے قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے قادیانی مرکز کے تعمیری کام کو رکوا دیا، قادیانیوں نے بعدازاں اسی مرکز کی تعمیر کے لئے میٹریل منگوایا جس سے مزید اشتعال پھیلا۔ قادیانیوں کے اس عمل کے خلاف مقامی مساجد سے ایک پر امن احتجاج جلوس نکالا گیا جس پر قادیانیوں کے گھروں سے شدید فائرنگ کی گئی علاقہ کے عوام اس بلا جواز اور اشتعال انگیز فائرنگ پر سراپا احتجاج بن گئے جس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور مقامی انتظامیہ نے قابو پالیا۔ قادیانیوں کی اس فائرنگ کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج ہوا جس پر ۵ قادیانی گرفتار ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے افسران کو قادیانیوں کے ان پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی درخواستیں بھی روانہ کی ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ اگست ۲۰۰۸ء ص ۲۳)
بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں قادیانیت کا احتساب
عالمی خبروں سے معلوم ہوا کہ بنگلہ دیش میں حکومت نے قادیانی کتب کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اسے قادیانی جماعت نے ڈھاکہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ اب ہائیکورٹ نے بھی حکومتی پابندی کے خلاف قادیانی درخواست خارج کر دی ہے اور اسی طرح قادیانیوں کے خلاف انڈونیشیاء کے عوام مسلمانوں کے مطالبہ پر تمام قادیانی عبادت گاہوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ قادیانیوں نے بعض شرائط کے تحت پابندی نرم کرانے کی کوشش کی اور حکومتی شرائط کو تسلیم کر کے بعض رعایات بھی حاصل کیں ۔ لیکن انڈونیشیا کی دینی قیادت اس پر مطمئن نہیں ۔ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ انڈونیشیا میں بنگلہ دیش کی طرح قادیانیت کا دھڑن تختہ ہونے والا ہے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ، جون ۲۰۰۸ء ص ۳)
ساہیوال کی انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے قادیانی کی دکان اور مکان سے قرآنی آیات ہٹادیں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریری درخواست اور تحریک پر پولیس انتظامیہ نے ابرار قادیانی کے رہائشی مکان اور کاروباری دفتر سے قرآنی آیات اور دیگر اسلامی شعائر ہٹا لئے اور اسے تنبیہ کی ہے کہ وہ غیر قانونی اور کھلے عام قادیانیت کی تبلیغ سے باز رہے اور نوجوان مسلمانوں کو مرتد کرنے اور غیر قانونی اشاعتی سرگرمیاں بند کرے، جس سے علاقہ بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق قادیانی جماعت ساہیوال کے مقامی صدر ابرار نے اپنے مکان اور بزنس آفس کے نمایاں مقامات پر قرآنی آیات ”الیس الله بکاف عبده“،بسم الله الرحمٰن الرحیم، ماشاء اللہ اور یا حی یا قیوم جیسے اسلامی شعائر کو استعمال کیا، بزنس انویسٹمنٹ اور بیرون ملک ویزے کی لالچ میں مختلف علاقوں کے نوجوانوں کو مرتد بنایا ہوا تھا، جس کے خلاف مسلمانوں میں اشتعال و اضطراب پایا جانا فطری امر تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ رشیدیہ میں منعقد ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں زبردست احتجاج پر ابرار نے قرآنی آیات پر مشتمل بورڈ لگا کر توہین قرآن کا ارتکاب کیا ، جو مسلمانوں میں مزید اشتعال اور ردّعمل کا موجب بنا ، اس جرم کے خلاف متعدد بار شہر کی مساجد میں مذمتی قراردادوں کے ذریعہ بھی صدائے احتجاج بلند کی گئی، قبل اس کے کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ رونما ہو، تصادم اور مخالفت کی لہر میں شدت آئے ، حالات کو پرامن رکھنے اور مسلمانوں میں پائے جانے والے غم وغصہ کو دور کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے متعدد بار حسین آباد کالونی میں آل پارٹیز احتجاجی اجلاسز اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کر کے انتظامیہ اور خفیہ اداروں کو باور کرایا کہ ابرار قادیانی کی غیر قانونی تبلیغی شر انگیزیاں مسلمانوں میں اشتعال کا موجب بن رہی ہیں اور مسلم کمیونٹی پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں یادرہے کہ ان احتجاجی پروگراموں کو تمام خفیہ ادارے باقاعدگی سے مانیٹر کرتے رہے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی اثنا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی نے طویل باہمی جماعتی مشاورت کے بعد مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کرتے ہوئے بطور مدعی مقدمہ کے، تھانہ فرید ٹاؤن ساہیوال میں درخواست جمع کرائی، درخواست گزار کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ابرار قادیانی کے خلاف دفعہ ۲۹۵بی، ۲۹۸سی کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ درخواست کے ساتھ مقامی لوگوں کے حلفیہ بیانات بھی لف تھے۔
ڈی۔ایس۔پی اور ایس۔ایچ۔او تھانہ فرید ٹاؤن نے موقع دیکھنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ابرار قادیانی کے گھر اور بزنس آفس کی نمایاں جگہوں پر سے قرآنی آیات اور دیگر اسلامی شعائر ہٹالئے جب کہ ابرار گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہو گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس نے نقل مکانی کر لی ہے، پولیس کی بروقت کارروائی سے اور معاملے کو سنجیدگی سے لینے پر حسین آباد کے مسلمان مکینوں اور رضا کاران ختم نبوت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
علاوہ ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر اور جامعہ رشیدیہ کے پرنسپل مولانا کلیم اللہ رشیدی، قاری عبدالجبار، قاری سعید، مولانا محمد قاسم رحمانی، جامعہ فریدیہ کے پیر محمد مظہر فرید، جمعیت اہل حدیث کے سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، قاری عبدالستار، قاری منظور احمد طاہر، جامعہ علوم شرعیہ کے ماسٹر عبدالفتاح، قاری محمد احمد رشیدی، مولانا اظہار الحق اور مولانا انعام اللہ شاہ بخاری سمیت تمام علماء کرام اور دینی کارکنان شکریے اور مبارک باد کے مستحق ہیں، جنہوں نے حسین آباد کالونی کے امن کو برقرار رکھنے اور قادیانیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے مؤثر ترین کردار ادا کیا اور فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مفید مشوروں سے نوازا۔
جشن صد سالہ منانے والا قادیانی مربی گرفتار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی کی اطلاع پر جشن صد سالہ منانے والا قادیانی مربی گرفتار اور انتظامیہ نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے ۔ ۲۹۸ سی کے تحت ملزم مشتاق کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر دینی وسیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے شہر کے امن کو تباہ ہونے سے بچا لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیچہ وطنی شہر کی مشرقی جانب واقع نواحی گاؤں چک ۱۱۲ ایل/۳۹ کے رہائشی اور قادیانی مربی مشتاق ولد عبدالکریم قوم آرائیں نے جمعتہ المبارک کے دن علماء کرام اور مسلمانوں کی مذہبی مصروفیات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جشن صد سالہ کی تقریبات شروع کر دیں تو گاؤں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی عہدیداران اور مولانا عبدالحکیم نعمانی نے جماعتی رفقاء کو پرامن رہنے اور حالات کو پرامن رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے فی الفور تھانہ صدر کی انتظامیہ سے رابطہ کیا، پولیس نے موقع پر پہنچ کر مشتاق مربی کو تبلیغ وتقریر کے ذریعے قادیانیت کی طرف مائل کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے موقع پر گرفتار کر لیا اور تھانہ صدر کے ایس۔ایچ۔او نے قانونی کارروائی کے تحت ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی کے تحت ایف۔آئی۔آر درج کر کے جیل بھیج دیا ہے، مقدمہ درج کروانے میں مجلس احرار اسلام، جمعیت علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے بنیادی کردار ادا کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/اگست ۲۰۰۸ء)
گھارو میں ختم نبوت کانفرنس
۲۸/جولائی ۲۰۰۸ء بعد نماز عشاء گھارو میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی عبدالقیوم دین پوری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے کہا کہ مرزائیت اسلام کے متوازی دین بن کر سامنے آئی، مرزائیت اور قادیانیت کا اسلام اور اہل اسلام سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے باطل نظریات تو اسلام کی حسین عمارت کو زمین بوس کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن وسنت کی قطعی نصوص سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ آپ حضرات کا یہاں جمع ہونا کسی دنیاوی غرض سے نہیں ہے بلکہ ہم سب کے آنے کا مقصد صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہے، حضور نبی کریم ﷺ کی اتباع ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ مرزائیوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مان کر قرآن کا انکار کیا۔ احادیث طیبہ جو حضور ﷺ کی ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں ، اس کا انکار کیا جو کہ صریح طور پر کفر ہے، تمام باطل طاقتیں قادیانیت کی بقا کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں مگر یہ تمام کفریہ طاقتیں یاد رکھیں کہ دین اسلام اللہ کا آخری دین ہے اور یہ دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے اور یہ اپنے غلبہ کی طرف سے تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی زندہ جاوید مثال مغربی ممالک میں تیزی سے اسلام کا پھیلنا ہے، لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سرتوڑ کوشش کریں۔
قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے پر سینکڑوں افراد کا مظاہرہ
اوکاڑہ (نامہ نگار) پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ لاش کو قبر سے نکال کر قادیانی لے گئے۔ تفصیلات کے مطابق اوکاڑہ کے گاؤں چک ۵۵ ٹوایل کے قادیانی زندیق غلام قادر کے انتقال پر اس کے بیٹوں نے مسلمانوں کے قبرستان میں مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی نور اللہ مرقدہ کے پڑوس میں دفن کر دیا واقعہ کی اطلاع ۵۵ ٹوایل کے نمبر دار چوہدری امان اللہ کو مل گئی اور یہ خبر آناً فاناً شہر میں پھیل گئی غلامان رسول میں اضطراب شروع ہو گیا ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ کے مبلغ مولانا عبدالرزاق نے ملتان دفتر مرکزیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے ہدایات لیں ۔ کارکنان ، علماء کرام ، قراء حضرات سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو گئے ، قادیانیت کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی جس پر قادیانیوں نے انتظامیہ کی موجودگی میں اپنا بد بودار لاشہ نکال لیا دو دن کے وقفہ کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں نے جلسہ کا اعلان کر دیا۔
۱۳؍ جولائی نماز مغرب کے بعد چوہدری امان اللہ صاحب کے ڈیرے پر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ علماء کرام نے اپنے خطابات میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو خبردار کیا کہ قادیانی اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے باز رہیں۔
کانفرنس سے مولانا قاری الیاس ، مولانا مفتی عبدالقیوم ، مولانا افتخار احمد ، مولانا اسلام ندیم ، مولانا مفتی رشید احمد ، مفتی غلام مصطفیٰ ، حاجی احسان الحق اور مولانا غلام محمود انور نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ مناظر اسلام مولانا محمد انور اوکاڑوی مدظلہ نے قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کر کے ثابت کیا کہ قادیانیت جھوٹا اور مکار مذہب ہے، قادیانیوں کو دعوت اسلام دی اور کارکنوں کو انتہائی کم وقت میں کانفرنس منعقد کرنے پر مبارک باد پیش کی، آخری خطاب مولانا محمد اکرم طوفانی مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرزائی ہمیں اشتعال مت دلائیں، لیکن ختم نبوت کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
اوکاڑہ کے مبلغ مولانا عبدالرزاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گورنر پنجاب مرزائیت کی وکالت کرنا چھوڑ دیں ، انہوں نے کہا کہ اوکاڑہ شہر میں قادیانی کی دکان مسلم جنرل سٹور کا نام فوراً تبدیل کیا جائے۔ نمبردار چوہدری امان اللہ نے پولیس اور کارکنوں کی بھر پور تواضع کی ، پروگرام کی کارروائی میں حافظ محمود الحسن، بھائی محمد آصف ، محمد عابد ، قاری اسد اللہ بصیروی ، قاری اسحاق غازی ، ڈاکٹر صفدر ندیم ، چوہدری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خالد محمود اور ان کے رفقاء مولانا محمد اسحاق بدر، قاری محمد ابراہیم کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے بھر پور حصہ لیا مدارس کے مہتمم حضرات اپنے طلباء کرام کے ہمراہ جب کہ اسکول اور کالج کے اسٹوڈنٹس جلوس کی شکل میں ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعرہ لگاتے ہوئے جلسے گاہ میں تشریف لائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ اگست ۲۰۰۸ء ص ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس میں قادیانی کا قبول اسلام
یکم؍ فروری ۲۰۰۸ء جامع مسجد سیدنا اکبر جوئیاں ضلع سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے مولانا محمد عارف ندیم، مولانا محمد شفیق ڈوگر، مولانا بشیر احمد قاسمی اور دیگر مقررین نے عقیدہ ختم نبوت پر سامعین کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور ڈنمارک کے اخبارات کے گستاخانہ اقدام کی بھر پور مذمت کی، اس موقع پر طیب غفور ولد غفور احمد ساکن پنڈی بھاگو عمر ۲۵ سال نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔ طیب غفور نے مرزا غلام احمد قادیانی کو تمام دعاوی میں کذاب قرار دیا اور مجمع عام میں اعلان کیا کہ میں حضرت مہدی کے ظہور اور حضرت عیسیٰ کی حیات آسمانی اور نزول پر ایمان لاتا ہوں۔ حاضرین نے بہت مسرت کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کو استقامت نصیب فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ مارچ ۲۰۰۸ء ص ۲۲)
تین قادیانیوں کا مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر قبول اسلام
چناب نگر...... مولانا غلام مصطفیٰ خطیب جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر نے جامع مسجد حضرت علی ؓ موضع گھلوتراں والا کے سالانہ جلسہ کے موقع پر ختم نبوت کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا اور عوام الناس کو قادیانیوں کے دجل وفریب سے آگاہ کیا۔
انہوں نے جامع مسجد موضع جودھ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی قادیانیوں کے دجل وفریب، ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور قادیانیوں کو دعوت اسلام دی، وہاں پر موجود تین قادیانیوں محمد اعظم، محمد آصف اور محمد صفدر نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا، علاقہ بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں نے ان نو مسلموں کو مبارک باد پیش کی اور جماعت کی خدمات کو سراہا۔
مولانا موصوف نے جامع مسجد تقویٰ چھنی قریشیاں، جامع مسجد بورے شریف کے سالانہ جلسوں سے بھی خطاب فرمایا۔ ضلع خوشاب کے جماعتی رفقاء سے ملاقاتیں کیں جوہر آباد کے علماء کرام کو خوشاب میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی اور شہر کی متعدد مساجد جامع مسجد بلاک نمبر ۱، جامع مسجد بلاک نمبر ۲، جامع مسجد و مدرسہ کاشف العلوم اور جامع مسجد نمرہ میں مولانا کے درس اور بیانات ہوئے، جس میں مولانا نے علماء کرام اور عوام الناس کو فیصل آباد میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں بھر پور انداز میں شرکت کرنے کی دعوت دی۔
جامع مسجد غلہ منڈی بہاؤالدین میں سالانہ جلسہ کے موقع پر ختم نبوت کے عنوان پر تفصیلی خطاب کیا۔ چنیوٹ میں جامع مسجد اقصیٰ نزد عید گاہ جھنگ روڈ اور شاہی جامع مسجد میں خطاب کیا۔ علماء کرام سے ملاقاتیں اور چنیوٹ میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ اپریل ۲۰۰۸ء ص ۲۶)
قادیانی میاں بیوی کا قبول اسلام
غلام حیدر ولد سنیھوں جونیجو مٹھی ماریہ زوجہ غلام حیدر جونیجو قادیانی ۷؍ مارچ ۲۰۰۸ء بروز جمعتہ المبارک مدرسہ نور الہدیٰ مٹھی میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آکر مولوی خان محمد صابری مبلغ ختم نبوت کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ جب کہ ان کے ساتھ ان کا والد اور رشتہ دار بھی ساتھ تھے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ انہیں کچھ عرصہ پہلے مٹھی کے قادیانیوں نے بے راہ روی پر مجبور کیا اور لڑکی سے رابطہ ہو گیا۔ بالآخر قادیانیوں نے ورغلا کر قادیانی بنایا اور ان کا اس لڑکی سے شادی کا پروگرام بھی قادیانیوں نے اپنے مشن ہاؤس میں رچایا۔ اس معاملہ کی خبر جب مسلمان رشتہ داروں کو پڑی تو انہوں نے ان سے مکمل بائیکاٹ کر دیا اور سمجھانے کے لئے علمائے کرام اور احباب رابطہ کرتے رہے۔ بالآخر مولانا خان محمد صابری مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے قادیانیت کے کفر کو کھلے عام سمجھا۔ اس سے پہلے دل کو بے قراری ہوئی تھی۔ کیونکہ قادیانیت میں بے راہ روی عریانی دیکھ کر دل کو اطمینان نہیں ملتا تھا۔ چنانچہ بیوی کو بھی سمجھایا اور وہ خود راضی ہو گئی۔ جس کی وجہ سے وہ قادیانیت پر لعنت بھیج کر حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کو بلا شرائط تسلیم کرتے ہوئے اور پوری زندگی سچے اسلام پر گزارنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مٹھی کے امیر مولانا محمد موسیٰ درس اور مولانا محمد انور سومرو، قاری محمد قاسم ٹھری اور کرم علی جونیجو ماسٹر پپا پورا ہموں موجود تھے۔ آخر میں نو مسلم جوڑے کے لئے دین اسلام پر استقامت کی دعا کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۸ء ص ۳۱)
لیاقت پور میں قادیانی عورت کا قبول اسلام
مقامی مبلغ ختم نبوت مفتی محمد راشد مدنی کے ہاتھ پر قادیانی عورت نے مرزا قادیانی پر لعنت بھیجتے ہوئے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق تقریباً ڈھائی گھنٹے مفاہمانہ بحث کے بعد جس میں اس عورت کے مختلف اشکالات کے جوابات دیئے گئے اور مرزا قادیانی کا گھناؤنا کردار واضح کیا گیا۔ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی کے متعلق تفصیلی وضاحت اور مرزا قادیانی کے تقابل سے حق واضح ہوتے ہی قادیانی عورت نے مولانا محمد کلیم اللہ مہتمم جامعہ قادریہ لیاقت پور اور دیگر حضرات کی موجودگی میں اس عورت نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا اور دیگر مرزائی خواتین کو راہ حق سمجھانے کا عہد کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۸ء ص ۵۰)
ایک مرزائی خاتون کے آہنی تابوت میں کیڑے، نواسے کا قبول اسلام
خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دشمنوں اور مخالفوں کو نہ صرف عبرتناک انجام سے گزرنا پڑا۔ بلکہ ان کے پیروکاروں اور ہمدردوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے عبرت کا نشان بنا دیا۔ یہ بات غیرت الٰہی کے خلاف ہے کہ کوئی محبوب حق ﷺ کے متعلق زبان درازی کرے اور اللہ تعالیٰ اسے برداشت کر لیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ گستاخ رسول ﷺ کی پکڑ نہ کی گئی ہو۔ تاریخ ایسے ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے کہ ایسے دعویداروں کو نشان عبرت بنا کر دوسرے لوگوں کے لئے سبق بنا دیا گیا۔
مولانا لال حسین اختر کے قبول اسلام کا سبب عالم خواب میں آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی عبرتناک اور بگڑی ہوئی حالت ہی بنی تھی۔ جرمن اخبار کا ایڈیٹر غازی عامر چیمہ شہید کے ہاتھوں زخمی ہو کر سسک سسک کر جہنم کا ایندھن بنا تو دوسری جانب ڈنمارک کے اخبار کا ایڈیٹر اور بدبخت کارٹونسٹ اپنے ہی کمرہ میں پر اسرار طور پر جل کر کوئلہ بن گیا اور دنیا پر ہی روسیاہی کا گواہ بن گیا۔ ڈینش حکومت نے چھپانے کی بہت کوشش کی مگر اللہ کے سامنے کب کسی کی چلی ہے۔ یہ بات منظر عام پر آ کر رہی اور یہودی اور عیسائی بدبختوں کے ابدی سیاہ چہروں سے نقاب اتر گیا۔
چنیوٹ میں ایک نوجوان محمد نعیم نے قادیانیت پر پھٹکار کرتے ہوئے جامع مسجد النور جھنگ روڈ کے خطیب مولانا مسعود سروری کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ محمد نعیم خاندانی قادیانی تھا۔ اس کے قبولیت اسلام کا سبب اس کی نانی کا عبرتناک انجام بنا۔ محمد نعیم نے ہدایت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی روشنی پانے کے بعد بتایا کہ وہ خاندانی مرزائی تھا۔ سات ماہ قبل اس کی نانی جہان فانی کے سفر پر چلی گئی۔ اس کی نانی کی میت کو مرزا سردار احمد قادیانی کے سپرد کیا گیا۔ جس نے میت کو امانتاً دفن کر دیا۔ مردہ کو آہنی تابوت میں رکھا گیا اور قادیانی رسومات کے مطابق اس کی تدفین کی گئی۔ چھ ماہ بعد میت کو قبر سے نکال کر مرزائی قبرستان میں منتقل کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔ جب آہنی تابوت قبر سے نکالا گیا تو وہاں کا منظر بہت ہی خوفناک اور دل دہلا دینے والا تھا۔ آہنی تابوت سے کیڑے نکل رہے تھے اور اتنا تعفن پھیل گیا کہ سانس لینا محال ہو گیا۔ دماغ بدبو سے پھٹنے لگے۔
اس پر محمد نعیم نے اپنے ماموں سے سوال کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ اس نے معاملہ ٹالنے اور حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی۔ مگر جس کے مقدر میں ہدایت لکھ دی گئی ہو وہ کیسے گمراہی کے جال میں پھنسا رہ سکتا ہے۔ محمد نعیم کے اصرار پر اس کے ماموں نے کہا کہ صندوق کو دیمک لگ گئی ہے۔ اس جواب نے اس کے ہوش اڑا دیئے کہ کس طرح جھوٹ اور فریب سے حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے اور لوہے کے تابوت کو دیمک لگ گئی ہے۔ جب کہ ایسا ناممکنات میں سے ہے۔
اس نے جب یہ دیکھا کہ مرزا قادیانی کی طرح اس کے پیروکار بھی جھوٹ کا علم بلند کئے ہوئے ہیں تو اسے قادیانیت سے نفرت ہوگئی۔ وہ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام کے دامن عاطفت میں آ گیا۔ یہ یکم جولائی ۲۰۰۸ء کا ایسا واقعہ ہے جس پر غور کرنے سے ہر مرزائی ہدایت پاسکتا ہے۔ مگر جن کے دلوں، زبانوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی گئی ہو۔ وہ کیسے ہدایت کا راستہ پاسکتے ہیں۔ دنیا بھر کے مرزائیوں کو یہ واقعہ دعوت فکر دیتا ہے کہ وہ مرزائیت کے جہنمی بدبودار اور غلیظ ماحول سے تائب ہو جائیں اور اسلام کے پاکیزہ ماحول میں آ کر آخرت کی سرخروئی حاصل کر لیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۸ء ص اندرون فرنٹ ٹائٹل)
اوکاڑہ میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام
۱۷/ اگست ۲۰۰۸ء شب برأت میں عظیم سعادت نصیب ہوئی۔ گزشتہ دنوں جامع مسجد طلحہ میں مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالرزاق مجاہد کے ہاتھ پر ایک قادیانی نوجوان نے مرزائیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ جس کا نام محمد زاہد ولد عبدالطیف مکان نمبر ۳۷ صدر غفور ٹاؤن اوکاڑہ کا رہائشی ہے۔ جس کا اہتمام امام مسجد قاری محمد رفیق فاروقی اور بھائی حافظ محمد صفدر رشید نے کیا۔ بعد نماز عصر مولانا کا بیان ہوا۔ اس تقریب میں گردونواح کے مسلمان اور ختم نبوت کے کارکنان علماء کرام نے خصوصیت سے شرکت کی۔ مولانا سید رمضان شاہ، مولانا مفتی رشید احمد، قاری عبداللہ رحیمی، مولانا عبدالواحد کے صاحبزادے اور کثیر نمازیوں نے شرکت کی۔ بھائی خالد محمود اور بھائی لیاقت بھی شریک ہوئے۔
اللہ رب العزت اس نوجوان کو اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ قادیانیوں کے جھوٹے مذہب سے نفرت نصیب ہو۔ احباب نے مبارک باد پیش کی۔ آخر میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ اجلاس امیر ختم نبوت مولانا قاری الیاس کی دعا سے اختتام پذیر ہو گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۸ء ص ۱۱)
کاروان ختم نبوت رواں دواں، تیس ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد
سال نو ۱۴۲۹ھ کی پہلی سہ ماہی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شعبہ تبلیغ کے تحت ملک بھر میں ختم نبوت کانفرنسوں کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ منکر ختم نبوت، گستاخ رسول ﷺ مرزا قادیانی ملعون ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں بمرض ہیضہ بحالت دست و قے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فی النار والسقر ہوا۔ قادیانی جماعت نے ایک جھوٹے ملعون مدعی نبوت کے آنجہانی ہونے کے سو سال پورے ہونے پر ۲۰۰۸ء میں صد سالہ پروگرام منانے کا اعلان کیا۔ اس موقعہ پر ضروری تھا کہ جھوٹے نبی کے جھوٹ کو گھر تک پہنچانے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت بھی اپنا فرض ادا کرتی۔ چنانچہ قادیانیوں کے کذب وافتراء ختم نبوت کی حقانیت و برکات سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے یہ پروگرام ترتیب دیئے اس تحریر کے وقت الحمد للہ پہلی سہ ماہی پروگراموں کا ۷۶ فیصد حصہ کامیابی سے پورا ہو چکا ہے۔ ۳۳ فیصد حصہ ترتیب شدہ پروگراموں کے مطابق کامیابی سے چل رہا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اپنے فضل وکرم سے اسے پورا فرمائے اس وقت تک جو پروگرام پورے ہو چکے ہیں ان کی رپورٹ یہ ہے۔
- ۱....... ۱۱ / جنوری ۲۰۰۸ء کو اس سلسلے کا پہلا پروگرام جامعہ مسجد رحمانیہ مظفر گڑھ میں منعقد ہوا۔ عظیم اجتماع سے مظفر گڑھ ضلع کے مبلغ مولانا
عبدالرشید اور مولانا اللہ وسایا صاحب نے خطاب کیا۔
- ۲....... ۱۸ / جنوری ضلع بہاولپور کی مرکزی جامع مسجد میں عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حاصل پور کے رہنما مولانا
الحاج منیر احمد ، حضرت حافظ محمد ابراہیم نے اجتماع کو کامیاب بنانے کے لئے بھر پور جد و جہد کی۔ پیر طریقت مولانا عبد الوہاب شاہ کی سرپرستی حاصل رہی۔ مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اسحاق ساقی نے خطاب کیا۔
- ۳....... ۱۹ / جنوری کو احمد پور شرقیہ کی شاہی مسجد میں بعد نماز عشاء کامیاب سالانہ اجتماع منعقد ہوا جس کا اہتمام جناب شیر محمد قریشی اور ان
کے گرامی قدر رفقاء نے کیا۔
- ۴....... ۲۰ / جنوری بعد از نماز ظہر مدرسہ عربیہ تفہیم القرآن علی پور میں عظیم اجتماع ہوا جس میں مجلس کے مبلغین مولانا عبد الرشید ، مولانا محمد
اسحاق ساقی ، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا اس موقع پر ضلع مظفر گڑھ کی پوری دینی قیادت موجود تھی۔ پروگرام کے منتظم اعلیٰ مولانا عبد الرحیم تھے۔
- ۵....... ۲۵ / جنوری کو لودھراں کی مرکزی جامع مسجد میں عظیم اجتماع منعقد ہوا۔ جامعہ سراج العلوم کے مہتمم یادگار اسلاف مولانا محمد میاں
اور صدر مدرس استاذ العلماء مولانا اللہ بخش صاحب نے اس پروگرام کی سرپرستی فرمائی مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اسحاق وغیرہ کے جامع بیانات ہوئے۔
- ۶....... یکم / فروری کو مرکزی جامع مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن بہاولپور میں عظیم اجتماع سے مجلس کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ جامع مسجد کے
خطیب مولانا حبیب الرحمن ، قاری محمد غیاث ، جناب فیض الرحمن قریشی نے اجتماع کو کامیاب بنانے کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔
- ۷....... ۸ / فروری کو مرکزی جامع مسجد پیلو وانس ضلع خوشاب میں عظیم الشان اور مثالی اجتماع منعقد ہوا۔ حد نظر تک انسانوں کا ٹھاٹھیں
مارتا ہوا اجتماع تھا۔ مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبد الستار مبلغ کے بیانات ہوئے اسی روز بعد از نماز عشاء نور پور تھل میں بھی ایک پروگرام ہوا۔
- ۸....... ۱۳ / فروری کو جامع مسجد عائشہ لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مجلس کے مرکزی نائب امیر قطب الارشاد حضرت
نفیس الحسینی کی یاد میں تعزیتی اجتماع منعقد ہوا جو مغرب سے رات ۲ بجے تک جاری رہا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی کی سربراہی میں مولانا عمر حیات ، مولانا محبوب الحسن ، سید ضیاء الحسن اور دیگر رفقاء نے پروگرام کو کامیاب
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ اجلاس کی نقابت کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔ صدارت سید زاہد الحسینی شاہ صاحب نے فرمائی۔ اجلاس کے سرپرست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما پیر طریقت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد تھے۔ اجلاس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری، اقراء روضۃ الاطفال کے ناظم مولانا مفتی خالد محمود، جامعہ اشرفیہ لاہور کے مدیر یادگار اسلاف مولانا فضل الرحیم، جامعہ اشرفیہ کے استاذ الحدیث مولانا محمد یوسف خان، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا محمد امجد خان، مولانا محب النبی، عالمی مجلس لاہور کے سرپرست مولانا میاں عبدالرحمٰن، جامعہ قاسمیہ لاہور کے مہتمم حضرت شاہ محمد، وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس ڈاکٹر علامہ خالد محمود، وکیل ناموس صحابہ مولانا محمد عالم طارق، مجلس علماء اہلسنت کے مرکزی رہنما مولانا عبد الکریم ندیم، شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، حضرت سید نفیس الحسینی کے خلفاء قاری سیف اللہ اختر، جناب الحاج رضوان نفیس، جناب عتیق انور، قاری مشتاق احمد رحیمی قصور، مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا صاحب کے بیانات ہوئے۔
جناب سید سلمان گیلانی، جناب آصف رشیدی، مہر محمد سلیم، جناب طاہر بلال چشتی، فیصل بلال گیلانی، کی ایمان پرور نظمیں ہوئیں۔ جناب مولانا عنایت اللہ رشیدی، قاری محمد علی، مختار الحق ظفر، جناب نثار گل نے انتظامات کے حوالے سے بھر پور محنت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید کے جانشین اور اقراء روضۃ الاطفال کے روح رواں مولانا مفتی محمد نے بطور خاص شرکت فرمائی۔ رات گئے پیر طریقت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدیر ماہنامہ لولاک کی دعا سے اجلاس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
- ۹...... ۱۵؍ فروری کو چک بھوٹر ضلع شیخوپورہ میں عظیم اجتماع منعقد ہوا جس میں مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا حافظ سید احمد شاہ کوٹی،
مولانا عبد النعیم اور مولانا اللہ وسایا صاحب کے بیانات ہوئے۔
- ۱۰...... ۲۸؍ فروری کو واہ کینٹ ضلع راولپنڈی میں یادگار اسلاف، پروانہ ختم نبوت مولانا محمد اسحاق قریشی کی صدارت میں مغرب سے
عشاء تک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی مولانا حافظ محمد صدیق، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا اللہ وسایا صاحب کے بیانات ہوئے۔
- ۱۱...... ۲۹؍ فروری کو جامع مسجد خلفاء راشدین اسلام آباد میں قبل از جمعہ کے عظیم اجتماع سے مولانا اللہ وسایا صاحب نے خطاب کیا۔
- ۱۲...... ۲۹؍ فروری بعد از مغرب جامع مسجد منڈیاں ایبٹ آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی مولانا محمد صدیق شریفی نے صدارت
فرمائی۔ جناب ساجد اعوان، سید مجاہد شاہ، جناب وقار گل جدون اور ان کے رفقاء کی بھر پور محنت سے بہت بڑا اجتماع ہوا۔ جس میں پروفیسر عطاء الرحمٰن نے ہدیہ نعت پیش کی۔ مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا طیب فاروقی صاحب وغیرہ کے خطاب ہوئے۔
- ۱۳...... ۲۹؍ فروری کراچی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۹؍ فروری ۲۰۰۸ء بروز جمعہ جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش
ایم اے جناح روڈ میں عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام قاری احسان اللہ فاروقی، نعت مولانا حافظ محمد اشفاق۔ بیانات مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی کراچی، مولانا سعید احمد جلالپوری، مولانا محمد اکرم طوفانی۔ مولانا احمد میاں حمادی، اقراء روضۃ الاطفال کے نائب مدیر مفتی خالد محمود اور مولانا قاضی احسان احمد کے خطاب ہوئے۔ آخر میں رد قادیانیت کورس میں شریک قریباً سات سو طلباء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۴....... یکم / مارچ قبل از ظہر سگدھار ضلع مانسہرہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
- ۱۵....... ۲ / مارچ کو مانسہرہ علی مسجد ، مسجد اقصیٰ ، مدرسہ تعلیم القرآن میں تین علیحدہ علیحدہ اجتماع منعقد ہوئے۔ مانسہرہ شہر ضلع کے پروگرام
جناب عبدالرؤف روفی ، جناب یاسر خٹک ، سید بلال اور ان گرامی قدر رفقاء نے کامیاب بنانے میں بھر پور محنت کی۔
- ۱۶....... ۵ / مارچ کو جمعیت طلباء اسلام کے زیر اہتمام اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایڈیٹوریم میں تحفظ ناموس رسالت کنونشن منعقد
ہوا۔ جس میں مولانا مفتی سعید یوسف کشمیری ، مولانا اللہ وسایا اور جمعیت طلباء اسلام کے مرکزی رہنماؤں اور یونیورسٹی کے لیکچرار حضرات کے بیانات ہوئے۔
- ۱۷....... ۶ / مارچ کو چک نمبر ۴۵م ضلع رحیم یار خان میں صبح دس بجے سے عصر تک عظیم الشان اور مثالی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت
پیر طریقت میاں مسعود دین پوری مدظلہ نے کانفرنس کی صدارت فرمائی ضلع بھر کی دینی قیادت ، عالمی مجلس کے مرکزی رہنما مولانا اسماعیل شجاع آبادی ، قاضی شفیق الرحمن ، مفتی محمد راشد مدنی اور مولانا اللہ وسایا صاحب کے بیانات ہوئے۔
- ۱۸....... اسی روز بعد نماز عشاء یادگار اسلاف مولانا مشتاق احمد خانقاہ غفوریہ کے سجادہ نشین مولانا محمد ادریس انصاری کی صدارت
وسر پرستی میں صادق آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں مولانا اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا راشد مدنی اور مولانا مفتی محمد طلحہ اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
- ۱۹....... ۷ / مارچ کو مولانا محمد اسماعیل ، مولانا قاضی شفیق الرحمن نے بستی کندھارا سنگھ ضلع رحیم یار خان میں عظیم اجتماع سے خطاب کیا۔
- ۲۰....... ۷ / مارچ کو مدرسہ عربیہ قادریہ لیاقت پور میں مفتی محمد راشد مدنی ، مولانا اللہ وسایا صاحب نے ختم نبوت کانفرنس سے بیانات
کئے۔ میز بانی کے فرائض مولانا مفتی محمد کلیم اللہ نے سرانجام دیے۔
- ۲۱....... ۷ / مارچ بعد از نماز عشاء ٹھل حمزہ کے مدرسہ عربیہ اسلامیہ کی مسجد ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اسماعیل اور
مولانا راشد مدنی نے خطاب کیا۔ یہ مدرسہ مولانا محمد مکی مدرس حرم بیت اللہ کی سر پرستی واہتمام میں بڑے تزک واحتشام سے دینی تعلیم وترویج کا کام کر رہا ہے۔ مولانا مفتی بشیر احمد یادگار اسلاف نے میز بانی سے ممنون فرمایا۔
- ۲۲....... ۸ / مارچ کو بعد از مغرب جامع مسجد کبیر نواب شاہ سندھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا
فیاض مدنی ، مولانا راشد مدنی ، مولانا صبغت اللہ جوگی ، مولانا محمود الحسن جوگی ، مولانا اللہ وسایا صاحب نے خطاب کیا۔ مولانا عبدالسلام نے صدارت کی ۔ مولانا راشد مدنی نے میز بانی کے فرائض سرانجام دیے۔ پوری دینی قیادت نے بھر پور سر پرستی سے کانفرنس کو کامیاب کرایا۔
- ۲۳....... ۹ / مارچ کو بعد از عشاء محراب پور کی مرکزی جامع مسجد میں مولانا مفتی عبدالصمد صاحب کی نقابت وسر پرستی میں ختم نبوت کانفرنس
منعقد ہوئی یادگار اسلاف مولانا محمد قاسم سومرو ، مولانا اللہ وسایا ، خطیب بے بدل مولانا صبغت اللہ جوگی کے بیانات ہوئے۔
- ۲۴....... ۱۰ / مارچ کو نواب شاہ ، محراب پور اور کنڈیارو میں مختلف مدارس کے طلباء کرام اساتذہ عظام کے عظیم اجتماعات سے تربیتی
بیانات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲۵...... ۱۱/ مارچ مدرسہ انوار القرآن بھریا روڈ میں مولانا عبد الہادی سولنگی کی کوششوں سے عالمی مجلس کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس
منعقد ہوئی۔ مولانا حافظ خادم حسین شر، ٹنڈو آدم کے مولانا مفتی پروفیسر حفیظ الرحمن، مولانا فیاض مدنی، مولانا اللہ وسایا صاحب نے بیان کئے۔
- ۲۶...... ۱۲/ مارچ کو بعد از عشاء میں روڈ پنوعاقل پر عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ سندھ کی مشہور خانقاہ ہالیجی شریف کے
سجادہ نشین مولانا عبد الصمد ہالیجوی نے صدارت و خطاب وسر پرستی سے ممنون فرمایا۔ جس میں قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا عزیز اللہ، خطیب وادی مهران مولانا عبد الرزاق میکھو، مرکزی مبلغ مولانا بشیر احمد، سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر، مولانا اللہ وسایا اور دیگر اکابر نے خطاب کیا، پنوعاقل کی متحرک و فعال جماعت نے بھر پور عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام کیا۔
- ۲۷...... ۱۶/ مارچ کو بہاول نگر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی پیر طریقت مولانا عبد الجلیل اخون، مولانا فیض احمد، مولانا محمد
اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاسم رحمانی، مولانا قاری عبدالسلام، مولانا اللہ وسایا صاحب کے بیانات ہوئے۔
- ۲۸...... ۱۸/ مارچ کو خانقاہ مالکیہ خانیوال کے سجادہ نشین خطیب بے بدل، یادگار اسلاف، مولانا صاحبزادہ عبد الماجد صدیقی کے اہتمام و
سر پرستی وصدارت میں جامع مسجد مینار والی میں ختم نبوت حمد ونعت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مولانا عبد الستار گورمانی، مولانا عطاء المنعم، مولانا محمد اسماعیل، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد عالم طارق کے بیانات ہوئے۔ جناب آصف رشیدی، مفتی محمد انس یونس اور دیگر حضرات نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ رات گئے تک یہ عظیم الشان اجلاس جاری رہا۔
- ۲۹...... ۱۹/ مارچ جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں بعد از مغرب ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالمی مجلس ساہیوال کے امیر مولانا مفتی کلیم اللہ
رشیدی نے صدارت کی۔ جامعہ کے ناظم مولانا قاری سعید احمد ابن شہید نے سٹیج سیکرٹری اور میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔ ساہیوال مجلس کے ناظم عمومی قاری عبد الجبار، مولانا عبد الحکیم نعمانی نے ان تمام انتظامات کو بخیر و خوبی سرانجام دیا۔ جس میں مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا حق نواز خالد، مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا ضیاء الدین آزاد کے بیانات ہوئے۔
- ۳۰...... ۲۰/ مارچ کو رینالہ خورد بعد از نماز عشاء پاک پتن، ۲۱/ مارچ وہاڑی، ۲۱/ مارچ بعد از نماز عشاء اوکاڑہ، ۲۲/ مارچ جھنگ،
۲۳/ مارچ خوشاب وسرگودھا، ۲۴/ مارچ بعد از ظہر پپلاں ضلع میانوالی، بعد از عشاء کندیاں شریف۔ ۲۵/ مارچ بعد از ظہر ہر نولی، بعد از نماز عشاء دریا خان، ۲۶/ مارچ بعد از صبح بھکر بعد از ظہر جمن شاہ، بعد عشاء لیہ، ۲۷/ مارچ چنیوٹ، ۲۸/ مارچ قبل از ظہر چناب نگر، بعد از عشاء فیصل آباد۔ یہ ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ ان کی تفصیل اور دیگر اس ماہ میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں کی رپورٹ اگلے شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس پہلے مرحلے کی آخری کانفرنس ۱۱/ اپریل کو مرکزی دفتر ملتان میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی۔ جس میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن سمیت خطباء، علماء، مشائخ، دانشور، شیوخ حدیث شرکت کریں گے۔ اللہ رب العزت مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان خدمات کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل مئی ۲۰۰۸ء ص ۳ تا ۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کاروان ختم نبوت رواں دواں مزید تیس ختم نبوت کانفرنسیں
گزشتہ شمارہ میں کاروان ختم نبوت کے عنوان پر ۳۰ ختم نبوت کانفرنسوں کی اجمالی رپورٹ پیش کی تھی۔ اس شمارہ میں اس سے اگلے مرحلہ کی کانفرنسوں کی رپورٹ پیش خدمت ہے۔
- ۳۱...... ۲۰؍ مارچ کو چک نمبر ۱۹ رینالہ خورد میں جمعیت علمائے اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بعد از ظہر ختم نبوت کانفرنس
سے مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ اوکاڑہ، مولانا کلیم اللہ مہتمم جامعہ رشیدیہ، مولانا قاری سعید احمد، مفتی شاہد عمران، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری عبدالجبار، مولانا منصور الخطیب نائب ناظم جمعیت علمائے اسلام پنجاب اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
- ۳۲...... ۲۰؍ مارچ بعد از عشاء جامعہ فریدیہ پاکپتن میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جامعہ فاروقیہ عارف والا کے مہتمم مولانا
عبدالوہاب نے صدارت فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالحکیم، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا کلیم اللہ رشیدی، قاری عبدالجبار، قاری محمد عثمان، شیخ الحدیث مولانا محمد ارشاد اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
- ۳۳، ۳۴...... ۲۱؍ مارچ قبل از جمعہ جامع مسجد باغوالی وہاڑی میں حضرت حافظ شبیر احمد عثمانی کی زیر صدارت بہت بڑے اجتماع سے مولانا
اللہ وسایا نے اور جامع مسجد دانیوال کے اجتماع سے مولانا عزیز الرحمن ثانی نے خطاب فرمایا۔
- ۳۵...... ۲۱؍ مارچ بعد از عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ محی الاسلام عثمانیہ نئی لکڑ منڈی اوکاڑہ شہر میں سالانہ عظیم الشان
ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا سید امیر حسین گیلانی مدظلہ نے کی اور طلباء کرام کی سندات و دستار بندی کرائی۔
کانفرنس میں تلاوت مولانا قاری سعید احمد عثمانی خطیب گول چوک نے کی۔ نعت رسول مقبول مولانا یاسین ثاقب، مولانا شاہد عمران عارفی نے پیش کی۔ کانفرنس مولانا قاری محمد الیاس، مولانا قاری غلام محمد انور اور مولانا عبدالاحد صاحبان کی سرپرستی میں ہوئی۔ کانفرنس میں تحفظ ناموس رسالت اور ڈنمارک کے ناپاک خاکے زیر بحث رہے۔ علمائے کرام نے ڈنمارک سے اقتصادی بائیکاٹ اور ان ممالک کی مصنوعات سے قطع تعلق کی اپیل کی۔ مولانا اللہ وسایا نے سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ نے ادا کئے۔ جب کہ کانفرنس سے مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا ممتاز احمد کلیار کے خطابات ہوئے۔ کانفرنس کے انتظامات میں حافظ محمود الحسن، قاری عبدالکریم، قاری محمد ابراہیم، حافظ عبدالشکور اور دیگر طلباء کرام جامعہ محی الاسلام پیش پیش رہے۔
- ۳۶...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس مسجد شیخ لاہور میں ۲۲؍ مارچ کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے
مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا، مولانا حق نواز خالد، جمعیت علماء اسلام کے میر کارواں مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی، مولانا ضیاء الدین آزاد، شہباز گجر، مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
- ۳۷...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خوشاب کے زیر اہتمام ضلعی ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد ابوبکر صدیق المعروف بگڑ والی میں ۲۳؍ مارچ کو
منعقد ہوئی۔ جس سے شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا، قاطع مرزائیت مولانا محمد اکرم طوفانی، فاضل نوجوان مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عزیز الرحمٰن ثانی، ضلع خوشاب کے امیر قاری سعید احمد اسعد، مبلغ ختم نبوت خوشاب مولانا عبدالستار کے بیانات ہوئے۔ علماء نے کہا کہ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن نبی آخر الزمان ﷺ کی ناموس میں کوئی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ لہٰذا اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ توہین رسالت کرنے والے ممالک کے سفیروں کو اپنے ملک سے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر باہر نکال دیں۔ دریں اثناء اس موقعہ پر پورے ضلع کے علمائے کرام بھی موجود تھے۔
سرگودھا میں تحفظ ناموس رسالت ریلی:
- ۳۸....... ۲۳/مارچ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے زیر اہتمام ایک ”تحفظ ناموس رسالت موٹر سائیکل ریلی“ کا اہتمام کیا گیا۔ ریلی
کی تیاریاں کئی دن پہلے عالمی مجلس کے قائدین اور کارکنوں نے شروع کر رکھی تھیں۔ ریلی ۲۳/مارچ بروز اتوار صبح ۹ بجے دفتر ختم نبوت سے شروع ہوئی۔ فاطمہ جناح روڈ، قینچی موڑ، یونیورسٹی روڈ، خوشاب روڈ، سٹی روڈ، نوری گیٹ، فیصل بازار، چوک بلاک ۱۲، صدیق اکبر چوک، لیاقت مارکیٹ اور گول چوک سے گزرتی ہوئی کچہری بازار چوک میں اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں تقریباً ایک ہزار سے زائد موٹر سائیکل سوار، گاڑی سوار اور رکشہ سواروں نے شرکت کی۔ زیادہ تعداد سکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کے طلباء کی تھی۔ تاجر غرض ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ جن میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نے ڈنمارک کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ شرکاء ریلی پر مختلف جگہوں پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کی گئیں۔ مولانا محمد اکرم طوفانی ڈپٹی سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا نور محمد ہزاروی امیر عالمی مجلس سرگودھا، عبدالعزیز اور عاصم اشتیاق سمیت کئی افراد نے خطاب کیا۔
- ۳۹....... ۲۴/مارچ بعد از ظہر پپلاں جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد منعقد ہوئی۔ مولانا اللہ
وسایا، مولانا عبدالستار، مولانا یار محمد، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کے بیانات ہوئے۔
- ۴۰....... ۲۴/مارچ بعد از عشاء جامع مسجد غوثیہ کندیاں میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ مندرجہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا نذیر احمد،
مولانا عبدالجلیل صاحب بطور خاص شرکت فرمائی۔
- ۴۱....... ہرنولی ۲۵/مارچ بعد از ظہر۔
- ۴۲....... دریا خان ۲۵/مارچ بعد از عشاء ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد صاحب نے صدارت فرمائی۔ یادگار
اسلاف مولانا محمد عبداللہ بھکر، مولانا غلام فرید، مولانا اللہ وسایا، ڈاکٹر دین محمد فریدی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا عبدالستار کے بیان ہوئے۔
- ۴۳....... ۲۶/مارچ بعد از فجر جامعہ قادریہ بھکر میں مولانا اللہ وسایا صاحب کا بیان ہوا۔ بعد از ظہر جمن شاہ میں مولانا محمد اسماعیل شجاع
آبادی، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا قاری عبدالشکور اور دیگر کے بیانات ہوئے۔
- ۴۴....... ۲۶/مارچ بعد عشاء جامع مسجد کرنال لیہ میں مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد چیف ایڈیٹر ماہنامہ لولاک کی زیر صدارت عظیم
الشان ختم نبوت کانفرنس سے مولانا سید عطاء المومن بخاری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد حسین، قاری عبدالشکور، مولانا عبدالستار کے بیانات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴۵...... جامع مسجد صدیق اکبر چنیوٹ میں ۲۷/ مارچ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کذاب اور دجال ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کا ایجنٹ، اسلام کا غدار اور اس کے ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج اور ملک و ملت کے غدار ہیں۔ دین کو مٹانے والے مٹ جائیں گے۔ لیکن دین باقی رہے گا۔ مولانا ممتاز احمد کلیار صاحب نے ختم نبوت کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ کانفرنس میں مولانا عبدالحمید حامد، قاری عبدالکریم ندیم، مولانا محمد ایوب، مولانا مسعود احمد سروری، قاری محمد اکرم صاحب، قاری محمد ادریس صاحب، مولانا مطلوب الرحمن، مولانا عبداللطیف، قاری محمد افضل برہانی، چوہدری محمد سعید، مولانا عبدالوارث، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے بھی ختم نبوت کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ کانفرنس کی نگرانی جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر کے خطیب مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے کی۔
۴۶...... بتیسواں سالانہ جلسہ سیرت النبی ﷺ جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں جمعۃ المبارک ۲۸/ مارچ ۲۰۰۸ء کو حسب سابق شان وشوکت سے منعقد ہوا۔ جلسہ میں مولانا خان عابد حسین، مولانا صابر صفدر، مولانا اللہ یار، مولانا غلام مصطفیٰ اور مولانا عزیز الرحمن ثانی نے حضور ﷺ کی سیرت طیبہ پر خطاب کیا۔ آخر میں جلسہ کے مہمان خصوصی، مولانا اللہ وسایا صاحب نے حضور ﷺ کی سیرت طیبہ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ حضور ﷺ کی ختم نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل و فریب اور قادیانیوں کی شرانگیزیوں پر کڑی نگاہ رکھنے اور ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دیا۔ جرمنی اور ہالینڈ اور ناروے میں حضور ﷺ کی توہین کی گئی اور آپ ﷺ کے خاکے شائع کئے گئے۔ ان ممالک کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں۔ آخر میں جلسہ پر آئے ہوئے مہمانوں کی ضیافت کی گئی۔
۴۷...... ۲۸/ مارچ بعد از عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پیپلز کالونی کریم پارک فیصل آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جامعہ تہذیب النساء کے مہتمم حضرت المکرم قاری قمر الزمان صاحب نے تمام تر انتظامات کے لئے دیدہ دل فرش راہ کئے ہوئے تھے۔
مولانا محمد عالم طارق، مولانا ضیاء الدین، صاحبزادہ حافظ مبشر محمود، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ پورے شہر کی دینی قیادت نے بھر پور سر پرستی سے کانفرنس کی رونق کو دوبالا کیا۔ بڑے عرصہ کے بعد بحمدہ تعالیٰ کانفرنس عظیم الشان طریقہ پر منعقد ہوئی۔
۴۸...... ۲۹/ مارچ کو مرکزی جامع مسجد جامعہ توحیدیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا قاری محمد الیاس، مولانا عبدالنعیم نعمانی نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے بھر پور اہتمام کیا۔ مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا عبدالکریم ندیم، جناب مہر محمد سلیم، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
۴۹...... ۳۰/ مارچ کو جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ میں بعد از مغرب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقعہ پر جامعہ فاروقیہ کے، وفاق المدارس سے سند حاصل کرنے والے طلباء کرام کی دستار بندی بھی کی گئی۔ مولانا قاری احمد مصدق قاسمی، قاری محمد اسحق، مولانا فقیر اللہ اختر نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے سرتوڑ محنت فرمائی۔ عالمی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے امیر محترم سید شبیر احمد گیلانی کی سرپرستی وصدارت میں مغرب سے رات گئے تک کامیابی سے کانفرنس جاری رہی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالکریم ندیم اور دیگر حضرات کے مجاہدانہ بیانات ہوئے۔
- ۵۰...... ۳۱؍مارچ کو مرکزی جامع مسجد نارووال میں خطیب اسلام محمد یحییٰ محسن کی صدارت میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے خطیب اہل سنت مولانا عبدالحمید وٹو، خطیب اسلام مولانا عبدالکریم ندیم، خطیب ختم نبوت مولانا فقیر اللہ اختر، مجاہد اسلام مولانا محمد قاسم صدیقی، جناب مہر محمد سلیم، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
- ۵۱...... یکم؍اپریل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مکرم حضرت قاری حافظ محمد افضل شاکر کی زیر صدارت جامع مسجد وہاب ڈسکہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد فیروز خان، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالکریم ندیم کے بیانات ہوئے۔ شہر بھر کی دینی قیادت نے کانفرنس میں شرکت کی۔ مولانا غلام مرتضیٰ نے سٹیج سیکرٹری اور مولانا فقیر اللہ اختر نے انتظامات کی نگرانی کے فرائض سرانجام دیئے۔
- ۵۲...... ۲؍اپریل بعد از نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد ختم نبوت کنگنی والا گوجرانوالہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری، اقراء روضۃ الاطفال کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی خالد محمود، مولانا مفتی محمد خان، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا محمد عارف شامی اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ مولانا قاری گلزار احمد آزاد، حضرت مولانا عمر حیات نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔
- ۵۳...... ۳؍اپریل بعد از ظہر بھون ضلع چکوال کی مرکزی جامع مسجد میں خدام اہل سنت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا قاضی ظہور الحسن صاحب کی سرپرستی وصدارت میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ علاقہ بھر سے خدام اہل سنت، جمعیت علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفود نے شرکت کی۔ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا صاحبزادہ عبدالشکور، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا زاہد وسیم، مولانا اللہ وسایا، کے بیانات ہوئے۔
- ۵۴...... ۳؍اپریل بعد از مغرب مرکزی جامع مسجد بھمبر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا مفتی خالد میر، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔
- ۵۵...... ۴؍اپریل قبل از جمعہ جامع مسجد حیات النبیﷺ گجرات میں حضرت مولانا عبدالحق خان بشیر کی سرپرستی میں مولانا اللہ وسایا نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔
- ۵۶...... ۴؍اپریل بعد از عشاء مرکزی جامع مسجد منڈی بہاؤالدین میں حضرت مولانا قاسم مبلغ، مولانا قاری عبدالواحد، مولانا مفتی خالد میر، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ شہر بھر کی دینی قیادت نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے بھرپور سرپرستی سے سرفراز فرمایا اور بطور خاص شرکت سے ممنون فرمایا۔
- ۵۷...... ۵؍اپریل مرکزی جامع مسجد ونیکے روڈ حافظ آباد میں یادگار اسلام مولانا محمد الطاف صاحب کی سرپرستی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا محمد عارف شامی، مولانا حافظ عبدالوہاب، جناب رشید احمد اختر، مولانا منصور الخطیب، مولانا اللہ وسایا صاحب کے بیانات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۵۸...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۶ اپریل ۲۰۰۶ء بعد از عشاء جامع مسجد بلاک نمبر ۱۲ چیچہ وطنی میں عظیم الشان ختم نبوت
کانفرنس منعقد ہوئی۔ مقررین نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی منتخب حکومت قادیانی اوقافوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کرے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی، عدلیہ کا بحران اور خود کش حملوں میں قادیانیوں کی سازشوں اور شامل ہونے کا نوٹس لے اور سابقہ دور میں ہونے والی ریکارڈ قادیانیت نوازی کا سدباب کرے۔ کانفرنس سے معروف روحانی شخصیت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے صاحبزادہ مولانا عزیز احمد کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا محمد عالم طارق، مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا عبدالحکیم نعمانی، شیخ الحدیث مولانا محمد ارشاد، جمعیت اہل حدیث کے سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا مفتی محمد عثمان ، مولانا ضیاء الدین آزاد، پیپلز پارٹی کے حاجی محمد ایوب ، مسلم لیگ (ن) رائے مرتضیٰ اقبال، راؤ محمد اسلم، شیخ عبدالغنی، انجمن تاجران کے شیخ محمد حفیظ، گورنمنٹ کالج کے پرنسپل پروفیسر جاوید منیر، خانقاہ عزیزیہ کے سجادہ نشین پیر جی عبدالحفیظ، مدرسہ عزیز العلوم کے بانی پیر جی عبدالجلیل، مدرسہ تجوید القرآن کے پیر جی عبدالرحمن، پیر جی عبدالقدیر، پیر جی عبدالوحید، مفتی محمد یاسر جالندھری کے علاوہ حافظ محمد اصغر عثمانی، مولانا اظہار الحق، مولانا احمد ہاشمی ، قاری زاہد اقبال اور رانا احمد شہزاد نے شرکت و خطاب کیا۔ مقررین نے ساہیوال میں قادیانیوں کے مقامی صدر ابرار احمد کی غیر قانونی اور اشتعال انگیز ارتدادی، تبلیغی سرگرمیوں کے خلاف ضلعی پولیس سے شدید احتجاج کرتے ہوئے ۲۹۸ سی کے تحت مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس عارف والا:
- ۵۹...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام عارف والا کے زیر اہتمام بلدیہ گراؤنڈ میں ۱۰ اپریل کو تحفظ ناموس رسالت
کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری عبیدالرحمن اور قاری منیر نے کی۔ حافظ نعیم اللہ ، حافظ محمد ساجد، قاری محمد آصف سعیدی اور ادریس برادران نے ثنا خوانی کے فرائض احسن انداز میں سرانجام دیئے۔ جب کہ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد اسماعیل محمدی، جمعیت علماء اسلام کے مولانا بشیر احمد شاد، اہل سنت والجماعت کے مولانا عبدالخالق رحمانی، قاضی خالد محمود ایڈووکیٹ سمیت متعدد مقررین نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی میزبانی ، مہمان داری کے فرائض مولانا عبدالوہاب، مولانا محمد صدیق، عبدالقیوم ، میاں عطاء اللہ اور قاری عبدالستار حیدری نے خیر و خوبی سے سرانجام دیئے۔
- ۶۰...... ۱۱ اپریل کو مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے دو اجلاس منعقد ہوئے۔ مولانا مفتی
سعید احمد جلالپوری نے قبل از جمعہ کے اجتماع سے ایمان پرور خطاب فرمایا۔ اسی روز بعد از عشاء آخری اجلاس سے قائد جمعیت مفکر اسلام مولانا فضل الرحمن صاحب نے خطاب فرمایا۔ مولانا افتخار احمد حقانی سیکرٹری جنرل جمعیت علماء اسلام پنجاب، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، شیخ الحدیث مولانا ارشاد احمد ، شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم ، خطیب اسلام مولانا صاحبزادہ عبدالماجد صدیقی ، حافظ بشیر احمد صاحب وہاڑی اور لیہ، چوک اعظم، کبیر والا ، بہاولپور، جلالپور، وہاڑی، کچا کھوہ، خانیوال، لودھراں مظفر گڑھ غرضیکہ ملتان و بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے علماء کرام نے بطور خاص اس میں شرکت سے سرفراز فرمایا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ۲۷۸ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا عبد الستار، مولانا محمد اسحاق ساقی ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا محمد یعقوب ، مولانا عبد الستار گورمانی ، مولانا عبد الرشید غازی سمیت مبلغین حضرات نے کانفرنس کے انتظامات کی نگرانی کی۔ فالحمد للہ ! یوں یکم محرم الحرام سے مجلس کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنسوں کا پہلا مرحلہ آج کے عظیم الشان اجتماع سے بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا ۔ فالحمد لله اولاً و آخراً !
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی جون ۲۰۰۸ء ص ۳۳ تا ۳۷)
کاروان ختم نبوت رواں دواں ، مزید چھیالیس ختم نبوت کانفرنسوں کی رپورٹ
مرزا قادیانی ملعون ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو فی النار السقر ہوا۔ اس حوالہ سے قادیانی صد سالہ خلافت جشن منانے کے درپے ہوئے ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان کے شر انگیز پروگرام کا نوٹس لیتے ہوئے ایک سو ختم نبوت کانفرنسیں ملک بھر میں کرنے کا اعلان کیا ۔ بحمدہٖ تعالیٰ ۶۰ کانفرنسوں کی رپورٹ گزشتہ شمارہ میں شائع ہو چکی ہے ۔ مزید کانفرنسوں کی رپورٹ پیش خدمت ہے ۔
- ۶۱ ...... ۱۸؍اپریل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا محمد رضوان ، حضرت مولانا محمد رمضان کی
قیادت و سیادت میں جمعہ کو عظیم الشان اجتماع کا اہتمام کیا گیا۔ بلا مبالغہ ہزاروں کا اجتماع تھا۔ قبل از جمعہ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا ۔
- ۶۲ ...... ۱۹؍اپریل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مغل پورہ لاہور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ مولانا صاحبزادہ عبد الرحمن
صاحب نے صدارت فرمائی ۔ مولانا قاری جمیل الرحمن ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاری محمد اقبال ، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے بیانات ہوئے ۔ وسیع وعریض پنڈال انسانوں کے سمندر کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ متعدد قراء حضرات کی تلاوتوں اور شعراء کرام کی نعتوں سے رات گئے تک ایمان پرور نظارے رہے ۔
- ۶۳ ...... ۱۹، ۲۰، ۲۱؍اپریل کو سہ روزہ رد قادیانیت ریفریشر کورس حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی کے خلیفہ مجاز پیر طریقت حافظ
صغیر احمد دامت برکاتہم کی سربراہی میں جامع مسجد احسان المدارس میں منعقد ہوا ۔ آخری الوداعی تقریب پر عوامی اجتماع سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا ۔ پیر طریقت حضرت حافظ صاحب دامت برکاتہم نے ایمان پرور ، وجد آفریں دعائے خیر فرمائی ۔
- ۶۴ ...... ۲۳؍اپریل بعد از عشاء کو منڈی احمد آباد ضلع اوکاڑہ میں ختم نبوت کانفرنس جامعہ عثمانیہ میں منعقد ہوئی ۔ مولانا قاری عبد الستار
عثمانی ، مولانا زبیر فہیم ، مولانا سید محمد انور شاہ بخاری ، مولانا شاہد عمران عارفی ، مولانا عبد الرزاق مجاہد ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا ۔
- ۶۵ ...... ۲۳؍اپریل کو عصر پر جامعہ فاطمۃ الزہراء للبنات حجرہ شاہ مقیم ۔
- ۶۶ ...... ۲۴؍اپریل صبح کو جامعہ حنفیہ بصیر پور میں مولانا اللہ وسایا کے درس بھی ہوئے ۔
- ۶۷ ...... ۲۵؍اپریل کو علی پور ضلع مظفر گڑھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علی پور کے راہنماء مولانا قاری منیر احمد کے جامعہ میں عظیم الشان ختم نبوت
اجتماع منعقد ہوا ۔ مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبد الرشید غازی اور علاقہ بھر کی دینی شخصیات نے خطاب و شمولیت سے سرفراز کیا ۔
- ۶۸ ...... ۲۹؍اپریل جامعہ علی ابن ابی طالب قصور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملکی و غیر ملکی قراء ، نعت خواناں ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا
عبد الرزاق ، جناب معصوم انصاری ، سید زبیر شاہ ہمدانی ، مولانا قاری مشتاق احمد نے خطاب کیا ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۶۹....... ۳۰؍ اپریل بعد از عشاء جامع مسجد بھڑی رحمن شاہ ضلع حافظ آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا
محمد عارف شامی، مولانا اللہ وسایا اور علاقہ کے جید اکابر علماء نے خطاب کیا۔
- ۷۰....... یکم مئی کو راولپنڈی گلشن آباد میں یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد رمضان علوی کی جامع مسجد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا محمد طیب فاروقی، حضرت مولانا مفتی عبدالرحمن، حضرت مولانا ممتاز احمد کلیار، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
- ۷۱....... ۲؍ مئی احمد پور سیال ضلع جھنگ میں قبل از جمعہ و بعد از جمعہ دو اجلاس ختم نبوت کانفرنس کے منعقد ہوئے۔ مولانا غلام حسین، مولانا
اللہ وسایا، حضرت پیر طریقت مولانا عبدالقدوس ترمذی اور دیگر علماء کے بیانات ہوئے۔
- ۷۲....... ۶؍ مئی بعد از عشاء میزان چوک بدین سندھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت یادگار اسلاف مولانا
عبدالستار چاورڑا نے کی۔ مولانا محمد عبداللہ سندھی، مولانا محمد یعقوب مبلغ بدین، مولانا محمد عیسیٰ سموں، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی کے بیانات ہوئے۔
- ۷۳....... ۷؍ مئی بعد از عشاء کنری سندھ بخاری چوک میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد اسد اللہ حیدری، مولانا محمد
ہارون معاویہ، مولانا محمد نذر، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا سید عبداللہ مظہر شاہ، مولانا محمد اشفاق، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
- ۷۴....... ۸؍ مئی شادی ہال کے وسیع گراؤنڈ ٹنڈو اللہ یار سندھ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا پروفیسر مفتی حفیظ الرحمن، مولانا احمد
میاں حمادی، مولانا محمد عیسیٰ سموں، مولانا محمد نذر، مولانا محمد راشد محبوب، مولانا محمد مبین، مولانا قاری محمد کامران، مولانا خالد نثار، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
- ۷۵....... ۹؍ مئی جامع مسجد مرکزی خیر پور میرس میں جمعہ کے عظیم اجتماع سے ختم نبوت کے عنوان پر مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
- ۷۶....... ۹؍ مئی بعد از عشاء گمبٹ سندھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے یادگار اسلاف مولانا محمد میرک، مولانا قاری کامران،
مولانا صاحبزادہ عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا نعمت اللہ، مولانا محمد رمضان پھلپوٹو، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد فیاض مدنی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا اللہ وسایا اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔
- ۷۷....... گزشتہ دنوں کراچی کی سطح پر منعقد ہونے والی تحفظ ناموس رسالت کانفرنسز سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین جن
میں جانشین حضرت لدھیانوی شہید حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا فیاض احمد مدنی نے خصوصیت کے ساتھ شرکت کی اور شمع ختم نبوت کے پروانوں کو حضور ﷺ کی عظمت وحمیت کا درس دیا، اسلام اور نبی آخرالزمان ﷺ کے خلاف سازشیں کرنے والے ملکی اور غیرملکی عناصر کو بے نقاب کیا۔
۱۰؍مئی کو پہلی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسکاؤٹ کالونی میں بعد نماز عشاء منعقد ہوئی جس میں زینت القراء مولانا قاری احسان اللہ فاروقی نے اپنے مخصوص انداز میں تلاوت کلام پاک کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا رب نواز حنفی نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت ہمارا ایمان ہے، اس کے تحفظ کے لئے ہم اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری نے فرمایا کہ قادیانی گستاخان رسول کا سب سے بڑا گروہ ہے، اس کا بائیکاٹ کر کے ہمیں غیرت کا ثبوت دینا چاہئے ، آج ہم اپنے ایمانی جذبہ کے تحت ڈنمارک ، ناروے اور دیگر یورپین ممالک کے خلاف احتجاج کے لئے یہاں جمع ہیں اس سے بھی زیادہ اہم ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم مسیلمہ پنجاب کے جانشینوں کا تعاقب کریں۔ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے اختتامی خطاب فرمایا جس میں انہوں نے حاضرین کو فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے آگاہ کیا، اکابرین، علماء حق کے ایمان افروز واقعات سنا کر ان کے ایمان کو جلا بخشی۔ آخر میں حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری نے دعا فرمائی، اس طرح یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔
- ۷۸...... ۱۱؍ مئی بروز اتوار صبح دس بجے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر میں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کا تربیتی کنونشن رکھا
گیا جس میں الحمد للہ طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اپنے ایمانی جذبہ اور عشق رسالت مآب ﷺ کا ثبوت دیا۔ طلباء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کراچی جماعت کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اسلام کی سر بلندی کے لئے حضور ﷺ کی زندگی مبارک میں کفار ومشرکین کے خلاف جتنے معرکے ہوئے ان سب میں ۲۵۹ کے قریب صحابہ کرام ؓ نے جام شہادت نوش کیا مگر ایک جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لئے لڑی گئی جنگ میں بارہ سو صحابہ ؓ اور تابعین شہید ہوئے۔ اس سے کسی قدر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام میں جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف کس شدت کے ساتھ اقدام کی ضرورت ہے۔
طلباء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ اس دنیا میں ہر کام کی ابتداء ہے اور ایک انتہا ہے، سلسلۂ نبوت کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور انتہا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر جس طرح حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کوئی نبی نہیں اسی طرح حضور ﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں، جو حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، اسلام اس کو حرف غلط کی طرح مٹا دے گا، چنانچہ سیدنا صدیق اکبر ؓ نے اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا اور اس فتنہ کو ختم کیا، آج بھی ضرورت ہے کہ نوجوان طبقہ جس کے ہاتھ میں اس ملک و ملت کی باگ ڈور ہوگی وہ اپنی جوانی اپنے عظیم ترین نبی ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے صرف کردے، ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ تمام غیور مسلمان اپنے اسکول، کالج ، یونیورسٹی میں حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا ضرور کام کریں گے۔
- ۷۹...... ۱۱؍ مئی کو دوسری عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت کانفرنس بلدیہ ٹاؤن سعید آباد چاندنی چوک میں بروز اتوار بعد نماز عشاء منعقد
ہوئی ۔ جس کے لئے علاقہ بھر کے علمائے کرام نے بھر پور انداز میں تیاری کی اور پروگرام کا انعقاد کیا۔ الحمد للہ عوام و خواص کی ایک بہت بڑی تعداد نے پروگرام میں خوب دِلجمعی کے ساتھ شرکت کی، اسٹیج سیکریٹری کے فرائض جناب مفتی فیض الحق نے ادا کئے جب کہ مولانا قاری حق نواز اور دوسرے علماء کرام نے قراردادیں پیش کیں، تلاوتِ کلام پاک قاری احسان اللہ فاروقی نے کی حمد ونعت کے لئے حافظ محمد اشفاق تشریف لائے اور اپنے مخصوص انداز میں حمد باری تعالیٰ اور بارگاہ کونین میں ہدیۂ نعت پیش کیں۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ ختم نبوت کا عقیدہ ہمارا اجماعی عقیدہ ہے، عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے، آپ ﷺ کی ذات بابرکات کے بعد اگر کوئی دعویٰ نبوت کرتا ہے وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی انکوائری کے لئے حکومت نے جسٹس منیر کی سربراہی میں ایک کمیشن مقرر کیا تھا،
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس میں جسٹس ایم آر کیانی بھی شامل تھے، یہ اس دور کی بات ہے جب قادیانیوں کے خلاف زبان کھولنا سیدھے جیل جانے کے مترادف تھا مگر قربان جائیں ہم اپنے اکابرین کے کہ انہوں نے جیل تو قبول کی، پابند سلاسل تو ہوئے، مگر کسی موقع پر پیٹھ نہیں دکھائی بلکہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر اس کا مقابلہ کیا اور اپنی آنے والی نسل کو سبق دیا کہ سب کچھ قربان کیا جاسکتا ہے، سب سے دوستی ہو سکتی ہے مگر حضور ﷺ کے دشمن کو کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔
- ۸۰....... ۱۲؍ مئی کو تیسری تحفظ ناموس رسالت کانفرنس گلستان جوہر جامع مسجد عثمان غنی میں منعقد ہوئی اس کانفرنس سے خطاب کرتے
ہوئے مولانا سعید احمد جلال پوری نے کہا کہ ایمان، اسلام حضور ﷺ کی ذات گرامی ایک مسلمان کے لئے بہت بڑی نعمت ہے، اس نعمت کی قدردانی ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے، ہم اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے جتنا قریب کریں گے رحمتِ حق اتنا ہی ہمارے قریب ہوگی جو مسلمان حضور ﷺ کی ختم نبوت کی پاسبانی کا فریضہ ادا کرے گا۔ دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی سے سرفراز ہوگا۔ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ ہمارے اکابر نے ایسے مربوط اور منظم انداز میں اپنے دشمن کے خلاف تحریک چلائی کہ اس کو پنپنے نہیں دیا، آج قادیانی بھی اپنے سفر پر غور کریں کہ وہ کہاں سے چلے تھے اور آج کس پوزیشن میں ہیں؟ اور ہم بھی ان کو بتاتے ہیں کہ ہم نے سفر کس حال میں شروع کیا تھا اور آج الحمدللہ! ہمارا یہ سفر ترقی کے منازل طے کر رہا ہے اور ایسا ایک وقت آئے گا کہ انشاء اللہ! روئے زمین پر ایک بھی قادیانی تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملے گا۔
حضرت مولانا نے قادیانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: قادیانیو! اب بھی وقت ہے: غور کرلو اور مرزا غلام احمد قادیانی کے نجس و متعفن دامن کو چھوڑ کر حضور ﷺ کے حسین و جمیل اور معطر دامن سے وابستہ ہو جاؤ اس میں تمہاری فلاح و کامیابی ہے۔
- ۸۱....... ۱۳؍ مئی کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چوتھی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس گلشن حدید فیز ون جامع مسجد توحید میں منعقد
ہوئی، اس عظیم اجتماع میں مقامی لوگوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی اور پروگرام کو نہایت دلجمعی اور توجہ سے سنا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جامع مسجد توحید کے خطیب سابق ممبر صوبائی اسمبلی مولانا احسان اللہ ہزاروی نے صدارت کی جب کہ مقامی علماء کرام نے دیگر تمام امور کی نگرانی کی۔ کانفرنس کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے اس بات پر زور دیا کہ آج دنیا میں ہر انسان کامیابی کا متلاشی ہے وہ چاہتا ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں میری اولاد کا مستقبل بن جائے، سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کامیابی کہاں کی؟ کامیابی کس راستہ پر ہے؟ دنیا کی سب نعمتیں مل جانا کیا یہ کامیابی ہے؟ دنیا کی فنا ہو جانے والی راحتیں، آسائشیں ملنا یہ کامیابی کا مدار ہے؟ نہیں ہرگز نہیں! بلکہ دنیا اور آخرت کی کامیابی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دین اور احکامات کے ماننے میں ہے تمام دنیا مل جائے رب کی توحید پر ایمان نہیں، محمد ﷺ کی نبوت و رسالت اور ختم نبوت پر ایمان نہیں تو یہ دنیا، مال، متاع، عزت، شہرت کسی کام کی نہیں، یہ آنکھ بند ہوتے ہی بے وفائی کر جائے گی اور انجام کار آپ اپنے ہاتھ ملتے ہوئے گناہوں کی دلدل ہی میں غرق خائب اور خاسر ہو جائیں گے لہٰذا اس وقت کو قیمتی بنائیں سب سے اہم اور قیمتی کام حضور ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کا کام ہے، اس میں شریک ہو جائیں، رب بھی راضی اور رب کا حبیب ﷺ بھی راضی۔ پروگرام رات گئے تک جاری رہا، علاقہ بھر کے مسلمانوں اور محبین نے بہت خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۸۲...... ۱۴؍ مئی کو کراچی میں پانچویں ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد فیصل گلشن اقبال میں منعقد ہوئی۔ جو عشاء کے بعد سے رات گئے تک
جاری رہی۔ حضرت مخدوم القراء قاری احسان اللہ فاروقی کی تلاوت، مولانا اشفاق کی نظم اور مولانا اللہ وسایا کا خطاب ہوا۔
- ۸۳...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام ۱۵؍ مئی بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد بندر روڈ سکھر میں عظیم الشان تحفظ
ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت صاحبزادہ مولانا غلام اللہ ہالیجوی نے کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ پرویز لیگ کی حکومت ۱۹۷۳ء کے آئین سے تحفظ ناموس رسالت کا قانون حذف کرانا چاہتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ہی حذف کر دیا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہم موجودہ حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کی شرانگیزیوں پر نظر رکھیں۔ یہ قادیانیوں کا تخریب کار گروہ پاکستان اور اہل پاکستان کو مٹانے کے درپے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ اس کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے۔
کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈکٹیٹر حکمرانوں نے اپنے ظلم کی انتہاء کرتے ہوئے لال مسجد میں معصوم بچوں کو بلڈوز کیا۔ پوری قوم اس پر خاموش رہی سوائے چند حضرات کے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پورا ملک مہنگائی، بدامنی اور لوٹ مار کی لپیٹ میں ہے۔ قاری خلیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن رحمت دو جہاں ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ مولانا عبد الکریم ندیم نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کی نبوت مخصوص وقت مخصوص علاقہ کے لئے ہوتی تھی۔ لیکن حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت تمام انسانوں، جن، پرند، درند، حجر، شجر حتیٰ کہ کائنات کے اندر جو بھی چیز ہے۔ آپ ﷺ سب کے نبی ہیں اور قیامت تک کے لئے نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی کانے کالے دجال کو ہم منصب نبوت پر فائز ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
کانفرنس سے مولانا محمد اسعد تھانوی، مولانا بشیر احمد، مولانا پروفیسر ابو محمد، مولانا عبد العزیز قریشی پیر شریف و دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد حسین ناصر نے انجام دیئے۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں مولانا عبد اللطیف اشرفی، حافظ محمد زمان، محمد مبین اور دوسرے ساتھیوں نے بھر پور محنت کی۔
- ۸۴...... ۱۶؍ مئی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد طوبیٰ کوئٹہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم
نبوت کے مرکزی سیکرٹری جنرل مجاہد ملت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا حفیظ الرحمٰن، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبد الواحد، مولانا مفتی عبد الرزاق، مولانا قاری عبد الرحیم رحیمی نے خطاب کیا۔ علماء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہود و نصاریٰ کی ہر دور میں کوشش رہی ہے کہ امت مسلمہ کا رشتہ رسول اکرم ﷺ سے منقطع کر دیا جائے۔ تقریباً ایک صدی قبل مرزا غلام احمد قادیانی کو اسی مشن کے لئے کھڑا کیا گیا۔ لیکن علماء امت نے اس کے دجل و فریب کا پرچہ چاک کر کے اس کے کفر کو پوری دنیا میں ننگا کر دیا۔
- ۸۵...... ۱۷، ۱۸؍ مئی کو دو روزہ کوئٹہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا شریف اللہ نے کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ استاد العلماء مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں قادیانیت کے فتنے کے سدباب کے لئے کام کریں۔ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے بغیر ہمارے مسائل میں کوئی کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے مقدس خون کا صدقہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے کہ قادیانی ارتداد کے خلاف پوری دنیا میں کام پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت کا شجرہ نسب یہودیت سے ملتا ہے اور قادیانی جماعت کے اسرائیلی حکام سے خطرناک حد تک خفیہ مراسم ہیں۔ قادیانی ملت اسلامیہ کے لئے ناسور ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا محمد زکریا نے فرمایا تھا کہ اگر کسی بستی، محلے، بازار اور شہر میں کوئی مسلمان قادیانی ہوا یا ارتداد کا شکار ہوا تو اس بستی کے علماء پر ذمہ داری عائد ہوگی اور گناہگار ہوں گے۔ روز محشر ان کی پکڑ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کے دور میں قادیانیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
سابق رکن قومی اسمبلی شیخ الحدیث مولانا نور محمد نے کہا کہ فتنہ قادیانیت کے سدباب کے لئے علماء دیوبند نے تاریخی کردار ادا کیا۔ مولانا سید انور شاہ کشمیری نے فتنہ قادیانیت کے خلاف آواز بلند کی اور جھنڈا امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو دیا اور حضرت کشمیری کے شاگرد علامہ سید محمد یوسف نے قادیانیوں کے خلاف تحریک کی قیادت کی اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماء جامع مسجد بندر روڈ سکھر کے خطیب مولانا قاری خلیل احمد بندھانی نے کہا کہ قادیانی آئین پاکستان سے مسلسل انحراف کر رہے ہیں اور وہ اسلام کا ٹائٹل استعمال کر کے مسلمانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ سیاسی قوتوں کو قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نصاب سے غیر اسلامی مواد خارج کیا جائے۔ عقیدہ ختم نبوت کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی نے کہا کہ ختم نبوت دین کی اساس ہے اور امت کی بقاء ختم نبوت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تبلیغی جماعت کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت واحد دینی تحریک ہے جو ملکی سیاست اور مناقشات سے بالا تر ہو کر اقامت دین اور مسئلہ ختم نبوت کی حفاظت کر رہی ہے۔
مجلس کے صوبائی امیر مولانا عبدالواحد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی چناب نگر میں دن رات امتناع قادیانیت ایکٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور چناب نگر کے ارد گرد مہنگے داموں وسیع رقبے خرید کر خالص اسرائیلی کی طرز پر اپنی ریاست قائم کرنے کی طرح منصوبہ بندی پر عمل کر رہے ہیں۔ مجلس ملک وملت کے خلاف قادیانی سازشوں کو ناکام بنا دے گی اور اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ قادیانیوں کو اپنی اسلامی و آئینی حیثیت تسلیم کر لینی چاہئے۔ ورنہ محاذ آرائی کی موجودہ کیفیت ختم نہیں ہو سکتی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی برطانوی حکومت کا خود کاشتہ پودا ہے۔ انگریزوں نے اس کی آبیاری کی ہے۔ مرزا قادیانی نے جہاد کو حرام قرار دیا۔ لیکن آج دنیا میں جہاد کا احیاء ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی صد سالہ جشن منا رہے ہیں۔ لیکن دنیا میں آج تک اپنی حکومت قائم نہیں کر سکے۔ ناکام و نامراد ہوتے ہیں۔ آئندہ چند سالوں میں قادیانی دنیا میں نیست و نابود ہو جائیں گے۔
شیخ القرآن مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی نے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کو کامیاب بنانے پر علماء کرام اور بالخصوص مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے لئے جانی و مالی اور وقت کی قربانی دینا عین عبادت ہے۔ مبلغ مولانا محمد یوسف نقشبندی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت اتحاد امت کی داعی ہے اور ہم آئندہ بھی تمام مسلمانوں کو متحد کر کے قادیانیوں کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ مختلف قراردادیں منظور کی گئیں۔ جس میں قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قراردادیں مولانا قاری عبداللہ منیر نے پڑھی جو مندرجہ ذیل ہیں:
- ۸۶...... ۱۸؍مئی کو جامع مسجد لورالائی میں ضلعی ختم نبوت کانفرنس سے مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
راشد مدنی، مولانا محمد یوسف نقشبندی، مولانا ممتاز احمد شجاع آبادی، خطیب جامع مسجد لورالائی و دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
- ۸۷ ...... ۱۹ر مئی جامع مسجد فورٹ سنڈیمین میں ایک روزہ کانفرنس سے مندرجہ بالا مقررین نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے انتظامات حاجی
محمد عمر، حاجی محمد اکبر خان اور ان کے رفقاء نے انجام دیئے۔ کانفرنس کی صدارت استاذ العلماء مولانا اللہ داد کاکڑ نے فرمائی۔
- ۸۸ ...... ۲۰ر مئی بروز منگل کو مرکزی جامع مسجد ژوب میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا قاری خلیل احمد
بندھانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد یوسف نقشبندی، مولانا اللہ داد کاکڑ نے عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان پر خطاب فرمایا۔ کانفرنس کے انتظامات ختم نبوت ژوب کے امیر حاجی شیخ غلام حیدر اور جنرل سیکرٹری حاجی محمد اکبر، حاجی عبدالعزیز نے انجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۸ء ص ۲۹ تا ۳۶)
۲۶ر مئی ۲۰۰۸ء کو مرزا قادیانی کی موت کے سو سال پورے ہوئے۔ قادیانیوں نے صد سالہ جشن کا اعلان کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مرزا قادیانی اور قادیانیت کے کفر کا پردہ چاک کرنے کے لئے اس سال کی پہلی ششماہی میں ملک بھر میں ”یکصد ختم نبوت کانفرنسیں“ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ بقیہ کانفرنسوں کی رپورٹ یہ ہے۔ (ادارہ)
- ۸۹ ...... ۲۲ر مئی جمعرات جامع مسجد غلہ منڈی ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی کی زیر
صدارت منعقد ہوئی۔ مولانا سعد اللہ لدھیانوی، مولانا محمد رفیق، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا محمد معاویہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا محمد عالم طارق کے رات گئے تک ایمان پرور بیانات ہوئے۔ اگلے روز جمعہ کو جامع مسجد غلہ منڈی میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
- ۹۰ ...... ۲۴ر مئی کو سرائے نورنگ میں ختم نبوت کانفرنس سے حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا محمد اسماعیل، مولانا عبدالستار
اور دیگر علماء کرام کے بیانات ہوئے۔
- ۹۱ ...... ۲۵ر مئی کو مرکزی جامع مسجد کوہاٹ میں ختم نبوت کانفرنس حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ مولانا محمد
اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا عزیز الرحمن ثانی اور دیگر علماء کرام کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔
- ۹۲ ...... ۲۶ر مئی دس بجے دن اسلام آباد، راولپنڈی کے علماء کرام کا کنونشن منعقد ہوا۔ حضرت مولانا خواجہ صاحبزادہ عزیز احمد صاحب
نے صدارت فرمائی۔ خطیب اسلام مولانا سید عبدالمجید ندیم، حضرت مولانا ظہور احمد علوی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب فاروقی، حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف دامت برکاتہم، حضرت مولانا عبدالمجید ہزاروی، حضرت مولانا عبدالوحید قاسمی اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
- ۹۳ ...... ۲۶ر مئی بعد از عشاء جامعہ حنفیہ، جامع مسجد گنبد والی جہلم میں یادگار اسلاف حضرت مولانا قاری حبیب احمد عمر کی زیر سرپرستی ختم
نبوت کانفرنس سے مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
- ۹۴ ...... ۲۶ر مئی بعد از عشاء جامع مسجد اے بلاک سرگودھا میں عظیم الشان اور مثالی ختم نبوت کانفرنس کا حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی،
حضرت مولانا محمد رمضان، حضرت مولانا محمد رضوان نے اہتمام کیا۔ دس ہزار سے زائد حضرات نے کانفرنس میں شرکت کی۔ شہر و ضلع کے جید اکابر علماء نے شرکت سے ممنون کیا۔
- ۹۵ ...... ۲۸ر مئی مری۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۹۶...... ۲۹ مئی ٹیکسلا ۔
- ۹۷...... ۳۰ مئی قلندر آباد، اسلام آباد ۔
- ۹۸...... ۳۰ مئی ہری پور ہزارہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ملک بھر کی دینی قیادت کے نمائندگان نے خطاب فرمایا۔
- ۹۹...... ۳۱ مئی کو لاہور میں جمعیت علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے جمعیت علماء
اسلام کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عبدالغفور حیدری، مرکزی ناظم اطلاعات حضرت مولانا محمد امجد خان، جنرل سیکرٹری پنجاب مولانا افتخار احمد حقانی، سیکرٹری اطلاعات پنجاب مولانا قاری مفتی محمد عثمان، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محبوب الٰہی اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
- ۱۰۰...... یکم / جون کو جامع مسجد محمود ریلوے کالونی فیصل آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری،
مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا فقیر اللہ اختر، اورنگزیب اعوان، حضرت مولانا حق نواز خالد، مولانا ضیاء الدین آزاد، حضرت مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔ حافظ صاحبزادہ مبشر محمود، صاحبزادہ شاہد محمود، مولانا قاضی عبدالخالق نے بھر پور انتظام کیا۔
- ۱۰۱...... ۶ / جون کو حضرت مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب سومرو سینیٹر کی زیر قیادت جمعیت علماء اسلام نے عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
کا لاڑکانہ کے بازار میں اہتمام کیا۔ پروفیسر مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا اللہ وسایا ملتان کے بیانات ہوئے۔ رات گئے حضرت ڈاکٹر صاحب کی دعاء و اختتامی خطاب پر کانفرنس کامیابی و کامرانی سے بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
وسط جون سے انشاء اللہ العزیز حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، حضرت مولانا محمد مبین، حافظ محمد اقبال، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمود حسن کے پروگرام برطانیہ میں شروع ہو رہے ہیں۔ جولائی کے اواخر میں پورے برطانیہ کے تبلیغی دورہ کے بعد عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں پوری آب و تاب سے منعقد ہوگی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری امیر مجلس کراچی، اقراء روضۃ الاطفال کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی خالد محمود اور دیگر حضرات پاکستان سے بطور خاص شریک ہوں گے۔ جب کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان، جمعیت علماء برطانیہ، جمعیت علماء ہند، امریکہ، افریقہ، یورپ، بنگلہ دیش کی قیادت کی بھی حسب سابق شرکت ہوگی۔ (ان شاء اللہ العزیز)
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۸ء ص ۳۳، ۳۴)
- ۱۰۲...... ۶ / جون بعد نماز عشاء، عبداللہ مؤمن مسجد جیمس آباد سندھ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع
آبادی، مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا محمد عبداللہ میر پور خاص نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
- ۱۰۳...... ۷ / جون جامع مسجد عمر فاروق ڈگری سندھ میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد علی صدیقی اور
مولانا غلام مصطفیٰ نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں قادیانیوں کی نام نہاد صد سالہ جشن خلافت میں کھویا کیا اور پایا کیا کے عنوان پر خطابات ہوئے۔
- ۱۰۴...... ۸ / جون کو جامع مدینہ مسجد گلارچی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حکیم مولوی محمد عاشق نے کی۔ کانفرنس سے مولانا
عبداللہ سندھی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد یونس، مولانا قاری محمد کامران کے خطابات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۰۵...... ۹؍ جون جامع مسجد ماتلی میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کے انتظامات مولانا محمد ابراہیم صدیقی، اعجاز احمد سکھانوی نے کئے۔
کانفرنس سے مولانا عبداللہ سندھی کھوسکی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا شفیق الرحمان، قاری محمد قاسم، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا گل حسن کے بیانات ہوئے۔
- ۱۰۶...... ۱۰؍ جون جامع مسجد کڈھن میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا صبغت اللہ جوگی،
مولانا اللہ بخش، مولانا نذر محمد نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا انتظام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام نے مشترکہ طور پر کیا۔ کانفرنس کی نگرانی سندھ کے مرد قلندر مولانا عبدالستار چاوڑہ نے کی۔
احتجاجی مظاہرہ:
۱۱؍ جون ظہر سے عصر تک گلارچی میں قادیانیوں کی جارحانہ سرگرمیوں کے خلاف بدین احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ جس میں مولانا صبغت اللہ جوگی، مولانا محمد عیسیٰ، مولانا عبدالستار چاوڑہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے ولولہ انگیز خطابات ہوئے۔
- ۱۰۷...... ۱۵؍ جون جامع مسجد الصادق بہاولپور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی
ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، جمعیت علماء اسلام سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا سید محمد مظہر الاسعدی، مولانا محمد اسحاق ساقی کے علاوہ دیگر کئی ایک علماء کرام نے خطاب کیا۔
- ۱۰۸...... ۲۸؍ جون مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں گوجرانوالہ میں حافظ محمد ثاقب کی نگرانی میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد
ہوئی۔ جس میں جمعیت اہل حدیث کے مولانا محمد حنیف یزدانی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عطاء اللہ سرگودھا، قاری گلزار احمد، مولانا محمد عارف شامی، مولانا فقیر اللہ اختر نے خطاب کیا۔
علاوہ ازیں ملک بھر میں چھوٹے چھوٹے بیسیوں اجتماعات منعقد ہوئے۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے قادیانیوں کی نام نہاد خلافت کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تقابل پیش کیا۔ نیز قادیانیوں کی ملک وملت دشمن سرگرمیوں کا نوٹس لیا۔ جماعتی رفقاء اور دین دار حلقوں نے مجلس کے اجتماعات میں کثرت کے ساتھ شرکت کر کے تحریک ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عقیدت کا ثبوت دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۸ء ۳۲، ۳۳)
تین روزہ رد قادیانیت کورس گلشن عثمان رحیم یار خان
ضلع رحیم یار خان مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت قاضی عزیز الرحمن دامت برکاتہم کے حکم سے ضلع بھر میں جن جن علاقوں میں قادیانیت کے اثرات ہیں۔ ان علاقوں میں تین روزہ رد قادیانیت کورس کی ترتیب دے دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا پروگرام گلشن عثمان محترم ڈاکٹر ثناء اللہ صاحب کے گھر پر ہوا۔ جنہوں نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے خوب ورک کیا۔ انتہائی کامیاب کورس ہوا۔ تینوں روز کورس میں ایک صد سے زائد خواتین اور بیسیوں مرد حضرات تشریف لاتے رہے۔ خواتین کے لئے بہترین پردے کا انتظام تھا۔ تینوں روز ضلعی مبلغ مفتی محمد راشد مدنی نے عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری، مرزا قادیانی کا گھناؤنا کردار، جیسے مضامین پر پرمغز بیانات فرمائے۔ جنہیں قلمبند کرنے کے لئے تمام شرکائے کورس کو کاغذ، قلم مفت مہیا کئے گئے تھے۔ درس کے بعد سوالات کی نشست میں جوابات دیئے جاتے رہے۔ آخری روز مفتی مختار احمد مدظلہ کے اختتامی کلمات اور دعا پر کورس کا اختتام ہوا۔ تمام شرکاء میں جماعت کی طرف سے مختلف اقسام پر مشتمل لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۸ء ص ۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تین روزہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیراہتمام جامع مسجد سنہری میں تین روزہ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں دوسو سے زائد طلباء نے شرکت کی۔ کورس میں مناظر اسلام مولانا پروفیسر حفیظ الرحمن ٹنڈوآدم نے قادیانیت کے موضوع پر لیکچر دیئے۔ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت وعقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان عقائد پر قادیانیوں کی طرف سے ہونے والے شبہات کے جوابات احسن انداز میں دیئے۔ مزید براں انہوں نے مرزا قادیانی کے گھناؤنے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ جب کہ ردعیسائیت کے موضوع پر رحیم یار خان سے تشریف لائے ہوئے مبلغ ختم نبوت مفتی محمد راشد مدنی نے عیسائیوں کے مختلف عقائد کی وضاحت کی۔ انہوں نے عقیدہ تثلیث، عقیدہ ابنیت مسیح، عقیدہ الوہیت مسیح، عقیدہ کفارہ، عقیدہ صلیب جو کہ مروجہ عیسائیت کے بنیادی عقائد ہیں۔ ان کو قرآن مجید اور بائبل کی رو سے رد کیا اور دلائل سے واضح کیا کہ موجودہ عیسائیت کو بجائے عیسائیت کے پولوسیت کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ مزید انہوں نے تحریف بائبل کو بزبان بائبل ثابت کیا اور انجیل برنباس پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ دریں اثناء انہوں نے بائبل سے حضور ﷺ کے متعلق بشارات کا تذکرہ کیا اور ثابت کیا کہ بائبل باوجود تحریف کے آج بھی حضور ﷺ، مذہب اسلام، قرآن مجید اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تذکروں سے لبریز ہے۔ تمام طلباء نے کورس کو قلمبند کیا۔ کاپی اور قلم تمام طلباء کو جماعت کی طرف سے مہیا کیا گیا۔ کورس میں (مولانا) محمد یوسف نقشبندی نے طلباء کو خصوصی لیکچر دیا۔
کورس کے اختتام پر جماعت کی طرف سے تمام طلباء کو لٹریچر اور احتساب قادیانیت جلد پندرہ پیش کی گئی۔ اختتامی تقریب جو کہ دفتر ختم نبوت کوئٹہ میں ہوئی۔ تقریب سے امیر جماعت ختم نبوت کوئٹہ مولانا عبدالواحد، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبداللہ منیر، قاری عبدالرحیم رحیمی، جناب حاجی تاج محمد، جناب ملک فیاض، حاجی خلیل احمد اور دیگر حضرات نے شرکت کی اور کورس کے طلباء کو ختم نبوت کے کام کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اختتامی دعاء مولانا عبدالواحد نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۸ء ص ۴۶)
رد قادیانیت کورس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تیسرا سالانہ تربیتی کورس رد قادیانیت بخاری ہال دفتر دارالعلوم ختم نبوت کنگنی والا گوجرانوالہ میں ہوا۔ کورس میں مختلف اسکولوں کے میٹرک کے طلباء کو موسم گرما کی چھٹیوں میں تیاری کرائی جاتی ہے۔ کورس ضلع گوجرانوالہ کے امیر الحاج حافظ شیخ بشیر احمد، نائب امیر الحاج عثمان عمر ہاشمی، سیکرٹری جنرل قاری محمد یوسف عثمانی، رکن مرکزی شوریٰ الحاج حافظ نذیر احمد کی زیر نگرانی اور مرکزی مبلغ مولانا حافظ محمد ثاقب کی زیر سرپرستی ہوا۔ کورس میں مختلف علمائے کرام، مناظرین، مبلغین، پروفیسر صاحبان اور اساتذہ نے متعلقہ موضوعات پر لیکچر دیئے۔ ان میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا محمد عارف شامی، مولانا غلام مرتضیٰ، پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد احمد شیخ، گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے پروفیسر علامہ محمد منیر کھوکھر، گورنمنٹ کالج قلعہ دیدار سنگھ کے پروفیسر طارق محمود کھوکھر، ضلعی نائب امیر مولانا حافظ محمد ارشد، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا قاری منصور احمد، مولانا مفتی محمد نعمان، مولانا حافظ عمر صدیق، مولانا صلاح الدین حنیف، مولانا محمد اقبال نعمانی، مولانا عبدالرؤف فاروقی اور مولانا مفتی رشید احمد علوی شامل ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۸ء ص ۳۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رد قادیانیت کورس رحیم یار خان نورے والی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رحیم یار خان کے زیر اہتمام نورے والی میں چھ روزہ رد قادیانیت کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے لئے اوّلاً تمام مکاتب فکر کا اجلاس طلب کیا گیا۔ اجلاس کے تمام شرکاء نے کورس کی اہمیت کے پیش نظر اس کورس کو جلد از جلد کروانے کی ترغیب دی۔ محترم مولانا محبوب الرحمن، مولانا عبید اللہ، جناب محمد اصغر کاہلوں، راشد علی، محمود الحسن کی شبانہ روز محنتوں کی وجہ سے کورس میں پانچ سو سے زائد مرد حضرات اور خواتین نے شرکت کی۔ خواتین کے لئے پردہ میں علیحدہ انتظام تھا۔ ڈھائی صد سے زائد خواتین کورس میں شریک رہیں۔ شرکائے کورس کو کاغذ قلم جماعت کی طرف سے مہیا کیا گیا۔
چھ روز مقامی مبلغ ختم نبوت مفتی محمد راشد مدنی لیکچر دیتے رہے۔ جس میں حقانیت اسلام، عقیدہ ختم نبوت، رد قادیانیت، عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام، عقیدہ آمد حضرت مہدی علیہ الرضوان، قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان فرق، جیسے اہم مضامین پر لیکچر دیئے گئے۔ الحمد للہ ! اس کورس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ کئی قادیانی نواز قادیانیت نوازی سے تائب ہو چکے ہیں اور علاقہ بھر میں قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ شروع ہوچکا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۸ء ص ۲۵)
۲۳ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے تیئیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم (برطانیہ) ۲۰/ جولائی ۲۰۰۸ء کو اتوار کے دن سینٹرل جامع مسجد ۱۸۰ بلگریو روڈ برمنگھم میں منعقد ہوئی۔ اس کی تیاری کے لئے مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان سے اشتہارات پہلے ارسال کر دیئے گئے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ کے مبلغ مولانا محمود الحسن نے ڈاک کے ذریعہ برطانیہ کے طول وعرض کی اہم مساجد ومراکز میں انہیں پہنچا دیا۔
۱۴/ جون ۲۰۰۸ء کو مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب پاکستان سے تشریف لائے۔ مولانا محمود الحسن کو برمنگھم روانہ کیا کہ وہ ۱۸ جولائی کے خطبہ جمعہ کے لئے مساجد کمیٹیوں اور ائمہ مساجد سے بات کر لیں تاکہ کانفرنس کے مدعوئین شہر کی جامع مساجد میں خطبہ کے ذریعہ اپنی آواز برمنگھم کے اسلامیان تک پہنچاسکیں اور کانفرنس میں شرکت کے لئے ان کو دعوت دی جاسکے۔
۲۲/ جون کو فقیر راقم الحروف (مولانا اللہ وسایا) سعودیہ سے لندن پہنچا۔ ۲۴/ جون کو برطانیہ کے طول وعرض کا دورہ کرنے کے لئے مولانا محمد متین، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا محمود الحسن اور راقم پر مشتمل چار رکنی وفد نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ پہلی میٹنگ رادھرم میں برطانیہ کے بزرگ رہنما اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے محسن حضرت مولانا مفتی محمد اسلم صاحب سے ہوئی۔ مولانا صاحبزادہ محمد انور اور ان کے صاحبزادہ محمد سفیان بھی ملاقات کے لئے شیفیلڈ سے تشریف لائے۔ سفر کی ترتیب اور کام کا نقشہ تیار ہوا، رات کو قیام بریڈ فورڈ میں ہوا۔
مدنی مسجد بریڈ فورڈ کے خطیب اور برطانیہ کے معروف عالم دین مولانا محمد ابراہیم صاحب کے ساتھ ۲۵/ جون سے مختلف شہروں میں دورہ، ملاقاتیں، دعوتی مہم اور اعلانات و بیانات کا سلسلہ شروع ہوا، پہلے روز ڈیوزبری، باٹلے کے علماء کرام مولانا عبد الرؤف خطیب مرکزی جامع مسجد، مولانا یوسف ماما، مولانا محمد یعقوب، مولانا عبدالرشید سے ملاقاتیں، تقسیم اشتہار اور اعلانات ہوئے، اسی روز بعد از مغرب راچڈیل میں مدرسہ تعلیم الاسلام کی جامع مسجد میں بیان ہوا، مولانا حافظ عبد المالک، مولانا محمد اکرام، مولانا حضرت علی سے ملاقاتوں اور دعوت دینے کا کام مکمل کیا۔ اگلے روز اولڈہم کی مساجد میں اعلان و بیان، ڈیوزبری میں استاذ الحدیث مولانا محمد بلال مظاہری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے ملاقات ہوئی۔ دارالعلوم ہولکمب بری کے مہتمم اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف متالا سے ملاقات و دعائیں لینے کے لئے وفد حاضر ہوا۔
اگلے روز جمعہ کو بریڈ فورڈ کی مختلف مساجد میں جمعہ کے خطابات ہوئے۔ بلال مسجد، عمر مسجد وڈا سٹریٹ اور مدنی مسجد میں ہزارہا لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے روشناس کرایا گیا۔ فالحمد للہ! اسی روز ہزلنگٹن اور بلیک برن کی مختلف مساجد میں عصر، مغرب وعشاء پر بیانات واعلانات کا فریضہ سرانجام دیا۔
۲۸/ جون بروز ہفتہ کو ہیڈرسفیلڈ کا ظہر سے قبل سفر ہوا، قاری محمد عثمان جالندھری ایڈووکیٹ، مولانا جمیل احمد بندھانی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ہیڈرسفیلڈ سے قافلہ کی تشکیل کا وعدہ فرمایا۔
۲۸/ جون بعد از ظہر مدنی مسجد میں جلسہ عام ہوا، عصر پر مسجد نورالاسلام میں بیان ہوا، مولانا اشرف علی بنگالی سے ملاقات ہوئی۔
۲۹/ جون کو بعد از ظہر مسجد ابوبکر میں جلسہ عام ہوا، قباء مسجد میں اعلان و بیان ہوا۔
۳۰/ جون کو حافظ محمد تمکین چھٹیاں ختم ہونے کے باعث واپس تشریف لے گئے، ہمارے سہ رکنی وفد کو محترم محمد ارشد صاحب نے برنلے پہنچایا، جناب عزت خان، مولانا سید اسد میاں، مولانا عزیز الحق کے ذریعہ برنلے کی تمام مساجد میں اعلان و بیان ہوئے۔
برنلے، چارلی، پرسٹن، بولٹن میں جناب عزت خان، مولانا سید اسد میاں، جناب احمد واعظ کے ذریعہ اعلان و بیان ہوئے۔ یہاں تین روز قیام رہا۔ جمعرات کو سکلٹن کے لئے روانہ ہوئے، اسی روز مولانا محمد تمکین صاحب کارڈف سونزی کا سفر ہوا۔
۴/ جولائی کو چار مساجد میں وفد کے ارکان نے خطبہ جمعہ دیا۔ مولانا قاری غلام نبی، قاری مولانا عبدالرزاق رحیمی، مولانا مفتی ممتاز صاحب نے بھر پور تعاون و میز بانی کی۔
اسی روز کو سکلٹن واپسی ہوئی، اگلے روز ۵/ جولائی سکنتھوپ، ڈنکاسٹر میں اعلان و بیانات ہوئے۔
۶/ جولائی شیفیلڈ کی تمام مساجد میں اعلان و بیانات ہوئے، شام کو اسلامک سینٹر برنلے واپسی ہوئی۔
۷/ جولائی کو مانچسٹر اور ۸/ جولائی کو اسکاٹ لینڈ کا سفر ہوا۔
۹، ۱۰/ جولائی ایڈنبرا باتھ گیٹ میں حاضری ہوئی۔
۱۱/ جولائی کو سٹرلنگ میں مولانا محمود الحسن اور اوول میں صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، فقیر راقم، صاحبزادہ سعید احمد صاحب حاضر ہوئے اور خطبات جمعہ ہوئے۔
۱۲/ جولائی کو گلاسگو کی مرکزی جامع مسجد میں شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا حبیب الرحمن، جناب صابر، حاجی محمد صادق نے بھر پور طریقہ پر کانفرنس کو کامیاب بنانے میں مثالی کردار ادا کیا۔
۱۳/ جولائی کو مانچسٹر میں علامہ خالد محمود صاحب کی زیر صدارت مولانا مفتی فیض الرحمن کی زیر قیادت سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ اسی روز شام کو صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، صاحبزادہ سعید احمد، فقیر راقم برمنگھم پہنچے۔
مولانا محمود الحسن مانچسٹر اور ہیڈرسفیلڈ اعلان و بیان ترتیب قافلہ کے لئے رک گئے۔ برمنگھم کی مساجد، کوونٹری، وال سال، ڈارلٹن، ولورہمپٹن، گلاسگو، ڈربی، رگبی، ننیٹن، لیسٹر میں اعلان و بیان کے لئے علیحدہ علیحدہ وفود نے دورہ کیا۔ ایک وفد میں فقیر راقم، مولانا محمود الحسن، مولانا خورشید، حاجی معصوم خان اور دوسرے وفد میں مولانا محمد تمکین، صاحبزادہ عزیز احمد، صاحبزادہ سعید احمد، مولانا خلیل الرحمن
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شامل تھے۔ اسی ہفتہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی خالد محمود، مولانا سعید احمد جلال پوری، محمد وسیم غزالی، قاری عبدالملک، قاری فیض اللہ چترالی، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، قاری محمد ایوب تشریف لائے۔ مولانا مفتی سہیل احمد نے لندن میں ان حضرات کا استقبال کیا اور پروگرام ترتیب دیئے۔ چنانچہ لندن، سلاؤ، ساؤتھ ہمٹن وغیرہ میں ان حضرات کے بیان ہوئے۔
۱۷؍ جولائی جمعرات شام تمام مہمان حضرات برمنگھم تشریف لائے، اسی اثنا میں جامعہ اشرفیہ لاہور کے ناظم و استاذ مولانا فضل الرحیم، الحاج عتیق انور بھی تشریف لائے۔
۱۸؍ جولائی جمعہ کو سینٹرل مسجد میں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، جامع مسجد حمزہ میں مولانا فضل الرحیم، جامع مسجد نقیب الاسلام میں فقیر راقم، جامع مسجد برمنگھم المعروف صدام مسجد میں مولانا سعید احمد جلال پوری، جامع مسجد تبلیغ الاسلام میں مولانا مفتی خالد محمود، جامع مسجد قبا میں مولانا محمود الحسن، جامع مسجد عثمان میں مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، جامع مسجد عمر میں مولانا محمد نعیم نے خطبہ جمعہ سے قبل خطابات کئے، اسی روز جناب حاجی محمد معصوم اور حضرت مولانا خلیل الرحمٰن نے تمام بیرونی شہری علماء کو استقبالیہ دیا۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم کی سربراہی میں مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا محمد نعیم، مفتی خالد محمود، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے ۲۳ ویں سالانہ کانفرنس کے مقررین کی فہرست کو آخری شکل دی۔ صاحبزادہ رشید احمد صاحب بھی پاکستان سے تشریف لائے۔
۱۹؍ جولائی کو حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کا صومالی حضرات کی مسجد میں عربی میں خطاب ہوا۔ عصر سے مغرب تک جامع مسجد حمزہ میں ختم نبوت کا سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔ مولانا محمد نعیم اسٹیج سیکریٹری تھے۔ صاحبزادہ عزیز احمد مہمان خصوصی، مولانا محمود الحسن، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، فقیر راقم کے بیانات ہوئے۔ حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کی دعا پر اجلاس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
۲۰؍ جولائی کو تقریباً دس بجے ۲۳ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا آغاز ہوا، دونوں اجلاسوں کی صدارت حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمائی، پہلے اجلاس کے مہمان خصوصی مولانا محمد ایوب سورتی، مولانا شیخ احمد شیخ الحدیث ہاٹھ ہزاری چٹاگانگ بنگلہ دیش تھے، دوسرے اجلاس کے مہمان خصوصی مولانا فضل الرحیم تھے، دونوں اجلاسوں میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے انجام دیئے۔
اجلاس اوّل: دس بجے دن تا نماز ظہر۔
صدارت: حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ العالی نے کی۔ مہمان خصوصی: مولانا محمد ایوب سورتی، باٹلے اور شیخ الحدیث مولانا احمد شفیع، بنگلہ دیش۔ تلاوت: قاری قمر الزمان برمنگھم۔ قاری عبدالملک استاذ دارالعلوم کراچی۔ نعت: قاری عبدالماجد، گلاسگو۔ بیان: مولانا محمود الحسن مبلغ مجلس برطانیہ۔ نعت: ڈاکٹر شاہد محمود، لاہور۔ بیان: مولانا مفتی سہیل احمد، لندن۔ مولانا محمد اقبال رنگونی، مانچسٹر۔ ڈاکٹر علامہ خالد محمود، مانچسٹر۔
اجلاس دوم: ۲ بجے تا ساڑھے چھ بجے شام۔
صدارت: حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر۔ مہمان خصوصی: مولانا فضل الرحیم، لاہور۔ نعت: طاہر بلال چشتی۔ بیان: مولانا اشرف علی، بریڈفورڈ۔ انگلش: مولانا محمد ممتاز، لندن۔ انگلش: طٰہٰ قریشی، لندن۔ بیان اردو: مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، کراچی۔ مولانا نور الاسلام، ڈھاکہ۔ نعت: سید سلمان گیلانی۔ بیان: مولانا محمد ابراہیم، بریڈفورڈ۔ مولانا فضل الرحیم، جامعہ اشرفیہ لاہور۔ مولانا سعید احمد جلال پوری، کراچی۔ قراردادیں: مفتی خالد محمود، کراچی۔ بیان: راقم الحروف۔ بیان و دعا: مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، کراچی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحمد للہ! اس سال کانفرنس میں بھر پور حاضری تھی ، مجمع نے جم کر بیانات سنے اور بیانات بھی مجموعی طور پر موضوع کی مناسبت سے عمدہ تھے، موسم بھی بہت ہی مناسب تھا اور نظام بھی عمدہ تھا۔ الغرض امسال بھی گزشتہ سالوں کی طرح کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی ، رب کریم اس عظیم الشان کانفرنس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲ راگست ص ۵ تا ۷)
پندرھواں سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس چناب نگر
امسال رد قادیانیت وعیسائیت کورس ۶ تا ۲۶؍ شعبان المعظم ۱۴۲۹ھ مطابق ۹ تا ۲۹؍ اگست ۲۰۰۸ء کو چناب نگر میں منعقد ہوا۔ کورس کی کامیابی کے لئے تمام مبلغین نے بھر پور کوشش کی ۔ جامعات و مدارس میں خطاب کر کے زیادہ سے زیادہ طلبہ کرام کی شرکت یقینی بنائی۔ درج ذیل حضرات نے مختلف علاقوں میں دورے کئے۔ مولانا محمد طیب اسلام آباد، راولپنڈی ڈویژن، مولانا غلام مصطفیٰ سرگودھا ڈویژن، مولانا غلام حسین فیصل آباد ڈویژن، مولانا فقیر اللہ اختر گوجرانوالہ ڈویژن، مولانا عزیز الرحمان ثانی لاہور ڈویژن، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان ڈویژن، مولانا محمد اسحاق ساقی بہاولپور، مولانا محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاولنگر۔
اساتذہ کورس: مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا عبد القدوس خان، حاجی اشتیاق احمد جھنگ، مولانا زاہد الراشدی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی حفیظ الرحمن ٹنڈو آدم، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، مولانا محمد طیب اسلام آباد، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاولنگر۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۸ء ص ۴۹)
شرکاء کورس کے نام:
نمبر شمار نام و ولدیت ضلع نمبر شمار نام و ولدیت ضلع ۱ مسعود اختر بن مقبول اختر گوجرانوالہ ۲ محمد شفیق بن محمد اولیس نارووال ۳ صفی اللہ بن فضل محمود پشاور ۴ اکبر زمان بن حاجی تاج علی جنوبی وزیرستان ۵ سید فہد علی بن سید رحمت علی حیدرآباد ۶ محمد عمران غوری بن عبد الرشید حیدرآباد ۷ محمد منظور شاہ بن سید صفدر علی حیدرآباد ۸ محمد رمضان بن اللہ بخش وہاڑی ۹ محمد رضاء بن عبد الواحد راجن پور ۱۰ عتیق الرحمن بن محمد اشرف رحیم یار خان ۱۱ محمد شفیق بن گل بادشاہ لکی مروت ۱۲ امان اللہ بن نذیر احمد سندھ ۱۳ محمد سلیم بن حافظ اللہ دتہ بہاولپور ۱۴ حفیظ اللہ بن محمد نواز وہاڑی ۱۵ محمد طارق بن حاجی محمد بخش بہاولپور ۱۶ غلام اللہ بن محمد نامدار خوشاب ۱۷ عنایت اللہ بن مولانا محمد عمران پشاور ۱۸ گل احمد خان بن گلزیب خان دیر ۱۹ فضل عزیز بن عبد العزیز دالبندین ۲۰ ثناء اللہ بن حبیب اللہ رحیم یار خان ۲۱ محمد طاہر بن محمد رمضان بہاولپور ۲۲ محمد ابوبکر بن خدا بخش بہاولپور ۲۳ محمد محبوب بن رحمت خان بہاولپور ۲۴ اختر عباس بن دوست محمد چناب نگر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۵ بلال احمد بن افضال احمد لاہور ۲۶ محمود ذیشان بن محمد اسلم لاہور ۲۷ محمد کاشف بن محمد شفیق لاہور ۲۸ محمد سعید اللہ بن امیر محمد بھکر ۲۹ عبدالرب بن محمد اصغر بہاولپور ۳۰ عامر حسین بن عطاء اللہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۱ محمد رضوان بن یامین جہلم ۳۲ محمد اسماعیل بن محمد ابراہیم اٹک ۳۳ محمد سفیر کشمیری بن محمد نور آزاد کشمیر ۳۴ محمد معاذ بن محمد مظفر خان آزاد کشمیر ۳۵ طلعت محمود بن محمد نواز ہری پور ۳۶ خلیل الرحمن بن گلزار احمد فیصل آباد ۳۷ ناصر محمود بن محمد ارشد بہاولنگر ۳۸ محمد رفیق بن اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان ۳۹ طاہر محمود بن محمد بشیر گوجرانوالہ ۴۰ محمد نجم العارفین بن عبد الرشید ڈیرہ اسماعیل خان ۴۱ محمد صالح بن محبت حکیم بونیر ۴۲ تیمور بن محمد افضل چکوال ۴۳ سید برکات احمد بن سید شجاعت علی مانسہرہ ۴۴ عثمان غنی بن عاشق حسین مانسہرہ ۴۵ محمد زاہد آفتاب بن محمد اسلام قصور ۴۶ محمد عمران بن محمد سلیم قصور ۴۷ محمد اصغر بن محمد صدیق قصور ۴۸ محمد عثمان بن عاشق حسین کراچی ۴۹ محمد شہباز بن محمد ریاض فیصل آباد ۵۰ عبدالقدیر بن شیر دل خان کوہاٹ ۵۱ مختار احمد بن حافظ اللہ دتہ وہاڑی ۵۲ محمد ریاض بن محمد نواز خان شیخوپورہ ۵۳ محمد مدثر بن محمد مشتاق لاہور ۵۴ عمران بن خالق داد راولپنڈی ۵۵ جہانزیب عباسی بن محمد نیاز راولپنڈی ۵۶ محمد وقاص بن عبدالقیوم اسلام آباد ۵۷ نعمان بن غلام سرور راولپنڈی ۵۸ محمد کامران بن میر دراز خان بنوں ۵۹ محمد طیب بن عبدالستار پسرور ۶۰ حق نواز بن محمد یعقوب چنیوٹ ۶۱ محمد بلال بن قاری بشیر احمد فیصل آباد ۶۲ عتیق الرحمن بن رانا منصب علی بھکر ۶۳ محمد شرافت بن محمد حنیف خانیوال ۶۴ محمد اسحاق بن محمد لقمان مظفر گڑھ ۶۵ محمد حفیظ الرحمن بن خدا بخش مظفر گڑھ ۶۶ تجمل حسین بن محمد اسلم مظفر گڑھ ۶۷ محمد شعیب بن محمد عبداللہ شجاع آباد ۶۸ محمد ذیشان بن رشید احمد عمر کوٹ ۶۹ اظہر معاویہ بن غلام رسول عمر کوٹ ۷۰ کلیم احمد بن شوکت علی مظفر گڑھ ۷۱ محمد اشرف بن سیف اللہ کوٹ ادو ۷۲ عمران بن اخلاق احمد کمالیہ ۷۳ امداد اللہ غالب بن حاجی فیض رسول فیصل آباد ۷۴ محمد وسیم بن عبد الجبار حافظ آباد ۷۵ حبیب الرحمن بن محمد جمیل فیصل آباد ۷۶ محمد آصف بن غلام سرور ایبٹ آباد ۷۷ محمد نسیم عثمانی بن بشیر احمد بھکر ۷۸ عبدالواحد بن عبدالواحد چکوال ۷۹ فیصل احسان بن احسان الحق چکوال ۸۰ عبدالرحمن بن عبدالقادر منڈی بہاؤالدین
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ۸۱ عرفان علی بن دلاور حسین ٹوبہ ٹیک سنگھ ۸۲ کامران بن اخلاق احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۸۳ ظہیر احمد بن حاجی نذیر احمد آزاد کشمیر ۸۴ محمد دین بن محمد عمر بلوچستان ۸۵ محمد جمیل بن نور محمد ساہیوال ۸۶ نوید احمد بن شوکت علی لاہور ۸۷ محمد اکرم بن حافظ محمد نذیر جھنگ ۸۸ عبدالرحمن بن محمد افضل بہاولنگر ۸۹ احسان الحق بن خان عابد حسین جھنگ ۹۰ دلاور حسین بن تفضل حسین ڈیرہ اسماعیل خان ۹۱ محمد یوسف بن محمد یعقوب شیخوپورہ ۹۲ محمد نصر اللہ بن عصمت اللہ جھنگ ۹۳ ظفر اللہ عاصم بن قاری عطاء اللہ جوہر آباد ۹۴ محمود الحسن بن قاری عبداللہ جوہر آباد ۹۵ محمد عامر بن حاجی مختار احمد جھنگ ۹۶ محمد عادل بن حاجی مختار احمد جھنگ ۹۷ محمد ساجد بن محمد عثمان مظفر گڑھ ۹۸ نذیر احمد بن شیر زمان ڈیرہ اسماعیل خان ۹۹ محمد زبیر بن محمد ناصر چنیوٹ ۱۰۰ محمد امین صابر بن ثناء اللہ بلتستان ۱۰۱ شہزاد احمد بن سیف علی مظفر آباد ۱۰۲ محمد عمران بن منصور احمد رحیم یار خان ۱۰۳ حبیب اللہ بن محمد رمضان اوکاڑہ ۱۰۲ محمد عرفان بن اصغر علی فیصل آباد ۱۰۵ محمد عدنان بن محمد احسان فیصل آباد ۱۰۲ محمد رحیم شیرانی بن گل شاہ خان بلوچستان ۱۰۷ ظفر محمود بن چوہدری غلام فرید مظفر گڑھ ۱۰۸ غلام مرتضیٰ بن بشیر احمد فیصل آباد ۱۰۹ راشد فاروق بن منظور حسین جھنگ ۱۱۰ محمد صفدر بن خدا بخش جھنگ ۱۱۱ وقار خان بن جوات خان طور شیخوپورہ ۱۱۲ عبدالقیوم بن محمد یوسف مانسہرہ ۱۱۳ محمد قیصر بن واحد نور شیخوپورہ ۱۱۴ محمد آصف بن غلام یاسین شجاع آباد ۱۱۵ محمد اسرار اللہ بن محمد عالم دین رحیم یار خان ۱۱۶ محمد ساجد بن محمد اشفاق بہاولپور ۱۱۷ عبید اللہ بن محمد امین فیصل آباد ۱۱۸ حبیب الرحمٰن بن عطاء الرحمٰن ضلع رحیم یار خان ۱۱۹ محمد سعید بن محمد ریاض لودھراں ۱۲۰ فضل الرحیم بن عبدالرحیم چترال ۱۲۱ محمد عمران بن محمد رمضان لاہور ۲۲۱ محمد کامران بن محمد دین لاہور ۱۲۳ محمد ساجد بن محمد اسلم لاہور ۱۲۴ محمد ایوب بن ملک غلام حسین شجاع آباد ۱۲۵ محمد ہاشم بن محمد حسین لودھراں ۱۲۶ غلام عباس بن لعل محمد ڈیرہ غازی خان ۱۲۷ محمد عارفین بن محمد صالحین چکوال ۱۲۸ سید مظفر محمود بن سید احمد شاہ مظفر گڑھ ۱۲۹ عبدالرؤف بن عبدالغفور مظفر گڑھ ۱۳۰ عالم شیر بن عبدالغفور ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۳۱ محمد احسان بن منور علی خانیوال ۱۳۲ محمد راشد بن ممتاز حسین ملتان ۱۳۳ محمد عمران بن غلام نبی ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۳۲ ذوالفقار علی بن محمد اکرم فیصل آباد ۱۳۵ زاہد اللہ خان بن لطیف اللہ جان پشاور ۱۳۶ محمد سجاد بن محمد اقبال بہاولپور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۳۷ محمد ارشاد بن عبدالعزیز بہاولپور ۱۳۸ محمد صہیب بن حاجی سمیع اللہ بہاولپور ۱۳۹ محمد زاہد بن محمد ممتاز بہاولپور ۱۴۰ محمد عاصم بن عبدالستار ملتان ۱۴۱ محمد شعیب بن حاجی نصیر احمد خیر پور ٹامیوالی ۱۴۲ محمد ممتاز بن محمد رمضان وہاڑی ۱۴۳ محمد عابد بن محمد منیر شاہکوٹ ۱۴۴ فیصل الطاف بن محمد الطاف گوجرانوالہ ۱۴۵ محمد عمر فاروق بن محمد صدیق فیصل آباد ۱۴۶ محمد رمضان بن سلطان احمد ساہیوال ۱۴۷ نوید احمد بن نذیر احمد فیصل آباد ۱۴۸ محمد ایاز بن محمد شبیر مظفر گڑھ ۱۴۹ ضیاء الرحمن بن محمد قاسم مظفر گڑھ ۱۵۰ محمد عدنان بن محمد رمضان شاہکوٹ ۱۵۱ محمد طاہر بن عبدالغفور مظفر گڑھ ۱۵۲ ولی محمد بن عبدالحلیم مظفر گڑھ ۱۵۳ محمد عمر فاروق بن غلام سرور مظفر گڑھ ۱۵۴ فاروق احمد بن اللہ ڈیوایا مظفر گڑھ ۱۵۵ محمد یامین بن گلزار احمد مظفر گڑھ ۱۵۶ محمد حسان بن بلال احمد علی پور ۱۵۷ محمد اسحاق بن غلام عباس علی پور ۱۵۸ محمد مقصود بن لیاقت علی لاہور ۱۵۹ راحیل بن احسن عظیم رحیم یار خان ۱۶۰ خلیل الرحمن بن محمد حنیف فیصل آباد ۱۶۱ محمد عطاء الحسن بن قاری محبوب الٰہی جھنگ روڈ ۱۶۲ اختر محمود بن عبداللطیف بہاولنگر ۱۶۳ محمد شاہد بن حاجی محمد یاسین جھنگ ۱۶۴ محمد حسین بن محمد عیسیٰ بہاولپور ۱۶۵ محمد طیب بن سردار محمد ملتان ۱۶۶ محمد فضل الرحمن بن محمد رمضان بہاولپور ۱۶۷ محمد یوسف بن محمد امین احمد پور شرقیہ ۱۶۸ محمد رفیق بن حاجی اللہ بخش بہاولپور ۱۶۹ عبدالاحد طاہر بن محمد طیب طاہر بہاولپور ۱۷۰ محمد حق نواز بن حکیم محمد طاہر انور بہاولپور ۱۷۱ محمد صدیق بن محمد یوسف بہاولپور ۱۷۲ اللہ وسایا بن محمد شریف بہاولپور ۱۷۳ محمد شہزاد بن فیاض احمد بہاولپور ۱۷۴ محمد عبدالرزاق بن حاجی کریم بخش بہاولپور ۱۷۵ محمد حنیف بن قادر بخش بہاولپور ۱۷۶ محمد بدر بن منیر احمد بہاولپور ۱۷۷ محمد فاروق بن عبدالعزیز مظفر گڑھ ۱۷۸ محمد عمران بن محمد انور اعوان رحیم یار خان ۱۷۹ محمد حنیف بن محمد اسلم بہاولپور ۱۸۰ محمد شہزاد بن علم الدین فیصل آباد ۱۸۱ محمد احمد بن عبدالرحمن کراچی ۱۸۲ محمود احمد حنفی بن حاجی غلام احمد میانوالی ۱۸۳ عثمان رفیق بن محمد رفیق کراچی ۱۸۴ قدیر احمد بن غلام شبیر سکھر ۱۸۵ عبدالغفار بن شمس الدین سکھر ۱۸۶ راحیل بن کرامت علی ننکانہ ۱۸۷ عامر حسن بن محمد یونس راجن پور ۱۸۸ خالد الرحمن بن روزی مند شاہ چترال ۱۸۹ محمد عمران بن محمد خالد کراچی ۱۹۰ فضل الرحمن بن حافظ محمد صدیق کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۱ محمد اشفاق بن محمد یونس بھکر ۱۹۲ ناصر حسین شاہ بن سلطان وزیر شاہ چترال ۱۹۳ محمد ابراہیم بن عبدالرزاق کراچی ۱۹۴ محمد صہیب بن محمد جمیل میر پور خاص ۱۹۵ امان اللہ بن عبدالحمید مانسہرہ ۱۹۶ سعادت الرحمن بن شیر نواز خان چترال ۱۹۷ مجیب الرحمن بن شفیق احمد خانپور ۱۹۸ محمد مظفر بن محمد صدیق کراچی ۱۹۹ عبدالصمد بن مولانا عبدالسلام حضرو ۲۰۰ محمد جنید بن محمد فیاض کراچی ۲۰۱ سید محمد عارف بن محمد حنیف بلوچستان ۲۰۲ محمد شعیب بن محمد فیاض کراچی ۲۰۳ عزیز عباس بن حافظ محمد عباس صادق آباد ۲۰۴ محمد فرحان شیخ بن ظہیر احمد کراچی ۲۰۵ خالد محمود ظفر بن محمد ظفر سرگودھا ۲۰۶ محمد عادل بن مولانا محمد عمران حضرو ۲۰۷ شاکر محمود بن حسن شاہ کوہاٹ ۲۰۸ محمد طیب بن فقیر محمد بھکر ۲۰۹ عبدالرحمن بن عبدالعزیز ساہیوال ۲۱۰ حبیب الرحمن بن محمد رمضان خوشاب ۲۱۱ محمد عمران بن محمد اسلم جہلم ۲۱۲ عبدالغفار بن حاجی قبول احمد زیارت ۲۱۳ شمس الحق بن مہر خادم حسین مظفر گڑھ ۲۱۴ محمد جہانزیب بن نعیم خان شانگلہ ۲۱۵ محمد عبداللہ بن محمد عنایت اللہ سرگودھا ۲۱۶ محمد رمضان بن عبدالحق سیالکوٹ ۲۱۷ محمد ریاست علی بن غلام جیلانی مانسہرہ ۲۱۸ محمد فیصل بن محمد رفیق مانسہرہ ۲۱۹ طاہر حسین بن حکیم الدین قصور ۲۲۰ واصف صدیقی بن سعید احمد صدیقی گوجرانوالہ ۲۲۱ محمد صفدر معاویہ بن اللہ بخش جھنگ ۲۲۲ اختر عباس بن بشیر احمد جھنگ ۲۲۳ نعیم عبداللہ بن غلام نبی خانیوال ۲۲۴ محمد اعظم بن ذوالفقار علی وہاڑی ۲۲۵ محمد جنید طارق بن برکت علی وہاڑی ۲۲۶ محمد آصف معاویہ بن مختار احمد جھنگ ۲۲۷ محمد ابوبکر بن لیاقت علی خان میانوالی ۲۲۸ نعمان بن سعید العالم کراچی ۲۲۹ محمد آصف بن محمد عاشق جھنگ ۲۳۰ محمد رضوان بن عبدالحمید جھنگ ۲۳۱ محمد سعید فاروق بن محمد عبدالرزاق ساہیوال ۲۳۲ محمد امین بن عبدالرحمن قصور ۲۳۳ محمد طارق بن محمد دین قصور ۲۳۴ محمد جاوید بن محمد انور قصور ۲۳۵ محمد ابوبکر بن غلام حسین ملتان ۲۳۶ محمد شاہد بن خدا بخش ملتان ۲۳۷ محمد اسلم بن اللہ بخش لیہ ۲۳۸ محمد سالم بن عبدالرحمن چنیوٹ ۲۳۹ فرحان بن محمد سلیم شیخوپورہ ۲۴۰ محمد صفدر بن محمد ابراہیم مظفر گڑھ ۲۴۱ محمد عاشق بن عبدالحق ڈی جی خان ۲۴۲ محمد عثمان بن غلام مصطفیٰ اوکاڑہ ۲۴۳ محمد آصف بن غلام فرید جھنگ ۲۴۴ شکیل خان بن فرید خان کوہاٹ ۲۴۵ محمد شاہد بن اللہ رکھا زاہد نارووال ۲۴۶ محمد نعیم بن محمد یوسف ملتان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۴۷ عبدالرؤف بن ظہور احمد راولپنڈی ۲۴۸ سفیر احمد بن محمد اکرم راولپنڈی ۲۴۹ عبدالغفور بن محمد اسلم لودھراں ۲۵۰ محبوب حسن بن محمد عارف بہاولپور ۲۵۱ محمد نوید بن محمد نذیر ایبٹ آباد ۲۵۲ عبدالحمید بن محمد نذیر ایبٹ آباد ۲۵۳ محمد آصف بن فلک شیر بہاولپور ۲۵۴ محمد سلیم بن محمد رمضان بہاولپور ۲۵۵ رحیم بخش بن غلام نبی بہاولپور ۲۵۶ محمد شہزاد بن محمد امیر بخش بہاولپور ۲۵۷ عبدالوحید بن عبدالعزیز قمر بہاولپور ۲۵۸ محمد مبین بن خالد انجم فیصل آباد ۲۵۹ غلام مرتضیٰ بن غلام مصطفیٰ فیصل آباد ۲۶۰ محمد اویس بن غلام علی بہاولپور ۲۶۱ محمد طیب بن حفیظ اللہ لیہ ۲۶۲ فاروق احمد عباسی بن غلام یاسین بہاولپور ۲۶۳ محمد عمر فاروق بن منظور احمد لیہ ۲۶۴ محمد عمران صدیقی بن محمد صدیق ملتان ۲۶۵ محمد عمر معاویہ بن محمد حسین جھنگ ۲۶۶ محمد انس جھنگوی بن منظور حسین جھنگ ۲۶۷ عابد الرحمن بن خان محمد جھنگ ۲۶۸ شفیق الرحمن بن حافظ عبدالحق جھنگ ۲۶۹ محمد شعیب بن عمر حیات جھنگ ۲۷۰ محمد سرفراز بن عبدالوحید جھنگ ۲۷۱ وسیم احمد بن آس محمد قصور ۲۷۲ عمیس ریاض بن محمد ریاض نارووال ۲۷۳ محمد فیاض بن محمد بخش مظفر گڑھ ۲۷۴ محمد عدنان بن محمد سعید کراچی ۲۷۵ ذبیح اللہ بن مولانا عبدالعزیز سندھ ۲۷۶ محمد بنیامین بن نوشیر خان فیصل آباد ۲۷۷ محمد ماجد بن مولانا میر محمد میرک خیر پور میرس ۲۷۸ احسان اللہ بن عنایت اللہ میر پور خاص ۲۷۹ محمد حمداللہ بن امداداللہ شکار پور ۲۸۰ محمد ساجد بن محمد اقبال ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۸۱ محمد شیراز بن اختر رشید لیہ ۲۸۲ محمد امان اللہ بن محمد شفیع گوجرانوالہ ۲۸۳ محمد شاہد بن محمد اکرم اٹک ۲۸۴ امان اللہ بن زیارت غلام دیر ۲۸۵ محمد عرفان بن حافظ محمد بخش جھنگ ۲۸۶ حافظ غلام حسین بن عبدالرحمن جھنگ ۲۸۷ عبدالواحد بن محمد رفیق وہاڑی ۲۸۸ معین اشرف بن مولانا عنایت اللہ راولپنڈی ۲۸۹ عبدالرحمن بن غلام رسول خانیوال ۲۹۰ محمد عبداللہ سالک بن مولانا عنایت اللہ سرگودھا ۲۹۱ فضل الرحمن بن مولانا عنایت اللہ سرگودھا ۲۹۲ محمد اکرم بن عبدالمجید بھکر ۲۹۳ عبدالرحمن بن حاجی محمد جمیل قصور ۲۹۴ محمد عثمان بن حاجی محمد رمضان ملتان ۲۹۵ محمد حمزہ بن محمد مصطفیٰ فیصل آباد ۲۹۶ محمد شعیب بن محمد سرور ننکانہ ۲۹۷ محمد بلال بن قاری محمد اقبال بہاولپور ۲۹۸ محمد سلیمان بن بشیر احمد ننکانہ ۲۹۹ وقار عاصم بن فلک شیر جھنگ ۳۰۰ محمد عثمان حنفی بن گل محمد جھنگ ۳۰۱ محمد عبداللہ بن برکت علی لاہور ۳۰۲ محمد زاہد بن منظور احمد راجن پور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۰۳ عبدالغفار حسن بن غلام حسن رحیم یار خان ۳۰۴ محمد اکرم بن محمد عبدالحق نارووال ۳۰۵ محمد عرفان بن فرمان الہی گجرات ۳۰۶ محمد آصف بن محمد اسرائیل نارووال ۳۰۷ محمد عثمان بن محمد اسلم میانوالی ۳۰۸ محمد عمران بن مہر مشتاق احمد مظفرگڑھ ۳۰۹ محمد ہارون الرشید بن حاجی عبدالرشید مظفرگڑھ ۳۱۰ محمد ارسلان بن محمد رفیق فیروزوالا ۳۱۱ محمد اسماعیل بن مولوی محمد اسحاق وہاڑی ۳۱۲ محمد طاہر فاروق بن حاجی منظور حسین جھنگ ۳۱۳ محمد اقبال بن محمد نواز مسلم جھنگ ۳۱۴ عبدالحفیظ بن کامل نواز ڈیرہ اسماعیل خان ۳۱۵ محمد ہارون بن ممتاز حسین آزادکشمیر ۳۱۶ عبدالمتین بن عبدالکریم ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۱۷ سمیع اللہ بن محمد دین گوجرانوالہ ۳۱۸ محمد فیض اللہ بن عبدالکریم مظفرگڑھ ۳۱۹ محمد عبدالرحمن بن محمد منشاء قصور ۳۲۰ شاہد الیاس بن محمد الیاس قصور ۳۲۱ محمد بلال بن محمد حسین سکھر ۳۲۲ فتح الدین بن عبدالمجید گھوٹکی ۳۲۳ خلیل الرحمن بن اللہ بخش سکھر ۳۲۴ غلام مرتضیٰ بن عبدالعلی سکھر ۳۲۵ محمد ارشد بن محمد ابراہیم مانسہرہ ۳۲۶ محمد اسحاق بن ہاشم علی کوہاٹ ۳۲۷ ابوبکر صدیق بن حسن ہارون ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۲۸ عمر فاروق بن حافظ اللہ دتہ جھنگ ۳۲۹ امداد اللہ بن راجے خان جھنگ ۳۳۰ اظہر جاوید بن محمد اکرم لعل عیسن ۳۳۱ محمد شاہد بن محمد سرور وہاڑی ۳۳۲ امیر معاویہ بن محمد شفیع ملتان ۳۳۳ محمد رفیق بن محمد دیوان سرگودھا ۳۳۴ عمر فاروق بن قاری محمد شریف سرگودھا ۳۳۵ محمد شاہد بن غلام حسین جھنگ ۳۳۶ عبدالمنان بن محمد ہاشم کراچی ۳۳۷ احسان اللہ بن محمد افضل لیہ ۳۳۸ محمود زبیر بن زبیر احمد خانیوال ۳۳۹ محمد مظہر بن محمد اقبال خانیوال ۳۴۰ محمد جواد بن فدا حسین خانیوال ۳۴۱ محمد نادر بن غلام مصطفیٰ فیصل آباد ۳۴۲ محمد اسلم بن محمد سلیم الدین نارووال ۳۴۳ محمد راحت خان بن زرین خان سرگودھا ۳۴۴ محمد ابراہیم بن محمد یامین وہاڑی ۳۴۵ محمد عطاء اللہ بن محمد اسماعیل جھنگ ۳۴۶ محمد امتیاز بن رحمت علی قصور ۳۴۷ محمد عمران بن نذیر احمد ملتان ۳۴۸ محمد اصغر بن غلام شبیر تونسہ ۳۴۹ عابد علی بن قاری محمد یامین جھنگ ۳۵۰ محمد ارشد بن محمد حبیب خانیوال ۳۵۱ محمد باقر علی بن کفایت اللہ صوابی ۳۵۲ عبدالرزاق بن رحمت علی قصور ۳۵۳ محمد ندیم بن منصب علی سیالکوٹ ۳۵۴ محمد بلال بن عبدالخالق کہروڑ پکا ۳۵۵ مولانا غلام رسول بن فقیر اللہ رحیم یار خان
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۸ء ص ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قلعہ محمدی لاہور میں ختم نبوت کانفرنس
۱۲؍اکتوبر ۲۰۰۸ء نورانی مسجد قلعہ محمدی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد عالم طارق، مولانا عزیز الرحمان ثانی، محمد متین خالد کے بیانات ہوئے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حامد بلوچ نے سرانجام دیئے۔ قاری محمد اقبال، مولانا عبدالکریم طاہر، قاری خلیل الرحمان زاہد نے اپنے رفقاء سمیت کانفرنس میں شرکت کی۔ جب کہ صدارت سعید احمد بلوچ نے کی۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۸ء ص ۱۳)
سرگودھا میں عظیم الشان کانفرنس
سرگودھا شاہینوں کا شہر ہے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی خوش نصیب انسان ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے بہت سے جانشین تیار کر لئے ہیں۔ سینکڑوں نوجوان چند منٹوں کے نوٹس پر تن ، من ، دھن کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ یوں تو مولانا طوفانی پورا سال طوفان برپا کرتے رہتے ہیں۔ لیکن امسال انہوں نے ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۰۸ء کو سرگودھا کی عید گاہ میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کر ڈالی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کانفرنس میں ۵۰ سے ساٹھ ہزار افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس پنڈال کو خوبصورت بینروں سے سجایا گیا تھا۔ رضاکار بڑی مستعدی سے انتظامات کو کنٹرول کئے ہوئے تھے۔ سرگودھا مجلس کے امیر مولانا نور محمد ہزاروی اور ناظم اعلیٰ مولانا محمد رضوان اسامہ نے شب و روز ایک کر کے کانفرنس کو کامیاب کرنے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ کانفرنس کا آغاز عشاء کی نماز کے بعد ہوا۔ جس سے خطیب العصر مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ ، شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی ، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ممبر پنجاب اسمبلی ، مولانا سید عبداللہ شاہ مظہر کراچی ، معروف کالم نگار قاری منصور احمد کراچی ، چند سال قبل قادیانیت سے تائب ہونے والے نوجوان جناب عرفان محمود برق لاہور، مجلس علماء اہل سنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا عبدالغفور حقانی شجاع آباد ، مولانا محمد احمد لدھیانوی کے ولولہ انگیز خطاب ہوئے۔ کانفرنس انتظامات ، بیانات اور مقررین کی اہمیت و کثرت کی وجہ سے مثالی رہی ۔ شاعر ابن شاعر سید سلمان گیلانی کی نعتوں نے مجمع پر سحر سا طاری کر دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۸ء ص ۳۳)
پانچویں سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس پیر یانوالہ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ
ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۰۸ء کو چک نمبر ۲۹۵۔گ ب پیر یانوالہ میں پانچویں سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں پیر طریقت سید جاوید حسین شاہ فیصل آباد، مولانا اللہ وسایا ، مولانا خلیل احمد سراج ، مولانا غلام حسین مبلغ ختم نبوت جھنگ ، مولانا قاضی احسان احمد مبلغ ختم نبوت کراچی ، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن ، نو مسلم عرفان محمود برق اور مولانا ریاض احمد لاہور ، کرنل نوید مشتاق گل لاہور نے شرکت کی۔
ان کے علاوہ دیگر نعت خوان اور قراء حضرات نے شرکت کی اور مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی اور مرزائیوں کے کفریہ عقائد سے آگاہ کیا۔ مولانا اللہ وسایا کا سحر انگیز خطاب سن کر پورے مجمع میں سناٹا چھا گیا اور لوگ دھیمی دھیمی آواز سے رونے لگے۔ مولانا نے کہا کہ ’’ لوگو ! مرزا قادیانی دجال کذاب نے نعوذ باللہ ! اپنے آپ کو محمد رسول اللہ کہا ہے۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۴، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۷)
مولانا غلام حسین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غلام مرتضیٰ چک نمبر ۳۲۷ گ ب نے جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے اس کو اور اس کے حواریوں کو سزائے موت دی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا لطف اللہ لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیریا نوالہ کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ تمام مردوزن نے مرزائیوں کا مکمل بائیکاٹ کر دیا ہے، بوڑھوں سے لے کر بچوں تک کی زبان پر یہ الفاظ گردش کر رہے ہیں :’’مرزا قادیانی لعنت اللہ تیری تکذیب میرا فرض شریعت، مرزا قادیانی لعنت اللہ تیری تذلیل میری عین عبادت‘‘ جس کا اندازہ ان واقعات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند ماہ قبل گرمیوں کی چھٹیوں میں کرکٹ کے ٹورنامنٹ ہوئے جس میں ہمارے بھائی قاری محمد اشفاق اور ان کے دوست رانا محمد امجد اور ہمارے نمبردار صاحب کے بیٹے رضا حسین صاحب اور دوسرے ساتھیوں نے کوشش کر کے مرزائیوں کو کھیل سے نکال دیا، چند دن بعد کرکٹ کا دوسرا ٹورنامنٹ ٹوبہ پولیس لائن کے پیچھے ہوا۔ اس میں بھی کسی مرزائی کو حصہ نہیں لینے دیا، جب کہ اکثر کھیل کے میدان میں مرزائی اور ان کے لڑکے آگے نمایاں ہوتے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام کھیلوں کے میدانوں سے مرزائیوں کو بھاگنا پڑا۔
ہمارے گاؤں میں تقریباً سات کے قریب والی بال کے نیٹ لگتے ہیں، جس میں بھی کئی مرزائی کھیلتے تھے، وہاں پر بھی مسلمان نوجوانوں نے مرزائیوں کو اپنے گراؤنڈ سے نکال کر اپنے گراؤنڈوں کو پاک کیا۔ آخر مجبور ہو کر مرزائیوں کے بڑوں نے اپنے لڑکوں کو مسلمانوں کے ساتھ کھیلنے سے روک دیا کہا کہ وہاں پر اگر تم جاؤ گے تو ہم ذمہ دار نہ ہوں گے۔
ہمارے ایک ختم نبوت کے مجاہد بھائی ذیشان نے اپنے کلب کا نام ہی ختم نبوت کلب رکھ دیا، گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں کے نوجوانوں نے والی بال ٹورنامنٹ رکھا ہم نے فوراً مولانا اکرم طوفانی صاحب کو دعوت دی انہوں نے بیمار ہونے کی حالت میں اور پابندی کے باوجود ختم نبوت کے لئے ہماری دعوت کو قبول کیا اور رات کو عشاء کے بعد ختم نبوت کے تربیتی کنونشن میں ختم نبوت کی اہمیت بیان کی اور مرزائیوں کی گندی بکواس سے نوجوانوں کو آگاہ کیا یہ ان کا دوسرا چکر تھا جو صرف اللہ کی رضا کے لئے اپنا روپیہ خرچ کر کے آقاﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لئے ہم جیسے غریبوں کی دعوت کو قبول کیا۔ ان کے بیان کا نوجوانوں پر بڑا اثر ہوا۔ جس کی وجہ سے نوجوانوں نے کسی مرزائی کو ٹورنامنٹ میں حصہ لینے نہیں دیا یہ انقلاب ہمارے گاؤں میں پہلی مرتبہ تھا۔
۶، ۷ /اکتوبر کو ہمارے گاؤں میں آل پاکستان والی بال ٹورنامنٹ تھا، ہم نے اپنے محسن مولانا غلام حسین صاحب کو دعوت دی اور گاؤں کی صورت حال سے آگاہ کیا انہوں نے وہ تاریخ یعنی ۲۹/ رمضان پہلے کسی اور کو دے رکھی تھی پھر اس سے معذرت کی اور وقت پر ہمارے گاؤں پہنچے ختم قرآن کریم اور تربیتی کنونشن سے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۲۲ / دسمبر ص ۲۶)
آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونے والی دو روزہ سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ۳۰/اکتوبر ۲۰۰۸ء بروز جمعرات صبح نو بجے شروع ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور مسلمانوں کے اجماعی مسائل میں نقب زنی کرنے والوں کا تعاقب جاری رہے گا۔ قادیانی لابی نے ایوان صدر اور بیورو کریسی میں منظم لابنگ کے ذریعے گھیرا تنگ کیا ہوا ہے۔ کلیدی عہدوں پر براجمان قادیانی ملک توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ انہیں کی ملک دشمن پالیسیوں اور منافقانہ طرز عمل کی وجہ سے لال مسجد جیسے سانحات سامنے آئے اور ملک مالی بحران کا شکار ہوا۔ شرکاء کی کثیر تعداد کی وجہ سے پنڈال تنگی داماں کا منظر پیش کر رہا تھا۔ خطباء کی تقریروں کے درمیان پنڈال تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھتا۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کا قتل بند نہ کیا گیا تو ملک بھر میں ہولناک کشیدگی جنم لے گی۔ پی آئی اے، انکم
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹیکس، وزارت داخلہ، سی. بی. آر، انٹیلی جنس کے علاوہ سول اور فوج کے تمام عہدوں سے قادیانیوں کو فی الفور ہٹایا جائے۔
کانفرنس کی پہلی نشست کی صدارت سندھ کے معروف عالم دین مولانا علامہ احمد میاں حمادی نے کی۔ کانفرنس کا افتتاح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی تقریر سے ہوا۔ جب کہ کانفرنس کے دیگر خطباء میں شامل مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا عبدالقیوم حقانی، مولانا ممتاز احمد کلیار، حافظ عبدالوہاب جالندھری، مولانا محمد نذر، مولانا عبدالستار، مولانا عبدالرشید سیال، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا حاجی عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد فیاض مدنی، مولانا عبدالرزاق مجاہد سمیت متعدد مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے ملک بھر میں بڑھتی ہوئی قادیانی شرانگیزیوں، ننکانہ اور ضلع خوشاب میں مسلمانوں کے قتل اور غیر قانونی تبلیغی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور نوجوان نسل میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور ان میں دینی شعور پیدا کرنے پر زور دیا اور حکومت کی قادیانیت نوازی اور امریکہ نوازی پر شدید تنقید کی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اپنے بیان میں کہا کہ قادیانیت ایک شیطانی طاقت ہے جو کہ یہودیوں اور انگریزوں کے مفادات کے لئے معرض وجود میں آئی ہے۔ ظفر اللہ قادیانی نے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنتے ہی ملک کے سفارت خانوں میں خاص منصوبہ بندی کے تحت قادیانیوں کو متعین کیا اور پاکستان بنتے ہی مسلمانوں پر قادیانیوں کو مسلط کیا گیا۔ قادیانی حکومتی اداروں اور حکومتی بیورو کریسی میں گھس کر پارلیمنٹ، ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالتوں کے فیصلوں کو ختم کرانے کے لئے خطرناک منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیں گے۔
مولانا محمد اکرم طوفانی نے اپنے خطاب میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز میں پاکستان سے چھ سو قادیانیوں کے شامل ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہودی نواز قادیانی اقدامات کا سختی سے نوٹس لے۔ کیونکہ قادیانی یہودیوں سے تربیت حاصل کر کے چناب نگر کو خالصتاً یہودی خدوخال کے طرز پر چلانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چناب نگر میں اپنی عدالتی، نظارتی، نجی عقوبت خانے اور غیر قانونی ظالمانہ نظام قائم کر رکھا ہے۔ جو کہ حکومت کے لئے ریاست در ریاست کا نظام ایک کھلا چیلنج ہے۔
مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ قادیانیوں کی اسرائیلی فوج میں بھرتی پاکستان دشمن ملک کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کا نادر موقع فراہم کرنا ہے۔ اس لئے حکومت پاکستان کو چاہئے کہ دور اندیشی اور سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے۔ قادیانیوں نے پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کی حمایت حاصل کر کے اپنی ارتدادی سرگرمیوں کے تحفظ کے لئے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی ناپاک جسارت کی تو تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے تعاون سے بھر پور مزاحمت کی جائے گی۔ مولانا نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے قادیانیوں کو سپورٹ کیا جانا اور ان کی حمایت کرنا نہ صرف پارلیمنٹ کے فیصلوں سے انحراف ہے بلکہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی روح کو تڑپانے کے مترادف ہے۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ گستاخان رسول کی سزا کے قانون کو نہ چھیڑا جائے اور ناموس رسالت ﷺ کے قانون پر مؤثر عمل درآمد کرایا جائے۔ ملکی ترقی اور معاشی استحکام کے نام پر قادیانیوں کو مسلمانان پاکستان پر مسلط کیا جا رہا ہے۔
مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے منعقدہ متعدد پروگراموں میں تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی خدمات کا تذکرہ نہ کرنا بدنیتی اور ناانصافی ہے۔ جب کہ انٹیلی جنس کے محکمہ میں قادیانیوں کی موجودگی اور ان کی جھوٹی رپورٹوں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور شرارتوں کی وجہ سے پورے ملک میں اور بالخصوص اسلام آباد میں سینکڑوں طلباء وطالبات کو خاک وخون میں تڑپایا گیا۔ قادیانی اسرائیل کے جاسوس ، استعماری قوتوں کے ایجنٹ اور اسلام کے کھلے دشمن ہیں۔
آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کی دوسری نشست کے مقررین اور شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چناب نگر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قادیانیوں کے نافذ کردہ ظالمانہ نظام اور جابرانہ اقدامات کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔ تمام تعلیمی اداروں کے داخلہ فارموں میں تحفظ ختم نبوت اور مرزا قادیانی کے کفر و ارتداد پر مشتمل حلف نامے کا اندراج کیا جائے اور تعلیمی نصاب میں رد قادیانیت پر مضامین شامل کئے جائیں۔
خطباء نے کہا کہ ہم نہ مرزائیوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتے ہیں نہ دعوت۔ لیکن قادیانی مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو واجب القتل قرار دے کر اشتعال پھیلا رہے ہیں۔ جس کے لئے وہ اپنے نوجوانوں کو فعل قتل پر ابھارنے کے لئے باقاعدہ ٹریننگ دیتے ہیں۔ نفرتیں اور عداوتیں اور دشمنی کو فروغ دے رہے ہیں۔ مظلومیت کا واویلا کر کے ظالم و جابر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہم قادیانیوں کو نفرت دور کرنے اور اسلام قبول کرنے کا محبت بھرا پیغام دیتے ہیں۔
کانفرنس کی مکمل کارروائی انٹرنیٹ پر نشر کی گئی۔ اندرون و بیرون ملک سے ہزاروں مسلمانوں نے علمائے کرام کے ایمان پرور بیانات سماعت کئے۔ مولانا اللہ وسایا نے قادیانی سربراہ مرزا مسرور سمیت تمام قادیانیوں کو درد دل کے ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہونے کی دعوت دی۔ خطباء اور واعظین نے کہا کہ امتناع قادیانیت ایکٹ اور گستاخان رسول کے متعلق قوانین کو چھیڑنا آگ اور خون سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ہم سروں پر کفن باندھ کر اور جانوں پر کھیل کر بھی حرمت رسول ﷺ کا دفاع کریں گے۔ کلیسائی طاقتوں اور صہیونی عفریت سے ڈکٹیشن لینے والے سیاست دانوں کی بدترین قادیانیت نوازی سے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ حکمران پاکستانی عوام پر امپورٹڈ سیکولر پالیسیوں کو مسلط کرنے سے گریز کریں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقدہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کی مختلف نشستوں سے مولانا سید جاوید حسین شاہ، جماعت اسلامی کے مولانا عبد المالک خان، مولانا فضل الرحمن درخواستی ، جمعیت اہل حدیث کے سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، بریلوی مسلک کے رہنماؤں مولانا سید ہدایت رسول شاہ، قاری محمد افضل قادری، شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری، مولانا سید سلیمان یوسف بنوری، مولانا محمد عالم طارق ، خواجہ عبد الماجد صدیقی، مفتی محمد زبیر اشرف عثمانی کراچی، مولانا عطاء الرحمن شہباز، مولانا عبد الکریم ندیم ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد قاسم رحمانی ، مولانا عبد النعیم رحمانی، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مفتی طاہر مسعود، مولانا خلیل احمد بندھانی ، مولانا محمد طیب لدھیانوی، مولانا عبد الحمید لنڈ، مولانا ظفر احمد قاسم، صاحبزادہ سید محمد زکریا، مولانا محمد قاسم سیوطی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا غلام حسین، مولانا عزیز الرحمن ثانی، ڈاکٹر دین محمد فریدی، مولانا مفتی خالد میر اور مولانا محمد زاہد وسیم سمیت بیسیوں مقررین نے خطاب کیا۔
جب کہ مولانا محمد حسن لاہور، مولانا عبد الرشید انصاری، مفتی حفیظ الرحمن ٹنڈو آدم ، صاحبزادہ عزیز احمد بہلوی، مولانا محمد اسحق ساقی، مولانا مفتی محمد طیب، مولانا عبداللہ لدھیانوی، مولانا اسامہ رضوان، صاحبزادہ حافظ محمد سعید لدھیانوی اور صاحبزادہ مبشر محمود سمیت متعدد مشائخ وعلمائے کرام، ختم نبوت خط و کتابت کورس اسلام آباد کے رفقاء، دینی رہنماؤں اور صحافیوں نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ پنڈال کے وسیع و عریض ہونے کے باوجود تنگی داماں کی شکایت کر رہا تھا۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے پنڈال پر مضبوط گرفت کر رکھی تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معروف رفاہی ادارے الامین ٹرسٹ نے شرکاء کے لئے فری ڈسپنسری کا پرشکوہ انتظام کیا ہوا تھا۔
مقررین نے کہا کہ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی شیطانی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ضمیر فروشوں نے حساس اور اہم عہدوں پر قادیانیوں کو قابض کرایا۔ اسلام دشمن عناصر کی مکمل پشت پناہی کی۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں ابھی تک اسلامی نظام نافذ نہیں ہوسکا۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ کلیدی عہدوں پر فائز اصلی و نسلی قادیانی ہیں۔
مولانا سید جاوید حسین شاہ نے کہا کہ نوجوان جدید و قدیم فتنوں کی سرکوبی کے لئے اپنے اندر نظریاتی و فکری علمی اور عملی صلاحیت پیدا کریں۔ ناموس رسالت کا کام کرنے والوں پر اللہ رب العزت کی خاص رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ قادیانی ریشہ دوانیوں کے سدباب کے لئے مجاہدین اور خانقاہوں کے عملی کردار کو زندہ کرنا ہوگا۔
جماعت اسلامی کے مولانا عبد المالک خان نے کہا کہ چناب نگر میں قادیانیوں کی لیز منسوخ کر کے حکومتی رٹ قائم کی جائے۔ آج ہمارے حکمران بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے قبائلی علاقہ جات میں اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ لیکن چناب نگر میں قادیانیوں کے خودساختہ امتیازی قوانین اور ان کے اسرائیلی نظام پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہ لگانا تسامح، جانب داری اور ظلم عظیم ہے۔
مولانا محمد عالم طارق نے کہا کہ ایم. کیو. ایم کے قائد الطاف حسین کے قادیانیوں کی حمایت میں بیانات اقلیت کو پروان چڑھانے اور گستاخان رسول کی سر پرستی کرنے کے مترادف ہے۔ الطاف حسین کو ننکانہ، ضلع خوشاب، کراچی اور سندھ کے علاقوں میں قادیانی قتل وغارت گری پر بھی عوام الناس کو اپنے جماعتی و ذاتی موقف سے آگاہ کرنا چاہئے۔
مولانا ظفر احمد قاسم نے اپنے خطاب میں آزاد کشمیر میں کارکنان ختم نبوت اور مسلمانوں کے کردار کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ مولانا عبدالحمید لنڈ نے کہا کہ ملکی و عالمی سطح پر اکابرین ختم نبوت کی لازوال قربانیاں اور بے مثال جدوجہد تاریخ کا روشن باب ہیں۔
مفتی سعید احمد جلال پوری نے کہا کہ قادیانی لابی میڈیا پر اثر انداز ہو کر امت مسلمہ کے خلاف خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر مسلمانوں کے غیر متنازعہ اور بنیادی مسائل کو زیر بحث لا کر نئے دین اور فرقہ واریت کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ اگر میڈیا کے جائز استعمال کے ذریعے قادیانیوں کو لگام نہ ڈالی گئی تو وہ میڈیائی مہم اور تشہیری پروپیگنڈے کی بنیاد پر لال مسجد جیسے سانحات کروانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے کہا کہ قادیانی عبادت گاہوں میں قرآن کریم کے نسخوں کا موجود ہونا آئین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ قادیانی عبادت گاہوں کی مساجد سے مشابہت کو ختم کیا جائے اور انہیں ملکی آئین کا پابند بنایا جائے۔
مولانا فضل الرحمن درخواستی نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قادیانیوں کے توہین آمیز اور اشتعال انگیز لٹریچر پر پابندی عائد کرے۔ ملک کی مختلف جیلوں میں پڑے ہوئے گستاخان رسول کو پھانسی دے۔
مولانا عبدالکریم ندیم نے کہا کہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈوں میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے۔ تاکہ قادیانی چور دروازے سے حرمین شریفین میں داخل نہ ہوسکیں۔ یا سعودی حکومت کے طریقہ کار پر غیر مسلموں کے لئے مختلف رنگ کے شناختی کارڈوں کا اجراء کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ماہنامہ لولاک ملتان کے ایڈیٹر حافظ مبشر محمود نے کہا منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے اوقاف سرکاری تحویل میں نہ لینا قادیانیت نوازی کی بدترین مثال ہے۔ مولانا سید سلیمان یوسف بنوری نے کہا کہ مرزا قادیانی کی کتب اور تحریریں خرافات ، تضادات اور سامراجی قوتوں کی مدح سرائی کا مجموعہ ہیں۔
مولانا محمد راشد مدنی نے کہا کہ مرزا قادیانی کے ارتداد، زندقہ اور گمراہ کن تعلیمات کو قادیانی اسلام کے نام پر متعارف کرا کے مسیلمہ کذاب کی طرح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ قصر ختم نبوت میں نقب زنی کرنے والوں کا تعاقب ہم قیامت تک جاری رکھیں گے۔
بریلوی مکتب فکر کے رہنماؤں سید ہدایت رسول شاہ، شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف اور قاری محمد افضل قادری نے کہا کہ ختم نبوت کا پلیٹ فارم امت مسلمہ کا غیر متنازعہ اور مشترکہ فورم ہے۔ عقیدہ ختم نبوت وحدت اسلامی کا مظہر ہے۔ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ ختم نبوت کے مشن کو فرقہ واریت سے تعبیر کرنے والے اسلامی تعلیمات وعقائد سے بے خبر اور منحرف ہیں۔ ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کی تبلیغی و تحریکی جدوجہد کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔
جمعیت اہل حدیث کے ممتاز عالم دین سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام پر گستاخی رسول کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قادیانیوں کا نعرہ ہے ”محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں“ جھوٹ کا پلندہ اور دھوکہ ہے۔ سب سے زیادہ دشمنی ، عداوت کا کینسر اور کینہ پروری کا عنصر، نفرتیں پھیلانا اور فتنہ انگیزی کو فروغ دینا قادیانیوں کا ماٹو ہے۔ اس دعوی پر ماضی کے حالات و واقعات شاہد عدل ہیں۔
خواجہ عبد الماجد صدیقی نے کہا کہ اگر نبوت کا اجراء ہوتا تو حضور ﷺ کے بعد خلفاء کے آنے کا نصوص قطعیہ سے ثبوت نہ ملتا۔
مولانا محمد زبیر اشرف عثمانی کراچی نے کہا اکابرین ختم نبوت کی تحریکی اور فکری ، دینی اور مذہبی خدمات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔
کانفرنس کی آخری نشستوں سے قائد جمعیت کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، سید عبدالمجید ندیم ، مولانا عطاء الرحمن ایم. این. اے، خلیفہ عبدالقیوم، مولانا محمد طیب لدھیانوی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے قانونی مشیر منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ، مولانا عبدالواحد کوئٹہ ، مولانا نور الحق کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے خطاب کیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قادیانیت کا راستہ روکنے کے لئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی استعمار کی تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا، لبرل اسلام ، ماڈرن اسلام، اعتدال پسند، روشن خیال، انتہا پسند، قدامت پسند، شدت پسند کی اصطلاحات مسلمانوں کو خطرناک منصوبہ بندی کے ساتھ تقسیم کرنا ہے۔
قادیانی جماعت ملک اور اسلام کی دشمن ہے۔ شیعہ سنی کی تقسیم پوری امت اسلامیہ کی تقسیم ہے جس سے قادیانی جماعت فائدہ اٹھا رہی ہے انہوں نے کہا کہ قادیانی جماعت کے سربراہ نے خود اعتراف کیا کہ وہ انگریز کا خود ساختہ پودا ہیں۔ برصغیر میں اگر انگریز کو سب سے زیادہ سردردی رہی ہے تو وہ اس کے خلاف جہاد تھا اس وقت بھی مجاہدین کو دہشت گرد کہا گیا تاج برطانیہ نے پورا زور لگایا کہ مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔ لیکن وہ ناکام رہے۔ آج پھر ملک میں وہی حالات ہیں امریکہ آج پھر دہشت گردی کے نام پر مجاہدین کو ختم کر رہا ہے ایک وقت تھا جب روس بھی افغانستان میں امن کا دعویٰ لے کر آیا تھا جسے کسی نے قبول نہیں کیا اور روس کو شکست فاش ہوئی آج پھر امریکی افغانستان میں وہی نعرہ لے کر آچکے ہیں اور روس کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اگر افغانستان پر امریکا کے قدم جمتے ہیں تو پورا خطہ امریکہ کے زیر اثر رہے گا ہم یہ بات پورے خطے کو سمجھا رہے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی پورے خطے کے لئے نقصان دہ ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس جنگ میں پاکستان کو بھی دہشت گردی کے نام پر شامل کر لیا گیا ہے اور جو آگ افغانستان میں لگی تھی وہ ہمارے اپنے گھر میں داخل ہو چکی ہے جو پالیسیاں پاکستان میں آج چل رہی ہیں اگر یہی چلتی رہیں تو صوبہ سرحد پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکتا ۲۰۰۱ء کی بننے والی پالیسیوں کا یہ ردعمل ہو گا گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں یہ طے ہوا کہ ملک میں جاری پالیسیوں کو تبدیل کرنا چاہئے اور تمام معاملات کو پارلیمنٹ میں لایا جائے گا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں میں نے کہا تھا کہ حکومت کی بریفنگ یک طرفہ ہے میں بھی اپنی بریفنگ دوں گا اور اس بریفنگ میں اپنا موقف منواؤں گا جس کا بنیادی نقطہ یہ ہو گا کہ ماضی کی پالیسیاں تبدیل کر دی جائیں جس میں خارجہ پالیسی اور فاٹا کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے گا یہ بھی طے ہوا ہے کہ فاٹا سے فوج کو جلد از جلد نکال دیا جائے گا اور متاثرین کو معاوضہ بھی دیا جائے گا ہم امت مسلمہ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے آج امت کو فرقہ وارانہ فسادات کو امریکا ہوا دے رہا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت قادیانیت نوازی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ ملک کے پانچ ہزار سے زائد کلیدی عہدوں پر قادیانی، یہودی اور عیسائی قابض ہیں، ہمیں مغرب کے لذت پرست معاشرہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں انعقاد پذیر ہونے والی ختم نبوت کانفرنس دو روز جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگئی۔ مختلف نشستوں کی صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا سید جاوید حسین شاہ، حافظ عبدالرشید، مولانا محمد حسین لاہور، مولانا فضل الرحمٰن درخواستی اور علامہ احمد میاں حمادی کرتے رہے۔ جب کہ آخری نشست سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن، مولانا عبدالمجید ندیم، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، عبدالغفور حقانی، سید سلمان گیلانی، قاری محمد عثمان، مولانا عبدالواحد کوئٹہ اور مولانا نور الحق نے خطاب کیا۔
آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی جھلکیاں:
- ☆...... کانفرنس کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کے فرزند ارجمند جناب
صاحبزادہ عزیز احمد کی دعا سے ہوا۔
- ☆...... پنڈال خوبصورت بینروں، پرچموں سے سجا ہوا تھا۔ بینروں پر مرزا قادیانی اور قادیانی نواز عناصر کے خلاف نعرے درج تھے۔
- ☆...... اسٹیج کے بائیں جانب اور سامنے بہت بڑے بینرز آویزاں کئے گئے تھے جو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنے رہے۔
- ☆...... اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا ضیاء الدین آزاد اور مولانا محمد علی صدیقی
نے سرانجام دیئے۔
- ☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے شرکاء کو محدث العصر علامہ سید محمد انور شاہ کاشمیری،
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اور دیگر اکابرین ختم نبوت کے کارہائے نمایاں اور پون صدی پر محیط خدمات جلیلہ کا تذکرہ کیا تو حاضرین کی آنکھیں پرنم اور اشکبار تھیں۔ ان کا جذبہ قابل دید تھا۔
- ☆...... اسٹیج پر تمام مکاتب فکر کی موجودگی کی وجہ سے اسٹیج اتحاد امت کا مثالی منظر پیش کر رہا تھا۔
- ☆...... عصر کی نماز کے بعد سوال و جواب کی نشست کے مہمان مولانا اللہ وسایا تھے۔ جو کہ عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علیہ الرضوان اور کذبات مرزا کے موضوعات پر سوالات کے جوابات دیتے رہے۔
- ☆...... مغرب کی نماز کے بعد معروف روحانی شخصیت مولانا قاضی ارشد الحسینی نے مجلس ذکر کرائی۔
- ☆...... شرکاء کے لئے الامین ٹرسٹ کی طرف سے فری ڈسپنسری کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جگہ جگہ پر پانی کی سبیلوں کا نظم بھی موجود تھا۔
- ☆...... کانفرنس میں استقبالیہ، خصوصی و عمومی طعام کا نظم بھی قابل دید تھا۔
- ☆...... کانفرنس میں اسکول، کالج، یونیورسٹیز اور مدارس کے طلباء جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں شریک ہوئے۔
- ☆...... جماعتی احباب نے حاضرین و مندوبین اور شرکاء کا پر تپاک استقبال کیا۔
- ☆...... کانفرنس کے راستوں پر جگہ جگہ خوش آمدید کے استقبالیہ بینرز آویزاں تھے۔
- ☆...... کارکنان ختم نبوت نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، گستاخان رسول کو پھانسی دو، پھانسی دو کے
نعرے بلند کرتے ہوئے قافلوں کی شکل میں شریک ہوئے۔
- ☆...... کانفرنس کے پنڈال کو خفیہ اداروں اور پولیس انتظامیہ نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔
- ☆...... سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس انتظامیہ نے عارضی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی تھیں۔
- ☆...... مقررین اپنے اپنے بیانات میں فتنہ قادیانیت کے تعاقب اور استیصال کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کی
جہد مسلسل کو خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔
- ☆...... معروف نعت خوان کی طرف سے دربار رسالت ﷺ میں خراج عقیدت پیش کرنے پر سامعین کیف و سرور کی کیفیت میں جھوم
رہے تھے۔
- ☆...... لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بحران کے باعث متعدد ہیوی جنریٹروں کے انتظام کی وجہ سے پنڈال رات کو دن کا سماں پیش کر رہا تھا۔
- ☆...... رضا کاران ختم نبوت اور مجاہدین ختم نبوت کا جوش وخروش اور ڈسپلن مثالی تھا۔
- ☆...... جمعہ کا خطبہ اور امامت کے فرائض مولانا عبدالمجید ندیم نے سرانجام دیئے۔
- ☆...... نماز جمعہ کے موقع پر وسیع وعریض پنڈال کے ناکافی ہونے کی بناء پر شرکاء نے سڑکوں اور مدرسہ ختم نبوت کی چھتوں پر نماز جمعہ ادا کی۔
- ☆...... حاضرین جلسہ کے لئے خوردونوش کا وسیع پیمانے پر اعلیٰ انتظام تھا۔ جس کی نگرانی قاری محمد ابراہیم اور ان کے رفقاء نے کی۔
- ☆...... منتظمین نے خوردونوش کی تیاری کے سلسلہ میں تجربہ کار خصوصی ٹیموں کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔
- ☆...... ماہنامہ لولاک ملتان اور ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کی طرف سے قائم کردہ عارضی دفاتر سے عوام الناس مستقل خریدار بننے کے
لئے سالانہ رقوم جمع کرواتے رہے۔
- ☆...... پنڈال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے قائم کردہ بک اسٹال سے شرکاء خصوصی دلچسپی کے ساتھ احتساب قادیانیت، تحفہ
قادیانیت، تذکرہ مجاہدین ختم نبوت اور فتاویٰ ختم نبوت کے سیٹ خریدتے رہے۔
- ☆...... سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سوانح افکار اور خطبات امیر شریعت کو شرکاء نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔
- ☆...... کانفرنس کے باہر بک اسٹالوں نے اردو بازار لاہور کا منظر پیش کر رکھا تھا۔ شائقین رد قادیانیت پر مختلف مصنفین کی کتابیں دلچسپی
سے خریدتے رہے۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تمام مطبوعات نصف قیمت پر فروخت کی جا رہی تھیں۔
- سیکورٹی کے فرائض جامعہ درالقرآن فیصل آباد، جامعہ عبیدیہ فیصل آباد کے طلباء اور مولانا محمد اکرم طوفانی کے رفقاء سرانجام دے رہے تھے۔ جب کہ سیکورٹی کے نگران عبدالرؤف روفی اور ان کے رفقاء تھے۔
- رضا کاران ختم نبوت اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر ایستادہ تھے۔ شرکائے کانفرنس ان کے اخلاق اور مفوضہ امور کی ذمہ داری سے نبھانے پر خوش اور متاثر نظر آ رہے تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۳ نومبر ۲۰۰۸ء ص ۲۰ تا ۲۶)
۱۴؍ نومبر بروز جمعہ کو تحصیل تونسہ کے علماء کا یوم ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے امیر مولانا عبدالرحمن غفاری جنرل سیکرٹری مولانا غلام اکبر ثاقب، مولانا عبدالعزیز لاشاری اور دیگر علماء کرام کی اپیل پر حلقہ ۲۴۰ کی مساجد کے علماء کرام نے ۱۴؍ نومبر جمعہ کو یوم ختم نبوت منایا۔ جمعہ کے بیانات میں قادیانی امیدوار امام بخش قیصرانی کے خلاف احتجاج کیا گیا کہ امام بخش قیصرانی سکہ بند قادیانی ہے۔ اس کو اپنا ووٹ نہ دیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری، فروری ۲۰۰۹ء ص ۴۲)
مولانا محمد اکرم طوفانی کا دورہ سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی سات دن کے تبلیغی و اصلاحی دورہ پر اندرون سندھ تشریف لائے۔ مولانا طوفانی نے سکھر، پنوں عاقل، سانگھڑ، میر پور خاص، کنری، ٹنڈو آدم، سجاول اور کراچی میں عظیم الشان اجتماعات سے خطاب فرمایا۔ ان پروگراموں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا محمد حسین ناصر، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا محمد نذر، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا راشد مدنی اور مولانا محمد علی صدیقی شامل رہے۔
پہلا پروگرام: ۱۷؍ نومبر ۲۰۰۸ء کو سکھر میں ہوا، دن میں مولانا طوفانی نے مولانا قاری خلیل احمد بندھانی کی دعوت پر جامعہ اشرفیہ سکھر میں طلباء سے خطاب فرمایا اور رات کو مسجد الفاروق گھنٹہ گھر میں ایک جلسہ سے خطاب کیا۔ مولانا طوفانی کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر اور مولانا محمد علی صدیقی نے بھی سامعین سے خطاب فرمایا۔
دوسرا پروگرام: ۱۸؍ نومبر ۲۰۰۸ء کو حضرت مولانا عبدالصمد ہالیجوی کے مدرسہ پنو عاقل میں بعد نماز عصر ہوا جس میں مولانا طوفانی نے عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔ رات کو بعد نماز عشاء مرکزی عیدگاہ پنو عاقل میں عشق مصطفیٰؐ کانفرنس سے مولانا محمد اکرم طوفانی کا بیان ہوا۔ مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد حسین ناصر اور مولانا راشد مدنی کے بیانات بھی ہوئے صدارت صاحبزادہ مولانا غلام اللہ ہالیجوی نے کی۔ کانفرنس کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے احباب مولانا اظہر حسین، جناب شیخ عبدالغفار، جناب محمد ایاز، قاری عبدالقادر، اور دیگر دوستوں نے کیا تھا۔
تیسرا پروگرام: ۱۹؍ نومبر ۲۰۰۸ء کو سانگھڑ کے قریب چک نمبر ۲۲ میں ہوا۔ وہاں جانے سے قبل حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد حسن عباسی کے پاس حاضری دی۔ مولانا طوفانی کے علاوہ مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد نذر اور محمد صدیق نے بھی شرف ملاقات حاصل کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے دعائیں حاصل کیں اس کے بعد چک نمبر ۲۲ سانگھڑ کی جامع مسجد میں عشاء کے بعد ایک جلسہ سے خطاب کیا۔ پروگرام کا اہتمام مولانا عبدالحمید اور مولانا نور محمد نے کیا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوتھا پروگرام: ۲۰؍ نومبر ۲۰۰۸ء کو میر پور خاص جامع مسجد مدینہ میں بعد نماز عشاء پروگرام ہوا۔ جس میں مولانا محمد اکرم طوفانی کا بیان ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی تھے۔ جب کہ نگرانی کے فرائض مولانا شبیر احمد کرنالوی اور مولانا حفیظ الرحمن فیض نے ادا کئے۔
پانچواں پروگرام: ۲۱؍ نومبر ۲۰۰۸ء بعد نماز فجر مدنی مسجد میں درسِ قرآن کریم ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر امداد اللہ ہمدانی کی معیت میں کنری کا سفر ہوا۔ جناب جاوید ہمدانی بھی ہمراہ تھے۔ مولانا طوفانی کا جمعہ کا خطاب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بخاری مسجد کنری میں ہوا اور مولانا محمد علی صدیقی کا بیان مکہ مسجد میں ہوا اور بعد نماز عشاء ٹنڈو آدم میں ستائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے مولانا طوفانی نے خطاب کیا۔ جس کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم نے علامہ احمد میاں حمادی کی نگرانی میں کیا تھا۔ اس کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا مفتی حفیظ الرحمن کے علاوہ مولانا محمد مراد ہالیجوی، مولانا صبغت اللہ جوگی، مولانا عبدالغفور حقانی نے خطاب فرمایا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا راشد مدنی نے انجام دیئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں نے انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔
چھٹا پروگرام: ۲۲؍ نومبر ۲۰۰۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دڑو کے زیر اہتمام ہوا، اس پروگرام میں مولانا طوفانی کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فاضل مبلغ کراچی مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی کے بیانات ہوئے۔ آخری بیان مولانا مفتی حفیظ الرحمن ٹنڈو آدم والوں کا ہوا۔
ساتواں پروگرام: ۲۳؍ نومبر ۲۰۰۸ء کو کراچی میں ہوا۔ بعد نماز ظہر مولانا محمد اکرم طوفانی کا بیان جامع مسجد فردوس اور دارالعلوم صفہ میں ہوا، مولانا محمد علی صدیقی کا بیان جامع مسجد رحمانیہ نئی آبادی میں ہوا اور مولانا اللہ وسایا کا بیان بعد نماز ظہر مکہ مسجد میں طلباء اور عوام الناس سے ہوا اور اس کے بعد جامعہ عمر میں مولانا علی سعید کی دعوت پر علماء کرام کے ایک اجلاس میں شریک تمام علماء کرام نے مسئلہ ختم نبوت پر کام کرنے اور قادیانیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا۔ اجلاس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی نے بھی شرکت کی۔ رات کو بعد نماز عشاء جامع مسجد عبداللہ گوٹھ میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد اکرم طوفانی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ سے غداری کا دوسرا نام ہے۔ اس زمین پر قادیانی رسول اللہ ﷺ کے غدار ہیں اور علامہ اقبال نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے اور اس کی دلیل آج بھی موجود ہے کہ سینکڑوں قادیانی اسرائیل کی ڈیفنس فورسز میں بھرتی ہیں۔ ان حضرات نے واضح اعلان کیا کہ قادیانی جو کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں ان کو فوراً برطرف کیا جائے۔ اس لئے کہ کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر ملک کے حالات خراب کر رہے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۰۸ء ص ۲۴، ۲۵)
بھڑی شاہ رحمان قلعہ دیدار سنگھ میں مولانا شجاع آبادی کا کورس سے خطاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد صدیقیہ میں تین روزہ رد قادیانیت کورس یکم، ۲، ۳؍ دسمبر ۲۰۰۸ء کو منعقد ہوا۔ جس کا انتظام مقامی رفقاء مولانا صلاح الدین حنیف وغیرہ نے کیا۔ کورس میں تدریس کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔ چنانچہ یکم؍ دسمبر بعد نماز فجر اسلام اور قادیانیت میں بنیادی اختلافات اور گفتگو کے طرز پر لیکچر دیا۔ صبح ۸؍ بجے گورنمنٹ ہائی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سکول کے اساتذہ و طلبہ کو مرزائیت کے کذب پر لیکچر دیا۔ جس کو تمام طلبہ اور اساتذہ نے توجہ سے سنا۔ بعد نماز مغرب جامع مسجد سلیم پورہ میں درس حدیث دیا اور بتلایا کہ رحمت دو عالم ﷺ نے دوسو دس احادیث میں مسئلہ ختم نبوت کو اجاگر فرمایا ہے۔ بعد نماز عشاء کورس کی دوسری نشست منعقد ہوئی۔ جس میں مقامی احباب بڑی دلچسپی کے ساتھ سنتے رہے۔ دوسری نشست میں مسئلہ ختم نبوت اور اجرائے نبوت پر خطاب فرمایا۔ مولانا شجاع آبادی نے کہا کہ ہم نبوت حضور ﷺ پر ختم مانتے ہیں۔ جب کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی پر بند مانتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ مرزا کی جھوٹی نبوت پر قادیانیوں کے پاس ایک بھی دلیل نہیں۔ جس میں بتلایا گیا ہو کہ حضور ﷺ کے بعد مرزا قادیانی ظلی، بروزی اور غیر تشریعی نبی ہیں اور نبوت کا مسئلہ حضور ﷺ پر بند نہیں بلکہ مرزے پر بند ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۹ء ص ۴۸، ۴۹)
مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کی سہ ماہی میٹنگ ۲۴، ۲۵، ۲۶، ذی الحجہ کو دفتر مرکزیہ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی کئی نشستیں ہوئیں۔ جن کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کی۔ اجلاس میں مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص، مولانا محمد فیاض مدنی خیر پور میرس، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا محمد اسحق ساقی بہاول پور، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، مولانا عبدالستار گورمانی خانیوال، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ، مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا عبدالستار خوشاب، مولانا عبدالستار لیہ، مولانا عبدالرشید سیال مظفر گڑھ، مولانا محمد یوسف نقشبندی کوئٹہ، مولانا زاہد وسیم راولپنڈی، مولانا مفتی محمد خالد میر آزاد کشمیر مولانا محمد عارف گوجرانوالہ، مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، مولانا عبدالخالق فیصل آباد سمیت کئی ایک حضرات نے شرکت کی۔
اجلاس میں طے ہوا کہ آنے والی سہ ماہی میں تیس سے زائد اضلاع، کئی ایک تحصیلوں اور قصبات میں ختم نبوت کانفرنسیں رکھی جائیں گی۔ بالخصوص لاہور بادشاہی مسجد، فیصل آباد دھوبی گھاٹ، بہاول پور جامع الصادق، ملتان اور علی پور میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوں گے۔
مجلس کے دستور کے مطابق ہر تین سال کے بعد ممبر سازی، مقامی انتخابات اور مرکزی انتخابات کے لئے مجلس عمومی کی تشکیل ہوتی ہے۔ محرم الحرام ۱۴۳۰ھ سے ممبر سازی کا آغاز ہوگا جو تقریباً نو ماہ تک جاری رہے گی۔ ممبر سازی کے ساتھ ساتھ مقامی انتخابات اور مرکزی مجلس عمومی کی تشکیل کا سلسلہ جاری رہے گا اور چناب نگر کانفرنس ۲۰۰۹ء کے موقع پر امیر اور نائب امیر کا انتخاب ہوگا۔
جدید ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے لٹریچر اور اسٹیکرز چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جو عام فہم لٹریچر تیار کر کے حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری کی نظر ثانی کے بعد اشاعت کا انتظام کرے گی۔
بعض علاقوں میں قادیانیوں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی گئی اور ان کی انسدادی تدابیر پر غور وخوض کیا گیا اور تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ ان کی ارتدادی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور وقتاً فوقتاً دفتر مرکزیہ سے منظوری لیتے رہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۹ء ص ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۹ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر کے نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے حوالہ سے کھلا خط
السلام علیکم ورحمة الله مزاج گرامی!
روزنامہ ایکسپریس بتاریخ یکم / جنوری ۲۰۰۹ء کو خصوصی ایڈیشن شائع کیا گیا ہے جس میں پاکستان کے عنوان سے اہم قومی رہنماؤں اور مشاہیر کی تصویر اور سوانح حیات شائع کی ہے جس میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو مسلمان ظاہر کیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ مسلمہ قادیانی تھا۔ پاکستان میں ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو ڈاکٹر عبدالسلام یہ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔ جب اس کو بلایا گیا تو اس نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پیغام بھیجا کہ وہ پاکستان پر لعنت بھیجتا ہے ( حوالہ غدار پاکستان ) پاکستان کے ممتاز صحافی زاہد ملک نے اپنی کتاب ”اسلامی بم“ میں تحریر کیا ہے کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انکشاف کیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں راز دنیا میں فاش کئے جس سے ملک کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کو مسلمان تحریر کرنے پر اہل اسلام کے جذبات مجروح کئے گئے ہیں۔ براہ کرم! اس فاش غلطی پر وضاحت شائع کریں جس میں ڈاکٹر عبدالسلام کے مسلمان ہونے کی تردید ہو۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو ہم امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی پر آپ کے اور تمام متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر اس مراسلہ کے ملنے کے تین دن کے اندر وضاحت نہ کی تو ہم قانونی اور عدالتی کارروائی کریں گے۔ جس کے تمام حربے اور خرچے کے ذمہ دار آپ اور آپ کا ادارہ ہوگا۔ والسلام ...... مولانا عبد اللہ منیر ...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۹ء ص ۵۱)
سعودی قونصل جنرل سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کی ملاقات
قادیانی روز اول سے مسلمانوں کے ایمان، عقیدہ اور مفادات پر حملہ آور ہیں۔ ہمیشہ سے ان کی کوشش رہی ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ کی ایجنٹی اور مسلمانوں کی دشمنی کا فریضہ انجام دیں بحمد! اسلامی ممالک میں تو انہیں کھلے عام اپنی ارتدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع نہیں مل سکا، البتہ وہ اسرائیلی گٹھ جوڑ سے مسلمانوں کے خلاف ایک عرصہ سے صف آرا ہیں، ایک عرصہ سے قادیانیوں نے اپنی اس پرانی اور قدیم خواہش کی تکمیل کی خاطر یہ حکمت عملی اپنائی کہ ٹریول ایجنسیوں اور ریکروٹنگ کمپنیوں کے ذریعہ قادیانی گماشتوں کو برادر اسلامی ممالک اور خصوصاً سعودی عرب میں بھیج کر اپنے عزائم کی تکمیل کریں، چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایک قادیانی کمپنی ٹیکنیکی ٹیسٹ سعودی سفیر کراچی سے مل کر سعودی عرب میں مختلف افراد کو سعودی عرب بھیجے گی۔
چنانچہ اس اندیشے اور قوی امکان کے ساتھ کہ قادیانی اپنے گماشتوں کو سعودی عرب بھیج کر وہاں کا امن وامان تہہ و بالا کریں سعودی حکومت کے راز اسرائیل کو پہنچائیں اور سعودی عرب میں قادیانی دجل وتلبیس کے اڈے قائم کر کے وہاں کے مسلمانوں کے دین و ایمان کو غارت کریں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی نے سعودی قونصلیٹ سے وقت لے کر ان سے ملاقات کی اور ان کو قادیانیوں کے عزائم وارادوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ نہ صرف ملک وقوم کے دشمن ہیں بلکہ یہ ملت اسلامیہ کے باغی ہیں۔
چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد مولانا مفتی مزمل حسین کاپڑیا، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا قاضی احسان احمد اور جناب محمد انور رانا پر مشتمل تھا۔ وفد کی ترجمانی کے فرائض مولانا مفتی مزمل حسین نے سرانجام دیئے۔ وفد کی سعودی قونصلیٹ سے ملاقات اور باہمی تبادلہ خیال کے امور کی رپورٹ ملاحظہ ہو:
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس ملاقات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے ، اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ یہ دشمنان اسلام، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر کس طرح مسلم نوجوانوں کو کئی مخرب اخلاق قسم کے پروگراموں ، روزگار ، مال و دولت اور دیگر طریقوں سے گمراہ کر کے انہیں قادیانی مذہب میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سعودی قونصل جنرل نے بتایا کہ میں خود ذاتی طور پر اور حکومت سعودی عرب اس گمراہ فرقہ کے کفر وضلال اور ان کے انکار ختم نبوت اور ہندوستان اور پاکستان میں ان کے متبعین اور ان کی سرگرمیوں سے نہ صرف اچھی طرح آگاہ ہیں بلکہ ۱۹۷۴ء میں جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے ان کو کافر اور خارج از اسلام قرار دیا ، اس وقت بھی حکومت سعودی عرب نے حکومت پاکستان کے اس فیصلہ کی مکمل توثیق وتصدیق کی تھی اور کسی بھی قادیانی کا داخلہ حرمین شریفین میں ممنوع قرار دے دیا تھا، چونکہ سعودی عرب میں قادیانی نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لئے ہم نظریاتی طور پر تو ان کے باطل عقائد سے آگاہ ہیں، لیکن ان کی سرگرمیوں اور طریقہ واردات کے متعلق بہت سی چیزوں کا علم نہیں رکھتے ، اس لئے کہ ان کے اور دیگر مسلمانوں کے درمیان ظاہری فرق کی کوئی ایسی علامت نہیں ہے، لہٰذا آپ ہمیں ان کی سرگرمیوں اور مسلمانوں میں سازش اور فتنہ پھیلانے کے طریقہ واردات کے متعلق بتلائیں تا کہ ان کا سدباب کیا جائے۔
سعودی قونصل جنرل کے اس سوال کے جواب میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کے ترجمان مفتی مزمل حسین کاپڑیا نے تفصیل سے بتلایا کہ جب سے قادیانی گروہ کو پاکستانی پارلیمنٹ میں کافر قرار دیا گیا، انہوں نے ساؤتھ افریقہ کی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا، لیکن وہاں بھی الحمد للہ ! پاکستان کے علماء کی کوششوں سے قادیانیوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، چنانچہ انہوں نے اب خفیہ طریقہ سے اس بات کی کوشش کی اور طے کیا کہ مسلمانوں جیسے اپنے ظاہری ناموں سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کئے بغیر کچھ ایسی کمپنیاں بنائی جائیں جو مسلمانوں میں معاشی، معاشرتی اور سماجی اعتبار سے نفوذ حاصل کرنے کی کوشش کریں، مثلاً غذائی اشیاء کے اعتبار سے تو ان کی سب سے مشہور کمپنی ”شیزان“ ہے، اس کمپنی نے نہ صرف عوام میں بلکہ حکومت پاکستان کے تحت چلنے والے اداروں مثلاً پی آئی اے وغیرہ میں اپنی مصنوعات کی لازمی فراہمی بعض قادیانی یا قادیانی نواز حکومتی اہلکاروں کے ذریعہ شامل کروادی اور قادیانی مذہب کے اصولوں کے تحت یہ بات قادیانی مذہب کے پیروکاروں کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا دس فیصد حصہ قادیانی مذہب کی ترویج اور تبلیغ کے لئے اپنے مرکز کو بھجوائیں ، چنانچہ اس اعتبار سے ایک عام آدمی کی طرح حکومت پاکستان کے بعض ذیلی شعبے بھی قادیانیت کی تبلیغ وترویج کے لئے فنڈ فراہم کرنے میں شامل ہیں اور سارا فنڈ رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
یہ تو ان کی سازش مال کی فراہمی کے حوالہ سے ہے جب کہ افرادی قوت کی فراہمی کے حوالہ سے انہوں نے ایسی ٹریولنگ ایجنسیاں اور ریکروٹنگ کمپنیاں قائم کر کے عرب ممالک کے مختلف سفارت خانوں (بشمول سعودی سفارت خانے ) سے یہ اجازت نامہ لے لیا ہے کہ وہ مختلف افراد انجینئرز، ڈاکٹرز، کارپینٹرز اور مزدوروں کی شکل میں عرب ممالک کے لئے افرادی قوت فراہم کریں گے، چنانچہ اس سلسلہ میں انہوں نے ایک کمپنی ٹیکنی ٹیسٹ (TECH-NI-TEST) کے نام سے قائم کی ہے، جو مذکورہ بالا شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسلامی ممالک اور خصوصاً سعودی عرب میں بھیجے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمپنی مسلمانوں کی شکل میں مندرجہ بالا شعبوں میں قادیانی افراد کو ترجیح نہیں دے گی؟ یقیناً وہ ایسے قادیانی افراد کو ترجیح دیتے ہیں جو عرب ممالک اور خصوصیت کے ساتھ سعودی عرب میں بظاہر تو ایک ڈاکٹر ، انجینئر یا مزدور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، جب کہ فارغ اوقات میں پس پردہ قادیانیت کی تبلیغ کے لئے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے سعودی عرب جیسے ملک میں جہاں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں، کام کرتے ہیں۔ یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اس لئے کہ پچھلے سالوں میں قادیانیوں کا ایک گروہ جن کی تعداد ایک سو بتلائی جاتی ہے اور اس میں مرد اور عورتیں سب شامل تھے ، جدہ اور سعودی عرب کے دوسرے شہروں میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہوئے پکڑا گیا اور ملک کے تقریباً تمام اخبارات نے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا۔
قادیانیوں کے گروہ اور ان کے خاندانوں کو سعودی عرب جیسے ممالک میں بھیجنے کا مکروہ فعل مذکورہ بالا قسم کی ٹریولنگ ایجنسیوں اور ریکروٹنگ کمپنیوں نے انجام دیا اور ان کمپنیوں کے قادیانی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہی یہ ہے کہ وہ قادیانیوں کے رسالوں میں اپنے اشتہارات چھپواتے ہیں۔
ایک صحیح العقیدہ مسلمان اپنی کمپنی کا اشتہار قادیانیوں کے رسالہ میں دینے پر موت کو ترجیح دے گا مگر نبی کریم ﷺ کی روح مبارک کو ایذاء پہنچانے کی جرأت نہ کرے گا۔
آخر میں وفد کی ترجمانی کرتے ہوئے مولانا کاپڑیا صاحب نے سعودی قونصل جنرل سے یہ درخواست کی کہ یہ ہم سب کا اور خصوصیت کے ساتھ سعودی سفارت خانے اور قونصلیٹ کا فریضہ ہے کہ وہ علماء پاکستان اور خصوصیت کے ساتھ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغین و اہلکاروں سے رابطوں کے ذریعہ اس قادیانی گروہ پر کڑی نظر رکھیں اور ان کی مصنوعات کا سعودی عرب میں داخلہ بند کروائیں وگرنہ براہ راست نہ بھی سہی ، بالواسطہ طور پر ان کی مصنوعات کے زرمبادلہ سے حاصل ہونے والی اربوں کی دولت سے دس فیصد رقم ان کی ارتدادی سرگرمیوں پر صرف ہوگی۔
نیز ایسی تمام قادیانی کمپنیوں کو بلیک لسٹ قرار دیا جائے جو نہایت عیاری سے اپنے گماشتے سعودی عرب میں بھیج کر وہاں ارتدادی تحریک کو پروان چڑھا کر وہاں کے امن وامان کے نظام کو درہم برہم کرنے اور یہودی تسلط کو قائم کرنے کے عزائم رکھتی ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے سعودی قونصل جنرل کی خدمت میں ایسی تمام قادیانی کمپنیوں اور مصنوعات کی فہرست مہیا کی جو اسلام اور مملکت اسلامی کے لئے خطرہ کا الارم ہیں اور ان کی راہ روکنا اسلام، مسلمانوں اور ارضِ مقدس کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔
سعودی قونصل جنرل صاحب نے اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو ہر قسم کے تعاون کی پیش کش کی اور وفد کی جانب سے پیش کی جانے والی فہرست میں شامل ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی جس سے مسلمانوں اور خصوصاً سعودی عرب کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ اپریل ۲۰۰۹ء ص ۷، ۸)
توہین رسالت وصحابہ کے مقدمہ میں گواہ کا بیان قلم بند
کراچی (عدالتی رپورٹ) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج کراچی ساؤتھ عبدالنعیم میمن نے توہین رسالت ، توہین صحابہ اور توہین اہل بیت میں ملوث ملزم منور احمد قادیانی کے خلاف مقدمے کی سماعت کی اور گواہ سید انوار الحسن کا بیان قلم بند کیا ۔ عدالت نے مزید گواہوں کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
گواہ سید انوار الحسن نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ ۱۱؍ مئی ۲۰۰۶ء کو اپنے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں موجود تھا، خورشید نامی شخص ۱۱؍ مئی کو دفتر ختم نبوت کراچی میں آیا اور بتایا کہ میرے موبائل فون پر کسی نامعلوم آدمی نے ایس ایم ایس بھیجا ہے، دفتر ختم نبوت میں موجود محمد انور رانا ، قاضی احسان احمد اور مفتی فخر الزمان نے وہ بھیجا ہوا ایس ایم ایس پڑھا ، جس میں حضور ﷺ، حضرت علی، حضرت حاجراں بی بی، حضرت فاطمہ اور اہل بیت کے بارے میں غلیظ قسم کی گالیاں لکھی ہوئی تھیں اور لکھا تھا کہ نشتر پارک کے وقوعہ کو نہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھولیں، ہم نے فوراً ختم نبوت کے وکیل منظور احمد میئو راجپوت ایڈووکیٹ کو فون پر اطلاع کی وہ فوراً دفتر ختم نبوت آئے پھر ہم سب نے مل کر فون کے ایس ایم ایس کا پرنٹ نکلوایا اور اس کے بعد موبی لنک کمپنی میں فون نمبر کے بارے میں معلومات کیں اس کے بعد صدر تھانے میں خورشید کی مدعیت ۲۲ مئی ۲۰۰۶ء میں ایف آئی آر درج کروائی جس میں منور احمد نامی شخص کو نامزد کیا جس کے موبائل نمبر کے ساتھ ساہیوال کا پتہ لکھا ہوا تھا۔
پولیس مقدمہ درج کرنے کے بعد نامزد ملزم کو گرفتار کرنے سے ٹال مٹول اور بہانے کرتی رہی، اس پر علماء کرام کے ایک وفد نے آئی جی پولیس سندھ سے ملاقات کی۔ اس وفد میں مولانا محمد اکرم طوفانی، علامہ احمد میاں حمادی، قاری محمد اقبال، منظور احمد میئو ایڈووکیٹ، قاری محمد عثمان، محمد انور رانا شامل تھے۔ آئی جی صاحب نے متعلقہ پولیس افسران کو حکم دیا کہ ملزم کو فوراً گرفتار کیا جائے۔
اس کے بعد پولیس نے ملزم منور قادیانی کو ساہیوال سے گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے موبائل اور سم برآمد کیں۔ گرفتار کرنے کے بعد پولیس نے ایک دن کا ریمانڈ لے کر نامزد ملزم کو چھوڑ دیا۔ جب کہ ختم نبوت کے لائرز فورم کے وکلاء منظور احمد میئو راجپوت ایڈووکیٹ کے ساتھ ملزم اور پولیس کا پیشی کے موقع پر کورٹ میں انتظار کرتے رہے تو اے آئی جی خود کورٹ میں آئے اور مجسٹریٹ صاحب کو بتایا کہ ملزم کو چھوڑ دیا گیا ہے تو اس وقت لائرز فورم کے وکلاء نے مجسٹریٹ سے کہا کہ ملزم کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے کیونکہ مقدمہ کا ٹرائل سیشن جج کے اختیارات ہیں۔ لہٰذا آپ حکم صادر نہیں کر سکتے، آپ اس رپورٹ کو فوراً سیشن جج کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم صادر فرمائیں، چنانچہ رپورٹ سیشن جج کے پاس پیش ہوئی تو سیشن جج نے حکم دیا کہ جو ملزم آپ نے چھوڑا ہے اس کو رپورٹ کے ساتھ پیش کریں، ملزم پیش کیا تو سیشن جج نے پولیس رپورٹ مسترد کر دی اور ملزم کو جیل بھجوا دیا اور پولیس کو حکم دیا کہ چالان پیش کیا جائے۔ اگلی سماعت پر عدالت نے مزید گواہوں کو طلب کر لیا۔ عدالت میں سماعت کے موقع پر منظور احمد میئو راجپوت ایڈووکیٹ، خالد نواز مروت، محمد یوسف خان، شمشیر عباسی اور اے۔ آر فضل ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲ مئی ۲۰۰۹ء ص ۱۶)
گوہر شاہی کے مرید کو سزائے موت کا فیصلہ
محمد سعید نامی شخص جو کہ بیگ کالونی گوجرہ روڈ جھنگ کا رہائشی ہے۔ اس نے آج سے تقریباً پانچ، ساڑھے پانچ سال قبل اپنی بیٹی (خ) کی شادی مسمی عمر دراز نامی شخص سکنہ بیگ کالونی کے ساتھ کر دی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد عمر دراز نے اپنی بیوی سے کہنا شروع کر دیا کہ گوہر شاہی میرا اللہ ہے۔ میں خدا کو اللہ نہیں مانتا اور نہ ہی حضرت محمد ﷺ کو مانتا ہوں۔ اس بناء پر دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہو گئے۔ جس کی بناء پر مورخہ ۱۳/ مارچ ۲۰۰۶ء کو عمر دراز نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ دستاویز طلاق نامہ میں بھی عمر دراز مذکورہ نے اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں ریاض گوہر شاہی کو اپنا خالق مالک، دوزخ و جنت اور اسی کو اپنا مالک مانتا ہوں۔ بعد ازاں عمر دراز نے جب اپنی بیوی کا سامان جہیز واپس کیا تو اس سامان میں عمر دراز کے بھائی لیاقت کے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پرچہ موجود تھا۔ جس میں دیگر عقائد کے علاوہ یہ بھی درج ہے کہ گوہر شاہی آئے تو محمد ﷺ کا دین ختم ہو گیا۔ چھڈ وے چھڈ اللہ محمد نوں۔ گوہر شاہی دی پوجا کر۔ (نعوذ باللہ ) اس تحریر میں لیاقت علی نے مزید لکھا ہے کہ: ”میں نے خود دیکھا گوہر شاہی کے ایک پاؤں تلے اللہ دوسرے پاؤں تلے محمد لکھا ہوا تھا ۔“ (نعوذ باللہ ) محمد سعید مذکورہ بالا نے مذکورہ تحریر مولانا غلام حسین مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ کے سپرد کی۔ مولانا غلام حسین مورخہ ۱۸/ مارچ ۲۰۰۶ء کو دیگر افراد ملازم حسین اور احمد نواز کے ہمراہ عمر دراز اور لیاقت مذکورہ کی دوکان واقعہ سٹلائٹ ٹاؤن گئے اور ان دونوں سے اس تحریر کے بارے میں دریافت کیا تو لیاقت علی مذکورہ نے مذکورہ بالا تحریر کی زبانی تصدیق کی ۔ بلکہ اسی تحریر پر مزید یہ لکھا ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ: ”میں لیاقت علی اس کاغذ پر ریاض گوہر شاہی کے بارے میں جو تحریر لکھی ہوئی ہے یہ بالکل حق ہے حق ہے۔“ بعد ازاں مولانا غلام حسین نے مندرجہ بالا واقعات کی روشنی میں عمر دراز اور لیاقت علی دونوں بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لئے S.H.O تھانہ صدر جھنگ کو درخواست دی۔ جس پر دونوں ملزمان بالا عمر دراز اور لیاقت علی کے خلاف مقدمہ نمبر ۱۶۶ مورخہ ۲۱/مارچ ۲۰۰۹ء بجرم 295-C ت پ درج ہوا۔ مقامی پولیس نے ملزمان بالا کو گرفتار کر کے چالان عدالت پیش کیا۔ مقدمہ بالا کی سماعت بعدالت جناب سید اعجاز حسین شاہ صاحب سیشن جج جھنگ شروع ہوئی۔ استغاثہ کی طرف سے مولانا غلام حسین، ملازم حسین، محمد سعید، محمد سعید کی بیٹی کے علاوہ رحمت اللہ A.S.I غلام حسین D.S.P اور مرزا غفار بیگ S.P انوسٹی گیشن (ریٹائرڈ) کے بیانات قلمبند ہوئے۔ تمام گواہان نے ملزمان بالا کے خلاف شہادت دی اور استغاثہ کی تائید کی۔ اس کے بعد سید اعجاز حسین شاہ سیشن جج کا تبادلہ ہوگیا۔ موصوف کی جگہ نئے جج جناب ریاض الحسن علوی صاحب سیشن جج تشریف لائے۔ مورخہ ۵/ مارچ ۲۰۰۹ء کو دونوں ملزمان نے زیر دفعہ 342 ض ف اپنے بیانات روبرو سیشن جج قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ گواہان نے ہمارے خلاف جو گواہی دی ہے وہ بالکل درست ہے۔ ہم اب بھی اپنے عقائد پر قائم ہیں اور گوہر شاہی کو اللہ سے بڑا مانتے ہیں۔ مورخہ ۲۷/ مارچ ۲۰۰۹ء کو بحث سماعت کرنے کے بعد فاضل سیشن جج صاحب نے ہر دو ملزمان لیاقت اور عمر دراز کو سزائے موت اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ، عدم ادائیگی پانچ پانچ سال قید بامشقت کا حکم سنایا۔ (تحریر: محمد سلیم بٹ ایڈووکیٹ)
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۹ء ص ۵۳)
ڈیرہ غازیخان کے دو قادیانی جیل پہنچ گئے
ڈیرہ غازیخان کی سول عدالت نے طیب رند قادیانی، شاہنواز قادیانی کو دو دو سال قید اور بیس بیس ہزار روپے کی سزا دے دی۔ تفصیلات کے مطابق آج سے سات سال پہلے یہ قادیانی قادیانیت کی تبلیغ کر رہے تھے۔ قادیانیت کے پمفلٹ اور رسائل بھی تقسیم کر رہے تھے۔ ضلع ڈیرہ غازیخان کی مشہور شخصیت مولانا صوفی اللہ وسایا امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازیخان کو جب قادیانیوں کی اس حرکت کا معلوم ہوا تو مسلمانوں کی گواہی پر ان قادیانیوں کے خلاف تھانہ میں ایف۔آئی۔آر درج کرائی۔ مولانا مرحوم اپنی زندگی میں اس مقدمہ کی مکمل سرپرستی کرتے رہے۔ اس دوران مولانا کا انتقال ہوگیا۔ حضرت کے بعد مولانا کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمٰن غفاری امیر جماعت ڈیرہ غازیخان کے سرگرم رہنما مولانا غلام اکبر ثاقب اور مولانا عبدالعزیز لاشاری نے اس مقدمہ کی پیروی کی۔ ملزم اپنے اس جرم کی سزا سے بچتے رہے۔ مگر علماء کرام ڈیرہ غازیخان مولانا محمد اسحاق، مولانا عبدالقدوس چشتی، قاری محمد اسماعیل، قاری محمد مزمل، جناب احمد حسن کھلول اور دیگر علماء کرام نے ان قادیانیوں کے خلاف سات سال ناکہ بندی جاری رکھی۔ آخر جنوری ۲۰۰۹ء میں سول جج ڈیرہ غازیخان نے ان قادیانیوں کو عدالت کے اندر ہی گرفتار کر کے سزا سنائی اور ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا۔ ڈیرہ غازیخان کے علماء کرام نے عدالت کے اس اقدام کا شکریہ ادا کیا اور قادیانیوں کو اس سزا پر خوشی کا اظہار کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی اس کاوش کو شاندار کامیابی قرار دیا۔ پھر عزم کیا کہ قادیانی جب بھی ایسی حرکت کریں گے تو مسلمان ہمیشہ ان قادیانیوں کی کڑی ناکہ بندی کر کے قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۹ء ص ۲۰)
سعودی حکمرانوں کے نام کھلا خط
دین اسلام حق تعالیٰ شانہ کا آخری اور پسندیدہ، کامل ومکمل دین ہے، یہ دین جس سرزمین سے چہار دانگ عالم میں پھیلا، حق
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تعالیٰ شانہ نے آپ کو اب اس کی خدمت پر مامور کر رکھا ہے۔ حرمین شریفین کی خدمت آپ حضرات کا طرۂ امتیاز ہے، جس میں آپ کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔ بلاشبہ آپ اس پر صد مبارک باد کے مستحق ہیں، آپ سے ایک نہایت اہم مسئلہ کی بناء پر ان سطور کے ذریعہ مخاطب ہوں شاید تحریر کچھ طویل ہو جائے، امید ہے آپ وقت کا دامن وسیع تر کرتے ہوئے، دین اسلام کے مفاد میں میری ان معروضات کو خوب غور وفکر سے مطالعہ فرمائیں گے تاکہ بات کسی فیصلہ کن مرحلہ پر منتج ہو سکے۔
گزارش یہ ہے کہ امت مسلمہ کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ جناب نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کریم کے آخری نبی ہیں، ان کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا اور آپ ﷺ کی نبوت کے بعد کسی اور شخص کو تاج نبوت نہیں پہنایا جائے گا، اس عقیدہ کے اثبات پر قرآن کریم کی سو آیات مبارکہ، دوسو سے زائد احادیث طیبہ شاہد عدل ہیں۔ دلائل وبراہین کے لئے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب کی کتاب ”ختم نبوت کامل“ ملاحظہ کی جاسکتی ہے تاہم بطور نمونہ قرآن کریم کی ایک آیت اور حدیث پیش خدمت ہے:
”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین (الاحزاب: ۴۰)“
”انه سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد ص ۲۲۸، ترمذی ج ۲ ص ۴۵)“
اسی طرح اہلیان اسلام اس بات پر بھی متفق ہیں کہ جناب سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں، اس کے سچے نبی ہیں۔ یہود ونصاریٰ کے ظلم وستم اور قتل وسولی سے بچانے کے لئے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا، قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، زمین پر ۴۵ سال زندہ رہیں گے، شادی کریں گے، ان کے بچے ہوں گے، مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے، روضہ اطہر میں مزار اقدس کے پاس جو قبر کی جگہ خالی ہے اس میں دفن ہوں گے، یہ تمام تر تفصیلات احادیث کی کتب میں درج ہیں مراجعت کے لئے شیخ الاسلام محدث کبیر، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری کی کتاب ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ جس کی تخریج اسلام کی عظیم شخصیت عرب کے عالم جلیل ابوالفتاح ابوغدہ نے کی ہے ملاحظہ کی جاسکتی ہے، بطور نمونہ چند آیات اور حدیث پیش خدمت ہے۔
قرآن کریم کی سورۂ نساء آیت: ۱۵۷، ۱۵۸، ۱۵۹ میں ارشاد ہے: ”فبما نقضهم میثاقهم وکفرهم بآیات اللّٰہ...... وبکفرهم وقولهم علی مریم بھتانا عظیما وقولهم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللّٰہ...... بل رفعه اللّٰہ الیه وکان اللّٰہ عزیزاً حکیما“
”عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال قال رسول اللّٰہ ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولدله ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر“
(مشکوٰۃ المصابیح باب نزول عیسیٰ ص: ۴۷۹، ۴۸۰)
تیسری بنیادی بات امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا مسئلہ ہے جو امت میں چودہ سو سال سے متواتر چلا آ رہا ہے، اہل حق کی جماعت نے کبھی بھی ان کے ظہور کا انکار نہیں کیا۔ ملاحظہ فرمائیے الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث صحیحہ شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ۔
حاصل کلام یہ ہوا کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی اور نیا نبی نہیں آسکتا، جناب سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں، قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ہوچکا ہوگا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اب ملاحظہ فرمائیے: دنیا میں ابتداء سے لے کر آج تک کفر و اسلام کی چپقلش رہی ہے۔ ہر دور میں کفر، اسلام کے مقابل رہا ہے، باطل اسلام کی توہین اور طے شدہ مسائل وعقائد کو بگاڑنے کے درپے رہا ہے مگر جہاں کفر اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہا ہے وہاں اسلام کے متوالے دین الٰہی کی حفاظت میں کمر بستہ رہے ہیں اور اسی کی حقانیت کو ہر میدان میں منوایا بلکہ منوانے کا حق ادا کیا ہے۔
انہی خلاف اسلام فتنوں میں سے اسلام کے مد مقابل آج کے قریبی دور کا ایک خطرناک فتنہ، فتنہ قادیانیت / مرزائیت ہے، جس نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے نام پر اسلام کی حسین ترین عمارت کو زمین بوس کرنے کی تمام تر کوشش کی۔ مگر اللہ رب العزت جزائے خیر عطا فرمائے امت کے جلیل القدر لوگوں کو جنہوں نے پنجاب (ہندوستان) کی سر زمین سے اٹھنے والے اس فتنہ کا ہر سطح پر مقابلہ کر کے اس کو ذلیل و رسوا کیا اور ان کے کفر کو اہلیان اسلام کے سامنے آشکارہ کیا، چنانچہ اس فرقہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے چند کفریہ عقائد ملاحظہ فرمائیں، اس کے بعد اپنی بات کی طرف آتا ہوں۔
جناب نبی اکرم ﷺ کی توہین:
مرزائی جماعت کا اخبار الفضل اپنی اشاعت (مورخہ ۱۷ / جولائی ۱۹۲۲ء ج ۱۰ ص ۵) پر لکھتا ہے: ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ سے بڑھ سکتا ہے۔‘‘
نبی پاک ﷺ اشاعت دین مکمل نہ کرسکے:
(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۱، خزائن ج ۱۷ ص ۲۶۳) پر مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ’’نبی ﷺ سے دین کی مکمل اشاعت نہ ہوسکی میں نے پوری کی ہے۔‘‘
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ رسالت:
’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
مسلمانوں کی توہین وتذلیل:
’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘
(نجم الہدیٰ ص ۵۳، خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۵)
جناب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ذات اقدس میں گستاخی کا ارتکاب:
’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘
(دافع البلاء ص ۱۳، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)
قادیانی کفریہ عقائد جو دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں کے چند حوالہ تحریر کئے ہیں وگرنہ قادیانیت کا سارا لٹریچر کفر وضلالت اور خرافات کا مجموعہ ہے، مزید معلومات کے لئے تفصیلی کتب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
قادیانیوں کے چند کفریہ عقائد آپ نے ملاحظہ فرمائے، ان حالات میں آپ کے وطن عزیز جو اسلامی دنیا کے دل وسکون کا محور و مرکز ہے، جسے ہر انسان عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، یہاں قادیانیوں کا ٹیلی ویژن چینل چلنا اور اس کے ذریعہ اجراء نبوت، وفات مسیح اور اس جیسے سینکڑوں خلاف اسلام مسائل کا آنا نہ صرف ہمارے لئے دکھ کی بات ہے بلکہ ہمارے سادہ مسلمانوں کے ایمان چھن جانے کا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہت قوی اندیشہ ہے۔
ڈش انٹینا اور کیبل کے ذریعہ MTV اور پھر MTV1 ، MTV2 ، MTV3 پر قادیانی اور مرزائی نشریات ہر لحاظ سے خلاف اسلام ہیں، حق تعالیٰ آپ کو دین و دنیا کی سلامتی نصیب فرمائے، اس چینل پر فوری طور پر پابندی عائد کریں اور ہمیشہ کے لئے اس کا سد باب کریں تا کہ کسی دور میں بھی یہ خلاف اسلام چینل کام نہ کرسکے۔ واللہ المستعان وما توفیقی الا باللہ!
اسی طرح قادیانی / مرزائی جو در حقیقت مرتد اور زندیق ہیں ان کے ساتھ معاشی بائیکاٹ کرنا بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے، ان کی تمام پروڈکس پر پابندی عائد کی جائے تا کہ اس ایمان کش فتنہ کا سد باب کیا جاسکے، مثلاً: شیزان جوس، جام، جیلی وغیرہ۔
امید ہے آپ نے ان سطور کو ضرور توجہ سے پڑھا ہوگا، از راہ کرم اس کے فوری سد باب کی تدبیر کریں، رحمت حق آپ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ والسلام! (مولانا) سعید احمد جلال پوری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۰؍ جولائی ۲۰۰۹ء ص ۱۶، ۱۷)
قادیانی ملک وقوم کے غدار ہیں
نامور مسلم سائنس دان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے بیرون ملک کی پرکشش ملازمت، پُر تعیش زندگی، اعلیٰ عہدے، اونچے منصب کو صرف اور صرف ملک وقوم کی خاطر قربان کیا اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ قوم وملک کے اس ہیرو کو اس قربانی کا کیا صلہ دیا گیا؟ اس سے قوم وملک کے بہی خواہ اور بدخواہ سب ہی واقف ہیں۔
اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس پوری سازش کے کردار بھی وہی بدنہاد ہیں جو ملک کی سلامتی کے دشمن ہیں اور ملک وقوم کو آسودہ حال یا پُر امن نہیں دیکھنا چاہتے۔
بہرحال ان کی ہمت وجرأت اور استقامت واستقلال کو سلام ہے کہ انہوں نے سب کچھ برداشت کیا، مگر اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔
حقائق و واقعات بتلاتے ہیں کہ ان کے خلاف محاذ سنبھالنے والوں میں بھی وہی عناصر پیش پیش تھے جنہوں نے نبی امی ﷺ کے خلاف بغاوت وسرکشی کا علم بلند کر رکھا ہے۔ یقیناً جو بدبخت، نبی امی ﷺ اور قرآن وسنت اور دین وملت کے وفادار نہ ہوں وہ ایک محب وطن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بہی خواہ کیونکر ہو سکتے ہیں؟ یا وہ ایک ایسے پکے سچے مسلمان سائنس دان کو کیونکر ترقی کی منزلیں طے کرتا دیکھ سکتے تھے؟
اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ڈاکٹر صاحب کو جنہوں نے ملک وقوم کی خاطر سب کچھ برداشت تو کر لیا مگر ان ازلی بدبختوں کے خفیہ عزائم ومنصوبوں کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا۔
بہر حال ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق رفتہ رفتہ اب یہ عقدے بھی کھلیں گے کہ کون کیا تھا؟ اور کس نے کیا کیا؟ جب تفصیلات سامنے آئیں گی تو اندازہ ہوگا کہ ڈاکٹر صاحب کی مخالفت اور ان کے خلاف بدترین سازش کے تانے بانے کیوں بنائے گئے؟ شاید اس لئے کہ وہ نبی امی ﷺ کے باغی مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیلمہ کذاب کا جانشین، اس کا ظل، بروز اور انگریزی فتنہ سمجھتے تھے اور اس کی ذریت کو نہ صرف نبی امی ﷺ کا بلکہ قوم وملک کا باغی اور دشمن سمجھتے تھے، چنانچہ انہوں نے روزنامہ جنگ کراچی کی ۱۵؍ جولائی ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں اپنے کالم: ’’خواہشات کی تکمیل‘‘ میں لکھا اور خوب لکھا ہے کہ: ’’اہم ترین بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں مسیلمہ بن کذاب جیسا دعویدار نبوت کوئی پیدا نہیں ہوا اور نہ اس کا کوئی پیروکار تھا۔ اگر کوئی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرتا یا اس کا پیروکار بنتا یا اس کی تشہیر کرتا تو دوسرے دن طلوع
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آفتاب کے منظر سے محروم ہو جاتا ۔ میرے خاندان کی پاکستان ہجرت کرنے کی وجہ یہاں بہتر مستقبل کی امید تھی، جب میں ہجرت کر کے پاکستان آ گیا تو میں نے پہلی مرتبہ ۱۹۵۳ء میں مذہبی فسادات دیکھے اور مجھے یہ جان کر تو سخت تعجب ہوا کہ نبوت کے جھوٹے دعویدار کے پیروکار یہاں پھلے پھولے اور اتنی آسانی سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو گئے تھے، جب تاریخ کا مطالعہ کیا تو علم ہوا کہ یہ سب شرارت انگریزوں کی تھی انہوں نے اس طبقہ کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی اور اپنے مفادات کے لئے تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کے سنہری اصول پر عمل کیا۔ اس طبقہ نے کبھی پاکستان کو ایک اسلامی مملکت کے طور پر قبول نہیں کیا ، پاکستان کے قیام کے بعد ہی سے ان لوگوں نے سازشوں میں حصہ لیا اور اقربا پروری کی بنیاد ڈالی اور حکومت کی ہر اس پالیسی کو جس کا مقصد ملک کو مضبوط ، خود کفیل اور خود مختار بنانا تھا اس کا مذاق اڑایا اور اس کو سبوتاژ کیا۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی ۱۵؍ جولائی ۲۰۰۹ء)
ڈاکٹر عبد القدیر خان کے قادیانیوں کے بارہ میں احساسات اور ریمارکس سے با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قادیانی لابی اور ان کے بین الاقوامی سرپرست ایسے پکے سچے مسلمان سائنس دان کو کیونکر پھلتا اور پھولتا دیکھ کر برداشت کر سکتے تھے؟ اس کے مقابلے میں مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ما علیہ کو نبی اور رسول ماننے والے نام نہاد ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو پاکستانی اور پہلے مسلم سائنسدان کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے اور ایسے موذی کا نام پاکستانی اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جاتا ہے جو قادیانیوں کے خلاف آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان کو لعنتی ملک کی گالی دیتا تھا اور یہ کہہ کر پاکستان آنے سے انکار کر دیا کہ: ’’میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا۔ جب تک کہ آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔‘‘
(ہفت روزہ چٹان لاہور،مؤرخہ ۲۲؍ جون ۱۹۸۶ء)
لیکن بہر حال حق کا بول بالا ہوا اور باطل کا منہ کالا ہوا اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو سرخرو کیا اور ان کے دشمنوں کے عزائم خاک آلود ہو گئے ۔ فالحمد للہ علی ذالک! وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ واصحابہ اجمعین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۱۵؍اگست ۲۰۰۹ء ص ۵، ۶)
حکومت پاکستان کی طرف سے قادیانیوں کو حج کی اجازت: علمائے کرام کا شدید احتجاج
کراچی (پ ر) حکومت نے سے قادیانیوں کو حج بیت اللہ کی اجازت دے دی، جس کی علمائے کرام اور عوام الناس نے مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت حج و مذہبی امور نے قادیانی سابق رکن پارلیمنٹ کی موٹو ٹریول ایجنسی کو حج کوٹہ جاری کر دیا ہے۔ وزارت مذہبی امور حج اوقاف کا یہ فیصلہ علمائے کرام اور مسلمانوں پر بجلی بن کر گرا، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا سعید احمد جلالپوری، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد طلحہ رحمانی اور مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی سمیت متعدد علمائے کرام نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن وسنت کے مطابق کفار کو بیت اللہ میں جانے اور حج کرنے کی اجازت نہیں، موجودہ حکمرانوں کا یہ فیصلہ نہ صرف قرآن وسنت کے خلاف ہے بلکہ ملکی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت مذہبی امور کو اس گہری سازش کا ادراک کرتے ہوئے فوری طور پر قادیانی ٹریول ایجنسی کا حج کوٹہ منسوخ کرنا چاہئے۔ اگر حکومت نے اس فیصلے کو واپس نہیں لیا تو ملک میں شدید احتجاج اور عوام الناس کے غم وغصہ کی وجہ سے امن وامان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خراب ہوسکتا ہے۔ جس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ لہٰذا حکومت کو اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء ص ۱۶)
شیخوپورہ میں قادیانی تبلیغ
شیخوپورہ جنڈیالہ روڈ پر ایک قادیانی قادیانیت کی تبلیغ اور پمفلٹ کھلے عام تقسیم کرنے پر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع شیخوپورہ کے مبلغ مولانا عبدالنعیم ۳۱؍ اگست ۲۰۰۹ء بروز پیر صبح نو بجے ایک دوست سے ملاقات کے لئے جارہے تھے کہ جنڈیالہ روڈ محلہ مجاہد نگر میں مبارک احمد قادیانی نامی شخص جو کہ سکہ بند جنونی قادیانی ہے۔ سرعام پمفلٹ سائیکل پر رکھ کر تقسیم کر رہا تھا اور کھلے عام قادیانیت کی تبلیغ و پرچار میں مصروف تھا۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع شیخوپورہ کے مبلغ مولانا عبدالنعیم نے اس کو موقع پر رنگے ہاتھوں پکڑ کر ایک دوکان میں بٹھا دیا۔ موقع پر ہی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ کے ناظم اعلیٰ قاری محمد الیاس، حافظ محمد یحییٰ ڈیرہ حافظاں، قاری خلیل الرحمٰن خطیب مدنی مسجد و دیگر احباب کافی تعداد میں پہنچ گئے اور انتظامیہ کو اس واقعہ کی اطلاع کی۔ انتظامیہ نے اس کو موقع پر ہی گرفتار کر کے تھانہ لے گئی۔ بعد ازاں مبارک احمد مرزائی نے حلف نامہ لکھ کر دیا کہ میں آئندہ قادیانی رسائل، پمفلٹ وغیرہ کی تقسیم اور قادیانیت کی تبلیغ نہیں کروں گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۹ء ص ۱۴)
جناب الطاف حسین صاحب کے نام کھلا خط
مکرمی ومحترمی۔۔۔ روزنامہ ایکسپریس ملتان ۹؍ ستمبر ۲۰۰۹ء میں آپ کا انٹرویو شائع ہوا۔ جو پوائنٹ بلینک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے آپ نے دیا۔ مبشر لقمان مبینہ طور پر قادیانی لابی کا نفس ناطقہ لگتا ہے۔ وہ آئے روز ایکسپریس چینل میں قادیانی جماعت کی حمایت میں قومی رہنماؤں سے کچھ نہ کچھ کہلوانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ اس کی خوشی میں اگلے روز ۸؍ ستمبر کو پوری قوم سو سالہ قضیہ کے حل ہونے پر خوشیاں منا رہی تھی۔ عین اسی دن ۸؍ ستمبر ۲۰۰۹ء کو آپ کا انٹرویو قادیانیوں کی حمایت میں لیا گیا۔ جو اگلے روز ۹؍ ستمبر کو شائع ہوا۔ جناب بھٹو صاحب کے عہد اقتدار میں امت مسلمہ کو جو خوشی نصیب ہوئی۔ ٹھیک پینتیس سال بعد قادیانیوں نے بھٹو صاحب کی پارٹی کے اتحادی قائد سے بیان دلوا کر امت مسلمہ سے بزعم خود انتقام لے لیا۔ ممکن ہے اس تاریخ کو انٹرویو اتفاقی واقعہ قرار دے دیا جائے۔ لیکن جو لوگ قادیانی سانپوں کی زہرناکیوں سے باخبر ہیں ان کو اس واقعہ کو اتفاقی قرار دینا مشکل اور بہت مشکل ہے۔
جناب الطاف حسین صاحب! آپ کے قادیانی حمایت میں بیان کے علیحدہ علیحدہ نمبرات لگا کر آپ سے چند گزارشات عرض کرنا ہیں۔ خدا کرے کہ مزاج گرامی پر ناگوار نہ گزریں۔ لیکن سوداء کا مرض بڑھ جائے تو میٹھی چیز بھی کڑوی لگتی ہے۔ آپ نے اپنی کوثر و تسنیم سے دھلی زبان سے فرمایا کہ:
- ۱...... ”ایم کیو ایم واحد تنظیم ہے جس کے قائد نے قادیانیوں کے امیر مرزا طاہر بیگ کے انتقال پر تعزیتی بیان دیا۔“
چشم بد دور یہ کارنامہ آپ ہی انجام دے سکتے ہیں۔ یہ عزت آپ کے حصہ میں لکھی جانی تھی۔ وہ قادیانی جس کے نفس ناطقہ ظفر اللہ خان قادیانی نے قائد اعظم محمد علی جناح کا (موجود ہونے کے باوجود) جنازہ نہ پڑھا۔ وہ اپنے کفر میں اتنا پکا اور آپ کے رویّہ میں یہ تفاوت کہ قائد اعظم کے نام کی مالا جپنے کے باوجود قادیانی گروہ کے چیف کے آنجہانی پوتے کی فوتگی کا درد لے کر آپ کا دل بے قرار ہو
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاتا ہے اور تعزیتی بیان جب تک نہیں دے دیتے اس وقت تک وہ دل کا روگ درست نہیں ہوتا۔
محترمی! آپ کیوں بھول گئے کہ قائد اعظم کی کابینہ میں شامل ہونے کے باوجود ظفر اللہ خان نے ان کا جنازہ نہ پڑھا تو اخباری نمائندہ کے جواب میں ظفر اللہ قادیانی نے کہا کہ: ’’ کافر حکومت کا مسلمان وزیر یا مسلم حکومت کا کافر وزیر مجھے سمجھ لیں۔‘‘
ظاہر ہے ظفر اللہ خان خود کو کافر نہیں کہہ رہا تھا بلکہ پوری حکومت کو کافر کہنا مقصود تھا۔ برہمن (ظفر اللہ) کی اس زناری اور مسلم (آپ) کی خواری سے اللہ مسلمانوں کو محفوظ فرمائیں۔
- ۲...... آپ نے فرمایا: ’’ مجھ پر کئی اخبارات نے اداریے لکھے کہ میں نے کفر کیا ہے۔ آج پھر میں وہ کفر دوبارہ کرنے جارہا ہوں۔ جس
کا دل چاہے فتویٰ دے۔‘‘
محترم! راقم مسکین اس سے تو بے خبر ہے کہ آپ پر کس اخبار نے اداریہ لکھا اور کس نے فتویٰ دیا؟ اگر قادیانیوں کے نزدیک اپنا نرخ بڑھانا ہے تو جو چاہے آپ فرمائیں۔ بہر حال آپ کے دادا مولانا مفتی محمد رمضان مفتی آگرہ موجود نہیں۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو ان سے بہ ایں الفاظ فتویٰ طلب کیا جاتا کہ کیا فرماتے ہیں مفتی آگرہ اپنے ہونہار پوتے کے متعلق جو بقائمی ہوش وحواس روبرو ہزاروں گواہان کہتا ہے کہ: ’’میں وہ کفر دوبارہ کرنے جارہا ہوں۔‘‘ آیا یہ قول رضا بالکفر ہے یا نہیں اور اگر رضا بالکفر ہے تو رضا بالکفر سے آدمی کافر ہو جاتا ہے یا نہیں؟‘‘
ظاہر ہے فقہاء نے رضا بالکفر کو کفر کہا ہے۔ آپ کے دادا بھی یہی فتویٰ دیتے۔ نہ جانے ان کے خلاف آپ کا کیا ردعمل ہوتا؟
محترم! بہت ہی منت سے درخواست ہے کہ آدمی ہزار غصے میں ہو یا جذباتی ہو جائے یا سینے کا درد اور منکرین ختم نبوت کی حمایت کا مروڑ کتنا ہی بے قرار کر دے کبھی بھول کر بھی ایک ادنیٰ مسلمان کو بھی یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں کفر کرنے جارہا ہوں۔ یہ حلم خداوندی کو چیلنج کرنے والی بات ہے۔ اسلام ایسی نعمت کے کفران والی بات ہے۔ اے کاش! آنجناب اس پر توجہ فرمائیں:
- ۳...... آپ نے فرمایا کہ: ’’جو قادیانی پاکستان میں رہتے ہیں۔ ان کو اپنے عقیدے اور مسلک کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل
آزادی ہونی چاہیے۔‘‘
قائد محترم!
- ۱...... مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ میں نبی اور رسول ہوں۔
(ملفوظات ج۱۰ ص۱۷)
- ۲...... سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔
(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)
- ۳...... مرزا قادیانی نے کہا کہ محمد رسول اللہ والذین معہ۔ اس وحی میں مجھے (مرزا کو) محمد کہا گیا اور رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)
- ۴...... مرزا قادیانی کے بیٹے نے کہا کہ مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے جو قادیان میں دوبارہ بھیجا گیا۔
(کلمۃ الفصل ص۱۵۸)
- ۵...... تمام قادیانی مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین اور اس کے خاندان کو اہل بیت اطہار اور اس کی زوجہ کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔
(ملفوظات ج۱ ص۵۵۵)
- ۶...... مرزا قادیانی کے مرید نے مرزا قادیانی کی موجودگی میں مرزا قادیانی کے متعلق اشعار کہے اور مرزا قادیانی سے داد و تحسین وصول کی کہ:
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر قادیان مورخہ ۲۵/اکتوبر ۱۹۰۶ء)
- ۷....... قادیانی عقیدہ ہے کہ مکہ مکرمہ مدینہ طیبہ حرمین شریفین کی طرح قادیان بھی ارض حرم ہے۔
(درثمین اردو ص ۵۲)
- ۸....... قادیانی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دیکھنے والے قادیانی صحابہ کرام ہیں۔
(سیرت المہدی ج ۳ ص ۱۲۸)
- ۹....... ایک قادیانی نے خود روایت کیا کہ میرے سامنے مرزا کے خاندان کے ایک فرد نے کہا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کیا تھے۔ وہ تو مرزا
غلام احمد کی جوتی کے تسمے کھولنے کے لائق نہ تھے۔
(ماہنامہ المہدی ص ۵۷، بابت ماہ جنوری، فروری ۱۹۱۵ء)
- ۱۰....... مرزا قادیانی کا الہام کہ میری بیوی کو خدا نے خدیجہ (الکبریٰ) کہا ہے۔
(تذکرہ ص ۱۰۵ طبع چہارم)
- ۱۱....... قادیانی عقیدہ ہے کہ تمام امت، محمدیہ جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتی۔ یہ سب کافر ہیں۔
(آئینہ صداقت ص ۳۵)
- ۱۲....... مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ میرے مخالف جنگلوں کے خنزیر اور ان کی عورتیں کتیا ہیں۔
(نجم الہدیٰ ص ۵۳، خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)
- ۱۳....... مرزا قادیانی کا کہنا تھا کہ جو میرا مخالف ہے۔ وہ جہنمی ہے۔
(تذکرہ ص ۲۸۰ طبع چہارم)
- ۱۴....... مرزا قادیانی کا وجود خود محمد رسول اللہ کا وجود ہے۔
(کلمۃ الفصل ص ۱۰۴)
محترمی! قادیانی عقائد کے چودہ طبق سے ایک ایک نکتہ پیش کیا ہے اور عمداً کتابوں کے حوالے پیش نہیں کئے (لیکن اب حوالے دے دیئے ہیں) کہ ان تمام حوالہ جات مرزائیت کو ہائی کورٹ کے ججز نے اپنے فیصلوں میں نقل کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے سے تو اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ کہ کسی جج نے اپنے فیصلہ میں حوالہ غلط کوٹ کیا ہو۔ اس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ ویسے اگر کوئی قادیانی کسی بھی فورم پر چاہے ان حوالوں کو چیلنج کرے۔ ہم ہزار بار ان کے چیلنج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایکسپریس چینل اور لقمان گفتگو میں اس کا اہتمام کرے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔
اب جناب الطاف حسین صاحب! میری آپ سے دردمندانہ درخواست ہے کہ قادیانی گروہ مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ کہے۔ مرزا قادیانی کی بیوی کو خدیجہ کہے۔ مرزا قادیانی کے ماننے والے کو صحابی کہے۔ مرزا قادیانی کے منکرین کو جن میں آپ اور فقیر بھی شامل ہے اور ہم تمام مسلمانوں کو کافر کہے۔ تو ان عقائد کی انہیں اسلامی مملکت میں عام اجازت ہونی چاہیے؟ اور پھر ظلم یہ کہ قادیانی ان کفریہ عبارات و نظریات کو اسلام کے نام پر پیش کرتے ہیں۔ کیا اس کی ان کو اجازت ہونی چاہیے؟ کیا ایک آپ کا مخالف آپ کی پارٹی کے نام کو استعمال کر سکتا ہے؟ متحدہ میں ایک شخص شامل نہیں۔ مگر کیا وہ آپ کا ٹریڈ مارک استعمال کر سکتا ہے؟ آپ کے علاوہ کوئی شخص ظل و بروز کی آڑ میں آپ کے نام و مقام کا مدعی سچا ہو سکتا ہے؟
فرضی طور پر ایک شخص اپنے آپ کو الطاف حسین کہہ کر آپ کی پارٹی آپ کی جائداد آپ کی اولاد اور بیوی پر وہی حقوق حاصل کر سکتا ہے جو آپ کو حاصل ہیں؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو پھر قادیانیوں کو کیوں اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اسلام کے نام پر اپنے کفر اور جعل سازی کو جاری رکھیں؟
محترمی! میں آپ کی بات نہیں کرتا۔ آپ اسے بداخلاقی پر محمول کریں گے۔ کیا ایک شخص جعلی طور پر کسی کو کہے کہ میں تمہارا باپ ہوں تو اس کو اس کی اجازت ہونا چاہیے؟ اے کاش! کم از کم محبوب رب العالمین ﷺ کی عزت کو اپنے باپ کی عزت کے برابر ہی قرار دیا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوتا۔ افسوس کہ آپ سے تو یہ بھی نہ ہوا۔
- ۴...... آپ نے فرمایا ”اگر پاکستان میں ایک ہندو کو اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کا حق ہے تو قادیانیوں کو بھی وہ حق ملنا چاہیے۔“
محترمی! یہاں آپ چوکڑی بھول رہے ہیں۔ قادیانیوں کی حمایت میں حقائق کا انکار آپ کے وقار میں ہرگز اضافہ نہیں کرے گا۔ ہندو آئین پاکستان کو مانتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے اپنے عقیدہ کو ہندوازم کے نام سے متعارف کراتا ہے۔ آئین پاکستان کہتا ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ قادیانی خود کو مسلمان کہہ کر آئین پاکستان سے بغاوت کرتے ہیں۔ آئین کو ماننے والا اور آئین سے بغاوت کرنے والا۔ کیا دونوں برابر ہیں؟
پھر ایک ہندو کہتا ہے کہ میں کرشن یا رام کو ماننے والا ہندو ہوں اور حضورﷺ کو ماننے والے مسلمان ہیں۔ ایک سکھ کہتا ہے کہ میں بابا گرونانک کا پیروکار سکھ ہوں اور محمد عربیﷺ کے پیروکار مسلمان ہیں۔ ایک قادیانی کہتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے مسلمان ہیں اور امت محمدیہ جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتی وہ کافر ہیں۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں؟
قادیانیوں کو مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی کر کے مسلمانوں کے تشخص کو برباد کرنے کی وہی اجازت دے سکتا ہے۔ جس کے نزدیک روشنی اور تاریکی دونوں برابر ہوں۔ جس کے نزدیک کفر اور اسلام دونوں برابر ہوں۔ اسے سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ: ”کعبہ کو پاسبان مل گئے صنم خانہ سے“ تو سنا تھا۔ لیکن آپ تو ”صنم خانہ کو پاسبان مل گئے کعبہ سے“ کی روایت قائم کرنے چلے ہیں۔ رک جائیے کہ یہ سراسر خسارے کا سودا ہے۔
- ۵...... آپ نے فرمایا کہ: ”میں نے قادیانیت کا لٹریچر پڑھا ہے۔ ان کا بھی وہی کلمہ ہے جو ہمارا ہے۔“
محترمی! یہی سوال جو آپ نے اٹھایا ہے یہی مرزا قادیانی کے بیٹے اور آپ کے جگری دوست مرزا طاہر کے چچا سے کیا گیا تھا کہ تم نے اپنا نبی علیحدہ بنایا ہے تو کلمہ بھی علیحدہ بنالو۔ تو مرزا قادیانی کے بیٹے نے کہا کہ ہمیں علیحدہ کلمے کی ضرورت نہیں۔ اس کلمہ سے ہماری ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ کیونکہ محمد رسول اللہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی کے آنے کے بعد ایک اور نبی کی زیادتی ہوگئی۔ مرزا قادیانی بھی محمد ہے اور رسول بھی تو محمد رسول اللہ کے کلمے میں مرزا قادیانی بھی شامل ہے۔ یہ کلمۃ الفصل میں حوالہ موجود ہے۔ مرزا بشیر احمد مرزا قادیانی کے بیٹے اور ان کے نام نہاد صحابی کی کتاب ہے۔ آپ کا کہنا کہ ان کا کلمہ وہی جو ہمارا ہے۔ اگر آپ کے نزدیک محمد رسول اللہ میں مرزا قادیانی شریک ہے۔ آپ کو یہ کہنے کا حق ہے۔ لیکن کوئی مسلمان جس طرح توحید میں شرک کے قائل نہیں۔ رسالت یعنی محمد رسول اللہ کے مفہوم میں بھی شرک کے قائل نہیں۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہ قادیانیوں کا اور ہمارا کلمہ ایک ہے۔ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے؟
- ۶...... آپ کا فرمانا کہ عبدالسلام قادیانی کو نوبل پرائز ملا۔
وہی عبدالسلام جس نے ایٹمی راز امریکہ کو دے کر پاکستان کا ناطقہ بند کرنے کی سعی نامشکور کی۔ اس کی وکالت آپ کریں۔ تو اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ: ”سنا ہے کہ باغبان نے چمن بیچ ڈالا۔ نوبل یہودی تھا۔ یہودی انعام سے یہودی۔ قادیانی خوشی کے بعد آپ کی خوشی۔ ایک نئی تثلیث کا وجود ماننا پڑے گا؟“
- ۷...... آپ نے فرمایا کہ: ”ہماری حکومت آگئی تو قادیانیوں کی عبادت گاہ بنواؤں گا۔“
اس نکتہ کا مفہوم لکھا ہے (آپ نے تو ان کی عبادت گاہ کو مسجد کہا۔ جو آئین پاکستان کے خلاف ہے لیکن آپ اس سے ماوراء ہیں)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محترمی! کبھی نہ بھولیے کہ آپ قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کرسکیں گے۔ قادیانی ایسی بوسیدہ اور شکستہ کشتی ہے کہ اسے بچانے والا بھی ڈوبے گا۔ خدا گنجے کو ناخن نہ دے گا۔ ہے شوق تو جی بسم اللہ! آپ ان کی حمایت میں کھڑے رہیں۔ امت آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔ جہاں چاہیں آواز دیں۔ خدام ختم نبوۃ کو آپ حاضر پائیں گے۔
قبلہ یہ کیا ہوا کہ دوسرے دن صفائی دینی شروع کردی کہ میرا دادا مفتی تھا۔ میں ختم نبوۃ کا قائل ہوں۔ میں مسلمان ہوں۔ آپ کے اس بیان سے تو خوشی ہوئی کہ آپ کو احساس ہو گیا۔ لیکن ڈنڈی نہ ماریے۔ یہ سیاست نہیں ایمان کا مسئلہ ہے۔ اگر اس بیان میں مخلص ہیں تو منکرین ختم نبوۃ قادیانیوں کی حمایت، حضور ﷺ کے دشمنوں سے یاری سے دست بردار ہوں۔ آپ بھی لندن میں، قادیانی قیادت بھی لندن میں۔ دو قائدین کی درون خانہ راز داری ومجبوری اسے اپنی ذات تک محدود رکھیے۔ لاکھوں شیدایانِ اسلام وخدام ختم نبوۃ متحدہ کے ووٹروں کا اپنے مفادات کے لیے سودا کرنا ایک قائد کے شایان شان نہیں۔ تلخ نوائی کی معافی! ”جان کی امان پاؤں تو عرض کروں“ پر اسے محمول فرما لیجیے۔ چودہ سو سال قبل سیدنا حسان ؓ نے حضور ﷺ کے مخالفین سے کہا تھا کہ: ”میری جان اور عزت سب کچھ حضور ﷺ کے نام پر قربان۔“ اسی کو دہرا کر ختم کرتا ہوں۔
فقیر: اللہ وسایا ملتان
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۹ء ص ۲۶ تا ۵۰)
وفاقی وزیر مذہبی امور کے نام
بگرامی خدمت جناب مخدوم زادہ سید حامد سعید کاظمی صاحب زید مجدہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته مزاج گرامی!
روزنامہ نوائے وقت میگزین مورخہ ۲۲ نومبر ۲۰۰۹ء جس میں تحریر ہے کہ قادیانی جماعت چناب نگر کا ناظم امور عامہ آنجناب سے ملا اور قادیانیت سے متعلق قوانین کے خلاف یادداشت پیش کی۔
جناب والا نے یہ یادداشت اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوادی۔
- ۱...... جناب والا سے استدعا ہے کہ قادیانیت کے کفر سے متعلق تمام مکاتب فکر کے متفقہ فتاویٰ موجود ہیں۔
- ۲...... ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان قومی اسمبلی نے ۱۳ دن کی بحث کے بعد متفقہ طور پر ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت
قرار دیا۔
- ۳...... ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو جنرل ضیاء الحق نے تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۸ سی کا اضافہ کرتے ہوئے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر
مکمل پابندی عائد کردی۔
- ۴...... وفاقی شرعی عدالت میں قادیانیوں نے امتناع قادیانیت ایکٹ کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی جو پچیس دن کی سماعت کے بعد
خارج کردی گئی۔
- ۵...... امتناع قادیانیت ایکٹ کے خلاف قادیانی مختلف عدالتوں میں گئے آٹھ ہائی کورٹوں نے امتناع قادیانیت ایکٹ برقرار رکھا اور
قادیانیوں کی رٹیں خارج کردی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۶...... قادیانی سپریم کورٹ میں گئے، ۱۹۹۵ء میں سپریم کورٹ نے قادیانیوں کی تمام اپیلیں مسترد کر دیں۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے
پینل کا چیئرمین جسٹس شفیع الرحمن بقول علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم قادیانی تھا۔ اس نے قادیانی ہونے کے باوجود ایکٹ کو برقرار رکھا، اس سے جزوی اختلاف کیا، لیکن مجموعی طور پر ایکٹ کو ختم نہ کر سکا۔
- ۷...... سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف قادیانی نظر ثانی میں گئے۔ ۸؍ نومبر ۱۹۹۹ء کو پرویز مشرف کے دور میں آئین معطل ہونے
کے باوجود سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کی نظر ثانی کی اپیل مسترد کر دی۔
نیز اس سلسلہ میں لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک دسیوں فیصلے، مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام سے مناظرے جن میں قادیانیوں کے کفر کو طشت از بام کیا گیا ہے موجود ہیں۔ ان حالات میں آنجناب کا قادیانیوں کی درخواست کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنا مسئلہ کو از سر نو شروع کرنے اور متنازعہ بنانے کے مترادف ہے۔
استدعا ہے کہ اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو قادیانیوں کی درخواست کو مسترد فرما کر دینی، ایمانی، اخلاقی، منصبی حمیت کا ثبوت دیجئے۔
(مولانا) محمد اسماعیل شجاع آبادی
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۰۹ء ص ۲۴)
قادیانی سپرنٹنڈنٹ جیل فیصل آباد کا ظلم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد نے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ بورسٹل جیل فیصل آباد کے وارڈن محمد حسین کا قربانی کا بکرا زبردستی پکڑ کر ذبح کر کے کھا جانے پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل بورسٹل قادیانی غیر مسلم مرتد، فہیم الدین کو فوری طور پر معطل کر کے قانونی کارروائی کی جائے اور چیف سیکرٹری پنجاب کے فیصلہ کے مطابق محمد حسین وارڈن کو بکرا کی قیمت دس ہزار روپے اور خرچ پندرہ ہزار روپے کل پچیس ہزار روپے معاوضہ دلایا جائے۔ جب کہ چیف سیکرٹری کے فیصلہ کی فیکس جیل کے دفتر میں پہنچ چکی ہے۔ مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ مقام افسوس ہے کہ آئی جی جیل خانہ جات قادیانی غیر مسلم ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا ہے اور اس قادیانی کی غیر قانونی حمایت کر رہے ہیں۔ جب کہ آئی جی جیل خانہ جات کی تقرری سیاسی بنیادوں پر کی گئی ہے۔ اس کو فوری طور پر تبدیل کر کے میرٹ پر کسی تجربہ کار غیر جانبدار افسر کو آئی جی جیل خانہ جات تعینات کیا جائے۔ مقام افسوس ہے کہ کٹر قادیانی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل فہیم الدین کو بہاولپور تبدیل کیا گیا تھا۔ مگر آئی جی جیل خانہ جات نے حمایت کرتے ہوئے دوبارہ بورسٹل جیل فیصل آباد لگا دیا گیا ہے اور خالی آسامی سپرنٹنڈنٹ جیل کی جگہ نیا سپرنٹنڈنٹ نہیں لگایا گیا۔ سپرنٹنڈنٹ کا اضافی چارج بھی اس غیر مسلم مرتد قادیانی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو دے رکھا ہے جو مسلمان ملازمین پر ظلم کرتا ہے، توہین کرتا ہے۔ من مرضی کرتا ہے۔ کسی کا ڈر خوف نہیں ہے۔ جب کہ محمد حسین وارڈن کی بیوی قربانی کے لئے پالا گیا بکرا جیل کے اندر فیملی کوارٹرز کے خالی گراؤنڈ میں چرا رہی تھی کہ قادیانی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے اپنے دو ملازمین کو حکم دیا کہ بکرا پکڑ لیا جائے۔ وہ شوکت علی اور خالد محمود وارڈن بکرا زبردستی پکڑ کر اس کی کوٹھی پر لے گئے اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے حکم پر ذبح کر کے کھا گئے۔ محمد حسین کی بیوی منت سماجت کرتی رہی۔ اس کو کوٹھی سے زبردستی نکال دیا گیا۔ اس کے خلاف فوجداری پرچہ بھی وومن تھانہ میں درج ہے۔ جس کی سماعت سید انجم رضا سول جج کی عدالت میں ہو رہی ہے۔ آئندہ تاریخ پیشی ۵؍ دسمبر ۲۰۰۹ء مقرر ہوئی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۰ء ص ۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک قادیانی کا قبول اسلام
جناب رب نواز ولد عبدالرحمٰن قوم مغل سکنہ چک نمبر 55/4A تحصیل ہارون آباد نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کذاب ہونے کا اعلان کر کے قبول اسلام کر لیا۔ جامعہ رشیدیہ ہارون آباد کے مہتمم مولانا محمد صدیق، مفتی عبدالخالق اور محمد ادریس بھٹی کو ایک تحریر لکھ کر دی۔ جس میں قادیانیت سے تائب ہونے اور قبول اسلام کرنے کا اعلان کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۹ء ص ۱۱)
سلانوالی میں تین قادیانی خاندانوں کا قبول اسلام
ماہ مارچ ۲۰۰۹ء میں سلانوالی میں عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے کافی گہما گہمی ہوئی ہے۔ جماعت سلانوالی کی طرف سے ۶ پروگرام سیرت النبی ﷺ وعقیدہ ختم نبوت پر منعقد کئے گئے۔ جس میں سرگودھا سے مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا نور محمد ہزاروی، لالیاں سے مولانا احمد چاریاری، چناب نگر مرکز ختم نبوت سے مولانا غلام مصطفیٰ تشریف لائے۔ ہماری تبلیغ کی برکت سے قادیانیت کے دو سے تین خاندان مشرف با اسلام ہوئے۔ مسلک دیوبندی، بریلوی واہل حدیث تینوں حضرات کو ایک پلیٹ فارم پر بلا کر مقامی انتظامیہ کو قادیانیت کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۹ء ص ۲۵)
سات افراد نے مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا
۲ / جون ۲۰۰۹ء بروز منگل ڈیری فارم کوٹ امیر شاہ نزد تھانہ چناب نگر کے رہائشی ساجدہ جاوید، زوجہ محمد جاوید، فیصل جاوید، دانش جاوید، ذوہیب جاوید، کنول جاوید، ارم جاوید نے اسلام قبول کر لیا۔ اس نومسلم گھرانے نے بیان کیا کہ ہمارے آباؤ اجداد قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم بھی ان کے مذہب پر تھے۔ لیکن جیسے جیسے دینی ماحول میں اور علماء کرام کی تقریریں اور تبلیغ سے پتہ چلا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی نہیں تھا۔ بلکہ وہ جھوٹا دجال کذاب کافر اور مرتد تھا۔ جس نے متضاد قسم کے دعویٰ کر رکھے تھے۔ ہم نے اس کے باطل عقائد کو دیکھتے ہوئے تائب ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم صدق دل سے اور بغیر کسی جبر و اکراہ اور ترغیب کے توبہ تائب ہو کر کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اسے نبی ماننے والوں کو کافر اور مرتد سمجھتے ہیں اور قادیانی مذہب پر لعنت بھیجتے ہیں اور اسلام کے بنیادی ارکان پر پابندی کریں گے اور علماء اسلام سے رابطہ رکھ کر دینی مسائل معلوم کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین! ان نومسلم افراد کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما اور خطیب چناب نگر مولانا غلام مصطفےٰ نے مبارک باد پیش کی اور انہیں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۹ء ص ۲۶)
نیپال میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام
مکرمی ومحترمی جناب حضرت امیر صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے کہ مزاج عالی بخیر ہوگا ابھی پچھلے دنوں سیرت خاتم النبیین ﷺ کے عنوان پر برتابازار ضلع چھاپا مشرقی نیپال میں ضلعی سطح کا دو روزہ جلسہ ہوا، جس میں تمام مکتبہ فکر کے حضرات شریک ہوئے۔ توحید و رسالت، آخرت اور ختم نبوت کے موضوع پر تقاریر ہوئیں۔ شرکاء نے اچھا تاثر لیا۔ خطابی پروگرام کے بعد علاقہ کا جائزہ لیا گیا اور سب نے مل جل کر حفاظت دین کی خاطر جدوجہد کرنے کا عزم کیا۔ پھر پورے ضلع پر نگاہ نظر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رکھنے کے لئے ایک رابطہ کمیٹی بنائی گئی۔ آخر میں ختم نبوت اور رد قادیانیت سے متعلق پمفلٹس اور اشتہارات تقسیم کئے گئے۔ صدر مجلس مولانا غلام رسول فلاحی صاحب کی دعا پر مجلس برخاست ہوئی۔
اسی طرح ۲۶ / جمادی الاوّل ۱۴۳۰ھ بمطابق ۲۲ / مئی ۲۰۰۹ء بروز جمعتہ المبارک کو جامعہ مسجد دیوان گنج میں ذمہ داران مجلس تحفظ ختم نبوت اور مقامی لوگوں کی ایک نشست ہوئی، جس میں ۵ / افراد پر مشتمل ایک گھرانے نے قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام کا اعلان کیا، تائب ہونے والے محمد ابراہیم نے بیان دیا کہ میں نے کسی دباؤ میں آکر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اب چاہے میری جان چلی جائے لیکن میں اسلام سے نہیں پھر سکتا۔ جملہ شرکا مجلس نے تائبین کے لئے استقامت کی دعا کی۔ تقریباً ۳ بجے سہ پہر مجلس برخاست ہوئی۔ دیگر حالات بہتر ہیں علاقوں کے دورے اور سرگرمیاں بھی بحمد اللہ جاری ہیں۔ دعا فرماویں اللہ ان ٹوٹی پھوٹی محنتوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔ والسلام! محتاج دعا: محمد اسلام ندوی مجلس تحفظ ختم نبوت نیپال
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱ / جولائی ۲۰۰۹ء ص ۱۵)
قبول اسلام
غازی ہیبت خان ولد فیروز خان قوم گجر سکنہ مکان نمبر ۱۵۶ گلی نمبر ۶ غازی ٹاؤن چناب نگر ضلع چنیوٹ حال ساکن فتح پور روڈ نزد مدرسہ تحفیظ القرآن علی پور نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علی پور کے سابق امیر قاری منیر احمد نعمانی کے دست حق پرست پر مولانا ابو دجانی، مولانا عبدالرحیم، مفتی محمد عمار کی موجودگی میں اسلام قبول کرتے ہوئے کہا کہ میں جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو دعویٰ نبوت میں کذاب، دجال، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ میرے والدین، بہن بھائی قادیانی عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ آئندہ کے لئے میرا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا۔ مذکور نے بتلایا کہ میں نے قادیانیوں کے جامعہ احمدیہ چناب نگر سے چار سالہ قادیانیت کورس کیا ہوا ہے۔ اس نے علمائے کرام سے استدعا کی کہ اس کے لئے استقامت علی الدین کی دعا کی جائے۔ نیز یہ کہ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چناب نگر میں منعقد ہونے والے سالانہ رد قادیانیت کورس میں بھی شریک ہونا چاہتا ہے۔ تاکہ قادیانیوں کے شکوک و شبہات اور دجل و فریب کو کما حقہ سمجھ سکے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۹ء ص ۷۵)
قادیانی کا قبول اسلام
لاہور: سید برہان احمد (سابق قادیانی) نے حضرت مولانا مفتی شیر محمد علوی صاحب کے ہاتھ پر ۲۵ / اکتوبر ۲۰۰۹ء کو اسلام قبول کرلیا۔ انہوں نے اپنے قبول اسلام کے اقرار نامہ میں کہا کہ میں سید برہان احمد ولد سید عزیز احمد ساکن ۳۷ اے وحدت کالونی لاہور، سچے دل سے اقرار کرتا ہوں کہ میں نے قادیانیت سے توبہ کر لی اور سچے دل سے اسلام قبول کرلیا، میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے اور جو آدمی نبوت کا دعویٰ کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، خاص طور پر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو (قادیانی یا لاہوری) دائرہ اسلام سے خارج جہنمی اور لعنتی سمجھتا ہوں۔ میرا قادیانی جماعت سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ میں نے ان گواہان (نذیر احمد خان، محمد سلیم خان) کی موجودگی میں سچے دل سے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔
بدست: مفتی شیر محمد علوی (سابق مفتی جامعہ اشرفیہ لاہور، مفتی دارالافتاء بستی کرم آباد وحدت روڈ لاہور) اللہ تعالیٰ مجھے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
استقامت نصیب فرمائے۔ بجاہ خاتم المرسلین ﷺ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے رہنما مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد عمران ساقی اور مولانا عمر حیات فاروقی نے سید برہان احمد (سابق قادیانی) کو مسلمان ہونے پر مبارک باد پیش کی اور اس خوشی کے موقع پر دوست و احباب میں مٹھائی تقسیم ہوئی اور آخر میں سید برہان احمد کی استقامت کے لئے دعا کی گئی اور ان کو ختم نبوت کا کام کرنے کی تاکید کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍ نومبر ۲۰۰۹ء ص ۱۳)
تربیتی نشست سے خطاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے ۲۳؍ جنوری ۲۰۰۹ء خانقاہ عزیزیہ چک (11-L) میں تحفظ ختم نبوت کے عنوان پر اور چک (181/9-L) میں ایک فکری و تربیتی نشست سے خطاب کیا۔ اس موقع پر پیر جی عبد الحفیظ ، مبلغ ختم نبوت مولانا عبد الحکیم نعمانی، قاری شبیر احمد کے علاوہ علماء اور حاضرین کی کثیر تعداد موجود تھی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۹ء ص ۵۳)
تتلے عالی گوجرانوالہ میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام فروری میں مدرسہ فیض الاسلام تتلے عالی میں تین روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ مجموعی طور پر دوسو سے زائد حضرات نے استفادہ کیا۔ رد قادیانیت کورس کے استاذ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔ نیز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر اور گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا محمد عارف شامی نے مختلف مساجد میں خطبہ جمعہ دیا۔ کورس کا انتظام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مقامی شاخ کے رہنماؤں نے کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس سید والہ
یکم؍ فروری ۲۰۰۹ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سید والہ کے زیر اہتمام جامع مسجد بلال میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت صاحبزادہ طاہر الحسن شاہ صاحب نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا عبد النعیم، مولانا عبد الخالق، حاجی عبد الحمید رحمانی، جناب مہر محمد اسلم ناصر ایڈووکیٹ، جناب حافظ مشتاق احمد، جناب صوفی خادم حسین، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، بھائی محمد افضل سمیت کئی ایک حضرات نے خطاب کیا۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر خالد محمود شاہد نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس ننکانہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس یکم؍ فروری ۲۰۰۹ء مدرسہ دارالعلوم مدینہ ٹاؤن میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، معروف خطیب مولانا محمد اسماعیل شاہ کاظمی، مجلس لاہور کے مبلغ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، شیخوپورہ کے مبلغ مولانا عبد النعیم، حاجی عبد الحمید رحمانی، مہر محمد اسلم ناصر ایڈووکیٹ، چوہدری محمد شفیق، قاری محمد الیاس، قاری محمد اقبال سمیت متعدد علمائے کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کی میزبانی قاری محمد ارشد نے کی۔ کانفرنس میں صفدر آباد، مانوالہ، رحیم نگر، گنگا پور اور قرب و جوار کے علاقوں سے مسلمانوں نے وفود اور قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔ الحمد للہ کانفرنس بہت کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۹ء ص ۵۲، ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دریا خان میں ماہانہ پروگرام
جامع مسجد صدیق اکبر میں ۱۰/فروری ۲۰۰۹ء کو ماہانہ ختم نبوت پروگرام ہوا۔ قاری محمد جہانگیر نے تلاوت کی اور قاری صدیق اکبر نے نعت پڑھی۔ قاری محمد صابر، مولانا محمد رمضان خطیب مسجد حیدری دریا خان نے خطاب کیا۔ مولانا محمد ساجد اقبال انصاری نے دعاء کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر
۱۲/فروری ۲۰۰۹ء کو جامع مسجد مہاجر کالونی بہاول نگر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد اسحق ساقی، مولانا فیض احمد، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ جب کہ حافظ محمد شریف منچن آبادی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ص ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ ورکاں
نوشہرہ ورکاں میں ۱۶/فروری ۲۰۰۹ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا محمد عارف شامی، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبید اللہ انور، مولانا قاری عبدالمجید اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ اپریل ۲۰۰۹ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس لیہ و پہاڑ پور
۲۵/فروری ۲۰۰۹ء دن جامعہ فاروقیہ پہاڑ پور اور رات جامع مسجد کرنال لیہ میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید قاسمی، مولانا عبدالقادر ڈیروی، مولانا عبدالستار، مولانا سعید احمد ربانی، مولانا عبدالشکور، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ جب کہ جناب اللہ نواز سرگانی نے نعت خوانی کی۔ مولانا محمد حسین نے صدارت کے فرائض ادا کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ص ۵۶)
تلہ گنگ میں ختم نبوت کانفرنس
جامع مسجد عائشہ صدیقہ میں ۲۵/فروری ۲۰۰۹ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت قاری نور محمد نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تفصیلی بیان ہوا۔ مولانا شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی دنیا کے ہر فورم پر اپنا کیس ہار چکے ہیں، جب کہ مسلمان اپنا کیس جیت چکے ہیں۔ ان حالات میں قادیانیوں کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ قادیانیت سے توبہ تائب ہو کر دامن مصطفوی سے وابستگی کا اعلان کردیں۔ تو مسلمان انہیں اپنے سینے سے لگانے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ کانفرنس میں علماء کرام اور معززین شہر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰/اپریل ۲۰۰۹ء ص ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس ہائے کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام ۲۸/فروری تا ۳/مارچ ۲۰۰۹ء کو کراچی کے بارہ ٹاؤنوں میں سے اس سہ ماہی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں چار ٹاؤنوں میں ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ (۱) ساؤتھ کالونی ملیر ۔ (۲) جامعہ امام ابو یوسف مسجد باب الرحمت ۔ (۳) بلدیہ ٹاؤن۔ (۴) بھینس کالونی۔ چاروں کانفرنسوں میں حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاضی احسان احمد ،مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا محمد طیب لدھیانوی، مولانا محمد ثانی ابن مفتی محمد جمیل خان، مولانا محمد اعجاز، مولانا محمد انس، رانا محمد انور ، سید انوار الحسن، جناب سلمان گیلانی، مولانا محمد رضوان سرگودھا، مولانا قاری محمد عثمان، مولانا قاری احسان اللہ فاروقی اور دیگر حضرات نے شرکت فرمائی۔ تمام دینی مدارس ، دینی جماعتوں، مقامی خطیب حضرات اور مجلس کے رفقاء نے جتنی محنت کی اس سے کہیں زیادہ اثرات مرتب ہوئے۔ عوام الناس نے کانفرنسوں میں بھر پور شرکت سے ثابت کر دیا کہ ” ذرا نم ہو تو مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی“
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ص ۲۷)
شیر پاؤ چارسدہ میں ۵ روزہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سرحد کے زیر اہتمام دارالعلوم سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ”شیر پاؤ“ تحصیل تنگی ضلع چارسدہ میں پانچ روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ جس میں پچاس سے ستر کے درمیان علماء کرام، طلبہ اور پڑھے لکھے نوجوانوں نے شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور مسئلہ ختم نبوت کے خلاف قادیانیوں کے نام نہاد دلائل اور ان کے سیر حاصل جوابات دیئے۔ شرکاء کورس نے دلچسپی سے نہ صرف یہ کہ لیکچر سنے بلکہ نوٹس لئے۔ آخری تقریب ۲/ مارچ ۲۰۰۹ء کو منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت دارالعلوم سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مہتمم مولانا محمد سہیل خان نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی مجلس سرحد کے امیر حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی تھے اور ان کے ساتھ چاچائے جمعیت عنایت اللہ بھی تھے۔ مفتی صاحب نے اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران پشتو بولنے والے علماء کرام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ،مفکر اسلام مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی ، شیخ الحدیث مولانا عبد الحق، مولانا حبیب گل، مولانا صدر الشہید کی ختم نبوت کی تحریک میں خدمات پر روشنی ڈالی اور پختونوں سے فرمایا کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی وراثت ، عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کریں۔ شرکاء کورس کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کی طرف سے آئینہ قادیانیت اور قومی تاریخی دستاویز سمیت لٹریچر اور ماہنامہ لولاک کے شمارے بطور انعام تقسیم کئے۔ جو نوشہرہ مجلس کے راہنما قاری محمد اسلم لائے تھے۔ کورس ۲۶، ۲۷، ۲۸/ فروری، یکم ، ۲/ مارچ ۲۰۰۹ء ظہر سے عصر تک جاری رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ۵۴، ۵۵)
پشاور میں علماء و خطباء کا نمائندہ اجلاس
مدرسہ فیض القرآن والسنۃ نزد سائنس کالج پشاور علاقہ کے علماء و کرام و خطباء کا ایک نمائندہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں خصوصی دعوت پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر سرحد جناب مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی اور ناظم مولانا نور الحق نور نے شرکت فرمائی۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مولانا عبد الکریم ، مولانا فیض اللہ، مولانا سراج الاسلام، مولانا ناصر الدین اور مولانا محمد جمیل نے اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہوئے عالمی مجلس کی قادیانیت کے کفریہ ارتدادی سرگرمیوں کے خلاف تبلیغی جدوجہد پر اکابرین مجلس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور مجلس کو اپنی طرف سے مکمل بھر پور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے حضرت مفتی صاحب اور ان کے رفقاء کو اجلاس میں شریک ہونے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے فرمایا کہ خطباء حضرات اپنے اپنے خطاب جمعہ میں مسئلہ ختم نبوت پر بیان فرمائیں۔ مدرسین علماء کرام درس وتدریس کے ذریعہ اس اہم مسئلہ کی خصوصی طور پر وضاحت فرمائیں۔ رد قادیانیت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سلسلہ میں مجلس کا مطبوعہ لٹریچر ہر مسجد میں تقسیم کیا جائے۔ نیز مناسب مواقع پر حضرت مفتی صاحب اور ان کے رفقاء کو بھی مدعو کر کے عوام کو اس ارتدادی فتنہ کے متعلق اجتماعات کئے جائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کنونشن سرگودھا
جناح ہال سرگودھا میں سٹوڈنٹس ختم نبوت کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ علمائے دیوبند نے مرزائیت کا ہمیشہ تعاقب کیا ہے۔ ہم اس راستے میں ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ مرزائی برطانیہ کا خودکاشتہ پودا امت مسلمہ کے اندر نفاق پیدا کرنے کے لئے ہے۔ نوجوان فتنہ قادیانیت سے عوام کو باخبر کرنے کے لئے جہد و جہد کریں اور عظمت ناموس رسالت ﷺ کے لئے اپنی جانیں نچھاور کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔ ختم نبوت سرگودھا کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی نے کہا کہ ہم قادیانیت کا تعاقب معاشرے کے ہر طبقہ میں کریں گے۔ کالج ،سکول، دکاندار، وکیل، انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر، صحافی، غرض ہر جگہ قادیانیت کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ کنونشن سے مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا مفتی عبدالمعید سمیت کئی ایک رہنماؤں نے خطاب کیا۔ کنونشن کی صدارت مولانا مفتی عبدالمعید نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۹ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس پرمٹ
۲ / مارچ ۲۰۰۹ء کو مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالکریم، مولانا محمد مکی، مولانا محمد قاسم، مولانا عبدالرشید سیال، مولانا محمد نذر نے خطاب کیا۔ کانفرنس صبح گیارہ بجے سے عصر کی نماز تک جاری رہی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چلنے والے مدرسہ دارالہدیٰ سے حفظ قرآن مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی اور سندات بھی دی گئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل
۴/ مارچ ۲۰۰۹ء بروز بدھ بعد نماز عشاء شاہی بازار پنوں عاقل میں ۷۵ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ درگاہ عالیہ ہالیجی شریف کے سجادہ نشین میاں عبدالصمد صاحب نے کانفرنس کا افتتاح فرمایا۔ آپ نے رحمت دوعالم ﷺ کی ختم نبوت کے موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ لاجواب خطاب فرمایا۔ مولانا نعیم اللہ، مولانا عبدالرحیم پٹھان، مولانا محمد رضوان، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا خادم حسین شر بلوچ اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ رات ڈیڑھ بجے مولانا اللہ وسایا کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ص ۲۰)
محراب پور ختم نبوت کانفرنس
۵ / مارچ ۲۰۰۹ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء حضرت مولانا عبدالصمد ہالیجوی ناظم جامعہ دارالعلوم محراب پور کی زیر صدارت جامع مسجد مرکزی میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد رضوان، مولانا قاری محمد کامران حیدرآباد، مولانا محمد فیاض مدنی اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں ۶ / مارچ ۲۰۰۹ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب سے رات گئے تک ختم نبوت کانفرنس بخیر و خوبی منعقد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئی۔ مولانا مفتی محمد یونس، مولانا عبدالرشید، مولانا فیاض مدنی، مولانا عبدالہادی، مولانا محمد عیسیٰ سموں، مولانا محمد رضوان، مولانا اللہ وسایا، قاری محمد ارشد اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ص ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس بھریا روڈ
مین بازار بھریا روڈ میں ۷/ مارچ ۲۰۰۹ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عبدالغفور مینگل، مولانا خادم حسین شر بلوچ، مولانا قاری کامران، مولانا حفیظ الرحمٰن، مولانا محمد فیاض مدنی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالہادی اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس وہاڑی
وہاڑی میں ۱۰/ مارچ ۲۰۰۹ء بروز منگل کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم مہتمم جامعہ خالد بن ولید نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، ختم نبوت ڈائری کے مرتب قاری رفیق احمد لاہور، مولانا عبدالستار گورمانی نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۵۴)
چناب نگر میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد ریلوے اسٹیشن میں ۱۳/ مارچ ۲۰۰۹ء کو سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا غلام مصطفیٰ نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد صابر صفدر، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا عابد حسین خان، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کا اہم ترین جزو اور خصوصیت عقیدہ ختم نبوت ہے، عقیدہ ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان کے بغیر نجات ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے سلگتے ہوئے تمام مسائل کا حل سیرت النبی ﷺ پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ انہوں نے حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ ملک وملت کی حفاظت کے لئے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء کانفرنس کی ماحضر سے تواضع کی گئی۔ نیز کانفرنس کی نگرانی قاری محمد یوسف، قاری محمد رمضان مدنی، قاری عبدالرحمٰن سمیت اساتذہ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی نے کی۔
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
۱۳/ مارچ ۲۰۰۹ء بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد صدیق اکبر (گڑھے والے) نزدیک پبلک پارک سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، علامہ ممتاز احمد کلیار نے خطاب کیا۔ مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم . پی . اے لانگ مارچ کی مصروفیات کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔ علماء کرام نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اہل چنیوٹ کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی، چوہدری ظہور احمد، شیخ منظور احمد، حاجی فیروز دین، مولانا محمد یعقوب برہانی، قاری نذیر احمد نے قادیانیت کے مقابلہ میں جرأت مندانہ کردار ادا کیا۔ مرحومین کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رفع درجات کی دعا کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۰ / اپریل ۲۰۰۹ء ص ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس خانیوال
۲۵/ مارچ ۲۰۰۹ء بعد نماز عشاء جامع مسجد ایک مینار میں کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مقامی امیر صاحبزادہ مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے دیگر علمائے کرام کے علاوہ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد عالم طارق، مولانا عطاء المنعم اور مولانا عبدالستار گورمانی نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
۲۶/ مارچ ۲۰۰۹ء بعد نماز عشاء جامع مسجد الصادق میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ہزاروں مسلمانوں نے جوش وجذبہ کے ساتھ شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کے بعد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کانفرنس کے اغراض ومقاصد، پس منظر، بہاول پور کے دینی ذوق، مقدمہ بہاول پور میں امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری کی تشریف آوری، مقدمہ بہاول پور کی پیروی میں حصہ لینے والے اکابر کے حالات جیسے عنوانات پر مختصر خطاب کیا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر خطاب فرمایا اور اس کی حفاظت کو ذات رسول اللہ ﷺ کی حفاظت قرار دیا۔ مولانا اللہ وسایا نے قادیانیت کی ارتدادی تحریک اور اس کے تعاقب کے لئے علمائے کرام کی خدمات پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اور قادیانیت کے خاتمے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ آخری خطاب مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ کا ہوا۔ انہوں نے مسئلہ ختم نبوت قرآن وسنت اور عقل کی روشنی میں کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسحاق ساقی نے سرانجام دیئے۔ جب کہ مولانا محمد قاسم رحمانی ان کے معاون رہے۔ استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ کی نیابت مولانا مفتی ظفر اقبال نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۳۵)
ختم نبوت کانفرنس ملتان
۲۷ مارچ ۲۰۰۹ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ ملتان میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے کی۔ کانفرنس میں شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم وہاڑی، مولانا زبیر احمد صدیقی شجاع آباد، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد مسعود قاسم قاسم العلوم فقیر والی، مولانا انوار الحق مجاہد، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص، مولانا محمد نذر، مولانا محمد فیاض مدنی خیر پور میرس، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا محمد اسحاق ساقی بہاول پور، مولانا محمد قاسم بہاول نگر، مولانا عبدالستار، مولانا عبدالستار گورمانی خانیوال، قاری محمد فاروق، ماسٹر عزیز الرحمن رحمانی نے آنے والے مہمانوں کا اعزاز واکرام کیا۔ شیخ الحدیث استاذ العلماء مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ پیرانہ سالی کے باوجود کہروڑ پکا سے مفتی ظفر اقبال کی معیت میں تشریف لائے۔ کانفرنس کی تین نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست جمعہ کی نماز سے قبل ہوئی جس سے حافظ القرآن والحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے فرزند ارجمند مولانا فضل الرحمن درخواستی نے خطاب فرمایا۔ دوسری نشست بعد نماز مغرب ہوئی جس سے مولانا انوار الحق مجاہد، مولانا محمد نذر، مولانا محمد مسعود قاسم، علامہ عبدالحق مجاہد نے خطاب کیا۔ جب کہ تیسری اور آخری نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی جس سے مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔ اختتامی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعا کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال کے امیر مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۵۴، ۵۵)
کاروائی سہ ماہی اجلاس مرکزی مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا اجلاس دفتر مرکزیہ میں ۲۸ / مارچ ۲۰۰۹ء بروز ہفتہ بعد نماز ظہر منعقد ہوا۔
- ۱...... لولاک: گزشتہ اجلاس میں تمام مبلغین کو لولاک کے خریداروں کی لسٹیں دے دی گئی تھیں، چنانچہ کئی ایک احباب نے اکثر
و بیشتر خریداروں سے رابطے مکمل کر کے ان سے رقوم وصول کر لی تھیں جو جمع کرادی گئیں، بعض احباب نے کانفرنسوں کے انتظامات کی مصروفیات کا عذر کیا اور وعدہ کیا کہ جلد از جلد ملاقاتیں کر کے رقوم بھجوادیں گے۔
- ۲...... کانفرنسیں: مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے بتلایا کہ گزشتہ دوماہ بھر پور گزرے، سندھ اور پنجاب کے ضلعی اور بعض جگہ پر تحصیلی
مقامات پر ختم نبوت کانفرنسیں مجلس کے زیر اہتمام منعقد ہوئیں، بعض شہروں میں جمعیت علماء اسلام نے اور بعض مقامات پر جمعیت اہل حدیث نے بھی ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضور ﷺ کی ختم نبوت کی برکت سے کانفرنسیں بھر پور کامیاب رہیں۔ جس سے جماعتی رفقاء کے حوصلے بلند ہوئے اور نئے جوش و جذبہ سے رفقاء نے قادیانیت کے تعاقب کے لئے میدان عمل میں آنے کا فیصلہ کیا۔ نیز ۵ / اپریل ۲۰۰۹ء دھوبی گھاٹ فیصل آباد اور ۱۱ / اپریل ۲۰۰۹ء کو لاہور کی عالمگیری بادشاہی مسجد عظیم الشان کانفرنسوں کے انعقاد کے فیصلے سے ان شاء اللہ العزیز تحریک ختم نبوت کو جلا نصیب ہوگی۔
- ۳...... مرکزی شوریٰ: مرکزی شوریٰ کا اجلاس ۱۳ / اپریل ۲۰۰۹ء خانقاہ سراجیہ کندیاں میں منعقد ہوگا۔ لاہور کانفرنس سے فارغ
ہوتے ہی اراکین شوریٰ خانقاہ شریف کا سفر کریں گے۔
- ۴...... ممبر سازی: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سہ سالہ ممبر سازی صفر المظفر سے شروع ہوچکی ہے۔ رفقاء سے درخواست کی گئی کہ
مطلوبہ ممبر سازی کی بکیں ساتھ لے کر جائیں۔ ممبر سازی بھر پور طریقہ سے کریں اور ممبر سازی کے ساتھ ساتھ ہی جماعتوں کی تشکیل کرتے جائیں اور اس کی خبریں ہفت روزہ ختم نبوت اور ماہنامہ لولاک کو اشاعت کے لئے ارسال کریں۔ نیز طے ہوا کہ مبلغین اپنے اپنے حلقہ کے ناظم انتخابات ہوں گے اور مرکزی ناظم انتخابات مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ ہوں گے۔ نیز بعض حضرات کو ڈویژنل سطح کی نگرانی سپرد کی گئی۔ پچیس ممبروں پر ایک ممبر مرکز عمومی کا ہوگا، جہاں ممبرز کی تعداد ایک سو سے بڑھ جائے تو دوسو تک دو، دوسو ایک سے تین۔ مرکزی ممبران عمومی مرکزی انتخاب میں حصہ لیں گے۔ تفصیل درج ذیل ہے:
- ۱...... مولانا قاضی احسان احمد : کراچی ۲...... مولانا محمد نذر : حیدرآباد
- ۳...... مولانا محمد علی صدیقی : میر پور خاص، عمرکوٹ، تھرپارکر ۴...... مولانا محمد یعقوب : بدین
- ۵...... مولانا محمد فیاض مدنی : خیر پور میرس نوابشاہ، نوشہرو فیروز ۶...... مولانا محمد حسین ناصر : سکھر، لاڑکانہ، کندھ کوٹ، جیکب آباد
- ۷...... مولانا محمد راشد مدنی : رحیم یار خان ۸...... مولانا محمد اسحاق ساقی : بہاولپور، لودھراں
- ۹...... مولانا محمد قاسم رحمانی : بہاولنگر ۱۰...... مولانا عبد الحکیم نعمانی : ساہیوال، پاکپتن شریف
- ۱۱...... مولانا عبد الرزاق مجاہد : اوکاڑہ، قصور ۱۲...... مولانا عزیز الرحمن ثانی : لاہور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۳....... مولانا عبدالنعیم رحمانی : شیخوپورہ ، ننکانہ ۱۴....... مولانا محمد عارف لانگ : گوجرانوالہ، حافظ آباد
- ۱۵....... مولانا فقیر اللہ اختر : سیالکوٹ ، نارووال ۱۶....... مولانا محمد قاسم سیوطی : منڈی بہاؤالدین ، گجرات
- ۱۷....... مولانا زاہد وسیم : راولپنڈی، جہلم، چکوال، اٹک ۱۸....... مولانا محمد طیب : اسلام آباد، ہزارہ ڈویژن، کوہاٹ
- ۱۹....... مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی : صوبہ سرحد کے دیگر اضلاع بمع پشاور
- ۲۰....... مولانا عبدالستار : سرائے نورنگ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر، میانوالی، لیہ
- ۲۱....... مولانا محمد اکرم طوفانی : سرگودھا و نگران مرکزی ۲۲....... مولانا عبدالستار : خوشاب، وادی سون تلہ گنگ
- ۲۳....... مولانا عبدالرشید غازی : ڈیرہ، راجن پور، مظفر گڑھ ۲۴....... مولانا محمد اسماعیل شجاع آباد : ملتان
- ۲۵....... مولانا عبدالستار گورمانی : خانیوال ۲۶....... مولانا غلام حسین : جھنگ
- ۲۷....... مولانا غلام مصطفیٰ : چناب نگر، چنیوٹ
- ۵....... ردقادیانیت کورس: ۲۲ تا ۲۶ مئی نوشہرہ مقام مدرسہ تعلیم القرآن جامع مسجد نوشہرہ صدر، زیر نگرانی قاری محمد اسلم ، مولانا محمد
اسماعیل شجاع آبادی لیکچر دیں گے۔
- ۶....... مولانا اللہ وسایا مدظلہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے پروگرام تشکیل دیئے گئے۔
- ۷....... آئندہ سہ ماہی کے لئے کتاب: احتساب قادیانیت ج۱۶۔
ربیع الثانی، رسائل مولانا محمد علی جالندھری تحقیقاتی عدالت ۱۹۵۳ء میں تحریری بیان، مرزائیوں سے ہائیکورٹ کے سات سوالات، مرزائیوں کے مغالطہ آمیز جوابات کا جواب الجواب۔
جمادی الاولیٰ، رسائل شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری۔
جمادی الاخریٰ، رسائل مولانا محمد شریف جالندھری۔
رسائل : مولانا عبدالرحیم اشعر۔
آئندہ میٹنگ: یکم تا ۳ / رجب المرجب ۱۴۳۰ھ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲/اپریل ۲۰۰۹ء ص ۲۵، ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس رحیم یارخان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ قادریہ میں ۲۹ / مارچ ۲۰۰۹ء کو کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مقامی امیر قاضی عزیز الرحمن نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا عبدالغفور حقانی، قاضی شفیق الرحمن، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا عبدالرؤف ربانی نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی جس میں ہزاروں مسلمانوں نے جوش و جذبہ اور ولولہ سے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۵۵)
ختم نبوت کنونشن اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی، اسلام آباد کے زیر اہتمام جامعہ اسلامیہ صدر راولپنڈی میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کنونشن زیر صدارت شیخ الحدیث مولانا قاری سعید الرحمن صاحب منعقد ہوا۔ جس میں تقریباً ۵۰۰ علماء کرام نے شرکت کی۔ کنونشن کے مہمان خصوصی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا اللہ وسایا صاحب تھے۔ اجلاس میں مولانا ظہور احمد علوی، مولانا قاری محمد نذیر فاروقی، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا محمد حسین طارق، مولانا مفتی معاذ، مولانا محمد طیب، مولانا زاہد وسیم، قاری عبدالوحید قاسمی۔ ان سب علماء کرام نے اعلان کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگوں کی قیادت میں ہمہ وقت تیار ہیں۔ ختم نبوت کنونشن میں شمالی علاقہ کی نمائندگی مولانا محمد حسین طارق نے کی اور علماء کشمیر کی نمائندگی قاری عبدالوحید قاسمی نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی، اسلام آباد کی اہم کمیٹی کا اعلان کیا گیا۔ کمیٹی کے صدر شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف کو منتخب کیا گیا۔ کمیٹی کے ممبران شیخ الحدیث مولانا قاری سعید الرحمن، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا قاری محمد نذیر فاروقی، مولانا شیخ الحدیث قاضی مشتاق احمد، مولانا زاہد وسیم، مولانا محمد طیب، مولانا محمد حسین طارق، قاری عبدالوحید قاسمی شامل ہیں۔ فیصلہ یہ کیا گیا کہ آئندہ جمعۃ المبارک ۳؍ اپریل پورے ملک میں یوم ختم نبوت منایا جائیگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۹ء ص ۵۰)
سہ روزہ دورہ خوشاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی سہ روزہ دورہ پر خوشاب تشریف لائے۔ مولانا نے مختلف مدارس وجامعات میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں کو واضح کیا۔ مولانا نے جوہر آباد کی معروف دینی درسگاہ جامعہ علوم شرعیہ میں مبلغ اسلام مولانا عبدالجبار کی سرپرستی میں علماء وطلباء اور دیگر افراد کے سامنے عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔ اکابرین کی قربانیوں اور استقامت کو بیان کیا۔ پروگرام میں مولانا اظہار الحسن، قاری نذیر محمد، مولانا محمد آصف اور دیگر احباب موجود تھے۔ دوسرا پروگرام مرکز دارالحبیب قائد آباد میں قاری عبدالصمد کی سرپرستی میں ہوا جس میں مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالستار نے ضلع بھر میں مرزائیت کی سرگرمیوں اور جماعتی ذمہ داریوں کو تفصیل سے بیان کیا اور پھر مولانا شجاع آبادی نے علماء وطلباء کے سامنے کام کی اہمیت اور جماعتی کارکردگی کو بیان کیا۔ علاقہ بھر کے علمائے کرام اور دیگر طبقات نے پروگرام سے خوب استفادہ کیا۔ تیسرا پروگرام تلہ گنگ جامع مسجد عائشہ صدیقہ میں قاری نور محمد کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ شہر بھر کے علمائے کرام نے بھر پور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ اپریل ۲۰۰۹ء ص ۵۵)
دورہ دریا خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام مسجد فردوس لیہ میں ختم نبوت کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد ہوا۔ تلاوت قاری محمد جہانگیر جب کہ نعت عبدالسلام اور قاری صدیق اکبر نے پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری حافظ محمد ساجد اقبال تھے۔ بھکر کے رہنما ڈاکٹر دین محمد فریدی نے آنحضرت ﷺ کی عظمت ومحبت اور مرزا قادیانی کے خبث کو عوام کے سامنے پیش کیا۔ آخر میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ختم نبوت کی اہمیت وافادیت، آپ ﷺ کے فضائل ومناقب بالخصوص اہل بیت ؓ کی سیرت طیبہ کا ذکر فرمایا۔ پروگرام مولانا شجاع آبادی کی دعا سے اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۹ء ص ۵۶،۵۵)
ختم نبوت کانفرنس جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام احرار پارک میں کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ اشتہارات، اسٹیکرز، دعوت ناموں، بینروں کے ذریعہ خوب تشہیر کی گئی۔ مولانا غلام حسین اور ان کے رفقاء نے شب وروز محنت کر کے اسے عوامی جلسہ بنایا۔ خدا کی قدرت بارش کی وجہ سے کانفرنس جامع مسجد مولانا حق نواز جھنگوی شہید میں منعقد ہوئی جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحیم نے کی۔ جب کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس سے مولانا محمد احمد لدھیانوی ، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا ضیاء الدین آزاد، صاحبزادہ مبشر محمود ، مولانا محمد عالم طارق اور قاری شبیر احمد عثمانی نے خطاب کیا۔ موسم خراب ہونے کے باوجود کانفرنس رات تین بجے تک جاری رہی۔ مسجد سامعین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جو اختتام کانفرنس تک نعروں کی گونج میں مقررین کا استقبال اور انہیں داد دیتے رہے۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مولانا غلام حسین اور ان کے رفقاء شیخ مقبول احمد ، شیخ محمد نعیم ، مولانا عبدالرحیم ، نمازیان مسجد شیخ لاہوری ، نمازیان مسجد حق نواز شہید نے بھر پور تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس دھوبی گھاٹ فیصل آباد کی رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دھوبی گھاٹ میں ۵؍ اپریل ۲۰۰۹ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ایک محتاط اندازہ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد فرزندان توحید اور مجاہدین ختم نبوت نے شرکت کی ۔ کانفرنس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی کہروڑ پکے تھے۔
کانفرنس سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری قاری محمد حنیف جالندھری، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری، سابق سینیٹر حافظ حسین احمد ، جمعیت اہل حدیث کے جنرل سیکرٹری مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا محمد رضوان ، صاحبزادہ عزیز احمد ، سی۔پی۔او فیصل آباد احمد مبارک ، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ، قاضی عبدالرشید راولپنڈی ، مولانا محمد قاسم سیوطی سمیت کئی علماء نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ اس روح پرور، ایمان افروز ، عظیم الشان کانفرنس کا مقصد عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیوں کو دعوت اسلام دینا ہے۔ قادیانیوں کے لئے دو ہی راستے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت پر غیر مشروط طور پر ایمان لاکر اسلام کے دھارے میں آجائیں یا پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت مان لیں اور شریف شہری بن کر رہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت ، تحفظ ، استحکام اور بقا عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے ساتھ مشروط ہے۔ مقررین نے کہا کہ ملک وملت پر جب بھی کوئی مصیبت آئی قادیانیوں نے خوشیوں کے شادیانے بجا کر اور گھی کے چراغ جلا کر امت مسلمہ کا منہ چڑانے کی کوشش کی۔ شاہ فیصل شہید ہوئے یا جناب ذوالفقار علی بھٹو ، جنرل محمد ضیاء الحق کا طیارہ کریش ہوا یا محترمہ بے نظیر صاحبہ کو قتل کیا گیا۔ قادیانیوں نے اسے جھوٹے نبی کی صداقت کا نشان قرار دیا۔ آج بھی ملک کے حالات کی کشیدگی ، امام بارگاہوں اور مساجد میں بم دھماکوں کے پیچھے قادیانیوں کا خفیہ ہاتھ کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد پر خودکش حملوں کا کوئی مسلمان تصور ہی نہیں کرسکتا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء مولانا اللہ وسایا نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے عدم تشدد کی جو پالیسی شروع کی تھی ہم اس پر عمل پیرا ہیں اور رہیں گے۔ ہم نے ہمیشہ دلائل و براہین کی بات کی ہے۔ جب کہ قادیانیوں کا خمیر خفیہ سازشوں ، زیر زمین سرگرمیوں سے اٹھایا گیا ہے۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا کہ قادیانیت کے مکمل خاتمہ تک پر امن تحریک جاری رہے گی ۔ ایک قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے ارتداد کی شرعی سزا سزائے موت نافذ کی جائے۔ امتناع قادیانیت ایکٹ اور گستاخ رسول ایکٹ پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ آزاد قبائل سے کئے جانے والے معاہدہ پر اس کی روح کے مطابق عمل کر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ۳۳۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ان علاقوں پر امریکی ڈرون حملے بند کرائے جائیں۔ سانحہ لال مسجد کے کرداروں بالخصوص پرویز مشرف کے خلاف باقاعدہ کیس رجسٹرڈ کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہ اجلاس تمام مکاتب فکر کے علماء کرام سے اپیل کرتا ہے کہ ہر ماہ کا ایک جمعہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت کے لئے وقف کر کے قادیانیت کی سنگینی سے نئی نسل کو آگاہ کریں۔
یہ اجلاس جمعیت المدارس العربیہ سے متعلقہ تمام دینی اداروں، جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ انہوں نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کانفرنس کے انتظامات، سیکورٹی اور دوسرے مسائل کی نگرانی کر کے اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے بھر پور کوششیں کیں۔ ایک قرارداد میں ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا گیا کہ نامساعد حالات کے باوجود انہوں نے اپنے فرائض سر انجام دیئے۔ یہ اجلاس تمام شرکاء سے اپیل کرتا ہے کہ جس طرح آج کی کانفرنس میں جوش وجذبہ کے ساتھ شرکت کی ۱۱؍ اپریل کو بادشاہی مسجد لاہور میں بھی شریک ہو کر عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عقیدت کا ثبوت دیں۔ ایک اور قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانی اپنے نام نہاد بہشتی مقبرہ میں کسی مسلمان کو نہیں جانے دیتے تو وہ ہمارے قبرستانوں میں اپنے مردوں کو دفن کر کے اشتعال انگیزی کرتے ہیں۔ جسے کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ان پر پابندی عائد کی جائے۔
کانفرنس میں مولانا سعید احمد جلالپوری، مولانا محمد یحییٰ، مولانا محمد زبیر اشرف عثمانی، حافظ ابوبکر کراچی، قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد اجمل قادری، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا عزیز الرحمان ثانی، مولانا مفتی محمد حسن، سید زید الحسینی، مولانا سید محمود میاں، میاں رضوان نفیس، میاں عبدالرحمان لاہور، فیصل آباد کے علماء کرام، مولانا محمد یوسف اوّل، مولانا مفتی محمد طیب، مولانا قاری محمد یاسین، مولانا مفتی محمد زاہد، مولانا سید نذیر احمد شاہ، مولانا سید جاوید حسین شاہ، قاری محمد وقاص، قاری محمد یونس رحیمی، قاری محمد ابراہیم، مفتی محمد ضیاء مدنی، قاری عزیز الرحمان، قاری جمیل الرحمن، قاری خلیل الرحمان، جمعیت اہل حدیث کے نائب امیر مولانا محمد یوسف انور، حاجی خالد محمود قاسمی، حامد ضیاء مدنی، مولانا ساجد فاروقی، علامہ محمد ممتاز کلیار، مولانا عبدالرزاق، مفتی فضل الرحمٰن، قاری ولی العزیز احسن، مفتی حفظ الرحمان بنوری، قاری محمود صدیق، مولانا سید محمد زکریا، مقامی سیاسی قائدین خواجہ محمد اسلام ایم. پی. اے، میاں عبدالمنان سابق ایم. این. اے، حاجی محمد اکرم انصاری ایم. پی. اے، چوہدری شیر علی، تاجر راہنما شاہد رزاق سکا، حاجی بشیر احمد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، حافظ صاحبزادہ مبشر محمود، مولانا محمد فیاض مدنی نواب شاہ سندھ، مولانا محمد قاسم سیوطی، قاضی عبدالخالق، مولانا عبدالرشید غازی، مولانا محمد رضوان نے خصوصی شرکت کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالرحیم بلوچ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۳۰، ۳۱)
خطبہ استقبالیہ ختم نبوت کانفرنس دھوبی گھاٹ فیصل آباد
۵؍اپریل ۲۰۰۹ء ...... منجانب: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد معاون، امیر مرکزیہ دامت برکاتہم!
بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ وکفیٰ وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء ، اما بعد!
حضرات علماء کرام، مشائخ عظام، دینی مدارس کے مہتممین حضرات، اساتذہ ومدرسین، وشیوخ حدیث دینی جماعتوں کے سربراہان و نمائندگان، فیصل آباد کی تمام مذہبی، سیاسی شخصیات، قرب وجوار کے تمام اضلاع وشہروں سے تشریف لانے والے معززین مہمانان گرامی، مدعو مہمانان ذی وقار، خطباء، قراء، شعراء، غرض اس مقدس مذہبی ونظریاتی اجتماع میں کسی بھی اعتبار سے شریک ہونے والے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محترم گرامی قدر شرکاء، سب سے پہلے آپ ہم سب کو اللہ رب العزت کا لاکھوں لاکھ شکر ادا کرنا چاہئے کہ ایک نیک مقصد اور جذبہ صادق کے تحت اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس مقدس اجتماع میں شریک ہونے کی توفیق عنایت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس مخلصانہ حاضری کو قبول فرمائیں۔ اپنی رحمت اور حضور علیہ السلام کی شفاعت کا ذریعہ بنائیں۔ آمین! بحرمة النبی الكريم!!
اس کے بعد مجھے اس عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے آپ تمام شرکاء کا بصمیم قلب شکریہ ادا کرنا ہے کہ آپ نے اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود اس بابرکت اجتماع میں شرکت کے لئے وقت نکالا۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں آپ کو اس کی بیش از بیش جزائے خیر نصیب فرمائے۔
حضرات گرامی قدر! جیسا کہ اشتہارات، سٹکرز، دعوت نامہ، ہینڈ بل کے ذریعہ آپ کو معلوم ہے کہ اس ۵؍اپریل ۲۰۰۹ء کی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہمارے اکابر کی قائم کردہ جماعت ہے۔ اندرون و بیرون ملک اس کی گرانقدر خدمات سے ایک زمانہ واقف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، فاتح قادیان مولانا محمد حیات، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری نے اپنے اپنے عہد میں اس کی قیادت و امارت کا فرض منصبی احسن طور پر نبھایا۔ شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رائے پوری، مولانا مفتی احمد الرحمن، شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا محمد شریف کشمیری، مولانا فیض احمد، مولانا تاج محمود، مولانا انیس الرحمن لدھیانوی، مولانا محمد عبداللہ، شہید اسلام آبادی، مولانا قاری لطف اللہ شہید، مولانا شیخ احمد شہید، مولانا مفتی جمیل احمد خان صاحب، صاحبزادہ طارق محمود جیسے بیسیوں اکابر اپنے اپنے دور میں اس کی مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔ آج شیخ المشائخ امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، نائب امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ، مجلس کے روح رواں اور بزرگ رہنماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مرکزی ناظم اعلیٰ یادگار اسلاف مولانا عزیز الرحمن جالندھری ایسے اکابر اس جماعت کی قیادت فرمارہے ہیں۔
حضرات گرامی قدر! قادیانی فتنہ کے احتساب کے لئے تمام مکاتب فکر کی قیادت میں علماء کرام نے اپنے اپنے دور میں جس طرح امت کی رہنمائی فرمائی وہ ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ پوری تاریخ کو دہرانا اور تمام شخصیات کا احاطہ کرنا اس مختصر وقت میں ممکن نہیں۔ وہ سب اللہ رب العزت کے مقبول بندے تھے جو اس مقدس کام کے لئے محنتیں کر گئے۔ ان سب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہمارے فرائض منصبی میں شامل ہے اور ان کے احسانات کے نیچے ہماری گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔ میں ان تمام مناظرین اسلام و مجاہدین و شہدائے ختم نبوت، خطباء اسلام، تمام دینی جماعتوں کے سربراہان رہنمایان کو بھر پور خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور اس اجتماع کے ذریعہ ہر وہ شخص جس نے ایک لمحہ کے لئے بھی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا ہے ان سب کے لئے دعاء کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر ان سب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین ! بحرمة النبی الکریم وعلیٰ آلہ وبارک وسلم !
حضرات گرامی! پاکستان بننے کے بعد قادیانیت نے پاکستان کو اپنی ارتدادی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ انہیں انگریز گورنر موڈی نے پنجاب کے قلب میں ہزاروں ایکڑ قطعہ اراضی چنیوٹ کے جوار میں الاٹ کیا۔ جس میں قادیانی جماعت نے محض قادیانیوں کو منصوبہ بندی کے تحت آباد کیا۔ یوں ایک محفوظ کمین گاہ مل جانے کے باعث وہ پورے پاکستان کو قادیانی مملکت بنانے کے نقشے بنانے لگے۔ پاکستان کا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہلا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں قادیانی کو بنایا گیا۔ اس نے پاکستان کے تمام سفارتخانوں کو قادیانیت کے پرچار کے کام پر لگا دیا۔ پاکستان کا پہلا الیکشن ہوا تو قادیانیوں کو مسلمانوں میں شمار کیا گیا۔ چاروں طرف سے قادیانیت کے عفریت نے اسلامیان وطن کو گھیر لیا۔ اس وقت کی ہماری دینی قیادت، تمام مشائخ، علماء، تمام مکاتب فکر نے رحمت دو عالم ﷺ کے وصف خاص ختم نبوت کے تحفظ کے لئے یک جان ہو گئے۔ تب آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت قائم ہوئی اور مشہور زمانہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء چلائی گئی۔ اس کے نتیجہ میں اسلامیان وطن پر قادیانیت کے کفر بواح کی حقیقت آشکارا ہوئی۔ بلاشبہ وہ تحریک برصغیر کی سب سے بڑی پرامن مذہبی تحریک تھی۔ قادیانی اوباشوں اور قادیانی نواز حکومتی مشینری میں چھپے آستین کے سانپوں نے اس تحریک کو دبانے کے لئے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ جبر و استبداد کی ایسی داستان رقم کی کہ جس سے انسانیت تھرا اٹھی۔ لیکن قربان جائیں کہ ہمارے اسلاف اور ان کی تربیت یافتہ عوام نے تمام ظلم اپنے اوپر برداشت کئے۔ لیکن قادیانی کفر کے مقابلہ کے لئے مرد میدان بنے رہے۔ اس کی مکمل تاریخ پیش کرنا مقصود نہیں۔ صرف اشاروں پر اکتفاء کر رہا ہوں۔ لیکن اس امر کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہیں۔ تب اس تحریک میں اس شہر فیصل آباد کے باسیوں نے اپنے رہنماؤں کی قیادت میں جس بے جگری و جان سوزی کے تحت تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں حصہ لیا وہ تحریک کا سنہری باب ہے۔ آج اس عظیم الشان اجتماع کے لئے جس گراؤنڈ دھوبی گھاٹ میں جمع ہیں اس گراؤنڈ کا ذرہ ذرہ ان مخلصین و مجاہدین ورضا کاران ختم نبوت کی شاندار جدوجہد ومخلصانہ مساعی جمیلہ پر گواہ ہے۔ اس عظیم اجتماع میں شریک ہر شخص کو جہاں آج کے مقررین کی ایمان پرور گفتگو کو سننا ہے وہاں میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس اجتماع گاہ میں مجاہدین ختم نبوت وسرفروشان اسلام کے نشانہائے پائے کو بھی تلاش کریں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا عزم بھی کریں۔
حضرات گرامی قدر! اس تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء نے قادیانیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند باندھا۔ قادیانیت عوامی محاذ سے شکست خوردہ ہو کر دبک گئی اور اب اس نے سرکاری دوائر میں جال بچھانا شروع کیا۔ ۱۹۷۴ء میں وہ سمجھے کہ اب ہم نے اتنا رسوخ حاصل کر لیا ہے کہ کسی وقت بھی شب خون مار کر زمام حکومت ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ اس نشہ میں مست ہو کر ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر اسٹیشن پر نشتر کالج ملتان کے طلباء پر ظالمانہ حملہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں جو تحریک چلی فیصل آباد نے اس تحریک میں بھی قائدانہ کردار ادا کیا۔ مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمود، مبلغ اسلام مولانا مفتی زین العابدین، مولانا عبید اللہ احرار، مولانا عبدالمجید نابینا، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف، مولانا محمد ضیاء القاسمی، مولانا محمد صدیق، مولانا مفتی سیاح الدین، مولانا محمد اسماعیل، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن، مولانا صاحبزادہ فضل رسول، شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد، مولانا مجاہد الحسینی، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مولانا مفتی ضیاء الحق، مولوی فقیر محمد، مولانا محمد یوسف انور۔ غرض اس وقت کی پوری دینی قیادت نے جس بے جگری سے اس تحریک میں حصہ لیا وہ ہم سب کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اسلامیان فیصل آباد، تاجر برادری، عوام وخواص نے جس خلوص کے ساتھ اس تحریک کو پروان چڑھایا اس کو بھلانے سے بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ فیصل آباد کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا سعادت ہو گی کہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کا مرکزی انتخاب جس میں شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کو مرکزی مجلس عمل کا سربراہ بنایا گیا۔ وہ تاریخی اجتماع بھی فیصل آباد میں منعقد ہوا۔
حضرات گرامی! اس کے بعد مرحلہ آتا ہے۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کا اس میں بھی فیصل آباد کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اس موقع پر کارخانہ بازار میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد اسلامیان فیصل آباد کی عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ گہری والہانہ وابستگی کی دلیل ہے۔ فیصل آباد کی جن شخصیات کا ذکر کیا جاچکا ہے سوائے چند ایک کے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لمبی صحت والی زندگی نصیب فرمائے۔ باقی حضرات ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک کر کے اللہ رب العزت کے حضور چلے گئے۔ قادیانی بھی غیر مسلم اقلیت قرار پائے، امتناع قادیانیت آرڈیننس بھی جاری ہوا۔ ہم نے سمجھا کہ قادیانیت کا مسئلہ حل ہو گیا۔ قادیانی غیر مسلم بن کر ملک کے پر امن شہری کا کردار ادا کریں گے۔ لیکن قادیانی فتنہ جس نے رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس کے خلاف بغاوت میں عار محسوس نہ کی اس نے ملکی آئین کا کیا احترام کرنا تھا۔ پہلے وہ خدا تعالیٰ اور مصطفےٰ کریم ﷺ کے باغی تھے۔ اب انہوں نے آئین پاکستان سے بغاوت کی۔ اپنے آپ کو حقیقی مسلمان اور اسلامیان پاکستان و غلامان محمد ﷺ کو سرکاری مسلمان کہہ کر شرافت کا منہ چڑایا۔
حضرات گرامی قدر! منبر و محراب سے لے کر نیشنل اسمبلی تک، لوئر کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک، پاکستان سے لے کر جنوبی افریقہ تک، مکہ مکرمہ رابطہ عالم اسلامی سے لے کر انڈونیشیاء کے حالیہ فیصلہ تک، ہر محاذ پر قادیانیت نے شکست پہ شکست کھائی، قادیانی جماعت کا مرکز پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوا۔ آج قادیانی جماعت کا سربراہ پاکستان میں قدم رکھنے سے کنی کتراتا ہے۔ قادیانی طبقہ سے وابستہ بہت سے افراد پر قادیانیت کی حقیقت الم نشرح ہوئی۔ لیکن قادیانی قیادت اتنی ڈھیٹ واقع ہوئی ہے کہ انہوں نے مذہبی حرکات کو ترک نہیں کیا۔ ہمارے ملک عزیز میں ان فیصلوں کے بعد تحریک نظام مصطفےٰ ﷺ، ایم آر ڈی کی تحریک، لسانی تنازعہ، شیعہ سنی قضیہ، عراق ایران جنگ، عراق کویت جنگ، افغانستان پر روسی پھر امریکہ کی یلغار سے لے کر سانحہ لال مسجد تک ایسے مسائل کھڑے ہوئے کہ قادیانی فتنہ کے احتساب نے ثانوی حیثیت اختیار کر لی۔ قادیانی زخمی سانپ نے شکست کی مٹی چاٹ کر پھر رینگنا شروع کیا۔ پرویز کے دور حکومت اور موجودہ حالات میں وہ آئین سے ان دفعات کو حذف کرانے کے خواب دیکھنے لگے۔ امریکہ بہادر، این۔ جی اوز میں شامل یہودی لابیوں کے زلہ خوار بن کر وہ ہمارے دستوری فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کے نقشے بنانے لگے۔ ان حالات میں ملک بھر کے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ختم نبوت کانفرنسوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ البتہ فیصل آباد کے آج کی اس کانفرنس کو اور ۱۱؍ اپریل کی بادشاہی مسجد لاہور کو مثالی طور پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا بہت ہی مبارک باد کی مستحق ہے۔ ہمارے ملک کی دینی قیادت، دینی جماعتیں و ادارے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے افراد و شخصیات تمام مکاتب فکر بالخصوص وفاق المدارس سے وابستہ ہمارے دینی مدارس اور ان کے ذمہ داران کہ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس صدائے فقیرانہ پر بھر پور محبت بے پناہ ولولہ نو کے تحت لبیک کہا۔ آج کا یہ اجتماع ان کی اس بے لوث خدمات کا مظہر اتم ہے۔ تمام حضرات علماء کرام کی اس مخلصانہ جدوجہد پر ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ حق تعالیٰ دارین میں اس کی ان کو بہت جزائے خیر نصیب فرمائے۔
حضرات گرامی قدر! قادیانی امت نے آنحضرت ﷺ کے بعد ایک متنبیٰ غلام قادیان کو اپنا نبی اور رسول مان کر امت محمدیہ سے اپنا رشتہ منقطع کیا۔ مرزائے قادیان ملعون نے جہاں بے شمار دعوے کئے وہاں اس نے ظل و بروز، حلول تناسخ کی ایرانی متنبیٰ بہاء اللہ کی غیر اسلامی اصطلاحات کی آڑ میں محمد رسول اللہ ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کے دو ظہور قرار دیئے۔ ایک مکہ مکرمہ میں آنحضرت ﷺ کا آنا اور دوسرا قادیان میں مرزا قادیانی کی شکل میں آنے کو محمد رسول اللہ ﷺ کا آنا قرار دیا۔ اپنے دیکھنے والوں کو مرزا نے صحابی کہا، اپنے خاندان کو اہل بیت، اپنے ماننے والوں کو مسلمان کہا، اور حضور علیہ السلام کی امت کو کافر قرار دیا۔ ایک یہودی خود کو یہودی، ایک عیسائی خود کو عیسائی، ایک ہندو خود کو ہندو اور حضور علیہ السلام کے ماننے والوں کو مسلمان کہتا ہے۔ لیکن قادیانی ایسے کافر ہیں جو غلام احمد کے ماننے والوں کو مسلمان اور محمد عربی ﷺ کے ماننے والوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ آج یہودی خود جھوٹے ہیں۔ لیکن ان کے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سچے تھے۔ آج عیسائی خود جھوٹے ہیں۔ لیکن ان کے نبی سیدنا مسیح علیہ السلام سچے نبی تھے۔ قادیانی یہودیوں وعیسائیوں سے بھی بدتر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کافر ہیں کہ خود بھی جھوٹے ہیں۔ ان کا گرو مرزا قادیانی بھی جھوٹا تھا۔ ان سے خود بچنا اور پوری امت محمدیہ کو بچانا ہمارا فرض منصبی ہے۔ آج اگر قادیانیت زندہ ہے تین امور کی بنیاد پر زندہ ہے۔ نمبر ۱: اپنی تنظیم کی بنیاد پر۔ نمبر ۲: حکومت کے اپنے بنائے ہوئے قانون پر عمل نہ کرنے کے باعث۔ نمبر ۳: قادیانی زندہ ہیں تو مسلمانوں کی بے حسی کی بنا پر۔ اگر آپ اور ہم نے قادیانیوں کا بائیکاٹ کیا ہوتا تو قادیانی سوچتے کہ مرزا قادیانی کو مان کر ہم مسلم سوسائٹی اور مسلم امہ کا حصہ نہیں رہ سکتے تو وہ قادیانی ملعون کے جوا کو اپنی گردن سے اتار پھینکنے کا سوچتے۔ وہ مرزا قادیانی کو نبی مان کر مسلمانوں میں گھسے ہوئے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ مرزا کو مان کر مسلم سوسائٹی ہمیں قبول کرتی ہے تو مرزا ملعون کو ترک کرنے کا داعیہ ان میں پیدا نہیں ہوتا۔
حضرات گرامی قدر! آپ حضرات جانتے ہیں کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے اسلاف کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق عدم تشدد کی پالیسی پر گامزن ہے۔ آج تک ہم نے تشدد کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ آج پھر اس عزم کو دہرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم قانون کے دائرہ میں رہ کر قادیانیت کے احتساب کا کام اور عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی کا عمل جاری رکھیں گے۔ میں اپنے نبی علیہ السلام کے دشمن سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ اپنے نبی علیہ السلام کے باغی قادیانی کی دکان پر نہیں جاتا۔ کون سا قانون ہے جو مجھے مجبور کرے کہ تم نبی علیہ السلام کے باغیوں سے تعلق رکھو۔ ان کے ساتھ کاروبار کرو۔ میرے حق ارادیت کو کوئی مجھ سے چھین نہیں سکتا۔ تو پھر یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اگر اپنے باپ کے دشمن سے تعلق نہیں رکھتے تو نبی علیہ السلام کے دشمن قادیانیت سے بھی اپنا تعلق منقطع کریں۔ نہ صرف خود بلکہ مسلمانوں کو اس کام کے لئے آمادہ کریں ان کو سمجھائیں۔
حضرات گرامی! نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تبلیغ، جہاد تمام دینی امور وفرائض کا تعلق نبی علیہ السلام کے اعمال سے ہے۔ ختم نبوت کا تعلق حضور علیہ السلام کی ذات اقدس سے ہے۔ ختم نبوت کا تحفظ کرنا ذات اقدس ﷺ کی خدمت اور دربانی کرنے کے مترادف ہے۔ یہاں سے جائیں تو اس عزم کے ساتھ لے کر جائیں کہ ہم رحمت دوعالم ﷺ کی ختم نبوت کے لئے باقی زندگی کا ایک ایک لمحہ وقف کر دیں گے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کے لئے آپ کو یہاں پر جمع کیا گیا ہے۔ یہی وہ فریضہ ہے جس کے لئے آپ کو زحمت دی گئی۔ یہی وہ مقصد ہے جس سے نجات و شفاعت وابستہ ہے۔ اٹھو اور صدیق اکبر ؓ کی سنت غار ثور کو دہرانے کے لئے دربان محمد ﷺ و پاسبان ختم نبوت بن جاؤ۔
حضرات گرامی! آج اس اجتماع کے ذریعہ حضرات علماء کرام اور خطباء عظام سے بہت ہی منت کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہر ماہ کا ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت بیان کرنے کے لئے مخصوص کریں۔ ہمارے منبر و محراب ایک بار پھر ہر ماہ کے ایک جمعہ پر عقیدہ ختم نبوت کے لئے وقف ہو جائیں اور چہار سو عقیدہ ختم نبوت کی صدا بلند ہو تو انشاء اللہ العزیز قادیانی جیسے باغی گروہ و دشمنان رسول اللہ ﷺ کی صف لپیٹنے میں دیر نہ لگے گی۔
حضرات گرامی! معافی چاہتا ہوں کہ میں نے آپ کا بہت سارا وقت لیا۔ بہت ساری دینی جماعتیں وشخصیات جن کا ذکر کرنا چاہئے تھا مجھ سے نہ ہوسکا۔ وقت کی تنگی کے باعث بہت سارے امور کو ترک کرنا پڑا۔ اس پر معذرت کے ساتھ میں آپ تمام شرکاء کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اس شرکت پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور ہر وہ شخص جس نے اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے ذرہ بھر بھی کوشش کی ہے اس پر ان کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص دینی مدارس کے ذمہ داران کو بھر پور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اگر وہ ہمارے ساتھ تعاون وسرپرستی نہ کرتے تو ہمارے لئے اتنا بڑا اجتماع کرنا ممکن نہ تھا۔ آپ نے بھر پور تعاون سے اپنے اسلاف کی یادوں کو فیصل آباد کی روایات کو زندہ کیا۔ اس پر بہت ہی شکریہ۔ مل کر میرے ساتھ نعرہ لگائیں۔ تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۹ تا ۱۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس لاہور کا آنکھوں دیکھا حال
(مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی) ۱۱/ اپریل ۲۰۰۹ء کو تاریخی بادشاہی مسجد لاہور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں لاکھوں فرزندان توحید اور خدام ختم نبوت نے جوش و جذبہ کے ساتھ شرکت کی۔ کانفرنس کی تاریخ اور مقام کا تعین ۲۰/ ذوالحجہ ۱۴۲۹ھ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کے اجلاس ملتان میں طے کر لیا گیا تھا۔ مزید مولانا عزیز الرحمن ثانی نے لاہور جا کر تمام دینی جماعتوں کی میٹنگ طلب کر کے ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی۔ جس میں مولانا میاں عبدالرحمان خطیب جامع مسجد انارکلی، مولانا عزیز الرحمن ثانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، قاری نذیر احمد جمعیت علماء اسلام، مولانا عبدالرؤف فاروقی جمعیت علماء اسلام، قاری جمیل الرحمن اختر پاکستان شریعت کونسل، قاری محمد رفیق انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، مولانا شمس الرحمان معاویہ اہل سنت، مولانا مجیب الرحمن انقلابی جامعہ اشرفیہ، مرکزی رابطہ کمیٹی نے لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، منڈی بہاؤالدین سمیت کئی ایک اضلاع کے تفصیلی دورے تقریباً تین ماہ میں مکمل کئے۔ اللہ پاک نے ان کی سعی و جہد کو شرف قبولیت سے بخشا۔ تاآنکہ عظیم الشان ختم نبوت بادشاہی مسجد کے وسیع و عریض صحن میں منعقد ہوئی۔ سیکورٹی کے فرائض دارالعلوم مدینہ رسول پارک لاہور کے سینکڑوں طلبہ نے مولانا محمد اسماعیل فیض اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں نے جناب عبدالرؤف روفی مانسہرہ کی قیادت میں سرانجام دئے۔ کانفرنس کی تین نشستیں ہوئیں۔
پہلی نشست : بعد نماز عصر منعقد ہوئی۔ صدارت مولانا محمد حسن امیر مجلس لاہور نے کی۔ کانفرنس کا آغاز قاری نذیر احمد کے فرزند ارجمند حافظ محمد طیب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جناب عابد ظہور نے حضرت اقدس سید نفیس الحسینی کی لکھی ہوئی نعت پڑھی۔
اچھرہ کے خطیب مولانا علیم الدین شاکر نے افتتاحی خطاب فرمایا اور کانفرنس میں شرکت کرنے والے حضرات کو خوش آمدید کہا۔ بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے ختم نبوت کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے اور سامعین کو پر امن رہ کر نظم و ضبط کے ساتھ کانفرنس کے مقررین کے خطابات سننے کی تلقین فرمائی۔ خانوادہ لدھیانوی کے چشم و چراغ رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی کے پڑپوتے مولانا حماد الرحمان لدھیانوی ایڈیٹر ماہنامہ ملیہ فیصل آباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ :
وہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح قادیانیت کے تعاقب میں کسی کمی و کوتاہی کا ارتکاب نہیں کریں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے سرپرست اعلیٰ میاں عبدالرحمٰن نے ختم نبوت کے کام کی اہمیت و فضیلت اور ضرورت کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ جامعۃ الحسینیہ رانا ٹاؤن کے طالب علم حافظ محمد کاشف نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
دوسری نشست:
صدارت ...... حضرت صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ کندیاں شریف نے کی۔ تلاوت ...... قاری منور نوید نے کی۔ نعت ...... سیف الرحمان اور حافظ قاری عبدالرحیم عزیز نے پیش فرمائی۔
حافظ نصیر احمد احرار صدر جمعیت طلبہ اسلام پاکستان نے کہا کہ طلبہ نے ہر دور میں تحریک ختم نبوت میں ہراول دستہ کا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ جب تک زندہ رہیں گے محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کریں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا ضیاء الدین آزاد نے شیزان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔
پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا عبدالحق خاں بشیر نے پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت قادیانیت کے تعاقب کے لئے جو بھی لائحہ عمل مرتب کرے گی پاکستان شریعت کونسل شانہ بشانہ ہوگی۔ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ نے ۱۹۵۳ء کی تحریک میں جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ۱۹۷۴ء ۱۹۸۴ء میں کردار ادا کیا۔ اب ضعف کی وجہ سے عملاً شریک نہیں ہو سکے تو انہوں نے اپنے مریدین، متوسلین، تلامذہ کو قادیانیت کے تعاقب کے لئے کردار ادا کرنے کا حکم دیا۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ قادیانیت یہودیت کا چربہ اور دوسرا رخ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو عداوت یہودیوں کو تھی وہی قادیانیوں کو ہے۔ قادیانی یہودی گٹھ جوڑ ہو چکا ہے۔ پاکستان کے پانچ سو قادیانی اسرائیل کی فوج میں بھرتی ہو کر تربیت حاصل کر رہے ہیں تا کہ جانثاران ختم نبوت کا قتل عام کیا جائے۔ قادیانیوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ایسے ہی پاک فوج سے قادیانیوں کو نکالا جائے۔ کیونکہ فوج جہاد کے لئے ہوتی ہے اور قادیانی جہاد کے منکر ہیں اور سویلین سے قادیانیوں کو الگ کیا جائے۔
قاری جمیل الرحمٰن اختر، نے کہا کہ ہماری قادیانیوں سے عداوت مرزا قادیانی کے دعوٰی نبوت کی وجہ سے ہے۔ قادیانی آج اگر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیں تو ہم انہیں سینہ کے ساتھ لگانے کے لئے تیار ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد امیر تنظیم اسلامی پاکستان، نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں حصول سعادت کے لئے حاضر ہوا۔ قادیانی ویب سائٹ میں میرا نام ہمدردوں میں شامل کر رہے ہیں۔ میں اس کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے لعنت اللہ علی الکاذبین کہتا ہوں۔ قادیانی تمام امور میں دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کچھ عرصہ قبل لاہوریوں کو کافر نہیں سمجھتا تھا۔ مجاہدین ختم نبوت کی تحریرات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اب میں دونوں کو کافر سمجھتا ہوں۔ ختم نبوت ایک مفہوم نبوت ختم والا ہے۔ دوسرا تکمیل نبوت و رسالت ہے۔ الہدیٰ مکمل کتاب قرآن ، اکمال، تکمیل ، اتمام نبوت ہو چکی ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی“ تمام نعمتیں اس وقت نعمت ہیں جب اس کے ساتھ ہدایت ہو۔ اگر ہدایت نہیں تو کوئی نعمت نعمت نہیں رہتی۔ قادیانیت کی پشت پر پورا کفر ہے۔ یہودی ، عیسائی ، ہندو اس کی پشت پر ہے۔ لہٰذا ارتداد کی شرعی سزا سزائے موت نافذ کی جائے۔ تاکہ قادیانیت کی راہ میں مکمل رکاوٹ ہو سکے۔
تیسری نشست:
صدارت...... حضرت مولانا سلیم اللہ خان، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے کی۔ تلاوت...... قاری محمد اکرم احرار، قاری ذوالثمر فیصل آباد نے کی۔ نعت...... رانا محمد عثمان قصوری، حافظ محمد قاسم گجر، سید سلمان گیلانی، حافظ ابوبکر نے پیش کی۔ مہمان خصوصی...... حضرت مولانا نذرالرحمٰن خلیفہ مجاز حضرت الامیر دامت برکاتہم العالیہ تھے۔ قراردادیں...... مولانا عزیز الرحمٰن فیصل آباد نے پیش کیں۔
مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری پاکستان شریعت کونسل نے خطبہ مسنونہ کے بعد کہا کہ اس عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعاء کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسے اعتماد، حوصلہ، پیش رفت کا ذریعہ بنائے۔ میں سوات کا مقدمہ پیش کرتا ہوں۔ سوات کا المیہ یہ ہے کہ دوہرا تہرا ظلم ہوا ہے چوتھا ظلم ہونے جا رہا ہے۔ سوات میں شرعی عدالتیں قائم تھیں۔ فرنگی، استعمار کے دور میں تھیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحاق کا نقصان یہ ہوا کہ شرعی عدالتیں ختم کر دی گئیں ۔ بہاولپور، قلات، خیر پور میرس، سوات، ژوب کو قاضی عدالتوں سے محروم کیا گیا ۔ تیسرا ظلم شیر پاؤ کی وزارت اعلیٰ کے دور میں یہ ہوا کہ ڈیڑھ ہفتہ دھرنا دیا گیا ۔ تو عدالتوں کی بحالی کا وعدہ کرنے کے باوجود دھوکہ دیا گیا ۔ اب معاہدہ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ سوات کے عوام کی مرضی کے مطابق شرعی عدالتیں بحال کی جائیں ۔ امریکہ کو سوات میں اور کسی خطہ میں امن نہیں چاہئے ۔ شرعی عدالتیں پورے ملک کا حق ہے ۔ جبر کے ذریعہ اسلام کا راستہ نہیں روکا جاسکتا ۔ معاہدہ کر کے اس سے انحراف کی کوشش کی جارہی ہیں ۔
بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا سید عبدالخبیر آزاد ، نے کہا آج کی عظیم الشان کانفرنس خوبصورت گلدستہ کی صورت میں موجود ہے ۔ انہوں نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے مولانا صاحبزادہ حامد سعید کاظمی کو خوش آمدید کہا ۔ نیز ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف کو بھی خوش آمدید کہا ۔
وفاقی وزیر مذہبی سید حامد سعید کاظمی ، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ختم نبوت کانفرنس کے ذی وقار و احتشام شرکاء، مہمانان گرامی ، حاضرین محفل میں مولانا عبدالخبیر آزاد کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کا موقع فراہم کیا ۔ ختم نبوت کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ۔ رب کائنات نے قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام سے لئے جانے والے عہد کا ذکر کیا اور آپ کو مصدق کہا ۔ یعنی تم سب کے آگے گزر چکے ہوگے اور وہ آخر میں تم سب کی تصدیق کریں گے ۔ چنانچہ آپ نے سب کی تصدیق کی اور اپنے آخری نبی ہونے کا اعلان کیا ۔
مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے افضلیت نبوی پر خطاب کیا ۔ آدم علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام تمام انبیاء آپ کی امت میں ہوں گے ۔ حضور ﷺ کی موجودگی میں کسی اور نبی کی ضرورت نہیں ۔
صاحبزادہ عزیز احمد نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔ ( جو اس شمارہ میں دوسری جگہ موجود ہے ) مولانا سلیم اللہ اویسی خطیب جامع مسجد سیدنا علی ہجویری نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ میں مجلس کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس قطب البلاد لاہور کی کانفرنس میں خطاب کا موقع فراہم کیا ۔ آج امت کو ایسے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے ۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو عظیم کانفرنس کرنے پر مبارکباد پیش کی ۔
مولانا عبدالغفور حیدری ، جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف یہود و نصاریٰ نے ابتداء ہی سے سازشیں شروع کر دیں تو علماء نے اس کے دجل وفریب کو چلنے نہیں دیا ۔ انگریز سامراج نے مرزا قادیانی کو کھڑا کیا تو علماء کرام نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے مذہبی اور سیاسی مقابلہ کیا ۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ۔ قادیانی ، صدر مملکت ، وزیر اعظم ، آرمی چیف نہیں بن سکتا اور ایسے ہی علماء کرام کی محنت سے پاکستان کے آئین میں مسلمان کی تعریف شامل کی گئی ۔ انہوں نے کہا ۱۹۷۳ء کے آئین کی اصل شکل میں بحالی کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ اگر ۱۹۷۴ء کی ترمیم کو چھیڑا گیا تو اس کا بھر پور مقابلہ کیا جائے گا ۔ ناموس رسالت کا قانون ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ ہماری لاشوں سے گزر کر ہو سکتا ہے ۔ انسانی حقوق کی پامالی کا شور مچانے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ قانون تمام انبیاء کرام کے ناموس سے متعلق ہے ۔ اگر کسی بدبخت نے ایسی کوئی حرکت کی اس کی مزاحمت کی جائے گی ۔
پروفیسر ساجد میر ، امیر جمعیت اہل حدیث نے کہا کہ اس وقت جو چیلنجز درپیش ہیں اس کا انسداد اتحاد امت سے ہے ۔ اتحاد کا راہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دکھلانے والے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرات ہیں یہ اتحاد آپ کی محبت اور وابستگی اور والہانہ تعلق کی بناء پر تھا اور آج بھی اس کی ضرورت ہے۔ قرآن پاک ختم نبوت کے تذکرہ سے بھرا ہوا ہے۔ قرآن پاک ختم نبوت کے تذکرہ سے شروع ہوا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر جانیں چھڑکی ہیں۔ پروفیسر صاحب نے قرآن پاک کی کئی ایک آیات سے ختم نبوت ثابت کی ہے۔ انہوں نے اجل صحابہ کرام ؓ نے اس اہم، حتمی، عقیدہ کے لئے قربانی دی۔ مگر کسی نے بیرونی دباؤ پر آئینی ترمیم اور امتناع قادیانیت بدلے کی کوشش کی تو ہم سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے۔
میاں محمد اجمل قادری ، نے فرمایا جیسے بھٹو صاحب نے ختم نبوت کا مسئلہ حل کیا تھا۔ ان کے جانشین نظام عدل پر دستخط کر کے ملک کے مستقبل کا تحفظ کریں۔ ملک کا مستقبل اسلامی نظام عدل سے وابستہ کیا جائے۔
مولانا سمیع الحق نے فرمایا کہ حضور ﷺ کی ذات گرامی پر پوری ملت اسلامیہ اکٹھی ہے۔ قادیانیت عالمی سطح پر استعمار کی ایجنٹی کرتے ہوئے پوری دنیا کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ وہ جہاد کے منکر ہیں۔ لہٰذا انہیں فوج سے نکالا جائے۔ جس مقصد کے لئے مرزا قادیانی کو کھڑا کیا گیا تھا عالمی کفر نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ عالمی استعمار ہمارے دینی اثاثوں کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ آج پورا کفر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو چکا ہے۔ مغرب و مشرق عالم اسلام کے خلاف متحد ہے۔ حکمران ان کی صف میں کھڑے ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں خاموش ہیں۔ ہم اگر نہ اٹھے تو پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ امریکہ، برطانیہ، انڈیا، اسرائیل پاکستان کے خلاف متحد ہیں۔ لہٰذا اتحاد کے بغیر مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ صلیبی، یہودی، دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس اجلاس کو اتحاد کا نقطہ اتحاد بنانا ہوگا۔
مولانا امجد خان نے کہا کہ قادیانیت کے خلاف فیصلہ بھٹو کے دور میں ہوا۔ اس کا تحفظ کرنا PPP کا فرض ہے۔ پرچم ختم نبوت بلند ہوتا رہے گا۔ اسے سرنگوں نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہم تن، من، دھن قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔
وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا۔ اس عظیم الشان اجتماع میں شرکت باعث سعادت ہے۔ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے۔ جس پر قرآن، وسنت کے بے شمار دلائل ہیں۔ ختم نبوت اس معنی میں ہے کہ تکمیل نبوت ہے۔ ختم نبوت کے منکرین کو بڑے اخلاص کے ساتھ اپنے اکابرین کی طرف سے اسلام، ختم نبوت قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر وہ مرزا قادیانی کو چھوڑ کر غلامی رسول میں آجائیں تو ہم انہیں اپنے سر پر بٹھانے کے لئے تیار ہیں۔ قبر اور آخرت کو دیکھتے ہوئے تمہارے خیر خواہ ہیں۔ جو محمد ﷺ کا دیوانہ ہے ہم اس کے، جو پیغمبر کا بیگانہ ہے ہم ان کے دجل و فریب کا پردہ چاک کریں گے۔ قادیانی قرآن وسنت، پاکستان کی عدالتوں کا باغی ہے۔ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ امتناع قادیانیت ایکٹ، تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کو ختم کرنے کی سازشوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے لاکھوں طلبہ اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مدارس سے کوائف مانگنا معاہدہ کے خلاف ہے۔ ہم سرکاری اہل کاروں کو کسی قسم کے کوائف نہیں دیں گے۔ ناخوشگوار صورتحال کی ذمہ حکومت ہوگی۔ دینی مدارس کے نظام تعلیم میں تبدیلی برداشت نہیں کریں گے۔
مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری نے فرمایا میں اس کانفرنس میں اپنا نام لکھوانے کے لئے آیا ہوں۔ آپ تمام حضرات حضور اکرم ﷺ کے خدام میں لکھے گئے ہیں۔ حضرت علامہ انور شاہ نے بہاولپور میں فرمایا۔ میرے نامہ اعمال میں اور تو کچھ نہیں تھا۔ میں حضور ﷺ کا طرفدار بن کر آیا ہوں۔ ہم سب حضور ﷺ کی طرف دار ہیں۔ تمام صلاحیتیں صرف کریں گے۔ ختم نبوت کا منشور حضور ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ ہے۔ منکرین ختم نبوت کا انجام (اسود عنسی ) اور مسیلمہ کذاب جیسا ہونا چاہئے۔ جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا فضل الرحیم
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے کہا ان شاء اللہ العزیز شفاعت کا استحقاق لے کر جائیں گے۔ شاہی مسجد کے میناروں کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے عقیدہ کا بھر پور تحفظ کریں گے۔ عقیدہ ختم نبوت پر پہرہ دیں گے۔ مولانا قاضی ارشد الحسینی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ حضور کی ناموس پر حملہ کرنے والوں کی شرارتوں سے امت کو بچایا جائے گا۔ حضور ﷺ کے کسی نبی کی ضرورت نہیں۔
مولانا احمد علی سراج نے کہا کہ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء جب پارلیمنٹ نے غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا تھا تو اس وقت پارلیمنٹ میں مولانا مفتی محمود تھے۔ آج مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اس کا بھر پور تحفظ کیا جائے گا۔ جب گذشتہ حکمرانوں نے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کیا تو مولانا کی قیادت میں ہم نے بحال کرایا۔ ہم قائد جمعیت کی قیادت میں ایک ہیں۔ ایک ہیں۔ ایک ہیں۔
مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی نے کہا۔ میں صرف مبارکباد پیش کرتا ہوں اور مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔
مولانا محمد الیاس گھمن نے کہا کہ قادیانیوں سے ہزاروں مقامات پر مناظرے ہوئے۔ قومی اسمبلی کے فلور پر انہیں مکمل دفاع کا حق دیا گیا۔ آج قادیانیوں سے مناظروں کی ضرورت نہیں۔ قانون پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
قاری زوار بہادر، جنرل سیکرٹری جمعیت علماء پاکستان نے کہا کہ میں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ایک سو نو سال قبل اسی مسجد میں حضرت پیر مہر علی شاہ تمام مکاتب فکر کی طرف سے للکار رہے تھے۔ آج ان کے نام لیوا للکار رہے ہیں۔ نہ کل ہمارے بزرگوں نے انہیں کامیاب ہونے دیا نہ آئندہ ہونے دیں گے۔ مدارس کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جب تک غلامان رسول زندہ ہیں عالم اسلام کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ ہم موت کے خریدار ہیں۔ ہمیں اس کے ذریعہ حیات جاوداں عطاء فرمائی جاتی ہے۔
قاری عزیز الرحمن فیصل آباد نے قراردادیں پاس کرائیں۔
مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث نے کہا۔ ختم نبوت کی یہ جماعت سیدنا صدیق اکبر ؓ سے چل کر خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم تک آ پہنچی ہے۔ آج بھی یہ کارواں جاری وساری ہے۔ چند دنوں بعد اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔ اب ہم رسول اللہ ﷺ کے نام پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
اگر ختم نبوت کا عقیدہ نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ قرآن، حدیث، قبلہ، اسلام کی تکمیل، دین کی حفاظت کا ذمہ خدا نے لیا۔ عالمگیر نبوت سے اتحاد کا پیغام ملا۔ یہ سب ختم نبوت کی برکت سے ملا۔ کل شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے ہاتھ میں میاں نذیر حسین دہلوی کا ہاتھ تھا۔ مولانا ثناء اللہ کا، شاہ جی کے ہاتھ میں ہاتھ تھا اور ۱۹۷۴ء میں مولانا مفتی محمود کے ہاتھ میں روپڑی کا ہاتھ تھا۔ بطور سپاہی خواجہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کے لئے کہ یہ غلام حاضر ہے۔ قادیانیو! تم ایک کفر کا ونگ ہو۔ تم اپنی موت مر چکے ہو۔ جس حکمران نے تمہارے حق میں نرمی دکھلائی۔ رب نے ان کا بستر بوریا گول کر دیا۔ ختم نبوت والی ترمیم کو چھیڑا گیا تو خواجہ صاحب کی امارت میں ہم اکٹھے ہو کر تمہارا بستر بوریا گول کر دیں گے۔
مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے کہا۔ پاکستان کی کلیدی اسامیوں سے قادیانیوں کو الگ کیا جائے۔ نیواسٹاک کا ڈائریکٹر جنرل قادیانی ہے۔ ان تمام قادیانیوں کو الگ کیا جائے۔ تاکہ یہ اپنے ماتحتوں کو گمراہ نہ کر سکیں۔ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ میں قائد تحریک ختم نبوت خواجہ خواجگان کی قیادت میں کام کرنے والے مبلغین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ہمارا عقیدہ کل بھی تھا۔ آج بھی ہے۔ آئندہ قیامت تک رہے گا کہ نبوت کا سلسلہ حضور ﷺ پر بند ہو گیا۔ صحابہ کرام ؓ پر صحابیت ختم ہے۔ اہل بیت نبوی پر اہل بیت ہونا ختم ہے۔ میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس کی قیادت کو عملی طور پر یقین دلاتا ہوں۔ اصحاب پیغمبر کا تحفظ حقیقت میں عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہے۔ سیدنا صدیق اکبر سب سے پہلے محافظ ختم نبوت ہیں۔ آج صدیق اکبر کے نام لیوا یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسیلمہ پنجاب کا قلع قمع کرنے کے لئے اشارہ ہوگا۔ ہم سر کے بل آئیں گے۔ ہم آئندہ بھی میدان نہیں چھوڑیں گے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے امام المحدثین حضرت علامہ انور شاہ نے شاہ جی کو امیر شریعت کے لقب سے نوازا۔ امیر شریعت کی آواز پر دس ہزار مسلمان نے جام نوش فرمایا تھا۔ ہم صحابہ کے دشمن کو برداشت نہیں کرتے تو رسول اللہ کے دشمن کو کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ ہم عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے یقین دہانی کراتے ہیں۔
میاں مرغوب احمد ایم۔این۔اے مسلم لیگ ”ن“ نے کہا کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرے۔ ہم اتحاد کرتے ہوئے فروعی اختلاف کو پس پشت ڈال دیں گے۔ ہم ناموس نبوت، ناموس صحابہ کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں۔ اس پر متحد ہو کر چلنا ہوگا۔ مجھے خوشی ہے کہ آج بادشاہی مسجد میں تمام دینی جماعتوں کے قائدین ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں۔
مولانا عبدالکریم ندیم نے کہا۔ قائد جمعیت اکابر علماء کرام ۳۵ سال کے بعد یہ منظر دیکھنے میں آیا۔ جب قائد جمعیت مولانا مفتی محمود نے اسمبلی میں جنگ لڑی۔ باہر شیخ بنوری تھے۔ آج امریکہ کی سرپرستی میں قادیانی باہر آرہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ امت مسلمہ ایک ہو کر بزرگوں کے شانہ بشانہ ختم نبوت کا تحفظ کرے۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم سے پہلے مولانا اللہ وسایا نے خوش آمدید کہا اور کہا کہ مجلس کی پالیسی کبھی بھی تشدد کی نہیں تھی۔ ختم نبوت کا پلیٹ فارم پر امن جدوجہد کا پلیٹ فارم ہے۔ اس سے کامیابی ملی۔ جب تک دنیا میں ایک بھی قادیانی ہے۔ ان کا مقابلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے قائد جمعیت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہر دور میں ہماری سرپرستی فرمائی اور آئندہ بھی فرمائیں گے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ نے فرمایا۔ پر سوز آواز میں خطبہ اور آیات قرآنی تلاوت فرمائی تو مجمع عش عش کر اٹھا۔ آپ نے فرمایا بادشاہی مسجد کا یہ میدان اس دن کو ایک بار پھر دہرا رہا ہے جو دن ختم نبوت کی تاریخ کے صفحات پر اس طرح نقش ہو چکا ہے کہ اسے نہ مٹایا جاسکتا ہے اور نہ بھلایا جاسکتا ہے۔ ۱۹۷۴ء کی کانفرنس نے پارلیمنٹ سے تاریخ ساز فیصلہ کرایا جو آئین کا حصہ ہے۔ ہم لوگ جو مختلف سیاسی اور غیر سیاسی الجھنوں میں گرفتار رہتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے یہ کارکن، قلعہ ختم نبوت کی چوکیداری کرتے رہتے ہیں۔ سرحدات کی حفاظت کے لئے ہر وقت چوکس رہتے ہیں اور ہمیں بھی اس حوالہ سے چوکس کرتے رہتے ہیں۔ میں مولانا اللہ وسایا پر واضح کرتا ہوں کہ یہ میرا کوئی احسان نہیں بلکہ فریضہ ہے۔ قادیانی فرقہ سے پوری امت کو واسطہ ہے۔ ہم اور آپ اپنی مجالس میں اس بات کو دہراتے رہتے ہیں کہ یہ جہاد کے منکر ہیں۔ آج ایک بار پھر عالمی استعمار، امریکہ کی قیادت میں جہاد کے تصور کے خاتمہ کے لئے تمام تر مادی قوت استعمال کر رہا ہے۔ کوئی مسلمان اپنے عقیدے، مذہبی آزادی، آزادی حریت کے لئے سرشار رہے تو اسے نیست و نابود کرنے کے لئے حملہ آور ہو رہے ہیں۔ آپ کے اس عزم کو لے کر جانا ہے کہ جہاد کا انکار قادیانیت کی تحریک ہے۔ ہم نے امت کی صفوں کے لئے اتحاد اور تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانا ہے۔ ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہمارے دو میدان ہیں۔ ایک ہمارے مسلم معاشرے کا اور دوسرا ہمارے سیاسی مسئلہ ہے۔ ہمارا مسلم معاشرہ مذہب کے ساتھ وابستہ ہے تو اس کی یہ وابستگی دین و مذہب کے ساتھ ہے اس میں مدرسہ کا بنیادی کردار ہے۔ آج عالمی استعمار تمام تر توانائیوں کے ساتھ یلغار کر چکا ہے تو نشانے پر دینی مدرسہ کو رکھا ہوا ہے۔ دینی مدرسہ کو فرقہ پرست کہہ کے کارروائی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مدرسہ والو! آپ کو گھبرانا نہیں چاہئے۔ جب دیوبند میں انار کے درخت کے نیچے ایک مدرسہ کا آغاز کیا گیا۔ انگریزی اقتدار نے اس کا تمسخر اور مذاق اڑایا تھا۔ اس میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو کمی قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ اسے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معاشرہ کا ذلت آفرین طبقہ قرار دیا گیا۔ وہ کمزور ترین اور حقیر قوت آج امریکہ جیسی عالمی قوت کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔ سمجھ لو میرے اکابر کی کمان سے جو تیر نکلا تھا آج نشانہ پر لگا ہے۔ ہماری جنگ کمزور انسانوں سے نہیں بلکہ دنیا کے باطل امریکہ کے مقابلہ میں ہے۔ آزادی وحریت ہر فرد کا پیدائشی حق ہے۔ فرمایا تھا عمرؓ نے: ہماری ماؤں نے ہمیں آزاد جنا ہے۔ یہ پیدائشی حق کو تسلیم نہیں کیا جارہا ۔ آج افغانستان ، عراق ، فلسطین ، کشمیر کے مسلمان آزادی وحریت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عسکریت جرم ہے میں بھی کہتا ہوں لیکن اگر عالمی قوت یا کوئی بھی ملک ریاستی طاقت کی بناء پر قوم کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کرے۔ اگر اسرائیل فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم نہیں کرے گا تو جواب میں عسکریت پسندی فطری عمل ہے۔
اگر انڈیا کشمیریوں کا حق تسلیم نہیں کر سکتا ۔ عراق میں امریکہ ان کی یہ آزادی وحریت پر قبضہ کرنے کے لئے آیا تو عسکریت کا پیدا ہونا فطری ردعمل تھا۔ طالبان نے افغانستان کے پورے معاشرہ کو کلاشنکوف سے پاک کر دیا تھا۔ وسط ایشیاء کے وسائل اور تجارت اور عراق اور خطے کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے امریکہ نے پلان بنایا ہے۔ ان پر حملہ کیا گیا تو عسکریت پسندی فطری ردعمل ہے۔
اگر امریکہ اور اس کے حواری اور اتحادی چاہتے ہیں کہ عسکریت کا خاتمہ ہو تو اپنی فوجیں واپس لے جائیں عسکری ردعمل کی میں ضمانت دینے کو تیار ہوں ۔ یہ راستہ تباہی و بربادی کا راستہ ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا گیا۔ ہم نے یہ پاکستان کی خیر خواہی اور مفادات کے لئے لگایا گیا ۔ ۲۰۰۱ء کے بعد آٹھ سال بعد جب فروری میں الیکشن ہوئے تو صوبہ سرحد میں ہم حزب اختلاف میں بیٹھ کر تعاون کا اعلان کیا۔ امریکہ کو بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ جو ۲۰۰۱ء میں جنگ شروع کی تھی ، کیا اس کی شدت اور وسعت میں اضافہ ہوا یا نہیں ۔ آٹھ سالہ تجربہ بتلا رہا ہے کہ اس کے اثرات قبائلی علاقوں میں پھیلے ۔ حالات نے ہماری تصدیق کی۔ پچھلے سال جولائی میں اپنے ملک کے حکمرانوں سے کہا کہ آپ نے حملے جاری رکھے ۔ پھر سرحد آپ سے جا رہا ہے۔ عام آدمی مقدمہ وفریاد کے لئے تھانوں کی طرف رخ نہیں کرتا ۔ عسکریت پسند جب چاہیں مکمل کنٹرول حاصل کر لیں۔ تو پاکستان کا کیا ہوگا ۔ وزیر اعظم نے ۲۳؍ جولائی کو اجلاس بلایا۔ جس میں تمام اتحادی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ پنجاب وسرحد کے حکمرانوں نے شرکت کی۔ تمام ایجنسیوں کے ہیڈ موجود تھے اور سات گھنٹے تک بریفنگ دی گئی۔ اپنے موقف کی حد تک میں واحد تھا۔ ہمیں سب کچھ معلوم ہے۔ تمہاری اور ان کی پوزیشن کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جس پالیسی پر ۲۰۰۱ء میں گامزن ہوئے تھے اس میں دلدل میں پھنستے چلے گئے ہیں۔ ملکی سلامتی کے سوال پر فیصلہ کن بات کرو۔ تشدد کی پالیسی غلط تھا۔ آپ کی دعاؤں سے سات گھنٹے کی تفصیلی بحث کے بعد متفقہ طور پر اس بات کو تسلیم کیا کہ انہوں نے فضل الرحمن کے موقف کی تائید کی۔ جب پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر پالیسی تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ حکومت سازی یہ ثانوی مسئلہ ہے۔ ملکی سلامتی پہلا مسئلہ ہے۔ ملکی سلامتی کو ترجیح دی جائے ۔ تو مجھے کہا گیا کہ اس کے راستہ میں مشرف رکاوٹ ہے۔ تو مواخذہ کی تاریخ مشرف کی رخصتی پر منتج ہوئی۔ مولانا نے ایک گھنٹہ سے زیادہ خطاب فرمایا اور ملک وملت کو درپیش مسائل کی نشاندھی اور حل بتلایا۔ آپ کی دعاء پر پونے چار بجے کانفرنس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔ فلحمد لله على ذالک !
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۹ء ص ۲۲ تا ۲۹)
اٹھائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوآدم کے زیر اہتمام ایک روزہ عظیم الشان اٹھائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۷؍ اپریل ۲۰۰۹ء جمعۃ المبارک کو صبح دس بجے سے صبح اذان فجر تک جاری رہی۔ اس کی افتتاحی اور پہلی نشست کی تلاوت حافظ محمد فرقان انصاری نے کی۔ اس
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے بعد سندھ کے مایہ ناز نعت خواں راشد محمد منگی نے نعت پیش کی۔ ابتدائی مقررین میں حافظ محمد طارق حمادی، نونہالان ختم نبوت کے حافظ نعمت اللہ نے مختصر بیانات کئے۔ ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ ناظم استقبالیہ کانفرنس مولانا محمد راشد مدنی نے افتتاحی خطاب کیا۔ ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔
جمعہ کی نماز کے بعد دوسری نشست کا آغاز قاری عبدالرحمن نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ ان کے بعد سکھر سے آئے سندھ کے مایہ ناز نعت خواں امداد اللہ پھلپوٹو نے حمد ونعت، مدح صحابہ، عقیدہ ختم نبوت، رد قادیانیت پر مختلف نظمیں پیش کیں۔ ان کے بعد ملک کے معروف خطیب حضرت مولانا صبغت اللہ جوگی نے سندھی میں خطاب کیا۔ دوسری نشست کا اختتام مولانا جوگی کے ہی ایمان افروز بیان پر ہوا۔ انہوں نے ہی دعاء فرمائی۔ بعد نماز مغرب کھانے کا وقفہ ہوا۔ جس میں باہر سے آنے والے ہزاروں مسلمانوں نے کھانا کھایا۔ یہ سلسلہ عشاء تک چلتا رہا۔
کانفرنس کی تیسری اور آخری نشست نماز عشاء کے بعد جامع مسجد سے متصل ایم، اے جناح روڈ پر رکھی گئی۔ جس کا آغاز جامعۃ الرشید کراچی سے آئے ہوئے مہمان حافظ محمد ابوبکر نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ جس کے بعد کانفرنس کے نگران مولانا احمد میاں حمادی نے افتتاحی خطاب کیا۔ کانفرنس کی رات کی نشست سے کانفرنس کے صدر استقبالیہ مفتی حفیظ الرحمان رحمانی، مولانا احمد علی عباسی، مولانا قاضی منیب الرحمان، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد نذر، صوبہ بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالرزاق میکھو اور دیگر نے خطابات کئے۔ جب کہ جمعیت علماء اسلام کے حاجی محمد ہاشم خاصخیلی، قاری محمد عباس، مولانا محمد عثمان سموں، جامعہ مدنیہ کے مفتی محمد امان اللہ بلوچ سمیت شہر کے مقتدر علماء کرام نے خصوصی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۹ء ص ۵۵ تا ۵۷)
نویں سہ ماہی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و شبان ختم نبوت پنوعاقل کے زیر اہتمام عظیم الشان نویں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ۶؍مئی ۲۰۰۹ء بروز بدھ بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد پنوعاقل میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت خانوادہ ہالیجی شریف کے چشم چراغ حضرت مولانا صاحبزادہ غلام اللہ ہالیجوی صاحب نے کی۔ جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا مفتی حفیظ الرحمن اور ختم نبوت سرگودھا کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد رضوان نے خصوصی بیان فرمایا۔ مقررین نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جناب خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت اور ناموس رسالت کے لئے ہر گھڑی ہر لمحہ محنت اور لگن کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری جو کہ اس تحریک کے روح رواں تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص حضور ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے صرف ایک گھنٹہ وقف کرے کل بروز محشر اسے حضور ﷺ کی شفاعت اور جنت ملے گی۔ جس کا ضامن میں ہوں۔
کانفرنس سے مولانا قاری عبدالحمید شیخ، مولانا قاری خلیل الرحمن اندھڑ، مولانا محمد حسین ناصر اور مولانا عبدالرحیم چاچڑ اور دیگر مقامی علماء نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۹ء ص ۴۵)
مولانا شجاع آبادی کا چکوال کا تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم شعبہ تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۱۵، ۱۶؍مئی ۲۰۰۹ء کو دو روزہ تبلیغی دورہ پر چکوال تشریف لائے، جہاں انہوں نے جمعۃ المبارک کا خطبہ جامع مسجد دارالعلوم حنفیہ میں دیا۔ انہوں نے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے کہا کہ حکمران سوات، وزیرستان اور وانا میں اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لئے نہتے مسلمانوں پر جیٹ بمبار طیاروں کے ذریعے بمباری اور توپوں کے ذریعہ گولہ باری کر رہے ہیں، جس سے سینکڑوں مسلمان جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہورہے ہیں، لیکن پنجاب کے ضلع چنیوٹ کے قصبہ چناب نگر (ربوہ) میں قادیانیوں نے خود ساختہ قوانین بنا رکھے ہیں ، اپنا محکمہ قضاء قائم کیا ہوا ہے، حکمرانوں کو چناب نگر میں بھی اپنی عمل داری بحال کرنی چاہئے ۔ بعد نماز جمعہ جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا عبدالرحیم نقشبندی نے ان کے اعزاز میں ظہرانہ کا انتظام کیا، جس میں معززین شہر اور علماء کرام شریک ہوئے۔ گزشتہ شب نماز مغرب جامع مسجد صدیق اکبر بھون میں مولانا مفتی معاذ کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجتماع سے خطاب کیا، جس میں قاری عبدالمالک ، مولانا محمد سلیم نے بھی خطاب کیا ۔ ۱۶ر مئی ۲۰۰۹ء ۱۰ تا ۱۱ بجے تک مدرسہ اظہار الاسلام کے طلبا واساتذہ سے خطاب کیا، بعد ازاں تحریک خدام اہل سنت کے امیر مولانا قاضی ظہور حسین اظہر سے ملاقات کی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲ / جون ۲۰۰۹ء ص ۲۵)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ کا دورہ اندرون سندھ
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا محمد نذر کی دعوت پر پانچ دن (۱۶ رمئی سے ۲۰ رمئی تک ) کے دورہ پر میر پور خاص ، بدین ، ڈگری ، کنری اور حیدرآباد تشریف لائے ۔ جہاں ان حضرات نے ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا، جس میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، مسئلہ ختم نبوت اور ظہور مہدی، نزول حضرت عیسیٰ بن مریم ، فتنہ دجال ، فتنہ قادیانیت کی سرکوبی جیسے اہم عنوانات شامل ہیں ۔
سب سے پہلے کانفرنس میر پور خاص میں ۱۶ رمئی ۲۰۰۹ء کو ہوئی ۔ کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی امیر مولانا شبیر احمد کرنالوی کی سرپرستی اور مولانا حفیظ الرحمن فیض کی صدارت میں بعد نماز عشاء مسجد اقصیٰ پنہور کالونی سیٹلائٹ ٹاؤن میں ہوئی ، جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا راشد محبوب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوالہ یار ، مولانا قاری کامران احمد حیدرآباد اور مولانا فیاض احمد مدنی کا بیان ہوا، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد علی صدیقی نے سرانجام دیئے ، اسٹیج پر مولانا شبیر احمد کرنالوی ، مولانا حفیظ الرحمن فیض ، مولانا مفتی عبیداللہ انور، مولانا مقبول احمد ، مولانا ظہیر احمد کرنالوی ، حافظ اکبر راشد، قاری بشیراحمد ، سلطان محمد اور علماء کرام کی ایک کثیر تعداد موجود رہی اور الحمد للہ حاضری بھی خوب تھی، مسجد اقصیٰ اندر باہر سے بھری ہوئی تھی رات ڈیڑھ بجے کانفرنس قاری کامران احمد کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
۱۷ رمئی ۲۰۰۹ء کو ضلع بدین کے شہر کڑن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اور مولانا عبد الستار جاؤڑا کی سرپرستی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب مولانا اللہ وسایا مدظلہ کے علاوہ مولانا محمد عیسیٰ سموں ، مولانا اسد اللہ حیدری اور مولانا محمد عبداللہ سندھی نے کیا ۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا گل حسن نے سرانجام دیئے ہدیہ نعت عبدالحمید عابد نے پیش کیا ، ضلع بدین کے اکثر علماء کی بھر پور حاضری رہی اور کانفرنس رات گئے تک جاری رہی ۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی ، مولانا فیاض مدنی نے رات کو بیان کے بعد حکیم محمد عاشق نقشبندی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گولارچی کی دعوت پر گولارچی میں قیام کیا اور ۱۸ رمئی کی صبح بعد نماز فجر مدینہ مسجد گولارچی میں درس قرآن دیا ، اس کے بعد ناشتہ حکیم صاحب کے پاس کر کے سندھ کے نامور عالم دین مولانا عبدالغفور قاسمی کی عیادت کے لئے سجاول حاضری دی ۔ اس کے بعد دن میں مدرسہ دارالعلوم فاروقیہ گوٹھ نبی بخش کمبوہ میں قاری عبدالمجید کی دعوت پر طلباء اور اساتذہ کرام میں مولانا اللہ وسایا مدظلہ کا بیان ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۸ مئی ۲۰۰۹ء رات بعد نماز عشاء مدرسہ اشاعت القرآن ڈگری میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈگری کے زیر اہتمام ایک ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام تھا جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا احمد علی عباسی، مولانا فیاض مدنی کا بیان ہوا، نعت حافظ محمد طاہر نے پیش کی، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد علی صدیقی نے انجام دیئے۔ کانفرنس کی تیاری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈگر کے عبید اللہ، مولانا خورشید احمد، مولانا محمود حسن خیری، مولانا غلام مصطفی، مولانا محمد رضوان، مولانا قاری محمد اصغر، قاری عبدالستار اور حافظ محمد شفیع کے فرزند حاجی عبید اللہ نے سرانجام دیئے۔
۱۹؍ مئی ۲۰۰۹ء کو کنری میں ۳۵؍ ویں سالانہ عظیم الشان کانفرنس تھی، جس کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے احباب نے بھر پور انداز میں کیا تھا، یہ کانفرنس کارکنوں کے لئے ایک چیلنج بھی تھی ایک تو یکے بعد دیگرے میاں عبدالواحد اور بشیر احمد قلندر انتقال فرما گئے اور دوسرے کنری کے اہم باہمت عہدیدار میاں ریاض احمد کاروباری مصروفیات کی وجہ سے سعودی عرب منتقل ہو گئے۔ اس کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ خصوصی طور پر شرکت کے لئے تشریف لائے اور کانفرنس سے خطاب لاجواب کیا۔ مولانا مدظلہ کے علاوہ مولانا اللہ وسایا، مولانا رب نواز حنفی، مولانا عبداللہ سندھی، مولانا فیاض احمد مدنی، مولانا سعید احمد ثاقب کے بیانات ہوئے، مولانا محمد نذر، مولانا محمد علی صدیقی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ کانفرنس الحمد للہ بہت ہی کامیاب رہی، رات ۲ بجے کانفرنس کا اختتام ہوا، جناب مولانا محمد انس یونس نے ہدیہ نعت پیش کیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام عہدیدار اور کارکن، نئے امیر جناب محمد اقبال ارشد آرائیں اور ناظم اعلیٰ محمد ناصر آرائیں کی زیر نگرانی میں تازہ دم رہے، کنری کے تمام علماء، مولانا امان اللہ کی سربراہی میں کانفرنس کے انتظامات میں لگے رہے۔
۲۰؍ مئی ۲۰۰۹ء کو مولانا اللہ وسایا کنری سے سیدھے حیدرآباد تشریف لے گئے اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کنری جماعت کے امور کی مشاورت کے بعد مولانا محمد صدیقی کی معیت میں میر پور خاص تشریف لائے جہاں پہلے احمدانی کلینک پر ڈاکٹر امداد اللہ احمدانی سے ملاقات ہوئی اس کے بعد مدنیہ مسجد شاہی بازار میں ظہر کی نماز ادا کی اور میر پور خاص کے جید علماء کرام مولانا شبیر احمد کرنالوی، مولانا حفیظ الرحمن فیض اور دیگر حضرات سے ملاقات کی اور جماعتی امور پر بات چیت کی۔ ۳ بجے حیدرآباد کے لئے ڈاکٹر امداد اللہ احمدانی کے ہمراہ عازم سفر ہوئے۔ بعد نماز عشاء مسجد ابراہیم خلیل اللہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی جس میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا رب نواز حنفی، مولانا ایوب بندھانی، قاری کامران احمد نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد علی صدیقی نے سر انجام دیئے۔ کانفرنس کے انتظامات مولانا محمد نذر، مولانا عبدالسلام، مولانا سیف الرحمن اور محمد اکرم قریشی کی نگرانی میں سرانجام دیئے۔ الحمد للہ! تمام پروگرام ہر لحاظ سے کامیاب رہے۔ ۲۷؍ مئی ۲۰۰۹ء کو ناظم اعلیٰ صاحب حیدرآباد دفتر میں قیام کیا اور جماعتی احباب سے ملاقاتیں کیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جون ۲۰۰۹ء ص۲۳، ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
حیدرآباد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغین حضرات کے اجلاس منعقدہ مرکزی دفتر ملتان میں اندرون سندھ ہونے والی کانفرنسوں کی تاریخوں کی باقاعدہ منظوری مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے دی اور مقامی جماعتوں کو کانفرنسوں کی تیاری کے سلسلے میں اپنی کوشش تیز کرنے کی ہدایت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۰؍ مئی ۲۰۰۹ء حیدر آباد کی کانفرنس کے لئے مقامی امیر ڈاکٹر مولانا عبدالسلام قریشی، مولانا سیف الرحمن، مولانا تاج محمد پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی، جس نے دارالعلوم مظاہر العلوم کے مہتمم مفتی محمد فصیح، جامعہ قوت الاسلام کے مہتمم مولانا سعید جدون، جامعہ ریاض العلوم کے ناظم مفتی محمد عرفان، جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا شبیر احمد خان کے علاوہ حیدر آباد کے خطباء و علماء سے ملاقاتیں کیں اور ختم نبوت کانفرنس کے باقاعدہ دعوت نامہ پہنچائے۔
اشتہارات لگوانے کی ذمہ داری مفتی محمد طارق اور ان کے رفقاء نے بخوبی نبھائی۔ حیدرآباد سائٹ اور دیگر علاقوں کے لئے مفتاح العلوم سائٹ کے علماء کرام اور طلباء نے خدمات سرانجام دیں۔ کانفرنس کے لئے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا رب نواز حنفی و دیگر مقررین بعد نماز عصر دفتر ختم نبوت حیدر آباد تشریف لے آئے۔ اسٹیج کی تیاری کے مراحل جامعہ امدادیہ کے طلباء اور جماعت حیدرآباد کے خازن محمد اکرم قریشی کی نگرانی میں پورے ہوئے۔ مہمانوں کی ضیافت کا انتظام ڈاکٹر مولانا عبدالسلام قریشی کے ہاں ہوا، بعد نماز عشاء ابراہیم خلیل اللہ مسجد میں تلاوت قرآن کے ساتھ ختم نبوت کانفرنس کا آغاز ہوا تلاوت قاری ضیاءالحسن نے کی، نعت رسول مقبول رانا محمد اسماعیل صاحب نے پیش کر کے مجمع سے داد وصول کی، ابتدائی مقرر مولانا اللہ وسایا تھے، انہوں نے اپنے خطاب میں ملک گیر ختم نبوت کانفرنسوں کے حوالے سے کہا کہ قادیانی ذریت کے بھگوڑے مرزا نے امت مسلمہ کو چیلنج دیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو قادیانیت کے دام فریب میں پھنسانے کی کوشش تیز کی جائیں گی تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے امت مسلمہ کے ایمان کو بچانے کے لئے ملک گیر کانفرنسوں کا اعلان کیا۔ دھوبی گھاٹ فیصل آباد اور بادشاہی مسجد لاہور میں لاکھوں مسلمانوں کا جماعت کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ تمام مسالک کے مسلمان قادیانی فتنہ کے خلاف متحد ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کا خطاب پون گھنٹہ جاری رہا بعد از خطاب مولانا ملتان کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ مقامی مقررین میں مولانا محمد ایوب بندھانی، قاری کامران احمد نے بیانات کئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے علمی گفتگو کر کے عوام الناس کے دل موہ لئے مولانا کا بیان گھنٹہ بھر سے زیادہ جاری رہا، اس کے بعد نعت محمد سہیل قریشی نے پیش کی۔
جامع مسجد ابراہیم خلیل اللہ کا صحن باوجود فراخ ہونے کے تنگ نظر آ رہا تھا، مدارس، مساجد کے علماء کرام، عوام الناس، تاجر برادری اور کارکنان بڑی تعداد میں کانفرنس میں شریک تھے۔ آخری خطاب کراچی کے مشہور و معروف عالم دین مولانا رب نواز حنفی کا ہوا انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں حضور ﷺ کی ختم نبوت پر روشنی ڈالی اور قادیانی فتنہ کے عقائد خبیثہ پر بھی گفتگو کی۔ کانفرنس رات کے ڈیڑھ بجے بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس میں علماء کرام کی خدمت کے لئے اور کانفرنس کی تیاریوں میں حاجی کمال الدین، مولانا محمد عاصم، قاری محمد رفیق اللہ، محمد اکرم قریشی، مولانا محمد طارق، مولانا حبیب الرحمن، مولانا سیف الرحمن آرائیں اور جمعیت علماء اسلام حیدر آباد کے امیر مولانا تاج محمد پنہور نے خوب جدوجہد کی۔ میرپور خاص کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی، گمبٹ خیرپور کے مبلغ مولانا فیاض مدنی، سانگھڑ، ٹنڈوآدم کے مبلغ مولانا محمد راشد مدنی نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔ آخر میں راقم الحروف نے آنے والے تمام مہمانوں، مقررین علماء کرام اور عوام الناس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آپ کے تمام حضرات سے یہ توقع رکھتی ہے کہ آپ آئندہ بھی اسی اعتماد سے ہمیں نوازتے رہیں گے۔ کانفرنس کی اختتامی دعا مولانا رب نواز حنفی نے کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جون ۲۰۰۹ء ص ۲۲، ۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس مانسہرہ
مانسہرہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ کے زیر اہتمام ۲۳؍ مئی ۲۰۰۹ء بروز ہفتہ بعد از نماز ظہر مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں زیر صدارت حضرت مولانا خلیل احمد عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی سفیر اسلام مولانا عبدالمجید ندیم شاہ اور مولانا اللہ وسایا تھے ضلع بھر کے اکابر علماء کرام، طلباء اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ اس موقع پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ایک گستاخ رسول وقار حسین شاہ، بالاکوٹ کا رہنے والا اس بدبخت نے سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور ازواج مطہرات کے بارے میں نازیبا الفاظ بولے،سٹی تھانہ میں ۲۹۸-اے اور ۲۹۵-سی کا مقدمہ چلایا گیا اور پھر مختلف عدالتوں میں یہ مقدمہ چلتا رہا احمد سلطان ترین ایڈیشنل جج نے اس کو رہا کر دیا، ہم عدالت کی اس کارروائی کو جانبداری تصور کرتے ہیں، اس فیصلے سے قادیانیوں کو تحفظ دیا گیا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جون ۲۰۰۹ء ص ۲۳ تا ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا شہر
ٹیکسلا: دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس مرکز اصلاح وارشاد میں بڑی شان وشوکت سے ۲۸؍ مئی ۲۰۰۹ء بروز جمعرات بعد از نماز مغرب منعقد ہوئی۔ پہلی تمام کانفرنسوں سے کئی گنا زیادہ عوام الناس نے شرکت کی مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور ہزارہ، حسن ابدال، کوہاٹ اور دیگر شہروں اور دیہاتوں سے علماء کرام نے قافلوں کی صورت میں کانفرنس میں شرکت کی۔ نماز مغرب سے قبل ہی پنڈال بھر چکا تھا، پہلی نشست کا آغاز پیر طریقت حضرت مولانا عبدالغفور دامت برکاتہم کی دعا سے ہوا، صدارت حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے کی، تلاوت کلام پاک کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹیکسلا کے کنونیر مولانا صاحبزادہ محمد زکریا مدظلہ نے خطبہ استقبالیہ ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے تمام علماء خطباء اور دینی مدارس کے ذمہ داران حضرات کا شکریہ ادا کیا اور ٹیکسلا کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ یہ سب عقیدہ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت کا اظہار ہے اور اہلیان ٹیکسلا سے وعدہ لیا کہ اب جب مجلس کو کسی بھی قسم کی قربانی کی ضرورت پڑی تو آپ لوگ انشاء اللہ بھر پور ساتھ دیں گے، ان کے بعد سفیر اسلام مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ مدظلہ نے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی جو ابتر حالت ہے مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام اور بم دھماکے، ان تمام چیزوں کو پیچھے قادیانیت کی سازش ہے حکومت اور عوام کو ان کی مکروہ چالوں سے آگاہ رہنا چاہئے۔ اس اجلاس کے مہمان خصوصی مولانا قاضی محمد ارشد الحسینی مدظلہ تھے اور نقابت کے فرائض مولانا خطیب الرحمن قریشی اور صاحبزادہ عبد الہادی دیتے رہے۔ دوسرا اجلاس زیر صدارت صاحبزادہ مولانا عزیز احمد مدظلہ کنڈیاں شریف بعد نماز عشاء شروع ہوا۔ قاری اخلاق مدنی کی تلاوت ہوئی۔ نعت خوان محمد امین برادران سرگودھا، حافظ بلال حسان گوجرانوالہ، مصباح الاسلام ٹیکسلا، اطہر سرحدی وقفے وقفے سے سامعین کے دلوں کو گرماتے رہے، ابتدائی بیان مولانا عزیز الرحمن ہزاروی مدظلہ نے کیا۔ ان کے بعد حضرت فاروقی شہید کے بھتیجے مولانا ابوبکر نے خطاب کیا۔ نوجوان خطیب مولانا محمد رضوان نے پرجوش تفصیلی خطاب کیا اور عوام کو قادیانیت کی مصنوعات سے مکمل بائیکاٹ پر زور دیا اور ختم نبوت کے مشن کو ہر ہر بچہ، جوان تک پہنچانے کا وعدہ لیا ان کے بعد مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے پر مغز دلائل وبراہین سے آراستہ تفصیلی بیان کیا اور مجمع میں عجیب سماں پیدا کر دیا اور پھر قاضی محمد ارشد الحسینی مدظلہ نے مختصر سابیان کیا۔ آخر میں مولانا محمد عالم طارق مدظلہ نے ڈیڑھ گھنٹہ خطاب کیا عقیدہ ختم نبوت اور مرزا قادیانی کی بکواسات پر اور جہاد کے اہم عنوان پر سیر حاصل گفتگو کی اور مولانا عبدالغفور مدظلہ نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا تمام علاقوں سے علماء کرام کثیر تعداد قافلوں کے ہمراہ تشریف لائے اور رات دو بجے صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ کی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا دعا کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ جولائی ۲۰۰۹ء ص ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی
اللہ رب العزت نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو یہ توفیق بخشی کہ ۲۰۰۸ء کے آخری چھ ماہ اور ۲۰۰۹ء کے پہلے چھ ماہ کے عرصہ میں ملک بھر میں ختم نبوت کانفرنسوں کا بہت مربوط انتظام کیا گیا۔ ضلع، تحصیل اور مقامی ختم نبوت کانفرنسیں تو اس دفعہ اتنی ہوئیں کہ گزشتہ سالوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اس عرصہ میں سرگودھا، چناب نگر، فیصل آباد، لاہور میں قومی سطح پر کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا کہ سرگودھا پچاس سے ساٹھ ہزار، فیصل آباد ایک لاکھ سے زیادہ اور لاہور میں قریباً دو لاکھ افراد نے ختم نبوت کانفرنسوں میں شرکت کی۔ تمام مکاتب فکر اور اپنے مسلک کی تقریباً تمام قیادت نے ان کانفرنسوں میں شرکت سے ممنون فرمایا۔
لاہور بادشاہی مسجد کانفرنس ۱۱؍ اپریل ۲۰۰۹ء کو منعقد ہوئی۔ اس کی تیاری ودعوت کے لئے قریباً دو ہفتہ قبل جامعہ اسلامیہ صدر راولپنڈی میں علماء اسلام آباد وراولپنڈی کا اجلاس منعقد ہوا۔ کثیر تعداد میں علماء، خطباء نے شرکت سے ممنون فرمایا۔ اس موقعہ پر ان حضرات کو یہ تجویز دی گئی کہ آپ اگر مناسب خیال فرمائیں تو لاہور کے بعد اسلام آباد یا راولپنڈی کانفرنس رکھی جائے۔ سب نے خوشدلی ومسرت سے اس تجویز کو سراہا۔ چنانچہ اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ انہوں نے ۳۰؍ مئی ۲۰۰۹ء بروز ہفتہ بعد از مغرب اسلام آباد لال مسجد اور کمیونٹی سنٹر کے درمیان واقع کرکٹ گراؤنڈ میں کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا قاضی عبدالرشید نائب ناظم وفاق المدارس اور حضرت مولانا نذیر احمد فاروقی نے لاہور بادشاہی مسجد میں اس کانفرنس کا اعلان کرنے کے لئے سفر کیا۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ناظم اعلیٰ وفاق المدارس کو اختیار دیا گیا کہ وہ کانفرنس کا اعلان فرمائیں۔ چنانچہ اعلان کے وقت عوام کی بھرپور دلچسپی وخوشی کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ختم نبوت کے مشن کے لئے بہت زیادہ عوام وخواص کی دلچسپی انعام الٰہی ہے۔ مرکز کی طرف سے لاہور مجلس کے مبلغ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے راولپنڈی میں جا کر رابطہ دفتر قائم کیا۔ راولپنڈی مجلس کے امیر مولانا قاضی مشتاق احمد اسلام آباد کے امیر مولانا شیخ الحدیث عبدالرؤف، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا زاہد وسیم، مبلغین کے مشوروں سے وسیع اجلاس طلب کیا گیا۔
کانفرنس کے حوالہ سے طویل مشاورت کے بعد طے پایا کہ اسلام آباد سیکورٹی کے حوالہ سے حساسیت کے پیش نظر کانفرنس اسی تاریخ کو لیاقت باغ راولپنڈی میں رکھی جائے۔ انتظامات وجملہ امور کی نگرانی کے لئے سرکردہ علماء کرام پر مشتمل رابطہ کمیٹی قائم کی گئی۔
استقبالیہ کے صدر خطیب اسلام مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب اور استقبالیہ کے کنوئیر مولانا قاضی عبدالرشید مقرر ہوئے۔
اسٹیج، پریس، سپیکر، لائٹنگ، دعوت کے عمل کے لئے علیحدہ علیحدہ حضرات علماء کرام کی ذیلی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ کانفرنس کی منظوری کے لئے درخواست گزار دی گئی۔ تمام متعلقہ اداروں، پولیس، سپیشل برانچ، سی پی او، ڈی سی او، سب نے بارہا بڑی خوشدلی سے کانفرنس کی تیاری کی کلیرنس دی۔ راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، اٹک، مانسہرہ، بالاکوٹ، ایبٹ آباد، حسن ابدال، ٹیکسلا، واہ کینٹ، چکوال، منڈی بہاؤالدین، دینہ، کھاریاں، ہری پور، غورغشتی، حضرو، غرض قریہ بقریہ، شہر بہ شہر جگہ جگہ علماء کرام اس کانفرنس کو اپنی کانفرنس ہی نہیں بلکہ وقت کی ضرورت سمجھ کر دل وجان سے اس کی تیاری کے لئے ہمہ تن وہمہ جہت متوجہ ہوگئے۔
اشتہارات، بینرز، پینا فلیکس بینرز، ایڈورٹائزنگ سائن بورڈ، رکشوں اور گاڑیوں پر سٹیکرز، لٹریچر کی تقسیم، دعوتی عمل، جگہ جگہ بیانات سے ایسی فضاء بنی کہ چہار سو عقیدہ ختم نبوت کی بہار کا موسم شروع ہوگیا۔ سیالکوٹ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر، آزاد کشمیر کے مبلغ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا خالد میر، مرکز سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، منڈی بہاؤالدین کے مبلغ مولانا محمد قاسم ، کانفرنس کے دعوت عمل کی تشہیر کے لئے راولپنڈی تشریف لائے۔ وفاق المدارس کے جملہ مدارس ، تمام جماعتوں کے رفقاء وقائدین ،ختم نبوت کورس کی پوری ٹیم اتنی کثیر تعداد میں گاڑیاں، سکوٹر والے احباب صبح وشام کانفرنس کی تیاری کے لئے لگ گئے کہ اس پر جتنا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ اسی اثناء میں مولانا محمد طیب فاروقی کے والد گرامی کی علالت اور پھر انتقال ( اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں ) کے باعث مولانا محمد طیب ہفتہ عشرہ کے لئے غیر حاضر رہے۔ لیکن رفقاء کی بہتات اور ان کی ہمہ وقت حاضر باش ہونے کے باعث ذرہ برابر کام نہیں رکا۔ رکنا کیا تھا اسی آب و تاب سے ہوتا رہا۔ بلکہ ہر لمحہ اس میں تیزی و درستگی آتی گئی۔
مانسہرہ، ایبٹ آباد، جہلم، اٹک، ٹیکسلا، حسن ابدال، ڈنگہ اور دیگر بیسیوں مقامات پر اس کانفرنس کی تیاری کے لئے عظیم الشان اور مثالی کانفرنسیں ہوئیں۔ راولپنڈی، اسلام آباد تاجروں نے کنونشنوں کا اہتمام کیا۔ لاہور سے طلباء کی ایک ٹیم نے مساجد میں بیانات، لٹریچر اور بازاروں میں گشت کے ذریعہ کانفرنس میں شرکت کے لئے دعوت کے عمل کو عام کیا۔ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ راولپنڈی کے چاروں طرف دو، دوسو کلومیٹر کا پورا علاقہ ختم نبوت کی جلسہ گاہ بن گیا۔ کہیں میٹنگ، کہیں جلسہ عام ، کہیں درس، کہیں اشتہار، کہیں بینرز ، کہیں لکھائی، کہیں لٹریچر، کہیں مشاورت، کہیں سٹیکرز ، غرض چہار طرف ختم نبوت کی خوشبو سے فضاء معطر ہوگئی۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید اور کانفرنس کی تیاری کے لئے جو ٹیمپو بنا اسے دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ راولپنڈی لیاقت باغ کی کانفرنس دوست و دشمن کو حیران کر دے گی۔ دوست مارے خوشی کے نہال اور دشمن مارے بغض کے نڈھال ہو جائے گا۔ فقیر راقم کی شامت اعمال کہ نظر لگ گئی۔ سوات کے اپریشن کے باعث، لاہور میں بم دھماکہ ہو گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو بم دھماکے ہو گئے۔ گورنمنٹ کے بقول ۳۰، ۳۱؍مئی ۲۰۰۹ء کو راولپنڈی میں کچھ ہو سکتا ہے کی اطلاعات پر دو دن کے لئے اقوام متحدہ کے دفاتر بند کر دیئے گئے۔ اسلام آباد کو سیل کر دیا گیا۔ راولپنڈی کی سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ ادھر رضا کاروں کی ڈیوٹیاں لگ گئیں۔ لائٹ، سپیکر کی تنصیب کے عمل کا آغاز کر دیا گیا۔ تیاری کے عروج میں مرکزی وصوبائی حکومت نے نہ صرف لیاقت باغ اور سٹیڈیم میں کانفرنس کرانے کی ذمہ داری قبول کرنے اور سیکورٹی مہیا کرنے سے انکار کر دیا۔ بلکہ اجازت دینے سے بھی معذوری کر دی۔ اس مشکل وقت میں جو رفقاء ، و ذمہ داران کے قلب و جگر پر بیتی قارئین اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ فقیر راقم اس وقت جہلم جمعتہ المبارک کی نماز پڑھانے کے لئے جا رہا تھا۔ یہ اطلاع ملی۔ فوری جمعہ کے بعد تعلیم القرآن راجہ بازار میں علماء کا اجلاس صدر و کنونئر استقبالیہ نے طلب کر لیا۔ جمعہ پڑھتے ہی بھاگم بھاگ پنڈی آئے۔ صف افسوس بچھی تھی۔ اس دوران میں فقیر نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا زاہد الراشدی مدظلہ اور دیگر حضرات سے مشاورت کی۔ ہر ایک کا کہنا تھا کہ اگر گورنمنٹ سیکورٹی کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی تو ہمیں رسک نہیں لینا چاہئے ۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بدخواہ ، دشمن کوئی شرارت کر دے۔ بڑی پریشانی سے بچنے کے لئے چھوٹی پریشانی برداشت کر لی جائے اور اسے قضاء و قدر کا فیصلہ سمجھا جائے۔
بعض احباب کا خیال تھا کہ راجہ بازار تعلیم القرآن میں کانفرنس منتقل کر لیں۔ لیکن یہ جگہ اپنی تمام وسعت کے باوجود اس سطح کی کانفرنس کے لئے بالکل ناکافی تھی۔ بعض حضرات نے رائے دی کہ ہر شہر میں اسی روز کانفرنس ہو۔ اس پر عرض کیا گیا کہ بغیر منظوری کے اچانک کانفرنسوں کے اعلان سے مقامی انتظامیہ سے ٹکراؤ۔ ان حالات میں غیر مناسب ہے۔ غرض تین بجے سے مغرب تک طویل اجلاس ہر ایک کی رائے لینے کے بعد صدر استقبالیہ مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے کانفرنس کے التواء کا اعلان کیا۔ خون کے گھونٹ پیئے۔ کسی عزیز کے انتقال پر شاید اتنا افسوس نہ ہوا جتنا کانفرنس کے التواء پر ہوا۔ لیکن قدرت کے اپنے فیصلے ہیں۔ بعض دوست ایک ایک کھمبے پر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جہاں بینرز لگے تھے دیکھ کر رونے لگ جاتے ۔ بعض دم بخود، لیکن اس کے علاوہ چارہ نہ تھا۔ اگلے روز ۳۰؍ مئی کو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے دفتر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و جمعیت علماء اسلام کا غیر رسمی تین گھنٹے کا اجلاس ہوا۔ جمعیت علماء اسلام کی طرف سے مولانا فضل الرحمٰن ، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا عبدالواسع ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد ، مولانا سید عبدالمجید ندیم ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی ، مولانا محمد طیب فاروقی نے شرکت کی ۔ کانفرنس کے التواء کے نتائج وعواقب اور آئندہ کے انعقاد پر مشاورت ہوئی ۔ سب نے التواء کے فیصلہ کو دانش مندانہ قرار دیا ۔ دن رات فون آتے رہے ۔ سب ساتھی افسردہ و دل گرفتہ تھے ۔ لیکن سب نے اس فیصلہ کو مستحسن قرار دیا ۔ لیجئے صاحب وہی ہوا جو اللہ رب العزت کو منظور تھا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۹ء ص ۳ تا ۵)
ختم نبوت تربیتی سمر کیمپ گوجرانوالہ کی رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے زیر اہتمام موسم گرما کی تعطیلات کے دوران تیسرا سالانہ ختم نبوت تربیتی سمر کیمپ لگایا گیا ۔ جس میں دو سو سے زائد طلباء نے حصہ لیا۔
کورس سے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم ، محقق ومصنف مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مرکزی مبلغین مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا محمد عارف شامی ، مولانا حافظ محمد ثاقب ، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ ، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے رہنما مولانا حافظ عمر صدیق ، مرکزی جماعت اہل سنت کے رہنما علامہ خالد حسن مجددی ، گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن کے پروفیسر مصنف ومحقق علامہ پروفیسر محمد منیر کھوکھر ، گورنمنٹ کالج پیپلز کالونی کے پروفیسر حافظ محمد انور ، جمعیت اہل سنت والجماعت کے رہنما مولانا حافظ گلزار احمد آزاد ، مولانا قاری ریاض انور گجراتی ، جمعیت طلباء اسلام پاکستان کے کنونیئر حافظ نصیر احمد احرار ، جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے رہنما مولانا محمد عارف ، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول گوجرانوالہ کے اساتذہ سید احمد حسین زید ، عبدالرؤف طور ، مولانا قاری محمد زید شاہد ، جامعہ اسلامیہ بھڑی شاہ رحمان کے سربراہ مولانا صلاح الدین حنیف ، مولانا عبدالواحد رسولنگری ، ادارہ تحقیقات کے سربراہ مولانا ڈاکٹر مفتی منصور احمد ، مولانا حافظ محمد صدیق نقشبندی اور دیگر نے خطاب کیا اور رد قادیانیت ، حیات عیسیٰ علیہ السلام، کذبات مرزا ، رد عیسائیت اور رد ہندومت پر لیکچر دیئے۔
مرکز الفاروق وڈالہ سندھواں کے سربراہ مولانا علامہ احسان اللہ فاروقی ، جامعہ اشرفیہ لاہور کے مولانا حافظ سید اسامہ بن زید ، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول گکھڑ کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ پروفیسر علامہ قاری بشیر الابراہیمی ، دارالعلوم ختم نبوت ہاشمی کالونی کے صدر مدرس مولانا قاری محمد عمران صدیقی نے بھی لیکچر دیئے اور اپنا قیمتی حصہ ڈالا ۔
یکم؍ جون ۲۰۰۹ء کو شروع ہونے والا کورس ۲۱؍ جولائی ۲۰۰۹ء کو ختم ہوا۔ ۱۳۹ طلبہ نے باقاعدہ امتحان دیا۔ جس میں سے درج ذیل نے پوزیشن حاصل کی ۔ محمد عمر ولد محمد مزمل اوّل ، محمد عدنان ولد محمد اسلم دوئم ، محمد احتشام ولد دلاور حسین ، ریحان احمد خان ولد ظفر احمد خان اور حافظ محمد مبین امجد ولد امجد پرویز نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ وسیم خان ، محمد یاسر سہیل اورنگزیب ، عمر جنید ، محمد سعد الماس ، محمد شکیب اور ایاز محمود نے خصوصی انعامات حاصل کئے ۔ تمام شرکاء کو سرٹیفکیٹ دیئے گئے ۔ بھائی عبدالرحمان نے تمام طلباء کو کتب کا تحفہ دیا۔ اختتامی تقریب ۱۲؍ اگست ۲۰۰۹ء کو منعقد ہوئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۹ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کاروائی سہ ماہی اجلاس کی رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۴، ۲۵؍ جون ۲۰۰۹ء منعقد ہوا۔ مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی اور محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کی۔ اجلاس میں تمام مبلغین حضرات نے شرکت کی۔ اجلاس میں درج ذیل فیصلے کئے گئے۔
- ۱...... سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس امسال یکم شعبان المعظم سے ۲۲؍ شعبان المعظم تک مطابق ۲۵؍ جولائی سے ۲۰؍ اگست
۲۰۰۹ء تک جامع مسجد مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوگا۔ جس میں ملک بھر سے نامور اساتذہ کرام قادیانیت، عیسائیت اور پرویزیت (غلام احمد پرویز) کے عقائد وعزائم پر لیکچر دیں گے اور ان کے غلط عقائد ونظریات کے بطلان پر نوٹس تیار کرائیں گے۔ انتظامی امور کے لئے مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عبدالرشید سیال، مولانا فقیر اللہ اختر پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی۔
- ۲...... سہ سالہ ممبر سازی وتشکیل جماعت، یکم صفر سے سہ سالہ ممبر سازی جاری ہے۔ بہت سے علاقوں میں جماعتوں کی تشکیل ہوچکی
ہے۔ تمام مبلغین سے استدعا کی گئی کہ وہ ۳۰؍ شعبان تک جماعتوں اور مجالس عمومی کے ممبران کی تشکیل مکمل کرلیں۔ تاکہ ۱۵، ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو چناب نگر ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر مرکزی امیر نائب امیر کا انتخاب عمل میں لایا جاسکے۔
- ۳...... حلقہ فیصل آباد کے لئے مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر معاون مبلغ ہوں گے اور یہ سلسلہ ۱۰؍ شوال المکرم تک
جاری رہے گا۔
- ۴...... مولانا زاہد وسیم مبلغ راولپنڈی ڈویژن، مفتی خالد میر مبلغ آزاد کشمیر، مولانا محمد طیب اسلام آباد کی مشاورت سے اپنے حلقوں کا
تعین کریں گے۔
- ۵...... مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر مکمل نظر رکھیں اور جہاں قادیانیوں کی سرگرمیاں
ہوں وہاں کے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کے لئے تمام تر توانائیاں وقف کردیں۔
- ۶...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم نشر واشاعت، مولانا محمد اکرم طوفانی کی اجازت کے بغیر کوئی ادارہ اور فرد مجلس کے نام سے کوئی
کتاب، پمفلٹ، لٹریچر شائع نہ کریں۔ بصورت دیگر ناظم نشر واشاعت قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
- ۷...... آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۱۵، ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر میں منعقد ہوگی۔ مولانا اللہ وسایا،
مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی۔ جس کے نگران اعلیٰ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ خانقاہ سراجیہ ہوں گے۔ جو مبلغین ومقررین سے رابطے شروع کریں گے۔
- ۸...... گزشتہ سہ ماہی میں انتقال فرمانے والے مرحومین امام اہل سنت، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، مولانا سید امیر حسین گیلانی
اوکاڑہ، مولانا قاری حبیب احمد عمر جہلم، مولانا پیر عبداللطیف اٹھارہ ہزاری جھنگ، قاری غلام غوث شجاع آباد سمیت تمام مرحومین کی مغفرت اور ترقی درجات کی دعا کی گئی اور پسماندگان سے اظہار ہمدردی اور تعزیت کی گئی۔
- ۹...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خوشاب کے رہنماء اور جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا قاری سعید احمد اسعد کے فرزند ارجمند مولانا جنید
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد کی گرفتاری کی مذمت کی گئی اور اجلاس میں کہا گیا جب سے خدا بخش نتھوکہ D.P.O خوشاب بنے ہیں۔ خوشاب میں بدامنی عام ہوگئی ہے۔ مذہبی رہنماؤں بالخصوص تحریک ختم نبوت سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ اجلاس میں D.P.O کی معطلی اور مولانا جنید احمد اسعد کی بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔ کئی ایک اقسام پر مشتمل لٹریچر اور اسٹیکرز چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۹ء ص ۵۶،۵۵)
ٹیکسلا میں تین روزہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد خاتم النبیین میں ۳۰؍ جون، یکم، ۲؍ جولائی ۲۰۰۹ء کو تین روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ جس کی نگرانی مولانا عبدالغفور خلیفہ مجاز حضرت الامیر دامت برکاتہم نے فرمائی اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد زکریا نے سرانجام دیئے۔ کورس میں ۲۵۰ حضرات نے شرکت کی۔ تدریس کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔ مندرجہ ذیل عنوانات پر نوٹس تیار کرائے گئے۔ مسئلہ ختم نبوت اہمیت وفضیلت، وقادیانی شبہات کے جوابات، حیات مسیح علیہ السلام اور اس پر قادیانی مستدلات کے جوابات، مرزا قادیانی کا کردار و کریکٹر، خصوصیات انبیاء کرام۔ اہل علاقہ، مساجد کے آئمہ و خطباء، دینی درد رکھنے والے حضرات نے جوش وخروش کے ساتھ شرکت کی۔ کورس کے محرک حضرت مفتی شبیر احمد تھے۔ ۲؍ جولائی کو ختم نبوت کانفرنس سے مفتی شبیر احمد، قاری شبیر احمد عثمانی فیصل آباد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ سندات مولانا عبدالغفور، قاری شبیر احمد، مولانا شجاع آبادی، مفتی شبیر احمد ٹیکسلا نے تقسیم کیں۔ جملہ انتظامات قاری محمد زکریا، قاری عبد الہادی اور ان کے رفقاء نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۹ء ص ۵۶)
برمنگھم کانفرنس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ
جس طرح ہر سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام برمنگھم میں سالانہ کانفرنس ہوتی ہے، امسال بھی حسب معمول کانفرنس کے انعقاد اور تیاری کے لئے دوسرے حضرات کے علاوہ راقم الحروف، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا قاری فیض اللہ چترالی، حافظ شبیر احمد سہارن پوری، قاری محمد ایوب بھی ۲۹؍ جون ۲۰۰۹ء کو لندن پہنچے، اگلے دن ۳۰؍ جون ۲۰۰۹ء سے طے شدہ پروگراموں میں بعد نماز مغرب جامع مسجد کنگسٹن میں راقم الحروف ( مولانا سعید احمد جلال پوری ) کا ختم نبوت اور باغیان رسالت پر بیان ہوا اور ۱۲؍ جولائی ۲۰۰۹ء کو چوبیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ جس میں نمازیوں نے ذوق وشوق سے شرکت کی اور وعدہ کیا کہ ان شاء اللہ یہاں کے مسلمان ۱۲؍ جولائی ۲۰۰۹ء کی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ اسی طرح مفتی خالد محمود صاحب کا جامع مسجد اپسم میں بعد نماز مغرب تفصیلی بیان ہوا۔
یکم جولائی ۲۰۰۹ء تقریباً پونے آٹھ بجے آکسفورڈ پہنچے، جہاں عصر کی نماز کے بعد مولانا عطاء اللہ صاحب امام جامع مسجد مدینہ آکسفورڈ مولانا محمد نعیم صاحب اور جناب بلال قادری نے استقبال کیا اور پر تکلف کھانے اور چائے کا انتظام کیا، مغرب کی نماز کے بعد جامع مسجد مدینہ میں مفتی خالد محمود صاحب کا اور جامع مسجد بنگالی برادران میں مولانا سعید احمد جلال پوری کا بیان ہوا اور عشاء سے قبل روانہ ہو کر رات ۱۲ بجے واپس اپنے مستقر لندن میں پہنچ گئے۔
۲؍ جولائی جمعرات سلاؤ کا پروگرام تھا، سب سے پہلے مولانا تراب مدینہ کے مرکز جانا ہوا وہاں عصر کی نماز ادا کیا۔ مولانا امین الحق باغ آزاد کشمیر کی جماعت آئی ہوئی تھی، ان سے ملاقات ہوئی، ختم نبوت کی بات ہوئی۔ لٹریچر دیا۔ متعلقہ حضرات سے اس موضوع پر بات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئی اور وہاں سے اجازت لے کر جامع مسجد سلاؤ چلے گئے ، وہاں کے امام صاحب حافظ عبدالجبار سے بات ہوئی تھی کہ آپ یہاں بیان کے لئے آجائیں مگر افسوس کہ وہ گاڑی کی خرابی کی وجہ سے نہ پہنچ سکے تو مسجد کے صدر صاحب سے رابطہ کر کے نماز مغرب کے متصل بعد مختصر سا بیان ہوا، لٹریچر تقسیم کیا، امام صاحب کو آئینہ قادیانیت دی گئی اور مقامی حضرات سے کانفرنس پر آنے ، بس لانے اور اہتمام سے شرکت کی درخواست کر کے واپس لندن کو روانہ ہو گئے اور رات ساڑھے گیارہ بجے ویمبلڈن پہنچ گئے ، اس دن شام کو مولانا مفتی خالد محمود، قاری فیض اللہ چترالی اور قاری ایوب کراؤلے چلے گئے ۔
۳؍ جولائی کا جمعہ مولانا مفتی خالد محمود صاحب نے کراؤلے میں پڑھایا جب کہ راقم الحروف (مولانا سعید احمد جلال پوری) نے مفتی سہیل احمد کی معیت میں ایسٹ لندن کی کلفٹن کی جامع مسجد میں جمعہ پڑھایا، وہاں پہنچے تو رفقاء نے نہایت محبت سے استقبال کیا، پونے ایک بجے بیان شروع ہوا اور ایک بیس پر بیان ختم کیا، جمعہ پڑھایا ۔ ازاں بعد برادران منیب الاسلام، کاشف الحق، بھائی نعمان وغیرہ سے ملاقات ہوئی، بھائی منیب الاسلام اپنے گھر لے گئے کھانا کھایا، مختلف امور پر بات چیت ہوتی رہی، دوپہر کا قیلولہ کیا، عصر کے بعد وہاں قریب کی مسجد ابوبکر میں بیان ہوا، بیان کے بعد بھائی نعمان صاحب اپنے گھر لے گئے، کچھ حضرات نے ماحضر تناول فرمایا، دعا کی اور مغرب کے لئے جامع مسجد عمر میں پہنچ گئے ماشاء اللہ گجراتی برادری کی یہ مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ، حضرت امام صاحب ، مولانا محمد سعید صاحب نے نماز کے بعد بیان کا اعلان کیا اور خود بھی بیٹھے رہے تقریباً نصف گھنٹہ بیان ہوا، اپنی نئی نسلوں کی حفاظت اور ان کے دین و ایمان کے تحفظ اور تہذیب و کلچر کی حفاظت اور فتنہ قادیانیت اور عقیدہ ختم نبوت پر بات چیت ہوئی ، دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا تو جناب بھائی نعمان صاحب اپنے ہوٹل چکوال کبابش پر دعا کے لئے لے گئے ، وہاں کچھ دیر بیٹھے ۔
دوسری جانب جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ جمعرات کو ہی مولانا مفتی خالد محمود زید مجدہ، مولانا قاری فیض اللہ چترالی، جناب قاری محمد ایوب صاحب کو جناب قاری محمد ہاشم صاحب کراؤلے لے گئے اور وہاں جامع مسجد کراؤلے میں مفتی خالد محمود کا بیان ہوا اور حضرت امام صاحب، مولانا قاری عبدالرشید رحمانی اور دوسرے مقامی حضرات نے حضرت مفتی صاحب اور ان کے رفقاء کا تعارف کرایا، مختلف حضرات سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ۱۲؍ جولائی ۲۰۰۹ء کی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے وہاں سے کوچ کا انتظام کرنے اور انفرادی طور پر جانے سے متعلق بات چیت ہوئی ہفتہ کی رات تقریباً ایک بجے ہم سب اپنے مسکن مولانا مفتی سہیل احمد جلال پوری کے گھر ویمبلڈن پہنچ گئے ، ہفتہ کی فجر کی نماز پڑھ کر سو گئے ۔ تقریباً نو بجے اٹھ کر نہا دھو کر ناشتہ کیا اور لندن سے ستر میل دور ساؤتھ ہیمپٹن کے پروگرام کے لئے روانہ ہوگئے اور تقریباً تین گھنٹے بعد ڈیڑھ بجے ساؤتھ ہیمپٹن پہنچ گئے ظہر کی نماز پڑھی اور وہاں حسب پروگرام کانفرنس میں سب سے پہلے مولانا مفتی سہیل احمد صاحب کا انگلش میں ، اس کے بعد مولانا مفتی خالد محمود صاحب کا اردو میں اور آخر میں راقم الحروف کا بیان ہوا اور راقم کی دعا پر اجتماع کا اختتام ہوا، جناب قاری نورالحق صاحب اور جناب چوہدری محمد اکرم صاحب اور امام صاحب نے بھر پور اکرام کیا، ماحضر تناول کیا گھنٹہ بھر آرام کر کے اگلی منزل کارڈف کے لئے ہمارا قافلہ روانہ ہوگیا، چنانچہ غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل کارڈف پہنچ گئے، وہاں جناب مفتی محمد طارق زمان، مفتی لطیف الرحمٰن اور دوسرے متعدد علماء کرام نے استقبال کیا نماز عصر ادا کی اور مغرب کے بعد احباب سے ملاقات کی مختلف امور پر مختصر سی بات چیت رہی عشاء کے بعد آرام کیا، دوسرے دن جامع مسجد عثمان غنی میں جناب مولانا مفتی محمد طارق زمان صاحب نے کارڈف کے علماء کا اجتماع رکھا ہوا تھا، چنانچہ مسجد میں بعد نماز ظہر مقامی علماء سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت ، تردید قادیانیت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی ضرورت اور نئی نسل کے دین وایمان کی حفاظت اور علماء کی ذمہ داریوں سے متعلق تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ سب سے قبل مولانا مفتی خالد محمود زیدمجدہ نے اور بعد میں راقم نے حضرات علماء کرام کو خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی اپیل پر مشتمل مکتوب کی طرف توجہ دلائی کہ اگر تمام علماء اور خطباء مہینہ بھر میں ایک جمعہ اس کے لئے مختص کردیں تو کم از کم نئی نسل قادیانی پروپیگنڈا سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ علماء کے ساتھ بات چیت کے بعد مفتی طارق صاحب نے تمام حضرات کے لئے ماحضر کا انتظام فرمارکھا تھا، مہمانان گرامی کو ماحضر پیش کیا گیا۔ اکرام کے بعد مہمانان گرامی رخصت ہو گئے تو ہم رفقاء اپنے مستقر پر آگئے، اسی دن عصر کے بعد جامع مسجد ابوبکر میں راقم کا بیان طے تھا، چنانچہ چند سال قبل نئی جگہ پر تعمیر ہونے والی نہایت خوبصورت اور کارڈف کی مساجد میں سے تقریباً سب سے بڑی مسجد میں حاضری دی، اس کے ائمہ اور خطباء میں سے مولانا مفتی سید محمد بلال شاہ اور مولانا مفتی حسین احمد نے جدید مسجد کے مختلف شعبے دکھائے، اس کی میٹنگ ہال میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کیا، اذان ہوئی، نماز ادا کی، حسب اعلان اصلاحی بیان کیا، بیان کے بعد مقامی احباب سے ملاقات اور مصافحہ ہوا تو معلوم ہوا کہ حاضرین میں حضرت مولانا قاری عبدالرزاق رحیمی صاحب بھی اپنے چاروں صاحبزادگان سمیت موجود تھے، آپ سوانمزی سے محض ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے، بلا مبالغہ یہ ان کی محبت والفت کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ وہ صرف ملاقات کے لئے اس قدر دور دراز کا سفر فرما کر تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔ مولانا رحیمی صاحب بنیادی طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہ چکے ہیں، آپ فراغت کے بعد تربیتی کورس فرما کر دو سال تک مجلس کے مبلغ رہے، مگر پھر انہوں نے حرمین کا قصد کیا تو تقریباً بیس سال تک مکہ مکرمہ میں قیام پذیر رہے، اب گزشتہ چھ سات سال سے وہ اپنے اکابر کے حکم پر برطانیہ آگئے ہیں اور سوانمزی میں قیام پذیر ہیں۔ جب مولانا مفتی محمد طارق زمان نے بتلایا کہ مولانا رحیمی صاحب کی والدہ ماجدہ کا گزشتہ دنوں انتقال ہو گیا ہے تو آپ سے تعزیت اور مرحومہ کے لئے مسجد میں دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ بیان وملاقات سے فارغ ہو کر مسجد کے ساتھ ملحقہ مہمان خانہ میں کچھ دیر نشست رہی، چائے وغیرہ پی اور کچھ دیر مسائل حاضرہ پر تبادلہ خیال رہا، عشاء کی نماز کے بعد مفتی طارق صاحب کے گھر پر آرام کے لئے حاضر ہوگئے۔
۶؍جولائی دن صبح ناشتہ کرنے کے بعد روانہ ہو کر ظہر کی نماز میں گلاسٹر کی جامع مسجد نور میں پہنچے، وہاں باجماعت نماز پڑھی، وہاں مختصر سا اعلان نما بیان کیا اور گلاسٹر کی مضافاتی بستی چٹن ہن کے جناب سید محمد امین شاہ صاحب کے گھر چلے گئے جناب سید امین صاحب آج کل ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں، وہ ماشاء اللہ صوم وصلوٰۃ کے پابند اور باشرع مسلمان ہیں، ان کی خواہش تھی کہ ہم کچھ دن ان کے مکان میں قیام کریں مگر ختم نبوت کے پروگراموں کی مصروفیت کے باعث ان سے اجازت لے کر ہم اپنی اگلی منزل لنکاسٹر کے لئے روانہ ہو گئے، چنانچہ ایک گھنٹہ کی مسافت طے کرکے ہم نماز عصر سے قبل لنکاسٹر پہنچ گئے، وہاں وضو وغیرہ کرکے نوافل ادا کیں، کچھ تلاوت کی تو اذان عصر ہوگئی، امام صاحب حضرت مولانا محمد سلمان صاحب سے ملاقات ہوئی بہت ہی احترام واکرام کا معاملہ فرمایا، نماز کے بعد انہوں نے تمام حاضرین سے فرمایا کہ تمام حاضرین تشریف رکھیں اور ختم نبوت سے متعلق اہم بیان ہوگا، رفقاء نے بتلایا کہ مولانا مفتی محمد سلمان صاحب پورے بیان میں برچشم تر رہے، بیان کے بعد ہم نے اجازت چاہی تو انہوں نے با اصرار تقاضا کیا کہ کھانا کھا کر جائیں، چنانچہ وہ مغرب سے قبل گھر لے گئے، ماحضر پیش کیا اور کہا کہ مغرب کی نماز یہاں پڑھ لیں اور بنگالی بھائیوں کی مسجد میں ختم نبوت سے متعلق اعلان اور بیان کرتے ہوئے تشریف لے جائیں، چنانچہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مولانا موصوف بنفس نفیس ہمارے ہمراہ بنگالی مسجد تشریف لے گئے، مسجد کے امام صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے تعارف کرایا اور ختم نبوت کانفرنس کے سلسلہ میں بیان اور اعلان کی طرف توجہ دلائی، اللہ جزائے خیر دے حضرت امام صاحب کو کہ انہوں نے ہمارے رفیق سفر حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب سے امامت کی درخواست کی جو انہوں نے قبول فرمائی۔
نماز مغرب کے بعد حسب پروگرام مولانا مفتی سہیل احمد جلال پوری نے نہایت موثر انداز میں انگریزی زبان میں بیان فرمایا اور مسلم عوام کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی، مسجد میں لٹریچر اور کانفرنس کا اشتہار دے کر واپس لندن کے لئے روانہ ہو گئے، چنانچہ تقریباً رات ایک بجے مفتی سہیل احمد صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ ۷ / جولائی بروز منگل ہماری اگلی منزل نوٹنگھم تھی چنانچہ تقریباً چار گھنٹے کی مسافت کے بعد عصر سے قبل جناب بھائی محمود احمد حیدر آبادی کے گھر پہنچے، وہاں سے وہ مدینہ مسجد نوٹنگھم لے گئے، جہاں نماز کے بعد حسب اعلان حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب نائب مدیر اقرأ روضۃ الاطفال کا بہت ہی مختصر بیان ہوا، بیان کے بعد بھائی محمود صاحب کے گھر میں کھانا تھا، وہاں سے فارغ ہونے کے بعد راقم الحروف اور مولانا مفتی سہیل احمد صاحب ڈربی کے لئے روانہ ہو گئے اور مفتی خالد محمود صاحب اور قاری محمد ایوب صاحب کو نوٹنگھم کی جامع مسجد بلال میں بعد نماز مغرب اعلان و بیان کے لئے چھوڑ گئے۔ حسب معمول ہم نے ڈربی پہنچ کر ڈربی کی مسجد و اسلامک سینٹر اشاعت الاسلام میں مغرب کا بیان کیا تو تمام حاضرین نے جم کر بیان سنا، بیان سے فارغ ہونے کے بعد امام صاحب اکرام کے لئے اپنے گھر لے گئے، ہم ابھی وہاں تھے کہ حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب اور جناب قاری محمد ایوب صاحب کو لے کر جناب محمود بھائی تشریف لے آئے، چنانچہ عشاء سے قبل ہی ہمارا قافلہ ڈیوز بری کے لئے روانہ ہوا اور رات تقریباً بارہ ایک بجے جناب الحاج نعمان مصطفیٰ کے مکان پر پہنچ گئے نماز پڑھی اور سوگئے۔
۸ / جولائی بروز بدھ صبح حافظ غلام مصطفیٰ صاحب اور جناب حافظ شبیر احمد صاحب تشریف لائے اور ان سے ملاقات ہوئی اور ناشتہ سے فارغ ہو کر حضرت مولانا قاری سعید الرحمن مدیر جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی کی رحلت پر ان کے بھائی جناب الحاج محمد الرحمن صاحب، ان کے برادر زادگان جناب الحاج محمد انور، محمد ازہر، مولانا قاری محمد اسماعیل رشید، جناب مولانا مفتی عبدالقادر سے تعزیت کرنے کے لئے شیفیلڈ کے لئے روانہ ہو گئے، وہاں موجود حضرات سے تعزیت کی اور وہاں سے ہڈرسفیلڈ میں مولانا عزیز الرحمن کی والدہ ماجدہ کی رحلت پر ان سے تعزیت کی غرض سے حاضری ہوئی، اسی طرح ہڈرسفیلڈ میں مقیم مولانا محمد اکرم اوکاڑوی صاحب کے والد ماجد جناب مولانا فضل صاحب کی رحلت پر ان سے تعزیت کی غرض سے ان کے گھر میں فون کیا تو پتا چلا کہ وہ گھر پر موجود نہ تھے، تقریباً ساڑھے چار بجے واپس ڈیوز بری بھائی نعمان صاحب کے گھر پر کھانا کھایا، کسی قدر آرام کیا اور عصر کی نماز کے بعد حسب اعلان جامع مسجد زکریا میں راقم الحروف کا بیان ہوا، ماشاء اللہ اس مسجد کے منتظم و مدیر اور خطیب حضرت مولانا محمد یعقوب قاسمی صاحب کی صدارت میں تقریباً ایک گھنٹہ تک بیان جاری رہا، بیان کے بعد حضرت مولانا سے نجی اور مقامی معاملات و حالات پر مفید گفتگو ہوئی، بعد نماز عشاء کھانا کھایا اسی دوران مولانا مفتی خورشید احمد اور مولانا مفتی مرغوب صاحب برائے ملاقات تشریف لائے تقریباً رات ڈیڑھ بجے تک ان حضرات سے مختلف علمی موضوعات پر بات چیت رہی۔
۹ / جولائی بروز جمعرات صبح مولانا مفتی محمد یوسف ساچا، مولانا عبدالرؤف، مولانا محمد ایوب سورتی وغیرہ حضرات سے ملاقات ہوئی اور بعد نماز عصر مولانا مرغوب احمد کی مسجد میں کانفرنس سے متعلق مولانا مفتی سہیل احمد صاحب کا انگلش میں بیان ہوا اور مفتی مرغوب صاحب کے حکم پر وہاں موجود ترمذی شریف کے طلبا کو ایک حدیث پڑھائی مدرسہ کے لئے دعا کی اور اجازت لے کر واپس بھائی نعمان کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گھر آگئے، بھائی نعمان صاحب نے کہا کہ میری بڑی بیٹی کا یہ بخاری کا سال ہے اور دوسرے نمبر کی بیٹی کا اگلا سال بخاری کا ہے ان دونوں کی خواہش ہے کہ ہمیں تبرکاً حدیث کا سبق پڑھا دیا جائے، چنانچہ ان کی خواہش پر ان کو سبق پڑھایا اور نماز مغرب پڑھ کر ہم برمنگھم کے لئے روانہ ہو گئے۔ رات کو تقریباً ساڑھے بارہ ایک بجے کے قریب بھائی محمد رضوان کے گھر پہنچے، آپ ایک صالح نوجوان ہیں اور حضرت مولانا منظور احمد الحسینی کے مرید اور تربیت یافتہ ہیں آج کل اپنا پرائیویٹ کاروبار اور تجارت کرتے ہیں، خیر سے وہ ختم نبوت کے ساتھ اس قدر دلی وابستگی رکھتے ہیں کہ ہر سال وہ اپنا مکان ختم نبوت کے مہمانوں کے لئے خالی کر دیتے ہیں، چنانچہ گزشتہ تین چار سال سے راقم اپنے رفقاء کے ساتھ ان کے مکان میں رہائش رکھتا ہے، اسی طرح جناب الحاج محمد معصوم صاحب، مولانا خلیل الرحمٰن، مولانا گل محمد، جناب الحاج محمد شریف صاحب، مولانا خورشید احمد وغیرہ اپنے آپ کو خدام ختم نبوت کی خدمت کے لئے وقف کر دیتے ہیں، چنانچہ اس سال حسب معمول مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور ان کے رفقاء الحاج محمد شریف صاحب کے مکان پر تھے تو حضرت اقدس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر اور مولانا صاحبزادہ محمد یحییٰ صاحب، مولانا خلیل الرحمٰن صاحب کے مہمان تھے تو مولانا اللہ وسایا اور مولانا مفتی محمود الحسن، مولانا خورشید احمد کی مسجد میں قیام پذیر تھے۔
۱۰/ جولائی جمعہ کا دن تھا، لہٰذا حسب معمول اس سال بھی ان تمام علماء اور مہمانوں کے برمنگھم کی مختلف مساجد میں خطاب جمعہ رکھے گئے تھے، حضرت ڈاکٹر صاحب نے سینٹرل مسجد بلیگریو روڈ، جناب مولانا مفتی سہیل احمد مسجد قبا، مولانا مفتی محمود الحسن مسجد فیض الاسلام، مولانا صاحبزادہ محمد یحییٰ لدھیانوی نقیب الاسلام مسجد، مولانا مفتی خالد محمود مسجد حمزہ، راقم الحروف مسجد صدام حسین، صاحبزادہ مولانا عزیز احمد ولسال جامع مسجد، مولانا اللہ وسایا نے مسجد عمر میں بیان و خطاب کیا اور نماز جمعہ کی امامت کی۔ گویا یہ جمعہ پورے برطانیہ میں یومِ ختم نبوت کے طور پر منایا جاتا ہے اور دو دن بعد منعقد ہونے والی کانفرنس کی بھر پور تیاری پر برمنگھم کی مسلم عوام کو تیار کیا جاتا ہے۔
چونکہ حضرت ڈاکٹر صاحب اسی جمعرات کو رات گئے پہنچے تھے اور صبح جمعہ کی تیاری کی وجہ سے ان کی خدمت میں نہیں جاسکے تھے، اس لئے تمام رفقاء حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے، دعائیں لیں اور اگلے مشن کے لئے تازہ دم ہو گئے۔
۱۱/ جولائی ہفتہ کو کینیڈا سے دو مہمان ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے، جن میں ایک مولانا شفیق الرحمٰن صاحب تھے جن کا تعلق لاہور سے ہے اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے فاضل ہیں اور ایک عرصہ سے کینیڈا کے علاقہ کیلگری میں مقیم ہیں، اسی طرح دوسرے عرب رہنما جناب جمال محمود تھے جو اصلاً لبنانی ہیں مگر ایک عرصہ سے کینیڈا میں مقیم ہیں، جامعہ ازہر کے فاضل ہیں بہت عمدہ قرآن پڑھتے اور بہت ہی شستہ انگلش بولتے اور عربی و انگلش میں بیان فرماتے ہیں، جناب جمال محمود کی آمد پر حضرت ڈاکٹر صاحب نے ان کو اپنے ہمراہ ٹھہرایا اور ختم نبوت اور قادیانی فتنہ سے متعلق بہت ہی تفصیل سے سمجھایا، بعد میں حضرت ڈاکٹر صاحب نے بتلایا کہ ان کے یہاں آنے کا سبب یہ بنا کہ چونکہ قادیانی کینیڈا میں اپنی مادر مہرباں کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھ رہے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنا ایک نیا مرکز بنایا جس کے افتتاح پر ملکہ برطانیہ نے جانا تھا، اس موقع پر قادیانی جمال محمود کے پاس بھی گئے کہ ہماری تقریب میں آپ بھی آئیں چونکہ جمال محمود کو اس سلسلہ میں معلوم نہ تھا کہ یہ کون لوگ ہیں، اس لئے انہوں نے حامی بھر لی مگر شرط یہ رکھی کہ میرے خطاب کا موضوع ختم نبوت ہوگا، قادیانی اس پر راضی ہو گئے، اسی اثنا میں جمال محمود برازیل چلے گئے تو انہوں نے جمال محمود کی تصویر کے ساتھ بڑے بڑے اشتہارات شائع کئے اور اپنی جانب سے کوئی دوسرا موضوع متعین کر کے اعلان کیا کہ وہ اس موضوع پر خطاب کریں گے، شیخ جمال محمود کو ان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے احباب نے برازیل میں فون کر کے بتلایا کہ قادیانیوں نے یہ شرارت کی ہے، اس پر انہوں نے وہیں سے فون پر کہہ دیا کہ ان سے کہہ دو کہ میں تمہاری کانفرنس میں نہیں آؤں گا۔
چونکہ ہمیشہ سے معمول ہے کہ کانفرنس سے ایک روز قبل جامع مسجد حمزہ میں ایک استقبالیہ جلسہ ہوتا ہے اور مسجد حمزہ کے حضرات باہر سے آنے والے اپنے معزز مہمانوں کو استقبالیہ دیتے ہیں، اس لئے ہفتہ کے دن عصر سے مغرب تک تمام معزز مہمان حضرات کا وہاں اجتماع ہوتا ہے اور حسب مشورہ کسی کا بیان رکھ دیا جاتا ہے، اس سال حضرت مولانا مفتی خالد محمود نائب مدیر اقرأ روضۃ الاطفال کا بیان اور حضرت ڈاکٹر صاحب کی دعا تھی، چونکہ وقت زیادہ تھا، اس لئے ایک گھنٹہ حضرت مفتی خالد محمود صاحب نے اور آدھا گھنٹہ راقم الحروف نے بیان کیا، جب دعا کے لئے حضرت ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی گئی تو آپ نے فرمایا میں شیخ جمال محمود کے ساتھ مصروف ہوں اس لئے دعا بھی کرا کر پروگرام کو ختم کر دیا جائے۔
فراغت کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب نے راقم سے سرگوشی کے انداز میں فرمایا کہ چونکہ شیخ کو قادیانی بدنام کر چکے ہیں، اس لئے مناسب معلوم ہوتا کہ ہم ان کی سرپرستی کریں میں نے عرض کیا: ضرور! چنانچہ شیخ جمال محمود، حضرت ڈاکٹر صاحب، برادرم صاحبزادہ مولانا محمد یحییٰ سے بہت ہی بے تکلف ہو گئے اگلے دن کانفرنس تھی۔ چنانچہ صبح نو ساڑھے نو بجے راقم الحروف سنٹرل جامع مسجد بیلگریو روڈ پہنچ گیا، وہاں نوافل ادا کئے، کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعا کی تھوڑی دیر بعد جناب مولانا قاری قمر الزمان صاحب نے اپنی خوبصورت آواز سے تلاوت فرما کر کانفرنس کی ابتداء کی، حسب معمول اس سال بھی کانفرنس صبح نو بجے سے شروع ہو کر شام چھ بجے تک رہی۔ کانفرنس کی دو نشستیں تھیں پہلی نشست نو بجے سے ڈیڑھ بجے تک رہی اور ڈیڑھ بجے اذان ہو گئی پونے دو بجے نماز ظہر اور دو بجے سے دوسری نشست کا آغاز ہوا، اس سال بھی حسب معمول مسجد حمزہ کے نمازیوں اور کارکنان نے مہمان حضرات کے کھانے کا انتظام کیا تھا۔
پہلی نشست میں سب سے پہلا بیان جناب مولانا حافظ تمکین صاحب امیر یورپ کا ہوا تو دوسرا مولانا مفتی محمود الحسن مبلغ ختم نبوت لندن کا ہوا، اسی طرح حافظ امتیاز اور مولانا شفیق الرحمٰن صاحب کے انگلش میں بیان ہوئے جب کہ راقم الحروف، مولانا فضل الرحمٰن درخواستی اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کے اردو میں تفصیلی بیانات ہوئے اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کی دعا پر پہلی نشست کا اختتام ہوا، نماز ظہر کے بعد دوسری نشست تلاوت اور نعت سے شروع ہوئی جس سے مولانا قاری محمد اسماعیل رشیدی، مولانا نور الاسلام بنگالی، اردو مولانا فضل داد انگلش، شیخ جمال محمود انگلش، مولانا محمد ابراہیم بریڈ فورڈ اردو، مولانا مفتی خالد محمود اردو، مولانا صاحبزادہ محمد یحییٰ لدھیانوی سلمہ اردو، مولانا عبدالحمید وٹو اردو، جب کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا تفصیلی بیان ہوا اور انہوں نے مسئلہ قادیانیت کو جس خوبصورتی سے بیان فرمایا، یہ انہیں کا اختصاص تھا، آخر میں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مختصر بیان اور دعا پر کانفرنس کا بخیر و خوبی اپنے مقررہ وقت پر اختتام ہو گیا۔ یہ کانفرنس اپنے نظم و ضبط اور کثرت حاضری کے اعتبار سے برطانیہ کی سب سے بڑی کانفرنس تھی جس میں بلا مبالغہ پندرہ ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی ہوگی، چنانچہ اس اجتماع کے بعد جناب شیخ جمال محمود کلگری کینیڈا نے حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم کے سامنے حاضرین کی کثرت پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا بلا مبالغہ پندرہ ہزار سے زائد لوگ ہوں گے۔
اس پر حضرت ڈاکٹر صاحب نے فرمایا یہ کانفرنس کثرت اجتماع اور حاضری کے اعتبار سے برطانیہ کے تبلیغی اجتماع کے بعد سب سے بڑے اجتماع پر مشتمل ہوتی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ تعالیٰ حضرات اکابر کی محنت و جدوجہد کو قبول فرمائے اور اس سعی و کوشش کو فتنہ قادیانیت کے استیصال اور مسلمانوں اور ان کی نئی نسل کے دین و ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنائے۔ اس کانفرنس کی تیاری کے لئے ۶/ جون سے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، اسی طرح ۱۲/ جون سے مولانا اللہ وسایا اور ۲۵/ جون سے مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی صاحب نے تشریف لا کر برطانیہ بھر کے ایک ایک شہر اور ایک ایک بستی اور گاؤں کی مساجد اور مدارس کا چکر لگایا اور ایک ایک مسلمان کو مسئلہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی کی طرف متوجہ فرمایا۔ چنانچہ برنلے، باٹلی، ڈیوزبری، ہڈرسفیلڈ، بلیک برن، بریڈ فورڈ، شیفیلڈ، سونزی، کارڈف، گلاسٹر، ڈنکاسٹر، لنکاسٹر، ویکفیلڈ، لیڈز، ڈنڈی، ساؤتھ ہمپٹن، باتھ گیٹ، ویسٹ ہمپٹن، نوٹنگھم، لیسٹر، ڈربی، رگبی، آکسفورڈ اور گلاسکو تک ایک ایک شہر کو چھان کر دس جولائی کو برمنگھم پہنچے تھے، جن کی یہ برکت تھی کہ سینٹرل مسجد بلگریو روڈ اپنی وسعت کے باوجود اپنی کوتاہ دامنی پر نوحہ کناں تھی۔
کانفرنس سے فراغت اور مہمانوں کو رخصت کرنے اور نماز عصر کے بعد راقم الحروف، مولانا مفتی خالد محمود، مولانا مفتی سہیل احمد، مولانا مفتی فیض اللہ چترالی، حضرت اقدس ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب کی معیت میں جامعہ علوم اسلامیہ کے فاضل اور جامع مسجد حمزہ کے خطیب مولانا امداد اللہ نعمانی جو آج کل علیل ہیں، ان کی عیادت کے لئے ان کے گھر گئے، ان کی مزاج پرسی کی، حضرت ڈاکٹر صاحب نے ان کو دم کیا، واپسی پر جناب مولانا خلیل الرحمٰن صاحب کے گھر پر مغرب کی نماز ادا کی، اتنے میں برادر عتیق انور صاحب کا فون آگیا کہ حضرت مولانا فضل رحیم صاحب آپ حضرات سے ملنے تشریف لا رہے ہیں، چنانچہ تھوڑی دیر بعد وہ حضرات تشریف لائے اور انہوں نے کانفرنس میں شرکت نہ کر سکنے پر افسوس اور اس سلسلہ کی وجوہات کی تفصیلات بتلائیں، ہوا یہ کہ یہ حضرات حسب پروگرام لاہور سے چلے مگر افسوس کہ ان کی فلائٹ لیٹ ہوگئی، بھاگم بھاگ دوسری فلائٹ لی، دبئی پہنچ کر معلوم ہوا کہ دبئی سے برطانیہ جانے والی فلائٹ بھی ان سے چھوٹ گئی ہے، تاہم پھر تیسری فلائٹ لے کے وہ سیدھے برمنگھم پہنچے، تو آگے امیگریشن والوں نے سوال و جواب کے لئے ان کو روک لیا یوں لیٹ پر لیٹ ہوتے گئے اور وہ جب باہر آئے تو کانفرنس کا اختتام ہو چکا تھا، تاہم ان سے عرض کیا گیا کہ آپ کی مساعی ضائع نہیں جائیں گی بلکہ امکان ہے کہ آپ کو دوہرا ثواب ملے کیونکہ اس مقصد کے لئے سفر اور سفر کی محنت و مشقت اور راستے کی مشکلات اور کانفرنس میں شریک نہ ہو سکنے کا قلق انشاء اللہ اجر عظیم بلکہ وہ دوہرے اجر کا باعث ہوگا۔
ابھی یہ حضرات وہاں موجود تھے کہ مولانا اسلام علی شاہ صاحب تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کا فرمان ہے کہ حضرت ڈاکٹر صاحب کو لے آئیں ان سے ضروری بات چیت کرنی ہے، چنانچہ حضرت ڈاکٹر صاحب وہاں تشریف لے گئے اور حضرت مولانا فضل رحیم صاحب نے بھی اجازت لی، ہم نے نماز عشاء ادا کی اور واپس لندن کے لئے عازم سفر ہو گئے۔ رات ساڑھے بارہ ایک بجے اپنے مستقر پہنچے، فجر کی نماز پڑھی اور سو گئے۔
۱۴/ جولائی بروز منگل دارالعلوم لندن جانے اور مولانا مفتی محمد مصطفیٰ سے ملاقات کا پروگرام تھا، چنانچہ ظہر کے وقت راقم الحروف اور مولانا مفتی سہیل احمد ۳۴ میل کا سفر کر کے دارالعلوم لندن پہنچ گئے۔ مفتی صاحب کو معارف بہلوی کا سیٹ اور ادلہ حنفیہ پیش کی۔ مفتی صاحب بہت ہی احترام و تپاک سے ملے، ماحضر تناول کیا، دیر تک دفتر میں بیٹھے رہے، ضروری بات چیت ہوتی رہی، تقریباً تین چار بجے وہاں سے روانہ ہو کر واپس اپنے مستقر آ گئے، اسی شام کو بعد عصر جناب عاصم صاحب اور جناب عدنان بیگ صاحب نے اپنے گھر پر اصلاحی نشست اور مجلس ذکر کا اہتمام کر رکھا تھا، چنانچہ وہ حضرات لینے کے لئے گئے، ہم دونوں ان کے ہمراہ وہاں پہنچے، نماز عصر ادا کی اور ان سے رخصت لے کر واپس گھر آ گئے، رات کو سو گئے صبح اٹھے اور سیدھے ایئر پورٹ کو روانہ ہو گئے۔ دس بجے کا جہاز تھا، اگلے دن صبح ساڑھے پانچ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بجے راقم پاکستان پہنچ گیا۔
اللہ تعالیٰ اس سفر کو باعث نجات آخرت بنائے اور اس تحریر کو میرے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے باعث ہدایت و رہنمائی بنائے۔ آمین! (مولانا سعید احمد جلال پوری)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۱۵؍ اگست ۲۰۰۹ء ص ۷ تا ۱۲)
چوبیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
پہلی نشست کی کارروائی:
برمنگھم (رپورٹ : مفتی خالد محمود) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چوبیسویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۲؍ جولائی ۲۰۰۹ء بروز اتوار سینٹرل مسجد بیلگریو روڈ برمنگھم میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، جرمنی، بلجیم، ناروے کے علاوہ یو کے مقامی علماء کرام، اسکالرز، ممبران پارلیمنٹ، کونسلرز اور مندوبین اور ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز قاری قمر الزمان کی تلاوت سے ہوا، بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت قاری عبد الماجد نے پیش کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور قادیانیت ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن قادیانی برطانیہ، امریکا اور یورپ میں قادیانیت کو حقیقی اسلام باور کرا کر دنیا کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں، امت مسلمہ انہیں اس جعل سازی میں کامیاب نہیں ہونے دے گی، انہوں نے مزید کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے وہ رحمت للعالمین کی تعلیمات کا علمبردار ہے جو سراسر رحمت و شفقت پر مشتمل ہیں، اسلام نے اس دنیا کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی عطا کی ہے، نبی اکرم ﷺ کا پیروکار کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ دینی مدارس دین کے قلعے اور اسلام کے محافظ ہیں، ان مدارس میں قرآن و حدیث کا درس دیا جاتا ہے یہ انسان سازی کے کارخانے ہیں، جہاں لوگوں کو انسانیت کا درس دیا جاتا ہے اور انہیں صحیح معنوں میں انسان بنایا جاتا ہے۔ دینی مدارس اور ان میں پڑھنے اور پڑھانے والے علماء حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے علمبردار ہیں، دینی مدارس پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام سراسر جھوٹ ہے، مغربی میڈیا دینی مدارس کے خلاف معاندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے، آج تک کسی مدرسے سے نہ اسلحہ برآمد ہوا ہے، نہ وہاں کوئی ٹریننگ دی جاتی ہے اور نہ ہی مدارس پر دہشت گردی کا الزام آج تک ثابت کیا گیا ہے۔ ان دینی مدارس کا امن پسندانہ کردار کسی سے مخفی نہیں یہ مدارس کسی خفیہ جگہ قائم نہیں ہوتے بلکہ شہر میں آبادی کے درمیان قائم ہیں اور ان کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں جو جب چاہے ان مدارس کا معائنہ کر سکتا ہے اور وہاں کیا تعلیم دی جاتی ہے اس کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کر سکتا ہے۔
مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور ایمان کے لئے ضروری ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی مانا جائے اور آپ کو آخری نبی ماننے کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی کسی شکل میں نہیں آئے گا، نہ ظلی شکل میں نہ بروزی شکل میں، حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی شخص کو حضور کا بروز اور ظل ماننا اور کسی شخص کو آپ ﷺ کا دوسرا جنم یا دوسرا روپ ماننا بھی عقیدہ ختم نبوت کا انکار ہے، قادیانی عقائد کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کو بعینہ محمد رسول اللہ ماننے اور سمجھنے پر رکھی گئی ہے، اسی لئے مرزائی اور قادیانی مذہب میں نئے کلمہ کی ضرورت نہیں بلکہ وہی کلمہ پڑھتے ہیں اور محمد رسول اللہ سے (العیاذ باللہ) مرزا غلام احمد مراد لیتے ہیں۔ مرزا غلام احمد نے مہدی، مسیح موعود ہونے کے دعوے کئے اور آخر میں نبوت کا دعویٰ کیا، مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہا، بلکہ اپنے آپ کو ان سے بڑھ کر بتایا۔ مرزا غلام احمد نے اللہ تعالیٰ کی توہین کی، انبیاء کی توہین کی، حضور اکرم ﷺ کی توہین کی، صحابہ کرام ؓ کی توہین کی، ان عقائد و نظریات کی بنا پر ہم مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور اب تو پارلیمنٹ، رابطہ عالم اسلامی اور دنیا کی متعدد عدالتوں نے بھی ان کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے، انہوں نے کہا کہ مرزائی اپنے آپ کو مسلمان کہنا اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنا چھوڑ دیں، انہیں اسلام کا نام لینے اور اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں، مرزائیوں نے دھوکا دہی اور فریب کاری سے مسلمانوں میں جو ارتدادی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں وہ اس سے باز آجائیں ورنہ حضور اکرم ﷺ کے ماننے والے ان کا ہر جگہ تعاقب کریں گے۔
مولانا سعید احمد جلال پوری نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت قرآن کریم کی سو آیات، حضور اکرم ﷺ کی دو سو احادیث سے ثابت ہے اور امت مسلمہ کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر ہوا ہے، اس لئے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، جس طرح نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج کو ماننا ضروری ہے اور ان کا انکار کفر ہے کیونکہ یہ ارکان قرآن و حدیث سے ثابت ہیں، اسی طرح ختم نبوت کا انکار بھی کفر ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے انبیاء علیہم السلام کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا تھا وہ سلسلہ حضور اکرم ﷺ پر آ کر ختم ہوگیا، اب آپ ﷺ کے بعد کسی نبی اور نبوت کی گنجائش نہیں، آپ ﷺ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مفتی محمود الحسن نے کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا ہے اور قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے لیکن وہ اس وقت حضور اکرم ﷺ کے امتی کی حیثیت سے دنیا میں آئیں گے، دجال کو قتل کریں گے، حضور اکرم ﷺ کی شریعت پر نہ صرف یہ کہ خود عمل کریں گے بلکہ اس شریعت کو روئے زمین پر نافذ کریں گے۔ قادیانیوں کی جانب سے وفات مسیح کا عقیدہ رکھنا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود خیال کرنا انتہائی باطل اور لغو ہے۔
مفتی سہیل احمد نے کہا کہ نبوت ایک عظیم منصب ہے جو انبیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا، کوئی شخص اپنی مرضی اور اپنی محنت، اپنی عبادت و ریاضت سے نبی نہیں بن سکتا ہے بلکہ نبی اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے، نبی ہمیشہ سچا ہوتا ہے، اس کی پیشین گوئیاں سچی ہوتی ہیں اور نبی اخلاق و کردار میں سب سے اونچا اور سب سے ممتاز ہوتا ہے جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اس نے بہت سے پیشین گوئیاں کیں مگر ان میں ایک بھی ثابت نہ ہوسکی اور وہ ہمیشہ جھوٹا ثابت ہوا، اس کا اخلاق و کردار ایسا تھا کہ اسے ایک شریف انسان کہنا بھی مشکل ہے چہ جائیکہ اسے نبی مان لیا جائے، اس کی زندگی اور اس کا اخلاق و کردار خود اسے جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔
مفتی خالد محمود نے کہا کہ قادیانیت کو لوگ دوسرے فرقوں کی طرح ایک فرقہ سمجھتے ہیں، حالانکہ قادیانیت درحقیقت نبوت محمدی کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ اس نے نبی کے مقابلہ میں نبی کھڑا کیا بلکہ سابقہ تمام انبیاء سے اسے افضل بتایا، اس نے حضور اکرم ﷺ کو ہلال یعنی پہلی رات کا چاند اور مرزا غلام احمد قادیانی کو بدر کامل یعنی چودھویں رات کا چاند کہا، اس نے قرآن کریم کے مقابلہ میں اپنی کتاب بنائی جس کا نام تذکرہ ہے، اس نے صحابہ کرام ؓ کی مقدس جماعت کے مقابلہ میں مرزا کے ماننے والوں کو صحابہ کہا، اس نے خلفائے راشدین کے مقابلہ میں اپنے خلفاء بتائے، اس نے امہات المومنین کے مقابلہ میں مرزا کی بیوی کو ام المومنین کہا اور مدینہ کے مقابلہ میں قادیان کو مقدس جگہ قرار دیا، قادیان کے دورے کو حج کے برابر قرار دیا، گنبد خضرا کے مقابلہ میں گنبد بیضا بنایا۔ غرضیکہ دین اسلام کی ایک ایک چیز کے مقابلہ میں ایک ایک چیز گھڑ کر پورا ایک متوازی دین بنایا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
برطانیہ کے امیر مولانا حافظ مکین نے کہا کہ قادیانیت کا فتنہ قادیان (بھارت) میں پیدا ہوا، پاکستان بننے کے بعد یہ فتنہ پاکستان میں منتقل ہوا، جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس منظور ہوا تو یہ فتنہ انگلینڈ اور یورپ منتقل ہو گیا اور اس نے یہاں آ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں میں ارتدادی سرگرمیاں شروع کر دیں، لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہر جگہ ان کا مقابلہ کیا۔ مجلس یہاں بھی ان کا تعاقب جاری رکھے گی اور مسلمانوں کو ان کی ارتدادی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔
امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کے ترجمان مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے کانفرنس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان سے ہر سال یہاں آ کر سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد کرتے ہیں، چونکہ یہ فتنہ ہندوستان میں پیدا ہوا اور پاکستان میں پروان چڑھا اس لئے پاکستان کے علماء اس فتنہ سے بخوبی واقف ہیں اور وہ پاکستان سے آ کر آپ کو اس فتنہ کی شر انگیزی سے آگاہ کرتے ہیں، ان کے نظریات کے بارے میں بتاتے ہیں، ان کی سرگرمیوں اور ان کے مکر و فریب سے آگاہ کرتے ہیں، یہ کانفرنس منعقد کر کے درحقیقت ہم اسلام کے چوکیدار کا فریضہ انجام دیتے ہیں، جو رات کے اندھیرے میں چکر لگاتا اور وقفہ وقفہ سے اہل محلہ کو خبردار رکھتا ہے، اسی طرح ہم یہاں آ کر ایک صدا لگاتے ہیں اور آپ کو بیدار کرتے ہیں، اس کے بعد آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ پورے سال بیدار رہیں اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور اس فتنہ سے آگاہی حاصل کرتے رہیں۔ انہوں نے امیر مرکزیہ کی طرف سے پیغام دیا کہ امت کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ یہ امت حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کے دفاع میں بہت حساس اور غیرت مند رہی ہے، میں تمام مسلمانوں سے عموماً اور علماء کرام سے خصوصاً یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اس امت کے ہراول دستے کی حیثیت سے کسی قربانی سے دریغ نہ کریں اور خطباء و ائمہ مساجد سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ مہینہ میں کم از کم ایک جمعہ اس عقیدہ کی اہمیت اور قادیانیت کے فتنہ کے لئے مختص کر دیں تا کہ عوام الناس کو اس سے آگاہی ہو، دیگر مقررین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے امت مسلمہ ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے، حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے جان قربان کرنا ہر مسلمان اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے، اسلام ایک کامل و مکمل دین ہے، اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، جس نے بے انتہا مخالفت اور غلط پروپیگنڈے کے باوجود اپنی ہمہ گیریت ثابت کر دی ہے، پوری دنیا میں اسلام قبول کرنے کی شرح میں پہلے کی بہ نسبت کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور یہ شرح روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، یہ اسلام کی جامع تعلیمات کی اثر انگیزی ہے۔ آج مسلمانوں اور اسلام کو مٹانے کی سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں مگر اس سے پہلے بھی یہ کوششیں بار آور نہ ہو سکیں اور آج مسلمانوں کو کرہ ارضی سے مٹانے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہو گی۔ آج مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، انہیں دہشت گرد ثابت کرنے پر بھر پور زور دیا جا رہا ہے مگر اسلام اور مسلمانوں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے، اسلام نہ صرف انسانوں کے درمیان رحمت، شفقت کا تعلق قائم کرتا ہے، ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی اور ایک دوسرے کے احترام کا حکم دیتا ہے، بلکہ جانوروں پر بھی رحم کا درس دیتا ہے۔ مسلمانوں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات یکطرفہ اور قطعاً بے بنیاد ہیں، اسلام دشمن طاقتیں خود دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے امت مسلمہ ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ مسلم ممالک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قادیانیوں کے خلاف اسلام سرگرمیوں پر پابندی لگائیں اور انہیں اسلامی اصطلاحات کو استعمال کرنے اور اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے سے روکا جائے، کیونکہ یہ حضور اکرم ﷺ کی نبوت کے مقابلہ میں ایک جھوٹی نبوت کے ماننے کی وجہ سے اسلام کے دائرہ سے خارج ہو چکے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس کی اس نشست سے مفتی محمد اسلم، قاری اسماعیل رشیدی، مولانا اسلام علی شاہ، مولانا شمس الحق مشتاق، مولانا شفیق الرحمن کینیڈا، مولانا محمد ایوب سورتی برطانیہ، قاری فیض اللہ چترالی، حافظ محمد ایوب، حافظ شبیر احمد سہارن پوری اور طہٰ قریشی نے بھی خطاب کیا، اس نشست کی صدارت مولانا فضل الرحمٰن درخواستی نے کی اور ان کی دعا پر اس نشست کا اختتام ہوا۔
دوسری نشست:
دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت ہم تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے مگر ہم اپنے مسائل میں اس قدر گھرے ہوئے ہیں کہ ہمیں اس کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں ملتی لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء ہر میدان اور ہر خطۂ زمین پر اس عقیدہ کی حفاظت کے لئے سرگرم عمل ہیں اور آج کی یہ کانفرنس بھی اسی کا حصہ ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہدایت اور گمراہی کو جدا جدا کر کے بتا دیا اور واضح کر دیا ہے اب انسان جس راستہ کو چاہے اختیار کر لے لیکن ہر راستہ کے انجام سے بھی اسے باخبر کر دیا ہے، اسلام میں دعوت وتبلیغ کا جو فریضہ امت کے سپرد کیا گیا ہے، اس کے پیچھے کسی کی نفرت نہیں بلکہ خیر خواہی کا جذبہ ہے کہ کس طرح اس انسان کو جس نے ضلالت اور گمراہی کا راستہ اختیار کر کے اپنے لئے ہلاکت کا راستہ اختیار کیا ہے، اسے اس ہلاکت و تباہی سے بچا کر نجات کے راستہ پر ڈال دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قادیانیت کو ایک فتنہ اور گمراہی تصور کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کو مسلمان ماننے اور اسلام کا فرقہ ماننے کے لئے تیار نہیں اور جب کہ اس فتنہ کی تمام کوشش مسلمانوں کو کافر بنانا ہے اور ان کا یہ کام ہے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کے دائرہ سے باہر دھکیل رہے ہیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کو اس فتنہ سے بچانا ہمارا ایک بہت بڑا فریضہ بن جاتا ہے، ہم تمام انبیاء کو مانتے ہیں اور ان انبیاء کی دعوت بھی ایک ہے تو پھر ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں لیکن بات یہ ہے کہ اللہ کی خلافت کے لئے انبیاء کرام آتے رہے لیکن حضور اکرم ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور دین مکمل ہو چکا ہے تو جب دین مکمل ہو چکا تو اب کسی نئے نبی اور دین کی ضرورت نہیں اور کسی نئی کتاب ہدایت کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کتاب کے ساتھ اس کو سمجھانے کے لئے ایک معلم کو بھی بھیجا۔ یہی وجہ ہے جو صرف کتاب پڑھ کر بغیر معلم کے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ گمراہ ہو جاتا ہے۔ جتنے بھی فتنے پیدا ہوئے ان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کتاب کو اپنی عقل سے سمجھنے کی کوشش کی تو گمراہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جھگڑا اقرار سے نہیں انکار سے پیدا ہوتا ہے ہم مسلمان تمام انبیاء کو مانتے ہیں ہماری طرف سے اقرار ہے تمہاری طرف سے انکار ہے، اس سے جھگڑا پیدا ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہم یہ بھی کہتے ہیں اگر کسی نے شکار کرنا ہے تو وہ شکاری کے لباس میں شکار کرے پارسا کے لباس میں نہیں ہم مغرب سے کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی مسلمانوں کے لباس میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پوری دنیا ان کی سرپرستی اور حمایت کر رہی ہے اور مسلمانوں سے غیروں کا سا سلوک کر رہی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے، اسے اصل صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے، ہم دلیل کی بات کرتے ہیں، ہم مذاکرات سے مسائل حل کرنے کی بات کرتے ہیں، لڑائی جھگڑا اور طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں ہوگا۔ جہاد ایک مقدس لفظ اور مقدس مفہوم رکھتا ہے یہ جہاد، فساد کو ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ کہ فساد پیدا کرنے کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ حق بات کہنا، حق بات سننا، اپنی عبادات پر عمل کرنا بھی جہاد ہے کیا اسے بھی فساد کہا جائے گا، حقائق کو کیوں تبدیل کیا جارہا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ چند نوجوان قبائل میں بندوق اٹھاتے ہیں تو میڈیا ان کو پیش کر کے یہ تاثر لیتے ہیں کہ اگر یہ اسلام ہے تو ہمیں اسلام قبول نہیں، میں کہتا ہوں یہ سو ڈیڑھ سو افراد کو تو آپ میڈیا پر پیش کرتے ہیں مگر دینی جماعتیں اور پارلیمنٹ میں علماء کرام جو اسلام کے لئے کوششیں کرتے ہیں تو انہیں میڈیا پر کیوں پیش نہیں کیا جاتا؟ ہمارا آئین کہتا ہے کہ ملک کا قانون
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرآن وسنت کے تابع ہوگا اور اس کے مطابق قانون سازی کی جائے گی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کے لئے حکومت اور پارلیمنٹ کے حوالے کی جا چکی ہیں، لیکن اس پر کوئی قانون سازی نہیں کی جاتی تو کیا یہ جرم نہیں؟ اگر ایک شخص کو اس کے حقوق نہ دیئے جائیں اس کے ساتھ زیادتی کر کے نفرت کی دلدل میں دھکیل دیا جائے ، اسے بُرا بھلا کہا جائے اور اسے فراموش کر دیا جائے تو وہ اسباب کیا ہیں؟ اگر یہ ڈنڈا اٹھانے والے مجرم ہیں تو ان کو ان حالات کی طرف دھکیلنے والے بھی سب مجرم نہیں؟ ہم مغرب سے کہتے ہیں بلکہ پوری دنیا سے کہتے ہیں کہ دنیا کے فاصلے سمٹ گئے ہیں ہم سب ایک دوسرے کے قریب ہیں، ہماری ضروریات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ آئیے ہم طے کریں کہ ہم سب کی ضروریات کیا ہیں ان کو سمجھ کر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کا احترام کریں ، آئیے ہم اپنے پیغام کا تعین کریں، اگر دوستی اور امن کا پیغام ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن آپ ہماری شریعت کے مالک نہ بنیں اور اپنی مرضی سے ہماری شریعت کی تعبیر نہ کریں ، ہماری شریعت کے ماہر موجود ہیں انہی کو حق ہے کہ وہ اس کی تشریح کریں ہر ایک کو ہمارے مذہب اور شریعت کا حق نہیں دیا جا سکتا ، جس طرح کسی عدالت کے آئین ، کسی مملکت کے قانون کی تشریح اس کے ماہرین کے علاوہ کسی اور کا حق نہیں تو ہماری شریعت اور ہماری تہذیب وتمدن کی تشریح کا حق ہمیں ہی حاصل ہیں۔ پارلیمنٹ اور عدالتوں کے فیصلوں کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے اور پارلیمنٹ اور آئین کے فیصلے کے بعد کہہ دیا جاتا ہے کہ اب اس میں کسی کو کچھ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اور دنیا کی مختلف عدالتوں نے جب یہ فیصلہ دے دیا کہ مرزائی و قادیانی یعنی احمدی غیر مسلم ہیں تو اس فیصلہ کو تسلیم کرنا چاہئے اور ہمیں پوری دنیا میں بغیر جدل اور مجادلہ کے احسن انداز میں اس پیغام کو پوری دنیا میں پہنچانا چاہئے ، اسلام کو کوئی ختم نہیں کر سکتا، اس کی حفاظت اللہ نے کرنی ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پوری شائستگی سے دین کے پیغام کو اور اس کے ابدی اور اصل حقائق کو پوری دنیا کے سامنے پیش کریں، اللہ تعالیٰ ہماری جدوجہد کو قبول فرمائے۔
مسلم کونسل آف کیلگرے کینیڈا کے نمائندے اور وہاں کے ممتاز عالم دین شیخ جمال محمود لبنانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم کینیڈا کے مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت سے اس کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں اور اسے اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے بنیادی عقائد، ایمانیات اور ختم نبوت کا عقیدہ یہ صرف چند عقائد نہیں بلکہ اسلام اور حضور اکرم ﷺ کی طرف سے دفاع کا کام دیتے ہیں اور یہ عقائد اور ایمانیات اسلام میں پیدا ہونے والے ان تمام بیکٹیریا اور جراثیم کو ختم کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی ایک جرثومہ اور بیکٹیریا ہے جو اسلامی عقائد کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں میں پیدا کیا گیا ہے لیکن انشاء اللہ مسلمان اپنے ایمانی حمیت وغیرت سے اس بیکٹیریا کو ختم کر کے دم لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ہر جگہ اور ہر خطہ میں پہنچے گا اور قیامت کی صبح تک باقی رہے گا، اگرچہ کفر اسے پسند نہیں کرے گا اور وہ اس پر خوش نہیں ہوگا لیکن اسلام پھیل کر رہے گا اور اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔
علامہ ڈاکٹر خالد محمود مانچسٹر نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے امت کی رہنمائی کی ، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی بات مانو ، خلفائے راشدین کی اتباع کرو، صحابہ کرام مہاجرین وانصار اور ان کے تابعین ، تبع تابعین پھر ائمہ کرام اور ہر دور میں فقہاء ، علماء، مشائخ اس امت کی رہنمائی کرتے رہیں گے اور کسی دور میں بھی یہ مسند خالی نہیں رہی اور نہ قیامت تک خالی رہے گی لہذا کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ۔
مولانا فضل دادا نے کہا کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے چند عقائد اور ایمانیات کو ماننا اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے، ان کو مانے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ان میں ختم نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت کا انکار کیا ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
مولانا عبدالحمید وٹو نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کریم نے مسیح ابن مریم کہا اور وہ زندہ ہیں اور آخری دور میں ایک امتی کی حیثیت سے آئیں گے اور دجال کو قتل کریں گے، یہ قرآن وحدیث نے ہمیں بتایا اب ہمیں معلوم نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی جس کے باپ کا نام مرزا غلام مرتضیٰ ہے وہ کس طرح مسیح بن گیا؟
مولانا ابراہیم بریڈ فورڈ نے کہا کہ امام مہدی آئیں گے ان کا نام محمد ان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا، مکہ مکرمہ میں حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی کا مہدی ہونے کا دعویٰ بھی باطل ہے۔
کانفرنس کی اس دوسری نشست سے حافظ ممتاز احمد، ڈاکٹر نصیر احمد سواتی، مولانا قاری عمر نے بھی خطاب کیا۔
مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا کام کرنا حضور اکرم ﷺ کی ذات کی حفاظت کرنا ہے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ہر دور میں آج تک امت مسلمہ نے اس ذمہ داری کو نبھایا ہے اور آج شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کی قیادت میں امت یہ فریضہ انجام دے رہی ہے۔
شاعر اسلام سید سلمان گیلانی اور طاہر بلال چشتی نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ عقیدت پیش کیا، اس نشست کی صدارت حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کی اور آپ کی دعا پر اس نشست کا اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱/ جولائی ۲۰۰۹ء ص ۷ تا ۱۱)
سولہواں چناب نگر سالانہ ختم نبوت کورس
اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق سے ہر سال ماہ شعبان میں ’رد قادیانیت کورس‘ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہوتا ہے۔ امسال ۲۵/ جولائی ۲۰۰۹ء سے ۱۶/ اگست ۲۰۰۹ء تک مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ میں یہ کورس منعقد ہوا۔ اس کورس میں ۳۸۶ حضرات نے داخلہ لیا، جن میں مدرسین، فارغ التحصیل علماء، دینی مدارس کے درجہ رابعہ اور اس سے اوپر کے طلباء کرام، اسکولوں، کالجز کے طلباء عزیز، تاجر، ملازم، غرضیکہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے بہت شوق سے حصہ لیا، اس سال بھی چاروں صوبوں، آزاد کشمیر سمیت پورے ملک سے شائقین نے شرکت سے سرفراز فرمایا، تبلیغی مرکز رائے ونڈ کے فضلاء بھی شریک ہوئے۔ علماء کرام کے جوڑ کی وجہ سے انہیں جلدی واپس جانا پڑا، بعض رفقاء اپنی گھریلو ضروریات یا بیماری کے باعث اجازت لے کر درمیان کورس سے چلے گئے یا جن حضرات کی حاضریاں مکمل نہ تھیں وہ امتحان میں شریک نہ ہوسکے، جن حضرات نے امتحان دیا ان کی تعداد ۳۴۶ تھی۔
پہلا امتحان:
ہر سال پڑھائی کے آخر پر ایک پرچہ ہوتا تھا، اس سال تجرباتی طور پر تین پرچے ہوئے یہ تجربہ بہت مفید اور کامیاب رہا، آئندہ سے اسے لازمی قرار دیا جائے گا۔ پہلے ہفتہ میں قادیانی شبہات حصہ اول جو ختم نبوت کے مباحث پر مشتمل ہے مکمل کتاب مولانا غلام رسول دین پوری صدر مدرس مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر نے پڑھائی۔ ۸/ شعبان کو اس کا پرچہ ہوا، دس سوال تھے اور تمام لازمی تھے اور سوال اتنے جامع تھے کہ ڈھائی سو صفحہ کی کتاب کے تمام مباحث ان سوالات میں آگئے، اللہ رب العزت نے کرم کا معاملہ فرمایا کہ تمام ساتھیوں نے بھر پور تیاری سے شرکت فرمائی اور پرچہ کو بہت عمدہ طریق پر حل کیا۔ فالحمدللہ!
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرا امتحان:
قادیانی شبہات جلد دوم جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کے مباحث پر ساڑھے تین سو صفحات سے زائد پر مشتمل ہے، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد راشد مدنی، مولانا غلام رسول دین پوری نے پڑھائی۔ اس کا امتحان ۱۵ شعبان کو ہوا۔ اس کا نتیجہ بھی اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے اطمینان بخش رہا۔
وقت تعلیم:
پہلے دن سے آخری دن تک روزانہ جو تعلیم کا وقت طے کیا گیا، صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے تک تعلیم، ۱۲ بجے سے ساڑھے بارہ بجے کھانا، ساڑھے بارہ بجے سے اذان ظہر تک وقفہ آرام، ظہر کے بعد سے عصر تک تعلیم، بعد از عصر کتاب آپ بیتی حضرت شیخ الحدیث کی مختصر تعلیم، مغرب تک وقفہ، بعد از مغرب کھانا شام، بعد از عشاء تا گیارہ بجے شب تعلیم، تقاریر، سوال و جواب، تکرار، اس کے لئے پندرہ پندرہ ساتھیوں کے گروپ بنائے گئے، ہر گروپ پر ایک نگران مقرر کیا گیا، دن کو جس کتاب کا سبق ہوتا اس سے تقریر، اس کی دھرائی، اس کا تکرار یہ تجربہ بہت کامیاب رہا، پہلے دو ہفتہ تقاریر کی نگرانی مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد راشد مدنی نے کی۔ آخری عشرہ کی نگرانی مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا فقیر اللہ اختر نے فرمائی۔ تقریری مقابلہ کے تمام امور کی نگرانی اور فیصلہ کے فرائض مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا غلام مصطفیٰ نے سرانجام دیئے۔ بہاول پور مجلس کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی نے پہلے عشرہ میں کھانا پکوانے کی نگرانی اپنے ذمہ لئے رکھی، باقی دو ہفتہ مولانا عبدالرشید مبلغ مظفر گڑھ و ڈیرہ غازی خان نے مطبخ کے جملہ امور کی بھر پور نگرانی فرمائی۔ داخلہ، خارجہ، ریکارڈ کی ترتیب، عصر کے بعد خواندگی کتاب، علاج معالجہ، سامان کی فراہمی، صبح و شام کی حاضری، اساتذہ کے وقت کی تقسیم کے جملہ امور مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اپنے ذمہ لئے رکھے، انہیں کامیابی سے نبھایا بلکہ نبھانے کا حق ادا کیا۔ مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا عبدالرشید نے آپ کی معاونت کا حق ادا کیا۔ فاالحمد للہ!
تیسرا امتحان:
کذب مرزا، اس موضوع پر مولانا محمد قاسم رحمانی نے لیکچر دیئے، تحریک ہائے ختم نبوت پر مولانا عزیز الرحمن ثانی کے لیکچر ہوئے۔ ہمیں ختم نبوت کا کام کیسے کرنا چاہئے اس پر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد کے لیکچرز ہوئے۔ حجیت حدیث پر حضرت مولانا عبدالقدوس قارن استاذ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مسیحی عقائد پر مولانا غلام مرتضی مدرس دارالعلوم مدینہ ڈسکہ، بائبل میں سے بشارات مولانا محمد انور اوکاڑوی رئیس شعبہ دعوت وارشاد خیر المدارس ملتان، ختم نبوت کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری پر حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، قادیانیوں سے سوالات، جناب الحاج اشتیاق احمد مدیر بچوں کا صفحہ روز نامہ اسلام، تحفظ ناموس رسالت پر جناب محمد متین خالد کے لیکچر ہوئے، ان تمام مضامین کا آخری پرچہ ۲۲؍شعبان کو ہوا۔
حضرات علماء کرام کی تشریف آوری:
کورس کے دوران میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری، حضرت مولانا مفتی خالد محمود رکن مرکزی مجلس شوریٰ و ناظم اعلیٰ اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ، مولانا قاری محمد ادریس ہوشیار پوری رئیس جامعہ رحیمیہ ملتان، حضرت مولانا مفتی محمد حسن امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور و شیخ الحدیث جامعہ مدنیہ رائے ونڈ، حضرت مولانا ظفر احمد قاسم رئیس و شیخ الحدیث جامعہ خالد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بن ولید وہاڑی، یادگار اسلاف مولانا قاری محمد یسین رئیس و بانی جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کا بھی ایک لیکچر ہوا۔ ایک سبق میں حضرت مولانا قاری عزیز الرحمٰن رئیس جامعۃ الحسنین اور ایک سبق میں مولانا سید محمد زکریا بن حضرت مولانا سید جاوید حسین شاہ مدظلہ مہتمم جامعہ عبیدیہ نے بھی شرکت سے ممنون فرمایا۔ جامعہ دارالعلوم مدنیہ بہاولپور کے رئیس و شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی عطاء الرحمٰن دامت برکاتہم بھی اپنے ہمسفر مدرسین سمیت تشریف لائے اور ڈھیروں دعاؤں سے ممنون احسان فرمایا۔
نتیجہ کی ترتیب:
پہلے پرچہ کی مارکنگ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد راشد مدنی نے فرمائی۔ دوسرے پرچہ کی مارکنگ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا غلام رسول، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا قاضی احسان احمد نے فرمائی اور آخری پرچہ کی مارکنگ میں بطور خاص مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا قاسم رحمانی، مولانا دین پوری اور مولانا محمد قاسم مبلغ منڈی بہاؤالدین نے کی۔ نتائج کی ترتیب وتدوین، سندوں کی تیاری کے تمام امور مولانا غلام رسول، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد قاسم رحمانی نے احسن طریق پر انجام دیئے۔
تقریب اسناد:
اس تقریب میں شرکت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ تشریف لائے، آخری دو گھنٹہ کا سبق آپ نے پڑھایا، آخری روز فجر کے بعد درس حضرت مولانا محمد ظفر احمد قاسم نے دیا، آخری تقریب سے حضرت مولانا نور محمد مدظلہ استاذ الحدیث جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا، جامعہ اشرفیہ لاہور کے استاذ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان مدظلہ اور مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب فرمایا، اسناد، انعامات، کتب کی تقسیم جامعہ طیبہ فیصل آباد کے قاری محمد ابراہیم رحیمی، جامعہ عبیدیہ فیصل آباد کے رئیس حضرت مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب، جامعہ ملیہ فیصل آباد کے رئیس حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی، مدینۃ العلم فیصل آباد کے رئیس مولانا محمد وقاص، حضرت مولانا قاری محمد یعقوب، چنیوٹ جامعہ فاروقیہ کے حضرت مولانا قاری محمد یامین گوہر، جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد جمیل الرحمٰن، جامعہ امدادیہ چنیوٹ کے رئیس حضرت مولانا سیف اللہ مدظلہ، جامعہ محمدیہ فیصل آباد کے بانی ومہتمم حضرت مولانا عبدالرزاق مدظلہ، شریعت کونسل پنجاب کے امیر مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، جھنگ مدرسہ فیض القرآن کے قاری عبدالرحمٰن شاکر اور حضرت مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر کے دست مبارک سے ہوئی۔ اوّل، دوم اور سوم آنے والے طلباء کو حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے اسناد وانعامات سے نوازا۔ آخری دعائے خیر جامعہ اشرفیہ لاہور کے استاذ الحدیث اور حضرت قبلہ سید نفیس الحسینی کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد یوسف خان نے فرمائی۔ کورس کے دوران حضرت اقدس سید نفیس الحسینی کے خلیفہ مجاز و خادم خاص جناب سید رضوان بھی ایک روز کے لئے تشریف لائے اور آخری تقریب میں شرکت سے سرفراز فرمایا۔ اختتامی تقریب میں مجلس کے بزرگ راہنما اور مجلس شوریٰ کے رکن الحاج قاضی فیض احمد نے جناب قاضی امتیاز احمد اور قاضی رضوان احمد کے ہمراہ خصوصی شرکت کی اور بچوں کو دعاؤں سے نوازا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے پچاسی ہزار روپے سے زائد کے وظائف (فی کس اڑھائی صد روپیہ) دیئے گئے پونے دو لاکھ روپیہ کے لاگت کی کتب طلبا کو دی گئیں۔ کھانا وعلاج معالجہ پر لاکھوں روپیہ اس کے علاوہ صرف ہوا۔ فالحمدللہ! انتظامات، حاضری، تعلیم، نظم، امتحانی نتیجہ کا بہت عمدہ نظام کامیابی سے ہمکنار کرنے کی اللہ تعالیٰ نے مجلس کے رفقاء کو توفیق سے سرفراز فرمایا۔ اللہ رب العزت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۹ء ص ۵۰ تا ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نام شرکاء سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر
نمبر شمار نام و ولدیت ضلع نمبر شمار نام و ولدیت ضلع ۱ محمد رضوان بن محمد اسماعیل سری لنکا ۲ محمد علی معاویہ بن امام الدین ڈیرہ اسماعیل خان ۳ مدثر اقبال بن خادم حسین گجرات ۴ محمد وسیم بن محمد رفیق بھکر ۵ خالد محمود بن محمد حنیف بھکر ۶ محمد اقبال بن حاجی محمد شریف وہاڑی ۷ عبدالرحیم بن غلام حبیب پشاور ۸ غفران بن محمد اسعد جان پشاور ۹ بلال احمد بن تاج محمد پشاور ۱۰ عبدالغفار بن محمد عالم گجرات ۱۱ عمار یاسر بن سید شفیق شاہ رحیم یار خان ۱۲ عارف اللہ بن محمد سلام جان لکی مروت ۱۳ عبدالماجد بن ماسٹر محمد اکرم رحیم یار خان ۱۴ محبوب احمد بن محمد موسیٰ شاکر رحیم یار خان ۱۵ محمد ارشد بن صدیق احمد بہاولپور ۱۶ سعید احمد بن محمد نواز بہاولپور ۱۷ محمد عثمان بن انیس الرحمٰن رحیم یار خان ۱۸ نفیس الرحمٰن بن فتح محمد خوشاب ۱۹ ارشد اقبال بن ملا چنیوٹ ۲۰ شیراز خان بن احمد علی سندھو چنیوٹ ۲۱ علی مراد بن دوست علی مظفر گڑھ ۲۲ محمد رضوان بن محمد رمضان فیصل آباد ۲۳ زاہد علی بن عبدالسلام مانسہرہ ۲۴ محمد حسنین بن محمد رمضان راولپنڈی ۲۵ اسد مرتضیٰ بن غلام مرتضیٰ راولپنڈی ۲۶ ثناء اللہ بن محمد یوسف مانسہرہ ۲۷ اکرام اللہ بن راحت اللہ پشاور ۲۸ سہراب خان بن بہرام خان ہرنائی ۲۹ محمد انور شاہ بن عبدالبصیر شاہ پشاور ۳۰ محمد زمان بن احمد حافظ لوئر دیر ۳۱ منور گل بن ندیم گل ہنگو ۳۲ عبدالوکیل بن محمد ہاشم پاکپتن ۳۳ محمد اسلم بن عبدالقادر مظفر گڑھ ۳۴ صداقت حسین بن عبدالحمید آزاد کشمیر ۳۵ منصب علی بن محمد منشاء حافظ آباد ۳۶ ایوب خان بن لعل خان پشاور ۳۷ نعمت اللہ خان بن گل داؤد میانوالی ۳۸ غلام اکبر بن ظہور احمد ملتان ۳۹ شفیق الرحمٰن بن عزیز الرحمٰن بھکر ۴۰ عبدالباسط بن حافظ عبدالمالک میانوالی ۴۱ امان اللہ بن محمد اشرف میانوالی ۴۲ ساجد رشید بن محمد مشتاق وہاڑی ۴۳ عبدالرؤف بن محمد صدیق میانوالی ۴۴ رب نواز بن محمد نواز میانوالی ۴۵ محمد ناصر بن عبدالغفور بھکر ۴۶ شفیق الرحمٰن بن عبدالرحمٰن لیہ ۴۷ شاہد محمود بن چوہدری مشتاق بھکر ۴۸ نبیل احمد بن عبدالغفار خوشاب ۴۹ محمد اسامہ بن محمد رمضان میانوالی ۵۰ عبدالباسط بن علی محمد فیصل آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۵۱ محمود احمد بن محمد عبد اللہ بھکر ۵۲ محمد عبد اللہ بن محمد یاسین لاہور ۵۳ فخر الزمان بن مقصود الحسن گوجرانوالہ ۵۴ محمد عثمان بن ذوالفقار احمد ملتان ۵۵ محمد بن عبد المجید بھکر ۵۶ اللہ نور بن حاجی محمد اختر زیارت ۵۷ امجد حسین بن محمد اعظم خان آزاد کشمیر ۵۸ واجد علی بن محمد قاسم شاہ آزاد کشمیر ۵۹ محمد زبیر بن محمد ناصر چنیوٹ ۶۰ محمد عظیم بن شوکت علی خانیوال ۶۱ سیف اللہ بن امداد خلیل پشاور ۶۲ عبد الجبار بن محمد زکریا ڈیرہ اسماعیل خان ۶۳ سعید احمد بن محمد صادق ڈیرہ اسماعیل خان ۶۴ شہزاد احمد بن حاجی محمد شفیع آزاد کشمیر ۶۵ سمیع الحق بن مولانا سیف الدین ژوب ۶۶ محمد اشفاق بن رانا عثمان لیہ ۶۷ حبیب الرحمٰن بن حافظ محمد اشرف بہاولنگر ۶۸ محمد اعجاز بن حاجی مقصود شیخوپورہ ۶۹ عبد الواحد بن محمد رشید راولپنڈی ۷۰ محمد بلال بن حاجی محمد اقبال چنیوٹ ۷۱ احسان الحق بن مولانا سیف الدین ژوب ۷۲ نذیر احمد بن شیر زمان ڈیرہ اسماعیل خان ۷۳ محمد ساجد بن محمد عثمان مظفر گڑھ ۷۴ عبد الجلیل بن حاجی محمد رمضان مظفر گڑھ ۷۵ نوید احمد بن غلام فرید ڈیرہ اسماعیل خان ۷۶ سلیم خان بن شکیل احمد لورالائی ۷۷ نصر اللہ بن عصمت اللہ چنیوٹ ۷۸ رئیس الرحمٰن بن عتیق الرحمٰن لاہور ۷۹ محمد سیف اللہ بن حافظ محمد حنیف چنیوٹ ۸۰ شفاقت علی بن لیاقت علی آزاد کشمیر ۸۱ عبد الواحد بن حاجی اختر محمد ژوب ۸۲ محمود الحسن بن غلام سرور لودھراں ۸۳ غلام مصطفیٰ بن لعل دین ننکانہ ۸۴ عبد الرحمٰن بن محمد اشرف رحیم یار خان ۸۵ ضیاء الرحمٰن بن حاجی محمد جمیل چنیوٹ ۸۶ اسرار علی بن محمد بخش لاڑکانہ ۸۷ امیر بہادر بن نادر خان نوشہرہ ۸۸ محمد عدنان بن محمد سعید راولپنڈی ۸۹ محمد عاکف بن نصیر الدین لاہور ۹۰ محمد منیب بن محمد انور آزاد کشمیر ۹۱ ظفر عباس بن جیون بخش جھنگ ۹۲ محمد عثمان بن علی حسین سرگودھا ۹۳ محمد نعیم بن محمد سرور خوشاب ۹۴ علی حسین بن دوست محمد جھنگ ۹۵ محمد نوید بن سراج الدین جھنگ ۹۶ عبد الحنان بن ظفر اقبال ٹوبہ ٹیک سنگھ ۹۷ محمد فاروق بن محمد مبین شیخوپورہ ۹۸ سمیع اللہ بن محمد یاسین بہاولنگر ۹۹ شاہد اقبال بن عبد الستار قصور ۱۰۰ محمد عمران بن نذیر احمد ساہیوال ۱۰۱ عبد الہادی بن محمد بختیار کوہاٹ ۱۰۲ عبد القدوس بن گل ایوب بنوں ۱۰۳ سعید احمد بن خوشی محمد قصور ۱۰۴ نذیر احمد بن محمد عثمان مظفر گڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۰۵ محمد شفیق بن محمد عاشق شیخوپورہ ۱۰۶ محمد اسامہ بن محمد اشرف بہاولپور ۱۰۷ زبیر عثمان بن عزیز الرحمن سرگودھا ۱۰۸ حافظ عبدالمتین بن سرفراز چارسدہ ۱۰۹ محمد اعظم جان بن فیض الحکم چارسدہ ۱۱۰ ذیشان علی بن شیر علی خان چارسدہ ۱۱۱ حبیب اللہ بن محمد بختیار چارسدہ ۱۱۲ جاوید اللہ بن نجیب اللہ چارسدہ ۱۱۳ محمد نعمان کیفی بن امیر محمد ڈیرہ غازی خان ۱۱۴ فیصل رضا بن محمد اشفاق گوجرانوالہ ۱۱۵ علی حمزہ بن محمد وریام جھنگ ۱۱۶ محمد عمران بن محمد فیاض مانسہرہ ۱۱۷ عبدالودود بن عبدالقدوس مانسہرہ ۱۱۸ محمد نقیب بن محمد صدیق مانسہرہ ۱۱۹ بسم اللہ بن محمد نعیم مانسہرہ ۱۲۰ محمد بلال قاسمی بن محب اللہ پشاور ۱۲۱ غلام قادر بن عبدالحلیم آزاد کشمیر ۱۲۲ محمد امتیاز بن محمد بوٹا لاہور ۱۲۳ محمد ہارون الرشید بن عبدالحق ملتان ۱۲۴ سلمان بن عمر فاروق ملتان ۱۲۵ محمد شاہد بن محمد علی قصور ۱۲۶ گلفراز بن نذیر احمد قصور ۱۲۷ محمد عبداللہ بن قاری وزیر احمد ملتان ۱۲۸ عنایت اللہ بن مولانا محمد عمران پشاور ۱۲۹ محمد انس بن نور محمد لودھراں ۱۳۰ عبدالرشید بن نور محمد قصور ۱۳۱ محمد قاسم بن جاوید مسعود قصور ۱۳۲ محمد زبیر اللہ بن محمد اسلم سرگودھا ۱۳۳ عمر فاروق بن محمد نذیر خوشاب ۱۳۴ محمد فہد ایوب بن محمد ایوب قصور ۱۳۵ سید محمد اسامہ شاہ بن سید ضیاء الحسن لاہور ۱۳۶ محمد شکیل بن محمد منظور اسلام آباد ۱۳۷ محمد سرفراز بن آصف الدین لاہور ۱۳۸ محمد عمران بن محمد اسحاق لاہور ۱۳۹ ساجد علی بن عبدالرزاق لاہور ۱۴۰ محمد عمران بن محمد رمضان ساہیوال ۱۴۱ محمد رحمت اللہ بن محمد عبداللہ خانیوال ۱۴۲ محمد کاشف مرتضیٰ بن فقیر احمد گوجرانوالہ ۱۴۳ عابد حسین بن پیر بخش لودھراں ۱۴۴ عطاء اللہ مدنی بن محمد اکرم خانیوال ۱۴۵ میاں اکرام الحق بن اصغر علی ننکانہ ۱۴۶ عظیم سرور بن غلام سرور شیخوپورہ ۱۴۷ محمد سفیان بن محمد اصغر لاہور ۱۴۸ محمد امین بن محمد حسین لیہ ۱۴۹ محمد نیاز بن فیض اللہ لیہ ۱۵۰ محمد عرفان بن عامر حمید بہاولپور ۱۵۱ اکرام الحق بن شمس الحق بہاولپور ۱۵۲ عبدالہادی بن محمد اسماعیل بہاولپور ۱۵۳ ظفر علی خان بن لیاقت علی نوشہرہ ۱۵۴ محمد عبدالولی بن لیاقت علی چنیوٹ ۱۵۵ محمد معظم بن محمد ارشد جاوید فیصل آباد ۱۵۶ محمد احمد بن عبداللطیف فیصل آباد ۱۵۷ نور الاسلام بن گل شہزادہ سوات ۱۵۸ مجاہد احمد بن محمد رمضان کبیروالا ۱۵۹ شفیق الرحمن بن ملک حبیب کوہستان ۱۶۰ زاہد حسین بن محمد صدیق فیصل آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۶۱ محمد عبداللہ بن حافظ عبدالرحمن فیصل آباد ۱۶۲ حافظ فاروق احمد بن بشیر احمد بہاولپور ۱۶۳ محمد مدنی بن حاجی اللہ وسایا بہاولپور ۱۶۴ محمد رفیق بن محمد اسحاق بہاولنگر ۱۶۵ حافظ محمد امجد بن محمد اکبر بہاولپور ۱۶۶ عقیل الرحمن بن محمد رمضان بہاولپور ۱۶۷ محمد اکرام الحق بن محمد ارشاد بہاولپور ۱۶۸ محمد اسلم بن محمد نواز بہاولپور ۱۶۹ حبیب اللہ بن نور محمد بہاولپور ۱۷۰ محمد عمران بن محمد رمضان بہاولپور ۱۷۱ عامر بن شوکت جاوید بہاولنگر ۱۷۲ مولوی عبدالوکیل بن عبدالجلیل رحیم یار خان ۱۷۳ محمد عمر بن مولانا انیس الرحمن رحیم یار خان ۱۷۴ محمد تمیم اختر بن علی محمد رحیم یار خان ۱۷۵ محمد توقیر بن ریاض احمد رحیم یار خان ۱۷۶ سہیل احمد بن اشفاق احمد رحیم یار خان ۱۷۷ محمد عبدالباسط بن مختار احمد رحیم یار خان ۱۷۸ فہد اللہ بن محمد بخش رحیم یار خان ۱۷۹ محمد زاہد بن نور محمد رحیم یار خان ۱۸۰ خلیل الرحمن بن حفیظ الرحمن رحیم یار خان ۱۸۱ محمد یوسف بن پیر بخش بہاولپور ۱۸۲ محمد شفیق بن محمد شریف رحیم یار خان ۱۸۳ محمد طلحہ بن ثاقب رفیق چنیوٹ ۱۸۴ محمد عامر بن عبدالرشید چنیوٹ ۱۸۵ محمد مجاہد بن محمد امیر چنیوٹ ۱۸۶ محمد نعمانی بن ملک امان اللہ ڈیرہ غازی خان ۱۸۷ آصف بن محمد اسماعیل اٹک ۱۸۸ فرحان اللہ بن یار محمد مانسہرہ ۱۸۹ ماہر بن منظور عالم کراچی ۱۹۰ شرجیل ملک بن تاج محمد تلہ گنگ ۱۹۱ محمد طاہر بن خدا بخش مظفرگڑھ ۱۹۲ محمد سفیان بن غلام بشیر ملتان ۱۹۳ ضیاء الرحمن بن مولانا عبیدالرحمن رحیم یار خان ۱۹۴ محمد شوکت بن محمد اسلم راجن پور ۱۹۵ عبدالرؤف بن عبدالخالق مظفرگڑھ ۱۹۶ محمد کلیم اللہ بن عبدالمجید مظفرگڑھ ۱۹۷ محمد انیس اللہ بن عبدالمجید مظفرگڑھ ۱۹۸ عبدالحفیظ بن محمد عثمان ڈیرہ غازی خان ۱۹۹ احمد علی بن سید رسول ڈی اسماعیل خان ۲۰۰ محمد عمر معاویہ بن عبدالستار فیصل آباد ۲۰۱ محمد ارشد بن اللہ دتہ سرگودھا ۲۰۲ محمد ارسلان بن حافظ اللہ بخش ڈیرہ غازی خان ۲۰۳ نعیم احمد بن نور الدین سرگودھا ۲۰۴ محمد جاوید بن اللہ دتہ سرگودھا ۲۰۵ شاہد رسول بن محمد اعظم سرگودھا ۲۰۶ محمد شبیر بن محمد امیر صابر میانوالی ۲۰۷ عبدالسمیع بن مولانا مسعود احمد سرگودھا ۲۰۸ محمد ثاقب بن قاری مقبول احمد سرگودھا ۲۰۹ اللہ نواز بن محمد قاسم بہاولپور ۲۱۰ عبدالرحمن بن محمد سرور بہاولپور ۲۱۱ محمد یاسر بن عبدالغفور بہاولپور ۲۱۲ واجد محمود بن محمد یونس علی بہاولپور ۲۱۳ محمد ابراہیم بن غلام علی گانچھے ۲۱۴ محمد شہزاد بن شبیر احمد قصور ۲۱۵ محمد مبشر بن محمد نجیب ایبٹ آباد ۲۱۶ محمد فیض اسد بن نذر حسین اسدی ملتان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۱۷ محمد خضر حیات بن عبدالرشید ڈیرہ غازی خان ۲۱۸ محمد ارشاد بن محمد سردار قصور ۲۱۹ نعمت اللہ بن عبدالستار لیہ ۲۲۰ محمد اسعد بن ظہور الدین قصور ۲۲۱ عدیل احمد بن خلیل احمد جھنگ ۲۲۲ ثوبان بن حبیب الرحمٰن جھنگ ۲۲۳ عثمان بن ظفر اقبال جھنگ ۲۲۴ محمد اکمل بن عبداللطیف فیصل آباد ۲۲۵ محمد وسیم الرحمٰن بن عبدالحمید خالد بہاولپور ۲۲۶ محمد اختر بن منظور احمد بہاولپور ۲۲۷ محمد عمیر بن عبدالحفیظ قریشی مظفر گڑھ ۲۲۸ محمد عرفان بن محمد ارشاد نارووال ۲۲۹ محمد ظریف بن محمد شریف ڈیرہ اسماعیل خان ۲۳۰ محمد شعیب بن منیر احمد مظفر گڑھ ۲۳۱ صبغۃ اللہ بن حافظ سراج الدین لیہ ۲۳۲ محمد اظہر خان بن لعل خان جھنگ ۲۳۳ محمد فاضل بن غلام حسن مظفر آباد ۲۳۴ محمد عثمان بن محمد امین پاکپتن ۲۳۵ محمد ابوبکر بن شکیل احمد چنیوٹ ۲۳۶ محمد ذاکر بن عبدالرحمٰن راولپنڈی ۲۳۷ محمد الطاف بن مراد علی راولپنڈی ۲۳۸ غلام مرتضیٰ بن محمد رمضان رحیم یار خان ۲۳۹ ارشاد علی بن مختیار الدین نوشہرہ ۲۴۰ محمد اجمل بن غلام مصطفیٰ شیخوپورہ ۲۴۱ محمد حبیب بن محمد رمضان اوکاڑہ ۲۴۲ محمد صفدر بن حاجی خدا بخش جھنگ ۲۴۳ ہیبت خان بن فیروز خان فیصل آباد ۲۴۴ محمد صدیق بن غلام محمد میانوالی ۲۴۵ رحمت دین بن صادق علی استور ۲۴۶ محمد عرفان بن گلفام احمد شیخوپورہ ۲۴۷ محمد رضوان بن محمد طفیل رحیم یار خان ۲۴۸ فہیم احمد بن نعیم احمد کراچی ۲۴۹ محمد قاسم بن محمود الحسن کراچی ۲۵۰ محمد ظاہر خان بن محمد خان ہنگو ۲۵۱ محمد اختر بن محمد ہاشم بہاولپور ۲۵۲ محمد شیر بن اللہ وسایا ملتان ۲۵۳ محمد رمضان بن عبدالحفیظ بہاولپور ۲۵۴ طاہر محمود بن رحیم بخش بہاولپور ۲۵۵ محمد نعمان بن محمد رمضان بہاولپور ۲۵۶ ہارون الرشید بن علی محمد بہاولپور ۲۵۷ محمد ہاشم بن اللہ بخش بہاولپور ۲۵۸ محمد بلال بن محمد اقبال بہاولپور ۲۵۹ قیصر عباس بن شیر عباس بہاولنگر ۲۶۰ عبدالعزیز بن حافظ عبدالرحیم بہاولپور ۲۶۱ غلام اکبر بن بشیر احمد بہاولپور ۲۶۲ محمد جاوید بن ظہور احمد بہاولپور ۲۶۳ محمد عثمان بن محمد اشرف بہاولپور ۲۶۴ محمد وزیر حسین بن ملک محمد نواز بہاولپور ۲۶۵ عبدالقادر بن شیر محمد میر پور خاص ۲۶۶ غوث محمد بن ولی محمد میر پور خاص ۲۶۷ اسد اللہ بن محمد سعید میر پور خاص ۲۶۸ محمد صدیق بن نور الدین میر پور خاص ۲۶۹ عبدالناصر بن عبدالقادر میر پور خاص ۲۷۰ فیصل مختار بن مختار احمد میر پور خاص
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ۳۷۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ۲۷۱ محمد اقبال بن محمد یعقوب میر پور خاص ۲۷۲ محمد عثمان بن محمد حسین چنیوٹ ۲۷۳ جان عالم بن محبوب چارسدہ ۲۷۴ شفیق الرحمن بن مولانا ظہور الحسن مظفر گڑھ ۲۷۵ محمد امجد بن محمد حاجی بہاولپور ۲۷۶ محمد افضل بن خوشی محمد قصور ۲۷۷ محمد عامر بن حبیب اللہ گوجرانوالہ ۲۷۸ محمد سرمد بن ارشد محمود گجرات ۲۷۹ محمد فرید بن نظیر گل ہنگو ۲۸۰ محمد صدیق بن محمد رفیق رحیم یار خان ۲۸۱ عبدالرحمن بن اللہ دتہ خانیوال ۲۸۲ محمد وسیم بن محمد رمضان وہاڑی ۲۸۳ محمد سفیر احمد بن محمد اکرم راولپنڈی ۲۸۴ محمد عاصم بن محمد شریف چنیوٹ ۲۸۵ محمد سیف الرحمن بن عبدالرحمن سرگودھا ۲۸۶ حافظ محمد عابد خان بن خان محمد چنیوٹ ۲۸۷ محمد علی بن محمد یاسین فیصل آباد ۲۸۸ عبد الماجد بن محمد ابراہیم چنیوٹ ۲۸۹ اشتیاق احمد بن اشفاق احمد ملتان ۲۹۰ محمد مکی بن منظور احمد وہاڑی ۲۹۱ محمد شعیب بن رحیم بخش مظفر گڑھ ۲۹۲ محمد یوسف بن محمد اسماعیل پاکپتن ۲۹۳ محمد حامد علی بن خوشی محمد فیصل آباد ۲۹۴ محمد یامین بن منیر احمد لودھراں ۲۹۵ حافظ خالد محمود بن حاجی محمد حنیف میانوالی ۲۹۶ عبید اللہ بن حاجی محمد حسن سکھر ۲۹۷ عبدالغفار بن شمس الدین سکھر ۲۹۸ محمد یوسف بن مولوی عبد الہادی سکھر ۲۹۹ خالد حسین بن غلام شبیر سکھر ۳۰۰ محمد بلال بن محمد شاکر قریشی سکھر ۳۰۱ محمد عمران بن فخر الدین قصور ۳۰۲ محمد عظیم بن محمد امین اٹک ۳۰۳ اعجاز احمد بن عبدالرزاق قصور ۳۰۴ محمد یونس بن دین محمد قصور ۳۰۵ محمد رضوان بن شاہ جہان ٹانک ۳۰۶ محمد طیب مہر بن مولانا محمد رفیق مظفر گڑھ ۳۰۷ نعیم احمد بن شوکت علی مظفر گڑھ ۳۰۸ شہزاد بشیر بن بشیر احمد مظفر گڑھ ۳۰۹ عبد الباسط بن غلام صادق بہاولپور ۳۱۰ محمد عبید اللہ بن عطاء اللہ رحیم یار خان ۳۱۱ کاشف اللہ بن عظمت اللہ گوجرانوالہ ۳۱۲ محمد وقاص بن منیر احمد بہاولنگر ۳۱۳ خلیل احمد بن حاجی در محمد لودھراں ۳۱۴ محمد طاہر بن نصیب خان قصور ۳۱۵ نذر الرحمن بن مولانا محمد اکبر صاحب قصور ۳۱۶ محمد عبید اللہ شاہ بن سید مظفر حسین وہاڑی ۳۱۷ محمد خالد بن نور محمد قصور ۳۱۸ محمد ساجد بن تاج محمد لودھراں ۳۱۹ احسان الحق بن عابد حسین چنیوٹ ۳۲۰ عبد القادر بن اللہ دتہ سرگودھا ۳۲۱ محمد الیاس بن محمد رفیق سرگودھا ۳۲۲ فرحان عادل بن لیاقت علی گوجرانوالہ ۳۲۳ خلیل احمد بن محمد خیر دین گوجرانوالہ ۳۲۴ لیاقت علی بن محمد شریف سیالکوٹ ۳۲۵ محمد ابوبکر بن محمد صدیق گوجرانوالہ ۳۲۶ محمد عمر بن حافظ اللہ دتہ جھنگ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۲۷ محمود الحسن بن احمد حسن رحیم یار خان ۳۲۸ محمد اطہر بن منیر احمد بہاولپور ۳۲۹ علی رضا بن محمد محبوب بہاولپور ۲۳۰ عبداللطیف بن محمد بخش بہاولپور ۳۳۱ محمد اشرف بن محمد اقبال وہاڑی ۳۳۲ محمد طلحہ بن قاری حفیظ اللہ مظفر گڑھ ۲۳۳ شفیق الرحمن بن حاجی جند وڈہ بہاولپور ۳۳۴ محمد فاروق بن غلام نبی مظفر گڑھ ۳۳۵ محمد سہیل قمر بن حضور محمد مظفر گڑھ ۳۳۶ علی حیدر بن مشتاق علی نوشہرہ فیروز ۲۳۷ عبد الغفور بن احمد علی راولپنڈی ۳۳۸ محمد عاصم شہزاد بن عابد حسین راولپنڈی ۳۳۹ زاہد احمد بن محمد عیسیٰ خیر پور ۳۴۰ محمد رفیق بن محمد شریف خیر پور ۳۴۱ مختار احمد بن اللہ دتہ وہاڑی ۳۴۲ محمد عبد المالک بن ملک محمد ہاشم وہاڑی ۳۴۳ محمد ارشد بن محمد حبیب خانیوال ۳۴۴ غضنفر عباس بن محمد موسیٰ خانیوال ۳۴۵ محمد سرور بن بنیامین ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۴۶ خدا بخش بن غلام علی بہاولپور ۳۴۷ محمد امتیاز بن محمد عبید اللہ چنیوٹ ۳۴۸ محمد انصر محمود بن محمد شریف شیخو پورہ ۳۴۹ محمد عثمان بن محمد رمضان لاہور ۳۵۰ مقصود الہی بن محبوب الہی خوشاب ۳۵۱ ابو بکر قاسمی بن موسیٰ خان گلگت ۳۵۲ محمد مسعود بن محمد انور ننکانہ صاحب ۳۵۳ عاصم شہزاد بن عابد حسین فیصل آباد ۳۵۴ غلام رسول بن محمد ابراہیم گانچے ۳۵۵ محمد نعیم بن محمد اشفاق فیصل آباد ۳۵۶ محمد اکمل بن محمد رفیق گوجرانوالہ ۳۵۷ محمد اشفاق بن محمد یونس بھکر ۳۵۸ محمد انس بن ظفر اقبال کراچی ۳۵۹ اکبر زاہد بن محمد زاہد شانگلہ ۳۶۰ ابو بکر شاہ بن عبد الرحمن شاہ کراچی ۳۶۱ ضیاء الاسلام بن عبد القدوس جہلم ۳۶۲ سلیم اللہ بن عبد الغفار مستونگ ۳۶۳ محمد حمید اللہ بن لعل خان بٹگرام ۳۶۴ محمد عاصم بن محمد اعظم راولپنڈی ۳۶۵ احتشام احمد بن یوسف خان کراچی ۳۶۶ محمد عمیر بن عبد الرشید کراچی ۳۶۷ عماد الدین بن گلبرگ کراچی ۳۶۸ صبغۃ اللہ بن محمد ہاشم کراچی ۲۶۹ محمد شعیب بن محمد فیاض کراچی ۲۷۰ انعام الحق بن نور الحق کراچی ۳۷۱ عبد الواحد بن رحمت اللہ سرگودھا ۳۷۲ طلحہ زبیر بن سید محمد حفیظ شاہ بہاولپور ۳۷۳ طارق محمود بن ناصر محمود سیالکوٹ ۳۷۴ عادل لطیف بن عبد اللطیف اسلام آباد ۳۷۵ حبیب الرحمن بن اللہ بخش رحیم یار خان ۳۷۶ غلام عباس بن محمد قاسم ملتان ۳۷۷ محمد وقاص بن خدا بخش وہاڑی ۳۷۸ عبدالماجد بن حاجی عطاء محمد وہاڑی ۳۷۹ محمد شہباز بن محمد رفیق وہاڑی ۳۸۰ زاہد زبیر بن محمد زبیر پاکپتن
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۸۱ محمد علی بن حاجی منور دین ڈیرہ غازی خان ۳۸۲ غلام یاسین بن محبوب احمد ملتان ۳۸۳ محمد عمیر خان بن غلام سرور مظفر گڑھ ۳۸۴ محمد فاروق بن محمد علی جھنگ ۳۸۵ محمد ابراہیم بن غلام صدیق ڈیرہ غازی خان ۳۸۶ محمد حبیب اللہ بن محمد امان اللہ عمر کوٹ سندھ
چونڈہ سیالکوٹ میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد شاہ فیصل میں ۳۰؍ جولائی ۲۰۰۹ء بعد نماز مغرب رد قادیانیت کورس منعقد ہوا جو رات گئے تک جاری رہا۔ کورس میں سینکڑوں علمائے کرام، طلبہ، تاجر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی ڈویژنل مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر تھے۔ جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام پر بیان کیا۔ لیکچرز کے بعد سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی۔ مولانا شجاع آبادی نے لوگوں کے سوالوں کے جوابات دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۹ء ص ۵۶)
بھڑی شاہ رحمن گوجرانوالہ میں جلسہ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ کے زیر اہتمام ۳۰؍ جولائی ۲۰۰۹ء کو جامع مسجد صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں ختم نبوت کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مقامی امیر حاجی احسان الحق نے کی۔ جلسہ سے قاری ملازم حسین، قاری عمر حیات لاہور، مولانا محمد عارف مبلغ گوجرانوالہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ علمائے کرام نے قادیانیوں کے عقائد وعزائم، عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کیا۔ علمائے کرام نے قادیانیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ بھڑی شاہ رحمن میں قادیانیوں نے کسی مسلمان بچی پر ہاتھ ڈالا تو ملک بھر میں قادیانیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ واضح رہے کہ چند روز قبل قادیانی اوباشوں نے ایک مسلمان خاتون کے گھر میں داخل ہو کر مارا، پیٹا اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ آخر میں مقامی یونٹ کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ سرپرست: خطیب جامع مسجد صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ۔ امیر: حاجی احسان الحق۔ ناظم اعلیٰ: مولانا صلاح الدین۔ ناظم: مولانا محمد نور رحیم اور باقی عہدہ داروں کا چناؤ کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۹ء ص ۵۶، ۵۷)
حافظ آباد میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا خطاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ۳۱؍ جولائی ۲۰۰۹ء کے جمعہ کا خطبہ جامع مسجد قدیم میں دیا۔ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد الطاف مدظلہ، علامہ سعید احمد، ماسٹر رشید اختر، حافظ عبد الوہاب، سمیت معززین شہر نے مولانا شجاع آبادی کی تشریف آوری کا خیر مقدم کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۹ء ص ۵۷)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس زڑہ میانہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت زڑہ میانہ ضلع نوشہرہ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سرحد کے امیر حضرت مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی مہمان خصوصی تھے۔ علاقہ بھر سے علماء کرام، حفاظ عظام، تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے احباب اور عام لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقامی سرپرست اعلیٰ حضرت مولانا ضیاء العارفین حقانی نے تمام انتظام کی نگرانی خود فرمائی۔ مقامی نائب امیر حضرت مولانا حافظ ڈاکٹر اعظم چغتائی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ مفتی تاج الدین اور مولانا عماد الدین نے مختصر مگر مدلل خطاب فرمایا۔ جب کہ حضرت مولانا محمد طیب فاروقی اور مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے طویل اور مفصل خطاب فرمایا۔ آخر الذکر کا بیان پشتو میں اور باقی حضرات کا اردو میں ہوا۔ تمام حضرات نے قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد اور مسلمات دین سے انحراف اور انکار کی وجہ سے کافر، مرتد اور زندیق قرار دیا۔ انہوں نے قادیانیوں کے کفریہ عقائد، انکار ختم نبوت، توہین انبیاء، تحریف قرآن کریم، اسلام اور ملک دشمن کاروائیوں، ملک وملت سے غداری، یہود و ہنود اور انگریزوں سے دوستی اور ان کے مفادات کے لئے کوشش، سیاسی عزائم، اندرونی انتشار، بیرونی سازشیں، دہشت گردی اور دیگر ریشہ دوانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ حاضرین کانفرنس چونکہ تمام پشتو زبان بولنے والے تھے۔ مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے سرحد کے علماء کرام حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق اور شیخ الحدیث حضرت مولانا نعمت اللہ کی قربانیوں اور تحفظ ختم نبوت کے لئے محنت کا بطور خاص ذکر کیا اور حاضرین سے کہا کہ ہمارے اسلاف نے اس گلستان کو عظیم قربانیوں سے آباد کیا اور اس کا سرسبز اور شاداب رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تمام حاضرین نے ہاتھ کھڑا کر کے تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر قسم جانی و مالی قربانی دینے کا وعدہ کیا۔ بیانات کے دوران شمع رسالت کے پروانے ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ یہ عظیم الشان روحانی اجتماع حضرت مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کی دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۹ء ص ۴۱)
۳۶ ویں یوم ختم نبوت کانفرنس پشاور
پشاور میں ۳۶ واں یوم ختم نبوت ۷ ستمبر ۲۰۰۹ء زیر سرپرستی خواجہ خواجگان مخدوم المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ شایان شان طریقے سے منایا گیا اور بعد از نماز تراویح چوک ختم نبوت قصہ خوانی بازار میں مجلس کے صوبائی امیر مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کی زیر نگرانی ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد خاص و خادم سفر و حضر جمعیت علماء اسلام کے بزرگ رہنما سابق ممبر صوبائی اسمبلی سرحد حضرت مولانا مجاہد خان الحسینی صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ کانفرنس سے خصوصی خطاب وکیل احناف و مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا مفتی مجیب الرحمن صاحب (راولپنڈی) نے فرمایا۔ ہدیہ نعت بحضور سرور کائنات ﷺ ننھے مجاہد زین العابدین اور ترانہ ختم نبوت قاری احسان قدیر صاحب نے پیش کیا۔ کانفرنس میں علماء وعوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس رات دس بجے شروع ہوئی اور رات دو بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس کے آخر میں حضرت مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی صاحب کے رفیق خاص و مجلس کے رہنما قاری سمیع اللہ خان فاروقی صاحب نے چند قراردادیں پیش کیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۹ء ص ۵۵، ۵۶)
سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۷، ۲۸ ستمبر ۲۰۰۹ء بروز اتوار، پیر منعقد ہوا۔ اجلاس کی کئی نشستیں منعقد ہوئیں۔ جن کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد نے کی۔ اجلاس میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیان (گستاخ رسول کی سزا کے قانون کو ختم ہونا چاہئے) کی سنگینی پر غور وخوض کیا گیا اور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکمرانوں سے کہا گیا کہ وہ طے شدہ امور کو چھیڑ کر پنڈورہ بکس نہ کھولیں ۔ نیز کہا گیا کہ اسلامیان پاکستان گستاخ رسول کی سزا کے قانون میں کسی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کریں گے۔ اگر اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو گستاخان رسول کے خلاف غازی علم الدین ، غازی عبدالقیوم ، غازی عبدالرشید اور غازی عامر چیمہ شہید کا کردار دہرایا جائے گا۔ رائے عامہ بیدار رکھنے کے لئے بیس ہزار اشتہار چھپوائے گئے۔ اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے قادیانیوں کے حق میں بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ قادیانی اپنے روز اوّل سے ہی کافر ، مرتد ، زندیق اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مسلمانان پاک و ہند کی نوے سالہ مساعی جمیلہ کے بعد انہیں مکمل ڈیفنس کا موقع دیتے ہوئے ۷ / ستمبر ۱۹۷۴ء کو ۱۳ دن کی بحث کے بعد ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ نیز لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک درجنوں عدالتوں نے انہیں غیر مسلم اقلیت تسلیم کیا۔ جناب الطاف حسین ، پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدالتوں کو بائی پاس کر کے انہیں مسلمانوں کی لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ورنہ وہ نائن زیرو (۹۰) سے زیرو پر آ جائیں گے۔
اجلاس میں ۸/ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو عید گاہ سرگودھا اور ۱۵، ۱۶/ اکتوبر جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونے والی عظیم کانفرنسوں کے انتظامات کا ابتدائی جائزہ لیا گیا اور کئی ایک کمیٹیاں قائم کی گئیں جو کانفرنس کے انتظامات کو حتمی شکل دیں گی۔ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں مولانا فضل الرحمان ، مولانا سمیع الحق ، قاضی حسین احمد ، لیاقت بلوچ ، شاہ انس نورانی ، پروفیسر ساجد میر ، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا عبدالقیوم حقانی ، مولانا عبدالغفور حقانی ، مولانا عبدالمجید لدھیانوی ، قاری زوار بہادر ، مولانا ممتاز احمد کلیار ، مولانا سید جاوید حسین شاہ ، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ ، مولانا ارشاد احمد ، خواجہ عبد الماجد صدیقی ، پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی ، قاضی ارشد الحسینی سمیت بہت سے علماء کرام کو دعوت نامے جاری کر دیئے گئے اور مندرجہ بالا حضرات سے رابطہ کے لئے مولانا اللہ وسایا ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی۔ جس نے کام شروع کر دیا۔ کانفرنس کے دیگر امور پر اہم فیصلے ہوئے۔ گستاخ رسول ایکٹ پر غور خوض کرنے کے لئے قائم کی گئی قائمہ کمیٹی ، قومی وصوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے ممبران کے نام پر یادداشت بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
رد قادیانیت کورس
سالانہ رد قادیانیت سہ ماہی کورس یکم/ ذیقعدہ سے شروع ہو کر ۳۰/ محرم الحرام ۱۴۳۱ھ تک جاری رہے گا۔ کورس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے جید جداً ہونا ضروری ہے۔ کورس میں میٹرک پاس علماء کرام کو داخلہ کے لئے ترجیح دی جائے گی۔ کورس میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت ، حیات عیسیٰ علیہ السلام ، کذب مرزا قادیانی جیسے موضوعات پر تیاری کرائی جائے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۹ء ص ۵۴، ۵۵)
سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸/ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو مرکزی عید گاہ سرگودھا میں دوسری سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں نے کی۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عبدالغفور حیدری ، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ ، حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نقشبندی ، روزنامہ اسلام ”دریچہ“ کے کالم نگار قاری منصور احمد ، ممبر پنجاب اسمبلی مولانا محمد الیاس چنیوٹی ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ،
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی حسان احمد، ممتاز اہل حدیث راہنما مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد عالم طارق سمیت کئی ایک علماء کرام نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی نگرانی مولانا محمد اکرم طوفانی نے کی۔ جب کہ مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد رضوان اپنے رفقاء سمیت شب و روز مصروف عمل رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۹ء ص ۵۰)
اٹھائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
اٹھائیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ۱۵، ۱۶؍اکتوبر ۲۰۰۹ء بروز جمعرات، جمعہ مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز جمعرات صبح نماز فجر کے بعد درس قرآن مجید سے ہوا۔ کراچی مجلس کے فاضل مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے درس قرآن مجید ارشاد فرمایا۔ جو اشراق تک جاری رہا۔
پہلا اجلاس: جمعرات ۱۵؍اکتوبر ۲۰۰۹ء صبح دس بجے منعقد ہوا۔
صدارت: جناب قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ تلاوت: حافظ عبدالجبار، متعلم مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر۔ نظم: قاری زین العابدین۔ افتتاحی دعاء: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ۔ خطاب: مولانا محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا عبداللطیف تونسوی بدین، جناب حافظ عبدالوہاب حافظ آباد، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا۔
ایک بجے صدر اجلاس کی دعاء سے پہلا اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
دوسرا اجلاس: اسی روز بعد از نماز ظہر منعقد ہوا۔
صدارت: مولانا مفتی محمد تقی الدین شامزئی استاذ جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی۔ تلاوت: قاری محمد مسعود فاروق آباد۔ نعت: محمد زبیر سرگودھا۔ خطاب: مولانا محمد زبیر اشرف مدرس دارالعلوم کورنگی کراچی، شیخ الحدیث مولانا فضل الرحیم جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا قاری علیم الدین شاکر لاہور، مولانا عبدالقیوم حقانی نوشہرہ، پروفیسر مولانا قاضی ارشد الحسینی اٹک، مولانا ممتاز احمد کلیار جڑانوالہ۔ اختتامی بیان: مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی چکوال۔
عصر کی نماز سے قبل صدر اجلاس نے اختتامی دعاء فرمائی۔
خصوصی نشست سوال و جواب: بعد از عصر اس نشست سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
مجلس ذکر: بعد از مغرب روحانی خطاب مولانا قاضی ارشد الحسینی نے فرمایا اور ذکر حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری، راشدی لاہور نے کرایا۔
تیسرا اجلاس: تیسرا اجلاس بعد از عشاء شروع ہوا۔
صدارت: مخدوم المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد امیر مرکزیہ نے فرمائی۔ تین گھنٹے بعد آپ آرام فرمانے تشریف لے گئے تو تا اختتام اجلاس صدارت حضرت مولانا مفتی محمد حسن شیخ الحدیث جامعہ مدنیہ جدید لاہور نے کی۔
تلاوت: قاری محمد عثمان جامعہ محمدیہ ساہیوال، مولانا قاری مشتاق احمد رحیمی امیر مجلس قصور۔ نظم: جناب طاہر بلال چشتی، جناب حافظ ابوبکر کراچی، امین برادران۔ خطاب: مولانا اشرف علی مہتمم جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی، مولانا محمد امجد خان مرکزی سیکرٹری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اطلاعات جمعیت علماء اسلام پاکستان، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی ناظم جامعہ اشرفیہ سکھر، مولانا عبدالحمید لنڈ خطیب سندھ سٹھارجہ، صاحبزادہ مبشر محمود خطیب جامع مسجد ریلوے فیصل آباد، مولانا زاہد الراشدی شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، قاری جمیل الرحمٰن اختر پاکستان شریعت کونسل لاہور، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری امیر جمعیت اہل حدیث ساہیوال، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور، مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی خانیوال، مولانا محمد ضیاء مدنی خطیب جامع مسجد فیصل آباد، مولانا حافظ زبیر احمد ظہیر لاہور، مولانا محمد رضوان سرگودھا، مولانا عبدالحمید وٹو قلعہ دیدار سنگھ، مولانا محمد احمد لدھیانوی کمالیہ، مولانا عبدالغفور حقانی ناظم مجلس علماء اہل سنت پاکستان ملتان، مولانا محمد الیاس گھمن جماعت اہل سنت سرگودھا۔
فجر کی اذانوں کے قریب یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
جمعہ صبح کا درس قرآن: ۱۶؍اکتوبر بعد از فجر کانفرنس میں شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا میر محمد میرک، مہتمم جامعہ حمادیہ خیر پور میرس نے درس قرآن مجید ارشاد فرمایا۔
چوتھا اجلاس: ۱۶؍اکتوبر صبح دس بجے سے اذان جمعہ تک منعقد ہوا۔
صدارت: حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد معاون امیر مرکزیہ نے فرمائی۔ تلاوت: قاری محمد ارشد مانسہرہ۔ نعت: طارق حفیظ جالندھری، سید سلمان گیلانی، بلال ہاشمی۔ خطاب: مولانا محمد راشد مدنی ٹنڈو آدم، قاری کامران احمد حیدر آباد، مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، مولانا نعمت اللہ گمبٹ، جناب ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نائب امیر جماعت اسلامی لاہور، مولانا سعید احمد جلالپوری امیر مجلس کراچی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ، مولانا محمد عالم طارق چیچہ وطنی۔ مہمانانِ خصوصی: مولانا مفتی محمد حسن جامعہ مدنیہ جدید لاہور، جناب رضوان نفیس لاہور، جناب صاحبزادہ عزیز احمد۔ خطبہ جمعہ و امامت جمعہ: مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ۔
اختتامی اجلاس: اختتامی اجلاس بعد از نماز جمعہ شروع ہوا۔
صدارت: مولانا قاری محمد یٰسین مہتمم جامعہ دارالقرآن فیصل آباد۔ مہمان خصوصی: پیر طریقت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی ملتان، مولانا محمد یوسف اوّل مہتمم دارالعلوم فیصل آباد۔ تلاوت: قاری مسعود احمد صدیق فیصل آباد۔ نعت: سید سلمان گیلانی لاہور، جناب حافظ ابوبکر کراچی۔ خطاب: مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ راولپنڈی، مولانا عطاء الرحمٰن وفاقی وزیر سیاحت اسلام آباد، مولانا محمد حنیف جالندھری ناظم اعلیٰ وفاق المدارس ملتان۔ قراردادیں: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان۔ سٹیج سیکرٹری: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ۔ اختتامی دعاء: مولانا مطیع الرحمٰن درخواستی خان پور۔
قبل از عصر دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ فالحمد للہ اوّلاً و آخراً!
سیکورٹی انتظامات مجلس مانسہرہ کے امیر عبدالرؤف اور فیصل آباد کے حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز الرحمٰن رحیمی کی سربراہی میں مثالی رہے۔ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد علی صدیقی، سٹیج سیکرٹری رہے۔ مولانا محمد اسماعیل صاحب نے نگرانی فرمائی۔
کانفرنس کے جملہ انتظامات کی نگرانی مولانا عزیز الرحمٰن، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے کی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی توجہات، دعاؤں، سرپرستی، حضرت ناظم اعلیٰ صاحب کی ہدایات کی روشنی میں تمام احباب نے بھر پور جدوجہد کی۔ فالحمد للہ!
آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی جھلکیاں:
- ☆...... کانفرنس کا آغاز ۱۵؍اکتوبر ۲۰۰۹ء ۱۰؍ بجے معاون امیر مرکزیہ حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کی دعاء سے ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات دیکھنے میں آئے۔
- ☆...... اجتماع میں اکابرین ختم نبوت اور تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا تذکرہ بھی ہوتا رہا ہے۔
- ☆...... پنڈال کو خوبصورت بینروں اور پرچموں سے سجایا گیا تھا۔ بینروں پر قانون توہین رسالت میں ترمیم نامنظور نامنظور اور مرزا
قادیانی اور قادیانی نواز لابیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔
- ☆...... اسٹیج پر تمام مکاتب فکر کے علماء کرام ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے رہے۔ کانفرنس کا پنڈال اتحاد امت اور باہمی اخوت کی
مثالی منظر کشی کر رہا تھا۔
- ☆...... دریائے چناب کا پل فلیکس اور پول بینروں سے سجایا گیا تھا۔
- ☆...... سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد قاسم رحمانی اور مولانا محمد علی صدیقی نے سرانجام دیئے۔
- ☆...... حسب سابق عصر کی نماز کے بعد سوال و جواب کی نشست کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے جو کہ عقیدہ ختم نبوت ، حیات
عیسیٰ علیہ السلام ، ظہور مہدی اور فتنہ قادیانیت کے متعلق شرکاء کے تحریری سوالات کے جوابات دیتے رہے۔
- ☆...... مغرب کی نماز کے بعد معروف روحانی شخصیت مولانا قاضی ارشد الحسینی نے بیان کیا اور مولانا میاں محمد اجمل قادری نے مجلس ذکر کرائی۔
- ☆...... شرکاء کے لئے استقبالیہ، پارکنگ، رہائشوں ، واٹر سپلائی، فری ڈسپنسری اور خورونوش کا انتظام کیا گیا تھا۔
- ☆...... کانفرنس کے داخلی راستوں پر خوش آمدید کے بینرز آویزاں کئے گئے تھے۔
- ☆...... کانفرنس میں سکولز، کالجز، دینی مدارس کے طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں شریک ہوئے۔
- ☆...... مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور ان کی ورکنگ ٹیم نے حاضرین، مندوبین اور مقررین کا مثالی استقبال کیا۔
- ☆...... کانفرنس کے پنڈال پر خفیہ اداروں اور پولیس انتظامیہ نے محاصرہ قائم کر رکھا تھا۔
- ☆...... مختلف علاقوں سے کارکنان ، ختم نبوت، نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، تاجدار ختم نبوت زندہ باد، خاتم الانبیاء مصطفیٰ مصطفیٰ اور بخاری تیرا
قافلہ رواں دواں ، رواں دواں کے نعرے بلند کرتے ہوئے قافلوں کی شکل میں پنڈال میں پہنچے۔
- ☆...... سیکیورٹی کے پیش نظر مرکز ختم نبوت کی ملحقہ سڑکوں کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا اور جگہ جگہ پر پولیس انتظامیہ نے عارضی چیک
پوسٹیں قائم کر رکھی تھیں۔ شرکاء کو جامہ تلاشی کے بعد واک تھرو گیٹس سے گزار کر پنڈال میں جانے کی اجازت دی گئی۔
- ☆...... کانفرنس میں صحافیوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے پورے انہماک اور ہمہ تن گوش ہو کر مقررین کے بیانات
سماعت کئے۔
- ☆...... ہجوم زیادہ ہونے کی وجہ سے امسال اسٹیج مغربی جانب کی بجائے شمالی جانب بنایا گیا۔
- ☆...... سرگودھا، چنیوٹ اور چناب نگر کے مضافاتی علاقوں سے مجاہدین ختم نبوت کے جانباز کارکن موٹر سائیکلوں، ٹرالیوں، کاروں کے
ذریعے پنڈال میں پہنچے۔
- ☆...... کانفرنس میں سامعین، مجاہدین ختم نبوت پر قادیانی مظالم کی داستانیں سن کر آبدیدہ ہو گئے۔
- ☆...... کانفرنس کی مکمل کاروائی انٹرنیٹ پر بھی نشر کی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... مقررین اپنے بیانات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد مسلسل اور پرامن تبلیغی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔
- ☆...... معروف نعت خوانوں کی طرف سے دربار رسالت ﷺ میں خراج عقیدت پیش کرنے پر سامعین پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔
- ☆...... بجلی کے بحران کے باعث ہیوی جنریٹروں کا انتظام کیا گیا تھا۔ جو رات کو بھی روشن دن کا سماں پیش کررہے تھے۔
- ☆...... سیکورٹی کے حوالہ سے رضا کاران ختم نبوت کا ڈسپلن مثالی تھا۔
- ☆...... خطبہ جمعہ اور امامت کے فرائض مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے سرانجام دیئے۔
- ☆...... نماز جمعہ کے موقع پر وسیع وعریض پنڈال تنگ پڑنے پر شرکاء نے سڑکوں اور نئے خرید کردہ پلاٹ اور مدرسہ ختم نبوت کی چھتوں پر نماز جمعہ ادا کی۔
- ☆...... حاضرین کے لئے خوردنوش کا وسیع پیمانے پر انتظام کیا گیا تھا۔ قاری محمد ابراہیم کے رفقاء نے نگرانی کے فرائض سرانجام دیئے۔
- ☆...... کانفرنس کے منتظمین نے خوردنوش کے سلسلہ میں تجربہ کار ٹیموں کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔
- ☆...... ماہنامہ لولاک ملتان اور ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے لئے عارضی کیمپوں میں شرکاء سالانہ رقوم جمع کراتے رہے۔
- ☆...... شرکاء احتساب قادیانیت، تحفہ قادیانیت، قادیانی شبہات کے جوابات، خطبات امیر شریعت، کلیات اشعر کے سیٹ خریدتے رہے۔
- ☆...... کانفرنس کے باہر بک سٹالوں نے اردو بازار کا منظر پیش کیا۔ شائقین رد قادیانیت پر مختلف مصنفین کی کتب خریدتے رہے۔
- ☆...... رضا کاران شرکاء کے ساتھ خوش اسلوبی اور خوش خلقی کے ساتھ پیش آتے رہے۔
آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منظور ہونے والی قراردادیں:
- ☆...... یہ اجتماع ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی قادیانیت نوازی کی پرزور مذمت کرتا ہے اور برملا کہتا ہے کہ اگر الطاف حسین نے مرزائیت نوازی ترک نہ کی تو وہ نائن زیرو سے زیرو پر آجائے گا۔
- ☆...... یہ اجتماع ملک بھر کے خطباء سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ہر ماہ کا ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کی عظمت اور تردید قادیانیت کے لئے وقف کریں تاکہ پاکستان کی نسل نو کو قادیانی فتنے کی سنگینی کا احساس دلایا جاسکے۔
- ☆...... قادیانیوں نے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اپنی عبادت خانوں پر قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں جو کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور توہین ہے۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانی عبادت گاہوں سے قرآنی آیات کو محفوظ کیا جائے۔
- ☆...... قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے حرمین شریفین کا سفر کرتے ہیں۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ حرمین شریفین میں قادیانیوں کا داخلہ روکنے کے لئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈوں میں مذہب کے خانے کا اندراج کیا جائے۔ یا سعودی حکومت کی طرح غیر مسلموں کے شناختی کارڈوں کا رنگ مختلف کیا جائے۔
- ☆...... تعلیمی اداروں میں قادیانی طلبہ وطالبات کی ارتدادی سرگرمیاں حد سے تجاوز کررہی ہیں اور قادیانی سکولز اور کالجز کے داخلہ فارموں میں درج مذہب کے خانہ میں اپنے آپ کو مسلمان لکھتے ہیں۔ کانفرنس کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں داخلہ فارموں میں درج مذہب کے خانہ کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی عظمت واہمیت اور مرزا قادیانی کے کفر وارتداد پر مشتمل حلف نامے کا اندراج کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ تعلیمی نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کے متعلق مضامین اور اسباق شامل کئے جائیں ۔ تاکہ نسل
نو میں تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے سلسلہ میں شعور پیدا کیا جاسکے ۔
- اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر ، عاصمہ جہانگیر اور اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کیطرف سے توہین رسالت
قوانین کے خاتمہ سے متعلق بیانات سامنے آئے ہیں ۔ یہ اجتماع واضح کرتا ہے کہ ناموس رسالت کا مسئلہ ہمیں اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے اور پوری امت مسلمہ گستاخ رسول کی شرعی سزا ، سزائے موت پر یکجان ہے ۔ لہذا تعزیرات پاکستان کی دفعات 295-A ، 295-B اور 295-C میں کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ برداشت نہیں کرے گی ۔
- حکومت نے تمام اقلیتوں کے اوقاف سرکاری تحویل میں لئے ہوئے ہیں ۔ لیکن قادیانی اوقاف حکومتی تحویل میں نہیں لئے گئے ہیں ۔
یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دوسرے غیر مسلموں کے اوقافوں کی طرح قادیانی اوقاف کو بھی حکومتی تحویل میں لیا جائے ۔
- چناب نگر کی سرزمین پر قادیانیوں نے اسرائیلی طرز پر ظالمانہ نظام قائم کر رکھا ہے ۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ چناب
نگر کی زمین ہر شخص کو خریدنے اور کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے اور انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے قادیانیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔
- قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے اسلامی شعائر اور مسلمانوں کے مذہبی علامات کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ اجتماع
حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر مؤثر عمل درآمد کرایا جائے اور قادیانیوں کو اسلام کا ٹائٹل استعمال کرنے سے روکا جائے ۔
- قادیانی رسائل و جرائد ملکی قوانین اور عالم اسلام کے خلاف شعلہ افشانیاں کر رہے ہیں ۔ لہذا قادیانی اخبارات و جرائد کی
ڈکلریشنیں منسوخ کی جائیں ۔
- کانفرنس کا یہ عظیم اجتماع ملک پر ڈرون حملے اور کیری لوگر بل کو پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف ایک منظم سازش کا
حصہ سمجھتا ہے اور حکمرانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ قبائلی علاقہ جات پر ڈرون حملے بند کئے جائیں اور امریکہ کے سامنے جرأت مندانہ مؤقف اپناتے ہوئے کیری لوگر بل کو مسترد کیا جائے ۔
- پورا ملک دہشت گردی اور بیرونی ایجنسیوں کی زد میں ہے ۔ یہاں تک کہ حکومتی ادارے بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں ۔ یہ
اجتماع جی ایچ کیو راولپنڈی سمیت لاہور اور پشاور میں ہونے والے خودکش حملوں کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ دہشت گردی کے اصل اسباب و محرکات تلاش کر کے ملکی ڈیفنس کو مضبوط کیا جائے اور بلیک واٹر تنظیم پر پابندی عائد کی جائے ۔
- حساس عہدوں پر تعینات سکہ بند قادیانی ملکی سلامتی و استحکام کے لئے خطرہ ہیں ۔ لہذا سول اور فوج کے تمام عہدوں سے
قادیانیوں کو ہٹایا جائے ۔
- یہ اجتماع ملک میں جاری بجلی کے بحران ، طویل لوڈ شیڈنگ اور کمر توڑ مہنگائی کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا
ہے کہ بجلی کے بحران پر فی الفور قابو پایا جائے اور بجلی کے بلوں میں ناجائز اضافہ واپس لیا جائے اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کر کے گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ گیس اور پانی کے متوقع بحرانوں سے نمٹنے کے لئے منظم بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔
- پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور ہزاروں مسلمانوں نے اس کے حصول کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ لہٰذا اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان میں اسلامی شرعی نظام نافذ کیا جائے اور سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے۔
- ”اسلامی نظریاتی کونسل“ حکومت کا قائم کردہ ادارہ ہے۔ لہٰذا ان کی سفارشات کی روشنی میں مرتد کی شرعی سزا کے نفاذ کا فی الفور اعلان کیا جائے۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ عظیم اجتماع شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر گوجرانوالہ، مولانا قاری حبیب احمد عمر جہلم، مولانا علی شیر حیدری خیر پور میرس، حکیم عبداللطیف اٹھارہ ہزاری، مولانا سید امیر حسین گیلانی اوکاڑہ، مولانا قاری محمد اقبال اختر نقوی رینالہ خورد، مولانا عطاء الرحمن شہباز سمندری، ڈاکٹر دین محمد فریدی کے دو نواسے، مولانا غلام فرید دریا خان، مولانا مسعود احمد کوٹ ادو، اہلیہ مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی ٹوبہ ٹیک سنگھ، قاری غلام غوث شجاع آبادی، حافظ منظور احمد قریشی سیالکوٹ اور دیگر تمام وفات شدگان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے لواحقین اور پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتا ہے اور مرحومین کے لئے بلندی درجات کے لئے دعا گو ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۹ء ص ۲۸ تا ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس سبی
کوئٹہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ اور سبی کے زیر اہتمام ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء بروز جمعرات سبی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، نماز عشاء کے بعد تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا، تلاوت مولانا محمد یوسف نقشبندی نے کی، نعت شریف حافظ محمد ہارون متعلم مدرسہ صدیق اکبر نے پیش کی۔ کانفرنس کے شرکاء سے مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور نے خطاب کیا، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت، اسلام کا بنیادی اور مرکزی عقیدہ ہے، تحفظ ناموس رسالت قانون میں ترمیم غیرت ایمانی کے خلاف ہے، حکومت تحفظ ناموس رسالت کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اپنا کردار ادا کرے، مولانا عطاء اللہ مرکزی رہنما جمعیت علماء اسلام سبی کی دعا پر پروگرام ختم ہوا، پروگرام کی صدارت سبی مجلس کے امیر حاجی داؤد صاحب نے کی، اس کانفرنس میں عوام الناس نے بھر پور شرکت کی۔ پروگرام کا انتظام مولانا عبدالغفار مہتمم مدرسہ صدیق اکبر نے کیا، رب کریم تمام علماء اور احباب کی سعی کو قبول فرمائے۔
حاجی داؤد صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت سبی کے ساتھ خصوصی نشست :
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے معزز مہمان علماء کرام کی ایک خصوصی نشست حاجی داؤد صاحب سے ہوئی، اس نشست میں حاجی صاحب نے اکابر علماء کرام کے تحفظ ختم نبوت کے لئے مثالی کردار کا تذکرہ کیا جن میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا عبدالشکور دین پوری، مولانا عبدالستار تونسوی مدظلہ شامل ہیں۔ حاجی صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام علماء کرام دین اسلام کے تحفظ کے لئے شمشیر بے نیام تھے، ان کی زندگی ایک کھلی کتاب تھی۔
۳۰؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء بروز جمعہ مولانا محمد راشد مدنی نے سبی شہر کی مکی مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا، مولانا محمد یوسف نقشبندی نے چونگی والی مسجد میں خطبہ جمعہ دیا۔ علماء کرام نے اپنے اپنے بیان میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، ناموس رسالت کا تحفظ اور حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے مسئلہ کو واضح کیا اور عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ ہر وقت ناموس رسالت کے لئے تیار رہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عزیز الرحمٰن ثانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور نے کوئٹہ شہر کی جامع مسجد گول سیٹلائٹ ٹاؤن میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا، مولانا قاضی احسان احمد نے کوئٹہ شہر میں جامع مسجد گول (فاطمۃ الزہرا) نواں کلی میں جمعہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کیا۔
۳۱؍ اکتوبر بروز ہفتہ صبح دس بجے مجاہد ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت کے جانباز، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے قافلہ حق وصداقت کے پاسبان، جناب حاجی محمد طفیل احرار سے ایک یادگار، جذبہ عشق رسالت سے سرشار پُر وقار ملاقات ہوئی۔
حاجی محمد طفیل احرار، قادیان گورداسپور ۱۹۲۰ء میں پیدا ہوئے، مجلس احرار ہند کے زیر اہتمام ۱۹۳۴ء میں منعقد ہونے والی پہلی تبلیغی کانفرنس میں شریک ہوئے، جس وقت ان کی عمر تقریباً چودہ سال تھی، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری کا تذکرۂ خیر بار بار کرتے رہے۔
حاجی صاحب نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجلس احرار اسلام ہند کی محنتوں سے قادیان میں قادیانی منہ چھپاتے پھرتے تھے، جب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا نام آتا قادیانیوں پر غش طاری ہو جاتی، مجلس احرار محنتی، بہادر اور جانبازوں کی جماعت کا نام تھا اور اب الحمد للہ! ختم نبوت کے جانباز سپاہی، مبلغین اور خدام اس بیڑے کو چلائے پھر رہے ہیں۔ حاجی محمد طفیل نے کہا کہ قادیان کی سرزمین پر احرار ایک قابل عزت نام تھا۔ انہوں نے کہا کہ کائنات کا وجود ختم نبوت کے عقیدہ کو ماننے سے ہے جو اس عقیدہ کو نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ میرا تو ایمان، یقین، جذبہ عشق رسالت ہے یہ کہ جو کوئی ختم نبوت کے تحفظ کا کام نہیں کرتا، میں تو اسے انسان ہی نہیں سمجھتا، حاجی صاحب نے کہا کہ یہ کام بہت بلند اور عظمت والا کام ہے۔ حاجی صاحب نے بتایا کہ تبلیغی کانفرنس ۱۹۳۴ء میں دھنی رام ہندو جلسے میں آیا، میں نے کہا دھنی رام تم کہاں؟ اس نے کہا: ”شاہ جی کا قرآن سننے آیا ہوں“ حاجی صاحب نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ شاہ صاحب کا قرآن سن کر درخت بھی جھومتے تھے۔ بہر حال مجھے بہت خوشی ہوئی آپ سب ختم نبوت کا کام کرتے ہیں اور میرے گھر پر ختم نبوت کی نسبت سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے اللہ پاک ہم سب کو مرتے دم تک حضور ﷺ کی عزت کا تحفظ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
وفد ملاقات سے فارغ ہونے کے بعد حافظ حسین احمد کے مدرسہ مطلع العلوم گیا، جہاں پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق طلباء کرام اور اساتذہ عظام میں بیان ہوا مولانا محمد راشد مدنی نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع، نزول اور حیات کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی اور حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا عقیدہ بھی بیان کیا۔
کوئٹہ شہر کی مرکزی جامع مسجد (جس کے خطیب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن مولانا انوار الحق حقانی ہیں) میں مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا اور عوام الناس کو اکابرین ختم نبوت کی ایمان افروز داستان سنا کر ختم نبوت کا کام کرنے پر تیار کیا اور الحمد للہ تمام سامعین نے ہاتھ اٹھا کر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس کام کو کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔
۳۱؍ اکتوبر بعد نماز مغرب مدرسہ تجوید القرآن میں مولانا محمد راشد مدنی نے ردِ عیسائیت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان پر بہت جاندار، مدلل اور پُرکشش بیان کیا مولانا عزیز الرحمٰن، مولانا محمد یوسف، مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر جماعتی احباب نے نماز عشاء جامع مسجد عثمانیہ میں ادا کی جس میں مولانا سے ملاقات کر کے اگلا نظم طے کیا گیا۔
یکم؍ نومبر بروز اتوار صبح دس بجے مجلس کا وفد مدرسہ مفتاح العلوم پہنچا، جہاں پر علماء اور طلبا کرام سے مولانا محمد راشد مدنی، مولانا قاضی احسان احمد نے تفصیلی خطاب کیا طلبا اور علماء کرام سے مشترکہ طور پر ایک درخواست کی گئی کہ اسلام کی سربلندی اور تحفظ کی اصل ذمہ
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۹ء
داری اہل حق علماء کرام پر عائد ہوتی ہے۔ اس لئے علماء کرام کم از کم مہینہ کا ایک جمعہ ختم نبوت کے عنوان پر ضرور پڑھائیں اور طلباء کرام مقامی دفتر سے رابطہ میں رہیں لٹریچر ، رسائل اور کتب سے مطالعہ کر کے اپنے تعلیمی شعبہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں، مدرسہ کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی کے اختتامی کلمات اور دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
یکم نومبر نماز عصر مولانا قاضی احسان احمد نے طوبیٰ مسجد میں ادا کی اور درس قرآن کریم دیا، مولانا نے اپنے درس میں کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کائنات کے آخری نبی ہیں ، آپ ﷺ کے بعد رب العزت کسی کو منصب نبوت سے سرفراز نہیں فرمائیں گے، مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے عقیدہ کا تحفظ کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے نماز عصر کے بعد سنہری مسجد کوئٹہ میں خطاب کیا ، انہوں نے سامعین کو بتایا کہ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ”میں انبیاء علیہم السلام میں سے سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد نبوت نہیں بلکہ خلافت ہے اب کوئی نبی نہیں آسکتا ۔“ نماز مغرب کے بعد جامع مسجد بلال جامعہ رحیمیہ نیلا گنبد میں مولانا محمد راشد مدنی کا خطاب ہوا ، انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ”عنقریب میری امت میں تیس کذاب، دجال پیدا ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک جھوٹا مدعی نبوت ہوگا“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد نبوت کے منصب کو کوئی نہیں پا سکتا “ نماز عشاء کے بعد مولانا عزیز الرحمن ثانی نے جامع مسجد عثمانی میں خطاب کرتے ہوئے اہل علاقہ کو ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے کی دعوت دی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۰/ نومبر ۲۰۰۹ء ص ۱۹ تا ۲۱)
سہ روزہ شعور ختم نبوت کورس خان پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خان پور کے زیر اہتمام جامعہ قاسم العلوم والخیرات دین پور شریف ضلع رحیم یار خان میں یکم تا ۳/ نومبر ۲۰۰۹ء کو پیر طریقت مولانا میاں محمد مسعود صاحب سجادہ نشین دین پور شریف کی زیر سر پرستی سہ روزہ شعور ختم نبوت کورس منعقد کیا گیا، جس کی نگرانی حضرت مولانا خلیل الرحمن درخواستی جامعہ مخزن العلوم خانپور نے فرمائی ۔
کورس کا دورانیہ صبح ۸ بجے تا ۱۲ بجے تک اور دوپہر ۲ بجے سے ۴ بجے تک تینوں دن رہا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے حیات عیسیٰ، حضرت مہدی ، کی آمد ، تحریک ختم نبوت کی سرگزشت دور نبوی سے لے کر عصر حاضر تک اور علمائے دیوبند کا کردار ، مرزا قادیانی اور فتنہ قادیانیت کا تعارف اور سرگرمیاں پر تین روز تک مختلف نشستوں میں سیر حاصل گفتگو کی اور حاضرین علماء اور شہری طلباء نے بھر پور استفادہ کیا ۔
ان کے علاوہ مولانا عبدالکریم ندیم ، مولانا غلام رسول دین پوری اور مفتی رفیق احمد قاسمی نے بھی ایک ایک گھنٹہ کے دروس ارشاد فرمائے ۔ اس سہ روزہ شعور ختم نبوت کورس میں ۱۸ حضرات نے شرکت کی ، جن میں اکثریت علماء کرام کی تھی ، عوام اور طلباء نے ایمانی غیرت اور نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے نہایت دلجمعی ، شوق اور لگن سے ان دروس کو سنا اور لکھتے بھی رہے۔ اختتامی تقریب آخری روز بعد نماز ظہر منعقد ہوئی جس میں حضرت مولانا خلیل الرحمن درخواستی مدظلہ نے شرکت کی ۔ اختتامی کلمات اور دعا حضرت مولانا مفتی عبدالمجید دین پوری مدظلہ رئیس دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کروائی اور کورس کے شرکاء میں لٹریچر اور کتب تقسیم کیں ، جو نو جوان علماء کرام اس ایمانی کورس کے لئے اپنی مسلسل محنتوں اور کوششوں سے مصروف عمل رہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے اور استقامت نصیب فرمائیں ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/ جنوری ۲۰۱۰ء ص ۲۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۰ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سال نو کی پہلی خوشخبری
۷؍ جنوری ۲۰۱۰ء مطابق ۲۰؍ محرم الحرام ۱۴۳۱ھ جمعرات کو ڈیرہ غازی خان شہر کے قریب قصبہ کوٹ ہیبت کے قادیانی اپنے ایک اللہ دتہ قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر رہے تھے کہ کسی مسلمان نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرگرم کارکن قاری محمد اسماعیل کو فون پر اطلاع کی، قاری صاحب فون سنتے ہی قبرستان پہنچ گئے۔ قادیانی اپنے مردہ کو قبر میں اتار ہی رہے تھے کہ قاری صاحب نے قادیانیوں کو خبردار کیا: ”رک جاؤ! یہ مسلمانوں کا قبرستان ہے، اگر تم نے اپنا یہ مردہ دفن کیا تو ہم ایک گھنٹہ میں اس کو قبر سے نکال کر باہر پھینک دیں گے۔“ یہ خبر پھیل گئی اور علاقہ کے مسلمان بھی قبرستان میں پہنچ گئے۔ مسلمانوں کے ان جذبات کو دیکھ کر قادیانی اپنا مردہ واپس لے جانے پر مجبور ہوگئے۔ اس واقعہ کی اطلاع مولانا عبدالرحمن غفاری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ڈیرہ غازی خان نے ڈی ایس پی سیف اللہ خٹک کو فون پر کر دی، ان کے حکم پر صدر تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس کو دیکھ کر قادیانی اور بھی بوکھلا گئے اور اپنا مردہ واپس لے گئے۔ اس واقعہ کے بعد جامع مسجد پیارے والی ڈیرہ غازی خان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس ہوا، جس میں مولانا محمد اسحاق، مولانا غلام اکبر ثاقب، قاری محمد اسماعیل، مولانا عبدالعزیز لاشاری، مولانا عبدالقدوس چشتی، مولانا محمد اسلم سلمی اور دیگر علماء کرام شریک ہوئے اور اجلاس میں کوٹ ہیبت کے مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ڈیرہ غازی خان کی پولیس کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔ واضح رہے کہ ۱۹۸۴ء سے آج تک ضلع ڈیرہ غازی خان کی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کے قبرستانوں سے قادیانیوں کے ۳۵ مردے نکال چکی ہے۔ یہ سب مولانا صوفی اللہ وسایا کی محنت کا ثمرہ ہے کہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے مسلمانوں کے دلوں میں قادیانیوں کے خلاف ایسے جذبات پیدا ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص۴۰)
توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاجی ریلی
۲۹؍ جنوری ۲۰۱۰ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے زیر اہتمام جامع مسجد الصادق سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا مقصد ناروے اور ڈنمارک میں آنحضرت ﷺ کے توہین آمیز خاکے چھاپے گئے تھے ان کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ ریلی کی قیادت مولانا محمد اسحق ساقی نے کی۔ مولانا نے فرمایا کہ مسلمان کے اندر تمام خرابیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کا غدار نہیں ہو سکتا۔ اللہ رب العزت کا ضابطہ ہے کہ اپنے گستاخ کو تو مہلت دیتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے باغی سے کوئی رعایت نہیں۔ مسلک اہلحدیث کے ترجمان نے کہا کہ ہم سب کچھ برداشت کریں گے نبی کے باغی کو برداشت نہیں کریں گے۔ علامہ محمد ریاض چغتائی نے کہا کہ اس اجتماع کی وساطت سے گورنمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان ممالک سے ہر قسم کے تعلقات ختم کئے جائیں۔ جماعت اسلامی کے نمائندہ ندیم ہاشمی نے بھی عوام سے اور گورنمنٹ سے مطالبہ کیا کہ تمام قسم کے تعلقات ختم کئے جائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص۵۲، ۵۳)
(توہین رسالت پر مبنی ایس ایم ایس کرنے پر) توہین رسالت کی سزا
گزشتہ ایک عرصہ سے اسلام دشمن قوتوں نے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے، چنانچہ ایک طرف اگر بین الاقوامی طور پر یہود و نصاریٰ نے توہین آمیز خاکے بنانے اور ان کی اشاعت کا ناپاک اور غلیظ مشغلہ اپنا رکھا ہے تو دوسری طرف ان کی تقلید میں پاکستان کے قادیانیوں اور عیسائیوں نے بھی مسلمانوں کو کرب و اذیت میں مبتلا کرنے کے لئے موبائل فون پر توہین رسالت پر مبنی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیغامات کی صورت میں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے اور ان کو مشتعل کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔
چنانچہ متعدد پیر و جوان اور مرد و خواتین کی جانب سے آئے دن اس قسم کی شکایات سننے میں آرہی ہیں کہ نامعلوم موبائل فونوں سے ایسے ایسے غلیظ اور تکلیف دہ پیغام موصول ہو رہے ہیں کہ ان کو زبان پر لانا تو کجا؟ ان کو پڑھنا اور دیکھنا بھی مشکل ہے، بلاشبہ ایک مسلمان گردن کٹوانا گوارا کر سکتا ہے مگر ایسے توہین آمیز پیغامات کو احاطۂ تحریر و بیان میں لانا گوارا نہیں کر سکتا۔
عموماً وہ مسلمان جو ایسی صورتحال سے مجبور ہو کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنان تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں یا وہ براہ راست قانون و عدالت تک رسائی کی طاقت رکھتے ہیں، ایسے حضرات کی معمولی سی ہمت و جرأت سے توہین رسالت کے مرتکب موذیوں کے خلاف کسی حد تک کارروائی ہو جاتی ہے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا بندوبست ہو جاتا ہے، لیکن جو حضرات اتنا بھی ہمت نہیں کرتے یا بیوروکریسی ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے یا پھر پولیس و انتظامیہ ان کا ساتھ نہیں دیتی تو وہ ہاتھ ملتے اور دانت پیستے ہی رہ جاتے ہیں۔
ہم ایسے تمام حضرات کی خدمت میں...... جو دینی و مذہبی اُمور اور بطور خاص ناموس رسالت کے تحفظ کے معاملہ میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں... عرض کرنا چاہیں گے کہ اگر بالفرض آپ کی یا آپ کے خاندان کی عزت و ناموس پر کوئی حملہ کرے یا آپ کے مال و اسباب پر ہاتھ صاف کرنا چاہے تو کیا اس پر بھی آپ ایسی ہی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کریں گے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو کیا خدانخواستہ آقائے دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا معاملہ آپ کی یا آپ کے خاندان کی عزت و ناموس یا مال و دولت کی اہمیت سے بھی کم ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو از راہ کرم اس سلسلہ میں بھی کسی سستی اور کاہلی کو قریب نہ آنے دیا جائے، بلکہ ایسے موذیوں کے خلاف ڈٹ کر میدان میں آ جانا چاہئے ان شاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ اگر بالفرض کسی وجہ سے آپ اس معاملہ میں ناکام بھی ہو جائیں گے تو عنداللہ ضرور سرخرو ہوں گے اور کل قیامت کے دن آقائے دو عالم ﷺ کے سامنے شرمندگی بھی نہیں اٹھانا پڑے گی۔ دیکھئے اسی طرح کے ایک معاملہ میں ایک صاحب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے رابطہ کیا تو بحمد اللہ تمام رکاوٹوں کے باوجود عالمی مجلس کے کارکنان نے توہین رسالت و توہین صحابہ پر مبنی پیغام بھیجنے والے موذی کے خلاف بھرپور قدم اٹھایا اور اس کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیا۔ لیجئے اس سلسلہ کی روزنامہ اسلام اور روزنامہ امت کی بالترتیب خبریں ملاحظہ ہوں:
’’کراچی (کورٹ رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) جنگو خان راجپوت نے توہین رسالت اور توہین صحابہ کے مجرم عیسائی قمر ڈیوڈ کو توہین آمیز ایس ایم ایس بھیجنے کا جرم ثابت ہونے پر ۳۸ سال قید کی سزا سنادی، جب کہ شریک ملزم منور قادیانی کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا گیا۔ ملزم قمر ڈیوڈ نے مدعی مقدمہ مقامی ٹریول ایجنٹ خورشید احمد خان کو موبائل فون پر ایس ایم ایس کے ذریعے توہین رسالت اور توہین صحابہ پر مبنی پیغام بھیجے جس پر کراچی پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو صدر کے علاقے لائنز ایریا سے گرفتار کر لیا جب کہ سم کے مالک منور قادیانی کو پنجاب کے علاقے ساہیوال سے گرفتار کیا گیا۔ عدالت نے ملزم قمر ڈیوڈ کو جرم ثابت ہونے پر ۳۸ سال قید کی سزا سنائی جب کہ ملزم منور قادیانی کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا۔ مقدمے میں مولانا احمد میاں حمادی سمیت ۶ جید علماء کرام گواہ تھے۔ ملزم قمر ڈیوڈ کا وکیل مقدمے کی پیروی کے لئے لاہور سے آتا تھا۔ وکیل استغاثہ منظور احمد میو راجپوت ایڈووکیٹ نے اس موقع پر بتایا کہ ملزم منور قادیانی کی بریت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے کیونکہ ایس ایم ایس کے لئے استعمال ہونے والی سم اسی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔‘‘
(روزنامہ اسلام کراچی مورخہ ۲۶؍فروری ۲۰۱۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج جنوبی جنگو خان راجپوت نے توہین رسالت کے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ قمر ڈیوڈ مسیح نے ۲۰۰۶ء میں موبائل فون سے مدعی خورشید احمد کو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے متعلق توہین آمیز میسج بھیجا، جس پر خورشید احمد نے تھانہ میں قمر ڈیوڈ کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ ملزم کے خلاف علامہ احمد میاں حمادی، قاضی احسان احمد اور رانا محمد انور نے گواہی دی تھی جب کہ مقدمہ کی تفتیش ایس پی چوہدری اسلم نے کی تھی۔ مدعی مقدمہ کی جانب سے تحفظ ختم نبوت کے راہنما اور نامور قانون دان منظور احمد راجپوت پیش ہوئے جب کہ ملزم کی جانب سے پیروی لاہور کے چوہدری سلیم مسیح نے کی۔“
(روزنامہ امت کراچی، مورخہ ۲۶؍ فروری ۲۰۱۰ء)
اس مقدمہ کے تناظر میں جہاں توہین رسالت کے مجرموں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ آئندہ کسی بد بخت نے ایسی شرانگیزی کی تو اس کا انجام بھی قمر ڈیوڈ سے مختلف نہیں ہوگا۔ اسی طرح اس سے مسلمانوں کی بھی ہمت و جرأت میں اضافہ ہونا چاہئے کہ اللہ کے نبی کا باغی ان شاء اللہ قانون کی گرفت سے بچ کر نہیں جاسکتا ، بشرطیکہ ہم تھوڑی سی ہمت و جرأت سے کام لیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۳۱؍ مارچ ۲۰۱۰ء ص ۶،۵)
وہاڑی کے قادیانیوں کو قادیانیت کی تبلیغ پر سزا
وہاڑی قادیانیت کی تبلیغ کرنے پر تین ملزمان کو ۲، ۲ سال قید بامشقت اور پانچ ہزار روپیہ جرمانہ، عدم ادائیگی پر ایک ماہ قید کی سزا دی گئی۔ تفصیل کے مطابق قریبی چک نمبر ۲۱ ڈبلیو بی میں قادیانی یاسین، لطیف، اعجاز اور اقبال قادیانیت کی تبلیغ کر کے مسلمانوں کو مرتد بنانے میں مصروف تھے کہ مذکورہ چک کے قاری خالد محمود، ناصر محمود وغیرہ نے مقامی پولیس کو اطلاع دی۔ جس پر تھانہ ماچھیوال نے ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے قادیانیت کا پرچار کرنے کا لٹریچر ضبط کر کے دفعہ ۲۹۸ سی کے تحت پرچہ درج کرلیا۔ فیصلہ سے قبل ملزم اقبال فوت ہو گیا۔ باقی ملزمان کے خلاف کیس کی سماعت جاری رہی۔ گذشتہ روز سید ہدایت اللہ شاہ سول جج درجہ اول مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ وہاڑی نے جرم ثابت ہونے پر ملزمان یاسین، لطیف اور اعجاز کو ۲، ۲ سال قید بامشقت اور ۵، ۵ ہزار روپیہ جرمانہ، عدم ادائیگی جرمانہ پر ایک ماہ قید کی سزا سنائی۔ استغاثہ کی طرف سے خان عبداللہ خان ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۱۰)
”تلونڈی“ نزد ”الہ آباد“ میں مدعی نبوت
گذشتہ دنوں الہ آباد کے گردونواح میں اکبر اور اس کے بیٹوں میں سے طارق اور محمد علی نے مبینہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ مسلمانوں نے گرفتار کرنے کا مطالبہ انتظامیہ سے کیا۔ انہوں نے لیت ولعل سے کام لیا۔ اسی دوران مسلمانوں نے پر امن احتجاج اور مظاہرہ کیا۔ ملزمان نے مظاہرین کے سامنے دوبارہ گستاخانہ جملے پھر دہرائے۔ جس پر سخت مشتعل نامعلوم افراد نے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس ملزمان کو لے گئی ۔ طارق راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ پولیس نے نبوت کے دعویداروں کے خلاف 295/C کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ درج کر لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۰)
بہاولپور جیل کا قادیانی سپرنٹنڈنٹ اور اس کی سرگرمیاں
بہاولپور بوسٹل جیل کا موجودہ سپرنٹنڈنٹ میاں فہیم الدین قادیانی ہے اور قادیانیت کی تبلیغ میں بھر پور انداز سے مصروف عمل ہے، اس کی تبلیغ میں لالچ اور جبر دونوں طریقے شامل ہیں، ماتحت مسلمان ملازمین کو انتہائی اذیت پہنچاتا ہے، ان کی تنخواہ سے جبراً وصولی کر کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
من پسندوں بھنگیوں کو دیتا ہے۔ ملازمین کے کھانا میں اپنا کھانا جھوٹا کر کے قصداً شامل کر دیتا ہے، قرآن کی تلاوت پر پابندی لگادی تھی، ملازمین نے احتجاج کر کے دوبارہ تلاوت کا معمول جاری کروالیا، اسمبلی میں اپنی جماعت قادیانیت کے لئے دعا اور مرزا قادیانی کے لئے خیر کے جملے استعمال کرتا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ ہاؤس خالی ہے، ایک ڈسپنسری میں مقیم ہے، جہاں پر وہ قادیانیت کی تبلیغ کرتا ہے، ایک ایک بندہ سے ملاقات کرتا ہے، باہر پولیس کا پہرہ ہوتا ہے، ایک مسلمان ملازم کو مرزائی بننے کا لالچ دے چکا ہے، ملازمین اس کی گواہی دیتے ہیں۔ ملازمین اس سے مرعوب ہیں، ملازمین کہتے ہیں کہ: ہم نے بات اوپر تک پہنچائی، لیکن ہماری شنوائی نہیں ہوئی، مجبور ہو کر مذہبی جماعتوں کی طرف رجوع کے لئے نکلے ہیں، ہم ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں، ہمیں کوئی اپنے ساتھ لے کر چلے۔ اس کا داماد اور بیوی جرمنی میں ہیں، کہتا ہے کہ جو قادیانی ہو گا رشتہ بھی دوں گا اور جرمنی بھی بھیج دوں گا۔ جیل ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میاں فہیم الدین جیل سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ سے الگ کیا جائے اور اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی کے مطابق کارروائی کی جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱؍ مئی ۲۰۱۰ء ص ۱۹)
قادیانیت کی تبلیغ پر میر پور خاص کے ۳ قادیانیوں کو قید و جرمانے کی سزا
میر پور خاص سادہ لوح مسلمانوں کو مختلف لالچ دے کر قادیانی مذہب کی طرف راغب کرنے کے الزام میں گرفتار ۳ قادیانی رہنماؤں کو مقامی عدالت نے ۳ سال قید اور ۵۰، ۵۰ ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تقریباً ۲ سال قبل فریادی محمد علی کی مدعیت میں سیٹلائٹ ٹاؤن تھانے پر رزاق مردانی، مسعود اور عبدالغنی کے خلاف دفعہ ۳۴، ۳۲، پی. پی. سی ۲۹۸۔سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، ایف. آئی. آر میں فریادی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ تینوں قادیانی افراد مجھے ورغلا کر منان قادیانی کے گھر قادیان مرکز لے گئے اور قادیانیت کی تبلیغ کی، اس کیس کی سماعت کے دوران الزام ثابت ہونے پر سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ میر پور خاص کی عدالت نے ملزم رزاق مردانی، مسعود اور عبدالغنی کو ۳، ۳ سال قید اور ۵۰، ۵۰ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے، اس حوالے سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے رہنماؤں مولانا حفیظ الرحمن فیض، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا شبیر احمد کرنالوی اور دیگر نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے حق اور سچ کی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رزاق مردانی قادیانی، قادیانیت کا مبلغ ہے جب کہ عبدالغنی اور مسعود سرگرم قادیانی ہیں جو کافی عرصہ سے سادہ لوح مسلمانوں کو مختلف قسم کا لالچ دے کر قادیانیت کی طرف راغب کر رہے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۰ء ص ۲۷)
مجلس کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مولانا عبدالعزیز لاشاری کی دعوت پر تونسہ شریف اور مضافات کا تبلیغی دورہ کیا۔ نیز ڈیرہ غازیخان میں بھی مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے قادیانیت کے کفریہ عقائد اور ملک وملت کے خلاف سازشوں کو طشت از بام کیا۔ مقامی ”فرض شناس“ پولیس آفیسر نے ڈی ایس پی سٹی ڈیرہ غازیخان اقبال چانڈیہ کے حکم پر سرکاری وکیل کی مشاورت سے مذکورہ بالا علماء کرام کے خلاف کیس رجسٹرڈ کیا اور کہا کہ علماء کرام نے قادیانیوں کو کافر کہا ہے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اللہ پاک پولیس کو عقل عطاء فرمائیں جو چوروں، ڈاکوؤں، قاتلوں کے خلاف کیس قائم کرنے سے گریزاں رہتی ہے۔ جب کہ علماء کرام جنہوں نے آئین پاکستان کی دوسری ترمیم مجریہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء اور امتناع قادیانیت ایکٹ مجریہ ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تو ان کے خلاف کیس قائم کر لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۰ء ص۴۴)
احمد پور شرقیہ میں ایک مسلمان کا قتل
احمد پور شرقیہ کے قادیانیوں نے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو دس دس بیس بیس روپے دے کر کہا کہ تم نعرے لگاؤ۔ احمدیت زندہ باد، ختم نبوت مردہ باد، جب مسجد کی طرف جانے والے معصوم بچوں سے پوچھا گیا کہ آپ یہ نعرے کیوں لگاتے ہیں یہ تو ٹھیک نہیں ہیں تو بچوں نے جواب دیا کہ ہمیں شیرو نامی قادیانی کے لڑکوں نے سکھایا ہے اور پیسے دیئے ہیں۔ ریڑھی پر فروٹ بیچنے والے ایک مسلمان عبدالرزاق نے احتجاج کیا تو قادیانی مشتعل ہو گئے اور شیرو قادیانی کے لڑکوں نے فائر کر کے انہیں شہید کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! شہید ایک محنت مزدوری کرنے والا غریب انسان تھا۔ جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ قادیانی اس قسم کی حرکات کر کے ملک میں امن وامان کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بہاولپور کی ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ملزموں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر، دسمبر ۲۰۱۰ء ص۴۰)
مسلم مسجد نور پور کالونی کی واگزاری کی تفصیلی رپورٹ
مسجد دین اسلام کا شعار اور مسلمانوں کی ہمیشہ سے پہچان رہی ہے اور رہے گی، اسی لئے حضور اکرم ﷺ نے اس کا عملی طور پر اہتمام فرمایا کہ ہجرت مدینہ منورہ کے بعد سب سے پہلا اور اہم کارنامہ یہی سرانجام دیا کہ سہل و سہیل نامی دو یتیم بچوں سے زمین خرید فرما کر مسجد نبوی کا سنگ بنیاد رکھا اور مسلمانوں کو بھی مسجد کے فضائل ارشاد فرما کر مساجد بنانے کی تلقین فرمائی۔
الحمد للہ! مسلمان ہر ملک و ہر مقام پر مسجد کی ضرورت محسوس کرتے اور اللہ کی رضا کے لئے تعمیر کرتے ہیں، ایسے ہی احمد نگر ضلع چنیوٹ کے مسلمانوں نے عبادت کی ادائیگی کے لئے نور پور کالونی میں مسلم مسجد کے نام سے مسجد کی بنیاد ڈالی، لیکن قادیانی جو منکرین ختم نبوت ہیں اور مسلمانوں کے کھلے دشمن، ہمیشہ دشمنی اور یہودیانہ حسد کا ثبوت دیتے ہیں، چنانچہ قادیانیوں نے وہاں ایک تنازعہ کھڑا کر دیا تو چنیوٹ کی ضلعی انتظامیہ نے مسجد مقفل کر دی جس کا مسلمانوں کو غایت درجہ کا صدمہ پہنچا خصوصاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین اور کارکنوں کو بہت رنج ہوا۔ مسجد کو بند ہوئے چھ سال کا عرصہ بیت گیا تو اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ اور احمد نگر کے جمیع مسلمانان اور مجلس احرار اسلام و دیگر حضرات نے اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود انتھک سعی بروئے کار لاتے ہوئے درج ذیل خدمات سرانجام دیں۔
۲۴؍ دسمبر ۲۰۰۹ء بوقت ۱۲ بجے دوپہر ڈی سی او ضلع چنیوٹ جناب رانا محمد طاہر خان صاحب سے ملاقات کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد مغیرہ تشریف لے گئے اور مذاکرات کئے۔ پھر ۲؍جنوری ۲۰۱۰ء بوقت ۲ بجے سہ پہر دوبارہ جناب ڈی سی او صاحب سے ملاقات کے لئے مولانا غلام مصطفیٰ اور مہر امتیاز احمد لالی گئے اور مذاکرات کئے لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوا۔
مسلم مسجد، نور پور کالونی واقع احمد نگر ضلع چنیوٹ کی واگزاری کے سلسلہ میں ضلع چنیوٹ کے تمام علماء کرام کے باہمی مشورہ سے جامع مسجد نور الاسلام گول بازار چناب نگر میں اجتماعی جمعۃ المبارک ادا کرنا طے پایا، جس کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں اشتہار چھپوا کر ضلع
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھر میں لگائے گئے اور مختلف علاقہ جات مثلاً احمد نگر، شیر آباد، ڈاور، ٹھٹھہ میاں لالہ، جبانہ، ونوٹی والا، چاہ مخدوماں، چناب نگر، چھنی قریشیاں، کھچیاں، کوٹ وساوا، اچھروال، ریاض آباد، ٹھٹھہ چندو، کوٹ قاضی وغیرہ میں مولانا غلام مصطفیٰ نے اپنے رفقاء کے ساتھ دورے کئے اور لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اجتماعی جمعہ کی ادائیگی کی دعوت دی اور ۷ جنوری ۲۰۱۰ء بروز جمعرات ضلع چنیوٹ کے بڑے بڑے علماء کرام مولانا قاری عبد الحمید حامد (مدیر جامعہ انوار القرآن)، مولانا سیف اللہ خالد (مدیر جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ)، مولانا قاری محمد یامین گوہر، مولانا عبد الوارث، مولانا محمد حسین شاہ، مولانا مسعود احمد سروری، مولانا قاری محمد ایوب، مولانا محمد ادریس، مولانا محمد ثناء اللہ، مولانا قاری عبد الکریم، سید نور الحسن شاہ، مولانا ملک خلیل احمد وغیرہم سے ملاقاتیں کیں۔ بالآخر ۷ جنوری ۲۰۱۰ء کا جمعۃ المبارک اجتماعی طور پر جامع مسجد نور الاسلام میں ادا کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز ساڑھے بارہ بجے ہوا، جس میں ضلع بھر کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے بھر پور شرکت کی اور مختلف علماء حضرات کے بیانات ہوئے۔ ابھی پروگرام جاری ہی تھا کہ ڈی سی او ضلع چنیوٹ رانا محمد طاہر کے نمائندہ نے آکر اعلان کیا کہ جناب ڈی سی او کہتے ہیں کہ آپ کا مطالبہ تسلیم ہے اور وعدہ ہے کہ مسلم مسجد واگزار کر دوں گا۔ یہ اعلان سنتے ہی مسلمانوں نے نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر اور تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے صدائیں بلند کیں۔ ادائیگی جمعۃ المبارک کے ٹھیک تین روز بعد انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا کہ آپ اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں تو ٹھیک ورنہ ۱۵ جنوری ۲۰۱۰ء کا جمعۃ المبارک اجتماعی طور پر پھر اسی طرح احمد نگر میں ہم ادا کریں گے۔
۱۳ جنوری ۲۰۱۰ء بروز بدھ نئے اشتہارات چھپوا کر پھر انتظامیہ کو مطلع کیا گیا تو ضلعی انتظامیہ نے مسلمانوں کے ولولہ اور جوش کو دیکھ کر رانا ابرار حسین کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ کل ۱۴ جنوری ۲۰۱۰ء بروز جمعرات مسجد واگزار کر کے آپ کے حوالے کر دیں گے آپ احتجاجی پروگرام ملتوی کر دیں۔ چنانچہ آج ۱۴ جنوری ۲۰۱۰ء بروز جمعرات حسب وعدہ ڈی سی او چنیوٹ رانا محمد طاہر خان نے مسجد واگزار کرنے کا فیصلہ دے کر مطلع کیا، ادھر علمائے کرام اور مسلمانوں کا قافلہ زیر قیادت مولانا غلام مصطفیٰ مبلغ ختم نبوت چناب نگر، جامع مسجد بلال احمد نگر میں پہنچا ہوا تھا، ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے ڈی سی او کا نمائندہ نوٹیفکیشن کی کاپی لے کر مع سرکاری افسران (جس میں ڈی ڈی او آر چنیوٹ، تحصیل دار چوہدری سرفراز احمد ڈوگر، افتخار بلوچ اور ایس ایچ او چناب نگر تھے) کی بھاری نفری لے کر مسلم مسجد نور پور کالونی احمد نگر پہنچے، ادھر مسجد بلال سے علماء کرام (جس میں مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا سیف اللہ خالد، مولانا قاری عبد الحمید حامد، مولانا محمد مغیرہ، مولانا محمد امین، مولانا صغیر احمد، مولانا محمد اعجاز، مولانا الیاس الرحمٰن، قاری محمد رمضان، قاری عبد الرحمٰن پانی پتی، قاری محمد ایوب) اور مسلمانوں کا وفد اور احمد نگر کی انجمن احیاء سنت و انتظامیہ بلال مسجد بھی وہاں پہنچی۔
ٹھیک ۱۲ بجے دن سرکاری افسران نے مسجد کا تالا کھولا اور علماء کرام و جمیع مسلمانان کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی، چنانچہ تمام حضرات ختم نبوت کے بینرز اور پرچم لہراتے ہوئے جوش و خروش کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے، چونکہ مسجد عرصہ چھ برس سے بند تھی، جس کے نتیجہ میں خودرو جھاڑیاں، اینٹیں اور مٹی کا ڈھیر لگا ہوا تھا، سب سے پہلے مسجد کی صفائی کی گئی، پانی کا چھڑکاؤ کیا اور صفیں بچھائیں گئیں تپائیاں اور قرآن پاک رکھے گئے اور اسپیکر نصب کیا اور سارا مجمع نہایت اطمینان و سکون سے بیٹھا اور علماء کرام کے مختصر بیانات ہوئے، جس میں تلاوت قرآن پاک و حمد و نعت کے بعد قاری عبد الحمید حامد، مولانا سیف اللہ خالد، مولانا محمد مغیرہ، مولانا محمد امین، حافظ محمد عابد، سید انور الحسن شاہ، قاری محمد ایوب، محمد حنیف مغل وغیر ہم نے یکے بعد دیگرے مختصر بیانات کئے۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ نے مفصل گفتگو کی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“ فرمان نبوی کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحت ڈی سی او ضلع چنیوٹ رانا محمد طاہر خان کا شکریہ ادا کیا اور یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے پر اسے خراج تحسین پیش کیا۔ اختتامی دعا مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی کے صدر المدرسین مولانا غلام رسول دین پوری نے کی ، اس کے بعد نماز ظہر ادا کی (آج ) سب سے پہلی اذان بھی مولانا غلام رسول نے کہی پھر باجماعت نماز ظہر ادا کر کے شکرانہ کی نفل ادا کی گئی اور علماء کرام ومسلمانان ضلع چنیوٹ کا عظیم قافلہ نہایت پُر امن طریقے سے خوشی خوشی اپنے گھروں کو روانہ ہوا۔ واپسی پر حضرت مولانا غلام مصطفیٰ مبلغ ختم نبوت چناب نگر نے بمع اپنے رفقاء ڈی ایس پی چناب نگر سے ملاقات کی ، ان کا اور جمیع انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ وصحبہ اجمعین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۳۸ تا ۴۰)
صدر مملکت جناب زرداری صاحب کی خدمت میں آسیہ مسیح کی بابت کھلا خط
۱۴؍ جون ۲۰۰۹ء میں چک نمبر ۳ ارٹانوالی ضلع ننکانہ میں ایک دل دوز سانحہ ہوا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس گاؤں کے ایک زمیندار کا فالسہ کا باغ ہے۔ علاقہ کی عورتیں فالسہ کے باغ سے پھل توڑتی ہیں اور اپنی مزدوری لیتی ہیں۔ ان عورتوں میں آسیہ نام کی ایک مسیحی خاتون بھی تھیں۔ جو اس گاؤں کے ایک سابق فوجی عاشق مسیح کی اہلیہ ہے۔ عاشق مسیح کے گھر میں پہلے سے آسیہ کی بڑی بہن بھی موجود ہے۔ عاشق نے پہلے بڑی بہن سے شادی کی۔ اس سے جوان اولاد ہے ان میں سے بعض کی شادی بھی ہوچکی ہے۔ یہ اب بھی زندہ ہے اور عاشق مسیح کے عقد میں ہے۔ اس دوران میں انہوں نے اپنی اہلیہ کی چھوٹی بہن آسیہ سے شادی بھی رچائی۔ اب دونوں بہنیں ایک شخص کے عقد میں ایک ساتھ رہ رہی ہیں۔
فالسہ کا پھل توڑنے والی عورتوں میں مسلمان عورتیں عافیہ اور عاصمہ سگی بہنیں بھی شریک تھیں۔ آسیہ مسیحی عورت نے عافیہ و عاصمہ کے گلاس سے پانی پیا۔ ان دونوں بہنوں نے اس گلاس سے پانی پینے کی بجائے پیالی میں پانی پیا۔ اس کا آسیہ نے برا منایا اور پھر اس نے رحمت عالم ﷺ کی ذات گرامی سے متعلق دلخراش، اہانت آمیز کلمات کہے۔ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی آنحضرت ﷺ سے شادی مبارک کے بارے میں بھی سخت اہانت آمیز، تحقیرانہ انداز میں واہی تباہی بکی۔ گاؤں کی دونوں مسلمان عورتیں عافیہ و عاصمہ نے یہ سنا تو رونا شروع کر دیا۔ زمیندار جس کا باغ تھا اس کے بیٹے محمد افضل کو انہوں نے یہ واقعہ سنایا۔ اس نے خود آسیہ مسیحی عورت سے بھی پوچھا تو اس ملعونہ نے اعتراف کیا کہ واقعی رحمت عالم ﷺ اور سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو اس نے گالیاں بکی ہیں۔ رفتہ رفتہ بات گاؤں میں پہنچی۔ گاؤں کے امام قاری سلیم نے گاؤں کے لوگوں کی موجودگی میں اس ملعونہ سے پوچھا تو بھی اس ملعونہ نے حضور علیہ السلام کی اہانت کا برملا اعتراف کیا اور ساتھ معافی چاہی۔ گاؤں کی پنچائت نے قرار دیا کہ یہ ملعونہ خود اعتراف جرم کرتی ہے اور یہ جرم ایسا ہے جس کی کوئی مسلمان معافی نہیں دے سکتا۔ لہٰذا اس ملعونہ ملزمہ کو قانون کے سپرد کیا جائے۔
یہ پنچائت ۱۹؍ جون ۲۰۰۹ء کو ہوئی۔ چنانچہ پنچائت کی تحقیقات کے بعد مقدمہ نمبر ۳۲۶/۰۹ زیر دفعہ سی ۲۹۵ تھانہ صدر ننکانہ میں درج ہوا۔ اسی روز پولیس نے ملعونہ آسیہ کو گرفتار کرلیا۔ مقدمہ کی تفتیش ایس پی انوسٹی گیشن شیخوپورہ سیّد محمد امین بخاری نے کی۔ انہوں نے مدعی اور ملزم دونوں پارٹیوں کا موقف سنا۔ گواہوں کے بیانات قلمبند کئے اور اپنی آزادانہ تحقیقات میں ملعونہ آسیہ کو گناہ گار قرار دے کر چالان مکمل کر کے عدالت کے سپرد کیا۔ جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل جج کی عدالت میں ڈیڑھ سال کیس چلتا رہا۔ استغاثہ کے گواہان پیش ہوئے۔ صفائی کے گواہ پیش ہوئے۔ مدعی وملزمہ کے وکیل پیش ہوئے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد فاضل جج نے جرم ثابت ہونے پر
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
۸/نومبر ۲۰۱۰ء کو اسے سزائے موت اور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی ۔ اس سزا کے خلاف مجرمہ آسیہ نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ۔ اس دوران میں کلیسائے روم کے پوپ بینی ڈکٹ نے اخبارات کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ اس ملعونہ کو رہا کیا جائے ۔ پہلے بھی اٹلی اور برطانیہ کے کلیسائے روم میں نصف درجن سے زائد ملعونین مجرمان کو محفوظ رہائش گاہیں اور روزگار فراہم کیا گیا ۔ افغانستان کا مرتد عبدالرحمن ، مصر کی ملعونہ میکیلا شاہنا ، بحرین کا ملعون یاسر الحبیب ، کابل کا صحافی احمد ، سب کلیسائے روم کے تحت مختلف ممالک جیسے اٹلی وغیرہ میں پناہ گزین ہیں ۔
دنیائے مسیحیت کے پوپ ہمیشہ اہم انٹرنیشنل لیول کے مسائل پر اظہار خیال کرتے ہیں ۔ شخصی معاملات میں مداخلت ان کے منصب کے خلاف سمجھی جاتی ہے ۔ اس بار انہوں نے اس ملعونہ کے شخصی کیس میں مداخلت کی ۔ نتیجہ میں پاکستان کے مختلف بشپ صاحبان بھی اس ملعونہ کی رہائی کے لئے بیانات داغنے ، اپیل کرنے لگے ۔ گویا مسلمانوں کے درپے آزار ہوئے ۔
جناب صدر مملکت صاحب ! پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ عہد اقتدار میں بھی یہ واقعہ تاریخ کا حصہ ہے کہ ایک سزا یافتہ ملزم کو جیل سے راتوں رات رہا کر کے بیرون ملک بھجوا دیا گیا ۔ چنانچہ اس کے بعد پورے ملک میں غیر مسلموں کی طرف سے اہانت رسول کے واقعات ہونے لگے ۔ ان ملعونوں نے حکومت پاکستان اور کلیسائے روم کے طرز عمل سے باور کر لیا کہ باہر کے ملکوں کے ویزا و نیشنلٹی کے لئے آسان راستہ یہ ہے کہ پیغمبر علیہ السلام کو گالیاں دو ، اور ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر باہر کا آسانی سے ویزا حاصل کرو ۔ کلیسائے روم اور مسیحی این جی اوز سے کوئی پوچھے کہ چودہ سو سال سے پیغمبر علیہ السلام ، قرآن مجید کے پیرو کار ، امت محمدیہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی صفائی کے وکیل کا کردار ادا کر رہے ہیں یہودیت کے بالمقابل چودہ سو سال سے ، اور ڈیڑھ سو سال سے قادیانی چیف گرو مرزا غلام احمد قادیانی کے بالمقابل کہ یہ دونوں ( یہودی و قادیانی ) سیدنا مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیں ۔ اہانت کریں اور مسلمان ان کے مقابل میں سیدنا مسیح علیہ السلام کی عزت و آبرو کی پاسبانی کریں ۔ آج اس کا کلیسائے روم اہل اسلام کو یہ بدلہ چکا رہا ہے کہ پیغمبر علیہ السلام ، قرآن مجید ، امت مسلمہ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے پیغمبر اسلام کو گالیاں دینے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور پیغمبر اسلام کی عزت و ناموس کے قانون کو ختم کرنے کی مہم زوروں پر ہے ۔ کوئی پوپ صاحب سے پوچھے کہ جناب کیا مغربی ممالک میں سیدنا مسیح علیہ السلام کی عزت کا قانون موجود نہیں ؟ اگر ہے اور یقیناً ہے تو وہ صحیح ، اور پاکستان میں پیغمبر اسلام کی عزت کا قانون غلط ؟ آخر یہ دہرا معیار کیوں ؟ اور پھر طرفہ یہ کہ پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت کا قانون تمام انبیائے صادقین کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے ۔ بایں ہمہ اس پر تنقید کرنا ، سیخ پا ہونا اور اس کو ختم کرانے کے درپے ہونا اور اس کی تنسیخ کے لئے مہم جوئی کرنا ۔ سخت افسوس ناک امر ہے ۔
صدر مملکت پاکستان ! جن حکومتوں نے پہلے اہانت رسول کے مجرمان کو بیرون ملک بھجوایا ان کا انجام دنیا نے دیکھ لیا اور اگر اب کسی نے اسی کردار کو دہرایا تو ان کا انجام دنیا دیکھ لے گی ۔ اس لئے کہ ”با خدا دیوانہ و با محمد ہشیار باش ۔“
جناب عزت مآب صدر مملکت ! کیا کیا جائے اس کا کہ ادھر کلیسائے روم بولا ، ادھر امریکا نے نعرہ لگایا کہ ملعونہ آسیہ کے خاندان کے لئے امریکا ویزا دینے کو تیار ہے ۔ جناب ! کبھی نہ بھولیئے وہی امریکا جس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی مسلمان خاتون کو نمونہ عبرت بنایا ہوا ہے ۔ وہی امریکا ایک مسیحی ملعونہ گستاخ رسول آسیہ کو پناہ دینے کے لئے تیار ہے ۔ آپ کے نمائندہ ہمارے پنجاب کے گورنر جناب سلمان تاثیر کو یہ توفیق تو نہ ہوئی کہ مسلم بیٹی عافیہ کی خبر گیری کرے ۔ لیکن یہ صاحب بہادر ۲۰/ نومبر ۲۰۱۰ء کو ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں جاتے ہیں ۔ پریس کانفرنس کرتے ہیں ۔ ملعونہ آسیہ کو تھپکی دی جاتی ہے ۔ اس کی وکالت کا فریضہ گورنر پنجاب انجام دیتے ہیں ۔ تیار درخواست پر اس کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دستخط گورنر صاحب کراتے ہیں۔ اس کی درخواست آنجناب (صدر مملکت جناب زرداری صاحب) کی خدمت میں خود لے جانے کا اعلان عام ہوتا ہے اور گورنر صاحب کا یہ ارشاد ہوتا ہے کہ میں نے تحقیق کر لی ہے یہ وقوعہ غلط ہے۔ گویا پنچائت کا فیصلہ غلط۔ جناب سلمان تاثیر صاحب (سلمان رشدی کی بات نہیں ہو رہی گورنر پنجاب کا ذکر مبارک ہو رہا ہے) بیرونی دنیا کے سامنے پاکستان کا کیا نقشہ پیش کرتے ہیں کہ پاکستان کا پنچائتی نمبردارانہ نظام، پولیس، عدلیہ سب غلط ہیں۔ جناب تاثیر کی یہ پرتاثیر پاکستان کی خدمت تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ مدتوں اسے گورنر بنانے کے آپ کے مبارک فیصلہ کو خراج تحسین پیش کیا جاتا رہے گا۔
صدر مملکت! آپ سے درخواست ہے کہ اگر فیصلہ غلط ہے تو ہائیکورٹ پھر سپریم کورٹ اور پھر نظرثانی کے تمام مراحل کو یکسر نظر انداز کر کے یہ کیا جا رہا ہے کہ عدلیہ کو گورنری کے عہدہ کی طرح یوں بے توقیر نہ کیا جائے۔ یہ ملک کی خیر خواہی سے میل نہیں کھاتا۔ جان کی امان ملے تو عرض کرنا چاہوں گا کہ جب اس پر ننکانہ صاحب میں ہڑتال ہوئی۔ وکلا نے ہڑتال کی۔ عدالتوں کا بائیکاٹ ہوا۔ عوام سڑکوں پر آئے۔ گویا جہاں وقوعہ وہاں کے سواد اعظم نے گورنر پنجاب کے موقف کو یکسر مسترد کر دیا۔ پنجاب بار کونسل نے گورنر کے اس اقدام کو توہین عدالت قرار دیا۔ خود وزیر اعظم پاکستان نے اس اقدام کو خلاف قانون تسلیم کیا۔ جب سب نے اس موقف کے کذب پر مہر تصدیق ثبت کر دی تو گورنر صاحب نے دوسرا موقف اختیار کیا کہ یہ ضیاء الحق کا قانون ہے۔ بھٹو صاحب کا قانون نہیں۔ لہذا یہ کالا قانون ہے۔
صدر مملکت صاحب! غور فرمائیے یہ کیا فرمایا جا رہا ہے؟ ضیاء الحق کی آڑ میں انبیائے صادقین علیہم السلام بالخصوص پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے قانون کو کالا قانون کہا جا رہا ہے۔
اس قانون کو تبدیل کرنے کے لئے شہباز بھٹی اعلان کر چکے ہیں۔ این جی اوز، عاصمہ جہانگیر، رانجھا صاحب پتہ نہیں کون کون میدان میں اترے کہ قانون کو ختم کیا جائے۔ ان کا جواب ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین نے یہ دیا کہ پورے یورپ میں توہین رسالت کے قوانین موجود ہیں۔ وہاں کیوں احتجاج نہیں ہوتا؟ اور راجہ ظفر الحق صاحب نے کہا کہ یہ قانون رہنے دیا جائے۔ اس کی موجودگی کا ملزم کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔ ورنہ جہاں وقوعہ ہو گا وہاں ردعمل کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
لیکن ان معقول جوابات کے باوجود قانون تحفظ ناموس رسالت ختم کرانے والوں کے جذبات میں جوار بھاٹے کا ابھی تک جوبن موجود ہے۔ محترمہ شیریں رحمان نے قومی اسمبلی میں بل جمع کرایا ہے کہ اس قانون کو ختم یا تبدیل کر دیا جائے۔ کسی وقت اس قانون کو ختم کرنے کی سازش پروان چڑھ سکتی ہے اور وہ دلیل یہ لا رہے ہیں کہ یہ قانون غلط استعمال ہوتا ہے۔
محترم صدر مملکت! آپ سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ اور کون سے قانون ہیں جو غلط استعمال نہیں ہوتے۔ پھر ان کو ختم کرانے کے لئے ہلہ گلہ کیوں نہیں ہو رہا؟ مانا کہ بعض بد نصیبوں نے اسے غلط استعمال کیا ہو گا۔ کیا پولیس کی معاونت کے بغیر غلط پرچہ درج ہو سکتا ہے؟ نہیں! تو پھر پولیس کی سزا کی بات کیوں نہیں ہوتی۔ قانون کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ مدعی و پولیس آنکھیں بند کر کے غلط کیس درج کراتے ہیں تو جناب آپ عدالتوں کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے؟ آخر وہاں جا کر ملزم کی بے گناہی ثابت ہو جائے گی۔ تو غلط کیس درج کرانے والوں کے بارہ میں دفعہ ۱۸۲ سے کام نہیں لیا جا سکتا۔ پورے سسٹم کی موجودگی کے باوجود عدالتی فیصلے کو یوں سبوتاژ کرنا کہ اپیلوں کے فیصلوں سے قبل اس کو رہا کرنا۔ اس کے تصور سے بھی جسم پر کپکپی طاری ہوتی ہے۔
محترم جناب زرداری صاحب! آپ ذرا تصور فرمائیں۔ خدا کرے کہ آپ کے عہد حکومت میں محترمہ بے نظیر کے قتل ناحق کے ملزم سزایاب ہو جائیں۔ ان کی اپیل آپ کے پاس آ جائے۔ کیا عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود آپ ملزموں کی سزا معاف کر دیں گے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
یقیناً اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر توجہ فرمائیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ سے کہیں زیادہ رحمت دو عالم ﷺ کی ذات اقدس کا ایک مسلمان حکمران پر حق ہے۔ آپ اس سے چشم پوشی نہ کریں۔ ورنہ یہ تو حقیقت ہے کہ دنیا چند روزہ ہے۔ ایک اور عدالت بھی ہے اس عدالت کے فیصلہ کو بائی پاس نہ کیا جاسکے گا۔ وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین !
فقیر اللہ وسایا ملتان
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۱ء ص ۴ تا ۷)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ
مولانا قاضی احسان احمد صاحب خوب باصلاحیت آدمی ہیں۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خود چالیس سے پچاس اور فقیر ساٹھ سے ستر کے پیٹے میں ہے۔ وہ مجھے فرماتے ہیں کہ اسی طرح دوڑیں جس طرح میں دوڑتا ہوں ۔ حالانکہ چند قدم پر ہی میرا سانس پھول جاتا ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ عید سے اگلے دن سفر کر کے کراچی پہنچیں۔ وہاں پروگرام طے کر رکھے ہیں۔ ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۰ء کو عید تھی ۔ ۱۹؍ نومبر کو کراچی حاضر ہوا۔ ایک دن اخبار میں خبر پڑھی کہ ملعونہ آسیہ نامی مسیحی خاتون کو ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر ملنے گئے۔ گورنر کی بیٹی بھی ساتھ تھی۔ خیال ہوا کہ گورنر صاحب کی ایک اہلیہ سکھ تھیں۔ سکھوں سے ان کی رشتہ داری ہے تو شاید مسیحوں سے بھی ہو۔ تبھی تو اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر گئے۔ لیکن تفصیل میں گئے تو خبر میں ذکر تھا کہ ملعونہ آسیہ نے اہانت رسول ﷺ کا ارتکاب کیا۔ اس پر کیس چلا۔ سیشن عدالت سے اسے سزا ہوئی۔ تو گورنر اہانت رسول ﷺ کرنے والی مسیحی عورت سے اظہار ہمدردی کے لئے گئے۔ اگلے دن اخبارات میں نیا موضوع ہی یہی خبر تھی۔
اسی شام حضرت مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری کا ملتان سے فون آیا کہ آپ نے خبر پڑھ لی ۔ عرض کیا پڑھ لی ۔ فرمایا کیا کرنا ہے۔ فقیر نے عرض کیا کہ تمام جماعتوں کو اکٹھا کریں جو فیصلہ ہو جائے اس پر عمل کریں ۔ حضرت قاری صاحب نے فرمایا کہ تمام جماعتوں کا مشترکہ اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت طلب کرے۔ فقیر نے عرض کیا کہ جمعیت علمائے اسلام ، وفاق المدارس تعاون کریں تو یہ ڈیوٹی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرانجام دینے کے لئے تیار ہے۔ ورنہ جمعیت علمائے اسلام اجلاس بلائے۔ وفاق اور عالمی مجلس تعاون کریں ۔ قاری صاحب نے فرمایا کہ ملاقات ضروری ۔ عرض کیا کہ دو تین دن تک ملتان ملاقات کے لئے حاضر ہوں گا۔
۲۶؍ نومبر کراچی بعد از عشاء آخری پروگرام تھا۔ ۲۷؍ کو سکھر میں ایک جلسہ تھا۔ ۲۹، ۳۰؍ نومبر ملتان دفتر میٹنگ تھی۔ ۲؍ دسمبر کو قبلہ حضرت قاری محمد حنیف جالندھری سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی کی اردلی میں ملاقات ہوئی۔ وہاں سے حضرت مولانا عبد الغفور حیدری کو فون کیا۔ وہ مولانا ابوالخیر محمد زبیر صاحب کی دعوت پر کراچی تھے۔ مخدوم محترم مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی میں تھے ۔ حضرت مولانا عبد الغفور حیدری دفتر ختم نبوت کراچی تشریف لائے۔ معلوم ہوا کہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی سربراہی میں تحفظ ناموس رسالت محاذ بن گیا ہے اور یہ کہ اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی میں اسلام آباد آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت رکھی جائے ۔
صاحبزادہ صاحب اور حضرت حیدری صاحب نے حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سے رابطہ کیا۔ وہ ایک کانفرنس کے سلسلہ میں کموڈیا میں تھے ۔ چنانچہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے فرمایا کہ ۱۰؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو اسلام آباد میں کانفرنس رکھ لی جائے ۔ ۱۰؍ کو جمعہ تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱،۱۲/رائے ونڈ کا اجتماع ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو صاحبزادہ عزیز احمد صاحب اور مولانا عبدالغفور حیدری نے فون کر کے اگلے روز ۴/دسمبر کو اطلاع دی کہ کانفرنس ۱۵/دسمبر کو اسلام آباد رکھی جائے۔
چنانچہ تفصیلی رپورٹ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم سے عرض کی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم سے رپورٹ عرض کرنے اور دعاؤں کی درخواست کا حکم فرمایا۔ مولانا مفتی ظفر اقبال صاحب سے یہ صورتحال عرض کی۔ اجازت ملنے پر اسی دن ۵/دسمبر کو جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے امیر مولانا رشید احمد لدھیانوی ملتان دفتر تشریف لائے۔ طے ہوا کہ مولانا رشید احمد لدھیانوی صاحب کانفرنس کے اختتام تک کا پورا وقت کانفرنس کی کامیابی کے لئے دیں گے۔ اس دوران میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے مدعوین کی فہرست تیار کر لی جو قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کو دکھا دی گئی۔ انہوں نے حسب صوابدید ترمیم و اضافہ فرمایا۔ وہ فہرست لے کر مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، فقیر راقم ۶/دسمبر کی علی الصبح ملتان دفتر سے روانہ ہوئے۔ ۶/دسمبر کی دوپہر لاہور حاضر ہوئے۔ مولانا عبدالوحید قاسمی، مولانا ہارون الرشید، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا زاہد وسیم کے ذمہ تھا کہ وہ اسلام آباد میں ہوٹل بک کرائیں۔ ہمارے لاہور پہنچنے سے پہلے اسلام آباد سے کنفرم ہو گیا کہ ہوٹل بک ہو گیا ہے۔ چنانچہ لاہور پہنچتے ہی دعوت نامہ ترتیب دیا۔ جو یہ ہے:
دعوت نامہ:
آل پارٹیز
تحفظ ناموس رسالتﷺ کانفرنس اسلام آباد
بتاریخ 15 دسمبر 2010ء بروز بدھ بوقت 10:30 بجے صبح
بمقام ڈریم لینڈ ہوٹل، اسلام آباد کلب روڈ اسلام آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بخدمت عالی جناب مکرم و محترم .............................................................. زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی
آپ کے علم میں ہے کہ اس وقت آسیہ کیس کی آڑ میں تحفظ ناموس رسالتﷺ قانون کو ختم کرنے کے لیے مختلف لابیاں سرگرم عمل ہیں ان حالات میں ضروری ہے کہ پورے ملک کی دینی وسیاسی قیادت بیٹھ کر فیصلہ کرے کہ کس طرح آئین میں تحفظ ناموس رسالتﷺ قانون کو جوں کا توں باقی رکھنا ہے۔ خدا نہ کرے اگر یہ قانون ختم ہوتا ہے تو پھر یہ معاملہ یہاں تک نہیں رکے گا بلکہ سیکولر طاقتیں اور مغربی این۔جی۔اوز پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہوں گی۔ رحمت دو عالم ﷺ کی عزت ناموس کا تحفظ ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے۔ چنانچہ اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے لیے آنجناب سے درخواست ہے کہ بروقت اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ شکریہ
منجانب:
(مولانا) عبدالمجید لدھیانوی (مولانا) سلیم اللہ خان (مولانا) فضل الرحمن امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر وفاق المدارس پاکستان امیر جمعیت علماء اسلام
تاکید مزید: برائے رابطہ: (مولانا) سمیع الحق اکوڑہ خٹک (مولانا) رشید احمد لدھیانوی (مولانا) عزیز الرحمن جالندھری ملتان امیر جمعیت علماء اسلام پنجاب (مولانا) عبدالغفور حیدری اسلام آباد (مولانا) عزیز الرحمن ثانی (مولانا) محمد حنیف جالندھری ملتان مرکزی ناظم اطلاعات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان
دفتر اسلام آباد: 0300-7550481, 0300-5111583
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی شام وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پنجاب کے دیوبندی علمائے کرام کی میٹنگ تھی۔ اس میں پورے پنجاب سے نمائندگی موجود تھی۔ وہاں پھر اپنے مسلک کی تمام قیادت سے ملاقات ہو گئی۔ اس میٹنگ میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مخدوم زادہ مولانا امجد خان صاحب موجود تھے۔ ان سے عرض کیا کہ آپ ملاقاتوں کے لئے وقت لیں۔ مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری سے ملاقات ہوئی۔ طے ہوا کہ کل جامعۃ الخیر لاہور میں ۸ بجے قاری محمد حنیف صاحب سے ملاقات ہو گی۔ اس دوران مولانا محمد امجد خان کا فون آ گیا کہ ۱۱ بجے دفتر جماعت منصورہ ملاقات کا وقت طے ہو گیا ہے۔ ایک بجے جناب قاری بہادر زوار صاحب۔ اس دوران میں تنظیم اسلامی اور منہاج القرآن کے حضرات سے بھی ملاقاتیں ہو جائیں گی۔ رات گئے دعوت نامہ بھی چھپ کر مل گیا۔ لاہور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد عرفان دیول صاحب نے رات ہی دعوت نامہ کو لفافوں میں ڈال کر تیار کر دیا۔
ملاقاتوں کا آغاز :
چنانچہ ۷؍ دسمبر بروز منگل سب سے پہلے جامعۃ الخیر میں سہ رکنی وفد مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، راقم نے مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری سے ملاقات کی۔ فہرست پر دوبارہ غور ہوا۔ پانچوں وفاق المدارس کے ذمہ داران کو دعوت نامہ ارسال کرنا ہمارے ذمہ ٹھہرا۔ ان کی اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانا مولانا قاری محمد حنیف صاحب نے اپنے ذمہ لے لیا۔ چنانچہ سید عطاء المہیمن شاہ صاحب مجلس احرار اسلام، تنظیم اہل سنت، مجلس علمائے اہل سنت کے ۱۳ دعوت نامے قاری محمد حنیف جالندھری کو پیش کئے۔ وہاں سے وفد اٹھا تو تنظیم اسلامی کے سربراہ جناب محترم عاکف سعید سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ دعوت نامہ دیا۔ انہوں نے بھر پور مسرت کے ساتھ شرکت کا وعدہ کیا۔ وہاں سے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ حاضری ہوئی۔ اس موقعہ پر مولانا محمد امجد خان بھی وفد میں شامل ہو گئے۔ چنانچہ چار رکنی وفد نے مولانا عبد المالک خان، سید منور حسن، جناب لیاقت بلوچ، جناب فرید احمد پراچہ سے ملاقات کی۔ ان حضرات کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ میٹنگ ختم کر کے وفد کو وہیں بلا لیا۔ تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ جناب قاضی حسین احمد صاحب کا دعوت نامہ یہاں دے دیا۔
یہاں سے فارغ ہوئے۔ منہاج القرآن دفتر میں حاضری ہوئی۔ جناب فضل الرحمن مسکین درانی، جناب مولانا علی غضنفر کراروی، جناب فرحت حسین شاہ صاحب کو دعوت نامے پیش کئے۔ ان حضرات نے بہت محبتوں سے نوازا۔ یہاں سے فارغ ہو کر مولانا قاری زوار بہادر سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے پاکستان کی خدمت میں حاضری ہوئی۔ ان کو دعوت دی۔ نماز ظہر ہو چکی تھی۔ یہاں پر نماز پڑھی۔ مولانا محمد امجد خان نے وفد کو پر تکلف ضیافت سے ممنون فرمایا۔ یہاں سے فارغ ہو کر حافظ سعید صاحب، مولانا امیر حمزہ الدعوہ کے مرکز میں حاضری ہوئی۔ دونوں حضرات تو ”مرید کے“ تشریف لے جا چکے تھے۔ البتہ دعوت نامے دیئے۔ یہاں سے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے دفتر فون کیا۔ مولانا زبیر ظہیر سے بات ہوئی۔ محترم پروفیسر ساجد میر صاحب نے فرمایا کہ میں تو دفتر سے نکل رہا ہوں۔ آپ دعوت نامہ بھجوا دیں۔ چنانچہ مولانا محمد امجد خان صاحب نے دعوت نامے وصول فرمائے اور یہ طے ہوا کہ مولانا امجد خان، تحریک انصاف، مرکزی جمعیت اہل حدیث، نون لیگ کو دعوت نامے پہنچائیں گے۔
رات گئے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم ٹاؤن واپسی ہوئی تو ڈاک تیار کی۔ کراچی کے حضرات کے لئے دس دعوت نامے مولانا قاضی احسان احمد صاحب، بھرچونڈی شریف و دیگر حضرات کے لئے محترم مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری صاحب ساہیوال، مرکزی دفتر ملتان پانچ عدد دعوت نامے جن میں مجلس احرار اسلام کے قائد مولانا سید عطاء المومن بخاری کا دعوت نامہ بھی تھا۔ اسی طرح مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، مولانا محمد طیب جامعہ امدادیہ، مولانا قاضی ظہور حسین چکوال، مولانا محمد ضیاء مدنی جامع مسجد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کچہری باز، مولانا عبدالحق خان بشیر گجرات، قاری محمد یاسین فیصل آباد اور دیگر حضرات کو دعوت نامے ڈاک سے بھجوانے کا کام کیا۔ مولانا محمد احمد لدھیانوی اگلے روز لاہور پریس کلب آرہے تھے۔ ان کا دعوت نامہ بھی مولانا دیول کے سپرد کیا۔
گوجرانوالہ، جہلم، راولپنڈی:
گوجرانوالہ، جہلم، راولپنڈی کے لئے ۸؍ دسمبر ۲۰۱۰ء صبح سفر کا آغاز کیا۔ راستہ میں دفتر ختم نبوت گوجرانوالہ کھیالی سے مولانا محمد عارف شامی ساتھ ہولئے۔ جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ملاقات کی وفد نے سعادت حاصل کی۔ دعوت نامہ دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ مولانا خالد حسن مجددی گوجرانوالہ، مولانا ڈاکٹر زاہد اشرف فیصل آباد کو بھی دعوت دی جائے۔ چنانچہ ان دونوں حضرات کے دعوت نامے مولانا محمد عارف شامی کے سپرد کئے اور آگے چل دیئے۔ کانفرنس میں کیا کرنا کیا ہونا چاہئے۔ اس پر جو تبادلہ خیال ہوا وہ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے روزنامہ اسلام کے کالم میں تحریر فرمایا ہے۔
راستہ میں ظہر کی نماز جامعہ حنفیہ جہلم میں پڑھی۔ مولانا محمد ابوبکر صدیق صاحب کی خدمت میں دعوت نامہ پیش کیا۔ محترم مولانا قاضی ظہور حسین صاحب کی تشریف آوری یقینی بنانے کے لئے درخواست کی۔ وہاں سے چل کر مولانا قاری ہارون الرشید صاحب کے ہاں جامعہ مسجد الرشید گلزار قائد راولپنڈی جا کر قیام کیا۔ مولانا رشید احمد صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم نے مولانا حیدری صاحب سے رابطہ کیا۔ معلوم ہوا کہ آج رات مولانا فضل الرحمن صاحب بھی کمبوڈیا سے واپس تشریف لارہے ہیں۔ مولانا حیدری صاحب نے فرمایا کہ کل ۱۰ بجے ایوان پارلیمنٹ میں آجائیں۔ وہاں ملاقات ہوگی۔
مولانا فضل الرحمن سے ملاقات:
چنانچہ ۹؍ دسمبر ۲۰۱۰ء ایوان پارلیمنٹ میں مولانا عبدالغفور صاحب حیدری کے دفتر حاضر ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قائد محترم مولانا فضل الرحمن سمیت حضرت حیدری صاحب تشریف لائے۔ حضرت مولانا کے سامنے پورے سفر کی روئیداد عرض کی۔ آپ نے دعوت نامہ ملاحظہ کیا۔ مدعوین کی اجمالی فہرست عرض کی۔ آپ نے ہدایات سے نوازا۔ چنانچہ طے ہوا کہ تمام حضرات کو دعوت نامے مل جائیں تو فہرست حضرت حیدری صاحب کو بمع فون کے پہنچادی جائے۔ وہ سب سے رابطہ کریں گے۔
طے ہوا کہ ۱۲؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو مرکزی جماعت اہل سنت نے پرل انٹرکانٹی ہوٹل راولپنڈی میں اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ اس اجلاس میں شریک ہوں گے اور اس اجلاس کے فیصلوں کا اعلان بھی ۱۵؍ دسمبر کی اے پی سی میں کیا جائے گا۔ یہاں سے فارغ ہوتے ہی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد میں حاضری ہوئی۔ مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا عبدالوحید، مولانا مفتی محمد اویس تشریف فرما تھے۔ ان حضرات نے راجہ ظفر الحق صاحب سے وقت لیا۔ ان کے ہاں وفد حاضر ہوا۔ دعوت نامہ دیا۔ وہاں سے چوہدری شجاعت حسین صاحب سے فون پر بات ہوئی۔ وہ لاہور تھے۔ چنانچہ ان کا دعوت نامہ ان کی ہدایت پر ان کی رہائش گاہ پر پہنچایا۔ جناب حشمت حبیب ایڈووکیٹ اور اخبارات کے کالم نگار حضرات اور جناب اعجاز الحق صاحب کے دعوت نامے مولانا محمد طیب فاروقی صاحب کے سپرد کئے۔ اس دوران میں جناب اعجاز الحق صاحب سے فون پر بات ہوئی۔ انہوں نے دعوت قبول فرمائی۔ ان کا دعوت نامہ مفتی محمد اویس صاحب کے سپرد کیا۔ وہاں سے جامعہ فرقانیہ کو ہاٹی بازار گئے۔ وہاں سے مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام کو فون کیا۔ وہ گھر پر کسی جرگہ کے سلسلہ میں تشریف لے گئے تھے۔ اگلے دن ملاقات کا طے ہوا۔
وفاق المدارس کے نائب ناظم مولانا عبدالرشید صاحب ایک کام کے سلسلہ میں ملتان تشریف لے گئے تھے۔ رات گئے قاری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہارون صاحب کے ہاں جا کر آرام کیا۔ وہاں پر پہنچتے پہنچتے مولانا رشید احمد لدھیانوی کو بخار ہو گیا۔ ان کے بخار ہوتے ہی جو مجھ پر گزری اس سے اندازہ ہوا کہ مولانا کی محبت نے میرے دل میں کتنا گھر کیا ہوا ہے۔ بہت ہی صاحب درد بزرگ رہنما ہیں۔ پورا ہفتہ وقت نکال کر در در پھرنا کون کرتا ہے۔ یہ محض ان کی محبت اور کاز سے بے پناہ محبت کی دلیل ہے۔
۱۰/ دسمبر بروز جمعہ :
فقیر نے جمعہ مولانا پیر عزیز الرحمن صاحب ہزاروی کی مسجد میں پڑھایا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی کا جمعہ مولانا محمد طیب صاحب نے اسلام آباد میں رکھا۔ جمعہ سے فراغت کے بعد مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد ہارون الرشید صاحب نے دارالعلوم راجہ بازار میں جا کر صاحبزادہ مولانا اشرف علی صاحب، مولانا عبدالمجید ندیم شاہ صاحب، کے گھر ان کا دعوت نامہ پہنچایا۔ مولانا رشید احمد صاحب لدھیانوی نے تحریک اسلامی کے قائد جناب علامہ ساجد حسین نقوی سے ملاقات کے لئے فرمایا۔ آپ اس وقت بہت دور تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میرا دعوت نامہ میرے دفتر پہنچا دیں۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ اب تقریباً دعوت نامے پہنچانے کا عمل مکمل ہوا۔
۱۱/ دسمبر ۲۰۱۰ء :
کو مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا ہارون الرشید، مولانا مفتی محمد اویس نے فہرستوں کی تکمیل کی۔ انہیں کمپوز کیا۔ ہوٹل میں جا کر اس کا جائزہ لیا۔ فقیر نے آج مانسہرہ بعد از مغرب کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ اس کے لئے جناب عبدالرؤف روفی اور یاسر خٹک نے سواری بھجوائی۔ رات وہاں جامع مسجد ناڑی میں بہت بڑی کانفرنس ہوئی۔ مولانا سید غلام نبی شاہ صاحب صدر تھے۔ مفتی کفایت اللہ صاحب مہمان خصوصی۔ ضلع مانسہرہ و ایبٹ آباد کی پوری دینی قیادت جمع تھی۔ عشاء دیر سے کانفرنس ختم کر کے پڑھی۔
۱۲/ دسمبر ۲۰۱۰ء :
کو اگلے دن ۱۱ بجے پرل کانٹی نینٹل میں مرکزی جماعت اہل سنت پاکستان کے زیر اہتمام آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا پیر عبد الخالق بھرچونڈی شریف، مولانا فضل الرحمن، مولانا محمد خان شیرانی، مولانا ابو الخیر محمد زبیر، جناب سید منور حسن، جناب قاضی مظہر حسین، جناب مفتی منیب الرحمن، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا ہارون الرشید، پروفیسر ساجد میر، جناب سید علامہ ساجد حسین نقوی، جناب مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبد المالک خان، مولانا محمد یاسین ظفر جامعہ سلفیہ تشریف لائے ہوئے تھے۔ مولانا پیر عتیق الرحمن میزبان تھے۔ بھر پور اجلاس ہوا۔ اس میں طے ہوا کہ ناموس رسالت کی اس تازہ جدو جہد کے لئے پلیٹ فارم کا نام ”تحریک ناموس رسالت“ ہوگا۔ اس کے کنوینر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر صاحب ہوں گے۔ ۷ حضرات پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی: (۱) مولانا عبد الغفور حیدری صاحب، (۲) مولانا عبدالرؤف فاروقی صاحب، (۳) جناب لیاقت بلوچ صاحب، (۴) مولانا عزیز الرحمن ثانی صاحب، (۵) جناب محمد شفیق پسروری صاحب، (۶) جناب سکندر عباس صاحب، (۷) مولانا محمد شریف صاحب سرکی۔ اس کمیٹی نے آئندہ کا لائحہ عمل طے کر کے ۱۵/ دسمبر کی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں پیش کرنا ہے۔ چنانچہ وہی ہوا جو حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب طے کر کے تشریف لائے تھے۔ سب سے زیادہ مؤثر گفتگو بھی آپ کی ہوئی اسی کا اعلان ہو گیا اور سب سے آخری بیان بھی آپ کا ہوا۔ آج صبح ہی مولانا رشید احمد لدھیانوی جناب عتیق الرحمن صاحب کے ہمراہ لاہور تشریف لے گئے تھے۔ ۱۲، ۱۳ کو جمعیت علمائے اسلام پنجاب کی عاملہ کا اجلاس تھا۔ وہ صبح سے لاہور تشریف لے گئے۔ ہم مغرب کے قریب روانہ ہوئے تو رات گئے لاہور حاضر ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیت علمائے اسلام (س) کی کانفرنس
۱۳؍دسمبر دن گیارہ بجے عامر ہوٹل لاہور نزد سیشن کچہری میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی نے آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس طلب کر رکھی تھی۔ اس اجلاس میں انہوں نے جماعتوں کے صدور کی بجائے سیکرٹری جنرل حضرات کو دعوت دی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور فقیر کو حکم فرمایا کہ مجلس کی نمائندگی کریں۔ لاہور پہنچے تو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تشریف لائے ہوئے تھے۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے پروگرام یہ ترتیب دیا کہ مولانا شجاع آبادی صاحب اور فقیر اجلاس میں شرکت کریں۔ وہ خود نشر و اشاعت سے متعلق جو امور تھے ۔ وہ نمٹا لیں۔ چنانچہ ایسے ہوا۔ پھر پورا اجلاس تھا۔ اجلاس کے آخر پر مولانا سمیع الحق صاحب بھی تشریف لائے اور پالیسی خطاب فرمایا۔ یہاں بھی یہی فیصلہ ہوا کہ تمام فیصلوں کا ۱۵؍دسمبر کی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد میں اعلان کیا جائے گا۔ یوں اللہ رب العزت نے کرم فرمایا کہ ۱۲؍دسمبر کی اے پی سی راولپنڈی اور ۱۳؍دسمبر کی اے پی سی لاہور میں یہی اعلانات ہوئے کہ تمام فیصلوں کا اعلان ۱۵؍دسمبر کی کانفرنس میں ہوگا۔ اس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس اسلام آباد بہت اہمیت اختیار کر گئی۔
۱۳؍دسمبر ۲۰۱۰ء کی شام کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا ہارون الرشید اور فقیر راولپنڈی کے لئے روانہ ہوئے۔ رات گئے وہاں حاضر ہوئے۔ ۱۴؍دسمبر کا دن باقی تھا۔ اگلے دن کانفرنس ہونا تھی۔ اس لئے ۱۴؍دسمبر تمام انتظامات کو آخری شکل دینا تھی۔ آج معلوم ہوا کہ مولانا عبدالسلام حضرو والوں کو دعوت نامہ نہیں جاسکا تو حضرت مولانا محمد زاہد وسیم کو بھیجا۔ انہوں نے جا کر حضرو آپ کو دعوت نامہ دیا۔
۱۴؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو ۲ بجے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس رکھی ۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا۔ پریس کلب پہنچ کر مولانا رشید احمد لدھیانوی نے بتایا کہ جناب احمد سعید کاظمی اور جناب اعظم خان سواتی کو گیلانی و زرداری حکومت نے وزارتوں سے سبکدوش کردیا ہے۔ اس نئے بحران پر غور و فکر کے لئے جمعیت علماء اسلام کے سینٹ و قومی اسمبلی کے ممبران کا اجلاس ہو رہا ہے۔ حیدری صاحب تو تشریف نہ لاسکیں گے۔ چنانچہ مولانا رشید احمد لدھیانوی ، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی ، مولانا ظہور احمد علوی ، جناب ڈاکٹر عتیق الرحمٰن صاحب نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ وہاں سے فارغ ہوکر سب شرکائے کانفرنس نے جامعہ محمدیہ میں مولانا ظہور احمد علوی کے ہاں عصر کی نماز پڑھی۔ جامعہ محمدیہ کے شیخ الحدیث یادگار اسلاف مولانا عبدالقیوم صاحب کی فقیر نے زیارت کی۔ آپ نے ڈھیروں دعاؤں سے نوازا اور یہاں پر اگلے دن کی کانفرنس کے لئے مشاورت ہوئی۔ راولپنڈی جاتے جاتے مغرب ہوگئی۔ مولانا رشید صاحب سے فون پر معلوم کیا کہ کیا ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ جمعیت نے وفاقی وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
آج ۱۴؍دسمبر ۲۰۱۰ء کی شام کو ۷ رکنی کمیٹی کا اسلام آباد میں صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صاحب نے اجلاس طلب کر رکھا تھا۔ رات ۹ بجے وہاں حاضری ہوئی۔ یادگار اسلاف مولانا عبدالستار تونسوی کے پوتے مولانا محمد طیب صاحب اپنے ہمراہ وہاں لے گئے۔ آج اس کے اجلاس میں سوائے مولانا عبدالرؤف فاروقی کے تمام ممبران شامل ہوئے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور راقم کو خصوصی طور پر مولانا صاحبزادہ محمد زبیر نے حکم فرمایا۔ رات ساڑھے ۱۱ بجے تک اجلاس جاری رہا۔ فیصلوں کو آخری شکل دی گئی۔ جس پر اگلے روز قائدین نے غور کرنا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس:
۱۵؍دسمبر ۲۰۱۰ء کو تقریباً ۹ بجے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب، مولانا زاہد وسیم، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اویس (بمع اپنے مدرسہ کے اساتذہ وطلباء کے جنہوں نے ڈیوٹی دینا تھی) مولانا ہارون الرشید، مولانا رشید احمد لدھیانوی، ڈاکٹر عتیق الرحمن، جناب محمد افضل سالار جمعیت علمائے اسلام بمع اپنے رضا کاروں کے تشریف لائے۔ مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا قاری احسان اللہ ہزاروی، مولانا تاج محمد، مولانا عبدالمجید ہزاروی اور دیگر معاونین ومنتظمین نے مل کر نشستوں کی ترتیب اور ان پر کارڈ رکھنے کا عمل مکمل کیا۔ اتنے میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مولانا محمد امجد خان تشریف لائے۔ انہوں نے بھی اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کیا۔ بہت سی ترتیب نو قائم کی۔ اتنے میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبدالغفور حیدری تشریف لائے۔ انہوں نے نظم سنبھالا۔ لیجئے! اب مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی۔ جوں ہی مہمانانِ گرامی تشریف لاتے گئے اپنی سیٹوں پر تشریف رکھتے گئے۔ ساڑھے دس بجے سے قبل مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی۔ کوئی پونے گیارہ بجے کے قریب مولانا قاری محمد حنیف صاحب جالندھری نے نقابت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے اپنی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صاحب نے قصیدہ بردہ شریف کے چند اشعار پڑھے۔ صدر اجلاس مولانا فضل الرحمن تھے نے اجلاس کی غرض وغایت بیان فرمائی۔
شرکاء کے اسمائے گرامی جماعتوں کے حوالہ سے پیش خدمت ہیں:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت: شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، صاحبزادہ نجیب احمد، صاحبزادہ سعید احمد، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا قاری محمد یٰسین۔
جمعیت علمائے اسلام: صدر اجلاس مولانا فضل الرحمن، مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا محمد امجد خان، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا عتیق الرحمن۔
جمعیت علمائے پاکستان: مولانا صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، مولانا نقشبندی، جناب حامد رضا بھٹی اور دیگر۔
جمعیت علمائے اسلام: مولانا سمیع الحق، مولانا حامد الحق، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا سید محمد یوسف شاہ۔
جماعت اسلامی: جناب قاضی حسین احمد، جناب سید منور حسن، جناب لیاقت بلوچ، جناب میاں محمد اسلم۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث: مولانا عبدالعزیز حنیف، جمعیت اہلحدیث مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری۔
جمعیت علمائے اسلام: مولانا پیر عبدالرحیم نقشبندی، مولانا عبدالشکور نقشبندی۔
تحریک اسلامی: جناب علامہ سید ساجد حسین نقوی و دیگر۔
اہل سنت والجماعت: جناب مولانا محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں ودیگر۔
مجلس احرار اسلام: جناب مولانا سید عطاء المومن بخاری، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثالث، مجلس احرار اسلام جناب عبداللطیف چیمہ، جناب حافظ محمد یوسف احرار۔
مرکزی جماعت اہل سنت: پیر عبدالخالق سجادہ نشین بھرچونڈی شریف، صاحبزادہ محبوب الرسول ودیگر۔
وفاق المدارس: مولانا سلیم اللہ خان، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا مفتی محمد طیب فیصل آباد، مولانا انوار الحق حقانی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مشائخ: مولانا صاحبزادہ امین الحسنات بھیرہ شریف، مولانا قاضی ارشد الحسینی۔ جامعہ اشرفیہ لاہور: صاحبزادہ مولانا محمد اسعد عبید صاحب۔ شریعت کونسل: مولانا فداء الرحمن درخواستی، مولانا زاہد الراشدی۔ اتحاد اہل سنت: مولانا محمد الیاس گھمن۔ اقراء روضۃ الاطفال: مولانا مفتی خالد محمود، مولانا مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خان، جناب شبیر احمد صاحب و دیگر حضرات۔ جماعت الدعوہ: جناب حافظ سعید، جناب مولانا امیر حمزہ، قاری محمد یعقوب و دیگر حضرات۔ شخصیات: مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا صاحبزادہ عبدالخبیر آزاد، مولانا عبدالغفار لال مسجد، مولانا قاری احسان اللہ ہزاروی، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا عبدالوحید قاسمی، مولانا مفتی ظفر اقبال۔ اتحاد العلماء: مولانا عبدالمالک خان صاحب۔ تحریک اسلامی: جناب عاکف سعید صاحب و دیگر حضرات۔ منہاج القرآن: جناب سید فرحت حسین شاہ، جناب مولانا علی غضنفر کراروی۔ مسلم لیگ (ق): جناب چوہدری شجاعت حسین صاحب سابق وزیراعظم پاکستان، سندھ و بلوچستان کے دو سابق وزرائے اعلیٰ و دیگر مرکزی قائدین۔ مسلم لیگ (نون): ڈاکٹر چوہدری طارق فضل ایم این اے۔ مسلم لیگ (ضیاء الحق): جناب اعجاز الحق سابق وفاقی مذہبی امور۔ اشاعت التوحید: مولانا عبدالسلام حضرو۔ صاحبزادہ مولانا امان اللہ صاحب جامعہ تعلیم القرآن راجہ بازار۔
ان کے علاوہ اتنی اہم شخصیات تھیں کہ سبحان اللہ! کسی کا نام رہ گیا ہو تو اللہ رب العزت معاف فرمائیں۔ عمداً کسی مدعو کا نام ترک نہیں کیا۔ جو غلطی سے رہ گیا ہو احباب معاف فرما دیں کیا کیا خطابات ہوئے۔ وہ موقعہ پر جستہ جستہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی قلمبند کرتے گئے۔ جو یہ ہیں۔ ان میں بھی جو نام رہ گیا ہو اس کی معذرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی جگہ فقیر کئے دیتا ہے۔ امید ہے کہ کوئی نام نہیں رہا ہوگا۔ اجلاس کے آغاز سے اجلاس کے اختتام تک پوری کاروائی کو جم کر کے لکھنا۔ کارے دارد کوئی نام رہ گیا ہو تو معاف فرما دیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر، صدر اجلاس، مولانا فضل الرحمن نے فرمایا: ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے امت کو مجتمع کرنے اور امت کی صفوں کو درست کرنے کی دعوت دی۔ میں مجلس کی طرف سے تمام شرکاء کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مجلس کے مرکزی امیر صدارت فرماتے۔ لیکن ان کے حکم سے مجھے یہ اعزاز بخشا گیا۔ میں مولانا ابوالخیر کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کراچی میں اس کام کا آغاز کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ حکومت تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو تبدیل یا ختم یا غیر مؤثر کرنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل پیر عبدالخالق بھرچونڈی شریف نے بھی کانفرنس رکھی۔ جس میں تجاویز مرتب کرنے کے لئے کمیٹی قائم کی گئی۔ کمیٹی نے تجاویز پیش کیں۔ انہیں حتمی شکل دی گئی اور ایک مکمل پروگرام ترتیب دیا گیا اور دنیا کو پیغام دیا جائے گا کہ اسلامیان پاکستان ان کے ایجنڈے کے سامنے بند باندھیں گے۔ مغرب کا ایجنڈا یہ ہے کہ دینی و مذہبی تبلیغ و ترویج اور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تعلیمات دینے والے اداروں کا کردار ختم کر دیا جائے۔ مغرب نے جہاد کو دہشت گردی کا نام دے دیا ہے۔ دینی مدارس کا وجود اور کردار کا خاتمہ یا غیر مؤثر بنانا ان کا ایجنڈا ہے۔
اسلامی تہذیب کا خاتمہ اور مغربی تہذیب کا رواج اس کا حصہ ہے اور سوسائٹی کو مغرب کے معیار پر لانا اس کا اہم حصہ ہے۔ جب دین کی اساس محفوظ نہیں رہے گی تو دین بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ حضرت جبریل کا کردار مشکوک بنانے کی کوشش، معجزات سے انکار، چونکہ وہ پیغام کو نہیں جھٹلا سکے۔ لہٰذا پیغام رساں کی ذات پر طعن و تشنیع کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ ہیں تو آپ ﷺ کے آداب بھی ہیں۔ مغربی دنیا امت کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ امت میں دیوبندی، بریلوی، مقلد و غیر مقلد، سنی و شیعہ کے عنوان سے افتراق و انتشار اور تقسیم کیا جارہا ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہمیں اکٹھا کر رہی ہے۔ ہمیں ناموس رسالت کی ضرورت پر لبیک کہنا چاہئے۔ کیونکہ وحدت کا وہی نقطہ ہے۔ آج اللہ پاک نے موقع دیا ہے کہ اس موضوع کی اہمیت سمجھیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے خلاف کوئی طعن برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جمعیت علماء پاکستان کے صدر ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کمیٹی کی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے عزائم سامنے آچکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ پوری امت متحد ہو کر ناموس رسالت کا تحفظ کرے۔ چنانچہ تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے مل بیٹھ کر درج ذیل تجاویز پاس کیں۔
- ☆ ...... ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
- ☆ ...... ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو مکمل ہڑتال کی جائے گی۔
- ☆ ...... ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کراچی میں مرکزی احتجاجی جلسہ ہوگا۔ جس میں مرکزی قائدین شرکت کریں گے۔
- ☆ ...... ۹؍ جنوری کو اگلا پروگرام طے کیا جائے گا۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ اس عظیم کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اس ملک میں حضور ﷺ کی عزت و ناموس پر حرف نہیں آنے دیا جائے گا۔ میں، میرا خاندان، میری پارٹی اس محاذ پر آپ کے ساتھ ہیں۔ میرے والد محترم نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا نہ تو اس قانون کو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ترمیم قبول کی جائے گی۔ قانون کو ختم کرنے کی ناپاک سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم پارلیمنٹ میں اس قانون کا مکمل تحفظ کریں گے۔ میں تمام تجاویز کی تائید کرتا ہوں اور پروگراموں میں شرکت کریں گے۔
جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کہا کہ یہ اجلاس قابل مبارک باد ہے۔ ختم نبوت کی تحریک سے آئین میں ترمیم ہوئی۔ ناموس رسالت کا قانون علماء کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ کفر و اسلام کی جنگ جو مغرب نے چھیڑی ہے۔ جہاد کو ختم کرنے کے لئے پروپیگنڈہ کیا گیا۔ مغرب کے دباؤ کی وجہ سے یہ قانون تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر متحد ہو کر اس مسئلہ پر کھڑے ہوئے ہیں تو باقی تمام مسائل بھی حل ہوں گے۔ اگر آج ہم کوتاہی کریں گے تو اگلا مسئلہ ختم نبوت کا ہوگا۔ حقیقی اتحاد قائم کیا جائے۔ میڈیا غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ علماء کرام کا پینل تشکیل دیا جائے جو میڈیا پر پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کا جواب دے۔
پاکستان مسلم لیگ (ض) کے سربراہ جناب اعجاز الحق نے کہا میں تجاویز کی بھی تائید کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت طے شدہ مسائل کو متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ تحفظ ناموس رسالت سمیت تمام اسلامی قوانین کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے اور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیسہ بھی خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بھر پور طریقہ کار وضع کیا جائے۔ باقی معاملات پر پابندی ہے۔ لیکن حضور ﷺ کے خلاف بات کو آزادی رائے کا اظہار کہا جاتا ہے۔ انہوں نے تجاویز کے ساتھ مکمل اتفاق کا اعلان کیا۔
تنظیم اسلامی کے سربراہ جناب عاکف سعید نے کہا کہ ۶۵ سال تک شریعت سے بغاوت کا ارتکاب کیا گیا۔ ہماری تنظیم اس سلسلہ میں آپ کے ساتھ ہے۔ ان تمام پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ مرکزی جماعت اہل سنت کے سربراہ پیر عبدالخالق آف بھرچونڈی شریف نے کہا کہ میں تجاویز کی تائید کرتا ہوں۔
مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری (M.N.A) نے کہا کہ میں منتظمین کانفرنس کا شکر گزار ہوں۔ ملک میں قائم ہونے والی فضا ایک چیلنج ہے۔ لیکن ناموس رسالت کا مسئلہ امت میں نقطہ اتحاد ہے۔ پاکستانی قوم ایک غیرت مند قوم ہے۔ اس سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) آپ کے ساتھ ہے۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر مولانا انوار الحق نے کہا کہ وفاق المدارس سے متعلق پندرہ ہزار سے زائد مدارس اس سلسلہ میں آپ کے ساتھ ہیں۔
رابطۃ المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا عبدالمالک خان نے کہا کہ اس پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ رابطہ کے تمام مدارس آپ کے ساتھ ہیں۔
اخبار فروش یونین کے صدر ٹکا خاں نے کہا کہ والی دو جہاں ﷺ کی ذات گرامی کے لئے ضرورت پڑی تو میں پہلی گولی کھانے کے لئے تیار ہوں۔ اٹھارہ کروڑ عوام اس سلسلہ میں آپ کے ساتھ ہیں۔
جناب مہتاب عباسی ایڈیٹر روزنامہ اوصاف نے کہا کہ میں سب سے پہلے آپ لوگوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آج کل میڈیا پر این جی اوز کے افراد ایسے دلائل پیش کرتے ہیں۔ ان کا مقابلہ ہر محاذ پر کرنا چاہئے۔ میں اور میرا ادارہ فرنٹ لائن پر ہوں گے۔
منہاج القرآن علماء کونسل کے سید فرحت حسین شاہ نے کہا کہ ٹی وی چینلز کا بھر پور جواب دینا چاہئے۔ ادارہ منہاج القرآن اس تحریک میں آپ کے شانہ بشانہ ہے۔
مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا سید عطاء المؤمن شاہ بخاری نے فرمایا۔ عظیم تر مقصد کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام موقر اجلاس انعقاد پذیر ہے۔ اس اعلیٰ ترین مقصد کے لئے جو تجاویز پیش فرمائی گئیں۔ اس کی تائید کرتے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتیں کسی وقت اپنے مؤقف سے باز نہیں آسکتیں تو ہم اپنے مؤقف سے پیچھے کیوں ہٹیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو کھل کر میدان میں آنا چاہئے۔ بے شمار اختلافات کے باوجود امت مسلمہ کے لئے حضور ﷺ کی ذات گرامی باعث اتحاد ہے۔
میڈیا کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ہم حاضر ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ گستاخ رسول کی سزا چودہ سو سال سے سزائے موت چلی آرہی ہے۔ جس میں کسی صورت میں تغیر و تبدیلی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ الیکٹرانک میڈیا کے لئے ٹیم تشکیل دی جائے۔
مولانا محمد احمد لدھیانوی صدر اہل سنت والجماعت نے فرمایا کہ جو تجاویز اور پروگرام دیئے گئے ہیں۔ اس اہم عنوان پر کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی کال اور پارلیمنٹ کا محاصرہ کرنے کی کال بھی دی جائے۔ وزیر اعظم جو خیر سے سید ہیں اس عنوان پر وہ پیغمبر ﷺ کے ساتھ ہیں یا امریکہ کے ساتھ ہیں۔ انہیں وضاحت کرنی ہوگی۔ گورنر پنجاب کو وقت دیا جائے۔ بعد میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معزولی کے احتجاج کا اعلان بھی کرنا چاہئے۔ یہ اتحاد اتنا مضبوط ہونا چاہئے جو حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے۔
جناب قاضی حسین احمد نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی یاد تازہ کر دی۔ جو تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ انہوں نے شیخ الحدیث مولانا عبد المجید لدھیانوی مدظلہ کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ دین اور سیاست سے علیحدگی اختیار نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کا تقاضا پورے نظام کو آپ ﷺ کے فرامین مبارکہ کے تابع کرنا چاہئے۔ کافرانہ نظام کے خلاف جدوجہد اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ یہی ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کا تقاضا ہے۔ اسی طرح نظام مصطفیٰ کے نفاذ کی کوشش کرنی چاہئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر ڈاکٹر مولانا عبدالرزاق اسکندر نے فرمایا کہ آج کا یہ اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک امت ہیں۔ علماء کرام امت میں اتحاد و اتفاق پیدا کریں۔ قادیانیت کے مسئلہ میں امت کے اتحاد نے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ آج بھی ان شاء اللہ العزیز امت کا اتحاد انہیں مجبور کر دے گا۔ حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ وہ بھی مسلمان ہیں اور حضور ﷺ کی شفاعت کے متمنی ہیں۔ تو واضح اعلان کر دیجئے کہ اس قانون کو نہیں چھیڑا جائے گا۔ میڈیا والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ برائی کا تعاون کرنا برائی ہے۔ لہٰذا وہ توہین رسالت کرنے کو ہلہ شیری نہ کریں۔
تحریک اسلامی کے قائد علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت نے مثبت سوچ رکھنے والوں کو اکٹھا کیا ہے۔ لائق تبریک ہے۔ یہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم ان کا راستہ روکیں گے۔ کچھ واقعات کو بہانہ بنا کر قانون ختم کرنے کے لئے تو آغاز کیا جا رہا ہے۔ ہمیں مذاکرات کے لئے دروازہ کھلا رکھنا چاہئے۔ اگر حکمران وعدہ کریں کہ قانون میں ترمیم و تنسیخ نہیں کریں گے تو تحریک کی ضرورت نہ رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام تجاویز کی حمایت کرتے ہیں۔
مولانا عبدالعزیز حنیف سنیئر نائب صدر مرکزی جمعیت اہل حدیث نے مجلس کو ہدیہ تبریک پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کا یقیناً کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا۔ ان تمام پروگراموں میں مرکزی جمعیت اہل حدیث (ساجد میر) ہراوّل دستہ کا کردار ادا کرے گی۔ علماء اسلام آباد نے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مولانا سمیع الحق نے فرمایا کہ پوری امت کا اتحاد لائق تبریک ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوشش میں یہ حضور ﷺ کا اعجاز ہے۔ پوری کوشش کی جارہی تھی کہ امت ٹکڑیوں میں بٹ جائے۔ لیکن حضور ﷺ نے ہمیں اکٹھا کر دیا۔ پارلیمنٹ کو، عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ ناموس رسالت کے خلاف کوئی فیصلہ دے۔ اصل مسئلہ اسلامی تشخص کو مٹانا ہے۔ ہماری پالیسیاں ہماری نہیں ہم استعمار کے غلام ہیں۔ مغربی ایجنڈا ناکام ہوگا۔ حکومت ناکامی کے کنارے پر پہنچ چکی ہے۔ اگر حکمرانوں نے کوئی ایسا فیصلہ کیا تو حکومت کا آخری دن ہوگا۔ پوری امت کا مغز یہاں جمع ہے۔ استعماری قوتوں کی سازشوں کا توڑ پیدا کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا کہ یہ تیسری چوتھی کانفرنس ہے۔ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس بزم کو آراستہ و پیراستہ کیا ہے۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں کا جائزہ لینا چاہئے۔ میڈیا کی بحثوں اور مکالموں میں مدلل گفتگو ضروری ہے۔ پروپیگنڈہ کے حوالہ سے اعداد و شمار جمع کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۸۶ء سے لے کر اب تک ۹۶۴ مقدمات درج ہوئے ہیں۔ جن میں سے ۴۷۹ مسلمانوں کے خلاف درج ہوئے۔ ۳۴۰ کا تعلق قادیانیوں سے ہے۔ ۱۱۹ کا تعلق عیسائیوں سے ہے۔ ۱۴ کا ہندوؤں سے ہے۔ ۱۰ دیگر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذاہب سے تھا۔ کسی بھی کیس میں آج تک سزا نہیں دی گئی۔ تجاویز کو ری ایڈٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکمت عملی کے بارہ میں سوچنا چاہئے۔ میدان عمل میں اترنے کا یہی وقت ہے اور تحریک پرامن، دیرپا اور دور تک چلنی چاہئے۔
حضرت مولانا سلیم خان نے دعا کے ذریعہ پہلی نشست کا اختتام کیا۔ دوسری نشست بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اعلامیہ پیش کیا۔ آخر میں مولانا فضل الرحمن نے پریس بریفنگ میں کانفرنس کے فیصلوں کا اعلان کیا۔
ناموس رسالت کے تحفظ کی جنگ ہر فورم پر لڑی جائے گی۔ حکمران اپنے مؤقف کا واضح اعلان کریں۔ ورنہ ذلت آمیز انجام کے لئے تیار ہو جائیں۔ تحریک ناموس رسالت کے مرکزی کنوینر ڈاکٹر محمد زبیر ہیں۔ مرکزی کمیٹی، صوبائی، ضلعی اور مقامی سطح پر کمیٹیاں قائم کرے گی۔
پورے ملک میں ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو احتجاج ہوگا اور مظاہرے کئے جائیں گے۔ ۳۱؍ دسمبر کو ملک بھر میں عام ہڑتال کی جائے گی۔ ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کو کراچی میں فقید المثال مظاہرہ ہوگا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ پارلیمنٹ کے فلور پر ان کا بھر پور تعاقب کیا جائے۔ تمام تاجر برادری سے اپیل ہے کہ وہ آج کے اس نمائندہ احتجاج کی اپیل پر لبیک کہیں اور ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو شٹر ڈاؤن کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے اختتامی دعا فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۱ء ص ۳۱ تا ۴۴)
نوٹ: کانفرنس کے اختتام پر اہل سنت کے معاویہ اعظم صاحب نے ایک صریح غیر مناسب جسارت کی، جس کا تذکرہ یہاں ترک کر رہا ہوں۔
آل پارٹیز تحفظ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
(مولانا زاہد الراشدی) گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) پنجاب کے امیر مولانا رشید احمد لدھیانوی اور عالمی مجلس کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی کے ہمراہ غریب خانے پر قدم رنجہ فرمایا۔ وہ ان دنوں ۱۵؍ دسمبر کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے سلسلے میں رابطہ مہم پر ہیں اور مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو تحفظ عقیدۂ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے محاذ پر قومی سطح پر متحرک دیکھنے کی ایک عرصے سے خواہش تھی۔ جس کا اظہار اس کالم میں بھی وقتاً فوقتاً ہوتا رہا ہے۔ اسے پورا ہوتے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر اور مولانا اللہ وسایا کا شکریہ ادا کیا کہ اس وقت وہی ایک متحرک اور بیدار مغز شخصیت ہیں جو اس محاذ کے علمی تقاضوں سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور ضعف و علالت کے باوجود اس سلسلے میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔
عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور منکرین ختم نبوت بالخصوص قادیانیوں کے تعاقب اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے سدباب کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک مستقل تاریخ ہے اور پاکستان میں تحریک ختم نبوت کے سرگرم ادوار میں اپنے قیام کے بعد سے اس کا کردار ہمیشہ قائدانہ رہا ہے۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد حیات، حضرت مولانا لال حسین اختر، حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی امارت میں کام کرنے والی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ جماعت اب ہمارے مخدوم و محترم حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیر امارت اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ جب کہ اس جماعت اور مشن کے لئے حضرت مولانا تاج محمود، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، حضرت مولانا محمد شریف جالندھری اور ان کے بعد مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری اور مولانا اللہ وسایا کی جدوجہد اور کاوشیں عالمی مجلس کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔
راقم الحروف کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ایک غیر رسمی کارکن کے طور پر بچپن سے تعلق چلا آ رہا ہے۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات میرے استاد محترم ہیں۔ جن سے میں نے طالب علمی کے دور میں رد قادیانیت کا کورس پڑھا تھا۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کی شخصیات ایک کارکن کی حیثیت سے میرے لئے آئیڈیل شخصیات رہی ہیں۔ جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور جماعتی و تحریکی زندگی میں ایک کارکن کا کردار کیا ہوتا ہے اس کا عملی سبق میں نے حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا محمد علی جالندھری اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری سے بھی حاصل کیا ہے۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا کردار ایک داعی اور راہنما کا ایسا کردار تھا کہ عوامی حلقوں میں وہ تحریک انہی سے منسوب ہوتی ہے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں چلی اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت جس کے ثمرے میں امتناع قادیانیت کا صدارتی آرڈیننس نافذ ہوا۔ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد کی سربراہی میں تکمیل تک پہنچی۔ مجھے دونوں تحریکوں میں ایک کارکن کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک کے دوران میں گوجرانوالہ کی کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا سیکرٹری تھا اور ۱۹۸۴ء میں مجھے کل جماعتی مجلس عمل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کرنے کا شرف ملا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نہ صرف پاکستان بھر میں، بلکہ برطانیہ، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں بھی ایک وسیع نیٹ ورک ہے۔ جس کے تحت سینکڑوں مبلغین اور ہزاروں کارکن شب و روز تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور باقاعدہ ایک منظم پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اشاعتی محاذ پر بھی عالمی مجلس کا وسیع کام ہے اور میرے نزدیک اس ضمن میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کے بعد سے اس سلسلے میں مختلف مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام نے جو کچھ بھی لکھا ہے اسے ”احتساب قادیانیت“ کے نام سے جمع و مرتب کر کے شائع کیا جا رہا ہے اور مولانا اللہ وسایا ان کتابوں اور رسائل کو جمع کر کے ان کی ترتیب و طباعت کے لئے اچھی خاصی محنت کر رہے ہیں۔ اس کی اب تک تینتیس جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ تینتیسویں جلد ابھی اسی سفر میں مولانا اللہ وسایا نے عنایت فرمائی ہے۔ جس میں اس موضوع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کے چار رسائل بھی شامل ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کا کہنا ہے کہ ابھی اس کا سلسلہ جاری ہے اور مزید کئی جلدیں شائع ہو سکتی ہیں۔
یہ رد قادیانیت کی علمی جدوجہد کی ایک مرتب تاریخ کے ساتھ ساتھ بہت بڑا علمی ذخیرہ بھی ہے۔ جس میں عقیدۂ ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام، امام مہدی کے ظہور اور دیگر متعلقہ موضوعات پر معلومات، استدلالات اور اسالیب کا اتنا بڑا مجموعہ مرتب ہو گیا ہے جو بڑی بڑی لائبریریوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام اور ارباب دانش کی علمی کاوشیں شامل ہیں۔ مولانا اللہ وسایا کی ہمت کی داد دینا پڑتی ہے کہ وہ جماعتی اور تحریکی زندگی کی مصروفیات کے باوجود اتنا بڑا علمی ذخیرہ جمع و مرتب کرنے کی خدمت بھی سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبولیت و ثمرات سے نوازیں۔ آمین یارب العالمین!
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جہاں تک ۱۵؍ دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ”آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس“ کا تعلق ہے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میں نے حالیہ ملاقات میں مولانا اللہ وسایا سے عرض کیا ہے کہ اس وقت نظریاتی طور پر ملک کی جو صورتحال ہے۔ اس کے پیش نظر ایک مضبوط و متحرک دینی فورم کی قومی سطح پر ضرورت ہے۔ جو تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کرتا ہو اور متحرک و بیدار مغز قیادت رکھتا ہو۔ اس لئے کہ پاکستان کی وحدت و سالمیت کے تحفظ کے ساتھ ملک کی نظریاتی حیثیت و تشخص اور دستور کی اسلامی دفعات کی بقاء کے لئے فیصلہ کن معرکے کا وقت آ گیا ہے۔ تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے قوانین ایک علامت ہیں۔ جن کے خاتمے یا انہیں غیر موثر بنانے کے لئے عالمی استعماری قوتیں اور پاکستان کے اندر ان کے نظریاتی و ثقافتی حلیف آخری راؤنڈ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
پاکستان، اسلام اور ملک کے دینی حلقے ان کا ٹارگٹ ہیں۔ لابنگ، میڈیا اور فنڈنگ کے تمام عالمی وسائل ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ملک کی داخلی اسٹیبلشمنٹ کی ہمدردیاں اور درپردہ تعاون بھی انہیں حاصل ہے اور وہ اس وقت کو اس کام کے لئے موزوں ترین سمجھتے ہوئے بہر حال اس کام کو کر گزرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ملک کی تمام دینی جماعتوں کو خواہ وہ کسی مسلک اور سیاسی حد بندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف متحد ہونا ہو گا۔ بلکہ اس جدوجہد اور محاذ آرائی کے عصری تقاضوں کا پوری طرح ادراک کرتے ہوئے متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔
تحفظ ناموس رسالت کا قانون ایک ”ٹیسٹ کیس“ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے نتائج دونوں کیمپوں کی آئندہ ترجیحات کی بنیاد بنیں گے اور اگلی معرکہ آرائی اسی دائرے میں ہو گی۔ ملک کے سیکولر حلقوں کو حدود شرعیہ کے قانون کے حوالے سے اپنی پیش رفت سے خاصا حوصلہ ملا ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسی طرح وہ اگلے مراحل سے بھی بآسانی گزر سکتے ہیں۔ اس لئے اگر بعض دوستوں کو طبیعتوں پر گراں نہ گزرے تو حدود شرعیہ کے تحفظ کے محاذ پر دینی حلقوں کی پسپائی کے اسباب کا بھی اس مرحلے پر جائزہ لے لینا چاہئے۔ تا کہ ان غلطیوں کا دوبارہ اعادہ نہ ہو۔ جو حدود آرڈیننس میں ترامیم کے سلسلے میں سیکولر حلقوں کی پیش رفت کا باعث بنی ہیں اور دینی حلقوں کے لئے بہرحال دھچکا ثابت ہوئی ہیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے۔ راقم الحروف اور پاکستان شریعت کونسل کے علماء و کارکن اس جدوجہد میں پیش رفت کرنے والی ہر جماعت کے خادم ہیں۔ خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تو ہمارے بزرگوں کی جماعت ہے۔ اس کی خدمت سے زیادہ ہمیں کس بات پر خوشی ہو سکتی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۱ء ص ۲۳ تا ۲۶)
کل جماعتی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ...... احوال و اثرات
(مولانا قاری محمد حنیف جالندھری) ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اپنی نوعیت کی ایک منفرد، یادگار اور تاریخ ساز کانفرنس تھی۔ اس قسم کی کانفرنس اور ایسے امید افزاء مناظر برسوں بعد دیکھنے نصیب ہوتے ہیں۔ یہ کل جماعتی کانفرنس جہاں حضور ﷺ سے اہل ایمان کی بے پناہ محبت کا مظہر تھی۔ وہیں امت کے بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک لڑی میں پرونے کا ذریعہ بھی تھی۔ اس کانفرنس کی وجہ سے جس طرح اہل ایمان کے دل باغ باغ ہوئے۔ اسی طرح سیکولر قوتوں اور منفی مقاصد کے حامل لوگوں کے مذموم عزائم پر اوس بھی پڑی۔ اس کانفرنس کو تحفظ ناموس رسالت کے ایک نئے سفر کا سنگ میل بھی کہا جا سکتا ہے اور مستقبل میں حاصل ہونے والی بہت سی خیروں اور کامیابیوں کا پیش خیمہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس کانفرنس میں ملک بھر کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے حضرات، تمام قابل ذکر دینی، سیاسی اور قومی جماعتوں کے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قائدین اور ملک بھر کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی، وفاق المدارس کے نائب صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر جیسی اہم شخصیات نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کی تیاریوں، دعوتوں، رابطوں اور انتظام وانصرام کے سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماء مولانا اللہ وسایا کی قیادت میں منتظمہ کمیٹی نے بہت فعال کردار ادا کر کے اس کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم العالیہ کے حکم پر مولانا فضل الرحمن کو کانفرنس کی صدارت کا اعزاز حاصل ہوا۔ جب کہ کانفرنس کی نظامت و نقابت کی ذمہ داریاں راقم الحروف کے حصے میں آئیں۔
کانفرنس کے اختتام پر مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس کے فیصلوں کا اعلان کیا۔ جب کہ اعلامیہ پیش کرنے کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے پہلے تو اس عزم کا اظہار کیا کہ ناموس رسالت کے قانون میں کسی کو ترمیم کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ ہر میدان اور ہر فورم پر انسداد توہین رسالت قانون کا تحفظ کیا جائے گا۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے باہمی اتحاد و یکجہتی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ تحریک ناموس رسالت کے سلسلے میں ۲۴؍ دسمبر کو ملک بھر میں مساجد کی سطح پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ ۳۱؍ دسمبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ جب کہ ۹؍ جنوری کو کراچی میں بڑا احتجاجی مظاہرہ ہو گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
اس موقع پر مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی سربراہی میں تشکیل دی جانے والی تحریک ناموس رسالت کو منظم و متحرک کرنے والی کمیٹی کی بھی تائید و توثیق کی گئی اور اس کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ نچلی سطح پر بھی کمیٹیاں قائم کرے اور تحفظ ناموس رسالت کی تحریک کو مزید تیز سے تیز تر کرے۔
مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس کے آغاز میں اس کانفرنس کے اہداف و مقاصد، ضرورت و اہمیت اور پس منظر کے حوالے سے اپنے مخصوص مدلل اور نپے تلے انداز میں بہت ہی جامع خطاب فرمایا۔ مولانا نے اپنی گفتگو میں عالمی حالات، استعماری قوتوں کی سازشوں، ناموس رسالت اور دیگر اسلامی قوانین کو نشانہ بنانے والی قوتوں کے مذموم عزائم کے بارے میں بہت چشم کشا گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کا دشمن ہمیں منقسم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب کہ آج بھی حضور ﷺ کی ذات بابرکات اور آپ ﷺ کا اسم مبارک ایک ایسا مرکز اتحاد اور نکتہ وحدت ہے جو ہم سب کو جمع کر رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کوئی مائی کا لعل انسداد توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی جسارت نہیں کرسکتا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے چودھری ظہور الٰہی شہید کی روایات برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پارلیمنٹ اور سینٹ میں ناموس رسالت کی بھر پور وکالت کریں گے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ میڈیا اور پارلیمنٹ وسینٹ میں ناموس رسالت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے پینل بنائے جائیں۔ چودھری شجاعت نے اپنے خطاب میں ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش میں پیش پیش روشن خیالوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور ایسے لوگوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے تحریک کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے اسے پرامن رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور میڈیا کی مانیٹرنگ اور میڈیا کے ساتھ مؤثر رابطوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اعداد وشمار کی روشنی میں بتایا کہ انسداد توہین رسالت کے قانون سے اقلیتیں متاثر نہیں ہوتیں۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ اس تحریک کا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دائرہ وسیع کر کے اسے نفاذ اسلام کی تحریک میں تبدیل کر دینا چاہیے۔ جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ گستاخ رسول کو نہ کوئی پارلیمنٹ معاف کر سکتی ہے نہ کوئی عدالت اور نہ ہی کوئی شخصیت ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک ہم استعماری قوتوں کی غلامی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر لیتے اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر مولانا انوار الحق حقانی نے اپنے بیان میں وفاق المدارس کی طرف سے ناموس رسالت تحریک میں ہراول دستے کے طور پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
عالم اسلام کی معروف علمی شخصیت اور عالمی مجلس کے نائب امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے حکمرانوں سے مکمل خیر خواہی سے اپیل کی کہ وہ اقتدار کے نشے میں ناموس رسالت کے قانون سے چھیڑ چھاڑ سے گریز کریں۔ انہوں نے میڈیا کے ذمہ داران سے بھی اپیل کی کہ وہ غلط فہمیاں پیدا کرنے والے عناصر لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہ دیں۔
آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے رہنما ٹکا خان نے ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے لانگ مارچ کی تجویز دی۔ جسے تمام شرکاء نے بہت سراہا۔ ٹکا خان کی ایمانی جذبات سے لبریز تقریر کے دوران حاضرین میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ اے پی این ایس کے رہنما مہتاب خان چیف ایڈیٹر روزنامہ اوصاف نے صحافتی برادری اور اپنے ادارے کی طرف سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ آج کی کانفرنس میں جن بعض جماعتوں کے قائدین شریک نہیں ہو سکے۔ ان سے فرداً فرداً ملاقاتیں کی جانی چاہیں۔ انہوں نے ٹکا خان کی لانگ مارچ کی تجویز کی بھی تائید کی۔
مجلس احرار اسلام کے رہنما مولانا عطاء المومن شاہ بخاری سمیت کئی لوگوں نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی پراسرار خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے نمائندگی کی اور بتایا کہ راجہ ظفر الحق اپنے آبائی گاؤں میں اچانک فوتگی کی وجہ سے کانفرنس میں شریک نہ ہو سکے جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ میاں نواز شریف اور اپنی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی اس معاملے پر پراسرار خاموشی کا خاتمہ کروا کر ان کی پوزیشن واضح کروائیں اور ان کی طرف سے فوری طور پر بیان جاری کروائیں۔
بہر حال بحیثیت مجموعی یہ کانفرنس بہت ہی کامیاب اور یادگار رہی۔ ملک بھر کے تمام قائدین نے اس میں شرکت کر کے ناموس رسالت کے قانون کے تحفظ کے لیے بیک آواز ہو کر اپنے عزائم کا اظہار کیا۔ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنے کا عزم مصمم کیا اور ایک مشترکہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا۔ اب تمام غلامان مصطفیٰ ﷺ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جس شعبے سے بھی وابستہ ہوں ۔ غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے اس پیغام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بالخصوص تاجر برادری ۳۱ / دسمبر کی ہڑتال کو کامیاب کروانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور جس طرح اس کانفرنس میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ نچلی سطح تک تمام لوگ حضور ﷺ کی ذات بابرکات کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے جمع ہو جائیں اور انسداد توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خواب دیکھنے والوں اور پاکستان کا اسلامی تشخص مٹانے کے منصوبے بنانے والوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ ملاحظہ فرمائیے:
ملک کی دینی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام کا یہ بھر پور نمائندہ اجتماع تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے حوالے سے کنفیوژن اور بے اعتمادی کی فضا پیدا کرنے کی اس مہم کو شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی اور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی عالمی استعماری مہم کا ایک حصہ سمجھتے ہوئے اس میں منفی کردار ادا کرنے والے تمام افراد کی مذمت کرتا ہے۔
ملک کے محب وطن دینی سیاسی حلقے اور عامتہ الناس اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مقصد، قیام اور اس کے استحکام و بقاء کی بنیاد صرف اور صرف اسلام اور اسلام کے عادلانہ نظام کے مکمل اور عملی نفاذ کے ذریعہ ہی قومی وحدت، ملکی استحکام اور ملی امنگوں کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔ لیکن برسر اقتدار طبقات نے عالمی آقاؤں کے اشاروں پر اس میں ہمیشہ روڑے اٹکائے ہیں اور پاکستان کے تشخص کو مجروح کرنے کی سازش کی ہے جس کے نتیجے میں وطن عزیز بین الاقوامی مداخلت اور سازشوں کی آماجگاہ بن گیا ہے اور قوم باہم خلفشار، لوٹ کھسوٹ، کرپشن، خانہ جنگی، دہشت گردی، ہوشربا مہنگائی، فحاشی اور عریانی کی دلدل میں مسلسل دھنستی چلی جارہی ہے۔
قرارداد مقاصد سمیت دستور پاکستان کی اسلامی دفعات بالخصوص تحفظ ختم نبوت کے دستوری فیصلے اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے خلاف سیکولر عناصر کا واویلا، حکومتی حلقوں میں گھسے ہوئے دین دشمن افراد کی سازشیں اور میڈیا کے بعض حلقوں کی سرگرمیاں شرمناک حد تک بڑھ چکی ہیں اور ضروری ہو گیا ہے کہ ملک کے دینی حلقے اور دیگر محب وطن عناصر قومی سطح پر متحد ہو کر تحریک پاکستان، تحریک تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت اور تحریک نظام مصطفیٰ کی فضا کو دوبارہ بحال کریں اور مکمل اتحاد اور یک جہتی کے ساتھ اسلام اور پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنادیں۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی بنیاد پر ملک کے نظریاتی تشخص کے تحفظ اور بیرونی مداخلت کے سدباب کے لئے قومی خود مختاری کی بحالی ہی اس وقت کی اولین ترجیح ہو سکتی ہے اور ملک کے غریب عوام کو اسلام کے سادہ اور فطری نظام کے ذریعے ہی کرپشن، مہنگائی، بڑھتی ہوئی غربت اور لاقانونیت سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ اس لئے اس اجتماع میں شریک جماعتیں اور راہ نما یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ تمام مکاتب فکر نئے عزم سے ۱۹۵۳ء / ۱۹۷۴ء / ۱۹۸۴ء کی طرح ایک بار پھر پوری قوم کو ایک متفقہ دینی محاذ پر مجتمع کر کے اسلام، عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے خلاف ہر قسم کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی جمہوری ریاست بنانے کی طرف پیش رفت کی جائے۔
اس مقصد کے لئے جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر کی سربراہی میں ایک مرکزی کونسل کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس اجتماع میں شریک تمام جماعتیں اس کی ممبر ہوں گی اور جماعتوں کے نمائندے مل بیٹھ کر اپنے تنظیمی ڈھانچے اور لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔ اس موقع پر اس عظیم اجتماع میں شریک تمام جماعتیں اور راہ نما اس امر کا اعلان ضروری سمجھتے ہیں کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں کسی نوعیت کی ترمیم برداشت نہیں کی جائے گی اور تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت سمیت دستور و قانون کے کسی حصے کو ختم کرنے، کمزور و بے اثر بنانے کی ہر کوشش کی پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کی جائے گی۔
یہ اجتماع ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمنٹ اور میڈیا کے ذمہ دار حضرات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بھی سیاسی مصلحتوں اور فروعی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے عقیدہ، ایمان، قومی خود مختاری اور ملکی نظریاتی حیثیت کے تحفظ کی فکر کریں اور حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ اپنی عقیدت و محبت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اس قومی جدوجہد میں کردار ادا کریں۔
یہ اجتماع قوم کے تمام طبقات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بھر پور اتحاد اور روایتی جوش وخروش کا اظہار کرتے ہوئے اس جدوجہد میں شریک ہوں۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اگر بیرونی مداخلت کے خاتمے کے ساتھ قومی خود مختاری کی بحالی کا کوئی راستہ نکل آئے اور استعماری قوتوں کے معاشی چنگل سے نجات حاصل کر لی جائے تو کرپشن، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور لاقانونیت کے عفریت سے بھی نجات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حاصل کی جاسکتی ہے اور پاکستان کو اسلام کے سنہری اصولوں کی بنیاد پر ایک مثالی فلاحی ریاست بنانے کا مقصد بھی پورا ہو سکتا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت ہمیں ان عزائم پر استقامت عطا فرمائیں اور دین ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کے لئے مخلصانہ اور نتیجہ خیز جدوجہد کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین!
اس اعلامیہ کے ساتھ ساتھ کانفرنس کی چند چیدہ چیدہ قراردادیں بھی ملاحظہ فرما لیجئے : ملک کے تمام مکاتب فکر کے راہ نماؤں اور دینی جماعتوں کے ذمہ دار نمائندوں کا یہ نمائندہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ:
- امریکی مداخلت اور عالمی استعماری قوتوں کی مسلسل سازشوں کے خلاف جرأت مندانہ مؤقف اختیار کیا جائے اور ڈرون حملوں کو
بند کرانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر فوری عمل درآمد کا اہتمام کیا جائے۔ کیونکہ ڈرون حملوں کے خاتمے اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر مکمل طور پر عمل کئے بغیر خود مختاری اور ملکی امن وامان کے حوالے سے کسی پیش رفت کا امکان نہیں۔
- ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ سمیت دستور و قانون کی مختلف اسلامی دفعات کے بارے میں حکومتی حلقوں کے پیدا
کردہ کنفیوژن کے خاتمے کے لئے حکومت اس سلسلے میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کرے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے ساتھ اپنی وابستگی اور وفاداری کا دوٹوک اعلان کرے۔
- قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کی صورتحال فوری طور پر ختم کر کے مذاکرات کا اعلان کیا جائے اور مسلح گروپوں کو گفتگو اور
مذاکرات کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر کے امن کی بحالی کے لئے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کیا جائے۔
- مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور کرپشن کے خاتمہ کے لئے مؤثر قومی پالیسی طے کی جائے اور بیرونی مداخلت اور ڈکٹیشن سے نجات حاصل
کر کے قومی مشاورت کے ساتھ ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
- ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور عریانی پر کنٹرول کیا جائے اور میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو بے لگام چھوڑ دینے کی بجائے اسلامی
اصول و اخلاق کا پابند بنایا جائے۔
- ملک کے تعلیمی نظام میں استعماری قوتوں کی ہدایات پر منفی تبدیلیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور دستور کے مطابق تعلیمی نصاب و نظام کو
اسلامی تعلیمات اور اصولوں کے دائرے میں لانے کی پالیسی اختیار کی جائے۔
- حکومت افغانستان، عراق، فلسطین اور کشمیر کے مجاہدین آزادی کے ساتھ ہم آہنگی اور یک جہتی کا اظہار کرے اور مسلمہ اسلامی اور
عالمی اصولوں کے مطابق قومی خود مختاری اور آزادی کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے والی تحریکات کی حمایت کا اعلان کرے۔
اللہ تعالیٰ اس اہم اور تاریخی کانفرنس کو شرف قبولیت بخشیں اور تحفظ ناموس رسالت اور اتحاد امت کے لئے اسے اہم سنگ میل بنائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۱ء ص ۲۶ تا ۳۰)
تحفظ ناموس رسالت ریلی اور کامیاب ہڑتال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کی طرف سے ۲۴/ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز جمعہ صبح ۱۰ بجے ایک تک ایک کل جماعتی تحفظ ناموس رسالت ریلی نکالی گئی۔ اس عظیم الشان ریلی میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مختلف عبارتوں پر مشتمل بینرز، پلے کارڈز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ یہ عظیم الشان ریلی کبیر مسجد ختم نبوت کے دفتر سے شروع ہوئی اور مختلف چوکوں اور چوراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی اور پریس کلب پر تمام جماعتوں کی طرف سے شریک نمائندگان نے تقریریں کیں اور ۳۱؍ دسمبر کی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب بنانے کا بھرپور عزم کیا۔ مسلک بریلوی کے مولوی اللہ یار اور مولوی بشیر احمد صدیقی کے بیانات ہوئے، انہوں نے آقائے نامدارﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کا اعلان کیا۔ جماعت اسلامی کے سردار احمد اور ممتاز حسین سہتو کے بیان ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تحریک ناموس رسالت میں پیش پیش رہیں گے اور ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں گے۔ جماعت اہل سنت والجماعت کے رہنما جعفر آزاد اور حافظ منیر احمد حقانی نے بھی خطاب کیا اور ہر طرح سے تحریک کا ساتھ دینے کا عزم کیا۔ پختون ویلفیئر سوسائٹی کے صدر جان محمد پٹھان، ٹیلرز یونین کے صدر غوث بخش انصار، تاجر اتحاد کمیٹی کے چیئرمین عبدالقیوم قریشی بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنے خطابات میں ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کی ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے بھرپور یقین دہانی کرائی۔ جمعیۃ علماء اسلام تعلقہ نواب شاہ کے امیر مولانا سراج الدین، نائب امیر مولانا عبدالستار بھٹی، صوبائی رہنما ناظم بردلی حافظ عبدالرزاق ضلع ناظم کے بیانات ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مفتی محمد یونس سابق امیر نواب شاہ، قاری امجد مدنی جنرل سیکرٹری مولانا انیس نواب شاہ نے بھی مجمع سے خطاب کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے قرارداد پیش کی۔ آخر میں دعاء سرپرست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قاری ارشد مدنی نے کرائی۔
اس موقع پر منظور ہونے والی قراردادیں:
- ۱...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آل پارٹیز کا یہ عظیم اجتماع حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت قانون میں کسی قسم
کی ترمیم یا اس کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔
- ۲...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ تمام کلیدی عہدوں سے قادیانی اور قادیانیت نوازوں کو برطرف کیا جائے۔
- ۳...... یہ اجتماع صدر پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے حکومتی عناصر جو اس قانون میں ترمیم کی کوشش میں ہیں یا اس کی تائید میں ہیں
ان سب کو عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
- ۴...... یہ اجتماع صدر پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ توہین رسالت کی سزا یافتہ خاتون کی آئینی اور قانونی طور پر سزا برقرار رکھی جائے۔
۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو تحریک ناموس رسالت کی اپیل پر پورے ملک کی طرح نواب شاہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ تمام مسلمانوں نے آقائے دو عالمﷺ کی عزت و ناموس کے قانون کی حمایت میں از خود ہڑتال کی۔ کہیں سے بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ ہڑتال بہت کامیاب رہی، اب تو حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہیں اور حکومت کو قانون تحفظ ناموس رسالت کو بالکل نہیں چھیڑنا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۱ء ص ۱۹)
قانون ناموس رسالت میں ترمیم کے خلاف ملک گیر ہڑتال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اسلام آباد میں مورخہ ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو باہم اتفاق اور اتحاد سے ملک بھر کی ۳۵ مذہبی و سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین اور راہنماؤں نے حکومت کی طرف سے دفعہ ۲۹۵-سی میں مجوزہ ترمیم کے خلاف تحریک ناموس رسالت کا اعلان اور آغاز کیا اور طے ہوا کہ ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز جمعہ کو ملک بھر کی مساجد میں حکومتی عزائم کے خلاف بھرپور احتجاج اور مذمتی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قراردادیں پاس کرائی جائیں گی اور ۳۱ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز جمعہ کو ملک بھر میں ہڑتال کی جائے گی۔ الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، بزرگوں کی دعاؤں، توجہات اور مسلمانوں کی خاتم الانبیاء، فخر رسل، تاجدار کونین ﷺ سے سچی اور لازوال محبت اور لگن کی بنا پر ملک بھر میں پرامن اور بھر پور ہڑتال ہوئی۔ اس ہڑتال سے ان قوتوں اور لابیوں کی بھی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو آئے دن طعن و تشنیع کر کے اور ترمیم و تنسیخ کے نشتر سے اسلامی قوانین کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین سے ہٹانے اور دور کرنے کے منصوبے بناتی رہتی ہیں۔ ہڑتال کی تفصیل درج ذیل خبر میں ملاحظہ ہو:
”کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، کوئٹہ، پشاور، مظفرآباد تحفظ ناموس رسالت ایکٹ میں ممکنہ تبدیلی کے خلاف دینی جماعتوں کی اپیل پر جمعہ کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، اس دوران تمام تجارتی مراکز بند رہے، مختلف شہروں میں مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا، شرکاء نے گورنر پنجاب اور شیری رحمن کے خلاف نعرے لگائے۔ لاہور میں مال روڈ ، ہال روڈ اور دیگر مارکیٹیں بند رہیں، گلی محلوں کی سطح پر بھی شہریوں نے ہڑتال میں بھر پور حصہ لیا۔ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے موقع پر مختلف مقامات پر جلسوں، مظاہروں، ریلیوں اور ناموس رسالت کانفرنسوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔ کراچی شہر کی اکثر مارکیٹیں اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے۔ ریٹیل، ہول سیل ، چھوٹے کارخانے، مزدور محنت کش اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والوں سمیت تمام طبقات نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھر پور شمولیت اختیار کی ، شہر کے ۵۰۰ سے زائد چھوٹے اور بڑے تجارتی مراکز بند رہے۔ کراچی کے علاوہ پورے اندرون سندھ مکمل ہڑتال رہی اس موقع پر کاروباری مراکز بند رہے۔
سکھر سمیت گردونواح کے علاقوں میں کاروبار زندگی بند رہا اور مختلف علاقوں میں کاروبار زندگی معطل ہونے کے ساتھ ساتھ پیٹرول پمپ بھی بند رہے۔
فیصل آباد، شیخوپورہ، پسرور، سرگودھا، خوشاب، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، ملتان، شجاع آباد، ڈی جی خان، ڈیرہ اسماعیل خان، رائے ونڈ ، قصور، مرید کے اور دیگر شہروں میں بھی مکمل طور پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
آزادکشمیر کے مختلف شہروں میر پور، کوٹلی ، مظفرآباد وغیرہ میں بھی مکمل طور پر شٹر ڈاؤن رہا۔
دریں اثنا دینی و سیاسی قائدین مولانا سمیع الحق، مولانا عبد الغفور حیدری، سیّد منور حسن، حافظ محمد سعید، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، مولانا محمد احمد لدھیانوی، قاضی حسین احمد، مولانا امیر حمزہ، لیاقت بلوچ ودیگر نے کہا کہ توہین رسالت ایکٹ میں ممکنہ ترمیم کی کوششوں کے خلاف کامیاب ہڑتال نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے ۱۸ کروڑ غیور مسلمان تحفظ ناموس رسالت کے لئے اپنا تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہیں، حکمران تحفظ ناموس رسالت ایکٹ ختم کرنے کی کوششوں سے باز رہیں، قاری زوار بہادر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی کے لئے بل کا فیصلہ تبدیل کرے ورنہ عوام تحریک کے لئے تیار رہیں۔
ہم اس پرامن ہڑتال کرنے پر ملک بھر کی تمام مذہبی، سیاسی جماعتوں، تنظیموں، تاجر برادری، ٹرانسپورٹ کے مالکان اور عوام الناس کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے آقائے مدنی ﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لئے اپنا حصہ ڈالا۔ اسی طرح میڈیا سے تعلق رکھنے والے تمام صحافی بھائیوں اور میڈیا کے مالکان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے اس ہڑتال اور عوام الناس کے احتجاج کو بھر پور کوریج دے کر عالمی سطح پر نمایاں کرنے اور اعلیٰ حلقوں تک پہنچانے کا کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۱ء ص ۵۰، ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ناموس رسالت ریلی لاہور میں گردونواح کے شہروں اور قصبات کے عوام کی بھر پور شرکت
اوکاڑہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام لاہور میں تحفظ ناموس رسالت ریلی کے سلسلہ میں کئی ایک اجلاس منعقد ہوئے۔ اشتہارات لگوائے گئے، بینرز وغیرہ تیار کئے، رفقاء کو تیار کیا گیا۔ حویلی لکھا سے مولانا عبدالجبار اور چوہدری اقبال نے حجرہ شاہ مقیم سے، مولانا موسیٰ اور مفتی ندیم بصیر پور سے، مولانا زبیر احمد فہیم اور مولانا عزیز خلیل نے دیپالپور سے مولانا سید انور شاہ بخاری، چوہدری غلام عباس تمنا ایڈووکیٹ رینالہ خورد سے، مولانا محمد اکرم اور مولانا غلام مصطفیٰ اور مولانا اکرم نے ۲۸/۳ آر چک سے، قاری عبدالحفیظ رحیمی اوکاڑہ سے مولانا قاری الیاس، مولانا عبدالاحمد، مفتی رشید احمد، مولانا سید رمضان شاہ، مولانا مفتی عبدالقیوم، چوہدری خالد محمود، مولانا عبدالشکور، مولانا قاری سعید احمد عثمانی سمیت کئی علماء کرام اور کارکنان نے اپنے اپنے قافلے کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کی۔ تقریباً ۱۵ بسوں کا قافلہ لاہور کے لئے روانہ ہوا۔ تحفظ ناموس رسالت ریلی میں شرکت کے لئے قصور میں بھی کئی ایک اجلاس اور کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں قرب وجوار کے لوگوں نے شرکت کی۔ تلاوت قاری مشتاق احمد رحیمی امیر مجلس ختم نبوت قصور اور نقابت مولانا سیف اللہ نے کی۔ میزبانی اور سرپرستی مولانا سید زبیر شاہ ہمدانی خطیب جامع مسجد گنبد والی نے کی۔ اس کانفرنس کے اشتہارات و انتظامات طلبائے جامعہ عبداللہ بن عباس نے کئے۔ مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر چیز پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے مگر تحفظ ناموس رسالت پر کوئی سودے بازی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد مولانا جمیل الرحمٰن اختر، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا عبدالرزاق مجاہد کے بیانات ہوئے۔ ریلی کی کامیابی کے لئے مولانا رضوان نفیس نے دعا کرائی۔ قصور اور گردونواح سے موٹر سائیکلیں اور کاریں تقریباً ۲۵ بسوں کا قافلہ علماء اور تاجر حضرات کی نگرانی میں روانہ ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ /مارچ ۲۰۱۱ء ص ۱۲)
ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے اسلامیان پاکستان کا مثالی اتحاد
گزشتہ دنوں توہین رسالت کی مرتکب ملعونہ آسیہ مسیح کو پاکستان کی عدالت نے میرٹ پر سزائے موت سنائی تو اس پر ایک بار پھر ملک عزیز میں قانون ناموس رسالت زیر بحث بن چکا ہے۔ جو دین سے نابلد لوگ اس قانون کو انسانیت سے متصادم کہہ رہے ہیں اور اس کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ حالانکہ جن شخصیات کی عزت و ناموس کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہے۔ تمام انسانوں کے اشراف ہیں۔ یعنی انبیائے کرام علیہم السلام۔ اس قانون کو جاننے والا اور اس کی حفاظت کرنے والے اس بات کا اعلان برملا کر چکے ہیں کہ یہ قانون صرف حضور نبی کریم ﷺ کی ذات کے لئے ہی نہیں۔ بلکہ جو بھی صرف اقلیتیں ہی نہیں خواہ کوئی مسلمان بھی کسی نبی کی توہین کرے گا۔ اس کی سزا سزائے موت ہے۔ اس ملعونہ آسیہ مسیح کی سزا پر پنجاب کے گورنر نے اپنا چھوٹا قد بڑا کرنے کا سوچا اور اس پر عاصمہ جہانگیر سیخ پا ہوئی۔ پی پی کی ایم این اے شیری رحمان نے اس قانون کو ختم کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں بل پیش کر دیا۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پھرتی دِکھائی اور ایک اقلیتی غیر مسلم وزیر کی سربراہی میں اس قانون کو غیر مؤثر کرنے کی کمیٹی تشکیل دی اور ان لوگوں کو اس کمیٹی میں رکھا جو اس قانون کی نہ قاف کو جانتے ہیں اور نہ نون کو کہ کیا چیز ہے۔
ان تمام واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے حضرات وقائدین چونکے اور پھر ہوتے ہوتے ایک ہو گئے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی میں ۱۵ /دسمبر کو اسلام آباد میں ایک بھر پور تمام مکاتب فکر کا اجلاس ہوا۔ یوں تو فرداً فرداً کراچی، سکھر، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں اجلاس ہو رہے تھے۔ بلکہ ہر شہر کے تمام مکاتب فکر نے اس مسئلہ پر سوچنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کے سالانہ اختتامی اجلاس جو ذی الحجہ کے اواخر میں ملتان مرکزی دفتر میں ہوا۔ وہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب مدظلہ، نائب امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ، صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا سے مشورہ کر کے اس تحریک کو بھرپور انداز میں چلانے کے لئے ایک تو تمام مبلغین کی ٹیم کو متحرک ہونے اور اسلام آباد میں تمام مکاتب کی آل پارٹیز کانفرنس تحفظ ناموس رسالت کے اہتمام کا حکم فرمایا اور یوں تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین اور وفاق المدارس کے حضرات سے مشورہ کے بعد ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں اجلاس رکھا اور اجلاس تمام مکاتب فکر کی نمائندگی سے بھرپور اور عنوان حاضرہ کی منشا کے مطابق تھا۔ جس کا اقرار حیدر آباد کے ایک سیمینار ناموس رسالت سے خطاب کرتے ہوئے ’’تحریک ناموس رسالت‘‘ کے کنونئر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر صدر جے یو پی نے کیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اتنا وسیع پروگرام رکھ کر حضور نبی کریم ﷺ سے وفاداری کا حق ادا کر دیا۔ تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔
۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء والا پروگرام صبح دس بجے سے عصر تک جاری رہا۔ سوائے نماز ظہر۔ تمام مکاتب فکر کے حضرات نے دل کھول کر اپنی تجاویز دیں اور متفقہ رائے سے طے ہوا کہ حکومت پر دباؤ کے لئے ۲۴؍ دسمبر بروز جمعہ بعد نماز جمعہ پورے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ناموس رسالت کے سلسلہ میں، مساجد کے سامنے چوکوں پر پریس کلب کے سامنے مظاہرے کئے جائیں۔ ۳۱؍ دسمبر بروز جمعہ کو پورے ملک میں پرامن ہڑتال کی جائے اور اس سے حکومت پر کوئی اثر نہ ہوا تو ۹؍ جنوری کو کراچی میں لاتعداد غیور مسلمانوں کو ایم اے جناح روڈ پر جمع کر کے مزید لائحہ عمل کیا جائے گا۔ اسلام آباد کی طرف مارچ، حضور نبی کریم ﷺ کی ذات کے لئے گرفتاریاں یعنی جیل بھرو تحریک۔ بہر حال ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کے اجلاس کے فیصلہ کے مطابق ۲۴؍ دسمبر کو پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے خالصتاً ناموس رسالت کے لئے تمام دینی جماعتوں نے کئے اور الحمد للہ! اس کال پر غیور مسلمانوں نے علمائے کرام کی آواز پر لبیک کہا اور اس عزم سے احتجاج کیا کہ آئندہ جو بھی کال ہوگی پاکستان کے غیور مسلمان متحد ہوں گے۔ راقم کے ایک دوست نے کہا جو نہ مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں اور نہ جلسے جلوسوں میں میرپور خاص میں شریک ہوئے کہ پورے ملک میں جو آج احتجاج ہوا اس نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو دیکھ کر رائے دی کہ بھرپور ہوا ہے۔ ابھی ذرائع ابلاغ نے اس احتجاج کا دسواں حصہ بھی نہیں دکھلایا۔ احتجاج اس سے نوے فیصد زائد تھا۔ قارئین ۲۴؍ دسمبر کا احتجاج تو خوب ہوا۔ اکوڑہ سے منوڑا تک، قلات سے سوات تک پوری امت مسلمہ اور تمام مکاتب فکر ایک تھے۔
۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز جمعہ ملک بھر میں پرامن ہڑتال ہوئی اور ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء بروز اتوار کراچی میں احتجاج اور جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں بلامبالغہ لاکھوں افراد نے شرکت کر کے قانون ’’انسداد توہین رسالت‘‘ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس تحریک کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے۔ یہ خالصتاً ناموس رسالت کی تحریک ہے۔ ہاں! رہی بات ۳۱؍ دسمبر کی ہڑتال تو، الحمد للہ! بھرپور ہوئی اور پرامن ہوئی۔ تمام تاجر حضرات نے کاروبار بند رکھا۔
۹؍ جنوری کو الحمد للہ پورے سندھ کے راستے کراچی کی طرف تھے۔ اس لئے بھی کہ اندرون سندھ یہ منظر اسی دسمبر میں ایک بار دیکھ چکا ہے۔ ۹؍ دسمبر بروز جمعرات جمعیت علمائے اسلام سندھ کے امیر مولانا عبدالصمد ہالیجوی صاحب مدظلہ نے سکھر پہنچنے کا حکم دیا تو تقریباً تین لاکھ مسلمان خالصتاً حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے سکھر میں جمع ہوگئے تھے اور اب تو یہ تمام دینی جماعتوں نے مل کر ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء کی کال دی ہے اور صرف کال ہی نہیں تیاری بھی بھرپور ہوئی۔ تمام جماعتوں کے حضرات نے اس کام کے لئے راہ ہموار کی اور اسی سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغین کراچی سے مولانا قاضی احسان احمد، سکھر سے مولانا محمد حسین ناصر، خیرپور، نواب
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شاہ سے مولانا تجمل حسین، تھرپارکر سے مولانا محمد یوسف نقشبندی اور میر پور خاص بدین و سانگھڑ سے راقم الحروف (مولانا محمد علی صدیقی)، حیدرآباد سے مولانا محمد نذر نے تمام مکاتب فکر کے حضرات سے مل کر اعلانات، سیمینار و اجلاس منعقد کئے اور الحمد للہ ۹؍ جنوری کو غیور مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر گرومندر ایم اے جناح روڈ سے تبت سنٹر تک جمع ہوا۔ جس میں تمام جماعتوں کے قائدین نے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا۔ اللہ پاک تمام جماعتوں اور افراد کو جزائے خیر عطا فرمائیں جنہوں نے دن رات ایک کر کے سٹریٹ پاور کو متحرک کیا اور پوری دنیا کو پیغام دیا کہ اسلامیانِ پاکستان ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان شاء اللہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۱ء ص ۴۸، ۴۹)
قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان
راولپنڈی (زاہد وسیم) محمد فیاض احمد ولد محمد رزاق جو کہ گاؤں کسراں تحصیل پنڈی گھیپ ضلع اٹک کا رہائشی ہے نے یکم جنوری ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد حنفیہ کے خطیب مولانا قاری عبدالرؤف کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا۔ الحمد للہ! محمد فیاض احمد ولد محمد رزاق نے جمعہ کے اجتماع میں تمام حاضرین کے سامنے کہا کہ: میں مرزا قادیانی کو جھوٹا، کذاب، دجال اور کافر تسلیم کرتا ہوں اور اس کو ظلی یا بروزی کسی صورت میں نبی تسلیم نہیں کرتا، اس کذاب کے تمام پیروکاروں قادیانی ہوں یا لاہوری، سب کو کافر تسلیم کرتا ہوں۔ تمام نمازیوں نے جناب محمد فیاض احمد کو قبولِ اسلام پر مبارک باد دی اور اس کے لئے استقامت کی دعاء کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۰؍ اپریل ۲۰۱۰ء ص ۱۰)
۱۹؍ خاندان پر مشتمل ۱۱۰؍ افراد کا قبولِ اسلام
بتاریخ ۲۷؍ جنوری ۲۰۱۰ء بروز بدھ مقام چھور ضلع عمر کوٹ کے رہائشی ۱۹؍ خاندان جو کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب ممبر مسلم ویلفیئر ٹرسٹ کی کوششوں اور محنت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ۱۱۰؍ افراد کو اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب فرمائی۔ فللہ الحمد حمدًا کثیرًا ! قبولِ اسلام کی یہ بابرکت تقریب گوٹھ عمر شیخ (تحصیل ماتلی ضلع بدین) میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں معززین علاقہ، علماء کرام، سیاسی و مذہبی نمائندوں نے شرکت فرمائی۔ خصوصاً جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر حضرت مولانا زبیر احمد میمن مہتمم مدرسہ تعلیم الاسلام ٹنڈو غلام علی، ڈاکٹر مطلوب حسین، عالمی مجلس کے مولانا عبداللطیف دنہالو جامع مسجد کے خطیب مولانا نور محمد صاحب نے اس بابرکت محفل میں شرکت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ان نومسلموں کو استقامت نصیب فرمائے۔ ہم سب کو دینِ اسلام کی سربلندی ونفاذ کے لئے قبول فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۱۳)
چناب نگر میں ایک قادیانی گھرانے کا قبولِ اسلام
اللہ تعالیٰ نے اس گھرانے کے دل میں عظمتِ اسلام بٹھائی تو مدرسہ عربیہ ختمِ نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ۵؍ فروری ۲۰۱۰ء بروز جمعتہ المبارک کے مبارک دن بعد از نمازِ جمعہ عبدالغفور بن غلام نبی اور اس کی اہلیہ کوثر پروین بنت شیر زماں بمعہ اپنے بیٹے محمد عدیل اور بیٹی مہوش پروین کے آئے اور مولانا غلام مصطفیٰ کے دستِ مبارک پر مذہبِ اسلام قبول کیا اور مرزا قادیانی ملعون کی جھوٹی نبوت سے توبہ کر لی۔ اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی مع ان کی اولاد کو استقامت والی زندگی، حضور ﷺ کی ختم نبوت کے سایہِ رحمت میں گزارنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین!
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رتوچھہ میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام
۱۲/ ربیع الاول، بمطابق ۲۷/ فروری ۲۰۱۰ء کو ضلع چکوال کے ایک گاؤں رتوچھہ کے رہائشی ملک محمد گلستان نے قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا۔ ملک محمد گلستان نوجوانوں کے ایک جلوس کے ساتھ دارالعلوم ختم نبوت میں حافظ عمر حیات کے گھر آیا۔ ملک محمد گلستان نے حافظ عمر حیات، مفتی محمد خالد میر اور تمام مسلمانوں کے سامنے مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ اللہ رب العزت استقامت عطا فرمائیں۔ آمین!
قادیانیوں کے مربی امیر حمزہ کا قبول اسلام
گزشتہ دنوں اوکاڑہ میں قادیانیوں کے مربی امیر حمزہ نے مدینۃ الخیر کے مولانا قاری الیاس کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ نو مسلم نے اس بات کا عہد اور پختہ عزم کیا کہ میں قادیانیوں کے مکر و فریب پر لعنت بھیجتا ہوں اور بغیر جبر و اکراہ کے اسلام قبول کرتا ہوں۔ اہل محلہ نے مٹھائی تقسیم کی۔ مولانا قاری الیاس، مولانا نور محمد، مولانا عبداللہ، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا خضر حیات اور مدینۃ الخیر کے طلباء نے دعا کی اللہ رب العزت اسے استقامت نصیب فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۵، ۵۴)
پشاور میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
الحمد للہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اندرون ملک و بیرون ملک پوری ملت اسلامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں تحریر و تقریر کے ذریعہ مسلسل شب و روز تبلیغی جد و جہد میں سرگرم ہے۔ جس کے نتیجہ میں قادیانی مرزائیت کے کفر سے تائب ہو کر مرزا غلام قادیانی کذاب کے نجس اور منحوس دامن سے چھٹکارا حاصل کر کے امام الانبیاء خاتم النبیین محمد عربی ﷺ کے دامن اقدس و اطہر سے وابستگی کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ اس ہی سلسلے میں قادیانیوں کے ساتھ تین سالہ کامیاب سماجی اور معاشی بائیکاٹ اور حضرت امیر مرکز یہ دامت برکاتہم کی دعا و توجہ کی برکت سے مشہور قادیانی آنجہانی مختیار کے خاندان کا ایک نوجوان بمعہ اہل وعیال کے اسلام قبول کرنے کے بعد بسلسلہ ملازمت وغیرہ بیرون ملک جاچکا ہے۔ ۲۵/ مارچ ۲۰۱۰ء کو اس خاندان کے آخری نوجوان فیاض احمد نے مرزائیت پر تین حرف اور لعنت و پھٹکار کرتے ہوئے دین اسلام میں اپنی وابستگی کا اپنے علاقہ کی جامع مسجد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے ذمہ دار افراد علماء کرام اور کثیر تعداد میں عوام الناس کی موجودگی میں قبولیت اسلام کا اعلان کر کے قادیانیت کے تابوت میں آخری ضرب لگائی۔
اس خوشی میں بمقام آچینی پایان کی مرکزی جامع مسجد میں ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں مفتی محمد شہاب الدین صاحب پوپلزئی کی ہدایت پر مولانا سمیع اللہ جان فاروقی اور مجلس کے ناظم مولانا نور الحق نور نے چاچا عنایت کے ہمراہ شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۶)
گوجرانوالہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر جلیل ٹاؤن کے ایک قادیانی خاندان نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے امیر پیر طریقت مولانا محمد اشرف مجددی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے والوں میں محمد عامر، ان کی اہلیہ اور تین صاحبزادیاں شامل ہیں۔ محمد عامر نے جامع مسجد زینب جلیل ٹاؤن میں منعقدہ تقریب میں کہا کہ وہ خاندانی طور پر قادیانی تھے، انہیں آغاز سے ہی قادیانیت سے نفرت تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے قبول اسلام کی توفیق اب بخشی ہے۔ انہوں نے قادیانیت کو جھوٹ، فریب اور دجل کا مذہب قرار دیتے ہوئے کہا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ جس مذہب کی بنیاد ہی جھوٹ ہو اس میں کوئی بھی حق پرست رہنا برداشت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں دوستوں کا ممنون ہوں جنہوں نے انہیں اسلام کی روشنی دکھائی۔ اس موقع پر مولانا پیر محمد اشرف مجددی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا حافظ محمد ثاقب، پروفیسر طارق محمود کھوکھر ، مولانا محمد رضوان اور دیگر نے خطاب کیا۔ مولانا پیر محمد اشرف مجددی نے کہا کہ آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹ اور فریب سے کام لیا اور انگریز کی سرپرستی میں جھوٹ کا سکہ چلائے رکھا۔ قادیانی، حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں، مگر جھوٹ بولتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ وہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ملک و قوم کے غدار اور اسلام مخالف ہیں، وہ کبھی بھی ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ مرزائیوں کو بھائی قرار دینا قرآن سے لاعلمی ہے۔ قرآن مجید میں مومن کو ہی مؤمن کا بھائی کہا گیا ہے۔ اس لئے نواز شریف کو اپنے بیان پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔ علاوہ ازیں محمد عامر اور ان کے خاندان کے اسلام قبول کرنے کی خوشی میں ڈویژنل ہیڈ آفس دارالعلوم ختم نبوت ہاشمی کالونی گوجرانوالہ میں ردّ قادیانیت کورس کے شرکاء میں مٹھائی تقسیم کی گئی اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس خوش قسمتی پر خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر قاری محمد یوسف عثمانی، مولانا قاری منیر احمد قادری، مولانا محمد عارف شامی، سیّد احمد حسین زید، حاجی عبدالرحمن، احسان اللہ، قاری محمد خالد، غلام مصطفیٰ، حافظ محمد الیاس قادری، محمد طارق، محمد امان اللہ قادری اور عبدالرؤف گھمن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ قادیانیت کے فریب سے آگاہ ہو رہے ہیں اور وہ اسلام کے دامن میں ہی عافیت پاتے ہیں۔ محمد عامر اور اس کے اہل خانہ کے قبول اسلام کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کے مرحوم امیر الحاج حافظ بشیر احمد کے صاحبزادگان، حافظ محمد حامد محمود، عابد محمود، عامر محمود، ساجد محمود، زاہد محمود کے علاوہ محمد اشرف پروفیسر طارق محمد کھوکھر اور ثاقب نوید ملک نے خصوصی کاوش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جولائی ۲۰۱۰ء ص۲۳)
کھڈارو ضلع بدین میں چالیس قادیانیوں کا قبول اسلام
چالیس قادیانیوں کے قبول اسلام پر خدا آباد نزد کھڈارو ضلع بدین میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنس کا اہتمام جناب قاری محمد مبین، مولانا حبیب الرحمن اور دیگر احباب نے کیا تھا۔ کانفرنس میں بدین، تلہار، ٹنڈو باگو، کھوسکی، شادی لارج، ٹالہی، ٹنڈو غلام علی، ماتلی کے علاقوں سے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ عشاء کے نماز سے شروع ہونے والی کانفرنس صبح چار بجے تک جاری رہی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد کے مبلغ مولانا محمد نذر نے اپنے بیان میں چالیس قادیانیوں کے قبول اسلام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان نومسلم افراد کا قبول اسلام یقیناً ہمارے بزرگوں کی محنتوں کا نتیجہ ہے جو بار بار ایسے علاقوں میں حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کے تذکرہ کو عام کرتے چلے آرہے ہیں، ان افراد کا مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنا اور حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی کا سبب بنے گا۔ یاد رہے کہ دو سال قبل اسی علاقہ کے سو سال عمر کے محراب خان نامی شخص نے بھی قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا، قادیانی اسی محراب خان کو مرزا غلام احمد قادیانی کا صحابی کہتے تھے، مولانا محمد نذر نے کہا کہ ان شاء اللہ قادیانیت کے خاتمہ تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی یہ تحریک جاری رہے گی۔ اسلام قبول کرنے والے ۴۰ افراد کی ختم نبوت کانفرنس میں عزت افزائی کے لئے سندھ کی روایات کے مطابق اجرک پہنائی گئی اور دعاء کی گئی۔ ختم نبوت کانفرنس میں سندھ بھر کے نامور خطیب اور مقررین جن میں مولانا محمد عیسیٰ سموں، مولانا اسد اللہ حیدری، مولانا عبدالرحیم پٹھان، مولانا گل حسن زور، مولانا خان محمد پٹھان نے بیان کیا۔ اسلام قبول کرنے والے حضرات نے کہا کہ ہم نے قادیانیت کو قبول کرنے میں بہت بڑی غلطی کی تھی، اللہ تعالیٰ کی ذات نے ہمیں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہدایت سے نوازا ہے اور حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت سے وابستگی کی توفیق بخشی ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ ہمارے لئے استقامت اور خصوصاً ہمارے ان رشتہ داروں کے لئے جو ابھی تک قادیانی ہیں اور مسلمان نہیں ہوئے خصوصی دعائیں فرمائیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کے نام یہ ہیں : ماسٹر ناصر احمد ، اہلیہ، دو بیٹیاں، امتیاز احمد ، سلیم احمد ، نوید احمد ، وحید احمد ، تنویر احمد ، علی حسن ان کی والدہ، بیوی، تین بیٹیاں، اسلم ، زاہد ، محمد موسیٰ ، افضل جاوید، نور احمد ولد شبیر ، عبدالخالق ، اہلیہ، صلاح الدین، مبارک، الطاف ولد علی احمد ، احمد علی ولد بچل اور حنیف ولد مٹھو خان شامل ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء ص ۱۰)
لاہور میں ختم نبوت کانفرنسیں
۸؍ جنوری ۲۰۱۰ء کا خطبہ جمعہ مولانا اللہ وسایا نے جامع مسجد زبیر گلشن راوی میں ارشاد فرمایا۔
۹؍ جنوری ۲۰۱۰ء بعد از نماز عشاء جامعہ عثمانیہ رسول پارک میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ استاذ العلماء مولانا محب النبی نے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
۱۱؍ جنوری ۲۰۱۰ء جامع مسجد ربانیہ نشاط کالونی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا مشتاق احمد نے صدارت فرمائی۔ پیر طریقت سید نفیس الحسینی کے خلیفہ مجاز جناب رضوان نفیس مہمان خصوصی تھے۔ سید سلمان گیلانی نے اپنی ایمان پرور نظموں سے سماں باندھ دیا۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا محمد امجد خان، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبد النعیم، مولانا محبوب الحسن، مولانا مشتاق احمد، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
۱۲؍ جنوری ۲۰۱۰ء بعد از مغرب جامعہ الازہر بند روڈ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جو رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا زبیر احمد شاہ نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا مفتی محمد حسن، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر ، مولانا سید ضیاء الحسن شاہ نے بیان فرمایا۔
۱۳؍ جنوری ۲۰۱۰ء بعد از نماز عشاء جامعہ قاسمیہ شاہدرہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا شبیر احمد نے کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا عبد النعیم، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے کے بیانات ہوئے۔
۱۴؍ جنوری ۲۰۱۰ء کو بعد از نماز عشاء ٹاؤن شپ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت پیر طریقت حضرت رضوان نفیس نے فرمائی۔ کانفرنس سے سید سلمان گیلانی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
۱۵؍ جنوری ۲۰۱۰ء جامع مسجد ترتیل القرآن مزنگ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا ثناء اللہ اس کانفرنس کے منتظم اعلیٰ تھے۔ مولانا صاحبزادہ عبدالرحمن، جناب رضوان نفیس، مولانا ضیاء الحسن اس کانفرنس کے مہمانان خصوصی تھے۔ شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد حسن، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی اور سید سلمان گیلانی کے بیانات ہوئے۔
۱۶؍ جنوری ۲۰۱۰ء بعد از عشاء جامع مسجد بلال مکھن پورہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے مولانا قاری عبدالعلیم شاکر ، مولانا قاری عتیق الرحمن راشدی ، مولانا ڈاکٹر شاہد اویس، مولانا مفتی محمد حسن، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ جناب رضوان نفیس نے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ یوں الحمد للہ لاہور کے مختلف سات اہم مقامات پر عظیم الشان ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنسوں کا بخیر وخوبی انعقاد ہوا۔ فالحمد لله!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۵۲)
لاہور میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس
۸ تا ۱۰؍ جنوری ۲۰۱۰ء کو آسٹریلیا جامع مسجد لاہور میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس ہوا۔ ۸؍ جنوری کا جمعہ مجلس مرکزیہ کے ناظم نشر واشاعت مولانا عزیز الرحمن ثانی نے پڑھایا۔ جمعہ کے دن جامع مسجد آسٹریلیا کے خطیب حضرت مولانا ملک عبدالرؤف اور جامع مسجد انار کلی کے خطیب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے سرپرست حضرت مولانا صاحبزادہ عبدالرحمن نے اپنے ایمان پرور بیانات سے کورس کا آغاز فرمایا۔ ظہر تا مغرب تین دن یہ پروگرام چلتا رہا۔ حضرت مولانا نعیم الدین استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ قدیم کریم پارک اور استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد حسن، جامعہ مدنیہ جدید رائے ونڈ روڈ، حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا محمد یوسف خان، حضرت مولانا انعام الحق، حضرت مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا اللہ وسایا اور دوسرے حضرات کے لیکچرز ہوئے۔ مختلف دینی مدارس کے علماء، اساتذہ، طلباء، سکولز، کالجز، یونیورسٹیز کے طلباء، پروفیسر، تجار، ملازمین غرض تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے ساڑھے چار سو سے زائد حضرات نے اس میں باقاعدہ داخلہ لیا۔ تینوں دن حاضری دی۔ ان حضرات کو لکھنے کے لئے کاپیاں، لٹریچر، سند اور مجلس کی مطبوعہ کتاب مناظرے دی گئیں۔ آسٹریلیا مسجد میں قائم جامعہ عثمانیہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد سلیم اور ان کے گرامی قدر اساتذہ وطلباء نے اس کورس کو کامیاب بنانے میں سرتوڑ محنت و سرپرستی سے تعاون فرمایا۔ آخری دن مغرب کے بعد سے عشاء تک تقسیم اسناد کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں لاہور کی دینی قیادت نے اپنے ہاتھوں سے شرکاء حضرات کو اسناد عنایت فرمائیں۔ لاہور کے مبلغ مولانا عبدالنعیم، مولانا سید محبوب شاہ اور سید ضیاء الحسن شاہ نے نظم کو سنبھالا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۵۲، ۵۳)
لاہور کے جامعات میں تربیتی بیانات
جامعہ اشرفیہ فیروز پور روڈ دورہ حدیث شریف کی جماعت سے ۹، ۱۰؍ جنوری ۲۰۱۰ء اور مدرسہ الفیصل للبنات ماڈل ٹاؤن کی تمام شریک درس طالبات سے ۱۲، ۱۳؍ جنوری ۲۰۱۰ء کو مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۱۳)
جماعتی سرگرمیاں
تحفظ ناموس رسالت قانون کے لئے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ، نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ نے عوام کی ذہن سازی کے لئے پورے پاکستان میں علماء وخطباء حضرات کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کو متوجہ کیا گیا کہ ناموس رسالت ایکٹ کی حمایت کے لئے رائے عامہ ہموار کی جائے اور اس قانون کو ختم یا اس میں ترمیم کرنے کے خواہشمند عناصر کی ناپاک کوششوں کو ناکام بنانے کی بھرپور جدوجہد کی جائے۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۱۰ء ص ۲۷)
حضرت امیر مرکزیہ کی طرف سے حضرات علماء کرام کی خدمت میں ضروری گذارش
نحمده ونصلى على رسوله الكريم. اما بعد!
بخدمت عالی جناب حضرات علماء کرام ! آپ سے بہتر کون اس بات کو جانتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسئلہ مسلمانوں کے ایمان کی جان ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ادنیٰ سی گستاخی انسان کو دارین کی فلاح سے محروم اور ابدی عذاب و شقاوت کا مستحق بنادیتی ہے۔ حال ہی میں ملکی اخبارات میں ننکانہ کی ملعونہ آسیہ کا کیس بہت شہرت حاصل کر گیا ہے۔ اس مسیحی خاتون نے آنحضرت ﷺ کی اہانت کا ارتکاب کیا۔ پنچائیت، پولیس کی انکوائری نے اسے ملزم ثابت کیا۔ پرچہ درج ہوا۔ سیشن جج نے کیس کی سماعت کی۔ گواہان کے بیانات، مقدمہ کے چالان اور خود ملزمہ کے اعتراف کے بعد عدالت نے اسے مجرم قرار دے کر سزا سنائی۔ ہائیکورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف مجرمہ نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔ اس کی سماعت نہیں ہوئی۔ اگر ہائیکورٹ کا فیصلہ مجرمہ کے خلاف ہوا تو سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کا مرحلہ باقی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر خلاف ہو جائے تو بھی مجرمہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی درخواست کا حق رکھتی ہے۔ ابھی تمام تر یہ عدالتی طریق کار باقی ہے۔ ان سب کو نظر انداز کر کے ملعونہ آسیہ کے ہاں جیل میں گورنر پنجاب گئے اور پھر ملک میں آسیہ کو بچانے کی جدوجہد، اس قانون تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرنے کا پروپیگنڈہ اس زور کے ساتھ شروع ہو گیا ہے کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی کی ایک رکن قومی اسمبلی جناب شیریں رحمان نے اس قانون کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کا بل قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔
گورنر پنجاب، شیریں رحمان، ملک بھر کی این جی اوز وغیرہ کی کارروائیوں کو امریکی مطالبہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو شدید اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ کسی وقت بھی تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرنے کی سازش تکمیل کو پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد سوائے کف افسوس ملنے کے ہمارے پاس باقی کچھ نہ رہ پائے گا۔
ان حالات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے آپ کی خدمت میں گذارش ہے کہ خطبہ جمعہ، تحریر و تقریر، اخبارات کے ذریعہ اس قانون کی اہمیت وافادیت اور تحفظ ناموس رسالت کی مسلمانوں کے ہاں حساسیت کے لئے رائے عامہ کو بیدار کرنے میں اپنا فرض ادا کریں۔ اپنے حلقہ کے قومی اسمبلی کے ممبران کو قائل کریں کہ اسمبلی میں بھی اس سازش کو ناکام بنائیں۔ امید ہے کہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو پیغمبر علیہ السلام کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے صرف کر کے ممنون فرمائیں گے۔ جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء!
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۱ء ص۳)
ختم نبوت کوئز پروگرام گلستان انیس کراچی
۱۰؍ جنوری ۲۰۱۰ء بروز اتوار شہید ملت روڈ گلستان انیس کراچی میں اسی قسم کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں کراچی بھر سے اسکول کے اسٹوڈنٹس نے بڑی تعداد میں حصہ لیا تھا، گلستان انیس کا وسیع و جمیل لان مہمانان کرام سے بھرا ہوا تھا۔ لان میں ختم نبوت کے حوالہ سے خوبصورت جملوں پر مشتمل بینرز لگائے گئے تھے۔ مجاہد ختم نبوت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا مشہور جملہ درج تھا: ”فتنہ مرزائیت کے خلاف کام کرنے والے کی پشت پر نبی پاک ﷺ کا ہاتھ ہوتا ہے ۔“ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری کا قیمتی قول بھی اپنی آب و تاب دکھا رہا تھا: ” ختم نبوت کے کام کا بدلہ جنت ہے اور میں اس کا ضامن ہوں“ لان کے ایک طرف بینرز پر لکھا ہوا تھا: ”اے مسلمان! جب تو کسی قادیانی سے ملتا ہے تو گنبد خضریٰ میں دل مصطفیٰ دکھتا ہے“ اس کے علاوہ مختلف جملوں پر مشتمل بینرز پروگرام کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے۔ کوئز پروگرام میں کمپیئرنگ کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے بھر پور طریقہ سے سنبھالے ہوئے تھے۔ قاضی صاحب مرنجان مرنج طبیعت کے مالک ہیں۔ ہنسی مزاح میں سوالات پوچھتے اور درمیان میں سبق آموز کلمات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے سامعین کو نوازتے رہے، ننھے منے بچوں سے کلمے سن کر گفٹ دیتے۔ قاضی صاحب نے سوال و جواب کی نشست کو تین مرحلوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ اوّل مرحلہ میں ہال میں موجود کسی بھی اسٹوڈنٹ سے سوال پوچھتے وہ اگر مشکل سوالات کا جواب نہ دے پاتا، آسان سوال کا ایک جواب بھی دے دیتا، اس کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی گفٹ دیا جاتا اور آئندہ کے لئے بھرپور تیاری کی تلقین کی جاتی، گویا یہ مرحلہ مقابلہ میں چناؤ کا تھا، دوسرے مرحلہ میں کوئی اسٹوڈنٹ پانچ جوابات درست دیتا، اس کا انتخاب اگلے راؤنڈ کے لئے ہو جاتا، ان خوش قسمت اسٹوڈنٹس کے اسماء یہاں ذکر کئے جاتے ہیں، جنہوں نے پانچ سوالات کے درست جوابات دیئے: راشد احمد ریاض مسجد، انس طاہر طارق روڈ، عاقل اسماعیل بہادر آباد، طلحہ حنیف گلشن اقبال، محمد فیاض میٹرو ول سائٹ، محمد نعمان نجم مسجد ٹیپو سلطان روڈ، احسان الرحمن طارق روڈ، عبدالرافع ثاقب طارق روڈ، ارقم سلمان امیر خسرو روڈ دھوراجی، عثمان سلمان بلوچ کالونی اور عبدالوہاب قذافی ٹاؤن لانڈھی، تیسرے اور آخری راؤنڈ میں کانٹے دار مقابلہ ہوا، پانچ میں سے ایک سوال کا جواب بھی غلط ہونے کی صورت میں آخری مرحلہ میں ان کی شرکت نہیں ہوسکتی تھی، لیکن معقول انعام سے نوازا گیا۔ آخری راؤنڈ میں تین طلباء کامیاب ہوئے جنہوں نے دس، دس سوالات کے صحیح جوابات دیئے۔ عبدالوہاب، عثمان سلمان اور ارقم سلمان تینوں کو اسٹیج پر جلوہ افروز علماء کرام مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی، قاری فیض اللہ چترالی، مولانا طلحہ رحمانی، مولانا مفتی عثمان اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کے نواسے محمد عابد بنوری کے سامنے بٹھایا گیا، تینوں طلباء نے ہر سوال کا درست جواب دیا تھا اور آخری مرحلہ میں کامیابی حاصل کی تھی۔ کامیاب طلباء کے درمیان بمپر پرائز سائیکل کی قرعہ اندازی کی گئی، جس میں قذافی ٹاؤن لانڈھی کے طالب علم عبدالوہاب عثمان کا نام نکل آیا، یوں مقابلہ عبدالوہاب نے جیت لیا اور بمپر پرائز سائیکل حاصل کیا، جب کہ عثمان سلمان اور ارقم سلمان کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے بھاری انعام کے علاوہ جناب نور محمد صاحب کی طرف سے ایک ایک ہزار روپے اور مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی صاحب کی طرف سے پانچ پانچ سو روپے انعام میں دیئے گئے۔
پروگرام میں شریک مہمانان گرامی سے مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ نے مختصر خطاب فرمایا، انہوں نے کوئز پروگرام میں شرکت کرنے والے اسٹوڈنٹس کے والدین کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ میں ان بچوں کے والدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ختم نبوت کوئز پروگرام میں اپنے بچوں کی شرکت کو یقینی بنایا۔ آج کے بچے کل کے معمار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ بچوں کو مجاہدین ختم نبوت بنائے، انہیں اکابرین جیسا جذبہ و ولولہ عطا فرمائے اور ہم سب کو ختم نبوت کے مشن کے لئے قبول فرمائے۔ ختم نبوت کوئز پروگرام حافظ عبدالقیوم نعمانی صاحب کی پُرسوز دعاء کے ساتھ بڑی کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍فروری ۲۰۱۰ء ص۲۶)
حلقہ بلدیہ ٹاؤن میں ختم نبوت پروگرامز کا انعقاد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام حلقہ بلدیہ ٹاؤن میں گزشتہ دنوں پانچ پروگرام منعقد کئے گئے۔
پہلا پروگرام: جامع مسجد عائشہ سیکٹر ۸۔سی میں منعقد ہوا، جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ جس طرح عقیدہ توحید اسلام کی بنیاد ہے، ٹھیک اسی طرح عقیدہ ختم نبوت بھی اسلام کی بنیاد اور اساس ہے۔ اگر کوئی شخص عقیدہ توحید کے اقرار کے ساتھ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج تمام ارکان اسلام کا اقرار کرتا ہے، مگر عقیدہ ختم نبوت کا انکار کرتا ہے تو ایسا شخص اسلام کے اجماعی اور قطعی عقیدہ کا منکر ہونے کی وجہ سے دائرہ ایمان و اسلام سے نکل جائے گا۔ نماز جمعہ اور عربی خطبہ مولانا سید شاہ حیدری نے دیا۔
دوسرا پروگرام: جامع مسجد معراج مصطفیٰ گلشن غازی میں مولانا محمد عبداللہ کی نگرانی میں بعد نماز عصر منعقد ہوا۔ کراچی کے مبلغ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر رشتہ دار اپنے دوسرے رشتہ دار سے اپنا حق مانگتا ہے، ماں، باپ، بیٹا، بیٹی، بہن، بھائی، شوہر، بیوی غرضیکہ تمام رشتے اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں ہر ایک رشتہ دار معمولی حق تلفی پر ناراض اور دشمن بن جاتا ہے، خونی رشتہ کے باوجود لڑائی جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ آج کا مسلمان کتنا بے حس ہو چکا ہے کہ محسن انسانیت، شفیع المذنبین ﷺ کے حقوق کی ادائیگی کی اس کو پرواہ تک نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ کے دشمنوں سے ملتا ہے، ان کی مصنوعات استعمال کرتا ہے، کل قیامت والے دن حضور ﷺ کو یہ لوگ کیا شکل دکھائیں گے؟ پروگرام کے اختتام پر مولانا اپنے رفقاء اور مولانا محمد سعید الرحمن کے ہمراہ ختم نبوت کے بزرگ کارکن فرحت اللہ خان کے گھر گئے، جہاں انہوں نے ان کے بیٹے عبداللہ کی صحت یابی کے لئے دعا کی۔
تیسرا پروگرام: سلیمانیہ مسجد غوث نگر میں بعد نماز مغرب مولانا محمد عمر زادہ کی زیر سر پرستی منعقد ہوا، مولانا قاضی احسان نے پون گھنٹہ نہایت سحر انگیز انداز میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی عظمت اور رفعت کو بیان کیا۔
چوتھا پروگرام: جامع مسجد عمر آفریدی کالونی میں مولانا عنایت اللہ اور عبدالرزاق کی معاونت سے بعد نماز عشاء منعقد ہوا، جس میں مولانا قاضی احسان احمد نے امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری کا تذکرہ کیا اور ان کی خدمات ختم نبوت اور تردید قادیانیت پر ایمان پرور اور وجد آفریں انداز میں روشنی ڈالی مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ مال، جان، عزت و آبرو اور ایمان تمام چیزیں بہت قیمتی ہیں، مگر یاد رکھیں کہ اگر آدمی کی جان جانے کا خطرہ لاحق ہو اور جان مال دے کر بچ سکتی ہو تو مال دے کر جان بچا لینا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ اسی طرح اگر کسی انسان کی عزت و آبرو خطرہ میں پڑ جائے اور اس کی شرافت اور پاکدامنی کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اس کے بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے مال، جان سب قربان کرنا پڑے تو کر دو، مزید کہا کہ اگر ایمان ضائع ہونے کا اندیشہ ہو یعنی ایمان کے ڈاکو اور لٹیرے اس کے ایمان کو چھیننے کے درپے ہو جائیں تو اپنی اس قیمتی ترین اور دنیا و مافیہا کی سب سے اہم چیز ایمان کو بچانے کے لئے اپنا مال، جان، عزت سب کچھ قربان کر دینا چاہئے، ایمان کی حفاظت اور بقا یہ ابدی اور دائمی نفع بخش سودا ہے، اس لئے اس اثاثہ سے ہاتھ نہیں دھونے چاہئیں ایمان کش فتنوں سے اپنے ایمان کی حفاظت از بس ضروری ہے۔
پانچواں پروگرام: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کا پانچواں پروگرام بھائی عبید اور تاج حسین کے تعاون سے ڈیرہ صوفی بلدیہ ٹاؤن میں رات ۹ بجے منعقد ہوا۔ مدرسہ حقانیہ اور جامع مسجد بلال کے ہر دلعزیز خطیب مولانا مفتی فیض الحق نے ابتدائی گفتگو فرما کر پروگرام کا آغاز اور غرض و غایت بیان کی۔ پروگرام کی سب سے بڑی خصوصیت نوجوان، اسکول، کالج اور سیاسی تنظیموں کے مقتدر احباب کی کثیر تعداد میں شرکت تھی، تقریباً ساٹھ ستر کے قریب احباب، جذبہ عشق رسالت سے سرشار پروگرام میں شریک ہوئے اور ختم نبوت کا کام کرنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ پروگرام میں قاری سیف الرحمن، مولانا گل زمان، قاری گلزار احمد، محمد رفیق، ابراہیم فانی اور دیگر معززین علاقہ نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر مولانا قاضی احسان احمد اپنے رفقاء کے ہمراہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیر منظور احمد میؤ راجپوت کے معاون وکیل محمد یوسف ایڈووکیٹ کے والد گرامی حاجی عبدالرشید کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے گئے۔ رات ۱۱ بجے جامع مسجد فردوس کے باہر نماز جنازہ ہوئی، رب کریم مرحوم حاجی عبدالرشید کی مغفرت فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان تمام پروگراموں کو قبول فرمائے اور جملہ احباب کی مساعی کو شرف قبولیت نصیب فرماتے ہوئے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۰ء ص ۲۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا چھ روزہ تبلیغی دورہ جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی چھ روزہ تبلیغی دورہ پر جھنگ تشریف لائے۔ موصوف نے ۱۰/ جنوری ۲۰۱۰ء صبح کی نماز کے بعد جامع مسجد اللہ والی نواں شہر جھنگ صدر میں درس دیا۔ بعد نماز ظہر معہد الفقیر میں جامعہ کے اساتذہ کرام اور طلباء سے خطاب کیا۔ موصوف نے مرزا قادیانی کے کذاب و دجال ہونے کے پندرہ عام فہم دلائل بیان کئے۔ جنہیں معہد الفقیر کے طلبا نے نوٹ کیا اور اساتذہ نے سراہا بعد نماز عشاء جامع مسجد ٹھنڈی جھنگ شہر میں خطاب کیا، داعی قاری غلام سرور تھے۔
۱۱/ جنوری بعد نماز فجر جامع مسجد رحمۃ للعالمین میں عقیدۂ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت پر خطاب کیا۔ بعد نماز ظہر جامعہ معہد الفقیر میں رفع و نزول مسیح علیہ السلام کے عنوان پر خطاب کیا۔ معہد الفقیر ملک کے نامور شیخ طریقت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مدظلہ کے زیر اہتمام چلنے والا تعلیمی ادارہ ہے، جو تقریباً ۳۲ بیگھوں (۱۲۸ کنال) پر مشتمل ہے۔ جامعہ میں پانی کے حصول کے لئے دو ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں اور بھی حیرت انگیز صنعتیں بنائی گئی ہیں۔ جامعہ آمدنی میں خود کفیل ہے اور پیر صاحب موصوف کا حلقہ ان کا بھر پور معاون ہے۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد شیخ لاہوری میں بھر پور اجتماع سے خطاب کیا۔
۱۲/ جنوری بعد نماز فجر جامع مسجد قاضیاں والی میں عقیدۂ ختم نبوت کے عنوان پر خطاب کیا۔ ۱۲/ جنوری بعد نماز ظہر العصر تعلیمی مرکز پیر محل میں مفتی محمد شیراز فاضل جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کی دعوت پر مولانا غلام اللہ انور اور مولانا شجاع آبادی پر مشتمل ایک وفد نے اساتذہ و طلباء کے اجتماع سے خطاب کیا۔ اس سے قبل مولانا محمد عمر لدھیانوی اور اہلیہ محترم مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی مدظلہ کی رحلت پر ان کے پسماندگان مولانا مجیب الرحمن لدھیانوی، چوہدری ثناء اللہ دیول ایڈووکیٹ اور محمد عبید اللہ لدھیانوی سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومین کی مغفرت کی دعاء کی۔ بعد نماز مغرب مولانا شجاع آبادی نے روشن مسجد میں امام مہدی کے ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، دجال کے خروج کے عنوان پر خطاب کیا جب کہ مولانا غلام حسین نے جامع مسجد رحمانیہ میں درس دیا۔
۱۳/ جنوری بعد نماز فجر جامع مسجد محلہ باغوالہ جھنگ صدر میں اسلام میں عقیدۂ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت کے عنوان پر خطاب کیا جب کہ مولانا غلام حسین نے جامع مسجد حق نواز شہید میں درس دیا۔ بعد نماز ظہر جامعہ محمودیہ جھنگ صدر میں اساتذہ و طلباء کی تربیتی نشست سے حافظ غلام حسین اور مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد ختم نبوت، ختم نبوت گیٹ جھنگ صدر میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عمومی کے عنوان پر خطاب کیا۔
۱۴/ جنوری بعد نماز فجر جامع مسجد الجبار نیا شہر میں درس قرآن کے اجتماع سے خطاب کیا۔ بعد نماز مغرب جامعہ عثمانیہ نیا شہر میں مولانا محمد الیاس بالاکوٹی کی دعوت پر مبلغین ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور حافظ غلام حسین نے خطاب کیا۔
۱۵/ جنوری بعد نماز فجر جامع مسجد شیریں میں درس دیا۔ مولانا شیریں فاضل دیوبند تھے، سوات کے علاقہ کے رہنے والے تھے، جامع مسجد بنائی۔ ۲۶/ مارچ ۱۹۶۹ء کو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام سے بنائے گئے گیٹ پر سے نام ہٹانے کے مطالبہ پر مولانا شیریں شیعہ کی گولی سے شہید ہوئے ان کے ساتھ پانچ چھ اور نوجوان بھی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ جمعۃ المبارک کا خطبہ جامع مسجد تقویٰ جھنگ سٹی میں دیا، تین بجے کی کوچ سے ملتان کے لئے روانہ ہو گئے۔ مولانا شجاع آبادی نے اہل سنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی حفظہ اللہ سے بھی ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔ مولانا کے دورہ سے جھنگ میں خوب چہل پہل اور رونق رہی اور عوام میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے سلسلہ میں بیداری کی لہر دوڑ گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍فروری ۲۰۱۰ء ص ۲۲)
علی پور چٹھہ میں ختم نبوت کانفرنس
۱۵؍جنوری ۲۰۱۰ء جمعہ کے موقعہ پر مولانا محمد افضل کٹھانہ کی دعوت پر مولانا اللہ وسایا نے قبل از جمعہ ختم نبوت کے موضوع پر خطاب عام کیا۔ شہر و ضلع بھر سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، و جمعیت علماء اسلام کے رہنمایان و متعلقین جمع تھے۔ ظہر کے بعد مولانا محمد افضل کٹھانہ نے ان سب کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ اس جمعہ کے موقعہ پر رسول پور چٹھہ جامع مسجد میں مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد عارف شامی نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۵۳)
داتہ مانسہرہ میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قلندر آباد مانسہرہ کے زیر اہتمام جامعہ ختم نبوت، جامع مسجد خضریٰ داتہ موڑ میں مؤرخہ ۲۳، ۲۴ اور ۲۵؍جنوری کو سہ روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا، جس میں سو سے زائد رفقاء نے شرکت کی۔ مقامی یونٹ کی طرف سے تمام شرکاء کورس کو کاغذ، قلم کی سہولت مہیا کی گئی، کورس کا آغاز ضلع مانسہرہ مجلس کے امیر مفتی وقار الحق عثمانی مدظلہ کے بیان سے ہوا جب کہ مولانا محمد ہارون، قاری عبدالقدیر سمیت کئی ایک علمائے کرام نے افتتاحی بیانات کئے۔ مدرس کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے سرانجام دیئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ مارچ ۲۰۱۰ء ص ۲۲)
فیصل آباد میں سہ روزہ تربیتی ختم نبوت کورس و ختم نبوت کانفرنسیں
۲۶، ۲۷، ۲۸؍جنوری کو فیصل آباد سرگودھا روڈ نواز ٹاؤن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں ظہر تا عصر سہ روزہ تربیتی ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ کورس کی ابتدائی اور اختتامی نشستوں کی صدارت ڈاکٹر قاری محمد صولت نواز نے فرمائی۔ کورس کی مختلف نشستوں سے مولانا قاری محمد یٰسین، مولانا حق نواز خالد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا عبدالخالق مبلغ، صاحبزادہ عزیز الرحمن، مولانا قاری محمد شریف عثمانی، صاحبزادہ مبشر محمود، مولانا محمد حنیف عثمانی، مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔
گوکھوال میں ۲۶؍جنوری بعد از عشاء جامع مسجد گوکھوال میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
۲۷؍جنوری بعد از عشاء جامع مسجد انوری، مولانا مفتی فضل الرحمن، مولانا حق نواز خالد، مولانا اللہ وسایا۔
۲۷؍جنوری بعد از مغرب جامع مسجد صدیقیہ ستیانہ روڈ میں ختم نبوت کانفرنس جو مولانا سید فاروق احمد ناصر شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ اس سے مولانا اللہ وسایا، سید حبیب احمد نے خطاب فرمایا۔ الحمدللہ! تمام پروگرام کامیاب رہے۔ فالحمد للہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۴۷)
بہاولپور میں ختم نبوت کورس
۳۱؍جنوری، یکم، ۲؍فروری ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد اشرف غلہ منڈی میں ختم نبوت کورس عصر تا عشاء منعقد ہوا۔ پہلے دو دن کے اجلاسوں کی صدارت حضرت مولانا محمد عبداللہ خطیب مسجد اشرف نے اور آخری اجلاس کی صدارت حضرت شیخ الحدیث مولانا مفتی عطاء الرحمن نے فرمائی۔ پہلے روز حضرت مولانا مفتی محمد ارشد مدنی، دوسرے روز حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، تیسرے روز مولانا اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وسایا نے تربیتی نشستوں سے خطاب کیا۔ جامعہ دارالعلوم مدنیہ، دارالعلوم اسلامی مشن، جامعہ نظامیہ حیدریہ، جامعہ صدیقیہ، جامعہ اسد بن زرارہ کے منتہی طلباء، اساتذہ، کالجز ، یونیورسٹیز کے طلباء واساتذہ، تجار حضرات نے بھر پور شرکت کی۔ آخری اجلاس میں مجلس کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ تینوں روز بھر پور حاضری رہی۔ آخری روز تو جامع مسجد کے ہال ، برآمدے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے اور صحن میں بھی بھر پور حاضری تھی۔ جب آخری اجلاس میں حضرت مولانا عطاء الرحمن نے دعاء کرائی اور اس کے بعد جماعت کھڑی ہوئی تو صفوں کو دیکھ کر جمعہ کے اجتماع کی یاد تازہ ہوگئی۔ الحمد للہ ! اس کے اچھے اور مثبت اثرات برآمد ہوں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۰ء ص ۴۷)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ سکھر
۹؍ فروری ۲۰۱۰ء بعد نماز ظہر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامعہ دارالہدیٰ ٹھیڑی میں طلباء اور علماء سے خطاب فرمایا اور حاضرین کے سامنے کذبات مرزا قادیانی کو بیان فرمایا۔ نماز عصر جامعہ حیدریہ لقمان خیر پور میرس میں پڑھی۔ مولانا ثناء اللہ برادر صغیر علامہ حیدری سے تعزیت کی اور تمام ساتھیوں کو سکھر کانفرنس میں شرکت کی بھر پور دعوت دی۔ بعد نماز عشاء حکیم عبدالواحد کے مدرسہ دارالفیوض رانی پور جلسہ میں شرکت فرمائی۔ ۱۰؍ فروری جامعہ عربیہ مدینۃ العلوم محراب پور میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے طلباء وعلماء سے خصوصی بیان فرمایا۔ بعد نماز ظہر مدرسہ جامعہ انوارالعلوم کنڈیارو میں ختم نبوت کے عنوان پر جلسہ منعقد کیا گیا۔ جامعہ عربیہ مخزن العلوم کے ناظم مولانا جاوید الرحمان اور مولانا اشفاق الرحمان نے جمعیت طلباء اسلام کے تعاون سے پھل شہر میں ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ منعقد کی۔ کانفرنس کا آغاز بعد نماز مغرب تلاوت کلام پاک سے کیا گیا اور مقامی نعت خواں حاکم علی بھٹو نے ختم نبوت پر نظم پیش کی۔ اس کے بعد مولانا جاوید الرحمان نے بیان کیا۔ بعد نماز عشاء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داریاں کے عنوان پر خصوصی خطاب کیا۔ کانفرنس کا آخری خطاب سندھ کے مشہور خطیب مولانا صبغت اللہ جوگی کا ہوا۔ ۱۱؍ فروری بروز جمعرات ۱۰بجے دن ناگو موری گوٹھ مولا داد ضلع نوشہرو فیروز میں مقامی علماء کرام ودیگر کارکنان کی خصوصی نشست رکھی گئی۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے شرکت کی۔ بعد نماز عشاء جامعہ مسجد خضریٰ لطیف کالونی مورو میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا بیان ہوا۔ ۱۲؍ فروری بروز جمعہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں جمعہ کا خطاب فرمایا اور راقم (مولانا تجمل حسین) نے جامع مسجد عثمانی دولت کالونی میں جمعہ کا بیان کیا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد مکہ لائن پار نواب شاہ میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا خصوصی بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۹)
ڈاہر انوالی میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵؍ فروری ۲۰۱۰ء کو ڈاہر انوالی حافظ آباد میں بعد از نماز عشاء عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے قاری مولانا عبدالحفیظ فیصل آباد، مولانا محمد عارف شامی ، مولانا حافظ عبدالوہاب اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۱)
رسول نگر میں ختم نبوت کانفرنس
قصبہ رسول نگر تحصیل علی پور چٹھہ میں ۱۶؍ فروری ۲۰۱۰ء بعد از نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس سے مولانا عطاء الرحمن ، مولانا بلال احمد ، مولانا محمد افضل کٹھانہ، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد عارف شامی ، مولانا اللہ وسایا اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔ اس موقعہ پر
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رسول نگر کے دفتر کا بھی افتتاح مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۱)
جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس
۱۷؍فروری ۲۰۱۰ء بعد از مغرب تا رات گئے جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا زاہد الراشدی ، مولانا محمد عالم طارق ، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے ۔ میزبانی کے فرائض حضرت مولانا قاری گلزار احمد مہتمم جامعہ قاسمیہ اور آپ کے صاحبزادگان نے ادا کئے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۱)
سلانوالی میں ختم نبوت کانفرنس
۱۸؍فروری ۲۰۱۰ء بعد از نماز عشاء جامع مسجد مدنی ختم نبوت سیرۃ خاتم الانبیاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا غلام مصطفیٰ خطیب چناب نگر ، مولانا عبد الغفور حقانی ، مولانا اللہ وسایا نے بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۱)
چناب نگر میں ایک عظیم الشان جلسہ سیرت النبی ﷺ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام ۳۴؍واں سالانہ عظیم الشان جلسہ، سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے متصل جامعہ مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں ۱۹؍فروری ۲۰۱۰ء بروز جمعتہ المبارک کو منعقد ہوا۔ جس میں مولانا غلام مصطفیٰ ، مولانا غلام رسول دین پوری ، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے ۔ بیانات میں مذکورہ حضرات نے سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے مفصل و مدلل گفتگو فرمائی ۔ مولانا محمد صابر صفدر نے اسٹیج سنبھالنے کے فرائض سرانجام دیئے ۔ جب کہ خطبہ جمعتہ المبارک مولانا غلام رسول دین پوری نے سرانجام دیا اور اختتامی دعاء مولانا اللہ وسایا نے فرمائی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس چہچھی
ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۲۰؍فروری ۲۰۱۰ء بروز ہفتہ بعد از نماز ظہر تا عصر بمقام ڈھیری والی مسجد چہچھی شہر ضلع چکوال میں بڑی شان وشوکت سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز بعد از نماز ظہر تلاوت کلام الٰہی سے ہوا۔ تلاوت مولانا قاری نور محمد نے کی۔ اس کے بعد قاری نور خان نے خاتم الانبیاء ﷺ کی بارگاہ میں نعت پیش کی۔ نقابت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے مولانا محمد جاوید توحیدی نے مولانا قاری سعید احمد مہتمم جامعہ علویہ حیدریہ تلہ گنگ کو دعوت خطاب دیا ۔ حضرت قاری نے قادیانیت کی موجودہ دور میں سرگرمیوں سے سامعین کو بڑے احسن انداز میں آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ مولانا عبید الرحمن انور خطیب مرکزی جامع مسجد عیدگاہ تلہ گنگ نے بڑے اچھے انداز میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے حالات سے سامعین کو آگاہ کیا۔ آخر میں عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے شرکاء اجتماع سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۰)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنسیں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کراچی کے مختلف مقامات پر ۲۱ تا ۲۶؍فروری ۲۰۱۰ء سیرت خاتم الانبیاء کانفرنسیں منعقد کی گئیں، جس میں مولانا اللہ وسایا نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی اور عوام الناس کو فتنہ قادیانیت کی سنگینی اور قادیانیوں کے دجل وفریب سے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آگاہ کیا، چنانچہ اس سلسلہ کا پہلا پروگرام ۲۱؍فروری ۲۰۱۰ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد فاطمہ میٹروول سائٹ میں منعقد ہوا۔ مولانا قاری احسان اللہ نقشبندی کی مسحور کن آواز میں تلاوت سے آغاز ہوا، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاضی احسان احمد کے سپرد تھے، انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں سامعین کو گرمائے رکھا، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری نے عظمت قرآن پر خطاب فرمایا، شرکائے کانفرنس کو مشفقانہ مشورہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح ہم اپنے بچوں کی دنیاوی فلاح و بہبود کے پیش نظر عصری تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، اچھی ملازمت کے لئے اپنی ساری صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں تاکہ دنیا کی عارضی زندگی سکون و اطمینان سے گزر جائے، اس سے کہیں زیادہ ہمیں اپنی دائمی زندگی کے لئے تگ و دو کرنے کی ضرورت ہے، چند روزہ زندگی تو جیسے تیسے گزر ہی جائے گی، آخرت کی مشکل گھاٹیوں کے لئے ہمیں اپنی اولاد کو قرآن کریم کی تعلیمات سے مزین کرنا چاہئے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ جس طرح اللہ رب العزت اپنی خدائی میں وحدہ لاشریک ہیں، اسی طرح محمد عربی ﷺ بھی اپنی مصطفائی میں وحدہ لاشریک ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، منکرین ختم نبوت ملعون قادیانیوں کا ہر جگہ تعاقب جاری رہے گا۔ سامعین کو قادیانیوں کی قرآن وحدیث اور امت مسلمہ کے متفقہ فیصلے سے بغاوت سے آگاہ کیا اور پُر زور اپیل کی کہ قادیانی کمپنیوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے، اس پروگرام میں علاقہ بھر کے لوگوں نے ذوق و شوق سے شرکت کی، جامع مسجد اور صحن کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
دوسرا پروگرام: ۲۲؍فروری ۲۰۱۰ء بروز پیر بعد نماز عشاء جامع مسجد باب رحمت شادمان ٹاؤن نمبر ۲ میں انعقاد پذیر ہوا، جس کی صدارت حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری نے فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی راہنمائی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ حضور اکرم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں، قیامت تک کوئی نیا نبی منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے امت محمدیہ میں پیدا ہونے کی دعائیں مانگیں مگر قادیانیوں کی بدقسمتی دیکھئے کہ محمد عربی ﷺ کا زمانہ پانے کے باوجود، پیغمبر اسلام سے بغاوت کرکے مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے دامن سے وابستہ ہوگئے۔ عظیم الشان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ نجات آخرت صرف اور صرف حضور ﷺ کی اتباع میں ہے۔ جامعہ یٰسین القرآن کے مہتمم مولانا مفتی سید نجم الحسن نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرکین مکہ کو قرآن نے چیلنج دیا کہ اگر یہ انسانی کلام ہے تو اس جیسا کلام پیش کریں، مگر اہل عرب اپنی تمام تر فصاحت و بلاغت کے باوجود قرآن مجید کی ایک چھوٹی سی سورت کی مثل لانے سے قاصر رہے، چودہ سو سال سے قرآن کا یہ چیلنج اب بھی برقرار ہے۔ قرآن کریم ختم نبوت کا اعجاز ہے۔ قرآن آخری آسمانی کتاب ہے۔ مجلس کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرکے امت مسلمہ کو درد و کرب میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے منکرین ختم نبوت سے کہا کہ مرزا قادیانی کے مکر و فریب اور دجل و تلبیس سے چھٹکارا پا کر دامن محمد مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ ہو جائیں، اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ انہوں نے سامعین سے پُر زور درخواست کی کہ قادیانی کمپنیوں کی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں کیونکہ یہ کمپنیاں اپنی آمدنی کا خاطر خواہ حصہ قادیانیت کے فروغ اور مسلم نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں خرچ کرتی ہیں۔ مولانا سعد اللہ نے بھی خطاب کیا جب کہ تلاوت کلام پاک قاری احسان اللہ نقشبندی نے اپنی پُر سوز آواز میں کی۔ آدھی رات کے بعد حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری کی دعاء پر یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
تیسرا پروگرام: ۲۳؍فروری ۲۰۱۰ء بروز منگل بعد نماز عشاء پیر طریقت حافظ عبدالقیوم نعمانی مدظلہ کی زیر سرپرستی جامعہ مصباح
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
العلوم محمودیہ و جامع مسجد مریم منظور کالونی میں رکھا گیا۔ مولانا قاری احسان اللہ نقشبندی نے تلاوت کلام پاک سے سامعین کے دل موہ لئے۔ نعت شریف امان اللہ قاضی اور عرفان نے پیش کی۔ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے مدعی نبوت کی سرکوبی کے لئے حضرت فیروز دیلمی ؓ کو روانہ فرمایا، جنہوں نے اس جھوٹے مدعی نبوت کا سر قلم کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کر کے امت مسلمہ کے لئے ایک راہ متعین فرمادی۔ امت نے کسی دور میں بھی جھوٹے نبی کو برداشت نہیں کیا۔ حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ نبی آخر الزماں ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص وصف عطا فرمایا جو حضرت عیسیٰ ؑ تک کسی نبی کو عطا نہیں کیا گیا، وہ کمال منصب ختم نبوت ہے۔ آپ ﷺ نے مشرکین سے حدیبیہ میں، عیسائیوں سے نجران میں اور یہودیوں سے خیبر میں صلح کی ہے مگر اپنے باغیوں مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ اسدی سے صلح نہیں کی۔ اس لئے منکرین ختم نبوت قادیانیوں سے ہرگز صلح نہیں ہو سکتی۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنے پُر جوش اور دلائل و براہین سے مزین خطاب میں فرمایا کہ قادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں بلکہ محمد عربی ﷺ کی توہین و اہانت کا دوسرا نام ہے۔ مرزا قادیانی ملعون کو اپنے آپ کو ”محمد رسول اللہ“ باور کراتے ہوئے ذرا شرم وحیاء اور غیرت نہیں آئی، اپنے ماننے والوں کو صحابہ، اپنی بیوی کو ام المومنین کہتے ہوئے پیشانی عرق ریز نہیں ہوئی۔ مولانا نے کہا کہ سانپ اور بچھو سے صلح ہو سکتی ہے محمد عربی ﷺ کے دشمنوں سے کسی صورت صلح نہیں ہو سکتی۔ حضرت مولانا جلال پوری مدظلہ کی دعاء پر یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
چوتھا پروگرام : ۲۴؍ فروری ۲۰۱۰ء کو سیرۃ خاتم الانبیاء کانفرنس منعقدہ جامع مسجد گلشن جامی ماڈل کالونی میں خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ محمد عربی ﷺ کے گستاخوں کا ہر جگہ تعاقب کریں گے۔ قانون توہین رسالت میں ترمیم و تنسیخ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ مسلمان، پیغمبر اسلام کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی آخر الزماں ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم جیسا معجزہ عطا فرمایا، جس میں قیامت تک کوئی ردو بدل نہیں ہوگا، جو لاکھوں کروڑوں سینوں میں محفوظ ہے، اس کے برعکس توراۃ، انجیل، زبور اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں۔ مولانا نے کہا کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی نے آنا ہوتا تو قرآن بھی ان آسمانی کتابوں کی طرح محفوظ نہ رہتا ۔ منکرین ختم نبوت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ مبلغ ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ گستاخ رسول راجپال اور نتھو رام کی گستاخیوں کا جواب دینے کے لئے غازی علم الدین اور غازی عبدالقیوم جیسے عاشق رسول پیدا ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے سامعین سے اپیل کی کہ قادیانی گستاخوں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ بعد ازاں مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت کا افتتاح ہوا۔
پانچواں پروگرام : ۲۵؍ فروری ۲۰۱۰ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء اسٹیل ٹاؤن مصطفیٰ مسجد میں منعقد کیا گیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسحاق نے انجام دیئے۔ تلاوت قاری احسان اللہ نقشبندی نے کی اور ایک سماں باندھ دیا، سامعین نے بہت داد دی بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ قاضی احسان احمد نے اپنی جوشیلی تقریر میں کہا کہ ختم نبوت کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں، ہر قسم کے حالات برداشت ہیں مگر محمد عربی ﷺ کی گستاخی برداشت نہیں۔ آخر میں خصوصی خطاب مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا کا ہوا، انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی سیرت بیان کرنے کا حق آج تک کسی نے ادا نہیں کیا، مولانا نے کہا کہ نبی بہادر ہوتا ہے، بزدل نہیں ہوتا اور مرزا غلام احمد قادیانی سب سے بڑا بزدل تھا، نبی امانت دار ہوتا ہے جب کہ مرزا قادیانی خائن تھا، مرزا اپنے دادے کی پینشن کھا گیا، لوگوں سے پچاس جلدوں کی کتاب لکھنے کے نام پر ایڈوانس رقم لے کر ہڑپ کر گیا۔ مولانا موصوف نے کہا کہ نبی خوبصورت ہوتا ہے، مرزا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی ایک آنکھ سے بھینگا اور ایک ہاتھ منہ تک نہ جاتا تھا۔ مولانا اللہ وسایا نے مرزا قادیانی کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی اور شرکائے پروگرام کے سامنے مرزے کی ردائے تقدس کو تار تار کر دیا۔ یہ پروگرام تا دیر جاری رہا۔
چھٹا پروگرام: ۲۶؍ فروری ۲۰۱۰ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء جامع مسجد محمودہ برکات مدینہ کالونی، بھینس کالونی لانڈھی میں منعقد ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد عادل نے سرانجام دیئے۔ تلاوت کلام پاک قاری عطاء الحق نے جب کہ مولانا احسن راجہ نے ابتدائی خطاب کیا اور نعت شریف پیش کی۔ ایک ننھے مجاہد محمد عزیر بن مولانا عبدالرزاق نے عشق رسول پر مسحور کن بیان کیا۔ اس موقع پر مولانا قاضی احسان احمد نے آپ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری پر روشنی ڈالی اور انسانیت کی ہدایت کے لئے آپ ﷺ کے جلوہ افروز ہونے کی عظیم نعمت کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کی ذمہ داری اور فرض ہے کہ نبی کریم ﷺ کے تخت و تاج ختم نبوت کا تحفظ کریں اور اسے منکرین ختم نبوت کے دست برد سے بچائیں۔ انہوں نے قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کی اپیل کی۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ انبیاء کرام کی شان بہت بلند ہوتی ہے۔ نبوت وہبی ہوتی ہے کسبی نہیں۔ محمد عربی ﷺ کی کامل اتباع سے اگر نبوت ملا کرتی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ یا حضرت عمر بن خطاب ؓ کو ملتی۔ بھانو سے ٹانگیں دبوانے والا ملعون مرزا قادیانی تو اپنے آپ کو شریف انسان ثابت نہیں کر سکتا۔ مولانا مدظلہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت و کردار کا پوسٹ مارٹم کر کے اہل عقل و دانش کے سامنے پیش کیا اور عدل و انصاف کی درخواست کی۔ رات گئے یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ آخر میں ادارہ کے منتظم عبدالماجد نے مدرسہ کے نئے شعبے ”اقرأ“ کا افتتاح بھی کیا گیا۔
۲۷؍ فروری ۲۰۱۰ء بروز ہفتہ مولانا اللہ وسایا نے جامع مسجد بلال ڈرگ روڈ میں بعد نماز عشاء ایک عظیم اجتماع سے خطاب کیا۔ مولانا نے اپنے بیان میں عاشقان مصطفیٰ کا والہانہ انداز میں تذکرہ کیا۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ کے واقعۂ شہادت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت زید ؓ کے جسم کے ایک ایک حصہ کو نہایت بے دردی سے کاٹ دیا گیا، مگر شہید کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ حضرت مولانا مدظلہ نے فتنۂ قادیانیت سے بھی سامعین کو آگاہ کیا۔
۲۸؍ فروری ۲۰۱۰ء بروز اتوار حضرت مولانا یحییٰ مدنی مدظلہ کی دعوت پر مولانا اللہ وسایا معہد الخلیل بہادر آباد تشریف لے گئے۔ جامعہ کے اساتذہ کرام اور عزیز طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت اور قادیانیت کا تعاقب وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوان علماء کرام آگے بڑھیں، منکرین ختم نبوت اور قادیانیوں کے عزائم کے سامنے سدسکندری بن جائیں۔ مولانا مدظلہ نے نہایت دلسوزی سے علمائے کرام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کا بچہ بچہ اپنے جھوٹے نبی کے دین کا پرچار کرتا ہے۔ ہمارے علماء کرام خصوصاً ائمہ مساجد، مہینہ میں کم از کم ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت پر بیان کیا کریں تا کہ عوام الناس اور نئی نسل اس عقیدہ سے کما حقہ آگاہ ہو جائے اور کوئی قادیانی منحوس ان کو گمراہ نہ کر سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۰ء ص ۲۱ تا ۲۳)
جامع مسجد محمدیہ چناب نگر میں ایک عظیم الشان جلسہ سیرت النبی ﷺ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۴ واں سالانہ عظیم الشان جلسہ سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے معنون بتاریخ ۴؍ ربیع الاول ۱۴۳۱ھ بروز جمعۃ المبارک بمقام جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں منعقد ہوا، جس میں مولانا غلام مصطفیٰ (مبلغ ختم نبوت چناب نگر)، مولانا غلام رسول دین پوری اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ بیانات میں مذکورہ حضرات نے سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے مفصل و مدلل
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
گفتگو فرمائی۔ بالخصوص مولانا اللہ وسایا نے سیرت پر تقریر کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے کمالات، آپ کی صورت وسیرت، آپ کے چہرہ انور کے حسن کو بیان فرمایا اور اس کے ضمن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام صحابیت اور آپ ﷺ کے چہرہ انور کی زیارت کا ثواب ومقام ،ساتھ ساتھ تصویر کا دوسرا رخ دکھاتے ہوئے قادیانیوں کو مخاطب کر کے کہا: قادیانیو! لاؤ ایسے حسن و جمال، سیرت و کمال والا نبی، چھوڑو عقیدہ ختم نبوت پر شکوک و شبہات کرنا، ہم غلامان ختم نبوت اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جماعت کے افراد ہیں جتنے اعتراضات، شکوک و شبہات لاؤ گے ان شاء اللہ ہمارے پاس پر چون نہیں تھوک کے حساب سے جوابات پاؤ گے، لہذا مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کی پیروی سے تائب ہو جاؤ اور سچے نبی کی ختم نبوت کے زیر سایہ آجاؤ، اور حاضرین مجلس سے کہا مت دیکھو! ان کی ظاہری خوبصورتی اور ٹیپ ٹاپ کو، ان کے دلوں کی دنیا اجڑی ہوئی ہے آج دنیا میں مارے ندامت کے سرنگوں پھرتے ہیں۔ یہ دنیا کا عذاب ہے اور آخرت کا عذاب عنقریب آنے والا ہے۔ مولانا محمد صابر صفدر نے اسٹیج سنبھالنے کے فرائض سرانجام دیئے جب کہ خطبہ جمعۃ المبارک اور نماز جمعہ کا فریضہ مولانا غلام رسول دین پوری نے سرانجام دیا اور اختتامی دعاء مولانا اللہ وسایا نے فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ / مارچ ۲۰۱۰ء ص ۲۱ تا ۲۳)
سرگودھا میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی عید گاہ میں عظیم الشان ختم نبوت (خواتین) کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی نگرانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی اور عاصم اشتیاق نے کی۔ کانفرنس کی تشہیر کے لئے خواتین میں چھوٹی چھوٹی پچاس کانفرنسیں کی گئیں۔ کانفرنس ہال کو شامیانوں اور قناتوں سے ڈھانپ کر مکمل با پردہ بنا دیا گیا تھا۔ کانفرنس کی منتظم نے پانچ چھ ہزار خواتین کے لئے انتظام کیا۔ لیکن خواتین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے انتظامات میں اضافہ کرنا پڑا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق دس سے بارہ ہزار خواتین نے کانفرنس میں شرکت کی۔ خواتین سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم مولانا محمد اکرم طوفانی ، مقامی امیر مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد رضوان اور مفتی شاہد مسعود نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۸)
مولانا غلام مصطفیٰ کے تبلیغی پروگرام
جامع مسجد غلہ منڈی سلانوالی میں بعد از نماز عصر اور جامع مسجد مدنی چوک سلانوالی میں بعد از نماز مغرب، اور جامع مسجد عمر اسلام نگر سلانوالی میں بعد از نماز عشاء درس دیئے۔ جن میں عقیدۂ ختم نبوت، حیات سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام پر مفصل گفتگو فرماتے ہوئے حاضرین وسامعین کرام کو فتنہ قادیانیت سے روشناس کرایا۔ موضع وڈسیداں، موضع دھن ہرلاں اور میانہ کوٹ لاہور روڈ ضلع چنیوٹ کے مذکورہ مقامات میں جلسۂ عام میں خطاب فرمایا۔ یکم/ مارچ ۲۰۱۰ء بروز پیر کو ٹی، ایم ، اے ہال ضلع چنیوٹ میں جناب ڈی سی او صاحب اور جناب ڈی پی او صاحب کے زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسۂ سیرت النبی ﷺ منعقد ہوا۔ اسی طرح یکم /مارچ کو پرانا ڈاکخانہ محلہ لاہوری گیٹ اور مصطفیٰ آباد گلی نمبر ۴ فیصل آباد میں جلسہ سیرت النبی ﷺ منعقد ہوا جس میں مولانا موصوف نے آنحضرت ﷺ کی ولادت با سعادت، آپ کی سیرت طیبہ، آپ کی ختم نبوت پر تفصیلی بیانات فرمائے۔ ۲/ مارچ بروز منگل بعد نماز ظہر بلدیہ ہال ضلع چنیوٹ میں سیرت النبی ﷺ کے عنوان پر ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں مولانا موصوف نے سیرت کے حوالے سے گفتگو فرماتے ہوئے آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ ، حسن و جمال وغیرہ موضوعات پر بیان فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۹، ۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کنجوانی میں ختم نبوت کانفرنس
۲؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو کنجوانی تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا اہتمام جامعہ فیض عام سمندری کی شاخ واقع گاؤں ہڈا نے کیا تھا۔ متعدد حضرات کے علاوہ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۱)
ہڑپہ میں سیرت کانفرنس
۳؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو ہڑپہ میں سیرت النبی کانفرنس سے مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محبوب الحسن، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا، صاحبزادہ رشید احمد نے صدارت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۱)
رد قادیانیت کورس اور ختم نبوت کانفرنس
۲ تا ۴؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس ہوا۔ کورس کا آغاز قاری عطاء الرحمان مدنی کی تلاوت سے ہوا۔ افتتاحی بیان مولانا محمد انیس امیر مقامی جماعت نے کیا۔ بعد نماز مغرب تا رات ۱۰ بجے تک یہ پروگرام تین دن چلتا رہا۔ مولانا مفتی راشد مدنی مبلغ رحیم یار خان، مولانا مفتی حفیظ الرحمان ٹنڈو آدم، مولانا قاضی احسان احمد مبلغ کراچی، سمیت دوسرے حضرات کے لیکچرز ہوئے۔ مختلف دینی مدارس کے طلباء، علماء، اساتذہ، تجار، ملازمین غرض تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کی۔ پہلے دن تقریباً سو سے زائد اور دوسرے دن ڈیڑھ سو اور تیسرے دن دوسو سے زائد حضرات نے شرکت کی۔ ان حضرات کو جماعت کی طرف سے کاپی قلم اور لٹریچر دیا گیا اور تینوں دن طعام کا انتظام کیا گیا۔ نواب شاہ کے تمام مدارس کے علماء و طلباء نے کورس کو کامیاب بنانے میں مکمل تعاون کیا۔ نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے مقامی جماعت کے تمام رفقاء سمیت بھر پور محنت کی اور نظم کو سنبھالا۔ الحمد للہ! اس سہ روزہ کورس سے بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ ۴؍ مارچ بروز جمعرات کو سہ روزہ کورس کے اختتام پر بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ تلاوت قاری محمد رضا نے کی۔ حافظ محمد اسد اللہ اور حافظ محمد عثمان نے نظمیں پڑھیں۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری محمد امجد مدنی نے انجام دیئے۔ مقامی علماء کرام میں سے مولانا سید گل محمد شاہ، مولانا حزب اللہ کھوسو، مولانا سراج الدین، مولانا محمود الحسن کے بیانات ہوئے۔ اس کے بعد مولانا تجمل حسین، مولانا محمد اعجاز، مولانا قاضی احسان احمد، کے بیانات ہوئے۔ آخر میں مہمان خصوصی مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری شہید کا بیان ہوا۔ مولانا تجمل حسین نے قراردادیں پیش کیں اور کانفرنس کا اختتام حضرت مفتی صاحب کی دعاء پر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا کے زیر اہتمام حضرت مولانا مفتی محمد ظفر اقبال کی قیادت واہتمام میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا ۴؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو انعقاد ہوا۔ پورے ضلع کی دینی قیادت موجود تھی۔ شیخ الحدیث واستاذ الکل حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی نے صدارت فرمائی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا عبدالکریم ندیم، حضرت مولانا محمد رضوان، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ قراردادیں مولانا فیض محمود نے پیش کیں۔ قاری محمد یاسر ظفر کی نعتوں نے کانفرنس کے ماحول کو بقعۂ نور بنائے رکھا۔ کانفرنس میں بھر پور اور مثالی حاضری تھی۔ کانفرنس دور رس نتائج کی حامل ہوگی اور اس کے مدتوں تذکرے رہیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس لیہ
۵؍مارچ ۲۰۱۰ء کو لیہ جامع مسجد کرنال میں ختم نبوت کانفرنس سے قبل از جمعہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، بعداز جمعہ مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالقادر ڈیروی نے خطاب فرمایا۔ جناب اللہ نواز سرگانی نے اپنے ایمان پرور کلام سے سامعین کو مسحور کیا۔ قاری محمد آصف نے تلاوت کلام فرمائی۔ جناب قاری عبدالشکور نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ مولانا محمد حسین نے صدارت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس دریاخان
۵؍مارچ ۲۰۱۰ء بعد از عشاء جامعہ فاروقیہ دریاخان میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے ممتاز بزرگ رہنما مولانا محمد عبداللہ بھکر، جناب دین محمد فریدی، مولانا عبدالستار، مولانا محمود حسن، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۳۹)
اندرون سندھ کا دورہ
۶؍مارچ ۲۰۱۰ء کو سکھر سے مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد نذر پر مشتمل وفد اندرون سندھ کے دورے کے لئے روانہ ہوا۔ سب سے پہلے شکار پور روڈ لکھی کے علاقے میں مولانا عبدالطیف سے ملاقات کی۔ سکھر ختم نبوت کانفرنس کی دعوت دی۔ مدیجی میں قائم مدرسہ دارالہدیٰ حمادیہ میں علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ دعوت نامے دیئے اور اشتہارات لگوائے۔ بعد ازاں وفد لاڑکانہ پہنچا۔ جامعہ مسجد ہائیکورٹ میں حافظ محمد رفیق، مولوی احسان اللہ سے ملاقات کر کے کانفرنس کی دعوت اور اشتہارات پہنچائے۔ لاڑکانہ میں مولانا علی محمد حقانی مدظلہ سے ملاقات کی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے ان سے دعاء کرائی اور دعوت دی۔ ڈاکٹر علامہ خالد محمود سومرو کے مدرسہ میں اساتذہ و ناظمین سے ملاقاتیں کیں۔ خصوصاً مولانا عبدالباسط، مولانا محمد اقبال، لاڑکانہ کے بعد میروخان میں مولانا عبدالقیوم کی معرفت سے نماز مغرب میں تین مساجد میں بیانات ہوئے۔ علماء کرام کو دعوت دی۔ اشتہارات پہنچائے۔ پھر قمبر کا سفر ہوا۔ قمبر شہر کی بڑی مساجد میں تین مقامات پر پروگرام ہوئے۔ عوام الناس کو کانفرنس کی دعوت دی اور خصوصاً علماء کرام سے وعدہ لیا کہ وہ کانفرنس میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں گے۔ ۷؍مارچ کو قمبر سے علاقہ کی معروف درگاہ پیر شریف حاضری ہوئی۔ حضرت مولانا سائیں عبدالعزیز مدظلہ کو کانفرنس کی دعوت بھی دی اور دعاء بھی کرائی۔ قمبر سے واپسی پر نوڈیرو اور گڑھی خدا بخش کا دورہ کیا۔ مولانا عبدالقدوس کے مدرسہ میں قاری صاحبان سے ملاقات کر کے دعوت نامے پہنچائے۔ لاڑکانہ شہر میں خصوصاً ڈاکٹر علامہ خالد محمود کے جامعہ میں علماء کرام کے ایک بڑے اجلاس سے مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کانفرنس کی غرض وغایت اور موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داریوں پر بیان کیا۔ بعدازاں علامہ خالد محمود سے ملاقات ہوئی۔ ختم نبوت کانفرنس سکھر کی دعوت کی یاد دہانی کرائی اور دیگر علماء کرام مولانا مسعود احمد، حافظ رفیق احمد، مولانا عبدالباسط سے ملاقات ہوئی۔ لاڑکانہ سے وفد گمبٹ کے لئے روانہ ہوا۔ جہاں رانی پور میں حامد عباسی مسجد، تاج مسجد، جامع مسجد اور نور مسجد میں بعد نماز مغرب بیانات ہوئے۔ رات قیام گمبٹ جدید دفتر میں ہوا اور ۸؍مارچ کو صبح کی نماز کے بعد تین مساجد، رحمانیہ مسجد، مکی مسجد، مدینہ مسجد میں بیانات ہوئے۔ صبح دس بجے مدرسہ عربیہ شمس العلوم کھرڑا میں بیان ہوا۔ علماء اور طلباء کو کانفرنس کی دعوت دی گئی۔ ٹھیری میرواہ مدرسہ عربیہ انوار العلوم والتوحید اور جامع مسجد میں علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مولانا بشیر احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد نذر، مولانا محمد علی صدیقی کی ٹھیری میں علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں اور دو مساجد میں بیانات ہوئے۔ خیر پور میرس
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں صدیق اکبر مسجد میں مولانا اسد اللہ سے ملاقات ہوئی۔ کانفرنس کی دعوت دی اور مسجد میں اعلان بھی ہوا۔ بعدازاں مولانا میر محمد میرک کے جامعہ حمادیہ میں علماء کرام سے ملاقاتیں کیں اور کانفرنس کی دعوت دی۔ بعدازاں مولانا شبیر احمد پھلپوٹو کے مدرسہ عبداللہ بن مسعود میں جلسہ میں بیان ہوا اور کانفرنس کی علماء کرام کو دعوت دی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس ٹھیڑی
۸/ مارچ ۲۰۱۰ء بروز پیر کو جامعہ دارالہدیٰ ٹھیڑی کی جامع مسجد میں بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس سے مولانا نذر عثمانی مبلغ ختم نبوت حیدرآباد نے بیان کیا۔ مولانا اللہ وسایا کا خصوصی بیان ہوا اور آخر میں مولانا میر محمد میرک نے دعائیہ کلمات کہے اور دعاء کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۲۹)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کی جانب سے ۹/ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد محراب پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا آغاز بعد نماز عصر ہوا۔ تلاوت قاری فتح محمد نے کی۔ عصر کے بعد مولانا تجمل حسین کا بیان ہوا۔ بعد نماز مغرب تا عشاء مولانا عیسیٰ سموں کا بیان ہوا۔ بعد نماز عشاء حافظ نعیم شاکر نے نظمیں پڑھیں اور مولانا عزیز الرحمن ثانی نے بیان کیا۔ پھر مولانا قاضی احسان احمد کا خصوصی بیان ہوا۔ آخر میں مولانا اللہ وسایا کا بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۲)
دفاع ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ ورکاں
مارچ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام نوشہرہ ورکاں میں ختم نبوت کانفرنس مولانا علیم الدین شاکر، مولانا یونس ماجدی، مولانا محمد عارف شامی نے خطاب کیا۔ جب کہ فیصل بلال، جناب یونس ربانی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۸)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورہ خوشاب
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی چار روزہ دورہ پر خوشاب میں تشریف لائے۔ مسجد عمر خوشاب، جامع مسجد صدیق اکبر خوشاب، جامعہ امدادیہ جوہرآباد، جامعہ علوم شرعیہ جوہرآباد، جامع مسجد مٹھہ ٹوانہ، پیلووانس میں مختلف اجتماعات سے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۵۰، ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس گرجاکھ گوجرانوالہ
۱۱/ مارچ ۲۰۱۰ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد فاروقیہ میں ختم نبوت کے عنوان پر اجتماع منعقد ہوا۔ جس کے اشتہارات باقاعدہ شائع ہوئے۔ بہرحال اجتماع کی صدارت ضلعی امیر مولانا محمد اشرف مجددی نے کی اور اجلاس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۳)
ختم نبوت کانفرنس گمبٹ
۱۱/ مارچ ۲۰۱۰ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب تلاوت کلام پاک سے آغاز کیا گیا اور مقامی نعت خوانوں نے نظمیں پڑھیں۔ مولانا تجمل حسین، مولانا عزیز الرحمن ثانی، سائیں عبدالعزیز پیر شریف والوں کا بیان ہوا۔ اس کے بعد نماز کا وقفہ کیا گیا۔ بعد نماز عشاء مولانا محمد حسین ناصر اور
تحریک ختم نبوت جلد(۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا قاضی احسان احمد کا بیان ہوا۔ مولانا میر محمد میرک، مولانا عبدالغفور حیدری، علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے خصوصی بیانات ہوئے۔ مولانا اللہ وسایا کا بیان، سانحہ کراچی (مولانا سعید احمد جلال پوری کی شہادت) کی وجہ سے نہ ہوسکا۔ کانفرنس کے آخر میں سکھر کانفرنس میں شرکت کا وعدہ لیا گیا اور قراردادیں پیش کی گئیں۔ ۱۲؍مارچ کو جمعہ جامع مسجد صدیق اکبر خیر پور میں مولانا نذر نے پڑھایا اور مولانا تجمل حسین نے جامع مسجد محمدی میں جمعہ پڑھایا اور حاضرین سے کانفرنس میں شرکت کا وعدہ لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس بھریا روڈ
۱۲؍ مارچ ۲۰۱۰ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب تا رات گئے بھریا روڈ شہر میں ختم نبوت چوک میں کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس سے مولانا حفیظ الرحمان، مولانا تجمل حسین، حافظ خادم حسین شر، مولانا نذر، قاری کامران کے بیانات ہوئے اور آخر میں قرارداد پیش کی گئی اور حاضرین کو سکھر کانفرنس کی دعوت دی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس سکھر کی کاروائی
الحمد للہ کہ ۱۴؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو قاسم پارک سکھر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی۔ مغرب کی نماز سے لے کر صبح ساڑھے تین بجے یہ کانفرنس سوائے وقفہ نماز عشاء کے تسلسل کے ساتھ جاری رہی۔ کانفرنس کی تیاری دوماہ سے شروع تھی۔ مولانا بشیر احمد، مولانا محمد حسین ناصر، سکھر مجلس کے رہنمایان مولانا قاری خلیل احمد، مولانا عبداللطیف اشرفی، آغا سید محمد، مولانا عبدالباری، بمع اپنے دیگر متعلقین کے کانفرنس کی تیاری کے لئے شب وروز ایک کر دیئے تھے۔ یکم؍ مارچ کو مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور سے سکھر تشریف لاکر شریک قافلہ ہوئے۔ حیدر آباد سے مولانا محمد نذر، میر پور خاص سے مولانا محمد علی صدیقی، خیر پور میرس سے مولانا تجمل حسین پر مشتمل کاروان، نواب شاہ سے اوباڑہ تک اور جنوب میں انڈیا کی سرحد سے شمال میں کنڈیارو تک کے علاقہ میں شب وروز متواتر تبلیغی سفر جاری رکھا۔
۵؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو کراچی سے مولانا قاضی احسان احمد بھی اس قافلہ میں شریک ہوگئے۔ میرے خیال میں ۵۰؍ مربع میل تک کا کوئی قصبہ اور اہم شہر ایسا نہیں جس کا دورہ نہ کیا ہو۔ بیانات ہوئے، میٹنگیں ہوئیں۔ علماء سے ملاقاتوں اور مشاورتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اشتہارات، بینرز، فلیکس کے بینرز سے ہر طرف کا ماحول سراپا کانفرنس بن گیا۔ لٹریچر، ہینڈ بل بہت کثرت سے تقسیم ہوئے۔ خطبات جمعہ میں علماء نے پبلک کو کانفرنس کے لئے تیار کرنا شروع کیا۔ کانفرنس کے روز صبح کی ٹرین پر کراچی سے مرکزی ناظم اعلیٰ دامت برکاتہم، مولانا محمد اکرم طوفانی اپنے رفقاء سمیت تشریف لائے۔ جناب ڈاکٹر حفیظ اللہ کی خانقاہ عالیہ، پیر طریقت حضرت مولانا محمد فاروق کی خانقاہ عالیہ، جامعہ اشرفیہ، دفتر ختم نبوت، جناب حاجی فرزند علی کی رہائش گاہ، باہر سے آنے والے مہمانوں کی مہمانداری کے لئے وقف ہوگئیں۔ شام کو قافلے آنے شروع ہوئے۔ میر پور، کنری، حیدر آباد، نواب شاہ، رحیم یار خان تک کے بھر پور وفد وقافلوں نے کانفرنس میں شرکت کی۔ باقی اندرون سندھ کے قافلوں کا تو شمار ہی نہیں۔ پنڈال کے وسیع وعریض تمام حصہ کو خوبصورت بینروں سے سجایا گیا تھا۔ سپیکر، جنریٹر، لائٹ کا وسیع انتظام کیا گیا۔ خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کے موجودہ سجادہ نشین سائیں عبدالخالق کے صاحبزادہ سائیں عبدالمالک، خانقاہ عالیہ ہالیجی شریف کے سجادہ نشین سائیں عبدالصمد، خانقاہ عالیہ پیر شریف کے سجادہ نشین سائیں عبدالعزیز نے اصالۃً کانفرنس میں شرکت سے ممنون احسان فرمایا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت اسلامی کے امیر مرکزیہ سید منور حسن، جمعیت علماء پاکستان کے امیر مرکزیہ مولانا ابوالخیر محمد زبیر، اسی طرح جمعیت علماء اسلام کے حضرت سائیں ہالیجی شریف کے علاوہ مرکزی نائب امیر شیخ الحدیث مولانا محمد مراد، سائیں مولانا میر محمد میرک مرکزی ناظم انتخابات صوبہ سندھ، وفاق المدارس کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، ایسے بیسیوں مہمانان گرامی ذی وقار نے کانفرنس میں شرکت سے ممنون احسان فرمایا۔ مولانا محمد اسعد تھانوی مہتمم جامعہ اشرفیہ، قاری خلیل احمد، ناظم جامعہ اشرفیہ سکھر تو کانفرنس کے میزبان تھے۔ انہوں نے رات گئے تک سٹیج پر حاضری سے کارکنوں کے حوصلوں کو بلند رکھا۔ غرض حاضری، مہمانان گرامی کی آمد، انتظامات، بیانات، جلسہ صدارت، قراردادیں، نظم و نسق، دلجمعی سکون ووقار ہر اعتبار سے یہ کانفرنس کامیاب ترین کانفرنس تھی۔ جامعہ اشرفیہ، جامعہ حمادیہ منزل گاہ کے طلباء، مجلس پنوں کے رفقاء نے اپنے اپنے اساتذہ اور منتظمین کی سربراہی میں سیکورٹی کے نظم کو قابل قدر وقابل رشک، قابل تعریف وقابل فخر طریقہ پر سنبھالا۔ کانفرنس کیا تھی۔ انعامات الہی کی خوبصورت تقریب تھی۔ ایسا سکون وسکینہ مدتوں بعد دیکھنے میں نظر آیا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، سٹیج کے آخری ایک کونہ پر مجذوبانہ حالت میں دم بخود مراقب بیٹھے نظر آئے۔ ان کو دیکھ کر وجد آفریں کیفیت سے حاضرین مالامال ہوئے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا ایک بجے سے سوا دو بجے تک بیان ہوا۔ اس دوران تو پورا اجتماع اتنا طویل وقت گزارنے کے باوجود اس وقار اور سنجیدگی، اطمینان و یکسوئی سے محو دیدار تھا کہ جسے دیکھ کر گویا سکینہ آسمانوں سے اترتا نظر آنے کی کیفیت طاری تھی۔
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سکھر کی مزید تفصیل
پہلی نشست بعد از مغرب:
صدارت: میاں عبدالمالک صاحب بن سائیں عبدالخالق بھر چونڈی شریف۔ نقابت: مولانا محمد علی صدیقی، مولانا ضیاء الدین آزاد۔ تلاوت: متعلم جامعہ اشرفیہ سکھر۔ بیانات: مولانا محمد تجمل حسین مبلغ عالمی مجلس گمبٹ، مولانا علی محمد معلم جامعہ اشرفیہ سکھر، مولانا عبداللطیف مبلغ عالمی مجلس بدین، مولانا عبدالغفور بھٹو۔
دوسری نشست بعد از عشاء:
صدارت: سائیں عبدالصمد، سائیں مولانا عبدالعزیز، مولانا قاری خلیل احمد۔ تلاوت: حافظ عبدالحیٰ اشرفی بن مولانا عبداللطیف اشرفی۔ نقابت: مولانا محمد رضوان، مولانا قاضی احسان احمد۔ بیانات: مولانا عبدالصمد انقلابی، مولانا الٰہی بخش ٹانوری، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا اللہ وسایا، جناب اسد اللہ بھٹو صوبہ سندھ امیر جماعت اسلامی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا میر محمد میرک جمعیت علماء اسلام، مولانا محمد مراد نائب امیر مرکزیہ جمعیت علماء اسلام، مولانا مفتی محمد ابراہیم صوبائی امیر جمعیت علماء پاکستان، ابوالخیر محمد زبیر مرکزی صدر جمعیت علماء پاکستان، اسلام الدین شیخ سینیٹر پی پی پی، جناب سید منور حسن امیر جماعت اسلامی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ملتان، مولانا عبدالحمید لنڈ، مولانا ثناء اللہ حیدری برادر عزیز مولانا علی شیر حیدری خیر پور، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی سکھر، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور، مولانا اسعد تھانوی کراچی۔ خطبہ صدارت: مولانا قاضی احسان احمد کراچی۔ قراردادیں: مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان۔ دعاء: مولانا سائیں میاں عبدالصمد کے خلیفہ مجاز اور صاحبزادہ میاں سائیں مولانا غلام اللہ ہالیجوی نے کرائی۔ ان شاء اللہ العزیز یہ کانفرنس اپنے نتائج کے اعتبار سے بھی مؤثر ثابت ہوگی۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سکھر کا خطبہ صدارت: (جو کراچی مجلس کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے پیش کیا)
حضرات علماء کرام و مشائخ عظام! آج ۱۴/ مارچ ۲۰۱۰ء بروز اتوار سکھر شہر میں تاریخی مقام محمد بن قاسم پارک میں ہم سب عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لئے جمع ہیں۔ اسلامیان سندھ نے جس وارفتگی و والہانہ انداز میں اس کانفرنس میں جوق در جوق شرکت کر کے کانفرنس کو ایک یادگار، مثالی اور تاریخ ساز بنایا ہے۔ اس پر ہم اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔
سامعین گرامی! عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اسلامیان سندھ کی مساعی جمیلہ اور گراں قدر خدمات سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ درگاہ عالیہ راشدیہ قادریہ پیر جو گوٹھ ، درگاہ عالیہ امروٹ شریف ، درگاہ عالیہ ہالیجی شریف ، درگاہ عالیہ بھرچونڈی شریف ، درگاہ عالیہ پیر شریف ، درگاہ عالیہ جرار پوڑ ، درگاہ عالیہ باگجی شریف کے سجادہ نشین حضرات اور ان سے وابستہ حضرات و متعلقین نے جس طرح اپنے اپنے دور میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا ہے وہ تاریخ کا سنہری باب ہے۔ آج اسی تسلسل کا ایک مظہر ختم نبوت کی یہ عظیم الشان کانفرنس ہے۔
سامعین گرامی قدر! یہ وہی سکھر ہے جس کے مضافات یعنی ضلع خیر پور میں ایک قادیانی ملعون عبدالحق نے اہانت رسول کا جب ارتکاب کیا تو اسی ضلع خیر پور کے ایک مجاہد فی سبیل اللہ غازی حاجی محمد مانک نے اس کے ناپاک وجود سے اللہ رب العزت کی دھرتی کو پاک کر کے اسلامیان سندھ کا سر فخر سے بلند کیا۔
یہ وہی سکھر ہے جہاں ہر سال عظیم الشان سہ روزہ ختم نبوت آل پاکستان سطح پر ختم نبوت کی کانفرنس منعقد ہوتی رہی ہیں۔
مولانا سید ابوالحسنات قادری، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا لال حسین اختر، سید مظفر علی شمسی، جناب ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا عبدالحامد بدایوانی اور دوسرے حضرات نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں اسی سکھر سینٹرل جیل کی در و دیوار کو آباد کیا۔
یہ وہی سکھر ہے جہاں منکرین ختم نبوت قادیانیوں نے ۱۹۸۵ء میں بم چلا کر مسجد منزل گاہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد مراد ہالیجوی پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس میں دو مسلمان شہید ہوئے۔ درجن بھر کے قریب شدید زخمی ہوئے۔ ”جسے رب رکھے اسے کون چکھے“ کے مصداق حضرت مولانا محمد مراد صاحب کو منظر سے ہٹانے والے نامراد ہوئے۔ ان دشمنان و منکرین ختم نبوت کے ظلم وستم تشدد و بربریت کے باوجود آج بھی ختم نبوت کا تحفظ پہلے سے زیادہ جوش و ولولے کے ساتھ جاری ہے۔ جس کا مظہر یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہے۔
حضرات گرامی! بہت نا انصافی ہوگی اگر میں سندھ کے مرد مجاہد حضرت مولانا عبدالکریم پیر شریف والوں کا تذکرہ نہ کروں۔ جن کی مجاہدانہ للکار نے قادیانیت کے خواب و خور حرام کر دیئے تھے۔
الحمدللہ! یہ سکھر وہی سکھر ہے جہاں ہمیشہ تمام مکاتب فکر کی قیادت نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے باہمی اتفاق و اتحاد کے ساتھ اس عشق و مستی کے قافلے کو آگے بڑھایا۔
حضرات سامعین! آج اس وقت ملک عزیز کی صورتحال یہ ہے کہ قادیانی اور دیگر مرتدین و معاندین اسلام فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کو باہمی دست و گریبان کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ غیر ملکی آقاؤں کے ایجنڈے کی تکمیل میں ملک عزیز کی سلامتی کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ختم نبوت کانفرنس سکھر کا انعقاد، عظیم الشان بھر پور حاضری، تمام دینی قیادت کی بھر پور شرکت اس بات کا واضح اعلان ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ، ناموس رسالت مآب ﷺ کی پاسبانی، وطن عزیز کے استحکام و سلامتی، اتحاد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بین المسلمین کے لئے نئے ولولہ اور جذبہ کے تحت کام کریں گے اور ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ اس مسئلہ کے تحفظ کے لئے آگے بڑھیں گے۔ اس کانفرنس سے واپس جائیں تو یہ جذبہ لے کر جائیں کہ ہم نے ختم نبوت کے تحفظ کے لئے دن رات ایک کرنا ہے اور اس وقت تک اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے تا آنکہ قادیانی اسلام قبول کر لیں یا ان کا وجود حرف غلط کی طرح اپنے انجام کو پہنچ جائے۔
عوام سے اپیل ہے کہ وہ قادیانیت اور ان کی مصنوعات اور اداروں کا بائیکاٹ کریں اور علماء کرام سے استدعا ہے کہ وہ کم از کم مہینہ کا ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے بیان کے لئے وقف کریں گے۔ حضرات گرامی ایک بار پھر آپ سب حضرات کی تشریف آوری کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔
حضرات اختتام سے قبل بہت ہی دکھے دل کے ساتھ مولانا سعید احمد جلالپوری اور مولانا عبدالغفور ندیم اور ان کے رفقاء کی شہادت پر اللہ رب العزت سے دعاء گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بحرمۃ خاتم النبیین !
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۰ء ص ۲۴ تا ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس مے چھٹہ
۲۰؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو مجلس کے زیر اہتمام مے چھٹہ کامونکی میں دفاع ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا محمد عارف شامی اور مولانا امیر معاویہ نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۳)
ختم نبوت کانفرنس کنگنی والا
۲۱؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز جامع مسجد ختم نبوت کنگنی والا میں ختم نبوت کانفرنس اور محفل حمد ونعت منعقد ہوئی۔ قاری محمد حنیف شاہد، شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی، قاری ارشد محمود نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ جب کہ خطیب ابن خطیب مولانا محمد امجد خاں لاہور نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۳)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس پاکپتن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مؤرخہ ۲۱؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو بعد نماز عشاء مدرسہ دارالعلوم حنفیہ فریدیہ مدنی مسجد فرید نگر میں ”سالانہ ختم نبوت کانفرنس“ منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مدرسہ عربیہ فاروقیہ عارف والا کے مہتمم حضرت مولانا عبدالوہاب نے کی۔ تلاوت کی سعادت قاری محمد عثمان صدیقی المالکی کے علاوہ قاری محمد شہزاد اور قاری سیف اللہ نے حاصل کی۔ نعتیہ کلام جناب محمد عابد اور حافظ نیاز الرحمن نے پیش کیا۔
کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالقدوس جلیل، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا مفتی محمد ہاشم، مولانا رشید احمد، مولانا محفوظ، مولانا مفتی نور احمد، قاری بشیر احمد عثمانی، مفتی محمد عمار شاہد، قاری محمد افضل عثمانی اور قاری عبدالمجید جلالپوری نے خطاب و شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ اکابرین ختم نبوت کی تحریکی و تبلیغی خدمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ شہداء ختم نبوت کے مقدس خون سے غداری کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
کانفرنس میں متعدد قراردادوں کے ذریعے حکومت اور ڈسٹرکٹ پولیس سے مطالبہ کیا گیا۔ ملکہ ہانس کے قریب چک سیر دول اور اڈہ رنگشاہ پر قادیانی ارتدادی سرگرمیوں کو روکا جائے۔ قادیانی عبادت گاہوں کی مساجد سے مشابہت کو ختم کیا جائے۔ کلیدی عہدوں سے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ حضرت مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری شہید اور مولانا عبدالغفور ندیم شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۳۹)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس ساہیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ رشیدیہ غلہ منڈی میں مورخہ ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مختلف نشستوں کی صدارت جامعہ رشیدیہ کے مہتمم اور عالمی مجلس کے مقامی امیر مولانا کلیم اللہ رشیدی اور پیر جی عبدالجلیل رائے پوری نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد حسن لاہور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جمعیت اہل حدیث کے مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، بزم رضا کے جناب شیخ اعجاز رضا کے علاوہ مولانا منظور احمد قاسم، مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری عبدالجبار، مولانا قاری منظور احمد طاہر، سید انعام اللہ شاہ بخاری سمیت متعدد علماء کرام نے شرکت و خطاب کیا۔ نقابت کے فرائض جامعہ رشیدیہ کے ناظم قاری سعید بن شہید نے سرانجام دیئے۔ تلاوت قاری محمد عثمان صدیقی المالکی اور جناب قاری احسان اللہ فاروقی نے کی۔ نعتیہ کلام حضرت مولانا محمد شاہد عمران عارفی نے پیش کیا۔ کانفرنس میں ملک بھر میں قادیانی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور قراردادوں کے ذریعہ ضلعی پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ ساہیوال میں قادیانیوں کی غیر قانونی اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کی روک تھام کی جائے۔ ساہیوال کے مضافاتی علاقوں سے کارکنان ختم نبوت نے قافلوں کی شکل میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۰)
رابطہ کمیٹی کا اجلاس ۲۲؍ مارچ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۴؍ اپریل ۲۰۱۰ء کو سیالکوٹ میں منعقدہ کانفرنس کے انتظامات پر غور و فکر کرنے کے لئے رابطہ کمیٹی کا اجلاس حافظ محمد ثاقب کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں علی پور چٹھہ، وزیرآباد، رسول نگر، گکھڑ منڈی، کے مجلس کے زعماء میں شرکت کی اور طے کیا۔ ۷ بسوں پر مشتمل قافلہ سیالکوٹ کانفرنس میں شرکت کرے گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۳)
بھڑی شاہ رحمان میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۵؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو بھڑی شاہ رحمان میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس سے مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد عارف شامی، مولانا صلاح الدین نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۳)
ختم نبوت کانفرنس تتلے عالی
۲۶؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو تتلے عالی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا محمد عثمان فاروقی وزیر آباد، مولانا غلام مصطفیٰ خطیب چناب نگر اور قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ سیالکوٹ کانفرنس میں شرکت کا وعدہ لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۸)
گوجرانوالہ ڈویژن کی تبلیغی کارکردگی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا کہ امسال یوں تو پورے ملک میں سالانہ ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔ لیکن ۱۴؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو محمد بن قاسم پارک سکھر، ۴؍ اپریل ۲۰۱۰ء واپڈا گراؤنڈ سیالکوٹ، ۹؍ مئی ۲۰۱۰ء ایبٹ آباد میں عظیم الشان ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔ سکھر اور سیالکوٹ میں کامیاب کانفرنسیں منعقد ہونے پر ہم اللہ پاک کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہیں اور ایبٹ آباد کی کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعاء گو ہیں کہ اللہ پاک اس کانفرنس کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازیں اور ہر قسم کی آفات و بلیات، ابتلاء و آزمائش سے حفاظت فرمائیں۔
۴؍اپریل سے قبل سیالکوٹ اور نارووال کے اضلاع میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں کی مختصر رپورٹ پیش خدمت ہے:
سیالکوٹ میں کانفرنس: ۱۰؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامعہ فاروقیہ چوک امام صاحب سیالکوٹ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی نگرانی قاری احمد مصدق قاسمی اور نظامت مولانا حماد انور قاسمی ناظم اعلیٰ مدرسہ ہذا نے کی۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام سرحد کے راہنما مولانا مفتی کفایت اللہ ایم۔ پی۔ اے مولانا عبدالواحد رسولنگری اور مولانا فقیر اللہ اختر نے خطاب کیا۔ صدارت پیر شبیر احمد شاہ گیلانی نے کی۔
ڈسکہ میں کانفرنس: ۱۲؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو خطبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد بلال گلستان کالونی ڈسکہ میں دیا اور سامعین سے کانفرنس میں شرکت کا عہد لیا۔
ہادی ٹاؤن میں کانفرنس: ۱۳؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد بنوری ہادی ٹاؤن سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا شاہ نواز فاروقی اور مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
پسرور میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۴؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد پسرور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا غلام فرید اعوان نے کی۔ کانفرنس سے مولانا شاہ نواز فاروقی، جمعیت اہل حدیث کے مولانا کفایت اللہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا قاری محمد طیب اعوان نے سرانجام دیئے۔
گلوٹیاں میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد امام اعظم گلوٹیاں خورد میں عشاء کے بعد عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا عبدالواحد رسولنگری، مفتی عبدالقدوس، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا خبیب احمد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
کنجروڑ میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۶؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامعہ قاسمیہ کنجروڑ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا عثمان بیگ فاروقی وزیر آباد، مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، قاری دین محمد ثاقب اور دوسرے علماء کرام نے خطاب کیا۔
واہنڈو میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۷؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد واہنڈھو گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی نگرانی حاجی عبدالرحمٰن گوجرانوالہ نے کی۔ جب کہ دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد عارف شامی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
سوکن ونڈ میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۸؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو مکی مسجد سوکن ونڈ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا محمد شفیع شاکر لاہور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا فقیر اللہ اختر سمیت کئی ایک علماء اکرام نے خطاب کیا۔
تکونڈی بھنڈراں میں ختم نبوت کانفرنس: ۱۹؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جمعتہ المبارک کا خطبہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد مدرسہ فیض الاسلام تکونڈی بھنڈراں، جامع مسجد عثمانیہ میں مولانا خبیب احمد نے دیا اور خطبۃ المبارک کے عظیم اجتماعات سے خطاب فرمایا۔
سمبڑیال میں ختم نبوت کانفرنس: ۲۱؍ مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد اشرفی مولانا نذیر احمد والی سمبڑیال میں ختم نبوت کانفرنس
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
منعقد ہوئی۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد الیاس گھمن، قاری علیم الدین شاکر لاہور، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، علامہ محمد ممتاز اعوان نے خطاب کیا اور مدرسہ سے حفظ قرآن کی تکمیل کرنے والے بچوں کی دستار بندی کی گئی۔
ختم نبوت کانفرنس کوہلوال: ۲۵؍مارچ ۲۰۱۰ء کو ھلووال جامع مسجد سیدنا صدیق اکبر ؓ میں مولانا عبدالحمید وٹو ، مولانا فقیر اللہ اختر نے خطاب فرمایا۔
ختم نبوت کانفرنس موسیٰ والا: ۲۶؍مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد ختم نبوت موسیٰ والا ڈسکہ میں ختم نبوت کے اجتماع سے مولانا اللہ وسایا، مولانا نور الحسن انور، مولانا احسان اللہ فاروقی، مولانا فقیر اللہ اختر نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس شکر گڑھ: ۲۷؍مارچ ۲۰۱۰ء کو مکی مسجد بخاری چوک شکر گڑھ میں مولانا محمد عالم طارق، مولانا قاضی احسان احمد، قاری محمد رمضان، مولانا فقیر اللہ اختر نے خطاب کیا۔ جب کہ ملک کے نامور نعت خواں جناب آصف رشیدی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
ختم نبوت کانفرنس ڈسکہ: ۲۸؍مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد حاجی سلیمان والی ڈسکہ میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس چونڈہ: ۲۹؍مارچ ۲۰۱۰ء جامع مسجد شاہ فیصل چونڈہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، علامہ ممتاز احمد کلیار، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا انتظام قاری محمد انور انصر نے کیا۔
ختم نبوت کانفرنس مریدکے: ۲۸؍مارچ ۲۰۱۰ء کو مریدکے میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد عرفان دیول اور دیگر حضرات نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۴۷، ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
مارچ ۲۰۱۰ء میں حافظ محمد یوسف عثمانی کی دعوت پر باغبانپورہ کی جامع مسجد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے خطیب اہل سنت مولانا عبید الرحمٰن ضیاء، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ودیگر نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۸)
دفاع ختم نبوت تلونڈی کھجور والی
۳۰؍مارچ ۲۰۱۰ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تلونڈی کھجور والی میں دفاع ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے قاری منصور احمد، مولانا محمد عالم طارق، مولانا محمد عارف شامی نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۸)
احتجاجی ختم نبوت کنونشن گوجرانوالہ
۳۱؍مارچ ۲۰۱۰ء جامعہ مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں احتجاجی ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کی۔ کنونشن میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں بالخصوص مولانا زاہد الراشدی، حافظ محمد صدیق، مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۸)
خانیوال میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۱؍مارچ ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد المینار میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدارت پیر طریقت حضرت خواجہ عبدالماجد صدیقی مدظلہ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال نے کی۔ کانفرنس گذشتہ سالوں کی بنسبت خاصی کامیاب رہی۔ کانفرنس کے لئے ضلعی مبلغ مولانا عبدالستار گورمانی اور ناظم اعلیٰ مولانا عطاء المنعم نے بھرپور محنت کی۔
کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، ضرب مؤمن کے کالم نگار قاری منصور احمد نے ولولہ انگیز خطاب فرمائے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ قادیانیت کے مکمل خاتمہ تک ختم نبوت کی تحریک جاری رہے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۴۲)
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم دینی درس گاہ جامعہ حسینیہ ربانیہ مکی مسجد اپریل ۲۰۱۰ء میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ضلع رحیم یار خان کی چاروں تحصیلوں سے قافلوں کی شکل میں ہزاروں عاشقان مصطفیٰ کانفرنس میں شریک ہوئے تو مجمع کی کثرت سے مسجد کا ہال ارد گرد کی جگہ اور وضوخانہ بھر گئے حتیٰ کہ کھڑے ہونے کی جگہ باقی نہ رہی، مدتوں بعد رحیم یار خان میں عاشقان مصطفیٰ کا اتنا بڑا ہجوم مکی مسجد میں جمع تھا اور ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
پورے ہال کو خوبصورت بینروں سے آراستہ کیا گیا تھا، مولانا سعید احمد جلال پوری شہید کو خراج عقیدت اور ان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے مطالبوں پر مشتمل بینر سب سے نمایاں نظر آ رہے تھے۔ داخلی راستے پر انتہائی سخت سیکورٹی کا نظم کیا گیا تھا ہر اندر آنے والے شخص کو ختم نبوت کے رضا کار ختم نبوت کا لٹریچر گیٹ پر ہی دے رہے تھے۔ اسٹیج کے آس پاس بھی سخت سیکورٹی کا نظم تھا۔
ضلع رحیم یار خان کی مذہبی، سیاسی قیادت اسٹیج پر جمع تھی۔ مولانا منظور احمد نعمانی مدظلہ نے کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت روبہ زوال ہے ایک وقت وہ تھا کہ قادیانیت کے خلاف بات کرنے پر مقدمات قائم ہو جایا کرتے تھے اور ایک وقت یہ ہے کہ پاکستان کا صدر بھی مرزائیت کے کفر پر دستخط کر کے ہی کرسی صدارت پر بیٹھ سکتا ہے۔ انہوں نے غیور سامعین سے اپیل کی کہ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔ علماء کرام اور خطباء عظام مہینہ میں ایک جمعہ ختم نبوت کے موضوع پر بیان کریں، انہوں نے کہا کہ دین کو مٹانے والے مٹ گئے اور مٹ جائیں گے، دین اسلام باقی رہے گا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پوری دنیا میں قادیانیوں کا تعاقب جاری رکھے گی، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تحفظ ناموس رسالت قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور قادیانیوں کو آئین پاکستان کا پابند بنایا جائے اور ان کے ارتدادی لٹریچر پر پابندی عائد کی جائے، ان کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ مولانا سعید احمد جلال پوری شہید، مولانا عبدالغفور ندیم شہید کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔
مولانا محمد اسامہ رضوان نے اپنے پر جوش انداز میں سامعین کے قلوب کو گرمایا، انہوں نے کہا کہ اگر قادیانیوں کو اسلامی مملکت میں مسلمانوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر کھلی جنگ ہوگی، مسلمانوں کے خون سے قائم ہونے والے ملک پاکستان میں قادیانیوں کو مسلط ہونے نہیں دیا جائے گا، ان کو لگام دی جائے۔
مفتی محمد راشد مدنی مبلغ ختم نبوت رحیم یار خان نے کہا کہ فتنہ قادیانیت کے سد باب کے لئے شہداء ختم نبوت نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ہے، ہم اس جدوجہد کے تسلسل کو قائم رکھیں گے۔
قائد اہل سنت والجماعت مولانا محمد احمد لدھیانوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی ناموس رسالت اور ناموس صحابہ پر آنچ نہیں آنے دی۔ تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے قوانین کے خلاف ہونے والی سازشوں کے نتیجے میں قوم کوئی تبدیلی کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عبدالکریم ندیم نے نہایت علمی انداز سے عقیدہ ختم نبوت کو اجاگر کیا صدر جلسہ مولانا منظور احمد نعمانی نے کانفرنس کے انعقاد پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مبارک باد پیش کی اور مقامی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قاضی عزیز الرحمن سراجی کو خراج تحسین پیش کیا۔ مفتی حبیب الرحمن ، مولانا مشتاق احمد ، مفتی عبداللطیف ، حافظ اکبر اعوان ، میاں مظہر نثار ، قاری ظفر اقبال ، قاضی شفیق الرحمن ، قاضی خلیل الرحمن ، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ بہاول پور شریک ہوئے۔ رات گئے بخیروخوبی کانفرنس کا اختتام ہوا ، آخر میں علامہ عبدالرؤف ربانی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
۴؍ اپریل ۲۰۱۰ء بعد از مغرب اجلاس اوّل :
زیر صدارت: سید پیر شبیر احمد گیلانی۔ اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد۔ تلاوت: قاری محمد عارف۔ نعت: محمد کاشف۔ بیان: مولانا محمد عرفان دیول شیخوپورہ ، مولانا عبدالنعیم لاہور ، قاری عمر حیات لاہور ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
۴؍ اپریل بعد از عشاء اجلاس دوم:
زیر صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد۔ اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد۔ تلاوت: قاری محمد عرفان ، قاری عبدالباسط۔ نعت: محمد ندیم قاسمی ، جناب احمد اسامہ ، محمد خاور۔ بیان: مولانا ضیاء الدین آزاد ، مولانا محمد قاسم ، جناب فیصل رشید گجر۔ مکالمہ: محمد کاشف قاسمی ، محمد حماد قاسمی جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ۔ بیان: سید محبوب احمد گیلانی ، قاری محمد ابوبکر ، پیر طریقت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی ، مولانا عبدالحق خان بشیر ، مولانا فضل الرحیم ، مولانا محمد یوسف خان۔ خطبہ صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ۔ بیان: مولانا پروفیسر ساجد میر ، مولانا غلام حیدر خادمی ، مولانا زاہد الراشدی ، مولانا عبدالخبیر آزاد ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، قاری جمیل الرحمن اختر ، قاضی رضوان احمد ، رانا محمد شفیق پسروری۔ نعت: حفیظ عامر پسروری ، قاری رفاقت علی۔ بیان: مولانا عبدالحمید وٹو ، مولانا میاں محمد اجمل قادری لاہور ، جناب تجمل ساغر بٹ سیالکوٹ ، مولانا محمد ریاض خان سواتی گوجرانوالہ ، مولانا مفتی کفایت اللہ ممبر سرحد اسمبلی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا محمد احمد لدھیانوی کمالیہ۔ آخری بیان و دعاء: مولانا محمد عالم طارق چیچہ وطنی۔ کلمات تشکر: سید پیر شبیر احمد گیلانی سیالکوٹ۔
خطبہ صدارت: ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ:
۴؍ اپریل ۲۰۱۰ء بمقام واپڈا گراؤنڈ زیر اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منجانب مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صدر ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد!
حضرات مہمانان ذی وقار ، علماء کرام ، مشائخ عظام ، مختلف دینی جماعتوں اور مسالک کے نمائندگان محترم ، آج مؤرخہ ۴؍ اپریل ۲۰۱۰ء کو ہم پاکستان کے مردم خیز خطہ کے ایک اہم اور تاریخی شہر سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس کے حوالہ سے جمع ہیں۔
حضرات گرامی! یہ شہر سیالکوٹ وہ تاریخی شہر ہے جہاں حضرت مجدد الف ثانی حصول تعلیم کے لئے تشریف لائے۔ یہ وہ شہر ہے جس کے باسی حاجی محمد افضل سیالکوٹی ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے استاذ تھے۔ یہ شہر سیالکوٹ وہ تاریخی شہر ہے جسے علامہ کمال الدین ، علامہ حضرت عبدالحکیم سیالکوٹی مرحوم اور مؤسس پاکستان علامہ اقبال مرحوم ایسے شہرہ آفاق شخصیات کے مولد ہونے کا شرف حاصل ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرات گرامی! جہاں پھول ہوتے ہیں وہاں کانٹے بھی۔ اس حوالہ سے بھی دیکھا جائے تو سیالکوٹ وہ شہر ہے جہاں مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کی حکومت میں سرکاری ملازمت اختیار کی۔ اس شہر کی کچہری میں ڈپٹی کمشنر پارکسن کے دفتر میں اہلمد کے طور پر مرزا قادیانی سالہا سال انگریز کی ملازمت کرتا رہا۔ یہ وہی شہر ہے جہاں مرزا قادیانی نے مختاری کا امتحان دیا اور خیر سے اس میں فیل ہو گیا۔ ملازمت کو خیر باد کہہ کر مرزا قادیانی قادیان کو سدھارا۔ وہاں اس نے نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا۔ تب پورے ہندوستان کی طرح سیالکوٹ میں بھی مرزا قادیانی کا تعاقب کیا گیا۔ اس کی تردید میں جن مقدس شخصیات نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ان میں اس ضلع کی ایک روحانی شخصیت پیر طریقت مولانا پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری تھے۔ جنہوں نے اس خطہ میں مرزا قادیانی کے ناک میں دم کئے رکھا۔ حتیٰ کہ ملعون قادیان مرزا قادیانی مئی ۱۹۰۸ء میں لاہور آیا۔ جہاں اسے ہیضہ کی بیماری نے آن دبوچا۔ اس موقعہ پر لاہور کے در و دیوار کو جو شخصیت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور مرزا قادیانی کے مقابلہ کے لئے صف آرا کر رہی تھی وہ شخصیت سیالکوٹ ضلع کے مولانا پیر جماعت علی شاہ تھے۔
حضرات گرامی! اس ضلع کی ایک درویش منش شخصیت جنہیں دنیا مناظر اسلام مولانا حافظ محمد شفیع سنکھتروی کے نام سے جانتی و پہچانتی ہے۔ انہوں نے تقسیم سے قبل سیالکوٹ، جموں کشمیر میں جس تندہی و جاں سپاری کے ساتھ شہر شہر، قریہ قریہ، قادیانیت کا تعاقب کیا۔ وہ تاریخ کا ایک حصہ ہے۔
حضرات گرامی! یہ شہر سیالکوٹ وہ شہر ہے جہاں کی معروف شخصیت حضرت مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی نے مرزا قادیانی کے خلاف منبر و محراب، جلسہ ومناظرہ، تحریر و تقریر کے ذریعہ معرکہ حق قائم کئے رکھا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں غلام محمد شاہ صاحب نے مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کو آڑے ہاتھوں لیا تو ۳۰ نومبر ۱۹۳۶ء کو انہیں سزایاب کیا گیا۔
حضرات سامعین گرامی! بھارتی پنجاب کا ضلع گورداسپور جس میں قادیان واقع ہے وہ اور سیالکوٹ کی حدود آپس میں ملتی ہیں۔ شکر گڑھ کی تحصیل پاکستان بننے سے قبل گورداسپور کی تحصیل تھی۔ جب پاکستان بنا تو اس وقت ضلع سیالکوٹ کا ڈپٹی کمشنر مرزا قادیانی ملعون کا پوتا ایم ایم احمد قادیانی تھا۔ قادیانی قادیان سے نکلے، حدود پار کیں تو انہیں ضلع سیالکوٹ میں آباد کر دیا گیا۔ تب سے اب تک ضلع سیالکوٹ کے اکثر و بیشتر دیہاتوں میں قادیانیت کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ ضلع سیالکوٹ میں قادیانیت کے اثر و رسوخ کو بام عروج تک پہنچانے کے لئے ظفر اللہ قادیانی کا بھائی ڈسکہ ضلع سیالکوٹ سے پاکستان کے پہلے الیکشن میں کھڑا ہوا۔ تب حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا صاحبزادہ فیض الحسن سجادہ نشین آلو مہار شریف نے پورے علاقہ کو عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی کے لئے شعلہ جوالا بنا دیا۔ قادیانی شاطر قیادت مرزا محمود سے لے کر ظفر اللہ قادیانی تک سبھی اس ضلع سیالکوٹ میں شکست سے دوچار ہوئے۔
حضرات گرامی! ایک دور تھا کہ احرار کی چھاؤنی ہونے کا سیالکوٹ کو فخر حاصل تھا۔ پیر سید بشیر احمد گیلانی، جناب حافظ محمد صادق، جناب سالار بشیر احمد ایسے حضرات نے اپنے اپنے عہد میں قادیانی فتنہ کو ناکوں چنے چبوائے۔ مولانا محمد علی کاندھلوی، مولانا کرامت علی شاہ، مولانا بشیر احمد پسروری، مولانا علامہ منظور احمد، مولانا محمد یعقوب، مولانا فضل حق اور ان جیسے دیگر اساطین علم وفضل نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں قادیانیت کے خلاف سیالکوٹ کے در و دیوار کو سراپا تحریک بنا دیا تھا۔
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت مولانا محمد فیروز خان، مولانا انذر قاسمی، مولانا نعیم آسی اور ان جیسے بیسیوں علماء کرام نے ختم نبوت کی جدوجہد میں سیالکوٹ کی شاندار تاریخ رقم کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ۴۵۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت میں سیالکوٹ کی جامع مسجد ڈونگا باغ کے خطیب حضرت مولانا مفتی مختار احمد نعیمی نے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل ہونے کے ناطے پورے ملک میں سیالکوٹ کی عظمتوں کے جھنڈے بلند کئے۔
حضرات محترم ! مجھے اعتراف ہے کہ بہت سارے حضرات کے نام ذکر کرنے سے رہ گئے ہوں گے۔ اس پر میں معذرت چاہتا ہوں۔ تنگی وقت کے پیش نظر پوری تاریخ کو یہاں دہرانا ویسے بھی ممکن نہیں۔ تاہم اس وقت جو مجھے آپ سے عرض کرنا ہے وہ یہ کہ، ضرورت ہے اس امر کی کہ، قادیانیت کے کفریہ نظریات کو ایک نئے ولولے کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ وہ لوگ جو کسی غلطی کی وجہ سے دھوکہ کا شکار ہو کر قادیانی ہوئے۔ انہیں اسلام کی طرف واپس لایا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ علماء کرام مہینہ میں کم از کم ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کے بیان کے لئے وقف کریں۔ عوام مسلمان قادیانیت سے خود بچیں اور دوسرے مسلمانوں کو بچائیں۔ یاد رکھیں کہ قادیانیت کسی مذہب و عقیدہ کا نام نہیں۔ ایک دھوکہ، ایک فراڈ، امت مسلمہ کے خلاف ایک غیر ملکی سازش اور آقائے نامدار ﷺ کی بغاوت کا نام قادیانیت ہے۔ ان سے بچنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ اسی فرض کی ادائیگی کے لئے آج یہاں ہم سب جمع ہیں۔ جن جن حضرات نے اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے جدوجہد کی، وہ ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ علماء، مشائخ، انتظامیہ سب کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے امیر جناب سید شبیر احمد گیلانی اور آپ کے گرامی قدر رفقاء، ختم نبوت یوتھ فورس، سیالکوٹ، گوجرانوالہ کی پوری دینی قیادت تمام جماعتیں اور ان کے ذمہ داران بالخصوص حضرات علماء کرام و دینی مدارس کے ذمہ داران جنہوں نے بے جگری کے ساتھ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے شب و روز ایک کیا۔ وہ ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔
حضرات گرامی ! ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونا انتہائی مقبول عمل ہے۔ امید ہے کہ آپ اپنی بھر پور توجہ سے اس کی پوری کارروائی کو سماعت فرما کر اس کے مقتضیات پر عمل پیرا ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عنایت فرمائیں۔ آمین. بحرمة النبی الکریم !
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص ۳۱ تا ۳۳)
ختم نبوت کانفرنس پشاور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۸ / مارچ ۲۰۱۰ء بروز اتوار کو جامع مسجد مدنی ادارہ تعلیم القرآن پختہ غلام میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ قاری محمد عاصم سمیع نے شب و روز محنت کر کے اپنے دیگر نوجوان ساتھیوں کے ہمراہ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کی انتھک کوشش کی۔
علامہ سید عبدالمجید ندیم صاحب مدظلہ سے وقت لیا گیا اور پھر ایک خوبصورت اشتہار سے شہر پشاور کو مزین کیا گیا۔ بعد از نماز عصر کانفرنس کی کارروائی شروع ہوئی جو تقریباً رات دس بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی دامت برکاتہم فرما رہے تھے۔ کانفرنس کا آغاز قاری زبیر کی تلاوت سے ہوا اور نعتیہ کلام پیش کیا گیا۔ مقامی مبلغ مولانا عابد کمال کے خطاب کے بعد حضرت پوپلزئی دامت برکاتہم نے صدارتی خطبہ پیش کیا۔ قرآن وسنت کے آفاقی دلائل سے عقیدہ ختم نبوت کی اساسی اہمیت بیان فرمائی اور عوام الناس کی توجہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے کام کی طرف دلائی اور فرمایا کہ یہ کانفرنس تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے لئے ملک بھر میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنسوں کے سلسلے کی کڑی ہے اور فرمایا کہ یہ کانفرنس ماہ اپریل میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ اور نومئی کو ہونے والی ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد کے لئے سنگ میل ثابت ہو گی۔ نماز
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مغرب کے بعد مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک خطاب فرمایا۔ کانفرنس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ مسجد اور مدرسہ اپنی وسعتوں کے باوجود تنگی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ لوگوں کے جذبات دیدنی تھے۔ علاقائی کانفرنس ہونے کے باوجود کانفرنس صوبے کا نمائندہ اجتماع نظر آ رہی تھی۔ علامہ سید عبدالمجید ندیم کے خطاب کے دوران اور پھر دعاء کے موقع پر لوگوں نے رو رو کر اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔ کانفرنس میں ٹاؤن ٹو کے ناظمین، نائب ناظمین کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء کرام نے بھی شرکت فرمائی۔ قاری صبغت اللہ مدنی، قاری سعید اختر، مولانا عبد الکریم، مولانا بصیر خان، مولانا جہانزیب زاہد، قاری محمد فہیم، عبد الناصر، عاشق ساجد، عبد الباسط، محمد موسیٰ، محمد ظہیر احمد اور ارشد جاوید صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔ بالآخر یہ اجتماع بخیر وعافیت دعاء کے بعد اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۰ء ص۳۳)
شہدائے تحفظ ختم نبوت کانفرنس حسن ابدال
مؤرخہ ۴ / اپریل ۲۰۱۰ء بروز اتوار حسن ابدال موہڑہ چوک میں شہدائے تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں جناب قاری آفتاب صاحب نے تلاوت کلام پاک اور بارگاہ تعالیٰ میں حمد پیش کی۔ ثناء خواں محمد زبیر قاسمی نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد مولانا محمد الیاس گھمن نے محققانہ انداز میں خطاب فرمایا، انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ سبب تخلیق کائنات ہیں لہٰذا حضور اکرم ﷺ پوری کائنات کے لئے عالم ارواح میں، عالم دنیا میں، عالم برزخ میں اور عالم آخرت میں رحمت ہیں۔ اس کے بعد شاعر اسلام جناب اطہر سرحدی صاحب نے اپنا منظوم کلام پیش کیا اور انگریز کے بناوٹی کذاب نبی (ملعون) کی ہجو بیان کی اس کے بعد ٹیکسلا کے مولانا مفتی شبیر احمد عثمانی صاحب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ اور اکابرین علماء دیوبند کے کارنامے بیان فرمائے مفتی صاحب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مینارہ اور محراب مسجد کی علامت اور شعائر اسلام ہے۔ لہٰذا قادیانیوں کی عبادت گاہ کو مسجد کا نام نہیں دیا جا سکتا یہ پاکستان کے قانون میں شامل شدہ بات ہے اور واہ کینٹ میں جو قادیانیوں کی عبادت گاہ کا محراب ہے اس کو گرایا جائے کیونکہ یہ قانون پاکستان کے خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد قاری ذیشان معاویہ صاحب نے منظوم کلام پیش کیا، مولانا محمد اکرم طوفانی نے شرکاء خصوصاً نوجوانوں سے تحفظ ختم نبوت سے متعلق پرمغز اور مدلل خطاب فرمایا۔ اس کے بعد حضرت مولانا عبد الکریم ندیم صاحب نے آخری اور مفصل خطاب فرمایا اور حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر مضبوط دلائل دیئے، انہوں نے کہا کہ جہاں ہمارے نبی ﷺ فوت ہوئے ہیں ہم بھی وہاں فوت ہونے کی تمنا کرتے ہیں تو مرزائیوں کو چاہیے کہ وہ بھی اس جگہ مرنے کی خواہش کا اظہار کریں جہاں ان کا ملعون نبی مرا ہے۔ اس کے بعد دعاء ہوئی اور ظہر کی نماز ادا کی گئی۔ کانفرنس کو زینت بخشنے کے لئے علاقہ کے جید علماء کرام تشریف لائے جن میں مولانا زاہد صاحب صدر مدرس مرکز حافظ الحدیث، مولانا پیر تنویر حسین حیدری نقشبندی صاحب، مولانا عبدالباسط صاحب، مولانا قاری خالد محمود صاحب، مولانا نور محمد زاہد صاحب، مولانا سجاد صاحب مہتمم مدرسہ عثمانیہ اس کے علاوہ علاقہ بھر کے مقتدر علماء کرام اور محبان ختم نبوت جوق در جوق تشریف لائے۔ نقابت کے فرائض مولانا ظفر اقبال صاحب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک نے سرانجام دیئے جب کہ قراردادیں مولانا محمد طیب صاحب مبلغ عالمی تحفظ ختم نبوت اسلام آباد نے پیش کیں اس موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع اٹک کے امیر مولانا قاضی ابراہیم ثاقب صاحب بھی اسٹیج پر رونق افروز تھے۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے جگہ جگہ وال چاکنگ کی گئی تھی اور نوجوانوں نے دن رات محنت کر کے کانفرنس کی تیاری میں بھر پور کردار ادا کیا۔ کانفرنس کے لئے مسجد صدیق اکبر ؓ کو مختلف بینرز لگا کر سجایا گیا تھا۔ جن پر شہداء کو سلام عقیدت اور ان کی خدمات کو خراج تحسین اور اس کے علاوہ حضرات علماء کرام کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے، جیسی عبارات لکھی ہوئی تھیں۔ کانفرنس کو چار چاند لگانے میں نوجوانوں نے بھر پور خدمات سرانجام دیں۔ سیکورٹی کا پورا نظام قاری شعیب صاحب کی زیر نگرانی تھا جن کے خصوصی معاونین میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا سجاد صاحب، نوید صاحب اور آصف ویرا اور دیگر نوجوان شامل تھے۔ بجلی کا نظام عدیل عزیز اور ان کے رفقاء نے بہتر طریقے سے چلایا انکے علاوہ مختلف گروپوں میں تقسیم نوجوانوں نے قاری محمد سعید صاحب کی نگرانی اور قیادت میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سرانجام دیا اور یوں شہدائے تحفظ ختم نبوت کانفرنس صبح تقریباً ۱۰بجے شروع ہوئی اور سوا تین بجے علامہ عبدالکریم ندیم صاحب کی دعاء پر بخیر و عافیت اختتام پذیر ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ۴۰ سال میں اس علاقے میں اس نوعیت کا پروگرام نہیں ہوا۔ رب کریم اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍مئی ۲۰۱۰ء ص ۱۹)
۲۹ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۶؍اپریل ۲۰۱۰ء بروز بدھ انتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس بعد نماز عشاء ایم اے جناح روڈ متصل جامع مسجد ختم نبوت میں بڑی آب و تاب سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی ابتدا مولانا قاری عبدالحمید اندھڑ نے اپنی مسحور کن آواز میں تلاوت کلام پاک سے کی، ان کے بعد سندھ کے مایہ ناز نعت خواں الحاج امداد اللہ پھلپوٹو اور حافظ تاج محمد نے حمدیہ نعتیہ کلام پیش کیا۔ ان کے بعد بالترتیب مفتی محمد طاہر ہالیجوی، مولانا اسد اللہ کھوڑو بھٹ شاہ، مولانا قاری کامران احمد حیدرآباد، مولانا صبغۃ اللہ جوگی، شیخ الحدیث مولانا غلام محمد سومرو سجاول، مفتی حفیظ الرحمن نے خطاب کئے، مجلس کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے خطبہ صدارت پڑھا۔ مفتی عبدالقیوم دین پوری نے خطاب کیا، جب کہ کانفرنس میں مولانا محمود الحسن بنوری ٹاؤن، ختم نبوت کراچی کے ناظم رانا محمد انور، کراچی بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار اور ختم نبوت کے قانونی مشیر منظور احمد میؤ ایڈووکیٹ، مفتی محمد نافع مصطفیٰ اندھڑ پنوعاقل، مولانا اظہر الحسینی، مولانا محمد مبین ٹنڈوالہ یار، مولانا حبیب اللہ سندھی، مفتی محمد زاہد، مولانا محمد نذر حیدرآباد، جے یو آئی کے حاجی محمد ہاشم خاصخیلی، مولانا محمد عثمان سموں، جامعہ مدنیہ کے مفتی محمد امان اللہ بلوچ، شیخ الحدیث مولانا مفتی عبدالحی بروہی، قاری دھنی بخش لاشاری، حافظ ظہور احمد قادری کوٹری، جناب عبدالسمیع شیخ گمبٹ، مولانا ارشد مدنی، مولانا امجد مدنی نوابشاہ سے قافلوں کی صورت میں خصوصی طور پر شریک ہوئے جب کہ شہداد پور، ہالہ، میر پور خاص، کنری، جھڈو، بدین، لاڑکانہ، پڈعیدن، سانگھڑ، پیرومل، بھٹ شاہ، خیرپور، سکھر سمیت سندھ بھر کے علماء و مشائخ نے بھرپور شرکت کی، کئی علماء و خطباء نے اپنے وقت کی قربانی دیتے ہوئے سندھ کے مایہ ناز خطیب شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی سجاول والوں کو اپنا وقت دینا مناسب سمجھا۔ ان کے خطاب سے قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی مدظلہ نے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ ملک کے حالات انتہائی مخدوش ہوتے جارہے ہیں، بیرونی مداخلت زور پکڑتی جارہی ہے، اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے مسلم امت کو اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، ہر شخص دوسرے کے مسلک کا احترام کرے ’’اپنے مسلک کو نہ چھوڑو اور دوسرے کے مسلک کو نہ چھیڑو‘‘ پر عمل کیا جائے، جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری اور سچا نبی مانتا ہو وہ مرزا غلام احمد قادیانی یا اس کے ماننے والوں کے لئے کسی بھی طرح نرم گوشہ نہیں رکھ سکتا، انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ انتخاب میں ہم یہ مہم چلائیں گے کہ ہر مسلمان اپنے امیدوار سے اس بات کا عہد لے کر ووٹ دے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دشمن قادیانیوں کی حمایت نہیں کرے گا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا وفادار بن کر رہے گا، مولانا محمد اکرم طوفانی نے کہا کہ توہین رسالت ایکٹ میں کسی بھی قسم کی کوئی ترمیم مسلمان برداشت نہیں کریں گے بلکہ اگر اس ایکٹ کو ختم یا اس کے نفاذ میں مشکلات پیدا کی گئیں تو خود حکومت کے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں گی، اگر حکومت نے یہ قانون ختم کر دیا اور قانون نہ رہا یا اس میں مشکلات پیدا کی گئیں تو ظاہر ہے کہ عاشقان رسول ﷺ خود میدان میں اتریں گے۔ اس لئے حکومت اپنے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لئے مشکلات خود ہی پیدا نہ کرے اور کسی بھی اسلامی ایکٹ میں مداخلت سے باز رہے، انہوں نے کہا کہ مولانا سعید احمد جلال پوری اور ان کے رفقاء کی شہادت کو ایک ماہ سے زیادہ وقت گزر گیا ہے لیکن ابھی تک مولانا کا نامزد ملزم گرفتار نہیں ہوا، زید حامد جس نے مولانا کو فون کیا اور ہم نے یہ نمبر ایف آئی آر میں بھی دیا اور میں نے کراچی میں تمام میڈیا کو دکھایا ، ہمارا کیس مضبوط ہے لیکن حکومت زید حامد کو گرفتار نہیں کر رہی اور یہ شخص یوسف کذاب کا چیلا ہے اور اسی کو نبی مانتا ہے مسلمانوں کا ایمان خراب کرنے کے لئے یہ شخص میڈیا پر طالبان کی حمایت وغیرہ کرتا ہے میں حکومت سے پوچھتا ہوں کہ اسلام کا نام لینے پر سوات والوں کا تو قیمہ بنا دیا گیا اور زید حامد کھلم کھلا طالبان کی حمایت کرتا ہے اس کو کیوں چھوڑا گیا ؟ معلوم ہوا کہ یہ شخص خود ایجنسیوں کا کھڑا کیا ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر مولانا سعید احمد جلال پوری کے اس نامزد ملزم سمیت دیگر قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو ہم گورنر ہاؤس اور وزیراعلٰی ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔ امت میں ایک بہت بڑا فتنہ ریاض احمد گوہر شاہی سرنگوں ہوا اور سندھ نہیں بلکہ پورے ملک میں مولانا احمد میاں تحفظ ختم نبوت کی خاطر گستاخان رسول قادیانیوں پر کئی ایک مقدمات کی اب بھی پیروی کر رہے ہیں، میں ان کی ہمت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور دعا گو بھی ہوں کہ اللہ ان کی حفاظت فرمائے ، اہلیان شہر کو کہتا ہوں کہ تحفظ ختم نبوت کی خاطر ان کے ہاتھ مضبوط کریں ورنہ قیامت میں کوئی بہانہ نہ چلے گا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا محمد اکرم طوفانی نے کی جب کہ نگرانی علامہ احمد میاں حمادی نے فرمائی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد راشد مدنی نے احسن طریقے سے انجام دیئے ۔ آخر میں شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی نے سندھی زبان میں تحفظ ختم نبوت پر خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت کا یہ مطلب نہیں کہ نبوت ختم اب ہدایت کا دروازہ بند ہو چکا بلکہ ختم نبوت کا معنی یہ ہے کہ اب قیامت تک نبوت محمد مصطفیٰ ﷺ کی جاری رہے گی کسی جھوٹے کے آنے کی کوئی گنجائش نہیں ، اب جو نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرے یا جو اس جھوٹے سے دلیل مانگے تو امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک دونوں ایک جیسے کافر ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی ختم نبوت اتنی واضح ہے کہ اس میں شک کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔ علماء نے تو لکھا ہے کہ اگر کسی کو آپ ﷺ کی نبوت کا علم نہ ہو، جانتا ہی نہ ہو تو یہ اس کا عذر نہیں بلکہ وہ کافر ہے، انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ قادیانیت کے خلاف اپنے گاؤں گوٹھوں میں کام کریں اور نگاہ رکھیں کہ کہیں کوئی قادیانی اپنی ارتدادی سرگرمیوں میں سرگرم تو نہیں ، جب کوئی شخص اپنی بہن، بہو، بیٹی کی عزت پر حرف برداشت نہیں کر سکتا تو ہمارے لئے محمد عربی ﷺ اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہیں ، ہم آپ کی توہین کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے ۔ کانفرنس رات تین بجے شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی صاحب کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲ مئی ۲۰۱۰ء ص ۲۲، ۲۳)
۲۹ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس اٹک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مورخہ ۲۱؍اپریل بروز بدھ بعد از نماز مغرب سالانہ ختم نبوت کانفرنس زیر سرپرستی جناب قاضی محمد ارشد الحسینی ، مولانا اللہ وسایا کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ تلاوت کی سعادت نوجوان عالم دین مسعود الحسن نے حاصل کی ، نعتیہ کلام مصعب فاروقی نے پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا ظفر اقبال نے سرانجام دیئے۔
کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا محمد رضوان سرگودھا، مولانا مفتی شاہد مسعود نے خطاب کیا اور عقیدہ ختم نبوت سے حاضرین کو روشناس کرایا۔ بعد از نماز عشاء مولانا اللہ وسایا نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں قادیانیوں کی شر انگیزیوں اور سازشوں کا پردہ چاک کیا اور سامعین کو حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے مر مٹنے اور ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مہمان خصوصی: مولانا محمد اکرم طوفانی دامت برکاتہم خصوصی طور پر کانفرنس میں تشریف لائے۔ حضرت مولانا کے تقریباً ایک گھنٹہ حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر مدلل ومفصل بیان اور منکرین ختم نبوت کے دانت کھٹے کر دئیے، انہوں نے کہا کہ اکابرین ختم نبوت کی تحریکی و تبلیغی خدمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ شہدائے ختم نبوت کے مقدس خون سے غداری کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ کانفرنس میں مولانا عبید اللہ، حافظ نثار احمد، قاضی محمد ابراہیم الحسینی، مفتی مسعود احمد ناظم اعلیٰ ضلع اٹک کے علاوہ بہت سے مقامی علماء وطلباء اور عوام الناس نے بھر پور شرکت کی۔
کانفرنس میں پیش کردہ قراردادیں:
- ۱...... ملک کی کلیدی اسامیوں سے قادیانیوں کو الگ کیا جائے۔
- ۲...... امتناع قادیانیت ایکٹ پر مؤثر عمل در آمد کیا جائے۔
- ۳...... مولانا سعید احمد جلال پوری شہید اور دیگر شہدائے ختم نبوت کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔
- ۴...... زید حامد یوسف کذاب کا چیلہ اور نام نہاد صحابی نامزد ملزم ہے، اسے گرفتار کیا جائے اور اس کا تعلیمی اداروں میں داخلہ بند کیا
جائے۔
- ۵...... آرمی پبلک کالج اٹک میں وائس پرنسپل جو کہ کٹر مرزائی ہے، اس کو آرمی کالج سے نکالا جائے۔
- ۶...... یہ اجلاس تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مشائخ عظام سے اپیل کرتا ہے کہ ہر ماہ کا ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کے لئے وقف کر کے نئی نسل کو
فتنہ قادیانیت سے آگاہ کریں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۰ء ص۲۶)
خانیوال میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد المینار میں ۲۳ تا ۲۵؍ اپریل ۲۰۱۰ء کو تین روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ جس کی نگرانی مقامی امیر مجلس مولانا خواجہ پیر عبد الماجد صدیقی نے کی، جب کہ کورس کو کامیاب کرنے کے لئے مقامی ناظم اعلیٰ مولانا عطاء المنعم نعیم، ضلعی مبلغ مولانا عبد الستار گورمانی نے شہر اور مضافات میں بھر پور محنت کی۔ ۲۳؍ اپریل ۲۰۱۰ء کو مغرب سے عشاء تک عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیا۔ ۲۴؍ اپریل ۲۰۱۰ء رفع ونزول مسیح علیہ السلام از قرآن وحدیث کے عنوان پر مولانا شجاع آبادی نے لیکچر دیا۔ علامات مسیح کا مرزا قادیانی سے تقابل نے عجیب سماں پیدا کیا۔ ۲۵؍ اپریل ۲۰۱۰ء مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ، دجل وفریب، شکوک وشبہات اور کذب مرزا قادیانی پر لیکچر دیا اور مرزا قادیانی کے دجل وفریب کا پردہ چاک کیا۔ مولانا شجاع آبادی نے اوصاف نبوت بیان کئے اور مرزا قادیانی سے تقابل کیا تو مرزا قادیانی میں ایک علامت بھی نہیں پائی گئی۔ مولانا نے کہا کہ مرزا قادیانی اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا اور مکار تھا۔ انہوں نے دلائل کے ساتھ امام مہدی علیہ الرضوان کے ورود، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے ظہور پر احادیث کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی۔ تین روز تک جامع مسجد المینار میں مغرب سے عشاء تک خوب رونق رہی۔ سبق کے بعد سوال وجواب کی نشستیں بھی منعقد ہوئیں۔ کورس کے آخر میں شرکائے کورس میں مجلس کا لٹریچر تقسیم کیا گیا اور کورس حضرت خواجہ پیر عبد الماجد صدیقی صاحب کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱؍ مئی ۲۰۱۰ء ص ۱۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رد قادیانیت کورس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد جے بلاک ماڈل ٹاؤن میں ۲۵، ۲۶، ۲۷؍اپریل ۲۰۱۰ء کو رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ جس میں سینکڑوں حضرات نے شرکت کی۔ ۲۵؍اپریل بعد نماز مغرب مولانا اللہ وسایا اور لاہور کے مبلغ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے خطاب کیا۔ ۲۶؍اپریل مولانا نعیم الدین استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ کریم پارک نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر لیکچر دیا۔ ۲۷؍اپریل کو جناب محمد متین خالد نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر خطاب کیا۔ بعد نماز عشاء اختتامی نشست سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن نے خطاب کیا۔ ۵۰۰ حضرات نے کورس میں شرکت کی۔ جنہیں اعزازی سندات دی گئیں اور منتظمین اور معززین علاقہ کو ختم نبوت ایوارڈ دیئے گئے۔ مسجد کی انتظامیہ نے بھرپور ساتھ دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۰ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس دوڑ
جمعیت طلباء اسلام دوڑ سٹی کے زیر اہتمام مؤرخہ ۳۰؍اپریل ۲۰۱۰ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا عبیداللہ پرہار نے کی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، حضرت مولانا قاری محمد امجد مدنی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا تجمل حسین اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا، اور عقیدہ ختم نبوت، نزول عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور مہدی علیہ الرضوان پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس کانفرنس کے لئے قاری محمد شاکر اور بھائی منظور نے خوب محنت کی اور مقامی علماء کرام نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کو جزائے خیر عطائے فرمائے۔ آمین۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍جون ۲۰۱۰ء ص ۱۰)
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع میں مرکزی رہنماؤں کا چار روزہ تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے اضلاع کے لئے مرکزی رہنماؤں مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا ۳۰؍اپریل تا ۳؍مئی ۲۰۱۰ء تک چار روزہ تبلیغی دورہ تشکیل دیا۔ مجلس کے مبلغ مولانا محمد اقبال، مولانا عبدالعزیز لاشاری، مولانا صاحبزادہ عبدالرحمن غفاری، بزرگ رہنما مولانا بشیر احمد فاضل پوری، حافظ علی محمد، مولانا غلام اکبر ثاقب نے دن رات محنت کر کے دعوت نامے اور اشتہارات تقسیم کئے اور عوام کو بیدار کیا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب ان اضلاع میں پہلی بار تشریف لائے تھے۔
۳۰؍اپریل ۲۰۱۰ء جمعۃ المبارک کا دن تونسہ شریف تحصیل کے لئے مقرر تھا۔ مولانا عبدالعزیز لاشاری، حکیم عبدالرحمن جعفر، مولانا امان اللہ کوٹ قیصرانی، مولانا غلام فرید ٹبی قیصرانی، اس چار رکنی کمیٹی نے تحصیل تونسہ شریف کی دینی قیادت کے مشورہ سے پریس کانفرنس کے علاوہ مزید پانچ تبلیغی پروگرام طے کئے۔ حسن اتفاق ہے کہ تونسہ شریف کے حلقہ ۲۴۰ میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں، اس حلقہ میں دوبارہ سردار امام بخش قادیانی، مسلمان کا روپ دھار کر الیکشن لڑ رہا ہے۔
چنانچہ ۳۰؍اپریل ۲۰۱۰ء صبح نو بجے ملتان سے مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تونسہ شریف شہر میں تشریف لائے۔ ناشتہ کے بعد حسب پروگرام دس بجے دن مقامی اخبار ’’المنظور‘‘ کے دفتر میں پریس کانفرنس کے لئے تشریف لے گئے، تحصیل تونسہ شریف کے مشہور صحافی جناب ملک منصور احمد نے قومی اخبارات کے نمائندگان جیو ٹی وی، دنیا ٹی وی، پی ٹی وی کی ایک ٹیم کے ساتھ ختم نبوت کے ان رہنماؤں کا اپنے دفتر میں استقبال کیا۔ پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے مولانا عبدالعزیز لاشاری نے علماء ختم نبوت اور علاقہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھر سے آئے ہوئے علماء کرام کا تعارف کرایا، ساڑھے دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک پریس کانفرنس جاری رہی۔ پُر ہجوم پریس کانفرنس کے بعد ان رہنماؤں کو کوٹ قیصرانی، بستی بزدار جنوبی میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات پر خطاب کے لئے لے جایا گیا۔ کوٹ قیصرانی میں مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب کیا۔ بستی بزدار جنوبی میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد اقبال کے بیانات ہوئے۔ اسی روز بعد نماز مغرب جامع مسجد ہائی اسکول اور جامع مسجد شہلانی میں ان دونوں بزرگوں کے علیحدہ علیحدہ درس قرآن ہوئے۔ بعد نماز عشاء تحصیل تونسہ شریف کے مشہور قصبہ مکول کلاں میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی، جس میں ان بزرگوں کے علاوہ مقامی علماء کرام نے خطاب کیا۔ تمام پروگراموں میں مولانا نذیر احمد تونسوی شہید، مولانا مفتی فخر الزمان شہید، مولانا مفتی سعید احمد جلال پوری شہید کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
یکم مئی کو ڈیرہ غازی خان کی مشہور دینی درس گاہ مدرسہ نیازیہ میں گیارہ بجے دن سے دو بجے تک طلباء، علماء، شہریوں کو رد قادیانیت پر مرکزی رہنماؤں نے لیکچر دیئے، اسی دن بعد نماز عشاء جامع مسجد عبیدیہ نقشبندیہ میں بزرگ رہنما مولانا بشیر احمد کی صدارت میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔
۲؍مئی کو جامعہ رحمانیہ میں صبح کی نماز کے بعد مولانا شجاع آبادی نے درس قرآن دیا، دس بجے دن اسی درسگاہ جامعہ رحمانیہ میں مولانا محمد علی جالندھری کے ساتھی سردار غلام قاسم خان کھترانی کی نگرانی میں شہر بھر کی عورتوں، دینی طالبات سے مولانا طوفانی نے خطاب کیا۔ مولانا طوفانی نے اپنے بیان میں کہا کہ جس طرح مرد حضرات حضور ﷺ کی شفاعت کے طلب گار ہیں، اسی طرح خواتین بھی شفاعت رسول کی طلب گار ہیں۔ قادیانی عورتیں اپنے جھوٹے پیشوا کے لئے کام کر رہی ہیں، ہماری بہنیں سچے اور آخری نبی کی ختم نبوت کے لئے کام کیوں نہ کریں؟ مولانا طوفانی نے مزید کہا کہ مسلمان خواتین شہر بھر میں قادیانی عورتوں کا محاسبہ کریں اور اپنی مسلمان بہنوں کے ایمان کی حفاظت کریں، قادیانی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں، جماعت کی طرف سے آخر میں لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
اسی دن نماز ظہر کے بعد جھکڑ امام شاہ میں ایک ختم نبوت کانفرنس ہوئی جس میں مولانا عبد العزیز لاشاری، مولانا محمد اقبال، مولانا محمد اسلم سلمی، مولانا طوفانی اور مولانا شجاع آبادی نے عقیدۂ ختم نبوت پر مفصل خطاب کیا۔ ختم نبوت کانفرنس کے اختتام پر جھکڑ امام شاہ کی مشہور مذہبی شخصیت پیر سید امام الدین شاہ صاحب سے مولانا شجاع آبادی اور مولانا عبد الرحمن غفاری نے ملاقات کی اور علاقہ میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ پیر امام الدین شاہ صاحب نے ختم نبوت کے ان رہنماؤں کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ہم ختم نبوت والوں کے ساتھ ہیں۔
اسی دن بعد نماز عشاء ضلع راجن پور کے قصبہ داجل میں مولانا بشیر احمد صاحب کی زیر نگرانی کانفرنس ہوئی جس میں ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں کے علاوہ مولانا محمد اسلم سلمی، مولانا محمد نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ نہ ڈالیں۔ مولانا طوفانی نے مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار کا پردہ چاک کیا تو سامعین اپنے جذبات سے بے قابو ہو کر مرزا پر لعنت بے شمار، مرزا پر لعنت بے شمار کے فلک شگاف نعرے لگانے لگے۔
۳؍مئی صبح گیارہ بجے سے دو بجے تک جام پور کی مشہور مسجد مولانا عبد الحئی فاضل دیوبندی میں عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق مولانا محمد اقبال، مولانا طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا بعد نماز عشاء راجن پور شہر کی مرکزی مسجد میں مولانا حافظ علی محمد امیر جماعت راجن پور کی صدارت اور مولانا قاری ابوبکر صدیق کی نگرانی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی، جس میں مولانا محمد رضوان
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرگودھا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا شجاع آبادی اور مولانا محمد اقبال کے بیانات ہوئے۔ یہ کانفرنس راجن پور کی تاریخ کی بڑی کانفرنس تھی، جس میں مولانا سیف الرحمن درخواستی اور ضلع بھر کی دینی قیادت نے بھرپور شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جون ۲۰۱۰ء ص۲۴، ۲۵)
رد قادیانیت کورس علی پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامعہ امدادیہ حبیب المدارس حبیب آباد یاکی والی، جامعہ حسینیہ علی پور میں تین روزہ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ ۴؍ مئی ۲۰۱۰ء صبح ۱۰ بجے تا ۱۲ بجے جامعہ حسینیہ علی پور میں اسی روز مغرب سے عشاء تک جامعہ امدادیہ حبیب المدارس یاکی والی میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیا۔ ۵؍ مئی دس تا ساڑھے گیارہ بجے جامعہ حسینیہ میں عقیدہ حیات اور رفع و نزول مسیح علیہ السلام کے عنوان پر مولانا شجاع آبادی نے بیان کیا اور طلبہ کے اشکالات کے جوابات دیئے۔ اسی روز نماز مغرب سے عشاء تک رفع و نزول مسیح علیہ السلام اور احادیث نبویہ کے عنوان پر مولانا شجاع آبادی نے بیان کیا۔ کورس کے آخری لیکچر کے اختتام پر مولانا محمد مکی مہتمم جامعہ امدادیہ حبیب المدارس، مولانا اجود حقانی مہتمم جامعہ حسینیہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شکریہ ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۰ء ص۵۱)
ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو
جمعیت علماء اسلام کنڈیارو سٹی کے زیراہتمام مؤرخہ ۵؍ مئی ۲۰۱۰ء بروز بدھ بعد نماز مغرب جامع مسجد کنڈیارو میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی صدارت جے یو آئی تحصیل کنڈیارو کے امیر حضرت مولانا عبدالعلیم گھانگھرو نے کی۔ تلاوت کی سعادت جامعہ عربیہ انوار العلوم کے استاد مولانا قاری عبداللہ بروہی نے حاصل کی جب کہ نعتیہ کلام حافظ سعید احمد راجپر نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا صبغت اللہ جوگی، مبلغ ختم نبوت مولانا تجمل حسین، مولانا عبدالرزاق میکو، مولانا پروفیسر ابومحمد، مولانا مفتی عبدالرحیم پٹھان و دیگر علماء کرام نے خطاب کیا اور کہا کہ حضور ﷺ سے محبت ایمانی فرض ہے اور اس محبت وعقیدت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کے دشمن اور منکرین ختم نبوت قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ اس کانفرنس میں ضلعی سطح پر ہزاروں نوجوان، علماء کرام اور طلباء اور مقامی لوگوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے آخر میں جمعیت علماء اسلام کے سرپرست اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد نوراللہ مرقدہ کے بلندی درجات کے لئے دعا مانگی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۰ء ص۲۳)
سکھر میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام دفتر ختم نبوت معصوم شاہ مینارہ سکھر میں ۱۴ تا ۱۶؍ مئی ۲۰۱۰ء کو سہ روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ کورس کی تقریبات کی صدارت مقامی امیر آغا سید محمد نے کی، جب کہ افتتاحی تقریب میں جامعہ اشرفیہ کے ناظم اعلیٰ قاری خلیل احمد بندھانی شریک ہوئے۔ ۱۴؍ مئی عصر سے مغرب تک مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اوصاف نبوت کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ ۱۳؍ اوصاف نبوت تحریر کرائے، ان میں سے ایک وصف بھی مرزا قادیانی میں نہیں پایا جاتا، لہٰذا مرزا قادیانی دعویٰ نبوت میں جھوٹا تھا۔ دوسری نشست مغرب سے عشاء تک منعقد ہوئی، جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ ۱۵؍ مئی عصر سے مغرب تک مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان پر خطاب کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق یہودیت، عیسائیت، اسلام، قادیانیت کا موقف بیان کیا۔ قرآن پاک سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے دلائل تحریر کرائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مغرب سے عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے امام مہدی کی تشریف آوری، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کے دلائل تحریر کرائے ۔ ۱۶؍مئی عصر سے مغرب تک مولانا مفتی راشد مدنی اور مغرب سے عشاء قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ کورس میں ڈیڑھ سو سے دوسو تک حضرات نے شرکت کی اور آخری دن مجلس کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ آخری تقریب میں مولانا پروفیسر ابو محمد اور دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍جون ۲۰۱۰ء ص ۲۷)
ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
کانفرنس کا آغاز : ۹؍مئی ۲۰۱۰ء کو صبح دس بجے اعلان کے مطابق بروقت کانفرنس کا آغاز ہوا۔ ظہر سے قبل کے اجلاس اوّل کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کے امیر استاذ العلماء مولانا شفیق الرحمٰن نے اور بعد از ظہر دوسرے اجلاس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے امیر محترم حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے فرمائی۔ مقررین حضرات کے نام اور ترتیب یہ ہے۔
پہلی نشست ۱۰؍ بجے دن تا نماز ظہر : زیر صدارت : مولانا شفیق الرحمٰن (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد) اسٹیج سیکرٹری : مولانا صدیق شریفی ۔ نعتیں : حافظ جنید مصطفیٰ، اطہر سرحدی ۔ ترانہ ختم نبوت : مولانا شاہ عبدالعزیز ۔ بیانات : مولانا محمد عارف شامی (گوجرانوالہ)، مفتی محمود الحسن (لندن)، مولانا محمد طیب فاروقی (اسلام آباد)، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی (لاہور)، مولانا فقیر اللہ اختر (سیالکوٹ)، قاری محمد ارشد (مانسہرہ)، مولانا عبدالوحید قاسمی (اسلام آباد)۔ اختتامی دعاء : مولانا سید غلام نبی شاہ جیوڑی۔
دوسری نشست بعد از ظہر : زیر صدارت : مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی (پشاور)۔ مہمان خصوصی و سرپرست اعلیٰ : شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان (کراچی)۔ نعت : حافظ ابوبکر (کراچی)، جناب طارق محمود، جناب مصعب فاروقی ۔ اسٹیج سیکرٹری : مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، جناب محمد ساجد اعوان ۔ نگرانِ اعلیٰ : جناب وقار خان جدون ۔ نگران : جناب سید مجاہد علی شاہ ۔ قراردادیں : مولانا عبدالواجد ۔ خطبہ صدارت : جناب محمد ساجد اعوان ۔ مقررین : مولانا قاضی عبدالرشید (راولپنڈی)، جناب سراج الحق (سابق سپیکر سرحد اسمبلی)، پیر طریقت مولانا عزیز الرحمٰن ہزاروی (راولپنڈی)، پیر طریقت مولانا قاضی ارشد الحسینی (اٹک)، شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان (کراچی)، مولانا حامد الحق حقانی (اکوڑہ خٹک)، جناب اکرام اللہ شاہد (سابق ڈپٹی سپیکر سرحد اسمبلی)، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی (پشاور)، مولانا نجم الدین (بٹگرام)، مولانا علی اختر اعوان (لاہور)، شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی (گوجرانوالہ)، شیخ الحدیث مولانا فضل الرحیم (لاہور)، شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان (لاہور)، جناب ڈاکٹر خادم حسین ڈھلون (جہانیاں)، جناب مفتی کفایت اللہ ایم۔ پی۔اے (مانسہرہ)۔ اختتامی دعائے خیر : پیر طریقت مولانا عبدالغفور (ٹیکسلا)۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۰ء ص ۵۰)
خطبہ صدارت ....... ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
۹؍مئی ۲۰۱۰ء بمقام مرکزی عید گاہ زیر اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جو جناب ساجد اعوان نے پیش کیا۔ ملاحظہ فرمائیں!
بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد!
حضرات مہمانانِ ذی وقار، محترم علماء کرام، مشائخ عظام، مختلف دینی جماعتوں اور مسالک کے نمائندگان محترم ! آج ہم یہاں مورخہ ۹؍مئی ۲۰۱۰ء اتوار کے دن، چناروں کے خوبصورت شہر ایبٹ آباد کی مرکزی عید گاہ میں ختم نبوت کانفرنس کے مقدس، مطہر اور پاکیزہ نام پر جمع ہوئے ہیں۔ ہزارہ کے صدر مقام اس شہر کی شہرت پر امن اور محبت کرنے والے باسیوں کی وجہ سے ملک عزیز کے طول وعرض میں عام ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محترم حضرات گرامی! تاریخی اعتبار سے ہزارہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل شہید نے اسی سرزمین پر سکھوں کے خلاف پرچم حق بلند کیا تھا اور اسی مئی کے مہینے میں بالاکوٹ کی وادی میں شہادت کے عظیم رتبہ سے سرفراز ہوئے تھے۔ سرزمین ہزارہ نے دارالعلوم دیوبند کو وہ سپوت عطا کیا جس نے اس مادر علمی میں اکتیس برس تک درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔ جن کا نام نامی حضرت مولانا غلام رسول بغوی تھا۔ جن کے شاگردوں میں فخر المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی شامل ہیں۔ اسی سرزمین ہزارہ کی ایک اور قد آور شخصیت حضرت مولانا رسول خان کی تھی۔ جنہوں نے اکیس برس تک دارالعلوم دیوبند میں اور پھر کئی اور مشہور تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کے شاگردوں میں حضرت مولانا قاری محمد طیب، شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، مفتی پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع اور حضرت مولانا خیر محمد جالندھری جیسے لوگ شامل ہیں۔ اسی سرزمین سے تعلق رکھنے والے حضرت مولانا محمد اسحق ہزاروی نے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ جب کہ ان کے ہم نام حضرت مولانا محمد اسحق لودھی نے تحریک پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔
حضرات گرامی! امیر شریعت حضرت مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری کے رفقاء میں تین نمایاں شخصیات کا تعلق اسی سرزمین ہزارہ سے تھا۔ حکیم عبدالسلام، بطل حریت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی اور عاشق صادق حضرت مولانا تاج محمود نے احرار کی تحریکات ہائے آزادی اور بعد ازاں ختم نبوت کی تحریکوں میں جو کردار ادا کیا۔ وہ ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہے۔
محترم حاضرین کرام! گستاخان رسول کے خلاف بھی اہلیان ہزارہ کا کردار قابل رشک رہا ہے۔ ۱۹۳۳ء میں کراچی کی ایک عدالت میں ایک گستاخ رسول نتھو رام کو جہنم واصل کرنے کا اعزاز بھی ایک ہزارے وال کو نصیب ہوا۔ جس کی پاداش میں غازی عبدالقیوم شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ اسی طرح ۱۹۳۸ء مانسہرہ میں غازی عبدالرحمن شہید نے ایک سکھ گستاخ رسول کو قتل کیا اور پھانسی کی سزا پا کر امر ہوئے۔ حضرات گرامی! دور حاضر اور ماضی قریب میں بھی ہزارہ کا علمی وقار قابل ذکر رہا ہے۔ فقیہہ عصر، شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر، حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی اور مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ کا تعلق اسی سرزمین ہزارہ سے ہے۔
محترم سامعین ! عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں بھی ہزارہ کے غیور عوام کا کردار آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانی قیادت نے چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیا۔ جہاں سے ان کی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیاں ہر دور میں ارباب اقتدار کا منہ چڑاتی رہی ہیں۔ قادیانی قیادت کا دوسرا نشانہ ایبٹ آباد میں ربوہ ثانی کا قیام تھا۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے متصل اس انتہائی حساس مقام کا انتخاب قادیانی عزائم اور ان کے اکھنڈ بھارت کے ملک دشمن نظریے کا غماز تھا۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں جب پورے ملک میں بلیک آؤٹ رہتا تھا۔ ربوہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں بلیک آؤٹ کی صریحاً خلاف ورزی کی جاتی رہی۔ ربوہ میں بلیک آؤٹ کی خلاف ورزی اس بات کا بین ثبوت تھا کہ ربوہ کی روشنیاں بھارتی طیاروں کو سرگودھا کے ہوائی اڈے کا محل وقوع بتانے کے لیے تھیں۔ سرگودھا اندھیروں میں بھی دشمن کے نشانوں کا شکار ہوتا رہا۔ جبکہ ربوہ فضا میں بکھری ہوئی روشنیوں کے باوجود محفوظ رہا۔ متعدد وارننگز کے بعد مجبوراً واپڈا کو ربوہ کی بجلی منقطع کرنا پڑی تھی۔ اس تناظر میں ایبٹ آباد میں ربوہ ثانی کا قیام کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔ یہ محب وطن اہل نظر سے پوشیدہ نہ تھا۔ ۷۰ء کی دہائی میں اس پر قادیانیوں نے زور وشور سے تعمیراتی کام کا آغاز کیا۔ لیکن صد ہا آفرین کے قابل ہیں غیور اہلیان ایبٹ آباد جنہوں نے ۱۹۷۴ء میں ربوہ ثانی کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ارض پاک پر ایک احسان عظیم کیا۔ فیصلہ کن تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں بھی اس شہر کا کردار مثالی رہا۔ ۱۱ / جون ۱۹۷۴ء کو تحریک ختم نبوت کے لیے ایک فقید
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
المثال جلوس نکالا گیا۔ یہ سرزمین ہزارہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس تھا۔ اس جیسا جلوس تحریک آزادی کے دوران بھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ اس روز ایبٹ آباد کے گردونواح کے کئی مقامات ایسے تھے جہاں پر مساجد میں آذان دینے کے لیے کوئی بالغ مرد پیچھے نہیں رہا تھا۔ عقیدہ ختم نبوت سے اس قدر گہری وابستگی اس شہر کے باسیوں کی رحمت عالم ﷺ سے سچی محبت کی منہ بولتی تصویر ہے۔
قابل صد احترام مہمانان گرامی! مرزائیت ، ایک ملک دشمن سیاسی تحریک ہے۔ اس کے مقاصد بھی سیاسی ہیں۔ ملک عزیز کی شہ رگ کشمیر کو دشمن کے ہاتھ دینے میں یہی طبقہ ملوث رہا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں ملک عزیز میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کی جس لہر نے جنم لیا اور پروان چڑھی ہے۔ اس کے پیچھے بھی قادیانی جماعت سرگرم عمل ہے۔ قادیانیت کسی مذہب اور عقیدہ کا نام نہیں ہے۔ رحمت عالم ﷺ سے بغاوت کا دوسرا نام قادیانیت ہے۔ اس کا تعاقب اور سدباب بلاشبہ رحمت عالم ﷺ کی خوشنودی کا باعث ہے۔ اسی فرض کی ادائیگی کے لیے ہم سب آج یہاں جمع ہیں۔ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت ایک انتہائی مقبول عمل ہے۔ یہ رحمت عالم ﷺ کی توجہات کو متوجہ کرنا ہے اور ملکی بقاء و سلامتی اور امن و خوشحالی کے لیے رب العزت کے حضور دامن طلب کو پھیلا دینا ہے۔ اس موقع پر جملہ علماء کرام سے اپیل کی جاتی ہے کہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں اور مہینے کے کم از کم ایک جمعے کا بیان خالصتاً عقیدہ ختم نبوت کے لیے وقف کریں۔
حضرات گرامی! آج کے دن اس امر کا اظہار کئے بغیر چارہ نہیں کہ آج سے چار روز قبل یعنی ۵؍ مئی ۲۰۱۰ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب جن کی سرپرستی میں اس کانفرنس نے منعقد ہونا تھا وہ انتقال فرما گئے۔ إنا للہ و إنا اليه راجعون!
حضرات محترم ! حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے اپنے استاذ محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی صدارت میں ۱۹۷۳ء سے ۱۹۷۷ء تک چار سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے نائب امیر اور پھر حضرت بنوری کے وصال کے بعد ۱۹۷۷ء سے اس وقت تک مسلسل تینتیس (۳۳) سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر مرکزیہ کے طور پر گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کے عہد امارت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا کام چہار سو عالم میں وسعت پذیر ہوا۔ آپ کی امارت کا دور تحفظ ختم نبوت کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ آپ کی قیادت میں ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت چلی۔ جس کے نتیجے میں قادیانیت کے خلاف امتناع قادیانیت آرڈیننس منظور ہوا۔ اس آرڈیننس کے جاری ہونے کے بعد قادیانی جماعت کے چوتھے گرو کو خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنی پڑی اور آج بھی اس آرڈیننس ہی کی وجہ سے قادیانی جماعت کے پانچویں چیف گرو کو پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے کی جرأت نہیں ہورہی۔ قادیانی جماعت کا مرکز ربوہ جس کا موجودہ نام چناب نگر ہے۔ اس میں اہل اسلام کا داخلہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مراکز و مدارس کا قیام، سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی داغ بیل، لندن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر کا قیام، سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کی بنیاد ، یہ سب حضرت مولانا خواجہ خان محمد کے عہد امارت میں ہوا۔ آپ کا وجود اس دھرتی پر اللہ رب العزت کا انعام تھا۔ آپ کا وجود قادیانیت کے خلاف درہ عمر ؓ کی ہیبت رکھتا تھا۔ آج وہ ہم میں موجود نہیں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی چالیس سال کے بعد یہ پہلی کانفرنس ہے جو ان کی صدارت و سرپرستی کے بغیر منعقد ہو رہی ہے۔ ان کی جدائی کے صدمے سے ہم دوچار ہیں۔ ہم اس کانفرنس کو آپ کے ایصال ثواب کے لیے منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور اس موقع پر اللہ رب العزت کی توفیق اور عنایت سے اس عزم کا بھی اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قادیانیت کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ آج کے دن میں ہزارہ کے تمام علماء کرام کو
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جن کی شبانہ روز محنتوں سے اس تاریخی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ ملک بھر سے تشریف لائے ہوئے مہمان علماء کرام، مشائخ عظام، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر دور دراز کا سفر کر کے اس کانفرنس کو حقیقی معنوں میں تاریخی اور عظیم الشان بنا دیا ہے۔ میں ایبٹ آباد کی تاجر برادری کے لیے بھی دعا گو ہوں جنہوں نے اپنے بازاروں اور مارکیٹوں میں ختم نبوت کانفرنس کے خوبصورت بینرز آویزاں کر کے عشق رسالت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں اس کانفرنس کی بے مثال کامیابی کے لیے سکولز، کالجز اور مدارس عربیہ کے طلباء کی کاوشوں کا بھی اعتراف ہے اور دل ان کی گوناگوں رفعتوں کے لیے محو دعا ہے۔ آخر میں پروردگار عالم سے دعا ہے کہ ہمیں رحمت عالم ﷺ کی سچی محبت اور اطاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا ارحم الرحمین بحرمة النبی الأمی الکریم ﷺ!
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۰ء ص ۴۷ تا ۴۹)
سہ روزہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے زیر اہتمام جامعہ عربیہ مدینۃ العلوم میں مؤرخہ ۱۶، ۱۷، ۱۸؍مئی ۲۰۱۰ء کو سہ روزہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس منعقد ہوا۔ اس کورس میں پہلے دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد تشریف لائے اور عقیدہ ختم نبوت پر دلائل، آیت خاتم النبیین کی مکمل تفسیر، قادیانیوں کے عقائد وعزائم کو بیان کیا اور قادیانیوں سے بات کرنے کے مناظرانہ اصول نوٹ کروائے۔
دوسرے دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ تشریف لائے اور اوصاف نبوت، قادیانیوں سے تقابل اور مرزا قادیانی کے جھوٹ بیان فرمائے اور ان سب کے حوالہ جات نوٹ کروائے۔
تیسرے دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے مبلغ مولانا مفتی راشد مدنی تشریف لائے اور سیّدنا مہدی علیہ الرضوان، رفع ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مرزا قادیانی کے دعاوی اور عیسائیت کی حقیقت کو بیان کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے محراب پور کے تمام مدارس کے علماء سے ملاقاتیں کیں اور مساجد میں درس دیئے اور تمام حضرات کو کورس میں شرکت کی دعوت دی۔ اس کورس کی کامیابی کے لئے محراب پور کے تمام علماء ومدارس نے خصوصاً جامعہ مدینۃ العلوم کے اساتذہ اور طلباء نے خصوصی تعاون کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
اس کورس میں تینوں دن تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ۲۰۰ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ کورس کے شرکاء کو کاپیاں جماعت کی طرف سے دی گئیں اور کورس کے آخر میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیوں سے بائیکاٹ کے پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔
مولانا عبد الصمد نے اختتامی کلمات کہے اور مولانا قاری اسلام الدین نے دعاء کرائی۔ ان شاء اللہ اس کورس کے بہت دور رس نتائج ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہماری نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ جون ۲۰۱۰ء ص ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد کی تفصیلی رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۷؍مئی ۲۰۱۰ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء الفتح گراؤنڈ سلیمی چوک ستیانہ روڈ فیصل آباد میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مبلغ فیصل آباد مولانا عبد الرشید سیال، مولانا سید حبیب
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد شاہ ، مولانا سید محمد حنظلہ شاہ اور جناب بھائی محمد عثمان نے مساجد کے آئمہ اور مدارس کے مہتمم حضرات سے ملاقاتیں کیں اور دعوت نامے تقسیم کئے۔ فیصل آباد شہر کے علاوہ دیہاتوں اور قصبوں کا دورہ کیا اور بیانات بھی کئے۔ کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا عطاء الرحمن خطیب جامع مسجد توحیدیہ نے سرانجام دیئے۔ نعت شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی نے پیش کی۔ مقررین میں مولانا مفتی سید خبیب احمد شاہ، مولانا عبدالرشید سیال مبلغ فیصل آباد، مولانا زاہد محمود قاسمی ، مولانا اللہ وسایا، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا الیاس چنیوٹی ، ایم پی اے چنیوٹ ، جناب شاہد رزاق ، صاحبزادہ مولانا مفتی محمد ضیاء مدنی ، مولانا عبدالخالق رحمانی ، مولانا محمد الیاس گھمن شامل تھے۔ جب کہ دعاء حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نقشبندی نے کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۰ء ص ۲۷)
پشین، کوئٹہ ، ژوب اور لورالائی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنسیں
کوئٹہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۴ تا ۳۰ مئی ۲۰۱۰ء کو بلوچستان کے مختلف شہروں پشین، کوئٹہ ، ژوب اور لورالائی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں کے علاوہ ملک کے جید علماء کرام شریک ہوئے۔ چنانچہ اس سلسلہ کا پہلا پروگرام ۲۴ مئی ۲۰۱۰ء بروز پیر بعد نماز عصر جامع مسجد مرکزی پشین میں مولانا محمد ہمایوں کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ، مفتی محمد راشد مدنی مبلغ رحیم یار خان ، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن کا عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر مفصل خطاب ہوا۔
دوسرا پروگرام ۲۵ مئی ۲۰۱۰ء جامع مسجد مرکزی کوئٹہ میں مولانا عبدالواحد امیر ختم نبوت بلوچستان کی صدارت میں منعقد کیا گیا۔ جس میں مولانا انوار الحق حقانی خطیب مرکزی مسجد ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، مولانا محمد یوسف نقشبندی جلال پوری مبلغ ختم نبوت بلوچستان ، مولانا مفتی راشد مدنی رحیم یار خان ، مولانا محمد حسین ناصر سکھر ، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے خطاب کیا۔ قراردادیں مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی خطیب گول مسجد کوئٹہ نے پڑھیں اور تلاوت قاری ابراہیم کاسی نے کی۔
تیسرا پروگرام ۲۶ مئی ۲۰۱۰ء جامع مسجد گول سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں ہوا، جس میں مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا مفتی راشد مدنی ، مولانا محمد یوسف نقشبندی ، مولانا نور محمد سابق ایم این اے، مولانا محمد حسین ناصر کے بیانات ہوئے۔ تلاوت قاری ابراہیم کاسی نے اپنی مسحور کن آواز میں کی۔
۲۶ مئی کو پریس کلب کوئٹہ میں ”امت کو درپیش چیلنج اور عقیدہ ختم نبوت“ کے عنوان پر ایک سیمینار ہوا، جس سے مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، جماعت اسلامی کے مولانا عبدالحق ہاشمی، مسلم لیگ کے جعفر مندوخیل ، جمعیت علمائے اسلام کے عبدالعزیز خلجی ایڈووکیٹ ، مولانا عبداللہ منیر نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے علاوہ دیگر ارکان نے خطاب کیا۔
۲۷ مئی کو سنہری جامع مسجد کوئٹہ میں ہونے والے تین روزہ رد قادیانیت کورس کا آخری سیشن دفتر ختم نبوت آرٹ اسکول روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں تقریباً دو سو طلباء کو لٹریچر دیا گیا اور ان کی چائے سے تواضع کی گئی ، اس موقع پر مولانا انوار الحق حقانی ، مولانا عبدالواحد اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے طلباء کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۸؍مئی بروز جمعہ کو اسلامیہ اسکول میں اساتذہ کرام کی ایک ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی راشد مدنی، مولانا محمد حسین ناصر اور مولانا محمد یوسف نقشبندی نے طلباء اور اساتذہ کو عقیدہ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوع پر لیکچر دیا۔
۲۹؍مئی کو بعد نماز عصر جامع مسجد مرکزی ژوب میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی، جس میں مولانا اللہ داد کاکڑ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی راشد مدنی، مولانا حبیب الرحمٰن جمعیت علمائے اسلام، مولانا محمد یوسف نقشبندی، مولانا محمد حسین ناصر نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے انتظامات حاجی محمد اکبر جنرل سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب اور آپ کے ساتھیوں نے احسن طریقے سے کئے۔
۳۰؍مئی کو جامع مسجد مرکزی لورالائی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی راشد مدنی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد یوسف نقشبندی نے عمائدین شہر اور مقامی حضرات کے سامنے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ تفصیل سے بیان کیا اور مرزا قادیانی کے دعاوی کا پوسٹ مارٹم کیا۔ اس کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد قدس سرہ کے خلیفہ مجاز مولانا محب اللہ مدظلہ نے کی۔ دوسری نشست کی صدارت مجلس تحفظ ختم نبوت لورالائی کے نائب امیر نے کی، اس کانفرنس کے انتظامات لورالائی جماعت کے جنرل سیکرٹری حاجی خواجہ محمد اشرف اور دیگر مقامی ساتھیوں نے سرانجام دیئے۔
سہ روزہ ختم نبوت تربیتی کورس بہاول نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر تحصیل چشتیاں کے زیر اہتمام جامعہ سیدنا خالد بن ولید میں مہتمم مدرسہ مولانا قاری محمد اجمل مظہری مدظلہ کی سر پرستی میں ”ختم نبوت تربیتی کورس“ منعقد ہوا۔
۴؍جون ۲۰۱۰ء کو نماز جمعہ کے بعد مبلغ ختم نبوت بہاول نگر مولانا محمد قاسم نے بیان کیا، نماز عشاء کے بعد جامع مسجد مدینہ بہاول نگر میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی جلسہ ہوا، جس میں مولانا محمد انور، مولانا محمد اکرام اللہ عارفی، مولانا قاری بارک اللہ، مولانا شبیر احمد حسینی، مولانا محمد قاسم جب کہ آخری بیان مولانا جلیل احمد اخون کا ہوا، علماء کرام نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر قسم کی قربانی دیں گے۔
۵؍جون بروز ہفتہ تربیتی کورس کی پہلی نشست میں مولانا محمد راشد مدنی مبلغ ختم نبوت رحیم یار خان نے بیان کیا، دوسری نشست بعد از ظہر منعقد ہوئی، جس میں مولانا محمد قاسم نے خطاب کیا۔ مغرب کے بعد تیسری نشست میں رد قادیانیت پر مدلل گفتگو کی اور مرزا کی کتابوں سے حوالہ جات پیش کئے۔
۶؍جون کو صبح کا درس مولانا محمد راشد مدنی کا چک نمبر ۷۷ میں جب کہ مولانا محمد قاسم کا درس ۶۹ چک میں ہوا۔ کورس کے آخری روز مبلغین نے شرکائے کورس کو قادیانیت کے سلسلہ میں اہم نکات املا کروائے۔ اختتامی دعاء مولانا محمد صدیق مہتمم جامعہ رشیدیہ ہارون آباد نے کرائی۔ الحمد للہ ! قریبی دیہات سے کافی تعداد میں مسلمان جمع ہوئے، اللہ تعالیٰ کورس کو مسلمانوں کے لئے نافع بنائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۰ء ص۲۶)
ٹیکسلا میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد خاتم النبیین میں سالانہ سہ روزہ رد قادیانیت کورس ۸، ۹، ۱۰؍جون ۲۰۱۰ء کو عصر سے عشاء منعقد ہوا۔ جس کی نگرانی ہمارے حضرت خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے خلیفہ ارشد حضرت مولانا عبدالغفور مدظلہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے کی۔ ۸؍ جون عصر سے عشاء تک مغرب کے وقفہ سے رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی کے عنوان پر تیرہ اوصاف بیان کئے۔ جن میں سے ایک بھی مرزا قادیانی میں نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا مرزا قادیانی دعویٰ نبوت میں جھوٹا تھا۔ ۹؍ جون کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت کے عنوان پر مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ ۱۰؍ جون کو عصر سے مغرب تک حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع ونزول کے مسئلہ پر دلائل دیئے۔ بعد از مغرب تا عشاء مولانا محمد طیب فاروقی مبلغ اسلام آباد نے حیات مسیح علیہ السلام کے عنوان پر بیان کیا۔ کورس کا انتظام وانصرام مولانا عبدالغفور صاحب مدظلہ کے فرزندان گرامی قاری محمد زکریا ، قاری عبد الہادی نے کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے مبلغ مولانا زاہد وسیم نے شب و روز محنت کی اور ساڑھے تین سو سے زائد شرکاء کو سندات تقسیم کی گئیں جو مولانا عبد الغفور صاحب مدظلہ اور مولانا محمد عالم طارق نے تقسیم کیں۔
ٹیکسلا میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع خاتم النبیین میں ختم نبوت کانفرنس ۱۰؍ جون ۲۰۱۰ء بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا عبدالغفور نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے مولانا محمد عالم طارق ، مولانا محمد رضوان ، مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد ، مولانا زاہد وسیم راولپنڈی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۰ء ص۵۴)
کھڈیاں قصور میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ تعلیم القرآن میں ۱۲، ۱۳؍ جون ۲۰۱۰ء کو رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ عصر تا عشاء تھا۔ ۱۲؍ جون کو عصر سے مغرب مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیا۔ جب کہ مغرب سے عشاء تک جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے خطیب مولانا غلام مصطفیٰ نے بیان کیا۔ ۱۳؍ جون کو عصر سے مغرب تک مولانا غلام مصطفیٰ اور مغرب سے عشاء تک مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا بیان ہوا۔ کورس میں سینکڑوں علماء ، طلباء اور عوام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۰ء ص۵۵)
گوجرانوالہ میں رد قادیانیت وعیسائیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد گرجاکھ میں رد قادیانیت وعیسائیت کورس ۱۹، ۲۰، ۲۱؍ جون ۲۰۱۰ء کو منعقد ہوا۔ جس کی نگرانی مجلس گوجرانوالہ کے ناظم اعلیٰ حافظ محمد یوسف عثمانی نے کی۔ ۱۹؍ جون مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، ۲۰؍ جون قاری غلام مرتضیٰ ڈسکہ ، ۲۱؍ جون مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیئے۔ ایسے ہی جامع مسجد ختم نبوت ہاشمی کالونی کنگنی والا میں منعقدہ سمر کیمپ کے طلبہ سے تین دن تک مولانا شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ انہوں نے طلبہ کو قادیانیوں کو اپنے محلہ ، سکول ، کلاس سے دوڑانے کے گر بتلائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۰ء ص۵۵)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس مظفر گڑھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۰؍ جون ۲۰۱۰ء بروز اتوار بعد نماز عشاء ایک عظیم الشان ”تحفظ ختم نبوت کانفرنس“ مرکزی جامع مسجد مظفر گڑھ میں منعقد ہوئی۔ جس میں خصوصی خطاب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ یادگار اسلاف مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمایا۔ ان کے علاوہ مولانا محمد اسامہ رضوان ، مولانا محمد طفیل ، مولانا محمد عمران ، قاری محمد آصف ، مولانا حکیم
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد اسماعیل، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مظفر گڑھ کے مبلغ قاضی عبدالخالق، مولانا محمد سالم ، مولانا محمد عاصم ، مولانا محمد مزمل، مولانا محمد ریاض، مولانا عبدالستار، مولانا محمد زبیر ، مولانا صابر خیاط ، مولانا محبوب ، حکیم عطاء الرحمن ، قاری محمد علی ، مفتی عبدالغفور، مولانا سعید احمد شاہ ، مولانا انیس الرحمن، مولانا محمد ارشد اور مفتی محمد احمد سمیت متعدد علماء کرام نے شرکت و خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۰ء ص ۵۶)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کی مقامی جماعت نے اس دفعہ سالانہ کانفرنس حیدرآباد کے قدیم علاقے پھلیلی پریٹ آباد میں کرانے کا فیصلہ فرمایا، کانفرنس کے سلسلے میں مقررین کے لئے رابطہ کیا مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبدالغفور حقانی سے وقت لیا گیا، کانفرنس نورالاسلام مسجد میں میرنبی ٹاؤن پریٹ آباد میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے سلسلے میں پریٹ آباد پھلیلی کے ائمہ مساجد اور نوجوانوں نے خوب محنت کی ان نوجوانوں کی سربراہی بھائی محمد اقبال نے کی، کانفرنس کی تشہیر کے سلسلے میں اشتہارات بینر دعوت نامے کا کام بھائی محمد رفیق اللہ نے کیا۔ علماء کرام کو دفتر سے جلسہ گاہ لانے اور واپس پہنچانے کی ذمہ داری بھی انہی پر تھی۔ کانفرنس کی تیاری اور سرپرستی کرنے کے لئے ہمہ وقت مولانا محمد ایوب بندھانی، مولانا سیف الرحمن آرائیں، مولانا غلام محمد سومرو اور جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا تاج محمد ناہیوں نے ساتھ دیا، مہمانوں کی ضیافت، اسٹیج ، لائٹنگ ایکو ساؤنڈ سسٹم کی نگرانی اور پوری کانفرنس کا اہتمام جناب ڈاکٹر مولانا عبدالسلام قریشی امیر مجلس حیدرآباد نے فرمایا۔ بعد نماز عشاء کانفرنس کا آغاز جناب مولانا قاری محمد اعظم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پہلے مقرر جامعہ کریمہ کے استاذ مولانا عبدالرحیم بھٹی تھے۔ نعت رسول مقبول کے لئے کراچی سے حافظ عبدالقادر تشریف لائے، انہوں نے ایک سماں باندھ دیا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے بیان کے وقت حیدرآباد اور مضافات کے نامور علماء کرام اسٹیج پر رونق افروز تھے، حضرت نے ۱۹۵۳ء میں شہدائے ختم نبوت کی قربانیوں اور عقیدہ ختم نبوت اور سیرت الرسول ﷺ پر خوب گفتگو فرمائی، آپ کے بیان کے دوران وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری تشریف لائے، بعد میں انہوں نے عقیدہ ختم نبوت اور سیرت الرسول پر عالمانہ بیان فرمایا انہوں نے کہا کہ نسبت رسول ﷺ کے بغیر سب کچھ نامکمل ہے ہماری نجات صرف اور صرف حضور ﷺ کی نسبت کی وجہ سے ہوگی، آپ کے بیان لاجواب میں جلسہ گاہ میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں رہی، مسجد اور قریب میں مدرسہ جامعہ مدینہ اور اس کی راہداریاں سب عوام الناس سے بھرے ہوئے تھے قرب و جوار کے علماء کرام نے بھی شرکت کی، حضرت جالندھری کے خطاب کے بعد کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کا بیان ہوا، آخری مقرر مولانا عبدالغفور حقانی تھے، جنہوں نے ڈھائی گھنٹے خطاب فرمایا اور رات ساڑھے تین بجے کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۰ء ص ۲۶)
۲۵ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کی رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ کے زیر اہتمام ۲۵ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سنٹرل جامع مسجد برمنگھم میں ۱۱؍ جولائی ۲۰۱۰ء بروز اتوار منعقد ہونا قرار پائی تھی۔ اللہ رب العزت کی شان بے نیازی کہ ۵؍ مئی کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب امیر مرکزیہ کا سانحہ ارتحال پیش آیا۔ برطانیہ مجلس کے مبلغ مولانا محمود الحسن، حضرت قبلہ کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ ۲۸؍ مئی کو واپس تشریف لے گئے۔ اس سے قبل انہوں نے کانفرنس کے اشتہارات شائع کر کے پہلے بھجوا دیئے۔ خود لندن پہنچ کر پورے برطانیہ میں ڈاک کے ذریعہ اشتہار بھیج
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دیئے۔ ۷؍جون کو حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد لندن تشریف لائے۔ مولانا محمد مکین، مولانا حافظ محمد اقبال، مولانا محمود الحسن کے ہمراہ آپ نے ویلز کا دورہ مکمل کرلیا۔ ۱۰؍جون کو محترم صاحبزادہ سعید احمد برطانیہ آئے۔ ۱۴؍جون کو فقیر راقم (مولانا اللہ وسایا) حاضر ہوا۔ چنانچہ ۱۵؍جون سے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا حافظ محمد اقبال، مولانا مفتی محمود الحسن، صاحبزادہ سعید احمد اور فقیر راقم پر مشتمل وفد نے برطانیہ کے تبلیغی دعوتی دوروں کا آغاز کیا۔ پہلے مرحلہ پر برمنگھم حاضر ہوئے۔ جامع مسجد حمزہ کے حافظ صاحبان، خطباء، ائمہ، منتظمہ سے ملاقات کی۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے مشاورت اور دعوت کے لئے خطوط متعین ہوئے۔ اسی روز شام مولانا خورشید احمد اور ان کے گرامی قدر رفقاء سے مسجد زکریا میں ملاقات ہوئی۔ اگلے روز وفد شیفیلڈ حاضر ہوا۔ مولانا عبیدالرحمن مرحوم کے صاحبزادہ حافظ محمد انور، حضرت مرحوم کے پوتے مولانا محمد سفیان اور دیگر حضرات سے مشاورت ہوئی۔ اسی روز رادھرم میں جمعیت علماء اسلام برطانیہ کے رہنما مولانا مفتی محمد اسلم سے مشاورت کا عمل مکمل ہوا۔ اگلے روز ڈنکاسٹر، سکنتھوپ میں دعوتی عمل مکمل کیا۔
۱۸؍جون کا جمعہ شیفیلڈ کی مساجد میں ہوا۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مدنی مسجد، مولانا محمود الحسن نے انڈسٹریل ایریا، فقیر راقم نے مسجد عثمانیہ میں پڑھایا۔
۱۹؍جون کو رچڈیل ادارہ تعلیم القرآن کی معلمات اور متعلمات میں دو بیان ہوئے۔ اسی روز ظہر کے بعد جامع مسجد رچڈیل میں ختم نبوت کے عنوان پر تفصیلی بیان ہوا۔
اسی روز ہڈرس فیلڈ میں حضرت مولانا محمد اکرم جامع مسجد بلال، قاری احمد عثمان جالندھری، قاری منصور العزیز سے ملاقاتیں ہوئیں۔ مولانا محمود الحسن یہاں رک گئے۔ آپ نے ہڈرس فیلڈ، باٹلی، ڈیوزبری، بولٹن، مانچسٹر کا تبلیغی دورہ کیا۔ مولانا قاری احمد عثمان، جناب نعمان، مولانا سید اسعد شاہ، مولانا مفتی فیض الرحمن نے آپ کی معاونت فرمائی۔
۲۰؍جون اتوار کو بعد از عصر مکی مسجد شیفیلڈ میں حضرت مولانا احمد شعیب ڈیسائی نے ختم نبوت کانفرنس رکھی۔ جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمائی۔ نگران ومنتظم وسٹیج سیکرٹری مولانا ڈیسائی تھے۔ مولانا مفتی سعید الرحمن کا انگلش میں اور راقم کا اردو میں بیان ہوا۔ بعد سوالات و جوابات کی محفل منعقد ہوئی۔ ۲۱؍جون سے ۲۵؍جون تک حضرت مولانا محمد ابراہیم کی مسجد مدنی بریڈ فورڈ کو مرکز بنا کر ہلنگٹن، اولڈہم، لیڈز، آسٹن، بلیک برن اور دیگر شہروں کا تبلیغی دورہ ہوا۔ حضرت مولانا محمد مکین، مولانا محمد ابراہیم، حافظ محمد اقبال، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا عبدالباری، راقم پر مشتمل وفد نے ظہر، عصر، مغرب کی نمازوں پر مختلف شہروں کی مختلف مساجد میں صدائے ختم نبوت بلند کی۔ ۲۵؍جون کا جمعہ بھی تمام حضرات کا بریڈ فورڈ کی مساجد میں ہوا۔
۲۲؍جون سے ۲۸؍جون تک برنلے جامع مسجد فاروق اعظم و جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کو مرکز بنا کر جناب عزت خان، مولانا محمد اسد، مولانا عزیز الحق، مولانا احمد کے تعاون واشتراک سے چارلی، برنلے، پرسٹن، بری اور دیگر مقامات کا تبلیغی دورہ ہوا۔ اس دورہ میں محترم صاحبزادہ سعید احمد بھی شریک ہوئے اور ایسے شریک سفر ہوئے کہ پھر تقریباً کانفرنس کے اختتام تک وہ وفد کے مستقل رکن کے طور پر شریک کار رہے۔
۲۹؍جون بروز منگل برنلے سے مڈلز برا جناب چوہدری محمد یونس کے ہاں وفد حاضر ہوا۔ اگلے روز ۳۰؍جون سے ۲؍جولائی تک بھاتھ گیٹ سراجیہ سنٹر کو مرکز بنا کر وفد نے جناب حافظ محمد اجمل طارق کی رہنمائی وتعاون سے ایڈنبرا، مدرول، سٹرلنگ وغیرہ مقامات کا تبلیغی دورہ کیا اور خطبات جمعہ بھی اسی علاقہ میں ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳؍ جولائی کو جامع مسجد سنٹرل گلاسگو میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت اور بیانات ہوئے۔ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن خطیب، جناب الحاج محمد صابر نے خوب بھر پور محنت کر کے کامیاب ترین ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس عصر سے قبل شروع ہو کر مغرب تک جاری رہی۔
۴؍ جولائی کو پاکستان کمیونٹی سنٹر مانچسٹر میں مولانا ڈاکٹر علامہ خالد محمود کی زیر صدارت جامعہ اسلامیہ کے منتظم مولانا مفتی فیض الرحمٰن کی سربراہی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے خطابات ہوئے اور اسی شام برمنگھم پہنچ گئے۔ مولانا محمود الحسن، برنلے کے پروگراموں کے بعد برمنگھم تشریف لے آئے تھے۔ مولانا خورشید احمد، سید محمد رفیق شاہ، الحاج معصوم خان، مولانا خلیل الرحمٰن کے تعاون واشتراک سے والسال، کونٹری، ولورہیمپٹن، ڈربی، رگبی، ننیٹن، چلٹن ہم، ڈاسن اور برمنگھم کی مساجد کا آپ نے دورہ مکمل کر لیا۔
۳؍ جولائی سے ۸؍ جولائی تمام وفود نے مشترکہ طور پر لیسٹر، نوٹنگھم اور دیگر اہم شہروں کے دورے کئے۔ ۶؍ جولائی کو محترم صاحبزادہ رشید احمد پاکستان سے تشریف لائے۔ ۷؍ جولائی کو مولانا فضل الرحیم نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، جناب الحاج عتیق انور، مانچسٹر تشریف لائے۔ ۸؍ جولائی کو مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا خالد محمود تشریف لائے۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کی سربراہی میں مجلس کے وفد نے آپ کا مانچسٹر ہوائی اڈہ پر استقبال کیا۔ مولانا خلیل احمد نے ان حضرات کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے اور وہ انہیں حضرات کو اپنی گاڑی پر برمنگھم لائے۔
۹؍ جولائی کو برمنگھم کی درجن بھر سے زائد مساجد میں وفود کے مختلف ارکان نے جمعہ کے موقعہ پر بیانات بھی کئے اور جمعہ بھی پڑھایا۔ آج کے روز برطانیہ میں جمعہ پر یوم ختم نبوت منایا گیا۔
۱۰؍ جولائی کو مولانا فضل الرحمٰن، قائد جمعیت ہتھرو لندن تشریف لائے۔ جمعیت علماء برطانیہ اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں ورہنماؤں نے مولانا مفتی محمد اسلم کی سربراہی میں ان کا استقبال کیا۔ ۱۰؍ جولائی کو مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کی زیر صدارت جامع حمزہ برمنگھم میں حسب سابق عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ وفد کے تمام ارکان اور شہر بھر کے علماء کرام خطباء اور عوام نے شرکت فرمائی۔ مولانا مفتی خالد محمود اور مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کے بیانات ہوئے۔ مولانا فضل الرحیم نے دعاء فرمائی۔
۱۱؍ جولائی کو پچیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کا صبح ساڑھے نو بجے باضابطہ اجلاس اوّل شروع ہوا۔
اجلاس اوّل ساڑھے نو بجے تا ظہر:
صدارت: مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر قائم مقام امیر مرکزیہ کراچی (پاکستان)
نقابت و نگرانی: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میانوالی (پاکستان)
تلاوت: قاری محمد مرسلین (برنلے) قاری محمد ادریس آصف، (پاکستان)
خطاب: مولانا سید محمد ارشد مدنی صدر جمعیت علماء ہند (انڈیا)، مولانا حافظ محمد اقبال خطیب ختم نبوت سنٹر (لندن)، مولانا مفتی اسعد وقاص برنلے (لندن) بیان انگلش، مولانا محمد ساجد برنلے (لندن) بیان انگلش
نعت: جناب حافظ ابوبکر، کراچی (پاکستان)
خطاب: مولانا منور حسین سورتی خطیب جامع مسجد بالہم (لندن)، مولانا مفتی سعید الرحمٰن بریڈ فورڈ (لندن) بیان انگلش، محمد طارق عثمان ناروے (لندن)، مولانا فضل الرحیم اشرفی (پاکستان)
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
صدارتی خطاب: مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر (پاکستان) وقفہ برائے نماز ظہر : دوسرا اجلاس بعد از ظہر اڑھائی بجے سے شروع ہوکر شام ۷ بجے تک جاری رہا۔ صدارت: حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، کراچی (پاکستان) تلاوت: قاری محمد ممتاز، رادھرم (لندن) نظم: جناب طاہر بلال چشتی (پاکستان)، جناب شاہد حنیف رام پوری، جناب سید عزیز الرحمن شاہ، جناب حافظ ابوبکر، کراچی (پاکستان)، جناب سید سلمان گیلانی (پاکستان) خطاب: مولانا مفتی محمود (لندن)، مولانا مفتی سہیل احمد (لندن) بیان انگلش، مولانا محمد عثمان (لندن)، مولانا حافظ محمد ممتاز (لندن) بیان انگلش، مولانا محمد ایوب سواتی باٹلی، مولانا محمد سالم قاسمی مہتمم دارالعلوم (وقف) دیوبند، مولانا مفتی خالد محمود (کراچی)، مولانا محمد ابراہیم (بریڈ فورڈ)، مولانا نور الاسلام (ڈھاکہ)، جناب خالد محمود ایم پی (برمنگھم)، مولانا اشرف علی (بریڈ فورڈ) نعت: حافظ محمد ابوبکر، کراچی (پاکستان)، سید سلمان گیلانی (پاکستان) بیان: راقم اللہ وسایا (پاکستان) قراردادیں: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد (پاکستان) شکریہ: مولانا محمد مکین (برطانیہ) آخری خطاب و دعا: مولانا فضل الرحمن (پاکستان) شرکت خصوصی: ملک محمد افضل، حاجی عبدالحمید، قاری احمد عثمان، مولانا مفتی محمد اسلم، قاری تصور الحق، مولانا رضاء الحق، مولانا محمد بلال، صاحبزادہ سعید احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں، صاحبزادہ رشید احمد لاہور، مولانا عبدالرشید ربانی، مولانا سید اسعد شاہ، حافظ محمد اکرام، مولانا محمد اکرم، مولانا امداد اللہ قاسمی، خطیب جامع مسجد حمزہ، مولانا خورشید احمد (و دیگر اکابرین)
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۰ء ص ۲۶ تا ۴۹)
رد قادیانیت وعیسائیت کورس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۷ روزہ سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس کی اختتامی تقریب ۷ اگست ۲۰۱۰ء کو نو بجے صبح جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ اختتامی تقریب کی صدارت خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ نے کی۔ جب کہ استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم العالیہ سرپرست اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی ناظم مولانا قاضی عبدالرشید راولپنڈی مہمان خصوصی اور مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نگرانی فرماتے رہے۔
تقریب کا آغاز جناب ڈاکٹر قاری صولت نواز فیصل آباد کی مسحور کن تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اختتامی تقریب سے سید ناصر فاروق شاہ، مولانا عبدالمجید جامی، مولانا قاری محمد یاسین فیصل آباد، مولانا قاضی عبدالرشید راولپنڈی، مولانا اللہ وسایا، شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، قاری محمد یامین گوہر، مولانا غلام مصطفیٰ سمیت کئی ایک علماء کرام نے خطاب فرمایا۔ کورس میں چار سو ایک حضرات نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرکائے کورس کو قادیانیت وعیسائیت اور پرویزیت کے خلاف دلائل و براہین سے مسلح کیا گیا۔ کورس میں آٹھ بجے صبح تا بارہ بجے دوپہر، نماز عصر وظہر کے درمیان اور عشاء کی نماز کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ مختلف موضوعات پر لیکچر ہوتے رہے۔ عشاء کے سبق کے بعد اساتذہ کرام کی نگرانی میں تقریری مقابلے ہوتے۔ جامع مسجد و مدرسہ کے درودیوار تاجدار ختم نبوت کے پرجوش نعروں سے گونج اٹھتے۔ یہ روح پرور منظر بائیس دن تک رہا۔ شرکائے کورس سے تحریری امتحان لیا گیا۔ قادیانیوں کے شہاب جلد اوّل، جلد دوم، اربعین کے پرچے ہوئے اور متفرق مسائل پر چوتھا پرچہ ہوا۔
شرکائے کورس کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مطبوعات کا منتخب سیٹ مہمانان گرامی کے ہاتھوں سے دلوایا گیا۔ چنانچہ پیر سید ناصر فاروق شاہ، مولانا عبدالمجید جامی، قاری محمد یاسین فیصل آباد، مولانا مفتی ظفر اقبال کہروڑ پکا، قاری محمد یامین گوہر، مولانا عبدالوارث، مولانا خلیل احمد ملک چنیوٹ، قاری منیر احمد اختر گوجرانوالہ، صاحبزادہ سعید احمد خانقاہ سراجیہ، مولانا عبدالرحمن ضیاء سرگودھا، قاری عبدالرحمن رحیمی ملتان، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، رضوان نفیس، فیصل آباد کے خطیب مفتی محمد ضیاء مدنی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، قاری عبدالرحمن جھنگ سے انعامات واسناد دلوائے گئے۔ اختتامی تقریب کے منتظم وسٹیج سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن ثانی تھے۔
استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی دامت برکاتہم نے علمائے کرام کی استدعا پر سند حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔ استاذ جی کے خطاب لاجواب کے دوران ہر آنکھ پرنم نظر آئی۔ استاذ جی نے فرمایا کہ ہم ہر سال جب اس تقریب میں شرکت کے لئے آتے تو خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خان محمد کی زیارت اور دعاؤں سے مشرف ہوتے۔ آج پہلا موقع ہے کہ حضرت والا کی زیارت اور دعاؤں سے محروم ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ حضرت والا کی وفات کے صدمہ سے خدام ختم نبوت اور حضرت والا کے متعلقین نے صحابہ کرامؓ کی یاد تازہ کر دی۔ رحمت دو عالم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ نے اسلام کی کشتی کو طوفانوں سے محفوظ باہر نکالا۔ ان شاء اللہ العزیز! ہم حضرت خواجہ صاحب کے عظیم مشن کی آبیاری کرتے رہیں گے اور قادیانیت کو پنپنے نہیں دیں گے۔
مولانا قاضی عبدالرشید نے کہا قادیانیت کے دن گنے جاچکے ہیں اور وہ وقت دور نہیں کہ قادیانیت صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جائے گی۔ خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میں اپنے والد کے مشن کے لئے اپنی جان عزیز کا آخری قطرہ تک پیش کردوں گا۔ کورس حضرت صاحبزادہ صاحب کی دعاؤں پر اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر اکتوبر ۲۰۱۰ء ص ۵۵، ۵۶)
نام شرکاء کورس چناب نگر:
نمبر شمار نام و ولدیت ضلع نمبر شمار نام و ولدیت ضلع ۱ محمد سفیان بن قاری محمود احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲ محمد اصغر علی بن محمد حیات قصور ۳ محمد معروف بن محمد شبیر بہاولنگر ۴ محمد وسیم بن محمد ابراہیم چنیوٹ ۵ مظہر عباس بن غلام علی لودھراں ۶ علی مراد بن دوست علی مظفر گڑھ ۷ واصف شاہ بن ظاہر شاہ مردان ۸ محمد کاشف بن شوکت علی بہاولنگر ۹ حبیب الرحمن بن ریاست علی پاکپتن ۱۰ محمد رضوان بن نور محمد لاہور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱ فیصل بن خورشید احمد قصور ۱۲ محمد آصف بن محمد حنیف لاہور ۱۳ سفیر بن منیر احمد جہلم ۱۴ محمد ناصر بن حاجی محمد عظیم بلوچستان ۱۵ محمد امجد بن محمد اشرف قصور ۱۶ حافظ ولید بن حافظ محمد الیاس اٹک ۱۷ محمد ایان بن محمد معاویہ نیو ملتان ۱۸ مقصود احمد بن مقبول احمد لاہور ۱۹ محمد عبداللہ بن عبدالقادر قصور ۲۰ محمد عدنان بن محمد منشی لاہور ۲۱ نعمان بن نذیر احمد راولپنڈی ۲۲ ابوبکر صدیق بن غلام فرید مظفر گڑھ ۲۳ محمد طس بن محمد یاسین اوکاڑہ ۲۴ حافظ محمد فاروق بن محمد جمیل قصور ۲۵ محمد فاروق بن محمد سلیم لکی مروت ۲۶ محمد طیب بن محمد اعجاز فیصل آباد ۲۷ مفتی عبدالرحمٰن بن محب اللہ بلوچستان ۲۸ محمد طیب بن بشیر احمد ملتان ۲۹ سیف اللہ بن محمد عبداللہ ضلع رحیم یار خان ۳۰ زید شاہ بن گل شاہ ضلع نوشہرہ صدر ۳۱ محمد شریف شاہد بن شیر محمد بہاولنگر ۳۲ جمیل الرحمٰن بن غلام مصطفیٰ پاکپتن ۳۳ نذیر احمد معاویہ بن غفور احمد قصور ۳۴ محمد بہاؤ الدین بن عبدالمجید ڈیرہ اسماعیل خان ۳۵ ریاست علی بن نور اکبر مظفر آباد ۳۶ احمد بن نواز اٹک ۳۷ ماجد رشید بن ملک محمد راولپنڈی ۳۸ محمد حنیف بن فیض محمد ڈیرہ غازی خان ۳۹ عبدالعلیم بن عبداللطیف چترال ۴۰ محمد جاوید بن رحمت علی بھمبر ۴۱ عبدالرزاق بن محمد اسحاق چنیوٹ ۴۲ سجاد الرحمٰن بن غلام حیدر مظفر گڑھ ۴۳ عنایت اللہ بن عبدالغفار خانیوال ۴۴ عزیز الرحمٰن بن عبدالغفار چکوال ۴۵ انعام اللہ بن حق داد اٹک ۴۶ عبدالغفور غفاری بن مولوی محمد مسکین آزاد کشمیر ۴۷ عبدالرحمٰن بن فضل منان مالاکنڈ ۴۸ خلیل احمد بن جمیل احمد قصور ۴۹ محمود الاسلام بن محمد اسلام قصور ۵۰ محمد حسین بن ریاض حسین چکوال ۵۱ محمد رمضان بن رحمت علی قصور ۵۲ محمد سلیم بن محمد رمضان قصور ۵۳ غلام مصطفیٰ بن عبدالرشید قصور ۵۴ جمیل الرحمٰن بن دل محمد قصور ۵۵ ارشد احمد بن عبدالمراد خان چترال ۵۶ محمد شاہد عمران بن بشیر احمد سرگودھا ۵۷ اسد حنان بن محمد انور بہاولنگر ۵۸ محمد فواد بن عبدالقدوس اٹک ۵۹ احمد یار عابد بن محمد عبداللہ سرگودھا ۶۰ شمس القدیر بن عبدالقدیر ہزارہ ۶۱ محمد سلیمان بن عبدالرحمٰن ہری پور ۶۲ محمد جاوید بن محمد اشرف منڈی بہاؤ الدین ۶۳ محمد سعد اللہ بن عبدالعزیز رحیم یار خان ۶۴ غلام محمد بن احمد بخش رحیم یار خان ۶۵ مشتاق حسین بن غلام محمد لیہ ۶۶ محمد زاہد بن محمد اشرف شیخوپورہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶۷ محمد اقبال بن محمد حنیف شیخوپورہ ۶۸ غلام مصطفی بن محمد یونس شیخوپورہ ۶۹ محمد ابوبکر بن عطاء محمد ڈیرہ غازی خان ۷۰ غلام اللہ بن نذر دین گجرات ۷۱ عتیق الرحمٰن بن عبدالرحمٰن جہلم ۷۲ کفایت اللہ بن الٰہی بخش ڈیرہ غازی خان ۷۳ ثاقب علی بن محمد لیاقت اوکاڑہ ۷۴ عظمت اللہ بن غلام سرور فیصل آباد ۷۵ محمد سہیل بن محمد یاسین سندھ ۷۶ محمد عمران بن علی محمد لاہور ۷۷ سید سلیم اللہ بن سبحان علی قلعہ عبداللہ ۷۸ وسیم اللہ بن رحمت اللہ جھنگ ۷۹ محمد قاسم بن محمد یعقوب جھنگ ۸۰ سید عصمت اللہ بن غلام ربانی قلعہ عبداللہ ۸۱ شاہد فاروق بن محمد شریف خانیوال ۸۲ عمیر محمود بن غلام رسول مظفر گڑھ ۸۳ عبدالشکور بن غلام سرور آزاد کشمیر ۸۴ محمد شعیب بن محمد یونس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۸۵ عبدالرحمٰن بن سردار محمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۸۶ عبدالحسیب بن امان اللہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۸۷ عامر حیات بن سکندر حیات خوشاب ۸۸ محمد معاویہ بن محمد سلیم خوشاب ۸۹ محمد عارف بن محمد ناظم خوشاب ۹۰ محمد نعیم اللہ بن محمد یاسین خوشاب ۹۱ اشفاق احمد بن جمعہ خان اٹک ۹۲ فداء الرحمٰن بن حبیب الرحمٰن بگرام ۹۳ محمد شعیب بن جمعہ خان اٹک ۹۴ توقیر احمد بن ظفر اللہ اٹک ۹۵ محبوب الرحمٰن بن میاں محمد زبیر مانسہرہ ۹۶ محمد دلپذیر بن محمد مسکین مظفر آباد ۹۷ ثناء اللہ بن عبدالمجید شیخوپورہ ۹۸ محمد کاشف بن محمد الیاس سرگودھا ۹۹ محمد بلال بن عبداللطیف نوشہرو فیروز ۱۰۰ محمد فرحان بن عالمگیر شیخوپورہ ۱۰۱ شاہد مسعود بن محمد دین سرگودھا ۱۰۲ عبدالمتین بن عبدالمجید شیخوپورہ ۱۰۳ عماد الدین بن ذوالفقار حافظ آباد ۱۰۴ شفیق احمد بن عنایت اللہ خیر پور میرس ۱۰۵ عمر اشرف بن محمد اشرف حافظ آباد ۱۰۶ محمد عمران بن عبدالستار ڈیرہ غازی خان ۱۰۷ محمد عمران بن محمد عبداللہ چنیوٹ ۱۰۸ محمد سیف الرحمٰن بن عبدالشکور فیصل آباد ۱۰۹ غلام مصطفی بن لعل دین ننکانہ ۱۱۰ مزمل حسین بن غلام حسین ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۱۱ محمد عبید اللہ بن قاری محمد یونس ملتان ۱۱۲ محمد شعیب بن عبدالرشید احمد لاہور ۱۱۳ محمد حارثہ بن عبدالقیوم لاہور ۱۱۴ حسین احمد بن شیث احمد لاہور ۱۱۵ عبداللہ بن وحید احمد لاہور ۱۱۶ محمد خباب بن محمد کفایت اللہ لاہور ۱۱۷ صداقت علی بن محمد وارث سیالکوٹ ۱۱۸ عمران مجید بن عبدالمجید شیخوپورہ ۱۱۹ محمد طاہر محمود بن محمد ریاض شیخوپورہ ۱۲۰ مزمل عبداللہ بن محمد سرور سرگودھا ۱۲۱ محمد ابوبکر بن عبدالغفور ڈیرہ غازی خان ۱۲۲ نعیم خالد بن محمد خان سیالکوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۲۳ محمد عثمان بن محمد عارف سیالکوٹ ۱۲۴ افتخار احمد بن نثار احمد سرگودھا ۱۲۵ عبدالرحمن بن محمد اشرف فیصل آباد ۱۲۶ محمد عارف بن بشیر احمد منڈی بہاؤالدین ۱۲۷ امجد علی بن محمد چھٹل نوشہرو فیروز ۱۲۸ ساجد محمود بن محمد اکرم فیصل آباد ۱۲۹ سکندر علی بن محمد یوسف نوشہرو فیروز ۱۳۰ محمد رضوان بن محمد رمضان سرگودھا ۱۳۱ محمد ناصر بن محمد انور کراچی ۱۳۲ محمد شفیق بن محمد رفیق سرگودھا ۱۳۳ محمد ندیم بن روشن علی شیخوپورہ ۱۳۴ عبدالحق پھل بن غلام نبی نوشہرو فیروز ۱۳۵ عبدالرؤف بن عبدالغنی نوشہرو فیروز ۱۳۶ محمد صابر بن محمد بخش ڈیرہ غازی خان ۱۳۷ عبدالسلام بن آندل خان نوشہرو فیروز ۱۳۸ محمد اختر بن محمد اصغر بہاولنگر ۱۳۹ خان محمد بن نصر اللہ شیخوپورہ ۱۴۰ محمد کاشف بن محمد حیات منڈی بہاؤالدین ۱۴۱ شکیل احمد بن محمد ہارون نوشہرو فیروز ۱۴۲ محمد عمر فاروق بن محمد اسلم جھنگ ۱۴۳ عثمان حیدر بن اللہ دتہ مظہر جھنگ ۱۴۴ عبدالوہاب بن عبدالقیوم جھنگ ۱۴۵ لیاقت علی بن فتح محمد جھنگ ۱۴۶ محمد رضوان بن بشیر احمد قصور ۱۴۷ محمد بلال بن حشمت علی جھنگ ۱۴۸ محمد شہزاد بن بشیر احمد ننکانہ ۱۴۹ محمد عرفان بن پیر بخش لاہور ۱۵۰ طاہر اسلام بن علی شیر قصور ۱۵۱ عمر یحییٰ بن سلطان محمود چنیوٹ ۱۵۲ محمد ابوبکر بن غلام حسین جھنگ ۱۵۳ رضاء اللہ بن مصلح الدین سیالکوٹ ۱۵۴ محمد طارق بن چراغ علی مظفر گڑھ ۱۵۵ فاروق بن نورانی شاہ لکی مروت ۱۵۶ محمد جنید بن بشیر احمد ساہیوال ۱۵۷ محمد اظہار الحق بن عبدالحمید امجد بہاولپور ۱۵۸ عبدالغفار بن محمد رمضان بہاولپور ۱۵۹ محمد نعمان بن محمد خان لاہور ۱۶۰ محمد زبیر بن عبدالمجید قصور ۱۶۱ محمد وقار بن محمد ابراہیم قصور ۱۶۲ عبدالغفار بن غلام حسین بہاولپور ۱۶۳ محمد ندیم بن عطرو خان نارووال ۱۶۴ محمد حنیف بن محمد شریف لاہور ۱۶۵ محمد سجاد بن محمد یار بہاولپور ۱۶۶ عمران بن حبیب احمد بہاولپور ۱۶۷ محمد آصف بن عبدالستار بہاولپور ۱۶۸ محمد عمران بن نور محمد بہاولپور ۱۶۹ حافظ محمد بلال بن محمد عبداللہ بہاولپور ۱۷۰ محمد عمر دراز بن محمد نواز بہاولپور ۱۷۱ شکیل احمد بن محمد قاسم قصور ۱۷۲ محمد ساجد فاروقی بن محمد حنیف لاہور ۱۷۳ محمد عمر میواتی بن حاجی عرو خان لاہور ۱۷۴ حق نواز بن شمس الدین لاہور ۱۷۵ شعیب عالم بن ضرار احمد ملتان ۱۷۶ اکرام اللہ بن فضل احمد لاہور ۱۷۷ محمد کامران بن عبدالشکور قصور ۱۷۸ محمد عاشق الٰہی بن محمد عبداللہ قصور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷۹ محمد شاہد بن صوبے خان قصور ۱۸۰ محمد بلال بن محمد یونس قصور ۱۸۱ محمد عابد بن محمد ارشاد لاہور ۱۸۲ محمد خالد بن محمد حنیف قصور ۱۸۳ اصغر علی بن عبدالستار قصور ۱۸۴ محمد ریاض بن محمد یونس قصور ۱۸۵ محمد اشرف بن عبدالستار قصور ۱۸۶ محمد زاہد بن محمد ارشد قصور ۱۸۷ حافظ محمد عمیر بن بشیر احمد چنیوٹ ۱۸۸ محمد امجد بن ملک محمد امام الدین قصور ۱۸۹ محمد امتیاز بن محمد ابراہیم قصور ۱۹۰ محمد سلیم بن عبدالمجید قصور ۱۹۱ عبدالحفیظ بن محمد جمیل جھنگ ۱۹۲ زید الحسن بن محمد یوسف جھنگ ۱۹۳ محمد صدیق بن محمد نواز چنیوٹ ۱۹۴ عبدالرحمن بن نور احمد فیصل آباد ۱۹۵ محمد طاہر مکی بن غلام حسین مظفر گڑھ ۱۹۶ محمد اشرف بن فداء حسین مظفر گڑھ ۱۹۷ ساجد علی بن محمد عاصم گوجرانوالہ ۱۹۸ عتیق احمد بن سفارش علی مظفر گڑھ ۱۹۹ عبدالعظیم بن عبدالعزیز بہاولپور ۲۰۰ محمد عبداللہ بن محمد جاوید بہاولپور ۲۰۱ احمد علی بن عزیز الحق لاہور ۲۰۲ محمد ابراہیم بن محمد سلیم لکی مروت ۲۰۳ محمد عمران بن محمد عبداللہ سرگودھا ۲۰۴ محمد اکبر بن محمد لطیف ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۰۵ عبدالحفیظ بن محمد ریاض لودھراں ۲۰۶ محمد شیراز بن فیاض علی نوشہرہ ۲۰۷ دیان اللہ بن میاں گل نوشہرہ ۲۰۸ شاہ فہد بن لیاقت علی نوشہرہ ۲۰۹ سبحان الدین بن الہام الدین چارسدہ ۲۱۰ عبداللہ بن روح اللہ نوشہرہ ۲۱۱ شہزاد سلیم بن محمد سلیم ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۱۲ محمد ادریس بن حبیب احمد مظفر گڑھ ۲۱۳ محمد الیاس بن محمد ایوب راولپنڈی ۲۱۴ محمد زکریا بن جہانگیر مظفر گڑھ ۲۱۵ محمد صغیر بن سراج الدین منڈی بہاؤالدین ۲۱۶ محمد اعظم بن بشیر احمد شیخوپورہ ۲۱۷ بشارت احمد بن محمد بشیر خان باغ ۲۱۸ حافظ فیصل بن محمد سلیم فیصل آباد ۲۱۹ محمد عاصم اعوان بن محمد بشیر اسلام آباد ۲۲۰ احتشام الحق بن ملک خورشید نواب شاہ ۲۲۱ اسد اللہ بن ضیاء اللہ نواب شاہ ۲۲۲ الطاف احمد بن لکھمیر خان سکھر ۲۲۳ اسامہ بن بخش علی شکار پور ۲۲۴ محمد حنیف بن محمد قاسم نوشہرو فیروز ۲۲۵ سعید احمد بن شاہ محمد خیر پور میرس ۲۲۶ آفتاب احمد بن عبدالرشید نوشہرو فیروز ۲۲۷ عطاء اللہ بن محمد عثمان خیر پور میرس ۲۲۸ وزیر احمد بن نیک محمد نوشہرو فیروز ۲۲۹ محمد اسلم بن گلزار احمد شکار پور ۲۳۰ عبدالوہاب بن عبداللہ سکھر ۲۳۱ سکندر علی بن کریم بخش خیر پور ۲۳۲ محمد بلال بن محمد شاکر سکھر ۲۳۳ عدیل غفور بن عبدالغفور گجرات ۲۳۴ عتیق الرحمن بن عبدالغفور گجرات
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۳۵ محمد سلیمان بن ممتاز احمد گجرات ۲۳۶ محمد زمان بن محمد اعظم خوشاب ۲۳۷ جمشید حیات بن محمد حیات خوشاب ۲۳۸ ملک نصر اللہ بن غلام محمد خوشاب ۲۳۹ محمد زبیر بن محمد حسین اٹک ۲۴۰ خلیل احمد بن محمد حسین اٹک ۲۴۱ عطاء الرحمن بن مسعود الحسن قصور ۲۴۲ محمد امین بن عاشق حسین مظفر گڑھ ۲۴۳ محمد اسامہ بن محمد یوسف گوجرانوالہ ۲۴۴ محمود الحسن بن بشیر احمد فیصل آباد ۲۴۵ محمد شوکت بن ملک عبدالعزیز لودھراں ۲۴۶ نجم الہدیٰ بن شمس الرحمن کوئٹہ ۲۴۷ رضوان خان بن جمعہ خان کوئٹہ ۲۴۸ فضل ربی بن سیف الرحمن کوئٹہ ۲۴۹ اشفاق الرحمن بن سیف الرحمن کوئٹہ ۲۵۰ محمد احمد بن نور احمد خانیوال ۲۵۱ حافظ محمد عزیز بن محمد زبیر ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۵۲ نوید احمد بن محمد صادق مانسہرہ ۲۵۳ محمد آصف بن محمد اسلم فیصل آباد ۲۵۴ عثمان بن کرم الٰہی فیصل آباد ۲۵۵ محمد دلشاد بن امیر بخش بہاولپور ۲۵۶ محمد صدیق بن محمد موسیٰ بہاولپور ۲۵۷ محمد مجاہد فاروقی بن محمد اشرف جھنگ ۲۵۸ محمد اکرم بن امانت علی قصور ۲۵۹ محمد نوید بن عبدالمجید لاہور ۲۶۰ عبدالرحمن بن حیات خان جہلم ۲۶۱ وقاص محمود بن عبدالحمید سرگودھا ۲۶۲ حافظ محمد عاطف بن محمد اسلم سرگودھا ۲۶۳ عطاء اللہ بن محمد رمضان سرگودھا ۲۶۴ وحید الدین بن حمید الدین کراچی ۲۶۵ عرفان معاویہ بن اللہ بخش خانیوال ۲۶۶ محمد رمیض بن محمد شبیر خان لاہور ۲۶۷ محمد عباس بن بشیر احمد اوکاڑہ ۲۶۸ اعجاز احمد بن عبدالرزاق قصور ۲۶۹ نثار احمد بن مختار احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۷۰ توقیر احمد بن اکبر علی ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۷۱ شعیب ندیم بن ہمیش گل بونیر ۲۷۲ میر عالم بن خان محمد سوات ۲۷۳ محمد وقاص بن محمد اختر قصور ۲۷۴ عبدالقدیر بن سردار خان قصور ۲۷۵ ظہیر احمد بن عبدالعزیز اٹک ۲۷۶ عبیداللہ بن حاجی محمد حسن سکھر ۲۷۷ تنویر احمد بن منظور احمد ڈیرہ غازی خان ۲۷۸ محمد عثمان بن محمد عباس ساہیوال ۲۷۹ طیب شاہ بن عبدالستار بنوں ۲۸۰ غلام قادر بن علی محمد ساہیوال ۲۸۱ محمد عرفان بن محمد خان پاکپتن ۲۸۲ عبدالباسط بن محمد قاسم کراچی ۲۸۳ عبدالحئی بن خیر محمد چاغی ۲۸۴ محمد عابد بن عبدالشکور کراچی ۲۸۵ چن زیب بن شیر محمد مانسہرہ ۲۸۶ عبدالمتین بن عبدالرحیم کراچی ۲۸۷ محمد اسحاق بن غلام مصطفیٰ کراچی ۲۸۸ دین محمد بن فاروق احمد کراچی ۲۸۹ عبدالرحیم بن محمد یوسف کراچی ۲۹۰ فواد احمد بن سلیم احمد کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۹۱ عمر فاروق بن عبد الباقی کراچی ۲۹۲ سیف الرحمٰن بن عبد الرحمن کراچی ۲۹۳ محمد زبیر بن محمد یوسف کراچی ۲۹۴ منیر احمد بن عبد اللہ بلوچستان ۲۹۵ حفیظ الرحمٰن بن محمد یونس کراچی ۲۹۶ محمد نعمان بن محمد بلال کراچی ۲۹۷ حافظ محمد بن مستقیم احمد کراچی ۲۹۸ سلمان احمد بن عمر فاروق کراچی ۲۹۹ محمد اویس بن محمد صالح کراچی ۳۰۰ محمد قاسم بن محمد رفیع کراچی ۳۰۱ محمد عظیم بن سکندر خان ایبٹ آباد ۳۰۲ محمد طلحہ بن محمد شاہین کراچی ۳۰۳ محمد صدیق بن صالح محمد کراچی ۳۰۴ محمد ریاض بلوچ بن محمد عثمان کراچی ۳۰۵ شہزاد خالد بن محمد خالد ایبٹ آباد ۳۰۶ حماد خالد بن محمد خالد ایبٹ آباد ۳۰۷ محمد طیب بن روشن دین گوجرانوالہ ۳۰۸ عبد الشکور بن منظور احمد بہاولپور ۳۰۹ عبد المجید بن محمد حنیف بہاولنگر ۳۱۰ محمد نصیر بن محمد بشیر کراچی ۳۱۱ ساجد محمود بن خالد محمود سرگودھا ۳۱۲ ضیاء الرحمٰن بن شبیر الرحمن مانسہرہ ۳۱۳ محمد بشیر بن عبد الغفور بہاولپور ۳۱۴ محمد قاسم بن عبد الغنی فیصل آباد ۳۱۵ محمد زکریا بن غلام محمد لیہ ۳۱۶ محمد عثمان بن محمد رؤف بہاولپور ۳۱۷ محمد عاطف بن محمد بشیر سرگودھا ۳۱۸ محمد عرفان بن محمد رمضان نوابشاہ ۳۱۹ مسعود احمد بن غلام سرور سیالکوٹ ۳۲۰ وقاص محمود بن عبد الغفور سرگودھا ۳۲۱ محمد ارسلان بن محمد نذیر چکوال ۳۲۲ نثار احمد بن غلام سرور چکوال ۳۲۳ محمد حبیب اللہ بن عبد الرحمن ڈیرہ غازی خان ۳۲۴ عبد الرؤف بن رسول بخش راجن پور ۳۲۵ امجد علی بن ارشد علی گوجرانوالہ ۳۲۶ خالد سیف اللہ بن محمد احمد رفیع فیصل آباد ۳۲۷ اختر نواز بن عبد القدیر رحیم یار خان ۳۲۸ حکیم اللہ بن محمد افضل لیہ ۳۲۹ محمد سعید الرحمٰن بن محمد افضل بہاولپور ۳۳۰ محمد شبیر بن حفیظ اللہ بہاولپور ۳۳۱ نجم الدین بن عبد الاحد بہاولپور ۳۳۲ محمد عرفان بن محمد افضل بہاولپور ۳۳۳ محمد اسد بن محمد مصطفیٰ بہاولپور ۳۳۴ محمد ندیم بن حاجی محمد صفدر بہاولپور ۳۳۵ محمد عرفان بن غلام رسول ملتان ۳۳۶ محمد اجمل بن عزیز الرحمٰن ملتان ۳۳۷ محمد ریاض بن عبد الرحمن بہاولپور ۳۳۸ محمد اسد اللہ بن محمد یاسین بہاولنگر ۳۳۹ محمد زاہد بن شبیر حسین ملتان ۳۴۰ ضمیر احمد بن سکندر شاہ پشاور ۳۴۱ فرحان سعید بن محمد سعید کراچی ۳۴۲ بخت علی شاہ بن مہربان شاہ کراچی ۳۴۳ محسن محمود بن عبد الرزاق دیر پائن ۳۴۴ محمد احتشام بن محمد نسیم کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳۴۵ محمد بلال بن عطاء الہی چنیوٹ ۳۴۶ عطاء اللہ بن فلک شیر ڈیرہ اسماعیل خان ۳۴۷ انعام اللہ بن غلام ستار لکی مروت ۳۴۸ عبدالقیوم بن عبدالشکور ڈیرہ اسماعیل خان ۳۴۹ محمد راشد بن محمد اسحاق کراچی ۳۵۰ ظہیر احمد بن نذیر احمد ٹنڈو آدم ۳۵۱ محمد طاہر بن محمد بن یٰسین وہاڑی ۳۵۲ عمران بن محمد اسماعیل وہاڑی ۳۵۳ محمد شہباز بن عبداللطیف ملتان ۳۵۴ محمد ارشاد بن محمد ریاض جھنگ ۳۵۵ عادل شہزاد بن محمد خان فیصل آباد ۳۵۶ محمد عبید اللہ بن عبدالواحد بہاولپور ۳۵۷ محمد عمران اشرف بن محمد اشرف ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۵۸ محمد عثمان اشرف بن محمد اشرف وہاڑی ۳۵۹ محمد طاہر بن محمد شفیع مندو ۳۶۰ محمد اسماعیل بن رب نواز بھکر ۳۶۱ عبدالباری بن عبداللطیف گھوٹکی ۳۶۲ محمد یاسین بن بہرام گھوٹکی ۳۶۳ ابوبکر صدیق بن غلام حیدر بہاولپور ۳۶۴ محمد حسنین بن عبدالستار بہاولپور ۳۶۵ عبدالرؤف بن بشیر احمد بہاولپور ۳۶۶ عبدالرزاق بن غلام فرید ملتان ۳۶۷ محمد اصغر بن محمد احمد بہاولپور ۳۶۸ عتیق الرحمٰن بن محمد عبداللہ لودھراں ۳۶۹ محمد عمر بن کریم بخش جھنگ ۳۷۰ رحمت اللہ بن ہاشم خان لاہور ۳۷۱ محمد بلال بن اللہ دتہ ساہیوال ۳۷۲ وقاص سرور بن محمد سرور ساہیوال ۳۷۳ اسد اللہ بن محمد شریف بہاولنگر ۳۷۴ عبدالوحید بن عبدالقیوم چنیوٹ ۳۷۵ طاہر محمود بن رانا فخر الدین رحیم یار خان ۳۷۶ محمد عمران بن حاجی نذیر احمد رحیم یار خان ۳۷۷ محمد ساجد بن عبدالجبار رحیم یار خان ۳۷۸ محمد خان بن نور محمد چکوال ۳۷۹ شفیق الرحمٰن بن نور محمد چکوال ۳۸۰ محمد اکرام الحسن بن میاں امام بخش لودھراں ۳۸۱ محمد طارق بن عبدالرحیم جتوئی ۳۸۲ رفیق الرحمٰن بن عبدالرحمٰن مظفر گڑھ ۳۸۳ ظہیر احمد بن بشیر احمد خانیوال ۳۸۴ مسعود الرحمٰن بن انیس الرحمٰن مظفر گڑھ ۳۸۵ محمد یوسف بن میاں نور احمد بہاولپور ۳۸۶ محمد نعیم اختر بن امیر حمزہ رحیم یار خان ۳۸۷ محمد فاروق بن اللہ ودھایا بہاولپور ۳۸۸ محمد خلیل بن غلام سرور رحیم یار خان ۳۸۹ محمد افضل بن عبدالمجید بہاولپور ۳۹۰ محمد راشد بن عبدالغفار بہاولپور ۳۹۱ محمد سہیل بن محمد اشرف سرگودھا ۳۹۲ عبدالقدیر بن جاوید احمد شکار پور سندھ ۳۹۳ مرغوب الرحمٰن بن مولانا رشید احمد بہاولنگر ۳۹۴ عبدالواحد بن محمد طیب بہاولپور ۳۹۵ ریاست علی بن محمد شفیع قصور ۳۹۶ سمیع اللہ بن غلام علی وہاڑی ۳۹۷ محمد قاسم بن لیاقت علی فیصل آباد ۳۹۸ محمد عمر فاروق بن محمد حسین فیصل آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محسن جمعیت (مولانا خواجہ خان محمد) کانفرنس
جامعہ عثمانیہ محلہ پونڈانوالہ گوجرانوالہ میں محسن جمعیت (حضرت مولانا خان محمد صاحب) کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا محمد عبداللہ بھکر نے حضرت کی جمعیت کے حوالہ سے عظیم الشان خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ جب کہ مولانا شجاع آبادی نے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ان کی سینتیس سالہ خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ کانفرنس کا اہتمام جمعیت علماء اسلام کے مقامی یونٹ نے کیا تھا۔ جس میں قاری منیر احمد پیش پیش تھے۔ کانفرنس میں مجلس کے مولانا محمد اشرف مجددی، ناظم اعلیٰ حافظ محمد یوسف عثمانی، مبلغین حافظ محمد ثاقب، مولانا محمد عارف شامی نے خصوصی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۰ء ص ۵۵)
شادی پورہ لاہور میں رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام شادی پورہ لاہور میں دو روزہ رد قادیانیت کورس ۲۹، ۳۰؍ جولائی ۲۰۱۰ء کو منعقد ہوا۔ جس میں دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیئے۔ مضافات کے علماء کرام نے دلچسپی کے ساتھ شرکت کی۔ مولانا شجاع آبادی کے ساتھ مجلس کے مبلغ مولانا عبدالنعیم قدم بقدم شریک رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۰ء ص ۴۴)
ٹوبہ کے تین مقامات پر رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۱؍ جولائی، یکم ؍اگست ۲۰۱۰ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تین مقامات پر رد قادیانیت کورس منعقد ہوئے۔ پیریاں والا ظہر سے عصر تک، دلم عصر سے مغرب، جامع مسجد قادری ٹوبہ شہر بعد نماز عشاء۔ پہلے روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے مرزائیت کا کفر قرآن وسنت اور عدالتی فیصلوں کی رو سے بیان کیا۔ جب کہ دوسرے روز مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات مسیح علیہ السلام، کذبات مرزا، اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی کے عنوان پر لیکچر دیئے۔ مقامی مبلغ مولانا حبیب احمد معاون رہے۔ کورسوں کی نگرانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہنماؤں مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی، قاضی فیض احمد، مولانا مجیب الرحمن لدھیانوی، بلال مسجد غلہ منڈی کے خطیب مولانا سعد اللہ لدھیانوی نے کی۔ مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب مدظلہ کے خلیفہ مولانا نصر اللہ انور کا تعاون اور دعائیں حاصل رہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۰ء ص ۵۶)
سرگودھا میں تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی عید گاہ میں تیسری سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء بروز جمعرات کو منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مقامی امیر مولانا نور محمد ہزاروی نے کی۔ کانفرنس سے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے استاذ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، ممبر سرحد اسمبلی مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا محمد عالم طارق، مفتی طاہر مسعود، مولانا محمد عارف شامی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عبداللہ شاہ مظہر، مولانا الیاس چنیوٹی ممبر پنجاب اسمبلی، قاضی ظہور حسین اظہر امیر خدام اہل سنت، مولانا عبداللہ شاہ مظہر، مولانا محمد قاسم سیوطی، مولانا محمد الیاس گھمن سمیت کئی ایک علماء کرام نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد ہے۔ جس پر غیر مشروط ایمان لائے بغیر آدمی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ علماء کرام نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کے لئے دو ہی راستے ہیں۔ یا مرزائیت پر لعنت بھیج کر حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں یا آئینی فیصلہ تسلیم کرتے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے دوسری اقلیتوں کی طرح شریف شہری بن کر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت کے مکمل خاتمہ تک ہماری پرامن تحریک جاری رہے گی۔ ایک قرارداد میں کہا گیا کہ قادیانیوں نے چناب نگر کو ”نوگوایریا“ بنا رکھا ہے۔ جب کہ ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ لہٰذا چناب نگر کی سابقہ حیثیت بحال کی جائے۔ ایک اور قرارداد میں مولانا مفتی سعید احمد جلالپوری کے نامزد قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک اور قرارداد میں چناب نگر میں حکومتی رٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد رضوان نے سرانجام دیئے۔ جب کہ مولانا محمد اکرم طوفانی نے علالت کے باوجود کانفرنس کی نگرانی کی۔ کانفرنس صبح چار بجے تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر، دسمبر ۲۰۱۰ء ص ۲۵)
۲۹ ویں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی اجمالی رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۴، ۱۵/اکتوبر ۲۰۱۰ء کو جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں انتیسویں (۲۹ ویں) سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی کل چھ نشستیں ہوئیں۔ اجمالی رپورٹ پیش خدمت ہے۔
کانفرنس کا آغاز ۱۴/اکتوبر ۲۰۱۰ء بروز جمعرات تقریباً ۹ بجے صبح خانقاہ عالیہ قادریہ راشدیہ دین پور شریف ضلع رحیم یار خان کے چشم و چراغ حضرت اقدس مولانا میاں مسعود احمد دین پوری دامت برکاتہم نے دعاء سے فرمایا۔
پہلی نشست: نو بجے صبح سے شروع ہو کر تقریباً بارہ بجے جاری رہی۔ جس میں درج ذیل مقررین نے خطاب فرمایا۔ مولانا سید ضیاء الحسن شاہ ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاولنگر، مولانا محمد عارف شامی گوجرانوالہ، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص، مولانا قاضی عبدالخالق مظفر گڑھ، مولانا عبدالستار گورمانی خوشاب، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، حافظ عبدالوہاب جالندھری حافظ آباد، مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ، مولانا عبدالحکیم نعمانی چیچہ وطنی۔ تلاوت قاری محمد بلال مکی شجاع آباد نے کی۔ نعت حافظ محمد شریف مچن آبادی نے پڑھی۔ اختتامی دعاء جامعہ علوم شرعیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث مولانا محمد نذیر مدظلہ نے فرمائی۔ جب کہ صدارت مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ خلیفہ مجاز حضرت اقدس سید نفیس الحسینی امیر مجلس لاہور نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا ضیاء الدین آزاد نے سرانجام دیئے۔
دوسری نشست: دوسری نشست ۱۴/اکتوبر بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حاجی عبدالرشید مدظلہ خلیفہ مجاز حضرت خواجہ خواجگان نے کی۔ مہمان خصوصی صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی تھے۔ نعتیہ کلام حافظ محمد شریف مچن آبادی، قاری زین العابدین زڑہ میانہ نوشہرہ، حافظ محمد احمد لاہور نے پیش کئے۔ مقررین میں مولانا ارشاد احمد امیر مجلس چیچہ وطنی، مولانا زاہد الراشدی شیخ الحدیث نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مولانا عبدالواحد امیر مجلس کوئٹہ، مولانا قاری انوار الحق رکن مرکزی شوریٰ خطیب مرکزی مسجد کوئٹہ، مولانا ممتاز احمد کلیار خطیب مرکزی مسجد جڑانوالہ اور آخری خطاب شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب دامت برکاتہم صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے فرمایا۔ جب کہ مولانا اللہ وسایا نے حضرت شیخ کو خوش آمدید کہا۔ مکہ مکرمہ سے مولانا عبدالحفیظ مکی تشریف لے آئے۔ جنہیں صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ مرکزی نائب امیر نے خوش آمدید کہا۔ اختتامی دعاء صدر وفاق دامت برکاتہم نے فرمائی۔
سوال و جواب کی نشست: بعد نماز عصر مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے تحریری سوالات کے جوابات دیئے۔
مجلس ذکر: بعد از مغرب خانقاہ عالیہ راشدیہ دین پور شریف کے حضرت اقدس میاں مسعود احمد مدظلہ نے ذکر کرایا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیسری نشست: تیسری نشست بعد از نماز مغرب منعقد ہوئی۔ مولانا عبدالرؤف چشتی اوکاڑہ نے خطاب فرمایا۔
چوتھی نشست: ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۰ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء منعقد ہوئی جو کہ رات گئے تک جاری رہی۔ تلاوت کلام پاک قاری محمد عثمان مالکی ساہیوال، قاری احسان اللہ فاروقی کراچی نے فرمائی۔ نعتیہ کلام مولانا محمد قاسم گجر، فیصل بلال، طاہر بلال چشتی نے پیش کئے۔ مقررین میں سے مولانا سیف اللہ خالد مہتمم جامعہ المنظور الاسلامیہ لاہور، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور، سید منور حسین امیر جماعت اسلامی پاکستان، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد ایوب خان مہتمم دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ، مولانا مفتی کفایت اللہ ممبر سرحد اسمبلی، مولانا عبدالحق خان بشیر پاکستان شریعت کونسل، قاری خلیل احمد بندھانی خطیب جامع مسجد سکھر، حافظ زبیر احمد ظہیر نائب امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان، مولانا محمد اسعد تھانوی مہتمم جامعہ اشرفیہ سکھر، مولانا احمد میاں حمادی امیر مجلس سندھ ٹنڈوآدم، مولانا حق نواز خالد خطیب اعظم فیصل آباد، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا اشرف علی مہتمم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی، مفتی محمد ضیاء مدنی خطیب جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد، مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی خانیوال، سابق ایم۔ این۔ اے مولانا حامد الحق اکوڑہ خٹک، مولانا سید محمد یوسف شاہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، مولانا قاری شبیر احمد عثمانی فیصل آباد، مولانا قاری محمد ابوبکر مہتمم جامعہ حنفیہ چکوال نے خطاب فرمایا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ نے سرانجام دیئے۔ اختتامی دعاء شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے فرزند ارجمند مولانا فضل الرحمٰن درخواستی مدظلہ نے فرمائی۔
درس قرآن: مورخہ ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۰ء بروز جمعتہ المبارک بعد از نماز فجر مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ نے درس قرآن ارشاد فرمایا۔ جو کانفرنس کا حاصل تھا۔
پانچویں نشست: ۱۵؍اکتوبر صبح ۱۰بجے قبل از جمعہ منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری شفاء اللہ لیہ نے کی۔ نعت منور معاویہ دنیا پور نے پیش کی۔ مقررین میں سے مولانا محمد نواز فیصل آباد، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، قاری عبدالشکور ناظم مجلس لیہ، مولانا محمد راشد مدنی ٹنڈوآدم، مولانا کلیم اختر مانسہرہ، مولانا محمد سعید ابن حضرت لدھیانوی شہید، منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ کراچی، محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد عالم طارق چیچہ وطنی، مولانا قاضی مشتاق احمد راولپنڈی نے خطاب فرمایا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاولنگر، مولانا محمد علی صدیقی میر پور خاص نے سرانجام دیئے۔
آخری نشست: کانفرنس کی آخری نشست ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۰ء بعد از نماز جمعہ منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ مرکزی نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمائی۔ مجلس کی پالیسی پر مولانا اللہ وسایا نے بیان فرمایا۔ مہمان خصوصی مولانا شہاب الدین موسیٰ زئی شریف تھے۔ قراردادیں قاری عزیز الرحمٰن رحیمی فیصل آباد نے پیش کیں۔
حفظ کرنے والے طلبہ کی دستار بندی: مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی سے حفظ کی تکمیل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی مولانا مفتی محمد حسن، مولانا قاری محمد یاسین فیصل آباد، میاں مسعود احمد دین پوری، مولانا فضل الرحمٰن درخواستی، صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا شہاب الدین اور مولانا محب النبی لاہور نے کرائی۔ مولانا عبدالغفور حقانی ناظم اعلیٰ مجلس علماء اہل سنت پاکستان، مولانا محمد الیاس گھمن ناظم اعلیٰ مجلس اتحاد اہل سنت پاکستان، مولانا مفتی محمد راشد مدنی مبلغ مجلس رحیم یارخان نے خطاب فرمایا۔ جب کہ آخری خطاب مولانا محمد حنیف جالندھری ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے فرمایا۔ مندرجہ ذیل مشائخ عظام نے اپنی شرکت سے کانفرنس کی رونق دوبالا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرمائی۔ مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب فیصل آباد، میاں مسعود احمد دین پوری خان پور، مولانا عبدالغفور صاحب (خلیفہ مجاز حضرت خواجہ خواجگان) ٹیکسلا ، حاجی عبدالرشید (خلیفہ مجاز حضرت خواجہ خواجگان) رحیم یارخان، صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی، مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کراچی، مولانا فضل الرحمٰن درخواستی مہتمم جامعہ مخزن العلوم خان پور، صاحبزادہ سعید احمد ابن خواجہ خواجگان خانقاہ سراجیہ، مولانا صاحبزادہ عبیداللہ ازھر شجاع آباد۔
پوری کانفرنس ویب سائٹ پر: پوری کانفرنس کی کارروائی ویب سائٹ پر دکھلائی گئی اور پوری دنیا میں سنی گئی۔
لولاک کا خواجہ خواجگان نمبر: ماہنامہ لولاک ملتان نے خواجہ خواجگان نمبر شائع کیا۔ جو ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل تھا۔ جس کی رونمائی آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں ۱۴، ۱۵؍اکتوبر کی درمیانی شب میں حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے کی۔ نمبر کو شرکاء کانفرنس نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔
امیر مرکزیہ کا انتخاب: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی وفات سے امیر مرکزیہ کا عہدہ خالی چلا آرہا تھا۔ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر مورخہ ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۰ء کو نو بجے صبح مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کی صدارت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ اور عمومی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ملک بھر سے تشریف لائے ہوئے شوریٰ وعمومی کے اراکین، سینکڑوں علماء کرام، مشائخ عظام نے مخدوم العلماء مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کو متفقہ طور پر مرکزی امیر اور مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ مہتمم جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی اور صاحبزادہ مولانا خواجہ عزیز احمد زید مجدہ کو نائب امیر منتخب کیا۔ مجلس کے دستور پر نظر ثانی کے لئے حاجی سیف الرحمان بہاولپور، قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا ثانی عزیز الرحمٰن، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی۔ جو پورے دستور پر نظر ثانی کر کے ترامیم پیش کرے گی۔ مجلس شوریٰ اس کی منظوری دے گی۔ جو مجلس عمومی کی منظوری سمجھی جائے گی۔ اس کمیٹی کے سربراہ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ہوں گے۔
کانفرنس کے انتظامات کی عمومی نگرانی: کانفرنس کے انتظامات کے لئے مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمٰن، مولانا غلام مصطفیٰ عمومی نگرانی فرماتے رہے۔
مکتبہ ختم نبوت: مولانا عبدالرشید سیال کی نگرانی میں مبلغین ختم نبوت نے مجلس کی مطبوعات کا اسٹال لگایا۔ مولانا اللہ وسایا کی کتاب ”تذکرہ خواجہ خواجگان“ اور لولاک کا ”خواجہ خواجگان نمبر“ ہاتھوں ہاتھ لیا۔ نیز احتساب قادیانیت کی سال رواں میں آنے والی جلدیں بھی قارئین اپنا سیٹ مکمل کرنے کے لئے خریدتے رہے۔ واضح رہے کہ مجلس کی مطبوعات تجارتی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ مشنری نقطہ نظر سے سیل کی جاتی ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر، دسمبر ۲۰۱۰ء ص ۳۷ تا ۴۳)
ختم نبوت کوئز پروگرام کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ بلوچستان کے مبلغ مولانا محمد یونس صاحب کی محنت اور پروفیسر مولانا محمد ابراہیم صاحب، پروفیسر اسلامیہ کالج اور پروفیسر رشید احمد درانی صاحب پرنسپل اسلامیہ کالج کے تعاون سے کوئٹہ کی عظیم عصری درسگاہ اسلامیہ کالج میں ایف ایس سی
تحریک ختم نبوت جلد(۸) ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے طلباء کو ختم نبوت کوئز پروگرام کرایا گیا۔ کورس کے اختتام پر طلباء سے تحریراً امتحان بھی لیا گیا اور پوزیشن لینے والے ۱۴ طلباء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی طرف سے احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ۱۵ دی گئی اور دو طلباء جنہوں نے مکمل مجوزہ نمبر حاصل کئے ایک ، ایک ہزار روپے نقد انعام دیا گیا۔
تقسیم انعام کی تقریب میں عالمی مجلس بلوچستان کے نائب امیر مولانا عبداللہ منیر صاحب ، پروفیسر عبدالجلیل کے علاوہ دیگر جماعتی حضرات بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر طلباء کو تحفظ ختم نبوت اور تردید فتنہ قادیانیت کا مسئلہ بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھایا۔
انہوں نے کہا کہ آج کل فتنوں کی بہتات ہے ہر طرف سے نئے نئے فتنے اٹھ رہے ہیں اور ہر فتنہ کا مقصد مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکا ڈالنا ہے انہی فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ ”فتنہ قادیانیت“ ہے۔ قادیانی مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکا ڈالتے ہیں دنیا میں بہت ساری تنظیمیں موجود ہیں لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وہ واحد تنظیم ہے جو مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرتی ہے۔ آپ کے اور مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دینی و عصری اداروں میں ختم نبوت کورس کراتی رہتی ہے تا کہ ہمارے مسلمان طلباء فتنہ قادیانیت کو سمجھ سکیں اور قادیانیوں کی نوکری اور چھوکری کے لالچ میں اپنا ایمان نہ بیچ ڈالیں۔
حاضرین اور طلباء نے اس بات کا عزم کیا کہ جب تک زندہ رہیں گے ان شاء اللہ تحفظ ختم نبوت کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ آخر میں مولانا عبداللہ منیر صاحب نے رقت آمیز دعاء کرائی کہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل سے یہ دعاء نکل رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو ترقی عطاء فرمائے اور مبلغین و کارکنان کو ہمت و حوصلہ، استقامت، اخلاص عطاء فرمائے کہ وہ لوگوں کے ایمان کی حفاظت کرتے رہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۳۰ نومبر ۲۰۱۰ء ص ۱۳)
سات روزہ تحفظ ختم نبوت کورس، کراچی
دینی مدارس کے طلباء کی عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے پیش نظر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سات روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کا فیصلہ کیا گیا۔ کراچی کے جید علماء کرام کے علاوہ مولانا اللہ وسایا بھی ملتان سے تشریف لائے۔ بینرز، اشتہارات اور خطبات جمعہ میں اس کورس کی تشہیر کی گئی۔ الحمدللہ! دینی و عصری درسگاہوں کے طلباء اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے اس عظیم الشان کورس میں شرکت کی ۔ ۲۰ تا ۲۶ نومبر ۲۰۱۰ء تک جامع مسجد باب رحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ میں یہ کورس جاری رہا۔ روزانہ تین چار لیکچر ہوتے تھے، مقررین حضرات کی خدمت میں بیانات کے موضوعات پیشگی عرض کر دئیے گئے تھے اس طرح ان علماء کرام کے لیکچر بہت قیمتی اور معلومات کا بیش بہا خزانہ تھے جس سے سامعین نے خوب استفادہ کیا، اب ہم اس کورس کی مختصر روئیداد پیش کرتے ہیں:
ہفت روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کا آغاز ۲۰ نومبر بروز ہفتہ بعد نماز ظہر ہوا۔ افتتاحی خطاب استاذ العلماء مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی صاحب، نگراں تخصص فی الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن نے کیا۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر صاحب نے عقیدہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت بیان فرمائی اور طلباء کو قیمتی نصائح سے نوازا۔ ڈاکٹر صاحب کے ارشادات کے بعد دو لیکچر ہوئے۔
پہلا لیکچر مرکزی مبلغ ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد نے اصول مناظرہ کے عنوان پر دیا۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ قادیانیوں سے جب گفتگو ہو تو اجرائے نبوت کو عنوان نہیں بنانا چاہئے ۔ یعنی نبوت جاری ہے یا نہیں بلکہ عنوان ختم نبوت ہو کہ آخری نبی کون ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا آخری نبی ہے۔ اس پر دلائل کے ذریعے گفتگو کی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرا لیکچر مولانا اللہ وسایا کا ہوا، آپ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان پر ڈیڑھ گھنٹہ تفصیلاً بیان فرمایا۔ حضرت مولانا نے کہا کہ پوری قادیانیت کو چیلنج ہے قرآن وحدیث اور اقوال صحابہ و تابعین میں سے کوئی ایسی جگہ بتا دیں جہاں وفات عیسیٰ کا ذکر ہو، قرآن مجید نے صراحتاً کہا ”بل رفعه الله اليه“ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھالیا، آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”و كان الله عليماً حكيما“ کسی کو چوں چرا کرنے کی ضرورت نہیں، اللہ ہی جانتے ہیں اور وہی حکمت والے ہیں اور اللہ کی حکمت بالغہ یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ نفخہ جبرئیل سے پیدا ہوئے۔ اس اعتبار سے آپ کے اندر ملکوتی صفات بھی تھیں اور آپ کی والدہ حضرت مریم تھیں، اس اعتبار سے بشری صفات بھی تھیں، بشری صفات کی وجہ سے آپ کو زمین میں رکھا اور ملکوتی صفات کے پیش نظر آپ کو آسمان پر رکھا، کیونکہ فرشتوں کا مستقر آسمان ہے، لہٰذا کسی قادیانی کو حیات عیسیٰ کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔
اتوار کے روز تین لیکچر ہوئے۔ پہلا لیکچر مولانا عبدالحی کا ہوا۔ ”برکات ختم نبوت“ کے عنوان پر عرض کیا کہ قرآن وحدیث، حیات النبی ﷺ ، اسلام اور اسلام کی تعلیمات، مساجد، امت مسلمہ ان سب چیزوں کا محفوظ ہونا صدقہ ہے آپ ﷺ کی ختم نبوت کا، عالم ارواح ہو یا عالم دنیا، عالم برزخ ہو یا عالم قیامت تمام جگہوں میں ختم نبوت کا تذکرہ ملے گا۔
دوسرا لیکچر مولانا قاضی احسان احمد کا ہوا، جس میں مولانا نے آیت ختم نبوت کا معنی، مطلب شان نزول کو بیان کیا اور طلباء کو بتایا کہ لفظ خاتم کا قرآن میں جہاں بھی استعمال ہوا اس کا مشترک معنی بند کرنے کے ہیں، جیسے: ”ختم الله على قلوبهم“... اللہ نے کفار کے دلوں پر مہر لگا دی... یعنی کفر ان کے دلوں سے نکل نہیں سکتا اور اسلام ان کے دلوں میں داخل ہو نہیں سکتا، خاتم النبیین کا مطلب ہے آخری نبی۔ یعنی انبیاء کرام علیہم السلام کی فہرست مکمل ہوچکی اور اب کوئی اور نبی اس فہرست میں داخل نہیں ہوسکتا۔
آخری لیکچر مولانا اللہ وسایا کا ہوا، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تقسیم ہندوستان سے قبل انگریزوں نے مرزا قادیانی کو کھڑا کیا، اس سے جھوٹا دعویٰ نبوت کروایا، اس نے حکومتی طاقت کے بل بوتے پر امت مسلمہ میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی، تقسیم کے بعد پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ قادیانی بنا، علماء کرام نے اس کے خلاف تحریک چلائی، قادیانیوں نے حکومت سے مل کر مسلمانوں کا قتل عام کیا، دس ہزار نوجوان شہید ہوئے، ایک لاکھ گرفتار ہوئے، مسلمانان پاکستان نے آپ ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی قربانی پیش کی لیکن قادیانیت کے طوفان کے سامنے بند باندھ دیا۔
پہلا لیکچر آج بھی راقم الحروف مولانا عبدالحی کا ہوا، میرا آج کا موضوع تھا ”احادیث ختم نبوت، قادیانی تحریفات اور ان کے جوابات“ بندہ نے اپنے مختصر بیان میں احادیث ختم نبوت کا تذکرہ کیا۔ مرزا قادیانی نے احادیث میں جو تحریفات اور تاویلات کیں اور صریح احادیث کا انکار کیا اس کی مثالیں پیش کیں۔
دوسرا لیکچر استاذ الحدیث مولانا زر محمد مدظلہ جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کا ہوا۔ مولانا نے بڑی ہی خوبصورت اور علمی انداز میں مرزا قادیانی کی عبارتوں میں تحریفات کی نشاندہی کرتے ہوئے مدلل جواب دیا، انہوں نے طلباء کو بتایا کہ ہر باطل آدمی غلط انداز سے اپنے مقصد کو ثابت کرنے کے لئے قرآنی آیت پیش کرتا ہے، سلف صالحین کے ترجمہ و تشریح سے ہٹ کر اپنی مرضی سے تحریف کر کے دجل و فریب سے کام لیتا ہے۔
حسب معمول پہلا لیکچر مولانا عبدالحی نے دیا جس میں ”محبت رسول ﷺ اور عاشقان مصطفی کا کردار“ کے عنوان پر بیان ہوا،
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین سے لے کر مختلف عاشقان محمد عربی ﷺ کا ذکر کیا۔ تحفظ ناموس رسالت کے شہیدوں اور غازیوں کی یاد تازہ کی۔
دوسرا لیکچر ختم نبوت کے قانونی مشیر محترم منظور احمد میو راجپوت ایڈووکیٹ صاحب کا ہوا، انہوں نے موجودہ حالات میں قادیانی سرگرمیوں اور کیسز کے حوالے سے گفتگو کی اور سامعین کو قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ کس طرح قادیانیوں کو لوئر کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہزیمت اٹھانا پڑی اور ہر عدالت میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ حتیٰ کہ کیپ ٹاؤن (جنوبی افریقہ) کی عدالت میں بھی اللہ تعالیٰ نے قادیانیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو فتح و نصرت سے نوازا اور قادیانی ناکام و نامراد ہوئے۔ قادیانی مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے دنیا بھر میں پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔
تیسرا لیکچر مولانا قاضی احسان احمد صاحب کا ہوا، ان کے آج کے لیکچر کا موضوع تھا ”اسلام اور قادیانیت کا اصولی اختلاف“ مولانا نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ قادیانیت سے ہمارا اختلاف عقائد کی بنیاد پر ہے، یہ فروعی اختلاف نہیں۔ قادیانی اپنے غلیظ عقائد کی بنا پر مسلمانوں سے الگ ہیں مسلمانوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
آخری لیکچر مولانا اللہ وسایا کا تھا۔ عنوان تھا ”تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء“ مولانا نے کہا کہ جس طرح امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ۱۹۵۳ء کی تحریک میں جیل میں گئے مشقتیں برداشت کیں، مگر قادیانیوں کے خواب پورے ہونے نہ دیئے، اسی طرح شاہ جی کے رضا کاروں نے بھی ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں محنت کر کے قادیانیت کے منہ پر کفر کی مہر لگا دی۔
اس دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ سفر حج سے واپس تشریف لائے، آپ نے کورس میں شریک طلباء سے خصوصی خطاب کیا، حضرت دامت برکاتہم نے فرمایا: آج فتنوں کا دور ہے، علامات قیامت پوری ہورہی ہیں، تمام مسلمانوں کو اپنے گناہوں سے معافی مانگنی چاہئے ۔ علماء کرام اور مدارس و مساجد کے ساتھ تعلق مضبوط ہونا چاہئے تاکہ دین اسلام کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہیں۔
دوسرا لیکچر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نگراں حلقہ ملیر مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ کا ”اوصاف نبوت“ کے عنوان پر ہوا۔ مولانا نے کہا کہ نبی ہمیشہ متقی، صالح، صادق، امین اور مرد ہوتا ہے، نبی اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کا مالک نہیں ہوتا، مگر مرزا قادیانی کے اندر یہ اوصاف تو درکنار ایک شریف آدمی کی بھی خوبیاں نہیں پائی جاتی تھیں۔
تیسرا لیکچر استاذ الحدیث مولانا زر محمد صاحب کا ہوا۔ حضرت مولانا نے جھوٹے مدعیان نبوت کا مختصر تعارف کرایا اور ان کے احوال بیان کئے۔
آخری لیکچر میں مولانا اللہ وسایا نے ”عقیدہ امام مہدی علیہ الرضوان“ کے عنوان پر مفصل گفتگو کی۔ احادیث کی روشنی میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کی آمد، حیات و خدمات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مل کر کفار سے لڑائی تک مدلل خطاب فرمایا۔
پہلا لیکچر، مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ صاحب کا ”کذبات مرزا“ کے موضوع پر ہوا۔ مرزا کے جھوٹ، کذب بیانی اور تضاد بیانی کو ان کی کتابوں سے حوالہ دے کر ثابت کیا۔
دوسرا لیکچر استاذ الحدیث مولانا مفتی زبیر اشرف عثمانی جامعہ دارالعلوم کراچی کا ہوا۔ مولانا نے ”گستاخ رسول کی شرعی سزا اور قادیانی شعائر اسلام استعمال نہیں کرسکتے“ قرآن و سنت و آئین پاکستان سے اس کی وضاحت کے تحت نہایت عمدہ گفتگو کی اور اس موضوع
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر دلائل کے انبار لگا دیئے۔ مولانا نے کہا کہ اللہ رب العزت اور آپ ﷺ نے گستاخ رسول کو کبھی برداشت نہیں کیا۔ ابولہب، ولید بن مغیرہ، ابن خطل، کعب بن اشرف، جیسے گستاخان رسول کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ آپ ﷺ نے یہودیوں سے خیبر میں، عیسائیوں سے نجران میں، مشرکین سے مکہ میں صلح کی ہے، مگر کبھی کسی گستاخ رسول سے صلح نہیں کی۔ گستاخ رسول کی سزا شریعت نے متعین کر دی ہے، اگر اس پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو یہ جرم ناسور کی طرح پھیل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے خصوصی شعائر کو قادیانی استعمال نہیں کر سکتے، جس طرح پولیس، فوج، سرکاری ادارے اپنے امتیازات کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے، اسی طرح مسلمان بھی اپنے امتیازات کسی اور کو استعمال کرنے نہیں دے سکتے۔
اس کورس کی آخری نشست جمعۃ المبارک کے دن ہوئی، مولانا اللہ وسایا کا آخری بیان جمعہ ہوا، جس میں انہوں نے اکابرین ختم نبوت کی تاریخ بیان کی۔ کورس میں شریک نوجوانوں کے جذبہ کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کے طور پر تمام شرکاء کو تحفۂ قادیانیت ایک ایک جلد ہدیتاً دی گئی۔
الحمد للہ ! یہ تمام پروگرام بخوبی انداز میں مکمل ہوئے ، اللہ رب العزت پروگراموں کے منتظمین ، تمام شرکائے کورس، معاونین کے لئے ان پروگرامز کو شفاعت محمدی ﷺ کا ذریعہ بنائے ۔ آمین !
حلقہ شیر شاہ میں ختم نبوت پروگرام
الحمد للہ ! ۸؍ نومبر ۲۰۱۰ء بروز پیر حلقہ شیر شاہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مختلف مساجد میں پانچ پروگرام منعقد کئے گئے۔
پہلا پروگرام: عصر کی نماز کے بعد بسم اللہ مسجد شیر شاہ میں ہوا، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملت کے کچھ اصول اور عقائد ہوا کرتے ہیں، اسلام کے بھی اصول و عقائد ہیں، جس سے دین اسلام کی حسین و جمیل عمارت مزین ہے، انہی اصول و عقائد میں سے ایک عقیدہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا بھی ہے، جس پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، اس عقیدہ کو تسلیم کئے بغیر ایمان اور اہل ایمان سے رشتہ کسی بھی قیمت پر نہیں جڑ سکتا، لہٰذا اس پُرفتن دور میں اپنے ایمان کی حفاظت از حد ضروری ہے۔ میرا اور آپ کا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی فکر کرتے ہوئے ان کو عقیدہ ختم نبوت سے روشناس کرائیں اور فتنہ قادیانیت کی زہرناکیوں سے محفوظ رکھیں۔
دوسرا پروگرام: جامع مسجد صفہ میں منعقد ہوا جس میں سامعین سے بیان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا توصیف احمد نے کیا۔ مولانا نے کہا کہ ختم نبوت کا عقیدہ پوری امت مسلمہ کا بنیادی عقیدہ ہے جس طرح توحید اور قیامت کا عقیدہ ایمان کا جزو ہے، اسی طرح عقیدہ ختم نبوت بھی ایمان کا جزو ہے۔ اس عقیدہ پر ایمان لائے بغیر کوئی عمل بھی بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویدار کذاب، دجال اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
تیسرا پروگرام: بعد نماز مغرب جامع مسجد طور میں ہوا۔ مولانا قاضی احسان احمد نے طلباء اور عوام الناس کے عظیم اجتماع کے سامنے علماء اہل حق کے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ سے متعلق فکر و سعی کو تفصیل سے بیان کیا اور کہا کہ علماء امت نے اس عظیم اور بنیادی عقیدے کی حفاظت کے لئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے قادیانیت جیسے موذی اور شاطر فتنے کو زمین بوس کر دیا اور مرزا غلام احمد قادیانی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور اس کی ذریت اپنے انگریزی خیر خواہوں کی موجودگی میں ذلت و رسوائی کا شکار ہوئی، یہ سب صدقہ ہے محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس اور عقیدہ ختم نبوت کی عظمت کا۔ ہمارا فرض ہے کہ بحیثیت حضور ﷺ کے امتی ہونے کے ہم بھی اپنے اسلاف کے مسلک و مشرب پر چلتے ہوئے اعدائے اسلام خصوصاً قادیانیت اور مرزائیت کے خلاف آواز اٹھائیں اللہ پاک ہم سب کو توفیق نصیب فرمائے۔ آمین !
چوتھا پروگرام : مبارک مسجد میں منعقد کیا گیا ، جہاں مولانا توصیف احمد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج دشمنان رسول قادیانی امت مسلمہ کے ایمان پر ڈاکا ڈال کر ان کا تعلق آپ ﷺ سے کمزور کر رہے ہیں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے آپ ﷺ ، انبیاء کرام علیہم السلام ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تمام مقدس ہستیوں پر رکیک حملے کئے اور مسلمانوں کو کافر کہا ۔ یہودی ، عیسائی ، ہندو ، سب ہمیں مسلمان مانتے ہیں مگر قادیانی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ انہوں نے آخر میں تمام سامعین سے اپیل کی کہ قادیانی مصنوعات خصوصاً شیزان ، ذائقہ گھی ، او سی ایس کوریئر ، شاہ تاج شوگر ملز کا بائیکاٹ کیا جائے ۔
پانچواں پروگرام : بعد نماز عشاء جامع مسجد شافعی میں ہوا ، جس میں علاقے کے تمام علماء کا اجلاس ہوا ، اس میں ختم نبوت کے کام کو فعال کرنے کے لئے مشورہ ہوا ۔ تمام علماء حضرات نے بھر پور انداز میں اپنی تجاویز اور آراء پیش کیں اور اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا ۔ اجلاس کی صدارت مولانا شیریں صاحب نے کی اور آخر میں مفید نصائح سے نوازا۔ یہ تمام پروگرام مولانا مفتی عبدالرحمن صاحب کی سرپرستی اور رفقاء و کارکنانِ ختم نبوت کی محنت و کوشش سے انعقاد پذیر ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۰ء ص ۲۷)
میٹروول سائٹ کراچی میں تین روزہ ختم نبوت کورس
رب العالمین کی بیش بہا نعمتوں کو کیونکر جھٹلایا جا سکتا ہے ، ہر ہر نعمت ایسی ہے جس پر صد شکر بجالانا چاہئے ، سب سے بڑا فضل و کرم اس ذات اقدس کا ہم پر یہ ہے کہ ”لا الہ الا اللہ“ سے منور گھرانہ میں وجود بخشا ، نبی آخر الزمان ﷺ کے پیرو کار اور آخری امت میں پیدا فرمایا، پھر مزید احسان در احسان اور نور علیٰ نور یہ کہ ہمیں خاتم النبیین علیہ السلام کی ختم نبوت کے دفاع کے لئے چنا، محض رحیم و کریم کا احسان کار فرما ہے جو ہم سے اپنے محبوب کی عزت و ناموس کے دفاع کی ٹوٹی پھوٹی خدمت لے رہا ہے ۔
۲۰، ۲۱ اور ۲۲؍ نومبر ۲۰۱۰ء کو منعقد ہونے والا ختم نبوت کورس بھی ان خدمات کی ایک کڑی تھی۔ میٹروول سائٹ میں ختم نبوت کا عظیم مشن ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ صرف ایک سال کے عرصہ میں یہاں کئی جلسے ، جمعہ کے خطبے ، کوئز پروگرام اور تین روزہ ختم نبوت کورس میٹروول سائٹ کی فضاء کو معطر کر چکے ہیں ۔ عید کی چھٹیوں میں علماء ، طلباء اور دیگر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے تین روزہ کورس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ماہانہ اجلاسوں میں ہر ساتھی کو ذمہ داری سونپی جاتی ، پوسٹرز ، بینرز ، چاکنگ ، علماء و خطباء سے ملاقات اور اسکول و کالج کے پرنسپل حضرات سے کورس کے حوالہ سے بات ، مختلف کام مختلف ساتھیوں کے ذمہ لگائے گئے ، ہر ساتھی نے اپنا کام فرض سمجھتے ہوئے بحسن و خوبی انجام دیا۔ ایام عید میں چرم قربانی جمع کرتے ہیں اور عید کے چوتھے روز کورس کی کامیابی میں جت گئے ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میٹروول سائٹ کے امیر استاذ الحدیث جامعہ بنوریہ مولانا عزیز الرحمن صاحب اور نائب امیر مدرسہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اشرفیہ امدادیہ کے مہتمم مفتی عبدالجبار صاحب کے مشورہ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کی رائے پر کورس مسجد عائشہ میں طے ہونا پایا۔ کورس کے لیکچرار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا توصیف احمد مقرر ہوئے۔ میٹروول سائٹ کے مقامی علماء کو بھی کورس میں لیکچر کے لئے مختلف عنوانات تفویض کئے گئے۔ کورس میں علماء، طلباء، صحافی، دانشور، سیاست دان اور مختلف طبقہ سے منسلک افراد نے شرکت کی۔ تیسرے روز اسکول کھل گئے تھے اس کے باوجود اسٹوڈنٹس اسکول کی یونیفارم میں نو بجے کے بعد اجلاس کے آخر تک شریک رہے۔ مولانا اللہ وسایا نے مناظرہ کے اصول، قاضی احسان احمد نے ختم نبوت کا ثبوت قرآن مجید سے اور مولانا توصیف احمد نے عقیدہ ختم نبوت احادیث کی روشنی میں جیسے اہم موضوع پر لیکچر دے کر شرکاء کو مستفیض کیا۔ انہی ایام میں ختم نبوت کے کراچی مرکز جامع مسجد باب رحمت پرانی نمائش چورنگی میں بھی کورس جاری تھا۔ تینوں حضرات صبح آٹھ سے بارہ بجے تک میٹروول سائٹ میں درس دیتے۔ یہاں سے فارغ ہو کر ظہر تا عصر دفتر ختم نبوت میں دور دراز سے تشریف لانے والے دینی مدارس کے طلباء اور مہمان حضرات کو اپنے علم سے وافر حصہ عطاء فرماتے۔ تین روزہ ختم نبوت کورس مولانا اللہ وسایا کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔ رب العالمین میٹروول سائٹ کے امیر مولانا عزیز الرحمن، نائب امیر مفتی عبدالجبار اور ان کے رفقاء مولانا مشتاق، مولانا فیض ربانی، مولانا ارشد، مولانا عطاء اللہ، مولانا محمد ابراہیم، مولانا انعام الحق، قاری اللہ دتہ، بھائی محمد، عبدالحفیظ اور سمیع اللہ کی ختم نبوت کے لئے کی گئی کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍دسمبر ۲۰۱۰ء ص ۱۸)
ختم نبوت کانفرنس پختہ غلام
۵؍دسمبر ۲۰۱۰ء مدرسہ تعلیم القرآن پختہ غلام پشاور میں بعد نماز عصر عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت قاری صبغت اللہ مدنی نے کی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری زبیر الدین نے حاصل کی۔ شہر ٹاؤن ۲ پشاور کے ناظم مولانا عبدالکریم اور صوبائی مبلغ مولانا عابد کمال نے خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا جہانزیب اور قاری محمد عاصم سمیع نے سرانجام دیئے۔ آخری خطاب مولانا شجاع آبادی کا ہوا۔ جس میں انہوں نے پشاور اور خیبر پختونخواہ میں مجلس کے کام کے سلسلہ میں صوبائی امیر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، ناظم اعلیٰ مولانا نور الحق نور، چاچا عنایت اللہ اور ان کے رفقاء کو خراج تحسین پیش کیا۔ عشاء کی اذان کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا دورۂ منڈی بہاؤ الدین
۱۷؍دسمبر ۲۰۱۰ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی چار روزہ تبلیغی دورہ پر منڈی بہاؤ الدین تشریف لائے۔ بعد نماز فجر جامع مسجد بلال منشی محلہ منڈی میں آپ نے فضائل حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور واقعہ کربلا کے عنوان پر خطاب کیا۔ جمعۃ المبارک کا خطبہ آپ نے جامع مسجد مدنی پھالیہ میں دیا۔ جس میں واقعہ کربلا پر روشنی ڈالی اور امام عالی مقام سیدنا حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کو خراج تحسین پیش کیا۔ اسی روز بعد نماز عشاء جٹاں والی مسجد میں ”مسئلہ ختم نبوت اساس دین“ کے عنوان پر خطاب کیا۔ اگلے دن صبح کی نماز کے بعد مدنی مسجد میں درس دیا۔ تیسرے دن صبح کی نماز کے بعد مکی مسجد میں بیان کیا۔ چوتھے دن جامع مسجد مٹرالہ میں خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍جنوری ۲۰۱۱ء ص ۲۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قانون تحفظ ناموس رسالت سے متعلق تربیتی نشست
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲/ دسمبر ۲۰۱۰ء بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد رحمانیہ ڈالمیا میں تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے ائمہ مساجد اور علماء کرام کی ایک تربیتی نشست منعقد کی گئی، جس کی صدارت مولانا صابر شاہ خطیب جامع مسجد چار مینار نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے قانون ناموس رسالت کی غرض و غایت اور اہمیت و افادیت سے علماء کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام مساجد میں عام مسلمانوں میں تحفظ ناموس رسالت کے متعلق شعور اجاگر کیا جائے اور انہیں اس قانون کے دفاع کے لئے بیدار کیا جائے۔ اجلاس میں مفتی محمد زاہد زینت مسجد، مولانا عبدالرؤف سبحانی مسجد، مولانا فضل غفار مسجد فاروق اعظم، مولانا سعید الرحمن محمدی مسجد، مولانا محمد اسلام مکہ مسجد، مولانا سعید احمد عسکری ۴ اور کارکنانِ ختم نبوت عبدالمجید، جلال، افضل سمیت دیگر حضرات نے شرکت کی۔ اس خصوصی نشست کے انتظام خطیب و امام رحمانیہ مسجد مولانا سیّد صلاح الدین شاہ صاحب نے کئے۔ بعد نماز عشاء اسی مسجد میں مولانا قاضی احسان احمد کا دوبارہ بیان ہوا۔ انہوں نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسالت کی حفاظت کرنا تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور آپ ﷺ سے وفاداری کا ثبوت ہے، اگر امت مسلمہ نے کوتاہی اور سستی کا مظاہرہ کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، انہوں نے تمام مسلمانوں اور عاشقانِ مصطفیٰ سے پُر زور اپیل کی کہ پیغمبر رحمت ﷺ کی عزت و ناموس کے دفاع کے لئے اپنے تمام اختلافات پس پشت ڈال کر متحد ہو کر گستاخان رسول کے عزائم کو خاک میں ملا دیں۔
- ☆...... ۱۵/ دسمبر ۲۰۱۰ء کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں مشترکہ طور پر ”تحریک ناموس رسالت“ کے پلیٹ فارم سے تحریک کا آغاز کیا گیا۔
- ☆...... کانفرنس کے اعلانات کے مطابق ۲۴/ دسمبر ۲۰۱۰ء بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہروں کے لئے مساجد کے ائمہ و خطباء حضرات کے نام اپیل کی گئی اور انہیں مظاہروں کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی۔
- ☆...... اعلامیہ کے مطابق ۳۱/ دسمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی۔ تمام مسلمانوں اور عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ سے اس ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷/ جنوری ۲۰۱۱ء ص ۲۷)
رد قادیانیت کورس پھالیہ
۱۸ تا ۲۰/ دسمبر ۲۰۱۰ء کو مدنی مسجد میں ساڑھے پانچ بجے شام اور بعد نماز مغرب سے عشاء تک رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ جس میں ۱۸/ دسمبر کو ”اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی۔“
۱۹/ دسمبر کو ”مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت، قادیانی شبہات اور اس کے جوابات۔“
۲۰/ دسمبر کو ”حیات اور رفع ونزول مسیح علیہ السلام“ کے عنوان پر لیکچر دیئے۔ تین دنوں میں قادیانیوں سے گفتگو کا طریقہ، مرزا قادیانی کا دعویٰ ظلی نبوت اور قرآن پاک سے قادیانیوں کے دلائل (شکوک وشبہات) اور ان کے جوابات دیئے۔ کورس میں تحصیل پھالیہ کے بہت سے مقامات سے نوجوانوں نے شرکت کی اور نوٹس لئے، ہر روز تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لیکچر، آدھ گھنٹہ سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی۔ علاقہ کے علماء کرام اور پڑھے لکھے نوجوانوں نے بھر پور شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵/ جنوری ۲۰۱۱ء ص ۲۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کی
مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں
کی
کارروائیاں
۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی و مجلس عاملہ کے اجلاسات
نمبر شمار مقام اجلاس تاریخ صدر اجلاس ۹۴ خانقاہ سراجیہ کندیاں (مجلس منتظمہ) ۱۴؍ جنوری ۲۰۰۴ء، مطابق ۲۱؍ ذیقعدہ ۱۴۲۴ھ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد ۹۵ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۵؍ مارچ ۲۰۰۴ء، مطابق ۳؍ صفر الخیر ۱۴۲۵ھ // // // ۹۶ خانقاہ سراجیہ کندیاں (مجلس منتظمہ) ۲۸؍ اکتوبر ۲۰۰۴ء، مطابق ۱۴؍ رمضان ۱۴۲۵ھ // // // ۹۷ خانقاہ سراجیہ کندیاں (مجلس منتظمہ) ۷؍ فروری ۲۰۰۵ء، مطابق ۲۷؍ ذی الحجہ ۱۴۲۵ھ // // // ۹۸ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۸؍ مارچ ۲۰۰۵ء، مطابق ۱۷؍ صفر الخیر ۱۴۲۶ھ // // // ۹۹ خانقاہ سراجیہ کندیاں (مجلس منتظمہ) ۲۰؍ نومبر ۲۰۰۵ء، مطابق ۱۷؍ شوال المکرم ۱۴۲۶ھ // // // ۱۰۰ خانقاہ سراجیہ کندیاں (مجلس منتظمہ) ۲۸؍ جنوری ۲۰۰۶ء، مطابق ۲۸؍ ذی الحجہ ۱۴۲۶ھ // // // ۱۰۱ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲؍ مارچ ۲۰۰۶ء، مطابق یکم صفر الخیر ۱۴۲۷ھ // // // ۱۰۲ خانقاہ سراجیہ کندیاں (مجلس منتظمہ) ۲۰؍ جون ۲۰۰۶ء، مطابق ۲۳؍ جمادی الاول ۱۴۲۷ھ // // // ۱۰۳ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۲۲؍ ستمبر ۲۰۰۶ء، مطابق ۲۸؍ شعبان المعظم ۱۴۲۷ھ // // // ۱۰۴ خانقاہ سراجیہ کندیاں (اجلاس شوریٰ) ۲۱؍ فروری ۲۰۰۷ء، مطابق ۲؍ صفر الخیر ۱۴۲۸ھ // // // ۱۰۵ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) ۲۴؍ جنوری ۲۰۰۸ء، مطابق ۱۴؍ محرم الحرام ۱۴۲۹ھ حضرت صاحبزادہ عزیز احمد ۱۰۶ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۴؍ مئی ۲۰۰۸ء، مطابق ۲۷؍ ربیع الثانی ۱۴۲۹ھ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد ۱۰۷ خانقاہ سراجیہ کندیاں (اجلاس شوریٰ) ۱۳؍ اپریل ۲۰۰۹ء، مطابق ۱۶؍ ربیع الثانی ۱۴۳۰ھ // // // ۱۰۸ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء، مطابق ۲۵؍ شوال المکرم ۱۴۳۰ھ // // // ۱۰۹ خانقاہ سراجیہ کندیاں (مجلس منتظمہ) ۱۹؍ دسمبر ۲۰۰۹ء، مطابق ۲؍ محرم الحرام ۱۴۳۱ھ // // // ۱۱۰ خانقاہ سراجیہ کندیاں (اجلاس شوریٰ) ۲۴؍ مارچ ۲۰۱۰ء، مطابق ۷؍ ربیع الثانی ۱۴۳۱ھ // // // ۱۱۱ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) ۳۰؍ مئی ۲۰۱۰ء، مطابق ۱۵؍ جمادی الثانی ۱۴۳۱ھ حضرت صاحبزادہ عزیز احمد ۱۱۲ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء، مطابق ۱۶؍ ذیقعدہ ۱۴۳۱ھ حضرت صاحبزادہ خلیل احمد
(۹۴ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔
مؤرخہ ۱۴؍ جنوری ۲۰۰۴ء، مطابق ۲۱؍ ذیقعدہ ۱۴۲۴ھ، بروز: بدھ منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
تلاوت: مولانا محمد اکرم طوفانی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) صاحبزادہ عزیز احمد، (۳) مولانا مفتی محمد جمیل خان، (۴) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۵) مولانا اللہ وسایا، (۶) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۷) مولانا بشیر احمد، (۸) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۹) صاحبزادہ خلیل احمد (اعزازی)، (۱۰) صاحبزادہ سعید احمد (اعزازی)، (۱۱) مولانا عبداللہ بھکر (اعزازی)۔
دعائے مغفرت: مجلس کے روحِ رواں رئیس المناظرین مولانا عبدالرحیم جو ۲۰؍ جمادی الاوّل ۱۴۲۴ھ اور مولانا امام الدین جو ۲؍ رمضان المبارک ۱۴۲۴ھ کو اس دارفانی سے رحلت فرما گئے تھے جن کی خدمات مجلس میں بہت نمایاں تھیں۔ حضرت اقدس دامت برکاتہم نے ہر دو کے لئے مغفرت اور ترقی درجات کے لئے دعاء کرائی۔
مجلس شوریٰ اور منتظمہ: ۶؍ شعبان ۱۴۲۴ھ کو مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اجلاس منعقدہ چناب نگر میں حضرت امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ نے سہ سالہ اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ اس کارروائی کی تکمیل پر سابقہ مجلس شوریٰ اور مجلس منتظمہ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئی تھیں۔
امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے فوری طور پر سابقہ شوریٰ اور سابقہ منتظمہ کو اپنی اپنی ذمہ داریوں پر بحال رکھ کر انہیں تبلیغی اور انتظامی امور جاری رکھنے کی ہدایت فرمادی۔
مالیاتی کمیٹی: حضرت امیر مرکزیہ نے سابقہ مالیاتی کمیٹی کو بحال رکھا اور انہیں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی ہدایت فرمائی۔
منتظمہ: آج کے اجلاس میں حضرت امیر مرکزیہ نے مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی کو نائب ناظم (ڈپٹی سیکرٹری) کی ذمہ داریاں سونپیں اور شعبہ تبلیغ عالمی مجلس کی ذمہ داریاں مولانا محمد اسماعیل صاحب کے سپرد فرمائیں۔
شوریٰ: مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس کی جدید تشکیل میں حسب روایات سابقہ تمام اراکین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بحال رکھا گیا۔ البتہ فیصل آباد سے مولانا محمد اشرف ہمدانی اور اسلام آباد مولانا محمد شریف ہزاروی صاحب کی جگہ پشاور سے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی امیر مجلس پشاور اور اسلام آباد سے شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف کو رکن شوریٰ عالمی مجلس منتخب فرمایا۔
علاقہ سیالکوٹ موضع اوچی کھرولیاں جہاں قدیم چار قادیانی گھر آباد ہیں متمول اور بااثر ہیں۔ امریکہ میں مقیم ایک قادیانی ڈاکٹر نے ۲۶؍ ایکڑ زمین امراض قلب کے پرائیویٹ ہسپتال کے لئے مخصوص کی۔ قادیانی پرائیویٹ ہسپتال کے منصوبہ کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی نے اس گاؤں کا دورہ کیا۔
- ۱...... ہسپتال کے لئے تین کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا۔
- ۲...... اور گاؤں کو گیس مہیا کرنے کا اعلان کیا۔
- ۳...... قادیانی ڈاکٹر کے قادیانی والد کے نام پر اس کا نام اسلم پورہ رکھا۔ امراض قلب کے اس ہسپتال میں قادیانیت کی، مشنری
ہسپتالوں کی طرح تبلیغ ہوگی۔ مریضوں کی علاج کی مجبوری اور گاؤں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ملازمت کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر انہیں قادیانی بنایا جائے گا۔ اس تشویش ناک صورتحال کے پیش نظر مولانا فضل الرحمن کو کچھ وقت کے لئے خانقاہ شریف آنے کے لئے درخواست کی گئی۔ موصوف تشریف لائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین سے بات چیت کرنے کا وعدہ فرمایا۔
- ۴...... نئے ووٹروں کے اندراجات کا آغاز جنوری ۲۰۰۲ء کے آغاز پر ہوا۔ مبلغین اور اراکین مجلس نے قادیانیوں کے ووٹ درج
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرانے کے طرز کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مسلم ووٹر کے فارم نمبر ۴ سے حلف نامہ ختم نبوت حذف کر کے فارم بغیر حلف نامہ کے شائع کیا گیا ہے۔ یہ قادیانی سازش سے ہوا۔ بغیر حلف ختم نبوت کے فارم کو استعمال کر کے قادیانی اپنا ووٹ مسلمانوں کی فہرست میں درج کراسکتا ہے اور کرائے گا۔ اس کے لئے مسلمان ووٹر کے فارم نمبر ۴ میں حلف نامہ ختم نبوت بحال کرانے کی ممکنہ تدابیر بروئے کار لائی گئیں۔ مجلس عمل کے قائدین کو پوری صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ اسمبلی میں بھی آواز اٹھائی گئی۔ الیکشن کمیشن کی ضلعی انتظامیہ سے لے کر چیف الیکشن کمشنر تک اسی طرح ہوم سیکرٹری، چیف سیکرٹری، وزیر اعلیٰ، گورنر ، وزیر اعظم اور صدر تک خطوط لکھے گئے۔ جرائد ورسائل میں اداریے اور شذرات بھی لکھے گئے۔ جماعت اسلام آباد نے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی۔ جماعت فیصل آباد نے چیف الیکشن کمشنر سے آئین کے خلاف اس اقدام پر تحریری وضاحت طلب کی۔ اس مختصر سی ظاہری کوشش سے اللہ تعالیٰ نے اپنی غیبی مدد فرمائی۔ فارم نمبر ۴ میں مسلم ووٹر کے حلف نامہ ختم نبوت اور غیر مسلم قادیانی، ہندو، سکھ وغیرہ کے لئے فارم نمبر ۱۰ الگ الگ دوبارہ شائع ہوگئے ہیں۔ بغیر حلف نامہ کے درج شدہ تمام ووٹ کینسل، حلف نامہ کی شرط بحال اور فارم شائع ہوچکے ہیں۔
- ۵...... سہ ماہی رد قادیانیت کورس ۱۵/شوال تا ۱۵/محرم الحرام ۱۴۲۵ھ کا دفتر مرکزیہ ملتان میں آغاز کیا گیا۔ پانچ علماء کرام نے اس کورس
میں شرکت کی۔ کورس کے اختتام پر ایک ساتھی منڈی بہاؤالدین کے اس علاقہ میں جہاں قادیانی اثرات پائے جاتے ہیں، خطیب رکھوا دیئے گئے۔ تین ساتھی چلہ کے لئے رائیونڈ تشریف لے گئے۔ ایک ساتھی جو مزید تعلیم جاری رکھنا چاہتے تھے واپس چلے گئے۔ کراچی میں مقیم سری لنکا کے دس، گیارہ ساتھی پندرہ روز کے لئے تشریف لائے۔ انہیں مختصر تربیت اور رد قادیانیت کتب سے متعارف کرایا گیا۔
- ۶...... جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر کے پلاٹ کے بالمقابل ایک ایک کنال کے ۱۶/ پلاٹوں کا ایک بلاک خریدنے کا مجلس منظمہ نے
فیصلہ کیا۔ مجلس شوریٰ نے توثیق کی۔ پلاٹ خریدنے کا آغاز ہوا۔ ان ۱۶/ پلاٹوں میں ایک پلاٹ شمال مشرقی کسی کا ہے۔ پندرہ پلاٹ ہاؤسنگ کے زیر انتظام سرکاری ہیں۔ ان میں سے سات پلاٹ گزشتہ سالوں میں مجلس خرید چکی ہے اور تین پلاٹ اس سال ۱۴۲۴ھ میں خریدے گئے ہیں۔
- ۷...... زیر سماعت مقدمات ۲۹۸-سی اور ۲۹۵-بی کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت اور انتظامیہ بمعہ عدلیہ توہین رسالت اور امتناع قادیانیت کے
مقدمات میں بہت بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو بری کررہی ہے۔ جس سے ان دفعات کی اہمیت گر رہی ہے۔ طے یہ ہوا کہ حضرات مبلغین اور ان کے ذریعہ کارکنوں کو اطلاع دی جائے کہ اندراج مقدمہ بمشورہ مرکز کرائیں اور کراچی اور سندھ کے ایسے واقعات کے مقدمات کے اندراج سے قبل مفتی محمد جمیل خان، مولانا نذیر احمد تونسوی، رانا محمد انور اور علامہ میاں حمادی باہم مشورہ کر لیا کریں اور کسی سنگین معاملہ میں مولانا سعید احمد جلال پوری اور مولانا مفتی نظام الدین شامزئی اور مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر سے بھی رہنمائی حاصل کی جائے۔
- ۸...... نصاب وفاق المدارس العربیہ میں ”آئینہ قادیانیت“ درجہ مشکوٰۃ میں شامل کر لی گئی ہے۔ مجلس آئینہ قادیانیت کو شائع کرے اور
لاگت قیمت ۴۰ روپے میں اہل مدارس کو فراہم کرے۔ چونکہ کتاب کی شمولیت کا یہ پہلا سال ہے۔ اعزازاً، تکریماً اگر کہیں آئینہ قادیانیت مفت فراہم کرنی پڑے تو اس کی اجازت دی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۹...... مجلس کی مطبوعہ کتب رد قادیانیت خاص طور پر احتساب اور آئینہ خاص خاص شخصیات، تعلیمی لائبریریز، انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان
وغیرہ کو جیسے احتیاط سے گنجائش رکھ کر دی جا رہی ہیں۔ اس کی سابقہ اجازت کی آئندہ کے لئے توثیق کی گئی۔
- ۱۰...... سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر بجائے اوائل اکتوبر کے ۲۳، ۲۴؍ ستمبر ۲۰۰۴ء بروز جمعرات، جمعہ مطابق ۷، ۸؍ شعبان منعقد
کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تجاویز: مسلم کالونی میں حوض پانی والا توڑ دیا جائے۔ اس جگہ ۳۰ عدد مزید فلش تعمیر کرالئے جائیں تاکہ شرکاء کانفرنس کو مزید سہولیات کا بندوبست ہو سکے۔
مسلم کالونی میں خریدے گئے ۱۰ عدد پلاٹ کی چار دیواری بھراؤ تک کرالی جائے۔
مولانا قاضی احسان احمد نئے سال سے پندرہ یوم اسلام آباد، پندرہ یوم میں پانچ یوم رخصت، دس یوم ملتان۔
خطیب محمدیہ مسجد مولانا مسعود الرحمن حد سے زیادہ ناغے کرتے ہیں۔ انہیں تنبیہ کے ساتھ ۳۰ یوم مزید مہلت دی جائے۔ ناغہ اور تاخیر کی اپنی روش بدل لیں، ورنہ خطیب بدل لیں۔
فیصلہ از صدر بحکم مجلس !
(۹۵ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔ مؤرخہ ۲۵؍ مارچ ۲۰۰۴ء، مطابق ۳؍ صفر الخیر ۱۴۲۵ھ، بروز : جمعرات منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۳) مولانا عبدالرزاق اسکندر، (۴) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۵) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۶) قاری خلیل احمد، (۷) قاضی فیض احمد، (۸) حاجی سیف الرحمن، (۹) میاں خان محمد سرگانہ، (۱۰) حکیم محمد یونس، (۱۱) مفتی محمد جمیل خان، (۱۲) مفتی نظام الدین شامزئی، (۱۳) مولانا فیض احمد، (۱۴) مولانا عبدالرؤف، (۱۵) مولانا انوار الحق، (۱۶) مولانا نور الحق نور، (۱۷) مولانا احمد میاں حمادی، (۱۸) صاحبزادہ طارق محمود، (۱۹) حاجی بلند اختر نظامی، (۲۰) صاحبزادہ عزیز احمد، (۲۱) ریاض الحسن گنگوہی، (۲۲) حاجی اشتیاق احمد، (۲۳) مولانا اللہ وسایا، (۲۴) صاحبزادہ خلیل احمد (اعزازی)، (۲۵) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۶) مولانا بشیر احمد، (۲۷) مولانا عبدالغفور قاسمی (اعزازی)۔
آغاز اجلاس: مجلس شوریٰ کا مجوزہ اجلاس صبح ۹ بجے شروع ہوا۔ امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے بوجہ علالت و نقاہت دس بجے تشریف لانے کا پیغام بھجوایا تو اجلاس کی کارروائی زیر صدارت مولانا فیض احمد صاحب شروع کی گئی۔
تلاوت: مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب نے کی۔
تعزیتی قرارداد: گزشتہ اسلامی سال ۱۴۲۴ھ کے دورانیہ میں بہت سے علماء، صلحاء اور حلقہ ہائے ختم نبوت کے احباب جو اس دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں۔ ان کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ نام تاریخ وار درج ذیل ہیں:
مولانا قاضی مظہر حسین چکوال ۳؍ ذوالحجہ ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۶؍ جنوری ۲۰۰۴ء مولانا عبدالرحیم اشعر جلالپور ۲؍ ذوالحجہ ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۵؍ جنوری ۲۰۰۴ء
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عبداللطیف مسعود ڈسکہ ۹ ربیع الاوّل ۱۴۲۴ھ بمطابق ۱۱؍مئی ۲۰۰۳ء مولانا شاہ احمد نورانی کراچی ۱۶؍شوال المکرم ۱۴۲۴ھ بمطابق ۱۱؍دسمبر ۲۰۰۳ء مولانا محمد اعظم طارق جھنگ ۹؍شعبان المعظم ۱۴۲۴ھ بمطابق ۶؍اکتوبر ۲۰۰۳ء مولانا امام الدین لودھراں ۲؍رمضان المبارک ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۸؍اکتوبر ۲۰۰۳ء مولانا فیض اللہ میرپور خاص ۱۸؍ربیع الاوّل ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۰؍مئی ۲۰۰۳ء مولانا قاری دین محمد چنیوٹ ۱۰؍رمضان ۱۴۲۴ھ بمطابق ۵؍نومبر ۲۰۰۳ء جناب حافظ قمر الحق ملتان ۱۰؍جمادی الاوّل ۱۴۲۴ھ بمطابق ۱۱؍جولائی ۲۰۰۳ء حافظ محمد سعید دہلوی کراچی ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۸؍جون ۲۰۰۳ء مولانا قاضی عبداللطیف شجاع آباد ۲؍ذوالحجہ ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۵؍جنوری ۲۰۰۳ء مولانا اللہ وسایا قاسم خانیوال ۷؍ربیع الاوّل ۱۴۲۴ھ بمطابق ۱۱؍مئی ۲۰۰۳ء نوابزادہ نصر اللہ خان خان گڑھ ۲۹؍رجب ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۷؍ستمبر ۲۰۰۳ء مولانا حکیم عبدالرحمن گوجرانوالہ محرم الحرام ۱۴۲۴ھ جناب رشید احمد پشاور جناب عبدالرؤف پشاور
گزشتہ اجلاس شوریٰ منعقدہ ۳۰؍محرم الحرام ۱۴۲۴ھ اور اجلاس مجلس عمومی منعقدہ ۶؍شعبان ۱۴۲۴ھ اور اجلاس منتظمہ منعقدہ ۲۱؍ذیقعدہ ۱۴۲۴ھ تینوں اجلاسوں کی کارروائی کا خلاصہ مولانا اللہ وسایا صاحب نے پڑھ کر سنایا اور حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط کئے۔
تجدید مالیاتی کمیٹی: مجلس شوریٰ کے تین اراکین لاہور سے حاجی بلند اختر، ٹوبہ سے حاجی فیض احمد اور بہاول پور سے حاجی سیف الرحمن جو مجلس کے سالانہ آمدوصرف کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ حضرت امیر مرکزیہ نے مالیاتی کمیٹی کی تجدید کرتے ہوئے ان ہر سہ ممبران کو ان کی ذمہ داریوں پر بحال رکھا اور ہمیشہ اس کمیٹی کا اجلاس، اجلاس شوریٰ سے ایک روز قبل ہوتا ہے۔ آمدوصرف کا تمام ریکارڈ ملاحظہ کر کے یہ کمیٹی اجلاس شوریٰ میں ممبران شوریٰ کو حسابات کی تفصیلات سے مطلع کرتے ہیں۔ حضرت امیر مرکزیہ نے مالیاتی کمیٹی کی آئندہ سہ سال کے لئے تجدید کرتے ہوئے مذکورہ تینوں ممبران کو ان کی ذمہ داریوں پر بحال رکھا۔
شعبہ تبلیغ: شعبہ تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کارکردگی کا خلاصہ مولانا اللہ وسایا نے پیش کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ قادیانیوں کی قادیانیت سے بیزاری روز بروز بڑھ رہی ہے اور قادیانیت کا مصنوعی فریب کا جال بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے مسلسل قادیانی افراد کے تائب ہو کر مسلمان ہونے کی اطلاعات تسلسل سے وصول ہو رہی ہیں۔ بعض خاندانوں کے خاندان قادیانیت سے تائب ہو رہے ہیں۔ صوبہ سرحد علاقہ پشاور سے ۱۷۰ افراد بیک وقت قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوئے۔ ایسے ہی بلجیم اور جرمنی میں کئی گھرانے قادیانیت سے تائب ہوئے۔ جن کی تفصیلات مجلس کے ہفت روزہ اور ماہنامہ میں چھپتی رہتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی تحریک زوروں پر ہے۔ حکومت بنگلہ دیش نے قادیانیوں کے لٹریچر کی اشاعت پر حال ہی میں
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پابندی لگائی ہے۔ یہ صورتحال کافی اطمینان بخش ہے۔ قادیانی فتنہ کا مذہبی فریب آشکارا ہو کر بکھر رہا ہے۔ البتہ قادیانیت کی سیاسی اور سازشی پوزیشن کافی پریشان کن ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے حکمران طبقہ میں قادیانیوں کا عمل دخل اور اثر و رسوخ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ مزید برآں رد قادیانیت لٹریچر، احتساب قادیانیت کے نام سے اپنے بزرگوں کے مجموعہ ہائے رسائل کی اشاعت اور تعلیمی حلقوں میں اس کی تقسیم عقیدہ ختم نبوت، نزول مسیح اور حیات مسیح ؑ پر قادیانی توہمات واشکالات کے رد پر مشتمل کتب کی اشاعت اور دینی مدارس کے طلباء کے لئے آئینہ قادیانیت کی اشاعت جسے وفاق المدارس نے شامل نصاب کردیا ہے، یہ کتابی اور تصنیفی کوششیں ہیں جو اس محاذ پر کی جارہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔
مجلس کے شعبہ تبلیغ میں شریک حضرات مبلغین اپنے اپنے حلقہ میں خطبات جمعہ اور درس کے ساتھ ساتھ گزشتہ تین چار سال سے رد قادیانیت کورسز کا اہتمام کرتے ہیں۔ کہیں یک روزہ، کہیں دو روزہ اور کہیں سہ روزہ۔ چناب نگر میں ۲۵ روزہ۔ اس میں کثرت سے طلباء اور جدید تعلیم یافتہ حضرات شریک ہوتے ہیں۔ عام تبلیغ کا ذریعہ دینی اجتماع اور کانفرنسیں ہیں جو قریہ بہ قریہ، شہر بہ شہر، تحصیل اور ضلع کی سطح پر حسب ضرورت ختم نبوت کے نام پر منعقد ہوتی ہیں۔ ان کانفرنسوں میں حضرت امیر مرکزیہ، نائب امیر مرکزیہ اور علاقے کی علمی وروحانی شخصیات شریک ہوتی ہیں۔ انہی کی دعاؤں کے صدقے یہ سلسلہ قائم ودائم ہے۔ اللہ تعالیٰ رفقاء تبلیغ (مبلغین) کی کمی کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور اس ادنیٰ سی کوشش کو جو محض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے وجود میں آتی ہیں، قبول فرمائے اور ہمیں اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر صحیح سمت میں چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!
شعبہ ہائے تعلیم القرآن: مجلس کے زیر اہتمام ۹ مقامات پر شعبہ ہائے تعلیم القرآن قائم ہیں۔ ان کے ساتھ مساجد امام اور خطیب کا انتظام بھی ہے۔ تفصیلات حسب ذیل ہیں۔
جابہ: علاقہ سون میں مقام جابہ مجلس کی تعمیر کردہ جامع مسجد، جمعہ کا نظم، مقامی بچوں کی تعلیم، مدرس و امام حافظ محمد حیات انگوی۔
اسٹیشن چناب نگر: قادیانیوں کے شہر چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر بہت خوبصورت دیدہ زیب مسجد تعمیر کردہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خطیب مولانا محبوب الرحمن مدرس و امام حافظ محمد یوسف۔
مسلم کالونی چناب نگر: ۸ کنال احاطہ پر مشتمل تعمیرات، درس گاہ، قیام گاہ طلباء، عظیم الشان جامع مسجد، وسیع لائبریری، مقیم طلباء ۱۷۲، ناشتہ کھانا کا عمدہ انتظام، چار مدرسین حفظ، باورچی، نگران مدرسہ، ایک عالم فاضل اردو انگریزی ٹیچر، طالبات ۶۰، ایک معلمہ، وظیفہ طلباء ۳۰ روپے، اردو تعلیم کے لئے ایک ٹیچر مزید کے تقرر کی منظوری تا کہ حفظ قرآن کے ساتھ پرائمری تک تعلیم بھی مکمل ہوجائے۔
لاہور: نیو مسلم ٹاؤن، حسین سٹریٹ، جامع مسجد عائشہ، خطیب مولانا منور حسن صدیقی۔
سرگودھا: ختم نبوت اکیڈمی لکڑ منڈی سرگودھا، دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مملوکہ مجلس، شعبہ تعلیم القرآن، مقیم طلباء ۳۵، ایک مدرس، ایک باورچی۔ خادم اور باورچی کا مشاہرہ مرکز سے اور بل ہائے بجلی، بقیہ اخراجات اراکین اکیڈمی سرگودھا مقامی طور پر کرتے ہیں۔
ملتان: مرکزی دفتر ملتان میں سہ منزلہ جامع مسجد ختم نبوت، امام و مدرس ۶۰ مقامی طلباء۔
پرمٹ: مدرسہ دارالہدیٰ کے نام شعبہ تعلیم القرآن، عظیم الشان جامع مسجد، نگران و خطیب مولانا عبد الکریم، تین مدرسین، ۸۵ طلباء مقیم، ایک باورچی، قیام طعام کا انتظام۔
بہاول پور: مرحوم نواب بہاول پور کی تعمیر کردہ جامع مسجد الصادق میں شعبہ تعلیم القرآن، دو مدرسین، ۱۱۰ مقامی طلباء کرام درجہ حفظ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کنری پاک: سندھ بمقام کنری پاک بخاری چوک پر بخاری جامع مسجد صبح و شام شہری بچوں کی دینی تعلیم، خطبہ جمعہ، مدرس اور خطیب۔
تقرریاں: اس سال یکم محرم الحرام ۱۴۲۵ھ سے تین مبلغین نئے شعبہ تبلیغ میں شامل کئے گئے۔ تینوں نے دو ماہ دس یوم از: ۲۱؍شوال المکرم تا ۳۰؍ذی الحجہ تفصیلاً رد قادیانیت پر تربیت حاصل کی۔
مبلغ: مولانا عبدالنعیم موضع سندیلہ پوسٹ آفس روہیلانوالی مظفر گڑھ، حلقہ شیخوپورہ میں ان کا ابتدائی تقرر ہوا۔ مبلغ لاہور ان کا تعارف کرائیں گے۔
مبلغ: مولانا محمد اسماعیل کوٹلہ رحم علی شاہ مظفر گڑھ موصوف کی تعلیم عربی کے ساتھ ساتھ بی۔اے ہے۔ انہیں مسلم کالونی چناب نگر میں طلباء درجہ حفظ کی پرائمری تعلیم کے لئے رکھا گیا ہے۔
مبلغ: مولانا عبدالرشید گڑھ موڑ جھنگ۔ انہیں علاقہ علی پور، جتوئی، پرمٹ سپرد کیا گیا ہے۔
مدرس: قاری احمد یار شعبہ تعلیم القرآن چناب نگر میں اور ایک قاری شعبہ تعلیم القرآن بہاول پور میں رکھے گئے۔
خادم: محمد عثمان دفتر اسلام آباد، حافظ محمد شوکت دفتر لاہور میں بطور خادم ان کا تقرر کیا گیا ہے۔
تعمیرات: (۱)مدرسہ مسلم کالونی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء کی ضروریات کے لئے ۴۰ کے قریب باتھ روم۔ (۲)دفتر لاہور کی مرمت۔ (۳) سیالکوٹ میں جامع مسجد بنوریہ کے بالائی حصہ پر نئے دفتر کی تعمیر۔ (۴) قدیم دفتر واقع تغلق روڈ ملتان کی ۱۰ دکانات کے برآمدہ کی چھت کا نیا لینٹر، بالائی پردہ اور بالائی فرش۔ (۵) محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر کی مرمت۔ (۶) عید گاہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر کی چار دیواری اور بھرتی۔ (۷) مسلم کالونی چناب نگر میں نئے خرید کردہ یا زیر خرید پندرہ کنال احاطہ کی چار دیواری اور بھرتی۔
ان تمام تعمیراتی کام کے لئے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو عملاً مذکورہ تعمیراتی کام کی نگرانی کرے گی۔
تعمیرات کی نوعیت اور ڈیزائن کے لئے حاجی بلند اختر نظامی، حاجی فیض احمد، صاحبزادہ طارق محمود، صاحبزادہ عزیز احمد اور مولانا مفتی محمد جمیل خان پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی مقرر کی گئی۔ تعمیراتی کمیٹی کے اراکین حسب ضرورت ان حضرات سے رابطہ کر کے مذکورہ تمام تعمیراتی کاموں کو مکمل کرالیں۔
ڈسپنسری اور سکول: اراکین مالیاتی کمیٹی جناب حاجی بلند اختر نظامی، جناب فیض احمد، جناب حاجی سیف الرحمن نے ایک تجویز یہ پیش کی کہ چناب نگر جہاں تمام تر آبادی قادیانیوں کی ہے، علاج معالجہ کے لئے مسلمان قادیانی ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں۔ جس سے قادیانیت ان بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں فریب دہی سے کام لیتے ہیں۔ مناسب ہے کہ ایک اچھی ڈسپنسری مسلم کالونی میں قائم کی جائے۔ دوسری تجویز یہ پیش کی کہ مدرسہ تعلیم القرآن مسلم کالونی میں زیر تعلیم درجہ حفظ کے بچوں کے لئے پرائمری تک کی تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔ دونوں تجویزوں پر غور کے لئے مورخہ ۱۱؍ اپریل ۲۰۰۴ء کو مسلم کالونی چناب نگر میں ایک میٹنگ رکھی گئی۔ جس میں تینوں تجویز کنندگان اور اراکین تعمیراتی کمیٹی و مشیران کمیٹی شریک ہوئے۔ مسلم کالونی میں الرشید ٹرسٹ کی ایک ڈسپنسری چھ سال سے قائم ہے۔ ادویات کا مناسب انتظام ہے تو ختم نبوت ڈسپنسری کی تجویز کو وقتی طور پر موقوف رکھا گیا اور طلباء درجہ حفظ مسلم کالونی کے لئے پرائمری تعلیم کا انتظام کیا گیا۔ جس کے لئے بی۔اے پاس اور فاضل عربی مدرس جناب محمد اسماعیل صاحب کو مقرر کر کے اردو تعلیم کا آغاز کر دیا گیا۔ نئے سال شوال ۱۴۲۵ھ سے اس کو مزید منظم کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ!
فیصلہ کمیٹی منظور
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۹۶ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔ مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۲۰۰۴ء، مطابق ۱۲؍رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ، بروز: جمعرات منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب، (۲) مولانا سید نفیس الحسینی، (۳) صاحبزادہ عزیز احمد، (۴) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۵) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۶) مولانا اللہ وسایا، (۷) مولانا بشیر احمد، (۸) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی نقاہت اور کمزوری کے پیش نظر اراکین منتظمہ ۱۲؍رمضان المبارک صبح ۹ بجے خانقاہ شریف پہنے اور حضرت والا کی خانقاہی نشست گاہ میں زیارت اور ایجنڈا پر مشاورت ہوئی۔
دعائے مغفرت: مولانا عبد العزیز جتوئی مبلغ کوئٹہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ۱۷؍ستمبر ۲۰۰۴ء بروز ہفتہ وفات پا گئے۔ مولانا مفتی محمد جمیل خان اور مولانا نذیر احمد تونسوی ۹؍اکتوبر ۲۰۰۴ء بروز ہفتہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید ہو گئے۔ تینوں ساتھیوں کی اچانک اور ناگہانی وفات پر حضرت والا بہت ہی مضمحل تھے۔ آپ نے آبدیدہ ہو کر ان حضرات کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔
کراچی دفتر میں مولانا نذیر احمد تونسوی کے قائم مقام مبلغ کی ضرورت کے سلسلہ میں مولانا محمد راشد مدنی فاضل علامہ بنوری ٹاؤن جو کراچی میں خطیب اور ایک مدرسہ میں مدرس ہیں، حضرت والا کے حلقہ عقیدت کے حاجی اسلم رحیم یار خان کے بیٹے ہیں۔ چناب نگر رد قادیانیت کورس کر چکے ہیں۔ ان کی موزونیت پر اراکین منتظمہ نے اتفاق کیا۔ ناظم اعلیٰ اور خازن کو اختیار دیا گیا کہ مجلس کراچی کے شعبہ تبلیغ میں انہیں لانے کے سلسلہ میں بات چیت کر لیں اور حسب حال انہیں مناسب اعزازیہ اور سہولتیں دے دیں۔ کوئٹہ شعبہ تبلیغ کے سلسلہ میں یہ طے ہوا کہ فی الحال موجودہ مبلغین میں سے کسی مناسب ساتھی کو بھیج دیا جائے اور مولانا نذیر احمد صاحب تونسوی کے اس سال فارغ ہونے والے بڑے بیٹے مولانا ابوبکر کو ایک سال رد قادیانیت کی تیاری اور فقہ وغیرہ میں تخصص کروا کر انہیں کوئٹہ میں محرم ۱۴۲۷ھ سے تعینات کر دیا جائے۔
ہفت روزہ ختم نبوت: ہفت روزہ ختم نبوت کی ۲۳ویں جلد زیر اشاعت ہے۔ جس کی ابتداء جون سے اور اختتام جولائی پر ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ زیر اشاعت ۲۳ویں جلد ۳۱؍دسمبر پر بند کر دی جائے اور یکم؍جنوری سے نئی جلد نمبر ۲۴ کا آغاز کر دیا جائے اور ابھی سے اس کی تیاری کر لی جائے۔
ہفت روزہ کے حسابات عالمی مجلس کے حسابات سے ایسے ہی الگ ہیں جیسا کہ ماہنامہ لولاک کے ہیں۔ گزشتہ تمام سالوں کی مستعملہ رسید بکیں اور واؤچر، کیش بک اور رجسٹرڈ آمد خرچ کی دو الماریاں اور کئی کارٹن بھرے پڑے ہیں۔ مولانا اللہ وسایا قریب ایام میں کراچی کا سفر کر لیں اور سابقہ تمام ریکارڈ کا جائزہ لے کر حسب ضرورت تین سال کے ضروری اور اہم رجسٹر، کاغذات، مستعملہ بکیں، کیش بک، کھاتہ محفوظ کر کے سابقہ قدیم زائد از ضرورت کاغذات کو تلف کروا دیں۔ آئندہ تین سال کی مستعملہ بکیں محفوظ رکھی جائیں اور سال بہ سال زائد المیعاد بکیں تلف کر دی جایا کریں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تعمیر دفتر سیالکوٹ : سیالکوٹ شہر اور ملحقہ دیہات اور شہر، ڈسکہ ، چونڈہ ، پسرور یہ علاقے قادیانیت کا قدیم گڑھ ہیں۔ مسلمان بہت ہمت اور جرأت سے قادیانیت کے فریب کا مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں۔ گوجرانوالہ ، گجرات ، منڈی بہاؤالدین کے تینوں مبلغ اس علاقے کا تبلیغی دورہ کرتے رہتے ہیں۔ جنہیں طویل سفر کر کے ان دیہاتوں میں جانا پڑتا ہے۔ تبلیغی اہمیت کے پیش نظر سیالکوٹ شہر میں جہاں بہت عمدہ، خوبصورت ایک وسیع مسجد جامع مسجد بنوریہ کے نام سے مجلس کے مملوکہ پلاٹ پر تعمیر کی ہے اور جملہ مصارف اس کے اہل سیالکوٹ ہی برداشت کر رہے ہیں۔ سیالکوٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر پیر شبیر احمد گیلانی کی تجویز اور اصرار پر جامع مسجد بنوریہ کے ساتھ ملحقہ چار کمرے اور جائے وضو پر دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنانے کا فیصلہ گزشتہ اجلاس شوریٰ میں کیا گیا اور گیلانی صاحب کو تعمیر کا نگران اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ دفتر تعمیر ہوا۔ بہت عمدہ اور بہت خوبصورت ۔ ان اخراجات کی منظوری دے کر اخراجات کے اندراج کی اجازت دی گئی۔
دفتر مجلس وشعبہ تعلیم القرآن مسلم کالونی چناب نگر جو قادیانیوں کا شہر ہے اور ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبہ پر مکمل قادیانی آبادی ہے۔ اس قادیانی آبادی کے شرقاً اور دریائے چناب کے غرباً مسلم کالونی میں ختم نبوت کا عظیم مرکز مجلس کا قائم کردہ ہے۔ ہمیشہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں ، منعقد ہوتی ہے۔ دوسو سے زائد طلباء کرام رہائشی مقیم ہیں۔ پچیس یوم ماہ شعبان میں رد قادیانیت کورس بھی ہمیشہ ہوتا ہے۔ شرکاء کورس رد قادیانیت عموماً تین سو کے قریب ہوتے ہیں۔ ان تمام ضروریات کے لئے باتھ روم، غسل خانے وغیرہ کی بہت کمی تھی تو اس کام کے لئے گزشتہ اجلاس شوریٰ میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس نے تعمیرات کرائیں۔ ان اخراجات کی منظوری اور اندراج کی اجازت دی گئی۔
تعلیم القرآن مسلم کالونی میں طلباء کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر مزید ایک مدرس کی ضرورت ہے اور مقامی ناظرہ بچوں کے لئے دوسرے مدرس کی ضرورت ہے۔ اسی طرح چوک پرمٹ کے شعبہ تعلیم القرآن میں بھی ایک مدرس کی ضرورت ہے۔ حسب ضرورت درجہ حفظ کے شعبہ جات میں جدید اساتذہ کے تقرر کی منظوری دی گئی۔
عقیدۂ ختم نبوت کی توضیح اور وضاحت اور فتنہ قادیانیت کی تحریف اور قادیانیوں کے گمراہ کن عقائد ونظریات سے نوجوان نسل کے ذہنوں کو محفوظ رکھنے کے لئے جدید میڈیا (انٹرنیٹ) جو قادیانی استعمال کر رہے ہیں ، مجلس کو اس میدان کو خالی نہیں چھوڑنا چاہئے۔ انٹرنیٹ پر اس فتنہ کا مقابلہ ضروری ہے۔ اس تجویز سے اتفاق کیا گیا اور ایک سہ رکنی کمیٹی صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اکرم طوفانی پر مشتمل بنادی گئی اور لاہور کے جماعتی احباب جیسے جناب وقار صاحب ان کی معاونت اور مشاورت سے انٹرنیٹ کے سلسلہ کو قائم کریں گے۔
فقیر خان محمد غفرلہ
(۹۷ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔ مؤرخہ ۷؍فروری ۲۰۰۵ء، مطابق ۲۷؍ذی الحجہ ۱۴۲۵ھ، بروز: سوموار منعقد ہوا۔ زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔ شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) صاحبزادہ عزیز احمد، (۳) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۴) مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۵) مولانا اللہ وسایا، (۶) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس منتظمہ کی کارروائی کا آغاز مولانا محمد اکرم طوفانی کی تلاوت سے کیا گیا۔
خواندگی گزشتہ کارروائی منتظمہ: کارروائی گزشتہ اجلاس منتظمہ منعقدہ ۱۴؍ رمضان المبارک ۱۴۲۴ھ بمقام خانقاہ سراجیہ کی خواندگی کی گئی۔ شرکاء کے جائزہ اور اطمینان کے اظہار پر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے محررہ کارروائی پر توثیقی دستخط ثبت فرمائے۔
پاسپورٹ میں خانہ مذہب کی بحالی: مولانا اللہ وسایا نے بحالی خانہ مذہب پاسپورٹ کے سلسلہ میں کی جانے والی کوشش وجدو جہد، آل پارٹیز کنونشن اور اجتماع، احتجاجی مظاہرے اور جلوس، ختم نبوت کے عنوان سے تبلیغی پروگرام اور کانفرنسیں بعض صاحب اثر شخصیات کے ذریعہ حکومت میں شامل بعض معتدل مزاج افراد سے رابطے، ان تمام تفصیلات سے حضرت والا کو آگاہ کیا گیا۔ ان مشکل ترین حالات میں جب کہ برسر اقتدار شخص واحد (پرویز مشرف) مسلسل شعائر اسلام کی توہین اور انہیں ختم کرنے کے درپے ہے۔ حضرت والا سے خصوصی دعاء کی درخواست کی گئی۔ جس پر حضرت والا نے طویل دعاء فرمائی اور حسب عادت ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بھلی فرمائیں گے۔
ویب سائٹ: انٹرنیٹ کی منظوری اس مرحلہ اجلاس منتظمہ میں حاصل کی جاچکی ہے۔ مزید پیش رفت کے سلسلہ میں صاحبزادہ عزیز احمد نے بتایا کہ ویب سائٹ رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔
سہ ماہی رد قادیانیت کورس: وفاق المدارس سے جیداً فارغ بارہ علماء کرام رد قادیانیت کورس میں شریک ہیں۔ ان میں سے تین علماء مجلس میں کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ باقی شرکاء تدریس یا مزید تعلیم تخصص وغیرہ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ مشورہ سے یہ طے ہوا کہ کورس کے تین شرکاء میں جو جماعت میں شمولیت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ وہ ایک چلہ تبلیغی جماعت میں لگائیں اور پھر مجلس کے شعبہ تبلیغ میں اپنی جماعتی زندگی کا آغاز کریں۔
سالانہ برمنگھم ختم نبوت کانفرنس: سالانہ برمنگھم ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۷؍ اگست ۲۰۰۵ء بروز اتوار ہونا تجویز کیا گیا ہے۔
سالانہ چناب نگر ختم نبوت کانفرنس: سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر مؤرخہ ۲۹، ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۵ء بروز جمعرات، جمعہ ہونا تجویز کیا گیا ہے۔
فیض احمد حسن محمد
(۹۸ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۲۸؍ مارچ ۲۰۰۵ء، مطابق ۱۷؍ صفر الخیر ۱۴۲۶ھ، بروز: سوموار صبح ۹ بجے منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
تلاوت: مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) سید نفیس الحسینی، (۳) مولانا فیض احمد، (۴) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۵) مولانا عبدالمجید ندیم شاہ، (۶) مولانا نور الحق نور، (۷) مولانا عبدالرؤف، (۸) مولانا عبدالواحد، (۹) مولانا انوار الحق، (۱۰) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۱۱) مولانا احمد میاں حمادی، (۱۲) حاجی سیف الرحمن، (۱۳) حاجی فیض احمد، (۱۴) صاحبزادہ عزیز احمد، (۱۵) میاں خان محمد، (۱۶) صوفی ریاض الحسن گنگوہی، (۱۷) حکیم محمد یونس، (۱۸) حاجی اشتیاق احمد، (۱۹) مولانا بشیر احمد، (۲۰) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۱) مولانا اللہ وسایا، (۲۲) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۳) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گزشتہ اجلاس مجلس شوریٰ منعقدہ ۳۰؍ صفر الخیر ۱۴۲۵ھ کی کارروائی کا خلاصہ مولانا اللہ وسایا صاحب نے بیان کیا۔ کارروائی کے فیصلوں کی توضیح تشریح اور ان پر عمل در آمد ہونے کی وضاحت کے بعد اراکین نے تصویب فرمائی اور حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط ثبت فرمائے۔
مرحومین کے لئے دعاء: ہمیشہ اجلاس شوریٰ کے موقعہ پر سال گزشتہ محرم تا ذوالحجہ کے دورانیہ میں وفات پانے والے مرحومین کے لئے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے دعاء فرمائی۔ نام درج ذیل ہیں:
(۱) مولانا مفتی نظام الدین شامزئی (کراچی) ، (۲) مولانا مفتی محمد جمیل خان (کراچی) ، (۳) مفتی زین العابدین (فیصل آباد) ، (۴) مولانا منظور احمد چنیوٹی (چنیوٹ) ، (۵) مولانا شیخ نذیر احمد (فیصل آباد) ، (۶) مولانا نذیر احمد تونسوی شہید (تونسہ) ، (۷) مولانا مفتی محمد انور (کبیر والہ) ، (۸) مولانا منظور احمد الحسینی (برطانیہ) ، (۹) مولانا عبد العزیز (جتوئی) ، (۱۰) مولانا صوفی اللہ وسایا (ڈیرہ غازی خان) ، (۱۱) مولانا غلام محمد (علی پور) ، (۱۲) مولانا عبد المجید (سکھر) ، (۱۳) جناب حافظ عبد الرشید (کچاکھوہ) ، (۱۴) مولانا محمد یعقوب (ہرنولی) ، (۱۵) جناب حاجی فضل حسین (پشاور)۔
پاسپورٹ میں خانہ مذہب: عرصہ ۲۵ سال قبل ضیاء دور میں شامل کیا گیا تھا۔ جس سے مقصود ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے قانون کو مزید مؤثر بنانا اور مسلمانوں اور قادیانیوں کے علیحدہ علیحدہ تشخص کو واضح کرنا تھا۔ موجودہ حکومت نے جہاں خلاف اسلام اور بے شمار اقدامات کئے ان میں سے ایک بہت خطرناک کام پاسپورٹ سے خانہ مذہب کو حذف کرنا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر قادیانیوں کے علیحدہ تشخص کو ختم کرنے کے لئے اٹھایا گیا۔ جس پر شدید احتجاج ہوا۔ نومبر ۲۰۰۴ء عید الفطر کے اجتماعات سے لے کر ۲۰؍ مارچ ۲۰۰۵ء تک تقریباً پانچ ماہ مؤثر طور پر احتجاج کیا گیا۔ تمام بڑے بڑے شہروں میں مرکزی مقامات پر ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ کہیں احتجاج ، کہیں جلوس ، کہیں ختم نبوت کانفرنس ، لاہور ، اسلام آباد ، پشاور ، کوئٹہ ، کراچی میں آل پارٹیز ختم نبوت کنونشن ہوئے ۔ متحدہ مجلس عمل کے قائدین خاص طور پر مولانا فضل الرحمن ، حافظ حسین احمد ، ان اکابرین نے بھر پور تعاون کیا ۔ ۹؍ مارچ کو اسلام آباد مسجد دار السلام میں مشترکہ جمعہ اور آبپارہ چوک تک مظاہرہ اور پھر خطاب ۔ جس میں تیس ہزار کے لگ بھگ فدایان ختم نبوت نے شرکت کی ۔ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہوا کہ اس جدوجہد کو عند اللہ قبولیت حاصل ہوئی۔ حکمرانوں کے حوصلے پست ہوئے اور ۲۰؍ مارچ ۲۰۰۵ء تین بجے ٹی وی پر پاسپورٹ میں خانہ مذہب بحال کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ فالحمد للہ علی ذالک!
کئی وزراء اور دیگر اقلیتی تنظیمیں بحالی کی شدید مخالفت میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مزید آزمائش سے محفوظ رکھیں اور لادین لابی خاص طور پر قادیانی فتنہ کے سرغنوں سے اللہ تعالیٰ اسلامی شعائر اور قادیانیت سے متعلقہ تشکیل پانے والے قوانین کی حفاظت فرمائے ۔ آمین!
گزشتہ سال منتظمہ کے دو اجلاس ہوئے ۔ پہلا ۱۴؍ رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ کو اور دوسرا ۲۷؍ ذوالحجہ ۱۴۲۵ھ کو۔ مذکورہ اجلاس ہائے منتظمہ میں جو امور زیر غور آئے اور با اجازت منتظمہ اس پر عمل کیا گیا ، وہ امور تیرہ (۱۳) ہیں ۔ ان تیرہ امور کو اجلاس شوریٰ میں وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ۔ اراکین شوریٰ نے سب کی توثیق فرمائی اور منظوری دی ۔ وہ درج ذیل ہیں :
- ۱......مجلس منتظمہ نے کراچی میں مولانا نذیر احمد تونسوی شہید کی جگہ مولانا محمد راشد مدنی کو بطور مبلغ تعینات کرنے کی اجازت دی۔
مجلس شوریٰ نے توثیق فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ۵۰۳ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... مجلس منتظمہ نے قرار دیا تھا کہ ہفت روزہ ختم نبوت کی نئی جلد کا آغاز جو جون سے ہوتا ہے آئندہ نئی جلد کا آغاز جنوری سے کیا
جائے۔ چنانچہ ہفت روزہ ختم نبوت کی ۲۴ویں جلد کا آغاز جنوری ۲۰۰۵ء سے کیا گیا۔ مجلس شوریٰ نے اس کی تحسین فرمائی۔ مجلس منتظمہ نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ ہفت روزہ کی تین سالہ مستعملہ بکیں محفوظ رکھ کر گزشتہ سالوں کی تمام مستعملہ بکیں جو زائد از ضرورت ہیں ان کو تلف کرایا جائے۔ مجلس شوریٰ نے اس کی تائید فرمائی۔
- ۳...... مجلس منتظمہ نے قرار دیا تھا کہ ماہنامہ لولاک کی ۹ویں جلد شروع ہونے پر لولاک کی گزشتہ آٹھ سالہ بکوں سے تین سالہ مستعملہ
بکیں محفوظ رکھ کر باقی مستعملہ تلف کر دی جائیں۔ مجلس شوریٰ نے اس کی تائید و توثیق فرمائی۔
- ۴...... مجلس منتظمہ کی اجازت سے ایک مدرس مسلم کالونی میں اور دو مدرس پرمٹ میں نئے رکھے گئے تھے۔ مجلس شوریٰ نے اس کی
تصویب فرمائی۔
برمنگھم کانفرنس: ہر سال ماہ اگست کے پہلے اتوار برطانیہ کے شہر برمنگھم میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔ اس کانفرنس سے قبل ماہ جولائی میں ایک وفد برطانیہ کے اہم اہم شہروں کا تبلیغی دورہ کرتا ہے۔ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر بیانات ہوتے ہیں اور پھر برمنگھم میں بڑی کانفرنس ہوتی ہے جو اس سال ۷؍اگست ۲۰۰۵ء کو ہوگی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے ساتھ مولانا اللہ وسایا، صاحبزادہ عزیز احمد اور مولانا قاضی احسان احمد سفر کریں گے۔
چناب نگر کانفرنس: چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس ملک گیر سطح پر منعقد کی جاتی ہے۔ چاروں صوبوں سے سامعین، خطباء، تمام مکاتب فکر کے رہنماء، سیاسی جماعتوں کے زعماء شریک ہوتے ہیں۔ یہ کانفرنس اس دفعہ ۲۹، ۳۰؍ستمبر ۲۰۰۵ء بروز جمعرات، جمعہ منعقد ہوگی۔ کراچی دفتر کے آئندہ نگران مولانا سعید احمد جلال پوری ہوں گے۔ کراچی دفتر کا پورا عملہ ان کی ہدایات کے مطابق کام کرے گا۔ نیز موصوف مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید کی جگہ مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ہوں گے۔ انتظامی اور مالیاتی امور کی نگرانی اور پڑتال ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم کریں گے۔
- ۱...... مولانا محمد اکرم طوفانی نے بتایا کہ سرگودھا میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر ملکیتی ہے۔ دومنزلہ عمارت مقامی وسائل سے تعمیر کرائی گئی
ہے۔ تاحال بیرونی دیواروں کا پلستر اور کمروں کا اندرونی حاشیہ ماربل دو دو فٹ لگانے کا کام باقی ہے۔ بلڈنگ کی حفاظت کے لئے یہ کام ضروری ہے۔ مجلس شوریٰ نے دفتر مجلس سرگودھا کی مرمت کو ضروری قرار دے کر اخراجات کی اجازت دی۔
- ۲...... مالیاتی کمیٹی کے کام کی اہمیت کے پیش نظر صاحبزادہ عزیز احمد کو بھی کمیٹی کا رکن تجویز کیا گیا۔ آئندہ مالیاتی کمیٹی کے اراکین درج
ذیل ہوں گے۔ جناب حاجی سیف الرحمٰن، جناب حاجی بلند اختر نظامی، جناب حاجی فیض احمد اور جناب صاحبزادہ عزیز احمد۔ ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری حسب سابق نگران اور معاون ہوں گے۔
- ۳...... مولانا محمد طیب صاحب عرصہ چھ سال سے علاقہ منڈی بہاؤالدین میں مبلغ ہیں۔ ان کی رہائش مدرسہ نورالہدیٰ میں ہے۔ اب
مستقل دفتر کی ضرورت ہے۔ ناظم اعلیٰ صاحب کی تجویز پر ۲۵۰۰ روپے ماہانہ تک دفتر کرایہ پر حاصل کرنے کی منظوری دی گئی۔
- ۴...... آئندہ ۲۴ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۹، ۳۰؍ستمبر ۲۰۰۵ء کو ہوگی اور اسی تاریخ کو ۲۵ روزہ کورس رد قادیانیت
چناب نگر اختتام پذیر ہوگا۔ شرکاء کو اسناد اور کتب تقسیم کرنے کی تقریب بھی منعقد ہوگی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۵ مولانا فقیر اللہ اختر آئندہ حلقہ ڈسکہ، چونڈہ، سیالکوٹ میں تبلیغی خدمات سرانجام دیں گے۔ ان کا مستقل قیام سیالکوٹ میں رہے گا۔ سیالکوٹ کے جدید تعمیر شدہ دفتر میں انہیں خادم رکھنے کی بھی اجازت ہے۔
جدید مبلغین: سہ ماہی رد قادیانیت کورس کے ۱۴ شرکاء میں سے ۴ علماء مجلس میں کام کرنے کے لئے تیار ہوئے۔ جن کے کوائف درج ذیل ہیں۔
- ......۱ مولانا ذوالفقار طارق ولد غلام فرید چک وزیر آباد پوسٹ آفس راجہ رام شجاع آباد ضلع ملتان۔
- ......۲ مولانا محمد فیاض ولد ملک حاجی احمد بیٹ میر ہزار خان تحصیل جتوئی ضلع مظفر گڑھ۔
- ......۳ مولانا محمد افضل ولد مہر غلام حسین چک نمبر ۹۱/۱۰/آر، اڈا حسن آباد پل سانگی نگر خانیوال۔
- ......۴ مولانا محمد ابوبکر ولد مولانا نذیر احمد تونسوی بستی رستمانی پوسٹ آفس ٹبی قیصرانی تحصیل تونسہ ضلع ڈیرہ غازی خان۔
مدرسین: تعلیم القرآن مسلم کالونی چناب نگر میں قاری محمد ادریس کا تقرر ہوا۔ محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں مولانا توصیف احمد کا بطور خطیب تقرر ہوا۔ مسلم ٹاؤن لاہور عائشہ مسجد میں مولانا محبوب الحسن کا تقرر ہوا۔ تعلیم القرآن پرمٹ میں دو اساتذہ کرام قاری محمد اصغر اور قاری تنویر احمد کا تقرر ہوا۔ جناب عبدالعزیز باورچی مدرسہ مسلم کالونی اور جناب امان اللہ خادم مدرسہ مسلم کالونی۔ جناب محمد جمیل باورچی تعلیم القرآن پرمٹ ان تینوں کا نیا تقرر ہوا۔ مولانا مختار احمد مبلغ خوشاب، جناب محمد اصغر باورچی مسلم کالونی، جناب سعید اللہ باورچی مدرسہ پرمٹ، تینوں اپنی ذاتی ضروریات کی بناء پر استعفیٰ دے گئے۔
فیضان حسن محمل
(۹۹ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔
مؤرخہ ۲۰؍ نومبر ۲۰۰۵ء، مطابق ۱۷؍ شوال المکرم ۱۴۲۶ھ، بروز: اتوار منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) صاحبزادہ عزیز احمد، (۳) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۴) مولانا اللہ وسایا، (۵) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۶) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۷) مولانا بشیر احمد، (۸) صاحبزادہ خلیل احمد (اعزازی)۔
۱۷؍ شوال المکرم ۱۴۲۶ھ مطابق ۲۰؍ نومبر ۲۰۰۵ء بروز اتوار صبح خانقاہ سراجیہ میں اراکین مجلس منتظمہ کی ایک نشست حضرت والا کی آرام گاہ میں منعقد ہوئی۔ مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز ہوا۔
مخدوم سید امین گیلانی (وفات: ۳؍ اگست ۲۰۰۵ء بمطابق ۲۷؍ جمادی الثانی ۱۴۲۶ھ بروز بدھ)، حافظ احمد بخش (وفات: ۲۲؍ اگست ۲۰۰۵ء بمطابق ۱۶؍ رجب المرجب ۱۴۲۶ھ بروز سوموار)، مولانا خدا بخش (وفات: ۲۹؍ ستمبر ۲۰۰۵ء بمطابق ۲۴؍ شعبان المعظم ۱۴۲۶ھ بروز جمعرات) ہر سہ حضرات کی وفات اور حالیہ زلزلہ میں شہید ہونے والوں کے لئے حضرت اقدس دامت برکاتہم نے دعاء مغفرت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ سب کو غریق رحمت فرمائیں۔ مرحومین وشہداء کے حسنات کو قبول فرمائیں اور اپنے مقبول بندوں میں انہیں داخل فرمائیں۔
سابقہ کارروائی اجلاس شوریٰ منعقدہ ۱۷؍ صفر الخیر ۱۴۲۶ھ کی کارروائی مولانا اللہ وسایا نے پڑھ کر سنائی۔ حاضرین کے جائزہ اور اطمینان کے بعد حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط کئے۔
فیضان حسن محمل
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱۰۰ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔
مؤرخہ ۲۸؍جنوری ۲۰۰۶ء، مطابق ۲۸؍ذی الحجہ ۱۴۲۶ھ، بروز: اتوار منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد، (۲) صاحبزادہ عزیز احمد، (۳) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۴) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۵) مولانا اللہ وسایا، (۶) مولانا بشیر احمد، (۷) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
بعد نماز ظہر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی نشست گاہ خانقاہ سراجیہ میں منتظمہ عالمی مجلس کا اجلاس ہوا۔
مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی نے قرآن کریم کی تلاوت کی۔
اجلاس شوریٰ: سالانہ اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس کے انعقاد کے مقام اور تاریخ کے تعین کا معاملہ زیر غور آیا تو حضرت والا سے سفر ملتان کی درخواست کی گئی۔ حضرت والا نے بشاشت و رغبت سے سفر ملتان کے لئے آمادگی ظاہر فرمائی۔ جس پر یکم ؍صفر الخیر ۱۴۲۷ھ بروز جمعرات بمطابق ۲؍مارچ ۲۰۰۶ء کی تاریخ اجلاس شوریٰ کے لئے تجویز کی گئی۔
کانفرنس ملتان: اسی کے ساتھ حسب روایات سابقہ اجلاس شوریٰ کے روز بعد نماز عشاء سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملتان کا پروگرام تجویز کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن صاحب اور مولانا علامہ سید ندیم شاہ کا وقت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب لیں گے اور دیگر علماء کرام کا وقت مولانا محمد اسماعیل صاحب لیں گے۔
ممبر شپ: مجلس کے مرکزی انتخابات سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۰۰۶ء میں ہونے ہیں۔ اس سے قبل ممبر شپ مقامی جماعتوں کی تشکیل مرکزی نمائندگان کا چناؤ اس کے لئے محرم تا ۳۰؍جمادی الثانی ۱۴۲۷ھ چھ ماہ کے اس عرصہ میں مذکورہ تمام ڈھانچہ ترتیب دیا جائے گا۔ ممبر شپ کی بہ تعدادی ۲۵۰۰ بکوں کی اشاعت کی اجازت دی گئی۔ مزید تفصیلات مبلغین اپنے سہ ماہی اجلاسوں میں طے کر لیں گے۔ ممبر شپ اور تشکیل جماعت ہائے مقامی، چناؤ اراکین مجلس عمومی اس کام کی نگرانی مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی کریں گے۔
آڈٹ: حسابات مجلس حسب سابق ازاں جناب آڈیٹر میاں عبدالستار صاحب، عبدالستار اینڈ کمپنی نواں شہر ملتان سے کرائے جانے کی اجازت دی گئی۔ حسابات سال ہائے گزشتہ محرم الحرام تا ۳۰؍ذی الحجہ ۱۴۲۶ھ، ۳۱؍جنوری ۲۰۰۶ء اجلاس شوریٰ سے قبل آڈٹ ہونا چاہئے۔ ازاں بعد مالیاتی کمیٹی عالمی مجلس آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں حسابات سال ہائے گزشتہ کی مزید پڑتال یکم؍مارچ ۲۰۰۶ء بروز بدھ سے کرالی جائے تاکہ اراکین شوریٰ جائزہ لے کر اطمینان کر سکیں۔
امداد ہفت روزہ: ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کو مبلغ ۳۵۰۰۰۰ روپے امداد کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہفت روزہ خسارے میں جا رہا ہے۔ خریدار کم، کاغذ، طباعت کے ریٹ بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ اراکین منتظمہ نے اس کی منظوری دی۔
امداد کنری: مقام ٹالہی ضلع بدین سندھ نہایت پسماندہ علاقہ ہے۔ قادیانیوں کے وہاں زرعی فارم ہیں۔ مسلمانوں کی ضرورت کے لئے ٹالہی میں مرکز ختم نبوت کی ضرورت ہے۔ جس کے لئے کنری پاک سندھ کی مجلس کو کچھ نقد امداد کی ضرورت ہے تاکہ ایک مسجد، درس
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گاہ اور دفتر مجلس ٹالہی میں تعمیر کراسکیں۔ منتظمہ نے مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کو ۲۰۰۰۰۰ روپے مذکورہ ضروریات کے لئے دینے کی منظوری دی۔
امداد ژوب: ژوب کی جماعت نے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے ملحقہ پلاٹ ۲۵۰۰۰۰ روپے کا خریدا ہے۔ بنات کا مدرسہ تعمیر کریں گے۔ جماعت ژوب کو اس سلسلہ میں ۵۰۰۰۰ روپے بذریعہ حاجی محمد اکبر ناظم مجلس ختم نبوت دینے کی منظوری دی گئی۔
فقط خادم حسن محمد خاں
(۱۰۱ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔ مؤرخہ ۲؍ مارچ ۲۰۰۶ء، مطابق یکم؍ صفر الخیر ۱۴۲۷ھ، بروز : جمعرات منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد، (۲) مولانا فیض احمد، (۳) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۴) مولانا عبدالمجید ندیم شاہ، (۵) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۶) مولانا سعید احمد جلال پوری، (۷) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۸) مولانا نورالحق نور، (۹) مولانا عبدالرؤف، (۱۰) مولانا عبدالواحد، (۱۱) مولانا انوار الحق حقانی، (۱۲) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۱۳) مولانا قاری خلیل احمد، (۱۴) حاجی بلند اختر نظامی، (۱۵) حاجی سیف الرحمن، (۱۶) حاجی فیض احمد، (۱۷) صاحبزادہ عزیز احمد، (۱۸) حافظ محمد یوسف عثمانی، (۱۹) صوفی ریاض الحسن گنگوہی، (۲۰) حاجی اشتیاق احمد، (۲۱) میاں خان محمد سرگانہ، (۲۲) حکیم قاری محمد یونس، (۲۳) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۴) مولانا اللہ وسایا، (۲۵) مولانا بشیر احمد، (۲۶) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۷) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم دس بجے صبح تشریف لائے۔ تشریف آوری کے بعد اجلاس شروع ہوا۔
تلاوت: جناب حافظ محمد یوسف عثمانی کی تلاوت قرآن کریم سے اجلاس کا آغاز ہوا۔
نوٹ: حضرت والا دامت برکاتہم کی انتہائی نقاہت طبع کے باعث اجلاس کے بہت مختصر کرنے کی شرکاء سے درخواست کی گئی اور عرض کیا گیا کہ ایجنڈا کی تفصیلات کمپوز شدہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اسے مطالعہ کرتے جائیں اور زیر بحث امور کو بہ عجلت نمٹاتے جائیں۔ شکریہ!
دعائے مغفرت: گزشتہ سال کے فوت شدہ، احباب، کارکنان خاص طور پر مجلس کے دو مبلغین اور عام اہل اسلام کے لئے حضرت اقدس دامت برکاتہم نے دعاء مغفرت فرمائی۔ خصوصی نام درج ذیل ہیں:
مولانا حضرت گل بنوں ۱۹؍ ربیع الاوّل ۱۴۲۶ھ ۹؍ اپریل ۲۰۰۵ء مولانا قاری محمد امین راولپنڈی ۱۰؍ جمادی الثانی ۱۴۲۶ھ ۱۷؍ جولائی ۲۰۰۵ء مولانا سید محمد امین گیلانی شیخوپورہ ۲۷؍ جمادی الثانی ۱۴۲۶ھ ۳؍ اگست ۲۰۰۵ء مولانا حافظ احمد بخش شجاع آبادی ۱۶؍ رجب المرجب ۱۴۲۶ھ ۲۲؍ اگست ۲۰۰۵ء مولانا خدا بخش شجاع آبادی ۲۵؍ شعبان المعظم ۱۴۲۶ھ ۲۹؍ ستمبر ۲۰۰۵ء مولانا نعیم امجد سلیمی کراچی ۲۰؍ شوال المکرم ۱۴۲۶ھ ۲۴؍ نومبر ۲۰۰۵ء
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قاری محمد صدیق فیصل آباد ۴؍ ذیقعدہ ۱۴۲۶ھ ۷؍ دسمبر ۲۰۰۵ء قاری نور الحق قریشی ملتان ۸؍ ذیقعدہ ۱۴۲۶ھ ۱۱؍ دسمبر ۲۰۰۵ء مولانا محمد شریف احرار گجرات
کارروائی گزشتہ اجلاس شوریٰ اور کارروائی گزشتہ اجلاس ہائے منتظمہ کا خلاصہ کمپوز شدہ پڑھ کر سنایا گیا۔ اراکین کی تائید وتصویب کے بعد حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط کئے۔
ڈنمارک کے اخبار ڈینش کی جانب سے شانِ رسالت میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد تمام اسلامی ممالک میں خاص طور پر پاکستان میں زبردست احتجاجی ردعمل ہوا۔ یہ احتجاج انفرادی وابستگیوں سے بالاتر عام مسلمانوں کی طرف سے حضور ﷺ سے گہری عقیدت ومحبت کی بناء پر مسلسل ہورہا ہے۔ عالمی مجلس کے کوئٹہ، پشاور، کراچی، ملتان، بہاول پور، بہاول نگر، مانسہرہ، ایبٹ آباد کے رفقاء کرام نے ان شہروں میں ہڑتال، جلوس اور مظاہروں کا اہتمام کیا۔ دیگر شہروں میں حرمت شان رسالت کے عنوان سے سیرت کانفرنسیں کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ کی شر انگیز سازشوں سے اپنے محبوب پیغمبر کے ناموس کی حفاظت کی توفیق پوری امت کو نصیب فرمائیں۔
طے ہوا کہ مدرسہ ختم نبوت کنگنی والا (سرفراز کالونی) گوجرانوالہ کا نظم ہر حال میں درست کیا جائے۔ گزشتہ سال کا حساب جناب حافظ محمد ثاقب صاحب، جناب عبد الوحید صاحب حسب وعدہ تیار کریں اور آئندہ نئی رسید بکیں استعمال کی جائیں۔
مسلم کالونی چناب نگر میں اجراء درجہ کتب کی تجویز پر شیخ الحدیث مولانا عبد المجید لدھیانوی نے فرمایا کہ تجویز بہت اچھی ہے۔ اس پر تو کوئی اشکال ہو ہی نہیں سکتا۔ البتہ اجراء بتدریج کریں اور کلاس اعدادیہ سے آغاز کریں۔ پھر اسی کلاس کو اوپر لے جائیں۔ مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق صاحب اسکندر نے کچھ وضاحت کے ساتھ تائید فرمائی۔ حاضرین نے نئے سال شوال المکرم ۱۴۲۷ھ سے کلاس اعدادیہ سے اجراء درجہ کتب کی منظوری دی۔
فقیر خان محمد غفرلہ
(۱۰۲ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔
مؤرخہ ۲۰؍ جون ۲۰۰۶ء، مطابق ۲۳؍ جمادی الاول ۱۴۲۷ھ، بروز: منگل منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۳) مولانا اللہ وسایا، (۴) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۵) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۶) مولانا بشیر احمد، (۷) صاحبزادہ عزیز احمد۔
کوئٹہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پورے صوبہ بلوچستان میں مجلس کے مقاصد کے لئے کام کرتی ہے۔ محل وقوع کے اعتبار سے بلوچستان میں مقامی سطح پر ہر جگہ تشکیل جماعت ناممکن ہونے کی وجہ سے کوئٹہ میں ۱۱؍ افراد پر مشتمل وسیع جماعت صوبائی حیثیت سے تشکیل دی گئی ہے۔ اس کی اجلاس ہذا میں توثیق کی گئی۔
مدرسہ دار الہدیٰ چوک پرمٹ میں درجہ حفظ کے مقیم بچے ۸۰ سے زائد ہیں۔ جو برآمدہ میں کھانا کھاتے ہیں۔ مطعم کی اشد ضرورت ہے۔ چنانچہ طلباء کے لئے 16x30 کے مطعم تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی۔
فقیر خان محمد غفرلہ
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱۰۳ واں) اجلاس جنرل کونسل
اجلاس مرکزی جنرل کونسل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔ مؤرخہ ۲۲؍ ستمبر ۲۰۰۶ء، مطابق ۲۸؍ شعبان المعظم ۱۴۲۷ھ، بروز: جمعۃ المبارک منعقد ہوا۔ زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔ ۲۸۶؍ اراکین عمومی نے شرکت کی۔ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر مرکزیہ اور سید نفیس الحسینی نائب امیر منتخب ہوئے۔ فقیر سید نفیس الحسینی
(۱۰۴ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔ مؤرخہ ۲۱؍ فروری ۲۰۰۷ء، مطابق ۲؍ صفر الخیر ۱۴۲۸ھ، بروز: بدھ منعقد ہوا۔ زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔ شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد، (۲) سید نفیس الحسینی صاحب دامت برکاتہم، (۳) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۴) مولانا فیض احمد، (۵) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۶) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، (۷) مولانا سعید احمد جلال پوری، (۸) مولانا احمد میاں حمادی، (۹) مولانا عبدالواحد، (۱۰) مولانا انوار الحق، (۱۱) مولانا مفتی شہاب الدین، (۱۲) مولانا نور الحق نور، (۱۳) قاری خلیل احمد، (۱۴) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۱۵) مولانا عبدالرؤف، (۱۶) صاحبزادہ عزیز احمد، (۱۷) حاجی سیف الرحمن، (۱۸) حاجی فیض احمد، (۱۹) حاجی بلند اختر، (۲۰) حافظ نذیر احمد، (۲۱) حافظ محمد یوسف، (۲۲) حاجی اشتیاق احمد، (۲۳) حکیم محمد یونس، (۲۴) میاں خان محمد سرگانہ، (۲۵) صوفی ریاض الحسن گنگوہی، (۲۶) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۷) مولانا اللہ وسایا، (۲۸) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۹) مولانا بشیر احمد، (۳۰) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۳۱) مولانا امان اللہ خالدی، (۳۲) مولانا مفتی محمد بن جمیل، (۳۳) مولانا مفتی خالد محمود، (۳۴) قاری عبدالرحیم رحیمی، (۳۵) مولانا مفتی ظفر اقبال، (۳۶) حاجی تاج محمد۔ (نوٹ: نمبر ۳۱ تا ۳۶ کے شرکاء کی شرکت اعزازی تھی)
پہلی نشست صبح گیارہ بجے خانقاہ شریف کے تسبیح ہال میں منعقد ہوئی۔
کارروائی کا آغاز مولانا قاری انوار الحق حقانی کی تلاوت سے ہوا۔
تعزیت: ایڈیٹر لولاک صاحبزادہ طارق محمود اور دیگر فوت شدگان کے لئے حضرت اقدس دامت برکاتہم نے دعائے مغفرت کرائی۔
خواندگی گزشتہ کارروائی: گزشتہ اجلاس شوریٰ منعقدہ صفر الخیر ۱۴۲۷ھ، اجلاس مجلس عمومی منعقدہ ۲۸؍ شعبان ۱۴۲۷ھ اور کارروائی گزشتہ اجلاس منتظمہ منعقدہ شوال المکرم ۱۴۲۷ھ۔
تینوں اجلاسوں کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ طے شدہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ اراکین کی تصویب و تائید کے بعد حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط کئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تجدید مالیاتی کمیٹی: مجلس کے سہ سالہ انتخابات کے بعد مجلس کی نئی شوریٰ اور نئی منتظمہ کا یہ پہلا اجلاس ہے۔ اجلاس میں سابقہ مالیاتی کمیٹی کی تجدید کی گئی۔
دستور مجلس: مجلس تحفظ ختم نبوت کے دستور کو دوبارہ شائع کرنے کی اجازت دی گئی۔ نئے دستور میں مجلس منتظمہ کے عہدے داروں کے عنوانات درج ذیل ہوں گے۔
امیر مرکزیہ، نائب امیر مرکزیہ، ناظم اعلیٰ، ناظم مالیات، ناظم تبلیغ، ناظم نشر و اشاعت، ناظم دفتر۔
نئے دستور میں اضافہ: امیر مرکزیہ ہنگامی ضرورت کے تحت ناظم عمومی کا تقرر کر سکیں گے جو ان کی ہدایات پر عمل کر سکے گا۔ یہ تقرر عارضی اور وقتی ہوگا۔
تبلیغی رپورٹ: اجلاس میں سال گزشتہ کی مختصر تبلیغی رپورٹ پیش کی گئی کہ مقامی مبلغین کے حلقہ ہائے تبلیغ میں ہر ماہ مربوط نظم کے تحت ۲۰ سے زائد تبلیغی پروگرام رکھے جاتے ہیں۔ جن میں مقامی علماء کے علاوہ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اکرم طوفانی میں سے کسی ایک کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔ رات کو جلسہ عام ہوتا ہے۔ بعد نماز ظہر یا بعد نماز عصر کسی اہم دینی مدرسہ میں فتنہ قادیانیت سے متعلق درس ہوتا ہے۔ جن کے لئے باقاعدہ اشتہار دعوت نامہ شائع کیا جاتا ہے۔
- ۲...... ردقادیانیت پر لٹریچر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔
- ۳...... کتب رد قادیانیت، تحفہ، احتساب، شبہات وغیرہ بھی اعزازی طور پر حسب ضرورت و گنجائش تقسیم کی جاتی ہے۔
- ۴...... مسلم کالونی چناب نگر میں میٹرک پاس یا رابعہ پاس سکول و مدارس کے طلباء کو ۲۵ روزہ کورس رد قادیانیت کرایا جاتا ہے۔ شرکاء کو
وظیفہ اور کتب رد قادیانیت دی جاتی ہیں۔
- ۵...... ضلع اور صوبہ کی سطح پر سالانہ کانفرنس ہائے ختم نبوت منعقد کی جاتی ہے۔
- ۶...... مرکزی مبلغین اور مقامی مبلغین مدارس عربیہ کے سالانہ جلسوں میں شرکت کر کے مسئلہ ختم نبوت اور مسئلہ ظہور امام مہدی اور مسئلہ
نزول مسیح اور فتنہ قادیانیت اور رونما ہونے والے فتنوں کے متعلق خطاب کرتے ہیں۔
جدید مبلغین: فضلاء مدارس عربیہ کو فتنہ قادیانیت کی تفصیلاً تربیت دینے کے لئے شوال المکرم تا ذی الحجہ دفتر مرکزیہ ملتان ہر سال سہ ماہی کورس رد قادیانیت رکھا جاتا ہے۔ شرکاء کو ماہانہ ۱۰۰۰ روپے وظیفہ اور کتب رد قادیانیت دی جاتی ہیں۔ اس سال ۱۶ فضلاء نے شرکت کی۔ ان میں سے تین فضلاء کو مجلس کے شعبہ تبلیغ میں شامل کیا گیا۔ ان جدید مبلغین کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔
- ۱...... مولانا محمد زاہد وسیم...... فاضل جامعہ خیر المدارس سال ۱۴۲۷ھ...... بستی استرانہ شمالی ڈیرہ اسماعیل خان۔
- ۲...... مولانا محمد قاسم...... فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور سال ۱۴۲۷ھ...... چک نمبر ۱۱۷۔ ٹی .ڈی .اے لیہ۔
- ۳...... مولانا محمد عارف...... فاضل دارالعلوم کبیر والا سال ۱۴۲۷ھ...... موضع کوٹ اترا سیال والا لودھراں۔
حلقہ تبلیغ: اجلاس میں بتایا گیا کہ ان جدید مبلغین کو طرز تبلیغ اور انتظامی امور سے واقفیت کرانے کے لئے تین ماہ قدیم مبلغین کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ تین ماہ بعد راولپنڈی، گوجرانوالہ، کوئٹہ، بدین اور لاہور مستقل طور پر بھیج دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ!
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تعلیم القرآن: مجلس کے زیر اہتمام آٹھ مقامات پر شعبہ ہائے تعلیم القرآن قائم ہیں اور تین مساجد میں مجلس کی طرف سے خطیب مقرر ہیں۔ مسلم کالونی میں شعبہ کتب ، مسلم کالونی میں شعبہ پرائمری مسلم کالونی میں شعبہ بنات قائم ہے۔ مسلم کالونی میں مقیم طلباء کی حاضری ۱۵۰ اور چوک پرمٹ میں مقیم طلباء کی حاضری ۹۰ ہے۔ ان دونوں مقامات پر طلباء کے لئے کھانا اور ناشتہ کا بہت عمدہ انتظام ہے۔
امتناع قادیانیت آرڈیننس میں ترمیم کا خطرہ: حکومت قانون تحفظ ناموس رسالت میں ترمیم کر کے اسے غیر مؤثر بنا چکی ہے۔ چند روز قبل حدود آرڈیننس میں تحفظ حقوق نسواں کا شور مچا کر عریانی وفحاشی اور بدکاری کی اجازت دے چکی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ پرویز حکومت امتناع قادیانیت آرڈیننس ۱۹۸۴ء میں ترمیم لا کر اسے غیر مؤثر کرنے کے عزائم رکھتی ہے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحفظ کے سلسلہ میں طے ہوا کہ تحصیل اور ضلع کی سطح پر مسلسل کانفرنسیں رکھی جائیں اور رائے عامہ کو بیدار کیا جائے۔ اخباروں میں مضامین اور جلسوں میں قراردادیں منظور کی جائیں کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس میں حکومت ترمیم سے باز رہے اور پیش بندی کے طور پر اس خطرے سے مسلمان پہلے سے آگاہ ہوں اور بوقت ضرورت احتجاج میں پیش پیش ہوں۔
مجلس منتظمہ میں دو مبلغین کی نمائندگی: ناظم تبلیغ عالمی مجلس کی اس تجویز کو منظور کیا گیا کہ آئندہ اجلاس ہائے منتظمہ میں دو مبلغین مولانا قاضی احسان احمد مبلغ حلقہ کراچی اور مولانا عزیز الرحمن ثانی مبلغ حلقہ لاہور شریک ہوا کریں گے۔ تبلیغی امور اور مبلغین کے مسائل کی وضاحت اور نمائندگی ان کے سپرد ہوگی۔ اس طرح دونوں کی انتظامی صلاحیتیں ابھریں گی اور آئندہ تبلیغ کے ساتھ ساتھ انتظامی امور بھی سنبھال سکیں گے۔
دفتر عالمی مجلس گوجرانوالہ کی مرمت وتزئین: دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کی مرمت وتزئین قدیم دفتر اندرون سیالکوٹی گیٹ متروکہ خرید کردہ بالاخانہ پر واقع ہے۔ بالاخانہ کہنہ اور بوسیدہ ہوچکا ہے۔ جسے جدید وقف پلاٹ سرفراز کالونی میں شفٹ کرنا ہے۔ جہاں عمارت حافظ نذیر احمد صاحب نے تعمیر کرا رکھی ہے۔ پلستر ، رنگ وروغن کے لئے مقامی جماعت کو ۵۰۰۰۰ روپے دینے کی منظوری دی گئی۔
فقط خادم حسن محمود غفرلہ
(۱۰۵واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔ مؤرخہ ۲۴؍جنوری ۲۰۰۸ء ، مطابق ۱۴؍محرم الحرام ۱۴۲۹ھ، بروز: جمعرات منعقد ہوا۔
زیر صدارت: صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم ۔
تلاوت: مولانا محمد اکرم طوفانی ۔
شرکاء: (۱) صاحبزادہ عزیز احمد، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۳) مولانا اللہ وسایا، (۴) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۵) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۶) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۷) مولانا قاضی احسان احمد ۔
- ۱...... ملک میں قادیانیوں کے تشویشناک حد تک بڑھتے ہوئے اثرات ، ان کی تبلیغی سرگرمیاں ، اس کے تدارک کے لئے ممکنہ تدابیر
بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے یہ طے ہوا کہ شہروں میں علماء سے رابطہ کو منظم کیا جائے ۔ علماء کی ماہانہ میٹنگ رکھی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جائے۔ علماء خطبہ جمعہ میں خصوصیت سے قادیانی عقائد بیان کریں۔ عوام کو قادیانیت کے فتنہ سے باخبر کریں۔ مدارس عربیہ میں ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کے عقائد پر پروگرام رکھے جائیں۔ قادیانی عقائد پر مشتمل کلینڈر شائع کئے جائیں۔ سکول اور کالج کے اساتذہ کو لٹریچر فراہم کیا جائے۔
- ۲ ...... لٹریچر، اسٹیکرز وافر مقدار میں لاہور سے چھپوائے جائیں۔ اسٹیکر مبلغین کی میٹنگ میں جو تجویز ہوئے ہیں وہ تمام چھاپ لئے
جائیں۔ لٹریچر میں:
- (۱) غور فرمائیے ایک لاکھ
- (۲) عاشقان چالیس ہزار
- (۳) محبت رسول کے تقاضے چالیس ہزار
”فرق“ اور ”المہدی والمسیح“ کی تلخیص مولانا محمد راشد مدنی کریں اور مولانا اللہ وسایا کی نظر ثانی کے بعد چھاپ دیئے جائیں۔
- ۳ ...... اجلاس مجلس شوریٰ خانقاہ شریف میں ہوگا۔ تاریخ کا تعین حسابات آڈٹ ہونے پر کیا جائے گا۔ حسب ضابطہ ۱۵، ۱۶ یوم پہلے
اراکین شوریٰ کو اطلاع کر دی جائے گی۔ دعوت نامہ اجلاس، مشورہ سے بھیجا جائے گا۔
- ۴ ...... سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملتان کے لئے ۴ ربیع الثانی ۱۴۲۹ھ / ۱۱ اپریل ۲۰۰۸ء اجلاس مبلغین میں تجویز کی گئی ہے۔ انتظامات
کے لئے سینئر مبلغین پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو سارے انتظامات کرے گی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مقررین سے وقت لیں گے۔
- ۵ ...... گمبٹ میں تعمیر مسجد خاتم النبیین کے لئے عالمی مجلس گمبٹ کو ۲۵۰۰۰۰ روپے دے دیئے جائیں۔
عالمی مجلس گمبٹ نے دفتر مجلس، تعلیم القرآن اور جماعتی اجتماع کے لئے برلب سڑک پلاٹ خرید کر مسجد خاتم النبیین کے نام سے ہال، برآمدہ، وضوخانہ پورے پلاٹ کی چار دیواری، مین گیٹ تک تعمیر کا کام مکمل کر لیا ہے اور اس کے تمام اخراجات مقامی وسائل اور ذرائع سے مہیا کئے۔ جماعت کی حسن کارکردگی کے پیش نظر انہیں مذکورہ رقم تکمیل کام کے لئے دینا منظور کیا گیا۔
- ۶ ...... تعمیر مسجد ختم نبوت ٹالہی جسے عالمی مجلس کنری سندھ تعمیر کروا رہی ہے۔ ٹالہی کا علاقہ قادیانیت کا گڑھ ہے۔ ٹالہی میں اپنے حلقہ کی
مسجد نہ ہونے کی بناء پر جماعت کنری نے اس کی تعمیر شروع کی۔ جماعتی عہدیداروں نے کراچی اور بیرون پاکستان سے اپنے رشتے داروں سے معاونت حاصل کی۔ اب یہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ دروازے، ونڈو، گیٹ، پلستر ان ضروریات کے لئے جماعت کنری کو مسلم بینک اکاؤنٹ عالمی مجلس کے نام مبلغ ۲۰۰۰۰۰ روپے بھجوانے کی منظوری دی۔
- ۷ ...... تعمیر ہال دفتر عالمی مجلس رحیم یار خان مرکز کی طرف سے تعمیر کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل تقریباً ۷۰۰۰۰ روپے خرچ ہوچکا ہے۔
پلستر اور فرش کا کام باقی ہے۔ اس کے لئے مولانا قاضی عزیز الرحمٰن رکن مجلس شوریٰ کے فرمان پر ۵۰۰۰۰ روپے بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا۔
رد قادیانیت کورس مسلم کالونی: شعبان ۱۴۲۸ھ میں ۲۵ روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ ۲۵۰ سے زائد طلباء نے شرکت کی۔ کھانا، ناشتہ کے ساتھ وظیفہ، کتب رد قادیانیت، سٹیشنری مجلس کی طرف سے دی گئیں۔ مجموعہ اخراجات ۵۲۱۵۲۳ روپے ہوئے۔ تفصیلات اجلاس منتظمہ میں پیش ہوئیں۔ حسن کارکردگی کی تحسین کے ساتھ اخراجات کی منظوری دی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالانہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی : شوال ۱۴۲۸ھ کے دوسرے عشرہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی خصوصیت یہ کہ قادیانیت کا گڑھ ہونے کے باعث چاروں صوبوں سے کثیر تعداد میں مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس کانفرنس کے موقعہ پر ہر دو یوم اعزازی کھانے کا اہتمام مرکز کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ کانفرنس کی اہمیت کے پیش نظر حضرت اقدس امیر مجلس دامت برکاتہم انتہائی نقاہت کے باوجود تشریف لائے۔ اس کے مجموعی مصارف ۵۰۱۴۶۴ روپے ہیں۔
(۱۰۶واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۴؍مئی ۲۰۰۸ء، مطابق ۲۷؍ربیع الثانی ۱۴۲۹ھ، بروز: اتوار منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد، (۲) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۳) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۴) مولانا سعید احمد جلال پوری، (۵) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، (۶) مولانا عبدالرؤف، (۷) مولانا مفتی شہاب الدین، (۸) مولانا نور الحق نور، (۹) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۱۰) مولانا خلیل احمد، (۱۱) مولانا عبدالواحد، (۱۲) مولانا انوار الحق، (۱۳) مولانا احمد میاں حمادی، (۱۴) حاجی سیف الرحمن، (۱۵) حاجی فیض احمد، (۱۶) حافظ نذیر احمد، (۱۷) حافظ محمد یوسف عثمانی، (۱۸) مولانا اللہ وسایا، (۱۹) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۰) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۱) مولانا بشیر احمد، (۲۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۳) مولانا قاضی احسان احمد، (۲۴) مولانا فقیر اللہ اختر، (۲۵) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۲۶) مولانا مفتی خالد محمود، (۲۷) صاحبزادہ سعید احمد، (۲۸) صاحبزادہ رشید احمد، (۲۹) جناب عبدالوحید، (۳۰) جناب عبدالرؤف، (۳۱) مولانا مفتی ظفر اقبال، (۳۲) جناب عبدالرحمن، (۳۳) جناب غلام نبی، (۳۴) جناب حاجی اشتیاق احمد۔ (نوٹ: نمبر ۲۶ سے آخر تک سب حضرات کی شرکت اعزازی تھی)
مخدوم المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے انتہائی نقاہت کے باوجود اجلاس شوریٰ ملتان رکھنے اور خود ملتان تشریف آوری کے عزم کا اظہار فرمایا۔
حضرت والا ۲؍مئی ۲۰۰۸ء مطابق ۲۵؍ربیع الثانی ۱۴۲۹ھ بروز جمعۃ المبارک فوکر جہاز سے ملتان تشریف لائے۔ ۳ یوم قیام رہا۔
تلاوت: آغاز اجلاس شوریٰ دفتر مرکزیہ ملتان میں صبح ۸ بجے حافظ محمد یوسف عثمانی کی تلاوت سے کیا گیا۔
دعاء مغفرت: گزشتہ سال پاکستان کے مذہبی حلقوں کے لئے انتہائی ابتلاء و آزمائش کا سال رہا۔ دہشت گردی کے نام پر مذہبی حلقوں کی تحقیر و تذلیل کے ہولناک واقعات پیش آئے۔ ان میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا واقعہ انتہائی المناک ہے۔ جس میں تین ہزار سے زائد معصوم طلباء اور طالبات شہید ہوئے۔ ناموس رسالت کے حوالے سے حضور علیہ السلام کے توہین آمیز خاکوں سے پوری امت مسلمہ کے دل پارہ پارہ ہوئے۔ عالمی مجلس کے نائب امیر مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب اور دیگر بہت سی علمی روحانی شخصیات اس عالم فانی کو خیر باد کہتے ہوئے ہم سے جدا ہوگئیں۔ ان واقعات و صدمات پر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مرحومین اور امت مسلمہ کے لئے خصوصی دعاء فرمائی۔ مرحومین کے چیدہ چیدہ نام درج ذیل ہیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱) مولانا سید نفیس الحسینی شاہ لاہور (۵/فروری ۲۰۰۸ء)، (۲) مولانا صوفی عبدالحمید سواتی گوجرانوالہ (۲۱/جنوری ۲۰۰۷ء)، (۳) مولانا سید نصیب علی بنوں (۲۱/جنوری ۲۰۰۷ء)، (۴) مولانا محمد عبداللہ (۱۶/دسمبر ۲۰۰۶ء)، (۵) مولانا سید محمد امین شاہ مخدوم پور (۲۶/اکتوبر ۲۰۰۷ء)، (۶) مولانا عبدالحی لاہور (۴/جون ۲۰۰۷ء)، (۷) مفتی غلام قادر خیر پور ٹامیوالی (۴/جولائی ۲۰۰۷ء)، (۸) مولانا شفیق الرحمن خان پور (۲۴/اگست ۲۰۰۷ء)، (۹) مولانا محمد اشرف شادمان کوٹ (۱۶/فروری ۲۰۰۸ء)، (۱۰) مولانا کریم بخش علی پور (۱۹/ستمبر ۲۰۰۷ء)، (۱۱) صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد (۱۲/ستمبر ۲۰۰۶ء)، (۱۲) مولانا محمد اختر صدیقی کمالیہ (۲۹/اکتوبر ۲۰۰۷ء)، (۱۳) مولانا سید کوثر حسین احمد پور سیال (۲۷/جنوری ۲۰۰۸ء)، (۱۴) قاری محمد اکمل ہاشمی رحیم یار خان (۱۸/فروری ۲۰۰۸ء)، (۱۵) حافظ عبدالرشید چیچہ وطنی (یکم/جون ۲۰۰۷ء)، (۱۶) مولانا غازی عبدالرشید اسلام آباد (۳/جولائی ۲۰۰۷ء)، (۱۷) عامر چیمہ شہید گوجرانوالہ (۴/مئی ۲۰۰۶ء)، (۱۸) حافظ محمد حیات جابہ۔
اجلاس شوریٰ و منتظمہ: گزشتہ اجلاس شوریٰ ۲/صفر مطابق ۲۱/فروری ۲۰۰۷ء کو خانقاہ سراجیہ میں منعقد ہوا اور سابقہ اجلاس منتظمہ ۲۰/محرم ۱۴۲۹ھ کو ہوا۔ دونوں اجلاسوں کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ اراکین کی طرف سے تائید و توثیق کے بعد حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط کئے۔
علاقائی کانفرنسیں:
ختم نبوت کانفرنس سکھر ۱۶/مئی ۲۰۰۸ء بروز: جمعتہ المبارک۔ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۱۷، ۱۸/مئی ۲۰۰۸ء بروز: ہفتہ، اتوار۔ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۲۰/جولائی ۲۰۰۸ء بروز: اتوار۔ ختم نبوت کانفرنس پشاور ۱۸/اگست ۲۰۰۸ء بروز: سوموار۔ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۳، ۲۴/اگست ۲۰۰۸ء بروز: جمعرات، جمعہ۔
مذکورہ مقامات پر امسال ان تاریخوں میں یہ کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔ ان شاء اللہ العزیز! جیسا کہ گزشتہ سال بھی بڑے اہتمام کے ساتھ یہ پروگرام منعقد ہوئے تھے۔ گزشتہ سال ”تحفظ ناموس رسالت“ کے اہم عنوان پر ہر ضلع اور تحصیل کے اہم اہم مقامات پر کانفرنسیں منعقد ہوئی تھیں۔ ایسا ہی اس سال بھی یہ کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں۔
جدید تقرریاں: دفتر مرکزیہ ملتان میں لولاک کے حسابات، اشاعت اور ترسیل کے جملہ امور کے لئے مولانا غلام رسول دین پوری کا تقرر یکم/صفر الخیر ۱۴۲۹ھ سے ہوا۔ مسلم کالونی کے درجہ حفظ میں قاری محمد عثمان کو مدرس رکھا گیا۔ یہ اس شعبہ میں پانچویں مدرس ہیں۔
جدید تعمیرات مسلم کالونی: جامع مسجد ختم نبوت و مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن مسلم کالونی کے بالمقابل بلاک نمبر بی مشتمل ۱۵ عدد پلاٹ ہیں۔ ان میں سے ۱۱ پلاٹ مجلس اس سے قبل خرید کر چکی ہے۔ بقایا ۴ پلاٹ کی خریداری کا اہتمام مولانا فقیر محمد سے کہہ کر فوری کر لیا جائے۔ موصوف ہاؤسنگ سوسائٹی جھنگ کے ڈائریکٹر سے ملاقات کر کے پلاٹوں کی تاریخ نیلامی رکھوائیں۔ اسی بلاک کے پلاٹ نمبر ۲ کی خریداری ہوچکی ہے۔ اس پلاٹ میں ڈبل سٹوری کے ۴ مکانات برائے اساتذہ کرام فوری تعمیر کر لئے جائیں۔ لیبر کا ٹھیکہ دے دیا جائے۔ میٹریل خود فراہم کیا جائے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا غلام مصطفیٰ تعمیرات کی باہم مشاورت سے نگرانی کرتے رہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تعمیر ہال دفتر رحیم یار خان : قدیم دفتر رحیم یار خان کے جانب شمال 12x35 مزید جگہ مل گئی ہے۔ جہاں 12x28 کا ہال زیر تعمیر ہے۔ دیواریں، گارڈر، ٹی آئرن کی چھت ڈال کر ہال تعمیر ہو چکا ہے۔ پلستر ، فرش، ملحقہ باتھ کا کام باقی ہے۔ جس کے لئے ۵۰۰۰۰ روپے دینے کی منظوری دی گئی۔ مولانا قاضی عزیز الرحمن رکن شوریٰ عالمی مجلس رحیم یار خان نے فرمایا کہ مصارف کا اہتمام مقامی طور پر بھی کر لیا جائے گا۔
تعمیر دفتر ومسجد ختم نبوت اٹک : فاروق اعظم کالونی گلی نمبر ۱۵ اٹک میں ۴ کنال کا ایک پلاٹ مجلس کو بطور عطیہ برائے مسجد و دفتر عرصہ ۱۲ سال سے ملا ہوا ہے۔ مسجد ختم نبوت کا ہال تیار ہو چکا ہے۔ عام لوگوں کی زیادہ دلچسپی اور رغبت مسجد کی طرف ہے۔ دفتر عالمی مجلس اٹک کی تعمیر کے لئے ۲۰۰۰۰۰ روپے دینے کی اجازت دی گئی۔ جناب مولانا ابراہیم الحسینی امیر عالمی مجلس اٹک کے نام کا ڈرافٹ بھجوا دیا جائے۔
آڈٹ رپورٹ : حسب سابق امسال بھی مجلس کے حسابات بابت سال ۱۴۲۸ھ عبدالستار اینڈ کمپنی نواں شہر ملتان سے کرائے گئے۔ آڈٹ رپورٹ اراکین مالیاتی کمیٹی جناب حاجی فیض احمد ، جناب حاجی سیف الرحمن اور صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کی موجودگی میں اجلاس شوریٰ میں پیش کی گئی۔ مدات اخراجات، مجموعہ مشاہرات، مجموعہ مجالس، مجموعہ تعلیم القرآن، مجموعہ سفر خرچ، مجموعہ عمومی اخراجات کے سالانہ گوشوارے پیش کئے گئے۔ پیش کردہ حسابات مطابق آڈٹ رپورٹ ہر طرح درست پائے گئے۔
نائب امیر مرکزیہ کی ذمہ داریوں کی تفویض : سید السادات مخدومنا ومکرم شیخ طریقت سید انور حسین نفیس الحسینی کی وفات کے بعد شوریٰ عالمی مجلس کے پہلے اجلاس میں نائب امیر مرکزیہ کے مبارک منصب کے لئے تمام اراکین نے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب رکن شوریٰ کا نام نامی تجویز کیا۔ قدرے منکسرانہ تأمل کے بعد حاضرین کی تجویز کو قبول فرما لیا گیا۔ فیضان حسن مصطفیٰ
(۱۰۷ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔ مؤرخہ ۱۳؍ اپریل ۲۰۰۹ء، مطابق ۱۶؍ ربیع الثانی ۱۴۳۰ھ، بروز: سوموار منعقد ہوا۔
زیر صدارت : امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء : (۱) مولانا خواجہ خان محمد ، (۲) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۳) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ، (۴) مولانا سعید احمد جلال پوری، (۵) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، (۶) مولانا عبدالرؤف، (۷) مولانا نور الحق نور، (۸) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۹) مولانا قاری خلیل احمد ، (۱۰) مولانا عبدالواحد، (۱۱) مولانا انوار الحق حقانی، (۱۲) مولانا احمد میاں حمادی، (۱۳) صاحبزادہ عزیز احمد ، (۱۴) حافظ محمد یوسف عثمانی، (۱۵) حاجی فیض احمد ، (۱۶) حاجی سیف الرحمن ، (۱۷) حافظ نذیر احمد ، (۱۸) صوفی ریاض الحسن گنگوہی، (۱۹) حاجی اشتیاق احمد ، (۲۰) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۱) مولانا اللہ وسایا، (۲۲) مولانا بشیر احمد ، (۲۳) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۴) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۵) جناب رانا محمد انور، (۲۶) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۲۷) مولانا قاضی احسان احمد ، (۲۸) مولانا محمد راشد مدنی، (۲۹) مولانا فقیر اللہ اختر ، (۳۰) مولانا خلیل احمد ، (۳۱) صاحبزادہ سعید احمد ، (۳۲) صاحبزادہ عزیز الرحمن رحمانی کراچی، (۳۳) مولانا محمد طیب لدھیانوی، (۳۴) مولانا یحییٰ لدھیانوی، (۳۵) مولانا عزیز الرحمن فیصل آباد، (۳۶) آغا سعید محمد، (۳۷) مولانا مفتی محمد ، (۳۸) مولانا مفتی خالد محمود، (۳۹) صاحبزادہ نجیب احمد ۔ (نوٹ: اس میں بہت سارے
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرات کو اعزازی طور پر شرکت کی اجازت دی گئی)
آغاز کارروائی: جناب حافظ محمد یوسف عثمانی کی تلاوت سے کیا گیا۔
دعاء مغفرت: سال گزشتہ میں وفات پانے والے مجلس کے اراکین شوریٰ، علماء اور عام مسلمانوں کے لئے حضرت الامیر مرکزیہ نے پر سوز دعائے مغفرت فرمائی۔ مرحومین کے چیدہ چیدہ نام درج ذیل ہیں: (۱) شیخ الحدیث مولانا فیض احمد ملتان، (۲) شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید انور ساہیوال، (۳) جناب قاری محمد طاہر رحیمی مدینہ منورہ، (۴) جناب حاجی بلند اختر نظامی لاہور، (۵) جناب حاجی قاری محمد یونس، (۶) جناب قاری محمد اسماعیل جوہر آباد، (۷) آغا سید شاہ محمد کوئٹہ، (۸) جناب حاجی معراج دین ملتان، (۹) میاں عبدالواحد کنری۔
توثیق کارروائی: مولانا اللہ وسایا صاحب نے گزشتہ اجلاس شوریٰ کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط ثبت فرمائے۔
تبلیغی رپورٹ: مجلس تحفظ ختم نبوت کے تبلیغی نظام کا اہم حصہ ڈویژنوں یا ضلعی حلقوں میں حضرات مبلغین کا تقرر ہے۔ اس وقت مجلس کے ۳۲ مبلغین ہیں، جن کا اولین مقصد فتنہ قادیانیت سے مسلمانوں کو باخبر رکھنا ہے اور قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کا تعاقب کرتا ہے اور اس مقصد کے لئے اپنے حلقہ میں ہونے والے دینی اجتماعات میں شرکت کر کے مسئلہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا ..... مزید برآں رد قادیانیت سے آگاہی کا لٹریچر فری تقسیم کرنا ، مسلم قادیانی تنازع میں مسلمانوں کی مدد کرنا ، اپنے حلقہ میں رد قادیانیت کی تربیتی نشستیں اور کانفرنس ہائے ختم نبوت کا انعقاد کرنا اور علمی حلقوں میں کتب رد قادیانیت کا تعارف کرانا علماء کو کتب رد قادیانیت کے مطالعہ کی ترغیب دینا شامل ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈویژن سطح کی سالانہ ختم نبوت کانفرنسیں، چناب نگر ، سرگودھا ، پشاور ، اسلام آباد ، لاہور ، ملتان ، بہاول پور ، رحیم یار خان ، سکھر ، حیدرآباد، کوئٹہ جیسے اہم اہم شہروں میں منعقد کرتی ہے اور جس میں اپنے حلقہ کے جید علماء کرام شرکت کرتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کثیر تعداد میں لٹریچر رد قادیانیت تقسیم کرتی ہے اور چناب نگر میں کورس رد قادیانیت ، ملتان میں سہ ماہی کورس رد قادیانیت ، مدارس دینیہ میں رد قادیانیت پر بیانات کا اہتمام کرتی ہے۔
شعبہ تعلیم وتدریس: مجلس کے زیر انتظام ۱۳ مقامات پر مدارس دینیہ درجہ حفظ ، درجہ ناظرہ ، درجہ کتب ، درجہ پرائمری ، درجہ بنات میں تعلیم وتعلم کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جن کا گوشوارہ بمعہ تفصیل مشاہرات درج ذیل ہے۔
خطباء: عائشہ مسجد نیو مسلم ٹاؤن لاہور ، مسجد ختم نبوت سرفراز کالونی گوجرانوالہ ، جامع مسجد چوک پرمٹ ، مسجد خاتم النبیین ٹالہی ، بخاری مسجد کنری۔ ان پانچ مساجد میں امام خطیب مجلس کی طرف سے ہے۔ مدرس درجہ قرآن کریم کا انتظام مقامی حلقہ نے کیا ہوا ہے۔
تعمیرات مسلم کالونی: بلاک بی۔۲ مسلم کالونی مشمولہ ۱۵ کنال کی خریداری از ہاؤسنگ سوسائٹی جھنگ اور تعمیر چار دیواری مکمل ہو چکی ہے۔ ڈبل سٹوری کے چار مکان اور درسگاہوں کی تعمیر منصوبہ کی تجویز پیش ہوئی۔ مجلس شوریٰ نے اس تعمیراتی منصوبہ کے لئے ایک کروڑ روپیہ کے فنڈ کی منظوری دی۔ اس عظیم تعمیراتی منصوبہ کے لئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جن کے نام درج ذیل ہیں۔
تعمیراتی کمیٹی کے ممبران: صاحبزادہ عزیز احمد، صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، میاں محمد عامر۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایجنڈا شق نمبر ۱۱: مجلس کے گزشتہ مرکزی انتخابات شوال ۱۴۲۷ھ میں ہوئے تھے۔ آئندہ مجلس کے مرکزی انتخابات حسب دستور شوال ۱۴۳۰ھ میں ہوں گے۔ آئندہ ہونے والے مجلس کے مرکزی انتخابات کے لئے بک ہائے ممبر شپ چھاپنے اور وسیع پیمانے پر ممبر شپ اور مقامی جماعتوں کی تشکیل، مرکزی نمائندگان کا چناؤ اس کے لئے محرم ۱۴۳۰ھ تا شعبان ۱۴۳۰ھ کا وقت مقرر کیا گیا۔ مرکزی انتخابات ۲۹، ۳۰؍ شوال ۱۴۳۰ھ سالانہ کانفرنس چناب نگر کے موقع پر ہوں گے۔
مجلس کے مرکزی انتخاب کا انعقاد: مجلس شوریٰ نے دستور مجلس کی دفعہ ۱۸ شق نمبر ۱۵ کے مطابق مجلس کے مرکزی انتخابات کے لئے سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر مؤرخہ ۲۵؍ شوال المکرم ۱۴۳۰ھ مطابق ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء بروز جمعۃ المبارک صبح ۱۰ بجے کا وقت تجویز کیا اور عہدہ امیر مرکزیہ کے لئے مخدوم و مکرم مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم اور عہدہ نائب امیر کے لئے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ کے بدستور اپنے اپنے عہدوں پر فائز رہ کر آئندہ تین سال از محرم الحرام ۱۴۳۱ھ تا ذی الحجہ ۱۴۳۳ھ کے دورانیہ میں کارکنان ختم نبوت کی سرپرستی کو خیر و برکت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اراکین مجلس عمومی سے درخواست کی کہ وہ ہر دو بزرگوں کے اسماء گرامی کی توثیق کریں۔
فقط خادم اللہ وسایا
(۱۰۸ واں) اجلاس مجلس عمومی
اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔
مؤرخہ ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء، مطابق ۲۵؍ شوال المکرم ۱۴۳۰ھ، بروز: جمعۃ المبارک منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
تلاوت: جناب قاری مشتاق الرحمن امیر عالمی مجلس قصور۔
- ۱...... حضرت امیر مرکزیہ انتہائی نقاہت اور ناسازی طبع کے باوجود سالانہ کانفرنس ختم نبوت اور اجلاس اراکین مجلس عمومی کی اہمیت کی
بناء پر خانقاہ شریف سے مسلم کالونی تشریف لائے۔
- ۲...... حضرت اقدس کی نقاہت اور کمزوری کے باعث اجلاس میں کسی بزرگ کا بیان نہ کرایا جاسکا۔
- ۳...... مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی نے حضرت امیر مرکزیہ کی ترجمانی کرتے ہوئے مقامی جماعتوں کے امراء اور اراکین مجلس عمومی سے
عہد لیا کہ وہ اپنی تمام توانائیاں حضور علیہ السلام کی عزت و ناموس کی حفاظت، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا بڑی حکمت عملی سے مقابلہ کریں گے۔
- ۴...... اس کے بعد مولانا اللہ وسایا نے آئندہ تین سال کے لئے مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی بطور امیر مرکزیہ عالمی
مجلس توثیق و تحسین کی قرارداد پیش کی جس کی حاضرین نے بڑے ولولہ سے تائید کی۔ یہ مختصر اجلاس نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرہ پر اختتام پذیر ہوا۔
- ۵...... شائقین کی ایک جماعت بیعت ہونے کی منتظر تھی۔ حضرت والا نے انہیں بیعت کیا اور پھر دعاء فرمائی۔ فالحمد للہ علی ذالک!
فقط خادم اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱۰۹ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔ مؤرخہ ۱۹؍ دسمبر ۲۰۰۹ء، مطابق ۲؍ محرم الحرام ۱۴۳۱ھ، بروز: ہفتہ منعقد ہوا۔ زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔ تلاوت: مولانا محمد اکرم طوفانی۔ شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد، (۲) صاحبزادہ عزیز احمد، (۳) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۴) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۵) مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، (۶) مولانا اللہ وسایا، (۷) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۸) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
حضرت اقدس دامت برکاتہم نے اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ منعقدہ ۱۶؍ ربیع الثانی ۱۴۳۰ھ بروز سوموار اور اجلاس مجلس عمومی منعقدہ ۲۵؍ شوال المکرم ۱۴۳۰ھ بروز جمعۃ المبارک ان دو اجلاسوں کی کارروائی پر توثیقی دستخط ثبت فرمائے۔
حضرت اقدس دامت برکاتہم نے ۲۵؍ شوال المکرم ۱۴۳۰ھ کو مجلس کے جدید انتخابات کے بعد آئندہ تین سال از محرم الحرام ۱۴۳۱ھ تا ذی الحجہ ۱۴۳۳ھ کے دورانیہ کے لئے اراکین مجلس منتظمہ اور اراکین مجلس شوریٰ کے سلسلہ میں مشاورت فرمائی۔
حضرت اقدس دامت برکاتہم نے مخدوم زادہ مولانا محمد سلیمان بنوری زید مجدہ کراچی، مولانا مفتی محمد حسن صاحب زید مجدہ امیر عالمی مجلس لاہور، مولانا قاری محمد یٰسین صاحب زید مجدہ بانی جامعہ دارالقرآن فیصل آباد ان ہر سہ حضرات کو رکن مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نامزد فرمایا۔
حضرت والا دامت برکاتہم نے آئندہ تین سال کے لئے درج ذیل حضرات کو رکن مجلس منتظمہ اور رکن مالیاتی کمیٹی نامزد فرمایا۔
- ۱...... مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب ناظم اعلیٰ
- ۲...... مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب ناظم
- ۳...... مولانا اللہ وسایا صاحب ناظم مالیات
- ۴...... مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب ناظم تبلیغ
- ۵...... مولانا عزیز الرحمن ثانی صاحب ناظم نشر و اشاعت
- ۶...... صاحبزادہ عزیز احمد صاحب رکن مالیاتی کمیٹی
- ۷...... مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی صاحب رکن مالیاتی کمیٹی
- ۸...... محترم جناب حاجی فیض احمد صاحب رکن مالیاتی کمیٹی
- ۹...... محترم جناب حاجی سیف الرحمن صاحب رکن مالیاتی کمیٹی
اجلاس منتظمہ میں طے پایا کہ حسب سابق عبدالستار اینڈ کمپنی ملتان سے حسابات ۱۴۳۰ھ ۱۵؍ ربیع الاول تک آڈٹ کرالئے جائیں۔ تا کہ ۲۰؍ ربیع الاول ۱۴۳۱ھ کے دورانیہ میں مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا جاسکے۔
فقیر عزیزالرحمن جالندھری
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱۱۰ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی۔
مؤرخہ ۲۴ / مارچ ۲۰۱۰ء، مطابق ۷ / ربیع الثانی ۱۴۳۱ھ، بروز: بدھ منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء : (۱) مولانا خواجہ خان محمد، (۲) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۳) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۴) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، (۵) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۶) مولانا نور الحق نور، (۷) مولانا عبدالواحد، (۸) مولانا انوار الحق حقانی، (۹) مولانا عبدالرؤف، (۱۰) مولانا محمد حسن، (۱۱) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۱۲) مولانا قاری خلیل احمد، (۱۳) صاحبزادہ عزیز احمد، (۱۴) مولانا خالد محمود، (۱۵) مولانا قاری محمد یٰسین، (۱۶) جناب میاں خان محمد سرگانہ، (۱۷) جناب حاجی اشتیاق احمد، (۱۸) جناب حافظ نذیر احمد، (۱۹) جناب حافظ محمد یوسف عثمانی، (۲۰) جناب رانا محمد انور، (۲۱) صوفی ریاض الحسن گنگوہی، (۲۲) حاجی سیف الرحمن، (۲۳) حاجی فیض احمد، (۲۴) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۵) مولانا اللہ وسایا، (۲۶) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۷) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۸) مولانا بشیر احمد، (۲۹) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۳۰) مولانا قاضی احسان احمد، (۳۱) مولانا محمد یحییٰ مدنی، (۳۲) صاحبزادہ عزیز الرحمن رحمانی، (۳۳) مولانا مفتی ظفر اقبال۔
تلاوت: مولانا قاری محمد یٰسین صاحب کی تلاوت سے کارروائی کا آغاز ہوا۔
دعاء مغفرت: مولانا سعید احمد صاحب جلال پوری تین رفقاء کرام کی شہادت پر پورا ہاؤس مغموم تھا۔ تعزیت کے بعد حضرت والا نے تمام مرحومین کے لئے مغفرت و ترقی درجات کی دعاء فرمائی۔
سابقہ کارروائی کی تصدیق: سابقہ اجلاس شوریٰ ، سابقہ اجلاس مجلس عمومی ، سابقہ اجلاس منتظمہ، تینوں اجلاسوں کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے تینوں کارروائیوں پر توثیقی دستخط ثبت کئے۔
تجدید انتخابات: شوال المکرم ۱۴۳۰ھ میں مجلس کے جدید انتخابات ہوئے ۔ نو منتخب عہدیداروں کا دورانیہ درج ذیل ہوگا۔
از: یکم محرم الحرام ۱۴۳۱ھ تا ذی الحجہ ۱۴۳۳ھ
شعبہ تبلیغ کی خدمات: شعبہ تبلیغ عالمی مجلس کی خدمات نہایت قابل قدر ہیں۔
تعمیرات مسلم کالونی: مدرسہ ختم نبوت و جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے بالمقابل مجلس نے ہاؤسنگ سکیم کے ایک ایک کنال کے ۱۴ پلاٹ نیلام عام میں خرید کر چار دیواری کرالی ہے۔ اب اس پر درس گاہیں اور طلباء کرام کی قیام گاہیں تعمیر ہونی ہیں۔ ابھی نقشہ جات کے کچھ مراحل باقی ہیں۔ جس کی منظوری کا انتظار ہے۔
رہائش گاہوں کی تعمیر کا آغاز: اسی بلاک میں پلاٹ نمبر ۲- بی - ۲ میں مجلس نے اساتذہ کی رہائش گاہوں کی تعمیر کے لئے خریدا ہوا ہے۔ نقشہ منظور شدہ ہے۔ اس پر فوری تعمیر شروع کرنی ہے۔ ۴ مکان گراؤنڈ فلور میں اور ۲ مکان فرسٹ فلور پر تعمیر کرنے ہیں۔ ان پلاٹوں پر تعمیرات کے لئے مجلس شوریٰ نے ایک کروڑ روپے کی پہلے سے منظوری دے رکھی ہے۔ اس رقم سے ان ۶ مکانوں کی تعمیر پر اندازاً تیس لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ مجلس شوریٰ نے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی اور اختیار دیا کہ ٹھیکہ لیبر یا یومیہ اجرت جیسے موقع سہولت ہو ہر طرح سے تعمیرات کرانے کی اجازت دی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نگرانی تعمیراتی کمیٹی کے سپرد کی گئی۔ جن کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں۔ (۱) جناب صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، (۲) جناب صاحبزادہ خلیل احمد صاحب، (۳) مولانا اللہ وسایا صاحب، (۴) جناب محمد عامر صاحب۔ فیضانِ حُسنِ مجسم ﷺ
(۱۱۱واں) اجلاس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔ مؤرخہ ۳۰ مئی ۲۰۱۰ء، مطابق ۱۵؍ جمادی الثانی ۱۴۳۱ھ، بروز : اتوار منعقد ہوا۔ زیر صدارت : مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب مدظلہ۔ تلاوت : مولانا قاضی احسان احمد صاحب۔ شرکاء : (۱) مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۳) مولانا اللہ وسایا، (۴) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۵) مولانا بشیر احمد، (۶) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۷) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۸) مولانا قاضی احسان احمد، (۹) مولانا مفتی محمد راشد مدنی، (۱۰) مولانا محمد طیب فاروقی، (۱۱) مولانا فقیر اللہ اختر، (۱۲) مولانا محمد علی صدیقی، (۱۳) مولانا محمد اسحاق ساقی، (۱۴) مولانا محمد حسین ناصر۔
مخدوم المشائخ سیدی و مرشدی مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ کے وصال (۲۰؍ جمادی الاوّل ۱۴۳۱ھ مطابق ۹؍ مئی ۲۰۱۰ء) کے بعد مجلس منتظمہ کا یہ پہلا اجلاس تھا جو زیر صدارت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب شروع ہوا۔
اس اجلاس میں عالمی مجلس کے آئندہ کے کئی انتظامی امور زیر مشاورت آئے۔ خاص طور پر عالمی مجلس کے آئندہ امیر مرکزیہ کے منصب کی موزونیت پر حاضرین سے رائے لی گئی تو شریک اجلاس تمام حضرات نے شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب کا نام پیش کیا۔ طے ہوا کہ معزز اراکین شوریٰ کو تحریراً اس تجویز سے آگاہ کر کے ان کی آراء حاصل کی جائیں۔ چنانچہ تمام اراکین شوریٰ کو جو خط لکھا گیا وہ درج ذیل ہے۔
متن خط : ’’مخدوم المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے وصال کے بعد مجلس کی امارت کے لئے دستوری طریق کار کے مطابق مجلس شوریٰ امیر مرکزیہ کے لئے نام تجویز کرے گی۔ مجلس شوریٰ کے تجویز کردہ نام کی اراکین مجلس عمومی تحریراً یا اصالۃً شریک اجلاس ہو کر توثیق کریں گے۔ اس صورتحال پر غور کے لئے ۳۰ مئی ۲۰۱۰ء کو ملتان میں مجلس منتظمہ کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب منعقد ہوا۔ جس میں امیر مرکزیہ کے لئے قبلہ مولانا خواجہ صاحب اور مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب کی منظورِ نظر شخصیت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی کی ذات پر سب شرکاء کی آراء متفق ہوگئیں۔ آپ بحیثیت رکن مجلس شوریٰ اس تجویز سے اتفاق کریں؟ تو ۳۲۰؍ اراکین مجلس عمومی کو ’’امیر مرکزیہ‘‘ کے لئے مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے اسم گرامی سے آگاہ کر کے ان سے تحریری توثیق نامہ حاصل کرنے کی کارروائی شروع کر دی جائے۔
واضح رہے کہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر اوّلاً اجلاس مجلس شوریٰ ہوگا۔ جس میں کئی جماعتی امور زیر مشورہ آئیں گے۔ اجلاس شوریٰ کے بعد اجلاس اراکین مجلس عمومی ہوگا۔ کانفرنس پر تشریف لانے والے اراکین اجلاس عمومی میں بذات خود مجلس کے امیر مرکزیہ کی توثیق کریں گے۔
جواب خط از اراکین شوریٰ : مجلس منتظمہ کی یہ تجویز کہ آئندہ مجلس کے ’’امیر مرکزیہ‘‘ شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی
تحریک ختم نبوت جلد (۸) ۲۰۰۲ء تا ۲۰۱۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوں۔ ۷؍ اراکین شوریٰ نے اس تجویز کی تحسین و توثیق کی ہے۔ جن کے اسماء گرامی آئندہ صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی، (۲) مولانا محمد سلیمان بنوری کراچی، (۳) مولانا مفتی خالد محمود کراچی، (۴) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور، (۵) مولانا نور الحق نور پشاور، (۶) مولانا عبدالرؤف اسلام آباد، (۷) مولانا مفتی محمد حسن لاہور، (۸) مولانا عبدالواحد کوئٹہ، (۹) مولانا خلیل احمد بندھانی سکھر، (۱۰) مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، (۱۱) مولانا قاری محمد یٰسین فیصل آباد، (۱۲) محترم رانا محمد انور کراچی، (۱۳) محترم حافظ نذیر احمد گوجرانوالہ، (۱۴) محترم حاجی سیف الرحمن بہاول پور، (۱۵) محترم حاجی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۱۶) محترم حاجی اشتیاق احمد جھنگ، (۱۷) محترم قاری محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ۔
۷؍ اراکین منتظمہ : (۱) مولانا صاحبزادہ عزیز احمد رکن شوریٰ ومنتظمہ، (۲) مولانا اللہ وسایا، (۳) مولانا بشیر احمد، (۴) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۵) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۶) مولانا قاضی احسان احمد، (۷) مولانا عزیز الرحمن جالندھری۔
اس طرح ۲۵؍ اراکین مجلس شوریٰ ومنتظمہ کی تجویز و تائید سے امیر مرکزیہ کے لئے اجلاس عمومی میں توثیق کے لئے مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کا نام پیش ہوگا۔ اجلاس میں یہ تجویز پاس کی گئی کہ بمشورہ مجلس شوریٰ اور بمنظوری مجلس عمومی دستور مجلس میں یہ ترمیم کہ آئندہ مجلس کے دو نائب امیر ہوں گے، منظور کئے جانے کے بعد آئندہ مجلس کے دو نائب امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر اور مولانا صاحبزادہ عزیز احمد ہوں گے۔
(۱۱۲ واں) اجلاس مجلس عمومی
اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔ مؤرخہ ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء، مطابق ۶؍ ذیقعدہ ۱۴۳۱ھ، بروز : جمعۃ المبارک صبح ۹ بجے منعقد ہوا۔
زیر صدارت: صاحبزادہ مولانا خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم۔ تلاوت: جناب قاری مشتاق احمد صاحب قصور۔ ایصال ثواب: شیخ المشائخ مخدوم العلماء مولانا خواجہ خان محمد صاحب، شہید ختم نبوت مولانا سعید احمد صاحب جلال پوری، ان کے رفقاء مولانا مفتی فخر الزمان شہید، مولانا محمد حذیفہ شہید، جناب عتیق الرحمن نیپالی شہید اور دیگر جماعتی حلقہ کے فوت شدہ حضرات کے لئے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کرائی گئی۔
- ۱...... عہدہ امارت کے لئے شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کا نام پیش کیا گیا۔ اراکین مجلس عمومی کی تائید
و توثیق سے امیر مرکزیہ عالمی مجلس کے چناؤ کا عمل مکمل ہوا۔
- ۲...... دستور مجالس کی دفعہ نمبر ۶ عنوان مرکزی تنظیم میں آئندہ مجلس کے دو نائب امیر ہوں گے، کی مجوزہ ترمیم کی منظوری دی گئی۔
- ۳...... دستور مجلس پر نظر ثانی کرنے کی اجازت دی گئی۔ خاص طور پر دستور کی دفعہ ۴، ۶، ۷، ۱۰، ۱۴، ۱۸ جن میں مجلس شوریٰ وامیر مرکزیہ
کے مستقل ہونے اور ہر دو کے اختیارات کی تفصیلی دفعات شامل ہوں گی، ان سب کی منظوری دی گئی۔
- ۴...... دستور مجلس میں ترامیم اور باہم متصادم دفعات کی توضیح وتشریح کے لئے قائم کئے گئے دستوری کمیشن کی بھی منظوری دی گئی۔
دستوری کمیشن کی ترمیم بمنظوری مجلس شوریٰ نافذ العمل ہوں گی۔
تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز
نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر و تحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ ، دونوں میں انہیں لاثانی خداداد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ و تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط ، مدلل ، مربوط ، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۸۹۷ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے ، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق و محبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور ، جہاد آفریں بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ انداز نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔
یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات ، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات ، پس پردہ حقائق ، ہوش ربا انکشافات ، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھر پور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت و محبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت و حمیت کی ایسی پرسوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہوگی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین
محمد متین خالد لاہور